(ف3)بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گر پڑیں اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے ۔
وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡۙ ﴿3﴾
(۳) اور جب پہاڑ چلائے جائیں (ف٤)
(ف4)اور غبار کیطرح ہوا میں اڑتے پھریں ۔
وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡۙ ﴿4﴾
(٤) اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں (ف۵) چھوٹی پھریں (ف٦)
(ف5) جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں اور بیاہنے کا وقت قریب آگیا ہو ۔(ف6)نہ ان کا کوئی چرانے والا ہو ، نہ نگران اس روز کی دہشت کا یہ عالَم ہو اور لوگ اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں کہ ان کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو ۔
وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡۙ ﴿5﴾
(۵) اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں (ف۷)
(ف7)روزِ قیامت بعدِ بعث ، کہ ایک دوسرے سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔
وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡۙ ﴿6﴾
(٦) اور جب سمندر سلگائے جائیں (ف۸)
(ف8)پھر وہ خاک ہوجائیں ۔
وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡۙ ﴿7﴾
(۷) اور جب جانوں کے جوڑ بنیں (ف۹)
(ف9)اس طرح کہ نیک نیکوں کے ساتھ ہوں اور بد بدوں کے ساتھ، یا یہ معنٰی کہ جانیں اپنے جسموں سے ملادی جائیں ، یا یہ کہ اپنے عملوں سے ملادی جائیں ، یا یہ کہ ایمانداروں کی جانیں حوروں کے اور کافروں کی جانیں شیاطین کے ساتھ ملادی جائیں ۔
وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُٮِٕلَتۡۙ ﴿8﴾
(۸) اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے (ف۱۰)
(ف10)یعنی اس لڑکی سے جو زندہ دفن کی گئی ہو ، جیسا کہ عرب کا دستور تھا کہ زمانۂِ جاہلیّت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے ۔
بِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡۚ ﴿9﴾
(۹) کس خطا پر ماری گئی (ف۱۱)
(ف11)یہ سوال قاتل کی توبیخ کے لئے ہے تاکہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں بے گناہ ماری گئی ۔
وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡۙ ﴿10﴾
(۱۰) اور جب نامہٴ اعمال کھولے جائیں،
وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡۙ ﴿11﴾
(۱۱) اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے (ف۱۲)
(ف12)جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال کھینچ لی جاتی ہے ۔
وَاِذَا الۡجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡۙ ﴿12﴾
(۱۲) اور جب جہنم بھڑکایا جائے (ف۱۳)
(ف13)دشمنانِ خدا کے لئے ۔
وَاِذَا الۡجَـنَّةُ اُزۡلِفَتۡۙ ﴿13﴾
(۱۳) اور جب جنت پاس لائی جائے (ف۱٤)
(ف14)اللہ تعالٰی کے پیاروں کے ۔
عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡؕ ﴿14﴾
(۱٤) ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی (ف۱۵)
(ف15)نیکی یا بدی ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِۙ ﴿15﴾
(۱۵) تو قسم ہے ان (ف۱٦) کی جو الٹے پھریں،
(ف16)ستاروں ۔
الۡجَوَارِ الۡكُنَّسِۙ ﴿16﴾
(۱٦) سیدھے چلیں تھم رہیں (ف۱۷)
(ف17)یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں خمسۂِ متحیّرہ کہتے ہیں (۱)زحل(۲) مشتری (۳)مریخ(۴) زہرہ(۵) عطارد ۔ (کذاروی عن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ)
وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَۙ ﴿17﴾
(۱۷) اور رات کی جب پیٹھ دے (ف۱۸)
(ف18)اور اس کی تاریکی ہلکی پڑے ۔
وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ ﴿18﴾
(۱۸) اور صبح کی جب دم لے (ف۱۹)
(ف19)اوراس کی روشنی خوب پھیلے ۔
اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۙ ﴿19﴾
(۱۹) بیشک یہ (ف۲۰) عزت والے رسول (ف۲۱) کا پڑھنا ہے ،
(ف20)قرآن شریف ۔ (ف21)حضرت جبریل علیہ السلام ۔
ذِىۡ قُوَّةٍ عِنۡدَ ذِى الۡعَرۡشِ مَكِيۡنٍۙ ﴿20﴾
(۲۰) جو قوت والا ہے مالک عرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے (ف۲۲)
مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيۡنٍؕ ﴿21﴾
(۲۱) امانت دار ہے (ف۲۳)
(ف22)یعنی آسمانوں میں فرشتے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔(ف23)وحیِ الٰہی کا ۔
وَ مَا صَاحِبُكُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍۚ ﴿22﴾
(۲۲) اور تمہارے صاحب (ف۲٤) مجنون نہیں (ف۲۵)
(ف24)حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف25)جیسا کہ کفّارِ مکّہ کہتے ہیں ۔
وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِۚ ﴿23﴾
(۲۳) اور بیشک انہوں نے اسے (ف۲٦) روشن کنارہ پر دیکھا (ف۲۷)
(ف26)یعنی جبریلِ امین کو ان کی اصلی صورت میں ۔(ف27)یعنی آفتاب کے جائے طلوع پر ۔
وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍۚ ﴿24﴾
(۲٤) اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں،
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍۙ ﴿25﴾
(۲۵) اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں،
فَاَيۡنَ تَذۡهَبُوۡنَؕ ﴿26﴾
(۲٦) پھر کدھر جاتے ہو (ف۲۸)
(ف28)اور کیوں قرآن سے اعراض کرتے ہو ۔
اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَۙ ﴿27﴾
(۲۷) وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے،
لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَؕ ﴿28﴾
(۲۸) اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے (ف۲۹)
(ف29)یعنی جس کو حق کا اتباع اور اس پر قیام منظور ہو ۔