بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے (ف۲)
(ف2)مشرکینِ عرب اورمسلمانوں کے درمیان عہد تھا ، ان میں سے چند کے سوا سب نے عہد شکنی کی تو ان عہد شکنوں کا عہد ساقط کر دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ چار مہینے وہ امن کے ساتھ جہاں چاہیں گزاریں ان سے کوئی تعرُّض نہ کیا جائے گا ۔ اس عرصہ میں انہیں موقع ہے کہ خوب سوچ سمجھ لیں کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور اپنی احتیاطیں کر لیں اور جان لیں کہ اس مدت کے بعد اسلام منظور کرنا ہوگا یا قتل ۔ یہ سورت ۹ہجری میں فتحِ مکّہ سے ایک سال بعد نازِل ہوئی ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سنہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج مقرر فرمایا تھا اور انکے بعد علی مرتضٰی کو مجمعِ حُجّاج میں یہ سورت سنانے کے لئے بھیجا چنانچہ حضرت علی مرتضٰی نے دس ذی الحِجّہ کو جَمرۂ عُقبہ کے پاس کھڑے ہو کر ندا کی یٰاَیُّھَاالنَّاسُ میں تمہاری طرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فِرِستادہ آیا ہوں ، لوگوں نے کہا آپ کیا پیام لائے ہیں ؟ تو آپ نے تیس یا چالیس آیتیں اس سورت مبارکہ کی تلاوت فرمائیں پھر فرمایا میں چار حکم لایا ہوں ۔(۱) اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبۂ معظّمہ کے پاس نہ آئے ۔ (۲) کوئی شخص بَرَہۡنہ ہو کر کعبۂ معظّمہ کا طواف نہ کرے ۔ (۳) جنّت میں مؤمن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا ۔ (۴) جس کارسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عہد ہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت معیّن نہیں ہے اس کی معیاد چار ماہ پر تمام ہوجائے گی ۔ مشرکین نے یہ سن کر کہا کہ اے علی اپنے چچا کے فرزند (یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو خبر دے دیجئے کہ ہم نے عہد پس پشت پھینک دیا ، ہمارے ان کے درمیان کوئی عہد نہیں ہے بَجُز نیزہ بازی اور تیغ زنی کے ۔ اس واقعہ میں خلافتِ حضرتِ صدیقِ اکبر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو تو امیرِ حج بنایا اور حضرت علی مرتضٰی کو ان کے پیچھے سورۂ براءت پڑھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابوبکر امام ہوئے اور حضرت علی مرتضٰی مقتدی ۔ اس سے حضرت ابوبکر کی تقدیم حضرت علی مرتضٰی پر ثابت ہوئی ۔
اور منادی پکار دیتا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن (ف۵) کہ اللہ بیزار ہے، مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو (ف٦) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر منہ پھیرو (ف۷) تو جان لو کہ اللہ کو نہ تھکا سکو گے (ف۸) اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،
(ف5)حج کو حجِ اکبر فرمایا اس لئے کہ اس زمانہ میں عمرہ کو حجِ اصغر کہا جاتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اس حج کو حجِ اکبر اس لئے کہا گیا کہ اس سال رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج فرمایا تھا اور چونکہ یہ جمعہ کو واقع ہوا تھا اس لئے مسلمان اس حج کو جو روزِ جمعہ ہو حجِ وَداع کا مذَکِّر جان کر حجِ اکبر کہتے ہیں ۔(ف6)کُفر و غدر سے ۔(ف7)ایمان لانے اور توبہ کرنے سے ۔(ف8)یہ وعیدِ عظیم ہے اور اس میں یہ اِعلام ہے کہ اللہ تعالٰی عذاب نازِل کرنے پر قادر ہے ۔
مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی (ف۹) اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے،
(ف9)اور اس کو اس کی شرطوں کے ساتھ پورا کیا ۔ یہ لوگ بنی ضمرہ تھے جو کنانہ کا ایک قبیلہ ہے اور ان کی مدت کے نو مہینے باقی رہے تھے ۔
پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو (ف۱۰) جہاں پاؤ (ف۱۱) اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں (ف۱۲) اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو (ف۱۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف10)جنہوں نے عہد شکنی کی ۔(ف11)حِلّ میں ، خواہ حرم میں کسی وقت و مکان کی تخصیص نہیں ۔(ف12)شرک و کُفر سے اور ایمان قبول کریں ۔(ف13)اور قید سے رہا کر دو اور ان سے تعرُّض نہ کرو ۔
اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے (ف۱٤) تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو (ف۱۵) یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں (ف۱٦)
(ف14)مہلت کے مہینے گزرنے کے بعد تاکہ آپ سے توحید کے مسائل اور قرآنِ پاک سنیں جس کی آپ دعوت دیتے ہیں ۔(ف15)اگر ایمان نہ لائے ۔مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ مستأمَن کو ایذا نہ دی جائے اور مدت گزرنے کے بعد اس کو دارالاِسلام میں اِقامت کا حق نہیں ۔(ف16)اسلام اور اس کی حقیقت کو نہیں جانتے تو انہیں امن دینی عین حکمت ہے تاکہ کلام اللہ سنیں اور سمجھیں ۔
مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیونکر ہوگا (ف۱۷) مگر وہ جن سے تمہارا معاہدہ مسجد حرام کے پاس ہوا (ف۱۸) تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو، بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،
(ف17)کہ وہ عذر و عہد شکنی کیا کرتے ہیں ۔(ف18)اور ان سے کوئی عہد شکنی ظہور میں نہ آئی مثل بنی کنانہ و بنی ضمرہ کے ۔
بھلا کیونکر (ف۱۹) ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا، اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں (ف۲۰) اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بےحکم ہیں (ف۲۱)
(ف19)عہد پورا کریں گے اور کیسے قول پر قائم رہیں گے ۔(ف20)ایمان اور وفائے عہد کے وعدے کر کے ۔(ف21)عہد شکن ، کُفر میں سرکش ، بے مُرُوّت ، جھوٹ سے نہ شرمانے والے انہوں نے ۔
اللہ کی آیتوں کے بدلے تھوڑے دام مول لیے (ف۲۲) تو اس کی راہ سے روکا (ف۲۳) بیشک وہ بہت ہی بڑے کام کرتے ہیں،
(ف22)اور دنیا کے تھوڑے سے نفع کے پیچھے ایمان و قرآن چھوڑ بیٹھے اور جو عہد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا وہ ابوسفیان کے تھوڑے سے لالچ دینے سے تو ڑ دیا ۔(ف23)اور لوگوں کو دینِ الٰہی میں داخل ہونے سے مانع ہوئے ۔
پھر اگر وہ (ف۲۵) توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں (ف۲٦) اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے (ف۲۷)
(ف25)کُفر و عہد شکنی سے باز آئیں اور ایمان قبول کر کے ۔(ف26)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہلِ قبلہ کے خون حرام ہیں ۔(ف27)اس سے ثابت ہوا کہ تفصیلِ آیات پر جس کو نظر ہو وہ عالِم ہے ۔
اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو (ف۲۸) بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں (ف۲۹)
(ف28)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو کافِر ذِمّی دینِ اسلام پر ظاہر طعن کرے اس کا عہد باقی نہیں رہتا اور وہ ذمہ سے خارج ہو جاتا ہے اس کو قتل کرنا جائز ہے ۔(ف29)اس آیت سے ثابت ہوا کہ کُفّار کے ساتھ جنگ کرنے سے مسلمانوں کی غرض انہیں کُفر و بد اعمالی سے روک دینا ہے ۔
کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں (ف۳۰) اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا (ف۳۱) حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو،
(ف30)اور صلح حدیبیہ کا عہد توڑا اور مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابل بنی بکر کی مدد کی ۔(ف31)مکّۂ مکرّمہ سے دارالندوہ میں مشورہ کر کے ۔
اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا (ف۳٤) اور اللہ جس کی چاہے تو یہ قبول فرمائے (ف۳۵) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف34)یہ تمام مواعید پورے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبریں صادق ہوئیں اور نبوّت کا ثبوت واضح تر ہوگیا ۔(ف35)اس میں اِشعار ہے کہ بعض اہلِ مکّہ کُفر سے باز آ کر تائب ہوں گے ۔ یہ خبر بھی ایسی ہی واقع ہوگئی چنانچہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابوجہل اور سہیل بن عمرو ایمان سے مشرف ہوئے ۔
کیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں گے (ف۳٦) اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنائیں گے (ف۳۷) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
(ف36)اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں ۔(ف37)اس سے معلوم ہوا کہ مخلِص اور غیر مخلِص میں امتیاز کر دیا جائے گا اور مقصود اس سے مسلمانوں کو مشرکین کی موالات اور انکے پاس مسلمانوں کے راز پہنچانے سے ممانعت کرنا ہے ۔
مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں (ف۳۸) خود اپنے کفر کی گواہی دے کر (ف۳۹) ان کا تو سب کیا دھرا اِکارت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے (ف٤۰)
(ف38)مسجدوں سے مسجدِ حرام کعبۂ معظّمہ مراد ہے ، اس کو جمع کے صیغے سے اس لئے ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسجدوں کا قبلہ اور امام ہے اس کا آباد کرنے والا ایسا ہے جیسے تمام مسجدوں کا آباد کرنے والا اور جمع کا صیغہ لانے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہر بقعہ مسجدِ حرام کا مسجد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسجدوں سے جنس مراد ہو اور کعبۂ معظّمہ اس میں داخل ہو کیونکہ وہ اس جنس کا صدر ہے ۔شانِ نُزول : کُفّارِ قریش کے رُؤسا کی ایک جماعت جو بدر میں گرفتار ہوئی اور ان میں حضور کے چچا حضرت عباس بھی تھے ان کو اصحاب کرام نے شرک پر عار دلائی اور حضرت علی مرتضٰی نے تو خاص حضرت عباس کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل آنے پر بہت سخت سُست کہا ، عباس کہنے لگے کہ تم ہماری برائیاں تو بیان کرتے ہو اور ہماری خوبیاں چھپاتے ہو ، ان سے کہا گیا کیا آپ کی کچھ خوبیاں بھی ہیں ، انہوں نے کہا ہاں ہم تم سے افضل ہیں ہم مسجدِ حرام کو آباد کرتے ہیں ، کعبہ کی خدمت کرتے ہیں ، حاجیوں کو سیراب کرتے ہیں ، اسیروں کو رہا کراتے ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی کہ مسجدوں کا آباد کرنا کافِروں کو نہیں پہنچتا کیونکہ مسجد آباد کی جاتی ہے اللہ کی عبادت کے لئے تو جو خدا ہی کا منکِر ہو اس کے ساتھ کُفر کرے وہ کیا مسجد آباد کرے گا اور آباد کرنے کے معنی میں بھی کئی قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ آباد کرنے سے مسجد کا بنانا ، بلند کرنا ، مرمت کرنا مراد ہے ، کافِر کو اس سے منع کیا جائے گا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مسجد آباد کرنے سے اس میں داخل ہونا ، بیٹھنا مراد ہے ۔(ف39)اور بُت پرستی کا اقرار کر کے ۔ یعنی یہ دونوں باتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں کہ آدمی کافِر بھی ہو اور خاص اسلامی اور توحید کے عبادت خانہ کو آباد بھی کرے ۔(ف40)کیونکہ حالتِ کُفر کے اعمال مقبول نہیں ، نہ مہمانداری ، نہ حاجیوں کی خدمت، نہ قیدیوں کا رہا کرانا ۔ اس لئے کہ کافِر کا کوئی فعل اللہ کے لئے تو ہوتا نہیں لہذا اس کا عمل سب اکارت ہے اور اگر وہ اسی کُفر پر مرجائے تو جہنّم میں ان کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے ۔
اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں (ف٤۱) اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (ف٤۲) تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں،
(ف41)اس آیت میں یہ بیان کیا گیا کہ مسجدوں کے آباد کرنے کے مستحق مؤمنین ہیں ۔ مسجدوں کے آباد کرنے میں یہ امور بھی داخل ہیں جھاڑو دینا ، صفائی کرنا ، روشنی کرنا اور مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ رکھنا جن کے لئے وہ نہیں بنائی گئیں ۔ مسجدیں عبادت کرنے اور ذکر کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں اور علم کا درس بھی ذکر میں داخل ہے ۔(ف42)یعنی کسی کی رضا کو رضائے الٰہی پر کسی اندیشہ سے بھی مقدم نہیں کرتے ۔ یہی معنی ہیں اللہ سے ڈرنے اور غیر سے نہ ڈرنے کے ۔
تو کیا تم نے حاجیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا (ف٤۳)
(ف43)مراد یہ ہے کہ کُفّار کو مؤمنین سے کچھ نسبت نہیں ، نہ ان کے اعمال کو ان کے اعمال سے کیونکہ کافِر کے اعمال رائیگاں ہیں خواہ وہ حاجیوں کے لئے سبیل لگائیں یا مسجد حرام کی خدمت کریں ۔ ان کے اعمال کو مومِن کے اعمال کے برابر قرار دینا ظلم ہے ۔ شانِ نُزول : روزِ بدر جب حضرت عباس گرفتار ہو کر آئے تو انہوں نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ تم کو اسلام اور ہجرت و جہاد میں سبقت حاصل ہے تو ہم کو بھی مسجدِ حرام کی خدمت اور حاجیوں کے لئے سبیلیں لگانے کا شرف حاصل ہے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور آگاہ کیا گیا کہ جو عمل ایمان کے ساتھ نہ ہوں وہ بیکار ہیں ۔
اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں، اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں (ف٤۷)
(ف47)جب مسلمانوں کو مشرکین سے ترکِ موالات کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے باپ بھائی وغیرہ قرابت داروں سے ترکِ تعلق کرے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ کُفّار سے موالات جائز نہیں چاہے ان سے کوئی بھی رشتہ ہو چنانچہ آگے ارشاد فرمایا ۔
تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے (ف٤۸) اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
(ف48)اور جلدی آنے والے عذاب میں مبتلا کرے یا دیر میں آنے والے میں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ دین کے محفوظ رکھنے کے لئے دنیا کی مَشقت برداشت کرنا مسلمان پر لازم ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے مقابل دنیوی تعلقات کچھ قابلِ اِلتفات نہیں اور خدا اور رسول کی مَحبت ایمان کی دلیل ہے ۔
بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی (ف٤۹) اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی (ف۵۰) اور زمین اتنی وسیع ہو کر تم پر تنگ ہوگئی (ف۵۱) پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے ،
(ف49)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات میں مسلمانوں کو کافِرو ں پر غلبہ عطا فرمایا جیسا کہ واقعۂ بدر اور قُریظہ اور نُضَیر اور حُدیبیہ اور خیبر اور فتحِ مکّہ میں ۔(ف50)حُنین ایک وادی ہے طائف کے قریب ، مکّۂ مکرّمہ سے چند میل کے فاصلہ پر ۔ یہاں فتحِ مکّہ سے تھوڑے ہی روز بعد قبیلۂ ہوازن و ثقیف سے جنگ ہوئی ۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کثیر بارہ ہزار یا اس سے زائد تھی اور مشرکین چار ہزار تھے جب دونوں لشکر مقابل ہوئے تو مسلمانوں میں سے کسی شخص نے اپنی کثرت پر نظر کر کے یہ کہا کہ اب ہم ہرگز مغلوب نہ ہوں گے ، یہ کلمہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت گِراں گزرا کیونکہ حضور ہر حال میں اللہ تعالٰی پر توکُّل فرماتے تھے اور تعداد کی قلت و کثرت پر نظر نہ رکھتے تھے ۔ جنگ شروع ہوئی اور قتالِ شدید ہوا مشرکین بھاگے اور مسلمان مالِ غنیمت لینے میں مصروف ہو گئے تو بھاگے ہوئے لشکر نے اس کو غنیمت سمجھا اور تیروں کی بارش شروع کر دی اور تیر اندازی میں بہت مہارت رکھتے تھے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس ہنگامے میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے ، لشکر بھاگ پڑا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سوائے حضور کے چچا حضرت عباس اور آپ کے ابنِ عم ابوسفیان بن حارث کے اور کوئی باقی نہ رہا ۔ حضور نے اس وقت اپنی سواری کو کُفّار کی طرف آگے بڑھایا اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ وہ بلند آواز سے اپنے اصحاب کو پکاریں ، ان کے پکارنے سے وہ لوگ لبّیک لبّیک کہتے ہوئے پلٹ آئے اور کُفّار سے جنگ شروع ہوگئی جب لڑائی خوب گرم ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک میں سنگ ریزے لے کر کُفّار کے مونہوں پر مارے اور فرمایا ربِّ محمّد کی قسم بھاگ نکلے ، سنگریزوں کا مارنا تھا کہ کُفّار بھاگ پڑے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں کو تقسیم فرما دیں ۔ ان آیتوں میں اس واقعہ کا بیان ہے ۔(ف51)` اور تم وہاں نہ ٹھہر سکے ۔
پھر اللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر (ف۵۲) اور مسلمانوں پر (ف۵۳) اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے (ف۵٤) اور کافروں کو عذاب دیا (ف۵۵) اور منکروں کی یہی سزا ہے،
(ف52)کہ اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے ۔(ف53)کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پکارنے سے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے ۔(ف54)یعنی فرشتے جنہیں کُفّار نے ابلق گھوڑوں پر سفید لباس پہنے ، عمامہ باندھے دیکھا ، یہ فرشتے مسلمانوں کی شوکت بڑھانے کے لئے آئے تھے ۔ اس جنگ میں انہوں نے قتال نہیں کیا ، قتال صرف بدر میں کیا تھا ۔(ف55)کہ پکڑے گئے ، مارے گئے ، ان کے عیال و اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے ۔
پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا (ف۵٦) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف56)اور توفیقِ اسلام عطا فرمائے گا چنانچہ ہوازن کے باقی لوگوں کو توفیق دی اور وہ مسلمان ہو کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور نے ان کے اسیروں کو رہا فرما دیا ۔
اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں (ف۵۷) تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں (ف۵۸) اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے (ف۵۹) تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے (ف٦۰) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف57)کہ ان کا باطن خبیث ہے اور وہ نہ طہارت کرتے ہیں ، نہ نجاستوں سے بچتے ہیں ۔(ف58)نہ حج کے لئے نہ عمرہ کے لئے اور اس سال سے مراد ۹ ہجری ہے اور مشرکین کے منع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان ان کو روکیں ۔(ف59)کہ مشرکین کو حج سے روک دینے سے تجارتوں کو نقصان پہنچے گا اور اہلِ مکّہ کو تنگی پیش آئے گی ۔(ف60)عِکرمہ نے کہا ایسا ہی ہوا ، اللہ تعالٰی نے انہیں غنی کر دیا ، بارشیں خوب ہوئیں ، پیداوار کثرت سے ہوئی ۔ مقاتل نے کہا کہ خطّۂ ہائے یمن کے لوگ مسلمان ہوئے اور انہوں نے اہلِ مکّہ پر اپنی کثیر دولتیں خرچ کیں (اگرچاہے) فرمانے میں تعلیم ہے کہ بندے کو چاۂے کہ طلبِ خیر اور دفعِ آفات کے لئے ہمیشہ اللہ کی طرف متوجہ رہے اور تمام امور کو اسی کی مشیّت سے متعلق جانے ۔
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر (ف٦۱) اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے (ف٦۲) اور سچے دین (ف٦۳) کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہو کر (ف٦٤)
(ف61)اللہ پر ایمان لانا یہ ہے کہ اس کی ذات اور جملہ صفات و تنزیہات کو مانے اور جو اس کی شان کے لائق نہ ہو اس کی طرف نسبت نہ کرے اور بعض مفسِّرین نے رسولوں پر ایمان لانا بھی اللہ پر ایمان لانے میں داخل قرار دیا ہے تو یہود و نصارٰی اگرچہ اللہ پر ایمان لانے کے مدَّعی ہیں لیکن ان کا یہ دعوٰی باطل ہے کیونکہ یہود تجسیم و تشبیہ کے اور نصارٰی حلول کے معتقِد ہیں تو وہ کس طرح اللہ پر ایمان لانے والے ہو سکتے ہیں ، ایسے ہی یہود میں سے جو حضرت عزیر کو اور نصارٰی حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اللہ پر ایمان لانے والا نہ ہوا ، اسی طرح جو ایک رسول کی تکذیب کرے وہ اللہ پر ایمان لانے والا نہیں ۔ یہود و نصارٰی بہت انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں لہٰذا وہ اللہ پر ایمان لانے والوں میں نہیں ۔ شانِ نُزول : مجاہد کا قول ہے کہ یہ آیت اس وقت نازِل ہوئی جب کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روم سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا اور اسی کے نازِل ہونے کے بعد غزوۂ تبوک ہوا ۔ کلبی کا قول ہے کہ یہ آیت یہود کے قبیلۂ قُریظہ اور نُضَیر کے حق میں نازِل ہوئی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے صلح منظور فرمائی اور یہی پہلا جزیہ ہے جو اہلِ اسلام کو ملا اور پہلی ذلّت ہے جو کُفّار کو مسلمانوں کے ہاتھ سے پہنچی ۔(ف62)قرآن و حدیث میں اور بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ معنی یہ ہیں کہ توریت و انجیل کے مطابق عمل نہیں کرتے ، ان کی تحریف کرتے ہیں اور احکام اپنے دل سے گڑھتے ہیں ۔(ف63)اسلام دینِ الٰہی ۔(ف64)معاہد اہلِ کتاب سے جو خراج لیا جاتا ہے اس کا نام جزیہ ہے ۔ مسائل : یہ جزیہ نقد لیا جاتا ہے اس میں ادھار نہیں ۔ مسئلہ : جزیہ دینے والے کو خود حاضر ہو کر دینا چاہئے ۔ مسئلہ : پیادہ پا لے کر حاضر ہو کرکھڑے ہو کر پیش کرے ۔ مسئلہ : قبولِ جزیہ میں تُرک و ہندو وغیرہ اہلِ کتاب کے ساتھ ملحق ہیں سوا مشرکینِ عرب کے کہ ان سے جزیہ قبول نہیں ۔مسئلہ : اسلام لانے سے جزیہ ساقط ہو جاتا ہے ۔ حکمت جزیہ مقرر کرنے کی یہ ہے کہ کُفّار کو مہلت دی جائے کہ تاکہ وہ اسلام کے محاسن اور دلائل کی قوت دیکھیں اور کتبِ قدیمہ میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہونے کا موقع پائیں ۔
اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (ف٦۵) اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے ، یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں (ف٦٦) اگلے کافروں کی سی بات بناتے ہیں، اللہ انہیں مارے، کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف٦۷)
(ف65)اہلِ کتاب کی بے دینی کا جو اوپر ذکر فرمایا گیا یہ اس کی تفصیل ہے کہ وہ اللہ کی جناب میں ایسے فاسد اعتقاد رکھتے ہیں اور مخلوق کو اللہ کا بیٹا بنا کر پوجتے ہیں ۔ شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہود کی ایک جماعت آئی ، وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم آپ کا کس طرح اِتّباع کریں آپ نے ہمارا قبلہ چھوڑ دیا اور آپ حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف66)جن پر نہ کوئی دلیل نہ برہان اور پھر اپنی جہل سے اس باطلِ صریح کے معتقِد بھی ہیں ۔(ف67)اور اللہ تعالٰی کی وحدانیت پر حُجّتیں قائم ہونے اور دلیلیں واضح ہونے کے باوجود اس کُفر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا (ف٦۸) اور مسیح بن مریم کو (ف٦۹) اور انہیں حکم نہ تھا (ف۷۰) مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسے پاکی ہے ان کے شرک سے،
(ف68)حکمِ الٰہی کو چھوڑ کر ان کے حکم کے پابند ہوئے ۔(ف69)کہ انہیں بھی خدا بنایا اور ان کے نسبت یہ اعتقادِ باطل کیا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں یا خدا نے ان میں حلول کیا ہے ۔(ف70)ان کی کتابوں میں نہ ان کے انبیاء کی طرف سے ۔
وہی ہے جس نے اپنا رسول (ف۷۳) ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷٤) پڑے برا مانیں مشرک ،
(ف73)محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف74)اور اس کی حُجّت قوی کرے اور دوسرے دینوں کو اس سے منسوخ کرے چنانچہ الحمد للہ ایسا ہی ہوا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نُزول کے وقت ظاہر ہوگاجب کہ کوئی دین والا ایسا نہ ہوگا جو اسلام میں داخل نہ ہو جائے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کے سوا ہر ملت ہلاک ہوجائے گی ۔
اے ایمان والو! بیشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں (ف۷۵) اور اللہ کی راہ سے (ف۷٦) روکتے ہیں، اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (ف۷۷) انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،
(ف75)اس طرح کہ دین کے احکام بدل کر لوگوں سے رشوتیں لیتے ہیں اور اپنی کتابوں میں طمعِ زر کے لئے تحریف و تبدیل کرتے ہیں اور کُتُبِ سابقہ کی جن آیات میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت مذکور ہے ، مال حاصل کرنے کے لئے ان میں فاسد تاویلیں اور تحریفیں کرتے ہیں ۔(ف76)اسلام سے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے سے ۔(ف77)بُخل کرتے ہیں اور مال کے حقوق ادا نہیں کرتے زکوۃ نہیں دیتے ۔شانِ نُزول : سدی کا قول ہے کہ یہ آیت مانعینِ زکٰوۃ کے حق میں نازِل ہوئی جب کہ اللہ تعالٰی نے اَحبار اور رُہبان کی حرصِ مال کا ذکر فرمایا تو مسلمانوں کو مال جمع کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے سے حذر دلایا ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مال کی زکٰوۃ دی گئی وہ کنز نہیں خواہ دفینہ ہی ہو اور جس کی زکٰوۃ نہ دی گئی وہ کنز ہے جس کا ذکر قرآن میں ہوا کہ اس کے مالک کو اس سے داغ دیا جائے گا ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصحاب نے عرض کیا کہ سونے چاندی کا تو یہ حال معلوم ہوا پھر کون سا مال بہتر ہے جس کو جمع کیا جائے ۔ فرمایا ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور نیک بی بی جو ایماندار کی اس کے ایمان پر مدد کرے یعنی پرہیزگار ہو کہ اس کی صحبت سے طاعت و عبادت کا شوق بڑھے(رواہ الترمذی) مسئلہ : مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جب کہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت طلحٰہ وغیرہ اصحاب مالدار تھے اور جو اصحاب کہ جمعِ مال سے نفرت رکھتے تھے وہ ان پر اعتراض نہ کرتے تھے ۔
جس دن تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں (ف۷۸) پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں (ف۷۹) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا،
(ف78)اور شدّتِ حرارت سے سفید ہو جائے گا ۔(ف79)جسم کے تمام اطراف و جوانب اور کہا جائے گا ۔
بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے (ف۸۰) اللہ کی کتاب میں (ف۸۱) جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں (ف۸۲) یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں (ف۸۳) اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۸٤)
(ف80)یہاں یہ بیان فرمایاگیا کہ احکامِ شرع کی بنا قمری مہینوں پر ہے جن کا حساب چاند سے ہے ۔(ف81) یہاں اللہ کی کتاب سے یا لوحِ محفوظ مراد ہے یا قرآن یا وہ حکم جو اس نے اپنے بندوں پر لازم کیا ۔(ف82)تین متّصِل ذوالقعدہ و ذوالحِجّہ ، محرّم اور ایک جدا رَجَب ۔ عرب لوگ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کی تعظیم کرتے تھے اور ان میں قتال حرام جانتے تھے ۔ اسلام میں ان مہینوں کی حرمت و عظمت اور زیادہ کی گئی ۔(ف83)گناہ و نافرمانی سے ۔(ف84)ان کی نصرت و مدد فرمائے گا ۔
ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنا (ف۸۵) اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال (ف۸٦) ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہوجائیں جو اللہ نے حرام فرمائی (ف۸۷) اور اللہ کے حرام کیے ہوئے حلال کرلیں ، ان کے برے کام ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
(ف85)نَسِی لغت میں وقت کے مؤخر کرنے کو کہتے ہیں اور یہاں شہرِ حرام کی حرمت کا دوسرے مہینے کی طرف ہٹا دینا مراد ہے ۔ زمانۂ جاہلیت میں عرب اَشہُرِ حُرُم (یعنی ذوالقعدہ و ذی الحِجّہ ، محرّم ، رَجَب) کی حرمت و عظمت کے معتقِد تھے تو جب کبھی لڑائی کے زمانے میں یہ حرمت والے مہینے آجاتے تو ان کو بہت شاق گزرتے اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک مہینے کی حرمت دوسرے کی طرف ہٹانے لگے ، محرّم کی حرمت صَفَر کی طرف ہٹا کر محرّم میں جنگ جاری رکھتے اور بجائے اس کے صَفَر کو ماہِ حرام بنا لیتے اور جب اس سے بھی تحریم ہٹانے کی حاجت سمجھتے تو اس میں بھی جنگ حلال کر لیتے اور ربیع الاوّل کو ماہِ حرام قرا ر دیتے ۔ اس طرح تحریم سال کے تمام مہینوں میں گھومتی اور ان کے اس طرزِ عمل سے ماہ ہائے حرام کی تخصیص ہی باقی نہ رہی ، اس طرح حج کو مختلف مہینوں میں گھوماتے پھرتے تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حِجّۃُ الوَداع میں اعلان فرمایا کہ نَسِی کے مہینے گئے گزرے ہوئے اب مہینوں کے اوقات کی وضعِ الٰہی کے مطابق حفاظت کی جائے اور کوئی مہینہ اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جائے اور اس آیت میں نَسِی کو ممنوع قرار دیا گیا اور کُفر پر کُفر کی زیادتی بتایا گیا کیونکہ اس میں ماہ ہائے حرام میں تحریمِ قتال کو حلال جاننا اور خدا کے حرام کئے ہوئے کو حلال کر لینا پایا جاتا ہے ۔(ف86)یعنی ماہِ حرام کو یا اس ہٹانے کو ۔(ف87)یعنی ماہِ حرام چار ہی رہیں اس کی تو پابندی کرتے ہیں اور ان کی تخصیص توڑ کر حکمِ الٰہی کی مخالفت ، جو مہینہ حرام تھا اسے حلال کر لیا اس کی جگہ دوسرے کو حرام قرار دیا ۔
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ خدا کی راہ میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو (ف۸۸) کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کر لی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا (ف۸۹)
(ف88)اور سفر سے گھبراتے ہو ۔ شانِ نُزول : یہ آیت غزوۂ تبوک کی ترغیب میں نازِل ہوئی ۔ تبوک ایک مقام ہے اطرافِ شام میں مدینۂ طیّبہ سے چودہ منزل فاصلہ پر ۔ رجب ۹ ہجری میں طائف سے واپسی کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عرب کے نصرانیوں کی تحریک سے ہر قل شاہِ روم نے رومیوں اور شامیوں کی فوج گِراں جمع کی ہے اور وہ مسلمانوں پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا ۔ یہ زمانہ نہایت تنگی ، قحط سالی اور شدتِ گرمی کا تھا یہاں تک کہ دو دو آدمی ایک ایک کھجور پر بسر کرتے تھے ، سفر دور کا تھا ، دشمن کثیر اور قوی تھے اس لئے بعض قبیلے بیٹھ رہے اور انہیں اس وقت جہاد میں جانا گِراں معلوم ہوا اور اس غزوہ میں بہت سے منافقین کا پردہ فاش اور حال ظاہر ہوگیا ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس غزوہ میں بڑی عالی ہمتی سے خرچ کیا دس ہزار مجاہدین کو سامان دیا اور دس ہزار دینار اس غزوہ پر خرچ کئے ، نو سو اونٹ اورسو گھوڑے مع ساز و سامان کے اس کے علاوہ ہیں اور اصحاب نے بھی خوب خرچ کیا ، ان میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ہیں جنہوں نے اپنا کُل مال حاضر کردیا جس کی مقدار چار ہزار درہم تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال حاضر کیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیس ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے ۔ حضرت علی مرتضٰی کو مدینہ طیّبہ میں چھوڑا ۔ عبداللہ بن اُبَی اور اس کے ہمراہی منافقین ثنیۃ الوداع تک چل کر رہ گئے جب لشکر اسلام تبوک میں اترا تو انہوں نے دیکھا کہ چشمے میں پانی بہت تھوڑا ہے ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پانی سے اس میں کلی فرمائی جس کی برکت سے پانی جوش میں آیا اور چشمہ بھر گیا ، لشکر اور اس کے تمام جانور اچھی طرح سیراب ہوئے ۔ حضرت نے کافی عرصہ یہاں قیام فرمایا ۔ ہرقل اپنے دل میں آ پ کو سچا نبی جانتا تھا اس لئے اسے خوف ہوا اور اس نے آپ سے مقابلہ نہ کیا ۔ حضرت نے اطراف میں لشکر بھیجے چنانچہ حضرت خالد کو چار سو زائد سواروں کے ساتھ اکیدر حاکمِ دومۃ الجندل کے مقابل بھیجا اور فرمایا کہ تم اس کو نیل گائے کے شکار میں پکڑ لو چنانچہ ایسا ہی ہوا جب وہ نیل گائے کے شکار کے لئے اپنے قلعے سے اتر ا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کو گرفتار کرکے خدمت اقدس میں لائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جزیہ مقرر فرما کر اس کو چھوڑ دیا ۔ اسی طرح حاکمِ ایلہ پر اسلام پیش کیا اور جزیہ پر صلح فرمائی ۔ واپسی کے وقت جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے قریب تشریف لائے تو جو لوگ جہاد میں ساتھ ہونے سے رہ گئے تھے وہ حاضر ہوئے حضور نے اصحاب سے فرمایا کہ ان میں سے کسی سے کلام نہ کریں اور اپنے پاس نہ بٹھائیں جب تک ہم اجازت نہ دیں تو مسلمانوں نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ باپ اور بھائی کی طرف بھی التفات نہ کیا اسی باب میں یہ آیتیں نازِل ہوئیں ۔(ف89)کہ دنیا اور اس کی تمام متاع فانی ہے اورآخرت اور اس کی تمام نعمتیں باقی ہیں ۔
اگر نہ کوچ کرو گے (ف۹۰) انہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا (ف۹۱) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکوگے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف90)اے مسلمانو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسبِ حکم اللہ تعالٰی ۔(ف91)جو تم سے بہتر اور فرمانبردار ہوں گے ۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت اور ان کے دین کو عزت دینے کا خود کفیل ہے تو اگر تم اطاعتِ فرمانِ رسول میں جلدی کرو گے تو یہ سعادت تمہیں نصیب ہوگی اور اگر تم نے سُستی کی تو اللہ تعالٰی دوسروں کو اپنے نبی کے شرفِ خدمت سے سرفراز فرمائے گا ۔
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا (ف۹۲) صرف دو جان سے جب وہ دونوں (ف۹۳) غار میں تھے جب اپنے یار سے (ف۹٤) فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا (ف۹۵) اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں (ف۹٦) اور کافروں کی بات نیچے ڈالی (ف۹۷) اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
(ف92)یعنی وقتِ ہجرت مکّۂ مکرّمہ سے جب کہ کُفّار نے دارالندوہ میں حضور کے لئے قتل و قید وغیرہ کے بُرے بُرے مشورے کئے تھے ۔(ف93)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔(ف94)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ۔ مسئلہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے ۔ حسن بن فضل نے فرمایا جو شخص حضرت صدیق اکبر کی صحابیت کا انکار کرے وہ نصِ قرانی کا منکِر ہو کر کافِر ہوا ۔(ف95)اور قلب کو اطمینان عطا فرمایا ۔(ف96)ان سے مراد ملائکہ کی فوجیں ہیں جنہوں نے کُفّار کے رُخ پھیر دیئے اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکے اور بدر و اَحزاب و حُنین میں بھی انہیں غیبی فوجوں سے مدد فرمائی ۔(ف97)دعوتِ کُفر و شرک کو پست فرمایا ۔
کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے (ف۹۸) اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو (ف۹۹)
(ف98)یعنی خوشی سے یا گرانی سے ۔ ایک قول یہ ہے کہ قوت کے ساتھ یا ضعف کے ساتھ اور بے سامانی سے یا سرو سامان سے ۔(ف99)کہ جہاد کا ثواب بیٹھ رہنے سے بہتر ہے تو مستعدی کے ساتھ تیار ہو اور کاہلی نہ کرو ۔
اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا (ف۱۰۰) تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے (ف۱۰۱) مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا، اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے (ف۱۰۲) کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے (ف۱۰۳) اپنی جانو کو ہلاک کرتے ہیں (ف۱۰٤) اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں،
(ف100)اور دینوی نفع کی امید ہوتی اور شدید محنت و مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا ۔(ف101)شانِ نُزول : یہ آیت ان منافقین کی شان میں نازِل ہوئی جنہوں نے غزوۂ تبوک میں جانے سے تخلُّف کیا تھا ۔(ف102)یہ منافقین اور اس طرح معذرت کریں گے ۔(ف103)منافقین کی اس معذرت سے پہلے خبر دے دینا غیبی خبر اور دلائلِ نبوّت میں سے ہے چنانچہ جیسا فرمایا تھا ویسا ہی پیش آیا اور انہوں نے یہی معذرت کی اور جھوٹی قسمیں کھائیں ۔(ف104)جھوٹی قسم کھا کر ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹی قسمیں کھانا سبب ہلاکت ہے ۔
اللہ تمہیں معاف کرے (ف۱۰۵) تم نے انہیں کیوں اِذن دے دیا جب تک نہ کھلے تھے تم پر سچے اور ظاہر نہ ہوئے تھے جھوٹے،
(ف105)عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ سے ابتدائے کلام و افتتاحِ خِطاب مخاطَب کی تعظیم و توقیر میں مبالَغہ کے لئے ہے اور زبانِ عرب میں یہ عُرفِ شائع ہے کہ مخاطَب کی تعظیم کے موقع پر ایسے کلمے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ قاضی عیاض رضی اللہ عنہ نے شفا میں فرمایا جس کسی نے اس سوال کو عتاب قرار دیا اس نے غلطی کی کیونکہ غزوۂ تبوک میں حاضر نہ ہونے اور گھر رہ جانے کی اجازت مانگنے والوں کو اجازت دینا نہ دینا دونوں حضرت کے اختیار میں تھے اور آپ اس میں مختار تھے چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا فَاْذَنْ لِمَنْ شِئتَ مِنھُمْ آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دیجئے تو لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ فرمانا عتاب کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اظہار ہے کہ اگر آپ انہیں اجازت نہ دیتے تو بھی وہ جہاد میں جانے والے نہ تھے اور عَفَا اللّٰہ ُ عَنْکَ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی تمہیں معاف کرے ، گناہ سے تو تمہیں واسطہ ہی نہیں ۔ اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال تکریم و توقیر اور تسکین و تسلی ہے کہ قلبِ مبارک پر لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ فرمانے سے کوئی بار نہ ہو ۔
انہیں نکلنا منظور ہوتا (ف۱۰۸) تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا پسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور (ف۱۰۹) فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والے کے ساتھ (ف۱۱۰)
(ف108)اور جہاد کا ارادہ رکھتے ۔(ف109)ان کے اجازت چاہنے پر ۔(ف110)بیٹھ رہنے والوں سے عورتیں ، بچے ، بیمار اور اپاہج لوگ مراد ہیں ۔
اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتنا اور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ میں غرابیں دوڑاتے (فساد ڈالتے) (ف۱۱۱) اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں (ف۱۱۲) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،
(ف111)اور جھوٹی جھوٹی باتیں بنا کر فساد انگیزیاں کرتے ۔(ف112)جو تمہاری باتیں ان تک پہنچائیں ۔
بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چاہا تھا (ف۱۱۳) اور اے محبوب! تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں (ف۱۱٤) یہاں تک کہ حق آیا (ف۱۱۵) اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا (ف۱۱٦) اور انہیں ناگوار تھا،
(ف113)اور وہ آپ کے اصحاب کو دین سے روکنے کی کوشش کرتے جیسا کہ عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافق نے روزِ اُحد کیا کہ مسلمانوں کو اغواء کرنے کے لئے اپنی جماعت لے کر واپس ہوا ۔(ف114)اور انہوں نے تمہارا کام بگاڑنے اور دین میں فساد ڈالنے کے لئے بہت مَکر و حیلے کئے ۔(ف115)یعنی اللہ تعالٰی کی طرف سے تائید و نصرت ۔(ف116)اور اس کا دین غالب ہوا ۔
اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے (ف۱۱۷) سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے (ف۱۱۸) اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو،
(ف117)شانِ نُزول : یہ آیت جد بن قیس منافق کے حق میں نازِل ہوئی جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے لئے تیاری فرمائی تو جد بن قیس نے کہا یارسولَ اللہ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بڑا شیدائی ہوں مجھے اندیشہ ہے کہ میں رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہوسکے گا اس لئے آپ مجھے یہیں ٹھہر جانے کی اجازت دیجئے اور ان عورتوں کے فتنہ میں نہ ڈالئے ، میں آپ کی اپنے مال سے مدد کروں گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ اس کا حیلہ تھا اور اس میں سوائے نِفاق کے اور کوئی علّت نہ تھی ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف سے مُنہ پھیر لیا اور اسے اجازت دے دی ۔ اس کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف118)کیونکہ جہاد سے رک رہنا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنا بہت بڑا فتنہ ہے ۔
اگر تمہیں بھلائی پہنچے (ف۱۱۹) تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۱۲۰) تو کہیں (ف۱۲۱) ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں،
(ف119)اور تم دشمن پر فتح یاب ہو اور غنیمت تمہارے ہاتھ آئے ۔(ف120)اور کسی طرح کی شدّت پیش آئے ۔(ف121)منافقین کہ چالاکی سے جہاد میں نہ جا کر ۔
تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا (ف۱۲۲) اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے (ف۱۲۳) یا ہمارے ہاتھوں (ف۱۲٤) تو اب راہ دیکھو ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں (ف۱۲۵)
(ف122)یا تو فتح و غنیمت ملے گی یا شہادت و مغفرت کیونکہ مسلمان جب جہاد میں جاتا ہے تو وہ اگر غالب ہو جب تو فتح و غنیمت اور اجرِ عظیم پاتا ہے اور اگر راہِ خدا میں مارا جائے تو اس کو شہادت حاصل ہوتی ہے جو اس کی اعلٰی مراد ہے ۔(ف123)اور تمہیں عاد و ثمود وغیرہ کی طرح ہلاک کرے ۔(ف124)تم کو قتل و اسیری کے عذاب میں گرفتار کرے ۔(ف125)کہ تمہارا کیا انجام ہوتا ہے ۔
تم فرماؤ کہ دل سے خرچ کرو یا ناگواری سے تم سے ہرگز قبول نہ ہوگا (ف۱۲٦) بیشک تم بےحکم لوگ ہو،
(ف126)شانِ نُزول : یہ آیت جد بن قیس منافق کے جواب میں نازِل ہوئی جس نے جہاد میں نہ جانے کی اجازت طلب کرنے کے ساتھ یہ کہا تھا کہ میں اپنے مال سے مدد کروں گا ۔ اس پر حضرت حق تبارَک وتعالٰی نے اپنے حبیب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ تم خوشی سے دو یا ناخوشی سے تمہارا مال قبول نہ کیا جائے گا یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نہ لیں گے کیونکہ یہ دینا اللہ کے لئے نہیں ہے ۔
اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ وہ اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے (ف۱۲۷)
تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے، اللہ ہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور اگر کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے (ف۱۲۸)
(ف128)تو وہ مال ان کے حق میں سببِ راحت نہ ہوا بلکہ وبال ہوا ۔
اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں (ف۱۲۹) کہ وہ تم میں سے ہیں (ف۱۳۰) اور تم میں سے ہیں نہیں (ف۱۳۱) ہاں وہ لوگ ڈرتے ہیں (ف۱۳۲)
(ف129)منافقین اس پر ۔(ف130)یعنی تمہارے دین و ملّت پر ہیں ، مسلمان ہیں ۔(ف131)تمہیں دھوکا دیتے اور جھوٹ بولتے ہیں ۔(ف132)کہ اگر ان کا نِفاق ظاہر ہو جائے تو مسلمان ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو مشرکین کے ساتھ کرتے ہیں اس لئے وہ براہِ تَقیّہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔
اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے (ف۱۳٤) تو اگر ان (ف۱۳۵) میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں،
(ف134)شانِ نُزول : یہ آیت ذُوالخُوَیْصَرَہْ تمیمی کے حق میں نازِل ہوئی ، اس شخص کا نام حُرْقُوْص بن زُہَیْر ہے اور یہی خوارِج کی اصل وبنیاد ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ذُوالخُوَیْصَرَہ نے کہا یارسولَ اللہ عدل کیجئے ! حضور نے فرمایا تجھے خرابی ہو میں نہ عدل کروں گا تو عدل کون کریگا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عر ض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن مار دوں ، حضور نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اس کے اور بھی ہمراہی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر دیکھو گے ، وہ قرآن پڑھیں گے او ر ان کے گلوں سے نہ اترے گا ، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۔(ف135)صدقات ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے (ف۱۳٦)
(ف136)کہ ہم پر اپنا فضل وسیع کرے اور ہمیں خَلق کے اموال سے غنی اور بے نیاز کر دے ۔
زکوٰة تو انہیں لوگوں کے لیے ہے (۱۳۷) محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے
(ف137)جب منافقین نے تقسیمِ صدقات میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طعن کیا تو اللہ عزوجل نے اس آیت میں بیان فرما دیا کہ صدقات کے مستحق صرف یہی آٹھ قسم کے لوگ ہیں ۔ انہیں پر صدقات صَرف کئے جائیں گے ، ان کے سوا اور کوئی مستحق نہیں اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اموالِ صدقہ سے کوئی واسطہ ہی نہیں ، آپ پر اور آپ کی اولاد پر صدقات حرام ہیں تو طعن کرنے والوں کو اعتراض کا کیا موقع ۔ صدقہ سے اس آیت میں زکوٰۃ مراد ہے ۔ مسئلہ : زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ قرار دیئے گئے ہیں ۔ ان میں سے مولَّفۃُ القلوب باِجماعِ صحابہ ساقط ہوگئے کیونکہ جب اللہ تبارَک و تعالٰی نے اسلام کو غلبہ دیا تو اب اس کی حاجت نہ رہی ۔ یہ اجماع زمانۂ صدیق میں منعقد ہوا ۔ مسئلہ : فقیر وہ ہے جس کے پاس ادنٰی چیز ہو اور جب تک اس کے پاس ایک وقت کے لئے کچھ ہو اس کو سوال حلال نہیں ۔ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ سوال کرسکتا ہے ۔ عاملین وہ لوگ ہیں جن کو امام نے صدقے تحصیل کرنے پر مقرر کیا ہو ، انہیں امام اتنا دے جو ان کے اور ان کے متعلقین کے لئے کافی ہو ۔ مسئلہ : اگر عامل غنی ہو تو بھی اس کو لینا جائز ہے ۔ مسئلہ : عامل سید یا ہاشمی ہو تو وہ زکوٰۃ میں سے نہ لے ۔ گردنیں چھوڑا نے سے مراد یہ ہے کہ جن غلاموں کو ان کے مالکوں نے مکاتَب کر دیا ہو اور ایک مقدار مال کی مقرر کر دی ہو کہ اس قدر وہ ادا کر دیں تو آزاد ہیں ، وہ بھی مستحق ہیں ، ان کو آزاد کرانے کے لئے مالِ زکوٰۃ دیا جائے ۔ قرضدار جو بغیرکسی گناہ کے مبتلائے قرض ہوئے ہوں اور اتنا مال نہ رکھتے ہوں جس سے قرض ادا کریں انہیں ادائے قرض میں مالِ زکوٰۃ سے مدد دی جائے ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بے سامان مجاہدین اور نادار حاجیوں پر صَرف کرنا مراد ہے ۔ ابنِ سبیل سے وہ مسافر مراد ہیں جس کے پاس مال نہ ہو ۔ مسئلہ : زکوٰۃ دینے والے کو یہ بھی جائز ہے کہ وہ ان تمام اقسام کے لوگوں کو زکوٰۃ دے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی قسم کو دے ۔ مسئلہ : زکوٰۃ انہیں لوگوں کے ساتھ خاص کی گئی تو ان کے علاوہ اور دوسرے مصرف میں خرچ نہ کی جائے گی ، نہ مسجد کی تعمیر میں ، نہ مردے کے کفن میں ، نہ اس کے قرض کی ا دا میں ۔ مسئلہ : زکوٰۃ بنی ہاشم اور غنی اور ان کے غلاموں کو نہ دی جائے اور نہ آدمی اپنی بی بی اور اولاد اور غلاموں کو دے ۔ (تفسیراحمدی و مدارک)
اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں (ف۱۳۸) اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کان ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں، اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
(ف138)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ۔شانِ نُزول : منافقین اپنے جلسوں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ناشائستہ باتیں بکا کرتے تھے ۔ ان میں سے بعضوں نے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوگئی تو ہمارے حق میں اچھا نہ ہوگا ۔ جلاس بن سوید منافق نے کہا ہم جو چاہیں کہیں حضور کے سامنے مُکَر جائیں گے اور قسم کھا لیں گے وہ تو کان ہیں ان سے جو کہہ دیا جائے سن کر مان لیتے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی اور یہ فرمایا کہ اگر وہ سننے والے بھی ہیں تو خیر اور صلاح کے سننے اور ماننے والے ہیں شر اور فساد کے نہیں ۔(ف139)نہ منافقوں کی بات پر ۔
تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں (ف۱٤۰) کہ تمہیں راضی کرلیں (ف۱٤۱) اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے،
(ف140)منافقین اس لئے ۔(ف141)شانِ نُزول : منافقین اپنی مجلسوں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طعن کیا کرتے تھے اور مسلمانوں کے پاس آ کر اس سے مُکر جاتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اپنی بریّت ثابت کرتے تھے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو راضی کرنے کے لئے قسمیں کھانے سے زیادہ اہم اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا تھا اگر ایمان رکھتے تھے تو ایسی حرکتیں کیوں کیں جو خدا اور رسول کی ناراضی کا سبب ہوں ۔
منافق ڈرتے ہیں کہ ان (ف۱٤۲) پر کوئی سورة ایسی اترے جو ان (ف۱٤۳) کے دلوں کی چھپی (ف۱٤٤) جتادے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے،
(ف142)مسلمانوں ۔(ف143)منافقوں ۔(ف144)دلوں کی چھپی چیز ان کا نفاق ہے اور وہ بُغض و عداوت جو وہ مسلمانوں کے ساتھ رکھتے تھے اور اس کو چھپایا کرتے تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات دیکھنے اور آپ کی غیبی خبریں سننے اور ان کو واقع کے مطابق پانے کے بعد منافقوں کو اندیشہ ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالٰی کوئی ایسی سور ت نازِل نہ فرمائے جس سے ان کے اسرار ظاہر کر دیئے جائیں اور ان کی رسوائی ہو ۔ اس آیت میں اسی کا بیان ہے ۔
اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے (ف۱٤۵) تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو،
(ف145)شانِ نُزول : غزوۂ تبوک میں جاتے ہوئے منافقین کے تین نفروں میں سے دو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت تمسخُراً کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے ، کتنا بعید خیال ہے اور ایک نفر بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا ۔ حضور نے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے انہوں نے کہا ہم راستہ کاٹنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کر رہے تھے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور ان کا یہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا گیا اور ان کے لئے یہ فرمایا گیا جو آگے ارشاد ہوتا ہے ۔
بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہو کر (ف۱٤٦) اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں (ف۱٤۵) تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے (ف۱٤۸)
(ف146)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کُفر ہے جس طرح بھی ہو اس میں عذر قبول نہیں ۔(ف147)اس کے تائب ہونے اور بہ اخلاص ایمان لانے سے ۔ محمد بن اسحٰق کا قول ہے کہ اس سے وہی شخص مراد ہے جو ہنستا تھا مگر اس نے اپنی زبان سے کوئی کلمۂ گستاخی نہ کہا تھا ۔ جب یہ آیت نازِل ہوئی تو وہ تائب ہوا اور اخلاص کے ساتھ ایمان لایا اور اس نے دعا کی کہ یاربّ مجھے اپنی راہ میں مقتول کر کے ایسی موت دے کہ کوئی یہ کہنے والا نہ ہو کہ میں نے غسل دیا ، میں نے کفن دیا ، میں نے دفن کیا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے اور ان کا پتہ ہی نہ چلا ان کا نام یحیٰی بن حمیر اشجعی تھا اور چونکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدگوئی سے زبان روکی تھی اس لئے انہیں توبہ و ایمان کی توفیق ملی ۔(ف148)اور اپنے جرم پر قائم رہے اور تائب نہ ہوئے ۔
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں (ف۱٤۹) برائی کا حکم دیں (ف۱۵۰) اور بھلائی سے منع کریں (ف۱۵۱) اور اپنی مٹھی بند رکھیں (ف۱۵۲) وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے (ف۱۵۳) تو اللہ نے انہیں چھوڑ دیا (ف۱۵٤) بیشک منافق وہی پکے بےحکم ہیں،
(ف149)وہ سب نفاق اور اعمالِ خبیثہ میں یکساں ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ۔(ف150)یعنی کُفر و معصیت اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کا ۔ (خازن)(ف151)یعنی ایمان وطاعت و تصدیقِ رسول سے ۔(ف152)راہِ خدا میں خرچ کرنے سے ۔(ف153)اور انہوں نے اس کی اطاعت و رضا طلبی نہ کی ۔(ف154)اور ثواب و فضل سے محروم کر دیا ۔
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ انہیں بس ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے
جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد سے زیادہ، تو وہ اپنا حصہ (ف۱۵۵) برت گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے (ف۱۵٦) ان کے عمل اکارت گئے دنیا اور آخرت میں اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں (ف۱۵۷)
(ف155)لذّات و شہواتِ دنیویہ کا ۔(ف156)اور تم نے اِتّباعِ باطل اور تکذیبِ خدا و رسول اور مؤمنین کے ساتھ استہزاء کرنے میں ان کی راہ اختیار کی ۔(ف157)انہیں کُفّار کی طرح اے منافقین تم ٹوٹے میں ہو اور تمہارے عملِ باطل ہیں ۔
کیا انہیں (ف۱۵۸) اپنے سے اگلوں کی خبر نہ آئی (ف۱۵۹) نوح کی قوم (ف۱٦۰) اور عاد (ف۱٦۱) اور ثمود (ف۱٦۲) اور ابراہیم کی قوم (ف۱٦۳) اور مدین والے (ف۱٦٤) اور وہ بستیاں کہ الٹ دی گئیں (ف۱٦۵) ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے (ف۱٦٦) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱٦۷) بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے (ف۱٦۸)
(ف158)یعنی منافقوں کو ۔(ف159)گزری ہوئی اُمّتوں کا حال معلوم نہ ہوا کہ ہم نے انہیں اپنے حکم کی مخالفت اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کرنے پر کس طرح ہلاک کیا ۔(ف160)جو طوفان سے ہلاک کی گئی ۔(ف161)جو ہوا سے ہلاک کئے گئے ۔(ف162)جو زلزلہ سے ہلاک کئے گئے ۔ (ف163)جو سلبِ نعمت سے ہلاک کی گئی اور نمرود مچھر سے ہلاک کیا گیا ۔(ف164)یعنی حضرت شُعیب علیہ السلام کی قوم جو روزِ ابر کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔(ف165)اور زیر و زبر کر ڈالی گئیں ۔ وہ قومِ لوط کی بستیاں تھیں ۔ اللہ تعالٰی نے ان چھ کا ذکر فرمایا اس لئے کہ بلادِ شام و عراق و یمن جو سر زمینِ عرب کے بالکل قریب ہیں ان میں ان ہلاک شدہ قوموں کے نشان باقی ہیں اور عرب لوگ ان مقامات پر اکثر گزرتے رہتے ہیں ۔(ف166)ان لوگوں نے بجائے تصدیق کرنے کے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسا کہ اے منافقین کُفّار تم کر رہے ہو ، ڈرو کہ انہیں کی طرح مبتلائے عذاب نہ کئے جاؤ ۔(ف167)کیونکہ وہ حکیم ہے بغیر جرم کے سزا نہیں فرماتا ۔(ف168)کہ کُفر او ر تکذیبِ انبیاء کر کے عذاب کے مستحق بنے ۔
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں (ف۱٦۹) بھلائی کا حکم دیں (ف۱۷۰) اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں، یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
(ف169)اور باہم دینی مَحبت و موالات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں ۔(ف170)یعنی اللہ اور رسول پر ایمان لانے اور شریعت کا اِتّباع کرنے کا ۔
اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا (ف۱۷۱) بسنے کے باغوں میں، اور اللہ کی رضا سب سے بڑی (ف۱۷۲) یہی ہے بڑی مراد پانی،
(ف171) حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جنّت میں موتی اور یاقوتِ سرخ اور زَبَرجَد کے محل مؤمنین کو عطا ہوں گے ۔(ف172) اور تمام نعمتوں سے اعلٰی اور عاشقانِ الٰہی کی سب سے بڑی تمنا رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالٰی بِجَاہٖ حَبِیْبِہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا (ف۱۷٤) اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا (ف۱۷۵) اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا (ف۱۷٦) تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے، اور اگر منہ پھیریں (ف۱۷۷) تو اللہ انہیں سخت عذاب کرے گا دنیا اور آخرت میں، اور زمین میں کوئی نہ ان کا حمایتی ہوگا اور نہ مددگار (ف۱۷۸)
(ف174)شانِ نُزول : امام بغوی نے کلبی سے نقل کیا کہ یہ آیت جلاس بن سوید کے حق میں نازِل ہوئی ۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک میں خُطبہ فرمایا اس میں منافقین کا ذکر کیا اور ان کی بدحالی و بد مآ ۤلی کا ذکر فرمایا یہ سن کر جلاس نے کہا کہ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں تو ہم لوگ گدہوں سے بد تر جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو عامر بن قیس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جلاس کا مقولہ بیان کیا ، جلاس نے انکار کیا اور کہا کہ یارسولَ اللہ عامر نے مجھ پر جھوٹ بولا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو حکم فرمایا کہ منبر کے پاس قسم کھائیں ، جلاس نے بعد عصر منبر کے پاس کھڑے ہو کر اللہ کی قسم کھائی کہ یہ بات اس نے نہیں کہی اور عامر نے اس پر جھوٹ بولا پھر عامر نے کھڑے ہو کر قسم کھائی کہ بے شک یہ مقولہ جلاس نے کہا اور میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا پھر عامر نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کے حضور میں دعا کی یاربّ اپنے نبی پر سچے کی تصدیق نازِل فرما ۔ ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ہی حضرت جبریل یہ آیت لے کر نازِل ہوئے آیت میں فَاِنْ یَّتُوْبُوْا بِکُ خَیْراً لَّھُمْ سن کر جلاس کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یارسولَ اللہ سنئے اللہ نے مجھے توبہ کا موقع دیا ، عامر بن قیس نے جو کچھ کہا سچ کہا ، میں نے وہ کلمہ کہا تھا اور اب میں توبہ و استغفار کرتا ہوں حضور نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور وہ توبہ پر ثابت رہے ۔(ف175)مجاہد نے کہا کہ جلاس نے افشائے راز کے اندیشہ سے عامر کے قتل کا ارادہ کیا تھا اس کی نسبت اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ وہ پورا نہ ہوا ۔(ف176)ایسی حالت میں ان پر شکر واجب تھا نہ کہ ناسپاسی ۔(ف177)توبہ و ایمان سے اور کُفر و نفاق پر مُصِر رہیں ۔(ف178)کہ انہیں عذابِ الٰہی سے بچا سکے ۔
اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے (ف۱۷۹)
(ف179)شانِ نُزول : ثعلبہ بن حاطب نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی اس کے لئے مالدار ہونے کی دعا فرمائیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے اس بہت سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کر سکے ، دوبارہ پھر ثعلبہ نے حاضر ہو کر یہی درخواست کی اور کہا اسی کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا ۔ حضورنے دعا فرمائی اللہ تعالٰی نے اس کی بکریوں میں برکت فرمائی اور اتنی بڑھیں کہ مدینہ میں ان کی گنجائش نہ ہوئی تو ثعلبہ ان کو لے کر جنگل میں چلا گیا اور جمعہ و جماعت کی حاضری سے بھی محروم ہوگیا ۔ حضور نے اس کا حال دریافت فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اور اب جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجائش نہ رہی ۔ حضورنے فرمایا کہ ثعلبہ پر افسوس پھر جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے تحصیل کرنے والے بھیجے ، لوگوں نے انہیں اپنے اپنے صدقات دیے جب ثعلبہ سے جا کر انہوں نے صدقہ مانگا اس نے کہا یہ تو ٹیکس ہوگیا ، جاؤ میں سوچ لوں جب یہ لوگ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو حضور نے ان کے کچھ عرض کرنے سے قبل دو مرتبہ فرمایا ثعلبہ پر افسوس تو یہ آیت نازِل ہوئی پھر ثعلبہ صدَقہ لے کر حاضر ہوا تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے اس کے قبول فرمانے کی ممانعت فرما دی ۔ وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر واپس ہوا پھر اس صدَقہ کو خلافتِ صدیقی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی اسے قبول نہ فرمایا پھر خلافتِ فاروقی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی قبول نہ فرمایا اور خلافتِ عثمانی میں یہ شخص ہلاک ہوگیا ۔ (مدارک)
تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے (ف۱۸۰)
(ف180)امام فخر الدّین رازی نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد شکنی اور وعدہ خلافی سے نِفاق پیدا ہوتا ہے تو مسلمان پر لازم ہے کہ ان باتوں سے احتراز کرے اور عہد پورا کرنے اور وعدہ وفا کرنے میں پوری کوشش کرے ۔حدیث شریف میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے خلاف کرے ، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے ۔
اور جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں (ف۱۸۲) اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے (ف۱۸۳) تو ان سے ہنستے ہیں (ف۱۸٤) اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
(ف182)شانِ نُزول : جب آیت صدقہ نازِل ہوئی تو لوگ صدقہ لائے ان میں کوئی بہت کثیر لائے انہیں تو منافقین نے ریا کار کہا اور کوئی ایک صاع ( 2/ 1 ۔ 3سیر ) لائے تو انہیں کہا اللہ کو اس کی کیا پرواہ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی رغبت دلائی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف چار ہزار درہم لائے اور عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا کل مال آٹھ ہزار درہم تھا چار ہزار تویہ راہِ خدا میں حاضر ہے اور چار ہزار میں نے گھر والوں کے لئے روک لئے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو تم نے دیا اللہ اس میں برکت فرمائے اور جو روک لیا اس میں بھی برکت فرمائے ، حضور کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ ان کا مال بہت بڑھا یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے دو بیبیاں چھوڑیں انہیں آٹھواں حصہ ملا جس کی مقدار ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم تھی ۔(ف183)ابو عقیل انصاری ایک صاع کھجوریں لے کر حاضر ہوئے اور انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ میں نے آج رات پانی کھینچنے کی مزدوری کی ، اس کی اجرت دو صاع کھجوریں ملیں ، ایک صاع تو میں گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا اور ایک صاع راہِ خدا میں حاضر ہے ۔ حضور نے یہ صدَقہ قبول فرمایا اور اس کی قدر کی ۔(ف184)منافقین اور صدَقہ کی قلّت پر عار دلاتے ہیں ۔
تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا (ف۱۸۵) یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۸٦)
(ف185)شانِ نُزول : اوپر کی آیتیں جب نازِل ہوئیں اورمنافقین کا نِفاق کھل گیا اور مسلمانوں پر ظاہر ہوگیا تو منافقین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے معذرت کر کے کہنے لگے کہ آپ ہمارے لئے استِغفار کیجئے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالٰی ہر گز ان کی مغفرت نہ فرمائے گا چاہے آپ استِغفار میں مبالغہ کریں ۔(ف186)جو ایمان سے خارج ہوں جب تک کہ وہ کُفر پر رہیں ۔ (مدارک)
پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے (ف۱۸۷) اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑیں اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو، تم فرماؤ جہنم کی آگ سب سے سخت گرم ہے، کسی طرح انہیں سمجھ ہوتی (ف۱۸۸)
(ف187)اور غزوۂ تبوک میں نہ گئے ۔(ف188)تو تھوڑی دیر کی گرمی برداشت کرتے اور ہمیشہ کی آ گ میں جلنے سے اپنے آپ کو بچاتے ۔
تو انہیں چاہیے تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں (ف۱۸۹) بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۱۹۰)
(ف191)غزوۂ تبوک کے بعد ۔(ف192)مُتخلِّفین ۔(ف193)اگر وہ منافق جو تبوک میں جانے سے بیٹھ رہا تھا ۔(ف194)عورتوں , بچوں , بیماروں اور اپاہجوں کے ۔مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ جس شخص سے مَکر و خداع ظاہر ہو ، اس سے انقطاع اور علیٰحدگی کرنا چاہیئے اور مَحض اسلام کے مدَّعی ہونے سے مصاحبت و موافقت جائز نہیں ہوتی اسی لئے اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منافقین کے جہاد میں جانے کو منع فرما دیا ۔ آج کل جو لوگ کہتے ہیں کہ ہر کلمہ گو کو ملا لو اور اس کے ساتھ اتفاق و اتحاد کرو ۔ یہ اس حکم قرآنی کے بالکل خلاف ہے ۔
پھر اے محبوب! (ف۱۹۱) اگر اللہ تمہیں ان (ف۱۹۲) میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ (ف۱۹۳) تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ (ف۱۹٤)
(ف195)اس آیت میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافِر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافِر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا (اور فِسق ہی میں مرگئے) یہاں فِسق سے کُفر مراد ہے ۔ قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فِسق بمعنی کُفر وارِد ہوا ہے جیسے کہ آیت اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِناً کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً میں ۔ مسئلہ : فاسق کے جنازے کی نماز جائز ہے اس پر صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے اور اس پر عُلَماءِ صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنّت و جما عت کا مذہب ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے مسلمانوں کے جنازے کی نماز کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے اور اس کا فرضِ کفایہ ہونا حدیثِ مشہور سے ثابت ہے ۔ مسئلہ : جس شخص کے مؤمن یا کافِر ہونے میں شبہ ہو اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھی جائے ۔ مسئلہ : جب کوئی کافِر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیئے کہ بطریقِ مسنون غسل نہ دے بلکہ نجاست کی طرح اس پر پانی بہا دے اور نہ کفنِ مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے سِتر چھپ جائے اور نہ سنّت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنّت قبر بنائے صرف گڑھا کھود کر دبادے ۔ شانِ نُزول : عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافقوں کا سردار تھا جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹے عبداللہ نے جو مسلمان ، صالح ، مخلِص صحابی اور کثیر العبادت تھے ۔ انہوں نے یہ خواہش کی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے باپ عبداللہ بن اُبَی بن سلول کو کفن کے لئے اپنا قمیص مبارک عنایت فرمادیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی لیکن چونکہ اس وقت تک ممانعت نہیں ہوئی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ حضور کا یہ عمل ایک ہزار آدمیوں کے ایمان لانے کا باعث ہوگا اس لئے حضور نے اپنی قمیص بھی عنایت فرمائی اور جنازہ کی شرکت بھی کی ۔ قمیص دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس جو بدر میں اسیر ہو کر آئے تھے تو عبداللہ بن اُبَی نے اپنا کُرتہ انہیں پہنایا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا بدلہ کردینا بھی منظور تھا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور اس کے بعد پھر کبھی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی منافق کے جنازہ کی شرکت نہ فرمائی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ مصلحت بھی پوری ہوئی چنانچہ جب کُفّار نے دیکھا کہ ایسا شدید العداوت شخص جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کُرتے سے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقیدے میں بھی آپ اللہ کے حبیب اور اس کے سچّے رسول ہیں ۔ یہ سوچ کر ہزار کافِر مسلمان ہوگئے ۔
اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں،
اور بہانے بنانے والے گنوار آئے (ف۱۹۹) کہ انہیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ جنہوں نے اللہ و رسول سے جھوٹ بولا تھا (ف۲۰۰) جلد ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب پہنچے گا (ف۲۰۱)
(ف199)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جہاد سے رہ جانے کا عذر کرنے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ عامر بن طفیل کی جماعت تھی انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا نبیَ اللہ اگر ہم آپ کے ساتھ جہاد میں جائیں تو قبیلۂ طے کے عرب ہماری بی بیوں بچوں اور جانوروں کو لوٹ لیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ نے تمہارے حال سے خبردار کیا ہے اور وہ مجھے تم سے بے نیاز کرے گا ۔ عمرو بن علاء نے کہا کہ ان لوگوں نے عذرِ باطل بنا کر پیش کیا تھا ۔(ف200)یہ دوسرے گروہ کا حال ہے جو بغیر کسی عذر کے بیٹھ رہے ، یہ منافقین تھے انہوں نے ایمان کا دعوٰی جھوٹا کیا تھا ۔(ف201)دنیا میں قتل ہونے کا اور آخرت میں جہنّم کا ۔
ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں (ف۲۰۲) اور نہ بیماروں پر (ف۲۰۳) اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو (ف۲۰٤) جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں (ف۲۰۵) نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں (ف۲۰٦) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف202)باطل والوں کا ذکر فرمانے کے بعد سچّے عذر والوں کے متعلق فرمایا کہ ان پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان کے چند طبقے بیان فرمائے ، پہلے ضعیف جیسے کہ بوڑھے ، بچے ، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ، ضعیف ، نحیف ، ناکارہ ہو ۔(ف203)یہ دوسرا طبقہ ہے جس میں اندھے ، لنگڑے ، اپاہج بھی داخل ہیں ۔(ف204)اور سامانِ جہاد نہ کر سکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ۔(ف205)ان کی اطاعت کریں اور مجاہدین کے گھر والوں کی خبر گیری رکھیں ۔(ف206)مؤاخَذہ کی ۔
اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ (ف۲۰۷) تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا،
(ف207)شانِ نُزول : اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے چند حضرات جہاد میں جانے کے لئے حاضر ہوئے انہوں نے حضور سے سواری کی درخواست کی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں تو وہ روتے واپس ہوئے ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔
مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں (ف۲۰۸) انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے (ف۲۰۹)
(ف208)جہاد میں جانے کی قدرت رکھتے ہیں باوجود اس کے ۔(ف209)کہ جہاد میں کیا نفع و ثواب ہے ۔
تم سے بہانے بنائیں گے (ف۲۱۰) جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا ، بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں، اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے (ف۲۱۱) پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے وہ تمہیں جتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
(ف210)اور باطل عذر پیش کریں گے ، یہ جہاد سے رہ جانے والے منافق تمہارے اس سفر سے واپس ہونے کے وقت ۔(ف211)کہ تم نِفاق سے توبہ کرتے ہو یا اس پر قائم رہتے ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ زمانۂ مستقبِل میں وہ مومنین کی مدد کریں گے ، ہوسکتا ہے کہ اسی کی نسبت فرمایا گیا ہو کہ اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے کہ تم اپنے اس عہد کو بھی وفا کرتے ہو یا نہیں ۔
اب تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب (ف۲۱۲) تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو (ف۲۱۳) تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو (ف۲۱٤) وہ تو نرے پلید ہیں (ف۲۱۵) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۲۱٦)
(ف212)اپنے اس سفر سے واپس ہو کر مدینۂ طیّبہ میں ۔(ف213)اور ان پر ملامت و عتاب نہ کرو ۔(ف214)اور ان سے اجتناب کرو ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھنا ، ان سے بولنا ترک کر دو چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضور نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ منافقین کے پاس نہ بیٹھیں ، ان سے بات نہ کریں کیونکہ ان کے باطِن خبیث اور اعمال قبیح ہیں اور ملامت و عتاب سے ان کی اصلاح نہ ہوگی اس لئے کہ ۔(ف215)اور پلیدی کے پاک ہونے کا کوئی طریقہ نہیں ۔(ف216)دنیا میں خبیث عمل ۔ شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت جد بن قیس اور معتب بن قشیر اور انکے ساتھیوں کے حق میں نازِل ہوئی ۔ یہ اسّی۸۰ منافق تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو ، ان سے کلام نہ کرو ۔ مقاتل نے کہا کہ یہ آیت عبداللہ بن اُبَی کے حق میں نازِل ہوئی ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی وہ جہاد میں جانے سے سُستی نہ کرے گا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ حضور اس سے راضی ہو جائیں ۔ اس پر یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازِل ہوئی ۔
تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ (ف۲۱۷) تو بیشک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا (ف۲۱۸)
(ف217)اور ان کے عذر قبول کر لو تو اس سے انہیں کچھ نفع نہ ہوگا کیونکہ تم اگر ان کی قَسموں کا اعتبار بھی کر لو ۔(ف218)اس لئے کہ وہ ان کے دل کے کُفر و نفاق کو جانتا ہے ۔
اور کچھ گنوار وہ ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اسے تاوان سمجھیں (ف۲۲۱) اور تم پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہیں (ف۲۲۲) انہیں پر ہے بری گردش (ف۲۲۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
(ف221)کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں رضائے الٰہی اور طلبِ ثواب کے لئے تو کرتے نہیں ، ریا کاری اور مسلمانوں کے خوف سے خرچ کرتے ہیں ۔(ف222)اور یہ راہ دیکھتے ہیں کہ کب مسلمانوں کا زور کم ہو اور کب وہ مغلوب ہو ں ، انہیں خبر نہیں کہ اللہ کو کیا منظو رہے وہ بتلا دیا جاتا ہے ۔(ف223)اور وہی رنج و بلا اور بدحالی میں گرفتار ہوں گے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت قبیلۂ اسد و غطفان و تمیم کے اَعرابیوں کے حق میں نازِل ہوئی پھر اللہ تبارَک و تعالٰی نے ان میں سے جن کو مستثنٰی کیا ان کا ذکر اگلی آیت میں ہے ۔ (خازن)
اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں (ف۲۲٤) اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں (ف۲۲۵) ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف224)مجاہد نے کہا کہ یہ لوگ قبیلۂ مُزینہ میں سے بنی مقرن ہیں ۔ کلبی نے کہا وہ اسلم اور غفار اور جُہینہ کے قبیلہ ہیں ۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قریش اور انصار اور جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور شجاع اور غفار موالی ہیں ، اللہ اور رسول کے سوا ان کا کوئی مولا نہیں ۔(ف225)کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں صدَقہ لائیں تو حضور ان کے لئے خیر و برکت و مغفرت کی دعا فرمائیں ، یہی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ تھا ۔ مسئلہ : یہی فاتحہ کی اصل ہے کہ صدَقہ کے ساتھ دعائے مغفرت کی جاتی ہے لہذا فاتحہ کو بدعت و ناروا بتانا قرآن و حدیث کے خلاف ہے ۔
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر (ف۲۲٦) اور انصار (ف۲۲۷) اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے (ف۲۲۸) اللہ ان سے راضی (ف۲۲۹) اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
(ف226)وہ حضرات جنہوں نے دونوں قِبلوں کی طرف نمازیں پڑھیں یا اہلِ بدر یا اہلِ بیت رضوان ۔(ف227)اصحابِ بیعتِ عُقبۂ اُولٰی جو چھ حضرات تھے اور اصحابِ بیعتِ عُقبۂ ثانیہ جو بارہ تھے اور اصحابِ بیعتِ عقبۂ ثالثہ جو ستّر اصحاب ہیں ، یہ حضرات سابقین انصار کہلاتے ہیں ۔ (خازن)(ف228)کہا گیا ہے کہ کہ ان سے باقی مہاجرین و انصار مراد ہیں تو اب تمام اصحاب اس میں آ گئے اور ایک قول یہ ہے کہ پیرو ہونے والوں سے قیامت تک کے وہ ایماندار مراد ہیں جو ایمان و طاعت و نیکی میں انصار و مہاجرین کی راہ چلیں ۔(ف229)اس کو ان کے نیک عمل قبول ۔(ف230)اس کے ثواب و عطا سے خوش ۔
اور تمہارے آس پاس (ف۲۳۱) کے کچھ گنوار منافق ہیں، اور کچھ مدینہ والے، ان کی خو ہوگئی ہے نفاق، تم انہیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں (ف۲۳۲) جلد ہم انہیں دوبارہ (ف۲۳۳) عذاب کریں گے پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۲۳٤)
(ف231) یعنی مدینۂ طیّبہ کے قُرب و جوار ۔(ف232)اس کے معنی یا تویہ ہیں کہ ایسا جاننا جس کا اثر انہیں معلوم ہو ، وہ ہمارا جاننا ہے کہ ہم انہیں عذاب کریں گے یا حضور سے منافقین کے حال جاننے کی نفی باعتبار ماسبق ہے اور اس کا علم بعد کو عطا ہوا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: وَلَتَعْرِفَنَّھُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ (جمل) کلبی و سدی نے کہا کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزِ جمعہ خطبہ کے لئے قیام کر کے نام بنام فرمایا نکل اے فلاں تو منافق ہے ، نکل اے فلاں تو منافق ہے تو مسجد سے چند لوگوں کو رسوا کر کے نکالا ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورکو اس کے بعد منافقین کے حال کا علم عطا فرمایا گیا ۔(ف233)ایک بار تو دنیا میں رسوائی اور قتل کے ساتھ اور دوسری مرتبہ قبر میں ۔(ف234)یعنی عذابِ دوزخ کی طرف جس میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے ۔
اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے (ف۲۳۵) اور ملایا ایک کام اچھا (ف۲۳٦) اور دوسرا بڑا (ف۲۳۷) قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف235)اور انہوں نے دوسروں کی طرح جھوٹے عذر نہ کئے اور اپنے فعل پر نادم ہوئے ۔ شانِ نُزول : جمہور مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت مدینۂ طیّبہ کے مسلمانوں کی ایک جماعت کے حق میں نازِل ہوئی جو غزوۂ تبوک میں حاضر نہ ہوئے تھے اس کے بعد نادم ہوئے اور توبہ کی اور کہا افسوس ہم گمراہوں کے ساتھ یا عورتوں کے ساتھ رہ گئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب جہاد میں ہیں ۔ جب حضور اپنے سفر سے واپس ہوئے اور قریبِ مدینہ پہنچے تو ان لوگوں نے قسم کھائی کہ ہم اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیں گے اور ہر گز نہ کھولیں گے یہاں تک کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کھولیں ۔ یہ قسمیں کھا کر وہ مسجد کے ستونوں سے بندھ گئے جب حضور تشریف لائے اور انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا یہ کون ہیں ؟ عرض کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں حاضر ہونے سے رہ گئے تھے ۔ انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ یہ اپنے آپ کو نہ کھولیں گے جب تک حضور ان سے راضی ہو کر انہیں خود نہ کھولیں ۔ حضور نے فرمایا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں انہیں نہ کھولوں گا نہ ان کا عذر قبول کروں جب تک کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان کے کھولنے کا حکم دیا جائے ۔ تب یہ آیت نازِل ہوئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کھولا تو انہوں نے عرض کیا یارسولَ اللہ یہ مال ہمارے رہ جانے کے باعث ہوئے ، انہیں لیجئے اور صدَقہ کیجئے اور ہمیں پاک کر دیجئے اور ہمارے لئے دعائے مغفرت فرمائیے ۔ حضور نے فرمایا مجھے تمہارے مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ اس پر اگلی آیت نازِل ہوئی خُذْمِنْ اَمْوَالِھِمْ ۔(ف236)یہاں عملِ صالح سے یا اعترافِ قُصور اور توبہ مراد ہے یا اس تخلُّف سے ۔ پہلے غزوات میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہونا یا طاعت و تقوٰی کے تمام اعمال ، اس تقدیر پر آیت تمام مسلمانوں کے حق میں ہوگی ۔(ف237)اس سے تخلُّف یعنی جہاد سے رہ جانا مراد ہے ۔
اے محبوب! ان کے مال میں سے زکوٰة تحصیل کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو (ف۲۳۸) بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
(ف238)آیت میں جو صدَقہ وارِد ہوا ہے اس کے معنٰی میں مفسِّرین کے کئی قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ صدَقہ غیر واجبہ تھا جو بطورِ کَفّارہ کے ان صاحبوں نے دیا تھا جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس صدَقہ سے مراد وہ زکوٰۃ ہے جو ان کے ذمہ واجب تھی ، وہ تائب ہوئے اور انہوں نے زکوٰۃ ادا کرنی چاہی تو اللہ تعالٰی نے اس کے لینے کا حکم دیا ۔ امام ابوبکر رازی جصاص نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ صدَقہ سے زکوٰۃ مراد ہے ۔ (خازن و احکام القرآن) مدارک میں ہے کہ سنّت یہ ہے کہ صدَقہ لینے والا صدَقہ دینے والے کے لئے دعا کرے اور بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بِن ابی اَوفی کی حدیث ہے کہ جب کوئی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدَقہ لاتا آپ اس کے حق میں دعا کرتے ، میرے باپ نے صدَقہ حاضر کیا تو حضور نے دعا فرمائی اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلۤیٰ اَبِی اَوْفیٰ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ فاتحہ میں جو صدَقہ لینے والے صدَقہ پا کر دعا کرتے ہیں ، یہ قرآن و حدیث کے مطابق ہے ۔
کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنی دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۲۳۹)
(ف239)اس میں توبہ کرنے والوں کو بِشارت دی گئی کہ ان کی توبہ اور ان کے صدقات مقبول ہیں ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ جن لوگوں نے اب تک توبہ نہیں کی اس آیت میں انہیں توبہ اور صدقہ کی ترغیب دی گئی ۔
اور تم فرماؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان، اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتاوے گا،
اور کچھ (ف۲٤۰) موقوف رکھے گئے اللہ کے حکم پر، یا ان پر عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے (ف۲٤۱) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف240)مُتخلِّفین میں سے ۔(ف241)متخلِّفین یعنی غزوۂ تبوک سے رہ جانے والے تین قِسم کے تھے ۔ ایک منافقین جو نِفاق کے خُوگر اور عادی تھے ، دوسرے وہ لوگ جنہوں نے قصور کے اعتراف اور توبہ میں جلدی کی جن کا اوپر ذکر ہو چکا ، تیسرے وہ جنہوں نے توقُّف کیا اور جلدی توبہ نہ کی ، یہی اس آیت سے مراد ہیں ۔
اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی (ف۲٤۲) نقصان پہنچانے کو (ف۲٤۳) اور کفر کے سبب (ف۲٤٤) اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو (ف۲٤۵) اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے (ف۲٤٦) اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے ہم نے تو بھلائی چاہی، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں،
(ف242)شانِ نُزول : یہ آیت ایک جماعتِ منافقین کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے مسجدِ قُبا کو نقصان پہنچانے اور اس کی جماعت متفرق کرنے کے لئے اس کے قریب ایک مسجد بنائی تھی ۔ اس میں ایک بڑی چال تھی وہ یہ کہ ابو عامر جو زمانِ جاہلیت میں نصرانی راہب ہو گیا تھا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینۂ طیّبہ تشریف لانے پرحضور سے کہنے لگا یہ کون سا دین ہے جو آپ لائے ہیں ، حضور نے فرمایا میں ملّتِ حنیفیہ ، دینِ ابراہیم لایا ہوں ، کہنے لگا میں اسی دین پر ہوں ، حضور نے فرمایا نہیں ، اس نے کہا کہ آپ نے اس میں کچھ اور ملا دیا ہے ، حضور نے فرمایا نہیں ، میں خالص ، صاف ملّت لایا ہوں ۔ ابو عامر نے کہا ہم میں سے جو جھوٹا ہو اللہ اس کو مسافرت میں تنہا اور بیکس کرکے ہلاک کرے ، حضور نے آمین فرمایا ۔ لوگوں نے اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا ، روزِ اُحد ابو عامر فاسق نے حضور سے کہا کہ جہاں کہیں کوئی قوم آپ سے جنگ کرنے والی ملے گی میں اس کے ساتھ ہو کر آپ سے جنگ کروں گا چنانچہ جنگِ حنین تک اس کا یہی معمول رہا اور وہ حضور کے ساتھ مصروفِ جنگ رہا ، جب ہوازن کو شکست ہوئی اور وہ مایوس ہو کر مُلکِ شام کی طرف بھاگا تو اس نے منافقین کو خبر بھیجی کہ تم سے جو سامانِ جنگ ہو سکے قوت وسلاح سب جمع کرو اور میرے لئے ایک مسجد بناؤ ، میں شاہِ روم کے پاس جاتا ہوں وہاں سے رومی لشکر لے کر آؤں گا اور (سیدِ عالَم ) محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب کو نکالوں گا ۔ یہ خبر پا کر ان لوگوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا تھا یہ مسجد ہم نے آسانی کے لئے بنا دی ہے کہ جو لوگ بوڑھے ، ضعیف ، کمزور ہیں وہ اس میں بہ فراغت نماز پڑھ لیا کریں ، آپ اس میں ایک نماز پڑھ دیجئے اور برکت کی دعا فرما دیجئے ۔ حضورنے فرمایا کہ اب تو میں سفرِ تبوک کے لئے پا برکاب ہوں ، واپسی پر اللہ کی مرضی ہوگی تو وہاں نماز پڑھ لوں گا جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس ہو کر مدینہ شریف کے قریب ایک موضع میں ٹھہرے تو منافقین نے آپ سے درخواست کی کہ ان کی مسجد میں تشریف لے چلیں ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور ان کے فاسد ارادوں کا اظہار فرمایا گیا تب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض اصحاب کو حکم دیا کہ اس مسجد کو جا کر ڈھا دیں اور جلا دیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ابو عامر راہب مُلکِ شام میں بحالتِ سفر بے کسی و تنہائی میں ہلاک ہوا ۔(ف243)مسجدِ قُبا والوں کے ۔(ف244)کہ وہاں خدا اور رسول کے ساتھ کُفر کریں اور نِفاق کو قوت دیں ۔(ف245)جو مسجدِ قُبا میں نماز کےلئے مجتمع ہوتے ہیں ۔(ف246)یعنی ابو عامر راہب ۔
اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا، (ف۲٤۷) بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے (ف۲٤۸) وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو، اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں (ف۲٤۹) اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں،
(ف247)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجدِ ضرار میں نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی گئی ۔ مسئلہ : جو مسجد فخر و ریا اور نمود و نمائیش یا رضائے الٰہی کے سوا اور کسی غرض کے لئے یا غیرِ طیّب مال سے بنائی گئی ہو وہ مسجدِ ضرار کے ساتھ لاحق ہے ۔ (مدارک)(ف248)اس سے مراد مسجدِ قُبا ہے جس کی بنیاد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی اور جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قُبا میں قیام فرمایا اس میں نماز پڑھی ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ مسجدِ قُبا میں تشریف لاتے تھے ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ مسجدِ قُبا میں نماز پڑھنے کا ثواب عمرہ کے برابر ہے ۔ مفسِّرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مسجدِ مدینہ مراد ہے اور اس میں بھی حدیثیں وارِد ہیں ، ان دونوں باتوں میں کچھ تعارُض نہیں کیونکہ آیت کا مسجدِ قُبا کے حق میں نازِل ہونا اس کو مستلزم نہیں ہے کہ مسجدِ مدینہ میں یہ اوصاف نہ ہوں ۔(ف249)تمام نجاستوں سے یا گناہوں سے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت اہلِ مسجدِ قُبا کے حق میں نازِل ہوئی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے گروہِ انصار اللہ عزوجل نے تمہاری ثنا فرمائی تم وضو اور استنجے کے وقت کیا عمل کرتے ہو انہوں نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم بڑا استنجہ تین ڈھیلوں سے کرتے ہیں اس کے بعد پھر پانی سے طہارت کرتے ہیں ۔ مسئلہ : نجاست اگر جائے خروج سے متجاوز ہو جائے تو پانی سے استنجا واجب ہے ورنہ مستحب ۔ مسئلہ : ڈھیلوں سے استنجا سنّت ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مواظبت فرمائی اور کبھی ترک بھی کیا ۔
تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر (ف۲۵۰) وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ (ٹوٹے ہوئے کناروں والے) گڑھے کے کنارے (ف۲۵۱) تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں ڈھے پڑا (ف۲۵۲) اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
(ف250)جیسے کہ مسجدِ قُبا اور مسجدِ مدینہ ۔(ف251)جیسے کہ مسجدِ ضرار والے ۔(ف252)مراد یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے دین کی بنا تقوٰی اور رضائے الٰہی کی مضبو ط سطح پر رکھی وہ بہتر ہے نہ کہ وہ جس نے اپنے دین کی بنا باطل و نِفاق کے گراؤ گڈھے پر رکھی ۔
وہ تعمیر جو چنی (کی) ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی (ف۲۵۳) مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں (ف۲۵٤) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف253)اور اس کے گرائے جانے کا صدمہ باقی رہے گا ۔(ف254)خواہ قتل ہو کر یا مر کر یا قبر میں یا جہنّم میں ۔ معنی یہ ہیں کہ ان کے دلوں کا غم و غصہ تا مرگ باقی رہے گا ۔ بمیرتا برہی اے حسود کیں رنجیست کہ از مشقت اوجزبمرگ نتواں رست اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جب تک ان کے دل اپنے قُصور کی ندامت اور افسوس سے پارہ پارہ نہ ہوں اور وہ اخلاص سے تائب نہ ہوں اس وقت تک وہ اسی رنج و غم میں رہیں گے ۔ (مدارک)
بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے (ف۲۵۵) اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں (ف۲۵٦) اور مریں (ف۲۵۷) اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں (ف۲۵۸) اور اللہ سے زیادہ قول کا پورا کون تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی بڑی کامیابی ہے،
(ف255)راہِ خدا میں جان و مال خرچ کرکے جنّت پانے والے ایمان داروں کی ایک تمثیل ہے جس سے کمال لطف و کرم کا اظہار ہوتا ہے کہ پروردگارِ عالَم نے انہیں جنّت عطا فرمانا ، ان کے جان و مال کا عوض قرار دیا اور اپنے آپ کو خریدار فرمایا ، یہ کمال عزّت افزائی ہے کہ و ہ ہمارا خریدار بنے اور ہم سے خریدے کس چیز کو ، جو نہ ہماری بنائی ہوئی نہ ہماری پیدا کی ہوئی ، جان ہے تو اس کی پیدا کی ہوئی ، مال ہے تو اس کا عطا فرمایا ہوا ۔ شانِ نُزول : جب انصار نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شبِ عُقبہ بیعت کی تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یارسولَ اللہ اپنے ربّ کے لئے اور اپنے لئے کچھ شرط فرما لیجئے جو آپ چاہیں ، فرمایا میں اپنے ربّ کے لئے تو یہ شرط کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے لئے یہ کہ جن چیزوں سے تم اپنے جان و مال کو بچاتے اور محفوظ رکھتے ہو اس کو میرے لئے بھی گوارا نہ کرو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا ملے گا ، فرمایا جنّت ۔(ف256)خدا کے دشمنوں کو ۔(ف257)راہِ خدا میں ۔(ف258)اس سے ثابت ہوا کہ تمام شریعتوں اور ملّتوں میں جہاد کا حکم تھا ۔
توبہ والے (ف۲۵۹) عبادت والے (ف۲٦۰) سراہنے والے (ف۲٦۱) روزے والے رکوع والے سجدہ والے (ف۲٦۲) بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے (ف۲٦۳) اور خوشی سناؤ مسلمانوں (ف۲٦٤)
(ف259)تمام گناہوں سے ۔(ف260)اللہ کے فرمانبردار بندے جو اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرتے ہیں اور عبادت کو اپنے اوپر لازم جانتے ہیں ۔(ف261)جو ہر حال میں اللہ کی حمد کرتے ہیں ۔(ف262)یعنی نمازوں کے پابند اور ان کو خوبی سے ادا کرنے والے ۔(ف263)اور اس کے احکام بجا لانے والے یہ لوگ جنّتی ہیں ۔(ف264)کہ وہ اللہ کا عہد و فا کریں گے تو اللہ تعالٰی انہیں جنّت میں داخل فرمائے گا ۔
نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں (ف۲٦۵) جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں (ف۲٦٦)
(ف265)شانِ نُزول : اس آیت کی شانِ نُزول میں مفسِّرین کے چند قول ہیں (۱) نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے استِغفار کروں گا جب تک کہ مجھے ممانعت نہ کی جائے تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرما کر ممانعت فرما دی ۔ (۲) سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کی زیارتِ قبر کی اجازت چاہی اس نے مجھے اجازت دی پھر میں نے ان کے لئے استِغفار کی اجازت چاہی تو مجھے اجازت نہ دی اور مجھ پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔ مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ اقول : یہ وجہ شانِ نُزول کی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث حاکم نے روایت کی اور اس کو صحیح بتایا اور ذہبی نے حاکم پر اعتماد کر کے میزان میں اس کی تصحیح کی لیکن مختصر المستدرک میں ذہبی نے اس حدیث کی تضعیف کی اور کہا کہ ایوب بن ہانی کو ابنِ معین نے ضعیف بتایا ہے علاوہ بریں یہ حدیث بخاری کی حدیث کے مخالف بھی ہے جس میں اس آیت کے نُزول کا سبب آپ کا والدہ کے لئے استِغفار کرنا نہیں بتایا گیا بلکہ بخاری کی حدیث سے یہی ثابت ہے کہ ابو طالب کے لئے استِغفار کرنے کے باب میں یہ حدیث وارِد ہوئی ، اس کے علاوہ اور حدیثیں جو اس مضمون کی ہیں جن کو طبرانی اور ابنِ سعد اور ابنِ شاہین وغیرہ نے روایت کیا ہے وہ سب ضعیف ہیں ۔ ابن سعد نے طبقات میں حدیث کی تخریج کے بعد اس کو غلط بتایا اور سند المحدثین امام جلال الدین سیوطی نے اپنے رسالہ التعظیم والمنتہ میں اس مضمون کی تمام احادیث کو معلول بتایا لہذا یہ وجہ شانِ نُزول میں صحیح نہیں اور یہ ثابت ہے اس پر بہت دلائل قائم ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ موَحِّدہ اور دینِ ابراہیمی پر تھیں ۔ (۳) بعض اصحاب نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے آبا کے لئے استِغفار کرنے کی درخواست کی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف266)شرک پر مرے ۔
اور ابراہیم کا اپنے باپ (ف۲٦۷) کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا (ف۲٦۸) پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہوگیا) (ف۲٦۹) بیشک ابراہیم بہت آہیں کرنے والا (ف۲۷۰) متحمل ہے،
(ف267)یعنی آزر ۔(ف268)اس سے یا تو وہ وعدہ مراد ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے آزر سے کیا تھا کہ میں اپنے ر بّ سے تیری مغفرت کی دُعا کروں گا یا وہ وعدہ مراد ہے جو آزر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اسلام لانے کا کیا تھا ۔ شانِ نُزول : حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازِل ہوئی سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ تو میں نے سنا کہ ایک شخص اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجود یکہ وہ دونوں مشرک تھے تو میں نے کہا تو مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے ، اس نے کہا کیا ابراہیم علیہ السلام نے آزر کے لئے دعا نہ کی تھی وہ بھی تو مشرک تھا ۔ یہ واقعہ میں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسّلام کا استِغفار بہ امیدِ اسلام تھا جس کا آزر آپ سے وعدہ کر چکا تھا اور آپ آزر سے استِغفار کا وعدہ کر چکے تھے جب وہ امید منقطع ہوگئی تو آپ نے اس سے اپنا علاقہ قطع کردیا ۔(ف269)اور استِغفار کرنا ترک فرما دیا ۔(ف270)کثیر الدعا مُتضرِّع ۔
اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے (ف۲۷۱) جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کسی چیز سے انہیں بچنا ہے (ف۲۷۲) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف271)یعنی ان پر گمراہی کا حکم کرے اور انہیں گمراہوں میں داخل فرماوے ۔(ف272)معنٰی یہ ہیں کہ جو چیز ممنوع ہے اور اس سے اجتناب واجب ہے اس پر اللہ تبارَک و تعالٰی اس وقت تک کہ اپنے بندوں کی گرفت نہیں فرماتا کہ جب تک اس کی ممانعت کا صاف بیان اللہ کی طرف سے نہ آجائے لہذا قبلِ ممانعت اس فعل کے کرنے میں حرج نہیں ۔ (مدارک و خازن) مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی جانب شرع سے ممانعت نہ ہو وہ جائز ہے ۔ شانِ نُزول : جب مؤمنین کو مشرکین کے لئے استِغفار کرنے سے منع فرمایا گیا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ ہم پہلے جو استِغفار کر چکے ہیں کہیں اس پر گرفت نہ ہو ۔ اس آیت سے انہیں تسکین دی گئی اور بتایا گیا کہ ممانعت کا بیان ہونے کے بعد اس پر عمل کرنے سے مؤاخَذہ ہوتا ہے ۔
بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا (ف۲۷۳) بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں (ف۲۷٤) پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا (ف۲۷۵) بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے
(ف273)یعنی غزوۂ تبوک میں جس کو غزوۂ عُسر ت بھی کہتے ہیں ، اس غزوہ میں عسرت کا یہ حال تھا کہ دس دس آدمیوں میں سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا ، نوبت بہ نوبت اسی پر سوار ہو لیتے تھے اور کھانے کی قلّت کا یہ حال تھا کہ ایک ایک کھجور پر کئی کئی آدمی بسر کرتے تھے اس طرح کہ ہر ایک نے تھوڑی تھوڑی چوس کر ایک گھونٹ پانی پی لیا ، پانی کی بھی نہایت قلّت تھی ، گرمی شدت کی تھی ، پیاس کا غلبہ اور پانی ناپید ۔ اس حال میں صحابہ اپنے صدق و یقین اور ایمان و اخلاص کے ساتھ حضور کی جاں نثاری میں ثابت قدم رہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا یا رسولَ اللہ اللہ تعالٰی سے دعا فرمائیے ! فرمایا کیا تمہیں یہ خواہش ہے عرض کیا جی ہاں تو حضور نے دستِ مبارک اٹھا کر دعا فرمائی اور ابھی دستِ مبارک اٹھے ہی ہوئے تھے کہ اللہ تعالٰی نے اَبر بھیجا ، بارش ہوئی ، لشکر سیراب ہو ا ، لشکر والوں نے اپنے برتن بھر لئے اس کے بعد جب آگے چلے تو زمین خشک تھی ، ابر نے لشکر کے باہر بارش ہی نہیں کی وہ خاص اسی لشکر کو سیراب کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ۔(ف274)اور وہ اس شدت و سختی میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے جدا ہونا گوارا کریں ۔(ف275)اور وہ صابر و ثابت رہے اور ان کا اخلاص محفوظ رہا اور جو خطرہ دل میں گزرا تھا اس پر نادم ہوئے ۔
اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے (ف۲۷٦) یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہو کر ان پر تنگ ہوگئی (ف۲۷۷) اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے (ف۲۷۸) اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس ، پھر (ف۲۷۹) ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
(ف276)توبہ سے جن کا ذکر آیت وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ میں ہے اور یہ تین صاحب کعب بن مالک اور ہلال بن اُمیہ اور مرارۃ بن ربیع ہیں ، یہ سب انصاری تھے ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک سے واپس ہو کر ان سے جہاد میں حاضر نہ ہونے کی وجہ دریافت فرمائی اور فرمایا ٹھہرو جب تک اللہ تعالٰی تمہارے لئے کوئی فیصلہ فرمائے اور مسلمانوں کو ان لوگوں سے ملنے جلنے ، کلام کرنے سے ممانعت فرما دی حتی کہ ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے ان سے کلام ترک کر دیا یہاں تک کہ ایسا معلو م ہوتا تھا کہ ان کو کوئی پہچانتا ہی نہیں اور ان کی کسی سے شناسائی ہی نہیں اس حال پر انہیں پچاس روز گزرے ۔(ف277)اور انہیں کوئی ایسی جگہ نہ مل سکی جہاں ایک لمحہ کے لئے انہیں قرار ہوتا ہر وقت پریشانی اور رنج وغم بے چینی و اضطراب میں مبتلا تھے ۔(ف278)شدّتِ رنج وغم سے نہ کوئی اَنیس ہے جس سے بات کریں نہ کوئی غم خوار جسے حالِ دل سنائیں ، وحشت و تنہائی ہے اور شب و روز کی گریہ و زاری ۔(ف279)اللہ تعالٰی نے ان پر رحم فرمایا اور ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو (ف۲۸۰) اور سچوں کے ساتھ ہو (ف۲۸۱)
(ف280)معاصی ترک کرو ۔(ف281)جو صادق الایمان ہیں مخلِص ہیں ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اخلاص کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ صادقین سے حضرت ابوبکر و عمر مراد ہیں رضی اللہ عنہما ۔ ابنِ جریر کہتے ہیں کہ مہاجرین ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ لوگ جن کی نیتیں ثابت رہیں اور قلب و اعمال مستقیم اور وہ اخلاص کے ساتھ غزوۂ تبو ک میں حاضر ہوئے ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اِجماع حُجّت ہے کیونکہ صادقین کے ساتھ رہنے کا حکم فرمایا ، اس سے ان کے قول کا قبول کرنا لازم آتا ہے ۔
مدینہ والوں (ف۲۸۲) اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں (ف۲۸۳) اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں (ف۲۸٤) یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں (ف۲۸۵) جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں (ف۲۸٦) اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے (ف۲۸۷) بیشک اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،
(ف282)یہاں اہلِ مدینہ سے مدینۂ طیّبہ میں سکونت رکھنے والے مراد ہیں خواہ وہ مہاجرین ہوں یا انصار ۔(ف283)اور جہاد میں حاضر نہ ہوں ۔(ف284)بلکہ انہیں حکم تھا کہ شدّت و تکلیف میں حضور کا ساتھ نہ چھوڑیں اور سختی کے موقع پر اپنی جانیں آپ پر فدا کریں ۔(ف285)اور کُفّار کی زمین کو اپنے گھوڑوں کے سُموں سے روندتے ہیں ۔(ف286)قید کر کے یا قتل کر کے یا زخمی کر کے یا ہزیمت دے کر ۔(ف287)اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اطاعتِ الٰہی کا قصد کرے اس کا اٹھنا بیٹھنا ، چلنا ، حرکت کرنا ، ساکن رہنا سب نیکیاں ہیں اللہ کے یہاں لکھی جاتی ہیں ۔
اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا (ف۲۸۸) یا بڑا (ف۲۸۹) اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے (ف۲۹۰)
(ف288)یعنی قلیل مثلاً ایک کھجور ۔(ف289)جیسا کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے جیشِ عُسرت میں خرچ کیا ۔(ف290)اس آیت سے جہاد کی فضیلت اور اس کا احسن الاعمال ہونا ثابت ہوا ۔
اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں (ف۲۹۱) تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے (ف۲۹۲) ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں (ف۲۹۳) اس امید پر کہ وہ بچیں (ف۲۹٤)
(ف291)اور ایک دم اپنے وطن خالی کر دیں ۔(ف292)ایک جماعت وطن میں رہے اور ۔(ف293)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھماسے مروی ہے کہ قبائلِ عرب میں سے ہر ہر قبیلہ سے جماعتیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوتیں اور وہ حضور سے دین کے مسائل سیکھتے اور تَفَقُّہ حاصل کرتے اور اپنے لئے احکام دریافت کرتے اور اپنی قوم کے لئے ، حضور انہیں اللہ اور رسول کی فرماں برداری کا حکم دیتے اور نماز زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں ان کی قوم پر مامور فرماتے ، جب وہ لوگ اپنی قوم میں پہنچتے تو اعلان کر دیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو خدا کا خوف دلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے یہاں تک کہ لوگ اپنے والدین کو چھوڑ دیتے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں دین کے تمام ضروری علوم تعلیم فرما دیتے ۔ (خازن ) یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجِزۂ عظیمہ ہے کہ بالکل بے پڑھے لوگوں کو بہت تھوڑی دیر میں دین کے احکام کا عالِم اور قوم کا ہادی بنا دیتے تھے ۔ اس آیت سے چند مسائل معلوم ہوئے ۔ مسئلہ : علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اس کے لئے ممنوع و حرام ہیں اس کا سیکھنا فرضِ عین ہے اور اس سے زائدعلم حاصل کرنا فرضِ کفایہ ۔ حدیث شریف میں ہے علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ علم سیکھنا نفل نماز سے افضل ہے ۔ مسئلہ : طلبِ علم کے لئے سفر کا حکم حدیث شریف میں ہے جو شخص طلبِ علم کے لئے راہ چلے اللہ اس کے لئے جنّت کی راہ آسان کرتا ہے ۔ (ترمذی) مسئلہ : فِقۡہ افضل ترین علوم ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی جس کے لئے بہتری چاہتا ہے اس کو دین میں فقیہ بناتا ہے ، میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالٰی دینے والا ۔ (بخاری و مسلم) حدیث میں ہے ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے ۔ (ترمذی) فِقۡہ احکامِ دین کے علم کو کہتے ہیں ، فِقہِ مُصطلَح اس کا صحیح مصداق ہے ۔(ف294)عذابِ الٰہی سے احکامِ دین کا اِتّباع کر کے ۔
اے ايمان والوں جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قريب ہيں (ف۲۹۵) اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی پائیں، اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۲۹٦)
(ف295)قتال تمام کافِروں سے واجب ہے قریب کے ہوں یا دور کے لیکن قریب والے مقدَّم ہیں پھر جو ان سے متّصل ہوں ایسے ہی درجہ بدرجہ ۔(ف296)انہیں غلبہ دیتا ہے اور انکی نصرت فرماتا ہے ۔
اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی (ف۲۹۷) تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو ترقی دی اور وہ خوشیاں منا رہے ہیں،
(ف297)یعنی منافقین آپس میں بطریقِ استہزاء ایسی باتیں کہتے ہیں ان کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے ۔
اور جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۲۹۸) انہیں اور پلیدی پر پلیدی بڑھائی (ف۲۹۹) اور وہ کفر ہی پر مر گئے،
(ف298)شک و نفاق کا ۔(ف299)کہ پہلے جتنا نازِل ہوا تھا اسی کے انکار کے وبال میں گرفتار تھے ، اب جو اور نازِل ہوا اس کے انکار کی خباثت میں بھی مبتلا ہوئے ۔
اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے (ف۳۰۲) کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں (ف۳۰۳) پھر پلٹ جاتے ہیں (ف۳۰٤) اللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے ہیں (ف۳۰۵) کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۳۰٦)
(ف302)اور آنکھوں سے نکل بھاگنے کے اشارے کرتا ہے اور کہتا ہے ۔(ف303)اگر دیکھتا ہوا تو بیٹھ گئے ورنہ نکل گئے ۔(ف304)کُفر کی طرف ۔(ف305)اس سبب سے ۔(ف306)اپنے نفع و ضَرر کو نہیں سوچتے ۔
بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول (ف۳۹۷) جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان (ف۳۰۸)
(ف307)محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عربی قرشی ، جن کے حسب و نسب کو تم خوب پہچانتے ہوکہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم ان کے صدق و امانت ، زہد و تقوٰی ، طہارت وتقدّس اور اخلا قِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے ہو اور ایک قراء ۃ میں اَنْفَسِکُمْ بفتحِ فا آیا ہے ، اس کے معنٰی ہیں کہ تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل ۔ اس آیتِ کریمہ میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری یعنی آپ کے میلادِ مبارک کا بیان ہے ۔ ترمذی کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیدائش کا بیان قیام کر کے فرمایا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ محفلِ میلادِ مبارک کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔(ف308)اس آیت میں اللہ تبارک وتعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دو ناموں سے مشرف فرمایا ۔ یہ کمال تکریم ہے اس سرورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۰۹) تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے (ف۳۱۰)
(ف309)یعنی منافقین و کُفّار آپ پر ایمان لانے سے اعراض کریں ۔(ف310)حاکم نے مستدرک میں اُبَی ابنِ کعب سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ لَقَدْ جَاءَ کُمْ سے آخر سورت تک دونوں آیتیں قرآنِ کریم میں سب کے بعد نازِل ہوئیں ۔