تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۵)
(ف5)یعنی تمہارے کفر میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے کیا ہم تمہیں مہمل چھوڑ دیں اور تمہاری طرف سے وحیِ قرآن کا رخ پھیردیں اور تمہیں امر و نہی کچھ نہ کریں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ہم ایسا نہ کریں گے ۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ خدا کی قَسم اگر یہ قرآنِ پاک اٹھالیا جاتا اس وقت جب کہ اس امّت کے پہلے لوگوں نے اس سے اعراض کیا تھا تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اس نے اپنی رحمت و کرم سے اس قرآن کا نزول جاری رکھا ۔
تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے (ف۷) اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
(ف7)اور ہر طرح کا زور و قوّت رکھتے تھے ، آپ کی امّت کے لوگ جو پہلے کفّار کی چال چلتے ہیں ، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان کا بھی وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا کہ ذلّت و رسوائی کی عقوبتوں سے ہلاک کئے گئے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۸) کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے (ف۹)
(ف8)یعنی مشرکین سے ۔(ف9)یعنی اقرار کریں گے کہ آسمان وزمین کو ا للہ تعالٰی نے بنایا اور یہ بھی اقرار کریں گے کہ وہ عزّت و علم والا ہے باوجود اس اقرار کے بعث کا انکار کیسی انتہادرجہ کی جہالت ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے اظہارِ قدرت کے لئے اپنے مصنوعات کا ذکر فرماتا ہے اور اپنے اوصاف و شان کا اظہار کرتا ہے ۔
اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے (ف۱۱) تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے (ف۱۲)
(ف11)تمہاری حاجتوں کی قدر نہ اتنا کم کہ اس سے تمہاری حاجتیں پوری نہ ہوں ، نہ اتنا زیادہ کہ قومِ نوح کی طرح تمہیں ہلاک کردے ۔(ف12)اپنی قبروں سے زندہ کرکے ۔
کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو (ف۱٤) پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
(ف14)خشکی اور تری کے سفر میں ۔
وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿14﴾
اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۵)
(ف15)آخر کار ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنے ناقہ پر سوار ہوتے وقت پہلے الحمد للہ پڑھتے ، پھر سبحان اللہ اور اللہ اکبر ، یہ سب تین تین بار پھر یہ آیت پڑھتے : سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ، اس کے بعد اور دعائیں پڑھتے اور جب حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کَشتی میں سوار ہوتے تو فرماتے بِسْمِ اللہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا ط اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْر رَّحِیْم ۔
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا (ف۱٦) بیشک آدمی (ف۱۷) کھلا ناشکرا ہے (ف۱۸)
(ف16)یعنی کفّار نے اس اقرار کے باوجود کہ اللہ تعالٰی آسمان و زمین کا خالق ہے یہ ستم کیا کہ ملائکہ کو اللہ تعالٰی کی بیٹیاں بتایا اور اولاد صاحبِ اولاد کا جز ہوتی ہے ، ظالموں نے اللہ تبارک و تعالٰی کے لئے جزقرار دیا ،کیسا عظیم جُرم ہے ۔(ف17)جو ایسی باتوں کا قائل ہے ۔(ف18)اس کا کفر ظاہر ہے ۔
اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی (ف۲۰) جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے (ف۲۱) تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے (ف۲۲)
(ف20)یعنی بیٹی کی کہ تیرے گھرمیں بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔(ف21)کہ معاذ اللہ وہ بیٹی والا ہے ۔(ف22)اور بیٹی کا ہونا اس قدر ناگوار سمجھے باوجود اس کے خدائے پاک کے لئے بیٹیاں بتائے تَعَالٰی اللہُ عَنْ ذٰلِکَ ۔
اور کیا (ف۲۳) وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے (ف۲٤) اور بحث میں صاف بات نہ کرے (ف۲۵)
(ف23)کافر حضرت رحمٰن کے لئے اولاد کی قِسموں میں سے تجویز کرتے ہیں ۔(ف24)یعنی زیوروں کی زیب و زینت میں نازو نزاکت کے ساتھ پرورش پائے ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ زیور سے تزیّن دلیلِ نقصان ہے تو مَردوں کو اس سے اجتناب چاہئے ، پرہیزگاری سے اپنی زینت کریں ۔ اب آگے آیت میں لڑکی کی ایک اور کمزوری کا اظہار فرمایا جاتا ہے ۔(ف25)یعنی اپنے ضعفِ حال اور قلّتِ عقل کی وجہ سے ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ عورت جب گفتگو کرتی ہے اور اپنی تائید میں کوئی دلیل پیش کرنا چاہتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف دلیل پیش کردیتی ہے ۔
اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا (ف۲٦) کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے (ف۲۷) اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی (ف۲۸) اور ان سے جواب طلب ہوگا (ف۲۹)
(ف26)حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتانے میں بے دینوں نے تین کفر کئے ، ایک تو اللہ تعالٰی کی طرف اولاد کی نسبت ، دوسرے اس ذلیل چیز کا اس کی طرف منسوب کرنا جس کووہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے لئے گوارا نہیں کرتے ، تیسرے ملائکہ کی توہین انہیں بیٹیاں بتانا ۔ (مدارک ) اب اس کا رد فرمایا جاتاہے ۔(ف27)فرشتوں کا مذکر یا مؤنث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اور ان کے پاس خبر کوئی آئی نہیں توجو کفّار ان کو مؤنث قرار دیتے ہیں ان کا ذریعۂِ علم کیا ہے ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے اورانہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے ؟ جب یہ بھی نہیں تو محض جاہلانہ گمراہی کی بات ہے ۔(ف28)یعنی کفّار کا فرشتوں کے مؤنث ہونے پر گواہی دینا لکھ لیا جائے گا ۔
اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے (ف۳۰) انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں (ف۳۱) یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں (ف۳۲)
(ف29)آخرت میں اور اس پر سزا دی جائے گی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفّار سے دریافت فرمایا کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کس طرح کہتے ہو ؟ تمہارا ذریعۂِ علم کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں وہ سچّے تھے ۔ اس گواہی کو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ لکھی جائے گی اور اس پر جواب طلب ہوگا ۔(ف30)یعنی ملائکہ کو ۔ مطلب یہ تھا کہ اگر ملائکہ کی پرستش کرنے سے اللہ تعالٰی راضی نہ ہوتا تو ہم پر عذاب نازل کرتا اور جب عذاب نہ آیا تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یہی چاہتا ہے ، یہ انہوں نے ایسی باطل بات کہی جس سے لازم آئے کہ تمام جُرم جو دنیا میں ہوتے ہیں ان سے خدا راضی ہے ، اللہ تعالٰی ان کی تکذیب فرماتا ہے ۔(ف31)وہ رضائے الٰہی کے جاننے والے ہی نہیں ۔(ف32)جھوٹ بکتے ہیں ۔
بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں (ف۳٤)
(ف34)آنکھیں میچ کر بے سوچے سمجھے ان کا اتباع کرتے ہیں ، وہ مخلوق پرستی کیا کرتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی دلیل بجز اس کے نہیں ہے کہ یہ کام وہ باپ دادا کی پیروی میں کرتے ہیں ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان سے پہلے بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے ۔
اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں (ف۳۵)
(ف35)اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کی اندھے بن کرپیروی کرناکفّار کا قدیمی مرض ہے اور انہیں اتنی تمیز نہیں کہ کسی کی پیروی کرنے کے لئے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وہ سیدھی راہ پر ہو ، چنانچہ ۔
نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ (ف۳٦) لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے (ف۳۷) جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۸)
(ف36)دِینِ حق ۔(ف37)یعنی اس دِین سے ۔(ف38)اگرچہ تمہارا دِین حق و صواب ہو مگر اپنے باپ دادا کا دِین چھوڑنے والے نہیں چاہے وہ کیسا ہی ہو ، اٍس پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اور اسے (ف٤۰) اپنی نسل میں باقی کلام رکھا (ف٤۱) کہ کہیں وہ باز آئیں (ف٤۲)
(ف40)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اس توحیدی کلمہ کو جو فرمایا تھا کہ میں بیزار ہوں تمہارے معبودوں سے سوائے اس کے جس نے مجھ کو پیدا کیا ۔(ف41)تو آپ کی اولاد میں موحِّد اور توحید کے داعی ہمیشہ رہیں گے ۔(ف42)شرک سے اور یہ دِینِ برحق قبول کریں ۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمانے میں تنبیہہ ہے کہ اے اہلِ مکّہ اگر تمہیں اپنے باپ دادا کا ابتاع کرنا ہی ہے توتمہارے آباء میں جو سب سے بہتر ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کا اتباع کرو اور شرک چھوڑ دو اور یہ بھی دیکھو کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو راہِ راست پر نہیں پایا تو ان سے بیزاری کا اعلان فرمادیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو باپ دادا راہِ راست پر ہوں دِینِ حق رکھتے ہوں ان کا اتباع کیا جائے اور جو باطل پر ہوں ،گمراہی میں ہوں ان کے طریقہ سے بیزاری کا اعلان کیا جائے ۔
بلکہ میں نے انہیں (ف٤۳) اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے (ف٤٤) یہاں تک کہ ان کے پاس حق (ف٤۵) اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا (ف٤٦)
(ف43)یعنی کفّارِ مکّہ کو ۔(ف44)دراز عمریں عطا فرمائیں اور انکے کفر کے باعث ان پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہ کی ۔(ف45)یعنی قرآن شریف ۔(ف46)یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روشن ترین آیات و معجزات کے ساتھ رونق افروز ہوئے اور آپ نے شرعی احکام واضح طور پر بیان فرمائے اور ہمارے اس انعام کا حق یہ تھا کہ اس رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔
اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں (ف٤۷) کے کسی بڑے آدمی پر (ف٤۸)
(ف47)مکّہ مکرّمہ و طائف ۔(ف48)جو کثیرُ المال ، جتھے دار ہو جیسے کہ مکّہ مکرّمہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی ۔ اللہ تعالٰی ان کی اس بات کا رد فرماتا ہے ۔
کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں (ف٤۹) ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا (ف۵۰) اور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۵۱) کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے (ف۵۲) اور تمہارے رب کی رحمت (ف۵۳) ان کی جمع جتھا سے بہتر (ف۵٤)
(ف49)یعنی کیا نبوّت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دے دیں ، کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں ۔(ف50)تو کسی کو غنی کیا ، کسی کو فقیر ، کسی کو قوی ، کسی کو ضعیف ۔ مخلوق میں کوئی ہمارے حکم کو بدلنے اور ہماری تقدیر سے باہر نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا تو جب دنیا جیسی قلیل چیز میں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں تو نبوّت جیسے منصبِ عالی میں کیا کسی کو دم مارنے کا موقع ہے ؟ ہم جسے چاہتے ہیں غنی کرتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں مخدوم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں خادم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں نبی بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں امّتی بناتے ہیں ، امیر کیا کوئی اپنی قابلیّت سے ہوجاتا ہے ؟ ہماری عطا ہے جسے جو چاہیں کریں ۔(ف51)قوّت ودولت وغیرہ دنیوی نعمت میں ۔(ف52)یعنی مالدار فقیرکی ہنسی کرے ، یہ قرطبی کی تفسیر کے مطابق ہے ۔ اور دوسرے مفسّرین نے سُخْرِیًّا ہنسی بنانے کے معنٰی میں نہیں لیا ہے بلکہ اعمال و اشغال کے مسخّر بنانے کے معنٰی میں لیا ہے ، اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ ہم نے دولت و مال میں لوگوں کو متفاوت کیا تاکہ ایک دوسرے سے مال کے ذریعہ خدمت لے اور دنیا کا نظام مضبوط ہو ، غریب کو ذریعۂِ معاش ہاتھ آئے اور مالدار کو کام کرنے والے بہم پہنچیں تو اس پر کون اعتراض کرسکتا ہے کہ فلاں کو کیوں غنی کیا اور فلاں کو فقیر اور جب دنیوی امور میں کوئی شخص دم نہیں مارسکتا تو نبوّت جیسے رتبۂِ عالی میں کسی کو کیا تابِ سخن و حقِ اعتراض ؟ اس کی مرضی جس کو چاہے سرفراز فرمائے ۔(ف53)یعنی جنّت ۔(ف54)یعنی اس مال سے بہتر ہے جس کو دنیا میں کفّار جمع کرکے رکھتے ہیں ۔
اور طرح طرح کی آرائش (ف۵٦) اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے، اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے (ف۵۷)
(ف56)کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں ، وہ سریعۃ الزوال ہے ۔(ف57)جنہیں دنیا کی چاہت نہیں ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اگراللہ تعالٰی کے نزدیک دنیامچھّر کے پر کے برابر بھی قدررکھتی توکافرکو اس سے ایک پیاس پانی نہ دیتا ۔ (قال الترمذی حدیث حسن غریب) دوسری حدیث میں ہے کہ سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نیازمندوں کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جاتے تھے ، راستہ میں ایک مُردہ بکری دیکھی ، فرمایا دیکھتے ہو ، اس کے مالکوں نے اسے بہت بے قدری سے پھینک دیا ، دنیا کی اللہ تعالٰی کے نزدیک اتنی بھی قدر نہیں جتنی بکری والوں کے نزدیک اس مری بکری کی ہو ۔ ( اخرجہ الترمذی و قال حدیث حسن) حدیث : سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالٰی اپنے کسی بندے پر کرم فرماتا ہے تو اسے دنیا سے ایسا بچاتا ہے جیسا تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاؤ ۔ (الترمذی وقال حسن غریب) حدیث : دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنّت ہے ۔
اور بیشک وہ (ف۷۱) شرف ہے تمہارے لیے (ف۷۲) اور تمہاری قوم کے لیے (ف۱۷۳) اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (ف۷٤)
(ف71)قرآن شریف ۔(ف72)کہ اللہ تعالٰی نے تمہیں نبوّت و حکمت عطا فرمائی ۔(ف73)یعنی امّت کے لئے کہ انہیں اس سے ہدایت فرمائی ۔(ف74)روزِ قیامت کہ تم نے قرآن کا کیا حق ادا کیا ؟ اس کی کیا تعظیم کی ؟ اس نعمت کا کیا شکر بجالائے ؟
اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو (ف۷۵)
(ف75)رسولوں سے سوال کرنے کے معنٰی یہ ہیں کہ ان کے ادیان و مِلَل کو تلاش کرو ،کہیں بھی کسی نبی کی امّت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے اور اکثر مفسّرین نے اس کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ مومنینِ اہلِ کتاب سے دریافت کرو کہ کیا کبھی کسی نبی نے غیرُ اللہ کی عبادت کی اجازت دی تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی ، نہ کسی کتاب میں آئی یہ بھی ۔ ایک روایت ہے کہ شبِ معراج سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیتُ المقدِس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی جب حضورنماز سے فارغ ہوئے جبریلِ امین نے عرض کیا کہ اے سرورِ اکرم اپنے سے پہلے انبیاء سے دریافت فرمالیجئے کہ کیا اللہ تعالٰی نے اپنے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت دی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اس سوال کی کچھ حاجت نہیں یعنی اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاء توحید کی دعوت دیتے آئے ، سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی ۔
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی (ف۷۸) اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں (ف۷۹)
(ف78)یعنی ہر ایک نشانی اپنی خصوصیت میں دوسری سے بڑھی چڑھی تھی ، مراد یہ ہے کہ ایک سے ایک اعلٰی تھی ۔(ف79)کفر سے ایمان کی طرف اور یہ عذاب قحط سالی اور طوفان و ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے ، یہ سب حضرت موسٰی عَلٰی نبیّناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی نشانیاں تھیں جو ان کی نبوّت پر دلالت کرتی تھیں اور ان میں ایک سے ایک بلندو بالاتھی ۔
اور بولے (ف۸۰) کہ اے جادوگر (ف۸۱) ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے (ف۸۲) بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے (ف۸۳)
(ف80)عذا ب دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف81)یہ کلمہ انکے عرف اور محاورہ میں بہت تعظیم وتکریم کا تھا وہ عالِم و ماہر و حاذقِ کامل کو جادوگر کہا کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ ان کی نظر میں جادو کی بہت عظمت تھی اور وہ اس کو صفتِ مدح سمجھتے تھے ، اس لئے انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو بوقتِ التجا اس کلمہ سے ندا کی ، کہا ۔(ف82)وہ عہد یاتو یہ ہے کہ آپ کی دعا مستجاب ہے یا نبوّت یا ایمان لانے والوں اور ہدایت قبول کرنے والوں پر سے عذاب اٹھالینا ۔
اور فرعون اپنی قوم میں (ف۸۵) پکارا کہ اے میری قوم! کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں اور یہ نہریں کہ میرے نیچے بہتی ہیں (ف۸٦) تو کیا تم دیکھتے نہیں (ف۸۷)
(ف85)بہت افتخار کے ساتھ ۔(ف86)یہ دریائے نیل سے نکلی ہوئی بڑی بڑی نہریں تھیں جو فرعون کے قصر کے نیچے جاری تھیں ۔ (ف87)میری عظمت و قوّت اور شانِ وسطوت ۔ اللہ تعالٰی کی عجیب شان ہے ، خلیفہ رشید نے جب یہ آیت پڑھی اور حکومتِ مصر پر فرعون کا غرور دیکھا تو کہا کہ میں وہ مصر اپنے ادنٰی غلام کو دے دوں گا چنانچہ انہوں نے مصر خصیب کو دے دیا جو ان کا غلام تھا اور وضو کرانے کی خدمت پر مامور تھا۔
یا میں بہتر ہوں (ف۸۸) اس سے کہ ذلیل ہے (ف۸۹) اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا (ف۹۰)
(ف88)یعنی کیا تمہارے نزدیک ثابت ہوگیا اور تم نے سمجھ لیا کہ میں بہتر ہوں ۔(ف89)یہ اس بے ایمان متکبّر نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی شان میں کہا ۔(ف90)زبان میں گرہ ہونے کی وجہ سے ، جو بچپن میں آ گ منہ میں رکھنے سے پڑ گئی تھی اور یہ اس ملعون نے جھوٹ کہا کہ کیونکہ آپ کی دعا سے اللہ تعالٰی نے زبانِ اقدس کی وہ گرہ زائل کردی تھی لیکن فرعونی پہلے ہی خیال میں تھے ۔ آگے پھر اسی فرعون کا کلام ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن (ف۹۱) یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے (ف۹۲)
(ف91)یعنی اگر حضرت موسٰی علیہ السلام سچّے ہیں اور اللہ تعالٰی نے ان کو واجبُ الاطاعت سردار بنایا ہے تو انہیں سونے کا کنگن کیوں نہیں پہنا یا یہ بات اس نے اپنے زمانہ کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانہ میں جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھااس کو سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا ۔(ف92)اور اس کے صدق کی گواہی دیتے ۔
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی جائے، جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتے ہیں (ف۹٦)
(ف96)شانِ نزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قریش کے سامنے یہ آیت وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ پڑھی جس کے معنٰی یہ ہیں کہ اے مشرکین تم اور جو چیز اللہ کے سوا تم پوجتے ہو سب جہنّم کا ایندھن ہے ، یہ سن کر مشرکین کو بہت غصّہ آیا اور ابنِ زبعری کہنے لگا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا یہ خاص ہمارے اور ہمارے معبودوں ہی کے لئے ہے یا ہر امّت و گروہ کے لئے ؟ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے لئے بھی ہے اور سب امّتوں کے لئے بھی ، اس پر اس نے کہا کہ آپ کے نزدیک عیسٰی بن مریم نبی ہیں اور آپ ان کی اور انکی والدہ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے نصارٰی ان دونوں کو پوجتے ہیں اور حضرت عزیر اور فرشتے بھی پوجے جاتے ہیں یعنی یہود وغیرہ ان کو پوجتے ہیں تو اگر یہ حضرات (معاذاللہ)جہنّم میں ہوں تو ہم راضی ہیں کہ ہم اور ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں اور یہ کہہ کر کفّار خوب ہنسے ، اس پر یہ آیت اللہ تعالٰی نے نازل فرمائی اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤی اُولٰۤئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ اوریہ آیت نازل ہوئی وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ الآیۃ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابنِ زبعری نے اپنے معبودوں کے لئے حضرت عیسٰی بن مریم کی مثال بیان کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مجادلہ کیا کہ نصارٰی انہیں پوجتے ہیں تو قریش اس کی اس بات پر ہنسنے لگے ۔
اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (ف۹۷) انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو (ف۹۸) بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ (ف۹۹)
(ف97)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام ۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام بہتر ہیں تو اگر (معاذاللہ) وہ جہنّم میں ہوئے تو ہمارے معبود یعنی بت بھی ہوا کریں کچھ پروا نہیں ، اس پر اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف98)یہ جانتے ہوئے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں باطل ہے اور آیۂِ کریمہ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے صرف بت مراد ہیں ، حضرت عیسٰی و حضرت عزیر اور ملائکہ کوئی مراد نہیں لئے جاسکتے ، ابنِ زبعری عربی تھا ، عربی زبان کا جاننے والا تھا ، یہ اس کو خوب معلوم تھا کہ ماتعبدون میں جو' ما ' ہے اس کے معنٰی چیز کے ہیں ، اس سے غیرِ ذوی العقول مراد ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے اس کا زبانِ عرب کے اصول سے جاہل بن کر حضرت عیسٰی اور حضرت عزیر اور ملائکہ کو اس میں داخل کرنا کٹھ حجّتی اور جہل پروری ہے ۔(ف99)باطل کے درپے ہونے والے ۔ اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں (ف۱۰۷) لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا (ف۱۰۸) اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو (ف۱۰۹) تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
(ف107)یعنی معجزات ۔(ف108)یعنی نبوّت اور انجیلی احکام ۔(ف109)توریت کے احکام میں سے ۔
پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے (ف۱۱۱) تو ظالموں کی خرابی ہے (ف۱۱۲) ایک درد ناک دن کے عذاب سے (ف۱۱۳)
(ف111)حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ عیسٰی خدا تھے ،کسی نے کہا خدا کے بیٹے ،کسی نے کہا ، تین میں کے تیسرے ، غرض نصرانی فرقے فرقے ہوگئے یعقوبی ، نسطوری ، ملکانی ، شمعونی ۔(ف112)جنہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کفر کی باتیں کہیں ۔(ف113)یعنی روزِ قیامت کے ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
(ف114)یعنی دینی دوستی اور وہ محبّت جو اللہ تعالٰی کے لئے ہے باقی رہے گی ۔ حضرت علیِ مرتضٰے رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے آپ نے فرمایا دو دوست مومن اور دو دوست کافر ، مومن دوستوں میں ایک مرجاتا ہے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے یارب فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کا اور نیکی کرنے کا حکم کرتا تھا اور مجھے برائی سے روکتا تھا اور خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضر ہونا ہے ، یارب اس کو میرے بعد گمراہ نہ کر اور اس کو ہدایت دے جیسی میری ہدایت فرمائی اور اس کا اکرام کر جیسا میرا اکرام فرمایا ، جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے تو اللہ تعالٰی دونوں کو جمع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میں ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ہر ایک کہتا ہے کہ یہ اچھا بھائی ہے ، اچھا دوست ہے ، اچھا رفیق ہے ۔ اور دوکافر دوستوں میں سے جب ایک مرجاتا ہے تو دعا کرتا ہے ، یارب فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرماں برداری سے منع کرتا تھا اور بدی کا حکم دیتا تھا ، نیکی سے روکتا تھااور خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضرہونا نہیں ، تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں سے ایک دوسرے کو کہتا ہے بُرا بھائی ، بُرا دوست ، بُرا رفیق ۔
تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ (ف۱۱۷)
(ف117)جنّتی درخت ثمردار ، سدا بہار ہیں ، ان کی زیب و زینت میں فرق نہیں آتا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی ان سے ایک پھل لے گا تو درخت میں اس کی جگہ دو پھل نمودار ہوجائیں گے ۔
اور وہ پکاریں گے (ف۱۲۱) اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے (ف۱۲۲) وہ فرمائے گا (ف۱۲۳) تمہیں تو ٹھہرنا (ف۱۲٤)
(ف121)جہنّم کے داروغہ کو کہ ۔(ف122)یعنی موت دے دے ، مالک سے درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تبارک وتعالٰی سے ان کی موت کی دعا کرے ۔(ف123)ہزار برس بعد ۔(ف124)عذاب میں ہمیشہ کبھی اس سے رہائی نہ پاؤ گے ، نہ موت سے اور نہ کسی طرح ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اہلِ مکّہ سے خطاب فرماتا ہے ۔
کیا انہوں نے (ف۱۲٦) اپنے خیال میں کوئی کام پکا کرلیا ہے (ف۱۲۷)
(ف126)یعنی کفّارِ مکّہ نے ۔(ف127)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مَکر کرنے اور فریب سے ایذا پہنچانے کا اور در حقیقت ایسا ہی تھا کہ قریش دارُالنّدوہ میں جمع ہو کر حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایذا رسانی کے لئے حیلے سوچتے تھے ۔
تو ہم اپنا کام پکا کرنے والے ہیں (ف۱۲۸) کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی مشورت نہیں سنتے، ہاں کیوں نہیں (ف۱۲۹) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں،
(ف128)ان کے اس مَکرو فریب کا بدلہ جس کا انجام ان کی ہلاکت ہے ۔(ف129)ہم ضرور سنتے ہیں اور پوشیدہ ظاہر ہر بات جانتے ہیں ، ہم سے کچھ نہیں چُھپ سکتا ۔
تم فرماؤ بفرض محال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا، تو سب سے پہلے میں پوجتا (ف۱۳۰)
(ف130)لیکن اس کے بچّہ نہیں اور اس کے لئے اولاد محال ہے یہ نفیِ ولد میں مبالغہ ہے ۔شانِ نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو نضر کہنے لگا دیکھتے ہو قرآن میں میری تصدیق آگئی ولید نے کہا کہ تیری تصدیق نہیں ہوئی بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رحمٰن کے ولد نہیں ہے اور میں اہلِ مکّہ میں سے پہلا موحِّد ہوں ، اس سے ولد کی نفی کرنے والا ، اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی کی تنزیہ کا بیان ہے ۔
اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور تمہیں اس کی طرف پھرنا،(
مجھے رسول (ف۱٤۰) کے اس کہنے کی قسم (ف۱٤۱) کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ،
(ف140)سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف141)اللہ تبارک و تعالٰی کا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قولِ مبارک کی قَسم فرمانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اکرام اور حضور کی دعا و التجا کے احترام کا اظہار ہے ۔
تو ان سے درگزر کرو (ف۱٤۲) اور فرماؤ بس سلام ہے (ف۱٤۳) کہ آگے جان جائیں گے (ف۱٤٤)
(ف142)اور انہیں چھوڑدو ۔(ف143)یہ سلامِ متارکت ہے ۔ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم تمہیں چھوڑتے ہیں اور تم سے امن میں رہنا چاہتے ہیں ، وَکَانَ ھٰذَا قَبْلُ الْاَمْرِبِالْجِہَادِ ۔(ف144)اپنا انجام کار ۔