Az-Zumar الزمر

پارہ:
سورہ: 39
آیات: 75
تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ‏ ﴿1﴾

کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ ؕ‏ ﴿2﴾

بیشک ہم نے تمہاری طرف (ف۳) یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو پوجو نرے اس کے بندے ہو کر،

اَلَا لِلّٰهِ الدِّيۡنُ الۡخَالِصُ​ ؕ وَالَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ​ ۘ مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِىۡ مَا هُمۡ فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ مَنۡ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ‏ ﴿3﴾

ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے (ف٤) اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے (ف۵) کہتے ہیں ہم تو انہیں (ف٦) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں (ف۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو (ف۸)

لَوۡ اَرَادَ اللّٰهُ اَنۡ يَّـتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰى مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ​ ۙ سُبۡحٰنَهٗ​ ؕ هُوَ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ‏ ﴿4﴾

اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا (ف۹) پاکی ہے اسے (ف۱۰) وہی ہے ایک اللہ (ف۱۱) سب پر غالب،

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ​ ۚ يُكَوِّرُ الَّيۡلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيۡلِ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ​ؕ كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى​ؕ اَلَا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفَّارُ‏ ﴿5﴾

اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے (ف۱۲) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے (ف۱۳) سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،

خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَاَنۡزَلَ لَـكُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ​ ؕ يَخۡلُقُكُمۡ فِىۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ خَلۡقًا مِّنۡۢ بَعۡدِ خَلۡقٍ فِىۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ​ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ لَهُ الۡمُلۡكُ​ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ​ ۚ فَاَ نّٰى تُصۡرَفُوۡنَ‏ ﴿6﴾

اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا (ف۱٤) پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا (ف۱۵) اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (ف۱٦) آٹھ جوڑے تھے (ف۱۷) تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح (ف۱۸) تین اندھیریوں میں (ف۱۹) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو (ف۲۰)

اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنۡكُمۡ​ وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡـكُفۡرَ​ ۚ وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا يَرۡضَهُ لَـكُمۡ​ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى​ ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ​ ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ‏ ﴿7﴾

اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بےنیاز ہے تم سے (ف۲۱) اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے (ف۲۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ف۲۳) پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۲٤) تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے، (

وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيۡبًا اِلَيۡهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعۡمَةً مِّنۡهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدۡعُوۡۤا اِلَيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ​ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيۡلًا ​ۖ  اِنَّكَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‏ ﴿8﴾

اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (ف۲٦) اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا (ف۲۷) پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا (ف۲۸) اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے (ف۲۹) تاکہ اس کی راہ سے بہکا دے تم فرماؤ (ف۳۰) تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے (ف۳۱) بیشک تو دوزخیوں میں ہے،

اَمَّنۡ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيۡلِ سَاجِدًا وَّقَآٮِٕمًا يَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَةَ وَيَرۡجُوۡا رَحۡمَةَ رَبِّهٖ​ؕ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ​ؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿9﴾

کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں (ف۳۲) آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے (ف۳۳) کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،

قُلۡ يٰعِبَادِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ​ ؕ لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ ​ ؕ وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ​ ؕ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ‏ ﴿10﴾

تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی (ف۳٤) ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے (ف۳۵) اور اللہ کی زمین وسیع ہے (ف۳٦) صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بےگنتی (ف۳۷)

قُلۡ اِنِّىۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَۙ‏ ﴿11﴾

تم فرماؤ (ف۳۸) مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہو کر،

وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿12﴾

اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۹)

قُلۡ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿13﴾

تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف٤۰)

قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِىۙ‏ ﴿14﴾

تم فرماؤ میں اللہ ہی کو پوجتا ہوں نرا اس کا بندہ ہو کر،

فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ​ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡخٰسِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡـفُسَهُمۡ وَ اَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ ؕ اَلَا ذٰ لِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ‏ ﴿15﴾

تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو (ف٤۱) تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے (ف٤۲) ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،

لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ​ؕ ذٰ لِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ​ ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ‏ ﴿16﴾

ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ (ف٤۳) اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں (ف٤٤) اے میرے بندو! تم مجھ سے ڈرو (ف٤۵)

وَالَّذِيۡنَ اجۡتَنَـبُـوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ يَّعۡبُدُوۡهَا وَاَنَابُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الۡبُشۡرٰى​ ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ۙ‏ ﴿17﴾

اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،

الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَهٗ​ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدٰٮهُمُ اللّٰهُ​ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿18﴾

جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں (ف٤٦) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں (ف٤۷)

اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِى النَّارِ​ ۚ‏ ﴿19﴾

تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے (ف٤۸)

لٰـكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِهَا غُرَفٌ مَّبۡنِيَّةٌ ۙ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ؕوَعۡدَ اللّٰهِ​ ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ الۡمِيۡعَادَ‏ ﴿20﴾

لیکن جو اپنے رب سے ڈرے (ف٤۹) ان کے لیے بالا خانے ہیں ان پر بالا خانے بنے (ف۵۰) ان کے نیچے نہریں بہیں، اللہ کا وعدہ، اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا،

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَـكَهٗ يَنَابِيۡعَ فِى الۡاَرۡضِ ثُمَّ يُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا اَ لۡوَانُهٗ ثُمَّ يَهِيۡجُ فَتَـرٰٮهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَجۡعَلُهٗ حُطَامًا​ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَذِكۡرٰى لِاُولِى الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿21﴾

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی (ف۵۱) پھر سوکھ جاتی ہے تو تو دیکھے کہ وہ (ف۵۲) پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو (ف۵۳)

اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰهُ صَدۡرَهٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ​ؕ فَوَيۡلٌ لِّلۡقٰسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ مِّنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ​ؕ اُولٰٓٮِٕكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿22﴾

تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا (ف۵٤) تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (ف۵۵) اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں (ف۵٦) وہ کھلی گمراہی میں ہیں،

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِىَ ​ۖ  تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُوۡدُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ​ۚ ثُمَّ تَلِيۡنُ جُلُوۡدُهُمۡ وَقُلُوۡبُهُمۡ اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ​ ؕ ذٰ لِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ​ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ‏ ﴿23﴾

اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب (ف۵۷) کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے (ف۵۸) دوہرے بیان والی (ف۵۹) اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یاد خدا کی طرف رغبت میں (ف٦۰) یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،

اَ فَمَنۡ يَّتَّقِىۡ بِوَجۡهِهٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ ؕ وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡـتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿24﴾

تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا (ف٦۱) نجات والے کی طرح ہوجائے گا (ف٦۲) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو (ف٦۳)

كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَاَتٰٮهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿25﴾

ان سے اگلوں نے جھٹلایا (ف٦٤) تو انہیں عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر نہ تھی (ف٦۵)

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الۡخِزۡىَ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ۚ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ​ ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿26﴾

اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا (ف٦٦) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف٦۷)

وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿27﴾

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو (ف٦۸) (

قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِىۡ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ‏ ﴿28﴾

عربی زبان کا قرآن (ف٦۹) جس میں اصلاً کجی نہیں (ف۷۰) کہ کہیں وہ ڈریں (ف۷۱)

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيۡهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا ​ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ​ ۚ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿29﴾

اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے (ف۷۲) ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے (ف۷۳) سب خوبیاں اللہ کو (ف۷٤) بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے (ف۷۵)

اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ‏ ﴿30﴾

بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے (ف۷٦)

ثُمَّ اِنَّكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ‏ ﴿31﴾

پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (ف۷۷)

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ​ ؕ اَ لَيۡسَ فِىۡ جَهَنَّمَ مَثۡـوًى لِّـلۡـكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿32﴾

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۷۸) اور حق کو جھٹلائے (ف۷۹) جب اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں،

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ​ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ‏  ﴿33﴾

اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے (ف۸۰) اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی (ف۸۱)

لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ​ ؕ ذٰ لِكَ جَزٰٓؤُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۖۚ‏ ﴿34﴾

یہی ڈر والے ہیں، ان کے لیے ہے ، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،

لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِىۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿35﴾

تاکہ اللہ ان سے اتار دے برے سے برا کام جو انہوں نے کیا اور انہیں ان کے ثواب کا صلہ دے اچھے سے اچھے کام پر (ف۸۲) جو وہ کرتے تھے،

اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ​ ؕ وَيُخَوِّفُوۡنَكَ بِالَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ​ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ​ ۚ‏ ﴿36﴾

کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں (ف۸۳) اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے (ف۸٤) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،

وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّضِلٍّ​ ؕ اَ لَيۡسَ اللّٰهُ بِعَزِيۡزٍ ذِى انتِقَامٍ‏ ﴿37﴾

اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں (ف۸۵)

وَلَٮِٕنۡ سَاَ لۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ لَيَـقُوۡلُنَّ اللّٰهُ​ ؕ قُلۡ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَنِىَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلۡ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوۡ اَرَادَنِىۡ بِرَحۡمَةٍ هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكٰتُ رَحۡمَتِهٖ​ ؕ قُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ​ ؕ عَلَيۡهِ يَتَوَكَّلُ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏  ﴿38﴾

اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۸٦) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۸۷) اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے (ف۸۸) تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے (ف۸۹) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے (ف۹۰) بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،

قُلۡ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ اِنِّىۡ عَامِلٌ​ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ‏  ﴿39﴾

تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۹۱) میں اپنا کام کرتا ہوں (ف۹۲) تو آگے جان جاؤ گے،

مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ‏  ﴿40﴾

کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا (ف۹۳) اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا (ف۹٤)

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالۡحَقِّ​ ۚ فَمَنِ اهۡتَدٰى فَلِنَفۡسِهٖ​ ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا​ ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَكِيۡلٍ‏ ﴿41﴾

بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری (ف۹۵) تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو (ف۹٦) اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا (ف۹۷) اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں (ف۹۸)

اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الۡاَنۡفُسَ حِيۡنَ مَوۡتِهَا وَالَّتِىۡ لَمۡ تَمُتۡ فِىۡ مَنَامِهَا​ ۚ فَيُمۡسِكُ الَّتِىۡ قَضٰى عَلَيۡهَا الۡمَوۡتَ وَ يُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى​ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ‏  ﴿42﴾

اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے (ف۹۹) اور دوسری (ف۱۰۰) ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے (ف۱۰۱) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے (ف۱۰۲)

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ​ ؕ قُلۡ اَوَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡـًٔـا وَّلَا يَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿43﴾

کیا انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں (ف۱۰۳) تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں (ف۱۰٤) اور نہ عقل رکھیں،

قُلْ لِّـلَّـهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا​ ؕ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ ؕ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ‏ ﴿44﴾

تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف۱۰۵) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۰٦)

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ​ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ‏  ﴿45﴾

اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۰۷) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے (ف۱۰۸) جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ اَنۡتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِىۡ مَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ﴿46﴾

تم عرض کرو اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے (ف۱۰۹)

وَلَوۡ اَنَّ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ؕ وَبَدَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمۡ يَكُوۡنُوۡا يَحۡتَسِبُوۡنَ‏ ﴿47﴾

اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا (ف۱۱۰) تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے (ف۱۱۱) اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی (ف۱۱۲)

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏  ﴿48﴾

اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں (ف۱۱۳) اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۱٤)

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ​ؕ بَلۡ هِىَ فِتۡنَةٌ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿49﴾

پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (ف۱۱۵) بلکہ وہ تو آزمائش ہے (ف۱۱٦) مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں (ف۱۱۷)

قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿50﴾

ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے (ف۱۱۸) تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،

فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا​ ؕ وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰٓؤُلَاۤءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ۙ وَمَا هُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ‏ ﴿51﴾

تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں (ف۱۱۹) اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۱۲۰)

اَوَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ​ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿52﴾

کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،

قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا​ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ‏ ﴿53﴾

تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی (ف۱۲۱) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے (ف۱۲۲) بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،(

وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ﴿54﴾

اور اپنے رب کی طرف رجوع لاؤ (ف۱۲۳) اور اس کے حضور گردن رکھو (ف۱۲٤) قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ ہو،

وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَۙ‏ ﴿55﴾

اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اتاری گئی (ف۱۲۵) قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۱۲٦)

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِىۡ جَنۡۢبِ اللّٰهِ وَاِنۡ كُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَۙ‏ ﴿56﴾

کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس! ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں (ف۱۲۷) اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا (ف۱۲۸)

اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰٮنِىۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَۙ‏  ﴿57﴾

یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا،

اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ لَوۡ اَنَّ لِىۡ كَرَّةً فَاَكُوۡنَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿58﴾

یا کہے جب عذاب دیکھے کسی طرح مجھے واپسی ملے (ف۱۲۹) کہ میں نیکیاں کروں (ف۱۳۰)

بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِىۡ فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ وَكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿59﴾

ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا (ف۱۳۱)

وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلَى اللّٰهِ وُجُوۡهُهُمۡ مُّسۡوَدَّةٌ ؕ اَلَيۡسَ فِىۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡمُتَكَبِّرِيۡنَ‏ ﴿60﴾

اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۱۳۲) کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں (ف۱۳۳)

وَيُنَجِّىۡ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِهِمۡ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوۡٓءُ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‏ ﴿61﴾

اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ (ف۱۳٤) نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو،

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَىۡءٍ​ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ وَّكِيۡلٌ‏ ﴿62﴾

اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز کا مختار ہے،

لَّهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ وَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿63﴾

اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۱۳۵) اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،(

قُلۡ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَاۡمُرُوۡٓنِّىۡۤ اَعۡبُدُ اَيُّهَا الۡجٰـهِلُوۡنَ‏  ﴿64﴾

تم فرماؤ (ف۱۳٦) تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو! (ف۱۳۷)

وَلَـقَدۡ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ​ۚ لَٮِٕنۡ اَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ﴿65﴾

اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،(٦

بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ﴿66﴾

بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر والوں سے ہو (ف۱۳۸)(

وَمَا قَدَرُوْا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖ ​ۖ  وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ​ ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿67﴾

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا (ف۱۳۹) اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے (ف۱٤۰) اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،

وَنُفِخَ فِى الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ​ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ اُخۡرٰى فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ‏  ﴿68﴾

اور صور پھونکا جائے گا تو بیہوش ہوجائیں گے (ف۱٤۱) جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے (ف۱٤۲) پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا (ف۱٤۳) جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے (ف۱٤٤)

وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ وَجِآىْ َٔ بِالنَّبِيّٖنَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ‏ ﴿69﴾

اور زمین جگمگا اٹھے گی (ف۱٤۵) اپنے رب کے نور سے (ف۱٤٦) اور رکھی جائے گی کتاب (ف۱٤۷) اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے (ف۱٤۸) اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ‏  ﴿70﴾

اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے (ف۱٤۹)

وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا​ ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوۡهَا فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَـتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡكُمۡ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ وَيُنۡذِرُوۡنَـكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰذَا​ ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰـكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿71﴾

اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۱۵۰) گروہ گروہ (ف۱۵۱) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے (ف۱۵۲) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں (ف۱۵۳) مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا (ف۱۵٤)(

قِيۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا​ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ‏ ﴿72﴾

فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا،

وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡجَـنَّةِ زُمَرًا​ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوۡهَا وَفُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡهَا خٰلِدِيۡنَ‏ ﴿73﴾

اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں (ف۱۵۵) گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے (ف۱۵٦) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،

وَقَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡجَـنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ​ۚ فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ‏ ﴿74﴾

اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا (ف۱۵۷)

وَتَرَى الۡمَلٰٓٮِٕكَةَ حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ​ۚ وَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَـقِّ وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿75﴾

اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۵۸) اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب (ف۱۵۹)

Scroll to Top