ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے (ف٤) اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے (ف۵) کہتے ہیں ہم تو انہیں (ف٦) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں (ف۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو (ف۸)
(ف4)اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔(ف5)معبود ٹھہرا لئے ۔ مراد ان سے بت پرست ہیں ۔(ف6)یعنی بتوں کو ۔(ف7)ایمان داروں کو جنّت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل فرما کر ۔(ف8)جھوٹا اس بات میں کہ بتوں کو اللہ تعالٰی سے نزدیک کرنے والا بتائے اور خدا کے لئے اولاد ٹھہرائے اور ناشکر ایسا کہ بتوں کوپوجے ۔
اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا (ف۹) پاکی ہے اسے (ف۱۰) وہی ہے ایک اللہ (ف۱۱) سب پر غالب،
(ف9)یعنی اگر بالفرض اللہ تعالٰی کے لئے اولاد ممکن ہوتی تو وہ جسے چاہتا اولاد بناتا نہ کہ یہ تجویز کفّار پر چھوڑتا کہ وہ جسے چاہیں خدا کی اولاد قرار دیں ۔ (معاذا للہ)(ف10)اولاد سے اور ہر اس چیز سے جو اس کی شانِ اقدس کے لائق نہیں ۔(ف11)نہ اس کا کوئی شریک نہ اس کی کوئی اولاد ۔
اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے (ف۱۲) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے (ف۱۳) سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،
(ف12)یعنی کبھی رات کی تاریکی سے دن کے ایک حصّہ کو چُھپاتا ہے اور کبھی دن کی روشنی سے رات کےحصّہ کو ، مراد یہ ہے کہ کبھی دن کا وقت گھٹا کر رات کو بڑھاتا ہے ، کبھی رات گھٹا کر دن کو زیادہ کرتا ہے ۔ اور رات اور دن میں سے گَھٹنے والا گَھٹتے گَھٹتے دس گھنٹہ کا رہ جاتا ہے اور بڑھنے والا بڑھتے چودہ گھنٹے کا ہوجاتا ہے ۔(ف13)یعنی قیامت تک وہ اپنے مقرر نظام پر چلتے رہیں گے ۔
اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا (ف۱٤) پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا (ف۱۵) اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (ف۱٦) آٹھ جوڑے تھے (ف۱۷) تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح (ف۱۸) تین اندھیریوں میں (ف۱۹) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو (ف۲۰)
(ف14)یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے ۔(ف15)یعنی حضرت حوّا کو ۔(ف16)یعنی اونٹ ، گائے ، بکری ، بھیڑ سے ۔(ف17)یعنی پیدا کئے جوڑوں سے ، مراد نر اور مادّہ ہیں ۔(ف18)یعنی نطفہ پھر علقہ (خون بستہ) پھر مضغہ( گوشت پارہ ) ۔(ف19)ایک اندھیری پیٹ کی دوسری رحم کی تیسری بچّہ دان کی ۔(ف20)اور طریقِ حق سے دور ہوتے ہو کہ اس کی عبادت چھوڑ کر غیر کی عبادت کرتے ہو ۔
اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بےنیاز ہے تم سے (ف۲۱) اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے (ف۲۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ف۲۳) پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۲٤) تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے، (
(ف21)یعنی تمہاری طاعت و عبادت سے اور تم ہی اس کے محتاج ہو ۔ ایمان لانے میں تمہارا ہی نفع اور کافر ہوجانے میں تمہارا ہی ضرر ہے ۔(ف22)کہ وہ تمہاری کامیابی کا سبب ہے اس پر تمہیں ثواب دے گا اور جنّت عطا فرمائے گا ۔(ف23)یعنی کوئی شخص دوسرے کے گناہ میں ماخوذ نہ ہوگا ۔(ف24)آخرت میں ۔(ف25)دنیا میں اور اس کی تمہیں جزا دے گا ۔
اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (ف۲٦) اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا (ف۲۷) پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا (ف۲۸) اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے (ف۲۹) تاکہ اس کی راہ سے بہکا دے تم فرماؤ (ف۳۰) تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے (ف۳۱) بیشک تو دوزخیوں میں ہے،
(ف26)یہاں آدمی سے مطلقاً کافر یا خاص ابوجہل یا عتبہ بن ربیعہ مراد ہے ۔(ف27)اسی سے فریاد کرتا ہے ۔(ف28)یعنی اس شدّت و تکلیف کو فراموش کردیتا ہے جس کے لئے اللہ سے فریاد کی تھی ۔(ف29)یعنی حاجت بر آری کے بعد پھر بت پرستی میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔(ف30)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کافر سے ۔(ف31)اور دنیا کی زندگی کے دن پورے کرلے ۔
کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں (ف۳۲) آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے (ف۳۳) کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،
(ف32)شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی شان میں نازل ہوئی اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابنِ مسعود اور حضرت عمّار اور حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہم کے حق میں نازل ہوئی ۔فائدہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ رات کے نوافل و عبادت دن کے نوافل سے افضل ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ رات کا عمل پوشیدہ ہوتا ہے اس لئے وہ ریا سے بہت دور ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے کاروبار بند ہوتے ہیں اس لئے قلب بہ نسبت دن کے بہت فارغ ہوتا ہے اور توجّہ الَی اللہ اور خشوع دن سے زیادہ رات میں میسّر آتا ہے ۔ تیسرے رات چونکہ راحت و خواب کا وقت ہوتا ہے اس لئے اس میں بیدار رہنا نفس کو بہت مشقّت و تعب میں ڈالتا ہے تو ثواب بھی اس کا زیادہ ہوگا ۔(ف33)اس سے ثابت ہوا کہ مومن کے لئے لازم ہے کہ وہ بین الخوف والرجاء ہو ، اپنے عمل کی تقصیر پر نظر کرکے عذاب سے ڈرتا رہے اور اللہ تعالٰی کی رحمت کا امیدوار رہے ، دنیا میں بالکل بے خوف ہونا یا اللہ تعالٰی کی رحمت سے مطلقاً مایوس ہونا یہ دونوں قرآنِ کریم میں کفّار کی حالتیں بتائی گئی ہیں ۔ قال اللہ تعالٰی فَلَایَاْمَنُ مَکْرَاللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الخٰسِرُوْنَ وَقَالَ تَعَالٰی لَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ
تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی (ف۳٤) ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے (ف۳۵) اور اللہ کی زمین وسیع ہے (ف۳٦) صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بےگنتی (ف۳۷)
(ف34)طاعت بجالائے اور اچھے عمل کئے ۔(ف35)یعنی صحت و عافیت ۔(ف36)اس میں ہجرت کی ترغیب ہے کہ جس شہر میں معاصی کی کثرت ہو اور وہاں رہنے سے آدمی کو اپنی دینداری پر قائم رہنادشوار ہوجائے چاہئے کہ اس جگہ کو چھوڑ دے اور وہاں سے ہجرت کرجائے ۔شانِ نزول : یہ آیت مہاجرینِ حبشہ کے حق میں نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ہمراہیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مصیبتوں اور بلاؤں پر صبر کیا اور ہجرت کی اور اپنے دِین پر قائم رہے اس کو چھوڑنا گوارا نہ کیا ۔(ف37)حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا سوائے صبر کرنے والوں کے کہ انہیں بے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا ۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اصحابِ مصیبت و بَلا حاضر کئے جائیں گے نہ ا ن کے لئے میزان قائم کی جائے ، نہ ان کے لئے دفتر کھولے جائیں ان پر اجرو ثواب کی بے حساب بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے انہیں دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے کہ آج یہ صبر کا اجرپاتے ۔
اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۹)
(ف39)اور اہلِ طاعت و اخلاص میں مقدم و سابق ہوں ۔ اللہ تعالٰی نے پہلے اخلاص کا حکم دیا جو عملِ قلب ہے پھر اطاعت یعنی اعمالِ جوارح کا چونکہ احکامِ شرعیہ رسول سے حاصل ہوتے ہیں وہی انکے پہچانے والے ہیں تو وہ ان کے شروع کرنے میں سب سے مقدم اور اوّل ہوئے اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو یہ حکم دے کر تنبیہ کی کہ دوسروں پر اس کی پابندی نہایت ضروری ہے اور دوسروں کی ترغیب کے لئے نبی علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا ۔
تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف٤۰)
(ف40)شانِ نزول :کفّارِ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ آپ اپنی قوم کے سرداروں اور اپنے رشتہ داروں کو نہیں دیکھتے جو لات و عزّٰی کی پرستش کرتے ہیں ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو (ف٤۱) تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے (ف٤۲) ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،
(ف41)یہ بہ طریقِ تہدید و توبیخ فرمایا ۔(ف42)یعنی گمراہی اختیار کرکے ہمیشہ کے لئے مستحقِ جہنّم ہوگئے اور جنّت کی نعمتوں سے محروم ہوگئے جو ایمان لانے پر انہیں ملتیں ۔
جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں (ف٤٦) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں (ف٤۷)
(ف46)جس میں ان کی بہبود ہو ۔ (ف47)شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایمان لائے تو آپ کے پاس حضرت عثمان اور عبدالرحمٰن ابنِ عوف اور طلحہ و زبیر و سعد بن ابی وقاص و سعید بن زید آئے اور ان سے حال دریافت کیا انہوں نے اپنے ایمان کی خبر دی یہ حضرات بھی سُن کر ایمان لے آئے ان کے حق میں یہ نازل ہوئی فَبَشِّرْعِبَادِیۡ الآیۃ ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی (ف۵۱) پھر سوکھ جاتی ہے تو تو دیکھے کہ وہ (ف۵۲) پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو (ف۵۳)
(ف51)زرد ، سبز ، سرخ ، سفید قِسم قِسم کی گیہوں ، جَو اور طرح طرح کے غلّے ۔(ف52)سرسبز و شاداب ہونے کے بعد ۔(ف53)جو اس سے اللہ تعالٰی کی وحدانیّت و قدرت پر دلیلیں قائم کرتے ہیں ۔
تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا (ف۵٤) تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (ف۵۵) اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں (ف۵٦) وہ کھلی گمراہی میں ہیں،
(ف54)اور اس کو قبولِ حق کی توفیق عطا فرمائی ۔(ف55)یعنی یقین و ہدایت پر ۔ الحدیث : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سینہ کا کُھلنا کس طرح ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ جب نور قلب میں داخل ہوتا ہے تو وہ کُھلتا ہے اور اس میں وسعت ہوتی ہے صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا علامت ہے ؟ فرمایا دارالخُلود کی طرف متوجّہ ہونا اور دارالغرور (دنیا )سےدور رہنا اور موت کے لئے اس کے آنے سے قبل آمادہ ہونا ۔(ف56)نفس جب خبیث ہوتا ہے تو قبولِ حق سے اس کو بہت دوری ہوجاتی ہے اور ذکر اللہ کے سننے سے اس کی سختی اور کدورت بڑھتی ہے جیسے کہ آفتاب کی گرمی سے موم نرم ہوتا ہے اور نمک سخت ہوتا ہے ایسے ہی ذکر اللہ سے مومنین کے قلوب نرم ہوتے ہیں اور کافروں کے دلوں کی سختی اور بڑھتی ہے ۔ فائدہ : اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنا چاہئے جنہوں نے ذکر اللہ کو روکنا اپنا شعار بنالیا ہے وہ صوفیوں کے ذکر کو بھی منع کرتے ہیں ، نمازوں کے بعد ذکر اللہ کرنے والوں کو بھی روکتے اور منع کرتے ہیں ، ایصالِ ثواب کے لئے قرآنِ کریم اور کلمہ پڑھنے والوں کو بھی بدعتی بتاتے ہیں ، اور ان ذکر کی محفلوں سے نہایت گھبراتے اور بھاگتے ہیں اللہ تعالٰی ہدایت دے ۔
اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب (ف۵۷) کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے (ف۵۸) دوہرے بیان والی (ف۵۹) اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یاد خدا کی طرف رغبت میں (ف٦۰) یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
(ف57)قرآن شریف جو عبارت میں ایسا فصیح و بلیغ کہ کوئی کلام اس سے کچھ نسبت ہی نہیں رکھ سکتا ، مضمون نہایت دل پذیر باوجود یہ کہ نہ نظم ہے نہ شِعر ، نرالے ہی اسلوب پر ہے اور معنٰی میں ایسا بلند مرتبہ کہ تمام علوم کا جامع اور معرفتِ الٰہی جیسی عظیم الشان نعمت کا رہنما ۔(ف58)حسن و خوبی میں ۔(ف59)کہ اس میں وعد کے ساتھ وعید اور امر کے ساتھ نہی اور اخبار کے ساتھ احکام ہیں ۔(ف60)حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ اولیاء اللہ کی صفت ہے کہ ذکرِ الٰہی سے ان کے بال کھڑے ہوتے جسم لرزتے ہیں اور دل چین پاتے ہیں ۔
تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا (ف٦۱) نجات والے کی طرح ہوجائے گا (ف٦۲) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو (ف٦۳)
(ف61)وہ کافر ہے جس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جائیں گے اور اس کی گردن میں گندھک کا ایک جلتا ہوا پہاڑ پڑا ہوگا جو اس کے چہرے کو بھونے ڈالتا ہوگا اس حال سے اوندھا کرکے آتشِ جہنّم میں گرایا جائے گا ۔(ف62)یعنی اس مومن کی طرح جو عذاب سے مامون و محفوظ ہو ۔(ف63)یعنی دنیا میں جو کفر ، سرکشی اختیار کی تھی اب اس کا وبال و عذاب برداشت کرو ۔
اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے (ف۷۲) ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے (ف۷۳) سب خوبیاں اللہ کو (ف۷٤) بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے (ف۷۵)
(ف72)مشرک اور موحِّد کی ۔(ف73)یعنی ایک جماعت کا غلام نہایت پریشان ہوتا ہے کہ ہر ایک آقا اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور اپنے اپنے کام بتاتا ہے وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجالائے اور کس طرح تمام آقاؤں کو راضی کرے اور خود اس غلام کو جب کوئی حاجت و ضرورت پیش ہو تو کس آقا سے کہے بخلاف اس غلام کے جس کا ایک ہی آقا ہو وہ اس کی خدمت کرکے اسے راضی کرسکتا ہے اور جب کوئی حاجت پیش آئے تو اسی سے عرض کرسکتا ہے اس کو کوئی پریشانی پیش نہیں آتی یہ حال مومن کا ہے جو ایک مالک کا بندہ ہے اسی کی عبادت کرتا ہے اور مشرک جماعت کے غلام کی طرح ہے کہ اس نے بہت سے معبود قرار دے دیئے ہیں ۔(ف74)جو اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔(ف75)کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ۔
اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ ﴿30﴾
بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے (ف۷٦)
(ف76)اس میں کفّار کا رد ہے جو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کا انتظارکیا کرتے تھے انہیں فرمایا گیا کہ خود مرنے والے ہو کر دوسرے کی موت کا انتظار کرنا حماقت ہے کفّار تو زندگی میں بھی مرے ہوئے ہیں اور انبیاء کی موت ایک آن کے لئے ہوتی ہے پھر انہیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے ۔ اس پر بہت سی شرعی برہانیں قائم ہیں ۔
(ف77)انبیاء امّت پر حجّت قائم کریں گے کہ انہوں نے رسالت کی تبلیغ کی اور دِین کی دعوت دینے میں جُہدِ بلیغ صرف فرمائی اور کافر بے فائدہ معذرتیں پیش کریں گے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اختصامِ عام ہے کہ لوگ دنیوی حقوق میں مخاصمہ کریں گے اور ہر ایک اپنا حق طلب کرے گا ۔
کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں (ف۸۳) اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے (ف۸٤) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
(ف83)یعنی سیّدِعالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے اور ایک قرأت میں عِبَادَہٗ بھی آیا ہے اس صورت میں انبیاء علیہم السلام مراد ہیں جن کے ساتھ ان کی قوموں نے ایذا رسانی کے ارادے کئے اللہ تعالٰی نے انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کی کفایت فرمائی ۔(ف84)یعنی بتوں سے ۔ واقعہ یہ تھا کہ کفّارِ عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ڈرانا چاہا اور آپ سے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں یعنی بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آئیے ورنہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے ہلاک کردیں گے یا عقل کو فاسد کردیں گے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۸٦) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۸۷) اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے (ف۸۸) تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے (ف۸۹) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے (ف۹۰) بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،
(ف86)یعنی یہ مشرکین خدائے قادر ، علیم ، حکیم کی ہستی کے تو مقِر ہیں اور یہ بات تمام خَلق کے نزدیک مسلّم ہے اور خَلق کی فطرت اس کی شاہدہے اور جو شخص آسمان و زمین کے عجائب میں نظر کرے اس کو یقینی طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ موجودات ایک قادرِ حکیم کی بنائی ہوئی ہے ، اللہ تعالٰی اپنے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین پرحجّت قائم کیجئے چنانچہ فرماتا ہے ۔(ف87)یعنی بتوں کو یہ بھی تو دیکھو کہ وہ کچھ بھی قدرت رکھتے ہیں اور کسی کام بھی آسکتے ہیں ؟(ف88)کسی طرح کی مرض کی یا قحط کی یا ناداری کی یا اور کوئی ۔(ف89)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین سے یہ سوال فرمایا تو وہ لاجواب ہوئے اور ساکت رہ گئے اب حجّت تمام ہوگئی اور ان کے سکوتی اقرار سے ثابت ہوگیا کہ بت محض بے قدرت ہیں نہ کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں نہ کچھ ضرر ان کی عبادت کرنا نہایت ہی جہالت ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ارشاد فرمایا ۔(ف90)میرا اسی پر بھروسہ ہے اور جس کا اللہ تعالٰی پر بھروسہ ہو وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا تم جو مجھے بت جیسی بے قدرت و بے اختیار چیزوں سے ڈراتے ہو یہ تمہاری نہایت ہی بے وقوفی و جہالت ہے ۔
تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۹۱) میں اپنا کام کرتا ہوں (ف۹۲) تو آگے جان جاؤ گے،
(ف91)اور جو جو مَکَر و حیلے تم سے ہوسکیں میری عداوت میں سب ہی کر گزرو ۔(ف92)جس پر مامور ہوں ۔ یعنی دِین کا قائم کرنا اور اللہ تعالٰی میر امُعِین و ناصر ہے اور اسی پر میر ابھروسہ ہے ۔
بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری (ف۹۵) تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو (ف۹٦) اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا (ف۹۷) اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں (ف۹۸)
(ف95)تاکہ اس سے ہدایت حاصل کریں ۔(ف96)کہ اس راہ یابی کا نفع وہی پائے گا ۔(ف97)اس کی گمراہی کا ضرر اور وبال اسی پر پڑے گا ۔(ف98)تم سے ان کی تقصیر کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔
اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے (ف۹۹) اور دوسری (ف۱۰۰) ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے (ف۱۰۱) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے (ف۱۰۲)
(ف99)یعنی اس جان کو اس کے جسم کی طرف واپس نہیں کرتا ۔(ف100)جس کی موت مقدر نہیں فرمائی اس کو ۔(ف101)یعنی اس کی موت کے وقت تک ۔(ف102)جو سوچیں اور سمجھیں کہ جو اس پر قادر ہے وہ ضرورمُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف۱۰۵) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۰٦)
(ف105)جو اس کا ماذون ہو وہی شفاعت کرسکتا ہے اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے شفاعت کا اذن دیتا ہے بتوں کو اس نے شفیع نہیں بنایا اور عبادت تو خدا کے سوا کسی کی بھی جائز نہیں شفیع ہو یا نہ ہو ۔(ف106)آخرت میں ۔
اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۰۷) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے (ف۱۰۸) جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
(ف107)اور وہ بہت تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتا ہے ۔(ف108)یعنی بتوں کا ۔
تم عرض کرو اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے (ف۱۰۹)
(ف109)یعنی امرِدیِن میں ۔ ابنِ مسیّب سے منقول ہے کہ یہ آیت پڑھ کر جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے ۔
اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا (ف۱۱۰) تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے (ف۱۱۱) اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی (ف۱۱۲)
(ف110)یعنی اگر بالفرض کافر تمام دنیا کے اموال و ذخائر کے مالک ہوتے اور اتنا ہی اور بھی ان کے مِلک میں ہوتا ۔(ف111)کہ کسی طرح یہ اموال دے کر انہیں اس عذابِ عظیم سے رہائی مل جائے ۔(ف112)یعنی ایسے ایسے عذابِ شدید جن کا انہیں خیال بھی نہ تھا اور اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان کے پاس نیکیاں ہیں اور جب نامۂِ اعمال کُھلیں گے تو بدیاں ظاہر ہوں گی ۔
اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں (ف۱۱۳) اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۱٤)
(ف113)جو انہوں نے دنیا میں کی تھیں اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک کرنا اور اس کے دوستوں پر ظلم کرنا وغیرہ ۔(ف114)یعنی نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے خبر دینے پر وہ جس عذاب کی ہنسی بنایا کرتے تھے وہ نازل ہوگیا اور اس میں گِھر گئے ۔
پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (ف۱۱۵) بلکہ وہ تو آزمائش ہے (ف۱۱٦) مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں (ف۱۱۷)
(ف115)یعنی میں معاش کا جو علم رکھتا ہوں اس کے ذریعہ سے میں نے یہ دولت کمائی جیسا کہ قارون نے کہا تھا۔(ف116)یعنی یہ نعمت اللہ تعالٰی کی طرف سے آزمائش و امتحان ہے کہ بندہ اسی پر شکر کرتا ہے یا ناشکری ۔(ف117)کہ یہ نعمت وعطا استدراج و امتحان ہے ۔
ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے (ف۱۱۸) تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،
(ف118)یعنی یہ بات قارون نے بھی کہی تھی کہ یہ دولت مجھے اپنے علم کی بدولت ملی اور اس کی قوم اس کی اس بے ہودہ گوئی پر راضی رہی تھی تو وہ بھی قائلوں میں شمار ہوئی ۔
تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں (ف۱۱۹) اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۱۲۰)
(ف119)یعنی جو بدیاں انہوں نے کیں تھیں ان کی سزائیں ۔(ف120)چنانچہ وہ سات برس قحط کی مصیبت میں مبتلا رکھے گئے ۔
تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی (ف۱۲۱) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے (ف۱۲۲) بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،(
(ف121)گناہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو کر ۔(ف122)اس کے جو کفر سے باز آئے ۔شانِ نزول : مشرکین میں سے چند آدمی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ آپ کا دِین تو بے شک حق اور سچّا ہے لیکن ہم نے بڑے بڑے گناہ کئے ہیں بہت سی معصیّتوں میں مبتلا رہے ہیں کیا کسی طرح ہمارے وہ گناہ معاف ہوسکتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا (ف۱۳۱)
(ف131)یعنی تیرے پاس قرآنِ پاک پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئیں اور تجھے حق و ہدایت اختیار کرنے کی قدرت دی گئی باوجود اس کے تو نے حق کو چھوڑا اور اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا ، گمراہی اختیار کی ، جو حکم دیا گیا اس کی ضد و مخالفت کی تو اب تیرا یہ کہنا غلط ہے کہ اللہ تعالٰی مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا اور تیرے تمام عذرجھوٹے ہیں ۔
اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۱۳۲) کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں (ف۱۳۳)
(ف132)اور شانِ الٰہی میں ایسی بات کہی جو اس کے لائق نہیں اس کے لئے شریک تجویز کئے اولاد بتائی اس کی صفات کا انکار کیا اس کا نتیجہ یہ ہے ۔(ف133)جو براہِ تکبر ایمان نہ لائے ۔
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۱۳۵) اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،(
(ف135)یعنی خزائنِ رحمت و رزق و بارش وغیرہ کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں وہی ان کا مالک ہے یہ بھی کہا گیا کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو فرمایا کہ مقالیدِ سماوات و ارض یہ ہیں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَسُبحْانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ وَاَسْتَغْفِرُاللہَ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوۃَ اِلَّا باللہِ وَھُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر ۔ مراد یہ ہے کہ ان کلمات میں اللہ تعالٰی کی توحید و تمجید ہے یہ آسمان و زمین کی بھلائیوں کی کنجیاں ہیں جس مومن نے یہ کلمے پڑھے دارَین کی بہتری پائے گا ۔
تم فرماؤ (ف۱۳٦) تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو! (ف۱۳۷)
(ف136)اے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کفّارِ قریش سے جو آپ کو اپنے دِین یعنی بت پرستی کی طرف بلاتے ہیں ۔(ف137)جاہل اس واسطے فرمایا کہ انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی کے سوا اور کوئی مستحقِ عبادت نہیں باوجود یہ کہ اس پر قطعی دلیلیں قائم ہیں ۔
اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،(٦
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا (ف۱۳۹) اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے (ف۱٤۰) اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،
(ف139)جبھی تو شرک میں مبتلا ہوئے اگر عظمتِ الٰہی سے واقف ہوتے اور اس کا مرتبہ پہچانتے ایسا کیوں کرتے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی کے عظمت و جلال کا بیان ہے۔(ف140)حدیثِ بخاری و مسلم میں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی آسمان کو لپیٹ کر اپنے دستِ قدرت میں لے گا پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں جبّار ، کہاں ہیں متکبر ، مُلک و حکومت کے دعوےدار ، پھر زمینوں کو لپیٹ کر اپنے دوسرے دستِ قدرت میں لے گا اور یہی فرمائے گا میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ۔
اور صور پھونکا جائے گا تو بیہوش ہوجائیں گے (ف۱٤۱) جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے (ف۱٤۲) پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا (ف۱٤۳) جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے (ف۱٤٤)
(ف141)یہ پہلے نفخہ کا بیان ہے اس نفخہ سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ ملائکہ اور زمین والوں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے جن پر موت نہ آئی ہوگی وہ اس سے مرجائیں گے ۔ اور جن پر موت وارد ہوچکی پھر اللہ تعالٰی نے انہیں حیات عنایت کی وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسے کہ انبیاء و شہداء ان پر اس نفخہ سے بے ہوشی کی سی کیفیّت طاری ہوگی اور جو لوگ قبروں میں مرے پڑے ہیں انہیں اس نفخہ کا شعور بھی نہ ہوگا ۔ (جمل وغیرہ)(ف142)اس استثناء میں کون کون داخل ہے اس میں مفسّرین کے بہت اقوال ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نفخۂِ صعق سے تمام آسمان اور زمین والے مرجائیں گے سوائے جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و مَلَک الموت کے پھر اللہ تعالٰی دونوں نفخوں کے درمیان جو چالیس برس کی مدّت ہے اس میں ان فرشتوں کو بھی موت دے گا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مستثنٰے شہداء ہیں جن کے لئے قرانِ مجید میں'بَلْ اَحْیَاء ' آیا ہے ۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ وہ شہداء ہیں جو تلواریں حمائل کئے گردِ عرش حاضر ہوں گے ۔ تیسرا قول حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مستثنٰی حضرت موسٰی علیہ السلام ہیں چونکہ آپ طور پر بے ہوش ہوچکے ہیں اس لئے اس نفخہ سے آپ بے ہوش نہ ہوں گے بلکہ آپ متیقظ و ہوشیار رہیں گے ۔ چوتھا قول یہ ہے کہ مستثنٰی جنّت کی حوریں اور عرش و کرسی کے رہنے والے ہیں ۔ ضحاک کا قول ہے کہ مستثنٰی رضوان اور حوریں اور وہ فرشتے جو جہنّم پر مامور ہیں وہ اور جہنّم کے سانپ بچھو ہیں ۔ (تفسیر کبیر وجمل) (ف143)یہ نفخۂِ ثانیہ ہے جس سے مردے زندہ کئے جائیں گے ۔(ف144)اپنی قبروں سے اور دیکھتے ہوئے کھڑے ہونے سے یا تو یہ مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر مبہوت کی طرح ہر طرف نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ اب انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا ۔ اور مومنین کی قبروں پر اللہ تعالٰی کی رحمت سے سواریاں حاضر کی جائیں گے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے وعدہ فرمایا ہے'یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا '
اور زمین جگمگا اٹھے گی (ف۱٤۵) اپنے رب کے نور سے (ف۱٤٦) اور رکھی جائے گی کتاب (ف۱٤۷) اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے (ف۱٤۸) اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
(ف145)بہت تیز روشنی سے یہاں تک کہ سُرخی کی جھلک نمودار ہوگی یہ زمین دنیا کی زمین نہ ہوگی بلکہ نئی ہی زمین ہوگی جو اللہ تعالٰی روزِ قیامت کی محفل کے لئے پیدا فرمائے گا ۔(ف146)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ چاند سورج کا نور نہ ہوگا بلکہ یہ اور ہی نور ہوگاجس کو اللہ تعالٰی پیدا فرمائے گا اس سے زمین روشن ہوجائے گی ۔ (جمل) (ف147)یعنی اعمال کی کتاب حساب کے لئے ۔ اس سے مراد یا تو لوحِ محفوظ ہے جس میں دنیا کے جمیع احوال قیامت تک شرح وبسط کے ساتھ ثبت ہیں یا ہر شخص کا اعمال نا مہ جو اس کے ہاتھ میں ہوگا ۔(ف148)جو رسولوں کی تبلیغ کی گواہی دیں گے ۔
اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۱۵۰) گروہ گروہ (ف۱۵۱) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے (ف۱۵۲) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں (ف۱۵۳) مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا (ف۱۵٤)(
(ف150)سختی کے ساتھ قیدیوں کی طرح ۔(ف151)ہر ہر جماعت اور امّت علٰیحدہ علٰیحدہ ۔(ف152)یعنی جہنّم کے ساتوں دروازے کھولے جائیں گے جو پہلے سے بند تھے ۔(ف153)بے شک انبیاء تشریف بھی لائے اور انہوں نے اللہ تعالٰی کے احکام بھی سنائے اور اس دن سے بھی ڈرایا ۔(ف154)کہ ہم پر ہماری بدنصیبی غالب ہو ئی اور ہم نے گمراہی اختیار کی اور حسبِ ارشادِ الٰہی جہنّم میں بھرے گئے ۔
اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں (ف۱۵۵) گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے (ف۱۵٦) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،
(ف155)عزّت و احترام اور لطف و کرم کے ساتھ ۔(ف156)ان کے عزّت و احترام کے لئے ۔ اورجنّت کے دروازے آٹھ ہیں ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ دروازۂِ جنّت کے قریب ایک درخت ہے اس کے نیچے سے دو چشمے نکلتے ہیں مومن وہاں پہنچ کر ایک چشمہ میں غسل کرے گا اس سے اس کا جسم پاک و صاف ہوجائے گا اور دوسرے چشمہ کا پانی پئے گا اس سے اس کا باطن پاکیزہ ہوجائے گا پھر فرشتے دروازۂِ جنّت پر استقبال کریں گے ۔
اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا (ف۱۵۷)
اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۵۸) اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب (ف۱۵۹)
(ف158)کہ مومنوں کو جنّت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا ۔(ف159)اہلِ جنّت جنّت میں داخل ہو کر ادائے شکر کے لئے حمدِ الٰہی عرض کریں گے ۔