اور بولے (ف٦) ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو (ف۷) اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۸) اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے (ف۹) تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۱۰)
(ف6)مشرکین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ۔(ف7)ہم اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے یعنی توحید و ایمان کو ۔(ف8)ہم بہرے ہیں ، آپ کی بات ہمارے سننے میں نہیں آتی ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ ہم سے ایمان و توحید کے قبول کرنے کی توقّع نہ رکھئے ، ہم کسی طرح ماننے والے نہیں اور نہ ماننے میں ہم بمنزلۂِ اس شخص کے ہیں جو نہ سمجھتا ہو ، نہ سنتا ہو ۔(ف9)یعنی دینی مخالفت ، تو ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ۔(ف10)یعنی تم اپنے دِین پر رہو ، ہم اپنے دِین پر قائم ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ تم سے ہمارا کام بگاڑنے کی جو کوشش ہوسکے وہ کرو ، ہم بھی تمہارے خلاف جو ہوسکے گا کریں گے ۔
تم فرماؤ (ف۱۱) آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں (ف۱۲) مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو (ف۱۳) اور اس سے معافی مانگو (ف۱٤) اور خرابی ہے شرک والوں کو،
(ف11)اے اکرمُ الخلق سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم براہِ تواضع ان لوگوں کے ارشادات و ہدایات کے لئے کہ ۔(ف12)ظاہر میں ، کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں ، میری بات بھی سنی جاتی ہے اور میرے تمہارے درمیان میں بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہار ایہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے ، نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی روک ہو ، بجائے میرے کوئی غیرِ جنس جن یا فرشتہ آتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں ، نہ ان کی بات سننے میں آئے ، نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں ، ہمارے ان کے درمیان تو جنسی مخالفت ہی ، بڑی روک ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہوا تو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہئے اور میرے کلام کے سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی بہت کوشش کرنا چاہئے کیونکہ میرا مرتبہ بہت بلند ہے اور میرا کلام بہت عالی ہے ، اس لئے میں وہی کہتا ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے ۔فائدہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بلحاظِ ظاہراَنَا بَشَرمِّثْلُکُمْ فرمانا حکمتِ ہدایت و ارشاد کے لئے بطریقِ تواضع ہے اور جو کلمات تواضع کے لئے کہے جائیں وہ تواضع کرنے والے کے علوِّ منصب کی دلیل ہوتے ہیں ، چھوٹوں کا ان کلمات کو اس کی شان میں کہنا یا اس سے برابری ڈھونڈھنا ترکِ ادب اور گستاخی ہوتا ہے تو کسی امّتی کو روا نہیں کہ وہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے مماثل ہونے کا دعوٰی کرے یہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ آپ کی بشریت بھی سب سے اعلٰی ہے ہماری بشریت کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں ۔(ف13)اس پر ایمان لاؤ ، اس کی ا طاعت اختیار کرو ، اس کی راہ سے نہ پھرو ۔(ف14)اپنے فسادِ عقیدہ و عمل کی ۔
وہ جو زکوٰة نہیں دیتے (ف۱۵) اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ف۱٦)
(ف15)یہ منعِ زکوٰۃ سے خوف دلانے کے لئے فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ زکوٰۃ کو منع کرنا ایسا بُرا ہے کہ قرآنِ کریم میں مشرکین کے اوصاف میں ذکر کیا گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو مال بہت پیارا ہوتا ہے تو مال کا راہِ خدا میں خرچ کر ڈالنا اس کے ثُبات و استقلال اور صدق و اخلاصِ نیّت کی قوی دلیل ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زکوٰۃ سے مراد ہے توحید کا معتقد ہونا اور'(لاالہ الا اللہ)'کہنا ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ جو توحید کا اقرار کرکے اپنے نفسوں کو شرک سے باز نہیں رکھتے ۔ اور قتادہ نے اس کے معنٰی یہ لئے ہیں کہ جو لوگ زکوٰۃ کو واجب نہیں جانتے ۔ اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں ۔(ف16)کہ مرنے کے بعد اٹھنے اور جزا کے ملنے کے قائل نہیں ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۱۷)
(ف17)جو منقطع نہ ہوگا ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت بیماروں ، اپاہجوں اور بوڑھوں کے حق میں نازل ہوئی جو عمل وطاعت کے قابل نہ رہیں ، انہیں وہی اجر ملے گا جو تندرستی میں عمل کرتے تھے ۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جب بندہ کوئی عمل کرتا ہے اور کسی مرض یا سفر کے باعث وہ عامل اس عمل سے مجبور ہوجاتا ہے تو تندرستی اور اقامت کی حالت میں جو کرتا تھا ویسا ہی اس کے لئے لکھا جاتا ہے ۔
تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی (ف۱۸) اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو (ف۱۹) وہ ہے سارے جہان کا رب (ف۲۰)
(ف18)اس کی ایسی قدرتِ کاملہ ہے اور چاہتا تو ایک لمحہ سے بھی کم میں بنادیتا ۔(ف19)یعنی شریک ۔(ف20)اور وہی عبادت کا مستحق ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، سب اس کی مملوک و مخلوق ہیں ۔ اس کے بعد پھر اس کی قدرت کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اور اس میں (ف۲۱) اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (ف۲۲) (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی (ف۲۳) اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں (ف۲٤) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،
(ف21)یعنی زمین میں ۔(ف22)پہاڑوں کے ۔(ف23)دریا اور نہریں اور درخت و پھل اور قِسم قِسم کے حیوانات وغیرہ پیدا کرکے ۔(ف24)یعنی دودن زمین کی پیدائش اور دو دن میں یہ سب ۔
پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا (ف۲۵) تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے ،
تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں (ف۲٦) اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے (ف۲۷) اور ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۲۸) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۲۹) اور نگہبانی کے لیے (ف۳۰) یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،
(ف26)یہ کل چھ دن ہوئے ، ان میں سب سے پچھلاجمعہ ہے ۔(ف27)وہاں کے رہنے والوں کو طاعات و عبادات و امرو نہی کے ۔ (ف28)جو زمین سے قریب ہے ۔(ف29)یعنی روشن ستاروں سے ۔(ف30)شیاطینِ مسترقہ سے ۔
جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے (ف۳۳) کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو ، بولے (ف۳٤) ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا (ف۳۵) تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳٦)
(ف33)یعنی قو مِ عاد و ثمود کے رسول ہر طرف سے آتے تھے اور ان کی ہدایت کی ہر تدبیر عمل میں لاتے تھے اور انہیں ہر طرح نصیحت کرتے تھے ۔(ف34)ان کی قوم کے کافر ان کے جواب میں کہ ۔(ف35)بجائے تمہارے ، تم تو ہماری مثل آدمی ہو ۔(ف36)یہ خطاب ان کا حضرت ھوداور حضرت صالح اور تمام انبیاء سے تھا جنہوں نے ایمان کی دعوت دی ، امام بغوی نے باسنادِ ثعلبی حضرت جابر سے روایت کی کہ جماعتِ قریش نے جن میں ابوجہل وغیرہ سردار بھی تھے یہ تجویز کیا کہ کوئی ایسا شخص جو شعر ، سِحر ، کہا نت میں ماہر ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کلام کرنے کے لئے بھیجا جائے چنانچہ عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب ہوا ، عتبہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے آکر کہا کہ آپ بہتر ہیں یا ہاشم ؟ آپ بہتر ہیں یا عبدالمطلب ؟ آپ بہتر ہیں یا عبداللہ؟ آپ کیوں ہمارے معبودوں کو بُرا کہتے ہیں ؟ کیوں ہمارے باپ دادا کو گمراہ بتاتے ہیں ؟ حکومت کا شوق ہو توہم آپ کو بادشاہ مان لیں ، آپ کے پھریریے اڑائیں ، عورتوں کا شوق ہو تو قریش کی جن لڑکیوں میں سے آپ پسند کریں ہم دس آپ کے عقد میں دیں ، مال کی خواہش ہو تو اتنا جمع کردیں جو آپ کی نسلوں سے بھی بچ رہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ تمام گفتگو خاموش سنتے رہے ، جب عتبہ اپنی تقریر کرکے خاموش ہوا تو حضورِ انور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہی سورت حٰمٓۤ سجدہ پڑھی ، جب آپ آیت'فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ' پر پہنچے تو عتبہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ حضور کے دہانِ مبارک پر رکھ دیا اور آپ کو رشتہ وقرابت کے واسطہ سے قَسم دلائی اور ڈر کر اپنے گھر بھاگ گیا ، جب قریش اس کے مکان پر پہنچے تو اس نے تمام واقعہ بیان کرکے کہا کہ خدا کی قَسم محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جو کہتے ہیں نہ وہ شعر ہے ، نہ سِحر ہے ، نہ کہانت ، میں ان چیزوں کو خوب جانتا ہوں ، میں نے ان کا کلام سنا ، جب انہوں نے آیت 'فَاِنْ اَعْرَضُوْا 'پڑھی تو میں نے ان کے دہانِ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں قَسم دی کہ بس کریں اور تم جانتے ہی ہو کہ وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہی ہوجاتا ہے ، ان کی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوتی ، مجھے اندیشہ ہوگیا کہ کہیں تم پر عذاب نازل نہ ہونے لگے ۔
تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا (ف۳۷) اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
(ف37)قو مِ عاد کے لوگ بڑے قوی اور شہ زور تھے ، جب حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرایا تو انہوں نے کہا ہم اپنی طاقت سے عذاب کو ہٹاسکتے ہیں ۔
تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی (ف۳۸) ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،(
اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی (ف۳۹) تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا (ف٤۰) تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے آ لیا (ف٤۱) سزا ان کے کیے کی (ف٤۲)
(ف39)اور نیکی اور بدی کے طریقے ان پر ظاہر فرمائے ۔(ف40)اور ایمان کے مقابلہ میں کفر اختیار کیا ۔(ف41)اور ہولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کئے گئے ۔(ف42)یعنی ان کے شرک و تکذیبِ پیغمبر اور معاصی کی ۔
اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،
اور تم (ف٤۹) اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (ف۵۰) لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (ف۵۱)
(ف49)گناہ کرتے وقت ۔(ف50)تمہیں تو اس کا گمان بھی نہ تھا بلکہ تم تو بعث و جزا کے سرے ہی سے قائل نہ تھے ۔(ف51)جو تم چُھپا کرکرتے ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کفّار یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی ظاہر کی باتیں جانتا ہے اور جو ہمارے دلوں میں ہے اس کو نہیں جانتا ۔ (معاذ اللہ)
اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے (ف۵٦) انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے (ف۵۷) اور جو ان کے پیچھے (ف۵۸) اور ان پر بات پوری ہوئی (ف۵۹) ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،
(ف56)شیاطین میں سے ۔(ف57)یعنی دنیا کی زیب و زینت ، اور خواہشاتِ نفس کا اتباع ۔(ف58)یعنی امرِ آخرت ، یہ وسوسہ ڈال کر کہ نہ مرنے کے بعد اٹھنا ہے ، نہ حساب ، نہ عذاب ، چین ہی چین ہے ۔(ف59)عذاب کی ۔
اور کافر بولے (ف٦۰) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو (ف٦۱) شاید یونہی تم غالب آؤ (ف٦۲)
(ف60)یعنی مشرکینِ قریش ۔(ف61)اور شور مچاؤ ۔ کفّار ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ جب حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کرو ، خوب چلاؤ ، اونچی اونچی آوازیں نکال کر چیخو ، بے معنٰی کلمات سے شور کرو ، تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن نہ سننے پائے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پریشان ہوں ۔(ف62)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قراء ت موقوف کردیں ۔
اور کافر بولے (ف٦٤) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں (ف٦٦) کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں (ف٦۷)
(ف64)جہنّم میں ۔(ف65)یعنی ہمیں وہ دونوں شیطان دکھا جِنِّی بھی اور انسی بھی ، شیطان دو قسم کے ہوتے ہیں ایک جنّوں میں سے ، ایک انسانوں میں سے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ، جہنّم میں کفّار ان دونوں کے دیکھنے کی خواہش کریں گے ۔(ف66)آ گ میں ۔(ف67)درکِ اسفل میں ہم سے زیادہ سخت عذاب میں ۔
بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے (ف٦۸) ان پر فرشتے اترتے ہیں (ف٦۹) کہ نہ ڈرو (ف۷۰) اور نہ غم کرو (ف۷۱) اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (ف۷۲)
(ف68)حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دریافت کیا گیا استقامت کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ امرونہی پر قائم رہے ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ عمل میں اخلاص کرے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ فرائض ادا کرے ۔ اور استقامت کے معنٰی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے امر کو بجالائے اور معاصی سے بچے ۔(ف69)موت کے وقت یا وہ جب قبروں سے اٹھیں گے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومن کو تین بار بشارت دی جاتی ہے ایک وقتِ موت ، دوسرے قبر میں ، تیسرے قبروں سے اٹھنے کے وقت ۔(ف70)موت سے اور آخرت میں پیش آنے والے حالات سے ۔(ف71)اہلِ اولاد کے چھوٹنے کا یا گناہوں کا ۔(ف72)اور فرشتے کہیں گے ۔
اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے (ف۷٦) اور نیکی کرے (ف۷۷) اور کہے میں مسلمان ہوں (ف۷۸)
(ف76)اس کی توحید و عبادت کی طرف ۔ کہا گیا ہے کہ اس دعوت دینے والے سے مراد حضور سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مومن مراد ہے جس نے نبی علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا اور دوسروں کو نیکی کی دعوت دی ۔(ف77)شانِ نزول : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھانے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت مؤذّنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے ۔ دعوت الَی اللہ کے کئی مرتبے ہیں اوّل دعوتِ انبیاء علیہ الصلٰوۃ والسلام معجزات اور حجج و براہین و سیف کے ساتھ، یہ مرتبہ انبیاء ہی کے ساتھ خاص ہے ۔ دوّم دعوتِ علماء فقط حجج و براہن کے ساتھ، اور علماء کئی طرح کے ہیں ایک عالِم باللہ ، دوسرے عالِم بصفاتِ اللہ ، تیسرے عالِم باحکامِ اللہ ۔ مرتبۂِ سوم دعوتِ مجاہدین ہے یہ کفّار کو سیف کے ساتھ ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ دِین میں داخل ہوں اور طاعت قبول کرلیں ۔ مرتبۂِ چہارم مؤذنین کی دعوت نماز کے لئے ، عملِ صالح کی دو قِسم ہے ایک وہ جو قلب سے ہو ، وہ معرفتِ الٰہی ہے ، دوسرے جو اعضاء سے ہو تو وہ تمام طاعات ہیں ۔(ف78)اور یہ فقط قول نہ ہو بلکہ دِینِ اسلام کا دل سے معتقد ہو کر کہے کہ سچّا کہنا یہی ہے ۔
اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال (ف۷۹) جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست (ف۸۰)
(ف79)مثلاً غصّہ کو صبر سے ، اور جہل کو حلم سے ، بدسلوکی کو عفو سے کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تو معاف کر ۔(ف80)یعنی اس خصلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح محبّت کرنے لگیں گے ۔شانِ نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے حق میں نازل ہوئی کہ باوجود ان کی شدّتِ عداوت کے نبی کریم نے ان کے ساتھ سلوکِ نیک کیا ، ان کی صاحب زادی کو اپنی زوجیّت کا شرف عطا فرمایا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صادقُ المحبّت ، جان نثار ہوگئے ۔
اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے (ف۸۲) تو اللہ کی پناہ مانگ (ف۸۳) بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
(ف82)یعنی شیطان تجھ کوبرائیوں پر ابھارے اور اس خصلتِ نیک سے اور اس کے علاوہ اور نیکیوں سے منحرف کرے ۔(ف83)اس کے شر سے اور اپنی نیکیوں پر قائم رہ ، شیطان کی راہ نہ اختیار کر ، اللہ تعالٰی تیری مدد فرمائے گا ۔
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند (ف۸٤) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (ف۸۵) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا (ف۸٦) اگر تم اس کے بندے ہو،
(ف84)جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیّت و وحدانیّت پر دلالت کرتے ہیں ۔(ف85)کیونکہ وہ مخلوق ہیں اور حکمِ خالق سے مسخّر ہیں اور جو ایسا ہو ، مستحقِ عبادت نہیں ہوسکتا ۔(ف86)وہی سجدہ اور عبادت کا مستحق ہے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بےقدر پڑی (ف۸۹) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا (ف۹۰) تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف89)سوکھی کہ اس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف90)بارش نازل کی ۔
بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں (ف۹۱) ہم سے چھپے نہیں (ف۹۲) تو کیا جو آگ میں ڈالا جائے گا (ف۹۳) وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا (ف۹٤) جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،(
(ف91)اور تاویلِ آیات میں صحت و اسقامت سے عدول و انحراف کرتے ہیں ۔(ف92)ہم انہیں اس کی سزا دیں گے ۔(ف93)یعنی کافرِ ملحد ۔(ف94)مومنِ صادقُ العقیدہ ، بے شک وہی بہتر ہے ۔
تم سے نہ فرمایا جائے (ف۹۸) مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا (ف۹۹) اور دردناک عذاب والا ہے (ف۱۰۰)(٤
(ف98)اللہ تعالٰی کی طرف سے ۔(ف99)اپنے انبیاء علیہم السلام کے لئے اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے ۔(ف100)انبیاء علیہم السلام کے دشمنوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے ۔
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے (ف۱۰۱) تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں (ف۱۰۲) کیا کتاب عجمی اور نبی عربی (ف۱۰۳) تم فرماؤ وہ (ف۱۰٤) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے (ف۱۰۵) اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۱۰٦) اور وہ ان پر اندھا پن ہے (ف۱۰۷) گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں (ف۱۰۸)
(ف101)جیسا کہ یہ کفّار بطریقِ اعتراض کہتے ہیں کہ یہ قرآن عجمی زبان میں کیوں نہ اترا ۔(ف102)اور زبانِ عربی میں بیان نہ کی گئیں ۔ کہ ہم سمجھ سکتے ۔(ف103)یعنی کتاب نبی کی زبان کے خلاف کیوں اتری ۔ حاصل یہ ہے کہ قرآنِ پاک عجمی زبان میں ہوتا تو یہ کافر اعتراض کرتے ، عربی میں آیا تو معترض ہوئے ۔ بات یہ ہے کہ خوئے بد را بہانۂِ بسیار ۔ ایسے اعتراض طالبِ حق کی شان کے لائق نہیں ۔(ف104)قرآنِ شریف ۔(ف105)کہ حق کی راہ بتاتا ہے ،گمراہی سے بچاتا ہے ، جہل و شک وغیرہ قلبی امراض سے شفا دیتا ہے اور جسمانی امراض کے لئے بھی اس کا پڑھ کر دم کرنا دفعِ مرض کے لئے مؤثر ہے ۔(ف106)کہ وہ قرآنِ پاک کے سننے کی نعمت سے محروم ہیں ۔(ف107)کہ شکوک و شبہات کی ظلمتوں میں گرفتار ہیں ۔(ف108)یعنی وہ اپنے عدمِ قبول سے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں جیسا کہ کسی کو دور سے پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی بات نہ سنے ، نہ سمجھے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) تو اس میں اختلاف کیا گیا (ف۱۱۰) اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی (ف۱۱۱) تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا (ف۱۱۲) اور بیشک وہ (ف۱۱۳) ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
(ف109)یعنی توریتِ مقدّس ۔(ف110)بعضوں نے اس کو مانا اور بعضوں نے نہ مانا ، بعضوں نے اس کی تصدیق کی اور بعضوں نے تکذیب ۔(ف111)یعنی حساب و جزا کو روزِ قیامت تک مؤخر نہ فرمادیا ہوتا ۔(ف112)اور دنیا ہی میں انہیں اس کی سزا دے دی جاتی ۔(ف113)یعنی کتابِ الٰہی کی تکذیب کرنے والے ۔
قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے (ف۱۱٤) اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے (ف۱۱۵) اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا (ف۱۱٦) کہاں ہیں میرے شریک (ف۱۱۷) کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں (ف۱۱۸)
(ف114)تو جس سے وقتِ قیامت دریافت کیا جائے اس کو لازم ہے کہ کہے کہ اللہ تعالٰی جاننے والا ہے ۔ (ف115)یعنی اللہ تعالٰی پھل کے غلاف سے برآمد ہونے کے قبل اس کے احوال کو جانتا ہے اور مادّہ کے حمل کو اور اس کی ساعتوں کو اور وضع کے وقت کو اور اس کے ناقص وغیرنا قص اور اچھے اوربُرے اور نَر و مادّہ ہونے کو سب کو جانتا ہے ، اس کا علم بھی اسی کی طرف حوالہ کرنا چاہئے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولیائے کرام اصحابِ کشف بسا اوقات ان امور کی خبریں دیتے ہیں اور وہ صحیح واقع ہوتی ہیں بلکہ کبھی منجم اور کاہن بھی خبریں دیتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نجومیوں اور کاہنوں کی خبریں تو محض اٹکل کی باتیں ہیں جو اکثر و بیشتر غلط ہوجایا کرتی ہیں ، وہ علم ہی نہیں ، بے حقیقت باتیں ہیں اور اولیاء کی خبریں بے شک صحیح ہوتی ہیں اور وہ علم سے فرماتے ہیں اور یہ علم ان کا ذاتی نہیں ، اللہ تعالٰی کا عطا فرمایا ہوا ہے تو حقیقت میں یہ اسی کا علم ہوا ، غیر کا نہیں ۔ (خازن)(ف116)یعنی اللہ تعالٰی مشرکین سے فرمائے گا کہ ۔(ف117)جو تم نے دنیا میں گھڑ رکھے تھے جنہیں تم پوجا کرتے تھے ، اس کے جواب میں مشرکین ۔(ف118)جو آج یہ باطل گواہی دے کہ تیرا کوئی شریک ہے یعنی ہم سب مومنِ موحّد ہیں ، یہ مشرکین عذاب دیکھ کر کہیں گے اور اپنے بتوں سے بَری ہونے کا اظہار کریں گے ۔
آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا (ف۱۲۱) اور کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۲) تو ناامید آس ٹوٹا (ف۱۲۳)
(ف121)ہمیشہ اللہ تعالٰی سے مال اور تونگری و تندرستی مانگتا رہتا ہے ۔(ف122)یعنی کوئی سختی و بلاو معاش کی تنگی ۔(ف123)اللہ تعالٰی کے فضل و رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے ، یہ اور اس کے بعد جو ذکر فرمایا جاتا ہے وہ کافر کا حال ہے اور مومن اللہ تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ لَایَایْئَسُ مِنْ رَّ وْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔
اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں (ف۱۲٤) اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے (ف۱۲۵) اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر (ف۱۲٦) میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے (ف۱۲۷) تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا (ف۱۲۸) اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف۱۲۹)
(ف124)صحت و سلامت و مال و دولت عطا فرما کر ۔(ف125)خالص میرا حق ہے ، میں اپنے عمل سے اس کا مستحق ہوں ۔(ف126) بالفرض جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں ۔(ف127)یعنی وہاں بھی میرے لئے دنیا کی طرح عیش و راحت وعزّت و کرامت ہے ۔(ف128)یعنی انکے اعمالِ قبیحہ اور ان اعمال کے نتائج اور جس عذاب کے وہ مستحق ہیں اس سے انہیں آگاہ کردیں گے ۔(ف129)یعنی نہایت سخت ۔
اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے (ف۱۳۰) اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۳۱) اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۳۲) تو چوڑی دعا والا ہے (ف۱۳۳)
(ف130)اور اس احسان کا شکر بجانہیں لاتا اور اس نعمت پراتراتاہے اور نعمت دینے والے پروردگار کو بھول جاتا ہے ۔(ف131)یادِ الٰہی سے تکبّر کرتا ہے ۔(ف132)کسی قِسم کی پریشانی ، بیماری یا ناداری وغیرہ کی پیش آتی ہے ۔(ف133)خوب دعائیں کرتا ہے ، روتا ہے ،گڑگڑاتا ہے اور لگاتار دعائیں مانگے جاتا ہے ۔
تم فرماؤ (ف۱۳٤) بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے (ف۱۳۵) پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے (ف۱۳٦)
(ف134)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ مکرّمہ کے کفّار سے ۔(ف135)جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اور براہینِ قطعیہ ثابت کرتی ہیں ۔(ف136)حق کی مخالفت کرتا ہے ۔
ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں (ف۱۳۷) اور خود ان کے آپے میں (ف۱۳۸) یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے (ف۱۳۹) کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،(۵٤)
(ف137) آسمان و زمین کے اقطار میں سورج ، چاند ، ستارے ، نباتات ، حیوان ، یہ سب اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد گزری ہوئی امّتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں سے مشرق و مغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے نیاز مندوں کو عنقریب عطا فرمانے والاہے ۔(ف138)ان کی ہستیوں میں لاکھوں لطائفِ صنعت اور بے شمار عجائبِ حکمت ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ بدر میں کفّار کو مغلوب و مقہور کرکے خود ان کے اپنے احوال میں اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرادیا یا یہ معنٰی ہیں کہ مکّہ مکرّمہ فتح فرما کر ان میں اپنی نشانیاں ظاہر کر دیں گے ۔(ف139)یعنی اسلام و قرآن کی سچّائی اور حقانیّت ان پر ظاہر ہوجائے ۔