اور بولے (ف٦) ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو (ف۷) اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۸) اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے (ف۹) تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۱۰)
And they say, “Our hearts are covered against the affair you call us to, and there is deafness in our ears, and there is a barrier between us and you – therefore mind your own business, we are minding ours.”
और बोले हमारे दिल घ़लाफ में हैं इस बात से जिसकी तरफ तुम हमें बुलाते हो और हमारे कानों में टेंट (रुई) है और हमारे और तुम्हारे बीच रोक है तो तुम अपना काम करो हम अपना काम करते हैं
Aur bole humare dil ghilaf mein hain is baat se jis ki taraf tum humein bulate ho aur humare kaanon mein tent (rui) hai aur humare aur tumhare darmiyan rok hai to tum apna kaam karo hum apna kaam karte hain
(ف6)مشرکین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ۔(ف7)ہم اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے یعنی توحید و ایمان کو ۔(ف8)ہم بہرے ہیں ، آپ کی بات ہمارے سننے میں نہیں آتی ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ ہم سے ایمان و توحید کے قبول کرنے کی توقّع نہ رکھئے ، ہم کسی طرح ماننے والے نہیں اور نہ ماننے میں ہم بمنزلۂِ اس شخص کے ہیں جو نہ سمجھتا ہو ، نہ سنتا ہو ۔(ف9)یعنی دینی مخالفت ، تو ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ۔(ف10)یعنی تم اپنے دِین پر رہو ، ہم اپنے دِین پر قائم ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ تم سے ہمارا کام بگاڑنے کی جو کوشش ہوسکے وہ کرو ، ہم بھی تمہارے خلاف جو ہوسکے گا کریں گے ۔
تم فرماؤ (ف۱۱) آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں (ف۱۲) مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو (ف۱۳) اور اس سے معافی مانگو (ف۱٤) اور خرابی ہے شرک والوں کو،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Physically I am a human like you – I receive the divine revelation that your God is only One God, therefore be upright towards Him and seek forgiveness from Him”; and woe is to the polytheists. –
तुम फरमाओ आदमी होने में तो मैं तुम्हें जैसा हूँ मुझे वहि होती है कि तुम्हारा मआबूद एक ही मआबूद है, तो उसके हजूर सीधे रहो और उससे माफी मांगो और खराबी है शिर्क वालों को,
Tum farmaao aadmi hone mein to main tumhein jaisa hoon mujhe wahi hoti hai ke tumhara Ma’bood ek hi Ma’bood hai, to is ke huzoor seedhe raho aur is se maafi maango aur kharabi hai shirk walon ko,
(ف11)اے اکرمُ الخلق سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم براہِ تواضع ان لوگوں کے ارشادات و ہدایات کے لئے کہ ۔(ف12)ظاہر میں ، کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں ، میری بات بھی سنی جاتی ہے اور میرے تمہارے درمیان میں بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہار ایہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے ، نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی روک ہو ، بجائے میرے کوئی غیرِ جنس جن یا فرشتہ آتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں ، نہ ان کی بات سننے میں آئے ، نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں ، ہمارے ان کے درمیان تو جنسی مخالفت ہی ، بڑی روک ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہوا تو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہئے اور میرے کلام کے سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی بہت کوشش کرنا چاہئے کیونکہ میرا مرتبہ بہت بلند ہے اور میرا کلام بہت عالی ہے ، اس لئے میں وہی کہتا ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے ۔فائدہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بلحاظِ ظاہراَنَا بَشَرمِّثْلُکُمْ فرمانا حکمتِ ہدایت و ارشاد کے لئے بطریقِ تواضع ہے اور جو کلمات تواضع کے لئے کہے جائیں وہ تواضع کرنے والے کے علوِّ منصب کی دلیل ہوتے ہیں ، چھوٹوں کا ان کلمات کو اس کی شان میں کہنا یا اس سے برابری ڈھونڈھنا ترکِ ادب اور گستاخی ہوتا ہے تو کسی امّتی کو روا نہیں کہ وہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے مماثل ہونے کا دعوٰی کرے یہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ آپ کی بشریت بھی سب سے اعلٰی ہے ہماری بشریت کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں ۔(ف13)اس پر ایمان لاؤ ، اس کی ا طاعت اختیار کرو ، اس کی راہ سے نہ پھرو ۔(ف14)اپنے فسادِ عقیدہ و عمل کی ۔
وہ جو زکوٰة نہیں دیتے (ف۱۵) اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ف۱٦)
Those who do not give the obligatory charity, and who deny the Hereafter.
वह जो ज़क़ात नहीं देते और वह आख़रत के मंकर हैं
Woh jo zakaat nahin dete aur woh aakhirat ke munkar hain
(ف15)یہ منعِ زکوٰۃ سے خوف دلانے کے لئے فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ زکوٰۃ کو منع کرنا ایسا بُرا ہے کہ قرآنِ کریم میں مشرکین کے اوصاف میں ذکر کیا گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو مال بہت پیارا ہوتا ہے تو مال کا راہِ خدا میں خرچ کر ڈالنا اس کے ثُبات و استقلال اور صدق و اخلاصِ نیّت کی قوی دلیل ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زکوٰۃ سے مراد ہے توحید کا معتقد ہونا اور'(لاالہ الا اللہ)'کہنا ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ جو توحید کا اقرار کرکے اپنے نفسوں کو شرک سے باز نہیں رکھتے ۔ اور قتادہ نے اس کے معنٰی یہ لئے ہیں کہ جو لوگ زکوٰۃ کو واجب نہیں جانتے ۔ اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں ۔(ف16)کہ مرنے کے بعد اٹھنے اور جزا کے ملنے کے قائل نہیں ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۱۷)
Indeed for those who believed and did good deeds, is a limitless reward.
बेशक जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उनके लिए बे अंतहा सवाब है
Beshak jo iman laaye aur achhe kaam kiye un ke liye be inteha sawab hai
(ف17)جو منقطع نہ ہوگا ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت بیماروں ، اپاہجوں اور بوڑھوں کے حق میں نازل ہوئی جو عمل وطاعت کے قابل نہ رہیں ، انہیں وہی اجر ملے گا جو تندرستی میں عمل کرتے تھے ۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جب بندہ کوئی عمل کرتا ہے اور کسی مرض یا سفر کے باعث وہ عامل اس عمل سے مجبور ہوجاتا ہے تو تندرستی اور اقامت کی حالت میں جو کرتا تھا ویسا ہی اس کے لئے لکھا جاتا ہے ۔
تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی (ف۱۸) اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو (ف۱۹) وہ ہے سارے جہان کا رب (ف۲۰)
Say “What! You disbelieve in Him Who created the earth in two days, and you appoint equals to Him? He is the Lord Of The Creation!”
तुम फरमाओ क्या तुम लोग इसका इंकार रखते हो जिसने दो दिन में ज़मीन बनाई और इसके हमसरा ठहराते रहो वह है सारे जहान का रब
Tum farmaao kya tum log iska inkaar rakhte ho jis ne do din mein zameen banai aur is ke humsar thehrate raho woh hai saare jahan ka Rab
(ف18)اس کی ایسی قدرتِ کاملہ ہے اور چاہتا تو ایک لمحہ سے بھی کم میں بنادیتا ۔(ف19)یعنی شریک ۔(ف20)اور وہی عبادت کا مستحق ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، سب اس کی مملوک و مخلوق ہیں ۔ اس کے بعد پھر اس کی قدرت کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اور اس میں (ف۲۱) اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (ف۲۲) (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی (ف۲۳) اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں (ف۲٤) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،
And in it He placed mountains as anchors from above it, and blessings in it, and appointed the sustenance for those who dwell in it – all this in four days; a proper answer to those who question.
और इसमें इसके ऊपर से लंगर डाले (भारी बोझ रखें) और इसमें बरकत रखी और इसमें इसके बसने वालों की रोज़ियां मुकर्रर कीं यह सब मिला कर चार दिन में ठीक जवाब पूछने वालों को,
Aur is mein is ke upar se langar daale (bhaari bojh rakhe) aur is mein barkat rakhi aur is mein is ke basne walon ki roziyan muqarrar kiin yeh sab mila kar chaar din mein theek jawab poochne walon ko,
(ف21)یعنی زمین میں ۔(ف22)پہاڑوں کے ۔(ف23)دریا اور نہریں اور درخت و پھل اور قِسم قِسم کے حیوانات وغیرہ پیدا کرکے ۔(ف24)یعنی دودن زمین کی پیدائش اور دو دن میں یہ سب ۔
پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا (ف۲۵) تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے ،
He then inclined towards the heavens and it was smoke – thereupon He said to it and to the earth, “Both of you present yourselves, willingly or with reluctance”; they said, “We present ourselves, with zeal.”
फिर आसमान की तरफ क़सद फ़रमाया और वह धुआँ था तो उससे और ज़मीन से फ़रमाया कि दोनों हाज़िर हो खुशी से चाहे ना खुशी से, दोनों ने आरज़ की कि हम रग़बत के साथ हाज़िर हुए,
Phir aasman ki taraf qasd farmaaya aur woh dhuan tha to us se aur zameen se farmaaya ke dono haazir ho khushi se chahe na khushi se, dono ne arz ki ke hum raghbat ke saath haazir hue,
تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں (ف۲٦) اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے (ف۲۷) اور ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۲۸) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۲۹) اور نگہبانی کے لیے (ف۳۰) یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،
He then established them into seven heavens in two days, and to each heaven He sent the command of its affairs; and We decorated the lower heaven with lamps; and for its protection; this is the command set by the Most Honourable, the All Knowing.
तो उन्हें पूरे सात आसमान कर दिया दो दिन में और हर आसमान में उसी के काम के अहकाम भेजे और हमने नीचे के आसमान को चरागों से आरास्ता किया और निगरबानी के लिए यह उस इज़्ज़त वाले इल्म वाले का ठहराया हुआ है,
To unhein poore saat aasman kar diya do din mein aur har aasman mein isi ke kaam ke ahkaam bheje aur hum ne neeche ke aasman ko charagho se aaraasta kiya aur nigarbani ke liye yeh is izzat wale ilm wale ka thehraya hua hai,
(ف26)یہ کل چھ دن ہوئے ، ان میں سب سے پچھلاجمعہ ہے ۔(ف27)وہاں کے رہنے والوں کو طاعات و عبادات و امرو نہی کے ۔ (ف28)جو زمین سے قریب ہے ۔(ف29)یعنی روشن ستاروں سے ۔(ف30)شیاطینِ مسترقہ سے ۔
جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے (ف۳۳) کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو ، بولے (ف۳٤) ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا (ف۳۵) تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳٦)
When their Noble Messengers approached them from front and from behind saying, "Do not worship any one except Allah"; they said, "If our Lord willed, He would surely have sent down angels – we therefore deny whatever you have been sent with.”
जब रसूल उनके आगे पीछे फرتे थे कि अल्लाह के सिवा किसी को न पूजो, बोले हमारा रब चाहता तो फ़रिश्ते उतारता तो जो कुछ तुम ले कर भेजे गए हम उसे नहीं मानते
Jab Rasool un ke aage peeche phirte the ke Allah ke siwa kisi ko na pojo, bole hamara Rab chahta to farishte utaarta to jo kuch tum le kar bheje gaye hum use nahin maante
(ف33)یعنی قو مِ عاد و ثمود کے رسول ہر طرف سے آتے تھے اور ان کی ہدایت کی ہر تدبیر عمل میں لاتے تھے اور انہیں ہر طرح نصیحت کرتے تھے ۔(ف34)ان کی قوم کے کافر ان کے جواب میں کہ ۔(ف35)بجائے تمہارے ، تم تو ہماری مثل آدمی ہو ۔(ف36)یہ خطاب ان کا حضرت ھوداور حضرت صالح اور تمام انبیاء سے تھا جنہوں نے ایمان کی دعوت دی ، امام بغوی نے باسنادِ ثعلبی حضرت جابر سے روایت کی کہ جماعتِ قریش نے جن میں ابوجہل وغیرہ سردار بھی تھے یہ تجویز کیا کہ کوئی ایسا شخص جو شعر ، سِحر ، کہا نت میں ماہر ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کلام کرنے کے لئے بھیجا جائے چنانچہ عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب ہوا ، عتبہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے آکر کہا کہ آپ بہتر ہیں یا ہاشم ؟ آپ بہتر ہیں یا عبدالمطلب ؟ آپ بہتر ہیں یا عبداللہ؟ آپ کیوں ہمارے معبودوں کو بُرا کہتے ہیں ؟ کیوں ہمارے باپ دادا کو گمراہ بتاتے ہیں ؟ حکومت کا شوق ہو توہم آپ کو بادشاہ مان لیں ، آپ کے پھریریے اڑائیں ، عورتوں کا شوق ہو تو قریش کی جن لڑکیوں میں سے آپ پسند کریں ہم دس آپ کے عقد میں دیں ، مال کی خواہش ہو تو اتنا جمع کردیں جو آپ کی نسلوں سے بھی بچ رہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ تمام گفتگو خاموش سنتے رہے ، جب عتبہ اپنی تقریر کرکے خاموش ہوا تو حضورِ انور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہی سورت حٰمٓۤ سجدہ پڑھی ، جب آپ آیت'فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ' پر پہنچے تو عتبہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ حضور کے دہانِ مبارک پر رکھ دیا اور آپ کو رشتہ وقرابت کے واسطہ سے قَسم دلائی اور ڈر کر اپنے گھر بھاگ گیا ، جب قریش اس کے مکان پر پہنچے تو اس نے تمام واقعہ بیان کرکے کہا کہ خدا کی قَسم محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جو کہتے ہیں نہ وہ شعر ہے ، نہ سِحر ہے ، نہ کہانت ، میں ان چیزوں کو خوب جانتا ہوں ، میں نے ان کا کلام سنا ، جب انہوں نے آیت 'فَاِنْ اَعْرَضُوْا 'پڑھی تو میں نے ان کے دہانِ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں قَسم دی کہ بس کریں اور تم جانتے ہی ہو کہ وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہی ہوجاتا ہے ، ان کی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوتی ، مجھے اندیشہ ہوگیا کہ کہیں تم پر عذاب نازل نہ ہونے لگے ۔
تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا (ف۳۷) اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
So regarding the A’ad, they were haughty in the land without right, and they said, “Who is more powerful than us?” Did they not realise that Allah, Who created them, is more powerful than them? And they used to deny Our signs.
तो वह जो आद थे उन्हें ने ज़मीन में नाहक तक़बर किया और बोले हमसे ज्यादा किस का ज़ोर, और क्या उन्होंने न जाना कि अल्लाह जिसने उन्हें बनाया उनसे ज्यादा क़वी़ है, और हमारी आयतों का इंकार करते थे,
To woh jo A’ad the unhone zameen mein na-haq takabbur kiya aur bole hum se zyada kis ka zor, aur kya unhone na jana ke Allah jis ne unhein banaya un se zyada qawi hai, aur humari aayaton ka inkaar karte the,
(ف37)قو مِ عاد کے لوگ بڑے قوی اور شہ زور تھے ، جب حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرایا تو انہوں نے کہا ہم اپنی طاقت سے عذاب کو ہٹاسکتے ہیں ۔
تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی (ف۳۸) ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،(
We therefore sent a violent thunderstorm towards them in their days of misfortune, in order to make them taste a disgraceful punishment in the life of this world; and indeed the punishment of the Hereafter is more disgracing, and they will not be helped.
तो हमने उन पर एक आंधी भेजी सख़्त गर्ज़ की उनकी शामत के दिनों में कि हम उन्हें रसवाई का अज़ाब चखाएँ दुनिया की ज़िंदगी में और बेशक आख़रत के अज़ाब में सबसे बड़ी रसवाई है और उनकी मदद न होगी,
To hum ne un par ek aandhi bheji sakht garaj ki un ki shamat ke dino mein ke hum unhein ruswaai ka azaab chakhayein duniya ki zindagi mein aur beshak aakhirat ke azaab mein sab se badi ruswaai hai aur unki madad na hogi,
اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی (ف۳۹) تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا (ف٤۰) تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے آ لیا (ف٤۱) سزا ان کے کیے کی (ف٤۲)
And regarding the Thamud, We showed them the right path – so they chose to be blind above being guided, therefore the thunderbolt of the disgraceful punishment overcame them – the recompense of their deeds.
और रहे थमूद उन्हें हमने राह दिखाई तो उन्होंने सोज़ने पर अंधे होने को पसंद किया तो उन्हें ज़ुल्त के अज़ाब की करक ने आ लिया सज़ा उनके किए की
Aur rahe Thamood unhein hum ne raah dikhai to unhone soojhne par andhe hone ko pasand kiya to unhein zilat ke azaab ki kadak ne aa liya saza un ke kiye ki
(ف39)اور نیکی اور بدی کے طریقے ان پر ظاہر فرمائے ۔(ف40)اور ایمان کے مقابلہ میں کفر اختیار کیا ۔(ف41)اور ہولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کئے گئے ۔(ف42)یعنی ان کے شرک و تکذیبِ پیغمبر اور معاصی کی ۔
اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،
And they will say to their skins, “Why did you testify against us?"; they will say, “Allah has made us talk, Who has given all things the power of speech, and it is He Who created you the first time, and it is to Him that you have to return.”
और वह अपनी खालों से कहेंगे तुम ने हम पर क्यों गवाही दी, वह कहेंगी हमें अल्लाह ने बुलवाया जिसने हर चीज़ को ग़वाई बख़्शी और उसने तुम्हें पहली बार बनाया और उसी की तरफ तुम्हें फिरना है,
Aur woh apni khaalon se kahenge tum ne hum par kyun gawahi di, woh kahengi humein Allah ne bulwaya jis ne har cheez ko gawai bakhshi aur us ne tumhein pehli baar banaya aur isi ki taraf tumhein phirna hai,
اور تم (ف٤۹) اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (ف۵۰) لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (ف۵۱)
And where could you hide from Him, so that your ears and your eyes and your skins may not testify against you? But you had assumed that Allah does not know most of your deeds!
और तुम इससे कहाँ छुप कर जाते कि तुम पर गवाही दें तुम्हारे कान और तुम्हारी आँखें और तुम्हारी खालें लेकिन तुम तो यह समझे बैठे थे कि अल्लाह तुम्हारे बहुत से काम नहीं जानता
Aur tum is se kahan chhup kar jaate ke tum par gawahi dein tumhare kaan aur tumhari aankhen aur tumhari khaalain lekin tum to yeh samjhe baithe the ke Allah tumhare bohot se kaam nahin jaanta
(ف49)گناہ کرتے وقت ۔(ف50)تمہیں تو اس کا گمان بھی نہ تھا بلکہ تم تو بعث و جزا کے سرے ہی سے قائل نہ تھے ۔(ف51)جو تم چُھپا کرکرتے ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کفّار یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی ظاہر کی باتیں جانتا ہے اور جو ہمارے دلوں میں ہے اس کو نہیں جانتا ۔ (معاذ اللہ)
اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے (ف۵٦) انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے (ف۵۷) اور جو ان کے پیچھے (ف۵۸) اور ان پر بات پوری ہوئی (ف۵۹) ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،
And We appointed companions for them, who made what is before them and what is after them seem good to them, and the Word proved true upon them along with the groups of jinns and men who passed away before them; they were indeed losers.
और हमने उन पर कुछ साथी तय किए उन्होंने उन्हें भुला दिया जो उनके आगे है और जो उनके पीछे और उन पर बात पूरी हुई उन ग्रुपों के साथ जो उनसे पहले गुज़र चुके जिन और आदमियों के, बेशक वे ज़ियानकार थे,
Aur hum ne un par kuch saathi taayun kiye unhone unhein bhula diya jo un ke aage hai aur jo un ke peeche aur un par baat poori hui un groupon ke saath jo un se pehle guzar chuke jin aur aadmiyon ke, beshak woh ziyaankaar the,
(ف56)شیاطین میں سے ۔(ف57)یعنی دنیا کی زیب و زینت ، اور خواہشاتِ نفس کا اتباع ۔(ف58)یعنی امرِ آخرت ، یہ وسوسہ ڈال کر کہ نہ مرنے کے بعد اٹھنا ہے ، نہ حساب ، نہ عذاب ، چین ہی چین ہے ۔(ف59)عذاب کی ۔
اور کافر بولے (ف٦۰) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو (ف٦۱) شاید یونہی تم غالب آؤ (ف٦۲)
And the disbelievers said, “Do not listen to this Qur’an and engulf it in noise – perhaps you may be victorious this way.”
और काफ़िर बोले यह कुरआन न सुनो और इसमें बेहुदा गल करो शायद यूंही तुम ग़ालिब आओ
Aur kaafir bole yeh Qur’ān na suno aur is mein behuda ghal karo shayad yunhi tum ghaalib aao
(ف60)یعنی مشرکینِ قریش ۔(ف61)اور شور مچاؤ ۔ کفّار ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ جب حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کرو ، خوب چلاؤ ، اونچی اونچی آوازیں نکال کر چیخو ، بے معنٰی کلمات سے شور کرو ، تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن نہ سننے پائے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پریشان ہوں ۔(ف62)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قراء ت موقوف کردیں ۔
اور کافر بولے (ف٦٤) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں (ف٦٦) کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں (ف٦۷)
And the disbelievers said, “Our Lord! Show us both – among jinns and men – who misled us, for us to put them beneath our feet so that they be the lowest of the low.”
और काफ़िर बोले ऐ हमारे रब हमें दिखा वह दोनों जिन और आदम जिन्होंने हमें गुमराह किया कि हम उन्हें अपने पाँव तले डालें कि वे हर नीचे से नीचे रहें
Aur kaafir bole ae humare Rab humein dikha woh dono jin aur aadmi jinhone humein gumrah kiya ke hum unhein apne paon tale daalein ke woh har neeche se neeche rahen
(ف64)جہنّم میں ۔(ف65)یعنی ہمیں وہ دونوں شیطان دکھا جِنِّی بھی اور انسی بھی ، شیطان دو قسم کے ہوتے ہیں ایک جنّوں میں سے ، ایک انسانوں میں سے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ، جہنّم میں کفّار ان دونوں کے دیکھنے کی خواہش کریں گے ۔(ف66)آ گ میں ۔(ف67)درکِ اسفل میں ہم سے زیادہ سخت عذاب میں ۔
بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے (ف٦۸) ان پر فرشتے اترتے ہیں (ف٦۹) کہ نہ ڈرو (ف۷۰) اور نہ غم کرو (ف۷۱) اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (ف۷۲)
Indeed those who said, “Allah is our Lord” and remained firm upon it – upon them descend the angels, (saying), “Do not fear nor grieve, and be happy for the Paradise which you are promised.”
बेशक वे जिन्होंने कहा हमारा रब अल्लाह है फिर उस पर कायम रहे उन पर फ़रिश्ते उतरते हैं कि न डरो और न ग़म करो और खुश हो उस जन्नत पर जिसका तुम्हें वादा दिया जाता था
Beshak woh jinhone kaha hamara Rab Allah hai phir us par qaaim rahe un par farishte utarte hain ke na daro aur na gham karo aur khush ho us jannat par jiska tumhein wada diya jaata tha
(ف68)حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دریافت کیا گیا استقامت کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ امرونہی پر قائم رہے ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ عمل میں اخلاص کرے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ فرائض ادا کرے ۔ اور استقامت کے معنٰی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے امر کو بجالائے اور معاصی سے بچے ۔(ف69)موت کے وقت یا وہ جب قبروں سے اٹھیں گے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومن کو تین بار بشارت دی جاتی ہے ایک وقتِ موت ، دوسرے قبر میں ، تیسرے قبروں سے اٹھنے کے وقت ۔(ف70)موت سے اور آخرت میں پیش آنے والے حالات سے ۔(ف71)اہلِ اولاد کے چھوٹنے کا یا گناہوں کا ۔(ف72)اور فرشتے کہیں گے ۔
اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے (ف۷٦) اور نیکی کرے (ف۷۷) اور کہے میں مسلمان ہوں (ف۷۸)
And whose speech is better than one who calls towards his Lord and does righteous deeds, and says, “I am a Muslim.”?
और इससे ज्यादा किस की बात अच्छी जो अल्लाह की तरफ बुलाए और नेक़ी करे और कहे मैं मुस्लिम हूँ
Aur is se zyada kis ki baat achhi jo Allah ki taraf bulaaye aur neki kare aur kahe main Musalman hoon
(ف76)اس کی توحید و عبادت کی طرف ۔ کہا گیا ہے کہ اس دعوت دینے والے سے مراد حضور سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مومن مراد ہے جس نے نبی علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا اور دوسروں کو نیکی کی دعوت دی ۔(ف77)شانِ نزول : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھانے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت مؤذّنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے ۔ دعوت الَی اللہ کے کئی مرتبے ہیں اوّل دعوتِ انبیاء علیہ الصلٰوۃ والسلام معجزات اور حجج و براہین و سیف کے ساتھ، یہ مرتبہ انبیاء ہی کے ساتھ خاص ہے ۔ دوّم دعوتِ علماء فقط حجج و براہن کے ساتھ، اور علماء کئی طرح کے ہیں ایک عالِم باللہ ، دوسرے عالِم بصفاتِ اللہ ، تیسرے عالِم باحکامِ اللہ ۔ مرتبۂِ سوم دعوتِ مجاہدین ہے یہ کفّار کو سیف کے ساتھ ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ دِین میں داخل ہوں اور طاعت قبول کرلیں ۔ مرتبۂِ چہارم مؤذنین کی دعوت نماز کے لئے ، عملِ صالح کی دو قِسم ہے ایک وہ جو قلب سے ہو ، وہ معرفتِ الٰہی ہے ، دوسرے جو اعضاء سے ہو تو وہ تمام طاعات ہیں ۔(ف78)اور یہ فقط قول نہ ہو بلکہ دِینِ اسلام کا دل سے معتقد ہو کر کہے کہ سچّا کہنا یہی ہے ۔
اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال (ف۷۹) جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست (ف۸۰)
And the good deed and the evil deed will never be equal; O listener! Repel the evil deed with a good one, thereupon the one between whom and you was enmity, will become like a close friend.
और नेक़ी और बदी बराबर न हो जाएंगी, ऐ सुनने वाले बुराई को भलाई से टाल जबही वह कि तुझ में और इसमें दुश्मनी थी ऐसा हो जाएगा जैसा कि गहरा दोस्त
Aur neki aur badi barabar na ho jaayengi, ae sunne wale burai ko bhalai se taal jabhi woh ke tujh mein aur is mein dushmani thi aisa ho jaayega jaisa ke gehra dost
(ف79)مثلاً غصّہ کو صبر سے ، اور جہل کو حلم سے ، بدسلوکی کو عفو سے کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تو معاف کر ۔(ف80)یعنی اس خصلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح محبّت کرنے لگیں گے ۔شانِ نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے حق میں نازل ہوئی کہ باوجود ان کی شدّتِ عداوت کے نبی کریم نے ان کے ساتھ سلوکِ نیک کیا ، ان کی صاحب زادی کو اپنی زوجیّت کا شرف عطا فرمایا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صادقُ المحبّت ، جان نثار ہوگئے ۔
اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے (ف۸۲) تو اللہ کی پناہ مانگ (ف۸۳) بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
And O listener! If a distracting thought from the devil reaches you, seek the refuge of Allah; indeed He is the All Hearing, the All Knowing.
और अगर तुम्हें शैतान का कोई कौनचा (तकलीफ़) पहुँचे तो अल्लाह की पनाह माँग बेशक वही सुनता जानता है,
Aur agar tumhein shaitaan ka koi koncha (takleef) pohche to Allah ki panah maang beshak wahi sunta jaanta hai,
(ف82)یعنی شیطان تجھ کوبرائیوں پر ابھارے اور اس خصلتِ نیک سے اور اس کے علاوہ اور نیکیوں سے منحرف کرے ۔(ف83)اس کے شر سے اور اپنی نیکیوں پر قائم رہ ، شیطان کی راہ نہ اختیار کر ، اللہ تعالٰی تیری مدد فرمائے گا ۔
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند (ف۸٤) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (ف۸۵) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا (ف۸٦) اگر تم اس کے بندے ہو،
And the night, and the day, and the sun, and the moon are among His signs; do not prostrate for the sun or the moon, but prostrate for Allah Who has created them, if you are His bondmen.
और उसकी निशानियों में से हैं रात और दिन और सूरज और चाँद सिज़्दह न करो सूरज को और न चाँद को और अल्लाह को सिज़्दह करो जिसने उन्हें पैदा किया अगर तुम उसके बंदे हो,
Aur is ki nishaniyon mein se hain raat aur din aur sooraj aur chaand sajda na karo sooraj ko aur na chaand ko aur Allah ko sajda karo jis ne unhein paida kiya agar tum us ke bande ho,
(ف84)جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیّت و وحدانیّت پر دلالت کرتے ہیں ۔(ف85)کیونکہ وہ مخلوق ہیں اور حکمِ خالق سے مسخّر ہیں اور جو ایسا ہو ، مستحقِ عبادت نہیں ہوسکتا ۔(ف86)وہی سجدہ اور عبادت کا مستحق ہے ۔
تو اگر یہ تکبر کریں (ف۸۷) تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں (ف۸۸) رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں، ( السجدة ۔۱۱)
So if these (disbelievers) be haughty, so (in any case) those (the angels) who are with your Lord say His Purity night and day, and they do not get weary. (Command of prostration # 11)
तो अगर यह तक़बर करें तो वह जो तुम्हारे रब के पास हैं रात दिन उसकी पाक़ी बोलते हैं और उकताते नहीं, (सज्दह. 11)
To agar yeh takabbur karein to woh jo tumhare Rab ke paas hain raat din is ki paaki bolte hain aur uktate nahin, (As-Sajdah.11)
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بےقدر پڑی (ف۸۹) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا (ف۹۰) تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
And among His signs is that you see the earth lying neglected, so when We sent down water on it, it freshened up and grew forth; indeed He Who gave it life, will revive the dead; indeed He is Able to do all things.
और उसकी निशानियों से है कि तो ज़मीन को देखे बे क़दर पड़ी फिर जब हमने इस पर पानी उतारा तर व ताज़ा हुई और बढ़ चली, बेशक जिसने इसे जलाया जरूर मरे जलाएगा, बेशक वह सब कुछ कर सकता है,
Aur is ki nishaniyon se hai ke tu zameen ko dekhe be qadr padi phir jab hum ne is par paani utara tar o taaza hui aur barh chali, beshak jis ne ise jilaaya zaroor murde jilaaye ga, beshak woh sab kuch kar sakta hai,
(ف89)سوکھی کہ اس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف90)بارش نازل کی ۔
بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں (ف۹۱) ہم سے چھپے نہیں (ف۹۲) تو کیا جو آگ میں ڈالا جائے گا (ف۹۳) وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا (ف۹٤) جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،(
Indeed those who distort Our verses are not hidden from Us; so is one who is cast into the fire better, or one who comes in safety on the Day of Resurrection? Do whatever you wish! He is indeed seeing your deeds.
बेशक वह जो हमारी आयतों में टेढ़े चलते हैं हम से छुपे नहीं तो क्या जो आग में डाला जाएगा वह भला, या जो क़ियामत में आमान से आएगा जो जी में आए करो बेशक वह तुम्हारे काम देख रहा है,
Beshak woh jo humari aayaton mein tedhe chalte hain hum se chhupe nahin to kya jo aag mein daala jaayega woh bhala, ya jo Qiyamat mein amaan se aaye ga jo ji mein aaye karo beshak woh tumhare kaam dekh raha hai,
(ف91)اور تاویلِ آیات میں صحت و اسقامت سے عدول و انحراف کرتے ہیں ۔(ف92)ہم انہیں اس کی سزا دیں گے ۔(ف93)یعنی کافرِ ملحد ۔(ف94)مومنِ صادقُ العقیدہ ، بے شک وہی بہتر ہے ۔
تم سے نہ فرمایا جائے (ف۹۸) مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا (ف۹۹) اور دردناک عذاب والا ہے (ف۱۰۰)(٤
You will not be told except what was said to the Noble Messengers before you; that “Your Lord is the Owner of Forgiveness, and the Owner of Painful Punishment.”
तुम से न फ़रमाया जाए मगर वही जो तुम से अगले रसूलों को फ़रमाया, कि बेशक तुम्हारा रब बख़्शिश वाला और दर्दनाक अज़ाब वाला है
Tum se na farmaaya jaaye magar wahi jo tum se agle rasoolon ko farmaaya, ke beshak tumhara Rab bakhshish wala aur dardnaak azaab wala hai
(ف98)اللہ تعالٰی کی طرف سے ۔(ف99)اپنے انبیاء علیہم السلام کے لئے اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے ۔(ف100)انبیاء علیہم السلام کے دشمنوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے ۔
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے (ف۱۰۱) تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں (ف۱۰۲) کیا کتاب عجمی اور نبی عربی (ف۱۰۳) تم فرماؤ وہ (ف۱۰٤) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے (ف۱۰۵) اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۱۰٦) اور وہ ان پر اندھا پن ہے (ف۱۰۷) گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں (ف۱۰۸)
And if We had made it as a Qur’an in a foreign language they would have certainly said, “Why were its verses not explained in detail?” What! The Book in a foreign language, and the Prophet an Arab?! Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It is a guidance and a cure for the believers”; and there is deafness in the ears of those who do not believe, and it is blindness upon them; as if they are being called from a place far away!
और अगर हम इसे अजमी ज़बान का कुरआन करते तो जरूर कहते कि इसकी आयतें क्यों न खोली गईं क्या किताब अजमी और नबी अरबी तुम फरमाओ वह ईमान वालों के लिए हिदायत और शिफ़ा है और वह जो ईमान नहीं लाते उनके कानों में टेंट (रुई) है और वह उन पर अंधापन है गोया वह दूर जगह से पुकारे जाते हैं
Aur agar hum ise ajmi zubaan ka Qur’ān karte to zaroor kehte ke is ki aayatein kyon na kholi gayin kya kitaab ajmi aur nabi arabi tum farmaao woh iman walon ke liye hidaayat aur shifa hai aur woh jo iman nahin laate un ke kaanon mein tent (rui) hai aur woh un par andha pan hai goya woh door jagah se pukare jaate hain
(ف101)جیسا کہ یہ کفّار بطریقِ اعتراض کہتے ہیں کہ یہ قرآن عجمی زبان میں کیوں نہ اترا ۔(ف102)اور زبانِ عربی میں بیان نہ کی گئیں ۔ کہ ہم سمجھ سکتے ۔(ف103)یعنی کتاب نبی کی زبان کے خلاف کیوں اتری ۔ حاصل یہ ہے کہ قرآنِ پاک عجمی زبان میں ہوتا تو یہ کافر اعتراض کرتے ، عربی میں آیا تو معترض ہوئے ۔ بات یہ ہے کہ خوئے بد را بہانۂِ بسیار ۔ ایسے اعتراض طالبِ حق کی شان کے لائق نہیں ۔(ف104)قرآنِ شریف ۔(ف105)کہ حق کی راہ بتاتا ہے ،گمراہی سے بچاتا ہے ، جہل و شک وغیرہ قلبی امراض سے شفا دیتا ہے اور جسمانی امراض کے لئے بھی اس کا پڑھ کر دم کرنا دفعِ مرض کے لئے مؤثر ہے ۔(ف106)کہ وہ قرآنِ پاک کے سننے کی نعمت سے محروم ہیں ۔(ف107)کہ شکوک و شبہات کی ظلمتوں میں گرفتار ہیں ۔(ف108)یعنی وہ اپنے عدمِ قبول سے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں جیسا کہ کسی کو دور سے پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی بات نہ سنے ، نہ سمجھے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) تو اس میں اختلاف کیا گیا (ف۱۱۰) اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی (ف۱۱۱) تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا (ف۱۱۲) اور بیشک وہ (ف۱۱۳) ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
And We indeed gave the Book to Moosa, so a dispute was created regarding it; and were it not for a Word that had already gone forth from your Lord, the judgement would have been immediately passed upon them; and indeed they are in an intriguing doubt regarding it.
और बेशक हमने मूसा को किताब अता फ़रमाई तो उसमें इख़्तिलाफ़ किया गया और अगर एक बात तुम्हारे रब की तरफ से ग़ुज़र न चुकी होती तो जबही उनका फ़ैसला हो जाता और बेशक वह जरूर इसकी तरफ से एक धोखा डालने वाले शक में हैं,
Aur beshak hum ne Moosa ko kitaab ata farmaai to is mein ikhtilaaf kiya gaya aur agar ek baat tumhare Rab ki taraf se guzar na chuki hoti to jabhi un ka faisla ho jaata aur beshak woh zaroor is ki taraf se ek dhoka daalne wale shak mein hain,
(ف109)یعنی توریتِ مقدّس ۔(ف110)بعضوں نے اس کو مانا اور بعضوں نے نہ مانا ، بعضوں نے اس کی تصدیق کی اور بعضوں نے تکذیب ۔(ف111)یعنی حساب و جزا کو روزِ قیامت تک مؤخر نہ فرمادیا ہوتا ۔(ف112)اور دنیا ہی میں انہیں اس کی سزا دے دی جاتی ۔(ف113)یعنی کتابِ الٰہی کی تکذیب کرنے والے ۔
جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو برائی کرے اپنے برے کو، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
Whoever does good deeds, so it is for his own good, and whoever commits evil, so it is for his own harm; and your Lord does not at all oppress the bondmen.
जो नेक़ी करे वह अपने भले को और जो बदी करे अपने बुरे को, और तुम्हारा रब बंदों पर ज़ुल्म नहीं करता,
Jo neki kare woh apne bhale ko aur jo burai kare apne bure ko, aur tumhara Rab bandon par zulm nahin karta,
قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے (ف۱۱٤) اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے (ف۱۱۵) اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا (ف۱۱٦) کہاں ہیں میرے شریک (ف۱۱۷) کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں (ف۱۱۸)
The knowledge of the Last Day is directed towards Him; and no fruit comes out from its cover, and nor does any female conceive or give birth, but with His knowledge; and on the day when He will call out to them, “Where are My partners?” They will say, “We have told you that none among us can testify.”
क़ियामत के इल्म का उसी पर हवाला है और कोई फल अपने घ़लाफ़ से नहीं निकलता और न किसी मादा को पेट रहे और न जनने मगर इसके इल्म से और जिस दिन उन्हें नदा फ़रमाएगा कहाँ हैं मेरे शरिक़ कहेंगे हम तुझ से कह चुके हैं कि हम में कोई गवाह नहीं
Qiyamat ke ilm ka isi par hawala hai aur koi phal apne ghilaf se nahin nikalta aur na kisi maada ko peet rahe aur na janay magar is ke ilm se aur jis din unhein nida farmaaye ga kahan hain mere shareek kahenge hum tujh se keh chuke hain ke hum mein koi gawah nahin
(ف114)تو جس سے وقتِ قیامت دریافت کیا جائے اس کو لازم ہے کہ کہے کہ اللہ تعالٰی جاننے والا ہے ۔ (ف115)یعنی اللہ تعالٰی پھل کے غلاف سے برآمد ہونے کے قبل اس کے احوال کو جانتا ہے اور مادّہ کے حمل کو اور اس کی ساعتوں کو اور وضع کے وقت کو اور اس کے ناقص وغیرنا قص اور اچھے اوربُرے اور نَر و مادّہ ہونے کو سب کو جانتا ہے ، اس کا علم بھی اسی کی طرف حوالہ کرنا چاہئے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولیائے کرام اصحابِ کشف بسا اوقات ان امور کی خبریں دیتے ہیں اور وہ صحیح واقع ہوتی ہیں بلکہ کبھی منجم اور کاہن بھی خبریں دیتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نجومیوں اور کاہنوں کی خبریں تو محض اٹکل کی باتیں ہیں جو اکثر و بیشتر غلط ہوجایا کرتی ہیں ، وہ علم ہی نہیں ، بے حقیقت باتیں ہیں اور اولیاء کی خبریں بے شک صحیح ہوتی ہیں اور وہ علم سے فرماتے ہیں اور یہ علم ان کا ذاتی نہیں ، اللہ تعالٰی کا عطا فرمایا ہوا ہے تو حقیقت میں یہ اسی کا علم ہوا ، غیر کا نہیں ۔ (خازن)(ف116)یعنی اللہ تعالٰی مشرکین سے فرمائے گا کہ ۔(ف117)جو تم نے دنیا میں گھڑ رکھے تھے جنہیں تم پوجا کرتے تھے ، اس کے جواب میں مشرکین ۔(ف118)جو آج یہ باطل گواہی دے کہ تیرا کوئی شریک ہے یعنی ہم سب مومنِ موحّد ہیں ، یہ مشرکین عذاب دیکھ کر کہیں گے اور اپنے بتوں سے بَری ہونے کا اظہار کریں گے ۔
آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا (ف۱۲۱) اور کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۲) تو ناامید آس ٹوٹا (ف۱۲۳)
Man does not weary of seeking goodness; and if some misfortune reaches him, he loses hope, gets disappointed.
आदमी भलाई मांगने से नहीं उकताता और कोई बुराई पहुँचे तो नाउम्मीद आस टूटा
Aadmi bhalai maangne se nahin uktata aur koi burai pohche to naumeed aas toota
(ف121)ہمیشہ اللہ تعالٰی سے مال اور تونگری و تندرستی مانگتا رہتا ہے ۔(ف122)یعنی کوئی سختی و بلاو معاش کی تنگی ۔(ف123)اللہ تعالٰی کے فضل و رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے ، یہ اور اس کے بعد جو ذکر فرمایا جاتا ہے وہ کافر کا حال ہے اور مومن اللہ تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ لَایَایْئَسُ مِنْ رَّ وْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔
اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں (ف۱۲٤) اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے (ف۱۲۵) اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر (ف۱۲٦) میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے (ف۱۲۷) تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا (ف۱۲۸) اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف۱۲۹)
And if We make him taste Our mercy after the hardship which befell him, he will say, “This is mine! And I do not think that the Last Day will ever be established – and even if I am returned to my Lord, with Him is only goodness for me”; so We shall indeed inform the disbelievers of what they did; and We shall indeed make them taste a solid punishment.
और अगर हम इसे कुछ अपनी रहमत का मज़ा दें इस तकलीफ़ के बाद जो इसे पहुँची थी तो कहेगा यह तो मेरी है और मेरे गुमान में क़ियामत कायम न होगी और अगर मैं रब की तरफ लौटाया भी गया तो जरूर मेरे लिए इसके पास भी खूबी ही है तो जरूर हम बता देंगे काफ़िरों को जो उन्होंने किया और जरूर उन्हें गाढ़ा अज़ाब चखाएँगे
Aur agar hum ise kuch apni rehmat ka maza dein is takleef ke baad jo ise pohanchi thi to kahe ga yeh to meri hai aur mere gumaan mein Qiyamat qaaim na ho gi aur agar main Rab ki taraf lautaya bhi gaya to zaroor mere liye is ke paas bhi khoobi hi hai to zaroor hum bata dein ge kaafiron ko jo unhone kiya aur zaroor unhein gaadha azaab chakhayein ge
(ف124)صحت و سلامت و مال و دولت عطا فرما کر ۔(ف125)خالص میرا حق ہے ، میں اپنے عمل سے اس کا مستحق ہوں ۔(ف126) بالفرض جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں ۔(ف127)یعنی وہاں بھی میرے لئے دنیا کی طرح عیش و راحت وعزّت و کرامت ہے ۔(ف128)یعنی انکے اعمالِ قبیحہ اور ان اعمال کے نتائج اور جس عذاب کے وہ مستحق ہیں اس سے انہیں آگاہ کردیں گے ۔(ف129)یعنی نہایت سخت ۔
اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے (ف۱۳۰) اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۳۱) اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۳۲) تو چوڑی دعا والا ہے (ف۱۳۳)
And when We favour man, he turns away and goes back afar; and when some hardship reaches him, he comes with a vast prayer!
और जब हम आदमी पर एहसान करते हैं तो मुंह फेर लेता है और अपनी तरफ दूर हट जाता है और जब इसे तकलीफ़ पहुँचती है तो चौड़ी दुआ वाला है
Aur jab hum aadmi par ehsaan karte hain to munh pher leta hai aur apni taraf door hat jaata hai aur jab ise takleef pohchti hai to chhodi dua wala hai
(ف130)اور اس احسان کا شکر بجانہیں لاتا اور اس نعمت پراتراتاہے اور نعمت دینے والے پروردگار کو بھول جاتا ہے ۔(ف131)یادِ الٰہی سے تکبّر کرتا ہے ۔(ف132)کسی قِسم کی پریشانی ، بیماری یا ناداری وغیرہ کی پیش آتی ہے ۔(ف133)خوب دعائیں کرتا ہے ، روتا ہے ،گڑگڑاتا ہے اور لگاتار دعائیں مانگے جاتا ہے ۔
تم فرماؤ (ف۱۳٤) بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے (ف۱۳۵) پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے (ف۱۳٦)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What is your opinion – if this Qur’an is from Allah and then you deny it – so who is more astray than whoever is in extreme opposition?”
तुम फरमाओ भला बताओ अगर यह कुरआन अल्लाह के पास से है फिर तुम इसके मंकर हुए तो इससे बढ़ कर गुमराह कौन जो दूर की ज़िद में है
Tum farmaao bhala batao agar yeh Qur’ān Allah ke paas se hai phir tum is ke munkar hue to is se barh kar gumrah kaun jo door ki zid mein hai
(ف134)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ مکرّمہ کے کفّار سے ۔(ف135)جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اور براہینِ قطعیہ ثابت کرتی ہیں ۔(ف136)حق کی مخالفت کرتا ہے ۔
ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں (ف۱۳۷) اور خود ان کے آپے میں (ف۱۳۸) یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے (ف۱۳۹) کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،(۵٤)
We shall now show them Our signs in all the directions and within their own selves until it becomes clear to them that it is certainly the truth; is not your Lord sufficient as a Witness over all things?
अभी हम उन्हें दिखाएँगे अपनी आयतें दुनिया भर में और खुद उनके आपे में यहाँ तक कि उन पर खुल जाए कि बेशक वह हक़ है क्या तुम्हारे रब का हर चीज़ पर गवाह होना काफ़ी नहीं,
Abhi hum unhein dikhayein ge apni aayatein duniya bhar mein aur khud un ke aape mein yahan tak ke un par khul jaaye ke beshak woh haq hai kya tumhare Rab ka har cheez par gawah hona kaafi nahin,
(ف137) آسمان و زمین کے اقطار میں سورج ، چاند ، ستارے ، نباتات ، حیوان ، یہ سب اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد گزری ہوئی امّتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں سے مشرق و مغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے نیاز مندوں کو عنقریب عطا فرمانے والاہے ۔(ف138)ان کی ہستیوں میں لاکھوں لطائفِ صنعت اور بے شمار عجائبِ حکمت ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ بدر میں کفّار کو مغلوب و مقہور کرکے خود ان کے اپنے احوال میں اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرادیا یا یہ معنٰی ہیں کہ مکّہ مکرّمہ فتح فرما کر ان میں اپنی نشانیاں ظاہر کر دیں گے ۔(ف139)یعنی اسلام و قرآن کی سچّائی اور حقانیّت ان پر ظاہر ہوجائے ۔
سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے (ف۱٤۰) سنو ! وہ ہر چیز کو محیط ہے
Pay heed! They are certainly doubtful regarding the meeting with their Lord; pay heed! He encompasses all things!
सुनो उन्हें जरूर अपने रब से मिलने में शक है सुनो ! वह हर चीज़ को माहित है
Suno unhein zaroor apne Rab se milne mein shak hai suno! Woh har cheez ko mehit hai
(ف140)کیونکہ وہ بعث و قیامت کے قائل نہیں ہیں ۔(ف141)کوئی چیز اس کے احاطۂِ علمی سے باہر نہیں اور اس کے معلومات غیر متناہی ہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page