اللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر (ف٦) تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اہل گہلے (اِتراتے) پھرنا (ف۷)
(ف6)یعنی قرآنِ پاک میں جھگڑا کرنا کافر کے سوا مومن کا کام نہیں ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے ۔ جھگڑے اور جدال سے مراد آیاتِ الٰہیہ میں طعن کرنا اور تکذیب و انکار کے ساتھ پیش آنا ہے اور حلِّ مشکلات و کشفِ مُعضَلات کے لئے علمی و اصولی بحثیں جدال نہیں بلکہ اعظم طاعات میں سے ہیں ،کفّار کا جھگڑا کرنا آیات میں یہ تھا کہ وہ کبھی قرآنِ پاک کو سِحر کہتے ،کبھی شِعر ، کبھی کہانت ، کبھی داستان ۔(ف7)یعنی کافروں کا صحت و سلامتی کے ساتھ مُلک مُلک تجارتیں کرتے پھرنا اور نفع پانا تمہارے لئے باعثِ تردّد نہ ہو کہ یہ کفر جیسا عظیم جُرم کرنے کے بعد بھی عذاب سے امن میں رہے کیونکہ ان کا انجام کار خواری اور عذاب ہے ، پہلی امّتوں میں بھی ایسے حالات گزر چکے ہیں ۔
ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں (ف۸) نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں (ف۹) اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں (ف۱۰) تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۱) (
(ف8)عاد و ثمود و قو مِ لوط وغیرہ ۔(ف9)اور انہیں قتل اور ہلاک کردیں ۔(ف10)جس کو انبیالائے ہیں ۔(ف11)کیا ان میں کوئی اس سے بچ سکا ۔
وہ جو عرش اٹھاتے ہیں (ف۱۲) اور جو اس کے گرد ہیں (ف۱۳) اپنے کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے (ف۱٤) اور اس پر ایمان لاتے (ف۱۵) اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں (ف۱٦) اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے (ف۱۷) تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے (ف۱۸) اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
(ف12)یعنی ملائکۂِ حاملینِ عرش جو اصحابِ قرب اور ملائکہ میں اشرف و افضل ہیں ۔(ف13)یعنی جو ملائکہ کہ عرش کا طواف کرنے والے ہیں انہیں کرّوبی کہتے ہیں اور یہ ملائکہ میں صاحبِ سیادت ہیں ۔(ف14)اور سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ کہتے ۔(ف15)اور اس کی وحدانیّت کی تصدیق کرتے ۔ شہربن حو شب نے کہا کہ حاملینِ عرش آٹھ ہیں ان میں سے چار کی تسبیح یہ ہے' سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی حِلْمِکَ بَعْدَعِلْمِکَ' اور چار کی یہ' سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ'۔ (ف16)اور بارگاہِ الٰہی میں اس طرح عرض کرتے ہیں ۔(ف17)یعنی تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو وسیع ہے ۔فائدہ : دعا سے پہلے عرضِ ثنا سے معلوم ہوا کہ آدابِ دعا میں سے یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کی جائے پھر مراد عرض کی جائے ۔(ف18)یعنی دِینِ اسلام پر ۔
اے ہمارے رب! اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۱۹) بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
بیشک جنہوں نے کفر کیا ان کو ندا کی جائے گی (ف۲۰) کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم (ف۲۱) ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے،
(ف20)روزِ قیامت جب کہ وہ جہنّم میں داخل ہوں گے اور ان کی بدیاں ان پر پیش کی جائیں گی اور وہ عذاب دیکھیں گے تو فرشتے ان سے کہیں گے ۔(ف21)دنیا میں ۔
کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا (ف۲۲) اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (ف۲۳) (
(ف22) کیونکہ پہلے نطفۂِ بے جان تھے اس موت کے بعد انہیں جان دے کر زندہ کیا پھر عمر پوری ہونے پر موت دی پھر بعث کے لئے زندہ کیا۔(ف23)اس کا جواب یہ ہوگا کہ تمہارے دوزخ سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں اور تم جس حال میں ہو جس عذاب میں مبتلا ہو اور اس سے رہائی کی کوئی راہ نہیں پاسکتے ۔
یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے (ف۲٤) اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے (ف۲۵) تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا،(
(ف24)یعنی اس عذاب اور اس کے دوام و خلود کا سبب تمہارا یہ فعل ہے کہ جب توحیدِ الٰہی کا اعلان ہوتا اورلَا اِ لٰہَ اِلَّا اللہُ کہا جاتا تو تم اس کا انکار کرتے اور کفر اختیار کرتے ۔(ف25)اور اس شرک کی تصدیق کرتے ۔
وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۲٦) اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے (ف۲۷) اور نصیحت نہیں مانتا (ف۲۸) مگر جو رجوع لائے (ف۲۹)
(ف26)یعنی اپنی مصنوعات کے عجائب جو اس کے کمالِ قدرت پر دلالت کرتے ہیں مثل ہوا اور بادل اور بجلی وغیرہ کے ۔(ف27)مینہ برسا کر ۔(ف28)اور ان نشانیوں سے پند پذیر نہیں ہوتا ۔(ف29)تمام امور میں اللہ تعالٰی کی طرف اور شرک سے تائب ہو ۔
بلند درجے دینے والا (ف۳۱) عرش کا مالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے (ف۳۲) کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے (ف۳۳)
(ف31)انبیاء و اولیاء و علماء کو جنّت میں ۔ (ف32)یعنی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منصبِ نبوّت عطا فرماتا ہے اور جس کو نبی بناتا ہے اس کا کام ہوتا ہے ۔(ف33)یعنی خَلقِ خدا کو روزِ قیامت کا خوف دلائے جس دن اہلِ آسمان اوراہلِ زمین اور اوّلین و آخرین ملیں گے اور روحیں جسموں سے اور ہر عمل کرنے والا اپنے عمل سے ملے گا۔
جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے (ف۳٤) اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا (ف۳۵) آج کسی کی بادشاہی ہے (ف۳٦) ایک اللہ سب پر غا لب کی ، (ف۳۷)
(ف34)قبروں سے نکل کر اور کوئی عمارت یا پہاڑ اور چُھپنے کی جگہ اور آڑ نہ پائیں گے ۔(ف35)نہ اعمال ، نہ اقوال ، نہ دوسرے احوال اور اللہ تعالٰی سے تو کوئی چیز کبھی نہیں چُھپ سکتی لیکن یہ دن ایسا ہوگا کہ ان لوگوں کے لئے کوئی پردہ اور آڑ کی چیز نہ ہوگی جس کے ذریعہ سے وہ اپنے خیال میں بھی اپنے حال کو چُھپا سکیں اور خَلق کی فنا کے بعد اللہ تعالٰی فرمائے گا ۔(ف36)اب کوئی نہ ہوگا کہ جواب دے ۔ خود ہی جواب میں فرمائے گا کہ اللہ واحدِ قہّار کی ، اور ایک قول یہ ہے کہ روزِ قیامت جب تمام اوّلین و آخرین حاضر ہوں گے تو ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا آج کس کی بادشاہی ہے ؟ تمام خَلق جواب دے گی ' لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ'اللہ واحدِ قھّار کی ، جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔(ف37)مومن تو یہ جواب بہت لذّت کے ساتھ عرض کریں گے کیونکہ وہ دنیا میں یہی اعتقاد رکھتے تھے ، یہی کہتے تھے اور اسی کی بدولت انہیں مرتبے ملے اور کفّار ذلّت و ندامت کے ساتھ اس کا اقرار کریں گے اور دنیا میں اپنے منکِر رہنے پر شرمندہ ہوں گے ۔
اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے (ف۳۹) جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے (ف٤۰) غم میں بھرے، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے (ف٤۱)
(ف39)اس سے رو زِ قیامت مراد ہے ۔(ف40)شدّتِ خوف سے نہ باہر ہی نکل سکیں ، نہ اندر ہی اپنی جگہ واپس جاسکیں ۔(ف41)یعنی کافر شفاعت سے محروم ہوں گے ۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کو (ف٤٤) پوجتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے (ف٤۵) بیشک اللہ ہی سنتا اور دیکھتا ہے (ف٤٦)
(ف44)یعنی جن بتوں کو یہ مشرکین ۔(ف45)کیونکہ نہ وہ علم رکھتے ہیں ، نہ قدرت ، تو ان کی عبادت کرنا اور انہیں خدا کا شریک ٹھہرانا بہت ہی کُھلا باطل ہے ۔(ف46)اپنی مخلوق کے اقوال و افعال اور جملہ احوال کو ۔
تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا (ف٤۷) ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے (ف٤۸) ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا (ف٤۹) (۲
(ف47)جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ۔(ف48)قلعے اور محل اور نہریں اور حوض اور بڑی بڑی عمارتیں ۔(ف49)کہ عذابِ الٰہی سے بچاسکتا ۔ عاقل کا کام ہے کہ دوسرے کے حال سے عبرت حاصل کرے اس عہدکے کافر یہ حالات دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ کیوں نہیں سوچتے کہ پچھلی قومیں ان سے زیادہ قوی و توانا اور صاحبِ ثروت و اقتدار ہونے کے باوجود اس عبرت ناک طریقہ پر تباہ کردی گئیں یہ کیوں ہوا ؟
پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا (ف۵۲) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو (ف۵۳) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا (ف۵٤)
(ف52)یعنی نبی ہو کر پیامِ الٰہی لائے تو فرعون اور فرعونی ۔(ف53)تاکہ لوگ حضرت موسٰی علیہ السلام کے اتباع سے باز آئیں ۔(ف54)کچھ بھی کار آمد نہیں ، بالکل نکمّا اور بے کار ، پہلے بھی فرعونیوں نے بحکمِ فرعون ہزار ہا قتل کئے مگر قضاءِ الٰہی ہو کر رہی اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو پروردگارِ عالَم نے فرعون کے گھر بار میں پالا ، اس سے خدمتیں کرائیں ، جیسا وہ داؤں فرعونیوں کا بے کار گیا ایسے ہی اب ایمان والوں کو روکنے کے لئے پھر دوبارہ قتل شروع کرنا بے کار ہے ۔ حضرت موسٰی علی نبیّنا وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کے دِین کا رواج اللہ تعالٰی کو منظور ہے اسے کون روک سکتا ہے ۔
اور فرعون بولا (ف۵۵) مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں (ف۵٦) اور وہ اپنے رب کو پکارے (ف۵۷) میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے (ف۵۸) یا زمین میں فساد چمکائے (ف۵۹)
(ف55)اپنے گروہ سے ۔(ف56)فرعون جب کبھی حضرت موسٰی علیہ السلام کے قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو اس سے منع کرتے اور کہتے کہ یہ وہ شخص نہیں ہے جس کا تجھے اندیشہ ہے یہ تو ایک معمولی جادوگر ہے ، اس پر تو ہم اپنے جادو سے غالب آجائیں گے ، اور اگر اس کو قتل کردیا تو عام لوگ شبہ میں پڑ جائیں گے کہ وہ شخص سچّا تھا ، حق پر تھا ، تو دلیل سے اس کا مقابلہ کرنے میں عاجز ہوا ، جواب نہ دے سکا تو تو نے اسے قتل کردیا ۔ لیکن حقیقت میں فرعون کا یہ کہنا کہ مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کروں خالص دھمکی ہی تھی ، اس کو خود آپ کے نبیِ برحق ہونے کا یقین تھا اور وہ جانتا تھا کہ جو معجزات آپ لائے ہیں وہ آیاتِ الٰہیہ ہیں ، سِحر نہیں لیکن یہ سمجھتا تھا کہ اگر آپ کے قتل کا ارادہ کرے گا تو آپ اس کو ہلاک کرنے میں جلدی فرمائیں گے ، اس سے یہ بہتر ہے کہ طولِ بحث میں زیادہ وقت گزار دیا جائے اگر فرعون اپنے دل میں آپ کو نبیِ برحق نہ سمجھتا اور یہ نہ جانتا کہ ربّانی تائیدیں جو آپ کے ساتھ ہیں ان کا مقابلہ ناممکن ہے تو آپ کے قتل میں ہر گز تأمّل نہ کرتا کیونکہ وہ بڑا خونخوار ، سفّاک ، ظالم ، بیدرد تھا ، ادنٰی سی بات میں ہزار ہا خون کر ڈالتا تھا ۔(ف57)جس کا اپنے آپ کو رسول بتاتا ہے تاکہ اس کا رب اس کو ہم سے بچائے ۔ فرعون کا یہ مقولہ اس پر شاہد ہے کہ اس کے دل میں آپ کا اور آپ کی دعاؤں کا خوف تھا وہ اپنے دل میں آپ سے ڈرتا تھا ظاہری عزّت بنی رکھنے کے لئے یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ قوم کے منع کرنے کے باعث حضرت موسٰی علیہ السلام کو قتل نہیں کرتا ۔(ف58)اور تم سے فرعون پرستی بت چھڑادے ۔(ف59)جدال و قتال کرکے ۔
اور موسیٰ نے (ف٦۰) کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا (ف٦۱)
(ف60)فرعون کی دھمکیاں سن کر ۔ (ف61)حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرعون کی سختیوں کے جواب میں اپنی طرف سےکوئی کلمہ تعلِّی کا نہ فرمایا بلکہ اللہ تعالٰی سے پناہ چاہی اور اس پر بھروسہ کیا، یہی خدا شناسوں کا طریقہ ہے اور اسی لئے اللہ تعالٰی نے آپ کو ہر ایک بَلا سے محفوظ رکھا ، ان مبارک جملوں میں کیسی نفیس ہدایتیں ہیں ، یہ فرمانا کہ میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اس میں ہدایت ہے ، رب ایک ہی ہے ، یہ بھی ہدایت ہے کہ جو اس کی پناہ میں آئے اس پر بھروسہ کرے اور وہ اس کی مدد فرمائے کوئی اس کو ضرر نہیں پہنچاسکتا ۔ یہ بھی ہدایت ہے کہ اسی پر بھروسہ کرنا شانِ بندگی ہے اور تمہارے رب فرمانے میں یہ بھی ہدایت ہی کہ اگر تم اس پر بھروسہ کرو تو تمہیں بھی سعادت نصیب ہو ۔
اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے ( ف٦۲) اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں (ف٦۳) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو (ف٦٤)
(ف62)جن سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا ، یعنی نبوّت ثابت ہوگئی ۔(ف63)مطلب یہ ہے کہ دو حال سے خالی نہیں یا یہ سچّے ہوں گے یا جھوٹے ، اگر جھوٹے ہوں تو ایسے معاملہ میں جھوٹ بول کر اس کے وبال سے بچ نہیں سکتے ، ہلاک ہوجائیں گے ۔ اور اگر سچّے ہیں تو جس عذاب کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں اس میں سے بالفعل کچھ تمہیں پہنچ ہی جائے گا ۔ کچھ پہنچنا اس لئے کہا کہ آپ کا وعدۂِ عذاب دنیا و آخرت دونوں کو عام تھا اس میں سے بالفعل عذاب دینا ہی پیش آنا تھا ۔(ف64)کہ خدا پرجھوٹ باندھے ۔
اے میری قوم! آج بادشاہی تمہاری ہے اس زمین میں غلبہ رکھتے ہو (ف٦۵) تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میری سوجھ ہے (ف٦٦) اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے،
(ف65)یعنی مصر میں تو ایسا کام نہ کرو کہ اللہ تعالٰی کا عذاب آئے اگر اللہ تعالٰی کا عذاب آیا۔(ف66)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو قتل کردینا ۔
جیسا دستور گزرا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد اوروں کا (ف٦۹) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۷۰)
(ف69)کہ انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرتے رہے اور ہر ایک کو عذابِ الٰہی نے ہلاک کیا ۔(ف70)بغیر گناہ کے ان پر عذاب نہیں فرماتا اور بغیر اقامتِ حجّت کے ان کو ہلاک نہیں کرتا ۔
اور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈراتا ہوں جس دن پکار مچے گی (ف۷۱)
(ف71)وہ قیامت کا دن ہوگا ، قیامت کے دن کو یَوْمُ التَّنَاد یعنی پکار کا دن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس روز طرح طرح کی پکاریں مچی ہوں گی ، ہر شخص اپنے سرگروہ کے ساتھ اور ہر جماعت اپنے امام کے ساتھ بلائی جائے گی، جنّتی دوزخیوں کو اور دوزخی جنّتیوں کو پکاریں گے ، سعادت و شقاوت کی ندائیں کی جائیں گی کہ فلاں سعید ہوا اب کبھی شقی نہ ہوگا اور فلاں شقی ہوگیا اب کبھی سعید نہ ہوگا اور جس وقت موت ذبح کی جائےگی اس وقت ندا کی جائے گی کہ اے اہلِ جنّت اب دوام ہے موت نہیں ہے اور اے اہلِ دوزخ اب دوام ہے موت نہیں ۔
اور بیشک اس سے پہلے (ف۷٤) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا (ف۷۵) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے (ف۷٦)
(ف74)یعنی حضر ت موسٰی علیہ السلام سے قبل ۔(ف75)یہ بے دلیل بات تم نے یعنی تمہارے پہلوں نے خود گڑھی تاکہ حضرت یوسف علیہ ا لسلام کے بعد آنے والے انبیاء کی تکذیب کرو اور انہیں جھٹلاؤ تو تم کفر پر قائم رہے ، حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوّت میں شک کرتے رہے اور بعد والوں کی نبوّت کے انکار کے لئے تم نے یہ منصوبہ بنالیا کہ اب اللہ تعالٰی کوئی رسول ہی نہ بھیجے گا ۔(ف76)ان چیزوں میں جن پر روشن دلیلیں شاہد ہیں ۔
وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں (ف۷۷) بغیر کسی سند کے، کہ انہیں ملی ہو، کس قدر سخت بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک، اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ف۷۸)
(ف77)انہیں جھٹلا کر ۔(ف78)کہ اس میں ہدایت قبول کرنے کا کوئی محل باقی نہیں رہتا ۔
کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے (ف۸۰) اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام (ف۸۱) بھلا کر دکھا گیا (ف۸۲) اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ (ف۸۳) ہلاک ہونے ہی کو تھا،(
(ف80)یعنی موسٰی میرے سوا اور خدا بتانے میں ، اور یہ بات فرعون نے اپنی قوم کو فریب دینے کے لئے کہی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ معبودِ برحق صرف اللہ تعالٰی ہے اور فرعون اپنے آپ کو فریب کاری کے لئے معبود ٹھہراتا ہے ۔(اس واقعہ کا بیان سورۂِ قصص میں گزر چکا ہے)(ف81)یعنی اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا اور اس رسول کو جھٹلانا ۔(ف82)یعنی شیطانوں نے وسوسے ڈال کر اس کی برائیاں اس کی نظر میں بھلی کر دکھائیں ۔(ف83)جو حضرت موسٰی علیہ السلام کی آیات کو باطل کرنے کے لئے اس نے اختیار کیا ۔
اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے (ف۸٤) اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے ، (ف۸۵)
(ف84)یعنی تھوڑی مدّت کے لئے ناپائیدار نفع ہے جس کو بقا نہیں ۔(ف85)مراد یہ ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی و جاودانی اور جاودانی ہی بہتر ۔ اس کے بعد نیک اور بداعمال اور ان کے انجام بتائے ۔
جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بےگنتی رزق پائیں گے (ف۸۷)
(ف86)کیونکہ اعمال کی مقبولیّت ایمان پر موقوف ہے ۔(ف87)یہ اللہ تعالٰی کا فضلِ عظیم ہے ۔
آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (ف۹۰) اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں (ف۹۱) اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے (ف۹۲) اور یہ کہ حد سے گزرنے والے (ف۹۳) ہی دوزخی ہیں،
(ف90)یعنی بت کی طرف ۔(ف91)کیونکہ وہ جماد ، بے جان ہے ۔(ف92)وہی ہمیں جزا دے گا ۔(ف93)یعنی کافر ۔
تو جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے یاد کرو گے (ف۹٤) اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۹۵)
(ف94)یعنی نزولِ عذاب کے وقت تم میری نصیحتیں یاد کرو گے اور اس وقت کا یاد کرنا کچھ کام نہ دے گا ، یہ سن کر ان لوگوں نے اس مومن کو دھمکایا کہ اگر تو ہمارے دِین کی مخالفت کرے گا تو ہم تیرے ساتھ بُرے پیش آئیں گے ، اس کے جواب میں اس نے کہا ۔(ف95)اور ان کے اعمال و احوال کو جانتا ہے پھر وہ مومن ان میں سے نکل کر پہاڑ کی طرف چلا گیا اور وہاں نماز میں مشغول ہوگیا، فرعون نے ہزار آدمی اس کی جستجو میں بھیجے ، اللہ تعالٰی نے درندے اس کی حفاظت پر مامور کردیئے جو فرعونی اس کیطرف آیا درندوں نے اسے ہلاک کیا اور جو واپس گیا اور اس نے فرعون سے حال بیان کیا فرعون نے اس کو سولی دے دی تاکہ یہ حال مشہور نہ ہو ۔
تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے (ف۹٦) اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا، (ف۹۷)
(ف96)اور اس نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ہو کر نجات پائی اگرچہ وہ فرعون کی قوم کا تھا ۔(ف97)دنیا میں تو یہ عذاب کہ وہ فرعون کے ساتھ غرق ہوگئے اور آخرت میں دوزخ ۔
آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں (ف۹۸) اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو،
(ف98)اس میں جَلائے جاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم نے فرمایا فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دو ۲مرتبہ صبح و شام آ گ پر پیش کی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آ گ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا ۔مسئلہ : اس آیت سے عذابِ قبر کے ثبوت پر استدلال کیا جاتا ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر مرنے والے پر اس کا مقام صبح و شام پیش کیا جاتا ہے جنّتی پر جنّت کا اور دوزخی پر دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تاآنکہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی تجھ کو اس کی طرف اٹھائے ۔
اور (ف۹۹) جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے ہم تمہارے تابع تھے (ف۱۰۰) تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ گھٹا لوگے،
(ف99)ذکر فرمائیے اے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی قوم سے جہنّم کے اندر کفّار کے آپس میں جھگڑنے کا حال کہ ۔(ف100)دنیا میں اور تمہاری بدولت ہی کافر بنے ۔
وہ تکبر والے بولے (ف۱۰۱) ہم سب آگ میں ہیں (ف۱۰۲) بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا (ف۱۰۳)
(ف101)یعنی کافروں کے سردار جواب دیں گے ۔(ف102)ہر ایک اپنی مصیبت میں گرفتار ، ہم میں سے کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا ۔(ف103)ایمانداروں کو اس نے جنّت میں داخل کردیا اور کافروں کو جہنّم میں ، جو ہونا تھا ہوچکا ۔
انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے (ف۱۰۵) بولے کیوں نہیں (ف۱۰٦) بولے تو تمہیں دعا کرو (ف۱۰۷) اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو،
(ف105)کیا انہوں نے ظاہرمعجزات پیش نہ کئے تھے ؟ یعنی اب تمہارے لئے جائے عذر باقی نہ رہی ۔(ف106)یعنی کافر انبیاء کے تشریف لانے اور اپنے کفر کرنے کا اقرار کریں گے ۔(ف107)ہم کافر کے حق میں دعا نہ کریں گے اور تمہارا دعا کرنا بھی بےکار ہے ۔
بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے اور ایمان والوں کی (ف۱۰۸) دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (ف۱۰۹)
(ف108)ان کو غلبہ عطا فرما کر اور حجّتِ قویّہ دے کر اور ان کے دشمنوں سے انتقام لے کر ۔(ف109)وہ قیامت کا دن ہے کہ ملائکہ رسولوں کی تبلیغ اور کفّار کی تکذیب کی شہادت دیں گے ۔
تم صبر کرو (ف۱۱٤) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۱۵) اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو (ف۱۱٦) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو (ف۱۱۷)
(ف114)اپنی قوم کی ایذا پر ۔(ف115)وہ آپ کی مدد فرمائے گا آپ کے دِین کو غالب کرے گا آپ کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا ۔ کلبی نے کہا کہ آیتِ صبر آیتِ قتال سے منسوخ ہوگئی ۔(ف116)یعنی اپنی امّت کے ۔ (مدارک)(ف117)یعنی اللہ تعالٰی کی عبادت پر مداومت رکھو ۔ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا اس سے پانچوں نمازیں مراد ہیں ۔
وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند کے جو انہیں ملی ہو (ف۱۱۸) ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس (ف۱۱۹) جسے نہ پہنچیں گے (ف۱۲۰) تو تم اللہ کی پناہ مانگو (ف۱۲۱) بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے،
(ف118)ان جھگڑا کرنے والوں سے کفّارِ قریش مراد ہیں ۔(ف119)اور ان کا یہی تکبّر ان کے تکذیب و انکار اور کفر کے اختیار کرنے کا باعث ہوا کہ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ کوئی ان سے اونچا ہو ، اس لئے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عداوت کی بایں خیالِ فاسد کہ اگر آپ کو نبی مان لیں گے تو اپنی بڑائی جاتی رہے گی اور امّتی اورچھوٹا بننا پڑےگا اور ہوَس رکھتے ہیں بڑے بننے کی ۔(ف120)اور بڑائی میسّر نہ آئے گی بلکہ حضور کی مخالفت و انکار ان کے حق میں ذلّت اور رسوائی کا سبب ہوگا۔(ف121)حاسِدوں کے مَکر و کید سے ۔
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی (ف۱۲۲) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۱۲۳)
(ف122)یہ آیت منکِرینِ بعث کے رد میں نازل ہوئی ان پر حجّت قائم کی گئی کہ جب تم آسمان و زمین کی پیدائش پر باوجود ان کی اس عظمت اور بڑائی کے اللہ تعالٰی کو قادر مانتے ہو تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کردینا اس کی قدرت سے کیوں بعید سمجھتے ہو ۔(ف123)بہت لوگوں سے مراد یہاں کفّار ہیں اور ان کے انکارِبعث کا سبب ان کی بے علمی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی پیدائش پر قادر ہونے سے بعث پر استدلال نہیں کرتے تو وہ مثل اندھے کے ہیں اور جو مخلوقات کے وجود سے خالق کی قدرت پر استدلال کرتے ہیں وہ مثل بینا کے ہیں ۔
اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا (ف۱۲۷) بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر،
(ف127)اللہ تعالٰی بندوں کی دعائیں اپنی رحمت سے قبول فرماتا ہے اور ان کے قبول کے لئے چند شرطیں ہیں ایک اخلاص دعا میں ، دوسرے یہ ہے کہ قلب غیر کی طرف مشغول نہ ہو ، تیسرے یہ کہ وہ دعا کسی امرِ ممنوع پر مشتمل نہ ہو ، چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کی رحمت پر یقین رکھتا ہو ، پانچویں یہ کہ شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی قبول نہ ہوئی جب ان شرطوں سے دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے یا تو اس کی مراد دنیا ہی میں اس کو جلد دے دی جاتی ہے یا آخرت میں اس کے لئے ذخیرہ ہوتی ہے یا اس کے گناہوں کا کَفّارہ کردیا جاتا ہے ۔ آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ دعا سے مراد عبادت ہے اور قرآنِ کریم میں دعا بمعنٰی عبادت بہت جگہ وارد ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : 'اَلدُّعَآ ءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ' (ابوداؤد و ترمذی) اس تقدیر پر آیت کے معنٰی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرومیں تمہیں ثواب دوں گا ۔
اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی (ف۱۳۲) اور آسمان چھت (ف۱۳۳) اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں (ف۱۳٤) اور تمہیں ستھری چیزیں (ف۱۳۵) روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،(
(ف132)کہ وہ تمہاری قرار گاہ ہو زندگی میں بھی اور بعدِ موت بھی ۔(ف133)کہ اس کو مثل قبّہ کے بلند فرمایا ۔(ف134)کہ تمہیں راست قامت ، پاکیزہ رو ، متناسب الاعضاء کیا ، بہائم کی طرح نہ بنایا کہ اوندھے چلتے ۔(ف135)نفیس مآ کل و مشارب ۔
تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۳۷) جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں (ف۱۳۸) میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،
(ف137)شانِ نزول :کفّارِ نابکار نے براہِ جہالت و گمراہی اپنے دِینِ باطل کی طرف حضورِ پُر نور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دعوت دی تھی اور آپ سے بت پرستی کی درخواست کی تھی ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف138)عقل و وحی کی توحید پر دلالت کرنے والی ۔
وہی ہے جس نے تمہیں (ف۱۳۹) مٹی سے بنایا پھر (ف۱٤۰) پانی کی بوند سے (ف۱٤۱) پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو (ف۱٤۲) پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے (ف۱٤۳) اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو (ف۱٤٤) اور اس لیے کہ سمجھو (ف۱٤۵)
(ف139)یعنی تمہارے اصل اور تمہارے جدِّ اعلٰی حضرت آدم علیہ السلام کو ۔(ف140)بعد حضرت آدم علیہ السلام کے ان کی نسل کو ۔(ف141)یعنی قطر ۂِ مَنی سے ۔(ف142)اور تمہاری قوّت کامل ہو ۔(ف143)یعنی بڑھاپے یا جوانی کو پہنچنے سے قبل ہی ، یہ اس لئے کیا کہ تم زندگانی کرو ۔(ف144)زندگانی کے وقتِ محدو د تک ۔ (ف145)دلائلِ توحید کو اور ایمان لاؤ ۔
وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے (ف۱٤٦)
(ف146)یعنی اشیاء کا وجود اس کے ارادہ کا تابع ہے کہ اس نے ارادہ فرمایا اور شے موجود ہوئی ، نہ کوئی کلفت ہے ، نہ مشقّت ہے ، نہ کسی سامان کی حاجت ، یہ اس کے کمالِ قدرت کا بیان ہے ۔
وہ جنہوں نے جھٹلائی کتاب (ف۱٤۹) اور جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا ، (ف۱۵۰) وہ عنقریب جان جائیں گے (ف۱۵۱)
(ف149)یعنی کفّار جنہو ں نے قرآن شریف کی تکذیب کی ۔(ف150)اس کی بھی تکذیب کی اور اس کے رسولوں کے ساتھ جو چیز بھیجی ، اس سے مراد یا تو وہ کتابیں ہیں جو پہلے رسول لائے یا وہ عقائدِ حقّہ جو تمام انبیاء نے پہنچائے مثل توحیدِ الٰہی اور بعث بعدِ موت کے ۔(ف151)اپنی تکذیب کا انجام ۔
اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے (ف۱۵۵) بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے (ف۱۵٦) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،
(ف155)کہیں نظر ہی نہیں آتے ۔(ف156)بتوں کی پرستش کا انکار کرجائیں گے ، پھر بت حاضر کئے جائیں گے اور کفّار سے فرمایا جائے گا کہ تم اور تمہارے یہ معبود سب جہنّم کا ایندھن ہو ، بعض مفسّرین نے فرمایا :کہ جہنّمیوں کا یہ کہنا کہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے اس کے یہ معنٰی ہیں کہ اب ہمیں ظاہر ہوگیا کہ جنہیں ہم پوجتے تھے وہ کچھ نہ تھے کہ کوئی نفع یا نقصان پہنچاسکتے ۔
تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ (ف۱٦۰) سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھا دیں (ف۱٦۱) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱٦۲) یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا (ف۱٦۳)
(ف160)کفّار پر عذاب فرمانے کا ۔(ف161)تمہاری وفات سے پہلے ۔(ف162)انواعِ عذاب سے مثل بدر میں مارے جانے کے جیسا کہ یہ واقع ہوا ۔(ف163)اور عذابِ شدید میں گرفتار ہونا۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا (ف۱٦٤) اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا (ف۱٦۵) اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بےحکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا (ف۱٦٦) سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱٦۷) اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،
(ف164)اس قرآن میں صراحت کے ساتھ۔ (ف165)قرآن شریف میں تفصیلاً و صراحتہً ۔ (مرقاۃ) اور ان تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالٰی نے نشانی اور معجزات عطا فرمائے اور ان کی قوموں نے ان سے مجادلہ کیا اور انہیں جھٹلایا ، اس پر ان حضرات نے صبر کیا ۔ اس تذکرہ سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی ہے کہ جس طرح کے واقعات قوم کی طرف سے آپ کو پیش آرہے ہیں اور جیسی ایذائیں پہنچ رہی ہیں پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی حالات گزر چکے ہیں انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر فرمائیں ۔(ف166)کفّار پر عذاب نازل کرنے کی بابت ۔(ف167)رسولوں کے اور ان کی تکذیب کرنے والوں کے درمیان ۔
اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں (ف۱٦۸) اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو (ف۱٦۹) اور ان پر (ف۱۷۰) اور کشتیوں پر (ف۱۷۱) سوار ہوتے ہو،
(ف168)کہ ان کے دودھ اور اُون وغیرہ کام میں لاتے ہو اوران کی نسل سے نفع اٹھاتے ہو ۔(ف169)یعنی اپنے سفروں میں اپنے وزنی سامان ان کی پیٹھوں پر لاد کر ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جاتے ہو ۔(ف170)خشکی کے سفروں میں ۔(ف171)دریائی سفروں میں ۔
یا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے (ف۱۷٤) اور ان کی قوت (ف۱۷۵) اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ (ف۱۷٦) تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا، (ف۱۷۷)
(ف174)تعداد ان کی کثیر تھی ۔(ف175)اور جسمانی طاقت بھی ان سے زیادہ تھی ۔(ف176)یعنی ان کے محل اور عمارتیں وغیرہ ۔(ف177)معنٰی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ زمین میں سفر کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ منکِرینِ متمرّ دین کا کیا انجام ہوا اور وہ کس طرح ہلاک و برباد ہوئے اور ان کی تعداد ان کے زور اور ان کے مال کچھ بھی ان کے کام نہ آسکے ۔
تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا (ف۱۷۸) اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۷۹)
(ف178)اور انہوں نے علمِ انبیاء کی طرف التفات نہ کیا ، اس کی تحصیل اور اس سے انتفاع کی طرف متوجّہ نہ ہوئے بلکہ اس کو حقیر جانا اور اس کی ہنسی بنائی اور اپنے دنیوی علم کو جو حقیقت میں جہل ہے ، پسند کرتے رہے ۔(ف179)یعنی اللہ تعالٰی کا عذاب ۔
تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا (ف۱۸۱) اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے (ف۱۸۲)
(ف181)یہی ہے کہ نزولِ عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا ، اس وقت ایمان قبول نہیں کیا جاتا اور یہ بھی اللہ تعالٰی کی سنّت ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے والوں پر عذاب نازل کرتا ہے ۔(ف182)یعنی ان کا گھاٹا اور ٹوٹا اچھی طرح ظاہر ہوگیا ۔