Hud ھود

پارہ:
سورہ: 11
آیات: 123
الٓرٰ​ كِتٰبٌ اُحۡكِمَتۡ اٰيٰـتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ خَبِيۡرٍۙ‏ ﴿1﴾

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں (ف۲) پھر تفصیل کی گئیں (ف۳) حکمت والے خبردار کی طرف سے ،

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ​ ؕ اِنَّنِىۡ لَـكُمۡ مِّنۡهُ نَذِيۡرٌ وَّبَشِيۡرٌ ۙ‏ ﴿2﴾

کہ بندگی نہ کرو مگر اللہ کی بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں

وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَ يُؤۡتِ كُلَّ ذِىۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ​ؕ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ‏ ﴿3﴾

اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا (فائدہ اٹھانا) دے گا (ف٤) ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر فضیلت والے (ف۵) کو اس کا فضل پہنچائے گا (ف٦) اور اگر منہ پھیرو تو میں تم پر بڑے دن (ف۷) کے عذاب کا خوف کرتا ہوں،

اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ​ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿4﴾

تمہیں اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۸) اور وہ ہر شے پر قادر (ف۹)

اَلَاۤ اِنَّهُمۡ يَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡهُ​ؕ اَلَا حِيۡنَ يَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِيَابَهُمۡۙ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ​ۚ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ‏ ﴿5﴾

سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے (منہ چھپاتے) ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں (ف۱۰) سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے،

وَمَا مِنۡ دَآ بَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَ يَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا​ؕ كُلٌّ فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿6﴾

اور زمین پر چلنے والا کوئی (ف۱۱) ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو (ف۱۲) اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا (ف۱۳) اور کہاں سپرد ہوگا (ف۱٤) سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب (ف۱۵) میں ہے،

وَ هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَ يَّامٍ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَلَٮِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَـقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿7﴾

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ف۱٦) کہ تمہیں آزمائے (ف۱۷) تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (ف۱۸) تو نہیں مگر کھلا جادو (ف۱۹)

وَلَٮِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ لَّيَـقُوۡلُنَّ مَا يَحۡبِسُهٗؕ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَـيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ ﴿8﴾

اور اگر ہم ان سے عذاب (ف۲۰) کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے روکا ہے (ف۲۱) سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گا، اور انھیں گھیرے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے

وَلَٮِٕنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً ثُمَّ نَزَعۡنٰهَا مِنۡهُ​ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔوۡسٌ كَفُوۡرٌ‏ ﴿9﴾

اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں (ف۲۲) پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے (ف۲۳)

وَلَٮِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ نَـعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَـقُوۡلَنَّ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّىۡ​ ؕ اِنَّهٗ لَـفَرِحٌ فَخُوۡرٌۙ‏ ﴿10﴾

اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جس اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے (ف۲٤)

اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ كَبِيۡرٌ‏ ﴿11﴾

مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے (ف۲۵) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰٓى اِلَيۡكَ وَضَآٮِٕقٌ ۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ​ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ​ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ وَّكِيۡلٌ ؕ‏ ﴿12﴾

تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے (ف۲٦) اس بناء پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا، تم تو ڈر سنانے والے ہو (ف۲۷) اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے،

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَـرٰٮهُ​ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿13﴾

کیا (ف۲۸) یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا، تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ (ف۲۹) اور اللہ کے سوا جو مل سکیں (ف۳۰) سب کو بلالو اگر تم سچے ہو (ف۳۱)

فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ​ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿14﴾

تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے (ف۳۲)

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَ زِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ‏ ﴿15﴾

جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو (ف۳۳) ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے (ف۳٤) اور اس میں کمی نہ دیں گے،

اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ لَـيۡسَ لَهُمۡ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ​ ​ۖ  وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿16﴾

یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے (ف۳۵)

اَفَمَنۡ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ وَيَتۡلُوۡهُ شَاهِدٌ مِّنۡهُ وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً​  ؕ اُولٰٓٮِٕكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ​ ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُهٗ​ ۚ فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡهُ​ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿17﴾

تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳٦) اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے (ف۳۷) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۸) پیشوا اور رحمت وہ اس پر (ف۳۹) ایمان لاتے ہیں، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں (ف٤۰) تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے،

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا​ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ وَ يَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ هٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ​ ۚ اَلَا لَـعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ﴿18﴾

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف٤۱) اور اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے (ف٤۲) اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت (ف٤۳)

الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ؕ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ‏ ﴿19﴾

جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں، اور وہی آخرت کے منکر ہیں،

اُولٰٓٮِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ​ ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ​ ؕ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿20﴾

وہ تھکانے والے نہیں زمین میں (ف٤٤) اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی (ف٤۵) انھیں عذاب پر عذاب ہوگا (ف٤٦) وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے (ف٤۷)

اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ‏ ﴿21﴾

وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے خواہ نخواہ

لَا جَرَمَ اَ نَّهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ‏ ﴿22﴾

۔ (ضرور) وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں (ف٤۸)

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخۡبَـتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡۙ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ​ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿23﴾

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ وَالۡبَـصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ​ ؕ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا​ ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿24﴾

دونوں فریق (ف٤۹) کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا (ف۵۰) کيا ان دونوں حال کا ايک سا ہے (ف۱۵) تو کياتم دہيان نہيں کرتے

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖۤ اِنِّىۡ لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌۙ‏  ﴿25﴾

اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھيجا (ف۵۲) کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں

اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ​ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ‏ ﴿26﴾

کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف۵۳)

فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ مَا نَرٰٮكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرٰٮكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُــنَا بَادِىَ الرَّاۡىِ​ۚ وَمَا نَرٰى لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ‏  ﴿27﴾

تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں (ف۵٤) اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے (ف۵۵) سرسری نظر سے (ف۵٦) اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے (ف۵۷) بلکہ ہم تمہیں (ف۵۸) جھوٹا خیال کرتے ہیں،

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمْ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَاٰتٰٮنِىۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡؕ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡـتُمۡ لَـهَا كٰرِهُوۡنَ‏ ﴿28﴾

بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں (ف۵۹) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف٦۰) تو تم اس سے اندھے رہے، کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ (چپکا) دیں اور تم بیزار ہو (ف٦۱)

وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـــَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ؕاِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ​ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا​ ؕ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ وَلٰـكِنِّىۡۤ اَرٰٮكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ‏ ﴿29﴾

اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر (ف٦۲) مال نہیں مانگتا (ف٦۳) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف٦٤) بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں (ف٦۵) لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پاتا ہوں (ف٦٦)

وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّـنۡصُرُنِىۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدتُّهُمۡ​ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ‏  ﴿30﴾

اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انھیں دور کروں گا، تو کیا تمہیں دھیان نہیں ،

وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَـكُمۡ عِنۡدِىۡ خَزَآٮِٕنُ اللّٰهِ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّىۡ مَلَكٌ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِىۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا​ ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ​ ۖۚ اِنِّىۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿31﴾

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف٦۷) اور میں انھیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انھیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا، اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے (ف٦۸) ایسا کروں (ف٦۹) تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں (ف۷۰)

قَالُوۡا يٰـنُوۡحُ قَدۡ جَادَلۡتَـنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَالـنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ﴿32﴾

بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے آؤ جس (ف۷۱) کا ہمیں وعدے دے رہے ہو اگر تم سچے ہو،

قَالَ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ‏  ﴿33﴾

بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے (ف۷۲)

وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِىۡۤ اِنۡ اَرَدْتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ​ؕ هُوَ رَبُّكُمۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَؕ‏  ﴿34﴾

اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے، وہ تمہارا رب ہے، اور اسی کی طرف پھرو گے (ف۷۳)

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَـرٰٮهُ​ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَىَّ اِجۡرَامِىۡ وَاَنَا بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ‏ ﴿35﴾

کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے بنالیا (ف۷٤) تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے (ف۷۵) اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں،

وَاُوۡحِىَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَٮِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ​ ۖ ​ ۚ‏ ﴿36﴾

اور نوح کو وحی ہوئی تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں (ف۷٦)

وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَاطِبۡنِىۡ فِى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا​ ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اور کشتی بناؤ ہمارے سامنے (ف۷۷) اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۷۸) وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے (ف۷۹)

وَيَصۡنَعُ الۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ سَخِرُوۡا مِنۡهُ​ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَؕ‏  ﴿38﴾

اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے (ف۸۰) بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے (ف۸۱) جیسا تم ہنستے ہو (ف۸۲)

فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ‏ ﴿39﴾

تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے (ف۸۳) اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے (ف۸٤)

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ وَمَنۡ اٰمَنَ​ؕ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ‏ ﴿40﴾

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا (ف۸۵) اور تنور اُبلا (ف۸٦) ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے (ف۸۷) ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے (ف۸۸)

وَقَالَ ارۡكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجْرٖٮٰھَا وَمُرۡسٰٮهَا ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ‏ ﴿41﴾

اور بولا اس میں سوار ہو (ف۸۹) اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا (ف۹۰) بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے ،

وَهِىَ تَجۡرِىۡ بِهِمۡ فِىۡ مَوۡجٍ كَالۡجِبَالِ وَنَادٰى نُوۡحُ اۨبۡنَهٗ وَكَانَ فِىۡ مَعۡزِلٍ يّٰبُنَىَّ ارۡكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏  ﴿42﴾

اور وہی انھیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ (ف۹۱) اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا (ف۹۲) اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو (ف۹۳)

قَالَ سَاٰوِىۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِىۡ مِنَ الۡمَآءِ​ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ​ۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ‏ ﴿43﴾

بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا، کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا (ف۹٤)

وَقِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِىۡ مَآءَكِ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِعِىۡ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ وَقُضِىَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِىِّ​ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّـلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿44﴾

اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی (ف۹۵) کوہ ِ جودی پر ٹھہری (ف۹٦) اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ،

وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِىۡ مِنۡ اَهۡلِىۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَـقُّ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰكِمِيۡنَ‏ ﴿45﴾

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے (ف۹۷) اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حکم والا (ف۹۸)

قَالَ يٰـنُوۡحُ اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ ​ۚاِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ​​ۖ فَلَا تَسۡــَٔــلۡنِ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ​ ؕ اِنِّىۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿46﴾

فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں (ف۹۹) بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں (ف۱۰۰) میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡــَٔلَكَ مَا لَـيۡسَ لِىۡ بِهٖ عِلۡمٌ​ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِىۡ وَتَرۡحَمۡنِىۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ﴿47﴾

عرض کی اے رب میرے میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں،

قِيۡلَ يٰـنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ​ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏  ﴿48﴾

فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کے ساتھ (ف۱۰۱) جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر (ف۱۰۲) اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے (ف۱۰۳) پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا (ف۱۰٤)

تِلۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ​ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰذَا​ ​ۛؕ فَاصۡبِرۡ​ ​ۛؕ اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ‏  ﴿49﴾

یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں (ف۱۰۵) انھیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس (ف۱۰٦) سے پہلے، تو صبر کرو (ف۱۰۷) بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا (ف۱۰۸)

وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ​ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ‏ ﴿50﴾

اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو (ف۱۰۹) کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو (ف۱۱۱)

يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـــَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا​ ؕ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى الَّذِىۡ فَطَرَنِىۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿51﴾

اے قوم! میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا (ف۱۱۲) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۱۳)

وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا وَّيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿52﴾

اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو (ف۱۱٤) پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا، اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے زیادہ دے گا (ف۱۱۵) اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (ف۱۱٦)

قَالُوۡا يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَـنَا بِبَيِّنَةٍ وَّمَا نَحۡنُ بِتٰـرِكِىۡۤ اٰلِهَـتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَـكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿53﴾

بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے (ف۱۱۷) اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں،

اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَـرٰٮكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ​ ؕ قَالَ اِنِّىۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ ۙ‏ ﴿54﴾

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی (ف۱۱۸) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو،

مِنۡ دُوۡنِهٖ​ فَكِيۡدُوۡنِىۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ‏ ﴿55﴾

تم سب مل کر میرا برا چاہو (ف۱۱۹) پھر مجھے مہلت نہ دو (ف۱۲۰)

اِنِّىۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّىۡ وَرَبِّكُمۡ ​ؕ مَا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌ ۢ بِنَاصِيَتِهَا ؕ اِنَّ رَبِّىۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ‏  ﴿56﴾

میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں (ف۱۲۱) جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو (ف۱۲۲) بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے،

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ​ ؕ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّىۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡۚ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـــًٔا​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ‏ ﴿57﴾

پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا (ف۱۲۳) اور میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا (ف۱۲٤) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے (ف۱۲۵) بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے (ف۱۲٦)

وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ‏ ﴿58﴾

اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے ہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو (ف۱۲۷) اپنی رحمت فرما کر بچالیا (ف۱۲۸) اور انھیں (ف۱۲۹) سخت عذاب سے نجات دی،

وَتِلۡكَ عَادٌ​ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍ‏ ﴿59﴾

اور یہ عاد ہیں (ف۱۳۰) کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے ،

وَاُتۡبِعُوۡا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ​ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ‏ ﴿60﴾

اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن، سن لو! بیشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے، ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم،

​وَاِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا​ۘ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ​ ؕ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيۡهَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ‏  ﴿61﴾

اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو (ف۱۳۱) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۳۲) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۳۳) اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا (ف۱۳٤) اور اس میں تمہیں بسایا (ف۱۳۵) تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا،

قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰذَآ​ اَتَـنۡهٰٮنَاۤ اَنۡ نَّـعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ‏ ﴿62﴾

بولے اے صالح! اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے (ف۱۳٦) کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَاٰتٰٮنِىۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً فَمَنۡ يَّـنۡصُرُنِىۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ​ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِىۡ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ‏ ﴿63﴾

بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۱۳۷) تو مجھے اس سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں (ف۱۳۸) تو تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے (ف۱۳۹)

وَيٰقَوۡمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَـكُمۡ اٰيَةً فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِىۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ‏ ﴿64﴾

اور اے میری قوم! یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا (ف۱٤۰)

فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِىۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ ​ؕذٰ لِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ‏ ﴿65﴾

تو انہوں نے (ف۱٤۱) اس کی کونچیں کاٹیں تو صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور برت لو (فائدہ اٹھالو) (ف۱٤۲) یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا (ف۱٤۳)

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا صٰلِحًـا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا وَمِنۡ خِزۡىِ يَوۡمِٮِٕذٍ​ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِىُّ الۡعَزِيۡزُ‏  ﴿66﴾

پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صالح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر (ف۱٤٤) بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تمہارا رب قومی عزت والا ہے،

وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏  ﴿67﴾

اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱٤۵) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ،

كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​ ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَا۟ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ​ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّـثَمُوۡدَ‏ ﴿68﴾

گویا کبھی یہاں بسے ہی نہ تھے، سن لو! بیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر،

وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ بِالۡبُشۡرٰى قَالُوۡا سَلٰمًا​ ؕ قَالَ سَلٰمٌ​ فَمَا لَبِثَ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ‏ ﴿69﴾

اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس (ف۱٤٦) مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا (ف۱٤۷) کہا سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے (ف۱٤۸)

فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ نَـكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً​  ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ؕ‏ ﴿70﴾

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا، بولے ڈریے نہیں ہم قوم لوط کی طرف (ف۱٤۹) بھیجے گئے ہیں،

وَامۡرَاَ تُهٗ قَآٮِٕمَةٌ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنٰهَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ يَعۡقُوۡبَ‏ ﴿71﴾

اور اس کی بی بی (ف۱۵۰) کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے (ف۱۵۱) اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے (ف۱۵۲) یعقوب کی (ف۱۵۳)

قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّهٰذَا بَعۡلِىۡ شَيۡخًا ​ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ‏ ﴿72﴾

بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں (ف۱۵٤) اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے (ف۱۵۵) بیشک یہ تو اچنبھے کی بات ہے،

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ​ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ​ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ﴿73﴾

فرشتے بولے کیا اللہ کے کام کا اچنبھا کرتی ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو! بیشک (ف۱۵٦) وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا،

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى يُجَادِلُــنَا فِىۡ قَوۡمِ لُوۡطٍؕ‏ ﴿74﴾

پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا، (ف۱۵۷)

اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَـلِيۡمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيۡبٌ‏ ﴿75﴾

بیشک ابراہیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع کرنے والا ہے (ف۱۵۷)

يٰۤـاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰذَا ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ​ ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ‏ ﴿76﴾

اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بیشک تیرے رب کا حکم آچکا اور بیشک ان پر عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا

وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُـنَا لُوۡطًا سِىۡٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ‏ ﴿77﴾

اور جب لوط کے یہاں ہمارے فرشتے آئے (ف۱۵۹) اسے ان کا غم ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑی سختی کا دن ہے (ف۱٦۰)

وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ ؕ وَمِنۡ قَبۡلُ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ ​ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ هٰٓؤُلَاۤءِ بَنٰتِىۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَـكُمۡ​ ۚ فَاتَّقُوۡا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِىۡ ضَيۡفِىۡ ؕ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏ ﴿78﴾

اور اس کے پاس کی قوم دوڑتی آئی، اور انھیں آگے ہی سے برے کاموں کی عادت پڑی تھی (ف۱٦۱) کہا اے قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو (ف۱٦۲) اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں،

قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَـنَا فِىۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ​ ۚ وَاِنَّكَ لَـتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ‏ ﴿79﴾

بولے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں (ف۱٦۳) اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے،

قَالَ لَوۡ اَنَّ لِىۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِىۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ‏ ﴿80﴾

بولے اے کاش! مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا (ف۱٦٤)

قَالُوۡا يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ​ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَكَ​ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمۡ​ؕ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ​ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ‏ ﴿81﴾

فرشتے بولے اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں (ف۱٦۵) وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے (ف۱٦٦) تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے (ف۱٦۷) سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انھیں پہنچے گا (ف۱٦۸) بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے (ف۱٦۹) کیا صبح قریب نہیں،

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍۙ  مَّنۡضُوۡدٍۙ‏ ﴿82﴾

پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا (ف۱۷۰) اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے،

مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ​ؕ وَ مَا هِىَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ‏  ﴿83﴾

جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں (ف۱۷۱) اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں (ف۱۷۲)

وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ​ؕ وَلَا تَـنۡقُصُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ​ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكُمۡ بِخَيۡرٍ وَّاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ‏  ﴿84﴾

اور (ف۱۷۳) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو (ف۱۷٤) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۱۷۵) اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں (ف۱۷٦) اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کا عذاب کا ڈر ہے (ف۱۷۷)

وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ​ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿85﴾

اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ  ۚ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ‏ ﴿86﴾

اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو (ف۱۷۸) اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں (ف۱۷۹)

قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّـفۡعَلَ فِىۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا​ ؕ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَـلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ‏ ﴿87﴾

بولے اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں (ف۱۸۰) یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں (ف۱۸۱) ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو،

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَرَزَقَنِىۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا​ ؕ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰٮكُمۡ عَنۡهُ​ ؕ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ​ ؕ وَمَا تَوۡفِيۡقِىۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ​ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ‏ ﴿88﴾

کہا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں (ف۱۸۲) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی (ف۱۸۳) اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں (ف۱۸٤) میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں، اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں،

وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِىۡۤ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ​ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ‏ ﴿89﴾

اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر، اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں (ف۱۸۵)

وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ‏ ﴿90﴾

اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب مہربان محبت والا ہے،

قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَاِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا​ ۚ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنٰكَ​ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ‏  ﴿91﴾

بولے اے شعیب! ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں (ف۱۸٦) اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا (ف۱۸۷) تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں،

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِىۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّا​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ‏ ﴿92﴾

کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے (ف۱۸۸) اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا (ف۱۸۹) بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے،

وَيٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ اِنِّىۡ عَامِلٌ​ ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ​ ؕ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّىۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ‏ ﴿93﴾

اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں، اب جاننا چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے ، (ف۱۹۰) اور انتظار کرو (ف۱۹۱) میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں،

وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏ ﴿94﴾

اور جب (ف۱۹۲) ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱۹۳) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،

كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ‏ ﴿95﴾

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے، ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود (ف۱۹٤)

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ‏ ﴿96﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں (ف۱۹۵) اور صریح غلبے کے ساتھ ،

اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ ٮِٕهٖ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ​ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ‏ ﴿97﴾

فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ فرعون کے کہنے پر چلے (ف۱۹٦) اور فرعون کا کام راستی کا نہ تھا (ف۱۹۷)

يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ​ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ‏ ﴿98﴾

اپنی قوم کے آگے ہوگا قیامت کے دن تو انھیں دوزخ میں لا اتارے گا (ف۱۹۸) اور و ه کیا ہی برا گھاٹ اترنے کا،

وَاُتۡبِعُوۡا فِىۡ هٰذِهٖ لَـعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ ؕ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ‏ ﴿99﴾

اور ان کے پیچھے پڑی اس جہان میں لعنت اور قیامت کے دن (ف۱۹۹) کیا ہی برا انعام جو انھیں ملا،

ذٰ لِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ​ مِنۡهَا قَآٮِٕمٌ وَّحَصِيۡدٌ‏  ﴿100﴾

یہ بستیوں (ف۲۰۰) کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۲۰۱) ان میں کوئی کھڑی ہے (ف۲۰۲) اور کوئی کٹ گئی (ف۲۰۳)

وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَلٰـكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ​ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِىۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَؕ ​ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ‏ ﴿101﴾

اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا خود انہوں نے (ف۲۰٤) اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں (ف۲۰۵) اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے (ف۲۰٦) جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان (ف۲۰۷) سے انھیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا،

وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ​ ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ‏ ﴿102﴾

اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بیشک اس کی پکڑ دردناک سخت ہے (ف۲۰۸)

اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ​ ؕ ذٰ لِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ  ۙ  لَّهُ النَّاسُ وَذٰ لِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ‏ ﴿103﴾

بیشک اس میں نشانی (ف۲۰۹) ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ (ف۲۰۱) اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے (ف۲۱۱)

وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍؕ‏ ﴿104﴾

اور ہم اسے (ف۲۱۲) پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیئے (ف۲۱۳)

يَوۡمَ يَاۡتِ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ​ۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِىٌّ وَّسَعِيۡدٌ‏ ﴿105﴾

جب وہ دن آئے گا کوئی بےحکم خدا بات نہ کرے گا (ف۲۱٤) تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب (ف۲۱۵)

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا فَفِى النَّارِ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ۙ‏  ﴿106﴾

تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس گدھے کی طرح رینکیں گے

خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ​ ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ‏ ﴿107﴾

وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱٦) بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے،

وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا فَفِى الۡجَـنَّةِ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ​ ؕ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ‏  ﴿108﴾

اور وہ جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱۷) یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی ،

فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّمَّا يَعۡبُدُ هٰٓؤُلَاۤءِ ​ؕ مَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ​ؕ وَاِنَّا لَمُوَفُّوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ غَيۡرَ مَنۡقُوۡصٍ‏ ﴿109﴾

تو اے سننے والے! دھوکا میں نہ پڑ اس سے جیسے یہ کافر پوجتے ہیں (ف۲۱۸) یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۱۹) اور بیشک ہم ان کا حصہ انھیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی،

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِيۡهِ​ ؕ وَ لَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ​ ؕ وَاِنَّهُمۡ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيۡبٍ‏ ﴿110﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (ف۲۲۰) تو اس میں پھوٹ پڑگئی (ف۲۲۱) اگر تمہارے رب کی ایک بات (ف۲۲۲) پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۲۲۳) اور بیشک وہ اس کی طرف سے (ف۲۲٤) دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۲۲۵)

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ​ ؕ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ‏ ﴿111﴾

اور بیشک جتنے ہیں (ف۲۲٦) ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کاموں کی خبر ہے (ف۲۲۷)،

فَاسۡتَقِمۡ كَمَاۤ اُمِرۡتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡا​ ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ ﴿112﴾

تو قائم رہو (ف۲۲۸) جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے (ف۲۲۰) اور اے لوگو! سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ﴿113﴾

اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی (ف۲۳۰) اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں (ف۲۳۱) پھر مدد نہ پاؤ گے،

وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَـفًا مِّنَ الَّيۡلِ​ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ ​ؕ ذٰ لِكَ ذِكۡرٰى لِلذّٰكِرِيۡنَ ​ۚ‏ ﴿114﴾

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں (ف۲۳۲) اور کچھ رات کے حصوں میں (ف۲۳۳) بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں، (ف۲۳۳) یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو،

وَاصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿115﴾

اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،

فَلَوۡ لَا كَانَ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اُولُوۡا بَقِيَّةٍ يَّـنۡهَوۡنَ عَنِ الۡفَسَادِ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّنۡ اَنۡجَيۡنَا مِنۡهُمۡ​ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِيۡهِ وَكَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿116﴾

تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں (ف۲۳۵) ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے (ف۲۳٦) ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی (ف۲۳۷) اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انھیں دیا گیا (ف۲۳۸) اور وہ گنہگار تھے،

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ الۡقُرٰى بِظُلۡمٍ وَّاَهۡلُهَا مُصۡلِحُوۡنَ‏  ﴿117﴾

اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بےوجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں،

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَـعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً​ وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَۙ‏ ﴿118﴾

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا (ف۲۳۹) اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے (ف۲٤۰)

اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ​ ؕ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ​ ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمۡلَـئَنَّ جَهَـنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿119﴾

مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا (ف۲٤۱) اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں (ف۲٤۲) اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر (ف۲٤۳)

وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ​ ۚ وَجَآءَكَ فِىۡ هٰذِهِ الۡحَـقُّ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿120﴾

اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہارا دل ٹھیرائیں (ف۲٤٤) اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا (ف۲٤۵) اور مسلمانوں کو پند و نصیحت (ف۲٤٦)

وَقُلْ لِّـلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡؕ اِنَّا عٰمِلُوۡنَۙ‏ ﴿121﴾

اور کافروں سے فرماؤ تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۲٤۷) ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۲٤۸)

وَانْـتَظِرُوۡا​ ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ‏ ﴿122﴾

اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں (ف۲٤۹)

وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُ كُلُّهٗ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ​ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿123﴾

اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب (ف۲۵۰) اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو، اور تمہارا رب تمہارے کاموں سے غافل نہیں،

Scroll to Top