ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف٤) اجالے میں لاؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف٦) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے
Alif-Lam-Ra; it is a Book which We have sent down upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) so that you may bring forth people from the realms of darkness into light – by the command of their Lord, towards the path of the Most Honourable, the Most Praiseworthy.
एक किताब है कि हम ने तुम्हारी तरफ उतारी कि तुम लोगों को अंधेरियों से उजाले में लाओ उनके रब के हुक्म से इसकी राह की तरफ जो इज़्ज़त वाला सब खूबियों वाला है
Ek kitaab hai ke hum ne tumhari taraf utaari ke tum logon ko andheriyon se ujale mein lao unke Rab ke hukm se is ki raah ki taraf jo izzat wala sab khoobiyon wala hai
(ف2)یہ قرآن شریف ۔(ف3)کُفر و ضلالت و جہل و غوایت کی ۔(ف4)ایمان کے ۔(ف5)ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں ایماء ہے کہ دینِ حق کی راہ ایک ہے اور کُفر و ضلالت کے طریقے کثیر ۔(ف6)یعنی دینِ اسلام ۔
اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انھیں صاف بتائے (ف۱۱) پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
And We sent every Noble Messenger with the same language as his people*, so that he may clearly explain to them; then Allah sends astray whomever He wills, and He guides whomever He wills; and He only is the Most Honourable, the Wise. (* Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) was taught all the languages as he is sent towards all.)
और हम ने हर रसूल इसकी क़ौम ही की ज़बान में भेजा कि वो उन्हें साफ़ बताए फिर अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे और वो राह दिखाता है जिसे चाहे, और वही इज़्ज़त व हिक़मत वाला है
Aur hum ne har rasool uski qaum hi ki zaban mein bheja ke woh unhein saaf bataaye phir Allah gumrah karta hai jise chahe aur woh raah dikhaata hai jise chahe, aur wahi izzat o hikmat wala hai
(ف10)جس میں وہ رسول مبعوث ہوا ، خواہ اس کی دعوت عام ہو اور دوسری قوموں اور دوسرے مُلکوں پر بھی اس کا اِتِّباع لازم ہو جیسا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت تمام آدمیوں اور جنّوں بلکہ ساری خَلق کی طرف ہے اور آپ سب کے نبی ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً ۔(ف11)اور جب اس کی قوم اچھی طرح سمجھ لے تو دوسری قوموں کو ترجموں کے ذریعے سے وہ احکام پہنچا دیئے جائیں اور ان کے معنٰی سمجھا دیئے جائیں ۔ بعض مفسِّرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ قومِہٖ کی ضمیر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف راجع ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے ہر رسول کو سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان یعنی عربی میں وحی فرمائی اور یہ معنٰی ایک روایت میں بھی آئے ہیں کہ وحی ہمیشہ عربی زبان ہی میں نازِل ہوئی پھر انبیاء علیہم السلام نے اپنی قوموں کے لئے ان کی زبانوں میں ترجمہ فرما دیا ۔ ( اتقان ، حسینی ) مسئلہ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی تمام زبانوں میں سب سے افضل ہے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱٤) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،
And indeed We sent Moosa along with Our signs that, “Bring your people from the realms of darkness into light – and remind them of the days of Allah*; indeed in them are signs for every greatly enduring, grateful person.” (* When various favours were bestowed – in order to give thanks and be patient.)
और बेशक हम ने मूसा को अपनी निशानियाँ दे कर भेजा कि अपनी क़ौम को अंधेरियों से उजाले में ला, और उन्हें अल्लाह के दिन या दिला बेशक इसमें निशानियाँ हैं हर बड़े सब्र वाले शुक्रगुज़ार करो
Aur beshak hum ne Moosa ko apni nishaniyan de kar bheja ke apni qaum ko andheriyon se ujale mein la, aur unhein Allah ke din ya dilaa beshak is mein nishaniyan hain har bade sabr wale shukar guzar karo
(ف12)مثل عصا و یدِ بیضا وغیرہ معجزاتِ باہرہ کے ۔(ف13)کُفر کی نکال کر ایمان کے ۔(ف14)قاموس میں ہے کہ ایّامُ اللہ سے اللہ کی نعمتیں مراد ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس و اُبی بن کعب و مجاہد و قتادہ نے بھی ایّامُ اللہ کی تفسیر (اللہ کی نعمتیں) فرمائیں ۔ مقاتل کا قول ہے کہ ایّامُ اللہ سے وہ بڑے بڑے وقائع مراد ہیں جو اللہ کے امر سے واقع ہوئے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ ایّامُ اللہ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ نے اپنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَن و سلوٰی اتارنے کا دن ، حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن ( خازن و مدارک و مفرداتِ راغب) ان ایّامُ اللہ میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے اسی طرح اور بزرگوں پر جو اللہ تعالٰی کی نعمتیں ہوئیں یا جن ایّام میں واقعاتِ عظمیہ پیش آئے جیسا کہ دسویں محرم کو کربلا کا واقعہ ہائلہ ، ان کی یادگار میں قائم کرنا بھی تذکیر بِایّامِ اللہ میں داخل ہے ۔ بعض لوگ میلاد شریف معراج شریف اور ذکرِ شہادت کے ایّام کی تخصیص میں کلام کرتے ہیں انہیں اس آیت سے نصیحت پذیر ہونا چاہیئے ۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱٦) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،
And when Moosa said to his people, “Remember Allah’s favour upon you when He rescued you from the people of Firaun who were inflicting you with a dreadful torment, and were slaying your sons and sparing your daughters; and in it occurred a great favour of your Lord.”* (* On the 10th day of Moharram – therefore the Jews used to fast on that day as thanksgiving.)
और जब मूसा ने अपनी क़ौम से कहा याद करो अपने ऊपर अल्लाह का एहसान जब उस ने तुम्हें फिरऔन वालों से निजात दी जो तुम को बुरी मार देते थे और तुम्हारे बेटों को ज़ब कर देते और तुम्हारी बेटियां ज़िंदा रखते, और इसमें तुम्हारे रब का बड़ा फ़ज़्ल हुआ
Aur jab Moosa ne apni qaum se kaha yaad karo apne oopar Allah ka ehsaan jab usne tumhein Firaun walon se najat di jo tum ko buri maar dete the aur tumhare beton ko zabh karte aur tumhari betiyan zinda rakhte, aur is mein tumhare Rab ka bada fazl hua
(ف15)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا اپنی قوم کو یہ ارشاد فرمانا تذکیر ایّامُ اللہ کی تعمیل ہے ۔(ف16)یعنی نجات دینے میں ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،
And remember when your Lord proclaimed, “If you give thanks, I will give you more, and if you are ungrateful then (know that) My punishment is severe.”
और याद करो जब तुम्हारे रब ने सुना दिया कि अगर एहसान मानोगे तो मैं तुम्हें और दूंगा और अगर नशु्क़री करो तो मेरा अज़ाब सख़्त है
Aur yaad karo jab tumhare Rab ne suna diya ke agar ehsaan mano ge to main tumhein aur dunga aur agar nashukri karo to mera azaab sakht hai
(ف17)اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہارکرے اور حقیقتِ شکر یہ ہے کہ مُنعِم کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالٰی کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالٰی کی مَحبت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ یہ مقام بہت برتر ہے اور اس سے اعلٰی مقام یہ ہے کہ مُنعِم کی مَحبت یہاں تک غالب ہو کہ قلب کو نعمتوں کی طرف التفات باقی نہ رہے ، یہ مقام صدیقوں کا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔
کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انھیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،
Did not the tidings of those before you reach you? The people of Nooh, and the A’ad and the Thamud, and those after them? Only Allah knows them; their Noble Messengers came to them with clear proofs, they therefore raised their hands towards their own mouths, and said, “We disbelieve in what you have been sent with, and we are in a deeply intriguing doubt regarding the path you call us to.”
क्या तुम्हें उनकी खबरें न आयीं जो तुम से पहले थी नूह की क़ौम और आद और थमूद और जो उनके बाद हुए, उन्हें अल्लाह ही जाने उनके पास उनके रसूल रोशन दलीलें ले कर आये तो वो अपने हाथ अपने मुँह की तरफ ले गए और बोले हम मंकर हैं उसके जो तुम्हारे हाथ भेजा गया और जिस राह की तरफ हमें बुलाते हो इसमें हमें वो शक है कि बात खुलने नहीं देती
Kya tumhein un ki khabrein na aayin jo tum se pehle thi Nuh ki qaum aur Aad aur Samood aur jo un ke baad hue, unhein Allah hi jaane un ke paas unke rasool roshan daleelain le kar aaye to woh apne haath apne moonh ki taraf le gaye aur bole hum munkir hain uske jo tumhare haath bheja gaya aur jis raah ki taraf humein bulate ho is mein humein woh shak hai ke baat khulne nahi deti
(ف19)کتنے تھے ۔(ف20)اور انہوں نے معجزات دکھائے ۔(ف21)شدّتِ غیظ سے ۔(ف22)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ غصّہ میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے کتاب اللہ سن کر تعجب سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ، غرض یہ کوئی نہ کوئی انکار کی ادا تھی ۔(ف23)یعنی توحید و ایمان ۔
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲٤) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲٦) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بےعذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)
Their Noble Messengers said, “What! You doubt concerning Allah, the Creator of the heavens and the earth? He calls you that He may forgive some of your sins and until the time of death give you a life free from punishment”; they said, “You are just human beings like us; you wish to prevent us from what our forefathers used to worship – therefore now bring some clear proof to us.”
उनके रसूलों ने कहा क्या अल्लाह में शक है आसमान और ज़मीन का बनाने वाला, तुम्हें बुलाता है कि तुम्हारे कुछ गुनाह बख़्शे और मौत के मुकर्रर वक़्त तक तुम्हारी ज़िंदगी बे अज़ाब काट दे, बोले तुम तो हमें जैसे आदमी हो तुम चाहते हो कि हमें उस से बाज़ रखो जो हमारे बाप दादा पूजते थे अब कोई रोशन सन्द ले आओ
Unke rasoolon ne kaha kya Allah mein shak hai aasman aur zameen ka banane wala, tumhein bulaata hai ke tumhare kuch gunaah bakhsh de aur maut ke muqarrar waqt tak tumhari zindagi be azaab kaat de, bole tum to humein jaise aadmi ho tum chahte ho ke humein us se baaz rakho jo humare baap dada poojhte the ab koi roshan sanad humare paas le aao
(ف24)کیا اس کی توحید میں تردُّد ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، اس کی دلیلیں تو نہایت ظاہر ہیں ۔(ف25)اپنی طاعت و ایمان کی طرف ۔(ف26)جب تم ایمان لے آؤ اس لئے کہ اسلام لانے کے بعد پہلے کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں سوائے حقوقِ عباد کے اور اسی لئے کچھ گناہ فرمایا ۔(ف27)ظاہر میں ہمیں اپنی مثل معلوم ہوتے ہو پھر کیسے مانا جائے کہ ہم تو نبی نہ ہوئے اور تمہیں یہ فضیلت مل گئی ۔(ف28)یعنی بُت پرستی سے ۔(ف29)جس سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو ۔ یہ کلام ان کا عناد و سرکشی سے تھا اور باوجود یکہ انبیاء آیات لا چکے تھے ، معجزات دکھا چکے تھے پھر بھی انہوں نے نئی سند مانگی اور پیش کئے ہوئے معجزات کو کالعدم قرار دیا ۔
ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)
Their Noble Messengers said to them, “We are indeed human beings like you, but Allah bestows favour upon whomever He wills, among His bondmen*; it is not our task to bring any proof to you except by the command of Allah; and only upon Allah must the Muslims rely.” (* Therefore Prophets and other men are not equal in status.)
उनके रसूलों ने उनसे कहा हम हैं तो तुम्हारी तरह इंसान मगर अल्लाह अपने बंदों में जिस पर चाहे एहसान फ़रमाता है और हमारा काम नहीं कि हम तुम्हारे पास कुछ सन्द ले आएँ मगर अल्लाह के हुक्म से, और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए
Unke rasoolon ne un se kaha hum hain to tumhari tarah insaan magar Allah apne bandon mein jis par chahe ehsaan farmata hai aur humara kaam nahi ke hum tumhare paas kuch sanad le aayen magar Allah ke hukm se, aur Musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye
(ف30)اچھا یہی مانو کہ ۔(ف31)اور نُبوّت و رسالت کے ساتھ برگزیدہ کرتا ہے اور اس منصبِ عظیم کے ساتھ مشرف فرماتا ہے ۔(ف32)وہی اعداء کی شر دفع کرتا اور اس سے محفوظ رکھتا ہے ۔
اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھا دیں (ف۳٤) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،
“And what is the matter with us that we should not rely on Allah? He has in fact shown us our ways; and we will surely be patient upon the troubles you cause us; and those who trust must rely only upon Allah.”
और हमें क्या हुआ कि अल्लाह पर भरोसा न करें उसने तो हमारी राहें हमें दिखा दी और तुम जो हमें सताए रहे हो हम ज़रूर इस पर सब्र करेंगे, और भरोसा करने वालों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए
Aur humein kya hua ke Allah par bharosa na karein usne to humari rahein humein dikha di aur tum jo humein sata rahe ho hum zaroor is par sabr kareinge, aur bharosa karne walon ko Allah hi par bharosa chahiye
(ف33)ہم سے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ قضائے الٰہی میں ہے وہی ہوگا ، ہمیں اس پر پورا بھروسہ اور کامل اعتماد ہے ۔ ابو تراب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ توکُّل بدن کو عبودیت میں ڈالنا ، قلب کو ربوبیت کے ساتھ متعلق رکھنا ، عطا پر شکر ، بلا پر صبر کا نام ہے ۔(ف34)اور رُشد و نَجات کے طریقے ہم پر واضح فرما دیئے اور ہم جانتے ہیں کہ تمام امور اس کے قدرت و اختیار میں ہیں ۔
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انھیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے
And the disbelievers said to their Noble Messengers, “We will surely expel you from our land, unless you accept our religion”; so their Lord sent them the divine revelation that, “Indeed We will destroy these unjust people.”
और काफ़िरों ने अपने रसूलों से कहा हम ज़रूर तुम्हें अपनी ज़मीन से निकाल देंगे या तुम हमारे दीन पर कुछ हो जाओ, तो उन्हें उनके रब ने वाही भेजी कि हम ज़रूर ज़ालिमों को हलाक़ करेंगे
Aur kafiron ne apne rasoolon se kaha hum zaroor tumhein apni zameen se nikaal denge ya tum humare deen par kuch ho jao, to unhein unke Rab ne wahi bheji ke hum zaroor zalimon ko halaak kareinge
اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳٦) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،
“And indeed We will establish you in the land after them; this is for him who fears to stand before Me and fears the commands of punishment declared by Me.”
और ज़रूर हम तुम को उनके बाद ज़मीन में बसाएंगे यह इसलिए है जो मेरे हज़ूर खड़े होने से डरे और मैंने जो अज़ाब का हुक्म सुनाया है, उससे ख़ौफ़ करे
Aur zaroor hum tum ko un ke baad zameen mein basayeinge ye is liye hai jo mere huzoor khade hone se dare aur main ne jo azaab ka hukm sunaya hai, us se khauf kare
(ف36)حدیث شریف میں ہے جو اپنے ہمسائے کو ایذا دیتا ہے اللہ اس کے گھر کا اسی ہمسائے کو مالک بناتا ہے ۔(ف37)قیامت کے دن ۔
اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مراد ہوا (ف۳۹)
And they sought a decision, and every stubborn rebel was destroyed.
और उन्होंने फ़ैसला माँगा और हर सर्ख़श हट धरम ना मुराद हुआ
Aur unhone faisla maanga aur har sarkash hat dharm na murad hua
(ف38)یعنی انبیاء نے اللہ تعالٰی سے مدد طلب کی یا اُمّتوں نے اپنے اور رسولوں کے درمیان اللہ تعالٰی سے ۔(ف39)معنٰی یہ ہیں کہ انبیاء کی نصرت فرمائی گئی اور انہیں فتح دی گئی اور حق کے معانِد ، سرکش کافِر نامراد ہوئے اور ان کے خلاص کی کوئی سبیل نہ رہی ۔
بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف٤۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف٤۱)
He will sip it with difficulty but be unable to swallow, and death will approach him from every side and he will not die; and a severe punishment is after him.
बह मुश्किल उसका थोड़ा थोड़ा घूँट लेगा और गले से नीचे उतारने की उम्मीद न होगी और उसे हर तरफ़ से मौत आएगी और मरेगा नहीं, और उसके पीछे एक गाढ़ा अज़ाब
Bah mushkil uska thoda thoda ghoont lega aur galay se neeche utarne ki umeed na hogi aur use har taraf se maut aayegi aur marega nahi, aur uske peeche ek gaadha azaab
(ف40)حدیث شریف میں ہے کہ جہنّمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا جب وہ منہ کے پاس آئے گا تو اس کو بہت ناگوار معلوم ہوگا اور جب اور قریب ہو گا تو اس سے چہرہ بُھن جائے گا اور سر تک کی کھال جل کر گر پڑ ے گی جب پئے گا تو آنتیں کٹ کر نکل جائیں گی ۔ ( اللہ کی پناہ)(ف41)یعنی ہر عذاب کے بعد اس سے زیادہ شدید و غلیظ عذاب ہوگا ۔ ( نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ مِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ ) ۔
اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ٤۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف٤۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،
The state of those who disbelieve in their Lord is that their deeds are like ashes which the strong wind blew away on a stormy day; they got nothing from all that they earned; this is the extreme error.
अपने रब से मंकरों का हाल ऐसा है कि उनके काम हैं जैसे राख़ कि उस पर हवा का सख़्त झोंका आया आँधी के दिन में सारी कमाई में से कुछ हाथ न लगा, यही है दूर की गुमराही
Apne Rab se munkiron ka haal aisa hai ke unke kaam hain jaise raakh ke us par hawa ka sakht jhonka aaya aandhi ke din mein saari kamai mein se kuch haath na laga, yehi hai door ki gumrahi
(ف42)جن کو وہ نیک عمل سمجھتے تھے جیسے کہ محتاجوں کی امداد ، مسافروں کی اعانت اور بیماروں کی خبر گیری وغیرہ چونکہ ایمان پر مبنی نہیں اس لئے وہ سب بے کار ہیں اور ان کی ایسی مثال ہے ۔(ف43)اور وہ سب اڑ گئی اور اس کے اجزاء منتشر ہو گئے اور اس میں سے کچھ باقی نہ رہا یہی حال ہے کُفّار کے اعمال کا کہ ان کے شرک و کُفر کی وجہ سے سب برباد اور باطل ہو گئے ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف٤٤) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف٤۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف٤٦)
Have you not seen that Allah has created the heavens and the earth with true purpose? If He wills, He can remove you all and bring a new creation.
क्या तू ने न देखा कि अल्लाह ने आसमान और ज़मीन हक़ के साथ बनाए अगर चाहे तो तुम्हें ले जाए और एक नई मख़लूक ले आए
Kya tu ne na dekha ke Allah ne aasman aur zameen haq ke saath banaye agar chahe to tumhein le jaaye aur ek nai makhlooq le aaye
(ف44)ان میں بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی پیدائش عبث نہیں ہے ۔(ف45)معدوم کر دے ۔(ف46)بجائے تمہارے جو فرمانبردار ہو اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے جو آسمان و زمین پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
اور سب اللہ کے حضور (ف٤۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف٤۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف٤۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بےقراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،
They will all publicly come in the presence of Allah – then those who were weak will say to those who were the leaders, “We were your followers – is it possible for you to avert some of Allah’s punishment from us?” They will answer, “If Allah had guided us, we would have guided you; it is the same for us, whether we panic or patiently endure – we have no place of refuge.” (* This conversation will take place between the disbelievers and their leaders.)
और सब अल्लाह के हाज़ूर ऐलानीहा हाज़िर होंगे तो जो कमज़ोर थे बढ़ाई वालों से कहेंगे हम तुम्हारे ताबे थे क्या तुम से हो सकता है कि अल्लाह के अज़ाब में से कुछ हम पर से टाल दो कहेंगे अल्लाह हमें हिदायत करता तो हम तुम्हें करते हम पर एक सा है चाहे बे करारी करें या सब्र से रहें हमें कहीं पनाह नहीं
Aur sab Allah ke huzoor aelaaniya haazir honge to jo kamzor the barai walon se kahenge hum tumhare tabae the kya tum se ho sakta hai ke Allah ke azaab mein se kuch hum par se taal do kahenge Allah humein hidaayat karta to hum tumhein karte hum par ek sa hai chahe beqarari karein ya sabr se rahein humein kahin panaah nahi
(ف48)روزِ قیامت ۔(ف49)اور دولت مندوں اور با اثر لوگوں کی اِتّباع میں انہوں نے کُفر اختیار کیا تھا ۔(ف50)کہ دین و اعتقاد میں ۔(ف51)یہ کلام ان کا توبیخ و عنادکے طور پر ہوگا کہ دنیا میں تم نے گمراہ کیا تھا اور راہِ حق سے روکا تھا اوربڑھ بڑھ کر باتیں کیا کرتے تھے ، اب وہ دعوے کیا ہوئے اب اس عذاب میں سے ذرا سا تو ٹالو ، کافِروں کے سردار اس کے جواب میں ۔(ف52)جب خود ہی گمراہ ہو رہے تھے تو تمہیں کیا راہ دکھاتے ، اب خلاصی کی کوئی راہ نہیں ، نہ کافِروں کے لئے شفاعت ، آؤ روئیں اور فریاد کریں ، پانچ سوبرس فریاد و زاری کریں گے اور کچھ نہ کام آئے گی تو کہیں گے اب صبر کر کے دیکھو شاید اس سے کچھ کام نکلے ، پانچ سو برس صبر کریں گے وہ بھی کام نہ آئے گا تو کہیں گے کہ ۔
اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵٤) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵٦) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف٦۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،
And Satan will say when the matter has been decided, “Indeed Allah had given you a true promise – and the promise I gave you, I made it untrue to you; and I had no control over you except that I called you and you obeyed me; so do not accuse me, blame only yourselves; neither can I help you, nor can you help me; I have no concern with your ascribing me as a partner (to Allah); indeed for the unjust is a painful punishment.”
और शैतान कहेगा जब फ़ैसला हो चुकेगा बेशक अल्लाह ने तुम को सच्चा वादा दिया था और मैंने जो तुम को वादा दिया था वह मैंने तुम से झूठा किया और मेरा तुम पर कुछ क़ाबू न था मगर यही कि मैंने तुम को बुलाया तुम ने मेरी मान ली तो अब मुझ पर इल्ज़ाम न रखो खुद अपने ऊपर इल्ज़ाम रखो न मैं तुम्हारी फ़रियाद को पहुँच सकूँ न तुम मेरी फ़रियाद को पहुँच सको, वो जो पहले तुम ने मुझे शरीक ठहराया था मैं उस से सख़्त बेज़ार हूँ, बेशक ज़ालिमों के लिए दर्दनाक अज़ाब है
Aur shaitaan kahega jab faisla ho chuke ga beshak Allah ne tum ko sachha wada diya tha aur main ne jo tum ko wada diya tha woh main ne tum se jhootha kiya aur mera tum par kuch qaboo na tha magar yehi ke main ne tum ko bulaaya tum ne meri maan li to ab mujh par ilzaam na rakho khud apne oopar ilzaam rakho na main tumhari fareyaad ko pohonch sakoon na tum meri fareyaad ko pohonch sako, woh jo pehle tum ne mujhe shareek thehraaya tha main us se sakht bezaar hoon, beshak zalimon ke liye dardnaak azaab hai
(ف53)اور حساب سے فراغت ہو جائے گی ، جنّتی جنّت کا اور دوزخی دوزخ کا حکم پا کر جنّت و دوزخ میں داخل ہو جائیں گے اور دوزخی شیطان پر ملامت کریں گے اور اس کو برا کہیں گے کہ بدنصیب تو نے ہمیں گمراہ کر کے اس مصیبت میں گرفتار کیا تو وہ جواب دے گا کہ ۔(ف54)کہ مرنے کے بعد پھر اٹھنا ہے اور آخرت میں نیکیوں اور بدیوں کا بدلہ ملے گا ، اللہ کا وعدہ سچا تھا سچا ہوا ۔(ف55)کہ نہ مرنے کے بعد اٹھنا ، نہ جزا ، نہ جنّت ، نہ دوزخ ۔(ف56)نہ میں نے تمیں اپنے اِتّباع پر مجبور کیا تھا یا یہ کہ میں نے اپنے وعدہ پر تمہارے سامنے کوئی حُجّت و برہان پیش نہیں کی تھی ۔(ف57)وسوسے ڈال کر گمراہی کی طرف ۔(ف58)اور بغیر حُجّت و برہان کے تم میرے بہکائے میں آ گئے باوجود یکہ اللہ تعالٰی نے تم سے فرما دیا تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے رسول اس کی طرف سے دلائل لے کر تمہارے پاس آئے اور انہوں نے حجّتیں پیش کیں اور برہانیں قائم کیں تو تم پر خود لازم تھا کہ تم ان کا اِتّباع کرتے اور ان کے روشن دلائل اورظاہر معجزات سے منہ نہ پھیرتے اور میری بات نہ مانتے اور میری طرف التفات نہ کرتے مگر تم نے ایسا نہ کیا ۔(ف59)کیونکہ میں دشمن ہوں اور میری دشمنی ظاہر ہے اور دشمن سے خیر خواہی کی امید رکھنا ہی حماقت ہے تو ۔(ف60)اللہ کا اس کی عبادت میں ۔ (خازن)
اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف٦۱)
And those who believed and did good deeds will be admitted into Gardens beneath which rivers flow, abiding in it forever, by the command of their Lord; their greeting in it is “Peace”.
और वो जो ईमान लाए और अच्छे काम किए वो बाग़ों में दाख़िल किए जाएँगे जिन के नीचे नहरें रवां हमेशा उनमें रहें अपने रब के हुक्म से, इसमें उनके मिलते वक़्त का इकराम सलाम है
Aur woh jo iman laaye aur achhe kaam kiye woh baaghon mein daakhil kiye jaayenge jin ke neeche nahrein rawaan hamesha un mein rahein apne Rab ke hukm se, is mein unke milte waqt ka ikraam salaam hai
(ف61)اللہ تعالٰی کی طرف سے اور فرشتوں کی طرف سے اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف سے ۔
ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف٦٤)
Bearing fruit at all times by the command of its Lord; and Allah illustrates examples for people so that they may understand.
हर वक़्त फल देता है अपने रब के हुक्म से और अल्लाह लोगों के लिए मिसालें बयान फ़र्माता है कि कहीं वो समझें
Har waqt phal deta hai apne Rab ke hukm se aur Allah logon ke liye misaalain bayan farmaata hai ke kahin woh samjhein
(ف63)ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ قلبِ مومن کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثمرات برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں ۔ حدیث شریف میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحابِ کرام سے فرمایا وہ درخت بتاؤ جو مومن کے مثل ہے اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہے ( یعنی جس طرح مومن کے عمل اکارت نہیں ہوتے اور اس کی برکتیں ہر وقت حاصل رہتی ہیں ) صحابہ نے فکریں کیں کہ ایسا کون درخت ہے جس کے پتے نہ گرتے ہوں اور اس کا پھل ہر وقت موجود رہتا ہے چنانچہ جنگل کے درختوں کے نام لئے جب ایسا کوئی درخت خیال میں نہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ، فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا کہ جب حضور نے دریافت فرمایا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن بڑے بڑے صحابہ تشریف فرما تھے میں چھوٹا تھا اس لئے میں ادباً خاموش رہا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اگر تم بتا دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ۔(ف64)اور ایمان لائیں کیونکہ مثالوں سے معنی اچھی طرح خاطر گُزین ہو جاتے ہیں ۔
اور گندی بات (ف٦۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف٦٦) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف٦۷)
And the example of a bad saying is like a filthy tree, which is cut off above the ground, therefore not having stability.
और गंदी बात की मिसाल जैसे एक गंदा पेड़ कि ज़मीन के ऊपर से काट दिया गया अब उसे कोई क़ियाम नहीं
Aur gandi baat ki misaal jaise ek ganda ped ke zameen ke upar se kaat diya gaya ab use koi qiyaam nahi
(ف65)یعنی کُفری کلام ۔(ف66)مثل اندرائن کے جس کا مزہ کڑوا ، بو ناگوار یا مثل لہسن کے بدبودار ۔(ف67)کیونکہ جڑ اس کی زمین میں ثابت و مستحکم نہیں ، شاخیں اس کی بلند نہیں ہوتیں ۔ یہی حال ہے کُفری کلام کا کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور کوئی حجّت و برہان نہیں رکھتا جس سے استحکام ہو ، نہ اس میں کوئی خیر وبرکت کہ وہ بلندیٔ قبول پر پہنچ سکے ۔
اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (٦۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف٦۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،
Allah keeps the believers firm upon the truth in the life of this world and in the Hereafter; and Allah sends the unjust astray; and Allah may do whatever He wills.
अल्लाह साबिक़ रखता है ईमान वालों को हक़ बात
Allah saabit rakhta hai iman walon ko haq baat
(ف68)یعنی کلمۂ ایمان ۔(ف69)کہ وہ ابتلاء اور مصیبت کے وقتوں میں بھی صابر و قائم رہتے ہیں اور راہِ حق و دینِ قویم سے نہیں ہٹتے حتی کہ ان کی حیات کاخاتمہ ایمان پر ہوتا ہے ۔ (ف70)یعنی قبر میں کہ اول منازلِ آخرت ہے جب منکر نکیر آ کر ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارا ربّ کون ہے ، تمہارا دین کیا ہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے دریافت کرتے ہیں کہ ان کی نسبت تو کیا کہتا ہے ؟ تو مومن اس منزل میں بفضلِ الٰہی ثابت رہتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے ، میرا دین اسلام اور یہ میرے نبی ہیں محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول پھر اس کی قبر وسیع کر دی جاتی ہے اور اس میں جنّت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور وہ منوّر کر دی جاتی ہے اور آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ۔(ف71)وہ قبر میں منکَر و نکیر کو جواب صحیح نہیں دے سکتے اور ہر سوال کے جواب میں یہی کہتے ہیں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ، آسمان سے ندا ہوتی ہے میرا بندہ جھوٹا ہے اس کے لئے آ گ کا فرش بچھاؤ ، دوزخ کا لباس پہناؤ ، دوزخ کی طرف دروازہ کھول دو ۔ اس کو دوزخ کی گرمی اور دوزخ کی لپٹ پہنچتی ہے اور قبر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں ، عذاب کرنے والے فرشتے اس پر مقرر کئے جاتے ہیں جو اسے لوہے کے گرزوں سے مارتے ہیں ۔( اَعَاذْنَا اللّٰہ ُ تَعَالیٰ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَ ثَبِّتْنَاعَلَی الْاِیْمَانِ ) ۔
کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،
Did you not see those who exchanged the grace of Allah for ungratefulness and led their people down to the home of destruction?
पर दुनिया की ज़िंदगी में और आख़िरत में और अल्लाह ज़ालिमों को गुमराह करता है और अल्लाह जो चाहे करे
par duniya ki zindagi mein aur aakhirat mein aur Allah zalimon ko gumrah karta hai aur Allah jo chahe kare
(ف72)بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ان لوگوں سے مراد کُفّارِ مکّہ ہیں اور وہ نعمت جس کی شکر گزاری انہوں نے نہ کی وہ اللہ کے حبیب ہیں سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اللہ تعالٰی نے ان کے وجود سے اس امّت کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا ۔ لازم تھا کہ اس نعمتِ جلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کا اِتّباع کر کے مزید کرم کے مورد ہوتے بجائے اس کے انہوں نے ناشکری کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے دارالہلاک میں پہنچایا ۔
میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷٦) نہ یارانہ (ف۷۷)
Say to the bondmen of Mine who believe, that they must keep the prayer established and spend in Our way from what We have given them, secretly and publicly, before the advent of a day in which there will be no trade nor friendship.
और अल्लाह के लिए बराबर वाले ठहराए कि इसकी राह से भटका दें तुम फ़र्माओ कुछ बरत लो कि तुम्हारा अंज़ाम आग है
Aur Allah ke liye barabar wale thehraye ke is ki raah se behkawein tum farmaao kuch barta lo ke tumhara anjaam aag hai
(ف76)کہ خرید و فروخت یعنی مالی معاوضے اور فد یے سے ہی کچھ نفع اٹھایا جا سکے ۔(ف77)کہ اس سے نفع اٹھایا جائے بلکہ بہت سے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ۔ اس آیت میں نفسانی و طبعی دوستی کی نفی ہے اور ایمانی دوستی جو مَحبتِ الٰہی کے سبب سے ہو وہ باقی رہے گی جیسا کہ سورۂ زخرف میں فرمایا اَلْاَ خِلَّاءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)
It is Allah Who created the heavens and the earth, and sent down water from the sky, therefore producing some fruits for you to eat; and subjected the ships for you, that they may sail upon the sea by His command; and subjected the rivers for you.
मेरे इन बंदों से फ़र्माओ जो ईमान लाए कि नमाज़ क़ायम रखें और हमारे दिए में से कुछ हमारी राह में छुपे और ज़ाहिर ख़र्च करें उस दिन के आने से पहले जिसमें न सौदागरी होगी न याराना
Mere in bandon se farmaao jo iman laaye ke namaaz qaaim rakhein aur humare diye mein se kuch humari raah mein chhupe aur zaahir kharch karein us din ke aane se pehle jismein na saudagari hogi na yaarana
(ف78)اور اس سے تم فائدے اٹھاؤ ۔(ف79)کہ ان سے کام لو ۔
اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں (ف۸۰) اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)
And subjected the sun and the moon for you, which are constantly moving; and has subjected the night and the day for you.
अल्लाह है जिसने आसमान और ज़मीन बनाए और आसमान से पानी उतारा तो उससे कुछ फल तुम्हारे खाने को पैदा किए और तुम्हारे लिए कश्ती को मस्क़र किया कि उसके हुक्म से दरिया में चले और तुम्हारे लिए नदियाँ मस्क़र कीं
Allah hai jis ne aasman aur zameen banaye aur aasman se paani utaara to us se kuch phal tumhare khane ko paida kiye aur tumhare liye kashti ko maskhar kiya ke uske hukm se darya mein chale aur tumhare liye nadiyan maskhar ki
(ف80)نہ تھکیں ، نہ رکیں تم ان سے نفع اٹھاتے ہو ۔(ف81)آرام اور کام کے لئے ۔
اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)
And He gave you much of what you seek; and if you enumerate the favours of Allah, you will never be able to count them; indeed man is very unjust, most ungrateful.
और तुम्हारे लिए सूरज और चाँद मस्क़र किए जो बराबर चल रहे हैं और तुम्हारे लिए रात और दिन मस्क़र किए
Aur tumhare liye sooraj aur chaand maskhar kiye jo barabar chal rahe hain aur tumhare liye raat aur din maskhar kiye
(ف82)کہ کُفر و معصیت کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور اپنے ربّ کی نعمت اور اس کے احسان کا حق نہیں مانتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انسان سے یہاں ابو جہل مراد ہے ۔ زُجاج کا قول ہے کہ انسان اسمِ جنس ہے اور یہاں اس سے کافِر مراد ہے ۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸٤) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)
And remember when Ibrahim prayed, “O my Lord! Make this town (Mecca) a safe one, and safeguard me and my sons from worshipping idols.”
और तुम्हें बहुत कुछ मुँह माँगा दिया, और अगर अल्लाह की नेमतें गिनो तो शुमार न कर सकोगे, बेशक आदमी बड़ा ज़ालिम नशु्क़रा है
Aur tumhein bahut kuch munh maanga diya, aur agar Allah ki ni'matain gino to shumaar na kar sako ge, beshak aadmi bada zalim nashukra hai
(ف83)مکّۂ مکرّمہ ۔(ف84)کہ قربِ قیامت دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے مکّۂ مکرّمہ کو ویران ہونے سے امن دی اور کوئی بھی اس کے ویران کرنے پر قادر نہ ہو سکا اور اس کو اللہ تعالٰی نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ، نہ کسی پر ظلم کیا جائے ، نہ وہاں شکار مارا جائے ، نہ سبزہ کاٹا جائے ۔(ف85)انبیاء علیہم السلام بُت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الٰہی میں تواضُع و اظہارِ احتیاج کے لئے ہے کہ باوجودیکہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں ۔
اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸٦) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)
“O my Lord! The idols have led many people astray; so whoever followed me, is indeed mine; and whoever disobeyed me – then indeed You are Oft Forgiving, Most Merciful.”
और याद करो जब इब्राहीम ने अरज़ की ऐ मेरे रब इस शहर को अमान वाला कर दे और मुझे और मेरे बेटों को बुतों के पूजने से बचा
Aur yaad karo jab Ibraaheem ne arz ki ae mere Rab is shahar ko amaan wala kar de aur mujhe aur mere beton ko buton ke poojne se bacha
(ف86)یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوئے کہ وہ انہیں پوجنے لگے ۔(ف87)اور میرے عقیدے و دین پر رہا ۔(ف88)چاہے تو اسے ہدایت کرے اور توفیقِ توبہ عطا فرمائے ۔
اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انھیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،
“O our Lord! I have settled some of my descendants in a valley having no cultivation, near Your Sacred House – O our Lord! So that they may keep the prayer established, therefore incline some hearts of men towards them, and provide them fruits to eat – perhaps they may be thankful.”
ऐ मेरे रब बेशक बुतों ने बहुत लोग भटकाए दिए तो जिसने मेरा साथ दिया वह तो मेरा है और जिसने मेरा कहा न माना तो बेशक तू बख़्शने वाला मेहरबान है
Ae mere Rab beshak buton ne bahut log behkaaye diye to jis ne mera saath diya woh to mera hai aur jis ne mera kaha na maana to beshak tu bakshne wala meherban hai
(ف89)یعنی اس وادی میں جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے اور ذُرّیَّت سے مراد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں ، آپ سر زمینِ شام میں حضرت ہاجرہ کے بطنِ پاک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی اس وجہ سے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کر دیجئے ۔ حکمتِ الٰہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چنانچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل کو اس سر زمین میں لے جائیں (جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے ) آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوارکر کے شام سے سر زمینِ حرم میں لائے اور کعبۂ مقدسہ کے نزدیک اتارا ، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی ، نہ کوئی چشمہ نہ پانی ، ایک توشہ دان میں کھجوریں اور ایک برتن میں پانی انہیں دے کر آپ واپس ہوئے اور مڑ کر ان کی طرف نہ دیکھا ، حضرت ہاجرہ والدۂ اسمٰعیل نے عرض کیا کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں اس وادی میں بے انیس و رفیق چھوڑے جاتے ہیں لیکن آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اورا س کی طرف التفات نہ فرمایا ، حضرت ہاجرہ نے چند مرتبہ یہی عرض کیا اور جواب نہ پایا تو کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اس وقت انہیں اطمینان ہوا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے گئے اور انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی جو آیت میں مذکور ہے ۔ حضرت ہاجرہ اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو دودھ پلانے لگیں جب وہ پانی ختم ہو گیا اور پیاس کی شدّت ہوئی اور صاحب زادے کا حَلق شریف بھی پیاس سے خشک ہو گیا تو آپ پانی کی جستجو یا آبادی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں ، ایسا سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ فرشتے کے پر مارنے سے یا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدم مبارک سے اس خشک زمین میں ایک چشمہ (زمزم) نمودار ہوا ۔ آیت میں حرمت والے گھر سے بیت اللہ مراد ہے جو طوفانِ نوح سے پہلے کعبۂ مقدسہ کی جگہ تھا اور طوفان کے وقت آسمان پر اٹھا لیا گیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ آپ کے آ گ میں ڈالے جانے کے بعد ہوا ، آ گ کے واقعہ میں آپ نے دعا نہ فرمائی تھی اور اس واقعہ میں دعا کی اور تضرُّع کیا ۔ اللہ تعالٰی کی کارسازی پر اعتماد کر کے دعا نہ کرنا بھی توکُّل اور بہتر ہے لیکن مقامِ دعا اس سے بھی افضل ہے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا اس آخر واقعہ میں دعا فرمانا اس لئے ہے کہ آپ مدارجِ کمال میں دمبدم ترقی پر ہیں ۔(ف90)یعنی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد اسں وادیٔ بے زراعت میں تیرے ذکر و عبادت میں مشغول ہوں اور تیرے بیت حرام کے پاس ۔(ف91)اطراف و بلاد سے یہاں آئیں اور ان کے قلوب اس مکانِ طاہر کی شوقِ زیارت میں کھینچیں ۔ اس میں ایمانداروں کے لئے یہ دعا ہے کہ انہیں بیت اللہ کا حج میسّر آئے اور اپنی یہاں رہنے والی ذُرِّیَّت کے لئے یہ کہ وہ زیارت کے لئے آنے والوں سے منتفِع ہوتے رہیں ، غرض یہ دعا دینی دنیوی برکات پر مشتمل ہے ۔ حضرت کی دعا قبول ہوئی اور قبیلۂ جرہم نے اس طرف سے گزرتے ہوئے ایک پرند دیکھا تو انہیں تعجب ہوا کہ بیابان میں پرندہ کیسا ، شاید کہیں چشمہ نمودار ہوا ، جستجو کی تو دیکھا کہ زمزم شریف میں پانی ہے یہ دیکھ کر ان لوگوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں بسنے کی اجازت چاہی ، انہوں نے اس شرط سے اجازت دی کہ پانی میں تمہارا حق نہ ہوگا وہ لوگ وہاں بسے اور حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ و السلام جوان ہوئے تو ان لوگوں نے آپ کے صلاح و تقوٰی کو دیکھ کر اپنے خاندان میں آپ کی شادی کر دی اور حضرت ہاجرہ کا وصال ہو گیا اس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا پوری ہوئی اور آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا ۔(ف92)اسی کا ثمرہ ہے کہ فصولِ مختلفہ ربیع و خریف و صیف و شتاء کے میوے وہاں بیک وقت موجود ملتے ہیں ۔
اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)
“O our Lord! You know what we hide and what we disclose; and nothing is hidden from Allah, neither in the earth nor in the heavens.”
ऐ मेरे रब मैंने अपनी कुछ औलाद एक नाले में बसाई जिसमें खेती नहीं होती तेरे हुरमत वाले घर के पास ऐ मेरे रब इसलिए कि वो नमाज़ क़ायम रखें तो तू लोगों के कुछ दिल उनकी तरफ मائل कर दे और उन्हें कुछ फल खाने को दे शायद वो एहसान मानें
Ae mere Rab main ne apni kuch aulaad ek naale mein basaai jismein kheti nahi hoti tere hurmat wale ghar ke paas ae mere Rab is liye ke woh namaaz qaaim rakhein to tu logon ke kuch dil un ki taraf mael kar de aur unhein kuch phal khane ko de shayad woh ehsaan maanain
(ف93)حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالٰی نے قبول فرمائی تو آپ نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا ۔
اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹٦) انھیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷)
And do not ever assume that Allah is unaware of what the unjust do; He does not give them respite but for a day in which the eyes will become fixed, staring.
ऐ हमारे रब मुझे बख़्श दे और मेरे माँ बाप को और सब मुसलमानों को जिस दिन हिसाब क़ायम होगा
Ae humare Rab mujhe baksh de aur mere maan baap ko aur sab Musalmanon ko jis din hisaab qaaim ho ga
(ف96)اس میں مظلوم کو تسلّی دی گئی کہ اللہ تعالٰی ظالم سے اس کا انتقام لے گا ۔(ف97)ہول و دہشت سے ۔
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بےتحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)
They shall come out running in bewilderment, with their heads raised, their gaze not returning to them; and their hearts will not have any calm.
और हरगज़ अल्लाह को बेख़बर न जानना ज़ालिमों के काम से उन्हें ढील नहीं दे रहा है मगर ऐसे दिन के लिए जिसमें
Aur harگز Allah ko be khabar na jaanna zalimon ke kaam se unhein dheel nahi de raha hai magar aise din ke liye jismein
(ف98)حضرت اسرافیل علیہ السلام کی طرف جو انہیں عرصۂ محشر کی طرف بلائیں گے ،(ف99)کہ اپنے آپ کو دیکھ سکیں ۔(ف100)شدّتِ حیرت و دہشت سے ۔ قتادہ نے کہا کہ دل سینوں سے نکل کر گلوں میں آ پھنسیں گے ، نہ باہر نکل سکیں نہ اپنی جگہ واپس جا سکیں گے ، معنی یہ ہیں کہ اس دن کی شدّتِ ہول و دہشت کا یہ عالَم ہوگا کہ سر اوپر اٹھے ہوں گے ، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ، دل اپنی جگہ پر قرار نہ پا سکیں گے ۔
اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰٤) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰٦) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)
And warn the people of a day when the punishment will come upon them, therefore the unjust will say, “O our Lord! Give us respite for a little while – for us to obey Your call and follow the Noble Messengers”; (It will be said) “So had you not sworn before that, ‘We have not to move to any place else from the earth’?”
आँखें खुली की खुली रह जाएँगी बे तहाशा दौड़े निकलेंगे अपने सर उठाए हुए कि उनकी पलक उनकी तरफ लौटती नहीं और उनके दिलों में कुछ सक़्त न होगी
Aankhen khuli ki khuli reh jaayengi be tahashaa doray nikleinge apne sar uthaaye hue ke un ki palk un ki taraf lautti nahi aur un ke dilon mein kuch sukt na ho gi
(ف101)یعنی کُفّار کو قیامت کے دن کا خوف دلاؤ ۔(ف102)یعنی کافِر ۔(ف103)دنیا میں واپس بھیج دے اور ۔(ف104)اور تیری توحید پر ایمان لائیں ۔(ف105)اور ہم سے جو قصور ہو چکے اس کی تلافی کریں اس پر انہیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور فرمایا جائے گا ۔(ف106)دنیا میں ۔(ف107)اور کیا تم نے بَعث و آخرت کا انکار نہ کیا تھا ۔
اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)
“And you dwelt in the houses of those who had wronged themselves and it became very clear to you how We had dealt with them, and We illustrated several examples for you.”
और लोगों को इस दिन से डराओ जब उन पर अज़ाब आएगा तो ज़ालिम कहेंगे ऐ हमारे रब! थोड़ी देर हमें मोहलत दे कि हम तेरा बुलाना मानें और रसूलों की गुलामी करें तो क्या तुम पहले क़सम न खा चुके थे कि हमें दुनिया से कहीं हट कर जाना नहीं
Aur logon ko is din se darao jab un par azaab aayega to zalim kahenge ae humare Rab! Thodi der humein mohalt de ke hum tera bulaana maanain aur rasoolon ki ghulami karein to kya tum pehle qasam na kha chuke the ke humein duniya se kahin hat kar jaana nahi
(ف108)کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے جیسے کہ قومِ نوح وعاد و ثمود وغیرہ ۔(ف109)اور تم نے اپنی آنکھوں سے ان کے منازل میں عذاب کے آثار اور نشان دیکھے اور تمہیں ان کی ہلاکت و بربادی کی خبریں ملیں ، یہ سب کچھ دیکھ کر اور جان کر تم نے عبرت نہ حاصل کی اور تم کُفر سے باز نہ آئے ۔(ف110)تاکہ تم تدبیر کرو اور سمجھو اور عذاب و ہلاک سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔
اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)
And indeed they carried out their scheme, and their scheming is within Allah’s control; and their scheme was not such that could move these mountains*. (* The revelations / signs of Allah.)
और तुम उनके घरों में बसे जिन्होंने अपना बुरा किया था और तुम पर खूब खुल गया हमने उनके साथ कैसा किया और हमने तुम्हें मिसालें दे कर बता दिया
Aur tum unke gharo mein base jin hon ne apna bura kiya tha aur tum par khoob khul gaya hum ne un ke saath kaisa kiya aur hum ne tumhein misaalain de kar bata diya
(ف111)اسلام کے مٹانے اور کُفر کی تائید کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ۔(ف112)کہ انہوں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کرنے یا قید کرنے یا نکال دینے کا ارادہ کیا ۔(ف113)یعنی آیاتِ الٰہی اور احکامِ شرعِ مصطفائی جو اپنے قوت و ثبات میں بمنزلہ مضبوط پہاڑوں کے ہیں ، محال ہے کہ کافِروں کے مکر اور ان کی حیلہ انگیزیوں سے اپنی جگہ سے ٹل سکیں ۔
جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱٦) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایکاللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے
On the day when the earth will be changed to other than this earth, and the heavens – and they will all come forth standing before Allah, the One, the Dominant above all.
तो हर्गज़ ख़्याल न करना कि अल्लाह अपने रसूलों से वादा ख़िलाफ़ करेगा बेशक अल्लाह ग़ालिब है बदला लेने वाला
To harگز khayal na karna ke Allah apne rasoolon se wada khilaf karega beshak Allah ghalib hai badla lene wala
(ف115)اس دن سے روزِ قیامت مراد ہے ۔(ف116)زمین و آسمان کی تبدیلی میں مفسِّرین کے دو قول ہیں ایک یہ کہ ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی نہ اس پر پہاڑ باقی رہیں گے ، نہ بلند ٹیلے ، نہ گہرے غار ، نہ درخت ، نہ عمارت ، نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور آفتاب ماہتاب کی روشنیاں معدوم ہوں گی ، یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی ، اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہو گی ، سفید و صاف جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو نہ گناہ کیا گیا ہو اور آسمان سونے کا ہوگا ۔ یہ دو قول اگرچہ بظاہر باہم مخالف معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک صحیح ہے اور وجہ جمع یہ ہے کہ اوّل تبدیلِ صفات ہوگی اور دوسری مرتبہ بعدِ حساب تبدیلِ ثانی ہوگی ، اس میں زمین و آسمان کی ذاتیں ہی بدل جائیں گی ۔(ف117)اپنی قبروں سے ۔
ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آگ ڈھانپ لے گی
Their cloaks will be of pitch and fire will cover their faces.
और इस दिन तुम जुर्मियों को देखोगे कि बेड़ियों में एक दूसरे से जुड़े होंगे
Aur is din tum mujrimoon ko dekho ge ke baidiya mein ek doosre se jude honge
(ف120)سیاہ رنگ بدبو دار ، جن سے آ گ کے شعلے اور زیادہ تیز ہو جائیں ۔ (مدارک و خازن) تفسیرِ بیضاوی میں ہے کہ ان کے بدنوں پر رال لیپ دی جائے گی وہ مثل کُرتے کے ہو جائیگی ، اس کی سوزش اور اس کے رنگ کی وحشت و بدبو سے تکلیف پائیں گے ۔
یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،
This is the message to be conveyed to all mankind – and in order to warn them with it, and for them to know that He is the only One God, and for men of understanding to heed advice.
इसलिए कि अल्लाह हर जान को उसकी कमाई का बदला दे, बेशक अल्लाह को हिसाब करते कुछ देर नहीं लगती
Is liye ke Allah har jaan ko us ki kamai ka badla de, beshak Allah ko hisaab karte kuch der nahi lagti
(ف121)قرآن شریف ۔(ف122)یعنی ان آیات سے اللہ تعالٰی کی توحید کی دلیلیں پائیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page