اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں (ف۲) کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بےسمجھے (ف۳) اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
(ف2)لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے ، کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے مُلکوں میں سفر کیا کرتا تھا ، اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں جن میں قصّے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا اور کہتا کہ سیدِ کائنات (محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) تمہیں عاد و ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم و اسفند یار اور شاہانِ فارس کی کہانیاں سناتا ہوں ، کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہو گئے اور قرانِ پاک سننے سے رہ گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف3)یعنی براہِ جہالت لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے اور قرآنِ کریم سننے سے روکیں اور آیاتِ الٰہیہ کے ساتھ تمسخُر کریں ۔
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو تکبر کرتا ہوا پھرے (ف٤) جیسے انھیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ٹینٹ (روئی کا پھایا) ہے (ف۵) تو اسے دردناک عذاب کا مژدہ دو،
(ف4)اور ان کی طرف التفات نہ کرے ۔(ف5)اور وہ بہرا ہے ۔
اس نے آسمان بنائے بے ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں (ف٦) اور زمین میں ڈالے لنگر (ف۷) کہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے، اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۸) تو زمین میں ہر نفیس جوڑا اگایا (ف۹)
(ف6)یعنی کوئی ستون نہیں ہے تمہاری نظر خود اس کی شاہد ہے ۔(ف7)بلند پہاڑوں کے ۔(ف8)اپنے فضل سے بارش کی ۔(ف9)عمدہ اقسام کے نباتات پیدا کئے ۔
اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی (ف۱۳) کہ اللہ کا شکر کر (ف۱٤) اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف۱۵) اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بےپرواہ ہے سب خوبیاں سراہا،
(ف13)محمّد بن اسحٰق نے کہا کہ لقمان کا نسب یہ ہے لقمان بن باعور بن ناحور بن تارخ ۔ وہب کا قول ہے کہ حضرت لقمان حضرت ایّوب علیہ السلام کے بھانجے تھے ۔ مقاتل نے کہا کہ حضرت ایّوب علیہ السلام کی خالہ کے فرزند تھے ۔ واقدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ہزار سال زندہ رہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ پایا اور ان سے علم اخذ کیا اور ان کے زمانہ میں فتوٰی دینا ترک کر دیا اگرچہ پہلے سے فتوٰی دیتے تھے ، آپ کی نبوّت میں اختلاف ہے اکثر عُلَماء اسی طرف ہیں کہ آپ حکیم تھے نبی نہ تھے ، حکمت عقل و فہم کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ حکمت وہ علم ہے جس کے مطابق عمل کیا جائے ۔ بعض نے کہا کہ حکمت معرفت اور اصابت فی الامور کو کہتے ہیں اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ حکمت ایسی شئ ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو جس کے دل میں رکھتا ہے اس کے دل کو روشن کر دیتی ہے ۔(ف14)اس نعمت پر کہ اللہ تعالٰی نے حکمت عطا کی ۔(ف15)کیونکہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے ۔
اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا (ف۱٦) اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے (ف۱۷)
(ف16)حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کے ان صاحبزادے کا نام انعم یا اشکم تھا اور انسان کا اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ وہ خود کامل ہو اور دوسرے کی تکمیل کرے تو حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا کامل ہونا تو 'اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ' میں بیان فرما دیا اور دوسرے کی تکمیل کرنا 'وَھُوَ یَعِظُہٗ 'سے ظاہر فرمایا اور نصیحت بیٹے کو کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت میں گھر والوں اور قریب تر لوگوں کو مقدم کرنا چاہئے اور نصیحت کی ابتداء منعِ شرک سے فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ یہ نہایت اہم ہے ۔(ف17)کیونکہ اس میں غیرِ مستحقِ عبادت کو مستحقِ عبادت کے برابر قرار دینا ہے اور عبادت کو اس کے محل کے خلاف رکھنا یہ دونوں باتیں ظلمِ عظیم ہیں ۔
اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی (ف۱۸) اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی (ف۱۹) اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا (ف۲۰) آخر مجھی تک آنا ہے،
(ف18)کہ ان کا فرمانبردار رہے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ (جیسا کہ اسی آیت میں آگے ارشاد ہے)(ف19)یعنی اس کا ضعف دَم بدَم ترقی پر ہوتا ہے جتنا حمل بڑھتا جاتا ہے بار زیادہ ہوتا ہے اور ضعف ترقی کرتا ہے ، عورت کو حاملہ ہونے کے بعد ضعف اور تعب اور مشقّتیں پہنچتی رہتی ہیں ، حمل خود ضعیف کرنے والاہے دردِ زہ ضعف پر ضعف ہے اور وضع اس پر اور مزید شدّت ہے ، دودھ پلانا ان سب پر مزید برآں ہے ۔(ف20)یہ وہ تاکید ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا تھا ۔ سفیان بن عینیہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جس نے پنج گانہ نمازیں ادا کیں وہ اللہ تعالٰی کا شکر بجا لایا اور جس نے پنجگانہ نمازوں کے بعد والدین کے لئے دعائیں کیں اس نے والدین کی شکر گزاری کی ۔
اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں (ف۲۱) تو ان کا کہنا نہ مان (ف۲۲) اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے (ف۲۳) اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا (ف۲٤) پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵)
(ف21)یعنی علم سے تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا ہی نہیں سکتے کیونکہ میرا شریک محال ہے ہو ہی نہیں سکتا ، اب جو کوئی بھی کہے گا تو بے علمی ہی سے کسی چیز کے شریک ٹھہرانے کو کہے گا ، ایسا اگر ماں باپ بھی کہیں ۔(ف22)نخعی نے کہا کہ والدین کی طاعت واجب ہے لیکن اگر وہ شرک کا حکم کریں تو ان کی اطاعت نہ کر کیونکہ خالِق کی نافرمانی کرنے میں کسی مخلوق کی طاعت روا نہیں ۔(ف23)حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوک اور احسان و تحمّل کے ساتھ ۔(ف24)یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب کی راہ اسی کو مذہبِ سنّت و جماعت کہتے ہیں ۔(ف25)تمہارے اعمال کی جزا دے کر ۔ 'وَصَّیْنَا الْاِ نْسَانَ' سے یہاں تک جو مضمون ہے یہ حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کو اللہ تعالٰی کے شکرِ نعمت کا حکم دیا تھا اور شرک کی ممانعت کی تھی تو اللہ تعالٰی نے والدین کی طاعت اور اس کا محل ارشاد فرما دیا ، اس کے بعد پھر حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا مقولہ ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے فرزند سے فرمایا ۔
اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یا زمین میں کہیں ہو (ف۲٦) اللہ اسے لے آئے گا (ف۲۷) بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے (ف۲۸)
(ف26)کیسی ہی پوشیدہ جگہ ہو اللہ تعالٰی سے نہیں چُھپ سکتی ۔(ف27)روزِ قیامت اور اس کاحساب فرمائے گا ۔(ف28)یعنی ہر صغیر و کبیر اس کے احاطۂ علمی میں ہے ۔
اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے (ف۲۹) اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں (ف۳۰)
(ف29)امر بالمعروف و نہی عن المنکَر کرنے سے ۔(ف30)ان کا کرنا لازم ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز اور امربالمعروف اور نہی عن المنکَر اور صبر بر ایذا یہ ایسی طاعتیں ہیں جن کا تمام اُمّتوں میں حکم تھا ۔
اور کسی سے بات کرنے میں (ف۳۱) اپنا رخسارہ کج نہ کر (ف۳۲) اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا،
(ف31)براہِ تکبُّر ۔(ف32)یعنی جب آدمی بات کریں تو انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا جیسا متکبِّرین کا طریقہ ہے اختیار نہ کرنا ، غنی و فقیر سب کے ساتھ بتواضُع پیش آنا ۔
اور میانہ چال چل (ف۳۳) اور اپنی آواز کچھ پست کر (ف۳٤) بیشک سب آوازوں میں بری آواز، آواز گدھے کی (ف۳۵)
(ف33)نہ بہت تیز نہ بہت سُست کہ یہ دونوں باتیں مذموم ہیں ایک میں شانِ تکبُّر ہے اور ایک میں چھچھورا پن ۔ حدیث شریف میں ہے کہ بہت تیز چلنا مومن کا وقار کھوتا ہے ۔(ف34)یعنی شور و شغب اور چیخنے چِلّانے سے احتراز کر ۔(ف35)مدعٰی یہ ہے کہ شور مچانا اور آواز بلند کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے اور اس میں کچھ فضیلت نہیں ہے ، گدھے کی آواز باوجود بلند ہونے کے مکروہ اور وحشت انگیز ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نرم آواز سے کلام کرنا پسند تھا اور سخت آواز سے بولنے کو ناپسند رکھتے تھے ۔
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳٦) اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی (ف۳۷) اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب (ف۳۸)
(ف36)آسمانوں میں مثل سور ج ، چاند ، تاروں کے جن سے تم نفع اٹھاتے ہو اور زمینوں میں دریا ، نہریں ، کانیں ، پہاڑ ، درخت ، پھل ، چوپائے وغیرہ جن سے تم فائدے حاصل کرتے ہو ۔(ف37)ظاہری نعمتوں سے درستیٔ اعضاء و حواسِ خمسہ ظاہرہ اور حسن و شکل و صورت مراد ہیں اور باطنی نعمتوں سے علمِ معرفت و ملکاتِ فاضلہ وغیرہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نعمتِ ظاہرہ تو اسلام و قرآن ہے اور نعمتِ باطنہ یہ ہے کہ تمہارے گناہوں پر پردے ڈال دیئے ، تمہارا افشاءِ حال نہ کیا ، سزا میں جلدی نہ فرمائی ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نعمتِ ظاہرہ درستیٔ اعضاء اور حسنِ صورت ہے اور نعمتِ باطنہ اعتقادِ قلبی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نعمتِ ظاہرہ رزق ہے اور باطنہ حسنِ خُلق ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ احکامِ شرعیہ کا ہلکا ہونا ہے اور نعمتِ باطنہ شفاعت ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ اسلام کا غلبہ اور دشمنوں پر فتح یاب ہونا ہے اور نعمتِ باطنہ ملائکہ کا امداد کے لئے آنا ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ رسول کا اِتّباع ہے اور نعمتِ باطنہ ان کی مَحبت ۔ رَزَقَنَا اللہُ تَعَالٰی اِتِّبَاعَہٗ وَ مَحَبَّتَہٗ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف38)تو جو کہیں گے جہل و نادانی ہو گا اور شانِ الٰہی میں اس طرح کی جرأت و لب کشائی نہایت بیجا اور گمراہی ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت نصر بن حارث و اُبَیْ بن خلف وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو باوجود بے علم و جاہل ہونے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات کے متعلق جھگڑے کیا کرتے تھے ۔
اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا (ف۳۹) کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو (ف٤۰)
(ف39)یعنی اپنے باپ دادا کے طریقے ہی پر رہیں گے ۔ اس پر اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف40)جب بھی وہ اپنے دادا ہی کی پیروی کئے جائیں گے ۔
اور جو کفر کرے تو تم (ف٤۲) اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ، انھیں ہماری ہماری ہی طرف پھرنا ہے ہم انھیں بتادیں گے جو کرتے تھے (ف٤۳) بیشک اللہ والوں کی بات جانتا ہے،
(ف42)اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف43)یعنی ہم انہیں ان کے اعمال کی سزا دیں گے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو (ف٤٦) بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں،
(ف46)یہ ان کے اقرار پر انہیں الزام دینا ہے کہ جس نے آسمان و زمین پیدا کئے وہ اللہ واحد لاشریک لہ ہے تو واجب ہوا کہ اس کی حمد کی جائے ، اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ۔
اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور (ف٤۸) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی (ف٤۹) بیشک اللہ عزت و حکمت والا ہے،
(ف48)اور ساری خَلق اللہ تعالٰی کے کلمات کو لکھے اور وہ تمام قلم اور ان تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے ۔(ف49)کیونکہ معلوماتِ الٰہیہ غیرِ متناہی ہیں ۔شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیّبہ تشریف لائے تو یہود کے علماء و احبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں 'وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً ' یعنی تمہیں تھوڑا علم دیا گیا تو اس سے آپ کی مراد ہم لوگ ہیں یا صرف اپنی قوم ؟ فرمایا سب مراد ہیں ، انہوں نے کہا کیا آپ کی کتاب میں یہ نہیں ہے کہ ہمیں توریت دی گئی ہے اس میں ہر شئ کا علم ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ ہر شئ کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اور تمہیں تو اللہ تعالٰی نے اتنا علم دیا ہے کہ اس پر عمل کرو تو نفع پاؤ ، انہوں نے کہا آپ کیسے یہ خیال فرماتے ہیں آپ کا قول تو یہ ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی تو علمِ قلیل اور خیرِ کثیر کیسے جمع ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ، اس تقدیر پر یہ آیت مدنی ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہود نے قریش سے کہا تھا کہ مکّہ میں جا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس طرح کا کلام کریں ۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین نے یہ کہا تھا کہ قرآن اور جو کچھ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لاتے ہیں یہ عنقریب تمام ہو جائے گا پھر قصّہ ختم ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں (ف۵۱) اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے (ف۵۲) ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۵۳) اور یہ کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
(ف51)یعنی ایک کو گھٹا کر دوسرے کو بڑھا کر اور جو وقت ایک میں سے گھٹاتا ہے دوسرے میں بڑھا دیتا ہے ۔(ف52)بندوں کے نفع کے لئے ۔(ف53)یعنی روزِ قیامت تک یا اپنے اپنے اوقاتِ معیّنہ تک ، سورج آخر سال تک اور چاند آخرِ ماہ تک ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے (ف۵٦) تاکہ تمہیں وہ اپنی (ف۵۷) کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو (ف۵۸)
(ف56)اس کی رحمت اور اس کے احسان سے ۔(ف57)عجائبِ قدرت کی ۔(ف58)جو بلاؤں پر صبر کرے اور اللہ تعالٰی کی نعمتو ں کا شکر گزار ہو ، صبر و شکر یہ دونوں صفتیں مومن کی ہیں ۔
اور جب ان پر (ف۵۹) آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے (ف٦۰) پھر جب انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو ان میں کوئی اعتدال پر رہتا ہے (ف٦۱) اور ہماری آیتوں کا انکار نہ کرے گا مگر ہر بڑا بےوفا ناشکرا،
(ف59)یعنی کُفّار پر ۔(ف60)اور اس کے حضور تضرُّع اور زاری کرتے ہیں اور اسی سے دعا و التجاء ، اس وقت ماسوا کو بھول جاتے ہیں ۔(ف61)اپنے ایمان و اخلاص پر قائم رہتا کُفر کی طرف نہیں لوٹتا ۔شانِ نُزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت عکرمہ بن ابی جہل کے حق میں نازل ہوئی جس سال مکّہ مکرّمہ کی فتح ہوئی تو وہ سمندر کی طرف بھاگ گئے ، وہاں بادِ مخالف نے گھیرا اور خطرے میں پڑ گئے تو عکرمہ نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰی ہمیں اس خطرے سے نجات دے تو میں ضرور سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا یعنی اطاعت کروں گا ، اللہ تعالٰی نے کرم کیا ہوا ٹھہر گئی اور عکرمہ مکّہ مکرّمہ کی طرف آ گئے اور اسلام لائے اور بڑا مخلصانہ اسلام لائے اور بعض ان میں ایسے تھے جنہوں نے عہدِ وفا نہ کیا ، ان کی نسبت اگلے جملہ میں ارشاد ہوتا ہے ۔
اے لوگو! (ف٦۲) اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے (ف٦۳) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف٦٤) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی (ف٦۵) اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی (ف٦٦)
(ف62)یعنی اے اہلِ مکّہ ۔(ف63)روزِ قیامت ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گا اور باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافِروں کی مسلمان اولاد انہیں فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافِر اولاد کو ۔(ف64)ایسا دن ضرور آنا اور بَعث و حساب و جزا کا وعدہ ضرور پورا ہونا ہے ۔(ف65)جس کی تمام نعمتیں اور لذّتیں فانی کہ ان کے شیفتہ ہو کر نعمتِ ایمان سے محروم رہ جاؤ ۔(ف66)یعنی شیطان دور و دراز کی امیدوں میں ڈال کر معصیّتوں میں مبتلا نہ کر دے ۔
بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم (ف٦۷) اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے (ف٦۸)
(ف67)شانِ نُزول : یہ آیت حارث بن عمرو کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کا وقت دریافت کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے خبر دیجئے مینہ کب آئے گا اور میری عورت حاملہ ہے مجھے بتائیے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے لڑکایا لڑکی ، یہ تو مجھے معلوم ہے کہ کل میں نے کیا کیا ، یہ مجھے بتائیے کہ آئیندہ کل کو کیا کروں گا ، یہ بھی جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا مجھے یہ بتائیے کہ کہاں مروں گا ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف68)جس کو چاہے اپنے اولیا اور اپنے محبوبوں میں سے انہیں خبردار کرے ۔ اس آیت میں جن پانچ چیزوں کے علم کی خصوصیّت اللہ تبارک و تعالٰی کے ساتھ بیان فرمائی گئی انہیں کی نسبت سورۂ جن میں ارشاد ہوا 'عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ' غرض یہ کہ بغیر اللہ تعالٰی کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں اور اللہ تعالٰی اپنے محبوبوں میں سے جسے چاہے بتائے اور اپنے پسندیدہ رسولوں کو بتانے کی خبر خود اس نے سورۂ جن میں دی ہے خلاصہ یہ کہ علمِ غیب اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے اور انبیاء و اولیاء کو غیب کا علم اللہ تعالٰی کی تعلیم سے بطریقِ معجِزہ و کرامت عطا ہوتا ہے ، یہ اس اختصاص کے منافی نہیں اور کثیر آیتیں اور حدیثیں اس پر دلالت کرتی ہیں ، بارش کا وقت اور حمل میں کیا ہے اور کل کو کیا کرے اور کہاں مَرے گا ان امور کی خبریں بکثرت اولیاء و انبیاء نے دی ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے حضرت اسحٰق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت مریم کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پیدا ہونے کی خبریں دیں تو ان فرشتوں کو بھی پہلے سے معلوم تھا کہ ان حملوں میں کیا ہے اور ان حضرات کو بھی جنہیں فرشتوں نے اطلاعیں دیں تھی اور ان سب کا جاننا قرآنِ کریم سے ثابت ہے تو آیت کے معنٰی قطعاً یہی ہیں کہ بغیر اللہ تعالٰی کے بتائے کوئی نہیں جانتا ۔ اس کے یہ معنٰی لینا کہ اللہ تعالٰی کے بتانے سے بھی کوئی نہیں جانتا مَحض باطل اور صدہا آیات و احادیث کے خلاف ہے ۔ (خازن ، بیضاوی ، احمدی ، روح البیان وغیرہ)