ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف٤) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف٦)
(ف4)یعنی آپ کی قوم سے پہلے کتنی امّتیں ہلاک کردیں اسی استکبار اور انبیاء کی مخالفت کے باعث ۔(ف5)یعنی نزولِ عذاب کے وقت انہوں نے فریاد کی ۔(ف6)کہ خَلاص پاسکتے اس وقت کی فریاد بیکار تھی کفّارِ مکّہ نے ان کے حال سے عبرت حاصل نہ کی ۔
کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،
(ف8)شانِ نزول : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٌٰی عنہ اسلام لائے تو مسلمانوں کو خوشی ہوئی اور کافروں کو نہایت رنج ہوا ولید بن مغیرہ نے قریش کے عمائد اور سر بر آوردہ پچّیس آدمیوں کو جمع کیا اور انہیں ابو طالب کے پاس لایا اور ان سے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو اور بزرگ ہو ہم تمہارے پا س اس لئے آئے ہیں کہ تم ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کردو ان کی جماعت کے چھوٹے درجے کے لوگوں نے جو شورش برپا کررکھی ہے وہ تم جانتے ہو ابوطالب نے حضرت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بُلا کر عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم کے لوگ ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں آپ ان کی طرف سے یک لخت انحراف نہ کیجئے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اتنا چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کے ذکر کوچھوڑ دیجئے ہم آپ کے اور آپ کے معبود کی بدگوئی کے درپے نہ ہوں گے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا تم ایک کلمہ قبول کرسکتے ہو جس سے عرب و عجم کے مالک و فرمانبردار ہوجاؤ ؟ ابوجہل نے کہا کہ ایک کیا ہم دس کلمے قبول کرسکتے ہیں ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہو' لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ' اس پر وہ لوگ اٹھ گئے اور کہنے لگے کہ کیا انہوں نے بہت سے خداؤں کا ایک خدا کردیا اتنی بہت سی مخلوق کے لئے ایک خدا کیسے کافی ہوسکتا ہے ۔
کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)
(ف11)اہلِ مکّہ کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منصبِ نبوّت پر حسد آیا اور انہوں نے یہ کہا کہ ہم میں صاحبِ شرف و عزّت آدمی موجود تھے ان میں سے کسی پر قرآن نہ اترا خاص حضرت سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر اترا ۔(ف12)کہ اس کے لانے والے حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ۔(ف13)اگر میرا عذاب چکھ لیتے تو یہ شک و تکذیب و حسد کچھ باقی نہ رہتا اور نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تصدیق کرتے لیکن اس وقت کی تصدیق مفید نہ ہوتی ۔
کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱٤) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)
(ف14)اور کیا نبوّت کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہیں دیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اللہ تعالٰی اور اس کی مالکیّت کو نہیں جانتے ۔(ف15)حسبِ اقتضائے حکمت جسے جو چاہے عطا فرمائے اس نے اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نبوّت عطا فرمائی تو کسی کو اس میں دخل دینے اورچوں چرا کی کیا مجال ۔
کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱٦)
(ف16)اور ایسا اختیار ہو تو جسے چاہیں وحی کے ساتھ خاص کریں اور عالَم کی تدبیر اپنے ہاتھ میں لیں اور جب یہ کچھ نہیں ہے تو امورِ ربّانیہ و تدابیرِ الٰہیہ میں دخل کیوں دیتے ہیں انہیں اس کا کیا حق ہے ، کفّار کو یہ جواب دینے کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے نبی کریم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نصرت و مدد کا وعدہ فرمایا ہے ۔
یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)
(ف17)یعنی ان قریش کی جماعت انہیں لشکروں میں سے ایک ہے جو آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے مقابل گروہ باندھ باندھ کر آیا کرتے تھے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے اس سبب سے ہلاک کردیئے گئے اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر دی کے یہی حال ان کا ہے کہ انھیں بھی ہزیمت ہو گی چنانچہ بدر میں ایسا واقع ہوا اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسکینِ خاطر کے لئے پچھلے انبیاء علیہم السلام اور ان قوموں کا ذکر فرمایا ۔
ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)
(ف18)جو کسی پر غصّہ کرتا تھا تو اسے لٹا کر اس کے چاروں ہاتھ پاؤں کھینچ کر چاروں طرف کھونٹوں میں بندھو ا دیتا تھا پھر اس کو پٹواتا تھا اور اس پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا ۔
تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲٤) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)
(ف24)جن کو عبادت کی بہت قوّت دی گئی تھی آپ کا طریقہ تھا کہ ایک دن روزہ رکھتے ایک دن افطار فرماتے اور رات کے پہلے نصف حصّہ میں عبادت کرتے اس کے بعد شب کی ایک تہائی آرام فرماتے پھر باقی چھٹا حصّہ عبادت میں گزارتے ۔(ف25)اپنے رب کی طرف ۔
بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲٦) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)
(ف26)حضرت داؤد علیہ السلام کی تسبیح کے ساتھ ۔(ف27)اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے پہاڑوں کو ایسا مسخّر کیا تھا کہ جہاں آپ چاہتے انھیں اپنے ساتھ لے جاتے ۔ (مدارک)
اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)
(ف28)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح کرتے اور پرندے آپ کے پاس جمع ہو کر تسبیح کرتے ۔(ف29)پہاڑ بھی اور پرند بھی ۔
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)
(ف30)فوج و لشکر کی کثرت عطا فرما کر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت بڑی مضبوط اور قوی سلطنت تھی چھتّیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے پر مقرر تھے ۔(ف31)یعنی نبوّت ۔ بعض مفسّرین نے حکمت کی تفسیر عدل کی ہے ، بعض نے کتابُ اللہ کا علم ، بعض نے فقہ ، بعض نے سنّت ۔ (جمل)(ف32)قولِ فیصل سے علمِ قضا مراد ہے جوحق و باطل میں فرق وتمیُّز کردے ۔
جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلاف حق نہ کیجئے (ف۳٦) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،
(ف35)ان کا یہ قول ایک مسئلہ کی فرضی شکل پیش کرکے جواب حاصل کرنا تھا اور کسی مسئلہ کے متعلق حکم معلوم کرنے کے لئے فرضی صورتیں مقرر کرلی جاتی ہیں اور معیّن اشخاص کی طرف انکی نسبت کردی جاتی ہے تاکہ مسئلہ کا بیان بہت واضح طریقہ پر ہواور ابہام باقی نہ رہے یہاں جو صورتِ مسئلہ ان فرشتوں نے پیش کی اس سے مقصود حضرت داؤد علیہ السلام کو توجّہ دلانا تھی اس امر کی طرف جو انہیں پیش آیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آپ کی ننانوے بیبیاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دے دیا جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکا تھا لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزّہ واقارب دوسرے کی طرف التفات کرنے والے کب تھے آپ کے لئے راضی ہوگئے اور آپ سے نکاح ہوگیا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس مسلمان کے ساتھ نکاح ہوچکا تھا آپ نے اس مسلمان سے اپنی رغبت کا اظہار کیا اور چاہا کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دے دے وہ آپ کے لحاظ سے منع نہ کرسکا اور اس نے طلاق دے دی آپ کا نکاح ہوگیا اور اس زمانہ میں ایسا معمول تھا کہ اگر کسی شخص کو کسی عورت کی طرف رغبت ہوتی تو اس سے استدعا کرکے طلاق دلوا لیتا اور بعدِ عدت نکاح کرلیتا ، یہ بات نہ تو شرعاً ناجائز ہے نہ اس زمانہ کے رسم وعادت کے خلاف لیکن شانِ انبیاء بہت ارفع و اعلٰی ہوتی ہے اس لئے یہ آپ کے منصبِ عالی کے لائق نہ تھا تو مرضیِ الٰہی یہ ہوئی کہ آپ کو اس پر آگاہ کیا جائے اور اس کا سبب یہ پیدا کیا کہ ملائکہ مدعی اور مدعا علیہ کی شکل میں آپ کے سامنے پیش ہوئے ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر بزرگوں سے کوئی لغزش صادر ہو اور کوئی امر خلافِ شان واقع ہوجائے تو ادب یہ ہے کہ معترضانہ زبان نہ کھولی جائے بلکہ اس واقعہ کی مثل ایک و اقعہ متصور کرکے اس کی نسبت سائلانہ و مستفتیانہ و مستفیدانہ سوال کیا جائے اور ان کی عظمت و احترام کا لحاظ رکھا جائے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی عزَّوجلَّ مالک ومولٰی اپنے انبیاء کی ایسی عزّت فرماتا ہے کہ ان کو کسی بات پرآگا ہ کرنے کے لئے ملائکہ کو اس طریقِ ادب کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیتا ہے ۔(ف36)جس کی غلطی ہو بے رو رعایت فرمادیجئے ۔
بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی ، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،
داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف٤۰) اور رجوع لایا ، ( السجدة ۱۰)
(ف38)حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ گفتگو سن کر فرشتوں میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھا اور تبسّم کرکے وہ آسمان کی طرف روانہ ہوگئے ۔(ف39)اور دنبی ایک کنایہ تھا جس سے مراد عورت تھی کیونکہ ننانوے عورتیں آپ کے پاس ہوتے ہوئے ایک اور عورت کی آپ نے خواہش کی تھی اس لئے دنبی کے پیرایہ میں سوال کیا گیا جب آپ نے یہ سمجھا ۔(ف40)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں رکوع کرنا سجدۂِ تلاوت کے قائم مقام ہوجاتا ہے جب کہ نیّت کی جائے ۔
اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف٤۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف٤۲)
(ف41)خَلق کی تدبیر پر آپ کو مامور کیا اور آپ کا حکم ان میں نافذ فرمایا ۔(ف42)اور اس وجہ سے ایمان سے محروم رہے اگر انہیں روزِ حساب کا یقین ہوتا تو دنیا ہی میں ایمان لے آتے ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے ، یہ کافروں کا گمان ہے (ف٤۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،
(ف43)اگرچہ وہ صراحۃً یہ نہ کہیں آسمان و زمین اور تمام دنیا بےکار پیدا کی گئی لیکن جب کہ بعث و جزا کے منکِر ہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ عالَم کی ایجاد کو عبث اور بے فائدہ مانیں ۔
کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بےحکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف٤٤)
(ف44)یہ بات بالکل حکمت کے خلاف ہے اور جو شخص جزا کا قائل نہیں وہ ضرور مفسِد و مصلِح اور فاجِر و متّقی کو برابر قرار دے گا اور ان میں فرق نہ کرے گا کفّار اس جہل میں گرفتار ہیں ۔شانِ نزول : کفّارِ قریش نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ آخرت میں جو نعمتیں تمہیں ملیں گی وہی ہمیں بھی ملیں گی اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ نیک و بد مومن و کافر کو برابر کردینا متقضائے حکمت نہیں کفّار کا خیال باطل ہے ۔
تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)
(ف50)یعنی میں ان سے رضائے الٰہی اور تقویّت و تائیدِ دِین کے لئے محبّت کرتا ہوں میری محبّت ان کے ساتھ دنیوی غرض سے نہیں ہے ۔ (تفسیر کبیر)(ف51)یعنی نظر سے غائب ہوگئے ۔
پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)
(ف52)اور اس ہاتھ پھیرنے کے چند باعث تھے ایک تو گھوڑوں کی عزّت و شرف کا اظہار کہ وہ دشمن کے مقابلے میں بہتر مُعِین ہیں ۔ دوسرے امورِ سلطنت کی خود نگرانی فرمانا کہ تمام عُمّال مستعِد رہیں ۔ سوم یہ کہ آپ گھوڑوں کے احوال اور ان کے امراض و عیوب کے اعلٰی ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر ان کی حالت کا امتحان فرماتے تھے بعض مفسّرین نے ان آیات کی تفسیر میں بہت سے واہی اقوال لکھ دیئے ہیں جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں اور وہ محض حکایات ہیں جو دلائلِ قویّہ کے سامنے کسی طرح قابلِ قبول نہیں اور یہ تفسیر جو ذکر کی گئی یہ عبارتِ قرآن سے بالکل مطابق ہے وللہ الحمد ۔ (تفسیر کبیر)
اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بےجان بدن ڈال دیا (ف۵٤) پھر رجوع لایا (ف۵۵)(
(ف53)بخاری و مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میں آج رات میں اپنی نوّے بیبیوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہِ خدا میں جہاد کرنے والا سوار پیدا ہوگا مگر یہ فرماتے وقت زبانِ مبارک سے ان شاء اللہ تعالٰی نہ فرمایا ۔ (غالباً حضرت کسی ایسے شغل میں تھے کہ اس کا خیال نہ رہا) تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ناقص الخلقت بچّہ پیدا ہوا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان شاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں کے لڑکے ہی پیدا ہوتے اور وہ راہِ خدا میں جہاد کرتے ۔ (بخاری پارہ تیرہ کتاب الانبیاء)(ف54)یعنی غیرِ تامُّ الخلقت بچّہ ۔(ف55)اللہ تعالٰی کی طرف استغفار کرکے ان شاء اللہ کہنے کی بھول پر اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)
(ف58)جو آپ کے حکم سے حسبِ مرضی عجیب و غریب عمارتیں تعمیر کرتا ۔(ف59)جو آپ کے لئے سمندر سے موتی نکالتا ۔ دنیا میں سب سے پہلے سمندر سے موتی نکلوانے والے آپ ہی ہیں ۔
ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف٦٤) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف٦۵)
(ف64)چنانچہ آپ نے زمین میں پاؤں مارا اور اس سے آبِ شیریں کا ایک چشمہ ظاہر ہوا اور آپ سے کہا گیا ۔(ف65)چنانچہ آپ نے اس سے پیا اور غسل کیا اور تمام ظاہری و باطنی مرض اور تکلیفیں دفع ہوگئیں ۔
ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،
(ف80)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب کافروں کے سردار جہنّم میں داخل ہوں گے اور ان کے پیچھے پیچھے ان کی اتباع کرنے والے تو جہنّم کے خازِن ان سرداروں سے کہیں گے یہ تمہارے متّبعین کی فوج ہے جو تمہاری طرح تمہارے ساتھ جہنّم میں دھنسی پڑتی ہے ۔
اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸٤)
(ف83)کفّار کے عمائد اور سردار ۔ (ف84)یعنی غریب مسلمانوں کو اور انہیں وہ اپنے دِین کا مخالف ہونے کے باعث شریر کہتے تھے اور غریب ہونے کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے جب کفّار جہنّم میں انہیں نہ دیکھیں گے تو کہیں گے وہ ہمیں کیوں نظر نہیں آتے ۔
کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸٦)
(ف85)اور درحقیقت وہ ایسے نہ تھے دوزخ میں آئے ہی نہیں ہمارا ان کے ساتھ استہزاء کرنا اور ان کی ہنسی بنانا باطل تھا ۔(ف86)اس لئے وہ ہمیں نظر نہ آئے ۔ یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کی طرف سے آنکھیں پھر گئیں اور دنیا میں ہم ان کے مرتبے اور بزرگی کو نہ دیکھ سکے ۔
مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)
(ف91)یعنی فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے باب میں ۔ یہ حضرت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحتِ نبوّت کی ایک دلیل ہے ۔ مدّعا یہ ہے کہ عالَمِ بالا میں فرشتوں کا حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے باب میں سوال و جواب کرنا مجھے کیا معلوم ہوتا اگر میں نبی نہ ہوتا اس کی خبر دینا میری نبوّت اور میرے پاس وحی آنے کی دلیل ہے ۔
مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)
(ف92)دارمی اور ترمذی کی حدیثوں میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے بہترین حال میں اپنے رب عزَّوجلَّ کے دیدار سے مشرف ہوا ۔ (حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ واقعہ خواب کا ہے) حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حضرت ربُّ العزّت عزَّوعلا و تبارک و تعالٰی نے فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) عالَمِ بالا کے ملائکہ کس بحث میں ہیں ؟ میں نے عرض کیا یارب تو ہی دانا ہے ۔ حضور نے فرمایا پھر ربُّ العزّت نے اپنا دستِ رحمت و کرم میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا اور میں نے اس کے فیض کا اثر اپنے قلبِ مبارک میں پایا تو آسمان و زمین کی تمام چیزیں میرے علم میں آگئیں پھر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا تم جانتے ہو کہ عالَمِ بالا کے ملائکہ کس امر میں بحث کررہے ہیں میں نے عرض کیا ہاں اے رب میں جانتا ہوں وہ کَفّارات میں بحث کررہے ہیں اور کَفّارات یہ ہیں نمازوں کے بعد مسجدمیں ٹھہرنا اور پیادہ پا جماعتوں کے لئے جانا اور جس وقت سردی وغیرہ کے باعث پانی کا استعمال ناگوار ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا جس نے یہ کیا اس کی زندگی بھی بہتر ، موت بھی بہتر اور گناہوں سے ایسا پاک صاف نکلے گا جیسا اپنی ولادت کے دن تھا اور فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنَ وَاِذَا اَۤرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَمَفْتُوْنٍ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ حضرت سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا مجھے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی اور ایک روایت میں ہے کہ جو کچھ مشرق و مغرب میں ہے سب میں نے جان لیا ۔ امام علّامہ علاؤ الدین علی بن محمّد ابنِ ابراہیم بغدادی معروف بِخازِن اپنی تفسیر میں اس کے معنٰی یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سینۂِ مبارک کھول دیا اور قلب شریف کومنوّر کردیا اور جو کوئی نہ جانے اس سب کی معرفت آپ کو عطا کردی تاآنکہ آپ نے نعمت و معرفت کی سردی اپنے قلبِ مبارک میں پائی اور جب قلب شریف منوّر ہوگیا اور سینۂِ پاک کُھل گیا تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے باعلامِ الٰہی جان لیا ۔
بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،
(ف99)اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ اگر آدم آ گ سے پیداکئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ ان سے بہتر ہو کر انہیں سجدہ کروں ۔
فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)
(ف100)اپنی سرکشی و نافرمانی و تکبر کےباعث ۔ پھر اللہ تعالٰی نے اس کی صورت بدل دی وہ پہلے حسین تھا بدشکل روسیاہ کردیا گیا ۔ اور اس کی نورانیّت سلب کردی گئی ۔
بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)
(ف102)آدم علیہ السلام او ر ان کی ذرّیّت اپنے فنا ہونے کے بعد جزا کے لئے ۔ اور اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے فراغت پائے اور ان سے اپنا بغض خوب نکالے اور موت سے بالکل بچ جائے کیونکہ اٹھنے کے بعد موت نہیں ۔
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ ﴿80﴾
فرمایا تو تو مہلت والوں میں ہے،(
اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿81﴾
اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)
(ف103)یعنی نفخۂِ اولٰی تک جس کو خَلق کی فنا کے لئے معیّن فرمایا گیا ۔