ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف٤) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف٦)
Many a generation We did destroy before them – thereupon they cried out whereas it is not the time to escape!
हम ने उन से पहले कितनी संगतें खपाईं तो अब वह पुकारें और छूटने का वक्त न था
Hum ne un se pehle kitni sangatain khapayen to ab woh pukarein aur chhootne ka waqt na tha
(ف4)یعنی آپ کی قوم سے پہلے کتنی امّتیں ہلاک کردیں اسی استکبار اور انبیاء کی مخالفت کے باعث ۔(ف5)یعنی نزولِ عذاب کے وقت انہوں نے فریاد کی ۔(ف6)کہ خَلاص پاسکتے اس وقت کی فریاد بیکار تھی کفّارِ مکّہ نے ان کے حال سے عبرت حاصل نہ کی ۔
کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،
“Has he made all the Gods into One God? This is really something very strange!”
क्या इस ने बहुत ख़ुदाओं का एक ख़ुदा कर दिया बेशक यह अजीब बात है,
Kya is ne bohat khudaon ka ek khuda kar diya beshak yeh ajeeb baat hai,
(ف8)شانِ نزول : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٌٰی عنہ اسلام لائے تو مسلمانوں کو خوشی ہوئی اور کافروں کو نہایت رنج ہوا ولید بن مغیرہ نے قریش کے عمائد اور سر بر آوردہ پچّیس آدمیوں کو جمع کیا اور انہیں ابو طالب کے پاس لایا اور ان سے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو اور بزرگ ہو ہم تمہارے پا س اس لئے آئے ہیں کہ تم ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کردو ان کی جماعت کے چھوٹے درجے کے لوگوں نے جو شورش برپا کررکھی ہے وہ تم جانتے ہو ابوطالب نے حضرت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بُلا کر عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم کے لوگ ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں آپ ان کی طرف سے یک لخت انحراف نہ کیجئے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اتنا چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کے ذکر کوچھوڑ دیجئے ہم آپ کے اور آپ کے معبود کی بدگوئی کے درپے نہ ہوں گے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا تم ایک کلمہ قبول کرسکتے ہو جس سے عرب و عجم کے مالک و فرمانبردار ہوجاؤ ؟ ابوجہل نے کہا کہ ایک کیا ہم دس کلمے قبول کرسکتے ہیں ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہو' لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ' اس پر وہ لوگ اٹھ گئے اور کہنے لگے کہ کیا انہوں نے بہت سے خداؤں کا ایک خدا کردیا اتنی بہت سی مخلوق کے لئے ایک خدا کیسے کافی ہوسکتا ہے ۔
کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)
“Is the Qur’an which is sent to him, among us?” In fact they are in a doubt concerning My Book; in fact, they have not yet tasted My punishment.
क्या उन पर कुरान उतारा गया हम सब में से बल्की वह शक में हैं मेरी किताब से बल्की अभी मेरी मार नहीं चुक़ी है
Kya un par Quran utara gaya hum sab mein se balki woh shak mein hain meri kitaab se balki abhi meri maar nahi chukhi hai
(ف11)اہلِ مکّہ کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منصبِ نبوّت پر حسد آیا اور انہوں نے یہ کہا کہ ہم میں صاحبِ شرف و عزّت آدمی موجود تھے ان میں سے کسی پر قرآن نہ اترا خاص حضرت سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر اترا ۔(ف12)کہ اس کے لانے والے حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ۔(ف13)اگر میرا عذاب چکھ لیتے تو یہ شک و تکذیب و حسد کچھ باقی نہ رہتا اور نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تصدیق کرتے لیکن اس وقت کی تصدیق مفید نہ ہوتی ۔
کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱٤) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)
Or do they hold the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Great Bestower?
क्या वह तुम्हारे रब की रहमत के ख़ज़ांची हैं वह इज़्ज़त वाला बहुत अता फ़रमाने वाला है
Kya woh tumhare Rab ki rehmat ke khazaanchi hain woh izzat wala bohat ata farmane wala hai
(ف14)اور کیا نبوّت کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہیں دیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اللہ تعالٰی اور اس کی مالکیّت کو نہیں جانتے ۔(ف15)حسبِ اقتضائے حکمت جسے جو چاہے عطا فرمائے اس نے اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نبوّت عطا فرمائی تو کسی کو اس میں دخل دینے اورچوں چرا کی کیا مجال ۔
کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱٦)
Is the kingdom of the heavens and the earth and all that is between them, for them? So would they not just ascend using ropes?
क्या उनके लिए है सल्तनत आसमानों और ज़मीन की और जो कुछ उनके दरमियाँ है, तो रस्सियां लटका कर चढ़ न जाएँ
Kya un ke liye hai saltanat aasmaano aur zameen ki aur jo kuch un ke darmiyan hai, to rassiain latka kar charh na jaayein
(ف16)اور ایسا اختیار ہو تو جسے چاہیں وحی کے ساتھ خاص کریں اور عالَم کی تدبیر اپنے ہاتھ میں لیں اور جب یہ کچھ نہیں ہے تو امورِ ربّانیہ و تدابیرِ الٰہیہ میں دخل کیوں دیتے ہیں انہیں اس کا کیا حق ہے ، کفّار کو یہ جواب دینے کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے نبی کریم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نصرت و مدد کا وعدہ فرمایا ہے ۔
یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)
This is just one of the disgraced armies, that will be routed there and then.
यह एक ज़लील लश्कर है उन्हें लश्करों में से जो वहीं भगा दिया जाएगा
Yeh ek zaleel lashkar hai unhein lashkaron mein se jo wahiin bhaga diya jaayega
(ف17)یعنی ان قریش کی جماعت انہیں لشکروں میں سے ایک ہے جو آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے مقابل گروہ باندھ باندھ کر آیا کرتے تھے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے اس سبب سے ہلاک کردیئے گئے اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر دی کے یہی حال ان کا ہے کہ انھیں بھی ہزیمت ہو گی چنانچہ بدر میں ایسا واقع ہوا اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسکینِ خاطر کے لئے پچھلے انبیاء علیہم السلام اور ان قوموں کا ذکر فرمایا ۔
ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)
Before them, the people of Nooh had denied, and the tribe of A’ad, and Firaun who used to crucify.
उन से पहले झुठला चुके हैं नूह की क़ौम और आद और चूमिखा करने वाले फ़िरौन
Un se pehle jhutla chuke hain Nuh ki qaum aur A’ad aur Chumikhah karne wale Firaun
(ف18)جو کسی پر غصّہ کرتا تھا تو اسے لٹا کر اس کے چاروں ہاتھ پاؤں کھینچ کر چاروں طرف کھونٹوں میں بندھو ا دیتا تھا پھر اس کو پٹواتا تھا اور اس پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا ۔
تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲٤) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)
Have patience upon what they say, and remember Our bondman Dawud, the one blessed with favours; he is indeed most inclined (towards His Lord).
तुम उनके बातों पर सब्र करो और हमारे बंदे दाऊद नेमतों वाले को याद करो बेशक वह बड़ा रुजू करने वाला है
Tum un ki baaton par sabr karo aur humare bande Dawood ni’maton wale ko yaad karo beshak woh bara rujoo karne wala hai
(ف24)جن کو عبادت کی بہت قوّت دی گئی تھی آپ کا طریقہ تھا کہ ایک دن روزہ رکھتے ایک دن افطار فرماتے اور رات کے پہلے نصف حصّہ میں عبادت کرتے اس کے بعد شب کی ایک تہائی آرام فرماتے پھر باقی چھٹا حصّہ عبادت میں گزارتے ۔(ف25)اپنے رب کی طرف ۔
بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲٦) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)
Indeed We subjected the hills to say the praise with him, at night and at morn.
बेशक हम ने इसके साथ पहाड़ मस्कर फ़रमा दिए के तसबिह करते शाम को और सूरज चमकते
Beshak hum ne is ke saath pahaar maskhar farma diye ke tasbeeh karte shaam ko aur sooraj chamakte
(ف26)حضرت داؤد علیہ السلام کی تسبیح کے ساتھ ۔(ف27)اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے پہاڑوں کو ایسا مسخّر کیا تھا کہ جہاں آپ چاہتے انھیں اپنے ساتھ لے جاتے ۔ (مدارک)
اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)
And birds gathered together; they were all obedient to him.
और परिंदे जमा किए हुए सब इसके फ़रमानबदार थे
Aur parinday jama kiye hue sab is ke farmanbardar the
(ف28)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح کرتے اور پرندے آپ کے پاس جمع ہو کر تسبیح کرتے ۔(ف29)پہاڑ بھی اور پرند بھی ۔
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)
And We strengthened his kingdom and gave him wisdom and just speech.
और हम ने इसकी सल्तनत को मज़बूत किया और उसे हिक़मत और क़ौल-ए-फ़ैसाल दिया
Aur hum ne is ki saltanat ko mazboot kiya aur use hikmat aur qawl-e-faisal diya
(ف30)فوج و لشکر کی کثرت عطا فرما کر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت بڑی مضبوط اور قوی سلطنت تھی چھتّیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے پر مقرر تھے ۔(ف31)یعنی نبوّت ۔ بعض مفسّرین نے حکمت کی تفسیر عدل کی ہے ، بعض نے کتابُ اللہ کا علم ، بعض نے فقہ ، بعض نے سنّت ۔ (جمل)(ف32)قولِ فیصل سے علمِ قضا مراد ہے جوحق و باطل میں فرق وتمیُّز کردے ۔
جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلاف حق نہ کیجئے (ف۳٦) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،
When they entered upon David, so he feared them – they said, “Do not fear! We are two disputants, one of whom has wronged the other, therefore judge fairly between us and do not judge unjustly – and show us the right way.”
जब वह दाऊद पर दाख़िल हुए तो वह उन से घबरा गया उन्होंने अर्जी की डरे नहीं हम दो फ़रीक हैं कि एक ने दूसरे पर ज़ियादती की है तो हम में सच्चा फ़ैसला फ़रमा दीजिए और खिलाफ-ए-हक़ न कीजिए और हमें सीधी राह बताइए,
Jab woh Dawood par daakhil hue to woh un se ghabra gaya unhone arz ki darye nahi hum do fareeq hain ke ek ne doosre par ziadati ki hai to hum mein sachaa faisla farma dijiye aur khilaf-e-haq na kijiye aur humein seedhi raah bataiye,
(ف35)ان کا یہ قول ایک مسئلہ کی فرضی شکل پیش کرکے جواب حاصل کرنا تھا اور کسی مسئلہ کے متعلق حکم معلوم کرنے کے لئے فرضی صورتیں مقرر کرلی جاتی ہیں اور معیّن اشخاص کی طرف انکی نسبت کردی جاتی ہے تاکہ مسئلہ کا بیان بہت واضح طریقہ پر ہواور ابہام باقی نہ رہے یہاں جو صورتِ مسئلہ ان فرشتوں نے پیش کی اس سے مقصود حضرت داؤد علیہ السلام کو توجّہ دلانا تھی اس امر کی طرف جو انہیں پیش آیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آپ کی ننانوے بیبیاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دے دیا جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکا تھا لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزّہ واقارب دوسرے کی طرف التفات کرنے والے کب تھے آپ کے لئے راضی ہوگئے اور آپ سے نکاح ہوگیا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس مسلمان کے ساتھ نکاح ہوچکا تھا آپ نے اس مسلمان سے اپنی رغبت کا اظہار کیا اور چاہا کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دے دے وہ آپ کے لحاظ سے منع نہ کرسکا اور اس نے طلاق دے دی آپ کا نکاح ہوگیا اور اس زمانہ میں ایسا معمول تھا کہ اگر کسی شخص کو کسی عورت کی طرف رغبت ہوتی تو اس سے استدعا کرکے طلاق دلوا لیتا اور بعدِ عدت نکاح کرلیتا ، یہ بات نہ تو شرعاً ناجائز ہے نہ اس زمانہ کے رسم وعادت کے خلاف لیکن شانِ انبیاء بہت ارفع و اعلٰی ہوتی ہے اس لئے یہ آپ کے منصبِ عالی کے لائق نہ تھا تو مرضیِ الٰہی یہ ہوئی کہ آپ کو اس پر آگاہ کیا جائے اور اس کا سبب یہ پیدا کیا کہ ملائکہ مدعی اور مدعا علیہ کی شکل میں آپ کے سامنے پیش ہوئے ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر بزرگوں سے کوئی لغزش صادر ہو اور کوئی امر خلافِ شان واقع ہوجائے تو ادب یہ ہے کہ معترضانہ زبان نہ کھولی جائے بلکہ اس واقعہ کی مثل ایک و اقعہ متصور کرکے اس کی نسبت سائلانہ و مستفتیانہ و مستفیدانہ سوال کیا جائے اور ان کی عظمت و احترام کا لحاظ رکھا جائے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی عزَّوجلَّ مالک ومولٰی اپنے انبیاء کی ایسی عزّت فرماتا ہے کہ ان کو کسی بات پرآگا ہ کرنے کے لئے ملائکہ کو اس طریقِ ادب کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیتا ہے ۔(ف36)جس کی غلطی ہو بے رو رعایت فرمادیجئے ۔
بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی ، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،
“This is my brother; he has ninety nine ewes and I have one ewe; and he now says ‘Give that one also to me’ – and he is very demanding in speech.”
बेशक यह मेरा भाई है इसके पास निनानवे दूनबियाँ हैं और मेरे पास एक दूनबी, अब यह कहता है वह भी मुझे हवाले कर दे और बात में मुझ पर ज़ोर डालता है,
Beshak yeh mera bhai hai is ke paas ninnaveh dunbiyan hain aur mere paas ek dunbi, ab yeh kehta hai woh bhi mujhe hawale kar de aur baat mein mujh par zor daalta hai,
داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف٤۰) اور رجوع لایا ، ( السجدة ۱۰)
Said Dawud, “He is indeed being unjust to you in that he demands to add your ewe to his ewes; and indeed most partners wrong one another, except those who believe and do good deeds – and they are very few!” Thereupon Dawud realised that We had tested him, so he sought forgiveness from his Lord, and fell prostrate and inclined (towards his Lord). (Command of Prostration # 10)
दाऊद ने फ़रमाया बेशक यह तुझ पर ज़ियादती करता है कि तेरी दूनबी अपनी दूनबियों में मिलाने को मांगता है, और बेशक अक्सर साझे वाले एक दूसरे पर ज़ियादती करते हैं मगर जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और वह बहुत थोड़े हैं अब दाऊद समझा कि हम ने यह इसकी जाँच की थी तो अपने रब से माफ़ी मांगी और स्ज़ुदे में गिर पड़ा और रुजू लाया, (अस-सज्दह 10)
Dawood ne farmaya beshak yeh tujh par ziadati karta hai ke teri dunbi apni dunbiyon mein milane ko maangta hai, aur beshak aksar saajhe wale ek doosre par ziadati karte hain magar jo iman laaye aur achhe kaam kiye aur woh bohat thode hain ab Dawood samjha ke hum ne yeh is ki jaanch ki thi to apne Rab se maafi maangi aur sajde mein gir pada aur rujoo laya, (As-Sajdah 10)
(ف38)حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ گفتگو سن کر فرشتوں میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھا اور تبسّم کرکے وہ آسمان کی طرف روانہ ہوگئے ۔(ف39)اور دنبی ایک کنایہ تھا جس سے مراد عورت تھی کیونکہ ننانوے عورتیں آپ کے پاس ہوتے ہوئے ایک اور عورت کی آپ نے خواہش کی تھی اس لئے دنبی کے پیرایہ میں سوال کیا گیا جب آپ نے یہ سمجھا ۔(ف40)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں رکوع کرنا سجدۂِ تلاوت کے قائم مقام ہوجاتا ہے جب کہ نیّت کی جائے ۔
اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف٤۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف٤۲)
“O Dawud! We have indeed appointed you as a Viceroy in the earth, therefore judge between mankind with the truth, and do not follow desire for it will lead you astray from Allah’s path; indeed for those who stray away from Allah’s path is a severe punishment, because they forgot the Day of Reckoning.”
ऐ दाऊद बेशक हम ने तुझे ज़मीन में नायब किया तो लोगों में सच्चा हुक्म कर और ख़्वाहिश के पीछे न जाना कि तुझे अल्लाह की राह से भटका देगी, बेशक वह जो अल्लाह की राह से भटकते हैं उनके लिए सख़्त अज़ाब है इस पर कि वह हिसाब के दिन को भूल बैठें
Ae Dawood beshak hum ne tujhe zameen mein naib kiya to logon mein sachaa hukum kar aur khwahish ke peeche na jaa ke tujhe Allah ki raah se behka degi, beshak woh jo Allah ki raah se behakte hain un ke liye sakht azaab hai is par ke woh hisaab ke din ko bhool baithen
(ف41)خَلق کی تدبیر پر آپ کو مامور کیا اور آپ کا حکم ان میں نافذ فرمایا ۔(ف42)اور اس وجہ سے ایمان سے محروم رہے اگر انہیں روزِ حساب کا یقین ہوتا تو دنیا ہی میں ایمان لے آتے ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے ، یہ کافروں کا گمان ہے (ف٤۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،
And We have not created the heaven and the earth and all that is between them without purpose; this is what the disbelievers assume; therefore ruin is for the disbelievers, by the fire.
और हम ने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियाँ है बेकार न बनाए, यह काफ़िरों का गुमान है तो काफ़िरों की ख़राबी है आग से,
Aur hum ne aasmaan aur zameen aur jo kuch un ke darmiyan hai bekaar na banaye, yeh kafiron ka gumaan hai to kafiron ki kharabi hai aag se,
(ف43)اگرچہ وہ صراحۃً یہ نہ کہیں آسمان و زمین اور تمام دنیا بےکار پیدا کی گئی لیکن جب کہ بعث و جزا کے منکِر ہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ عالَم کی ایجاد کو عبث اور بے فائدہ مانیں ۔
کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بےحکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف٤٤)
Shall We make those who believe and do good deeds equal to those who spread turmoil in the earth? Or shall We equate the pious with the disobedient?
क्या हम उन्हें जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उन जैसा कर दें जो ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं, या हम परहेज़गारों को शरीर बे-हुक्मों के बराबर ठहरा दें
Kya hum unhein jo iman laaye aur achhe kaam kiye un jaisa kar dein jo zameen mein fasaad phailate hain, ya hum parhezgaron ko sharir be-hukmon ke barabar thehra dein
(ف44)یہ بات بالکل حکمت کے خلاف ہے اور جو شخص جزا کا قائل نہیں وہ ضرور مفسِد و مصلِح اور فاجِر و متّقی کو برابر قرار دے گا اور ان میں فرق نہ کرے گا کفّار اس جہل میں گرفتار ہیں ۔شانِ نزول : کفّارِ قریش نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ آخرت میں جو نعمتیں تمہیں ملیں گی وہی ہمیں بھی ملیں گی اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ نیک و بد مومن و کافر کو برابر کردینا متقضائے حکمت نہیں کفّار کا خیال باطل ہے ۔
جبکہ اس پر پیش کیے گئے تیسرے پہر کو (ف٤۸) کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائے تو ہوا ہوجائیں (ف٤۹)
When fast footed steeds were presented to him at evening.
जबकि इस पर पेश किए गए तीसरे पहर को कि रोकीए तो तीन पाँव पर खड़े हों चौथे सम का किनारा ज़मीन पर लगाए हुए और चलाएं तो हवा हो जाएँ
Jabke is par pesh kiye gaye teesre pehar ko ke rokiye to teen paon par khade hon chauthe sam ka kinara zameen par lagaye hue aur chalaye to hawa ho jaayein
(ف48)بعدِ ظہر ایسے گھوڑے ۔(ف49)یہ ہزار گھوڑے تھے جو جہاد کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ملاحظہ میں بعدِ ظہر پیش کئے گئے ۔
تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)
Therefore Sulaiman said, “I cherish the love of these horses*, out of remembrance of my Lord”; he then ordered them to be raced until they vanished in a curtain out of sight. (To be used in holy war.)
तो सुलैमान ने कहा मुझे उन घोड़ों की मोहब्बत पसंद आई है अपने रब की याद के लिए फिर उन्हें चलाने का हुक्म दिया यहाँ तक कि निगाह से पर्दे में छुप गए
To Sulayman ne kaha mujhe un ghodon ki mohabbat pasand aayi hai apne Rab ki yaad ke liye phir unhein chalane ka hukum diya yahan tak ke nigah se parde mein chhup gaye
(ف50)یعنی میں ان سے رضائے الٰہی اور تقویّت و تائیدِ دِین کے لئے محبّت کرتا ہوں میری محبّت ان کے ساتھ دنیوی غرض سے نہیں ہے ۔ (تفسیر کبیر)(ف51)یعنی نظر سے غائب ہوگئے ۔
پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)
He then ordered, “Bring them back to me”; and he began caressing their shins and necks.
फिर हुक्म दिया कि उन्हें मेरे पास वापस लाओ तो उनकी पिंडलियों और गर्दनों पर हाथ फेरने लगा
Phir hukum diya ke unhein mere paas wapas laao to un ki pandliyon aur gardan par haath pherne laga
(ف52)اور اس ہاتھ پھیرنے کے چند باعث تھے ایک تو گھوڑوں کی عزّت و شرف کا اظہار کہ وہ دشمن کے مقابلے میں بہتر مُعِین ہیں ۔ دوسرے امورِ سلطنت کی خود نگرانی فرمانا کہ تمام عُمّال مستعِد رہیں ۔ سوم یہ کہ آپ گھوڑوں کے احوال اور ان کے امراض و عیوب کے اعلٰی ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر ان کی حالت کا امتحان فرماتے تھے بعض مفسّرین نے ان آیات کی تفسیر میں بہت سے واہی اقوال لکھ دیئے ہیں جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں اور وہ محض حکایات ہیں جو دلائلِ قویّہ کے سامنے کسی طرح قابلِ قبول نہیں اور یہ تفسیر جو ذکر کی گئی یہ عبارتِ قرآن سے بالکل مطابق ہے وللہ الحمد ۔ (تفسیر کبیر)
اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بےجان بدن ڈال دیا (ف۵٤) پھر رجوع لایا (ف۵۵)(
And We indeed tested Sulaiman, and placed a dead body on his throne – he therefore inclined towards His Lord.
और बेशक हम ने सुलैमान को जाँचा और उसके तक़्त पर एक बे-जान बदन डाल दिया फिर रुजू लाया
Aur beshak hum ne Sulayman ko jaancha aur us ke takht par ek be-jaan badan daal diya phir rujoo laya
(ف53)بخاری و مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میں آج رات میں اپنی نوّے بیبیوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہِ خدا میں جہاد کرنے والا سوار پیدا ہوگا مگر یہ فرماتے وقت زبانِ مبارک سے ان شاء اللہ تعالٰی نہ فرمایا ۔ (غالباً حضرت کسی ایسے شغل میں تھے کہ اس کا خیال نہ رہا) تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ناقص الخلقت بچّہ پیدا ہوا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان شاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں کے لڑکے ہی پیدا ہوتے اور وہ راہِ خدا میں جہاد کرتے ۔ (بخاری پارہ تیرہ کتاب الانبیاء)(ف54)یعنی غیرِ تامُّ الخلقت بچّہ ۔(ف55)اللہ تعالٰی کی طرف استغفار کرکے ان شاء اللہ کہنے کی بھول پر اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)
And made the demons subservient to him, all builders and divers.
और देव बस में कर दिए हर मिमार और गोता खोर
Aur deo bas mein kar diye har ma’mar aur ghoota khor
(ف58)جو آپ کے حکم سے حسبِ مرضی عجیب و غریب عمارتیں تعمیر کرتا ۔(ف59)جو آپ کے لئے سمندر سے موتی نکالتا ۔ دنیا میں سب سے پہلے سمندر سے موتی نکلوانے والے آپ ہی ہیں ۔
اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی، (ف٦۳)(۲
And remember Our bondman Ayyub (Job); when he cried out* to his Lord, “The devil has struck me with hardship and pain.” (After seven years of patience.)
और याद करो हमारे बंदे आयूब को जब उसने अपने रब को पुकारा कि मुझे शैतान ने तकलीफ़ और ऐज़ा लगा दी,
Aur yaad karo humare bande Ayyub ko jab us ne apne Rab ko pukara ke mujhe shaitaan ne takleef aur aiza laga di,
(ف63)جسم اور مال میں اس سے آپ کا مرض اور اس کے شدائد مراد ہیں ۔ ( اس واقعہ کا مفصّل بیان سور ۂِ انبیاء کے رکوع چھ میں گزر چکا ہے)
ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف٦٤) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف٦۵)
We said to him, “Strike the earth with your foot; this cool spring is for bathing and drinking.” (A spring of gushed forth when he struck the earth – this was a miracle.)
हम ने फ़रमाया ज़मीन पर अपना पाँव मार यह है ठंडा चश्मा नहाने और पीने को
Hum ne farmaya zameen par apna paon maar yeh hai thanda chashma nahaane aur peene ko
(ف64)چنانچہ آپ نے زمین میں پاؤں مارا اور اس سے آبِ شیریں کا ایک چشمہ ظاہر ہوا اور آپ سے کہا گیا ۔(ف65)چنانچہ آپ نے اس سے پیا اور غسل کیا اور تمام ظاہری و باطنی مرض اور تکلیفیں دفع ہوگئیں ۔
اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دے (ف٦۷) اور قسم نہ توڑ بےہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ (ف٦۸) بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے،
And We said, “Take a broom in your hand and strike her with it, and do not break your vow”; We indeed found him patiently enduring; what an excellent bondman! He is indeed most inclined.
और फ़रमाया कि अपने हाथ में एक झाड़ू लेकर इस से मार दे और क़सम न तोड़े बेशक हम ने उसे सब्र पाया क्या अच्छा बंदा बेशक वह बहुत रुजू लाने वाला है,
Aur farmaya ke apne haath mein ek jhaadoo le kar is se maar de aur qasam na tode bes hum ne use sabr paya kya achha banda beshak woh bohat rujoo laane wala hai,
(ف67)اپنی بی بی کو جس کو سو ضربیں مارنے کی قَسم کھائی تھی دیر سے حاضر ہونے کے باعث ۔(ف68)یعنی ایوب علیہ السلام ۔
ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،
“Here is another group that was with you, falling along with you”; they will answer, “Do not give them plenty of open space; they surely have to enter the fire – let them also be confined!”
उनसे कहा जाएगा यह एक और फ़ौज तुम्हारे साथ धंसी पड़ती है जो तुम्हारी थी वह कहेंगे उन्हें खुली जगह न मिली आग में तो उन्हें जाना ही है,
Un se kaha jaayega yeh ek aur fauj tumhare saath dhansi padti hai jo tumhari thi woh kahenge un ko khuli jagah na miley aag mein to un ko jana hi hai,
(ف80)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب کافروں کے سردار جہنّم میں داخل ہوں گے اور ان کے پیچھے پیچھے ان کی اتباع کرنے والے تو جہنّم کے خازِن ان سرداروں سے کہیں گے یہ تمہارے متّبعین کی فوج ہے جو تمہاری طرح تمہارے ساتھ جہنّم میں دھنسی پڑتی ہے ۔
اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸٤)
And they say, “What is the matter with us that we do not see the men whom we thought were evil?”
और बोले हमें क्या हुआ हम उन मर्दों को नहीं देखते जिन्हें बुरा समझते थे
Aur bole humein kya hua hum un mardon ko nahi dekhte jinhein bura samjhte the
(ف83)کفّار کے عمائد اور سردار ۔ (ف84)یعنی غریب مسلمانوں کو اور انہیں وہ اپنے دِین کا مخالف ہونے کے باعث شریر کہتے تھے اور غریب ہونے کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے جب کفّار جہنّم میں انہیں نہ دیکھیں گے تو کہیں گے وہ ہمیں کیوں نظر نہیں آتے ۔
کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸٦)
“Did we mock at them or did our eyes turn away from them?”
क्या हम ने उन्हें हँसी बना लिया या आँखें उनकी तरफ़ से फिर गईं
Kya hum ne unhein hansi bana liya ya aankhein un ki taraf se phir gayi
(ف85)اور درحقیقت وہ ایسے نہ تھے دوزخ میں آئے ہی نہیں ہمارا ان کے ساتھ استہزاء کرنا اور ان کی ہنسی بنانا باطل تھا ۔(ف86)اس لئے وہ ہمیں نظر نہ آئے ۔ یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کی طرف سے آنکھیں پھر گئیں اور دنیا میں ہم ان کے مرتبے اور بزرگی کو نہ دیکھ سکے ۔
تم فرماؤ (ف۸۷) میں ڈر سنانے والا ہی ہوں (ف۸۸) اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I am purely a Herald of Warning – and there is no God except Allah, the One, the All Dominant.”
तुम फ़रमाओ मैं डर सुनाने वाला ही हूँ और माबूद कोई नहीं मगर एक अल्लाह सब पर ग़ालिब,
Tum farmaao main darr sunane wala hi hoon aur ma’bud koi nahi magar ek Allah sab par ghaalib,
(ف87)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکّہ کے کفّار سے ۔(ف88)تمہیں عذابِ الٰہی کا خوف دلاتا ہوں ۔
مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)
“What did I know of the heavenly world, when the angels had disputed.”
मुझे आलम-ए-बाला की क्या ख़बर थी जब वह झगड़ते थे
Mujhe aalam-e-bala ki kya khabar thi jab woh jhagrate the
(ف91)یعنی فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے باب میں ۔ یہ حضرت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحتِ نبوّت کی ایک دلیل ہے ۔ مدّعا یہ ہے کہ عالَمِ بالا میں فرشتوں کا حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے باب میں سوال و جواب کرنا مجھے کیا معلوم ہوتا اگر میں نبی نہ ہوتا اس کی خبر دینا میری نبوّت اور میرے پاس وحی آنے کی دلیل ہے ۔
مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)
“I receive only the divine revelations, that I am purely a clear Herald of Warning.”
मुझे तो यही वाही होती है कि मैं नहीं मगर रोशन डर सुनाने वाला
Mujhe to yehi wahi hoti hai ke main nahi magar roshan darr sunane wala
(ف92)دارمی اور ترمذی کی حدیثوں میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے بہترین حال میں اپنے رب عزَّوجلَّ کے دیدار سے مشرف ہوا ۔ (حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ واقعہ خواب کا ہے) حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حضرت ربُّ العزّت عزَّوعلا و تبارک و تعالٰی نے فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) عالَمِ بالا کے ملائکہ کس بحث میں ہیں ؟ میں نے عرض کیا یارب تو ہی دانا ہے ۔ حضور نے فرمایا پھر ربُّ العزّت نے اپنا دستِ رحمت و کرم میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا اور میں نے اس کے فیض کا اثر اپنے قلبِ مبارک میں پایا تو آسمان و زمین کی تمام چیزیں میرے علم میں آگئیں پھر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا تم جانتے ہو کہ عالَمِ بالا کے ملائکہ کس امر میں بحث کررہے ہیں میں نے عرض کیا ہاں اے رب میں جانتا ہوں وہ کَفّارات میں بحث کررہے ہیں اور کَفّارات یہ ہیں نمازوں کے بعد مسجدمیں ٹھہرنا اور پیادہ پا جماعتوں کے لئے جانا اور جس وقت سردی وغیرہ کے باعث پانی کا استعمال ناگوار ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا جس نے یہ کیا اس کی زندگی بھی بہتر ، موت بھی بہتر اور گناہوں سے ایسا پاک صاف نکلے گا جیسا اپنی ولادت کے دن تھا اور فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنَ وَاِذَا اَۤرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَمَفْتُوْنٍ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ حضرت سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا مجھے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی اور ایک روایت میں ہے کہ جو کچھ مشرق و مغرب میں ہے سب میں نے جان لیا ۔ امام علّامہ علاؤ الدین علی بن محمّد ابنِ ابراہیم بغدادی معروف بِخازِن اپنی تفسیر میں اس کے معنٰی یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سینۂِ مبارک کھول دیا اور قلب شریف کومنوّر کردیا اور جو کوئی نہ جانے اس سب کی معرفت آپ کو عطا کردی تاآنکہ آپ نے نعمت و معرفت کی سردی اپنے قلبِ مبارک میں پائی اور جب قلب شریف منوّر ہوگیا اور سینۂِ پاک کُھل گیا تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے باعلامِ الٰہی جان لیا ۔
فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں (ف۹۸)
Said Allah, “O Iblis! What prevented you from prostrating before one whom I have created with My hands*? Have you become proud or were you haughty from the beginning?” (Used as a metaphor).
फ़रमाया ऐ इब्लीस तुझे किस चीज़ ने रोका कि तू इसके लिए सज्दा करे जिसे मैं ने अपने हाथों से बनाया तुझे घुरूर आगया या तू था ही मग़रूरों में
Farmaya ae Iblees tujhe kis cheez ne roka ke tu is ke liye sajda kare jise main ne apne haathon se banaya tujhe ghuroor aagaya ya tu tha hi maghrooroon mein
بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،
Said Iblis, “I am better than him; You made me from fire, and You have created him from clay!”
बोला मैं इस से बेहतर हूँ तू ने मुझे आग से बनाया और उसे मिट्टी से पैदा किया,
Bola main is se behtar hoon to ne mujhe aag se banaya aur use mitti se paida kiya,
(ف99)اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ اگر آدم آ گ سے پیداکئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ ان سے بہتر ہو کر انہیں سجدہ کروں ۔
فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)
He said, “Therefore exit from heaven, for you have been outcast.” (To disrespect the Prophets – peace and blessings be upon them – is blasphemy.)
फ़रमाया तू जन्नत से निकल जा कि तू रांधा (लानत किया) गया
Farmaya tu jannat se nikal ja ke tu randha (l'anat kiya) gaya
(ف100)اپنی سرکشی و نافرمانی و تکبر کےباعث ۔ پھر اللہ تعالٰی نے اس کی صورت بدل دی وہ پہلے حسین تھا بدشکل روسیاہ کردیا گیا ۔ اور اس کی نورانیّت سلب کردی گئی ۔
بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)
He said, “My Lord! Therefore give me respite till the day when all will be raised.”
बोला ऐ मेरे रब ऐसा है तो मुझे मोहालत दे उस दिन तक कि उठाए जाएँ
Bola ae mere Rab aisa hai to mujhe mohalat de us din tak ke uthaye jaayein
(ف102)آدم علیہ السلام او ر ان کی ذرّیّت اپنے فنا ہونے کے بعد جزا کے لئے ۔ اور اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے فراغت پائے اور ان سے اپنا بغض خوب نکالے اور موت سے بالکل بچ جائے کیونکہ اٹھنے کے بعد موت نہیں ۔
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ ﴿80﴾
فرمایا تو تو مہلت والوں میں ہے،(
Said Allah, “You are therefore among those given respite.”
फ़रमाया तू तू मोहालत वालों में है,
Farmaya tu tu mohalat walon mein hai,
اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿81﴾
اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)
“Until the time of the known day.”
उस जाने हुए वक्त के दिन तक
Us jaane hue waqt ke din tak
(ف103)یعنی نفخۂِ اولٰی تک جس کو خَلق کی فنا کے لئے معیّن فرمایا گیا ۔
تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I do not ask any fee from you for the Qur’an, and I am not a fabricator.”
तुम फ़रमाओ मैं इस कुरान पर तुम से कुछ अज्र नहीं मांगता और मैं बनावट वालों से नहीं,
Tum farmaao main is Quran par tum se kuch ajr nahi maangta aur main banawat walon se nahi,
اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴿87﴾
وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے،
“It is not but an advice for the entire world.”
वह तो नहीं मगर नसीहत सारे जहान के लिए,
Woh to nahi magar naseehat saare jahan ke liye,
وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعۡدَ حِيۡنِ ﴿88﴾
اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جانو گے (ف۱۰٦)
“And you will come to know of its tidings, after a while.”
और ज़रूर एक वक्त के बाद तुम इसकी खबर जानोगे
Aur zaroor ek waqt ke baad tum is ki khabar jaano ge
(ف106)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ موت کے بعد اور ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے روز
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page