Ta-Ha.* (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals know their precise meanings.)
ऐ महबूब! हम ने तुम पर ये कुरआन इस लिए न उतारा कि मुश्किल में पड़ो
اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو (ف۲)
We have not sent down this Qur’an upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for you to fall into hardship! (Either because he used to pray at length during the night or because he was distressed due to the disbelievers not accepting faith.)
हाँ इस को नसीहत जो डर रखता हो
Ae Mehboob! Humne tum par ye Qur'an is liye na utara ke mashaqat mein pado
(ف2)اور تمام شب کے قیام کی تکالیف اٹھاؤ ۔شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عبادت میں بہت جہد فرماتے تھے اور تمام شب قیام میں گزارتے یہاں تک کہ قدم مبارک ورم کر آتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور جبریل علیہ السلام نے حاضر ہو کر بحکمِ الٰہی عرض کیا کہ اپنے نفسِ پاک کو کچھ راحت دیجئے اس کا بھی حق ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں کے کُفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ متأسّف و متحسّر رہتے تھے اور خاطرِ مبارک پر اس سبب سے رنج و ملال رہا کرتا تھا اس آیت میں فرمایا گیا کہ آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں قرآنِ پاک آپ کی مشقت کے لئے نازِل نہیں کیا گیا ہے ۔
اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے (ف٤)
To Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, and all whatever is between them, and all whatever is beneath this wet soil.
और अगर तू बात पुकार कर कहे तो वह तो भेद को जानता है और उसे जो उससे भी ज़्यादा छुपा है
Iska hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein aur jo kuch unke beech mein aur jo kuch is gili mitti ke neeche hai
(ف4)جو ساتوں زمینوں کے نیچے ہے ۔ مراد یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے عرش و سماوات ، زمین و تحت الثرٰی ، کچھ ہو ،کہیں ہو ، سب کا مالک اللہ ہے ۔
اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے (ف۵)
And if you speak aloud – so He surely knows the secret and that which is more concealed.
अल्लाह कि उसके सिवा किसी की बंदगी नहीं, उसी के हैं सब अच्छे नाम
Aur agar tu baat pukār kar kahe to woh to bhed ko jaanta hai aur use jo us se bhi zyada chhupa hai
(ف5)سِر یعنی بھید وہ ہے جس کو آدمی رکھتا اور چُھپاتا ہے اور اس سے زیادہ پوشیدہ وہ ہے جس کو انسان کرنے والا ہے مگر ابھی جانتا بھی نہیں نہ اس سے اس کا ارادہ متعلق ہوا ، نہ اس تک خیال پہنچا ۔ ایک قول یہ ہے کہ بھید سے مراد وہ ہے جس کو انسانوں سے چُھپاتا ہے اور اس سے زیادہ چُھپی ہوئی چیز وسوسہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بھید بندہ کا وہ ہے جسے بندہ خود جانتا ہے اور اللہ تعالٰی جانتا ہے اس سے زیادہ پوشیدہ ربّانی اسرار ہیں جن کو اللہ جانتا ہے بندہ نہیں جانتا ۔ آیت میں تنبیہ ہے کہ آدمی کو قبائحِ افعال سے پرہیز کرنا چاہیئے وہ ظاہرہ ہوں یا باطنہ کیونکہ اللہ تعالٰی سے کچھ چُھپا نہیں اوراس میں نیک اعمال پر ترغیب بھی ہے کہ طاعت ظاہر ہو یا باطن اللہ سے چھپی نہیں وہ جزا عطا فرمائے گا ۔ تفسیرِ بیضاوی میں قول سے ذکرِ الٰہی اور دعا مراد لی ہے اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس پر تنبیہہ کی گئی ہے کہ ذکر و دعا میں جہر اللہ تعالٰی کو سنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ ذکر کو نفس میں راسخ کرنے اور نفس کو غیر کے ساتھ مشغولی سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے ہے ۔
اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف٦)
Allah – there is no worship except for Him; His only are the best names.
और कुछ तुम्हें मूसा की ख़बर आई
Allah ke uske siwa kisi ki bandagi nahi, isi ke hain sab achhe naam
(ف6)وہ واحد بالذات ہے اور اسماء و صفات عبارات ہیں اور ظاہر ہے کہ تعدّدِ عبارات تعدّدِ معنٰی کو مقتضی نہیں ۔
وَهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ ﴿9﴾
اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۷)
And did the news of Moosa reach you?
जब उसने एक आग देखी तो अपनी बीबी से कहा ठहरो मुझे एक आग नज़र पड़ी है शायद मैं तुम्हारे लिए इस में से कोई चुन गारी लाऊँ या आग पर रास्ता पाऊँ,
Aur kuch tumhein Moosa ki khabar aayi
(ف7)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے احوال کا بیان فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ انبیاء علیہم السلام جو درجۂ عُلیا پاتے ہیں وہ ادائے فرائضِ نبوّت و رسالت میں کس قدر مشقّتیں برداشت کرتے اور کیسے کیسے شدائد پر صبر فرماتے ہیں ۔ یہاں حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس سفر کا واقعہ بیان فرمایا جاتا ہے جس میں آپ مدیَن سے مِصر کی طرف حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اجازت لے کر اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے تھے ، آپ کے اہلِ بیت ہمراہ تھے اور آپ نے بادشاہانِ شام کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں قطعِ مسافت اختیار فرمائی ، بی بی صاحبہ حاملہ تھیں ، چلتے چلتے طور کے غربی جانب پہنچے یہاں رات کے وقت بی بی صاحبہ کو دردِ زہ شروع ہوا ، یہ رات اندھیری تھی ، برف پڑ رہا تھا ، سردی شدت کی تھی ، آپ کو دور سے آ گ معلوم ہوئی ۔
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آگ پر راستہ پاؤں،
When he saw a fire and said to his wife, “Wait – I have seen a fire – perhaps I may bring you an ember from it or find a way upon the fire.”
फिर जब आग के पास आया नदा फ़रमाई गई कि ऐ मूसा,
Jab usne ek aag dekhi to apni biwi se kaha thahro mujhe ek aag nazar padi hai shayad main tumhare liye is mein se koi chun gārī laun ya aag par rasta paun
فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ يٰمُوۡسٰىؕ ﴿11﴾
پھر جب آگ کے پاس آیا (ف۸) ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
So when he came near the fire, it was announced, “O Moosa!”
बेशक मैं तेरा रब हूँ तू अपने जूते उतार डाल बेशक तू पाक जंगल तोवा में है
Phir jab aag ke paas aaya nada farmaayi gayi ke ae Moosa,
(ف8)وہاں ایک درخت سرسبز و شاداب دیکھا جو اوپر سے نیچی تک نہایت روشن تھا جتنا اس کے قریب جاتے ہیں دور ہوتا ہے جب ٹھہر جاتے ہیں قریب ہوتا ہے اس وقت آپ کو ۔
بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال (ف۹) بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے (ف۱۰)
“Indeed I am your Lord, therefore take off your shoes; indeed you are in the holy valley of Tuwa!”
और मैंने तुझे पसंद किया अब कान लगाकर सुन जो तुझे वहीह होती है,
Beshak main tera Rab hoon to tu apne jootay utar daal beshak tu paak jungle Ṭuwā mein hai
(ف9)کہ اس میں تواضع اور بقعۂ معظّمہ کا احترام اور وادیٔ مقدّس کی خاک سے حصولِ برکت کا موقع ہے ۔(ف10)طوٰی وادی کا مقدّس کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔
اور میں نے تجھے پسند کیا (ف۱۱) اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
“And I have chosen you, therefore listen carefully to what is divinely revealed to you.”
बेशक मैं ही हूँ अल्लाह कि मेरे सिवा कोई मआबूद नहीं तो मेरी बंदगी कर और मेरी याद के लिए नमाज़ कायम रख
Aur main ne tujhe pasand kiya ab kaan laga kar sun jo tujhe wahi hoti hai
(ف11)تیری قوم میں سے نبوّت و رسالت و شرفِ کلام کے ساتھ مشرّف فرمایا ۔ یہ ندا حضرت موسٰی علیہ الصلیوۃ والسلام نے اپنے ہر جزوِ بدن سے سنی اور قوّتِ سامعہ ایسی عام ہوئی کہ تمام جسمِ اقدس کان بن گیا سبحان اللہ ۔
بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ (ف۱۲)
“Indeed it is Me, Allah – there is no God except I – therefore worship Me and keep the prayer established for My remembrance.”
बेशक कयामत आने वाली है करीब था कि मैं इसे सब से छुपाऊँ कि हर जान अपनी कोशिश का बदला पाए
Beshak main hi hoon Allah ke mere siwa koi ma'bood nahi to meri bandagi kar aur meri yaad ke liye namaz qaim rakh
(ف12)تاکہ تو اس میں مجھے یاد کرے اور میری یاد میں اخلاص ا ور میری رضا مقصود ہو کوئی دوسری غرض نہ ہو اسی طرح ریا کا دخل نہ ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ تو میری نماز قائم رکھ تاکہ میں تجھے اپنی رحمت سے یاد فرماؤں ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بعد اعظم فرائض نماز ہے ۔
بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں (ف۱۳) کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے (ف۱٤)
“The Last Day will surely come – it was close that I hide it from all – in order that every soul may get the reward of its effort.” (He revealed it to His Prophets, so that people may fear and get ready. The exact time is not revealed to the people.)
तू हरगज़ तुझे उसके मानने से वह बाज न रखे जो उस पर ईमान नहीं लाता और अपनी ख़्वाहिश के पीछे चला फिर तू हलाक हो जाए,
Beshak qayamat aane wali hai qareeb tha ke main ise sab se chhupaaun ke har jaan apni koshish ka badla paaye
(ف13)اور بندوں کو اس کے آنے کے خبر نہ دوں اور اس کے آنے کی خبر نہ دی جاتی اگر اس خبر دینے میں یہ حکمت نہ ہوتی ۔(ف14)اور اس کے خوف سے مَعاصی ترک کرے نیکیاں زیادہ کرے اور ہر وقت توبہ کرتا رہے ۔
تو ہرگز تجھے (ف۱۵) اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے م پیچھے چلا (ف۱٦) پھر تو ہلاک ہوجائے،
“Therefore never let one, who does not accept faith in it and follows his own desires, prevent you from accepting this, so then you become ruined.”
और ये तेरे दाहिने हाथ में क्या है ऐ मूसा
To har guz tujhe is ke maanne se woh baaz na rakhe jo is par iman nahi lata aur apni khwahish ke peeche chala phir to halak ho jaye
(ف15)اے اُمّتِ موسٰی ۔ خِطاب بظاہر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ہے اور مراد اس سے آپ کی اُمّت ہے ۔ (مدارک)(ف16)اگر تو اس کا کہنا مانے اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو ۔
وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰى ﴿17﴾
اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ (ف۱۷)
“And what is this in your right hand, O Moosa?”
عرض की ये मेरा असा है मैं इस पर ताकिया लगाता हूँ और इस से अपनी बकरियों पर पत्ते झाड़ता हूँ और मेरे इस में और काम हैं
Aur ye tere daahne haath mein kya hai ae Moosa
(ف17)اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہو جائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کی خاطرِ مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مانوس کیا جائے تاکہ ہیبتِ مکالمت کا اثر کم ہو ۔ (مدارک وغیرہ )
عرض کی یہ میرا عصا ہے (ف۱۸) میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں (ف۱۹)
He said, “This is my staff; I support myself on it, and I knock down leaves for my sheep with it, and there are other uses for me in it.”
फ़रमाया इसे डाल दे ऐ मूसा,
Arz ki ye mera asa hai main is par takiya lagata hoon aur is se apni bakriyon par patte jhaarta hoon aur mere is mein aur kaam hain
(ف18)اس عصا میں اوپر کی جانب دو شاخیں تھیں اور اس کا نام نبعہ تھا ۔(ف19)مثل توشہ اور پانی اٹھانے اور موذی جانوروں کو دفع کرنے اور اعداء سے محاربہ میں کام لینے وغیرہ کے ، ان فوائد کا ذکر کرنا بطریقِ شکرِ نِعَمِ الٰہیہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔
قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰى ﴿19﴾
فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
He said, “Put it down, O Moosa!
तू मूसा ने डाल दिया तो तभी वह दौड़ता हुआ साँप हो गया
Farmaaya ise daal de ae Moosa
فَاَلۡقٰٮهَا فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴿20﴾
تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا (ف۲۰)
So Moosa put it down – thereupon it became a fast moving serpent.
फ़रमाया इसे उठाले और डर नहीं, अब हम इसे फिर पहली तरह कर देंगे
To Moosa ne daal diya to jabhi woh daurta hua saanp ho gaya
(ف20)اور قدرتِ الٰہی دکھائی گئی کہ جو عصا ہاتھ میں رہتا تھا اور اتنے کاموں میں آتا تھا اب اچانک وہ ایسا ہیبت ناک اژدہا بن گیا یہ حال دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کو خوف ہوا تو اللہ تعالٰی نے ان سے ۔
فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے (ف۲۱)
He said, “Pick it up and do not fear; We shall restore it to its former state.”
और अपना हाथ अपने बाजू से मिला खूब सफ़ेद निकलेगा बे किसी मर्ज के एक और निशानी
Farmaaya ise utha le aur dar nahi, ab hum ise phir pehli tarah kar denge
(ف21)یہ فرماتے ہی خوف جاتا رہا حتی کہ آپ نے اپنا دستِ مبارک اس کے منہ میں ڈال دیا اور وہ آپ کے ہاتھ لگاتے ہی مثلِ سابق عصا بن گیا اب اس کے بعد ایک اور معجِزہ عطا فرمایا جس کی نسبت ارشاد فرمایا ۔
اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا (ف۲۲) خوب سپید نکلے گا بےکسی مرض کے (ف۲۳) ایک اور نشانی (ف۲٤)
“And put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness – one more sign.”
कि हम तुझे अपनी बड़ी बड़ी निशानियाँ दिखाएँ,
Aur apna haath apne baazu se mila khoob safed nikle ga be kisi marz ke ek aur nishani
(ف22)یعنی کفِ دستِ راست بائیں بازو سے بغل کے نیچے ملا کر نکالئے تو آفتاب کی طرح چمکتا نگاہوں کو خیرہ کرتا اور ۔(ف23)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دستِ مبارک سے رات و دن میں آفتاب کی طرح نور ظاہر ہوتا تھا اور یہ معجِزہ آپ کے اعظم معجزات میں سے ہے جب آپ دوبارہ اپنا دست مبارک بغل کے نیچے رکھ کر بازو سے ملاتے تو وہ دستِ اقدس حالتِ سابقہ پر آ جاتا ۔(ف24)آپ کے صدقِ نبوّت کی عصا کے بعد اس نشانی کو بھی لیجئے ۔
لِنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡـكُبۡـرٰىۚ ﴿23﴾
کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
“In order that We may show you Our great signs.”
फ़िरौन के पास जा उसने सर उठाया
Ke hum tujhe apni bari bari nishaniyan dikhayein
اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴿24﴾
فرعون کے پاس جا (ف۲۵) اس نے سر اٹھایا (ف۲٦)
“Go to Firaun, he has rebelled.”
عرض की ऐ मेरे रब मेरे लिए मेरा सीन खुला दे
Fir'awn ke paas ja usne sar uthaya
(ف25)رسول ہو کر ۔(ف26)اور کُفر میں حد سے گزر گیا اور الوہیّت کا دعوٰی کرنے لگا ۔
قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِىۡ صَدۡرِىْ ۙ ﴿25﴾
عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے (ف۲۷)
Said Moosa, “My Lord, open up my breast for me.”
और मेरे लिए मेरा काम आसान कर,
Arz ki ae mere Rab mere liye mera seenā khol de
(ف27)اور اسے تحمّلِ رسالت کے لئے وسیع فرما دے ۔
وَيَسِّرۡ لِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ ﴿26﴾
اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
“And make my task easy for me.”
और मेरी ज़बान की ग्रेह खोल दे,
Aur mere liye mera kaam aasan kar
وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِیْ ۙ ﴿27﴾
اور میری زبان کی گرہ کھول دے، (ف۲۸)
“And untie the knot of my tongue.”
कि वे मेरी बात समझें,
Aur meri zubaan ki girah khol de
(ف28)جو خورد سالی میں آ گ کا انگارہ منہ میں رکھ لینے سے پڑ گئی ہے اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ بچپن میں آپ ایک روز فرعون کی گود میں تھے آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر اس کے منہ پر زور سے طمانچہ مارا اس پر اسے غصہ آیا اور اس نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا آسیہ نے کہا کہ اے بادشاہ یہ نادان بچہ ہےکیا سمجھے ؟ تو چاہے تو تجربہ کر لے اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں آ گ اور ایک طشت میں یاقوت سرخ آپ کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتہ نے آپ کا ہاتھ انگارہ پر رکھ دیا اور وہ انگارہ آپ کے منہ میں دے دیا اس سے زبانِ مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی اس کے لئے آپ نے یہ دعا کی ۔
يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِیْ ﴿28﴾
کہ وہ میری بات سمجھیں،
“In order that they may understand my speech.”
और मेरे लिए मेरे घर वालों में से एक वज़ीर कर दे,
Ke woh meri baat samjhein
وَاجۡعَلْ لِّىۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِىْ ۙ ﴿29﴾
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے، (ف۲۹)
“And appoint for me a viceroy from among my family.”
वह कौन मेरा भाई हारून,
Aur mere liye mere ghar walon mein se ek wazir kar de
(ف29)جو میرا معاون اور معتمد ہو ۔
هٰرُوۡنَ اَخِى ۙ ﴿30﴾
وہ کون میرا بھائی ہارون ،
“That is Haroon, my brother.”
उससे मेरी कमर मज़बूत कर,
Woh kaun mera bhai Haroon
اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِىْ ۙ ﴿31﴾
اس سے میری کمر مضبوط کر،
“Back me up with him.”
और उसे मेरे काम में शरीक कर
Is se meri kamar mazboot kar
وَاَشۡرِكۡهُ فِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ ﴿32﴾
اور اسے میرے کام میں شریک کر (ف۳۰)
“And make him a partner in my task.”
कि हम बक़्सरत तेरी पाकी बोलें,
Aur use mere kaam mein sharik kar
(ف30)یعنی امرِ نبوّت و تبلیغِ رسالت میں ۔
كَىۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًا ۙ ﴿33﴾
کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
“In order that we may profusely proclaim Your Purity.”
और बक़्सरत तेरी याद करें
Ke hum baksurat teri paaki bolen
وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ؕ ﴿34﴾
اور بکثرت تیری یاد کریں (ف۳۱)
“And profusely remember You.”
बेशक तू हमें देख रहा है
Aur baksurat teri yaad karein
(ف31)نمازوں میں بھی اور خارجِ نماز بھی ۔
اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴿35﴾
بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے (ف۳۲)
“Indeed You see us.”
फ़रमाया ऐ मूसा तेरी माँग तुझे अता हुई,
Beshak tu humein dekh raha hai
(ف32)ہمارے احوال کا عالِم ہے ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی اس درخواست پر اللہ تعالٰی نے ۔
قَالَ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَـكَ يٰمُوۡسٰى ﴿36﴾
فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،
He said, “O Moosa, you have been granted your prayer.”
جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا (ف۳٤)
“When We inspired in your mother’s heart whatever was to be inspired.”
कि इस बच्चे को संदूक में रख कर दरिया में डाल दे, तो दरिया इसे किनारे पर डालें कि उसे वह उठाले जो मेरा दुश्मन और उसका दुश्मन और मैंने तुझ पर अपनी तरफ की मोहब्बत डाली और इस लिए कि तू मेरी निगाह के सामने तैयार हो
Jab humne teri maa ko ilhaam kiya jo ilhaam karna tha
(ف34)دل میں ڈال کر یا خواب کے ذریعے سے جبکہ انہیں آپ کی ولادت کے وقت فرعو ن کی طرف سے آپ کو قتل کر ڈالنے کا اندیشہ ہوا ۔
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں (ف۳۵) ڈال دے ، تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن (ف۳٦) اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی (ف۳۷) اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو (ف۳۸)
“That, ‘Put him into a chest and cast it into the river, so the river shall deposit it on to a shore – therefore one who is an enemy to Me and you, shall pick him up’; and I bestowed upon you love from Myself; and for you to be brought up in My sight.”
तेरी बहन चली फिर कहा क्या मैं तुम्हें वह लोग बताऊँ जो इस बच्चे की परवरिश करें तो हम तुझे तेरी माँ के पास फ़ीर लाए कि उसकी आँख ठंडी हो और ग़म न करे और तू ने एक जान को क़त्ल किया तो हमने तुझे ग़म से निजात दी और तुझे खूब जाँचा तू तो कई बरस मदीन वालों में रहा फिर तू एक ठहराए वादा पर हाज़िर हुआ ऐ मूसा!
Ke is bachche ko sandook mein rakh kar dariya mein daal de, to dariya use kinare par daale ke use woh utha le jo mera dushman aur us ka dushman aur main ne tujh par apni taraf ki mohabbat daali aur is liye ke tu meri nigah ke samne tayyar ho
(ف35)یعنی نیل میں ۔(ف36)یعنی فرعون چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ نے ایک صندو ق بنایا اور اس میں روئی بچھائی اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس میں رکھ کر صندوق بند کر دیا اور اس کی درزیں روغنِ قیر سے بند کر دیں آپ اس صندوق کے اندر پانی میں پہنچے پھر اس صندوق کو دریائے نیل میں بہا دیا اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گرتی تھی فرعون مع اپنی بی بی آسیہ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا نہر میں صندوق آتا دیکھ کر اس نے غلاموں اور کنیزوں کو اس کے نکالنے کا حکم دیا وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا کھولا تو اس میں ایک نورانی شکل فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا دیکھتے ہی فرعون کے دل میں ایسی مَحبت پیدا ہوئی کہ وہ وارفتہ ہو گیا اور عقل و حواس بجا نہ رہے اپنے اختیار سے باہر ہو گیا اس کی نسبت اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف37)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں محبوب بنایا اور خَلق کا محبوب کر دیا اور جس کو اللہ تبارک و تعالٰی اپنی محبوبیت سے نوازاتا ہے قلوب میں اس کی مَحبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا یہی حال حضرت موسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کا تھا جو آپ کو دیکھتا تھا اسی کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہو جاتی تھی ۔ قتادہ نے کہا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی آنکھوں میں ایسی ملاحت تھی جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والے کے دل میں مَحبت جوش مارنے لگتی تھی ۔(ف38)یعنی میری حفاظت و نگہبانی میں پرورش پائے ۔
تیری بہن چلی (ف۳۹) پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں (ف٤۰) تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ (ف٤۱) ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے (ف٤۲) اور تو نے ایک جان کو قتل کیا (ف٤۳) تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا (ف٤٤) تو تو کئی برس مدین والوں میں رہا (ف٤۵) پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ! (ف٤٦)
“When your sister went, then said, ‘Shall I show you the people who may nurse him?’ And We brought you back to your mother in order to soothe her eyes and that she may not grieve; and you killed a man, so We freed you from sorrow, and tested you to the maximum; you therefore stayed for several years among the people of Madyan; then you came (here) at an appointed time, O Moosa.”
और मैंने तुझे ख़ास अपने लिए बनाया
Teri behan chali phir kaha kya main tumhein woh log bata doon jo is bachcha ki parwarish karein to hum tujhe teri maa ke paas pher laaye ke uski aankh thandi ho aur gham na kare aur tu ne ek jaan ko qatl kiya to humne tujhe gham se nijaat di aur tujhe khoob jaanch liya tu to kai baras Madain walon mein raha phir tu ek thahraye vaada par hazir hua ae Moosa!
(ف39)جس کا نام مریم تھا تاکہ وہ آپ کے حال کا تجسّس کرے اور معلوم کرے کہ صندوق کہاں پہنچا آپ کس کے ہاتھ آئے جب اس نے دیکھا کہ صندوق فرعون کے پاس پہنچا اور وہاں دودھ پلانے کے لئے دائیاں حاضر کی گئیں اور آپ نے کسی کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تو آپ کی بہن نے ۔(ف40)ان لوگوں نے اس کو منظور کیا وہ اپنی والدہ کو لے گئیں آپ نے ان کا دودھ قبول فرمایا ۔(ف41)آپ کے دیدار سے ۔(ف42)یعنی غمِ فراق دور ہو اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ایک اور واقعہ کاذکر فرمایا جاتا ہے ۔(ف43)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرعون کی قوم کے ایک کافِر کو مارا تھا وہ مرگیا ، کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر شریف بارہ سال کی تھی اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا ۔(ف44)محنتوں میں ڈال کر اور ان سے خلاصی عطا فرما کر ۔(ف45)مدیَن ایک شہر ہے مِصر سے آٹھ منزل فاصلہ پر یہاں حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام رہتے تھے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مِصر سے مدیَن آئے اور کئی برس تک حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس اقامت فرمائی اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا ۔(ف46)یعنی اپنی عمر کے چالیسویں سال اور یہ وہ سن ہے کہ انبیاء کی طرف اس سن میں وحی کی جاتی ہے ۔
وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِىۚ ﴿41﴾
اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا (ف٤۷)
“And I created you especially for Myself.”
तू और तेरा भाई दोनों मेरी निशानियाँ लेकर जाओ और मेरी याद में सस्ती न करना,
Aur main ne tujhe khaas apne liye banaya
(ف47)اپنی وحی اور رسالت کے لئے تاکہ تو میرے ارادہ اور میری مَحبت پر تصرُّف کرے اور میری حُجّت پر قائم رہے اور میرے اور میری خَلق کے درمیان خِطاب پہنچانے والا ہو ۔
تو اس سے نرم بات کہنا (ف٤۹) اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے (ف۵۰)
“And speak to him courteously, that perhaps he may ponder or have some fear.”
दोनों ने عرض किया, ऐ हमारे रब! बेशक हम डरते हैं कि वह हम पर ज़ियादती करे या शरारत से पेश आए,
To us se narm baat karna is ummeed par ke woh dhyaan kare ya kuch dare
(ف49)یعنی اس کو بہ نرمی نصیحت فرمانا اور نرمی کا حکم اس لئے تھا کہ اس نے بچپن میں آپ کی خدمت کی تھی اور بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نرمی سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سے وعدہ کریں کہ اگر وہ ایمان قبول کرے گا تو تمام عمر جوان رہے گا کبھی بڑھاپا نہ آئے گا اور مرتے دم تک اس کی سلطنت باقی رہے گی اور کھانے پینے اور نکاح کی لذّتیں تادمِ مرگ باقی رہیں گی ا ور بعدِ موت دخولِ جنتّ میسّر آئے گا جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرعون سے یہ وعدے کئے تو اس کو یہ بات بہت پسند آئی لیکن وہ کسی کام پر بغیر مشورۂ ہامان کے قطعی فیصلہ نہیں کرتا تھا ، ہامان موجود نہ تھا جب وہ آیا تو فرعون نے اس کو یہ خبر دی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہدایت پر ایمان قبول کر لوں ، ہامان کہنے لگا میں تو تجھ کو عاقل و دانا سمجھتا تھا تو رب ہے بندہ بنا چاہتا ہے ، تو معبود ہے عابد بننے کی خواہش کرتا ہے ؟ فرعون نے کہا تو نے ٹھیک کہا اور حضرت ہارون علیہ السلام مِصر میں تھے اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم کیا کہ وہ حضرت ہارون کے پاس آئیں اور حضرت ہارون علیہ السلام کو وحی کی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملیں چنانچہ وہ ایک منزل چل کر آپ سے ملے اور جو وحی انہیں ہوئی تھی اس کی حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطلاع دی ۔(ف50)یعنی آپ کی تعلیم و نصیحت اس امید کے ساتھ ہونی چاہیئے تاکہ آپ کے لئے اجر اور اس پر الزامِ حُجّت اور قطع عذر ہو جائے اور حقیقت میں ہونا تو وہی ہے جو تقدیرِ الٰہی ہے ۔
فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں (ف۵۱) سنتا اور دیکھتا (ف۵۲)
He said, “Do not fear – I am with you, All Hearing and All Seeing.”
तो उसके पास जाओ और उससे कहो कि हम तेरे रब के भेजे हुए हैं तो औलाद याक़ूब को हमारे साथ छोड़ दे और उन्हें तकलीफ़ न दे बेशक हम तेरे रब की तरफ से निशानी लाए हैं और सलामती उसे जो हिदायत की पेरवी करे
Farmaaya daro nahi main tumhare saath hoon sunta aur dekhta
تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے (ف۵۳) اور انھیں تکلیف نہ دے (ف۵٤) بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں (ف۵۵) اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے (ف۵٦)
“Therefore go to him and say, ‘We are the sent ones of your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with us, and do not trouble them; we have indeed brought to you a sign from your Lord; and peace be upon him who follows the guidance.’
बेशक हमारी तरफ़ वहीह होती है कि अज़ाब उस पर है जो झٹلाए और मुँह फेरे
To us ke paas jao aur us se kaho ke hum tere Rab ke bheje hue hain to aulaad Yaqub ko humare saath chhod de aur unhein takleef na de beshak hum tere Rab ki taraf se nishani laaye hain aur salaamti usse jo hidaayat ki pairvi kare
(ف53)اور انہیں بندگی و اسیری سے رہا کر دے ۔(ف54)محنت و مشقت کے سخت کام لے کر ۔(ف55)یعنی معجزے جو ہمارے صدقِ نبوّت کی دلیل ہیں فرعون نے کہا وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے معجِزۂ یدِ بیضا دکھایا ۔(ف56)یعنی دونوں جہان میں اس کے لئے سلامتی ہے وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی (ف۵۹) پھر راہ دکھائی (ف٦۰)
He said, “Our Lord is One Who gave everything its proper shape, then showed the path.”
बोला अगली संगतों (क़ौमों) का क्या हाल है
Kaha hamara Rab woh hai jisne har cheez ko us ke layak soorat di phir raah dikhayi
(ف59)ہاتھ کو اس کے لائق ایسی کہ کسی چیز کو پکڑ سکے ، پاؤں کو اس کے قابل کہ چل سکے ، زبان کو اس کے مناسب کہ بول سکے ، آنکھ کو اس کے موافق کہ دیکھ سکے ، کان کو ایسی کہ سن سکے ۔(ف60)اور اس کی معرفت دی کہ دنیا کی زندگانی اور آخرت کی سعادت کے لئے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو کس طرح کام میں لایا جائے ۔
قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴿51﴾
بولا (ف٦۱) اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے (ف٦۲)
Said Firaun, “What is the state of the former generations?”
कहा उनका इल्म मेरे रब के पास एक किताब में है मेरा रब न बहके न भूले,
Bola agli sangaton (qomon) ka kya haal hai
(ف61)فرعون ۔(ف62)یعنی جو اُمّتیں گزر چکی ہیں مثل قومِ نوح و عاد و ثمود کے جو بُتوں کو پُوجتے تھے اور بَعث بعدالموت یعنی مرنے کے بعد زندہ کرکے اُٹھائے جانے کے منکِر تھے اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا (ف٦٤) تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے (ف٦۵)
The One Who has made the earth a bed for you and kept operative roads for you in it and sent down water from the sky; so with it We produced different pairs of vegetation.
तुम खाओ और अपने मवेशियों को चराओ बेशक इस में निशानियां हैं अक्ल वालों को,
Woh jisne tumhare liye zameen ko bichona kiya aur tumhare liye is mein chalti rahein rakhein aur aasman se paani utara to humne us se tarah tarah ke sabze ke jode nikaale
(ف64)حضرت موسٰی علیہ السلام کا کلام تو یہاں تمام ہو گیا اب اللہ تعالٰی اہلِ مکہ کو خِطاب کر کے اس کو تتمیم فرماتا ہے ۔(ف65)یعنی قِسم قِسم کے سبزے مختلف رنگتوں خوشبویوں شکلوں کے ، بعض آدمیوں کے لئے بعض جانوروں کے لئے ۔
تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے (ف۷٤) تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرا دو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو،
“So we will also produce before you a similar magic, therefore set up an agreed time between us and you, from which neither we nor you shall turn away, at a level place.”
मूसा ने कहा तुम्हारा वादा मेले का दिन है और यह कि लोग दिन चढ़े इकट्ठे किए जाएँ
To zaroor hum bhi tumhare aage waisa hi jadoo laayein, to hum mein aur apne mein ek waada thahra do jis se na hum badla lein na tum, hamwar jagah ho
موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے (ف۷۵) اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں (ف۷٦)
Said Moosa, “Your meeting is the day of the festival, and that the people be assembled at late morning.”
तो फिरौन फरा और अपने दाओं (फ़रेब) इकट्ठे किए फिर आया
Moosa ne kaha tumhara waada mele ka din hai aur ye ke log din charhe jamay kiye jaayen
(ف75)اس میلہ سے فرعونیوں کا میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں وہ زینتیں کر کر کے جمع ہوتے تھے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرّم کا تھا اور اس سال یہ تاریخ سنیچر کو واقع ہوئی تھی ، اس روز کو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس لئے معیّن فرمایا کہ یہ روز ان کی غایتِ شوکت کا دن تھا اس کو مقرر کرنا اپنے کمالِ قوّت کا اظہار ہے نیز اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اطراف و جوانب کے تمام لوگ مجتمع ہوں ۔(ف76)تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے باطمینان دیکھ سکیں اور ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔
ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو (ف۷۹) کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا (ف۸۰)
Moosa said to them, “Ruin is to you – do not fabricate a lie against Allah, that He may destroy you by a punishment; and indeed one who fabricates lies has failed.”
तो अपने मामला में बाअहम़ विभिन्न हो गए और छिप कर मशवरा किया,
Un se Moosa ne kaha tumhein kharabi ho, Allah par jhoot na baandho ke woh tumhein azaab se halak kar de aur beshak namuraad raha jisne jhoot baandha
(ف79)کسی کو اس کا شریک کر کے ۔(ف80)اللہ تعالٰی پر ۔
تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے (ف۸۱) اور چھپ کر مشاورت کی،
So they differed with one another in their task, and secretly conferred.
बोले बेशक ये दोनों जरूर जादूगर हैं चाहते हैं कि तुम्हें तुम्हारी ज़मीन ज़मीन से अपने जादू के ज़ोर से निकाल दें और तुम्हारा अच्छा دین ले जाएँ,
To apne maamla mein baaham mukhtalif ho gaye aur chhup kar mashauraat ki
(ف81)یعنی جادوگر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ کلام سُن کر آپس میں مختلف ہو گئے ، بعض کہنے لگے کہ یہ بھی ہماری مثل جادوگر ہیں ، بعض نے کہا کہ یہ باتیں ہی جادوگروں کی نہیں وہ اللہ پرجھوٹ باندھنے کو منع کرتے ہیں ۔
بولے بیشک یہ دونوں (ف۸۲) ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں،
They said, “Undoubtedly these two are magicians for sure, who wish to expel you from your land by the strength of their magic, and destroy your exemplary religion!”
तो अपना दाउ (फ़रेब) पका कर लो फिर पारा बाँध (सफ़ बँध) कर आओ आज मुराद को पहुँचा जो ग़ालिब रहा,
Bole beshak ye dono zaroor jadoogar hain, chahte hain ke tumhein tumhari zameen se apne jadoo ke zor se nikaal dein aur tumhara acha deen le jaayen
بولے (ف۸۳) اے موسیٰ یا تو تم ڈالو (ف۸٤) یا ہم پہلے ڈالیں (ف۸۵)
They said, “O Moosa, either you throw first – or shall we throw first?”
मूसा ने कहा बल्कि तुम्हें डालो तभी उनकी रस्सियां और लाठियाँ उनके जादू के ज़ोर से उनके ख़्याल में दौड़ती माली हुईं
Bole ae Moosa! Ya to tum daalo ya hum pehle daalein
(ف83)جادوگر ۔(ف84)پہلے اپنا عصا ۔(ف85)اپنے سامان ۔ ابتداء کرنا جادو گروں نے ادباً حضرت موسٰی علیہ السلام کی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار اللہ تعالٰی نے انہیں دولتِ ایمان سے مشرف فرمایا ۔
موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو (ف۸٦) جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں (ف۸۷)
He said, “Rather, you may throw”; thereupon their cords and their staves, by the strength of their magic, appeared to him as if they were (serpents) moving fast.
तो अपने जी में मूसा ने ख़ौफ़ पाया,
Moosa ne kaha balki tumhein daalo, jabhi unki rasiyaan aur lathiyan unke jadoo ke zor se unke khayal mein daurte ma'loom hui
(ف86)یہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس لئے فرمایا کہ جو کچھ جادو کے مَکر ہیں پہلے وہ سب ظاہر کر چکیں اس کے بعد آپ معجِزہ دکھائیں اور حق باطل کو مٹائے اور معجِزہ سحر کو باطل کرے تو دیکھنے والوں کو بصیرت و عبرت حاصل ہو چنانچہ جادوگروں نے رسیاں لاٹھیاں وغیرہ جو سامان لائے تھے سب ڈال دیا اور لوگوں کی نظر بندی کر دی ۔(ف87)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دیکھا کہ زمین سانپوں سے بھر گئی اور مِیلوں کے میدان میں سانپ ہی سانپ دوڑ رہے ہیں اور دیکھنے والے اس باطل نظر بندی سے مسحور ہو گئے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض معجِزہ دیکھنے سے پہلے ہی اس کے گرویدہ ہو جائیں اور معجِزہ نہ دیکھیں ۔
We said, “Do not fear – it is you who is dominant.”
और डाल तो दे जो तेरे दाहिने हाथ में है और उनकी बनावटों को निगल जाएगा, वह जो बनाकर लाए हैं वह तो जादूगर का फ़रेब है, और जादूगर का भला नहीं होता कहीं आवे
اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے (ف۸۸) اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے (ف۸۹)
“And cast down which is in your right hand – it will devour all that they have fabricated; what they have made is only a magician’s deceit; and a magician is never successful, wherever he comes.”
तो सब जादूगर सजदे में गिरा लिए गए बोले हम इस पर ईमान लाए जो हारून और मूसा का रब है
Aur daal to de jo tere daahne haath mein hai aur un ki banawat ko nigal jaayega, woh jo banakar laaye hain woh to jadoogar ka fareb hai, aur jadoogar ka bhala nahi hota kahin aave
(ف88)یعنی اپنا عصا ۔(ف89)پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات نے اپنا عصا ڈالا وہ جادوگروں کے تمام اژدہوں اور سانپوں کو نگل گیا اور آدمی اس کے خوف سے گھبرا گئے ، حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسے اپنے دستِ مبارک میں لیا تو مثلِ سابق عصا ہو گیا یہ دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوا کہ یہ معجِزہ ہے جس سے سحر مقابلہ نہیں کر سکتا اور جادو کی فریب کاری اس کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی ۔
(ف90)
سبحان اللہ کیا عجیب حال تھا جن لوگوں نے ابھی کفر و جحود کے لئے رسیاں اور عصا ڈالے تھے ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے سر جھکا دیئے اور گردنیں ڈال دیں ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں انہیں جنّت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں نے جنّت میں اپنے منازل دیکھ لئے ۔
Therefore all the magicians were thrown down prostrate – they said, “We accept faith in the One Who is the Lord of Haroon and Moosa.”
फिरौन बोला क्या तुम इस पर ईमान लाए पहले कि मैं तुम्हें इजाज़त दूँ, बेशक वह तुम्हारा बड़ा है जिसने तुम सब को जादू सिखाया तो मुझे क़सम है जरूर मैं तुम्हारे एक तरफ के हाथ और दूसरी तरफ के पाँव काटूँगा और तुम्हें खजूर के ढंड (तन) पर सुली चढ़ाऊँगा, और जरूर तुम जान जाओगे कि हम में किस का अज़ाब सख़्त और देरपा है
To sab jadoogar sajde mein giraye gaye, bole hum is par iman laaye jo Haroon aur Moosa ka Rab hai
(ف90)سبحان اللہ کیا عجیب حال تھا جن لوگوں نے ابھی کفر و جحود کے لئے رسیاں اور عصا ڈالے تھے ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے سر جھکا دیئے اور گردنیں ڈال دیں ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں انہیں جنّت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں نے جنّت میں اپنے منازل دیکھ لئے ۔
فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا (ف۹۱) تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا (ف۹۲) اور تمہیں کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر سُولی چڑھاؤں گا، اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے (ف۹۳)
Said Firaun, “You accepted faith in him before I permitted you! He is indeed your leader who taught you magic; I therefore swear, I will cut off your hands and your legs from alternate sides, and crucify you on the trunks of palm-trees, and you will surely come to know among us two, whose punishment is more severe and more lasting.”
बोले हम हरगज़ तुम्हें तरजीह न देंगे उन रोशन दलीलों पर जो हमारे पास आईं हमें अपने पैदा करने वाले वाले की क़सम तो तुम कर चुके जो तुम्हें करना है तो इस दुनिया ही की ज़िंदगी में तो करेगा
Fir'awn bola kya tum is par iman laaye qabl is ke ke main tumhein ijaazat doon, beshak woh tumhara bada hai jisne tum sab ko jadoo sikhaya, to mujhe qasam hai zaroor main tumhare ek taraf ke haath aur doosri taraf ke paon kaatunga aur tumhein khajoor ke dhanḍ (tanne) par sooli charhaunga, aur zaroor tum jaan jao ge ke hum mein kis ka azaab sakht aur derpa hai
(ف91)یعنی جادو میں وہ استادِ کامل اور تم سب سے فائق ہیں ۔ (معاذا للہ)(ف92)یعنی داہنے ہاتھ اور بائیں پاؤں ۔(ف93)اس سے فرعون ملعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب سخت تر ہے یا ربُّ العالمین کا ، فرعون کا یہ متکبرانہ کلمہ سُن کر وہ جادوگر ۔
بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں (ف۹٤) ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تو کر چک جو تجھے کرنا ہے (ف۹۵) تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا (ف۹٦)
They said, “We shall never prefer you above the clear proofs that have come to us from the One Who has created us – therefore carry out what you want to; only in the life of this world will you be able to!”
बेशक हम अपने रब पर ईमान लाए कि वह हमारी ख़ताइयां बख़्श दे और वह जो तुमने हमें मजबूर किया जादू पर और अल्लाह बेहतर है और सबसे ज़्यादा बाक़ी रहने वाला
Bole hum har guz tujhe tarjih na deinge, in roshan daleelon par jo hamare paas aayen, humein apne paida karne wale ki qasam tu kar chuk jo tujhe karna hai to is duniya hi ki zindagi mein to karega
(ف94)یدِ بیضا اور عصائے موسٰی ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجِزہ کو بھی سحر کہتا ہے تو بتا وہ رسّے اور لاٹھیاں کہاں گئیں ۔ بعض مفسِّرین کہتے ہیں کہ بیِّنات سے مراد جنّت اور اس میں اپنے منازل کا دیکھنا ہے ۔(ف95)ہمیں اس کی کچھ پروا نہیں ۔(ف96)آگے تو تیری کچھ مجال نہیں اور دنیا زائل اور یہاں کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے تو مہربان بھی ہو تو بقائے دوام نہیں دے سکتا پھر زندگانی دینا اور اس کی راحتوں کے زوال کا کیا غم بالخصوص اس کو جو جانتا ہے کہ آخرت میں اعمالِ دنیا کی جزا ملے گی ۔
بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر (ف۹۷) اور اللہ بہتر ہے (ف۹۸) اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا (ف۹۹)
“Indeed we have accepted faith in our Lord, so that He may forgive us our sins and the magic which you forced us to perform; and Allah is Better, and the Most Lasting.”
बेशक जो अपने रब के हज़ूर मुजरिम हो कर आए तो जरूर उसके लिए जहन्नम है जिसमें न मरे न जिए
Beshak hum apne Rab par iman laaye ke woh hamari khataayein bakhsh de aur woh jo tu ne humein majboor kiya jadoo par aur Allah behtar hai aur sab se zyada baqi rehne wala
(ف97)حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلے میں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا تو جادو گروں نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسٰی علیہ السلام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں ایسا موقع بہم پہنچا دیا گیا ، انہوں نے دیکھا کہ حضرت خواب میں ہیں اور عصائے شریف پہرہ دے رہا ہے یہ دیکھ کر جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ موسٰی جادوگر نہیں کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں کرتا مگر فرعون نے انہیں جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ اللہ تعالٰی سے طالب اور امیدوار ہیں ۔(ف98)فرمانبرداروں کو ثواب دینے میں ۔(ف99)بلِحاظ عذاب کرنے کے نافرمانوں پر ۔
اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں (ف۱۰۳) تو انھیں کے درجے اونچے ،
And the one who presents himself as a believer before Him, having done good deeds – so for them are the high ranks.
बसने के बाग़ जिनके नीचे नहरें बहें हमेशा उनमें रहें, और यह सिला है उसका जो पाक हुआ
Aur jo us ke huzoor iman ke saath aaye ke achhe kaam kiye hon to unke darje oonche, basne ke baagh jin ke neeche nahrain bahein, hamesha un mein rahein, aur ye sila hai us ka jo paak hua
(ف103)یعنی جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں نے اپنی زندگی میں نیک عمل کئے ہوں ، فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں ۔
بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں، اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا (ف۱۰٤)
Everlasting Gardens of Eden beneath which rivers flow, abiding in them for ever; and this is the reward of one who became pure.
और बेशक हमने मूसा को वहि की कि रातों रात मेरे बन्दों को ले चल और उनके लिए दरिया में सूखा रास्ता निकाल दे तुम्हें डर न होगा कि फिरौन आए और न खतरा
Aur beshak humne Moosa ko wahi ki ke raaton raat mere bandon ko le chal aur un ke liye dariya mein sookha rasta nikal de, tujhe dar nahi hoga ke Fir'awn aaye aur na khatra
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی (ف۱۰۵) کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل (ف۱۰٦) اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے (ف۱۰۷) تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ (ف۱۰۸)
And We divinely inspired Moosa that, “Journey with My bondmen in a part of the night and strike a dry path in the sea for them, you shall have no fear of Firaun getting to you, nor any danger.”
तो उनके पीछे फिरौन पड़ा अपने لش्कर ले कर तो उन्हें दरिया ने ढाँप लिया जैसा ढाँप लिया,
To un ke peeche Fir'awn pada apne lashkar le kar, to unhein dariya ne dhaank liya jaisa dhaank liya
(ف105)جب کہ فرعون معجزات دیکھ کر راہ پر نہ آیا اور پندپذیر نہ ہوا اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم اور زیادہ کرنے لگا ۔(ف106)مِصر سے اور جب دریا کے کنارے پہنچیں اور فرعونی لشکر پیچھے سے آئے تو اندیشہ نہ کر ۔(ف107)اپنا عصا مار کر ۔(ف108)دریا میں غرق ہونے کا ۔ موسٰی علیہ السلام حکمِ الٰہی پا کر شب کے اوّل وقت ستّر ہزار بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر مِصر سے روانہ ہو گئے ۔
اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن (ف۱۱۲) سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا (ف۱۱۳) اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا (ف۱۱٤)
O Descendants of Israel, indeed We rescued you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of Mount Tur, and sent down Manna and Salwa upon you.
खाओ जो पाक चीज़ें हमने तुम्हें रोज़ी दीं और इसमें ज़ियादती न करो कि तुम पर मेरा ग़ज़ब उतरे और जिस पर मेरा ग़ज़ब उतरा बेशक वह गिरा
Khao jo paak cheezen humne tumhein rozi di aur is mein zyada na karo ke tum par mera ghazab utre aur jis par mera ghazab utra, beshak woh gira
(ف112)یعنی فرعون اور اس کی قوم ۔(ف113)کہ ہم موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وہاں توریت عطا فرمائیں گے جس پر عمل کیا جائے ۔(ف114)تِیہ میں اور فرمایا ۔
کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو (ف۱۱۵) کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا (ف۱۱٦)
“Eat the good clean things We have provided you, and do not exceed the limits in respect of it causing My wrath to descend upon you; and indeed the one on whom My wrath descended, has fallen.”
और बेशक मैं बहुत बख़्शने वाला हूँ उसे जिसने तौबा की और ईमान लाया और अच्छा काम किया फिर हिदायत पर रहा
Aur beshak main bohot bakshne wala hoon usse jisne tauba ki aur iman laya aur acha kaam kiya phir hidaayat par raha
(ف115)ناشکری اور کُفرانِ نعمت کر کے اور ان نعمتوں کی معاصی اور گناہوں میں خرچ کر کے یا ایک دوسرے پرظلم کر کے ۔(ف116)جہنّم میں اور ہلاک ہوا ۔
اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی (ف۱۱۷) اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا (ف۱۱۸)
And indeed I am Most Oft Forgiving for him who repented and accepted faith and did good deeds, and then remained upon guidance.
और तुमने अपनी क़ौम से क्यों जल्दी की ऐ मूसा
Aur tu ne apni qaum se kyun jaldi ki ae Moosa?
(ف117)شرک سے ۔(ف118)تادمِ آخر ۔
وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰى ﴿83﴾
اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ (ف۱۱۹)
“And why did you come in haste ahead of your people, O Moosa?”
عرض की कि वे यह हैं मेरे पीछे और ऐ मेरे रब तेरी तरफ मैं जल्दी कर के हाज़िर हुआ कि तू रज़ी हो,
Arz kiya ke woh ye hain mere peeche aur ae mere Rab! Teri taraf main jaldi kar ke hazir hua ke tu raazi ho
(ف119)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام جب اپنی قوم میں سے ستّر آدمیوں کو منتخب کر کے توریت لینے طُور پر تشریف لے گئے پھر کلامِ پروردگار کے شوق میں ان سے آگے بڑھ گئے انہیں پیچھے چھوڑ دیا اور فرما دیا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ ، اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ۔ وَمَآ اَعْجَلَکَ تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم (ف۱۲۱) بلا میں ڈالا اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا، (ف۱۲۲)
He said, “We have therefore tried your people after you came, and Samri has led them astray.”
तो मूसा अपनी क़ौम की तरफ पलटा ग़ुस्से में भरा अफ़सोस करता कहा ऐ मेरी क़ौम क्या तुम से तुम्हारे रब ने अच्छा वादा न था क्या तुम पर मुदत लंबी गुज़री या तुमने चाहा कि तुम पर तुम्हारे रब का ग़ज़ब उतरे तो तुमने मेरा वादा ख़िलाफ़ किया
To Moosa apni qaum ki taraf palta gussa mein bhara afsos karta kaha ae meri qaum! Kya tum se tumhare Rab ne acha waada na tha, kya tum par muddat lambi guzri ya tum ne chaha ke tum par tumhare Rab ka ghazab utre, to tum ne mera waada khilaf kiya?
(ف121)جنہیں آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ چھوڑا ہے ۔(ف122)گوسالہ پرستی کی دعوت دے کر ۔مسئلہ : اس آیت میں اِضلال یعنی گمراہ کرنے کی نسبت سامری کی طرف فرمائی گئی کیونکہ وہ اس کا سبب و باعث ہوا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو سبب کی طرف نسبت کرنا جائز ہے اسی طرح کہہ سکتے ہیں کہ ماں باپ نے پرورش کی ، دینی پیشواؤں نے ہدایت کی ، اولیاء نے حاجت روائی فرمائی ، بزرگوں نے بلا دفع کی ۔ مفسِّرین نے فرمایا ہے کہ امور ظاہر میں منشاء و سبب کی طرف منسوب کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ حقیقت میں ان کا موجِد اللہ تعالٰی ہے اور قرآنِ کریم میں ایسی نسبتیں بکثرت وارد ہیں ۔ (خازن)
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا (ف۱۲۳) غصہ میں بھرا افسوس کرتا (ف۱۲٤) کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا (ف۱۲۵) کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا (ف۱۲٦)
So Moosa turned back to his people, angry and grieving; he said, “O my people, had not your Lord given you a good promise? Did a long time pass away for you, or did you wish that your Lord’s wrath come upon you, therefore you broke your promise with me?”
बोले हमने आपका वादा अपने इख़्तियार से ख़िलाफ़ न किया लेकिन हम से कुछ बोझ उठोए गए इस क़ौम के गहने तो हमने उन्हें डाल दिया फिर इसी तरह सामरी ने डाला
Bole hum ne aap ka waada apne ikhtiyar se khilaf na kiya, lekin hum se kuch bojh uthwaya gaya, is qaum ke gehne to hum ne unhein daal diya phir usi tarah Samri ne daala
(ف123)چالیس دن پورے کر کے توریت لے کر ۔(ف124)ان کے حال پر ۔(ف125)کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے ، نور ہے ، ہزار سورتیں ہیں ، ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں ۔(ف126)اور ایسا ناقص کام کیا کہ گوسالہ کو پُوجنے لگے ، تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے ۔
بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے (ف۱۲۷) تو ہم نے انھیں (ف۱۲۸) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا (۱۲۹)
They said, “We did not renege on our promise to you on our own will, but we were made to carry the burdens of ornaments of the people, so we cast them – and similarly did Samri cast.”
तो उसने उनके लिए एक बछड़ा निकाला बेज़ान का धड़ गाय की तरह बोलता यह है तुम्हारा महबूद और मूसा का महबूद तो भूल गए
To us ne un ke liye ek bichhda nikaala, bejaan ka dhadh gai ke tarah bolta, ye hai tumhara ma’bood aur Moosa ka ma’bood, to bhool gaye
(ف127)یعنی قومِ فرعون کے زیوروں کے جو بنی اسرائیل نے ان لوگوں سے عاریت کے طور پر مانگ لئے تھے ۔(ف128)سامری کے حکم سے آ گ میں ۔(ف129)ان زیوروں کو جو اس کے پاس تھے اور اس خاک کو جو حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اس نے حاصل کی تھی ۔
تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بےجان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا (ف۱۳۰) یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے (ف۱۳۲)
He therefore made a calf for them – a lifeless body, making sounds like a cow – so they said, “This is your God and the God of Moosa; whereas Moosa has forgotten.”
तो क्या नहीं देखते कि वह उन्हें किसी बात का जवाब नहीं देता और उनके सिवा किसी बुरे भले का इख़्तियार नहीं रखता
To kya nahin dekhte ke woh unhein kisi baat ka jawab nahi deta aur un ke siwa kisi bure bhale ka ikhtiyar nahi rakhta
(ف130)یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسۡپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا ۔(ف131)سامری اور اس کے متّبِعین ۔(ف132)یعنی موسٰی علیہ السلام معبود کو بھول گئے اور اس کو یہاں چھوڑ کر اس کی جستجو میں طور پر چلے گئے (معاذ اللہ) ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ نَسِیَ کا فاعِل سامری ہے اور معنی یہ ہیں کہ سامری نے جو بچھڑے کو معبود بنایا وہ اپنے ربّ کو بھول گیا یا وہ حُدوثِ اجسام سے استدلال کرنا بھول گیا ۔
تو کیا نہیں دیکھتے کہ وہ (ف۱۳۳) انھیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے سوا کسی برے بھلے کا اختیار نہیں رکھتا (ف۱۳٤)
So do they not see that it does not answer to any of their speech? And has no power to cause them any harm or benefit?
और बेशक उनसे हारून ने इससे पहले कहा था कि ऐ मेरी क़ौम यूँ ही है कि तुम इसके سبب फ़ितने में पड़े और बेशक तुम्हारा रब रहमान है तो मेरी पेरवी करो और मेरा हुक्म मानो,
Aur beshak un se Haroon ne is se pehle kaha tha ke ae meri qaum! Yunhi hai ke tum is ke sabab fitne mein pade aur beshak tumhara Rab Rahman hai, to meri pairvi karo aur mera hukum maano
(ف133)بچھڑا ۔(ف134)خِطاب سے بھی عاجز اور نفع و ضرر سے بھی ، وہ کس طرح معبود ہو سکتا ہے ۔
اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے (ف۱۳۵) اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو،
And undoubtedly Haroon had told them before it that, “O my people – you have needlessly fallen into trial because of this; and indeed your Lord is the Most Gracious, therefore follow me and obey my command.”
बोले हम तो इस पर आसन मारे जमे (पूजा के लिए बैठे) रहेंगें जब तक हमारे पास मूसा लौट के आएँ
Bole hum to is par aasan maare jamay (pooja ke liye baithe) rahenge jab tak hamare paas Moosa laut ke aayein
بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے (ف۱۳٦) جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں (ف۱۳۷)
They said, “We will continue to squat* before it, till Moosa returns to us.” (* Continue worshipping it.)
मूसा ने कहा, ऐ हारून! तुम्हें किस बात ने रोका था जब तुमने उन्हें गुमराह होते देखा था कि मेरे पीछे आते
Moosa ne kaha, ae Haroon! Tumhein kis baat ne roka tha jab tum ne unhein gumrah hote dekha, ke mere peeche aate?
(ف136)گوسالہ پرستی پر قائم رہیں گے اور تمہاری بات نہ مانیں گے ۔(ف137)اس پر حضرت ہارون علیہ السلام ان سے علیٰحدہ ہو گئے اور ان کے ساتھ بارہ ہزار وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہ کی تھی ، جب حضرت موسٰی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو آپ نے ان کے شور مچانے اور باجے بجانے کی آوازیں سنیں جو بچھڑے کے گرد ناچتے تھے تب آپ نے اپنے ستّر ہمراہیوں سے فرمایا یہ فتنہ کی آواز ہے جب قریب پہنچے اور حضرت ہارون کو دیکھا تو غیرتِ دینی سے جو آپ کی سَرِشۡت تھی جوش میں آ کر ان کے سر کے بال داہنے ہاتھ اورداڑھی بائیں میں پکڑی اور ۔
موسیٰ نے کہا ، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انھیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے (ف۱۳۸)
Said Moosa, “O Haroon – what prevented you when you saw them going astray?”
तो क्या तुमने मेरा हुक्म न माना,
To kya tum ne mera hukum na maana?
اَلَّا تَتَّبِعَنِؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِىْ ﴿93﴾
تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا،
“That you did not come after me? So did you disobey my order?”
कहा ऐ मेरी माँ जाए! न मेरी दाढ़ी पकड़ो और न मेरे सर के बाल मुझे यह डर हुआ कि तुम कहोगे तुमने बनी इस्राइल में फर्क़ डाल दिया और तुमने मेरी बात का इंतज़ार न किया
Kaha ae mere maa jaaye! Na meri daarhi pakdo aur na mere sar ke baal, mujhe ye dar hua ke tum kaho ge tum ne Bani Israel mein tafreeq daal diya aur tum ne meri baat ka intezaar na kiya
(ف138)اور مجھے خبر دے دیتے یعنی جب انہوں نے تمہاری بات نہ مانی تھی تو تم مجھ سے کیوں نہیں آ ملے کہ تمہارا ان سے جُدا ہونا بھی ان کے حق میں ایک زَجر ہوتا ۔
کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا (ف۱۳۹)
He said, “O son of my mother, do not clutch my beard nor the hair on my head; I feared that you may say, ‘You have caused a division among the Descendants of Israel and did not wait for my advice.’”
मूसा ने कहा अब तेरा क्या हाल है ऐ सामरी!
Moosa ne kaha ab tera kya haal hai ae Samri!
(ف139)یہ سن کر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے چنانچہ ۔
قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يٰسَامِرِىُّ ﴿95﴾
موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری! (ف۱٤۰)
Said Moosa, “And what is your explanation, O Samri?”
बोला मैंने वह देखा जो लोगों ने न देखा तो एक मुट्ठी भर ली फरिश्ते के निशान से फिर उसे डाल दिया और मेरे जी को यही भला लगा
Bola main ne woh dekha jo logon ne na dekha, to ek mutthi bhar li farishte ke nishan se, phir use daal diya aur mere jee ko yehi bhala laga
بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا (ف۱٤۱) تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا (ف۱٤۲) اور میرے جی کو یہی بھلا لگا (ف۱٤۳)
He said, “I witnessed what the people did not witness – I therefore took a handful from the tracks* of the angel, then threw it** – and this is what seemed pleasing to my soul.” (* The marks left behind by the mount of Angel Jibreel. ** Into the mouth of the calf.)
कहा तो चलता बन कि दुनिया की ज़िंदगी में तेरी सज़ा यह है कि तो कहे छू न जा और बेशक तेरे लिए एक वादा का वक़्त है जो तुझ से ख़िलाफ़ न होगा और अपने इस महबूद को देख जिसके सामने तू दिन भर आसन मारे (पूजा के लिए बैठा) रहा क़सम है हम जरूर उसे जलाएँगे फिर रेज़ा रेज़ा कर के दरिया में बहाएँगे
Kaha tu chalta ban ke duniya ki zindagi mein teri saza ye hai ke tu kahe choo na ja aur beshak tere liye ek waada ka waqt hai jo tujh se khilaf na ho ga, aur apne is ma’bood ko dekh jiske samne tu din bhar aasan maare (pooja ke liye baithe) raha, qasam hai hum zaroor use jalaenge phir reza reza kar ke dariya mein bahaayenge
(ف141)یعنی میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور ان کو پہنچان لیا وہ اسپِ حیات پر سوار تھے ، میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں ۔(ف142)اس بچھڑے میں جس کو بنایا تھا ۔(ف143)اور یہ فعل میں نے اپنے ہی ہوائے نفس سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و محرِّک نہ تھا اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
کہا تو چلتا بن (ف۱٤٤) کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ (ف۱٤۵) تو کہے چھو نہ جا (ف۱٤٦) اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱٤۷) جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا (ف۱٤۸) قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے (ف۱٤۹)
Said Moosa, “Therefore go away, for in this life your punishment is that you exclaim ‘Do not touch!’* And indeed for you is a time appointed, which you cannot break; and look at your deity, in front of which you remained squatting the whole day; we swear we will surely burn it and, smashing it into bits, discharge it into the river.” (* He was cursed with a disease.)
तुम्हारा महबूद तो वही अल्लाह है जिसके सिवा किसी की बंदगी नहीं हर चीज़ को इसका इल्म माहित है,
Tumhara ma’bood to wohi Allah hai jiske siwa kisi ki bandagi nahi, har cheez ka us ka ilm maheet hai
(ف144)دور ہو جا ۔(ف145)جب تجھ سے کوئی ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو تو اس سے ۔(ف146)یعنی سب سے علیٰحدہ رہنا نہ تجھ سے کوئی چھوئے نہ تو کسی سے چھوئے ، لوگوں سے ملنا اس کے لئے کلّی طورپر ممنوع قرار دیا گیا اور ملاقات ، مکالمت ، خرید و فروخت ہر ایک کے ساتھ حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گزارتا تھا ۔(ف147)یعنی عذاب کے وعدے کا آخرت میں بعد اس عذابِ دنیا کے تیرے شرک و فساد انگیزی پر ۔(ف148)اور اس کی عبادت پر قائم رہا ۔(ف149)چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایسا کیا اور جب آپ سامری کے اس فساد کو مٹا چکے تو بنی اسرائیل سے مخاطبہ فرما کر دینِ حق کا بیان فرمایا اور ارشاد کیا ۔
ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا (ف۱۵۰)
This is how We relate the former tidings to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and We have given you a Remembrance* from Ourselves. (*The Holy Qur’an.)
जो इससे मुँह फेरे तो बेशक वह क़ियामत के दिन एक बोझ उठाएगा
Jo us se munh phere to beshak woh qayamat ke din ek bojh uthaye ga
(ف150)یعنی قرآنِ پاک کہ وہ ذکرِ عظیم ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہو اس کے لئے اس کتابِ کریم میں نجات اور برکتیں ہیں اور اس کتابِ مقدّس میں اُمَمِ ماضیہ کے ایسے حالات کا ذکر و بیان ہے جو فکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لائق ہیں ۔
اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں (ف۱٦۰) تم فرماؤ انھیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا ،
They ask you regarding the mountains; proclaim, “My Lord will blow them into bits and scatter them.”
तो ज़मीन को पट पर (चटील मैदान) ह्मवार कर छोड़ेगा
To zameen ko pat par (chatil maidan) hamwar kar chhodega
(ف160)شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ قبیلۂ ثقیف کے ایک آدمی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا حال ہوگا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفۡصَفًا ۙ ﴿106﴾
تو زمین کو پٹ پر (چٹیل میدان) ہموار کر چھوڑے گا
“Therefore leaving the earth just as an empty plain.”
उस दिन पुकारने वाले के पीछे दौड़ेंगे इसमें कजी न होगी और सब आवाज़ें रहमान के हज़ूर पस्त हो कर रह जाएँगी तो तुम न सुनोगे मगर बहुत आहिस्ता आवाज़
Is din pukarne wale ke peeche daudenge, is mein kaji na ho gi aur sab aawazen Rahman ke huzoor past ho kar rah jaayengi, to tu na sunega magar bohot aahista aawaz
اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے (ف۱٦۱) اس میں کجی نہ ہوگی (ف۱٦۲) اور سب آوازیں رحمن کے حضور (ف۱٦۳) پست ہو کر رہ جائیں گی تو تو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز (ف۱٦٤)
On that day they will run after a caller, there will be no deviation in it; and voices shall become hushed before the Most Gracious, so you will not hear except a faint sound.
उस दिन किसी की शफ़ा'त काम न देगी, मगर उसकी जिसे रहमान ने इज़्न दे दिया है और उसकी बात पसंद फरमाई,
Is din kisi ki shafaat kaam na de gi, magar us ki jise Rahman ne izn diya hai aur us ki baat pasand farmaayi
(ف161)جو انہیں روزِ قیامت موقَف کی طرف بلا ئے گا اور ندا کرے گا چلو رحمٰن کے حضور پیش ہو نے کو اور یہ پُکارنے والے حضرت اسرافیل ہوں گے ۔(ف162)اور اس دعوت سے کوئی انحراف نہ کر سکے گا ۔(ف163)ہیبت و جلال سے ۔(ف164)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایسی کہ اس میں صرف لبوں کی جنبش ہوگی ۔
اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے (ف۱٦۵) اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،
On that day no one’s intercession shall benefit except his to whom the Most Gracious has given permission and whose word He has liked. (The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
वह जानता है जो कुछ उनके आगे है और जो कुछ उनके पीछे और उनका इल्म इसे नहीं घेर सकता
Woh jaanta hai jo kuch un ke aage hai aur jo kuch un ke peeche, aur un ka ilm use nahi gher sakta
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۱٦٦) اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا (ف۱٦۷)
He knows all that is before them and all that is behind them, whereas their knowledge cannot encompass it.
और सब मुँह झुक जाएँगे इस ज़िंदा कायम रखने वाले के हज़ूर और बेशक नामुराद रहा जिसने ज़ुल्म का बोझ लिया
Aur sab munh jhuk jaayenge is zinda qaim rakhne wale ke huzoor, aur beshak namuraad raha jisne zulm ka bojh liya
(ف166)یعنی تمام ماضیات و مستقبلات اور جملہ امورِ دنیا و آخرت یعنی اللہ تعالٰی کا علم بندوں کے ذات و صفات اور جملہ حالات کو مُحیط ہے ۔(ف167)یعنی تمام کائنات کا علم ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کر سکتا ، اس کی ذات کا ادراک علومِ کائنات کی رسائی سے برتر ہے ، وہ اپنے اسماء و صفات اور آثارِ قدرت و شیونِ حکمت سے پہچانا جاتا ہے ۔شعر :کجا دریابد او را عقل چالاککہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک نظر کن اندر اسماء وصفاتش کہ واقف نیست کس از کنہ ذاتش ۔بعض مفسِّرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ علومِ خَلق معلوماتِ الٰہیہ کا احاطہ نہیں کر سکتے ۔ بظاہر یہ عبارتیں دو ہیں مگر مآل پر نظر رکھنے والے بآسانی سمجھ لیتے ہیں کہ فرق صرف تعبیر کا ہے ۔
اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور (ف۱٦۸) اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا (ف۱٦۹)
And all faces shall bow before the Living, the All Sustaining; and the one who bore the burden of injustice, has failed.
और जो कुछ नेक काम करे और हो मुसलमान तो उसे न ज़ियादती का ख़ौफ़ होगा और न नुक़सान का
Aur jo kuch nek kaam kare aur ho Musalman to use na ziadti ka khauf ho ga aur na nuqsan ka
(ف168)اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں سرکشی نہ رہے گی ، اللہ تعالٰی کے قہر و حکومت کا ظہورِ تام ہو گا ۔(ف169)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس کی تفسیر میں فرمایا جس نے شرک کیا ٹوٹے میں رہا اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کا زیرِ بار ہو کر موقَفِ قیامت میں آئے اس سے بڑھ کر نامراد کون ۔
اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا (ف۱۷۰)
And the one who does some good deeds, and is a Muslim – he shall have no fear of injustice, nor suffer any loss.
और यूँ ही हमने इसे अरबी क़ुरआन उतारा और इसमें तरह तरह से अज़ाब के वादे दिए कि कहीं उन्हें डर हो या उनके दिल में कुछ सोच पैदा करे
Aur yunhi humne isay Arabi Qur’an utara aur is mein tarah tarah se azaab ke waade diye ke kahin unhein dar ho ya un ke dil mein kuch soch paida kare
(ف170)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ طاعت اور نیک اعمال سب کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے کہ ایمان ہو تو سب نیکیاں کار آمد ہیں اور ایمان نہ ہو تویہ سب عمل بے کار ۔
اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے (ف۱۷۱) کہ کہیں انھیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے (ف۱۷۲)
And this is how We revealed it as an Arabic Qur’an, and in different ways gave promises of punishment, that they may fear or it may create some pondering in their hearts.
तो सबसे बुलंद है अल्लाह सच्चा बादशाह और क़ुरआन में जल्दी न करो जब तक इसकी वही तुम्हें पूरी न होले और عرض करो कि ऐ मेरे रब! मुझे इल्म ज़्यादा दे,
To sab se buland hai Allah, sachcha Badshah, aur Qur’an mein jaldi na karo jab tak is ki wahi tumhein poori na ho le, aur arz karo ke ae mere Rab! Mujhe ilm zyada de
(ف171)فرائض کے چھوڑنے اور ممنوعات کا ارتکاب کرنے پر ۔(ف172)جس سے انہیں نیکیوں کی رغبت اور بدیوں سے نفرت ہو اور وہ پند و نصیحت حاصل کریں ۔
تو سب سے بلند ہے اللہ سچا بادشاہ (ف۱۷۳) اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے (ف۱۷٤) اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
Therefore Supreme is Allah, the True King; and do not hasten in the Qur’an (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) until its divine revelation has been completed to you; and pray, “My Lord, bestow me more knowledge.”
और बेशक हमने आदम को इससे पहले एक ताकीदि हुक्म दिया था तो वह भूल गया और हमने इसका क़सद न पाया,
Aur beshak humne Adam ko is se pehle ek taakidi hukum diya tha to woh bhool gaya aur humne is ka qasd na paaya
(ف173)جو اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ۔(ف174)شانِ نُزول : جب حضرت جبریل قرآنِ کریم لے کر نازل ہوتے تھے تو حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی فرمایا گیا کہ آپ مشقت نہ اٹھائیں اورسورۂ قیامہ میں اللہ تعالٰی نے خود ذمہ لے کر آپ کی اور زیادہ تسلّی فرما دی ۔
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
And when We commanded the angels, “Prostrate before Adam” – so they all prostrated, except Iblis; he refused.
तो हमने फरमाया, ऐ आदम! बेशक यह तेरा और तेरी बीबी का दुश्मन है तो ऐसा न हो कि वह तुम दोनों को जन्नत से निकाल दे फिर तो मशक्कत में पड़े
To humne farmaya, ae Adam! Beshak yeh tera aur teri biwi ka dushman hai, to aisa na ho ke woh tum dono ko Jannat se nikaal de, phir to mashaqat mein pade
تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے (ف۱۷٦) تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (ف۱۷۷)
We therefore said, “O Adam, he is your and your wife’s enemy, so may he not get you both out from heaven, so you then fall into hardship.”
बेशक तेरे लिए जन्नत में यह है कि न तो भूखा हो और न नंगा हो,
Beshak tere liye Jannat mein yeh hai ke na tu bhooka ho aur na nanga ho
(ف176)اس سے معلوم ہوا کہ صاحبِ فضل و شرف کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی تعظیم و احترام بجا لانے سے اعراض کرنا دلیلِ حسد و عداوت ہے ۔ اس آیت میں شیطان کا حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنا آپ کے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ۔(ف177)اور اپنی غذا اور خوراک کے لئے زمین جوتنے ، کھیتی کرنے ، دانہ نکالنے ، پیسنے ، پکانے کی محنت میں مبتلا ہو اور چونکہ عورت کا نفقہ مرد کے ذمہ ہے اس لئے اس تمام محنت کی نسبت صرف حضرت آدم علیہ السلام کی طرف فرمائی گئی ۔
تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ (ف۱۷۹) اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے (ف۱۸۰)
So the devil incited him, saying, “O Adam, shall I show you the tree of immortality and a kingdom that does not erode?”
तो इन दोनों ने इसमें से खा लिया अब उन पर उनकी शर्म की चीज़ें ज़ाहिर हुईं और जन्नत के पत्ते अपने ऊपर चिपकाने लगे और आदम से अपने रब के हुक्म में लघ्ज़िश हुई तो जो मतलब चाहता था उसकी राह न पाई
To in dono ne is mein se khaa liya, ab un par un ki sharam ki cheezen zahir ho gayin aur Jannat ke patte apne upar chipkane lage, aur Adam se apne Rab ke hukum mein laghzish waqea hui, to jo matlab chaaha tha us ki raah na paayi
(ف179)جس کو کھا کر کھانے والے کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے ۔(ف180)اور اس میں زوال نہ آئے ۔
تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں (ف۱۸۱) اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (ف۱۸۲) اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی (ف۱۸٦)
So they both ate from it – thereupon their shame became manifest to them, and they started applying on themselves the leaves of heaven; and Adam lapsed in obeying his Lord, so did not reach his goal. (Of achieving immortality)
फिर इसके रब ने चुना तो इस पर अपनी रहमत से रुझू फरमाई और अपने क़urb़ ख़ास की राह दिखाई,
Phir us ke Rab ne chun liya to us par apni rehmat se rujoo farmayi aur apne qurb khaas ki raah dikhayi
(ف181)یعنی بہشتی لباس ان کے جسم سے اُتر گئے ۔(ف182)ستر چھپانے اور جسم ڈھکنے کے لئے ۔(ف183)اور اس درخت کے کھانے سے دائمی حیات نہ ملی پھر حضرت آدم علیہ السلام توبہ و اِستِغفار میں مشغول ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے دعا کی ۔
پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
Then his Lord chose him, and inclined towards him with His mercy, and guided him.
फरमाया तुम दोनों मिल कर जन्नत से उतरो तुम में एक दूसरे का दुश्मन है, फिर अगर तुम सब को मेरी तरफ़ से हिदायत आए, तो जो मेरी हिदायत का पेरो हो वह न बहके न बदबख़्त हो
Farmaaya tum dono mil kar Jannat se utro, tum mein ek doosre ka dushman hai, phir agar tum sab ko meri taraf se hidaayat aaye, to jo meri hidaayat ka pairo ho woh na bhatke na badbakht ho
فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، (ف۱۸٤) تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا وہ نہ بہکے (ف۱۸۵) نہ بدبخت ہو (ف۱۸٦)
He said, “Both of you go down from heaven, one of you is an enemy to the other; then if the guidance from Me comes to you – then whoever follows My guidance, will not go astray nor be ill-fated.”
और जिसने मेरी याद से मुँह फेरा तो बेशक उसके लिए तंग ज़िंदगी है और हम इसे क़ियामत के दिन अँधा उठाएँगे,
Aur jis ne meri yaad se munh phera to beshak us ke liye tang zindagani hai aur hum use qayamat ke din andha uthaayenge
(ف184)یعنی کتاب اور رسول ۔(ف185)یعنی دنیا میں ۔(ف186)آخرت میں کیونکہ آخرت کی بدبختی دنیا میں طریقِ حق سے بہکنے کا نتیجہ ہے تو جو کوئی کتابِ الٰہی اور رسولِ برحق کا اِتّباع کرے اور ان کے حکم کے مطابق چلے وہ دنیا میں بہکنے سے اور آخرت میں اس کے عذاب و وبال سے نجات پائے گا ۔
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا (ف۱۸۷) تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے (ف۱۸۸) اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
“And the one who turned away from My remembrance – for him is a confined existence, and We shall raise him blind on the Day of Resurrection.”
कहेगा ऐ रब मेरे! मुझे तूने क्यों अँधा उठाया मैं तो अँखीरा (बिना) था
Kahe ga ae Rab mere! Mujhe to ne kyun andha uthaaya, main to ankhiyara (bina) tha
(ف187)اور میری ہدایت سے روگردانی کی ۔(ف188)دنیا میں یا قبر میں یا آخرت میں یا دین میں یا ان سب میں دنیا کی تنگ زندگانی یہ ہے کہ ہدایت کا اِتّباع نہ کرنے سے عملِ بد اور حرام میں مبتلا ہو یا قناعت سے محروم ہو کر گرفتارِ حرص ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی اس کو فراخِ خاطر اور سکونِ قلب میسّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اور حرص کے غموں سے کہ یہ نہیں وہ نہیں حال تاریک اور وقت خراب رہے اور مومن متوکِّل کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو حیاتِ طیبہ کہتے ہیں قَالَ تَعَالیٰ فَلَنُحْیِیَنَّہ، حَیٰوۃً طَیِبَّۃً اور قبر کی تنگ زندگانی یہ ہے کہ حدیث شریف میں وارد ہوا کہ کافِر پر ننانوے اژدہے اس کی قبر میں مسلّط کئے جاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا شانِ نُزول : یہ آیت اسود بن عبد العزی مخزومی کے حق میں نازِل ہوئی اور قبر کی زندگانی سے مراد قبر کا اس سختی سے دبانا ہے جس سے ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں اور آخرت میں تنگ زندگانی جہنّم کے عذاب میں جہاں زقوم (تھوہڑ) اور کھولتا پانی اور جہنّمیوں کے خون اور ان کے پیپ کھانے پینے کو دی جائے گی اور دین میں تنگ زندگانی یہ ہے کہ نیکی کی راہیں تنگ ہو جائیں اور آدمی کسبِ حرام میں مبتلا ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خوفِ خدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زندگانی ہے ۔ (تفسیرِ کبیر و خازن و مدارک وغیرہ)
اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،
And this is how We reward him who transgresses and does not accept faith in the signs of his Lord; and indeed the punishment of the Hereafter is the most severe and more lasting.
तो क्या उन्हें इससे राह न मिली कि हमने उनसे पहले कितनी संगतें (क़ौमें) हलाक़ कर दीं कि ये उनके बसने की जगह चलते फिरते हैं बेशक इसमें निशानियां हैं अक्ल वालों को
Aur beshak aakhirat ka azaab sab se sakht tar aur sab se derpa hai
تو کیا انھیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں (ف۱۹۲) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں (ف۱۹۳) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو (ف۱۹٤)
So did they not gain guidance from (knowing) how many generations We have destroyed before them, among whose dwellings they walk? Indeed in it are signs for men of intellect.
और अगर तुम्हारे रब की एक बात न गज़र चुकी होती तो जरूर अज़ाब उन्हें लपेट जाता और अगर न होता एक वादा ठहराया हुआ
To kya unhein is se raah na mili ke humne un se pehle kitni sangatein (qomon) halaak kar di, ke ye un ke basne ki jagah chalte phirte hain, beshak is mein nishaniyan hain aqal walon ko
(ف192)جو رسولوں کو نہیں مانتی تھیں ۔(ف193)یعنی قریش اپنے سفروں میں ان کے دیار پر گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے نشان دیکھتے ہیں ۔(ف194)جو عبرت حاصل کریں اور سمجھیں کہ انبیاء کی تکذیب اور ان کی مخالفت کا انجام بُرا ہے ۔
اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی (ف۱۹۵) تو ضرور عذاب انھیں (ف۱۹٦) لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا (ف۱۹۷)
And had not a command of your Lord been passed, then the punishment would have gripped them – and had a term not been appointed.
तो उनकी बातों पर सब्र करो और अपने रब को सराहते हुए उसकी पाकी बोलो सूरज चमकने से पहले और इसके डूबने से पहले और रात की घड़ियों में इसकी पाकी बोलो और दिन के किनारों पर इस उम्मीद पर कि तुम रज़ी हो
Aur agar tumhare Rab ki ek baat na guzri hoti to zaroor azaab unhein lipat jata, aur agar na hota ek waada thahraaya hua
(ف195)یعنی کہ یہ اُمّتِ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عذاب میں تاخیر کی جائے گی ۔(ف196)دنیا ہی میں ۔(ف197)یعنی روزِ قیامت ۔
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے (ف۱۹۸) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ف۱۹۹) اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو (ف۲۰۰) اور دن کے کناروں پر (ف۲۰۱) اس امید پر کہ تم راضی ہو (ف۲۰۲)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), patiently forbear upon their speech, and praising your Lord proclaim His Purity, before the sun rises and before it sets; and proclaim His Purity at some times of the night and at the two ends of the day, in the hope that you be pleased. (*With the great reward from your Lord)
और ऐ सुनने वाले अपनी आँखें न फैला इस की तरफ़ जो हमने काफ़िरों के जोड़ो को बरतने के लिए दी है जितनी दुनिया की ताज़गी कि हम उन्हें इसके سبب फ़ित्ना में डालें और तुम्हारे रब का रोज़क़ सबसे अच्छा और सबसे देरपा है,
To un ki baaton par sabr karo aur apne Rab ko sarahte hue us ki paaki bolo, suraj chamakne se pehle aur us ke doobne se pehle aur raat ki ghadiyon mein us ki paaki bolo aur din ke kinare par is ummeed par ke tum raazi ho
(ف198)اس سے نمازِ فجر مراد ہے ۔(ف199)ا س سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں جو دن کے نصفِ آخر میں آفتاب کے زوال و غروب کے درمیان واقع ہیں ۔(ف200)یعنی مغرب و عشا کی نمازیں پڑھو ۔(ف201)فجر و مغرب کی نمازیں ان کی تاکیداً تکرار فرمائی گئی اور بعض مفسِّرین قبلِ غروب سے نمازِ عصر اور اطرافِ نہار سے ظہر مراد لیتے ہیں ، ان کی توجیہہ یہ ہے کہ نمازِ ظہر زوال کے بعد ہے اور اس وقت دن کے نصفِ اوّل اور نصفِ آخر کے اطراف ملتے ہیں نصف اول کی انتہا ہے اور نصف آخر کی ابتدا ۔ (مدارک و خازن)(ف202)اللہ کے فضل و عطا اور اس کے انعام و اکرام سے کہ تمہیں اُمّت کے حق میں شفیع بنا کر تمہاری شفاعت قبول فرمائے اور تمہیں راضی کرے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ۔
اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی (ف۲۰۳) کہ ہم انھیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں (ف۲۰٤) اور تیرے رب کا رزق (ف۲۰۵) سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
And O listener, do not extend your eyes towards what We have given to disbelieving couples to enjoy – the bloom of the worldly life – so that We may test them with it; and the sustenance of your Lord is the best, and more lasting.
और अपने घर वालों को नमाज़ का हुक्म दे और खुद इस पर सथिर रह, कुछ हम तुमसे रोज़ी नहीं माँगते हम तुम्हें रोज़ी देंगे और अंज़ाम का भला परहेज़ गारी के लिए,
Aur ae sunne wale apni aankhein na phela us ki taraf jo humne kaafiron ke joron ko bartne ke liye di hai, jitni duniya ki tazgi ke hum unhein is ke sabab fitna mein daalein, aur tere Rab ka rizq sab se acha aur sab se derpa hai
(ف203)یعنی اصناف و اقسامِ کُفّار یہود و نصارٰی وغیرہ کو جو دنیوی ساز و سامان دیا ہے مؤمن کو چاہیئے کہ اس کو استحسان و اعجاب کی نظر سے نہ دیکھے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نافرمانوں کے طمطراق نہ دیکھو لیکن یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلّت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے ۔(ف204)اس طرح کہ جتنی ان پر نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کی سزاوار ہوں ۔(ف205)یعنی جنّت اور اس کی نعمتیں ۔
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے (ف۲۰٦) ہم تجھے روزی دیں گے (ف۲۰۷) اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
And command your household to establish prayer, and yourself be steadfast in it; We do not ask any sustenance from you; We will provide you sustenance; and the excellent result is for piety.
और काफ़िर बोले यह अपने रब के पास से कोई निशानी क्यों नहीं लाते और क्या उन्हें इसका बयान न आया जो अगले सहीफ़ों में है
Aur apne ghar walon ko namaz ka hukum de aur khud is par sabit raho, kuch hum tujh se rozi nahi maangte, hum tujhe rozi denge aur anjaam ka bhala parhezgari ke liye
(ف206)اور اس کا مکلَّف نہیں کرتے کہ ہماری خَلق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کا ذمہ دار ہو بلکہ ۔(ف207)اور انہیں بھی ، تو روزی کے غم میں نہ پڑ ، اپنے دل کو امرِ آخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو اللہ کے کام میں ہوتا ہے اللہ اس کی کارسازی کرتا ہے ۔
اور کافر بولے یہ (ف۲۰۸) اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے (ف۲۰۹) اور کیا انھیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۱۰)
And the disbelievers said, “Why does he not bring to us a sign from his Lord?”; did not the explanation of what is in the former Books, come to them?
और अगर हम उन्हें किसी अज़ाब से हलाक़ कर देते रसूल के आने से पहले तो जरूर कहते ऐ हमारे रब! तूने हमारी तरफ़ कोई रसूल क्यों न भेजा कि हम तेरी आयतों पर चलते पहले कि ज़लिल व रसवां होते,
Aur kafir bole ye apne Rab ke paas se koi nishani kyun nahi late aur kya unhein is ka bayan na aaya jo agli sahifon mein hai
(ف208)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف209)جو ان کی صحتِ نبوّت پر دلالت کرے باوجودیکہ آیاتِ کثیرہ آ چکی تھیں اور معجزات کا متواتر ظہور ہو رہا تھا پھر کُفّار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ، اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف210)یعنی قرآن اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت اور آپ کی نبوّت و بعثت کا ذکر ، یہ کیسے اعظم آیات ہیں ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کی طلب کرنے کا کیا موقع ہے ۔
اور اگر ہم انھیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو (ف۲۱۱) ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
And had We destroyed them with some punishment before the advent of a Noble Messenger, they would have certainly said, “Our Lord, why did You not send a Noble Messenger to us, so we would have followed Your signs, before being humiliated and disgraced?”
तुम फरमाओ सब राह देख रहे हैं तो तुम भी राह देखो तो अब जान जाओगे कि कौन हैं सीधी राह वाले और किसने हिदायत पाई
Aur agar hum unhein kisi azaab se halak kar dete Rasool ke aane se pehle, to zaroor kehte ae humare Rab! Tu ne hamari taraf koi Rasool kyun na bheja ke hum teri aayaton par chalte qabl is ke ke zaleel o ruswa hote,
تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں (ف۲۱۲) تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے (ف۲۱۳) کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،
Proclaim, “Each one is waiting; so you too wait; very soon you will come to know who are the people of the right path, and who has attained guidance.”
(ف212)ہم بھی اور تم بھی ۔شانِ نُزول : مشرکین نے کہا تھا کہ ہم زمانے کے حوادِث اور انقلاب کا انتظار کرتے ہیں کہ کب مسلمانوں پر آئیں اور ان کا قصہ تمام ہو ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ تم مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہو اورمسلمان تمہارے عقوبت و عذاب کا انتظار کر رہے ہیں ۔(ف213)جب خدا کا حکم آئے گا اور قیامت قائم ہو گی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page