Yaa-Seen (Alphabets of Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
यासीन
Yaseen
وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ ۙ ﴿2﴾
حکمت والے قرآن کی قسم،
By oath of the wise Qur’an.
हिकमत वाले कुरआन की क़सम,
Hikmat wale Quran ki qasam,
اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَۙ ﴿3﴾
بیشک تم (ف۲)
You (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) are indeed one of the Noble Messengers.
बेशक तुम
Beshak tum
(ف2)اے سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍؕ ﴿4﴾
سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہو (ف۳)
On the Straight Path.
सीधी राह पर भेजे गए हो
Seedhi raah par bheje gaye ho
(ف3)جو منزلِ مقصود کو پہنچانے والی ہے یہ راہ توحید و ہدایت کی راہ ہے تمام انبیاء علیہم السلام اسی راہ پر رہے ہیں ، اس آیت میں کُفّار کا رد ہے جو حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہتے تھے 'لَسْتَ مُرْسَلاً ' تم رسول نہیں ہو ۔ اس کے بعد قرآنِ کریم کی نسبت ارشاد فرمایا ۔
تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ ۙ ﴿5﴾
عزت والے مہربان کا اتارا ہوا،
(The Qur’an is) Sent down by the Almighty, the Most Merciful.
بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے (ف۵) تو وہ ایمان نہ لائیں گے (ف٦)
Undoubtedly, it (their disbelief) has proved true for most of them, so they will not believe.
बेशक उनमें अकसर पर बात साबित हो चुकी है तो वह ईमान न लाएंगे
Beshak un mein aksar par baat sabit ho chuki hai to woh iman na layenge
(ف5)یعنی حکمِ الٰہی و قضائے ازلی ان کے عذاب پر جاری ہو چکی ہے اور اللہ تعالٰی کا ارشاد' لَاَ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ' ان کے حق میں ثابت ہو چکا ہے اور عذاب کا ان کے لئے مقرر ہو جانا اس سبب سے ہے کہ وہ کُفر و انکار پر اپنے اختیار سے مُصِر رہنے والے ہیں ۔(ف6)اس کے بعد ان کے کُفر میں پختہ ہونے کی ایک تمثیل ارشاد فرمائی ۔
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق کردیے ہیں کہ وہ ٹھوڑیوں تک ہیں تو یہ اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے (ف۷)
We have indeed put shackles around their necks reaching up to the chins, so they remain facing upwards.
हम ने उनकी गर्दनों में तौक़ कर दिए हैं कि वह ठोड़ी तक हैं तो ये ऊपर को मुँह उठाए रहे गए
Hum ne un ki gardanoun mein tooq kar diye hain ke woh thodioun tak hain to yeh upar ko munh uthaye reh gaye
(ف7)یہ تمثیل ہے ان کے کُفر میں ایسے راسخ ہونےکی آیات و نُذر پند و ہدایت کسی سے وہ منتفع نہیں ہو سکتے جیسے کہ وہ شخص جن کی گردنوں میں غُل کی قِسم کا طوق پڑا ہو جو ٹھوڑی تک پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ سر نہیں جھکا سکتے ، یہی حال ان کا ہے کہ کسی طرح ان کو حق کی طرف التفات نہیں ہوتا اور اس کے حضور سر نہیں جھکاتے اور بعض مفسِّرین نے فرمایا ہے کہ یہ ان کی حقیقتِ حال ہے ، جہنّم میں انہیں اسی طرح کا عذاب کیا جائے گا جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا' اِذِ الْاَغْلَالُ فِیْ اَعْنَا قِہِمْ '۔شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل اور اس کے دو مخزومی دوستوں کے حق میں نازل ہوئی ابوجہل نے قَسم کھائی تھی کہ اگر وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھے گا تو پتّھر سے سرکچل ڈالے گا جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ اسی ارادۂ فاسدہ سے ایک بھاری پتّھر لے کر آیا جب اس نے پتّھر کو اٹھایا تو اس کے ہاتھ گردن میں چِپکے رہ گئے اور پتّھر ہاتھ کو لپٹ گیا یہ حال دیکھ کر اپنے دوستوں کی طر ف واپس ہوا اور ان سے واقعہ بیان کیا تو اس کے دوست ولید بن مغیرہ نے کہا کہ یہ کام میں کروں گا اور ان کا سرکچل کر ہی آؤں گا چنانچہ وہ پتّھر لے آیا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ابھی نماز ہی پڑھ رہے تھے ، جب یہ قریب پہنچا تو اللہ تعالٰی نے اس کی بینائی سلب کر لی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آواز سنتا تھا آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا تھا ، یہ بھی پریشان ہو کر اپنے یاروں کی طرف لوٹا وہ بھی نظر نہ آئے انہوں نے ہی اسے پکار ا اور اس سے کہا کہ تو نے کیا کیا ؟ کہنے لگا میں نے ان کی آواز تو سنی مگر وہ نظر ہی نہیں آئے ، اب ابوجہل کے تیسرے دوست نے دعوٰی کیا کہ وہ اس کام کو انجام دے گا اور بڑے دعوے کے ساتھ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف چلا تھا کہ الٹے پاؤں ایسا بدحواس ہو کر بھاگا کہ اوندھے منھ گر گیا اس کے دوستوں نے حال پوچھا تو کہنے لگا کہ میرا حال بہت سخت ہے میں نے ایک بہت بڑا سانڈ دیکھا جو میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان حائل ہو گیا ، لات و عزّٰی کی قَسم اگر میں ذرا بھی آ گے بڑھتا تو وہ مجھے کھا ہی جاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خازن و جمل)
اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا (ف۸)
And We have set a wall before them and a wall behind them, and covered the top – so they are unable to see anything.
और हम ने उनके आगे दीवार बना दी और उनके पीछे एक दीवार और उन्हें ऊपर से ढांक दिया तो उन्हें कुछ नहीं सूझता
Aur hum ne un ke aage deewar bana di aur un ke peechhe ek deewar aur unhein upar se dhaank diya to unhein kuch nahin soojhta
(ف8)یہ بھی تمثیل ہے کہ جیسے کسی شخص کے لئے دونوں طرف دیواریں ہوں اور ہر طرف سے راستہ بند کر دیا گیا ہو وہ کسی طرح منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا یہی حال ان کُفّار کا ہے کہ ان پر ہر طرف سے ایمان کی راہ بند ہے سامنے ان کے غرورِ دنیا کی دیوار ہے اور ان کے پیچھے تکذیبِ آخرت کی اور وہ جہالت کے قید خانہ میں محبوس ہیں آیات و دلائل میں نظر کرنا انہیں میسّر نہیں ۔
تم تو اسی کو ڈر سناتے ہو (ف۹) جو نصیحت پر چلے اور رحمن سے بےدیکھے ڈرے، تو اسے بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دو (ف۱۰)
You warn only him who follows the advice and fears the Most Gracious without seeing; therefore give him glad tidings of forgiveness and an honourable reward.
तुम तो उसी को डर सुनाते हो जो नसीहत पर चले और रहमान से बे-देखे डरे, तो उसे बख़्शिश और इज़्ज़त के सवाब की बशारत दो
Tum to usi ko dar sunate ho jo naseehat par chale aur Rahman se be-dikhe dare, to usay bakhshish aur izzat ke sawab ki basharat do
(ف9)یعنی آپ کے ڈر سنانے اور خوف دلانے سے وہی نفع اٹھاتا ہے ۔(ف10)یعنی جنّت کی ۔
بیشک ہم مردوں کو جِلائیں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا (ف۱۱) اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے (ف۱۲) اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں (ف۱۳)
We will surely bring the dead to life and We record what they send ahead and the signs they will leave behind; and We have accounted all things in a clear Book.
बेशक हम मुर्दों को जिलाएंगे और हम लिख रहे हैं जो उन्होंने आगे भेजा और जो निशानियां पीछे छोड़ गए और हर चीज़ हम ने गिन रखी है एक बताने वाली किताब में
Beshak hum murdon ko jilaayenge aur hum likh rahe hain jo unhone aage bheja aur jo nishaniyan peechhe chhod gaye aur har cheez hum ne gin rakhi hai ek batane wali kitaab mein
(ف11)یعنی دنیا کی زندگانی میں جو نیکی یا بدی کی تاکہ اس پر جزا دی جائے ۔(ف12)یعنی اور ہم ان کی وہ نشانیاں ، وہ طریقے بھی لکھتے ہیں جو وہ اپنے بعد چھوڑ گئے خواہ وہ طریقے نیک ہوں یا بد ، جو نیک طریقے اُمّتی نکالتے ہیں ان کو بدعتِ حسنہ کہتے ہیں اور اس طریقے کو نکالنے والوں اور عمل کرنے والوں دونوں کو ثواب ملتا ہے اور جو بُرے طریقے نکالتے ہیں ان کو بدعتِ سیّئہ کہتے ہیں اس طریقے کے نکالنے والے اور عمل کرنے والوں دونوں گناہ گار ہوتے ہیں ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں نیک طریقہ نکالا اس کو طریقہ نکالنے کا بھی ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کو بھی ثواب بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں بُرا طریقہ نکالا تو اس پر وہ طریقہ نکالنے کا بھی گناہ اور اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کے بھی گناہ بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ کمی کی جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ صدہا امورِ خیر مثلِ فاتحہ گیارہویں و تیجہ و چالیسواں و عرس و توشہ و ختم و محافلِ ذکرِ میلاد و شہادت جن کو بدمذہب لوگ بدعت کہہ کر منع کرتے ہیں اور لوگوں کو ان نیکیوں سے روکتے ہیں یہ سب درست اور باعثِ اجر و ثواب ہیں اور ان کو بدعتِ سیّئہ بتانا غلط و باطل ہے ۔ یہ طاعات اور اعمالِ صالحہ جو ذکر و تلاوت اور صدقہ و خیرات پر مشتمل ہیں بدعتِ سیّئہ نہیں ۔ بدعتِ سیّئہ وہ بُرے طریقے ہیں جن سے دین کو نقصان پہنچتا ہے اور جو سنّت کے مخالف ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ جو قوم بدعت نکالتی ہے اس سے ایک سنّت اٹھ جاتی ہے تو بدعت سیّئہ وہی ہے جس سے سنّت اٹھتی ہو جیسے کہ رفض ، خروج ، وہابیّت یہ سب انتہا درجہ کی خراب سیّئہ بدعتیں ہیں ، رفض و خروج جو اصحاب و اہلِ بیتِ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت پر مبنی ہیں ، ان سے اصحاب و اہلِ بیت کے ساتھ مَحبت و نیاز مندی رکھنے کی سنّت اٹھ جاتی ہے جس کے شریعت میں تاکیدی حکم ہیں ، وہابیّت کی اصل مقبولانِ حق حضراتِ انبیاء و اولیاء کی جناب میں بے ادبی و گستاخی اور تمام مسلمانوں کو مشرک قرار دینا ہے ، اس سے بزرگانِ دین کی حرمت و عزّت اور ادب و تکریم اور مسلمانوں کے ساتھ اخوّت و مَحبت کی سنّتیں اٹھ جاتی ہیں جن کی بہت شدید تاکید یں ہیں اور جو دین میں بہت ضروری چیز یں ہیں اور اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا کہ آثار سے مراد وہ قَدم ہیں جو نمازی مسجد کی طرف چلنے میں رکھتا ہے اور اس معنٰی پر آیت کی شانِ نزول یہ بیان کی گئی ہے کہ بنی سلمہ مدینہ طیّبہ کے کنارے پر رہتے تھے انہوں نے چاہا کہ مسجد شریف کے قریب آ بسیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سیدِ عاَلم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے قَدم لکھے جاتے ہیں تم مکان تبدیل نہ کرویعنی جتنی دور سے آؤ گے اتنے ہی قدم زیادہ پڑیں گے اور اجر و ثواب زیادہ ہو گا ۔(ف13)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی (ف۱٤) جب ان کے پاس فرستادے (رسول) آئے، (ف۱۵)
And relate to them the signs of the people of the city – when two emissaries came to them.
और उनसे निशानियां बयां करो इस शहर वालों की जब उनके पास फरिश्ते (रसूल) आए,
Aur un se nishaniyan bayan karo is shehar walon ki jab unke paas farista (rasool) aaye,
(ف14)اس شہر سے مراد انطاکیہ ہے یہ ایک بڑا شہر ہے اس میں چشمے ہیں ، کئی پہاڑ ہیں ، ایک سنگین شہرِ پناہ ہے ، بارہ میل کے دور میں بستا ہے ۔(ف15)حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے واقعہ کا مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے دو حواریوں صادق و صدوق کو انطاکیہ بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کو جو بُت پرست تھے دینِ حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرا رہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجّار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ، ان دونوں نے کہا کہ ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بھیجے ہوئے ہیں تمہیں دینِ حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بُت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کرو ، حبیب نجّار نے نشانی دریافت کی انہوں نے کہا کہ نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں ، اندھوں کو بینا کرتے ہیں ، برص والے کا مرض دور کر دیتے ہیں ، حبیب نجّار کا ایک بیٹا دو سال سے بیمار تھا ، انہوں نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہو گیا ، حبیب ایمان لائے اور اس واقعہ کی خبر مشہور ہو گئی تا آنکہ ایک خَلقِ کثیر نے ان کے ہاتھوں اپنے امراض سے شفا پائی یہ خبر پہنچنے پر بادشاہ نے انہیں بُلا کر کہا کیا ہمارے معبودوں کے سوا اور کوئی معبود بھی ہے ؟ ان دونوں نے کہا ہاں وہی جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا پھر لوگ ان کے درپے ہوئے اور انہیں مارا اور یہ دونوں قید کر لئے گئے پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے شمعون کو بھیجا وہ اجنبی بن کر شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے مصاحبین و مقرَّبین سے رسم و راہ پیدا کر کے بادشاہ تک پہنچے اور اس پر اپنا اثر پیدا کر لیا جب دیکھا کہ بادشاہ ان سے خوب مانوس ہو گیا ہے تو ایک روز بادشاہ سے ذکر کیا کہ دو جو آدمی قید کئے گئے ہیں کیا ان کی بات سنی گئی تھی وہ کیا کہتے تھے ؟ بادشاہ نے کہا کہ نہیں جب انہوں نے نئے دین کا نام لیا فوراً ہی مجھے غصّہ آ گیا شمعون نے کہا کہ اگر بادشاہ کی رائے ہو تو انہیں بلایا جائے دیکھیں ان کے پاس کیا ہے چنانچہ وہ دونوں بلائے گئے ، شمعون نے ان سے دریافت کیا تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا اس اللہ نے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر جاندار کو روزی دی اورجس کا کوئی شریک نہیں ، شمعون نے کہا اس کی مختصر صفت بیان کرو انہوں نے کہا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ، شمعون نے کہا تمہاری نشانی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جو بادشاہ چاہے تو بادشاہ نے ایک اندھے لڑکے کو بلایا انہوں نے دعا کی وہ فوراً بینا ہو گیا ، شمعون نے بادشاہ سے کہا کہ اب مناسب یہ ہے کہ تو اپنے معبودوں سے کہہ کہ وہ بھی ایسا ہی کر کے دکھائیں تاکہ تیری اور ان کی عزّت ظاہر ہو ، بادشاہ نے شمعون سے کہا کہ تم سے کچھ چُھپانے کی بات نہیں ہے ہمارا معبود نہ دیکھے ، نہ سنے ، نہ کچھ بگاڑ سکے ، نہ بنا سکے پھر بادشاہ نے ان دونوں حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے معبود کو مُردے کے زندہ کر دینے کی قدرت ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں ، انہوں نے کہا ہمارا معبود ہر شے پر قادر ہے ، بادشاہ نے ایک دہقان کے لڑکے کو منگایا جس کو مرے ہوئے سات دن ہو گئے تھے اور جسم خراب ہو چکا تھا ، بدبو پھیل رہی تھی ، ان کی دعا سے اللہ تعالٰی نے اس کو زندہ کیا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں مشرک مرا تھا مجھ کو جہنّم کے سات وادیوں میں داخل کیا گیا ، میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ جس دین پر تم ہو بہت نقصان دہ ہے ، ایمان لاؤ اور کہنے لگا کہ آسمان کے دروازے کُھلے اور ایک حسین جوان مجھے نظر آیا جو ان تینوں شخصوں کی سفارش کرتا ہے ، بادشاہ نے کہا کون تین ؟ اس نے کہا ایک شمعون اور دو یہ ، بادشاہ کو تعجّب ہوا ، جب شعمون نے دیکھا کہ اس کی بات بادشاہ میں اثر کر گئی تو اس نے بادشاہ کو نصیحت کی وہ ایمان لایا اور اس کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ ایمان نہ لائے اور عذابِ الٰہی سے ہلاک کئے گئے ۔
جب ہم نے ان کی طرف دو بھیجے (ف۱٦) پھر انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے سے زور دیا (ف۱۷) اب ان سب نے کہا (ف۱۸) کہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
When We had sent two towards them and they denied them both, so We fortified them with a third, and they all said, “Indeed we have been sent to you.”
जब हम ने उनकी तरफ़ दो भेजे फिर उन्होंने उन्हें झुठलाया तो हम ने तीसरे से जोर दिया अब उन सब ने कहा कि बेशक हम तुम्हारी तरफ़ भेजे गए हैं,
Jab hum ne un ki taraf do bheje phir unhone un ko jhuthlaya to hum ne teesre se zor diya ab un sab ne kaha ke beshak hum tumhari taraf bheje gaye hain,
(ف16)یعنی دو حواری ۔ وہب نے کہا کہ ان کے نام یوحنا اور بولس تھے اور کعب کا قول ہے کہ صادق و صدوق ۔(ف17)یعنی شمعون سے تقویت اور تائید پہنچائی ۔(ف18)یعنی تینوں فرستادوں نے ۔
بولے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں (ف۲۰) بیشک اگر تم باز نہ آئے (ف۲۱) تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی،
They (the people of the city) said, “We think you are ominous; indeed, if you do not desist, we shall surely stone you to death, and you will surely face a grievous torture at our hands.”
बोले हम तुम्हें मनहूस समझते हैं बेशक अगर तुम बाज़ न आए तो जरूर हम तुम्हें संगसार करेंगे बेशक हमारे हाथों तुम पर दुख की मार पड़ेगी,
Bole hum tumhein manhoos samajhte hain beshak agar tum baaz na aaye to zaroor hum tumhein sangsar karein beshak humare haathon tum par dukh ki maar padegi,
(ف20)جب سے تم آئے ہو بارش ہی نہیں ہوئی ۔(ف21)اپنے دین کی تبلیغ سے ۔
۔ (۲۲) (ف۲٦) اور مجھے کیا ہے کہ اس کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے، (ف۲۷)
“And what is the matter with me that I should not worship Him Who created me, whereas it is towards Him that you are to return?”
और मुझे क्या है कि उसकी बंदगी न करूँ जिसने मुझे पैदा किया और उसी की तरफ़ तुम्हें पलटना है,
Aur mujhe kya hai ke uski bandagi na karun jis ne mujhe paida kiya aur isi ki taraf tumhein palatna hai,
(ف27)یعنی ابتدائے ہستی سے جس کی ہم پر نعمتیں ہیں اور آخِرِ کار بھی اسی کی طرف رجوع کرنا ہے اس مالکِ حقیقی کی عبادت نہ کرنا کیا معنٰی اور اس کی نسبت اعتراض کیسا ، ہر شخص اپنے وجود پر نظر کر کے اس کے حقِ نعمت و احسان کو پہچان سکتا ہے ۔
کیا اللہ کے سوا اور خدا ٹھہراؤں (ف۲۸) کہ اگر رحمٰن میرا کچھ برا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے بچاسکیں،
“What! Shall I appoint Gods other than Allah? So that if the Most Gracious should wish me any harm, their intercession would be of no use to me, nor would they be able to save me?”
क्या अल्लाह के सिवा और ख़ुदा ठहराऊँ कि अगर रहमान मेरा कुछ बुरा चाहे तो उनकी सिफ़ारिश मेरे कुछ काम न आए और न वे मुझे बचा सकें,
Kya Allah ke siwa aur khuda thehraun ke agar Rahman mera kuch bura chahe to un ki sifarish mere kuch kaam na aaye aur na woh mujhe bacha sakein,
(ف28)یعنی کیا بُتوں کو معبود بناؤں ۔
اِنِّىۡۤ اِذًا لَّفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴿24﴾
بیشک جب تو میں کھلی گمراہی میں ہو (ف۲۹)
“Undoubtedly, I am then in open error.”
बेशक जब तू मैं खुली गुमराही में हो
Beshak jab tu main khuli gumraahi mein ho
(ف29)جب حبیب نجّار نے اپنی قوم سے ایسا نصیحت آمیز کلام کیا تو وہ لوگ ان پر یکبارگی ٹوٹ پڑے اور ان پر پتّھراؤ شروع کیا اور پاؤں سے کچلا یہاں تک کہ قتل کر ڈالا ۔ قبر ان کی انطاکیہ میں ہے جب قوم نے ان پر حملہ شروع کیا تو انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فرستادوں سے بہت جلدی کر کے یہ کہا ۔
جیسی میرے رب نے میری مغفرت کی اور مجھے عزت والوں میں کیا (ف۳۲)
“The manner in which my Lord has pardoned me and made me of the honoured ones!”
जैसी मेरे रब ने मेरी माफ़ी की और मुझे इज़्ज़त वालों में किया
Jaisi mere Rab ne meri maghfirat ki aur mujhe izzat walon mein kya
(ف32)حبیب نجّار نے یہ تمنّا کی کہ ان کی قوم کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالٰی نے حبیب کی مغفرت کی اور اِکرام فرمایا تاکہ قوم کو مرسلِین کے دین کی طرف ر غبت ہو ۔ جب حبیب قتل کر دیئے گئے تو اللہ ربُّ العزّت کا اس قوم پر غضب ہوا اور ان کی عقوبت و سزا میں تاخیر نہ فرمائی گئی ۔ حضرت جبریل کو حکم ہوا اور ان کی ایک ہی ہولناک آواز سے سب کے سب مر گئے چنانچہ ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (ف۳۳) اور نہ ہمیں وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا، (۲۹) وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے (ف۳٤)،
And after him, We did not send down any army from heaven against his people, nor did We intend to send down an army.
और हम ने उसके बाद उसकी क़ौम पर आसमान से कोई लश्कर न उतारा और न हमें वहां कोई लश्कर उतारना था,
Aur hum ne us ke baad us ki qaum par aasman se koi lashkar na utara aur na humein wahan koi lashkar utarna tha,
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (ف۳۳) اور نہ ہمیں وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا، (۲۹) وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے (ف۳٤)،
It was just one scream, and with it they were extinguished.
वह तो बस एक ही चीख़ थी जबही वह बुझ कर रह गए,
Woh to bas ek hi cheekh thi jabhi woh bujh kar reh gaye,
کیا انہوں نے نہ دیکھا (ف۳٦) ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں ہلاک فرمائیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں (ف۳۷)
Have they not seen how many generations We destroyed before them, which will not return to them?
क्या उन्होंने न देखा हम ने उनसे पहले कितनी संगतें हलाक़ फ़रमाईं कि वह अब उनकी तरफ़ पलटने वाले नहीं
Kya unhone na dekha hum ne un se pehle kitni sangatain halaak farmayen ke woh ab un ki taraf palatne wale nahin
(ف36)یعنی اہلِ مکّہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کہ ۔(ف37)یعنی دنیا کی طرف لوٹنے والے نہیں کیا یہ لوگ ان کے حال سے عبرت حاصل نہیں کرتے ۔
اور ان کے لیے ایک نشانی (ف٤۷) رات ہے ہم اس پر سے دن کھینچ لیتے ہیں (ف٤۸) جبھی وہ اندھیروں میں ہیں،
And a sign for them is the night; We strip the day out of it, thereupon they are in darkness.
और उनके लिए एक निशानी रात है हम इस पर से दिन खींच लेते हैं जबही वे अंधेरों में हैं,
Aur un ke liye ek nishani raat hai hum is par se din kheencht lete hain jabhi woh andheron mein hain,
(ف47)ہماری قدرتِ عظیمہ پر دلالت کرنے والی ۔(ف48)تو بالکل تاریک رہ جاتی ہے جس طرح کالے بھوجنگے حبشی کا سفید لباس اتار لیا جائے تو پھر وہ سیاہ ہی سیاہ رہ جاتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کے درمیان کی فضا اصل میں تاریک ہے ، آفتاب کی روشنی اس کے لئے ایک سفید لباس کی طرح ہے جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے تو یہ لباس اتر جاتا ہے اور فضا اپنی اصلی حالت میں تاریک رہ جاتی ہے ۔
اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے (ف٤۹) یہ حکم ہے زبردست علم والے کا (ف۵۰)
And the sun runs its course for its final destination; this is a command of the Almighty, the All Knowing.
और सूरज चलता है अपने एक ठहराव के लिए यह हुक़्म है ज़बरदस्त इल्म वाले का
Aur sooraj chalta hai apne ek thehraav ke liye yeh hukum hai zabardast ilm wale ka
(ف49)یعنی جہاں تک اس کی سیر کی نہایت مقرر فرمائی گئی ہے اور وہ روزِ قیامت ہے اس وقت تک وہ چلتا ہی رہے گا یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ اپنی منزلوں میں چلتا ہے اور جب سب سے دور والے مغرب میں پہنچتا ہے تو پھر لوٹ پڑتا ہے کیونکہ یہی اس کا مستقَر ہے ۔(ف50)اور یہ نشانی ہے جو اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ پر دلالت کرتی ہے ۔
اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں (ف۵۱) یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی) (ف۵۲)
And We have appointed positions for the moon till it returns like an old branch of the date palm.
और चाँद के लिए हमने मंज़िलें मुकर्रर कीं यहाँ तक कि फिर हो गया जैसे खजूर की पुरानी डाल (टहनी)
Aur chaand ke liye hum ne manzilein muqarrar kiin yahan tak ke phir ho gaya jaise khajoor ki purani daal (tahni)
(ف51)چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں ہر شب ایک منزل میں ہوتا ہے اور پوری منزل طے کر لیتا ہے نہ کم چلے نہ زیادہ ، طلوع کی تاریخ سے اٹھائیسویں تاریخ تک تمام منزلیں طے کر لیتا ہے اور اگر مہینہ تیس کا ہو تو دو شب اور انتیس ہو تو ایک شب چُھپتا ہے اور جب اپنے آخرِ منازل میں پہنچتا ہے تو باریک اور کمان کی طرح خمیدہ اور زرد ہو جاتا ہے ۔(ف52)جو سوکھ کرپَتلی اور خمیدہ اور زرد ہو گئی ہو ۔
سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے (ف۵۳) اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے (ف۵٤) اور ہر ایک ، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے،
It is not for the sun to catch up with the moon, nor does the night surpass the day; and each one of them floats in its orbit.
सूरज को नहीं पहुँचता कि चाँद को पकड़े और न रात दिन पर सबक़त ले जाए और हर एक, एक घेरे में पैर रहा है,
Sooraj ko nahin pohochta ke chaand ko pakde aur na raat din par sabqat le jaaye aur har ek, ek ghere mein pair raha hai,
(ف53)یعنی شب میں جو اس کے ظہورِ شوکت کا وقت ہے اس کے ساتھ جمع ہو کر اس کے نور کو مغلوب کرے کیونکہ سورج اور چاند میں سے ہر ایک کے ظہورِ شوکت کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، سورج کے لئے دن اور چاند کے لئے رات ۔(ف54)کہ دن کا وقت پورا ہونے سے پہلے آ جائے ایسا بھی نہیں بلکہ رات اور دن دونوں معیّن حساب کے ساتھ آتے جاتے ہیں کوئی ان میں سے اپنے وقت سے قبل نہیں آتا اور نیّرَین یعنی آفتاب و ماہتاب میں سے کوئی دوسرےکے حدودِ شوکت میں داخل نہیں ہوتا نہ آفتاب رات میں چمکے نہ ماہتاب دن میں ۔
اور ان کے لیے نشانی یہ ہے کہ انہیں ان بزرگوں کی پیٹھ میں ہم نے بھری کشتی میں سوار کیا (ف۵۵)
And a sign for them is that We lodged them in a laden ship, while they were in their forefathers backs.
और उनके लिए निशानी यह है कि उन्हें उन बुज़ुर्गों की पीठ में हम ने भरी क़श्ती में सवार किया
Aur un ke liye nishani yeh hai ke unhein un buzurgon ki peeth mein hum ne bhari kashti mein sawar kiya
(ف55)جو سامان اسباب وغیرہ سے بھری ہوئی تھی ، مراد اس سے کَشتیٔ نوح ہے جس میں ان کے پہلے اجداد سوار کئے گئے تھے اور یہ ان کی ذُرِّیَّتیں ان کی پشت میں تھیں ۔
اور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے (ف۵۸) اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے (ف۵۹) اس امید پر کہ تم پر مہر ہو تو منہ پھیر لیتے ہیں،
And when it is said to them, “Beware of what is before you and what is behind you, in the hope of your gaining mercy”, they turn away!
और जब उनसे फ़रमाया जाता है “डरो तुम उस से जो तुम्हारे सामने है और जो तुम्हारे पीछे आने वाला है” इस उम्मीद पर कि तुम पर मेहर हो तो मुँह फेर लेते हैं,
Aur jab un se farmaya jaata hai “Daro tum us se jo tumhare samne hai aur jo tumhare peechhe aane wala hai” is umeed par ke tum par mehr ho to munh phair lete hain,
اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا (ف٦۱) تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں،
And when it is said to them, “Spend in Allah’s cause, from what Allah has provided you”, the disbelievers say regarding the believers, “Shall we feed these, whom if Allah willed, would have fed? You are not but in open error!”
और जब उनसे फ़रमाया जाए “अल्लाह के दिए में से कुछ उसकी राह में खर्च करो” तो काफ़िर मुसलमानों के लिए कहते हैं कि क्या हम उसे खिलाएँ जिसे अल्लाह चाहता तो खिला देता तुम तो नहीं मगर खुली गुमराही में,
Aur jab un se farmaya jaaye “Allah ke diye mein se kuch is ki raah mein kharch karo” to kafir Musalmanon ke liye kehte hain ke kya hum use khilayein jise Allah chahta to khila deta tum to nahin magar khuli gumraahi mein,
(ف61)شانِ نُزول : یہ آیت کُفّارِ قریش کے حق میں نازل ہوئی جن سے مسلمانوں نے کہا تھا کہ تم اپنے مالوں کا وہ حصّہ مسکینوں پر خرچ کرو جو تم نے بَزُعمِ خود اللہ تعالٰی کے لئے نکالا ہے ، اس پر انہوں نے کہا کہ کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اللہ تعالٰی کھلانا چاہتا تھا تو کِھلا دیتا ، مطلب یہ تھا کہ خدا ہی کو مسکینوں کا محتاج رکھنا منظور ہے تو انہیں کھانے کو دینا اس کی مشیّت کے خلاف ہو گا یہ بات انہوں نے بخیلی اور کنجوسی سے بطورِ تمسخُر کے کہی تھی اور نہایت باطل تھی کیونکہ دنیا دارالامتحان ہے ، فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں ، فقیر کی آزمائش صبر سے اور غنی کی انفاق فی سبیلِ اللہ سے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ مکّہ مکرّمہ میں زندیق لوگ تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ مسکینوں کو صدقہ دو تو کہتے تھے ہرگز نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس کو اللہ تعالٰی محتاج کرے ہم کھلائیں ۔
راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف٦٤) کہ انہیں آلے گی جب وہ دنیا کے جھگڑے میں پھنسے ہوں گے، (ف٦۵)
They await just one scream, which will overcome them while they are involved in worldly disputes.
राह नहीं देखते मगर एक चीख़ कि उन्हें आएगी जब वे दुनिया के झगड़े में फँसे होंगे,
Raah nahin dekhte magar ek cheekh ki ke unhein aayegi jab woh duniya ke jhagde mein phanse honge,
(ف64)یعنی صور کے پہلے نفخہ کی جو حضرت اسرافیل علیہ السلام پھونکیں گے ۔(ف65)خرید و فروخت میں اور کھانے پینے میں اور بازاروں اور مجلسوں میں ، دنیا کے کاموں میں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے گی ۔ حدیث شریف میں ہے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ خریدار اور بائع کے درمیا ن کپڑا پھیلا ہو گا نہ سودا تمام ہونے پائے گا ، نہ کپڑا لپٹ سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی یعنی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور وہ کام ویسے ہی ناتمام رہ جائیں گے نہ انہیں خود پورا کر سکیں گے ، نہ کسی دوسرے سے پورا کرنے کو کہہ سکیں گے اور جو گھر سے باہر گئے ہیں وہ واپس نہ آ سکیں گے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا (ف٦۹) یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا (ف۷۰)
Saying, “O our misfortune! Who has raised us from our sleep? This is what the Most Gracious had promised, and the Noble Messengers had spoken the truth!”
कहेंगे “हाय हमारी ख़राबी किस ने हमें सोते से जगा दिया यह है वह जिसका रहमान ने वादा दिया था और रसूलों ने हक़ फ़रमाया
Kahenge “Haaye hamari kharaabi kis ne humein sote se jaga diya yeh hai woh jis ka Rahman ne wada diya tha aur rasoolon ne haq farmaya
(ف69)یہ مقولہ کُفّار کا ہو گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ یہ بات اس لئے کہیں گے کہ اللہ تعالٰی دونوں نفخوں کے درمیان ان سے عذاب اٹھا دے گا اور اتنا زمانہ وہ سوتے رہیں گے اور نفخۂ ثانیہ کے بعد جب اٹھائے جائیں گے اور اہوالِ قیامت دیکھیں گے تو اس طرح چیخ اٹھیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب کُفّار جہنّم اور اس کے عذاب دیکھیں گے تو اس کے مقابلہ میں عذابِ قبر انہیں سہل معلوم ہو گا اس لئے وہ وَیل و افسوس پکار اٹھیں گے اور اس وقت کہیں گے ۔(ف70)اور اس وقت کا اقرار انہیں کچھ نافع نہ ہو گا ۔
بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں (ف۷۳)
Indeed this day the dwellers of Paradise are in comfort, with blissful hearts.
बेशक जन्नत वाले आज दिल के बहलाओं में चैन करते हैं
Beshak jannat wale aaj dil ke bahlaavon mein chain karte hain
(ف73)طرح طرح کی نعمتیں اور قِسم قِسم کے سرور اور اللہ تعالٰی کی طرف سے ضیافت ، جنّتی نہروں کے کنارے ، بہشتی اشجار کی دلنواز فضائیں ، طرب انگیز نغمات ، حسینانِ جنّت کا قرب اور قِسم قِسم کی نعمتوں سے التذاذ ، یہ ان کے شغل ہوں گے ۔
ان کے لیے اس میں میوہ ہے اور ان کے لیے ہے اس میں جو مانگیں،
In it (paradise) are fruits for them and whatever they ask for.
उनके लिए इसमें मेवा है और उनके लिए है इसमें जो माँगेँ,
Un ke liye is mein mewa hai aur un ke liye hai is mein jo maangein,
سَلٰمٌ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴿58﴾
ان پر سلام ہوگا، مہربان رب کا فرمایا ہوا (ف۷٤)
Upon them will be “Peace” – a Word from their Merciful Lord!
उन पर सलाम होगा, मेहरबान रब का फ़रमाया हुआ
Un par salaam ho ga, meherban Rab ka farmaya hua
(ف74)یعنی اللہ تعالٰی ان پر سلام فرمائے گا خواہ بواسطہ یا بے واسطہ اور یہ سب سے بڑی اور پیاری مراد ہے ۔ ملائکہ اہلِ جنّت کے پاس ہر دروازے سے آ کر کہیں گے تم پر تمہارے رحمت والے ربّ کا سلام ۔
“And be separated (from others) this day, O you criminals!”
और आज अलग फट जाओ, ऐ मुजरिमो!
Aur aaj alag phat jao, ai mujrim!
(ف75)جس وقت مومن جنّت کی طرف روانہ کئے جائیں گے ، اس وقت کُفّار سے کہا جائے گا کہ الگ ہھٹ جاؤ مومنین سے علیحدہ ہو جاؤ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ حکم کُفّار کو ہو گا کہ الگ الگ جہنّم میں اپنے اپنے مقام پر جائیں ۔
آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کردیں گے (ف۸۰) اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے (ف۸۱)
This day We will set a seal on their mouths, and their hands will speak out to Us and their feet will bear witness to their deeds.
आज हम उनके मुँहों पर मोहर कर देंगे और उनके हाथ हम से बात करेंगे और उनके पाँव उनके किए की गवाही देंगे
Aaj hum un ke mounhon par mohar kar denge aur un ke haath hum se baat karenge aur un paon un ke kiye ki gawahi denge
(ف80)کہ وہ بول نہ سکیں اور یہ مُہر کرنا ان کے یہ کہنے کے سبب ہو گا کہ ہم مشرک نہ تھے نہ ہم نے رسولوں کو جھٹلایا ۔(ف81)ان کے اعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے سب بیان کر دیں گے ۔
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے (ف۸۲) پھر لپک کر رستہ کی طرف جاتے تو انہیں کچھ نہ سوجھتا (ف۸۳)
And had We willed, We could have quenched their eyes so they would rush towards the path, unable to see a thing.
और अगर हम चाहते तो उनकी आँखें मिटा देते फिर लपक कर रास्ता की तरफ़ जाते तो उन्हें कुछ न सूझता
Aur agar hum chaahte to un ki aankhein mita dete phir lapak kar rasta ki taraf jaate to unhein kuch na soojhta
(ف82)کہ نشان بھی باقی نہ رہتا اس طرح کا اندھا کر دیتے ۔(ف83)لیکن ہم نے ایسا نہ کیا اور اپنے فضل و کرم سے نعمتِ بصر ان کے پاس باقی رکھی تو اب ان پر حق یہ ہے کہ وہ شکر گزاری کریں کُفر نہ کریں ۔
اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھر بیٹھے ان کی صورتیں بدل دیتے (ف۸٤) نہ آگے بڑھ سکتے نہ پیچھے لوٹتے (ف۸۵)
And had We willed, We could have disfigured their faces while they were in their homes, therefore unable to go forward or turn back.
और अगर हम चाहते तो उनके घर बैठे उनकी सूरतें बदल देते न आगे बढ़ सकते न पीछे लौटते
Aur agar hum chaahte to un ke ghar baithe un ki sooratain badal dete na aage barh sakte na peechhe laut te
(ف84)اور انہیں بندر یا سور بنا دیتے ۔(ف85)اور ان کے جُرم اس کے مستدعی تھے لیکن ہم نے اپنی رحمت و حکمت کے حسبِ اِقتضا عذاب میں جلدی نہ کی اور ان کے لئے مہلت رکھی ۔
اور جسے ہم بڑی عمر کا کریں اسے پیدائش میں الٹا پھیریں (ف۸٦) تو کیا سمجھے نہیں (ف۸۷)
And whomever We bring to an old age, We reverse him in creation; so do they not understand?
और जिसे हम बड़ी उम्र का करें उसे पैदाइश में उल्टा फेरें तो क्या समझे नहीं
Aur jise hum badi umar ka karein use paidaish mein ulta pheri, to kya samjhe nahin
(ف86)کہ وہ بچپن کے سے ضعف و ناتوانی کی طرف واپس ہونے لگے اور دم بدم اس کی طاقتیں ، قوّتیں اور جسم اور عقل گَھٹنے لگے ۔(ف87)کہ جو احوال کے بدلنے پر ایسا قادر ہو کہ بچپن کے ضعف و ناتوانی اور صِغرِ جسم و نادانی کے بعد شباب کی قوّتیں و توانائی و جسمِ قوی و دانائی عطا فرماتا ہے پھر کِبرِ سن اور آخرِ عمر میں اسی قوی ہیکل جوان کو دبلا اور حقیر کر دیتا ہے اب نہ وہ جسم باقی ہے نہ قوّتیں ، نشست برخاست میں مجبوریاں درپیش ہیں ، عقل کام نہیں کرتی ، بات یاد نہیں رہتی ، عزیز و اقارب کو پہچان نہیں سکتا ، جس پروردگار نے یہ تغیّر کیا وہ قادر ہے کہ آنکھیں دینے کے بعد انہیں مٹا دے اور اچھی صورتیں عطا کرنے کے بعد ان کو مسخ کر دے اور موت دینے کے بعد پھر زندہ کر دے ۔
اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا (ف۸۸) اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے، وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن (ف۸۹)
And We have not taught him (Prophet Mohammed- peace and blessings be upon him) to recite poetry, nor does it befit him; it is nothing but an advice and the bright Qur’an.
और हमने उन्हें शेर कहना न सिखाया और न वह उनकी शान के लायक है, वह तो नहीं मगर नसीहत और रोशन कुरआन
Aur hum ne un ko sher kehna na sikhaya aur na woh un ki shaan ke laayak hai, woh to nahin magar naseehat aur roshan Quran
(ف88)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو شِعر گوئی کا ملکہ نہ دیا یا یہ کہ قرآن تعلیمِ شِعر نہیں ہے اور شِعر سے کلامِ کاذب مراد ہے خواہ موزوں ہو یا غیرِ موزوں ۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی کی طرف سے علو مِ اوّلین و آخرین تعلیم فرمائے گئے جن سے کشفِ حقائق ہوتا ہے اور آپ کے معلومات واقعی نفس الامری ہیں ، کذبِ شِعری نہیں جو حقیقت میں جہل ہے وہ آپ کی علمِ اوّلین و شان کے لائق نہیں اور آپ کا دامنِ تقدّس اس سے پاک ہے ۔ اس میں شِعر بمعنی کلامِ موزوں کے جاننے اور اس کے صحیح و سقیم جیّد و ردّی کو پہچاننے کی نفی نہیں ۔ علمِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں طعن کرنے والوں کے لئے یہ آیت کسی طرح سند نہیں ہو سکتی ، اللہ تعالٰی نے حضور کو علومِ کائنات عطا فرمائے اس کے انکار میں اس آیت کو پیش کرنا مَحض غلط ہے ۔ شانِ نُزول : کُفّارِ قریش نے کہا تھا کہ محمّدِ (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) شاعر ہیں اور جو وہ فرماتے ہیں یعنی قرآنِ پاک وہ شِعر ہے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ (معاذ اللہ) یہ کلامِ کاذب ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں ا ن کا مقولہ نقل فرمایا گیا ہے کہ ' بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ھُوَ شَاعِر ' اسی کا اس آیت میں رد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسی باطل گوئی کا ملکہ ہی نہیں دیا اور یہ کتاب اشعار یعنی اکاذیب پر مشتمل نہیں ، کُفّارِ قریش زبان سے ایسے بدذوق اور نظمِ عروضی سے ایسے ناواقف نہ تھے کہ نثر کو نظم کہہ دیتے اور کلامِ پاک کو شِعرِ عروضی بتا بیٹھتے اور کلام کا مَحض وزنِ عروضی پر ہونا ایسا بھی نہ تھا کہ اس پر اعتراض کیا جا سکے ، اس سے ثابت ہو گیا کہ ان بے دینوں کی مراد شِعر سے کلامِ کاذب تھی ۔ (مدارک و جمل و روح البیان) اور حضرت شیخ اکبر قدّس سرہ نے اس آیت کے معنٰی میں فرمایا ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معمّے اور اجمال کے ساتھ خِطاب نہیں فرمایا جس میں مراد کے مخفی رہنے کا احتمال ہو بلکہ صاف صریح کلام فرمایا ہے جس سے تمام حجاب اٹھ جائیں اور علوم روشن ہو جائیں چونکہ شِعر لغز و توریہ اور رمز و اجمال کا محل ہوتا ہے اس لئے شِعر کی نفی فرما کر اس معنٰی کو بیان فرما دیا ۔(ف89)صاف صریح حق و ہدایت ، کہاں وہ پاک آسمانی کتاب تمام علوم کی جامع اور کہاں شِعر جیسا کلامِ کاذب چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک ۔ (الکبریت الاحمر للشیخ الاکبر)
اور ان کے لیے ان میں کئی طرح کے نفع (ف۹۳) اور پینے کی چیزیں ہیں (ف۹٤) تو کیا شکر نہ کریں گے (ف۹۵)
And for them in the animals are numerous different benefits and drinks; so will they not be grateful?
और उनके लिए उनमें कई तरह के नफ़ा और पीने की चीज़ें हैं तो क्या शुकर न करेंगे
Aur un ke liye un mein kai tarah ke nafa aur peene ki cheezen hain to kya shukar na karenge
(ف93)اور فائدے ہیں کہ ان کی کھالوں ، بالوں اور اون وغیرہ کام میں لاتے ہیں ۔(ف94)دودھ اور دودھ سے بننے والی چیزیں وہی مٹّھا وغیرہ ۔(ف95)اللہ تعالٰی کی ان نعمتوں کا ۔
وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے (ف۹۸) اور وہ ان کے لشکر سب گرفتار حاضر آئیں گے (ف۹۹)
They (the appointed Gods) cannot help them; and they and their armies will come (to Us), as captives.
वे उनकी मदद नहीं कर सकते और वे उनके लश्कर सब गिरफ़्तार हाज़िर आएँगे
Woh un ki madad nahin kar sakte aur woh un ke lashkar sab giraftaar hazir aayenge
(ف98)کیونکہ جماد بے جان ، بے قدرت ، بے شعور ہیں ۔(ف99)یعنی کافِروں کے ساتھ ان کے بُت بھی گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے اور سب جہنّم میں داخل ہوں گے بُت بھی اور ان کے پجاری بھی ۔
تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو (ف۱۰۰) بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں (ف۱۰۱)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) do not grieve because of what they (the disbelievers) say; indeed We know what they conceal and what they disclose.
तो तुम उनकी बात का ग़म न करो बेशक हम जानते हैं जो वे छुपाते हैं और ज़ाहिर करते हैं
To tum un ki baat ka gham na karo beshak hum jaante hain jo woh chhupate hain aur zahir karte hain
(ف100)یہ خِطاب ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ، اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی فرماتا ہے کہ کُفّار کی تکذیب و انکار سے اور ان کی ایذاؤں اور جفاکاریوں سے آپ غمگین نہ ہوں ۔(ف101)ہم انہیں ان کے کردار کی جزا دیں گے ۔
اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے (ف۱۰۲)
And did not man see that We have created him from a drop of semen? Yet he is an open quarreller!
और क्या आदमी ने न देखा कि हमने उसे पानी की बूंद से बनाया जबही वह सरीह झगड़ालू है
Aur kya aadmi ne na dekha ke hum ne use paani ki boond se banaya jabhi woh sarih jhagaralo hai
(ف102)شانِ نُزول : یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقولِ مشہور اُ بَی بن خلف حُمَجی کے حق میں نازل ہوئی جو انکارِ بَعث میں یعنی مرنے کے بعد اٹھنے کے انکار میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا ، اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی اس کو توڑتا جاتا تھا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہتا جاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد بھی اللہ تعالٰی زندہ کرے گا ؟ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنّم میں داخل فرمائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ گلی ہوئی ہڈی کا بکھرنے کے بعد اللہ تعالٰی کی قدرت سے زندگی قبول کرنا اپنی نادانی سے ناممکن سمجھتا ہے ، کتنا احمق ہے اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ ابتدا میں ایک گندہ نطفہ تھا گلی ہوئی ہڈی سے بھی حقیر تر ، اللہ تعالٰی کی قدرتِ کاملہ نے اس میں جان ڈالی ، انسان بنایا تو ایسا مغرور و متکبِّر انسان ہوا کہ اس کی قدرت ہی کا منکِر ہو کر جھگڑنے آ گیا ، اتنا نہیں دیکھتا کہ جو قادرِ برحق پانی کی بوند کو قوی اور توانا انسان بنا دیتا ہے اس کی قدرت سے گلی ہوئی ہڈی کو دوبارہ زندگی بخش دینا کیا بعید ہے اور اس کو ناممکن سمجھنا کتنی کُھلی ہوئی جہالت ہے ۔
اور ہمارے لیے کہاوت کہتا ہے (ف۱۰۳) اور اپنی پیدائش بھول گیا (ف۱۰٤) بولا ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں،
And he invents an example for Us, while forgetting his own creation, saying, “Who is such that can revive the bones when they have completely rotted away?”
और हमारे लिए कहावत कहता है और अपनी पैदाइश भूल गया बोला ऐसा कौन है कि हड्डियों को ज़िंदा करे जब वे बिलकुल गल गईं,
Aur humare liye kahawat kehta hai aur apni paidaish bhool gaya bola aisa kaun hai ke haddioun ko zinda kare jab woh bilkul gal gayi,
(ف103)یعنی گلی ہوئی ہڈی کو ہاتھ سے مل کر مثل بناتا ہے کہ یہ تو ایسی بکھر گئی کیسے زندہ ہو گی ۔(ف104)کہ قطر ۂ مَنی سے پیدا کیا گیا ہے ۔
تم فرماؤ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے (ف۱۰۵)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “They will be revived by the One Who created them the first time; and He is the All Knowing of every creation.”
तुम फ़रमाओ वह ज़िंदा करेगा जिसने पहली बार उन्हें बनाया, और उसे हर पैदाइश का इल्म है
Tum farmao woh zinda karega jis ne pehli baar unhe banaya, aur use har paidaish ka ilm hai
جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں آگ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو (ف۱۰٦)
“The One Who has created for you fire from the green tree, so you kindle from it.”
जिसने तुम्हारे लिए हरे पेड़ में आग पैदा की जबही तुम उससे सुलगते हो
Jis ne tumhare liye hare ped mein aag paida ki jabhi tum us se sulgate ho
(ف106)عرب کے دو درخت ہوتے ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک کا نام مرخ ہے دوسرے کا عفار ، ان کی خاصیّت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آ گ نکلتی ہے باوجود یہ کہ وہ اتنی تر ہوتی ہیں کہ ان سے پانی ٹپکتا ہوتا ہے ۔ اس میں قدرت کی کیسی عجیب و غریب نشانی ہے کہ آ گ اور پانی دونوں ایک دوسرے کی ضد ، ہر ایک ایک جگہ ایک لکڑی میں موجود ، نہ پانی آ گ کو بجھائے نہ آ گ لکڑی کو جَلائے ، جس قادرِ مطلق کی یہ حکمت ہے وہ اگر ایک بدن پر موت کے بعد زندگی وارد کرے تو اس کی قدرت سے کیا عجیب اور اس کو ناممکن کہنا آثارِ قدرت دیکھ کر جاہلانہ و معاندانہ انکار کرنا ہے ۔
اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان جیسے اور نہیں بناسکتا (ف۱۰۷) کیوں نہیں (ف۱۰۸) اور وہی بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا،
And is it not possible for the One Who created the heavens and the earth to create the likes of them? It is surely possible, why not? And He is the Great Creator, the All Knowing of everything.
और क्या वह जिसने आसमान और ज़मीन बनाए उन्हें जैसे और नहीं बना सकता क्यों नहीं और वही बड़ा पैदा करने वाला सब कुछ जानता,
Aur kya woh jis ne aasman aur zameen banaye un jaise aur nahin bana sakta kyon nahin aur wahi bara paida karne wala sab kuch jaanta,
(ف107)یا انہیں کو بعدِ موت زندہ نہیں کر سکتا ۔(ف108)بے شک وہ اس پر قادر ہے ۔
تو پاکی ہے، اسے جس کے ہاتھ ہر چیز کا قبضہ ہے، اور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۱۱۱)
Therefore Purity is to Him in Whose Hand* is the control over all things and it is towards Him that you will be returned. (Used as a metaphor to mean Power).
तो पाक़ी है, उसे जिसके हाथ हर चीज़ का क़ब्ज़ा है, और इसी की तरफ़ फ़ेरे जाओगे
"
To paaki hai, use jis ke haath har cheez ka qabza hai, aur isi ki taraf phere jaoge",
"
(ف111)آخرت میں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page