کیا لوگوں کو اس کا اچنبا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ (ف۲) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے، کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے (ف۳)
(ف2)شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا جب اللہ تبارَک و تعالٰی نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسالت سے مشرّف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب منکِر ہوگئے اور ان میں سے بعضوں نے یہ کہا کہ اللہ اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے ۔ اس پر یہ آیات نازِل ہوئیں ۔(ف3)کُفّار نے پہلے تو بشر کا رسول ہونا قابلِ تعجُّب و انکار قرار دیا اور پھر جب حضور کے معجزات دیکھے اور یقین ہوا کہ یہ بشر کے مَقدِرَت سے بالا تر ہیں تو آپ کو ساحِر بتایا ۔ ان کا یہ دعوٰی تو کذب و باطل ہے مگر اس میں بھی حضورکے کمال اور اپنے عجز کا اعتراف پایا جاتا ہے ۔
بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے کام کی تدبیر فرماتا ہے (ف٤) کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد (ف۵) یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف٦) تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
(ف4)یعنی تمام خَلق کے امور کا حسبِ اقتضاءِ حکمت سر انجام فرماتا ہے ۔(ف5)اس میں بُت پرستوں کے اس قول کا رد ہے کہ بُت ان کی شفاعت کریں گے ، انہیں بتایا گیا کہ شفاعت ماذونین کے سوا کوئی نہیں کرے گا اور ماذون صرف اس کے مقبول بندے ہوں گے ۔(ف6)جو آسمان و زمین کا خالِق اور تمام امور کا مدبِّر ہے اس کے سوا کوئی معبُود نہیں فقط وہی مستحقِ عبادت ہے ۔
اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے (ف۷) اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے (ف۸) اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
(ف7)روزِ قیامت اور یہی ہے ۔(ف8)اس آیت میں حشر و نشر و معاد کا بیان اور منکِرین کا رد ہے اور اس پر نہایت لطیف پیرایہ میں دلیل قائم فرمائی گئی ہے کہ وہ پہلی بار بناتا ہے اور اعضاءِ مرکَّبہ کو پیدا کرتا ہے اور ترکیب دیتا ہے تو موت کے ساتھ متفرِّق و منتشر ہونے کے بعد ان کو دوبارہ پھر ترکیب دینا اور بنے ہوئے انسان کو فنا کے بعد پھر دوبار بنا دینا اور وہی جان جو اس بدن سے متعلق تھی اس کو اس بدن کی درستی کے بعد پھر اسی بدن سے متعلق کر دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے اور اس دوبارہ پیدا کرنے کامقصود جزائے اعمال یعنی مطیع کو ثواب اور عاصی کو عذاب دینا ہے ۔
وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں (ف۹) کہ تم برسوں کی گنتی اور (ف۱۰) حساب جانو، اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق (ف۱۱) نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے (ف۱۲)
(ف9)اٹھائیس منزلیں جو بارہ برجو ں پر منقسم ہیں ، ہر برج کے لئے 2/1 . 2 منزلیں ہیں ، چاند ہر شب ایک منزل میں رہتا ہے اور مہینہ تیس دن کا ہو تو دو شب ورنہ ایک شب چھپتا ہے ۔(ف10)مہینوں ، دنوں ، ساعتوں کا ۔(ف11)کہ اس سے اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے دلائل ظاہر ہوں ۔(ف12)کہ ان میں غور کر کے نفع اٹھائیں ۔
بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے (ف۱۳) اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے (ف۱٤) اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں (ف۱۵)
(ف13)روزِ قیامت اور ثواب و عذا ب کے قائل نہیں ۔(ف14)اور اس فانی کو جاودانی پر ترجیح دی اور عمر اس کی طلب میں گزاری ۔(ف15)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہاں آیات سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ پاک اور قرآن شریف مراد ہے اور غفلت کرنے سے مراد ان سے اعراض کرنا ہے ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انھیں راہ دے گا (ف۱٦) ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں،
(ف16)جنّتوں کی طرف ۔ قتادہ کا قول ہے کہ مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل خوب صورت شکل میں اس کے سامنے آئے گا ، یہ شخص کہے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا میں تیرا عمل ہوں اور اس کے لئے نور ہوگا اور جنّت تک پہنچائے گا اور کافِر کا معاملہ برعکس ہوگا کہ اس کا عمل بُری شکل میں نمودار ہو کر اسے جہنّم میں پہنچائے گا ۔
ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے (ف۱۷) اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے (ف۱۸) اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں کو سراہا اللہ جو رب ہے سارے جہان کا (ف۱۹)
(ف17)یعنی اہلِ جنّت اللہ تعالٰی کی تسبیح ، تحمید ، تقدیس میں مشغول رہیں گے اور اس کے ذکر سے انہیں فرحت و سرور اور انتہا درجہ کی لذّت حاصل ہوگی سبحان اللہ ۔(ف18)یعنی اہلِ جنّت آپس میں ایک دوسرے کی تحِیّت و تکریم سلام سے کریں گے یا ملائکہ انہیں بطورِ تحِیّت سلام عرض کریں گے یا ملائکہ ربّ عزوجل کی طرف سے ان کے پاس سلام لائیں گے ۔(ف19) ان کے کلام کی ابتداء اللہ کی تعظیم و تنزیہ سے ہوگی اور کلام کا اختتام اس کی حمد و ثنا پر ہوگا ۔
اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا (ف۲۰) تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں (ف۲۱)
(ف20)یعنی اگر اللہ تعالٰی لوگوں کی بددعائیں جیسے کہ وہ غضب کے وقت اپنے لئے اور اپنے اہل و اولاد و مال کے لئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہو جائیں ، خدا ہمیں غارت کرے ، برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد و اقارب کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے ہندی میں کوسنا کہتے ہیں ، اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کر لی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہو گئے ہوتے لیکن اللہ تبارَک و تعالٰی اپنے کرم سے دعا ئے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے ، دعائے بد کے قبول میں نہیں ، یہ اس کی رحمت ہے ۔شانِ نُزول : نضر بن حارث نے کہا تھا یا ربّ یہ دینِ اسلام اگر تیرے نزدیک حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھّر برسا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ اگر اللہ تعالٰی کافِروں کے لئے عذاب میں جلدی فرماتا جیسا کہ انکے لئے مال و اولاد وغیرہ ، دنیا کی بھلائی دینے میں جلدی فرمائی تو وہ سب ہلاک ہو چکے ہوتے ۔(ف21)اور ہم انہیں مہلت دیتے ہیں اور ان کے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے ۔
اور جب آدمی کو (ف۲۲) تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے (ف۲۳) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے (ف۲٤) گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والے کو (ف۲۵) ان کے کام (ف۲٦)
(ف22)یہاں آدمی سے کافِر مراد ہے ۔(ف23)ہر حال میں اور جب تک اس کی تکلیف زائل نہ ہو دعا میں مشغول رہتا ہے ۔(ف24) اپنے پہلے طریقہ پر اور وہی کُفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور تکلیف کے وقت کو بھول جاتا ہے ۔(ف25)یعنی کافِر وں کو ۔(ف26)مقصد یہ ہے کہ انسا ن بلا کے وقت بہت ہی بے صبرا ہے اور راحت کے وقت نہایت ناشکرا ، جب تکلیف پہنچتی ہے تو کھڑے ، لیٹے ، بیٹھے ہر حال میں دعا کرتا ہے جب اللہ تکلیف دور کر دے تو شکر بجا نہیں لاتا اور اپنی حالتِ سابقہ کی طرف لوٹ جاتا ہے ، یہ حال غافل کا ہے ، مومن عاقل کا حال اس کے خلاف ہے وہ مصیبت و بلا پر صبر کرتا ہے ، راحت و آسائش میں شکر کرتا ہے ، تکلیف و راحت کے جملہ احوال میں اللہ تعالٰی کے حضور تضرُّع و زاری اور دعا کرتا ہے اور ایک مقام اس سے بھی اعلٰی ہے جو مومنوں میں بھی مخصوص بندوں کو حاصل ہے کہ جب کوئی مصیبت و بلا آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں ، قضاءِ الٰہی پر دل سے راضی رہتے ہیں اور جمیع احوال پر شکر کرتے ہیں ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں (قومیں) (ف۲۷) ہلاک فرمادیں جب وہ حد سے بڑھے (ف۲۸) اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۹) اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو،
(ف27)یعنی اُمّتیں ۔(ف28)اور کُفر میں مبتلاہوئے ۔(ف29)جو ان کے صدق کی بہت واضح دلیلیں تھیں لیکن انہوں نے نہ مانا اور انبیاء کی تصدیق نہ کی ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۳۱) پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں (ف۳۲) کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے (ف۳۳) یا اسی کو بدل دیجیے (ف۳٤) تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے (ف۳۵) میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں (ف۳٦) تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۳۷)
(ف31)جنمیں ہماری توحید اور بُت پرستی کی برائی اور بُت پرستوں کی سزا کا بیان ہے ۔(ف32)اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔(ف33)جس میں بُتوں کی برائی نہ ہو ۔ (ف34)شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لائیے جسمیں لاتُ و عُزّٰی منات وغیرہ بُتوں کی برائی اور ان کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور اگر اللہ ایسا قرآن نازِل نہ کرے تو آپ اپنی طرف سے بنا لیجئے یا اسی قرآن کو بدل کر ہماری مرضی کے مطابق کر دیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔ ان کا یہ کلام یا تو بطریقِ تمسخُر و استہزاء تھا یا انہوں نے تجرِبہ و امتحان کے لئے ایسا کہا تھا کہ اگر یہ دوسرا قرآن بنا لائیں یا اس کو بدل دیں تو ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کلامِ ربّانی نہیں ہے ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ اس کا یہ جواب دیں جو آیت میں مذکور ہوتا ہے ۔(ف35)میں اس میں کوئی تغییر و تبدیل ، کمی بیشی نہیں کر سکتا یہ میرا کلام نہیں کلامِ الٰہی ہے ۔(ف36)یا اس کی کتاب کے احکام کو بدلوں ۔(ف37)اور دوسرا قرآن بنانا انسان کی مَقدِرت ہی سے باہر ہے اور خَلق کا اس سے عاجز ہونا خوب ظاہر ہو چکا ۔
تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا (ف۳۸) تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں (ف۳۹) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف٤۰)
(ف38)یعنی اس کی تلاوت مَحض اللہ تعالٰی کی مرضی سے ہے ۔(ف39)اور چالیس سال تم میں رہا ہوں ، اس زمانہ میں میں تمہارے پاس کچھ نہیں لایا اور میں نے تمہیں کچھ نہیں سنایا ، تم نے میرے احوال کا خوب مشاہدہ کیا ہے ، میں نے کسی سے ایک حرف نہیں پڑھا ، کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا ، اس کے بعد یہ کتابِ عظیم لایا جس کے حضور ہر ایک کلامِ فصیح پست اور بے حقیقت ہوگیا ۔ اس کتاب میں نفیس علوم ہیں ، اصول و فروع کا بیان ہے ، احکام و آداب میں مکارمِ اخلاق کی تعلیم ہے ، غیبی خبریں ہیں ، اس کی فصاحت و بلاغت نے ملک بھر کے فُصَحاء و بُلَغاء کو عاجز کر دیا ہے ، ہر صاحبِ عقلِ سلیم کے لئے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ یہ بغیر وحیٔ الٰہی کے ممکن ہی نہیں ۔(ف40)کہ اتنا سمجھ سکو کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے مخلوق کی قدرت میں نہیں کہ اس کی مثل بنا سکے ۔
اور اللہ کے سوا ایسی چیز (ف٤۲) کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں (ف٤۳) تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں (ف٤٤) اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے،
(ف42)بُت ۔(ف43)یعنی دنیوی امور میں کیونکہ آخرت اور مرنے کے بعد اٹھنے کا تو وہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے ۔(ف44)یعنی اس کا وجود ہی نہیں کیونکہ جو چیز موجود ہے وہ ضرور علمِ الہی میں ہے ۔
اور لوگ ایک ہی امت تھے (ف٤۵) پھر مختلف ہوئے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی (ف٤٦) تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا (ف٤۷)
(ف45)ایک دینِ اسلام پر جیسا کہ زمانۂ حضرت آدم علیہ السلام میں قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے کے وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اور انکی ذرّیَّت ایک ہی دین پر تھے اس کے بعد ان میں اختلاف ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ زمانۂ نوح علیہ السلام تک ایک دین پر رہے پھر اختلاف ہوا تو حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث فرمائے گئے ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے کشتی سے اترنے کے وقت سب لوگ ایک دینِ اسلام پر تھے ۔ ایک قول یہ ہے کہ عہدِ حضرتِ ابراہیم سے سب لوگ ایک دین پر تھے یہاں تک کہ عمرو بن لحٰی نے دین کو متغیّر کیا ، اس تقدیر پر اَلنَّاسُ سے مراد خاص عرب ہوں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ ایک دین پر تھے یعنی کُفر پر پھر اللہ تعالٰی نے انبیاء کو بھیجا تو بعض ان میں سے ایمان لائے اور بعض عُلَماء نے کہا کہ معنی یہ ہیں کہ لوگ اوّل خِلقت میں فطرۃِ سلیمہ پر تھے پھر ان میں اختلافات ہوئے ۔ حدیث شریف میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں یا مجوسی بناتے ہیں اور حدیث میں فطرۃ سے فطرۃِ اسلام مراد ہے ۔(ف46)اور ہر اُمّت کے لئے ایک میعاد معیّن نہ کر دی گئی ہوتی یا جزاءِ اعمال قیامت تک مؤخر نہ فرمائی گئی ہوتی ۔(ف47)نُزولِ عذاب سے ۔
اور کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف٤۸) تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں،
(ف48)اہلِ باطل کا طریقہ ہے کہ جب ان کے خلاف برہانِ قوی قائم ہوتی ہے اور وہ جواب سے عاجز ہو جاتے ہیں تو اس برہان کا ذکر اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جیسے کہ وہ پیش ہی نہیں ہوئی اور یہ کہا کرتے ہیں کہ دلیل لاؤ تاکہ سننے والے اس مغالطہ میں پڑ جائیں کہ ان کے مقابل اب تک کوئی دلیل ہی نہیں قائم کی گئی ہے ۔ اس طرح کُفّار نے حضور کے معجزات اور بالخصوص قرآنِ کریم جومعجزۂ عظیمہ ہے اس کی طرف سے آنکھیں بند کر کے یہ کہنا شروع کیا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری گویا کہ معجزات انہوں نے دیکھے ہی نہیں اور قرآنِ پاک کو وہ نشانی شمار ہی نہیں کرتے ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ آپ فرما دیجئے کہ غیب تو اللہ کے لئے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں ۔ تقریرِ جواب یہ ہے کہ دلالتِ قاہرہ اس پر قائم ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآنِ پاک کا ظاہر ہونا بہت ہی عظیم الشان معجِزہ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں پیدا ہوئے ، ان کے درمیان حضور بڑھے ، تمام زمانے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی آنکھوں کے سامنے گزرے ، وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ نے نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا نہ کسی استاد کی شاگردی کی ، یکبارگی قرآنِ کریم آپ پر ظاہر ہوا اور ایسی بے مثال اعلٰی ترین کتاب کا ایسی شان کے ساتھ نُزول بغیر وحی کے ممکن ہی نہیں ۔ یہ قرآنِ کریم کے معجزۂ قاہرہ ہونے کی برہان ہے اور جب ایسی قوی برہان قائم ہے تو اثباتِ نبوّت کے لئے کسی دوسری نشانی کا طلب کرنا قطعاً غیر ضروری ہے ، ایسی حالت میں اس نشانی کا نازِل کرنا نہ کرنا اللہ تعالٰی کی مشیّت پر ہے چاہے کرے چاہے نہ کرے تو یہ امرِ غیب ہوا اور اس کے لئے انتظار لازم آیا کہ اللہ کیا کرتا ہے لیکن وہ یہ غیر ضروری نشانی جو کُفّار نے طلب کی ہے نازِل فرمائے یا نہ فرمائے نبوّت ثابت ہو چکی اور رسالت کا ثبوت قاہر معجزات سے کمال کو پہنچ چکا ۔
اور جب کہ ہمارے آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ داؤں چلتے ہیں (ف٤۹) تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے (ف۵۰) بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں (ف۵۱)
(ف49)اہلِ مکّہ پر اللہ تعالٰی نے قَحط مسلّط کیا جس کی مصیبت میں وہ سات برس گرفتار رہے یہاں تک کہ قریب ہلاکت کے پہنچے پھر اس نے رحم فرمایا ، بارش ہوئی ، زمینیں سرسبز ہوئیں تو اگرچہ اس تکلیف و راحت دونوں میں قدرت کی نشانیاں تھیں اور تکلیف کے بعد راحت بڑی عظیم نعمت تھی اس پر شکر لازم تھا مگر بجائے اس کے وہ پند پذیر نہ ہوئے اور فساد و کُفر کی طرف پلٹے ۔(ف50)اور اس کا عذاب دیر نہیں کرتا ۔(ف51)اور تمہاری خفیہ تدبیریں کاتبِ اعمال فرشتوں پر بھی مخفی نہیں ہیں تو اللہ علیم و خبیر سے کیسے چھپ سکتی ہیں ۔
وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے (ف۵۲) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ (ف۵۳) اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے (ف۵٤) ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہو کر، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے (ف۵۵)
(ف52)اور تمہیں قطعِ مسافت کی قدرت دیتا ہے خشکی میں تم پیادہ اور سوار منزلیں طے کرتے ہو اور دریاؤں میں کشتیوں اور جہازوں سے سفر کرتے ہو وہ تمہیں خشکی اور تری دونوں میں اسبابِ سیر عطا فرماتا ہے ۔(ف53)یعنی کشتیاں ۔(ف54)کہ ہوا موافق ہے اچانک ۔(ف55)تیری نعمتوں کے تجھ پر ایمان لا کر اور خاص تیری عبادت کر کے ۔
پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں (ف۵٦) اے لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائد اٹھالو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے (ف۵۷)
(ف56)اور وعدہ کے خلاف کرکے کُفر و معصیت میں مبتلا ہوتے ہیں ۔(ف57)اور ان کی تمہیں جزا دیں گے ۔
دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہو کر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں (ف۵۸) یہاں تک کہ جب زمین میں اپنا سنگھار لے لیا (ف۵۹) اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی (ف٦۰) ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں (ف٦۱) تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں (ف٦۲) ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے (ف٦۳)
(ف58)غلے اور پھل اور سبزہ ۔(ف59)خوب پھولی پھلی سرسبز و شاداب ہوئی ۔(ف60)کہ کھتیاں تیار ہوگئیں پھل رسیدہ ہوگئے ایسے وقت ۔(ف61)یعنی اچانک ہمارا عذاب آیا خواہ بجلی گرنے کی شکل میں یا اولے برسنے یا آندھی چلنے کی صورت میں ۔(ف62)یہ ان لوگوں کے حال کی ایک تمثیل ہے جو دنیا کے شیفتہ ہیں اور آخرت کی انہیں کچھ پرواہ نہیں اس میں بہت دلپذیر طریقہ پر خاطر گزیں کیا گیا ہے کہ دنیوی زندگانی امیدوں کا سبز باغ ہے اس میں عمر کھو کر جب آدمی اس غایت پر پہنچتا ہے جہاں اس کو حصول مراد کا اطمینان ہو اور وہ کامیابی کے نشے میں مست ہو ، اچانک اس کو موت پہنچتی ہے اور وہ تمام نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا کہ دنیا کا طلب گار جب بالکل بے فکر ہوتا ہے اس وقت اس پر عذابِ الٰہی آتا ہے اور اس کا تمام سر و سامان جس سے اس کی امیدیں وابستہ تھیں غارت ہو جاتا ہے ۔(ف63)تاکہ وہ نفع حاصل کریں اور ظلماتِ شکوک و اوہام سے نجات پائیں اور دنیائے ناپائیدار کی بے ثباتی سے باخبر ہوں ۔
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے (ف٦٤) اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے (ف٦۵)
(ف64)دنیا کی بے ثباتی بیان فرمانے کے بعد دارِ باقی کی طرف دعوت دی ۔ قتادہ نے کہا کہ دارالسلام جنّت ہے یہ اللہ کا کمال رحمت و کرم ہے کہ اپنے بندوں کو جنّت کی دعوت دی ۔(ف65)سیدھی راہ دینِ اسلام ہے ۔ بخاری کی حدیث میں ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فرشتے حاضر ہوئے آپ خواب میں تھے ، ان میں سے بعض نے کہا کہ آپ خواب میں ہیں اور بعضوں نے کہا کہ آنکھیں خواب میں ہیں دل بیدار ہے ، بعض کہنے لگے کہ ان کی کوئی مثال بیان کرو تو انہوں نے کہا جس طرح کسی شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں طرح طرح کی نعمتیں مہیا کیں اور ایک بلانے والے کو بھیجا کہ لوگوں کو بلائے جس نے اس بلانے والے کی اطاعت کی ، اس مکان میں داخل ہوا اور ان نعمتوں کو کھایا پیا اور جس نے بلانے والے کی اطاعت نہ کی وہ نہ مکان میں داخل ہو سکا نہ کچھ کھا سکا پھر وہ کہنے لگے کہ اس مثال کی تطبیق کرو کہ سمجھ میں آئے ، تطبیق یہ ہے کہ مکان جنّت ہے ، داعی محمّد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔
بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد (ف٦٦) اور ان کے منہ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری (ف٦۷) وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
(ف66)بھلائی والوں سے اللہ کے فرمانبردار بندے مومنین مراد ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ان کے لئے بھلائی ہے اس بھلائی سے جنّت مراد ہے اور زیادت اس پر دیدارِ الٰہی ہے ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جنّتیوں کے جنّت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالٰی فرمائے گا کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں ، وہ عرض کریں گے یاربّ کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے ، کیا تو نے ہمیں جنّت میں داخل نہیں فرمایا ، کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی ، حضور نے فرمایا پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا تو دیدارِ الٰہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا ۔ صحاح کی بہت حدیثیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ زیادت سے آیت میں دیدارِ الہٰی مراد ہے ۔(ف67)کہ یہ بات جہنّم والوں کے لئے ہے ۔
اور جنہوں نے برائیاں کمائیں (ف٦۸) تو برائی کا بدلہ اسی جیسا (ف٦۹) اور ان پر ذلت چڑھے گی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیئے ہیں (ف۷۰) وہی دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
(ف68)یعنی کُفر و معاصی میں مبتلا ہوئے ۔(ف69)ایسا نہیں کہ جیسے نیکیوں کا ثواب دس گنا اور سات سو گناہ کیا جاتا ہے ، ایسے ہی بدیوں کا عذاب بھی بڑھا دیا جائے بلکہ جتنی بدی ہوگی اتنا ہی عذاب کیا جائے گا ۔(ف70)یہ حال ہوگا ان کی روسیاہی کا خدا کی پناہ ۔
اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے (ف۷۱) پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک (ف۷۲) تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے (ف۷۳)
(ف71)اور تمام خَلق کو موقَفِ حساب میں جمع کریں گے ۔(ف72)یعنی وہ بُت جن کو تم پوجتے تھے ۔(ف73)روزِ قیامت ایک ساعت ایسی شدّت کی ہوگی کہ بُت اپنے پجاریوں کے پوجا کا انکار کر دیں گے اور اللہ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نہ سنتے تھے ، نہ دیکھتے تھے ، نہ جانتے تھے ، نہ سمجھتے تھے کہ تم ہمیں پوجتے ہو ، اس پر بت پرست کہیں گے کہ اللہ کی قسم ہم تمہیں کو پوجتے تھے تو بُت کہیں گے ۔
یہاں ہر جان جانچ لے گی جو آگے بھیجا (ف۷٤) اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کی ساری بناوٹیں (ف۷۵) ان سے گم ہوجائیں گی (ف۷٦)
(ف74)یعنی اس موقَف میں سب کو معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے پہلے جو عمل کئے تھے وہ کیسے تھے اچھے یا برے ، مضر یا مفید ۔(ف75)بُتوں کو خدا کا شریک بتانا اور معبود ٹھہرانا ۔(ف76)اور باطل و بے حقیقت ثابت ہوں گی ۔
تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے (ف۷۷) یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا (ف۷۸) اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے (ف۷۹) اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ (ف۸۰) تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے (ف۸۱)
(ف77)آسمان سے مِینہ برسا کر اور زمین سے سبزہ اگا کر ۔(ف78)اور یہ حواس تمہیں کس نے دیئے ہیں ، کس نے یہ عجائب تمہیں عنایت کئے ہیں ، کون انہیں مدّتوں محفوظ رکھتا ہے ۔(ف79)انسان کو نطفہ سے اور نطفہ کو انسان سے ، پرند کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے ، مؤمن کو کافِر سے اور کافِر کو مومن سے ، عالِم کو جاہل سے اور جاہل کو عالِم سے ۔(ف80)اور اس کی قدرتِ کاملہ کا اعتراف کریں گے اور اس کے سوا کچھ چارہ نہ ہوگا ۔(ف81)اس کے عذاب سے اور کیوں بُتوں کو پوجتے اور ان کو معبود بناتے ہو باوجود یکہ وہ کچھ قدرت نہیں رکھتے ۔
تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب (ف۸۲) پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی (ف۸۳) پھر کہاں پھرے جاتے ہو،
(ف82)جس کی ایسی قدرتِ کاملہ ہے ۔(ف83)یعنی جب ایسے براہینِ واضحہ اور دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہوگیا کہ مستحقِ عبادت صرف اللہ ہے تو ماسوا اس کے سب باطل و ضلال ہے اور جب تم نے اس کی قدرت کو پہچان لیا اور اس کی کارسازی کا اعتراف کر لیا تو ۔
تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں (ف۸۵) کوئی ایسا ہے کہ اول بنائے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے (ف۸٦) تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۸۷)
(ف85)جنہیں اے مشرکین تم معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف86)اس کا جواب ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں کیونکہ مشرکین بھی یہ جانتے ہیں کہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے ۔ لہٰذا اے مصطفے صلی اللہ علیک وسلم ۔(ف87)اور ایسی روشن دلیلیں قائم ہونے کے بعد راہِ راست سے منحرِف ہوتے ہو ۔
تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ حق کی راہ دکھائے (ف۸۸) تم فرماؤ کہ اللہ حق کی راہ دکھاتا ہے، تو کیا جو حق کی راہ دکھائے اس کے حکم پر چلنا چاہیے یا اس کے جو خود ہی راہ نہ پائے جب تک راہ نہ دکھایا جائے (ف۸۹) تو تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو،
(ف88)حُجّتیں اور دلائل قائم کر کے ، رسول بھیج کر ، کتابیں نازِل فرما کر ، مکلَّفین کو عقل و نظر عطا فرما کر ۔ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ کوئی نہیں تو اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔(ف89)جیسے کہ تمہارے بُت ہیں کہ کسی جگہ جا نہیں سکتے جب تک کہ کوئی اٹھا لے جانے والا انہیں اٹھا کر لے نہ جائے اور نہ کسی چیز کی حقیقت کو سمجھیں اور راہِ حق کو پہچانیں بغیر اس کے کہ اللہ تعالٰی انہیں زندگی، عقل اور ادراک دے تو جب ان کی مجبوری کا یہ عالم ہے تو وہ دوسروں کو کیا راہ بتا سکیں ، ایسوں کو معبود بنانا ، ان کا مطیع بننا کتنا باطل اور بے ہودہ ہے ۔
اور ان (ف۹۰) میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر (ف۹۱) بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا، بیشک اللہ ان کاموں کو جانتا ہے،
(ف90)مشرکین ۔(ف91)جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، نہ اس کی صحت کا جزم و یقین ۔ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی بُت پرستی کرتے تھے انہوں نے کچھ تو سمجھا ہوگا ۔
اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے (ف۹۲) ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے (ف۹۳) اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں ہے پروردگار عالم کی طرف سے ہے،
(ف92)کُفّارِ مکّہ نے یہ وہم کیا تھا کہ قرآنِ کریم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بنا لیا ہے ۔ اس آیت میں ان کا یہ وہم دفع فرمایا گیا کہ قرآنِ کریم ایسی کتاب ہی نہیں جس کی نسبت تردُّد ہو سکے ، اس کی مثال بنانے سے ساری مخلوق عاجز ہے تو یقیناً وہ اللہ کی نازِل فرمائی ہوئی کتاب ہے ۔(ف93)توریت و انجیل وغیرہ کی ۔
کیا یہ کہتے ہیں (ف۹٤) کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ (ف۹۵) تو اس جیسی کوئی ایک سورة لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ (ف۹٦) اگر تم سچے ہو،
(ف94)کُفّار سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت ۔(ف95)کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے تو تم بھی عرب ہو ، فصاحت و بلاغت کے دعوٰی دار ہو ، دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے کلام کے مقابل کلام بنانے کو تم ناممکن سمجھتے ہو اگر تمہارے گمان میں یہ انسانی کلام ہے ۔(ف96)اور ان سے مددیں لو اور سب مل کر قرآن جیسی ایک سورۃ تو بناؤ ۔
بلکہ اسے جھٹلایا جس کے علم پر قابو نہ پایا (ف۹۷) اور ابھی انہوں نے اس کا انجام نہیں دیکھا (ف۹۸) ایسے ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا (ف۹۹) تو دیکھو ظالموں کیسا انجام ہوا (ف۱۰۰)
(ف97)یعنی قرآنِ پاک کو سمجھنے اور جاننے کے بغیر انہوں نے اس کی تکذیب کی اور یہ کمال جَہل ہے کہ کسی شئے کو جانے بغیر اس کا انکار کیا جائے ، قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم و خِرَد احاطہ نہ کر سکیں اس کتاب کی عظمت و جلالت ظاہر کرتا ہے تو ایسی اعلٰی علوم والی کتاب کو ماننا چاہیئے تھا نہ کہ اس کا انکار کرنا ۔(ف98)یعنی اس عذاب کو جس کی قرآن پاک میں وعیدیں ہیں ۔(ف99)عناد سے اپنے رسولوں کو بغیر اس کے کہ ان کے معجزات اور آیات دیکھ کر نظر و تدبُّر سے کام لیتے ۔(ف100)اور پہلی اُمّتیں اپنے انبیاء کو جھٹلا کر کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا ہوئیں تو اے سیدِ انبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی تکذیب کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے ۔
اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں (ف۱۰٤) تو فرما دو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی (اعمال) (ف۱۰۵) تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے لاتعلق نہیں (ف۱۰٦)
(ف104)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی راہ پر آنے اور حق و ہدایت قبول کرنے کی امید منقطع ہو جائے ۔(ف105)ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا ۔ (ف106)کسی کے عمل پر دوسرا ماخوذ نہ ہوگا جو پکڑا جائے گا خود اپنے عمل پر پکڑا جائے گا ۔ یہ فرمانا بطور زَجر کے ہے کہ تم نصیحت نہیں مانتے اور ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کا وبال خود تم پر ہوگا کسی دوسرے کا اس سے ضرر نہیں ۔
اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں (ف۱۰۷) تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو (ف۱۰۸)
(ف107)اور آپ سے قرآنِ پاک اور احکامِ دین سنتے ہیں اور بُغض و عداوت کی وجہ سے دل میں جگہ نہیں دیتے اور قبول نہیں کرتے تو یہ سننا بے کار ہے اور وہ ہدایت سے نفع نہ پانے میں بہروں کی مثل ہیں ۔(ف108)اور وہ نہ حواس سے کام لیں نہ عقل سے ۔
اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے (ف۱۰۹) کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں،
(ف109)اور دلائلِ صدق اور اعلامِ نبوّت کو دیکھتا ہے لیکن تصدیق نہیں کرتا اور اس دیکھنے سے نتیجہ نہیں نکا لتا ، فائدہ نہیں اٹھاتا ، دل کی بینائی سے محروم اور باطن کا اندھا ہے ۔
بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۰) ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (ف۱۱۱)
(ف110)بلکہ انہیں ہدایت اور راہ پانے کے تمام سامان عطا فرماتا ہے اور روشن دلائل قائم فرماتا ہے ۔(ف111)کہ ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور حق واضح ہو جانے کے باوجود خود گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
اور جس دن انہیں اٹھائے گا (ف۱۱۲) گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی (ف۱۱۳) آپس میں پہچان کریں گے (ف۱۱٤) کہ پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے (ف۱۱۵)
(ف112)قبروں سے موقَفِ حساب میں حاضر کرنے کے لئے تو اس روز کی ہیبت و وحشت سے یہ حال ہوگا کہ وہ دنیا میں رہنے کی مدّت کو بہت تھوڑا سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ ۔(ف113)اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ کُفّار نے طلبِ دنیا میں عمر یں ضائع کر دیں اور اللہ کی اطاعت جو آج کار آمد ہوتی بجا نہ لائے تو انکی زندگانی کا وقت ان کے کام نہ آیا اس لئے وہ اسے بہت ہی کم سمجھیں گے ۔(ف114)قبروں سے نکلتے وقت تو ایک دوسرے کو پہچانیں گے جیسا دنیا میں پہچانتے تھے پھر روزِ قیامت کے اہوال اور دہشت ناک مناظر دیکھ کر یہ معرفت باقی نہ رہے گی اور ایک قول یہ ہے کہ روزِ قیامت دمبدم حال بدلیں گے کبھی ایسا حال ہوگا کہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے ، کبھی ایسا کہ نہ پہچانیں گے اورجب پہچانیں گے تو کہیں گے ۔(ف115)جو انہیں گھاٹے سے بچاتی ۔
اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ (ف۱۱٦) اس میں سے جو انھیں وعدہ دے رہے ہیں (۱۱۷) یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں (ف۱۱۸) بہرحال انھیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے (ف۱۱۹) ان کے کاموں پر،
(ف116)عذاب ۔(ف117)دنیا ہی میں آپ کے زمانۂ حیات میں تو وہ ملاحظہ کیجئے ۔(ف118)تو آخرت میں آپ کو ان کا عذاب دکھائیں گے ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافِروں کے بہت سے عذاب اور ان کی ذلّت و رسوائیاں آپ کی حیاتِ دنیا ہی میں آپ کو دکھائے گا چنانچہ بدر وغیرہ میں دکھائی گئیں اور جو عذاب کافِروں کے لئے بسببِ کُفر و تکذیب کے آخرت میں مقرر فرمایا ہے وہ آخرت میں دکھائے گا ۔(ف119)مطّلع ہے ، عذاب دینے والا ہے ۔
اور ہر امت میں ایک رسول ہوا (ف۱۲۰) جب ان کا رسول ان کے پاس آتا (ف۱۲۱) ان پر انصاف کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۱۲۲) اور ان پر ظلم نہیں ہوتا،
(ف120)جو انہیں دینِ حق کی دعوت دیتا اور طاعت و ایمان کا حکم کرتا ۔(ف121)اور احکامِ الٰہی کی تبلیغ کرتا تو کچھ لوگ ایمان لاتے اور کچھ تکذیب کرتے اور منکِر ہو جاتے تو ۔(ف122)کہ رسول کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی جاتی اور تکذیب کرنے والوں کو عذاب سے ہلاک کر دیا جاتا ۔ آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں آخرت کا بیان ہے اور معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر اُمّت کے لئے ایک رسول ہوگا جس کی طرف وہ منسوب ہوگی جب وہ رسول موقَف میں آئے گا اور مومن و کافِر پر شہادت دے گا تب ان میں فیصلہ کیا جائے گا کہ مومنوں کو نَجات ہوگی اور کافِر گرفتارِ عذاب ہوں گے ۔
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۳)
(ف123)شانِ نُزول : جب آیت اِمَّانُرِیَنَّکَ میں عذاب کی وعید دی گئی تو کافِروں نے براہِ سرکشی یہ کہا کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جس عذاب کا آپ وعدہ دیتے ہیں وہ کب آئے گا ، اس میں کیا تاخیر ہے ، اس عذاب کو جلد لائیے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔
تم فرماؤ میں اپنی جان کے برے بھلے کا (ذاتی) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے (ف۱۲٤) ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے (ف۱۲۵) جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
(ف124)یعنی دشمنوں پر عذاب نازِل کرنا اور دوستوں کی مدد کرنا اور انہیں غلبہ دینا یہ سب بہ مشیتِ الٰہی ہے اور مشیتِ الٰہی میں ۔ (ف125)اس کے ہلاک و عذاب کا ایک وقت معیّن ہے ، لوحِ محفوظ میں مکتوب ہے ۔
اور اگر ہر ظالم جان، زمین میں جو کچھ ہے (ف۱۳۵) سب کی مالک ہوتی، ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی (ف۱۳٦) اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
(ف135)مال و متاع خزانہ و دفینہ ۔(ف136)اور روزِ قیامت اس کو اپنی رہائی کے لئے فدیہ کر ڈالتی مگر یہ فدیہ قبول نہیں اور تمام دنیا کی دولت خرچ کر کے بھی اب رہائی ممکن نہیں جب قیامت میں یہ منظر پیش آیا اور کُفّار کی امیدیں ٹوٹیں ۔
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی (ف۱۳۸) اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،
(ف138)اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے موعظت و شفا و ہدایت و رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب ان فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے ۔ موعظت کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو مرغوب کی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل نے کہا کہ موعظت نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو ۔ شفاء سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی امراض کو دور کرتا ہے ۔ دل کے امراض اخلاقِ ذمیمہ ، عقائدِ فاسدہ اور جہالتِ مُہلِکہ ہیں ، قرآنِ پاک ان تمام امراض کو دور کرتا ہے ۔ قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں (ف۱۳۹) وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے،
(ف139)فرح : کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذّت حاصل ہوتی ہے اس کو فرح کہتے ہیں ۔ معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہیئے کہ اس نے انھیں مواعظ اور شفاءِ صدور اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمائے ۔ حضرت ابنِ عباس و حسن و قتادہ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ فضلُ اللہ سے قرآن اور رحمت سے ا حادیث مراد ہیں ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا (ف۱٤۰) تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو (ف۱٤۱)
(ف140)جیسے کہ اہلِ جاہلیت نے بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کو اپنی طرف سے حرام قرار دے لیا تھا ۔(ف141)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حلال یا حرام کرنا ممنوع اور خدا پر افتراء ہے (اللہ کی پناہ) آج کل بہت لوگ اس میں مبتلاء ہیں ، ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مباحات کو حرام ۔ بعض سود کو حلال کرنے پر مُصِر ہیں ، بعض تصویروں کو ، بعض کھیل تماشوں کو ، بعض عورتوں کی بے قیدیوں اور بے پردگیوں کو ، بعض بھوک ہڑتال کو جو خودکشی ہے مباح سمجھتے ہیں اور حلال ٹھہراتے ہیں اور بعض لوگ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر مُصِر ہیں جیسے محفلِ میلاد کو ، فاتحہ کو ، گیارہویں کو اور دیگر طریقہ ہائے ایصالِ ثواب کو ، بعض میلادِ شریف و فاتحہ و توشہ کی شیرینی و تبرک کو جو سب حلال و طیب چیزیں ہیں ناجائز و ممنوع بتاتے ہیں ، اسی کو قرآنِ پاک نے خدا پر افترا کرنا بتایا ہے ۔
اور تم کسی کام میں ہو (ف۱٤۳) اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ (ف۱٤٤) کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کو شروع کرتے ہو، اور تمہارے رب سے ذرہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز نہیں جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو (ف۱٤۵)
(ف143)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف144)اے مسلمانو !(ف145)کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے ۔
سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم (ف۱٤٦)
(ف146)ولی کی اصل ولاء سے ہے جو قرب و نصرت کے معنی میں ہے ۔ ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قُرب الٰہی حاصل کرے او راطاعتِ الٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دل نورِ جلالِ الہٰی کی معرِفت میں مستغرق ہو جب دیکھے دلائلِ قدرتِ الٰہی کو دیکھے اور جب سنے اللہ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے ربّ کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے طاعتِ الہٰی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے اسی امر میں کوشش کرے جو ذریعۂ قُربِ الٰہی ہو ، اللہ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ، یہ صفت اولیاء کی ہے ، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے ۔ متکلِّمین کہتے ہیں ولی وہ ہے جو اعتقادِ صحیح مبنی بر دلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو ۔ بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت نام ہے قُربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ کے ساتھ مشغول رہنے کا ۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللہ یاد آئے یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے ۔ ابنِ زید نے کہا کہ ولی وہی ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ یعنی ایمان و تقوٰی دونوں کا جامع ہو ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ ولی وہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے مَحبت کریں ، اولیاء کی یہ صفَت احادیثِ کثیرہ میں وارِد ہوئی ہے ۔ بعض اکابر نے فرمایا ولی وہ ہیں جو طاعت سے قُربِ الٰہی کی طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کرامت سے ان کی کار سازی فرماتا ہے یا وہ جن کی ہدایت کا برہان کے ساتھ اللہ کفیل ہو اور وہ اس کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی خَلق پر رحم کرنے کے لئے وقف ہو گئے ۔ یہ معانی اور عبارات اگرچہ جداگانہ ہیں لیکن ان میں اختلاف کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عبارت میں ولی کی ایک ایک صفَت بیان کر دی گئی ہے جسے قُربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے یہ تمام صفات اس میں ہوتے ہیں ۔ ولایت کے درجے اور مراتب میں ہر ایک بقدر اپنے درجے کے فضل و شرف رکھتا ہے ۔
انھیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں (ف۱٤۷) اور آخرت میں، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں (ف۱٤۸) یہی بڑی کامیابی ہے،
(ف147)اس خوش خبری سے یا تو وہ مراد ہے جو پرہیزگار ایمانداروں کو قرآنِ کریم میں جابجا دی گئی ہے یا بہترین خواب مراد ہے جو مومن دیکھتا ہے یا اس کے لئے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ کثیر احادیث میں وارِد ہوا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ ولی کا قلب اور اس کی روح دونوں ذکرِ الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں تو وقتِ خواب اس کے دل میں سوائے ذکر و معرفتِ الٰہی کے اور کچھ نہیں ہوتا اس لئے ولی جب خواب دیکھتا ہے تو اس کی خواب حق اور اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے حق میں بشارت ہوتی ہے ۔ بعض مفسِّرین نے اس بِشارت سے دنیا کی نیک نامی بھی مراد لی ہے ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا اس شخص کے لئے کیا ارشاد فرماتے ہیں جو نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ، فرمایا یہ مومن کے لئے بِشارتِ عاجلہ ہے ۔ عُلَماء فرماتے ہیں کہ یہ بشارت عاجلہ رضائے الٰہی اور اللہ کے مَحبت فرمانے اور خَلق کے دل میں مَحبت ڈال دینے کی دلیل ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس کو زمین میں مقبول کر دیا جاتا ہے ۔ قتادہ نے کہا کہ ملائکہ وقتِ موت اللہ تعالٰی کی طرف سے بِشارت دیتے ہیں ۔ عطا کا قول ہے کہ دنیا کی بِشارت تو وہ ہے جو ملائکہ وقتِ موت سناتے ہیں اور آخرت کی بِشارت وہ ہے جو مومن کو جان نکلنے کے بعد سنائی جاتی ہے کہ اس سے اللہ راضی ہے ۔(ف148)اس کے وعدے خلاف نہیں ہو سکتے جو اس نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسولوں کی زبان سے اپنے اولیاء اور اپنے فرمانبردار بندوں سے فرمائے ۔
اور تم ان کی باتوں کا غم نہ کرو (ف۱٤۹) بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے (ف۱۵۰) وہی سنتا جانتا ہے،
(ف149)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین فرمائی گئی کہ کُفّارِ نابکار جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں او رآپ کے خلاف بُرے بُرے مشورے کرتے ہیں آپ اس کا کچھ غم نہ فرمائیں ۔(ف150)وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ۔ اے سیدِ انبیاء وہ آپ کا ناصر و مددگار ہے اس نے آپ کو اور آپ کے صدقہ میں آپ کے فرمانبرداروں کو عزت دی جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے ۔
سن لو بیشک اللہ ہی کے مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں (ف۱۵۱) اور کاہے کے پیچھے جا رہے ہیں (ف۱۵۲) وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں، وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے (ف۱۵۳)
(ف151)سب اس کے مملوک ہیں اس کے تحتِ قدرت و اختیار اور مملوک ربّ نہیں ہوسکتا اس لئے اللہ کے سوا ہر ایک کی پرستِش باطل ہے ، یہ تو حید کی ایک عمدہ برہان ہے ۔(ف152)یعنی کس دلیل کا اِتّباع کرتے ہیں مراد یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔(ف153)اور بے دلیل مَحض گمانِ فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنی قدرت و نعمت کا اظہار فرماتا ہے ۔
وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ (ف۱۵٤) اور دن بنایا تمہاری آنکھوں کھولتا (ف۱۵۵) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۱۵٦)
(ف154)اور آرام کر کے دن کی تکان دور کرو ۔(ف155)روشن تاکہ تم اپنے حوائج و اسبابِ معاش کا سر انجام کر سکو ۔(ف156)جو سنیں اور سمجھیں کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کے بعد مشرکین کا ایک مقولہ ذکر فرماتا ہے ۔
بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی (ف۱۵۷) پاکی اس کو، وہی بےنیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۱۵۸) تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں، کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں،
(ف157)کُفّار کا یہ کلمہ نہایت قبیح اور انتہا درجہ کے جہل کا ہے ، اللہ تعالٰی اس کا رد فرماتا ہے ۔(ف158)یہاں مشرکین کے اس مقولہ کے تین رد فرمائے ۔ پہلا رد تو کلمۂ سُبْحٰنَہ، میں ہے جس میں بتایا گیا کہ اس کی ذات وَلَد سے منَزّہ ہے کہ وہ واحدِ حقیقی ہے ۔ دوسرا رَد ھُوَالْغَنِیُّ فرمانے میں ہے کہ وہ تمام خَلق سے بے نیاز ہے تو اولاد اس کے لئے کیسے ہو سکتی ہے ، اولاد تو یا کمزر چاہتا ہے جو اس سے قوت حاصل کرے یا فقیر چاہتا ہے جو اس سے مدد لے یا ذلیل چاہتا ہے جو اس کے ذریعہ سے عزّت حاصل کرے غرض جو چاہتا ہے وہ حاجت رکھتا ہے تو جو غنی ہو یا غیرِ محتاج ہو اس کے لئے وَلَد کس طرح ہو سکتا ہے نیز وَلَد والد کا ایک جُزو ہوتا ہے تو والد ہونا مرکّب ہونے کو مستلزم اور مرکّب ہونا ممکن ہونے کو اور ہر ممکن غیرکا محتاج ہے تو حادث ہوا لہذا محال ہوا کہ غنی قدیم کے وَلَد ہو ۔ تیسرا رد لَہ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ میں ہے کہ تمام خَلق اس کی مملوک ہے اور مملوک ہونا بیٹا ہونے کے ساتھ نہیں جمع ہوتا لہذا ا ن میں سے کوئی اس کی اولاد نہیں ہوسکتا ۔
اور انھیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا (ف۱۵۹) اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا (ف۱٦۰) تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱٦۱) تو مِل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک (الجھن) نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۱٦۲)
(ف159)اور مدّتِ دراز تک تم میں ٹھہرنا ۔(ف160)اور اس پر تم نے میرے قتل کرنے اور نکال دینے کا ارادہ کیا ہے ۔ (ف161)اور اپنا معاملہ اس واحدِ لاشریک لہ کی سپرد کیا ۔(ف162)مجھے کچھ پرواہ نہیں ہے ۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام بطریقِ تعجیز ہے ۔ مدّعا یہ ہے کہ مجھے اپنے قوی و قادر پروردگار پر کامل بھروسہ ہے تم اور تمہارے بے اختیار معبود مجھے کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے ۔
پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱٦۳) تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۱٦٤) میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر (ف۱٦۵) اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں،
(ف163)میری نصیحت سے ۔(ف164)جس کے فوت ہونے کا مجھے افسوس ہے ۔(ف165)وہی مجھے جزا دے گا ۔ مدّعا یہ ہے کہ میرا وعظ و نصیحت خاص اللہ کے لئے ہے کسی دنیوی غرض سے نہیں ۔
تو انہوں نے اسے (ف۱٦٦) جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انھیں ہم نے نائب کیا (ف۱٦۷) اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا،
(ف166)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔(ف167)اورہلاک ہونے والوں کے بعد زمین میں ساکن کیا ۔
پھر اس کے بعد اور رسول (ف۱٦۸) ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے، ہم یونہی مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر،
(ف168)ہود ، صالح ، ابراہیم ، لوط، شعیب وغیرہم علیہم السلام ۔
بولے (ف۱۷۱) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس (ف۱۷۲) سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں،
(ف171)فرعونی حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف172)دین و ملّت اور بُت پرستی و فرعون پرستی ۔
اور فرعون (ف۱۷۳) بولا ہر جادوگر علم والے کو میرے پاس لے آؤ،
(ف173)سرکش و متکبِّر نے چاہا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجِزہ کا مقابلہ باطل سے کرے اور دنیا کو اس مغالطہ میں ڈالے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات (معاذ اللہ ) جادو کی قسم سے ہیں اس لئے وہ ۔
پھر جب جادوگر آئے ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے (ف۱۷٤)
(ف174)رسّے ، شہتیر وغیرہ اورجو تمہیں جادو کرنا ہے کرو یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ حق و باطل ظاہر ہو جائے اور جادو کے کرشمے جو وہ کرنے والے ہیں ان کا فساد واضح ہو ۔
تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ (ف۱۷۷) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انھیں (ف۱۷۸) ہٹنے پر مجبور نہ کردیں اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا (ف۱۷۹)
(ف177)اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی ہے کہ آپ اپنی اُمّت کے ایمان لانے کا نہایت اہتمام فرماتے تھے اور ان کے اعراض کرنے سے مغموم ہوتے تھے ، آپ کی تسکین فرمائی گئی کہ باوجودیکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اتنا بڑا معجِزہ دکھایا پھر بھی تھوڑے لوگوں نے ایمان قبول کیا ، ایسی حالتیں انبیاء کو پیش آتی رہی ہیں ۔ آپ اپنی اُمّت کے اعراض سے رنجیدہ نہ ہوں ۔ مِنْ قَوْمِہٖ میں جو ضمیر ہے وہ یا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کی طر ف راجع ہے اس صورت میں قوم کی ذُرِّیّت سے بنی اسرائیل مراد ہوں گے جن کی اولاد مِصر میں آپ کے ساتھ تھی اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو فرعون کے قتل سے بچ رہے تھے کیونکہ جب بنی اسرائیل کے لڑکے بحکمِ فرعون قتل کئے جاتے تھے تو بنی اسرائیل کی بعض عورتیں جو قومِ فرعون کی عورتوں کے ساتھ کچھ رسم و رواہ رکھتی تھیں وہ جب بچہ جنّتیں تو اس کی جان کے اندیشہ سے وہ بچہ فرعونی قوم کی عورتوں کو دے ڈالتیں ، ایسے بچے جو فرعونیوں کے گھروں میں پلے تھے اس روز حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام پر ایما ن لے آئے جس دن اللہ تعالٰی نے آپ کو جادوگروں پر غلبہ دیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے اور قومِ فرعون کی ذُرِّیّت مراد ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ قومِ فرعون کے تھوڑے لوگ تھے جو ایمان لاۓ ۔(ف178)دین سے ۔(ف179)کہ بندہ ہو کر خدائی کا مدّعی ہوا ۔
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو (ف۱۸۳) اور نماز قائم رکھو، اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ (ف۱۸٤)
(ف183)کہ قبلہ رو ہو ۔ حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام کا قبلہ کعبہ شریف تھا اور ابتداء میں بنی اسرائیل کو یہی حکم تھا کہ وہ گھروں میں چھپ کر نماز پڑھیں تاکہ فرعونیوں کی شر و ایذا سے محفوظ رہیں ۔(ف184)مددِ الٰہی کی اور جنّت کی ۔
اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش (ف۱۸۵) اور مال دنیا کی زندگی میں دیے، اے رب ہمارے! اس لیے کہ تیری راہ سے بہکادیں، اے رب ہمارے! ان کے مال برباد کردے (ف۱۸٦) اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف۱۸۷)
(ف185)عمدہ لباس ، نفیس فرش ، قیمتی زیور طرح طرح کے سامان ۔(ف186)کہ وہ تیری نعمتوں پر بجائے شکر کے جری ہو کر معصیّت کرتے ہیں ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور فرعونیوں کے درہم و دینار وغیرہ پتھر ہو کر رہ گئے حتی کہ پھل اور کھانے کی چیزیں بھی اور یہ ان نو نشانیوں میں سے ایک ہے جو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دی گئی تھیں ۔(ف187)جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تب آپ نے ان کے لئے یہ دعا کی اور ایسا ہی ہوا کہ وہ غرق ہونے کے وقت تک ایمان نہ لائے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے لئے کُفر پر مرنے کی دعا کرنا کُفر نہیں ہے ۔ (مدارک)
فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی (ف۱۸۸) تو ثابت قدم رہو اور (ف۱۸۹) نادانوں کی راہ نہ چلو (ف۱۹۰)
(ف188)دعا کی نسبت حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام دونوں کی طرف کی گئی باوجود یکہ حضرت موسٰی علیہ السلام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والا بھی دعا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے لہذا اس کے لئے اِخفاء ہی مناسب ہے ۔ (مدارک) حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی دعا اور اس کی مقبولیت کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوا ۔(ف189)دعوت و تبلیغ پر ۔(ف190)جو قبولِ دعا میں دیر ہونے کی حکمت نہیں جانتے ۔
اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا (ف۱۹۱) بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں (ف۱۹۲)
(ف191)تب فرعون ۔(ف192)فرعون نے بہ تمنائے قبولِ ایمان کا مضمون تین مرتبہ تکرار کے ساتھ ادا کیا لیکن یہ ایمان قبول نہ ہوا کیونکہ ملائکہ اور عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان مقبول نہیں ، اگر حالتِ اختیار میں وہ ایک مرتبہ بھی یہ کلمہ کہتا تو اس کا ایمان قبول کر لیا جاتا لیکن اس نے وقت کھو دیا ، اس لئے اس سے یہ کہا گیا جو آیت میں آگے مذکور ہے ۔
کیا اب (ف۱۹۳) اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا (ف۱۹٤)
(ف193)حالتِ اضطرار میں جب کہ غرق میں مبتلا ہو چکا ہے اور زندگانی کی امید باقی نہیں رہی اس وقت ایمان لاتا ہے ۔(ف194)خود گمراہ تھا دوسروں کو گمراہ کرتا تھا ۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام فرعون کے پاس ایک استفتاء لائے جس کا مضمون یہ تھا کہ بادشاہ کا کیا حکم ہے ایسے غلام کے حق میں جس نے ایک شخص کے مال و نعمت میں پرورش پائی پھر اس کی ناشکری کی اور اس کے حق کا منکِر ہوگیا اور اپنے آپ مولٰی ہونے کا مدّعی بن گیا ؟ اس پر فرعون نے یہ جواب لکھا کہ جو غلام اپنے آقا کی نعمتوں کا انکار کرے اور اس کے مقابل آئے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو دریا میں ڈبو دیا جائے جب فرعون ڈوبنے لگا تو حضرت جبریل نے اس کا وہی فتوٰی اس کے سامنے کر دیا اور اس کو اس نے پہچان لیا ۔ (سبحان اللہ )
آج ہم تیری لاش کو اوترا دیں (باقی رکھیں) گے تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو (ف۱۹۵) اور بیشک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں ،
(ف195)عُلَماءِ تفسیر کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی قوم کو ان کے ہلاکت کی خبر دی تو بعض بنی اسرائیل کو شبہ رہا اور اس کی عظمت و ہیبت جو ان کے قلوب میں تھی اس کے باعث انہیں اس کی ہلاکت کا یقین نہ آیا ۔ بامرِ الٰہی دریا نے فرعون کی لاش ساحل پر پھینک دی ، بنی اسرائیل نے اس کو دیکھ کر پہچانا ۔
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی (ف۱۹٦) اور انھیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے (ف۱۹۷) مگر علم آنے کے بعد (ف۱۹۸) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۱۹۹)
(ف196)عزت کی جگہ سے یا تو مُلکِ مِصر اور فرعون و فرعونیوں کے اَملاک مراد ہیں یا سر زمینِ شام و قدس و اُردن جو نہایت سرسبز و شاداب اور زرخیز بلاد ہیں ۔(ف197)بنی اسرائیل جن کے ساتھ یہ واقعات ہو چکے ۔(ف198)علم سے مراد یہاں یا تو توریت ہے جس کے معنی میں یہود باہم اختلاف کرتے تھے یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہے کہ اس سے پہلے تو یہود سب آپ کے مُقِر اور آپ کی نبوّت پر متفق تھے اور توریت میں جو آپ کے صفات مذکور تھے ان کو مانتے تھے لیکن تشریف آوری کے بعد اختلاف کرنے لگے ، کچھ ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے حسد و عداوت سے کُفر کیا ۔ ایک قول یہ ہے کہ علم سے قرآن مراد ہے ۔(ف199)اس طرح کہ اے سیدِ انبیاء آ پ پر ایمان لانے والوں کو جنّت میں داخل فرمائے گا اور آپ کے انکار کرنے والوں کو جہنّم میں عذاب فرمائے گا ۔
اور اے سننے والے! اگر تجھے کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا (ف۲۰۰) تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں (ف۲۰۱) بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۰۲) تو تو ہرگز شک والوں میں نہ ہو،
(ف200)بواسطہ اپنے رسول محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ۔(ف201) یعنی عُلَمائے اہلِ کتاب مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے تاکہ وہ تجھ کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کا اطمینان دلائیں اور آپ کی نعت و صفت جو توریت میں مذکور ہے وہ سنا کر شک رفع کریں ۔ فائدہ : شک انسان کے نزدیک کسی امر میں دونوں طرفوں کا برابر ہونا ہے خواہ وہ اس طرح ہو کہ دونوں جانب برابر قرینے پائے جائیں خواہ اس طرح کہ کسی طرف بھی کوئی قرینہ نہ ہو ۔ محققین کے نزدیک شک اقسامِ جہل سے ہے اور جہل و شک میں عام و خاص مطلق کی نسبت ہے کہ ہر ایک شک جہل ہے اور ہر جہل شک نہیں ۔(ف202)جو براہینِ لائحہ و آیاتِ واضحہ سے اتنا روشن ہے کہ اس میں شک کی مجال نہیں ۔ (خازن)
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی (ف۲۰۵) کہ ایمان لاتی (ف۲۰٦) تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم، جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انھیں برتنے دیا (ف۲۰۷)
(ف205)ان بستیوں میں سے جن کو ہم نے ہلاک کیا ۔(ف206)اور اخلاص کے ساتھ توبہ کرتی عذاب نازِل ہونے سے پہلے ۔ (مدارک)(ف207)قومِ یونس کا واقعہ یہ ہے کہ نینوٰی علاقۂ موصل میں یہ لوگ رہتے تھے اور کُفر و شرک میں مبتلا تھے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ان کی طرف بھیجا ، آپ نے بُت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا ان کو حکم دیا ان لوگوں نے انکار کیا ، حضرت یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی ، آپ نے انہیں بحکمِ الٰہی نُزولِ عذاب کی خبر دی ۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ و السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے ، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیئے کہ عذاب آئے گا ۔ شب میں حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے صبح کو آثارِ عذاب نمودار ہو گئے ، آسمان پر سیاہ ہیبت ناک اَبر آیا اور دھواں کثیر جمع ہوا تمام شہر پر چھا گیا یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوا کہ عذاب آنے والا ہے تو انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کی جستجو کی اور آپ کو نہ پایا اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ مع اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے جنگل کو نکل گئے ، موٹے کپڑے پہنے اور توبہ و اسلام کا اظہار کیا ، شوہر سے بی بی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کی اور کہا کہ جو یونس علیہ السلام لائے اس پر ہم ایمان لائے اور توبۂ صادقہ کی ، جو مظالم ان سے ہوئے تھے ان کو دفع کیا ، پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر ایک پتھر دوسرے کا کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا اور اللہ تعالٰی سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں ، پروردِگار ِعالم نے ان پر رحم کیا ، دعا قبول فرمائی ، عذاب اٹھا دیا گیا ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نُزولِ عذاب کے بعد فرعون کا ایمان اور اس کی توبہ قبول نہ ہوئی تو قومِ یونس کی توبہ قبول فرمانے اور عذاب اٹھا دینے میں کیا حکمت ہے ؟ عُلَماء نے اس کے کئی جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کرمِ خاص تھا قومِ حضرت یونس کے ساتھ ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ فرعون عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد ایمان لایا جب امیدِ زندگانی ہی باقی نہ رہی اور قومِ یونس علیہ السلام سے جب عذاب قریب ہوا تو وہ اس میں مبتلا ہونے سے پہلے ایمان لے آئے اور اللہ قُلوب کا جاننے والا ہے ، اخلاص مندوں کے صدق و اخلاق کا اس کو علم ہے ۔
اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے (ف۲۰۸) تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں (ف۲۰۹)
(ف208)یعنی ایمان لانا سعادتِ ازَلی پر موقوف ہے ، ایمان وہی لائیں گے جن کے لئے توفیقِ الٰہی مُساعِد ہو ۔ اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہِ راست اختیار کریں پھر جو ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا آپ کو غم ہوتا ہے اس کا آپ کو غم نہ ہونا چاہیئے کیونکہ ازَل سے جو شقی ہے وہ ایمان نہ لائے گا ۔(ف209)اور ایمان میں زبردستی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایمان ہوتا ہے تصدیق و اقرار سے اور جبر و اکراہ سے تصدیقِ قلبی حاصل نہیں ہوتی ۔
تو انھیں کاہے کا انتظار ہے مگر انھیں لوگوں کے سے دنوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے (ف۲۱۳) تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں (ف۲۱٤)
(ف213)مثل نوح و عاد و ثمود وغیرہ ۔(ف214)تمہاری ہلاکت اور عذاب کے ۔ ربیع بن انس نے کہا کہ عذاب کا خوف دلانے کے بعد اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جب عذاب واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی رسول کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نَجات عطا فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ، اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں کا جسے تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۲۱۵) ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا (۲۱٦) اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں
(ف215)کیونکہ وہ مخلوق ہے عبادت کے لائق نہیں ۔(ف216)کیونکہ وہ قادرِ مختار ، الٰہِ برحق ، مستحقِ عبادت ہے ۔
اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا، اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں (ف۲۱۸) اسے پہنچاتا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے،
(ف218)وہی نفع و ضَرر کا مالک ہے ، تمام کائنات اسی کی محتاج ہے ، وہی ہر چیز پر قادِر اور جود و کرم والا ہے ۔ بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیئے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی ۔
تم فرماؤ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۱۹) تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا (ف۲۲۰) اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا (ف۲۲۱) اور کچھ میں کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف۲۲۲)
(ف219)حق سے یہاں قرآن مراد ہے یا اسلام یا سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ و السلام ۔(ف220)کیونکہ اس کا نفع اسی کو پہنچے گا ۔(ف221)کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہے ۔(ف222)کہ تم پر جبر کروں ۔
اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو (ف۲۲۳) یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے (ف۲۲٤) اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے (ف۲۲۵)
(ف223)کُفّار کی تکذیب اور ان کی ایذا پر ۔(ف224)مشرکین سے قتال کرنے اور کتابیوں سے جزیہ لینے کا ۔(ف225)کہ اس کے حکم میں خطا و غلط کا احتمال نہیں اور وہ بندوں کے اسرار و مخفی حالات سب کا جاننے والا ہے ، اس کا فیصلہ دلیل و گواہ کا محتاج نہیں ۔