Yusuf یوسف

پارہ:
سورہ: 12
آیات: 111
الٓرٰ​ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡن‏ ﴿1﴾

یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲)

Alif-Lam-Ra*; these are verses of the clear Book. (* Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿2﴾

بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو،

Indeed We have sent down an Arabic Qur’an, so that you may perceive.

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ​ۖ وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ‏ ﴿3﴾

ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،

We relate to you the best narrative because We have sent the divine revelation of this Qur’an, to you; although surely you were unaware before this.

اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ لِاَبِيۡهِ يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوۡكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِىۡ سٰجِدِيۡنَ‏ ﴿4﴾

یاد کرو جب یوسف نے اپنے باپ (ف٤) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انھیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)

Remember when Yusuf (Joseph) said to his father, “O my father! I saw eleven stars and the sun and the moon – I saw them prostrating to me.”

قَالَ يٰبُنَىَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰٓى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَـكَ كَيۡدًا ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿5﴾

کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف٦) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (ف۸)

He said, “O my child! Do not relate your dream to your brothers, for they will hatch a plot against you; indeed Satan is an open enemy towards mankind.”

وَكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اٰلِ يَعۡقُوۡبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰٓى اَبَوَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ​ ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏  ﴿6﴾

اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا (ف۹) اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی (ف۱۲) بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،

“And this is how your Lord will choose you and teach you how to interpret events, and will perfect His favours upon you and upon the family of Yaqub, the way He perfected it upon both your forefathers, Ibrahim and Ishaq; indeed your Lord is All Knowing, Wise.”

لَقَدۡ كَانَ فِىۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّـلسَّآٮِٕلِيۡنَ‏ ﴿7﴾

بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (ف۱٤)

Indeed in Yusuf and his brothers are signs* for those who enquire**. (* Of the truthfulness of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him. ** The Jews who enquired about their story.)

اِذۡ قَالُوۡا لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ  ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ ​ۖ ​ۚ‏ ﴿8﴾

جب بولے (ف۱۵) کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی (ف۱٦) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں (ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)

When they said, “Indeed Yusuf and his brother* are dearer to our father than we are, and we are one group; undoubtedly our father is, clearly, deeply engrossed in love.” (* Of the same mother.)

اۨقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا يَّخۡلُ لَـكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ وَ تَكُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ قَوۡمًا صٰلِحِيۡنَ‏ ﴿9﴾

یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)

“Kill Yusuf or throw him somewhere in the land, so that your father’s attention may be directed only towards you, and then after it you may again become righteous!”

قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُـبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ‏ ﴿10﴾

ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے (ف۲٤) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)

A speaker among them said, “Do not kill Yusuf – and drop him into a dark well so that some traveller may come and take him away, if you have to.”

قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا لَـكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ‏ ﴿11﴾

بولے اے ہمارے باپ ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معاملہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں،

They said, “O our father! What is the matter with you that you do not trust us with Yusuf, although we are in fact his well-wishers?”

اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ‏  ﴿12﴾

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے (ف۲٦) اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں (ف۲۷)

“Send him with us tomorrow so that he may eat some fruits and play, and indeed we are his protectors.”

قَالَ اِنِّىۡ لَيَحۡزُنُنِىۡ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡـتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَ‏ ﴿13﴾

بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بےخبر رہو (ف۳۰)

He said, “I will indeed be saddened by your taking him away, and I fear that the wolf may devour him, whilst you are unaware of him.” (* Prophet Yaqub knew of what was about to happen.)

قَالُوۡا لَٮِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ‏  ﴿14﴾

بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں (ف۳۱)

They said, “If the wolf devours him, whereas we are a group, then surely we are useless!”

فَلَمَّا ذَهَبُوۡا بِهٖ وَاَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ يَّجۡعَلُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّ​ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ لَـتُنَـبِّئَـنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏  ﴿15﴾

پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳٤) کہ ضرور تو انھیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳٦)

So when they took him away – and all of them agreed that they should drop him in the dark well; and We sent the divine revelation to him, “You will surely tell them of their deed at a time when they will not know.”

وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ‏ ﴿16﴾

اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (ف۳۷)

And at nightfall they came to their father, weeping.

​قَالُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ​ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿17﴾

بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)

Saying, “O our father! We went far ahead while racing, and left Yusuf near our resources – therefore the wolf devoured him; and you will not believe us although we may be truthful.”

وَجَآءُوۡ عَلٰى قَمِيـۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ​ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا​ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ​ؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ‏  ﴿18﴾

اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف٤۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف٤۱) تو صبر اچھا ، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو (ف٤۲)

And they brought his shirt stained with faked blood; he said, “On the contrary – your hearts have fabricated an excuse for you; therefore patience is better; and from Allah only I seek help against the matters that you relate.”

وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ فَاَدۡلٰى دَلۡوَهٗ​ ؕ قَالَ يٰبُشۡرٰى هٰذَا غُلٰمٌ​ ؕ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةً  ​ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿19﴾

اور ایک قافلہ آیا (ف٤۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف٤٤) تو اس نے اپنا ڈول ڈال (ف٤۵) بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف٤٦) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،

And there came a caravan – so they sent their water-drawer, he therefore lowered his pail; he said, “What good luck, this is a boy!”; and they hid him as a treasure; and Allah knows what they do.

وَشَرَوۡهُ بِثَمَنٍۢ بَخۡسٍ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍ​ ۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزّٰهِدِيۡنَ‏ ﴿20﴾

اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف٤۷) اور انھیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف٤۸)

And the brothers sold him for an improper price, a limited number of coins; and they had no interest in him.

وَقَالَ الَّذِى اشۡتَرٰٮهُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِهٖۤ اَكۡرِمِىۡ مَثۡوٰٮهُ عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا​ ؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِوَلِنُعَلِّمَهٗ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ​ؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓى اَمۡرِهٖ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿21﴾

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف٤۹) انھیں عزت سے رکھو (ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے (ف۵۱) یا ان کو ہم بیٹا بنالیں (ف۵۲) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،

And the Egyptian who purchased him said to his wife, “Keep him honourably – we may derive some benefit due to him or we may adopt him as our son”; and this is how we established Yusuf in the land, and that We might teach him how to interpret events; and Allah is Dominant upon His works, but most men do not know.

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿22﴾

اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵٤) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

And when he matured to his full strength, We bestowed him wisdom and knowledge; and this is how We reward the virtuous.

وَرَاوَدَتۡهُ الَّتِىۡ هُوَ فِىۡ بَيۡتِهَا عَنۡ نَّـفۡسِهٖ وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَـكَ​ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ​ اِنَّهٗ رَبِّىۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَاىَ​ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿23﴾

اور وہ جس عورت (ف۵٦) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردیے (ف۵۸) اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹) کہا اللہ کی پناہ (ف٦۰) وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف٦۱) بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،

And the woman in whose house he was, allured him not to restrain himself and she closed all the doors – and said, “Come! It is you I address!”; he said, “(I seek) The refuge of Allah – indeed the governor is my master – he treats me well; undoubtedly the unjust never prosper.”

وَلَـقَدۡ هَمَّتۡ بِهٖ​ۚ وَهَمَّ بِهَا​ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡهَانَ رَبِّهٖ​ؕ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّۤوۡءَ وَالۡـفَحۡشَآءَ​ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿24﴾

اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف٦۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بےحیائی کو پھیر دیں (ف٦۳) بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے (ف٦٤)

And indeed the woman desired him; and he too would have desired her were he not to witness the sign of his Lord*; this is what We did, to turn away evil and lewdness from him; indeed He is one of Our chosen bondmen. (* Allah saved him and he never desired this immorality.)

وَاسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيۡصَهٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّاَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الۡبَابِ​ؕ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَهۡلِكَ سُوۡۤءًا اِلَّاۤ اَنۡ يُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ ﴿25﴾

اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (ف٦۵) اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں (ف٦٦) دروازے کے پاس ملا (ف٦۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف٦۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف٦۹)

And they both raced towards the door, and the woman tore his shirt from behind, and they both found her husband at the door; she said, “What is the punishment of the one who sought evil with your wife, other than prison or a painful torture?”

قَالَ هِىَ رَاوَدَتۡنِىۡ عَنۡ نَّـفۡسِىۡ​ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۡ اَهۡلِهَا​ۚ اِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ‏ ﴿26﴾

کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)

Said Yusuf, “It was she who lured me, that I may not guard myself” – and a witness from her own household testified; “If his shirt is torn from the front, then the woman is truthful and he has spoken incorrectly.”

وَاِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏  ﴿27﴾

اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے (ف۷۳)

“And if his shirt is torn from behind, then the woman is a liar and he is truthful.”

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّ​ؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ‏ ﴿28﴾

پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷٤) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے (ف۷۵)

So when the governor saw his shirt torn from behind, he said, “Indeed this is a deception of women; undoubtedly the deception of women is very great.”

يُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰذَا وَاسۡتَغۡفِرِىۡ لِذَنۡۢبِكِ ۖ ​ۚ اِنَّكِ كُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِٮـِٕيۡنَ‏ ﴿29﴾

اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷٦) اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)

“O Yusuf! Disregard this – and O woman! Seek forgiveness for your sin; indeed you are of the mistaken.”

وَقَالَ نِسۡوَةٌ فِى الۡمَدِيۡنَةِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮهَا عَنۡ نَّـفۡسِهٖ​ۚ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا​ ؕ اِنَّا لَـنَرٰٮهَا فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏  ﴿30﴾

اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)

And some women of the city said, “The governor’s wife is seducing her young slave; indeed his love has taken root in her heart; and we find her clearly lost.”

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـاً وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا وَّقَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ ​ۚ فَلَمَّا رَاَيۡنَهٗۤ اَكۡبَرۡنَهٗ وَقَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيۡمٌ‏ ﴿31﴾

تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸٤) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸٦) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،

And when she heard of their secret talk, she sent for them and prepared cushioned mattresses for them and gave a knife to each one of them and said to Yusuf, “Come out before them!” When the women saw him they praised him and cut their hands, and said, “Purity is to Allah – this is no human being; this is not but an honourable angel!”

قَالَتۡ فَذٰلِكُنَّ الَّذِىۡ لُمۡتُنَّنِىۡ فِيۡهِ​ؕ وَ لَـقَدۡ رَاوَدْتُّهٗ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ فَاسۡتَعۡصَمَ​ؕ وَلَٮِٕنۡ لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَـيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِيۡنَ‏ ﴿32﴾

زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)

She said, “This is he on whose account you used to insult me; and indeed I tried to entice him, so he safeguarded himself; and indeed if he does not do what I tell him to, he will surely be imprisoned, and will surely be humiliated.”

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَيۡهِ​ۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّىۡ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿33﴾

یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،

He said, “O my Lord! Prison is dearer to me than the deed they invite me to; and if You do not repel their deceit away from me, I may incline towards them and be unwise.”

فَاسۡتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنۡهُ كَيۡدَهُنَّ​ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ‏ ﴿34﴾

تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۹۳)

So his Lord heard his prayer and repelled the women’s deceit away from him; indeed He only is the All Hearing, the All Knowing.

ثُمَّ بَدَا لَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰيٰتِ لَيَسۡجُنُـنَّهٗ حَتّٰى حِيۡنٍ‏ ﴿35﴾

پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انھیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں (ف۹٤)

Then after having seeing all the signs, they all decided that he should be imprisoned for some time.

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ​ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا​ ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِىۡ خُبۡزًا تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ​ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿36﴾

اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹٦) بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں (ف۹۹)

And two young men went to prison along with him; one of them said, “I dreamt that I am pressing wine”; the other said, “I dreamt that I am carrying some bread upon my head from which birds were eating”; “Tell us their interpretation; indeed we see that you are virtuous.”

قَالَ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَـبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا​ ؕ ذٰ لِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِىۡ رَبِّىۡ ؕ اِنِّىۡ تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ‏  ﴿37﴾

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،

Said Yusuf, “The food which you get will not reach you, but I will tell you the interpretation of this before it comes to you; this is one of the sciences my Lord has taught me; indeed I did not accept the religion of the people who do not believe in Allah and are deniers of the Hereafter.”

وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ​ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِكَ بِاللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ​ؕ ذٰلِكَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿38﴾

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)

“And I have chosen the religion of my forefathers, Ibrahim and Ishaq and Yaqub; it is not rightful for us to ascribe anything as a partner to Allah; this is a grace of Allah upon us and upon mankind, but most men are not thankful.”

يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُؕ‏ ﴿39﴾

اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب (۱۰٤) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب، (ف۱۰۵)

“O both my fellow-prisoners! Are various lords better, or One Allah, the Dominant above all?”

مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡـتُمۡ وَ اٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ​ؕ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ​ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ​ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿40﴾

تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰٦) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)

“You do not worship anything besides Him, but which are merely names coined by you and your forefathers – Allah has not sent down any proof regarding them; there is no command but that of Allah; He has commanded that you do not worship anyone except Him; this is the proper religion, but most people do not know.”

يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسۡقِىۡ رَبَّهٗ خَمۡرًا​ۚ وَاَمَّا الۡاٰخَرُ فَيُصۡلَبُ فَتَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡ رَّاۡسِهٖ​ؕ قُضِىَ الۡاَمۡرُ الَّذِىۡ فِيۡهِ تَسۡتَفۡتِيٰنِؕ‏ ﴿41﴾

اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا (ف۱۱۱) وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)

“O my two fellow-prisoners! One of you will give his lord (the king) wine to drink; regarding the other, he will be crucified, therefore birds will eat from his head; the command has been given concerning the matter you had enquired about.”

وَقَالَ لِلَّذِىۡ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنۡهُمَا اذۡكُرۡنِىۡ عِنۡدَ رَبِّكَ فَاَنۡسٰٮهُ الشَّيۡطٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِى السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِيۡنَ‏  ﴿42﴾

اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱٤) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱٦)

And of the two, Yusuf said to the one whom he sensed would be released, “Remember me, in the company of your lord”; so Satan caused him to forget to mention Yusuf to his lord, he therefore stayed in prison for several years more.

وَقَالَ الۡمَلِكُ اِنِّىۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ​ؕ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِىۡ فِىۡ رُءۡيَاىَ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَ‏ ﴿43﴾

اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انھیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،

And the king said, “I saw in a dream seven healthy cows whom seven lean cows were eating, and seven green ears of corn and seven others dry; O court-members! Explain my dream, if you can interpret dreams.”

قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍۚ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ‏  ﴿44﴾

بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے،

They answered, “These are confused dreams – and we do not know the interpretation of dreams.”

وَقَالَ الَّذِىۡ نَجَا مِنۡهُمَا وَادَّكَرَ بَعۡدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَـبِّئُكُمۡ بِتَاۡوِيۡلِهٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ‏ ﴿45﴾

اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)

And of the two the one who was released said – and after a long time he had remembered – “I will tell you its interpretation, therefore send me forth.”

يُوۡسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيۡقُ اَ فۡتِنَا فِىۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّىۡۤ اَرۡجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿46﴾

اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)

“O Yusuf! O truthful one! Explain for us the seven healthy cows which seven lean cows were eating and the seven green ears of corn and seven others dry, so I may return to the people, possibly they may come to know.”

قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِيۡنَ دَاَبًا​ۚ فَمَا حَصَدْتُّمۡ فَذَرُوۡهُ فِىۡ سُنۡۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّا تَاۡكُلُوۡنَ‏ ﴿47﴾

کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲٤) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)

He said, “You will cultivate for seven years continuously; so leave all that you harvest in the ear, except a little which you eat.”

ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ سَبۡعٌ شِدَادٌ يَّاۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ‏ ﴿48﴾

پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے (ف۱۲٦) کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا (ف۱۲۷) مگر تھوڑا جو بچالو (ف۱۲۸)

“Then after that will come seven hard years which will devour all that you had stored for them, except a little which you may save.”

ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيۡهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيۡهِ يَعۡصِرُوۡنَ‏ ﴿49﴾

پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)

“Then after that will come a year when the people will be given rain and in which they will extract juices.”

وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖ​ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰى رَبِّكَ فَسۡــَٔلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِىۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ‏ ﴿50﴾

اور بادشاہ بولا کہ انھیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)

And the king said, “Bring him to me”; so when the bearer came to him, Yusuf said, “Return to your lord and ask him what is the status of the women who had cut their hands; indeed my Lord knows their deception.”

قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ اِذۡ رَاوَدْتُّنَّ يُوۡسُفَ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ​ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِنۡ سُوۡۤءٍ​ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ الۡــٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ﴿51﴾

بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں (ف۱۳٤)

The king said, “O women! What was your role when you tried to entice Yusuf?” They answered, “Purity is to Allah – we did not find any immorality in him”; said the wife of the governor, “Now the truth is out; it was I who tried to entice him, and indeed he is truthful.”

ذٰ لِكَ لِيَـعۡلَمَ اَنِّىۡ لَمۡ اَخُنۡهُ بِالۡغَيۡبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ كَيۡدَ الۡخَـآٮِٕنِيۡنَ‏ ﴿52﴾

یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا،

Said Yusuf, “I did this so that the governor may realise that I did not betray him behind his back, and Allah does not let the deceit of betrayers be successful.”

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ​ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىۡ ؕاِنَّ رَبِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿53﴾

اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳٦) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)

“And I do not portray my soul as innocent; undoubtedly the soul excessively commands towards evil, except upon whom my Lord has mercy; indeed my Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”

وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِىۡ​ۚ​ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِيۡنٌ اَمِيۡنٌ‏ ﴿54﴾

اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)

And the king said, “Bring him to me so that I may choose him especially for myself”; and when he had talked to him he said, “Indeed you are today, before us, the honourable, the trusted.”

قَالَ اجۡعَلۡنِىۡ عَلٰى خَزَآٮِٕنِ الۡاَرۡضِ​ۚ اِنِّىۡ حَفِيۡظٌ عَلِيۡمٌ‏  ﴿55﴾

یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱٤۰)

Said Yusuf, “Appoint me over the treasures of the earth; indeed I am a protector, knowledgeable.”

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِ​ۚ يَتَبَوَّاُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُ​ ؕ نُصِيۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ​ۚ وَلَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏  ﴿56﴾

اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱٤۱) ہم اپنی رحمت (ف۱٤۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ ( اَجر) ضائع نہیں کرتے،

And this is how We gave Yusuf the control over that land; to stay in it wherever he pleased; We may convey Our mercy to whomever We will, and We do not waste the wages of the righteous.

وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ‏  ﴿57﴾

اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱٤۳)

And undoubtedly the reward of the Hereafter is better, for those who accept faith and remain pious.

وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡكِرُوۡنَ‏  ﴿58﴾

اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انھیں (ف۱٤٤) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱٤۵)

And Yusuf’s brothers came and presented themselves before him, so he recognised them whereas they remained unaware of him.

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ائۡتُوۡنِىۡ بِاَخٍ لَّكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ​ۚ اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّىۡۤ اُوۡفِی الۡكَيۡلَ وَاَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ‏  ﴿59﴾

اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٤٦) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱٤۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱٤۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،

And when he provided them with their provisions he said, “Bring your step-brother to me; do you not see that I measure in full and that I am the best host?”

فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِىۡ بِهٖ فَلَا كَيۡلَ لَـكُمۡ عِنۡدِىۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ‏  ﴿60﴾

پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ناپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا،

“And if you do not bring him to me, there shall be no measure (provisions) for you with me and do not ever come near me.”

قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفَاعِلُوۡنَ‏ ﴿61﴾

بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا،

They said, “We will seek him from his father – this we must surely do.”

وَقَالَ لِفِتۡيٰنِهِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ فِىۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوۡۤا اِلٰٓى اَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏  ﴿62﴾

اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱٤۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،

He said to his slaves, “Place their means back into their sacks, perhaps they may recognise it when they return to their homes, perhaps they may come again.”

فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكۡتَلۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ‏ ﴿63﴾

پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،

So when they returned to their father, they said, “O our father! The provisions have been denied to us, therefore send our brother with us so that we may bring the provisions, and we will surely protect him.”

قَالَ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰٓى اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ​ؕ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًا​ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ﴿64﴾

کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ،

He said, “Shall I trust you regarding him the same way I had trusted you earlier regarding his brother? Therefore Allah is the Best Protector; and He is More Merciful than all those who show mercy.”

وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡؕ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا نَـبۡغِىۡؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَا​ ۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍ​ؕ ذٰ لِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ‏  ﴿65﴾

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵٤)

And when they opened their belongings they found that their means had been returned to them; they said, “O our father! What more can we ask for? Here are our means returned to us; we may get the provision for our homes and guard our brother, and get a camel-load extra; giving all these is insignificant for the king.”

قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَهٗ مَعَكُمۡ حَتّٰى تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَــتَاۡتُنَّنِىۡ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّحَاطَ بِكُمۡ​ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَكِيۡلٌ‏ ﴿66﴾

کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵٦) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،

He said, “I shall never send him with you until you give me an oath upon Allah that you will bring him back to me, unless you are surrounded”; and (recall) when they gave him their oath that “Allah’s guarantee is upon what we say.” (* He knew that Bin Yamin would be restrained.)

وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ​ؕ وَمَاۤ اُغۡنِىۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍؕ​ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ​ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ​ۚ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏ ﴿67﴾

اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱٦۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،

And he said, “O my sons! Do not enter all by one gate – and enter by different gates; I cannot save you against Allah; there is no command but that of Allah; upon Him do I rely; and all those who trust, must rely only upon Him.”

وَلَمَّا دَخَلُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَهُمۡ اَبُوۡهُمۡ ؕمَا كَانَ يُغۡنِىۡ عَنۡهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ اِلَّا حَاجَةً فِىۡ نَفۡسِ يَعۡقُوۡبَ قَضٰٮهَا​ؕ وَاِنَّهٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ لِّمَا عَلَّمۡنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏  ﴿68﴾

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱٦۱) وہ کچھ انھیں کچھ انھیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱٦۲)

And when they entered from the place where their father had commanded them to; that would not at all have saved them against Allah – except that it was Yaqub’s secret wish, which he fulfilled; and indeed he is a possessor of knowledge, due to Our teaching, but most people do not know.

وَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَخَاهُ​ قَالَ اِنِّىۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَٮِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿69﴾

اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱٦۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱٦٤) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱٦۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱٦٦)

And when they entered in the company Yusuf, he seated his brother close to him and said, “Be assured, I really am your brother – therefore do not grieve for what they do.”

فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِىۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَ يَّـتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّكُمۡ لَسَارِقُوۡنَ‏ ﴿70﴾

پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٦۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱٦۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،

And when he had provided them their provision, he put the drinking-cup in his brother’s bag, and then an announcer cried, “O people of the caravan! You are indeed thieves!”

قَالُوۡا وَاَقۡبَلُوۡا عَلَيۡهِمۡ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَ‏ ﴿71﴾

بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے،

They answered and turned towards them, “What is it you cannot find?”

قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِكِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِهٖ حِمۡلُ بَعِيۡرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيۡمٌ‏ ﴿72﴾

بولے، بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں،

They said, “We cannot find the king’s cup, and for him who brings it is a camel-load, and I am its guarantor.”

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَـقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِـنُفۡسِدَ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِيۡنَ‏ ﴿73﴾

بولے خدا کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور ہیں،

They said, “By Allah, you know very well that we did not come here to cause turmoil in the land, and nor are we thieves!”

قَالُوۡا فَمَا جَزَاۤؤُهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ كٰذِبِيۡنَ‏ ﴿74﴾

بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو (ف۱٦۹)

They said, “And what shall be the punishment for it, if you are liars?”

قَالُوۡا جَزَاۤؤُهٗ مَنۡ وُّجِدَ فِىۡ رَحۡلِهٖ فَهُوَ جَزَاۤؤُهٗ​ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِى الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿75﴾

بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)

They said, “The punishment for it is that he in whose bag it shall be found, shall himself become a slave for it; this is how we punish the unjust.”

فَبَدَاَ بِاَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَهَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِيۡهِ​ؕ كَذٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوۡسُفَ​ؕ مَا كَانَ لِيَاۡخُذَ اَخَاهُ فِىۡ دِيۡنِ الۡمَلِكِ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ​ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ​ؕ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِىۡ عِلۡمٍ عَلِيۡمٌ‏ ﴿76﴾

تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷٤) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷٦) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)

So he first searched their bags before his brother’s bag, then removed it from his brother’s bag; this was the plan We had taught Yusuf; he had no right to take his brother by the king’s law, except if Allah wills; We may raise in ranks whomever We will; and above every possessor of knowledge is another scholar.

قَالُوۡۤا اِنۡ يَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ​ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوۡسُفُ فِىۡ نَفۡسِهٖ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡ​ ۚ قَالَ اَنۡـتُمۡ شَرٌّ مَّكَانًا ​ۚ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ‏ ﴿77﴾

بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،

They said, “If he steals, then indeed his brother has stolen before”; so Yusuf kept this in his heart and did not reveal it to them; he replied within himself, “In fact, you are in a worse position; and Allah well knows the matters you fabricate.”

قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيۡخًا كَبِيۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿78﴾

بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں،

They said, “O governor! He has a very aged father, so take one of us in his stead; indeed we witness your favours.”

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَ‏ ﴿79﴾

کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸٤) جب تو ہم ظالم ہوں گے،

He said, “The refuge of Allah from that we should take anyone except him with whom our property was found – we would then surely be unjust.”

فَلَمَّا اسۡتَايۡــَٔسُوۡا مِنۡهُ خَلَصُوۡا نَجِيًّا​ ؕ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطْتُّمۡ فِىۡ يُوۡسُفَ​ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰى يَاۡذَنَ لِىۡۤ اَبِىۡۤ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِىۡ​ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ‏  ﴿80﴾

پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸٦) اور اس کا حکم سب سے بہتر،

So when they did not anticipate anything from him, they went away and started consulting each other; their eldest brother said, “Do you not know that your father has taken from you an oath upon Allah, and before this, how you had failed in respect of Yusuf? Therefore I will not move from here until my father permits or Allah commands me; and His is the best command.”

اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَ​ۚ وَمَا شَهِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰفِظِيۡنَ‏ ﴿81﴾

اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)

“Return to your father and then submit, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’

وَسۡــَٔلِ الۡقَرۡيَةَ الَّتِىۡ كُنَّا فِيۡهَا وَالۡعِيۡرَ الَّتِىۡ اَقۡبَلۡنَا فِيۡهَا​ؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ‏ ﴿82﴾

اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں (ف۱۹۰)

‘And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful.’”

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا​ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ​ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَنِىۡ بِهِمۡ جَمِيۡعًا​ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏  ﴿83﴾

کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،

Said Yaqub, “Your souls have fabricated an excuse for you; therefore patience is excellent; it is likely that Allah will bring all* of them to me; undoubtedly only He is the All Knowing, the Wise.” (* All three including Yusuf.)

وَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوۡسُفَ وَابۡيَـضَّتۡ عَيۡنٰهُ مِنَ الۡحُـزۡنِ فَهُوَ كَظِيۡمٌ‏ ﴿84﴾

اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹٤) وہ غصہ کھاتا رہا،

And he turned away from them and said, “Alas – the separation from Yusuf!” and his eyes turned white with sorrow, he therefore kept suppressing his anger.

قَالُوۡا تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡهَالِكِيۡنَ‏ ﴿85﴾

بولے (ف۱۹۵) خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں،

They said, “By Allah, you will keep remembering Yusuf till your health fails you or you lose your life.”

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿86﴾

کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹٦) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)

He said, “I complain of my worry and grief only to Allah, and I know the great traits of Allah which you do not know.”

يٰبَنِىَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ‏ ﴿87﴾

اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)

“O my sons, go and search for Yusuf and his brother, and do not lose hope in the mercy of Allah; indeed none lose hope in the mercy of Allah except the disbelieving people.”

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰٮةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِى الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ‏ ﴿88﴾

پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بےقدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)

Then when they reached in the company of Yusuf they said, “O governor! Calamity has struck us and our household, and we have brought goods of little value, so give us the full measure and be generous to us; undoubtedly Allah rewards the generous.”

قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰهِلُوۡنَ‏ ﴿89﴾

بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰٤)

He said, “Are you aware of what you did to Yusuf and his brother when you were unwise?”

قَالُوۡۤا ءَاِنَّكَ لَاَنۡتَ يُوۡسُفُ​ؕ قَالَ اَنَا يُوۡسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِىۡ​ قَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَاؕ اِنَّهٗ مَنۡ يَّتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿90﴾

بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰٦)

They said, “Are you, in truth you, really Yusuf?” He said, “I am Yusuf and this is my brother; indeed Allah has bestowed favour upon us; undoubtedly whoever practices piety and patience – so Allah does not waste the wages of the righteous.”

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَاِنۡ كُنَّا لَخٰـطِــِٕيۡنَ‏  ﴿91﴾

بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)

They said, “By Allah, undoubtedly Allah has given you superiority over us, and we were indeed guilty.”

قَالَ لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ​ؕ يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَـكُمۡ​ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ﴿92﴾

کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)

He said, “There is no reproach on you, this day! May Allah forgive you – and He is the Utmost Merciful, of all those who show mercy.”

اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِىۡ هٰذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِىۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا​ۚ وَاۡتُوۡنِىۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿93﴾

میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آؤ ،

“Take along this shirt of mine and lay it on my father’s face, his vision will be restored; and bring your entire household to me.” (Prophet Yusuf knew that this miracle would occur.)

وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ قَالَ اَبُوۡهُمۡ اِنِّىۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ​ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَـنِّدُوۡنِ‏ ﴿94﴾

جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے،

When the caravan left Egypt, their father said*, “Indeed I sense the fragrance of Yusuf, if you do not call me senile.” (* Prophet Yaqub said this in Palestine, to other members of his family. He could discern the fragrance of Prophet Yusuf’s shirt from far away.)

قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِىۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ‏ ﴿95﴾

بیٹے بولے خدا کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں (ف۲۱۳)

They said, “By Allah, you are still deeply engrossed in the same old love of yours.”

فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ اَلۡقٰٮهُ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا ​ ؕۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ​ ۚ​ ۙ اِنِّىۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏  ﴿96﴾

پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱٤) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)

Then when the bearer of glad tidings came, he laid the shirt on his face, he therefore immediately regained his eyesight*; he said, “Was I not telling you? I know the great traits of Allah which you do not know!” (This was a miracle that took place by applying Prophet Yusuf’s shirt.)

قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰـطِــِٕيۡنَ‏  ﴿97﴾

بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،

They said, “O our father! Seek forgiveness for our sins, for we were indeed guilty.”

قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَـكُمۡ رَبِّىۡؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ‏  ﴿98﴾

کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱٦)

He said, “I shall soon seek forgiveness for you from my Lord; indeed He only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.”

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ وَقَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَؕ‏ ﴿99﴾

پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں (ف۲۱۷) باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں (ف۲۱۸) داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ (ف۲۱۹)

So when they all reached in Yusuf’s company, he kept his parents close to him, and said, “Enter Egypt, if Allah wills, in safety.”

وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا​ۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَاىَ مِنۡ قَبۡلُقَدۡ جَعَلَهَا رَبِّىۡ حَقًّا​ؕ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِىۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِىۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِىۡ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُ​ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ﴿100﴾

اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲٤)

And he seated his parents on the throne, and they all prostrated before him; and Yusuf said, “O my father! This is the interpretation of my former dream; my Lord has made it true; and indeed He has bestowed favour upon me, when He brought me out of prison and brought you all from the village, after Satan had created a resentment between me and my brothers; indeed my Lord may make easy whatever He wills; undoubtedly He is the All Knowing, the Wise.”

رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِىۡ مِنَ الۡمُلۡكِ وَ عَلَّمۡتَنِىۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ​ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَنۡتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ​ ۚ تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿101﴾

اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)

“O my Lord! you have given me a kingdom* and have taught me how to interpret some events; O Creator of the heavens and the earth – you are my Supporter in the world and in the Hereafter; cause me to die as a Muslim, and unite me with those who deserve Your proximity.” (* Prophethood and the rule over Egypt. Prophet Yusuf said this prayer while his death approached him.)

ذٰلِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ​ۚ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُوۡنَ‏ ﴿102﴾

یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲٦) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)

These are some tidings of the Hidden which We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not with them when they set their task and when they were scheming.

وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿103﴾

اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے،

And however much you long for, most men will not accept faith.

وَمَا تَسۡــَٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ​ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿104﴾

اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ (ف۲۲۸) تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت،

You do not ask them any fee in return for it; this is not but an advice to the entire world.

وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ‏ ﴿105﴾

اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بےخبر رہتے ہیں،

And how many signs exist in the heavens and the earth, over which most people pass and remain unaware of them!

وَمَا يُؤۡمِنُ اَكۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿106﴾

اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)

And most of them are such that they do not believe in Allah except while ascribing partners (to Him)!

اَفَاَمِنُوۡۤا اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً وَّ هُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿107﴾

کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انھیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انھیں خبر نہ ہو،

Do they remain complacent over Allah’s punishment coming and surrounding them, or the Last Day coming suddenly upon them whilst they are unaware?

قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ​ؔعَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ​ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿108﴾

تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پر چلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳٤) اور میں شریک کرنے والا نہیں،

Proclaim, “This is my path – I call towards Allah; I, and whoever follows me, are upon perception; and Purity is to Allah – and I am not of the polytheists.”

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى​ؕ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡؕ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ​ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿109﴾

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳٦) تو یہ لوگ زمین پر چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،

And all the Noble Messengers We sent before you, were exclusively men – towards whom We sent the divine revelations, and were dwellers of townships; so have not these people travelled in the land and seen what sort of fate befell those before them? And undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?

حَتّٰۤى اِذَا اسۡتَيۡــَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُوۡا جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَـنُجِّىَ مَنۡ نَّشَآءُ ​ؕ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿110﴾

یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲٤۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،

To the extent that when the Noble Messengers lost hope from the visible means, and the people thought that they had spoken wrongly, Our help came to them – therefore whoever We willed was saved; and Our punishment is never averted from the guilty.

لَـقَدۡ كَانَ فِىۡ قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٌ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ​ؕ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَـرٰى وَلٰـكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿111﴾

بیشک ان کی خبروں سے (ف۲٤۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲٤۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲٤۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲٤٤) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،

Indeed in their tidings is enlightenment for the men of understanding; this (the Qur’an) is not some made up story but a confirmation of the Books before it, and a detailed explanation of all things, and a guidance and a mercy for the Muslims.

Scroll to Top