العربية
اجلی الاعلام ان الفتویٰ مطلقا علی قول الامام (اردو)
Ajlal Aelam Annal Fatwa Mutlaqan Ala Qaul il Imam
Ajl al-Iýlām anna’l Fatwā Muţlaqan álā Qawl il-Imām
اس امر کی تحقیق عظیم کہ فتویٰ ہمیشہ قول امام پر ہے۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی عظیم الشان تصنیف “اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقاً علی قول الامام” فقہ حنفی کے اس بنیادی اور زریں اصول کی تحقیق پر مبنی ہے کہ فتویٰ ہمیشہ اور ہر حال میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر ہی ہوتا ہے ۔ اس کتاب میں نہایت مدلل انداز میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں بظاہر صاحبین (امام ابو یوسف و امام محمد) کے قول کو اختیار کیا جائے، تو وہ درحقیقت امام ہی کا “قولِ ضروری” ہوتا ہے، چاہے صاحبین امام کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
اس کتاب میں “قولِ صوری” اور “قولِ ضروری” کے مابین موجود لطیف فرق کو امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے نہایت عمدگی سے واضح کیا ہے ۔ قولِ صوری سے مراد وہ الفاظ ہیں جو امام سے صراحۃً منقول ہوں، جبکہ قولِ ضروری وہ حکم ہے جو امام کے عمومی اصولوں (قواعدِ کلیہ) سے لازم آتا ہو ۔ وہ چھ مخصوص اسباب (ضرورت، حرج، عرف، تعامل، مصلحت اور ازالہِ مفسدہ) بھی اسی تحقیق کا حصہ ہیں جن کی بنا پر قولِ صوری کو چھوڑ کر قولِ ضروری پر عمل کیا جاتا ہے ۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے نزدیک ان صورتوں میں غیر منقول قول پر فتویٰ دینا حقیقت میں امام کی موافقت اور ان کی حقیقی پیروی ہے ۔
مزید برآں، یہ رسالہ تقلیدِ حقیقی اور تقلیدِ عرفی کے شرعی تصور کو سلجھاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ تقلیدِ عرفی ہر اس شخص پر فرض ہے جو مرتبۂ اجتہاد تک نہیں پہنچا ۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے امامِ اعظم کی علمی جلالت اور حدیث پر ان کی عمیق نظر کو امام اعمش، امام ابو یوسف اور عبداللہ بن مبارک جیسے کبار ائمہ کے واقعات و اقوال سے ثابت کیا ہے ۔ یہ کتاب محض ایک رسالہ نہیں بلکہ مفتیوں اور فقہاء کے لیے ایک دستور العمل ہے جو امامِ اعظم کے مذہب کی حقانیت اور فتویٰ میں ان کے قول کی ترجیح کو دلائلِ قاہرہ سے روشن کرتا ہے ۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی عظیم الشان تصنیف “اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقاً علی قول الامام” کا وضاحتی فہرستِ مضامین (Table of Contents) انٹرنیٹ کی ضرورت کے مطابق درج ذیل ہے:
فہرستِ مضامین: اجلی الاعلام
| نمبر شمار | عنوانات و اہم موضوعات | صفحہ نمبر |
|---|---|---|
| 1 | دیباچہ اور مرکزی موضوع: فتویٰ ہمیشہ قولِ امام پر ہونے کی تحقیق | 2 |
| 2 | اصولی بحث: صاحبِ بحر الرائق کی تحقیقات اور فتوٰی کا مدار | 5 |
| 3 | مقدمہ اول: فتوٰی دینے اور محض قول نقل کرنے (حکایت) میں فرق | 19 |
| 4 | مقدمہ دوم: دلیل کی اقسام (تفصیلی اور اجمالی) اور ان کی معرفت | 21 |
| 5 | مقدمہ سوم: تقلیدِ حقیقی اور تقلیدِ عرفی کی شرعی حیثیت | 24 |
| 6 | مقدمہ چہارم: فتوائے حقیقی اور فتوائے عرفی کی تعریف و علامات | 39 |
| 7 | مقدمہ پنجم: قولِ صوری (لفظی) اور قولِ ضروری (اصولی) میں فرق | 40 |
| 8 | اسبابِ ستہ: وہ 6 وجوہات جن کی بنا پر قولِ صوری چھوڑا جاتا ہے | 42 |
| 9 | تحقیقی مثال: عورتوں کے مسجد جانے کی ممانعت اور فتوٰی کی تبدیلی | 46 |
| 10 | مقدمہ ششم: ضعفِ دلیل کی بنا پر عدول کا حق صرف مجتہد کو ہے | 54 |
| 11 | قاعدہ کلیہ: “اذا صح الحدیث فھو مذھبی” کی علمی و فنی تشریح | 56 |
| 12 | مقدمہ ہفتم: تصحیح میں اختلاف کے وقت قولِ امام کی ترجیح | 62 |
| 13 | شہادتِ ائمہ: امام ابو یوسف اور عبداللہ بن مبارک کی گواہی | 80 |
| 14 | علمی جلالت: امام اعظم کی حدیث پر نظر اور امام اعمش کا واقعہ | 82 |
| 15 | مسئلہ اختلافیہ: امام اور صاحبین کے اقوال میں ترجیح کا نقشہ | 134 |
| 16 | تنبیہات اور خاتمہ کلام: مقلد کے لیے طریقِ عمل اور نصیحت | 137 |
وضاحت: یہ فہرست امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے بنیادی مقدمات اور کتاب کے کلیدی مباحث کی ترتیب پر مبنی ہے تاکہ قارئین کو انٹرنیٹ پر مطالعہ اور تلاش میں سہولت رہے۔







