احکامِ الٰہی کی دو اقسام

احکام الہٰی کی دو قسمیں ہیں : تکوینیہ مثل احیاء واماتت وقضائے حاجت ودفع مصیبت وعطائے دولت ورزق ونعمت وفتح وشکست وغیرہا عالم کے بندوبست۔ دوسرے تشریعیہ کہ کسی فعل کو فرض یا حرام یا واجب یا مکروہ یا مستحب یامباح کردینا مسلمانوں کے سچے دین میں ا ن دونوں حکموں کی ایک ہی حالت ہے کہ غیر خدا کی طرف بروجہ ذاتی ,احکام تشریعی کی اسناد بھی شرک۔ قال اللہ تعالٰی ام لھم شرکاء شرعوالھم من الدین مالم یأذن بہ اللہ( القرآن الکریم ۴۲ /۲۱) اللہ تعالٰی نے فرمایا: کیا ان کے لیے خدا کی الوہیت میں کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے واسطے دین میں اورراہیں نکال دی ہیں جن کا خدا نے انہیں حکم نہ دیا۔ اور بروجہ عطائی امور تکوین کی اسناد بھی شرک نہیں ۔ قال اللہ تعالٰی : فالمدبرات امرً ا(القرآن الکریم ۸۰ /۵)قسم ان مقبول بندوں کی جو کاروبارعالم کی تدبیر کرتے ہیں ۔فتاویٰ رضویہ جلد 30

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے

اللہ کے احکام کی دو قسمیں: اللہ تعالیٰ کے احکام (فیصلوں) کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں
  • پہلی قسم ‘تکوینی احکام’ (یعنی کائنات کے نظام کے فیصلے): اس سے مراد دنیا کے نظام اور بندوبست چلانے کے احکام ہیں، جیسے زندگی اور موت دینا، لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا، مصیبتیں اور پریشانیاں دور کرنا، دولت، رزق اور نعمتیں عطا کرنا، اور جنگوں میں فتح یا شکست دینا وغیرہ۔
  • دوسری قسم ‘تشریعی احکام’ (یعنی شریعت یا قانون کے فیصلے): اس سے مراد دین کے احکامات ہیں، جیسے کسی بھی کام کو فرض، حرام، واجب، مکروہ، مستحب یا مباح (جائز) قرار دینا۔
 شرک کیا ہے؟ (ذاتی اختیار ماننا): مسلمانوں کے سچے دین (اسلام) میں ان دونوں قسموں کا اصول ایک ہی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی اپنی ذات سے (یعنی اللہ کی عطا کے بغیر) تشریعی احکام کی نسبت بھی شرک ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشادِ خداوندی ہے: “کیا ان کے لیے خدا کی الوہیت میں کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی ایسی راہیں (قوانین) نکال دی ہیں جن کا اللہ نے انہیں کوئی حکم نہیں دیا؟” (سورۃ الشوریٰ، آیت 21)۔
 عطائی اختیار ماننا (یعنی اللہ کی دی ہوئی طاقت ماننا) شرک نہیں: اس کے برعکس، اگر دنیاوی اور کائنات کے امور (یعنی تکوینی معاملات جیسے مدد کرنا، انتظام سنبھالنا) کو کسی اور ہستی کی طرف اس طرح منسوب کیا جائے کہ یہ ان کا اپنا ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا (عطائی) اختیار ہے، تو ایسا عقیدہ رکھنا ہرگز شرک نہیں ہے۔جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے: “قسم ہے ان مقبول بندوں (جیسے فرشتوں وغیرہ) کی جو دنیا کے کاموں کی تدبیر (انتظام) کرتے ہیں۔” (سورۃ النازعات، آیت 5)۔
(حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 30)
Scroll to Top