ایک چراغ سے بھی اگرچہ ہزاروں چراغ روشن ہوسکتے ہیں بے اس کے کہ ان چراغوں میں اس کا کوئی حصہ آئے مگر دوسرے چراغ صرف حصول نو ر میں اسی چراغ کے محتاج ہوئے ، بقاء میں اس سے مستغنی ہیں، اگر انہیں روشن کر کے پہلے چراغ کو ٹھنڈا کر دیجئے ان کی روشنی میں فرق نہ آئے گا نہ روشن ہونے کے بعد ان کو اس سے کوئی مدد پہنچ رہی ہے مع ہذا کسب نور کے بعد ان میں اوراس چراغ اول میں کچھ فرق نہیں رہتاسب یکساں معلوم ہوتے ہیں بخلاف نور محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ عالم جس طرح اپنی ابتدائے وجود میں اس کا محتاج تھا کہ وہ نہ ہوتا تو کچھ نہ بنتا یونہی ہر شے اپنی بقا میں اس کی دست نگر ہے ، آج اس کا قدم درمیان سے نکال لیں تو عالم دفعۃً فنائے محض ہوجائے۔(فتاویٰ رضویہ جلد30)
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جلائے جا سکتے ہیں، اور اس عمل میں پہلے چراغ کا کچھ کم بھی نہیں ہوتا۔ لیکن باقی چراغ صرف جلنے کی حد تک اس پہلے چراغ کے محتاج ہوتے ہیں، ایک بار جلنے کے بعد انہیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے پہلے چراغ کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر آپ باقی چراغ جلانے کے بعد اس پہلے چراغ کو بجھا بھی دیں، تو باقی چراغوں کی روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی روشن ہونے کے بعد انہیں پہلے چراغ سے مزید کوئی مدد مل رہی ہوگی۔ اس کے علاوہ، روشنی حاصل کر لینے کے بعد پہلا چراغ اور باقی سارے چراغ بالکل ایک جیسے لگتے ہیں اور ان میں کوئی ظاہری فرق محسوس نہیں ہوتا۔
لیکن نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ اس دنیاوی چراغ سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کائنات جس طرح اپنے آغاز اور بننے کے وقت آپ ﷺ کے نور کی محتاج تھی (یعنی اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ بنایا جاتا)، بالکل اسی طرح کائنات کی ہر چیز اپنے باقی رہنے اور قائم رہنے میں بھی آپ ﷺ ہی کی محتاج ہے۔ اگر آج اس کائنات کے نظام سے آپ ﷺ کا واسطہ اور فیض درمیان سے نکال دیا جائے، تو یہ ساری دنیا اسی وقت اچانک اور مکمل طور پر فنا ہو کر ختم ہو جائے۔





