غسل کا پانی پھوڑے سے نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں

مسئلہ ۱۰: ۱۰ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک پھڑیا تھی اُس نے اوپر کی جانب سے منہ کیا اور پھوٹی، بہی، بالکل اچھی ہوگئی، مگر اس کا بالائی پوست اور اس کے نیچے خالی جگہ ہنوز باقی ہے۔ زید نہایا غسل کا پانی کہ اوپر سے بہتا آیا اُس خلا میں بھر گیا، بعد نہانے کے زید نے ہاتھ سے دبادیا کہ وہ پانی بہہ کر نکل گیا، اس صورت میں وضو ساقط ہوا یا نہیں ؟اور جس بدن پر وہ پانی گزرا پاک رہا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

الجواب :جب فـــ کہ وہ پانی پھڑیا کا نہیں بلکہ خالص غسل کا ہے پھڑ یا بالکل صاف ہوگئی تھی کہ اُس میں خون پیپ کچھ نہ رہا تھا تو نہ وضو گیا نہ بدن ناپاک ہوا۔

فــــ:مسئلہ پُھڑیا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر منہ اور اندر خلاہے نہانے میں اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکال دیا وضو نہ جائے گا نہ وہ پانی ناپاک ہوا ۔

جواہر الفتاوٰی امام کرمانی باب رابع فتاوائے امام نجم الدین عمر نسفی میں ہے: جرح لیس فیہ شیئ من قیح اودم اوصدید دخل صاحبہ الحمام فدخل ماء الحمام الجرح فلما خرج من الحمام عصر الجرح فخرج ماء الحمام لاینتقض الوضوء لان الخارج ماء الحمام لاما حصل من الجرح ۱؎۔ ایسا زخم جس میں پیپ ، خون ، صدید کچھ نہیں ، زخم والا حمام گیا حمام کا پانی زخم میں چلا گیا ، جب وہ حمام سے باہر آیا تو زخم نچوڑا جس سے حمام کا پانی نکل گیا تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ جو نکلا وہ حمام کا پانی ہے وہ نہیں جو زخم سے پیدا ہوا ۔ (ت)

(۱؎ جواہر الفتاوی )

اسی طرح خلاصہ میں ہے: ولفظھا فخرج منہ الماء وسال لاینقض ۲؎۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : تو اس سے پانی نکلا اور بہا تو اس سے وضو نہ جائے گا ۔ (ت)

(۲؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۷)

وجیز امام کردری میں ہے: دخل الماء جرحہ ولادم ولا صدید فیہ ثم خرج منہ لاینقض ۳؎۔ زخم میں پانی چلا گیا اور اس میں خون ، صدید کچھ نہ تھا وہ پانی اس سے نکلا تو وضو نہ جائیگا ۔ (ت)

(۳؎ الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ جکتاب الطہارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲)

خزانۃ المفتین میں ہے: الماء اذا دخل الجرح ثم خرج لایضر ۴؎ اھ ۔ پانی زخم میں بھر گیا پھر نکلا تو ضرر نہیں اھ(ت)

(۴؎ خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ /۵)

اقول: رمزلہ خ یعنی الخلاصۃ وقد بالغ فــــ فی الاختصار حتی بلغ الاقتصاد فانہ صور المسألۃ بقولہ جرح لیس فیہ شیئ من الدم والقیح ۱؎الخ کما صور مأخذہ فتاوی الامام النسفی والاٰخذ منہ وجیز الکردری ۔

اقول :اس کے لئے خ یعنی خلاصہ کا رمز دیا اور اتنا زیادہ اختصار کر دیا کہ حدِ قصور تک پہنچ گیا اس لئے کہ خلاصہ میں صورتِ مسئلہ اس طرح بیان کی ہے : ایسا زخم ہے جس میں خون ، پیپ کچھ نہیں الخ جیسا کہ اس کے ماخذ فتاوٰی امام نسفی میں بیان کیا ہے اور خلاصہ سے اخذ کرنے والے امام کردری نے وجیز میں بیان کیا ہے ۔

(۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۷)

فــــ: تطفل علی خزانۃ المفتین ۔