مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(9)فرق روایات ظاہرہ و نادرہ

روایات ظاہرہ، ظاہر الروایہ (مسائل الاصول)

یہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف کردہ وہ چھ کتابیں ہیں ،جو آپ سے شہرت و تواتر کے ساتھ مستند طریقہ سے منقول ہیں ، انہیں اصول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے اسماء یہ ہیں : (1) المبسوط (2) الجامع الصغير (3) الجامع الکبیر (4) الزيادات (5) السير الصغیر (6) السیر الکبیر ۔ حاکم شہید رحمہ اللہ نے ان میں مکرر مسائل کو حذف فرماکر انہیں” الکافی فی فروع الحنفیۃ ” کے نام سے مرتب کیا ، پھر امام سرخسی علیہ الرحمۃ نے “ المبسوط ” کے نام سے اس کی شرح تحریر کی۔

روایات نادرہ(مسائل النوادر)

امام محمد کی ظاہر الروایہ کے علاوہ دیگر کتب جیسے ہارونیات، کیسانیات ، رقیات ،امام ابویوسف کی کتاب “الامالی ” ، حسن بن زیدکی کتاب ” المجرد ” وغیرہ “نوادر ” کہلاتی ہیں،کیونکہ یہ کتا بیں اس درجہ شہرت و تواتر اور معتبر و مستندطریقہ پر نقل نہیں ہو ئیں۔( علیہم الرحمۃ )

فتویٰ عام طور پر ظاہر الروایہ پر دیا جاتا ہے

فتوی عام طورپرظاہر الروایہ پردیاجاتاہے ،لہذاایک فقیہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے سامنے جب کوئی مسئلہ آئے، تواسے معلوم ہوکہ یہ ظاہرالروایہ سے ہے یانوادرسے تاکہ فتوی دینے میں غلطی نہ ہو۔

فتاویٰ رضویہ میں روایات ظاہرہ ونادرہ کا لحاظ

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ روایات ظاہرہ اور نوادرہ کے فرق سے بخوبی آگاہ تھےاور کس پرفتوی دیناہے ،اس کی بھی معلومات رکھتے تھے ،جس کی جھلک درج ذیل مثالوں میں دیکھیے! مثال نمبر 1 فتاوی رضویہ میں ہے :”دونوں قول قوی و نجیح ہیں اور دونوں طرف جزم و ترجیح اورمختارفقیر قول اخیر کہ اول روایت نوادرہے اور ثانی مفادظاہرالروایہ ” والفتوی متی اختلفت فالمصیر الی ظاھر الروایۃ “(اورجب فتوی مختلف ہو توظاہر الروایہ کی طرف رجوع ہوتاہے۔)محرر المذہب سیّدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے مبسوط میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ۔” وناھیک بہ حجۃ وقدوۃ ” (اس میں وہی مقتدا کافی ہیں) فتح القدیر میں ہے ” الیہ اشار فی الاصل ” ( اسی کی طرف اصل میں اشارہ ہے۔)”(1) مثال نمبر 2 فتاوی رضویہ میں ہے :”ان روایتوں کی طرز نقل بھی مختلف آئی، بعض میں یوں کہ ایک روایت یہ ہےایک وہ جس سے اُن کی مساوات ظاہر اور یہ نہ کھلا کہ روا یات ظاہرہ ہیں یا نادرہ ،بعض میں یوں کہ دوم روایت نوادر ہے، جس سے ظاہر کہ اول ظاہر الروا یۃ ہے۔بعض میں یوں کہ اول روایت ز یادات ہے اور دوم روایت اصل۔ اصل وزیادات دونوں کتب ظاہر الروا یۃ سے ہیں ۔اقول: اور ہے یہی کہ دونوں روایتیں ظاہر الروا یۃ ہیں کہ مثبت نافی پر مقدم ہے ،نافی کو اُس وقت روایت اصل خیال میں نہ تھی اور نوادر سے یاد، لہذا اسے روایت نادرہ فرما یا اور جب حسبِ تصریح ثقات وہ کتاب الاصل میں موجود تو ضرور ظاہر الروا یۃ ہے ،بلکہ اول سے بھی اولی کہ اصل ز یادات پر مرجح ہے ۔”(2)

(10)تمیز درآیات غامضہ وظاہرہ

غامضہ :پوشیدہ ۔وغیرہ(3) (خفی،مجمل،مشکل،متشابہ) ظاہرہ:عیاں ،آشکار،واضح وغیرہ ۔(4) (ظاہر،نص،مفسر،محکم) امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کواس علم پربھی خوب مہارت حاصل تھی،جس کی جھلک کے لیے فتاوی رضویہ کے چندفتاوی ذکر کیے جاتے ہیں ۔ مثال نمبر 1

ہندؤوں کے ساتھ میل جول کے حوالے سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی تحقیق

قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے :﴿ لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۸) اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۹) ﴾ ترجمہ کنزالایمان : اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو بےشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں ۔ اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے ،جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے ،تو وہی ستمگار ہیں ۔(5) متحدہ ہندوستان میں بعض لوگ ہندؤوں سے گٹھ جوڑکرنے کے لیے سورۃ الممتحنۃ کی آیت نمبر8سے استدلال کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہندوہم سے قتال نہیں کرتے اورنہ انہوں نے ہمیں ہمارے گھرسے نکالا،لہذاان کے ساتھ میل جول، اتحادوغیرہ درست ہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اس کے ردمیں پورارسالہ تحریرفرمایا اوران آیات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ جمہورمفسرین کے مطابق آیت نمبر 08 منسوخ نہیں ،بلکہ محکم ہے اوراس سے مرادمعاہدوذمی ہیں اوراحناف کے نزدیک بھی آیت نمبر8سے مرادذمی اورآیت نمبر 09سے مرادحربی ہیں ۔اورہندوحربی ہیں نہ کہ ذمی لہذا08نمبر آیت کودلیل بناکران کے ساتھ اتحادوودادنہیں کیاجاسکتا۔بلکہ آیت نمبر09کے مطابق ان سے اتحادودوستی وغیرہ حرام ہے ۔ چنانچہ آیت نمبر08کے متعلق مفسرین کے اولاًتین اقوال تحریرفرمائے: (1)اکثرکاقول ہے کہ یہاں مرادبنوخزاعہ ہیں ،جن سے ایک مدت تک معاہدہ ہواتھا، تو فرمایاگیاکہ جن سے تمہارامعاہدہ ہواہے، تومدت معاہدہ تک ان سے بعض نیک سلوک کرنے سے اللہ تعالی تمہیں منع نہیں فرماتا۔ (2)حضرت امام مجاہد علیہ الرحمۃ کا قول یہ ہے کہ اس سے مرادوہ مسلمان ہیں،جومکہ مکرمہ میں تھےاورانہوں نے ابھی تک وہاں سے ہجرت نہیں کی تھی ،رب عزوجل فرماتاہے :ان کے ساتھ نیک سلوک منع نہیں ۔ (3) مرادکافروں کی عورتیں اوربچے ہیں ،جن میں لڑنے کی قابلیت ہی نہیں ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ تینوں اقوال تحریرفرمانے کے بعدفرماتے ہیں : “ظاہرہے کہ قول امام مجاہد پرتو آیہ کریمہ کو کفار سے تعلق ہی نہیں خاص مسلمانوں کے بارے میں ہے اور نہ اب وہ کسی طرح قابل نسخ ،اور قول سوم یعنی ارادہ نساءوصبیان پربھی اگر منسوخ نہ ہو ان دوستان ہنود کو نافع نہیں کہ یہ جن سے وداد واتحاد منا رہے ہیں وہ عورتیں اور بچے نہیں ،قول اول پر بھی کہ آیت اہل عہد وذمہ کے لیے ہے، اور یہی قول اکثر جمہور ہے ،آیہ کریمہ میں نسخ ماننے کی کوئی حاجت نہیں ،لاجرم اکثر اہل تاویل اسے محکم مانتے ہیں ۔ آیہ ممتحنہ میں حنفیہ کا مسلک :اوراسی پر ہمارے ائمہ حنفیہ نے اعتماد فرمایاکہ آیہ ﴿لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ﴾دربارہ اہل ذمہ اور آیہ ﴿یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ﴾ حربیوں کے بارےمیں ہے۔اسی بناپر ہدایہ ودرر وغیرہما کتب معتمدہ میں فرمایا :کافر ذمی کے لیے وصیت جائز ہے اور حربی کے لیے باطل وحرام ،آیہ ﴿لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ﴾نے ذمی کے ساتھ احسان جائز فرمایا اور آیہ ﴿اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ﴾نے حربی کے ساتھ احسان حرام ۔۔۔۔۔۔یہ ہے مسلک ائمہ حنفیہ جسے حنفی بننے والے لیڈر یوں مسخ ونسخ کی دیوار سے مارتے ہیں اور اس سے حربی مشرکوں کے ساتھ نرااحسان مالی نہیں ،بلکہ وداد و اتحاد بگھارتے ہیں۔” (6) مثال نمبر 2

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر اہلسنت کا اجماع

اہلسنت وجماعت کامتفقہ مؤقف ہے کہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوتمام صحابہ کرام علیہم الرضوان بشمول حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پرفضیلت حاصل ہے،جبکہ فرقہ تفضیلیہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پرفضیلت دیتاہے ۔ اہلسنت اپنے مؤقف پرایک دلیل یوں بیان کرتے ہیں کہ قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے ﴿وَسَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ(۱۷)﴾(7)اوراہلسنت وجماعت کے تمام مفسرین کااتفاق ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے ،جس سے ثابت ہواکہ امت میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ سب سے زیادہ متقی اورپرہیزگار ہیں اور دین میں فضیلت کادارومدارتقوی پرہی ہے،تواس سے ثابت ہواکہ امت میں سب سے زیادہ فضیلت والے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ نیزقرآن پاک میں ہی ایک دوسرے مقام پرفرمایاگیاکہ ﴿اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-﴾اور اکرم ہی افضل ہوتاہے،لہذاثابت ہواکہ امت میں سب سے زیادہ فضیلت والے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ اس پرفرقہ تفضیلیہ کی طرف سے یہ شبہ واردکیاگیاکہ یہ آیت مطلق ہے ،اگراس کی وجہ سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کودوسروں پرفضیلت دی جائے گی،تواس طرح تومعاذ اللہ ،حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ،نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پربھی لازم آئے گی ۔ اس کے جواب میں فرمایاگیاکہ:”جس کوفضیلت دی جارہی ہے، وہ جس درجے کاہے ،تواس کی فضیلت اسی درجے کے افرادپرہوگی ،جب فضیلت امتی کودی جارہی ہے، تواب اس کی فضیلت بھی امتیوں پرہی ثابت ہوگی ۔”

اسمِ تفضیل کے متعلق قاعدہ

مزیدامام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اورطریقے سے استدلال فرمایا:اسم تفضیل کے مفضل علیہ(جس پرفضیلت دی جارہی ہے ،اس )کاہوناضروری ہے ،جب اسم تفضیل پرالف لام آئے،تواس صورت میں مفضل علیہ مذکورنہیں ہوتا،اب وہ تین صورتوں سے خالی نہیں ہوسکتا:یاتواس جیسے مقام پرجن پرفضیلت دینامعروف ہے ،ان تمام پرفضیلت دینے کے لیے لایاگیاہے۔یاان میں سے بعض پر۔اوریانہ پہلی صورت متعین اورنہ ہی دوسری صورت متعین، بلکہ دونوں میں سے کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے ۔ اب یہاں بھی اگرپہلی صورت مرادلی جائے کہ اس جیسے مقام پرجن پرفضیلت دینا مقصود ہوتاہے،ان تمام پر فضیلت دینے کے لیے لایاگیا،توہمارامقصودپوراہوگیاکہ اس سے صرف امتیوں پرفضیلت دینامقصودہے اورتمام امتیوں پرفضیلت دینامقصود ہے۔ اوردوسری صورت بداہۃ باطل ہے کہ وہ مرادہی نہیں ہوسکتی، جیسے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱)﴾(8) اور” انک انت الاعزالاکرم ” میں ہے ۔ اورتیسری صورت اگرہوگی،توپھراس صورت میں مفضل علیہم کے حق میں یہ آیت مجمل ہوگی اورمجمل کااگربیان نہ ہو،توآیات متشابہات میں شمارہوتی ہے ،جبکہ اسے کسی نے متشابہات میں شمارنہیں کیا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “اورتیسری تقدیر پر یہ آیت مفضل علیہم کے حق میں مجمل ہوگی اورمجمل آیت کا بیان اگر نہ ہوا،تو وہ متشابہ آیتوں میں شمار ہوگی،حالانکہ اس آیت کو کسی نے متشابہات میں شمار نہ کیا، لیکن ہم نے بحمد اللہ اس آیت کا بیان صاحب بیان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پایا۔امام ابو عمر بن عبد البر نے روایت کی حدیث مجالد سے انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس ( رضی اللہ تعالی عنہما ) سے پوچھا یا ابن عبا س سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے پہلے کو ن اسلام لایا۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم نے حسان بن ثابت کے یہ شعر نہ سنے؟ (ترجمہ اشعار)”جب تجھے سچے دوست کا غم یاد آئے ، تو اپنے بھائی ابو بکر کو ان کے کارناموں سے یادکر جونبی( صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلم )کے بعد ساری مخلوق سے بہتر، سب سے زیادہ تقوٰی اورعدل والے ، اورسب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والے ، جو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ غار میں رہے ،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سفر ہجرت میں چلے،جن کا منظر محمود ہے اورلوگوں میں سب سے پہلے جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی”( صلی اللہ تعالی علی سیدنا محمد وسلم )” (9) نوٹ:جس طرح غامضہ وظاہرہ آیات میں ہوتاہے،اسی طرح احادیث اورنصوص فقہیہ میں بھی ہوتاہے ۔جس سے واضح ہے کہ اس علم کی ضرورت آیات قرآنی کے ساتھ ساتھ احادیث طیبہ اورفقہی عبارات سے مرادکوسمجھنے کے ساتھ بھی ہے ۔ مثال نمبر 3

حدیث پاک سے مثال

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے خود اذان دی یا نہیں ؟ حدیث طیبہ سے مثال:نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں خودبنفس نفیس اذان دی ہے یانہیں ؟اس کے متعلق علمائےکرام کے دواقوال ہیں : (الف)ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اذان دی ہے۔(ب)اورایک قول یہ ہے کہ اذان نہیں دی۔ پہلے قول والوں کی دلیل :جامع ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اذان دی ہے ۔ دوسرے قول والے اس کاجواب دیتے ہیں کہ مسنداحمدمیں روایت ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کواذان دینے کاحکم فرمایاتھا۔ لہذاجامع ترمذی میں جوحضور علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اذان دینے کی نسبت کی گئی وہ مجازی ہے اوراس سے مرادبھی یہی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم ارشادفرمایاتھا۔جیساکہ ” بنی الامیرالمدینۃ “ترجمہ:بادشاہ نے شہربنایا۔والی مثال میں مرادشہربنانے کاحکم دیناہوتاہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے پہلے قول والوں کی تائیدمیں ایک روایت بیان فرمائی جواس بات میں نص مفسرہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خودبنفس نفیس اذان دی ہے، کیونکہ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ” اشھدان محمدا رسول اللہ ” کی جگہ ” اشھدانی رسول اللہ “کے کلمات ادافرمائے تھے۔( عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم ) لہذاجامع ترمذی کی روایت کواسنادمجازی پرمحمول کرنادرست نہیں۔ چنانچہ فتاوی رضویہ کی عبارت یہ ہے :” اقول: عنقریب صفاتِ نماز کے تحت ذکرِ تشہدمیں تحفہ امام ابن حجر مکّی سے آرہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سفر میں ایک دفعہ اذان دی تھی اور کلماتِ شہادت یوں کہے :” اشھد انّی رسول اللہ ” (میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں)اور ابنِ حجر نے اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ نص مفسر ہے، جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور اس سے امام نووی رحمہ اللہ تعالی کےقول کو اور تقویت ملتی ہے ۔”(10) مثال نمبر 4

کتب فقہ سے مثالیں

(الف)جماعتِ ثانیہ کا حکم: مسجدمحلہ میں جماعت اُولیٰ ہوگئی،اس کے بعدچندلوگ آئے،تووہ جماعت ثانیہ قائم کرسکتے ہیں یانہیں ؟اس کے حوالے سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:”اذان کا اعادہ کیے بغیرجماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے،جس کی اباحت پرہمارے جمیع ائمہ کا اجماع ہے ۔اوریہ نہیں ہوسکتاکہ ظاہرالروایہ اس کے خلاف ہو۔”لیکن ظہیریہ میں ہے کہ” ایسی صورت میں ظاہرالروایہ یہ ہے کہ یہ لوگ تنہا تنہا نماز ادا کریں”اس روایت ظہیریہ کونقل کرکے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:”ظہیریہ کی روایت محتمل ہے ،اس کامعنی یہ ہے کہ جماعت ثانیہ کرواناان پرواجب نہیں ہے ،یہ مطلب نہیں کہ :واجب ہے کہ بغیرجماعت کے پڑھیں ۔کیونکہ جنہوں نے جواز پر اجماع نقل فرمایا،ان کی عبارات محکم ہیں ۔ اورمحتمل کومحکم کی طرف پھیرا جاتاہے نہ کہ محتمل کی وجہ سے محکم کوردکردیں اوراگربالفرض ظہیریہ کی عبارت اجماع کے خلاف میں نص مفسرناقابل تاویل ہوتی، توبوجہ غرابت یہی ناقابل قبول ہوتی، نہ کہ اجماع والی محکم روایات۔” فتاوی رضویہ کی عبارت یہ ہے :”ولہٰذا کتب مذہب طافحہ ہیں کہ بے اعادہ اذان مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے ،اس کے جواز واباحت پرہمارے جمیع ائمہ کااجماع ہے۔۔۔۔تو کیونکر ممکن کہ ظاہرالروایۃ اس کے خلاف ہو،ظہیریہ میں کہ تنہا پڑھنا لکھ کر اسے ظاہرالروایۃ بتایا ۔ اقول : واجب کہ اس سے مراد نفی وجوب جماعت ہو ،نہ وجوب نفی جماعت کہ اجماع کے خلاف پڑے اور یہ ضرور حق ہے،اس کا حاصل اس قدر کہ جس طرح جماعت اُولیٰ چھوڑ کرتنہا پڑھنا ناجائز و گناہ تھا، یہاں ایسا نہیں یہ الگ الگ پڑھ لیں وہ نہیں پڑھ سکتے تھے عقل ونقل کے قاعدہ متفق علیہا سے واجب ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف ردکریں نہ کہ محکم کو محتمل سے رد کریں تو عبارت ظہیریہ سے ردنقول متظافرہ اجماع ناممکن ہے، بلکہ اگروہ دوسرے معنی صحیح نہ رکھتی نہ اصلا محتمل بلکہ خلاف اجماع میں نص مفسر ہوتی تو حسب قاعدہ قطعیہ نقول عامہ کے خلاف خود ہی بوجہ غرابت نامقبول ٹھہرتی نہ کہ بالعکس”(11) مثال نمبر 5

(ب)تیمم کی تعریف پر علامہ شامی کا اعتراض اور امام اہلسنت کا جواب رحمۃ اللہ علیہ

درمختارمیں تیمم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:”پاک مٹی کاقصدکرنااوراسے استعمال کرنا، حقیقتاًیاحکمااورحکمااس لیے کہاتاکہ چکنے پتھرسے تیمم کوبھی شامل ہوجائے” اس پراعتراض ہوتاہے کہ چکنے پتھرسے تیمم کرنےکی صورت میں حقیقتاًاسے استعمال کرناپایا جارہاہے ،لہذا ” او حکما ” کو بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے اس کوواضح کرتے ہوئے یوں فرمایا:استعمال سے مرادیہ نہیں کہ اس کاکوئی جزء لے لیاجائے،بلکہ استعمال سے مرادیہ ہے کہ اسے آلہ تطہیربنایاجائےاوراسے آلہ تطہیربنایاگیاہے،لہٰذاحقیقتاً استعمال کرناپایاگیا ۔ علامہ شامی علیہ الرحمۃ کی عبارت یہ ہے ” إذ لا يخفى أن الحجر الأملس جزء من الأرض استعمل في العضوين للتطهير، إذ ليس المراد بالاستعمال أخذ جزء منها بل جعله آلة للتطهير.، وعليه فهو استعمال حقيقة ” ترجمہ: کیونکہ یہ بات مخفی نہیں کہ چکنا پتھر زمین کا ایک جز ہے، جو تطہیر کے لیے دونوں اعضاء میں استعمال ہوا، کیونکہ استعمال سے یہ مراد نہیں کہ اس کے کسی جز کو لے لیا جائے، بلکہ یہ مراد ہے کہ اس کو آلہ تطہیر بنایا جائے۔ اور جب یہ بات ہے، تو مذکورہ استعمال، حقیقاً استعمال ہے۔(12) اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے درمختارکی عبارت کی درستی کوواضح کیاکہ چکنے پتھرسے تیمم کرنے میں اس کااستعمال حکمی ہی ہے ،حقیقی نہیں اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کے کلام پر فرمایا:(عربی عبارت کاترجمہ)”علامہ شامی علیہ الرحمۃ کاکلام مجمل اورخفی ہے،جس سے تعریف حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ یہ اپنے اطلاق کے ساتھ اس صورت کوبھی شامل ہے کہ جب کوئی مٹی کو اپنے اعضاپرچھڑک لے، تواس نے مٹی کوآلہ تطہیربنالیا،لیکن اس کاتیمم نہیں ہواجب تک اس کے بعدتیمم کے ارادے سے اعضا(چہرے اورکلائیوں )پرہاتھ نہ پھیرے”(13)


1… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۸،ص۴۷۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۳۰۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فیروزاللغات،ص۹۰۹،لاہور) 4… ۔ (فیروزاللغات،ص۸۸۴،لاہور) 5… ۔ (سورۃ الممتحنۃ،پ۲۸،آیت۸،۹) 6… ۔ (ملتقطا،فتاوی رضویہ ،ج۱۴،ص۴۳۶تا۴۴۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (پ ۳۰، سورۃ اللیل ، آیت ۱۷) 8… ۔ (پ ۳۰، سورۃ الاعلیٰ ، آیت ۰۱) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۸،ص۶۱۱-۱۲-۱۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص،۳۷۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۷،ص۱۵۳تا۱۵۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،باب التیمم،ج۰۱،ص۳۹۱،دار عالم الکتب،ریاض) 13… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۳،ص۳۲۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور)