مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(11)منطوق ومفہوم

منطوق:لفظ جس پرمحل نطق میں دلالت کرے یعنی اس کی دلالت ان حروف کے مادہ سے ہوگی،جن حروف کی ادائیگی کی جارہی ہے ۔ مفہوم:جس میں لفظ کی دلالت محل نطق میں نہ ہو۔ منطوق کی اقسام : نص۔ظاہر۔مؤول۔اقتضاء۔اشارہ۔ مفہوم کی دواقسام ہیں : مفہوم موافق اورمفہوم مخالف۔ مفہوم موافق:وہ مفہوم جومنطوق کے موافق ہو۔اب اس کی بھی اقسام ہیں : فحوی الخطاب:اگرمفہوم موافق،منطوق سے اولیٰ ہو،تواسے فحوی الخطاب کہتے ہیں ۔جیسے قرآن پاک میں والدین کاادب بیان کرتے ہوئے فرمایا﴿ فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ﴾ ترجمہ کنزالایمان : تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا۔(1) اب یہاں منطوق یہ ہے کہ والدین کواف کہناحرام ہے ۔اورمفہوم موافق یہ ہے کہ مارنابھی حرام ہے اوریہ مفہوم اولیٰ ہے یعنی بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتاہے کہ جب اُف کہناحرام ہے، تومارناتوبدرجہ اولیٰ حرام ہے ۔اسی کوفحوی الخطاب کہتے ہیں ۔ لحن الخطاب:اوراگرمفہوم موافق،منطوق کے مساوی ہو،تواسے لحن الخطاب کہتے ہیں ۔مثلا:قرآن پاک میں یتیم کامال کھانے کی وعیدارشادہوئی ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰)﴾ترجمہ:وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دام جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ)میں جائیں گے۔(2)اس آیت میں یتیم کامال کھانے کی ممانعت بیان ہوئی ،اس سے یتیم کامال جلانے کی ممانعت ثابت کرنا،لحن الخطاب ہے کہ کھانااورجلانا،یہ دونوں اس بات میں مساوی اوربرابرہیں کہ دونوں میں مال کوتلف کرناپایاجاتاہے ۔(3)

مفہوم مخالف کی پانچ اقسام ہیں

“مفہوم عدد،مفہوم صفت،مفہوم شرط، مفہوم غایت،اورمفہوم لقب۔” مجموعہ رسائل ابن عابدین میں ہے:” ومفهوم مخالفة، وهو دلالة اللفظ على ثبوت نقيض حكـم المنطوق للمسكوت، وهو أقسام: مفهـوم الصفة: في السائمة ) زكاة “، ومفهـوم الشرط نحو:﴿وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ﴾( الطلاق : ۶)، ومفهوم الغاية نحو: ﴿حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ﴾( البقرة : ٢٣٠)، ومفهوم العدد نحو:﴿ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً﴾: ( النور :۴)، ومفهوم اللقب، وهو تعليق الحكم بجامد : كـفي الغنم زكاة “”، وعند الحنفية غير معتبر بأقسامه في كلام الشارع فقط، وتمام تحقيقه في كتب الأصول “ترجمہ:اور مفہوم مخالف تو وہ مسکوت کے لیے حکمِ منطوق کی نقیض کے ثبوت پر لفظ کی دلالت کا نام ہے،اور مفہوم مخالف کی کئی اقسام ہیں(1)مفہوم صفت،جیسے سائمہ میں زکوٰۃ ہے (2)مفہوم شرط،جیسے ﴿وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ﴾یعنی اور اگر حمل والیاں ہوں،تو انہیں نان نفقہ دو،(3)مفہوم غایت،جیسے ﴿حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ﴾ یعنی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے،(4)مفہوم عدد جیسے ﴿ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً﴾یعنی اسی کوڑے،(5)مفہوم لقب،اور وہ حکم کو جامد سے متعلق کرنا ہے، جیسے ” في الغنم زكاة“یعنی بکریوں میں زکوٰۃ ہےاور احناف کے نزدیک دوسری قسم( مفہوم مخالف)اپنی جمیع اقسام کے ساتھ صرف شارع کے کلام میں معتبر نہیں،اور اس کی تمام تحقیق کتب اصول میں موجود ہے۔(4)

غیرِ عقوبات سے متعلق عباراتِ شارع میں مفہومِ مخالف

ہمارے نزدیک عبارات شارع، جوعقوبات سے متعلق نہ ہوں ،ان میں مفہومِ مخالف معتبرنہیں، بقیہ عبارات صحابہ و علماء وغیرہ میں معتبرہے،جب تک اس کے خلاف کی تصریح نہ ہو ۔ اسی طرح شارع کی عبارات جوعقوبات سے متعلق ہوں،ان میں بھی مفہوم مخالف معتبرہوتاہے۔ردالمحتارمیں ہے:” فإن مفاهيم الكتب حجة ولو مفهوم لقب على ما صرح به الأصوليون “ترجمہ: عبارات کتب میں مفہومِ مخالف حجت ہوتا ہے، خواہ وہ مفہوم لقب ہو،جیساکہ علمائے اصول نے تصریح کی ہے۔(5)

صحابہ کرام و علمائے کرام کے کلام میں مفہومِ مخالف

فتاوی رضویہ میں ہے:”صرف عبارات شارع غیر متعلقہ بعقوبات میں اس کی نفی کرتے ہیں ،کلام صحابہ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِنَ الْعُلَمَاءِ میں مفہوم مخالف بے خلاف مرعی ومعتبر ” کمانص علیہ فی تحریر الاصول والنھر الفائق والدرالمختار وغیرھا من الاسفار “(6) منحۃ الخالق میں علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :” قلت المفهوم معتبر ما لم يصرح بخلافه ” ترجمہ : میں کہتاہوں : مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے، جب تک اس کے خلاف کی تصریح نہ ہو۔(7) درمختارمیں ہے:” وفي القهستاني عن حدود النهاية: المفهوم معتبر في نص العقوبة “ترجمہ: قہستانی میں نہایہ کی کتاب الحدودکے حوالے سے مذکورہے :عقوبت کی نص میں مفہوم معتبرہے ۔(8) نیزمفہوم مخالف اس عبارت میں معتبرہے ،جس میں حکم بیان کیاجائے ،جس عبارت میں تعلیل بیان ہورہی ہو ، بلادلیل اس میں مفہوم مخالف معتبرنہیں ۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے ” وقولہ : فاذاظھرخلافہ”لیس فی الحکم حتی یوخذمفھومہ بل فی تعلیل مسألۃ ” ترجمہ: صدرالشریعۃ کاقول کہ “پس جب اس کاخلاف ظاہرہو”یہ بیان حکم میں نہیں کہ اس کامفہوم لیاجائے، بلکہ مسئلہ کی تعلیل بیان کرنے میں ہے ۔(9)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی منطوق و مفہوم کی معرفت پر مہارت

کسی عبارت سے استدلال کے لیے اس کامنطوق اورمفہوم کیاہے،اورمنطوق ومفہوم کی کون سیصورت پائی جارہی ہے ،ان سب کی معرفت ہوناضروری ہے، ورنہ اس عبارت کی مرادسمجھنے میں خطااورپھراس سے مسئلہ کااستدلال کرنے میں غلطی کاامکان ہوتاہے ۔اسی لیے ایک فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ منطوق ومفہوم اوران کی اقسام وغیرہ کواچھے طریقے سے جانتاہو۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کواس علم پربھی مہارت تھی ،جس کااندازہ فتاوی رضویہ کے مختلف فتاوی سے لگایاجاسکتاہے ۔ یہاں تک کہ آپ علیہ الرحمۃ اس معاملے میں دوسروں کولاحق ہونے والی غلطی پربھی تنبیہ فرماتے ۔ جس کی وضاحت درج ذیل ہے: مثال نمبر 1

فحوی الخطاب سے متعلق مثال

کسی حدیث کا صحیح نہ ہونا اس کے حَسن نہ ہونے کو لازم نہیں: محدثین اور فقہاء کی عبارات کے فحوی الخطاب سے یہ ثابت فرمایاکہ جب کسی حدیث کی صحت کی نفی سے اس کے حسن ہونے کی نفی لازم نہیں آتی ، تواس کاموضوع ہوناکس طرح ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے : اگر کسی حدیث کے متعلق محدثین کا یہ کلام ملے کہ یہ حدیث صحیح نہیں،تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ حدیث موضوع ہے،کیونکہ صحیح اور موضوع کے درمیان اور کئی منزلیں ہیں، مثلاً:صحیح لغیرہ،حسن لعینہ،حسن لغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اور اگر صحیح نہ ہونے سے محدثین کی یہ مرادہوکہ ثابت نہیں تب بھی اس کامطلب صرف اتناہے کہ صحیح اورحسن نہیں ،موضوع اورباطل ہونااس سے ثابت نہیں ہوتا،کہ حسن اورموضوع کے درمیان بڑافاصلہ ہے۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:” کہنا اس قدر ہے کہ جب صحیح اور موضوع کے درمیان اتنی منزلیں ہیں ،تو انکارِ صحت سے اثباتِ وضع ماننا زمین وآسمان کے قلابے ملانا ہے،بلکہ نفیِ صحت اگر بمعنی نفیِ ثبوت ہی لیجئے یعنی اُس فرقہ محدثین کی اصطلاح پر جس کے نزدیک ثبوت صحت وحسن دونوں کو شامل، تاہم اُس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ صحیح وحسن نہیں نہ کہ باطل وموضوع ہے کہ حسن موضوع کے بیچ میں بھی دُور دراز میدان پڑے ہیں۔ میں اس واضح بات پر سندیں کیا پیش کرتا،مگر کیاکیجئے کہ کام اُن صاحبوں سے پڑاہے جو اغوائے عوام کے لئے دیدہ ودانستہ محض اُمّی عامی بن جاتے اور مہر منیر کو زیردامن مکرو تزویر چھپانا چاہتے ہیں۔ لہذا کلماتِ علماء سے اس روشن مقدمہ کی تصریحیں لیجئے: امام سندالحفّاظ وامام محقق علی الاطلاق وامام حلبی وامام مکی وعلامہ زرقانی وعلامہ سمہودی وعلامہ ہروی کی عبارات کہ ابھی مذکور ہُوئیں بحکم دلالۃ النص وفحوی الخطاب اس دعوٰی بینہ پر دلیل مبین کہ جب نفیِ صحت سے نفیِ حسن تک لازم نہیں ،تو اثباتِ وضع تو خیال محال سے ہمدوش وقرین۔”(10) مثال نمبر 2

مفہوم ومنطوق سے متعلق مثال

دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا: دونمازوں کوایک وقت میں جمع کرنا،احناف کے نزدیک جائزنہیں،جبکہ غیرمقلدین اس کی اجازت دیتے ہیں ،اس مسئلہ سے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ایک رسالہ بنام ” حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین ” تحریر فرمایا ، جس میں اس قدرمفصل اورسیرحاصل بحث فرمائی ،جوصرف اسی رسالہ کاخاصہ ہے ،اس میں اپنے مؤقف کا اثبات ، مخالف کے مؤقف کا رد اوراپنے مؤقف پردلائل اوران دلائل پرمخالف کے اعتراضات اورمخالف کی دلیلوں کارداس شان سے فرمایاکہ جس کی نظیرنہیں ملتی ۔ اسی بحث کے دوران احناف کی تائیدمیں بخاری ومسلم کی ایک روایت ذکرفرمائی،جس میں ہے کہ :”نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی نمازکواس کے وقت کے علاوہ ادانہیں فرمایا،مگرمزدلفہ میں مغرب وعشاکوجمع فرمایااورمزدلفہ میں ہی فجرکی نمازکواس کے وقت سے پہلے ادافرمایا۔اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:” وھذا لفظ البخاری حدثنا عمر بن حفص بن غیاث ثنا ابی ثنا الاعمش ثنی عمارۃ عن عبدالرحمٰن عن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ قال مارأیت النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلاتین جمع بین المغرب والعشاء وصلی الفجر قبل میقاتھا ” ” ولمسلم حدثنا یحیی بن یحیی وابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب جمیعا عن ابی معویۃ قال یحیٰی اخبرنا ابومعویۃ عن الاعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمٰن بن یزید عن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ قال مارأیت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ الالمیقاتھا الاصلاتین صلاۃ المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا ” اس روایت سے دونمازوں کوایک وقت میں جمع کرنے کی واضح ممانعت ثابت ہے ،اس روایت کومخالف نے تین طریقوں سے ردکرنے کی کوشش کی ،امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے مخالف کےذکرکردہ تینوں رد اورپھران کے جوابات کو ذکر فرمایا ۔ ہمارے موضوع کے متعلق جوعبارت ہے ،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ : معترض نے کہاکہ :”اس حدیث پاک سے دونمازوں کوایک وقت میں جمع کرنے کاانکار بطورمفہوم نکلتا ہے اوراحناف مفہوم کے قائل نہیں، تووہ اس حدیث پاک سے استدلال نہیں کرسکتے ۔” اس کے ردمیں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا: اول تودونمازوں کوایک وقت میں جمع کرنے کاانکاراس روایت کامفہوم نہیں، بلکہ صریح منطوق ہے کہ ” ما رأیت النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا ” ( میں نے نہیں دیکھاکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کوئی نمازاس کے وقت کے علاوہ میں ادا کی ہو)کے الفاظ ہیں اوران میں غیروقت میں نمازکی ادائیگی کے انکارکاواضح نطق ہواہے ۔اوربطورمفہوم اگرنکلتا ہے، تومزدلفہ میں جمع کی جانے والی نمازوں کاحکم بطورمفہوم نکلتاہے ،کیونکہ ان کے متعلق جوالفاظ ہیں وہ حرف استثنا” الا “کے بعدہیں اور” الا “والاحکم ہمارے نزدیک مسکوت عنہ کے حکم میں ہوتاہے یعنی اس کوگویابیان ہی نہیں کیاگیا۔ اورثانیاًیہ کہ :اگربالفرض انکاربطورمفہوم ہی ہو،تومطلقاًیہ کہناکہ احناف کے نزدیک مفہوم کااعتبارنہیں یہ غلط ہے ،احناف کے نزدیک شارع کی وہ عبارات کہ جوعقوبات سے متعلق نہ ہوں ،ان میں مفہوم معتبرنہیں بقیہ صحابہ کرام اوران کے مابعدکے علماکی عبارات میں مفہوم ،احناف کے نزدیک معتبرہے اوراس روایت میں صحابی کے ہی الفاظ ہیں ۔ رضی اللہ تعالی عنہ ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! فتاوی رضویہ میں ہے :” حدیث صحیحین کو تین طرح رد کرنا چاہا:اوّل :” انکار جمع اس سے بطور مفہوم نکلتا ہے اور حنفیہ قائل مفہوم نہیں،”اس جواب کی حکایت خود اُس کے رَد میں کفایت ہے،اُس سے اگر بطور مفہوم نکلتی ہے ،تو مزدلفہ کی جمع کہ مابعد الا ہمارے نزدیک مسکوت عنہ ہے،انکار جمع تو اس کا صریح منطوق ومدلول مطابقی ومنصوص عبارۃ النص ہے۔۔۔۔۔ ثانیاً: بفرض غلط مفہوم ہی سہی اب یہ نامسلّم کہ حنفیہ اس کے قائل نہیں صرف عبارات شارع غیر متعلقہ بعقوبات میں اس کی نفی کرتے ہیں کلام صحابہ ومن بعدہم من العلماء میں مفہوم مخالف بے خلاف مرعی ومعتبر ” کمانص علیہ فی تحریر الاصول والنھر الفائق والدرالمختار وغیرھا من الاسفار قد ذکرنا نصوصھا فی رسالتنا القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ ۔”(11) اس جواب کی عبارت میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے مفہوم اورمنطوق کوواضح تر فرمایا، اور مخالف نے منطوق کومفہوم قرار دینے میں جوغلطی کی تھی ،اس کوبھی واضح فرمایا،جس سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مفہوم ومنطوق کی تعیین میں مہارت عیاں ہے۔ مثال نمبر 3

مفہوم شرط کی مثال

بُچی کے بال مونڈنے کا حکم: نچلے ہونٹ کے نیچے بُچی کے اردگردکے بالوں کو اردو میں ” کوٹھے ” کہاجاتا ہے۔ان کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ یہ بھی داڑھی کاحصہ ہیں لہذاان کومونڈنا ممنوع اوربدعت ہے ۔اس کودلائل سے ثابت کرتے ہوئے ایک جزئیہ پیش فرمایا،جس میں مشروط طورپران بالوں کے کاٹنے کی اجازت عطافرمائی گئی ہے تواس کے مفہوم مخالف سے استدلال فرمایاکہ اس سے پتاچلاکہ جب یہ شرط نہ پائی جائے تواس صورت میں ان بالوں کے کاٹنے کی ممانعت ہوگی ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “خزانۃ الروایات میں تتارخانیہ سے ہے: ” یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل اوالشرب ” (نچلے ہونٹ کی دونوں جانب کے بال کترنے جائز ہیں جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں مزاحمت کریں (یعنی رکاوٹ بنیں۔) یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے نہ کہ مونڈنا” فان المفاھیم معتبرۃ فی الکتب وکلام العلماء بالاجماع (کیونکہ مفہوم مخالف، کتابوں، کلام علماء میں بالاجماع معتبر ہے ۔ )” (12) اس جزئیہ میں ” اذازحمت ۔۔الخ”والے الفاظ ،شرط کےالفاظ ہیں اوران کے مفہوم مخالف سے استدلال فرمایاہے ،جسے مفہوم شرط کہتے ہیں ۔ مثال نمبر 4

مفہوم عدد کی مثال

پانی کے ہوتے ہوئے کن نمازوں کے لیے تیمم کی اجازت ہے ؟ پانی پرقدرت ہوتے ہوئے تیمم کی اجازت کے لیے کتب مذہب میں یہ بیان فرمایا گیاکہ صرف دونمازوں کے لیے اجازت ہے :”جنازہ وعیدین۔”اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:” دوکاذکرکیا،جس کامطلب ہے کہ دوکے علاوہ کے لیے اجازت نہیں ہے ۔” تویہاں دوکے عددکے مفہوم مخالف سے استدلال فرمایا،اسے مفہوم عددکہتے ہیں۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “کتب مذہب میں صرف دو (۲) نمازوں کا ذکر ہے جنازہ وعیدین اور اسی قدر ائمہ مذہب سے منقول حتّٰی کہ خود علّامہ ابن امیر حاج حلبی نے حلیہ میں تصریح فرمائی کہ ہمارے نزدیک تندرست کو بے خوفِ مرض پانی ہوتے ہوئے انہیں دو (۲) نمازوں کے لئے تیمم جائز ہے۔۔اور عدد نافی زیادت ہے “کمافی الھدایۃ وغیرھا “(جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ )” (13) مثال نمبر 5

مفہوم صفت کی پہلی مثال

جیساکہ اوپرگزراکہ کتب مذہب میں پانی پرقدرت ہوتے ہوئے صرف دونمازوں کے لیے تیمم کی اجازت دی گئی ہے ،اب اس کی علت یہ ہے کہ وہ بغیربدل کے فوت ہوجائیں گی، لہذاان کوفوت ہونے سے بچانے کے لیے اجازت دی گئی ہے۔علمائےکرام نے علت کے پیش نظر سنن رواتب (مؤکدہ)کوبھی انہی دوکے ساتھ لاحق کرتے ہوئے ان کے لیے بھی تیمم کی اجازت ارشادفرمائی ۔اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:”رواتب کی قیدسے محض نفل نمازیں خارج ہوگئیں کہ ان کے لیے پانی پرقدرت ہوتے ہوئے تیمم نہیں کرسکتا۔” تویہاں لفظ “رواتب”لفظ “سنن” کی صفت بن رہاہے اوراسی کے مفہوم مخالف سے استدلال کیاگیاہے،اسے مفہوم صفت کہتے ہیں ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “تو اصل حکم منصوص تو یہ ہے، ہاں حلیہ نے اپنی بحث میں نظربہ علت کہ خوف فوت لا الی بدل ہے نماز کسوف وسنن رواتب کا الحاق کیا ان کی تبعیت بحر ونہر ودُر نے بھی کی اور یوں ہی سُنن کو رواتب سے مقید کیا ،یہ قید نافلہ محضہ کو خارج کررہی ہے۔”(14) مثال نمبر 6

مفہوم صفت کی دوسری مثال

انگوٹھے چومنے پر علامہ شامی علیہ الرحمۃ کی ایک عبارت کی تنقیح: کسی نے یہ دعوی کیاکہ اذان میں نام اقدس سننے پرانگوٹھے چومناکسی معتبرروایت سے ثابت نہیں اوراس پردلیل میں شامی کی یہ عبارت نقل کی :” وذکر ذلک الجراحی واطال ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ” (جراحی نے اس کو طویل ذکر کیا ہے ،پھر کہا ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی ۔) اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا :” شامی کی اس عبارت سے ہی یہ ثابت ہوتاہے کہ احادیث موقوفہ کی صحت کی نفی نہیں ہے ،کیونکہ نفی کرتے ہوئے مرفوع کی تخصیص کی گئی ہے ،جس کامفہوم مخالف یہی بنتاہے کہ موقوفہ کی نفی نہیں اورعبارات فقہاء میں مفہوم مخالف معتبرہوتاہے ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “دعوٰی یہ کہ اذان میں کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں، اور اس پر دلیل شامی کی جراحی سے نقل کہ ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی جو خود مشیر ہے کہ اس کی احادیث موقوفہ پر یہ حکم نہیں، ورنہ مرفوع کی تخصیص کیوں ہوتی عبارات کتب میں مفہوم مخالف بلاشبہہ معتبر ہے”(15) یہاں عبارت میں حدیث کی صفت ” مرفوع ” ذکرہوئی،تواس صفت کامفہوم مخالف “موقوف”لیاگیاکہ احادیث موقوفہ کی صحت کی نفی نہیں ہےاوراسے مفہوم صفت کہتے ہیں ۔ مثال نمبر 7

مفہوم لقب کی مثال

کافر اللہ پاک کو نہیں جانتے: امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے دعوی ذکرفرمایاکہ:” کوئی کافر کسی قسم کا ہو ہرگز اللہ تعالی کو نہیں جانتا، کفر کہتے ہی جہل باللہ کو ہیں۔” اس پرکسی نے اعتراض کیاکہ :”کیسے ہرکافرکے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ وہ اللہ تعالی کونہیں جانتا،جبکہ قرآن پاک میں ایک جگہ ارشادفرمایاگیا:﴿ وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُؕ-﴾ ترجمہ کنزالایمان : اور اگر تم اُن سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے۔(16) جس سے واضح ہے کہ وہ کفار اللہ تعالی کو پہچانتے اورجانتے تھے،تبھی توکہاجارہاہے کہ ان سے آسمانوں اورزمینوں کے خالق کے متعلق سوال کروگے، تووہ جواب میں کہیں گے کہ ان کاخالق اللہ ہے ۔ اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا : کسی کی نفی کے تین طریقے ہیں :خوداس کی ذات کی نفی کردی جائے۔اس کے لوازم میں سے کسی کی نفی کی جائے۔اس کے کسی منافی کااس کے لیےاثبات کیاجائے۔ اللہ تعالی کوتمام صفات کمال،لازم ذات اورتمام عیوب ونقائص اس پرمحال بالذات ۔کوئی کافرایسانہ ملے گاکہ اللہ تعالی کی کسی صفت کمالیہ کامنکریا معاذاللہ اس کے لیے عیب ونقص کوثابت کرنے والانہ ہو۔دہریے وجودباری تعالی کے منکرہیں اوربقیہ کسی کمال ذاتی کی نفی کرتے ہیں یاکسی عیب منافی ذات کوثابت کرتے ہیں۔تواب ان کاجواقرارہے کہ زمین وآسمان کاخالق اللہ ہے ،یہ صرف لفظ کااقرارہے ،بقیہ جیسی وہ ذات ہے ،ویسی وہ اسے نہیں مانتے ۔ اسی وجہ سے اس آیت مبارکہ کے اگلے حصے میں فرمایا:۔﴿قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠(۶۳)﴾ترجمہ: اگر ان سے پوچھو کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے، کہیں گے ” اللہ ، قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ تم کہو حمد اللہ کو کہ اس کے منکر بھی ان صفات میں اسی کانام لیتے ہیں اپنے معبود ان باطلہ کو اس لائق نہیں جانتے، مگر کیا اس سے کوئی یہ سمجھے کہ وہ اللہ کو جانتے ہیں، نہیں نہیں” بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ بلکہ اکثر اسے جانتے ہی نہیں۔” اب اس پراگرکوئی کہے کہ یہاں بھی اکثرکی نفی فرمائی گئی کہ اکثراسے نہیں جانتے ،جس کامطلب ہے کہ اقل کافر ،اسے جانتے ہیں تویہ آپ کےاوپرذکرکردہ کلیہ کہ کوئی کافرنہیں جانتا،اس کے منافی ہے ۔” اس کےجواب میں فرمایا:”یہ مفہوم مخالف کی قسم ،مفہوم لقب سے استدلال ہے ،جبکہ( عبارات شارع غیرمتعلقہ بعقوبات میں) مفہوم مخالف سے استدلال نہیں ہوسکتا۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “رہایہ کہ یہاں اکثر سے نفی علم فرمائی اقول اولاً دفع شبہہ کو اتنا ہی کافی کہ آخر یہ ان کے اکثر سے نفی ہے جو اقرار کرتے تھے کہ آسمان وزمین کا خالق اللہ ہی ہے، معلوم ہوا کہ ان کا اقرار باللہ منافی جہل باللہ نہیں اور ہمارے سالبہ کلیہ کی نفی نہ فرمائے گا کہ یہ مفہوم لقب سے استدلال ہوا اور وہ صحیح نہیں اکثر سے نفی سلب جزئی ہوئی اور سلب جزئی کلی کو لازم ہے، نہ کہ اس کا منافی۔ ثانیاً ایسی جگہ اکثر پر حکم فرمانا قرآن عظیم کی سنت کریمہ ہے، حالانکہ وہ احکام یقینا سب کفار پر ہیں۔”(17)


1… ۔ (سورہ بنی اسرائیل،پ۱۵،آیت۲۳) 2… ۔ (سورۃ النساء،پ۰۴،آیت۱۰) 3… ۔ (ملخص ازالاتقان فی علوم القرآن،ص۵۴۲تا۵۴۴،دارالکتاب العربی) 4… ۔ (مجموعہ رسائل بابن عابدین، ج ۱، ص ۸۰،۸۱، دار الکتب العلمیۃ، بیروت ) 5… ۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،باب الاجارۃ الفاسدۃ،ج۰۹،ص۷۶،دارعالم الکتب،ریاض) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص۲۹۳،۲۹۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (منحۃ الخالق علی البحرالرائق،ج۰۱،ص۳۴۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت) 8… ۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،ج۰۱،ص۲۳۰،دارعالم الکتب،ریاض) 9 …۔(فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۱۴۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۵،ص ۴۴۰،۴۴۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۵،ص۲۹۳،۲۹۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۲،ص۵۹۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 13… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۳،ص۴۲۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 14… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۳،ص،۴۳۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 15… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص۶۳۰،۶۳۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 16… ۔ (سورہ لقمن،پ۲۱،آیت۲۵) 17… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۵،ص۵۳۰تا۵۳۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور)