(12)صریح ومحتمل
صریح:وہ لفظ جس کی مرادظاہرہو۔اصول الشاشی میں ہے:” الصريح لفظ يكون المراد به ظاهرا “ترجمہ:صریح وہ لفظ ہے جس کی مراد ظاہر ہو۔(1) محتمل:جس میں دوسرااحتمال ہونے کے باعث مرادواضح نہ ہو۔ صریح کیاہے اورمحتمل کیاہے،ان میں تمیزکاملکہ ہونابھی فقیہ کے لیے ضروری ہے ،کیونکہ محتمل سے استدلال نہیں کیاجاسکتاکہ قاعدہ مسلمہ ہے” ا ذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال ” (جب احتمال آتاہے ،تواستدلال باطل ہوجاتاہے ۔) (2) الدرر اللوامع میں ہے:” إذا قام فيها الاحتمال سقط الاستدلال “ ترجمہ: جب اس میں احتمال آئے گا،تواستدلال ساقط ہوجائے گا۔(3) التقریر والتحبیر میں ہے:” مع الاحتمال يسقط الاستدلال “ترجمہ: احتمال کے ہوتے ہوئے استدلال ساقط ہوجاتاہے ۔(4)
صریح و محتمل کی تمیز پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت
فتاوی رضویہ سے چندمثالیں پیش کی جاتی ہیں : مثال نمبر 1 دونمازوں کوایک وقت میں جمع کرنے کی ممانعت پرایک تفصیلی اورتحقیقی رسالہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے بنام ” حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین “تحریر فرمایا۔اس میں اپنے دلائل بھی ارشادفرمائے اورمخالف کے دلائل کاردبھی فرمایا اورمخالف نے جواحناف کااپنے زعم میں ردکیاتھا،اس کاردبھی فرمایا۔ جتنےخلاف حقیقت دعوے کیے ،ان کی اصل تصویر دکھاتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے جوکچھ فرمایا،اس کاخلاصہ یہ ہے : “مخالف نے جتنے دعوے کیے سب حقیقت میں برعکس کہ ثابت کوناثابت کہہ دیا۔اورناثابت کوثابت۔ساکت کوناطق اورناطق کوساکت۔ضعیف کوصحیح اورصحیح کوضعیف۔تحریف کوتوجیہ اورتوجیہ کوتحریف، مؤول کو مفسر اورمفسر کو مؤول کہہ دیا۔اسی طرح محتمل کوصریح اورصریح کومحتمل کہہ دیا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں! ” ان چار فصل میں ملّا جی کے ادعائی بول یکسر برعکس ہیں، سایہ بخت سے سب قابل نکس ہیں جابجا ثابت کو ناثابت، ناثابت کو ثابت ،ساکت کو ناطق ،ناطق کو ساکت، ضعیف کو صحیح، صحیح کو ضعیف، تحریف کو توجیہ، توجیہ کو تحریف، مؤول کو مفسر، مفسر کو مؤول ،محتمل کو صریح، صریح کو محتمل کہا اول تا آخر کوئی دقیقہ تحکم ومکابرہ وتعصب مدابرہ کا نامرعی نہ رہا یہاں بعونہٖ تعالی عز مجدہ ہر فصل میں قول فصل وحق اصل بدلائل قاہرہ و بیانات باہرہ ظاہر کیجئے کہ اگر زبان انصاف سالم وصاف ہوتو مخالف منکر مدعی مُصر کو بھی معترف ومقر لیجئے۔”(5) مثال نمبر 2
دونمازوں کوجمع کرنے کی اولاًدوصورتیں ہیں
ایک جمع حقیقی کہ ایک نمازکو دوسری نمازکے وقت میں اداکرنا۔ دوسری جمع صوری:ہرنمازکواسی کے وقت میں اس طرح اداکرناکہ ایک کواس کے آخری وقت میں اداکیاجائے کہ فارغ ہوتے ہی یاکچھ دیربعدہی اگلی نماز کاوقت شروع ہوجائے، پھراس اگلی کواس کے ابتدائی وقت میں اداکیاجائے ۔یہ حقیقت میں توجمع کرنانہیں،لیکن دیکھنے میں جمع کرناہے،اسی لیے اسے جمع صوری کہتے ہیں یعنی صورتاًجمع کرنا۔ پھرحقیقی جمع کی دوصورتیں ہیں :ایک جمع تقدیم یعنی جس نمازکاابھی وقت نہیں آیااسے پہلی نمازکے وقت میں اداکرنا،مثلا:ظہرکے وقت میں ظہراورعصرکوجمع کرنا۔ اوردوسری صورت ہے جمع تاخیر:یعنی کسی نمازکاوقت گزارکراسے دوسری نمازکےوقت میں اداکرنا۔مثلا:ظہرکی نمازکاوقت گزارکرعصرکے وقت میں ظہراور عصرکوجمع کرنا۔ مخالفین،جمع تاخیر پر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم اکی روایت کوبھی دلیل بناتے ہیں ،جس کاخلاصہ یہ ہے کہ : “ایک مرتبہ سفرکے موقع پرآپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مغرب وعشاکوجمع کیااورفرمایاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کواسی طرح کرتے دیکھاہے۔” اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے جوکچھ فرمایا،اس کاخلاصہ کچھ یوں ہے کہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے چالیس سے زیادہ طرق اس وقت فقیرکے پیش نظرہیں ،ان میں نصف سے زائدتومحض مجمل ہیں ،ان میں صرف اتناہے کہ دونوں کوجمع کیا،لیکن یہ تصریح نہیں کہ کس طریقے سے جمع کیا۔جمع صوری کیایاحقیقی وغیرہ ؟ اوربقیہ جونصف سے کم ہیں ،ان میں اکثرمیں صاف صاف تصریح ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جمع صوری کیاتھا۔جن میں سے 14روایات بخاری وابوداؤدو نسائی وغیرہم کے حوالے سے اوپرمذکورہوئیں ۔(نسائی شریف میں بسندصحیح مذکورہے کہ :”ایک سفرمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما چلتے رہے ،یہاں تک کہ جب شفق کااخیرحصہ باقی رہ گیایعنی مغرب کاوقت ختم ہونے کے قریب آیا،تواُترکرمغرب پڑھی ،پھرشفق ڈوب جانے پرعشاپڑھائی۔ پھرہماری طرف متوجہ ہوکرفرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کوجب سفرمیں جلدی ہوتی، توایساہی کرتے ۔ ” (6) ہاں بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں کہ شفق غروب ہونے کے بعدنمازیں جمع کیں اوریہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سارے طرق ایک ہی واقعے سے متعلق ہیں ۔پس اب دوطرح کی روایات آمنے سامنے ہیں یعنی ایک وہ کہ جن میں صراحت ہے کہ شفق ڈوبنے سے پہلے مغرب پڑھی اورشفق ڈوبنے کے بعدعشااورایک وہ کہ جن میں صراحت ہے کہ شفق ڈوبنے کے بعددونوں کوجمع کیا۔دونوں قسم کی روایات کی اسانید صحیح وحسن ہیں ۔ ان میں تطبیق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا: اب یہ دیکھناضروری ہے کہ کون سانص مفسرناقابل تاویل ہے کہ جسے کسی طرف نہیں پھیرسکتے اورکون سامحتمل کہ اسے مفسرکی طرف پھیرکرتعارض دورکر سکتے ہیں ۔ ہرعقل مندجانتاہے کہ ہمارے احناف کے جونصوص ہیں وہ مفسرناقابل تاویل ہیں کہ یہ جوروایت میں آیاکہ شفق ڈوبنے سے پہلے مغرب پڑھی۔اس کے یہ معنی مرادنہیں لیے جاسکتے کہ ڈوبنے کے بعدپڑھی ۔اورخاص طورپرجبکہ بعض طرق میں یہ بھی تصریح ہے کہ : ” پھرمغرب پڑھ کرکچھ انتظار کیایہاں تک شفق ڈوب گئی ،اس کے بعدعشاپڑھی” جبکہ مخالف کے نصوص میں تاویل کااحتمال ہے یعنی جن روایات میں یہ ہے کہ شفق ڈوبنے کے بعدجمع کیں ۔ان میں تاویل کااحتمال ہے اورتاویل یہ ہے کہ :یہاں قرب وقت کواختتام وقت سے تعبیرکیاگیاہے یعنی شفق ڈوبنے ہی والی تھی تواس کویوں تعبیرکیاکہ شفق ڈوبنے پرجمع کیں ۔ اوراس کی دلیل عرف عام میں بولے جانے والے محاورے بھی ہیں اورقرآن و احادیث میں بھی اس کے دلائل ہیں ۔ عرف میں عصرکے اخیروقت میں کہتے ہیں :شام ہوگئی ۔حالانکہ ابھی سورج ڈوبانہیں ہوتا۔کوئی سورج طلوع ہونے کے قریب وقت تک سوتارہے تواسے اٹھاتے وقت کہیں گے :سورج نکل آیا،اب تواٹھ جائیے ۔وغیرہ وغیرہ ۔ اورقرآن پاک میں طلاق والی عورتوں کے متعلق فرمایا:”جب ان کی عدت پوری ہو،تویاتوان کواچھے طریقے سے روک لویااچھے طریقے سے چھوڑدو۔” حالانکہ یہ واضح ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعدروکنے کااختیارنہیں ہوتا،عدت کے دوران ہی ہوتاہے ۔تویہاں عدت پوری ہونے کے قریب کاوقت مرادہے کہ جب عدت پوری ہونے لگے، تواب چاہے اچھے طریقے سے روک لویااچھے طریقے سے چھوڑدو۔ پس اسی کے مطابق مخالف کے بیان کردہ طرق میں یہ تاویل کی جائے گی کہ شفق ڈوبنے کے قریب تھی، تواسے ڈوبنے سے تعبیرکردیا،لیکن مرادیہی تھی کہ ڈوبنے ہی والی تھی کہ اُترکرمغرب پڑھی اورپھرشفق ڈوبنے پرعشاپڑھی ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” بالجملہ اس حدیث کی اتنی روایات کثیرہ میں یہ تصریح صریح ہے کہ :”مغرب غروبِ شفق سے پہلے پڑھی” اور اسی کی اُن روایات میں یہ کہ:” شفق ڈوبے پر پڑھی۔”اور دونوں جانب طرق صحاح وحسان ہیں،جن کے رَد کی طرف کوئی سبیل نہیں، تو اب یہ دیکھنا واجب ہوا کہ ان میں کون سا نص مفسر ناقابلِ تاویل ہے، جسے چارو ناچار معتمد رکھیں اور کون سا محتمل کہ اُسے مفسر کی طرف پھیر کر رفع تعارض کریں ہر عاقل جانتا ہے کہ ہماری طرف کے نصوص اصلاً احتمال معنی خلاف نہیں رکھتے، شفق ڈوبنے سے پہلے پڑھی اتنے ہی لفظ کے یہ معنی کسی طرح نہ ہوسکتے کہ جب شفق ڈوب گئی اُس وقت پڑھی، نہ یہ کہ جب اُس کے ساتھ یہ تصریحات جلیہ ہوں کہ پھر مغرب پڑھ کر انتظار کیا، یہاں تک کہ شفق ڈوب گئی اس کے بعد عشا پڑھی، ان لفظوں کو کوئی نیم مجنون بھی مغرب بعدِ شفق پڑھنے پرحمل نہ کرسکے گا، ہاں پُورے پاگل میں کلام نہیں،مگر اُدھر کے نصوص کہ چلے یہاں تک کہ شفق ڈوب گئی ،پھر مغرب پڑھی یا جمع کی یا بعد غروب شفق اُتر کر جمع کی یہ اچھے خاصے محتمل وصالح تاویل ہیں ،جن کا اُن نصوص صریحہ مفسرہ سے موافق ومطابق ہوجانا بہت آسان۔ عربی فارسی اردو سب کا محاورہ عامہ شائعہ مشہورہ واضحہ ہے کہ قربِ وقت کو اس وقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ عصر کے اخیر وقت کہتے ہیں شام ہوگئی، حالانکہ ہنوز سورج باقی ہے۔ کسی سے اوّل وقت آنے کا وعدہ تھا ،وہ اس وقت آئے، تو کہتے ہیں اب سُورج چھپے آئے۔ قریب طلوع تک کوئی سوتا ہو،تو اُسے اُٹھانے میں کہیں گے سُورج نکل آیا۔ شروع چاشت کے وقت کسی کام کو کہا تھا مامور نے قریب نصف النہار آغاز کیا، تو کہیے گا اَب دوپہر ڈھلے لے کر بیٹھے۔ ان کی صدہا مثالیں ہیں کہ خود ملّاجی اور اُن کے موافقین بھی اپنے کلاموں میں رات دن اُن کا استعمال کرتے ہوں گے۔ بعینہٖ اسی طرح یہ محاورے زبان مبارک عرب خود قرآن عظیم واحادیث میں شائع وذائع ہیں، قال اللہ تعالی ﴿وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-﴾ (جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی میعاد کو پہنچ جائیں، تو اب انہیں اچھی طرح اپنے نکاح میں روک لو یعنی رجعت کر لو یا اچھی طرح چھوڑدو)ظاہر ہے کہ عورت جب عدّت کو پہنچ گئی نکاح سے نکل گئی اب رجعت کا کیا محل، اور اُسے روکنے چھوڑنے کا کیا اختیار، تو بالیقین قربِ وقت کو وقت سے تعبیر فرمایا ہے یعنی جب عدت کے قریب پہنچے اُس وقت تک تمہیں رجعت وترک دونوں کا اختیار ہے۔”(7) ان جزئیات سے واضح ہے کہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کوصریح ومحتمل کی تعیین میں کس قدرملکہ تھااوردلائل سے اس کوثابت کرنے پرمہارت بھی تھی ۔
1… ۔ (اصول الشاشی،فصل فی الصریح والکنایۃ،ص ۴۸، دارالکتب العلمیہ، بيروت) 2… ۔ (جد الممتار علی رد المحتار،کتاب الولاء،ج ۶،ص ۳۱۴،دار الکتب العلمیہ،بیروت) 3… ۔ (الدرر اللوامع فی شرح جمع الجوامع ،باب التخصیص،ج ۲،ص ۳۹۲، المملكة العربية السعوديہ) 4… ۔ (التقریر والتحبیر،اقسام المفہوم،ج ۱،ص ۱۴۳،دار الکتب العلمیہ،بیروت) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص۱۶۵،۱۶۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (سنن النسائی ، ج۰۱،ص۹۹،کراچی) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص۲۳۴،۲۳۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور)




