مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(13)قول بعض وجمہور

فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ اسے معلوم ہوکہ وہ جس قول پرفتوی دے رہاہے ،وہ جمہورکاقول ہے یابعض کا ، کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ “ العمل بماعلیہ الاکثر ” (عمل اسی قول پرکیاجائے گا،جواکثرکامؤقف ہے )اب اگرفتوی دینے والے کویہی معلوم نہ ہوکہ یہ قول جمہورکاہے یابعض کا،تواحتمال ہے کہ وہ بعض کے قول پرفتوی دے دے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی وسعت علمی میں جہاں بے شمارعلوم پنہاں تھے ،وہیں یہ تمییزکہ یہ جمہورکاقول ہے یابعض کا،اس کاعلم بھی ،ان وسعتوں کے پہلومیں سمایاہواتھا۔ جس کی چندمثالیں درج کی جاتی ہیں :

فتاوی رضویہ میں قول بعض وجمہورکالحاظ

مثال نمبر 1 فتاوی رضویہ میں ہے:”جمہور کا فتوی اسی طرف ہے،”لما مران قد جعل الفتوی علیہ فی عامۃ المعتبرات” کیونکہ گزراکہ عام معتبرکتب میں اس پر فتوی جاری ہوا۔ “(1) )2)مثال نمبر 2 فتاوی رضویہ میں ہے “یہ قول بعض بھی ضعیف ونامعتمد ہے، صحیح یہی ہے کہ دور نزدیک سب پر سکوت واجب ، او رکتابت وقراءت جمیع اعمال ناجائز”(2)

(14)قول مرسل (قول مطلق)

مرسل کامطلب:مطلق۔جس میں کوئی قید نہ لگائی گئی ہو۔المنجدمیں ہے : “ارسل القول ” ترجمہ :بلاقیدبولنا۔(3) قول مطلق اورقول مقید،دونوں کے استعمال کے قواعدجداجداہیں ،بسااوقات ایک قول بغیرقیدکے مذکورہوتاہے، لیکن دوسرے دلائل کی بناپروہاں قیدملحوظ ہوتی ہے اوربسااوقات ایک قول کے ساتھ قیدمذکورہوتی ہے،لیکن دوسرے دلائل کی روسے وہ قیداتفاقی اورغیرضروری ہوتی ہے ۔پس فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ اسے کسی قول کے مطلق یامقیدہونے کاعلم ہو،تاکہ اگرمطلق ہے،تومطلق کے قاعدہ کے مطابق اس پرعمل کرسکے اورمقیدہو،تومقیدکے مطابق اس پرعمل کرسکے۔

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اس پر مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اپنے فتاوی میں اس کاکس قدرلحاظ فرماتے ،اس کی ایک جھلک درج ذیل مثالوں سے واضح ہے ۔

فتاوی رضویہ سے چند مثالیں

مثال نمبر 1 نمازِ جنازہ کے بعد صفیں توڑ کر دعا مانگنا: امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے نمازجنازہ کے بعدصفیں توڑکرمختصردعاکرنے کے متعلق سوال ہواکہ بعض علاقوں میں اس کامعمول ہے ،یہ درست ہے یانہیں؟اور اگردرست ہے، توجواسے حرام یاممنوع کہے اس کے متعلق کیاحکم ہے؟ اس کے جواب میں جوکچھ فرمایا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ : ’’آیات واحادیث میں مسلمان مُردوں کے لیے دعاکرنے کی ترغیب اوراستحباب مذکورہے اوراس کے لیے کوئی وقت وغیرہ خاص نہیں کیاگیا،توجب تک کسی خاص وقت کی ممانعت نہ آئے تب تک ہروقت دعاکرنے کاجوازانہی آیات واحادیث سے ثابت ہوا۔اب اپنی طرف سے کوئی وقت خاص کرنااورمطلق کومقیدکرنا،یہ نئی شریعت گھڑناہے۔اوررہی یہ بات کہ نمازجنازہ بھی تودعاہی ہے، تواس کاجواب یہ ہے کہ :ایساکسی آیت یاحدیث میں نہیں آیاکہ جب جنازہ پڑھ لو،توپھردعامت کرواورنہ ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ جنازے میں دعامانگ لی، تواب مزیدکی ضرورت نہیں، بلکہ احادیث میں کثرت سے اور بار بار دعا مانگنے کی ترغیب ہے کہ نہ معلوم کس وقت کی دعا قبول ہوجائے۔‘‘ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! اموات مسلمین کے لئے دُعاقطعاً محبوب وشرعاً مندوب جس کی ندب وترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلاتوقیت و تخصیص، ناطق تو بلاشبہہ ہر وقت اُس پر حکم جواز صادق، جب تک کسی خاص وقت ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو مطلق شرعی کوازپیش خویش موقّت اور مرسل کو مقید کرنا، تشریع من عند النفس ہے اور نماز ہر چند اعظم واجل طرق ہے،مگر نہ اُس پر اقتصار کا حکم نہ اُس کے اغناپرجزم، بلکہ شرع مبارک وقتاً فوقتاً بکثرت اور باربار تعرض نفحاتِ رحمت کا حکم فرماتی ہے کیا معلوم کس وقت کی دعا قبول ہوجائے۔ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ” لیکثرمن الدعااخرجہ الترمذی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ وقال صحیح واقروہ ” (دعا کی کثرت کرے۔ اسے ترمذی وحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اورحاکم نے کہا صحیح ہے، اور علماء نے اسے برقرار رکھا۔)۔۔۔۔۔ طبرانی معجم کبیر میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پُرنور سیّدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:” ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات فتعرضوا لھالعل ان یصیبکم نفحۃ منھا فلا تشقون بعدھا ابدا ” یعنی تمہارے رب کے لئے زمانے کے دنوں میں کچھ عطائیں، رحمتیں، تجلّیاں ہیں، توان کی تلاش رکھو (یعنی کھڑے بیٹھے لیٹے ہروقت دُعا مانگتے رہو، تمہیں کیا معلوم کس وقت رحمتِ الٰہی کے خزانے کھولے جائیں) شاید ان میں کوئی تجلی تمہیں بھی پہنچ جائے کہ پھر بد بختی نہ آئے۔ ” قال العلامۃ المناوی فی التیسیر تعرضوالھا بتطھیر القلب وتزکیتہ من الاکدار والاخلاق الذمیمۃ والطلب منہ تعالی فی کل وقت قیاما وقعودا و علی الجنب و وقت التصرف فی اشتغال الدنیا فان العبد لایدری فی ای وقت یکون فتح خزائن المنن ” (علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا: تو انہیں تلاش کرو اس طرح کہ دلوں کو کدورتوں اور بُرے اخلاق سے پاک وصاف کرلو، اور باری تعالی سے کھڑے، بیٹھے، لیٹے، دنیاوی کام کرتے، ہروقت مانگتے رہو، اس لئے کہ بندے کو کچھ پتا نہیں کہ کس وقت رحمت کے خزانے کُھل جائیں ۔ ) (4) مثال نمبر 2 کیا بچہ اپنے اَعمال کا ثواب دوسرے کو ایصال کر سکتا ہے ؟ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ :’’بچہ اپنے اعمال تلاوت قرآن وغیرہ کاثواب دوسرے کوایصال کرسکتاہے یانہیں ؟‘‘ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اس کےجواب میں ارشادفرمایاکہ :”بچہ جس قربت ونیکی کے کرنے کااہل ہے ،اس نیکی کاثواب ،خوداس کوملتاہے اورہمارے علمائےکرام نے ایک مرسل ومطلق قاعدہ بیان فرمایاہے کہ:”انسان اپنے اعمال کاثواب غیریعنی دوسرے کے لیے کرسکتاہے” اس قاعدے میں تین الفاظ مطلق بیان ہوئےہیں :نمبرایک” اعمال” ۔نمبردو” غیریعنی دوسرا”اورنمبرتین:لفظ”انسان”۔ ان میں سے پہلے دوسے عموم مرادلیناواضح ہے کہ :اعمال کے عموم سے فرائض بھی مرادہیں اور وہ اعمال بھی جوابتداءً اپنے لیے کیے ،کہ انسان فرائض اور اپنے لیے کیے گئے اعمال کاثواب بھی دوسروں کوپہنچاسکتاہے۔ اوراسی طرح لفظ “غیریعنی دوسرا”بھی عموم پرہے یہاں تک کہ سروردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کوایصال کرنابھی اس میں شامل ۔ پس جب پہلے دوالفاظ کےمطلق مذکورہونے کی وجہ سے ان کو عموم پررکھاگیا ہے،تواسی طرح تیسرا لفظ یعنی لفظ “انسان” بھی مطلق ہے،تواس کوبھی عموم پررکھا جائے گااوراس میں تمام انسان یعنی بالغ ونابالغ سبھی شامل ہوں گے ،جب تک دلیل تخصیص نہ ملے اوردلیل تخصیص ہے نہیں۔لہذاثابت ہواکہ فقہائے کرام جوفرماتے ہیں کہ انسان اپنے اعمال کاثواب دوسرے کوپہنچاسکتاہے، تویہاں انسان میں بچہ بھی شامل ہے ،جس کامطلب یہ ہوا کہ بچہ بھی اپنے اعمال کاثواب دوسرے کوپہنچاسکتا ہے۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں : (فارسی کاترجمہ)’’ ہروہ قربت کہ بچہ جس کا اہل ہے (غلام آزاد کرنا، صدقہ کرنا، مال کا ہبہ کرنا اور اس طرح کی قربتیں نہیں، کہ یہ بچےّ سے واقع ہو نہیں سکتیں) جب عاقل بچّے سے وہ ادا ہوگی، توقول جمہور اور مذہب صحیح و منصور یہ ہے کہ اس کا ثواب بھی بچے ہی کے لیے ہوگا، علامہ استروشنی جامع صغار میں فرماتے ہیں: بچے کی نیکیاں جواس پر قلم جاری ہونے سے قبل ہوں وہ بچے ہی کے لیے ہیں اس کے والدین کے لیے نہیں، کیونکہ ارشاد باری ہے: انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کوشش کی___ یہ ہمارے عامہ مشائخ کا قول ہے ۔۔۔۔۔ ہمارے علماء کی روشن تصریحات موجود ہیں کہ انسان اپنے اعمال کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتاہے۔جیساکہ ہدایہ، شروح ہدایہ، ملتقی، درمختار، خزانۃ المفتین، ہندیہ وغیرہا کتب مذہب میں اس کی صراحت ہے ۔ علمائے کرام نے یہ کلام اسی طرح مُرسَل ومطلق رکھا ہے۔ کسی تخصیص وتقیید کا اشارہ ونشان نہ دیا۔۔ تو جس طرح اعمال کو مطلق ذکر کرنے سے علماء نے یہ استدلال کیا کہ یہ حکم فرائض کوبھی شامل ہے اوراس عمل کو بھی جسے ابتداء میں اپنے لیے دوسرے کی نیت کے بغیر کیا ہو ۔۔ اور جس طرح ”غیر” کے عموم سے یہ استدلال کیا کہ اس میں حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثناء بھی داخل ہیں اسی طرح لفظ ”انسان” مطلق مذکور ہونااس بات کی کافی دلیل ہے کہ اس میں بچے بھی داخل ہیں جب تک کہ کوئی صحیح برہان ان کے استثناء پر قائم نہ ہوجائے مگر ایسی برہان کہاں اور کون؟”(5)


1… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۹،ص۴۱۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۸،ص۳۳۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (المنجد،ص۲۹۰،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۹،ص۲۲۴تا۲۲۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۹،ص۶۲۹تا۶۳۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور)