مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(15)قول معلل (تعلیل شدہ قول)

یعنی کسی قول کی بنیادعلت پرہے، تواس کاعلم ہو،تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس علت کاتحقق یہاں پرہے یانہیں ؟اگرتحقق ہے ،تواس حکم کااجراء کیاجائے، ورنہ نہ کیاجائے ۔

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی قولِ معلل کی معرفت پر مہارت

اس علم پربھی امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کوخوب مہارت تھی ۔ چنانچہ مصرمیں بکری کے بچے کوذبح کرنے کے بعد،خون صاف کیے بغیرپانی میں ڈال کربھون لیاجاتاتھا،اس کے متعلق یہ مشہورتھاکہ یہ ناپاک ہے ،اورایساناپاک ہے کہ پاک ہی نہیں ہوسکتا۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ ہمیشہ کے لیے ناپاک ہوجانے والاقول معلل ہے،اوراس کی علت یہ ہے کہ:” اس کی نجاست اس کے گوشت میں سرایت کرجائے ،جوکسی طرح باہرنہ آسکے ۔” اور یہ علت متحقق ہونے کے لیے دوچیزیں درکارہیں : (الف)جس پانی میں اسے ڈالاجائے،وہ پانی جوش مارنے کی حدتک پہنچ چکاہو،(ب)اورگوشت اس میں اتنی دیرباقی رہے کہ پانی گوشت کے اندرسرایت کرجائے۔ اوریہ دونوں باتیں مصرکے بھنے ہوئے بکری کے بچے میں نہیں پائی جاتیں کہ وہاں پانی جوش مارنے کی حدتک نہیں پہنچتااورنہ اتنی دیراس میں چھوڑاجاتاہے کہ پانی گوشت میں جذب ہوجائے ۔ پس جب اس میں علت کاتحقق نہیں،توہمیشہ ناپاک ہونے والاحکم بھی اس میں متحقق نہیں ہوگا، لہذااس بکری کے بچے کے بارے میں بہترہے کہ یہ کہاجائے کہ نجاست صرف جلدکے اوپروالےحصہ کولگی ہے ،گوشت میں جذب نہیں ہوئی ،توتین دفعہ دھونے سے وہ پاک ہوجائے گا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! ” قلت:وھو سبحٰنہ اعلم، ھو معلل بتشربھا النجاسۃ المتخللۃ فی اللحم بواسطۃ الغلیان وعلی ھذا اشتھران اللحم السمیط بمصر نجس لایطھر لکن العلۃ المذکورۃ لاتثبت حتی یصل الماء الی حد الغلیان ویمکث فیہ اللحم بعد ذلک زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم وکل من الامرین غیر متحقق فی السمیط الواقع حیث لایصل الماء الی حد الغلیان ولایترک فیہ الامقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف بل ذلک الترک یمنع من جودۃ انقلاع الشعر فالاولی فی السمیط ان یطھر بالغسل ثلثا لتنجس سطح الجلد بذلک الماء فانھم لایتحرسون فیہ عن المنجس “میں کہتا ہوں۔اور اللہ تعالی بہترجانتاہے۔ اس مذکور ہ بالا قول کی علّت یہ ہے کہ پانی کے جوش کے باعث وہ نجاست گوشت کے اندر جذب ہوجاتی ہے، اسی بنیاد پر مشہور ہے کہ مصر کے سمیط (بکری کا بچہ جسے خون صاف کیے بغیر بھُون لیا جائے،اس ) کا گوشت ناپاک ہے،جو پاک نہیں ہوگا، لیکن یہ علت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی،جب تک پانی جوش کی حد کو نہ پہنچ جائے اور اس کے بعد اس میں گوشت اتنی دیر تک نہ ٹھہرا رہے جس سے پانی گوشت کے اندر داخل ہوکر جذب ہوجائے۔ اور سمیط میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں، کیونکہ نہ تو پانی جوش کی حد کو پہنچتا ہے اور نہ ہی اسےپانی میں چھوڑا جاتا ہے، مگر اتنی مقدار کہ حرارت،فقط جِلد کی سطح تک پہنچتی ہےکہ سطح کے مسام کو ان سے جدا کردے، بلکہ اس کو اس قدر (پانی میں) چھوڑنا اچھی طرح بال اکھاڑنے سے بھی مانع ہے، پس سمیط کے بارے میں بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ اِس نجس پانی سے جِلد کا ظاہر ناپاک ہوگیا ،لہذا تین باردھونے سے پاک ہوجائے گا،کیونکہ وہ لوگ ناپاک کرنے والی چیز سے پرہیز نہیں کرتے۔”(1)

(16)وزن الفاظ مفتین

کسی قول پرفتوی دینے کے لیے فقہائے کرام مختلف الفاظ استعمال فرماتے ہیں جنہیں علامات افتاء کے نام سے موسوم کیاجاتاہے ،جن کی چندمثالیں درج ذیل ہیں : الصحیح،الاصح،علیہ الفتوی،بہ یفتی وغیرہ ۔

بعض الفاظِ افتاء کا دوسرے بعض سے تقابل

اب ان میں سے بعض الفاظ دوسرے بعض کے مقابلے میں زیادہ تاکیدوالے اورزیاد ہ قوی ہیں ۔جن کی چندمثالیں درج ذیل ہیں : لفظ” الفتوی “زیادہ تاکیدوالاہے ،لفظ” الصحیح “اور” الاصح “اور ” الاشبہ “وغیرہ سے۔اسی طرح ” بہ یفتی “یہ زیادہ تاکیدوالاہے،” الفتوی علیہ “کے مقابلے میں وغیرہ وغیرہ ۔ اس کی وضاحت درمختارکے مقدمہ اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کے رسالہ شرح عقود میں موجود ہے۔ فقہی کتب میں ایسابہت دفعہ ہوتاہے کہ ایک مسئلہ کے متعلق مختلف اقوال ہوتے ہیں اورسبھی کے متعلق الفاظ افتاء بھی موجودہوتے ہیں ،ایسے میں ان میں سے کسی کوترجیح دینے کے لیےالفاظ فتوی کاوزن دیکھاجاتاہے کہ کون سے الفاظ زیادہ مؤکد اورقوی ترہیں،تاکہ جس قول سے متعلق وہ الفاظ ہیں، اس قول کودوسرے اقوال پرترجیح دی جائے ۔لہذاایک فقیہ کے لیے الفاظ فتوی کے وزن کاعلم ہوناضروری ہے۔

وزن الفاظ مفتین کی معرفت پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے فتاوی میں اس کی کثیرمثالیں موجودہیں۔چندایک سے آپ علیہ الرحمۃ کی اس علم پرمہارت کااندازہ کیاجاسکتاہے ۔

فتاوی رضویہ سے مثالیں

مثال نمبر 1 زیدنے دوگواہوں کی موجودگی میں ہندہ کے متعلق یہ اقرارکیاکہ :”یہ میری بیوی ہے “اورہندہ نے زیدکے متعلق یہ اقرارکیاکہ :”یہ میراخاوندہے “۔اب اگرواقع میں ان کاآپس میں نکاح نہیں ہواتھا،تومحض اس اقرارسے ان کانکاح منعقدنہیں ہوگا۔ کتب معتبرہ میں یہی مسئلہ مذکورہے اورکتب فقہ میں اس کی تصحیح الفاظ: صحیح،مختاروغیرہ سے مذکورہے ۔ یہاں تک کہ آکدواقوی الفاظ افتا : ” علیہ الفتوی ” سے بھی اس کی تصحیح کی گئی ہے ۔ اس کے مقابل بھی ایک قول یہ ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں محض اقرارسے بھی نکاح منعقدہوجائے گااوراس کی لفظ ” اصح “کے ساتھ ،تصحیح کی گئی ہے ۔ اب یہاں دواقوال آمنے سامنے ہیں اوردونوں کے متعلق تصحیح بھی موجودہے توان میں سے کس کوکس وجہ سے ترجیح دی جائے گی ؟توامام اہلسنت علیہ الرحمۃ مختلف اسباب ترجیح شمارکرتے ہوئے ،ایک سبب یہ شمارفرماتے ہیں کہ : پہلے قول کے لیے آکد و اقوی الفاظ افتا یعنی ” علیہ الفتوی “کے الفاظ موجود ہیں، جبکہ دوسرے قول کے لیے ایسے الفاظ موجودنہیں ہیں، لہذااس وجہ سے بھی پہلے قول کوترجیح ہوگی ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” واماثالثا:فلان مالہ من علامۃ الافتاء اشدقوۃ واعظم وقعۃ مما لھذا فقد نصوا ان علیہ الفتوی وبہ یفتی ،اکدمایکون من الفاظ الافتاء ” ترجمہ:اورترجیح کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اس پہلے قول کے لیے جوعلامت افتااستعمال ہوئی وہ زیادہ قوت اوربڑی وقعت والی ہے، اس سے جودوسرے قول کے لیے استعمال ہوئی کہ علمانے صراحت فرمائی ہے کہ ” علیہ الفتوی “اور” بہ یفتی ” یہ الفاظ افتامیں سے سب سے مؤکدالفاظ ہیں ۔(2) مثال نمبر 2 ٹھیکے پرزمین دی یعنی رقم کے بدلے اجرت پردی،مثلا:ایک بیگھہ کے پچاس ہزارطے پائے،تواس صورت میں عشرکس پرہوگا،مالک زمین پریاکاشتکارپر؟اس کے متعلق امام اعظم اورصاحبین کااختلاف ہے ۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ :ساراعشرمالک زمین پرہوگا۔اورصاحبین فرماتے ہیں کہ :ساراکاشتکارپرہوگا۔ علیہم الرحمۃ ۔ یہاں دونوں طرف تصحیح ہے ۔پہلے قول یعنی قول امام علیہ الرحمۃ کی طرف تصحیح التزامی ہے کہ اس کے اظہرہونے کااشارہ کیاگیاہے ،جبکہ دوسرے قول کی طرف صریح تصحیح ہے اوروہ بھی آکدالفاظ افتا” بہ ناخذ “کے الفاظ کے ساتھ ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت دیکھیے! “اگراجارہ میں دی گئی جسے لوگ نقشی کہتے ہیں، مثلاً:سو۱۰۰ روپیہ بیگھہ پر اٹھائی تو سیّدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کل عشر مالکِ زمین پر ہے اور صاحبین رحمہماللہ تعالیٰ کے نزدیک کل مزارع پر ہے، زمیندار سے کچھ مطالبہ نہیں ۔ امام قاضی خاں نے قولِ اوّل کے اظہر ہونے کا اشارہ کیا، و علیہ اقتصرالامام الخصاف وبہ جزم فی منظومۃ النسفی والا سعاف واعتمدہ المتاخرون کالخیر الرملی واسمٰعیل الحائک وحامد آفندی وغیر ھم رحمھم اللہ تعالی )امام خصاف نے اسی پر اکتفاء کیا ہے اور منظومہ نسفی اور اسعاف میں اسی پر جزم کیا ہے اور متاخرین مثلاً :خیر رملی، اسمٰعیل حائک، حامدآفندی وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسی پر اعتماد کیا ہے ۔ ) مگر حاوی قدسی میں قول دوم پر فتوٰی دیا اور وُہ بھی لفظ ناخذ(ہم اسی کو لیں گے )کہ آکد الفاظ فتوٰی سے ہے ،وہ تصحیح التزامی تھی اور یہ صریح ہے۔”(3)

(17)سبرمراتب ناقلین (نقل کرنے والوں کے مراتب کوجانچنا)

لسان العرب میں ہے: ” سبرالشیئ سبرا :حزرہ وخبرہ۔۔۔والسبر: استخراج کنہ الامر “ترجمہ:کسی چیزکوآزمانا۔تجربہ سے جاننا۔اورسبرکامطلب ہے:کسی معاملے کی حقیقت کونکالنا۔(4) ایک فقیہ کے لیے یہ جاننابھی ضروری ہے کہ فقہی مسئلہ سے متعلق جوروایت نقل کی گئی ہے، اس کاناقل کس درجہ کاہے؟تاکہ اس کے ذریعے روایت پراعتماد کرنے اورنہ کرنے کافیصلہ کیاجاسکے اوراگرمختلف افرادمختلف روایات نقل کریں، تواب ان کے آپس میں کس کامرتبہ زائدہے اورکس کاکم ہے ؟یہ معلوم ہونابھی ضروری ہے، تاکہ ترجیح دینے میں غلطی نہ ہوسکے۔

اس پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت

فتاوی رضویہ سے چند مثالیں

مثال نمبر 1 زاہدی صاحبِ قنیہ اور زمحشری کی نقل کا حکم: زاہدی نے قنیہ میں نمازجنازہ کے بعددعاکے مکروہ ہونے کی ایک روایت ذکرکی ہے کہ : “عن ابی بکربن حامد: ان الدعابعدصلاۃ الجنازۃ مکروہ ” (ترجمہ: ابوبکربن حامدسے مروی ہے کہ نمازجنازہ کے بعددعامکروہ ہے ۔) امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فتاوی رضویہ میں اس کوذکرفرماکراس کے مختلف جوابات ارشاد فرمائے،جن میں سے بعض کاخلاصہ یہ ہے کہ:’’اس روایت کوحکایت کرنے والازاہدی ہے اورجس کتاب میں حکایت کی گئی، وہ قنیہ ہے۔اورنہ زاہدی معتبرہےاورنہ قنیہ معتبرہے۔خاص طورپرایسی حکایت کہ اگر اس کے وہ معنی لیے جائیں جومخالف لیتاہے، توسرے سےشرعی قواعدکے ہی مطابق نہیں ۔ اورپھرزاہدی اس مسئلے میں بالخصوص متہم ہے،کیونکہ وہ معتزلی ہے اورمعتزلہ مسلمان مُردوں کے لیے دعاکومحض بے کارسمجھتے ہیں۔اوراس کی یہ عادت ہے کہ معتزلہ کے مسائل اپنی کتاب میں داخل کرتاہے ۔اس کااستادزمخشری بھی اسی کاعادی ہے ،لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ زمخشری کتنی ہی اوٹ پٹانگ باتیں کرے، لیکن جب کسی کے حوالے سے کوئی بات ذکرکرتاہے ،تووہ قابل اعتمادہوتی ہے،جبکہ زاہدی کی نقل کی ہوئی بات بھی قابل اعتمادنہیں ہوتی ۔ ان بیوقوفوں نے حنفیت کانام بدنام کرنے کے لیے بعض پوشیدہ شرارتیں کتابوں میں بھردی ہیں،جن سے بعض مصنفین نے دھوکا کھایااوریوں آہستہ آہستہ ایسی نقلیں متعددکتب میں پھیل گئیں،جن کوآج تک بدمذہب، احناف کوبدنام کرنے کے لیے غنیمت باردہ سمجھتے ہیں۔ ‘‘ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں ! “رابعا:اس روایت کا حاکی زاہدی اورمحکی فیہ قنیہ و زاہدی معتمد نہ قنیہ معتبر خصوصاً ایسی حکایت میں کہ بمعنی مفیدِ مخالف، اصلاً قواعدِ شرع سے مطابق نہیں۔ ۔۔خامساً زاہدی اس مسئلہ میں بالخصوص متہم کہ وہ مذہب کا معتزلی ہے اور معتزلہ خَذَّلَہُمُ اللہ تعالی کے نزدیک امواتِ مسلمین کے لئے دعا محض بیکار کما نص علیہ فی شرح العقائد وشرح الفقہ الاکبر وغیرھما (جیسا کہ شرح عقائد اور شرح فقہ اکبر و غیرہ میں اس کی تصریح ہے۔) اُس کی یہ عادت ہے کہ مسائل اعتزل اپنی کتاب میں داخل کرتا ہے۔ ۔۔اس کا استاذالاستاذ زمخشری بھی اس کا خوگر ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہ آپ کچھ بکے مگر نقل میں ثقہ ہے، بخلاف زاہدی کے کہ اس کی نقل پر بھی اعتماد نہیں ۔ ان سفہا نے حنفیت کا نام بدنام کرکے فروع میں بعض وہ خفی شرارتیں بھر دیں جن سے بعض مصنفین نے بھی دھوکا کھایا اور شدہ شدہ وہ نقول متعدد کتب میں پھیل گئیں جو آج تک حضرات نجدیہ وامثالہم کے نزدیک علق نفیس وغنیمت بار دہ ہیں۔”(5) مثال نمبر 2

انگوٹھے چومنے پر علامہ شامی علیہ الرحمۃ کی ایک عبارت پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کا تبصرہ

کسی نے اقامت میں انگوٹھے چومنےسے متعلق کوئی روایت نہ ہونے پرشامی کی درج ذیل عبارت نقل کی :” ونقل بعضھم ان القھستانی کتب علی ھامش نسختہ ان ھذا مختص بالاذان واما فی الاقامۃ فلم یوجد بعد الاستقصاء التام والتتبع ” (بعض نے نقل کیا کہ قہستانی نے اپنے ایک نسخہ کے حاشیہ پر تحریر کیا ہے کہ یہ اذان کے ساتھ مختص ہے، اقامت میں جستجو اورتلاش بسیار کے باوجود ثبوت نہیں ملا۔)”

مجہول نقل مقبول نہیں ہوتی

اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ:’’اس عبارت شامی میں نقل مجہول ہے یعنی نقل کرنے والاکون ہے، اس کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ لکھا” نقل بعضھم “(ان میں سے بعض نے نقل کیا)اور خودعلامہ شامی علیہ الرحمۃ اس سے ملتی جلتی ایک عبارت پراعتراض کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں کہ :’’ایسی نقل مجہول ہے اورمجہول نقل،نامقبول ہے ۔‘‘اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کایہ کلام بھی ایسے مسئلے میں ہے جہاں بواسطہ مجہول ناقل امام قوام الدین کاکی شارح ہدایہ تھے،جبکہ معترض نے جوعبارت ذکرکی، وہ شامی کی ہے،تویہاں علامہ شامی ناقل ہیں ،(اورامام قوام الدین علیہ الرحمۃ ،علامہ شامی علیہ الرحمۃ سے مرتبہ میں بہت بلند)اوروہاں منقول عنہ(جس کے واسطے سے نقل کی گئی) یاشمس الائمہ سر خسی علیہ الرحمۃ تھے یاخودمحررمذہب امام محمد علیہ الرحمۃ اورمعترض نے جوعبارت ذکرکی اس میں منقول عنہ قہستانی ہے (اوران میں فرق مراتب کاشمارہی نہیں )پس جب خودعلامہ شامی علیہ الرحمۃ نے بوجہ جہالت واسطہ،وہ نقل مقبول نہ رکھی، تویہ نقل کیسے مقبول ہوجائےگی؟ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں! ” اقامت میں کوئی ٹُوٹی پھوٹی روایت بھی موجود نہ ہونے پر شامی کا کلام نقل کیا کہ بعض نے قہستانی سے نقل کیا کہ اُنہوں نے اپنے نسخہ کے حاشیہ پر لکھا کہ دربارہ اقامت بعد تلاش کامل روایت نہ ملی اور انہیں شامی کا کلام نہ دیکھا کہ ایسی نقل نقلِ مجہول اور نقلِ مجہول محض نامقبول، جلد دوم ص ۵۱۲:” قول المعراج ورأیت فی موضع۔۔۔الخ ( ای معزوا الی المبسوط ) لایکفی فی النقل لجھالتہ “( معراج کا قول اور میں نے ایک جگہ دیکھا ہے الخ (یعنی مبسوط کی طرف منسوب ہے) جہالت کی وجہ سے نقل میں وہ ناکافی ہے۔) وہاں بواسطہ مجہول ناقل امام قوام الدین کاکی شارح ہدایہ تھے یہاں شامی، وہاں منقول عنہ بالواسطہ امام شمس الائمہ سرخسی تھے یا خود محرر المذہب امام محمد اور یہاں قہستانی ع:” ببیں تفاوت راہ ازکجاست تابکجا ” (اتنا بڑا فرق کہاں وہ کہاں یہ)جب وہ بوجہ جہالت واسطہ مقبول نہ ہُوئی، اس کی کیاہستی، مگر کیا کیجئے کہ ع: ” عقل بازار میں نہیں بِکتی۔”(6)


1… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۳۸۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۱،ص۱۳۰،رضافاونڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۰،ص۲۱۶،رضافاونڈیشن،لاہور) 4… ۔ (لسان العرب،ج۰۴،ص۱۷۳۹،مکتبہ کوئٹہ) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۹،ص ،۲۵۳،۲۵۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص۶۳۰،۶۳۵،۶۳۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور)