مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(18)عرف عام و خاص

شریعت کے بہت سارے مسائل کادارومدارعرف (یعنی لوگوں میں رائج امور) پرہوتاہے کہ بہت دفعہ جومسئلہ لوگوں میں رائج ہوشرع بھی اس کوجائزقراردیتی ہے مثلا:نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں بیع سلم ،بیع استصناع رائج تھیں ،جوقیاس کے مطابق درست نہ تھیں،لیکن لوگوں میں عام طورپررائج تھیں توآپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کوجائزقراردیا۔

فی زمانہ عورتوں کا مساجد میں آنا ممنوع ہے

پھرجن مسائل کادارومدارعرف پرہوتاہے ،جب عرف بدلتاہے،تووہ مسائل بھی بدلتے رہتے ہیں ،یہاں تک ایک مسئلہ صراحتاًحدیث پاک میں واردہوا،لیکن حالات زمانہ بدلے،توحکم بدل گیا،مثلا:حدیث پاک میں فرمایاگیاکہ :” اللہ کی باندیوں کومسجدمیں آنے سے نہ روکو”لیکن زمانہ فاروقی میں جب حالات زمانہ تبدیل ہوئے توعورتوں کومسجدمیں آنے سے ممانعت فرمادی گئی ،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا:”جوحالت عورتوں کی اس وقت ہے،اگرزمانہ رسالت میں ہوتی توحضور علیہ الصلوۃ والسلام بھی ممانعت فرمادیتے ۔”(1) اسی طرح ایک حکم ظاہرالروایۃ میں کچھ اورمروی ہوتاہے ،لیکن زمانہ کے بدلنے سے اس کے خلاف حکم جاری کیاجاتاہے۔جیساکہ نیچے فتاوی رضویہ سے اس کی صراحت ووضاحت بیان ہوگی۔

اب عرف کی بنیادی طورپردواقسام ہیں

(1)جوبات لوگوں میں رائج ہے،وہ بسااوقات عام لوگوں کارواج ہوتا ہے،تواسے عرف عام کہتے ہیں۔ (2) اوربسااوقات خاص لوگوں کارواج ہوتاہے، تواسے عرف خاص کہتے ہیں ۔ ہرقسم کااپنادائرہ کار،اثراورشرائط ہیں ۔ایک فقیہ کے لیے ان کی تعریفات، اثر،دائرہ کاراورشرائط کاجانناازحدضروری ہے ،یہاں تک فقہائےکرام نے اس حدتک قول فرمادیاکہ “من لم یعرف اھل زمانہ فھوجاھل”ترجمہ:جسے اپنے زمانے والوں کے احوال سے آگاہی نہیں، وہ جاہل ہے ۔

عرفِ عام و خاص کی معرفت پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کواس علم پرکتنی مہارت تھی ،اس کااندازہ اس بات سے لگائیے کہ عرف کی جوتحقیق اور تفصیل ، عرف کے مدارج کی تعیین اوران کے احکام کی تحریر،جس طرح امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمائی ،وہ گزشتہ کسی کتاب میں واضح طورپراس اندازسے نہیں ملتی ۔یہاں تک کہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے خودارشاد فرمایاکہ :” الاشباہ والنظائر “اور” ردالمحتارعلی الدرالمختار “میں عرف سے متعلقہ ابحاث کامطالعہ کرنے کے باوجود کوئی ایسی جامع گفتگونہ ملی، جوعرف سے متعلق تمام ضروری گوشوں کااحاطہ کرتی ۔یہاں تک کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ کا خاص اسی موضوع سے متعلق رسالہ” نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف ” کامطالعہ میسرآیا،تووہ بھی اس حوالے سے کافی و شافی نہیں تھا۔پھرخدائے ذوالجلال کے لطف خاص سے مجھے اس بارے میں شرح صدرحاصل ہوااورمیں نے عرف کے مدارج متعین کرکے سب کے احکام تحریرکیے ۔چنانچہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اس سے متعلق عبارت یہ ہے :”یہ ہے بحمداللہ ومنہ وکبیر لطفہ وکرمہ وہ تحریر مسئلہ جسے تمام کلمات علمائےکرام کا عطر ومحصل کہیے اور بفضلہ تعالی کسی تقریر وتاصیل وتفریع کو اس کے مخالف نہ دیکھئے۔” وقد کنت اری فی الباب مباحث الاشباہ وکلمات ردالمحتار من مواضع عدیدۃ فلا اجد فیھا مایفید الضبط ویزول بہ الاضطراب والخبط وکان العلامۃ الشامی کثیرا مایحیل المسئلۃ علی رسالتہ نشر العرف فکنت تواقا الیھا مثل جمیل الی بثینہ فلما رأیتھا وجدتھا ایضالم یتحرر لھا مایکفی ویشفی ولم یتخلص فیھا ماترتبط بہ الفروع وتاخذ کلمات الائمۃ بعضھا حجز بعض ولکن ببرکۃ مطالعتھا فی تلک الجلسۃ فتح ۔” ( میں اس مسئلہ میں الاشباہ کی مباحث اور ردالمحتار کے متعدد مقامات کو دیکھتا،تو ان میں کوئی ضبط والی اور اضطراب وپراگندگی کو دور کرنے والی چیز نہ پاتا، اورعام طورپر علامہ شامی مسئلہ کو اپنے رسالہ ”نشرف العرف” کے حوالے کردیتے ، تو میں اس رسالہ کا اس طرح مشتاق ہوا جیسے اونٹنی اپنے بچے کی، تو جب میں نے وہ رسالہ دیکھا، تو اس میں بھی کافی و شافی کوئی تحقیق نہ ملی اورکوئی ایساضابطہ نہ ملا،جس سے فروعات اورائمہ کے کلمات میں ربط وتطبیق پیداہو ، لیکن اس مجلس میں اس کے مطالعہ کی برکت سے (مجھ پرسارامعاملہ)کھلا۔)”(2)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی بیان کردہ عرف کی اقسام و احکام

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے عرف کے حوالے سے جومدارج وضوابط اوران کے احکام تحریرفرمائے وہ خلاصۃ نیچے درج کیے جاتے ہیں : عرف چارطرح کاہے ،جس کی تفصیل درج ذیل ہے : (1)وہ عرف جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے اب تک جاری ہو۔ جیسے بیع سلم ،بیع استصناع،عقد مضاربت۔ حکم: یہ حدیث مرفوع تقریری کے حکم میں ہے،اس کادرجہ قول رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کاہے ،اگرنص اس کے خلاف ملے،تویہ اس کامعارضہ کرے گااوراگرعرف اس نص کے بعدکاہو،تویہ عرف اسے منسوخ کردے گا۔ (2)وہ عرف جو ساری دنیا کے تمام مسلمانوں کا ہو۔ حکم:یہ اجماع امت ہے ،جوخبرواحدسے زیادہ قوی ہے اوراگرکوئی نص اس کے خلاف ہو،تویہ اس کامعارضہ کرے گایعنی نص کے بجائے اس عرف پرعمل ہوگااوریہ عرف اس بات کی دلیل ہوگاکہ وہ نص منسوخ ہے، کیونکہ جونص منسوخ نہ ہو،اس کے خلاف اجماع محال ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:” لاتجتمع امتی علی الضلالۃ “(میری امت گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتی ۔) (3)تمام بلاد عالم کے اکثر مسلمانوں کا عرف ہو۔ حکم:یہ امت کے سواد اعظم کا عمل ہے ،جس کی پیروی کااحادیث میں حکم ارشاد فرمایاگیا، عندالتحقیق یہ اجماع کے ساتھ لاحق ہے، لہذاجواجماع امت کاحکم وہی اس کا۔ (4)اپنے ہی قطرکے بلادکثیرہ میں بکثرت (غالب طورپر)رائج ہواوریہ عرف حادث ہو ،جو عہد رسالت کے بعد کبھی وجود میں آیا ہو۔ حکم:اس کادرجہ اوپروالے تینوں قسم کے عرف کے مقابل میں کمزور ہے ۔یہ اگرکسی نص کے مقابل آئے،تونص کواس کی وجہ سے بالکلیہ ترک نہیں کیاجاسکتا، اگرنص عام ہو،تواس میں تخصیص ہوسکتی ہے اوراگرنص خاص ہوکہ تخصیص کے قابل ہی نہ ہو،توعرف کوچھوڑکرنص پرعمل کیاجائے گا۔اوراگریہ قیاس کےمقابل ہو،توپھرعرف کوقیاس پرترجیح ملے گی ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے الفاظ درج ذیل ہیں : “ثم اقول: وب اللہ التوفیق سب سے قطع نظر کرکے علمائے کرام کا وہ نفس کلام جو مسئلہ اعتبارات عرف میں ذکر فرمایا بنظر نبیہ مطالعہ کیجئے، تو خود ہی شاہد عدل وحجت فصل ہے کہ :عرف عام سے ان کی مراد نہ ہرگز مستمر من زمن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہے،نہ عرف محیط اجماعی،نہ عرف اکثر مسلمین جملہ بلاد عالم، کہ: اول قطعا مثل نص رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہے۔تو اگر نص اس کے خلاف پایا جائے، ضرور صالح تعارض ہوگا اور بحال تاریخ اسے فسخ کردے گا ۔ اور دوم عین اجماع تو نص آحاد سے اقوی اور قطعا مظہر ناسخ کہ نص غیر منسوخ کے خلاف اجماع محال، تو اس کا حقیقتا معارض نص واقع ہونا معقول ہی نہیں۔ اوربظاہر ہو تو ہر گز مردود نہ ہوگا، بلکہ وہی مرجح ہوگا اور نص ناسخ کابتانے والا ۔ اورسوم کی حجیت مطلقہ تامہ وافیہ پر نصوص صریحہ ناطقہ، تو اس کا اضمحلال معاذاللہ سواد اعظم کا وقوع فی الضلال اور وہ شرعا محال ہے۔ ” لقولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لاتجتمع اُمتی علی الضلالۃ ۔ ” بالجملہ مقابلہ نص میں ثانی تو مطلقا مضمحل نہیں ۔۔۔اور اول بھی مطلقا مضمحل نہیں۔۔۔اور ثالث عند التحقیق ملتحق بالثانی ۔ بالجملہ بحمداللہ تعالی بدلائل قاطعہ واضح ہوا کہ علمائے کرام جس عرف عام کو فرماتے ہیں کہ قیاس پر قاضی ہے اور نص اس سے متروک نہ ہوگا مخصوص ہوسکتاہے وہ یہی عرف حادث شائع ہے کہ بلاد کثیرہ میں بکثرت رائج ہو، نہ عرف قدیم زمانہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ نہ عرف محیط جمیع عباد تمام بلاد نہ عرف اعم سواد اعظم کہ اولین بالاجماع اور ثالث علی التحقیق امکانا یا وجوبا مقدم علی النص ہیں۔”(3)

عرف سے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کا رسالہ

عرف کے حوالے سے تفصیلی تحقیقی مطالعہ کرنے کے لیے رسالہ ” کتاب المنی والدرر لمن عمدمنی آرڈر “مطالعہ کرناچاہیے جوتخریج شدہ فتاوی رضویہ کی جلد19میں ہے ۔ اس سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اس علم پرمہارت کابخوبی اندازہ ہوگا۔

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے فتاویٰ میں عرف کا لحاظ

مزیدعرف کالحاظ کرنے کے حوالے سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے کچھ فتاوی نیچے درج کیے جاتے ہیں : (1)مثال نمبر 1 امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے ایک ضمانت نامے کے متعلق سوال ہوا،جس میں ضمانت کی ابتدائی مدت مذکورنہیں تھی، صرف انتہائی مدت مذکورتھی ،اس کے الفاظ درج ذیل ہیں:”(محمدی بیگم نے دعوی ال ما صہ عہ/ بنام سید محمد امیر دائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہے، لہذا اقرار کرتاہوں کہ ۱۸ فروری سنہ حال تک کاحاضر ضامن ہوں ۱۸ تاریخ مدعا علیہ شہر سے نہیں بھاگیں گے ،اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دار ہوں ۔ ۶ فروری ۱۸۹۹ء)”اس ضمانت نامے کے متعلق سائل نے سوال کیاکہ :” 18 فروری تک عدالت نے نہ تو مجھ سے مکفول عنہ (یعنی جس کی ضمانت لی گئی تھی)طلب کیا اور نہ ہی مدعی نے کسی قسم کی کوئی اطلاع عدالت میں پیش کی،اب ڈھائی مہینہ بعد مدعی کا وکیل کہتا ہے کہ چونکہ ضمانت نامے میں لفظ (من)درج نہیں تھا( یعنی ابتدائی مدت مذکور نہیں ) لہذا 18 فروری کے بعد بھی ضمانت باقی رہی،شرعی رہنمائی فرمائی جائےکہ یوں وکیل کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟” اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے جوفرمایا،اس کاخلاصہ کچھ یوں ہے : ظاہرالروایہ کے مطابق توجب ضمانت میں ابتدائی مدت مذکورنہ ہو،صرف انتہائی مدت مذکورہو،تواس صورت میں ضمانت بیان کردہ انتہائی مدت کے بعدشروع ہوتی ہے، لیکن امام ابویوسف علیہ الرحمۃ سے ایک روایت یہ ہے کہ جس دن اقرارکیااس دن سے شروع ہوکربیان کردہ انتہائی مدت پرختم ہوجائے گی۔اوراب عرف اورلوگوں کامقصداسی روایت امام ابویوسف کے مطابق ہے اورعرف کی اتباع واجب ولازم۔لہذاضمانت 18فروری تک ختم ہوگئی ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں! “مکرمی محترمی منشی صاحب زید مجدھم بعدادائے مراسم سنت ملتمس ، فتوی نظر فقیر سے گزرا میں اس امر میں یکسر متفق ہوں کہ صورت مذکورہ میں ضمانت حاضری ۱۸ فروری تک منتہی ہوگئی اگرچہ جواب ظاہر الروایۃ اس کے خلاف ہے،مگر اب عرف ومقاصد ناس قطعا اسی پر حاکم اوراتباع عرف واجب لازم، تو یہ حقیقۃً مخالفت ظاہر نہیں بلکہ زمان برکت نشان حضرات ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم میں عرف دائر وسائر یوں ہوتا تو ہم جز م کرتے ہیں کہ حکم ظاہر الروایۃ ضرور مطابق روایت امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہ ہوتاولہذا ائمہ تصحیح نے اس روایت پر اسی وجہ سے فتوی دیا ہے کہ وہ اشبہ بعرف ناس ہے، اسی لئے علماء نے فرمایا :” من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل “( جو اہل زمانہ کونہیں جانتا وہ جاہل ہے۔) علامہ محقق شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کی تحقیق بروجہ شافی وکافی فرمادی ہے۔”(4) مزیدفتاوی رضویہ میں ہے: ” جمہور ائمہ کرام کے نزدیک ظاہر الروایۃ کے یہ معنی ہیں کہ جب ابتدائے مدت مذکور نہ ہو صرف انتہا کا ذکرآئے، تو کفالت اس وقت کے بعد محقق ہوکر، تاحصول برأت ہمیشہ رہے گی اور روز اقرار سے اس وقت تک اصلاً کفالت نہ ہوگی ،بالجملہ ظاہر الروایۃ میں ایسی جگہ (تک ) بمعنی بعد کے ہے ۱۸ فروری تک ضامن ہوں یعنی ۱۸ کے بعد ضمانت شروع ہوگی”(5) مثال نمبر 2 شادی کے موقع پرشوہرکی طرف سے بیوی کوجوزیورات چڑھائے جاتے ہیں وہ اس کی ملک ہوں گے یانہیں،اس حوالے سے جب امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا،تواس کے جواب میں جوکچھ فرمایا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ : “اس کادارومدارشوہر کی قوم کے عرف پرموقوف ہے ،اگراس کی قوم کاعرف اوررواج یہ ہے کہ شوہراس موقع پرجوزیورات وغیرہ چڑھاتاہے ،ان کابیوی کومالک کرنامقصودنہیں ہوتا،توبیوی اس کی مالک نہیں بنے گی، مگریہ کہ شوہرصراحت کردے کہ تجھے اس کامالک کیا۔اوراگرقوم کارواج یہ ہے کہ شوہراس طرح کے چڑھاوے ،عورت کومالک بنانے کے طورپرچڑھاتاہے،توعورت مالک بن جائے گی مگریہ کہ شوہرصراحت کردے کہ مالک نہیں بنارہا۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” چڑھاوے کاحکم اس قوم کی رسم ورواج پرموقوف ہے ،اگر ان میں عرف یہ ہے کہ عاریۃً چڑھاتے ہیں اور زوجہ کی ملک نہیں کرتے، تو وہ چڑھاوے کی مالک نہیں اور اس میں اس کی وصیت باطل ہے ،مگریہ کہ شوہرنے صراحۃً تملیک کردی ہوکہ میں نے تجھے اس کامالک کردیایاتجھے ہبہ کردیا اوراگروہاں عرف یہ ہوکہ بطورتملیک ہی چڑھاتے ہیں،توزوجہ بعد قبضہ مالک ہوگئی اوراس میں اسی کااختیارہے،مگریہ کہ شوہرنے صراحۃً نفی تملیک کرکے چڑھایاہوکہ میں تجھے اس کامالک نہیں کرتا مِلک میری ہی رہے گا ۔”(6) مثال نمبر 3 گیارھویں شریف میں تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کے متعلق سوال ہوا،تواس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:” گیارھویں شریف میں قیام سے کوئی ممانعت شرعیہ نہیں ،مگر یہ تعظیم عرف مسلمین میں ذکر اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خاص ہورہی ہے، اس تخصیص کا لحاظ چاہئے۔”(7)


1… ۔ (صحیح البخاری،باب انتظار الناس قیام الامام العالم،ص ۱۶۴،دار الکتب العلمیۃ،بیروت) 2… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۱۹،ص۶۰۶،۶۰۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (ملتقطاازفتاوی رضویہ،ج۱۹،ص۵۹۷ تا ۶۰۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۷،ص۶۵۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۷،ص۶۶۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۵،ص

(19)عادات بلاد و اشخاص

ایک فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس مقام یاجن لوگوں کے متعلق فتوی دیناچاہتاہے ،ان کے عرف وعادت سے واقف ہو،کیونکہ مقام اوراشخاص کے عرف اوران کی عادات سے احکام میں تبدیلی آتی ہے ،اگرچہ وہ عادت ایک شہریاایک فردیاچندافرادہی کی ہو۔

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے فتاویٰ میں اس کا لحاظ

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اس چیزکاکس قدرلحاظ فرماتے،اس کی کچھ جھلک فتاوی رضویہ کی درج ذیل مثالوں سے عیاں ہے : مثال نمبر 1 سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:” ایک دقیقہ واجب اللحاظ ہے، جو سنت مؤکدہ نہ ہو یا اس کا ایک طریقہ متعین نہ ہو اور بعض طرق عوام میں ایسے اوپری ہوگئے ہوں کہ اس کے بجالانے سے سنت پر ہنسیں گے ،تو وہاں اس غیر مؤکدہ اورمؤکدہ کے اس طریقہ خاصہ کا ترک ہی مصلحت ہوتاہے کہ ایک استحباب کے لئے لوگوں کا دین کیوں فاسد ہو سنت پر ہنسنا معاذاللہ کفر تک لے جاتاہے اور مسلمانوں کو کفر سے بچانا فرض ہے،مسئلہ خفاض نساء میں علماء نے اس دقیقہ کی تصریح کی ہے، نیز شملہ عمامہ میں فرمایا کہ جہاں جہاں اس پر ہنستے ہیں اور دم سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائے، باہم عورتوں کا یا عورتوں سے السلام علیکم وعلیکم کی حالت قریب قریب ایسی ہی ہے اور اسے اچنبا جانیں گے اور اس پر ہنسنے کا احتمال ہے اور لفظ سلام اس کا قائم مقام ، ” قالواسلاما ،قال سلام ” تو اس پر اکتفا مناسب۔”(1) مثال نمبر 2 ” لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسیں گے اور یہ ان کے گناہ عظیم میں پڑنے کا سبب ہوگا اور حفظ دین مسلمانان واجب ہے، لہذا یہاں اس کا حکم نہیں۔”(2) مثال نمبر 3 امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ایک مقام پرنصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’لوگوں میں جورسوم اورعادات جاری ہوں اورشریعت سے ان کی حرمت اوربرائی ثابت نہ ہو ، تو ایسی عادات سے اپنے آپ کودور نہ رکھے کہ اس سے وحشت ونفرت پھیلے گی جومقصودشرع کے خلاف ہے ۔‘‘ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں! ” جو عادات و رسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے اُن کی حُرمت وشناعت نہ ثابت ہو، اُن میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجُدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں۔”(3) مثال نمبر 4

جو کام عرف میں نفرت کا باعث ہو ، وہ منع ہے

فرماتے ہیں:”جو کام علاقہ کے عرف میں مسلمانوں کی نفرت اور انگشت نمائی کا سبب ہو،وہ کام شرعا ممنوع ہے، یہاں تک کہ علماء نے فرمایا ہے کہ جس شہر میں جائز خضاب یعنی سیاہ خضاب کے علاوہ خضاب لگانے کی عادت ہو،وہاں خضاب نہ لگانا اورجہاں خضاب نہ لگانے کا رواج ہو وہاں خضاب لگانا ،مکروہ ہے، کیونکہ اس میں شہر کی عادت سے خروج کے باعث بدنامی ہوتی ہے ،جو کہ مکروہ ہے، امام علامہ عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ میں فرمایا جوشخص علاقہ کی عادت خضاب یا عدم خضاب کی عادت سے خروج کرے ،تو شہرت کی وجہ سے مکروہ ہے حالانکہ خضاب اور ترک خضاب اور عادت کے خلاف کرنا شرعا دین ودیانت کے خلاف نہیں ہے ،تو ایسے کام کے متعلق کیا حال ہوگا جوشرعا خود ناپسندیدہ ہے اور تمام بلاد میں اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں شدید نفرت پائی جاتی ہے ،اس نوع کے کاموں میں مشغول ہوجانا اور اپنے آپ کو اہل اسلام کے طعن وملامت کے تیروں کا نشانہ بنانا اور دنیا والوں سے ایک طرف ہوجانا شریعت کی رعایت اور اہل اسلام کی مراعات کو یکدم پس پشت ڈال دینا کیسے اچھا ہوسکتا ہے ، شریعت مطہرہ اس قسم کے کاموں سے خوش نہیں ہوتی۔ملخصاً)” (4)

(20)حال زمان ومکان

زمانے اورمقام کے بدل جانے سے احکام میں تبدیلی آتی ہے ،جیسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں عورتیں مسجدمیں نمازپڑھنے آتی تھیں،بعدمیں اس سے روک دی گئیں۔لہذافقیہ کے لیے اس بات کالحاظ رکھناضروری ہے ۔

فتاوی رضویہ میں حال زمان ومکان کالحاظ

مثال نمبر 1 مسجدمیں جماعت ثانیہ (دوسری جماعت) کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا کیا حکم ہے اوربعض لوگ اس کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں ،لوگ آٹھ آٹھ دس دس جمع ہوجاتے ہیں ،ایک دوسرے کے برابر میں کھڑے ہوکرعلیحدہ علیحدہ پڑھ کرچلے جاتے ہیں ،جماعت نہیں کرواتے۔ اس کے جواب میں مسجدکی مختلف صورتیں ذکرکرنے کے بعدمسجدمحلہ کے متعلق فرمایاکہ صحیح مذہب کے مطابق اس میں بھی جماعت ثانیہ کی اجازت ہے ،بعض ائمہ نے اپنے وقت میں منع فرمایاتھا،لیکن وہ صحیح مذہب نہیں ۔ اس حال زمان ومصلحت وقت کی رعایت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”مفتی پرحال زمانہ کی رعایت اورمصلحت وقت کالحاظ رکھنا بھی واجب ہے کہ علمافرماتے ہیں :جواپنے دورکے لوگوں کے حالات نہیں جانتاوہ جاہل ہے ۔اب اسی مسئلے میں دیکھ لیجیے کہ جن لوگوں نے جماعت ثانیہ کروانے سے روکنے میں کوشش کی توان کی کوشش سے یہ تونہ ہواکہ سارے لوگ جماعت اولی کااہتمام کرناشروع ہوگئے ،اس کے بجائے کئی خرابیاں لازم آئیں : آٹھ آٹھ دس دس رہ جانے والےافرادایک وقت میں اکیلے اکیلے نمازپڑھ کربلاوجہ رافضیوں سے مشابہت پاتے ہیں۔اورجن بعض ائمہ نے جماعت ثانیہ سے ممانعت فرمائی تھی، ان کے دورمیں یہ مشابہت پیدا ہوناتودرکنار، لوگ جماعت اولی کی برکات سے محروم رہنے کوسخت محرومی سمجھتے تھے ،اس لیے لوگ خواہی نخواہی جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن اب یہ محرومی کاخوف لوگوں کے دلوں سے جاتارہا۔ہاں جماعت رہ جانے کی صورت میں اکیلے نمازپڑھنے پرندامت وشرمندگی ہوتی ہے، لیکن جب ان روکنے والوں کے فتوے کی وجہ سے لوگ گروہ درگروہ اکیلے اکیلے نمازپڑھیں گے ،توایک تووہ ندامت وشرمندگی بھی ختم اوردوسراآہستہ آہستہ عادت پڑجائے گی اورجماعت کی جوتھوڑی بہت وقعت لوگوں کی نظروں میں رہ گئی ہے ، وہ بھی ختم ہوجائے گی اوراس کے ساتھ ہی سستی وکاہلی بھی آئے گی ،اب تویہ ہے کہ اگرپہلی جماعت چھوٹ گئی تولوگ سوچتے ہیں کہ اتنی دیرنہ کریں کہ دوسری بھی جاتی رہے ،اورجب یہ ہوگاکہ پہلی ہوچکی اب دوسری توہونی نہیں ،اپنی اکیلی ہی پڑھنی ہے توجب جی میں آیاپڑھ لیں گے اورپھرمسجدکی بھی کیاحاجت اکیلے پڑھنی ہے ،گھرہی پڑھ لیتے ہیں ۔ اس سے پتاچلتاہے کہ جن ائمہ نے جماعت ثانیہ کی اجازت والے قول کی تصحیح فرمائی انہوں نے ایسے ہی تصحیح نہیں فرمادی ۔ان کے علوم وسیعہ اورعقول رفیعہ ہم سے لاکھوں درجے بلندوبالاہیں ،روایت ودرایت ومصالح شریعت وزمانہ وحالت کوجیساوہ جانتے ہیں دوسراکیاجانے گا۔؟” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت دیکھیے! فرماتے ہیں :”ثم اقول حال زمانہ کی رعایت اور مصلحت وقت کالحاظ بھی مفتی پرواجب ، علماء فرماتے ہیں: “( من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل ۔”( جوشخص اپنے دور کے لوگوں کے احوال سے آگاہ نہیں وہ جاہل ہے۔) اب دیکھئے کہ جماعت ثانیہ کی بندش میں کوشش وکاوش سے یہ تونہ ہوا کہ عوام جماعت اولی کاالتزام تام کرلیتے، رہا وہی کہ کچھ آئے کچھ نہ آئے، ہاں یہ ہوا کہ آٹھ آٹھ دس دس جورہ جاتے ہیں ایک مسجد میں ایک وقت میں اکیلے اکیلے نماز پڑھ کر ناحق روافض سے مشابہت پاتے ہیں،حضرات مجتہدین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانے میں ایسی مشابہت پیدا ہونا درکنار خود جماعت کی برکات عالیہ ظاہریہ وباطنیہ سے محروم رہنا ایک سخت تازیانہ تھا،جس کے ڈر سے عوام خواہی نخواہی جماعت اولی کی کوشش کرتے،اب وہ خوف بالائے طاق اور اہتمام التزام معلوم، جماعت کی جوقدرے وقعت نگاہوں میں ہے کہ اگررہ گئے اور تنہا پڑھی ایک طرح کی خجلت وندامت ہوتی ہے،جب بفتوی مفتیان یہی انداز رہے اور گروہ کے گروہ اکیلے اکیلے پڑھاکیے ،توایک تو مرگ انبوہ جشنے دارد ، دوسرے شدہ شدہ عادت پڑجاتی ہے چندروز میں یہ رہی سہی وقعت بھی نظر سے گرجائے گی اور اس کے ساتھ ہی سستی و کاہلی اپنی نہایت پرآئے گی، اب تویہ خیال بھی ہوتاہے کہ خیراگرپہلی جماعت فوت ہوئی ایسی دیرتونہ کیجئے کہ اکیلے ہی رہ جائیں اور تنہا پڑھ کرمحرومی وندامت کاصدمہ اٹھائیں، جب یہ ہوگا کہ جماعت توآخر ہوچکی اول ہوچکی اب جماعت توملنے سے رہی اپنی اکیلی نماز ہے جب جی میں آیا پڑھ لیں گے یاپھر مسجد کی بھی کیاحاجت ہے ،لاؤ گھر ہی میں سہی۔”(5) مثال نمبر 2

فی زمانہ وعظ پر اُجرت لینا جائز ہے

وعظ پراجرت لینے کے حوالے سے سوال ہوا ، تواس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے کچھ یوں فرمایا: “اصل حکم تویہ ہے کہ وعظ پراجرت لیناحرام ہے، لیکن کتنے ہی احکام زمانے کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ،اس لیے علمائے کرام نے حالات زمانہ کودیکھتے ہوئے بعض دینی کاموں پراجرت لینے کی اجازت دی ہے ،انہی میں وعظ بھی ہے،لہذااب وعظ پراجرت لیناجائزہے۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! “اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درمختار میں اسے یہود ونصارٰی کی ضلالتوں میں سے گنا،مگر” کم من احکام یختلف باختلاف الزمان، کما فی العلمگیریۃ (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔ ) کلیہ غیر مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے، ائمہ نے حالات زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیم قرآن مجید، تعلیم فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گناوبس”(6) مثال نمبر 3

مرد پر کتنا نفقہ واجب ہے

مردپرکتنانفقہ لازم ہوگااس معاملے میں بھی حال زمان ومکان کالحاظ ہوتاہے۔ اسی وجہ سے علمائے کرام نے فرمایا:” موجودہ وقت میں، اتنی آمدنی، اتنےمصارف والا، ایسے مقام پر جتنا خرچ کرتا ہو، اتنا نفقہ لازم ہوگا۔” اس حوالے فتاوی رضویہ کے ایک فتوے کااقتباس ملاحظہ کیجیے! “یہاں متعدد امور ملحوظ ہوتے ہیں: (۱) مقدار دخل۔(۲) گرانی وارزانی ۔ (۳) حال مقام، مثلاً: زیادہ سرد ممالک میں جاڑے کا سامان زیادہ درکار ہوتا ہے، معتدل میں کم، اور بلحاظ آب و ہوا غذا میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔(۴) زمانہ موجودہ میں عادتِ بلد جہاں جیسی خوراک وپوشاک معتاد و معہود ہو،مثلاً: اب عرب خصوصاً مدینہ طیّبہ میں عموماً خوش خوراکی وخوش پوشاکی معمول ہے، حالانکہ یہی عرب ایک وقت کمال سادگی وتقلل سے موصوف تھا ،اعتبار عام عوائد کا ہوگا، نہ خاص کسی بخیل یامسرف کا بعض بلاد مثلاً شاہجہانپور میں عام طورپر تیل کھاتے ہیں، پلاؤ قورمہ پراٹھے تیل کے ہوتے ہیں، ہمارے بلاد میں یہ طبعاً مکروہ اور عرفاً معیوب، تووہاں گھی کا مطالبہ نہ ہوگا یہاں ہوگا وقس علیہ، متعارف طور پر ان سب باتوں کے لحاظ کے بعد کہہ سکتے ہیں کہ اتنی آمدنی اتنے مصارف والا ایسے وقت ایسے مقام میں موسر مرفہ الحال یا معسر تنگدست یا متوسط۔۔۔اسی(ردالمحتار۔ع) میں ہے” یراعی کل وقت اومکان بمایناسبہ ” (ہر وقت یا جگہ کا اعتبار کرتے ہوئے نفقہ اس کے مناسب مقرر کیاجائےگا۔) اسی میں ذخیرہ سے ہے : ” ماذکرہ محمد علی عادتھم وذلک یختلف باختلاف الاماکن حرا وبردا و العادات فعلی القاضی اعتبار الکفایۃ بالمعروف فی کل وقت ومکان “(امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے جو ذکر فرمایا،وہ لوگوں کی عادت کے اعتبار سے ہے، اوریہ جگہوں کے گرم، سرد ہونےاور وہاں کی عادات کے اختلاف سے مختلف ہوتاہے، تو قاضی کو ہر مقام اور وقت کے لحاظ سے عرف کے مطابق کفایت کرنے والے کااعتبار کرنا ہوگا۔)(7)

(21)احوال رعایاوسلطان

ایک فقیہ کے لیےضروری ہےکہ وہ رعایااورسلطان کے حالات کالحاظ رکھتے ہوئے فتوی جاری کرے ۔

فتاوی رضویہ میں احوال رعایاوسلطان کالحاظ

مثال نمبر 1 چنانچہ جب ہندوستان میں عیسائیوں کی حکومت تھی،توامام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا” جُوٹھا ہندو یانصرانی وغیرہ کا پاک ہے یا ناپاک، اُس کے کھانے کا کیا حکم ہے، اگر کوئی کافر سہواً یا قصداً حقّہ یا پانی پی لے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ ” اس کا تحقیق کے ساتھ جواب دیتے ہوئے فرمایا: ” تو دلائل شرعیہ واحادیث صحیحہ سے ثابت ہوا کہ کافر کے جُوٹھے سے احتراز ضرور ہے اور اس باب میں یہاں نصاریٰ کا حکم بہ نسبت ہنود کے بھی سخت تر ہے کہ وجوہِ کثیرہ مذکورہ میں دونوں شریک اور نصاریٰ میں یہ امر زائد کہ یہاں ان کی سلطنت ہونے کے باعث مذہبی نفرت کی کمی میں تبدیل دین یا کم ازکم ضعف ایمان کا وہ اندیشہ بہ نسبت ہنود کہیں زیادہ ہے۔” (8) مثال نمبر 2

جج قاضیٔ شرع ہے یا نہیں

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ :جج شرعی قاضی ہے یانہیں ؟ اس کاتفصیل سے جواب دیتے ہوئے،مختلف شقوق ذکرفرمانے کے بعد فرمایا:”یہ سب احکام قاضیان سلطنت اسلامیہ سابقہ کے لئے ہیں جو اسی کا م کے لئے مقرر ہوئے تھے کہ مطابق احکام الہیہ فیصلہ کریں بخلاف حال کہ اکثر اسلامی سلطنتوں کے جن میں خود سلاطین نے احکام شرعیہ کے ساتھ اپنے گھڑے ہوئے باطل قانون بھی خلط کئے ہیں اور قاضیوں کو ان پر فیصلہ کرنے کا حکم ہے ان کی شناعت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کے خلاف حکم کرنے ہی پرمقرر ہوئے، ان اسلامی سلطنتوں کے ایسے قاضیوں کوبھی قاضیِ شرع کہنا حلال نہیں ہوسکتا ۔۔۔ بہر حال جوقاضی خلاف احکام الہیہ حکم کرتا ہو، ہر گز قاضیِ شرع نہیں ہوسکتا، جب قاضیان سلطنت اسلامیہ کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لیے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فیصلہ کریں۔”(9) مثال نمبر 3

انگریز بطورِ قسط جو روپیہ لیتے تھے ، وہ عشر و خراج نہیں

جب ہندوستان پرانگریزقابض تھے،اس دورمیں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ ” انگریز زمینداروں سے جوروپیہ بطورقسط لیتے ہیں ،وہ عشرہے یاخراج؟”اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نےجو ارشادفرمایا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ:” یہ نہ عشرہے اورنہ خراج کیونکہ شرع مطہرنے عشروخراج کے لیے جواصول وضوابط اورمقدارومواقع بیان فرمائے وہ کچھ اورہیں اورانگریزوں کے اصول وضوابط کچھ اورہیں ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت درج ذیل ہے: “عشر و خراج جو محاصل شرعیہ کے اقسام ہیں جن کے لیے شرع مطہر نے اصول و ضوابط و مواقع و مقادیر کی تقدیر فرمائی، انگریز اپنی قسطیں لینے میں اُس اصول کے پا بند نہیں، بلکہ اُن کا قانون مالگزاری جُدا ہے ” کما لا یخفی ” ( جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے ۔)”(10)


1… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۲،ص ۴۱۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۲،ص ۶۸۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ، ج ۴،ص ۵۲۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۱،ص ۶۱۷،۶۱۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۷،ص۵۴،۵۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج19،ص539،538،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۳،ص۴۶۵،۴۶۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۳۱۴،۳۱۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۸،ص۵۶۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۰،ص۲۰۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

۶۳۹،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۳،ص ۴۰۷،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)