مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(22)حفظ مصالح دین (دینی مصلحتوں کاتحفظ کرنا)

فتوی دینے کے لیے مصلحت دینیہ کالحاظ بہت ضروری ہے،یہاں تک کہ اسباب ستہ یاسبعہ کہ جن کی وجہ سے احکام میں تبدیلی آتی ہے ،ان میں سے ایک سبب “دینی ضروری مصلحت کی تحصیل “بھی ہے ۔اوراس کااپنادائرہ کاراورشرائط ہیں ۔جن کی معلومات ہونافقیہ کے لیے ازحدضروری ہے اوریہ کہاں ،کس طرح مؤثرہوگی ،اس کالحاظ ہونا بھی ضروری ہے ۔

فتاوی رضویہ میں مصالح دین کی رعایت

مثال نمبر 1

بدمذہبوں ، گمراہوں کی گمراہیوں کی اشاعت ، مصلحتِ شرعیہ ہے

فتاوی رضویہ شریف میں ہے : ”بدمذہبوں، گمراہوں سے جو اباطیل خارج از مسائل مذہب واقع ہوں ،ان کی اشاعت مصلحتِ شرعیہ ہے کہ مسلمانوں کا ان پر سے اعتبار اٹھے۔ان کی ضلالات میں بھی اتباع نہ کریں۔حدیث شریف میں ہے : اترغبون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکرواللفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ( کیا فاجر کی برائیاں بیان کرنے سے پرہیز کرتے ہو، لوگ اسے کب پہچانیں گے، فاجر میں جو برائیاں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے اجتناب کریں)۔۔۔ اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی جو ایسی لغزش ِ فاحش واقع ہو اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذ اللہ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے، تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا۔ اس کی اشاعت اشاعت ِ فاحشہ ہے۔ اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآن عظیم حرام، قال اللہ تعالی :﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-﴾ ( اللہ تعالی نے فرمایا:جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں فاحشہ کی اشاعت ہو،ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے)‘‘ (1) مثال نمبر 2

کافروں ، بدمذہبوں کے پیشواؤں کو گھر کرائے پر دینا

فتاوی رضویہ میں کافروں اوربدمذہبوں کےپیشواؤں اور واعظوں کوشراب بیچنے والوں، زناکاروں،بھانڈوں ، فاسقوں، فاجروں،کافروں اورمشرکوں وغیرہ کوگھرکرائے پردینے کے متعلق سوال ہوا،تواس کے متعلق نفس جواب دینے کے بعدارشادفرمایا: ’’ یہ جواب فقہ ہے،باقی دیانۃً اس میں شک نہیں کہ جس کی سکونت سے مسلمانوں کے عقائد یا اعمال میں فتنہ وضلال کا اندیشہ وخیال ہو، اسے جگہ دینا معاذاللہ مسلمانوں کو فتنہ پر پیش کرنا ہے،تو﴿یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ﴾ (وہ چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے۔) حقیقتاً نہ سہی اس کی طرف منجر ہے۔ ’’ وانما الدین النصح لکل مسلم ‘‘(اوردین تو سب مسلمانوں کی خیرخواہی ہی کانام ہے)‘‘(2) مثال نمبر3

گائے کی قربانی سے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کا فتویٰ

1881ءمیں گائے کی قربانی کے متعلق ایک سوال سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں پیش ہوا ،آپ نے پہلی نظر میں ہی سوال کا چُھپا ہوا مقصد معلوم کرلیا اورجواب میں مصلحت دینیہ کی رعایت پرمبنی نفیس جواب تحریرفرمایاکہ:” بعض چیزیں لعینہ واجب ہوتی ہیں اوربعض لغیرہ ۔گائے کاذبح کرنا لعینہ یعنی اپنی ذات کے اعتبارسے توواجب نہیں ہے،لیکن اس ماحول میں ہندوستان میں جب اسے جبراًبندکروایاجارہاہے،توجہاں قانوناً ممانعت نہیں وہاں یک لخت سرے سے ہی اس کے بندکرنے میں ہمارے دین کی توہین ہے ۔جوکسی صورت جائزنہیں۔” چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:”گاؤ کشی اگرچہ بالتخصیص اپنے نفس ذات کے لحاظ سے واجب نہیں،نہ اس کاتارک باوجود اعتقاد اباحت بنظر نفس ذات فعل گنہگار، نہ ہماری شریعت میں کسی خاص شے کا کھانا بالتعیین فرض، مگر ان وجوہ سے صرف اس قدر ثابت ہوا کہ گاؤ کشی جاری رکھنا واجب لعینہ، اور اس کا ترک حرام لعینہ نہیں، یعنی ان کے نفس ذات میں کوئی امران کے واجب یاحرام کرنے کا مقتضی نہیں، لیکن ہمارے احکام مذہبی صرف اسی قسم کے واجبات ومحرمات میں منحصر نہیں، بلکہ جیسا ان واجبات کاکرنا اور ان محرمات سے بچنا ضروری وحتمی ہے،یوہیں واجبات ومحرمات لغیرہا میں بھی امتثال واجتناب اشدضروری ہے، جس سے ہم مسلمانوں کو کسی طرح مفر نہیں، اوران سے بالجبر بازرکھنے میں بیشک ہماری مذہبی توہین ہے، جسے حکام وقت بھی روانہیں رکھ سکتے،ہم ہر مذہب وملت کے عقلاء سے دریافت کرتے ہیں،اگر کسی شہرمیں گاؤ کشی بند کردی جائے اور بلحاظ ناراضی ہنود اس فعل کو کہ ہماری شرع ہر گز اس سے باز رہنے کا ہمیں حکم نہیں دیتی یک قلم موقوف کیاجائے توکیااس میں ذلت اسلام متصورنہ ہوگی۔۔۔بالجملہ خلاصہ جواب یہ ہے کہ ۔۔۔۔جہاں ممانعت نہیں وہاں سے بھی بازرہنااورہنودکی بیجاہٹ بجارکھنے کے لیے یک قلم اس رسم کواٹھادیناہرگزجائزنہیں بلکہ انہیں مضرات وہذلات کاباعث ہے ،جن کاذکرہم اول کرآئے جنہیں شرع مطہرہرگزگوارانہیں فرماتی نہ کوئی ذی انصاف حاکم پسندکرسکے۔“ (3)

(23)دفع مفاسدمفسدین

(فسادپھیلانے والوں کے مفاسددورکرنا) ثابت شدہ اصول ہے کہ مفاسدکا ازالہ مصالح کوحاصل کرنے سے اہم ومقدم ہے ،لیکن یہ قاعدہ مطلق نہیں ہے، بلکہ اس میں تفصیل ہے کہ اگرمصلحت اورمفسدہ کسی مقام پرجمع ہوں،توجس کادرجہ زیادہ ہوگایعنی جوغالب ہوگااس کالحاظ رکھاجائے گااوراگردونوں ایک درجہ کے ہو ں،توپھرمفسدہ کےازالے کوترجیح ہوگی ۔ لہذاایک فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مقام پرپائی جانے والی مصلحت اورمفسدہ کے درجوں میں فرق کو پہچانتاہواورپھران میں سے کس کومقدم رکھنے کاحکم ہے اس سے بھی آگاہ ہواوراس کالحاظ بھی کرے ۔

فتاوی رضویہ میں دفع فسادمفسدین کااہتمام

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کواس فن میں کتنی مہارت تھی اورآپ علیہ الرحمۃ نے فتاوی رضویہ میں اس اصول کو کس طورپراستعمال فرمایاہے ،درج ذیل چندجزئیات سے اس کااندازہ ہوسکتاہے : مثال نمبر 1

بدمذہب یا فاسق کے پیچھے نماز نہ پڑھنے میں فتنہ ہو ، تو

عام نمازپنجگانہ میں اگرایسی صورت ہوکہ امام صرف بدمذہب یافاسق معلن ہے ، توحکم ہے کہ ان کے پیچھے نمازنہ پڑھے،تنہاپڑھ لے،کیونکہ جماعت کاحصول یہ مصلحت ہے اوردرجہ اس کاواجب ہے اوربدمذہب یافاسق معلن کے پیچھے نمازپڑھنا مفسدہ ہے اوردرجہ اس کاکراہت تحریمی ہے ،تودرجہ کے اعتبارسے دونوں مساوی ہیں اورجب مصلحت اورمفسدہ ایک درجہ کے ہوں تومفسدہ کاازالہ کرنا،مصلحت کے حصول سے اہم ہوتاہے ۔ہاں اگرموقع ایساہوکہ بدمذہب یافاسق کے پیچھے نمازنہ پڑھنے میں فتنہ ہوتا،ہوتواب پڑھ کربعدمیں دُہرا لے ،کیونکہ فتنہ کامفسدہ زیادہ ہے ۔

جمعہ میں فاسق و بدمذہب کے علاوہ امام نہ ملے تو

اسی طرح اگرجمعہ کی نمازہے اورکوئی اس(بد مذہب )کے علاوہ صالح امامت نہیں، توپڑھ لے کہ جمعہ بغیرجماعت کے ہوتانہیں اورجمعہ فرض ہے، تواس کادرجہ زیادہ ہے۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” جب مبتدع یافاسق معلن کے سوا کوئی امام نہ مل سکے،تو منفرداً پڑھیں کہ جماعت واجب ہے اوراس کی تقدیم ممنوع بکراہت تحریم اور واجب و مکروہ تحریم دونوں ایک مرتبہ میں ہیں” ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح ” (مفاسد کا دُور کرنا مصالح کے حصول سے اہم اور ضروری ہوتا ہے۔) ہاں اگر جمعہ میں دوسرا امام نہ مل سکے ،تو جمعہ پڑھیں کہ وُہ فرض ہے اور فرض اہم ۔ اسی طرح اگر اُس کے پیچھے نہ پڑھنے میں فتنہ ہو،تو پڑھیں اوراعادہ کریں کہ” الفتنۃ اکبر من القتل ” (فتنہ قتل سے بڑی برائی ہے۔) “(4) مثال نمبر 2

والد کا اپنے بیٹے کو دوسرے شہر علم حاصل کرنے سے روکنا

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ :”والداپنے لڑکے کودوسرے شہر طلب علم دین کے لیے جانے سے روکتاہے،جبکہ اس کے شہرمیں کوئی عالم نہیں ہے تووالدکاایساکرناکیساہے؟”اس کے جواب میں مختلف پہلوشمارکرتے ہوئے آخرمیں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:”اقول: (میں کہتاہوں) تحقیق مقام یہ ہے کہ اگروہاں جانے میں اندیشہ فتنہ یقینی ہے یعنی ایساظن غالب کہ فقہیات میں ملتحق بہ یقین ہے،توبلاشبہہ باپ روک سکتاہے ،بلکہ روکنالازم ہے ” فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح ” (کیونکہ مفاسد کاازالہ ، مصالح کے حصول سے زیادہ اہم ہے۔) اور اگر محض وہم ہے تومعتبر نہیں ہے اور اگرمتوسط حالت ہے، تو علم ضروری سے نہیں روک سکتا اور زائد میں نظر مختلف ہے اور معیارموازنہ مفسدہ ومصلحت ہے ” کماھو قانون الشرع والعقل فلیکن التوفیق وباللہ التوفیق ” (جیسا کہ یہ شرعی اور عقلی قانون کاتقاضا ہے، پس توفیق حاصل چاہئے اور اللہ تعالی کے کرم سے ہی حصول توفیق ہے۔)”(5) مثال نمبر 3

کسی چیز کی حرمت و حلت میں شک ہو ، تو

فتاوی رضویہ میں اشیاء کے استعمال کے متعلق ایک نفیس ضابطہ بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نےفرمایا:”جب تک خاص اس شے میں جسے استعمال کرناچاہتاہے کوئی مظنہ قویہ حظر و ممانعت کانہ پایاجائے تفتیش وتحقیقات کی بھی حاجت نہیں ،مسلمان کورواکہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے۔۔۔ ہاں! اس میں شک نہیں کہ شبہ کی جگہ تفتیش و سوال بہتر ہے، جب اس پر کوئی فائدہ مترتب ہو تا سمجھے ۔اور یہ بھی اس وقت تک ہے جب اس احتیاط وورع میں کسی امر اہم وآکد کا خلاف نہ لازم آئے کہ شرع مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مفسدہ کا ازالہ مقدم تر ہے ،مثلاً: مسلمان نے دعوت کی ، یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کہاں سے لایا، کیونکر پیدا کیا، حلال ہے یا حرام، کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے، کہ بیشک یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کر کے ایسی تحقیقات میں اسے ایذا دینا ہے خصوصا اگر وہ شخص شرعاً معظم ومحترم ہو، جیسے عالم دین، یا سچا مر شد ، یاماں باپ، یا استاذ ، یا ذی عزت مسلمان ، سردارِقوم ،تو اس نے اور بے جا کیا ،ایک تو بد گمانی ، دوسرے موحش باتیں، تیسرے بزرگوں کا ترک ادب ۔”(6) مثال نمبر 4 جمعہ کی اذانِ ثانی خطیب کے سامنے مسجد سے باہر ناممکن ہو ، تو ۔۔۔ ؟ جمعہ کی اذان میں سنت یہ ہے کہ خطیب کے سامنے ،عین مسجدسے باہراذان کہی جائے ، سائل نے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال کیاکہ بعض مساجدایسی ہیں ،جن میں صحن کے پیچھے کوئی جگہ نہیں کہ اذان دی جاسکے ، تو کیا کیا جائے ؟ اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا:یہاں دوسنتیں ہیں :ایک خطیب کے سامنے اذان دینااوردوسری :مسجدسے باہردینا۔جب دونوں میں ٹکراؤہوکہ ایک پرعمل ہوسکتاہے دوسری پرنہیں ہوسکتا،تو جوقوی ہے ،اس پرعمل کیاجائے گااورقوی سنت دوسری ہے، کیونکہ ایک تومسجدمیں اذان دینے کی ممانعت کتب میں آئی ہے، جبکہ خطیب کے سامنے اذان دینے کاحکم ہے۔اورممنوع کام سے بچنایہ مامورکوبجالانے سے اہم ہے۔ اوردوسری بات یہ ہے کہ خطیب کے سامنے اذان دینامصلحت ہے،جبکہ مسجد میں اذان دینامفسدہ ہے کہ دربارالہی کی بے ادبی ہے ،کیونکہ جب دنیاوی بادشاہ کے دربارمیں کھڑے ہوکرلوگوں کودربارمیں حاضری کے لیے بلانا بے ادبی ہے، تومالک حقیقی کی بارگاہ میں بلانے کے لیے اس کے گھریعنی مسجدمیں کھڑے ہوکربلانابدرجہ اولی بے ادبی ہوگا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظ فرمائیں! ” یہاں دو سنتیں ہیں ، ایک محاذات خطیب،دوسرے اذان کا مسجد سے باہر ہونا،جب ان میں تعارض ہو اور جمع ناممکن ہو، تو ارجح کو اختیار کیا جائے گا۔۔۔ یہاں ارجح واقوی سنت ثانیہ بوجوہ اوّلا مسجد میں اذان سے نہی ہے،۔۔۔ اور اجتنابِ ممنوع، اتیان مطلوب سے اہم واعظم ہے،۔۔۔ثانیا: محاذاتِ خطیب ایک مصلحت ہے ، اور مسجد کے اندر اذان کہنا مفسدت اور جلبِ مصلحت سے سلبِ مفسدت اہم ہے ۔ الاشباہ میں ہے ” درء المفاسداولی من جلب المصالح ” ( مفاسدکاازالہ کرنا ،مصلحتوں کے حصول سے اولی ہے ۔) وجہ مفسدت ظاہر ہے کہ دربار ملک الملوک جل جلالہ کی بے ادبی ہے، شاہد اس کا شاہد ہے دربارشاہی میں اگر چوب دارعین مکانِ اجلاس میں کھڑا ہوا چلاّئے کہ درباریو چلو سلام کو حاضر ہو، ضرور گستاخ بے ادب ٹھہرے گا ، جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ انہیں کچہریوں کو دیکھ لے کہ مدعی مدعا علیہ گواہوں کی حاضری کمرہ سے باہر پکاری جاتی ہے چپراسی خود کمرۂ کچہری میں کھڑا ہوکر چلاّئے او رحاضریاں پکارے تو ضرور مستحق سزا ہو اور ایسے امور ادب میں شرعاً عرف معہود فی الشاہدہی کا لحاظ ہوتا ہے۔”(7)

(24)علم وجوہ تجریح (جرح کرنے کے اسباب کاعلم)

احادیث نبویہ احکام فقہیہ کادوسراماخذہیں،ایک فقیہ کے لیے احکام سے متعلقہ احادیث کی معرفت بہت ضروری ہے کہ کہیں ایسانہ ہوکہ جس مسئلے کے متعلق وہ قیاس کررہاہے ،وہ مسئلہ حدیث میں ہی مذکورنہ ہواوراس کاقیاس اس کے خلاف ہوجائے ۔ اوریہ ظاہرہے کہ احادیث سے مسئلہ اخذکرنے کے لیے اس حدیث کی اسنادی حیثیت معلوم ہوناضروری ہے تاکہ اس کے مطابق اس سے حکم اخذکیاجاسکے۔ مثلا:احکام میں عام طورپرحسن لغیرہ تک احادیث معتبرہوتی ہیں،ضعیف معتبرنہیں ہوتی ،استحباب ضعیف سے بھی ثابت ہوجاتاہے ،اب یہ معلوم ہوناضروری ہے کہ جس سے حکم اخذکیاجارہاہے ،اس کی اسنادی حیثیت کیاہے ۔اس کے لیے اسباب جرح معلوم ہوناضروری ہے۔ کیونکہ بسااوقات ایک چیزکوجرح کے طور پر ذکر کیاجاتاہے لیکن درحقیقت وہ جرح نہیں ہوتی۔ نیزاسی طرح کتب احادیث وفقہ میں کسی کی روایت یاقول نقل کرتے وقت الفاظ کیسے ذکرکیے گئے ہیں،آیاوہ الفاظ مشیرضعف ہیں یانہیں،ان کی معلومات ہونابھی ضروری ہے ،کیونکہ بعض ایسے الفاظ ہیں ،جوضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں اورانہیں استعمال کرنے کامقصدیہ خبردیناہوتاہے کہ یہ روایت یاقول معتبرنہیں ہے ۔جیسے لفظ:قیل،اورصیغہ مجہول وغیرہ ۔ اسی طرح جس کتاب میں کسی کی طرف کوئی قول منسوب کیا گیاہے،وہ کتاب معتبرہے یا نہیں،اس کی معلومات ہونابھی ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کاعلم وجوہ تجریح

فتاو ی رضویہ سے چندمثالیں

مثال نمبر 1

لفظِ ”کذب“ کبھی خطا کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے

جوبات جرح کے طورپرپیش کی گئی اوردرحقیقت وہ جرح نہیں تھی، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ:لفظ ” کذب “جس کالغوی مطلب : “جھوٹ”ہے ،یہ کبھی خطاکے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لہذاکسی کے متعلق کتب میں اگریہ ملے کہ اس نے کذب کہا۔یاوہ کذاب ہے، توضروری نہیں کہ وہ جھوٹ کے معنی میں ہو،بلکہ وہ خطاکے معنی میں بھی ہوسکتاہے ،لہذاجب تک اس کی وضاحت نہ ملے ،راوی کوجھوٹااورمجروح نہیں کہاجاسکتا۔ فتاوی رضویہ میں ہے” وقال الامام النووی فی التقریب لایقبل الجرح الامبین السبب،قال الامام السیوطی فی التدریب لان الناس مختلفون فی اسباب الجرح فیطلق احدھم الجرح بناء علی مااعتقدہ جرحا ولیس بجرح فی نفس الامر، قال ابن الصلاح وھذا ظاھر مقرر فی الفقہ واصولہ وذکرالخطیب انہ مذھب الائمۃ من حفاظ الحدیث کالشیخین وغیرھما ثم ذکر امثلتہ الی ان قال قال الصیر فی وکذا اذا قالوا فلان کذاب لابد من بیانہ لان الکذب یحتمل الغلط کقولہ کذب ابومحمداھ وکتبت علیہ وکذٰلک قول ابن مسعود وحذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنھما فی دوران السماء کذب کعب، و قد شبہ ھشام بن عروۃ ومالک واجلۃ علی محمد بن اسحٰق انہ کذاب، وحافوا علیہ ثم لم یذکروا الا ما لا یثبت بہ کذب ولاالمرام بہ اصلا “(ترجمہ:اورامام نووی علیہ الرحمۃ نے تقریب میں فرمایا:جرح صرف اسی صورت میں قبول ہوگی جبکہ اس کاسبب بیان کردیاجائے ۔امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے التہذیب میں فرمایا:یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ اسباب جرح میں مختلف ہیں چنانچہ ایک شخص اپنے اعتقاد کے مطابق کسی شے پر جرح کااطلاق کرتاہے حالانکہ فی الواقع وہ جرح نہیں ہوتی۔ ابن الصلاح نے کہا کہ: یہی فقہ اور اصول فقہ میں ظاہرومقررہے۔اور خطیب نے ذکرکیا ہے کہ: یہی مذہب ،ائمہ حفاظ حدیث جیسے بخاری، مسلم اور ان کے علاوہ دیگرائمہ کا ہے ۔پھر اس کے بعد مثالیں ذکرفرمائیں، یہاں تک کہ فرمایا :امام صیرفی نے کہا:اور اسی طرح جب محدثین کہیں کہ:” فلان کذاب “(فلاں بہت جھوٹا ہے) تو اس کا بیان کرنا ضروری ہے،کیونکہ کذب (جھوٹ) غلطی کا بھی احتمال رکھتاہے (یعنی شاید اس کی مراد کذاب اور کذب سے غلطی ہو یعنی وہ بہت غلط گوہے) جیساکہ قائل کا کہنا کہ: ابومحمد نےکذب کہا اھ”(اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔ع) اور میں نے اس پرلکھاہے ،یونہی ابن مسعود اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہم ا کا گردش آسمان کے متعلق کعب کے بارے میں فرمانا: ” کذب کعب ” (یعنی کعب نے غلط کہا) اور یہ مطلب نہیں کہ اس نے جھوٹ کہا، چنانچہ ہشام بن عروہ، مالک اور دوسرے جلیل القدر لوگوں نے محمد بن اسحق کے کذاب ہونے پر شبہ کا اظہار فرمایا، لیکن انہوں نے اس پر زیادتی کی۔ پھر انہوں نے اپنے قول کی وجوہات میں ایسے امور ذکرکیے، جن سے اس کا کذب ثابت نہیں ہوتا اور نہ اس سے اصلاً مقصد حاصل ہوتاہے۔ “(8) مثال نمبر 2

سبب بیان کیے بغیر کی گئی جرح مقبول نہیں

فقہاء اورمحدثین کے درمیان اسباب جرح و تعدیل میں اختلاف ہوتا ہے ، اس سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے۔جیسا کہ احناف کے نزدیک کسی سے فقط ایک شخص کاروایت کرنایہ سبب جرح نہیں خصوصاتابعین میں ،جبکہ محدثین کےنزدیک یہ سبب جرح ہے کہ ایساشخص مجہول شمارہوتاہے ۔چنانچہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ایک راوی کے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے اس اختلاف کاذکریوں فرماتے ہیں : ” ابوکریب سے عوام بن حوشب تک سب اجلہ مشاہیر ثقہ عدول، رجال جملہ صحاح ستہ سے ہیں اور ازہر بن راشد رجال سنن نسائی وتابعین سے ہیں، ان پر کسی امام معتمد سے کوئی جرح ثا بت نہیں اور یہ کہ ان سے راوی صرف عوام بن حوشب ہیں، جس کی بناء پر تقریب میں حسب اصطلاح محدثین مجہول کہا ہمارے نزدیک اصلا جرح نہیں خصوصا تابعین میں۔ مسلم الثبوت میں ہے:” لاجرح بان لہ راویا واحدا وھو مجھول العین ( ملتقطا )” (یہ کوئی جرح کی بات نہیں کہ اس سے ایک ہی شخص نے روایت کی ہے۔اوراسے مجہول العین کہتے ہیں۔) فواتح الرحموت میں ہے: ” وقیل لایقبل عندالمحدثین وھو تحکم “( اور کہاگیاہےکہ ایسا راوی محدثین کے نزدیک مقبول نہیں اور یہ نری زبردستی ہے۔) (9) مثال نمبر 3

کتاب کا غیر معتبر ہونا سببِ جرح ہے

اسباب جرح میں سے ایک سبب کتاب کاغیرمعتبرہونابھی ہے کہ جب کتاب معتبرنہ ہو،تواس کی نقل کابھی اعتبارنہیں ہواکرتا،غیرمعتبرکتابوں میں سے ایک قنیہ ہے ،اس کے متعلق علمائےکرام نے اصول بیان فرمایاہے کہ اگریہ مشہورکتابوں یاقواعدکی مخالفت کرے ،تواس کی بات معتبرنہیں ہوگی ،جب تک کہ اس کی تائیدمیں کوئی اورمعتمدنقل نہ پائی جائے ۔ چنانچہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سفرحج پرتھے کہ مکہ مکرمہ زادھااللہ شرفاوتعظیما میں اس وقت کے اہل عرب علماء ومفتیان اہلسنت نے آپ علیہ الرحمۃ کے سامنے یہ مسئلہ رکھاکہ کاغذی نوٹ جوابھی تازہ رائج ہواہے،اس کے متعلق شریعت مطہرہ کیا کہتی ہے کہ یہ مال ہے یادستاویزاوراس کی خریدوفروخت کرنااوروہ تمام کام اس سے بجالانا،جومال کے ساتھ بجالائے جاتے ہیں ،درست ہے یانہیں ؟انہوں نے اسی طرح کےچندسوالات تحریرکرکے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے ان کے جوابات کامطالبہ کیا۔توآپ علیہ الرحمۃ نے اپنی فقیہانہ شان کامظاہرہ کرتے ہوئے نوٹ کےمال متقوم ہونے،اس کی خریدوفروخت وغیرہ کےجائزہونےسے متعلق تحقیقی دلائل پرمشتمل عربی میں ایک تحقیقی رسالہ بنام ” کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم “تحریرفرمایا، جسے دیکھ کر بڑے بڑے عرب علماء انگشت بدنداں رہ گئے ۔ اس پرکسی نے اعتراض کیاکہ : ” ردالمحتارمیں ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ ” بیع درست ہونے کے لیے مبیع کی قیمت کم ازکم ایک پیسہ ہوناضروری ہے۔ “جبکہ نوٹ کاغذکاایک ٹکڑاہے اوراس کی قیمت ایک پیسہ نہیں ہے۔” امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے مختلف اندازسے اس کاجواب ارشادفرمایااورپھراس کےبعد فرمایا:”اس مسئلے کی اصل قنیہ ہے کہ ردالمحتارمیں یہ مسئلہ بحرکے حوالے سے مذکورہے اوربحرمیں قنیہ کے حوالے سے مذکورہے اورقنیہ کے متعلق مشہورہے کہ اس میں ضعیف روایتیں ہوتی ہیں اورعلمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ قنیہ جب مشہور کتابوں یاقواعدکی مخالفت کرے ،تواس کی بات مقبول نہیں ،جب تک اس کی تائیدمیں کوئی اورمعتبرنقل نہ پائی جائے اور رہا ردالمحتار اور بحر وغیرہ کانقل کرنا،تواس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا،کیونکہ ان سب کامنتہی قنیہ ہے اورمنتہی جب ایک ہو،تو نقول کی کثرت سے فائدہ نہیں ہوتا۔قنیہ اس بات کوبیان کرنے میں منفردہے ، لہذایہ مسئلہ غریب ہے،جس کااعتبارنہیں اورصرف غریب ہی ہوتا،توروایت شاذہ کی طرح ہوتا جبکہ یہ تومنکرکی طرح ہے کہ اس معاملے میں قنیہ نے اپنے سے بڑوں کی مخالفت کی ہے ،ایک نہیں دومخالفتیں ہیں : ایک مخالفت کتب مشہورہ کی اوردوسری مخالفت قواعد شرع کی ۔” اب امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی عبارت پیش کی جاتی ہے ،جس میں یہ ساری ابحاث بیان ہوئیں اورقنیہ کی دومخالفتیں بھی بیان ہوئیں،امام اہلسنت رحمہ اللہ کی عبارت عربی میں ہے ،اس کے ترجمہ پراکتفاکرتے ہیں ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں! “اصل اس مسئلہ کی قنیہ سے ہے ،ردالمحتار نے اسے بحر سے نقل کیا اور بحر نے قنیہ سے اور ان کے شاگرد علامہ غزی نے ان کی متابعت کی۔۔۔۔قنیہ مشہور ہے کہ اس کی روایتیں ضعیف ہوا کرتی ہیں اور علماء نے تصریح فرمائی کہ قنیہ جب مشہور کتابوں کی مخالفت کرے ،مقبول نہ ہوگی، بلکہ نص فرمائی ہے کہ قنیہ اگر قواعد کی مخالفت کرے ،تو مقبول نہ ہوگی،جب تک اس کی تائید میں کوئی اور نقل معتمد نہ پائی جائے اور اعتبار منقول عنہ کا ہوتا ہے، نہ ناقل کا اور نقلوں کی کثرت سے مسئلہ کی غرابت دفع نہیں ہوتی جبکہ ایک ہی منقول عنہ ان سب کا منتہی ہو ۔۔۔۔ وہ صرف غریب ہی ہوتا، تو حدیث شاذ کے مثل ہوتا، مگر یہ تو مثل حدیث منکر کے ہے، اس لیے کہ دونوں مخالفتیں اس کی نقد وقت ہیں، کتب مشہورہ کی بھی مخالفت اور قواعد شرع روشن کی بھی مخالفت ،پہلی مخالفت کے ثبوت کو یہی بس تھا کہ فتح القدیر اور شرنبلالی اور طحطاوی اور ردالمحتار وغیرہ معتمد کتابوں میں فرمایا: اگر ایک کاغذ ہزار روپے کو بیچا،تو جائز ہے،تو اللہ تعالی انہیں بھلائی اور اس سے زیادہ جزادے کہ انہوں نے کاغذ میں تائے وحدت بڑھادی ( یعنی ایک کاغذ) لیکن یہاں تو ایک اور چیز ہے نہایت جلیل وعظیم کہ نہ رد ہوسکے، نہ اس پر کوئی آنکھ اٹھاسکے، نہ اوہام اس کی گرد پائیں، اور وہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ائمہ نے ان روایات میں جوان سے متواتر و مشہور ہیں اجماع فرمایا ہے اور متون و شروح و فتاویٰ مذہب کا اتفاق ہے کہ ایک چھوہارہ دو چھوہاروں کو اور ایک اخروٹ دو اخروٹوں کو بیچنا جائز ہے اورفتح القدیر و درمختار میں یہ بھی زائد کیا کہ دو سوئیوں کے بدلے ایک سوئی ، اور ہر شخص جانتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز ایک پیسہ کی نہیں ہوتی، ہمارے شہروں میں معقول گنتی کے چھوہارے ایک پیسہ کے ہوتے ہیں اور یہاں اور بھی سستے ہیں اور ایسے ہی اخروٹ ہمارے شہروں میں زیادہ ارزاں ہیں اور ہندوستان میں ایک پیسہ کی آٹھ سے لے کر پچیس سوئیاں ملتی ہیں،تو اس مسئلہ قنیہ کی یہ صریح مخالفت ہے، تمام کتب مشہورہ ،بلکہ نصوص جمیع ائمہ مذہب سے۔‘‘(10) مثال نمبر 4

صیغۂ تمریض و تضعیف سببِ جرح ہے

اسباب تجریح میں سے ایک سبب کسی قول کوصیغہ تمریض وتضعیف سے روایت کرنابھی ہے، جیسے لفظ” قیل ” اورلفظ ” عن “وغیرہ سے۔ فتاوی رضویہ میں ایک قول کامختلف طریقوں سے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ’’ سادساً :وہ بیچارہ خود بھی اس حکایت کو بلفظ ” عن ” کہ مشیر غرابت وتمریض ہے ،نقل کرتا۔‘‘(11) مثال نمبر 5 ایک مقام پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ کسی قول کاضعف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” عبارت عالمگیری جوامداد المسلمین میں نقل کی، اس کے شروع میں لفظ” قیل ” واقع ہے، اصل عبارت یوں ہے : ’’ قیل: الشقراق لایوکل والبوم یوکل “یہ لفظ اس قول کے ضعف پر دلیل ہوتاہے، اور یہ بتاتا ہے کہ اس کی طرف بعض گئے ہیں، اکثر علماء خلاف پر ہیں۔(12) مثال نمبر 6

صیغہ مجہول سے ذکر کرنا بھی سببِ جرح ہے

صیغہ مجہول سے ذکربھی سبب جرح ہے ۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:’’ یروی عن ایوب معضل ہے اورمعضل ملاجی کے نزدیک محض مردودومہمل اوروہ بھی بصیغہ مجہول کہ غالبامشیرضعف ہے،توایسی تعلیق حدیث مسندمتصل کے کب معارض ہوسکتی ہے ۔‘‘(13)


1… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۹،ص ۵۹۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۹،ص۴۴۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۱۴،ص ۵۵۳،۵۵۸،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۶،ص۶۳۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۳،ص۷۰۴،۷۰۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۵۱۴،۵۲۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۸،ص۴۰۵تا۴۰۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۳،ص۶۶۰،۶۶۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۴،ص۴۹۹،۵۰۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۱۷،ص ۴۱۵تا۴۱۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۹،ص۲۵۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۲۰،ص ۳۱۳،۳۱۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 13… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۵،ص۲۹۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور)