مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(25)اسباب ترجیح

کتب فقہ میں بہت دفعہ ایک سے زائد اقوال درج ہوتے ہیں اوربسا اوقات الفاظ تصحیح وافتاء بھی دونوں طرف ہوتے ہیں ،اب ان میں سے کس کوکس پرترجیح دی جائے گی ،اس کے حوالے سے فقہائےکرام نے باقاعدہ اصول مرتب فرمائے ہیں ،ان کی معلومات ہونافقیہ کے لیے ازحدضروری ہے تاکہ بوقت ترجیح وہ ان کومدنظررکھ کر فیصلہ کرسکے ۔ اوریہ انتہائی مشکل امرہے، کیونکہ اس کے لیے مختلف اقوال سے متعلق کتب فقہ میں موجوداقوال فقہاء کی چھان بین کرنی ہوتی ہے کہ کس قول کے متعلق فقہائے کرام نے کیافرمایا۔کس کس فقیہ نے کون سے قول کواختیارفرمایا۔اورالفاظ ترجیح ہیں،توان الفاظ کاکیامرتبہ ہے اورترجیح دینے والے کاکیامرتبہ ہے ۔پھران کے متعلق متون ،شروح اورفتاوی میں کیاکیادرج ہے ۔وغیرہ وغیرہ ۔

اسبابِ ترجیح کی معرفت پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اس علم میں بھی انتہائی مہارت رکھتے تھے،آپ علیہ الرحمۃ نے فتاوی رضویہ میں کئی مقامات پراس کااستعمال فرمایاہے،ان میں سے چند جزئیات درج کیے جاتے ہیں۔ مثال نمبر 1 ایک مقام پرقول صاحبین کے مقابل قول امام اعظم علیہم الرحمۃ کی ترجیح واضح کرتے ہوئے فرمایا:’’ممارس فن جب بنگاہ امعان ہمارے اس تلخیص عبارت و تحسین اشارت پر نظر کریں، تو ان شاءاللہ تعالی اس پر مہر نیمروز و ماه نیم ماہ کی روش روشن و بین ہوگا کہ یہاں مذہب امام با وجوہ کثیرہ اور اقوال پر جواس کے مخالف ومنافی ہیں ترجیح واضح رکھتا ہے،اگر چہ وہ بھی مذیل بالافتاء والتصحیح ہوں کہ مطلقاً اختلاف فتوی مستلزم تعادل واستوا ءنہیں۔ اولاً: عامہ متون نے اس پر جزم کیا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ متون شروح اور شروح فتاوی پر مقدم ہیں۔’’ وهذا يعرفه كل من له معرفة في الفقه ‘‘( یعنی اس کو فقہ کی معرفت رکھنے والا ہر ایک جانتا ہے۔) ثانیاً:یہ قول ،قول امام ہے اور ہم قول امام سے عدول نہیں کرتے ،جب تک کوئی ضرورت یا ضعف حجت نہ ہو اور یہاں ضُعف کیسا؟۔۔۔۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام نہ ترک کیا جائے،اگرچہ مشائخ دوسرے قول پر فتوی دیں، چہ جائے آنکہ جمہور اکابر کا فتوی اسی طرف ہو، پھر اسے مہجور کیاجائے ۔ ثالثا: جمہور صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے،یہاں تک کہ قریب اجماع کہا گیا :’’ ولاشك ان قـول الـجـمـهـور الـذيـن مـنـهـم امـامنا خير لنا من بعض ليـس هومنھم ۔‘‘(اوراس میں شک نہیں کہ جمہور ،جن میں ہمارے امام بھی ہوں، وہ ہمارے لیے بہتر ہیں، ان لوگوں کے مقابلہ میں،جو جمہور میں شامل نہ ہوں۔) رابعاً:خودحضورسرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں حدیث مروی ہے، بخلاف اور مذاہب کے کہ وہاں حدیث مرفوع کا نام بھی سننے میں نہ آیا۔ خامساً: قول امام پر فتوی دینے والے اجلہ ائمہ، مالکان ازمہ ترجیح وافتاء، معروفین بالاتفاق ، مشارالیہم بالبنان ہیں،جیسے امام ابواللیث سمرقندی وامام محقق برہان الدین مرغینانی وامام ظہیر الدین مرغینانی وامام افتخار الملۃوالدین طاہر بن بخاری وغیرہم من الجلۃ الاکابررحمۃ اللہ علیہم اجمعین بخلاف مذہب صاحبین کہ اس پر فتوی غالباً بالفاظ نکارت و ابہام منقول ہوا:’’ من الناس من افتى بقولهما ‘‘(بعض لوگوں نے صاحبین کے قول پرفتوی دیا ہے)۔ دوسری جگہ ہے:’’ قول بعضهم به یفتی ‘‘(ان میں سے بعض کاقول :اسی پرفتوی دیاجائے گا ۔ ) شرح کنز عینی میں ہے:’’ بہ یفتی بعضهم ‘‘(اسی پر بعض فتوی دیتے ہیں۔) خلاصہ و بزازیہ میں ہے: ’’ بعض العلماء اخذوا بقولهما ‘‘ (بعض علماء نے صاحبین کا قول لیا ہے)۔ شاید یہی وجوہ ہیں کہ جس قدر کتابیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں، ان میں یہ تو بکثرت ہے کہ صرف قول امام پر فتوی نقل کیا اور قول صاحبین کو ترجیح سے معری رکھا اور اس کا عکس ہرگز نہ فرمایا ،جس سے ظاہر کہ علماء قول صاحبین پر مطمئن نہیں،رہےتبیین کا حکم’’بقولهما یفتی‘‘ (صاحبین کے قول پر ہی فتوی دیا جائے گا۔) سو ان اکابر اساطین مذہب اور فاضل زیلعی میں جو فرق ہے، کسے معلوم نہیں۔ سادساً :جمہور کا فتوی اسی طرف ہے:’’ لما مر ان قد جعل الفتوى عليه في عامۃ المعتبرات ‘‘ ( یعنی جیسا کہ گزرا کہ عام معتبر کتب میں اس پر فتوی جاری ہوا۔) اور قول جمہور ہمیشہ منصور وغیر مہجور۔‘‘ سابعاً:اس قول پر فتوی دینے والے ایک امام علامہ فخر الملۃ والدین حسن بن منصور اوزجندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہیں اور یہ امام فارس میدان ترجیح و تصحیح ہیں، جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پر مقدم ہے، ان کے فتوی سے عدول نہ کیاجائے۔ اب تو بحمداللہ عرش تحقیق مستقرہو گیا کہ اس مسئلہ میں قول امام بلاشبہ امام الاقوال واقوی الاقوال ہے،جس سے بلا ضرورت ہرگزتجاوزنہ چاہیے۔(1) مثال نمبر 2

کسی قول کومدلل کرنادلیل ترجیح ہے

ایک مقام پرفرماتے ہیں :”امام علامہ فقیہ النفس مالک التصحیح والترجیح فخر الملۃ والدین قاضی خان اوزجندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے فتاوٰی میں روایت صحت پر جزم کیا اور اسی کے ذکر پر اقتصار فرمایا دوسری روایت نقل بھی نہ فرمائی اور اسی روایت کو مدلل و مبرہن کیا۔۔۔اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول پر اقتصار کرنا اس کے اعتماد کی دلیل ہے ۔۔۔اور یہ بھی تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول کو مدلل و مبرہن کرنا بھی اس کی ترجیح کی دلیل ہے۔”(2) مثال نمبر 3

آیت کا قلیل حصہ جنبی و حائضہ کے لیے پڑھنے سے متعلق اختلاف

کسی آیت کا اتنا قلیل حصہ کہ عرفاً اس کے پڑھنے کو قراءت قرآن نہ سمجھا جاتا ہو اور اس کے پڑھنے سے ایک آیت کی قراءت والا فرض بھی ادا نہ ہوتا ہو،اتنے حصے کو جنب و حائض کے لیے بہ نیت قرآن پڑھنے میں اختلاف ہے،امام کرخی منع فرماتے ہیں اور امام طحاوی اجازت دیتے ہیں۔اوردونوں طرف ہی تصحیح ہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ان دونوں کاذکرکرنے کے بعدممانعت والے قول کی ترجیح اورپھراس کےاسباب ترجیح شمارکرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”یہ دو قول مرجح ہیں، اقول: اور اول یعنی ممانعت ہی بوجوہ اقوی ہے۔ اوّلاً :اکثر تصحیحات اُسی طرف ہیں۔ ثانیا: اُس کے مصححین کی جلالت قدر جن میں امام فقیہ النفس جیسے اکابر ہیں جن کی نسبت تصریح ہے کہ اُن کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے۔ ثالثا: اُسی میں احتیاط زیادہ اور وہی قرآن عظیم کی تعظیم تام سے اقرب۔ رابعا: اکثر ائمہ اُسی طرف ہیں اور قاعدہ ہے کہ العمل بما علیہ الاکثر ( عمل اسی پرہوگا جس پر اکثر ہوں) خامسا :اطلاق احادیث بھی اُسی طرف ہے کہ فرمایا جنب وحائض قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ سادسا:خاص جزئیہ کی تصریح میں امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالی وجہہ کا ارشاد موجود کہ فرماتے ہیں:’’ اقرؤا القراٰن مالم یصب احدکم جنابۃ فان اصابہ فلا ولا حرفا واحدا ‘‘(قرآن پڑھو جب تک جنابت طاری نہ ہواورجنابت طاری ہو،تو قرآن کا ایک حرف بھی نہ پڑھو) سابعا: وہی ظاہر الروایۃ کا مفاد ہے۔۔۔ بخلاف قولِ دوم کہ روایت نوادر ہے۔ ثامنا :قوت دلیل بھی اسی طرف ہے، تو اسی پر اعتماد واجب۔“(3) مثال نمبر 4 فتاوی رضویہ میں ایک مقام پرایک قول کی ترجیح اوراس کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”بالجملہ یہ خلاف نوادر دہر سے ہے اور راہ تطبیق ہے یا ترجیح۔اگر ترجیح لیجئے فاقول وہ تو سردست بوجوہ قول دوم کے لیے حاضر۔ اولاً : اسی پر متون ہیں۔ ثانیا : اسی طرف اکثر ہیں ’’ وانما العمل بما علیہ الاکثر ‘‘ (عمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں) ثالثاً : اسی میں احتیاط بیشتر اور امر عبادات میں احتیاط کا لحاظ اوفر۔ رابعاً : اس کے اختیار فرمانے والوں کی جلالتِ شان جن میں امام اجل فقیہ ابواللیث سمرقندی صاحب حصرو امام ملک العلما ابو بکر مسعود کا سانی وامام اجل نجم الدین عمر نسفی وامام علی بن محمد اسبیجابی ہردو استاذ امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ وخودامام اجل صاحبِ تجنیس وہدایہ وامام ظہیر الدین محمد بخاری وامام فقیہ النفس قاضی خان و امام محقق علی الاطلاق وغیرہم ائمہ ترجیح و فتوے بکثرت ہیں اور قول اول کی طرف زیادہ متاخرین قریب العصر۔‘‘(4)

(26)مناہج توفیق ومدار ک تطبیق

(اقوال میں موافقت ومطابقت پیداکرنے کے طریقے) مناہج:طریقے وغیرہ۔(5) توفیق:موافق کرنا۔(6) مدارک:یہ یہاں مناہج کے ہی معنی میں استعمال ہوا ہے ،جیسے تطبیق اورتوفیق دونوں ہم معنی ہیں ۔ تطبیق:مطابق کرنا۔برابرکرناوغیرہ(7) جب دویااس سے زائداقوال آپس میں متعارض (ٹکرارہے )ہوں،توایسی صورت میں حتی الامکان کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کی اس اندازسے تشریح وتوضیح کی جائے کہ دونوں اپنے اپنے محل پردرست ثابت ہوں اوران کاتعارض ختم ہوجائے ،اسے توفیق وتطبیق کانام دیاجاتاہے ۔ فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ اسے بظاہرمتعارض نظرآنے والے اقوال میں تطبیق اورتوفیق کرنے پرمہارت ہو،کون سے طور،طریقوں سے اقوال میں تطبیق دینی ہے،ان کی معلومات ہو ۔ کیونکہ کئی دفعہ کسی مسئلہ سے متعلق عباراتِ فقہاء مختلف نظرآتی ہیں ،جبکہ درحقیقت سب کا مقصود ایک ہی ہوتاہے ،ایسے میں اگرفقیہ کو تطبیق وتوفیق دینےپرمہارت نہ ہوگی،تووہ ان کومختلف اقوال سمجھے گااورنتیجہ درست نہ آئے گا۔ اوریہ بڑی دِقت نظری اوروسعت علمی کامتقاضی ہے کہ اس کے اندرتمام اقوال کے ایسے معانی بیان کیے جاتے ہیں، جن کے باعث تمام اقوال اپنے محمل پردرست قرار پاتے ہیں ۔

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اس پر مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کواس علم پروہ مہارت تھی کہ اس میں بھی آپ بے مثل نظرآتے ہیں ۔ مثال نمبر 1

جنازے کے علاوہ میت کے لیے کھڑے ہوکر دعا کرنا

میت کے لیے جنازے کے علاوہ دعاکرنے کے لیے کھڑے ہونے سے کتب فقہ میں ممانعت آئی، لیکن اس کے لیے مختلف کتب میں عبارتیں مختلف تھیں ۔ بعض میں مطلقادعاکےلیے کھڑے ہونے کی ممانعت آئی ،نمازجنازہ سے قبل یابعدکی کوئی تخصیص نہیں،جیساکہ جامع الرموزکے الفاظ ہیں :’’ لایقوم داعیالہ ‘‘ (میت کے لیے دعاکرنے کے لیے کھڑانہ ہو۔) اوربعض میں نمازجنازہ کے بعدکی تخصیص آئی۔جیساکہ ذخیرہ کبرٰی،محیط وقنیہ میں ہے:’’ لایقوم بالدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ ‘‘(نمازجنازہ کے بعددعاکے لیے کھڑانہ ہو۔)اورکشف الغطاء میں ہے:’’ قائم نشودبعدازنمازبرائے دعاکذافی اکثرالکتب ‘‘ترجمہ:نمازکے بعددعاکے لیے کھڑانہ ہو،اسی طرح اکثرکتب میں ہے۔ اوربعض عبارات میں نمازجنازہ سے پہلے کی بھی ممانعت آئی ۔چنانچہ کشف الغطاء میں ہے :’’ و پیش از نماز نیز بدعانہ ایستد زیراچہ دعامیکند بدعائیکہ او فرو اکبر است ببودن دعایعنی نماز جنازہ کذافی التجنیس ‘‘( اور نماز سے پہلے بھی دُعا کے لیے نہ کھڑا ہو، اس لیے کہ اسے وہ دعا کرنی ہے ،جو اس دعا سے زیادہ وافراوربڑی ہے یعنی نمازِ جنازہ، ایسا ہی تجنیس میں ہے۔)‘‘اوراس ممانعت کی علت بھی مختلف کتابوں میں مختلف آئی ،چنانچہ محیط وقنیہ وغیرہ میں ہے کہ نمازجنازہ میں اضافہ کاشبہ ہوسکتاہے ۔کہیں یہ ہے کہ ایک باردعا کرچکااب مزیدنہ کرے۔کہیں ہے کہ اس سے افضل دعا کرے گا۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ جب اپنی نظر فقیہانہ کوجولان دیتے ہیں اورتطبیق وتوفیق کی راہ اختیارفرماتے ہیں، تواس طورپرتشریح وتفصیل بیان فرماتے ہیں کہ ہرعبارت اپنے محل پردرست بیٹھتی ہوئی نظرآتی ہے اوراس سے قبل اختلاف عبارات وعلل سے جوذہن میں خلل آتاتھا،وہ دورہوجاتاہے۔چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جن عبارات میں یہ وجہ بیان ہوئی کہ ایک باردعاکرچکاہے ،اب مزیددعاکے لیے نہ کھڑاہویاآئندہ اس سے افضل دعاکرے گا،لہذانمازجنازہ سے پہلے دعاکے لیے نہ کھڑاہو،ان عبارات میں کھڑاہونے سے مراد’’دیرکرناہے‘‘یعنی اتناقیام نہ کرے کہ تجہیز میں اس کی وجہ سے تاخیرہوکہ شرعاجتنی دعاضروری تھی ،وہ ہوچکی یاہونے والی ہے،اس کے علاوہ کے لیے تدفین سے نہ روکیں ۔اب جنہوں نے مطلقاًکھڑے ہونے سے منع کیا،جیسے:محیط،قنیہ میں تھایاقبل وبعددونوں صورتوں میں کھڑے ہونے کی ممانعت کی تھی ،اس اعتبارسے ان کی عبارات بالکل برمحل ہیں کہ جنازہ ہونے سے پہلے کاوقت ہویابعدکا،جنازہ کے لیے کسی اوردعاکے لیے اتناطویل قیام نہ کیاجائے کہ اس کی وجہ سے تدفین میں تاخیرہو۔ اورجن عبارات میں یہ علت بیان ہوئی کہ جنازہ کے بعددعاکے لیے کھڑے ہونے میں نماز جنازہ میں اضافہ کاشبہ ہے ،وہاں بعدسےمرادبعدیت متصلہ ہے یعنی فوراًکھڑانہ ہواورکھڑاہونے سے وہ کھڑاہونا،مرادہے جوبیٹھنے کے مقابل ہے ،جس کامطلب یہ ہوا کہ نماز جنازہ کے فوراًبعداگربیٹھ کریاصفیں توڑکردعامانگے ،توحرج نہیں کہ اب نماز جنازہ میں اضافہ کاشبہ نہیں ہوسکتا۔ اب امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجئے :”اقول :عامہ کتب میں یہ عامہ اقوال ہرگز اطلاق وارسال پر نہیں کہ بعد نماز جنازہ مطلقاً دعا کو مکروہ لکھتے ہیں، اور کیونکر لکھتے کہ خود حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وائمہ سلف وخلف کے اقوال وافعال کثیرہ متواترہ اورخود انہیں فقہاء کی تصریحاتِ وافرہ وکلماتِ متظافرہ ۔ خلاصہ یہ کہ نصوصِ شریعت و اجماعِ اُمّت اس تعمیم واطلاق کے رَد پر شاہد عدل ہیں،۔۔۔ہاں انہوں نے تقیید کی اور کاہے سے کی، بلفظِ قیام یعنی یہ کہا کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے لیےقیام برائے دعا نہ کرے، نہ یہ کہ بعد نماز جنازہ دعاہی نہ کرے۔ جامع الرموز میں ہے :’’لایقوم داعیا لہ‘‘( میت کے لیے دعا کرتے ہوئے نہ ٹھہرے۔)ذخیرہ کبرٰی و محیط وقنیہ میں ہے :’’ لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ ‘‘ (نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے لیے نہ ٹھہرے۔)کشف الغطاء میں ہے:’’ قائم نشود بعد ازنماز برائے دعا کذا فی اکثرالکتب ‘‘(نماز کے بعد دُعا کے لیے نہ ٹھہرے، ایسا ہی اکثر کتابوں میں ہے۔) اُسی میں منقول ہے:’’منع درکتب بلفظ قیام واقع شدہ‘‘ (کتابوں میں ممانعت لفظِ قیام کے ساتھ آئی ہے۔)تو مانع مطلق اگر ان اقوال سے استدلال کرے، صریح مخالف سے تمسک واستناد کرے گا ۔۔۔آخر قیام میں کیا خصوصیت ہے کہ اس کا انضمام دعائے میّت کو کہ شرعاً مطلوب و مندوب تھی ،مکروہ و معیوب کردے گا۔اب نظر نے ان سب احتمالات کو ساقط پاکر اتنا تو جزم کرلیا کہ کوئی معنی خاص مقصود ہے، جو مناط و منشاء حکم ہوسکے۔ پھر وُہ ہے کیا اس کے لیے اس نے باریک راہ تدقیق نکالی اور معانی قیام و مناہج کلام و دلائل احکام پر نگاہ ڈالی، معانیِ قیام دو۲ نظر آئے : “برپا استادن “کہ مخالف خفتن ونشستن “ہے (یعنی پاؤں پر کھڑا ہونا جو سونے بیٹھنے کے مخالف ہے۔)اور توقف ودرنگ کہ مخالف مقابلِ عجلت وشتاب ہے۔۔۔۔مناہج کلام بھی دو۲ قسم پائے، کہیں تو بعد صلاۃ الجنازہ کی تخصیص ہے : ’’ کما فی اکثرالعبارات المذکورۃ ‘‘(جیساکہ مذکورہ عبارتوں میں سے اکثر میں ہے۔ ) اور کہیں حکم مطلق ’’ کما فی عبارۃ القھستانی ‘‘ (جیسا کہ قہستانی کی عبارت میں ہے ۔) بلکہ کہیں قبل نماز کے بھی صاف تصریح، ’’ فی کشف الغطا و پیش از نماز نیز بدعانہ ایستد زیراچہ دعامیکند بدعائیکہ او فرو اکبر است ببودن دعایعنی نماز جنازہ کذافی التجنیس ‘‘(کشف الغطا میں ہے : اور نماز سے پہلے بھی دُعا کے لیے نہ کھڑا ہو، اس لیے کہ اسے وہ دُعا کرنی ہے جو اس دعا سے زیادہ وافراوربڑی ہے یعنی نمازِ جنازہ، ایسا ہی تجنیس میں ہے۔) حالانکہ پیش ازنماز دُعا خود احادیثِ صحیحہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ۔۔۔اور کھڑے ہوکر دعابھی صحابہ کرام سے گزری، دلائلِ احکام بھی دو (۲)ملے، کہیں نمازِ جنازہ میں زیادت کا شبہ’’ کمافی المحیط والقنیۃ وغیرھما ‘‘ (جیسا کہ محیط اورقنیہ وغیرہما میں ہے۔)کہیں یہ کہ ایک بار دُعا کرچکا ’’ کمانقل عن وجیز الکردری ‘‘ (جیسا کہ وجیز کردری سے منقول ہے ۔ ) یا اس سے افضل دعا کرے گا ’’ کما مر عن التجنیس ‘‘(جیسا کہ تجنیس کے حوالے سے گزرا۔) ۔۔۔ جب نظرِ صحیح نے بعونہٖ تعالی سب کانٹے راہِ حق سے صاف کرلیے، قائد توفیق کے مبارک ہاتھ میں ہاتھ دے کر حکم بالجزم کیا کہ اس قسم کے اقوال میں قیام بمعنی وقوف و درنگ ہی ہے۔ اتنا کہتے ہی بحمد اللہ تعالی سب اعتراض واشکال دفعۃً اُٹھ گئے اور بات میزانِ شرع وعقل پر پوری جچ گئی، فی الواقع نماز کے علاوہ کسی دُعائے طویل کی غرض سے تجہیز جنازہ کو درنگ وتعویق میں ڈالنا شرع مطہر ہرگز پسند نہ فرمائے گی۔ تکثیر دُعا بیشک محبوب ہے ،مگر اس کے لیے تعویق مطلوب نہیں جس طرح جنائز پر تکثیر جماعت قطعاً مطلوب ہے، مگر اس کے لیے تاخیر محبوب نہیں، جیسے بعض لوگ میت جمعہ کے دن دفن ونماز میں تاخیر کرتے ہیں تاکہ بعد میں جماعتِ عظیم شریکِ جماعتِ جنازہ ہو۔ غرض شرع مطہر میں تعجیلِ تجہیز بتاکید تمام مطلوب اور بے ضرورت شرعیہ اس کی تاخیر سے ممانعت،اورنماز کے علاوہ شرعاً ضروری و واجب نہیں جس کے لیے قیام و درنگ پسند کریں۔ شرع میں جتنی دعا ضروری تھی یعنی نمازِ جنازہ، وہ ہوچکی یا ہونے والی ہے ،تو اس کے سوا اور دعائے طویل کے لیے کیوں رکھ چھوڑیں، بحمد اللہ یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ دعا ہوچکی یا ہونے والی ہے’’ ھکذا ینبغی ان یفھم الکلام واللہ ولی الھدایۃ والانعام ‘‘ (کلامِ علماء اسی طرح سمجھنا چاہئے اور خداہی ہدایت وانعام کا والی ہے۔) اور واقعی جو اس معنی قیام پر کلام فرمائیں ان کا مطلق رکھنا’’ کما فعل الشمس القھستانی ‘‘ (جیسا کہ شمس قہستانی نے کیا۔) یا بالتصریح قبل وبعد نماز دونوں وقت کو لے لینا’’ کما صنع الامام البرھان الفرغانی ‘‘(جیسا کہ امام برہان الدین فرغانی نے کیا۔) کچھ بے جا نہ ہوا، بلکہ یہی احسن و ازین تھاکہ بایں معنی قیام قبل وبعد کسی وقت پسندیدہ نہیں،اگرچہ اس تقدیر پر عبارات غیر معللہ بشبہ زیادت میں تقیید بعد کا یہ منشا ٹھہرا سکتے ہیں کہ قبل نماز عادۃ جنازہ مہیا نہیں ہوتا۔امور ضروریہ غسل وکفن جاری ہوتے ہیں،تو اس وقت دُعائے طویل میں حرج نہیں کہ تاخیر بغرض دعا نہ ہوگی،بخلاف بعد نماز کہ غالباً کوئی حالتِ منتظرہ لے چلنے سے مانع نہیں ہوتی اور کلامِ فقہاء اکثر امورِ غالبہ پر مبتنی ہوتا ہے،۔۔۔ یہ اس قسم اقوال پر کلام تھا— رہی قسم اوّل یعنی جن کلمات میں تخصیص بعدیت اور شبہہ زیادت سے تمسک ہے ،اقول وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے۔) بدیہیاتِ جلیہ سے ہے کہ یہاں مطلق بعدیت کا ارادہ ہرگز وجہِ صحت نہیں رکھتا کہ استحالاتِ سالفہ کے علاوہ نفسِ تعلیل ہی اس سے آبی کیا آج نماز ہوچکی، کل استادہ دُعا کرو، تو نماز میں کچھ بڑھادینے کا اشتباہ ہو، لاجرم بعدیت بلافاصل ہی مقصود جس میں نقض صفوف وتفرق رجال بروجہ اولی داخل کہ جب صفیں کھل گئیں لوگ ہٹ گئے،تو اس کے بعد کسی فعل کو نماز میں زیادت سے کیا مشابہت رہی۔۔۔۔یہاں سے صاف ثابت کہ ایسے شبہہ کے رفع کو اُس جگہ سے ہٹ جانا بس ہے، تو بعد نقض صفوف اس علت کی اصلاً گنجائش نہیں۔لاجرم معنی یہ ہیں کہ نمازِ جنازہ کے بعد اسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے وہیں کھڑے ہوئے دُعا نہ کریں کہ زیادت فی الصلاۃ سے مشابہت نہ ہو۔ یہ معنی صحیح وسدید، بے غبار و فساد ہیں، اور عقلِ سلیم کے نزدیک نفس عبارتِ دلیل سے بالتعین مستفاد۔ یہاں سے روشن ہوا کہ اس قسم کے اقوال میں قیام بمعنی استادن بے تکلف درست اور وجہِ تقیید بھی منکشف ہوگئی، اور بعض علماء کا وُہ استظہار بھی ظاہر ہوگیا کہ اگر ” نشستہ دُعا کند جائز باشد ” (اگر بیٹھ کر دعا کرے جائز ہوگا۔) بلاکراہت فی الواقع بیٹھ جانا بھی نمازِ جنازہ سے فاصل بیّن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد شبہہ زیادت نہیں، مگر نقض صفوف اس سے بھی اتم و اکمل ہے، کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔) اب بحمداللہ تعالی تمام کلماتِ علماء منظّم ہوگئے اور مسئلہ کی صور و وجوہ مع دلائل شمس وامس کی طرح روشن ہوگئیں۔ بحمد اللہ نہ کلماتِ علماء میں باہم اختلاف ہے، نہ اصول وقواعد شرع وعقل سے خلاف۔ ہر ایک اپنے اپنے محل پر درست وبجا ہے اور منکرینِ زمانہ کی جہالت و سفاہات سے پاک و جدا۔ ھکذا ینبغی التحقیق واللہ تعالی ولی التوفیق (اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی توفیق کا والی ہے۔ت) اور ایک نہیں کیا صدہا جگہ دیکھے گا کہ کلماتِ علمائے کرام بظاہر سخت مضطرب و متخالف معلوم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ ناواقف یا سہل گزر جانے والاشدّت تصادم سے پریشان ہو جائے یا رجما باًلغیب خواہ پیشِ خویش کوئی وجہ رجحان سمجھ کر بعض کے اختیار باقی سے اعراض و انکار پر آئے اور جب میزان نقد و تحقیق اُس کے ہاتھ میں پہنچے جسے مولاتعالی جل وعلا نظرِ تنقیحی سے بہرہ وافی بخشے وہ ہر کلام کو اس کے ٹھیک محل پر اتارے اور بکھرے موتیوں کو متسق نظام میں گوندھ کر سلکِ معنی سنوارے جس سے وہی مختلف کلمات خود بخود رنگِ ایتلاف پائیں اور سب خدشے خرخشے آفتاب کے حضور شبِ دیجور کی طرح کافور ہوجائیں۔”(8) مثال نمبر 2

سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے مہر میں اختلاف و تطبیق

سیدۃالنساء،بتول زہرا،حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مہرسے متعلق احادیث مختلف عبارات کے ساتھ مروی ہیں ۔امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ان میں بڑی نفیس تطبیق فرماتے ہیں ،چنانچہ فرمایا: ” مہر اقدس حضرت سیّدۃ النساء بتول زہرا صلی اللہ تعالی علی ابیہاالکریم وعلیہا وسلّم میں اگر چہ روایات بظاہر مختلف ہیں،مگر بتوفیق اللہ تعالی اُن سب میں تطبیق بروجہ نفیس ودقیق حاصل ہے، فاقول وباللہ التوفیق ،اس بارے میں روایات مسندہ معتد بہا تین ہیں: اوّل یہ کہ: مہر مبارک درم ودینار نہ تھے ،بلکہ ایک زِرہ کہ حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت امیر المومنین مولی المسلمین کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو عطا فرمائی تھی ،وہی مہر میں دی گئی۔ دوم :چار سو اسی( ۴۸۰)درم تھے۔ سوم :چار سومثقال چاندی۔۔۔اب بتوفیقہ تعالی توفیق سُنئے: پہلی دو۲ روایتوں میں وجہِ تطبیق ظاہر ہے کہ مہر میں زرہ دی کہ چار سوا سّی (۴۸۰) کو بکی، اب چاہے زرہ کہئے خواہ اتنے درم۔ اور پُر ظاہر کہ روایت مسندہ ثانیہ کے الفاظ ہی خود اس تطبیق کے شاہد ہیں۔ اور روایت ثالثہ سے ان کی توفیق یُوں کہ حدیث زرہ کو ہمارے علمائے کرام نے مہرِ معجل پر محمول فرمایا، جو وقت زفاف اقدس ادا کیا گیا۔ پس حاصل یہ قرار پایا کہ اصل مہر کریم جس پر عقدِ اقدس واقع ہُوا چارسو مثقال چاندی تھی۔ ولہذا علمائے سیر نے اس پر جزم فرمایا۔۔۔۔زرہ برسمِ پیشگی وقت زفاف دی گئی کہ بحکمِ اقدس چار سو اسّی درم کو بِکی۔۔ مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے، اور یہاں کا روپیہ سوا گیارہ ماشے، تو چار سومثقال کے پورے ایک سوساٹھ۱۶۰ روپے ہُوئے فاحفظہ فلعلک لاتجد ھذاالتحریر فی غیر ھذاالتحریر (پس اس کو محفوظ کرلو،ہوسکتا ہے کہ آپ کویہ تحریر دوسری جگہ نہ ملے۔) (9) مثال نمبر 3

طہارت میں بلاوجہ پانی خرچ کرنے میں اختلاف و تطبیق

طہارت میں بے سبب پانی خرچ کرنے کے متعلق فقہا ئےکرام کے چاراقوال ہیں۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ان چاروں اقوال کوذکرفرمایااورپھران میں تطبیق دیتے ہوئے چاراحکام بیان فرمائے ۔چاراقوال درج ذیل ہیں : (الف)مطلقاً حرام وناجائز ہے،حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اُس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ وناروا ہے۔ (ب)مکروہ ہے، اگرچہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنز یہی ہے۔ اگرچہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے۔ (ج)مطلقا مکروہ تک نہیں ،نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایک ادب وامر مستحب کے خلاف ہے۔ (د) نہر جاری میں اسراف جائز کہ پانی ضائع نہ جائے گا اور اس کے غیر میں مکروہ تحریمی۔ ان چاروں اقوال کادرجہ واضح کرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں : ” اقول:انصافاچاروں قول میں کوئی ایسانہیں ،جسے مطروح وناقابل التفات سمجھیے۔ قول سوم کی عظمت تو محتاج بیان نہیں ،بدائع وفتح وخلاصہ کی وقعت درکنار خود ظاہر الروایۃ میں محرر المذہب کا نص ہے۔ قول دوم کے ساتھ حلیہ وبحر کا اوجہ کہنا ہے کہ الفاظ فتوی سے ہے اور امام ابو زکریا نووی کے استظہار پر نظر کیجئے، تو گویا اُسی پر اجماع کا پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اسراف سے نہی پر اجماعِ علماء نقل فرما کر نہی سے کراہت تنزیہ مراد ہونے کو اظہر بتایا ۔قول چہارم جسے علامہ شامی نے خارج از مذہب گمان فرمایا تھا ،اُس کی تحقیق سُن چکے اور یہ کہ وہی مختار(۱) درمختارو(۲) نہر الفائق ومفاد(۳) منتقی و(۴)جواہر الفتاوٰی و(۵) تبیین الحقائق ہے،نیز (۶)زبدہ و(۷)حجہ سے مستفاد کہ ان میں بھی کراہت مطلق ہے۔اورہماری تقریرات سابقہ سے اس کے دلائل کی قوت ظاہر۔“(10) اس کے بعدفرمایا:’’رہایہ کہ پھرآخرحکم منقح کیاہے ،اس کے لیے اولاتحقیق معنی اسراف کی طرف عودکریں، پھرتنقیح حکم ۔‘‘(11) اس کے بعداسراف کی تفسیرکے متعلق گیارہ اقوال نقل کرکے ان کانچوڑ یوں نکالا:’’بالجملہ احاطہ کلمات سے ظاہرہواکہ وہ قطب جن پرممانعت کے افلاک دورہ کرتے ہیں،دوہیں:ایک مقصدمعصیت،دوسرابیکاراضاعت۔اورحکم دونوں کامنع وکراہت۔‘‘(12)

مذکورہ اقوال میں تطبیق

پھرتطبیق وتوفیق دیتے ہوئے فرمایا: ’’مقدار شرعی سے جو زیادہ پانی ڈالاجائے گا، وہ سہوا ہوگا،یاشک کی وجہ سے یادیدہ ودانستہ (جان بوجھ کر)۔ پہلی دوصورتیں توممانعت سے خارج ہیں کہ روایت میں آیا:میری امت سے خطاونسیان اٹھالیاگیاہے۔ اورتیسری صورت یعنی جان بوجھ کر ڈالنے کی بھی تین صورتیں ہیں : (1) غرض صحیح وجائزکےلیے۔(2) غرض فاسدوممنوع کے لیے (3) محض بلاوجہ ۔ان میں سے پہلی وجہ تواسراف میں نہیں آسکتی ،توبقیہ دووجہیں رہ گئیں۔یہی دووجہیں ان چاراقوال میں زیربحث ہیں ۔پس مقدارشرعی سے زیادہ پانی ڈالنے میں اسراف ہونے کے لیے دوصورتیں بنیں :(4)غرض فاسدوممنوع کے لیے (5)اوردوسری محض بلاوجہ ۔اوراسراف کے متعلق اوپرواضح کیاگیاکہ اس کافلک دوصورتوں پردورہ کرتاہے (6)مقصدمعصیت (7)بے کار اضاعت(ضائع کرنا۔)

اسراف کے حکم سے متعلق چاراقوال کامحمل

 

قول اول کامحمل

مقدارشرعی سے زائدپانی ڈالنے کی جوپہلی وجہ ہے یعنی غرض فاسدوممنوع ،یہ مطلقا ( بہرصورت)ممنوع وناجائزہے،اگرچہ پانی اصلاً(بالکل )ضائع نہ ہو۔ یہی پہلے قول کامحمل ہے ۔ اوریہاں غرض فاسدیہ ہوگی کہ اس نیت سے تین سے زیادہ بارپانی ڈالے کہ اس زائدکے ڈالنے کوسنت سمجھے۔اوراس مقصدکے لیے اگرچہ پانی نہریاسمندرمیں ڈالے کہ ضائع نہ ہو،تب بھی گناہ ہے کہ نیت میں گناہ ہے اورگناہ کی نیت سے جوکچھ کرےگاگناہ ہوگا۔ اورجودوسری صورت ہے یعنی بلاوجہ زائدپانی ڈالے ،تواس صورت میں اسراف تبھی ہوگاکہ پانی ضائع جائے کہ اس کے بغیراسراف کاتحقق ہی نہیں ہوگاجیساکہ اسراف کے فلک کی دوصورتیں اوپرتحریرکی گئیں۔لہذااس صورت میں دیکھنایہ ہے کہ پانی ضائع ہوایانہیں ۔

قول چہارم کامحمل

اگرپانی ضائع ہوا،مثلازمین پربہہ گیااورکسی مصرف میں استعمال نہ ہوا،تو ضروراسراف وگناہ ہے ۔اوریہی قول چہارم کامحمل ہے ۔

قول دوم وسوم کامحمل

اب ایک صورت باقی رہی کہ پانی مقدارشرعی سے زائدبلاوجہ ڈالاگیا،لیکن پانی ضائع نہ ہوا،مثلا:بلاوجہ چوتھی بارپانی اس طرح ڈالے کہ نہریاسمندرمیں یاکسی برتن وغیرہ میں گرےوغیرہ وغیرہ، تویہاں پانی ضائع نہیں ہوا،لہذاگناہ نہیں ہوا ،لیکن جب پانی بلاوجہ ڈالاگیا،تویہ عبث ہوا۔اوریہی قول دوم وسوم کامحمل ہے ۔

قول دوم وسوم کی تفصیل

قول دوم وسوم کی تفصیل کرنے کے لیے ،فرمایاکہ عبث کے معنی اورحکم کی تحقیق ضروری ہے ۔(13) اس کے بعدامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے عبث کی 12تعریفیں ذکرکرکے فرمایا کہ ما ل سب کا ایک ہی ہے اورعبث کا دارومدارفائدہ معتدبہامقصودنہ ہونے پرہے اورفائدہ معتدبہانہ ہونے کے عموم میں مضراورشرکاقصدکرنابھی شامل ہے توبظاہر اسراف کی طرح اس کی بھی دوصورتیں ہیں:ایک برے مقصدسے کام کرنااوردوسری یہ کہ نہ کوئی بری نیت ہواورنہ اچھی نیت۔

قول سوم کی تفصیل

پہلی صورت توقول دوم وسوم میں نہیں ہوسکتی، کیونکہ پہلی صورت توگناہ ہے اورگناہ تبھی ہوگا،جبکہ بُرے ارادے سے کرے یاپانی ضائع جائے، جبکہ ان دواقوال میں ان میں سے کوئی صورت نہیں ،تواب عبث کی دوسری صورت متعین ہوئی یعنی پانی مقدارشرعی سے زائداستعمال کرے،جس میں نہ بری نیت،نہ اچھی نیت اورنہ پانی کاضیاع ۔اورعبث کی دوسری صورت کاحکم ہے خلاف اولی ہونا اوریہی قول سوم ہے کہ پانی میں اسراف نہ کرناآداب سے ہے اوراسراف کرناخلاف اولیٰ۔

قول دوم کی تفصیل

اورخلاف اولی تب ہے جبکہ عادت کے طورپرنہ ہواگرعادت کے طورپرہوگا تومکروہ تنزیہی،کیونکہ عادت کے طورپربلاوجہ مقدارشرعی سے زائدپانی استعمال کرناکہ نہ اچھی نیت اورنہ بری نیت ،یہ یاتووسوسہ کےطورپرہوگااوروسوسہ پرعمل مکروہ ،ورنہ کم ازکم دیکھنے والوں کوگمان ہوگاکہ یہ وسوسہ کے طورپرکررہاہے اوراپنے آپ کو تہمت کے مقام پرکھڑاکرنا،مکروہ ۔ اوریہی قول دوم ہے ۔

خلاصہ کلام

خلاصہ یہ ہواکہ احکام چارہیں :حرام،مکروہ تحریمی،مکروہ تنزیہی اورخلاف ادب وخلاف اولی ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے : حرام:مقدارشرعی سے زائدمقدارمیں سنت سمجھ کر بلا ضرورت پانی خرچ کرے،اگرچہ دریامیں ہو۔ مکروہ تحریمی: بلاضرورت پانی اس طرح خرچ کرے کہ وہ پانی ضائع جائے ،اگرچہ سنت سمجھ کرنہ ہو۔ مکروہ تنزیہی: بلاضرورت پانی نہ سنت سمجھ کراستعمال کرے اورنہ پانی ضائع جائے اورعادتاًکرے۔ خلاف ادب وخلاف اولی :نہ سنت سمجھ کرہو،نہ پانی ضائع جائے اورنہ بلاضرورت زائدخرچ کرنے کی عادت ہو،بلکہ کبھی کبھارکرے۔ ان کونقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں :”یہ ہے بحمداللہ فقہ جامع وفکرنافع ودرک بالغ ونوربازغ وکمال توفیق وجمال تطبیق وحسن تحقیق وعطرتدقیق، وباللہ التوفیق والحمدللہ رب العلمین “(14) مثال نمبر 4 کسم،کیسر،کسیس اورمازو۔ان میں سے کوئی چیزپانی میں مکس ہوجائے ،تواس کے بعدپانی قابل وضورہے گایانہیں ۔اس کے حوالے سے فقہائے کرام کی چارطرح کی عبارات تھیں۔امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے چاروں میں اس طرح تطبیق ارشادفرمائی کہ سب کامدعاایک بن گیااوراختلاف ختم ہوگیا۔چنانچہ فتاوی رضویہ سے اختصاراًاسے نیچے درج کیاجاتاہے : فتاوی رضویہ میں ہے: (۱۱۹) کسم (۱۲۰) کیسر (۱۲۱) کسیس (۱۲۲) مازو یہ چیزیں اگر پانی میں اتنی کم حل ہُوئیں کہ پانی رنگنے یالکھنے ،حرف کا نقش بننے کے قابل نہ ہوگیا،تو اُس سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔ (آگے عربی عبارات کاصرف ترجمہ درج کیاجاتاہے ) یہ اس وجہ سے ہے کہ عبارات اس سلسلہ میں چارمسالک پرمشتمل ہیں : پہلا مسلک: وضو مطلقا جائز ہے ،تاوقتیکہ اُس کے اجزاء پانی پر غالب نہ ہوجائیں۔دُوسرا مسلک:مطلقاً جائز نہیں۔تیسرا مسلک :اس سے وضو جائز ہے،جو رنگنے اور نقش کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔چوتھا مسلک: وضو جائز ہے جب تک اس کا رنگ پانی کے رنگ پر غالب نہ ہو۔ (ان میں تطبیق یوں ارشادفرمائی 🙂

پانی میں کھجوریں ڈالیں ، لیکن وہ نبیذ نہ بنا، تو اس سے وضو جائز ہے

”میں کہتا ہوں: ہم نے ۱۱۶ میں اپنے اصحاب کا اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ:’’جس پانی میں چندکھجوریں ڈالی گئیں،جن کی وجہ سے پانی میٹھاہوگیا،لیکن نبیذنہیں بنا،تواس سے وضوجائزہے ۔‘‘ اور یہ قطعی طورپرمعلوم ہے کہ رنگ ،مزہ کے متغیر ہونے سے پہلے بدل جاتا ہے، تو اس بات پراجماع متحقق ہوگیا کہ: ’’رنگ اورمزے کاکسی جامد سے بدلنا اس وقت تک مضر نہیں جب تک کہ نام نہ بدل جائے ۔‘‘ پس اس چوتھے اور دوسرے کاتیسرے پر حمل کرنا لازم ہے ۔پھر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جب نام زائل ہوجائے، تو اطلاق باقی نہیں رہتا، کیونکہ شریعت نے وضو کے لیےپانی کو متعین کر رکھا ہے اور جب نام زائل ہوگیا تو پانی نہ رہا، یہ شرط اگرچہ مذکور نہ ہو معتبر رہے گی، تو پہلے کو بھی تیسرے پر حمل کرنا لازم ہے،پس اس طر ح اختلاف ختم ہوجائے گااوریہ مسئلہ متفقہ ہوجائے گا۔”(15) نوٹ:امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ایک مقام پرتطبیق وتوفیق کے معاملے میں تحدیث نعمت کےطورپرفرماتے ہیں: امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے فتاویٰ میں تطبیق و توفیق کی مثالیں: ” صدہا مسائل میں اضطراب شدید نظر آتا ہے کہ ناواقف دیکھ کر گھبراجاتا ہے مگر صاحب توفیق جب ان میں نظر کو جولان دیتا اور دامن ائمہ کرام مضبوط تھام کر راہ تنقیح لیتا ہے ،توفیق ربانی ایک سررشتہ اس کے ہاتھ رکھتی ہے، جو ایک سچا سا نچا ہوجاتا ہے کہ ہر فرع خود بخود اپنے محمل پر ڈھلتی ہے اور تمام تخالف کی بدلیاں چھنٹ کر اصل مراد کی صاف شفاف چاندنی نکلتی ہے، اس وقت کھل جاتا ہے کہ اقوال کہ سخت مختلف نظرآتے تھے ،حقیقۃً سب ایک ہی بات فرماتے تھے، الحمد اللہ فتاوائے فقیر میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی وللہ الحمد تحدیثا بنعمۃ اللہ وما توفیقی الا باللہ، وصلی اللہ تعالی علی من امدنا بعلمہ وایدنا بنعمہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وبارک وسلم اٰمین والحمد للہ رب العٰلمین ۔ “(16)


1… ۔ (ملتقطا ازفتاوی رضویہ،ج۱۹،ص۴۱۴تا۴۱۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۱۷،ص ۲۵۳،۲۵۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۱،ب،ص ۱۰۸۲،۱۰۸۳،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۱،ب،ص ۶۵۲،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۲۹۰،لاہور) 6… ۔ (المنجد،ص۹۸۸،لاہور) 7… ۔ (فیروزاللغات،ص۳۶۳،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۹،ص۲۴۳تا۲۵۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (ملتقطا،فتاوی رضویہ،ج ۱۲،ص ۱۴۵تا۱۵۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۹۸۲،۹۸۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۱،ب،ص۹۲۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۹۴۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 13… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۹۸۸تا۹۹۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 14… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۱۰۱۲ تا ۱۰۳۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 15… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۵۷۷تا۵۸۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 16… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۶،ص۳۷۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور)