(27)مسالک تخصیص (عام کوخاص کرنے کے اصول)
مسالک:مسلک کی جمع ہے ۔اورمسلک کامعنی ہے:طریقہ ۔قاعدہ۔(1) تخصیص:خاص کرنا۔(2) عام کوخاص کرنے کے اصول وضوابط کا معلوم ہوناایک فقیہ کے لیے ضروری ہے تاکہ ان کی روشنی میں وہ یہ فیصلہ کرسکے کہ اس مقام پرتخصیص ہوسکتی ہے یانہیں اورکس حدتک ہوسکتی ہے۔جیسے:احناف کے نزدیک ایک مشہورقاعدہ ہے کہ ’’خبرواحدسے کتاب اللہ کے عام غیرمخصوص کی تخصیص نہیں ہوسکتی ۔‘‘ اسی طرح مزید اصول وضوابط بھی ہیں ۔امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مسالک تخصیص پر مہارت
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کواس علم پربھی خصوصی مہارت حاصل تھی جس کی کچھ جھلک درج ذیل تفصیل سے عیاں ہے ۔ مثال نمبر 1قرآنِ پاک کے عموم کی قرآنِ پاک سے تخصیص
قرآن پاک کے عموم کی قرآن پاک سے تخصیص ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ امکان کذب کے قائلین ،خلف وعیدکودلیل بناتے ہیں کہ آیات مبارکہ میں مجرموں کی سزابیان ہوئی، لیکن اللہ تعالی ان کومعاف بھی کرسکتاہے ۔ اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ایک جواب یہ ارشادفرمایاکہ :قرآن پاک میں ہی یہ بھی بیان ہے کہ:’’ اللہ تعالی شرک کے سواجس کوچاہے گامعاف فرمادے گا۔‘‘توآیات وعید عام ومطلق نہیں ہیں، بلکہ وہ آیات عفوسے مخصوص ومقید ہیں تواب مطلب یہ بنے گاکہ:جنہیں معاف نہ فرمائے گا،وہ سزا پائیں گے۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے :’’آیات وعید، آیات عفو سے مخصوص ومقید ہیں یعنی عفو و وعید دونوں میں وارد، تو ان کے ملانے سے آیات وعید کے یہ معنی ٹھہرے کہ جنہیں معاف نہ فرمائے گا وہ سزا پائیں گے، جب یہ معنی خود قرآن عظیم ہی نے ارشاد فرمائے، تو جو از خلف کو معاذاللہ امکان کذب سے کیا علاقہ رہا، امکان کذب تو جب نکلتا کہ جزماً حتماً وعید فرمائی جاتی، اور جب خود متکلم جل وعلا نے اسے مقید بعدم عفو فرمادیا ہے ،تو چاہے وعید واقع ہو یا نہ ہو ہرطرح اس کا کلام یقینا ًصادق جس میں احتمال کذ ب کو اصلاً دخل نہیں، یہ وجہ اکثر کتب علماء مثل تفسیر بیضاوی انوار التنزیل وتفسیر عمادی ارشاد العقل السلیم وتفسیر حقی روح البیان وشرح مقاصد وغیرہا میں اختیارفرمائی۔‘‘(3) مثال نمبر 2حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مَاکَانَ وَ مَا یَکُوْنُ کا علم ہے
خبرواحدسےکتاب اللہ کے عام کی تخصیص نہیں ہوسکتی ۔چنانچہ حضورجان عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے روزاول سے روزآخرتک تمام ماکان ومایکون کاعلم عطافرمایاہے،بلکہ اس سے بھی اتنازائدعطافرمایاکہ وہ خود جانیں یاان کاعطاکرنے والامالک ومولاجل وعلاجانے ۔اس دعوے کوثابت کرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اولاًآیات قرآنیہ پیش کرتے ہوئے ،فرماتے ہیں :’’ قال اللہ تعالی : ( اللہ تعالی نے فرمایا ۔) : ﴿وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)﴾ اُتاری ہم نے تم پر کتاب جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت و بشارت۔ قال اللہ تعالی ( اللہ تعالی نے فرمایا ۔) ﴿مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ﴾ قرآن وہ بات نہیں،جو بنائی جائے، بلکہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور ہر شے کا صاف جدا جدا بیان ہے۔۔۔۔۔جب فرقان مجید میں ہر شے کا بیان ہے اور بیان بھی کیسا ، روشن اور روشن بھی کس درجہ کا، مفصل ، اور اہلسنت کے مذہب میں شے ہر موجود کو کہتے ہیں، تو عرش تا فرش تمام کائنات جملہ موجودات اس بیان کے احاطے میں داخل ہوئے اور منجملہ موجودات کتابت لوحِ محفوظ بھی ہے تابالضرورت یہ بیانات محیط، اس کے مکتوب بھی بالتفصیل شامل ہوئے۔ اب یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ لوحِ محفوظ میں کیا لکھا ہے۔ قال اللہ تعالی ( اللہ تعالی نے فرمایا۔) : ﴿وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ(۵۳)﴾ہرچھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ وقال اللہ تعالی ” ( اور اللہ تعالی نے فرمایا ۔) : ﴿وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠(۱۲)﴾ ہر شَے ہم نے ایک روشن پیشوا میں جمع فرمادی ہے۔ وقال اللہ تعالی ( اور اللہ تعالی نے فرمایا ۔) :﴿وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۵۹)﴾کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک مگر یہ کہ سب ایک روشن کتاب میں لکھا ہے۔اور اصول میں مبرہن ہوچکا کہ نکرہ حیز نفی میں مفید عموم ہے اور لفظ کُل تو ایسا عام ہے کہ کبھی خاص ہو کر مستعمل ہی نہیں ہوتا اور عام افادہ استغراق میں قطعی ہے، اور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گی۔ بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں۔ ورنہ شریعت سے امان اٹھ جائے، نہ احادیث احاد اگرچہ کیسے ہی اعلی درجے کی ہوں،عمومِ قرآن کی تخصیص کرسکیں،بلکہ اس کے حضور مضمحل ہوجائیں گی،بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ ناممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعیت سے نازل نہیں کرتی، نہ اس کے اعتماد پر کسی ظنی سے تخصیص ہوسکے،تو بحمد اللہ تعالی کیسے نص صحیح قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صاحبِ قرآن صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اللہ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون الی یوم القیمۃ جمیع مندرجاتِ لوح محفوظ کا علم دیا اور شرق و غرب و سماء و ارض و عرش فرش میں کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا ۔ وللہ الحجۃ الساطعۃ ” (4) مثال نمبر 3دلیل ظنی سے قرآنِ پاک کے عموم میں تخصیص
اسی طرح کسی بھی دلیل ظنی سے قرآن پاک کے عموم میں تخصیص نہیں ہوسکتی۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے :’’ بالجملہ بحمداللہ تعالی زید سُنی حفظہ اللہ تعالی کا دعوٰی آیات قطعیہ قرآنیہ سے ایسے جلیل و جمیل طور سے ثابت جس میں اصلاً مجال دم زدن نہیں، اگر یہاں کوئی دلیل ظنّی تخصیص سے قائم بھی ہوتی، تو عموم قطعی قرآن عظیم کے حضور مضمحل ہوجاتی۔‘‘(5) مثال نمبر 4عرف کی وجہ سے عام میں تخصیص
عرف کی وجہ سے عام میں تخصیص ہوتی ہے ۔چنانچہ قسم کےالفاظ میں عموم ہو،تواغراض متعارفہ کے باعث اس میں تخصیص ہوسکتی ہے کہ یمین کی بناہی عرف پرہے ۔مثلا:کسی نے قسم کھائی کہ:’’ میں سری نہیں کھاؤں گا۔‘‘تویہ اپنے عموم کے باعث پرندوں کی سری اورمچھلی کی سری کوبھی شامل ہے، لیکن عام طورپراس سے مقصود وہ سری ہوتی ہے جسے بُھوناجاسکے،جیسے گائے بھینس،اوربھیڑبکری وغیرہ کی سری ۔توقسم صرف انہی کی سری کے ساتھ خاص ہوگی ۔ فتاوی رضویہ میں ہے:’’ مگر اغراض مخصص ضرور ہوسکتی ہیں، دلالتِ لفظ کہ عموم پر تھی بنظر غرض، خاص پر مقصور ہوجائے گی، یہ مدلول لفظ سے خروج نہیں ،بلکہ بعض مدلولات پر قصر ہے، یہ وہ تحقیق انیق ہے، جس سےکلمات ائمہ مذہب میں توفیق ہے اور فروع متکاثرہ مذہب کی شہادت متواترہ سے اس کی توثیق ہے،جس کا نفیس وروشن بیان علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی نے ردالمحتار میں افادہ فرمایا اور اس کے بیان میں ایک مستقل رسالہ’’ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض علی قولھم الایمان مبنیۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض ‘‘تالیف کیا۔ تلخیص الجامع الکبیر للامام ابی عبد اللہ صدرالدین محمد بن عباد میں ہے: ’’ وبالعرف یخص ولایزاد حتی خص الرأس بما یکبس ‘‘( عرف سے تخصیص ہوسکے گی اور لفظ کے مفہوم پر زیادتی نہ ہوسکے گی چنانچہ سر بھونے جانے والی سری سے مختص ہوگا ۔)‘‘(6) مثال نمبر5یمین فور کے مسائل کس اصول پر مبنی ہیں
نیزیمین فور کے مسائل اسی اصول ( کہ غرض متعارف سے تخصیص ہوسکتی ہے )پرمبنی ہیں۔یمین فورمیں جملہ عام ہوتاہے،لیکن عمومی غرض اوردلالت حال کے باعث اس میں تخصیص ہوتی ہے،مثلاعورت باہرنکلنے کوتیارہے ،شوہرنے کہا:اگرتو باہرگئی توتجھے طلاق۔اب اگراسی وقت عورت نکلے،توطلاق ہوگی اوراگرٹھہرجائے اوردوسرے وقت نکلے توطلاق نہ ہوگی ۔حالانکہ الفاظ توعام تھے ،لیکن ایسے موقع پرعام طورپراس وقت نکلنے سے روکنامقصودہوتاہے، تواب غرض متعارف کی وجہ سےیمین صرف اسی وقت کے ساتھ خاص ہوگی ۔1… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۳۰۸،لاہور) 2… ۔ (المنجد،ص۲۰۳،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۵،ص۴۰۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۹،ص۴۸۶تا۴۸۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۹،ص۴۹۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۳،ص۱۴۴،۱۴۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
یمین فور کی 7 مثالیں
فتاوی رضویہ میں ایک مقام پریمین فورکی سات مثالیں ذکرفرمائی گئی ہیں ،جو درج ذیل ہیں : فتاوی رضویہ میں ہے:’’ یمین الفور ۔۔۔۔کے مسائل اسی اصل جلیل تخصیص بالغرض پر مبنی ہیں،متون وشروح وفتاوائے مذہب میں صدہا فروع اس پر مبنی ہیں، مثلاً: (۱) عورت باہر جانے کوہوئی، شوہر نے کہا باہر جائے، تو تجھ پر طلاق، عورت بیٹھ گئی اور دوسرے وقت باہر گئی، طلاق نہ ہوگی۔۔۔۔ (۲) زید نے عمرو سے کہا:’’میرے ساتھ کھا نا کھالو۔‘‘ عمرو:’’میں کھاؤں ،تو عورت مطلقہ ہو۔‘‘ کل زید کے ساتھ کھانا کھایا طلاق نہ ہوگی۔ ۔۔ (۳) عورت کو جماع کےلیے بلایا اس نے انکار کیا، شوہر نے کہا’’اگر میرے پاس اس کوٹھری میں نہ آئی، تو تجھ پر طلاق‘‘ عورت آئی ،مگر اس وقت مرد کی شہوت ساکن ہوچکی تھی، تو طلاق ہوگئی،۔۔۔(۴) حاکم نے حلف کیا کہ اگر شہر میں کوئی بدمعاش آئے اور میں خبر نہ دوں تو عورت طلاق ہے، بد معاش آیا اور اس نے حاکم کو خبر نہ دی اس وقت کہا کہ وہ معزول ہوگیا تھا طلاق ہوگئی۔ ۔۔ (۵) دائن نے مدیون سے حلف لیا کہ تیرے بے اذن باہر نہ جاؤں گا،یہ حلف بقائے دین تک رہے گا بعد ادا یا ابراء اذن کی حاجت نہیں۔۔۔ (۶) قسم کھائی عورت بے میرے اذن کے باہر نہ جائے گی، یہ قیام زوجیت تک محدود ہے۔۔۔(۷) وہی مسئلہ کہ دس کو نہ بیچوں گا اور گیارہ کو بیچا حانث نہ ہوا اگر چہ گیارہ میں دس موجود ہیں کہ مراد خاص قسم کے دس یعنی تنہا بلازیادت تھے۔ یہ سب تقییدیں اور عام کی تخصیص صرف بنظر اغراض متعارفہ ہوئی ہیں کہ یمین کی بناہی عرف پر ہے۔” (1) مثال نمبر 6قرینہ سے تخصیص
قرینہ سے تخصیص ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ امکان کذب کے قائلین ،خلف وعید کو دلیل بناتے ہیں ،توامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اولاًان کوجواب ارشادفرمایاکہ وہ آیات عفوسے مقیدومخصوص ہیں اورثانیاًفرمایاکہ آیات عفونہ بھی ہوتیں توکریم کاکرم قرینہ تخصیص کافی ہے۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے :’’اگر بالفرض کوئی نص مفیدِ تخصیص وتقییدوعید نہ بھی آتا تاہم کریم کی شان یہی ہے کہ غیر متمرد غلاموں کے حق میں وعید بنظر تہدید فرمائے اور اس سے یہی مراد لے کہ اگر ہم معاف نہ فرمائیں ،تو یہ سزا ہے، خلاصہ یہ کہ قرینہ کرم تخصیص وتقیید وعید کے لیے بس ہے، اگرچہ مخصص قولی نہ ہو۔” (2) مثال نمبر 7بلا دلیل تخصیص
بلادلیل تخصیص نہیں ہوسکتی ۔چنانچہ بدمذہبوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے افضل المرسلین ہونے کاانکارکیا،توامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت عامہ وسیادت تامہ کوثابت کرنے کے لیے ایک ضخیم وطویل اورمدلل ومحقق رسالہ بنام’’ تجلی الیقین بان نبیناسیدالمرسلین ‘‘تصنیف فرمایا۔ اس میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت عامہ کے اثبات پردلائل دیتے ہوئے آیت مبارکہ :﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)﴾ کوذکرکرکے فرمایا:’’ اللہ تعالی کے سوا سب کو عالَم کہاجاتاہے،جس میں انبیاء اورملائکہ علی نبیناوعلیہم الصلوۃ والسلام بھی شامل ہیں، توثابت ہواکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام تمام انبیاء اورتمام ملائکہ علی نبیناو علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے بھی رحمت ہیں۔ اوران سب کے لیے رحمت ہونے سے لازم آیاکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام ان سب سے افضل ہیں،جیساکہ امام فخرالدین رازی علیہ الرحمۃ نےاس آیت مبارکہ کے تحت ذکرفرمایاہے ۔ اوراب عالَم میں تخصیص کرناکہ یہاں عالَم کے فلاں افرادمرادہیں اورفلاں مرادنہیں ہیں ،یہ بلادلیل ،ظاہرسے خروج کرناہے، جوکسی عاقل کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں توعالِم وفاضل کے نزدیک کیسے قبول ہوسکتاہے ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت دیکھیے! “ قال عز مجدہ ﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)﴾ اللہ تعالی نے فرمایا : اے محبوب ! ہم نے تجھے نہ بھیجا، مگر رحمت سارے جہان کے لیے ۔اللہ تعالیٰ کے سِوا سب کو عالَم کہا جاتا ہے
عالَم ماسوائے اللہ کو کہتے ہیں،جس میں انبیاء و ملائکہ سب داخل ہیں ۔ تو لاجَرَم حضور پُر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان سب پر رحمت ونعمت رب الارباب ہوئے ، اوروہ سب حضور کی سرکارعالی مدارسے بہر ہ مند وفیضیاب ۔۔۔۔امام فخرالدین رازی علیہ الرحمۃ نے اس آیہ کریمہ کے تحت لکھا:’’ لماکان رحمۃ للعٰالمین لزم ان یکون افضل من کل العٰلمین ۔ قلت : وادعاء التخصیص خروج عن الظاھر بلادلیل وھو لایجوز عند عاقل فضلا عن فاضل ‘‘(ترجمہ: جب حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمام عالَم کے لیے رحمت ہیں واجب ہوا کہ تمام ماسوائے اللہ سے افضل ہوں ۔(آگے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:)میں کہتاہوں :تخصیص کا دعوٰی کرنا ظاہر سے بلادلیل خروج ہے اوروہ کسی عاقل کے نزدیک جائز نہیں، چہ جائیکہ کسی فاضل کے نزدیک ۔ ‘‘(3)(28)مناسک تقیید و مشارع قیود
(قیدلگانے کے اصول اورقیودات کے راستے) مناسک:قاعدے۔قرآن پاک میں ہے :﴿وَاَرِنَامَنَاسِكَنَا﴾ ترجمہ کنزالایمان : اورہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا۔(4) مشارع:گھاٹ۔راستے۔(5) جس طرح تخصیص کے اصول وضوابط ہیں ،اسی طرح قیدلگانے کے بھی ہیں کہ کن طریقوں سے مطلق کومقیدکیاجائے گا ، ایک فقیہ کے لیے ان تمام صورتوں کا علم ہوناضروری ہے ۔علم مناسک تقییدومشارع قیود پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ایسے فقیہ تھے جوان تمام معاملات سے بخوبی واقف تھے اوران کالحاظ بھی فرماتے تھے۔ مثال نمبر 1بلاثبوت ، محض شک سے مطلق کو مقید کرنا
بلاثبوت ،محض شک سے کوئی مطلق مقیدنہیں ہوسکتا۔چنانچہ برف میں ایک جانورکی شکل کی چیزہوتی ہے ،اس کے پیٹ سے پانی نکلتاہے ،جسے زلال کہاجاتاہے ،وہ پانی پاک ہے یاناپاک ؟اورپاک ہے توقابل وضوہے یانہیں ؟ امام ابن حجرمکی شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ :’’اس چیزکااگرجانورہوناثابت ہوتو اس کے پیٹ سے جونکلاوہ قے ہے اورجس طرح دوسرے جانوروں کی قے ناپاک ہے،اسی طرح اس کے پیٹ کاپانی بھی ناپاک ہے ۔‘‘ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا : ’’ جب تک اس کا دَموی ہونا ثابت نہیں ہوتااس وقت تک اس کے پیٹ کے پانی کوناپاک نہیں کہہ سکتے ،ہاں اس سے طہارت نہیں ہوسکتی، خواہ وہ غیردموی ہی ہو۔‘‘ اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نےفرمایا:’’ظاہریہی ہے کہ اس کے پیٹ کے پانی کے پاک ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں، جیسے ریشم کے کیڑے کاپانی اوربیٹ تک پاک ہے ۔اورپھرجب وہ پانی پاک ہے ،تواب جب تک یہ نہ ثابت ہوکہ وہ پانی دراصل اس کیڑے کے پیٹ کی رطوبت ہے یااس کی رطوبت اس پانی میں نصف یااس سے زائدملی ہوئی ہے ،اس وقت تک اس سے طہارت کرنے سے ممانعت نہیں کی جاسکتی ،کیونکہ ظاہریہی ہے کہ اس کے پیٹ سے جوپانی نکلاوہ برف کاپانی ہے اوربرف کاپانی پاک ہے اورپاک پانی کے غیرمطہرہونے کی دوہی صورتیں ہیں :یاتوغیرکے مکس ہونے کی وجہ سے مائے مطلق نہ رہےیاکسی طرح مائےمستعمل ہوجائے ،دوسری صورت توقطعا یہاں نہیں پائی جاتی اورپہلی کاکوئی ثبوت نہیں اوربلاثبوت کوئی مطلق مقیدنہیں ہوسکتا کہ جب شک سے نجاست ثابت نہیں ہوتی کہ جس میں طہارت اورطہوریت دونوں ہی منتفی ہوجاتے ہیں ،توشک سے تقییدکیسے ثابت ہوگی کہ جس میں صرف طہوریت منتفی ہوتی ہے۔‘‘ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت دیکھیے! ’’ علامہ شامی نے امام ابن حجر مکی سے نقل کیا کہ برف میں ایک چیز جانور کی شکل پر ہوتی ہے اور حقیقۃً جانور نہیں، اس کے پیٹ سے جو پانی نکلتا ہے، وہ زلال ہے،۔۔۔ اُس کے حیوان ہونے کی تقدیر پر امام ابنِ حجر شافعی نے اُس پانی کو قے ٹھہرا کر ناپاک بتایا۔ ۔۔ اقول:قے کی تعریف اس پر صادق آنے میں کلام ہے اور کتبِ شافعیہ میں اُس سے جوازِ وضو مصرح ۔۔۔ علامہ شامی نے جب تک اُس جانور کا دموی ہونا ثابت نہ ہو پانی پاک مگر ناقابلِ وضو بتایا۔ ۔۔۔ اقول: ظاہراً اُس پانی کی طہارت محلِ اشتباہ نہیں جیسے ریشم کا کیڑا کہ خود بھی پاک ہے اور اس کا پانی، بلکہ بیٹ بھی پاک ۔۔۔ اور جب طاہر ہے، تو جب تک ثابت نہ ہو کہ یہ پانی نہیں،بلکہ اُس کیڑے ہی کے پیٹ کی رطوبت ہے یا اُس کی رطوبت اِس میں نصف یا زائدملی ہوئی ہے ناقابلِ وضو ہونے کی کوئی وجہ نہیں ظاہراً وہ برف ہی کا پانی ہے کہ اس کے جوف میں ملتا ہے اور پاک پانی کے غیر طہور ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو خلط غیر سے مائے مطلق نہ رہے یا اسقاط فرض خواہ اقامت قربت سے مستعمل ہوجائے ،ثانی یہاں قطعاً منتفی اور اول کا ثبوت نہیں اور کوئی مطلق بلا ثبوت مقید نہیں ہوسکتا۔’’ الا تری ان النجاسۃ لاتثبت بالشک وھی تسلب الطھوریۃ والطھارۃ معا فضلا عن التقیید‘ ‘(کیاتونہیں دیکھتاکہ شک سے نجاست ثابت نہیں ہوتی ہے اور یہ طہارت و طہوریت دونوں کو ختم کردیتی ہے،تو شک سےتقییدکیسے ثابت ہوگی ۔ ) “(6) مثال نمبر 2دلیل صحیح کے بغیر تقیید وتخصیص
دلیل صحیح کے بغیرمطلق کی تقییداورعام کی تخصیص درست نہیں ۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:’’آیت و احادیث کہ فقیر نے ذکر کیں اس میں شک نہیں کہ ضرور عام و مطلق ہیں۔اورشک نہیں کہ عام ومطلق ضرور اپنے عموم و اطلاق پر رہیں گے، جب تک دلیل صحیح سے تخصیص و تقیید نہ ثابت ہو ۔اور شک نہیں کہ بلا دلیل محض اپنے خیال کی بناپر ادعائے تخصیص و تقیید ہر گز تحقیق نہ قرار پاسکے گا بلکہ تفسیق ۔‘‘(7) مثال نمبر 3اجماع سے کتاب اللہ میں تقیید
اجماع سے کتاب اللہ کے مطلق میں تقییدہوسکتی ہے ۔چنانچہ قرآن پاک میں جہاں جمعہ پڑھنے کاحکم ارشادہوا،وہاں مطلق ایمان والوں سے خطاب فرمایاگیا،جس میں مرد،عورت،غلام وغیرہ سبھی مومنین شامل ہیں،لیکن اجماع امت سے وہ مخصوص شرائط سے مقیدہوا۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے : ’’ اللہ تعالی نے سورہ جمعہ میں ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ ( اے ایمان والو) مطلق ارشاد فرمایا ہے،اس میں عورت یا بچے یا غلام یا مریض یا مسافر کسی کا استثنا نہیں ۔۔۔ قرآن و حدیث متواترہ، اجماع امت کو حجت بتاتے ہیں، اور اجماع امت ہے کہ جمعہ کا حکم مطلق وعام نہیں مقید بقیود مشروط بشرائط ہے ۔”(8) مثال نمبر 4مطلق کو بلادلیل اپنی طرف سے مقید کرنا
مطلق کواپنی طرف سے بلادلیل مقیدکرنایہ اپنی طرف سے نئی شریعت بنانے کے مترادف ہے ۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:’’ اموات مسلمین کے لئے دُعاقطعاً محبوب وشرعاً مندوب جس کی ندب وترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلاتوقیت و تخصیص، ناطق تو بلاشبہہ ہر وقت اُس پر حکم جواز صادق، جب تک کسی خاص وقت ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو مطلق شرعی کواز پیش خویش موقّت اور مرسل کو مقید کرنا، تشریع من عند النفس ہے “(9) مثال نمبر 5 قرینہ سے تقیید: قرینہ سے بھی تقییدہوسکتی ہے ۔چنانچہ درمختارمیں مسبوق کے سجدہ سہوکاطریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’ المسبوق يسجد مع إمامه ‘‘ترجمہ:مسبوق اپنے امام کے ساتھ سجدہ کرے گا۔ اس کے تحت ردالمحتارمیں علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:’’ قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام ‘‘ترجمہ:ماتن نے سجودکی قیداس لیے لگائی ہے کہ مسبوق سلام میں اپنے امام کی اتباع نہیں کرے گا۔(10) اس پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:’’علامہ شامی علیہ الرحمۃ کے قول میں جولفظ ’’ السلام ‘‘ آیاہے ،اس سے یاتوالفاظ مطلق ہونے کے سبب ہم مطلق سلام مرادلیں کہ مسبوق امام کے کسی سلام میں اس کی اتباع نہیں کرے گا،نہ سجدہ سہوسے پہلے والے سلام میں اورنہ سجدہ سہوکے بعدوالے سلام یعنی آخری سلام میں۔اور یاپھراس سے خاص سجدہ سہوسے پہلے والاسلام مرادلیں اوراس پرقرینہ یہ ہے کہ یہاں بات ہی سجدہ سہوکی ہورہی ہے ۔‘‘ اس سے پتا چلا کہ قرینہ کی وجہ سے مطلق کومقیدکیاجاسکتاہے،ورنہ تو پھراس معنی کومراد لینا ممکن ہی نہیں ہوناتھا ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت دیکھیے! قول شامی :’’ قید بالسجود لانہ لایتابعہ فی السلام ‘‘( ماتن نے سجود کی قید لگائی ہے ،کیونکہ سلام میں مسبوق ،اما م کی اتباع نہیں کرے گا) میں یا تو نظر باطلاق لفظ و عموم حکم مطلق سلام مراد ہے، خواہ سجدہ سہو سے پہلے ہو یا بعد یا بقرینہ مقام سلام قبل سجدہ سہو مراد لیجئے یعنی سجدہ سہو میں مسبوق بھی اگر چہ متابعت امام کرے گا، مگر فقط سجدے میں شریک ہوگا ولہذا متابعت میں سجود کی قید لگادی کہ پیروی اسی پر مقصور ہے سلام میں مسبوق متابعت نہیں کرسکتا۔’’ و ھذا معنی واضح جلی یسبق الی الذھن اول مایسمع ھذا الکلام اذا صفت القریحۃ عن ظلام الاوھام ۔‘‘ (یہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ مذکورہ کلام سنتے ہی انسان کا ذہن اس طرف چلاجاتا ہے بشرطیکہ اوہام کی تاریکیوں سے ذہن صاف ہو۔)اور اسے خاص سلام اخیر بعد سجود سہو پر حمل کر نا محض بے دلیل ہے، جس پر اصلاً قرینہ نہیں، بلکہ ظاہراً قرینہ اس کے خلاف کی طرف مشیر کما لا یخفی علی العارف البصیر ( جیسا کہ عارف بصیر پر مخفی نہیں۔)‘‘(11) مثال نمبر 6 کتاب اللہ کے مطلق کی تقیید،کتاب اللہ سے۔اس کے جزئیہ کاذکراوپر تخصیص والی صورت میں گزراہے۔(29)شوارع مقصود
(مقصودتک پہنچنے کے راستے)
شوارع:شارعۃ کی جمع ہے ۔شارعۃ کامعنی ہے “راستہ۔”(12) فقہائے کرام کے مقصودکوسمجھنابہت اہم اورضروری ہے، بسااوقات کوئی عبارت اپنے مطلب کی سمجھ کراسے اپنی تائیدمیں نقل کردیاجاتاہے، لیکن فقہائے کرام اس عبارت سے سمجھانا کیاچاہتے ہیں،اس مقصودتک رسائی نہیں ہوتی،توبندہ خطاکاشکارہوجاتاہے ،لہذامقصودکلام کو سمجھنا ضروری ہے اوراس کے لیے کن باتوں کوملحوظ رکھناپڑے گا،مثلاً:سیاق وسباق ،مسئلہ کس باب کے تحت ذکر ہوا وغیرہ وغیرہ ان تمام چیزوں کالحاظ بھی ضروری ہے ۔
فقہاء کی عبارات سمجھنے میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مہارت
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی نظرمبارک میں اتنی گہرائی تھی کہ فقہائے کرام کی عبارات کامقصدخوب اچھی طرح جان لیتے اور بڑے سہل انداز میں دوسروں کوسمجھا دیتے ۔ مثال نمبر 1 امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے سامنے چندلوگوں کاموقف اوران کے دلائل بیان کرتے ہوئے سائل نے ذکرکیاکہ:کچھ لوگ “ض”کوقصدا”ظ”یا”ذ”بلکہ”ز” پڑھتے ہیں اوردوسروں کوترغیب دیتے ہیں اورعام عوام ہندوستان جس طرح یہ حرف “ض” اداکرتی ہے کہ بوئے دال پیداہوتی ہے،اس سے نمازمطلقافاسدوباطل بتاتے ہیں اوراپنے دعووں کی دلیل میں اہل ندوہ وغیرہ کےکچھ فتوے دکھاتے ہیں ،جن فتووں کاخلاصہ کلام یہ ہے کہ : ’’نمازمیں”ض” کومشابہ” دال”پڑھنے سے نمازفاسدہوجاتی ہے۔اوران فتووں کی دلیل کاخلاصہ یہ ہے کہ “ضاد”اور”دال ” میں بغیرمشقت کے امتیازممکن ہے لہذا”ضاد”کی جگہ “دال” پڑھی تونمازفاسد جبکہ “ضاد”اور”ظا”میں بغیرمشقت کے امتیازممکن نہیں اوران کی آوازمیں مشابہت بھی ہے، لہذااکثرفقہاء کے نزدیک ،بغیر قصدکے”ضالین”کی جگہ”ظالین”اداہوا،تونماز فاسدنہیں ہوگی۔ہاں جان بوجھ کر اگر”ضالین”کو”ظالین”پڑھا،تونمازفاسدہوجائے گی ۔ اس کے بعدوہ سوال کرتاہے کہ ان فتووں کاکیاحال ہے؟اوریہ ان لوگوں کے موافق ومویدہیں یانہیں ؟( الی آخرہ )امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے مختلف وجوہ سے ان لوگوں کےمؤقف اوران کے ذکرکردہ فتووں کا رد ارشادفرمایا،پھراس کے بعدواضح فرمایاکہ :’’ہماری صورت اور فقہائے کرام کے جزئیات میں مطابقت نہیں ہے کہ جن فقہائے کرام نے یہ فرمایاہے کہ مشقت والی صورت میں نمازفاسدنہیں ہوگی، توان کی مرادیہ ہے کہ ایک شخص صحیح ادائیگی پرقادرہے،لیکن براہ لغزش وخطازبان سے اس کی جگہ کوئی دوسرالفظ اداہوگیا تواب فسادکاحکم نہیں ہوگا۔جبکہ ہماری صورت عجزوالی ہے کہ جوظالین یااس کے مشابہ دالین پڑھنے والے ہیں وہ “ض”اداکرنے پرقادرنہیں ہیں ۔لہذافقہائے کرام کی عبارات سے ہماری صورت پر استناد کرنا اور دلیل لانا،یہ درست نہیں ہے ۔‘‘ اوراس کے شروع میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے یہ فرمایاہے کہ :’’عربی عبارت کاترجمہ کرلینااورہےاورفقہائے کرام کی مراداوران کے مقصودتک پہنچ جانایہ اور ہے۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت دیکھیے! ’’مگر جانِ برادر عربی عبارت میں ” مِنْ ، عَلٰی ،فِیْ ” کا ترجمہ سمجھ لینا اور بات ہے اور مقاصد و مراد ومرام علمائے اعلام تک رسائی او ر۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ مشقت جس سے فتوی ندوہ نے استناد کیا اس بحث سوال سے اصلاً متعلق ہی نہیں علماء کا وہ قول صورت خطا وزلّت میں ہے کہ لغزش زبان سے باوصف قدرت ایک حرف کی جگہ دوسرا نکل جائے اور یہاں صاف صورت عجز ہے کہ یہ ظالین یا اس کے مشابہ دالین پڑھنے والے ہرگز ادائے “ض” پرقادر نہیں ۔ جس طرح خزانۃ الاکمل و حلیہ کی عبارت گزری کہ:’’ ان السنۃ الاکراد واھل السواد والاتراک غیر طائعۃ فی مخارج ھذہ الحروف ‘‘ (کرد، عراقی ،ترک لوگوں کی زبانیں ان حروف کی ادائیگی پر قادر نہیں۔) فتاویٰ امام قاضی خان وغیرہ کی عبارت اوپر گزری کہ اس قول کو’’ اذااخطأ بذکر حرف مکان حرف ‘‘ (یعنی اگر ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف خطاءً زبان سے نکل گیا ۔)میں ذکر فرمایا۔ اب محقق علی الاطلاق کا ارشاد اجل و اجلےٰ سنیے، فتح میں فرماتے ہیں:’’ اما الحروف فاذاوضع حرفا مکان غیرہ فاماخطأ واماعجزا فالاول ان لم یغیر المعنی لاتفسد و ان غیرفسدت فالعبرۃ فی عدم الفساد عدم تغیر المعنی، وحاصل ھذا ان کان الفصل بلا مشقۃ تفسد وان کان بمشقۃ قیل تفسد واکثرھم لا تفسد ھذاعلی رأی ھو لاء المشائخ ، ثم لم تنضبط فروعھم فاورد فی الخلاصۃ ما ظاھرہ التنافی للمتامل فالاولی قول المتقدمین والثانی وھوالاقامۃ عجزا کالحمد للہ الرحمٰن الرحیم بالھاء فیھااعوذ بالمھملۃ الصمد بالسین ان کان یجھداللیل والنھار فی تصحیحہ ولا یقدر فصلوٰتہ جائزۃ ولوترک جھدہ ففاسدۃ ولایسعہ ان یترک فی باقی عمرہ اھ مختصرا ‘‘(رہا معاملہ حروف کا، توجب ایک حرف کو کسی دوسرے حرف کی جگہ رکھ دیا جائے ،تو یہ خطاءً ہوگا یا عجزاً، پہلی صورت میں اگرمعنی نہیں بدلا تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر معنی بدل گیا ہو، تو نماز فاسد ہوجائے گی ، پس نماز کے عدمِ فسا د میں معنی کے تبدیل نہ ہونے کا اعتبار ہے ،اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ اگر حروف میں امتیاز بغیر مشقت کے ممکن ہو، تو نماز فاسد ہوگی ، اور اگر اس میں مشقت ہو تو بعض نے کہا نماز فاسد ہوگی، لیکن اکثر کے نزدیک فاسد نہ ہوگی، یہ ان مشائخ کی رائے کے مطابق ہے، پھر ان کی تمام فروعات و جزئیات منضبط نہیں ۔ پس خلاصہ میں ایسی چیز کو وارد کیا گیاہے، جو بظاہر صاحب غور وفکر کے ہاں منافی ہے ، پس متقدمین کا قول اولیٰ ہے اور دوسری صورت کہ یہ عمل عجزاً ہو، مثلاً: الحمد اللہ ، الرحمٰن الرحیم میں “ھا”کے ساتھ ،اعوذمیں دال کے ساتھ اور الصمدمیں سین کے ساتھ پڑھتا ہے،اس صورت میں اگر اس نے تصحیح کے لئے شب وروز محنت کی اور قادر نہ ہوسکا ،تو اس کی نماز درست ہوگی اور جدو جہد ترک کردی، تو نماز فاسد ہوگی اور اس کے لئے باقی عمر میں جدوجہد ترک کرنے کی گنجائش نہیں۔اھ اختصارًا) دیکھو خطا و عجز کو صاف دو صورتیں متقابل قرار دیا اور وہ فرق مشقت کا قول صرف صورت خطا میں ذکر کیا صورتِ عجز میں اس تفرقے کا اصلاً نام نہ لیا ،بلکہ س و ص ود و ذ کی مثالوں سے حروف متشابۃ الصوت و غیر متشابہ دونوں کا یکساں حکم ہونا صراحۃً ظاہر فرما دیا، تو بحالت عجز مغضوب مغذوب ،بلکہ بالفرض مغکوب مغموب سب کو قطعاً ایک حکم شامل اور حرف و دو حرف کا فرق باطل۔‘‘(13) مثال نمبر 2
امام صاحب و صاحبین کے قول میں اختلاف ہو، تو فتویٰ کس قول پر ہوگا
صاحبین اگرکسی قول میں امام صاحب کے مخالف ہوں ،تواس صورت میں کس قول پرفتوی ہوگا،اس کے حوالے سے مختلف کتب سے عبارات درج فرمانے کے بعد، بظاہر متعارض نظرآنے والی عبارات میں تطبیق دینے کے بعدامام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: فتاوی رضویہ میں ہے :’’ فظھر وللہ الحمد ان الکل انما یرمون عن قوس واحدۃ ویرومون جمیعا ان المقلد لیس لہ الااتباع الامام فی قولہ الصوری ان لم یخالفہ قولہ الضروری والاففی الضروری ‘‘( بحمد ہ تعالی اس تفصیل وتطبیق سے روشن ہوا کہ سبھی حضرات ایک ہی کمان سے نشانہ لگا رہے ہیں اور سب کا یہ مقصودہے کہ مقلد کے لئے صرف اتباع امام کاحکم ہے ،یہ اتباع اما م کے قول صوری کا ہوگا ،اگر قول ضروری اس کے خلاف نہ ہو ، ورنہ قول ضروری کا اتباع ہوگا۔) (14)
(30)جمع کلام و نقدمرام(کلام کواکٹھاکرنااورمقصودکوپرکھنا)
جمع:اکٹھاکرنا۔(15) نقد:پرکھنا۔(16) مرام:مراد۔مقصدوغیرہ۔(17) جب کسی مسئلے کے متعلق تحقیق وتنقیح کی جاتی ہے ، تواولاًاس سے متعلقہ موادکو مختلف مقامات سےایک جگہ جمع کیاجاتاہے،تاکہ ہرطرح کی عبارات سامنے آجائیں ، مطلق بھی ،مقیدبھی ، عام بھی ،خاص بھی ،مختصر بھی اورمطول بھی وغیرہ وغیرہ اور پھر ان کوسامنے رکھ کرایک جامع ،مانع عبارت ترتیب دی جائے ۔چنانچہ ایک مقام پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ جمع کلام کافائدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ اس جمع طرق و احاطہ الفاظ سے رفع ابہام و دفعِ اوہام وایضاح خفی و اظہار مشکل و ابانت مجمل و تعیین محتمل ہاتھ آئے۔‘‘(18) تحقیقاتِ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ میں جمعِ کلام ونقدمرامامام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی تحقیقات میں یہ واضح طورپرملتاہے کہ آپ علیہ الرحمۃ دوران تحقیق کسی مسئلہ کے متعلق مختلف کتابوں سے عبارات نقل فرماکر اس کے بعد جامع حکم ارشادفرماتے ہیں ۔جس کی کچھ جھلک ملاحظہ فرمائیے: مثال نمبر 1
اسراف سے متعلق گیارہ اَقوال اور امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کا مختار قول
چنانچہ طہارت میں بے سبب پانی خرچ کرنے کے متعلق فقہائے کرام کے چار اقوال ہیں ۔امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ان چاروں اقوال کوذکرفرماکرخودارشادفرمایا:’’ رہایہ کہ پھرآخرحکم منقح کیاہے ،اس کے لیے اولاًتحقیق معنی اسراف کی طرف عودکریں پھرتنقیح حکم ۔‘‘(19) چنانچہ اس کے بعدمعنی اسراف کے متعلق گیارہ اقوال تحریرفرمائے اورآخرمیں لب لباب تحریرفرمایا۔چنانچہ فرماتے ہیں : ’’ اقول : اسراف کی تفسیر میں کلمات متعدد وجہ پر آئے: (۱) غیر حق میں صرف کرنا۔ یہ تفسیر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمائی۔ (۲) حکمِ الٰہی کی حد سے بڑھنا۔ (۳) ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرعِ مطہر یا مروّت کے خلاف ہو اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔ (۴) طاعتِ الٰہی کے غیر میں اٹھانا۔ (۵) حاجتِ شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا۔ (۶) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ (۷) دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی۔ (۸) ذلیل غرض میں کثیر مال اُٹھادینا۔ (۹) حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ کھانا۔ (۱۰) لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اُٹھادینا ۔ (۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔ ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ومانع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اُس عبد اللہ کی تعریف ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کی گٹھڑی فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد تمام جہان سے علم میں زائد ہے اور ابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مورث علم ہے رضی اللہ تعالی عنہ وعنہم اجمعین۔‘‘(20) اس کے بعد ان تمام اقوال کانچوڑبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’بالجملہ احاطہ کلمات سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاک دورہ کرتے ہیں ،دو ہیں ایک مقصدمعصیت دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع وکراہت۔ اقول : معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہٰذا اُس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہٖ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہٰذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ واستہلاک ہے کہ اہم بالافادہ یہی ہے ،معاصی میں صرف معصیت ہونا تو بدیہی ہے زید نے سونے چاندی کے کڑے اپنے ہاتھوں میں ڈالے یہ اسراف ہوا کہ فعل خود گناہ ہے، اگرچہ تھوڑی دیر پہننے سے کڑے خرچ نہ ہوجائیں گے اور بلا وجہ محض اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے،تو اسراف نہیں کہ نہ فعل گناہ ہے، نہ مال ضائع ہوا اور اگر دریا میں پھینک دئیے، تو اسراف ہوا کہ مال کی اضاعت ہوئی اور اضاعت کی ممانعت پر حدیث صحیح ناطق صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے ،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’ ان اللہ تعالی کرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال ‘‘(بے شک اللہ تعالی تمہارے لیے مکروہ رکھتا ہے، فضول بک بک اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت۔) یہ تحقیق معنی اسراف ہے ،جسے محفوظ وملحوظ رکھناچاہئے کہ آئندہ انکشاف احکام اسی پر موقوف وب اللہ التوفیق۔‘‘(21) امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی عبارت سے واضح ہواکہ تنقیح حکم کے لیے ،جس پراس کا مدار ہواس کے متعلق مختلف اقوال ہوں،توان سب کونقل کرکے نچوڑنکالاجائے گا،جیسے پانی میں اسراف کا حکم بیان کرنے کے لیے اسراف سے متعلق آنے والی مختلف عبارات کونقل کرکے ان کا نچوڑ نکالا گیا اورپھراسی پرحکم کامدارہوا۔ مثال نمبر 2
مطلق کی بارہ تعریفات اور امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی مختار تعریف
مطلق ومقید کی تعریف کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں :’’فصل ثانی مطلق ومقیدکی تعریف میں ۔ یہاں عبارات علما مختلف آئیں۔ اما لفظا اومعنی ایضا فمنھا صحیح وخلافہ والصحیح منھا حسن واحسن فنذکرھا ومالھا وعلیھا لیتبین المنتجب من المجتنب، فیراعی معیارا فی کل مطلب ‘‘ (یا تو لفظاً یا معناً بھی، ان میں سے کچھ صحیح ہیں اور کچھ اس کے برخلاف ،صحیح میں سے کچھ حسن اور کچھ احسن ہیں، تو اب ہم انہیں اور ان پر جو ابحاث ہیں ،انہیں ذکر کرتے ہیں تاکہ صحیح اور غلط ظاہر ہو،تا کہ ہر بحث میں معیار کی رعایت کی جاسکے۔)‘‘ پھراعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے 12تعریفات تحریرفرمائیں اوربارہویں کواصح واحسن تعریفات قراردے کراس کی توضیح وتنقیح فرمائی اورآخرمیں اپنی تحقیق کے مطابق مائے مطلق کی تعریف تحریرفرمائی۔ یہ ساری بحث جلدنمبر2کے ص652سے679تک پھیلی ہوئی ہے ۔اختصاراً درج کی جاتی ہے۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے :’’ اوّل :مطلق وہ کہ شے کی نفس ذات پر دلالت کرے کسی صفت سے غرض نہ رکھے،نہ نفیاً، نہ اثباتاً “قالہ فی الکفایۃ” (یہ تعریف کفایہ میں ہے۔) اور مقید وہ کہ ذات کے ساتھ کسی صفت پر بھی دال ہو۔ دوم :مطلق وہ کہ اپنی تعریف ذات میں دوسری شَے کا محتاج نہ ہو اور مقید وہ کہ جس کی ذات بے ذکر قید نہ پہچانی جائے۔ سوم: مطلق وہ کہ اپنے پیدائشی اوصاف پر باقی ہو۔ چہارم :مطلق وہ کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی ہو۔ پنجم :مطلق وہ جس کے لیے کوئی نیا نام نہ پیدا ہوا۔ ششم :مطلق وہ ہے جسے دیکھنے والا دیکھ کر پانی کہے ۔ ہفتم :مطلق وہ ہے جسے بے کسی قید کے بڑھائے پانی کہہ سکیں۔ ہشتم: مطلق وہ ہے جس سے پانی کی نفی نہ ہوسکے یعنی نہ کہہ سکیں کہ یہ پانی نہیں۔ نہم: مطلق وہ جس سے پانی کا نام زائل نہ ہو۔ دہم: مطلق وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن سبقت کرے بشرطیکہ اُس کا کوئی اور نام نہ پیدا ہوا ہو اور جس کی طرف لفظ آب سے ذہن سبقت نہ کرے یا اس کا کوئی نیا نام ہو، وہ مقید ہے۔ یازدہم :مطلق وہ ہے جس کی طرف نامِ آب سے ذہن سبقت کرے اور اس میں نہ کوئی نجاست ہو اور نہ اور کوئی بات مانع جواز نماز، یہ قیدیں بحر میں اضافہ کیں تاکہ آبِ نجس ومستعمل کو خارج کردیں۔ دوازدہم: حلیہ وبحر کی قیدوں سے آزاد مطلق صرف وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن جاتا ہے۔ اقول: یہی اصح واحسن تعریفات ہے۔
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اپنی مائے مطلق کی تعریف
بالجملہ تحقیق فقیر غفرلہ میں مائے مطلق کی تعریف یہ ہے کہ:’’ وہ پانی کہ اپنی رقتِ طبعی پر باقی ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط وممتزج نہیں جو اُس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے، نہ ایسی جو اُس کے ساتھ مل کر مجموع ایک دوسری شے کسی جُدامقصد کے لیے کہلائے۔‘‘ ان تمام مباحث بلکہ فہیم کے لیے جملہ فروع مذکورہ وغیر مذکورہ کو ان دو بیت میں منضبط کریں: ؎ مطلق آبے ست کہ بر رقتِ طبعی خودست نہ درومزج دگر چیز مساوی یا بیش نہ بخلطے کہ بترکیب کُند چیز دگر کہ بودز آب جُدا در لقب ومقصد خویش”(22) اللہ تبارک و تعالیٰ شیخ الاسلام و المسلمین ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان ع َلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ، ان کے تصدق ہمیں شرعی مسائل سیکھنے،ان پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــ
ہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی
محمدعرفان مدنی
محرم الحرام1444 ھ/24اگست 2220
1… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۳،ص۱۴۸تا۱۵۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۵،ص۴۰۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۳۰،ص۱۴۱،۱۴۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (سورۃ البقرۃ،پ۰۱،آیت۱۲۸) 5… ۔ (المنجد،ص۴۲۶،لاہور)(فیروزاللغات،ص۱۱۱۹،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۴۶۲تا۴۶۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۳۰،ص۷۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۸،ص۴۴۹،۴۵۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۹،ص۲۲۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ ( ردالمحتارمع الدرالمختار،باب سجودالسہو،ج۰۲،ص۵۴۶،دار عالم الکتب،ریاض) 11… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۸،ص۱۹۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (المنجد،ص۴۲۶،لاہور) 13… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۶،ص۳۱۳تا۳۱۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 14… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،الف،ص۱۹۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 15… ۔ (المنجد،ص۱۲۱،لاہور) 16… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۴۳۷،لاہور)(المنجد،ص۹۲۷،لاہور) 17… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۲۸۶،لاہور) 18… ۔(فتاوی رضویہ،ج ۲۷،ص ۷۱،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 19… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۹۲۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 20… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۱،ب،ص ۹۲۶تا۹۳۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 21… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۹۴۰،۹۴۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 22… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۶۵۲تا۶۷۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور)




