مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(1)اصول مقررہ

اصول ،اصل کی جمع ہے اوراصل کامطلب ہے: ’’وہ قاعدہ کلیہ جس سے دوسری چیزیں نکلتی ہیں ۔‘‘ اورمقررہ کامطلب ہے : قائم کیاگیا۔ثابت شدہ۔وغیرہ وغیرہ ۔ پس اصول مقررہ کامطلب ہوا: قائم کیے گئے ،ثابت شدہ اصول ۔ الاحکام فی اصول الاحکام میں ہے:” معنى الأصل: ما يبنى عليه غيره “ ترجمہ:اصل کامعنی:وہ چیزجس پراس کے غیرکی بنیادہو۔(1) المحصول للرازی میں ہے:” أصل الشئ ما تفرع عنه غيره “ترجمہ:شے کی اصل وہ ہے جس سے اس کے علاوہ چیزنکلے۔ (2) فرہنگ آصفیہ میں ہے :’’مقررہ:قائم کیا گیا،ٹھہرایا گیا،تجویز کیا گیا ۔۔۔الخ‘‘(3) منجدمیں ہے “ قررت عندہ الخبر “:میں نے اس کے پاس خبرکوثابت کیا۔(4) ایک فقیہ کے لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ اسے مقررہ اصول وقواعد کی پوری معلومات ہو،تاکہ جب کسی پیش آمدہ مسئلے کے حکم کاقاعدے سے استخراج کرناہو ، تووہ مقررہ اصولوں کی روشنی میں استخراج کرے ،اس دوران ان اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس معاملے میں فقیہ اعظم ،امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کوزبردست مہارت اورعظیم ملکہ حاصل تھا ،جس کے نظارے کے لیے فتاوی رضویہ کامطالعہ کیاجاسکتاہے ۔ ہم ذیل میں فتاوی رضویہ سے چند فتاوی نقل کررہے ہیں ،جن میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اصول مقررہ کی روشنی میں حکم بیان فرمایاہے،ان سے واضح ہوگاکہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اصول مقررہ کاکس قدرلحاظ فرماتے تھے،جواصول مقررہ پرآپ علیہ الرحمۃ کی گہری نظرکابین ثبوت ہے ۔

فتاوی رضویہ میں اصول مقررہ کا لحاظ

 

(1)پہلاقاعدہ

’’جب یقین کسی معلوم مقام میں نہ ہو،بلکہ مجہول ومبہم مقام میں ہو،تووہ شک سے زائل ہوجاتاہے ۔‘‘ اس کی وضاحت درج ذیل ہے : “ایک چیزکےکسی دوسری چیزمیں شامل ہونے کایقین ہے،لیکن شامل ہونے والی چیز، دوسری چیزکے کس حصے اورمقام میں شامل ہوئی ،وہ حصہ اورمقام معلوم نہیں توایسایقین شک سے زائل ہوجاتاہے ۔پس جب شامل ہونے والی چیز کے دوسری چیزمیں باقی رہنے اورزائل ہونے میں شک آئے گا،توشامل ہونے کایقین زائل ہوجائے گااوردوسری چیزکاجواصل حکم تھا،وہ لوٹ آئے گا۔” مثلا:اناج کاایک ڈھیرہے،جس کے کچھ حصے میں نجاست کاشامل ہوجانایقینی طورپرمعلوم ہے، لیکن یہ معلوم نہ رہا کہ وہ کون ساحصہ ہے ،جس میں نجاست شامل ہوئی ، توایسی صورت میں جب اس میں سےکچھ اناج نکال کرکسی کودے دیاجائے گاتواب کسی حصے میں نجاست کے پائے جانے کایقین نہ رہے گا ، بلکہ ہرحصے میں نجاست کاپایا جانا اورنہ پایا جانامشکوک ہوجائے گا،تواس شک سے سابقہ یقین یعنی نجاست کاڈھیرمیں ہونا،زائل ہوجائے گااوراناج کے ڈھیرکاجواصل حکم تھاکہ:’’ وہ پاک ہے اور اس کاکھاناحلال ہے ‘‘وہ اصل حکم لوٹ آئے گا۔

فتاوی رضویہ میں اس قاعدے کا استعمال

نیچے فتاوی رضویہ سے اس کے استعمال کی دومثالیں درج کی جاتی ہیں : مثال نمبر1 امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نےایک مقام پراس قاعدے کوپانی کے ایک مسئلے میں استعمال فرمایاہے،جس کی تفصیل درج ذیل ہے : کثیرکتب معتمدہ میں یہ مسئلہ مذکورہے کہ :”اگرکسی بچے نے کسی حوض سے پانی کاایک گلاس بھرااوراس میں سے کچھ پانی پھراس حوض میں ڈال دیاتواب اس کااستعمال کرنا،کسی کوحلال نہیں۔ ” جس دورمیں عام طورپرپانی کےحصول کادارومدارحوضوں اورکنووں پرہی تھا، اس دورمیں یہ مسئلہ بظاہربڑادشوارمعلوم ہوتاتھاکہ اگر کوئی نابالغ بچہ حوض یاکنویں میں سے کچھ پانی نکال کرپھرسارایاکچھ پانی اس میں ڈال دے ،تواب سب کے لیے اس حوض یاکنویں کاپانی استعمال کرنا،ناجائزہوجائے گا،توجہاں صرف ایک ہی حوض یاکنواں ہواوروہاں کوئی بچہ یہ کام کرڈالے توسارے علاقے کے لیے مسئلہ بن جائے۔اسی وجہ سے اس عبارت کونقل کرکے علامہ طحطاوی و علامہ شامی علیہما الرحمۃ جیسے جلیل القدر فقہا نے فرمایاکہ:” اس حکم میں حرج عظیم ہے ۔”لیکن اس کاحل بیان نہیں فرمایا۔ قربان جائیے مجدداعظم،فقیہ افخم ، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کے کہ آپ علیہ الرحمۃ نے اوپربیان کردہ قاعدے کواستعمال فرماتے ہوئے ایساحل بیان فرمایاکہ جس سےدشواریوں کے بادل چھٹ گئےاورآسانیوں کاسورج آب وتاب کے ساتھ چمکنے لگا۔چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا: “پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتاہے، تو بچے کامملوکہ پانی ، حوض کے کس مقام پرہے ؟یہ معلوم نہیں، لہذا اس حوض میں سے اتناپانی بھرکر،جتنابچے نے اس میں ڈالاتھا،بچے کونکال کردے دیاجائے ، تواب حوض کے بقیہ پانی میں بچے کی ملک کاباقی رہنامشکوک ہوجائے گااورحوض کااصل حکم عودکر آئے گاکہ اس کاپانی استعمال کرنا،جائزہے۔” اب فتاوی رضویہ کی اصل عبارت سے اس تحقیق کوملاحظہ کیجیے !چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:” کتب کثیرہ معتمدہ میں تصریح ہے کہ اگر نابالغ نے حوض میں سے ایک کوزہ بھرا اور اس میں سے کُچھ پانی پھر اُس حوض میں ڈال دیا اب اُس کا استعمال کرنا کسی کو حلال نہ رہا۔۔۔۔علامہ طحطاوی وعلامہ شامی نے اسے نقل کرکے فرمایا اس حکم میں حرج عظیم ہے۔۔۔۔۔غرض مسئلہ مشکل ہے اوراس میں ضرورحرج ہے اورحرج مدفوع بالنص ہے ۔۔۔۔ وانااقول وباللہ التوفیق ۔۔۔بوجہ احتمال انتقال ،اختلاط مِلکِ صبی کا یقین کسی موضع معین میں نہیں بلکہ موضع مجہول ومبہم میں ہے اور ایسےیقین پر جب اُس شے کے بقا وزوال میں شک طاری ہو ، یقین زائل اور حکم اصل حاصل ہوتا ہے جیسے دائین چلانے میں بیل ضرور پیشاب کرتے اور اناج کا ایک حصہ یقیناً ناپاک ہوتا ہے مگر متعین نہ رہا، تو بعد تقسیم یا اُس سے کُچھ ہبہ یا صدقہ کرنے سے سب پاک ہوجائےگا کہ ہر ایک کہے گا ممکن کہ ناپاک دانے دوسرے حصے میں رہے یا گئے ہوں، یوں ہی چادر پر ناپاکی کا یقین ہے اور جگہ معلوم نہیں یا یاد نہ رہی اور تحری کسی طرف نہیں پڑتی ، کہیں سے پاک کر لی جائے ، پاک ہوجائے گی کہ اب اس متیقن مبہم کی بقا میں شک ہوگیا اور سب سے زائد وہ مسئلہ ہے کہ محررِ مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے سیر کبیر میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ایک قلعہ فتح کیا ۔اتنا معلوم ہے کہ اس میں ایک ذمی ہے مگر اُسے پہچانتے نہیں اُن کفار کا قتل حرام ہے ، ہاں اگر اُن میں سے بعض نکل جائیں یاکسی کو قتل کر دیا جائے،تو اب باقیوں کا قتل جائز ہوگیا کہ وہ یقین مجہول اس شک سے زائل ہوگیا۔ جب یہ قاعدہ نفیسہ معلوم ہولیا یہاں بھی اُس کا اِجرا کریں جتنا پانی اُس نابالغ نے ڈالا ہے اسی قدر یا اُس سے زائد اُس حوض یا کنویں سے نکال کر اُس نابالغ کو دے دیں یہ دینا یقیناً جائز ہوگا کہ اگر اِس میں مِلک صبی ہے تو صبی ہی کے پاس جاتی ہے بخلاف بہا دینے یا ڈول کھینچ کر پھینک دینے کے کہ وہ مِلک صبی کا ضائع کرنا ہے اور یہ جائز نہیں ،اب کہ اُس قدر یا زائد پانی اُس صبی کو پہنچ گیا اُس کے ڈالے ہوئے پانی کا باقی رہنا مشکوک ہوگیا تو وہ یقین کہ موضع مجہول کے لیے تھا زائل ہوگیا اور حوض وچاہ کا باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا۔“(5) مثال نمبر2 کھانے پینے والی کچھ چیزیں کسی کی ملکیت میں ہیں ،ان میں سے کسی ایک کاکھانا،پیناکسی وجہ سے حرام ہوگیا اور وہ ساری چیزیں آپس میں مِکس ہوگئیں ،حرام کون سی ہوئی ،اس کی تعیین نہ رہی ،تواب ان تمام اشیاکااستعمال کرناحرام ہوگیا۔لیکن وہ حرمت ایسی ہے کہ اس کاازالہ کیاجاسکتاہے ،تواب ان میں سے کسی بھی ایک سے اس حرمت کاازالہ کردیاجائے تواب ان اشیامیں حرمت کاباقی رہنا مشکوک ہوجائے گا لہذاسبھی کاجواصل حکم تھاکہ وہ حلال اورجائزالاستعمال ہیں ،وہ حکم لوٹ آئے گا۔” مثال کے طورپرکسی کے پاس دودھ کے چندبرتن ہیں،ایک برتن میں موجود دودھ کسی وجہ سے ناپاک ہوگیااور پاک وناپاک دونوں طرح کے برتن مکس ہوگئے ، ناپاک دودھ والے برتن کی تعیین نہ رہی کہ وہ کون سابرتن ہے ؟ تواب کسی بھی برتن کادودھ استعمال نہیں کرسکتے کہ ہرایک میں ناپاک ہونے کااحتمال ہے لیکن اگر کسی بھی برتن کے دودھ کوشرعی طریقہ کے مطابق پاک کرلیں گے تواب سبھی کااستعمال کرناجائزہوجائے گاکہ ناپاکی کامقام مجہول تھا،جب کسی ایک کوپاک کرلیاگیاتواب اس ناپاکی کاان برتنوں میں باقی رہنامشکوک ہوگیا،تواس شک سے سابقہ یقین زائل ہوجائے گااورتمام برتنوں کا دودھ پاک ہوجائے گا،جس کااستعمال کرناجائزہوجائے گا ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ”جب بازار میں حلال وحرام مطلقاً یا کسی جنس خاص میں مختلط ہوں اور کوئی ممیز وعلامت فارقہ نہ ملے تو شریعت مطہرہ خریداری سے اجتناب کا حکم نہیں دیتی کہ آخران میں حلال بھی ہے تو ہر شَے میں احتمالِ حلت قائم اور رخصت واباحت کو اسی قدر کافی، یہ دعوٰی بھی ہماری تقریرات سابقہ سے واضح اور خود ملاذ مذہب ابوعبد اللہ شیبانی رضی اللہ تعالی عنہ نے مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اُس پر نص فرمایا۔۔۔۔ تنبیہ: اقول : وباللّٰہ التوفیق (اور اللہ تعالی کی توفیق سے میں کہتا ہوں۔) یہ احتمال حل پر عمل کا قاعدہ نظر بفروع فقہیہ اُس صورت سے مخصوص ہے کہ وہ سب اشیا جن میں وجود حرام کا تیقن اور اُن میں سے ہر فرد کے تناول میں تناول حرام کا احتمال ہے ۔ اس تناول کرنے والے کی ملک میں نہ ہوں ورنہ اُن میں سے کسی کا استعمال جائز نہ ہوگا مگر تین صورتوں سے ۔ ایک یہ کہ وجہ حرمت جب صالح ازالہ ہو تو اُن میں کسی سے اُسے زائل کردیا جائے کہ اب بقائے مانع میں شک ہوگیا اور یقین مجہول المحل جس کا محل خاص بالتعین معلوم نہ ہو ایسے شک سے زائل ہوجاتا ہے مثلاً چادر کا ایک گوشہ یقینا ناپاک تھا اور تعیین یاد نہ رہے ، کوئی سا کونا دھولے ، پاکی کا حکم دیں گے۔“(6)

(2،3)دوسرا اور تیسرا قاعدہ

(2) قاعدہ:اشیامیں اصل طہارت ہے۔ (3) قاعدہ:اشیامیں اصل اباحت یعنی ان کا جائز الاستعمال ہوناہے ۔

فتاوی رضویہ میں ان قواعد کا استعمال

ان قواعدسے متعلق فتاوی رضویہ سے ایک مثال درج ذیل ہے : امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے جب سوال ہواکہ گورنمنٹ کی طرف سے کنووں میں پانی کی اصلاح کے لیے دوائی ڈالی جاتی ہے جس سے پانی کارنگ سرخ ہوجاتاہے اورذائقہ بھی بدل جاتاہے تواس حالت میں پانی طاہرومطہریعنی قابل وضورہے گااوراسی طرح پینے وغیرہ کے قابل رہے گایانہیں ؟ تواس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے انہی دونوں اصولوں کاحوالہ دیتے ہوئے جو کچھ فرمایااس کاخلاصہ یہ ہے کہ:” جب تک نجاست کاعلم نہیں وہ پانی پاک اورقابل وضو رَہے گا اور جب تک حرمت کاعلم نہیں تووہ حلال بھی رہے گا ، لہذاپینے وغیرہ کے ذریعے استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! “جب تک نجاست پر علم نہیں پانی طاہر مطہر ہے ” نص علیہ فی ردالمحتار وغیرھا والاصل فی الاشیاء الطھارۃ ” (ردالمحتار وغیرہا میں اس کو صراحۃً ذکر کیا ہے اور اشیاء کا اصل حکم طہارت ہے۔ ) یوں ہی جب تک حرمت پر علم نہیں پانی حلال ومشروب ہے” فان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ “(کیونکہ اشیاء میں اصل ان کامباح ہوناہے ۔)”(7)

(4،5)چوتھااورپانچواں قاعدہ

(4) قاعدہ:”یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔” (5) قاعدہ:”دیانات(احکام دینیہ) میں کافرکی خبر،غیرمعتبرہے ۔”

فتاوی رضویہ میں ان قواعد کا استعمال

ان قواعدسے متعلق فتاوی رضویہ سے ایک مثال درج ذیل ہے : امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے کافرغیرکتابی سے گوشت خریدنے کے متعلق سوال ہوا ، تواس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نےجوکچھ ارشادفرمایااس کاخلاصہ یہ ہے کہ: “جانورجب تک زندہ ہوتاہے اس کاگوشت کھاناحلال نہیں ہوتا،اس کی زندگی میں اس کے گوشت کی حرمت یقینی ہوتی ہے ،اس کا گوشت حلال ہونے کے لیے اس جانورکاشرعی طریقہ کے مطابق ذبح ہوناضروری ہوتاہے اورکافرکے پاس جوگوشت ہے، اس کے متعلق کنفرم نہیں کہ یہ شرعی طریقہ کے مطابق ذبح ہوایانہیں ، اس لیےگوشت کی جوحرمت یقینی تھی ،اس کے زائل ہونے میں شک ہے،اورشک سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ اوراگرکافرکہے کہ اس جانورکوذبح شرعی سے حلال کیاگیاہے ، تواس کی بات معتبرنہیں ہوگی ،کیونکہ دیانات میں کافرکی خبرمعتبرنہیں ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” صورت مستفسرہ میں اس سے گوشت کاخریدنا ، کھانا، کھلانا ناجائز ہے، کہ حیوان جب تک زندہ تھا حرام تھا، ذبح شرعی سے حلال ہوگیا، اور اس کا حصول ثابت نہ ہوا، ” والیقین لایزول بالشک ” (شک سے یقین زائل نہیں ہوتا۔) اور وہ کافر غیر کتابی اگر کہے بھی کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے، تویہ خبر خصوصا امردیانت وحلت وحرمت میں ہے۔ اور ان امور میں کافرکی خبر محض باطل ونامعتبر ہے۔”(8)


1… ۔ ( الاحکام فی اصول الاحکام،الاصل فی القیاس،ج ۳ ،ص ۲۳۹ ، دار الصمیعی،السعودیۃ ) 2… ۔ ( المحصول للرازی،مسئلہ فی الاصل والفرع،ج ۵ ،ص ۱۶ ، مؤسسۃ الرسالہ ) 3… ۔ ( فرہنگ آصفیہ،ج ۰۴ ،ص ۱۱۰۴ ،مشتاق بک کارنر،لاہور ) 4… ۔ ( المنجد،ص ۶۷۹ ،مطبوعہ:لاہور ) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۵۲۹-۳۰،اور۵۳۷تا۵۴۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۵۱۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۳،ص۲۷۹،۲۸۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۰،ص۲۸۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور)