مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(2)ضوابط محرَّرہ

ضوابط، ضابطہ کی جمع ہے۔جس کالفظی مطلب ہے:”قانون”۔ محرَّرہ: تحریرشدہ ۔تنقیح شدہ۔ توضوابط محررہ کامطلب ہوا”تحریرشدہ،تنقیح شدہ قوانین”۔

قاعدے اورضابطے میں فرق

ضابطہ بھی اصل وقاعدےکی مثل ہوتاہے کہ اس سےبھی فروع نکلتی ہیں ۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اصل وقاعدہ مختلف ابواب فقہ کواپنے ضمن میں لیے ہوتاہے ،جبکہ ضابطہ ایک ہی باب کے مسائل پرمشتمل ہوتاہے ۔ قاعدے اورضابطے میں فرق کے حوالے سے ” الاشباہ والنظائر لابن نجیم ” میں ہے” والفرق بين الضابط والقاعدة أن القاعدة تجمع فروعا من أبواب شتى، و الضابط يجمعها من باب واحد، هذا هو الأصل “ترجمہ:ضابطے اورقاعدے میں فرق یہ ہے کہ قاعدہ مختلف ابواب کی فروع کوجمع کرتاہے اورضابطہ ایک باب کی فروع کوجمع کرتاہے ،یہی اصل ہے ۔(1)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی اس فن میں مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کو فقہی کتب میں بیان کردہ ضوابط پربھی خوب دسترس تھی اوراس کے ساتھ ساتھ وضع ضوابط یعنی نئے ضابطے بنانے میں بھی کمال مہارت تھی ۔ ہم اولافقہی کتب میں بیان کردہ ضوابط کے استعمال پرفتاوی رضویہ سے چندمثالیں دیں گے ،پھرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے وضع کردہ ضوابط کی کچھ جھلک دکھائیں گے اورضوابط کے وضع کرنے میں کس قدرمہارت کاہوناضروری ہے ،اسے بھی بیان کریں گے ۔ ان شاء اللہ عزوجل

فتاوی رضویہ میں ضوابط کا لحاظ

فتاوی رضویہ میں کثیرفقہی ضوابط بیان ہوئے ،ان میں سے چنددرج کیے جاتے ہیں :

(1)پہلا ضابطہ

(1)نمازکے دوران قراءت میں ہونے والی کسی قسم کی خطا،خواہ وہ اعراب کی خطاہویاحروف و کلمات چھوٹ جانے یابڑھ جانے کی ہووغیرہ وغیرہ ،اس سے متعلق علمائے متقدمین کااصول یہ ہے کہ:” ہروہ خطاکہ جس سے فسادمعنی لازم آئے اس سے نمازفاسدہوجاتی ہے ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! امام اہلسنت علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں :” خطا فی الاعراب یعنی حرکت،سکون ، تشدید، تخفیف، قصر،مد کی غلطی میں علمائے متاخرین رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین کا فتوی تو یہ ہے کہ علی الاِطلاق اس سے نماز نہیں جاتی۔۔۔۔اگرچہ علمائے متقدین و خود ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم درصورت فساد معنی فساد نماز مانتے ہیں اور یہی من حیث الدلیل اقوی ،اور اسی پر عمل احوط واحری ۔۔۔اسی طرح حروف و کلمات کا ، فَروگذاشت ہوجانا بھی دواماً موجبِ فساد نہیں ہوتا بلکہ اسی وقت کہ تغییر معنی کرلے کما ھو ضابطۃ الائمۃ المتقد مین رحمھم اللہ تعالی “بالجملہ اگر حافظ مذکور سے وُہ خطائیں جو مفسد نماز ہیں واقع نہیں ہوتیں تو نماز اس کے پیچھے درست ،اور ترک جماعت کے لئے یہ عذر نا مسموع، اور اگر خطایائے مفسدہ صادر ہوتےہیں،تو بےشک وہ نماز ، نماز ہی نہیں۔”(2)

(2)دوسرا ضابطہ

(2)ضابطہ:قرض کی وجہ سے کسی قسم کانفع لینامطلقاسودوحرام ہے ۔ اس قاعدےسے متعلق فتاوی رضویہ سے ایک مثال درج ذیل ہے: قرض کے بدلے کوئی چیزرہن(گروی)رکھی گئی تواب قرض کی وجہ سے قرض دینے والے کااس چیزکواستعمال کرنایہ قرض کی وجہ سے نفع لیناہے اوریہ سودوحرام ہے۔اور قرض کی وجہ سے استعمال ہونے کی علامت یہ ہے کہ یاتوصراحتاعقدمیں اس کی شرط کردی گئی کہ قرض اس طورپردیتاہوں کہ اس کے بدلے رہن لوں گاجسے میں استعمال کروں گایادلالۃ معلوم ہومثلاوہاں رواج ہے کہ قرض کے بدلے رہن لے کراس کااستعمال کیاجاتاہے۔توان دونوں صورتوں میں رہن سے کسی قسم کانفع لینا،قرض کی وجہ سے نفع لیناہوگا،اوریہ سودوحرام قرارپائے گا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! “اس قسم کے مسائل میں قول منقح ومحرر واصل محقق ومقرریہ ہے کہ بربنائے قرض کسی قسم کانفع لینا مطلقاً سودوحرام ہے۔۔۔اوراگراس بنا سے جدا ویسے ہی باہمی سلوک کے طورپر کوئی نفع وانتفاع ہوتووہ مدیون کی مرضی پرہے اس کے خالص رضاواذن سے ہوتو رَوا، وَرنہ حرام، اب یہ بات کہ یہ انتفاع بربنائے قرض ہے یابطورسلوک اس کے لئے معیار شرط وقراردادہے یعنی اگرقرض اس شرط پردیاکہ نفع لیں گے تووہ نفع بربنائے قرض حرام ہوا، اوراگرقرض میں اس کاکچھ لحاظ نہ تھا ، پھر آپس کی رضامندی سے کوئی منفعت بطوراحسان ومروّت حاصل ہوئی تو وہ بربنائے حسن سلوک ہے نہ بربنائے قرض تومدار کارشرط پرٹھہرا یعنی نفع مشروط سُود اورنفع غیرمشروط سودنہیں بلکہ باذن مالک مباح، پھرشرط کی دوصورتیں ہیں: نصاً یعنی بالتصریح قرارداد انتفاع ہوجائے، اورعُرفاً کہ زبان سے کچھ نہ کہیں مگربحکم رسم ورواج قرارداد معلوم اوردادوستد خودہی ماخوذومفہوم ہو ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام وسُودہے، فان المعھود کالمشروط لفظا ۔ ۔ ۔ جب یہ اصل کلی معلوم ہولی حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ اگرمکان وغیرہ شئی مرہون سے مرتہن کابذریعہ سکونت وغیرہ نفع لینا مشروط ہوچکاہے جیساکہ دخلی رہن ناموں میں اس کی صاف تصریح ہوئی ہے جب تو اس کاصریح سُودحرام ہوناظاہر، ورنہ غالب عرف وعادت رسم ورواج زمانہ صراحۃً حاکم ابنائے زمان اسی نفع کی غرض سے قرض دیتے ہیں اورلینے دینے والے سب بغیرذکر اسے قراریافتہ سمجھتے ہیں، اگرمرتہن جانے کہ مجھے انتفاع نہ ملے گا ہرگز عقدنہ کرے اورراہن بوجہ قرض دبا ہوا نہ ہوتوکبھی مجبوراً اجازت انتفاع نہ دے ولہٰذا مرتہن اس نفع وسود کواپناحق واجب جانتے ہیں اورراہن کواس پرمجبورکرتے ہیں، تویہ انتفاع اگرچہ لفظاً مشروط نہ ہو عرفاً بیشک مشروط ومعہود ہے توحکم مطلق حرمت وممانعت ہے۔”(3)

(3)تیسرا ضابطہ

(3)فتاوی رضویہ میں ہے : ” ضابطہ1: کسی پھل یا پیڑ یا بیل یا پتوں یاگھاس کے عرق یاعصارے سے وضوجائزنہیں ۔”(4) نوٹ:امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کو ضوابط وضع کرنے پرکمال مہارت تھی ۔ اولاً امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے وضع کردہ ضابطے اوراس کے بعداس کے لیے درکارمہارت ذکرکی جائے گی:

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے وضع کردہ ضوابط

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے کثیرضوابط وضع فرمائے ہیں ،ان میں سے چنددرج ذیل ہیں :

(1)پہلا ضابطہ

(1)مائے مطلق کی تعریف ایک ضابطہ ہے : امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اپنی تحقیق کے مطابق مائے مطلق کی تعریف میں تین قیودات بیان فرمائیں :(1)وہ پانی کہ اپنی طبعی رقت پرباقی ہو۔(2)اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط اور مکس نہیں ،جو مقدارمیں اس سے زائدیابرابر ہو۔(3)نہ ایسی جواس کے ساتھ مل کرمجموعہ ایک دوسری شے،دوسرے مقصدکے لیے ہوجائے ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” بالجملہ تحقیق فقیر غفرلہ میں مائے مطلق کی تعریف یہ ہے کہ وہ پانی کہ اپنی رقتِ طبعی پر باقی ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط وممتزج نہیں جو اُس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے نہ ایسی جو اُس کے ساتھ مل کر مجموع ایک دوسری شے کسی جُدامقصد کے لئے کہلائے ان تمام مباحث بلکہ فہیم کے لیے جملہ فروع مذکورہ وغیر مذکورہ کو ان دو بیت میں منضبط کریں: ؎ مطلق آبے ست کہ بر رقتِ طبعی خودست نہ درومزج دگر چیز مساوی یا بیش نہ بخلطے کہ بترکیب کُند چیز دگر کہ بودز آب جُدا در لقب ومقصد خویش “(5)

(2) دوسرا ضابطہ

(2)مائے مستعمل کی تعریف ایک ضابطہ ہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے مائے مستعمل کی جامع مانع تعریف تحریرفرمائی ،جس کے اندرمائے مستعمل کی تمام جزئیات شامل ہوجاتی ہیں۔اورپھربعدمیں تعریف میں موجودقیودات کے فوائدبھی بیان فرمائے ہم صرف تعریف ذکرکریں گے ۔قیودات کے فوائدکے لیے فتاوی رضویہ کی طرف رجوع کیاجائے ۔چنانچہ آپ کی بیان کردہ تعریف کاخلاصہ یہ ہے کہ :انسان کےجسم کے جس حصے کوپاک کرناوضویاغسل کے ذریعے بالفعل لازم ہوچکاتھا،اس کے کسی ٹکڑےسےجو قلیل پانی مس (یعنی ٹچ) ہو کرجداہوا،یاظاہربدن پرپانی کااستعمال ثواب کاکام تھااوراستعمال کرنے والے نےبدن پر ثواب کی نیت سےقلیل پانی استعمال کیا،تواستعمال کے بعدبدن سے جو پانی جداہوا،وہ پانی مستعمل ہے ،اگرچہ کسی جگہ ٹھہرانہ ہو اوربعض کے نزدیک پانی کاجسم سے جداہوجانے کے بعدٹھہرنابھی شرط ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے” مستعمل وہ قلیل پانی ہے جس نے یا تو تطہیر نجاست حکمیہ سے کسی واجب کو ساقط کیا ، یعنی انسان کے کسی ایسے پارہ جسم کو مس کیا ، جس کی تطہیر وضو یا غسل سے بالفعل لازم تھی ، یا ظاہر بدن پر اُس کا استعمال خود کارِ ثواب تھا اور استعمال کرنے والے نے اپنے بدن پر اُسی امر ثواب کی نیت سے استعمال کیا ، اور یوں اسقاط واجب تطہیر یا اقامتِ قربت کر کے عضو سے جُدا ہوا اگرچہ ہنوز کسی جگہ مستقر نہ ہوا ، بلکہ روانی میں ہے اور بعض نے زوالِ حرکت و حصولِ استقرار کی بھی شرط لگائی ۔ یہ بعونہٖ تعالیٰ دونوں مذہب پر حد جامع مانع ہے کہ ان سطروں کے سوا کہیں نہیں ملے گی ۔“ (6)

(3)تیسرا ضابطہ

کسی چیزمیں حرام یاناپاک چیزکے ملنےکاجویقین ہوتاہے،اس کی دوقسمیں ہیں : (۱) شخصی یعنی کسی خاص اورمعین چیزکے متعلق یہ یقین ہوکہ اس میں حرام یا ناپاک چیزمکس ہوگئی ہے مثلاآنکھوں سے دیکھاکہ فلاں مخصوص کنویں میں نجاست گری ہے ۔ (۲) نوعی یعنی مطلق نوع کے متعلق یقین ۔اس کی پھردوقسمیں ہیں : (الف)ایک اجمالی یعنی اتنایقین ہے کہ فلاں نوع میں حرام یاناپاک چیزملائی جاتی ہے لیکن یہ معلوم نہ ہوکہ اس کے ہرہرفردمیں ملائی جاتی ہے مثلایہ پتاہے کہ کافروں کے برتن ناپاک ہوتے ہیں کہ وہ مثلاشراب وغیرہ ڈالتے ہیں لیکن ان کاہرہربرتن ناپاک ہوتاہے اس کاعلم نہیں ۔ (ب)دوسر ی کلی یعنی ہمیشہ اس نوع کے ہرہرفردمیں ناپاک یاحرام چیزملائی جاتی ہےاوراس کاالتزام کیاجاتاہے ۔ اوریہ وہیں ہوسکتاہے جہاں بنانے والوں کواس ملانے سے کوئی خاص غرض مقصودہوورنہ خوامخواہ یقین نہیں ہوسکتا۔جیسے کسی زمانے میں فارس والے ریشمی کپڑے کی چمک بھڑک زیادہ کرنے کے لیے پیشاب ملاتے تھے اورپھردھوتے اس لیے نہیں تھے کہ رنگ اترے گا۔ پھرجس چیزکوملایاجارہاہے ،اس کی بھی دوقسمیں ہیں : (الف)جس کے افرادمیں پاک وناپاک ،حلال وحرام ہرطرح کی چیزیں ہوتی ہیں مثلا جانوروں کی ہڈیاں ۔ان میں حلال وحرام اورپاک وناپاک دونوں طرح کی ہڈیاں ہوتی ہیں ۔ (ب)جس کاہرہرفردہی ناپاک یاحرام ہوتاہے جیسے شراب۔

احکامات کی تفصیل

1۔جس کے افرادمیں پاک وناپاک ،حلال وحرام ہرطرح کی چیزیں ہوتی ہیں ،ان کے متعلق کسی قسم کابھی یقین ہونا،کسی چیزکوناپاک یاحرام نہیں کرے گا(کہ احتمال ہے کہ پاک وحلال فرد ڈالا گیا ہو)جب تک کہ یہ یقین نہ ہوکہ اس کاناپاک یاحرام فرد،فلاں مخصوص ومتعین چیزمیں ڈالاگیاہے یافلاں نوع کے ہرہرفردمیں ہمیشہ اورالتزام کے ساتھ ڈالاجاتاہے ۔ 2۔جس کاہرفردناپاک ہوتاہے ،اس میں نوعی اجمالی سے کسی چیزکے ناپاک یاحرام ہونے کاحکم نہیں لگے گاکہ ہوسکتاہے ہمارے سامنے جوچیزآئی اس میں اسے نہ ڈالاگیاہو۔ہاں اس کے علاوہ جودوقسمیں ہیں یعنی شخصی اورنوعی کلی ،ان طریقوں سے ان کاکسی چیزمیں ملناثابت ہوتوپھراس چیزکوناپاک وغیرہ قراردیاجاسکے گا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! فتاوی رضویہ میں ہے “وضع ضابطہ کلیہ دریں باب: اقول: وباللّٰہ التوفیق واضح ہوکہ کسی شے حرام خواہ نجس کے دوسری چیز میں خلط ہونے پر یقین دو۲ قسم ہے: (۱) شخصی یعنی ایک فرد خاص کی نسبت تیقن مثلاً آنکھوں سے دیکھا کہ اس کنویں میں نجاست گری ہے۔ (۲) اورنوعی یعنی مطلق نوع کی نسبت یقین۔ اور اس کی پھر دو۲ قسمیں ہیں: ایک اجمالی یعنی اس قدر ثابت کہ اس نوع میں اختلاط واقع ہوتا ہے نہ یہ کہ علی العموم اُس کے ہر فرد کی نسبت علم ہو جیسے کفار کے برتن، کپڑے، کنویں۔ دوسرا کلی یعنی نوع کی نسبت بروجہ شمول وعموم ودوام والتزام اس معنی کا ثبوت ہو مثلاً تحقیق پائے کہ فلاں نجس یا حرام چیز اس ترکیب کا جزوخاص ہے کہ جب بناتے ہیں اُسے شریک کرتے ہیں۔اور وہ اشیاء بھی جن کا کسی ماکول ومشروب یا اور استعمالی چیزوں میں خلط سُنا جانا موجب تردّد وتشویش وباعثِ سوال وتفتیش ہو دو۲ قسم ہیں: ایک مامنہ محذور یعنی وہ جن میں ہر قسم کے افراد موجود ، بعض اُن میں حرام ونجس بھی ہیں اور بعض حلال وطاہر جیسے عظام ۔۔۔۔۔۔ دوسرے ماہو محذور یعنی وہ کہ حرام مطلق یا نجس محض ہیں جن کا کوئی فرد حلال وطاہر نہیں جیسے شراب۔۔۔۔۔ صُورت اُولیٰ میں مجرد اُس شَے مثلاً استخواں کے پڑنے پر تیقن عام ازاں کہ شخصی ہو یا نوعی اجمالی ہو یا کلی خواہی نخواہی اس جزئی یا نوع میں مخالطت حرام یا نجس کا یقین نہیں دلاتا۔ ممکن کہ صرف افراد طیبہ ومباحہ استعمال میں آئے ہوں۔ اسی طرح خاص افراد محرمہ ونجسہ کے استعمال پر یقین نوعی اجمالی بھی علی الاطلاق تحریم وتنجیس کا مورث نہیں کہ ہر جزئی خاص میں استعمال فرد طاہر وحلال کا احتمال قائم ولہذا افراد قسمین کا بازار میں اختلاط مانع اشترا وتناول نہیں کہ کسی معین پر حکم بالجزم نہیں کرسکتے۔۔۔۔ بخلاف صورتِ ثانیہ کہ وہاں صرف اس کے پڑنے کا یقین شخصی خواہ نوعی کلی اُس جزئی خاص یا تمام نوع کی تنجیس وتحریم میں بس ہے جس کے بعد کچھ کلام باقی نہیں رہتا اور وہ احتمالات کہ بوجہ تنوع افراد صورتِ اولی میں متحقق ہوتے تھے یہاں قطعاً منقطع کمالایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ) اسی طرح صورتِ اولی میں اگر بالخصوص افراد حرام وناپاک ہی پڑنے کا ایسا ہی یقین یعنی شخصی یا نوعی کلی ہو تو اس کا بھی یہی حکم کہ اس تقدیر پر صورتِ اولی صورت ثانیہ کی طرف رجوع کر آئی۔۔۔۔۔البتہ یقین نوعی اجمالی یہاں بھی بکار آمد نہیں کہ جب علی وجہ العموم والالتزام تیقن نہیں تو ہر فرد کی محفوظی محتمل جب تک کسی جزئی خاص کا حال تحقیق نہ ہوکہ اس وقت یہ یقین ، یقین شخصی کی طرف رجوع کرجائے گا وھومانع کماذکرنا (اور وہ مانع ہےجیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ ) بالجملہ خلاصہ ضابطہ یہ ہے کہ مامنہ محذور میں ہر قسم کا یقین بکار آمد نہیں جب تک وہ ماہومحذور کی طرف رجوع نہ کرے اور ماہو محذور میں ہر قسم کا یقین کافی مگر صرف نوعی اجمالی کہ ساقط وغیر مثبت ممانعت ہے جب تک یقین شخصی کی طرف مائل نہ ہو۔ یہ نفیس ضابطہ قابلِ حفظ ہے کہ شاید اس رسالہ عجالہ کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اگرچہ جو کچھ ہے کلمات علماء سے مستنبط اور انہی کی کفش برداری کا تصدق۔ والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین ۔”(7)

(4)چوتھا ضابطہ

مسئلہ لُمعہ: جنبی نے بدن کاکچھ حصہ دھویا،پانی کی کمی کے باعث کچھ حصہ دھلنے سے رہ گیا، مگربعض یاکل اعضائے وضوکی طہارت پانی سے کرلی یاتیمم کیا،پھرحدث اصغرہوا،جوموجب وضوہوتاہے،اب اسے کچھ پانی ملاکہ اس سے بدن دھونے اوروضو کرنے والے دونوں کام نہیں ہوسکتے تووہ اب کیاکرے، وضوکرنے میں استعمال کرے یابقیہ بدن دھوئے؟یہ مسئلہ لمعہ ہے ۔ اس مسئلے سے متعلق فقہائے کرام نے جوصورتیں بیان فرمائیں ،ان میں سب سے زیادہ شرح وقایہ میں بیان ہوئیں ،جن کی تعداد15ہے ۔جبکہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے 98صورتیں بیان فرمائیں ۔چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :” لہذا مسئلہ لُمعہ میں سب صورتیں اٹھانوے (۹۸) ہُوئیں،کتب اکابر میں بہت کم کابیان ہے اگرچہ ظاہر متبادر اقتصار بدوقسم آخر پر رکھیں جب تو بہت کم رہیں گی حتی کہ سب سے زیادہ تفصیل والی کتاب شرح وقایہ میں ۹۸ میں سے صرف پندرہ (۱۵)ورنہ احاطہ بہرحال نہیں ہوسکتا کہ اَصناف ہی کا احاطہ نہ فرما یا صُوَر درکنار “(8) اور پھرخود ایک ضابطہ وضع فرمایا،جواس کی تمام اقسام و احکام کوشامل ہے۔ چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : (نوٹ!بریکٹوں میں وضاحت ہماری طرف سے کی گئی ہے ۔ع) “مصنّف کا ضابطہ کلیہ: ۔۔۔۔ اب ہم بغرض ضبط وربط وقلت انتشار انہیں کے کلمات شریفہ کے استفادہ سے ضابطہ کلیہ لکھیں کہ جملہ اقسام واحکام کو حاوی ہو: ” جنب کہ بعد جنابت ہنوز پُورا نہ نہا یا مگر بعض یا کُل اعضائے وضو کی تطہیر پانی سے(کرلی) یا تیمم کرچُکا اُس کے بعد حدث ہوا کہ دو (۲ )صورت اخیرہ میں(یعنی جب کل اعضائے وضودھولیے یاتیمم کرلیادونوں صورتوں میں یہ حدث) بتمامہ (پورے کاپورا) مستقل ہے اور صورت اولی(یعنی جب بعض اعضائے وضوپاک کیے،اس صورت) میں صرف اُتنا (یعنی حدث مستقل صرف اتناہی ہے جو)کہ حصّہ مغسولہ اعضائے وضو میں ہے(یعنی اعضائے وضومیں سے جتناحصہ دھل چکاتھا،صرف اتنے میں مستقل حدث ہے اورباقی میں حدث مع جنابت) اس صورت میں پانی کہ پا یا اگر بقیہ جنابت وحدثِ مستقل دونوں میں سے صرف ایک کو کافی ہے،(توجسے کافی ہے ) اس میں صَرف کرے، (اورجسے کافی ہے)اُس کےلئے اگر پہلے تیمم کرچکا تھا ٹوٹ گیا اور دوسرے (یعنی جسے کافی نہیں ،اس)کےلئے نہ کیا تھا تواب کرے ،صرفِ آب سے پہلے خواہ بعد اور بعد اَولیٰ ہے اور(دوسرے کے لیے تیمم) کر چکا تھا ، تو باقی رہا، اور دونوں کے لئے ایک ہی تیمم کیا تھا تو اول کے حق میں ٹوٹ گیا ، ثانی کے حق میں باقی رہا اور اگر پانی دونوں کو معاً کافی ہے(یعنی دونوں میں ایک ہی وقت میں استعمال ہوسکتاہے) تو دونوں کا وہ حکم ہے جو اول کا تھا (یعنی انہیں پانی سے دھوئے اگرتیمم کرچکاتھاتوٹوٹ گیا،یہ حکم)بَجالائے طہارت ہوگئی، اور اگر کسی کو کافی نہیں تو دونوں کا وہ حکم ہے جو ثانی کا تھا (کہ)اگر کسی کےلئے تیمم نہ کیا تھا اب دونوں کےلئے ایک تیمم کرے اور کرلیا تھا تو باقی رہا ۔ بہرحال لُمعہ (یعنی باقی رہ جانے والےجنابت والے حصے)کی تقلیل کرے کہ مستحب ہے اور اگر ہر ایک کو جدا جدا کافی ہے(یعنی ایک وقت میں دونوں میں سے ایک دھل سکتاہے ،دونوں ایک وقت میں نہیں دھل سکتے) تو لمعہ(یعنی جس حصے میں جنابت ابھی باقی ہے ،اس) میں صَرف کرے ،تیمم ان میں جس ایک کا یا دونوں کےلئے ایک یا جدا جدا جیسا بھی کرچکا تھا کسی کے حق میں باقی نہ رہا۔ پانی نہ رہنے کے بعد حدث کےلئے تیمم کرے ،پہلے کرلے گا تو بعدِ صَرف (یعنی پانی استعمال کرنے کے بعد)پھر کرنا ہوگا ۔ یہی اصح ہے جس کی تفصیل وتحقیق اس تنبیہ آئندہ میں آتی ہے وباللہ التوفیق (اورتوفیق اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ ) اور اگر اس نے برخلاف حکم اُسے حدث میں صَرف کرلیا ، حدث تو زائل ہوگیا مگر جنابت کے لئے تیمم بالاجماع لازم ہوا اگرچہ پہلے کر بھی چکا ہو ۔ یہ ہے قول جامع ونافع”(9)

(5)پانچواں ضابطہ

تیمم جائزہونے کی صورتوں میں سے ایک صورت پانی کانہ ہوناہے،اگرکسی کے پاس پانی نہیں تھا، مگرساتھ والے یاکسی اورکے پاس پانی ہونامعلوم ہوا،تواس سے مانگے یانہ مانگے ؟ اگر بغیر مانگے تیمم کرکےنمازپڑھی توکیاحکم ہے ؟اسی طرح پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرکے نمازپڑھ رہاتھاکہ نمازکے دوران کسی کے پاس پانی ہونامعلوم ہوا،توکیاکرے وغیرہ وغیرہ اس مسئلے کی تمام ممکنہ صورتوں پرمحیط قانون امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے پہلے کسی سے نہ بنا،بعض علماء نے اپنے طورپراس کے لیے کوشش کی اورقوانین مقررفرمائے ، لیکن وہ اس کی تمام صورتوں کوشامل نہ ہوسکے۔امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اولاًموضوع سے متعلقہ چندضروری متفقہ مسائل ذکرفرمائے ، پھران علماءکے قوانین نقل فرما کران پراشکالات قائم فرمائے اورپھر خود اپنا قانون، قانون رضوی کے نام سے ذکرفرمایا،جواس مسئلے کی تمام ممکنہ صورتوں کواپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے ۔ اوران تمام اَبحاث کاظہورایک ضخیم وطویل رسالہ کی صورت میں ہوا،جس کانام امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے یہ مقررفرمایا:” قوانین العلماء فی متیمم علم عندزیدماء “یہ رسالہ فتاوی رضویہ مخرجہ کی جلدنمبرچارکے صفحہ 31 سے شروع ہوکرصفحہ187پراختتام پذیر ہوتا ہے ۔ اس کے شروع میں آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :” متیمّم کہ دوسرے کے پاس پانی پائے یہ مسئلہ بہت معرکۃ الآراء وطویلۃ الاذیال ہے ۔ اکثر کتب میں اس کے بعض جزئیات مذکور ہیں۔ امام صدر الشریعۃ نے شرح وقایہ پھر محقق ابراہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ میں پھر محقق زین العابدین نے بحرالرائق میں رحمھم اللّٰہ تعالی ورحمنا بھم (خدائے برتر ان پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحمت فرمائے۔)اس کے لیے قوانین کلیہ وضع فرمانا چاہے کہ جمیع شقوق کو حاوی ہوں۔ فقیراوّلاً چند مسائل ذکر کرے جن کا لحاظ ہر ضابطہ میں ضروری ہے وہی اپنے اختلافات پر مادۂ ہر ضابطہ ہیں پھر قوانین علماء اور مالہا وما علیہا پھر وہ جو فیض قدیرسے قلبِ فقیرپر فائض ہُوا” وللّٰہ الحمد واللّٰہ المستعان وعلیہ التکلان “(اور خدا ہی کے لیے ساری حمد ہے اور خدا ہی سے مددمانگی جاتی ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔)”(10) قانون رضوی کوامام اہلسنت علیہ الرحمۃ علمی اندازمیں اس طرح بیان فرماتے ہیں :’’ الرابع القانون الرضوی: العطاءبعد الوقت لایؤثر فیما مضی الا اذاعلم ولم یسأل فیہ اصلا وفیہ مؤثرمطلقا الا اذاکان بعد الصلاۃ عقیب اباء سابق اولاحق، ولوحکمیاوالوعدکھذا ( ای العطاء فی الوقت ۱۲ ) الااذا کان بعد الصلاۃ وظھر خلفہ والمنع لایمنع شیئا ولایرفع والسکوت منع الا اذا لحقہ العطاء فی الوقت قبل ان یراہ یتیمم ویصلی وان لم یعط ولم یعد ولم یسأل فان ظن العطاء بطلت والا تمت ‘‘ترجمہ: چہارم:قانون رضوی:وقت کے بعد دینا ،گزشتہ میں مؤثرنہیں مگر جبکہ علم ہو، اور وقت کے اندر بالکل نہ مانگے اور وقت کے اندر دینا مطلقاً مؤثر ہے مگر جبکہ نماز کے بعد انکار سابق یا لاحق کے بعد ہو خواہ انکار حکمی ہی ہو،اور وعدہ بھی اسی (وقت میں دینے)کی طرح ہے مگر جبکہ نماز کے بعد ہو اور اس کے خلاف ظاہر ہوجائے اور منع کسی چیز کو روکنے اور ختم کرنے والا نہیں اور سکوت منع ہی ہے مگر جبکہ اسے وقت کے اندر دینا لاحق ہو، اس سے پہلے کہ اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے دیکھے اور اگر نہ دیا، نہ وعدہ کیا ،نہ اس نے مانگا،تو اگر دینے کا ظن رہا ہو نماز باطل ہوگئی ، ورنہ تام ہے ۔ (11) محقق مسائل جدیدہ،قبلہ مفتی نظام الدین صاحب مُدَّظِلُّہ العالی امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے اس قانون رضوی کے متعلق تحریرفرماتے ہیں :”اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے وہ جامع قانون بڑے علمی اندازمیں تحریرفرمایاہے،جس سے استفادہ کِبار عُلَما ہی کرسکتے ہیں ۔اس لیے ہم وہ اُنیس قواعد”ضابطہ “کے عنوان سے ذکرکرتے ہیں،جنہیں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے مسئلہ مذکورہ کی تمام اقسام کااحاطہ کرنے کے لیے وضع فرمایا”(پھراس کے بعدآپ مدظلہ العالی نے انیسضابطے بیان فرمائے ،جن کی تفصیل آپ کی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ع) (12) (نوٹ)مزید امثلہ کے لیے محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مولانامفتی محمدنظام الدین صاحب مدظلہ العالی کی کتاب “امام احمدرضااورفقہی ضوابط کی تدوین”کامطالعہ مفیدرہے گا،اب اسی کتاب سے اصول وضوابط وضع کرنے کے لیے درکارمہارت کی تفصیل ذکرکی جاتی ہے ۔

فقہی ضوابط وضع کرنے کے لیے درکار مہارت

اصول وضوابط کاوضع کرنا،کوئی آسان کام نہیں ،اس کے لیے کس قدرعلمی وسعت درکار ہے ،اس کے حوالے سے عظیم محقق ،مفتی محمدنظام الدین صاحب مدظلہ العالی تحریرفرماتے ہیں :” کچھ ایسے ضابطے ہیں جو مجتہد مطلق کے ساتھ خاص نہیں ۔ یہ فقہائے ممیزین و مرجحین کی جولان گاہ ہیں ۔ یہ فقہا مذ ہب کے کثیر جزئیات ، فروع ، تخریجات اور اطلاقات و قیود اور ان کے دلائل ترجیح و تصحیح کو سامنے رکھ کر ایسا ضابطہ وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے دامن میں وہ تمام جزئیات و فروع اور تخریجات واطلاقات وقیود سمٹ آئیں۔اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے اسی نوع کے ضابطے وضع کیے ہیں،مگر یہ ضابطے وضع کرنابھی کوئی آسان کام نہیں ، بلکہ یہ ایسے جلیل الشان ، فقیہ عبقری کا کام ہے: *”جس کی نظر فقہ کے اصول و فروع اور جزئیات و تخریجات اور اطلاقات و قیود پر بہت وسیع ہو۔ *” ساتھ ہی بہت دقیق اور گہری ہو۔ *”ان جزئیات وفروع میں کون مطلق ہے اور کون مقید ،کون مجمل ہے اور کون مبین ۔ کون قول ہے اور کون روایت ، کون احوط ہے اور کون اوسع ، سب سے باخبر ہو۔ *”ایک مسئلے میں کئی قول ہوں، یا ایک ہی قول میں کئی احتمالات ہوں تو وہاں کون ساقول یا احتمال مذہب میں مقبول ہے اور کون ساقول یا احتمال نامقبول ، اس سے پوری طرح واقف ہو۔ *”کسی مسئلے میں ائمہ مذہب کے کتنے اقوال ہیں ، کیا کیا روایتیں ہیں، پھر ان سے تخریجات کیا کیا ہوتی ہیں ، پھر عرف و تعامل وغیرہ کے بدلنے سے ان پر اثرات کیا پڑے ہیں ، حالات زمانہ کے پیش نظر ان میں تغیرات کیا آئے ہیں ، جس وقت ائمہ مذہب یا مشائخ مذ ہب نے وہ حکم دیا اس وقت حالات زمانہ کیا تھے اور اب کیا ہیں ؟ان سب پر نگاہ رکھتا ہو۔ *”پھر یہ جتنے بھی اقوال ، احتمالات اور بدلے ہوئے احکام ہیں ،سب کے موافق و مخالف دلائل سے آگاہ ہو۔ ساتھ ہی دلائل کے در میان مختلف حیثیتوں سے محاکمہ کر کے کوئی صحیح فیصلہ کرنے پر قادر ہو، یاکم از کم اسے اقوال و دلائل کے مابین یہ امتیاز حاصل ہو کہ کون قوی ہے اور کون ضعیف ؟ جب فقیہ ایسے اوصاف کا جامع ہو تو وہ جزئیات کو سامنے رکھ کر ضابطہ وضع کرنے کی ہمت کرتا ہے ، بلکہ ضابطے وضع بھی کر تا ہے ۔ اب یہ فقہاء بھی کئی درجات کے ہیں ۔ جن میں یہ اوصاف کچھ کمی کے ساتھ پائے جاتے ہیں، ان کے ضابطے عموما غیر جامع ہوتے ہیں، یا اعتراضات سے محفوظ نہیں رہ پاتے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی اس کوشش پر بار گاہ الہی سے اجر کے حقدار ہوتے ہیں۔ اور جن فقہا میں یہ اوصاف پورے طور پر پائے جاتے ہیں، ان کے ضابطے عموما جامع اور نقد و نظر سے سالم و محفوظ ہوتے ہیں۔ اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان فقہا کے اس آخری طبقے سے ہیں۔ آپ نے فتاوی رضویہ میں خود اپنے پیش رو فقہا کے ضوابط نقل کر کے یہ عیاں کر دیا ہے کہ ان پر کئی طرح سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں ۔ پھر آپ وہ ضابطہ جامعہ بیان فرماتے ہیں جو ان تمام اعتراضات سے محفوظ اور بالکل بے غبار ہو تا ہے ۔”(13)


1… ۔ (الاشباہ والنظائر،الفن الثانی،ص ۱۶۲، مطبوعہ کراچی) 2… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۶،ص۲۴۸تا۲۵۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۵،ص۲۲۳تا۲۲۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۶۹۳،رضافاونڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۲،ص۶۷۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲،ص ۴۳،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴، ص۵۳۵،۵۳۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۲۸۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۳۰۰،۳۰۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۴،ص۳۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۰۴،ص۱۷۱،۱۷۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (امام احمدرضااورفقہی ضوابط کی تدوین،ص۳۲،مکتبہ عزیزیہ،عزیزنگر،مبارک پور،ہند) 13… ۔ (امام احمدرضااورفقہی ضوابط کی تدوین،ص۵تا۷،مکتبہ عزیزیہ،مبارکپور،ہند)