(3)وجوہ تکلم
اسے وجوہ تخاطب اوروجوہ مخاطبت بھی کہتے ہیں ۔ وجوہ:یہ وجہ کی جمع ہے ۔اوروجہ کے معانی:طریقہ،طرز،ڈھنگ وغیرہ ہیں ۔(1) تکلم:بات کرنا۔(2)یعنی بات کرنے کے مختلف انداز۔ (جز الف) مثلاعام بول کر عام ہی مرادلینااورخاص بول کرخاص ہی مرادلینا۔یاعام بول کرخاص مرادلینا اورخاص بول کرعام مرادلیناوغیرہ وغیرہ۔ایک فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس اسلوب سے واقف ہو،تاکہ درست مرادتک پہنچ کردرست حکم کی تعیین کر سکے ورنہ خلاف مرادسمجھنے سے حکم کی تعیین میں خطا کا مرتکب ہوگا۔
قرآنِ مجید میں وجوہِ تکلم کا استعمال
الاتقان فی علوم القرآن میں علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے قرآن پاک کے وجوہ مخاطبت کے متعلق ایک پوری نوع قائم کی ہے جس کاعنوان ہے ” النوع الحادی والخمسون فی وجوہ مخاطباتہ ” اس کے تحت تحریرفرماتے ہیں :’’ قال ابن الجوزی فی کتابہ النفیس: الخطاب فی القرآن علی خمسۃ عشروجھا۔وقال غیرہ:علی اکثرمن ثلاثین وجھا: احدھا: خطاب العام والمرادبہ العموم۔۔۔۔ والثانی:خطاب الخاص والمرادبہ الخصوص۔۔۔الثالث: خطاب العام والمرادبہ الخصوص۔۔۔۔الرابع:خطاب الخاص والمرادبہ العموم۔۔۔۔ الخ ‘‘ ترجمہ :ابن جوزی علیہ الرحمۃ نےاپنی کتاب نفیس میں فرمایا:قرآن مجید میں15اندازسے خطاب ہواہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے فرمایا :تیس سے زیادہ اندازسے خطاب ہواہے ،ان میں سے کچھ یہ ہیں(1)عام خطاب،جس سے عام ہی مراد ہو، (2) خاص خطاب،جس سے خاص ہی مراد ہو،(3)عام خطاب،جس سے خاص مراد ہو،(4)خاص خطاب،جس سے عام مراد ہو۔(3)
فتاوی رضویہ میں وجوہ تکلم کالحاظ
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ وجوہ تکلم کی کس قدرمعرفت رکھتے تھے ،اس کااندازہ آپ علیہ الرحمۃ کےفتاوی سے کیاجاسکتاہے،فتاوی رضویہ سے اس سے متعلق چندمثالیں ذکرکی جاتی ہیں ۔ مثال نمبر 1 لفظ کراہت جب مطلق بولاجائے ،تواس سے کون سامعنی مرادلیاجائے گا،اس کے متعلق قاعدہ بیان کرتے ہوئے ،امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے جوکچھ فرمایا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ : ’’کراہت عام ہے،جس کے دوافرادہیں:تنزیہیہ اورتحریمیہ۔احناف کے نزدیک جب کراہت مطلق بولاجائے تواصل یہ ہے کہ اس سے خاص کراہت تحریمیہ مرادہوگی ۔مکروہ تنزیہی مرادلینے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوگی ۔خاص مکروہ تنزیہی مرادلیناہویاتحریمی اورتنزیہی دونوں کوعام مرادلیناہو،دونوں صورتوں میں دلیل کی حاجت ہوگی ۔‘‘ فتاوی رضویہ کی عبارت ملاحظہ کیجیے! فتاوی رضویہ میں ہے “اقول: اس میں کلام نہیں کہ فقہا ء بارہا کراہت مطلق بولتے اور اُس سے خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی وتحریمی دونوں کو عام مراد لیتے ہیں مگر یہ وہاں ہے کہ ارادہ کراہت تحریم سے کوئی صارف موجود ہو مثلاً دلیل سے ثابت یا خارج سے معلوم ہو کہ جسے یہاں مطلق مکروہ کہا مکروہ تحریمی نہیں یا جو افعال یہاں گنے اُن میں مکروہ تنزیہی بھی ہیں ” کما یفعلونہ فی مکروھات الصلاۃ ” (جیسے مکروہات نماز میں ایسا کرتے ہیں ۔ ) بے قیام دلیل ہمارے مذہب میں اصل وہی ارادہ کراہت تحریم ہے” کما مرعن نص المحقق علی الاطلاق وکتب المذھب طافحۃ بذلک “(جیسا کہ محقق علی الاطلاق کی تصریح گزری اور کتب مذہب اس کے بیان سے لبریز ہیں۔) تو کراہت تنزیہ کی طرف پھیرنا ہی محتاج دلیل ہے۔”(4) مثال نمبر 2
سونے کے بٹن کے متعلق شرعی حکم
سائل سونے کی گھنڈی کوجائزالاستعمال اورسونے کے بٹن کوناجائزالاستعمال قراردیتاہے۔ اورسونے کے بٹن کے ناجائزالاستعمال ہونے پردلیل یہ دیتاہے کہ :مروجہ بٹن ایک مستقل چیزہے اورزیورکی مثل ہے اورسونے چاندی کازیورمردکواستعمال کرنا ،جائز نہیں ہے، سوائے ان مخصوص اشیاکے کہ جن کی اجازت کتب میں صراحۃ مذکورہے ،اوربٹن ان اجازت یافتہ چیزوں میں شمارنہیں کیاگیا،لہذااسے ناجائزہوناچاہیے۔کتب میں سونے چاندی کے زیورات کے استعمال کے متعلق یہ عبارت مذکورہے:” ولایتحلی الرجل بذھب وفضۃ مطلقا الابخاتم ومنطقہ وحلیۃ سیف منھا ای فضۃ اذا لم یرد بہ التزیین ” (کوئی شخص مطلقا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے مگر یہ کہ انگوٹھی، کمر بند اور تلوار کا دستہ چاندی کا ہو یعنی یہ سب چیزیں چاندی کی جائز ہیں بشرطیکہ زیب وزینت اور نمائش کا ارادہ نہ ہو)۔ ” اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے گھنڈی کی طرح بٹن کاتابع قلیل ہونا ثابت فرمایا اور سائل کی ذکرکردہ عبارت کے جواب میں فرمایا:یہاں لفظ “تحلی “اپنے عموم پرنہیں ہے یعنی عام بول کرخاص مرادلیاگیاہے ۔جس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ :تحلی دوطرح ہوتی ہے مستقل اشیا سے جیسے کنگن،ہاروغیرہ سے۔ اورتابع چیزوں سے جیسے قمیص میں چارانگل یااس سے کم مقدارسونے چاندی کےکام اورسونے کی گھنڈی وغیرہ سے۔ اب اگرمتون کی اس عبارت میں تحلی اپنے عموم پرہوتوپھرقلیل مقدار میں جوسونے کاکام کپڑوں پرکیاگیاہواورسونے کی گھنڈی وغیرہ وہ بھی ناجائزٹھہریں گے،حالانکہ اس کی اجازت خود فقہا کی عبارات میں موجودہے تویوں فقہا کاکلام آپس میں متعارض ومتناقض ہوگا،لہذاتعارض سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ متون کی اس عبارت میں تحلی سے مرادمستقل اشیا سے تحلی لی جائے کہ سونے چاندی کی مستقل اشیا سے تحلی جائزنہیں سوائے ان مذکور مخصوص چیزوں کے ۔جس کامطلب ہوگاکہ سونے چاندی کی تابع قلیل اشیا سے تحلی جائزہے وہ کسی بھی قسم کی اشیا ہوں ۔ اوریہاں تحلی سے مستقل اشیا سے تحلی مرادہونے پردلیل مستثنی میں شمارکی گئی چیزیں بھی ہیں کہ وہ سبھی مستقل ہیں یعنی انگوٹھی،پیٹی اورپرتلہ،تواس سے واضح ہواکہ مستثنی منہ ” لایتحلی “میں بھی مستقل اشیا کی تحلی ہی مرادہوگی ۔” اس سے ثابت ہواکہ سائل کی ذکرکردہ عبارت میں تابع قلیل اشیاکی ممانعت کاذکرہی نہیں تواب وہاں بھی بٹن کااستثناموجودنہ ہوناہمارےلیے نقصان دہ نہیں اورتابع قلیل خواہ کسی بھی صورت کاہو،اس کی اجازت کتب میں دوسرے مقام پرموجودہے تواس اجازت میں سونے کابٹن بھی شامل ہوگاکہ یہ بھی تابع قلیل ہے۔
سائل کی تغلیط
اورسائل سونے کی گھنڈی اورسونے کے بٹن میں فرق کرتاتھاکہ گھنڈی کوجائزاوربٹن کوزیورکہہ کرناجائزقراردیتاتھا،اس کے متعلق فرمایا:’’ زیورہونے میں دونوں برابرہیں لہذادونوں میں فرق کرنابے کارہے،پس اگرسونے کی گھنڈی زیورہونے کے باوجودجائزہے توسونے کابٹن بھی زیورہونے کے باوجودجائز ہے۔‘‘ اورسائل کایہ کہناکہ’’ فقہا کی سوال میں ذکرکردہ عبارت میں جن چیزوں کاممانعت سےاستثنا ہے ، ان میں سونے کے بٹن کاذکرنہیں ،جس سے واضح ہے کہ سونے کابٹن ممنوع ہے‘‘تواس کےجواب میں یہ فرمایاکہ :’’ایسے تومستثنی اشیا میں سونے کی گھنڈی کابھی ذکرنہیں ہے تواسے بھی ممنوع ہوناچاہیے ،حالانکہ سائل بھی اسے جائزسمجھتاہے ۔توجب گھنڈی مذکورنہ ہونے کے باوجود جائزہے توسونے کابٹن بھی اسی کی مثل ہے تویہ بھی مذکورنہ ہونے کے باوجود جائزہے۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! “عبارات متون ” لا یتحلی الرجل بذھب الخ “(مرد کے لئے سونا پہننا جائز نہیں الخ۔) میں تحلی باشیائے مستقلہ کا ذکر ہے نہ کہ توابع کا ولہذا چاندی کی انگوٹھی پیٹی پر تلے مستقل ہی چیزوں کا استثناء فرمایا۔ عام مراد ہوتاتو خود انہیں کی بالاتفاق تصریحات اباحت علم منسوج بالذھب قدر اربع اصابع وزر وعروہ ذہب وغیرہا کا صریح مناقض ہوتا۔ یہیں سے ظاہر ہواکہ سونے کے بٹن اور کلابتوں کی گھنڈیوں میں فرق ضائع ہے وہ اگر حلی ہیں تو یہ کیا نہیں ؟ اور” لا یتحلی ” (تحلی جائز نہیں۔) کےاستثناء میں ان کا ذکر نہیں تو ان کا بھی نہیں، یوں ہوتا ، تو گھنڈیاں بھی ممنوع ہوجائیں” (5)
اِمکانِ کذب کے قائلین کا رَد
مثال نمبر 3 بعض لوگ معاذ اللہ ، اللہ تعالی کے لیے اِمکانِ کذب(جھوٹ ممکن ہونے)کے قائل ہیں اوراس پرایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ:’’ بعض ائمہ خلف وعیدکوممکن کہتے ہیں یعنی جن آیات میں مجرموں کی سزابیان ہوئی ،وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی اس پرقادرہے کہ اگروہ چاہے تومجرموں کوسزانہ دے بلکہ معاف کردے ۔‘‘ اس سے وہ لوگ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مجرم کی سزابیان کرنے کے باوجوداسے سزانہ دیناجھوٹ ہے ، توجوائمہ اس کوممکن مانتے ہیں ،تووہ امکان کذب کے قائل ہوئے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے امکان کذب کے قول کوبھی کئی وجوہ سے باطل قراردیااورخلف وعیدکے قائلین کی طرف امکان کذب کی نسبت کوبھی کئی وجوہ سے باطل قراردیا۔ ان وجوہات میں سے ایک وجہ آپ علیہ الرحمۃ یہ بیان فرماتے ہیں کہ :” آیات وعیدمخصوص ومقیدہیں ، عام ومطلق نہیں ہیں ۔ اوران کامخصص آیات عفوہیں اوراسی طرح کریم کاکرم بھی مخصص ہے ۔” اس کی وضاحت یہ ہے کہ :جن نصوص میں مجرموں کے لیے وعیدیں بیان ہوئیں وہ عام ومطلق نہیں ہیں ،بلکہ وہ مخصوص ومقید ہیں اور ان کی تخصیص وتقیید دو طرح سے ثابت ہے: (1)ایک توقرآن پاک کی اس آیت میں ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاکہ :﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-﴾ترجمہ: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(6) لہذا اب مجرم کومعاف کرنایہ آیات وعیدکی تکذیب نہیں ہوگی بلکہ ان کے عموم کی اس کے ذریعے بیان تخصیص ہوگی ۔ (2)اوردوسرا اس طرح کہ اگرآیات عفونہ بھی ہوتیں ، پھربھی کریم کاکرم ہی تخصیص کی دلیل ہوتا ، کیونکہ کریم، غیرسرکش مجرم کے حق میں جووعیدبیان فرماتاہے،اس سے یہی مرادہوتی ہے کہ اگر میں معاف نہ کروں تویہ سزاہے اوراگرچاہوں تومعاف کردوں ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! “وجہ ۲: آیاتِ وعید،آیاتِ عفو سے مخصوص ومقید ہیں، یعنی عفو و وعید دونوں میں وارد، تو ان کے ملانے سے آیات وعید کے یہ معنی ٹھہرے کہ جنہیں معاف نہ فرمائے گا وہ سزا پائیں گے، جب یہ معنی خود قرآن عظیم ہی نے ارشاد فرمائے تو جو از خلف کو معاذ اللہ امکان کذب سے کیا علاقہ رہا؟ امکان کذب تو جب نکلتا کہ جزماً حتماً وعید فرمائی جاتی، اور جب خود متکلم جَلَّ وَعَلَا نے اسے مقید بعدم عفو فرمادیا ہے ، تو چاہے وعید واقع ہو یا نہ ہو ہرطرح اس کا کلام یقیناً صادق ، جس میں احتمال کذب کو اصلاً دخل نہیں۔ یہ وجہ اکثر کتب علماء مثل تفسیر بیضاوی انوار التنزیل وتفسیر عمادی ارشاد العقل السلیم وتفسیر حقی روح البیان وشرح مقاصد وغیرہا میں اختیار فرمائی۔ لطف یہ ہے کہ خودو ہی ردالمحتار جس سے مدعی جدید غیر مہتدی و رشید نے مسئلہ خلف میں خلاف نقل کیا، اسی ردالمحتار میں اسی جگہ اسی قول جواز کے بیان میں فرمایا : ” حاصل ھذا القول جواز التخصیص لما دل علیہ اللفظ بوضعہ اللغوی من العموم فی نصوص الوعید “( اس قول کا حاصل یہ ہے کہ نصوص وعید میں جو ظاہر لفظ اپنے معنی لغوی کی رو سے عموم پر دلالت کرتا ہے کہ جوشخص ایسا کرے گا یہ سزا پائے گا، اس میں تخصیص جائز ہے۔)یعنی عام مراد نہ ہو بلکہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہو جنہیں مولیٰ تعالی عذاب فرمانا چاہے، ایمان سے کہنا اسی ردالمحتار میں یہیں یہیں یہ تصریح تو نہ تھی جس نے اس تفریع خبیث وقبیح کی صاف بیخ کنی کردی، آج تک کسی عاقل نے عام مخصوص منہ البعض کو کذب کہا ہے؟ ایسے عام تو قرآن عظیم میں اس وقت بکثرت موجود، پھرامکان کذب کیوں مانو؟ صاف نہ کہہ دو کہ قرآن مجید میں (خاک بدہن گستاخان) جابجا کذب موجود ہے، واہ شاباش! ردالمحتار کی عبارت سے اچھااسناد کیا کہ آدھی نقل اور آدھی نُقل ، پھر بھی دعوی رشد و دیانت باقی ہے، ذرا آدمی خداسے تو حیا کرے ،” ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ” وجہ ۳: اگر بالفرض کوئی نص مفیدِ تخصیص وعید نہ بھی آتا تاہم کریم کی شان یہی ہے کہ غیرمتمرد غلاموں کے حق میں وعید بنظر تہدید فرمائے اور اس سے یہی مراد لے کہ اگر ہم معاف نہ فرمائیں تو یہ سزا ہے، خلاصہ یہ کہ قرینہ کرم تخصیص و تقیید وعید کے لئے بس ہے، اگرچہ مخصص قولی نہ ہو۔”(7) جز (ب)
ہر عاقد و حالف کا کلام عرف پر محمول ہوگا
مختلف علاقوں کے محاورات کاتعلق بھی وجوہ کلام وتکلم سے ہے ، لہٰذا فقہائے کرام نے یہ اصول بیان فرمایاہے کہ عقد،قسم،منت،وصیت اوروقف وغیرہ میں ہرکلام کرنے والے کے کلام کواس کے عرف پرمحمول کیاجائے گاکہ اس نے اس سے کیامراد لی ہے؟ چنانچہ ردالمحتارمیں ہے ” كلام كل عاقد وحالف ونحوه يحمل على عرفه وإن خالف ظاهر الرواية ” ترجمہ : ہر عقد کرنے والے،حلف اٹھانے والے وغیرہ کے کلام کواسی کے عرف پرمحمول کیاجائے گااگرچہ وہ ظاہرالروایہ کے خلاف ہو۔(8)
فتاوی رضویہ سے مثالیں
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے فتاوی میں اس کی کئی مثالیں موجودہیں ،چندایک درج کی جاتی ہیں : (1) مثال نمبر 1
نوکری مِلنے پر پہلی تنخواہ کی نذر ماننا
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا:” کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے یہ نیت کی کہ اگر میری نوکری ہوجائے گی تو پہلی تنخواہ زیارت پیران کلیر شریف کے نذرکروں گا،وہ شخص تیرہ تاریخ سے نوکرہوا اور تنخواہ اس کی ایک مہینہ سترہ دن کے بعد ملی اب یہ ایک ماہ کی تنخواہ صَرف کرے یا سترہ دن کی؟”اس کے جواب میں جوکچھ فرمایااس کاخلاصہ یہ ہے کہ :منت کے الفاظ جب تک زبان سے ادا نہ کیے جائیں ،محض نیت کرنے سے کچھ لازم نہیں ہوتا،اب اگریہ الفاظ منت زبان سے اداکیے تھے، تواس میں بھی اگرصحیح معنی مرادلیے تھے کہ: اللہ عزوجل کے لیے پہلی تنخواہ صدقہ کرکے اس کاثواب پیران کلیرشریف کونذرکروں گا۔یاپہلی تنخواہ حضرت کے آستانے پرموجودشرعی فقرا کودوں گا،تویہ منت درست ہوجائے گی ،اب پہلی تنخواہ صدقہ کرنایادوسری صورت میں فقراکودینااس پرلازم ہوجائے گا۔ اب رہی یہ بات کہ پہلی تنخواہ سے صرف سترہ دن کی تنخواہ مرادہے یاایک مہینے کی تواس کاجواب یہ ہے کہ عرف میں پہلی تنخواہ سے ایک مہینے کی تنخواہ مرادہوتی ہے ،ایک مہینے سے کم مرادنہیں ہوتی اورمنت ماننے والے کے الفاظ کو عرف پرمحمول کرناضروری ہے، تویہا ں بھی ایک ماہ کی تنخواہ مرادہوگی ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” صرف نیت سے تو کچھ لازم نہیں ہوتا جب تک زبان سے الفاظِ نذر وایجاب نہ کہے، اور اگر زبان سے الفاظ مذکورہ کہے اور ان سے معنی صحیح مراد لئے یعنی پہلی تنخواہ اللہ عزوجل کے نام پر تصدق کروں گا اور اس کا ثواب حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کے نذرکروں گا، یا پہلی تنخواہ اللہ عزوجل کے لئے فقراء آستانۂ پاک حضرت مخدوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوں گا، یہ نذر صحیح شرعی ہے،اور استحساناً وجوب ہوگیا۔۔۔۔ رہا یہ کہ جس حالت میں نذر صحیح ہوجائے،پہلی تنخواہ سے کیا مراد ہوگی؟ یہ ظاہر ہے کہ عرف میں مطلق تنخواہ خصوصاً پہلی تنخواہ ایک مہینا کی اجرت کو کہتے ہیں اگرچہ اس کا ایک جزء بھی تنخواہ ہے اور عمر بھر کا واجب بھی تنخواہ ہے،تو پہلی تنخواہ کہنے سے اول تنخواہ ایک ماہ ہی عرفاً لازم آئے گی۔ ” فان کلام کل عاقد وحالف وناذر وواقف انما یحمل علی ماھوالمتعارف،کمانصواعلیہ۔ “(کیونکہ کسی عقد والے، قسم والے، نذر والے اور وقف کرنے والے کے کلام کو متعارف معنی پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ اس پرعلماء نے نص فرمائی ۔)”(9)
1… ۔ (فیروزاللغات:۱۴۰۶،فیروزسنز،لاہور) 2… ۔ (المنجد،ص۷۶۵،لاہور) 3… ۔ (الاتقان فی علوم القرآن،ص۵۴۵،دارالکتاب العربی،بیروت) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،ب،ص۹۱۹،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۲،ص۱۱۶،۱۲۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (سورۃ النساء،آیت ۴۸) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۵،ص۴۰۷،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،ج۰۵،ص۷۵،دارعالم الکتب،ریاض) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۳،ص۵۹۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور)




