مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(4)طرق تفاہم

طرق:طریق کی جمع ہے ،جس کامطلب ہے :طرز۔ڈھنگ۔وغیرہ(1) تفاہم:ایک دوسرے سے سمجھنا۔(2) کلام سے متکلم کی مراداورکلام کے معانی کوسمجھنے کے انداز۔یہ درج ذیل ہیں :

عبارۃ النص

جس حکم کے لیے کلام کولایاجائے اوروہی حکم اس کلام سے مقصودہو۔جیسے قرآن پاک میں ہے: ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْع﴾ ترجمہ: اللہ تعالی نے خریدوفروخت کوحلال کیا۔(3)اس کلام کوخریدوفروخت کے حلال ہونے کو بیان کرنے کے لیے لایاگیااوریہی اس سے مقصودہے۔تو خرید وفروخت کی حلت عبارۃالنص سے ثابت ہوئی ۔

اشارۃ النص

اس کے لیے کلام کولایانہیں جاتا،لیکن کلام میں کسی چیزکااضافہ کیے بغیریہ اشارہ سمجھ میں آتا ہے۔جیسے قرآن پاک میں ہے ﴿لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْترجمۂ کنزالایمان : ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے۔(4) اس آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کافر مسلمان کے مال پر قبضہ کرے تو مسلمان کے مال پر کافر کی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے کہ اگر مسلمان کا مال اس کی اپنی ہی ملکیت میں رہے اورکفار کی اس میں ملکیت ثابت نہ ہو تو پھر مسلمان کا فَقر ثابت نہیں ہوگا،حالانکہ آیت میں مسلمانوں کو ایسی صورت میں فقراء فرمایاگیاہے۔

دلالۃ النص

ایسامعنی جولغوی طورپرمنصوص علیہ حکم کی علت سمجھاجائے۔ جیسے قرآن پاک میں ارشاد فرمایاگیا﴿فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا﴾ ترجمہ کنزالایمان : تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا۔(5)علم لغت جاننے والااس آیت مبارکہ کوسنتے ہی جان لے گاکہ ماں باپ کواُف کہنے اورجھڑکنے کی ممانعت کی علت ان کی ایذاء ہے، تویہ ایذاء ایسامعنی ہے جولغوی طورپرمنصوص علیہ حکم کی علت سمجھاگیا،یہی دلالۃ النص ہے ۔

اقتضاء النص

وہ معنی جسے مقدر مانے بغیرکلام کی دلالت درست نہ ہو۔جیسے قرآن پاک میں فرمایاگیا: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ ﴾ترجمہ: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں۔(6) یہاں فرمایاگیاکہ مائیں حرام ہوئیں،حالانکہ مائیں توحرام نہیں ہاں ان سے نکاح حرام ہے، توکلام کے تقاضے کے مطابق یہاں “نکاح”کے الفاظ مقدرہیں۔اسے اقتضاء النص کہتے ہیں ۔ اس تفصیل سے ثابت ہواکہ کلام کی عبارت،اشارے،اقتضاء اور دلالت سے کلام کے معانی سمجھے جاتے ہیں، لہٰذاایک فقیہ کے لیے ان تمام اندازسے معانی ومرادسمجھنے پر قدرت و لیاقت کا ہونا ضروری ہے ، تاکہ وہ تمام طریقوں سے مسائل اخذکرسکے۔ نور الانوار میں ہے:” التقسیم الرابع فی معرفۃ وجوہ الوقوف علی المراد ای التقسیم الرابع فی معرفۃ طرق وقوف المجتھد علی مراد النظم ۔۔۔ ” ترجمہ: چوتھی تقسیم مراد پر واقف ہونے کی وجوہ کی معرفت کے بارے میں ہےیعنی چوتھی تقسیم ،الفاظ کی مراد پر مجتہد کے واقف ہونے کے طریقوں کی معرفت کے بارے میں ہے۔ مذکورہ عبارت میں موجود الفاظ” معرفۃ وجوہ “کے تحت فتح الغفار بشرح المنار لابنِ نجیم میں ہے:” ای معرفۃ طرق اطلاع السامع علی مراد المتکلم ومعانی الکلام بانہ یطلع علیہ من طریق العبارۃ او الاشارۃ او غیرھما ،والحاصل :ان ھذا القسم باحث عن کیفیۃ دلالۃ اللفظ علی المعنی کما فی التنقیح “ترجمہ: یعنی متکلم کی مرادا ور کلام کے معانی پر سامع کے مطلع ہونے کے طریقوں کی معرفت،بایں صورت کہ سامع ،عبارۃ النص،اشارۃ النص وغیرہ کے ذریعے مطلع ہوتا ہے،اورحاصل یہ ہے کہ یہ تقسیم ،معنی پر لفظ کی دلالت کی کیفیت کے بارے میں بحث کرتی ہے جیسا کہ تنقیح میں ہے۔ (7)

امامِ اہلسنت علیہ الرحمۃ کی طرقِ تفاہم پر مہارت

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ میں یہ مہارت کس قدرتھی اس کااندازہ آپ کے فتاوی سے لگایاجاسکتاہے ۔اس کے لیے چندمثالیں درج کی جاتی ہیں :

(الف)دلالۃ النص سے متعلق جزئیات

مثال نمبر1 امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ :”نمازی کے سامنے اگرجوتے ہوں تواس کاکیاحکم ہے؟” اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے جوکچھ فرمایا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ : اعلی درجہ کی حدیث صحیح میں ہے کہ :”نمازی اپنے سامنے نہ تھوکےکہ نمازی کے سامنے اللہ عزوجل کافضل وجلال ورحمت ہوتے ہیں ۔” اس کے تحت علمائےکرام فرماتے ہیں:”دنیاوی باعظمت لوگوں کے سامنے جب بات چیت کرنے کے لیے کھڑاہوتاہے، توان کی تعظیم کے لیے جن چیزوں کالحاظ رکھتا ہے،نمازی پرانہی چیزوں کالحاظ جانب قبلہ میں بھی رکھنالازم ہے کہ اللہ تعالی سب سے زیادہ احق بالتعظیم ہے ۔” اس کے بعدجوتے سامنے رکھنے کے حکم کاان دلائل سے استخراج کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” اوپرذکر کردہ دونوں باتوں (حدیث صحیح اورعلماکے ارشاد)سے سامنے جوتے رکھنے کاحکم معلوم ہوتاہے ۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ : حدیث صحیح کی دلالۃ النص سے ثابت ہوتاہے کہ جب سامنے تھوکنامنع ہے کہ تعظیم کے خلاف ہے کہ ادھر اللہ تعالی کافضل وجلال ورحمت ہے توجوتارکھنابھی ممنوع ہوگاکہ اس میں بھی تعظیم کی خلاف ورزی ہے ۔ اسی طرح علماکے ارشادکاعموم بھی اسی کامتقاضی ہے ۔نیزمسلمہ عقلیہ شرعیہ قاعدہ ہے کہ “تعظیم وتوہین کادارومدارعرف عادت ناس وبلادپرہے اوراس میں شک نہیں کہ اب عرف عام تمام بلادکایہی ہے کہ دربارشاہی میں بادشاہ کے سامنے باتیں کرنے کھڑاہواورجوتاسامنے رکھے توبے ادب گناجائے ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ حدیث صحیح اورعلماکاارشادنقل فرمانے کے بعد فرماتے ہیں:” اور سامنے کاحکم اس حدیث صحیح کے دلالۃ النص اور اسی ارشاد علما کے عموم اور نیز اس قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین وتعظیم کامدار عرف و عادت ناس وبلاد پرہے۔’’ وقد حققہ المولی العلامۃ خاتم المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی اصول الرشاد ‘‘ (اس کی تحقیق علامہ خاتم المحققین سیدنا والد گرامی قدس سرہ الماجد نے اصول الرشاد میں فرمائی ہے)اور شک نہیں کہ اب عرف عام تمام بلاد یہی ہے کہ دربار شاہی میں بحضور سلطانی باتیں کرنے کھڑاہو اور جوتا سامنے رکھے ، بے ادب گِناجائے گا۔(8) (2) مثال نمبر 2

پانی سے مانع چیز جسم پر لگی ہو تو طہارت کا حکم

جس چیزکی آدمی کوعموماً یاخصوصاضرورت پیش آتی رہتی ہواوراس کی نگہداشت رکھنے میں حرج ہو ، تووہ اگربدن پر کہیں لگی رہ جائے ،اگرچہ جِرم دارہو،اگرچہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے ،تب بھی طہارت ہوجائے گی ۔ اس کی مثالوں میں درمختارمیں ایک مثال مہندی کی بیان ہوئی کہ وہ کہیں لگی رہ گئی ،اگرچہ وہ جرم دارہوتوطہارت ہوجائے گی۔” امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اس عبارت کی دلالۃ النص کے ذریعے آنکھوں کے کوؤں یاپلکوں کے کسی حصے میں لگے ہوئے سرمے کے جِرم کامانع طہارت نہ ہوناثابت فرمایاکہ جب مہندی کاکہیں لگارہ جانامانع طہارت نہیں ،جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نگہداشت رکھنے میں حرج ہے توسرمےکا آنکھوں کے کوؤں یاپلکوں کے کسی حصے میں لگارہ جانابدرجہ اولی مانع طہارت نہیں بنے گاکہ اس کی نگہداشت میں حرج بھی ہے اورمزیدیہ بات بھی ہے کہ سرمے کی حاجت مہندی کے مقابلے میں زیادہ پڑتی ہے ۔ فتاوی رضویہ کی عبارت ملاحظہ کیجیے! ” جس چیز کی آدمی کو عموما یا خصوصا ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کے ملاحظہ واحتیاط میں حرج ہے اس کا ناخنوں کے اندر یا اوپر یا اور کہیں لگا رہ جانا اگر چہ جرم دار ہو اگر چہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچ سکے ، جیسے۔۔عورات کے لئے مہندی کا جرم۔۔ عام لوگوں کے لئے کوئے یا پلک میں سرمہ کا جرم ۔۔۔ وغیرہا کہ ان کا رہ جانا فر ض اعتقادی کی ادا کو مانع نہیں ۔ در مختار میں ہے” لایمنع الطھارۃ خر ء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ” ترجمہ : طہارت سے مانع نہیں مکھی اور پسو کی بیٹ جس کے نیچے پانی نہ پہنچا ، اور مہندی اگر چہ جِرم دار ہو ، اسی پر فتوی ہے۔ (اس عبارت کونقل فرمانے کے بعدآپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :)” ورأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار علی قولہ وحناء ولوجرمہ بہ یفتی اقول وبہ یظھر حکم بعض اجزاء کحل تخرج فی النوم وتلتصق ببعض الجفون اوتستقر فی بعض الماٰقی و ربما تمر الید علیھما فی الوضوء والغسل ولا یعلم بھا اصلا فلا یکفی فیہ التعاھد المعتاد ایضا الا بتیقظ خاص وتفحص مخصوص فذلک کجرم الحناء لابالقیاس بل بدلالۃ النص فان الحاجۃ الی الکحل اشدو اکثر “ترجمہ: میں نے دیکھا کہ رد المحتار پر جو حواشی میں نے لکھے ہیں ان میں درمختار کی عبارت :”اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو ، اسی پر فتوی ہے “پر میں نے یہ لکھا ہے ، اقول:(میں کہتاہوں) اس سے سرمہ کے ان ریزوں کا حکم ظاہر ہوجاتا ہے جو سوتے وقت نکل کر پلک میں چپک جاتے ہیں یا آنکھ کے کوئے میں بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی وضووغسل میں ان پر ہاتھ بھی گزرتا ہے اور ان کا پتہ نہیں چلتا ، کیونکہ اس کے لئے الگ سے خاص دھیان دئیے اور مخصوص جستجو کیے بغیر معمولی توجہ سے کام نہیں بن سکتا ۔،تو وہ مہندی کے جِرم کا حکم رکھتے ہیں ، قیاس سے نہیں بلکہ دلالۃ النص سے، اس لئے کہ سرمہ کی حاجت زیادہ شدت وکثرت سے ہوتی ہے۔(9)

(ب)عبارۃ النص اوردلالۃ النص سے متعلق فتوی

کسی مسجدمیں امام کے علاوہ کسی اورکےجماعت کروانے کے حوالے سے سائل نے ایک روایت ذکرکی کہ ” لایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ۔۔۔ الاباذنہ “(ایک آدمی دوسرے آدمی کو،اس کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیرہرگزامامت نہ کرائے )اورکچھ فقہی عبارات ذکرکیں اورلوگوں کی عادات ذکرکیں کہ وہ اپنے طورپرامامت کرواتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اس روایت کامحمل بیان فرمایا۔اس کی عبارت النص کیاہے اوردلالۃ النص کیاہے اورکون سی صورتیں ایسی ہیں جونہ عبارۃ منصوص اورنہ دلالۃ داخل اورکسی طرح کسی شرعی اصول کے متصادم نہیں ۔ آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا:عبارۃ النص میں یہ صورت ہے کہ کوئی شخص مسجدمحلہ کے امام معین کی اجازت کے بغیراس کی امامت نہ کروائے ۔اوردلالۃ النص میں یہ صورت شامل ہے کہ بلاوجہ شرعی اس کی امامت فوت کرکے خودامام بن جانا ،مثلا:بلاوجہ شرعی جماعت اولی فوت کرکےاپنی جماعت الگ کروانایاامام معین سے پہلے جماعت کرواکرچلےجانا۔ اوراگرکوئی ضرورت سے پہلےیابعدجماعت کروائے مثلاجماعت معینہ کاابھی وقت نہیں آیا اورانتظارمیں ریل وغیرہ کاوقت نہیں رہے گا،اس وجہ سے پہلے پڑھ کرچلے گئے یابلاتقصیرچندلوگوں کی جماعت رہ گئی اورانہوں نے بعدمیں جماعت کروائی۔تویہ صورتیں نہ عبارۃمنصوص اورنہ دلالۃ داخل ،اورنہ شرع سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” ہاں مسجد محلہ جس کے لئے جماعت معین امام معین ہے اس میں ضرور امام مقرر کا حق مقدم ہے جبکہ اس کی طہارت، قراءت، عقیدے، عمل میں خلل نہ ہو” کما فی الدر المختار وردالمحتار وغیرھما من الاسفار “(جیسا کہ درمختار ، ردالمحتار اور دیگرکتب میں ہے) اور قصداً بلاوجہ شرعی تفریق جماعت ضرور موجب ذم و شناعت،خواہ یوں ہوکہ امام معین سے پہلے پڑھ جائیں یاجماعت اُولیٰ فوت کرکے اپنی جماعت الگ بنائیں۔رہے اہل ضرورت وہ مُسْتَثْنٰی ہیں اور ان کی جماعت اگرچہ پہلے ہو(مثلاً جماعت معینہ کا ابھی وقت نہ آیا اور انتظار میں ریل کا وقت نہ رہے گا پڑھ کر چلے گئے) امام اور اہل محلہ کے حق میں جماعت اولی نہ ہوگی تو اس سے حق امامت میں مزاحمت نہ ہوگی ” الالایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ “(خبردار!کوئی شخص کسی دوسرے کی ،اس کی سلطنت میں امامت نہ کرے ۔) کاکچھ خلاف نہ ہوا کہ نہ امام معین کی امامت کی نہ اس کی امامت میں مزاحمت کی اور ہرگز شرع مطہر سے کوئی دلیل نہیں کہ ایسے لوگ بے اذن امام جماعت سے ممنوع ہیں نہ اصلاً کہیں ان پر یہ حکم ملے گا کہ مجتمع ہوتے ہوئے الگ الگ پڑھیں اور روافض سے تشبہ کریں، یوں ہی جواتفاقاً بلاتقصیر جماعت سے رہ گئے وہ شرعاً انفراد پرمجبورنہیں، نہ شرع سے کوئی دلیل کہ جماعت میں اذن امام کے محتاج ہیں کہ یہاں بھی اس کے حق میں مزاحمت نہیں۔۔۔۔۔۔ حدیث کی عبارۃ النص اگرچہ صورت امامت للامام میں ہے مگربلاوجہ شرعی اس کی امامت فوت کرکے خود امام بن جانے کو بھی دلالۃً شامل، لقولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بشروا ولاتنفروا (حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے کہ لوگوں کو خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ)اور جوصورتیں اوپر گزریں نہ ان میں عبارۃ منصوص نہ دلالۃ داخل۔”(10)

(ج)عبارۃ النص اوراشارۃ النص سے متعلق فتوی

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کے پاس ایک وقف نامہ سوال کی غرض سے پیش ہوا توآپ علیہ الرحمۃ اس کی عبارۃ النص اوراشارۃ النص کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”جائداد کی نسبت ابتداء میں بطور اشارۃ النص لفظ موقوفہ واقع ہوا مذہب مفتیٰ بہ میں اگرچہ صرف اسی قدر سے وقف ہوجاتا ہے۔۔۔۔ مگر آگے عبارۃ النص یہ ہے کہ اگر مشہدی بیگم دوسرانکاح کریں یا عفت سے گزر نہ کریں تو یہ جائداد وقف متصورہوگی، یہ صراحۃ وقف کی تعلیق ہے اور دستاویز واحد کا اول وآخر کلام واحد ہے” کما نص علیہ فی الخیریۃ” (جیساکہ اس پر خیریہ میں نص کی گئی ہے۔) تو وہ لفظ موقوفہ کا اطلاق اس شرط سے مقید ہوا اور وقف کا کسی شرط پر تعلق کرنا اسے باطل کردیتا ہے۔۔۔۔الخ” (11)

(د)فتاوی رضویہ سے اقتضاء النص کی مثال

اقتضا کامطلب ہوتاہے کہ وہ معنی جسے مقدرمانے بغیرکلام کی دلالت درست نہ ہو۔اس کی وضاحت درج ذیل عبارت سے کی جاتی ہے ۔امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ ہمارے والدنے ہماری والدہ مرحومہ کے دین مہرکے روپیہ سے کچھ جائداد خریدی،تویہ کس کی ملک ہوگی؟اس کے جواب میں مختلف صورتیں بیان کرتے ہوئے ایک صورت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے یہ ارشادفرمائی:”یااس کی صوت یہ ہوگی کہ ابھی دین مہرکی ادائیگی نہیں کی گئی تھی ،اس صورت میں زوجہ نے شوہرسے کہاکہ:” میراجومہرتمہارے ذمہ لازم ہے ،اس سے اپنے لیے جائداد خریدلو” توایسی صورت میں وہ جائداد بھی شوہرکی ملک ہے اوردین مہرکامطالبہ بھی شوہرپرنہ رہا۔وجہ اس کی یہ ہے کہ :اس صورت میں اقتضاء مدیون کودین ہبہ کرناپایاگیااورمدیون کودین ہبہ کرنادرست ہے ۔”وہ اس طرح کہ اس صورت میں صراحتاتوزوجہ نے یہ نہیں کہاکہ:” میں نے دین مہرتمہیں ہبہ کیا۔”لیکن دین مہرکی رقم سے اپنے لیے جائداد خریدنا(جس کامعاوضہ بھی مقصودنہ ہو)تبھی متصورہوگا،جبکہ وہ دین مہر،خریدنے والے (شوہر،جوکہ دین مہرکامدیون ہے،اس )کی ملک ہواورملک کی یہاں صورت ہبہ والی ہی بن سکتی ہے کہ معاوضہ مقصودنہیں ۔توگویازوجہ نے یوں کہا:”میں نےوہ دین مہرتمہیں ہبہ کردیا، لہذااس سے اپنے لیے جائداد خریدلو” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” سائل کے لفظ یہ ہیں کہ ”کچھ جائداد والدہ مرحومہ کے دین مہر کے روپے سے”۔۔۔۔ یا یوں ہوگا کہ زوجہ نے اس سے کہا :میرا مہر جو تم پر آتاہے، اس سے اپنے لئے جائداد خرید لو، تو جائداد ملک شوہر ہوگی اور اس پر روپے کا مطالبہ بھی نہ رہا کہ وہ اجازت اقتضاءً ” ھبۃ الدین ممن علیہ الدین ” (مدیون کودین کااقتضاءہبہ ) تھی اور یہ جائزہے۔”(12)


1… ۔ (فیروزاللغات،ص۸۷۸،لاہور) 2… ۔ (المنجد،ص۶۵۹،لاہور) 3… ۔ (سورۃ البقرۃ،پ۰۳،آیت۲۷۵) 4… ۔ (سورۃ الحشر،پ۲۸،آیت۰۸) 5… ۔ (سورہ بنی اسرائیل،پ۱۵،آیت۲۳) 6… ۔(سورۃ النساء،پ۰۴،آیت۲۳) 7… ۔ (نور الانوار،ج ۱،ص ۳۴،مطبوعہ کراچی) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۷،ص۳۱۵،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،الف،ص۲۶۹تا۲۷۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۷،ص ۱۴۷،۱۴۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۶،ص۵۲۷،۵۲۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۷،ص۱۳۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور)