مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(5)تنقیح مناط

تنقیح مناط کا معنی و وضاحت

تنقیح کامعنی ہے :زوائدوعیوب سے پاک کرنا۔ مناط کامعنی ہے :علت۔ توتنقیح مناط کامطلب ہوا:علت کوغیرسے پاک کرنا،ممتازکرناوغیرہ ۔ وضاحت:کسی مقام پرعبارت وغیرہ میں چنداوصاف ذکرکرنے کے بعدحکم بیان کیاجائے لیکن یہ وضاحت نہ ہوکہ ان اوصاف میں سے کون ساوصف علت ہے توایسی صورت میں دلائل شرعیہ کی روشنی میں اجتہادکرکے کسی ایک وصف کوعلت کے لیے متعین کرنایہ تنقیح مناط ہے ۔ جیسے اعرابی نے آکربتایاکہ میں نے روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کرلیاہے تواس کے جواب میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے کفارے کاحکم فرمایا۔ تویہاں چنداوصاف مذکورہیں:مثلااعرابی ہونا۔جماع کرنا۔بیوی سے کرنا۔ رمضان کاروزہ فاسدکرنا۔ ان اوصاف کے بعدکفارے کاحکم بیان ہوا،لیکن یہ وضاحت نہ فرمائی گئی کہ ان اوصاف میں سے کون ساوصف علت ہے ،تواب اجتہاد کرتے ہوئےکسی ایک کوعلت متعین کرنایہ تنقیح مناط ہے ۔ اسی طرح اگرکسی وصف پرحکم کومعلق کیاگیااوروہ وصف ذومعنی ہے ،تواس کاکون سامعنی اس مقام پر علت بننے کی صلاحیت رکھتاہے اس کومتعین کرنا،یہ تنقیح مناط ہے ۔جیسے فقہائےکرام نے نماز جنازہ کے بعددعاسے متعلق عبارت ذکرفرمائی کہ :'” لایقوم داعیالہ “وغیرہ۔اس عبارت میں دعاکی ممانعت کاتعلق قیام سے ہے اورقیام، ذومعنی لفظ ہے تویہاں کون ساقیام مرادہے ،اسے دلائل شرعیہ کی روشنی میں متعین کرنا،تنقیح مناط ہے جیساکہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے یہ کام سرانجام دیاہے ،جس کی مثال نیچے درج ہوگی۔ الذخیرۃ للقرافی میں ہے:” والمناط :العلة فإن استخرجت من أوصاف مذكورة في صورة النص كما في حديث الأعرابي في تصريحه مع جملة الأوصاف بإفساد رمضان فهو تنقيح المناط “ترجمہ:اورمناط کامعنی ہے :علت۔پس اگرتونص کی صورت میں مذکور اوصاف میں سے جیساکہ حدیث اعرابی میں ہے کہ اس میں تمام اوصاف مذکورہیں ،ان میں سے رمضان کے روزے کوفاسدکرنے کی علت کااستخراج کرے تویہ تنقیح مناط ہے ۔(1) شرح مختصر الروضۃ میں ہے” وتنقيح المناط: تعيين وصف للتعليل من أوصاف مذكورة. ترجمہ:تنقیح مناط کا مطلب ہے : اوصافِ مذکورہ میں سے کسی وصف کو تعلیل کے لئے معین کرنا۔(2) معجم لغۃ الفقہاء میں ہے التنقيح: مص نقح، إزالة الزائد۔ تنقيح المناط: إبعاد الاوصاف التي لا دخل لها في الاعتبار عن العلة “ترجمہ:تنقیح مصدر ہے نقح کا اور اس کا معنی ہے ،زوائد کو دور کرنا،تنقیح مناط کا معنی ہے علت سے غیر معتبر اوصاف کو دور کرنا۔(3)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی تنقیح مناط پر مہارت

تنقیح مناط کا ملکہ بھی امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ میں خوب تھا ،جسے درج ذیل مثالوں سے سمجھئے: مثال نمبر 1

جس سے زناکیااس کی بیٹی زانی پرحرام ہے

زانی نے جس سے زناکیااس کی بیٹی اس پرحرام ہے ۔اس کی دلیل میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نےچوتھے پارے کی آیت مبارکہ کے اس حصےسے استدلال فرمایا:﴿وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘-فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-﴾ ترجمہ کنزالعرفان : اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (جو اُن بیویوں سے ہوں ) جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان (بیویوں ) سے ہم بستری نہ کی ہو، تو ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں۔(4)

تنقیح مناط

اس آیت مبارکہ میں ربائب(سوتیلی بیٹیوں )کی حرمت بیان ہوئی ہے اوریہاں پرچنداوصاف مذکورہیں ،مثلا:(الف)تمہاری گودمیں ہوں۔(ب)تمہاری بیویوں کی ہوں۔(ج)ان بیویوں سے تم نے دخول یعنی ہم بستری کی ہو۔ اب ان اوصاف میں سے کون ساوصف حرمت کی علت بننے کی صلاحیت رکھتاہے اورکون سانہیں رکھتا،دلائل کی روشنی میں اجتہادکرکے اس وصف کومتعین کرنایہ تنقیح مناط ہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ تنقیح مناط کرتے ہوئے فرماتے ہیں : الف:پہلاوصف یعنی حرام ہونے والی لڑکی کاگودمیں ہونا بالاجماع حرمت کی شرط نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی کسی عورت سے شادی کرے اوراس عورت کی پہلے شوہرسے بیٹی ہواورزیداس عورت سے ہمبستری بھی کرلے اورزیدنے کبھی اس کی لڑکی کودیکھاہی نہ ہوتوہرگزشریعت مطہرہ اس لڑکی کوزیدکے لیے حلال قرارنہ دے گی ۔ ب:اسی طرح دوسراوصف یعنی جس کی وہ لڑکی ہے ،اس کابیوی ہونا بھی بالاتفاق شرط نہیں ہے ۔یہی وجہ ہےکہ اپنی کنیزیعنی لونڈی کہ جس سے وہ جماع کرے تواس کی بیٹی بھی اس جماع کرنے والے پرحرام ہوجاتی ہے ۔ ج:اب تیسراوصف ہی رہ گیا،اوروہ ہے دخول یعنی ہم بستری ہونا۔تویہی حرمت کی علت کے لیے متعین ہوگیاکہ جس عورت سے بھی دخول ہوگا،اس کی بیٹی اس دخول کرنے والے پرحرام ہوجائے گی ،وہ عورت اس کے نکاح میں ہویانہ ہو۔اوریہ بات اس عورت پرصادق آتی ہے ،جس سے زناکیاگیاہوکہ اس سے دخول ہواہے لیکن وہ نکاح میں نہیں ہے ۔لہذااس کی بیٹی بھی زانی پرحرام ہوجائے گی ۔ اشکال:اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ آیت مبارکہ میں دخول سے مرادحلال صحبت ہے، تواس کاکیاجواب ہوگا؟ الجواب:آیت مبارکہ میں دخول سے حلال صحبت مرادہونے پرکوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برخلاف دلائل موجودہیں ۔مثلاکوئی شخص اپنی بیوی سے حالت حیض یانفاس یااحرام یاروزے کی حالت میں دخول کرے اوریہ دخول یقیناحرام ہےتوکیااس بیوی کی سابقہ شوہرسے بیٹی اس پرحرام نہ ہوگی؟؟یقیناًبالاتفاق حرام ہوگی ۔ اسی طرح کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتے ہی ظہارکرلے اورکفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے دخول کرے ،یہ دخول حرام ہے لیکن کیااس کی سابقہ شوہر سے جوبیٹی ہے وہ اس پرحرام نہ ہوگی ؟یقیناحرام ہوگی ۔ نتیجہ:پس نتیجہ یہ نکلاکہ نہ نکاح شرط اورنہ دخول وصحبت کابروجہ حلال ہوناشرط۔بیٹی حرام ہونے کی علت فقط دخول وصحبت ہے وہ کسی طریقے سے بھی ہو۔ اب فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ”اس آیہ کریمہ میں زن مدخولہ کی بیٹی حرام فرمائی اور جس طرح وصف “الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ” یعنی اس کی گود میں پلنا بالاجماع شر ط حرمت نہیں۔ مثلازید کسی پچیس سال والی عورت سے نکاح کرے او ر اس کے پہلے شوہرسے اس کی ایک بیٹی چار دہ سالہ ہو جسے گود میں پالنا درکنار زیدنے آج سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو، تو کیا زیدکو حلال ہوسکتاہے کہ اس کی لڑکی سے بھی نکاح کرلے اور مادر دختر دونوں کو تصرف میں لائے، لاالہ الااللہ یہ ہر گز شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نہیں۔ اسی طرح وصف نِسَآىٕكُم یعنی ان مدخولات کا زوجہ ومنکوحہ ہونا بھی بالاتفاق شرط نہیں، کیا لیلیٰ وسلمی ماں بیٹی دونوں جس کی کنیز شرعی ہوں اسے حلال ہے کہ دونوں سے جماع کیا کرے، مادر و دختر دونوں ایک پلنگ پر، عیاذاًباللہ ، یہ شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے کس درجہ بعید ہے۔ حالانکہ ہر گز کنیزیں “نِسَآىٕكُم” میں داخل نہیں نہ ان کی بیٹیوں پر”رَبَآىٕبُكُمُ” صادق ، غالباً ان حراموں کو حلال بتاتے ہوئے غیر مقلد صاحب بھی شرم کریں، توثابت ہواکہ نکاح جس طرح بحکم تتمہ آیت “فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ” تحریم دختر کے لیے کافی نہیں، یونہی شرط وضروری بھی نہیں یعنی نہ وہ علت ہے، نہ جزء علت اب آیہ کریمہ میں نہ رہا مگر “الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ” یعنی ان عورتوں کی بیٹیاں جن کے ساتھ تم نے صحبت کی، معلوم ہوا صرف اس قدر علت تحریم ہے اور یہ قطعاً مزنیہ میں بھی ثابت کہ وہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ اس نے صحبت کی ، لاجرم بحکم آیت ا س کی بیٹی اس پر حرام ہوگئی۔۔۔۔اب “دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ” میں مولیٰ عزوجل نے دخول حلال وحرام کی کوئی قیدذکر نہ فرمائی اور اس کے اطلاق میں دونوں داخل، تو جو مدعی تخصیص ہودلیل پیش کرے اور دلیل کہا ں بلکہ دلیل اس کے خلاف پر قائم، کیا جس نے اپنی منکوحہ سے صرف حالت حیض یا نفاس یا صوم یااعتکاف یا احرام میں صحبت کی، اس کی بیٹی اس پر قطعا اجماعا حرام نہ ہوئی حالانکہ یہ دخول حرام تھا بلکہ علمائے کرام نے بہت وہ صورتیں ذکر فرمائیں جن میں دخول تو دخول، عورت ہی کو اس کے لیے حلال نہیں کہہ سکتے اور اس سے وطی بالاتفاق موجب تحریم دختر موطؤہ ہوجاتی ہے، مثلا ًایک کنیز دو مولیٰ میں مشترک ہے، ان میں سے جو اس سے مقاربت کرے گا دختر کنیز ا س پر حرام ہوجائے گی، یونہی اپنے پسر کی کنیز یااپنی کنیز کافرہ غیر کتابیہ یا اپنی اس عورت سے مجامعت جس سے ظہار کیا اور کفارہ نہ دیا، یہ سب بالاتفاق ان عورتوں کی بنات کو حرام کردیتی ہے حالانکہ یہ عورات سرے سے خودہی حلال نہ تھیں۔ اقول ان مسائل سے زن مظاہرہ تو استناد بالاتفاق کا بھی محتاج نہیں کہ اس پر خود قرآن عظیم دلیل شافی، ظہاربنص قرآن مزیل نکاح نہیں تو زن مظاہر بلاشبہہ “نِسَآىٕكُمْ ” میں داخل، اور بعد وطی “دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ” بھی حاصل، توقطعا اس کی دخترکو حکم حرمت شامل، زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور قبل صحبت ظہار کرلیا بعدہ مشغول بجماع ہوا اور کفارہ نہ دیا، کیا اس صورت میں اسے روا ہے کہ ہندہ کی بیٹی سے بھی نکاح کرلے، حاش للہ یہ شریعت محمد رسول اللہ نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، حالانکہ بعد ظہار عورت بنص قرآن ا س پر حرام ہوگئی اور جب تک کفارہ نہ دے اسے ہاتھ لگانا جائز نہ تھا، تو ثابت ہواکہ نہ نکاح شرط نہ وطی کا بروجہ حلال ہونا لازم بلکہ مناط حرمت صرف وطی ہے اور حاصل آیت کریمہ یہ کہ جس عورت سے تم نے کسی طرح صحبت کی اگرچہ بلانکاح اگرچہ بروجہ حرام، اس کی بیٹی تم پر حرام ہوگئی، یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب ، اوریہی اکابر صحابہ کرام مثل حضرت امیر المومنین عمر فاروق وحضرت علامہ صحابہ عبد اللہ بن مسعود وحضرت عالم القرآن عبد اللہ بن عباس وحضرت اقر ؤ الصحابہ ابی بن کعب وحضرت عمران بن حصین وحضرت جابر بن عبد اللہ وحضرت مفتیہ چار خلافت صدیقہ بنت الصدیق محبوبہ رب العالمین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہم اجمعین وجماہیر ائمہ تابعین مثل حضرات امام حسن بصری و افضل التابعین سعید بن المسیب وامام اجل ابراہیم نخعی وامام عامر شعبی وامام طاؤس وامام عطا بن ابی رباح وامام مجاہد وامام سلیمن بن یسار وامام حماداور اکابرمجتہدین مثل امام عبدالرحمن اوزاعی وامام احمد بن حنبل و امام اسحق بن راہویہ اور ایک روایت میں امام مالک بن انس کا ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔”(5) مثال نمبر 2

نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے لیے ٹھہرنے سے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی تحقیق

“کتب فقہ میں یہ عبارت موجودہے کہ نمازجنازہ کے بعددعاکے لیے نہ ٹھہرے۔”امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے تنقیح مناط فرمائی یعنی منشاء ممانعت تلاش فرمائی اورعلت کوغیرعلت سے ممتازکرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ شرع میں نہ تومطلقادعاکی ممانعت ہے اورنہ نفس قیام ہی کی ممانعت ہے ،تو آخر فقہائے کرام نے کیوں ممانعت فرمائی؟ توفرمایاکہ:” قیام دومعنی میں آتاہے :ایک محض کھڑاہونا،جوبیٹھنے اورلیٹنے کے مقابل بولاجاتاہے ۔اورایک دیرکرنے کے معنی میں آتاہے، جوعجلت کے مقابل ہوتاہے ،پھرفرمایاکہ: “فقہائےکرام کی مراددوسرے معنی ہیں کہ نمازجنازہ کے بعداس طورپردعانہ کرے کہ تدفین میں تاخیرہو۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” اقول :عامہ کتب میں یہ عامہ اقوال ہرگز اطلاق و ارسال پر نہیں کہ بعد نماز جنازہ مطلقاً دعا کو مکروہ لکھتے ہیں، اور کیونکر لکھتے کہ خود حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وائمہ سلف وخلف کے اقوال وافعال کثیرہ متواترہ اور خودانہیں فقہاء کی تصریحاتِ وافرہ وکلماتِ متظافرہ ۔ خلاصہ یہ کہ نصوصِ شریعت و اجماعِ اُمّت اس تعمیم واطلاق کے رَد پر شاہد عدل ہیں۔۔۔ ہاں انہوں نے تقیید کی اور کاہے سے کی، بلفظِ قیام یعنی یہ کہا کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے لئے قیام برائے دعا نہ کرے، نہ یہ کہ بعد نماز جنازہ دعاہی نہ کرے۔۔۔۔ ثم اقول وباللہ التوفیق ( پھر میں کہتا ہو ں، اور خدا ہی سے توفیق ہے۔)اب نظر بلند تدقیق پسند تنقیح مناط میں گرم جولاں ہوگی کہ وُہ کیا قیام ہے جس کی قید سے فقہاء یہ حکم دے رہے ہیں۔آخر نفسِ دُعا اصلاً صالح ممانعت نہیں۔نہ وہ خود اس کے نفس پر حکم کرتے ہیں، شاید کھڑے ہوکر دُعا منع ہو، یہ غلط ہے۔۔۔۔۔اب نظر نے ان سب احتمالات کو ساقط پاکر اتنا تو جزم کرلیا کہ کوئی معنی خاص مقصود ہے جو مناط و منشاء حکم ہوسکے۔ پھر وُہ ہے کیا اس کے لئے اس نے باریک راہ تدقیق نکالی اور معانی قیام و مناہج کلام و دلائل احکام پر نگاہ ڈالی، معانیِ قیام دو۲ نظر آئے : برپا استادن کہ مخالف خفتن ونشستن ہے (یعنی پاؤں پر کھڑا ہونا جو سونے بیٹھنے کے مخالف ہے۔)اور توقف ودرنگ کہ مخالف مقابلِ عجلت وشتاب ہے ، ۔۔۔۔ جب نظرِ صحیح نے بعونہٖ تعالی سب کانٹے راہِ حق سے صاف کرلئے، قائد توفیق کے مبارک ہاتھ میں ہاتھ دے کر حکم بالجزم کیا کہ اس قسم کے اقوال میں قیام بمعنی وقوف و درنگ ہی ہے۔ اتنا کہتے ہی بحمداللہ تعالی سب اعتراض واشکال دفعۃً اُٹھ گئے اور بات میزانِ شرع وعقل پر پوری جچ گئی، فی الواقع نماز کے علاوہ کسی دُعائے طویل کی غرض سے تجہیز جنازہ کو درنگ وتعویق میں ڈالنا شرع مطہر ہرگز پسند نہ فرمائے گی۔ تکثیر دُعا بیشک محبوب ہے مگر اس کے لئے تعویق مطلوب نہیں جس طرح جنائز پر تکثیر جماعت قطعاً مطلوب ہے، مگر اس کے لئے تاخیر محبوب نہیں، جیسے بعض لوگ میت جمعہ کے دن دفن ونماز میں تاخیر کرتے ہیں تاکہ بعد میں جماعتِ عظیم شریکِ جماعتِ جنازہ ہو۔تنویرالابصار میں ہے : ” کرہ تاخیر صلاتہ و دفنہ لیصلی علیہ جمع عظیم بعد صلاۃ الجمعۃ “(اس خیال سے کہ نماز جمعہ کے بعد ایک عظیم جماعت نمازِ جنازہ میں شریک ہوگی نمازِ جنازہ اور دفن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔) غرض شرع مطہر میں تعجیلِ تجہیز بتاکید تمام مطلوب اور بے ضرورت شرعیہ اس کی تاخیر سے ممانعت،اورنماز کے علاوہ شرعاً ضروری و واجب نہیں جس کے لئے قیام و درنگ پسند کریں۔ شرع میں جتنی دعا ضروری تھی یعنی نمازِ جنازہ، وہ ہوچکی یا ہونے والی ہے تو اس کے سوا اور دعائے طویل کے لئے کیوں رکھ چھوڑیں، بحمد اللہ یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ دعا ہوچکی یا ہونے والی ہے ھکذا ینبغی ان یفھم الکلام (کلامِ علماء اسی طرح سمجھنا چاہئے ۔) “(6) مثال نمبر 3 وجیزجسے فتاوی بزازیہ بھی کہتے ہیں ،اس میں تین مسائل مذکورہیں: (اول) بھیڑیا نے بکری کی گردن کی رگیں کاٹ دیں۔(دوم)پیٹ چاک کردیا۔(سوم) سر جدا کردیا ۔ حکم:ان کے متعلق حکم یہ بیان فرمایاکہ :پہلی صورت میں اب ذبح نہیں ہوسکتابقیہ دومیں ذبح کریں، تو حلال ہوجائے گی۔ یہاں پہلی اورتیسری صورت میں بظاہرصریح تناقض ہے کہ یہ رگیں دماغ سے دل تک ہوتی ہیں توجب سرجداکردیاتویقینارگیں کاٹ دیں لہذااس کاحکم بھی پہلی صورت کی طرح ہوناچاہیے جبکہ اس کے برخلاف بیان ہواہے ۔ نوٹ:امام صاحب کاقول یہ ہے کہ ذبح درست ہونے کے لیے جانورمیں مطلقاحیات ہوناکافی ہے اگرچہ اتنی ہی جتنی ذبح شدہ جانورمیں ذبح کے بعدہوتی ہے کہ اب صرف تڑپنارہ گیاہے۔ اب اگراس طرح کی تاویل کرنی ہے کہ جس کی وجہ سے پہلی اورتیسری صورت،دونوں قول امام پراپنے اپنے محل پردرست بیٹھ جائیں تواس کے لیے “فوات محل ذبح”میں تنقیح مناط کرنی ہوگی کہ فوات سے کیامرادہے؟اس کی تفصیل یہ ہے کہ :فتاوی بزازیہ میں عبارت ہے ” قطع الذئب اوداجھا۔۔۔الخ “ترجمہ: بھیڑئیے نے بکری کی رگیں کاٹ دیں۔پس جب بات کاٹنے کی ہورہی ہے، تواس سے پتاچلاکہ یہاں “محل ذبح فوت ہونے” کایہ مطلب نہیں ہے کہ محل ذبح(جبڑوں اورلبہ کے درمیان کاحصہ)معدوم ہوگیاکہ بھیڑیاسینہ تک ساری گردن کاٹ کرلے گیا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتاکہ محل ذبح میں جورگیں تھیں، وہ فناہوگئیں ،کیونکہ رگیں کاٹنے کامطلب ہوتاہے کہ ان کااتصال ختم کردیاجائے نہ کہ ان کوفناکردیاجائے ۔لہذااب فوات کایہ مطلب متعین ہوگیاکہ :”محل اگرچہ باقی ہے، لیکن فعل ذبح کے قابل نہ رہا” اب قابلیت فناہونے میں بھی غورکرناہوگاکہ اس سے کیامرادہے؟یہاں اس کی تین صورتیں تصورکی جاسکتی ہیں : (الف)اب معنی ذبح متحقق نہیں ہوسکتا۔(ب)مقصودذبح فوت ہوگیا۔(ج) شرعی طریقے سے ذبح ہونے سے پہلے ہی غیرشرعی طریقے سے معنی ذبح پایاگیا۔ پہلی دوصورتیں تویہاں مرادنہیں ہوسکتیں ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ :پہلی صورت یعنی معنی ذبح کامطلب ہے:” جبڑے اورلبہ کے درمیان کے حصے میں رگیں کاٹنا۔”یہ والے معنی یہاں فوت نہیں ہوئے ،کیونکہ اوپرمذکورہواکہ رگیں وہاں موجودہیں ،توجب موجودہیں ،توانہیں کاٹ بھی سکتے ہیں ۔ اور دوسری صورت یعنی مقصود ذبح بھی فوت نہیں ہوا،کیونکہ اگرمقصود ذبح’’ خون بہانا‘‘لیاجائے،تویہ درست نہیں، کیونکہ تیسری صورت کہ جس میں سرجدا کردیا ،اس میں بھی خون توبہایاگیاہے ،لیکن ذبح کرنے سے حلال ہونے کافتوی دیاگیاہے۔ اوراگرکہاجائے کہ مقصودذبح ،روح نکالناہے اوروہ درندے کے فعل سے ہوچکا،تواس پربھی تیسری صورت سے اعتراض ہوگا۔ لہذاواضح ہواکہ یہاں تیسری صورت مرادہے کہ:” اگرلبہ اورجبڑوں کے درمیان کے حصے میں موجودرگیں کٹ گئیں،تواب محل ذبح فوت ہوگااورمحلیت وقابلیت ذبح فوت ہوگی کہ ذبح دوبارنہیں ہوتا۔”اورجہاں یہ معنی ذبح سے پہلے نہ پائے گئے ،خواہ سرے سے رگیں ہی نہ کٹیں یاکٹیں لیکن لبے اورجبڑے کے درمیان نہ کٹیں، تووہاں محل باقی ہے، لہذاذبح ہوسکتاہے۔ اب بزازیہ میں پہلی صورت (جب بھیڑئیے نے رگیں کاٹیں ،اس)میں جوفرمایاکہ ذبح سے حلال نہیں ہوگی، تواس سے مرادیہ ہے کہ بھیڑئیے نے لبے اورجبڑے کے درمیان والے حصے میں موجودرگیں کاٹ دیں تومعنی ذبح،شرعی طریقے سے ذبح کرنے سے پہلے ہی متحقق ہوگیا،لہذااب دوبارہ ذبح نہیں پایاجاسکتاتو بکری بھی حلال نہیں ہوگی ۔ اورتیسری صورت میں جوفرمایاکہ سرکاٹنے کے باوجودذبح سے بکری حلال ہوجائے گی تواس سے مرادیہ ہے کہ بھیڑئیے نے سر اس اندازسے جداکیا کہ لبے اورجبڑے کے درمیان والے حصے میں موجود رگیں نہیں کاٹیں۔لہذا اب ذبح متحقق ہوسکتاہے تواس کے متحقق ہونے کے بعدبکری حلال ہوجائے گی ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ کیجیے! ” اگر ایسی تاویل چاہئے کہ وہ بھی قول امام کی طرف رجوع کرآئے تو اب فوات محل ذبح میں تنقیح مناط کرنی ہوگی فاقول وبہ نستعین اس فوت کے یہ معنی تو بداہۃ نہیں کہ محل ذبح مابین اللبۃ واللحیین تھا وہ معدوم ہوگیا کہ کلام قطع اوداج میں ہے، نہ اس صورت میں کہ بھیڑیا سینہ تک ساری گردن کاٹ کر لے گیا، نہ یہ معنی ہیں کہ محل ذبح اوداج تھیں وہ فناہوگئیں کہ قطع تفریق اتصال ہے نہ کہ اعدام، لاجرم یہ معنی ہیں کہ محل اگر چہ باقی ہے مگر اس میں قابلیت فعل ذبح کی نہ رہی، تو محل من حیث ہو محل فوت ہوگیا، اگرچہ ذات باقی ہے، اب فنائے قابلیت میں نظر چاہئے کہ کس صورت میں اس کا فوت ہوناہے، یہاں اس کی تین صورتیں متصور : اول یہ کہ اب معنی ذبح متحقق نہیں ہوسکتے۔دوم ،مقصود ذبح فوت ہوگیا، اور شے جب مقصود سے خالی ہو باطل ہوجاتی ہے۔سوم معنی ذبح قبل ذبح فعل غیر ذبح شرعی سے متحقق ہولئے، اور ذبح صالح کی تکرارنہیں، مذبوح کو ذبح نہیں کرسکتے ۔۔۔ اول کی طرف راہ نہیں کہ معنی ذبح قطع اوداج حی بین اللبتہ واللحیین ہے۔۔۔ جب تک جانور زندہ ہے اور گلا اور اس پر وہ رگیں باقی ہیں ضرور قابل قطع ہیں تو معنی ذبح متحقق نہ ہوسکنا کیا معنی، قطع اوداج کا جواب اوپر معلوم ہولیا کہ فرع سوم میں بھی قطع اوداج متحقق ہے۔ اور حکم حلت ہے یونہی دوم کی گنجائش نہیں، اگرکہئے مقصود ذبح انہاردم تھا اور وہ فعل سبع سے ہولیا، تو یہ وجوداً وعدما ہر طرح باطل ہے۔ فرع سوم میں انہاردم ہوگیا اور قابلیت ذبح باقی ہے اور وقت ذبح حیات معلوم ہو اور ذبح سے خون نہ نکلے حلت ہوجائے گی، کما تقدم، حالانکہ انہاردم نہیں، اگر کہے مقصود ذبح ازباق روح ہے، اور وہ اس صورت میں فعل سبع کی طرف منسوب ہوگانہ کہ جانب ذبح، تویہ وہی قول صاحبین غیر مفتی بہ ہے کماقدمنا عن الھدایۃ (جیسا کہ ہدایہ سے گزرچکا ہے۔ )معہذا فرع سوم اس پر بھی نقض کو موجود، لاجرم صورت سوم مقصود یعنی جہاں قبل ذبح قطع اوداج بین اللبۃ واللحیین واقع ہولے وہاں محل ذبح نہ رہا، یعنی محلیت وقابلیت ذبح فوت ہوگئی کہ ذبح دوبار ہ نہیں ہوتا، اورجہاں یہ معنی قبل ذبح متحقق نہ ہوئے عام ازیں کہ سرے سے اوداج قطع ہی نہ ہوئیں یا کسی ایسے فعل سے کہ انسان کی طرف منسوب نہ ہو قطع تو ہوئیں مگر موضوع ذبح پر قطع نہ ہوئیں ا ورہنوز حیات باقی ہے وہاں محل ذبح فوت نہ ہواذبح کرسکتے ہیں او رموجب حلت ہوگا، اب فروع میں تطابق ہوگیا اور صورت مسئولہ کاحکم بھی کھل گیا، فرع سوم سے مراد اس طرح سرجدا کرنا ہے کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہو کہ اگر چہ قطع واقع ہو مگر محل ذبح میں نہ ہوا تو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئے اور فرع اول سے مراد وہ قطع اوداج ہے کہ بین اللبۃ و اللحیین ہوکہ اب تقدم معنی ذبح سے قابلیت ذبح ،ا ور “اِلَّامَا ذَكَّیْتُمْ” کے تحت میں داخل ہونے کی صلاحیت نہ رہی ۔”(7)


1… ۔ (الذخیرۃ للقرافی،ج ۱۰،ص ۶۵، دار الغرب الإسلامي، بيروت) 2… ۔ (شرح مختصر الروضۃ،ج ۳،ص ۲۴۳، مؤسسة الرسالة) 3… ۔ (معجم لغۃ الفقہاء،ص ۱۲۸،دار النفائس،بیروت) 4… ۔ (سورۃ النساء،پ۰۴،آیت۲۳) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۱،ص۳۵۴تا۳۵۶،رضافاونڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۹،ص۲۴۳تا۲۴۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 7… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۰،ص۳۰۱ تا۳۰۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور)