مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(6)لحاظ انضباط

انضباط یعنی کسی ضابطے(حکم کلی) کے تحت آنا،حدبندی ہونا۔موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے “ والانضباط في الاصطلاح: الاندراج والانتظام تحت ضابط أي حكم كلي وبه يكون الشيء معلوما. “ترجمہ:اوراصطلاح میں انضباط کامطلب ہے :کسی ضابطے یعنی حکم کلی کے تحت داخل وشامل ہونااوراسی کی وجہ سے شے معلوم ہوتی ہے ۔(1) فقہائے کرام کے نزدیک انضباط کابہت لحاظ ہوتاہے ،یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی اصل یاقول منضبط نہ ہواوراس کے مقابل دوسری اصل یادوسراقول منضبط ہو،تووہ منضبط کوترجیح دیتے ہیں ۔چنانچہ دوران نمازقراءت میں کون سی غلطی مفسدنمازہوگی اورکون سی نہیں ،اس حوالے سے متقدمین اورمتاخرین کے اصول مختلف ہیں۔متقدمین کے اصول منضبط ہیں ،جن پرتمام فروع ٹھیک بیٹھتی ہیں ،جبکہ متاخرین کے اصول منضبط نہیں ،لہذاجیدفقہائے کرام نے متقدمین کے اصولوں کوترجیح دی ہے۔چنانچہ ردالمحتارمیں ہے “ ولكن الفروع غير منضبطة على شيء من ذلك فالأولى الأخذ فيه بقول المتقدمين لانضباط قواعدهم وكون قولهم أحوط وأكثر الفروع المذكورة في الفتاوى منزلة عليه اهـ “ترجمہ:لیکن ان میں سے کسی پربھی فروع منضبط نہیں ،پس متقدمین کا قول اختیار کرنا ہی بہتر ہے کہ ان کے قواعد منضبط ہیں ،اوران کے قول میں زیادہ احتیاط ہے اور فتاوی میں مذکور اکثر جزئیات ان کے اصول پر متفرع ہیں۔(2) لہذاایک فقیہ کے لیے اس کالحاظ بہت ضروری ہے ۔

فتاوی رضویہ میں لحاظ انضباط

مثال نمبر 1

نجاستِ غیر مرئیہ کے پاک کرنے سے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی تحقیق

نجاست غیرمرئیہ کہ جوسوکھنے کے بعدنظرنہیں آتی ،اس کے پاک کرنے کے طریقے کے متعلق علمائےکرام کے دوطرح کے اقوال ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اتناپانی بہائیں کہ ظن غالب ہوجائے کہ نجاست نکل گئی اوردوسرا قول یہ ہے کہ تین باردھونااورہرمرتبہ اتنانچوڑناکہ بوندنہ ٹپکےاورنچوڑنے کی چیزنہ ہو، تو ہر بار خشک ہونےکے بعددھونا،یہ شرط ہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ان میں سے دوسرے قول کواختیارفرمایاہے،جس کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ دوسراقول منضبط ہے (اس کی حدبندی ہے ) جبکہ پہلاقول غیرمنضبط ہے (اس کی کوئی خاص حدبندی نہیں ۔) فتاوی رضویہ میں ہے “اور غیر مرئیہ کہ سُوکھنے کے بعد نہ دکھائی دے اس میں علماء کے دو قول ہیں ایک قول پر غلبہ ظن کا اعتبار ہے یعنی جب گمان غالب ہوجائے کہ اب نجاست نکل گئی پاک ہوگیا اگرچہ یہ غلبہ ظن ایک ہی بار میں حاصل ہو یا زائد میں۔ اور دوسرے قول پر تثلیث یعنی تین بار دھونا شرط ہے ہر بار اتنا نچوڑیں کہ بوند نہ ٹپکے اور نچوڑنے کی چیز نہ ہو تو ہر بار خشک ہونے کے بعد دوبارہ دھوئیں اس قول پر اگر یوں تثلیث نہ کرے گا طہارت نہ ہوگی۔ ایک جماعتِ علماء نے فرمایا :یہ طریقہ خاص اہلِ وسواس کے لئے ہے جسے وسوسہ نہ ہو وہ اسی غلبہ ظن پر عمل کرے، ان علماء کا قصد یہ ہے کہ دونوں قولوں کو ہر دو حالت وسوسہ وعدمِ وسوسہ پر تقسیم کرکے نزاع اُٹھادیں۔۔۔۔ دُوسری جماعتِ ائمہ نے فرمایا قول ثانی قول اول کی تحدید وتقدیر ہے یعنی یہ غلبہ ظن غالباً تین بار میں حاصل ہوتا ہے۔۔۔۔اس تقدیر پر دونوں قول قولِ ثانی کی طرف عود کرآئیں گے، ہدایہ وکافی ودرر وغنیہ وتنویر وغیرہا میں اسی طرف میل فرمایا اور بیشک وہ بہت قرینِ قیاس ہے بالجملہ دونوں قول نہایت باقوت ہیں اور دونوں کو ظاہر الروایۃ کہا گیا اور دونوں طرف تصحیح وترجیح۔ اقول: مگر قول ثانی عامہ متون میں مذکور اور غالباً اُسی میں احتیاط زیادہ اور اُس میں انضباط ازید اور آج کل اگر بعض لوگ موسوس ہیں تو بہتیرے مُداہن وبے پروا ہیں انہیں ایک ایسے غیر منضبط بات بتانے میں اُن کی بے پرواہی کی مطلق العنانی ہے لہذا قول ثانی ہی پر عمل انسب والیق ہے اور ہدایہ وکافی کی توفیق حسن پر تو قول ثانی کے سوا دوسرا قول ہی نہیں۔ (3) مثال نمبر 2

جہتِ قبلہ سے متعلق مختلف اَقوال اوران میں سے اضبط الاقوال ،قول

جہت قبلہ کیاہے ،اس کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے پانچ اقوال تحریر فرمائے اور ان میں سے پانچواں قول اختیارفرمایاکہ اہل مشرق کاقبلہ مغرب ہے اوراہل مغرب کاقبلہ مشرق، اہل جنوب کاشمال اوراہل شمال کاجنوب ۔اوراس کی وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ بقیہ اقوال غیرمنضبط ہیں ، جبکہ یہ قول منضبط ہے بلکہ اضبط الاقوال ہے ۔ جہت قبلہ کے حوالے سے قول پنجم تحریرفرمایا:”پنجم۵۔اہل مشرق کا قبلہ مغرب ہے ، اہل مغرب کا مشرق ، اہل جنوب کا شمال ، اہل شمال کا جنوب ۔ تو جب تک ایک جہت دوسری سے نہ بدلے مثلاً ربع مغرب میں قبلہ ہے، یہ ربع شمال یا ربع جنوب کی طرف منہ کرے جہت قبلہ باقی رہے گی۔ ” اس کے متعلق فرمایا:” اقول: یہی قول نقل و عقل و شرع و عرف سب سے مؤید اور یہی اضبط الاقوال واعدل واصح و اظہر و اسد۔۔۔۔۔۔سادسا: یہ تو قطعاً معلوم کہ قولِ اوّل ودوم اور ایک توہم پر سوم کا جو ا رسال و اطلاق ہے ہر گز مرادنہیں ہو سکتا، اب اگر تقیید میں اسی تربیع جہات کی طرف رجوع کیجئے تو عین مطلوب ہے ورنہ بیچ میں کوئی حدِفاصل معیّن و مرجح للاعتبار نہیں اور ترجیح بلا مرجح باطل توحد نہ بندھ سکے گی کہ یہاں تک انحراف رو ااور اُس کے بعد فساد تو یہی قول اضبط الاقوال ہے، تو اسی طرف رجوع، بلکہ ان سب کا بھی ارجاع مناسب۔ سابعاً اس میں وسعت جہت ان سب سے تنگ تر، تو یہی احوط ہے کہ جہاں تک اُس کا مفا د ہے وہ تمام اقوالِ مذکورہ پر یقینا جہتِ قبلہ ہے اور جو اس کے مفاد سے باہرہے وہ مختلف فیہ و مشکوک و نامنضبط ہے،تو اخذ متفق و ترک شُبہ و اختلاف ہی مناسب ،لا جرم اسلامی علمائے ہیئات نے بھی شرع سے اخذ کرکے جہت قبلہ کے لئے یہی ضابطہ باندھا “(4)


1… ۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ،ج۰۷،ص۱۰، وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ،الکویت) 2… ۔ (رد المحتار علی الدر المختار،ج۰۲،ص۳۹۴،دار عالم الکتب،ریاض) 3… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۳۹۳،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۶،ص۱۰۹،۱۱۲،۱۱۴،رضافاؤنڈیشن،لاہور)