(7)مواضعِ یُسْر و احتیاط
یُسْرکامطلب ہے :آسانی ۔(1) مواضع:موضع کی جمع ہے ۔جس کامطلب ہے :مقامات وغیرہ۔(2) تواس کامطلب ہوا:آسانی اوراحتیاط کے مقامات۔ فقہ کامسلمہ قاعدہ ہے کہ “ المشقۃ تجلب التیسیر ” ترجمہ:مشقت،آسانی لاتی ہے ۔جہاں مشقت ودشواری ہو،شرع کی طرف سے وہاں آسانی آجاتی ہے۔مشقت کادوسرانام حرج بھی ہے ۔علامہ نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :’’ الحرج وهو المشقة ‘‘ترجمہ:حرج ،مشقت ہی ہے ۔(3) قرآن پاک میں ہے: ﴿وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-﴾ترجمہ:اور اللہ تعالی نے تم پردین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔(4) حرج کی تعریف،شرائط ،دائرہ کاراوراس کااثر،یہ تمام وہ چیزیں ہیں جوایک فقیہ کومعلوم ہوناضروری ہے،تاکہ جس مقام پرحرج پایاجائے ،تووہ اس کی شرائط،دائرہ کاراوراثرکوملحوظ رکھ کراس کے مطابق حکم جاری کرسکے۔ ایک فقیہ کے لیے مواضع یسرواحتیاط کالحاظ رکھناازحدضروری ہے تاکہ موقع ومناسبت کے لحاظ سے وہ درست فتوی جاری کرسکے۔
فتاوی رضویہ میں مواضعِ یُسر و احتیاط کا لحاظ
مواضع یسر و احتیاط کے لحاظ کا ملکہ بھی سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ میں خوب پایا جاتا تھا،جس کی چندمثالیں درج کی جاتی ہیں :
(الف) یسر سے متعلق فتاوی
مثال نمبر 1 پڑیاکہ جس کے متعلق مشہورتھاکہ اس میں اسپرٹ شامل ہے ،اوراسپرٹ میں الکحل ہے ، جوقول امام محمد علیہ الرحمۃ پرشراب ہے ،اس کے متعلق جب سوال ہوا،تواس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نےاسپرٹ ملنے کی تقدیرپرآسانی کے لیے الکحل کی پاکی کاحکم ارشادفرمایاکہ اس کے نجس ہونے میں علماکااختلاف ہے اورپڑیاکواس وجہ سے نجس قراردینے میں حرج ہے کہ ہندوالوں کااس میں ابتلائے عام ہے لہذامسلمانوں پرآسانی کے لیے اس کی پاکی کاہی حکم دیاجائے گا۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “پڑیا کی نجاست پر فتوی دیئے جانے میں فقیر کو کلام کثیر ہے ملخص اُس کا یہ کہ پُڑیا میں اسپرٹ کا ملنا اگربطریق شرعی ثابت بھی ہو، تو اس میں شک نہیں کہ ہندیوں کو اس کی رنگت میں ابتلائے عام ہے اور عموم بلویٰ نجاست متفق علیہا میں باعث تخفیف۔” حتی فی موضع النص القطعی کما فی ترشش البول قدر رؤس الابر کما حققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ” (یہاں تک کہ نص قطعی کی جگہ میں جیسا کہ سوئی کے سرے برابر پیشاب کے چھینٹے (باعثِ تخفیف ہیں) جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے۔)نہ کہ محلِ(۳) اختلاف میں جو زمانہ صحابہ سے عہدِ مجتہدین تک برابر اختلافی چلاآیا نہ کہ(۴) جہاں صاحبِ مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف کا اصل مذہب طہارت ہو اور وہی امام ثالث امام محمد سے بھی ایک روایت اور اُسی کو امام طحاوی وغیرہ ائمہ ترجیح وتصحیح نے مختار ومرجح رکھا ہو نہ کہ(۵) ایسی حالت میں جہاں اُس مصلحت کو بھی دخل نہ ہو جو متأخرین اہلِ فتوی کو اصل مذہب سے عدول اور روایت اُخریٰ امام محمد کے قبول پر باعث ہوئی نہ کہ(۶) جب مصلحت اُلٹی اس کے ترک اور اصل مذہب پر افتا کی موجب ہو، تو ایسی جگہ بلاوجہ بلکہ برخلاف وجہ مذہب مہذب صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کو ترک کرکے مسلمانوں کو ضیق وحرج میں ڈالنا اور عامہ مومنین ومومنات جمیع دیار واقطار ہندیہ کی نمازیں معاذ اللہ باطل اور انہیں آثم ومصر علی الکبیرۃ (گنہگار اور گناہِ کبیرہ پر اصرار کرنے والا۔ ) قرار دینا روشِ فقہی سے یکسر دُور پڑنا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔”(5) مثال نمبر2 امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ایک موقع پرحرج شدیدکی وجہ سے کپڑے کے چوتھائی حصے پربیلوں کے گوبر،پیشاب لگنے کے باوجودنمازپڑھنے کی اجازت عطافرمائی کہ امام محمد علیہ الرحمۃ نے ایک مقام پرابتلائے عام کی وجہ سے اس کی پاکی کاحکم صادرفرمایاہے،لہذاحرج شدیدکے موقع پران کے اس قول پرعمل کرسکتے ہیں۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! ” بیلوں کاگوبر پیشاب نجاست خفیفہ ہے جب تک چہارم کپڑا نہ بھر جائے یا متفرق اتنی پڑی ہوں کہ جمع کرنے سے چہارم کپڑے کی مقدار ہوجائے کپڑے کو نجاست کا حکم نہ دیں گے اور اس سے نماز جائز ہوگی اور بالفرض اگر اس سے زائد بھی دھبّے ہوں اور دھونے سے سچّی معذوری یعنی حرج شدید ہو تو نماز جائز ہے۔” فقدطھرہ محمداخذ اللبلوی کمافی الدر المختار ۔ “( امام محمد رحمہ اللہ نے عموم بلوٰی کے پیش نظر اسے پاک قرار دیا ہے جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔) “(6)
(ب) احتیاط سے متعلق فتاوی
مثال نمبر 1
شکر والے مسئلے میں احتیاط کا پہلو
شکروالے مسئلے میں تحقیق کرتے ہوئے فرمایاکہ جب تک کسی شرعی طریقہ سے نجاست کااس میں شامل ہونا،معلوم نہ ہو،اس وقت تک محض وہم وگمان کی بناپرشکرکے ناپاک ہونے کاحکم دیناتشددہے اوریہ نہیں کہہ سکتے کہ احتیاطاًناپاک قراردے دیاجائے کیونکہ احتیاط کسی پاک کوبلاوجہ ناپاک قراردینے میں نہیں ہے، بلکہ جواصل کے اعتبارسے پاک ہے ،جب تک اس کے ناپاک ہونے کی دلیل شرعی نہ ملے،اسے پاک قراردینے میں ہی احتیاط ہے ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! ” بحمداللہ تعالی ہم نے اس شکّر کے بارے میں ہر صورت پر وہ واضح وبین کلام کیا کہ کسی پہلو پر حکمِ شرع مخفی نہ رہا اب اہلِ اسلام نظر کریں ،اگر یہاں اُن صورتوں میں سے کوئی شکل موجود جن پر ہم نے حکمِ حرمت ونجاست دیا تو وہی حکم ہے، ورنہ مجرد ظنون واوہام کی پابندی محض تشدّد وناواقفی نہ بے تحقیق کسی شے کو حرام وممنوع کہہ دینے میں کچھ احتیاط ،بلکہ احتیاط اباحت ہی ماننے میں ہے جب تک دلیل خلاف واضح نہ ہو ۔(7) مثال نمبر 2
بندوق سے شکار کیا اور پھر درانتی سے ذبح کیا
کسی نے بندوق سے ہرن شکارکیااورپھرکسی اورآلہ کےمیسرنہ ہونے کے سبب درانتی سے ذبح کرکے کھایا،اس کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا،توآپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا:” اگررگیں کٹنے سے پہلے جانورمیں ذبح شدہ کی حیات سے زیادہ حیات تھی ،تب تویہ بالاتفاق حلال ہوا اوراگر رگیں کٹنے سے پہلے ہی درانتی کی رگڑکے باعث روح فناہوگئی یارہی توصرف اتنی ہی رہی جو جانورذبح کرنے کے بعدہوتی ہے کہ فقط موت کاتڑپناباقی ہے ،دوچارپہرزندہ نہیں رہ سکتا،تواس صورت میں سوال کے مطابق جب کوئی اورآلہ میسرنہیں تھا،تواس کے متعلق علما ء کااختلاف ہے ، بعض کافرماناہے کہ جب آلہ کوئی نہیں توذبح اضطراری میں آگیا،لہذاجانورحلال اوربعض نے فرمایاکہ ذبح اختیاری پرقدرت پائی گئی،لیکن ذبح نہیں کیاگیا،لہذاجانورحرام ہوگیا۔” اس کے بعدامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اپناموقف یوں بیان فرمایا:”موجودہ رجحان جانب حرمت ہی پایاجاتاہےاوراسی میں احتیاط ہے ۔” فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! ” پھر اگر رگیں کٹنے سے پہلے جانور میں مذبوح کی حیات سے زیادہ حیات باقی تھی جب تو بالاتفاق حلال ہوگیا، اور اس کا کھانا بے تامل روا، اور اس پر اعتراض محض باطل وبے جا، اور اگر آلہ کند تھا اور بہت سختی کرنی پڑی کہ اکثر رگیں کٹنے سے پہلے ہی دانتوں کی رگڑوں، صدموں سے اس کی روح فنا ہوگئی یا رہی تو صرف اتنی ہی رہی جو بعد ذبح ہوتی ہے کہ فقط موت کا تڑپنا باقی ہوتا ہے۔ اس کے بعد دو چار پہر جی نہیں سکتا، تو اس صورت میں یہاں کہ اور کوئی آلہ ملتا ہی نہ تھا اختلاف علماء ہے،بعض فرماتے ہیں حرام ہوگیا، کہ ذکوٰۃ اختیاری یعنی رگوں کے کاٹنے سے اس کی موت نہ ہوئی، بلکہ سبب موت قطع عروق سے پہلے ہی متحقق ہولیا، اور بعض نے کہا حلال ہے کہ جب آلہ میسرہی نہ تھا یہ بھی ایک ذکوٰۃ اضطراری کی شکل میں آگیا ، اور رجحان موجود ہ جانب حرمت ہی پایا جاتاہے۔ اور اسی میں احتیاط “(8) مثال نمبر 3
(الف)فرضِ اعتقادی کا انکار عند الفقہاء مطلقاً کفر ہے
فرض اعتقادی کاانکارعندالفقہاء مطلقاکفرہے، لیکن متکلمین کےنزدیک اگرمسئلہ ضروریات دین سے ہو،توانکارکفرہے،ورنہ نہیں ۔احتیاط قول متکلمین کواپنانے میں ہے، توامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے اسی کواختیارفرمایاہے ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “مجتہدجس شے کی طلب جزمی حتمی اذعان کرے ، اگر وہ اذعان بدرجہ یقین معتبر فی اصول الدین ہو (اور اس تقدیر پر مسئلہ نہ ہوگا،مگر مجمع علیہ ائمہ دین) تو وہ فرض اعتقادی ہے ،جس کا منکر عند الفقہاء مطلقا کافر، اور متکلمین کے نزدیک ( منکر اس وقت کافر ہے ) جبکہ مسئلہ ضروریات دین سے ہو اور یہی عند المحققین احوط و اسدّ “(9)
(ب)تکفیر کے باب میں کس کا قول مختار ہے
نیزامام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ایک مقام پریہ صراحت بھی فرمائی ہے کہ باب تکفیرمیں ہم برائے احتیاط قول متکلمین اختیارکرتے ہیں ،چنانچہ فرمایا:”ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافرنہیں کہتے مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے، دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اسی میں ہے کہ سکوت کیجئے “(10) مثال نمبر 4
بدمذہب کے ساتھ نکاح جائز نہیں
جس بدمذہب کی بدمذہبی کے حدکفرتک پہنچنے میں فقہا اورمتکلمین کااختلاف ہے ،اس کے متعلق معاملہ تکفیراورفقہی احکام دونوں میں جانب احتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے فتاوی صادرفرمائے کہ متکلمین کاقول اختیارکرتے ہوئے احتیاطاتکفیرنہ فرمائی لیکن فقہاکاقول اختیارکرتے ہوئے اس کے ساتھ نکاح کی اجازت بھی عطانہ فرمائی کہ جس طرح تکفیرنہ کرنے میں زبان کے لیے احتیاط ہے ،اسی طرح نکاح نہ کرنے میں فرج (شرمگاہ)کےلیےاحتیاط ہے ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے ، مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم توا ن سے مناکحت زنا ہے، تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں، للہ انصاف کسی سنی صحیح العقیدہ معتقد فقہائے کرام کا قلب سلیم گوارا کرے گا کہ اس کی کوئی عزیزہ کریمہ ایسی بلا میں مبتلا ہوجسے فقہائے کرام عمر بھر کا زنا بتائیں، تکفیر سے سکوت زبان کے لیے احتیاط تھی اور اس نکاح سے احتراز فرج کے واسطے احتیاط ہے یہ کونسی شرع ہےکہ ز بان کے باب میں احتیاط کیجئے اور فرج کے بارے میں بے احتیاطی ۔”(11) مثال نمبر 5
مسجد میں جُنبی ہوگیا، تو باہر نکلنے کے لیے تیمم کرنا
مسجدمیں نہانے کی حاجت ہوگئی،تواب باہرنکلنے سے پہلے تیمم کرے گایانہیں ،بہت اکابرفرماتے ہیں کہ تیمم واجب نہیں ،لیکن امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:احوط یہی ہے (یعنی زیادہ احتیاط اسی میں ہے)کہ تیمم کرے۔اوریہ اس صورت میں ہے ،جبکہ دروازے کے قریب نہ ہو،اگردروازے کے قریب ہے کہ ایک قدم میں ہی باہرآجائے گا،تواب فوراًباہرنکل آئے تیمم کرنے کے لیے مسجدمیں نہ ٹھہرے۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! ” جنب کو جنب ہونا یاد نہ رہا مسجد میں چلا گیا اب یاد آیا یا معتکف مسجد میں سوتا تھا کہ اُسے جائز ہے یا غیر معتکف اگرچہ اُسے منع ہے اور نہانے کی حاجت ہُوئی ،یہ لوگ نہ مسجد میں چل سکتے ہیں ،نہ ٹھہر سکتے ہیں ،نہ مسجد میں غسل ہوسکتا ہے ناچار یہ صورت عجز ہُوئی فوراًتیمم کریں، اگرچہ مسجد کی زمین یا دیوار سے اور معاً باہر چلے جائیں، اگر جاسکتے ہوں اور اگر باہر جانے میں بدن یا مال پر صحیح اندیشہ ہے، توتیمم کے ساتھ بیٹھے رہیں بیٹھنے کی صورت میں تیمم ضرور واجب ہے’’ وخلافہ غیر بین ولامبین ‘‘ (اس کے برخلاف جو کہا گیا وہ نہ خود واضح ہے، نہ اس پر کوئی بیان ودلیل۔ ) اور نکلنے کی صورت میں بہت اکابر اس تیمم کو صرف مستحب جانتے ہیں اور فوراً بلاتیمم نکل جانا بھی جائز جانتے ہیں اور احوط تیمم ہے۔۔۔۔۔ نکلنے کے لیے تیمم کا حکم وجوباً خواہ استحباباً اُس صورت میں ہونا چاہئے جبکہ عین کنارہ مسجد پر نہ ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہوجائے گا جیسے دروازے یا حُجرے یا زمین پیشِ حجرہ کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہُوا یا جنابت یاد نہ رہی اور مسجد میں ایک ہی قدم رکھا تھا،ان صورتوں میں فوراً ایک قدم رکھ کر باہر ہوجائے کہ اس خروج میں مرور فی المسجد نہ ہوگا اور جب تک تیمم پُورا نہ ہو بحالِ جنابت مسجد میں ٹھہرنا رہے گا۔” (12)
1… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۴۶۶،لاہور) 2… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۳۰۹،لاہور) 3… ۔ (المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، صلاۃ المسافرین،ج۰۵،ص۲۰۷،الطبعۃ المصریۃ،ازھر) 4… ۔ (سورۃ الحج،پ۱۷،آیت۷۸) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۳۸۱،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۴،ص۵۷۰-۵۷۱،رضافاونڈیشن،لاہور) 7… ۔(ملتقطاً فتاوی رضویہ،ج ۴،ص ۵۴۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 8… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۰،ص۲۲۶،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 9… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۱،الف،ص۲۴۰تا۲۴۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 10… ۔(فتاوی رضویہ،ج۱۱،ص۳۸۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 11… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۱،ص۳۸۲،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 12… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۰۳،ص۴۷۹،۴۸۰،رضافاؤنڈیشن،لاہور)




