مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

(8)تجنب افراط و تفریط

افراط کا معنی: حداعتدال سے بڑھ جانا۔(1) تفریط کا معنی: کمی کرنا۔(2) تجنب:کنارہ کشی کرنا۔پرہیزکرناوغیرہ۔(3) اس کامطلب ہوا:حدسے بڑھنے اوراس سے کمی کرنے سے پرہیزکرنا۔

فتاوی رضویہ میں تجنب تفریط و افراط

مثال نمبر 1 مخلوق کی رعایت وموافقت کرنے نہ کرنے کے متعلق اہم ضابطہ بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ:فرائض کی ادائیگی اورحرام کاموں سے بچنے میں کسی کی پرواہ نہ کرے اورکسی کی خوشنودی کالحاظ نہ رکھے ۔جبکہ مستحبات کی ادائیگی اورغیراولی کوترک کرنے میں لوگوں کی رعایت کرے، اس معاملے میں فتنہ ونفرت اورایذاووحشت کاسبب بننے سے بچے ۔کسی مقام پرکوئی مستحب کرنے یاغیراولی کوترک کرنے میں فتنہ ہوتاہویا نفرت ووحشت وغیر ہ ہوتووہاں مستحب کام نہ کرے ،اسی طرح غیراولی کوترک نہ کرے بلکہ لوگوں کی موافقت کرے ۔ اسی طرح جوعادات اوررسوم لوگوں میں جاری ہیں اوروہ شرع سے ٹکراتی نہیں توان میں بھی لوگوں کی مخالفت نہ کرے۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! ” پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترک محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقاً پروا ہ نہ کرے اور اتیان مستحب وترک غیر اولی پر مدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت وایذا ووحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے اُن کی حُرمت وشناعت نہ ثابت ہو اُن میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجُدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں۔”(4) مثال نمبر 2

بیوہ کے نکاحِ ثانی کا مسئلہ

بیوہ کے نکاح ثانی کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:اس معاملے میں لوگ افراط وتفریط کاشکارہیں ۔ ایک گروہ تفریط کاشکارہے کہ وہ ہندؤوں کی طرح سخت عارجانتے ہیں اورحرام سے بڑھ کراس سے بچتے ہیں اورنکاح ثانی کرنے والوں پرطعن وتشنیع کرتے ہیں اوریہ بہت بُراہے ،اس میں کئی خرابیاں ہیں :ایک تو ہندؤوں سے موافقت۔دوسرا:ایک شرعاجائزکام پراعتراض،بلکہ بسااوقات تونکاح کرناواجب ہوجاتاہے،تواس سے روگردانی پائی جاتی ہے۔اورتیسرا:اگران کی وجہ سے نکاح نہ کرنے کے سبب کوئی گناہ میں مبتلاہوا،توان پربھی وبال ہوگاکہ یہ گناہ کاباعث بنے۔اوردوسراگروہ افراط کاشکارہے کہ :نکاح ثانی کوبہرصورت واجب وفرض قطعی قراردیتاہے،خواہ ضرورت ہویانہ ہو،بلکہ گویاعین ایمان قراردیتاہے کہ ذراساانکارکیا توایمان گیانہ صرف اس کا،بلکہ جن جن نے ساتھ دیاسبھی کا۔حالانکہ نکاح اول کی طرح نکاح ثانی کے بھی مختلف درجات ہیں :بعض اوقات صرف مباح ہے اوربعض اوقات سنت ہے ۔بعض اوقات واجب اوربعض اوقات مکروہ وحرام وغیرہ ۔ فتاوی رضویہ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے! “ اس مسئلہ میں جاہلانِ ہنددو۲ فرقے ہوگئے ہیں: (۱) اہلِ تفریط کہ نکاح بیوہ کو ہنود کی طرح سخت ننگ وعار جانتے اور معاذ اللہ حرام سے بھی زائد اس سے پرہیز کرتے ہیں ۔۔۔ نکاح کرلیا اس پر چار طرف سے طعن وتشنیع کی بوچھار ہے، بیچاری کو کسی مجلس میں جانا، بلکہ اپنے کُنبے میں مُنہ دکھانا دشوار ہے، کل تک فلاں بیگم یا فلاں بانولقب تھا، اب دوخصمی کی پکارہے ولاحول ولاقوۃ الّا باللہالعلیّ العظیم ، یہ بُرا کرتے اور بے شک بہت بُرا کرتے ہیں باتباع کفار ایک بیہودہ رسم ٹھہرا لینی، پھر اس کی بناپر مباح شرعی پر اعتراض، بلکہ بعض صور میں ادائے واجب سے اعراض کیسی جہالت اور نہایت خوفناک حالت ہے، پھر حاجت والی جوان عورتیں اگر روکی گئیں اور معاذ اللہ بشامتِ نفس کسی گناہ میں مُبتلاہُوئیں، تو اس کا وبال ان روکنے والوں پر پڑے گا کہ یہ اس گناہ کے باعث ہوئے۔ (۲) دوسرے اہلِ افراط کہ اکثر واعظین وہابیہ وغیرہم جُہّال مُشدّدین ہیں، ان حضرات کی اکثر عادت ہے کہ ایک بیجا کے اٹھانے کو دس (۱۰) بیجا اس سے بڑھ کر آپ کریں، دوسرے کو خندق سے بچانا چاہیں اور آپ عمیق کنویں میں گریں، مسلمانوں کو وجہ بے وجہ کافر مشرک بے ایمان ٹھہرادینا ،تو کوئی بات ہی نہیں، ان صاحبوں نے نکاحِ بیوہ کو گویا علی الاطلاق واجب قطعی وفرض حتمی قرار دے رکھا ہے کہ ضرورت ہو یا نہ ہو،بلکہ شرعاً اجازت ہو یا نہ ہوبے نکاح کیے ہرگز نہ رہے اور نہ صرف فرض، بلکہ گویا عین ایمان ہے کہ ذرا کسی بناء پر انکار کیا اور ایمان گیا اور ساتھ لگے آئے گئے پاس پڑوسی سب ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ کیوں پیچھے پڑکر نکاح نہ کردیا اور اگر بس نہ تھا ،تو پاس کیوں گئے، بات کیوں کی، سلام کیوں لیا،بات بات پر عورتیں نکاح سے باہر جنازہ کی نماز حرام، تمام کفر کے احکام، ولاحول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم۔ رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’ ھلک المتنطعون،رواہ الائمۃ احمد ومسلم وابوداؤد عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ‘‘(ہلاک ہوئے بے جا تشدّد کرنے والے(اس کو امام احمد، امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔) وانا اقول و باللہ التوفیق (اورمیں کہتا ہوں اور اللہ تعالی ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔) حق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نکاح ثانی مثل نکاح اول فرض، واجب، سنّت، مباح، مکروہ، حرام سب کچھ ہے۔”(5)


1… ۔ (فیروزاللغات،ص۱۰۳،لاہور) 2… ۔ (فیروزاللغات،ص۳۶۶،لاہور) 3… ۔ (فیروزاللغات،ص۳۴۶،لاہور) 4… ۔ (فتاوی رضویہ،ج ۴،ص ۵۲۸،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 5… ۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۲،ص۲۸۹تا۲۹۱، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)