دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا

اصل شعر

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا

Roman Transliteration

Dhare chalte hain ata ke woh hai qatra tera
Tare khilte hain sakha ke woh hai zarra tera

ترجمہ

ترجمہ: اے اللہ کے رسول ﷺ! کائنات میں جود و عطا کے جو (عظیم الشان) دریا اور دھارے بہہ رہے ہیں، وہ آپ ﷺ کی سخاوت کے بحرِ بے کنار کے ایک قطرے کے برابر ہیں، اور جہاں میں فیاضی و کرم کے جو ستارے چمکتے نظر آتے ہیں، وہ آپ ﷺ کی عطا کے سورج کے ایک ادنیٰ سے ذرے کی مانند ہیں

شرح

🌹حل لغات🌹

دھارے : بمعنی دھار یعنی بلندی سے گرنے والا پانی، موج، بہاو،
عطا : سخاوت، عنایت
قطرہ : بوند
سخا : سخاوت، عطا

🌹شرح🌹

امام فرماتے ہیں آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا ایک قطرہ موجیں مارتے ہوئے دریا کی طرح ہے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا عطا کیا ہوا ذرہ اس قدر چمک دار ہے جیسے سخاوت کے آسمان میں کوئی ستارہ اپنی تمام تر آب و تاب سے روشن ہو کہ کئی سورج پیچھے رہ جائیں
یہ شعر سورۃ الکوثر کی جیتی جاگتی تفسیر ہے جس کو دوسری جگہ اعلی حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمہ نے یوں بیان فرمایا ہے۔۔۔
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالک کل کہلاتے یہ ہیں
انا اعطینک الکوثر
ساری کثرت پاتے یہ ہیں
حضور نبی کریم سرور کائنات پہ عطائے الہی کے فوارے جو چل رہے ہیں اور جو دنیا پہ ظاہر کیے گئے وہ آپ کے فیض و فضل کا ایک قطرہ ہے اور سخاوت کے جو تارے کھلے ہیں وہ تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کرم کے بالمقابل ایک ذرہ ہیں اس لیے کہ جو فضل و کرم آپ کو بارگاہ حق سے عنایت ہوا اس کا کنارہ کہاں۔۔۔
🌹 اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا۔*وکان فضل اللہ علیک عظیما* اور اللہ تعالیٰ کا تم پر بہت بڑا فضل ہے
ظاہر و باطن کے ہزار ہزار عالم میں آپ کے عطیات و بخشش کے سمندر جاری ہیں جس میں ہر ایک کی کشتی حیات تیر رہی ہے اے محبوب خدا یہ سب کچھ آپ کے اتھاہ اور بے پایاں سمندر کی محض ایک بوند ہے آپ کی خیرات سے لوگ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کے صدقات سے آسمانوں کے جملہ تارے شمس و قمر و کواکب بھی منور ہیں جو کہ شب و روز چمک کر عالم کو بھی منور کرتے ہیں حالانکہ یہ سب آپ کے خزانہ بخشش کے ایک ذرہ کی مقدار ہے
جیسا کہ امام بوصیری علیہ الرحمہ نے فرمایا۔*فان من جودک الدنيا و ضرتھا* آپ کے جود و کرم سے دنیا و آخرت ایک حصہ ہے

🌺 تضامین 🌺

قمر و شمس ہوں قربان وہ چہرہ تیرا
نور ہی نور ہے وہ جلوہ زیبا تیرا
دونوں عالم پہ ہے چھایا ہوا سایہ تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
(سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی)
دہر ہے زیر نگیں جس کے وہ قریہ تیرا
منزلیں ڈھونڈتی ہیں جس کو وہ رستہ تیرا
انبیاء فیض اٹھاتے ہیں وہ رتبہ تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
(سید محمد اشرف)
نگہت گل میں مہکتا ہے پسینہ تیرا
چاند تاروں میں نظر آتا ہے جلوہ تیرا
انگلیوں سے ہے بہا فیض کا چشمہ تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
(قاری محمد فرقان بزمی)
دل جھکاتے ہیں فرشتے وہ ہے روضہ تیرا
راہیں کھلتی ہیں جناں کی وہ ہے کوچہ تیرا
لہریں اٹھتی ہیں کرم کی وہ ہے چشمہ تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
(علامہ یعقوب حسین ضیا القادری)
Scroll to Top