سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے بندے (ف۲) پر کتاب اتاری (ف۳) اور اس میں اصلاً (بالکل، ذرا بھی) کجی نہ رکھی، (ف٤)
(ف2)محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف3)یعنی قرآنِ پاک جو اس کی بہترین نعمت اور بندوں کے لئے نجات و فلاح کا سبب ہے ۔(ف4)نہ لفظی ، نہ معنوی ، نہ اس میں اختلاف ، نہ تناقض ۔
تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر (ف۸) ایمان نہ لائیں غم سے (ف۹)
(ف8)یعنی قرآن شریف پر ۔(ف9)اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّیٔ قلب فرمائی گئی کہ آپ ان بے ایمانوں کے ایمان سے محروم رہنے پر اس قدر رنج و غم نہ کیجئے اور اپنی جانِ پاک کو اس غم سے ہلاکت میں نہ ڈالئے ۔
اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے (ف۱۲)
(ف12)اور آباد ہونے کے بعد ویران کر دیں گے اور نبات و اشجار وغیرہ جو چیزیں زینت کی تھیں ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا تو دنیا کی ناپائیدار زینت پر شیفتہ نہ ہو ۔
جب ان نوجوانوں نے (ف۱٤) غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے (ف۱۵) اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر،
(ف14)اپنی کافِر قوم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے ۔(ف15)اور ہدایت و نصرت اور رزق و مغفرت اور دشمنوں سے امن عطا فرما ۔اصحابِ کہف : قوی ترین اقوال یہ ہے کہ سات حضرات تھے اگرچہ ان کے ناموں میں کسی قدر اختلاف ہے لیکن حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت پر جو خازن میں ہے ان کے نام یہ ہیں (۱) مکسلمینا(۲) یملیخا (۳) مرطونس (۴) بینونس (۵) سارینونس (۶) ذونوانس (۷) کشفیط طنونس اور ان کے کتّے کا نام قطمیر ہے ۔خوّاص : یہ اسماء لکھ کر دروازے پر لگا دیئے جائیں تو مکان جلنے سے محفوظ رہتا ہے ، سرمایہ پر رکھ دیئے جائیں تو چوری نہیں جاتا ، کَشتی یا جہاز ان کی برکت سے غرق نہیں ہوتا ، بھاگا ہوا شخص ان کی برکت سے واپس آ جاتا ہے ، کہیں آ گ لگی ہو اور یہ اسماء کپڑے میں لکھ کر ڈال دیئے جائیں تو وہ بجھ جاتی ہے ، بچّے کے رونے ، باری کے بخار ، دردِ سر ، امّ الصبیان ، خشکی و تری کے سفر میں جان و مال کی حفاظت ، عقل کی تیزی ، قیدیوں کی آزادی کے لئے یہ اسماء لکھ کر بطریقِ تعویذ بازو میں باندھے جائیں ۔ (جمل)واقعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد اہلِ انجیل کی حالت ابتر ہو گئی وہ بُت پرستی میں مبتلا ہوئے اور دوسروں کو بت پرستی پر مجبور کرنے لگے ان میں دقیانوس بادشاہ بڑا جابر تھا جو بُت پرستی پر راضی نہ ہوتا اس کو قتل کر ڈالتا ، اصحابِ کہف شہرِ اُفْسُوسْ کے شرفاء و معزّزین میں سے ایماندار لوگ تھے ، دقیانوس کے جبر و ظلم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے بھاگے اور قریب کے پہاڑ میں غار کے اندر پناہ گزین ہوئے ، وہاں سو گئے تین سوبرس سے زیادہ عرصہ تک اسی حال میں رہے ، بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ غار کے اندر ہیں تو اس نے حکم دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار کھینچ کر بند کر دیا جائے تاکہ وہ اس میں مر کر رہ جائیں اور وہ ان کی قبر ہو جائے یہی ان کی سزا ہے ، عمّالِ حکومت میں سے یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھا اس نے ان اصحاب کے نام ، تعداد ، پورا واقعہ رانگ کی تختی پرکندہ کرا کر تا نبے کے صندوق میں دیوار کی بنیاد کے اندر محفوظ کر دیا ، یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرا دی گئی کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا ، زمانے گزرے ، سلطنتیں بدلیں تا آنکہ ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا اس کا نام بیدروس تھا جس نے اڑسٹھ سال حکومت کی پھر مُلک میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکِر ہو گئے ، بادشاہ ایک تنہا مکان میں بند ہوگیا اور اس نے گریہ و زاری سے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی یاربّ کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے خَلق کو مُردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو ، اسی زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور دیوار گرا دی ، دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے ، اصحابِ کہف بحکمِ الٰہی فرحاں و شاداں اٹھے ، چہرے شگفتہ ، طبیعتیں خوش ، زندگی کی ترو تازگی موجود ، ایک نے دوسرے کو سلام کیا ، نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ، فارغ ہو کر یملیخا سے کہا کہ آپ جائیے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لائیے اور یہ بھی خبر لائیے کہ دقیانوس کا ہم لوگوں کی نسبت کیا ارادہ ہے ؟ وہ بازار گئے اور شہرِ پناہ کے دروازے پر اسلامی علامت دیکھی ، نئے نئے لوگ پائے ، انہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نام کی قَسم کھاتے سنا ، تعجّب ہوا یہ کیا معاملہ ہے کل تو کوئی شخص اپنا ایمان ظاہر نہیں کر سکتا تھا ، حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نام لینے سے قتل کر دیا جاتا تھا آج اسلامی علامتیں شہرِ پناہ پر ظاہر ہیں ، لوگ بے خوف و خطر حضرت عیسٰی کے نام قَسمیں کھاتے ہیں پھر آپ نان پز کی دوکان پر گئے کھانے خریدنے کے لئے اس کو دقیانوسی سکّہ کا روپیہ دیا جس کا چلن صدیوں سے موقوف ہو گیا تھا اور اس کا دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا ، بازار والوں نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ان کی ہاتھ آ گیا ہے انہیں پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے ، وہ نیک شخص تھا اس نے بھی ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا خزانہ کہیں نہیں ہے یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے ، حاکم نے کہا یہ بات کسی طرح قابلِ یقین نہیں اس میں جو سَنہ موجود ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں ہم لوگ بوڑھے ہیں ، ہم نے تو کبھی یہ سکّہ دیکھا ہی نہیں ، آپ نے فرمایا میں جو دریافت کروں وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عُقدہ حل ہو جائے گا، یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال و خیال میں ہے ؟ حاکم نے کہا آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ، سینکڑوں برس ہوئے جب ایک بے ایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے ، آپ نے فرمایا کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں میرے ساتھی قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزین ہیں ، چلو میں تمہیں ان سے ملا دوں ، حاکم اور شہر کے عمائد اور ایک خَلقِ کثیر ان کے ہمراہ سرِ غار پہنچے ، اصحابِ کہف یملیخا کے انتظار میں تھے کثیر لوگوں کے آنے کی آواز اور کھٹکے سن کر سمجھے کہ یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں آ رہی ہے اللہ کی حمد اور شکر بجا لانے لگے اتنے میں یہ لوگ پہنچے ، یملیخا نے تمام قصّہ سنایا ، ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم بحکمِ الٰہی اتنا طویل زمانہ سوئے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں کہ لوگوں کے لئے بعدِ موت زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی ہوں ، حاکم سرِ غار پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا اس کو کھولا تو تختی برآمد ہوئی اس تختی میں ان اصحاب کے اسماء اور ان کے کتّے کا نام لکھا تھا ، یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے اس غار میں پناہ گزین ہوئی ، دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے انہیں غار میں بند کر دینے کا حکم دیا ، ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں جب کبھی یہ غار کُھلے تو لوگ حال پر مطّلع ہو جائیں ، یہ لوح پڑھ کر سب کو تعجّب ہوا اور لوگ اللہ کی حمد و ثناء بجا لائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرما دی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے ، حاکم نے اپنے بادشاہ بیدروس کو واقعہ کی اطلاع دی اور امراء و عمائد کو لے کر حاضر ہوا اور سجدۂ شکرِ الٰہی بجا لایا کہ اللہ تعالٰی نے اس کی دعا قبول کی ، اصحابِ کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں والسلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، اللہ تیری اور تیرے مُلک کی حفاظت فرمائے اور جنّ و انس کے شر سے بچائے ۔ بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروفِ خواب ہوئے اور اللہ تعالٰی نے انہیں وفات دی ، بادشاہ نے سال کے صندوق میں ان کے اجساد کو محفوظ کیا اور اللہ تعالٰی نے رعب سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے ، بادشاہ نے سرِغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور کا دن معیّن کیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ )مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم سے ہے ۔
اور ہم نے ان کی ڈھارس بندھائی جب (ف۱۸) کھڑے ہو کر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی
اور جب تم ان سے اور جو کچھ وہ اللہ سوا پوجتے ہیں سب سے الگ ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنادے گا،
اور اے محبوب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے (ف۲۰) حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں میں ہیں (ف۲۱) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے،
(ف20)یعنی ان پر تمام دن سایہ رہتا ہے اور طلوع سے غروب تک کسی وقت بھی دھوپ کی گرمی انہیں نہیں پہنچتی ۔(ف21)اور تازہ ہوائیں ان کو پہنچتی ہیں ۔
اور تم انھیں جاگتا سمجھو (ف۲۲) اور وہ سوتے ہیں اور ہم ان کی داہنی بائیں کروٹیں بدلتے ہیں (ف۲۳) اور ان کا کتا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر (ف۲٤) اے سننے! والے اگر تو انھیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے (ف۲۵)
(ف22)کیونکہ ان کی آنکھیں کُھلی ہیں ۔(ف23)سال میں ایک مرتبہ دسویں محرّم کو ۔(ف24)جب وہ کروٹ لیتے ہیں وہ بھی کروٹ بدلتا ہے ۔ فائدہ : تفسیرِ ثعلبی میں ہے کہ جو کوئی ان کلمات وَکَلْبُھُمْ بَاسِط ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیْدِ کو لکھ کر اپنے ساتھ رکھے کتّے کے ضرر سے امن میں رہے ۔(ف25)اللہ تعالٰی نے ایسی ہیبت سے ان کی حفاظت فرمائی ہے کہ ان تک کوئی جا نہیں سکتا ۔ حضرت معاویہ جنگِ روم کے وقت کہف کی طرف گزرے تو انہوں نے اصحابِ کہف پر داخل ہونا چاہا ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے انہیں منع کیا اور یہ آیت پڑھی پھر ایک جماعت حضرت امیرِ معاویہ کے حکم سے داخل ہوئی تو اللہ تعالٰی نے ایک ایسی ہوا چلائی کہ سب جل گئے ۔
اور یوں ہی ہم نے ان کو جگایا (ف۲٦) کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں (ف۲۷) ان میں ایک کہنے والا بولا (ف۲۸) تم یہاں کتنی دیر رہے، کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم (ف۲۹) دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے (ف۳۰) تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر (ف۳۱) شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کونسا کھانا زیادہ ستھرا ہے (ف۳۲) کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے،
(ف26)ایک مدّتِ دراز کے بعد ۔ (ف27)اور اللہ تعالٰی کی قدرتِ عظیمہ دیکھ کر ان کا یقین زیادہ ہوا اور وہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں ۔(ف28)یعنی مکسلمینا جو ان میں سب سے بڑے اور ان کے سردار ہیں ۔(ف29)کیونکہ وہ غار میں طلوعِ آفتاب کے وقت داخل ہوئے تھے اور جب اٹھے تو آفتاب قریبِ غروب تھا اس سے انہوں نے گمان کیا کہ یہ وہی دن ہے ۔مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ اجتہاد جائز اور ظنِ غالب کی بنا پر قول کرنا درست ہے ۔(ف30)انہیں یا تو الہام سے معلوم ہوا کہ مدّت دراز گزر چکی یا انہیں کچھ ایسے دلائل و قرائن ملے جیسے کہ بالوں اور ناخنوں کا بڑھ جانا جس سے انہوں نے یہ خیال کیا کہ عرصہ بہت گزر چکا ۔(ف31)یعنی دقیانوسی سکّہ کے روپے جو گھر سے لے کر آئے تھے اور سوتے وقت اپنے سرہانے رکھ لئے تھے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کو خرچ ساتھ میں رکھنا طریقۂ توکل کے خلاف نہیں ہے چاہئے کہ بھروسہ اللہ پر رکھے ۔(ف32)اور اس میں کوئی شبۂ حرمت نہیں ۔
اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی (ف۳۵) کہ لوگ جان لیں (ف۳٦) کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں، جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے (ف۳۷) تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ، ان کا رب انھیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے (ف۳۸) قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے (ف۳۹)
(ف35)لوگوں کو دقیانوس کے مرنے اور مدّت گزر جانے کے بعد ۔(ف36)اور بیدروس کی قوم میں جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں انہیں معلوم ہو جائے ۔(ف37)یعنی ان کی وفات کے بعد ان کے گرد عمارت بنانے میں ۔(ف38)یعنی بیدروس بادشاہ اوراس کے ساتھی ۔(ف39)جس میں مسلمان نماز پڑھیں اور ان کے قرب سے برکت حاصل کریں ۔ (مدارک)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے مزارات کے قریب مسجدیں بنانا اہلِ ایمان کا قدیم طریقہ ہے اور قرآنِ کریم میں اس کا ذکر فرمانا اور اس کو منع نہ کرنا اس فعل کے درست ہونے کی قوی ترین دلیل ہے ۔ مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے جوار میں برکت حاصل ہوتی ہے اسی لئے اہلُ اللہ کے مزارات پر لوگ حصولِ برکت کے لئے جایا کرتے ہیں اور اسی لئے قبروں کی زیارت سنّت اور موجبِ ثواب ہے ۔
اب کہیں گے (ف٤۰) کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بےدیکھے الاؤ تکا (تیر تکا) بات (ف٤۱) اور کچھ کہیں گے سات ہیں (ف٤۲) اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے (ف٤۳) انھیں نہیں جانتے مگر تھوڑے (ف٤٤) تو ان کے بارے میں (ف٤۵) بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی (ف٤٦)
(ف40)نصرانی ۔ جیسا کہ ان میں سے سید اور عاقب نے کہا ۔(ف41)جو بے جانے کہہ دی کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی ۔(ف42)اور یہ کہنے والے مسلمان ہیں اللہ تعالٰی نے ان کے قول کو ثابت رکھا کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام سے علم حاصل کر کے کہا ۔(ف43)کیونکہ جہانوں کی تفاصیل اور کائناتِ ماضیہ و مستقبلہ کا علم اللہ ہی کو ہے یا جس کو وہ عطا فرمائے ۔(ف44)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ میں انہیں قلیل میں سے ہوں جن کا آیت میں استثناء فرمایا ۔(ف45)اہلِ کتاب سے ۔(ف46)اور قرآن میں نازِل فرما دی گئی آپ اتنے ہی پر اکتفا کریں اور اس معاملہ میں یہود کے جہل کا اظہار کرنے کے درپے نہ ہوں ۔(ف47)یعنی اصحابِ کہف کے ۔
مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف٤۸) اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے (ف٤۹) اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس (ف۵۰) سے نزدیک تو راستی کی راہ دکھائے، (ف۵۱)
(ف48)یعنی جب کسی کام کا ارادہ ہو تو یہ کہنا چاہئے کہ ان شاء اللہ ایسا کروں گا بغیر ان شاء اللہ کے نہ کہے ۔شانِ نُزول : اہلِ مکّہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جب اصحابِ کہف کا حال دریافت کیا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کل بتاؤں گا اور ان شاء اللہ نہیں فرمایا تھا ، کئی روز وحی نہیں آئی پھر یہ آیت نازِل فرمائی ۔(ف49)یعنی ان شاء اللہ تعالٰی کہنا یاد نہ رہے تو جب یاد آئے کہہ لے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جب تک اس مجلس میں رہے ۔ اس آیت کی تفسیروں میں کئی قول ہیں بعض مفسِّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اگر کسی نماز کو بھول گیا تو یاد آتے ہی ادا کرے ۔ (بخاری و مسلم) بعض عارفین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اپنے ربّ کو یاد کر جب تو اپنے آپ کو بھول جائے کیونکہ ذکر کا کمال یہی ہے کہ ذاکر مذکور میں فنا ہو جائے ۔ذکر و ذاکر محو گردد بالتمام جملگی مذکور ماند والسلام(ف50)واقعۂ اصحابِ کہف کے بیان اور اس کی خبر دینے ۔(ف51)یعنی ایسے معجزات عطا فرمائے جو میری نبوّت پر اس سے بھی زیادہ ظاہر دلالت کریں جیسے کہ انبیاءِ سابقین کے احوال کا بیان اور غیوب کا علم اور قیامت تک پیش آنے والے حوادث و وقایع کا بیان اور شقّ القمر اور حیوانات سے اپنی شہادتیں دلوانا وغیرہا ۔ (خازن وجمل)
تم فرماؤ اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے (ف۵۳) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب، وہ کیا ہی دیکھتا اور کیا ہی سنتا ہے (ف۵٤) اس کے سوا ان کا (ف۵۵) کوئی والی نہیں، اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا،
(ف53)اسی کا فرمانا حق ہے ۔شانِ نُزول : نجران کے نصرانیوں نے کہا تھا تین سو برس تک ٹھیک ہیں اور نو کی زیادتی کیسی ہے اس کا ہمیں علم نہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف54)کوئی ظاہر اور کوئی باطن اس سے چُھپا نہیں ۔(ف55)آسمان اور زمین والوں کا ۔
اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں (ف۵۸) اور تمہاری آنکھیں انھیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کا سنگھار چاہو گے، اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا ،
(ف58)یعنی اخلاص کے ساتھ ہر وقت اللہ کی طاعت میں مشغول رہتے ہیں ۔ شانِ نُزول : سردارانِ کُفّار کی ایک جماعت نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں غُرباء اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ ہمیں انھیں صحبت سے جدا کر دیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لے آ نے سے خَلقِ کثیر اسلام لے آئے گی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔
اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے (ف۵۹) تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے (ف٦۰) بیشک ہم نے ظالموں (ف٦۱) کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انھیں گھیر لیں گی، اور اگر (ف٦۲) پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے (ف٦۳) اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،
(ف59)یعنی اس کی توفیق سے اور حق و باطل ظاہر ہو چکا میں تو مسلمانوں کو ان کی غربت کے باعث تمہاری دل جوئی کے لئے اپنی مجلسِ مبارک سے جدا نہیں کروں گا ۔(ف60)اپنے انجام و مآل کو سوچ لے اور سمجھ لے کہ ۔(ف61)یعنی کافِروں ۔(ف62)پیاس کی شدّت سے ۔(ف63)اللہ کی پناہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا وہ غلیظ پانی ہے روغنِ زیتون کی تلچھٹ کی طرح ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ وہ پگھلایا ہوا رانگ اور پیتل ہے ۔
ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں وہ اس میں سونے کے کنگن بہنائے جایں گے (ف٦۵) اور سبز کپڑے کریب اور قناویز کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے (ف٦٦) کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کی کیا ہی اچھی آرام کی جگہ،
(ف65)ہر جنّتی کو تین تین کنگن پہنائے جائیں گے سونے اور چاندی اور موتیوں کے ۔ حدیثِ صحیح میں ہے کہ وضو کا پانی جہاں جہاں پہنچتا ہے وہ تمام اعضا بہشتی زیوروں سے آراستہ کئے جائیں گے ۔(ف66)شاہانہ شان و شکوہ کے ساتھ ہوں گے ۔
اور ان کے سامنے دو مردوں کا حال بیان کرو (ف٦۷) کہ ان میں ایک کو (ف٦۸) ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی (ف٦۹)
(ف67)کہ کافِر و مومن اس میں غور کر کے اپنا اپنا انجام و مآل سمجھیں اور ان دو مَردوں کا حال یہ ہے ۔(ف68)یعنی کافِر کو ۔(ف69)یعنی انہیں نہایت بہترین ترتیب کے ساتھ مرتّب کیا ۔
اور وہ (ف۷۱) پھل رکھتا تھا (ف۷۲) تو اپنے ساتھی (ف۷۳) سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا (ف۷٤) میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں (ف۷۵)
(ف71)باغ والا اس کے علاوہ اور بھی ۔(ف72)یعنی اموالِ کثیرہ سونا ، چاندی وغیرہ ہر قِسم کی چیزیں ۔(ف73)ایماندار ۔(ف74)اور اِترا کر اور اپنے مال پر فخر کر کے کہنے لگا کہ ۔(ف75)میرا کنبہ قبیلہ بڑا ہے ، ملازم ، خدمت گار ، نوکر چاکر بہت ہیں ۔
اپنے باغ میں گیا (ف۷٦) اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا (ف۷۷) بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو،
(ف76)اور مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے گیا وہاں اس کو افتخاراً ہر طرف لے پھرا اور ہر ہر چیز دکھائی ۔(ف77)کُفر کے ساتھ اور باغ کی زینت و زیبائش اور رونق و بہار دیکھ کر مغرور ہو گیا اور ۔
اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ ، ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا (ف۸۲) اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا (ف۸۳)
(ف82)اگر تو باغ دیکھ کر ماشاء اللہ کہتا اور اعتراف کرتا کہ یہ باغ اور اس کے تمام محاصل و منافع اللہ تعالٰی کی مشیّت اور اس کے فضل وکرم سے ہیں اور سب کچھ اس کے اختیار میں ہے چاہے اس کو آباد رکھے ، چاہے ویران کرے ایسا کہتا تو یہ تیرے حق میں بہتر ہوتا تو نے ایسا کیوں نہیں کہا ۔(ف83)اس وجہ سے تکبُّر میں مبتلا تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا ۔
اور اس کے پھل گھیر لیے گئے (ف۸۸) تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا (ف۸۹) اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا (ف۹۰) اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،
(ف88)اور باغ بالکل ویران ہو گیا ۔(ف89)پشیمانی اور حسرت سے ۔(ف90)اس حال کو پہنچ کر اس کو مو من کی نصیحت یاد آتی ہے اور اب وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کے کُفر و سرکشی کا نتیجہ ہے ۔
اور ان کے سامنے (ف۹۳) زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو (ف۹٤) جیسے ایک پانی ہم نے آسمان اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہو کر نکلا (ف۹۵) کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں (ف۹٦) اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے (ف۹۷)
(ف93)اے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف94)کہ اس کی حالت ایسی ہے ۔(ف95)زمین ترو تازہ ہوئی پھر قریب ہی ایسا ہوا ۔(ف96)اور پراگندہ کردیں ۔(ف97)پیدا کرنے پر بھی اور فنا کرنے پر بھی اس آیت میں دنیا کی تری و تازگی اور بہجت و شادمانی اور اس کے فنا و ہلاک ہونے کی سبز ہ سے تمثیل فرمائی گئی کہ جس طرح سبزہ و شاداب ہو کر فنا ہوجاتا ہے اور اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا یہی حالت دنیا کی حیاتِ بے اعتبار کی ہے اس پر مغرور و شیدا ہونا عقل کا کام نہیں ۔
مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے (ف۹۸) اور باقی رہنے والی اچھی باتیں (ف۹۹) ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی،
(ف98)راہِ قبر و آخرت کے لئے توشہ نہیں ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مال و اولاد دنیا کی کھیتی ہیں اور اعمالِ صالحہ آخرت کی اور اللہ تعالٰی اپنے بہت سے بندوں کو یہ سب عطا فرماتاہے ۔(ف99)باقیاتِ صالحات سے اعمالِ خیر مراد ہیں جن کے ثمرے انسان کے لئے باقی رہتے ہیں جیسے کہ پنج گانہ نمازیں اور تسبیح و تحمید ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے باقیاتِ صالحات کی کثرت کا حکم فرمایا صحابہ نے عرض کیا وہ کیا ہیں فرمایا : اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنا ۔
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے (ف۱۰۰) اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (ف۱۰۱) اور ہم انھیں اٹھائیں گے (ف۱۰۲) تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے،
(ف100)کہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اَبر کی طرح روانہ ہوں گے ۔(ف101)نہ اس پر کوئی پہاڑ ہوگا نہ عمارت نہ درخت ۔(ف102)قبروں سے اور موقفِ حساب میں حاضر کریں گے ۔
اور سب تمہارے رب کے حضور پرا باندھے پیش ہوں گے (ف۱۰۳) بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار بنایا تھا (ف۱۰٤) بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہرگز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے، (ف۱۰۵)
(ف103)ہر ہر امّت کی جماعت کی قطاریں علٰیحدہ علٰیحدہ اللہ تعالٰی ان سے فرمائے گا ۔(ف104)زندہ برہنہ تن و برہنہ پا بے زر و مال ۔ (ف105)جو وعدہ کہ ہم نے زبانِ انبیاء پر فرمایا تھا یہ ان سے فرمایا جائے گا جو لوگ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے اور قیامت قائم ہونے کے منکِر تھے ۔
اور نامہٴ اعمال رکھا جائے گا (ف۱۰٦) تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور (ف۱۰۷) کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۸)
(ف106)ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں ، مومن کا داہنے میں کافر کا بائیں میں ۔(ف107)اس میں اپنی بدیاں لکھی دیکھ کر ۔(ف108)نہ کسی پر بے جُرم عذاب کرے ، نہ کسی کی نیکیاں گھٹائے ۔
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو (ف۱۰۹) تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، قوم جن سے تھا تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا (ف۱۱۰) بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد و میرے سوا دوست بناتے ہو (ف۱۱۱) اور وہ ہمارے دشمن ہیں ظالموں کو کیا ہی برا بدل (بدلہ) ملا ، (ف۱۱۲)
(ف109)تحیّت کا ۔(ف110)اور باوجود مامور ہونے کے اس نے سجدہ نہ کیا تو اے بنی آدم ۔(ف111)اور ان کی اطاعت اختیار کرتے ہو ۔(ف112)کہ بجائے طاعتِ الٰہی بجالانے کے طاعتِ شیطان میں مبتلا ہوئے ۔
نہ میں نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت انھیں سامنے بٹھالیا تھا ، نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میری شان، کہ گمراہ کرنے والوں کو بازوں بناؤں (ف۱۱۳)
(ف113)معنٰی یہ ہیں کہ اشیاء کے پیدا کرنے میں متفرد اور یگانہ ہوں نہ میرا کوئی شریکِ عمل نہ کوئی مشیر کار پھر میرے سوا اور کسی کی عبادت کس طرح درست ہوسکتی ہے ۔
اور جس دن فرمائے گا (ف۱۱٤) کہ پکارو میرے شریکوں کو جو تم گمان کرتے تھے تو انھیں پکاریں گے وہ انھیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے (ف۱۱۵) درمیان ایک ہلاکت کا میدان کردیں گے (ف۱۱٦)
(ف114)اللہ تعالٰی کفّار سے ۔(ف115)یعنی بتوں اور بت پرستوں کے یا اہلِ ہدٰی اور اہلِ ضلال کے ۔(ف116)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ موبقِ جہنّم کی ایک وادی کا نام ہے ۔
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی (ف۱۱۷) اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے (ف۱۱۸)
(ف117)تاکہ سمجھیں اور پندپذیر ہوں ۔(ف118)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہاں آدمی سے مراد نضر بن حارث ہے اور جھگڑے سے اس کاقرآنِ پاک میں جھگڑا کرنا بعض نے کہا ابی بن خلف مراد ہے ۔ بعض مفسّرین کا قو ل ہے کہ تمام کفّار مراد ہیں بعض کے نزدیک آیت عموم پر ہے اور یہی اصح ہے ۔
اور آدمیوں کو کسی چیز نے اس سے روکا کہ ایمان لاتے جب ہدایت (ف۱۱۹) ان کے پاس آئی اور اپنے رب سے معافی مانگتے (ف۱۱۳) مگر یہ کہ ان پر اگلوں کا دستور آئے (ف۱۲۱) یا ان پر قسم قسم کا عذاب آئے
(ف119)یعنی قرآنِ کریم یا رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارک ۔(ف120)معنٰی یہ ہیں کہ ان کے لئے جائے عذر نہیں ہے کیونکہ انہیں ایمان و استغفار سے کوئی مانع نہیں ۔(ف121)یعنی وہ ہلاک جو مقدر ہے اس کے بعد ۔
اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر (ف۱۲۲) خوشی (ف۱۲۳) ڈر سنانے والے اور جو کافر ہیں وہ باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں (ف۱۲٤) کہ اس سے حق کو ہٹادیں اور انہوں نے میری آیتوں کی اور جو ڈر انھیں سناتے گئے تھے، (ف۱۲۵)
(ف122)ایمانداروں اطاعت شعاروں کے لئے ثواب کی ۔(ف123)بے ایمانوں ، نافرمانوں کے لئے عذاب کا ۔(ف124)اور رسولوں کو اپنی مثل بشر کہتے ہیں ۔(ف125)عذاب کے ۔
ان کی ہنسی بنالی اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے (ف۱۲٦) اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے (ف۱۲۷) اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (ف۱۲۸) اور اگر تم انھیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے (ف۱۲۹)
(ف126)اور پندپذیر نہ ہو اور ان پر ایمان نہ لائے ۔(ف127)یعنی معصیّت اور گناہ اور نافرمانی جو کچھ اس نے کیا ۔(ف128)کہ حق بات نہیں سنتے ۔(ف129)یہ ان کے حق میں ہے جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں ۔
اور تمہارا رب بخشنے والا مہربانی والا ہے، اگر وہ انھیں (ف۱۳۰) ان کے کیے پر پکڑتا تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (ف۱۳۱) بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱۳۲) جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے،
(ف130)دنیا ہی میں ۔(ف131)لیکن اس کی رحمت ہے کہ اس نے مہلت دی اور عذاب میں جلدی نہ فرمائی ۔(ف132)یعنی روزِ قیامت بعث و حساب کا دن ۔
اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں (ف۱۳۳) جب انہوں نے ظلم کیا (ف۱۳٤) اور ہم نے ان کی بربادی کا ایک وعدہ رکھا تھا،
(ف133)وہاں کے رہنے والوں کو ہلاک کر دیا اور وہ بستیاں ویران ہو گئیں ، ان بستیوں سے قومِ لوط و عاد و ثمود وغیرہ کی بستیاں مراد ہیں ۔(ف134)حق کو نہ مانا اور کُفر اختیار کیا ۔
اور یاد کرو جب موسیٰ (ف۱۳۵) نے اپنے خادم سے کہا (ف۱۳٦) میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں (ف۱۳۷) یا قرنوں (مدتوں تک) چلا جاؤں (ف۱۳۸)
(ف135)ابنِ عمر ان نبیِ محترم صاحبِ توریت و معجزاتِ ظاہرہ ۔(ف136)جن کا نام یوشع ابنِ نون ہے جو حضرت موسٰی علیہ السلام کی خدمت و صحبت میں رہتے تھے اور آپ سے علم اخذ کرتے تھے اور آپ کے بعد آپ کے ولی عہد ہیں ۔(ف137)بحرِ فارس و بحرِ روم جانبِ مشرق میں اور مجمع البحرین وہ مقام ہے جہاں حضرت موسٰی علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کا وعدہ دیا گیا تھا اس لئے آپ نے وہاں پہنچنے کا عزمِ مصمّم کیا اور فرمایا کہ میں اپنی سعی جاری رکھوں گا جب تک کہ وہاں پہنچوں ۔(ف138)اگر وہ جگہ دور ہو پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بُھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لے کر روانہ ہوئے ۔
پھر جب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے (ف۱۳۹) اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی،
(ف139)جہاں ایک پتّھر کی چٹان تھی اور چشمۂ حیات تھا تو وہاں دونوں حضرات نے استراحت کی اور مصروفِ خواب ہو گئے ، بُھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں زندہ ہو گئی اور تڑپ کر دریا میں گری اور اس پر سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک محراب سی بن گئی ، حضرت یوشع کو بیدار ہونے کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام سے اس کا ذکر کرنا یاد نہ رہا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
پھر جبب وہاں سے گزر گئے (ف۱٤۰) موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا، (ف۱٤۱)
(ف140)اور چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے روز کھانے کا وقت آیا تو حضرت ۔(ف141)تھکان بھی ہے بھوک کی شدّت بھی ہے اور یہ بات جب تک مجمع البحرین پہنچے تھے پیش نہ آئی تھی ، منزلِ مقصود سے آگے بڑھ کر تکان اور بھوک معلوم ہوئی ۔ اس میں اللہ تعالٰی کی حکمت تھی کہ مچھلی یاد کریں اور اس کی طلب میں منزلِ مقصود کی طرف واپس ہوں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے یہ فرمانے پر خادم نے معذرت کی اور ۔
بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے (ف۱٤۲) تو سمندر میں اپنی راہ لی، اچنبھا ہے،
تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا (ف۱٤٤) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی (ف۱٤۵) اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا (ف۱٤٦)
(ف144)جو چادر اوڑھے آرام فرما رہا تھا یہ حضرت خضر تھے علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ و السلام ۔ لفظِ خضر لغت میں تین طرح آیا ہے بکسرِ خا و سکونِ ضاد اور بفتحِ خا و سکونِ ضاد اور بفتحِ خا وکسرِ ضاد ۔ یہ لقب ہے اور وجہ اس لقب کی یہ ہے کہ جہاں بیٹھتے یا نماز پڑھتے ہیں وہاں اگر گھاس خشک ہو تو سرسبز ہو جاتی ہے ، نام آپ کا بلیا بن ملکان اور کنیّت ابوالعباس ہے ، ایک قول یہ ہے کہ آپ بنی اسرائیل میں سے ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ آپ شہزادے ہیں آپ نے دنیا ترک کر کے زہد اختیار فرمایا ۔(ف145)اس رحمت سے یا نبوّت مراد ہے یا ولایت یا علم یا طولِ حیات ، آپ ولی تو بالیقین ہیں آپ کی نبوّت میں اختلاف ہے ۔(ف146)یعنی غیوب کا علم ۔ مفسِّرین نے فرمایا علمِ لدنی وہ ہے جو بندہ کو بطریقِ الہام حاصل ہو ۔ حدیث شریف میں ہے جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے حضرت خضر علٰی نبینا وعلیہ السلام کو دیکھا کہ سفید چادر میں لپٹے ہوئے ہیں تو آپ نے انہیں سلام کیا انہوں نے دریافت کیا کہ تمہاری سرزمین میں سلام کہاں ؟ آپ نے فرمایا کہ میں موسٰی ہوں انہوں نے کہا کہ بنی اسرائیل کے موسٰی ؟ فرمایا کہ جی ہاں پھر ۔
اس سے موسیٰ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو گے نیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی (ف۱٤۷)
(ف147)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو علم کی طلب میں رہنا چاہئے خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالِم ہو ۔مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ جس سے علم سیکھے اس کے ساتھ بتواضع و ادب پیش آئے ۔ (مدارک) خضر نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے جواب میں ۔
(ف148)حضرت خضر نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام امورِ منکَرہ و ممنوعہ دیکھیں گے اور انبیاء علیہم السلام سے ممکن ہی نہیں کہ وہ منکَرات دیکھ کر صبر کر سکیں پھر حضرت خضر علیہ السلام نے اس ترکِ صبر کا عذر بھی خود ہی بیان فرما دیا اور فرمایا ۔
اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں (ف۱٤۹)
(ف149)اور ظاہر میں وہ منکر ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے فرمایا کہ ایک علم اللہ تعالٰی نے مجھ کو ایسا عطا فرمایا جو آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو ایسا عطا فرمایا جو میں نہیں جانتا ۔ مفسِّرین و محدِّثین کہتے ہیں کہ جو علم حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے لئے خاص فرمایا وہ علمِ باطن و مکاشفہ ہے اور اہلِ کمال کے لئے یہ باعثِ فضل ہے چنانچہ وارد ہوا ہے کہ صدیق کو نماز وغیرہ اعمال کی بنا پر صحابہ پر فضیلت نہیں بلکہ ان کی فضیلت اس چیز سے ہے جو ان کے سینہ میں ہے یعنی علمِ باطن و علمِ اسرار کیونکہ جو افعال صادر ہوں گے وہ حکمت سے ہوں گے اگرچہ بظاہر خلاف معلوم ہوں ۔
کہا تو اگر آپ میرے ساتھ رہنے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (ف۱۵۰)
(ف150)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد اور مسترشِد کے آداب میں سے ہے کہ وہ شیخ و استاد کے افعال پر زبانِ اعتراض نہ کھولے اور منتظر رہے کہ وہ خود ہی اس کی حکمت ظاہر فرماویں ۔ ( مدارک و ابوالسعود)
اب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے (۱۵۱) اس بندہ نے اسے چیر ڈالا (ف۱۵۲) موسیٰ نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی، (ف۱۵۳)
(ف151)اور کَشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کر لیا ۔(ف152)اور بسولے یا کلہاڑی سے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے لیکن باوجود اس کے پانی کَشتی میں نہ آیا ۔(ف153)حضرت خضر نے ۔
پھر دونوں چلے (ف۱۵٦) یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا (ف۱۵۷) اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان (ف۱۵۸) بیکسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی،
(ف156)یعنی کَشتی سے اتر کر ایک مقام پر گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے ۔(ف157)جو ان میں خوبصورت تھا اور حدِّ بلوغ کو نہ پہنچا تھا ۔ بعض مفسِّرین نے کہا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا ۔(ف158)جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا ۔
پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں کے پاس آئے (ف۱٦۱) ان دہقانوں سے کھانا مانگا انہوں نے انھیں دعوت دینی قبول نہ کی (ف۱٦۲) پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی کہ گرا چاہتی ہے اس بندہ نے (ف۱٦۳) اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے (ف۱٦٤)
(ف161)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس گاؤں سے مراد انطاکیہ ہے وہاں ان حضرات نے ۔(ف162)اور میزبانی پر آمادہ نہ ہوئے ۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ وہ بستی بہت بدتر ہے جہاں مہمانوں کی میزبانی نہ کی جائے ۔(ف163)یعنی حضرت خضر علیہ السلام نے اپنا دستِ مبارک لگا کر اپنی کرامت سے ۔(ف164)کیونکہ یہ ہماری تو حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں نے ہماری کچھ مدارات نہیں کی ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا ، اس پر حضرت خضر نے ۔
وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی (ف۱٦۷) کہ دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا (ف۱٦۸) کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا (ف۱٦۹)
(ف167)جو دس بھائی تھے ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کر سکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو ۔(ف168)کہ انہیں واپسی میں اس کی طرف گزرنا ہوتا ۔ اس بادشاہ کا نام جلندی تھا کَشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا ۔(ف169)اور اگر عیب دار ہوتی چھوڑ دیتا اس لئے میں نے اس کَشتی کو عیب دار کر دیا کہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ رہے ۔
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے (ف۱۷۰)
(ف170)اور وہ اس کی مَحبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہو جائیں اور حضرت خضر کا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ باعلامِ الٰہی اس کے حالِ باطن کو جانتے تھے ۔ حدیثِ مسلم میں ہے کہ یہ لڑکا کافِر ہی پیدا ہوا تھا ۔ امام سبکی نے فرمایا کہ حالِ باطن جان کر بچّے کو قتل کر دینا حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے انہیں اس کی اجازت تھی ، اگر کوئی ولی کسی بچّے کے ایسے حال پر مطلع ہو تو اس کو قتل جائز نہیں ہے ۔ کتابِ عرائس میں ہے کہ جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے حضرت خصر سے فرمایا کہ تم نے ستھری جان کو قتل کر دیا تو یہ انہیں گراں گزرا اور انہوں نے اس لڑکے کا کندھا توڑ کر اس کا گوشت چیرا تو اس کے اندر لکھا ہوا تھا کافِر ہے کبھی اللہ پر ایمان نہ لائے گا ۔ (جمل)
تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کا رب اس سے بہتر (ف۱۷۱) ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں قریب عطا کرے (ف۱۷۲)
(ف171)بچّہ گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور ۔(ف172)جو والدین کے ساتھ طریقِ ادب و حسنِ سلوک اور مودّت و مَحبت رکھتا ہو ۔ مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللہ تعالٰی نے ایک اُمّت کو ہدایت دی ، بندے کو چاہئے کہ اللہ کی قضا پر راضی رہے اسی میں بہتری ہوتی ہے ۔
رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی (ف۱۷۳) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا (ف۱۷٤) اور ان کا باپ نیک آدمی تھا (ف۱۷۵) تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں (ف۱۷٦) اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا (ف۱۷۷) یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ف۱۷۸)
(ف173)جن کے نام اصرم اور صریم تھے ۔(ف174)ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اس دیوار کے نیچے سونا چاندی مدفون تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس میں سونے کی ایک تختی تھی اس پر ایک طرف لکھا تھا اس کا حال عجیب ہے جسے موت کا یقین ہو اس کو خوشی کس طرح ہوتی ہے ، اس کا حال عجیب ہے جو قضا و قدر کا یقین رکھے اس کو غصّہ کیسے آتا ہے ، اس کا حال عجیب ہے جسے رزق کا یقین ہو وہ کیوں تعب میں پڑتا ہے ، اس کا حال عجیب ہے جسے حساب کا یقین ہو وہ کیسے غافل رہتا ہے ، اس کا حال عجیب ہے جس کو دنیا کے زوال و تغیّر کا یقین ہو وہ کیسے مطمئن ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لکھا تھا لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور دوسری جانب اس لوح پر لکھا تھا میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں یکتا ہوں ، میرا کوئی شریک نہیں ، میں نے خیر و شر پیدا کی ، اس کے لئے خوشی جسے میں نے خیر کے لئے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں پر خیر جاری کی ، اس کے لئے تباہی جس کو شر کے لئے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں پر شر جاری کی ۔(ف175)اس کا نام کاشح تھا اور یہ شخص پرہیزگار تھا ۔ حضرت محمد ابنِ منکدر نے فرمایا اللہ تعالٰی بندے کی نیکی سے اس کی اولاد کو اوراس کی اولاد کی اولاد کو اور اس کے کنبہ والوں کو اور اس کے محلہ داروں کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے ۔ (سبحان اللہ)(ف176)اور ان کی عقل کا مل ہو جائے اور وہ قوی و توانا ہو جائیں ۔(ف177)بلکہ بامرِالٰہی و الہامِ خداوندی کیا ۔(ف178)بعضے لوگ ولی کو نبی پر فضیلت دے کر گمراہ ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت موسٰی کو حضرت خضر سے علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا باوجود یکہ حضرت خضر ولی ہیں اوردر حقیقت ولی کو نبی پر فضیلت دینا کفرِ جلی ہے اور حضرت خضر نبی ہیں اور اگر ایسا نہ ہو جیسا کہ بعض کا گمان ہے تو یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے حق میں ابتلاء ہے علاوہ بریں یہ کہ اہلِ کتاب اس کے قائل ہیں کہ یہ حضرت موسٰی پیغمبرِ بنی اسرائیل کا واقعہ ہی نہیں بلکہ موسٰی بن ماثان کا واقعہ ہے اور ولی تو نبی پر ایمان لانے سے مرتبۂ ولایت پر پہنچتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ وہ نبی سے بڑھ جائے ۔ (مدارک) اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا واللہ تعالٰی اعلم ۔ (خازن)
اور تم سے (ف۱۷۹) ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں (ف۱۸۰) تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں،
(ف179)ابوجہل وغیرہ کُفّارِ مکّہ یا یہود بہ طریقِ امتحان ۔(ف180)ذوالقرنین کا نام اسکندر ہے یہ حضرت خضرعلیہ السلام کے خالہ زاد بھائی ہیں انہوں نے اسکندریہ بنایا اور اس کا نام اپنے نام پر رکھا ، حضرت خضر علیہ السلام ان کے وزیر اور صاحبِ لواء تھے ، دنیا میں ایسے چار بادشاہ ہوئے ہیں جو تمام دنیا پر حکمران تھے ، دو مومن حضرت ذوالقرنین اور حضرت سلیمان علٰی نبینا وعلیہما السلام اور دو کافِر نمرود اور بُخْتِ نصر اور عنقریب ایک پانچویں بادشاہ اور اس اُمَت سے ہونے والے ہیں جن کا اسمِ مبارک حضرت امام مہدی ہے ، ان کی حکومت تمام روئے زمین پر ہو گی ۔ ذوالقرنین کی نبوّت میں اختلاف ہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے ، نہ فرشتے ، اللہ سے مَحبت کرنے والے بندے تھے ، اللہ نے انہیں محبوب بنایا ۔
یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا (ف۱۸۳) اور وہاں (ف۱۸٤) ایک قوم ملی (ف۱۸۵) ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تو انھیں عذاب دے (ف۱۸٦) یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے (ف۱۸۷)
(ف183)ذوالقرنین نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ اولادِ سام میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی ، یہ دیکھ کروہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت خضر بھی تھے وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا مگر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا انہوں نے نہ پایا اس سفر میں جانبِ مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منازل قطع کر ڈالے اور سمتِ مغرب میں وہاں پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں آفتاب وقتِ غروب ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے ۔(ف184)اس چشمہ کے پاس ۔(ف185)جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے اس کے سوا ان کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھا اور دریائی مردہ جانور ان کی غذا تھے ، یہ لوگ کافِر تھے ۔(ف186)اور ان میں سے جو اسلام میں داخل نہ ہو اس کو قتل کر دے ۔(ف187)اور انہیں احکامِ شرع کی تعلیم دے اگر وہ ایمان لائیں ۔
یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی (ف۱۹٤)
(ف194)اس مقام پر جس کے اور آفتاب کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی ، نہ وہاں کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت غاروں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے ۔
بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا (ف۱۹۵) سب کو ہمارا علم محیط ہے (ف۱۹٦)
(ف195)فوج ، لشکر ، آلاتِ حرب ، سامانِ سلطنت اور بعض مفسِّرین نے فرمایا سلطنت و مُلک داری کی قابلیت اور امورِ مملکت کے سر انجام کی لیاقت ۔(ف196)مفسِّرین نے کذالک کے معنی میں یہ بھی کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین نے جیسا مغربی قوم کے ساتھ سلوک کیا تھا ایسا ہی اہلِ مشرق کے ساتھ بھی کیا کیونکہ یہ لوگ بھی ان کی طرح کافِر تھے تو جو ان میں سے ایمان لائے ان کے ساتھ احسان کیا اور جوکُفر پر مُصِر رہے ان کو تعذیب کی ۔
انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج ماجوج (ف۱۹۹) زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس پر کہ آپ ہم میں اور ان میں ایک دیوار بنادیں (ف۲۰۰)
(ف199)یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد سے فسادی گروہ ہیں ، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ، زمین میں فساد کرتے تھے ، ربیع کے زمانے میں نکلتے تھے تو کھیتیاں اور سبزے سب کھا جاتے تھے ، کچھ نہ چھوڑتے تھے اور خشک چیزیں لاد کر لے جاتے تھے ، آدمیوں کو کھا لیتے تھے درندوں ، وحشی جانوروں ، سانپوں ، بچھوؤں تک کو کھا جاتے تھے ، حضرت ذوالقرنین سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ ۔(ف200)تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و ایذا سے محفوظ رہیں ۔
کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے (ف۲۰۱) تو میری مدد طاقت سے کرو (ف۲۰۲) میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط آڑ بنادوں (ف۲۰۳)
(ف201)یعنی اللہ کے فضل سے میرے پاس مالِ کثیر اور ہر قِسم کا سامان موجود ہے تم سے کچھ لینے کی حاجت نہیں ۔(ف202)اور جو کام میں بتاؤں وہ انجام دو ۔(ف203)ان لوگوں نے عرض کیا پھر ہمارے متعلق کیا خدمت ہے ؟ فرمایا ۔
میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ (ف۲۰٤) یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی، کہا دھونکو، یہاں تک کہ جب اسے آگ کردیا کہا لاؤ، میں اس پر گلا ہوا تانبہ انڈیل دوں،
(ف204)اور بنیاد کھودوائی جب پانی تک پہنچی تو اس میں پتّھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آ گ دے دی ، اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کر دی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی ، اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا ، یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا ۔
کہا (ف۲۰۵) یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا (ف۲۰٦) اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے (ف۲۰۷)
(ف205)ذوالقرنین نے کہ ۔(ف206)اور یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا قریبِ قیامت ۔(ف207)حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر محنت کرتے کرتے جب اس کے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان میں کوئی کہتا ہے اب چلو باقی کل توڑ لیں گے دوسرے روز جب آتے ہیں تو وہ بحکمِ الٰہی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے ، جب ان کے خروج کا وقت آئے گا تو ان میں کہنے والا کہے گا کہ اب چلو باقی دیوار کل توڑ لیں گے ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ کہنے کا یہ ثمرہ ہوگا کہ اس دن کی محنت رائیگاں نہ جائے گی اور اگلے دن انہیں دیوار اتنی ٹوٹی ملی گی جتنی پہلے روز توڑ گئے تھے ، اب وہ نکل آئیں گے اور زمین میں فساد اٹھائیں گے ، قتل و غارت کریں گے اور چشموں کا پانی پی جائیں گے ، جانوروں درختوں کو اور جو آدمی ہاتھ آئیں گے ان کو کھا جائیں گے ، مکّہ مکرّمہ ، مدینہ طیّبہ اور بیت المقدِس میں داخل نہ ہو سکیں گے ، اللہ تعالٰی بدعائے حضرت عیسٰی علیہ السلام انہیں ہلاک کرے گا اس طرح کہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہوں گے جو ان کی ہلاکت کا سبب ہوں گے ۔
اور اس دن ہم انھیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا (سیلاب کی طرح) آوے گا اور صور پھونکا جائے گا (ف۲۰۸) تو ہم سب کو (ف۲۰۹) اکٹھا کر لائیں گے
(ف208)اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یا جوج ماجوج کا نکلنا قربِ قیامت کے علامات میں سے ہے ۔(ف209)یعنی تمام خَلق کو عذاب و ثواب کے لئے روزِ قیامت ۔
وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا (ف۲۱۱) اور حق بات سن نہ سکتے تھے (ف۲۱۲)
(ف211)اور وہ آیاتِ الٰہیہ اور قرآن و ہدایت و بیان اور دلائلِ قدرت و ایمان سے اندھے بنے رہے اور ان میں سے کسی چیز کو وہ نہ دیکھ سکے ۔(ف212)اپنی بدبختی سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنے کے باعث ۔
تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو (ف۲۱۳) میرے سوا حمایتی بنالیں گے (ف۲۱٤) بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،
(ف213)مثل حضرت عیسٰی و حضرت عزیر و ملائکہ کے ۔(ف214)اور اس سے کچھ نفع پائیں گے یہ گمان فاسد ہے بلکہ وہ بندے ان سے بیزار ہیں اور بے شک ہم ان کے اس شرک پر عذاب کریں گے ۔
تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں (ف۲۱۵)
(ف215)یعنی وہ کون لوگ ہیں جو عمل کر کے تھکے اورمشقّتیں اٹھائیں اور یہ امید کرتے رہے کہ ان اعمال پر فضل و نوال سے نوازے جائیں گے مگر بجائے اس کے ہلاکت و بربادی میں پڑے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا وہ یہود و نصارٰی ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ وہ راہب لوگ ہیں جو صوامع میں عُزلت گزین رہتے تھے ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اہلِ حروراء یعنی خوارج ہیں ۔
یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا (ف۲۱۷) تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے (ف۲۱۸)
(ف217)رسول و قرآن پر ایمان نہ لائے اور بعث و حساب و ثواب و عذاب کے منکِر رہے ۔(ف218)حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ روزِ قیامت بعضے لوگ ایسے اعمال لائیں گے جو ان کے خیالوں میں مکّہ مکرّمہ کے پہاڑوں سے زیادہ بڑے ہوں گے لیکن جب وہ تولے جائیں گے تو ان میں وزن کچھ نہ ہوگا ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے (ف۲۱۹)
(ف219)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنّتوں میں سب کے درمیان اور سب سے بلند ہے اور اس پر عرشِ رحمٰن ہے اوراسی سے جنّت کی نہریں جاری ہوتی ہیں ۔ حضرت کعب نے فرمایا کہ فردوس جنّتوں میں سب سے اعلٰی ہے ، اس میں نیکیوں کا حکم کرنے والے اور بدیوں سے روکنے والے عیش کریں گے ۔
وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے (ف۲۲۰)
(ف220)جس طرح دنیا میں انسان کیسی ہی بہتر جگہ ہو اس سے اور اعلٰی و ارفع کی طلب رکھتا ہے یہ بات وہاں نہ ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہوں گے کہ فضلِ الٰہی سے انہیں بہت اعلٰی و ارفع مکان و مکانت حاصل ہے ۔
تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں (ف۲۲۱)
(ف221)یعنی اگر اللہ تعالٰی کے علم و حکمت کے کلمات لکھے جائیں اور ان کے لئے تمام سمندروں کا پانی سیاہی بنا دیا جائے اور تمام خَلق لکھے تو وہ کلمات ختم نہ ہوں اور یہ تمام پانی ختم ہو جائے اور اتنا ہی اور بھی ختم ہو جائے ۔ مدعا یہ ہے کہ اس کے علم و حکمت کی نہایت نہیں ۔شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہود نے کہا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ کا خیال ہے کہ ہمیں حکمت دی گئی اور آپ کی کتاب میں ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی پھر آپ کیسے فرماتے ہیں کہ تمہیں نہیں دیا گیا مگر تھوڑا علم ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آیۂِ وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِیْلاً نازِل ہوئی تو یہود نے کہا کہ ہمیں توریت کا علم دیا گیا اور اس میں ہر شے کا علم ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ، مدعا یہ ہے کہ کل شے کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اتنی بھی نسبت نہیں رکھتا جتنی ایک قطرے کو سمندر سے ہو ۔
تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں (ف۲۲۲) مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے (ف۲۲۳) تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے (ف۲۲٤)
(ف222)کہ مجھ پر بشری اعراض و امراض طاری ہوتے ہیں اور صورتِ خاصّہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو حسن و صورت میں بھی سب سے اعلٰی و بالا کیا اور حقیقت و روح و باطن کے اعتبار سے تو تمام انبیاء اوصافِ بشر سے اعلٰی ہیں جیسا کہ شفاءِ قاضی عیاض میں ہے اور شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام و ظواہر تو حدِّ بشریت پر چھوڑے گئے اور ان کے ارواح و بواطن بشریت سے بالا اور ملاءِ اعلٰی سے متعلق ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سورۂ والضحٰی کی تفسیر میں فرمایا کہ آپ کی بشریت کا وجود اصلاً نہ رہے اور غلبۂ انوارِحق آپ پر علی الدوام حاصل ہو بہرحال آپ کی ذات و کمالات میں آ پ کا کوئی بھی مثل نہیں ۔ اس آیتِ کریمہ میں آپ کو اپنی ظاہری صورتِ بشریّہ کے بیان کا اظہار تواضع کے لئے حکم فرمایا گیا ، یہی فرمایا ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ۔ (خازن) مسئلہ : کسی کو جائز نہیں کہ حضورکو اپنے مثل بشر کہے کیونکہ جو کلمات اصحابِ عزّت و عظمت بہ طریقِ تواضع فرماتے ہیں ان کا کہنا دوسروں کے لئے روا نہیں ہوتا ، دوئم یہ کہ جس کو اللہ تعالٰی نے فضائلِ جلیلہ و مراتبِ رفیعہ عطا فرمائے ہوں اس کے ان فضائل و مراتب کا ذکر چھوڑ کر ایسے وصفِ عام سے ذکر کرنا جو ہر کہ و مِہ میں پایا جائے ان کمالات کے نہ ماننے کا مُشعِر ہے ، سویم یہ کہ قرآنِ کریم میں جا بجا کُفّار کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ انبیاء کو اپنے مثل بشرکہتے تھے اور اسی سے گمراہی میں مبتلا ہوئے پھر اس کے بعد آیت یُوْحٰۤی اِلَیَّ میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مخصوص بالعلم اور مکرّم عنداللہ ہونے کا بیان ہے ۔(ف223)اس کا کوئی شریک نہیں ۔(ف224)شرکِ اکبر سے بھی بچے اور ریاء سے بھی جس کو شرکِ اصغر کہتے ہیں ۔ مسلم شریف میں ہے کہ جو شخص سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرے اللہ تعالٰی اس کو فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا ۔ یہ بھی حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص سورۂ کہف کو پڑھے وہ آٹھ روز تک ہر فتنہ سے محفوظ رہے گا ۔