جب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا (ف۹) مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو (ف۱۰)
(ف9)مَدیَن سے مِصر کو سفر کرتے ہوئے تاریک رات میں جبکہ برف باری سے نہایت سردی ہو رہی تھی اور راستہ گم ہو گیا تھا اور بی بی صاحبہ کو دردِ زِہ شروع ہو گیا تھا ۔(ف10)اور سردی کی تکلیف سے امن پاؤ ۔
پھر جب آگ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پاس میں یعنی فرشتے (ف۱۱) اور پاکی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا،
(ف11)یہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تحیّت ہے اللہ تعالٰی کی طرف سے برکت کے ساتھ ۔
اور اپنا عصا ڈال دے (ف۱۲) پھر موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا، ہم نے فرمایا اے موسیٰ ڈر نہیں، بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا (ف۱۳)
(ف12)چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے بحکمِ الٰہی عصا ڈال دیا اور وہ سانپ ہو گیا ۔(ف13)نہ سانپ کا نہ کسی اور چیزکا یعنی جب میں انہیں امن دوں تو پھر کیا اندیشہ ۔
ہاں جو کوئی زیادتی کرے (ف۱٤) پھر برائی کے بعد بھلائی سے بدلے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں (ف۱۵)
(ف14)اس کو ڈر ہو گا اور وہ بھی جب توبہ کرے ۔(ف15)توبہ قبول فرماتا ہوں اور بخش دیتا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو دوسری نشانی دکھائی گئی اور فرمایا گیا ۔
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا (ف۲۱) اور دونوں نے کہا سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی (ف۲۲)
(ف21)یعنی علمِ قضا و سیاست اور حضرت داؤد کو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا علم دیا اور حضرت سلیمان کو چوپایوں اور پرندوں کی بولی کا ۔ (خازن)(ف22)نبوّت و مُلک عطا فرما کر اور جِن و انس اور شیاطین کو مسخَّر کر کے ۔
اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا (ف۲۳) اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا (ف۲٤) بیشک یہی ظاہر فضل ہے (ف۲۵)
(ف23)نبوّت و علم و مُلک میں ۔(ف24)یعنی بکثرت نعمتیں دنیا و آخرت کی ہم کو عطا فرمائی گئیں ۔(ف25)مروی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو اللہ تعالٰی نے مشارق و مغاربِ ارض کا مُلک عطا فرمایا چالیس سال آپ اس کے مالک ر ہے پھر تمام دنیا کی مملکت عطا فرمائی جِن ، انس ، شیطان ، پرندے ، چوپائے ، درندے سب پر آپ کی حکومت تھی اور ہر ایک شے کی زبان آپ کو عطا فرمائی اور عجیب و غریب صنعتیں آپ کے زمانہ میں برروئے کار آئیں ۔
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے (ف۲۷) ایک چیونٹی بولی (ف۲۸) اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بےخبری میں (ف۲۹)
(ف27)یعنی طائف یا شام میں اس وادی پر گزرے جہاں چیونٹیاں بکثرت تھیں ۔(ف28)جو چیونٹیوں کی ملکہ تھی وہ لنگڑی تھی ۔لطیفہ : جب حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کوفہ میں داخل ہوئے اور وہاں کی خَلق آپ کی گرویدہ ہوئی تو آپ نے لوگوں سے کہا جو چاہو دریافت کرو ؟ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس وقت نوجوان تھےآپ نے دریافت فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی مادہ تھی یا نر ؟ حضرت قتادہ ساکت ہو گئے تو امام صاحب نے فرمایا کہ وہ مادہ تھی آپ سے دریافت کیا گیا کہ یہ آپ کو کس طرح معلوم ہوا ؟ آپ نے فرمایا قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ' قَالَت نَملَۃ' اگر نر ہوتی تو قرآن شریف میں' قَالَ نَمْلَۃ ' وارد ہوتا ۔ (سبحان اللہ اس سے حضرت امام کی شانِ علم معلوم ہوتی ہے) غرض جب اس چیونٹی کی ملکہ نے حضرت سلیمان کے لشکر کو دیکھا توکہنے لگی ۔(ف29)یہ اس نے اس لئے کہا کہ وہ جانتی تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نبی ہیں صاحبِ عدل ہیں جبر اور زیادتی آپ کی شان نہیں ہے اس لئے اگر آپ کے لشکر سے چیونٹیاں کچل جائیں گی تو بے خبری ہی میں کچل جائیں گی کہ وہ گزرتے ہوں اور اس طرف التفات نہ کریں چیونٹی کی یہ بات حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل سے سُن لی اور ہوا ہر شخص کا کلام آپ کے سمعِ مبارک تک پہنچاتی تھی جب آپ چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے تو آپ نے اپنے لشکر وں کو ٹھہرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے گھروں میں داخل ہو گئیں سیر حضرت سلیمان علیہ السلام کی اگرچہ ہوا پر تھی مگر بعید نہیں ہے کہ یہ مقام آپ کا جائے نُزول ہو ۔
تو اس کی بات مسکرا کر ہنسا (ف۳۰) اور عرض کی اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے (ف۳۱) مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۳۲)
(ف30)انبیاء کا ہنسنا تبسّم ہی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے وہ حضرات قہقہہ مار کر نہیں ہنستے ۔(ف31)نبوّت و مُلک و علم عطا فرما کر ۔(ف32)حضراتِ ا نبیاء و اولیاء ۔
ضرور میں اسے سخت عذاب کروں گا (ف۳۳) یا ذبح کردوں گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے (ف۳٤)
(ف33)اس کے پر اُکھاڑ کر یا اس کو اس کے پیاروں سے جدا کر کے یا اس کو اس کے اقران کا خادم بنا کر یا اس کو غیر جانوروں کے ساتھ قید کر کے اور ہُدہُد کو حسبِ مصلحت عذاب کرنا آپ کے لئے حلال تھا اور جب پرند آپ کے لئے مسخَّر کئے گئے تھے تو تادیب و سیاست مقتضائے تسخیر ہے ۔(ف34)جس سے اس کی معذوری ظاہر ہو ۔
تو ہدہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر (ف۳۵) عرض کی کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،
(ف35)نہایت عجز و انکسار اور ادب و تواضُع کے ساتھ معافی چاہ کر ۔
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹) اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا (ف٤۰) تو وہ راہ نہیں پاتے،
(ف39)کیونکہ وہ لوگ آفتاب پرست مجوسی تھے ۔(ف40)سیدھی راہ سے مراد طریقِ حق و دینِ اسلام ہے ۔
کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف٤۱) اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو (ف٤۲)
(ف41)آسمان کی چُھپی چیزوں سے مِینہ اور زمین کی چُھپی چیزوں سے نباتات مراد ہیں ۔(ف42)اس میں آفتاب پرستوں بلکہ تمام باطل پرستوں کا رد ہے جو اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو بھی پوجیں ، مقصود یہ ہے کہ عبادت کا مستحق صر ف وہی ہے جو کائناتِ ارضی و سماوی پر قدرت رکھتا ہو اور جمیع معلومات کا عالِم ہو جو ایسا نہیں وہ کسی طرح مستحقِ عبادت نہیں ۔
سلیمان نے فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں ہے (ف٤۳)
(ف43)پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ از جانب بندۂ خدا سلیمان بن داؤد بسوئے بلقیس ملکۂ شہرِ سبا بسم اللہ الرحمن الرحیم اس پر سلام جو ہدایت قبول کرے اس کے بعد مدعا یہ کہ تم مجھ پر بلندی نہ چاہو اور میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہو اس پر آپ نے اپنی مُہر لگائی اور ہُدہُد سے فرمایا ۔
میرا یہ فرمان لے جان کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں (ف٤٤)
(ف44)چنانچہ ہُدہُد وہ مکتوب گرامی لے کر بلقیس کے پاس پہنچا اس وقت بلقیس کے گرد اس کے اَعیان و وزراء کا مجمع تھا ہُدہُد نے وہ مکتوب بلقیس کی گود میں ڈال دیا اور وہ اس کو دیکھ کر خوف سے لرز گئی اور پھر اس پر مُہر دیکھ کر ۔
وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا (ف٤۵)
(ف45)اس نے اس خط کو عزّت والا یا اس لئے کہا کہ اس پر مُہر لگی ہوئی تھی اس سے اس نے جانا کہ کتاب کا بھیجنے والا جلیل المنزلت بادشاہ ہے یا اس لئے کہ اس مکتوب کی ابتداء اللہ تعالٰی کے نامِ پاک سے تھی پھر اس نے بتایا کہ وہ مکتوب کس کی طرف سے آیا ہے چنانچہ کہا ۔
یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو (ف٤٦) اور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو (ف٤۷)
(ف46)یعنی میری تعمیلِ ارشاد کرو اور تکبُّر نہ کرو جیسا کہ بعض بادشاہ کیا کرتے ہیں ۔(ف47)فرمانبردارانہ شان سے مکتوب کا یہ مضمون سنا کر بلقیس اپنی اعیانِ دولت کی طرف متوجّہ ہوئی ۔
وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں (ف٤۸) اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے (ف٤۹)
(ف48)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر تیری رائے جنگ کی ہو تو ہم لوگ اس کے لئے تیار ہیں ، بہادر اور شجاع ہیں، صاحبِ قوّت وتوانائی ہیں ، کثیر فوجیں رکھتے ہیں ، جنگ آزما ہیں ۔(ف49)اے ملکہ ہم تیری اطاعت کریں گے تیرے حکم کے منتظر ہیں اس جواب میں انہوں نے یہ اشارہ کیا کہ ان کی رائے جنگ کی ہے یا ان کا مدعا یہ ہو کہ ہم جنگی لوگ ہیں رائے اور مشورہ ہمارا کام نہیں تو خود صاحبِ عقل و تدبیر ہے ہم بہرحال تیرا اِتّباع کریں گے جب بلقیس نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کی طرف مائل ہیں تو اس نے انہیں ان کی رائے کی خطا پر آگاہ کیا اور جنگ کے نتائج سامنے کئے ۔
بولی بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں (ف۵۰) داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو (ف۵۱) ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں (ف۵۲)
(ف50)اپنے زور و قوّت سے ۔ (ف51)قتل اور قید اور اہانت کے ساتھ ۔(ف52)یہی بادشاہوں کا طریقہ ہے بادشاہوں کی عادت کا جو اس کو علم تھا اس کی بنا پر اس نے یہ کہا اور مراد اس کی یہ تھی کہ جنگ مناسب نہیں ہے اس میں مُلک اور اہلِ مُلک کی تباہی و بربادی کا خطرہ ہے ۔ اس کے بعد اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا ۔
اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے (ف۵۳)
(ف53)اس سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ بادشاہ ہیں یا نبی کیونکہ بادشاہ عزّت و احترام کے ساتھ ہدیہ قبول کرتے ہیں اگر وہ بادشاہ ہیں تو ہدیہ قبول کر لیں گے اور اگر نبی ہیں تو ہدیہ قبول نہ کریں گے اور سوا اس کے کہ ہم ان کے دین کا اِتّباع کریں وہ اور کسی بات سے راضی نہ ہوں گے تو اس نے پانچ سو غلام ا ور پانچ سو باندیاں بہترین لباس اور زیوروں کے ساتھ آراستہ کر کے زرنگار زینوں پر سوار کر کے بھیجے اور پانچ سو اینٹیں سونے کی اور جواہر سے مرصّع تاج اور مشک و عنبر وغیرہ مع ایک خط کے اپنے قاصد کے ساتھ روانہ کئے ، ہُدہُد یہ دیکھ کر چل دیا اور اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس سب خبر پہنچائی آپ نے حکم دیا کہ سونے چاندی کی اینٹیں بنا کر نوفرسنگ کے میدان میں بچھا دی جائیں اور اس کے گرد سونے چاندی سے احاطہ کی بلند دیوار بنا دی جائے اور بر وبحر کے خوبصورت جانور اور جنّات کے بچّے میدان کے دائیں بائیں حاضر کئے جائیں ۔
پھر جب وہ (ف۵٤) سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا (ف۵۵) وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا (ف۵٦) بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو (ف۵۷)
(ف54)یعنی بلقیس کا پیامی مع اپنی جماعت کے ہدیہ لے کر ۔(ف55)یعنی دین اور نبوّت اور حکمت و مُلک ۔(ف56)مال و اسبابِ دنیا ۔(ف57)یعنی تم اہلِ مفاخرت ہو ، زخارفِ دنیا پر فخر کرتے ہو اور ایک دوسرے کے ہدیہ پر خوش ہوتے ہو ، مجھے نہ دنیا سے خوشی ہوتی ہے نہ اس کی حاجت ، اللہ تعالٰی نے مجھے اتنا کثیر عطا فرمایا کہ اوروں کو نہ دیا باوجود اس کے دین اور نبوّت سے مجھ کو مشرف کیا ۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے وفد کے امیر منضر بن عمرو سے فرمایا کہ یہ ہدیئے لے کر ۔
پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انھیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے (ف۵۸)
(ف58)یعنی اگر وہ میرے پاس مسلمان ہو کر حاضر نہ ہوئے تو یہ انجام ہوگا ، جب قاصد ہدیئے لے کر بلقیس کے پاس واپس گئے اور تمام واقعات سنائے تو اس نے کہا بے شک وہ نبی ہیں اور ہمیں ان سے مقابلہ کی طاقت نہیں اور اس نے اپنا تخت اپنے سات محلوں میں سے سب سے پچھلے محل میں محفوظ کر کے تمام دروازے مقفّل کر دیئے اور ان پر پہرہ دار مقرر کر دیئے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا انتظام کیا تاکہ دیکھے کہ آپ اس کو کیا حکم فرماتے ہیں اور وہ ایک لشکرِ گراں لے کر آپ کی طرف روانہ ہوئی جس میں بارہ ہزار نواب تھے اور ہر نواب کے ساتھ ہزاروں لشکری جب اتنے قریب پہنچ گئی کہ حضرت سے صرف ایک فرسنگ کا فاصلہ رہ گیا ۔
سلیمان نے فرمایا، اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں (ف۵۹)
(ف59)اس سے آپ کا مدّعا یہ تھا کہ اس کا تخت حاضر کر کے اس کو اللہ تعالٰی کے قدرت اور اپنی نبوّت پر دلالت کرنے والا معجِزہ دکھاویں ۔ بعضوں نے کہا ہے کہ آپ نے چاہا کہ اس کے آنے سے قبل اس کی وضع بدل دیں اور اس سے اس کی عقل کا امتحان فرمائیں کہ پہچان سکتی ہے یا نہیں ۔
اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا (ف٦۲) کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے (ف٦۳) پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف٦٤) اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بےپرواہ ہے سب خوبیوں والا،
(ف62)یعنی آپ کے وزیر آصف بن برخیا جو اللہ تعالٰی کا اسمِ اعظم جانتے تھے ۔(ف63)حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا لاؤ حاضر کرو آصف نے عرض کیا آپ نبی ابنِ نبی ہیں اور جو رتبہ بارگاہِ الٰہی میں آپ کو حاصل ہے یہاں کس کو میسّر ہے آپ دعا کریں تو وہ آپ کے پاس ہی ہوگا آپ نے فرمایا تم سچ کہتے ہو اور دعا کی ، اسی وقت تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہوا ۔(ف64)کہ اس شکر کا نفع خود اس شکر گزار کی طرف عائد ہوتا ہے ۔
پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، بولی گویا یہ وہی ہے (ف٦۵) اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی (ف٦٦) اور ہم فرمانبردار ہوئے (ف٦۷)
(ف65)اس جواب سے اس کا کمالِ عقل معلوم ہوا اب اس سے کہا گیا کہ یہ تیرا ہی تخت ہے دروازہ بند کرنے ، قفل لگانے ، پہرہ دار مقرر کرنے سے کیا فائدہ ہوا ، اس پر اس نے کہا ۔(ف66)اللہ تعالٰی کی قدرت اور آپ کی صحتِ نبوّت کی ہُدہُد کے واقعہ سے اور امیرِ وفد سے ۔(ف67)ہم نے آپ کی اطاعت اور آپ کی فرمانبرداری اختیار کی ۔
اس سے کہا گیا صحن میں آ (ف٦۹) پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں (ف۷۰) سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا (ف۷۱) عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (ف۷۲) اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا (ف۷۳)
(ف69)وہ صحن شفاف آبگینہ کا تھا اس کے نیچے آب جاری تھا ، اس میں مچھلیاں تھیں اور اس کے وسط میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت تھا جس پر آپ جلوہ افروز تھے ۔(ف70)تاکہ پانی میں چل کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو ۔(ف71)یہ پانی نہیں ہے ۔ یہ سن کر بلقیس نے اپنی ساقیں چُھپا لیں اور اس سے اس کو بہت تعجّب ہوا اور اس نے یقین کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا مُلک و حکومت اللہ کی طرف سے ہے اور ان عجائبات سے اس نے اللہ تعالٰی کی توحید اور آپ کی نبوّت پر استدلال کیا ، اب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو اسلام کی دعوت دی ۔(ف72)کہ تیرے غیر کو پوجا آفتاب کی پرستش کی ۔(ف73)چنانچہ اس نے اخلاص کے ساتھ توحید و اسلام کو قبول کیا اور خالص اللہ تعالٰی کی عبادت اختیار کی ۔
اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو (ف۷٤) تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے (ف۷۵) جھگڑا کرتے (ف۷٦)
(ف74)اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو ۔(ف75)ایک مومن اور ایک کافِر ۔(ف76)ہر فریق اپنے ہی کو حق پر کہتا اور دونوں باہم جھگڑتے کافِر گروہ نے کہا اے صالح جس عذاب کا تم وعدہ دیتے ہو اس کو لاؤ اگر رسولوں میں سے ہو ۔
صالح نے فرمایا اے میری قوم! کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو (ف۷۷) بھلائی سے پہلے (ف۷۸) اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے (ف۷۹) شاید تم پر رحم ہو (ف۸۰)
(ف77)یعنی بَلا و عذاب کی ۔(ف78)بھلائی سے مراد عافیّت و رحمت ہے ۔(ف79)عذاب نازِل ہونے سے پہلے کُفر سے توبہ کر کے ایمان لا کر ۔(ف80)اور دنیا میں عذاب نہ کیا جائے ۔
بولے ہم نے برُا شگون کیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے (ف۸۱) فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے (ف۸۲) بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو (ف۸۳)
(ف81)حضرت صالح علیہ السلام جب مبعوث ہوئے اور قوم نے تکذیب کی اس کے باعث بارش رک گئی قحط ہو گیا ، لوگ بھوکے مرنے لگے اس کو انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی تشریف آوری کی طرف نسبت کیا اور آپ کی آمد کو بدشگونی سمجھا ۔(ف82)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بدشگونی جو تمہارے پاس آئی یہ تمہارے کُفر کے سبب اللہ تعالٰی کی طرف سے آئی ۔(ف83)آزمائش میں ڈالے گئے یا اپنے دین کے باعث عذاب میں مبتلا ہو ۔
اور شہر میں نو شخص تھے (ف۸٤) کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے،
(ف84)یعنی ثمود کے شہر میں جس کا نام حجر ہے ان کے شریف زادوں میں سے نو شخص تھے جن کا سردار قدار بن سالف تھا یہی لوگ ہیں جنہوں نے ناقہ کی کونچیں کاٹنے میں سعی کی تھی ۔
آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر بولے ہم ضرور رات کو چھاپا ماریں گے صالح اور اس کے گھر والوں پر (ف۸۵) پھر اس کے وارث سے (ف۸٦) کہیں گے اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں،
(ف85)یعنی رات کے وقت ان کو اور ان کی اولاد کو اور ا ن کے متّبِعین کو جو ان پر ایمان لائے ہیں قتل کر دیں گے ۔(ف86)جس کو ان کے خون کا بدلہ طلب کرنے کا حق ہو گا ۔
تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کردیا انھیں (ف۸۸) اور ان کی ساری قوم کو (ف۸۹)
(ف88)یعنی ان نو شخصوں کو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس شب حضرت صالح علیہ السلام کے مکان کی حفاظت کے لئے فرشتے بھیجے تو وہ نو شخص ہتھیار باندھ کر تلواریں کھینچ کر حضرت صالح علیہ السلام کے دروازے پر آئے فرشتوں نے ان کے پتّھر مارے وہ پتّھر لگتے تھے اور مارنے والے نظر نہ آتے تھے اس طرح ان نو کو ہلاک کیا ۔(ف89)ہولناک آواز سے ۔
اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بےحیائی پر آتے ہو (ف۹۲) اور تم سوجھ رہے ہو (ف۹۳)
(ف92)اس بے حیائی سے مراد ان کی بدکاری ہے ۔(ف93)یعنی اس فعل کی قباحت جانتے ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ بالاعلان بدفعلی کا ارتکاب کرتے ہو یا یہ کہ تم اپنے سے پہلے نافرمانی کرنے والوں کو تباہی اور ان کے عذاب کے آثار دیکھتے ہو پھر بھی اس بداعمالی میں مبتلا ہو ۔
کیا تم مردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر (ف۹٤) بلکہ تم جاہل لوگ ہو (ف۹۵)
(ف94)باوجودیکہ مَردوں کے لئے عورتیں بنائی گئی ہیں مَردوں کے لئے مرد اور عورتوں کے لئے عورتیں نہیں بنائی گئیں لہذا یہ فعل حکمتِ الٰہی کی مخالفت ہے ۔(ف95)جو ایسا فعل کرتے ہو ۔
تم کہو سب خوبیاں اللہ کو (ف۹۹) اور سلام اس کے چنے ہوئے بندے پر (ف۱۰۰) کیا اللہ بہتر (ف۱۰۱) یا ان کے ساختہ شریک (ف۱۰۲)
(ف99)یہ خِطاب ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کہ پچھلی امّتوں کے ہلاک پر اللہ تعالٰی کی حمد بجا لائیں ۔(ف100)یعنی انبیاء و مرسلین پر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ چُنے ہوئے بندوں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب مراد ہیں ۔(ف101)خدا پرستوں کے لئے جو خاص اس کی عبادت کریں اور اس پر ایمان لائیں اور وہ انہیں عذاب و ہلاک سے بچائے ۔(ف102)یعنی بُت جو اپنے پرستاروں کے کچھ کام نہ آ سکیں تو جب ان میں کوئی بھلائی نہیں وہ کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے تو ان کو پوجنا اور معبود ماننا نہایت بے جا ہے اس کے بعد چند انواع ذکر فرمائے جاتے ہیں جو اللہ تعالٰی کی وحدانیّت اور اس کے کمالِ قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔
وہ جس نے آسمان و زمین بنائے (ف۱۰۳) اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے باغ اگائے رونق والے تمہاری طاقت نہ تھی کہ ان کے پیڑ اگاتے (ف۱۰٤) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے (ف۱۰۵) بلکہ وہ لوگ راہ سے کتراتے ہیں (ف۱۰٦)
(ف103)عظیم ترین اشیاء جو مشاہدے میں آتی ہیں اور اللہ تعالٰی کی قدرتِ عظیمہ پر دلالت کرتی ہیں ان کا ذکر فرمایا ۔ معنی یہ ہیں کہ کیا بُت بہتر ہیں یا وہ جس نے آسمان اور زمین جیسی عظیم اور عجیب مخلوق بنائی ۔(ف104)یہ تمہاری قدرت میں نہ تھا ۔(ف105)کیا یہ دلائلِ قدرت دیکھ کر ایسا کہا جا سکتا ہے ہر گز نہیں وہ واحد ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔(ف106)جو اس کے لئے شریک ٹھہراتے ہیں ۔
یا وہ جس نے زمین بسنے کو بنائی اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور اس کے لیے لنگر بنائے (ف۱۰۷) اور دونوں سمندروں میں آڑ رکھی (ف۱۰۸) کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں (ف۱۰۹)
(ف107)وزنی پہاڑ جو اسے جنبش سے روکتے ہیں ۔(ف108)کہ کھاری میٹھے ملنے نہ پائیں ۔(ف109)جو اپنے ر بّ کی توحید اور اس کے قدرت و اختیار کو نہیں جانتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے (ف۱۱۰) جب اسے پکارے اور دور کردیتا ہے برائی اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے (ف۱۱۱) کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بہت ہی کم دھیان کرتے ہو،
(ف110)اور حاجت روائی فرماتا ہے ۔(ف111)کہ تم اس میں سکونت کرو اور قرناً بعد قرنٍ اس میں متصرّف رہو ۔
یا وہ جو تمہیں راہ دکھاتا ہے (ف۱۱۲) اندھیریوں میں خشکی اور تری کی (ف۱۱۳) اور وہ کہ ہوائیں بھیجتا ہے، اپنی رحمت کے آگے خوشحبری سناتی (ف۱۱٤) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، برتر ہے اللہ ان کے شرک سے،
(ف112)تمہارے منازل و مقاصد کی ۔(ف113)ستاروں سے اور علامتوں سے ۔(ف114)رحمت سے مراد یہاں بارش ہے ۔
یا وہ جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۱۱۵) اور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے (ف۱۱٦) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، تم فرماؤ کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۱۱۷)
(ف115)اس کی موت کے بعد اگرچہ موت کے بعد زندہ کئے جانے کے کُفّار مقر و معترف نہ تھے لیکن جب کہ اس پر براہین قائم ہیں تو ان کا اقرار نہ کرنا کچھ قابلِ لحاظ نہیں بلکہ جب وہ ابتدائی پیدائش کے قائل ہیں تو انہیں اعادے کا قائل ہونا پڑے گا کیونکہ ابتداء اعادے پر دلالتِ قویہ کرتی ہے تو اب ان کے لئے کوئی جائے عذر و انکار باقی نہیں رہی ۔(ف116)آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات ۔(ف117)اپنے اس دعوٰی میں کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود ہیں تو بتاؤ جو صفات و کمالات اُوپر ذکر کئے گئے وہ کس میں ہیں اور جب اللہ کے سوا ایساکوئی نہیں تو پھر کسی دوسرے کو کس طرح معبود ٹھہراتے ہو یہاں' ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ' فرما کر ان کے عجز و بطلان کا اظہار منظور ہے ۔
کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جانے تک پہونچ گیا (ف۱۱۹) کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں (ف۱۲۰) بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں،
(ف118)وہی جاننے والا ہے غیب کا اس کو اختیار ہے جسے چاہے بتائے چنانچہ اپنے پیارے انبیاء کو بتاتا ہے جیسا کہ سورۂ آلِ عمران میں ہے ۔ ' وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اﷲَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآءُ یعنی اللہ کی شان نہیں کہ تمہیں غیب کا علم دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے اور بکثرت آیات میں اپنے پیارے رسولوں کو غیبی علوم عطا فرمانے کا ذکر فرمایا گیا اور خود اسی پارے میں اس سے اگلے رکوع میں وارد ہے' وَمَا مِنْ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَ رْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ o یعنی جتنے غیب ہیں آسمان اور زمین کے سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت مشرکین کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کیا تھا ۔
اور بیشک تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپی ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں (ف۱۳۰)
(ف130)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنا اور آپ کی مخالفت میں مکاریاں کرنا سب کچھ اللہ تعالٰی کو معلوم ہے وہ اس کی سزا دے گا ۔
بیشک یہ قرآن ذکر فرماتا ہے بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں (ف۱۳۲)
(ف132)دینی امور میں اہلِ کتاب نے آپس میں اختلاف کیا ان کے بہت فِرقے ہو گئے اور آپس میں لعن طعن کرنے لگے تو قرآنِ کریم نے اس کا بیان فرمایا ایسا بیان کیا کہ اگر وہ انصاف کریں اور اس کو قبول کریں اور اسلام لائیں تو ان میں یہ باہمی اختلاف باقی نہ رہے ۔
بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے (ف۱۳۳) اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر (ف۱۳٤)
(ف133)مُردوں سے مراد یہاں کُفّار ہیں جن کے دل مُردہ ہیں چنانچہ اسی آیت میں ان کے مقابل اہلِ ایمان کا ذکر فرمایا ۔ ' اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا ' جو لوگ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ان کا استدلال غلط ہے چونکہ یہاں مُردہ کُفّار کو فرمایا گیا اور ان سے بھی مطلقاً ہر کلام کے سننے کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ پند و موعِظت اور کلامِ ہدایت کے بسمعِ قبول سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافِر مُردہ دل ہیں کہ نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت کے معنی یہ بتانا کہ مردے نہیں سنتے بالکل غلط ہے صحیح احادیث سے مُردوں کا سُننا ثابت ہے ۔(ف134)معنٰی یہ ہیں کہ کُفّار غایت اعراض و روگردانی سے مُردے اور بہرے کے مثل ہو گئے ہیں کہ انہیں پکارنا اور حق کی دعوت دینا کسی طرح نافع نہیں ہوتا ۔
اور اندھوں کو (ف۱۳۵) گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں، تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۳٦) اور ہو مسلمان ہیں،
(ف135)جن کی بصیرت جاتی رہی اور دل اندھے ہو گئے ۔(ف136)جن کے پاس سمجھنے والے دل ہیں اور جو علمِ الٰہی میں سعادتِ ایمان سے بہرہ اندوز ہونے والے ہیں ۔(بیضاوی و کبیر و ابوالسعود و مدارک)
اور جب بات ان پر آپڑے گی (ف۱۳۷) ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں گے (ف۱۳۸) جو لوگوں سے کلام کرے گا (ف۱۳۹) اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے (ف۱٤۰)
(ف137)یعنی ان پر غضبِ الٰہی ہو گا اور عذاب واجب ہو جائے گا اور حُجّت پوری ہو چکے گی اس طرح کہ لوگ امر بالمعروف اور نہی منکر ترک کر دیں گے اور ان کی درستی کی کوئی امید باقی نہ رہے گی یعنی قیامت قریب ہو جائے گی اور اس کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں گی اور اس وقت توبہ نفع نہ دے گی ۔(ف138)اس چوپایہ کو دابۃ الارض کہتے ہیں یہ عجب شکل کا جانور ہو گا جو کوہِ صفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا ، فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا ، ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا ، ایمانداروں کی پیشانی پر عصائے موسٰی علیہ السلام سے نورانی خط کھینچے گا ، کافِر کی پیشانی پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگُشتری سے سیاہ مُہر لگائے گا ۔(ف139)بزبانِ فصیح اور کہے گا ہذا مؤمن و ہذا کا فِر یہ مؤمن ہے اور یہ کافِر ہے ۔(ف140)یعنی قرآنِ پاک پر ایمان نہ لاتے تھے جس میں بَعث و حساب و عذاب و خروجِ دابۃ الارض کا بیان ہے اس کے بعد کی آیت میں قیامت کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
یہاں تک کہ جب سب حاضر ہولیں گے (ف۱٤۲) فرمائے گا کیا تم نے میری آیتیں جھٹلائیں حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچتا تھا (ف۱٤۳) یا کیا کام کرتے تھے (ف۱٤٤)
(ف142)روزِ قیامت موقَفِ حسا ب میں ۔(ف143)اور تم نے ان کی معرفت حاصل نہ کی تھی بغیر سوچے سمجھے ہی ان آیتوں کا انکار کر دیا ۔(ف144)جب تم نے ان آیتوں کو بھی نہیں سوچا ۔ تم بے کار تو نہیں پیدا کئے گئے تھے ۔
اور بات پڑچکی ان پر (ف۱٤۵) ان کے ظلم کے سبب تو وہ اب کچھ نہیں بولتے (ف۱٤٦)
(ف145)عذاب ثابت ہو چکا ۔(ف146)کہ ان کے لئے کوئی حُجّت اور کوئی گفتگو باقی نہیں ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عذاب ان پر اس طرح چھا جائے گا کہ وہ بول نہ سکیں گے ۔
کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا سوجھانے والا، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں (ف۱٤۷)
(ف147)اور آیت میں بَعث بعد الموت پر دلیل ہے اس لئے کہ جو دن کی روشنی کو شب کی تاریکی سے اور شب کی تاریکی کو دن کی روشنی سے بدلنے پر قادر ہے وہ مردے کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے نیز انقلابِ لیل و نہار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ان کی دنیوی زندگی کا انتظام ہے تو یہ عبث نہیں کیا گیا بلکہ اس زندگانی کے اعمال پر عذاب و ثواب کا ترتُّب مقتضائے حکمت ہے اور جب دنیا دارالعمل ہے تو ضروری ہے کہ ایک دارِ آخرت بھی ہو وہاں کی زندگانی میں یہاں کے اعمال کی جزا ملے ۔
اور جس دن پھونکا جائے گا صور (ف۱٤۸) تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (ف۱٤۹) مگر جسے خدا چاہے (ف۱۵۰) اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے (ف۱۵۱)
(ف148)اور اس کے پھونکنے والے حضرت اسرافیل ہوں گے علیہ السلام ۔ (ف149)ایسا گھبرانا جو سببِ موت ہو گا ۔(ف150)اور جس کے قلب کو اللہ تعالٰی سکون عطا فرمائے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ یہ شُہداء ہیں جو اپنی تلواریں گلوں میں حمائل کئے عرش کے گرد حاضر ہوں گے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا وہ شہداء ہیں اس لئے کہ وہ اپنے ربّ کے نزدیک زندہ ہیں فَزَعْ ان کو نہ پہنچے گا ۔ ایک قول یہ ہے کہ نفخہ کے بعد حضرت جبریل و میکائل و اسرافیل و عزرائیل ہی باقی رہیں گے ۔(ف151)یعنی روزِ قیامت سب لوگ بعدِ موت زندہ کئے جائیں گے اور موقف میں اللہ تعالٰی کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ صیغۂ ماضی سے تعبیر فرمانا تحققِ وقوع کے لئے ہے ۔
اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال (ف۱۵۲) یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی،
(ف152)معنٰی یہ ہیں کہ نفخہ کے وقت پہاڑ دیکھنے میں تو اپنی جگہ ثابت و قائم معلوم ہوں گے اور حقیقت میں وہ مثل بادلوں کے نہایت تیز چلتے ہوں گے جیسے کہ بادل وغیرہ بڑے جسم چلتے ہیں متحرک نہیں معلوم ہوتے یہاں تک کہ وہ پہاڑ زمین پر گر کر اس کے برابر ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے ۔
جو نیکی لائے (ف۱۵۳) اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے (ف۱۵٤) اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے (ف۱۵۵)
(ف153)نیکی سے مراد کلمۂ توحید کی شہادت ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اخلا صِ عمل اور بعض نے کہا کہ ہر طاعت جو اللہ کے لئے کی ہو ۔(ف154)جنّت اور ثواب ۔(ف155)جو خوفِ عذاب سے ہو گی پہلی گھبراہٹ جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا ہے وہ اس کے علاوہ ہے ۔
اور جو بدی لائے (ف۱۵٦) تو ان کے منہ اوندھائے گئے آگ میں (ف۱۵۷) تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو کرتے تھے (ف۱۵۸)
(ف156)یعنی شرک ۔(ف157)یعنی وہ اوندھے منہ آ گ میں ڈالے جائیں گے اور جہنّم کے خازن ان سے کہیں گے ۔(ف158)یعنی شرک اور معاصی اور اللہ تعالٰی اپنے رسول سے فرمائے گا کہ آپ فرما دیجئے کہ ۔
مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو (ف۱۵۹) جس نے اسے حرمت والا کیا ہے (ف۱٦۰) اور سب کچھ اسی کا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں،
(ف159)یعنی مکّہ مکرّمہ کے اور اپنی عبادت اس ربّ کے ساتھ خاص کروں مکّۂ مکرّمہ کا ذکر اس لئے ہے کہ وہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وطن اور وحی کا جائے نُزول ہے ۔(ف160)کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے نہ کوئی شکار مارا جائے نہ وہاں کی گھانس کاٹی جائے ۔
اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں (ف۱٦۱) تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی (ف۱٦۲) اور جو بہکے (ف۱٦۳) تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں (ف۱٦٤)
(ف161)مخلوقِ خدا کو ایمان کی دعوت دینے کے لئے ۔(ف162)اس کا نفع و ثواب وہ پائے گا ۔(ف163)اور رسولِ خدا کی اطاعت نہ کرے اور ایمان نہ لائے ۔(ف164)میرے ذمہ پہنچا دینا تھا وہ میں نے انجام دیا ' ھَذِہ اٰیَۃ نسختھا اٰیۃ القتال ۔
اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو انھیں پہچان لو گے (ف۱٦۵) اور اے محبوب! تمہارا رب غافل نہیں ، اے لوگو! تمہارے اعمال سے،
(ف165)ان نشانیوں سے مراد شقِ قمر وغیرہ معجزات ہیں اور وہ عقوبتیں جو دنیا میں آئیں جیسے کہ بدر میں کُفّار کا قتل ہونا ، قید ہونا ، ملائکہ کا انہیں مارنا ۔