As-Saffat الصّفٰت

پارہ:
سورہ: 37
آیات: 182
وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ‏ ﴿1﴾

قسم ان کی کہ باقاعدہ صف باندھیں (ف۲)

فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ‏ ﴿2﴾

پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں (ف۳)

فَالتّٰلِيٰتِ ذِكۡرًا ۙ‏ ﴿3﴾

پھر ان جماعتوں کی، کہ قرآن پڑھیں،

اِنَّ اِلٰهَكُمۡ لَوَاحِدٌ ؕ‏ ﴿4﴾

بیشک تمہارا معبود ضرور ایک ہے،

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ الۡمَشَارِقِ ؕ‏ ﴿5﴾

مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا (ف٤)

اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِزِيۡنَةِ اۨلۡكَوَاكِبِۙ‏ ﴿6﴾

اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۵) تاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا ،

وَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍ​ۚ‏ ﴿7﴾

اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے (ف٦)

لَّا يَسَّمَّعُوۡنَ اِلَى الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰى وَيُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ كُلِّ جَانِبٍۖ ‏ ﴿8﴾

عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے (ف۷) اور ان پر ہر طرف سے مار پھینک ہوتی ہے (ف۸)

دُحُوۡرًا  وَّلَهُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ  ۙ‏ ﴿9﴾

انہیں بھگانے کو اور ان کے لیے (ف۹) ہمیشہ کا عذاب،

اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَةَ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ‏ ﴿10﴾

مگر جو ایک آدھ بار اُچک لے چلا (ف۱۰) تو روشن انگار اس کے پیچھے لگا ، (ف۱۱)

فَاسۡتَفۡتِهِمۡ اَهُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَاؕ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ لَّازِبٍ‏ ﴿11﴾

تو ان سے پوچھو (ف۱۲) کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی (ف۱۳) بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا (ف۱٤)

بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُوۡنَ‏ ﴿12﴾

بلکہ تمہیں اچنبھا آیا (ف۱۵) اور وہ ہنسی کرتے ہیں (ف۱٦)

وَاِذَا ذُكِّرُوۡا لَا يَذۡكُرُوۡنَ‏ ﴿13﴾

اور سمجھائے نہیں سمجھتے،

وَاِذَا رَاَوۡا اٰيَةً يَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ‏ ﴿14﴾

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں (ف۱۷) ٹھٹھا کرتے ہیں،

وَقَالُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ​ ۖ​ۚ‏ ﴿15﴾

اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،

ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُـنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَۙ‏  ﴿16﴾

کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے،

اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَؕ‏ ﴿17﴾

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (ف۱۸)

قُلۡ نَعَمۡ وَاَنۡـتُمۡ دٰخِرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿18﴾

تم فرماؤ ہاں یوں کہ ذلیل ہو کے،

فَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ‏ ﴿19﴾

تو وہ (ف۱۹) تو ایک ہی جھڑک ہے (ف۲۰) جبھی وہ (ف۲۱) دیکھنے لگیں گے،

وَقَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا هٰذَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ‏ ﴿20﴾

اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ان سے کہا جائے گا یہ انصاف کا دن ہے (ف۲۲)

هٰذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ‏ ﴿21﴾

یہ ہے وہ فیصلے کا دن جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۲۳)

اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ وَمَا كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَۙ‏  ﴿22﴾

ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو (ف۲٤) اور جو کچھ وہ پوجتے تھے ،

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَاهۡدُوۡهُمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿23﴾

اللہ کے سوا، ان سب کو ہانکو راہِ دوزخ کی طرف،

وَقِفُوۡهُمۡ​ اِنَّهُمۡ مَّسْـُٔـوۡلُوۡنَۙ‏ ﴿24﴾

اور انہیں ٹھہراؤ (ف۲۵) ان سے پوچھنا ہے (ف۲٦)

مَا لَـكُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ‏ ﴿25﴾

تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے (ف۲۷)(

بَلۡ هُمُ الۡيَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿26﴾

بلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں (ف۲۸)

وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ‏ ﴿27﴾

اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا آپس میں پوچھتے ہوئے،

قَالُوۡۤا اِنَّكُمۡ كُنۡتُمۡ تَاۡتُوۡنَنَا عَنِ الۡيَمِيۡنِ‏ ﴿28﴾

بولے (ف۲۹) تم ہمارے دہنی طرف سے بہکانے آتے تھے (ف۳۰)

قَالُوۡا بَلْ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ​ۚ‏ ﴿29﴾

جواب دیں گے تم خود ہی ایمان نہ رکھتے تھے (ف۳۱)

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنِ​ۚ بَلۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِيۡنَ‏  ﴿30﴾

اور ہمارا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۳۲) بلکہ تم سرکش لوگ تھے،

فَحَقَّ عَلَيۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَآ ۖ اِنَّا لَذَآٮِٕقُوۡنَ‏ ﴿31﴾

تو ثابت ہوگئی ہم پر ہمارے رب کی بات (ف۳۳) ہمیں ضرور چکھنا ہے (ف۳٤)

فَاَغۡوَيۡنٰكُمۡ اِنَّا كُنَّا غٰوِيۡنَ‏ ﴿32﴾

تو ہم نے تمہیں گمراہ کیا کہ ہم خود گمراہ تھے،

فَاِنَّهُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ فِى الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ‏ ﴿33﴾

تو اس دن (ف۳۵) وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہیں (ف۳٦)

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿34﴾

مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،

اِنَّهُمۡ كَانُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُۙ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَۙ‏  ﴿35﴾

بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اونچی کھینچتے (تکبر کرتے) تھے (ف۳۷)

وَيَقُوۡلُوۡنَ اَٮِٕنَّا لَتٰرِكُوۡۤا اٰلِهَـتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجۡـنُوۡنٍ ؕ‏ ﴿36﴾

اور کہتے تھے کیا ہم اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے (ف۳۸)

بَلۡ جَآءَ بِالۡحَقِّ وَصَدَّقَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ‏ ﴿37﴾

بلکہ وہ تو حق لائے ہیں اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق فرمائی (ف۳۹)

اِنَّكُمۡ لَذَآٮِٕقُوا الۡعَذَابِ الۡاَلِيۡمِ​ۚ‏ ﴿38﴾

بیشک تمہیں ضرور دکھ کی مار چکھنی ہے،

وَمَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَۙ‏ ﴿39﴾

تو تمہیں بدلہ نہ ملے گا مگر اپنے کیے کا (ف٤۰)

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿40﴾

مگر جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں (ف٤۱)

اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ‏ ﴿41﴾

ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے علم میں ہیں،

فَوَاكِهُ​ۚ وَهُمۡ مُّكۡرَمُوۡنَۙ‏ ﴿42﴾

میوے (ف٤۲) اور ان کی عزت ہوگی،

فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِۙ‏ ﴿43﴾

چین کے باغوں میں،

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ‏ ﴿44﴾

تختوں پر ہوں گے آمنے سامنے (ف٤۳)

يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍۢ ۙ‏ ﴿45﴾

ان پر دورہ ہوگا نگاہ کے سامنے بہتی شراب کے جام کا (ف٤٤)

بَيۡضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ​ ۖ​ۚ‏ ﴿46﴾

سفید رنگ (ف٤۵) پینے والوں کے لیے لذت (ف٤٦)

لَا فِيۡهَا غَوۡلٌ وَّلَا هُمۡ عَنۡهَا يُنۡزَفُوۡنَ‏ ﴿47﴾

نہ اس میں خمار ہے (ف٤۷) اور نہ اس سے ان کا سَر پِھرے (ف٤۸)

وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ‏ ﴿48﴾

اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی (ف٤۹)

كَاَنَّهُنَّ بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ‏ ﴿49﴾

بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے (ف۵۰)

فَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ‏ ﴿50﴾

تو ان میں (ف۵۱) ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۵۲)

قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ اِنِّىۡ كَانَ لِىۡ قَرِيۡنٌۙ‏ ﴿51﴾

ان میں سے کہنے والا بولا میرا ایک ہمنشین تھا (ف۵۳)

يَقُوۡلُ اَءِ نَّكَ لَمِنَ الۡمُصَدِّقِيۡنَ‏ ﴿52﴾

مجھ سے کہا کرتا کیا تم اسے سچ مانتے ہو (ف۵٤)

ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيۡنُوۡنَ‏ ﴿53﴾

کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی (ف۵۵)

قَالَ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ‏ ﴿54﴾

کہا کیا تم جھانک کر دیکھو گے (ف۵٦)

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِىۡ سَوَآءِ الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿55﴾

پھر جھانکا تو اسے بیچ بھڑکتی آگ میں دیکھا (ف۵۷)

قَالَ تَاللّٰهِ اِنۡ كِدْتَّ لَـتُرۡدِيۡنِۙ‏ ﴿56﴾

کہا خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردے (ف۵۸)

وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّىۡ لَـكُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ‏ ﴿57﴾

اور میرا رب فضل نہ کرے (ف۵۹) تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا (ف٦۰)

اَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ‏ ﴿58﴾

تو کیا ہمیں مرنا نہیں،

اِلَّا مَوۡتَتَـنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ‏ ﴿59﴾

مگر ہماری پہلی موت (ف٦۱) اور ہم پر عذاب نہ ہوگا (ف٦۳)

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ‏ ﴿60﴾

بیشک یہی بڑی کامیابی ہے،

لِمِثۡلِ هٰذَا فَلۡيَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ‏ ﴿61﴾

ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے،

اَذٰ لِكَ خَيۡرٌ نُّزُلًا اَمۡ شَجَرَةُ الزَّقُّوۡمِ‏ ﴿62﴾

تو یہ مہمانی بھلی (ف٦۳) یا تھوہڑ کا پیڑ (ف٦٤)

اِنَّا جَعَلۡنٰهَا فِتۡنَةً لِّلظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿63﴾

بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے (ف٦۵)

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخۡرُجُ فِىۡۤ اَصۡلِ الۡجَحِيۡمِۙ‏ ﴿64﴾

بیشک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے (ف٦٦)

طَلۡعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوۡسُ الشَّيٰطِيۡنِ‏ ﴿65﴾

اس کا شگوفہ جیسے دیووں کے سر (ف٦۷)

فَاِنَّهُمۡ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡهَا فَمٰلِــُٔــوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ ؕ‏  ﴿66﴾

پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے (ف٦۸) پھر اس سے پیٹ بھریں گے،

ثُمَّ اِنَّ لَهُمۡ عَلَيۡهَا لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِيۡمٍ​ۚ‏ ﴿67﴾

پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے (ف٦۹)

ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ لَا۟اِلَى الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿68﴾

پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے (ف۷۰)

اِنَّهُمۡ اَلۡفَوۡا اٰبَآءَهُمۡ ضَآلِّيۡنَۙ‏ ﴿69﴾

بیشک انہوں نے اپنے باپ دادا گمراہ پائے،

فَهُمۡ عَلٰٓى اٰثٰرِهِمۡ يُهۡرَعُوۡنَ‏ ﴿70﴾

تو وہ انہیں کے نشان قدم پر دوڑے جاتے ہیں (ف۷۱)

وَلَـقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَهُمۡ اَكۡثَرُ الۡاَوَّلِيۡنَۙ‏ ﴿71﴾

اور بیشک ان سے پہلے بہت سے اگلے گمراہ ہوئے (ف۷۲)

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ‏ ﴿72﴾

اور بیشک ہم نے ان میں ڈر سنانے والے بھیجے (ف۷۳)

فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُنۡذَرِيۡنَۙ‏ ﴿73﴾

تو دیکھو ڈرائے گیوں کا کیسا انجام ہوا (ف۷٤)

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿74﴾

مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ف۷۵) (۷۵) ا

وَلَقَدۡ نَادٰٮنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ  ۖ‏ ﴿75﴾

اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا (ف۷٦) تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے (ف۷۷)

وَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗ مِنَ الۡكَرۡبِ الۡعَظِيۡمِ  ۖ‏ ﴿76﴾

اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے نجات دی،

وَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الۡبٰقِيۡنَ  ۖ‏ ﴿77﴾

اور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی (ف۷۸)

وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ  ۖ‏ ﴿78﴾

اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی (ف۷۹)

سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِى الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿79﴾

نوح پر سلام ہو جہاں والوں میں (ف۸۰)

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿80﴾

بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿81﴾

بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،

ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ‏ ﴿82﴾

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا (ف۸۱)

وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَ​ۘ‏ ﴿83﴾

اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)

اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ‏ ﴿84﴾

اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)

اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ​ۚ‏ ﴿85﴾

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا (ف۸٤) تم کیا پوجتے ہو،

اَٮِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَؕ‏ ﴿86﴾

کیا بہتان سے اللہ کے سوا اور خدا چاہتے ہو،

فَمَا ظَنُّكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿87﴾

تو تمہارا کیا گمان سے رب العالمین پر (ف۸۵)

فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِى النُّجُوۡمِۙ‏ ﴿88﴾

پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا (ف۸٦)

فَقَالَ اِنِّىۡ سَقِيۡمٌ‏ ﴿89﴾

پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (ف۸۷)

فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ‏ ﴿90﴾

تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے (ف۸۸)

فَرَاغَ اِلٰٓى اٰلِهَتِهِمۡ فَقَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ​ۚ‏ ﴿91﴾

پھر ان کے خداؤں کی طرف چھپ کر چلا تو کہا کیا تم نہیں کھاتے (ف۸۹)

مَا لَـكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ‏ ﴿92﴾

تمہیں کیا ہوا کہ نہیں بولتے (ف۹۰)

فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًۢا بِالۡيَمِيۡنِ‏ ﴿93﴾

تو لوگوں کی نظر بچا کر انہیں دہنے ہاتھ سے مارنے لگا (ف۹۱)

فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ‏ ﴿94﴾

تو کافر اس کی طرف جلدی کرتے آئے (ف۹۲)

قَالَ اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَۙ‏ ﴿95﴾

فرمایا کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو،

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿96﴾

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو (ف۹۳)

قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا فَاَلۡقُوۡهُ فِى الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿97﴾

بولے اس کے لیے ایک عمارت چنو (ف۹٤) پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو،

فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ‏ ﴿98﴾

تو انہوں نے اس پر داؤں چلنا (فریب کرنا) چاہا ہم نے انہیں نیچا دکھایا (ف۹۵)

وَقَالَ اِنِّىۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّىۡ سَيَهۡدِيۡنِ‏ ﴿99﴾

اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں (ف۹٦) اب وہ مجھے راہ دے گا (ف۹۷)

رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿100﴾

الٰہی مجھے لائق اولاد دے،

فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ‏ ﴿101﴾

تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،(

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعۡىَ قَالَ يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى​ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ​ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ‏ ﴿102﴾

پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں (ف۹۸) اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے (ف۹۹) کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،

فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ​ۚ‏ ﴿103﴾

تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ (ف۱۰۰)

وَنَادَيۡنٰهُ اَنۡ يّٰۤاِبۡرٰهِيۡمُۙ‏ ﴿104﴾

اور ہم نے اسے ندائی فرمائی کہ اے ابراہیم،

قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا ​ ​ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿105﴾

بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا (ف۱۰۱) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ‏ ﴿106﴾

بیشک یہ روشن جانچ تھی،

وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿107﴾

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا (ف۱۰۲)

وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ​ۖ‏ ﴿108﴾

اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،

سَلٰمٌ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ‏ ﴿109﴾

سلام ہو ابراہیم پر (ف۱۰۳)

كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿110﴾

ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿111﴾

بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،

وَبَشَّرۡنٰهُ بِاِسۡحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿112﴾

اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا نبی ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں (ف۱۰٤)

وَبٰرَكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰٓى اِسۡحٰقَ​ؕ وَ مِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ​‏ ﴿113﴾

اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر (ف۱۰۵) اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا (ف۱۰٦) اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (ف۱۰۷)

وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلٰى مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿114﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان فرمایا (ف۱۰۸)

وَنَجَّيۡنٰهُمَا وَقَوۡمَهُمَا مِنَ الۡكَرۡبِ الۡعَظِيۡمِ​ۚ‏ ﴿115﴾

اور انہیں اور ان کی قوم (ف۱۰۹) کو بڑی سختی سے نجات بخشی (ف۱۱۰)

وَنَصَرۡنٰهُمۡ فَكَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ​ۚ‏ ﴿116﴾

اور ان کی ہم نے مدد فرمائی (ف۱۱۱) تو وہی غالب ہوئے (ف۱۱۲)

وَاٰتَيۡنٰهُمَا الۡكِتٰبَ الۡمُسۡتَبِيۡنَ​ۚ‏ ﴿117﴾

اور ہم نے ان دونوں کو روشن کتاب عطا فرمائی (ف۱۱۳)

وَهَدَيۡنٰهُمَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ​ۚ‏ ﴿118﴾

اور ان کو سیدھی راہ دکھائی،

وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِى الۡاٰخِرِيۡنَۙ‏ ﴿119﴾

اور پچھلوں میں ان کی تعریف باقی رکھی،

سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ‏ ﴿120﴾

سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر،

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿121﴾

بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿122﴾

بیشک وہ دونوں ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،

وَاِنَّ اِلۡيَاسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ‏ ﴿123﴾

اور بیشک الیاس پیغمبروں سے ہے (ف۱۱٤)

اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوۡنَ‏ ﴿124﴾

جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں (ف۱۱۵)

اَتَدۡعُوۡنَ بَعۡلًا وَّتَذَرُوۡنَ اَحۡسَنَ الۡخٰلِقِيۡنَۙ‏ ﴿125﴾

کیا بعل کو پوجتے ہو (ف۱۱٦) اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،

اللّٰهَ رَبَّكُمۡ وَرَبَّ اٰبَآٮِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿126﴾

جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا (ف۱۱۷)

فَكَذَّبُوۡهُ فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَۙ‏ ﴿127﴾

پھر انہوں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑے آئیں گے (ف۱۱۸)

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿128﴾

مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ف۱۱۹)

وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۙ‏ ﴿129﴾

اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی،

سَلٰمٌ عَلٰٓى اِلۡ يَاسِيۡنَ‏ ﴿130﴾

سلام ہو الیاس پر،

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿131﴾

بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿132﴾

بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،

وَاِنَّ لُوۡطًا لَّمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ‏ ﴿133﴾

اور بیشک لوط پیغمبروں میں ہے،

اِذۡ نَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏ ﴿134﴾

جبکہ ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی،

اِلَّا عَجُوۡزًا فِى الۡغٰبِرِيۡنَ‏ ﴿135﴾

مگر ایک بڑھیا کہ رہ جانے والوں میں ہوئی (ف۱۲۰)

ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ‏ ﴿136﴾

پھر دوسروں کو ہم نے ہلاک فرمادیا (ف۱۲۱)

وَاِنَّكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مُّصۡبِحِيۡنَۙ‏ ﴿137﴾

اور بیشک تم (ف۱۲۲) ان پر گزرتے ہو صبح کو،

وَبِالَّيۡلِ​ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ​‏ ﴿138﴾

اور رات میں (ف۱۲۳) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲٤)

وَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ‏ ﴿139﴾

اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،

اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ‏ ﴿140﴾

جبکہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا (ف۱۲۵)

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ​ۚ‏ ﴿141﴾

تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،

فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ‏ ﴿142﴾

پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا (ف۱۲٦)

فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَۙ‏ ﴿143﴾

تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا (ف۱۲۷)

لَلَبِثَ فِىۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ​ۚ‏ ﴿144﴾

ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے (ف۱۲۸)

فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيۡمٌ​ۚ‏ ﴿145﴾

پھر ہم نے اسے (ف۱۲۹) میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا (ف۱۳۰)

وَاَنۡۢبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ​ۚ‏ ﴿146﴾

اور ہم نے اس پر (ف۱۳۱) کدو کا پیڑ اگایا (ف۱۳۲)

وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ​ۚ‏ ﴿147﴾

اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،

فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍؕ‏ ﴿148﴾

تو وہ ایمان لے آئے (ف۱۳٤) تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا (ف۱۳۵)

فَاسۡتَفۡتِهِمۡ اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَۙ‏ ﴿149﴾

تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں (ف۱۳٦) اور ان کے بیٹے (ف۱۳۷)

اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓٮِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ‏ ﴿150﴾

یا ہم نے ملائکہ کو عورتیں پیدا کیا اور وہ حاضر تھے (ف۱۳۸)

اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡكِهِمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَۙ‏ ﴿151﴾

سنتے ہو بیشک وہ اپنے بہتان سے کہتے ہیں،

وَلَدَ اللّٰهُۙ وَاِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ‏ ﴿152﴾

کہ اللہ کی اولاد ہے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،

اَصۡطَفَى الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ‏ ﴿153﴾

کیا اس نے بیٹیاں پسند کیں بیٹے چھوڑ کر،

مَا لَـكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ‏ ﴿154﴾

تمہیں کیا ہے، کیسا حکم لگاتے ہو (ف۱۳۹)

اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿155﴾

تو کیا دھیان نہیں کرتے (ف۱٤۰)

اَمۡ لَـكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌۙ‏ ﴿156﴾

یا تمہارے لیے کوئی کھلی سند ہے،

فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿157﴾

تو اپنی کتاب لاؤ (ف۱٤۱) اگر تم سچے ہو،

وَجَعَلُوۡا بَيۡنَهٗ وَبَيۡنَ الۡجِنَّةِ نَسَبًا ؕ​ وَلَقَدۡ عَلِمَتِ الۡجِنَّةُ اِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَۙ‏ ﴿158﴾

اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا (ف۱٤۲) اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ (ف۱٤۳) ضرور حاضر لائے جائیں گے (ف۱٤٤)

سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَۙ‏ ﴿159﴾

پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿160﴾

مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ف۱٤۵)

فَاِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَۙ‏ ﴿161﴾

تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱٤٦)

مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ بِفٰتِنِيۡنَۙ‏ ﴿162﴾

تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں (ف۱٤۷)

اِلَّا مَنۡ هُوَ صَالِ الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿163﴾

مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (ف۱٤۸)

وَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ‏ ﴿164﴾

اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے (ف۱٤۹)

وَّاِنَّا لَـنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ​ۚ‏ ﴿165﴾

اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،

وَاِنَّا لَـنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ‏ ﴿166﴾

اور بیشک ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں،

وَاِنۡ كَانُوۡا لَيَقُوۡلُوۡنَۙ‏ ﴿167﴾

اور بیشک وہ کہتے تھے (ف۱۵۰)

لَوۡ اَنَّ عِنۡدَنَا ذِكۡرًا مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ‏ ﴿168﴾

اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی (ف۱۵۱)

لَـكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿169﴾

تو ضرور ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے (ف۱۵۲)

فَكَفَرُوۡا بِهٖ​ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿170﴾

تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب جان لیں گے (ف۱۵۳)

وَلَقَدۡ سَبَقَتۡ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِيۡنَ ​ۖ​ۚ‏ ﴿171﴾

اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،

اِنَّهُمۡ لَهُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ‏ ﴿172﴾

کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،

وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ‏ ﴿173﴾

اور بیشک ہمارا ہی لشکر (ف۱۵٤) غالب آئے گا،

فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ‏ ﴿174﴾

تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو (ف۱۵۵)

وَاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿175﴾

اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے (ف۱۵٦)

اَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ‏ ﴿176﴾

تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ‏ ﴿177﴾

پھر جب اترے گا ان کے آنگن میں تو ڈرائے گیوں کی کیا ہی بری صبح ہوگی،

وَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ‏ ﴿178﴾

اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرلو،

وَّاَبۡصِرۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿179﴾

اور انتظار کرو کہ وہ عنقریب دیکھیں گے،

سُبۡحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ​ۚ‏ ﴿180﴾

پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے (ف۱۵۷)

وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ​ۚ‏ ﴿181﴾

اور سلام ہے پیغمبروں پر (ف۱۵۸)

وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ​‏ ﴿182﴾

اور سب خوبیاں اللہ کو سارے جہاں کا رب ہے،

Scroll to Top