بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۳) تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،
(ف3)جس کی عدالت و امانت اور صدق و راست بازی کو وہ خوب جانتے ہیں اور یہ بھی ان کے دل نشین ہے کہ ایسے صفات کا شخص سچّا ، ناصح ہوتا ہے باوجود اس کے ان کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور حضورکے انذار سے تعجّب و انکار کرنا قابلِ حیرت ہے ۔
ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے (ف۵) اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے (ف٦)
(ف5)یعنی ان کے جسم کے جو حصّے گوشت ، خون ، ہڈیاں وغیرہ زمین کھا جاتی ہے ان میں سے کوئی چیز ہم سے چُھپی نہیں تو ہم ان کو ویسے ہی زندہ کرنے پر قادر ہیں جیسے کہ وہ پہلے تھے ۔(ف6)جس میں ان کے اسماءِ اعداد اور جو کچھ ان میں سے زمین نے کھایا سب ثابت و مکتوب و محفوظ ہے ۔
بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۷) جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بےثبات بات میں ہیں (ف۸)
(ف7)بغیر سوچے سمجھے ۔ اور حق سے مراد یا نبوّت ہے جس کے ساتھ معجزاتِ باہرات ہیں یا قرآنِ مجید ۔(ف8)تو کبھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شاعر ، کبھی ساحر ، کبھی کاہن اور اسی طرح قرآنِ پاک کو شِعر و سِحر و کہانت کہتے ہیں ،کسی ایک بات پر قرار نہیں ۔
تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا (ف۹) ہم نے اسے کیسے بنایا (ف۱۰) اور سنوارا (ف۱۱) اور اس میں کہیں رخنہ نہیں (ف۱۲)
(ف9)چشمِ بینا و نظرِ اعتبار سے کہ اس کی آفرینش میں ہماری قدرت کے آثار نمایاں ہیں ۔(ف10)بغیر ستون کے بلند کیا ۔(ف11)کواکب کے روشن اجرام سے ۔(ف12)کوئی عیب و قصور نہیں ۔
ندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس (ف۱۹) سے مردہ شہر جِلایا (ف۲۰) یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے (ف۲۱)
(ف19)بارش کے پانی ۔(ف20)جس کے نباتات خشک ہوچکے تھے ، پھر اس کو سبزہ زار کردیا ۔(ف21)تو اللہ تعالٰی کی قدرت کے آثار دیکھ کر مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے کا کیوں انکار کرتے ہو ۔
ان سے پہلے جھٹلایا (ف۲۲) نوح کی قوم اور رس والوں (ف۲۳) اور ثمود
(ف22)رسولوں کو ۔(ف23)رَسْ ایک کنواں ہے جہاں یہ لوگ مع اپنے مویشی کے مقیم تھے اور بتوں کو پوجتے تھے ، یہ کنواں زمین میں دھنس گیا اور اس کے قریب کی زمین بھی ، یہ لوگ اور ان کے اموال اس کے ساتھ دھنس گئے ۔
اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے (ف۲٤) ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا (ف۲۵)
(ف24)ان سب کے تذکرے سورۂِ فرقان و حجر و دخان میں گزر چکے ۔(ف25)اس میں قریش کو تہدید اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی ہے کہ آپ قریش کے کفر سے تنگ دل نہ ہوں ، ہم ہمیشہ رسولوں کی مدد فرماتے اور ان کے دشمنوں پر عذاب کرتے رہے ہیں ۔ اس کے بعد منکِرینِ بعث کے انکار کا جواب ارشاد ہوتا ہے ۔
تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے (ف۲٦) بلکہ وہ نئے بننے سے (ف۲۷) شبہ میں ہیں،
(ف26)جو دوبارہ پیدا کرنا ہمیں دشوار ہو ۔ اس میں منکِرینِ بعث کے کمالِ جہل کا اظہار ہے کہ باوجود اس اقرار کے کہ خَلق اللہ تعالٰی نے پیدا کی اس کے دوبارہ پیدا کرنے کو محال اور مستبعد سمجھتے ہیں ۔(ف27)یعنی موت کے بعد پیدا کئے جانے سے ۔
اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے (ف۲۸) اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں (ف۲۹)
(ف28)ہم سے اس کے سرائر و ضمائر چُھپے نہیں ۔(ف29)یہ کمالِ علم کا بیان ہے کہ ہم بندے کے حال کو خود اس سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ وَرِیْد وہ رگ ہے جس میں خون جاری ہو کر بدن کے ہر ہر جزو میں پہنچتا ہے ، یہ رگ گردن میں ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ انسان کے اجزاء ایک دوسرے سے پردے میں ہیں مگر اللہ تعالٰی سے کوئی چیز پردے میں نہیں ۔
اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے (ف۳۰) ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں (ف۳۱)
(ف30)فرشتے ۔ اور وہ انسان کا ہر عمل اور اس کی ہر بات لکھنے پر مامور ہیں ۔(ف31)داہنی طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں طرف والا بدیاں ۔ اس میں اظہار ہے کہ اللہ تعالٰی فرشتوں کے لکھنے سے بھی غنی ہے ، وہ اخفی الخفیات کا جاننے والا ہے ، خطراتِ نفس تک اس سے چُھپے نہیں ، فرشتوں کی کتابت حسبِ اقتضائے حکمت ہے کہ روزِ قیامت نامۂِ اعمال ہر شخص کے اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں ۔
کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو (ف۳۲)
(ف32)خواہ وہ کہیں ہو سوائے وقتِ قضائے حاجت اور وقتِ جماع کے اس وقت یہ فرشتے آدمی کے پاس سے ہٹ جاتے ہیں ۔مسئلہ : ان دونوں حالتوں میں آدمی کو بات کرنا جائز نہیں تاکہ اس کے لکھنے کے لئے فرشتوں کو اس حالت میں اس سے قریب ہونے کی تکلیف نہ ہو ، یہ فرشتے آدمی کی ہر بات لکھتے ہیں بیماری کا کراہنا تک ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف وہی چیزیں لکھتے ہیں جن میں اجرو ثواب یا گرفت و عذاب ہو ۔ امام بغوی نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ جب آدمی ایک نیکی کرتا ہے تو دہنی طرف والا فرشتہ دس لکھتا ہے اور جب بدی کرتا ہے تو دہنی طرف والا فرشتہ بائیں جانب والے فرشتے سے کہتا ہے کہ ابھی توقّف کر شاید یہ شخص استغفار کرلے ۔ منکِرینِ بعث کارد فرمانے اور اپنے قدرت و علم سے ان پر حجّتیں قائم کرنے کے بعد انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ جس چیز کا انکار کرتے ہیں وہ عنقریب ان کی موت اور قیامت کے وقت پیش آنے والی ہے ۔ اور صیغۂِ ماضی سے ان کی آمد کی تعبیر فرما کر اس کے قرب کا اظہار کیا جاتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
اور آئی موت کی سختی (ف۳۳) حق کے ساتھ (ف۳٤) یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا
(ف33)جو عقل و حوّاس کو مختل ومکدر کردیتی ہے ۔(ف34)حق سے مراد یا حقیقتِ موت یا امرِ آخرت جس کو انسان خود معائنہ کرتا ہے یا انجام کار سعادت و شقاوت اور سکرات کی حالت میں مرنے والے سے کہا جاتا ہے کہ موت ۔
اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا (ف۳۷) اور ایک گواہ (ف۳۸)
(ف37)فرشتہ جو اسے محشر کی طرف ہانکے ۔(ف38)جو اس کے عملوں کی گواہی دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھمانے فرمایا کہ ہانکنے والا فرشتہ ہوگا اور گواہ خود اس کا اپنا نفس ۔ ضحاک کا قول ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ ہے اور گواہ اپنے اعضائے بدن ہاتھ ، پاؤں وغیرہ ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بَرسرِ منبر فرمایا کہ ہانکنے والا بھی فرشتہ ہے اور گواہ بھی فرشتہ ۔ (جمل) پھر کافر سے کہا جائے گا ۔
اس کے ساتھی شیطان نے کہا (ف٤۵) ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا (ف٤٦) ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا (ف٤۷)
(ف45)جو دنیا میں اس پر مسلّط تھا ۔(ف46)یہ شیطان کی طرف سے کافر کا جواب ہے جو جہنّم میں ڈالے جاتے وقت کہے گا کہ اے ہمارے رب مجھے شیطان نے ورغلایا ، اس پر شیطان کہے گا کہ میں نے اسے گمراہ نہ کیا ۔(ف47)میں نے اسے گمراہی کی طرف بلایا اس نے قبول کرلیا ۔ اس پر ارشادِ الٰہی ہوگا اللہ تعالٰی ۔
فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو (ف٤۸) میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا (ف٤۹)
(ف48)کہ دارالجزا اور موقفِ حساب میں جھگڑا کچھ نافع نہیں ۔(ف49)اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولو ں کی زبانوں پر میں نے تمہارے لئے کوئی حجّت باقی نہ چھوڑی ۔
جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی (ف۵۰) وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے (ف۵۱)
(ف50)اللہ تعالٰی نے جہنّم سے وعدہ فرمایا ہے کہ اسے جنّوں اور انسانوں سے بھرے گا ، اس وعدہ کی تحقیق کے لئے جہنّم سے یہ سوال فرمایا جائے گا ۔(ف51)اس کے معنٰی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اب مجھ میں گنجائش باقی نہیں ، میں بھر چکی ۔ اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ابھی اور بھی گنجائش ہے ۔
یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵۳) ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے (ف۵٤)
(ف53)رسولوں کی معرفت دنیا میں ۔(ف54)رجوع لانے والے سے وہ مراد ہے جو معصیّت کو چھوڑ کر طاعت اختیار کرے ۔ سعید بن مسیّب نے فرمایا 'اَوَّاب' وہ ہے جو گناہ کرے ، پھر توبہ کرے ، پھر اس سے گناہ صادر ہو ، پھر توبہ کرے اور نگہداشت والا جو اللہ کے حکم کا لحاظ رکھے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا جو اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھے اوران سے استغفار کرے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو اللہ تعالٰی کی امانتوں اور اس کے حقوق کی حفاظت کرے ۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو طاعات کا پابند ہو خدا اور رسول کے حکم بجالائے اور اپنے نفس کی نگہبانی کرے یعنی ایک دم بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو ۔ پاس انفاس کرے ، اگر تو پاسداری پاس انفاس: بسلطانی رسانندت ازیں پاس : ترایک پند بس درہردوعالَم : زجانت برنیاید بے خدا دم ۔
اور ان سے پہلے (ف۵۹) ہم نے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں کہ گرفت میں ان سے سخت تھیں (ف٦۰) تو شہروں میں کاوشیں کیں (ف٦۱) ہے کہیں بھاگنے کی جگہ (ف٦۲)
(ف59)یعنی آپ کے زمانہ کے کفّار سے قبل ۔(ف60)یعنی وہ امّتیں ان سے قوی اور زبردست تھیں ۔(ف61)اور جستجومیں جا بجا پھرا کئے ۔(ف62)موت اور حکمِ الٰہی سے ، مگر کوئی ایسی جگہ نہ پائی ۔
بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو (ف٦۳) یا کان لگائے (ف٦٤) اور متوجہ ہو،
(ف63)دلِ دانا شبلی قدّس سرّہ نے فرمایا کہ قرآنی نصائح سے فیض حاصل کرنے کے لئے قلبِ حاضر چاہئے جس میں طرفۃ العین کے لئے بھی غفلت نہ آئے ۔(ف64)قران اور نصیحت پر ۔
اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی (ف٦۵)
(ف65)شانِ نزول : مفسّرین نے کہا کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی نے آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ روز میں بنایا جس میں سے پہلا یک شنبہ ہے اور پچھلا جمعہ ، پھر وہ معاذ اللہ تھک گیا اور سنیچر کو اس نے عرش پر لیٹ کر آرام کیا ، اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ تھکے ، وہ قادر ہے کہ ایک آن میں سارا عالَم بنادے ، ہر چیز کو حسبِ اقتضائے حکمت ہستی عطا فرماتا ہے ۔ شانِ الٰہی میں یہود کا یہ کلمہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہت ناگوار ہوا اور شدّتِ غضب سے چہرۂِ مبارک پر سرخی نمودار ہوگئی تو اللہ تعالٰی نے آپ کی تسکین فرمائی اور خطاب ہوا ۔
اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو (ف٦۷) اور نمازوں کے بعد (ف٦۸)
(ف67)یعنی وقتِ مغرب و عشاء و تہجّد ۔(ف68)حدیث : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے مروی ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام نمازوں کے بعد تسبیح کرنے کا حکم فرمایا ۔ (بخاری ) حدیث : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس۳۳ مرتبہ ، الحمد للہ تینتیس۳۳ مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر پڑھے اس کے گناہ بخشے جائیں چاہے سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں یعنی بہت ہی کثیر ہوں ۔ (مسلم شریف)
اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گا (ف٦۹) ایک پاس جگہ سے (ف۷۰)
(ف69)یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام ۔(ف70)یعنی صخرۂِ بیت المقدِس سے ، جو آسمان کی طرف زمین کا سب سے قریب مقام ہے ۔ حضرت اسرافیل کی ندا یہ ہوگی اے گلی ہوئی ہڈیو ، بکھرے ہوئے جوڑو ، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ، پراگندہ بالو ، اللہ تعالٰی تمہیں فیصلہ کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے ۔