(ف2)یہ خطاب حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوہے ۔شانِ نزول : حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں کوہِ حرا پر تھا کہ مجھے ندا کی گئی یَامُحَمَّدْ اِنِّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کچھ نہ پایا ، اوپر دیکھا ، ایک شخص آسمان زمین کے درمیان بیٹھا ہے (یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی ) یہ دیکھ کر مجھ پر رعب ہوا اور میں خدیجہ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ مجھے بالا پوش اڑھاؤ انھوں نے اڑھا دیا تو جبریل آئے ، انھوں نے کہا یٰاَ یُّھَاالْمُدَّثِّرُ ۔
قُمۡ فَاَنۡذِرۡۙ ﴿2﴾
کھڑے ہوجاؤ (ف۳) پھر ڈر سناؤ (ف٤)
(ف3)اپنی خواب گاہ سے ۔ (ف4)قوم کو عذابِ الٰہی کا ایمان نہ لانے پر ۔
وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡۙ ﴿3﴾
اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو (ف۵)
(ف5)جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا ، حضرت خدیجہ نے بھی حضور کی تکبیرسن کر تکبیر کہی اور خوش ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ وحی آئی ۔
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡۙ ﴿4﴾
اور اپنے کپڑے پاک رکھو (ف٦)
(ف6)ہر طرح کی نجاست سے کیونکہ نماز کےلئے طہارت ضروری ہے اور نماز کے سوا اور حالتوں میں بھی کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ اپنے کپڑے کو تاہ کیجئے ، ایسے دراز نہ ہوں جیسی کہ عربوں کی عادت ہے کیونکہ بہت زیادہ دراز ہونے سے چلنے پھرنے میں نجس ہونے کا احتمال رہتا ہے ۔
وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡۙ ﴿5﴾
اور بتوں سے دور رہو،
وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُۙ ﴿6﴾
اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو (ف۷)
(ف7)یعنی جیسے کہ دنیا میں ہدیئے اور نیوتے دینے کا دستور ہے کہ دینے والا یہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے وہ اس سے زیادہ مجھے دے دے گا ، اس قِسم کے نیوتے اور ہدیئے شرعاً جائز ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس سے منع فرمایا گیا کیونکہ شانِ نبوّت بہت ارفع واعلٰی ہے اور اس منصبِ عالی کے لائق یہی ہے کہ جس کو جو دیں وہ محض کرم ہو اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو ۔
وَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ ﴿7﴾
اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو (ف۸)
(ف8)اوامر و نواہی اور ان ایذاؤں پر جو دِین کی خاطر آپ کو برداشت کرنی پڑیں ۔
فَاِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُوۡرِۙ ﴿8﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا (ف۹)
(ف9)مراد اس سے بقولِ صحیح نفخۂِ ثانیہ ہے ۔
فَذٰلِكَ يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌۙ ﴿9﴾
تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴿10﴾
کافروں پر آسان نہیں (ف۱۰)
(ف10)اس میں اشارہ ہے کہ وہ دن بفضلِ الٰہی مومنین پر آسان ہوگا ۔
ذَرۡنِىۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا ۙ ﴿11﴾
اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (ف۱۱)
(ف11)اس کی ماں کے پیٹ میں بغیر مال و اولاد کے ۔ شانِ نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ اپنی قوم میں وحیدکے لقب سے ملقّب تھا ۔
وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ۙ ﴿12﴾
اور اسے وسیع مال دیا (ف۱۲)
(ف12)کھیتیاں اور کثیر مویشی اور تجارتیں ۔ مجاہدسے منقول ہے کہ وہ ایک لاکھ دینار نقد کی حیثیّت رکھتا تھا اور طائف میں اس کا ایسا بڑا باغ تھا جو سال کے کسی وقت پھلوں سے خالی نہ ہوتا تھا ۔
وَّبَنِيۡنَ شُهُوۡدًا ۙ ﴿13﴾
اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے (ف۱۳)
(ف13)جن کی تعداد دس تھی اور چونکہ مالدار تھے انہیں کسبِ معاش کےلئے سفر کی حاجت نہ تھی اس لئے سب باپ کے سامنے رہتے ، ان میں تین مشرّف بہ اسلام ہوئے ، خالد اور ہشام اور ولید ابنِ ولید ۔
وَّمَهَّدتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا ۙ ﴿14﴾
اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں (ف۱٤)
(ف14)جاہ بھی دیا اور ر یاست بھی عطا فرمائی ، عیش بھی دیا اور طولِ عمر بھی ۔
(ف17)شانِ نزول : جب حٰمۤ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسجد میں تلاوت فرمائی ، ولید نے سنا اور اس قوم کی مجلس میں آکر اس نے کہا کہ خدا کی قَسم میں نے محمّدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ابھی ایک کلام سنا ، نہ وہ آدمی کا ، نہ جن کا ، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد و دلکشی ہے ، وہ کلام سب پر غالب رہے گا ، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا اور ان میں مشہور ہوگیا کہ ولید آبائی دِین سے برگشتہ ہوگیا ، ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمّہ لیا اور اس کے پاس آکر بہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ، ولید نے کہا کیا غم ہے ؟ ابوجہل نے کہا ، غم کیسے نہ ہو تو بوڑھا ہوگیاہے ، قریش تیرے خرچ کےلئے روپیہ جمع کردیں گے ، انہیں خیال ہے کہ تو نے محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے کلام کی تعریف اس لئے کی ہے کہ تجھے ان کے دستر خوان کا بچا کھانا مل جائے ، اس پر اسے بہت طیش آیا اور کہنے لگا کہ کیا قریش کو میرے مال و دولت کا حال معلوم نہیں ہے اور کیا محمّد ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور ان کے اصحاب نے کبھی سیر ہو کر کھانا بھی کھایا ہے ، ان کے دستر خوان پر کیا بچے گا ، پھر ابوجہل کے ساتھ اٹھا اور قوم میں آکر کہنے لگا تمہیں خیال ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مجنون ہیں ، کیا تم نے ان میں کبھی دیوانگی کی کوئی بات دیکھی ؟ سب نے کہا ہر گز نہیں ،کہنے لگا تم انہیں کاہن سمجھتے ہو ، کیا تم نے انہیں کبھی کہانت کرتے دیکھاہے ؟ سب نے کہا نہیں ، کہا تم انہیں شاعر گمان کرتے ہو ،کیا تم نے کبھی انہیں شعر کہتے پایا ؟ سب نے کہا نہیں ،کہنے لگا تم انہیں کذّاب کہتے ہو ،کیا تمہارے تجربہ میں کبھی انہوں نے جھوٹ بولا ؟ سب نے کہا نہیں ، اور قریش میں آپ کا صدق و دیانت ایسا مشہور تھا کہ قریش آپ کو امین کہا کرتے تھے ، یہ سن کر قریش نے کہا ، پھر بات کیا ہے تو ولید سوچ کر بولا کہ بات یہ ہے کہ وہ جادو گر ہیں ، تم نے دیکھا ہوگا کہ انکی بدولت رشتہ دار رشتہ دار سے ، باپ بیٹے سے جدا ہوجاتے ہیں ، بس یہی جادو گر کا کام ہے اور جو قرآن وہ پڑھتے ہیں وہ دل میں اثر کر جاتا ہے ، اس کا باعث یہ ہے کہ وہ جادو ہے ۔ اس آیتِ کریمہ میں اس کا ذکر فرمایا گیا ۔
سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ ﴿26﴾
کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا سَقَرُؕ ﴿27﴾
اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
لَا تُبۡقِىۡ وَ لَا تَذَرُۚ ﴿28﴾
نہ چھوڑے نہ لگی رکھے (ف۱۸)
(ف18)یعنی نہ کسی مستحقِ عذاب کو چھوڑے ، نہ کسی کے جسم پر گوشت پوست کھال لگی رہنے دے ، بلکہ مستحقِ عذاب کو گرفتار کرے اور گرفتار کو جَلائے اور جب جل جائیں پھر ویسے ہی کردیئے جائیں ۔
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو (ف۲۱) اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے (ف۲۲) اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے (ف۲۳) اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) (ف۲٤) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ (ف۲۵) تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
(ف21)کہ حکمتِ الٰہی پر اعتماد نہ کرکے اس تعداد میں کلام کریں اور کہیں انیس کیوں ہوئے ۔(ف22)یعنی یہود کو یہ تعداد اپنی کتابوں کے موافق دیکھ کر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدق کا یقین حاصل ہو ۔(ف23)یعنی اہلِ کتاب میں سے جو ایمان لائے ان کا اعتقاد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ اور زیادہ ہو اور جان لیں کہ حضور جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی ہے اس لئے کُتُبِ سابقہ سے مطابق ہوتی ہے ۔(ف24)جن کے دلوں میں نفاق ہے ۔(ف25) یعنی جہنّم اور اس کی صفت یا آیاتِ قرآن ۔
اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے (ف۲۷) یا پیچھے رہے (ف۲۸)
(ف27)خیر یا جنّت کی طرف ایمان لا کر ۔(ف28) کفر اختیار کرکے اور برائی و عذاب میں گرفتار ہو ۔
كُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ ۙ ﴿38﴾
ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡيَمِيۡنِۛ ؕ ﴿39﴾
مگر دہنی طرف والے (ف۲۹)
(ف29)یعنی مومنین وہ گروی نہیں ، وہ نجات پانے والے ہیں اور انہوں نے نیکیاں کرکے اپنے آپ کو آزاد کرالیا ہے وہ اپنے رب کی رحمت سے منتفع ہیں ۔
فِىۡ جَنّٰتٍ ۛ يَتَسَآءَلُوۡنَۙ ﴿40﴾
باغوں میں پوچھتے ہیں،
عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَۙ ﴿41﴾
مجرموں سے ،
مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ ﴿42﴾
تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ ﴿43﴾
وہ بولے ہم (ف۳۰) نماز نہ پڑھتے تھے،
(ف30)دنیا میں ۔
وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَۙ ﴿44﴾
اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے (ف۳۱)
(ف31)یعنی مساکین پر صدقہ نہ کرتے تھے ۔
وَكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَـآٮِٕضِيۡنَۙ ﴿45﴾
اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِۙ ﴿46﴾
اور ہم انصاف کے دن کو (ف۳۲) جھٹلاتے رہے،
(ف32)جس میں اعمال کا حساب ہوگا اور جزا دی جائے گی ۔ مراد اس سے روزِ قیامت ہے ۔
حَتّٰٓى اَتٰٮنَا الۡيَقِيۡنُؕ ﴿47﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَؕ ﴿48﴾
تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی (ف۳۳)
(ف33)یعنی انبیاء ، ملائکہ ، شہداء ، صالحین جنہیں اللہ تعالٰی نے شافع کیا ہے ، وہ ایمانداروں کی شفاعت کریں گے ، کافروں کی شفاعت نہ کریں گے ، تو جو ایمان نہیں رکھتے انہیں شفاعت بھی میسّرنہ آئے گی ۔
(ف35)یعنی مشرکین نادانی و بے وقوفی میں گدھے کی مثل ہیں ، جس طرح شیر کو دیکھ کر وہ بھاگتاہے اسی طرح یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تلاوتِ قرآن سن کر بھاگتے ہیں ۔
بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں (ف۳٦)
(ف36) کفّارِ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ ہم ہر گز آپ کا اتباع نہ کریں گے جب تک کہ ہم میں ہر ایک کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک ایک کتاب نہ آئے جس میں لکھا ہو کہ یہ اللہ تعالٰی کی کتاب ہے ، فلاں بن فلاں کے نام ، ہم اس میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اتباع کا حکم دیتے ہیں ۔