(ف2)کفّارِ قریش ۔(ف3)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب اہلِ مکّہ کو توحید کی دعوت دی اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی خبر دی اور قرآنِ کریم کی تلاوت فرما کر انہیں سنایا تو ان میں باہم گفتگوئیں شروع ہوئیں اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا دِین لائے ہیں اس آیت میں ان کی گفتگوؤں کا بیان ہے اور تفخیمِ شان کے لئے استفہام کے پیرایہ میں بیان فرمایا ، یعنی وہ کیا عظیمُ الشان بات ہے جس میں یہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کررہے ہیں ۔ اس کے بعد وہ بات بیان فرمائی جاتی ہے ۔
عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ ﴿2﴾
بڑی خبر کی (ف٤)
(ف4)بڑی خبر سے مراد یا قرآن ہے یا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور آپ کا دِین یا مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا مسئلہ ۔
الَّذِىۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؕ ﴿3﴾
جس میں وہ کئی راہ ہیں (ف۵)
(ف5)کہ بعضے تو قطعی انکار کرتے ہیں ، بعضے شک میں ہیں اور قرانِ کریم کو ان میں سے کوئی توسِحر کہتا ہے ، کوئی شِعر ، کوئی کہانت اور کوئی اور کچھ ۔ اسی طرح سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کوئی ساحر کہتا ، ہے ، کوئی شاعر ، کوئی کاہن ۔
كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَۙ ﴿4﴾
ہاں ہاں اب جان جائیں گے،
ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَ ﴿5﴾
پھر ہاں ہاں جان جائیں گے (ف٦)
(ف6)اس تکذیب و انکار کے نتیجہ کو ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے عجائبِ قدرت میں سے چند چیزیں ذکر فرمائیں تاکہ یہ لوگ ان کی دلالت سے اللہ تعالٰی کی توحید کو جانیں اور یہ سمجھیں کہ اللہ تعالٰی عالَم کو پیدا کرنے اور اس کے بعد اس کو فنا کرنے اور بعدِ فنا پھر حساب و جزا کے لئے پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا ۙ ﴿6﴾
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا (ف۷)
(ف7)کہ تم اس میں رہو اور وہ تمہاری قرار گاہ ہو ۔
وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ۙ ﴿7﴾
اور پہاڑوں کو میخیں (ف۸)
(ف8)جن سے زمین ثابت و قائم رہے ۔
وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ ﴿8﴾
اور تمہیں جوڑے بنایا (ف۹)
(ف9)مرد و عورت ۔
وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا ۙ ﴿9﴾
۔ (۹ ) اور تمہاری نیند کو آرام کیا (ف۱۰)
(ف10)تمہارے جسموں کے لئے تاکہ اس سے کوفت اور تکان دور ہو اور راحت حاصل ہو ۔
وَّجَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِبَاسًا ۙ ﴿10﴾
اور رات کو پردہ پوش کیا (ف۱۱)
(ف11)جو اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چُھپاتی ہے ۔
وَّجَعَلۡنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ﴿11﴾
اور دن کو روزگار کے لیے بنایا (ف۱۲)
(ف12)کہ تم اس میں اللہ تعالٰی کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو ۔
وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ۙ ﴿12﴾
اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں) (ف۱۳)
(ف13)جن پر زمانہ گذرنے کا اثر نہیں ہوتا اور کہنگی و بوسیدگی ان تک راہ نہیں پاتی ، مراد ان چنائیوں سے سات آسمان ہیں ۔
وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا ۙ ﴿13﴾
اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا (ف۱٤)
(ف14)یعنی آفتاب جس میں روشنی بھی ہے اور گرمی بھی ۔
(ف15)تو جس نے اتنی چیزیں پیدا کردیں وہ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کرے تو کیا تعجّب نیز ان اشیاء کا پیدا کرنا حکیم کا فعل ہے اور حکیم کا فعل ہر گز عبث اور بے کار نہیں ہوتا اور مرنے کے بعد اٹھنے اور سزا و جزا کے انکار کرنے سے لازم آتا ہے کہ منکِر کے نزدیک تمام افعال عبث ہوں اور عبث ہونا باطل توبعث وجزا کا انکار بھی باطل ۔ اس برہانِ قوی سے ثابت ہوگیاکہ مرنے کے بعد اٹھنا اور حساب و جزا ضرور ہے اس میں شک نہیں ۔
جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا (ف۳۱) مگر جسے رحمن نے اذن دیا (ف۳۲) اور اس نے ٹھیک بات کہی (ف۳۳)
(ف31)اس کے رعب و جلال سے ۔(ف32)کلام یا شفاعت کا ۔(ف33)دنیا میں اور اسی کے مطابق عمل کیا ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ٹھیک بات سے کلمۂِ طیّبہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مراد ہے ۔
ہم تمہیں (ف۳۵) ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا (ف۳٦) جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۳۷) اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا (ف۳۸)
(ف35)اے کافرو ۔(ف36)مراد اس سے عذابِ آخرت ہے ۔(ف37)یعنی ہر نیکی بدی اس کے نامۂِ اعمال میں درج ہوگی جس کو وہ روزِ قیامت دیکھے گا ۔(ف38)تاکہ عذاب سے محفوظ رہتا ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روزِ قیامت جب جانوروں اور چوپایوں کو اٹھایا جائے گا اور انہیں ایک دوسرے سے بدلہ دلایا جائے گا اگر سینگ والے نے بے سینگ والے کو مارا ہوگا تو اسے بدلہ دلایا جائے گا ، اس کے بعد وہ سب خاک کردیئے جائیں گے یہ دیکھ کر کافر تمنّاکرے گا کہ کاش میں بھی خاک کردیا جاتا ۔ بعض مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ مومنین پر اللہ تعالٰی کے انعام دیکھ کر کافر تمنّا کرے گا کہ کاش وہ دنیا میں خاک ہوتا یعنی متواضع ہوتا متکبر وسرکش نہ ہوتا ۔ ایک قول مفسّرین کا یہ بھی ہے کہ کافر سے مراد ابلیس ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام پر طعنہ کیا تھا کہ وہ مٹی سے پیدا کئے گئے اور اپنے آ گ سے پیدا کئے جانے پر افتخار کیا تھا جب وہ حضرت آدم اور ان کی ایماندار اولاد کے ثواب کو دیکھے گا اوراپنے آپ کو شدّتِ عذاب میں مبتلا پائے گا تو کہے گا کاش میں مٹی ہوتا یعنی حضرت آدم کی طرح مٹی سے پیدا کیا ہوا ہوتا ۔