بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلی حضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمدرضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدیدانداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق منظرعام پرلانے کے لئے دارالعلوم جامعہ رضویہ لاہور میں ''رضافاؤنڈیشن'' کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے۔ کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج اور کتاب النکاح پر مشتمل خوبصورت ضخیم جلدیں آپ تک پہنچ چکی ہیں ۔ کتاب النکاح کے اکثر وبیشتر حوالہ جات کی تخریج فاضل جلیل فن اسماء الرجال ومناظرہ کے ماہرحضرت علامہ مولانا محمدعباس رضوی ساکن گوجرانوالہ نے فرمائی ہے جس پر ادارہ کے اراکین ان کے شکرگزارہیں ۔ اب بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایۃ رسولہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بارہویں جلد پیش کی جارہی ہے۔
اب تک شائع ہونے والی جلدوں کی تفصیل سنین اشاعت اور مجموعی صفحات کے اعتبارسے حسب ذیل ہے :
پہلی جلد شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ / مارچ ۱۹۹۰ء صفحات۸۳۸
دوسری جلد ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ / نومبر۱۹۹۱ء صفحات۷۱۰
تیسری جلد شعبان المعظم۱۴۱۲ھ / فروری ۱۹۹۲ء صفحات۷۵۶
چوتھی جلد رجب المرجب ۱۴۱۳ھ / جنوری ۱۹۹۳ء صفحات۷۶۰
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلی حضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمدرضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدیدانداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق منظرعام پرلانے کے لئے دارالعلوم جامعہ رضویہ لاہور میں ''رضافاؤنڈیشن'' کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے۔ کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج اور کتاب النکاح پر مشتمل خوبصورت ضخیم جلدیں آپ تک پہنچ چکی ہیں ۔ کتاب النکاح کے اکثر وبیشتر حوالہ جات کی تخریج فاضل جلیل فن اسماء الرجال ومناظرہ کے ماہرحضرت علامہ مولانا محمدعباس رضوی ساکن گوجرانوالہ نے فرمائی ہے جس پر ادارہ کے اراکین ان کے شکرگزارہیں ۔ اب بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایۃ رسولہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بارہویں جلد پیش کی جارہی ہے۔
اب تک شائع ہونے والی جلدوں کی تفصیل سنین اشاعت اور مجموعی صفحات کے اعتبارسے حسب ذیل ہے :
پہلی جلد شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ / مارچ ۱۹۹۰ء صفحات۸۳۸
دوسری جلد ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ / نومبر۱۹۹۱ء صفحات۷۱۰
تیسری جلد شعبان المعظم۱۴۱۲ھ / فروری ۱۹۹۲ء صفحات۷۵۶
چوتھی جلد رجب المرجب ۱۴۱۳ھ / جنوری ۱۹۹۳ء صفحات۷۶۰
پانچویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۴ھ / ستمبر۱۹۹۳ء صفحات ۶۹۲
چھٹی جلد ربیع الاول ۱۴۱۵ھ / اگست ۱۹۹۴ء صفحات ۷۳۶
ساتویں جلد رجب المرجب ۱۴۱۵ھ / دسمبر۱۹۹۴ء صفحات ۷۲۰
آٹھویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۶ھ / جون ۱۹۹۵ء صفحات ۶۶۴
نویں جلد ذیقعدہ ۱۴۱۶ھ / اپریل۱۹۹۶ء صفحات ۹۴۶
دسویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۷ھ / اگست۱۹۹۶ء صفحات ۸۳۲
گیارہویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۸ھ / مئی ۱۹۹۷ء صفحات ۷۳۶
بارہویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم کے باب المہر سے باب تفویض الطلاق کے آخر تک ۳۲۸ سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ بتوفیق اﷲ تعالی وبفضلہ اس راقم پرتقصیر عفی اﷲ تعالی عنہ نے کیاہے۔ علاوہ ازیں اس میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست بھی راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیارکردی ہے۔ متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل نوعنوانات زیربحث لائے گئے ہیں :
(۱)باب المہر (۲)باب الجہاز
(۳)باب نکاح الکافر (۴)باب المعاشرۃ
(۵)باب القسم (۶)باب النکاح الثانی
(۷)کتاب الطلاق (۸)باب الکنایۃ
(۹)باب تفویض الطلاق
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور گراں قدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
(۱) البسط المسجل فی امتناع الزوجۃ بعد الوطی للمعجل (۱۳۰۵ھ)
وطی کے بعد مہرمعجل کی وصولی کے لئے عورت کومنع نفس کاحق حاصل ہے یانہیں ۔
(۲) اطائب التھانی فی النکاح الثانی (۱۳۱۲ھ)
نکاح ثانی کے احکام میں ۔
پانچویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۴ھ / ستمبر۱۹۹۳ء صفحات ۶۹۲
چھٹی جلد ربیع الاول ۱۴۱۵ھ / اگست ۱۹۹۴ء صفحات ۷۳۶
ساتویں جلد رجب المرجب ۱۴۱۵ھ / دسمبر۱۹۹۴ء صفحات ۷۲۰
آٹھویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۶ھ / جون ۱۹۹۵ء صفحات ۶۶۴
نویں جلد ذیقعدہ ۱۴۱۶ھ / اپریل۱۹۹۶ء صفحات ۹۴۶
دسویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۷ھ / اگست۱۹۹۶ء صفحات ۸۳۲
گیارہویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۸ھ / مئی ۱۹۹۷ء صفحات ۷۳۶
بارہویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم کے باب المہر سے باب تفویض الطلاق کے آخر تک ۳۲۸ سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ بتوفیق اﷲ تعالی وبفضلہ اس راقم پرتقصیر عفی اﷲ تعالی عنہ نے کیاہے۔ علاوہ ازیں اس میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست بھی راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیارکردی ہے۔ متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل نوعنوانات زیربحث لائے گئے ہیں :
(۱)باب المہر (۲)باب الجہاز
(۳)باب نکاح الکافر (۴)باب المعاشرۃ
(۵)باب القسم (۶)باب النکاح الثانی
(۷)کتاب الطلاق (۸)باب الکنایۃ
(۹)باب تفویض الطلاق
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور گراں قدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
(۱) البسط المسجل فی امتناع الزوجۃ بعد الوطی للمعجل (۱۳۰۵ھ)
وطی کے بعد مہرمعجل کی وصولی کے لئے عورت کومنع نفس کاحق حاصل ہے یانہیں ۔
(۲) اطائب التھانی فی النکاح الثانی (۱۳۱۲ھ)
نکاح ثانی کے احکام میں ۔
چھٹی جلد ربیع الاول ۱۴۱۵ھ / اگست ۱۹۹۴ء صفحات ۷۳۶
ساتویں جلد رجب المرجب ۱۴۱۵ھ / دسمبر۱۹۹۴ء صفحات ۷۲۰
آٹھویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۶ھ / جون ۱۹۹۵ء صفحات ۶۶۴
نویں جلد ذیقعدہ ۱۴۱۶ھ / اپریل۱۹۹۶ء صفحات ۹۴۶
دسویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۷ھ / اگست۱۹۹۶ء صفحات ۸۳۲
گیارہویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۸ھ / مئی ۱۹۹۷ء صفحات ۷۳۶
بارہویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم کے باب المہر سے باب تفویض الطلاق کے آخر تک ۳۲۸ سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ بتوفیق اﷲ تعالی وبفضلہ اس راقم پرتقصیر عفی اﷲ تعالی عنہ نے کیاہے۔ علاوہ ازیں اس میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست بھی راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیارکردی ہے۔ متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل نوعنوانات زیربحث لائے گئے ہیں :
(۱)باب المہر (۲)باب الجہاز
(۳)باب نکاح الکافر (۴)باب المعاشرۃ
(۵)باب القسم (۶)باب النکاح الثانی
(۷)کتاب الطلاق (۸)باب الکنایۃ
(۹)باب تفویض الطلاق
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور گراں قدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
(۱) البسط المسجل فی امتناع الزوجۃ بعد الوطی للمعجل (۱۳۰۵ھ)
وطی کے بعد مہرمعجل کی وصولی کے لئے عورت کومنع نفس کاحق حاصل ہے یانہیں ۔
(۲) اطائب التھانی فی النکاح الثانی (۱۳۱۲ھ)
نکاح ثانی کے احکام میں ۔
پانچویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۴ھ / ستمبر۱۹۹۳ء صفحات ۶۹۲
چھٹی جلد ربیع الاول ۱۴۱۵ھ / اگست ۱۹۹۴ء صفحات ۷۳۶
ساتویں جلد رجب المرجب ۱۴۱۵ھ / دسمبر۱۹۹۴ء صفحات ۷۲۰
آٹھویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۶ھ / جون ۱۹۹۵ء صفحات ۶۶۴
نویں جلد ذیقعدہ ۱۴۱۶ھ / اپریل۱۹۹۶ء صفحات ۹۴۶
دسویں جلد ربیع الاول ۱۴۱۷ھ / اگست۱۹۹۶ء صفحات ۸۳۲
گیارہویں جلد محرم الحرام ۱۴۱۸ھ / مئی ۱۹۹۷ء صفحات ۷۳۶
بارہویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم کے باب المہر سے باب تفویض الطلاق کے آخر تک ۳۲۸ سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ بتوفیق اﷲ تعالی وبفضلہ اس راقم پرتقصیر عفی اﷲ تعالی عنہ نے کیاہے۔ علاوہ ازیں اس میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست بھی راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیارکردی ہے۔ متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل نوعنوانات زیربحث لائے گئے ہیں :
(۱)باب المہر (۲)باب الجہاز
(۳)باب نکاح الکافر (۴)باب المعاشرۃ
(۵)باب القسم (۶)باب النکاح الثانی
(۷)کتاب الطلاق (۸)باب الکنایۃ
(۹)باب تفویض الطلاق
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور گراں قدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
(۱) البسط المسجل فی امتناع الزوجۃ بعد الوطی للمعجل (۱۳۰۵ھ)
وطی کے بعد مہرمعجل کی وصولی کے لئے عورت کومنع نفس کاحق حاصل ہے یانہیں ۔
(۲) اطائب التھانی فی النکاح الثانی (۱۳۱۲ھ)
نکاح ثانی کے احکام میں ۔
(۳) رحیق الاحقاق فی کلمات الطلاق (۱۳۱۱ھ)
طلاق بائن کے الفاظ کی تعداد اور ان کی تفصیل
نوٹ : اس جلد کے مسئلہ نمبر ۱۲۱ کے آخر سے عربی عبارت کاکچھ حصہ جو فتاوی رضویہ قدیم جلدپنجم کے صفحہ ۴۱۳ سے ۴۱۸ تک تھا غیرمربوط ہونے کی وجہ سے خارج کردیاگیاہے دراصل یہ عربی عبارت مصنف علیہ الرحمۃ کی تصنیف جلیل جدالممتار کی ہے جو سہوا یہاں نقل ہوگئی تھی۔
رجب المرجب ۱۴۱۸ھ حافظ عبدالستارسعیدی
نومبر۱۹۹۷ء ناظم تعلیمات
(جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)
طلاق بائن کے الفاظ کی تعداد اور ان کی تفصیل
نوٹ : اس جلد کے مسئلہ نمبر ۱۲۱ کے آخر سے عربی عبارت کاکچھ حصہ جو فتاوی رضویہ قدیم جلدپنجم کے صفحہ ۴۱۳ سے ۴۱۸ تک تھا غیرمربوط ہونے کی وجہ سے خارج کردیاگیاہے دراصل یہ عربی عبارت مصنف علیہ الرحمۃ کی تصنیف جلیل جدالممتار کی ہے جو سہوا یہاں نقل ہوگئی تھی۔
رجب المرجب ۱۴۱۸ھ حافظ عبدالستارسعیدی
نومبر۱۹۹۷ء ناظم تعلیمات
(جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)
باب المھر
رسالہ : البسط المسجل فی امتناع الزوجۃ بعد الوطی للمعجل ۱۳۰۵ھ
(زوجہ بعد وطی بھی مہر معجل لینے کے لئے اپنے نفس کو روك سکتی ہے اس بارے میں کشادہ تحریراور فیصلہ مسٹر محمود کارد)
مسئلہ ۱و۲ : از مرادآباد مرسلہ محمد نبی خاں صاحب یکم جمادی الاخری ۱۳۰۵ھ
سوال اول
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سے ہندہ کا نکاح ہوا نصف معجل نصف مؤجل ٹہرا حسب رواج ہندہ کی رخصتی ہوگئی کہ وطی بر ضائے ہندہ واقع ہوئی بعدہ زید بد اطوار نکلا اور ہندہ سے بہت ایذا واضرار وتکلیف وآزار کے ساتھ پیش آیا ہندہ ان وجوہ سے ناراض ہوکر اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور تاوصول مہر معجل اس کے پاس جانے سے انکار رکھتی ہے اس صورت میں ہندہ کو مہر معجل لینے تك حق منع نفس حاصل ہے یا نہیں اور منع کرنے سے ناشزہ ہوگی یا نہیں بینوا توجروا
رسالہ : البسط المسجل فی امتناع الزوجۃ بعد الوطی للمعجل ۱۳۰۵ھ
(زوجہ بعد وطی بھی مہر معجل لینے کے لئے اپنے نفس کو روك سکتی ہے اس بارے میں کشادہ تحریراور فیصلہ مسٹر محمود کارد)
مسئلہ ۱و۲ : از مرادآباد مرسلہ محمد نبی خاں صاحب یکم جمادی الاخری ۱۳۰۵ھ
سوال اول
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سے ہندہ کا نکاح ہوا نصف معجل نصف مؤجل ٹہرا حسب رواج ہندہ کی رخصتی ہوگئی کہ وطی بر ضائے ہندہ واقع ہوئی بعدہ زید بد اطوار نکلا اور ہندہ سے بہت ایذا واضرار وتکلیف وآزار کے ساتھ پیش آیا ہندہ ان وجوہ سے ناراض ہوکر اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور تاوصول مہر معجل اس کے پاس جانے سے انکار رکھتی ہے اس صورت میں ہندہ کو مہر معجل لینے تك حق منع نفس حاصل ہے یا نہیں اور منع کرنے سے ناشزہ ہوگی یا نہیں بینوا توجروا
سوال ۲دوم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب ادائے مہر معجل سے پہلے وطی برضائے زوجہ واقع ہوجائے توا س صورت میں برخلاف مذہب امام مذہب صاحبین کو کہ منع نفس کا حق ساقط ہوجاتا ہے بوجوہ عــــہ مصرحہ ذیل ترجیح دینی صحیح و رجیح اور نظر فقہی میں قرین تحقیق وتنقیح ہے یا نہیں :
(۱) درمختار میں ہے جب ایسے امر کی نسبت مابین ابوحنیفہ اور ان کے مرید وں (یعنی صاحبین) کے اختلاف ہوتو رائے مرید وں کی غالب ہونی چاہئے۔
(۲) امام ابوحنیفہ اورا مام محمد دونوں محض ذہنی باتوں کے مقنن تھے لیکن قاضی ابویوسف کو اسی قدر علم روایات تھا اور بوجہ عہدہ قاضی القضاۃ کے موقع متعلق کرنے کا حالات انسان سے حاصل تھا اور ان کے قواعد خصوصا معاملات دنیوی اور تعبیر شرع میں اس قدر مستند سمجھے جاتے ہیں کہ جب امام ابوحنیفہ یا امام محمد کی رائے ان سے متفق ہو تو ان کی رائے از روئے ایك قاعدہ مسلمہ کے قبول کی جاتی ہے۔
(۳) سب سے عمدہ خلاصہ سب سے حال کی کتاب مستند شرع یعنی فتاوی عالمگیری( کی عبارت یہ ہے) اس سے ظاہر ہے کہ امام ابوحنیفہ کی رائے کے خلاف نہ صرف ان کے دو۲ مشہور مریدوں بلکہ شیخ الصفار نے بھی جہاں تك کہ بحث ہم خانگی کو تعلق ہے رائے ظاہر کی ہے۔
(۴) امام ابوحنیفہ اور ان کے دو۲ مرید قانون حنفی مین تین استاد سمجھے گئے ہیں اور میں قاعدہ عام تصور کرتا ہوں کہ اختلاف رائے ہوتو دو۲ کی رائے بمقابلہ تیسرے کے غالب ہوگی بموجب معمولی قاعدہ شرع کے میں رائے دو۲ مریدوں کی بطور کثرت رائے منجملہ تین استادوں کے اختیار کرتا ہوں ۔ (۵) اس حق کے نفاذ میں کہ زوجہ کے ساتھ ہم خانگی کرے مانع یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہرمعجل ادا نہ ہوا ہو اور یہ قاعدہ محض اس مواخذے کی مشابہت پر مبنی ہے جو بائع کو مال پر تا ادائے قیمت قبل حوالگی مال کے حاصل رہتا ہے لیکن اس مواخذے میں دراصل حق ملکیت مشتری کا قیاس کرلیا گیا ہے اور جبکہ حوالگی عمل میں آجائے گی تواسی وقت وہ مواخذہ ختم ہوجاتا ہے انتہی بینواتوجروا
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲالمنعم فی المعجل والمؤجل
سب تعریفیں دنیا وآخرت میں ہم پر انعام کرنے والے
عــــہ : یہ وجوہ مسٹر محمود اپنے فیصلے میں ایجاد کیں ۱۲(م)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب ادائے مہر معجل سے پہلے وطی برضائے زوجہ واقع ہوجائے توا س صورت میں برخلاف مذہب امام مذہب صاحبین کو کہ منع نفس کا حق ساقط ہوجاتا ہے بوجوہ عــــہ مصرحہ ذیل ترجیح دینی صحیح و رجیح اور نظر فقہی میں قرین تحقیق وتنقیح ہے یا نہیں :
(۱) درمختار میں ہے جب ایسے امر کی نسبت مابین ابوحنیفہ اور ان کے مرید وں (یعنی صاحبین) کے اختلاف ہوتو رائے مرید وں کی غالب ہونی چاہئے۔
(۲) امام ابوحنیفہ اورا مام محمد دونوں محض ذہنی باتوں کے مقنن تھے لیکن قاضی ابویوسف کو اسی قدر علم روایات تھا اور بوجہ عہدہ قاضی القضاۃ کے موقع متعلق کرنے کا حالات انسان سے حاصل تھا اور ان کے قواعد خصوصا معاملات دنیوی اور تعبیر شرع میں اس قدر مستند سمجھے جاتے ہیں کہ جب امام ابوحنیفہ یا امام محمد کی رائے ان سے متفق ہو تو ان کی رائے از روئے ایك قاعدہ مسلمہ کے قبول کی جاتی ہے۔
(۳) سب سے عمدہ خلاصہ سب سے حال کی کتاب مستند شرع یعنی فتاوی عالمگیری( کی عبارت یہ ہے) اس سے ظاہر ہے کہ امام ابوحنیفہ کی رائے کے خلاف نہ صرف ان کے دو۲ مشہور مریدوں بلکہ شیخ الصفار نے بھی جہاں تك کہ بحث ہم خانگی کو تعلق ہے رائے ظاہر کی ہے۔
(۴) امام ابوحنیفہ اور ان کے دو۲ مرید قانون حنفی مین تین استاد سمجھے گئے ہیں اور میں قاعدہ عام تصور کرتا ہوں کہ اختلاف رائے ہوتو دو۲ کی رائے بمقابلہ تیسرے کے غالب ہوگی بموجب معمولی قاعدہ شرع کے میں رائے دو۲ مریدوں کی بطور کثرت رائے منجملہ تین استادوں کے اختیار کرتا ہوں ۔ (۵) اس حق کے نفاذ میں کہ زوجہ کے ساتھ ہم خانگی کرے مانع یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہرمعجل ادا نہ ہوا ہو اور یہ قاعدہ محض اس مواخذے کی مشابہت پر مبنی ہے جو بائع کو مال پر تا ادائے قیمت قبل حوالگی مال کے حاصل رہتا ہے لیکن اس مواخذے میں دراصل حق ملکیت مشتری کا قیاس کرلیا گیا ہے اور جبکہ حوالگی عمل میں آجائے گی تواسی وقت وہ مواخذہ ختم ہوجاتا ہے انتہی بینواتوجروا
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲالمنعم فی المعجل والمؤجل
سب تعریفیں دنیا وآخرت میں ہم پر انعام کرنے والے
عــــہ : یہ وجوہ مسٹر محمود اپنے فیصلے میں ایجاد کیں ۱۲(م)
والصلوۃ والسلام علی من ختم دفتر الرسالۃ واسجل علی الہ وصحبہ وجمیع اھل دینہ المبجل۔
اﷲتعالی کے لئے ہیں اور صلوۃ وسلام اس ذات پر جس نے رسالت کا دفتر ختم کیا اور مضبوط کیا اور ان کی آل واصحاب اور ان کے تمام برگزیدہ دین والوں پر۔ (ت)
جواب سوال اول
صورت مستفسرہ میں ہندہ کو حق منع نفس حاصل ہے اسے اختیار ہے جب تك مہر معجل وصول نہ کرلے اپنے آپ کوتسلیم شوہر نہ کرے اس منع کئے سے ناشزہ نہ ہوگی۔ وقایہ میں ہے :
لھا منعہ من الوطی والسفر بھا والنفقۃ لومنعت ولوبعد وطی او خلوۃ برضاھا ۔
معجل مہر وصول کرنے کیلئے خاوند کو جماع سے اور سفر پر ساتھ لے جانے سے روکنے اور نفقہ وصول کرنے کا بیوی کو حق ہے اگرچہ وطی اور خلوت رضا مندی سے ہوجانے کے بعد روك دے۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
قبل اخذالمعجل لھا منعہ من الوطی والسفر بھا ولو بعد وطئ برضاھا بلاسقوط النفقۃ ۔
مہر معجل وصول کرنے سے قبل بیوی کو حق ہے کہ خاوندکو جماع سفر پر ساتھ لے جانے سے روك دے اگر چہ رضا مندی سے وطی کے بعد ہو بیوی کا نفقہ ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
کنز میں ہے :
لھا منعہ من الوطی والاخراج للمہر وان وطئھا ۔
بیوی کو مہر کے لئے وطئ اور سفر پر لے جانے سے منع کرنے کا حق ہے(ت)
تنویر الابصار میں ہے :
لھا منعہ من الوطی والسفر بھا ولو وطی او خلوۃ رضتھما ۔
خوشی سے وطی یا خلوت کے بعد بھی بیوی کو مہر وصول کرنے کیلئے خاوند کو جماع اور سفر پر لے جانے سے منع کرنے کا حق ہے۔ (ت)
اﷲتعالی کے لئے ہیں اور صلوۃ وسلام اس ذات پر جس نے رسالت کا دفتر ختم کیا اور مضبوط کیا اور ان کی آل واصحاب اور ان کے تمام برگزیدہ دین والوں پر۔ (ت)
جواب سوال اول
صورت مستفسرہ میں ہندہ کو حق منع نفس حاصل ہے اسے اختیار ہے جب تك مہر معجل وصول نہ کرلے اپنے آپ کوتسلیم شوہر نہ کرے اس منع کئے سے ناشزہ نہ ہوگی۔ وقایہ میں ہے :
لھا منعہ من الوطی والسفر بھا والنفقۃ لومنعت ولوبعد وطی او خلوۃ برضاھا ۔
معجل مہر وصول کرنے کیلئے خاوند کو جماع سے اور سفر پر ساتھ لے جانے سے روکنے اور نفقہ وصول کرنے کا بیوی کو حق ہے اگرچہ وطی اور خلوت رضا مندی سے ہوجانے کے بعد روك دے۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
قبل اخذالمعجل لھا منعہ من الوطی والسفر بھا ولو بعد وطئ برضاھا بلاسقوط النفقۃ ۔
مہر معجل وصول کرنے سے قبل بیوی کو حق ہے کہ خاوندکو جماع سفر پر ساتھ لے جانے سے روك دے اگر چہ رضا مندی سے وطی کے بعد ہو بیوی کا نفقہ ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
کنز میں ہے :
لھا منعہ من الوطی والاخراج للمہر وان وطئھا ۔
بیوی کو مہر کے لئے وطئ اور سفر پر لے جانے سے منع کرنے کا حق ہے(ت)
تنویر الابصار میں ہے :
لھا منعہ من الوطی والسفر بھا ولو وطی او خلوۃ رضتھما ۔
خوشی سے وطی یا خلوت کے بعد بھی بیوی کو مہر وصول کرنے کیلئے خاوند کو جماع اور سفر پر لے جانے سے منع کرنے کا حق ہے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح الوقایۃ باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۵
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ باب المہر نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ۵۶
کنز الدقائق باب المہر ایچ ایم کمپنی کراچی ص ۱۰۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ باب المہر نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ۵۶
کنز الدقائق باب المہر ایچ ایم کمپنی کراچی ص ۱۰۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
درمختار میں ہے :
لان کل وطأۃ معقود علیہا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی ۔
ہر وطی مہر کے بدلے میں ہے (ہر وطی پر جدا جدا مہر لازم ہے ) تو بعض کا بدل دینے سے باقی کا دینا ثابت نہ ہو گا۔ (ت)
اسی میں ہے :
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولومنعت نفسھا للمہر دخل بھا اولا اھ ملخصا۔
خاوند پر بیوی کا نفقہ واجب ہے اگر چہ بیوی نےمہر کے لئے خاوند کو اپنے سے روك رکھا ہو دخول ہوچکا یا نہیں اھ ملخصا (ت)
تحقیق مقام یہ ہے کہ مہر معجل لینے سے پہلے وطی یاخلوت برضائے عورت واقع ہوجانا صاحب مذہب امام اقدم قدؤہ اعظم امام الائمہ ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك حق منع نفس ومنع سفر کسی کا اصلا مسقط نہیں اور عورت کو اختیار ہے جب تك ایك روپیہ بھی باقی رہ جائے نہ تسلیم نفس کرے نہ شوہر کے ساتھ سفر پر راضی ہو اگر چہ اس سے پہلے بارہا وطی برضامندی ہوچکی ہو اور صاحبین رحمہا ﷲتعالی کے نزدیك صرف خلوت برضا واقع ہوجانا بھی حق منع نفس ومنع سفر دونوں کا مسقط ہے امام ابوالقاسم صفار علیہ رحمۃالغفار دربارہ سفر قو ل امام اور دربارہ وطی قول صاحبین پر فتوے دیتے تھے اصل معنی اس تفصیل کے یہی ہیں ان کے بعد جس نے ادھر میل کیا انہیں کا اتباع کیا مثلا امام صدرشہید شرح جامع صغیر میں ان کا مسلك نقل کرکے فرماتے ہیں : وانہ حسن (بیشك وہ حسن ہے۔ ت) امام بزدوی شرح کتاب مذکور میں فرماتے ہیں :
ھذا احسن فی الفتیا کما نقلہ عنہ فی البنایۃ کذا الطحطاوی عن البحر عن غایۃ البیان ۔
یہ فتوی کے لئے مناسب ہے جیسا کہ صاحب بنایہ نے اس کوبنایہ میں ان سے نقل کیا ہے اور ایسے ہی طحطاوی نے بحر سے انہوں نے غایۃ البیان سے نقل کیا ہے(ت)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
لان کل وطأۃ معقود علیہا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی ۔
ہر وطی مہر کے بدلے میں ہے (ہر وطی پر جدا جدا مہر لازم ہے ) تو بعض کا بدل دینے سے باقی کا دینا ثابت نہ ہو گا۔ (ت)
اسی میں ہے :
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولومنعت نفسھا للمہر دخل بھا اولا اھ ملخصا۔
خاوند پر بیوی کا نفقہ واجب ہے اگر چہ بیوی نےمہر کے لئے خاوند کو اپنے سے روك رکھا ہو دخول ہوچکا یا نہیں اھ ملخصا (ت)
تحقیق مقام یہ ہے کہ مہر معجل لینے سے پہلے وطی یاخلوت برضائے عورت واقع ہوجانا صاحب مذہب امام اقدم قدؤہ اعظم امام الائمہ ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك حق منع نفس ومنع سفر کسی کا اصلا مسقط نہیں اور عورت کو اختیار ہے جب تك ایك روپیہ بھی باقی رہ جائے نہ تسلیم نفس کرے نہ شوہر کے ساتھ سفر پر راضی ہو اگر چہ اس سے پہلے بارہا وطی برضامندی ہوچکی ہو اور صاحبین رحمہا ﷲتعالی کے نزدیك صرف خلوت برضا واقع ہوجانا بھی حق منع نفس ومنع سفر دونوں کا مسقط ہے امام ابوالقاسم صفار علیہ رحمۃالغفار دربارہ سفر قو ل امام اور دربارہ وطی قول صاحبین پر فتوے دیتے تھے اصل معنی اس تفصیل کے یہی ہیں ان کے بعد جس نے ادھر میل کیا انہیں کا اتباع کیا مثلا امام صدرشہید شرح جامع صغیر میں ان کا مسلك نقل کرکے فرماتے ہیں : وانہ حسن (بیشك وہ حسن ہے۔ ت) امام بزدوی شرح کتاب مذکور میں فرماتے ہیں :
ھذا احسن فی الفتیا کما نقلہ عنہ فی البنایۃ کذا الطحطاوی عن البحر عن غایۃ البیان ۔
یہ فتوی کے لئے مناسب ہے جیسا کہ صاحب بنایہ نے اس کوبنایہ میں ان سے نقل کیا ہے اور ایسے ہی طحطاوی نے بحر سے انہوں نے غایۃ البیان سے نقل کیا ہے(ت)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
درمختار شرح تنویرالابصار باب نفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۷-۲۶۶
حاشیۃ الجامع الصغیر باب فی المہور مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۱
البنایۃ فی شرح الہدایۃ باب المہر المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۲ / ۱۵۶
درمختار شرح تنویرالابصار باب نفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۷-۲۶۶
حاشیۃ الجامع الصغیر باب فی المہور مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۱
البنایۃ فی شرح الہدایۃ باب المہر المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۲ / ۱۵۶
واستحسن بعض المشایخ اختیارہ اھ ۔ بعض مشائخ نے ان کے مختارکوپسند فرمایا ہے اھ(ت)
اسی طرح ہندیہ میں محیط سے ہے : ولفظہ مشایخنا ۔ (اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ نے۔ ت)مگر اکثر اکابر ائمہ وعلماء فقہاء مذہب امام کو ترجیح دیتے اور اسی پر جزم و اعتماد کرتے ہیں متون کہ خاص نقل مذہب صحیح ومتعمد کے لئے وضع کئے جاتے ہیں علی العموم اسی مذہب پر ہیں ۔ فتاوی خیریہ میں ہے : بہ صرحت المتون قاطبۃ (تمام متون اس کی تصریح کرچکے ہیں ۔ ت) اور وقایہ ونقایہ وتنویرودرمختار کی عبارتیں سن چکے کہ انہوں نے تصریحا مذہب صاحبین کی نفی فرمائی اور جب ماتن نے باب نفقہ میں ولومنعت نفسھا للمھر ۔ ( اگر چہ بیوی نے مہر کے لئے اپنے کو روك رکھا ہو۔ ت) فرمایا شارح نے دخل بھا اولا (دخول ہوچکا ہو یانہ۔ ت) اور بڑھایا تاکہ اس کی نفی پر تنصیص تام ہوجائے اسی طرح وافی ومختارمیں بھی اسی پر اقتصاد کیا اور درمختار میں صرف اسی مذہب پر دلیل قائم کی کما سبق نقلہ(جیساکہ اس کی نقل گزری۔ ت)اور اقتصار وتعلیل دونوں دلیل اختیار وتعویل ردالمحتارمیں ہے : اقتصارہ فی المتن(یعنی تنویر الابصار) یفید ترجیحہ اھ ملخصا ذکرہ فی کتاب القضاء مسئلۃ ولایۃ بیع الترکۃ لامستغرقۃ بالدین ۔
ماتن کا یعنی تنویرالابصارکا اس پر اکتفاء کرنا ترجیح کو مفید ہے اھ ملخصا۔ اس کو انہوں نے کتاب القضاء میں قرض میں مستغرق ترکہ کی ولایت بیع کے مسئلہ میں ذکر کیاہے۔ (ت)
طحطاوی میں ہے :
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ اھ ذکرہ قبیل الوصیۃ بثلث المال ۔
اس پر اکتفا ء ان کے اعتماد کی دلیل ہے اھ اس کو انہوں نے ثلث مال کی وصیت سے قبل ذکر کیا۔ (ت)
اسی طرح ہندیہ میں محیط سے ہے : ولفظہ مشایخنا ۔ (اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ نے۔ ت)مگر اکثر اکابر ائمہ وعلماء فقہاء مذہب امام کو ترجیح دیتے اور اسی پر جزم و اعتماد کرتے ہیں متون کہ خاص نقل مذہب صحیح ومتعمد کے لئے وضع کئے جاتے ہیں علی العموم اسی مذہب پر ہیں ۔ فتاوی خیریہ میں ہے : بہ صرحت المتون قاطبۃ (تمام متون اس کی تصریح کرچکے ہیں ۔ ت) اور وقایہ ونقایہ وتنویرودرمختار کی عبارتیں سن چکے کہ انہوں نے تصریحا مذہب صاحبین کی نفی فرمائی اور جب ماتن نے باب نفقہ میں ولومنعت نفسھا للمھر ۔ ( اگر چہ بیوی نے مہر کے لئے اپنے کو روك رکھا ہو۔ ت) فرمایا شارح نے دخل بھا اولا (دخول ہوچکا ہو یانہ۔ ت) اور بڑھایا تاکہ اس کی نفی پر تنصیص تام ہوجائے اسی طرح وافی ومختارمیں بھی اسی پر اقتصاد کیا اور درمختار میں صرف اسی مذہب پر دلیل قائم کی کما سبق نقلہ(جیساکہ اس کی نقل گزری۔ ت)اور اقتصار وتعلیل دونوں دلیل اختیار وتعویل ردالمحتارمیں ہے : اقتصارہ فی المتن(یعنی تنویر الابصار) یفید ترجیحہ اھ ملخصا ذکرہ فی کتاب القضاء مسئلۃ ولایۃ بیع الترکۃ لامستغرقۃ بالدین ۔
ماتن کا یعنی تنویرالابصارکا اس پر اکتفاء کرنا ترجیح کو مفید ہے اھ ملخصا۔ اس کو انہوں نے کتاب القضاء میں قرض میں مستغرق ترکہ کی ولایت بیع کے مسئلہ میں ذکر کیاہے۔ (ت)
طحطاوی میں ہے :
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ اھ ذکرہ قبیل الوصیۃ بثلث المال ۔
اس پر اکتفا ء ان کے اعتماد کی دلیل ہے اھ اس کو انہوں نے ثلث مال کی وصیت سے قبل ذکر کیا۔ (ت)
حوالہ / References
جواہر الاخلاطی فصل فی المہر قلمی نسخہ ص۶۳
فتاوی ہندیہ الفصل الحادی عشر فی منع المرأۃ نفسہا بمہرھا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱۷
فتاوٰی خیریہ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶۹
درمختار شرح تنویرالابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
درمختار شرح تنویرالابصار مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
ردالمحتار مطلب فی بیع الترکۃ المستغرقہ بالدین داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۰
حاشیۃالطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۲۱
فتاوی ہندیہ الفصل الحادی عشر فی منع المرأۃ نفسہا بمہرھا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱۷
فتاوٰی خیریہ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶۹
درمختار شرح تنویرالابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
درمختار شرح تنویرالابصار مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
ردالمحتار مطلب فی بیع الترکۃ المستغرقہ بالدین داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۰
حاشیۃالطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۲۱
عقوالدریہ میں ہے : التعلیل دلیل الترجیح (علت کو بیان کرنا ترجیح کی دلیل ہے۔ ت)اسی میں ہے :
ھوالمرجح اذھوالمحلی بالتعلیل اھ ذکرھما فی النکاح قبل باب الولی۔
یہی راجح ہے کیونکہ یہی دلیل سے مزین ہے یہ دونوں باتیں انہون نے کتاب النکاح میں باب الولی سے پہلے ذکر کی ہیں ۔ (ت)
علامہ ابراہیم حلبی نے ملتقی الابحر میں کہ بتصریح فاضل شامی متون معتمدہ المذہب سے ہے قول امام کو مقدم رکھا اور اسی پر حکم دے کر صاحبین کی طرف خلاف نسبت کی
حیث قال ھذاقبل الدخول وکذابعدہ خلافا لھما ۔
جب انہوں نے کہا کہ یہ دخول کے بعد ہویا پہلے اس میں صاحبین کا خلاف ہے(ت)
اور وہ خود دیباچہ ملتقی میں تصریح فرماتے ہیں کہ اس کتاب میں میں جس قول کو مقدم لاؤں وہی ارجح ہے شارح نے فرمایا : وہی مختار للفتوی ہے متن و شراح کی عبارت یہ ہے :
صرحت بذکرالخلاف بین ائمتنا وقدمت من اقاویلھم ماھوالارجح (المختار للفتوی )(ملخصا)
میں نے اپنے ائمہ کے ہاں اختلاف کی تصریح کردی اور ان میں سے زیادہ راجح قول کو پہلے ذکر کیا ارجح وہ ہے جو فتوی کے لئے مختار ہے(ملخصا)۔ (ت)
اسی طرح فتاوی قاضی خاں میں امام علامہ فقیہ النفس نے قول امام کی تقدیم کو مقدم کرتے ہیں جو اشہر واظہر ہو خود اپنے فتاوی کے خطبے میں فرمایا :
قدمت ماھو الاظہر وافتتحت بما ھوالاشہر ۔
میں ظاہر کو مقدم اور مشہور ابتداء کرتا ہوں ۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں تو جسے یہ پہلے بیان کریں وہی قول معتمد ہے حاشیہ طحطاویہ میں ہے :
ھوالمرجح اذھوالمحلی بالتعلیل اھ ذکرھما فی النکاح قبل باب الولی۔
یہی راجح ہے کیونکہ یہی دلیل سے مزین ہے یہ دونوں باتیں انہون نے کتاب النکاح میں باب الولی سے پہلے ذکر کی ہیں ۔ (ت)
علامہ ابراہیم حلبی نے ملتقی الابحر میں کہ بتصریح فاضل شامی متون معتمدہ المذہب سے ہے قول امام کو مقدم رکھا اور اسی پر حکم دے کر صاحبین کی طرف خلاف نسبت کی
حیث قال ھذاقبل الدخول وکذابعدہ خلافا لھما ۔
جب انہوں نے کہا کہ یہ دخول کے بعد ہویا پہلے اس میں صاحبین کا خلاف ہے(ت)
اور وہ خود دیباچہ ملتقی میں تصریح فرماتے ہیں کہ اس کتاب میں میں جس قول کو مقدم لاؤں وہی ارجح ہے شارح نے فرمایا : وہی مختار للفتوی ہے متن و شراح کی عبارت یہ ہے :
صرحت بذکرالخلاف بین ائمتنا وقدمت من اقاویلھم ماھوالارجح (المختار للفتوی )(ملخصا)
میں نے اپنے ائمہ کے ہاں اختلاف کی تصریح کردی اور ان میں سے زیادہ راجح قول کو پہلے ذکر کیا ارجح وہ ہے جو فتوی کے لئے مختار ہے(ملخصا)۔ (ت)
اسی طرح فتاوی قاضی خاں میں امام علامہ فقیہ النفس نے قول امام کی تقدیم کو مقدم کرتے ہیں جو اشہر واظہر ہو خود اپنے فتاوی کے خطبے میں فرمایا :
قدمت ماھو الاظہر وافتتحت بما ھوالاشہر ۔
میں ظاہر کو مقدم اور مشہور ابتداء کرتا ہوں ۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں تو جسے یہ پہلے بیان کریں وہی قول معتمد ہے حاشیہ طحطاویہ میں ہے :
حوالہ / References
عقودالدریہ کتاب النکاح حاجی عبد الغفار وپسران ارگ بازار قندھار ۱ / ۱۷
عقودالدریہ کتاب النکاح حاجی عبد الغفار وپسران ارگ بازار قندھار ۱ / ۱۷
ملتقی الابحر باب المہر موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۵۱
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر مقدمہ کتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷
فتاوی قاضی خان مقدمہ کتاب نولکشولکھنو ۱ / ۲
عقودالدریہ کتاب النکاح حاجی عبد الغفار وپسران ارگ بازار قندھار ۱ / ۱۷
ملتقی الابحر باب المہر موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۵۱
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر مقدمہ کتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷
فتاوی قاضی خان مقدمہ کتاب نولکشولکھنو ۱ / ۲
اصطلاحہ تقدیم الاظہر فیکون المعتمد اھ ذکرہ فی کتاب الوصایا اول باب الوصی ۔
ان کی اصطلاح زیادہ ظاہر کو مقدم کرنا ہے تو وہی قابل اعتماد ہے اھ اس کو انہوں نے کتاب الوصایا میں باب الوصی کے شروع میں بیان کیا ہے۔ (ت)
امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ کی عادت مستمرہ ہے کہ استدلال کے وقت قول مختار کی دلیل اخیر میں لاتے ہیں تاکہ اقوال سابقہ کے دلائل سے جواب ہوجائے اور نقل اقوال کے وقت غالبا قول قوی کو پہلے ذکر فرماتے ہیں تاکہ اول صحیح مسئلہ سمع متعلم میں آئے درمختار میں نہر الفائق سے ہے :
تاخیر صاحب الہدایۃ دلیلھما( ای فی مسئلۃ کساد فلوس القرض) ظاہر فی اختیارہ قولھمااھ ذکرہ اخرباب الصرف قبیل التذنیب ۔
صاحب ہدایہ کا صاحبین کی دلیل کو مؤخر لانا (یعنی قرض والے سکے کے بند ہوجانے کے مسئلہ میں ) ان کے قول کو مختاربنانے کی دلیل ہے اس کو انہوں نے تذنیب سے قبیل باب الصرف کے آخر میں ذکر کیاہے(ت)
اسی طرح فتح القدیر میں ہے افندی زین الدین رومی نتائج الافکار حاشیہ ہدایہ میں لکھتے ہیں :
من عادۃ المصنف المستمرۃ ان یؤخر القوی عند ذکر الادلۃ علی الا قوال المختلفۃ لیقع المؤخر بمنزلۃ الجواب عن المقدم وان کان قدم القوی فی الاکثر عن نقل الاقوال ۔
مصنف کی عادت مستمرہ ہے کہ دلائل ذکر کرتے وقت قوی دلیل کو آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ پہلے اقوال کا جواب بن سکے یہ اختلافی بحث میں ایسا کرتے ہیں اگر چہ وہ قوی قول کو ذکر میں پہلے لاتے ہیں جب اقوال کو نقل کرنا ہو اکثر ایسا ہی کرتے ہیں ۔ (ت)
اب یہاں انہوں نے مذہب امام کو پہلے نقل بھی کیا اور اسی کی دلیل کو مؤخر بھی لائے اور قول صاحبین کو برقرار بھی نہ رکھا تو بوجوہ عدیدہ ترجیح قول کا افادہ فرمایا علامہ سید جلال الاملۃ والدین خوارزمی نے کفایہ حاشیہ ہدایہ میں تائید مذہب امام کو دوبالاکیا اور ایك مسئلہ متفق علیہا سے جسے صاحبین بھی تسلیم فرمائیں قول امام کو رنگ ایضاح دیا
حیث قال لابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی انھا منعت منہ ماقابل البدل کما لوسلم
جب انہوں نے فرمایا امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ بیوی بدل کے مقابل کوروك سکتی ہے جیسا کہ کوئی بائع
ان کی اصطلاح زیادہ ظاہر کو مقدم کرنا ہے تو وہی قابل اعتماد ہے اھ اس کو انہوں نے کتاب الوصایا میں باب الوصی کے شروع میں بیان کیا ہے۔ (ت)
امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ کی عادت مستمرہ ہے کہ استدلال کے وقت قول مختار کی دلیل اخیر میں لاتے ہیں تاکہ اقوال سابقہ کے دلائل سے جواب ہوجائے اور نقل اقوال کے وقت غالبا قول قوی کو پہلے ذکر فرماتے ہیں تاکہ اول صحیح مسئلہ سمع متعلم میں آئے درمختار میں نہر الفائق سے ہے :
تاخیر صاحب الہدایۃ دلیلھما( ای فی مسئلۃ کساد فلوس القرض) ظاہر فی اختیارہ قولھمااھ ذکرہ اخرباب الصرف قبیل التذنیب ۔
صاحب ہدایہ کا صاحبین کی دلیل کو مؤخر لانا (یعنی قرض والے سکے کے بند ہوجانے کے مسئلہ میں ) ان کے قول کو مختاربنانے کی دلیل ہے اس کو انہوں نے تذنیب سے قبیل باب الصرف کے آخر میں ذکر کیاہے(ت)
اسی طرح فتح القدیر میں ہے افندی زین الدین رومی نتائج الافکار حاشیہ ہدایہ میں لکھتے ہیں :
من عادۃ المصنف المستمرۃ ان یؤخر القوی عند ذکر الادلۃ علی الا قوال المختلفۃ لیقع المؤخر بمنزلۃ الجواب عن المقدم وان کان قدم القوی فی الاکثر عن نقل الاقوال ۔
مصنف کی عادت مستمرہ ہے کہ دلائل ذکر کرتے وقت قوی دلیل کو آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ پہلے اقوال کا جواب بن سکے یہ اختلافی بحث میں ایسا کرتے ہیں اگر چہ وہ قوی قول کو ذکر میں پہلے لاتے ہیں جب اقوال کو نقل کرنا ہو اکثر ایسا ہی کرتے ہیں ۔ (ت)
اب یہاں انہوں نے مذہب امام کو پہلے نقل بھی کیا اور اسی کی دلیل کو مؤخر بھی لائے اور قول صاحبین کو برقرار بھی نہ رکھا تو بوجوہ عدیدہ ترجیح قول کا افادہ فرمایا علامہ سید جلال الاملۃ والدین خوارزمی نے کفایہ حاشیہ ہدایہ میں تائید مذہب امام کو دوبالاکیا اور ایك مسئلہ متفق علیہا سے جسے صاحبین بھی تسلیم فرمائیں قول امام کو رنگ ایضاح دیا
حیث قال لابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی انھا منعت منہ ماقابل البدل کما لوسلم
جب انہوں نے فرمایا امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ بیوی بدل کے مقابل کوروك سکتی ہے جیسا کہ کوئی بائع
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوصی دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۴۰
درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۵۷
نتائج الافکار
درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۵۷
نتائج الافکار
البائع بعض المبیع الی المشتری لایسقط حقہ فی حبس مابقی منہ ۔
بعض مبیع مشتری کو سونپ دے تو بائع کے لئے باقی مبیع کے روکنے کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ (ت)
اسی طرح صدر الشریعۃ شرح وقایہ وکافی شرح وافی واختیار شرح مختار ومستخلص شرح کنز وغیرہا شروح میں مذہب امام پر دلیل قائم کی اور دلیل صاحبین سے جواب دئے امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام رحمہ اﷲتعالی نے فتح القدیر میں ترجیح ہدایہ اور علامہ شیخی زادہ عالم دیار رومیہ قاضی دولت علیہ عثمانیہ معاصر ومستند صاحب درمختار نے مجمع الانہر میں تقدیم ملتقی اور علامہ یوسف چلپی نے ذخیرۃ العقبی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی میں اعتمادمتن وشرح اور محقق علامہ وسیع النظر دقیق الفکر محمد بن عابدین شامی نے ردالمحتار علی الدرالمختار میں افادات درمختار کومقرر ومسلم رکھا اور ترجیح مذہب امام میں خلاف ونزاع کی طرف بھی اشارہ نہ کیا پھر بکثرت علماء اہل متون وشروح وفتاوی ان مذکورین اور ان کے غیر باب النفقات میں عورت کو طلب مہر معجل کے لئے بالفظ ارسال واطلاق منع نفس کااستحقاق بتاتے ہیں اور اصلا عدم وطی وخلوت برضا کی قید نہیں لگاتے کما یظہر بالمراجعۃ الی کتبھم(جیساکہ انکی کتب کی طرف مراجعت سے ہوتا ہے۔ ت) بلکہ شرح وقایہ میں تو صورت مسئلہ یوں فرض کی کہ :
خروجھا بحق کما لولم یعطھا المہر المعجل فخرجت عن بیتہ ۔
بیوی کا باہر نکلنا برحق ہے جیسا کہ خاوند نے اس کو مہر معجل نہ دیا ہوتو وہ اس کے گھر سے نکل جائے۔ (ت)
اور ظاہر ہے کہ شوہر کے یہاں آنے کے بعد غالبا وطی واقع ہی ہوتی ہے بانیہمہ حکم مطلق چھوڑا تقیید کی طرف مطلق التفات نہ فرمایا یہ اطلاقات بھی اسی اختیار مذہب امام سے خبر دے رہے ہیں لاجرم علامہ خیرالدین رملی استاذصاحب درمختار نے قول امام ہی پر فتوی دیا اور مذہب آخر کا ذکر تك نہ کیا فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے :
سئل فی المرأۃ اذا سلمت نفسھا قبل استکمال ماشرط تعجیلہ لھا من المہر ھل لھا بعد ذلك منع نفسھا عنہ اجاب لھا منع نفسھا حتی تستکمل
ان سے ایسی عورت کےمتعلق سوال کیا گیا جو مہر معجل وصول کرنے سے پہلے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کرچکی ہوکیا پھر مہر معجل کے لئے اپنے آپ کو خاوند سے روك سکتی ہے تو جواب دیا کہ ہاں روك سکتی ہے یہاں تك کہ مہر معجل پورا
بعض مبیع مشتری کو سونپ دے تو بائع کے لئے باقی مبیع کے روکنے کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ (ت)
اسی طرح صدر الشریعۃ شرح وقایہ وکافی شرح وافی واختیار شرح مختار ومستخلص شرح کنز وغیرہا شروح میں مذہب امام پر دلیل قائم کی اور دلیل صاحبین سے جواب دئے امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام رحمہ اﷲتعالی نے فتح القدیر میں ترجیح ہدایہ اور علامہ شیخی زادہ عالم دیار رومیہ قاضی دولت علیہ عثمانیہ معاصر ومستند صاحب درمختار نے مجمع الانہر میں تقدیم ملتقی اور علامہ یوسف چلپی نے ذخیرۃ العقبی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی میں اعتمادمتن وشرح اور محقق علامہ وسیع النظر دقیق الفکر محمد بن عابدین شامی نے ردالمحتار علی الدرالمختار میں افادات درمختار کومقرر ومسلم رکھا اور ترجیح مذہب امام میں خلاف ونزاع کی طرف بھی اشارہ نہ کیا پھر بکثرت علماء اہل متون وشروح وفتاوی ان مذکورین اور ان کے غیر باب النفقات میں عورت کو طلب مہر معجل کے لئے بالفظ ارسال واطلاق منع نفس کااستحقاق بتاتے ہیں اور اصلا عدم وطی وخلوت برضا کی قید نہیں لگاتے کما یظہر بالمراجعۃ الی کتبھم(جیساکہ انکی کتب کی طرف مراجعت سے ہوتا ہے۔ ت) بلکہ شرح وقایہ میں تو صورت مسئلہ یوں فرض کی کہ :
خروجھا بحق کما لولم یعطھا المہر المعجل فخرجت عن بیتہ ۔
بیوی کا باہر نکلنا برحق ہے جیسا کہ خاوند نے اس کو مہر معجل نہ دیا ہوتو وہ اس کے گھر سے نکل جائے۔ (ت)
اور ظاہر ہے کہ شوہر کے یہاں آنے کے بعد غالبا وطی واقع ہی ہوتی ہے بانیہمہ حکم مطلق چھوڑا تقیید کی طرف مطلق التفات نہ فرمایا یہ اطلاقات بھی اسی اختیار مذہب امام سے خبر دے رہے ہیں لاجرم علامہ خیرالدین رملی استاذصاحب درمختار نے قول امام ہی پر فتوی دیا اور مذہب آخر کا ذکر تك نہ کیا فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے :
سئل فی المرأۃ اذا سلمت نفسھا قبل استکمال ماشرط تعجیلہ لھا من المہر ھل لھا بعد ذلك منع نفسھا عنہ اجاب لھا منع نفسھا حتی تستکمل
ان سے ایسی عورت کےمتعلق سوال کیا گیا جو مہر معجل وصول کرنے سے پہلے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کرچکی ہوکیا پھر مہر معجل کے لئے اپنے آپ کو خاوند سے روك سکتی ہے تو جواب دیا کہ ہاں روك سکتی ہے یہاں تك کہ مہر معجل پورا
حوالہ / References
کفایہ مع فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۵۰-۲۴۹
شرح الوقایہ باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۷۳
شرح الوقایہ باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۷۳
ذلك عند الامام وان کانت سلمت نفسھا وبہ صرحت المتون قاطبۃ ۔
وصول کر لےامام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے ہاں ہے اگر چہ بیوی پہلے اپنے آپ کو سونپ چکی ہو اس مسئلہ پر تمام متون تصریح کرچکے ہیں ۔ (ت)
آخر یہ علمائے محققین وعظمائے مدققین رحمۃ اﷲعلیہم اجمعین فتوائے امام صفار واختیار بعض مشائخ سے غافل نہ تھے پھر قول امام ہی پر جزم واعتماد فرماتے ہیں کوئی تو قول صاحبین کا نام تك نہیں لیتا اور اکثر متون کایہی حال ہے کوئی صاف وہ الفاظ بڑھاتا ہے جس سے ان کے مذہب کی صریح نفی ہوجائے کوئی صرف مذہب امام ہی پر دلیل قائم کرتا ہے کوئی دلیل صاحبین سے جواب دیتا ہے جنہوں نے وعدہ کیا کہ قول قوی کو مقدم لائیں گے وہ اسی مذہب کی تقدیم کرتے ہیں جنہوں نے التزام کیا کہ دلیل معتمد کی تاخیر کریں گے وہ اسی کی دلیل پیچھے لاتے ہیں ۔ غرض طرح طرح سے ترجیح وتصحیح مذہب امام کا افادہ فرتے ہیں اور کبرائے ناظرین شراح ومحشین کہ مذکور ہوئے تقریر وتسلیم سے پیش آتے ہیں ' ناچار ماننا پڑے گا کہ ان سب کے نزدیك معتمد ومرجح ومحقق ومنقح مذہب امام ہے رضی اﷲتعالی عنہ اور قوت دلیل کہ مطالعہ ہدایہ وکافی واختیار وکفایہ وغیرہ سے واضح ہوتی ہے اس پر علاوہ پس جبکہ یہی ۱ مذہب امام اعظم ہے اور اسی پر۲ متون کا اجماع اور اسی۳ کی دلیل اقوی اور اس۴ قدر کثرت سے اس کے مرجحین تو وجہ کیا ہے کہ اس سے عدول کیا جائے حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مفتی مطلقا قول امام پر فتوی دے اور قاضی عموما مذہب امام پر فیصلہ کرے یعنی جب کوئی ضرورت مثل تعامل المسلمین یا اجماع المرجحین علی الخلاف کے داعی ترک نہ ہو کما فی مسئلتی جواز المزار عۃ وتحریم القلیل من لامائع المسکر جیسا کہ مزارعت کے جواز اور قلیل مسکر پانی کی تحریم کے دونوں مسئلوں میں ہے۔ ت اورحکم دیتے ہیں کہ قول امام سے عدول نہ کیا جائے اگر چہ مشائخ مذہب اس کے خلاف پر فتوی دیں ۔ ۱ منیہ و۲ سراجیہ و۳ محیط امام سرخسی وفتاوی۴ عالمگیری و۵ بحرالرائق و۶ نہر الفائق و۷ فتاوی خیریہ و۸ تنویر الابصار و۹ شرح علائی ۱۰ حاشیہ طحطاویہ وغیرہا کتب معتمدہ میں اس کی تصریح ہے درمختار میں ہے :
یاخذ القاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ثم بقول ابی یوسف ثم بقول محمد ثم بقول زفر والحسن بن زیاد وھو الاصح منیۃ وسراجیۃ ۔
قاضی بھی مفتی کی طرح امام صاحب کے قول مطلقا لے گا پھر امام ابویوسف پھر امام محمد پھر امام زفر اور حسن بن زیاد کے اقوال کو لے گا یہی اصح ہے منیہ وسراجیہ۔
وصول کر لےامام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے ہاں ہے اگر چہ بیوی پہلے اپنے آپ کو سونپ چکی ہو اس مسئلہ پر تمام متون تصریح کرچکے ہیں ۔ (ت)
آخر یہ علمائے محققین وعظمائے مدققین رحمۃ اﷲعلیہم اجمعین فتوائے امام صفار واختیار بعض مشائخ سے غافل نہ تھے پھر قول امام ہی پر جزم واعتماد فرماتے ہیں کوئی تو قول صاحبین کا نام تك نہیں لیتا اور اکثر متون کایہی حال ہے کوئی صاف وہ الفاظ بڑھاتا ہے جس سے ان کے مذہب کی صریح نفی ہوجائے کوئی صرف مذہب امام ہی پر دلیل قائم کرتا ہے کوئی دلیل صاحبین سے جواب دیتا ہے جنہوں نے وعدہ کیا کہ قول قوی کو مقدم لائیں گے وہ اسی مذہب کی تقدیم کرتے ہیں جنہوں نے التزام کیا کہ دلیل معتمد کی تاخیر کریں گے وہ اسی کی دلیل پیچھے لاتے ہیں ۔ غرض طرح طرح سے ترجیح وتصحیح مذہب امام کا افادہ فرتے ہیں اور کبرائے ناظرین شراح ومحشین کہ مذکور ہوئے تقریر وتسلیم سے پیش آتے ہیں ' ناچار ماننا پڑے گا کہ ان سب کے نزدیك معتمد ومرجح ومحقق ومنقح مذہب امام ہے رضی اﷲتعالی عنہ اور قوت دلیل کہ مطالعہ ہدایہ وکافی واختیار وکفایہ وغیرہ سے واضح ہوتی ہے اس پر علاوہ پس جبکہ یہی ۱ مذہب امام اعظم ہے اور اسی پر۲ متون کا اجماع اور اسی۳ کی دلیل اقوی اور اس۴ قدر کثرت سے اس کے مرجحین تو وجہ کیا ہے کہ اس سے عدول کیا جائے حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مفتی مطلقا قول امام پر فتوی دے اور قاضی عموما مذہب امام پر فیصلہ کرے یعنی جب کوئی ضرورت مثل تعامل المسلمین یا اجماع المرجحین علی الخلاف کے داعی ترک نہ ہو کما فی مسئلتی جواز المزار عۃ وتحریم القلیل من لامائع المسکر جیسا کہ مزارعت کے جواز اور قلیل مسکر پانی کی تحریم کے دونوں مسئلوں میں ہے۔ ت اورحکم دیتے ہیں کہ قول امام سے عدول نہ کیا جائے اگر چہ مشائخ مذہب اس کے خلاف پر فتوی دیں ۔ ۱ منیہ و۲ سراجیہ و۳ محیط امام سرخسی وفتاوی۴ عالمگیری و۵ بحرالرائق و۶ نہر الفائق و۷ فتاوی خیریہ و۸ تنویر الابصار و۹ شرح علائی ۱۰ حاشیہ طحطاویہ وغیرہا کتب معتمدہ میں اس کی تصریح ہے درمختار میں ہے :
یاخذ القاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ثم بقول ابی یوسف ثم بقول محمد ثم بقول زفر والحسن بن زیاد وھو الاصح منیۃ وسراجیۃ ۔
قاضی بھی مفتی کی طرح امام صاحب کے قول مطلقا لے گا پھر امام ابویوسف پھر امام محمد پھر امام زفر اور حسن بن زیاد کے اقوال کو لے گا یہی اصح ہے منیہ وسراجیہ۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶۹
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
بحرالرائق میں فرمایا :
یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ ۔
ہم پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲعلیہ کے قول پر عمل واجب ہے اگر چہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوی دے چکے ہوں ۔ (ت)
اور ایسا ہی فتاوی خیریہ میں ہے خصوصا صورت مسئولہ میں جبکہ تقریر سوال سے ظاہر کہ زید کی طرف سے سوء معاشرت ہندہ کے ساتھ واقع ہوئی تو یہاں تو ایك اور فتوی قول امام کے موافق ہے تہذیب میں کلام امام ابوالقاسم نقل کرکے فرماتے ہیں :
المختار عندی فی المنع ان کان سوء المعاشرۃ من الزوج لھا المنع وان کان من جھتہا فلیس لھا المنع وفی السفر قول ابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ ۔ میرے نزدیك منع کے بارے میں مختار یہ ہے کہ اگربد اخلاقی خاوند کی طرف سے ہوتو بیوی کو منع حق ہے اور اگر بد اخلاقی بیوی کی طرف سے ہوتو پھر اس کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاوند سے روك رکھے سفر کے بارے میں فتوی امام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے(ت)
اسی طرح فتاوی ابراہیم شاہی وفتاوی حمادیہ میں اس سے نقل کیا یہ ہے اس بارے میں کلام اجمالی اور قدرے تفصیلی ان مباحث کی ہمارے فتوائے ثانیہ میں آتی ہے وباﷲالتوفیق بالجملہ صورت مستفسرہ میں عند التحقیق مفتی وقاضی کے لئے قول امام ہی پر اعتماد ہے ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
جواب سوال دوم
اقول : وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق اس تقریر میں امر اول ایك سخت حیرت انگیز بات ہے درمختار میں اس مطلب کا کہیں پتا نہیں بلکہ اس میں صراحۃ اس کا خلاف مصرح کتاب القضا میں فرماتے ہیں :
یاخذالقاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۔
قاضی بھی مفتی کی طرح مطلقا امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کا قول لے گا۔ (ت)
پھر منیۃ المفتی وفتاوی سراجیہ سے نقل کیا ہو الاصح (وہی زیادہ صحیح ہے۔ ت) ہاں ایك قول حاوی قدسی سے یہ لائے کہ وقت دلیل پر مدار ہے پھر اسے بھی برقرار نہ رکھا اور نہر الفائق سے نقل فرمایا : الاول اضبط (وہی
یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ ۔
ہم پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲعلیہ کے قول پر عمل واجب ہے اگر چہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوی دے چکے ہوں ۔ (ت)
اور ایسا ہی فتاوی خیریہ میں ہے خصوصا صورت مسئولہ میں جبکہ تقریر سوال سے ظاہر کہ زید کی طرف سے سوء معاشرت ہندہ کے ساتھ واقع ہوئی تو یہاں تو ایك اور فتوی قول امام کے موافق ہے تہذیب میں کلام امام ابوالقاسم نقل کرکے فرماتے ہیں :
المختار عندی فی المنع ان کان سوء المعاشرۃ من الزوج لھا المنع وان کان من جھتہا فلیس لھا المنع وفی السفر قول ابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ ۔ میرے نزدیك منع کے بارے میں مختار یہ ہے کہ اگربد اخلاقی خاوند کی طرف سے ہوتو بیوی کو منع حق ہے اور اگر بد اخلاقی بیوی کی طرف سے ہوتو پھر اس کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاوند سے روك رکھے سفر کے بارے میں فتوی امام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے(ت)
اسی طرح فتاوی ابراہیم شاہی وفتاوی حمادیہ میں اس سے نقل کیا یہ ہے اس بارے میں کلام اجمالی اور قدرے تفصیلی ان مباحث کی ہمارے فتوائے ثانیہ میں آتی ہے وباﷲالتوفیق بالجملہ صورت مستفسرہ میں عند التحقیق مفتی وقاضی کے لئے قول امام ہی پر اعتماد ہے ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
جواب سوال دوم
اقول : وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق اس تقریر میں امر اول ایك سخت حیرت انگیز بات ہے درمختار میں اس مطلب کا کہیں پتا نہیں بلکہ اس میں صراحۃ اس کا خلاف مصرح کتاب القضا میں فرماتے ہیں :
یاخذالقاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۔
قاضی بھی مفتی کی طرح مطلقا امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کا قول لے گا۔ (ت)
پھر منیۃ المفتی وفتاوی سراجیہ سے نقل کیا ہو الاصح (وہی زیادہ صحیح ہے۔ ت) ہاں ایك قول حاوی قدسی سے یہ لائے کہ وقت دلیل پر مدار ہے پھر اسے بھی برقرار نہ رکھا اور نہر الفائق سے نقل فرمایا : الاول اضبط (وہی
حوالہ / References
بحرالرائق فصل تقلید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۷۰ ۔ ۔ ۲۲۹
تھذیب
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
تھذیب
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
زیادہ مضبوط ہے۔ ت)اور تحقیق وتوفیق وہ ہے جو ماتن نے فرمایا کہ لایخیر الااذاکان مجتہدا یعنی جو خود مجتہد ہو وہ قوت دلیل پر نظر کرے اور ہم پر وہی ترتیب لازم کہ علی الاطلاق مذہب امام پر افتاوقضا کریں جب تك کوئی مانع قوی وعظیم نہ پایا جائے کما سنذکرہ ان شاء اﷲتعالی(ان شاء اﷲتعالی اس کو عنقریب ہم ذکر کریں گے۔ ت)
امر دوم کے جواب میں 'اولا عبارت درمختار کہ ابھی گزری اور وہ عبارت کثیرہ کہ ان شاء اﷲتعالی لکھتا ہوں بس ہیں ۔
ثانیا کلمات علماء میں نہ عموما نہ بعد تخصیص معاملات دنیوی کہیں اس کانشان نہیں کہ جب امام ابویوسف کے ساتھ حضرات طرفین سے ایك رائے اور ہو تو ان کی تجربہ کاری کے باعث اس کا قبول قاعدہ مسلمہ ہے ہاں علماء نے مسائل وقف وقضاء کی نسبت بیشك فرمایا کہ وہاں غالبا قول ثانی پر فتوی ہے اس سے ہر وہ امر کے زیر قضا آسکے مراد نہیں تاکہ امثال صوم وصلوۃ کے سوا نکاح وبیع وہبہ اجارہ و رہن وغیرہا تمام ابواب فقہ کو عام ہوجائے یوں تو وقف بھی اسی قبیل سے تھا پھر خاص اسے الگ گننے کے کیا معنی نہ ہرگز عالم میں کوئی عالم اس کا قائل اور خود ہزاراں ہزار کتب فقہ اس کے خلاف پر گواہ عادل کہ لاکھوں مسائل معاملات میں بھی قول امام ہی پر فتوی ہے اگر چہ رائے امام ابویوسف سے امام محمد بھی موافق ہوں بلکہ یہ امر خاص ان مسائل میں اکثری طور پر ہے جنہیں فقہاء کتاب القضاء وکتاب الوقف میں لکھتے ہیں اشباہ والنظائر میں جہاں یہ فائدہ زیر قاعدہ المشقۃ تجلب التیسیر (مشقت کے سبب حکم میں آسانی ہوجایا کرتی ہے۔ ت) وہاں یہی مسائل شمار کئے ۔ حیث قال :
ووسع ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی فی القضاء والوقف والفتوی علی قولہ فیما یتعلق بھما فجوز للقاضی تلقین الشاھد وجواز کتاب القاضی الی القاضی من غیر سفر ولم یشترط فیہ شیئا مما شرطہ الامام و صحح الوقف علی النفس وعلی جھۃ تنقطع ووقف المشاع ولم یشترط التسلیم الی المتولی ولاحکم القاضی وجوز استبدالہ عند الحاجۃ
امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی نے قضاء ووقت کے متعلق وسعت پیدا کی ہے ان دونوں بابوں میں ان کے قول پر فتوی ہوگا انہوں نے گواہ کو قاضی کی تلقین قاضی کا قاضی کو بغیر سفر خط بغیر ان شرائط کے جوا مام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی نے لگائی ہیں کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے وقف علی النفس (یعنی اپنی جائدادیوں وقف کرے کہ تاحیات وہ خود اسکی آمدنی سے ممتنع رہے گا) اور وقف علی جہۃ منقطعہ اور غیر منقسم چیز کے وقف کو جائز کہا ہے اور متولی کو سونپ دینے کی شرط نہیں لگائی اور نہ ہی
امر دوم کے جواب میں 'اولا عبارت درمختار کہ ابھی گزری اور وہ عبارت کثیرہ کہ ان شاء اﷲتعالی لکھتا ہوں بس ہیں ۔
ثانیا کلمات علماء میں نہ عموما نہ بعد تخصیص معاملات دنیوی کہیں اس کانشان نہیں کہ جب امام ابویوسف کے ساتھ حضرات طرفین سے ایك رائے اور ہو تو ان کی تجربہ کاری کے باعث اس کا قبول قاعدہ مسلمہ ہے ہاں علماء نے مسائل وقف وقضاء کی نسبت بیشك فرمایا کہ وہاں غالبا قول ثانی پر فتوی ہے اس سے ہر وہ امر کے زیر قضا آسکے مراد نہیں تاکہ امثال صوم وصلوۃ کے سوا نکاح وبیع وہبہ اجارہ و رہن وغیرہا تمام ابواب فقہ کو عام ہوجائے یوں تو وقف بھی اسی قبیل سے تھا پھر خاص اسے الگ گننے کے کیا معنی نہ ہرگز عالم میں کوئی عالم اس کا قائل اور خود ہزاراں ہزار کتب فقہ اس کے خلاف پر گواہ عادل کہ لاکھوں مسائل معاملات میں بھی قول امام ہی پر فتوی ہے اگر چہ رائے امام ابویوسف سے امام محمد بھی موافق ہوں بلکہ یہ امر خاص ان مسائل میں اکثری طور پر ہے جنہیں فقہاء کتاب القضاء وکتاب الوقف میں لکھتے ہیں اشباہ والنظائر میں جہاں یہ فائدہ زیر قاعدہ المشقۃ تجلب التیسیر (مشقت کے سبب حکم میں آسانی ہوجایا کرتی ہے۔ ت) وہاں یہی مسائل شمار کئے ۔ حیث قال :
ووسع ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی فی القضاء والوقف والفتوی علی قولہ فیما یتعلق بھما فجوز للقاضی تلقین الشاھد وجواز کتاب القاضی الی القاضی من غیر سفر ولم یشترط فیہ شیئا مما شرطہ الامام و صحح الوقف علی النفس وعلی جھۃ تنقطع ووقف المشاع ولم یشترط التسلیم الی المتولی ولاحکم القاضی وجوز استبدالہ عند الحاجۃ
امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی نے قضاء ووقت کے متعلق وسعت پیدا کی ہے ان دونوں بابوں میں ان کے قول پر فتوی ہوگا انہوں نے گواہ کو قاضی کی تلقین قاضی کا قاضی کو بغیر سفر خط بغیر ان شرائط کے جوا مام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی نے لگائی ہیں کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے وقف علی النفس (یعنی اپنی جائدادیوں وقف کرے کہ تاحیات وہ خود اسکی آمدنی سے ممتنع رہے گا) اور وقف علی جہۃ منقطعہ اور غیر منقسم چیز کے وقف کو جائز کہا ہے اور متولی کو سونپ دینے کی شرط نہیں لگائی اور نہ ہی
الیہ بلاشرط وجوزہ مع الشرط ترغیبا فی الوقف وتیسیرا علی المسلمین ۔
انہوں نے وقف کے لئے قاضی کے حکم کی شرط لگائی ہے اور انہوں نے وقف کو ضرورت کے وقت تبدیل کرنے کو بلا شرط جائز قرار دیا ہے اور بلا ضرورت اس کے تبدیل کرنے کو مع جائز الشرط جائز قرار دیا ہے تاکہ وقف کرنے میں ترغیب اور مسلمانوں کے لئے آسانی ہو۔ (ت)
ثالثا ان مسائل میں تو موافقت رائے دیگر کی بھی حاجت نہیں کما یظہر بالمراجعۃ(جیسا کہ کتب کی طرف سے مراجعت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ت) تو کلمات علماء اس قید کے مساعد نہیں ۔
رابعا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ امام ابویوسف علما امام اعظم کے ہم پلہ ہیں امام سے بے اذن لئے ان کے مجلس درس منعقد کرنے پر امام کا کسی کو پانچ سوال دے کر بھیجنا' ان کے ہر مسئلے میں مختلف جواب دینا ہر جواب پرسائل کی طرف سے تخطیہ ہونا 'آخر متحیر ہوکر خدمت امام میں رجوع لانا مشہور اور اشباہ والنظائر وغیرہا میں مذکور۔ علماء فرماتے ہیں جو مسئلہ امام کے حضورطے نہ ہولیا قیامت تك مضطرب رہے گا امام ابویوسف بعض مسائل میں پریشان ہوکر فرماتے : جہاں ہمارے استاد کا کوئی نہیں اس میں ہمارا یہی حال(پریشان) ہے۔ بحرالرائق کے مفسدات الصلوۃ میں ہے :
لقد صدق صاحب الفتاوی الظہیریۃ حیث قال فی الفصل الثالث فی قراءۃ القران ان کل مالم یروعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی فیہ قول بقی کذلك مضطر باالی یوم القیامۃ وحکی عن ابی یوسف رحمہ اﷲتعالی علیہ انہ کان یضطرب فی بعض المسائل وکان یقول کل مسئلۃ لیس لشیخنا فیھا قول فنحن فیھا ھکذا انتہی ۔
فتاوی ظہیریہ والے نے درست فرمایا جو انہوں نے قراءت قرآن کی فصل ثالث میں فرمایا کہ جس معاملہ میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ سے کوئی قول مروی نہ ہو وہ معاملہ قیامت تك باعث اضطراب ہی رہے گا اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی سے منقول ہے کہ وہ بعض مسائل میں مضطرب تھے تو انہوں نے فرمایا : جس معاملہ میں ہمارے شیخ کا کوئی قول نہ ہوتو اس میں ہمارا یہی حال ہوتا ہے انتہی۔ (ت)
امام ابویوسف سے منقول ہے میں بعض مسائل میں جانتا حدیث میری طرف ہے تنقیح کے بعد کھلتا کہ امام نے جس حدیث سے فرمایا وہ میری خواب میں نہ تھی اوکماقال رحمۃ اﷲتعالی۔
انہوں نے وقف کے لئے قاضی کے حکم کی شرط لگائی ہے اور انہوں نے وقف کو ضرورت کے وقت تبدیل کرنے کو بلا شرط جائز قرار دیا ہے اور بلا ضرورت اس کے تبدیل کرنے کو مع جائز الشرط جائز قرار دیا ہے تاکہ وقف کرنے میں ترغیب اور مسلمانوں کے لئے آسانی ہو۔ (ت)
ثالثا ان مسائل میں تو موافقت رائے دیگر کی بھی حاجت نہیں کما یظہر بالمراجعۃ(جیسا کہ کتب کی طرف سے مراجعت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ت) تو کلمات علماء اس قید کے مساعد نہیں ۔
رابعا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ امام ابویوسف علما امام اعظم کے ہم پلہ ہیں امام سے بے اذن لئے ان کے مجلس درس منعقد کرنے پر امام کا کسی کو پانچ سوال دے کر بھیجنا' ان کے ہر مسئلے میں مختلف جواب دینا ہر جواب پرسائل کی طرف سے تخطیہ ہونا 'آخر متحیر ہوکر خدمت امام میں رجوع لانا مشہور اور اشباہ والنظائر وغیرہا میں مذکور۔ علماء فرماتے ہیں جو مسئلہ امام کے حضورطے نہ ہولیا قیامت تك مضطرب رہے گا امام ابویوسف بعض مسائل میں پریشان ہوکر فرماتے : جہاں ہمارے استاد کا کوئی نہیں اس میں ہمارا یہی حال(پریشان) ہے۔ بحرالرائق کے مفسدات الصلوۃ میں ہے :
لقد صدق صاحب الفتاوی الظہیریۃ حیث قال فی الفصل الثالث فی قراءۃ القران ان کل مالم یروعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی فیہ قول بقی کذلك مضطر باالی یوم القیامۃ وحکی عن ابی یوسف رحمہ اﷲتعالی علیہ انہ کان یضطرب فی بعض المسائل وکان یقول کل مسئلۃ لیس لشیخنا فیھا قول فنحن فیھا ھکذا انتہی ۔
فتاوی ظہیریہ والے نے درست فرمایا جو انہوں نے قراءت قرآن کی فصل ثالث میں فرمایا کہ جس معاملہ میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ سے کوئی قول مروی نہ ہو وہ معاملہ قیامت تك باعث اضطراب ہی رہے گا اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی سے منقول ہے کہ وہ بعض مسائل میں مضطرب تھے تو انہوں نے فرمایا : جس معاملہ میں ہمارے شیخ کا کوئی قول نہ ہوتو اس میں ہمارا یہی حال ہوتا ہے انتہی۔ (ت)
امام ابویوسف سے منقول ہے میں بعض مسائل میں جانتا حدیث میری طرف ہے تنقیح کے بعد کھلتا کہ امام نے جس حدیث سے فرمایا وہ میری خواب میں نہ تھی اوکماقال رحمۃ اﷲتعالی۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الرابعۃ المشقتہ تجلب التیسیر ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۱۵ ۔ ۱۱۴
بحراالرائق باب مفسدات الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی
بحراالرائق باب مفسدات الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی
امر سوم میں فتاوی عالمگیری کو سب کتب پر ترجیح دی گئی حالانکہ وہ ایك فتاوی ہے اور علماء ارشاد فرماتے ہیں : عمدہ ترین کتب مذہب متون ہیں پھر شروح پھر فتاوی عند التخالف متون سب پر مقدم ہیں اور فتاوی سب سے مؤخر۔ پھر کیونکر روا ہو کہ سب میں مفضول کو سب سے افضل قرار دیجئے۔ ردالمحتار میں ہے :
مافی الفتاوی اذا خالف مافی المشاھیر عن الشروح لایقبل ۔
فتاوی میں جو کہا گیا ہو وہ مشہور شروحات کے مخالف ہوتو قبول نہ ہوگا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
حیث تعارض متنہ وشرحہ فالعمل علی المتون کما تقرر مرارا ۔
جب متن وشروح میں تعارض ہوتو متن پر عمل ہوگا جیسا کہ کئی دفعہ گزرا۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
اذا تعارض مافی المتون والفتاوی فالمعتمد مافی المتون کما فی انفع الوسائل وکذا یقدم مافی الشروح علی مافی الفتاوی اھ نقلہ الشامی من القضاء فی فصل الحبس۔
اگر متون اور فتاوی میں مذکور کا تعارض ہو تو متون کا ذکر کردہ قابل اعتماد ہے جیسا کہ انفع المسائل میں ہے اور یونہی جو شروحات میں ہو وہ فتاوی سے مقدم ہے اھ اس کو علامہ شامی نے کتاب القضاء فصل فی الحبس سے نقل کیا ہے۔ (ت)
حموی شرح اشباہ میں ہے :
غیرخاف ان مافی المتون والشروح ولو کان بطریق المفہوم مقدم علی مافی فتاوی وان لم یکن فی عبارتھا اضطراب ۔
یہ چیز مخفی نہیں کہ جو متون اور شروح میں ہو اگر چہ بطریق مفہوم ہی ہو وہ فتاوی میں مذکور پرمقدم ہے اگر چہ فتاوی کی عبارات میں اضطراب نہ بھی ہو (ت)
مافی الفتاوی اذا خالف مافی المشاھیر عن الشروح لایقبل ۔
فتاوی میں جو کہا گیا ہو وہ مشہور شروحات کے مخالف ہوتو قبول نہ ہوگا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
حیث تعارض متنہ وشرحہ فالعمل علی المتون کما تقرر مرارا ۔
جب متن وشروح میں تعارض ہوتو متن پر عمل ہوگا جیسا کہ کئی دفعہ گزرا۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
اذا تعارض مافی المتون والفتاوی فالمعتمد مافی المتون کما فی انفع الوسائل وکذا یقدم مافی الشروح علی مافی الفتاوی اھ نقلہ الشامی من القضاء فی فصل الحبس۔
اگر متون اور فتاوی میں مذکور کا تعارض ہو تو متون کا ذکر کردہ قابل اعتماد ہے جیسا کہ انفع المسائل میں ہے اور یونہی جو شروحات میں ہو وہ فتاوی سے مقدم ہے اھ اس کو علامہ شامی نے کتاب القضاء فصل فی الحبس سے نقل کیا ہے۔ (ت)
حموی شرح اشباہ میں ہے :
غیرخاف ان مافی المتون والشروح ولو کان بطریق المفہوم مقدم علی مافی فتاوی وان لم یکن فی عبارتھا اضطراب ۔
یہ چیز مخفی نہیں کہ جو متون اور شروح میں ہو اگر چہ بطریق مفہوم ہی ہو وہ فتاوی میں مذکور پرمقدم ہے اگر چہ فتاوی کی عبارات میں اضطراب نہ بھی ہو (ت)
حوالہ / References
درالمحتار کتاب الرضاع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۲
درمختار كتاب القضاء مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۸۶
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۱۷ ، بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی الحبس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۸۵
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الحجر والمأذون ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۴۸۰
درمختار كتاب القضاء مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۸۶
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۱۷ ، بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی الحبس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۸۵
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الحجر والمأذون ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۴۸۰
رہا امام صفار کا دربارہ وطی قول صاحبین اختیار فرمانا اس کا جواب ہمارے فتوائے سابقہ سے مل سکتا ہے جس سے ظاہر کہ قول امام کوکتنی وجہ سے ترجیح ہے : اولا قوت دلیل جس کی کچھ تفصیل ان شاء اﷲتعالی عنقریب ظاہر ہوگی ۔
ثانیا کثرت مفیدان ومسلمان ترجیح جن میں ایك امام برہان الحق والدین فرغانی صاحب ہدایہ جن کی جلالت شان آفتاب نیم روز وماہتاب نیم ماہ سے اظہر ایك امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام ہیں جن کی نسبت علماء کی تصریح کہ پایہ اجتہاد رکھتے ہیں یہاں تك کہ ان کے بعض معاصر انہیں لائق اجتہاد کہتے حالانکہ معاصرت دلیل منافرت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
قدمنا غیر مرۃ الکمال من اھل الترجیح کما افادہ فی قضاء البحر بل صرح بعض معاصریۃ بانہ من اھل الاجتہاد ۔
ہم متعدد بار پہلے ذکر کر چلے ہیں کہ امام کمال اہل ترجیح سے ہیں جیسے کہ بحر کے قضاء کے باب میں افادہ کیا ہے بلکہ ان کے بعض معاصرین نے تصریح کی ہے کہ وہ اہل اجتہاد میں سے ہیں ۔ (ت)
ایك امام علامہ فقیہ النفس قاضی خاں ہیں جن کی نسبت علماء فرماتے ہیں ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پرمقدم ہے غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر میں ہے :
فی تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم ان مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس ۔
علامہ قاسم کی تصحیح القدوری میں ہے کہ جس کو امام قاضی خان صحیح قراردیں وہ قول دوسروں کے اقوال پر مقدم ہے کیونکہ آپ فقیہ النفس ہیں ۔ (ت)
اور فرما تے ہیں ان کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے ردالمحتار میں ہے :
کن علی ذکر مما قالوا لایعدل عن تصحیح قاضی خاں فانہ فقیہ النفس ۔
فقہاء کرام نے جو فرمایا اسے یاد رکھو کہ امام قاضی خاں کی تصحیح سے عدول جائز نہیں کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں ۔ (ت)
ثالثا اجماع متون جن کی عظمت مکان ابھی سن چکے پھر ان کا اطباق واتفاق کیسا ہوگا ولہذا بارہا
ثانیا کثرت مفیدان ومسلمان ترجیح جن میں ایك امام برہان الحق والدین فرغانی صاحب ہدایہ جن کی جلالت شان آفتاب نیم روز وماہتاب نیم ماہ سے اظہر ایك امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام ہیں جن کی نسبت علماء کی تصریح کہ پایہ اجتہاد رکھتے ہیں یہاں تك کہ ان کے بعض معاصر انہیں لائق اجتہاد کہتے حالانکہ معاصرت دلیل منافرت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
قدمنا غیر مرۃ الکمال من اھل الترجیح کما افادہ فی قضاء البحر بل صرح بعض معاصریۃ بانہ من اھل الاجتہاد ۔
ہم متعدد بار پہلے ذکر کر چلے ہیں کہ امام کمال اہل ترجیح سے ہیں جیسے کہ بحر کے قضاء کے باب میں افادہ کیا ہے بلکہ ان کے بعض معاصرین نے تصریح کی ہے کہ وہ اہل اجتہاد میں سے ہیں ۔ (ت)
ایك امام علامہ فقیہ النفس قاضی خاں ہیں جن کی نسبت علماء فرماتے ہیں ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پرمقدم ہے غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر میں ہے :
فی تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم ان مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس ۔
علامہ قاسم کی تصحیح القدوری میں ہے کہ جس کو امام قاضی خان صحیح قراردیں وہ قول دوسروں کے اقوال پر مقدم ہے کیونکہ آپ فقیہ النفس ہیں ۔ (ت)
اور فرما تے ہیں ان کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے ردالمحتار میں ہے :
کن علی ذکر مما قالوا لایعدل عن تصحیح قاضی خاں فانہ فقیہ النفس ۔
فقہاء کرام نے جو فرمایا اسے یاد رکھو کہ امام قاضی خاں کی تصحیح سے عدول جائز نہیں کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں ۔ (ت)
ثالثا اجماع متون جن کی عظمت مکان ابھی سن چکے پھر ان کا اطباق واتفاق کیسا ہوگا ولہذا بارہا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب العتق باب التدبیر داراحیاء التراث العر بی بیروت ۳ / ۳۵
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الاجارات الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۵۶-۴۵۵
ردالمحتار کتاب الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۳
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الاجارات الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۵۶-۴۵۵
ردالمحتار کتاب الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۳
دیکھا ہے کہ علماء نے شروح وفتاوی کی بعض صریح تصحیحیں صرف اس بنا پر رد کر دی ہیں کہ متون اس کے خلاف پر ہیں درمختار کی کتاب القسمۃ میں ہے :
قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی لکن المتون علی الاول فعلیہ المعول ۔
خانیہ میں فرمایا کہ فتوی اسی پر ہے لیکن متون پہلے قول پر ہیں تو اسی پر اعتماد ہوگا۔ (ت)
دیکھو امام اجل قاضی خاں سامر جح اور علیہ الفتوی سا لفظ ترجیح جسے علماء آکد الفاظ تصحیح سے شمار کرتے ہیں بااینہمہ کہا گیا کہ متون اول پر ہیں تو وہی معتمد ہے اما م کے نزدیك عصبات کے بعد ولایت نکاح ماں کو ہے۔ قہستانی شرح مختصر الوقایہ میں لکھا صاحبین کے نزدیك غیر عصبہ ولی نہیں اور یہی ایك روایت امام سے ہے پھر مضمرات شرح قدوری سے نقل کیا : وعلیہ الفتوی (اور اس پر فتوی ہے۔ ت) مگر محققین نے نہ مانا کہ خلاف متون ہے۔ بحرالرائق ونہر الفائق دونوں میں فرمایا :
ماقیل من ان الفتوی علی الثانی غریب لمخالفتہ المتون الموضوعۃ لبیان الفتوی اھ ۔
جو کہا جاتا ہے کہ فتوی ثانی پر ہے یہ غریب ہے کیونکہ یہ متون کے مخالف ہے جو کہ فتوی کو بیان کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں اھ (ت)
علامہ شامی نے ردالمحتار اسے نقل کرکے مقرر رکھا کنوئیں سے نجاست نکلے اور وقت وقوع نہ معلوم ہوتو امام ایك یا تین دن سے تنجس مانتے ہیں اور صاحبین فی الحال صاحب محیط کہ ائمہ ترجیح سے ہیں دربارہ وضوغسل وعجین قول امام اور ان کے ماورا میں قول صاحبین اختیار کرتے اور وہ امام زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں اسی تفصیل کو ھوالصحیح (یہی صحیح ہے۔ ت) کہتے ہین اور اسی پر بحرالرائق ومنح الغفار وتنویر الابصار ودرمختار میں جزم کیا باایں ہمہ علامہ شامی سے رد کرتے اور عدم تسلیم کی پہلی وجہ یہی لکھتے ہیں کہ
مخالف لاطلاق المتون قاطبۃ
(یہ تمام متون کے اطلاق کے مخالف ہے ۔ ت)
حموی شرح اشباہ میں ایك مسئلے کی نسبت جس میں روایت ابی یوسف کو حاوی قدسی میں علیہ الفتوی اشباہ میں المصحح المعتمد کہا فرماتے ہیں :
قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی لکن المتون علی الاول فعلیہ المعول ۔
خانیہ میں فرمایا کہ فتوی اسی پر ہے لیکن متون پہلے قول پر ہیں تو اسی پر اعتماد ہوگا۔ (ت)
دیکھو امام اجل قاضی خاں سامر جح اور علیہ الفتوی سا لفظ ترجیح جسے علماء آکد الفاظ تصحیح سے شمار کرتے ہیں بااینہمہ کہا گیا کہ متون اول پر ہیں تو وہی معتمد ہے اما م کے نزدیك عصبات کے بعد ولایت نکاح ماں کو ہے۔ قہستانی شرح مختصر الوقایہ میں لکھا صاحبین کے نزدیك غیر عصبہ ولی نہیں اور یہی ایك روایت امام سے ہے پھر مضمرات شرح قدوری سے نقل کیا : وعلیہ الفتوی (اور اس پر فتوی ہے۔ ت) مگر محققین نے نہ مانا کہ خلاف متون ہے۔ بحرالرائق ونہر الفائق دونوں میں فرمایا :
ماقیل من ان الفتوی علی الثانی غریب لمخالفتہ المتون الموضوعۃ لبیان الفتوی اھ ۔
جو کہا جاتا ہے کہ فتوی ثانی پر ہے یہ غریب ہے کیونکہ یہ متون کے مخالف ہے جو کہ فتوی کو بیان کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں اھ (ت)
علامہ شامی نے ردالمحتار اسے نقل کرکے مقرر رکھا کنوئیں سے نجاست نکلے اور وقت وقوع نہ معلوم ہوتو امام ایك یا تین دن سے تنجس مانتے ہیں اور صاحبین فی الحال صاحب محیط کہ ائمہ ترجیح سے ہیں دربارہ وضوغسل وعجین قول امام اور ان کے ماورا میں قول صاحبین اختیار کرتے اور وہ امام زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں اسی تفصیل کو ھوالصحیح (یہی صحیح ہے۔ ت) کہتے ہین اور اسی پر بحرالرائق ومنح الغفار وتنویر الابصار ودرمختار میں جزم کیا باایں ہمہ علامہ شامی سے رد کرتے اور عدم تسلیم کی پہلی وجہ یہی لکھتے ہیں کہ
مخالف لاطلاق المتون قاطبۃ
(یہ تمام متون کے اطلاق کے مخالف ہے ۔ ت)
حموی شرح اشباہ میں ایك مسئلے کی نسبت جس میں روایت ابی یوسف کو حاوی قدسی میں علیہ الفتوی اشباہ میں المصحح المعتمد کہا فرماتے ہیں :
حوالہ / References
درمختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۱۹
جامع الرموز فصل الولی والکفؤ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۶۷
بحرالرائق باب الاولیاء والاکفیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۴ ، ردالمحتار بحوالہ البحر والنہر باب الولی داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۲
ردالمحتار فصل فی البرء داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۲
جامع الرموز فصل الولی والکفؤ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۶۷
بحرالرائق باب الاولیاء والاکفیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۴ ، ردالمحتار بحوالہ البحر والنہر باب الولی داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۲
ردالمحتار فصل فی البرء داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۲
مجرددعوی الحاوی ان الفتوی علیہ لایقتضی انہ المصحح المعتمد فی المذھب کیف واصحاب المتون قاطبۃ والشروح ماشون علی قولھما(یعنی الطرفین) ومشی اصحاب المتون تصحیح التزامی علی ان مافی المتون والشروح مقدمہ علی مافی الفتاوی ۔ حاوی کا صرف یہ دعوی کر دینا کہ اسی پر فتوی ہے اس سے یہ لازم آتا کہ یہی تصحیح شدہ اور قابل اعتماد ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ تمام متون اور شروح طرفین کے قول پر ہیں اورتمام متون اس تصحیح کا التزام کیے ہوئے ہیں کہ متون وشروح کے مسائل فتاوی کے مسائل پر مقدم ہیں ۔ (ت)
رابعا یہی مذہب امام ہے اور علماء فرماتے ہیں قول امام ہی پر اعتماد ضرور ہے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگر چہ مشائخ کرام مذہب صاحبین کی تصحیح کریں کمایا تی انفاان شاء اﷲتعالی(جیساکہ عنقریب آئےگا ان شاء اﷲتعالی۔ ت)
امر چہارم میں جس قاعدہ کا ذکر ہوا جب سے مذہب حنفی عالم میں آیا کسی عالم نے دربارہ اختلاف امام وصاحبین اسے جاری نہ کیا نہ ہرگز تمام دنیا میں کوئی اس کا قائل بلکہ سلف وخلف کا اجماع کامل اس کے برخلاف پر گواہ عادل ہزار ہا مسائل میں صاحبین نے خلاف کیا پھر شوق وغروب سے کتب فقہ جمع کرکے دیکھئے قول صاحبین معدود ہی جگہ مفتی ملے گا جہاں اختلاف زمانہ کے سبب تغیر حکم ہوا یا تعامل ودفع حرج کے مثل کوئی ایسی ہی ضرورت پیش آئی علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی حاشےہئ درمختار میں فرماتے ہیں :
حصل المخالفۃ من الصاحبین فی نحو ثلث المذھب ولکن الاکثر فی الاعتماد علی قول الامام ۔
صاحبین کا تقریباایك تہائی مذہب میں اختلاف ہے لیکن اکثر اعتماد امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے مسلك پر ہے۔ (ت)
میں یہاں ائمہ محققین کی بعض عبارات اقتصار کرتاہوں جن سے کالشمس ظاہر کہ سوا موضع معدودہ کے قول امام ہی پر اعتماد لازم اور اس کے خلاف کثرت رائے بلکہ فتوائے مشائخ پر بھی التفات نہیں کہ ایك آفتاب لاکھ ستاروں کوچھپالیتا ہے اسی “ سب سے عمدہ خلاصہ سب سے حال کی مستند کتاب “ فتاوی عالمگیری میں محیط امام شمسی الائمہ سرخسی سے ہے :
اذا اختلفو فیما بینھم قال عبد اﷲ بن
جب احناف کا آپس میں اختلاف ہو تو عبد اﷲبن مبارك
رابعا یہی مذہب امام ہے اور علماء فرماتے ہیں قول امام ہی پر اعتماد ضرور ہے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگر چہ مشائخ کرام مذہب صاحبین کی تصحیح کریں کمایا تی انفاان شاء اﷲتعالی(جیساکہ عنقریب آئےگا ان شاء اﷲتعالی۔ ت)
امر چہارم میں جس قاعدہ کا ذکر ہوا جب سے مذہب حنفی عالم میں آیا کسی عالم نے دربارہ اختلاف امام وصاحبین اسے جاری نہ کیا نہ ہرگز تمام دنیا میں کوئی اس کا قائل بلکہ سلف وخلف کا اجماع کامل اس کے برخلاف پر گواہ عادل ہزار ہا مسائل میں صاحبین نے خلاف کیا پھر شوق وغروب سے کتب فقہ جمع کرکے دیکھئے قول صاحبین معدود ہی جگہ مفتی ملے گا جہاں اختلاف زمانہ کے سبب تغیر حکم ہوا یا تعامل ودفع حرج کے مثل کوئی ایسی ہی ضرورت پیش آئی علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی حاشےہئ درمختار میں فرماتے ہیں :
حصل المخالفۃ من الصاحبین فی نحو ثلث المذھب ولکن الاکثر فی الاعتماد علی قول الامام ۔
صاحبین کا تقریباایك تہائی مذہب میں اختلاف ہے لیکن اکثر اعتماد امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے مسلك پر ہے۔ (ت)
میں یہاں ائمہ محققین کی بعض عبارات اقتصار کرتاہوں جن سے کالشمس ظاہر کہ سوا موضع معدودہ کے قول امام ہی پر اعتماد لازم اور اس کے خلاف کثرت رائے بلکہ فتوائے مشائخ پر بھی التفات نہیں کہ ایك آفتاب لاکھ ستاروں کوچھپالیتا ہے اسی “ سب سے عمدہ خلاصہ سب سے حال کی مستند کتاب “ فتاوی عالمگیری میں محیط امام شمسی الائمہ سرخسی سے ہے :
اذا اختلفو فیما بینھم قال عبد اﷲ بن
جب احناف کا آپس میں اختلاف ہو تو عبد اﷲبن مبارك
حوالہ / References
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام الجمعۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۲۳۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۸
المبارك یؤخذ بقول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی لانہ کان من التابعین وزاحمھم فی الفتوی ۔
کے قول کے مطابق امام ابوحنیفہ کا قول قابل عمل ہوتا ہے کیونکہ وہ تابعی ہیں اور دیگر تابعین کے فتاوی کے مقابل انہوں نے فتاوی پیش کئے۔ (ت)
تنویرالابصار میں ہے :
یاخذ بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۔
قاضی مطلقا امام ابوحنیفہ کے قول کو لے گا۔ (ت)
درمختار کا منیہ وسراجیہ سےنقل کرنا گزرا ھوا لاصح( وہی زیادہ صحیح ہے۔ ت) اور یہ بھی کہ القاضی کا لمفتی ( قاضی کی مثل ہے۔ ت) اور یہ بھی کہ نہر الفائق میں اسی کو اضبط کہا اسی کی کتاب ادب المقا ل میں تصحیح کی کما فی الحاشیۃ الطحطاویۃ(جیسا کہ حاشیہ طحطاوی میں ہے۔ ت) اسی پر امام محقق علی الاطلاق نے جزم فرمایا اور بعض مشائخ جو کہیں قول صاحبین پر افتاکردیتے ہیں اسے بلاوجہ قوی محض نا مقبول ٹہرایا۔ حاشیہ شامیہ میں ہے :
ردالمحقق ابن الھمام علی بعض المشائخ حیث افتوابقول الامامین بانہ لایعدل عن قول الامام الالضعف دلیلہ ۔
بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا تو محقق ابن ہمام نے ان کا ردکرتے ہوئے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کے قول سے اعراض نہیں کیا جاسکتا الایہ کہ ان کی دلیل کمزور ہو۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
قد صححوا ان الافتاء بقول الامام فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ اھ نقلہ العلامۃ الطحطاوی اول القضا۔
مشائخ نے تصحیح فرمائی ہے کہ فتوی امام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم پر امام کے قول پر فتوی دینا واجب ہے اگر چہ مشائخ نے قول امام کے خلاف فتوی دیا ہواھ اس کو طحطاوی نے باب قضاء کی ابتداء میں نقل کیا ہے۔ (ت)
کے قول کے مطابق امام ابوحنیفہ کا قول قابل عمل ہوتا ہے کیونکہ وہ تابعی ہیں اور دیگر تابعین کے فتاوی کے مقابل انہوں نے فتاوی پیش کئے۔ (ت)
تنویرالابصار میں ہے :
یاخذ بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۔
قاضی مطلقا امام ابوحنیفہ کے قول کو لے گا۔ (ت)
درمختار کا منیہ وسراجیہ سےنقل کرنا گزرا ھوا لاصح( وہی زیادہ صحیح ہے۔ ت) اور یہ بھی کہ القاضی کا لمفتی ( قاضی کی مثل ہے۔ ت) اور یہ بھی کہ نہر الفائق میں اسی کو اضبط کہا اسی کی کتاب ادب المقا ل میں تصحیح کی کما فی الحاشیۃ الطحطاویۃ(جیسا کہ حاشیہ طحطاوی میں ہے۔ ت) اسی پر امام محقق علی الاطلاق نے جزم فرمایا اور بعض مشائخ جو کہیں قول صاحبین پر افتاکردیتے ہیں اسے بلاوجہ قوی محض نا مقبول ٹہرایا۔ حاشیہ شامیہ میں ہے :
ردالمحقق ابن الھمام علی بعض المشائخ حیث افتوابقول الامامین بانہ لایعدل عن قول الامام الالضعف دلیلہ ۔
بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا تو محقق ابن ہمام نے ان کا ردکرتے ہوئے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کے قول سے اعراض نہیں کیا جاسکتا الایہ کہ ان کی دلیل کمزور ہو۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
قد صححوا ان الافتاء بقول الامام فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ اھ نقلہ العلامۃ الطحطاوی اول القضا۔
مشائخ نے تصحیح فرمائی ہے کہ فتوی امام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم پر امام کے قول پر فتوی دینا واجب ہے اگر چہ مشائخ نے قول امام کے خلاف فتوی دیا ہواھ اس کو طحطاوی نے باب قضاء کی ابتداء میں نقل کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الثالث فی ترتیب الدلائل للعمل بہا نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۱۲
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
ردالمحتار مطبع عن الامام اذا صح الحدیث الخ داراحیاء التراث بیروت ۱ / ۴۶
بحرالرائق کتاب القضاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۷۰ -۲۶۹
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
ردالمحتار مطبع عن الامام اذا صح الحدیث الخ داراحیاء التراث بیروت ۱ / ۴۶
بحرالرائق کتاب القضاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۷۰ -۲۶۹
فتاوی خیریہ۱۱کی کتاب الشہادات مسئلہ شہادۃ الاعمی میں ہے :
المقرر ایضا عندنا انہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الالضرورۃ (من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ) لمسئلۃ المزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذہب والامام المقدم اذا قالت حذام فصد قوھا فان القول ماقالت حذام
یہ طے شدہ ہے کہ ہمارے ہاں امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہی عمل وفتوی ہوگا اور صاحبین یا ان میں سے کسی ایك کے قول یا کسی اور کے قول پربغیر ضرورت فتوی نہ ہوگا(اور ضرورت کی مثال ضعیف دلیل یا عرف وتعامل کا اس کے خلاف ہونا ہے) جیسا کہ مزارعت کا مسئلہ ہے اگر چہ مشائخ تصریح کرچکے ہوں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ امام ابوحنیفہ صاحب مذہب ہیں اور سب سے مقدم امام ہیں (شعر کا ترجمہ) جب حذام کچھ کہے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ بات وہی ہے جو حذام کہتی ہے۔ (ت)
بعینہ اسی طرح بحرالرائق کی کتاب الصلوۃ بحث اوقات میں تصریح فرمائی اور اس سے ردالمحتار وحاشیہ طحطاویہ میں نقل کرکے مقرر رکھا امام المحققین شیخ الاسلام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں :
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال
میرے نزدیك ہر حال میں امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی دینا واجب ہے۔ (ت)
مسئلہ وقت عشا میں جو قول صاحبین کو درر میں مفتی بہ بتایا علامہ نوح آفندی نے اس پر فرمایا :
لایجوز الاعتماد علیہ لانہ لایرجح قولھما علی قولہ الابموجب من ضعف دلیل او ضرورۃ او تعامل او اختلاف زمان ولم یوجد شئی من ذلك فالعمل علی قولہ اھ نقلھما
اس پر اعتماد درست نہیں کیونکہ امام صاحب کے مقابلہ میں صاحبین کے قول کو ترجیح نہیں ہوسکتی مگر جب کوئی سبب ہومثلا دلیل کا ضعف ضرورت تعامل یا اختلاف زمان میں سے کوئی چیز ہو اور جبکہ ان میں سے کچھ بھی نہیں تو امام کے قول پر عمل ہوگا اھ
المقرر ایضا عندنا انہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الالضرورۃ (من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ) لمسئلۃ المزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذہب والامام المقدم اذا قالت حذام فصد قوھا فان القول ماقالت حذام
یہ طے شدہ ہے کہ ہمارے ہاں امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہی عمل وفتوی ہوگا اور صاحبین یا ان میں سے کسی ایك کے قول یا کسی اور کے قول پربغیر ضرورت فتوی نہ ہوگا(اور ضرورت کی مثال ضعیف دلیل یا عرف وتعامل کا اس کے خلاف ہونا ہے) جیسا کہ مزارعت کا مسئلہ ہے اگر چہ مشائخ تصریح کرچکے ہوں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ امام ابوحنیفہ صاحب مذہب ہیں اور سب سے مقدم امام ہیں (شعر کا ترجمہ) جب حذام کچھ کہے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ بات وہی ہے جو حذام کہتی ہے۔ (ت)
بعینہ اسی طرح بحرالرائق کی کتاب الصلوۃ بحث اوقات میں تصریح فرمائی اور اس سے ردالمحتار وحاشیہ طحطاویہ میں نقل کرکے مقرر رکھا امام المحققین شیخ الاسلام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں :
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال
میرے نزدیك ہر حال میں امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی دینا واجب ہے۔ (ت)
مسئلہ وقت عشا میں جو قول صاحبین کو درر میں مفتی بہ بتایا علامہ نوح آفندی نے اس پر فرمایا :
لایجوز الاعتماد علیہ لانہ لایرجح قولھما علی قولہ الابموجب من ضعف دلیل او ضرورۃ او تعامل او اختلاف زمان ولم یوجد شئی من ذلك فالعمل علی قولہ اھ نقلھما
اس پر اعتماد درست نہیں کیونکہ امام صاحب کے مقابلہ میں صاحبین کے قول کو ترجیح نہیں ہوسکتی مگر جب کوئی سبب ہومثلا دلیل کا ضعف ضرورت تعامل یا اختلاف زمان میں سے کوئی چیز ہو اور جبکہ ان میں سے کچھ بھی نہیں تو امام کے قول پر عمل ہوگا اھ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارا لمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصّلٰوۃ دار المعر فۃ بیروت ۱ / ١٧٥
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصّلٰوۃ دار المعر فۃ بیروت ۱ / ۱۷۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصّلٰوۃ دار المعر فۃ بیروت ۱ / ١٧٥
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصّلٰوۃ دار المعر فۃ بیروت ۱ / ۱۷۵
العلامۃ الطحطاوی فی مبحث اوقات الصلوۃ۔
علامہ طحطاوی نے ان دونوں عبارتوں کو اوقات صلوۃ کی بحث میں ذکر کیا ہے(ت)
پھر یہ ضعیف دلیل جسے علماء مبیح عدول فرماتے ہیں اس کے معنی بھی سمجھ لیجئے یہ وہ ہے کہ اعاظم ائمہ مجتہدان فتوی اس کے ضعف پر تنصیص کریں نہ وہ جسے من وتو اپنے اذہان قاصرہ سے ضعیف سمجھ لیں کہ اول تو یہ دلائل جو مصنفین لکھتے ہیں کیا معلوم امام کی نظر انہیں پر تھی اورہو بھی تو ہم کیا اور ہمارا ضعیف سمجھنا کیا
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش
نظام مملکت خویش خسرو اں دانند
(اے حافظ! گدائے خاك نشین کو مت چھیڑ کہ ملك کے نظام کو چلانا خود بادشاہ ہی جانتا ہے)علامہ طحطاوی فرماتے ہیں :
انہ قد یظہر قوۃ لہ بحسب اداراکہ ویکون الواقع بخلافہ او بحسب دلیل ویکون لصاحب المذہب دلیل اخر لم یطلع علیہ انتہی
بھی امام کی دلیل کی قوت ظاہر ہوتی ہے جس کا ادراك کرلیا جاتا ہے اور واقع میں اس کے خلاف ہوتا ہے یا یہ ہوتا ہے یہ کچھ دلیل سمجھے حالانکہ صاحب مذہب(امام صاحب) کی دلیل کچھ اور ہے جس پر اطلاع نہ ہوئی انتہی(ت)
اب مجھے اس تحقیق انیق کے بعد اصلا ضرورت نہ رہی کہ امر پنجم کی طرف تو جہ کروں میرا یہی کلام ہرگونہ دلائل کے جواب میں بس ہے معہذا جو کچھ اس میں بیان ہوا اسی دلیل سے ماخوذ ہے جو ہدایہ وشرح وقایہ و کافی و اختیار ومستخلص وغیرہا میں مذہب صاحبین پر ظاہر کی گئی اور اس کے ساتھ ہی انہیں کتابوں میں اس کا نفیس جواب بھی دے دیا جہاں تك میری نظر ہے کوئی کتاب مستند ایسی نہ ملے گی جس میں یہ تقریر مسطور اور اس کا جواب نہ مذکور ہو میں یہاں صرف درمختار کے وہ مختصر لفظ جو انہوں نے امام صدر الشریعۃ وغیرہ سے اخذ کرکے لکھے نقل کرنا کافی سمجھتا ہوں دلیل امام میں فرماتے ہیں :
کل طاۃ معقود علیہا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی
ہر وطی مہر کا بد ل ہے تو بعض مہر کا سونپنا باقی کے سونپنے کا موجب نہیں بنتا ہے۔ (ت)
اس مرام نفیس کی توضیح و تلخیص یہ ہے کہ بیع عین پر وارد ہوتی ہے وہ ایك بار سپرد ہوکر کیا باقی ہے
علامہ طحطاوی نے ان دونوں عبارتوں کو اوقات صلوۃ کی بحث میں ذکر کیا ہے(ت)
پھر یہ ضعیف دلیل جسے علماء مبیح عدول فرماتے ہیں اس کے معنی بھی سمجھ لیجئے یہ وہ ہے کہ اعاظم ائمہ مجتہدان فتوی اس کے ضعف پر تنصیص کریں نہ وہ جسے من وتو اپنے اذہان قاصرہ سے ضعیف سمجھ لیں کہ اول تو یہ دلائل جو مصنفین لکھتے ہیں کیا معلوم امام کی نظر انہیں پر تھی اورہو بھی تو ہم کیا اور ہمارا ضعیف سمجھنا کیا
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش
نظام مملکت خویش خسرو اں دانند
(اے حافظ! گدائے خاك نشین کو مت چھیڑ کہ ملك کے نظام کو چلانا خود بادشاہ ہی جانتا ہے)علامہ طحطاوی فرماتے ہیں :
انہ قد یظہر قوۃ لہ بحسب اداراکہ ویکون الواقع بخلافہ او بحسب دلیل ویکون لصاحب المذہب دلیل اخر لم یطلع علیہ انتہی
بھی امام کی دلیل کی قوت ظاہر ہوتی ہے جس کا ادراك کرلیا جاتا ہے اور واقع میں اس کے خلاف ہوتا ہے یا یہ ہوتا ہے یہ کچھ دلیل سمجھے حالانکہ صاحب مذہب(امام صاحب) کی دلیل کچھ اور ہے جس پر اطلاع نہ ہوئی انتہی(ت)
اب مجھے اس تحقیق انیق کے بعد اصلا ضرورت نہ رہی کہ امر پنجم کی طرف تو جہ کروں میرا یہی کلام ہرگونہ دلائل کے جواب میں بس ہے معہذا جو کچھ اس میں بیان ہوا اسی دلیل سے ماخوذ ہے جو ہدایہ وشرح وقایہ و کافی و اختیار ومستخلص وغیرہا میں مذہب صاحبین پر ظاہر کی گئی اور اس کے ساتھ ہی انہیں کتابوں میں اس کا نفیس جواب بھی دے دیا جہاں تك میری نظر ہے کوئی کتاب مستند ایسی نہ ملے گی جس میں یہ تقریر مسطور اور اس کا جواب نہ مذکور ہو میں یہاں صرف درمختار کے وہ مختصر لفظ جو انہوں نے امام صدر الشریعۃ وغیرہ سے اخذ کرکے لکھے نقل کرنا کافی سمجھتا ہوں دلیل امام میں فرماتے ہیں :
کل طاۃ معقود علیہا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی
ہر وطی مہر کا بد ل ہے تو بعض مہر کا سونپنا باقی کے سونپنے کا موجب نہیں بنتا ہے۔ (ت)
اس مرام نفیس کی توضیح و تلخیص یہ ہے کہ بیع عین پر وارد ہوتی ہے وہ ایك بار سپرد ہوکر کیا باقی ہے
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء مطبع دارا لمعرفۃ بیروت ۳ / ۱۷۶
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
کہ محبوس ہو بخلاف نکاح کہ عورت کے گوشت پوست پر وارد نہیں منافع بضع پر ہے اور وہ متجدد تو بعض کی تسلیم کل کی تسلیم نہیں نہ بعض پر رضا سے کل پر رضا لازم وبعبارۃ اخری شرع نے حق حبس دیا ہے نہ اختیار استرداد اور مبیع میں تجدید منع بشکل استرداد ہی معقول اور نکاح میں منفعت ماضیہ کی واپسی محال تو نہ ہوگا مگر حبس منفعت آئندہ ولہذا اگر بیع میں بھی چند چیزیں ایك عقد میں بیچیں اور بعض بخوشی دے دیں بعض باقی کر روك سکتا ہے جب تك تمام ثمن وصول نہ ہو کہ یہاں بھی بوجہ تعدد اقباض بعض اقباض کل نہیں کفایہ میں ہے :
لوسلم البائع بعض المبیع الی المشتری لایسقط حقہ فی حبس مابقی منہ ۔
اگر بائع مشتری کو کچھ مبیع سونپ دے تو باقی کو روك رکھنے کا حق اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ (ت)
پس فرق واضح ہوگیا اور استدلال ساقط میں یہاں تطویل کلام نہیں چاہتا کہ یہ امر تو علما پہلے ہی طے فرما چکے مگر شاید اتنا کہنا بیکار نہ ہو کہ خودامام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی بیع ونکاح کے اس مسئلہ میں زمین وآسمان کافرق رکھتے ہیں یہآں تك کہ ان کے نزدیك مہر مؤجل کے لئے بھی عورت کو حق منع حاصل اور ثمن مؤجل ہوتو استحقاق حبس بالاجماع زائل وہ فرماتے ہیں حق حبس بیع میں اصل عقد کا مقتضی نہیں اور نکاح میں بحالت اطلاق نفس عقد کا مقتضی ہے ولہذا شوہر پر تقدیم تسلیم مطلقا لازم اگر چہ مہر اشیائے متعینہ سے ہو جیسے عبد یا دار یا ثوب اور بیع میں مشتری پر تقدم اسی حالت میں ضرور کہ مبیعین ہو اور ثمن دین جیسے درہم ودینار امام سغناقی نہایہ میں کہ ہدایہ کی پہلی شرح ہے تقریر مذہب ابی یوسف میں میں فرماتے ہیں :
قال ان موجب النکاح عند الطلاق تسلیم المہر عینا کان اودینا فحین قبل الزوج الاجل مع علمہ بموجب العقد فقد رضی بتاخیر حقہ الی ان یوفی المہربعد حلول الاجل وبہ فارق البیع لان تسلیم الثمن اولا لیس من موجبات البیع لامحالۃ الاتری ان البیع لوکان مقایضۃ لاتجب تسلیم احد
انہوں نے کہا کہ نکاح کا موجب مطلقا مہر کا ادا کرنا ہے خواہ نقد ہو یادین ہو تو جب خاوند نے مہر کے لئے مدت مقررہ قبول کرلی جبکہ وہ نکاح کے موجب کے جانتا ہو تو گویا اس نے مدت مقررہ گزرنے تك اپنے حق کو مؤخر کرنا تسلیم کرلیا اسی نکتہ کی بنا پر نکاح اور بیع میں فرق واضح ہوگیا کیونکہ بیع میں اولا ثمن کی ادائیگی اس کا موجب لازمی نہیں آپ جانتے ہیں کہ بیع مقایضہ(سامان کا سامان سے سودا) میں کسی بدل کا
لوسلم البائع بعض المبیع الی المشتری لایسقط حقہ فی حبس مابقی منہ ۔
اگر بائع مشتری کو کچھ مبیع سونپ دے تو باقی کو روك رکھنے کا حق اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ (ت)
پس فرق واضح ہوگیا اور استدلال ساقط میں یہاں تطویل کلام نہیں چاہتا کہ یہ امر تو علما پہلے ہی طے فرما چکے مگر شاید اتنا کہنا بیکار نہ ہو کہ خودامام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی بیع ونکاح کے اس مسئلہ میں زمین وآسمان کافرق رکھتے ہیں یہآں تك کہ ان کے نزدیك مہر مؤجل کے لئے بھی عورت کو حق منع حاصل اور ثمن مؤجل ہوتو استحقاق حبس بالاجماع زائل وہ فرماتے ہیں حق حبس بیع میں اصل عقد کا مقتضی نہیں اور نکاح میں بحالت اطلاق نفس عقد کا مقتضی ہے ولہذا شوہر پر تقدیم تسلیم مطلقا لازم اگر چہ مہر اشیائے متعینہ سے ہو جیسے عبد یا دار یا ثوب اور بیع میں مشتری پر تقدم اسی حالت میں ضرور کہ مبیعین ہو اور ثمن دین جیسے درہم ودینار امام سغناقی نہایہ میں کہ ہدایہ کی پہلی شرح ہے تقریر مذہب ابی یوسف میں میں فرماتے ہیں :
قال ان موجب النکاح عند الطلاق تسلیم المہر عینا کان اودینا فحین قبل الزوج الاجل مع علمہ بموجب العقد فقد رضی بتاخیر حقہ الی ان یوفی المہربعد حلول الاجل وبہ فارق البیع لان تسلیم الثمن اولا لیس من موجبات البیع لامحالۃ الاتری ان البیع لوکان مقایضۃ لاتجب تسلیم احد
انہوں نے کہا کہ نکاح کا موجب مطلقا مہر کا ادا کرنا ہے خواہ نقد ہو یادین ہو تو جب خاوند نے مہر کے لئے مدت مقررہ قبول کرلی جبکہ وہ نکاح کے موجب کے جانتا ہو تو گویا اس نے مدت مقررہ گزرنے تك اپنے حق کو مؤخر کرنا تسلیم کرلیا اسی نکتہ کی بنا پر نکاح اور بیع میں فرق واضح ہوگیا کیونکہ بیع میں اولا ثمن کی ادائیگی اس کا موجب لازمی نہیں آپ جانتے ہیں کہ بیع مقایضہ(سامان کا سامان سے سودا) میں کسی بدل کا
حوالہ / References
کفایہ مع فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۲۵۰
البدلین اولافلم یکن المشتری راضیا بتاخیر حقہ فی المبیع الی ان یوفی الثمن وجعل (ف)فتوی علی قول ابی یوسف ۔
بھی ادا کرنا ابتداء ضروری نہیں لہذا بیع میں ثمن کی ادائیگی تك مشتری بیع کی تاخیر پر راضی نہ ہوا اورفتوی امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے(ت)
اسی طرح فتح القدیر وغیرہ شروح ہدایہ میں ہے پھر باوجود اس قدر تفرقوں کے کیونکر مانا جائے کہ نکاح میں یہ حکم محض مشابہت بیع ہی پر مبنی ہے کہ اس کے احکام سے کہیں تفاوت نہ کرسکے یہ مسئلہ ایك مبسوط رسالے کے قابل تھا
وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ واﷲولی الھدایۃ منہ البدایۃ والیہ النھایۃ۔ واﷲتعالی اعلم ۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس اہل فہم کے لئے کفایت ہے اﷲتعالی ہی ہدایت کا مالك اور اسی سے ابتداء اور انتہا ہے۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳ : ازسہسوان ۲۵جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ سے صرف نکاح کرکے چلا گیا رخصت نہ ہوئی نہ ایك نے دوسرے کی صورت دیکھی دو۲برس بعد ہندہ نے اس پر نالش کی رخصت کرائے یا طلاق دے۔ وہ کچہری میں آیا اور حاکم کے سامنے طلاق نامہ لکھ دیا پدرہندہ نے کل مہر ہندہ بے اجازت ہندہ معاف کردیا ہندہ اس معافی کونا منظور کرتی اور اپنا نصف مہر مانگتی ہے اس صورت میں ہندہ پرعدت لازم ہے یا نہیں اور اس کا دعوی مہر صحیح ہے یا نہیں اور باپ کے معاف کئے سے مہر معاف ہوگیا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
باپ کو کسی طرح اپنی بیٹی کے مہر معاف کردینے کا اختیار نہیں نہ ہرگز اس کے معاف کئے معاف ہوسکے
فان البنت ان کانت بالغۃ فلاولایۃ للاب علیھا اصلاوان کانت صغیرۃ فالولایۃ للنظر ولانظر فیما تمحض للضرر وکتب المذہب طافحۃ بھذا۔
اگر بیٹی بالغ ہو تو باپ کو اس پر بالکل ولایت نہیں اور اگر نابالغہ ہوتو پھر باپ کی ولایت شفقت پر مبنی ہے تو جو چیز محض ضرر ہووہ شفقت نہیں ہوسکتی مذہب کی کتب اس بیان میں بھر پور ہیں ۔ (ت)
بھی ادا کرنا ابتداء ضروری نہیں لہذا بیع میں ثمن کی ادائیگی تك مشتری بیع کی تاخیر پر راضی نہ ہوا اورفتوی امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے(ت)
اسی طرح فتح القدیر وغیرہ شروح ہدایہ میں ہے پھر باوجود اس قدر تفرقوں کے کیونکر مانا جائے کہ نکاح میں یہ حکم محض مشابہت بیع ہی پر مبنی ہے کہ اس کے احکام سے کہیں تفاوت نہ کرسکے یہ مسئلہ ایك مبسوط رسالے کے قابل تھا
وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ واﷲولی الھدایۃ منہ البدایۃ والیہ النھایۃ۔ واﷲتعالی اعلم ۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس اہل فہم کے لئے کفایت ہے اﷲتعالی ہی ہدایت کا مالك اور اسی سے ابتداء اور انتہا ہے۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳ : ازسہسوان ۲۵جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ سے صرف نکاح کرکے چلا گیا رخصت نہ ہوئی نہ ایك نے دوسرے کی صورت دیکھی دو۲برس بعد ہندہ نے اس پر نالش کی رخصت کرائے یا طلاق دے۔ وہ کچہری میں آیا اور حاکم کے سامنے طلاق نامہ لکھ دیا پدرہندہ نے کل مہر ہندہ بے اجازت ہندہ معاف کردیا ہندہ اس معافی کونا منظور کرتی اور اپنا نصف مہر مانگتی ہے اس صورت میں ہندہ پرعدت لازم ہے یا نہیں اور اس کا دعوی مہر صحیح ہے یا نہیں اور باپ کے معاف کئے سے مہر معاف ہوگیا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
باپ کو کسی طرح اپنی بیٹی کے مہر معاف کردینے کا اختیار نہیں نہ ہرگز اس کے معاف کئے معاف ہوسکے
فان البنت ان کانت بالغۃ فلاولایۃ للاب علیھا اصلاوان کانت صغیرۃ فالولایۃ للنظر ولانظر فیما تمحض للضرر وکتب المذہب طافحۃ بھذا۔
اگر بیٹی بالغ ہو تو باپ کو اس پر بالکل ولایت نہیں اور اگر نابالغہ ہوتو پھر باپ کی ولایت شفقت پر مبنی ہے تو جو چیز محض ضرر ہووہ شفقت نہیں ہوسکتی مذہب کی کتب اس بیان میں بھر پور ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References
العنایۃ حاشیۃ علی الہدایۃ مع فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۲۴۹
ف : خط کشیدہ عبارت عنایہ میں نہیں ، یہ نہایہ کی ہے ، اور نہایہ دستیاب نہیں۔ نذیر احمد
ف : خط کشیدہ عبارت عنایہ میں نہیں ، یہ نہایہ کی ہے ، اور نہایہ دستیاب نہیں۔ نذیر احمد
پس اگرزید نے بلاشرط معافی مہر طلاق دی تھی تو بیشك ہندہ پر طلاق بائن واقع ہوئی جس کے سبب وہ زید کے نکاح سے نکل گئی اور ازانجا کہ ہنوز خلوت نہ ہوئی تھی عدت کی بھی حاجت نہیں
فی مجمع الانہر طلق غیرالمدخول بھا بانت لاالی عدۃ اھ ملتقطا۔
مجمع الانہر میں ہے : غیر مدخول بہا کو طلاق دی تو عورت بائنہ ہوجائے گی اور عدت نہ ہوگی اھ ملتقطا(ت)
اوراس لئے نصف مہرہندہ ز ید پر واجب الادا جس کے دعوی کا اسے ہر وقت اختیار
اذا لاحالۃ تنتظر بعد الافتراق بموت اوطلاق ۔
کہ موت یا طلاق کی وجہ سے افتراق کے بعد کوئی قابل انتظار نہیں ۔ (ت)
اور اگر اس نے یوں کہا کہ میں نے ہندہ کو اس شرط پر طلاق دی کہ مجھے مہر معاف ہوجائے تو صورت مسئولہ میں نہ مہر معاف ہوا نہ طلاق پڑی اذا فات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہوجاتا ہے۔ ت)اس تقدیر پر دعوی مہر میں حکم ہوگا جو عورت کو بحالت زوجیت دیاجاتا ہے کہ مہر معجل ہوتو فی الفور لے سکتی ہے اور کچھ وعدہ مقرر ہوا ہوتو میعاد معلوم تك نہیں مانگ سکتی اورکچھ نہ ٹھہر اہوتو اس شہر کے رواج پر چھوڑیں گے یعنی ایسی حالت میں جو وہاں کا عرف ہو اسی پر عمل ہے
فی النقایۃ المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والا فالمتعارف ۔ واﷲ تعالی اعلم
نقایہ میں ہے کہ اگر مہر معجل یا مؤجل بیان کرے تو بہتر ورنہ جوعرف میں ہو وہ ٹھہریگا۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴ : ۳۰ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ از سہوان مرسلہ حافظ علی محمد صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح اس کی رضاعی بہن کے ساتھ بوجہ لاعلمیت کے ہوا اور وہ اس کے تصرف میں بھی رہی تو اس صورت میں زید پر دین مہر واجب الادا ہے یانہیں
الجواب :
صورت مسئولہ میں پورا مہر مثل واجب ہے اگر چہ مہر مسمی سے زائد ہو ردالمحتار وطحطاوی علی الدرالمختار میں زیر قول شارح
ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی ولمیزد علی المسمی لرضاھا بالحط
(نکاح فاسد وطی کرلینے سے مہر مثل واجب ہوتا ہے اور وہ مقررہ سے زائد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ساقط
فی مجمع الانہر طلق غیرالمدخول بھا بانت لاالی عدۃ اھ ملتقطا۔
مجمع الانہر میں ہے : غیر مدخول بہا کو طلاق دی تو عورت بائنہ ہوجائے گی اور عدت نہ ہوگی اھ ملتقطا(ت)
اوراس لئے نصف مہرہندہ ز ید پر واجب الادا جس کے دعوی کا اسے ہر وقت اختیار
اذا لاحالۃ تنتظر بعد الافتراق بموت اوطلاق ۔
کہ موت یا طلاق کی وجہ سے افتراق کے بعد کوئی قابل انتظار نہیں ۔ (ت)
اور اگر اس نے یوں کہا کہ میں نے ہندہ کو اس شرط پر طلاق دی کہ مجھے مہر معاف ہوجائے تو صورت مسئولہ میں نہ مہر معاف ہوا نہ طلاق پڑی اذا فات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہوجاتا ہے۔ ت)اس تقدیر پر دعوی مہر میں حکم ہوگا جو عورت کو بحالت زوجیت دیاجاتا ہے کہ مہر معجل ہوتو فی الفور لے سکتی ہے اور کچھ وعدہ مقرر ہوا ہوتو میعاد معلوم تك نہیں مانگ سکتی اورکچھ نہ ٹھہر اہوتو اس شہر کے رواج پر چھوڑیں گے یعنی ایسی حالت میں جو وہاں کا عرف ہو اسی پر عمل ہے
فی النقایۃ المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والا فالمتعارف ۔ واﷲ تعالی اعلم
نقایہ میں ہے کہ اگر مہر معجل یا مؤجل بیان کرے تو بہتر ورنہ جوعرف میں ہو وہ ٹھہریگا۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴ : ۳۰ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ از سہوان مرسلہ حافظ علی محمد صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح اس کی رضاعی بہن کے ساتھ بوجہ لاعلمیت کے ہوا اور وہ اس کے تصرف میں بھی رہی تو اس صورت میں زید پر دین مہر واجب الادا ہے یانہیں
الجواب :
صورت مسئولہ میں پورا مہر مثل واجب ہے اگر چہ مہر مسمی سے زائد ہو ردالمحتار وطحطاوی علی الدرالمختار میں زیر قول شارح
ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی ولمیزد علی المسمی لرضاھا بالحط
(نکاح فاسد وطی کرلینے سے مہر مثل واجب ہوتا ہے اور وہ مقررہ سے زائد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ساقط
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی طلاق غیر امدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۰۰
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ کتاب النکاح نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ کتاب النکاح نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶
پر راضی تھی۔ ت)فرمایا :
وفی الخانیۃ لوتزوج محرمہ لاحد علیہ عند الامام وعلیہ مھر مثلھا بالغا ما بلغ اھ فھی مستثناۃ الاان یقال ان نکاح المحارم باطل لافاسد الخ ای فلا استثناء۔
خانیہ میں ہے کہ اگر کسی نے محرم عورت سے نکاح کیا تو امام صاحب کے ہاں اس پر حدنہیں ہاں اس عورت کا مہر مثل جتنا گراں ہو خاوند پر لازم ہوگا اھ تو یہ صورتیں مستثنی ہیں ہاں یوں کہا جاسکتا ہے کہ محارم سے نکاح فاسد نہیں بلکہ ابتداء ہی باطل ہے الخ تو استثناء نہ ہوا۔ (ت)
خانیہ میں اس کی امثلہ میں فرمایا :
نحو الام والبنت والاخت والعمۃ والخالۃ اوتزوج بامرأۃ ابیہ وابنہ الخ فذکر محرمات الصھر ایضا فافادشمول محرمات الرضاع بالاولی وقال فی رد المحتار قولہ شبھۃ العقد کوطی محرم نکحھا ما نصہ اطلق فی المحرم فشمل المحرم نسبا ورضاعا و صھریۃ ۔ واﷲتعالی اعلم
جیسے ماں بیٹی بہن پھوپھی خالہ یا باپ کی بیوی یا بیٹے کی بیوی الخ تو اس میں انہوں نے سسرال رشتے بھی ذکر کئے تو اس سے رضاعی محرمات کا شامل ہونا بطریقہ اولی واضح ہوگیا۔ ردالمحتارمیں شبہہ عقد کی مثال لکھی ہے جیسے محرم عورت سے نکاح کرکے وطی کرلی ہو۔ اس عبارت میں انہوں نے محرمات نسبیہ رضاعیہ صہریہ یہ سب کو شامل کیا ہے (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵ : از ازماہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم میاں صاحب یکم ذی قعدہ ۱۳۰۶ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ تعداد مہر شرع محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم چہ مقدار استبینوا توجروا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شریعت محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں مہر کی مقدار کیا ہے بینواتوجروا
الجواب :
مہر در شرع مطہر جانب کمی حدے معین ست
شریعت پاك میں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم مقرر ہے
وفی الخانیۃ لوتزوج محرمہ لاحد علیہ عند الامام وعلیہ مھر مثلھا بالغا ما بلغ اھ فھی مستثناۃ الاان یقال ان نکاح المحارم باطل لافاسد الخ ای فلا استثناء۔
خانیہ میں ہے کہ اگر کسی نے محرم عورت سے نکاح کیا تو امام صاحب کے ہاں اس پر حدنہیں ہاں اس عورت کا مہر مثل جتنا گراں ہو خاوند پر لازم ہوگا اھ تو یہ صورتیں مستثنی ہیں ہاں یوں کہا جاسکتا ہے کہ محارم سے نکاح فاسد نہیں بلکہ ابتداء ہی باطل ہے الخ تو استثناء نہ ہوا۔ (ت)
خانیہ میں اس کی امثلہ میں فرمایا :
نحو الام والبنت والاخت والعمۃ والخالۃ اوتزوج بامرأۃ ابیہ وابنہ الخ فذکر محرمات الصھر ایضا فافادشمول محرمات الرضاع بالاولی وقال فی رد المحتار قولہ شبھۃ العقد کوطی محرم نکحھا ما نصہ اطلق فی المحرم فشمل المحرم نسبا ورضاعا و صھریۃ ۔ واﷲتعالی اعلم
جیسے ماں بیٹی بہن پھوپھی خالہ یا باپ کی بیوی یا بیٹے کی بیوی الخ تو اس میں انہوں نے سسرال رشتے بھی ذکر کئے تو اس سے رضاعی محرمات کا شامل ہونا بطریقہ اولی واضح ہوگیا۔ ردالمحتارمیں شبہہ عقد کی مثال لکھی ہے جیسے محرم عورت سے نکاح کرکے وطی کرلی ہو۔ اس عبارت میں انہوں نے محرمات نسبیہ رضاعیہ صہریہ یہ سب کو شامل کیا ہے (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵ : از ازماہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم میاں صاحب یکم ذی قعدہ ۱۳۰۶ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ تعداد مہر شرع محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم چہ مقدار استبینوا توجروا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شریعت محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں مہر کی مقدار کیا ہے بینواتوجروا
الجواب :
مہر در شرع مطہر جانب کمی حدے معین ست
شریعت پاك میں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم مقرر ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر مطلب فی نکاح الفاسد دارا حیاء التراث ا لعربی بیروت ۲ / ۳۵۱
فتاوٰی قاضی خاں باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۷۵
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب فی بیان شبہۃ العقد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۳
فتاوٰی قاضی خاں باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۷۵
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب فی بیان شبہۃ العقد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۳
یعنی دہ درہم جانب زیادت ہیچ تحدید نیست ہرچہ کہ بستہ شود ہماں قدر بحکم شرع محمد لازم آید صلی اﷲتعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ بارك وسلم
قال اﷲ تعالی
و اتیتم احدىهن قنطارا
پس تعیین نتواں کدکہ ہمیں قدر مقدار مہر شرعی است نہ غیر او آرے ایں لفظ دربسیارے از عوام اہل حرفہ ایں بلاد شائع وذائع است مان کہ او را مقابل رسم شرفأومتمولان ہند نہادہ باشند آناں درمہور مغالات وافراط را از حد گزرا نیدہ برگردن کم مایہ پنجہ پنجاہ ہزار وصد ہزار وازاں ہم فزوں تر بارمی نہادند ایناں بتقلیل گرائیدہ مہر کمی سہل الحصول می بستند وایں را بمقاصد شرع مطہر نزدیك تردانستہ مہر شرع محمدی می گفتند تار فتہ رفتہ تسمیہ وتعیین از میان برخاست و در بسیارے از عقود ایشاں ہمیں لفظ بر ز با نہا مانداگر پسی چہ قدر مہر بستہ شد گویند شرع محمدی وگر ہیچ وچوں ایں لفظ اصطلاح خاص ایشاں ست واجب ست در فہم مرادش رجوع ہم ایشاں کردن
فانہ یجب ان یحمل کلام کل عاقد وحالف وموص و واقف علی عرفہ کما فی رد المحتار وغیرہ
لیکن زیادہ سے زیادہ مقدار نہیں بلکہ جتنا بھی مقرر کردیا جائے وہ شریعت محمدی میں لازم ہوگا صلی اﷲتعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارك وسلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا ہے : اور تم ان عورتوں میں سے بعض کو بہت زیادہ مال دیتے ہو اس لئے کوئی تعیین نہیں کی جاسکتی کہ یہ مقدار شرعیہ اوریہ نہیں ہے ہاں شرعی مہر کا لفظ اس علاقے کے اہل ہنر لوگون میں مشہور ہے تاکہ اس کو بڑے مالدار لوگوں اور معزز خاندانوں کی رسم کے برابر رکھا جائے جو اپنے ہاں بہت بھاری مہر مقرر کرتے تھے وہ اس حد تك بڑھ گئے کہ ولی اپنے سے کم مایہ لوگوں کی گردن پر بھی پچاس ہزار پچپن ہزار اور لاکھ اور اس سے بھی زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں تو اہل ہنرنے مہر کا بوجھ کم کرنےکے لئے اور سہل اور معتدل کام کو شریعت کے قریب تر خیال کرکے اس کو شرعی مہر کہنا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ یہ نام مشہور ہوگیا اور اکثر طور پر نکاح میں جب پوچھا جائے کہ کتنا مہر ہے تو جواب میں شرعی کہہ دیتے ہیں جب یہ لفظ خاص لوگوں کی اصطلاح بن گیا تو اب لازما اس کی مراد یا مقدار کا تعین معلوم کرنے کیلئے ان کی طرف رجوع کرنا ضروری ہواکیونکہ عقد قسم وصیت اور وقف کرنے والے لوگوں کے کلام کوان کے عرف پر محمول کرنا ہوتا ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے
قال اﷲ تعالی
و اتیتم احدىهن قنطارا
پس تعیین نتواں کدکہ ہمیں قدر مقدار مہر شرعی است نہ غیر او آرے ایں لفظ دربسیارے از عوام اہل حرفہ ایں بلاد شائع وذائع است مان کہ او را مقابل رسم شرفأومتمولان ہند نہادہ باشند آناں درمہور مغالات وافراط را از حد گزرا نیدہ برگردن کم مایہ پنجہ پنجاہ ہزار وصد ہزار وازاں ہم فزوں تر بارمی نہادند ایناں بتقلیل گرائیدہ مہر کمی سہل الحصول می بستند وایں را بمقاصد شرع مطہر نزدیك تردانستہ مہر شرع محمدی می گفتند تار فتہ رفتہ تسمیہ وتعیین از میان برخاست و در بسیارے از عقود ایشاں ہمیں لفظ بر ز با نہا مانداگر پسی چہ قدر مہر بستہ شد گویند شرع محمدی وگر ہیچ وچوں ایں لفظ اصطلاح خاص ایشاں ست واجب ست در فہم مرادش رجوع ہم ایشاں کردن
فانہ یجب ان یحمل کلام کل عاقد وحالف وموص و واقف علی عرفہ کما فی رد المحتار وغیرہ
لیکن زیادہ سے زیادہ مقدار نہیں بلکہ جتنا بھی مقرر کردیا جائے وہ شریعت محمدی میں لازم ہوگا صلی اﷲتعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارك وسلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا ہے : اور تم ان عورتوں میں سے بعض کو بہت زیادہ مال دیتے ہو اس لئے کوئی تعیین نہیں کی جاسکتی کہ یہ مقدار شرعیہ اوریہ نہیں ہے ہاں شرعی مہر کا لفظ اس علاقے کے اہل ہنر لوگون میں مشہور ہے تاکہ اس کو بڑے مالدار لوگوں اور معزز خاندانوں کی رسم کے برابر رکھا جائے جو اپنے ہاں بہت بھاری مہر مقرر کرتے تھے وہ اس حد تك بڑھ گئے کہ ولی اپنے سے کم مایہ لوگوں کی گردن پر بھی پچاس ہزار پچپن ہزار اور لاکھ اور اس سے بھی زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں تو اہل ہنرنے مہر کا بوجھ کم کرنےکے لئے اور سہل اور معتدل کام کو شریعت کے قریب تر خیال کرکے اس کو شرعی مہر کہنا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ یہ نام مشہور ہوگیا اور اکثر طور پر نکاح میں جب پوچھا جائے کہ کتنا مہر ہے تو جواب میں شرعی کہہ دیتے ہیں جب یہ لفظ خاص لوگوں کی اصطلاح بن گیا تو اب لازما اس کی مراد یا مقدار کا تعین معلوم کرنے کیلئے ان کی طرف رجوع کرنا ضروری ہواکیونکہ عقد قسم وصیت اور وقف کرنے والے لوگوں کے کلام کوان کے عرف پر محمول کرنا ہوتا ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۰
ردالمحتار باب التعلیق ۲ / ۴۹۹ ، باب الایلاء ۲ / ۵۵۳ ، کتاب البیوع ۴ / ۱۴ داراحیاء التراث العربی بیروت
ردالمحتار باب التعلیق ۲ / ۴۹۹ ، باب الایلاء ۲ / ۵۵۳ ، کتاب البیوع ۴ / ۱۴ داراحیاء التراث العربی بیروت
پس اگر مراد ومتعارف ایشاں یا گروہے ازایشاں ازیں لفظ ہماں اقل مقاد یر مہرست دراں گروہ دہ درہم لازم آید وقومے را کہ مقصود ومفہوم مہر سرادق عفت فلك رفعت کنیز ان درگاہ طہارت پناہ حضرت بتول زہرا صلوات اﷲ وسلامہ علی ابیہا الکریم وعلیہا باشد آنجا چار صد مثقال سیم کہ بسکہ وقت یك صد و شصت روپیہ است واجب شود وکسا نکہ خود اذہان ایشاں نیز ازمعنی ایں لفظ خالی ست ہمیں سخنے ست کہ برزباں رانند ومفہوم ومرادش خود ند انند (ومی ترسم کہ غالب ہمچنیں باشک) تا آنگاہ ظاہر آنکہ مہر مثل لازم گر دو
اذ ھوالاصل اذھوالاعدل فلاعدول عنہ الاعند صحۃ التسمیۃ وقد فسدت لمکان الجھالۃ فوجب المصیر الی الاصل وراجع لھدایۃ وغیرھا من الکتب المعللۃ۔
لہذا اس لفظ کو استعمال کرنے والے لوگوں سے معلوم کیا جائے ا گر اس سے ان کا مقصد مہر کی کم از کم مقدار ہے تو دس درہم مراد ہوں گے اور اگر کسی قوم کا مقصد حضرت بتول زہراجناب عزت مآب فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر ہے تو یہ چار سو مثقال چاندی مراد ہوگی جو آج کل کے سکہ کے حساب سے ایك سو ساٹھ۱۶۰ روپے ہوں گے اور اگر اس لفظ کو استعمال کرنے والے کچھ لوگ خالی ذہن ہیں اور کوئی مراد معین نہیں ہے ویسے ہی زبان پر یہ لفظ لاتے ہیں اسکے مفہوم ومراد کو نہیں جانتے میرے خیال میں اکثریت ایسی ہی ہے جو ایسی صورت میں نکاح ہو تو مہر مثل لازم ہوگا اس لئے کہ وہی اصل اور معتدل ہے اس سے عدول جائز نہیں ہے جب تك مقرر شدہ ہونامعلوم نہ ہو اور مقرر شدہ یہاں مفقود ہے کیونکہ مجہول ہے تولازمی طور پر اصل کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو کہ مہر مثل ہے۔ ہدایہ وغیرہ جو احکام کی علت کو بیان کرنے والی کتب ہیں انکی طرف رجوع کرو۔ (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر معرابیان تعجیل وتاجیل سے قبل از موت وطلاق واجب الادا فی الحال ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں نہ عموما وجوب ادافی الحال ہے نہ کلیۃ عدم بلکہ مدار عرف وعادت پر ہے اگر عرف یہ ہے کہ قبل ازموت وطلاق ادا کردیتے ہیں تو فی الحال ادا لازم ہے ورنہ نہیں
فی مختصر الوقایۃ والمعجل والمؤجل ان بینا والا فالمتعارف وفی شرحھا
مختصر الوقایہ میں ہے کہ معجل یا مؤجل مہر کو بیان کیا گیا ہو تو بہتر ورنہ عرف میں جو مراد ہو وہی ٹھہرےگا اسکی شرح میں ہے
اذ ھوالاصل اذھوالاعدل فلاعدول عنہ الاعند صحۃ التسمیۃ وقد فسدت لمکان الجھالۃ فوجب المصیر الی الاصل وراجع لھدایۃ وغیرھا من الکتب المعللۃ۔
لہذا اس لفظ کو استعمال کرنے والے لوگوں سے معلوم کیا جائے ا گر اس سے ان کا مقصد مہر کی کم از کم مقدار ہے تو دس درہم مراد ہوں گے اور اگر کسی قوم کا مقصد حضرت بتول زہراجناب عزت مآب فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر ہے تو یہ چار سو مثقال چاندی مراد ہوگی جو آج کل کے سکہ کے حساب سے ایك سو ساٹھ۱۶۰ روپے ہوں گے اور اگر اس لفظ کو استعمال کرنے والے کچھ لوگ خالی ذہن ہیں اور کوئی مراد معین نہیں ہے ویسے ہی زبان پر یہ لفظ لاتے ہیں اسکے مفہوم ومراد کو نہیں جانتے میرے خیال میں اکثریت ایسی ہی ہے جو ایسی صورت میں نکاح ہو تو مہر مثل لازم ہوگا اس لئے کہ وہی اصل اور معتدل ہے اس سے عدول جائز نہیں ہے جب تك مقرر شدہ ہونامعلوم نہ ہو اور مقرر شدہ یہاں مفقود ہے کیونکہ مجہول ہے تولازمی طور پر اصل کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو کہ مہر مثل ہے۔ ہدایہ وغیرہ جو احکام کی علت کو بیان کرنے والی کتب ہیں انکی طرف رجوع کرو۔ (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر معرابیان تعجیل وتاجیل سے قبل از موت وطلاق واجب الادا فی الحال ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں نہ عموما وجوب ادافی الحال ہے نہ کلیۃ عدم بلکہ مدار عرف وعادت پر ہے اگر عرف یہ ہے کہ قبل ازموت وطلاق ادا کردیتے ہیں تو فی الحال ادا لازم ہے ورنہ نہیں
فی مختصر الوقایۃ والمعجل والمؤجل ان بینا والا فالمتعارف وفی شرحھا
مختصر الوقایہ میں ہے کہ معجل یا مؤجل مہر کو بیان کیا گیا ہو تو بہتر ورنہ عرف میں جو مراد ہو وہی ٹھہرےگا اسکی شرح میں ہے
حوالہ / References
مختصر الوقایہ کتاب النکاح نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶
مختصر الوقایہ والمختار ھذافان المتأخرین اختار وھذا بناء علی المتعارف واﷲاعلم بالصواب وعندہ تعالی ام الکتاب۔
یہی مختار ہے کیونکہ متاخرین نے مہر کو عرف پر مبنی قرا ر دیا ہے۔ (ت)واﷲ اعلم بالصواب وعندہ تعالی ام الکتاب
مسئلہ ۷ : از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
چہ می فرمایند علمائے شریعت پناہ دریں مسئلہ کہ اگرزن فاسقہ گردد مرد بوجہ فسق او طلاقش دہدمہر ساقط شود یا نہ وبچہ کار تمام مہر عورت دور میشود وبچہ کار نصف مے ماند۔ بینوابیانا شافیا اجر کماﷲتعالی اجرا وافیا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس مسئلہ میں کہ اگر بیوی کو فاسقہ ہوجانےکی وجہ سے مرد نے طلاق دے دی ہوتو کیا اس کا مہر ساقط ہوجائے گا یا نہیں اور کس وجہ سے پورا مہر ختم ہوجاتا ہے اور کس وجہ سے نصف مہر رہ جاتا ہے مکمل بیان فرمائیں اﷲتعالی آپ کو پورا اجر عطا فرمائے۔ (ت)
الجواب :
مہر بنفس عقد زن وشوئی واجب شود بوطی یا خلوت صححیہ یا موت احد الزوجین تاکد و تقرر یا بد کہ بعد وقوع یکے از ینہا بہیچ وجہ پارہ ازاں بے ادا یا ابرا ء ساقط نہ گردد ا گر چہ زن معاذا ﷲ فسق وفجور ور زد یا عیاذ ا باﷲ مرتدہ شود ف
ی الدرالمختار یتاکد عند وطی او خلوۃ صحت او موت احدھما وفی ردالمحتار افادان المھر وجب بنفس العقد لکن مع احتمال سقوطہ برد تھا او تقبیلھا ابنہ اوتنصفہ بطلاقھا قبل الدخول وانما یتأ کد لزوم تمامہ بالوطی
مہر محض نکاح سے لازم ہوجاتا ہے اور وطی یا خلوت صحیحہ یا فریقین میں سے کسی کے فوت ہوجانے سے مہر پکا ہوجاتا ہے اور مذکورہ امورکے بعد مہر میں سے کوئی حصہ بغیر ادائیگی یا بغیر معاف کئے ساقط نہ ہوگا اگر چہ بیوی فاسقہ فاجرہ یا معاذاﷲ مر تدہ بن جائے درمختار میں ہے : وطی یا خلوت صحیحہ یا زوجین میں سے کسی کے فوت ہو جانے پر مہر پکا ہوجاتا ہے اور ردالمحتار میں ہے کہ اس معلوم ہوا کہ مہر محض نکاح سے واجب ہوجاتا ہے لیکن مرتدہ ہوجانے یاخاوند کے بیٹے کو بوس وکنار کرنے سے ساقط ہو جانے کا احتمال باقی رہتا ہے یا دخول سے قبل طلاق ہوجانے کی
یہی مختار ہے کیونکہ متاخرین نے مہر کو عرف پر مبنی قرا ر دیا ہے۔ (ت)واﷲ اعلم بالصواب وعندہ تعالی ام الکتاب
مسئلہ ۷ : از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
چہ می فرمایند علمائے شریعت پناہ دریں مسئلہ کہ اگرزن فاسقہ گردد مرد بوجہ فسق او طلاقش دہدمہر ساقط شود یا نہ وبچہ کار تمام مہر عورت دور میشود وبچہ کار نصف مے ماند۔ بینوابیانا شافیا اجر کماﷲتعالی اجرا وافیا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس مسئلہ میں کہ اگر بیوی کو فاسقہ ہوجانےکی وجہ سے مرد نے طلاق دے دی ہوتو کیا اس کا مہر ساقط ہوجائے گا یا نہیں اور کس وجہ سے پورا مہر ختم ہوجاتا ہے اور کس وجہ سے نصف مہر رہ جاتا ہے مکمل بیان فرمائیں اﷲتعالی آپ کو پورا اجر عطا فرمائے۔ (ت)
الجواب :
مہر بنفس عقد زن وشوئی واجب شود بوطی یا خلوت صححیہ یا موت احد الزوجین تاکد و تقرر یا بد کہ بعد وقوع یکے از ینہا بہیچ وجہ پارہ ازاں بے ادا یا ابرا ء ساقط نہ گردد ا گر چہ زن معاذا ﷲ فسق وفجور ور زد یا عیاذ ا باﷲ مرتدہ شود ف
ی الدرالمختار یتاکد عند وطی او خلوۃ صحت او موت احدھما وفی ردالمحتار افادان المھر وجب بنفس العقد لکن مع احتمال سقوطہ برد تھا او تقبیلھا ابنہ اوتنصفہ بطلاقھا قبل الدخول وانما یتأ کد لزوم تمامہ بالوطی
مہر محض نکاح سے لازم ہوجاتا ہے اور وطی یا خلوت صحیحہ یا فریقین میں سے کسی کے فوت ہوجانے سے مہر پکا ہوجاتا ہے اور مذکورہ امورکے بعد مہر میں سے کوئی حصہ بغیر ادائیگی یا بغیر معاف کئے ساقط نہ ہوگا اگر چہ بیوی فاسقہ فاجرہ یا معاذاﷲ مر تدہ بن جائے درمختار میں ہے : وطی یا خلوت صحیحہ یا زوجین میں سے کسی کے فوت ہو جانے پر مہر پکا ہوجاتا ہے اور ردالمحتار میں ہے کہ اس معلوم ہوا کہ مہر محض نکاح سے واجب ہوجاتا ہے لیکن مرتدہ ہوجانے یاخاوند کے بیٹے کو بوس وکنار کرنے سے ساقط ہو جانے کا احتمال باقی رہتا ہے یا دخول سے قبل طلاق ہوجانے کی
حوالہ / References
شرح الوقایہ باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
ونحوہ( الی قولہ) قال فی البدائع واذا تأکد المھر بماذکر لایسقط بعد ذلك وان کانت الفرقۃ من قبلھا لان البدل بعد تأکدہ لایحتمل السقوط الا بالابراء کا لثمن اذا تأکد بقبض المبیع اھ
آرے اگر پیش از وقوع چیزے از مؤکدات ثلثہ مذکور زن معاذاﷲ ارتداد کند یا باپدر یا پسر شوہر یعنی اصل یا فرعش زنا نماید بشہوت پدر یا پسر شوئے را بو سہ دہد یا دست بذکر آناں رساند یا ذکر شاں را بہ شہوت نظر کند یا ضرہ صغیرہ خودراشیر دہد یا احد الزوجین بخیار بلوغ فسخ نکاح اختیار کند یا درعقد فاسد پیش از وطی حقیقی متاسر کہ شود دریں صور ہمہ مہر ساقط گردد و اگر شوئے معاذاﷲ مرتد شود یا بامادر یا دختر زن یعنی اصل یا فرعش زنا کند یا بشہوت مادر یا دختر زن رابوسہ آنہا چیند یا مساس کنند یا دربرکشد یا فرج اندرونی انھا بینند درصونیم مہر سقوط پذیرد وغیر ایں صور صور تہائے دیگر نیز ہست کہ اگر درجملہ انہا بتفصیل کلام و تحقیق احکام وتنقیح مرام پردازیم رسالہ مستقلہ مے باید نوشت
فی الدرالمختار یجب نصفہ بطلاق قبل وطی او خلوۃ ۔ ردالمحتار لو قال بکل فرقۃ
بنا پر نصف مہر کا احتمال ہوسکتا ہے اور وطی وغیرہ سے پورا مہر پکا ہوجاتا ہے یہ بیان انہوں نے یہاں تك فرمایا کہ بدائع میں فرمایا کہ جب مہر مذکور پکا ہوجائے تواس کے بعد ساقط نہ ہوگا اگر چہ بیوی کی طرف سے فرقت ہو کیونکہ بدل(وطی) حاصل ہوجانے کے بعد اس کا بدل (مہر) ساقط ہونے کا احتمال نہ رکھے گا مگر جب عورت معاف کردے جیسا کہ بیع میں مبیعہ پر قبضہ سے ثمن لازم ہوجاتا ہے اھ ہاں اگر مہر کو پکا کرنے والی مذکورہ تین چیزوں سے قبل عورت معاذ اﷲ مرتد ہوجائے یا خاودند کے باپ یا بیٹے سے یعنی اس کے اصول و فروع میں سے کسی کے ساتھ زنا کیا یا ان میں کسی کا شہوت سے بوسہ لیا یا دیا یا ان کی شرمگاہ کو چھو لیا یا ان کی شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ دیکھا یا اپنی شیرخوار سوکن کو دودھ پلایا یا زوجین میں سے کسی کو خیار بلوغ تھا تو اس اختیار سے نکاح فسخ کردیا یانکاح فاسد تھا تو حقیقی وطی سے قبل متارکہ ہوگیا تو ان تمام صورتوں میں پورا مہر ساقط ہوجائے گا اوراگر خاوند معاذاﷲ مرتد ہوگیا یا اس نے بیوی کی اصل یا فرع یعنی ماں یا بیٹی کوشہوت سے چھولیا یا ان سے زناکر لیا یا بوس وکنار کرلیا یا دبوچ لیا یا انکی اندرونی فرج کو دیکھ لیا تو ان تمام صورتوں میں نصف مہر ساقط ہوجائےگا ان مذکورصورتوں کے علاوہ اور بھی ایسے امور ہیں جن سے مہر کل یا نصف ساقط ہوجاتا ہے اگر ان تمام امور کی تفصیل اور ان کے احکام کی تحقیق اور مقاصد کی
آرے اگر پیش از وقوع چیزے از مؤکدات ثلثہ مذکور زن معاذاﷲ ارتداد کند یا باپدر یا پسر شوہر یعنی اصل یا فرعش زنا نماید بشہوت پدر یا پسر شوئے را بو سہ دہد یا دست بذکر آناں رساند یا ذکر شاں را بہ شہوت نظر کند یا ضرہ صغیرہ خودراشیر دہد یا احد الزوجین بخیار بلوغ فسخ نکاح اختیار کند یا درعقد فاسد پیش از وطی حقیقی متاسر کہ شود دریں صور ہمہ مہر ساقط گردد و اگر شوئے معاذاﷲ مرتد شود یا بامادر یا دختر زن یعنی اصل یا فرعش زنا کند یا بشہوت مادر یا دختر زن رابوسہ آنہا چیند یا مساس کنند یا دربرکشد یا فرج اندرونی انھا بینند درصونیم مہر سقوط پذیرد وغیر ایں صور صور تہائے دیگر نیز ہست کہ اگر درجملہ انہا بتفصیل کلام و تحقیق احکام وتنقیح مرام پردازیم رسالہ مستقلہ مے باید نوشت
فی الدرالمختار یجب نصفہ بطلاق قبل وطی او خلوۃ ۔ ردالمحتار لو قال بکل فرقۃ
بنا پر نصف مہر کا احتمال ہوسکتا ہے اور وطی وغیرہ سے پورا مہر پکا ہوجاتا ہے یہ بیان انہوں نے یہاں تك فرمایا کہ بدائع میں فرمایا کہ جب مہر مذکور پکا ہوجائے تواس کے بعد ساقط نہ ہوگا اگر چہ بیوی کی طرف سے فرقت ہو کیونکہ بدل(وطی) حاصل ہوجانے کے بعد اس کا بدل (مہر) ساقط ہونے کا احتمال نہ رکھے گا مگر جب عورت معاف کردے جیسا کہ بیع میں مبیعہ پر قبضہ سے ثمن لازم ہوجاتا ہے اھ ہاں اگر مہر کو پکا کرنے والی مذکورہ تین چیزوں سے قبل عورت معاذ اﷲ مرتد ہوجائے یا خاودند کے باپ یا بیٹے سے یعنی اس کے اصول و فروع میں سے کسی کے ساتھ زنا کیا یا ان میں کسی کا شہوت سے بوسہ لیا یا دیا یا ان کی شرمگاہ کو چھو لیا یا ان کی شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ دیکھا یا اپنی شیرخوار سوکن کو دودھ پلایا یا زوجین میں سے کسی کو خیار بلوغ تھا تو اس اختیار سے نکاح فسخ کردیا یانکاح فاسد تھا تو حقیقی وطی سے قبل متارکہ ہوگیا تو ان تمام صورتوں میں پورا مہر ساقط ہوجائے گا اوراگر خاوند معاذاﷲ مرتد ہوگیا یا اس نے بیوی کی اصل یا فرع یعنی ماں یا بیٹی کوشہوت سے چھولیا یا ان سے زناکر لیا یا بوس وکنار کرلیا یا دبوچ لیا یا انکی اندرونی فرج کو دیکھ لیا تو ان تمام صورتوں میں نصف مہر ساقط ہوجائےگا ان مذکورصورتوں کے علاوہ اور بھی ایسے امور ہیں جن سے مہر کل یا نصف ساقط ہوجاتا ہے اگر ان تمام امور کی تفصیل اور ان کے احکام کی تحقیق اور مقاصد کی
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۰
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
من قبلہ لشمل مثل ردتہ وزناہ و تقبیلہ ومعانقتہ لام امرأتہ وبنتھا قبل الخلوۃ قھستانی عن النظم اھ وفیہ عن البحر عن القنیہ طلقھا قبل الدخول اوجاءت الفرقۃ من قبلھا یعود نصف المھر فی الاول ولکل فی الثانی الی ملك الزوج الخ وفی التنویر للموطوءۃ کل مھر ھا ولغیرھا نصفہ لو ارتد ولاشیئی لوارتدت اھ وفی الدرالمختار لو ارضعت الکبیرۃ ضرتھا الصغیرۃ حرمتا ولامھر للکبیرۃ ان لم توط لمجی الفرقۃ منھاوللصغیرۃ نصفہ لعدم الدخول اھ ملخصا وفی ردالمحتار فی النکاح الفاسد بعدم الشھود مثلا مھر المثل ان یکن دخل اما
تنقیح کی جائے تواس سے ایك مستقل کتاب بن جائے۔ درمختار میں ہے کہ دخول سے قبل یا خلوت سے قبل طلاق دینے سے نصف مہر واجب ہوگا۔ اور ردالمحتار میں کہا کہ اگر مصنف طلاق کی بجائے خاوند کی طرف سے فرقت کہ دیتے تو اس میں خاوند کا مرتد ہونا زنا بوس کنار بیوی کی ماں یا بیٹی سے معانقہ قبل از خلوت تمام کو شامل ہوجاتا (یہ قہستانی نے نظم سے نقل کیا ہے) اھ اور اس میں بحر سے اس نے قنیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر خاوند نے قبل از دخول طلاق دی تو نصف مہر اور اگر عورت کی طرف سے فرقت کی وجہ پائی جائے تو پورا مہر خاوند کی ملکیت میں آجائے گا الخ تنویرالابصار میں ہے : وطی سے پورا اور بغیر وطی نصف مہر دینا ہوگا اگر خاوند مرتد ہوجائے اور اگر وطی سے قبل عورت مرتد ہوجائے تو اس پرکچھ مہر نہ ملے گا اھ درمختار میں ہے : اگر بڑی بیوی نے شیر خوار سوکن کو دودھ پلایا تو دونوں حرام ہو جائیں گی اور بڑی سے اگر وطی نہ ہوئی تو اسکا پورا مہر ساقط ہوجائے گا کیونکہ فرقت کی وجہ اس نے پیدا کی ہے اور چھوٹی کو نصف مہر ملے گا کیونکہ اس سے دخول نہیں کیا گیا ملخصا ردالمحتار میں ہے : نکاح فاسد مثلا بغیرگواہوں کے نکاح ہوا
تنقیح کی جائے تواس سے ایك مستقل کتاب بن جائے۔ درمختار میں ہے کہ دخول سے قبل یا خلوت سے قبل طلاق دینے سے نصف مہر واجب ہوگا۔ اور ردالمحتار میں کہا کہ اگر مصنف طلاق کی بجائے خاوند کی طرف سے فرقت کہ دیتے تو اس میں خاوند کا مرتد ہونا زنا بوس کنار بیوی کی ماں یا بیٹی سے معانقہ قبل از خلوت تمام کو شامل ہوجاتا (یہ قہستانی نے نظم سے نقل کیا ہے) اھ اور اس میں بحر سے اس نے قنیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر خاوند نے قبل از دخول طلاق دی تو نصف مہر اور اگر عورت کی طرف سے فرقت کی وجہ پائی جائے تو پورا مہر خاوند کی ملکیت میں آجائے گا الخ تنویرالابصار میں ہے : وطی سے پورا اور بغیر وطی نصف مہر دینا ہوگا اگر خاوند مرتد ہوجائے اور اگر وطی سے قبل عورت مرتد ہوجائے تو اس پرکچھ مہر نہ ملے گا اھ درمختار میں ہے : اگر بڑی بیوی نے شیر خوار سوکن کو دودھ پلایا تو دونوں حرام ہو جائیں گی اور بڑی سے اگر وطی نہ ہوئی تو اسکا پورا مہر ساقط ہوجائے گا کیونکہ فرقت کی وجہ اس نے پیدا کی ہے اور چھوٹی کو نصف مہر ملے گا کیونکہ اس سے دخول نہیں کیا گیا ملخصا ردالمحتار میں ہے : نکاح فاسد مثلا بغیرگواہوں کے نکاح ہوا
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۰
درمختار شرح تنویر الابصار باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۳
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۰
درمختار شرح تنویر الابصار باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۳
اذالم یدخل لایجب شئی اھ ملتقطا وفی الدرالمختار لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ بشرط القضاء للفسخ فیتوارثان فیہ ویلزم کل المھر الخ وفی الشامیۃ قولہ ویلزم کل المھر لان المھر کما یلزم جمیعہ بالدخول ولو حکما کا لخلوۃ الصحیحۃ کذلك یلزم بموت احدھما قبل الدخول اما بدون ذلك فیسقط ولو الخیارمنہ لان الفرقۃ بالخیار فسخ للعقد والعقداذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن کما فی النھر اھ ھذا۔ (یعنی فاحفظ ھذا) واعلم ان من العلماء من قررلہ ضابطۃ وھی ان کل فرقۃ جاء ت من قبل الزوج قبل الدخول فانھا تنصف المھر وکل فرقۃ اتت من قبلھا تسقط وھو الذی یبتنی علیہ ماذکر الشامی من استثنی منھا خیار البلوغ لما مرانہ وان کان منہ لاینصف بل یسقط
اگردخول کیا گیا ہو تو مہر مثل لازم ہوگا اور دخول نہ کیا ہوتو کوئی مہر نہ ہوگا اھ ملتقطا درمختار میں ہے : بالغ لڑکے یا لڑلی کو خیار فسخ بالبلوغ ہو تو یہ فسخ قاضی کی قضاء کی شرط سے مؤثر ہوگا(پھر اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی فسخ سے قبل فوت ہوگیا) تو ایك دوسرے کے وارث ہوں گے اور پورا مہر بھی لازم ہوگا الخ شامی میں ہے کہ مصنف کا قول کہ کل مہر لازم ہوگا اس لئے کہ کل مہر دخول حقیقی یا حکمی مثلا خلوت صحیحہ کے ساتھ لازم ہوجاتا ہے یونہی دخول سے قبل کسی کے مرجانے سے کل مہر لازم ہوتا ہے اور اس دخول یا موت کے بغیر مہر ساقط ہوجائے اگر چہ یہ فرقت لڑکے کے خیار بلوغ کی وجہ سے ہوکیونکہ فرقت خیار کی وجہ سے نکاح فسخ ہوتا ہے اور جب نکاح فسخ ہوتو کالعدم ہوجاتا ہے جیسا کہ نہر میں ہے۔ اسکو محفوظ کرلو۔ واضح رہے کہ بعض علماء نے اس مسئلہ میں ضابطہ بنایا کہ اگر دخول سے قبل فرقت کی وجہ عورت کی طرف سے ہوتو پورا مہر ساقط ہوگا اور خاوند کی طرف سے ہوتو مہر نصف ہوگا۔ اسی ضابطہ کی بنأپر علامہ شامی نے نظم سے منقول علامہ قہستانی کا قول بیان کیا ہے اور بعض نے اس ضابطہ سے لڑکے کے خیار بلوغ کی صورت کو مستثنی قرار دیا کہ اگر یہ خیار بلوغ لڑکے کی طرف سے ہوتو نصف مہر نہ ہوگا بلکہ ساقط
اگردخول کیا گیا ہو تو مہر مثل لازم ہوگا اور دخول نہ کیا ہوتو کوئی مہر نہ ہوگا اھ ملتقطا درمختار میں ہے : بالغ لڑکے یا لڑلی کو خیار فسخ بالبلوغ ہو تو یہ فسخ قاضی کی قضاء کی شرط سے مؤثر ہوگا(پھر اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی فسخ سے قبل فوت ہوگیا) تو ایك دوسرے کے وارث ہوں گے اور پورا مہر بھی لازم ہوگا الخ شامی میں ہے کہ مصنف کا قول کہ کل مہر لازم ہوگا اس لئے کہ کل مہر دخول حقیقی یا حکمی مثلا خلوت صحیحہ کے ساتھ لازم ہوجاتا ہے یونہی دخول سے قبل کسی کے مرجانے سے کل مہر لازم ہوتا ہے اور اس دخول یا موت کے بغیر مہر ساقط ہوجائے اگر چہ یہ فرقت لڑکے کے خیار بلوغ کی وجہ سے ہوکیونکہ فرقت خیار کی وجہ سے نکاح فسخ ہوتا ہے اور جب نکاح فسخ ہوتو کالعدم ہوجاتا ہے جیسا کہ نہر میں ہے۔ اسکو محفوظ کرلو۔ واضح رہے کہ بعض علماء نے اس مسئلہ میں ضابطہ بنایا کہ اگر دخول سے قبل فرقت کی وجہ عورت کی طرف سے ہوتو پورا مہر ساقط ہوگا اور خاوند کی طرف سے ہوتو مہر نصف ہوگا۔ اسی ضابطہ کی بنأپر علامہ شامی نے نظم سے منقول علامہ قہستانی کا قول بیان کیا ہے اور بعض نے اس ضابطہ سے لڑکے کے خیار بلوغ کی صورت کو مستثنی قرار دیا کہ اگر یہ خیار بلوغ لڑکے کی طرف سے ہوتو نصف مہر نہ ہوگا بلکہ ساقط
حوالہ / References
رد المحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳أ۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۰۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳أ۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۰۱
وھوالذی اختارہ فی الدرالمختار ولکن ردھما فی الذخیرۃ بما اذاملك الزوجۃ قبل الدخول بشراء مثلاحیث ینفسخ االنکاح ویسقط المھر کلہ مع انھا فرقۃ جاء ت من قبلہ وحقق الضابطۃ بان کل فرقۃ جاء ت من قبلہ وھی طلاق فانھا تنصف و کل ما جاءت وھی فسخ فانھا تسقط وردہ فی البحربردۃ الزوج حیث تنصف کما علمت مع انہا فسخ جاء من قبلہ ثم قال فالحق ان لایجعل لھذہ المسألۃ ضابط بل یحکم فی کل فرد بما افادہ الدلیل اھ ھذا ھوالذی حمل العبد الضعیف علی الاقتصار علی ذکر بعض الصور وعدم التعرض لضابط۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ہوگا اسی کو درمختار میں اختیار کیا لیکن ذخیرہ میں اس کو ردکیا ہے مثلا اگر کسی نے (لونڈی) بیوی کو دخول سے قبل خرید لیا اور اس کا مالك بن گیا تو یہ نکاح فسخ ہوگیا اور پورا مہر ساقط ہوا حالانکہ وجہ فرقت خاوند کی طرف سے ہے اس کے بعد انہوں نے نیا ضابطہ یہ بتایا کہ اگر خاوند کی طرف سے فرقت کی وجہ ہو اور وہ وجہ طلاق بنے تو مہر نصف ہوگا اور جو فرقت فسق بنے تو مہر ساقط ہوجائے گا پھر اس ضابطہ کو بحر میں رد کیا کہ جب خاوند مرتد ہوجائے تو قبل دخول مہر نصف ہوگا حالانکہ یہ فرقت مرد کی طرف سے فسخ ہے طلاق نہیں ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے پھر بحر نے کہا کہ حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کے لئے کوئی ضابطہ نہ بنایا جائے بلکہ ہر جزئیہ کا جواب اس کی دلیل کے مطابق علیحدہ دیا جائے اھ اسی بناء پر اس عبد ضعیف نے بعض جزئیات کے ذکر پر اکتفاء کیا اور کسی ضابطہ کو بیان نہیں کیا ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ۸ : از اٹاوہ قریب کچہری منصفی مرسلہ مولوی حبیب علی صاحب علوی ۲۰ذی الحجہ ۱۳۰۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح شرعی دوہزار روپے مہر پر بکر بالغ کے ساتھ کیا قضارا دختر مذکورہ بعد نکاح کے ایام نابالغی میں زید کے گھر مرگئی اب زید پدر ودیگر وارثان شرعی متوفاۃ مذکورہ کو دعوی مہر مذکور کا بکر شوہر دختر متوفاۃ پر شرعا پہنچتا ہے تو کس قدر کا بحوالہ کتب معتبرہ فقہ حنفی جواب مرحمت ہو گو اس مسئلہ کا جواب اصول سے بہت صاف دیاجاسکتا ہے مگر مستفتی کو اصرار کہ بحوالہ کتاب اس صورت خاص میں حکم دیا جائے۔ میرے پاس جو کتابیں ہیں ان میں باوصف تلاش یہ صورت خاص نہ ملی چونکہ آپ کا کتب خانہ بہت بڑا ہے
ہوگا اسی کو درمختار میں اختیار کیا لیکن ذخیرہ میں اس کو ردکیا ہے مثلا اگر کسی نے (لونڈی) بیوی کو دخول سے قبل خرید لیا اور اس کا مالك بن گیا تو یہ نکاح فسخ ہوگیا اور پورا مہر ساقط ہوا حالانکہ وجہ فرقت خاوند کی طرف سے ہے اس کے بعد انہوں نے نیا ضابطہ یہ بتایا کہ اگر خاوند کی طرف سے فرقت کی وجہ ہو اور وہ وجہ طلاق بنے تو مہر نصف ہوگا اور جو فرقت فسق بنے تو مہر ساقط ہوجائے گا پھر اس ضابطہ کو بحر میں رد کیا کہ جب خاوند مرتد ہوجائے تو قبل دخول مہر نصف ہوگا حالانکہ یہ فرقت مرد کی طرف سے فسخ ہے طلاق نہیں ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے پھر بحر نے کہا کہ حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کے لئے کوئی ضابطہ نہ بنایا جائے بلکہ ہر جزئیہ کا جواب اس کی دلیل کے مطابق علیحدہ دیا جائے اھ اسی بناء پر اس عبد ضعیف نے بعض جزئیات کے ذکر پر اکتفاء کیا اور کسی ضابطہ کو بیان نہیں کیا ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ۸ : از اٹاوہ قریب کچہری منصفی مرسلہ مولوی حبیب علی صاحب علوی ۲۰ذی الحجہ ۱۳۰۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح شرعی دوہزار روپے مہر پر بکر بالغ کے ساتھ کیا قضارا دختر مذکورہ بعد نکاح کے ایام نابالغی میں زید کے گھر مرگئی اب زید پدر ودیگر وارثان شرعی متوفاۃ مذکورہ کو دعوی مہر مذکور کا بکر شوہر دختر متوفاۃ پر شرعا پہنچتا ہے تو کس قدر کا بحوالہ کتب معتبرہ فقہ حنفی جواب مرحمت ہو گو اس مسئلہ کا جواب اصول سے بہت صاف دیاجاسکتا ہے مگر مستفتی کو اصرار کہ بحوالہ کتاب اس صورت خاص میں حکم دیا جائے۔ میرے پاس جو کتابیں ہیں ان میں باوصف تلاش یہ صورت خاص نہ ملی چونکہ آپ کا کتب خانہ بہت بڑا ہے
حوالہ / References
بحرالرائق باب الاولیاء والاکفیاء ایچ ایم سعید کراچی ۳ / ۱۲۱
اور نظر کی اکثر کتب پر بہت وسیع ہے اس واسطے صورت مسئلہ تحریر کی جاتی ہے جواب سے جس قدر جلد مشرف فرمائے گا ممنون ہوں گا۔ بینو اتوجروا۔
الجواب :
اگر چہ موت احد الزوجین کے سبب مہر کا متأکدہوجانا اور تمام وکمال لازم آنا یونہی علی وجہ الاطلاق جمیع کتب مذہب متون وشروح وفتاوی میں مبین جس میں بالغ ونابالغ ودخول وعدم دخول کی اصلا کوئی تقیید وتخصیص نہیں اور صرف اسی قدر جواب مسئلہ میں قطعا بس تاہم اگر یہ صورت خاص معینہ ہی درکار ہے کہ عورت نابالغہ ہو اور ولی اس کا نکاح ایك مہر پر کردے اور وہ قبل بلوغ شوہر نا دیدہ مرجائے تو یہ جزئیہ بھی بہت کتب میں صاف صاف مصرح اور حکم اس کا وہی کہ بوجہ موت کل مہر لازم بلکہ علماء نے اس صورت میں اس کی تصریح فرمائی کہ ولی مزوج غیر اب وجد ہو جہاں نکا ح لازم نہیں ہوتا اور بعدبلوغ صغیر وصغیرہ کو اختیار طلب فسخ دیا جاتا ہے تو شاید کسی کو عدم تأکد کا توہم ہوتا نہ کہ تزویج پدر کہ قطعالازم وناقابل فسخ ہے یہاں کسی کو بھی اس کا وہم گزرنا اصلا معقول نہیں ۔ ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے :
للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثہ الا خر بلغا اولا ویجب المہر کلہ وان مات قبل الدخول اھ ملتقطا قلت و معلوم ان ضمیر مات الی احدھما الشامل للزوج والزوجۃ کما لایخفی۔
ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔ پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو اھ ملتقطا قلت مات کی ضمیر دونوں سے ایك کے لئے ہے جو خاوند بیوی دونوں کو شامل ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے (ت)
درمختار میں ہے :
یتورثان فیہ (یعنی الصغیر والصغیرۃ) ویلزم کل المھر ۔
اس صورت میں دونوں نابالغ لڑکا اور لڑکی باہم وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقایق میں ہے :
الجواب :
اگر چہ موت احد الزوجین کے سبب مہر کا متأکدہوجانا اور تمام وکمال لازم آنا یونہی علی وجہ الاطلاق جمیع کتب مذہب متون وشروح وفتاوی میں مبین جس میں بالغ ونابالغ ودخول وعدم دخول کی اصلا کوئی تقیید وتخصیص نہیں اور صرف اسی قدر جواب مسئلہ میں قطعا بس تاہم اگر یہ صورت خاص معینہ ہی درکار ہے کہ عورت نابالغہ ہو اور ولی اس کا نکاح ایك مہر پر کردے اور وہ قبل بلوغ شوہر نا دیدہ مرجائے تو یہ جزئیہ بھی بہت کتب میں صاف صاف مصرح اور حکم اس کا وہی کہ بوجہ موت کل مہر لازم بلکہ علماء نے اس صورت میں اس کی تصریح فرمائی کہ ولی مزوج غیر اب وجد ہو جہاں نکا ح لازم نہیں ہوتا اور بعدبلوغ صغیر وصغیرہ کو اختیار طلب فسخ دیا جاتا ہے تو شاید کسی کو عدم تأکد کا توہم ہوتا نہ کہ تزویج پدر کہ قطعالازم وناقابل فسخ ہے یہاں کسی کو بھی اس کا وہم گزرنا اصلا معقول نہیں ۔ ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے :
للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثہ الا خر بلغا اولا ویجب المہر کلہ وان مات قبل الدخول اھ ملتقطا قلت و معلوم ان ضمیر مات الی احدھما الشامل للزوج والزوجۃ کما لایخفی۔
ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔ پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو اھ ملتقطا قلت مات کی ضمیر دونوں سے ایك کے لئے ہے جو خاوند بیوی دونوں کو شامل ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے (ت)
درمختار میں ہے :
یتورثان فیہ (یعنی الصغیر والصغیرۃ) ویلزم کل المھر ۔
اس صورت میں دونوں نابالغ لڑکا اور لڑکی باہم وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقایق میں ہے :
حوالہ / References
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب الاولیاء والاکفاء داراحیاء التر اث العربی بیروت ۱ / ۳۲۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
وتوارثا قبل الفسخ لان النکاح صحیح والملك بہ ثابت فان مات احدھما فقد انتہی النکاح سواء مات قبل البلوغ اوبعدہ لان الفرقۃ بینھما لاتقع الالقضاء القاضی فیتوارثان ویجب المھر کلہ و ان مات قبل الدخول الخ ۔
قبل از فسخ دونوں ایك دوسرے کے وارث ہوں گے کیونکہ نکاح صحیح ہے اور اس سے ملکیت ثابت پس جب کوئی مرگیا تو نکاح تو مکمل ہو چکا یہ موت بلوغ قبل ہویا بعد کیونکہ ان میں فرقت ہوئی تو قضاء قاضی سے ہوتی اس لئے آپس میں وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا اگر چہ دخول سے قبل مرا ہو الخ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں کل مہر مسمی ذمہ بکر لازم ہوا جس میں نصف یعنی ایك ہزار روپئے کا وہ خود وارث ہے بقیہ ورثاء ہزار روپے کا اس پر دعوی کرسکتے ہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹ : ۲۰ رمضان المبارك ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید بکر کی زوجہ منکوحہ کو اس کی غیبت میں بھگا کرلے گیا اور اس سے زناکر تا ہے اور واسطے براء ت الزام تعزیرات ہند کے دعوی دلاپانے دین مہر شرعی زوجہ بکر کی جانب سے بصیغہ دیوانی دائر کراکر بیان کرایا کہ مجھ کو بکر نے طلاق دے دی میرا مہر شرعی بکر زوج میرے سے دلایا جائے۔ اس صورت میں ازروئے شرع شریف زوجہ ہندہ مفرورہ وصول یابی مہر کا استحقاق ہے یا نہیں اور مہر ہندہ کا مؤجل ہے اور کوئی میعاد معین قرار نہ پائی اور بکر نے طلاق بھی نہیں دی۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جب تك موت یا طلاق واقع نہ ہو عورت کو ہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں کہ جب مہر مؤجل بندھا اور میعاد کی کوئی شرح بیان میں نہ آئی کہ سال بھر بعد ادا کیا جائے گا یا دس برس تو شرعا اس کی میعاد موت یا طلاق قرار پاتی ہے
فتاوی عالمگیری میں ہے :
لاخلاف لاحد ان تأجیل المھر الی غایۃ معلومۃ نحو شھر او سنۃ صحیح وان کان لاالی غایۃ معلومۃ فقد اختلف المشائخ فیہ قال بعضھم یصح وھوا لصحیح وھذ الان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مہر کے لئے مدت مقرر کی جاسکتی ہے مثلا مہینہ یا سال وغیرہ یہ صحیح ہے اور اگر مدت معلوم نہ ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا صحیح ہے اور یہی اصح ہے کیونکہ انتہا معلوم ہے کہ وہ طلاق یا موت ہے۔
قبل از فسخ دونوں ایك دوسرے کے وارث ہوں گے کیونکہ نکاح صحیح ہے اور اس سے ملکیت ثابت پس جب کوئی مرگیا تو نکاح تو مکمل ہو چکا یہ موت بلوغ قبل ہویا بعد کیونکہ ان میں فرقت ہوئی تو قضاء قاضی سے ہوتی اس لئے آپس میں وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا اگر چہ دخول سے قبل مرا ہو الخ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں کل مہر مسمی ذمہ بکر لازم ہوا جس میں نصف یعنی ایك ہزار روپئے کا وہ خود وارث ہے بقیہ ورثاء ہزار روپے کا اس پر دعوی کرسکتے ہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹ : ۲۰ رمضان المبارك ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید بکر کی زوجہ منکوحہ کو اس کی غیبت میں بھگا کرلے گیا اور اس سے زناکر تا ہے اور واسطے براء ت الزام تعزیرات ہند کے دعوی دلاپانے دین مہر شرعی زوجہ بکر کی جانب سے بصیغہ دیوانی دائر کراکر بیان کرایا کہ مجھ کو بکر نے طلاق دے دی میرا مہر شرعی بکر زوج میرے سے دلایا جائے۔ اس صورت میں ازروئے شرع شریف زوجہ ہندہ مفرورہ وصول یابی مہر کا استحقاق ہے یا نہیں اور مہر ہندہ کا مؤجل ہے اور کوئی میعاد معین قرار نہ پائی اور بکر نے طلاق بھی نہیں دی۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جب تك موت یا طلاق واقع نہ ہو عورت کو ہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں کہ جب مہر مؤجل بندھا اور میعاد کی کوئی شرح بیان میں نہ آئی کہ سال بھر بعد ادا کیا جائے گا یا دس برس تو شرعا اس کی میعاد موت یا طلاق قرار پاتی ہے
فتاوی عالمگیری میں ہے :
لاخلاف لاحد ان تأجیل المھر الی غایۃ معلومۃ نحو شھر او سنۃ صحیح وان کان لاالی غایۃ معلومۃ فقد اختلف المشائخ فیہ قال بعضھم یصح وھوا لصحیح وھذ الان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مہر کے لئے مدت مقرر کی جاسکتی ہے مثلا مہینہ یا سال وغیرہ یہ صحیح ہے اور اگر مدت معلوم نہ ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا صحیح ہے اور یہی اصح ہے کیونکہ انتہا معلوم ہے کہ وہ طلاق یا موت ہے۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الاولیاء والاکفاء مطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۲ / ۱۲۵
وھو الطلاق اوالموت الایری ان تاجیل البعض صحیح وان لم ینص علی غایۃ معلومۃ کذا فی المحیط ۔
دیکھا نہیں کہ بعض مہر کو مؤخر کرنا صحیح ہے اگر چہ اس کی انتہا ئی مدت معلوم نہ ہو محیط میں یونہی ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوج امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدرما یتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولا یحبسہ ۔
ایك شخص نے عورت سے نکاح کیا ہزار مہر پر اور مکمل ہزار مؤخر کیا تو اگر انتہائی مدت معلوم ہے تو صحیح ہے اگر معلوم نہیں توصحیح نہیں تو جب صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے لحاظ سے جتنا ہوسکے فوری ادا کرو اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا اور قاضی اس پر باقی کی وصول پرجبر نہ کرے گا اور نہ ہی اس کو قید کرے گا۔ (ت) پس میعاد سے پہلے دین کا مطالبہ ہرگز روا نہیں نہ ایسا دعوی مسنوع ہوسکے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰ : از سجول ضلع بہڑائچ مرسلہ شیخ عبد العزیز صاحب تاجر لٹھا ۷ رمضان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلاوجہ شرعی اپنی زوجہ ہندہ کوطلاق دیدی جب ہندہ کے ولی یعنی خالد اس کے باپ نے زید سے مہر طلب کیا تو زید مدعی اس امر کا ہوا کہ میرا مہر دس درم کا تھا اور صورت یہ واقع ہوئی ہے کہ تعداد مہر کی نہ ہندہ اور نہ اس کے ولی خالد کو یاد ہے اور نہ قاضی نکاح خواں اور نہ وکیل کو یاد ہے اور نہ یہ امر یا د ہے کہ وقت نکاح کون کون گواہ مقرر ہوئے تھے لیکن اس قوم میں ادنی ادنی عورتوں کا بھی مہر کم درجہ پانچ سو روپے اور دو۲ دینارسرخ اکثر ہیں اور دس۱۰ درہم مہر جیسا کہ دعوی زید کا ہے اس قوم میں کسی کا نہیں بلکہ غالبا اس شہر میں بھی جہاں یہ دونوں طلاق دہندہ اور مطلقہ رہتی ہے شاید کسی کا بھی نہ ہو اور اسی اعتبار سے کہ اکثر عرف قوم میں ادنی درجہ پانچ سوروپے اور دو۲دینار سرخ ہے خالد
دیکھا نہیں کہ بعض مہر کو مؤخر کرنا صحیح ہے اگر چہ اس کی انتہا ئی مدت معلوم نہ ہو محیط میں یونہی ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوج امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدرما یتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولا یحبسہ ۔
ایك شخص نے عورت سے نکاح کیا ہزار مہر پر اور مکمل ہزار مؤخر کیا تو اگر انتہائی مدت معلوم ہے تو صحیح ہے اگر معلوم نہیں توصحیح نہیں تو جب صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے لحاظ سے جتنا ہوسکے فوری ادا کرو اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا اور قاضی اس پر باقی کی وصول پرجبر نہ کرے گا اور نہ ہی اس کو قید کرے گا۔ (ت) پس میعاد سے پہلے دین کا مطالبہ ہرگز روا نہیں نہ ایسا دعوی مسنوع ہوسکے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰ : از سجول ضلع بہڑائچ مرسلہ شیخ عبد العزیز صاحب تاجر لٹھا ۷ رمضان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلاوجہ شرعی اپنی زوجہ ہندہ کوطلاق دیدی جب ہندہ کے ولی یعنی خالد اس کے باپ نے زید سے مہر طلب کیا تو زید مدعی اس امر کا ہوا کہ میرا مہر دس درم کا تھا اور صورت یہ واقع ہوئی ہے کہ تعداد مہر کی نہ ہندہ اور نہ اس کے ولی خالد کو یاد ہے اور نہ قاضی نکاح خواں اور نہ وکیل کو یاد ہے اور نہ یہ امر یا د ہے کہ وقت نکاح کون کون گواہ مقرر ہوئے تھے لیکن اس قوم میں ادنی ادنی عورتوں کا بھی مہر کم درجہ پانچ سو روپے اور دو۲ دینارسرخ اکثر ہیں اور دس۱۰ درہم مہر جیسا کہ دعوی زید کا ہے اس قوم میں کسی کا نہیں بلکہ غالبا اس شہر میں بھی جہاں یہ دونوں طلاق دہندہ اور مطلقہ رہتی ہے شاید کسی کا بھی نہ ہو اور اسی اعتبار سے کہ اکثر عرف قوم میں ادنی درجہ پانچ سوروپے اور دو۲دینار سرخ ہے خالد
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ فصل الحادی عشر فی منع المرأۃ نفسہا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱۸
فتاوٰی قاضی باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۷۳
فتاوٰی قاضی باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۷۳
ولی ہندہ مدعی اور طالب پانچ سوروپے اور دو۲ دینار سرخ کا ہے پس ایسی شکل میں ہندہ بقول اپنے زوج طلاق دہندہ کے دس۱۰ درم پائے گی یا بموجب عرف اپنی قوم کے حسب دعوی اپنے ولی خالد کے پانچ سو روپیہ اور دو۲ دینار سرخ پانے کی مستحق ہوگی۔ بینواتوجروا
الجواب :
عبارت سوال سے واضح کہ یہ طلاق بعد رخصت وخلوت زن وشو واقع ہوئی پس اگر واقع ایساہی ہے توصورت مستفسرہ میں زوج وزوجہ میں جو اپنے دعوے پر گواہان عدول شرعی قائم کردے گا اسی کے موافق فیصلہ کردیا جائے گا اور اگر دونوں اپنے اپنے مطابق گواہ شرعی دے دیں تو عورت کے مہر مثل پر نظر کرینگے اگر وہ پانچ سوروپے دو۲ دینار سرخ کی اور اگر دس۱۰ درم سے زائد اور پانچ سوروپے دو۲ دینار سے کم ہوتو جتنا مہر مثل ہو اسی قدر دلایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے دعوے پر گواہ نہ لاسکے تو بھی مہر مثل کو دیکھیں گے اگر پانچسو روپے دو۲ دینار یا اس سے زائد ہوا تو عورت سے قسم لے گیں واﷲ میرا نکاح اس سے دس درم نہ ہوا اگر قسم کھالے گا دس۱۰ درم کی ڈگری ہوگی اور انکار کیا تو پانچسو روپے دینے ہوں گے اور اگر دس۱۰ درم سے زائد پانچسو روپے دو۲ دینار سے کم ہوا تو مرد وزن دونوں سے قسم ہائے مذکورہ لیں گے اور اولی یہ کہ شوہر سے ابتدا کریں اگر وہ قسم سے انکار کرے پانچسو روپے دو۲ دینار دلائیں اور قسم کھائے تو عورت سے قسم لیں اگر وہ انکار کرے دس درم پائے اگر وہ بھی کھالے تو مہر مثل دلائیں ۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ان اختلفا فی قدرہ حال قیام النکاح (ای قبل الدخول اوبعدہ کذا بعد الطلاق والدخول رحمتی) فالقول لمن شھد لہ مھر المثل بیمینہ وای اقام بینۃ قبلت سواء شھد مھر المثل لہ اولھا اولا وان اقاما فبینتھامقدمۃ ان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا لان البینات لاثبات خلاف الظاھر
تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا یہ اختلاف قیام نکاح کے دوران ہوا ہو (یعنی قبل از دخول یابعد از دخول اور یوں ہی یہ اختلاف طلاق ودخول کے بعد ہوا ہو رحمتی) تو دونوں میں سے جس کی مہر مثل تائید کرے اس کی بات معتبر ہوگی اور ساتھ قسم بھی لی جائیگی اور دونوں میں سے جس نے گواہ پیش کئے تو گواہی قبول کرلی جائے گی خواہ مہر مثل زوج یا زوجہ کی موافقت کرے یا نہ کرے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کئے تو بیوی کے گواہ مقدم ہوں گے اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور
الجواب :
عبارت سوال سے واضح کہ یہ طلاق بعد رخصت وخلوت زن وشو واقع ہوئی پس اگر واقع ایساہی ہے توصورت مستفسرہ میں زوج وزوجہ میں جو اپنے دعوے پر گواہان عدول شرعی قائم کردے گا اسی کے موافق فیصلہ کردیا جائے گا اور اگر دونوں اپنے اپنے مطابق گواہ شرعی دے دیں تو عورت کے مہر مثل پر نظر کرینگے اگر وہ پانچ سوروپے دو۲ دینار سرخ کی اور اگر دس۱۰ درم سے زائد اور پانچ سوروپے دو۲ دینار سے کم ہوتو جتنا مہر مثل ہو اسی قدر دلایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے دعوے پر گواہ نہ لاسکے تو بھی مہر مثل کو دیکھیں گے اگر پانچسو روپے دو۲ دینار یا اس سے زائد ہوا تو عورت سے قسم لے گیں واﷲ میرا نکاح اس سے دس درم نہ ہوا اگر قسم کھالے گا دس۱۰ درم کی ڈگری ہوگی اور انکار کیا تو پانچسو روپے دینے ہوں گے اور اگر دس۱۰ درم سے زائد پانچسو روپے دو۲ دینار سے کم ہوا تو مرد وزن دونوں سے قسم ہائے مذکورہ لیں گے اور اولی یہ کہ شوہر سے ابتدا کریں اگر وہ قسم سے انکار کرے پانچسو روپے دو۲ دینار دلائیں اور قسم کھائے تو عورت سے قسم لیں اگر وہ انکار کرے دس درم پائے اگر وہ بھی کھالے تو مہر مثل دلائیں ۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ان اختلفا فی قدرہ حال قیام النکاح (ای قبل الدخول اوبعدہ کذا بعد الطلاق والدخول رحمتی) فالقول لمن شھد لہ مھر المثل بیمینہ وای اقام بینۃ قبلت سواء شھد مھر المثل لہ اولھا اولا وان اقاما فبینتھامقدمۃ ان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا لان البینات لاثبات خلاف الظاھر
تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا یہ اختلاف قیام نکاح کے دوران ہوا ہو (یعنی قبل از دخول یابعد از دخول اور یوں ہی یہ اختلاف طلاق ودخول کے بعد ہوا ہو رحمتی) تو دونوں میں سے جس کی مہر مثل تائید کرے اس کی بات معتبر ہوگی اور ساتھ قسم بھی لی جائیگی اور دونوں میں سے جس نے گواہ پیش کئے تو گواہی قبول کرلی جائے گی خواہ مہر مثل زوج یا زوجہ کی موافقت کرے یا نہ کرے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کئے تو بیوی کے گواہ مقدم ہوں گے اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور
وان کان مھرالمثل بینھما تحالفا (والاولی البداء ۃبتحلیف الزوج فایھما نکل لزمہ دعوی الاخر) فان حلفا اوربرھنا قضی بہ(ای بمھر المثل) اھ ملتقطا قلت وفی عبارۃ الدر ھھنا تقصیرنبہ علیہ الشامی وایضاح المسئلۃ فی الخانیۃ والھندیۃ وغیرھما۔ واﷲتعالی اعلم۔
خاوند کے گواہ مقدم ہوں گے اگر مہر مثل بیوی کی تائید کرے کیونکہ گواہی خلاف ظاہر کو ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے اور اگر مہر مثل دونوں کے دعووں کے بین بین ہے تو دونوں سے قسم لی جائے گی (بہتر ہے کہ پہلے خاوند کی قسم لی جائے تو جو قسم سے انکار کرے اس پردوسرے کا دعوی لازم ہوجائے گا) اور اگر دونوں نے قسم دے دی یا گواہ پیش کردئے تو پھر قاضی مہر مثل پر فیصلہ دے اھ ملتقطا قلت (میں کہتا ہوں کہ) یہاں در کی عبارت میں کوتاہی ہے جس پر علامہ شامی نے توجہ دلائی ہے اور مسئلہ کی وضاحت خانیہ اور ہندیہ وغیر ہما میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۱ : از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۱۳ رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
مہر ازواج مطہرات حضور سرور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا کس قدر تھا اور مہر حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا کس قدر مع تعداد درہم و دینار وتطبیق سکہ رائج الوقت ارشاد ہو اور وزن درہم و دینار موافق وزن اس وقت کے کیا ہے وبینوا توجروا
الجواب :
عامہ ازواج مطہرات وبنات مکرمات حضور پر نور سید الکائنات علیہ وعلیہن افضل الصلوۃ اکمل التحیات کا مہر اقدس پانچ سودرہم سے زائد نہ تھا۔
مسلم فی صحیحہ عن ابی سلمۃ قال سألت عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا کم کان صداق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالت کان صداقہ لازواجہ ثنتی عشرۃ اوقیۃ ونش قالت اتدری ماالنش
صحیح مسلم شریف میں ہے ابوسلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ازواج کیلئے بارہ اوقیہ( چالیس درہم فی اوقیہ) اور ایك نش مقرر فرمایا۔
خاوند کے گواہ مقدم ہوں گے اگر مہر مثل بیوی کی تائید کرے کیونکہ گواہی خلاف ظاہر کو ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے اور اگر مہر مثل دونوں کے دعووں کے بین بین ہے تو دونوں سے قسم لی جائے گی (بہتر ہے کہ پہلے خاوند کی قسم لی جائے تو جو قسم سے انکار کرے اس پردوسرے کا دعوی لازم ہوجائے گا) اور اگر دونوں نے قسم دے دی یا گواہ پیش کردئے تو پھر قاضی مہر مثل پر فیصلہ دے اھ ملتقطا قلت (میں کہتا ہوں کہ) یہاں در کی عبارت میں کوتاہی ہے جس پر علامہ شامی نے توجہ دلائی ہے اور مسئلہ کی وضاحت خانیہ اور ہندیہ وغیر ہما میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۱ : از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۱۳ رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
مہر ازواج مطہرات حضور سرور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا کس قدر تھا اور مہر حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا کس قدر مع تعداد درہم و دینار وتطبیق سکہ رائج الوقت ارشاد ہو اور وزن درہم و دینار موافق وزن اس وقت کے کیا ہے وبینوا توجروا
الجواب :
عامہ ازواج مطہرات وبنات مکرمات حضور پر نور سید الکائنات علیہ وعلیہن افضل الصلوۃ اکمل التحیات کا مہر اقدس پانچ سودرہم سے زائد نہ تھا۔
مسلم فی صحیحہ عن ابی سلمۃ قال سألت عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا کم کان صداق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالت کان صداقہ لازواجہ ثنتی عشرۃ اوقیۃ ونش قالت اتدری ماالنش
صحیح مسلم شریف میں ہے ابوسلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ازواج کیلئے بارہ اوقیہ( چالیس درہم فی اوقیہ) اور ایك نش مقرر فرمایا۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳- ۲۰۲ ، ردالمحتار باب المہر دارا حیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۲-۳۶۱
قلت لاقالت نصف اوقیۃ فتلك خمس مائۃ دراھم احمد والدارمی والاربعۃ عن امیرالمؤمنین عمر الفاروق الاعظم رضی اﷲتعالی عنہ قال ماعملت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نکح شیئا من نسائہ ولا انکح شیئا من بناتہ علی اکثر من اثنتی عشرۃ اوقیۃ ۔
تو آپ نے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے میں نے کہا نہیں توآپ نے فرمایا : نش نصف اوقیہ کو کہتے ہیں تو یہ کل پانسو درہم ہوئے۔ امام احمد دارمی اور سنن اربعہ(ابوداؤد نسائی ترمذی ابن ماجہ) نے امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ازواج یا صاحبزادیوں کا نکاح بارہ اوقیہ سے زیادہ پر کیا ہو یہ مجھے معلوم نہیں ۔ (ت)
مگر ام المومنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان خواہر جناب امیر معاویہ رضی اﷲتعالی عنہم کہ ان کا مہر ایك روایت پر چار ہزاردرہم کما فی سنن ابی داؤد( جیساکہ سنن ابی داؤد میں ہے۔ ت)دوسری میں چار ہزار دینارتھا ۔
فی المستدرك صححہ الحاکم واقرہ الذھبی ولا یخالف ھذامامر من حدیثی ام المؤمنین وامیر المؤمنین رضی اﷲتعالی عنہما فان ھذہ الامھارلم یکن من رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم بل من ملك الحبشۃ سید نا النجاشی رضی اﷲتعالی عنہ۔
جیسا کہ مستدرك میں امام حاکم نے اس کی تصحیح کی اورذہبی نے اس کوثابت مانا اور یہ حضرت ام المؤمنین اور عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہما سے مروی کا مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ مہر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر نہیں کیا بلکہ حبشہ کے بادشاہ حضرت سیدنا نجاشی رضی اﷲتعالی عنہ نے مقرر کیا تھا۔ (ت)
اور حضرت بتول زہرا رضی اﷲتعالی عنہا کا مہراقدس چار سو چاندی
علی ماذکر فی المرقاۃ الجزم بہ عن روضۃ الاحباب والمواھب
(جیساکہ مرقاۃ میں ذکر فرمایا کہ روضۃ الاحباب اور مواہب نے اس پر جزم کیا ہے۔ ت) درہم شرعی کا وزن ۳ ماشے ۵ -۱ / ۱ سرخ چاندی ہے کما حققنا فی الزکوۃ
تو آپ نے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے میں نے کہا نہیں توآپ نے فرمایا : نش نصف اوقیہ کو کہتے ہیں تو یہ کل پانسو درہم ہوئے۔ امام احمد دارمی اور سنن اربعہ(ابوداؤد نسائی ترمذی ابن ماجہ) نے امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ازواج یا صاحبزادیوں کا نکاح بارہ اوقیہ سے زیادہ پر کیا ہو یہ مجھے معلوم نہیں ۔ (ت)
مگر ام المومنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان خواہر جناب امیر معاویہ رضی اﷲتعالی عنہم کہ ان کا مہر ایك روایت پر چار ہزاردرہم کما فی سنن ابی داؤد( جیساکہ سنن ابی داؤد میں ہے۔ ت)دوسری میں چار ہزار دینارتھا ۔
فی المستدرك صححہ الحاکم واقرہ الذھبی ولا یخالف ھذامامر من حدیثی ام المؤمنین وامیر المؤمنین رضی اﷲتعالی عنہما فان ھذہ الامھارلم یکن من رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم بل من ملك الحبشۃ سید نا النجاشی رضی اﷲتعالی عنہ۔
جیسا کہ مستدرك میں امام حاکم نے اس کی تصحیح کی اورذہبی نے اس کوثابت مانا اور یہ حضرت ام المؤمنین اور عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہما سے مروی کا مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ مہر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر نہیں کیا بلکہ حبشہ کے بادشاہ حضرت سیدنا نجاشی رضی اﷲتعالی عنہ نے مقرر کیا تھا۔ (ت)
اور حضرت بتول زہرا رضی اﷲتعالی عنہا کا مہراقدس چار سو چاندی
علی ماذکر فی المرقاۃ الجزم بہ عن روضۃ الاحباب والمواھب
(جیساکہ مرقاۃ میں ذکر فرمایا کہ روضۃ الاحباب اور مواہب نے اس پر جزم کیا ہے۔ ت) درہم شرعی کا وزن ۳ ماشے ۵ -۱ / ۱ سرخ چاندی ہے کما حققنا فی الزکوۃ
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النکاح باب الصداق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۸
جامع الترمذی ابواب النکاح امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۳۲
سنن ابی داود کتاب النکاح باب الصداق آفتاب عالم پریس لاھور ۱ / ۲۸۷
المستدرك للحاکم کتاب النکاح مہر ام حبیبہ دارالفکر بيروت ۲ / ۱۸۱
مرقاۃ المفاتح کتاب النکاح فصل ثانی حدیث ۔ ۳۳ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۶ / ۳۶۰
جامع الترمذی ابواب النکاح امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۳۲
سنن ابی داود کتاب النکاح باب الصداق آفتاب عالم پریس لاھور ۱ / ۲۸۷
المستدرك للحاکم کتاب النکاح مہر ام حبیبہ دارالفکر بيروت ۲ / ۱۸۱
مرقاۃ المفاتح کتاب النکاح فصل ثانی حدیث ۔ ۳۳ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۶ / ۳۶۰
من فتاونا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب الزکوۃ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) اور دینار ایك مثقال یعنی چار۴ماشے سونا یہی وزن سبعہ ہے یعنی سات مثقال وزن میں برابر دس درہم کے فی تنویر الابصار کل عشرۃ دراھم وزن سبعۃ مساقیل ( تنویر الابصارمیں ہے کہ ہر دس ۱۰ کا وزن سات مثقال ہے۔ ت)اور باعتبار قیمت ایك دینار شرعی دس۱۰ درہم کا تھا
فی ردالمحتار فی الھدایۃ کل دینار عشرۃ دراہم فی الشرع قال فی الفتح ای یقوم فی الشرع بعشرۃ کذاکان فی الابتداء ۔
ردالمحتارمیں ہے کہ ہدایہ میں ہے کہ ہر دینار دس۱۰درہم ہے شرع فتح میں فرمایا ہے کہ شرع میں ہر دینار کی قیمت دس۱۰ درہم مقرر ہوئی جیسا کہ ابتداء میں تھا۔ (ت)
یہاں کا روپیہ ۱۱ ماشہ ۲ سرخ ہے تو درہم اس کا ۷ / ۲۵ ہے کہ مجنس کرنے سے درہم ایك سوچھبیس روپیہ ۴۵۰ ہواتو درہم روپے کا ۲۶لا ۱ / ۴۵۰ یعنی ۷ / ۲۵ ٹھہرا جس کا حاصل یہ ہے کہ معہ۷ روپے برابر م عہ۲۵ درہم کے یا ایك روپیہ برابر ۳-۴ / ۷ درم کے ولہذا نصاب فضہ کہ دوسو۲۰۰ درم ہے اس درم ہ اس روپے سے ۵۶ آتی ہے صما ۵۰ / درمکے ما لعہ ۱۴۰ ہوئے اور چار سو۴۰۰ مثقال کے ایك سوساٹھ۱۶۰ روپے دس۱۰ درہم اقل مقدار مہر ہے عا ۱۲ / ۹-۳ / ۵ پائی یعنی دوروپے پونے تیرہ آنہ اور پانچواں حصہ پیسے کا چار ہزار درم کے یہاں کہ سکہ سے ایك ہزار ایك سوبیس۱۱۲۰ روپے ہوئے اور ہر دینار دس۱۰ درہم کا ہے لہذا چار ہزار دینار کے گیارہ ہزار دوسوروپے۔ اس حساب سے ظاہر ہوا کہ زمانہ اقدس رسالت میں سونے کی قیمت ساڑھے سات روپے تولہ سے بھی کم تھی کہ جب دینار یعنی ساڑھے چار ماشہ سونا دس۱۰ در م یعنی دو۲ روپے بارہ۱۲ آنے ۹-۳ / ۵ پائی کا تھا تو بحساب اربعہ ایك تولہ سونا معہ ۷ / ۵-۳ / ۵ پائی کا ہوا یہ برکات دنیا تھیں علاوہ برکات دینیہ کے جن کا شمار ﷲعزوجل کے سواکوئی نہیں کرسکتاو ان تعدوا نعمة الله لا تحصوها (اور اگر اﷲ کی نعمتیں گنوتوانہیں شمار نہ کرسکوگے۔ ت)
مسئلہ ۱۲ : از بڑودہ گجرات کلاں محلہ بھوتنی کا جھانپہ نظام پورہ مرسلہ امر اؤ مائی بنت غلام حسین ۱۶رجب ۱۳۱۱ھ
عورت کامہر سوادس ہزار روپے کا ہے مرد نے نان ونفقہ بند کرلیا ہے عورت نے مہر کا دعوی کیا ہے اس صورت میں مہر اسے دلایاجائے گا یا نہیں بینواتوجروا
فی ردالمحتار فی الھدایۃ کل دینار عشرۃ دراہم فی الشرع قال فی الفتح ای یقوم فی الشرع بعشرۃ کذاکان فی الابتداء ۔
ردالمحتارمیں ہے کہ ہدایہ میں ہے کہ ہر دینار دس۱۰درہم ہے شرع فتح میں فرمایا ہے کہ شرع میں ہر دینار کی قیمت دس۱۰ درہم مقرر ہوئی جیسا کہ ابتداء میں تھا۔ (ت)
یہاں کا روپیہ ۱۱ ماشہ ۲ سرخ ہے تو درہم اس کا ۷ / ۲۵ ہے کہ مجنس کرنے سے درہم ایك سوچھبیس روپیہ ۴۵۰ ہواتو درہم روپے کا ۲۶لا ۱ / ۴۵۰ یعنی ۷ / ۲۵ ٹھہرا جس کا حاصل یہ ہے کہ معہ۷ روپے برابر م عہ۲۵ درہم کے یا ایك روپیہ برابر ۳-۴ / ۷ درم کے ولہذا نصاب فضہ کہ دوسو۲۰۰ درم ہے اس درم ہ اس روپے سے ۵۶ آتی ہے صما ۵۰ / درمکے ما لعہ ۱۴۰ ہوئے اور چار سو۴۰۰ مثقال کے ایك سوساٹھ۱۶۰ روپے دس۱۰ درہم اقل مقدار مہر ہے عا ۱۲ / ۹-۳ / ۵ پائی یعنی دوروپے پونے تیرہ آنہ اور پانچواں حصہ پیسے کا چار ہزار درم کے یہاں کہ سکہ سے ایك ہزار ایك سوبیس۱۱۲۰ روپے ہوئے اور ہر دینار دس۱۰ درہم کا ہے لہذا چار ہزار دینار کے گیارہ ہزار دوسوروپے۔ اس حساب سے ظاہر ہوا کہ زمانہ اقدس رسالت میں سونے کی قیمت ساڑھے سات روپے تولہ سے بھی کم تھی کہ جب دینار یعنی ساڑھے چار ماشہ سونا دس۱۰ در م یعنی دو۲ روپے بارہ۱۲ آنے ۹-۳ / ۵ پائی کا تھا تو بحساب اربعہ ایك تولہ سونا معہ ۷ / ۵-۳ / ۵ پائی کا ہوا یہ برکات دنیا تھیں علاوہ برکات دینیہ کے جن کا شمار ﷲعزوجل کے سواکوئی نہیں کرسکتاو ان تعدوا نعمة الله لا تحصوها (اور اگر اﷲ کی نعمتیں گنوتوانہیں شمار نہ کرسکوگے۔ ت)
مسئلہ ۱۲ : از بڑودہ گجرات کلاں محلہ بھوتنی کا جھانپہ نظام پورہ مرسلہ امر اؤ مائی بنت غلام حسین ۱۶رجب ۱۳۱۱ھ
عورت کامہر سوادس ہزار روپے کا ہے مرد نے نان ونفقہ بند کرلیا ہے عورت نے مہر کا دعوی کیا ہے اس صورت میں مہر اسے دلایاجائے گا یا نہیں بینواتوجروا
حوالہ / References
درمختار تنویر الابصار باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۴
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱
القرآن الکریم ۱۶ /۱۸
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱
القرآن الکریم ۱۶ /۱۸
الجواب :
اگر مہر پیشگی یعنی شوہر کے پاس جانے سے پہلے دینا قرار پایا تھا کوئی میعاد معین ٹھری تھی کہ اتنی مدت کے بعد دیاجائے گا اور وہ مدت گزر گئی جب تو عورت ابھی دعوی کرسکتی ہے اور مہر فورا دلایا جائے گا اور اگر کچھ مدت مقرر نہ ہوئی تھی تو وہاں اس شہر کے عرف وعادت پر عمل ہوگا' اگر وہاں کا عرف یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت جب طلب کرے ادا کیا جاتا ہے تو دعوی قابل سماعت ہے مہر ابھی دلایا جائے اور اگر عرف یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب مرد وعورت میں کسی کا انتقال ہویا مرد طلاق دے دے اس وقت مہر کا مطالبہ ہوتا ہے تو اسی وقت ملے گا اس سے پہلے دعوی نہ سنا جائے گا۔ نقایہ میں ہے :
المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافالمتعارف ۔
مہر معجل یا مؤجل کی مدت بیان کردی گئی ہو تو وہی مراد ہے ورنہ جو عرف میں ہو وہی مراد ہوگا(ت)
ہمارے شہروں کا عرف یہی ہے تو یہاں عورت کو پیش از طلاق یا موت مطالبہ مہر کا اختیار نہیں ایسے ہی عرف کے سبب ردالمحتار کتاب القضا میں ہے :
حق طلبہ انما ثبت لھا بعدالموت والطلاق ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بیوی کو مہر کے مطالبہ کا حق طلاق یا موت بعد ثابت ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳ : ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بوقت نکاح تصریح مہر معجل و مؤجل نہیں ہوئی تو کس وقت میں مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگا
الجواب :
جب طلاق یا زن و شوہر میں کسی کی موت واقع ہو اس وقت واجب الادا ہوگا اس سے پہلے عورت مطالبہ نہیں کرسکتی
ھوالمتعارف فی بلاد فی ردالمحتار حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہمارے علاقہ میں یہی متعارف ہے ردالمحتار میں ہے کہ بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق طلاق یا موت کے بعد ہوگا نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
اگر مہر پیشگی یعنی شوہر کے پاس جانے سے پہلے دینا قرار پایا تھا کوئی میعاد معین ٹھری تھی کہ اتنی مدت کے بعد دیاجائے گا اور وہ مدت گزر گئی جب تو عورت ابھی دعوی کرسکتی ہے اور مہر فورا دلایا جائے گا اور اگر کچھ مدت مقرر نہ ہوئی تھی تو وہاں اس شہر کے عرف وعادت پر عمل ہوگا' اگر وہاں کا عرف یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت جب طلب کرے ادا کیا جاتا ہے تو دعوی قابل سماعت ہے مہر ابھی دلایا جائے اور اگر عرف یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب مرد وعورت میں کسی کا انتقال ہویا مرد طلاق دے دے اس وقت مہر کا مطالبہ ہوتا ہے تو اسی وقت ملے گا اس سے پہلے دعوی نہ سنا جائے گا۔ نقایہ میں ہے :
المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافالمتعارف ۔
مہر معجل یا مؤجل کی مدت بیان کردی گئی ہو تو وہی مراد ہے ورنہ جو عرف میں ہو وہی مراد ہوگا(ت)
ہمارے شہروں کا عرف یہی ہے تو یہاں عورت کو پیش از طلاق یا موت مطالبہ مہر کا اختیار نہیں ایسے ہی عرف کے سبب ردالمحتار کتاب القضا میں ہے :
حق طلبہ انما ثبت لھا بعدالموت والطلاق ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بیوی کو مہر کے مطالبہ کا حق طلاق یا موت بعد ثابت ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳ : ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بوقت نکاح تصریح مہر معجل و مؤجل نہیں ہوئی تو کس وقت میں مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگا
الجواب :
جب طلاق یا زن و شوہر میں کسی کی موت واقع ہو اس وقت واجب الادا ہوگا اس سے پہلے عورت مطالبہ نہیں کرسکتی
ھوالمتعارف فی بلاد فی ردالمحتار حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہمارے علاقہ میں یہی متعارف ہے ردالمحتار میں ہے کہ بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق طلاق یا موت کے بعد ہوگا نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
حوالہ / References
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
مسئلہ۱۴ : از بڑودو پہلی پلٹن تیسری کمپنی مکان شیخ امام صوبہ دار مرسلہ رحمت بی ۲۲ذوالحجہ ۱۳۱۱ھ
شرع محمدی حنفیہ مذاہب کا اس سوال کے جواب میں کیا حکم ہے میرا مہر سات سو روپے کا تھا میں نے اپنے شوہر کو معاف کردیا میں نے نیك کام کیا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بیشك نیك کام کیا اور اس میں بڑے ثواب کی امید ہے ان شاء اﷲتعالی۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتےہیں :
من نفس عن غریمہ او محی عنہ کان فی ظل العرش یوم القیامۃ ۔ رواہ الامام احمد ومسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ والامام البغوی شرح السنۃ عن ابی قتادۃ رضی اﷲتعالی عنہ وقال ھذا حدیث حسن۔
جو اپنے مدیون کو مہلت دے یا معاف کردے قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہو۔ (اسے امام احمداور امام مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے اورامام بغوی نے شرح السنۃ میں ابوقتادہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن ہے۔ ت)
اگلی امتوں میں ایك گنہگار آدمی اہنے مدیونوں سے درگزر کرتا تھا جب وہ مرا اﷲتعالی نے اس کے گناہوں سے درگزر فرمائی رواہ الشیخان عن حذیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ (اس کوبخاری اور مسلم نے حذیفہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت) اور اسے جنت میں جگہ بخشی رویا ہ عنہ و عن ابی مسعود رضی اﷲتعالی عنہما (انہوں نے اس سے اور ابو مسعود رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت) مولی تعالی نے فرمایا : جب یہ اپنے مدیون سے در گزر کرتا تھا تومجھے زیادہ لائق ہے کہ درگزر فرماؤں رواہ مسلم عن ابی مسعود وعن عقبۃ بن عامر رضی اﷲتعالی عنھما کلھم عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ( اس کو مسلم نے ابومسعود اور عقبہ بن عامر رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا ہے ان سب نے نبی پاك صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر مسماۃ ہندہ صغیرہ نابالغہ کا
شرع محمدی حنفیہ مذاہب کا اس سوال کے جواب میں کیا حکم ہے میرا مہر سات سو روپے کا تھا میں نے اپنے شوہر کو معاف کردیا میں نے نیك کام کیا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بیشك نیك کام کیا اور اس میں بڑے ثواب کی امید ہے ان شاء اﷲتعالی۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتےہیں :
من نفس عن غریمہ او محی عنہ کان فی ظل العرش یوم القیامۃ ۔ رواہ الامام احمد ومسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ والامام البغوی شرح السنۃ عن ابی قتادۃ رضی اﷲتعالی عنہ وقال ھذا حدیث حسن۔
جو اپنے مدیون کو مہلت دے یا معاف کردے قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہو۔ (اسے امام احمداور امام مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے اورامام بغوی نے شرح السنۃ میں ابوقتادہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن ہے۔ ت)
اگلی امتوں میں ایك گنہگار آدمی اہنے مدیونوں سے درگزر کرتا تھا جب وہ مرا اﷲتعالی نے اس کے گناہوں سے درگزر فرمائی رواہ الشیخان عن حذیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ (اس کوبخاری اور مسلم نے حذیفہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت) اور اسے جنت میں جگہ بخشی رویا ہ عنہ و عن ابی مسعود رضی اﷲتعالی عنہما (انہوں نے اس سے اور ابو مسعود رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت) مولی تعالی نے فرمایا : جب یہ اپنے مدیون سے در گزر کرتا تھا تومجھے زیادہ لائق ہے کہ درگزر فرماؤں رواہ مسلم عن ابی مسعود وعن عقبۃ بن عامر رضی اﷲتعالی عنھما کلھم عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ( اس کو مسلم نے ابومسعود اور عقبہ بن عامر رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا ہے ان سب نے نبی پاك صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر مسماۃ ہندہ صغیرہ نابالغہ کا
حوالہ / References
مسند امام احمد حدیث ابوقتادہ انصاری مطبع دار الفکر ۵ / ۳۰۸
صحیح مسلم کتاب امساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۸
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۸
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۸
صحیح مسلم کتاب امساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۸
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۸
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۸
نکاح عمروکے ساتھ کرنا چاہا وقت نکاح کے وکیل نکاح نے تعداد مہر کی مبلغ دس ہزار روپے اور دو۲ دینار سرخ ظاہر کی اس پر عمرو کی طرف سے لوگوں نے کہاکہ تعداد مہرکی بہت ہے عمرو کی حیثیت اتنی بھی نہیں کہ دسواں حصہ اس کا ادا کرسکے تعداد مہر کی کم کرنا چاہئے وکیل نکاح نے جواب دیا کہ تعداد مہر کم کرنے کا مجھ کو اختیار نہیں ہے مگر یہ مہر ایسا نہیں ہے جودونوں کی زندگی میں لیا دیاجائے جبکہ اس مہر پر نکاح ہوگیا اور ہندہ باپ کے گہر سے آکر عمرو کے گھر دوتین مہینے رہی مگر بوجہ صغیرہ ونابالغہ ہونے ہندہ کے عمرو کو استمتاع وطی نہیں ہوا بعدہ زید ہندہ کو بلا مرضی عمرو کے اپنے گھر لے گیا اور اب عمروکے گھر نہیں آنے دیتا ہے اور دعوی بعض مہر کا بہ ترك بعض مہر کے منجانب ہندہ کو بولایت پانے بوجہ نا بالغی ہندہ کے کرتا ہے پس اس صورت میں مہر عمرو سے دلایا جائے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
مہر میں جب نہ یہ شرط کی جائے کل یا اس قدر پیشگی لیں گے جسے معجل کہتے ہیں نہ اس کے ادا کے لئے کوئی میعاد معین کی جائے مثلا سال دوسال یا جو قرار پائے جسے مؤجل کہتے ہیں تو وہ عرف بلد پر رہے گا جس شہرمیں عام طور پر یہ رواج ہوکہ مثلا نصف یا ربع یاکسی قدر بغیر تصریح تعجیل کے بھی پیشگی لیتے ہیں وہاں اتنا پیشگی دینا ہوگا اور جہاں عرف یوں ہے کہ بے موت یا طلاق لینا دینا نہیں ہوتا وہاں جب تك زوجین میں کسی کا انتقال یا طلاق واقع نہ ہوا اختیار مطالبہ نہ دیں گے۔ مختصر الوقایہ میں ہے
المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافالمتعارف ۔
اگر مہر معجل و مؤجل کی مدت بیان کی گئی ہوتو بہتر ورنہ متعارف مراد ہوگا۔ (ت)
ہمارے بلاد میں عام مہور بیان تعجیل وتاجیل سے خالی ہوتے ہیں اور رواج یہ ہے کہ اس کے لزوم ادا کو موت یا طلاق پر موقوف رکھا جاتا ہے پس صورت مسئولہ میں اگر وکیل نکاح اس مضمون کی تصریح بھی نہ کرتا کہ یہ وہ مہر نہیں جو زندگی میں لیا دیا جائے تاہم پدر ہندہ بحالت نابالغی اور خود ہندہ بعد بلوغ تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو عمرو سے کسی جزو مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتے
ردالمحتار میں ہے :
حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔
بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق موت یا طلاق کے بعد ہوگا نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔ (ت)
الجواب :
مہر میں جب نہ یہ شرط کی جائے کل یا اس قدر پیشگی لیں گے جسے معجل کہتے ہیں نہ اس کے ادا کے لئے کوئی میعاد معین کی جائے مثلا سال دوسال یا جو قرار پائے جسے مؤجل کہتے ہیں تو وہ عرف بلد پر رہے گا جس شہرمیں عام طور پر یہ رواج ہوکہ مثلا نصف یا ربع یاکسی قدر بغیر تصریح تعجیل کے بھی پیشگی لیتے ہیں وہاں اتنا پیشگی دینا ہوگا اور جہاں عرف یوں ہے کہ بے موت یا طلاق لینا دینا نہیں ہوتا وہاں جب تك زوجین میں کسی کا انتقال یا طلاق واقع نہ ہوا اختیار مطالبہ نہ دیں گے۔ مختصر الوقایہ میں ہے
المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافالمتعارف ۔
اگر مہر معجل و مؤجل کی مدت بیان کی گئی ہوتو بہتر ورنہ متعارف مراد ہوگا۔ (ت)
ہمارے بلاد میں عام مہور بیان تعجیل وتاجیل سے خالی ہوتے ہیں اور رواج یہ ہے کہ اس کے لزوم ادا کو موت یا طلاق پر موقوف رکھا جاتا ہے پس صورت مسئولہ میں اگر وکیل نکاح اس مضمون کی تصریح بھی نہ کرتا کہ یہ وہ مہر نہیں جو زندگی میں لیا دیا جائے تاہم پدر ہندہ بحالت نابالغی اور خود ہندہ بعد بلوغ تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو عمرو سے کسی جزو مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتے
ردالمحتار میں ہے :
حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔
بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق موت یا طلاق کے بعد ہوگا نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۵۶
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التر اث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التر اث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
یہاں کہ وکیل نکاح نے وقت نکاح اس مضمون کی صاف تصریح کردی بدرجہ اولی کسی کو اختیار مطالبہ نہیں ۔
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا کہ زنا سے حاملہ تھی نکاح غیر زانی سے کہ اسے اس کے حمل سے اطلاع نہ تھی ہوگیا آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں اوریہ عذر مردکا کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ حاملہ اسقاط مہر کے لئے کافی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہے اب نکاح کرنے کی ضرورت نہیں مگر جس صورت میں حمل اس مرد سے نہیں رہا تو اسے قبل از وضع حمل مباشرت اور اس کے دواعی اس عورت کے ساتھ جائز نہیں ۔ درمختار میں ہے :
وصح نکاح حبلی من زنالاحبلی من غیرہ ای الزنا لثبوت نسبہ ولو من حربی او سیدھا المقربہ وان حرم وطؤھا اور دواعیہ حتی تضع ۔
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے غیر زنا سے حاملہ کا نکاح صیحح نہیں کیونکہ اسکی نصب ثابت ہوگی خواہ حربی سے یا مالك سے جب وہ اقرارکرے اگرچہ زنا کی حاملہ سے نکاح جائز مگر جماع اور دواعی حرام ہیں جب تك وہ بچہ کو جنم نہ دے۔ (ت)
اوریہ عذر کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ کہ حاملہ مہر کو ساقطنہ کرے گا کہ کفاء ت عورت کی طرف سے معتبر نہیں ۔
کتا ب مذکور میں ہے :
لاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دنائۃ الفراش وھذ اعند الکل فی الصحیح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عورت کی طرف سے کفاءت نہیں کیونکہ خاوند کے لئے بیوی بستر بنتی ہے تو اسے کمتر مفروش سے رنج وغیظ نہیں آتا۔ صحیح مذہب میں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷ : از ذخیرہ مسئولہ مولوی برکات احمد صاحب وکیل دیوانی
مولانا صاحب دام عنایتکم سالم مسنون کے بعد عارض ہوں ایك مسئلہ شرعی بتادیجئے وہ یہ ہے
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا کہ زنا سے حاملہ تھی نکاح غیر زانی سے کہ اسے اس کے حمل سے اطلاع نہ تھی ہوگیا آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں اوریہ عذر مردکا کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ حاملہ اسقاط مہر کے لئے کافی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہے اب نکاح کرنے کی ضرورت نہیں مگر جس صورت میں حمل اس مرد سے نہیں رہا تو اسے قبل از وضع حمل مباشرت اور اس کے دواعی اس عورت کے ساتھ جائز نہیں ۔ درمختار میں ہے :
وصح نکاح حبلی من زنالاحبلی من غیرہ ای الزنا لثبوت نسبہ ولو من حربی او سیدھا المقربہ وان حرم وطؤھا اور دواعیہ حتی تضع ۔
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے غیر زنا سے حاملہ کا نکاح صیحح نہیں کیونکہ اسکی نصب ثابت ہوگی خواہ حربی سے یا مالك سے جب وہ اقرارکرے اگرچہ زنا کی حاملہ سے نکاح جائز مگر جماع اور دواعی حرام ہیں جب تك وہ بچہ کو جنم نہ دے۔ (ت)
اوریہ عذر کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ کہ حاملہ مہر کو ساقطنہ کرے گا کہ کفاء ت عورت کی طرف سے معتبر نہیں ۔
کتا ب مذکور میں ہے :
لاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دنائۃ الفراش وھذ اعند الکل فی الصحیح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عورت کی طرف سے کفاءت نہیں کیونکہ خاوند کے لئے بیوی بستر بنتی ہے تو اسے کمتر مفروش سے رنج وغیظ نہیں آتا۔ صحیح مذہب میں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷ : از ذخیرہ مسئولہ مولوی برکات احمد صاحب وکیل دیوانی
مولانا صاحب دام عنایتکم سالم مسنون کے بعد عارض ہوں ایك مسئلہ شرعی بتادیجئے وہ یہ ہے
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
درمختار باب الکفاء ۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۹۴
درمختار باب الکفاء ۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۹۴
کہ مہر کب واجب ہو تا ہے اگرمعجل ہو تو کس وقتخلوت صحیحہ مہرکے واسطے ضروری ہے یانہیں اور خلوت صحیحہ کس کو کہتے ہیں اس کی تعریف کیا ہے بینو اتوجروا
الجواب :
مہر معجل وہ مہر یا پارہ مہر کا ہے جس کا ادا کرنا فورا قرار پایا ہو خواہ از روئے شرط کہ نفس عقد نکاح میں تعجیل مذکور ہویا عقد کے بعد شرط تعجیل ٹھہری خواہ ازروئے عرف جبکہ وہ شرط صحیح کے مخالف نہ واقع ہویہ مہر فورا واجب الادا ہوتا ہے یہاں تك کہ اس کے ادا سے پہلے شوہر عورت کو بے اس کی رضا کے ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ رخصت نہیں کراسکتا اور مؤجل وہ جس کے لئے کوئی میعاد معین قرار دی گئی ہو مثلا ایك سال دس سال یا جس قدر ٹھہرائیں یہ اس وقت واجب الادا ہوگا جب وعدے کا وقت آجائے اس سے پہلے عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ جامع الرموز میں ہے :
المھر المعجل والمؤجل ان بینا ای بین فی العقد کلہ او بعضہ یکون معجلا او مؤجلا فذاك المبین واجب اداؤہ علی مابین ۔
مہر معجل اور مؤجل اگر بوقت عقد بیان ہوچکے ہیں یعنی تمام یا بعض معجل ہوگا یا مؤجل ہوگا تو اس بیان کے مطابق ادائیگی واجب ہوگی۔ (ت)
اور اگر مؤجل کہا اور کائی میعاد اصلا نہ بیان کی تو وہ طلاق یا موت تك مؤجل ٹھہرے گا اور بعد فرقت ہی واجب الادا ہوگا اس سے پہلے مطالبہ کا عورت کو اصلا استحقاق نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
من اول الفروع المذکورۃ فی کتاب القضاء قبل باب التحکیم مسئلۃ عدم سماع الدعوی بعد مرور کذا سنہ لامات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب موخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ کتاب القضاء میں تحکیم کے باب سے قبل سب سے پہلا جزئیہ یہ مذکور ہ کہ اتنے سال گزرجانے کے بعد دعوی قابل سماعت نہیں ہوتا اس پر تفریع یہ ہے کہ نکاح کے وقت سے مثلا بیس۲۰ سال بعد خاوند فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر شدہ مہر کے مطالبہ کا حق ہے کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کاحق ہے کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے نکاح کے وقت سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں ۔ (ت)
الجواب :
مہر معجل وہ مہر یا پارہ مہر کا ہے جس کا ادا کرنا فورا قرار پایا ہو خواہ از روئے شرط کہ نفس عقد نکاح میں تعجیل مذکور ہویا عقد کے بعد شرط تعجیل ٹھہری خواہ ازروئے عرف جبکہ وہ شرط صحیح کے مخالف نہ واقع ہویہ مہر فورا واجب الادا ہوتا ہے یہاں تك کہ اس کے ادا سے پہلے شوہر عورت کو بے اس کی رضا کے ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ رخصت نہیں کراسکتا اور مؤجل وہ جس کے لئے کوئی میعاد معین قرار دی گئی ہو مثلا ایك سال دس سال یا جس قدر ٹھہرائیں یہ اس وقت واجب الادا ہوگا جب وعدے کا وقت آجائے اس سے پہلے عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ جامع الرموز میں ہے :
المھر المعجل والمؤجل ان بینا ای بین فی العقد کلہ او بعضہ یکون معجلا او مؤجلا فذاك المبین واجب اداؤہ علی مابین ۔
مہر معجل اور مؤجل اگر بوقت عقد بیان ہوچکے ہیں یعنی تمام یا بعض معجل ہوگا یا مؤجل ہوگا تو اس بیان کے مطابق ادائیگی واجب ہوگی۔ (ت)
اور اگر مؤجل کہا اور کائی میعاد اصلا نہ بیان کی تو وہ طلاق یا موت تك مؤجل ٹھہرے گا اور بعد فرقت ہی واجب الادا ہوگا اس سے پہلے مطالبہ کا عورت کو اصلا استحقاق نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
من اول الفروع المذکورۃ فی کتاب القضاء قبل باب التحکیم مسئلۃ عدم سماع الدعوی بعد مرور کذا سنہ لامات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب موخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ کتاب القضاء میں تحکیم کے باب سے قبل سب سے پہلا جزئیہ یہ مذکور ہ کہ اتنے سال گزرجانے کے بعد دعوی قابل سماعت نہیں ہوتا اس پر تفریع یہ ہے کہ نکاح کے وقت سے مثلا بیس۲۰ سال بعد خاوند فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر شدہ مہر کے مطالبہ کا حق ہے کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کاحق ہے کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے نکاح کے وقت سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References
جامع الرموز باب المہر مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۸۳
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴
اسی طرح جس پارہ مہر یا کل مہر کی نسبت تعجیل وتاجیل کا کچھ ذکر نہ آیا وہ بھی موت یا طلاق تك مؤجل ٹھہرے گا کہ ایسی صورت میں مدار عرف بلد پر ہے اور یہاں عام عرف شائع فی البلاد یہی ہے کہ جس مہر کی تعجیل مشروط نہ ہوئی اس کا مطالبہ تا وقت فرقت نہیں کیا جاتا۔ نقایہ میں ہے :
المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافا لمتعارف ۔
معجل اور مؤجل کی مدت بیان ہوچکی تو بہتر ورنہ اس میں عرف کا اعتبار ہوگا کہ کتنا مؤجل ہے یا معجل۔ (ت)
اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ زن وشوتنہائی کے مکان میں جہاں کسی کے آنے جانے یا نظر پڑنے سے اطمینان ہو یوں متفق ہوں کہ ان کے ساتھ کوئی تیسرا ایسا نہ ہو جو ان کے افعال کو سمجھ سکے نہ ان میں کسی کو مقاربت مانع شرعی یا حسی ہومثلا مرد یا عورت کی ایسی کم سنی جس میں صلاحیت قربت وقابلیت صحبت نہ ہو یا شوہر کی ناسازی طبع یا عورت کا حیض یا نفاس یا ایسے مرض میں ہونا جس کے سبب وقت وقوع فعل قربت سے اسے مضرت پہنچے یا ان میں کسی کا نماز میں فرض یا ماہ رمضان میں روزہ فرض سے مشغول ہونا کل ذلك فی الخانیۃ والدرالمختار وحواشیۃ(یہ تمام بحث خانیہ درمختار اور اس کے حواشی میں ہے۔ ت) اور خلوت صحیحہ وجوب مہر کی شرط نہیں وجوب مہر تو عقد نکاح سے ہوتا ہے ہاں خلوت سے مہر متاکد ہوجاتا ہے بایں معنی کہ اگر پیش ازوطی وخلوت صحیحہ طلاق تو نصف مہر لازم آتا اب کہ خلوت واقع ہوگئی کل لازم آئے گا۔ نقایہ میں ہے :
یجب نصفہ بطلاق قبلھا ای قبل خلوۃ الصحیحۃ اھ ملخصا۔ واﷲتعالی اعلم۔
نصف مہر طلاق قبل از خلوت صحیحہ سے واجب ہوتا ہے اھ ملخصا۔ (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا ہندہ سے نکاح ہوا اور خلوت صحیحہ بر ضائے زوجہ واقع ہوگئی اور مہر مؤجل قرار پایا تھا اب ہندہ مطالبہ کرتی ہے اور زید کے پاس نہیں جاتی اور زید درصورت نہ آنے ہندہ کے مہر دینے سے منکر ہے اس صورت میں یہ مطالبہ صحیح اور بوجہ نہ آنے ہندہ کے مہر ساقط ہوجائے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
کوئی جزومہر کا بعد وقوع خلوت صحیحہ ذمہ شوہر سے ساقط نہیں ہوسکتا اور تمامی مہر کا ادا کرنا زید
المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافا لمتعارف ۔
معجل اور مؤجل کی مدت بیان ہوچکی تو بہتر ورنہ اس میں عرف کا اعتبار ہوگا کہ کتنا مؤجل ہے یا معجل۔ (ت)
اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ زن وشوتنہائی کے مکان میں جہاں کسی کے آنے جانے یا نظر پڑنے سے اطمینان ہو یوں متفق ہوں کہ ان کے ساتھ کوئی تیسرا ایسا نہ ہو جو ان کے افعال کو سمجھ سکے نہ ان میں کسی کو مقاربت مانع شرعی یا حسی ہومثلا مرد یا عورت کی ایسی کم سنی جس میں صلاحیت قربت وقابلیت صحبت نہ ہو یا شوہر کی ناسازی طبع یا عورت کا حیض یا نفاس یا ایسے مرض میں ہونا جس کے سبب وقت وقوع فعل قربت سے اسے مضرت پہنچے یا ان میں کسی کا نماز میں فرض یا ماہ رمضان میں روزہ فرض سے مشغول ہونا کل ذلك فی الخانیۃ والدرالمختار وحواشیۃ(یہ تمام بحث خانیہ درمختار اور اس کے حواشی میں ہے۔ ت) اور خلوت صحیحہ وجوب مہر کی شرط نہیں وجوب مہر تو عقد نکاح سے ہوتا ہے ہاں خلوت سے مہر متاکد ہوجاتا ہے بایں معنی کہ اگر پیش ازوطی وخلوت صحیحہ طلاق تو نصف مہر لازم آتا اب کہ خلوت واقع ہوگئی کل لازم آئے گا۔ نقایہ میں ہے :
یجب نصفہ بطلاق قبلھا ای قبل خلوۃ الصحیحۃ اھ ملخصا۔ واﷲتعالی اعلم۔
نصف مہر طلاق قبل از خلوت صحیحہ سے واجب ہوتا ہے اھ ملخصا۔ (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا ہندہ سے نکاح ہوا اور خلوت صحیحہ بر ضائے زوجہ واقع ہوگئی اور مہر مؤجل قرار پایا تھا اب ہندہ مطالبہ کرتی ہے اور زید کے پاس نہیں جاتی اور زید درصورت نہ آنے ہندہ کے مہر دینے سے منکر ہے اس صورت میں یہ مطالبہ صحیح اور بوجہ نہ آنے ہندہ کے مہر ساقط ہوجائے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
کوئی جزومہر کا بعد وقوع خلوت صحیحہ ذمہ شوہر سے ساقط نہیں ہوسکتا اور تمامی مہر کا ادا کرنا زید
حوالہ / References
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۵۶
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۵۵
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۵۵
پرلازم مگر ہندہ کو بوجہ تأجیل و وقوع خلوت برضائے زوجہ بالاتفاق مطالبہ مہر ومنع نفس کا اختیار حاصل نہیں امام ابویوسف سے کہ مہر مؤجل میں تخیر منع منقول ہے قبل از تسلیم نفس ووقوع وطی یا خلوت صحیحہ برضائے زوجہ پر محمول ہے کہ وہ بعد از تسلیم مہر معجل میں بھی اختیار منع نہیں دیتے حالانکہ وہاں بوجہ تعجیل حق منع ومطالبہ مؤکد ہوچکا ہے پس مؤجل میں کہ ایسا نہیں بالاولی نہ دیں گے۔
فی الھدایۃ وللمرأۃ ان تمنع نفسھا حتی تاخذ المھر ای المعجل ولو کان المھر کلہ مؤجلالیس لھا ان تمنع نفسھا لاسقاطھا حقھا بالتأجیل کما فی البیع وفیہ خلاف ابی یوسف وان دخل بھا فکذلك الجواب عند ابی حنیفۃ وقالا لیس لھا ان تمنع نفسھا انتہی ملخصا ومثلہ فی غیرھا من کتب الفقہ۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
ہدایہ میں ہے : بیوی کو مہر معجل کی صورت میں اپنے اسے خاوند کو منع کرنے کا حق ہوتا ہے تك وصول نہ کرے اور اگر تمام مہر مؤجل ہو تو پھر اس کو اپنے سے خاوند کو روکنے کاحق نہیں کیونکہ اس نے مہر مؤجل کرکے اپنے مطالبہ کا حق ساقط کردیا ہے جیسا کہ بیع میں ہوتا ہے اس میں امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کا اختلاف ہے اورمہر معجل کی صورت میں اگر دخول ہوچکا ہوتو عورت کومنع کا حق ہے مہر معجل وصول کرنے تك یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲتعالی علیہ کا مسلك ہے۔ اس میں صاحبین کا قول یہ ہے کہ اس کو اس کے منع کا حق نہیں ہے انتہی ملخصا اسی طرح دوسری کتب میں بھی ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ۱۹ : ۲۵محرم ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بغیر اجازت شوہر کے کئی مرتبہ اپنے میکے چلی گئی اور اپنے شوہر سے اکثر لڑتی رہتی ہے اور اب کی دفعہ اس نے اپنے شوہر کو مارا بھی اگر شوہر مہر اس کا ان وجوہ کے سبب نہ دے تو مواخذہ ہوگا یا نہیں اور اس کو اپنے گھر رکھے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
وہ عورت فاسقہ ہے سخت گنہگار ہے مگر ان حرکات کے سبب مہر ساقط نہ ہوگا رکھنے نہ رکھنے کا مرد کا اختیار ہے مگر اگر نہ رکھنا چاہے تو طلاق دے دے یہ جائز نہیں کہ نکال دے اور طلاق نہ دے اور خبر گیری بھی نہ کرے ہاں وہ خود ہی نکل جائے تو اس پر نان ونفقہ واجب نہیں جب تك واپس نہ آئے
لانھا ناشزۃ ولانفقۃ للنا شزۃ وقال
کیونکہ نافرمان ہے اور اس کے لئے خاوند پر نفقہ
فی الھدایۃ وللمرأۃ ان تمنع نفسھا حتی تاخذ المھر ای المعجل ولو کان المھر کلہ مؤجلالیس لھا ان تمنع نفسھا لاسقاطھا حقھا بالتأجیل کما فی البیع وفیہ خلاف ابی یوسف وان دخل بھا فکذلك الجواب عند ابی حنیفۃ وقالا لیس لھا ان تمنع نفسھا انتہی ملخصا ومثلہ فی غیرھا من کتب الفقہ۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
ہدایہ میں ہے : بیوی کو مہر معجل کی صورت میں اپنے اسے خاوند کو منع کرنے کا حق ہوتا ہے تك وصول نہ کرے اور اگر تمام مہر مؤجل ہو تو پھر اس کو اپنے سے خاوند کو روکنے کاحق نہیں کیونکہ اس نے مہر مؤجل کرکے اپنے مطالبہ کا حق ساقط کردیا ہے جیسا کہ بیع میں ہوتا ہے اس میں امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کا اختلاف ہے اورمہر معجل کی صورت میں اگر دخول ہوچکا ہوتو عورت کومنع کا حق ہے مہر معجل وصول کرنے تك یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲتعالی علیہ کا مسلك ہے۔ اس میں صاحبین کا قول یہ ہے کہ اس کو اس کے منع کا حق نہیں ہے انتہی ملخصا اسی طرح دوسری کتب میں بھی ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ۱۹ : ۲۵محرم ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بغیر اجازت شوہر کے کئی مرتبہ اپنے میکے چلی گئی اور اپنے شوہر سے اکثر لڑتی رہتی ہے اور اب کی دفعہ اس نے اپنے شوہر کو مارا بھی اگر شوہر مہر اس کا ان وجوہ کے سبب نہ دے تو مواخذہ ہوگا یا نہیں اور اس کو اپنے گھر رکھے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
وہ عورت فاسقہ ہے سخت گنہگار ہے مگر ان حرکات کے سبب مہر ساقط نہ ہوگا رکھنے نہ رکھنے کا مرد کا اختیار ہے مگر اگر نہ رکھنا چاہے تو طلاق دے دے یہ جائز نہیں کہ نکال دے اور طلاق نہ دے اور خبر گیری بھی نہ کرے ہاں وہ خود ہی نکل جائے تو اس پر نان ونفقہ واجب نہیں جب تك واپس نہ آئے
لانھا ناشزۃ ولانفقۃ للنا شزۃ وقال
کیونکہ نافرمان ہے اور اس کے لئے خاوند پر نفقہ
حوالہ / References
ہدایہ باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۳۱۴
تعالی فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف۪ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
واجب نہیں اﷲتعالی نے فرمایا : ان کو پاس رکھو بھلائی سے یا ان کو چھوڑ دو بھلائی سے۔ (ت)
مسئلہ۲۰ : از لکھنؤ محمود نگر اصح المطابع مرسلہ مولوی عبد العلی صاحب مدراسی ۱۷ صفر ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہین علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر ایجاب وقبول مہر فاطمی پر بلاتصریح وتعیین دراہم وسکہ وغیرہ ہو یعنی بروقت نکاح صرف مہر فاطمی کا لفظ کہا جائے یہ نہ کہا جائے کہ مہر فاطمی پر جس کے اس قدر دراہم شرعی یا سکہ رائج الوقت ہوتے ہیں تو اس صورت میں مہر فاطمی ہی رہے گا یا مہر مثل کی طرف عود کرجائےگا بوجہ اختلاف روایات کے جو دربارہ مہر جناب فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا وارد ہیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
مہر فاطمی ہی رہے گا۔ ذخیرہ پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
واللفظ للبحر لیس من صور عدم التسمیۃ مالو تزوجت بمثل مھر والزوج لایعلم مقدار مھرامھا فانہ جائز بمقدار مھر امھا الخ ۔
الفاظ بحر کے ہیں مہر مقررہ نہ ہونے کی یہ صورت نہیں ہے کہ بیوی کا مہر اس کی ماں کے مہر کے برابر ہو اور خاوند کو ماں کے مہر کا علم نہ ہو کیونکہ بیوی کی ماں کے مہر مقدار پر مہر رکھنا جائز ہے الخ(ت)
مہر اقدس حضرت سیدۃ النساء بتول زہرا صلی اﷲتعالی علی ابیہاالکریم وعلیہا وسلم میں اگر چہ روایات بظاہر مختلف ہیں مگر بتوفیق اﷲتعالی ان سب میں تطبیق بروجہ نفس ودقیق حاصل ہے فاقول : وباﷲالتوفیق اس بارے میں روایات مسندہ معتد بہا تین۳ ہیں :
اول یہ کہ مہر مبارك درم ودینار نہ تھے بلکہ ایك زرہ کہ حضور پر نور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے حضرت امیر المومنین مولی المسلمین کرم اﷲتعالی وجہہ الکریم کو عطا فرمائی تھی وہی مہر میں دی گئی
اخرج ابن سعد فی طبقاتہ اخبر نا خالد بن مخلد ثنا سلیممن ھو ابن بلال ثنی جعفر بن محمد عن ابیہ
ابن سعد نے طبقات میں تخریج کی ہے کہ خالد بن مخلد نے بیان کیا ان کوسلیمان ابن بلال نے حدیث بیان کی جعفر بن محمد نے اپنے والد سے بیان کیا حضرت
واجب نہیں اﷲتعالی نے فرمایا : ان کو پاس رکھو بھلائی سے یا ان کو چھوڑ دو بھلائی سے۔ (ت)
مسئلہ۲۰ : از لکھنؤ محمود نگر اصح المطابع مرسلہ مولوی عبد العلی صاحب مدراسی ۱۷ صفر ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہین علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر ایجاب وقبول مہر فاطمی پر بلاتصریح وتعیین دراہم وسکہ وغیرہ ہو یعنی بروقت نکاح صرف مہر فاطمی کا لفظ کہا جائے یہ نہ کہا جائے کہ مہر فاطمی پر جس کے اس قدر دراہم شرعی یا سکہ رائج الوقت ہوتے ہیں تو اس صورت میں مہر فاطمی ہی رہے گا یا مہر مثل کی طرف عود کرجائےگا بوجہ اختلاف روایات کے جو دربارہ مہر جناب فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا وارد ہیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
مہر فاطمی ہی رہے گا۔ ذخیرہ پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
واللفظ للبحر لیس من صور عدم التسمیۃ مالو تزوجت بمثل مھر والزوج لایعلم مقدار مھرامھا فانہ جائز بمقدار مھر امھا الخ ۔
الفاظ بحر کے ہیں مہر مقررہ نہ ہونے کی یہ صورت نہیں ہے کہ بیوی کا مہر اس کی ماں کے مہر کے برابر ہو اور خاوند کو ماں کے مہر کا علم نہ ہو کیونکہ بیوی کی ماں کے مہر مقدار پر مہر رکھنا جائز ہے الخ(ت)
مہر اقدس حضرت سیدۃ النساء بتول زہرا صلی اﷲتعالی علی ابیہاالکریم وعلیہا وسلم میں اگر چہ روایات بظاہر مختلف ہیں مگر بتوفیق اﷲتعالی ان سب میں تطبیق بروجہ نفس ودقیق حاصل ہے فاقول : وباﷲالتوفیق اس بارے میں روایات مسندہ معتد بہا تین۳ ہیں :
اول یہ کہ مہر مبارك درم ودینار نہ تھے بلکہ ایك زرہ کہ حضور پر نور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے حضرت امیر المومنین مولی المسلمین کرم اﷲتعالی وجہہ الکریم کو عطا فرمائی تھی وہی مہر میں دی گئی
اخرج ابن سعد فی طبقاتہ اخبر نا خالد بن مخلد ثنا سلیممن ھو ابن بلال ثنی جعفر بن محمد عن ابیہ
ابن سعد نے طبقات میں تخریج کی ہے کہ خالد بن مخلد نے بیان کیا ان کوسلیمان ابن بلال نے حدیث بیان کی جعفر بن محمد نے اپنے والد سے بیان کیا حضرت
اصدق علی فاطمۃ درعا من حدید وعن عازم عن حماد بن زید عن ایوب عن عکرمۃ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لعلی حین زوجہ فاطمۃ اعطھا درعك الحطمیۃ قال الحافظ فی الاصابۃ ھذامرسل صحیح الاسناد وابوداؤد فی سننہ عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما قال لما تزوج علی فاطمۃ رضی اﷲتعالی عنھما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اعطھا شیئا قال ماعندی شئی قال این درعك الحطمیۃ ۔ واحمد فی مسند ہ من طریق ابن ابی نجیح عن قبیہ عن رجل سمع علیا یقول اردت ان اخطب الی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ابنتہ فقلت مالی من شیئی ثم ذکرت صلتہ وعائدتہ وخطبتھا الیہ
علی کرم وجہہ نے حضر ت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر ایك لوہے کی درع دی عازم سے انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے ایوب سے انہوں نے عکرمہ سے بیان کی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جب حضرت فاطمہ کا حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہما سے نکاح کیا تو آپ نے حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے فرمایا تو اپنی حطمی درع(تلواروں کو توڑنے والی زرہ)مہر میں دے دے۔ حافظ نے اصابہ میں کہا یہ حدیث مرسل صحیح ہے۔ ابوداؤد نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہما سے نکاح کیا تو فرمایا : اس کو مہر میں کچھ دو۔ تو انہوں نے عرض کی : میرےپاس کوئی چیز نہیں ہے۔ تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : تیری حطمی زرہ کہاں ہےاحمد نے اپنی مسند میں ابن ابی نجیح وہ اپنے والد اور انہوں نے ایك ایسے شخص سے روایت کیا جس نے حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے سنا ہے کہ وہ فرمارہے تھے کہ میرا ارادہ ہوا کہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے آپکی صاحبزادی کا رشتہ طلب کروں تو مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں پھر مجھے آپ کی شفقت اور مہربانی یاد آئی پس میں نے رشتہ طلب کیا تو
علی کرم وجہہ نے حضر ت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر ایك لوہے کی درع دی عازم سے انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے ایوب سے انہوں نے عکرمہ سے بیان کی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جب حضرت فاطمہ کا حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہما سے نکاح کیا تو آپ نے حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے فرمایا تو اپنی حطمی درع(تلواروں کو توڑنے والی زرہ)مہر میں دے دے۔ حافظ نے اصابہ میں کہا یہ حدیث مرسل صحیح ہے۔ ابوداؤد نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہما سے نکاح کیا تو فرمایا : اس کو مہر میں کچھ دو۔ تو انہوں نے عرض کی : میرےپاس کوئی چیز نہیں ہے۔ تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : تیری حطمی زرہ کہاں ہےاحمد نے اپنی مسند میں ابن ابی نجیح وہ اپنے والد اور انہوں نے ایك ایسے شخص سے روایت کیا جس نے حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے سنا ہے کہ وہ فرمارہے تھے کہ میرا ارادہ ہوا کہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے آپکی صاحبزادی کا رشتہ طلب کروں تو مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں پھر مجھے آپ کی شفقت اور مہربانی یاد آئی پس میں نے رشتہ طلب کیا تو
حوالہ / References
الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر بناتِ رسول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم دار صادر بیروت ۸ / ۲۱
الاصابۃفی تمیزالصحابۃ ترجمہ ۸۳۰ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲعنہا دار صادر بیروت ۴ / ۳۷۷
سُنن ابوداؤد کتاب النکاح آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۸۹
الاصابۃفی تمیزالصحابۃ ترجمہ ۸۳۰ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲعنہا دار صادر بیروت ۴ / ۳۷۷
سُنن ابوداؤد کتاب النکاح آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۸۹
فقال وھل عندك شئی قلت لا قال فاین درعك الحطمیۃ التی اعطیتك یوم کذاوکذا قلت ھو عندی قال فاعلطھا ایاہ ابن اسحق فی السیرۃ الکبری حدثنی ابن نجیح عند مجاھد عن علی کرم اﷲتعالی وجہہ انہ خطب فاطمۃ رضی اﷲتعالی عنھا فقال لہ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ھل عندك من شیئی قلت لا قال فما فعلت الدرع التی سلحتکھا یعنی من مغانم بدر ۔
آ پ نے فرمایا : کیا تیرے پاس کچھ ہے میں نے عرض کیا کچھ نہیں توفرمایا تیری حطمی رزہ کہاں ہے جو میں نے تجھے اسلحہ کے طورپر فلاں موقعہ(یعنی بدر کے روز)غنیمت میں سے دی تھی میں نے عرض کیا : وہ میرے پاس ہی ہے۔ توآپ نے فرمایا : وہ اسے دے دو۔ ابن اسحاق نے سیرت کبری میں یوں بیان کیا کہ ابن نجیح نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیاکہ حضر ت علی کرم اﷲ وجہہ نے کہا کہ میں نے فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے منگنی کی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا پاس کچھ ہے نے کہا : کچھ نہیں ۔ تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : تیری وہ رزہ کہاں ہے جو میں نے تجھے بدرکی غنیمت میں سے دی تھی۔ (ت) دوم چار سو اسی ۴۸۰درم تھے
اخرجہ الائمۃ احمدفی المناقب وابوداؤد ابوحاتم الرازی وابن حبان فی صحیحہ کلھم عن انس رضی اﷲتعالی عنہ بعضھم اتم سیاقامن بعض قال جاء ابوبکر ثم عمر یختبان فاطمۃ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فسکت ولم یرجع الیھما شیئا فانطلقا الی علی رضی اﷲتعالی عنہ یأمرانہ بطلب ذلک
امام احمد نے مناقب میں اور ابوداؤد اور ابوحاتم رازی اورابن حبان نے اپنی صحیح میں ان تمام نےحضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا بعض کا سیاق بعض سے اتم ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہما حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا رشتہ مانگنے آئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سکوت فرمایا اور کوئی جواب نہ دیا تویہ دونوں حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ کے پاس آئے انہیں رشتہ
آ پ نے فرمایا : کیا تیرے پاس کچھ ہے میں نے عرض کیا کچھ نہیں توفرمایا تیری حطمی رزہ کہاں ہے جو میں نے تجھے اسلحہ کے طورپر فلاں موقعہ(یعنی بدر کے روز)غنیمت میں سے دی تھی میں نے عرض کیا : وہ میرے پاس ہی ہے۔ توآپ نے فرمایا : وہ اسے دے دو۔ ابن اسحاق نے سیرت کبری میں یوں بیان کیا کہ ابن نجیح نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیاکہ حضر ت علی کرم اﷲ وجہہ نے کہا کہ میں نے فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے منگنی کی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا پاس کچھ ہے نے کہا : کچھ نہیں ۔ تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : تیری وہ رزہ کہاں ہے جو میں نے تجھے بدرکی غنیمت میں سے دی تھی۔ (ت) دوم چار سو اسی ۴۸۰درم تھے
اخرجہ الائمۃ احمدفی المناقب وابوداؤد ابوحاتم الرازی وابن حبان فی صحیحہ کلھم عن انس رضی اﷲتعالی عنہ بعضھم اتم سیاقامن بعض قال جاء ابوبکر ثم عمر یختبان فاطمۃ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فسکت ولم یرجع الیھما شیئا فانطلقا الی علی رضی اﷲتعالی عنہ یأمرانہ بطلب ذلک
امام احمد نے مناقب میں اور ابوداؤد اور ابوحاتم رازی اورابن حبان نے اپنی صحیح میں ان تمام نےحضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا بعض کا سیاق بعض سے اتم ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہما حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا رشتہ مانگنے آئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سکوت فرمایا اور کوئی جواب نہ دیا تویہ دونوں حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ کے پاس آئے انہیں رشتہ
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی از علی رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۱ / ۸۰
السنن الکبری مروی عن محمد بن اسحٰق کتاب الصد١ق دارصادر بیروت ۷ / ۲۳۵
السنن الکبری مروی عن محمد بن اسحٰق کتاب الصد١ق دارصادر بیروت ۷ / ۲۳۵
قال علی فنبھانی لامر کنت عنہ غافلا فقمت اجر ردائی حتی اتیت النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فقلت تزوجنی فاطمۃ قال عند شیئی فقلت فرسی وبدنی قال امافرسك فلابدلك منھا واما بدنك فبعھا فبعتھا باربع مائۃ وثما نین درھما فجئتہ بھا فوضعتھا فی حجرہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فقبض منھا قبضہ فقال ای بلال ابتع بھا لنا طیباوامرھم ان یجھزوھا فجعل لھا سریرامشرطا بالشرط ووسادۃ من ادم حشوھا لیف وقال لعلی اذا اتتك فلا تحدث شیئا حتی اتیك فجاء ت مع ام ایمن حتی قعدت فی جانب البیت وانا فی جانب وجاء رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم الحدیث وفی الخمیس فی روایۃ خطبھا فزوجھا النبی صلی اﷲتعالی علیہ
طلب کرنے کوکہا تو حضرت علی فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ایسے معاملے کی طرف متوجہ کیاجس سے میں غافل تھاتو میں فورا چادر سنبھالتے ہوئے اٹھا حتی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم! فاطمہ کا نکاح مجھ سے کردیں ۔ آپ نے پوچھا : تیرے پاس کچھ ہے میں نے عرض کی : گھوڑاہے اور ایك اونٹ ہے گھوڑا تو تیرے لئے ضروری ہے لیکن اونٹ کو فروخت کردو۔ تو میں نے اس کو چار سو اسی ۴۸۰ درہم میں فروخت کردیاوہ آپ کے پاس لاکر میں نے آپ کی گود میں ڈال دئے۔ تو آپ نے ان میں سے ایك مٹھی بھر اٹھا کر فرمایا : اے بلال رضی اﷲتعالی عنہ ! اس کی خوشبو خرید لاؤ۔ اور فرمایا : اس رقم سے جہیز تیارکرو۔ تو ایك بنی ہوئی چار پائی اور ایك چمڑے کا تکیہ جس میں گھجی بھری تھی تیارکئے تو آپ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! جب تیرے پاس فاطمہ پہنچ جائے تو کوئی بات نہ کرنا جب تك میں نہ پہنچ جاؤں ۔ تو حضرت فاطمہ حضرت ام ایمن رضی اﷲتعالی عنہما کے ہمراہ آئیں حتی کہ وہ کمرے کے ایك کونے میں بیٹھ گئیں اور دوسری جانب میں تھا تو اتنے میں رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم تشریف لے آئے الحدیث۔ اور خمیسں ہےکہ ایك روایت ہے کہ منگنی کی تورسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان سے
طلب کرنے کوکہا تو حضرت علی فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ایسے معاملے کی طرف متوجہ کیاجس سے میں غافل تھاتو میں فورا چادر سنبھالتے ہوئے اٹھا حتی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم! فاطمہ کا نکاح مجھ سے کردیں ۔ آپ نے پوچھا : تیرے پاس کچھ ہے میں نے عرض کی : گھوڑاہے اور ایك اونٹ ہے گھوڑا تو تیرے لئے ضروری ہے لیکن اونٹ کو فروخت کردو۔ تو میں نے اس کو چار سو اسی ۴۸۰ درہم میں فروخت کردیاوہ آپ کے پاس لاکر میں نے آپ کی گود میں ڈال دئے۔ تو آپ نے ان میں سے ایك مٹھی بھر اٹھا کر فرمایا : اے بلال رضی اﷲتعالی عنہ ! اس کی خوشبو خرید لاؤ۔ اور فرمایا : اس رقم سے جہیز تیارکرو۔ تو ایك بنی ہوئی چار پائی اور ایك چمڑے کا تکیہ جس میں گھجی بھری تھی تیارکئے تو آپ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! جب تیرے پاس فاطمہ پہنچ جائے تو کوئی بات نہ کرنا جب تك میں نہ پہنچ جاؤں ۔ تو حضرت فاطمہ حضرت ام ایمن رضی اﷲتعالی عنہما کے ہمراہ آئیں حتی کہ وہ کمرے کے ایك کونے میں بیٹھ گئیں اور دوسری جانب میں تھا تو اتنے میں رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم تشریف لے آئے الحدیث۔ اور خمیسں ہےکہ ایك روایت ہے کہ منگنی کی تورسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان سے
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ مسند انس حدیث٣٧٧٥٥ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ / ۸۵ - ۶۸۴
وسلم علی اربعما ئۃ وثمانین درھما الخ وفیہ قیل انہ باع الدرع باثنتی عشرۃ اوقیۃ والاوقیۃ اربعون درھم وکان ذ لك مھر فاطمۃ من علی رضی اﷲتعالی عنھما ۔
نکاح کردیا اور مہر چارسواسی ۴۸۰ درہم تھا اورخمیس میں یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے زرہ فروخت کی بارہ اوقیہ کے عوض میں ۔ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے۔ یہ حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ کی طرف سے تھا(ت)
سوم چار سومثقال چاندی
اخرج الحافظ رضی الدین ابوالخیر احمد بن اسمعیل القزوینی لاحاکمی وابوعلی الحسن بن شاذان عن انس ایضا رضی اﷲتعالی عنہ فی حدیث طویل قال فیہ فی خطبۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ثم ان اﷲتعالی امرنی ان ازوج فاطمۃ من علی ابن ابی طالب فاشہدوا انی قدزوجتہ علی اربع مائۃ مثقال فضۃ ان رضی بذلك علی ثم دعا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بطبق من بسرثم قال انتھبو افانتھبنا ودخل علی فتبسم النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فی وجہہ ثم قال ان اﷲ عزوجل امر نی ان ازوجك فاطمۃعلی اربعمائۃ مثقال فضۃ ارضیت بذالک فقال قدرضیت بذالك یا رسول اﷲ فقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم جمع اﷲ
حافظ رضی الدین ابوالخیر احمد بن اسمعیل قزوینی حاکمی اور ابوعلی حسن بن شاذان نے بھی انس رضی اﷲتعالی عنہ سے اس کو روایت کیا طویل حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ میں فرمایا کہ اﷲتعالی نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سےکردوں تو گواہ ہوجاؤ کہ میں نے یہ نکاح چارسومثقال چاندی پر کردیا ہے بشرطیکہ علی رضی اﷲتعالی عنہ اس پرراضی ہوں ۔ پھرحضور علیہ الصلوۃوالسلام نے بسر کھجور وں کا بڑا ٹوکرا طلب فرمایا اور فرمایا : اس میں سے چن چن کر کھاؤ۔ تو ہم نے کھائیں ۔ اتنے میں حضرت علی آئے تو آپ نے ان کی آمد پر تبسم فرمایا اور فرمایا کہ اﷲتعالی نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح تجھ سے کروں چارسومثقال چاندی پر کیا تو راضی ہے تو حضرت علی نے عرض کیا : میں اس پر راضی ہوں ۔ توحضورعلیہ الصلوۃوالسلام نے دعا کرتے ہوئے
نکاح کردیا اور مہر چارسواسی ۴۸۰ درہم تھا اورخمیس میں یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے زرہ فروخت کی بارہ اوقیہ کے عوض میں ۔ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے۔ یہ حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ کی طرف سے تھا(ت)
سوم چار سومثقال چاندی
اخرج الحافظ رضی الدین ابوالخیر احمد بن اسمعیل القزوینی لاحاکمی وابوعلی الحسن بن شاذان عن انس ایضا رضی اﷲتعالی عنہ فی حدیث طویل قال فیہ فی خطبۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ثم ان اﷲتعالی امرنی ان ازوج فاطمۃ من علی ابن ابی طالب فاشہدوا انی قدزوجتہ علی اربع مائۃ مثقال فضۃ ان رضی بذلك علی ثم دعا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بطبق من بسرثم قال انتھبو افانتھبنا ودخل علی فتبسم النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فی وجہہ ثم قال ان اﷲ عزوجل امر نی ان ازوجك فاطمۃعلی اربعمائۃ مثقال فضۃ ارضیت بذالک فقال قدرضیت بذالك یا رسول اﷲ فقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم جمع اﷲ
حافظ رضی الدین ابوالخیر احمد بن اسمعیل قزوینی حاکمی اور ابوعلی حسن بن شاذان نے بھی انس رضی اﷲتعالی عنہ سے اس کو روایت کیا طویل حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ میں فرمایا کہ اﷲتعالی نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سےکردوں تو گواہ ہوجاؤ کہ میں نے یہ نکاح چارسومثقال چاندی پر کردیا ہے بشرطیکہ علی رضی اﷲتعالی عنہ اس پرراضی ہوں ۔ پھرحضور علیہ الصلوۃوالسلام نے بسر کھجور وں کا بڑا ٹوکرا طلب فرمایا اور فرمایا : اس میں سے چن چن کر کھاؤ۔ تو ہم نے کھائیں ۔ اتنے میں حضرت علی آئے تو آپ نے ان کی آمد پر تبسم فرمایا اور فرمایا کہ اﷲتعالی نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح تجھ سے کروں چارسومثقال چاندی پر کیا تو راضی ہے تو حضرت علی نے عرض کیا : میں اس پر راضی ہوں ۔ توحضورعلیہ الصلوۃوالسلام نے دعا کرتے ہوئے
حوالہ / References
تاریخ الخمیس تزوج علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۳۶۱
تاریخ الخمیس تزوج علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۳۶۲
تاریخ الخمیس تزوج علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۳۶۲
شملکما واعزجدکما وبارك علیکما واخرج منکما کثیراطیبا قال انس فواﷲلقد اخرج منھما الکثیر الطیب ورواہ ابن عساکر نحوہ من طریق محمد بن شھاب بن ابی الحیاء عن عبدالملك بن عمر عن یحی بن معین عن محمد بن دینار عن ھشیم عن یونس بن عبد عن الحسین عنھما و عن انس رضی اﷲتعالی عنہ ذکرہ محمد بن طاھر فی تکملۃ الکامل بن عدی کما نقلہ الحافظ فی لسان المیزان۔
فرمایا : اﷲتعالی تم دونوں کے حال متفق فرمائے اور تمہاری بزرگی کو باعزت بنائے اور تم دونوں پر برکتیں نازل فرمائے اور تم میں سے اﷲتعالی کثیر طیب پیدا فرمائے۔ تو حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم اﷲتعالی نے ان دونوں سے کثیر طیب پیدا فرمائے۔ اور ابن عساکر نے اسی طرح کی روایت محمد بن شہاب بن ابوالحیا سے انہوں نے عبد الملك بن عمر سے انہوں نے یحیی بن معین سے انہوں نے محمد بن دینار سے انہوں نے ہشیم سے انہوں نے یونس بن عبد سے انہوں نے حسین سے انہوں نے انس(رضی اﷲتعالی عنہما)سے اس کو محمد بن طاہر(بن القیسرانی)نے تکملہ کامل بن عدی میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس کوحافظ نے لسان المیزان میں ذکر فرمایا ہے۔ (ت)
ان کے سوا جو اقاویل مجہولہ ہیں کہ پانسودرم مہر تھا یا چالیس مثقال سونا
نقلھا فی الرحمانیۃ عن بعض حواشی شرح الوقایۃ۔
ان دونوں روایتوں کو شرح وقایہ کے بعض حاشیوں سے رحمانیہ میں نقل کیا ہے(ت)
یا انیس۱۹ مثقال ذہب
ذکرہ فی المرقاۃ انہ اشتھربین اھل مکۃ قال ولااصل لہ ۔
اس کو مرقاۃ میں ذکر کیا ہے کہ یہ اہل مکہ میں مشہور ہے جس کی کوئی اصل نہیں (ت)
سب بے اصل ہیں ۔
اما ما حاول القاری من توجیہ ھذا المشہور بقولہ اللھم الا ان یقال ان ھذاالمبلغ قیمۃ درع علی رضی اﷲ
لیکن ملاعلی قاری نے جو اس روایت کی مشہور توجیہ اپنے اس قول سے فرمائی مگر یہ ہوسکتا ہے کہ یوں کہا جائے کہ علی مرتضی رضی اﷲتعالی عنہ کی زرہ کی یہ
فرمایا : اﷲتعالی تم دونوں کے حال متفق فرمائے اور تمہاری بزرگی کو باعزت بنائے اور تم دونوں پر برکتیں نازل فرمائے اور تم میں سے اﷲتعالی کثیر طیب پیدا فرمائے۔ تو حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم اﷲتعالی نے ان دونوں سے کثیر طیب پیدا فرمائے۔ اور ابن عساکر نے اسی طرح کی روایت محمد بن شہاب بن ابوالحیا سے انہوں نے عبد الملك بن عمر سے انہوں نے یحیی بن معین سے انہوں نے محمد بن دینار سے انہوں نے ہشیم سے انہوں نے یونس بن عبد سے انہوں نے حسین سے انہوں نے انس(رضی اﷲتعالی عنہما)سے اس کو محمد بن طاہر(بن القیسرانی)نے تکملہ کامل بن عدی میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس کوحافظ نے لسان المیزان میں ذکر فرمایا ہے۔ (ت)
ان کے سوا جو اقاویل مجہولہ ہیں کہ پانسودرم مہر تھا یا چالیس مثقال سونا
نقلھا فی الرحمانیۃ عن بعض حواشی شرح الوقایۃ۔
ان دونوں روایتوں کو شرح وقایہ کے بعض حاشیوں سے رحمانیہ میں نقل کیا ہے(ت)
یا انیس۱۹ مثقال ذہب
ذکرہ فی المرقاۃ انہ اشتھربین اھل مکۃ قال ولااصل لہ ۔
اس کو مرقاۃ میں ذکر کیا ہے کہ یہ اہل مکہ میں مشہور ہے جس کی کوئی اصل نہیں (ت)
سب بے اصل ہیں ۔
اما ما حاول القاری من توجیہ ھذا المشہور بقولہ اللھم الا ان یقال ان ھذاالمبلغ قیمۃ درع علی رضی اﷲ
لیکن ملاعلی قاری نے جو اس روایت کی مشہور توجیہ اپنے اس قول سے فرمائی مگر یہ ہوسکتا ہے کہ یوں کہا جائے کہ علی مرتضی رضی اﷲتعالی عنہ کی زرہ کی یہ
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ بحوالہ حدیث انس رضی اﷲعنہ زواج علی من فاطمہ رضی اﷲعنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۳۸۵
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
تعالی عنہ فاقول : لایلتئم لما علمت انھا بیعت باربعما ئۃ وثمانین درھما تسعۃ عشر مثقالا من الذھب لاتبلغ بسعرذاك الزمن المبارك الامائۃ وتسعین درھما اذکل دینار مثقال وکل دینار بعشرۃ دراھم نعم یجوز ان یکون ھذا التقدیر ببعض الاسعار الواقعۃ فی البلدۃ الکریمۃ فی بعض الازمنۃ المتأخرۃ واﷲتعالی اعلم وکذاماحاول ھو رحمہ اﷲ تعالی من الجمع بین تقدیری الدراھم والمثاقیل بان عشرۃ دراہم سبعۃ مثاقیل مع عدم اعتبار الکسور ۔ فاقول : لایتجۃ ایضا فان اربعمائۃ مثقال فضۃ علی ھذا خمس مائۃ واحد وسبعون درھما کسر واربع مائۃ وثمانون درھما ثلث مائۃ ستۃ وثلاثون مثقالا فلکسر فی الاول ازید من النصف فلایحذف وفی الثانی اقل فلایرفع علی انہ لامعنی یحذف وفی الثانی اقل فلایرفع علی انہ لامعنی لاسقاط الزیادۃ فی الدراہم والقصر علی ثمانین بلا لو کان لقیل خمسمائۃ کام لایخفی فلیتأ مل لعل لکلا مہ وجھا اخر۔
قیمت تھی ۔ فاقول : (تومیں کہتا ہوں ۔ ت)یہ بنتا نہیں جیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا کہ وہ زرہ چار سواسی ۴۸۰ درہم مین فروخت ہوئی تھی جب کہ ۱۹مثقال سونا اس زمانہ مبارك کے بھاؤ سے صرف ایك سونوے ۱۹۰ درہم کا بنتا ہے کیونکہ ایك دینار مثقال کا اور ہر دینار دس۱۰درہم کا تھا ہاں ہوسکتا ہے کہ یہ اندازہ بعد کے زمانے میں مدینہ منورہ کے کسی بھاؤ کا ہو واﷲتعالی اعلم۔ اور یونہی ان کی وہ تاویل جس میں وہ درہم اور مثقال کے وزنوں کو جمع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ دس۱۰ درہم سات۷ مثقال میں کچھ کسریں ہوں جن کا اعتبار نہ کیا گیا ہو فاقول : (تو میں کہتا ہوں ۔ ت)یہ بھی قابل توجہ نہیں کیونکہ اس طرح چارسو۴۰۰ مثقال چاندی پانچسو اکہتر۵۷۱ درہم اور کچھ کسر ہوتے ہیں اور چار سو اسی ۴۸۰ درہم تین سوچھتیس ۳۳۶ مثقال ہیں تو پہلے میں کسر نصف سے زائد ہوئی جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور دوسرے میں نہایت ہی کم ہے تو اس کو قابل لحاظ نہیں کہا جاسکتا اس کے علاوہ دراہم میں زیادتی کو ساقط کرنے اور صرف اس۸۰ پر اکتفا کرنے کاکوئی معنی نہیں ہے بلکہ اگر ایسا ہوتا تو پورا پانچسو۵۰۰ کہنا چاہئے تھا جیسا کہ مخفی نہیں ہے غور کرو ہوسکتا ہے انکے کلام کی کوئی دوسری وجہ بن سکے(ت)
اب بتوفیقہ تعالی توفیق سنئے پہلی دو۲ روایتوں میں وجہ تطبیق ظاہر ہے کہ مہر میں زرہ دی کہ چار سوا سی ۴۸۰کو بکی اب چاہے کہئے خواہ اتنے درم حافظ محب الدین احمد بن عبد اﷲطبرین نے دونوں روایت میں اسی طرح توفیق کی ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی میں فرماتے ہیں :
قیمت تھی ۔ فاقول : (تومیں کہتا ہوں ۔ ت)یہ بنتا نہیں جیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا کہ وہ زرہ چار سواسی ۴۸۰ درہم مین فروخت ہوئی تھی جب کہ ۱۹مثقال سونا اس زمانہ مبارك کے بھاؤ سے صرف ایك سونوے ۱۹۰ درہم کا بنتا ہے کیونکہ ایك دینار مثقال کا اور ہر دینار دس۱۰درہم کا تھا ہاں ہوسکتا ہے کہ یہ اندازہ بعد کے زمانے میں مدینہ منورہ کے کسی بھاؤ کا ہو واﷲتعالی اعلم۔ اور یونہی ان کی وہ تاویل جس میں وہ درہم اور مثقال کے وزنوں کو جمع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ دس۱۰ درہم سات۷ مثقال میں کچھ کسریں ہوں جن کا اعتبار نہ کیا گیا ہو فاقول : (تو میں کہتا ہوں ۔ ت)یہ بھی قابل توجہ نہیں کیونکہ اس طرح چارسو۴۰۰ مثقال چاندی پانچسو اکہتر۵۷۱ درہم اور کچھ کسر ہوتے ہیں اور چار سو اسی ۴۸۰ درہم تین سوچھتیس ۳۳۶ مثقال ہیں تو پہلے میں کسر نصف سے زائد ہوئی جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور دوسرے میں نہایت ہی کم ہے تو اس کو قابل لحاظ نہیں کہا جاسکتا اس کے علاوہ دراہم میں زیادتی کو ساقط کرنے اور صرف اس۸۰ پر اکتفا کرنے کاکوئی معنی نہیں ہے بلکہ اگر ایسا ہوتا تو پورا پانچسو۵۰۰ کہنا چاہئے تھا جیسا کہ مخفی نہیں ہے غور کرو ہوسکتا ہے انکے کلام کی کوئی دوسری وجہ بن سکے(ت)
اب بتوفیقہ تعالی توفیق سنئے پہلی دو۲ روایتوں میں وجہ تطبیق ظاہر ہے کہ مہر میں زرہ دی کہ چار سوا سی ۴۸۰کو بکی اب چاہے کہئے خواہ اتنے درم حافظ محب الدین احمد بن عبد اﷲطبرین نے دونوں روایت میں اسی طرح توفیق کی ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
اختلف فی صداقھا رضی اﷲتعالی عنھا کیف کان فقیل کان الدر ولم یکن اذ ذاك بیضاء ولاصفراء وقیل کان اربع مائۃ وثمانین و وردمایدل کلا اقولین ویشبہ ان العقد وقع علی الدرع وانہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اعطا ھا علیا لیبیعھا فباعھا واتاہ بثمنھا فلاتضاد بین الحدیثین اھ ملخصا
حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کے مہر کے متعلق اختلاف ہے کہ کی تھا بعض نے کہا کہ زرہ تھی اوردرہم یا دینار نہ تھے اور بعض نےکہا کہ چار سواسی ۴۸۰درہم تھے۔ دونوں باتوں پر دلالت کرنیوالی مناسب اور مشابہ بات یہ ہے کہ نکاح کا انعقا زرہ پر ہوا اور بعد میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی زرہ حضرت علی رضی اﷲعنہ کو دے دی کہ فروخت کردو تو انہوں نے فروخت کرکے قیمت آپ کو پیش کردی تو دونوں حدیثوں میں تضاد نہ رہا اھ ملخصا(ت)
اور پر ظاہر کہ روایت مسندہ ثانیہ کے الفاظ ہی خود اس تطبیق کے شاہد ہیں ولہذاعلامہ زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں کلام طبری نقل کرکے فرمایا : ھذا الجمع مدلول الحدیث السابق ۔ یہ پہلی حدیث کا مدلول ہے جو دونوں کوجمع کرتا ہے۔ (ت)
اور روایت ثالثہ سے ان کی یوں کہ حدیث زرہ کو ہمارے علمائے کرام نے مہر معجل پر محمول فرمایا جو وقت زفاف اقدس ادا کیا گیا۔
قلت ویشھد لہ ایضا الحدیث المذکور حیث ذکر انہ جاء بالدراھم فامرصلی اﷲتعالی علیہ وسلم بشراء الطیب وان تجھز وقال لعلی ماقال فان ذلك انما کان حین زفت لاحین العقد کما لایخفی۔
میں کہتا ہوں کہ اس پر مذکورہ حدیث بھی شاہد ہے جس میں ذکر ہوا کہ حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم نے دراہم پیش کئے تو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے خوشبو اور جہیز خرید نے کا حکم فرمایا اور حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے جو گفتگو فرمائی وہ زفاف کے وقت ہے نہ کہ نکاح کے وقت کی جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
مولانا علی قاری مرقاۃ میں زرہ کی نسبت فرماتے ہیں دفعھا الیھا مھرا معجلا یہ مہر معجل کے طور پر دی گئی تھی۔ ت) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کے مہر کے متعلق اختلاف ہے کہ کی تھا بعض نے کہا کہ زرہ تھی اوردرہم یا دینار نہ تھے اور بعض نےکہا کہ چار سواسی ۴۸۰درہم تھے۔ دونوں باتوں پر دلالت کرنیوالی مناسب اور مشابہ بات یہ ہے کہ نکاح کا انعقا زرہ پر ہوا اور بعد میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی زرہ حضرت علی رضی اﷲعنہ کو دے دی کہ فروخت کردو تو انہوں نے فروخت کرکے قیمت آپ کو پیش کردی تو دونوں حدیثوں میں تضاد نہ رہا اھ ملخصا(ت)
اور پر ظاہر کہ روایت مسندہ ثانیہ کے الفاظ ہی خود اس تطبیق کے شاہد ہیں ولہذاعلامہ زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں کلام طبری نقل کرکے فرمایا : ھذا الجمع مدلول الحدیث السابق ۔ یہ پہلی حدیث کا مدلول ہے جو دونوں کوجمع کرتا ہے۔ (ت)
اور روایت ثالثہ سے ان کی یوں کہ حدیث زرہ کو ہمارے علمائے کرام نے مہر معجل پر محمول فرمایا جو وقت زفاف اقدس ادا کیا گیا۔
قلت ویشھد لہ ایضا الحدیث المذکور حیث ذکر انہ جاء بالدراھم فامرصلی اﷲتعالی علیہ وسلم بشراء الطیب وان تجھز وقال لعلی ماقال فان ذلك انما کان حین زفت لاحین العقد کما لایخفی۔
میں کہتا ہوں کہ اس پر مذکورہ حدیث بھی شاہد ہے جس میں ذکر ہوا کہ حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم نے دراہم پیش کئے تو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے خوشبو اور جہیز خرید نے کا حکم فرمایا اور حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے جو گفتگو فرمائی وہ زفاف کے وقت ہے نہ کہ نکاح کے وقت کی جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
مولانا علی قاری مرقاۃ میں زرہ کی نسبت فرماتے ہیں دفعھا الیھا مھرا معجلا یہ مہر معجل کے طور پر دی گئی تھی۔ ت) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ ذخائر العقبٰی ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۶
شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ ذخائر العقبٰی ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۶
مرقاۃالمفاتیح کتاب النکاح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ ذخائر العقبٰی ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۶
مرقاۃالمفاتیح کتاب النکاح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
ان العادۃ عندھم کان تعجیل بعض المھر قبل الدخول حتی ذھب بعض العلماء الی انہ لاید خل بھا حتی یقدم شیئا لھا نقل عن ابن عباس وابن عمر والزھری وقتادہ تمسکابمنعہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم علیا فیما رواہ ابن عباس(رضی اﷲتعالی عنہما)ان علیا رضی اﷲتعالی عنہ لما تزوج بنت رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اراد ان یدخل بھا فمنعہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم حتی یعطیھا شیئا فقال یارسول اﷲلیس لی شئی فقال “ اعطھا درعک “ فاعطا ھا درعہ ثم دخل بھا اللفظ لابی داؤد و رواہ النسائی ومعلوم ان الصداق کان اربع مائۃ درھم وھی فضۃ الخ قلت وحدیث ابی داؤد کما تری نص صریح لایقبل التاویل ان ھذاکان حین البناء ومعلوم ان البناء کان بعد عدۃ اشھر من حین العقد ثم الروایۃ الثالثۃ مصرحۃ بان العقد وقع علی اربعمائۃ مثقال فضۃ ولیس فی الروایات الاولی مایصرح بصدورالعقد علی الدرع ومن مارس
ان کے ہاں عادت تھی کہ مہر کا کچھ حصہ دخول س قبل معجل طور پر دے دیاجاتاتھا حتی کہ بعض علماء نے اسی بناء پر فرمایا کہ پہلے کچھ ادائیگی کے بغیر دخول جائز نہیں ۔ ابن عباس ابن عمر زہری قتادہ رضی اﷲتعالی عنہم سے منقول کو وہ حضرت علی کو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے منع فرمانے کی دلیل قرار دیتے ہیں جس اس روایت میں ہے جس کو ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ نے روایت کیا ہے کہ حضر ت علی رضی اﷲتعالی عنہ نے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی سے نکاح کیا تو انہوں نے دخول کا ارادہ فرمایا توحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو پہلے کچھ ادا کئے بغیر دخول سے منع فرمایا تو انہوں نے عرض کی میرے پاس تو کچھ نہیں ۔ توآپ نے فرمایا کہ اپنی زرہ فاطمہ(رضی اﷲ عنہا)کو دے دو۔ چنانچہ انہوں نے زرہ دے دی اور اس کے بعد دخول کیا۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں ' اور اسی کو نسائی روایت کیا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ مہر چار سودراہم تھا جوکہ چاندی ہے الخ قلت(میں کہتا ہوں )ابوداؤد والی حدیث صریح نص ہے جو اس تاویل کو قبول نہیں کرتی جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ واقعہ بناء یعنی دخول کا ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ وہ نکاح سے چند ماہ بعد ہوا ہے۔ پھر تیسری روایت تصریح کر رہی ہے کہ نکاح چار سو مثقال چاندی ہوا ہے اور پہلی روایات میں یہ تصریح نہیں ہے کہ نکاح زرہ پر ہوا ہے۔ جو شخص حدیث میں
ان کے ہاں عادت تھی کہ مہر کا کچھ حصہ دخول س قبل معجل طور پر دے دیاجاتاتھا حتی کہ بعض علماء نے اسی بناء پر فرمایا کہ پہلے کچھ ادائیگی کے بغیر دخول جائز نہیں ۔ ابن عباس ابن عمر زہری قتادہ رضی اﷲتعالی عنہم سے منقول کو وہ حضرت علی کو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے منع فرمانے کی دلیل قرار دیتے ہیں جس اس روایت میں ہے جس کو ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ نے روایت کیا ہے کہ حضر ت علی رضی اﷲتعالی عنہ نے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی سے نکاح کیا تو انہوں نے دخول کا ارادہ فرمایا توحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو پہلے کچھ ادا کئے بغیر دخول سے منع فرمایا تو انہوں نے عرض کی میرے پاس تو کچھ نہیں ۔ توآپ نے فرمایا کہ اپنی زرہ فاطمہ(رضی اﷲ عنہا)کو دے دو۔ چنانچہ انہوں نے زرہ دے دی اور اس کے بعد دخول کیا۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں ' اور اسی کو نسائی روایت کیا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ مہر چار سودراہم تھا جوکہ چاندی ہے الخ قلت(میں کہتا ہوں )ابوداؤد والی حدیث صریح نص ہے جو اس تاویل کو قبول نہیں کرتی جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ واقعہ بناء یعنی دخول کا ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ وہ نکاح سے چند ماہ بعد ہوا ہے۔ پھر تیسری روایت تصریح کر رہی ہے کہ نکاح چار سو مثقال چاندی ہوا ہے اور پہلی روایات میں یہ تصریح نہیں ہے کہ نکاح زرہ پر ہوا ہے۔ جو شخص حدیث میں
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل اول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۵۶
الاحادیث علم ان الرواۃ ربما یختصرون الاشیاء فلابد من ردالمحتمل الی المنصوص والجمع متعین مھما امکن فکیف وھو واضح جلی ثم قول المحقق معلوم ان الصداق کان اربع مائۃ درہم استشکلہ فی المرقاۃ لمخالفتہ لحدیثی المثاقیل والدراھم جمیعا اقول : ولا اشکال فان الدراھم کانت مختلفۃ علی عھد رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعھد ابی بکر ن الصدیق الی زمن امیرالمؤمنین عمر رضی اﷲ تعالی عنھما فمنھا ماکان زنۃ مثقال ومنھا دون ذلك ثم ان عمر ھوالذی درھا الی وزن سبعۃ فی رد المحتار عن الطحطاوی عن منح الغفار اعلم ان الدراھم کانت فی عھد عمر رضی اﷲتعالی عنہ مختلفۃ فمنھا عشرۃ دراھم علی وزن عشرۃ مثاقیل عشرۃ علی ستۃ مثاقیل وعشرۃ علی خمسۃ مثاقیل فاخذ عمر رضی اﷲتعالی عنہ من کل نوع ثلثا کی لاتظھر الخصومۃ فی الاخذ والعطاء فالمجموع سبعۃ ولذا کانت الدراھم العشرۃ وزن سبعۃ اھ ملخصا وفی خزانۃ المفتین برمزظ لفتاوی الامام ظہیر الدین ان الاوزان فی عھد رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم
مما رست رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ راوی حضرات بعض چیزوں کو مختصر کرجاتے ہیں توا س لئے ضروری ہے کہ قابل احتمال کو منصوص کی طرف پھیراجائے جبکہ مختلف روایات کو حتی الامکان جمع پر محمول کرنا طے شدہ بات ہے یہ بات بالکل واضح ہے پھر محقق کا یہ قول کہ یہ بات معلوم ہے کہ مہر چار سو درہم تھے اس کو مرقاۃ میں مشکل قرار دیا کیونکہ مثقال اور دراہم والی دونوں حدیثوں میں اس کی مخالفت ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں )کوئی اشکال نہیں کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کے عہد تك مختلف دراہم تھے تو کچھ کا وزن ایك مثقال اور کچھ کا اس سے کم تھا پھرعمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ نے انکو ایك وزن سبعہ پر مقرر کیا۔ ردالمحتارمیں طحطاوی سے انہوں نےمنح الغفار سےنقل کیاکہ جاننا چاہئے کہ عمرفاروق رضی اﷲتعالی عنہ کے عہد میں دراہم مختلف تھے بعض دس۱۰درہم کا وزن دس۱۰ مثقال تھا اور بعض دس۱۰ کا چھ مثقال اور بعض دس۱۰کا وزن پانچ مثقال تھا تو عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ نے تینوں قسموں میں سے ہر ایك کا ثلث لیا تاکہ لینے دینے میں جھگڑا نہ ہو تومجموع کا وزن سات ہوا اس لئے دس درہم کا وزن سات مثقال قرار پایا اھ ملخصا۔ اور خزانۃ المفتییں ظ کے رمز سے امام ظہیر الدین کے فتاوی کی طرف اشارہ کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالی عنہ کے عہد میں وزن مختلف تھے بعض دراہم بیس۲۰قیرا ط تھے
مما رست رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ راوی حضرات بعض چیزوں کو مختصر کرجاتے ہیں توا س لئے ضروری ہے کہ قابل احتمال کو منصوص کی طرف پھیراجائے جبکہ مختلف روایات کو حتی الامکان جمع پر محمول کرنا طے شدہ بات ہے یہ بات بالکل واضح ہے پھر محقق کا یہ قول کہ یہ بات معلوم ہے کہ مہر چار سو درہم تھے اس کو مرقاۃ میں مشکل قرار دیا کیونکہ مثقال اور دراہم والی دونوں حدیثوں میں اس کی مخالفت ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں )کوئی اشکال نہیں کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کے عہد تك مختلف دراہم تھے تو کچھ کا وزن ایك مثقال اور کچھ کا اس سے کم تھا پھرعمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ نے انکو ایك وزن سبعہ پر مقرر کیا۔ ردالمحتارمیں طحطاوی سے انہوں نےمنح الغفار سےنقل کیاکہ جاننا چاہئے کہ عمرفاروق رضی اﷲتعالی عنہ کے عہد میں دراہم مختلف تھے بعض دس۱۰درہم کا وزن دس۱۰ مثقال تھا اور بعض دس۱۰ کا چھ مثقال اور بعض دس۱۰کا وزن پانچ مثقال تھا تو عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ نے تینوں قسموں میں سے ہر ایك کا ثلث لیا تاکہ لینے دینے میں جھگڑا نہ ہو تومجموع کا وزن سات ہوا اس لئے دس درہم کا وزن سات مثقال قرار پایا اھ ملخصا۔ اور خزانۃ المفتییں ظ کے رمز سے امام ظہیر الدین کے فتاوی کی طرف اشارہ کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالی عنہ کے عہد میں وزن مختلف تھے بعض دراہم بیس۲۰قیرا ط تھے
حوالہ / References
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸و۲۹
وعھد ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ کانت مختلفۃ فمنھا ماکان الدرھم عشرون ماکان عشرۃ قراریط وھو الذی یسمی وزن خمسۃ ومنھا ماکان اثنی عشر قیراط وھو الذی یسمی وزن ستۃ فلما کان فی زمن عمر رضی اﷲتعالی عنہ طلبوا منہ ان یجمع الناس علی نقد و احد فاخذ من کل نوع الخ ومن الدلیل علی ذلك ان المحقق جعل الدرع ماعجل من المھر وقد بیعت بار بع مائۃ وثمانین فکیف یکون المعجل من اربع مائۃ اربع مائۃ وثمانین۔
اور بعض کا وزن ۱۰دس قیراط تھا جن کو پانچ کا وزن کہتے تھے اور بعض کا وزن بارہ ۲ قیراط تھا جن کو چھ کا وزن کہتے تھے تو جب عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ کا عہد آیا تو لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ایك سکہ ہونا چاہئے تو آپ نے ہر ایك میں سے کچھ لیا الخ اس پر ایك دلیل یہ بھی ہے کہ محقق علیہ الرحمۃنے زرہ کو مہر معجل قرار دیا جو کہ چارسواسی ۴۸۰ دراہم میں فروخت ہوئی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کل چار سو۴۰۰ میں سے چار سواسی ۴۸۰ معجل ہوں ۔ (ت)
پس حاصل یہ قرار پایا کہ اصل مہر کریم جس پر عقد اقدس واقع ہوا چار۴۰۰ مثقال چاندی تھی۔ ولہذا علماء سیر نے اس پر جزم فرمایا مرقاۃ میں ہے
ذکرالسید جمال الدین المحدث فی روضۃ الاحباب ان صداق فاطمۃ رضی اﷲتعالی عنھاکان اربع مائۃ مثقال فضہ وکذا ذکرہ صاحب المواھب الخ۔
سیدجمال الدین محدث نے روضۃ الاحباب میں ذکر کیا کہ فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر چار سومثقال چاندی تھی۔ اسی کو صاحب مواہب نے ذکر کیا ہے الخ۔ زرہ برسم پیشگی وقت زفاف دی گئی کہ بحکم اقدس چار سو اسی ۴۸۰درم کو بکی
وبہ ظھر ما فی العلامۃ المحب الطبری یشبہ ان العقد وقع علی الدرع وانما حقہ ان یقال ان المعجل کانت الدرع ولعل حاملہ علیہ ذھولہ عن
اس سے علامہ محب طبری کے قول پر اعتراض بھی واضح ہوگیا جو انہوں نے کہا کہ “ حق کے مشابہ یہ ہے کہ نکاح زرہ پر ہوا “ جبکہ حق بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ زرہ مہر معجل تھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ
اور بعض کا وزن ۱۰دس قیراط تھا جن کو پانچ کا وزن کہتے تھے اور بعض کا وزن بارہ ۲ قیراط تھا جن کو چھ کا وزن کہتے تھے تو جب عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ کا عہد آیا تو لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ایك سکہ ہونا چاہئے تو آپ نے ہر ایك میں سے کچھ لیا الخ اس پر ایك دلیل یہ بھی ہے کہ محقق علیہ الرحمۃنے زرہ کو مہر معجل قرار دیا جو کہ چارسواسی ۴۸۰ دراہم میں فروخت ہوئی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کل چار سو۴۰۰ میں سے چار سواسی ۴۸۰ معجل ہوں ۔ (ت)
پس حاصل یہ قرار پایا کہ اصل مہر کریم جس پر عقد اقدس واقع ہوا چار۴۰۰ مثقال چاندی تھی۔ ولہذا علماء سیر نے اس پر جزم فرمایا مرقاۃ میں ہے
ذکرالسید جمال الدین المحدث فی روضۃ الاحباب ان صداق فاطمۃ رضی اﷲتعالی عنھاکان اربع مائۃ مثقال فضہ وکذا ذکرہ صاحب المواھب الخ۔
سیدجمال الدین محدث نے روضۃ الاحباب میں ذکر کیا کہ فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر چار سومثقال چاندی تھی۔ اسی کو صاحب مواہب نے ذکر کیا ہے الخ۔ زرہ برسم پیشگی وقت زفاف دی گئی کہ بحکم اقدس چار سو اسی ۴۸۰درم کو بکی
وبہ ظھر ما فی العلامۃ المحب الطبری یشبہ ان العقد وقع علی الدرع وانما حقہ ان یقال ان المعجل کانت الدرع ولعل حاملہ علیہ ذھولہ عن
اس سے علامہ محب طبری کے قول پر اعتراض بھی واضح ہوگیا جو انہوں نے کہا کہ “ حق کے مشابہ یہ ہے کہ نکاح زرہ پر ہوا “ جبکہ حق بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ زرہ مہر معجل تھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ
حوالہ / References
خزانۃ المفتین فصل فی مال تجارۃ قلمی نسخہ ۱ / ۴۱و۴۲
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۳۶۰
حدیث المثاقیل المصر اھ بان العقد انم وقع علیھا لاعلی الدرع ولاعلی الدراھم ولذا لم یذکرالاقولین کما رأیت۔
انداز اس حدیث سے ذہول کی وجہ سے اختیار کیا جس میں مثاقیل کے باری میں تصریح ہے کہ نکاح ان پر ہوا نہ کہ زرہ پر اور نہ ہی دراہم پر ہوا۔ اسی لئے انہوں نے صرف دو۲ قول ہی ذکر کئے جیسا کہ آپ کومعلوم ہے(ت)
مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے اور یہاں کا روپیہ سواگیارہ ماشے تو چار سومثقال کے پورے ایك سوساٹھ۱۶۰ روپے ہوئے
فاحفظہ فلعلك لاتجد ھذاالتحریر فی غیر ھذاالتحریر
(اس کو محفوظ کرلو'ہوسکتا ہے کہ آپ کویہ تحریر دوسری جگہ نہ ملے۔ ت)واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱ : ازپیلی بھیت محلہ بشیرخاں مسئولہ احمد حسین خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ۲۳صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسلمان سے ایك مسلمان کانکاح ہوا اس کے بعد نکاح کنندہ کو معلوم ہوا کہ اس عورت کے باپ سے مجھ کو رشتہ شیر خوارگی ہے یعنی میری ماں نے اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے اور اس زمانہ میں بوجہ عدم واقفیت ہمبستری بھی ہوگئی ایسی صورت میں نسبت جواز نکاح کے کیا حکم ہوگا اور مہر کی نسبت کیا حکم فرمایا جائے گا بینواتوجروا۔
الجواب :
جبکہ امر مذکور معلوم وثابت ہولیا تو ظاہر ہوا کہ وہ عورت اس شخص کی بھتیجی ہے اور نکاح ناجائز وفاسد
فی ردالمحتار یحرم من الرضاع اصولہ وفرعہ وفروع ابویہ وفروعہ ۔ ردالمحتار میں ہے کہ رضاعت سے اس کے اصوال وفروع اور اس کے والدین کے فروع اور فروع کے فروع ہوجاتے ہیں ۔ (ت)
اس پر فرض ہے کہ فورا اسے ترك کردے اور اس جدا ہوجائے زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے چھوڑا یا تیرے نکاح کو ترك کیا
فی ردالمحتار فی البزازیۃ المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابا لقول کخلیت سبیلك او ترکتك الخ۔
ردالمحتار میں ہے بزازیہ میں ہے کہ نکاح فاسد میں دخول کے بعد متارکہ کہ صرف قول(مثلا میں نے تیرا راستہ آزاد کیا یا تجھے چھوڑ دیا ہے)سے ہوتا ہے الخ(ت)
انداز اس حدیث سے ذہول کی وجہ سے اختیار کیا جس میں مثاقیل کے باری میں تصریح ہے کہ نکاح ان پر ہوا نہ کہ زرہ پر اور نہ ہی دراہم پر ہوا۔ اسی لئے انہوں نے صرف دو۲ قول ہی ذکر کئے جیسا کہ آپ کومعلوم ہے(ت)
مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے اور یہاں کا روپیہ سواگیارہ ماشے تو چار سومثقال کے پورے ایك سوساٹھ۱۶۰ روپے ہوئے
فاحفظہ فلعلك لاتجد ھذاالتحریر فی غیر ھذاالتحریر
(اس کو محفوظ کرلو'ہوسکتا ہے کہ آپ کویہ تحریر دوسری جگہ نہ ملے۔ ت)واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱ : ازپیلی بھیت محلہ بشیرخاں مسئولہ احمد حسین خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ۲۳صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسلمان سے ایك مسلمان کانکاح ہوا اس کے بعد نکاح کنندہ کو معلوم ہوا کہ اس عورت کے باپ سے مجھ کو رشتہ شیر خوارگی ہے یعنی میری ماں نے اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے اور اس زمانہ میں بوجہ عدم واقفیت ہمبستری بھی ہوگئی ایسی صورت میں نسبت جواز نکاح کے کیا حکم ہوگا اور مہر کی نسبت کیا حکم فرمایا جائے گا بینواتوجروا۔
الجواب :
جبکہ امر مذکور معلوم وثابت ہولیا تو ظاہر ہوا کہ وہ عورت اس شخص کی بھتیجی ہے اور نکاح ناجائز وفاسد
فی ردالمحتار یحرم من الرضاع اصولہ وفرعہ وفروع ابویہ وفروعہ ۔ ردالمحتار میں ہے کہ رضاعت سے اس کے اصوال وفروع اور اس کے والدین کے فروع اور فروع کے فروع ہوجاتے ہیں ۔ (ت)
اس پر فرض ہے کہ فورا اسے ترك کردے اور اس جدا ہوجائے زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے چھوڑا یا تیرے نکاح کو ترك کیا
فی ردالمحتار فی البزازیۃ المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابا لقول کخلیت سبیلك او ترکتك الخ۔
ردالمحتار میں ہے بزازیہ میں ہے کہ نکاح فاسد میں دخول کے بعد متارکہ کہ صرف قول(مثلا میں نے تیرا راستہ آزاد کیا یا تجھے چھوڑ دیا ہے)سے ہوتا ہے الخ(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۹
ردالمحتار باب المہر مطلب فی النکاح الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۲-۳۵۱
ردالمحتار باب المہر مطلب فی النکاح الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۲-۳۵۱
اور از انجا کہ ہمبستری یعنی مجامعت واقع ہولی عورت کے لئے مہر مثل تمام وکمال لازم آیا اگر چہ مہر مسمی سے زائد ہو نکاح فاسد میں ضروریہ حکم ہے کہ جب مہر کچھ معین کیا گیا تو لازم تو مہرمثل ہی آئے گا مگر قرار یافتہ سے زیادہ نہ دلایا جائے گا مثلا ہزار روپیہ مہر ٹھہرا تھا تو اگر مہر مثل ہزار یا ہزار سے زائد ہے تو ہزار ہی دلائے جائیں گے اور مہر مثل ہزار سے کم ہے تو صرف اسی قدر دلائیں گے ہزار تك نہ بڑھائیں گے لیکن بعض صورتیں اس سے مستثنی ہیں ازاں جملہ نکاح محارم کہ نا دانستہ وقوع میں آیا وہاں بعد وطی مہر مثل پورا لازم آتا ہے اگر چہ مسمی سے زائد ہو مسمی کا کچھ لحاظ نہ کیا جائے گا اور یہاں یہی صورت واقع ہے کہ وہ اس کی بھتیجی اور محرم رضاعی ہے۔
فی تنویرالابصار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزد علی المسمی ۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
تنویرالابصار میں ہے : نکاح فاسد میں مہر مثل صرف جماع سے لازم آتا ہے کسی غیر جماع سے نہیں وہ مہر مثل بھی مقرر سے زیادہ نہ ہو۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۲۲ : ۵شعبان ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح ایام نابالغی میں زید کے ساتھ ہوا اور نکاح کے روز سے ایك لمحہ کو بھی ہندہ زید کے گھر نہیں گئی اور نہ ہم صحبت ہوئی اس صورت میں ہندہ مہر چاہے تو پاسکتی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سائل مظہر کہ زن وشو نے انتقال کیا اور ان میں ایك کامرجانا بھی مہر کو مؤکد کرتا ہے پس صورت مذکورہ میں کل مہر ہندہ ترکہ زید پر لازم ہے جبکہ وہ نکاح لازم واقع ہوا جیسا کہ اب وجد نے کیا یا نافذ غیرلازم تھا اور پیش از رد احد الزوجین کا انتقال ہوگیا۔
فی الدرالمحتار یتأکد عند وطء او خلوۃ صحت او موت احدھما الخ۔
درمختار میں ہے : وطی یا خلوت صحیحہ یا دونوں میں سے کسی کی موت سے مہر لازم ہوجاتا ہے الخ(ت)
اور اگر نکاح منعقد ہی نہ ہوا تھا جیسے غیر اب وجد نے نابالغی ہندہ میں غیر کفو سے یا مہر مثل میں کمی فاحش کے ساتھ نکاح کردیا کہ شرعا ایسا نکاح باطل ہے' یا موقوفا منعقد ہوا اور ہنوز نافذ نہ ہونے پایا تھا کہ
فی تنویرالابصار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزد علی المسمی ۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
تنویرالابصار میں ہے : نکاح فاسد میں مہر مثل صرف جماع سے لازم آتا ہے کسی غیر جماع سے نہیں وہ مہر مثل بھی مقرر سے زیادہ نہ ہو۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۲۲ : ۵شعبان ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح ایام نابالغی میں زید کے ساتھ ہوا اور نکاح کے روز سے ایك لمحہ کو بھی ہندہ زید کے گھر نہیں گئی اور نہ ہم صحبت ہوئی اس صورت میں ہندہ مہر چاہے تو پاسکتی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سائل مظہر کہ زن وشو نے انتقال کیا اور ان میں ایك کامرجانا بھی مہر کو مؤکد کرتا ہے پس صورت مذکورہ میں کل مہر ہندہ ترکہ زید پر لازم ہے جبکہ وہ نکاح لازم واقع ہوا جیسا کہ اب وجد نے کیا یا نافذ غیرلازم تھا اور پیش از رد احد الزوجین کا انتقال ہوگیا۔
فی الدرالمحتار یتأکد عند وطء او خلوۃ صحت او موت احدھما الخ۔
درمختار میں ہے : وطی یا خلوت صحیحہ یا دونوں میں سے کسی کی موت سے مہر لازم ہوجاتا ہے الخ(ت)
اور اگر نکاح منعقد ہی نہ ہوا تھا جیسے غیر اب وجد نے نابالغی ہندہ میں غیر کفو سے یا مہر مثل میں کمی فاحش کے ساتھ نکاح کردیا کہ شرعا ایسا نکاح باطل ہے' یا موقوفا منعقد ہوا اور ہنوز نافذ نہ ہونے پایا تھا کہ
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
ان میں ایك نے انتقال کیا جیسے بحالت ولایت پدر اس کے غیر نے بے اسکی اجازت نکاح کردیا اور ہنوز باپ نے جائز نہ کیا تھا کہ احد الزوجین نے وفات پائی تو اس صورت مین اصلا کچھ مہر وغیرہ نہ ملے گا۔
فی ردالمحتار المھر کمام یلزم جمیعہ بالدخول والخلوۃ کذلك بموت احدھما قبل الدخول اما بدون ذلك فتیسقط لان العقد اذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن نھراھ مختصرا واﷲتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ جس طرح دخول اور خلوت صحیحہ سے پورا مہر لازم ہوجاتا ہے ایسے ہی دونوں میں سے کسی کی موت قبل از دخول سے بھی لازم ہوجاتا ہے اگر مذکورہ صورتیں نہ واقع ہوئی تو مہر ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ جب نکاح فسخ ہوتو وہ کالعدم ہوجاتا ہے نہر اھ مختصرا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۳ : ۱۵ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت سے نکاح کیا اس عورت کومرد کے قابل نہ پایا اس کے جسم میں ہڈی ہے ایك زمانے کے بعد زید نے اسے طلاق دے دی اب اس کا مہر دینا واجب ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اس صورت میں آدھا مہر دینا آئے گا۔ درمختار میں ہے :
یجب نصفہ بطلاق قبل وطء اوخلوۃ ۔
طلاق قبل از خلوت سے نصف مہر لازم ہوتا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
الخلوۃ بلامائع کرتق التلاحم(وقرن) عظم (و عفل )غدۃ(کالوطء تأکد المھر اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالی اعلم
خلوت ایسی کہ جہاں کوئی مانع نہ ہو۔ مثلا شرمگاہ میں گوشت پرہوجائے ہڈی ہوجائے غدود ہوجائے ان موانع کے بغیر خلوت ہو تو وہ وطی کے حکم میں ہے مہر لازم ہوجاتا ہے اھ ملتقطا (ت)واﷲتعالی اعلم۔
فی ردالمحتار المھر کمام یلزم جمیعہ بالدخول والخلوۃ کذلك بموت احدھما قبل الدخول اما بدون ذلك فتیسقط لان العقد اذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن نھراھ مختصرا واﷲتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ جس طرح دخول اور خلوت صحیحہ سے پورا مہر لازم ہوجاتا ہے ایسے ہی دونوں میں سے کسی کی موت قبل از دخول سے بھی لازم ہوجاتا ہے اگر مذکورہ صورتیں نہ واقع ہوئی تو مہر ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ جب نکاح فسخ ہوتو وہ کالعدم ہوجاتا ہے نہر اھ مختصرا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۳ : ۱۵ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت سے نکاح کیا اس عورت کومرد کے قابل نہ پایا اس کے جسم میں ہڈی ہے ایك زمانے کے بعد زید نے اسے طلاق دے دی اب اس کا مہر دینا واجب ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اس صورت میں آدھا مہر دینا آئے گا۔ درمختار میں ہے :
یجب نصفہ بطلاق قبل وطء اوخلوۃ ۔
طلاق قبل از خلوت سے نصف مہر لازم ہوتا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
الخلوۃ بلامائع کرتق التلاحم(وقرن) عظم (و عفل )غدۃ(کالوطء تأکد المھر اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالی اعلم
خلوت ایسی کہ جہاں کوئی مانع نہ ہو۔ مثلا شرمگاہ میں گوشت پرہوجائے ہڈی ہوجائے غدود ہوجائے ان موانع کے بغیر خلوت ہو تو وہ وطی کے حکم میں ہے مہر لازم ہوجاتا ہے اھ ملتقطا (ت)واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الول داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۹
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۹
مسئلہ ۲۴ : از ریا ست ریواں محلہ گھوگھر مرسلہ عبد اﷲخاں صاحب چاہك سوار ۱۰صفر ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ ہندہ کو باشتباہ زنا اپنے مکان سے نکال دیا چار ماہ سے زائد ہوتا ہے کہ نان نفقہ مطلقا نہ دیا قریب ایك ماہ کے ہوتا ہے کہ جلسہ واحد میں تین طلاق دئے مگر نہ روبرو عورت کے بلکہ دوسرے اشخاص کے۔ دین مہر عورت کا صہ۴ پایا تھا شوہر نے قطعہ مکان مالیتی صہ بعوض دین مہر رجسٹری کرا کردخل دے دیاتھا' اب بے دخل کرکے نکال دیا اپنے دئے ہوئے زیورات کا مسماۃ سے بجبر واکراہ بنالش کچہری دعودیدار ہے۔ پس صورت مسئولہ میں آیا مرد مجاز ہے کہ علاوہ دین مہرکے جو اشیاء ازقسم زیورات وغیرہ عورت کو بنوادیا تھا جبرا واپس لے سکتا ہے یا نہیں جواب بحوالہ کتب معتبرہ مع ترجمہ عبارت عربی جلد مرحمت فرمایاجائے۔ بینواتوجروا
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں عورت کے روبرو ہونا کچھ شرط نہیں قطعہ مکان کہ بعوض دین مہر دیاتھا ملك عورت ہے عورت بذریعہ نالش واپس لے سکتی ہے علاوہ مہرجو اشیاء مثل زیور وغیرہ زید نے ہندہ کو دیں اگر گواہان عادل شرعی یا اقرار زید سے ثابت ہوکہ وہ چیزیں زید نے ہندہ کو ہبہ کردی تھیں تو زید ان کی واپسی کا اختیار نہیں رکھتا۔ فتاوی قاضی خاں وفتاوی عالمگیری میں ہے :
اذا وھب ازوجین لصاحبہ لایرجع فی الھبۃ وان انقطع النکاح بینھما ۔
جب میاں بیوی نے ایك دوسرے کوکوئی ہبہ دیا تو رجوع کا اختیار نہیں اگر چہ بعد کو نکاح منقطع ہوجائے۔ (ت)
یونہی جس چیز کی نسبت اس کی مالك سمجھی جاتی ہےں اس میں بھی زید کو اختیار واپسی نہیں ۔ علماء فرماتے ہیں : المعھود عرفا کالمشروط نصا(عرف میں ثابت ایسے ہے جیسا کہ نص کرکے مشروط کیا ہو۔ ت)مگرجبکہ اس قسم دوم کی چیز میں زید گواہان شرعی سے ثابت کردے کہ میں نے دیتے وقت جتادیا تھا کہ برتنے کے لئے دیتا ہوں تجھے مالك نہیں کرتا تو البتہ وہ چیز ملك شوہر سمجھی جائے گی اور وہ بالجبر واپس لے سکتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں : الصریح یفوق الدلالۃ(صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ ت)اسی طرح زیور کپڑا وغیرہ ہر وہ چیز کہ شوہر نے دی اور تملیك صراحۃ خواہ عرفا کسی طرح ثابت نہ ہوئی اس میں بھی قول شوہر کا معتبر ہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ ہندہ کو باشتباہ زنا اپنے مکان سے نکال دیا چار ماہ سے زائد ہوتا ہے کہ نان نفقہ مطلقا نہ دیا قریب ایك ماہ کے ہوتا ہے کہ جلسہ واحد میں تین طلاق دئے مگر نہ روبرو عورت کے بلکہ دوسرے اشخاص کے۔ دین مہر عورت کا صہ۴ پایا تھا شوہر نے قطعہ مکان مالیتی صہ بعوض دین مہر رجسٹری کرا کردخل دے دیاتھا' اب بے دخل کرکے نکال دیا اپنے دئے ہوئے زیورات کا مسماۃ سے بجبر واکراہ بنالش کچہری دعودیدار ہے۔ پس صورت مسئولہ میں آیا مرد مجاز ہے کہ علاوہ دین مہرکے جو اشیاء ازقسم زیورات وغیرہ عورت کو بنوادیا تھا جبرا واپس لے سکتا ہے یا نہیں جواب بحوالہ کتب معتبرہ مع ترجمہ عبارت عربی جلد مرحمت فرمایاجائے۔ بینواتوجروا
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں عورت کے روبرو ہونا کچھ شرط نہیں قطعہ مکان کہ بعوض دین مہر دیاتھا ملك عورت ہے عورت بذریعہ نالش واپس لے سکتی ہے علاوہ مہرجو اشیاء مثل زیور وغیرہ زید نے ہندہ کو دیں اگر گواہان عادل شرعی یا اقرار زید سے ثابت ہوکہ وہ چیزیں زید نے ہندہ کو ہبہ کردی تھیں تو زید ان کی واپسی کا اختیار نہیں رکھتا۔ فتاوی قاضی خاں وفتاوی عالمگیری میں ہے :
اذا وھب ازوجین لصاحبہ لایرجع فی الھبۃ وان انقطع النکاح بینھما ۔
جب میاں بیوی نے ایك دوسرے کوکوئی ہبہ دیا تو رجوع کا اختیار نہیں اگر چہ بعد کو نکاح منقطع ہوجائے۔ (ت)
یونہی جس چیز کی نسبت اس کی مالك سمجھی جاتی ہےں اس میں بھی زید کو اختیار واپسی نہیں ۔ علماء فرماتے ہیں : المعھود عرفا کالمشروط نصا(عرف میں ثابت ایسے ہے جیسا کہ نص کرکے مشروط کیا ہو۔ ت)مگرجبکہ اس قسم دوم کی چیز میں زید گواہان شرعی سے ثابت کردے کہ میں نے دیتے وقت جتادیا تھا کہ برتنے کے لئے دیتا ہوں تجھے مالك نہیں کرتا تو البتہ وہ چیز ملك شوہر سمجھی جائے گی اور وہ بالجبر واپس لے سکتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں : الصریح یفوق الدلالۃ(صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ ت)اسی طرح زیور کپڑا وغیرہ ہر وہ چیز کہ شوہر نے دی اور تملیك صراحۃ خواہ عرفا کسی طرح ثابت نہ ہوئی اس میں بھی قول شوہر کا معتبر ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۸۶
جبرا واپس لے سکے گا اور بلاتملیك شوہر عورت کے برتنے پہننے استعمال کرنے سے ملك عورت ثابت نہیں ہوسکتی البتہ گھر میں پہننے کے کپڑے جن کا دینا بحکم نفقہ شوہر پر واجب ہو چکا ہو وہ دے کہ اگر دعوی کرے کہ میں نے عورت کو مالك نہ کیا تھا اس میں شوہر کا قول معتبر ہونا چاہے۔ عقودالدریہ میں ہے :
قال فی البحر وفی البدائع اقررت بالزوجھا ثم ادعت الانتقال الیھا لایثبت الانتقال الابالبینۃ اھ ولابد من بینۃ علی الانتقال الیھا منہ بھبۃ او نحو ذلك ولایکون استمتاعھا بمشریہ ورضاہ بذلك دلیلا علی انہ ملکھا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام وقدافتیت بذلك مرارا وینبغی تقییدہ بمالم یکن من ثیاب الکسوۃ الواجبۃ علی الزوج اھ ملخصا۔ واﷲتعالی اعلم۔
بحر میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ بیوی نے خاوند کی ملکیت کا اقرار کیا اور پھر اس کے اپنی طرف منتقل ہوجانے کا دعوی کیا تو اب بیوی کی ملکیت شہادت کے بغیر ثابت نہ ہوگی اھ گواہ ضروری ہیں کہ شوہر نے بذریعہ ہبہ وغیرہ عورت کو مالك کردیا بیوی کا خاوند کی خریدی ہوئی چیز سے فائدہ پانا اگر چہ خاوند کی رضا مندی سے ہو یہ بیوی کی ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا جیسا کہ عام طورپر عورتیں اور عوام سمجھ لیتے ہیں کہ یہ خاوند کی طرف سے ملکیت کردی گئی ہے میں نے کئی باریہ فتوی جاری کیااھ یہاں یہ قید مناسب ہے کہ وہ دی ہوئی چیز پہننے کے کپڑے نہ ہوں جن کا دینا شوہر پر واجب ہوچکا تھا اھ ملخصا (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۵ : از کٹرہ ڈاك خانہ ادیرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید کریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جاہل نے بدون طلاق اپنی زوجہ کی رضاعی بہن سے نکاح کرلیا جب اس کو معلوم ہوا کہ جمع بین الاختین حرام ہے تب اس نے ثانیہ کو طلاق دینا چاہا ثانیہ نے کہا کہ مجھ کو طلاق دینا چاہتے ہو تو میرا مہر ادا کرو۔ تو اس صورت میں بہ سبب ناجوازی نکاح زوجہ ثانیہ کے زوجہ ثانیہ کے حق میں صرف تفریق ہی معتبر ہ یا اس پر طلاق واقع ہوگا اور مہر زوجہ ثانیہ زوج پر باوجود عدم جواز نکاح لازم آئے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
ایك بہن جب نکاح میں ہو تو دوسری سے نکاح نکاح فاسد ہے متارکہ یعنی چھوڑ دینا جدا کردینا واجب ہے اور وہ طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے یہاں تك کہ اگر الفاظ طلاق کہے گا جب بھی متارکہ ہی ٹھہرے گا طلاق
قال فی البحر وفی البدائع اقررت بالزوجھا ثم ادعت الانتقال الیھا لایثبت الانتقال الابالبینۃ اھ ولابد من بینۃ علی الانتقال الیھا منہ بھبۃ او نحو ذلك ولایکون استمتاعھا بمشریہ ورضاہ بذلك دلیلا علی انہ ملکھا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام وقدافتیت بذلك مرارا وینبغی تقییدہ بمالم یکن من ثیاب الکسوۃ الواجبۃ علی الزوج اھ ملخصا۔ واﷲتعالی اعلم۔
بحر میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ بیوی نے خاوند کی ملکیت کا اقرار کیا اور پھر اس کے اپنی طرف منتقل ہوجانے کا دعوی کیا تو اب بیوی کی ملکیت شہادت کے بغیر ثابت نہ ہوگی اھ گواہ ضروری ہیں کہ شوہر نے بذریعہ ہبہ وغیرہ عورت کو مالك کردیا بیوی کا خاوند کی خریدی ہوئی چیز سے فائدہ پانا اگر چہ خاوند کی رضا مندی سے ہو یہ بیوی کی ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا جیسا کہ عام طورپر عورتیں اور عوام سمجھ لیتے ہیں کہ یہ خاوند کی طرف سے ملکیت کردی گئی ہے میں نے کئی باریہ فتوی جاری کیااھ یہاں یہ قید مناسب ہے کہ وہ دی ہوئی چیز پہننے کے کپڑے نہ ہوں جن کا دینا شوہر پر واجب ہوچکا تھا اھ ملخصا (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۵ : از کٹرہ ڈاك خانہ ادیرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید کریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جاہل نے بدون طلاق اپنی زوجہ کی رضاعی بہن سے نکاح کرلیا جب اس کو معلوم ہوا کہ جمع بین الاختین حرام ہے تب اس نے ثانیہ کو طلاق دینا چاہا ثانیہ نے کہا کہ مجھ کو طلاق دینا چاہتے ہو تو میرا مہر ادا کرو۔ تو اس صورت میں بہ سبب ناجوازی نکاح زوجہ ثانیہ کے زوجہ ثانیہ کے حق میں صرف تفریق ہی معتبر ہ یا اس پر طلاق واقع ہوگا اور مہر زوجہ ثانیہ زوج پر باوجود عدم جواز نکاح لازم آئے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
ایك بہن جب نکاح میں ہو تو دوسری سے نکاح نکاح فاسد ہے متارکہ یعنی چھوڑ دینا جدا کردینا واجب ہے اور وہ طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے یہاں تك کہ اگر الفاظ طلاق کہے گا جب بھی متارکہ ہی ٹھہرے گا طلاق
حوالہ / References
عقودالدریۃ کتاب الفرائض حاجی عبد الغفار وپسران تاجرانِ کُتب قندھار افغانستان ۲ / ۳۵۰
میں شمار نہ ہوگا پھر اگر اس دوسری سے حقیقۃوطی یعنی خاص فرج داخل میں بقدر حشفہ ایلاج ذکر کر چکا تھا تو مہر مثل ومہر مسمی سے جو کم ہولازم آئے گا ورنہ کچھ نہیں اگر پر خلوت بلکہ بوس وکنار بہ شہوت بلکہ غیر فرج میں ادخال کرچکاہو
فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشہود بالوطئ فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم کزد علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل اھ باختصار وفی ردالمحتار قولہ کشھود ومثلہ تزوج الاختین معاونکاح الاخت فی عدۃ الاخت قولہ فی القبل فلوفی الدبر لایلزمہ مھر خلاصۃ وقنیۃ فلایجب بالمس والتقبیل بشہوۃ شیئی بالاولی کما صرحوا بہ ایضا بحر اھ ملتقطا وفی الدر من العدۃ الخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ والطلاق فیہ لاینقص عدد الطلاق لانہ فسخ جوھرۃ اھ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ نکاح فاسد میں صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ نکاح فاسد وہ ہے کہ جس میں صحت نکاح کی شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو مثلا بے شہود نکاح اورمہر مثل بھی مقرر مہر سے زیادہ نہ ہوگا اور اگر مہرمثل کم ہو مہر مسمی سے تو بھی مہر مثل لازم ہوگا یہاں خلوت وغیرہ سے مہر واجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ وطی کے قائم مقام نہیں ہے کیونکہ نکاح فاسد میں وطی خود حرام ہے اھ اختصارا۔ اور ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول جیسے گواہ' اور اسی طرح اگر دو۲ بہنوں سے بیك وقت نکاح کیا ہو یا ایك بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کیا ہو ماتن کا قول کہ صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر لازم ہوتا ہے تو دبر میں وطی کرنے سے مہر لازم نہ ہوگا خلاصہ اور قنیہ یونہی مس اور بوس کنار شہوت سے کئے ہوں تو بھی مہر بطریق اولی لازم نہ ہوگا جیسا کہ فقہا ء نے اس کی بھی تصریح کی ہے بحر اھ ملتقطا۔ درمختار کی عدت بحث میں ہے کہ نکاح فاسد میں خلوت عدت کو واجب نہیں کرتی اور نکاح فاسد میں طلاق سے عدد طلاق کم نہ ہوگا کیونکہ یہ فسخ ہے جوہرہ اھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶ : از جنگل کوکرہ ڈاك خانہ گولا ضلع کھیری مرسلہ عبدا لرحمن خاں صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح بعوض دس۱۰ درہم مہر کے کیا تو
فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشہود بالوطئ فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم کزد علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل اھ باختصار وفی ردالمحتار قولہ کشھود ومثلہ تزوج الاختین معاونکاح الاخت فی عدۃ الاخت قولہ فی القبل فلوفی الدبر لایلزمہ مھر خلاصۃ وقنیۃ فلایجب بالمس والتقبیل بشہوۃ شیئی بالاولی کما صرحوا بہ ایضا بحر اھ ملتقطا وفی الدر من العدۃ الخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ والطلاق فیہ لاینقص عدد الطلاق لانہ فسخ جوھرۃ اھ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ نکاح فاسد میں صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ نکاح فاسد وہ ہے کہ جس میں صحت نکاح کی شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو مثلا بے شہود نکاح اورمہر مثل بھی مقرر مہر سے زیادہ نہ ہوگا اور اگر مہرمثل کم ہو مہر مسمی سے تو بھی مہر مثل لازم ہوگا یہاں خلوت وغیرہ سے مہر واجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ وطی کے قائم مقام نہیں ہے کیونکہ نکاح فاسد میں وطی خود حرام ہے اھ اختصارا۔ اور ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول جیسے گواہ' اور اسی طرح اگر دو۲ بہنوں سے بیك وقت نکاح کیا ہو یا ایك بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کیا ہو ماتن کا قول کہ صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر لازم ہوتا ہے تو دبر میں وطی کرنے سے مہر لازم نہ ہوگا خلاصہ اور قنیہ یونہی مس اور بوس کنار شہوت سے کئے ہوں تو بھی مہر بطریق اولی لازم نہ ہوگا جیسا کہ فقہا ء نے اس کی بھی تصریح کی ہے بحر اھ ملتقطا۔ درمختار کی عدت بحث میں ہے کہ نکاح فاسد میں خلوت عدت کو واجب نہیں کرتی اور نکاح فاسد میں طلاق سے عدد طلاق کم نہ ہوگا کیونکہ یہ فسخ ہے جوہرہ اھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶ : از جنگل کوکرہ ڈاك خانہ گولا ضلع کھیری مرسلہ عبدا لرحمن خاں صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح بعوض دس۱۰ درہم مہر کے کیا تو
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۱۔ ۳۵۰
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۸
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۱۔ ۳۵۰
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۸
ایسی صورت میں کہ ملك ہند میں رواج درہم کا نہیں ہے بجائے دس۱۰ درہم کے دس۱۰ درہم چاندی کافی ہوگی یا تعداد اس کی روپے آنے سے پوری کرنی ہوگی اگر روپے آنے مہر کے تجویز کئے جائیں گے تو کس قدر ہوں گے اورکم سے کم کتنا مہر ہوسکتا ہے بینواتوجروا
الجواب :
چاندی کافی ہے سکہ ہونے کی کچھ ضرورت نہیں کم سے کم مہر دس۱۰ ہی درہم ہے یعنی دو۲تولے ساڑھے سات ماشے چاندی اس تولے سے جس کے حساب میں انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا ہے نہ روپیہ بھر کا تولہ جو بعض بلاد میں معروف ہے مہر خوداس قدر چاندی ہو یا چاندی کے سوا اور کوئی شے اتنی ہی چاندی کی قیمت کی
فی الدرالمختار قلہ عشرۃ دراھم فضۃ وزن سبعۃ مثاقیل مضروبۃ کانت اولا ولو دینا او عرضا قیمتہ عشرۃ وقت العقد فی ردالمحتار “ فلوسمی عشرۃ تبرا اوعرضا قیمۃ عشرۃ تبرا لامضروبۃ “ صح ۔
درمختار میں ہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس۱۰ درہم چاندی جس کا وزن سات۷مثقال ہو یہ چاندی سکے کی شکل میں ہوں یابے سکہ اگر چہ قرض ہو یا کوئی سامان ہو جس کی قیمت دس۱۰ درہم بوقت نکاح ہو۔ ردالمحتار میں ہے اگر دس۱۰ ٹکڑیاں مہر مقرر کیا یا سامان جس کی قیمت دس۱۰ ٹکڑیوں کے برابر ہو دس۱۰ سکوں برابر نہ ہو تو بھی جائز ہے(ت)
وزن کے اعبتار سے دس۱۰ درم کے دو۲روپے ایك اٹھنی ایك چوانی اور ۹-۵ / ۳ پائی ہوئے یعنی کچھ کم دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے اگر روپے اٹھنی چوانی دے تو اسی قدر دینا ہوگا لان الجنس لامعتبر فیہ للقیمۃ(کیونکہ جنس میں قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ت)اور چاندی کے علاوہ اور کوئی چیز دے تو دو۲تولے ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی مثلا چاندی ۱۲۔ تولہ ہو تو ایك روپے ساڑھے پندرہ آنے کی قیمتی شے کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۷ : شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کانکاح زید سے بتعین صہ عہ(۲۵۰۰۰)ہزار مہر کے ہوا زید کو مہر میں اضافہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کے لئے کیا شرائط لازم وضروری ہیں بینواتوجروا
الجواب :
چاندی کافی ہے سکہ ہونے کی کچھ ضرورت نہیں کم سے کم مہر دس۱۰ ہی درہم ہے یعنی دو۲تولے ساڑھے سات ماشے چاندی اس تولے سے جس کے حساب میں انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا ہے نہ روپیہ بھر کا تولہ جو بعض بلاد میں معروف ہے مہر خوداس قدر چاندی ہو یا چاندی کے سوا اور کوئی شے اتنی ہی چاندی کی قیمت کی
فی الدرالمختار قلہ عشرۃ دراھم فضۃ وزن سبعۃ مثاقیل مضروبۃ کانت اولا ولو دینا او عرضا قیمتہ عشرۃ وقت العقد فی ردالمحتار “ فلوسمی عشرۃ تبرا اوعرضا قیمۃ عشرۃ تبرا لامضروبۃ “ صح ۔
درمختار میں ہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس۱۰ درہم چاندی جس کا وزن سات۷مثقال ہو یہ چاندی سکے کی شکل میں ہوں یابے سکہ اگر چہ قرض ہو یا کوئی سامان ہو جس کی قیمت دس۱۰ درہم بوقت نکاح ہو۔ ردالمحتار میں ہے اگر دس۱۰ ٹکڑیاں مہر مقرر کیا یا سامان جس کی قیمت دس۱۰ ٹکڑیوں کے برابر ہو دس۱۰ سکوں برابر نہ ہو تو بھی جائز ہے(ت)
وزن کے اعبتار سے دس۱۰ درم کے دو۲روپے ایك اٹھنی ایك چوانی اور ۹-۵ / ۳ پائی ہوئے یعنی کچھ کم دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے اگر روپے اٹھنی چوانی دے تو اسی قدر دینا ہوگا لان الجنس لامعتبر فیہ للقیمۃ(کیونکہ جنس میں قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ت)اور چاندی کے علاوہ اور کوئی چیز دے تو دو۲تولے ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی مثلا چاندی ۱۲۔ تولہ ہو تو ایك روپے ساڑھے پندرہ آنے کی قیمتی شے کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۷ : شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کانکاح زید سے بتعین صہ عہ(۲۵۰۰۰)ہزار مہر کے ہوا زید کو مہر میں اضافہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کے لئے کیا شرائط لازم وضروری ہیں بینواتوجروا
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۰
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۰
الجواب :
شوہر کو ہر وقت زوجہ کے مہر میں زیادت کرنے کا اختیار ہے اور اب مہر یہی قرار پائے گا جو بعد اس زیادت کے مقرر ہوا اور اس کے لئے تجدید نکاح کی حاجت نہیں بلاتجدید بھی زیادت کرسکتا ہے نہ گواہوں کی ضرورت تنہائی میں باہم اضافہ کرلینا صحیح ہوجائے گا نہ زیادت جنس مہر سے ہونی لازم خلاف جنس بھی صحیح ہے مثلا روپے مہرتھے اب کوئی جائداد اضافہ کردی وہ روپے اور یہ جائداد سب کا مجموعہ مہر ہوجائے گا نہ اگلے مہر کا صرف تین ۳ شرطیں درکار ہیں دو۲ بالاتفاق۔ ایک۱تو اس زیادت کا معلوم ومعین ہونا مثلایہ کہا کہ میں نے تیرے نے تیرے مہر میں کچھ بڑھا دیا تو یہ زیادت باطل دوسرے۲اسی جلسہ میں عورت کا اسے قبول کرلینا اگر عورت نے قبول نہ کیا یا بعد مجلس بدلنے کے قبول کیا زیادت صحیح نہ ہوگی۔ تیسری۳ “ شرط مختلف فیہ “ بقائے نکاح ہے اگر بعد زوال نکاح بموت زوجہ یا طلاق بائن یا انقضائے عدت بعد طلاق رجعی زیادت کی تو ایك روایت پر صحیح نہ ہوگی۔ نہرالفائق میں اسی کو ظاہر الروایۃ قرار دیا۔ درمختار میں ہے :
زید علی ماسمی فانھا تلزمہ بشرط قبولھا فی المجلس اوقبول ولی الصغیرۃ ومعروفۃ قدرھا وبقاء الزوجیۃ علی الظاہر نھر
اگر مقررہ مہر پر زیادہ کیا ہوتو خاوند پر یہ زائد مہر لازم ہوجائےگا بشرطیکہ بیوی نے مجلس میں قبول کرلیا ہو یا اس کے ولی نے جب یہ نابالغہ ہو۔ اور مقدار بھی معلوم ہو اور زوجیت کا موجود رہنا بھی شرط ہے ظاہر مذہب میں نہر۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
افادا نھا صحیحۃ ولو بلاشھود او بعد ھبۃ المھر والابراء ومن غیر جنسہ بحر وفی انفع الوسائل لایشترط فیھا لفظ الزیادۃ بل تصح بلفظھا وبقولہ
اس عبارت نے یہ فائدہ دیا کہ یہ زیادتی جائز ہے خواہ گواہوں کے بغیر اور مہر ادا کردینے کے بعد یا مہر سے معاف کرنے کے بعدہو یہ زیادتی جنس مہر سے ہویا غیر جنس مہر سے ہو بحر۔ اور انفع الوسائل میں ہے اس کے لئے “ زیادہ “ کا لفظ بھی ضروری نہیں بلکہ اس لفظ سے اور اس قول سے بھی صحیح ہے کہ میں نے
شوہر کو ہر وقت زوجہ کے مہر میں زیادت کرنے کا اختیار ہے اور اب مہر یہی قرار پائے گا جو بعد اس زیادت کے مقرر ہوا اور اس کے لئے تجدید نکاح کی حاجت نہیں بلاتجدید بھی زیادت کرسکتا ہے نہ گواہوں کی ضرورت تنہائی میں باہم اضافہ کرلینا صحیح ہوجائے گا نہ زیادت جنس مہر سے ہونی لازم خلاف جنس بھی صحیح ہے مثلا روپے مہرتھے اب کوئی جائداد اضافہ کردی وہ روپے اور یہ جائداد سب کا مجموعہ مہر ہوجائے گا نہ اگلے مہر کا صرف تین ۳ شرطیں درکار ہیں دو۲ بالاتفاق۔ ایک۱تو اس زیادت کا معلوم ومعین ہونا مثلایہ کہا کہ میں نے تیرے نے تیرے مہر میں کچھ بڑھا دیا تو یہ زیادت باطل دوسرے۲اسی جلسہ میں عورت کا اسے قبول کرلینا اگر عورت نے قبول نہ کیا یا بعد مجلس بدلنے کے قبول کیا زیادت صحیح نہ ہوگی۔ تیسری۳ “ شرط مختلف فیہ “ بقائے نکاح ہے اگر بعد زوال نکاح بموت زوجہ یا طلاق بائن یا انقضائے عدت بعد طلاق رجعی زیادت کی تو ایك روایت پر صحیح نہ ہوگی۔ نہرالفائق میں اسی کو ظاہر الروایۃ قرار دیا۔ درمختار میں ہے :
زید علی ماسمی فانھا تلزمہ بشرط قبولھا فی المجلس اوقبول ولی الصغیرۃ ومعروفۃ قدرھا وبقاء الزوجیۃ علی الظاہر نھر
اگر مقررہ مہر پر زیادہ کیا ہوتو خاوند پر یہ زائد مہر لازم ہوجائےگا بشرطیکہ بیوی نے مجلس میں قبول کرلیا ہو یا اس کے ولی نے جب یہ نابالغہ ہو۔ اور مقدار بھی معلوم ہو اور زوجیت کا موجود رہنا بھی شرط ہے ظاہر مذہب میں نہر۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
افادا نھا صحیحۃ ولو بلاشھود او بعد ھبۃ المھر والابراء ومن غیر جنسہ بحر وفی انفع الوسائل لایشترط فیھا لفظ الزیادۃ بل تصح بلفظھا وبقولہ
اس عبارت نے یہ فائدہ دیا کہ یہ زیادتی جائز ہے خواہ گواہوں کے بغیر اور مہر ادا کردینے کے بعد یا مہر سے معاف کرنے کے بعدہو یہ زیادتی جنس مہر سے ہویا غیر جنس مہر سے ہو بحر۔ اور انفع الوسائل میں ہے اس کے لئے “ زیادہ “ کا لفظ بھی ضروری نہیں بلکہ اس لفظ سے اور اس قول سے بھی صحیح ہے کہ میں نے
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
راجعتك بکذا ان قبلت وکذا بتجدید النکاح وان لم یکن بلفظ الزیادۃعلی خلاف فیہ وکذا لو اقرلزو جتہ بمھر وکانت قد وھبتہ لہ فانہ یصح ان قبلت فی مجلس الاقراروان لم یکن بلفظ الزیادۃ اھ مختصرا۔ واﷲتعالی اعلم۔
اتنوں کے ساتھ تجھ پر رجوع کیا اگر تجھے قبول ہو اور یوں ہی تجدید نکاح سے اگر چہ اس میں زیادہ کا لفظ نہ بھی ہو اس میں خلاف ہے اور یونہی اگر بیوی نے خاوند کو مہر ہبہ کردیا اور بعد میں خاوند بیوی کے لئے کسی مہر کا اقرار کرلے جب بیوی نے اقرار والی مجلس میں قبول کرلیا ہو اگر چہ زیادہ کا لفظ نہ بھی ہوتو یہ زیادت صحیح ہے اھ مختصرا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸ : ۶شوال ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مہر معجل سے ششم حصہ بکر شوہر نے وقت نکاح ادا کردیا اب ہندہ کو بقیہ پانچ حصوں کا مطالبہ قبل افتراق زن وشو پہنچتا ہے یا نہیں اور اگر رخصت بلاخلوت صحیحہ واقع ہوئی ہوتو دعوی کا اختیار رہا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں بالاتفاق ہندہ کو قبل افتراق بموت یا طلاق بقیہ مہر معجل کا دعوی اور جب تك وتمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے گھر جانے سے باز رہنا اور اپنے نفس کو شوہر سے روکنا پہنچتا ہے اور اصل مذہب یہ ہے کہ اگر خلوت بلکہ قربت برضائے ذوجہ واقع ہولی تو اس کے بعد بھی زوجہ کو ہر وقت اختیار دعوی ومطالبہ ومنع نفس حاصل ہے جب چاہے رك جائے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دے اور اس کے گھر جانے سے انکار کرے جب تك مہر معجل نہ لے لے۔ درمختار میں ہے :
لھا منعہ من الوطی ودواعیہ والسفر بھا ولو بعد وطئ وخلوۃ رضیتھا لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی لاخذ مابین تعجیلہ من المھر کلہ او بعضہ او اخذقدرمایعجل لمثلھا عرفا بہ یفتی ۔
بیوی کو مہر وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطبی سے اور اس کے دواعی سے سفر میں ساتھ لے جانے سے منع کا حق ہے اگر چہ برضائے زوجہ وطی یا خلوت کرلی گئی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے تو کچھ دے دینے سے باقی کو بھی دے دینا ثابت نہیں کرتا یہ منع کا حق اس واسطے ہے کہ عورت وہ مہر وصول کرلے جس کا جلد دینا بیان ہوچکا وہ کل مہر ہو یا بعض یااس قدر مہر وصول کرلے جتنا اس جیسی عورتوں کو عرف میں جلد دیا جاتا ہے فتوی اسی پر ہے۔ (ت)
اتنوں کے ساتھ تجھ پر رجوع کیا اگر تجھے قبول ہو اور یوں ہی تجدید نکاح سے اگر چہ اس میں زیادہ کا لفظ نہ بھی ہو اس میں خلاف ہے اور یونہی اگر بیوی نے خاوند کو مہر ہبہ کردیا اور بعد میں خاوند بیوی کے لئے کسی مہر کا اقرار کرلے جب بیوی نے اقرار والی مجلس میں قبول کرلیا ہو اگر چہ زیادہ کا لفظ نہ بھی ہوتو یہ زیادت صحیح ہے اھ مختصرا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸ : ۶شوال ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مہر معجل سے ششم حصہ بکر شوہر نے وقت نکاح ادا کردیا اب ہندہ کو بقیہ پانچ حصوں کا مطالبہ قبل افتراق زن وشو پہنچتا ہے یا نہیں اور اگر رخصت بلاخلوت صحیحہ واقع ہوئی ہوتو دعوی کا اختیار رہا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں بالاتفاق ہندہ کو قبل افتراق بموت یا طلاق بقیہ مہر معجل کا دعوی اور جب تك وتمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے گھر جانے سے باز رہنا اور اپنے نفس کو شوہر سے روکنا پہنچتا ہے اور اصل مذہب یہ ہے کہ اگر خلوت بلکہ قربت برضائے ذوجہ واقع ہولی تو اس کے بعد بھی زوجہ کو ہر وقت اختیار دعوی ومطالبہ ومنع نفس حاصل ہے جب چاہے رك جائے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دے اور اس کے گھر جانے سے انکار کرے جب تك مہر معجل نہ لے لے۔ درمختار میں ہے :
لھا منعہ من الوطی ودواعیہ والسفر بھا ولو بعد وطئ وخلوۃ رضیتھا لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی لاخذ مابین تعجیلہ من المھر کلہ او بعضہ او اخذقدرمایعجل لمثلھا عرفا بہ یفتی ۔
بیوی کو مہر وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطبی سے اور اس کے دواعی سے سفر میں ساتھ لے جانے سے منع کا حق ہے اگر چہ برضائے زوجہ وطی یا خلوت کرلی گئی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے تو کچھ دے دینے سے باقی کو بھی دے دینا ثابت نہیں کرتا یہ منع کا حق اس واسطے ہے کہ عورت وہ مہر وصول کرلے جس کا جلد دینا بیان ہوچکا وہ کل مہر ہو یا بعض یااس قدر مہر وصول کرلے جتنا اس جیسی عورتوں کو عرف میں جلد دیا جاتا ہے فتوی اسی پر ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۸
در مختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
در مختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
اسی میں ہے :
لھا السفر والخروج من بیت زوجھا للحاجۃ وزیارۃ اھلھا بلا اذنہ مالم تقبض المعجل ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مہر معجل وصول کرنے تك بیوی کو سفر کرنا اور خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کسی حاجت یا والدین کی زیارت کے لئے نکلنا جائز ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۹ : ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ
مہر کی تعداد شرع پیغمبری کیا ہے اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر کیا تھا بینواتوجروا
الجواب :
مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درم یعنی تقرءبقا دو روپے تیرہ انے سے کم نہ ہوا اور زیادتی کی کوئی حد نہیں جس قدر باندھا جائے لازم ائے گا۔ اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر اقدس چارسو۴۰۰ مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے روپے سے ایك سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰ : از فرید پور ضلع بریلی مرسلہ قاضی محمد نبی جان صاحب ۲۷رمضان شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت سے مہر شرعی پر نکاح کیا مگر اب وہ طلاق دیتا ہے بوجہ نافرمانی کے اور وہ تخمین مال ۲۵۰ روپے قرضدار ہے قرض سودی ہے وہ اس کے مہر سے کس صور ت سے ادا ہووے اور کتنا دیوے بموجب حکم خدا ورسول سے تحریر فرمائے۔
الجواب :
مہر شرعی جو لوگ یہ سمجھ کر باندھتے ہیں کہ سب سے کم درجے کا مہر جو شریعت میں مقرر ہے تو اس صورت میں دو تولے سات ماشے چار رتی چاندی دینی آئے گی اور جو یہ سمجھ کر باندھتے ہوں کہ جو مہر حضرت خاتون جنت کا تھا تو ڈیڑھ سو تولے چاندی آئے گی یعنی انگریزی روپے سے ایك سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر اور جس کی سمجھ میں کچھ معنی نہیں خالی ایك لفظ بول دیتے ہیں تو وہاں مہر مثل لازم آنا چاہئے یعنی عورت کے ددھیال میں جو عورت اس کی ہم عمر اور صورت شکل اور کنواری یا بیاہی ہونے میں اور ان باتوں میں جن سے مہر کم بیش ہوجاتا ہے اس عورت کی مانند ہو اس کا جو مہر بندھا ہو وہ دینا آئے گا اور جو اپنوں
لھا السفر والخروج من بیت زوجھا للحاجۃ وزیارۃ اھلھا بلا اذنہ مالم تقبض المعجل ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مہر معجل وصول کرنے تك بیوی کو سفر کرنا اور خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کسی حاجت یا والدین کی زیارت کے لئے نکلنا جائز ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۹ : ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ
مہر کی تعداد شرع پیغمبری کیا ہے اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر کیا تھا بینواتوجروا
الجواب :
مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درم یعنی تقرءبقا دو روپے تیرہ انے سے کم نہ ہوا اور زیادتی کی کوئی حد نہیں جس قدر باندھا جائے لازم ائے گا۔ اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر اقدس چارسو۴۰۰ مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے روپے سے ایك سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰ : از فرید پور ضلع بریلی مرسلہ قاضی محمد نبی جان صاحب ۲۷رمضان شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت سے مہر شرعی پر نکاح کیا مگر اب وہ طلاق دیتا ہے بوجہ نافرمانی کے اور وہ تخمین مال ۲۵۰ روپے قرضدار ہے قرض سودی ہے وہ اس کے مہر سے کس صور ت سے ادا ہووے اور کتنا دیوے بموجب حکم خدا ورسول سے تحریر فرمائے۔
الجواب :
مہر شرعی جو لوگ یہ سمجھ کر باندھتے ہیں کہ سب سے کم درجے کا مہر جو شریعت میں مقرر ہے تو اس صورت میں دو تولے سات ماشے چار رتی چاندی دینی آئے گی اور جو یہ سمجھ کر باندھتے ہوں کہ جو مہر حضرت خاتون جنت کا تھا تو ڈیڑھ سو تولے چاندی آئے گی یعنی انگریزی روپے سے ایك سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر اور جس کی سمجھ میں کچھ معنی نہیں خالی ایك لفظ بول دیتے ہیں تو وہاں مہر مثل لازم آنا چاہئے یعنی عورت کے ددھیال میں جو عورت اس کی ہم عمر اور صورت شکل اور کنواری یا بیاہی ہونے میں اور ان باتوں میں جن سے مہر کم بیش ہوجاتا ہے اس عورت کی مانند ہو اس کا جو مہر بندھا ہو وہ دینا آئے گا اور جو اپنوں
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
میں ایسی عورت نہ ملے تو بیگانوں سے دیکھیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۳۱تا ۳۲ : ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
سوال اول
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح ساتھ عمرو کے عوض مہر پانچ ہزار روپے اور دو۲ دینار شریك کر دیا تھا اور یہ بات قرار پائی گئی تھی اور وکیل نکاح نے تصریح کردی تھی کہ مہر نہ تو اس وقت نقد لیا جائے گا اور نہ رخصت کے وقت اور نہ کوئی وعدہ ادائے مہر کا ہے اور ہنوز رخصت نہیں ہوئی ہے تو ہندہ مذکور یا اس کے باپ کو کس وقت میں طلب کرنے جزو یا کل مہر کا اختیار حاصل ہوگا اور اس مہر کو کون سا مہر کہا جائے گا بینواتوجروا
الجواب :
ایسے مہر کا مطالبر بعد موت زوج یا زوجہ یا بعد طلاق ہوسکتا ہے اس سے قبل نہیں یہ نہ معجل ہے کہ قبل رخصت دینا قرار نہ پایا نہ مؤجل کہ کوئی اجل یعنی میعاد مقرر نہ کی گئی بلکہ عرفا مؤخر ہے ردالمحتار میں ہے :
لو مات زوجل المرأۃ اوطلقھا بعد عشرین سنۃ من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر بیوی کا خاوند بیس۲۰ سال بعد فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر کیا ہوا طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ بیوی کو اس مہر کے مطالبے کا حق مرنے یا طلاق دینے کے بعد ثابت ہوتا ہے وقت نکاح سے مطالبہ کا حق نہیں ہوتا۔ واﷲتعالی اعلم ز۔ (ت)
سوال دوم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر موجل کے کیا معنے ہیں اور غیر مؤجل کے کیا معنے ہیں اور معجل جس کا حرف ثانی عین مہملہ ہے کیا معنی ہیں اور ان کا کیا حکم ہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اور اجرپائے۔ ت)اور دینار سرخ کتنے روپے کا ہوتا ہے
الجواب :
مہر مؤجل وہ جس کے لئے کوئی میعاد مقرر کی ہو مثلا دس۱۰ برس بعد دیاجائے گا اور غیر مؤجل وہ کہ تعین وتقرر میعاد نہ ہو فان کان مع نفی الاجل کان معجلا والافلا(اگر میعاد کی نفی کی ہوتو معجل ہے
مسئلہ ۳۱تا ۳۲ : ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
سوال اول
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح ساتھ عمرو کے عوض مہر پانچ ہزار روپے اور دو۲ دینار شریك کر دیا تھا اور یہ بات قرار پائی گئی تھی اور وکیل نکاح نے تصریح کردی تھی کہ مہر نہ تو اس وقت نقد لیا جائے گا اور نہ رخصت کے وقت اور نہ کوئی وعدہ ادائے مہر کا ہے اور ہنوز رخصت نہیں ہوئی ہے تو ہندہ مذکور یا اس کے باپ کو کس وقت میں طلب کرنے جزو یا کل مہر کا اختیار حاصل ہوگا اور اس مہر کو کون سا مہر کہا جائے گا بینواتوجروا
الجواب :
ایسے مہر کا مطالبر بعد موت زوج یا زوجہ یا بعد طلاق ہوسکتا ہے اس سے قبل نہیں یہ نہ معجل ہے کہ قبل رخصت دینا قرار نہ پایا نہ مؤجل کہ کوئی اجل یعنی میعاد مقرر نہ کی گئی بلکہ عرفا مؤخر ہے ردالمحتار میں ہے :
لو مات زوجل المرأۃ اوطلقھا بعد عشرین سنۃ من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر بیوی کا خاوند بیس۲۰ سال بعد فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر کیا ہوا طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ بیوی کو اس مہر کے مطالبے کا حق مرنے یا طلاق دینے کے بعد ثابت ہوتا ہے وقت نکاح سے مطالبہ کا حق نہیں ہوتا۔ واﷲتعالی اعلم ز۔ (ت)
سوال دوم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر موجل کے کیا معنے ہیں اور غیر مؤجل کے کیا معنے ہیں اور معجل جس کا حرف ثانی عین مہملہ ہے کیا معنی ہیں اور ان کا کیا حکم ہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اور اجرپائے۔ ت)اور دینار سرخ کتنے روپے کا ہوتا ہے
الجواب :
مہر مؤجل وہ جس کے لئے کوئی میعاد مقرر کی ہو مثلا دس۱۰ برس بعد دیاجائے گا اور غیر مؤجل وہ کہ تعین وتقرر میعاد نہ ہو فان کان مع نفی الاجل کان معجلا والافلا(اگر میعاد کی نفی کی ہوتو معجل ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
ورنہ نہیں ۔ ت)اور معجل وہ جس کا قبل رخصت ادا کرنا قرار پایا ہو۔ مؤجل کا مطالبہ میعاد آنے پر ہو سکتا ہے اس سے پہلے اختیار نہیں اور معجل کو عورت فورا مانگ سکتی ہے اور جب تك نہ ملے رخصت سے انکار کا اسے اختیار ہے اور جو نہ معجل اور نہ مؤجل وہ بحکم عرف طلاق یا موت تك موخر ہے اس سے پہلے اختیار مطالبہ نہیں ۔
فی النقایہ المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والا فالمتعارف ۔ واﷲتعالی اعلم۔
نقایہ میں ہے : مہر معجل اور مؤجل کی مدت بیان کردی گئی تو بہتر ورنہ عرف کے لحاظ سے مہر ادا کیا جائیگا(ت)واﷲتعالی اعلم
دینار شرعی دس۱۰ درم شرعی کا ہوتا ہے دس۱۰ درم انگریزی روپے سے دو۲روپے تیرہ۱۳ آنے ہوتے ہیں پانچواں حصہ پیسہ کا کم کما حققنافی الزکوۃ من فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کے باب زکوۃ میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳ : علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخص کی لڑکی کا نکاح تھا اور قاضی صاحب نے نکاح پڑھا دیا کلمہ ودعائے قنوت اور دونوں امنت باﷲپڑھا کراقرار پڑھایا تھا اور فاتحہ کے لئے جب حاضرین محفل پڑھنے کو ہوئے تب ایك قاضی دیگر جگہ کے تھے وہ اس نکاح میں گواہ تھے لڑکی کی طرف سے اور درجہ دوم شرع پیغمبر ی قائم کیا گیا تھا تو نکاح پڑھانے والے قاضی نے کہا کہ مجھ کو اس کی تعداد معلوم نہیں کہ کتنی تعداد ہے وہ جو قاضی گواہ تھے اس نکاح کے وہ کہنے لگے صہ ۶۵ روپے درجہ دوم کی میں خلاصہ کردیوں تاکہ محفل میں اور لوگوں کو معلوم ہوجائے پڑھانے والے نے کہا کہ درجہ اول دوم درجہ سوم درجہ چہارم کی تعداد مجھ کو معلوم نہیں مع نام درجہ تعداد روپیہ کے آگاہی ہو جائے۔
الجواب :
شریعت میں مہر کی کم سے کم تعداد مقرر ہے کہ دس۱۰ درم سے کم نہ ہو جس کے اس روپے سے کچھ کوڑیا کم دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے بھر چاندی ہوئی یعنی دو۲ روپے بارہ۱۲ آنے ۹-۳ / ۵ پائی بھر اس کے سوا شریعت میں مہر کا کائی درجہ مقرر نہیں فرمایا ہے یہ ان قاضیوں کی گھڑت ہے مہ ۶۵ روپے کا کوئی درجہ مہر کا نہیں ہے اکثر ازواج مطہرات کا مہر پانسو۵۰۰ درم تھا کہ یہاں کے روپوں سے ایك سوچالیس۱۴۰ ہوئے اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر چار سو۴۰۰ مثقال چاندی تھا جس کے ایك سوساٹھ۱۶۰ روپے بھر چاندی ہوئی اور حضرت ام حبیبہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر چار ہزار درم یا دینار تھا جس کے گیارہ سوبیس۱۲۰ یا گیارہ ہزار دوسو۱۱۲۰۰
فی النقایہ المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والا فالمتعارف ۔ واﷲتعالی اعلم۔
نقایہ میں ہے : مہر معجل اور مؤجل کی مدت بیان کردی گئی تو بہتر ورنہ عرف کے لحاظ سے مہر ادا کیا جائیگا(ت)واﷲتعالی اعلم
دینار شرعی دس۱۰ درم شرعی کا ہوتا ہے دس۱۰ درم انگریزی روپے سے دو۲روپے تیرہ۱۳ آنے ہوتے ہیں پانچواں حصہ پیسہ کا کم کما حققنافی الزکوۃ من فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کے باب زکوۃ میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳ : علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخص کی لڑکی کا نکاح تھا اور قاضی صاحب نے نکاح پڑھا دیا کلمہ ودعائے قنوت اور دونوں امنت باﷲپڑھا کراقرار پڑھایا تھا اور فاتحہ کے لئے جب حاضرین محفل پڑھنے کو ہوئے تب ایك قاضی دیگر جگہ کے تھے وہ اس نکاح میں گواہ تھے لڑکی کی طرف سے اور درجہ دوم شرع پیغمبر ی قائم کیا گیا تھا تو نکاح پڑھانے والے قاضی نے کہا کہ مجھ کو اس کی تعداد معلوم نہیں کہ کتنی تعداد ہے وہ جو قاضی گواہ تھے اس نکاح کے وہ کہنے لگے صہ ۶۵ روپے درجہ دوم کی میں خلاصہ کردیوں تاکہ محفل میں اور لوگوں کو معلوم ہوجائے پڑھانے والے نے کہا کہ درجہ اول دوم درجہ سوم درجہ چہارم کی تعداد مجھ کو معلوم نہیں مع نام درجہ تعداد روپیہ کے آگاہی ہو جائے۔
الجواب :
شریعت میں مہر کی کم سے کم تعداد مقرر ہے کہ دس۱۰ درم سے کم نہ ہو جس کے اس روپے سے کچھ کوڑیا کم دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے بھر چاندی ہوئی یعنی دو۲ روپے بارہ۱۲ آنے ۹-۳ / ۵ پائی بھر اس کے سوا شریعت میں مہر کا کائی درجہ مقرر نہیں فرمایا ہے یہ ان قاضیوں کی گھڑت ہے مہ ۶۵ روپے کا کوئی درجہ مہر کا نہیں ہے اکثر ازواج مطہرات کا مہر پانسو۵۰۰ درم تھا کہ یہاں کے روپوں سے ایك سوچالیس۱۴۰ ہوئے اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر چار سو۴۰۰ مثقال چاندی تھا جس کے ایك سوساٹھ۱۶۰ روپے بھر چاندی ہوئی اور حضرت ام حبیبہ رضی اﷲتعالی عنہا کا مہر چار ہزار درم یا دینار تھا جس کے گیارہ سوبیس۱۲۰ یا گیارہ ہزار دوسو۱۱۲۰۰
حوالہ / References
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶
روپے ہوئے مہر معین کردینا چاہئے فقط شرع پیغمبری یا اس کا فلاں درجہ کہنا بیوقوفی ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر میں تجھ کو طلاق دوں تو سوروپے مہر کے ادا کروں اور اگر مجھ سے خود طلاق چاہے گی تو تجھ کومبلغ تین روپے میں دوں گا اور کچھ نہ دوں گتا اب خود ہندہ نے درخواست طلاق کی زید اپنے شوہر سے روبر و و کیل اور ربرو گواہان نکاح مسمیان عظیم اﷲ اور جمن کے' حسب درخواست ہندہ کے زید نے ہندہ کو طلاق دے دی آیا ہندہ اس صورت میں سوروپے پانے کی مستحق ہوگی یا تین روپے پانے کی۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
نہ تین روپے نہ سوروپے بلکہ اس کامہر مثل دیکھا جائے وہ اگر سوروپے یا سو سے زائد ہوتو سوروپے دئے جائیں اور اگر تین روپے یا بالفرض تین روپے سے دوتین آنے کم ہوں کہ یہاں تك کمی کی گنجائش ہے تو تین روپے دئے جائیں اور اگر تین روپے سے زائد اور سو روپے کم ہوں توپورا مہر مثل دیا جائے درمختار میں ہے :
نکحھا علی الف ان اقام بھا وعلی الفین ان اخرجھا فان اقام بھا فلھا الالف لرضاھابہ والافمھر المثل لایزاد علی الفین ولاینقص عن الف لاتفاقھما علی ذلك بخلاف مالو تزوجھا علی الف ان کانت قبیحۃ والفین ان جمیلۃ فانہ یصح لقلۃ الجہالۃ الی آخرۃ مختصرا اقول : وفیما نحن فیہ الجہالۃ اشد من الصورۃ الاولی فثمہ احد الشرطین حاصل والثانی علی الخطر وھھنا کان کل علی الخطر لجواز ان لایقع شیئی منھما فلایطلق
بیوی کے شہر میں رہنے پر ایك ہزار اور وہاں سے لے جانے پر دوہزار مہر پر نکاح کیا تو اگر مرد عورت کے شہر میں رہے تو ایك ہزار بیوی کو دے گا کیونکہ وہ اس پر راضی ہوئی تھی اگر وہاں سے باہر لے جائے تو پھر مہر مثل ہوگا جو دوہزار سے زائد نہ ہو اور ایك ہزار سے کم نہ ہو کیونکہ اس پر دونوں کی رضا مندی تھی یہ صورت اس کے خلاف ہے جب یہ کہہ کر نکاح کیا ہو کہ اگر بد شکل ہو تو ایك ہزار اور خوبصورت ہوتو دوہزار مہر ہے تو یہ دونوں شرطیں صحیح ہیں کیونکہ اس میں جہالت کے مواقع بہت کم ہیں مختصرا۔ اقول : (میں کہتا ہوں کہ)ہماری بحث میں پہلی صورت سے بھی زیادہ جہالت ہے کیونکہ وہاں ایك شرط توحاصل ہے دوسری میں ہونے نہ ہونے کا احتمال ہے اور
مسئلہ۳۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر میں تجھ کو طلاق دوں تو سوروپے مہر کے ادا کروں اور اگر مجھ سے خود طلاق چاہے گی تو تجھ کومبلغ تین روپے میں دوں گا اور کچھ نہ دوں گتا اب خود ہندہ نے درخواست طلاق کی زید اپنے شوہر سے روبر و و کیل اور ربرو گواہان نکاح مسمیان عظیم اﷲ اور جمن کے' حسب درخواست ہندہ کے زید نے ہندہ کو طلاق دے دی آیا ہندہ اس صورت میں سوروپے پانے کی مستحق ہوگی یا تین روپے پانے کی۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
نہ تین روپے نہ سوروپے بلکہ اس کامہر مثل دیکھا جائے وہ اگر سوروپے یا سو سے زائد ہوتو سوروپے دئے جائیں اور اگر تین روپے یا بالفرض تین روپے سے دوتین آنے کم ہوں کہ یہاں تك کمی کی گنجائش ہے تو تین روپے دئے جائیں اور اگر تین روپے سے زائد اور سو روپے کم ہوں توپورا مہر مثل دیا جائے درمختار میں ہے :
نکحھا علی الف ان اقام بھا وعلی الفین ان اخرجھا فان اقام بھا فلھا الالف لرضاھابہ والافمھر المثل لایزاد علی الفین ولاینقص عن الف لاتفاقھما علی ذلك بخلاف مالو تزوجھا علی الف ان کانت قبیحۃ والفین ان جمیلۃ فانہ یصح لقلۃ الجہالۃ الی آخرۃ مختصرا اقول : وفیما نحن فیہ الجہالۃ اشد من الصورۃ الاولی فثمہ احد الشرطین حاصل والثانی علی الخطر وھھنا کان کل علی الخطر لجواز ان لایقع شیئی منھما فلایطلق
بیوی کے شہر میں رہنے پر ایك ہزار اور وہاں سے لے جانے پر دوہزار مہر پر نکاح کیا تو اگر مرد عورت کے شہر میں رہے تو ایك ہزار بیوی کو دے گا کیونکہ وہ اس پر راضی ہوئی تھی اگر وہاں سے باہر لے جائے تو پھر مہر مثل ہوگا جو دوہزار سے زائد نہ ہو اور ایك ہزار سے کم نہ ہو کیونکہ اس پر دونوں کی رضا مندی تھی یہ صورت اس کے خلاف ہے جب یہ کہہ کر نکاح کیا ہو کہ اگر بد شکل ہو تو ایك ہزار اور خوبصورت ہوتو دوہزار مہر ہے تو یہ دونوں شرطیں صحیح ہیں کیونکہ اس میں جہالت کے مواقع بہت کم ہیں مختصرا۔ اقول : (میں کہتا ہوں کہ)ہماری بحث میں پہلی صورت سے بھی زیادہ جہالت ہے کیونکہ وہاں ایك شرط توحاصل ہے دوسری میں ہونے نہ ہونے کا احتمال ہے اور
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۰
ولاتسأل فتمکنت الجھالۃ ففسد التسمیتان فوجب مہر المثل مطلقا۔ واﷲتعالی اعلم
یہاں تو دونوں میں ہونے نہ ہونے کا احتمال ہے کیونکہ ممکن ہے کہ دونوں میں کوئی بھی حاصل نہ ہو مثلا نہ مرد طلاق دے اور نہ عورت طلاق کا مطالبہ کرے تو جہالت مؤثر ہوگئی اور دونوں شرطیں مفقود ہوں گی لہذا مہر مثل واجب ہوگا مطلقا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵ : از لاہور مسئولہ مولوی عبد اﷲ صاحب ٹونکی ۲۳ شعبان ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت منکوحہ کو کسی قبالہ میں یہ عبارت لکھ دی(جو کچھ تقریبات شادی وغمی خانگی اور خاندانی میں تھوڑا یا بہت صرف ہوگا اس کے سر انجام کا صرفہ میرا ہے اور آمدنی تنخواہ ودیہی جاگیر سے کچھ علاقہ نہیں )پس تحریر کے بعد قبالہ نویس خود یا بعد وفات قبالہ نویس کے اس کی اولاد اس شرط کی وفا نہ کرے بلکہ زوجہ مذکورہ کو جو کچھ دیا جائے وہ اس کے دین مہر وغیرہ میں شمار کیا جائے تو شرعا کیا حکم ہے آیا قاضی شریعت اس شرط کی ایفا پر قبالہ نویس یا اس کی اولاد کو مجبورکر سکتا ہے یا نہیں اور وہ دیا ہوا اس کے دین مہر میں محسوب ہوسکتا ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب
فی الواقع اس وعدہ کی وفا پر شرعا نہیں
کما نص علیہ فی الاشباہ والنظائر وجامع الفصولین(جیسا کہ الاشباہ والنظائر اور جامع الفصولین میں اس پر نص ہے۔ ت)
شوہر نے جو کچھ دیا اگر دینے کے وقت مہر کے سوا اور کسی وجہ کانام لیا جس پر وہ جانب شوہر سے ہبہ وعطیہ قرار پاسکے جب تو اسے مہر میں محسوب کرنے کا اختیار نہیں یوں ہی نان ونفقہ واجبہ کو اس میں محسوب نہ کرسکے گا اگر چہ دیتے وقت نام نفقہ نہ لیا ہو بلکہ نفقہ ہی ٹھہرے گا۔ یونہیں اور اشیاء جواز روئے عرف ہدیہ قرار پاتی ہیں اور جو ان تینوں صورتوں سے جدا ہے اس میں شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر بقسم کہہ دے گا کہ میں نے مہر میں دیا تھا مہرمیں محسوب ہوگا یونہی بعدشوہر اولاد شوہر جو کچھ بھیجنے اور ظاہر حال بسبب عرف ورسم قوم منافی ارادہ مہر نہ ہو نہ انہوں نے صراحۃ غیر مہر کسی اوروجہ کے لئے اسے قرار دیا ہوتو ان کا قول بھی معتبر ہے۔
لان المملك ادری بجھۃ التملیك کما فی عقودالدریۃ وغیرھا۔
کیونکہ مالك بنانے والا ملکیت کی وجہ کو بہتر جانتا ہے جیسا کہ عقود الدریہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یہاں تو دونوں میں ہونے نہ ہونے کا احتمال ہے کیونکہ ممکن ہے کہ دونوں میں کوئی بھی حاصل نہ ہو مثلا نہ مرد طلاق دے اور نہ عورت طلاق کا مطالبہ کرے تو جہالت مؤثر ہوگئی اور دونوں شرطیں مفقود ہوں گی لہذا مہر مثل واجب ہوگا مطلقا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵ : از لاہور مسئولہ مولوی عبد اﷲ صاحب ٹونکی ۲۳ شعبان ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت منکوحہ کو کسی قبالہ میں یہ عبارت لکھ دی(جو کچھ تقریبات شادی وغمی خانگی اور خاندانی میں تھوڑا یا بہت صرف ہوگا اس کے سر انجام کا صرفہ میرا ہے اور آمدنی تنخواہ ودیہی جاگیر سے کچھ علاقہ نہیں )پس تحریر کے بعد قبالہ نویس خود یا بعد وفات قبالہ نویس کے اس کی اولاد اس شرط کی وفا نہ کرے بلکہ زوجہ مذکورہ کو جو کچھ دیا جائے وہ اس کے دین مہر وغیرہ میں شمار کیا جائے تو شرعا کیا حکم ہے آیا قاضی شریعت اس شرط کی ایفا پر قبالہ نویس یا اس کی اولاد کو مجبورکر سکتا ہے یا نہیں اور وہ دیا ہوا اس کے دین مہر میں محسوب ہوسکتا ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب
فی الواقع اس وعدہ کی وفا پر شرعا نہیں
کما نص علیہ فی الاشباہ والنظائر وجامع الفصولین(جیسا کہ الاشباہ والنظائر اور جامع الفصولین میں اس پر نص ہے۔ ت)
شوہر نے جو کچھ دیا اگر دینے کے وقت مہر کے سوا اور کسی وجہ کانام لیا جس پر وہ جانب شوہر سے ہبہ وعطیہ قرار پاسکے جب تو اسے مہر میں محسوب کرنے کا اختیار نہیں یوں ہی نان ونفقہ واجبہ کو اس میں محسوب نہ کرسکے گا اگر چہ دیتے وقت نام نفقہ نہ لیا ہو بلکہ نفقہ ہی ٹھہرے گا۔ یونہیں اور اشیاء جواز روئے عرف ہدیہ قرار پاتی ہیں اور جو ان تینوں صورتوں سے جدا ہے اس میں شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر بقسم کہہ دے گا کہ میں نے مہر میں دیا تھا مہرمیں محسوب ہوگا یونہی بعدشوہر اولاد شوہر جو کچھ بھیجنے اور ظاہر حال بسبب عرف ورسم قوم منافی ارادہ مہر نہ ہو نہ انہوں نے صراحۃ غیر مہر کسی اوروجہ کے لئے اسے قرار دیا ہوتو ان کا قول بھی معتبر ہے۔
لان المملك ادری بجھۃ التملیك کما فی عقودالدریۃ وغیرھا۔
کیونکہ مالك بنانے والا ملکیت کی وجہ کو بہتر جانتا ہے جیسا کہ عقود الدریہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لو بعث الی امرأتہ شیئا ولم یذکر جھۃ عند الدفع غیرالمھر کقولہ لشمع او حناء ثم قال انہ من المھر لم یقبل لو قوعۃ ھدیۃ فلاینقلب مھرا فقالت ھدیۃ وقال من المھر فالقول لہ بیمینہ والبینۃ لھا فی غیر المہیأ للاکل ولھافی المھیألہ لان الظاہر یکذبہ ولذاقال الفقیۃ المختار انہ یصدق فیما لاتجب علیہ کخف وملاء ۃلافیما یجب کخمار ودرع اھ مختصرا۔
خاوند نے بیوی کو کوئی چیز ارسال کی اور دیتے وقت مہر کے علاوہ کسی وجہ کو ذکر نہ کیا ہو مثلا شمع اورمہندی۔ پھر بعد میں کہا کہ یہ مہر ہے تو خاوند کی بات قبول نہ ہوگی کیونکہ وہ ہدیہ ہو چکی جواب مہر نہیں بن سکتا پھر بیوی کہے یہ ہدیہ ہے اور خاوند مہر کہے تو خاوند کی بات قسم کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی ان چیزوں میں جو کھانے کے واسطے مہیا نہیں کیں اور اگر دونوں نے گواہ پیش کئے تو عورت کے گواہ مقدم ہونگے اور عورت کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا ان چیزوں میں جو کھانے کے واسطے مہیا کیں کیونکہ زوج کا ظاہر حال جھٹلاتاہے اسی لئے فقیہ نے فرمایا کہ مختاریہ ہے کہ خاوند کی بات کی تصدیق اس صورت میں کی جائے گی جب وہ چیز نفقہ واجبہ میں سے نہ ہو مثلا موزہ یا باریك کپڑا اور جو چیز زوج پر واجب ہواس میں زوج کی تصدیق نہ کی جائے جیسے دوپٹہ اور قمیص۔ اھ مختصرا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی الفتح الذی یجب اعتبار فی دریارنا ان جمیع ما ذکر من الحنطہ واللوزوالد قیق والسکروالشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیھا اقول المرأۃ لان المتعارف فی ذلك کلہ ان یرسلہ ہدیۃ والظاہر معھا لامعہ ولایکون القول قولہ الافی نحوالثیاب و الجاریۃ وذکر تائیدہ فی البحر وتقییدہ عن النھر ۔ واﷲتعالی اعلم۔
فتح میں ہے : ہمارے علاقے میں جن چیزون میں بیوی کی بات معتبر ہوگی وہ یہ مذکور ہیں مثلا گندم اخروٹ آٹا شکر اور زندہ بکری وغیرہ(جو چیز مہینہ بھر باقی رہے نہ وسڑے خراب ہو)کیونکہ ان تمام چیزوں کو ہمارے عرف میں ہدیۃ دیا جاتا ہے لہذا ظاہر بیوی کا ساتھ دے گا خاوند کا نہیں اور خاوند کا قول معتبر نہ ہوگا لونڈی کپڑا وغیرہ میں ___ اس کی تائید بحرمیں اور اس کی تقیید نہر سے ذکر کی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۶ : مسئولہ مولوی عبد الغنی صاحب از حسن پور ضلع مراد آباد محلہ چاہ کنکر ۸ رمضان ۱۳۲۴ھ
الحمد ﷲرب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
خاوند نے بیوی کو کوئی چیز ارسال کی اور دیتے وقت مہر کے علاوہ کسی وجہ کو ذکر نہ کیا ہو مثلا شمع اورمہندی۔ پھر بعد میں کہا کہ یہ مہر ہے تو خاوند کی بات قبول نہ ہوگی کیونکہ وہ ہدیہ ہو چکی جواب مہر نہیں بن سکتا پھر بیوی کہے یہ ہدیہ ہے اور خاوند مہر کہے تو خاوند کی بات قسم کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی ان چیزوں میں جو کھانے کے واسطے مہیا نہیں کیں اور اگر دونوں نے گواہ پیش کئے تو عورت کے گواہ مقدم ہونگے اور عورت کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا ان چیزوں میں جو کھانے کے واسطے مہیا کیں کیونکہ زوج کا ظاہر حال جھٹلاتاہے اسی لئے فقیہ نے فرمایا کہ مختاریہ ہے کہ خاوند کی بات کی تصدیق اس صورت میں کی جائے گی جب وہ چیز نفقہ واجبہ میں سے نہ ہو مثلا موزہ یا باریك کپڑا اور جو چیز زوج پر واجب ہواس میں زوج کی تصدیق نہ کی جائے جیسے دوپٹہ اور قمیص۔ اھ مختصرا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی الفتح الذی یجب اعتبار فی دریارنا ان جمیع ما ذکر من الحنطہ واللوزوالد قیق والسکروالشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیھا اقول المرأۃ لان المتعارف فی ذلك کلہ ان یرسلہ ہدیۃ والظاہر معھا لامعہ ولایکون القول قولہ الافی نحوالثیاب و الجاریۃ وذکر تائیدہ فی البحر وتقییدہ عن النھر ۔ واﷲتعالی اعلم۔
فتح میں ہے : ہمارے علاقے میں جن چیزون میں بیوی کی بات معتبر ہوگی وہ یہ مذکور ہیں مثلا گندم اخروٹ آٹا شکر اور زندہ بکری وغیرہ(جو چیز مہینہ بھر باقی رہے نہ وسڑے خراب ہو)کیونکہ ان تمام چیزوں کو ہمارے عرف میں ہدیۃ دیا جاتا ہے لہذا ظاہر بیوی کا ساتھ دے گا خاوند کا نہیں اور خاوند کا قول معتبر نہ ہوگا لونڈی کپڑا وغیرہ میں ___ اس کی تائید بحرمیں اور اس کی تقیید نہر سے ذکر کی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۶ : مسئولہ مولوی عبد الغنی صاحب از حسن پور ضلع مراد آباد محلہ چاہ کنکر ۸ رمضان ۱۳۲۴ھ
الحمد ﷲرب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۳
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۴
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۴
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومتوجہان متین دربارہ مہر معجل ومؤجل مہر معجل کے کیا معنی ہیں اور منکوحہ کو کس وقت زر مہر کا مجاز وصول کرنے کا ہے اور کوئی سبب ہے یا نہیں اوراس کی کچھ تعداد ہے یا نہیں ۔ مہر مؤجل کے کیا معنی اور کس وقت منکوحہ کو زر مہر وصول کرنے کا مجاز ہے اور اس کی کوئی تعداد بھی یا نہیں اور کوئی سبب ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
مہر تین قسم ہے :
معجل کہ پیش از رخصت دینا قرار پالیا ہو اس کے لئے عورت کو اختیار ہے کہ جب تك وصول نہ کرلے رخصت نہ ہو اور اگر رخصت ہوگئی تو اسے اب بھی اختیار ہے کہ جب چاہے مطالبہ کرے اور اس کے وصول تك اپنے نفس کو شوہر سے روك لے اگر چہ رخصت کو بیس برس گزر کئے ہو۔
دوسر ا مؤجل جس کی میعاد قرار پائی ہو کہ دس برس یا بیس برس یا پانچ دن کے بعد ادا کیا جائے گا اس میں جب تك وہ میعاد نہ گزرے عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں اور بعد انقضائے میعاد ہروقت مطالبہ کرسکتی ہے۔
تیسرا مؤخر کہ نہ پیشگی کی شرط ٹھری ہو نہ کوئی میعاد معین کی گئی ہو یونہی مطلق و مبہم طور پر بندھا ہو جیسا کہ آج کل عام مہر یوں ہی بندھتے ہیں اس میں تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو' عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں مہر معجل ومؤجل کے لئے شرع مطہر نے کوئی تعداد معین نہ فرمائی جتنا پیشگی دینا ٹھرے اس قدر معجل ہوگا باقی کی کوئی میعاد قرار پائی تو اتنا مؤجل ہوگا ورنہ مؤکر رہے گا ہاں اگر کسی قوم یا شہر کا رواج عام ہوکہ اگر چہ تصریح نہ کریں مگر اس قدر پیشگی دینا ہوتا ہے تو بلاقرار دار تصریح بھی اتنا معجل ہوجائے گا باقی بدوستور مؤجل یا مؤخر رہے گا۔ درمختار میں ہے :
لھا منعہ من الوطی ودواعیۃ ولو بعد وطء وخلوۃ رضیتھما لاخذ مابین تعجیلہ من المھر کلہ اوبعضہ او اخذ قدر ما یعجل لمثلھا عرفا بہ یفتی ان لم یؤجل اور یعجل کلہ فکما شرطا ۔
بیوی کو مہر معجل کل یا بعض جتنا بیان ہوا یا عرف میں جتنی مقدار معجل ہوتی ہے وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطی اور اس کے دواعی سے منع کرنے کا حق ہے اگر چہ زوجہ کی رضا مندی سے پہلے وطی یا خلوت ہوچکی ہے اسی پر فتوی ہے(یعنی رواج کا اعتبار ہے اگر کل مہر کی مدت یا تعجیل مقرر نہ کی گئی ہو اگر مدت یا تعجیل مقرر ہوچکی ہو)تو ویسا ہی کرنا چاہیے جیسا کہ دونوں نے شرط کیا(ت)
الجواب :
مہر تین قسم ہے :
معجل کہ پیش از رخصت دینا قرار پالیا ہو اس کے لئے عورت کو اختیار ہے کہ جب تك وصول نہ کرلے رخصت نہ ہو اور اگر رخصت ہوگئی تو اسے اب بھی اختیار ہے کہ جب چاہے مطالبہ کرے اور اس کے وصول تك اپنے نفس کو شوہر سے روك لے اگر چہ رخصت کو بیس برس گزر کئے ہو۔
دوسر ا مؤجل جس کی میعاد قرار پائی ہو کہ دس برس یا بیس برس یا پانچ دن کے بعد ادا کیا جائے گا اس میں جب تك وہ میعاد نہ گزرے عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں اور بعد انقضائے میعاد ہروقت مطالبہ کرسکتی ہے۔
تیسرا مؤخر کہ نہ پیشگی کی شرط ٹھری ہو نہ کوئی میعاد معین کی گئی ہو یونہی مطلق و مبہم طور پر بندھا ہو جیسا کہ آج کل عام مہر یوں ہی بندھتے ہیں اس میں تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو' عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں مہر معجل ومؤجل کے لئے شرع مطہر نے کوئی تعداد معین نہ فرمائی جتنا پیشگی دینا ٹھرے اس قدر معجل ہوگا باقی کی کوئی میعاد قرار پائی تو اتنا مؤجل ہوگا ورنہ مؤکر رہے گا ہاں اگر کسی قوم یا شہر کا رواج عام ہوکہ اگر چہ تصریح نہ کریں مگر اس قدر پیشگی دینا ہوتا ہے تو بلاقرار دار تصریح بھی اتنا معجل ہوجائے گا باقی بدوستور مؤجل یا مؤخر رہے گا۔ درمختار میں ہے :
لھا منعہ من الوطی ودواعیۃ ولو بعد وطء وخلوۃ رضیتھما لاخذ مابین تعجیلہ من المھر کلہ اوبعضہ او اخذ قدر ما یعجل لمثلھا عرفا بہ یفتی ان لم یؤجل اور یعجل کلہ فکما شرطا ۔
بیوی کو مہر معجل کل یا بعض جتنا بیان ہوا یا عرف میں جتنی مقدار معجل ہوتی ہے وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطی اور اس کے دواعی سے منع کرنے کا حق ہے اگر چہ زوجہ کی رضا مندی سے پہلے وطی یا خلوت ہوچکی ہے اسی پر فتوی ہے(یعنی رواج کا اعتبار ہے اگر کل مہر کی مدت یا تعجیل مقرر نہ کی گئی ہو اگر مدت یا تعجیل مقرر ہوچکی ہو)تو ویسا ہی کرنا چاہیے جیسا کہ دونوں نے شرط کیا(ت)
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
ردالمحتار میں ہے :
لومات زوج المرأۃ او طلقھا عبد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او لطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر خاوند فوت ہوجائے یا نکاح سے بیس سال بعد فوت ہو یا اس نے طلاق دی ہو تو بیوی کو مؤخر مہر طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ بیوی کے لئے موت یا طلاق کے بعدہی مہر کے مطالبہ کا حق ثابت ہوتا ہے نہ کہ وقت نکاح سے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷تا۴۲ :
سوال اول
حضور ! اول یہ بتادیجئے کہ بلاتعیین مہر نکاح ہوگا یانہیں اگر لفظ شرعی مہر کہا جائے اور کوئی تشریح نہ کی جائے تو کس قدر مہر سمجھا جائے گا بینواتوجروا
الجواب :
نکاح بلاتعیین مہر بلکہ نفی مہر کے ساتھ بھی صحیح ہوجاتا ہے اور مہر مثل دینا آتا ہے یونہی مہر شرعی کہنے سے بھی جبکہ ان کی اصطلاح میں اس سے کوئی خاص مقدار مثلا ا قل درجہ مہر یا مہر حضور بتول زہرارضی اﷲتعالی عنہا مراد نہ ہو ورنہ جو ان کی اصطلاح معروف ہے وہی لازم آئے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال دوم
مہر شرعی جو بنات صالحات کا لکھا ہے چار سو مثقال چاندی کا آج کل کے سکہ سے کس قدر روپے ہوئے ہیں
الجواب :
چار سومثقال چاندی مہر حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا تھا یہاں تك کے سکے سے ایك سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر چاندی۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال سوم
مہر جوازواج مطہرات کا پانچ سودرہم کا سوائے بی بی ام حبیبہ رضی اﷲتعالی عنہا کے کہ دوہزار قدقیہ یا پانچ سودینار کا لکھا ہے سکہ مروجہ سے کس قدر ہوتے ہیں وزن درم اور اوقیہ مثقال اور دینار کی صراحت فرما دیجئے۔
الجواب
پانچ سودرم کے اس سکہ رائجہ سے ایك سوچالیس روپے ہوتے ہیں ۔ درم شرعی تین ماشے ایك رتی اور
لومات زوج المرأۃ او طلقھا عبد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او لطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر خاوند فوت ہوجائے یا نکاح سے بیس سال بعد فوت ہو یا اس نے طلاق دی ہو تو بیوی کو مؤخر مہر طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ بیوی کے لئے موت یا طلاق کے بعدہی مہر کے مطالبہ کا حق ثابت ہوتا ہے نہ کہ وقت نکاح سے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷تا۴۲ :
سوال اول
حضور ! اول یہ بتادیجئے کہ بلاتعیین مہر نکاح ہوگا یانہیں اگر لفظ شرعی مہر کہا جائے اور کوئی تشریح نہ کی جائے تو کس قدر مہر سمجھا جائے گا بینواتوجروا
الجواب :
نکاح بلاتعیین مہر بلکہ نفی مہر کے ساتھ بھی صحیح ہوجاتا ہے اور مہر مثل دینا آتا ہے یونہی مہر شرعی کہنے سے بھی جبکہ ان کی اصطلاح میں اس سے کوئی خاص مقدار مثلا ا قل درجہ مہر یا مہر حضور بتول زہرارضی اﷲتعالی عنہا مراد نہ ہو ورنہ جو ان کی اصطلاح معروف ہے وہی لازم آئے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال دوم
مہر شرعی جو بنات صالحات کا لکھا ہے چار سو مثقال چاندی کا آج کل کے سکہ سے کس قدر روپے ہوئے ہیں
الجواب :
چار سومثقال چاندی مہر حضرت خاتون جنت رضی اﷲتعالی عنہا تھا یہاں تك کے سکے سے ایك سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر چاندی۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال سوم
مہر جوازواج مطہرات کا پانچ سودرہم کا سوائے بی بی ام حبیبہ رضی اﷲتعالی عنہا کے کہ دوہزار قدقیہ یا پانچ سودینار کا لکھا ہے سکہ مروجہ سے کس قدر ہوتے ہیں وزن درم اور اوقیہ مثقال اور دینار کی صراحت فرما دیجئے۔
الجواب
پانچ سودرم کے اس سکہ رائجہ سے ایك سوچالیس روپے ہوتے ہیں ۔ درم شرعی تین ماشے ایك رتی اور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
پانچواں حصہ رتی کا اور مثقال کہ وہی وزن دینار شرعی ہے ساڑھے چار ماشے ایك اوقیہ چالیس درم ہے۔ واﷲتعالی اعلم
سوال چہارم
اقل درجہ دس۱۰ درم شرعی کے سکہ مروجہ سے کے روپے ہوتے ہیں
الجواب :
دس۱۰ درم کے اس سکہ سے دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے ایك پیسے کا پانچواں حصہ دوسو۲۰۰ درم کے پورے چھپن ۵۶ روپے۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال پنجم
آج کل جو حیثیت سے زیادہ مہر باندھا جاتا ہے جس کے ادا کی کوئی صورت حالت موجودہ سے نہیں ہے دل میں یہ خیال کرلینا کہ کچھ دینا تو نہیں پڑتا ہے صرف زبانی جمع خرچ ہے قبول کرلو ایسے خیال سے کوئی نکاح میں تو نقص نہیں آئے گا
الجواب
نکاح میں کوئی نقص نہیں مگر ایسا خیال عند اﷲ سخت قبیح وشنیع ہے یہاں تك کہ حدیث میں ارشاد ہوا جو مردوعورت نکاح کریں اور مہر کے دینے لینے کی نیت نہ رکھیں یعنی اسے دین نہ سمجھیں وہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے ۱۔ والعیاذ باﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال ششم
وہ کون سی صورت طلاق کی ہے کہ ایك جوڑی کپڑے پانے کی زوجہ مستحق ہے۔
الجواب
نکاح جب بلاتعین مہر ہوا اور عورت کو قبل خلوت طلاق دی جائے تو ایك جوڑا واجب آتا ہے جس کی قیمت پانچ درم شرعی سے کم نہ ہو اور عورت کے نصف مہرمثل سے زیادہ نہ ہو ان دوحدوں کے اندر اگرمرد وزن دونوں غنی ہوں اعلی درجہ کا واجب ہوگا اور دونوں فقیر تو ادنی اور ایك فقیر ایك غنی تو ا وسط۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : ازموضع دیوری نیاضلع بریلی مسئولہ مسیح الدین صاحب ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید کی بی بی ہندہ کو اس کے میکے والوں نے محض جھوٹی خبر پر کہ ہندہ کو سسرال والے زہر دے دیں گے روك رکھا ہے اور ان کا یہ ارادہ ہے کہ ہندہ کا دین مہر وصول کرکے ہندہ کی شادی دوسری جگہ کردیں آیا قبل طلاق دینے شوہر کے ہندہ کے دین مہر کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں اور اس کا دوسری جگہ نکاح کردینا جائز ہے یا نہیں اور اسے
سوال چہارم
اقل درجہ دس۱۰ درم شرعی کے سکہ مروجہ سے کے روپے ہوتے ہیں
الجواب :
دس۱۰ درم کے اس سکہ سے دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے ایك پیسے کا پانچواں حصہ دوسو۲۰۰ درم کے پورے چھپن ۵۶ روپے۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال پنجم
آج کل جو حیثیت سے زیادہ مہر باندھا جاتا ہے جس کے ادا کی کوئی صورت حالت موجودہ سے نہیں ہے دل میں یہ خیال کرلینا کہ کچھ دینا تو نہیں پڑتا ہے صرف زبانی جمع خرچ ہے قبول کرلو ایسے خیال سے کوئی نکاح میں تو نقص نہیں آئے گا
الجواب
نکاح میں کوئی نقص نہیں مگر ایسا خیال عند اﷲ سخت قبیح وشنیع ہے یہاں تك کہ حدیث میں ارشاد ہوا جو مردوعورت نکاح کریں اور مہر کے دینے لینے کی نیت نہ رکھیں یعنی اسے دین نہ سمجھیں وہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے ۱۔ والعیاذ باﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
سوال ششم
وہ کون سی صورت طلاق کی ہے کہ ایك جوڑی کپڑے پانے کی زوجہ مستحق ہے۔
الجواب
نکاح جب بلاتعین مہر ہوا اور عورت کو قبل خلوت طلاق دی جائے تو ایك جوڑا واجب آتا ہے جس کی قیمت پانچ درم شرعی سے کم نہ ہو اور عورت کے نصف مہرمثل سے زیادہ نہ ہو ان دوحدوں کے اندر اگرمرد وزن دونوں غنی ہوں اعلی درجہ کا واجب ہوگا اور دونوں فقیر تو ادنی اور ایك فقیر ایك غنی تو ا وسط۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : ازموضع دیوری نیاضلع بریلی مسئولہ مسیح الدین صاحب ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید کی بی بی ہندہ کو اس کے میکے والوں نے محض جھوٹی خبر پر کہ ہندہ کو سسرال والے زہر دے دیں گے روك رکھا ہے اور ان کا یہ ارادہ ہے کہ ہندہ کا دین مہر وصول کرکے ہندہ کی شادی دوسری جگہ کردیں آیا قبل طلاق دینے شوہر کے ہندہ کے دین مہر کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں اور اس کا دوسری جگہ نکاح کردینا جائز ہے یا نہیں اور اسے
حوالہ / References
السنن الکبرٰی باب ماجاء فی حبس ارصادر بیروت ۷ / ۲۴۲ ، کنزالعمال حدیث ٤٤٧٢٦ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۳۲۳
روك رکھنا جائز ہے یانہیں ہندہ کامہر سوا لاکھ روپیہ ہے جس میں نصف معجل ہے اور نصف غیر معجل مگر معجل میں زمانے کی کوئی حد نہیں ہے۔
الجواب :
آدھا مہر یعنی ساڑھے باسٹھ ہزار روپیہ تك ادا نہ کرے زیدکو ہندہ کے بلانے کا کوئی اختیار نہیں اور میکے والے ہندہ کو روك سکتے ہیں قبل طلاق اگر نکاح کر دیا جائے حرام وزنا ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۴ تا ۴۵ : از مراد آباد محلہ مقبرہ مرسلہ حاجی کریم بخش صاحب ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)زوج نے زوجہ کے نام کچھ زمین مہر معجل میں دے دی اور غیر معجل مہر شوہر کے ذمہ ہے زوج سے لڑکی تولد ہوئی یا لڑکا تولد ہوا اب زوج زوجہ سے ناراض ہے اور طلاق دیتا ہے اب وہ معاملہ برادری کے پنجوں میں ہے اگر پنج مہر معجل واپس کرلیں اور غیر معجل بھی نہ دلائیں اور کچھ روپے مسماۃ کو دے کر رضامندکرلیں اور زوج سے طلاق دلوادیں تو ایسے پنجوں پر کیا حکم ہے اور زوجہ سے مہر معجل واپس کرنے کا کچھ گناہ ہے یا نہیں اور پنجوں کو کس بات کا زیادہ لحاظ رکھنا لازم ہے اور اگر پنج کسی کی رعایت کرکے فیصلہ کریں تو کیا کچھ گناہ ہے
(۲)جومعاملات برادری کے متعلق طے ہوں اور شریعت سے باہر ہوں تو کیا گناہ ہے
الجواب :
یہ معاملہ رضامندی پر ہے جبکہ وہ جانے کہ باہم نباہ نہ ہوگا تو زوجہ اپنی خلاصی کے لئے کل مہر چھوڑدے او رلیا ہوا واپس دے اور اس کے سوا اور روپے بھی دے سب جائز ہے
قال تعالی : لا جناح علیهما فیما افتدت به
(عورت اگر فدیہ دے تو خاوند بیوی دونوں پر کوئی حرج نہیں ۔ ت)
ہاں اگر پنجوں نے اسے ناجائز طور پر دبا تو گنہگار ہوئے اور عورت کے حق میں گرفتار جن معاملات میں شریعت مطہرہ نے اپنے حق کے لئے کوئی حکم خاص فرمایا ہے اس کا اتباع مسلمانوں پر فرض کسی کی رضا مندی اس کی مخالفت کو جائز نہیں کرتی جیسے سود کہ اگر لینے دینے والا دونوں راضی ہوں جب بھی حرام قطعی ہے اور جن امور میں شرع نے اپنے حق کیلئے کوئی حکم نہ فرمایا جو ممانعت ہے وہ بندہ کے حق کے سبب ہے ان میں اگر صاحب حق راضی ہوجائے تو ممانعت نہ رہے گی جیسے پرایا مال چرالینا حرام اور اس کی خوشی سے حلال۔ واﷲتعالی اعلم
الجواب :
آدھا مہر یعنی ساڑھے باسٹھ ہزار روپیہ تك ادا نہ کرے زیدکو ہندہ کے بلانے کا کوئی اختیار نہیں اور میکے والے ہندہ کو روك سکتے ہیں قبل طلاق اگر نکاح کر دیا جائے حرام وزنا ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۴ تا ۴۵ : از مراد آباد محلہ مقبرہ مرسلہ حاجی کریم بخش صاحب ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)زوج نے زوجہ کے نام کچھ زمین مہر معجل میں دے دی اور غیر معجل مہر شوہر کے ذمہ ہے زوج سے لڑکی تولد ہوئی یا لڑکا تولد ہوا اب زوج زوجہ سے ناراض ہے اور طلاق دیتا ہے اب وہ معاملہ برادری کے پنجوں میں ہے اگر پنج مہر معجل واپس کرلیں اور غیر معجل بھی نہ دلائیں اور کچھ روپے مسماۃ کو دے کر رضامندکرلیں اور زوج سے طلاق دلوادیں تو ایسے پنجوں پر کیا حکم ہے اور زوجہ سے مہر معجل واپس کرنے کا کچھ گناہ ہے یا نہیں اور پنجوں کو کس بات کا زیادہ لحاظ رکھنا لازم ہے اور اگر پنج کسی کی رعایت کرکے فیصلہ کریں تو کیا کچھ گناہ ہے
(۲)جومعاملات برادری کے متعلق طے ہوں اور شریعت سے باہر ہوں تو کیا گناہ ہے
الجواب :
یہ معاملہ رضامندی پر ہے جبکہ وہ جانے کہ باہم نباہ نہ ہوگا تو زوجہ اپنی خلاصی کے لئے کل مہر چھوڑدے او رلیا ہوا واپس دے اور اس کے سوا اور روپے بھی دے سب جائز ہے
قال تعالی : لا جناح علیهما فیما افتدت به
(عورت اگر فدیہ دے تو خاوند بیوی دونوں پر کوئی حرج نہیں ۔ ت)
ہاں اگر پنجوں نے اسے ناجائز طور پر دبا تو گنہگار ہوئے اور عورت کے حق میں گرفتار جن معاملات میں شریعت مطہرہ نے اپنے حق کے لئے کوئی حکم خاص فرمایا ہے اس کا اتباع مسلمانوں پر فرض کسی کی رضا مندی اس کی مخالفت کو جائز نہیں کرتی جیسے سود کہ اگر لینے دینے والا دونوں راضی ہوں جب بھی حرام قطعی ہے اور جن امور میں شرع نے اپنے حق کیلئے کوئی حکم نہ فرمایا جو ممانعت ہے وہ بندہ کے حق کے سبب ہے ان میں اگر صاحب حق راضی ہوجائے تو ممانعت نہ رہے گی جیسے پرایا مال چرالینا حرام اور اس کی خوشی سے حلال۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
مسئلہ ۴۶تا ۴۷ : از شہسرام ضلع گیامرسلہ سراج الدین احمد صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
(۱)اصناف تعین مہر میں کہ معجل ومؤجل ومثل ہے معجل میں کلام نہیں اور مؤجل میں کابین کا لکھنا ضرور ہے یانہیں ہے ہے تو موافق شریعت کے مضمون کیا ہے
(۲)مہر مثل ازواج مطہرات رسول علیہ التحیتہ والصلوۃ کہ امہات المومنین والمومنات ہیں کا افضل یا خاندانی مثل ام وعمہ عروس وداماد۔
الجواب :
(۱)مہر معجل وہ ہے جو پیشگی دینا ٹھہرے اور مؤجل وہ جس کی ایك میعاد معین قرار پائے کہ اتنے زمانے کے بعد ادا کی جائے گا اور مؤخر وہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا نہ اس کا کوئی وقت معین کیا گیا مہر مثل کوئی ان کی مقابل قسم نہیں مؤجل کی دستاویز لکھنا بہتر ہے۔ قال تعالی :
یایها الذین امنوا اذا تداینتم بدین الى اجل مسمى فاكتبوه ۔
اے ایمان والو! جب تم ادھار لین دین مقررہ مدت پر کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ (ت)
تفسیر احمدی میں ہے :
فی الزاھدی ان الایۃ عامۃ فی السلم وکل دین یصح فیہ الاجل ۔
زاہدی میں ہے کہ یہ آیہ کریمہ بیع سلم اور ہرادھار سودا جس میں مدت مقرر کرنا صحیح ہو سب کوشامل ہے(ت)
مدارك التنزیل میں ہے : الامر للندب (آیہ کریمہ میں امر استحباب کے لئے ہے۔ ت) لباب التاویل میں ہے : وھوقول جمھور العلماء (یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ ت)او ر مضمون میں وہی طریقہ معہودہ کافی ہے جو تمسکات میں رائج ہے کہ میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں میں نے فلاں تاریخ فلانہ بنت فلاں بن فلاں سے اتنے مہر پر نکاح کیا جس کی ادا اتنے دنوں بعد قرار پائی ہے(اقرار کرتا ہوں کہ مہر مذکور میعادمذکور ادا کروں گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲)ازواج مطہرات کامہر کس کے لئے مہر مثل ہوسکتا ہے ان کے مثل کون ہے مہر مثل سے اپنے
(۱)اصناف تعین مہر میں کہ معجل ومؤجل ومثل ہے معجل میں کلام نہیں اور مؤجل میں کابین کا لکھنا ضرور ہے یانہیں ہے ہے تو موافق شریعت کے مضمون کیا ہے
(۲)مہر مثل ازواج مطہرات رسول علیہ التحیتہ والصلوۃ کہ امہات المومنین والمومنات ہیں کا افضل یا خاندانی مثل ام وعمہ عروس وداماد۔
الجواب :
(۱)مہر معجل وہ ہے جو پیشگی دینا ٹھہرے اور مؤجل وہ جس کی ایك میعاد معین قرار پائے کہ اتنے زمانے کے بعد ادا کی جائے گا اور مؤخر وہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا نہ اس کا کوئی وقت معین کیا گیا مہر مثل کوئی ان کی مقابل قسم نہیں مؤجل کی دستاویز لکھنا بہتر ہے۔ قال تعالی :
یایها الذین امنوا اذا تداینتم بدین الى اجل مسمى فاكتبوه ۔
اے ایمان والو! جب تم ادھار لین دین مقررہ مدت پر کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ (ت)
تفسیر احمدی میں ہے :
فی الزاھدی ان الایۃ عامۃ فی السلم وکل دین یصح فیہ الاجل ۔
زاہدی میں ہے کہ یہ آیہ کریمہ بیع سلم اور ہرادھار سودا جس میں مدت مقرر کرنا صحیح ہو سب کوشامل ہے(ت)
مدارك التنزیل میں ہے : الامر للندب (آیہ کریمہ میں امر استحباب کے لئے ہے۔ ت) لباب التاویل میں ہے : وھوقول جمھور العلماء (یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ ت)او ر مضمون میں وہی طریقہ معہودہ کافی ہے جو تمسکات میں رائج ہے کہ میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں میں نے فلاں تاریخ فلانہ بنت فلاں بن فلاں سے اتنے مہر پر نکاح کیا جس کی ادا اتنے دنوں بعد قرار پائی ہے(اقرار کرتا ہوں کہ مہر مذکور میعادمذکور ادا کروں گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲)ازواج مطہرات کامہر کس کے لئے مہر مثل ہوسکتا ہے ان کے مثل کون ہے مہر مثل سے اپنے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۲
تفسیر احمدیہ تحت آیۃ اذا تداینتم بدین الخ(پ۳) مطبعہ کریمہ ، بمبئی ، بھارت ص۱۷۵
مدارك التنزیل(تفسیر النفسی)تحت آیہ مذکورہ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۱۳۹
لباب التاویل(تفسیر خازن)مصفطی البابی مصر ۱ / ۳۰۵
تفسیر احمدیہ تحت آیۃ اذا تداینتم بدین الخ(پ۳) مطبعہ کریمہ ، بمبئی ، بھارت ص۱۷۵
مدارك التنزیل(تفسیر النفسی)تحت آیہ مذکورہ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۱۳۹
لباب التاویل(تفسیر خازن)مصفطی البابی مصر ۱ / ۳۰۵
خاندان پدرہی کا مہر مراد ہے بہن پھوپھی وغیرہ عمر ومال وجمال وبکارت وغیرہا میں اس کے مثل ہیں ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں امہات المومنات نہیں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہا فرماتی ہیں :
انا ام رجالکم ولست ام نسائکم۔ واﷲتعالی اعلم۔
میں تم مردوں کی ماں ہوں تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں ۔ (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۸ : ازبجواڑ اکاٹھیاواڑ مرسلہ حاجی عبد الطیف صاحب ۱۵رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
تجدید نکاح میں مہر کم ازکم کتنا باندھنا چاہئے بینواتوجروا
الجواب :
مہر کی مقدار کم از کم دس۱۰ درم بھر چاندی ہے جس کی مقدار تقریبا دو۲ روپے پونے آنے تیرہ آنے بھ رہوئی باقی جواحکام مہر کے ابتدائی نکاح میں ہیں وہی تجدید نکاح میں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۹ : ازموضع میونڈی بزرگ مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ناکتخدا کا نکاح کسی شخص سے کردیا اور وہ شخص بلاقربت کئے اپنی بی بی کے مرگیا اور کسی طرح کی کوئی بات چیت نہیں کی یعنی کسی طرح کا کوئی فعل نہیں کیا اب علمائے دین فرمائیں کہ اس لڑکی ناکتخدا کا کتنا مہر اس کے شوہر کے مال یا جائداد وغیرہ سے چاہئے نصف یا پورا اور اگر اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرنا چاہیں تو کتنے دنوں کے بعد کیا جائے بعض شخص کہتے ہیں کہ ایسے نکاح کی عدت نہیں ہوتی ہے کیونکہ جب اس کے شوہر نے اس قربت ہی نہیں کی توعدت کس چیز کی کرنا چاہئے اور بعض کہتے ہیں کہ تین ماہ کی عدت کے بعد نکاح ایسے کا جائز اب علمائے دین فرمادیں کہ یہ لوگ غلطی پر ہیں یا صحیح پر اور جو لوگ غلطی پر ہوں شریعت کو نہ مانتے ہوں ان کے لئے کیا سزا شرع اطہر میں ہے فقط بینواتوجروا۔
الجواب :
سزا پوچھنا لغو ہے آج کون کس کو سزا دے سکتا ہے جو شریعت کو نہ مانے جہنم میں سزا پائے گا جب شوہر مرجائے پورا مہر واجب ہوتا ہے اگر چہ ایك نے دوسرے کی صورت نہ دیکھی ہوں اور چار مہینے دس دن کی عدت فرض ہے اس سے پہلے نکاح حرام ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
انا ام رجالکم ولست ام نسائکم۔ واﷲتعالی اعلم۔
میں تم مردوں کی ماں ہوں تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں ۔ (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۸ : ازبجواڑ اکاٹھیاواڑ مرسلہ حاجی عبد الطیف صاحب ۱۵رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
تجدید نکاح میں مہر کم ازکم کتنا باندھنا چاہئے بینواتوجروا
الجواب :
مہر کی مقدار کم از کم دس۱۰ درم بھر چاندی ہے جس کی مقدار تقریبا دو۲ روپے پونے آنے تیرہ آنے بھ رہوئی باقی جواحکام مہر کے ابتدائی نکاح میں ہیں وہی تجدید نکاح میں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۹ : ازموضع میونڈی بزرگ مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ناکتخدا کا نکاح کسی شخص سے کردیا اور وہ شخص بلاقربت کئے اپنی بی بی کے مرگیا اور کسی طرح کی کوئی بات چیت نہیں کی یعنی کسی طرح کا کوئی فعل نہیں کیا اب علمائے دین فرمائیں کہ اس لڑکی ناکتخدا کا کتنا مہر اس کے شوہر کے مال یا جائداد وغیرہ سے چاہئے نصف یا پورا اور اگر اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرنا چاہیں تو کتنے دنوں کے بعد کیا جائے بعض شخص کہتے ہیں کہ ایسے نکاح کی عدت نہیں ہوتی ہے کیونکہ جب اس کے شوہر نے اس قربت ہی نہیں کی توعدت کس چیز کی کرنا چاہئے اور بعض کہتے ہیں کہ تین ماہ کی عدت کے بعد نکاح ایسے کا جائز اب علمائے دین فرمادیں کہ یہ لوگ غلطی پر ہیں یا صحیح پر اور جو لوگ غلطی پر ہوں شریعت کو نہ مانتے ہوں ان کے لئے کیا سزا شرع اطہر میں ہے فقط بینواتوجروا۔
الجواب :
سزا پوچھنا لغو ہے آج کون کس کو سزا دے سکتا ہے جو شریعت کو نہ مانے جہنم میں سزا پائے گا جب شوہر مرجائے پورا مہر واجب ہوتا ہے اگر چہ ایك نے دوسرے کی صورت نہ دیکھی ہوں اور چار مہینے دس دن کی عدت فرض ہے اس سے پہلے نکاح حرام ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمنثور بحوالہ ابن سعد وابن المنذر والبیہقی تحت آیہ اولٰی بالمومنین الخ آیت اﷲ العظمی المر عشی ایران۵ / ۱۸۳
مسئلہ ۵۰ : ازبلرام پورضلع گونڈہ مرسلہ سکنڈ ماسٹر مڈل اسکول ۲ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
بکر اپنی لڑکی کانکاح زید کے ساتھ کردینے کے لئے چند شرائط پر تیار ہے زید جو سلسلہ ملازمت بیس ۲۰روپیہ ماہوار سے زائد حیثیت نہیں رکھتا ہے حسب حیثیت تنخواہ زائد سے زائد کتنے روپیہ پر اس کا مہر شرعی ہونا جائز ہے اور حیثیت سے زائد مہر ہونے پر کیا مواخذہ ہے
الجواب :
حیثیت سے زائد مہر نامناسب ہے کوئی گناہ نہیں جس پر مواخذہ ہو
فان المال غاد وارائح
(مال آنے جانے والی چیز ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۱ : ازشہر بریلی محلہ صندل بازار مرسلہ نواب نثار احمدخاں صاحب ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی فوت ہوجائے تو اس کے ورثا شرعی سے مہر عورت مذکورہ متوفیہ کا شوہر یا ورثاء شوہر بخشوالیں تو شرعا جائز ہوگا یا نہیں ۔
الجواب :
وارثان زن میں جو عاقل بالغ معاف کرے گا اس کا حصہ معاف ہوجائے گا' اگر سب عاقل بالغ ہوں اور سب معاف کردیں توسب معاف ہوجائے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۲ : ۲۰ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك فاحشہ سے توبہ کراکے نکاح کیا بروقت عقد نکاح مہر شرعی پیمبری صلی اﷲتعالی علیہ وسلم پر مقرر ہوا تھا اور اس کے قبیلہ کی کوئی عورت نہیں بلکہ ان کا نکاح بھی نامعلوم اب مہر مچل معلوم نہیں ہوسکتا زید نے اس کو قرآن مجید پڑھوایا اب بعد فوت زید کے وہ عورت زید کو سخت سخت گالیاں دیتی ہے یہاں تك کہ ولدالزنا بھی كہہ دیتی ہے وہ لوگ کہ زندگی زید میں اس کے سامنے نہ آئے تھے اب برابر آتے ہیں راتوں کو گھومتی ہے وکیلوں کے پاس جاتی ہے اب وہ کل اشیاء پر دعوی کرتی ہے مکان بیچنا چاہتی ہے تو اب اس کا کتنا مہر از روئے شرع شریف نکتا ہے اور اس کی گفتگو ہے کہ وہ کہتی ہے مر گیا وہ جہنمی جو مجھ کا یہاں چھوڑ گیا پڑیں اس کے لاشے میں کیڑے تین بھائی اور والدین اور ایك ہمشیرہ بھی ہے۔
الجواب :
اس کے اقوال افعال کی سزا اﷲکے یہاں ہے اس سے اس کا مہر یا حصہ نہیں جاتا مہر شرعی پیمبری سے اگر لوگوں کے عرف میں اقل مقدار مہر مراد ہوتی ہے تو وہ دس۱۰درم ہے یعنی دو۲ روپے پونے تیرہ آنے اور ۳ / ۵ پائی
بکر اپنی لڑکی کانکاح زید کے ساتھ کردینے کے لئے چند شرائط پر تیار ہے زید جو سلسلہ ملازمت بیس ۲۰روپیہ ماہوار سے زائد حیثیت نہیں رکھتا ہے حسب حیثیت تنخواہ زائد سے زائد کتنے روپیہ پر اس کا مہر شرعی ہونا جائز ہے اور حیثیت سے زائد مہر ہونے پر کیا مواخذہ ہے
الجواب :
حیثیت سے زائد مہر نامناسب ہے کوئی گناہ نہیں جس پر مواخذہ ہو
فان المال غاد وارائح
(مال آنے جانے والی چیز ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۱ : ازشہر بریلی محلہ صندل بازار مرسلہ نواب نثار احمدخاں صاحب ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی فوت ہوجائے تو اس کے ورثا شرعی سے مہر عورت مذکورہ متوفیہ کا شوہر یا ورثاء شوہر بخشوالیں تو شرعا جائز ہوگا یا نہیں ۔
الجواب :
وارثان زن میں جو عاقل بالغ معاف کرے گا اس کا حصہ معاف ہوجائے گا' اگر سب عاقل بالغ ہوں اور سب معاف کردیں توسب معاف ہوجائے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۲ : ۲۰ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك فاحشہ سے توبہ کراکے نکاح کیا بروقت عقد نکاح مہر شرعی پیمبری صلی اﷲتعالی علیہ وسلم پر مقرر ہوا تھا اور اس کے قبیلہ کی کوئی عورت نہیں بلکہ ان کا نکاح بھی نامعلوم اب مہر مچل معلوم نہیں ہوسکتا زید نے اس کو قرآن مجید پڑھوایا اب بعد فوت زید کے وہ عورت زید کو سخت سخت گالیاں دیتی ہے یہاں تك کہ ولدالزنا بھی كہہ دیتی ہے وہ لوگ کہ زندگی زید میں اس کے سامنے نہ آئے تھے اب برابر آتے ہیں راتوں کو گھومتی ہے وکیلوں کے پاس جاتی ہے اب وہ کل اشیاء پر دعوی کرتی ہے مکان بیچنا چاہتی ہے تو اب اس کا کتنا مہر از روئے شرع شریف نکتا ہے اور اس کی گفتگو ہے کہ وہ کہتی ہے مر گیا وہ جہنمی جو مجھ کا یہاں چھوڑ گیا پڑیں اس کے لاشے میں کیڑے تین بھائی اور والدین اور ایك ہمشیرہ بھی ہے۔
الجواب :
اس کے اقوال افعال کی سزا اﷲکے یہاں ہے اس سے اس کا مہر یا حصہ نہیں جاتا مہر شرعی پیمبری سے اگر لوگوں کے عرف میں اقل مقدار مہر مراد ہوتی ہے تو وہ دس۱۰درم ہے یعنی دو۲ روپے پونے تیرہ آنے اور ۳ / ۵ پائی
اور اگر ان مراد مہر حضرت بتول زہرا رضی اﷲتعالی عنہا ہوتی ہے تو وہ چار سو۴۰۰ مثقال چاندی یعنی یہاں کے ایك سو ساٹھ۱۶۰ روپے بھر اور اگر مہر ازواج مطہرات مراد ہے تو پانسودرم یعنی یہاں کے ایك سوچالیس ۱۴۰ روپے اوراگر کوئی خاص رقم ان کے ذہن میں نہیں تو مہر مثل لازم آئے گا جو ایك سو ساٹھ روپے بھر چاندی یاایك سوچالیس روپے سے زائد نہ ہو کہ یہ قلت ضرور مراد ہوتی ہے یہاں کے کثیر التعداد مہروں سے بھاگنے کے لئے یہ لفظ عوام نے وضع کیا ہے تو ان سے زیادہ نہ دیاجائے گا وارث اگر کمی کادعوی کریں تو بحلف کہیں کہ ایسی عمر و شکل کی بازاری عورت کا مہر مثل اتنا ہوتا ہے یا حکم تجویز کرے جو اس مقدار سے زائد نہ ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳ : از ضلع رائے پور سی پی مرسلہ سردار خاں صاحب کلرك مہاندی ڈویژن دفتر ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر معجل کی شرط ادا کیا ہے اور زید کا نکاح ہندہ سے بمہر معجل قرار پایا لیکن عرصہ دراز تقریبا ۲۵ سال کاگزر ا کہ وہ مہر معجل ادا نہ ہو' ایسی حالت میں کیا معجل مؤجل ہوسکتا ہے یا اس مہر کا استحقاق جاتا رہا در صورت حبط استحقاق آیا زید اور ہندہ کی خلوت صحیح ہوئی۔ بینواتوجروا
الجواب :
ادا نہ ہونے سے مہر کا استحقاق کبھی نہیں جاسکتا اور جو معجل ٹھہرا ہے وہ ہمیشہ معجل ہی رہے گا جب تك عورت اسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اس کے حق میں فرق نہیں لاتا وہ جب تك عورت اسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اس کے حق میں فرق نہیں لاتا وہ اب بھی جس وقت چاہے اپنے مہر معجل کا مطالبہ کرسکتی ہے اور جب تك نہ ملے اپنے نفس کو شوہر سے روك سکتی ہے درمختا ر میں ہے :
(ولھا منعہ من الوطی)ودواعیہ شرح مجمع(والسفر بھا ولو بعد وطی وخلوۃ رضیتھا)لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی(لاخذ مابین تعجیلہ)من المھر کلہ او بعضہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
بیوی کی وطی اور اس کے دواعی سے خاوند کو منع کرنے کا حق ہے۔ شرح مجمع سفر سے بھی اگر چہ برضائے زوجہ وطی اور خلوت ہو چکی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے(یعنی ہر وطی پر جدا جدا مہر لازم آتا ہے)تو بعض بدل دینے سے باقی کا دے دینا ثابت نہیں ہوتا جتنا مہر معجل بیان کیا ہو اس کی وصولی کے لئے وہ کل مہر ہو یا بعض عورت اپنے نفس کو شوہر سے روك سکتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۳ : از ضلع رائے پور سی پی مرسلہ سردار خاں صاحب کلرك مہاندی ڈویژن دفتر ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر معجل کی شرط ادا کیا ہے اور زید کا نکاح ہندہ سے بمہر معجل قرار پایا لیکن عرصہ دراز تقریبا ۲۵ سال کاگزر ا کہ وہ مہر معجل ادا نہ ہو' ایسی حالت میں کیا معجل مؤجل ہوسکتا ہے یا اس مہر کا استحقاق جاتا رہا در صورت حبط استحقاق آیا زید اور ہندہ کی خلوت صحیح ہوئی۔ بینواتوجروا
الجواب :
ادا نہ ہونے سے مہر کا استحقاق کبھی نہیں جاسکتا اور جو معجل ٹھہرا ہے وہ ہمیشہ معجل ہی رہے گا جب تك عورت اسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اس کے حق میں فرق نہیں لاتا وہ جب تك عورت اسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اس کے حق میں فرق نہیں لاتا وہ اب بھی جس وقت چاہے اپنے مہر معجل کا مطالبہ کرسکتی ہے اور جب تك نہ ملے اپنے نفس کو شوہر سے روك سکتی ہے درمختا ر میں ہے :
(ولھا منعہ من الوطی)ودواعیہ شرح مجمع(والسفر بھا ولو بعد وطی وخلوۃ رضیتھا)لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی(لاخذ مابین تعجیلہ)من المھر کلہ او بعضہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
بیوی کی وطی اور اس کے دواعی سے خاوند کو منع کرنے کا حق ہے۔ شرح مجمع سفر سے بھی اگر چہ برضائے زوجہ وطی اور خلوت ہو چکی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے(یعنی ہر وطی پر جدا جدا مہر لازم آتا ہے)تو بعض بدل دینے سے باقی کا دے دینا ثابت نہیں ہوتا جتنا مہر معجل بیان کیا ہو اس کی وصولی کے لئے وہ کل مہر ہو یا بعض عورت اپنے نفس کو شوہر سے روك سکتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
مسئلہ ۵۴ : از مدن پور مرسلہ عزیز الدین صاحب ۲رجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دیہات میں ہمارے یہاں رواج ہے کہ مہر کی تفصیل نہیں ہوتی اوربعض لوگ کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ زیور وغیرہ مہرمعجل دیتے ہیں اور بعض قاضی مہر معجل نام رکھ دیتے ہیں ورنہ علی العموم نہ معجل نام رکھتے ہیں نہ مؤجل توایسی حالت میں ہندہ اپنے شوہر زید سے مطالبہ دین مہر کرسکتی ہے یانہیں کہ پہلے میرا مہر ادا کردوتو میں اپنے والدین کے یہاں سے رخصت ہوں تمہارے گھر چلوں گی اورحال یہ ہے کہ فی الحال زید کومہر ادا کرنے کی مقدرت بھی نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ نہ مہر معجل ٹھہرا رخصت سے پہلے ادا کیاجائے نہ مؤجل کہ اتنی مدت معین گزرنے پر دیا جائے یا جتنا معجل ٹھہرا تھا وہ زیور وغیرہ دے کر ادا ہوچکا ہو باقی نہ معجل ٹھہرا نہ مؤجل خواہ قاضی نے غیر معجل کہہ دی یا کچھ نہ کہا ہو تو اب ہندہ کو جب تك طلاق یا دونوں میں سے ایك کی موت نہ واقع ہو ہرگز مطالبہ مہر کا کچھ حق تھانہ وہ اس لیے رخصت سے انکارکر سکتی ہے اگرچہ زید کو فی الحال ادائے مہر کی لاکھ مقدرت ہو۔ ردالمحتار کتاب القضاء میں قبیل باب التحکیم ہے :
لومات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگرخاوندفوت ہوجائے یا نکاح سے بیس۲۰ سال بعد طلاق دے تو بیوی کو مؤخر کردہ مہر طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ اس مہر کے مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے نہ کہ نکاح کے وقت سے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۵ : از رچھا مرسلہ رفیق احمد صاحب ۸ رجب شریف یوم دوشنبہ ۱۳۳۸ھ
ایك عورت سے اس کے خاوند نے کہا تو اپنا مہر معاف کردے اس نے کہا کہ میں معاف نہیں کرتی اس پر اس کے خاوند نے سخت پریشان کیا اور تنگ رکھا اور ساس سسر نے بھی برا بھلا کہا لہذا وہ عورت اپنے ماں باپ کے یہاں آگئی ہے اس کا خاوند لینے آیا تواس نے سوال کیا کہ میں اپنا مہر جب تك کل نہ لوں گی جب تك جاؤں گی اس کے خاوند نے کہا کہ ہم تم کو زبردستی پکڑلے جائیں گے اور یہ بھی کہا کہ تومہر کا کیا کرے گی تو اس نے کہا کہ میں مسجد بنواؤں گی۔ اب عرض یہ ہے کہ پنچ لوگ بلامہر ادا کرائے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دیہات میں ہمارے یہاں رواج ہے کہ مہر کی تفصیل نہیں ہوتی اوربعض لوگ کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ زیور وغیرہ مہرمعجل دیتے ہیں اور بعض قاضی مہر معجل نام رکھ دیتے ہیں ورنہ علی العموم نہ معجل نام رکھتے ہیں نہ مؤجل توایسی حالت میں ہندہ اپنے شوہر زید سے مطالبہ دین مہر کرسکتی ہے یانہیں کہ پہلے میرا مہر ادا کردوتو میں اپنے والدین کے یہاں سے رخصت ہوں تمہارے گھر چلوں گی اورحال یہ ہے کہ فی الحال زید کومہر ادا کرنے کی مقدرت بھی نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ نہ مہر معجل ٹھہرا رخصت سے پہلے ادا کیاجائے نہ مؤجل کہ اتنی مدت معین گزرنے پر دیا جائے یا جتنا معجل ٹھہرا تھا وہ زیور وغیرہ دے کر ادا ہوچکا ہو باقی نہ معجل ٹھہرا نہ مؤجل خواہ قاضی نے غیر معجل کہہ دی یا کچھ نہ کہا ہو تو اب ہندہ کو جب تك طلاق یا دونوں میں سے ایك کی موت نہ واقع ہو ہرگز مطالبہ مہر کا کچھ حق تھانہ وہ اس لیے رخصت سے انکارکر سکتی ہے اگرچہ زید کو فی الحال ادائے مہر کی لاکھ مقدرت ہو۔ ردالمحتار کتاب القضاء میں قبیل باب التحکیم ہے :
لومات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگرخاوندفوت ہوجائے یا نکاح سے بیس۲۰ سال بعد طلاق دے تو بیوی کو مؤخر کردہ مہر طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ اس مہر کے مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے نہ کہ نکاح کے وقت سے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۵ : از رچھا مرسلہ رفیق احمد صاحب ۸ رجب شریف یوم دوشنبہ ۱۳۳۸ھ
ایك عورت سے اس کے خاوند نے کہا تو اپنا مہر معاف کردے اس نے کہا کہ میں معاف نہیں کرتی اس پر اس کے خاوند نے سخت پریشان کیا اور تنگ رکھا اور ساس سسر نے بھی برا بھلا کہا لہذا وہ عورت اپنے ماں باپ کے یہاں آگئی ہے اس کا خاوند لینے آیا تواس نے سوال کیا کہ میں اپنا مہر جب تك کل نہ لوں گی جب تك جاؤں گی اس کے خاوند نے کہا کہ ہم تم کو زبردستی پکڑلے جائیں گے اور یہ بھی کہا کہ تومہر کا کیا کرے گی تو اس نے کہا کہ میں مسجد بنواؤں گی۔ اب عرض یہ ہے کہ پنچ لوگ بلامہر ادا کرائے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۴۳
اس کو زبردستی لے جاسکتے ہیں یا نہیں میاں بیوی میں نا اتفاقی ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
بیان سائل ہوا کہ مہر بلامیعادی ہے لہذا قبل موت یا طلاق اس کے مطالبہ کا عورت کو کچھ اختیار نہیں نہ اس کی وجہ سے اپنے مہر آپ کو شوہر سے روك سکتی ہے اسے شوہر کے یہاں جبرا جانا ہوگا اور شوہر پر حرام قطعی ہے کہ اس پر معافی مہر کا جبر کرے اور اگر جبر کرکے معاف کرالے گا معاف نہ ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶ : از رامسہ تحصیل گوجرخاں ڈاك خانہ جاتلی ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۸ شوال ۱۳۳۸ھ
ایك مرد اور زوجہ صرف اول روز ایك کوٹھے میں رہے اوردشمن گردگرد کوٹھے کے مارنے کے لئے کھڑے رہے ہیں اور زوجین کو بھی یہ حالت معلوم تھی علی الصباح اس مرد نے عورت کو طلاق دے دی ہے مرد دخول کامقر اور عورت منکر ہے اب یہ دخول یا خلوت صحیحہ قابل اعتبار ہے یا نہیں ۔
الجواب :
اگر کوٹھے کادروازہ اندر سے بند ہے اور مسقف ہے یا دیواریں بلند ہیں کہ دشمنوں کے گھس آنے کا اندیشہ نہیں تو خلوت صحیح ہے ورنہ نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
تصح علی سطح کانا فوقہ وحدھما وامنا من صعود احد الیھما اھ ملتقطا۔
ایسی سطح ہو جس پر صرف دونوں میاں بیوی ہوں اور کسی تیسرے کے وہاں چڑھنے سے بےفکر ہوں تو خلوت صحیح ہے اھ ملتقط(ت)
صورت اگر پہلی تھی تو عورت کا دخول سے انکار بیکار ہے کہ مہر کامل بہر حال لازم ہوگیا دخول ہوا یا نہیں ہاں صورت ثانیہ میں شوہر کا کہناکہ دخول ہوا کل مہر لازم ہونے کا اقرار ہے اور عورت کا انکار اس کا ردہے اور اقرار مقرلہ کے انکار سے ر د ہوجاتا ہے تو صرف نصف مہر پائے گی ھذا ماظہر لی(یہ جو مجھے معلوم ہوا۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷ : از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت اﷲ شاہ صاحب خاکی بوڑاہا ۹ محرم ۱۳۳۹ھ
اگر کسی نے بی بی کے نزع کے وقت اس سے کہا کہ میرا دین مہرمعاف کیا اس نے زبان سے بوجہ
الجواب :
بیان سائل ہوا کہ مہر بلامیعادی ہے لہذا قبل موت یا طلاق اس کے مطالبہ کا عورت کو کچھ اختیار نہیں نہ اس کی وجہ سے اپنے مہر آپ کو شوہر سے روك سکتی ہے اسے شوہر کے یہاں جبرا جانا ہوگا اور شوہر پر حرام قطعی ہے کہ اس پر معافی مہر کا جبر کرے اور اگر جبر کرکے معاف کرالے گا معاف نہ ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶ : از رامسہ تحصیل گوجرخاں ڈاك خانہ جاتلی ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۸ شوال ۱۳۳۸ھ
ایك مرد اور زوجہ صرف اول روز ایك کوٹھے میں رہے اوردشمن گردگرد کوٹھے کے مارنے کے لئے کھڑے رہے ہیں اور زوجین کو بھی یہ حالت معلوم تھی علی الصباح اس مرد نے عورت کو طلاق دے دی ہے مرد دخول کامقر اور عورت منکر ہے اب یہ دخول یا خلوت صحیحہ قابل اعتبار ہے یا نہیں ۔
الجواب :
اگر کوٹھے کادروازہ اندر سے بند ہے اور مسقف ہے یا دیواریں بلند ہیں کہ دشمنوں کے گھس آنے کا اندیشہ نہیں تو خلوت صحیح ہے ورنہ نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
تصح علی سطح کانا فوقہ وحدھما وامنا من صعود احد الیھما اھ ملتقطا۔
ایسی سطح ہو جس پر صرف دونوں میاں بیوی ہوں اور کسی تیسرے کے وہاں چڑھنے سے بےفکر ہوں تو خلوت صحیح ہے اھ ملتقط(ت)
صورت اگر پہلی تھی تو عورت کا دخول سے انکار بیکار ہے کہ مہر کامل بہر حال لازم ہوگیا دخول ہوا یا نہیں ہاں صورت ثانیہ میں شوہر کا کہناکہ دخول ہوا کل مہر لازم ہونے کا اقرار ہے اور عورت کا انکار اس کا ردہے اور اقرار مقرلہ کے انکار سے ر د ہوجاتا ہے تو صرف نصف مہر پائے گی ھذا ماظہر لی(یہ جو مجھے معلوم ہوا۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷ : از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت اﷲ شاہ صاحب خاکی بوڑاہا ۹ محرم ۱۳۳۹ھ
اگر کسی نے بی بی کے نزع کے وقت اس سے کہا کہ میرا دین مہرمعاف کیا اس نے زبان سے بوجہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر مطلب فی احکام الخلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۰
آواز بند ہوجانے کے جواب نہ دیالیکن سر ہلادیا تواس کا دین مہر معاف ہوا یانہیں
الجواب :
مرض الموت میں مہر کی معافی بے اجازت دیگر ورثاء معتبر نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۸ : از اودیپور میواڑ ہاتھی دروازہ مدرسہ شرفیہ مسئولہ عبدا لرحیم خلف مولوی شرف شاہ صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
ایك شخص وزیر خاں نے دو۲ عورتیں کیں اور ہر دو عورتیں کے تین تین بچے ہیں سابق عورت کو بوجہ معمولی لڑائی کے طلاق دے کر ایك طلاق کی تحریر لکھ دی اس میں یہ مضمون درج کیا کہ جو کہ تیرا مہر ہے اس میں تیرے بطن کے دونوں بچے تجھ کو مہر میں دئے۔ اور حمل سے بھی تھی بعد طلاق کے لڑکی بھی پیدا ہوئی وزیر خاں فوت ہوگیا بعد عدت کے اس عورت نے نکاح ثانی کرلیا اب یہ اس وقت بالکل بچے بالغ ہیں اور آوارہ ہیں سو یہ لڑکے جدی حق پانے کے حقدار ہیں یا نہیں ۔
الجواب :
دونوں لڑکے اور وہ لڑکی اپنے باپ کے مال میں حصہ پائیں گے اور طلاق شدہ اگر چہ حصہ نہ پائے گی مگرمہر کی مستحق ہے اور وہ جو کہہ دیا تھا کہ دونوں بیٹے تیرے مہر میں دئے فضول تھا اس سے مہر ادا نہیں ہوتا ہاں اگر عورت نے یہ کہہ دیا ہو کہ دونوں بیٹے میرے دومیں نے مہر چھوڑا تو مہر نہ پائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹ : از کریلی گنج ضلع نرسنگ پور ڈاك خانہ وتحصیل نرسنگ پور مسئولہ الہ بخش صاحب ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ
زید اپنی عورت ہندہ کو عرصہ تقریبا پانچ سال سے علیحدہ کئے ہوئے ہے ہندہ کے ماں باپ اس عرصہ مذکورہ میں چند مرتبہ اپنی لڑکی کو زید کے گھر چھوڑ آئے لیکن بوجہ عدم توجہی زید زید کے ماں بہن ہندہ کے اقسام اقسام کی تکالیف دیتے ہیں جو اس سے برداشت نہیں ہوسکتیں مزید برآں نان نفقہ کی بھی کفالت نہیں کرتا نہ اس کو رخصت دیتا کہ وہ اپنا دوسرا تدارك کرے اور مہر ہندہ زر مہر کچہری سے پانے کی مستحق ہوسکتی ہے یا نہیں اور اپنے نفس کو اس سے علیحدہ کرسکتی ہے یا نہیں کیونکہ زیدکی نیت صرف اس کو اور اس کے ماں باپ کو اذیت پہنچانی ہے ورنہ اس کا وجہ کفاف ایسا ہے کہ وہ اپنی زوجہ متوسط حالت پر نان نفقہ کی کافی طور پر امداد پہنچا سکتا ہے اس لئے عرض ہے کہ موافق شرع شریف جو ہندہ کے حق میں انسب ہو اس سے ابلاغ فرمایا جائے۔
الجواب :
مرض الموت میں مہر کی معافی بے اجازت دیگر ورثاء معتبر نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۸ : از اودیپور میواڑ ہاتھی دروازہ مدرسہ شرفیہ مسئولہ عبدا لرحیم خلف مولوی شرف شاہ صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
ایك شخص وزیر خاں نے دو۲ عورتیں کیں اور ہر دو عورتیں کے تین تین بچے ہیں سابق عورت کو بوجہ معمولی لڑائی کے طلاق دے کر ایك طلاق کی تحریر لکھ دی اس میں یہ مضمون درج کیا کہ جو کہ تیرا مہر ہے اس میں تیرے بطن کے دونوں بچے تجھ کو مہر میں دئے۔ اور حمل سے بھی تھی بعد طلاق کے لڑکی بھی پیدا ہوئی وزیر خاں فوت ہوگیا بعد عدت کے اس عورت نے نکاح ثانی کرلیا اب یہ اس وقت بالکل بچے بالغ ہیں اور آوارہ ہیں سو یہ لڑکے جدی حق پانے کے حقدار ہیں یا نہیں ۔
الجواب :
دونوں لڑکے اور وہ لڑکی اپنے باپ کے مال میں حصہ پائیں گے اور طلاق شدہ اگر چہ حصہ نہ پائے گی مگرمہر کی مستحق ہے اور وہ جو کہہ دیا تھا کہ دونوں بیٹے تیرے مہر میں دئے فضول تھا اس سے مہر ادا نہیں ہوتا ہاں اگر عورت نے یہ کہہ دیا ہو کہ دونوں بیٹے میرے دومیں نے مہر چھوڑا تو مہر نہ پائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹ : از کریلی گنج ضلع نرسنگ پور ڈاك خانہ وتحصیل نرسنگ پور مسئولہ الہ بخش صاحب ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ
زید اپنی عورت ہندہ کو عرصہ تقریبا پانچ سال سے علیحدہ کئے ہوئے ہے ہندہ کے ماں باپ اس عرصہ مذکورہ میں چند مرتبہ اپنی لڑکی کو زید کے گھر چھوڑ آئے لیکن بوجہ عدم توجہی زید زید کے ماں بہن ہندہ کے اقسام اقسام کی تکالیف دیتے ہیں جو اس سے برداشت نہیں ہوسکتیں مزید برآں نان نفقہ کی بھی کفالت نہیں کرتا نہ اس کو رخصت دیتا کہ وہ اپنا دوسرا تدارك کرے اور مہر ہندہ زر مہر کچہری سے پانے کی مستحق ہوسکتی ہے یا نہیں اور اپنے نفس کو اس سے علیحدہ کرسکتی ہے یا نہیں کیونکہ زیدکی نیت صرف اس کو اور اس کے ماں باپ کو اذیت پہنچانی ہے ورنہ اس کا وجہ کفاف ایسا ہے کہ وہ اپنی زوجہ متوسط حالت پر نان نفقہ کی کافی طور پر امداد پہنچا سکتا ہے اس لئے عرض ہے کہ موافق شرع شریف جو ہندہ کے حق میں انسب ہو اس سے ابلاغ فرمایا جائے۔
الجواب :
مہراگر واقعی معجل بندھا ہے تو ہندہ ہر وقت اس کا مطالبہ کرسکتی ہے زید نہ دے تو بذریعہ ناش وصول کرے اور جب تك نہ ملے ہندہ کو اختیار ہے کہ اپنے نفس کو زید روکے اور اس کے گھر نہ جائے اور اس روکنے کی وجہ سے ہندہ کا نان نفقہ زید سے ساقط نہ ہوگا۔
لانھا منعت بحق فلم تکن ناشزۃ والمسئلۃ فی الدر المختار من الاسفار۔
کیونکہ بیوی نے اپنے حق کے لئے خاوند کو منع کیا ہے لہذا نافرمان نہ ہوگی اور مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
ہاں یہ ناممکن ہے کہ ہندہ بغیر طلاق یا موت شوہر وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح کرسکے قال تعالی : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ عوتیں تم پر حرام ہیں ۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۶۰ : از شہر محلہ برہمپور مسئولہ حاجی شاہ محمد عرف کمال اﷲ شاہ صاحب ۲۶محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ معصومن زوجہ لعل محمد کے مہر کا حال اس طرح معلوم ہوا ہے کہ وہ خود کہتی ہے کہ میرا ایك سو دس ۱۱۰ روپیہ کا مہر ہے اور وکیل وگواہ نکاح مسماۃ مذکورہ کے فوت ہوگئے کوئی زندہ نہیں ہے اس کے چچا زاد بہنیں چار ہیں جن میں سے تین کے مہر کی تعداد معلوم نہیں سب یہی کہتے ہیں کہ شرع پیغمبری تھا اور ایك چچازاد بہن کا مہرمبلغ پانچسوروپےہ ہونا معلوم ہوا ہے جو کہ مسمی ننھے کی زوجہ ہے ایسی صورت میں مسماۃ معصومن کا مہر کیا قائم کیا جائے گا
الجواب :
جبکہ عوت ایك سو دس روپے اپنا مہر بتاتی ہے اوراس سے زائد بھی اس کے خاندان میں باندھا گیا ہے اور اس کے خلاف پر کوئی شہادت نہیں تو اس پر اس سے حلف لیا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میرا مہر ایك سودس روپے بندھا تھا تو ایك سودس دلائے جائیں گے۔ عالمگیری میں ہے :
امرأۃ ادعت علی زوجھا بعد موتہ ان لھا علیہ الف درھم من مھرھا فالقول قولھا الی تمام مھر
اگر خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد بیوی نے دعوی کیا کہ میرے مہر کے ہزار درہم اس کے ذمہ ہیں تو اس کی بات مہر مثل کی حد تك قابل قبول ہوگی محیط السرخسی
مہراگر واقعی معجل بندھا ہے تو ہندہ ہر وقت اس کا مطالبہ کرسکتی ہے زید نہ دے تو بذریعہ ناش وصول کرے اور جب تك نہ ملے ہندہ کو اختیار ہے کہ اپنے نفس کو زید روکے اور اس کے گھر نہ جائے اور اس روکنے کی وجہ سے ہندہ کا نان نفقہ زید سے ساقط نہ ہوگا۔
لانھا منعت بحق فلم تکن ناشزۃ والمسئلۃ فی الدر المختار من الاسفار۔
کیونکہ بیوی نے اپنے حق کے لئے خاوند کو منع کیا ہے لہذا نافرمان نہ ہوگی اور مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
ہاں یہ ناممکن ہے کہ ہندہ بغیر طلاق یا موت شوہر وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح کرسکے قال تعالی : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ عوتیں تم پر حرام ہیں ۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۶۰ : از شہر محلہ برہمپور مسئولہ حاجی شاہ محمد عرف کمال اﷲ شاہ صاحب ۲۶محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ معصومن زوجہ لعل محمد کے مہر کا حال اس طرح معلوم ہوا ہے کہ وہ خود کہتی ہے کہ میرا ایك سو دس ۱۱۰ روپیہ کا مہر ہے اور وکیل وگواہ نکاح مسماۃ مذکورہ کے فوت ہوگئے کوئی زندہ نہیں ہے اس کے چچا زاد بہنیں چار ہیں جن میں سے تین کے مہر کی تعداد معلوم نہیں سب یہی کہتے ہیں کہ شرع پیغمبری تھا اور ایك چچازاد بہن کا مہرمبلغ پانچسوروپےہ ہونا معلوم ہوا ہے جو کہ مسمی ننھے کی زوجہ ہے ایسی صورت میں مسماۃ معصومن کا مہر کیا قائم کیا جائے گا
الجواب :
جبکہ عوت ایك سو دس روپے اپنا مہر بتاتی ہے اوراس سے زائد بھی اس کے خاندان میں باندھا گیا ہے اور اس کے خلاف پر کوئی شہادت نہیں تو اس پر اس سے حلف لیا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میرا مہر ایك سودس روپے بندھا تھا تو ایك سودس دلائے جائیں گے۔ عالمگیری میں ہے :
امرأۃ ادعت علی زوجھا بعد موتہ ان لھا علیہ الف درھم من مھرھا فالقول قولھا الی تمام مھر
اگر خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد بیوی نے دعوی کیا کہ میرے مہر کے ہزار درہم اس کے ذمہ ہیں تو اس کی بات مہر مثل کی حد تك قابل قبول ہوگی محیط السرخسی
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
مثلھا کذافی محیط السرخسی۔ واﷲتعالی اعلم
میں ایسے ہی ہے۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱ : از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ حاجی کفایت اﷲصاحب ۹صفر ۱۳۳۹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ بہت محتاج ہے اور خانہ ویران بظاہر کوئی حیلہ رزق نہیں رکھتی اس کا بھائی زید مزدوری کرکے لاتا ہے اسمیں دونوں گزرکرلیتے ہیں ہندہ کے خسر نے بعد اپنی موت کے ایك مکان تقریبا ڈیڑھ سوگز وسعت کا چھوڑا جواب ٹوٹ پھوٹ گیا اس کے دو۲ وارث ہوئے ہندہ کا اپنی شوہر اور دوسرا ہندہ کا جیٹھ ہندہ کے جیٹھ نے اپنا حصہ اپنے لڑکے کو دے یا اب ہندہ کے شوہر کے حصے پر قبضہ کرکے بیچنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں ہندہ کا کیا حق ہے اس واسطے کہ میرے بھائی کو غائب ہوئے تقریبا تیس برس ہوگئے غالبا مرگیا کیونکہ پانچ چھ برس سے اس کی خبر نہیں اورقانون کہتا ہے کہ تیس برس کے بعد دعوی مہرنہیں چل سکتا ہے اور وکیل کہتا ہے کہ دعوی مہر کرو تم کو ملے گا اور وکیل یہ رائے دیتا ہے کہ تمہارا دعوی چلے گا اس صورت میں کہ ہندہ کہے میرے شوہر کےمرنے کی خبر توتم نے مجھے آج دی ہے میں ابھی تك اپنے آپ کو بیوہ نہیں جانتی تھی میں جانتی تھی کہ وہ زندہ ہے اگر اب تم کہتے ہو کہ مرگیاتو آج سے تین برس تك مہر طلب کرنے کا مجھ کو حق ہے ہندہ کے عزیزوں میں سے کسی مہر کی تعداد یاد نہیں اس نکاح کو کم وبیش چالیس برس ہوئے ہوں گے ہندہ کو خوب یاد ہے کہ میرا مہر دوسو۲۰۰ روپے تھا اورمیں سنتی ہوں کہ میری والدہ اور پھوپھی کا مہر بھی دوسو۲۰۰ روپے تھا اور اب میری بھتیجیوں اور میرے بھائیوں اور میرے بھائیوں کا مہر بھی دوسو۲۰۰ روپے ہے اب ہندہ کے اقوال پر ان کا حق شرعی دلانے کے لئے یہ کہہ دینا جائز ہوگا یانہیں کہ ہاں دوسو۲۰۰ روپے کا تھا ان کے لئے کچہری میں اس کا حق شرعی دلانے کے لئے یہ کہہ دینا جائز ہوگا یانہیں کہ ہاں دوسو۲۰۰ روپے تھا ان لوگوں کی گواہی پر اگر اس کا حق ان شاء اﷲتعالی ملے گا تو اس کا جینا اور مرنا بآسانی ہوجائے گا کسی وقت ہندہ کے جیٹھ نے ہندہ کی خبر نہیں لی کہ وہ کس حالت میں ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
ہندہ جبکہ دو سو ۲۰۰ روپے مہربیان کرتی ہے اور اس وقت کا کوئی گواہ نہیں اور ثابت ہوکہ یہ اس کا خاندانی مہر مثل ہے تو ضرور دوسو۲۰۰ روپے دلائے جائیں گے گواہوں کی گواہی یہ جائز نہ ہوگی ہمارے سامنے دوسو۲۰۰ روپے کا مہر بندھا تھا بلکہ یہ گواہی دینا کہ اس کا مہر مثل دوسو۲۰۰ روپے ہے یہی گواہی اس کی ڈگری کے لئے کافی ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
میں ایسے ہی ہے۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱ : از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ حاجی کفایت اﷲصاحب ۹صفر ۱۳۳۹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ بہت محتاج ہے اور خانہ ویران بظاہر کوئی حیلہ رزق نہیں رکھتی اس کا بھائی زید مزدوری کرکے لاتا ہے اسمیں دونوں گزرکرلیتے ہیں ہندہ کے خسر نے بعد اپنی موت کے ایك مکان تقریبا ڈیڑھ سوگز وسعت کا چھوڑا جواب ٹوٹ پھوٹ گیا اس کے دو۲ وارث ہوئے ہندہ کا اپنی شوہر اور دوسرا ہندہ کا جیٹھ ہندہ کے جیٹھ نے اپنا حصہ اپنے لڑکے کو دے یا اب ہندہ کے شوہر کے حصے پر قبضہ کرکے بیچنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں ہندہ کا کیا حق ہے اس واسطے کہ میرے بھائی کو غائب ہوئے تقریبا تیس برس ہوگئے غالبا مرگیا کیونکہ پانچ چھ برس سے اس کی خبر نہیں اورقانون کہتا ہے کہ تیس برس کے بعد دعوی مہرنہیں چل سکتا ہے اور وکیل کہتا ہے کہ دعوی مہر کرو تم کو ملے گا اور وکیل یہ رائے دیتا ہے کہ تمہارا دعوی چلے گا اس صورت میں کہ ہندہ کہے میرے شوہر کےمرنے کی خبر توتم نے مجھے آج دی ہے میں ابھی تك اپنے آپ کو بیوہ نہیں جانتی تھی میں جانتی تھی کہ وہ زندہ ہے اگر اب تم کہتے ہو کہ مرگیاتو آج سے تین برس تك مہر طلب کرنے کا مجھ کو حق ہے ہندہ کے عزیزوں میں سے کسی مہر کی تعداد یاد نہیں اس نکاح کو کم وبیش چالیس برس ہوئے ہوں گے ہندہ کو خوب یاد ہے کہ میرا مہر دوسو۲۰۰ روپے تھا اورمیں سنتی ہوں کہ میری والدہ اور پھوپھی کا مہر بھی دوسو۲۰۰ روپے تھا اور اب میری بھتیجیوں اور میرے بھائیوں اور میرے بھائیوں کا مہر بھی دوسو۲۰۰ روپے ہے اب ہندہ کے اقوال پر ان کا حق شرعی دلانے کے لئے یہ کہہ دینا جائز ہوگا یانہیں کہ ہاں دوسو۲۰۰ روپے کا تھا ان کے لئے کچہری میں اس کا حق شرعی دلانے کے لئے یہ کہہ دینا جائز ہوگا یانہیں کہ ہاں دوسو۲۰۰ روپے تھا ان لوگوں کی گواہی پر اگر اس کا حق ان شاء اﷲتعالی ملے گا تو اس کا جینا اور مرنا بآسانی ہوجائے گا کسی وقت ہندہ کے جیٹھ نے ہندہ کی خبر نہیں لی کہ وہ کس حالت میں ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
ہندہ جبکہ دو سو ۲۰۰ روپے مہربیان کرتی ہے اور اس وقت کا کوئی گواہ نہیں اور ثابت ہوکہ یہ اس کا خاندانی مہر مثل ہے تو ضرور دوسو۲۰۰ روپے دلائے جائیں گے گواہوں کی گواہی یہ جائز نہ ہوگی ہمارے سامنے دوسو۲۰۰ روپے کا مہر بندھا تھا بلکہ یہ گواہی دینا کہ اس کا مہر مثل دوسو۲۰۰ روپے ہے یہی گواہی اس کی ڈگری کے لئے کافی ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی عشر اختلاف الزوجین فی المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۲۲
مسئلہ۶۲ : حفیظ اﷲخاں صاحب محلہ ٹیکور قصبہ چنار پوسٹ آفس چنار ضلع مرزا پور ۱۸جمادی الآخر
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سال بھر اور تین ماہ پردیس رہابعدہ جب اپنے مکان پر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کو آٹھ مہینے کا حمل ہے موقع سے وہ شخص مذکورہ طلاق دینے پر آمادہ وتیار ہے ایسی حالت میں بعد طلاق کے وہ عورت کچہری مجاز میں مہر کا دعوی کرسکتی ہے یا نہیں اور شرعا مہر پانے کی مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
اس وجہ سے ا س کا طلاق پر آمادہ ہونا محض ناواقفی ہے شریعت میں حمل کی مدت دو۲ برس کامل ہے اتنی مدت تك بچہ بیٹ میں رہ سکتا ہے اور دایہ وغیرہ کی یہ شناخت کہ آٹھی مہینے کا ہے کچھ معتبر نہیں بہر حال اگر طلاقی دے گا مہر واجب الادا ہوگا' اور اگر مرد کی جھوٹی بدگمانی بالفرض صحیح ہو جب بھی عورت مہ رکی مستحق ہے کہ معاذاﷲزناسے مہر ساقط نہیں ہوتا واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳ : ۱۴شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك عورت کے ساتھ نکاح کیا اور اس کی حیات میں اس کی چھوٹی بہن کے ساتھ نکاح کیا نکاح دوم جائز ہے یا ناجائز اور ان دونوں عورتوں سے جواولاد ہوگی وہ کسی ہوگی اور زید کا متروکہ پانے کی مستحق ہے یانہیں اور یہ نہیں دونوں عورتوں مہر پانے کی مستحق ہیں یا نہیں
الجواب :
زوجہ جب تك زوجیت یا عدت میں ہے اس کی بہن سے نکاح حرام قطعی ہے قال تعالی : و ان تجمعوا بین الاختین (حرام ہے کہ تم دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ ت) اس سے جو اولاد ہوگی شرعا اولاد حرام ہے مگر ولد الزنا نہیں اسے ولد حرام بمعنی ولد الزنا کہنا جائز نہیں جب تك اس دوسری کو ہاتھ نہ لگایا تھا پہلی حلال تھی اس وقت تك کے جماع سے جواولاد پہلی سے ہوئی ولد حلال ہے اور بعد کے جماع سے جواولاد ہو وہ بھی شرعا اولاد حرام ہے مگر ولد الزنا نہیں دونوں عورتوں کی سب اولادیں کہ زید ہوئیں زید کا ترکہ پائیں گی کہ نسب ثابت ہے ہاں زوجہ ثانی ترکہ نہ پائے گی کہ نکاح فاسد سے ہے دونوں عورتیں مہر کی مستحق ہیں پہلی مطلقا اور دوسری اس صورت میں کہ حقیقۃ اس سے جماع کیا ہو فقط خلوت کافی نہیں پھر اپنا پورا مہر پائے گی اور دوسری مہر مثل اور جو مہر بندھا تھا ان دونوں میں سے جو کم وہ پائے گی درمختار میں ہے :
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سال بھر اور تین ماہ پردیس رہابعدہ جب اپنے مکان پر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کو آٹھ مہینے کا حمل ہے موقع سے وہ شخص مذکورہ طلاق دینے پر آمادہ وتیار ہے ایسی حالت میں بعد طلاق کے وہ عورت کچہری مجاز میں مہر کا دعوی کرسکتی ہے یا نہیں اور شرعا مہر پانے کی مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
اس وجہ سے ا س کا طلاق پر آمادہ ہونا محض ناواقفی ہے شریعت میں حمل کی مدت دو۲ برس کامل ہے اتنی مدت تك بچہ بیٹ میں رہ سکتا ہے اور دایہ وغیرہ کی یہ شناخت کہ آٹھی مہینے کا ہے کچھ معتبر نہیں بہر حال اگر طلاقی دے گا مہر واجب الادا ہوگا' اور اگر مرد کی جھوٹی بدگمانی بالفرض صحیح ہو جب بھی عورت مہ رکی مستحق ہے کہ معاذاﷲزناسے مہر ساقط نہیں ہوتا واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳ : ۱۴شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك عورت کے ساتھ نکاح کیا اور اس کی حیات میں اس کی چھوٹی بہن کے ساتھ نکاح کیا نکاح دوم جائز ہے یا ناجائز اور ان دونوں عورتوں سے جواولاد ہوگی وہ کسی ہوگی اور زید کا متروکہ پانے کی مستحق ہے یانہیں اور یہ نہیں دونوں عورتوں مہر پانے کی مستحق ہیں یا نہیں
الجواب :
زوجہ جب تك زوجیت یا عدت میں ہے اس کی بہن سے نکاح حرام قطعی ہے قال تعالی : و ان تجمعوا بین الاختین (حرام ہے کہ تم دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ ت) اس سے جو اولاد ہوگی شرعا اولاد حرام ہے مگر ولد الزنا نہیں اسے ولد حرام بمعنی ولد الزنا کہنا جائز نہیں جب تك اس دوسری کو ہاتھ نہ لگایا تھا پہلی حلال تھی اس وقت تك کے جماع سے جواولاد پہلی سے ہوئی ولد حلال ہے اور بعد کے جماع سے جواولاد ہو وہ بھی شرعا اولاد حرام ہے مگر ولد الزنا نہیں دونوں عورتوں کی سب اولادیں کہ زید ہوئیں زید کا ترکہ پائیں گی کہ نسب ثابت ہے ہاں زوجہ ثانی ترکہ نہ پائے گی کہ نکاح فاسد سے ہے دونوں عورتیں مہر کی مستحق ہیں پہلی مطلقا اور دوسری اس صورت میں کہ حقیقۃ اس سے جماع کیا ہو فقط خلوت کافی نہیں پھر اپنا پورا مہر پائے گی اور دوسری مہر مثل اور جو مہر بندھا تھا ان دونوں میں سے جو کم وہ پائے گی درمختار میں ہے :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد و ھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشہود (ومثلہ تزوج الاختین معا ونکاح الاخت فی عدۃ الاخت اھ ش)بالوطئ فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ ولم یزدعلی المسمی لرضاھا بالحط ولوکان دون المسمی لرضاھا مھر المثل ۔
نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے نکاح فاسد وہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہوجیسے گواہ نہ ہوں اور اسی طرح ہے دو بہنوں سے اکھٹا نکاح کرنا اور ایك بہن کی عدت میں دوسری سے نکاح کرنا اھ ش)نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے اورصرف وطی سے واجب ہوتا ہے کسی اور چیز سے نہیں مثلا خلوت سے نہیں اور یہ مہرمثل مقررہ سے زائد نہ ہوگا بسبب راضی ہوجانے عورت کے کمی مہر پر اور اگر مہر مثل کم ہو مہر مسمی سے تو بھی مہر مثل ہی لازم آئے گا۔ (ت)
ھدایہ باب النکاح الرقیق میں ہے :
بعض المقاصد فی النکاح الفاسد حاصل کالنسب ووجوب المھر والعدۃ ۔
بعض مقاصد نکاح فاسدمیں حاصل ہوجاتے ہیں جیسا کہ نسب وجوب مہر اور عدت(ت)
درمختار میں ہے :
یستحق الارث بنکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولاباطل اجماعا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
وارث کا استحقاق صحیح سے ہوتا ہے لہذا فاسد یا باطل نکاح سے وراثت کا استحقاق بالاجماع نہ ہوگا۔ (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۶۴ : از رامپور مدرسہ انوارالعلوم مسئولہ جلال الدین پٹھان ۱۶شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مدعیہ نے اپنے گواہان سے یہ ثابت کیا کہ میرا دین مہر ایك لاکھ روپے کا تھا فریق ثانی نے گواہان سے اس امر کا ثبوت پیش کیا کہ کہ ہندہ کا دین مہر دس ہزار روپے کا تھا صورت مسئولہ میں گواہان کمی مہر کے معتبر ہوں گے یا زیادتی
نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے نکاح فاسد وہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہوجیسے گواہ نہ ہوں اور اسی طرح ہے دو بہنوں سے اکھٹا نکاح کرنا اور ایك بہن کی عدت میں دوسری سے نکاح کرنا اھ ش)نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے اورصرف وطی سے واجب ہوتا ہے کسی اور چیز سے نہیں مثلا خلوت سے نہیں اور یہ مہرمثل مقررہ سے زائد نہ ہوگا بسبب راضی ہوجانے عورت کے کمی مہر پر اور اگر مہر مثل کم ہو مہر مسمی سے تو بھی مہر مثل ہی لازم آئے گا۔ (ت)
ھدایہ باب النکاح الرقیق میں ہے :
بعض المقاصد فی النکاح الفاسد حاصل کالنسب ووجوب المھر والعدۃ ۔
بعض مقاصد نکاح فاسدمیں حاصل ہوجاتے ہیں جیسا کہ نسب وجوب مہر اور عدت(ت)
درمختار میں ہے :
یستحق الارث بنکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولاباطل اجماعا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
وارث کا استحقاق صحیح سے ہوتا ہے لہذا فاسد یا باطل نکاح سے وراثت کا استحقاق بالاجماع نہ ہوگا۔ (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۶۴ : از رامپور مدرسہ انوارالعلوم مسئولہ جلال الدین پٹھان ۱۶شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مدعیہ نے اپنے گواہان سے یہ ثابت کیا کہ میرا دین مہر ایك لاکھ روپے کا تھا فریق ثانی نے گواہان سے اس امر کا ثبوت پیش کیا کہ کہ ہندہ کا دین مہر دس ہزار روپے کا تھا صورت مسئولہ میں گواہان کمی مہر کے معتبر ہوں گے یا زیادتی
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ہدایہ باب نکاح الرقیق مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۲۰
درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۵۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ہدایہ باب نکاح الرقیق مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۲۰
درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۵۲
کے۔ بینواتوجروا
الجواب :
اگر شوہر زندہ اورنکاح قائم ہے یا طلاق بعد خلوت ہوئی یا شوہر مرگیا اور عورت کی نزاع اس کے وارثوں سے ہے ان سب صورتوں میں دیکھا جائے کہ۱عورت کا مہر مثل دس ہزار خواہ کم ہے یا۲ایك لاکھ خواہ زائد یا۳دس ہزار سے زیادہ ایك لاکھ سے کم ہے پہلی۱صورت میں عورت کے گواہ معتبر ہیں لاکھ روپے کی ڈگری ہوگی۔ دوسری۲صورت میں فریق ثانی کے گواہ معتبر ہیں دس۱۰ ہزار دلائے جائیں گے۔ تیسری۳صورت میں جتنا مہر مثل ہے اتنے کی ڈگری دیں گے۔ یہ سب اس حال میں ہے کہ دونوں کے گواہ قابل قبول شرع ہوں اور وجہ شرع پر شہادت ادا کی ہو اور اگر ان میں ایك ہی فریق کے گواہ ایسے ہیں تو مطلقا انہوں کا اعتبار ہوگا خواہ لاکھ کے ہوں یا دس۱۰ ہزار۴ کے دوسرے فریق کی شہادت کا لعدم ہوگی اور اگر دونوں فریق کی شہادت شرعا کا لعدم ہوتو پہلی صورت میں فریق شوہر سے حلف لیں گے کہ لاکھ روپے مہر نہ بندھا تھااگر قاضی کے حضور حلف سے انکار کردے گا لاکھ کی ڈگری ہوگی اورحلف سے انکار کردے گی دس۱۰ہزار پائے گی اور حلف کرلے گی تو لاکھ اور تیسری صورت میں دونوں حلف کرلیں گے مہر مثل دلایا جائیگا اگرزن وشو میں طلاق قبل خلوت کے بعد اختلاف ہوا تو مطلقا قول شوہر حلف سے معتبر ہے۔ جس طرح بعد موت زوجین ان کے ورثہ میں اختلاف ہوتو مطلقا وارثان شوہر کا قول معبتر ہے۔ درمختار میں ہے :
(ان اختلفا) فی المھر (فی قدرہ حال قیام النکاح فالقول لممن شھد لہ مھر المثل) بیمینہ (وای اقام بینۃ قبلت) سواء(شھد لہ او لھا اولاوان اقاما فبینتھا) مقدمۃان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا وان کان بینھما تحالفا فان حلفا اوبرھنا قضی بہ وان برھن احدھما قبل
نکاح کے دوران اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا (تومہر مثل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا) لہذا مہر مثل جس کی تائید کرے گا اس کی بات قسم لے کر تسلیم کی جائے گی اور جس نے گواہ پیش کردئے تو اس کی گواہی مقبول ہوگی مہرمثل بیوی یا خاوند کی تائید کرے یا کسی کی نہ کرے ہر طرح گواہی مقبول ہوگی اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور خاوند کی شہادت کو اولیت
الجواب :
اگر شوہر زندہ اورنکاح قائم ہے یا طلاق بعد خلوت ہوئی یا شوہر مرگیا اور عورت کی نزاع اس کے وارثوں سے ہے ان سب صورتوں میں دیکھا جائے کہ۱عورت کا مہر مثل دس ہزار خواہ کم ہے یا۲ایك لاکھ خواہ زائد یا۳دس ہزار سے زیادہ ایك لاکھ سے کم ہے پہلی۱صورت میں عورت کے گواہ معتبر ہیں لاکھ روپے کی ڈگری ہوگی۔ دوسری۲صورت میں فریق ثانی کے گواہ معتبر ہیں دس۱۰ ہزار دلائے جائیں گے۔ تیسری۳صورت میں جتنا مہر مثل ہے اتنے کی ڈگری دیں گے۔ یہ سب اس حال میں ہے کہ دونوں کے گواہ قابل قبول شرع ہوں اور وجہ شرع پر شہادت ادا کی ہو اور اگر ان میں ایك ہی فریق کے گواہ ایسے ہیں تو مطلقا انہوں کا اعتبار ہوگا خواہ لاکھ کے ہوں یا دس۱۰ ہزار۴ کے دوسرے فریق کی شہادت کا لعدم ہوگی اور اگر دونوں فریق کی شہادت شرعا کا لعدم ہوتو پہلی صورت میں فریق شوہر سے حلف لیں گے کہ لاکھ روپے مہر نہ بندھا تھااگر قاضی کے حضور حلف سے انکار کردے گا لاکھ کی ڈگری ہوگی اورحلف سے انکار کردے گی دس۱۰ہزار پائے گی اور حلف کرلے گی تو لاکھ اور تیسری صورت میں دونوں حلف کرلیں گے مہر مثل دلایا جائیگا اگرزن وشو میں طلاق قبل خلوت کے بعد اختلاف ہوا تو مطلقا قول شوہر حلف سے معتبر ہے۔ جس طرح بعد موت زوجین ان کے ورثہ میں اختلاف ہوتو مطلقا وارثان شوہر کا قول معبتر ہے۔ درمختار میں ہے :
(ان اختلفا) فی المھر (فی قدرہ حال قیام النکاح فالقول لممن شھد لہ مھر المثل) بیمینہ (وای اقام بینۃ قبلت) سواء(شھد لہ او لھا اولاوان اقاما فبینتھا) مقدمۃان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا وان کان بینھما تحالفا فان حلفا اوبرھنا قضی بہ وان برھن احدھما قبل
نکاح کے دوران اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا (تومہر مثل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا) لہذا مہر مثل جس کی تائید کرے گا اس کی بات قسم لے کر تسلیم کی جائے گی اور جس نے گواہ پیش کردئے تو اس کی گواہی مقبول ہوگی مہرمثل بیوی یا خاوند کی تائید کرے یا کسی کی نہ کرے ہر طرح گواہی مقبول ہوگی اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور خاوند کی شہادت کو اولیت
برھانہ)لانہ نور دعواہ اھ(ملخصا)اقول : قولہ وان کان بینھما مسئلۃ مستانفۃ غیر داخلۃ تحت قولہ “ وان اقاما “ جمع فیہ ما اذا برھن احدھما وکلاھما اولا احد۔ فبین احکام الصور الثلاث وقد اختار قول ابی بکر الرازی الذی صححہ قاضیخان فی شرح الجامع الصغیرو السغناقی فی النہایۃ وجزم بہ فی الملتقی وقد مہ فی الھدایۃ والتبیین وغیرھما ان لاتحالف الا اذا کان المھر بینھما' فسقط کلا اعتراضی العلامۃ الشامی انہ کان علیہ حذف قولہ “ تحالفا “ لانہ اذا برھنا لاتحالف وان قولہ “ وان برھن احدھما “ یغنی عنہ قولہ قبلہ وای اقام بینۃ قبلت الخ فللہ درہ ما امھرہ وقول الکرخی انھما یتحالفان مطلقا سواء شھد المھر لہ اولھا اولا وصححہ فی المبسوط والمحیط وجزم بہ فی الکنز فی باب التحالف اقول لکن الاول ھوالمذکورفی الجامع الصغیرکما فی ش فترجح بہ بعد تکافؤالتصحیحین خلافا لما فی البحر انہ لم یرمن رجح الاول فلذاجعلناعلیہ المحول وباﷲالتوفیق۔
ہوگی اگر مہر مثل بیوی کی تائی کرے اور مہر مثل دونوں کے مابین ہو یعنی کسی کی تائید نہ کرے تو دونوں سے قسم لی جائیگی پھرا گر دونوں نے قسم کھائی یا دونوں نے گواہ پیش کئے تو قاضی مہر مثل کافیصلہ کرے اور اگر صرف ایك نے شہادت پیش کی تو قاضی اس کی شہادت پر فیصلہ دے کیونکہ اس نے اپنے دعوی کور وشن کردیا اھ(ملخصا)
اقول : اس کا قول “ ان کان بینھما “ سے نیا مسئلہ شروع کیا ہے یہ پہلے مذکورہ انہوں نے تین صورتوں کو جمع کیا ہے کہ کسی نے گواہ پیش نہ کئے یا ایك نے کئے یا دونوں نے کئے تو تینوں صورتوں کے احکام بیان کئے اور ابوبکر رازی کے قول کو مختار بنایا جس کو قاضی خان نے شرح جامع صغیر میں اور سغناقی نے نہایہ میں صحیح قرار دیا ہے اور اس پر ملتقی میں جزم کیا ہ اور اسی کو ہدایہ میں اور تبیین وغیرہما میں مقدم رکھا کہ جب مہر مثل دونوں کے دعووں کے درمیان ہوتو دونوں سے علامہ شامی کے دونوں اعتراض سقط ہوگئے کہ مصنف پر لازم تھا کہ وہ “ تحافا “ کو حذف کرتے کیونکہ جب دونوں نے گواہ پیش کردئے تو اب دونوں پر قسم نہیں ہوگی۔ اور دوسرا یہ اعتراض کہ اس کا قول “ ان برھن احدھما “ سے ان کا پہلا قول “ وای بینۃ قبلت “ مستغنی کرتا ہے الخ تو اﷲ تعالی کے لئے ہی مصنف کی بھلائی ہے انہوں نے کیا مہارت دکھائی۔ اور امام کرخی کا قول ہے کہ مطلقا دونوں قسم دیں مہرمثل دونوں سے کسی کی تائید کرے یا نہ کرے اس کو مبسوط ومحیط میں صحیح قرار دیا اور کنز کے
ہوگی اگر مہر مثل بیوی کی تائی کرے اور مہر مثل دونوں کے مابین ہو یعنی کسی کی تائید نہ کرے تو دونوں سے قسم لی جائیگی پھرا گر دونوں نے قسم کھائی یا دونوں نے گواہ پیش کئے تو قاضی مہر مثل کافیصلہ کرے اور اگر صرف ایك نے شہادت پیش کی تو قاضی اس کی شہادت پر فیصلہ دے کیونکہ اس نے اپنے دعوی کور وشن کردیا اھ(ملخصا)
اقول : اس کا قول “ ان کان بینھما “ سے نیا مسئلہ شروع کیا ہے یہ پہلے مذکورہ انہوں نے تین صورتوں کو جمع کیا ہے کہ کسی نے گواہ پیش نہ کئے یا ایك نے کئے یا دونوں نے کئے تو تینوں صورتوں کے احکام بیان کئے اور ابوبکر رازی کے قول کو مختار بنایا جس کو قاضی خان نے شرح جامع صغیر میں اور سغناقی نے نہایہ میں صحیح قرار دیا ہے اور اس پر ملتقی میں جزم کیا ہ اور اسی کو ہدایہ میں اور تبیین وغیرہما میں مقدم رکھا کہ جب مہر مثل دونوں کے دعووں کے درمیان ہوتو دونوں سے علامہ شامی کے دونوں اعتراض سقط ہوگئے کہ مصنف پر لازم تھا کہ وہ “ تحافا “ کو حذف کرتے کیونکہ جب دونوں نے گواہ پیش کردئے تو اب دونوں پر قسم نہیں ہوگی۔ اور دوسرا یہ اعتراض کہ اس کا قول “ ان برھن احدھما “ سے ان کا پہلا قول “ وای بینۃ قبلت “ مستغنی کرتا ہے الخ تو اﷲ تعالی کے لئے ہی مصنف کی بھلائی ہے انہوں نے کیا مہارت دکھائی۔ اور امام کرخی کا قول ہے کہ مطلقا دونوں قسم دیں مہرمثل دونوں سے کسی کی تائید کرے یا نہ کرے اس کو مبسوط ومحیط میں صحیح قرار دیا اور کنز کے
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۔ ۲۰۲
باب تحالف میں اس پر جزم کیا اقول : لیکن پہلا قول : جامع صغیر میں مذکور ہے جیسا کہ ش میں ہے تو دونوں تصحیحات کے مساوی ہونے کے بعد ترجیح بن جائے گی۔ بحر میں اس کے خلاف ہے انہوں نے پہلے کو ترجیح دینے والا کوئی نہ پایا تو اسی بناء پر ہم نے اس پر نشان دہی کر دی توفیق من جانب اﷲ ہے۔ (ت)
بدائع و ہندیہ میں ہے :
ولو اختانا بعد الطلاق بعد الدخول او الخلوۃ فکما لو اختلفا حال قیام النکاح وان کان قبل الدخول والخلوۃ والمھر دین فاختلفا فی الالف والالفین فالقول قول الزوج ویتنصف مایقول الزوج ولم یذکر الخلاف ذکرہ الکرخی وحکی الاجماع وقال نصف الالف فی قولھم اھ وصححہ فی البدائع و شرح الطحاوی و رجحہ فی الفتح۔
اگر خاوند بیوی نے طلاق کے بعد اختلاف کیا جبکہ دخول یا خلوت ہوچکی تو حکم وہی ہے جو حالت نکاح میں اختلاف کا تھا اور اگر یہ اختلاف طلاق قبل از دخول وخلوت کے بعد ہوا اور مہر دین ہوا تو ہزار اور دو ہزار میں اختلاف ہوا تو اس میں خاوند کا قول معتبر ہے لہذا خاوند کے بیان کردہ کا نصف دیاجائے اور انہوں نے کرخی کا بیان کردی خلاف ذکر نہیں کیا اور اجماع کو حکایت کرکے یہ کہہ دیا کہ سب کے قول میں ہزار کا نصف ہوگا اھ اس کو بدائع میں اور شرع طحاوی میں صحیح کہا اور فتح میں اس کو راجح قرار دیا۔ (ت)
تبیین الحقائق وعالمگیریہ میں ہے :
فان مات الزوجان ووقع الاختلاف بین الورثۃ فی مقدار المسمی فالقول قول ورثہ الزوج ۔
اگر خاوند بیوی دونوں فوت ہوجائیں اور ان کے وارثوں میں مقرر مہر کے بارے میں اختلاف ہوا تو خاوند کے ورثاء کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فیلزمھم ما اعترفوا بہ بحر ولا یحکم بمھر المثل لان اعتبار ہ یسقط عند ابی حنیفۃ بعد موتھما درر اھ کذا ھو فی نسختی بمھر المثل
تو ان پر اپنے اقرارکے مطابق لازم ہوگا بحر۔ اور مہر مثل پر فیصلہ نہ دیاجائے گا کیونکہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں دونوں کی فوتگی کے بعد مہر مثل کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے درر اھ۔ اور
بدائع و ہندیہ میں ہے :
ولو اختانا بعد الطلاق بعد الدخول او الخلوۃ فکما لو اختلفا حال قیام النکاح وان کان قبل الدخول والخلوۃ والمھر دین فاختلفا فی الالف والالفین فالقول قول الزوج ویتنصف مایقول الزوج ولم یذکر الخلاف ذکرہ الکرخی وحکی الاجماع وقال نصف الالف فی قولھم اھ وصححہ فی البدائع و شرح الطحاوی و رجحہ فی الفتح۔
اگر خاوند بیوی نے طلاق کے بعد اختلاف کیا جبکہ دخول یا خلوت ہوچکی تو حکم وہی ہے جو حالت نکاح میں اختلاف کا تھا اور اگر یہ اختلاف طلاق قبل از دخول وخلوت کے بعد ہوا اور مہر دین ہوا تو ہزار اور دو ہزار میں اختلاف ہوا تو اس میں خاوند کا قول معتبر ہے لہذا خاوند کے بیان کردہ کا نصف دیاجائے اور انہوں نے کرخی کا بیان کردی خلاف ذکر نہیں کیا اور اجماع کو حکایت کرکے یہ کہہ دیا کہ سب کے قول میں ہزار کا نصف ہوگا اھ اس کو بدائع میں اور شرع طحاوی میں صحیح کہا اور فتح میں اس کو راجح قرار دیا۔ (ت)
تبیین الحقائق وعالمگیریہ میں ہے :
فان مات الزوجان ووقع الاختلاف بین الورثۃ فی مقدار المسمی فالقول قول ورثہ الزوج ۔
اگر خاوند بیوی دونوں فوت ہوجائیں اور ان کے وارثوں میں مقرر مہر کے بارے میں اختلاف ہوا تو خاوند کے ورثاء کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فیلزمھم ما اعترفوا بہ بحر ولا یحکم بمھر المثل لان اعتبار ہ یسقط عند ابی حنیفۃ بعد موتھما درر اھ کذا ھو فی نسختی بمھر المثل
تو ان پر اپنے اقرارکے مطابق لازم ہوگا بحر۔ اور مہر مثل پر فیصلہ نہ دیاجائے گا کیونکہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں دونوں کی فوتگی کے بعد مہر مثل کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے درر اھ۔ اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی عشر اختلاف الزوجین فی المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۲۱
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی عشر اختلاف الزوجین فی المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۲۱
ردالمحتار باب المہر مسائل الاختلاف فی المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی عشر اختلاف الزوجین فی المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۲۱
ردالمحتار باب المہر مسائل الاختلاف فی المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۲
اقول والاولی اسقاط الباء۔ واﷲتعالی اعلم۔
میرے پاس نسخہ میں “ بمہر المثل “ باء کے ساتھ ہے اقول : باء کو ساقط کرنا اولی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۵تا۶۶ : ازریاست جارورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں صاحب اہل کار محکمہ حساب ۲شوال ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے لئے مہر کا ہونا لازم ہے جو عموما متعین ہوتا ہے مہر کی نقد ادھار بھی ضروری ہے اگر عورت چاہے تو کیا سب مہر کو مثل نقد یامثل اپنے مطالبہ یا قرضہ کے حاصل کرسکتی ہے اس کی حسب ذیل تشریح فرمادی ہے :
(ا) مہر معجل کی یہ تعریف ہے کہ تا وقتیکہ زوجہ تمام وکمال معجل وصول نہ کرے اسے اختیار ہے کہ خواہ وہ زوج کے گھر جائے یا نہ جائے یا اس سے بات چیت کرے یا نہ کرے پس اگر زوج نے دھوکے سے منجملہ مہر معجل جو زیور ہندہ کو دیا تھا وہ نکاح کے بعد دلہن گھر گئی واپس لے لیا پس اب زوج بھی اس کا مقروض سمجھا جائے گا یا نہیں اور زوج نے منجملہ مہر معجل کے پانسو روپیہ(صماء )کا مکان حسب منشاء زوجہ خود خرید کردینے کا تحریری اقرار کیا تھا تو کیا ہندہ اب مہر معجل پانے کی مستحق ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا جب تك اسے مہر معجل نہ پہنچے اسے زوج کے گھر جانا چاہئے یا نہیں اگر اسے اختیار ہے تو کیاجب تك شوہر مہر معجل ادا نہ کردے وہ نان ونفقہ پاسکتی ہے یا نہیں
(ب) مہر غیر معجل نکاح اور خلوت صحیحہ کے بعد کب سے کب تك زوجہ پاسکتی ہے کیونکہ مہر غیر معجل کے لئے کوئی زمانہ مقرر نہیں اگر بعد خلوت صحیحہ ہر وقت مہر پانے کی مستحق ہے تو جب تك اپنا مہر اتنا نہ وصول کرلے زوج کے گھر رہنے سے انکار کرسکتی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
نکاح کے لئے مہر لازم ہے بایں معنی کہ مہر کا ذکر نکاح میں ہو یا نہ ہو بلکہ مہر کی نفی شرط کرلی ہو جب بھی مہردینا آئےگا تعیین مہر نکاح کے لئے کچھ ضرور نہیں اگر تعیین نہ ہوگی مہر مثل دینا پڑے گا مہر کہ نکاح میں مقرر کیا جاتا ہے تین قسم ہے :
معجل مؤجل مؤخر۔
معجل وہ کہ قبل رخصت دینا قرار پائے۔ عورت کو اختیار ہے کہ جب تك اسے تمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے یہاں نہ جائے اور اس نہ جانے سے وہ نفقہ سے محروم نہ ہوگی پانسو (صماء) روپیہ کا مکان اگرمنجملہ مہر قرار پایا تھا تو اس کے وصول تك بھی ہندہ اپنے آپ کو روك سکتی ہے۔ زیورات جو مہر معجل میں دئے گئے تھے وہ مہر ادا ہوگیا پھر اگر زوج نے دھوکا دے کر واپس لے لئے تو اس سے مہر معجل اس کے ذمہ عود نہ کرے گا
میرے پاس نسخہ میں “ بمہر المثل “ باء کے ساتھ ہے اقول : باء کو ساقط کرنا اولی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۵تا۶۶ : ازریاست جارورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں صاحب اہل کار محکمہ حساب ۲شوال ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے لئے مہر کا ہونا لازم ہے جو عموما متعین ہوتا ہے مہر کی نقد ادھار بھی ضروری ہے اگر عورت چاہے تو کیا سب مہر کو مثل نقد یامثل اپنے مطالبہ یا قرضہ کے حاصل کرسکتی ہے اس کی حسب ذیل تشریح فرمادی ہے :
(ا) مہر معجل کی یہ تعریف ہے کہ تا وقتیکہ زوجہ تمام وکمال معجل وصول نہ کرے اسے اختیار ہے کہ خواہ وہ زوج کے گھر جائے یا نہ جائے یا اس سے بات چیت کرے یا نہ کرے پس اگر زوج نے دھوکے سے منجملہ مہر معجل جو زیور ہندہ کو دیا تھا وہ نکاح کے بعد دلہن گھر گئی واپس لے لیا پس اب زوج بھی اس کا مقروض سمجھا جائے گا یا نہیں اور زوج نے منجملہ مہر معجل کے پانسو روپیہ(صماء )کا مکان حسب منشاء زوجہ خود خرید کردینے کا تحریری اقرار کیا تھا تو کیا ہندہ اب مہر معجل پانے کی مستحق ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا جب تك اسے مہر معجل نہ پہنچے اسے زوج کے گھر جانا چاہئے یا نہیں اگر اسے اختیار ہے تو کیاجب تك شوہر مہر معجل ادا نہ کردے وہ نان ونفقہ پاسکتی ہے یا نہیں
(ب) مہر غیر معجل نکاح اور خلوت صحیحہ کے بعد کب سے کب تك زوجہ پاسکتی ہے کیونکہ مہر غیر معجل کے لئے کوئی زمانہ مقرر نہیں اگر بعد خلوت صحیحہ ہر وقت مہر پانے کی مستحق ہے تو جب تك اپنا مہر اتنا نہ وصول کرلے زوج کے گھر رہنے سے انکار کرسکتی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
نکاح کے لئے مہر لازم ہے بایں معنی کہ مہر کا ذکر نکاح میں ہو یا نہ ہو بلکہ مہر کی نفی شرط کرلی ہو جب بھی مہردینا آئےگا تعیین مہر نکاح کے لئے کچھ ضرور نہیں اگر تعیین نہ ہوگی مہر مثل دینا پڑے گا مہر کہ نکاح میں مقرر کیا جاتا ہے تین قسم ہے :
معجل مؤجل مؤخر۔
معجل وہ کہ قبل رخصت دینا قرار پائے۔ عورت کو اختیار ہے کہ جب تك اسے تمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے یہاں نہ جائے اور اس نہ جانے سے وہ نفقہ سے محروم نہ ہوگی پانسو (صماء) روپیہ کا مکان اگرمنجملہ مہر قرار پایا تھا تو اس کے وصول تك بھی ہندہ اپنے آپ کو روك سکتی ہے۔ زیورات جو مہر معجل میں دئے گئے تھے وہ مہر ادا ہوگیا پھر اگر زوج نے دھوکا دے کر واپس لے لئے تو اس سے مہر معجل اس کے ذمہ عود نہ کرے گا
اور اس کی وجہ سے عورت کو اپنے نفس کے روکنے کا اختیار نہ ہوگا کہ مہر تو زیور پر قبضہ زن سے ادا ہولیا تھا اب یہ عورت کا ایك مال ہے جو زوج نے غصب کرلیا اگر بعینہ باقی ہے اس کا واپس دینا فرض ہے اور ہلاك ہوگیا تو اس کا تاوان دے۔
اور مہرمؤجل وہ جس کے ادا کی ایك میعاد معین قرار پائی ہو مثلا سال بھر بعد یا دس برس بعد میعاد جب تك نہ گزرے عورت کو مطالبہ اختیار نہیں بعد انقضائے میعاد مطالبہ کرسکے گی اور میعاد آنے پر اگر شوہر دینے میں تاخیر کرے تو اس کے لئے اپنے نفس کونہیں روك سکتی خصوصا جبکہ رخصت ہوچکی ہو ۔ شرح جامع صغیر امام قاضی خاں میں ہے :
لوکان المھر مؤجلا لیس لھا المنع قبل حلول الاجل والابعدہ وعلی قول ابی یوسف لھا المنع الی استیفاء الاجل اذا لم یکن دخل بھا ۔
اگرمہر معجل ہو تو مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل یا بعد بیوی کو منع کا حق نہیں ہے اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے ایك قول پر غیر مدخول بہا کو مدت مقررہ آنے تك بیوی کو منع حق ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
وبہ یفتی استحسانا والوالجیۃ ۔
اسی پر فتوی دیاجائے گا استحسانا والوالجیہ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وفی البحر عن الفتح ھذا کلہ اذا لم یشترط الدخول قبل حلول الاجل فلو شرطہ ورضیت بہ لیس لھا الامتناع اتفاقا ۔
بحر میں فتح سے ہے یہ جب ہے کہ مقررہ مدت پوری ہونے سے قبل دخول کی شرط نہ لگائی ہو اور اگریہ شرط لگائی گئی ہو اور بیوی کی رضامندی سے دخول ہوچکا ہو توپھر بالاتفاق اس کو منع کرنے کاحق نہیں ہے۔ (ت)
اس پر حاشیہ فقیر جدالممتار میں ہے :
اقول : وعرف بلادنا الدخول قبل اداء شیئی منہ والمعروف کالمشروط فلایکون لھا الامتناع
اقول : اور ہمارے علاقے کا عرف یہ ہے کہ مہر کا حصہ ادا کرنے سے قبل دخول ہوتا ہے تو معروف
اور مہرمؤجل وہ جس کے ادا کی ایك میعاد معین قرار پائی ہو مثلا سال بھر بعد یا دس برس بعد میعاد جب تك نہ گزرے عورت کو مطالبہ اختیار نہیں بعد انقضائے میعاد مطالبہ کرسکے گی اور میعاد آنے پر اگر شوہر دینے میں تاخیر کرے تو اس کے لئے اپنے نفس کونہیں روك سکتی خصوصا جبکہ رخصت ہوچکی ہو ۔ شرح جامع صغیر امام قاضی خاں میں ہے :
لوکان المھر مؤجلا لیس لھا المنع قبل حلول الاجل والابعدہ وعلی قول ابی یوسف لھا المنع الی استیفاء الاجل اذا لم یکن دخل بھا ۔
اگرمہر معجل ہو تو مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل یا بعد بیوی کو منع کا حق نہیں ہے اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے ایك قول پر غیر مدخول بہا کو مدت مقررہ آنے تك بیوی کو منع حق ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
وبہ یفتی استحسانا والوالجیۃ ۔
اسی پر فتوی دیاجائے گا استحسانا والوالجیہ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وفی البحر عن الفتح ھذا کلہ اذا لم یشترط الدخول قبل حلول الاجل فلو شرطہ ورضیت بہ لیس لھا الامتناع اتفاقا ۔
بحر میں فتح سے ہے یہ جب ہے کہ مقررہ مدت پوری ہونے سے قبل دخول کی شرط نہ لگائی ہو اور اگریہ شرط لگائی گئی ہو اور بیوی کی رضامندی سے دخول ہوچکا ہو توپھر بالاتفاق اس کو منع کرنے کاحق نہیں ہے۔ (ت)
اس پر حاشیہ فقیر جدالممتار میں ہے :
اقول : وعرف بلادنا الدخول قبل اداء شیئی منہ والمعروف کالمشروط فلایکون لھا الامتناع
اقول : اور ہمارے علاقے کا عرف یہ ہے کہ مہر کا حصہ ادا کرنے سے قبل دخول ہوتا ہے تو معروف
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ شرح الجامع الصغیر امام قاضیخان باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۰
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۵۹
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۵۹
اجماعا بالاتفاق
مشروط کی طرح ہوتا ہے اس لئے ہمارے علاقہ میں بالاجماع بیوی کو منع کا حق نہیں ہوگا۔ (ت)
مؤخر وہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا ہو نہ اس کی کوئی میعاد مقرر کیا ہو اس کا مطالبہ نہیں ہوسکتا مگر بعد موت یا طلاق نہ اس کے لئے کسی وقت اپنے نفس کور وك سکتی ہے۔ فتاوی خانیہ میں ہے :
اذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر مایتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ ۔ واﷲتعالی اعلم ۔
جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے مطابق جو قدرمعجل ہو وہ ادا کردے اور باقی طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا اس سے قبل قاضی اس کو تمام مہر ادا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی قاضی اسے قید کرسکتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۷ : از قصبہ نرہڑ ڈاکخانہ چڑوہ ضلع شیخاواٹی محلہ پیر زاد گان مرسلہ منشی محمد علی صاحب ارم مدرس۲۲شوال ۱۳۳۹ھ
اس مسئلہ میں شریعت عزائے اسلام کا کیا حکم ہے ایك شخص نے اپنا نکاح ثانی کیا اور اپنی تمام جائداد کا مہر مقرر کیا جائداد علی التوریث چلی آرہی ہے جس میں ایك کھیت زمین بارانی' مکان سکنی آمدنی خانقاہ ہر قسم حصہ خود ایك گاؤں سے کچھ نقد رقم آتی ہے وہ رقم حصہ خود غرض سب جائداد منقولہ غیر منقولہ کا مہر مقرر کرکے اپنی بیوی کے نام ہبہ کردی یہ جائز ہے یانہیں اگر نہیں تو کیا مہر لازم آئے گا اس کے ایك حقیقی بہن بھی ہے مگر یہاں رواج ہمشیرہ کو حصہ کا نہیں رشتہ کے بھتیجے موجود ہیں جو حسب دستور اس کے بعد مستحق جائداد وغیرہ ہیں عمر ساٹھ برس ہے جو مکان اور جائداد مہر ہوکر ہبہ ہوچکی اس کے سوا اور کوئی مکان رہنے کو اور نان نفقہ کو کوئی وجہ معاش نہیں یہاں نکاح ثانی نہیں ہوتا اب بکوشش جاری ہوا ہے یہی وجہ زیادتی مہر ہے ان سب صورتوں میں یہ شخص یا ہر شخص ایسا مہر مقرر کرسکتا ہے
الجواب :
جس قدر جائداد اس کو متروکہ پدری یا مادری سے پہنچی اس میں سے جس قدر اس کا حصہ ہے
مشروط کی طرح ہوتا ہے اس لئے ہمارے علاقہ میں بالاجماع بیوی کو منع کا حق نہیں ہوگا۔ (ت)
مؤخر وہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا ہو نہ اس کی کوئی میعاد مقرر کیا ہو اس کا مطالبہ نہیں ہوسکتا مگر بعد موت یا طلاق نہ اس کے لئے کسی وقت اپنے نفس کور وك سکتی ہے۔ فتاوی خانیہ میں ہے :
اذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر مایتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ ۔ واﷲتعالی اعلم ۔
جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے مطابق جو قدرمعجل ہو وہ ادا کردے اور باقی طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا اس سے قبل قاضی اس کو تمام مہر ادا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی قاضی اسے قید کرسکتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۷ : از قصبہ نرہڑ ڈاکخانہ چڑوہ ضلع شیخاواٹی محلہ پیر زاد گان مرسلہ منشی محمد علی صاحب ارم مدرس۲۲شوال ۱۳۳۹ھ
اس مسئلہ میں شریعت عزائے اسلام کا کیا حکم ہے ایك شخص نے اپنا نکاح ثانی کیا اور اپنی تمام جائداد کا مہر مقرر کیا جائداد علی التوریث چلی آرہی ہے جس میں ایك کھیت زمین بارانی' مکان سکنی آمدنی خانقاہ ہر قسم حصہ خود ایك گاؤں سے کچھ نقد رقم آتی ہے وہ رقم حصہ خود غرض سب جائداد منقولہ غیر منقولہ کا مہر مقرر کرکے اپنی بیوی کے نام ہبہ کردی یہ جائز ہے یانہیں اگر نہیں تو کیا مہر لازم آئے گا اس کے ایك حقیقی بہن بھی ہے مگر یہاں رواج ہمشیرہ کو حصہ کا نہیں رشتہ کے بھتیجے موجود ہیں جو حسب دستور اس کے بعد مستحق جائداد وغیرہ ہیں عمر ساٹھ برس ہے جو مکان اور جائداد مہر ہوکر ہبہ ہوچکی اس کے سوا اور کوئی مکان رہنے کو اور نان نفقہ کو کوئی وجہ معاش نہیں یہاں نکاح ثانی نہیں ہوتا اب بکوشش جاری ہوا ہے یہی وجہ زیادتی مہر ہے ان سب صورتوں میں یہ شخص یا ہر شخص ایسا مہر مقرر کرسکتا ہے
الجواب :
جس قدر جائداد اس کو متروکہ پدری یا مادری سے پہنچی اس میں سے جس قدر اس کا حصہ ہے
حوالہ / References
جدا لممتار حاشیہ ٧١٧ المجمع الاسلامی مبارکپور ، انڈیا ۲ / ۴۱۷
قاضیخان باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۷۴-۱۷۳
قاضیخان باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۷۴-۱۷۳
وہ مہر ملك زوجہ ہوگیا اور جتنا حصہ اس کی بہن کا ہے اگر وہ اجازت دے دے تو وہ بھی ملك زوجہ ہوگیا اور اگر وہ اجازت نہ دے تو حصہ خواہر کی جتنی قیمت ہے وہ اسے مہر میں دینا پڑے گی۔ عالمگیریہ میں ہے :
فاذاتزوجھا علی ھذا العبد وھو ملك الغیر او علی ھذہ الدار وھی ملك الغیر فالنکاح جائز والتسمیۃ صحیحۃ فبعد ذلك ینظر ان اجاز صاحب الدر وصاحب العبد ذلك فلھا عین المسمی وان لم یجز المستحق لایبطل النکاح ولاالتسمیۃ حتی لایجب مہر المثل وانما تجب قیمۃ المسمی کذافی المحیط ۔
جب کسی نے ایك خاص عبد یا ایك مکان بطور مہر پر نکاح کیا جبکہ وہ عبد اور مکان کسی غیر کی ملکیت ہوں تو یہ نکاح جائز ہوگا اور مہر کے طور پر ان کا ذکر صحیح ہے بعد میں دیکھا جائے کہ اس عبد یا مکان کا مالك دینے پر تیار ہے تو وہی عبد یا مکان مذکور ہ دیا جائے گا اور مالك دینے پر تیار نہ ہو تو پھر بھی نکاح اور مہر باطل نہ ہوگا حتی کہ مہر مثل واجب نہ ہوگا بلکہ اب اس عبد یا مکان کی قیمت دی جائے۔ محیط میں یونہی ہے(ت)
آمدنی خانقاہ جیسے نذ ور وغیرہا کہ فی الحال معدوم ہیں وہ داخل مہر نہ ہوئیں مگر ان چیزوں کے نکل جانے سے جائداد کے حصص موجودہ کہ مہر کئے گئے ان پر اثر نہ پڑے گا وہ مہرمیں ہوچکے نہ اس کی وجہ سے مہر مثل لازم آئے بلکہ وہی حصص موجودہ مہر میں دئے جائیں گے۔ عالمگیری میں ہے :
واذاسمی فی العقد ماھو معدوم فی الحال بان تزوجھا علی مایثمر نخیلہ العام او علی ماتخرج ارضہ العام او علی مایکتسب غلامہ لایصح التسمیۃ وکان لھا مھر المثل ۔
اگر نکاح میں ایسی چیز کو مہر ذکر کیا جو فی الحال معدوم ہے مثلا اس سال کھجوریں یا زمین جو فصل دیں گی یا میرا غلام اس سال جو کمائے گا وغیرہ تو مہر میں ان کا ذکر صحیح نہیں لہذا مہر مثل واجب ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لوسمی عشرۃ دراھم ورطل خمر فلھا المسمی ولا یکمل مھر المثل بحر ۔
اگر مہرمیں دس۱۰درم اور ایك رطل شراب مقرر کیا ہو تو بیوی کو مقررہ مہر دیا جائیگا اور مہر مثل کو پورا نہ کیا جاےگا بحر۔ (ت)
فاذاتزوجھا علی ھذا العبد وھو ملك الغیر او علی ھذہ الدار وھی ملك الغیر فالنکاح جائز والتسمیۃ صحیحۃ فبعد ذلك ینظر ان اجاز صاحب الدر وصاحب العبد ذلك فلھا عین المسمی وان لم یجز المستحق لایبطل النکاح ولاالتسمیۃ حتی لایجب مہر المثل وانما تجب قیمۃ المسمی کذافی المحیط ۔
جب کسی نے ایك خاص عبد یا ایك مکان بطور مہر پر نکاح کیا جبکہ وہ عبد اور مکان کسی غیر کی ملکیت ہوں تو یہ نکاح جائز ہوگا اور مہر کے طور پر ان کا ذکر صحیح ہے بعد میں دیکھا جائے کہ اس عبد یا مکان کا مالك دینے پر تیار ہے تو وہی عبد یا مکان مذکور ہ دیا جائے گا اور مالك دینے پر تیار نہ ہو تو پھر بھی نکاح اور مہر باطل نہ ہوگا حتی کہ مہر مثل واجب نہ ہوگا بلکہ اب اس عبد یا مکان کی قیمت دی جائے۔ محیط میں یونہی ہے(ت)
آمدنی خانقاہ جیسے نذ ور وغیرہا کہ فی الحال معدوم ہیں وہ داخل مہر نہ ہوئیں مگر ان چیزوں کے نکل جانے سے جائداد کے حصص موجودہ کہ مہر کئے گئے ان پر اثر نہ پڑے گا وہ مہرمیں ہوچکے نہ اس کی وجہ سے مہر مثل لازم آئے بلکہ وہی حصص موجودہ مہر میں دئے جائیں گے۔ عالمگیری میں ہے :
واذاسمی فی العقد ماھو معدوم فی الحال بان تزوجھا علی مایثمر نخیلہ العام او علی ماتخرج ارضہ العام او علی مایکتسب غلامہ لایصح التسمیۃ وکان لھا مھر المثل ۔
اگر نکاح میں ایسی چیز کو مہر ذکر کیا جو فی الحال معدوم ہے مثلا اس سال کھجوریں یا زمین جو فصل دیں گی یا میرا غلام اس سال جو کمائے گا وغیرہ تو مہر میں ان کا ذکر صحیح نہیں لہذا مہر مثل واجب ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لوسمی عشرۃ دراھم ورطل خمر فلھا المسمی ولا یکمل مھر المثل بحر ۔
اگر مہرمیں دس۱۰درم اور ایك رطل شراب مقرر کیا ہو تو بیوی کو مقررہ مہر دیا جائیگا اور مہر مثل کو پورا نہ کیا جاےگا بحر۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۰۳
فتاوٰی ہندیہ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۰۳
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ۳۳۵
فتاوٰی ہندیہ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۰۳
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ۳۳۵
بھتیجے اس کے وارث ہونا یا نفقہ کے لئے کچھ پاس نہ رہنا مانع صحت مہر نہیں جو مہر میں دے چکا اور جو کوئی ایسا مہر باندھے گا اس کا یہی حکم ہوگا اگر چہ ایسا کرنا عقل سے بعید ہے اور وہ رواج کہ بہن کو ترکہ نہیں دیتے باطل و مردود ہے اس سے اس کا حق سقط نہیں ہوتا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۸تا ۷۰ : از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی صاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
رئیس المحققین عمدۃ الامین محافظ الدین دام لطفہ تسلیم کے بعد عرض خدمت ہے کہ :
(۱) اگر طالق اور مطلقہ دونوں کہتے ہیں کہ نہ ہم نے وطی کی ہے نہ ایك جگہ تنہائی میں بیٹھے ہیں اب حضور انور بتائیں کہ ان کے کہنے پر اعتماد کرکے بغیر عدت کئے نکاح کیا جائے تو کچھ نکاح خواں پر تو گناہ نہیں ہے یا ہے
(۲) اگر محض عورت طالق کے دخول اور خلوت صحیحہ سے منکرہ ہے اور طالق کہتا ہے میں نے دخول کیا ہے یا برعکس ہوتو کس کے قول پر اعتماد کرکے بغیر عدت کئے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کیا جائے یا نہیں
(۳) ثبوت خلوت صحیحہ اور دخول کا گواہان سے ہوگا یاطالق مطلقہ سے سند فقہاء مع عبارت کتب واسم کتاب ارشاد ہو قیمت رقیمہ دی جائے گی بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) جبکہ ظاہر حال ان کے قول کا مکذب نہ ہو تو اس کا اعتبار کیا جائے گا نکاح خواں پر کوئی الزام نہ ہوگا واﷲتعالی اعلم۔
(۲) اگر عورت خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتی ہے اور شوہر منکر ہو تو عورت کا قول معتبر ہے تنویر میں ہے :
ولوافترقا فقالت بعد الدخول وقال الزوج قبل الدخول فالقول لھا ۔
جب دونوں میں مفارقت ہوئی تو بیوی نے کہا کہ دخول کے بعد ہوئی ہے اور خاوند نے کہا دخول سے قبل مفارقت ہوئی ہے تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
ردالمحتا میں ہے :
قولہ فقالت بعد الدخول المراد ھنا الاختلاف فی الخلوۃ ۔
اس کے قول کہ “ بیوی نے دخول کے بعد کہا “ سے مراد خلوت میں اختلاف ہے۔ (ت)
اور اگر عکس ہو تو قول شوہر بدرجہئ اولی معتبر ہے کہ وہ مقر ہے اور عورت انکار سے متعنت۔
مسئلہ ۶۸تا ۷۰ : از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی صاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
رئیس المحققین عمدۃ الامین محافظ الدین دام لطفہ تسلیم کے بعد عرض خدمت ہے کہ :
(۱) اگر طالق اور مطلقہ دونوں کہتے ہیں کہ نہ ہم نے وطی کی ہے نہ ایك جگہ تنہائی میں بیٹھے ہیں اب حضور انور بتائیں کہ ان کے کہنے پر اعتماد کرکے بغیر عدت کئے نکاح کیا جائے تو کچھ نکاح خواں پر تو گناہ نہیں ہے یا ہے
(۲) اگر محض عورت طالق کے دخول اور خلوت صحیحہ سے منکرہ ہے اور طالق کہتا ہے میں نے دخول کیا ہے یا برعکس ہوتو کس کے قول پر اعتماد کرکے بغیر عدت کئے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کیا جائے یا نہیں
(۳) ثبوت خلوت صحیحہ اور دخول کا گواہان سے ہوگا یاطالق مطلقہ سے سند فقہاء مع عبارت کتب واسم کتاب ارشاد ہو قیمت رقیمہ دی جائے گی بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) جبکہ ظاہر حال ان کے قول کا مکذب نہ ہو تو اس کا اعتبار کیا جائے گا نکاح خواں پر کوئی الزام نہ ہوگا واﷲتعالی اعلم۔
(۲) اگر عورت خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتی ہے اور شوہر منکر ہو تو عورت کا قول معتبر ہے تنویر میں ہے :
ولوافترقا فقالت بعد الدخول وقال الزوج قبل الدخول فالقول لھا ۔
جب دونوں میں مفارقت ہوئی تو بیوی نے کہا کہ دخول کے بعد ہوئی ہے اور خاوند نے کہا دخول سے قبل مفارقت ہوئی ہے تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
ردالمحتا میں ہے :
قولہ فقالت بعد الدخول المراد ھنا الاختلاف فی الخلوۃ ۔
اس کے قول کہ “ بیوی نے دخول کے بعد کہا “ سے مراد خلوت میں اختلاف ہے۔ (ت)
اور اگر عکس ہو تو قول شوہر بدرجہئ اولی معتبر ہے کہ وہ مقر ہے اور عورت انکار سے متعنت۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۰
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۳
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۳
در مختار میں ہے :
والاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق ۔
ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی اپنے مفاد کے خلاف بات کرے تو دوسرے فریق کی بات معتبر ہوگی بالاتفاق۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
تعنتا بان ینکر ما ینفعہ
(تعنت یہ ہے کہ وہ اپنے مفاد کے خلاف بات کرے۔ ت)
بہر حال ان میں جوکوئی خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتا ہو دوسرے کو قبل عدت نکاح پر اقدام نہ چاہئے قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل (حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : کیاکیا جائے جب بات کہہ دی گئی ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
(۳) دربارہ دخول تو ظاہر ہے کہ گواہوں کو کچھ دخل نہیں کہ وہ اس پر مطلع نہیں اور ظاہرا خلوت صحیحہ بھی شہادت سے جدا۔ ان کا علم اگر محیط ہوسکتا ہے تو صرف اتنی بات کوکہ سامنے یہ دونوں تنہا مکان میں گئے اس میں کوئی اور نہ تھا اور کواڑبند کرلئے اس پر اگر ثابت ہوئی تو صرف خلوت صحیحہ کے لئے تو یہ بھی لازم ہے کہ کوئی مانع نہ حسی ہونہ شرعی نہ طبع۔ اس پر شہادت نفی پر شہادت ہوگی اور وہ معتبر نہیں خصوصا بعض موانع وہ ہیں جو شاہدوں کی اطلاع سے ورا ہیں ' معہذااگر شوہر خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتا ہے تو وہ مقر ہے اقرار کے ساتھ شہادت کسی۔ اوراگر عورت بیان کرتی ہے تو وہ منکرہ ہے اور گواہ منکر سے نہیں لئے جاتے بلکہ مدعی سے ہاں یہ صورت متصور ہے کہ عورت اپنے اوپر سے دفع حلف کے لئے اقرار شوہر کے گواہ دے جو شہادت دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خلوت صحیحہ ہونے کا اقرار کیا
ھذاکلہ ماقلتہ تفقھا والفقیر الان متنزہ علی جبل بعید عن وطنی وکتبی فان اصبت فمن ربی وعندہ العلم بالحق وھو حسبی۔ واﷲتعالی اعلم۔
یہ جو کچھ میں نے کہا ہے محض فہم کی بنا پر کہا ہے اس وقت میں دور ایك پہاڑ پر تفریح میں ہوں اپنی کتب اور وطن سے دور ہوں لہذا اگر یہ درست ہو تو میرے علم رب کی طرف سے ہے اور اس کے پاس ہی حق کا علم ہے وہی مجھے کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسائل پر بفضلہ تعالی یہاں کبھی کوئی اجرت نہیں لی جاتی اور اس کو سخت عیب سمجھا جاتا ہے و ما اســٴـلكم
والاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق ۔
ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی اپنے مفاد کے خلاف بات کرے تو دوسرے فریق کی بات معتبر ہوگی بالاتفاق۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
تعنتا بان ینکر ما ینفعہ
(تعنت یہ ہے کہ وہ اپنے مفاد کے خلاف بات کرے۔ ت)
بہر حال ان میں جوکوئی خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتا ہو دوسرے کو قبل عدت نکاح پر اقدام نہ چاہئے قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل (حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : کیاکیا جائے جب بات کہہ دی گئی ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
(۳) دربارہ دخول تو ظاہر ہے کہ گواہوں کو کچھ دخل نہیں کہ وہ اس پر مطلع نہیں اور ظاہرا خلوت صحیحہ بھی شہادت سے جدا۔ ان کا علم اگر محیط ہوسکتا ہے تو صرف اتنی بات کوکہ سامنے یہ دونوں تنہا مکان میں گئے اس میں کوئی اور نہ تھا اور کواڑبند کرلئے اس پر اگر ثابت ہوئی تو صرف خلوت صحیحہ کے لئے تو یہ بھی لازم ہے کہ کوئی مانع نہ حسی ہونہ شرعی نہ طبع۔ اس پر شہادت نفی پر شہادت ہوگی اور وہ معتبر نہیں خصوصا بعض موانع وہ ہیں جو شاہدوں کی اطلاع سے ورا ہیں ' معہذااگر شوہر خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتا ہے تو وہ مقر ہے اقرار کے ساتھ شہادت کسی۔ اوراگر عورت بیان کرتی ہے تو وہ منکرہ ہے اور گواہ منکر سے نہیں لئے جاتے بلکہ مدعی سے ہاں یہ صورت متصور ہے کہ عورت اپنے اوپر سے دفع حلف کے لئے اقرار شوہر کے گواہ دے جو شہادت دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خلوت صحیحہ ہونے کا اقرار کیا
ھذاکلہ ماقلتہ تفقھا والفقیر الان متنزہ علی جبل بعید عن وطنی وکتبی فان اصبت فمن ربی وعندہ العلم بالحق وھو حسبی۔ واﷲتعالی اعلم۔
یہ جو کچھ میں نے کہا ہے محض فہم کی بنا پر کہا ہے اس وقت میں دور ایك پہاڑ پر تفریح میں ہوں اپنی کتب اور وطن سے دور ہوں لہذا اگر یہ درست ہو تو میرے علم رب کی طرف سے ہے اور اس کے پاس ہی حق کا علم ہے وہی مجھے کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسائل پر بفضلہ تعالی یہاں کبھی کوئی اجرت نہیں لی جاتی اور اس کو سخت عیب سمجھا جاتا ہے و ما اســٴـلكم
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۹
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴ / ۲۱۱
صحیح البخاری باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴ / ۲۱۱
صحیح البخاری باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
علیه من اجر-ان اجری الا على رب العلمین(۱۰۹) (تم سے کسی اجر کا سوال نہیں میرا اجر اﷲتعالی کے ہاں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱تا۷۲ : از کانپور طلاق محال مکان ابوالضیاءحکیم نورالدین صاحب مسئولہ عبید اﷲصاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)کسی قبیلہ میں یہ رسم ہے کہ عقد کے پیشتر جو کچھ شرائط متعلق عقد کرنا ہوتے ہیں نوشاہ سے بتوسط والدین یا کسی دیگر عزیز قریب کے سا طرح پر طے کرتے ہیں کہ نوشاہ بالکل خاموش بیٹھا رہتا ہے اور دوسرے لوگ جو کچھ اس کے واسطے طے کردیتے ہیں اس کا وہ پابند سمجھا جاتا ہے اور پابندی بھی کرتا ہے تو کیا زید کو جو اسی قبیلہ کا ہے اور اس سے بھی اس رسم قبیلہ کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ وہ بعد ببلوغ زوجہ کے سسرال میں رہ کر نان نفقہ کی خبر گیری کرتا رہے گا یا نقد ادا کردے گا مگربعد عقد کے زید ان معاہدوں کو پورا کرنے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے معاہدہ میرے والد سے ہوا تھا نہ کہ مجھ سے حالانکہ معاہدہ کے وقت زید بھی موجود تھا اور باوجود بالغ ہونے کے اس نے معاہدہ کے کسی جز سے انکار نہیں کیا تو کیا ایسی صورت میں حسب رواج قبیلہ زید ان معاہدوں کے پورا کرنے کا ذمہ دار ہے یا نہیں بینواتوجروا
(۲) ہندہ کا عقد زید سے اس طرح پر ہوا کہ حسب رواج قبیلہ عقد سے چار یوم پیشتر زید سے بتوسط والدین یہ طے پایاتھا کہ مہر مؤجل باجل دو۲ سال مقرر ہے اس طرح پر کہ چاہے دو۲ سال کے اندر بعوض دین مہر مبلغ ساڑھے پانچ ہزار روپیہ کے جائداد غیر منقولہ بنام ہندہ خرید کردی جائے گی یا مبلغ ساڑھے پانچ ہزار روپیہ نقد بابت دین مہر ادا کردیاجائے گا مگر بروقت عقد یہ تفصیل دہرائی نہیں گئی صرف اتنا کہا گیا مہر مؤجل تعداد ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ہے تو کیا یہ مہر مطلق میں شمار کیا جائے گا یا باجل دو۲ سال مؤجل ہوگا بینواتوجروا
الجواب :
(۱) شرع مطہر کا قاعدہ عامہ ہے کہ المعروف کا لمشروط(عرف رواج مشروط کی طرح ہے۔ ت) جبکہ ان لوگوں میں عام رواج یہی ہے اور شوہر کے سامنے شرائط کئے جاتے ہیں اور وہ ساکت رہتا ہے اور اس کا سکوت ہی قبول قرار پاتا ہے اور ان شرائط کی پابندی کرتا ہے تو زید کہ انہیں لوگوں میں سے ہے اس قاعدہ سے مستثنی نہیں ہوسکتا مگر پہلا معاہدہ بیکار ہے سسرال میں رہنا ایك وعدہ ہے جس کی وفا پر جبر نہیں اور زوجہ کو اپنے پاس
مسئلہ ۷۱تا۷۲ : از کانپور طلاق محال مکان ابوالضیاءحکیم نورالدین صاحب مسئولہ عبید اﷲصاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)کسی قبیلہ میں یہ رسم ہے کہ عقد کے پیشتر جو کچھ شرائط متعلق عقد کرنا ہوتے ہیں نوشاہ سے بتوسط والدین یا کسی دیگر عزیز قریب کے سا طرح پر طے کرتے ہیں کہ نوشاہ بالکل خاموش بیٹھا رہتا ہے اور دوسرے لوگ جو کچھ اس کے واسطے طے کردیتے ہیں اس کا وہ پابند سمجھا جاتا ہے اور پابندی بھی کرتا ہے تو کیا زید کو جو اسی قبیلہ کا ہے اور اس سے بھی اس رسم قبیلہ کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ وہ بعد ببلوغ زوجہ کے سسرال میں رہ کر نان نفقہ کی خبر گیری کرتا رہے گا یا نقد ادا کردے گا مگربعد عقد کے زید ان معاہدوں کو پورا کرنے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے معاہدہ میرے والد سے ہوا تھا نہ کہ مجھ سے حالانکہ معاہدہ کے وقت زید بھی موجود تھا اور باوجود بالغ ہونے کے اس نے معاہدہ کے کسی جز سے انکار نہیں کیا تو کیا ایسی صورت میں حسب رواج قبیلہ زید ان معاہدوں کے پورا کرنے کا ذمہ دار ہے یا نہیں بینواتوجروا
(۲) ہندہ کا عقد زید سے اس طرح پر ہوا کہ حسب رواج قبیلہ عقد سے چار یوم پیشتر زید سے بتوسط والدین یہ طے پایاتھا کہ مہر مؤجل باجل دو۲ سال مقرر ہے اس طرح پر کہ چاہے دو۲ سال کے اندر بعوض دین مہر مبلغ ساڑھے پانچ ہزار روپیہ کے جائداد غیر منقولہ بنام ہندہ خرید کردی جائے گی یا مبلغ ساڑھے پانچ ہزار روپیہ نقد بابت دین مہر ادا کردیاجائے گا مگر بروقت عقد یہ تفصیل دہرائی نہیں گئی صرف اتنا کہا گیا مہر مؤجل تعداد ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ہے تو کیا یہ مہر مطلق میں شمار کیا جائے گا یا باجل دو۲ سال مؤجل ہوگا بینواتوجروا
الجواب :
(۱) شرع مطہر کا قاعدہ عامہ ہے کہ المعروف کا لمشروط(عرف رواج مشروط کی طرح ہے۔ ت) جبکہ ان لوگوں میں عام رواج یہی ہے اور شوہر کے سامنے شرائط کئے جاتے ہیں اور وہ ساکت رہتا ہے اور اس کا سکوت ہی قبول قرار پاتا ہے اور ان شرائط کی پابندی کرتا ہے تو زید کہ انہیں لوگوں میں سے ہے اس قاعدہ سے مستثنی نہیں ہوسکتا مگر پہلا معاہدہ بیکار ہے سسرال میں رہنا ایك وعدہ ہے جس کی وفا پر جبر نہیں اور زوجہ کو اپنے پاس
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۹
رکھنا حق شوہر وحکم شرعی ہے۔ قال تعالی :
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم
ان کو سکونت دوجہاں تم ساکن ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔ (ت)
شوہر جب چاہے اس حق کا مطالبہ کرسکتا ہے کمن ترکت قسمھا لھا ان تعود متی تشاء(جیسا کہ بیوی اپنی باری چھوڑدے تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جب چاہے۔ ت) اور دوسرے معاہدہ سے مہر دو۲ برس کے لئے مؤجل ہوگا اس پر لازم ہے کہ دو برس کے اندر کردے خواہ جائداد خرید کر یا نقد۔ اگرصرف جائداد خرید دینے کا معاہدہ ہوتا تو وہ بھی محض ایك وعدہ ہوتا زوجہ کو دو برس کے بعد مطالبہ مہر ہی کا استحقاق ہوتا نہ بالخصوص جائیداد کا۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲) اگر شوہر تسلیم کرے کہ عقد اسی قرار داد کی بناء پر ہوا تھا اور مؤ جل سے وہی اجل مراد تھی تو دو۲ سال میں ادا کرنا لازم ہوگاورنہ اطلاق لفظ اپنا عمل کرے گا اور یہ مہر مؤخر رہے گا قبل موت وطلاق مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا کہ تاجیل بوجہ جہالت اجل صحیح نہ ہوئی۔ فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوجل امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر ما یتعارفہ اھل البلدۃ فیوخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ ۔
ایك شخص نے کسی عورت سے ایك ہزار پر نکاح کیا اور کہا کہ پورا ہزار مؤجل ہے تو اگر اس کی مدت معلوم ہوتو مہلت دینا صحیح ہے اور اگر مدت معلوم نہ ہوتو مہلت دینا صحیح نہیں اور جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائیگا کہ علاقہ کے عرف کے مطابق کچھ معجل طور پہلے دے دے اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیاجائیگا اور قاضی اس پر باقی کی ادائیگی میں جبر نہ کرےگا اور نہ قید کرے گا۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
تأجیل المھرلا الی معلومۃ یصح ھوالصحیح لان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا وھوالطلاق او الموت کذا فی المحیط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مہر کی مہلت مدت غیر معین تك ہو توصحیح ہے یہی صحیح ہے کیونکہ انتہائی مدت خود بخود معلوم ہے اور وہ طلاق یاموت ہے محیط میں یونہی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم
ان کو سکونت دوجہاں تم ساکن ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔ (ت)
شوہر جب چاہے اس حق کا مطالبہ کرسکتا ہے کمن ترکت قسمھا لھا ان تعود متی تشاء(جیسا کہ بیوی اپنی باری چھوڑدے تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جب چاہے۔ ت) اور دوسرے معاہدہ سے مہر دو۲ برس کے لئے مؤجل ہوگا اس پر لازم ہے کہ دو برس کے اندر کردے خواہ جائداد خرید کر یا نقد۔ اگرصرف جائداد خرید دینے کا معاہدہ ہوتا تو وہ بھی محض ایك وعدہ ہوتا زوجہ کو دو برس کے بعد مطالبہ مہر ہی کا استحقاق ہوتا نہ بالخصوص جائیداد کا۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲) اگر شوہر تسلیم کرے کہ عقد اسی قرار داد کی بناء پر ہوا تھا اور مؤ جل سے وہی اجل مراد تھی تو دو۲ سال میں ادا کرنا لازم ہوگاورنہ اطلاق لفظ اپنا عمل کرے گا اور یہ مہر مؤخر رہے گا قبل موت وطلاق مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا کہ تاجیل بوجہ جہالت اجل صحیح نہ ہوئی۔ فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوجل امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر ما یتعارفہ اھل البلدۃ فیوخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ ۔
ایك شخص نے کسی عورت سے ایك ہزار پر نکاح کیا اور کہا کہ پورا ہزار مؤجل ہے تو اگر اس کی مدت معلوم ہوتو مہلت دینا صحیح ہے اور اگر مدت معلوم نہ ہوتو مہلت دینا صحیح نہیں اور جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائیگا کہ علاقہ کے عرف کے مطابق کچھ معجل طور پہلے دے دے اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیاجائیگا اور قاضی اس پر باقی کی ادائیگی میں جبر نہ کرےگا اور نہ قید کرے گا۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
تأجیل المھرلا الی معلومۃ یصح ھوالصحیح لان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا وھوالطلاق او الموت کذا فی المحیط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مہر کی مہلت مدت غیر معین تك ہو توصحیح ہے یہی صحیح ہے کیونکہ انتہائی مدت خود بخود معلوم ہے اور وہ طلاق یاموت ہے محیط میں یونہی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۵ /۶
فتاوٰی قاضی خاں باب فی مسائل ذکر المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۷۴-۱۷۳
فتاوٰی ہندیہ باب المہر فصل الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱۸
فتاوٰی قاضی خاں باب فی مسائل ذکر المہر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۷۴-۱۷۳
فتاوٰی ہندیہ باب المہر فصل الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱۸
مسئلہ ۷۳ : از سرائے صالحہ ضلع ہزارہ تحصیل ہری پور مرسلہ حاجی عبدا لعزیز خاں صاحب ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے نواسہ خالد کی منگنی میں جرگہ عام میں ایك زیور از قسم طلائی اس کے والد عمرو کودے کر بطور ہبہ کہا کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی لڑکی کو پہناتا ہوں اس وقت عمرو کا لڑکا خالد نابالغ تھا اور عمرو نے وہ زیور زید سے قبول کرلیا لڑکی کے ہاتھ میں خالد کی طرف سے پہنایا گیا اب وہ دونوں یعنی لڑکا اور لڑکی بالغ ہیں کسی خاص وجہ سے لڑکی کی طرف سے وہ زیور وغیرہ اور پار چات واپس ہوکر طلاق ہونے پر فریقین تیار ہیں لیکن وہ زیور جو زید نے اپنی طرف سے نواسہ کو دیا ہے اور لڑکی کو اس کی طرف سے پہنا یا گیا تھا زید کہتا ہے کہ وہ مجھ کو واپس ہوئے اور لڑکا کہتا ہے کہ میں اب بالغ ہوں مجھ کو ملے اور عمرو لڑکے کا والد کہتا ہے مجھ کو ملنا چاہئے اس لئے صاحبان شرع شریف سے مفصل طور پر دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا اس صورت میں اس زیور کے لینے کا شرعآ کون مستحق ہے کیا نانا یا باپ یا خود لڑکا جس کی منگنی ہوئی تھی جواب باصواب عنایت فرماکر اجردارین حاصل فرماویں بینواتوجروا اگر صورت مسئولہ میں ہبہ ہے تو نانا نواسے وہ زیور شرعا واپس لینے کا حقدار ہے یا نہ
الجواب :
ایسے زیور پارچہ کو عرف میں چڑھا وا کہتے ہیں اسے دولھا کی طرف سے دلہن کو دینے میں اگر چہ عرف وعادت ناس کا اختلاف ہے بعض ہبۃ دیتے ہیں بعض عاریۃ مگر وہ جو دولہا کے اقارب دولہا کے یہاں بھیجتے ہیں اس میں اصلا اختلاف نہیں وہ یقینا بطور ہبہ وامداد ہی ہوتا ہے کسی حالت میں انہیں اس کی واپسی کا دعوی نہیں ہوتا اولاد کی شادیوں میں جو ایسی اعانت کی جاتی ہے اس میں اعانت کرنے والا اگر تصریح کردے کہ میں نے ہبہ کی جب تو وہ اس کی ہے اور تصریح نہ کرے تو وہ چیز اگر اولاد کے مناسب ہے تو ان کی ہے ورنہ اگر یہ امداد کرنے والا باپ کے اقارب یا شناساؤں میں سے ہے تو وہ ہبہ باپ کے لئے ہے اور ماں کے اقارب سے یا شناساؤں میں ہے تو ماں کے لئے مگر یہ کہ امداد کرنے والے نے اس وقت کچھ نہ کہا اور اب وہ موجود ہے اور بیان کرے کہ میں نے فلاں کو ہبہ کیا تھا مثلا باپ یا ماں یا اولاد کو تو ا س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے :
اذا اتخذ الرجل عذیرۃ للختان فاھدی الناس ھدایا ووضعوا بین یدی الولد فسواء قال المھدی ھذا للولد او لم یقل فان کانت الھدیۃ تصلح للولد
مثلا بچے کے کپڑے یا وہ شے جو بچے استعمال کرتے ہیں جیسے ہاکی اور گیند تو یہ بچے کیلئے ہی ہونگے کیونکہ ایسی چیزیں عادۃ بچے کی ملکیت کیجاتی ہیں اور اگر وہ ہدیے بچے کے مناسب ہوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے نواسہ خالد کی منگنی میں جرگہ عام میں ایك زیور از قسم طلائی اس کے والد عمرو کودے کر بطور ہبہ کہا کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی لڑکی کو پہناتا ہوں اس وقت عمرو کا لڑکا خالد نابالغ تھا اور عمرو نے وہ زیور زید سے قبول کرلیا لڑکی کے ہاتھ میں خالد کی طرف سے پہنایا گیا اب وہ دونوں یعنی لڑکا اور لڑکی بالغ ہیں کسی خاص وجہ سے لڑکی کی طرف سے وہ زیور وغیرہ اور پار چات واپس ہوکر طلاق ہونے پر فریقین تیار ہیں لیکن وہ زیور جو زید نے اپنی طرف سے نواسہ کو دیا ہے اور لڑکی کو اس کی طرف سے پہنا یا گیا تھا زید کہتا ہے کہ وہ مجھ کو واپس ہوئے اور لڑکا کہتا ہے کہ میں اب بالغ ہوں مجھ کو ملے اور عمرو لڑکے کا والد کہتا ہے مجھ کو ملنا چاہئے اس لئے صاحبان شرع شریف سے مفصل طور پر دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا اس صورت میں اس زیور کے لینے کا شرعآ کون مستحق ہے کیا نانا یا باپ یا خود لڑکا جس کی منگنی ہوئی تھی جواب باصواب عنایت فرماکر اجردارین حاصل فرماویں بینواتوجروا اگر صورت مسئولہ میں ہبہ ہے تو نانا نواسے وہ زیور شرعا واپس لینے کا حقدار ہے یا نہ
الجواب :
ایسے زیور پارچہ کو عرف میں چڑھا وا کہتے ہیں اسے دولھا کی طرف سے دلہن کو دینے میں اگر چہ عرف وعادت ناس کا اختلاف ہے بعض ہبۃ دیتے ہیں بعض عاریۃ مگر وہ جو دولہا کے اقارب دولہا کے یہاں بھیجتے ہیں اس میں اصلا اختلاف نہیں وہ یقینا بطور ہبہ وامداد ہی ہوتا ہے کسی حالت میں انہیں اس کی واپسی کا دعوی نہیں ہوتا اولاد کی شادیوں میں جو ایسی اعانت کی جاتی ہے اس میں اعانت کرنے والا اگر تصریح کردے کہ میں نے ہبہ کی جب تو وہ اس کی ہے اور تصریح نہ کرے تو وہ چیز اگر اولاد کے مناسب ہے تو ان کی ہے ورنہ اگر یہ امداد کرنے والا باپ کے اقارب یا شناساؤں میں سے ہے تو وہ ہبہ باپ کے لئے ہے اور ماں کے اقارب سے یا شناساؤں میں ہے تو ماں کے لئے مگر یہ کہ امداد کرنے والے نے اس وقت کچھ نہ کہا اور اب وہ موجود ہے اور بیان کرے کہ میں نے فلاں کو ہبہ کیا تھا مثلا باپ یا ماں یا اولاد کو تو ا س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے :
اذا اتخذ الرجل عذیرۃ للختان فاھدی الناس ھدایا ووضعوا بین یدی الولد فسواء قال المھدی ھذا للولد او لم یقل فان کانت الھدیۃ تصلح للولد
مثلا بچے کے کپڑے یا وہ شے جو بچے استعمال کرتے ہیں جیسے ہاکی اور گیند تو یہ بچے کیلئے ہی ہونگے کیونکہ ایسی چیزیں عادۃ بچے کی ملکیت کیجاتی ہیں اور اگر وہ ہدیے بچے کے مناسب ہوں
مثل ثیاب الصبیان اوشیئی یستعملہ الصبیان مثل الصولجان والکرۃ فھو للصبی لان ھذا تملیك للصبی عادۃ کالدراھم والدنا نیر ینظر الی المھدی فان کان من اقارب الاب او معارفہ فھو للاب وان کان من اقارب الام اومعارفہ فھو للاب وان کان من اقارب الام اومعارفھا فھو للام لان التملیك ھنا من الام عرفا وھناك من الاب فکان التعویل علی العرف حتی لو وجد سبب او وجہ یستدل بہ علی غیر ماقلنا یعتمد علی ذلک وکذلك اذا اتخذولیمۃ لزفاف ابنتہ فاھدی الناس ھدایا فھو علی ماذکرنا من التقسیم وھذاکلہ اذالم یقل المھدی شیئا وتعذر الرجوع الی قولہ اما اذا اقال اھدیۃ للاب او للام اوللزوج او للمرأۃ فالقول للمھدی کذافی الظہیریۃ ۔
مثلا بچے کے کپڑے یا وہ شے جو بچے استعمال کرتے ہیں جیسے ہاکی اور گیند تو یہ بچے کیلئے ہی ہونگے کیونکہ ایسی چیزیں عادۃ بچے کی ملکیت کیجاتی ہیں اور اگر وہ ہدیے بچے کے مناسب نہ ہوں جیسا کہ دراہم ودینار وغیرہا تو پھر ہدیہ دینے والوں کو دیکھا جائے گا کہ وہ والد کے قریبی اور واقفیت والے ہیں یا ماں کے اگر وہ والد کے تعلق والے ہوں تو وہ والد کے لئے ہوں گے اور اگر ماں کے تعلق والے ہوں تو وہ ماں کے لئے ہوں گے کیونکہ عرفایہاں ماں کی طرف سے تملیك سمجھی جاتی ہے اور وہاں باپ کی طرف سے سمجھے جاتے ہیں لہذا عرف پر اعتماد کرنا ہوگا ہاں اگر کوئی ایسا سبب یا وجہ پائی جائے جو ہمارے بتائے ہوئے عرف کے خلاف قرینہ ہے تو پھر اسی قرینہ پر اعتماد کی جائے اور یونہی اگر کسی نے بیٹی کے زفاف کے لئے ولیمہ کا انتظام کیا تولوگوں نے ہدیے دئے تو وہ اسی تقسیم پر ہوں گے جو ہم نے ذکر کی ہے یہ تمام گفتگو اس صورت میں ہے جب ہدیہ دینے والے نے کوئی تصریح نہ کی ہو اور اس سے معلوم کرنے کے لئے رجوع بھی مشکل ہو لیکن جب اس نے کہہ دیا کہ یہ باپ یا ماں یا خاوند یا بیوی کے لئے ہیں تو پھر اس کے قول کے مطابق حکم ہوگا ظہیریہ میں یونہی ہے۔ (ت)
بالجملہ زید کی طرف سے وہ زیور ہبہ ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کے لفظ وہ ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی تو یہ نواسے کو ہبہ ہوا اور وہ اس وقت نابالغ تھا اور اس کے باپ نے قبول کرکے قبضہ کرلیا تو ہبہ تمام ہوگیا اور نواسہ اس کا مالك ہوگیا اس میں نہ باپ کا حق ہے نہ نانا کا نہ نانا اسے کسی طرح واپس لے سکتا ہے کہ قرابت محرمہ مانع رجوع ہے درمختار میں ہے :
مثلا بچے کے کپڑے یا وہ شے جو بچے استعمال کرتے ہیں جیسے ہاکی اور گیند تو یہ بچے کیلئے ہی ہونگے کیونکہ ایسی چیزیں عادۃ بچے کی ملکیت کیجاتی ہیں اور اگر وہ ہدیے بچے کے مناسب نہ ہوں جیسا کہ دراہم ودینار وغیرہا تو پھر ہدیہ دینے والوں کو دیکھا جائے گا کہ وہ والد کے قریبی اور واقفیت والے ہیں یا ماں کے اگر وہ والد کے تعلق والے ہوں تو وہ والد کے لئے ہوں گے اور اگر ماں کے تعلق والے ہوں تو وہ ماں کے لئے ہوں گے کیونکہ عرفایہاں ماں کی طرف سے تملیك سمجھی جاتی ہے اور وہاں باپ کی طرف سے سمجھے جاتے ہیں لہذا عرف پر اعتماد کرنا ہوگا ہاں اگر کوئی ایسا سبب یا وجہ پائی جائے جو ہمارے بتائے ہوئے عرف کے خلاف قرینہ ہے تو پھر اسی قرینہ پر اعتماد کی جائے اور یونہی اگر کسی نے بیٹی کے زفاف کے لئے ولیمہ کا انتظام کیا تولوگوں نے ہدیے دئے تو وہ اسی تقسیم پر ہوں گے جو ہم نے ذکر کی ہے یہ تمام گفتگو اس صورت میں ہے جب ہدیہ دینے والے نے کوئی تصریح نہ کی ہو اور اس سے معلوم کرنے کے لئے رجوع بھی مشکل ہو لیکن جب اس نے کہہ دیا کہ یہ باپ یا ماں یا خاوند یا بیوی کے لئے ہیں تو پھر اس کے قول کے مطابق حکم ہوگا ظہیریہ میں یونہی ہے۔ (ت)
بالجملہ زید کی طرف سے وہ زیور ہبہ ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کے لفظ وہ ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی تو یہ نواسے کو ہبہ ہوا اور وہ اس وقت نابالغ تھا اور اس کے باپ نے قبول کرکے قبضہ کرلیا تو ہبہ تمام ہوگیا اور نواسہ اس کا مالك ہوگیا اس میں نہ باپ کا حق ہے نہ نانا کا نہ نانا اسے کسی طرح واپس لے سکتا ہے کہ قرابت محرمہ مانع رجوع ہے درمختار میں ہے :
حوالہ / References
فتاویٰ ہندیہ کتاب لاھبہ باب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور۴ / ۳۸۳
لو وھب الذی رحم محرم نسبا ولو ذمیا او مستامنا لایرجع ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
اگر کسی نے اپنے ذی محرم نسبی کو ہبہ دیا تو وہ خواہ کافر ذمی ہو یا امن لے کر آیا ہو تو واپس نہ لے سکے گا واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۴ : از چاندہ پار ڈاك خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسئولہ محمد یار علی صاحب نائب مدرس ٹریننگ اسکول ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے وقت لڑکی بالغہ کے والدین نے بخیال دنیا اس قدر وسیع مہر بندھوایا کہ لڑکا بالغ اپنے والدین کی جائداد موجودہ سے کسی صورت ادا نہیں کرسکتا لڑکے نے اس خیال پر کہ اگر منظور نہ کروں گا نکاح نہ ہوگا مجبورا محض اﷲ کے بھروسے پر اپنے نزدیك نکاح جائز سمجھ کر منظور کرلیا جب مکان پر ہمراہ رہنے کا دونوں کا اتفاق ہوا تو اسی ہفتہ کے اندر لڑکی بالغہ نے بخوشی ورضامندی بغیر کسی مجبوری اور دباؤ شوہر کے سامنے اﷲکو شہید وبصیرجان کر جمیع انبیاء وملائکہ کا واسطہ دلاکر معاف کردیا جب سے آج تك ایك سال کا زمانہ گزرا میاں بی بی دونوں ساتھ ہیں اب چند روز سے لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ نکاح ناجائز و حرام ہوا اور یہ صحبت حرامکاری ہے لڑکا بخوف عقبی اپنی براءت کے لئے ہرصورت سے راضی ہے گو کہ بی بی اس کو بہت محبوب ہے مگر شرعی فتوی پر کاربند ہونے کو دل وجان سے تیار ہے مہر جو بندھا ہے اس کی تعداد ایك ہزار دو اشرفی لڑکے کے والدین کی جائداد تقریبا پانچ سو روپے۵۰۰سکہ رائج الوقت بینواتوجروا۔
الجواب :
اگرلڑکے کے پاس ایك پیسے کا سہارا نہ ہوتا اور دس کروڑ اشرفی کا مہر باندھا جاتا جب بھی نکاح صحیح تھا اور معاذاﷲ اسے حرام کاری سے کچھ تعلق نہ تھا یہ جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جن کا نکاح ہوا ان کی نیت میں ادائے مہر نہیں وہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے یہ ان کے واسطے ہے جو محض برائے نام جھوٹے طور پر ایك لغو رسم سمجھ کر مہر باندھیں شرعا نکاح ان کا بھی ہوجائے گا اور وہ بحکم شریعت زانی و زانیہ نہیں زن و شو ہیں اگر چہ قیامت میں ان پر اس بدنیت کا وبال مثل زنا ہو کہ انہوں نے حکم الہی کو ہلکا سمجھا یہاں کہ لڑکے نے اﷲ عزوجل پر بھر وسا کرکے قبول کیا تو اس صورت سے کچھ علاقہ نہ ہوا پھر جبکہ لڑکی بالغہ نے بے کسی دباؤ کے بخوشی معاف کردیا معاف ہوگیا واﷲتعالی اعلم۔
اگر کسی نے اپنے ذی محرم نسبی کو ہبہ دیا تو وہ خواہ کافر ذمی ہو یا امن لے کر آیا ہو تو واپس نہ لے سکے گا واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۴ : از چاندہ پار ڈاك خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسئولہ محمد یار علی صاحب نائب مدرس ٹریننگ اسکول ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے وقت لڑکی بالغہ کے والدین نے بخیال دنیا اس قدر وسیع مہر بندھوایا کہ لڑکا بالغ اپنے والدین کی جائداد موجودہ سے کسی صورت ادا نہیں کرسکتا لڑکے نے اس خیال پر کہ اگر منظور نہ کروں گا نکاح نہ ہوگا مجبورا محض اﷲ کے بھروسے پر اپنے نزدیك نکاح جائز سمجھ کر منظور کرلیا جب مکان پر ہمراہ رہنے کا دونوں کا اتفاق ہوا تو اسی ہفتہ کے اندر لڑکی بالغہ نے بخوشی ورضامندی بغیر کسی مجبوری اور دباؤ شوہر کے سامنے اﷲکو شہید وبصیرجان کر جمیع انبیاء وملائکہ کا واسطہ دلاکر معاف کردیا جب سے آج تك ایك سال کا زمانہ گزرا میاں بی بی دونوں ساتھ ہیں اب چند روز سے لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ نکاح ناجائز و حرام ہوا اور یہ صحبت حرامکاری ہے لڑکا بخوف عقبی اپنی براءت کے لئے ہرصورت سے راضی ہے گو کہ بی بی اس کو بہت محبوب ہے مگر شرعی فتوی پر کاربند ہونے کو دل وجان سے تیار ہے مہر جو بندھا ہے اس کی تعداد ایك ہزار دو اشرفی لڑکے کے والدین کی جائداد تقریبا پانچ سو روپے۵۰۰سکہ رائج الوقت بینواتوجروا۔
الجواب :
اگرلڑکے کے پاس ایك پیسے کا سہارا نہ ہوتا اور دس کروڑ اشرفی کا مہر باندھا جاتا جب بھی نکاح صحیح تھا اور معاذاﷲ اسے حرام کاری سے کچھ تعلق نہ تھا یہ جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جن کا نکاح ہوا ان کی نیت میں ادائے مہر نہیں وہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے یہ ان کے واسطے ہے جو محض برائے نام جھوٹے طور پر ایك لغو رسم سمجھ کر مہر باندھیں شرعا نکاح ان کا بھی ہوجائے گا اور وہ بحکم شریعت زانی و زانیہ نہیں زن و شو ہیں اگر چہ قیامت میں ان پر اس بدنیت کا وبال مثل زنا ہو کہ انہوں نے حکم الہی کو ہلکا سمجھا یہاں کہ لڑکے نے اﷲ عزوجل پر بھر وسا کرکے قبول کیا تو اس صورت سے کچھ علاقہ نہ ہوا پھر جبکہ لڑکی بالغہ نے بے کسی دباؤ کے بخوشی معاف کردیا معاف ہوگیا واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار باب الرجوع فی الھبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۳
السنن الکبرٰی باب ماجاء فی حبس الصداق الخ دارصادر بیروت ۷ / ۲۴۲ ، کنز العمال حدیث ٤٤٧٢٦ بیروت ۱۶ / ۳۲۳
السنن الکبرٰی باب ماجاء فی حبس الصداق الخ دارصادر بیروت ۷ / ۲۴۲ ، کنز العمال حدیث ٤٤٧٢٦ بیروت ۱۶ / ۳۲۳
مسئلہ ۷۵ : ۲۵صفر ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں ا س کو کچھ زیور یا اسباب یا جائداد دی تواس مال کا مالك اس لڑکی کے حین حیات میں اس کا شوہر ہوسکتا ہے یا وہ لڑکی ہی مالك ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
وہ مال تمام وکمال خاص ملك عورت ہے دوسرے کا اس میں کچھ حق نہیں :
فی ردالمحتار احد یعلم ان الجہاز ملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ولایختص بشئی منہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں ا س کو کچھ زیور یا اسباب یا جائداد دی تواس مال کا مالك اس لڑکی کے حین حیات میں اس کا شوہر ہوسکتا ہے یا وہ لڑکی ہی مالك ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
وہ مال تمام وکمال خاص ملك عورت ہے دوسرے کا اس میں کچھ حق نہیں :
فی ردالمحتار احد یعلم ان الجہاز ملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ولایختص بشئی منہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب النفقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۵۳
مسئلہ۷۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے جو زیور اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا اس کی مالك دختر زید ہے یااس کا شوہر اور اگر شوہر بے اذن زوجہ اس میں تصرف کرے تو نافذ ہوگا یا نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
زیور وغیرہ جہیز کہ زید نے اپنی بیٹی کو دیا خاص ملك دختر ہے شوہر کو کسی طرح کا استحقاق مالکانہ اس میں نہیں نہ اس کا تصرف بے رضا واذن زوجہ نافذ ہوسکے۔
فی الدرالمختار جھز ابنتہ بجھاز وسلمھا ذلك لیس لہ الاسترداد منھا ولا لورثتہ بعدہ ان سلمھا ذلك فی صحتہ بل تختص بہ وبہ یفتی ۔
درمختار میں ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیٹی کو کچھ جہیز دیااور وہ اس کے سپرد بھی کردیا تو اب اس سے واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث واپس لے سکتے ہیں بلکہ وہ خاص عورت کی ملکیت ہے اور اسی پر فتوی دیا جاتا ہے بشرطیکہ اس نے یہ جہیز حالت صحت میں بیٹی کے سپرد کیا ہو (یعنی مرض الموت میں نہ دیا ہو)۔ (ت)
علامہ شامی فرماتے ہیں :
کل احد یعلم ان الجھازملك المرأۃ لاحق لاحد فیہ۔ واﷲتعالی اعلم۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہو تا ہے اس میں کسی اور کاکوئی حق نہیں ہوتا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۷ : ۳۰جمادی الآخرہ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ یہ جو متعارف ان شہروں میں ہے کہ دولہا کی طرف سے جوڑا وغیرہ دلہن کو بھیجا جاتا ہے بایں امید کہ ادھر سے بہت زیور وغیرہ ملے گا لہذا بامید عوض جوڑے گراں قیمت سوروپے دوسوروپے کے اور دیگر اسباب قیمتی مناسب اس کے بھیجتے ہیں اور یہ صراحت بھی ہوتی ہے کہ ادھر سے دوسو کا مال جائے گا تو اس کے عوض میں چار سو کا مال ملے گا ایسا ہی دلہن کی طرف سے دولہا کے واسطے جوڑا وغیرہ گراں قیمت بھیجا جاتا ہے پھر جب زوجین میں جدائی ہوگئی اور زوجہ کی طرف سے طلب اپنے دئے کی ہوئی اور زوج کی طرف بمقتضائے ایمانداری جو کچھ ادھر سے آیا تھا جوڑا وغیرہ سب دے دیا اور رسید ان اشیاء کی لکھوالی اس صورت میں زوج کی طرف سے جو کچھ جوڑا اور زیور وغیرہ گیا تھا واپس ہوسکتا ہے یا نہیں اور اگر ہلاك کردے ایك شخص ان دونوں میں سے جو دیا تھا اس کو دوسرے نے تو اس صورت میں ہلاك کردینے والے سے وہ دوسرا شخص جس کامال ہلاك کیا لے سکتا ہے یا
الجواب :
زیور وغیرہ جہیز کہ زید نے اپنی بیٹی کو دیا خاص ملك دختر ہے شوہر کو کسی طرح کا استحقاق مالکانہ اس میں نہیں نہ اس کا تصرف بے رضا واذن زوجہ نافذ ہوسکے۔
فی الدرالمختار جھز ابنتہ بجھاز وسلمھا ذلك لیس لہ الاسترداد منھا ولا لورثتہ بعدہ ان سلمھا ذلك فی صحتہ بل تختص بہ وبہ یفتی ۔
درمختار میں ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیٹی کو کچھ جہیز دیااور وہ اس کے سپرد بھی کردیا تو اب اس سے واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث واپس لے سکتے ہیں بلکہ وہ خاص عورت کی ملکیت ہے اور اسی پر فتوی دیا جاتا ہے بشرطیکہ اس نے یہ جہیز حالت صحت میں بیٹی کے سپرد کیا ہو (یعنی مرض الموت میں نہ دیا ہو)۔ (ت)
علامہ شامی فرماتے ہیں :
کل احد یعلم ان الجھازملك المرأۃ لاحق لاحد فیہ۔ واﷲتعالی اعلم۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہو تا ہے اس میں کسی اور کاکوئی حق نہیں ہوتا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۷ : ۳۰جمادی الآخرہ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ یہ جو متعارف ان شہروں میں ہے کہ دولہا کی طرف سے جوڑا وغیرہ دلہن کو بھیجا جاتا ہے بایں امید کہ ادھر سے بہت زیور وغیرہ ملے گا لہذا بامید عوض جوڑے گراں قیمت سوروپے دوسوروپے کے اور دیگر اسباب قیمتی مناسب اس کے بھیجتے ہیں اور یہ صراحت بھی ہوتی ہے کہ ادھر سے دوسو کا مال جائے گا تو اس کے عوض میں چار سو کا مال ملے گا ایسا ہی دلہن کی طرف سے دولہا کے واسطے جوڑا وغیرہ گراں قیمت بھیجا جاتا ہے پھر جب زوجین میں جدائی ہوگئی اور زوجہ کی طرف سے طلب اپنے دئے کی ہوئی اور زوج کی طرف بمقتضائے ایمانداری جو کچھ ادھر سے آیا تھا جوڑا وغیرہ سب دے دیا اور رسید ان اشیاء کی لکھوالی اس صورت میں زوج کی طرف سے جو کچھ جوڑا اور زیور وغیرہ گیا تھا واپس ہوسکتا ہے یا نہیں اور اگر ہلاك کردے ایك شخص ان دونوں میں سے جو دیا تھا اس کو دوسرے نے تو اس صورت میں ہلاك کردینے والے سے وہ دوسرا شخص جس کامال ہلاك کیا لے سکتا ہے یا
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۳
ردالمحتار باب النفقہ احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۵۳
ردالمحتار باب النفقہ احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۵۳
نہیں ۔ والدین زوج نے اپنے پسر کی زوجہ کو کچھ زیور وغیرہ واسطے تالیف قلوب کے بایں غرض کہ ہمارے گھر میں رہے گا اور ہر وقت ہمارے اختیار میں جس وقت چاہیں گے اس کو دوسرے کام میں لائیں گے اور جب چاہیں گے بنادیں گے جیسا کہ تاجروں میں ہے بطور عاریت کے ایسا مال دیا کرتے ہیں واسطے زیبائش اپنے گھر کے نہ بطور تملیك کے اس صورت میں مالك اس مال کے والدین ہیں یا نہیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص ملك زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں طلاق ہوئی تو کل لے گئی اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
کل احد یعلم ان الجھاز للمرأۃ وانہ اذاطلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام جہیز لے لے گی اور جب عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ (ت)
ہاں مرد بحالت ہمخانگی ان کے والدین بھی بعض اشیائے جہیز مثل ظروف وفروش وغیرہا اپنے استعمال میں لاتے ہیں اورعرفا اس سے ممانعت نہیں ہوتی اس کی بنا ملك شوہر یا والدین شوہر پر نہیں بلکہ باہمی انبساط کہ زن وشو کے املاك میں تفاوت نہیں سمجھا جاتاجیسے عورتیں بے تکلف اموال شوہر استعمال میں رکھتی ہیں اس سے وہ اس کی ملك نہ ہوگئے۔ عقودالدریہ کتاب الفرائض میں بحرالرائق سے ہے :
لایکون استمتا عھا بمشریہ ورضاہ بذلك دلیلا علی انہ ملکھا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام وقد افتیت بذلك مرارا ۔
شوہر کے خریدے ہوئے مال سے عورت کانفع حاصل کرنا اور شوہر کا اس پر رضا مند ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت اس مال کی مالك ہوگئی جیسا کہ عورتیں اور عام لوگ سمجھتے ہیں اور تحقیق میں اس پر متعدد بار فتوی دے چکا ہوں ۔ (ت)
یہاں سے ظاہر کہ جانب شوہر کی بری اگر چہ بامید کثرت جہیز گراں بہا بنے معاوضہ نہیں کہ اگر یہ اشیاء اپنے ملك پر رکھتے اور وقت پر برائے نام بھیج دیتے ہوں کہ ہمارے گھر آجائے گی جب تو ظاہر کہ
الجواب :
جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص ملك زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں طلاق ہوئی تو کل لے گئی اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
کل احد یعلم ان الجھاز للمرأۃ وانہ اذاطلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام جہیز لے لے گی اور جب عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ (ت)
ہاں مرد بحالت ہمخانگی ان کے والدین بھی بعض اشیائے جہیز مثل ظروف وفروش وغیرہا اپنے استعمال میں لاتے ہیں اورعرفا اس سے ممانعت نہیں ہوتی اس کی بنا ملك شوہر یا والدین شوہر پر نہیں بلکہ باہمی انبساط کہ زن وشو کے املاك میں تفاوت نہیں سمجھا جاتاجیسے عورتیں بے تکلف اموال شوہر استعمال میں رکھتی ہیں اس سے وہ اس کی ملك نہ ہوگئے۔ عقودالدریہ کتاب الفرائض میں بحرالرائق سے ہے :
لایکون استمتا عھا بمشریہ ورضاہ بذلك دلیلا علی انہ ملکھا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام وقد افتیت بذلك مرارا ۔
شوہر کے خریدے ہوئے مال سے عورت کانفع حاصل کرنا اور شوہر کا اس پر رضا مند ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت اس مال کی مالك ہوگئی جیسا کہ عورتیں اور عام لوگ سمجھتے ہیں اور تحقیق میں اس پر متعدد بار فتوی دے چکا ہوں ۔ (ت)
یہاں سے ظاہر کہ جانب شوہر کی بری اگر چہ بامید کثرت جہیز گراں بہا بنے معاوضہ نہیں کہ اگر یہ اشیاء اپنے ملك پر رکھتے اور وقت پر برائے نام بھیج دیتے ہوں کہ ہمارے گھر آجائے گی جب تو ظاہر کہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب النفقہ احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۵۳
العقودالدریہ تنقیح فی فتاوٰی حامدیۃ ، کتاب الدعوی ٢ / ٣٥ ، کتاب الفرائض ۲ / ۳۵۰حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان
العقودالدریہ تنقیح فی فتاوٰی حامدیۃ ، کتاب الدعوی ٢ / ٣٥ ، کتاب الفرائض ۲ / ۳۵۰حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان
جانب شوہر سے کوئی تملیك نہ ہوئی' اور تملیك ہی قصد کرتے اور دلہن کو اس گہنے جوڑے کا مالك جانتے ہوں تاہم معاوضہ نہ ہوا کہ اس کے عوض میں جس شے کی امید رکھتے ہیں یعنی جہیز وہ بھی ملك زوجہ ہی ہوگا اور عوض و معوض ایك ملك میں جمع نہیں ہوسکتے۔ ہاں کثرت جہیز کی امید پر بھاری جوڑے گہنے بھیجتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ ہم یہ دے کر جہیز کے مالك ہوں گے بلکہ اس خیا ل سے کے بسبب انبساط مذکور ہمیں بھی تمتع وانتفا ع ملے گا ہمارے گھر کی زیب وآرائش ہوگی نام ہوگا آرام ہوگا وقت حاجت ہرگونہ کا برآری کی توقع ہے کہ یہاں کی نیك بیبیاں غالبا اپنا مال خصوصا ہنگام ضرورت اپنے شوہروں سے دریغ نہیں رکھتیں یہ وجو ہ اس باعث ہوتی ہیں کہ ادھر سے دوسو۲۰۰کا جائے گا تو چارسو۴۰۰ کا آئے گا جیسے بلاد شام وغیرہ میں اسی امید پر مہر بڑھاتے ہیں ۔
فی ردالمحتارکل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ ولایختص بشیئی منہ وانما المعروف انہ یزید فی المھر لتاتی بجھاز کثیر لیزین بہ بیتہ وینتفع بہ باذنھا ویرثہ ھو و اولادہ اذا ماتت کمایزیدہ فی مھرا لغنیۃ لاجل ذلك لالیکون الجھاز کلہ او بعضہ ملکا لہ ولا لیملك الافتقاع بہ وان لم تأذن ۔
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جا نتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اور شوہر اس میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا اور بیشك متعارف ہے کہ شوہر مہرمیں اس توقع پر اضافہ کر تا ہے کہ عورت بھی زیادہ جہیز لائے گی تا کہ اس سے گھرکی زینت وآرائش ہو اور عورت کی اجازت سے شوہر اس سے نفع اٹھائے گا اورعورت کے مرنے کے بعد وہ اور اس کی اولاد جہیز کی وارث بنے گی جیسا کہ اسی غرض سے وہ غنی عورت کے مہر میں اضافہ کرتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ تمام یا بعض جہیز کا مالك بن جائے گا یا عورت کی اجازت کے بغیر اس سے نفع حاصل کرسکے گا۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں جہیز تو ذرہ ذرہ دینا واجب ہی تھا اور اس کی واپسی سے بری کی واپسی لازم نہیں کہ وہ اس کا عوض نہ تھی بلکہ اس کا حکم آگے آتا ہے شوہر کا جوڑا ادھر سے آتا ہے بعد قبضہ قطعا ملك شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اس تملیك ہی کا قصد کرتے ہیں وذلك واضح لاخفاء بہ(اوریہ واضح ہے اس میں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں ۔ ت)پس اگر وہ اس نے ہلاك کردیا خواہ ہلاك ہوگیا تو ادھر والے اس کا کوئی تاوان اس سے نہیں لے سکتے کہ ہلاك موہوب مطلقا مانع رجوع ہے۔ یونہی اگر جوڑا عورت کے والد یا والدہ نے اپنے مال سے بنا کر بھیجا جیساکہ ان بلاد میں اکثر یہی متعارف ہے اور یہ شخص نسبا اس کا محرم مثلابھتیجا بھانجا ہے یا نکاح پہلے ہو لیا بعدہ جوڑا مال زوجہ
فی ردالمحتارکل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ ولایختص بشیئی منہ وانما المعروف انہ یزید فی المھر لتاتی بجھاز کثیر لیزین بہ بیتہ وینتفع بہ باذنھا ویرثہ ھو و اولادہ اذا ماتت کمایزیدہ فی مھرا لغنیۃ لاجل ذلك لالیکون الجھاز کلہ او بعضہ ملکا لہ ولا لیملك الافتقاع بہ وان لم تأذن ۔
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جا نتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اور شوہر اس میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا اور بیشك متعارف ہے کہ شوہر مہرمیں اس توقع پر اضافہ کر تا ہے کہ عورت بھی زیادہ جہیز لائے گی تا کہ اس سے گھرکی زینت وآرائش ہو اور عورت کی اجازت سے شوہر اس سے نفع اٹھائے گا اورعورت کے مرنے کے بعد وہ اور اس کی اولاد جہیز کی وارث بنے گی جیسا کہ اسی غرض سے وہ غنی عورت کے مہر میں اضافہ کرتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ تمام یا بعض جہیز کا مالك بن جائے گا یا عورت کی اجازت کے بغیر اس سے نفع حاصل کرسکے گا۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں جہیز تو ذرہ ذرہ دینا واجب ہی تھا اور اس کی واپسی سے بری کی واپسی لازم نہیں کہ وہ اس کا عوض نہ تھی بلکہ اس کا حکم آگے آتا ہے شوہر کا جوڑا ادھر سے آتا ہے بعد قبضہ قطعا ملك شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اس تملیك ہی کا قصد کرتے ہیں وذلك واضح لاخفاء بہ(اوریہ واضح ہے اس میں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں ۔ ت)پس اگر وہ اس نے ہلاك کردیا خواہ ہلاك ہوگیا تو ادھر والے اس کا کوئی تاوان اس سے نہیں لے سکتے کہ ہلاك موہوب مطلقا مانع رجوع ہے۔ یونہی اگر جوڑا عورت کے والد یا والدہ نے اپنے مال سے بنا کر بھیجا جیساکہ ان بلاد میں اکثر یہی متعارف ہے اور یہ شخص نسبا اس کا محرم مثلابھتیجا بھانجا ہے یا نکاح پہلے ہو لیا بعدہ جوڑا مال زوجہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب النفقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۵۳
سے برضائے زوجہ بنا کر بھیجا گیا تو ان صورتوں میں بھی واپس لینے کا اصلا اختیار نہیں اگر چہ جوڑا سلامت موجود ہو کہ قرابت محرمہ زوجیت دونوں مانع رجوع ہیں
فی الدرمختارو ردالمحتار یمنع الرجوع فیھا حروف دمع خزقہ فالزوجیۃ وقت الھبۃ فلو وھب لامرأۃ ثم نکحھارجع ولو وھب لامرأتہ لاکعکسہ ای لو وھبت لرجل ثم نکحھا رجعت ولو لزوجھا لا والقاف القرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نسبا لا یرجع والھاء ھلاك العین الموھوبۃ وکذااذا استھلك کما ھو ظاہر صرح بہ اصحاب الفتاوی رملی اھ ملتقطین۔
درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں رجوع سے مانع یہ حروف ہیں : دمع خزقہ پس (ان سات حروف میں سےزا سے مراد ہے زوجیت ہے جو بوقت ہبہ موجود ہو لہذا اگر کسی عورت کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا تو ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتا ایسا ہی اس کے برعکس میں بھی ہے یعنی اگر عورت نے کسی مرد کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس سے نکاح کیا تو رجوع کرسکتی ہے اور اگر اپنے شوہر کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتی۔ اور قاف سے مراد قرابت ہے لہذا اگر کسی ایسے ذی رحم رشتہ دار کو بطور ہبہ کچھ دیا جو اس کے لئے محرم نسبی ہے تو رجوع نہیں کرسکتا۔ اور ہاء سے مراد موہوب شیئی کا ہلاك ہونا ہے اور اسی طرح ہلاك کرنا ہے : جیسا کہ ظاہر ہے اصحاب فتاوی نے اس کے تصریح کی رملی اھ ملتقطین۔ (ت)
فتح القدیر وغیرہ میں ہے :
لوبعث ابوھا من مالہ فلہ الرجوع لوقائما والا فلا ولو من مالھا باذنھا فلارجوع لانہ ھبۃ منھا والمرأۃ لاترجع فی ھبۃ زوجھا ۔
اگر زوجہ کے باپ نے اپنے مال سے کچھ بھیجا تو اگر وہ موہوب شئی شوہر کے پاس موجود ہے تو رجوع کرسکتا ہے ورنہ نہیں اور زوجہ کے مال سے اس کی اجازت سے بھیجا تو رجوع نہیں کرسکتاکیونکہ یہ زوجہ کی طرف سے ہبہ ہے اور زوجہ کو زوج کے ہبہ میں رجوع کا حق نہیں ۔ (ت)
ہاں اگرجوڑا ملك شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلا والدین زن نے بنایا تو ان سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو یا مال زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یا قاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانا بحکم عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے نہ ایك دوسرے کے عوض
فی الدرمختارو ردالمحتار یمنع الرجوع فیھا حروف دمع خزقہ فالزوجیۃ وقت الھبۃ فلو وھب لامرأۃ ثم نکحھارجع ولو وھب لامرأتہ لاکعکسہ ای لو وھبت لرجل ثم نکحھا رجعت ولو لزوجھا لا والقاف القرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نسبا لا یرجع والھاء ھلاك العین الموھوبۃ وکذااذا استھلك کما ھو ظاہر صرح بہ اصحاب الفتاوی رملی اھ ملتقطین۔
درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں رجوع سے مانع یہ حروف ہیں : دمع خزقہ پس (ان سات حروف میں سےزا سے مراد ہے زوجیت ہے جو بوقت ہبہ موجود ہو لہذا اگر کسی عورت کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا تو ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتا ایسا ہی اس کے برعکس میں بھی ہے یعنی اگر عورت نے کسی مرد کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس سے نکاح کیا تو رجوع کرسکتی ہے اور اگر اپنے شوہر کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتی۔ اور قاف سے مراد قرابت ہے لہذا اگر کسی ایسے ذی رحم رشتہ دار کو بطور ہبہ کچھ دیا جو اس کے لئے محرم نسبی ہے تو رجوع نہیں کرسکتا۔ اور ہاء سے مراد موہوب شیئی کا ہلاك ہونا ہے اور اسی طرح ہلاك کرنا ہے : جیسا کہ ظاہر ہے اصحاب فتاوی نے اس کے تصریح کی رملی اھ ملتقطین۔ (ت)
فتح القدیر وغیرہ میں ہے :
لوبعث ابوھا من مالہ فلہ الرجوع لوقائما والا فلا ولو من مالھا باذنھا فلارجوع لانہ ھبۃ منھا والمرأۃ لاترجع فی ھبۃ زوجھا ۔
اگر زوجہ کے باپ نے اپنے مال سے کچھ بھیجا تو اگر وہ موہوب شئی شوہر کے پاس موجود ہے تو رجوع کرسکتا ہے ورنہ نہیں اور زوجہ کے مال سے اس کی اجازت سے بھیجا تو رجوع نہیں کرسکتاکیونکہ یہ زوجہ کی طرف سے ہبہ ہے اور زوجہ کو زوج کے ہبہ میں رجوع کا حق نہیں ۔ (ت)
ہاں اگرجوڑا ملك شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلا والدین زن نے بنایا تو ان سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو یا مال زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یا قاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانا بحکم عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے نہ ایك دوسرے کے عوض
حوالہ / References
ردالمحتار باب الرجوع فی الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۱۹-۱۸-۵۱۵ ، درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۱
فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۵۶-۲۵۵
فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۵۶-۲۵۵
میں ولہذا اگر ایك جا ن سے مثلا بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں پھر دولہاکی جانب سے بری میں ہرگز اس جوڑے کا خیال نہیں جودولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرت جہیز کی طمع پروری بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دلہن والوں کو رجوع کا اختیار مگر گنہگار ہوں گے۔ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
العائد فی ھبتہ کالعائد فی قیئہ ۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ بالفظ شتی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔
دے کر پھیر نے والامثل کتے کے ہے قے کرکے پھرکھالے (اس کو امام احمد اور اصحاب صحاح ستہ نے مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت عبدا ﷲابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
درمختار میں ہے :
(کرہ) الرجوع (تحریما) وقیل تنزیھا نھا یۃ اھ اقول : والاول الذی جزم بہ فی المتن و اشار الشارح الی تضعیف خلافہ فانہ ھو الصحیح الذی لامعدل عنہ لقول رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لا یحل للرجل ان یعطی عطیۃ فیرجع فیھا رواہ الائمۃ احمد والاربعۃ عن ابن عمر وابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم قال فی المنتقی صححہ الترمذی۔
(ہبہ میں ) رجوع مکروہ تحریمی ہے اور کہا گیا ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے نہایہ اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) اول جس پر متن میں جزم کیا اور شارح نے اس کے خلاف کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا وہی صحیح ہے اس اعراض کا کوئی سبب نہیں بسبب فرمان رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے کہ کسی مرد کے لئے جائز نہیں کہ کچھ عطیہ دے کر اس میں رجوع کرے۔ اسے امام احمد اور اصحاب سنن اربعہ نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت کیا منتقی میں فرمایا کہ امام ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا۔ (ت)
اس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی ملك سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی(باہمی رضامندی سے رجوع متحقق ہونے کی وجہ سے۔ ت) اور اگر موجودہ صورت اولی ہے
العائد فی ھبتہ کالعائد فی قیئہ ۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ بالفظ شتی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔
دے کر پھیر نے والامثل کتے کے ہے قے کرکے پھرکھالے (اس کو امام احمد اور اصحاب صحاح ستہ نے مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت عبدا ﷲابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
درمختار میں ہے :
(کرہ) الرجوع (تحریما) وقیل تنزیھا نھا یۃ اھ اقول : والاول الذی جزم بہ فی المتن و اشار الشارح الی تضعیف خلافہ فانہ ھو الصحیح الذی لامعدل عنہ لقول رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لا یحل للرجل ان یعطی عطیۃ فیرجع فیھا رواہ الائمۃ احمد والاربعۃ عن ابن عمر وابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم قال فی المنتقی صححہ الترمذی۔
(ہبہ میں ) رجوع مکروہ تحریمی ہے اور کہا گیا ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے نہایہ اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) اول جس پر متن میں جزم کیا اور شارح نے اس کے خلاف کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا وہی صحیح ہے اس اعراض کا کوئی سبب نہیں بسبب فرمان رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے کہ کسی مرد کے لئے جائز نہیں کہ کچھ عطیہ دے کر اس میں رجوع کرے۔ اسے امام احمد اور اصحاب سنن اربعہ نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت کیا منتقی میں فرمایا کہ امام ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا۔ (ت)
اس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی ملك سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی(باہمی رضامندی سے رجوع متحقق ہونے کی وجہ سے۔ ت) اور اگر موجودہ صورت اولی ہے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الھبۃ باب التحریم فی الصدقۃ مطبع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۶
درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۱
مسند امام احمد بن حنبل مروی از ابن عمر وابنِ عباس دارا لفکر بیروت ۲ / ۲۷
درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۱
مسند امام احمد بن حنبل مروی از ابن عمر وابنِ عباس دارا لفکر بیروت ۲ / ۲۷
یعنی قرابت وزوجیت وغیرہما کوئی مانع تو اس حال مین بھی اگر اس نے برضائے خود جوڑا انہیں ہبہ کرنے کے ارادہ سے واپس کردیا ہبہ صحیح ہوگیا۔
فی الدرالمختار اتفق والواھب والموھوب لہ علی الرجوع فی موضع لایصح رجوعہ من لامواضع السبعۃ السابقۃ کالھبۃ لقرابتہ جاز ھذاالاتفاق منھما جوھرۃ وفی المجتبی لاتجوز الاقالۃ فی الھبۃ و الصدقۃ فی المحارم الابالقبض لانھا ھبۃ ۔
درمختار میں ہے کہ واہب اور موہوب لہ ہبہ کے رجوع پر متفق ہوگئے مذکورۃ الصدر ان سات مواضع میں سے کسی موضع پر جن میں رجوع صحیح نہیں جیسے ہبہ بوجہ قرابت تو ان دونوں کا یہ اتفاق جائز ہے(جوہرہ) اور مجتبی میں ہے کہ محارم کے ہبہ اور صدقہ میں بلا قبضہ اقالہ جائز نہیں کیونکہ (اقالہ) ہبہ ہے۔ (ت)
اور اگر اس گمان پر واپس دیا کہ جوڑا بھی مثل جہیز ہے بعد افتراق اس کی واپسی بھی مجھ پر لازم تو یہ واپس دینا معتبر نہ ہوگا نہ وہ جوڑاملك شوہر سے نکلے گا اسے اختیار سہے اب واپس لے لے اور ان پر لازم کہ واپس دیں ۔
لان الجوع حیث لایصح انما یصح ھبتہ مبتدأۃ کما تقدم واذلاھبۃ فلاصحۃ ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ قال فی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ من دفع شیألیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھکلہ القابض کما فی شرح النظم للوھبانی وغیرہ من المعبترات اھ وفی الخیریۃ من الوقف قد صرحوا بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بما ادی ولو کان قداستھلکہ رجع ببدلہ اھ ۔
کیونکہ جہاں رجوع صحیح ہو وہاں نئے سرے سے ہبہ صحیح ہوتا ہے جیسا کہ گزرا جب ہبہ نہیں تو صحت نہیں اور اس گمان کاکوئی اعتبار نہیں جس کی خطاء واضح ہے۔ عقودالدریہ کی کتاب الشرکۃ میں فرمایا کہ جس نے کسی کو ایسی شے دی جس کا دینا واجب نہ تھا تو اس کو واپس لینے کا حق ہے سوائے اس کے کہ جب بطور ہبہ دی ہو اور قابض نے اس کو ہلاك کر ڈالا ہو جیسا کہ وہبانی کی شرح النظم اور دیگر معتبر کتابوں میں ہے اھ اورخیریہ کے کتاب الوقف میں ہے تحقیق انہوں نے تصریح کی اس بات کی کہ کسی شخص نے گمان کیا کہ اس پر قرض ہے پھر اس کے خلاف ظاہر ہوا تو جو کچھ ادا کرچکا ہے واپس لے سکتا ہے اور اگر لینے والے نے اس کو ہلاك کردیا ہے تو اس کا بدل لے سکتا ہے اھ(ت)
فی الدرالمختار اتفق والواھب والموھوب لہ علی الرجوع فی موضع لایصح رجوعہ من لامواضع السبعۃ السابقۃ کالھبۃ لقرابتہ جاز ھذاالاتفاق منھما جوھرۃ وفی المجتبی لاتجوز الاقالۃ فی الھبۃ و الصدقۃ فی المحارم الابالقبض لانھا ھبۃ ۔
درمختار میں ہے کہ واہب اور موہوب لہ ہبہ کے رجوع پر متفق ہوگئے مذکورۃ الصدر ان سات مواضع میں سے کسی موضع پر جن میں رجوع صحیح نہیں جیسے ہبہ بوجہ قرابت تو ان دونوں کا یہ اتفاق جائز ہے(جوہرہ) اور مجتبی میں ہے کہ محارم کے ہبہ اور صدقہ میں بلا قبضہ اقالہ جائز نہیں کیونکہ (اقالہ) ہبہ ہے۔ (ت)
اور اگر اس گمان پر واپس دیا کہ جوڑا بھی مثل جہیز ہے بعد افتراق اس کی واپسی بھی مجھ پر لازم تو یہ واپس دینا معتبر نہ ہوگا نہ وہ جوڑاملك شوہر سے نکلے گا اسے اختیار سہے اب واپس لے لے اور ان پر لازم کہ واپس دیں ۔
لان الجوع حیث لایصح انما یصح ھبتہ مبتدأۃ کما تقدم واذلاھبۃ فلاصحۃ ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ قال فی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ من دفع شیألیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھکلہ القابض کما فی شرح النظم للوھبانی وغیرہ من المعبترات اھ وفی الخیریۃ من الوقف قد صرحوا بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بما ادی ولو کان قداستھلکہ رجع ببدلہ اھ ۔
کیونکہ جہاں رجوع صحیح ہو وہاں نئے سرے سے ہبہ صحیح ہوتا ہے جیسا کہ گزرا جب ہبہ نہیں تو صحت نہیں اور اس گمان کاکوئی اعتبار نہیں جس کی خطاء واضح ہے۔ عقودالدریہ کی کتاب الشرکۃ میں فرمایا کہ جس نے کسی کو ایسی شے دی جس کا دینا واجب نہ تھا تو اس کو واپس لینے کا حق ہے سوائے اس کے کہ جب بطور ہبہ دی ہو اور قابض نے اس کو ہلاك کر ڈالا ہو جیسا کہ وہبانی کی شرح النظم اور دیگر معتبر کتابوں میں ہے اھ اورخیریہ کے کتاب الوقف میں ہے تحقیق انہوں نے تصریح کی اس بات کی کہ کسی شخص نے گمان کیا کہ اس پر قرض ہے پھر اس کے خلاف ظاہر ہوا تو جو کچھ ادا کرچکا ہے واپس لے سکتا ہے اور اگر لینے والے نے اس کو ہلاك کردیا ہے تو اس کا بدل لے سکتا ہے اھ(ت)
حوالہ / References
درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۴۲
العقودا الدریۃ تنقیح فی فتاوٰی حامدیۃ کتاب الشرکۃ حاجی عبد الغفار وپسران قندھار افغانستان ۱ / ۹۱
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارا لمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۔ ۱۳
العقودا الدریۃ تنقیح فی فتاوٰی حامدیۃ کتاب الشرکۃ حاجی عبد الغفار وپسران قندھار افغانستان ۱ / ۹۱
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارا لمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۔ ۱۳
دلہن کا گہنا جوڑا جو بری میں دیاجاتا ہے اگر نصا یا عرفا اس میں بھی تملیك مقصود ہوتی ہے جیسے شکر میوہ عطر پھل وغیرہ مطلقا ہوتی ہے تو وہ بھی قبضہ منکوحہ ملك منکوحہ ہوگا ہمارے یہاں شرفا کا عرف ظاہر یہی ہے ولہذا بعد رخصت اس کے واپس لینے کو سخت معیوب وموجب مطعونی جانتے ہیں اور اگر لے لیں تو طعنہ زن یہی کہتے ہیں کہ دے کر پھیر لیا یاصرف دکھانے کو دیا تھا جب دلہن آگئی چھین لیا یعنی یہ ان کی رسم معہود کے خلاف ہے اس صورت میں تو اس کے لئے بھی بعینہ وہی احکام ہوں گے جو دولہا کے جوڑے میں گزرے کہ بعد ہلاك دلہن سے تاوان لینے کا اصلا اختیار نہیں جیسے شکر میوہ کا تاوان بٹ جانے کے بعد نہیں مل سکتا اگر چہ ہنوز کھانے میں نہ آیا ہو
فان الخروج عن ملك الموھوب لہ ایضا من الموانع کما فی الدروسائر الاسفارالغر۔
اس لئے کہ بیشك موہوب لہ کی ملك سے ہبہ کا نکل جانا بھی رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ در اور دیگر عظیم الشان روشن کتابوں میں ہے(ت)
یونہیں اگر وہ جوڑا گہنا بحالت قرابت محرمہ والدین شوہر یا بعد نکاح شوہر نے بنا کر بھیجا تو رجوع نا متصور ورنہ بحالت بقائے موہوب وفقدان موانع برضائے زوجہ یا قضائے قاضی واپسی گناہ کے ساتھ ممکن ہاں جہاں عرف تملیك نہ ہو بلکہ صرف پہنانے کے لئے بھیجا جاتا اور بنانے والوں ہی کی ملك سمجھا جاتا ہو وہاں دلہن کی ملك نہیں ایك عاریت ہے کہ بحالت بقا جس سے بر وقت رجوع جائز وحلال اور بحال ہلاك اگر قبل افتراق زوجہ کے پاس بے اس کے فعل کے تلف ہوگیا مثلا چور لےگیا گرپڑا دلہن کے پہننے برتنے میں ٹوٹا بگڑا خراب ہوگیا بشرطیکہ وہیں تك اپنے استعمال میں لائی ہو جہاں تك کے پہننے پر عرفا رضا مندی سمجھی جاتی ہوتو ان صورتوں میں دلہن پر تاوان نہیں
فان العواری لاتضمن بالھلاك من غیر تعد کما فی التنویر وغیرہ وفی الھندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا انتقض عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ
اس لئے کہ بے شك مستعار اشیاء پر بلاتعدی ہلاك کی صورت میں ضمان نہیں جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہے۔ ہندیہ میں فصول عمادیہ سے ہے کہ جب مستعار شئی میں استعمال کی حالت میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہیں
فان الخروج عن ملك الموھوب لہ ایضا من الموانع کما فی الدروسائر الاسفارالغر۔
اس لئے کہ بیشك موہوب لہ کی ملك سے ہبہ کا نکل جانا بھی رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ در اور دیگر عظیم الشان روشن کتابوں میں ہے(ت)
یونہیں اگر وہ جوڑا گہنا بحالت قرابت محرمہ والدین شوہر یا بعد نکاح شوہر نے بنا کر بھیجا تو رجوع نا متصور ورنہ بحالت بقائے موہوب وفقدان موانع برضائے زوجہ یا قضائے قاضی واپسی گناہ کے ساتھ ممکن ہاں جہاں عرف تملیك نہ ہو بلکہ صرف پہنانے کے لئے بھیجا جاتا اور بنانے والوں ہی کی ملك سمجھا جاتا ہو وہاں دلہن کی ملك نہیں ایك عاریت ہے کہ بحالت بقا جس سے بر وقت رجوع جائز وحلال اور بحال ہلاك اگر قبل افتراق زوجہ کے پاس بے اس کے فعل کے تلف ہوگیا مثلا چور لےگیا گرپڑا دلہن کے پہننے برتنے میں ٹوٹا بگڑا خراب ہوگیا بشرطیکہ وہیں تك اپنے استعمال میں لائی ہو جہاں تك کے پہننے پر عرفا رضا مندی سمجھی جاتی ہوتو ان صورتوں میں دلہن پر تاوان نہیں
فان العواری لاتضمن بالھلاك من غیر تعد کما فی التنویر وغیرہ وفی الھندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا انتقض عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ
اس لئے کہ بے شك مستعار اشیاء پر بلاتعدی ہلاك کی صورت میں ضمان نہیں جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہے۔ ہندیہ میں فصول عمادیہ سے ہے کہ جب مستعار شئی میں استعمال کی حالت میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہیں
حوالہ / References
درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۳
در مختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی / ۱۵۶
در مختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی / ۱۵۶
استعمالامعھودا استعمال عادت وعرف کے مطابق ہو۔ (ت)
اور اگر خلاف عرف وعادت بے طوری سے پہننے میں خراب کیا مثلا بھاری جوڑے یا موتیوں کے نازك جڑاؤ گہنے راتوں کو پہنے سویا کی یا صرف آنے جانے میں پہننے کاعرف تھا یہ گھر میں پہنتی ہے تو نقصان کا تاوان دے گی یونہی اگر بے احتیاطی بے پروائی سے گمادیا یابعد طلاق اپنے گھر لے آئی اور یہاں کسے طرح تلف ہوگیا تو قیمت دینی آئے گی
لان العاریۃ کانت موقتۃ دلالۃ الی بقاء الزوجیۃ فانتھت کانتھائھا فامساکھا بعد ذلك تعد منھا وان لم تستعمل فی جامع الفصولین لو کانت العاریۃ موقتۃ فامسکھا بعد الوقت مع امکان الردضمن وان لم یستعملھا بعد الوقت ھو المختار سواء توقتت نصا او دلالۃالخ اقول : ھذاھوالمنصوص علیہ فی الاصل کما فی الھندیۃ فیترجح علی مافیھا ان من مشائخنا من قال بان ھذا انتفع بھا بعدالوقت فان لم ینتفع بھا لم یضمن وھوالمختار الخ فان الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی ظاہر الروایۃ بل ھھنا اولی کما لایخفی۔
اس لئے کہ یہ عاریت دلالت کے اعتبار سے بقاء زوجیت تك مؤقت تھی لہذا زوجیت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ بھی ختم ہوگئی چنانچہ اب اس کے بعد عورت کا اس کو روکے رکھنا عورت کی طرف سے تعدی ہے اگر چہ اسے استعمال نہ کرے جامع الفصولین میں ہے کہ اگر عاریت موقت ہو اور وقت گزرجانے کے بعد امکان رد کے باوجود اسے روکے رکھے تو ضامن ہوگا اگر چہ وقت مختار ہے برابر ہے کہ توقیت باعتبار نص کے ہویا باعتبار دلالت کے الخ___اقول : (میں کہتا ہوں )یہ وہی ہے جس پر اصل میں نص کی گئی جیسا کہ ہندیہ میں ہے پس اس کو ترجیح ہوگی اس پر جو اس میں ہے کہ بیشك ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ تحقیق یہ حکم تب ہے جب وقت گزرنے کے بعد اس سے نفع اٹھائے اور نفع نہیں اٹھایا تو ضامن نہ ہوگا یہی مختار ہے الخ اس لئے کہ جب فتوی میں اختلاف واقع ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع ہوتا ہے بلکہ یہاں پر اولی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۔ (ت)
اور وہ زیور وغیرہ کہ والدین زوج اپنی بہو کے پہننے برتنے دیتے ہیں جس میں نصابا یا عرفا کسی
اور اگر خلاف عرف وعادت بے طوری سے پہننے میں خراب کیا مثلا بھاری جوڑے یا موتیوں کے نازك جڑاؤ گہنے راتوں کو پہنے سویا کی یا صرف آنے جانے میں پہننے کاعرف تھا یہ گھر میں پہنتی ہے تو نقصان کا تاوان دے گی یونہی اگر بے احتیاطی بے پروائی سے گمادیا یابعد طلاق اپنے گھر لے آئی اور یہاں کسے طرح تلف ہوگیا تو قیمت دینی آئے گی
لان العاریۃ کانت موقتۃ دلالۃ الی بقاء الزوجیۃ فانتھت کانتھائھا فامساکھا بعد ذلك تعد منھا وان لم تستعمل فی جامع الفصولین لو کانت العاریۃ موقتۃ فامسکھا بعد الوقت مع امکان الردضمن وان لم یستعملھا بعد الوقت ھو المختار سواء توقتت نصا او دلالۃالخ اقول : ھذاھوالمنصوص علیہ فی الاصل کما فی الھندیۃ فیترجح علی مافیھا ان من مشائخنا من قال بان ھذا انتفع بھا بعدالوقت فان لم ینتفع بھا لم یضمن وھوالمختار الخ فان الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی ظاہر الروایۃ بل ھھنا اولی کما لایخفی۔
اس لئے کہ یہ عاریت دلالت کے اعتبار سے بقاء زوجیت تك مؤقت تھی لہذا زوجیت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ بھی ختم ہوگئی چنانچہ اب اس کے بعد عورت کا اس کو روکے رکھنا عورت کی طرف سے تعدی ہے اگر چہ اسے استعمال نہ کرے جامع الفصولین میں ہے کہ اگر عاریت موقت ہو اور وقت گزرجانے کے بعد امکان رد کے باوجود اسے روکے رکھے تو ضامن ہوگا اگر چہ وقت مختار ہے برابر ہے کہ توقیت باعتبار نص کے ہویا باعتبار دلالت کے الخ___اقول : (میں کہتا ہوں )یہ وہی ہے جس پر اصل میں نص کی گئی جیسا کہ ہندیہ میں ہے پس اس کو ترجیح ہوگی اس پر جو اس میں ہے کہ بیشك ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ تحقیق یہ حکم تب ہے جب وقت گزرنے کے بعد اس سے نفع اٹھائے اور نفع نہیں اٹھایا تو ضامن نہ ہوگا یہی مختار ہے الخ اس لئے کہ جب فتوی میں اختلاف واقع ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع ہوتا ہے بلکہ یہاں پر اولی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۔ (ت)
اور وہ زیور وغیرہ کہ والدین زوج اپنی بہو کے پہننے برتنے دیتے ہیں جس میں نصابا یا عرفا کسی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۶۸
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۶
فتاوی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب الخامس فی تصنیع العاریۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۶۸
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۶
فتاوی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب الخامس فی تصنیع العاریۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۶۸
طرح مالك کردینا مقصود نہیں ہوتا وہ بدستور ملك والدین پر ہے بہو کا اس میں کچھ حق نہیں کما تقدم فی استمتاع المرأۃ بمشری الزوج(جیسا کہ عورت کے لئے شوہر کے خریدے ہوئے مال سے نفع حاصل کرنے کی صورت میں گزرچکا ہے۔ ت)اس کے احکام وہ ہی احکام عاریت ہیں کہ مفصلامذکور ہوئے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۸ : ۱۵رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مسمی زید نے اپنے پسر ابومحمد کی شادی ساتھ حبیبہ بنت خالد کے بصرف زر اپنے کے کی خالد نے بطریق جہیز اسباب و زیور وغیرہ دے کر زوجہ ابومحمد کو بدستور معروف رخصت کیا بعد چند روز کے زید نے اپنی خوشی سے ابومحمد اور اس کی زوجہ کا کھانا پینا علیحدہ کیا اس وقت اس کی زوجہ نے اپنا مال واسباب جو اس کے والدین نے اسے دیا تھا زید یعنی خسر سے طلب کیا زید نے کہا وہ مال ہمارا ہے ہم نے بالعوض اس روپے کے جو شادی ابومحمد میں صرف ہوا رکھ لیا ہے اب فرمائیے کہ عند الشرع اس مال واسباب کی مالك زوجہ ابومحمد ہے یا زید والد ابومحمد ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
وہ زیور و اسباب کہ زوجہ ابومحمد اپنے جہیز میں لائی خاص اس کی ملك ہے ابومحمد یا اس کے باپ کا اس میں کچھ حق نہیں اور وہ روپیہ کہ زید نے ابومحمد کی شادی میں صرف کیا بحکم عرف شائع وعام تبرع واحسان قرار پائےگا کہ زید اس کا مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتا اور اگر قرض بھی ٹھہرے مثلا ابومحمد بالغ نے خود استدعا کی کہ میری شادی کے مصارف آپ میری طرف سے ادا کردیجئے میں واپس دوں گا یا زید ہی نے اس سے کہا کہ یہ صرف تیری طرف سے بطور قرض کروں گا اس نے قبول کرلیا یا ابومحمد نابالغ تھا زید نے قبل صرف لوگوں کو گواہ کرلیا کہ یہ خر چ میں طرف ابومحمد بطور قرض اٹھاتا ہوں میں اس سے واپس لوں گا اور اس صورت میں صرف وہی کیا جو رسم وعادت وحیثیت کے موافق تھا ان سب صورتوں میں جو اٹھایا وہ قرض ہے مگر اس کا تقاضا ابو محمد سے کرے زیور واسباب کو ملك زوجہ ہے کہ اس روپے کے عوض کیونکر لے سکتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۸ : ۱۵رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مسمی زید نے اپنے پسر ابومحمد کی شادی ساتھ حبیبہ بنت خالد کے بصرف زر اپنے کے کی خالد نے بطریق جہیز اسباب و زیور وغیرہ دے کر زوجہ ابومحمد کو بدستور معروف رخصت کیا بعد چند روز کے زید نے اپنی خوشی سے ابومحمد اور اس کی زوجہ کا کھانا پینا علیحدہ کیا اس وقت اس کی زوجہ نے اپنا مال واسباب جو اس کے والدین نے اسے دیا تھا زید یعنی خسر سے طلب کیا زید نے کہا وہ مال ہمارا ہے ہم نے بالعوض اس روپے کے جو شادی ابومحمد میں صرف ہوا رکھ لیا ہے اب فرمائیے کہ عند الشرع اس مال واسباب کی مالك زوجہ ابومحمد ہے یا زید والد ابومحمد ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
وہ زیور و اسباب کہ زوجہ ابومحمد اپنے جہیز میں لائی خاص اس کی ملك ہے ابومحمد یا اس کے باپ کا اس میں کچھ حق نہیں اور وہ روپیہ کہ زید نے ابومحمد کی شادی میں صرف کیا بحکم عرف شائع وعام تبرع واحسان قرار پائےگا کہ زید اس کا مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتا اور اگر قرض بھی ٹھہرے مثلا ابومحمد بالغ نے خود استدعا کی کہ میری شادی کے مصارف آپ میری طرف سے ادا کردیجئے میں واپس دوں گا یا زید ہی نے اس سے کہا کہ یہ صرف تیری طرف سے بطور قرض کروں گا اس نے قبول کرلیا یا ابومحمد نابالغ تھا زید نے قبل صرف لوگوں کو گواہ کرلیا کہ یہ خر چ میں طرف ابومحمد بطور قرض اٹھاتا ہوں میں اس سے واپس لوں گا اور اس صورت میں صرف وہی کیا جو رسم وعادت وحیثیت کے موافق تھا ان سب صورتوں میں جو اٹھایا وہ قرض ہے مگر اس کا تقاضا ابو محمد سے کرے زیور واسباب کو ملك زوجہ ہے کہ اس روپے کے عوض کیونکر لے سکتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
فصل اول
بسم اﷲالرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۷۹ : ۲۷ربیع اول ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایك زوجہ اور ایك پسر بالغ اور ایك دختر بالغہ اور دو۲ لڑکیاں نابالغہ چھوڑکر فوت ہوا نابالغ بہنیں اپنے جوان بھائی بکر کی پرورش میں رہیں (جب وہ بالغ ہوئیں توبکر نے ان کی شادیاں معمولی خرچ سے کردیں اور جوبڑی بہن بکر کی تھی اس کی شادی زید نے اپنی زندگی میں کردی تھی اس کی پرورش یا شادی کا خرچ بکر کے پاس سے نہ ہوا) صرف دو۲ بہنوں کا خرچ پرورش وشادی اس نے مال متروکہ ومشترکہ سے کیا اس صورت میں یہ خرچ بکر کوان دونوں چھوٹی بہنوں سے مجرا مل سکتا ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
یہاں تین۳ چیزیں ہیں :
(۱) خرچ پرورش
(۲) شادی کے مصارف بالائی یعنی جہیز کے سوا جو اور خرچ ہوتے ہیں جیسے برات کاکھانا خدمتیوں کا انعام سمدھیانے کے جوڑے دولہا کی سلامی سواریوں کا کرایہ برات کے پان چھالیا وغیر ذلک۔
بسم اﷲالرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۷۹ : ۲۷ربیع اول ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایك زوجہ اور ایك پسر بالغ اور ایك دختر بالغہ اور دو۲ لڑکیاں نابالغہ چھوڑکر فوت ہوا نابالغ بہنیں اپنے جوان بھائی بکر کی پرورش میں رہیں (جب وہ بالغ ہوئیں توبکر نے ان کی شادیاں معمولی خرچ سے کردیں اور جوبڑی بہن بکر کی تھی اس کی شادی زید نے اپنی زندگی میں کردی تھی اس کی پرورش یا شادی کا خرچ بکر کے پاس سے نہ ہوا) صرف دو۲ بہنوں کا خرچ پرورش وشادی اس نے مال متروکہ ومشترکہ سے کیا اس صورت میں یہ خرچ بکر کوان دونوں چھوٹی بہنوں سے مجرا مل سکتا ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
یہاں تین۳ چیزیں ہیں :
(۱) خرچ پرورش
(۲) شادی کے مصارف بالائی یعنی جہیز کے سوا جو اور خرچ ہوتے ہیں جیسے برات کاکھانا خدمتیوں کا انعام سمدھیانے کے جوڑے دولہا کی سلامی سواریوں کا کرایہ برات کے پان چھالیا وغیر ذلک۔
(۳) دلہن کا جہیز ۔
بتوفیق اﷲتعالی ہر ایك کا حکم علیحدہ سنئے :
خرچ پرورش بے شك بحکم دیا نت بحالت عدم وصی وارثان کبیر کو وارثان صغیر کی پرورش کرنا اور ان کے کھانے پہننے وغیرہ ضروریات کی چیزیں ان کے لئے خریدنا اور ان امور میں ان کا مال بے اسراف وتبذیران پر اٹھانا شرعا جائز ہے جبکہ وہ بچے ان کے پاس ہوں اگر چہ یہ ان ر وصابت و ولایت مالیہ نہ رکھیں ۔ تنویرالابصار ودر مختار وردالمحتاروغیرہا اسفارمیں ہے :
جازشراء مالابد للصغیرمنہ(کالنفقۃ والکسوۃ واستئجارالظئرمنح) وبیعہ ای بیع مالابد للصغیر منہ لا خ وعم وام وملتقط ھو فی جحرھم ای فی کنفھم و الا لا۔
چھوٹے بچے کا مال سے اس کی ضرورت کی اشیاء خریدنا(جیسے کھانا لباس اور اجرت پر دایہ حاصل کرنا منح) اور ضرورت کے تحت اس کے مال سے کچھ بیچنا بھائی چچا ماں اور گم شدہ بچے کو پانے والے کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وہ ان کی زیر حفاظت وپرورش ہو ورنہ نہیں ۔ (ت)
علامہ شامی قول درمختار لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولاولایتہ الافی مسائل(غیر کے مال میں بے اذن ولایت تصرف ناجائز سوائے چند مسائل کے۔ ت) کی شرح میں بہ ضمن مسائل استثنا ارشاد فرماتے ہیں :
کذا لو انفق بعض اھل المحلۃ علی مسجد لامتولی لہ من غلتہ لحصیر ونحوہ اوانفق الورثۃ الکبار علی الصغار ولاوصی لھم فلاضمان فی الکل دیانۃ اھ ملخصا اقول : ولایخالفہ بل ربما یؤیدہ مافی شھادۃ الاوصیاء من الطحطاوی من الفصول حیث قال ورثہ صغار وکبار وفی الترکۃ دین وعقار
جیسے بعض اہل محلہ کسی ایسی مسجد پر مسجد کے مال سے خرچ کرے جس کا کوئی متولی نہیں مثلا چٹائی وغیرہ کا انتظام کرے یوں ہی بڑے وارث ایسے چھوٹے وارثوں پر جس کا کوئی وصی نہیں ان کامال خرچ کریں تو اس تمام میں دیانتا ضمان نہیں (تلخیص)میں کہتا ہوں یہ اس کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید ہوں یہ اس کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید کرتا ہیں وہ جو طحطاوی میں بحوالہ فصول شہادۃ الاوصیاء کے بارے میں ہے جہاں فرمایاکہ
بتوفیق اﷲتعالی ہر ایك کا حکم علیحدہ سنئے :
خرچ پرورش بے شك بحکم دیا نت بحالت عدم وصی وارثان کبیر کو وارثان صغیر کی پرورش کرنا اور ان کے کھانے پہننے وغیرہ ضروریات کی چیزیں ان کے لئے خریدنا اور ان امور میں ان کا مال بے اسراف وتبذیران پر اٹھانا شرعا جائز ہے جبکہ وہ بچے ان کے پاس ہوں اگر چہ یہ ان ر وصابت و ولایت مالیہ نہ رکھیں ۔ تنویرالابصار ودر مختار وردالمحتاروغیرہا اسفارمیں ہے :
جازشراء مالابد للصغیرمنہ(کالنفقۃ والکسوۃ واستئجارالظئرمنح) وبیعہ ای بیع مالابد للصغیر منہ لا خ وعم وام وملتقط ھو فی جحرھم ای فی کنفھم و الا لا۔
چھوٹے بچے کا مال سے اس کی ضرورت کی اشیاء خریدنا(جیسے کھانا لباس اور اجرت پر دایہ حاصل کرنا منح) اور ضرورت کے تحت اس کے مال سے کچھ بیچنا بھائی چچا ماں اور گم شدہ بچے کو پانے والے کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وہ ان کی زیر حفاظت وپرورش ہو ورنہ نہیں ۔ (ت)
علامہ شامی قول درمختار لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولاولایتہ الافی مسائل(غیر کے مال میں بے اذن ولایت تصرف ناجائز سوائے چند مسائل کے۔ ت) کی شرح میں بہ ضمن مسائل استثنا ارشاد فرماتے ہیں :
کذا لو انفق بعض اھل المحلۃ علی مسجد لامتولی لہ من غلتہ لحصیر ونحوہ اوانفق الورثۃ الکبار علی الصغار ولاوصی لھم فلاضمان فی الکل دیانۃ اھ ملخصا اقول : ولایخالفہ بل ربما یؤیدہ مافی شھادۃ الاوصیاء من الطحطاوی من الفصول حیث قال ورثہ صغار وکبار وفی الترکۃ دین وعقار
جیسے بعض اہل محلہ کسی ایسی مسجد پر مسجد کے مال سے خرچ کرے جس کا کوئی متولی نہیں مثلا چٹائی وغیرہ کا انتظام کرے یوں ہی بڑے وارث ایسے چھوٹے وارثوں پر جس کا کوئی وصی نہیں ان کامال خرچ کریں تو اس تمام میں دیانتا ضمان نہیں (تلخیص)میں کہتا ہوں یہ اس کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید ہوں یہ اس کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید کرتا ہیں وہ جو طحطاوی میں بحوالہ فصول شہادۃ الاوصیاء کے بارے میں ہے جہاں فرمایاکہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الخطر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۶ ، ردالمحتار کتاب الخطر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۰
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۰ ۵ / ۱۲۷
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۰ ۵ / ۱۲۷
فھللك بعض المال وانفق الکبار البعض علی انفسھم وعلی الصغار فما ھلك فھو علی کلھم وما انفقہ الکبار ضمنوا حصۃ الصغار ان کانوا انفقوا بغیر امر القاضی اوالوصی وما انفقوہ بامر احد ھما حسب لھم الی نفقہ مثلھم اھ فان ھذاعند وجود الوصی وما مر فعند عدمہ لاسیمافی بلادنا فافھم ۔
اگر وارث بڑے اور چھوٹے ہیں اور ترکہ میں دین وعتار ہے پھر بعض مال ہلاك ہوگیااور بڑے وارثون نے کچھ مال اپنے آپ اور چھوٹے وارثوں پر خرچ کردیا تو جو مال ہلاك ہوا وہ سب پر ہے اور جو بڑوں نے چھوٹوں پر خرچ کیا اگر قاضی اور وصی کی اجازت کے بغیر خرچ کیا ہے تو ضامن ہوں گے اور اگر ان دونوں سے کسی کی اجازت سےخرچ کیا ہے تو نفقہ مثلی کی مقدار مجرا پائیں گے اھ اس لئے بے شك یہ حکم وصی کے موجود ہونے کی صورت میں ہے اور جو حکم ماقبہ گزرا وہ اس کی عدم موجودگی کی صورت میں ہے خاص طور پر ہمارے علاقے میں ۔ پس سمجھ ۔ (ت)
پاس جو کچھ بکر نے ان لڑکیوں کی پرورش میں صرف کیا اگر نفقہ مثل کا دعوی کرے تو بیشك دیانۃ مجرا پائے گا
فانہ کان ماذونا لہ فی ذلك من جھۃ الشرع فلایکون ضمینا بل امینا مقبول القول مالم یدع مایکذب بہ الظاہر الا تری الی ماقدمنا عن الفصول حیث حکم بالاحتساب الی نفقۃ المثل عند وجود الاذن ممن لہ الاذن کالوصی والقاضی والشرع المطھر احق من لہ الاذن وقد وجد منہ الاذن فی مسئلتنا وان لم یوجد من وصی او قاض لفقد انھما ھھنا راسا و انت تعلم عن المفتی انما یفتی بالدیانۃ
کیونکہ اس کو شرع کی طرف سے ایسا کرنےکا اذن حاصل تھا لہذا وہ ضامن نہیں بلکہ ایسا امین ہوگا کہ جب تك وہ خلاف ظاہردعوی نہ کرے اس کے قول کو تسلیم کیا جائے گا کیا تو نے نہیں دیکھا جس کا ذکر ہم فصول کے حوالے سے پہلے کرچکے ہیں کہ نفقہ مثل تك مجرا پانے کا حکم کیا گیا جبکہ وصی یا قاضی وغیرہ جنہیں اختیار اذن ہے میں سے کسی کا اذن پایا جائے اور شرع مطہر زیادہ حقدار ہے کہ اس کو اختیار اذن ہو اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں شرع کی طرف سے اذن پایا گیا اگر چہ وصی یا قاضی کی طرف سے اذن نہیں پایا گیا کیونکہ اس صورت میں دوسرے سے
اگر وارث بڑے اور چھوٹے ہیں اور ترکہ میں دین وعتار ہے پھر بعض مال ہلاك ہوگیااور بڑے وارثون نے کچھ مال اپنے آپ اور چھوٹے وارثوں پر خرچ کردیا تو جو مال ہلاك ہوا وہ سب پر ہے اور جو بڑوں نے چھوٹوں پر خرچ کیا اگر قاضی اور وصی کی اجازت کے بغیر خرچ کیا ہے تو ضامن ہوں گے اور اگر ان دونوں سے کسی کی اجازت سےخرچ کیا ہے تو نفقہ مثلی کی مقدار مجرا پائیں گے اھ اس لئے بے شك یہ حکم وصی کے موجود ہونے کی صورت میں ہے اور جو حکم ماقبہ گزرا وہ اس کی عدم موجودگی کی صورت میں ہے خاص طور پر ہمارے علاقے میں ۔ پس سمجھ ۔ (ت)
پاس جو کچھ بکر نے ان لڑکیوں کی پرورش میں صرف کیا اگر نفقہ مثل کا دعوی کرے تو بیشك دیانۃ مجرا پائے گا
فانہ کان ماذونا لہ فی ذلك من جھۃ الشرع فلایکون ضمینا بل امینا مقبول القول مالم یدع مایکذب بہ الظاہر الا تری الی ماقدمنا عن الفصول حیث حکم بالاحتساب الی نفقۃ المثل عند وجود الاذن ممن لہ الاذن کالوصی والقاضی والشرع المطھر احق من لہ الاذن وقد وجد منہ الاذن فی مسئلتنا وان لم یوجد من وصی او قاض لفقد انھما ھھنا راسا و انت تعلم عن المفتی انما یفتی بالدیانۃ
کیونکہ اس کو شرع کی طرف سے ایسا کرنےکا اذن حاصل تھا لہذا وہ ضامن نہیں بلکہ ایسا امین ہوگا کہ جب تك وہ خلاف ظاہردعوی نہ کرے اس کے قول کو تسلیم کیا جائے گا کیا تو نے نہیں دیکھا جس کا ذکر ہم فصول کے حوالے سے پہلے کرچکے ہیں کہ نفقہ مثل تك مجرا پانے کا حکم کیا گیا جبکہ وصی یا قاضی وغیرہ جنہیں اختیار اذن ہے میں سے کسی کا اذن پایا جائے اور شرع مطہر زیادہ حقدار ہے کہ اس کو اختیار اذن ہو اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں شرع کی طرف سے اذن پایا گیا اگر چہ وصی یا قاضی کی طرف سے اذن نہیں پایا گیا کیونکہ اس صورت میں دوسرے سے
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل فی شہادۃ الاوصیاء دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۴۵
بل قد اثبتنا عرش التحقیق بتوفیق المولی سبحانہ وتعالی فی کتاب الوصایا من العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ان الابن الکبیر فی امصارنا ھذہ فی اعصار نا ھذہ یقوم مقام وصی ابیہ علی الاولاد الصغار من دون حاجۃ الی تصریح بالوصایا لوجود الاذن والتفویض دلالۃ بحکم العرف الفاشی المطر دمع تحقق الضرورۃ الملجئۃ الی اعتبارتلك الدلالۃ واﷲ یعلم المفسد من المصلح ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہ وقد بینا المسئلۃ بحول القدیر جل مجدہ بما یتعین المراجعۃ الیہ وحینئذ فالامر اظہر۔
موجود ہی نہیں ہیں ۔ اور تو جانتا ہے کہ مفتی دیانت پر فتوی دیتا ہے بلکہ ہم نے مولی سبحانہ وتعالی کی توفیق سے العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃکی کتاب الوصایا میں بلند ترین تحقیق کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہمارے شہروں میں موجودہ زمانے میں تصریح وصیت کے بغیر بھی بڑا بیٹا باپ کے وصی کے قائم مقام ہوتا ہے کیونکہ ہمارے عام و رائج عرف وعادت کے طابق بطور دلالت اذن تفویض موجود ہے باوجود یکہ ایسی ضرورت بھی متحقق ہے جسے اس دلالت کا اعتبار کرنے پر مجبور کرنے والی ہے۔ اﷲ تعالی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے جو شخص اپنے اہل زمانہ کو نہ پہچانے اور فتوی میں اپنے علاقے کے احوال کا لحاظ نہ رکھے وہ جاہل ہے اور اس کا قول وبیان باطل ہے اور ہم نے اﷲقدیر جل مجدہ کی طاقت سے مسئلہ کو اس اسلوب سے بیان کردیا جس کی طرف رجوع کرنا متعین ہے اس صورت میں معاملہ زیادہ ظاہر ہوا۔ (ت)
اور نفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدت ایسے بچوں پر اتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدر ہوتا ہے اتنا مجرا پائے گا۔ عالمگیری میں ہے :
نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط ۔
نفقہ مثل وہ ہے جو فضول خرچی اور تنگی کے درمیان ہو ایساہی محیط میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ماینفق علی مثلھم فی تلك المدۃ ۔
جو ان کا مثل بچوں پر اتنی مدت میں خرچ کیا جاتا ہو۔ (ت)
موجود ہی نہیں ہیں ۔ اور تو جانتا ہے کہ مفتی دیانت پر فتوی دیتا ہے بلکہ ہم نے مولی سبحانہ وتعالی کی توفیق سے العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃکی کتاب الوصایا میں بلند ترین تحقیق کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہمارے شہروں میں موجودہ زمانے میں تصریح وصیت کے بغیر بھی بڑا بیٹا باپ کے وصی کے قائم مقام ہوتا ہے کیونکہ ہمارے عام و رائج عرف وعادت کے طابق بطور دلالت اذن تفویض موجود ہے باوجود یکہ ایسی ضرورت بھی متحقق ہے جسے اس دلالت کا اعتبار کرنے پر مجبور کرنے والی ہے۔ اﷲ تعالی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے جو شخص اپنے اہل زمانہ کو نہ پہچانے اور فتوی میں اپنے علاقے کے احوال کا لحاظ نہ رکھے وہ جاہل ہے اور اس کا قول وبیان باطل ہے اور ہم نے اﷲقدیر جل مجدہ کی طاقت سے مسئلہ کو اس اسلوب سے بیان کردیا جس کی طرف رجوع کرنا متعین ہے اس صورت میں معاملہ زیادہ ظاہر ہوا۔ (ت)
اور نفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدت ایسے بچوں پر اتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدر ہوتا ہے اتنا مجرا پائے گا۔ عالمگیری میں ہے :
نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط ۔
نفقہ مثل وہ ہے جو فضول خرچی اور تنگی کے درمیان ہو ایساہی محیط میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ماینفق علی مثلھم فی تلك المدۃ ۔
جو ان کا مثل بچوں پر اتنی مدت میں خرچ کیا جاتا ہو۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوصایا الباب التاسع فی الوصی نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۱۵۵
ردالمحتار فصل فی شہادت الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ٥ / ۴۶۰
ردالمحتار فصل فی شہادت الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ٥ / ۴۶۰
مصارف شادی : عبارت سوال میں مذکور کہ دونوں قاصرہ وقت شادی جوان تھیں اور سائل نے بعد استفسار بذریعہ تحریر اظہار کیا کہ مصارف عروسی وجہیز سب بکر نے محض اپنی رائے سے کئے والدہ کا انتقال دونوں قاصرہ کی شادی سے پہلے ہوا اور بہنیں ان کی شادیوں میں عام بیگانوں کی طرح شریك ہوئیں نہ ان سے دربارہ صرف کوئی استفسار ہوا نہ ان کا کوئی اذن نہ قاصرات سے کہا گیا کہ ہم یہ صرف تمہارے حصہ سے کرتے یا جہیز تمہارے حصے میں دیتے ہیں اور واقعی ہمارے بلاد میں مصارف شادی کنواریوں سے پوچھ کر نہیں ہوتے نہ ان سے ا س امر میں کوئی اذن لیا جاتا ہے پس اگر بیان مذکور صحیح ہے تو جو کچھ مصارف بالائی جس قاصرہ کی شادی میں ہوئے وہ دلہن کے حصہ سے مجرا نہیں ہوسکتے :
لانا وان قلنا بوصایہ بکردلالۃ کمااشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ ۔
کیونکہ بیشك ہم نے اگر چہ بکر کے لئے باعتبار دلالت وصی ہونے کا قول کیا ہے جیسا کہ ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں مگر وہ ولایت بالغ ہونے کے ساتھ منقطع ہوگئی۔(ت)
ردالمحتار میں عنایہ سے ہے :
انھم(یعنی ورثہ الکبار) اذاکانواحضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا اذا الخ
بے شك وہ (یعنی بڑے ورثاء) جب حاضر ہوں تو وصی کے ترکہ تصرف کا کوئی حق نہیں مگر جب الخ(ت)
توان مصارف میں جو کچھ بکر نے صرف کیا بہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جو کسی سے مجرا نہ پائے گا سب صرف اسی کے حصہ پر پڑے گا خواہ ضمانا خواہ قصاصا دوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃ اذن دیا بری رہیں گے اگر چہ انہوں نے صرف ہوتے دیکھا اور خاموش رہے ہوں اذا لاینسب الی ساکت قول(خاموش رہنے والے کی طرف قول کی نسبت نہیں کی جاتی۔ ت)اشباہ میں ہے :
لو رأی غیرہ یطلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ ۔
اگر کوئی کسی کو اپنا مال تلف کرتا دیکھ کر خاموش رہے تو خاموشی اتلاف کی اجازت نہ ہوگی۔ (ت)
خصوصا اگر ان میں کوئی اس وقت نابالغہ ہو کہ نابالغ کا اذن بھی معتبر نہیں
فانہ لیس من اھل التبرع ولا لاحد ان یتبرع من مالہ۔
کیونکہ وہ اہل تبرع میں سے نہیں اور نہ ہی کسی اور کو یہ حق ہے کہ اس کے مال میں تبرع کرے۔ (ت)
لانا وان قلنا بوصایہ بکردلالۃ کمااشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ ۔
کیونکہ بیشك ہم نے اگر چہ بکر کے لئے باعتبار دلالت وصی ہونے کا قول کیا ہے جیسا کہ ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں مگر وہ ولایت بالغ ہونے کے ساتھ منقطع ہوگئی۔(ت)
ردالمحتار میں عنایہ سے ہے :
انھم(یعنی ورثہ الکبار) اذاکانواحضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا اذا الخ
بے شك وہ (یعنی بڑے ورثاء) جب حاضر ہوں تو وصی کے ترکہ تصرف کا کوئی حق نہیں مگر جب الخ(ت)
توان مصارف میں جو کچھ بکر نے صرف کیا بہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جو کسی سے مجرا نہ پائے گا سب صرف اسی کے حصہ پر پڑے گا خواہ ضمانا خواہ قصاصا دوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃ اذن دیا بری رہیں گے اگر چہ انہوں نے صرف ہوتے دیکھا اور خاموش رہے ہوں اذا لاینسب الی ساکت قول(خاموش رہنے والے کی طرف قول کی نسبت نہیں کی جاتی۔ ت)اشباہ میں ہے :
لو رأی غیرہ یطلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ ۔
اگر کوئی کسی کو اپنا مال تلف کرتا دیکھ کر خاموش رہے تو خاموشی اتلاف کی اجازت نہ ہوگی۔ (ت)
خصوصا اگر ان میں کوئی اس وقت نابالغہ ہو کہ نابالغ کا اذن بھی معتبر نہیں
فانہ لیس من اھل التبرع ولا لاحد ان یتبرع من مالہ۔
کیونکہ وہ اہل تبرع میں سے نہیں اور نہ ہی کسی اور کو یہ حق ہے کہ اس کے مال میں تبرع کرے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی دارا حیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۴۵۴
اشباہ النظائر القاعدۃ الثانیۃ عشر لاینسب الٰی ساکت قول ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۱۸۵
اشباہ النظائر القاعدۃ الثانیۃ عشر لاینسب الٰی ساکت قول ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۱۸۵
بزازیہ وبحرالرائق وردالمحتار وتنویر الابصار وسراج وہاج وغیرہا میں ہے :
الھبۃ والقرض وماکان اتلافا للمال او تملیکا من غیر عوض فانہ لایجوز مالم یصرح بہ نصا ا ھ اقول : ھذا افادوہ فی شریکی العنان والمفاوضۃ مع ان کلامنھماوکیل عن صاحبہ ماذون التصرف فی المال من جانبہ فکیف بالشریك شرکۃ العین فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصواعلیہ۔
ہبہ وقرض اور جو مال کا اتلاف یا بے عوض تملیك ہو وہ جائز نہیں جب تك شریك بنص صریح اس کی اجازت نہ دے دے اھ اقول (میں کہتا ہوں ) یہ وہ ہے جس کا انہوں نے شرکت عنان و مفاوضہ کے شریکوں کے بارے میں افادہ فرمایا باوجودیکہ شرکت عنان اور شرکت مفاوضہ میں شریك ایك دوسرے کے وکیل اور ایك دوسرے کی طرف سے تصرف کے مجاز ہوتے ہیں تو یہ حکم شرکت عین کے شریك کیلئے کیسے ہوسکتا ہے کہ اس میں تو شریك دوسرے کے حصہ سے محض اجنبی ہوتا اسے دوسرے کے حصہ میں تصرف حلال نہیں جیسا کہ انہوں نے اس پر نص کی ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے :
التجہیز لایدخل فیہ الجمع والموائد فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ و یکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ ملخصا۔
جمع وموائد تجیہز میں داخل نہیں تو جو تجہیز کے علاوہ ان میں خرچ کرے اگر وہ ورثاء میں سے ہے تو اسی کے حصہ سے شمار کیا جائے گا اور وہ متبرع ٹھہرے گا یونہی اجنبی اھ ملخصا(ت)
دلہن کا جہیز وہ اگر بکر نے بطور ہبہ نہ دیا بقصد مجرائی دیا تو یہ دینا کچھ اثر پیدا نہ کرے گا جبکہ باہم کسی قسم کی کوئی گفتگو نہ آئی کہ یہ اشیاء تیرے فلاں حصہ کے معاوضہ میں دیتے ہیں اس کے بعد کل ترکہ یا ترکہ کی فلاں قسم میں تیرا حصہ نہ ہوگا نہ بالیقین یہ ہوا کہ اموال منقولہ کی ہر جنس جدا جدا جوڑکر دلہن کا حصہ نکا ل کر ہر چیز سے خاص جس قدر اس کے حصہ میں آیا بےکمی بیشی ایك ذرہ کے اس کے لئے جدا کر لیا اور وہی اس کے جہیز میں دیا ہو
فصلا عن الاقتصار علی المثلیات والتحرز عن الا اسباد بالاستبدال فی القیمیات۔
چہ جائیکہ مثلی چیزوں پر اکتفاء کیا گیا ہو اور قیمت والی چیزوں میں مستقل تبادلہ کرنے سے احتراز کیاگیا ہو۔ (ت)
الھبۃ والقرض وماکان اتلافا للمال او تملیکا من غیر عوض فانہ لایجوز مالم یصرح بہ نصا ا ھ اقول : ھذا افادوہ فی شریکی العنان والمفاوضۃ مع ان کلامنھماوکیل عن صاحبہ ماذون التصرف فی المال من جانبہ فکیف بالشریك شرکۃ العین فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصواعلیہ۔
ہبہ وقرض اور جو مال کا اتلاف یا بے عوض تملیك ہو وہ جائز نہیں جب تك شریك بنص صریح اس کی اجازت نہ دے دے اھ اقول (میں کہتا ہوں ) یہ وہ ہے جس کا انہوں نے شرکت عنان و مفاوضہ کے شریکوں کے بارے میں افادہ فرمایا باوجودیکہ شرکت عنان اور شرکت مفاوضہ میں شریك ایك دوسرے کے وکیل اور ایك دوسرے کی طرف سے تصرف کے مجاز ہوتے ہیں تو یہ حکم شرکت عین کے شریك کیلئے کیسے ہوسکتا ہے کہ اس میں تو شریك دوسرے کے حصہ سے محض اجنبی ہوتا اسے دوسرے کے حصہ میں تصرف حلال نہیں جیسا کہ انہوں نے اس پر نص کی ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے :
التجہیز لایدخل فیہ الجمع والموائد فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ و یکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ ملخصا۔
جمع وموائد تجیہز میں داخل نہیں تو جو تجہیز کے علاوہ ان میں خرچ کرے اگر وہ ورثاء میں سے ہے تو اسی کے حصہ سے شمار کیا جائے گا اور وہ متبرع ٹھہرے گا یونہی اجنبی اھ ملخصا(ت)
دلہن کا جہیز وہ اگر بکر نے بطور ہبہ نہ دیا بقصد مجرائی دیا تو یہ دینا کچھ اثر پیدا نہ کرے گا جبکہ باہم کسی قسم کی کوئی گفتگو نہ آئی کہ یہ اشیاء تیرے فلاں حصہ کے معاوضہ میں دیتے ہیں اس کے بعد کل ترکہ یا ترکہ کی فلاں قسم میں تیرا حصہ نہ ہوگا نہ بالیقین یہ ہوا کہ اموال منقولہ کی ہر جنس جدا جدا جوڑکر دلہن کا حصہ نکا ل کر ہر چیز سے خاص جس قدر اس کے حصہ میں آیا بےکمی بیشی ایك ذرہ کے اس کے لئے جدا کر لیا اور وہی اس کے جہیز میں دیا ہو
فصلا عن الاقتصار علی المثلیات والتحرز عن الا اسباد بالاستبدال فی القیمیات۔
چہ جائیکہ مثلی چیزوں پر اکتفاء کیا گیا ہو اور قیمت والی چیزوں میں مستقل تبادلہ کرنے سے احتراز کیاگیا ہو۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشرکت داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۴۵
حاشیہ طحطاویہ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۶۷
حاشیہ طحطاویہ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۶۷
انہ اجناس مختلفہ میں قسمت جمع بے تراضی ممکن یہاں تك کہ قاضی کو بھی اس کا اختیا ر نہیں کما نصواعلیہ فی الکتب جمیعا (جیسا کہ تمام کتابو ں میں اس پر نص فرمائی گئی۔ ت) تو غایت درجہ اس قدر رہا کہ بکر نے دیتے وقت اپنے دل میں سمجھ لیا کہ یہ ہم علی الحساب دیتے ہیں جو کچھ جہیز کی لاگت ہے دلہن کے حصہ میں مجرا لیں گے صرف اتنا سمجھ لینا کوئی عقد شرعی نہیں ہوسکتا قسمت نہ ہونا توظاہر لمامر(جیساکہ گزرا۔ ت)صلح وتخارج یوں نہیں کہ کل ترکہ یا اس کی کسی قسم سے حصہ دلہن کا ساکت نہ کیا گیا نہ دلہن کے خیال میں ہوگا اب فلاں قسم طرقہ میں میرا کوئی دعوی نہ رہا اگرچہ میرا حصہ مقدار جہیز سے زائد نکلے نہ ایسا امر بے صریح رضامندی فقط ایك طرف کے خیال پر عقد ٹھر سکتا ہے
فان العقد ربط ولا بدفی الربط من شیئین ۔
کیونکہ عقد ربط ہوتا ہے اور ربط میں دو۲چیزوں کا ہونا لازم ہے۔ (ت)
معہذا عند الحساب جہیز کی لاگت میں اختلاف پڑنا ممکن بلکہ مظنون تو قطع نزاع جس کے لئے صلح تخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا
وما من شیئی خلاعن مقصودہ الابطل وجہالۃ المصالح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الی المنازعۃ والامنعت۔
اورنہیں ہے کوئی شیئی اپنے مقصود سے خالی مگر وہ باطل ہے اور جس شیئی پر صلح ہو رہی ہے اس کامجہول ہونا اگر موجب نزاع نہ ہو تو جواز صلح سے مانع نہیں ورنہ مانع ہے۔(ت)
درمختار میں ہے :
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ ۔
صلح شرعا ایسا عقد ہے جو نزاع کو رفع اور خصومت کو قطع کرتا ہے۔ (ت)
نہایہ میں ہے :
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح اھ ملخصین۔
جو جہالت منازعت تك پہچائے وہ جواز صلح سے مانع ہوتی ہے اھ ملخصین(ت)
رہی بیع وہ اگر بتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلا بکر کہتا ہے میں نے یہ جہیز بعوض ان اشیائے متروکہ کے
فان العقد ربط ولا بدفی الربط من شیئین ۔
کیونکہ عقد ربط ہوتا ہے اور ربط میں دو۲چیزوں کا ہونا لازم ہے۔ (ت)
معہذا عند الحساب جہیز کی لاگت میں اختلاف پڑنا ممکن بلکہ مظنون تو قطع نزاع جس کے لئے صلح تخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا
وما من شیئی خلاعن مقصودہ الابطل وجہالۃ المصالح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الی المنازعۃ والامنعت۔
اورنہیں ہے کوئی شیئی اپنے مقصود سے خالی مگر وہ باطل ہے اور جس شیئی پر صلح ہو رہی ہے اس کامجہول ہونا اگر موجب نزاع نہ ہو تو جواز صلح سے مانع نہیں ورنہ مانع ہے۔(ت)
درمختار میں ہے :
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ ۔
صلح شرعا ایسا عقد ہے جو نزاع کو رفع اور خصومت کو قطع کرتا ہے۔ (ت)
نہایہ میں ہے :
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح اھ ملخصین۔
جو جہالت منازعت تك پہچائے وہ جواز صلح سے مانع ہوتی ہے اھ ملخصین(ت)
رہی بیع وہ اگر بتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلا بکر کہتا ہے میں نے یہ جہیز بعوض ان اشیائے متروکہ کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلح مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۴۱
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ النہایۃ کتاب الصلح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۳۱
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ النہایۃ کتاب الصلح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۳۱
جو بمقدار مالیت جہیز تیرے حصہ میں آئیں بیع کیا اور دلہن قبول کرتی تاہم فاسد ہوتی کہ نہ جہیز کی لاگت بیان میں آئی نہ یہ معلوم کہ اس کی مالیت کی کتنی چیزیں اور کیا کیا اشیاء حصہ عروس میں آئیں گی یہاں کہ اس قدر بھی نہ ہوا بکلہ کوئی تذکرہ درمیان نہ آیا صرف بکر نے ایك امر سمجھ کر جہیز سپرد کیا یہ بھی خبر نہیں کہ اس وقت قلب عروس میں کیا نیت تھی اسے کیونکر کوئی عقد شرعی قرار دے سکتے ہیں
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظہر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضا النفسی۔
اور یہ معلوم ہے کہ ایسا کوئی عقد نہیں جو محض نیت سے تام ہوتا ہو بلکہ کسی ایسی شیئی کا ہونا ضروری ہے جو ارادہ قلبی کوظاہر کرے رضاء قلبی پر دلالت کرے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول او فعل اھ(ملخصا) نعم المظہر قد یکون نصا وھواللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالہ کالمساومۃ واخذالثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لاحاجۃ الی البیان للعرف العام کا لخبز مثلا حیث یکون لہ قیمۃ معلومۃ لاتختلف ففتح البائع الدکان وجلوسہ للبیع واعدادہ الخبز لذلك دلیل علی البیع واخذ المشتری علی الشراء اما ھھنا فان فرضت دلالۃ من بکر فلادلالۃ اصلامن قبل العروس ولئن سلمت ایضا فالتعاطی ھھنا من احد الجانبین وھو وان جاز عند البعض وبہ یفتی وھو اربح التصحیحین فلابد فیہ عند مجیزہ من بیان البدل
اس کارکن وہ فعل ہے جو قولی یا فعلی طور پر تبادل ملکین کے ساتھ رضامندی پر دلالت کرے ہاں کبھی تو اس امر کا ظاہر کرنے والی شیئی بطور نص ہوتی ہے اور وہ لفظ ہے جو ایجاب وقبول کے لئے مقرر کیا گیا اور کبھی وہ بطور دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤ چکانا اور بیع تعاطی میں بیان ثمن کے بعد مبیع کو لے لینا اور جہاں عرف عام کی وجہ سے حاجت بیان نہیں ہوتی جیسے مثال کے طور پر روٹی جہاں اس کی قیمت متعین ہو اور مختلف نہ ہوتی ہو وہاں بائع کا دکان کھول کر بیٹھنا اور فروخت کے لئے روٹی تیار کرنا بیع پر دلالت کرتا ہے اور مشتری کا اس کولے لینا خریداری پر دلالت کرتا ہے لیکن یہاں اگر بکر کی طرف سے دلالت فرض کر بھی لی جائے تو دلہن کی طرف سے بالکل دلالت نہیں پائی گئی اور اگر بالفرض اس کو بھی تسلیم کرلیا جائے تو یہاں تعاطی صرف ایك جانب سے ہوگی ایك طرف سے تعاطی
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظہر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضا النفسی۔
اور یہ معلوم ہے کہ ایسا کوئی عقد نہیں جو محض نیت سے تام ہوتا ہو بلکہ کسی ایسی شیئی کا ہونا ضروری ہے جو ارادہ قلبی کوظاہر کرے رضاء قلبی پر دلالت کرے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول او فعل اھ(ملخصا) نعم المظہر قد یکون نصا وھواللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالہ کالمساومۃ واخذالثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لاحاجۃ الی البیان للعرف العام کا لخبز مثلا حیث یکون لہ قیمۃ معلومۃ لاتختلف ففتح البائع الدکان وجلوسہ للبیع واعدادہ الخبز لذلك دلیل علی البیع واخذ المشتری علی الشراء اما ھھنا فان فرضت دلالۃ من بکر فلادلالۃ اصلامن قبل العروس ولئن سلمت ایضا فالتعاطی ھھنا من احد الجانبین وھو وان جاز عند البعض وبہ یفتی وھو اربح التصحیحین فلابد فیہ عند مجیزہ من بیان البدل
اس کارکن وہ فعل ہے جو قولی یا فعلی طور پر تبادل ملکین کے ساتھ رضامندی پر دلالت کرے ہاں کبھی تو اس امر کا ظاہر کرنے والی شیئی بطور نص ہوتی ہے اور وہ لفظ ہے جو ایجاب وقبول کے لئے مقرر کیا گیا اور کبھی وہ بطور دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤ چکانا اور بیع تعاطی میں بیان ثمن کے بعد مبیع کو لے لینا اور جہاں عرف عام کی وجہ سے حاجت بیان نہیں ہوتی جیسے مثال کے طور پر روٹی جہاں اس کی قیمت متعین ہو اور مختلف نہ ہوتی ہو وہاں بائع کا دکان کھول کر بیٹھنا اور فروخت کے لئے روٹی تیار کرنا بیع پر دلالت کرتا ہے اور مشتری کا اس کولے لینا خریداری پر دلالت کرتا ہے لیکن یہاں اگر بکر کی طرف سے دلالت فرض کر بھی لی جائے تو دلہن کی طرف سے بالکل دلالت نہیں پائی گئی اور اگر بالفرض اس کو بھی تسلیم کرلیا جائے تو یہاں تعاطی صرف ایك جانب سے ہوگی ایك طرف سے تعاطی
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۵۵
والبدل ھھنا کما علمت مجہول فلم ینعقد البیع اجماعا۔
اگر چہ بعض کے نزدیك جائز ہے اور یہی مفتی بہ اور ارجح التصحیحین ہے مگر اس کو جائز ماننے والوں کے نزدیك بیان بدل ضروری ہے اور یہاں پر جیسا کہ توجانتا ہے بدل مجہول ہے لہذا بالاجماع یہ بیع منعقد نہ ہوگی۔ (ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحوانی کذافی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ و فی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احد ھما کاف لنص محمد رضی اﷲتعالی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع وھکذا حکی فتوی الشیخ الامام ابی الفضل الکرمانی کذافی المحیط ۔
بیع تعاطی میں دونوں جانبوں سے اعطاء امام شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك شرط ہے یونہی کفایہ میں ہے اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں بزازیہ میں ہے کہ یہی مختار ہے البحرالرائق میں بھی ایسے ہی ہے اور صحیح یہ ہے کہ ایك کا قبضہ کافی ہے کیونکہ امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی بدلین میں سے ایك پر قبضہ کرنے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ایك پر قبضہ ثمن ومبیع دونوں کا شامل ہے جیسا کہ النہر الفائق میں ہے اور یہ قائل تسلیم مبیع کے ساتھ اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے بیان ثمن کی شرط لگا تا ہے اور اسی طرح شیخ امام ابوالفضل کرمانی کا فتوی نقل کیا گیا جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
پس واضح ہو کہ جہیز دینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تو یہ دینا اصلا کوئی اثر تبدل ملك پیدا نہ کرے گا' بلکہ وہ مال جس کی ملك تھا بدستور اسی کی ملك پر رہے گا۔ اب معرفت مالك درکار ہے جو چیزیں عین متروکہ تھیں مثلا زیور برتن کپڑے وغیرہا کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہ جہیز میں دئے گئے وہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترکہ تھیں اب بھی مشترك رہیں گی اور جو اشیاء بکر نے خرید کردیں وہ سب مطلقا ملك بکر تھیں اور اب بھی خاص اسی کی ملك پر ہوں گی اگر چہ مال مشترك سے خریدی ہوں لماعلم ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ (کیونکہ یہ معلوم ہوچکا کہ بیشك شراء جب نفاذ پائے تو مشتری
اگر چہ بعض کے نزدیك جائز ہے اور یہی مفتی بہ اور ارجح التصحیحین ہے مگر اس کو جائز ماننے والوں کے نزدیك بیان بدل ضروری ہے اور یہاں پر جیسا کہ توجانتا ہے بدل مجہول ہے لہذا بالاجماع یہ بیع منعقد نہ ہوگی۔ (ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحوانی کذافی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ و فی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احد ھما کاف لنص محمد رضی اﷲتعالی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع وھکذا حکی فتوی الشیخ الامام ابی الفضل الکرمانی کذافی المحیط ۔
بیع تعاطی میں دونوں جانبوں سے اعطاء امام شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك شرط ہے یونہی کفایہ میں ہے اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں بزازیہ میں ہے کہ یہی مختار ہے البحرالرائق میں بھی ایسے ہی ہے اور صحیح یہ ہے کہ ایك کا قبضہ کافی ہے کیونکہ امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی بدلین میں سے ایك پر قبضہ کرنے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ایك پر قبضہ ثمن ومبیع دونوں کا شامل ہے جیسا کہ النہر الفائق میں ہے اور یہ قائل تسلیم مبیع کے ساتھ اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے بیان ثمن کی شرط لگا تا ہے اور اسی طرح شیخ امام ابوالفضل کرمانی کا فتوی نقل کیا گیا جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
پس واضح ہو کہ جہیز دینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تو یہ دینا اصلا کوئی اثر تبدل ملك پیدا نہ کرے گا' بلکہ وہ مال جس کی ملك تھا بدستور اسی کی ملك پر رہے گا۔ اب معرفت مالك درکار ہے جو چیزیں عین متروکہ تھیں مثلا زیور برتن کپڑے وغیرہا کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہ جہیز میں دئے گئے وہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترکہ تھیں اب بھی مشترك رہیں گی اور جو اشیاء بکر نے خرید کردیں وہ سب مطلقا ملك بکر تھیں اور اب بھی خاص اسی کی ملك پر ہوں گی اگر چہ مال مشترك سے خریدی ہوں لماعلم ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ (کیونکہ یہ معلوم ہوچکا کہ بیشك شراء جب نفاذ پائے تو مشتری
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۹
پر نافذ ہوجاتی ہے۔ ت) غایت یہ کہ مال مشترك سے خرید نے میں بکر باقی ورثہ کے حصص کا ذمہ دار رہے گا کما نقلنا فی مواضع منا فتاونا عن ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار سے اپنے فتاوی میں متعدد مقامات پر نقل کیا ہے۔ ت) پھر اس قسم یعنی مملوکات بکر پر دلہن کا قبضہ قبضہ امانت ہوگا لحصولہ بتسلیط المالک(کیونکہ اس قبضہ کا حصول مالك کی طرف سے قدرت دینے سے ہوا۔ ت) پس جس چیز کو دلہن نے استہلاك نہ کیا بغیر اس کے فعل کے چوری وغیرہ سے ہلاك ہوگئی اس کا تاوان دلہن پر نہ آئے گا اور جو اس کے فعل وتعدی سے تلف ہوئی اس کی قیمت بکر کے لئے دلہن کے ذمہ واجب ہوگی لان الامین ضمین اذاتعدی(اس لئے کہ امین جب امانت میں تعدی کرے تو ضامن ہوگا۔ ت) اور جو باقی ہو وہ بیعنہ بکر کو واپس دے اور قسم اول یعنی عین متروکہ سے جو کچھ جہیز میں دیا گیا اس پر دلہن کا ہاتھ دست ضمان ہوگا یعنی کسی طرح اس کے پاس ہلاك ہوجائے مطلقا تاوان آئے گا
وذلك لان بکرا قدتعدی علی حصص الشرکاء بتجہیز الاخت من مال مشترك وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقبل وکل ید مترتبۃ علی ید ضمان ید ضمان۔
اور یہ اس لئے ہے کہ بیشك بکر نے شراکاء کے حصوں میں تعدی کی کیونکہ اس نے مال مشترك سے بہن کا جہیز بناکر بہن کے حوالے کیا تاکہ وہ اس کے پہنے اور استعمال کرے اور اس میں مستقل تصرف کرے قبضہ جو قبضہ ضمان پر مترتب ہو وہ قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے۔ (ت)
پس باقی وارث جنہوں نے اذن نہ دیامختار رہیں گےکہ جو کچھ ہلاك ہو ا چاہیں اپنے حصوں کا تاوان بکر سے لیں لانہ الغاصب(کیونکہ وہ غاصب ہے۔ ت) چاہیں دلہن سے لانھا کغاصبۃ الغاصب(کیونکہ وہ گویا غاصب سے غصب کرنے والی ہے۔ ت) فتاوی خیریہ میں ہے :
الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء الخ۔
قبضہ ضمان پر مترتب ہونے والا قبضہ بھی قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے لہذا چار پائے کے مالك کواختیار ہے کہ جس سے چاہے ضمان لے الخ(ت)
اور وہ بکر یا دلہن جس سے ضمان لیں اسے دوسرے پر دعوی نہیں پہنچتا :
اما بکر فلانہ الغاصب وانما قبض العروس بتسلیطہ و اما العروس فلانھا قبضت
لیکن بکر تو اس لئے کہ وہ غاصب ہے بے شك دلہن نے اس کے قدرت دینے سے قبضہ کیا اور
وذلك لان بکرا قدتعدی علی حصص الشرکاء بتجہیز الاخت من مال مشترك وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقبل وکل ید مترتبۃ علی ید ضمان ید ضمان۔
اور یہ اس لئے ہے کہ بیشك بکر نے شراکاء کے حصوں میں تعدی کی کیونکہ اس نے مال مشترك سے بہن کا جہیز بناکر بہن کے حوالے کیا تاکہ وہ اس کے پہنے اور استعمال کرے اور اس میں مستقل تصرف کرے قبضہ جو قبضہ ضمان پر مترتب ہو وہ قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے۔ (ت)
پس باقی وارث جنہوں نے اذن نہ دیامختار رہیں گےکہ جو کچھ ہلاك ہو ا چاہیں اپنے حصوں کا تاوان بکر سے لیں لانہ الغاصب(کیونکہ وہ غاصب ہے۔ ت) چاہیں دلہن سے لانھا کغاصبۃ الغاصب(کیونکہ وہ گویا غاصب سے غصب کرنے والی ہے۔ ت) فتاوی خیریہ میں ہے :
الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء الخ۔
قبضہ ضمان پر مترتب ہونے والا قبضہ بھی قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے لہذا چار پائے کے مالك کواختیار ہے کہ جس سے چاہے ضمان لے الخ(ت)
اور وہ بکر یا دلہن جس سے ضمان لیں اسے دوسرے پر دعوی نہیں پہنچتا :
اما بکر فلانہ الغاصب وانما قبض العروس بتسلیطہ و اما العروس فلانھا قبضت
لیکن بکر تو اس لئے کہ وہ غاصب ہے بے شك دلہن نے اس کے قدرت دینے سے قبضہ کیا اور
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الغصب دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۴۹
لنفسھا لالبکر ۔
رہی دلہن تو وہ اس لئے کہ بے شك اس نے اپنے لئے قبضہ کیا ہے نہ بکر کے لئے۔ (ت)
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے :
وھب الغاصب المغصوب او تصدق اواعار وھلك فی ایدیھم وضمنوا للمالك لایرجعون بماضمنو ا للمالك علی الغاصب لانہم کانوا عاملین فی القبض لانفسھم بخلاف المرتھن والمستاجر والمودع فانھم یرجعون بما ضمنواعلی الغاصب لانھم عملوا لہ الخ۔
غاصب نے شئی مغصوبہ کسی کو بطور ہبہ یا صدقہ یا عاریت دے دی اور وہاں ہلاك ہوگئی تو جنہیں وہ شئی بطور ہبہ یا صدقہ یا عاریت دی گئی یہ لوگ اصل مالك کیلئے ضامن ہوں گے اور جتنا ضمان انہوں نے مالك کو دیا وہ غاصب سے نہیں لے سکیں گے کیونکہ انہوں نے قبضہ کرنے میں اپنے لئے عمل کیا نہ کہ غاصب کے لئے بخلاف مرتہن مستاجر اور مودع کے کہ یہ لوگ جتنے کے ضامن جتنے کے ضامن ہوئے غاصب سے اس کا رجوع کرسکیں گے کیونکہ انہوں نے غاصب کے لئے عمل کیا الخ۔ (ت)
اور جو کچھ باقی ہوں وہ دلہن سے واپس لے کر فرائض الہیہ پر تقسیم ہوجائیں یہ سب احکام اس صورت میں تھے کہ بکر نے جہیز بطور ہبہ نہ دیا ہو اوربے شك اس امر میں کہ ہبہ کی نیت تھی یا مجرائی کی بکر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا
لانہ الدافع فھوادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین والفتاوی الخیریۃ وغیرھا وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرہ اقول : ولیس فی تجہیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابا یدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاباء والامھات فی بلاد نا کیف یکون الظاہر
کیونکہ بیشك وہ دینے والاہے لہذا وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ دینے کی جہت کی ہے جیسا کہ اشباہ جامع الفصولین اور فتاوی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہے اور تحقیق انہوں نے متعدد مسائل میں اس پر نص فرمائی ہے میں کہتا ہوں کہ مال دار بہنیں جو بھائیوں کے جہیز دینے میں یہ عرف عام نہیں کہ یہ بھائیوں کی طرف سے ہبہ ہے بخلاف ماں باپ کے کہ وہ جو کچھ بطور جہیز دیں وہ ہمارے علاقے کے عرف میں ہبہ ہے اور بقاء واجب کے
رہی دلہن تو وہ اس لئے کہ بے شك اس نے اپنے لئے قبضہ کیا ہے نہ بکر کے لئے۔ (ت)
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے :
وھب الغاصب المغصوب او تصدق اواعار وھلك فی ایدیھم وضمنوا للمالك لایرجعون بماضمنو ا للمالك علی الغاصب لانہم کانوا عاملین فی القبض لانفسھم بخلاف المرتھن والمستاجر والمودع فانھم یرجعون بما ضمنواعلی الغاصب لانھم عملوا لہ الخ۔
غاصب نے شئی مغصوبہ کسی کو بطور ہبہ یا صدقہ یا عاریت دے دی اور وہاں ہلاك ہوگئی تو جنہیں وہ شئی بطور ہبہ یا صدقہ یا عاریت دی گئی یہ لوگ اصل مالك کیلئے ضامن ہوں گے اور جتنا ضمان انہوں نے مالك کو دیا وہ غاصب سے نہیں لے سکیں گے کیونکہ انہوں نے قبضہ کرنے میں اپنے لئے عمل کیا نہ کہ غاصب کے لئے بخلاف مرتہن مستاجر اور مودع کے کہ یہ لوگ جتنے کے ضامن جتنے کے ضامن ہوئے غاصب سے اس کا رجوع کرسکیں گے کیونکہ انہوں نے غاصب کے لئے عمل کیا الخ۔ (ت)
اور جو کچھ باقی ہوں وہ دلہن سے واپس لے کر فرائض الہیہ پر تقسیم ہوجائیں یہ سب احکام اس صورت میں تھے کہ بکر نے جہیز بطور ہبہ نہ دیا ہو اوربے شك اس امر میں کہ ہبہ کی نیت تھی یا مجرائی کی بکر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا
لانہ الدافع فھوادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین والفتاوی الخیریۃ وغیرھا وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرہ اقول : ولیس فی تجہیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابا یدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاباء والامھات فی بلاد نا کیف یکون الظاہر
کیونکہ بیشك وہ دینے والاہے لہذا وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ دینے کی جہت کی ہے جیسا کہ اشباہ جامع الفصولین اور فتاوی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہے اور تحقیق انہوں نے متعدد مسائل میں اس پر نص فرمائی ہے میں کہتا ہوں کہ مال دار بہنیں جو بھائیوں کے جہیز دینے میں یہ عرف عام نہیں کہ یہ بھائیوں کی طرف سے ہبہ ہے بخلاف ماں باپ کے کہ وہ جو کچھ بطور جہیز دیں وہ ہمارے علاقے کے عرف میں ہبہ ہے اور بقاء واجب کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الغصب دارا حیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۶
قصد التبرع مع بقاء الواجب بل الظاہرح انھم یرید ون الاحتساب علیھن من انصابھن۔
ہوتے ہوئے قصدتبرع کیسے ظاہر ہوگا بلکہ ظاہر تو یہاں یہ ہے کہ وہ بہنوں کے حصوں سے مجرا کا ارادہ کرتے ہیں (ت)
اسی طرح اگر بکر نے دل میں نیت ہبہ کی مگردلھن نے ہبہ جان کر قبضہ نہ کیا بلکہ مثلا اپنے حصہ کا معاوضہ یا حصے میں مجرائی سمجھ کرلیا توبھی بعینہ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دلہن کی طرف سے قبول ہبہ نہ پایا گیا
فان القبول فرع العلم وھی اذا لم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔
اس لئے کہ قبول علم کی فرع ہے تو جب اس نے اسے ہبہ جانا ہی نہیں تو یہ کیسے متصور ہے کہ اس نے ہبہ قبول کیا۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وکذا بقولہ اذنت للناس جمیعا فی ثمر نخلی من اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناس من اخذ شیئا یملکہ کذا فی المنتقی وظاہرہ ان من اخذ ولم یبلغہ مقالۃ الواھب لایکون لہ کما لایخفی اھ اقول : ومثلہ مافی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل سیب دابتہ فاصلحھا انسان ثم جاء صاحبھا واقروقال قلت حین خلیت سبیلھامن اخذھا فھی لہ اوانکر فاقیمت علیہ البینۃ او استحلف فنکل فھی للآخذ سواء کان حاضر اسمع ھذہ المقالہ اوغالب
اور اسی طرح اگر کسی نے کہا کہ میں نے اپنے درختوں کے پھلوں کی تمام لوگوں کو اجازت دی کہ جو جتنا لے لے وہ اسی کا ہے لوگوں کو اس کی خبر پہنچی تو اس میں سے جو جتنا لے گا وہ اس کامالك ہوجائےگا جیسا کہ منتقی میں ہے۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ جس کے واہب کے اس کہنے کی خبر نہ پہنچی اس نے جو کچھ لیا وہ اس کا مالك نہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں میں کہتا ہوں اسی کی مثل ہے وہ جو ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی شخص نے اپنا چوپایہ آزاد چھوڑدیا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر اس کی اصلاح کرلی یعنی اس کو کام کے لائق بنالیا اب مالك آیا اور اس نے اقرار کیا کہ میں نے اس کو چھوڑتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ جو بھی اس کو پکڑلے گا یہ اسی کا ہوگا' یا اس نے
ہوتے ہوئے قصدتبرع کیسے ظاہر ہوگا بلکہ ظاہر تو یہاں یہ ہے کہ وہ بہنوں کے حصوں سے مجرا کا ارادہ کرتے ہیں (ت)
اسی طرح اگر بکر نے دل میں نیت ہبہ کی مگردلھن نے ہبہ جان کر قبضہ نہ کیا بلکہ مثلا اپنے حصہ کا معاوضہ یا حصے میں مجرائی سمجھ کرلیا توبھی بعینہ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دلہن کی طرف سے قبول ہبہ نہ پایا گیا
فان القبول فرع العلم وھی اذا لم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔
اس لئے کہ قبول علم کی فرع ہے تو جب اس نے اسے ہبہ جانا ہی نہیں تو یہ کیسے متصور ہے کہ اس نے ہبہ قبول کیا۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وکذا بقولہ اذنت للناس جمیعا فی ثمر نخلی من اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناس من اخذ شیئا یملکہ کذا فی المنتقی وظاہرہ ان من اخذ ولم یبلغہ مقالۃ الواھب لایکون لہ کما لایخفی اھ اقول : ومثلہ مافی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل سیب دابتہ فاصلحھا انسان ثم جاء صاحبھا واقروقال قلت حین خلیت سبیلھامن اخذھا فھی لہ اوانکر فاقیمت علیہ البینۃ او استحلف فنکل فھی للآخذ سواء کان حاضر اسمع ھذہ المقالہ اوغالب
اور اسی طرح اگر کسی نے کہا کہ میں نے اپنے درختوں کے پھلوں کی تمام لوگوں کو اجازت دی کہ جو جتنا لے لے وہ اسی کا ہے لوگوں کو اس کی خبر پہنچی تو اس میں سے جو جتنا لے گا وہ اس کامالك ہوجائےگا جیسا کہ منتقی میں ہے۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ جس کے واہب کے اس کہنے کی خبر نہ پہنچی اس نے جو کچھ لیا وہ اس کا مالك نہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں میں کہتا ہوں اسی کی مثل ہے وہ جو ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی شخص نے اپنا چوپایہ آزاد چھوڑدیا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر اس کی اصلاح کرلی یعنی اس کو کام کے لائق بنالیا اب مالك آیا اور اس نے اقرار کیا کہ میں نے اس کو چھوڑتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ جو بھی اس کو پکڑلے گا یہ اسی کا ہوگا' یا اس نے
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الھبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ / ۲۸۴
فبلغہ الخبر ووجہہ ظاہر فانہ اذاعلم بمقالۃ الواھب فیکون الاخذ علی جھۃ الاتھاب ویقوم القبض مقام القبول بخلاف ما اذا لم یعلم فانہ یتحقق القبول قطعا وھو مدار ثبوت الملك للموھوب لہ قطعا سواء جعل رکنا کما نص علیہ فی التحفۃ ولو الجیۃ والکافی والکفایۃ والتبیین والبحر ومجمع الانھر والدرالمختار وابی السعود وغیرہا من کتب الکبار وھو ظاہر الھدایۃ وملتقی الابحر وغیرھا من الاسفار الغر اوشرطا کما نص علیہ فی المبسوط والمحیط والھندیۃ وغیرھا وافادفی البدائع انہ الاستحسان وان الاول قول زفروعلی کل فاتفق القولان علی انہ لاتملك فیھا بدون القبول وھو الذی نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وقد حققنا المسئلۃ بتوفیق اﷲتعالی علی ھامش ردالمحتار بما لامزید علیہ۔
انکار کیا اور گواہ قائم ہوگئے کہ اس نے ایسا کہا تھا یا اس سے حلف کا مطالبہ کیا گیا تو وہ حلف سے انکار کر گیا ان تمام صورتوں میں ہو چوپایہ اس پکڑنے والے شخص کا ہوگا چاہے تو خود حاضر ہوکر اس نے اپنے کانوں سے اس کی یہ بات سنی ہو یا وہ غائب تھا اور اس تك یہ خبر پہنچی ہو اھ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ جب اس کو واہب کے اس قول کا علم ہوگیا تو قبضہ قبول کے قائم مقام ہوگا بخلاف اس کے جب اس کو واہب کے قول کاعلم نہ ہوتو قطعا قبول متحقق نہ ہوگا اور وہ قبول ہی موہوب لہ کے لئے ثبوت ملك کامدار ہے چاہے اس قبول کو رکن قرار دیاجائے جیسا کہ اس پر تحفہ والوالجیہ کافی کافیہ تبیین بحر مجمع الانہر درمختار اور ابوالسعود وغیرہ کتب کبیرہ میں نص کی گئی اور ہدایہ اور ملتقی الابحر وغیرہ جلیل القدر کتابوں سے بھی یہی ظاہر ہے یا اس قبول کوشرط قرار دیا جائے جیسا کہ اس پر مبسوط محیط اور ہندیہ وغیرہ میں نص کی گئی اور بدائع میں افادہ فرمایا کہ بے شك یہ استحسان ہے اور یہ بے شك اول قول زفر ہے اور بہر صورت دونوں اس پر متفق ہیں کہ بغیر قبول کے ہبہ میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی اور خانیہ وغیرہ میں اسی پر نص فرمائی گئی اور البتہ ہم نے اس مسئلہ کی حاشیہ ردالمحتار میں ایسی تحقیق کردی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں ۔ (ت)
تو اس حالت میں بھی وہ اشیاء بدستور ملك اصل مالك پر رہیں گی خواہ بکر ہو یا سب شرکاء اور احکام سابقہ عود کریں گے ہاں اگر بکر کاارادہ ہبہ قولا یا فعلا یا درایۃ کسی طرح ظاہر ہوا جس کے سبب
انکار کیا اور گواہ قائم ہوگئے کہ اس نے ایسا کہا تھا یا اس سے حلف کا مطالبہ کیا گیا تو وہ حلف سے انکار کر گیا ان تمام صورتوں میں ہو چوپایہ اس پکڑنے والے شخص کا ہوگا چاہے تو خود حاضر ہوکر اس نے اپنے کانوں سے اس کی یہ بات سنی ہو یا وہ غائب تھا اور اس تك یہ خبر پہنچی ہو اھ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ جب اس کو واہب کے اس قول کا علم ہوگیا تو قبضہ قبول کے قائم مقام ہوگا بخلاف اس کے جب اس کو واہب کے قول کاعلم نہ ہوتو قطعا قبول متحقق نہ ہوگا اور وہ قبول ہی موہوب لہ کے لئے ثبوت ملك کامدار ہے چاہے اس قبول کو رکن قرار دیاجائے جیسا کہ اس پر تحفہ والوالجیہ کافی کافیہ تبیین بحر مجمع الانہر درمختار اور ابوالسعود وغیرہ کتب کبیرہ میں نص کی گئی اور ہدایہ اور ملتقی الابحر وغیرہ جلیل القدر کتابوں سے بھی یہی ظاہر ہے یا اس قبول کوشرط قرار دیا جائے جیسا کہ اس پر مبسوط محیط اور ہندیہ وغیرہ میں نص کی گئی اور بدائع میں افادہ فرمایا کہ بے شك یہ استحسان ہے اور یہ بے شك اول قول زفر ہے اور بہر صورت دونوں اس پر متفق ہیں کہ بغیر قبول کے ہبہ میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی اور خانیہ وغیرہ میں اسی پر نص فرمائی گئی اور البتہ ہم نے اس مسئلہ کی حاشیہ ردالمحتار میں ایسی تحقیق کردی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں ۔ (ت)
تو اس حالت میں بھی وہ اشیاء بدستور ملك اصل مالك پر رہیں گی خواہ بکر ہو یا سب شرکاء اور احکام سابقہ عود کریں گے ہاں اگر بکر کاارادہ ہبہ قولا یا فعلا یا درایۃ کسی طرح ظاہر ہوا جس کے سبب
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب الہبۃ الباب الثالث فیما یتعلق بالتحلیل نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۸۲
دلہن نے اسے ہبہ ہی سمجھ کر فیصلہ کیا تو البتہ ایجاب وقبول دونوں متحقق ہوگئے
فان القبض لوجہ الاتھاب قبول وان ناقصا کما فی مشاع یقسم لاستواء الکل فی الدلالۃ علی الرضا کما لایخفی۔
اس لئے کہ ہبہ سمجھ کر قبضہ کرنا قبول ہے اگر چہ ناقص ہو جیسے متحمل قسمت مشاع کا ہبہ کیونکہ رضا پر دلالت کرنے میں تمام برابر ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۔ (ت)
ولوالجیہ میں ہے :
القبض فی باب الھبۃ جار مجری الرکن فصار کالقبول ۔
ہبہ کے باب میں قبضہ رکن کے قائمقام ہے لہذا وہ قبول کی طرح ہوگیا۔ (ت)
پس اشیاء بکر نے خرید کر جہیز میں دیں اگر چہ مال مشترك سے خریدی ہوں دلہن ان کی مالك مستقل ہوگئی اور بکر پر اس مال مشترك میں اور ورثہ کے حصص کا تاوان آیا جن کے بے اذن یہ شراء واقع ہوا یہاں تك کہ خود اس دلہن کے حصے کا بھی جس نے جہیز پایا
فان البدل وان الیھا اوصل لکن الشراء نفذ علی بکر فوقع الملك لہ وتم الضمان ثم العطاء للعروس ھبۃ علیحدۃ من مال نفسہ فلایرتفع بہ ضمان قسط العروس۔
اس لئے کہ بدل اگر چہ دلہن تك پہنچ گیا لیکن شراء بکر پر نافذ ہوئی لہذا اس کے لئے ملك ثابت ہوئی اور ضمان تام ہوا پھر بکر کا دلہن کو عطا کرنا یہ بکر کے اپنے مال سے علیحدہ ہبہ ہوا تو اس سے دلہن کے حصے کا ضمان ساقط نہیں ہوگا۔ (ت)
اور جو کچھ عین ترکہ سے ہبہ کیں تو ہبہ باقی ورثہ کے حق میں نافذ نہ ہوا اذامنھم ولاولایۃ علیھم(اس لئے کہ نہ تو ان کی طرف سے اذن ہے اور نہ ہی اس کی ان پر ولایت ہے۔ ت) تو ان کے حصے تو ہر حال دلہن کے ہاتھ میں مضمون رہے اور ضمان کا وہی حکم کہ انہیں اختیار ہے چاہیں بکر پر ڈالیں یا دلہن پر جس پر ڈالیں دوسرے حصہ جہیز جس مال قابل تقسیم تھا یعنی اس کے حصے کیجئے تو وہی انتفاع اس سے مل سکے جو قبل از تقسیم ہے ملتا تھا جب تو بکر کے حصے میں بھی بہ ہوا لانھا ھبۃ فیما یقسم(کیونکہ یہ متحمل قسمت مشاع کا ہبہ ہے۔ ت) اس صورت میں مال مذکور بدستور شرکت جمیع ورثاء پر رہے گا اور جو کچھ دلہن کے ہاتھ میں کسی طرح ہلاك ہوگا اس میں حصہ بکر کا تاوان خاص پر پڑے گا۔ فتاوی خیریہ میں ہے :
فان القبض لوجہ الاتھاب قبول وان ناقصا کما فی مشاع یقسم لاستواء الکل فی الدلالۃ علی الرضا کما لایخفی۔
اس لئے کہ ہبہ سمجھ کر قبضہ کرنا قبول ہے اگر چہ ناقص ہو جیسے متحمل قسمت مشاع کا ہبہ کیونکہ رضا پر دلالت کرنے میں تمام برابر ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۔ (ت)
ولوالجیہ میں ہے :
القبض فی باب الھبۃ جار مجری الرکن فصار کالقبول ۔
ہبہ کے باب میں قبضہ رکن کے قائمقام ہے لہذا وہ قبول کی طرح ہوگیا۔ (ت)
پس اشیاء بکر نے خرید کر جہیز میں دیں اگر چہ مال مشترك سے خریدی ہوں دلہن ان کی مالك مستقل ہوگئی اور بکر پر اس مال مشترك میں اور ورثہ کے حصص کا تاوان آیا جن کے بے اذن یہ شراء واقع ہوا یہاں تك کہ خود اس دلہن کے حصے کا بھی جس نے جہیز پایا
فان البدل وان الیھا اوصل لکن الشراء نفذ علی بکر فوقع الملك لہ وتم الضمان ثم العطاء للعروس ھبۃ علیحدۃ من مال نفسہ فلایرتفع بہ ضمان قسط العروس۔
اس لئے کہ بدل اگر چہ دلہن تك پہنچ گیا لیکن شراء بکر پر نافذ ہوئی لہذا اس کے لئے ملك ثابت ہوئی اور ضمان تام ہوا پھر بکر کا دلہن کو عطا کرنا یہ بکر کے اپنے مال سے علیحدہ ہبہ ہوا تو اس سے دلہن کے حصے کا ضمان ساقط نہیں ہوگا۔ (ت)
اور جو کچھ عین ترکہ سے ہبہ کیں تو ہبہ باقی ورثہ کے حق میں نافذ نہ ہوا اذامنھم ولاولایۃ علیھم(اس لئے کہ نہ تو ان کی طرف سے اذن ہے اور نہ ہی اس کی ان پر ولایت ہے۔ ت) تو ان کے حصے تو ہر حال دلہن کے ہاتھ میں مضمون رہے اور ضمان کا وہی حکم کہ انہیں اختیار ہے چاہیں بکر پر ڈالیں یا دلہن پر جس پر ڈالیں دوسرے حصہ جہیز جس مال قابل تقسیم تھا یعنی اس کے حصے کیجئے تو وہی انتفاع اس سے مل سکے جو قبل از تقسیم ہے ملتا تھا جب تو بکر کے حصے میں بھی بہ ہوا لانھا ھبۃ فیما یقسم(کیونکہ یہ متحمل قسمت مشاع کا ہبہ ہے۔ ت) اس صورت میں مال مذکور بدستور شرکت جمیع ورثاء پر رہے گا اور جو کچھ دلہن کے ہاتھ میں کسی طرح ہلاك ہوگا اس میں حصہ بکر کا تاوان خاص پر پڑے گا۔ فتاوی خیریہ میں ہے :
حوالہ / References
والوالجیہ
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولایفید الملك فی ظاہر الروایۃ قال الزیلعی ولو سلمہ شائعا لایملکہ فیکون مضمونا علیہ اھ ملخصا وتمامہ فیھما وفی ردالمحتار۔
محتمل قسمت مشاع کا ہبہ ظاہرالروایۃ کے مطابق صحیح نہیں اور نہ ہی مفید ملك ہے۔ امام زیلعی نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو مشترك غیر منقسم شئی بطور ہبہ دے دے تو موہوب لہ اس کا ما لك نہیں ہوگا اور اس پر ضمان آئے گا اس کی پوری تفصیل مذکورہ بالا دونوں کتابوں اور ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
اسی طرح اگر مال ناقابل تقسیم ہومگر دلہن نہ جانے کہ اس میں بکر کا حصہ کس قدر ہے جب بھی ہبہ صحیح نہ ہوگا اور بعد ہلاك وہی حکم ہے کہ بکر کا تاوان دلہن پر آئے گا۔ بحرالرائق میں ہے :
یشترط فی صحۃ ھبتہ المشاع الذی لایحتملھا ان یکون قدرامعلوما حتی لو وھب نصیبہ من عبد ولم یعلمہ بہ لم یجز ۔
غیر متحمل قسمت مشاع کے ہبہ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ مقدار معلوم ہو یہاں تك کہ اگر غلام سے اپنا حصہ کسی کو ہبہ کیا اور مقدار نہ بتائی تو جائز نہ ہوا۔ (ت)
محیط امام سرخسی میں ہے :
واذاعلم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی نقلھا فی الفتاوی الھندیۃ۔
اگر موہوب لہ کو واہب کا حصہ معلوم ہے تو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك یہ ہبہ جائز ہونا چاہئے۔ ان دونوں کو فتاوی ہندیہ میں نقل فرمایا۔ (ت)
جامع الفصولین میں فتاوی امام فضلی سے ہے :
اذاھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذالفاسدۃ مضمونۃ علی مامر ۔
اگر شیئی موہوب ہلاك ہوجائے تو میں اس واہب کیلئے رجوع کا فتوی دوں گا جس نے اپنے ذی رحم محرم کو بطور ہبہ فاسدہ کچھ دیا کیونکہ ہبہ فاسدہ پر ضمان لازم آتا ہے جیسا کہ گزرگیا۔ (ت)
محتمل قسمت مشاع کا ہبہ ظاہرالروایۃ کے مطابق صحیح نہیں اور نہ ہی مفید ملك ہے۔ امام زیلعی نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو مشترك غیر منقسم شئی بطور ہبہ دے دے تو موہوب لہ اس کا ما لك نہیں ہوگا اور اس پر ضمان آئے گا اس کی پوری تفصیل مذکورہ بالا دونوں کتابوں اور ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
اسی طرح اگر مال ناقابل تقسیم ہومگر دلہن نہ جانے کہ اس میں بکر کا حصہ کس قدر ہے جب بھی ہبہ صحیح نہ ہوگا اور بعد ہلاك وہی حکم ہے کہ بکر کا تاوان دلہن پر آئے گا۔ بحرالرائق میں ہے :
یشترط فی صحۃ ھبتہ المشاع الذی لایحتملھا ان یکون قدرامعلوما حتی لو وھب نصیبہ من عبد ولم یعلمہ بہ لم یجز ۔
غیر متحمل قسمت مشاع کے ہبہ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ مقدار معلوم ہو یہاں تك کہ اگر غلام سے اپنا حصہ کسی کو ہبہ کیا اور مقدار نہ بتائی تو جائز نہ ہوا۔ (ت)
محیط امام سرخسی میں ہے :
واذاعلم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی نقلھا فی الفتاوی الھندیۃ۔
اگر موہوب لہ کو واہب کا حصہ معلوم ہے تو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك یہ ہبہ جائز ہونا چاہئے۔ ان دونوں کو فتاوی ہندیہ میں نقل فرمایا۔ (ت)
جامع الفصولین میں فتاوی امام فضلی سے ہے :
اذاھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذالفاسدۃ مضمونۃ علی مامر ۔
اگر شیئی موہوب ہلاك ہوجائے تو میں اس واہب کیلئے رجوع کا فتوی دوں گا جس نے اپنے ذی رحم محرم کو بطور ہبہ فاسدہ کچھ دیا کیونکہ ہبہ فاسدہ پر ضمان لازم آتا ہے جیسا کہ گزرگیا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۱۲
بحرالرائق کتاب الہبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ / ۲۸۶
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۷۸
جامع الفصولین الفصل الثلثون فی التصرفات الفاسدۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۷
بحرالرائق کتاب الہبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ / ۲۸۶
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۷۸
جامع الفصولین الفصل الثلثون فی التصرفات الفاسدۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۷
اور اگر دلہن کو معلوم تھا تو اس قدر میں ہبہ صحیح ونافذوتام ولازم ہوگیا اور ان اشیاء میں دلہن اپنے اور بکر دونوں کے حصص کی مالك ہوگئی باقی ورثہ کے حصے بدستور ودست عروس میں حکم ضمان پر ہیں جن کا حکم بارہا گزرا اور اول سے آخر تك سب صورتوں میں جو مشترك چیزیں دلہن کے ہاتھ میں تلف ہوئی ان میں دلہن اپنے حصہ کا تاوان کسی سے نہیں لے سکتی کہ اس کا مال اسی کے ہاتھ میں ہلاك ہوا اور بکر نے اس کے حصے پر کوئی تعدی نہ کی
فانہ انما سلم الملك لید من ملك فماھلك فی یدھا فعلیھا ھلك ھذاکلہ من اولہ الی آخرہ مما افیض علی قلب الفقیر من فیض القدیر واخذتہ تفقھا من کلمات العلماء اعظم اﷲاجورھم یوم الجزاء فما اصبت فمن اﷲ تعالی ولہ الحمد علیہ وما اخطأت فمن قصور نفسی وانا اتوب الیہ اتقن ھذہ اتقانا کبیرا فان المسائل مما تمس الیہ الحاجۃ کثیرا فاغتنم ھذا التفصیل الجمیل والحمد ﷲعلی فیضہ الجلیل۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس لئے کہ بیشك اس نے مملوك شیئی اس کے سپرد کی جو مالك ہوا تو جو دلہن کے قبضہ میں ہلاك ہوا وہ اسی کی ضمان میں ہلاك ہوا۔ یہ تمام از اول تا آخر رب قدیر جل مجدہ کے فیض سے فقیر کے دل میں ڈالا گیا اور میں نے اس کو بطور فقہ علماء کرام کے ارشادات عالیہ سے اخذ کیا توجومیں نے درست کہا وہ اﷲتعالی کی طرف سے ہے اس پر اسی کے لئے حمد ہے اور جس میں مجھ سے خطا ہوئی تو میرا اپنا قصور ہے میں اﷲ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ ان مباحث کو زبردست مضبوطی عطا فرمائے کیونکہ یہ وہ مسائل ہیں جن کی طرف بکثرت حاجت واقع ہوتی ہے پس اس عمدہ تفصیل کو غنیمت جان اور اﷲتعالی کے فیض جلیل پر اسی کی حمد ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
فانہ انما سلم الملك لید من ملك فماھلك فی یدھا فعلیھا ھلك ھذاکلہ من اولہ الی آخرہ مما افیض علی قلب الفقیر من فیض القدیر واخذتہ تفقھا من کلمات العلماء اعظم اﷲاجورھم یوم الجزاء فما اصبت فمن اﷲ تعالی ولہ الحمد علیہ وما اخطأت فمن قصور نفسی وانا اتوب الیہ اتقن ھذہ اتقانا کبیرا فان المسائل مما تمس الیہ الحاجۃ کثیرا فاغتنم ھذا التفصیل الجمیل والحمد ﷲعلی فیضہ الجلیل۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس لئے کہ بیشك اس نے مملوك شیئی اس کے سپرد کی جو مالك ہوا تو جو دلہن کے قبضہ میں ہلاك ہوا وہ اسی کی ضمان میں ہلاك ہوا۔ یہ تمام از اول تا آخر رب قدیر جل مجدہ کے فیض سے فقیر کے دل میں ڈالا گیا اور میں نے اس کو بطور فقہ علماء کرام کے ارشادات عالیہ سے اخذ کیا توجومیں نے درست کہا وہ اﷲتعالی کی طرف سے ہے اس پر اسی کے لئے حمد ہے اور جس میں مجھ سے خطا ہوئی تو میرا اپنا قصور ہے میں اﷲ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ ان مباحث کو زبردست مضبوطی عطا فرمائے کیونکہ یہ وہ مسائل ہیں جن کی طرف بکثرت حاجت واقع ہوتی ہے پس اس عمدہ تفصیل کو غنیمت جان اور اﷲتعالی کے فیض جلیل پر اسی کی حمد ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
فصل دوم
مسئلہ ۸۰تا ۸۶ : از بیجناتھ پارا رائے پور ممالك متوسط مرسلہ شیخ اکرم حسین صاحب متولی مسجد ودبیز مجلس انجمن نعمانیہ ۲۸ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا
(فیض النساء بیگم مدعیہ بنام حسام الدین داروغہ جنگل مدعا علیہ)
دعوی واپس پانے سامان جہیز ہرقسم کپڑے وزیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ مسماۃ فیض النساء بیگم نے اپنی سوتیلی لڑکی خدیجہ بی بی کی شادی حسام الدین کے ساتھ کردی ڈیڑھ برس بعدوہ لڑکی مرگئی اور اس کے بطن سے ایك لڑکا پیدا ہواتھا بعمرایك سال بعد چار مہینے مرنے ماں کے وہ لڑگا مرگیا فیض النساء بیگم کا دعوی ہے کہ کل سامان جہیز زیور وغیرہ جو وقت شادی خدیجہ بی بی مرحومہ کو جہیز دی تھی واپس ملے اور صرف سامان جہیز وغیرہ میں اپنے پیسے سے کرنے کے سبب میں واپس پانے کی حقدار ہوں سامان جہیز واپس ملنے کا رواج ملك مدراس میں جاری ہے۔ جواب حسام الدین یہ ہے کہ زیورات متوفیہ کے حکم سے اسی کے دوا معالجہ میں رہن رکھ کر خرچ ہوا مجھ کو اس قدر وسعت نہ تھی کہ اس قدر عرصہ دراز کی بیماری میں اس کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے مرتے وقت زندہ تھا ماں کے جائداد کا لڑکا مالك ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کا وارث ہوں متوفیہ کی سوتیلی ماں کا کوئی حق نہیں ہے۔ علمان دین اور مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کیا فرماتے ہیں :
(۱)ملك مدراس میں متوفیہ لڑکی کا جہیز واپس لینے کا رواج ہے فرمائیے شرع میں کہاں حکم ہے۔
مسئلہ ۸۰تا ۸۶ : از بیجناتھ پارا رائے پور ممالك متوسط مرسلہ شیخ اکرم حسین صاحب متولی مسجد ودبیز مجلس انجمن نعمانیہ ۲۸ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا
(فیض النساء بیگم مدعیہ بنام حسام الدین داروغہ جنگل مدعا علیہ)
دعوی واپس پانے سامان جہیز ہرقسم کپڑے وزیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ مسماۃ فیض النساء بیگم نے اپنی سوتیلی لڑکی خدیجہ بی بی کی شادی حسام الدین کے ساتھ کردی ڈیڑھ برس بعدوہ لڑکی مرگئی اور اس کے بطن سے ایك لڑکا پیدا ہواتھا بعمرایك سال بعد چار مہینے مرنے ماں کے وہ لڑگا مرگیا فیض النساء بیگم کا دعوی ہے کہ کل سامان جہیز زیور وغیرہ جو وقت شادی خدیجہ بی بی مرحومہ کو جہیز دی تھی واپس ملے اور صرف سامان جہیز وغیرہ میں اپنے پیسے سے کرنے کے سبب میں واپس پانے کی حقدار ہوں سامان جہیز واپس ملنے کا رواج ملك مدراس میں جاری ہے۔ جواب حسام الدین یہ ہے کہ زیورات متوفیہ کے حکم سے اسی کے دوا معالجہ میں رہن رکھ کر خرچ ہوا مجھ کو اس قدر وسعت نہ تھی کہ اس قدر عرصہ دراز کی بیماری میں اس کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے مرتے وقت زندہ تھا ماں کے جائداد کا لڑکا مالك ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کا وارث ہوں متوفیہ کی سوتیلی ماں کا کوئی حق نہیں ہے۔ علمان دین اور مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کیا فرماتے ہیں :
(۱)ملك مدراس میں متوفیہ لڑکی کا جہیز واپس لینے کا رواج ہے فرمائیے شرع میں کہاں حکم ہے۔
(۲)شرع میں رواج ملك کو مداخلت ہے کیا۔
(۳)جہیز میں جو سامان لڑکی کو دیا جاتا ہے وہ عاریۃ سمجھا جائے گا یا تملیکا۔
(۴)شرح وقایہ جلد سوم میں ہبہ واپسی کا حکم ہے کیا ہبہ جہیز اسی قسم کا ہبہ ہے حسب دعوی مدعیہ۔
(۵)جو شیئ منجانب مدعیہ خاص مدعاعلیہ یعنی داماد کو وقت شادی کے ملی ہے اس کے واپس پانے کا کیا مدعیہ کو حق ہے۔
(۶)جو جہیز یا سامان مدعا علیہ نے وقت شادی اپنی بی بی کو دیا اس پر بھی حق واپس لینے کا مدعیہ کا ہے یا نہیں ۔
(۷)متوفیہ کے حکم سے زیورات وقت بیماری رہن رکھ کر صرف ہوا اس کے چھڑانے کا کون ذمہ دار ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
جواب سوال اول تا چہارم
حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کچھ دخل نہیں ان الحکم الا ﷲ(نہیں ہے حکم مگر اﷲتعالی کا۔ ت)ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یوں کہ اگر یہ شے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے ورنہ یہ جس طرح وقف منقول کہ اشیائے منقولہ میں جس کا وقت معروف ہوجائز ورنہ نہیں یا استصناع یعنی بے طریق سلم معدوم چیز اجرت دے کر بنوانا اس میں جن اشیاء کے بنوانے کا رواج ہو جائز ورنہ نہیں یا شرط البیع کہ جو شرط مفسد معروف ہوجائے متحمل ہے ورنہ نہیں الی غیرذلك مماصرحوابہ فی الکتب(اس کے علاوہ جس کی تصریح انہوں نے کتاب میں فرمائی۔ ت)خواہ یوں کہ حکم فی نفسہ حاصل اور عرف اس کی صورت کا بتانے والا مثلا مرتہن کا شیئ مرہون سے انتفاع اگر باذن راہن بے شرط ہو جائز ورنہ حرام۔ اب اگرعرف ورواج ہو کہ بے طمع نفع بمرہون قرض نہیں دیتے جیسے ہمارے زمانہ میں تو مطلقا حکم حرمت دیا جائے گا کما فی الشامی عن الطحطاوی وقد افتیت بہ مرارا(جیسا کہ شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہے اور تحقیق میں اس پر کئی بار فتوی دے چکا ہوں ۔ ت)یہاں عرف نے بتادیا کہ صورت شرط ہے نہ یہ کہ قرض ورہن خالص واقع ہوئے اور اس کے بعد راہن نے برضائے خود مرتہن کو اجازت انتفاع دی ایسی ہی جگہ المعروف کالمشروط(معروف مشروط کی طرح ہوتا۔ ت)یا المعھود عرفا کالمشروط لفظا(جو عرف کے اعتبار سے معہود متعین ہو وہ
(۳)جہیز میں جو سامان لڑکی کو دیا جاتا ہے وہ عاریۃ سمجھا جائے گا یا تملیکا۔
(۴)شرح وقایہ جلد سوم میں ہبہ واپسی کا حکم ہے کیا ہبہ جہیز اسی قسم کا ہبہ ہے حسب دعوی مدعیہ۔
(۵)جو شیئ منجانب مدعیہ خاص مدعاعلیہ یعنی داماد کو وقت شادی کے ملی ہے اس کے واپس پانے کا کیا مدعیہ کو حق ہے۔
(۶)جو جہیز یا سامان مدعا علیہ نے وقت شادی اپنی بی بی کو دیا اس پر بھی حق واپس لینے کا مدعیہ کا ہے یا نہیں ۔
(۷)متوفیہ کے حکم سے زیورات وقت بیماری رہن رکھ کر صرف ہوا اس کے چھڑانے کا کون ذمہ دار ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
جواب سوال اول تا چہارم
حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کچھ دخل نہیں ان الحکم الا ﷲ(نہیں ہے حکم مگر اﷲتعالی کا۔ ت)ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یوں کہ اگر یہ شے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے ورنہ یہ جس طرح وقف منقول کہ اشیائے منقولہ میں جس کا وقت معروف ہوجائز ورنہ نہیں یا استصناع یعنی بے طریق سلم معدوم چیز اجرت دے کر بنوانا اس میں جن اشیاء کے بنوانے کا رواج ہو جائز ورنہ نہیں یا شرط البیع کہ جو شرط مفسد معروف ہوجائے متحمل ہے ورنہ نہیں الی غیرذلك مماصرحوابہ فی الکتب(اس کے علاوہ جس کی تصریح انہوں نے کتاب میں فرمائی۔ ت)خواہ یوں کہ حکم فی نفسہ حاصل اور عرف اس کی صورت کا بتانے والا مثلا مرتہن کا شیئ مرہون سے انتفاع اگر باذن راہن بے شرط ہو جائز ورنہ حرام۔ اب اگرعرف ورواج ہو کہ بے طمع نفع بمرہون قرض نہیں دیتے جیسے ہمارے زمانہ میں تو مطلقا حکم حرمت دیا جائے گا کما فی الشامی عن الطحطاوی وقد افتیت بہ مرارا(جیسا کہ شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہے اور تحقیق میں اس پر کئی بار فتوی دے چکا ہوں ۔ ت)یہاں عرف نے بتادیا کہ صورت شرط ہے نہ یہ کہ قرض ورہن خالص واقع ہوئے اور اس کے بعد راہن نے برضائے خود مرتہن کو اجازت انتفاع دی ایسی ہی جگہ المعروف کالمشروط(معروف مشروط کی طرح ہوتا۔ ت)یا المعھود عرفا کالمشروط لفظا(جو عرف کے اعتبار سے معہود متعین ہو وہ
ایسے ہی ہے جیسے لفظ کے اعتبار سے مشروط ہو۔ ت)کہتے ہیں کتب فقہ میں دونوں صورتوں کی مثالیں بکثرت موجود۔ یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ والدین اپنے مال سے دلہن کو جہیز دیتے ہیں اور دینا ہبہ وعاریت دونوں کو محتمل تو بنظر اصل حکم مطلقا انہیں کا قول معتبر ہونا چاہئے تھا۔
فان الاصل ان الدافع ادری بجھۃ الدفع وایضااذا احتمل امران تعین الاقل اذھو المتیقن والی ھذانظر الامام شمس الائمۃ السرخسی فاختار ان القول للاب مطلقا۔
بے شك اصل یہ ہے کہ دینے والادینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے نیز جب دو عمر محتمل ہوں تو ان میں سے اقل متعین ہوتا ہے کیونکہ وہی یقینی ہوتا ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے اسی کی طرف نظر فرمائی اور اختیار فرمایا کہ قول مطلقا باپ ہی کا معتبر ہے۔ (ت)
مگر عرف بلاد مظہر قصد ومراد ہوتا ہے جہاں عرف غالب تملیك ہو وہاں دعوی عاریت نامقبول اور جہیز دینا تملیك ہی پر محمول جب تك گواہان شرعی سے اپنا عاریۃ دیناثابت نہ کریں اور جہاں عرف غالب عاریت ہو یا دونوں رواج یکساں وہاں آپ ہی ان کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اورایسی جگہ جہیز دینا تملیك سمجھا جائے گا۔ “ مشیاعلی الاصل المار لعدم ما یحمل علی العدول عنہ “ (اصل رائج پر چلتے ہوئے کیونکہ اس سے عدول پر برانگیختہ کرنے والی کوئی شیئ موجود نہیں ۔ ت)یہی صحیح و معتمد و مختار للفتوی ہے بل ھو التوفیق بین الاقوال فاذاحقق فالیہ المال(بلکہ مختلف اقوال میں اسی سے تطبیق حاصل ہوئی جب اس کی تحقیق ہوگئی تو اسی کی طرف لوٹنا لازم ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
جھز ابنتہ ثم ادعی ان ما دفعہ لھا عاریۃ وقالت ھو تملیك اوقال الزوج ذلك بعد موتھا لیرث منہ و قال الاب او ورثتہ بعد موتہ عاریۃ فالمعتمد ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمرا ان الاب یدفع مثلہ جہازا لاعاریۃ واماان مشترکا کمصر و الشام فالقول للاب ۔
کسی شخص نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا پھر دعوی کیا کہ اس نے جو کچھ دیا وہ بطور عاریت دیا جب کہ لڑکی کہتی ہے کہ بطور تملیك دیا تھا یا اس کے مرنے کے بعد یہی بات اس کا شوہر کہے تا کہ وہ جہیز سے بطور میراث حصہ پائے اور لڑکی کا باپ یا اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کہیں کہ یہ رعایت کے طور پردیا تھا تو معتمد یہی ہے کہ قول بیٹی اور اس کے شوہر کا مانا جائے گا جبکہ عرف یہی رائج ہو کہ ایسا مال باپ پانی بیٹی کو بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور رعایت
فان الاصل ان الدافع ادری بجھۃ الدفع وایضااذا احتمل امران تعین الاقل اذھو المتیقن والی ھذانظر الامام شمس الائمۃ السرخسی فاختار ان القول للاب مطلقا۔
بے شك اصل یہ ہے کہ دینے والادینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے نیز جب دو عمر محتمل ہوں تو ان میں سے اقل متعین ہوتا ہے کیونکہ وہی یقینی ہوتا ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے اسی کی طرف نظر فرمائی اور اختیار فرمایا کہ قول مطلقا باپ ہی کا معتبر ہے۔ (ت)
مگر عرف بلاد مظہر قصد ومراد ہوتا ہے جہاں عرف غالب تملیك ہو وہاں دعوی عاریت نامقبول اور جہیز دینا تملیك ہی پر محمول جب تك گواہان شرعی سے اپنا عاریۃ دیناثابت نہ کریں اور جہاں عرف غالب عاریت ہو یا دونوں رواج یکساں وہاں آپ ہی ان کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اورایسی جگہ جہیز دینا تملیك سمجھا جائے گا۔ “ مشیاعلی الاصل المار لعدم ما یحمل علی العدول عنہ “ (اصل رائج پر چلتے ہوئے کیونکہ اس سے عدول پر برانگیختہ کرنے والی کوئی شیئ موجود نہیں ۔ ت)یہی صحیح و معتمد و مختار للفتوی ہے بل ھو التوفیق بین الاقوال فاذاحقق فالیہ المال(بلکہ مختلف اقوال میں اسی سے تطبیق حاصل ہوئی جب اس کی تحقیق ہوگئی تو اسی کی طرف لوٹنا لازم ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
جھز ابنتہ ثم ادعی ان ما دفعہ لھا عاریۃ وقالت ھو تملیك اوقال الزوج ذلك بعد موتھا لیرث منہ و قال الاب او ورثتہ بعد موتہ عاریۃ فالمعتمد ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمرا ان الاب یدفع مثلہ جہازا لاعاریۃ واماان مشترکا کمصر و الشام فالقول للاب ۔
کسی شخص نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا پھر دعوی کیا کہ اس نے جو کچھ دیا وہ بطور عاریت دیا جب کہ لڑکی کہتی ہے کہ بطور تملیك دیا تھا یا اس کے مرنے کے بعد یہی بات اس کا شوہر کہے تا کہ وہ جہیز سے بطور میراث حصہ پائے اور لڑکی کا باپ یا اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کہیں کہ یہ رعایت کے طور پردیا تھا تو معتمد یہی ہے کہ قول بیٹی اور اس کے شوہر کا مانا جائے گا جبکہ عرف یہی رائج ہو کہ ایسا مال باپ پانی بیٹی کو بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور رعایت
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۳
(جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے)اور اگر عرف مشترك ہو جیسا کہ مصر اور شام میں توباپ کا قول معبتر ہوگا۔ (ت)اسی میں ہے : بہ یفتی(اسی کے ساتھ فتوی دیا جاتا ہے۔ ت)بحرالرائق میں ہے :
فی فتح القدیروالتجنیس والذخیرۃ المختار للفتوی ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمر ا ان الاب یدفع مثلہ جہاز الاعاریۃ کما فی دینارنا وان کان مشترکا فالقول قول الاب ۔
فتح القدیر تجنیس اور ذخیرہ میں کہ فتوی کے لئے مختار یہ ہے کہ بیشك قول بیٹی اور اس کے شوہر کا معتبر ہوگا جبکہ عرف یہی رائج ہوکہ ایسا مال باپ بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے۔ اور اگر عرف مشترك ہوتو باپ کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
عقودالدریہ میں ہے :
حیث کان العرف مشترکا فالقول للام مع یمینھا وقد ذکران کل من کان القول قولہ یلزمہ الیمین الا فی مسائل اوصلھا فی شرح الکنزالی نیف وستین مسئلۃ لیست ھذھ منھا وافتی قاریء الھدایۃالقول قول الاب والام انھما لم یملکا ھا انما ھو عاریۃ عند کم مع الیمین مختصرا۔
جہاں عرف مشترك ہو تو وہاں ماں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ تحقیق مذکور ہے کہ ان تمام صورتوں میں جن میں کسی کا قول معتبر ہو اسے یمین لازم ہے سوائے چند مسائل کے جنہیں شرح کنز میں ساٹھ سے کچھ اوپر تك پہنچایا مسئلہ جہیز ان مسائل میں سے نہیں (یعنی اس میں قول قسم کے ساتھ ہی معتبر ہوگا)اور قاری ہدایہ نے فتوی دیا کہ قول ماں باپ کا قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ بے شك انہوں نے بیٹی کو جہیز کامالك نہیں بنایا اور تمہارے نزدیك عاریت ہے اھ مختصرا(ت)
پھرعرف جن خصوصیتوں کے ساتھ ہو سب کے مراعات واجب مثلا شرفا میں عرف تملیك ہے کم درجہ کے لوگوں میں مشترك تو صرف شرفا ہی کی جانب سے تملیك سمجھی جائے گی یا حسب حیثیت ایك مقدار خاص تك جہیز دینے کا عرف ہو اور زیادہ ہوتو عاریت تو جب اسی مقدار تك دیا گیا ہو تملیك سمجھیں گے۔ بحرالرائق میں ہے :
قال قاضی خاں وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الاب من الشراف والکرام لایقبل قولہ انہ عاریۃ
قاضی خاں نے فرمایا کہ جواب بالتفصیل ہونا چاہئے اگر باپ اشراف ومعززین میں سے ہے تواس کا یہ قول قبول نہیں کیا جائے گا کہ یہ(جہیز)عاریت ہے
فی فتح القدیروالتجنیس والذخیرۃ المختار للفتوی ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمر ا ان الاب یدفع مثلہ جہاز الاعاریۃ کما فی دینارنا وان کان مشترکا فالقول قول الاب ۔
فتح القدیر تجنیس اور ذخیرہ میں کہ فتوی کے لئے مختار یہ ہے کہ بیشك قول بیٹی اور اس کے شوہر کا معتبر ہوگا جبکہ عرف یہی رائج ہوکہ ایسا مال باپ بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے۔ اور اگر عرف مشترك ہوتو باپ کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
عقودالدریہ میں ہے :
حیث کان العرف مشترکا فالقول للام مع یمینھا وقد ذکران کل من کان القول قولہ یلزمہ الیمین الا فی مسائل اوصلھا فی شرح الکنزالی نیف وستین مسئلۃ لیست ھذھ منھا وافتی قاریء الھدایۃالقول قول الاب والام انھما لم یملکا ھا انما ھو عاریۃ عند کم مع الیمین مختصرا۔
جہاں عرف مشترك ہو تو وہاں ماں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ تحقیق مذکور ہے کہ ان تمام صورتوں میں جن میں کسی کا قول معتبر ہو اسے یمین لازم ہے سوائے چند مسائل کے جنہیں شرح کنز میں ساٹھ سے کچھ اوپر تك پہنچایا مسئلہ جہیز ان مسائل میں سے نہیں (یعنی اس میں قول قسم کے ساتھ ہی معتبر ہوگا)اور قاری ہدایہ نے فتوی دیا کہ قول ماں باپ کا قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ بے شك انہوں نے بیٹی کو جہیز کامالك نہیں بنایا اور تمہارے نزدیك عاریت ہے اھ مختصرا(ت)
پھرعرف جن خصوصیتوں کے ساتھ ہو سب کے مراعات واجب مثلا شرفا میں عرف تملیك ہے کم درجہ کے لوگوں میں مشترك تو صرف شرفا ہی کی جانب سے تملیك سمجھی جائے گی یا حسب حیثیت ایك مقدار خاص تك جہیز دینے کا عرف ہو اور زیادہ ہوتو عاریت تو جب اسی مقدار تك دیا گیا ہو تملیك سمجھیں گے۔ بحرالرائق میں ہے :
قال قاضی خاں وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الاب من الشراف والکرام لایقبل قولہ انہ عاریۃ
قاضی خاں نے فرمایا کہ جواب بالتفصیل ہونا چاہئے اگر باپ اشراف ومعززین میں سے ہے تواس کا یہ قول قبول نہیں کیا جائے گا کہ یہ(جہیز)عاریت ہے
حوالہ / References
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
العقود الدرایۃ تنقیح فی الفتاوی الحامدیۃ مسائل الجہاز مطبع حاجی عبد الغفار وپسران قندھا افغانستان ۱ / ۲۶
العقود الدرایۃ تنقیح فی الفتاوی الحامدیۃ مسائل الجہاز مطبع حاجی عبد الغفار وپسران قندھا افغانستان ۱ / ۲۶
وان کان الاب ممن لایجھز البنات بمثل ذلك قبل قولہ ۔
اور اگر باپ ان لوگوں میں سے ہے جو اس کی مثل جہیز بیٹیوں کو نہیں دیتے تو اس کا قول مان لیا جائےگا(ت)
نہر الفائق میں ہے :
وھذالعمری من الحسن بمکان
اور میری عمر کی قسم یہ قول حسن میں اونچا مقام رکھتا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لوکان اکثرممایجھربہ مثلھا فان القول لہ اتفاقا ۔
اگر جہیز میں دیاجانے والامال اس سے زیادہ ہے جتنا ایسی لڑکیوں کو جہیز میں دیا جاتا ہے تو بالاتفاق باپ کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشاء تو جدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب مگر کہ یہ کوئی دلیل دیگر اس سے صارف ہو مثلاباپ پر بیٹی کا قرض آتا تھا وہ کہتا ہے میں نے قرض دیا یہ کہتی ہے اپنے مال سے دیا تو باپ کا قول بقسم معتبر ہے کہ مدیون کے حال سے یہی ظاہر کہ ادائے دین کی فکر مقدم رکھے گا۔ بحرالرائق میں ہے :
لو کان لھا علی ابیھا دین فجھز ھا ابو ہاشم قال جھزتھا بدینھا علی وقالت بل بما لك فالقول للاب وقیل للبنت ۔
اگر بیٹی کا باپ پر قرض ہواور باپ بیٹی کو جہیز دے پھر کہے کہ میں نے یہ اس کے قرضے کے عوض میں دیا جو بیٹی کا مجھ پر تھا اور بیٹی کہے کہ باپ نے انے مال سے دیا ہے تو باپ کا قول معتبر ہوگا اور کہا گیا ہے کہ بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
انقرویہ میں ہے :
والاول اصح فانہ لوقال الاب کان لامک
اول اصح ہے اس لئے کہ اگر باپ کہے تیری ماں کو مجھ پر
اور اگر باپ ان لوگوں میں سے ہے جو اس کی مثل جہیز بیٹیوں کو نہیں دیتے تو اس کا قول مان لیا جائےگا(ت)
نہر الفائق میں ہے :
وھذالعمری من الحسن بمکان
اور میری عمر کی قسم یہ قول حسن میں اونچا مقام رکھتا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لوکان اکثرممایجھربہ مثلھا فان القول لہ اتفاقا ۔
اگر جہیز میں دیاجانے والامال اس سے زیادہ ہے جتنا ایسی لڑکیوں کو جہیز میں دیا جاتا ہے تو بالاتفاق باپ کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشاء تو جدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب مگر کہ یہ کوئی دلیل دیگر اس سے صارف ہو مثلاباپ پر بیٹی کا قرض آتا تھا وہ کہتا ہے میں نے قرض دیا یہ کہتی ہے اپنے مال سے دیا تو باپ کا قول بقسم معتبر ہے کہ مدیون کے حال سے یہی ظاہر کہ ادائے دین کی فکر مقدم رکھے گا۔ بحرالرائق میں ہے :
لو کان لھا علی ابیھا دین فجھز ھا ابو ہاشم قال جھزتھا بدینھا علی وقالت بل بما لك فالقول للاب وقیل للبنت ۔
اگر بیٹی کا باپ پر قرض ہواور باپ بیٹی کو جہیز دے پھر کہے کہ میں نے یہ اس کے قرضے کے عوض میں دیا جو بیٹی کا مجھ پر تھا اور بیٹی کہے کہ باپ نے انے مال سے دیا ہے تو باپ کا قول معتبر ہوگا اور کہا گیا ہے کہ بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔ (ت)
انقرویہ میں ہے :
والاول اصح فانہ لوقال الاب کان لامک
اول اصح ہے اس لئے کہ اگر باپ کہے تیری ماں کو مجھ پر
حوالہ / References
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
ردالمحتار بحوالہ النہرالفائق باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
در مختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۳
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
ردالمحتار بحوالہ النہرالفائق باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
در مختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۳
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
علی مائۃ دینار فاتخذت الجھاز بھا وقالت بل بمالك فالقول للاب جامع الفتاوی وکذا فی القنیۃ ۔
سو ۱۰۰ دینار قرض تھا میں نے اس سے جہیز بنایا ہے اور بیٹی کہے کہ تونے اپنے مال سے بنایا ہے تو باپ کا قول معتبر ہوگا جامع الفتاوی اور ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ (ت)
اقول : وباﷲالتوفیق مگر اگر بحالت دین بھی عرف مقتضی تملیك ہوتو اسی پر نظر کی جائے گی کہ اب دلالت دین دلالت عرف کے معارض نہ رہی۔ ہدایہ میں ہے :
(من بعث الی امرأتہ شیأ فقالت ھو ھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول لہ)لانہ ھوالمملك فکان اعرف بجھتہ المتلیك کیف وان الظاہر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل)فان القول قولھا والمراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ فاما فی الحنطۃ و الشعیر فالقول قولہ لما بینا اھ فانظر کیف رجح دلالۃ العرف علی دلالۃ انہ مدین فالظاہرمنہ السعی فی اسقاط الدین ثم زاد الشارحون فسایرو العرف کیفما سار قال المحقق فی الفتح ھذا والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیع ماذکر من الحنطۃ
شوہر نے عورت کوکوئی شیئ بھیجی عورت کہتے ہے وہ ہدیہ ہے اور شوہر کہتا ہے وہ مہر سے ہے تو شوہر کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہی مالك بنانے والاہے لہذا وہ تملیك جہت کو بہتر طور پر سمجھتا ہے اور اس کا قول کیسے معتبر نہ ہوگا جبکہ ظاہر یہی ہے کہ وہ اس شیئ کو ساقط کرنے کی کوشش کرے گا جو اس پر واجب ہے سوائے اس طعام کے جوکھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں عورت کا قول معتبر ہوگا اس سے مراد وہ طعام ہے جو کھانے کے لئے تیار کیا گیا ہو کیونکہ ایسا طعام بطور ہدیہ ہی متعارف ہے لیکن گندم اور جو وغیرہ کی صورت میں شوہر کا قول معتبر ہوگا اسی بناء پر جس کو ہم نے بیان کیا پس دیکھ کہ دلالت عرف کو کیسے ترجیح حاصل ہوئی اس دلالت پر کہ وہ مدیون ہے اور ظاہر یہ ہے کہ وہ اسقاط دین میں سعی کرے گا پھر شارحین نے اس پر اضافہ کیا کہ عرف کے ساتھ چلو جدھر لے جائے محقق نے فتح میں فرمایا اور وہ جس کا اعتبار ہمارے علاقے میں واجب ہے یہ ہے کہ بیشك گندم
سو ۱۰۰ دینار قرض تھا میں نے اس سے جہیز بنایا ہے اور بیٹی کہے کہ تونے اپنے مال سے بنایا ہے تو باپ کا قول معتبر ہوگا جامع الفتاوی اور ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ (ت)
اقول : وباﷲالتوفیق مگر اگر بحالت دین بھی عرف مقتضی تملیك ہوتو اسی پر نظر کی جائے گی کہ اب دلالت دین دلالت عرف کے معارض نہ رہی۔ ہدایہ میں ہے :
(من بعث الی امرأتہ شیأ فقالت ھو ھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول لہ)لانہ ھوالمملك فکان اعرف بجھتہ المتلیك کیف وان الظاہر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل)فان القول قولھا والمراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ فاما فی الحنطۃ و الشعیر فالقول قولہ لما بینا اھ فانظر کیف رجح دلالۃ العرف علی دلالۃ انہ مدین فالظاہرمنہ السعی فی اسقاط الدین ثم زاد الشارحون فسایرو العرف کیفما سار قال المحقق فی الفتح ھذا والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیع ماذکر من الحنطۃ
شوہر نے عورت کوکوئی شیئ بھیجی عورت کہتے ہے وہ ہدیہ ہے اور شوہر کہتا ہے وہ مہر سے ہے تو شوہر کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہی مالك بنانے والاہے لہذا وہ تملیك جہت کو بہتر طور پر سمجھتا ہے اور اس کا قول کیسے معتبر نہ ہوگا جبکہ ظاہر یہی ہے کہ وہ اس شیئ کو ساقط کرنے کی کوشش کرے گا جو اس پر واجب ہے سوائے اس طعام کے جوکھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں عورت کا قول معتبر ہوگا اس سے مراد وہ طعام ہے جو کھانے کے لئے تیار کیا گیا ہو کیونکہ ایسا طعام بطور ہدیہ ہی متعارف ہے لیکن گندم اور جو وغیرہ کی صورت میں شوہر کا قول معتبر ہوگا اسی بناء پر جس کو ہم نے بیان کیا پس دیکھ کہ دلالت عرف کو کیسے ترجیح حاصل ہوئی اس دلالت پر کہ وہ مدیون ہے اور ظاہر یہ ہے کہ وہ اسقاط دین میں سعی کرے گا پھر شارحین نے اس پر اضافہ کیا کہ عرف کے ساتھ چلو جدھر لے جائے محقق نے فتح میں فرمایا اور وہ جس کا اعتبار ہمارے علاقے میں واجب ہے یہ ہے کہ بیشك گندم
حوالہ / References
فتاوٰی انقرویہ باب فی اختلاف الجہاز والمہر دارالاشاعت العربیہ افغانستان ۱ / ۶۵۔ ۶۴
ہدایہ باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۳۱۷
ہدایہ باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۳۱۷
و اللوزوالدقیق والسکر والشاۃ الحیلۃ وباقیھا یکون القول فیھا قول امرأۃ لان المتعارف فی ذلك کلہ ان یرسلہ ھدیۃ فالظاہر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الا فی نحوالثیاب والجاریۃ اھ وقال فی النھر الفائق واقول وینبغی ان لایقبل قولہ ایضا فی الثیاب المحمولۃ مع السکر ونحوہ للعرف اھ وقال السید ابو السعود فی حاشیۃ الکنز بعد نقلہ واقول ینبغی ان یکون القول لھا فی غیر النقول للعرف المستمر اھ وقال فی ردالمحتار قلت ومن ذلك مایبعثہ الیھاقبل الزفاف فی الاعیاد والمواسم من نحوثیاب وحلی وکذا ما یعطیھا من ذلك اومن دراھم اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبحۃ فانکل ذلك تعورف فی زماننا کونہ ھدیۃ لامن المہر ولاسیما المسمی صبحۃ فان الزوجۃ تعوضہ عنھا ثیابا ونحوھا صبیحۃ العرس ایضا اھ فکل ذلك انما ھو لان العرف
بادام آٹا شکر زندہ بکری اور دیگر تمام اشیاء مذکورہ میں عورت کاقول معتبر ہوگا ان تمام اشیاء میں عرف یہ ہے کہ بطور ہدیہ بھیجی جاتی ہیں لہذا ظاہر عورت کا مؤیدہے نہ کہ مرد کا اور مرد کاقول کپڑوں اور لونڈی جیسی اشیاء کے ماسواء میں معتبر نہ ہوگا النہرالفائق میں فرمایا کہ میں کہتا ہوں شکر وغیرہ کے ساتھ بھیجے ہوئے کپڑوں میں بھی عرف کی وجہ سے مرد کاقول معتبر نہیں ہونا چاہئے سید ابوالسعود نے حاشیہ کنز مین اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا میں کہتاہوں کہ عرف عام کی وجہ سے نقود کے غیر میں عورت کا قول معتبر ہونا چاہئے۔ ردالمحتار میں فرمایا میں کہتاہوں کہ زفاف سے پہلے عیدوں اور موسموں پر جو کپڑے اور زیور کی مثل اشیاء شوہر بیوی کی طرف بھیجتا ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہیں اور یونہی حکم ہے ان اشیاء اور دراہم ودنانیز کا جو شب زفاف کی صبح اپنی بیوی کودیتا ہے جس کو عرف میں صبحہ کانام دیاجاتا ہے کیونکہ ان تمام اشیاء کا ہمارے زمانے میں ہدیہ ہونا متعارف ہے نہ کہ مہر سے ہونا خصوصا وہ جس کو صبحہ کہاجاتا ہے اس لئے کہ عورت بھی شب زفاف کی صبح اس کے عوض میں کپڑے وغیرہ
بادام آٹا شکر زندہ بکری اور دیگر تمام اشیاء مذکورہ میں عورت کاقول معتبر ہوگا ان تمام اشیاء میں عرف یہ ہے کہ بطور ہدیہ بھیجی جاتی ہیں لہذا ظاہر عورت کا مؤیدہے نہ کہ مرد کا اور مرد کاقول کپڑوں اور لونڈی جیسی اشیاء کے ماسواء میں معتبر نہ ہوگا النہرالفائق میں فرمایا کہ میں کہتا ہوں شکر وغیرہ کے ساتھ بھیجے ہوئے کپڑوں میں بھی عرف کی وجہ سے مرد کاقول معتبر نہیں ہونا چاہئے سید ابوالسعود نے حاشیہ کنز مین اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا میں کہتاہوں کہ عرف عام کی وجہ سے نقود کے غیر میں عورت کا قول معتبر ہونا چاہئے۔ ردالمحتار میں فرمایا میں کہتاہوں کہ زفاف سے پہلے عیدوں اور موسموں پر جو کپڑے اور زیور کی مثل اشیاء شوہر بیوی کی طرف بھیجتا ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہیں اور یونہی حکم ہے ان اشیاء اور دراہم ودنانیز کا جو شب زفاف کی صبح اپنی بیوی کودیتا ہے جس کو عرف میں صبحہ کانام دیاجاتا ہے کیونکہ ان تمام اشیاء کا ہمارے زمانے میں ہدیہ ہونا متعارف ہے نہ کہ مہر سے ہونا خصوصا وہ جس کو صبحہ کہاجاتا ہے اس لئے کہ عورت بھی شب زفاف کی صبح اس کے عوض میں کپڑے وغیرہ
حوالہ / References
فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۲۵۶
ردالمحتار بحوالہ النہرالفائق باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۴
فتح المعین باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷۰
ردالمحتار باب المہر داراحیا التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۴
ردالمحتار بحوالہ النہرالفائق باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۴
فتح المعین باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷۰
ردالمحتار باب المہر داراحیا التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۴
قضی بکونہ ھدیۃ مع العلم بان الزوج مدین بالمھر فسقطت بجنبہ دلالۃ الدین فکذلك لوان العرف ھھنا عم وصم ولوالاب مدینالھا وجب القضاء بالتملیك وکان القول قولھا ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام واﷲالموفق وبہ الاعتصام۔
شوہر کو دیتی ہے پس یہ سب عرف ہی ہے جس نے ان اشیاء کے ہدیہ ہونے کا فیصلہ دیا باوجود اس بات کے معلوم ہونے کے کہ شوہر مہر کا مدیون ہے چنانچہ عرف کے مقابل دلالت دین ساقط ہوگئی تو یوں ہی یہاں پر جب عرف عام وکثیر ہے اگر چہ باپ بیٹی کا مدیون ہو تملیك کا فیصلہ دینا واجب ہے اور بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔ اس مقام کو اسی طرح ہی سمجھنا چاہئے اﷲتعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے اور اسی کی پناہ مطلوب ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ اب عامہ بلاد وعجم کاعرف غالب وظاہر وفاش ومشتہر مطلقا یہی ہے کہ جہیز جو دلہن کو دیاجاتا ہے دلہن ہی کی ملك سمجھا جاتا ہے بلکہ جہیز کہتے ہی اسے ہیں جو اس وقت بطور تملیك دلہن کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔
کمافی سبق من قول الدروالبحر والفتح والتجنیس والذخیرۃ ان الاب یدفع مثلہ جھاز الاعاریۃ ۔
جیسا کہ در بحر فتح تجنیس اورذخیرہ کے قول سے گزرا کہ بیشك باپ اس کی مثل بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت۔ (ت)
ہمارے بلاد میں عموما شراء واوساط وعامہ اراذل سب کا یہی عرف ہے جہیز واپس لینے یا بیٹی کے قرض میں محسوب کرنے کوسخت عیب وموجب طعن سمجھیں گے تو یہاں علی العموم تملیك ہی مفہوم اور سماع دعوی عاریت بے بینہ معدوم۔ ردالمحتار میں ہے :
ھذا العرف غیر معروف فی زماننا بل کل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تأخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا اھ ملخصا وفیہ عن حاشیۃ الاشباہ للسید محمد ابی السعود
یہ عرف ہمارے زمانے میں معروف نہیں کیونکہ ہرکوئی جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام لے لیتی ہے اور اگر وہ عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثو ں کو ملتا ہے اھ ملخصا اور اسی میں سید محمد ابوالسعود کے حاشیہ
شوہر کو دیتی ہے پس یہ سب عرف ہی ہے جس نے ان اشیاء کے ہدیہ ہونے کا فیصلہ دیا باوجود اس بات کے معلوم ہونے کے کہ شوہر مہر کا مدیون ہے چنانچہ عرف کے مقابل دلالت دین ساقط ہوگئی تو یوں ہی یہاں پر جب عرف عام وکثیر ہے اگر چہ باپ بیٹی کا مدیون ہو تملیك کا فیصلہ دینا واجب ہے اور بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔ اس مقام کو اسی طرح ہی سمجھنا چاہئے اﷲتعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے اور اسی کی پناہ مطلوب ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ اب عامہ بلاد وعجم کاعرف غالب وظاہر وفاش ومشتہر مطلقا یہی ہے کہ جہیز جو دلہن کو دیاجاتا ہے دلہن ہی کی ملك سمجھا جاتا ہے بلکہ جہیز کہتے ہی اسے ہیں جو اس وقت بطور تملیك دلہن کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔
کمافی سبق من قول الدروالبحر والفتح والتجنیس والذخیرۃ ان الاب یدفع مثلہ جھاز الاعاریۃ ۔
جیسا کہ در بحر فتح تجنیس اورذخیرہ کے قول سے گزرا کہ بیشك باپ اس کی مثل بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت۔ (ت)
ہمارے بلاد میں عموما شراء واوساط وعامہ اراذل سب کا یہی عرف ہے جہیز واپس لینے یا بیٹی کے قرض میں محسوب کرنے کوسخت عیب وموجب طعن سمجھیں گے تو یہاں علی العموم تملیك ہی مفہوم اور سماع دعوی عاریت بے بینہ معدوم۔ ردالمحتار میں ہے :
ھذا العرف غیر معروف فی زماننا بل کل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تأخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا اھ ملخصا وفیہ عن حاشیۃ الاشباہ للسید محمد ابی السعود
یہ عرف ہمارے زمانے میں معروف نہیں کیونکہ ہرکوئی جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام لے لیتی ہے اور اگر وہ عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثو ں کو ملتا ہے اھ ملخصا اور اسی میں سید محمد ابوالسعود کے حاشیہ
حوالہ / References
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۸
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۸
عن حاشیۃ العلامۃ الشرف الغزی قال قال الشیخ الامام الاجل الشہید المختار للفتوی ان یحکم بکون الجھاز ملکا لاعاریۃ لانہ الظاہر الغالب الخ
اشباء سے بحوالہ حاشیہ علامہ شرف غزی مذکور ہے کہ شیخ امام اجل شہید نے فرمایا فتوی کے لئے مختار یہ ہے کہ جہیز کے ملك ہونے کا فیصلہ دیاجائے نہ کہ عاریت ہونے کا کیونکہ یہی ظاہر غالب ہے الخ(ت)
ملك مدراس میں کہ واپس لینے کا رواج ہے اگر مثل عامہ بلاد دنیا وہاں بھی جہیز تملیکا ہی دیتے اور تملیك ہی اس سے قصد کرتے ہیں اور یہ واپسی بعد موت عروس اس بنا پر ہوتی ہے کہ اسے ہبہ تاحین حیات سمجھتے ہیں جب تو وہ مثل دیگر بلاد ہبہ کاملہ ہوجاتا ہے اور حین حیات کی شرط لغوو باطل بعد موت عروس ترکہ عروس قرار پاکر وارثان عروس پر منقسم ہوگا۔ درمختار میں ہے :
جاز العمری للمعمرلہ لو ورثتہ بعدہ لبطلان الشرط ۔
ہبہ تاحین حیات جائز ہے معمولہ کی ذندگی میں اس کے لئے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کے لئے ہوگا کیونکہ حین حیات کی شرط باطل ہے(ت)
شوہر وغیرہ دیگر ورثہ عروس پر واپسی کاجبر ہرگز نہیں ہوسکتا نہ اس کا اصلا استحقاق فان مواحد العاقدین من موانع الرجوع(کیونکہ بے شك عاقدین میں سے کسی ایك کی موت رجوع کے موانع میں سے ہے۔ ت)ہبہ میں واپسی جہاں ہوبھی سکتی ہے تو اسی وقت تك واہب و موہوب لہ دونوں زندہ ہوں جب ان میں کوئی مرجائے تو اسی شرح وقایہ وغیرہ تمام کتب میں تصریح ہے کہ اب رجوع نہیں اور اگر وہاں تملیکا نہیں دیتے بلکہ عاریت مقصود ہوتی ہے تو بیش یہ واپسی حق وبجا ومطابق شرع مطہر ہے اگر چہ دلہن کی حیات ہی میں واپس لے
فان علی الید مااخذت حتی تردھا ان الله یامركم ان تؤدوا الامنت الى اهلها ۔
اس لئے کہ بے شك جو اس عورت نے لیا وہ بطور احسان وامانت ہے یہاں تك کہ وہ اسے لوٹادے(قرآن پاك میں ہے کہ)بے شك اﷲتعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو ادا کرو۔ (ت)
یہاں تك چار سوال پیشین کا جواب تھا سائل نے کلیۃ سوال کئے لہذا ان کے جواب میں ان مسائل
اشباء سے بحوالہ حاشیہ علامہ شرف غزی مذکور ہے کہ شیخ امام اجل شہید نے فرمایا فتوی کے لئے مختار یہ ہے کہ جہیز کے ملك ہونے کا فیصلہ دیاجائے نہ کہ عاریت ہونے کا کیونکہ یہی ظاہر غالب ہے الخ(ت)
ملك مدراس میں کہ واپس لینے کا رواج ہے اگر مثل عامہ بلاد دنیا وہاں بھی جہیز تملیکا ہی دیتے اور تملیك ہی اس سے قصد کرتے ہیں اور یہ واپسی بعد موت عروس اس بنا پر ہوتی ہے کہ اسے ہبہ تاحین حیات سمجھتے ہیں جب تو وہ مثل دیگر بلاد ہبہ کاملہ ہوجاتا ہے اور حین حیات کی شرط لغوو باطل بعد موت عروس ترکہ عروس قرار پاکر وارثان عروس پر منقسم ہوگا۔ درمختار میں ہے :
جاز العمری للمعمرلہ لو ورثتہ بعدہ لبطلان الشرط ۔
ہبہ تاحین حیات جائز ہے معمولہ کی ذندگی میں اس کے لئے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کے لئے ہوگا کیونکہ حین حیات کی شرط باطل ہے(ت)
شوہر وغیرہ دیگر ورثہ عروس پر واپسی کاجبر ہرگز نہیں ہوسکتا نہ اس کا اصلا استحقاق فان مواحد العاقدین من موانع الرجوع(کیونکہ بے شك عاقدین میں سے کسی ایك کی موت رجوع کے موانع میں سے ہے۔ ت)ہبہ میں واپسی جہاں ہوبھی سکتی ہے تو اسی وقت تك واہب و موہوب لہ دونوں زندہ ہوں جب ان میں کوئی مرجائے تو اسی شرح وقایہ وغیرہ تمام کتب میں تصریح ہے کہ اب رجوع نہیں اور اگر وہاں تملیکا نہیں دیتے بلکہ عاریت مقصود ہوتی ہے تو بیش یہ واپسی حق وبجا ومطابق شرع مطہر ہے اگر چہ دلہن کی حیات ہی میں واپس لے
فان علی الید مااخذت حتی تردھا ان الله یامركم ان تؤدوا الامنت الى اهلها ۔
اس لئے کہ بے شك جو اس عورت نے لیا وہ بطور احسان وامانت ہے یہاں تك کہ وہ اسے لوٹادے(قرآن پاك میں ہے کہ)بے شك اﷲتعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو ادا کرو۔ (ت)
یہاں تك چار سوال پیشین کا جواب تھا سائل نے کلیۃ سوال کئے لہذا ان کے جواب میں ان مسائل
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
درمختار کتاب الہبہ فصال فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۵
القرآن الکریم ۴ /۵۸
درمختار کتاب الہبہ فصال فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۵
القرآن الکریم ۴ /۵۸
کی حاجت ہوئی ورنہ مسئلہ فیض النساء بیگم سے اس بحث کو علاقہ نہیں یہ حکم کہ بحالت عدم عرف تملیك مدعی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہو کہ میں نے اپنے مال سے عاریۃ جہیز دیا لہذا واپسی کا مستحق ہوں عامہ کتب مذہب میں باپ کے لئے مذکور ہے اور بحکم عرف حقیقی ماں کو بھی اس سے لاحق کیا گیا واقعی ماں باپ پانے ہی مال سے اولاد کا جہیز تیار کرتے ہیں تو ان کی طرف سے ہونا بحکم ظاہر خود ثابت رہا دعوی عاریت وہ بحال عدم دلیل تملیك انہیں اصول پر واجب القبول بخلاف اجنبی کہ اس کا یہ دعوی حد دعوی سے ہرگز متجاوز نہیں یہاں تك کہ علامہ بحر نے بحر میں حقیقی ماں اور دادا کے لئے بھی اس حکم کے ہونے میں تردد فرمایا اور جبکہ ان کے تلمیذ علامہ غزی نے متن تنویر میں ماں کے مثل پدر ہونے پر جزم کیا۔ علامہ طحطاوی کوحقیقی نانی دادی کے مثل مادر میں تردد رہا
فقال تحت قولہ والام کالاب فی تجہیزھا انظر ھل الجدۃ مثلھا ۔
چنانچہ اپنے اس قول کے تحت کہ ماں جہیز دینے میں باپ کی طرح ہے فرمایا دیکھو کیا دادی اور نانی ماں کی مثل ہے(ت)
علامہ ابن واہبان نے اپنی رائے سے دیگر اولیاء کو اسی حکم میں شامل کرنے کی بحث کی علامہ ابن الشحنہ نے اس میں نظر کردی کہ علامہ شرنبلالی نے نقل فرماکر مقرر رکھی اور شك نہیں کہ یہ الحاق سخت محل تامل ہے جب تك والدین کی طرح عرف عام وخاش سے ثابت نہ ہوجائے کہ سب اولیاء بھی اپنے ہی مال سے جہیز دیتے ہیں بلکہ ہمارے بلاد میں تنہاماں کے مال خاص سے بھی تجہیز ہونا ہرگز معروف نہیں جہیز مطلقا مال پدر سے ہوتا ہے یا بعض اشیاء ماں بھی شامل کردیتی ہے نہ کہ خاص مال مادر سے ہو مگر جبکہ باپ مال نہ رکھتا ہو یا اس سے جدا ہو کر ماں نے بطور خود تزویج کی وہ تو ان دو۲ صورتوں کے علاوہ ماں کا دعوی اختصاص بھی ضرور محتاج بینہ ہونا چاہئے کہ ظاہرا اس کے لئے شاہد نہیں کما لایخفی واﷲ تعالی اعلم۔
وھذابحمد اﷲتحقیق شریف فتح بہ المولی القوی اللطیف علی عبدہ الذلیل الضعیف ' اتضخ بہ نظر العلامۃ عند البرواتجہ بہ کلام البحر فلنسق لك کلما تھم لیتجلی عندك الامر
اور یہ بحمد اﷲتعالی عظیم الشان تحقیق ہے جو قوی ولطیف مالك نے اپنے اس ناقص وضعیف بندے پر منکشف فرمائی اس سے علامہ عبدالبرکی نظر واضح ہوگئی اور کلام بحر وجیہ ہوگیا تو اب ہم تیرے لئے ان کے ارشادات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ تیرے نزدیک
فقال تحت قولہ والام کالاب فی تجہیزھا انظر ھل الجدۃ مثلھا ۔
چنانچہ اپنے اس قول کے تحت کہ ماں جہیز دینے میں باپ کی طرح ہے فرمایا دیکھو کیا دادی اور نانی ماں کی مثل ہے(ت)
علامہ ابن واہبان نے اپنی رائے سے دیگر اولیاء کو اسی حکم میں شامل کرنے کی بحث کی علامہ ابن الشحنہ نے اس میں نظر کردی کہ علامہ شرنبلالی نے نقل فرماکر مقرر رکھی اور شك نہیں کہ یہ الحاق سخت محل تامل ہے جب تك والدین کی طرح عرف عام وخاش سے ثابت نہ ہوجائے کہ سب اولیاء بھی اپنے ہی مال سے جہیز دیتے ہیں بلکہ ہمارے بلاد میں تنہاماں کے مال خاص سے بھی تجہیز ہونا ہرگز معروف نہیں جہیز مطلقا مال پدر سے ہوتا ہے یا بعض اشیاء ماں بھی شامل کردیتی ہے نہ کہ خاص مال مادر سے ہو مگر جبکہ باپ مال نہ رکھتا ہو یا اس سے جدا ہو کر ماں نے بطور خود تزویج کی وہ تو ان دو۲ صورتوں کے علاوہ ماں کا دعوی اختصاص بھی ضرور محتاج بینہ ہونا چاہئے کہ ظاہرا اس کے لئے شاہد نہیں کما لایخفی واﷲ تعالی اعلم۔
وھذابحمد اﷲتحقیق شریف فتح بہ المولی القوی اللطیف علی عبدہ الذلیل الضعیف ' اتضخ بہ نظر العلامۃ عند البرواتجہ بہ کلام البحر فلنسق لك کلما تھم لیتجلی عندك الامر
اور یہ بحمد اﷲتعالی عظیم الشان تحقیق ہے جو قوی ولطیف مالك نے اپنے اس ناقص وضعیف بندے پر منکشف فرمائی اس سے علامہ عبدالبرکی نظر واضح ہوگئی اور کلام بحر وجیہ ہوگیا تو اب ہم تیرے لئے ان کے ارشادات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ تیرے نزدیک
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۶۷
قال ابن وھبان فی منظورمتہ
ومن فی جھاز البنت قال اعر تہ
یصدق والاشھادیشترط اظہر
ثم قال فی شرحھا ینبغی ان یکون الحکم فیما تدعیہ الام و ولی الصغیرۃ اذا زوجھا کما مر لجریان العرف فی ذلك کذلك الخ ای انھم انما یجھزون من اموالھم فکان الظاہر شاہدا لھم قال الشارح العلامۃ قلت وفی الولی عندی نظر اھ وھکذا انقلہ الشرنبلالی فی تیسیر المقاصد واقرقال فی الدر (الام)وولی الصغیرۃ(کالاب)فیما ذکر اھ قال ط قولہ فیما ذکر ای فی اعتبار العرف وھذا الحکم فی الام والولی بحث لابن وھبان قال العلامۃ عبد البر وفی الولی عندی نظر ای فان الغالب من حالہ العاریۃ بخلاف الابوین
معاملہ منکشف ہوجائے۔
ابن وہبان نے اپنی منظومہ میں فرمایا : اور جو شخص اپنی بیٹی کے جہیز کے بارے میں کہے کہ میں نے بطور عاریت دیا ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور اس میں گواہوں کا شرط ہونا اظہر ہے۔ پھر اس کی شرح میں فرمایا کہ جہیز کے بارے میں ماں اور نابالغہ کا نکاح کرنے والے ولی کے دعوی کا حکم بھی ایسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ گزرا کیونکہ اس میں عرف ایساہی ہے یعنی وہ اپنے مالوں سے جہیز بناتے ہیں تو ظاہر ان کے لئے شاہد ہوا۔ علامہ شارح نے فرمایا کہ میرے نزدیك ولی صغیرہ میں نظر ہے ایسا ہی شرنبلالی نے تیسیرالمقاصد میں اس کو نقل کرکے مقرر رکھا۔ در میں فرمایا کہ ماں اور صغیرہ ولی مذکور میں باپ کی طرح ہیں اور ط نے فرمایا کہ اس کے قول فیما ذکر(مذکور میں )سے مراد یہ ہے کہ اعتبار عرف میں اور ماں اور صغیرہ کے ولی کے بارے میں یہ حکم ابن وہبان کی بحث ہے۔ علامہ عبد البر نے فرمایا کہ ولی صغیرہ میں میرے نزدیك نظر ہے کیونکہ اس کے حال سے غالب عاریت ہے بخلاف ماں باپ کے کہ ان کی
ومن فی جھاز البنت قال اعر تہ
یصدق والاشھادیشترط اظہر
ثم قال فی شرحھا ینبغی ان یکون الحکم فیما تدعیہ الام و ولی الصغیرۃ اذا زوجھا کما مر لجریان العرف فی ذلك کذلك الخ ای انھم انما یجھزون من اموالھم فکان الظاہر شاہدا لھم قال الشارح العلامۃ قلت وفی الولی عندی نظر اھ وھکذا انقلہ الشرنبلالی فی تیسیر المقاصد واقرقال فی الدر (الام)وولی الصغیرۃ(کالاب)فیما ذکر اھ قال ط قولہ فیما ذکر ای فی اعتبار العرف وھذا الحکم فی الام والولی بحث لابن وھبان قال العلامۃ عبد البر وفی الولی عندی نظر ای فان الغالب من حالہ العاریۃ بخلاف الابوین
معاملہ منکشف ہوجائے۔
ابن وہبان نے اپنی منظومہ میں فرمایا : اور جو شخص اپنی بیٹی کے جہیز کے بارے میں کہے کہ میں نے بطور عاریت دیا ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور اس میں گواہوں کا شرط ہونا اظہر ہے۔ پھر اس کی شرح میں فرمایا کہ جہیز کے بارے میں ماں اور نابالغہ کا نکاح کرنے والے ولی کے دعوی کا حکم بھی ایسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ گزرا کیونکہ اس میں عرف ایساہی ہے یعنی وہ اپنے مالوں سے جہیز بناتے ہیں تو ظاہر ان کے لئے شاہد ہوا۔ علامہ شارح نے فرمایا کہ میرے نزدیك ولی صغیرہ میں نظر ہے ایسا ہی شرنبلالی نے تیسیرالمقاصد میں اس کو نقل کرکے مقرر رکھا۔ در میں فرمایا کہ ماں اور صغیرہ ولی مذکور میں باپ کی طرح ہیں اور ط نے فرمایا کہ اس کے قول فیما ذکر(مذکور میں )سے مراد یہ ہے کہ اعتبار عرف میں اور ماں اور صغیرہ کے ولی کے بارے میں یہ حکم ابن وہبان کی بحث ہے۔ علامہ عبد البر نے فرمایا کہ ولی صغیرہ میں میرے نزدیك نظر ہے کیونکہ اس کے حال سے غالب عاریت ہے بخلاف ماں باپ کے کہ ان کی
حوالہ / References
منظومہ ابن وہبان
ردالمحتار بحوالہ شرح منظومہ باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
ردالمحتار بحوالہ شرح منظومہ باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۷
ردالمحتار بحوالہ شرح منظومہ باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
ردالمحتار بحوالہ شرح منظومہ باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۷
المزید شفقتھما لکن حیث کان العرف مستمر اان الولی یجھز من ھذہ فلانظر اھ اقول : لیس منشأ النظر بثبوت الحکم بعد تسلیم العرف وانما الشان فی جریان العرف فالایراد علی قول ابن وھبان لجریان العرف فی ذلك کذلك وبہ ظہرانہ ماکان ینبغی تفسیر قولہ ماذکر باعتبار العرف فان العرف اذا ثبت اینما ثبت فھوالقاضی الماضی القول لاتفرقۃ فی ذلك بین اب وام وغیرھما بل المراد فیما ذکر من قبول دعوی العاریۃ من مالہ وکذلك لیس تفسیر النظر ماذکر بل النظر انالانسلم ان الغالب من حالہ التجہیز من مالہ ثم اعلم ان العلامۃ البحر بعد ماافادحکم الاب کما تقدم قال فی البحر صغیرۃ نسجت جھازا بمال امھا وابیھا وسعیھا حال صغر ھا وکبرھا فماتت امھا فسلم ابوھا جمیع الجھاز الیھا فلیس لاخوتھا دعوی نصیبھم من جھۃ الام اھ ثم قال وبھذا
شفقت بیٹی پر زیادہ ہوتی ہے لیکن عرف رائج یہی ہوکہ ولی اپنے پاس سے جہیز بناتا ہے تو پھر کوئی نظر نہیں اھ اقول : (میں کہتا ہوں )اعتراض کا منشاء عرف کے تسلیم کرنے کے بعد حکم ثبوت نہیں اصل معاملہ توصرف عرف کے جاری ہونے میں ہے پس ابن وھبان کے قول پر اعتراض وارد ہے کیونکہ اس(ولی کے عاریۃ دینے)میں عرف اسی طرح ہے اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ ماذکرسے مراد اعبتار عرف لینا درست نہیں اس لئے کہ عرف جب بھی ثابت ہو وہی حاکم قوی ہوتا ہے اس میں ماں اور باپ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ ماذکرسے مراد اسکے اپنے مال سے دعوی عاریت کو قبول کرنا ہے او ریوں ہی نظر کی بھی وہ تفسیر نہیں جو ذکر کی گئی بلکہ نظر یہ ہے کہ بیشك ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اس کے ولی صغیرہ کے حال سے غالب اس کے اپنے مال سے جہیز بنانا ہے۔ پھر جان کہ علامہ بحر نے باپ کے حکم کا افادہ فرمانے کے بعد جیسا کہ گزرا۔ بحر میں فرمایا کہ صغیرہ نے ماں باپ کے مال اور اپنی دستکاری سے حالت صغر اور کبر میں کچھ جہیز بنایا پھر اس کی ماں مرگئی اور باپ نے وہ ساراسامان اس لڑکی کو جہیز میں دے دیا تو اس کے بھائیوں کو یہ حق نہیں کہ ماں کا ترکہ قرار دے کر اس میں سے اپنے حصے کا دعوی کریں اھ
شفقت بیٹی پر زیادہ ہوتی ہے لیکن عرف رائج یہی ہوکہ ولی اپنے پاس سے جہیز بناتا ہے تو پھر کوئی نظر نہیں اھ اقول : (میں کہتا ہوں )اعتراض کا منشاء عرف کے تسلیم کرنے کے بعد حکم ثبوت نہیں اصل معاملہ توصرف عرف کے جاری ہونے میں ہے پس ابن وھبان کے قول پر اعتراض وارد ہے کیونکہ اس(ولی کے عاریۃ دینے)میں عرف اسی طرح ہے اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ ماذکرسے مراد اعبتار عرف لینا درست نہیں اس لئے کہ عرف جب بھی ثابت ہو وہی حاکم قوی ہوتا ہے اس میں ماں اور باپ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ ماذکرسے مراد اسکے اپنے مال سے دعوی عاریت کو قبول کرنا ہے او ریوں ہی نظر کی بھی وہ تفسیر نہیں جو ذکر کی گئی بلکہ نظر یہ ہے کہ بیشك ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اس کے ولی صغیرہ کے حال سے غالب اس کے اپنے مال سے جہیز بنانا ہے۔ پھر جان کہ علامہ بحر نے باپ کے حکم کا افادہ فرمانے کے بعد جیسا کہ گزرا۔ بحر میں فرمایا کہ صغیرہ نے ماں باپ کے مال اور اپنی دستکاری سے حالت صغر اور کبر میں کچھ جہیز بنایا پھر اس کی ماں مرگئی اور باپ نے وہ ساراسامان اس لڑکی کو جہیز میں دے دیا تو اس کے بھائیوں کو یہ حق نہیں کہ ماں کا ترکہ قرار دے کر اس میں سے اپنے حصے کا دعوی کریں اھ
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۳۹۰
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
یعلم ان الاب او الام اذا جھز بنتہ ثم مات فلیس لبقیہ الورثۃ علی الجھاز سبیل لیکن ھل ھذاالحکم لامذکور فی الاب یتأتی فی الام والجد فلو جھز ھا جدھا ثم ماتت وقال ملکی وقال زوجھا ملکھا صارت واقعۃ الفتوی ولم ار فیھا نقلا صریحا اھ قال فی منحۃ الخالق قال الرملی الذی یظھر ببادی الرأی انھما ای الام والجد کذلك اما الام فلما قدمہ من قول القنیۃ صغیرۃ نسجت جھازامن مال امھا وابیھا الخ واماالجد فلقولھم الجد کالاب الافی مسائل لیست ھذہ منھا تأمل اھ اقول : ماکان ھذاالبحر الطام الحبر التام لیذکر فرع القنیۃ فی ھذہ الاسطر العدیدۃ ویفرع علیہ بنفسہ ان الاب او الام اذجھزبنتہ فلیس لوارث علی الجھاز سبیل ثم یتردد متصلا بہ فی التحاق الام بالاب فی کون التجھیز منھا ظاہرافی
پھر فرمایا اسی سے معلوم ہوگیا کہ جب باپ یاماں بیٹی کوجہیز بناکردیں تو ان کے مرنے کے بعد باقی وارثوں کا جہیز پر کوئی حق نہیں ہوتا لیکن کیا یہ حکم جو باپ کے لئے مذکور ہوا وہ ماں اور دادا کے لئے حاصل تو اگر لڑکی کو اس کے دادا نے جہیز دیا پھر وہ لڑکی مرگئی اور دادا نے کہا یہ جہیز میری ملکیت ہے اور اس لڑکی کا شوہر کہتا ہے کہ یہ لڑکی کی ملکیت ہے یہ فتوے سے متعلق ایك واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔ منحۃ الخالق میں فرمایا کہ رملی نے کہا ہے بنظر ظاہر وہ دونوں یعنی ماں اور دادا باپ کی طرح ہی ہیں ماں تو اس وجہ سے جس کا بحوالہ قنیہ پہلے ذکر کیا ہے کہ لڑکی نے اپنے باپ اور ماں کے مال سے جہیز بنایا الخ اور دادا اس لئے کہ ان(فقہاء)کا قول ہے کہ دادا مثل باپ کے ہے سوائے چند مسائل کے جن میں جہیز نہیں ہے۔ غور کرالخ۔
اقول : (میں کہتا ہوں )ایسے عظیم سمندر اور کامل وماہر عالم کے لائق یہ نہیں کہ وہ ان چند سطروں میں قنیہ کی فرع ذکر کرے اور بذات خود اس پر یہ تصریح ذکر کرے کہ بیشك ماں یا باپ جب بیٹی کو جہیز دیں تو کسی وارث کا جہیز میں کوئی حق نہیں پھر اس کے متعلق ہی اس بات میں تردد کرے کہ ماں اس حکم میں باپ کے ساتھ ملحق ہے کہ ماں کی طرف سے
پھر فرمایا اسی سے معلوم ہوگیا کہ جب باپ یاماں بیٹی کوجہیز بناکردیں تو ان کے مرنے کے بعد باقی وارثوں کا جہیز پر کوئی حق نہیں ہوتا لیکن کیا یہ حکم جو باپ کے لئے مذکور ہوا وہ ماں اور دادا کے لئے حاصل تو اگر لڑکی کو اس کے دادا نے جہیز دیا پھر وہ لڑکی مرگئی اور دادا نے کہا یہ جہیز میری ملکیت ہے اور اس لڑکی کا شوہر کہتا ہے کہ یہ لڑکی کی ملکیت ہے یہ فتوے سے متعلق ایك واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔ منحۃ الخالق میں فرمایا کہ رملی نے کہا ہے بنظر ظاہر وہ دونوں یعنی ماں اور دادا باپ کی طرح ہی ہیں ماں تو اس وجہ سے جس کا بحوالہ قنیہ پہلے ذکر کیا ہے کہ لڑکی نے اپنے باپ اور ماں کے مال سے جہیز بنایا الخ اور دادا اس لئے کہ ان(فقہاء)کا قول ہے کہ دادا مثل باپ کے ہے سوائے چند مسائل کے جن میں جہیز نہیں ہے۔ غور کرالخ۔
اقول : (میں کہتا ہوں )ایسے عظیم سمندر اور کامل وماہر عالم کے لائق یہ نہیں کہ وہ ان چند سطروں میں قنیہ کی فرع ذکر کرے اور بذات خود اس پر یہ تصریح ذکر کرے کہ بیشك ماں یا باپ جب بیٹی کو جہیز دیں تو کسی وارث کا جہیز میں کوئی حق نہیں پھر اس کے متعلق ہی اس بات میں تردد کرے کہ ماں اس حکم میں باپ کے ساتھ ملحق ہے کہ ماں کی طرف سے
حوالہ / References
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
التملیك حتی یرد علیہ بماقدم من قول القنیۃ وھل یتأتی مثلہ الاممن لایکاد یفھم مایخرج من رأسہ فکیف یجعل علی مثلہ کلام مثل ھذا الجلیل النبیل ولذا لمالم یتضح الامرعند العلامۃ السیدالطحطاوی اسقط لفظ الام من کلام البحر واقتصر علی قولہ ھل ھذا الحکم المذکورفی الاب یتأتی فی الجد الخ لکن العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ لم یستبعدہ فقال قال صاحب البحر ھل ھذ االحکم المذکور فی الاب یتأتری فی الام والجد صارت واقعۃ الفتوی ولم ارفیھما نقلا صریحا اھوقال العلامۃ الشامی تردد فی البحر فی الام والجد الخ وقال الرملی ماسمعت فانماالامرمافتح المولی سبحانہ وتعالی ان لاتردد فی الحاق الام بالاب فی کون التجھیز منھا تملیکا لمکان العرف وانما تردد رحمہ اﷲتعالی فی قبول
جہیز دینا تملیك میں ظاہر ہے۔ یہاں تك اس پر وارد ہو وہ قنیہ کے قول سے مقدم گزرا۔ اور نہیں حاصل ہوتا اس کی مثل مگر صرف اس شخص سے جو یہ نہ سمجھتا ہوکہ اس کے سر سے کیا خارج ہورہا ہے تو ایسے عظیم الشان عالم نبیل کے کلام کو اس قسم کے بیہودہ مؤقف پر کیسے محمول کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب علامہ سید طحطاوی پر یہ امر واضح نہ ہوسکا تو انہوں نے کلام بحر سے لفظ ام کو حذف کرتے ہوئے اس قول پر اکتفاء فرمایا کہ کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے دادا کے لئے حاصل ہوگا الخ لیکن علامہ شرنبلالی نے اس کو مستبعد نہ جانتے ہوئے غنیـہ میں فرمایا کہ صاحب بحرنے کہا کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے ماں اور دادا کے لئے حاصل ہوگا یہ فتوی سے متعلق ایك واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ بحر میں ماں اور دادا کے بارے میں تردد کیا رملی نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا بے شك معاملہ جو مولی سبحنہ وتعالی نے منکشف فرمایا وہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے ماں کو باپ کے ساتھ اس حکم میں ملحق ماننے میں تردد نہیں فرمایا کہ ماں کی طرف سے دیا جانے والاجہیز عرفا تملیك ہے البتہ صاحب بحر
جہیز دینا تملیك میں ظاہر ہے۔ یہاں تك اس پر وارد ہو وہ قنیہ کے قول سے مقدم گزرا۔ اور نہیں حاصل ہوتا اس کی مثل مگر صرف اس شخص سے جو یہ نہ سمجھتا ہوکہ اس کے سر سے کیا خارج ہورہا ہے تو ایسے عظیم الشان عالم نبیل کے کلام کو اس قسم کے بیہودہ مؤقف پر کیسے محمول کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب علامہ سید طحطاوی پر یہ امر واضح نہ ہوسکا تو انہوں نے کلام بحر سے لفظ ام کو حذف کرتے ہوئے اس قول پر اکتفاء فرمایا کہ کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے دادا کے لئے حاصل ہوگا الخ لیکن علامہ شرنبلالی نے اس کو مستبعد نہ جانتے ہوئے غنیـہ میں فرمایا کہ صاحب بحرنے کہا کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے ماں اور دادا کے لئے حاصل ہوگا یہ فتوی سے متعلق ایك واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ بحر میں ماں اور دادا کے بارے میں تردد کیا رملی نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا بے شك معاملہ جو مولی سبحنہ وتعالی نے منکشف فرمایا وہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے ماں کو باپ کے ساتھ اس حکم میں ملحق ماننے میں تردد نہیں فرمایا کہ ماں کی طرف سے دیا جانے والاجہیز عرفا تملیك ہے البتہ صاحب بحر
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۶۷
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالاحکام باب المہر مطبعۃ احمد کامل دارسعادت بیروت ۱ / ۳۴۸
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالاحکام باب المہر مطبعۃ احمد کامل دارسعادت بیروت ۱ / ۳۴۸
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
دعوی التجھیز من مال نفسھا عاریۃ فان الاکثر ان الجھاز انما یکون من مال الاب وح لامساس لفرع القنیۃ بماھو فیہ ولاماقدمہ من قولہ بھذا یعلم ان الاب اوالام الخ ینا فیہ وکذا لانظر ھھنا الی کون الجد کالاب الافی مسائل فان ھذا امر لایؤخذ الامن العرف وانما قبلنا دعوی الاب لما علمنا من العرف الفاشی ان الجھاز یکون من مالہ فکان الظاھر شاھدا لہ فان ثبت مثلہ فی الجد فذاك والا فلا الحاق ولااشتراك ھکذاینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق واغرب من ھذاماذکر بعدہ فی منحۃ الخالق من قولہ قلت وجزم فی متن التنویر ان الام کا لاب فی تجہیزھا وعزاہ فی شرح المنح الی فتاوی قاری الھدایۃ وفی شرحہ الدرالمختار معزیا الی شرح الوھبانیۃ وکذا ولی الصغیرۃ ولایخفی شمولہ الجد وغیرہ اھ ۔ اقول : نعم لایخفی ولکن البحر
رحمۃ اﷲتعالی علیہ نے ماں کے اس دعوی کو قبول کرنے میں تردد فرمایا کہ جو جہیز اس نے مال سے دیا ہے وہ عاریت ہے کیونکہ اکثر طور پر جہیز باپ کے مال سے دیا جاتا ہے تودریں صورت قنیہ کی فرع کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں جس میں صاحب بحر گفتگو کررہے ہیں نیز ان کا قول سابق کہ اسی سے معلوم ہوگیا کہ بیشك باپ اور ماں الخ اس کے منافی نہیں اور نہ ہی یہاں اس بات کی طرف نظر ہے کہ دادا سوائے چند مسائل کے باپ ہے اس لئے کہ یہ امر تو صرف عرف سے ماخوذ ہے اور بلاشبہ ہم نے باپ کا دعوی اس لئے قبول کیا کہ ہم نے عرف مشہور سے جان لیا کہ جہیز وہ اپنے مال سے دیتا ہے لہذا ظاہر اس کے لئے شاہد ہوا تو اگر کسی کی مثل دادامیں ثابت ہوجائے تو اس کا حکم بھی یہی ہوگا وگرنا نہ الحاق ہے نہ اشتراک یوں ہی تحقیق چاہئے اور اﷲتعالی ہی مالك توفیق ہے اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب ہے وہ جو اس کے بعد منحۃالخالق میں اس کے اس قول کے ساتھ مذکور ہوا میں کہتا ہوں کہ متن تنویر میں اس پر جزم فرمایا کہ تجہیز میں ماں باپ کی طرح ہے۔ اور شرح منحہ میں اس کی نسبت فتاوی قاری ہدایہ کی طرف کی اور درمختار کی شرح میں شرح وہبانیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہے کہا یونہی ولی صغیرہ بھی ہے اور اس کاشمول دادا وغیرہ کو مخفی نہیں ہے اھ اقول : (میں
رحمۃ اﷲتعالی علیہ نے ماں کے اس دعوی کو قبول کرنے میں تردد فرمایا کہ جو جہیز اس نے مال سے دیا ہے وہ عاریت ہے کیونکہ اکثر طور پر جہیز باپ کے مال سے دیا جاتا ہے تودریں صورت قنیہ کی فرع کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں جس میں صاحب بحر گفتگو کررہے ہیں نیز ان کا قول سابق کہ اسی سے معلوم ہوگیا کہ بیشك باپ اور ماں الخ اس کے منافی نہیں اور نہ ہی یہاں اس بات کی طرف نظر ہے کہ دادا سوائے چند مسائل کے باپ ہے اس لئے کہ یہ امر تو صرف عرف سے ماخوذ ہے اور بلاشبہ ہم نے باپ کا دعوی اس لئے قبول کیا کہ ہم نے عرف مشہور سے جان لیا کہ جہیز وہ اپنے مال سے دیتا ہے لہذا ظاہر اس کے لئے شاہد ہوا تو اگر کسی کی مثل دادامیں ثابت ہوجائے تو اس کا حکم بھی یہی ہوگا وگرنا نہ الحاق ہے نہ اشتراک یوں ہی تحقیق چاہئے اور اﷲتعالی ہی مالك توفیق ہے اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب ہے وہ جو اس کے بعد منحۃالخالق میں اس کے اس قول کے ساتھ مذکور ہوا میں کہتا ہوں کہ متن تنویر میں اس پر جزم فرمایا کہ تجہیز میں ماں باپ کی طرح ہے۔ اور شرح منحہ میں اس کی نسبت فتاوی قاری ہدایہ کی طرف کی اور درمختار کی شرح میں شرح وہبانیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہے کہا یونہی ولی صغیرہ بھی ہے اور اس کاشمول دادا وغیرہ کو مخفی نہیں ہے اھ اقول : (میں
حوالہ / References
منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
انما یقول لم ارفیھا نقلا صریحا وبحث ابن وھبان لیس من النقل فی شیئ والعبد الضعیف فی عجب من سوق الدرالمسألۃ مساق المنقول مع علمہ بانہ بحث منہ وقد بحث فیہ الشارحون وقد علمت مماقد منا ان بحثھم حسن وجیہ فالحمد ﷲعلی حسن التنبیہ۔
کہتا ہوں ہاں مخفی نہیں لیکن بے شك بحر میں فرماتے ہین کہ میں نے اس میں صریح نقل نہیں دیکھی اور ابن وہبان کی بحث کوئی نقل نہیں اور بندہ ضعیف کو اس بات پر حیرت ہے کہ درنے مسئلہ بطور منقول چلایا حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ابن وہبان کی بحث ہے اور تحقیق شارحین نے اس میں بحث کی ہے اور تحقیق ہمارے بیان سابق سے تو جان چکا ہے کہ ان کی بحث حسن و وجیہ ہے پس حسن تنبیہ پر اﷲتعالی ہی کے لئے حمد ہے۔ (ت)
بالجملہ جب حقیقی دادی نانی حقیقی دادا حقیقی ماں میں علمائے کرام نے تردد فرمایا تو سوتیلی ماں کہ محض اجنبیہ ہے کیونکر اس حکم پدر میں شریك ہوسکتی ہیں اجنبی کے لئے صورت مستفسرہ میں یہی حکم لکھتے ہیں کہ اس کا دعوی لے گواہان مسموع نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے :
الام وولی الصغیرہ کالاب فیما ذکر وفیما یدعیہ الاجنبی بعد الموت لایقبل الاببینۃ شرح وھبانیۃ ۔
ماں اور ولی صغیرہ حکم مذکورہ میں باپ کی طرح ہیں اور جہاں اجنبی کے بعد دعوی کرے تو گواہوں کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا شرح وہبانیہ۔ (ت)
اور یہاں گواہوں سے اثبات عاریت کے دو۲طریقے ہیں :
ایك یہ کہ باپ ماں یا اجنبی جس کے ذمے اقامت بینہ کا حکم ہوگواہان عادل شرعی سے شہادت دلائے کہ میں نے یہ جہیز عروس کو دیتے وقت شرط کرلی تھی کہ عاریۃدیتا ہوں ۔
دوسرے یہ کہ دلہن کا اقرارنامہ بتصدیق شہود عدل پیش کرے جس میں اس نے اقرار کیا ہو کہ یہ یہ جہیز مجھے فلاں نے اپنی ملك سے عاریۃ دیا ہے۔ بحرالرائق میں ہے :
قال فی التجنیس والولوالجیۃ والذخیرۃ والبینۃ الصحیحۃ ان یشھد عند التسلیم
تجنیس ولوالجیہ اور ذخیرہ میں فرمایا بینہ صحیحہ یہ ہے کہ عورت کو یہ اشیاء دیتے وقت گواہ قائم کرے کہ
کہتا ہوں ہاں مخفی نہیں لیکن بے شك بحر میں فرماتے ہین کہ میں نے اس میں صریح نقل نہیں دیکھی اور ابن وہبان کی بحث کوئی نقل نہیں اور بندہ ضعیف کو اس بات پر حیرت ہے کہ درنے مسئلہ بطور منقول چلایا حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ابن وہبان کی بحث ہے اور تحقیق شارحین نے اس میں بحث کی ہے اور تحقیق ہمارے بیان سابق سے تو جان چکا ہے کہ ان کی بحث حسن و وجیہ ہے پس حسن تنبیہ پر اﷲتعالی ہی کے لئے حمد ہے۔ (ت)
بالجملہ جب حقیقی دادی نانی حقیقی دادا حقیقی ماں میں علمائے کرام نے تردد فرمایا تو سوتیلی ماں کہ محض اجنبیہ ہے کیونکر اس حکم پدر میں شریك ہوسکتی ہیں اجنبی کے لئے صورت مستفسرہ میں یہی حکم لکھتے ہیں کہ اس کا دعوی لے گواہان مسموع نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے :
الام وولی الصغیرہ کالاب فیما ذکر وفیما یدعیہ الاجنبی بعد الموت لایقبل الاببینۃ شرح وھبانیۃ ۔
ماں اور ولی صغیرہ حکم مذکورہ میں باپ کی طرح ہیں اور جہاں اجنبی کے بعد دعوی کرے تو گواہوں کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا شرح وہبانیہ۔ (ت)
اور یہاں گواہوں سے اثبات عاریت کے دو۲طریقے ہیں :
ایك یہ کہ باپ ماں یا اجنبی جس کے ذمے اقامت بینہ کا حکم ہوگواہان عادل شرعی سے شہادت دلائے کہ میں نے یہ جہیز عروس کو دیتے وقت شرط کرلی تھی کہ عاریۃدیتا ہوں ۔
دوسرے یہ کہ دلہن کا اقرارنامہ بتصدیق شہود عدل پیش کرے جس میں اس نے اقرار کیا ہو کہ یہ یہ جہیز مجھے فلاں نے اپنی ملك سے عاریۃ دیا ہے۔ بحرالرائق میں ہے :
قال فی التجنیس والولوالجیۃ والذخیرۃ والبینۃ الصحیحۃ ان یشھد عند التسلیم
تجنیس ولوالجیہ اور ذخیرہ میں فرمایا بینہ صحیحہ یہ ہے کہ عورت کو یہ اشیاء دیتے وقت گواہ قائم کرے کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۷
الی المرأۃ انی انما سلمت ھذہ الاشیاء بطریق العاریۃ او یکتب نسخۃ معلومۃ ویشھد الاب علی اقرار ھا ان جمیع مافی ھذی النسخۃ ملك والدی عاریۃ فی یدی منہ الخ
بے شك میں نے یہ اشیاء بطور عاریت دی ہیں یا یہ کہ ایك معین تحریر تیار کرکے باپ کو لڑکی کے اس اقرار پر گواہ قائم کرے کہ وہ تمام اشیاء جو اس تحریر میں مرقوم ہیں میرے والد کی ملکیت ہیں اور میرے پاس اس کی طرف سے بطور عاریت ہیں الخ(ت)
اقول : وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور اﷲتعالی سے توفیق ہے۔ ت)یہاں دو۲مرحلے ہیں : اول اس کا اثبات کہ یہ جہیز میں نے مال سے دیا ان بلاد میں باپ اس ثابت کرنے میں گواہوں کا محتاج نہیں لما تقدم من جریان العرف فی ذلك کذلک(جیسا کہ پہلے گزرا کہ اس میں عرف ایسا ہی جاری ہے۔ ت)بلکہ دلہن یا اس کے ورثہ میں اسکے منکر ہوں تووہ گواہ دیں کہ یہ جہیز باپ نے اپنے مال سے نہ دیا دلہن کی ملك سے بنایا بخلاف اجنبی کہ اسے اولا یہی ثابت کرنا ضرور ہوگا
لعدم ظاہر یشھد لہ فی ذلك وانما البینۃ علی کل من یدعی خلاف الظاہر۔
کیونکہ اس معاملہ میں ظاہر اس کے لئے شاہد نہیں اور ہر اس شخص پر گواہ لازم ہوتے ہیں جو خلاف ظاہر دعوی کرے۔ (ت)
پھر اگر یہ امر بینہ یا اقرار عروس یا تسلیم ورثہ سے ثابت ہوتو دوسرا درجہ ثبوت عاریت کا ہے یہاں اگر عرف عام یا مشترك سے عاریۃدینا ثابت یا محتمل ہوتو ظاہرا اجنبی بھی مثل پدر اور اس ثبوت دوم میں محتاج اقامت بینہ نہیں کہ جب اباء عاریۃ دیتے ہیں تو اجنبی کا قصد عاریت ہرگز خلاف ظاہر نہیں بلکہ بلحاظ اجنبیت وہی اظہر ہے
ولا بینۃ علی من شھد لہ الظاہر مع انہ قد ثبت انہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع مع ماتقدم من ان الاقل ھو المتعین فی ما احتمل۔
اس پر گوا ہ لانا لازم نہیں جس کے لئے ظاہر شاہد ہو باوجود اس کے کہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ دینے والاہے پس وہ دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے باوجود اس کے جو گزرا کہ محتمل میں اقل ہی متعین ہوتا ہے۔ (ت)
تو جب تك صراحۃ کوئی دلیل تملیك نہ پائی جائے بحال عموم یا اشتراك عرف عاریت اجنبی کا اس فعل پر اقدام خواہی نخواہی قصد تملیك پر محمول نہ ہونا چاہئے اور اگر عرف عام تملیك ہو کہ جہیز دینا مالك کرنا ہی سمجھا جاتا ہو
بے شك میں نے یہ اشیاء بطور عاریت دی ہیں یا یہ کہ ایك معین تحریر تیار کرکے باپ کو لڑکی کے اس اقرار پر گواہ قائم کرے کہ وہ تمام اشیاء جو اس تحریر میں مرقوم ہیں میرے والد کی ملکیت ہیں اور میرے پاس اس کی طرف سے بطور عاریت ہیں الخ(ت)
اقول : وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور اﷲتعالی سے توفیق ہے۔ ت)یہاں دو۲مرحلے ہیں : اول اس کا اثبات کہ یہ جہیز میں نے مال سے دیا ان بلاد میں باپ اس ثابت کرنے میں گواہوں کا محتاج نہیں لما تقدم من جریان العرف فی ذلك کذلک(جیسا کہ پہلے گزرا کہ اس میں عرف ایسا ہی جاری ہے۔ ت)بلکہ دلہن یا اس کے ورثہ میں اسکے منکر ہوں تووہ گواہ دیں کہ یہ جہیز باپ نے اپنے مال سے نہ دیا دلہن کی ملك سے بنایا بخلاف اجنبی کہ اسے اولا یہی ثابت کرنا ضرور ہوگا
لعدم ظاہر یشھد لہ فی ذلك وانما البینۃ علی کل من یدعی خلاف الظاہر۔
کیونکہ اس معاملہ میں ظاہر اس کے لئے شاہد نہیں اور ہر اس شخص پر گواہ لازم ہوتے ہیں جو خلاف ظاہر دعوی کرے۔ (ت)
پھر اگر یہ امر بینہ یا اقرار عروس یا تسلیم ورثہ سے ثابت ہوتو دوسرا درجہ ثبوت عاریت کا ہے یہاں اگر عرف عام یا مشترك سے عاریۃدینا ثابت یا محتمل ہوتو ظاہرا اجنبی بھی مثل پدر اور اس ثبوت دوم میں محتاج اقامت بینہ نہیں کہ جب اباء عاریۃ دیتے ہیں تو اجنبی کا قصد عاریت ہرگز خلاف ظاہر نہیں بلکہ بلحاظ اجنبیت وہی اظہر ہے
ولا بینۃ علی من شھد لہ الظاہر مع انہ قد ثبت انہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع مع ماتقدم من ان الاقل ھو المتعین فی ما احتمل۔
اس پر گوا ہ لانا لازم نہیں جس کے لئے ظاہر شاہد ہو باوجود اس کے کہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ دینے والاہے پس وہ دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے باوجود اس کے جو گزرا کہ محتمل میں اقل ہی متعین ہوتا ہے۔ (ت)
تو جب تك صراحۃ کوئی دلیل تملیك نہ پائی جائے بحال عموم یا اشتراك عرف عاریت اجنبی کا اس فعل پر اقدام خواہی نخواہی قصد تملیك پر محمول نہ ہونا چاہئے اور اگر عرف عام تملیك ہو کہ جہیز دینا مالك کرنا ہی سمجھا جاتا ہو
حوالہ / References
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کپنی کراچی ۳ / ۱۸۷
جیسا کہ ہمارے بلاد میں ہے کہ اقارب اجانب جو تجہیز کریں تملیك ہی کرتے ہیں اگر کوئی کسی لڑکی کو پالیتا یا ویسے ہی کسی یتیمیہ کا نکاح کرتا ہے تو جو کچھ جہیز میں دیتا ہے یقینا تملیك ہی کا ارادہ کرتا ہے چند روزہ عاریت دے کرواپسی لینے کا اصلا وہم بھی نہیں گزرتا تو ایسی حالت میں اس ثبوت دوم یعنی دعوی عاریت میں اجنبی بھی آپ ہی محتارج گواہان ہوگا کما علمت ان المعھود عرفا کالمشروط نصا(کیونکہ توجان چکا ہے کہ جو بطور عرف کے معہود ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے بطور نص کے مشروط ہو۔ ت)اسی طرح اگر جہیز دئے ایك زمانہ ممتد گزرجائے دلہن برتتی استعمال کرتی رہے اور اسکی جانب سے بے مانع غیبوبت وغیرہ سکوت مطلق رہے طلب واپسی ظاہر نہ ہو پھر ایك مدت مدیدہ خصوصا موت عروس کے بعد دعوی کرے کہ میں نے توعاریۃ دیا تھا مجھے واپس ملے تو اب بھی اس کا یہ دعوی خلاف ظاہر ومحتاج بینہ ہے والدین واولاد کا معاملہ دوسرا ہے ان میں ایك دوسرے کے مال سے مدۃالعمر ممتع رہے تو باہم گوارا ہوتا ہے عرفا اجانب سے متوقع نہیں کہ اتنی مدت تك اپنا مال دوسرے کے ایسے تصرف واستعمال میں چھوڑے رہیں اور اپنی ملك ہونا زبان پر نہ لائیں ۔
وھذاکماقال فی البحر قال فی المبتغی من زفت الیہ امرأتہ بلاجھاز فلہ مطالبۃ الاب بمابعث الیہ من الدنانیر والدراھم ولو سکت بعد الزفاف طویلا لیس لہ ان یخاصمہ بعدہ اھ مختصرا وفی ردالمحتار قال الشارح فی کتاب الوقف ولو سکت بعد الزفاف زمانا یعرف بذلك رضاہ لم یکن لہ ان یخاصم بعد ذلك وان لم یتخذ لہ شیئ اھ ح واشار بقولہ یعرف الی ان المعتبر فی الطول والقصر
ایسا ہی ہے جیسا کہ بحر میں فرمایا کہ مبتغی میں کہا جس شخص کی بیوی جہیز کے بغیر رخصت ہو کر اس کی طرف آئی ہوتو بیوی کے باپ ان ونانیر ودراہم کا مطالبہ کرسکتا ہے جو اس نے اس کی طرف بھیجے تھے اور اگر زفاف کے بعد زمانہ دراز تك خاموش رہا تو اس کے بعد اس سے مخاصمہ نہیں کرسکتا اھ مختصرا۔ اور رد المحتار میں ہے کہ شارح نے کتاب الوقف میں فرمایا کہ اگر زفاف کے بعد اتنا زمانہ خاموش رہا جس سے اس کی رضا سمجھی گئی تو اب اس کے بعد اس کو مخاصمت کا حق نہیں اگرچہ اس کے لیے کچھ بھی نہ بنایا ہو الخ اس عبارت میں شارح نے اپنے قول “ یعرف “ سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمانہ کے
وھذاکماقال فی البحر قال فی المبتغی من زفت الیہ امرأتہ بلاجھاز فلہ مطالبۃ الاب بمابعث الیہ من الدنانیر والدراھم ولو سکت بعد الزفاف طویلا لیس لہ ان یخاصمہ بعدہ اھ مختصرا وفی ردالمحتار قال الشارح فی کتاب الوقف ولو سکت بعد الزفاف زمانا یعرف بذلك رضاہ لم یکن لہ ان یخاصم بعد ذلك وان لم یتخذ لہ شیئ اھ ح واشار بقولہ یعرف الی ان المعتبر فی الطول والقصر
ایسا ہی ہے جیسا کہ بحر میں فرمایا کہ مبتغی میں کہا جس شخص کی بیوی جہیز کے بغیر رخصت ہو کر اس کی طرف آئی ہوتو بیوی کے باپ ان ونانیر ودراہم کا مطالبہ کرسکتا ہے جو اس نے اس کی طرف بھیجے تھے اور اگر زفاف کے بعد زمانہ دراز تك خاموش رہا تو اس کے بعد اس سے مخاصمہ نہیں کرسکتا اھ مختصرا۔ اور رد المحتار میں ہے کہ شارح نے کتاب الوقف میں فرمایا کہ اگر زفاف کے بعد اتنا زمانہ خاموش رہا جس سے اس کی رضا سمجھی گئی تو اب اس کے بعد اس کو مخاصمت کا حق نہیں اگرچہ اس کے لیے کچھ بھی نہ بنایا ہو الخ اس عبارت میں شارح نے اپنے قول “ یعرف “ سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمانہ کے
حوالہ / References
بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۸۶ ، ۱۸۷
العرف اھ وفیہ عن البزازیۃ لانہ لما کان محتملا وسکت زمانا یصلح للاختیار دل ان الغرض لم یکن الجھاز اھ قلت وقد نصواان من رأی احدا یتصرف فی شیئ زمانا ثم ادعی انہ ولم یکن ثم مانع من دعواہ لم تسمع قطعا للحیل وقد بینا ہ فی الدعاوی من فتاونا۔
دراز اور مختصر ہونے کا اعتبار عرف پر ہے اھ اور اسی میں بزازیہ سے ہے اسلئے کہ جب محتمل تھا اور وہ اتنا زمانہ اور ردالمحتار میں ہے کہ شارح نے کتاب الوقف میں فرمایا کہ اگر زفاف کے بعد اتنا زمانہ خاموش رہا جس سے اس کی رضا سمجھی گئی تو اب اس کے بعد اس کو مخاصمت کا حق نہیں اگر چہ ا س کے لئے کچھ بھی نہ بنایا ہو الخ اس عبارت میں شارح نے اپنے قول “ یعرف “ سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمانہ کے خاموش رہا جس میں وہ مطالبہ کو اختیار کرسکتا تھا تو اس بات کی دلیہل ہے کہ اس کی غرج جہیز لینا نہ تھا الخ قلت(میں کہتا ہوں )اس پر انہوں نے نص کی کہ جو شخص ایك زمانہ تك کسی کوکسی شیئ میں تصرف کرتے ہوئے دیکھتا رہا پھر دعوی کیا کہ یہ شیئ اس کی ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی دعوی سے کوئی مانع نہ تھا تو اس کا یہ دعوی اس کے حیلوں کی بنیاد پر مسموع نہ ہوگا۔ تحقیق ہم نے اس کو اپنے فتاوی کے دعاوی میں بیان کیا ہے۔ (ت)
قرۃ العیون میں ہے :
لوجھزھا الاجنبی ثم ادعی انہ عاریۃ بعد موتھا لایقبل قولہ الاببینۃ لان الظاہر انہ لا یجھزھا ویترکہ فی یدھا الی الموت الابمالہا بخلاف الاب والام فانھما یجھزانھا بمال انفسھا لکن یکون ذلك تملیکا تارۃ وتارۃ عاریۃ ولذاقال شارح الوھبانیۃ وفی الولی عندی نظر الخ ای فی جعلہ کالاب والام لان الظاھر فی
اگر اجنبی نے کسی عورت کو جہیز دیا پھر عورت کے مرنے کے بعد دعوی کی کہ یہ بطور عاریت تھا تو بغیر گواہوں کے اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ عورت کو جہیز دے کر اس کے مرنے تك اس کے قبضہ میں چھوڑ دینا صرف وہیں ہوگا جہاں عورت کے اپنے مال سے ہو بخلاف ماں باپ کے کیونکہ وہ اپنے مال سے بیٹیوں کو جہیز دیتے ہیں تاہم کبھی تو وہ بطور تملیك ہوتا ہے اور کبھی بطور عاریت۔ اسی لئے شارح و ہبانیہ نے فرمایا کہ میرے نزدیك ولی صغیرہ میں نظر ہے الخ یعنی اس کو ماں باپ کی مثل قرار
دراز اور مختصر ہونے کا اعتبار عرف پر ہے اھ اور اسی میں بزازیہ سے ہے اسلئے کہ جب محتمل تھا اور وہ اتنا زمانہ اور ردالمحتار میں ہے کہ شارح نے کتاب الوقف میں فرمایا کہ اگر زفاف کے بعد اتنا زمانہ خاموش رہا جس سے اس کی رضا سمجھی گئی تو اب اس کے بعد اس کو مخاصمت کا حق نہیں اگر چہ ا س کے لئے کچھ بھی نہ بنایا ہو الخ اس عبارت میں شارح نے اپنے قول “ یعرف “ سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمانہ کے خاموش رہا جس میں وہ مطالبہ کو اختیار کرسکتا تھا تو اس بات کی دلیہل ہے کہ اس کی غرج جہیز لینا نہ تھا الخ قلت(میں کہتا ہوں )اس پر انہوں نے نص کی کہ جو شخص ایك زمانہ تك کسی کوکسی شیئ میں تصرف کرتے ہوئے دیکھتا رہا پھر دعوی کیا کہ یہ شیئ اس کی ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی دعوی سے کوئی مانع نہ تھا تو اس کا یہ دعوی اس کے حیلوں کی بنیاد پر مسموع نہ ہوگا۔ تحقیق ہم نے اس کو اپنے فتاوی کے دعاوی میں بیان کیا ہے۔ (ت)
قرۃ العیون میں ہے :
لوجھزھا الاجنبی ثم ادعی انہ عاریۃ بعد موتھا لایقبل قولہ الاببینۃ لان الظاہر انہ لا یجھزھا ویترکہ فی یدھا الی الموت الابمالہا بخلاف الاب والام فانھما یجھزانھا بمال انفسھا لکن یکون ذلك تملیکا تارۃ وتارۃ عاریۃ ولذاقال شارح الوھبانیۃ وفی الولی عندی نظر الخ ای فی جعلہ کالاب والام لان الظاھر فی
اگر اجنبی نے کسی عورت کو جہیز دیا پھر عورت کے مرنے کے بعد دعوی کی کہ یہ بطور عاریت تھا تو بغیر گواہوں کے اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ عورت کو جہیز دے کر اس کے مرنے تك اس کے قبضہ میں چھوڑ دینا صرف وہیں ہوگا جہاں عورت کے اپنے مال سے ہو بخلاف ماں باپ کے کیونکہ وہ اپنے مال سے بیٹیوں کو جہیز دیتے ہیں تاہم کبھی تو وہ بطور تملیك ہوتا ہے اور کبھی بطور عاریت۔ اسی لئے شارح و ہبانیہ نے فرمایا کہ میرے نزدیك ولی صغیرہ میں نظر ہے الخ یعنی اس کو ماں باپ کی مثل قرار
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۷
ردالمحتار باب المہر ۲ / ۳۶۸
ردالمحتار باب المہر ۲ / ۳۶۸
غیرہما لا یجھز ھا الا بمالھا اھ اقول : ھذاکلام قدرزق مت من الحسن وھو ینحو منحی ما قدمت من التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق ولعلك تفطنت مماالقینا علیك سابقا ولاحقا ان الموت غیر قید وقد احسن السید العلامۃ الطحطاوی حیث قال قد ذکرالمص فی باب المھران الام کالاب وان حکم الموت کحکم الحیات اھ ھذاکلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی والحمد ﷲ رب العالمین۔
دینے میں کیونکہ ماں باپ کے غیر میں ظاہر یہی ہے کہ وہ لڑکی کے مال سے جہیز بناتے ہیں الخاقول : (میں کہتا ہوں )اس کلام کو حسن سے وافر حصہ ملا اور وہ اسی روش پر چلا جو تحقیق ہم سابق میں کرچکے ہیں اور اﷲ تعالی ہی مالك توفیق ہے اور ہم نے سابق ولاحق میں جو تجھ پر القاء کیا(یعنی بیان کیا)اس سے شاید تو نے سمجھ لیا ہوگا کہ حکم مذکور میں موت قید نہیں اور علامہ سید طحطاوی نے بہت خوب کہا جہاں فرمایا کہ تحقیق مصنف نے باب المہرمیں کہا کہ بیشك ماں باپ کی طرح ہے۔ اور موت کاحکم حیات کے حکم کی مثل ہے الخ یہ سب وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے اور تمام تعریفیں اﷲکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (ت)
بہر حال فیض النساء بیگم میں حکم یہی ہے
کہ اس کا یہ دعوی یوں قابل سماعت نہیں اولا اس کی بنائے دعوی پر نظر لازم آیا واپسی بخیال ہبہ تاحین حیاتے چاہتی ہے(جس طرح لفظ کپڑے و زیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ سے اس کا کچھ پتا چلتا ہے جبکہ عرضی دعوے میں فیض النساء بیگم کے لفظ یہی ہوں کہ عاریت کو مستعیر متوفی کا ترکہ نہیں کہتے)جب تو دعوی کہ بعد مرور مدت خصوصا بعد موت عروس ہوا بہت کیف محتاج شہادت ہے انہیں دو طریقہ مذکورہ سے کسی طریقہ پر گواہان عادل دے کہ یہ جہیز بدی تفصیل خدیجہ بی بی کو میں نے اپنے مال خاص سے عاریۃ دیا اگر گواہ دیدیں فبھا نہ دے سکے تو حاکم یا حاکم شرعی شوہر خدیجہ وغیرہ ورثا ء سے قسم لے کہ واﷲ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ جہیز مال فیض النساء بیگم سے خدیجہ بی بی کے پاس عاریۃ تھا اگر وہ قسم کھالیں تو مقدمہ بحق وارثان خدیجہ ورنہ بحق فیض النساء بیگم
دینے میں کیونکہ ماں باپ کے غیر میں ظاہر یہی ہے کہ وہ لڑکی کے مال سے جہیز بناتے ہیں الخاقول : (میں کہتا ہوں )اس کلام کو حسن سے وافر حصہ ملا اور وہ اسی روش پر چلا جو تحقیق ہم سابق میں کرچکے ہیں اور اﷲ تعالی ہی مالك توفیق ہے اور ہم نے سابق ولاحق میں جو تجھ پر القاء کیا(یعنی بیان کیا)اس سے شاید تو نے سمجھ لیا ہوگا کہ حکم مذکور میں موت قید نہیں اور علامہ سید طحطاوی نے بہت خوب کہا جہاں فرمایا کہ تحقیق مصنف نے باب المہرمیں کہا کہ بیشك ماں باپ کی طرح ہے۔ اور موت کاحکم حیات کے حکم کی مثل ہے الخ یہ سب وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے اور تمام تعریفیں اﷲکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (ت)
بہر حال فیض النساء بیگم میں حکم یہی ہے
کہ اس کا یہ دعوی یوں قابل سماعت نہیں اولا اس کی بنائے دعوی پر نظر لازم آیا واپسی بخیال ہبہ تاحین حیاتے چاہتی ہے(جس طرح لفظ کپڑے و زیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ سے اس کا کچھ پتا چلتا ہے جبکہ عرضی دعوے میں فیض النساء بیگم کے لفظ یہی ہوں کہ عاریت کو مستعیر متوفی کا ترکہ نہیں کہتے)جب تو دعوی کہ بعد مرور مدت خصوصا بعد موت عروس ہوا بہت کیف محتاج شہادت ہے انہیں دو طریقہ مذکورہ سے کسی طریقہ پر گواہان عادل دے کہ یہ جہیز بدی تفصیل خدیجہ بی بی کو میں نے اپنے مال خاص سے عاریۃ دیا اگر گواہ دیدیں فبھا نہ دے سکے تو حاکم یا حاکم شرعی شوہر خدیجہ وغیرہ ورثا ء سے قسم لے کہ واﷲ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ جہیز مال فیض النساء بیگم سے خدیجہ بی بی کے پاس عاریۃ تھا اگر وہ قسم کھالیں تو مقدمہ بحق وارثان خدیجہ ورنہ بحق فیض النساء بیگم
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخبار کتاب العاریۃ مصطفی البابی مصر ۲ / ۳۱۷
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب المہر دارا لمعرفۃ بیروت ۲ / ۶۷
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب المہر دارا لمعرفۃ بیروت ۲ / ۶۷
فیصل ہو۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
قولہ وفیما یدعیہ الاجنبی ای من انہ اعار المتوفی ھذاالشیئ لایصدق الاببینۃ ولہ ان یحلف الوارث ان انکر علی العلم کما ھو الحکم فی نظائرھا اھ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور قول مصنف کہ جس میں اجنبی دعوی کرے یعنی یون کہے کہ یہ شیئ میں نے متوفی کو بطور عاریت دی تھی تو بغیر گواہوں کے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور متوفی کاوارث اگرمنکر ہوتو(حاکم)اس سے یوں قسم لے سکتا ہے کہ ہمیں اس کے عاریت ہونے کاعلم نہیں جیسا کہ اس کے نظائرمیں یہی حکم ہے اھ اور واﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
جواب سوال پنجم
بھی تقریبات سابقہ سے واضح اس دعوی کے ثبوت میں کہ یہ اشیاء وقت شادی حسام الدین کو فیض النساء بیگم نے اپنے مال سے دیں فیض النساء بیگم محتاج گواہان ہے اگر یہ امر شہادت یا اقرار مدعا علیہ سے ثابت ہوتو دربارہ تملیك و عاریت وہی عرف وغیرہ دلاء پر نظر ہوگی اگر نصا یا عرفا کسی طرح دلالت تملیك ثابت ہو(جس طرح ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دلہن والوں کی طرف سے سلامی وغیرہ جوکچھ کپڑے یا نقد یا دیگر اشیاء دولہا کر دیتے ہیں اس سے تملیك ہی کا ارادہ کرتے ہیں بلکہ یہاں عاریت بتانا جہیز دختر کو عاریت کہنے سے زیادہ موجب ننگ وعار سمجھتے ہیں )تو وہ دینار ہبہ سمجھا جائے گا اور فیض النساء بیگم اگر عاریت کہے گی تو بغیر ان طرق ثبوت کے مسموع نہ ہوگا اوراگر دلالت تملیك متحقق نہیں توفیض النسا ء بیگم کا قول عاریت بہ قسم قابل قبول ہوگا پھر اگر اس مال کا ہبہ ہونا ثابت ہوتو اس میں سے کچھ تلف ہوگیا خواہ حسام الدین کے اپنے فعل سے یا بلا قصد یا اس نے کسی کو دے دیا یا بیچ ڈالا تو اس کی واپسی ممکن نہیں
فان ھلاك الموھوب وخروجہ عن ملك الموھولہ کلاھما من موانع الرجوع۔
کیونکہ بے شك موہوب شیئ کا ہلاك ہونا اور اس کا موہوب کہ کی ملك سے خارج ہونا دونوں ہی رجوع کے موانع میں سے ہیں ۔ (ت)
اور جو بدستور اس کے پاس موجود ہے اور کوئی مانع موانع رجوع سے نہیں تو فیض النساء بیگم بتراضی بالقضائے قاضی واپس لے سکتی ہے مگر گنہگار ہوگی کہ ہبہ میں رجوع سخت مکروہ ممنوع ہے بغیر اس کے بطور خودر رجوع نہیں
قولہ وفیما یدعیہ الاجنبی ای من انہ اعار المتوفی ھذاالشیئ لایصدق الاببینۃ ولہ ان یحلف الوارث ان انکر علی العلم کما ھو الحکم فی نظائرھا اھ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور قول مصنف کہ جس میں اجنبی دعوی کرے یعنی یون کہے کہ یہ شیئ میں نے متوفی کو بطور عاریت دی تھی تو بغیر گواہوں کے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور متوفی کاوارث اگرمنکر ہوتو(حاکم)اس سے یوں قسم لے سکتا ہے کہ ہمیں اس کے عاریت ہونے کاعلم نہیں جیسا کہ اس کے نظائرمیں یہی حکم ہے اھ اور واﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
جواب سوال پنجم
بھی تقریبات سابقہ سے واضح اس دعوی کے ثبوت میں کہ یہ اشیاء وقت شادی حسام الدین کو فیض النساء بیگم نے اپنے مال سے دیں فیض النساء بیگم محتاج گواہان ہے اگر یہ امر شہادت یا اقرار مدعا علیہ سے ثابت ہوتو دربارہ تملیك و عاریت وہی عرف وغیرہ دلاء پر نظر ہوگی اگر نصا یا عرفا کسی طرح دلالت تملیك ثابت ہو(جس طرح ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دلہن والوں کی طرف سے سلامی وغیرہ جوکچھ کپڑے یا نقد یا دیگر اشیاء دولہا کر دیتے ہیں اس سے تملیك ہی کا ارادہ کرتے ہیں بلکہ یہاں عاریت بتانا جہیز دختر کو عاریت کہنے سے زیادہ موجب ننگ وعار سمجھتے ہیں )تو وہ دینار ہبہ سمجھا جائے گا اور فیض النساء بیگم اگر عاریت کہے گی تو بغیر ان طرق ثبوت کے مسموع نہ ہوگا اوراگر دلالت تملیك متحقق نہیں توفیض النسا ء بیگم کا قول عاریت بہ قسم قابل قبول ہوگا پھر اگر اس مال کا ہبہ ہونا ثابت ہوتو اس میں سے کچھ تلف ہوگیا خواہ حسام الدین کے اپنے فعل سے یا بلا قصد یا اس نے کسی کو دے دیا یا بیچ ڈالا تو اس کی واپسی ممکن نہیں
فان ھلاك الموھوب وخروجہ عن ملك الموھولہ کلاھما من موانع الرجوع۔
کیونکہ بے شك موہوب شیئ کا ہلاك ہونا اور اس کا موہوب کہ کی ملك سے خارج ہونا دونوں ہی رجوع کے موانع میں سے ہیں ۔ (ت)
اور جو بدستور اس کے پاس موجود ہے اور کوئی مانع موانع رجوع سے نہیں تو فیض النساء بیگم بتراضی بالقضائے قاضی واپس لے سکتی ہے مگر گنہگار ہوگی کہ ہبہ میں رجوع سخت مکروہ ممنوع ہے بغیر اس کے بطور خودر رجوع نہیں
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارا لمعرفۃ : بیروت ۳ / ۳۹۰
کرسکتی اور اگر عاریت ہونا ثابت قرار پائے تو جو جہیز موجود ہے اسے بطور خود واپس لے سکتی ہے اگر چہ حسام الدین نے کسی کودے دی یا بیع کردی ہو فان العواری مردودۃ وتصرف الفضول الفضولی بالردیبطل(کیونکہ بطور عاریت دی ہوئی اشیاء واپس کی جاتی ہےں اور فضول کا تصرف رد سے باطل ہوجاتا۔ ت)اور جو تلف ہوگیا اگر بے فعل حسام الدین تلف ہوا مثلاچوری ہوگیا جل گیا ٹوٹ گیا اور اس میں حسام الدین کی طرف سے کوئی بے احتیاطی نہ تھی تو اس کا تاوان نہیں لے سکتی فان العاریۃ امانۃ لاتضمن الابالتعدی(اس لئے کہ عاریت امانت ہے اور بلا تعدی اس میں ضمان لازم نہیں آتا۔ ت)اسی طرح جو کچھ حسام الدین کے پہنے برتنے میں تلف ہوا نقصان ہو اس کا بھی تاوان نہیں جبکہ اس نے عادت وعرف کے مطابق اسے برتا استعمال کیا ہو فان کان بتسلیط منھا وما کانت العاریۃالاللاستعمال(کیونکہ وہ اس عورت کی تسلیط دے اس کے پاس تھا اور عاریت تو ہوتی ہی استعمال کیلئے ہے۔ ت)ہاں جو کچھ حسام الدین نے قصدا خراب کیا یا اس کے بے احتیاطی سے ضائع ہوا یا عرف و عادت سے زیادت استعمال کرتے میں ہلاك ہوگیا اس کا تاوان حسام الدین سے لے سکتی ہے لحصول التعدی(تعدی حاصل ہونے کی وجہ سے۔ ت)فصول عمادی میں ہے :
اذا انتقص عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ استعمالا معھودا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جب عین مستعار کی حالت میں نقصان ہوا تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہں ہوگا بشرطیکہ اس نے عرف وعادت کے مطابق استعمال کیا ہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
جواب سوال ششم
جومال حسام الدین نے وقت شادی خواہ بعد شادی اپنی بی بی کو دیا اس کی واپسی سے فیض النساء بیگم کو کچھ علاقہ نہیں ہوسکتا کہ اگر حسام الدین نے عاریۃ دیا تھا تو وہ خود اس کا مالك ہے اور اگر زوجہ کو مالك کردیا تھا تو بعد مرگ زوجہ اس کے پسر وشوہر کو پہنچ کر پھر حسام الدین کے پاس آیا فیض النساء بیگم کا اس میں کوئی حق نہ تھا' نہ ہے وھذا ظاہر جدا(اور یہ خوب ظاہر ہے۔ ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
الجواب سوال ہفتم
(اس سوال کا جواب اسی تحقیق جوابات سابقہ پر مبنی ہے زیور جہیز اگر بنظر احکام مذکور ملك خدیجہ بی بی
اذا انتقص عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ استعمالا معھودا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جب عین مستعار کی حالت میں نقصان ہوا تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہں ہوگا بشرطیکہ اس نے عرف وعادت کے مطابق استعمال کیا ہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
جواب سوال ششم
جومال حسام الدین نے وقت شادی خواہ بعد شادی اپنی بی بی کو دیا اس کی واپسی سے فیض النساء بیگم کو کچھ علاقہ نہیں ہوسکتا کہ اگر حسام الدین نے عاریۃ دیا تھا تو وہ خود اس کا مالك ہے اور اگر زوجہ کو مالك کردیا تھا تو بعد مرگ زوجہ اس کے پسر وشوہر کو پہنچ کر پھر حسام الدین کے پاس آیا فیض النساء بیگم کا اس میں کوئی حق نہ تھا' نہ ہے وھذا ظاہر جدا(اور یہ خوب ظاہر ہے۔ ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
الجواب سوال ہفتم
(اس سوال کا جواب اسی تحقیق جوابات سابقہ پر مبنی ہے زیور جہیز اگر بنظر احکام مذکور ملك خدیجہ بی بی
حوالہ / References
فصول عمادی
قرار پائے تو وہ ایك چیز ہے کہ بحکم مالك رہن رکھی گئی ہے مورثہ مدیونہ ہے اور مرتہن دائن وارث فك رہن کرائیں گے یا بتراضی باہمی وہی شے دین مرتہن میں دے دیں گے یا زیور دین میں بیچا جائے گا کچھ ہوگا یہ ان کا باہمی معاملہ ہے جس سے فیض النساء بیگم کوکوئی تعلق نہیں اور اگر زیوروں کا ملك فیض النساء بیگم اور خدیجہ بی بی کے پاس عاریت ہونا ثابت ہو تو نظر کریں گے کہ یہ رہن رکھنا بے اجازت فیض النساء بیگم تھا یعنی نہ اس سے اذن لے کر رہن رکھا نہ اس نے بعد رہن اس تصرف کو جائز کیا جب اسے اختیار ہے کہ رہن فسخ کرکے اپنی چیز مرتہن سے واپس لے لے مرتہن اپنا دین ترکہ خدیجہ بی بی سے لیتا رہے ردالمحتار میں ہے :
لانہ تصرف فی ملکہ علی وجہ لم یؤذن لہ فیہ فصار غاصبا وللمعیران یاخذہ من المرتھن ویفسخ الرھن جوہرۃ ۔
کیونکہ بیشك اس(راہن)نے دوسرے(معیر)کی ملك میں اس طور پر تصرف کیا جس کا اذن اس کو نہیں دیا گیا تا تو وہ غاصب ہوگیا اور عاریت دینے والے کوحق حاصل ہے کے مرتہن سے شیئ مرہون لے لے اور رہن کو فسخ کردے۔ جوہرہ۔ (ت)
اور اگر اس سے پوچھ کر اس کی مرضی کے مطابق رہن رکھا(اگر چہ صورت حاضرہ میں ظاہرا اس کی امید نہیں )یا بعد رہن اس نے تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردیا تو رہن صحیح و نافذ ہوگیا اب فیض النساء بیگم جب تك دین مرتہن ادا نہ ہو شیئ مرہون واپس نہیں لے سکتی ہاں یہ اختیار رکھتی ہے کہ اگر ورثہ خدیجہ بی بی فك رہن میں دیر لگائیں یہ خود مرتہن کو اس کا دین دے کر اپنی چیز چھڑالے اور جو کچھ مرتہن کو دے ترکہ خدیجہ بی بی سے واپس لے۔ عالمگیریہ میں محیط امام سرخسی سے ہے :
لو ارادالمعیر افتکاکہ لیس للراھن والمرتہن منعہ ویرجع علی الراھن بما قضی لانہ مضطر فی قضائہ لاحیاء حقہ وملکہ ۔
اگر معیر مرہون شے کو چھڑانا چاہے تو راہن اور مرتہن اس کو منع نہیں کرسکتے اور وہ جو کچھ مرتہن کو دے راہن سے لے سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے حق وملك کو حاصل کرنے کے لئے اس ادائیگی پر مجبور ہے(ت)
درمختار میں ہے :
لورھن دارغیرہ فاجاز صاحبھا جاز ۔
اگر کوئی کسی کا گھر رہن رکھ دے پھر گھرکامالك اس کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔ (ت)
لانہ تصرف فی ملکہ علی وجہ لم یؤذن لہ فیہ فصار غاصبا وللمعیران یاخذہ من المرتھن ویفسخ الرھن جوہرۃ ۔
کیونکہ بیشك اس(راہن)نے دوسرے(معیر)کی ملك میں اس طور پر تصرف کیا جس کا اذن اس کو نہیں دیا گیا تا تو وہ غاصب ہوگیا اور عاریت دینے والے کوحق حاصل ہے کے مرتہن سے شیئ مرہون لے لے اور رہن کو فسخ کردے۔ جوہرہ۔ (ت)
اور اگر اس سے پوچھ کر اس کی مرضی کے مطابق رہن رکھا(اگر چہ صورت حاضرہ میں ظاہرا اس کی امید نہیں )یا بعد رہن اس نے تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردیا تو رہن صحیح و نافذ ہوگیا اب فیض النساء بیگم جب تك دین مرتہن ادا نہ ہو شیئ مرہون واپس نہیں لے سکتی ہاں یہ اختیار رکھتی ہے کہ اگر ورثہ خدیجہ بی بی فك رہن میں دیر لگائیں یہ خود مرتہن کو اس کا دین دے کر اپنی چیز چھڑالے اور جو کچھ مرتہن کو دے ترکہ خدیجہ بی بی سے واپس لے۔ عالمگیریہ میں محیط امام سرخسی سے ہے :
لو ارادالمعیر افتکاکہ لیس للراھن والمرتہن منعہ ویرجع علی الراھن بما قضی لانہ مضطر فی قضائہ لاحیاء حقہ وملکہ ۔
اگر معیر مرہون شے کو چھڑانا چاہے تو راہن اور مرتہن اس کو منع نہیں کرسکتے اور وہ جو کچھ مرتہن کو دے راہن سے لے سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے حق وملك کو حاصل کرنے کے لئے اس ادائیگی پر مجبور ہے(ت)
درمختار میں ہے :
لورھن دارغیرہ فاجاز صاحبھا جاز ۔
اگر کوئی کسی کا گھر رہن رکھ دے پھر گھرکامالك اس کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۳۳۱
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط سرخسی الباب الحادی عشر فی التفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۴۸۶
درمختار باب التصرف فی الرہن مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۷۴
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط سرخسی الباب الحادی عشر فی التفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۴۸۶
درمختار باب التصرف فی الرہن مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۷۴
ردالمحتار میں ہے :
ویکون بمنزلۃ مالو اعارھالیر ھنھا ط۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور یہ بمنزلہ اس شیئ کے ہوگیا جس کو کسی نے بطور عاریت دیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اس کو رہن رکھ دے ط۔ اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۸۷ : از رائے پور چھتیس گڈھ بیجنا تھ بارہ مرسلہ منشی محمد قاسم صاحب حوالدار پیشی ۱۹ربیع الاول ۱۳۲۶ھ
بسم اﷲالرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مقدمہ ذیل میں فیض النساء بیگم انجمن نعمانیہ رائے پور میں داد خواہ تھی کہ میں اپنی سوتیلی لڑکی مسماۃ خدیجہ بی بی کی شادی مسمی حسام الدین سے کردی اور لڑکی مذکور نے رحلت کی اب مجھے حسب رواج ملك اپنے کے جو کچھ مال متاع بنام جہیز اپنی لڑکی کو دی ہوں حسام الدین سے واپس دلایا جائے چونکہ وقت دینے اسباب جہیز اپنی لڑکی کو مطابق رسم ورواج عادت عالم کے نہ تو نیت تملیك کی جاتی ہے نہ ہبہ وعاریت کی بلکہ یوں ہی بلاکسی نیت کے جو کچھ دینا ہو وقت رخصت دولہا دلہن کے ہمراہ ان کے کردیاکئے جاتاہے غرض جو رواج عام خاص وعام میں پشتہا پشت سے جاری ہے حسام الدین سے واپس دلاکر داد ر سی فرمائی جائے انتہی ارباب انجمن فیصلہ مقد مہ ھذا کا صرف اپنی ہی معلومات پر منحصر نہ فرمایا علمائے دین سے بھی فتؤوں کا ا ستدعا کیا چنانچہ علمائے دیوبند کا اخری فیصلہ فتوی روایات فقہ اس بارہ میں یہ ثابت ہوتاہے کہ شرفا میں مطلقا تملیك سمجھا جاتا ہے اور بغالب ظن عرف میں یہی ہے کہ کوئی شخص اسباب شادی دے کر واپس نہیں لیتا لیکن بااینہمہ عرف وہاں کا یہی ہے کہ واپس لیا جاتا ہے اور ہبہ وتملیك نہیں ہوتا فیض النساء بیگم اس کو واپس لے سکتی ہے انتہی فتوی ندوۃ العماء جس جگہ میں یہ عرف ہو کہ اشیاء جہیز بطور تملیك دیا جاتا ہے جیسا کہ بلادہندوستان میں بھی یہی رواج ہے تو اس مقام میں اشیاء لڑکی کی ملك ہوجائیں گی اور لڑکی کے ماں باپ کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ واپس کرلے ہاں جس مقام میں رواج عاریۃ دینے کا ہے وہاں اشیائے جہیزملك لڑکی کی نہ ہوں گی اور ماں باپ کو اختیار ہوگا کہ واپس کرلے فیض النساء بیگم کو چاہئے کہ گواہوں سے اسباب جہیز دینا اپنے مال سے ثابت کردے اس کے بعد حسب رواج کار بند ہوانتہی فیض النساء کے اپنے مال سے دینے پر صدہا گواہ موجود ہیں ۔ فتوی جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب
ویکون بمنزلۃ مالو اعارھالیر ھنھا ط۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور یہ بمنزلہ اس شیئ کے ہوگیا جس کو کسی نے بطور عاریت دیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اس کو رہن رکھ دے ط۔ اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۸۷ : از رائے پور چھتیس گڈھ بیجنا تھ بارہ مرسلہ منشی محمد قاسم صاحب حوالدار پیشی ۱۹ربیع الاول ۱۳۲۶ھ
بسم اﷲالرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مقدمہ ذیل میں فیض النساء بیگم انجمن نعمانیہ رائے پور میں داد خواہ تھی کہ میں اپنی سوتیلی لڑکی مسماۃ خدیجہ بی بی کی شادی مسمی حسام الدین سے کردی اور لڑکی مذکور نے رحلت کی اب مجھے حسب رواج ملك اپنے کے جو کچھ مال متاع بنام جہیز اپنی لڑکی کو دی ہوں حسام الدین سے واپس دلایا جائے چونکہ وقت دینے اسباب جہیز اپنی لڑکی کو مطابق رسم ورواج عادت عالم کے نہ تو نیت تملیك کی جاتی ہے نہ ہبہ وعاریت کی بلکہ یوں ہی بلاکسی نیت کے جو کچھ دینا ہو وقت رخصت دولہا دلہن کے ہمراہ ان کے کردیاکئے جاتاہے غرض جو رواج عام خاص وعام میں پشتہا پشت سے جاری ہے حسام الدین سے واپس دلاکر داد ر سی فرمائی جائے انتہی ارباب انجمن فیصلہ مقد مہ ھذا کا صرف اپنی ہی معلومات پر منحصر نہ فرمایا علمائے دین سے بھی فتؤوں کا ا ستدعا کیا چنانچہ علمائے دیوبند کا اخری فیصلہ فتوی روایات فقہ اس بارہ میں یہ ثابت ہوتاہے کہ شرفا میں مطلقا تملیك سمجھا جاتا ہے اور بغالب ظن عرف میں یہی ہے کہ کوئی شخص اسباب شادی دے کر واپس نہیں لیتا لیکن بااینہمہ عرف وہاں کا یہی ہے کہ واپس لیا جاتا ہے اور ہبہ وتملیك نہیں ہوتا فیض النساء بیگم اس کو واپس لے سکتی ہے انتہی فتوی ندوۃ العماء جس جگہ میں یہ عرف ہو کہ اشیاء جہیز بطور تملیك دیا جاتا ہے جیسا کہ بلادہندوستان میں بھی یہی رواج ہے تو اس مقام میں اشیاء لڑکی کی ملك ہوجائیں گی اور لڑکی کے ماں باپ کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ واپس کرلے ہاں جس مقام میں رواج عاریۃ دینے کا ہے وہاں اشیائے جہیزملك لڑکی کی نہ ہوں گی اور ماں باپ کو اختیار ہوگا کہ واپس کرلے فیض النساء بیگم کو چاہئے کہ گواہوں سے اسباب جہیز دینا اپنے مال سے ثابت کردے اس کے بعد حسب رواج کار بند ہوانتہی فیض النساء کے اپنے مال سے دینے پر صدہا گواہ موجود ہیں ۔ فتوی جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ٥ / ۳۳۰
بریلوی سوال انجمن نعمانیہ رائے پور سوال : شرع میں رواج ملك کو بھی مداخلت ہے کیاجواب : مولانا صاحب! حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی و حکم میں کچھ دخل نہیں ہاں بعض احکام کو شرع اپنے حکم سےعرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یوں کہ اگر یہ شے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے خواہ یوں کہ حکم فی نفسہ حاصل اور یہ اس کی صورت کا بنانے والاہے یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ والدین اپنے مال سے دلہن کو جہیز دیتے ہیں اور دینا ہبہ وعاریت دونوں کو محتمل'اور ان کا تعین عرف پر محمول جہاں عرف غالب تملیك ہو وہاں دعوی عاریت نامقبول اور جہیز دینا تملیك ہی پر محمول جب تك گواہان شرعی سے اپنا عاریت دینا ثابت نہ کریں اور جہاں عرف غالب عاریت ہو یا دونوں رواج یکساں ہوں وہاں ان کے قول قسم کے ساتھ معتبر ایسی جگہ جہیز دینا جہاں تملیك نہ سمجھا جائے گا الخ۔ جناب من!فتوی جناب کا فائز انجمن نعمانیہ ہوکرکے عرصہ دوسال کا ہوگا اس عرصہ دراز میں اکثر اوقات پیش نظر یعنی جناب رکن اعظم انجمن جناب مولوی حکیم مسمی ابو سعیدصاحب کے بھی رہا یقین ہوا کہ مولوی صاحب ان فتووں کے مطالب مقاصد ظاہر الروایات کے موافق ومطابق بخوبی سوچ سمجھ گئے ہوں گے آخر الامر بروز جلسہ مع فتوی جناب کا بھی فتوی مولوی صاحب نے پڑھا اور جملہ اول جناب کے فتوی کا یہ تھا : “ حکم شرع مطہر کے لئے ہے۔ “ مولوی صاحب نے جملہ مذکور کا خلاصہ اس طرح بیان فرمایا کہ جو حکم شرع کا ہے وہ پاك ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ علاوہ بریں مولاناممدوح کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ رواج ملك کو شرع میں کچھ دخل نہیں ورنہ فیض النساء بیگم موافق دعوی اپنے اشیاء جہیز پانے کا کسی طرح حقدار ہوسکتی ہے بلکہ دعوی اس کا شرعا مردود اور رواج ملك مطرود کیونکہ رواج ملك بمقابلہ شرع کے ایك بیہودہ بات ہے غرض ارباب انجمن نے مولوی صاحب کے لاطائل بیان کو عدم واقفیت مسائل فتوی سے بلاغور وتامل مان لیا انتہی التماس بندہ محمد قاسم ع
دل صاحب انصاف سے انصاف طلب ہے
اگرچہ یہ ناچیز حسب مقدور انجمن نعمانیہ میں بہت کچھ رویا مگرنہ رونے کا اثر ہوا نہ گانے کا چونکہ تاریخ ملاحظہ فتوی سے تا آخر یہی کہتا رہا کہ مقدمہ مذکور میں جو رواج ملکی کا ذکر ہے ہر فتوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رواج حکم میں عین شرع محمدی ہے اور جس پر حکم شارع علیہ السلام کا موجود پس فیض النساء بیگم موافق فتوی علمائے دین کے مال واسباب جہیز کا موافق شرع محمدی کے واپس لینے کی مستحق ہے جیسے مولانا احمد رضاخاں صاحب مدظلہ اپنے فتوے میں لکھتے ہیں قولہ ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دلہن والے اپنی طرف سے سلامی وغیرہ جو کچھ کپڑے ونقد دولہاکو دیتے ہیں اس سے تملیك ہی کا ارادہ کرتے ہیں وہ دیناہبہ سمجھا جائے گا۔ غرض بندہ نے جناب کے مسئلہ کا خلاصہ ممبران انجمن کو اس طرح سمجھا و سمجھا دی کہ ہندوستان میں ہزار ہا بندگان خدا اس طرح کے بھی ہیں کہ جنہوں نے عمر خود میں کبھی نام تملیك کا سنا نہ ہبہ وعاریت کا بلکہ خاص رواج ملك کے بلانیت تملیك وہبہ و عاریت کے
دل صاحب انصاف سے انصاف طلب ہے
اگرچہ یہ ناچیز حسب مقدور انجمن نعمانیہ میں بہت کچھ رویا مگرنہ رونے کا اثر ہوا نہ گانے کا چونکہ تاریخ ملاحظہ فتوی سے تا آخر یہی کہتا رہا کہ مقدمہ مذکور میں جو رواج ملکی کا ذکر ہے ہر فتوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رواج حکم میں عین شرع محمدی ہے اور جس پر حکم شارع علیہ السلام کا موجود پس فیض النساء بیگم موافق فتوی علمائے دین کے مال واسباب جہیز کا موافق شرع محمدی کے واپس لینے کی مستحق ہے جیسے مولانا احمد رضاخاں صاحب مدظلہ اپنے فتوے میں لکھتے ہیں قولہ ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دلہن والے اپنی طرف سے سلامی وغیرہ جو کچھ کپڑے ونقد دولہاکو دیتے ہیں اس سے تملیك ہی کا ارادہ کرتے ہیں وہ دیناہبہ سمجھا جائے گا۔ غرض بندہ نے جناب کے مسئلہ کا خلاصہ ممبران انجمن کو اس طرح سمجھا و سمجھا دی کہ ہندوستان میں ہزار ہا بندگان خدا اس طرح کے بھی ہیں کہ جنہوں نے عمر خود میں کبھی نام تملیك کا سنا نہ ہبہ وعاریت کا بلکہ خاص رواج ملك کے بلانیت تملیك وہبہ و عاریت کے
جو کچھ دینا ہے بیٹی داماد کو دیاکرتے ہیں مگر اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ یہ جو اسباب شادی ہم بیٹی داماد کو دیتے ہیں وہ سب خاص ملك انہوں ہی کی ہے پس اسقدر سمجھنا انہوں کا حکم تملیك کا رکھتا ہے پس اسی کا نام شرع محمدی ہے پس اس رواج عام کی تعمیل ہر فرد بشر پر کیا معنی بلکہ حاکم پر بھی واجب ہے پس اسی طرح اہل مدراس بھی بلانیت تملیك وہبہ عاریت کے اسباب جہیز دیا کرتے ہیں مگر دینے کے وقت ان کی نیت یہ ہوا کرتی ہے کہ بعد فوت لڑکی کے وہ سب مال واسباب واپس لیا کریں گے اور دولہا بھی سمجھ لیا ہے کہ مجھے ضرور ہی واپس دینا ہوگا پس یہ طرفین کے سمجھ لینے کا نام شرع محمدی میں معاہدہ ٹھرا پس اس کے واپس لینے میں کون امر شرعی مانع ہے پس بموجب رواج شرعی کے ایك بڑے زبردست فاضل وفقیہ مسمی صوبیدار شیخ حسین صاحب نے بمجرد فوت ہوتے ہی اپنی بہو کے اس کا سب مال واسباب جہیز کا واپس کردیا اور اس مال کے استعمال کو واسطے حلال نہ جانا اور اس معاملہ کو ممبران انجمن بخوبی جانتے ہیں بمقابلہ سمجھ اپنے نہ تو خدا کی مانے اور نہ رسول خدا کی تو پھر علماء فضلاء کی کب ماننے لگے غرض اگرکوئی ہندوستانی مدراسی عورات کو شادی کرے بعد موت اس عورت کے موافق رواج ملك کے اس کو سب جہیز واپس دینا ہوگا چونکہ پابندی رواج ملك کی اس پر واجب ہوگی برخلاف رواج ملك اپنے کے غرض فیض النساء بیگم کا اسباب جہیز دینا لڑکی کو موافق رواج ملك کے طرفین کی رضامندی سے شرعا معاہدہ ٹھرا جو حقیقت میں نظیر عاریت کی ہوسکتی ہے غرض فتوے سے علمائے دین کے صرف دو۲بات ہے :
اولا یہ کہ جس ملك میں رواج تملیکا کا ہے وہاں ملك لڑکی کی ہوگی اس میں ماں باپ واپس نہیں لے سکتے اور جہاں رواج عاریۃ دینے کا ہے وہاں ماں باپ واپس لے سکتے ہیں اور ملك مدراس میں موافق رواج قدیم کے بمجرد فوت ہونے لڑکی کے جو کچھ اسباب جہیز میں دیا گیا ہے واپس لیا کرتے ہیں نہ وہاں کوئی تمیك کو پوچھتا ہے انتہی التماس فیض النساء بیگم موافق رواج ملك اپنے کے اور مطابق فتوی علمائے دین کے جوآگے لکھ چکا ہوں اپنے داماد ہندوستانی سے پاسکتی ہے یانہیں ۔ بینواتوجروا
ثانیا فیض النساء بیگم کی نسبت جو کچھ مناسب ہو مختصر طور سے دوچار سطر کافی ہے باقی جناب کے فتوے کا پہلا مسئلہ جو رواج اسباب جہیز وغیرہ کی نسبت ہے آگے اس استفتاء کے لکھا ہوں جس کا پہلا جملہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے اس تمام مسئلہ کا خلاصہ سہل سلیس عبارت موافق عام فہم کے جس میں عربی وفارسی عبارت ولغات نہ ہو براہ نوازش تحریر فرمائیں عین بندہ نوازی ہوگی امید کہ جواب بھی اسی کاغذ میں مرحمت ہو تااعتبار میں بندہ کے فرق نہ ہو۔
اولا یہ کہ جس ملك میں رواج تملیکا کا ہے وہاں ملك لڑکی کی ہوگی اس میں ماں باپ واپس نہیں لے سکتے اور جہاں رواج عاریۃ دینے کا ہے وہاں ماں باپ واپس لے سکتے ہیں اور ملك مدراس میں موافق رواج قدیم کے بمجرد فوت ہونے لڑکی کے جو کچھ اسباب جہیز میں دیا گیا ہے واپس لیا کرتے ہیں نہ وہاں کوئی تمیك کو پوچھتا ہے انتہی التماس فیض النساء بیگم موافق رواج ملك اپنے کے اور مطابق فتوی علمائے دین کے جوآگے لکھ چکا ہوں اپنے داماد ہندوستانی سے پاسکتی ہے یانہیں ۔ بینواتوجروا
ثانیا فیض النساء بیگم کی نسبت جو کچھ مناسب ہو مختصر طور سے دوچار سطر کافی ہے باقی جناب کے فتوے کا پہلا مسئلہ جو رواج اسباب جہیز وغیرہ کی نسبت ہے آگے اس استفتاء کے لکھا ہوں جس کا پہلا جملہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے اس تمام مسئلہ کا خلاصہ سہل سلیس عبارت موافق عام فہم کے جس میں عربی وفارسی عبارت ولغات نہ ہو براہ نوازش تحریر فرمائیں عین بندہ نوازی ہوگی امید کہ جواب بھی اسی کاغذ میں مرحمت ہو تااعتبار میں بندہ کے فرق نہ ہو۔
الجواب :
فتوائے فقیر کا وہ مطلب کہ رکن اعظم انجمن نے بیان کیا محض غلط ہے نہ ان الفاظ سے کسی طرح اس کا وہم گزرسکتا ہے سائل نے ان لفظوں سے سوال کیا تھا کہ “ شرع میں رواج ملك کو مداخلت ہے کیا ان کے جواب میں اگر “ ہاں “ کہا جاتا تو ایك برے معنی کو وموہوم ہوتا کہ شرع کے حکم میں ان کے غیر کو مداخلت ہے اور اگر “ نہ “ کہا جاتا تو معنی غلط مفہوم ہوتے کہ عرف کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں حالانکہ صدہا احکام شرع مطہر نے عرف پر دائر فرمائے ہیں لہذا ان لفظوں سے جواب دیا گیا کہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے یعنی اصل حاکم شرع شریف ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کچھ دخل نہیں کہ خلاف شرع یا بے حکم شرع عرف وغیرہ اپنے آپ کوئی حکم لگاسکیں ان الحکم الا ﷲ حکم کامالك بس ایك اﷲ ہے ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے کہ جہاں جیسا عرف ہو شرع اس کا لحا ظ فرماکر ویسا ہی حکم دیتی ہے تو اصل حکم شرع ہی کیلئے ہوا اور اسی کے معتبر رکھنے سے وہاں عرف کا اعتبار ہوا یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ شرع نے یہاں عرف ورواج ملك پر مدار کار رکھا ہے اگر جہیز دے کر دلہن کو اس کا مالك سمجھتے ہیں تو تملیك مطلقا مردود وبے اعتبار ہے اسی فتوی میں صراحۃ یہ لفظ موجود تھے بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشا توجدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب الخ سائل نے سولات کلی طور پر کئے تھے کہ شرع میں رواج کو دخل ہے یا نہیں جہیز جو لڑکی کو دیا جاتا ہے عاریت سمجھا جائےگایا نہیں ۔ اس وجہ سے جواب میں ان تفصیلوں تحقیقوں کا افادہ ضرورہوا اب کہ آج کے سوال میں خاص مسئلہ فیض النساء بیگم سے سوال اور تصریحا بیان کیا ہے کہ یہاں تملیك مقصود نہیں ہوتی اور عموما واپس لیتے ہیں اور گواہ موجود ہیں کہ فیض النساء بیگم نے یہ جہیز اپنے ہی مال سے دیا اس کا جواب اسی قدر ہے کہ اس صورت میں ضرور فیض النساء بیگم جہیز واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی ہو جبکہ وہاں مطلقا عموما بعد موت عروس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی ہو کہ جبکہ وہاں مطلقا عموما بعد موت عروس واپسی جہیز کا رواج ہے تو ظاہرا یہ رواج حقیقی ماں باپ کے سوا اوروں میں بھی دائر وسائر ہوگا کہ جو شخص اپنے مال سے عروس کو جہیز دے بعد موت عروس واپس لے کہ جب حقیقی ماں باپ ہمیشہ واپس لیتے ہیں تو اور لوگ بدرجہ اولی واپس لیتے ہوں گے تو اس عرف واپسی بعد الموت میں فیض النساء بیگم بھی داخل ہوئی ہاں غیروں کے لئے یہاں محل نظر اتنا امر تھا کہ جہیز اپنے مال سے دینا ثابت ہو اس کی نسبت سائل بیان کرتا ہے کہ صدہا گواہ موجود ہیں تو اب فیض النساء بیگم کو اختیار واپسی ملنے سے کوئی مانع نہ رہا
فتوائے فقیر کا وہ مطلب کہ رکن اعظم انجمن نے بیان کیا محض غلط ہے نہ ان الفاظ سے کسی طرح اس کا وہم گزرسکتا ہے سائل نے ان لفظوں سے سوال کیا تھا کہ “ شرع میں رواج ملك کو مداخلت ہے کیا ان کے جواب میں اگر “ ہاں “ کہا جاتا تو ایك برے معنی کو وموہوم ہوتا کہ شرع کے حکم میں ان کے غیر کو مداخلت ہے اور اگر “ نہ “ کہا جاتا تو معنی غلط مفہوم ہوتے کہ عرف کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں حالانکہ صدہا احکام شرع مطہر نے عرف پر دائر فرمائے ہیں لہذا ان لفظوں سے جواب دیا گیا کہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے یعنی اصل حاکم شرع شریف ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کچھ دخل نہیں کہ خلاف شرع یا بے حکم شرع عرف وغیرہ اپنے آپ کوئی حکم لگاسکیں ان الحکم الا ﷲ حکم کامالك بس ایك اﷲ ہے ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے کہ جہاں جیسا عرف ہو شرع اس کا لحا ظ فرماکر ویسا ہی حکم دیتی ہے تو اصل حکم شرع ہی کیلئے ہوا اور اسی کے معتبر رکھنے سے وہاں عرف کا اعتبار ہوا یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ شرع نے یہاں عرف ورواج ملك پر مدار کار رکھا ہے اگر جہیز دے کر دلہن کو اس کا مالك سمجھتے ہیں تو تملیك مطلقا مردود وبے اعتبار ہے اسی فتوی میں صراحۃ یہ لفظ موجود تھے بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشا توجدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب الخ سائل نے سولات کلی طور پر کئے تھے کہ شرع میں رواج کو دخل ہے یا نہیں جہیز جو لڑکی کو دیا جاتا ہے عاریت سمجھا جائےگایا نہیں ۔ اس وجہ سے جواب میں ان تفصیلوں تحقیقوں کا افادہ ضرورہوا اب کہ آج کے سوال میں خاص مسئلہ فیض النساء بیگم سے سوال اور تصریحا بیان کیا ہے کہ یہاں تملیك مقصود نہیں ہوتی اور عموما واپس لیتے ہیں اور گواہ موجود ہیں کہ فیض النساء بیگم نے یہ جہیز اپنے ہی مال سے دیا اس کا جواب اسی قدر ہے کہ اس صورت میں ضرور فیض النساء بیگم جہیز واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی ہو جبکہ وہاں مطلقا عموما بعد موت عروس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی ہو کہ جبکہ وہاں مطلقا عموما بعد موت عروس واپسی جہیز کا رواج ہے تو ظاہرا یہ رواج حقیقی ماں باپ کے سوا اوروں میں بھی دائر وسائر ہوگا کہ جو شخص اپنے مال سے عروس کو جہیز دے بعد موت عروس واپس لے کہ جب حقیقی ماں باپ ہمیشہ واپس لیتے ہیں تو اور لوگ بدرجہ اولی واپس لیتے ہوں گے تو اس عرف واپسی بعد الموت میں فیض النساء بیگم بھی داخل ہوئی ہاں غیروں کے لئے یہاں محل نظر اتنا امر تھا کہ جہیز اپنے مال سے دینا ثابت ہو اس کی نسبت سائل بیان کرتا ہے کہ صدہا گواہ موجود ہیں تو اب فیض النساء بیگم کو اختیار واپسی ملنے سے کوئی مانع نہ رہا
وذلك کلہ ظاہر لمن حقق النظر فی فتونا الاولی ھذا اما عندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور یہ تمام اس شخص کے لئے ظاہر ہے جس نے ہمارے فتوی سابقہ میں تحقیقی نظر ڈالی۔ یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ۸۸ : از انجمن بریلی ۴جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انجمن اسلامیہ بریلی نے ایك یتیمیہ کا نکاح کیا بعد نکاح کے معلوم ہوا کہ یتیمیہ عورت نہیں اس وجہ سے شوہر نے نہیں رکھااور سامان جہیز جو انجمن سے یتیمیہ کو دیا گیا تھا وہ واپس آیا آیا وہ جہیز حق انجمن کا ہے یا یتیمیہ کا ہے یا یتیمیہ کو ملنا چاہئے
الجواب :
بیان تفصیلی سوال آرندہ سے معلوم ہوا کہ یتیمہ عورت تو ضرور ہے مگر مرد کے قابل نہی عورت نہ ہونے سے سائل کی یہ یہی مراد ہے صورت مستفسرہ میں وہ جہیز خاص ملك یتیمہ ہے انجمن کا اس میں کچھ حق نہیں کہ جہیز ان بلاد بلکہ عامہ امصار کے عرف عام میں تملیکا دیا جاتا ہے اور عورت اس کی مالك مستقل ہوتی ہے مرد کے قابل نہ ہونا کچھ مانع ملك نہیں ۔
فی ردالمحتار کل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأ ۃ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے۔ (ت)
اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ انجمنوں میں جو روپیہ چندے سے جمع ہوتا ہے اگر چہ ملك چندہ ہندگان سے خارج نہیں ہوتا کما حققناہ بتوفیق اﷲفی کتاب الوقف من فتاونا(جیسا کہ ہم نے اﷲتعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی کی کتاب الوقف میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)مگرصدر انجمن جس کے حکم سے یہ سب کام ہوتے ہیں تمام تصرفات جائز وانجمن میں چندہ دینے والوں کا وکیل مجاز ہے اسباب جہیز کہ اس نے خرید ااگرچہ یہاں کسی شئے معین کی خریداری پر توکیل نہیں نہ وقت شرایہ نیت ظاہر کہ چندہ دینے والوں کے لئے خریدا اگر چہ یہاں کسی شئے معین کی خریداری پر توکیل نہیں نہ وقت شرایہ نیت ظاہر کہ چندہ دینے والوں کے لئے خریدتا ہوں مگر زر چندہ نیت للموکلین ہے کہ انجمن ان کی ہیئت مجموعی سے عبارت ہے۔
فی الدرالمختار لووکلہ لشراء شیئ بغیر عینہ
درمختار میں ہے کہ اگر کسی کو غیر معین شیئ کی
اور یہ تمام اس شخص کے لئے ظاہر ہے جس نے ہمارے فتوی سابقہ میں تحقیقی نظر ڈالی۔ یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ۸۸ : از انجمن بریلی ۴جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انجمن اسلامیہ بریلی نے ایك یتیمیہ کا نکاح کیا بعد نکاح کے معلوم ہوا کہ یتیمیہ عورت نہیں اس وجہ سے شوہر نے نہیں رکھااور سامان جہیز جو انجمن سے یتیمیہ کو دیا گیا تھا وہ واپس آیا آیا وہ جہیز حق انجمن کا ہے یا یتیمیہ کا ہے یا یتیمیہ کو ملنا چاہئے
الجواب :
بیان تفصیلی سوال آرندہ سے معلوم ہوا کہ یتیمہ عورت تو ضرور ہے مگر مرد کے قابل نہی عورت نہ ہونے سے سائل کی یہ یہی مراد ہے صورت مستفسرہ میں وہ جہیز خاص ملك یتیمہ ہے انجمن کا اس میں کچھ حق نہیں کہ جہیز ان بلاد بلکہ عامہ امصار کے عرف عام میں تملیکا دیا جاتا ہے اور عورت اس کی مالك مستقل ہوتی ہے مرد کے قابل نہ ہونا کچھ مانع ملك نہیں ۔
فی ردالمحتار کل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأ ۃ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے۔ (ت)
اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ انجمنوں میں جو روپیہ چندے سے جمع ہوتا ہے اگر چہ ملك چندہ ہندگان سے خارج نہیں ہوتا کما حققناہ بتوفیق اﷲفی کتاب الوقف من فتاونا(جیسا کہ ہم نے اﷲتعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی کی کتاب الوقف میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)مگرصدر انجمن جس کے حکم سے یہ سب کام ہوتے ہیں تمام تصرفات جائز وانجمن میں چندہ دینے والوں کا وکیل مجاز ہے اسباب جہیز کہ اس نے خرید ااگرچہ یہاں کسی شئے معین کی خریداری پر توکیل نہیں نہ وقت شرایہ نیت ظاہر کہ چندہ دینے والوں کے لئے خریدا اگر چہ یہاں کسی شئے معین کی خریداری پر توکیل نہیں نہ وقت شرایہ نیت ظاہر کہ چندہ دینے والوں کے لئے خریدتا ہوں مگر زر چندہ نیت للموکلین ہے کہ انجمن ان کی ہیئت مجموعی سے عبارت ہے۔
فی الدرالمختار لووکلہ لشراء شیئ بغیر عینہ
درمختار میں ہے کہ اگر کسی کو غیر معین شیئ کی
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۸
فالشراء للوکیل الا اذانواہ للموکل وقت الشراء اوشراء بمال الموکل اھ ملتقطا
خریداری کے لئے وکیل بنایا تو خریداری وکیل کے لئے ہوگی مگر جب کہ وکیل نے بوقت خریداری موکل کے لئے خریداری کی نیت کرلی ہو۔ یا موکل کے مال سے خریداری ہو اھ ملتقطا
اب جس طرح وہ وکیل بالشراتھا بالہبہ بھی ہے تو یہ ایك ہبہ ہے کہ جماعت کی طرف سے بنام یتیمہ واقع ہوا اور ایسا ہبہ مطلق جائز ہے اگرچہ شے موہوب قابل قسمت بھی ہو۔
لان القابض واحد فلاشیوع فی الدرالمختار وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع ۔
کیونکہ قابض ایك ہے تو شیوع نہ ہوا۔ درمختار میں ہے کہ دو شخصوں نے ایك شخص کو گھر ہبہ کیا توتصحیح ہے کیونکہ شیوع نہیں ہے۔ (ت)
یہ اس صورت میں ہے کہ یتیمات کا نکاح کرنا انہیں مال انجمن سے جہیز دینا اغراض مشتہرہ معلومہ انجمن میں داخل ہو جس سے اس امر میں بھی ملکان چندہ کی طرف سے توکیل صدر حاصل ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ بلا اذن مالکین یہ تجہیز صدر نے بطور خود کی تو اب وہ اس شرائے سامان میں فضول ہوگا اور شراء جب تك نفاذ پائے مشتری پر نافذ ہوتا ہے اور اس صورت میں وقت شراء چندہ دہندوں کی طرف اضافت نہ ہونا خود ظاہر تو تمام سامان ملك صدر ہوا اور اس کی طرف سے یتیمہ کے لئے ہبہ تامہ ہوگیا یوں بھی صورت مذکورہ میں مال ملك یتیمہ ہوگا حق انجمن سے اصلا علاقہ نہیں ہاں انجمن کے روپے کا تاوان صدر پر آئے گا لخلافہ واتلافہ فیما لم یوذن بہ(اس کی مخالفت اور اس چیز کو تلف کرنے کی وجہ سے جس کا اذن اس کو نہیں دیاگیا تھا۔ ت)درمختار میں ہے :
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلو اضاف بان قال بع ھذالفلان فقال بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرہا باختصار واﷲ تعالی اعلم۔
اگر کسی نے دوسرے کے لئے کچھ خریدا تو شراء مشتری پر نافذ ہوگی جبکہ اسے دوسرے کی طرف مضاف نہ کیا ہو۔ اور اگر دوسرے کی طرف اس کی اضافت کی اور یوں کہا کہ یہ شیئ فلاں کے لئے بیچ اس پر بائع نے کہا کہ میں نے فلاں کے لئے بیچی تو یہ شراء موقوف ہوگی بزازیہ وغیرہ اھ اختصار۔ اور اﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
خریداری کے لئے وکیل بنایا تو خریداری وکیل کے لئے ہوگی مگر جب کہ وکیل نے بوقت خریداری موکل کے لئے خریداری کی نیت کرلی ہو۔ یا موکل کے مال سے خریداری ہو اھ ملتقطا
اب جس طرح وہ وکیل بالشراتھا بالہبہ بھی ہے تو یہ ایك ہبہ ہے کہ جماعت کی طرف سے بنام یتیمہ واقع ہوا اور ایسا ہبہ مطلق جائز ہے اگرچہ شے موہوب قابل قسمت بھی ہو۔
لان القابض واحد فلاشیوع فی الدرالمختار وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع ۔
کیونکہ قابض ایك ہے تو شیوع نہ ہوا۔ درمختار میں ہے کہ دو شخصوں نے ایك شخص کو گھر ہبہ کیا توتصحیح ہے کیونکہ شیوع نہیں ہے۔ (ت)
یہ اس صورت میں ہے کہ یتیمات کا نکاح کرنا انہیں مال انجمن سے جہیز دینا اغراض مشتہرہ معلومہ انجمن میں داخل ہو جس سے اس امر میں بھی ملکان چندہ کی طرف سے توکیل صدر حاصل ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ بلا اذن مالکین یہ تجہیز صدر نے بطور خود کی تو اب وہ اس شرائے سامان میں فضول ہوگا اور شراء جب تك نفاذ پائے مشتری پر نافذ ہوتا ہے اور اس صورت میں وقت شراء چندہ دہندوں کی طرف اضافت نہ ہونا خود ظاہر تو تمام سامان ملك صدر ہوا اور اس کی طرف سے یتیمہ کے لئے ہبہ تامہ ہوگیا یوں بھی صورت مذکورہ میں مال ملك یتیمہ ہوگا حق انجمن سے اصلا علاقہ نہیں ہاں انجمن کے روپے کا تاوان صدر پر آئے گا لخلافہ واتلافہ فیما لم یوذن بہ(اس کی مخالفت اور اس چیز کو تلف کرنے کی وجہ سے جس کا اذن اس کو نہیں دیاگیا تھا۔ ت)درمختار میں ہے :
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلو اضاف بان قال بع ھذالفلان فقال بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرہا باختصار واﷲ تعالی اعلم۔
اگر کسی نے دوسرے کے لئے کچھ خریدا تو شراء مشتری پر نافذ ہوگی جبکہ اسے دوسرے کی طرف مضاف نہ کیا ہو۔ اور اگر دوسرے کی طرف اس کی اضافت کی اور یوں کہا کہ یہ شیئ فلاں کے لئے بیچ اس پر بائع نے کہا کہ میں نے فلاں کے لئے بیچی تو یہ شراء موقوف ہوگی بزازیہ وغیرہ اھ اختصار۔ اور اﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۰۵
درمختار کتاب الہبۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۱
درمختار باب البیع الفاسد فضل فی الفضول مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
درمختار کتاب الہبۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۱
درمختار باب البیع الفاسد فضل فی الفضول مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
مسئلہ۸۹ : ۲۵ربیع الآخر شریف۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی جس وقت شادی ہوئی توا س کے والدین حسب دستور جوڑے زیور وغیرہ چڑھایا اور بعد نکاح ہونے کے لڑکی کے والدین نے کچھ زیور اور جوڑے وغیرہ جہیز میں دیا بعدہ کچھ زیور نکاح کے بعد بنوادیا زید نے اور کچھ کپڑا وغیرہ بھی علاوہ معمولی کپڑے کے اور اس عورت نے وقت مرنے اپنے شوہر کے اور اب تك مہر بھی معاف نہیں کیا بلکہ مرتے وقت اس کے پاس بھی نہیں گئی اور زید کے نام کچھ جائداد وغیرہ نہیں ہے اس صورت میں اس مال کا مالك کون ہوگا اور مہر کا ادا کرنا کسی کے ذمے عائد ہوگا یا نہیں اگر عائد ہوگا تو کس کے ذمے ہوگا
الجواب :
جو کچھ زیور کپڑا برتن وغیرہ عورت کو جہیز میں ملاتھا اس کی مالك خاص عورت ہے اور جو کچھ چڑھاوا شوہر کے یہاں سے گیا تھا اس میں رواج کو دیکھا جائے گا اگر رواج یہ ہوکہ عورت ہی اس کی مالك سمجھی جاتی ہے تو وہ بھی عورت کی ملك ہوگیا اور اگر عورت مالك نہیں سمجھی جاتی ہے تو وہ جس نے چڑھایا تھا اسی کی ملك ہے خواہ والد شوہر ہو یا والدہ یا خود شوہر۔ اور جو زیور زید نے بعد نکاح بنوایا اگر عورت کو تملیك کردی تھی یعنی یہ کہہ دیا تھا کہ میں نے یہ زیور تجھے دے ڈالا تجھے اس کا مالك کردیا اور قبضہ عورت کا ہوگیا تو یہ زیور بھی ملك زن ہوگیا اور اگر کہا کہ تجھے پہننے کو دیا تو شوہر کی ملك رہا۔ اور اگر کچھ نہ کہا تو رواج دیکھا جائے گا اسی طرح زیور بنادینے کو اگرعورت کی تملیك سمجھتے ہیں تو بعد قبضہ عورت مالك ہوگی ورنہ ملك شوہر پر رہا عورت کا مہر ذمہ شوہر ہے اگر شوہر کاکچھ مال مثلا یہی زیور کہ اس نے بنادیا تھا اور عورت کی ملك اس میں ثابت نہ ہوئی تھی یا اور جو چیز ملك شوہر پالے اس سے وصول کرلے اگر ملك شوہر کچھ نہ ملے تو شوہر کے والدین وغیرہما سے کچھ مطالبہ کسی وقت نہیں کرسکتی جبکہ انہوں نے مہرکی ضمانت نہ کرلی ہو اس کامعاملہ عاقبت پر رہا اورافضل یہ ہے کہ شوہر کو معاف کردے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۹۰ : از ملك برہما شہر اکیاب تھانہ منگڈوچ پوسٹ آفس ناکپورابازار موضع رامپور بیل مسئولہ ناظرعلی صاحب
دادوستد معتادومعروف کہ در مصالح انتظام مناکحت و مصاہرت مروج ومعروف ست ازروئے شرع شریف جائز است یا نہ اگر چیزے ونقدے بنا بر عرف دیار خود از خاطب وناکح گرفتہ مع شود خواہ بشرط باشد بغیر چنانکہ دردیار بنگالہ عرف وعادت کے مطابق دینا اور لینا جو کہ شادی بیاہ کے انتظامی مصالح کے لئے مروج ومانوس ہے شرع شریف کی رو سے جائز ہے یا نہیں اگرکوئی چیز یا نقدی اپنے علاقے کے رواج کے مطابق خاطب(پیغام نکاح دینے والا)اور
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی جس وقت شادی ہوئی توا س کے والدین حسب دستور جوڑے زیور وغیرہ چڑھایا اور بعد نکاح ہونے کے لڑکی کے والدین نے کچھ زیور اور جوڑے وغیرہ جہیز میں دیا بعدہ کچھ زیور نکاح کے بعد بنوادیا زید نے اور کچھ کپڑا وغیرہ بھی علاوہ معمولی کپڑے کے اور اس عورت نے وقت مرنے اپنے شوہر کے اور اب تك مہر بھی معاف نہیں کیا بلکہ مرتے وقت اس کے پاس بھی نہیں گئی اور زید کے نام کچھ جائداد وغیرہ نہیں ہے اس صورت میں اس مال کا مالك کون ہوگا اور مہر کا ادا کرنا کسی کے ذمے عائد ہوگا یا نہیں اگر عائد ہوگا تو کس کے ذمے ہوگا
الجواب :
جو کچھ زیور کپڑا برتن وغیرہ عورت کو جہیز میں ملاتھا اس کی مالك خاص عورت ہے اور جو کچھ چڑھاوا شوہر کے یہاں سے گیا تھا اس میں رواج کو دیکھا جائے گا اگر رواج یہ ہوکہ عورت ہی اس کی مالك سمجھی جاتی ہے تو وہ بھی عورت کی ملك ہوگیا اور اگر عورت مالك نہیں سمجھی جاتی ہے تو وہ جس نے چڑھایا تھا اسی کی ملك ہے خواہ والد شوہر ہو یا والدہ یا خود شوہر۔ اور جو زیور زید نے بعد نکاح بنوایا اگر عورت کو تملیك کردی تھی یعنی یہ کہہ دیا تھا کہ میں نے یہ زیور تجھے دے ڈالا تجھے اس کا مالك کردیا اور قبضہ عورت کا ہوگیا تو یہ زیور بھی ملك زن ہوگیا اور اگر کہا کہ تجھے پہننے کو دیا تو شوہر کی ملك رہا۔ اور اگر کچھ نہ کہا تو رواج دیکھا جائے گا اسی طرح زیور بنادینے کو اگرعورت کی تملیك سمجھتے ہیں تو بعد قبضہ عورت مالك ہوگی ورنہ ملك شوہر پر رہا عورت کا مہر ذمہ شوہر ہے اگر شوہر کاکچھ مال مثلا یہی زیور کہ اس نے بنادیا تھا اور عورت کی ملك اس میں ثابت نہ ہوئی تھی یا اور جو چیز ملك شوہر پالے اس سے وصول کرلے اگر ملك شوہر کچھ نہ ملے تو شوہر کے والدین وغیرہما سے کچھ مطالبہ کسی وقت نہیں کرسکتی جبکہ انہوں نے مہرکی ضمانت نہ کرلی ہو اس کامعاملہ عاقبت پر رہا اورافضل یہ ہے کہ شوہر کو معاف کردے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۹۰ : از ملك برہما شہر اکیاب تھانہ منگڈوچ پوسٹ آفس ناکپورابازار موضع رامپور بیل مسئولہ ناظرعلی صاحب
دادوستد معتادومعروف کہ در مصالح انتظام مناکحت و مصاہرت مروج ومعروف ست ازروئے شرع شریف جائز است یا نہ اگر چیزے ونقدے بنا بر عرف دیار خود از خاطب وناکح گرفتہ مع شود خواہ بشرط باشد بغیر چنانکہ دردیار بنگالہ عرف وعادت کے مطابق دینا اور لینا جو کہ شادی بیاہ کے انتظامی مصالح کے لئے مروج ومانوس ہے شرع شریف کی رو سے جائز ہے یا نہیں اگرکوئی چیز یا نقدی اپنے علاقے کے رواج کے مطابق خاطب(پیغام نکاح دینے والا)اور
وبرہمااز قدیم الایام دستور است کہ از خطاب وناکح قبل عقد نکاح بطور ساچق لوازمہ شادی ونکاح کہ مراد ازبرگ تنبول وپوپل وجغرات وشکر وغیر ذلك باشد وخرچہ ضیافت احباب طرفین می گویند کہ باہں طور گرفتین جائز نیست زیر اکہ رشوت ست ودراقسام رشوت داخل پس قول ایشاں صحیح ست یانہ۔ بینوابسند الکتاب توجروامن اﷲالوہاب فی یوم الجزاء والحساب۔ ناکح سے لی جائے چاہے مشروط ہو یا غیر مشروط جیسا کہ بنگال اور برہما کے علاقوں میں زمانہ قدیم سے دستور چلاآرہا ہے کہ عقد نکاح سے پہلے خاطب وناکح سے شادی اور نکاح کے لئے ضروری سامان کے طور پر لیتے ہین جس سے ان کے مراد پان کے پتے سپاری چھالیہ دہی شکر اورفریقین کے احباب کی دعوت کاخرچہ ہوتا ہے کیا یہ جائز ہے یا ناجائز بنگال وبرہما کے بعض علماء کہتے ہیں کہ اس طرح لینا جائز نہیں کیونکہ یہ رشوت ہے اور رشوت کی رقموں میں داخل ہے کیا ان کا قول صحیح ہے یا نہیں بحوالہ کتا ب بیان فرمائیں جزاء وحساب کے روز بہت عطا فرمانے والے معبود سے اجر پائیں ۔ (ت)
الجواب :
رشوت آنست کہ دربعض اقوام اراذل شائع ست کہ دختر وخواہر خودرا بزنی ند ہند تا چیزے بمعاوضہ از خاطب برائے خود نگیرندونیز آنست کہ کسے مولیہ خود را بزنی دادہ باشد بشوئی نسپرد تا چیزے برائے خود نگیر
وفی البزازیۃ الاخ ابی ان یزوج الاخت الا ان یدفع الیہ کذا فدفع لہ ان یاخذہ قائما او ھا لکا لانہ رشوۃ اھ وفی تنویر الابصار والدر المختار وردالمحتار اخذ اھل المرأۃ شیئا عند التسلیم بان ابی
رشوت وہ ہے جو بعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی سے اس وقت تك نہیں کرتے جب تك خاطب سے اپنے لئے کوئی چیز حاصل نہ کرلیں نیز رشوت وہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زیر ولایت لڑکی کا رشتہ تو کردے مگر اپنے لئے کچھ لئے بغیر وہ لڑکی شوہر کے حوالے نہ کرے۔ بزازیہ میں ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کی شادی کرنے سے اس وقت تك انکارکیا جب تك کہ اس کو کچھ دیا نہ جائے چنانچہ اس کو کچھ دے دیا گیا تو دینے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس بھائی سے واپس لے چاہے وہ دی گئی شے اس کے پاس موجود ہو یا ہلاك ہوچکی ہو
الجواب :
رشوت آنست کہ دربعض اقوام اراذل شائع ست کہ دختر وخواہر خودرا بزنی ند ہند تا چیزے بمعاوضہ از خاطب برائے خود نگیرندونیز آنست کہ کسے مولیہ خود را بزنی دادہ باشد بشوئی نسپرد تا چیزے برائے خود نگیر
وفی البزازیۃ الاخ ابی ان یزوج الاخت الا ان یدفع الیہ کذا فدفع لہ ان یاخذہ قائما او ھا لکا لانہ رشوۃ اھ وفی تنویر الابصار والدر المختار وردالمحتار اخذ اھل المرأۃ شیئا عند التسلیم بان ابی
رشوت وہ ہے جو بعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی سے اس وقت تك نہیں کرتے جب تك خاطب سے اپنے لئے کوئی چیز حاصل نہ کرلیں نیز رشوت وہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زیر ولایت لڑکی کا رشتہ تو کردے مگر اپنے لئے کچھ لئے بغیر وہ لڑکی شوہر کے حوالے نہ کرے۔ بزازیہ میں ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کی شادی کرنے سے اس وقت تك انکارکیا جب تك کہ اس کو کچھ دیا نہ جائے چنانچہ اس کو کچھ دے دیا گیا تو دینے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس بھائی سے واپس لے چاہے وہ دی گئی شے اس کے پاس موجود ہو یا ہلاك ہوچکی ہو
حوالہ / References
فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۳۶
ان یسلمھا اخوھا اونحوہ حتی یا خذ شیئا فللزوج ان یستردہ لانہ رشوۃ اما انچہ بروجہ صلہ وہدیہ ومعونۃ متعارف شدہ است تادرضیافات وامثالہا صرف کردہ شود زنہار نہ رشوت ست نہ حرام فی الخیریۃ رجل خطب من اخرتہ ودفع لھا شیئا یسمی ملا کا ودراھم وایضامن عادۃ اھل الزوجۃ اتخاذ الطعام بھا ان اذن لھم باتخاذہ واطعامہ للناس صار کانہ اطعم الناس بنفسہ طعاما لہ وفیہ لایرجح ۔ تمام تحقیق ایں مسئلہ درفتاوی فقیر مذکور ست۔ واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ وہ رشوت ہے الخ تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ عورت والوں نے رخصتی کے وقت کوئی شے وصول کی بایں طور کہ عورت کے بھائی وغیرہ نے کچھ لئے بغیر وہ عورت شوہر کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تو شوہر وہ شیئ واپس لے سکتا ہے کیونکہ وہ رشوت ہے مگر وہ جو تحفہ ہدیہ اور امدادکے طور پر متعارف ہے کہ اسکو دعوت وغیرہ میں خرچ کریں وہ ہرگز رشوت وحرام نہیں ہے۔ خیریہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کو اس کی بہن سے نکاح کا پیغام دیا اور اس کوکوئی شیئ دی جس کو ملاك کہا جاتا ہے اور کچھ درہم بھی دئے کہ عورت والوں کی عادت اس سے کھانا تیار کرنے کی ہے اگر اس نے ان کو کھانا تیار کرنے اور لوگوں کو کھلانے کی اجازت دی ہے تو ایسا ہی ہے جیسے اس نے بذات خود اپنی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلایا ہو لہذا اس میں رجوع نہیں کرسکتا۔ اس مسئلہ کی پوری تحقیق فقیر کے فتاوی میں مذکور ہے۔ اور اﷲسبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۱ : از کھاتہ نگریا مرسلہ سید ضیاء الدین صاحب ۹محرم شریف ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمد نعیم خاں نے اپنے بست سالہ لڑکے عبدالرحیم خاں کا نکاح ایك لڑکی سے اور قبل عقد حسب رواج کچھ زیور طلائی ونقرئی اس لڑکی کوچھڑھایا رخصت نہ ہونے پائی تھی کہ عبدالرحیم خاں انتقال کرگیا لڑکی اپنے والدین کے گھر رہی شوہر کو بالکل دیکھا بھی نہیں ایسی حالت میں وہ زیور والد متوفی کو قابل واپسی ہے یا نہیں اور یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ ایسے موقع پراکثر زیور عاریت لے کر بھی چڑھادیتے ہیں اور بعد رخصت واپس لے کر دے دیتے ہیں یہ شخص بہت قلیل المعاش اور معمولی شخص تھا اس کے والدین اس قدر حیثیت نہیں رکھتے کہ اس قدر کثیر مال کے زیور کو اپنے پسر کی زوجہ کو بعد رخصت
کیونکہ وہ رشوت ہے الخ تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ عورت والوں نے رخصتی کے وقت کوئی شے وصول کی بایں طور کہ عورت کے بھائی وغیرہ نے کچھ لئے بغیر وہ عورت شوہر کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تو شوہر وہ شیئ واپس لے سکتا ہے کیونکہ وہ رشوت ہے مگر وہ جو تحفہ ہدیہ اور امدادکے طور پر متعارف ہے کہ اسکو دعوت وغیرہ میں خرچ کریں وہ ہرگز رشوت وحرام نہیں ہے۔ خیریہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کو اس کی بہن سے نکاح کا پیغام دیا اور اس کوکوئی شیئ دی جس کو ملاك کہا جاتا ہے اور کچھ درہم بھی دئے کہ عورت والوں کی عادت اس سے کھانا تیار کرنے کی ہے اگر اس نے ان کو کھانا تیار کرنے اور لوگوں کو کھلانے کی اجازت دی ہے تو ایسا ہی ہے جیسے اس نے بذات خود اپنی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلایا ہو لہذا اس میں رجوع نہیں کرسکتا۔ اس مسئلہ کی پوری تحقیق فقیر کے فتاوی میں مذکور ہے۔ اور اﷲسبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۱ : از کھاتہ نگریا مرسلہ سید ضیاء الدین صاحب ۹محرم شریف ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمد نعیم خاں نے اپنے بست سالہ لڑکے عبدالرحیم خاں کا نکاح ایك لڑکی سے اور قبل عقد حسب رواج کچھ زیور طلائی ونقرئی اس لڑکی کوچھڑھایا رخصت نہ ہونے پائی تھی کہ عبدالرحیم خاں انتقال کرگیا لڑکی اپنے والدین کے گھر رہی شوہر کو بالکل دیکھا بھی نہیں ایسی حالت میں وہ زیور والد متوفی کو قابل واپسی ہے یا نہیں اور یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ ایسے موقع پراکثر زیور عاریت لے کر بھی چڑھادیتے ہیں اور بعد رخصت واپس لے کر دے دیتے ہیں یہ شخص بہت قلیل المعاش اور معمولی شخص تھا اس کے والدین اس قدر حیثیت نہیں رکھتے کہ اس قدر کثیر مال کے زیور کو اپنے پسر کی زوجہ کو بعد رخصت
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۳ ، ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۶
فتاوٰی خیریۃ باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶۷
فتاوٰی خیریۃ باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶۷
بھی بخشیدہ اور موہوبہ سمجھ لیتے اور ان کے یہاں رواج عام بھی خانگی ایسا ہی ہورہا ہے کہ اگر ایسا چڑھاوا چڑھایا تو بعد رخصت واپس لے لیا اگرذی مقدور ہوئے اور حاجت نہ ہوئی تو چھوڑدیا فقط۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس کی واپسی ضروری ہے
لانہ لاھبۃ نصاولادلالۃ ولواشترك العرف لم یدل علی التملیك وکان الدافع ادری بجھۃالدفع۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس لئے کہ یہ نہ تو صراحۃ ہبہ ہے اور نہ ہی دلالۃ اور اگر عرف مشترك ہوتو تملیك پر دلالت نہیں کرتا اور دینے والا دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۲تا ۹۳ : مسئولہ عبد الرحیم خاں یکم رجب ۱۳۲۹ھ
(۱)شادی کے قبل جس کو چھڑھاواکہتے ہیں جو کہ دلہن کو کچھ زیورات وکپڑا وغیرہ پہنایا جاتا ہے وہ کیسا ہے
(۲)جس کو لگن کہتے ہیں ایك پیتل کی تھالی ہوتی جس میں کچھ روپیہ کپڑا وغیرہ دلہن کی طرف سے رکھ کر دولہا کے مکان پر آتا ہے یہ جائز ہے یا نہیں اور اس کامالك کون ہے
الجواب :
(۱)جائز ہے پھر اگر اس سے مقصود دلہن کومالك کردینا ہوتا ہو تو بعد قبضہ دلہن مالك ہوجائے گی ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملك رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم
(۲)جائز ہے اور دولہا بعد قبضہ اس کا مالك ہوجاتا ہے کہ اس میں یہی عرف عام ہے اور گہنے میں رواج مختلف۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۹۴ : از بلہاری احاطہ مدراس مرسلہ محمد نصیرالدین صاحب قادری حنفی ۲۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید بچپن سے اپنے باپ کے ساتھ ایك ہی دکان میں بیوپار کرتا رہا(یعنی اپنے باپ کے ماتحت تھا اور کام بھی کرتا تھا)اور اپنے باپ ہی کے گھر میں تھا مذکور زید کی شادی باپ عمرو نے ہی کیا اب زید نے انتقال کیا مرحوم زید کی عورت اپنا جہیز اورا پنا مال وزر اور وہ مال جو نسبت کے وقت اس کو دئے ہیں (عرف میں جسکوچڑھاواکہتے ہیں )اوراپنامہر اپنے خسر سے طلب کرسکتی ہے یا نہیں اور اس کی عدت میں نان و نفقہ کس کے ذمہ ہےبینواتوجروا
الجواب :
جہیز تو سب عورت کا ہے اس میں کسی کا حق نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس کی واپسی ضروری ہے
لانہ لاھبۃ نصاولادلالۃ ولواشترك العرف لم یدل علی التملیك وکان الدافع ادری بجھۃالدفع۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس لئے کہ یہ نہ تو صراحۃ ہبہ ہے اور نہ ہی دلالۃ اور اگر عرف مشترك ہوتو تملیك پر دلالت نہیں کرتا اور دینے والا دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۲تا ۹۳ : مسئولہ عبد الرحیم خاں یکم رجب ۱۳۲۹ھ
(۱)شادی کے قبل جس کو چھڑھاواکہتے ہیں جو کہ دلہن کو کچھ زیورات وکپڑا وغیرہ پہنایا جاتا ہے وہ کیسا ہے
(۲)جس کو لگن کہتے ہیں ایك پیتل کی تھالی ہوتی جس میں کچھ روپیہ کپڑا وغیرہ دلہن کی طرف سے رکھ کر دولہا کے مکان پر آتا ہے یہ جائز ہے یا نہیں اور اس کامالك کون ہے
الجواب :
(۱)جائز ہے پھر اگر اس سے مقصود دلہن کومالك کردینا ہوتا ہو تو بعد قبضہ دلہن مالك ہوجائے گی ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملك رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم
(۲)جائز ہے اور دولہا بعد قبضہ اس کا مالك ہوجاتا ہے کہ اس میں یہی عرف عام ہے اور گہنے میں رواج مختلف۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۹۴ : از بلہاری احاطہ مدراس مرسلہ محمد نصیرالدین صاحب قادری حنفی ۲۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید بچپن سے اپنے باپ کے ساتھ ایك ہی دکان میں بیوپار کرتا رہا(یعنی اپنے باپ کے ماتحت تھا اور کام بھی کرتا تھا)اور اپنے باپ ہی کے گھر میں تھا مذکور زید کی شادی باپ عمرو نے ہی کیا اب زید نے انتقال کیا مرحوم زید کی عورت اپنا جہیز اورا پنا مال وزر اور وہ مال جو نسبت کے وقت اس کو دئے ہیں (عرف میں جسکوچڑھاواکہتے ہیں )اوراپنامہر اپنے خسر سے طلب کرسکتی ہے یا نہیں اور اس کی عدت میں نان و نفقہ کس کے ذمہ ہےبینواتوجروا
الجواب :
جہیز تو سب عورت کا ہے اس میں کسی کا حق نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
کل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ لاحق لاحد فیہ ۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا(ت)
اور چڑھاوے کا اگر عورت کو مالك کردیا گیا تھا خواہ صراحۃ کہہ دی تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالك کیا ی وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیك ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملك ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملك ہے باقی مال ورزجو اپنے باپ کے یہاں سے لائی یا شوہر یاشوہرکے باپ نے بطور تملیك اس کو دیا یعنی ہبہ کرکے قبضہ دے دیا وہ بھی عورت ہی کی ملك ہے اور اگر گھر کے خرچ کے لئے دیا اور مالك اس کا ذاتی مال ہو اس سے وصول کرے شوہر کے باپ پر دعوی نہیں کرسکتی جب تك اس نے کفالت نہ کرلی ہو عدت طلاق کا نفقہ ہوتا ہے عدت موت کا نفقہ ہی نہیں جس کا وہ کسی سے مطالبہ کرسکے اپنے پاس سے کھائے واﷲ تعالی اعلم۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا(ت)
اور چڑھاوے کا اگر عورت کو مالك کردیا گیا تھا خواہ صراحۃ کہہ دی تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالك کیا ی وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیك ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملك ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملك ہے باقی مال ورزجو اپنے باپ کے یہاں سے لائی یا شوہر یاشوہرکے باپ نے بطور تملیك اس کو دیا یعنی ہبہ کرکے قبضہ دے دیا وہ بھی عورت ہی کی ملك ہے اور اگر گھر کے خرچ کے لئے دیا اور مالك اس کا ذاتی مال ہو اس سے وصول کرے شوہر کے باپ پر دعوی نہیں کرسکتی جب تك اس نے کفالت نہ کرلی ہو عدت طلاق کا نفقہ ہوتا ہے عدت موت کا نفقہ ہی نہیں جس کا وہ کسی سے مطالبہ کرسکے اپنے پاس سے کھائے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۸ و ۶۵۳
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۹۵ : از شاہجہان پور محلہ بارہ دری مرسلہ عبداﷲخاں صاحب ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
زید نے قادیانی مذہب اختیار کرلیا اور اس کی عورت بدستور اپنے اصلی مذہب حنفی پر رہی گو زید نے مذہب قادیانی گواراکرنے میں اپنی عورت کر مجبور نہیں کیا لہذا ایسی حالت میں کہ جب مابین زن وشوہر کے اختلاف مذہب ہوگیا ازروئے حکم شرع شریف کے بحالت طرز معاشرت درمیان زن وشوہر جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عورت فورانکاح سے نکل گئی ان میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا مرد محض بیگانہ ہوگیا اب اس قربت زنائے خالص ہوگی۔ تنویر الابصار میں ہے :
وارتد اداحدھما فسخ عاجل ۔ وا ﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
خاوند بیوی میں سے کسی ایك کے مرتد ہوجانے سے اسی وقت نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۹۵ : از شاہجہان پور محلہ بارہ دری مرسلہ عبداﷲخاں صاحب ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
زید نے قادیانی مذہب اختیار کرلیا اور اس کی عورت بدستور اپنے اصلی مذہب حنفی پر رہی گو زید نے مذہب قادیانی گواراکرنے میں اپنی عورت کر مجبور نہیں کیا لہذا ایسی حالت میں کہ جب مابین زن وشوہر کے اختلاف مذہب ہوگیا ازروئے حکم شرع شریف کے بحالت طرز معاشرت درمیان زن وشوہر جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عورت فورانکاح سے نکل گئی ان میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا مرد محض بیگانہ ہوگیا اب اس قربت زنائے خالص ہوگی۔ تنویر الابصار میں ہے :
وارتد اداحدھما فسخ عاجل ۔ وا ﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
خاوند بیوی میں سے کسی ایك کے مرتد ہوجانے سے اسی وقت نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۰
مسئلہ۹۶ : از ریاست بھوپال کچھ بنگلہ چیف سکریٹری صاحب مرسلہ مجتبی علی خاں صاحب ۱۰رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ ایك عورت قوم نصاری یامجوس ہے اور وہ عورت مسلمان نہیں ہوئی ہے وہ اپنے مذہب پر قائم ہے ایك شخص کہ وہ مسلمان ہے اور وہ شخص اس کے ساتھ عقد کرنا چاہتا ہے اوروہ عورت مسلمان نہیں ہوئی تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے یامسلمان ہووے تو جائزہے بینواتوجروا
الجواب :
عورت مجوسیہ سے مسلمان نکاح نہیں کرسکتا اگر کرے گا باطل یوں ہی نصرانیہ سے ایك قول پر اور دوسرے قول پر نصرانیہ سے نکاح اگر چہ ہوجائے گا مگر ممنوع وگناہ ہے پہلے قول پر اس سے بچنا فرض ہے اور دوسرے قول پرواجب۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۹۷ : از خیر آباد ڈاکخانہ خاص محلہ شیخ سرائے ضلع سیتاپور مرسلہ امتیاز علی صاحب ۹شوال۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ دونوں مسلمان حنفی المذہب زن وشوہر ہیں ہندہ سیدہ ہے مگر جاہل بیوقوف تند مزاج ہے اور زید شیخ کچھ لکھا پڑھا اور سخت مزاج غصہ ور ہے اور ہر دو معزز اور ایسے خاندان کے ہیں جو اپنے مذہب کے پابند ومطیع اور مسائل شریعت سے واقف ہیں جس میں ایك دوسرے کے حقوق کے بھی مسائل شامل ہیں زید چاہتا ہے کہ ہندہ پر ورش اطفال وخدمت خود وخاطر مدارات اعزا واحباب وامور خانہ داری ومہمان نوازی تابہ مقدور کرے اگر کوئی کام زید کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے تو زید ہندہ سے سختی سے پیش آتا ہے اور اکثرسخت مگرمہذب الفاظ کہتا ہے ایسے کاموں میں وسط رمضان المبارك میں زید ہندہ سے خفاہوا اور ہندہ سےکہا کہ میں نے تم کو بارہا نصیحت کی اور پھر اپنے اور تمہارے گھر والوں میں فضیحت کی مگر کچھ سود مند نہ ہوا اب صرف اذیت کا درجہ باقی ہے جس کو اگر میں چاہوں تو مجھ کو پہنچانے کاحق ہے اور یہ شرعی احکام ہیں مگر میں بوجہ شرافت اس کو پسند نہیں کرتا ہوں اگر تم کو یہ پسند نہیں ہے اور نباہ ہونا مشکل ہے تو مجھ سے کہہ دو کہ میں تم کو آزاد کردوں یعنی طلاق دے دوں کیونکہ شریعت کی یہ تعلیم ہے بعد کو تم اپنا کرلینا جیسا تم کو اچھا معلوم ہو میں اپنا کرلوں گا اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ اس پر ہندہ نے غصہ میں آکر کہا کہ''چولہے میں جائے ایسی شریعت''یا ''مری پڑے ایسی شریعت پر'' زید کو فقرہ اول یاد ہے کہ ہندہ نے کہا تھا ہندہ اس سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے فقرہ نمبر۲ کہا تھا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ ایك عورت قوم نصاری یامجوس ہے اور وہ عورت مسلمان نہیں ہوئی ہے وہ اپنے مذہب پر قائم ہے ایك شخص کہ وہ مسلمان ہے اور وہ شخص اس کے ساتھ عقد کرنا چاہتا ہے اوروہ عورت مسلمان نہیں ہوئی تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے یامسلمان ہووے تو جائزہے بینواتوجروا
الجواب :
عورت مجوسیہ سے مسلمان نکاح نہیں کرسکتا اگر کرے گا باطل یوں ہی نصرانیہ سے ایك قول پر اور دوسرے قول پر نصرانیہ سے نکاح اگر چہ ہوجائے گا مگر ممنوع وگناہ ہے پہلے قول پر اس سے بچنا فرض ہے اور دوسرے قول پرواجب۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۹۷ : از خیر آباد ڈاکخانہ خاص محلہ شیخ سرائے ضلع سیتاپور مرسلہ امتیاز علی صاحب ۹شوال۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ دونوں مسلمان حنفی المذہب زن وشوہر ہیں ہندہ سیدہ ہے مگر جاہل بیوقوف تند مزاج ہے اور زید شیخ کچھ لکھا پڑھا اور سخت مزاج غصہ ور ہے اور ہر دو معزز اور ایسے خاندان کے ہیں جو اپنے مذہب کے پابند ومطیع اور مسائل شریعت سے واقف ہیں جس میں ایك دوسرے کے حقوق کے بھی مسائل شامل ہیں زید چاہتا ہے کہ ہندہ پر ورش اطفال وخدمت خود وخاطر مدارات اعزا واحباب وامور خانہ داری ومہمان نوازی تابہ مقدور کرے اگر کوئی کام زید کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے تو زید ہندہ سے سختی سے پیش آتا ہے اور اکثرسخت مگرمہذب الفاظ کہتا ہے ایسے کاموں میں وسط رمضان المبارك میں زید ہندہ سے خفاہوا اور ہندہ سےکہا کہ میں نے تم کو بارہا نصیحت کی اور پھر اپنے اور تمہارے گھر والوں میں فضیحت کی مگر کچھ سود مند نہ ہوا اب صرف اذیت کا درجہ باقی ہے جس کو اگر میں چاہوں تو مجھ کو پہنچانے کاحق ہے اور یہ شرعی احکام ہیں مگر میں بوجہ شرافت اس کو پسند نہیں کرتا ہوں اگر تم کو یہ پسند نہیں ہے اور نباہ ہونا مشکل ہے تو مجھ سے کہہ دو کہ میں تم کو آزاد کردوں یعنی طلاق دے دوں کیونکہ شریعت کی یہ تعلیم ہے بعد کو تم اپنا کرلینا جیسا تم کو اچھا معلوم ہو میں اپنا کرلوں گا اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ اس پر ہندہ نے غصہ میں آکر کہا کہ''چولہے میں جائے ایسی شریعت''یا ''مری پڑے ایسی شریعت پر'' زید کو فقرہ اول یاد ہے کہ ہندہ نے کہا تھا ہندہ اس سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے فقرہ نمبر۲ کہا تھا
اور کہتی ہےکہ مجھ سے غصہ میں روز مہر کو بول چال کے مطابق یہ الفاظ نکل گئے اس سے میری غرض نیت اسلام سے خارج ہونے کی نہ تھی نہ تحقیر شریعت لہذا مفصلہ ذیل امور کا جواب برائے خدا و رسول بحوالہ کتب جلد مرحمت فرمائے :
(۱)کیا فقرہ مذکورہ بالا سے ہندہ مرتد ہوگئی اور اسلام سے خارج ہوئی
(۲)اگر مرتد ہوگئی تو کیا نکاح فسخ ہوگیا اور ہندہ درجہ طلاق میں گئی
(۳)کیا اب زید بلا طلاق دئے ہوئے ہندہ سے تعلق ترك کرسکتا ہے اورکوئی مواخذہ اس سے نہ ہوگا
(۴)کیا بحالت مرتد ہونے کے اور نکاح فسخ ہونے پر مہر سابقہ کلیۃ یا اس کا کوئی جز اس پر جواب الادا ہے یا بالکل سوخت
(۵)کیا ایسی صورت میں ہندہ بعد تجدید ایمان بلا اجازت زید دوسرا نکاح کرسکتی ہے
(۶)کیا ہندہ کا نفقہ ایسی صورت میں زید پرواجب الادا ہے
(۷)اگر ہندہ نے تجدید ایمان کرلیا تو کیا زید وہندہ باہمدگر تجدید نکاح پر شرعا مجبور ہیں اور اگر نہ کریں تو کوئی مواخذہ تونہ ہوگا
(۸)صورت حال میں اگر زید تجدید نکاح پر تیار ہوتو مہر سابقہ تعداد پر معین ہوگا یا اب تعداد جدید فریقین کی رضامندی پر معین ہوگی۔
(۹)صورت حال میں کیا ہندہ زید کی مرضی کے موافق کم مہر پر مجبور کی جائےگی اورتعداد مہرکم سے کم کیا ہوسکتی ہے
الجواب :
ہندہ نے پہلا فقرہ کہا ہو خواہ دوسرا ہرطرح اس کاایمان جاتارہا کہ اس نے شرع مطہر کی توہین کی مگر ہندہ نکاح سے نہ نکلی نہ ہرگز اسے روا ہے کہ بعد اسلام کسی دوسرے سے نکاح کرلے لان الفتوی علی روایۃ النوادرلاجل فسادالزمان کما بیناۃ فی فتاونا(کیونکہ فساد زمانہ کی وجہ سے فتوی نوادر کی روایت پر ہے جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)ہاں بعداسلام زید سے تجدید نکاح پر مجبور کی جائے گی احتیاطا لاصل المذہب(احتیاط کے طور پر واسطے اصل مذہب کے۔ ت)زید اگر اس سے ترك تعلق چاہے تو طلاق دے ہندہ کا نفقہ زید پر نہیں جب تك اسلام نہ لائے کہ وہ اپنے فعل سے زید پر حرام ہوگئی ہے ولانفقۃ لمرتدۃ(مرتدہ کے لئے کوئی نفقہ نہیں ۔ ت)مگر مرتدہ ہونے سے مہر مدخولہ ساقط نہیں ہوتا تمام وکمال بدستور زید پر واجب ہے تجدید نکاح میں مہرجدید برضائے فریقین معین ہونا یا پہلی تعداد کا لحاظ کچھ ضرور نہیں بلکہ ہندہ سب سے کم مہر پر مجبور کی جاسکتی ہے جس طرح نکاح پر مجبور کی جائےگی۔ درمختار میں ہے :
تجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح زجرا لھا بمھر یسیر کدینار وعلیہ الفتوی ۔
اسلام پر مجبورکی جائے گی اور بطور زجر کمترین مہر مثلا ایك دینار کے بدلے تجدید نکاح پر مجبور
(۱)کیا فقرہ مذکورہ بالا سے ہندہ مرتد ہوگئی اور اسلام سے خارج ہوئی
(۲)اگر مرتد ہوگئی تو کیا نکاح فسخ ہوگیا اور ہندہ درجہ طلاق میں گئی
(۳)کیا اب زید بلا طلاق دئے ہوئے ہندہ سے تعلق ترك کرسکتا ہے اورکوئی مواخذہ اس سے نہ ہوگا
(۴)کیا بحالت مرتد ہونے کے اور نکاح فسخ ہونے پر مہر سابقہ کلیۃ یا اس کا کوئی جز اس پر جواب الادا ہے یا بالکل سوخت
(۵)کیا ایسی صورت میں ہندہ بعد تجدید ایمان بلا اجازت زید دوسرا نکاح کرسکتی ہے
(۶)کیا ہندہ کا نفقہ ایسی صورت میں زید پرواجب الادا ہے
(۷)اگر ہندہ نے تجدید ایمان کرلیا تو کیا زید وہندہ باہمدگر تجدید نکاح پر شرعا مجبور ہیں اور اگر نہ کریں تو کوئی مواخذہ تونہ ہوگا
(۸)صورت حال میں اگر زید تجدید نکاح پر تیار ہوتو مہر سابقہ تعداد پر معین ہوگا یا اب تعداد جدید فریقین کی رضامندی پر معین ہوگی۔
(۹)صورت حال میں کیا ہندہ زید کی مرضی کے موافق کم مہر پر مجبور کی جائےگی اورتعداد مہرکم سے کم کیا ہوسکتی ہے
الجواب :
ہندہ نے پہلا فقرہ کہا ہو خواہ دوسرا ہرطرح اس کاایمان جاتارہا کہ اس نے شرع مطہر کی توہین کی مگر ہندہ نکاح سے نہ نکلی نہ ہرگز اسے روا ہے کہ بعد اسلام کسی دوسرے سے نکاح کرلے لان الفتوی علی روایۃ النوادرلاجل فسادالزمان کما بیناۃ فی فتاونا(کیونکہ فساد زمانہ کی وجہ سے فتوی نوادر کی روایت پر ہے جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)ہاں بعداسلام زید سے تجدید نکاح پر مجبور کی جائے گی احتیاطا لاصل المذہب(احتیاط کے طور پر واسطے اصل مذہب کے۔ ت)زید اگر اس سے ترك تعلق چاہے تو طلاق دے ہندہ کا نفقہ زید پر نہیں جب تك اسلام نہ لائے کہ وہ اپنے فعل سے زید پر حرام ہوگئی ہے ولانفقۃ لمرتدۃ(مرتدہ کے لئے کوئی نفقہ نہیں ۔ ت)مگر مرتدہ ہونے سے مہر مدخولہ ساقط نہیں ہوتا تمام وکمال بدستور زید پر واجب ہے تجدید نکاح میں مہرجدید برضائے فریقین معین ہونا یا پہلی تعداد کا لحاظ کچھ ضرور نہیں بلکہ ہندہ سب سے کم مہر پر مجبور کی جاسکتی ہے جس طرح نکاح پر مجبور کی جائےگی۔ درمختار میں ہے :
تجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح زجرا لھا بمھر یسیر کدینار وعلیہ الفتوی ۔
اسلام پر مجبورکی جائے گی اور بطور زجر کمترین مہر مثلا ایك دینار کے بدلے تجدید نکاح پر مجبور
حوالہ / References
درمختار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۰
کی جائے گی اور اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلکل قاض ان یجددہ بمھریسیر ولو بدینار رضیت ام لا ۔
یہ قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اس عورت سے کمترین مہر کے عوض تجدید نکاح کرائے اگر چہ ایك دینار ہوچاہے وہ عورت اس پر راضی ہویانہ ہو۔ (ت)
مہر کی اقل مقدار دس۱۰درم ہے کہ یہاں کے دو۲روپے تیرہ آنے سے کچھ کم ہے یعنی ۱۲ / ۹-۳ / ۵پائی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۹۸ : از نذر محمد خاں صاحب امام جامع مسجد ملاجی صاحب ڈاکخانہ خاص لگانہ ضلع رہتک۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کسی ہندوکی لڑکی نابالغ بغیر اجازت والی کے کہیں سے لے آوے اور بغیر مسلمان کئے پڑھادیوے جائز ہے یاکہ نہیں اور اسی طرح مسلمان نابالغ لڑکی سے بغیراجازت والی کے دوسرا کوئی نکاح پڑھادیوے تو پھر والی اس کو توڑ سکتا ہے یا کہ نہیں اور پڑھانے والے پرکیا الزام ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
نابالغہ کانکاح بے اجازت ولی نافذ نہیں ہوسکتا ولی اس کو فسخ کرسکتا ہے اور ہندو کی لڑکی سمجھ وال کہ اسلام وکفر جانتی ہے اگر کفر اختیارکرے تو خود مشرك ہے اور سمجھ وال نہ ہو تو اپنے باپ کے اتباع سے مشرك ہے بہر حال اس سے نکاح باطل ہے اگرچہ باجازت ولی ہو ہاں اگر سمجھ دارہونے کی حالت میں ایمان لے آئے اس کے بعد باجازت اس کے کسی ولی مسلم ورنہ اذن حاکم اسلام سے نکاح کیا جائے تو صحیح ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے :
فلکل قاض ان یجددہ بمھریسیر ولو بدینار رضیت ام لا ۔
یہ قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اس عورت سے کمترین مہر کے عوض تجدید نکاح کرائے اگر چہ ایك دینار ہوچاہے وہ عورت اس پر راضی ہویانہ ہو۔ (ت)
مہر کی اقل مقدار دس۱۰درم ہے کہ یہاں کے دو۲روپے تیرہ آنے سے کچھ کم ہے یعنی ۱۲ / ۹-۳ / ۵پائی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۹۸ : از نذر محمد خاں صاحب امام جامع مسجد ملاجی صاحب ڈاکخانہ خاص لگانہ ضلع رہتک۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کسی ہندوکی لڑکی نابالغ بغیر اجازت والی کے کہیں سے لے آوے اور بغیر مسلمان کئے پڑھادیوے جائز ہے یاکہ نہیں اور اسی طرح مسلمان نابالغ لڑکی سے بغیراجازت والی کے دوسرا کوئی نکاح پڑھادیوے تو پھر والی اس کو توڑ سکتا ہے یا کہ نہیں اور پڑھانے والے پرکیا الزام ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
نابالغہ کانکاح بے اجازت ولی نافذ نہیں ہوسکتا ولی اس کو فسخ کرسکتا ہے اور ہندو کی لڑکی سمجھ وال کہ اسلام وکفر جانتی ہے اگر کفر اختیارکرے تو خود مشرك ہے اور سمجھ وال نہ ہو تو اپنے باپ کے اتباع سے مشرك ہے بہر حال اس سے نکاح باطل ہے اگرچہ باجازت ولی ہو ہاں اگر سمجھ دارہونے کی حالت میں ایمان لے آئے اس کے بعد باجازت اس کے کسی ولی مسلم ورنہ اذن حاکم اسلام سے نکاح کیا جائے تو صحیح ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۹۲
مسئلہ ۹۹ : ازلکھنؤ محلہ گڈ ھیا کمال جمال مسئولہ مولوی عابد حسین صاحب عباسوی ۱۴محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رافضیہ عورت سے نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز نیز اگر دھوکہ سے کوئی شخص کسی رافضیہ عورت سے نکاح کرے مثلا زیدکو یہ نہیں معلوم ہے کہ عورت کا مذہب سنی یا شیعہ اور زید سے پوشیدہ بھی رکھا جائے اور بعد کومعلوم ہوجائے اور منکوحہ توبہ بھی نہ کرے تو ایسی میں کیا کرنا چاہئے۔ بینواتوجروا
الجواب :
رافضیہ سے نکاح باطل محض ہے اس وقت معلوم ہو یا نہ ہو بہرحال اس پر فرض ہے کہ اس سے جدا ہوجائے وہ محض اجنبیہ ہے اصلا قابلیت نکاح نہیں رکھتی جب تك اسلام نہ لائے۔ عالمگیریہ میں ہے :
وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح کسی سے جائز نہیں ۔ اوراﷲسبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۰ : از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب شب ۵ذی القعدہ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك ہندوقوم کھٹك نے اپنی عورت کو مذہب کے موافق طلاق دے دی تخمینا چار ماہ کے بعد عورت مذکورہ مسلمان ہوئے اپنی خوشی ورضامندی سے اور جس جلسے میں مسلمان ہوئی اسی جلسہ میں نکاح بھی ہوا نکاح کیسا ہوا اور ا س میں عدت کی ضرورت ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں نکاح صحیح ہوگیا کافر کے لئے عدت تو اصلا نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
لاعدۃ من الکافر عند الامام اصلا فلاتثبت الرجعۃ للزوج بمجردطلاقھا وقیل تجب والا صح الاول کما فی القھستانی عن الکرمانی ومثلہ فی العنایۃ وذکر فی الفتح انہ ولی ۔
امام صاحب رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك کافر کے لئے اصلا عدت نہیں ۔ محض اس عورت طلاق دینے سے شوہر کے لئے رجوع ثابت نہ ہوگا اور کہا گیا ہے کہ عدت واجب ہے اور اصح قول اول ہے جیسا کہ قہستانی میں کرمانی سے ہے اور اسی کی مثل عنایہ میں ہے فتح میں مذکور ہے کہ یہی اولی ہے۔ (ت)
اورجب وہ طلاق دے چکا اسے عورت سے کچھ علاقہ نہ رہا کہ بعد اسلام زن اس کے اسلامی انکار کا انتظار
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رافضیہ عورت سے نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز نیز اگر دھوکہ سے کوئی شخص کسی رافضیہ عورت سے نکاح کرے مثلا زیدکو یہ نہیں معلوم ہے کہ عورت کا مذہب سنی یا شیعہ اور زید سے پوشیدہ بھی رکھا جائے اور بعد کومعلوم ہوجائے اور منکوحہ توبہ بھی نہ کرے تو ایسی میں کیا کرنا چاہئے۔ بینواتوجروا
الجواب :
رافضیہ سے نکاح باطل محض ہے اس وقت معلوم ہو یا نہ ہو بہرحال اس پر فرض ہے کہ اس سے جدا ہوجائے وہ محض اجنبیہ ہے اصلا قابلیت نکاح نہیں رکھتی جب تك اسلام نہ لائے۔ عالمگیریہ میں ہے :
وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح کسی سے جائز نہیں ۔ اوراﷲسبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۰ : از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب شب ۵ذی القعدہ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك ہندوقوم کھٹك نے اپنی عورت کو مذہب کے موافق طلاق دے دی تخمینا چار ماہ کے بعد عورت مذکورہ مسلمان ہوئے اپنی خوشی ورضامندی سے اور جس جلسے میں مسلمان ہوئی اسی جلسہ میں نکاح بھی ہوا نکاح کیسا ہوا اور ا س میں عدت کی ضرورت ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں نکاح صحیح ہوگیا کافر کے لئے عدت تو اصلا نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
لاعدۃ من الکافر عند الامام اصلا فلاتثبت الرجعۃ للزوج بمجردطلاقھا وقیل تجب والا صح الاول کما فی القھستانی عن الکرمانی ومثلہ فی العنایۃ وذکر فی الفتح انہ ولی ۔
امام صاحب رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك کافر کے لئے اصلا عدت نہیں ۔ محض اس عورت طلاق دینے سے شوہر کے لئے رجوع ثابت نہ ہوگا اور کہا گیا ہے کہ عدت واجب ہے اور اصح قول اول ہے جیسا کہ قہستانی میں کرمانی سے ہے اور اسی کی مثل عنایہ میں ہے فتح میں مذکور ہے کہ یہی اولی ہے۔ (ت)
اورجب وہ طلاق دے چکا اسے عورت سے کچھ علاقہ نہ رہا کہ بعد اسلام زن اس کے اسلامی انکار کا انتظار
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ باب المحرمات بالشر ک نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۸۶
ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۸۶
کیا جائے اور یہاں بوجہ عد م حکومت اسلام تین حیض گزرنے تك اس کے اسلام نہ لانے کو قائم مقام انکار ٹھرا کر حکم فرقت دیاجائے درمختار و ردالمحتار میں ہے :
لواسلم احد المجوسیین فی دارالحرب وملحق لھا لم تبن حتی تحیض ثلاثا قبل اسلام الاخر اقامۃ لشرط الفرقۃ(وھو مضی ھذہ المدۃ ش مقام السبب وھوالاباء لان الاباء لایعرف الا بالعرض وقد عدم العرض لانعدام الولایۃ ومست الحاجۃ الی التفریق لان المشرك لایصلح للمسلم واقامۃ الشرط عند تعذرالعلۃ جائز فاذا مضت ھذہ المدۃ صار مضیہا بمنزلۃ تفریق القاضی بدائع ش)ولیست بعدۃ لدخول غیر المدخول بھا ۔
اگر مجوسی زوجین میں سے کوئی ایك دارالحرب میں یا ایسی جگہ مسلمان ہوجائے جو دارالحرب کے ساتھ ملحق ہے تو بیوی نکاح سے خارج نہ ہوگی جب کہ دوسرے کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کو تین حیض نہ آجائیں شرط فرقت یعنی اس مدت کے گزرنے کوسبب فرقت یعنی انکار اسلام کا پتا تو عرض اسلام(اسلام پیش کرنے)سے چلے گا اور دارالحرب میں عدم ولایت کی وجہ سے عرض اسلام معدوم ہے حالانکہ تفریق کی ضرورت ہے کیونکہ مشرك ومسلم کانکاح برقرار نہیں رہ سکتا اور تعذرعلت کے وقت شرط کو اس کے قائم مقام رکھنا جائز ہے چنانچہ جب یہ مدت گزرجائے تو اس کا گزرنا تفریق قاضی کے قائم مقام ہوجائے گابدائع ش)اور یہ مدت عدت نہیں کیونکہ غیر مدخولہ عورت بھی اس حکم میں داخل ہے(حالانکہ غیرمدخولہ پر عدت نہیں )۔ (ت)
یہاں نفس طلاق سے فرقت پہلے ہی ہوچکی اور عدت ہے نہیں لہذا انتظار کی اصلا حاجت نہیں عورت اگر چہ طلاق ہوتے ہی فورا مسلمان ہوجائے مسلمان ہوتے ہیں فورا نکاح کرسکتی ہے۔ ہدایہ میں ہے :
لابی حنیفۃ انھا ای العدہ اثر النکاح المتقدم وجبت اظہار ا لخطرہ ولاخطر لملك الحربی ولھذا لاتجب علی المسبیۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ عدت پہلے نکاح کا اثر ہے جواس کے احترام کے اظہار کے لئے واجب ہوئی اور حربی کی ملك کاکوئی احترام نہیں اور اسی لئے اس عورت پرعدت واجب نہیں جو گرفتار کرکے لائی گئی ہو۔ اور اﷲتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
لواسلم احد المجوسیین فی دارالحرب وملحق لھا لم تبن حتی تحیض ثلاثا قبل اسلام الاخر اقامۃ لشرط الفرقۃ(وھو مضی ھذہ المدۃ ش مقام السبب وھوالاباء لان الاباء لایعرف الا بالعرض وقد عدم العرض لانعدام الولایۃ ومست الحاجۃ الی التفریق لان المشرك لایصلح للمسلم واقامۃ الشرط عند تعذرالعلۃ جائز فاذا مضت ھذہ المدۃ صار مضیہا بمنزلۃ تفریق القاضی بدائع ش)ولیست بعدۃ لدخول غیر المدخول بھا ۔
اگر مجوسی زوجین میں سے کوئی ایك دارالحرب میں یا ایسی جگہ مسلمان ہوجائے جو دارالحرب کے ساتھ ملحق ہے تو بیوی نکاح سے خارج نہ ہوگی جب کہ دوسرے کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کو تین حیض نہ آجائیں شرط فرقت یعنی اس مدت کے گزرنے کوسبب فرقت یعنی انکار اسلام کا پتا تو عرض اسلام(اسلام پیش کرنے)سے چلے گا اور دارالحرب میں عدم ولایت کی وجہ سے عرض اسلام معدوم ہے حالانکہ تفریق کی ضرورت ہے کیونکہ مشرك ومسلم کانکاح برقرار نہیں رہ سکتا اور تعذرعلت کے وقت شرط کو اس کے قائم مقام رکھنا جائز ہے چنانچہ جب یہ مدت گزرجائے تو اس کا گزرنا تفریق قاضی کے قائم مقام ہوجائے گابدائع ش)اور یہ مدت عدت نہیں کیونکہ غیر مدخولہ عورت بھی اس حکم میں داخل ہے(حالانکہ غیرمدخولہ پر عدت نہیں )۔ (ت)
یہاں نفس طلاق سے فرقت پہلے ہی ہوچکی اور عدت ہے نہیں لہذا انتظار کی اصلا حاجت نہیں عورت اگر چہ طلاق ہوتے ہی فورا مسلمان ہوجائے مسلمان ہوتے ہیں فورا نکاح کرسکتی ہے۔ ہدایہ میں ہے :
لابی حنیفۃ انھا ای العدہ اثر النکاح المتقدم وجبت اظہار ا لخطرہ ولاخطر لملك الحربی ولھذا لاتجب علی المسبیۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ عدت پہلے نکاح کا اثر ہے جواس کے احترام کے اظہار کے لئے واجب ہوئی اور حربی کی ملك کاکوئی احترام نہیں اور اسی لئے اس عورت پرعدت واجب نہیں جو گرفتار کرکے لائی گئی ہو۔ اور اﷲتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۔ ۲۰۸ ، ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۹۰
ہدایہ باب نکاح اہل الشرک المکتبۃ العربیہ ، کراچی ۲ / ۳۲۸
ہدایہ باب نکاح اہل الشرک المکتبۃ العربیہ ، کراچی ۲ / ۳۲۸
مسئلہ۱۰۱تا۱۰۲ : از مسجد جامع میرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ سراج الحق صاحب امام جامع مذکور وشیخ بدو ودربان چٹکل ۲۷ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲفی ھذہ المسألۃ ھل یجوز لزید عند الاختلاط ان یقبل خدمنکوحتہ وثد یھاوان یمص ثدیھا اوان یدخل ثدیھا فی فمہ شھوۃ و تلذذ ا سواءکانت ذات لبن ام لا وسواءکانت مراھقۃ ام بالغۃ فبینواحکم کل شق منھا بالادلۃ و التفاصیل۔
کیا ارشاد ہے آپ کا اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیازید کے لئے بوقت صحبت اپنی بیوی کے رخسار اور پستان کا بوسہ لینا یا پستان کو منہ میں دبانا یا شہوت وتلذذ کے طور پرپستان کو منہ میں داخل کرناجائز ہے چاہے اس کی بیوی دودھ والی ہو یا نہ ہو چاہے قریب البلوغ ہو یانابالغہ ہر شق کا جواب دلائل وتفصیلات کے ساتھ بیان فرمائیں ۔ (ت)
الجواب :
یجوز للرجل التمتع بعرسہ کیف
مرد کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کے سر سے لے
ماقولکم رحمکم اﷲفی ھذہ المسألۃ ھل یجوز لزید عند الاختلاط ان یقبل خدمنکوحتہ وثد یھاوان یمص ثدیھا اوان یدخل ثدیھا فی فمہ شھوۃ و تلذذ ا سواءکانت ذات لبن ام لا وسواءکانت مراھقۃ ام بالغۃ فبینواحکم کل شق منھا بالادلۃ و التفاصیل۔
کیا ارشاد ہے آپ کا اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیازید کے لئے بوقت صحبت اپنی بیوی کے رخسار اور پستان کا بوسہ لینا یا پستان کو منہ میں دبانا یا شہوت وتلذذ کے طور پرپستان کو منہ میں داخل کرناجائز ہے چاہے اس کی بیوی دودھ والی ہو یا نہ ہو چاہے قریب البلوغ ہو یانابالغہ ہر شق کا جواب دلائل وتفصیلات کے ساتھ بیان فرمائیں ۔ (ت)
الجواب :
یجوز للرجل التمتع بعرسہ کیف
مرد کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کے سر سے لے
ماشاء من رأسھا الی قدمھا الامانھی اﷲتعالی عنہ وکل ماذکر فی السؤال لانھی عنہ اماالتقبیل فمسنون مستحب یؤجر علیہ ان کان بنیۃ صالحۃ واما مص ثدیھا فکذلك ان لم تکن ذات لبن وان کانت واحترس من دخول اللبن حلقہ فلاباس بہ وان شرب شیئا منہ قصدا فھو حرام وان کانت غزیرۃ اللبن وخشی ان لومص ثدیھا یدخل اللبن فی حلقہ فالمص مکروۃ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کر پاؤں تك جیسے چاہے لطف اندوز ہو سوائے اس کے جس سے اﷲتعالی نے منع فرمایا ہے اور سوال مذکور امور میں سے کسی سے منع نہیں کیا گیا۔ بوسہ تومسنون ومستحب ہےاور اگرت بنیت صالحہ ہو تو باعث اجروثواب ہے۔ رہا پستان کو منہ میں دبانا تو اس کا حکم بھی ایسا ہی ہے جب کہ بیوی دودھ والی نہ ہو اور اگر وہ دودھ والی ہے اور مرد اس بات کا لحاظ رکھے کہ دودھ کا کوئی قطرہ اس کے حلق میں داخل نہ ہونے پائے تو بھی حرج نہیں اور اگر اس دودھ میں سے جان بوجھ کر کچھ پیا تو یہ پینا حرام ہے۔ اور اگر وہ زیادہ دودھ والی ہے اور اسے ڈر ہے کہ پستان منہ میں لے گا تودودھ حلق میں داخل ہوگا تو اس صورت میں پستان کو منہ میں لینا مکروہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چراگاہ کے ارد گرد(جانور)چرائے تو قریب ہے کہ وہ(جانور)چراگاہ میں جا پڑے۔ اوراﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔
السوال الثانی دوسرا سوال
وکم مدۃ یجوزلہ السفر حال کونہ مجردا عنھا۔
بیوی کو چھوڑکرسفر پرجانے والے کے لئے کتنی مدت تك سفر میں رہنا جائز ہے :
الجواب :
السفر ان کان بضرورۃ تقدر بقدرہا ولایعین لہ حد وقدامر
سفر اگر ضرورت کی وجہ سے ہوتو بقدر ضرورت ہوگا اس کی کوئی حد مقرر نہیں ۔ تحقیق حضور اقدس
کر پاؤں تك جیسے چاہے لطف اندوز ہو سوائے اس کے جس سے اﷲتعالی نے منع فرمایا ہے اور سوال مذکور امور میں سے کسی سے منع نہیں کیا گیا۔ بوسہ تومسنون ومستحب ہےاور اگرت بنیت صالحہ ہو تو باعث اجروثواب ہے۔ رہا پستان کو منہ میں دبانا تو اس کا حکم بھی ایسا ہی ہے جب کہ بیوی دودھ والی نہ ہو اور اگر وہ دودھ والی ہے اور مرد اس بات کا لحاظ رکھے کہ دودھ کا کوئی قطرہ اس کے حلق میں داخل نہ ہونے پائے تو بھی حرج نہیں اور اگر اس دودھ میں سے جان بوجھ کر کچھ پیا تو یہ پینا حرام ہے۔ اور اگر وہ زیادہ دودھ والی ہے اور اسے ڈر ہے کہ پستان منہ میں لے گا تودودھ حلق میں داخل ہوگا تو اس صورت میں پستان کو منہ میں لینا مکروہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چراگاہ کے ارد گرد(جانور)چرائے تو قریب ہے کہ وہ(جانور)چراگاہ میں جا پڑے۔ اوراﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے۔
السوال الثانی دوسرا سوال
وکم مدۃ یجوزلہ السفر حال کونہ مجردا عنھا۔
بیوی کو چھوڑکرسفر پرجانے والے کے لئے کتنی مدت تك سفر میں رہنا جائز ہے :
الجواب :
السفر ان کان بضرورۃ تقدر بقدرہا ولایعین لہ حد وقدامر
سفر اگر ضرورت کی وجہ سے ہوتو بقدر ضرورت ہوگا اس کی کوئی حد مقرر نہیں ۔ تحقیق حضور اقدس
حوالہ / References
شرح السنۃ للامام البغوی باب مضاجعۃ الحائض الملك الاسلامی بیروت ۲ / ۱۳۰
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بتعجیل القفول بعد قضاء الحاجۃ والسفر قطعۃ من العذاب یمنع احدکم طعامہ وشرابہ ونومہ فاذا قضی احدکم نھبہ فلیعجل الی اھلہ اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امااذاکان بلاضرورۃ ولم یستصحبھا معہ فلا یمسکن اکثر من اربعۃ اشھر بذلك امر امیر المؤمنین عمر الفاروق رضی اﷲتعالی عنہ وفی الحدیث قصۃ۔ واﷲتعالی اعلم۔
صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ضرورت پوری ہوجانے کے بعد جلدی واپسی کاحکم دیا ہے اور سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی ایك کو اس کھانے پینے اور سونے سے روك دیتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی اپنی حاجت پوری کرلے تو جلدی گھرلوٹے یا جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن اگر سفر بلاضرورت ہو اور بیوی کو ساتھ نہ لے کر جائے تو چار۴ماہ سے زیادہ سفر میں نہ ٹھہرے۔ امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ نے اسی کاحکم فرمایا حدیث میں قصہ مذکور ہے۔ اور اﷲ سبحانہ و تعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۳ : از حیدر آباد دکن معرفت پوسٹ ماسٹر مرسلہ حسام الدین صاحب ۲۸ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو زید کے خالو ہوتے ہیں اور ان کا وطن قدیم امیٹھی خطہ اودھ ہے ان کے تعلقات ملازمت حیدرآباد میں ہوئے زید اصل باشندہ کاکوری ضلع لکھنؤ کا ہے اور اس نے خطہ متوسطہ میں ملازمت انگریزی اختیار کی۔ تعارف وقرابت سابقہ کی وجہ سے زید کا نکاح عمرو کی دختر کے ساتھ حیدر آبادمیں ہوا اور کوئی شرط کسی قسم کی مہر و آمد ورفت وغیرہ کی نسبت نہیں ہوئی بعد نکاح عمرو نے اپنی دختر کوزیدکے ساتھ متعدد مرتبہ زید کی جائے ملازمت مختلف اضلاع خطہ متوسط پر اس کے ہمرا روانہ کردیا حتی کہ زید کی صلب سے ہندہ دختر عمرو کے تین اولادیں ہوئیں نکاح کے چھ سال بعد مسماۃ ہندہ اور خود والدہندہ کویہ عذر ہوا کہ زید کے ساتھ سفردور دراز جائے ملازمت زید پر جانا منظور نہیں کیونکہ ان کابیان ہے کہ زید کوشرعا ایسا حق نہیں کہ وہ ہندہ کو سفر میں اپنے ساتھ لے جائے مطالبہ مہر باعث انکار سفر نہیں قابل دریافت یہ امر ہے کہ ایسی حالت میں زید کو اپنی زوجہ ہندہ کو اپنی جائے ملازمت وسکونت پر لے جانے کا شرعا حق ہے کہ نہیں اگرہندہ عذر اذیت وتکلیف دہی پر جانے سے انکار کرےاور اس عذر کو ثابت
صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ضرورت پوری ہوجانے کے بعد جلدی واپسی کاحکم دیا ہے اور سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی ایك کو اس کھانے پینے اور سونے سے روك دیتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی اپنی حاجت پوری کرلے تو جلدی گھرلوٹے یا جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن اگر سفر بلاضرورت ہو اور بیوی کو ساتھ نہ لے کر جائے تو چار۴ماہ سے زیادہ سفر میں نہ ٹھہرے۔ امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ نے اسی کاحکم فرمایا حدیث میں قصہ مذکور ہے۔ اور اﷲ سبحانہ و تعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۳ : از حیدر آباد دکن معرفت پوسٹ ماسٹر مرسلہ حسام الدین صاحب ۲۸ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو زید کے خالو ہوتے ہیں اور ان کا وطن قدیم امیٹھی خطہ اودھ ہے ان کے تعلقات ملازمت حیدرآباد میں ہوئے زید اصل باشندہ کاکوری ضلع لکھنؤ کا ہے اور اس نے خطہ متوسطہ میں ملازمت انگریزی اختیار کی۔ تعارف وقرابت سابقہ کی وجہ سے زید کا نکاح عمرو کی دختر کے ساتھ حیدر آبادمیں ہوا اور کوئی شرط کسی قسم کی مہر و آمد ورفت وغیرہ کی نسبت نہیں ہوئی بعد نکاح عمرو نے اپنی دختر کوزیدکے ساتھ متعدد مرتبہ زید کی جائے ملازمت مختلف اضلاع خطہ متوسط پر اس کے ہمرا روانہ کردیا حتی کہ زید کی صلب سے ہندہ دختر عمرو کے تین اولادیں ہوئیں نکاح کے چھ سال بعد مسماۃ ہندہ اور خود والدہندہ کویہ عذر ہوا کہ زید کے ساتھ سفردور دراز جائے ملازمت زید پر جانا منظور نہیں کیونکہ ان کابیان ہے کہ زید کوشرعا ایسا حق نہیں کہ وہ ہندہ کو سفر میں اپنے ساتھ لے جائے مطالبہ مہر باعث انکار سفر نہیں قابل دریافت یہ امر ہے کہ ایسی حالت میں زید کو اپنی زوجہ ہندہ کو اپنی جائے ملازمت وسکونت پر لے جانے کا شرعا حق ہے کہ نہیں اگرہندہ عذر اذیت وتکلیف دہی پر جانے سے انکار کرےاور اس عذر کو ثابت
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الاطعمہ باب ذکر الطعام ۲ / ۸۱۶ ، صحیح بخاری کتاب الجہاد باب الشرعۃفی السیر باب ذکر الطعام ۱ / ۴۲۱
نہ کرسکے یا ثبوت پیش کردہ اگر سمجھا جائے تو زید بعد ادخال ضمانت معتبر ہندہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا مجاز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
اصل حکم ہے مرد جہاں رہے اپنی عورت کو اپنے ساتھ رکھے۔ قال اﷲ تعالی :
اسكنوهن من حیث سكنتم من ۔ عورتوں کووہیں ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹہرو۔ (ت)
اور ساتھی ہی یہ حکم ہے کہ عورت کو ضرر نہ پہنچائے اس پر تنگی نہ کرے قال اﷲتعالی :
و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن ۔ انہیں ضرر نہ پہنچاؤ کہ تم ان پر تنگی کرو(ت)
جبکہ مہر معجل نہ تھا یعنی پیش از رخصت دینا قرار نہ پایا تھا تو عورت کو اپنے نفس کے روکنے کا کوئی اختیار نہیں نہ اس کا باپ اسے شوہر سے جدا کرسکتا ہے ہاں اگر شوہر کی طرف سے عورت کو ضرر سانی وبلاوجہ شرعی ایذادہی بروجہ کافی ثابت ہو تو اس کا بندوبست کیا جائے اگر چہ کچہری کے ذریعہ سے ضمانت داخل کرنے سے ظاہرا یہ سمجھاجاتا ہے کہ زید کوئی ایسا کفیل معتمد پیش کرے گا جو زید کو ایذارسانی سے مانع ہوسکے اور عمرو وہندہ کو اس پراعتبار ہویا یہ معنی ہیں کہ کوئی ضامن دیاجائےگا۔ کہ اگر زید ایذا رسانی کرے تو اتنا روپیہ جرمانہ کا بھرے اور وہ نہ دے تو ضامن دے گا۔ اگرمعنی اول مراد ہیں تو صحیح وقابل قبول ہیں اور معنی دوم مراد ہیں تو یہ شرعا ناجائز باطل ہے مالی جرمانہ نہیں ہوسکتا لانہ منسوخ والعمل بالمنسوخ حرام(کیونکہ یہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے۔ ت)اور اﷲتعالی خوب جانتا ہے۔
مسئلہ۱۰۴ : ازقادری گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ ظہورالحسن صاحب ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
جماع کے وقت شوہر کا اپنی بی بی کی فرج دیکھنا تاکہ لذت پور ی پوری حاصل ہو یا شوہر کا اپنی بی بی کی شرمگاہ کو مس کرنا اور عورت کا اپنے شوہر کے آلہ تناسل کو مس کرنا تاکہ آلہ تناسل ایستادہ ہوایسا کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب :
زوجین کاوقت جماع ایك دوسرے کی شرمگاہ کو مس کرنا بلاشبہ جائز بلکہ بہ نیت حسنہ مستحق و
الجواب :
اصل حکم ہے مرد جہاں رہے اپنی عورت کو اپنے ساتھ رکھے۔ قال اﷲ تعالی :
اسكنوهن من حیث سكنتم من ۔ عورتوں کووہیں ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹہرو۔ (ت)
اور ساتھی ہی یہ حکم ہے کہ عورت کو ضرر نہ پہنچائے اس پر تنگی نہ کرے قال اﷲتعالی :
و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن ۔ انہیں ضرر نہ پہنچاؤ کہ تم ان پر تنگی کرو(ت)
جبکہ مہر معجل نہ تھا یعنی پیش از رخصت دینا قرار نہ پایا تھا تو عورت کو اپنے نفس کے روکنے کا کوئی اختیار نہیں نہ اس کا باپ اسے شوہر سے جدا کرسکتا ہے ہاں اگر شوہر کی طرف سے عورت کو ضرر سانی وبلاوجہ شرعی ایذادہی بروجہ کافی ثابت ہو تو اس کا بندوبست کیا جائے اگر چہ کچہری کے ذریعہ سے ضمانت داخل کرنے سے ظاہرا یہ سمجھاجاتا ہے کہ زید کوئی ایسا کفیل معتمد پیش کرے گا جو زید کو ایذارسانی سے مانع ہوسکے اور عمرو وہندہ کو اس پراعتبار ہویا یہ معنی ہیں کہ کوئی ضامن دیاجائےگا۔ کہ اگر زید ایذا رسانی کرے تو اتنا روپیہ جرمانہ کا بھرے اور وہ نہ دے تو ضامن دے گا۔ اگرمعنی اول مراد ہیں تو صحیح وقابل قبول ہیں اور معنی دوم مراد ہیں تو یہ شرعا ناجائز باطل ہے مالی جرمانہ نہیں ہوسکتا لانہ منسوخ والعمل بالمنسوخ حرام(کیونکہ یہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے۔ ت)اور اﷲتعالی خوب جانتا ہے۔
مسئلہ۱۰۴ : ازقادری گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ ظہورالحسن صاحب ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
جماع کے وقت شوہر کا اپنی بی بی کی فرج دیکھنا تاکہ لذت پور ی پوری حاصل ہو یا شوہر کا اپنی بی بی کی شرمگاہ کو مس کرنا اور عورت کا اپنے شوہر کے آلہ تناسل کو مس کرنا تاکہ آلہ تناسل ایستادہ ہوایسا کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب :
زوجین کاوقت جماع ایك دوسرے کی شرمگاہ کو مس کرنا بلاشبہ جائز بلکہ بہ نیت حسنہ مستحق و
موجب اجر ہے کماروی عن نفس سیدنا الامام الاعظم رضی تعالی عنہ(جیسا کہ خود ہمارے سردارامام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا گیاہے۔ ت)مگر اس وقت رؤیت فرج سے حدیث میں ممانعت فرمائی اور فرمایا : فانہ یورث العمی وہ نابینائی کا سبب ہوتاہے۔ علمائے نے فرمایا کہ محتمل ہے کہ اس کے اندھے ہونے کاسبب ہو یا وہ اولاد اندھی ہوجو اس جماع سے پیدا ہویا معاذ اﷲ دل کا اندھا ہونا کہ سب سے بدتر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۱۰۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوجہ کو بے وجہ شرعی ایذادینا اورعاریت مساوات دو۲ زوجہ میں نہ کرنا اور دونوں کومکان واحد میں جبرا رکھنا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہر چند اﷲ تعالی نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی
الرجال قومون على النسآء بما فضل الله بعضهم على بعض و بما انفقوا من اموالهم ۔
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اﷲتعالی نے ان میں ایك دوسرے پر فضیلت دی اوراس لئے کہ مردوں نے ان پر مال خرچ کئے۔ (ت)
یہاں تك کہ حدیث میں آیا اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم کرتا عورت کو حکم دیتا کہ مرد کو سجدہ کرے مگر عورتوں کو بے وجہ شرعی ایذادینا ہرگز جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ نرمی اور خوش خلقی اور ان کی بدخوئی پر صبر اور
مسئلہ۱۰۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوجہ کو بے وجہ شرعی ایذادینا اورعاریت مساوات دو۲ زوجہ میں نہ کرنا اور دونوں کومکان واحد میں جبرا رکھنا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہر چند اﷲ تعالی نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی
الرجال قومون على النسآء بما فضل الله بعضهم على بعض و بما انفقوا من اموالهم ۔
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اﷲتعالی نے ان میں ایك دوسرے پر فضیلت دی اوراس لئے کہ مردوں نے ان پر مال خرچ کئے۔ (ت)
یہاں تك کہ حدیث میں آیا اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم کرتا عورت کو حکم دیتا کہ مرد کو سجدہ کرے مگر عورتوں کو بے وجہ شرعی ایذادینا ہرگز جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ نرمی اور خوش خلقی اور ان کی بدخوئی پر صبر اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۳۴
ان کی دلجوئی اورجن باتوں میں مخالفت شرع نہیں ان کی مراعات شارع کو پسند ہے جناب رسالت مآب صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ازواج مطہر ات کی دلجوئی کرتے اور فرماتے :
ان من اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا و الطفھم باھلہ ۔
بیشك مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے جو ان میں سے زیادہ حسن اخلاقی والا اور اپنی اہل کے ساتھ زیادہ مہر بان ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں :
خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی ۔
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی اہل کے ساتھ زیادہ اچھا برتاؤکرنے والا ہے اور میں اپنی اہل کے ساتھ حسن سلوك میں تم سب سے بہتر ہوں ۔ (ت)
اور اﷲتعالی فرماتا ہے : و عاشروهن بالمعروف ۔ (اور ان(اپنی بیویوں )کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ ت)امام غزالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں :
واعلم انہ لیس من حسن الخلق معھا کف الاذی عنھا بل احتمال الاذی منھا والحلم عند طیشھا وغضبھا اقتداء برسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ۔ الخ
اور توجان لے کہ عورت کے ساتھ حسن خلق یہ ہی نہیں کہ اس کو ایذانہ دے بلکہ اس کی طرف سے اذیتیں برداشت کرنا ہے اور رسول اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اس(عورت)کے طیش وغضب کے وقت تحمل اختیار کرنا ہے۔ (ت)
اور جس طرح اﷲتعالی نے مردوں کے حق ان پر مقرر فرمائے ان کے حق بھی مردوں پر مقرر کئے و لهن مثل الذی علیهن بالمعروف۪ (اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔ ت)ازانجملہ کھلانے پہنانے وغیرہما امور اختیار یہ میں انہیں برابر ر رکھنا واجب ہے۔
ان من اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا و الطفھم باھلہ ۔
بیشك مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے جو ان میں سے زیادہ حسن اخلاقی والا اور اپنی اہل کے ساتھ زیادہ مہر بان ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں :
خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی ۔
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی اہل کے ساتھ زیادہ اچھا برتاؤکرنے والا ہے اور میں اپنی اہل کے ساتھ حسن سلوك میں تم سب سے بہتر ہوں ۔ (ت)
اور اﷲتعالی فرماتا ہے : و عاشروهن بالمعروف ۔ (اور ان(اپنی بیویوں )کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ ت)امام غزالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں :
واعلم انہ لیس من حسن الخلق معھا کف الاذی عنھا بل احتمال الاذی منھا والحلم عند طیشھا وغضبھا اقتداء برسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ۔ الخ
اور توجان لے کہ عورت کے ساتھ حسن خلق یہ ہی نہیں کہ اس کو ایذانہ دے بلکہ اس کی طرف سے اذیتیں برداشت کرنا ہے اور رسول اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اس(عورت)کے طیش وغضب کے وقت تحمل اختیار کرنا ہے۔ (ت)
اور جس طرح اﷲتعالی نے مردوں کے حق ان پر مقرر فرمائے ان کے حق بھی مردوں پر مقرر کئے و لهن مثل الذی علیهن بالمعروف۪ (اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔ ت)ازانجملہ کھلانے پہنانے وغیرہما امور اختیار یہ میں انہیں برابر ر رکھنا واجب ہے۔
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ٨٧١٩ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ / ۴۱۵
شعب الایمان ٨٧١٨ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ / ۴۱۵
القرآن الکریم ٤ /۱۹
احیاء العلوم الباب الثالث فی آداب المعاشرۃ المکتبۃ المشہد الحسینی ایران ۲ / ۴۳
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
شعب الایمان ٨٧١٨ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ / ۴۱۵
القرآن الکریم ٤ /۱۹
احیاء العلوم الباب الثالث فی آداب المعاشرۃ المکتبۃ المشہد الحسینی ایران ۲ / ۴۳
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
فی الدرالمختار یجب وظاہر الآیۃ انہ فرض نھران یعدل ای ان لایجوز فیہ ای فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ ۔
درمختارمیں ہے واجب ہے اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر)یعنی قسم ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی لباس کھانے اور صحبت میں برابری قائم رکھے۔ (ت)
یہاں تك کہ اگر فرق کرے گا قیامت میں ایك طرف جھکا اٹھے گا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من کان لہ امرأتان فمال الی احدھمادون الاخر ی جاء یوم القیمۃ واحد شقیہ مائل ۔
جس کی دو۲ عورتیں ہوں وہ ان میں سے ایك کی طرف میلان کرے اور دوسری کو نظر انداز کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گا کہ اس کی ایك جانب جھکی ہوگی(ت)
اور انہیں مکان واحد میں جبرا رکھنا جائز نہیں بلکہ ہرایك کو مکان علیحدہ کا مطالبہ شوہر سے پہنچتا ہے
فی الدرالمختار فلکل من زوجتہ مطالبتہ ببیت من دار علحدۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ دو۲ بیویوں میں سے ہرایك اپنے شوہر سے گھر کا علیحدہ مکان طلب کرسکتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۶ : کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کی رعایت مساوات دو۲زوجہ میں مرد پر واجب ہے یا نہیں اور اگر ان میں قوم طوائف میں سے ہوتو کچھ فرق کیا جائے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
مرد اپنی دو۲ زوجہ حرہ کو کھلانے اور پہنانے اور پاس رہنے وغیرہا امور اختیار میں برابر رکھنا واجب ہے اور اس امر میں طوائف وغیر طوائف شریف و رذیل میں کچھ فرق نہیں کہ آیت قسم مطلق ہے۔
فی الدرالمختار یجب وظاہر الایۃ انہ فرض “ نہر “ ان یعدل ای ان لایجور فیہ ای فی القسم بالسویۃ فی البیتوتۃ و
درمختارمیں ہے واجب ہے اورآیت کاظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر)یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی لباس کھانے اور صحبت
درمختارمیں ہے واجب ہے اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر)یعنی قسم ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی لباس کھانے اور صحبت میں برابری قائم رکھے۔ (ت)
یہاں تك کہ اگر فرق کرے گا قیامت میں ایك طرف جھکا اٹھے گا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من کان لہ امرأتان فمال الی احدھمادون الاخر ی جاء یوم القیمۃ واحد شقیہ مائل ۔
جس کی دو۲ عورتیں ہوں وہ ان میں سے ایك کی طرف میلان کرے اور دوسری کو نظر انداز کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گا کہ اس کی ایك جانب جھکی ہوگی(ت)
اور انہیں مکان واحد میں جبرا رکھنا جائز نہیں بلکہ ہرایك کو مکان علیحدہ کا مطالبہ شوہر سے پہنچتا ہے
فی الدرالمختار فلکل من زوجتہ مطالبتہ ببیت من دار علحدۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ دو۲ بیویوں میں سے ہرایك اپنے شوہر سے گھر کا علیحدہ مکان طلب کرسکتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۶ : کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کی رعایت مساوات دو۲زوجہ میں مرد پر واجب ہے یا نہیں اور اگر ان میں قوم طوائف میں سے ہوتو کچھ فرق کیا جائے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
مرد اپنی دو۲ زوجہ حرہ کو کھلانے اور پہنانے اور پاس رہنے وغیرہا امور اختیار میں برابر رکھنا واجب ہے اور اس امر میں طوائف وغیر طوائف شریف و رذیل میں کچھ فرق نہیں کہ آیت قسم مطلق ہے۔
فی الدرالمختار یجب وظاہر الایۃ انہ فرض “ نہر “ ان یعدل ای ان لایجور فیہ ای فی القسم بالسویۃ فی البیتوتۃ و
درمختارمیں ہے واجب ہے اورآیت کاظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر)یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی لباس کھانے اور صحبت
حوالہ / References
درمختار باب القسم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۱
سُنن ابن کاجہ باب القسمۃ بین النساء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۳
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷۱
سُنن ابن کاجہ باب القسمۃ بین النساء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۳
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷۱
فی الملبوس والماکول والصحبۃ ۔
میں برابر قائم رکھے(ت)
یہاں تك کہ اگر فرق کرے گا قیمت کو ایك طرف جھکائے اٹھے گا۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من کان لہ امرأتان فمال الی احدھما دون الاخری جاء یوم القیمۃ واحد شقیہ مائل ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جس کی دو۲ بیویاں ہوں ان میں سے ایك کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسری کی طرف میلان کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گا کہ اس کی ایك جانب جھکی ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۷ : از بچھرایوں ضلع مراد آباد مکان حکیم غلام علی صاحب مرسلہ حکیم غلام احمد صاحب ۲۵رمضان مبارك ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ۱عدل بین الزوجین میں کھانے کی کیا صورت ہے آیا جو چیز ایك زوجہ کو کھانے کو دی وہی دوسرے کو بھی دے اگر چہ ازقسم مکلفات ہویا فقط معمولی غذا میں ۲مثلا ایك کو دوسری زوجہ سے خفیہ دودھ پلایا یا ثمار فصل کھلائے تو اسی قدر دوسری کو بھی دینا ضرور ہے یا یہ مستحب ہے اگر دوسری کو بھی دینا ضرور ہے تو صورت ذیل میں کچھ فرق ہے یانہیں مثلا۳ایك زوجہ نے زوج سے کسی چیز کی فرمائش کی چونکہ اس کی طبیعت اس چیز کے کھانے کو چاہتی تھی بایں وجہ خفیۃ دوسر ی زوجہ سے اسکی فرمائش کی پورا کردیا تو دوسری کو بھی شیئ مذکور کا کھلانا بذمہ زوج ضرور ہے یانہیں ۴اگر ضرور ہے تو اس میں کچھ فرق ہے یانہیں کہ اگر دوسری زوجہ بھی اس شیئ کی فرمائش کرتی تو اس کو بھی پورا کرتا اور اگر۵زوج اپنی خواہش طبیعت سے کچھ شیئ ایك زوجہ کو کبھی کوئی شیئ دوسری کو کھلاتا ہے مگر برابری نہیں ہے کہ جس قیمت اور جس لذت کی وہ شیئ ہے دوسری کو وہ نہیں ہے تو یہ جائز ہے یانہیں ۶ایك یہ صورت ہے کہ ایك زوجہ کھانا کھاتے وقت زوج کو کھانا پکاکرلاتی ہے دوسری نہیں آتی ہے خاطر ا اس کو ہر ترکاری سے قدرے قدرے کھلایا تو اس میں زوج گنہگار ہوا یا نہیں اور خفیہ میں یہ مصلحت ہے کہ دونوں زوجہ میں بغض نہیں پڑتا ہے اور زوج سے دونوں خوش رہتی ہیں کیونکہ ایك کی دوسری کو خبر نہیں ۔ جواب مدلل تحریر فرمائے۔
الجواب :
کھانا دو۲ قسم ہے ایك اصل نفقہ جوزوجہ کے لئے زوج پر واجب ہے دوسرا اس سے زائد مثل
میں برابر قائم رکھے(ت)
یہاں تك کہ اگر فرق کرے گا قیمت کو ایك طرف جھکائے اٹھے گا۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من کان لہ امرأتان فمال الی احدھما دون الاخری جاء یوم القیمۃ واحد شقیہ مائل ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جس کی دو۲ بیویاں ہوں ان میں سے ایك کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسری کی طرف میلان کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گا کہ اس کی ایك جانب جھکی ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۷ : از بچھرایوں ضلع مراد آباد مکان حکیم غلام علی صاحب مرسلہ حکیم غلام احمد صاحب ۲۵رمضان مبارك ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ۱عدل بین الزوجین میں کھانے کی کیا صورت ہے آیا جو چیز ایك زوجہ کو کھانے کو دی وہی دوسرے کو بھی دے اگر چہ ازقسم مکلفات ہویا فقط معمولی غذا میں ۲مثلا ایك کو دوسری زوجہ سے خفیہ دودھ پلایا یا ثمار فصل کھلائے تو اسی قدر دوسری کو بھی دینا ضرور ہے یا یہ مستحب ہے اگر دوسری کو بھی دینا ضرور ہے تو صورت ذیل میں کچھ فرق ہے یانہیں مثلا۳ایك زوجہ نے زوج سے کسی چیز کی فرمائش کی چونکہ اس کی طبیعت اس چیز کے کھانے کو چاہتی تھی بایں وجہ خفیۃ دوسر ی زوجہ سے اسکی فرمائش کی پورا کردیا تو دوسری کو بھی شیئ مذکور کا کھلانا بذمہ زوج ضرور ہے یانہیں ۴اگر ضرور ہے تو اس میں کچھ فرق ہے یانہیں کہ اگر دوسری زوجہ بھی اس شیئ کی فرمائش کرتی تو اس کو بھی پورا کرتا اور اگر۵زوج اپنی خواہش طبیعت سے کچھ شیئ ایك زوجہ کو کبھی کوئی شیئ دوسری کو کھلاتا ہے مگر برابری نہیں ہے کہ جس قیمت اور جس لذت کی وہ شیئ ہے دوسری کو وہ نہیں ہے تو یہ جائز ہے یانہیں ۶ایك یہ صورت ہے کہ ایك زوجہ کھانا کھاتے وقت زوج کو کھانا پکاکرلاتی ہے دوسری نہیں آتی ہے خاطر ا اس کو ہر ترکاری سے قدرے قدرے کھلایا تو اس میں زوج گنہگار ہوا یا نہیں اور خفیہ میں یہ مصلحت ہے کہ دونوں زوجہ میں بغض نہیں پڑتا ہے اور زوج سے دونوں خوش رہتی ہیں کیونکہ ایك کی دوسری کو خبر نہیں ۔ جواب مدلل تحریر فرمائے۔
الجواب :
کھانا دو۲ قسم ہے ایك اصل نفقہ جوزوجہ کے لئے زوج پر واجب ہے دوسرا اس سے زائد مثل
حوالہ / References
درمختار باب القسم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۱
سُنن ابن کاجہ باب القسمۃ بین النساء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۳
سُنن ابن کاجہ باب القسمۃ بین النساء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۳
فواکہ وپان و الائچی وعطایا وہدایا قسم اول میں برابری صرف اس صورت میں واجب ہے جب دونوں عورتیں مال حا لت فقروغنا میں یکساں ہوں ورنہ لحاظ حا ل زوج کے ساتھ غنیہ کے لئے اس کے لائق واجب ہوگا اور فقیرہ کے لئے اس کے لائق مثلا زوج اور ایك زوجہ دونوں امیر کبیر ہیں کہ اپنے اپنے یہاں ان کی خوراك باقرخانی ومرغ پلاؤ ہے اور دوسری زوجہ فقیرہ ہے کہ جوار باجرے کی روٹی کھاتی ہے اور آپ پیستی پکاتی ہے ان دونوں کے نفقہ میں مساوات واجب نہیں ہوسکتی پہلی کے لئے وہی بریانی اور مرغ لازم ہے اور دوسری کے لئے گیہوں کی روٹی اور بکری کا گوشت پہلی کے لئے خادم بھی ضرور ہوگا دوسری آپ خدمت کرلے گی پہلی کریب اور زربفت پہنے گی دوسری کوتنزیب اور ساٹھن بہت ہے پہلی کے لئے مکان بھی عالی شان درکار ہوگا دوسری کے لئے متوسط۔ اور قسم دوم میں مطلقا برابری چاہئے جو چیز جتنی اور جیسی ایك کو دے اتنی ہی اور ویسی ہی دوسری کو بھی دے۔ دودھ چائے میوے پان چھالیا الائچی برف کی قلفیاں سرمہ مہندی وغیرہ وغیرہ تمام زوائد میں مساوات رکھے کہ وہاں فرق اصل وجوب میں تھا یہ اشیاء واجب نہیں ان میں ایك کو مرجح رکھنا اس کی طرف میل کرنا ہوگا اور میل ممنوع ہے فرمائشوں کا حال بھی یہیں سے واضح ہوگیا اگر اس نے وہ فرمائش اپنے نفقہ کے متعلق کی ہے اور وہ اسکی مستحق ہے اور دوسری مستحق نہیں تو اس پر لازم نہ ہو کہ دوسری کو بھی وہی چیز دے اور نفقہ سے زائدشے کی تو برابری درکار ہوگی کہ وہ بعد فرمائش بھی عطیہ کی حد سے خارج نہیں
وقد قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اکل بنیك نحلت مثل ھذا قال لاقال لاتشھد نی علی جور (ملخصا) فاذاکان التفضیل فی العطایا جورا ومیلافی البنین ففی الازواج اولی واحری۔
حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تونے پر بیٹے کو اس کی مثل تحفہ دیا۔ صحابی نے عرض کی کہ نہیں تو حضور نے فرمایا کہ مجھے ظلم پر گواہ مت بنا۔ جب تحائف میں کمی بیشی بیٹوں کے اندر ظلم ومیل قرار پائی تو بیویوں میں بدرجہ اولی ظلم ومیل ہوگی۔ (ت)
اور چھپاکر دینے سے دونوں کی رضا سمجھنی غلطی ہے بلکہ جسے چھپاچھپاکردے گا وہ جان لے گی کہ میری جگہ اس کے قلب میں زائد ہے وہ دوسری کا دبانے کی جرأت کرے گی اور یہ تخم فساد کا بونا ہوگا۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
وقد قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اکل بنیك نحلت مثل ھذا قال لاقال لاتشھد نی علی جور (ملخصا) فاذاکان التفضیل فی العطایا جورا ومیلافی البنین ففی الازواج اولی واحری۔
حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تونے پر بیٹے کو اس کی مثل تحفہ دیا۔ صحابی نے عرض کی کہ نہیں تو حضور نے فرمایا کہ مجھے ظلم پر گواہ مت بنا۔ جب تحائف میں کمی بیشی بیٹوں کے اندر ظلم ومیل قرار پائی تو بیویوں میں بدرجہ اولی ظلم ومیل ہوگی۔ (ت)
اور چھپاکر دینے سے دونوں کی رضا سمجھنی غلطی ہے بلکہ جسے چھپاچھپاکردے گا وہ جان لے گی کہ میری جگہ اس کے قلب میں زائد ہے وہ دوسری کا دبانے کی جرأت کرے گی اور یہ تخم فساد کا بونا ہوگا۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل حدیث النعمان بن بشیر عن النبی صلی اﷲعلیہ وسلم دارالفکر بیروت ۴ / ۲۶۸
سُنن النسائی کتاب النحل المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۱۲۶
سُنن النسائی کتاب النحل المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۱۲۶
یجب ان یعدل ای لایجوز فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ لافی المجامعۃ کالمحبۃ بل یستحب ۔
بیویوں میں عدل کرنا واجب ہے یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی لباس خوردونوش اور صحبت وموانست میں برابری کرے نہ کہ جماع میں مثل محبت کے بلکہ جما ع میں برابری مستحب ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر قال فی البدائع یجب علیہ التسویۃ فی الماکول والمشروب والسکنی والبیتوتۃ وھکذا ذکر الولوالجی والحق انہ علی قول من اعتبر حال الرجل وحدہ فی النفقۃ واما علی القول المفتی بہ من اعتبار حالھما فلا فان احدھما قدتکون غنیۃ والاخری فقیرۃ فلایلزم التسویۃ بینھما مطلقا فی النفقۃ اھ
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ یقول العبد الضعیف غفرلہ بقی لہ مجملان اخران الاول ان تستوی المرأتان یسار او اعسار ا وح لامحل للتفاضل بینھما بل تجب التسویۃ فی الماکول والمشروب والملبوس والسکنی ایضا کالبیوتۃ مطلقا والیہف الاشارۃ بقولہ فلایلزم التسویۃ
بحرمیں فرمایا کہ بدائع میں کہا ہے کہ کھانے پینے لباس رہائش اور شب باشی میں شوہر پر مساوات واجب ہے ولوالجی نے بھی یوں ذکرفرمایا اور حق یہ ہے کہ بے شك یہ اس کا قول ہے جس نے نفقہ میں فقط شوہر کے حال کا اعتبار کیا لیکن مفتی بہ قول میں چونکہ دونوں کا حل معتبر ہے تو اس کے مطابق نفقہ میں مطلقا مساوات واجب نہیں کیونکہ کبھی دو۲ بیویوں میں سے ایك مالدار اور دوسری فقیر ہوتی ہے تو ان میں برابری لازم نہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یوں ہے بندہ ضعیف کہتا ہے کہ اس کے دو محمل اور بھی ہیں ایك یہ کہ دونوں عورتیں امیری اور فقیری میں برابر ہوں تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقا برابری لازم ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس کے اس قول میں کہ ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقا برابری لازم نہیں اس بنیاد پر کہ “ مطلقا “ منفی کی طرف ناظر ہے نہ کہ نفی کی طرف
بیویوں میں عدل کرنا واجب ہے یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی لباس خوردونوش اور صحبت وموانست میں برابری کرے نہ کہ جماع میں مثل محبت کے بلکہ جما ع میں برابری مستحب ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر قال فی البدائع یجب علیہ التسویۃ فی الماکول والمشروب والسکنی والبیتوتۃ وھکذا ذکر الولوالجی والحق انہ علی قول من اعتبر حال الرجل وحدہ فی النفقۃ واما علی القول المفتی بہ من اعتبار حالھما فلا فان احدھما قدتکون غنیۃ والاخری فقیرۃ فلایلزم التسویۃ بینھما مطلقا فی النفقۃ اھ
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ یقول العبد الضعیف غفرلہ بقی لہ مجملان اخران الاول ان تستوی المرأتان یسار او اعسار ا وح لامحل للتفاضل بینھما بل تجب التسویۃ فی الماکول والمشروب والملبوس والسکنی ایضا کالبیوتۃ مطلقا والیہف الاشارۃ بقولہ فلایلزم التسویۃ
بحرمیں فرمایا کہ بدائع میں کہا ہے کہ کھانے پینے لباس رہائش اور شب باشی میں شوہر پر مساوات واجب ہے ولوالجی نے بھی یوں ذکرفرمایا اور حق یہ ہے کہ بے شك یہ اس کا قول ہے جس نے نفقہ میں فقط شوہر کے حال کا اعتبار کیا لیکن مفتی بہ قول میں چونکہ دونوں کا حل معتبر ہے تو اس کے مطابق نفقہ میں مطلقا مساوات واجب نہیں کیونکہ کبھی دو۲ بیویوں میں سے ایك مالدار اور دوسری فقیر ہوتی ہے تو ان میں برابری لازم نہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یوں ہے بندہ ضعیف کہتا ہے کہ اس کے دو محمل اور بھی ہیں ایك یہ کہ دونوں عورتیں امیری اور فقیری میں برابر ہوں تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقا برابری لازم ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس کے اس قول میں کہ ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقا برابری لازم نہیں اس بنیاد پر کہ “ مطلقا “ منفی کی طرف ناظر ہے نہ کہ نفی کی طرف
حوالہ / References
درمختار باب القسم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۱
ردالمحتار باب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۹۸
ف : جدالممتارمطبوعہ میں عبارت مختصر ہے خط کشیدہ عبارت مطبوعہ نسخہ میں نہیں ہے۔ نذیراحمد
ردالمحتار باب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۹۸
ف : جدالممتارمطبوعہ میں عبارت مختصر ہے خط کشیدہ عبارت مطبوعہ نسخہ میں نہیں ہے۔ نذیراحمد
بینھما مطلقا فی النفقۃ علی ان مطلقا ناظر الی المنفی دون النفی فیکون محصلہ سلب الاطلاق لا اطلاق السلب فانہ غیرسدید والثانی ان یراد مایزاد علی النفقۃ من الھدایا والعطایا فلامانع من ایجاب التسویۃ بینھما بل ھو الظاہر نفیا للمیل المنھی عنہ اھ ماکتبتہ وارجوان یکون صواباان شاء اﷲتعالی۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
پس اس کا ثمر سلب اطلاق ہوگانہ کہ اطلاق سلب کیونکہ وہ درست نہیں ۔ دوسرایہ کہ مراد وہ اشیاء ہوں جو اصل نفقہ سے زائد ہیں یعنی تحفے اور ہدیے وغیرہ تو اب دونوں کے درمیان برابری کو واجب ٹھرانے سے کوئی مانع نہیں بلکہ یہی ظاہر ہے اس میل کی نفی کے لئے جس سے رد کا گیا ہے میرے حاشیہ کی عبارت ختم ہوئی اور مجھے امید ہے ان شاء اﷲتعالی وہ درست ہوگا۔ اور اﷲسبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۸ : از شہر محلہ ربڑی ٹولہ مسئولہ احسان علی صاحب زردوز ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہندہ کی چند اولاد یں ہوئیں ان میں سے صرف ایك بچہ چند سال کا دائم المریض حیات ہے اس ہندہ کو مرض ایسا سخت لاحق ہے کہ ہر بار سخت تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے اور مس ہر بار وقت ولادت یہی تجویز کرتی ہے کہ یہ عورت ضرور مرجائے گی مگر شافی مطلق برحق ہربار بعد تکلیف بسیار وخرچ کثیر کے اچھا کردیتا ہے چنانچہ حال میں بعد ولادت وصحت کے ہندہ نے اپنی جان بچانے اور ہر بار غم وصدمہ سے بچنے کے لئے عہد کیا کہ اب میں اپنے زوج سے جماع نہ کروں گی تاکہ اسباب نطفہ نہ واقع ہو اور اپنے زوج سے کہا کہ تم کو صبر نہ آوے تو دوسری شادی کرلو اور جو مقدرت نہ ہوتو مجھے نان و نفقہ بھی نہ دو۔ پس شوہر نے کہا کہ اگر شرع شریف تجھ کو اس امرکی اجازت دے تو مضائقہ نہیں میں صبر کرلوں اور جو شرع اس عہد کی اجازت نہ دے تومیں اپنے حقوق اور منافع اور تیرے حقوق کو تلف ہرگز نہیں کرسکتا لہذاتحریر فرمائیں کہ شرعا کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
ایسی صورت میں شوہر ہندہ کے کہنے پر عمل کرسکتا ہے اور دوسری شادی کرلے اور ہندہ سے جدا رہے جب تك ہندہ راضی ہو اور نان نفقہ ہندہ کو بھی ضرور دے اگر ہندہ اس کے یہاں رہے اور اگر
پس اس کا ثمر سلب اطلاق ہوگانہ کہ اطلاق سلب کیونکہ وہ درست نہیں ۔ دوسرایہ کہ مراد وہ اشیاء ہوں جو اصل نفقہ سے زائد ہیں یعنی تحفے اور ہدیے وغیرہ تو اب دونوں کے درمیان برابری کو واجب ٹھرانے سے کوئی مانع نہیں بلکہ یہی ظاہر ہے اس میل کی نفی کے لئے جس سے رد کا گیا ہے میرے حاشیہ کی عبارت ختم ہوئی اور مجھے امید ہے ان شاء اﷲتعالی وہ درست ہوگا۔ اور اﷲسبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۸ : از شہر محلہ ربڑی ٹولہ مسئولہ احسان علی صاحب زردوز ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہندہ کی چند اولاد یں ہوئیں ان میں سے صرف ایك بچہ چند سال کا دائم المریض حیات ہے اس ہندہ کو مرض ایسا سخت لاحق ہے کہ ہر بار سخت تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے اور مس ہر بار وقت ولادت یہی تجویز کرتی ہے کہ یہ عورت ضرور مرجائے گی مگر شافی مطلق برحق ہربار بعد تکلیف بسیار وخرچ کثیر کے اچھا کردیتا ہے چنانچہ حال میں بعد ولادت وصحت کے ہندہ نے اپنی جان بچانے اور ہر بار غم وصدمہ سے بچنے کے لئے عہد کیا کہ اب میں اپنے زوج سے جماع نہ کروں گی تاکہ اسباب نطفہ نہ واقع ہو اور اپنے زوج سے کہا کہ تم کو صبر نہ آوے تو دوسری شادی کرلو اور جو مقدرت نہ ہوتو مجھے نان و نفقہ بھی نہ دو۔ پس شوہر نے کہا کہ اگر شرع شریف تجھ کو اس امرکی اجازت دے تو مضائقہ نہیں میں صبر کرلوں اور جو شرع اس عہد کی اجازت نہ دے تومیں اپنے حقوق اور منافع اور تیرے حقوق کو تلف ہرگز نہیں کرسکتا لہذاتحریر فرمائیں کہ شرعا کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
ایسی صورت میں شوہر ہندہ کے کہنے پر عمل کرسکتا ہے اور دوسری شادی کرلے اور ہندہ سے جدا رہے جب تك ہندہ راضی ہو اور نان نفقہ ہندہ کو بھی ضرور دے اگر ہندہ اس کے یہاں رہے اور اگر
حوالہ / References
جدالممتار حاشیہ ردالمحتار باب القسم حاشیہ نمبر٨٢١ المجمع السلامی مبارکپور انڈیا ۲ / ۴۵۰
ہندہ اپنا نفقہ ساقط کرے تو اختیار کہ نہ دے جب تك ہندہ پھر از سر نو مطالبہ پر نہ آئے اور اگر ہندہ اپنے والدین کے یہاں چلی جائے اور شوہر کے بلانے پر نہ آئے تو آپ ہی اس کا نفقہ ساقط ہے جب تك واپس نہ آئے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۹ : از کانپور طلاق محال مطب حکیم نورالدین صاحب مسئولہ عبید اﷲصاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نابالغہ ۱۲ سال کی جو مجامعت کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے اس کا ولی اسے شوہر کے یہاں جانے سے روك سکتا ہے یانہیں بینو اتوجروا
الجواب :
جب بارہ۱۲ سال کی ہے ضرور متحمل ہوسکتی ہے مگر کسی صورت نادرہ میں کہ بہت کمزور نازك ہوا ور مرد دیوقامت قوی الجثہ کہ واقعی عدم تحمل مظنون ہو تو اس صورت میں بیشك روك سکتا ہے اور عند الاختلاف اس کا فیصلہ رائے قاضی سے ہوگاوہ دیکھ کر تجویز کرے گا کہ عورت تحمل کرسکتی یانہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
قد صرحواعند نا بان الزوجۃ اذاکانت صغیرۃ لا تطیق الوطی لاتسلم الی الزوج حتی تطیقہ و الصحیح انہ غیر مقدر بالسن بل یفوض الی القاضی بالنظرالیھامن سمن اوھزال وقد منا عن التاتر خانیۃ ان بالغۃ اذاکانت لاتحمل لایؤمر بد فعھا الی الزوج ایضا فقولہ لاتتحمل یشمل مالوکان لضعفھا اوھزالھا اولکبرالتہ اھ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تحقیق انہوں نے تصریح فرمائی کہ زوجہ جب صغیرہ ہو اور وطی کی طاقت نہ رکھتی ہوتو اس کو شوہر کے حوالے نہیں کیا جائے گا جب تك کہ وہ وطی کے قابل نہ ہوجائے اور صحیح یہ ہے کہ اس میں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر چھوڑاجائے گاکہ وہ دیکھے کہ زوجہ قوی ہے یا کمزور۔ اورہم تاتارخانیہ سے سابق میں ذکر کرچکے ہیں کہ حوالے کرنے کا حکم نہیں دیاجائے گا اور اس کا قول کہ “ وہ وطی کی متحمل نہ ہو “ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے کہ وہ عدم تحمل چاہے تو عورت کی کمزوری کی وجہ سے یامرد کے آلہ کی بڑائی کی وجہ سے ہو۔ اوراﷲتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۹ : از کانپور طلاق محال مطب حکیم نورالدین صاحب مسئولہ عبید اﷲصاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نابالغہ ۱۲ سال کی جو مجامعت کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے اس کا ولی اسے شوہر کے یہاں جانے سے روك سکتا ہے یانہیں بینو اتوجروا
الجواب :
جب بارہ۱۲ سال کی ہے ضرور متحمل ہوسکتی ہے مگر کسی صورت نادرہ میں کہ بہت کمزور نازك ہوا ور مرد دیوقامت قوی الجثہ کہ واقعی عدم تحمل مظنون ہو تو اس صورت میں بیشك روك سکتا ہے اور عند الاختلاف اس کا فیصلہ رائے قاضی سے ہوگاوہ دیکھ کر تجویز کرے گا کہ عورت تحمل کرسکتی یانہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
قد صرحواعند نا بان الزوجۃ اذاکانت صغیرۃ لا تطیق الوطی لاتسلم الی الزوج حتی تطیقہ و الصحیح انہ غیر مقدر بالسن بل یفوض الی القاضی بالنظرالیھامن سمن اوھزال وقد منا عن التاتر خانیۃ ان بالغۃ اذاکانت لاتحمل لایؤمر بد فعھا الی الزوج ایضا فقولہ لاتتحمل یشمل مالوکان لضعفھا اوھزالھا اولکبرالتہ اھ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تحقیق انہوں نے تصریح فرمائی کہ زوجہ جب صغیرہ ہو اور وطی کی طاقت نہ رکھتی ہوتو اس کو شوہر کے حوالے نہیں کیا جائے گا جب تك کہ وہ وطی کے قابل نہ ہوجائے اور صحیح یہ ہے کہ اس میں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر چھوڑاجائے گاکہ وہ دیکھے کہ زوجہ قوی ہے یا کمزور۔ اورہم تاتارخانیہ سے سابق میں ذکر کرچکے ہیں کہ حوالے کرنے کا حکم نہیں دیاجائے گا اور اس کا قول کہ “ وہ وطی کی متحمل نہ ہو “ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے کہ وہ عدم تحمل چاہے تو عورت کی کمزوری کی وجہ سے یامرد کے آلہ کی بڑائی کی وجہ سے ہو۔ اوراﷲتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۹۹
مسئلہ ۱۱۰ : از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملك زاد گان مرسلہ مرزا حامد حسن صاحب ۲۶ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرو ایك شخص جس کی ایك لڑکی جوان ہے اور بہت جگہ سے پیغام نسبت کے اس کے پاس آئے لیکن اس نے سب کوجواب دیا اور زید کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی نسبت کردی بعد چند عرصہ کے عمر ومذکور نے زید کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی نسبت چھڑاکر دوسری جگہ پر یعنی بکر کے لڑکے سے کردی اب یہ نسبت جو آخر جگہ پر بکر کے لڑکے سے کی گئی ہے درست وجائز ہے یانہیں یا کہ اول عمرو کے لڑکے سے کہ جس کے ساتھ اس نے پہلے نسبت کردی تھی اس کی اجازت اور رضامندی لینا چاہئے اور اگر عمرو کا لڑکا اجازت نہ دے توبکر کے لڑکی کے نکاح میں تو کوئی نقص شرعی باقی نہیں رہا مفصل طور پر جواب مرحمت فرمائے۔ بینواتوجروا
الجواب :
نسبت صرف ایك اقرار ووعدہ ہے اور ایك جگہ نسبت کرکے چھڑا لینا خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے توبے ضرورت شرعی وحالت مجبوری سخت گناہ وحرام ہے ایسے ہی خلاف وعدہ کو حدیث میں علامات نفاق سے شمار کیا
کما بیناہ فی رسالتنا انباء الحذاق بمسالك النفاق و ھو محمل مافی الاشباہ من ان خلف الوعدہ حرام الخ۔ جیسا کہ ہم نے اس کواپنے رسالہ “ انباء الحذاق بمسالك النفاق “ میں بیان کیا ہے اور وہ جو اشباہ میں ہے وعدہ خلافی حرام ہے اس کا محمل بھی یہی ہے۔ الخ(ت)
اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصا امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازك معاملہ ہے خصوصا بے چاری شریف زادیوں کے لئے خصوصا بلاد ہندوستان میں پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج ونقصان ظاہر ہو نسبت چھڑالی جائے ورنہ اپنی زبان پالنے کےلئے ایك بے کس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنساناہوگا خصوصا جبکہ ضرورت دینی ہومثلا معلوم ہوا کہ جس سے نسبت قرار پائی رافضی وہابی اور کسی قسم کا بد مذہب ہے کہ اس صورت میں نسبت چھڑالینا شرعا لازم۔ قال تعالی :
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرو ایك شخص جس کی ایك لڑکی جوان ہے اور بہت جگہ سے پیغام نسبت کے اس کے پاس آئے لیکن اس نے سب کوجواب دیا اور زید کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی نسبت کردی بعد چند عرصہ کے عمر ومذکور نے زید کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی نسبت چھڑاکر دوسری جگہ پر یعنی بکر کے لڑکے سے کردی اب یہ نسبت جو آخر جگہ پر بکر کے لڑکے سے کی گئی ہے درست وجائز ہے یانہیں یا کہ اول عمرو کے لڑکے سے کہ جس کے ساتھ اس نے پہلے نسبت کردی تھی اس کی اجازت اور رضامندی لینا چاہئے اور اگر عمرو کا لڑکا اجازت نہ دے توبکر کے لڑکی کے نکاح میں تو کوئی نقص شرعی باقی نہیں رہا مفصل طور پر جواب مرحمت فرمائے۔ بینواتوجروا
الجواب :
نسبت صرف ایك اقرار ووعدہ ہے اور ایك جگہ نسبت کرکے چھڑا لینا خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے توبے ضرورت شرعی وحالت مجبوری سخت گناہ وحرام ہے ایسے ہی خلاف وعدہ کو حدیث میں علامات نفاق سے شمار کیا
کما بیناہ فی رسالتنا انباء الحذاق بمسالك النفاق و ھو محمل مافی الاشباہ من ان خلف الوعدہ حرام الخ۔ جیسا کہ ہم نے اس کواپنے رسالہ “ انباء الحذاق بمسالك النفاق “ میں بیان کیا ہے اور وہ جو اشباہ میں ہے وعدہ خلافی حرام ہے اس کا محمل بھی یہی ہے۔ الخ(ت)
اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصا امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازك معاملہ ہے خصوصا بے چاری شریف زادیوں کے لئے خصوصا بلاد ہندوستان میں پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج ونقصان ظاہر ہو نسبت چھڑالی جائے ورنہ اپنی زبان پالنے کےلئے ایك بے کس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنساناہوگا خصوصا جبکہ ضرورت دینی ہومثلا معلوم ہوا کہ جس سے نسبت قرار پائی رافضی وہابی اور کسی قسم کا بد مذہب ہے کہ اس صورت میں نسبت چھڑالینا شرعا لازم۔ قال تعالی :
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر باب حظر واباحت ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۰۹
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) وللعقیلی عن انس عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم ۔
اور اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس مت بیٹھ۔ اور عقیلی میں ہے کہ حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ نہ ان کے ہم مجلس بنو نہ کھانے پینے میں ان سے مشارکت کرو نہ ہی ان سے باہمی نکاح کرو۔ (ت)
لڑکی والوں کو تولحاظ مصالح واحتراز مفاسد زیادہ اہم ہے لڑکے والے بھی اگرترك میں مصلحت سمجھیں ترك کردیں حضور پرنور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ضباعہ بنت عامر بن قرط رضی اﷲتعالی عنہا کو نکاح کا پیغام دیا انہوں نے قبول کیا پھر حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو مصلحت پیش آئی ترك فرمایا۔
فی المواہب وشرحھا للعلامۃ الزرقانی السادسۃ ضباعۃ اسلمت قدیما بمکۃ وھا جرت وکانت من اجمل نساء العرب خطبھا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الی ابنھا سلمۃ بن ھشام فقال یا رسول اﷲتعالی علیك وسلم ماعنك مدفع افاستأمرھا قال نعم فاتاھا فقالت اﷲافی رسول صلی اﷲتعالی علیہ وسلم تستأمرنی انی ابتغی ان احشر مع ازواجہ ارجع الیہ فقل لہ نعم قبل ان یبدولہ فقیل للنبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انھا کبرت فلما عادابنھاوقد اذنت لہ
مواہب اور اس کی شرح زرقانی میں ہے کہ(جن عورتوں کو نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پیغام نکاح بھیجا مگر نکاح نہ فرمایا ان میں سے)چھٹی حضرت ضباعہ رضی اﷲتعالی عنہا ہیں وہ ابتدا ہی مکرمہ میں ایمان لے آئی تھیں پھر انہوں نے ہجرت کی وہ عرب کی حسین ترین عورتوں میں سے تھیں حضور انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان کے بیٹے سلمہ بن ہشام کو ان کے لئے پیغام نکاح دیا تواس(سلمہ)نے کہ یا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم!آپ سے کوئی مانع نہیں کہا میں اس(ضباعہ)سے مشورہ کرلوں حضور اکرم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں (مشورہ کرلو)چنانچہ وہ ضباعہ کے پاس آیا تو انہوں (ضباعہ)نے کہا کہ اﷲسے ڈر کیا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیتا ہے میں ان کی ازواج مطہرات کے ساتھ قیامت میں اٹھنا چاہتی ہوں آپ
اور اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس مت بیٹھ۔ اور عقیلی میں ہے کہ حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ نہ ان کے ہم مجلس بنو نہ کھانے پینے میں ان سے مشارکت کرو نہ ہی ان سے باہمی نکاح کرو۔ (ت)
لڑکی والوں کو تولحاظ مصالح واحتراز مفاسد زیادہ اہم ہے لڑکے والے بھی اگرترك میں مصلحت سمجھیں ترك کردیں حضور پرنور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ضباعہ بنت عامر بن قرط رضی اﷲتعالی عنہا کو نکاح کا پیغام دیا انہوں نے قبول کیا پھر حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو مصلحت پیش آئی ترك فرمایا۔
فی المواہب وشرحھا للعلامۃ الزرقانی السادسۃ ضباعۃ اسلمت قدیما بمکۃ وھا جرت وکانت من اجمل نساء العرب خطبھا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الی ابنھا سلمۃ بن ھشام فقال یا رسول اﷲتعالی علیك وسلم ماعنك مدفع افاستأمرھا قال نعم فاتاھا فقالت اﷲافی رسول صلی اﷲتعالی علیہ وسلم تستأمرنی انی ابتغی ان احشر مع ازواجہ ارجع الیہ فقل لہ نعم قبل ان یبدولہ فقیل للنبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انھا کبرت فلما عادابنھاوقد اذنت لہ
مواہب اور اس کی شرح زرقانی میں ہے کہ(جن عورتوں کو نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پیغام نکاح بھیجا مگر نکاح نہ فرمایا ان میں سے)چھٹی حضرت ضباعہ رضی اﷲتعالی عنہا ہیں وہ ابتدا ہی مکرمہ میں ایمان لے آئی تھیں پھر انہوں نے ہجرت کی وہ عرب کی حسین ترین عورتوں میں سے تھیں حضور انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان کے بیٹے سلمہ بن ہشام کو ان کے لئے پیغام نکاح دیا تواس(سلمہ)نے کہ یا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم!آپ سے کوئی مانع نہیں کہا میں اس(ضباعہ)سے مشورہ کرلوں حضور اکرم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں (مشورہ کرلو)چنانچہ وہ ضباعہ کے پاس آیا تو انہوں (ضباعہ)نے کہا کہ اﷲسے ڈر کیا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیتا ہے میں ان کی ازواج مطہرات کے ساتھ قیامت میں اٹھنا چاہتی ہوں آپ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
الضعفاء الکبیرللعقیلی ترجمہ احمد بن عمران نمبر ۱۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۲۶
الضعفاء الکبیرللعقیلی ترجمہ احمد بن عمران نمبر ۱۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۲۶
سکت عنھا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فلم ینکحھا رضی اﷲتعالی عنہا ملخصا۔
کی طرف واپس جااور قبل اس کے آپ کے لئے کوئی نئی بات ظاہر ہو ہاں کہہ دے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ(ضباعہ)عمر رسیدہ ہیں ۔ چنانچہ جب ان کا بیٹا واپس آیا اس حال میں کہ انہوں نے نکاح کی اجازت دے دی تو نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ا ور ان سے نکاح نہ فرمایا اھ ملخصا(ت)
اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے
وھو محمل مافی ردالمحتار من ھنا تعلم ان خلف الوعد مکروہ لاحرام وفی الذخیرۃ یکرہ تنزیھا لانہ خلف الوعد ویستحب الوفاء بالعھد ۔
اور یہی محمل ہے اس کا جو ردالمحتار میں ہے یہاں سے توجان جائے گا کہ وعدہ خلافی مکروہ نہ کہ حرام اور ذخیرہ میں ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ یہ خلف وعد ہے اور وفاء عہد مستحب ہے(ت)
یہ بات اس تقدیر پربے جاوخلاف مروت ہے مگر حرام وگناہ نہیں حضور پرنور سیدالعالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعدالرجل ومن نیتہ ان لایفی ۔ رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی اﷲتعالی عنہ بسند حسن۔
وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی نیت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس کو ابویعلی نے اپنے مسند میں حضرت زید ارقم رضی اﷲتعالی عنہ سے بسند حسن روایت فرمایا۔ (ت)
اس صورت میں یہ کراہت ہی دفع ہوگی کہ پہلے جہاں نسبت کی تھی وہ بخوشی اجازت دے دیں یہ تو نسبت چھڑانے کا حکم تھا رہادوسری جگہ نکاح کرنا اس میں کسی طرح کوئی خلل نہیں خواہ یہاں تینوں صور مذکورہ سے کوئی صورت واقع ہوکہ نسبت بہر حال صرف وعدہ ہی وعدہ تھی کوئی عقد نہ تھی کہ اب بے موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہ ہوسکے ہاں جب تك وہاں سے نسبت چھوٹ نہ جائے دوسروں کو پیام دینے کی ممانعت ہے
کی طرف واپس جااور قبل اس کے آپ کے لئے کوئی نئی بات ظاہر ہو ہاں کہہ دے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ(ضباعہ)عمر رسیدہ ہیں ۔ چنانچہ جب ان کا بیٹا واپس آیا اس حال میں کہ انہوں نے نکاح کی اجازت دے دی تو نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ا ور ان سے نکاح نہ فرمایا اھ ملخصا(ت)
اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے
وھو محمل مافی ردالمحتار من ھنا تعلم ان خلف الوعد مکروہ لاحرام وفی الذخیرۃ یکرہ تنزیھا لانہ خلف الوعد ویستحب الوفاء بالعھد ۔
اور یہی محمل ہے اس کا جو ردالمحتار میں ہے یہاں سے توجان جائے گا کہ وعدہ خلافی مکروہ نہ کہ حرام اور ذخیرہ میں ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ یہ خلف وعد ہے اور وفاء عہد مستحب ہے(ت)
یہ بات اس تقدیر پربے جاوخلاف مروت ہے مگر حرام وگناہ نہیں حضور پرنور سیدالعالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعدالرجل ومن نیتہ ان لایفی ۔ رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی اﷲتعالی عنہ بسند حسن۔
وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی نیت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس کو ابویعلی نے اپنے مسند میں حضرت زید ارقم رضی اﷲتعالی عنہ سے بسند حسن روایت فرمایا۔ (ت)
اس صورت میں یہ کراہت ہی دفع ہوگی کہ پہلے جہاں نسبت کی تھی وہ بخوشی اجازت دے دیں یہ تو نسبت چھڑانے کا حکم تھا رہادوسری جگہ نکاح کرنا اس میں کسی طرح کوئی خلل نہیں خواہ یہاں تینوں صور مذکورہ سے کوئی صورت واقع ہوکہ نسبت بہر حال صرف وعدہ ہی وعدہ تھی کوئی عقد نہ تھی کہ اب بے موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہ ہوسکے ہاں جب تك وہاں سے نسبت چھوٹ نہ جائے دوسروں کو پیام دینے کی ممانعت ہے
حوالہ / References
شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ ذکر صفیہ ام المومنین دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۷۰
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۰۲
کنز العمال بحوالہ ع عن زید بن ارقم حدیث ٦٨٧١ مؤسسۃالرسالۃ بیروت ۳ / ۳۴۷
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۰۲
کنز العمال بحوالہ ع عن زید بن ارقم حدیث ٦٨٧١ مؤسسۃالرسالۃ بیروت ۳ / ۳۴۷
رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح اویترک ۔ اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کوئی مرد اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے یہاں تك کہ وہ نکاح کرلے یا چھوڑدے۔ شیخین نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ (ت)
یہ جدا بات ہے مگر نکاح بے نسبت چھڑائے بھی کردیاجائے گا تو نکاح میں کچھ نقص نہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ )
مسئلہ ۱۱۱ : موضع علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ کوٹ نجیب اﷲخاں مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۲۳رمضان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت یانکاح کے وقت جو روپیہ لوگ لیتے ہیں حلال ہے یانہیں
الجواب :
اگر وہ روپیہ دینے والا اس لئے دیتا ہے کہ اس کے لالچ سے میرے ساتھ نکاح کردیں جب تو وہ رشوت ہے اس کا دینا لینا سب ناجائز وحرام۔
فی الھندیۃ انفق علی طمع ان یتزوجھا قال الاستاذ قاضی خاں الاصح انہ یرجع علیھا زوجت نفسھا اولم تزوج لانھا رشوۃ اھ ملخصا۔
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس طمع پر خرچہ دیا کہ وہ اس سے نکاح کرے گی تو امام استاذ(قاضی خاں )نے فرمایا کہ اصح یہی ہے کہ وہ اس عورت سے واپس لے سکتا ہے وہ عورت اس سے نکاح کرے یا نہ کرے کیونکہ یہ رشوت ہے اھ ملخصا(ت)
یوں ہی اگر اولیائے عورت نے کہاکہ اتنا روپیہ ہمیں دے تو تجھ سے نکاح کردیں گے ورنہ نہیں جیسا کہ بعض دہقانی جاہلوں میں کفار ہنود سے سیکھ کر رائجہ تو یہ بھی رشوت و حرام ہے
فی الھندیۃ خطب امرأۃ بیت اخیھا فابی ان یدفعھا
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس کے بھائی کے گھر
لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح اویترک ۔ اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کوئی مرد اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے یہاں تك کہ وہ نکاح کرلے یا چھوڑدے۔ شیخین نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ (ت)
یہ جدا بات ہے مگر نکاح بے نسبت چھڑائے بھی کردیاجائے گا تو نکاح میں کچھ نقص نہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ )
مسئلہ ۱۱۱ : موضع علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ کوٹ نجیب اﷲخاں مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۲۳رمضان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت یانکاح کے وقت جو روپیہ لوگ لیتے ہیں حلال ہے یانہیں
الجواب :
اگر وہ روپیہ دینے والا اس لئے دیتا ہے کہ اس کے لالچ سے میرے ساتھ نکاح کردیں جب تو وہ رشوت ہے اس کا دینا لینا سب ناجائز وحرام۔
فی الھندیۃ انفق علی طمع ان یتزوجھا قال الاستاذ قاضی خاں الاصح انہ یرجع علیھا زوجت نفسھا اولم تزوج لانھا رشوۃ اھ ملخصا۔
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس طمع پر خرچہ دیا کہ وہ اس سے نکاح کرے گی تو امام استاذ(قاضی خاں )نے فرمایا کہ اصح یہی ہے کہ وہ اس عورت سے واپس لے سکتا ہے وہ عورت اس سے نکاح کرے یا نہ کرے کیونکہ یہ رشوت ہے اھ ملخصا(ت)
یوں ہی اگر اولیائے عورت نے کہاکہ اتنا روپیہ ہمیں دے تو تجھ سے نکاح کردیں گے ورنہ نہیں جیسا کہ بعض دہقانی جاہلوں میں کفار ہنود سے سیکھ کر رائجہ تو یہ بھی رشوت و حرام ہے
فی الھندیۃ خطب امرأۃ بیت اخیھا فابی ان یدفعھا
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس کے بھائی کے گھر
حوالہ / References
صحیح بخاری باب لایخطب علی خطبہ اخیہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الحادی عشرفی المتفرقات نورانی کتب خانہ کراچی۳ / ۴۰۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الحادی عشرفی المتفرقات نورانی کتب خانہ کراچی۳ / ۴۰۳
حتی یدفع دراھم فدفع وتزوجھا یرجع بمادفع لانھا رشوۃ کذافی القنیۃ ۔
پیغام نکاح بھیجا تو اس کے بھائی نے اس شرط پر نکاح دینے کا اظہار کیا کہ وہ اس عورت کے بھائی کو کچھ درہم دے تو اس شخص نے وہ درہم دے دئے تو اس کے بھائی نے اس کانکاح اس مردسے کردیا اب وہ درہم واپس لے سکتا ہے کیونکہ یہ رشوت ہے۔ ایسے ہی قنیہ میں بھی ہے۔ (ت)
اور اگر یہ صورتیں نہیں بلکہ رسم ہے کہ نکاح سے پہلے دولہا کی طرف سے کچھ روپیہ دلہن کی طرف جائے جیسے ہمارے بلاد میں گہنا اور جوڑا جاتا ہے جسے چڑھاوا کہتے ہیں اگر نکاح ہوجائے تو ہوجائے ورنہ وہ مال واپس دیاجائے تو اس میں کچھ حرج نہیں اور اس کا وہی حکم ہے کہ اگر نکاح ٹھہرے گا تو واپس دیاجائے گا۔
فی الھندیۃ سئل من علی بن احمد عمن ارسل الی اھل خطیبتہ دنانیر ثم اتخذوالہ ثیابا کما ھو العادۃ ثم بعد ذلك یقول ھو نقد تھا من المھر ھل یکون القول قولہ فقال القول قول الباعث قیل لہ لودفع الیھم دنانیر فقال انفقوا البعض الی اجرۃ الحائك والبعض الی ثمن الشاۃ للشراء والبعض الی الجوزقۃ کما ھو العادۃ ثم فعلواذلك فزفت الیہ ثم بعد ذلك یدعی انی بعثت الدنانیر لاجل المھر یقبل قولہ قال اذا صرح بالقول لایقبل قولہ فی التعیین وسئل ابوحامد عن رجل خطب لابنہ خطیبۃ وبعث
ہندیہ میں ہے کہ علی بن احمد سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی منگیتر والوں کو کچھ دینار بھیجے پھر انہوں نے حسب عادت اس شخص کے لئے کپڑے بنادئے اب وہ کہتا ہے کہ میں نے دینار مہر میں دئے تھے تو کیا اس کاقول معتبر ہوگا تو انہوں نے کہا کہ بھیجنے والے کی بات معتبر ہوگی عرض کی گئی کہ اگر وہ منگیتر والوں کو دینار دے کر کہے کہ اس میں سے کچھ جولا ہے کی مزدوری میں خرچ کردوکچھ بکری خرید لو اسکی قیمت میں خرچ کردو اور دیگر رسم ورواج میں حسب عادت خرچ کردو پھر اہل مخطوبہ نے ایسا ہی کیا اور وہ عورت اس کے پاس بھیج دی گئی اب وہ کہتا ہے کہ میں نے وہ دینار مہرمیں بھیجے تھے تو کیا اس کا قول تسلیم کیا جائے گا آپ نے فرمایا کہ جب اس نے قول کے ساتھ تصریح کردی ہے تو اب تعیین میں اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔ امام ابوحامد سے پوچھا گیا کہ ایك شخص نے اپنے لڑکے
پیغام نکاح بھیجا تو اس کے بھائی نے اس شرط پر نکاح دینے کا اظہار کیا کہ وہ اس عورت کے بھائی کو کچھ درہم دے تو اس شخص نے وہ درہم دے دئے تو اس کے بھائی نے اس کانکاح اس مردسے کردیا اب وہ درہم واپس لے سکتا ہے کیونکہ یہ رشوت ہے۔ ایسے ہی قنیہ میں بھی ہے۔ (ت)
اور اگر یہ صورتیں نہیں بلکہ رسم ہے کہ نکاح سے پہلے دولہا کی طرف سے کچھ روپیہ دلہن کی طرف جائے جیسے ہمارے بلاد میں گہنا اور جوڑا جاتا ہے جسے چڑھاوا کہتے ہیں اگر نکاح ہوجائے تو ہوجائے ورنہ وہ مال واپس دیاجائے تو اس میں کچھ حرج نہیں اور اس کا وہی حکم ہے کہ اگر نکاح ٹھہرے گا تو واپس دیاجائے گا۔
فی الھندیۃ سئل من علی بن احمد عمن ارسل الی اھل خطیبتہ دنانیر ثم اتخذوالہ ثیابا کما ھو العادۃ ثم بعد ذلك یقول ھو نقد تھا من المھر ھل یکون القول قولہ فقال القول قول الباعث قیل لہ لودفع الیھم دنانیر فقال انفقوا البعض الی اجرۃ الحائك والبعض الی ثمن الشاۃ للشراء والبعض الی الجوزقۃ کما ھو العادۃ ثم فعلواذلك فزفت الیہ ثم بعد ذلك یدعی انی بعثت الدنانیر لاجل المھر یقبل قولہ قال اذا صرح بالقول لایقبل قولہ فی التعیین وسئل ابوحامد عن رجل خطب لابنہ خطیبۃ وبعث
ہندیہ میں ہے کہ علی بن احمد سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی منگیتر والوں کو کچھ دینار بھیجے پھر انہوں نے حسب عادت اس شخص کے لئے کپڑے بنادئے اب وہ کہتا ہے کہ میں نے دینار مہر میں دئے تھے تو کیا اس کاقول معتبر ہوگا تو انہوں نے کہا کہ بھیجنے والے کی بات معتبر ہوگی عرض کی گئی کہ اگر وہ منگیتر والوں کو دینار دے کر کہے کہ اس میں سے کچھ جولا ہے کی مزدوری میں خرچ کردوکچھ بکری خرید لو اسکی قیمت میں خرچ کردو اور دیگر رسم ورواج میں حسب عادت خرچ کردو پھر اہل مخطوبہ نے ایسا ہی کیا اور وہ عورت اس کے پاس بھیج دی گئی اب وہ کہتا ہے کہ میں نے وہ دینار مہرمیں بھیجے تھے تو کیا اس کا قول تسلیم کیا جائے گا آپ نے فرمایا کہ جب اس نے قول کے ساتھ تصریح کردی ہے تو اب تعیین میں اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔ امام ابوحامد سے پوچھا گیا کہ ایك شخص نے اپنے لڑکے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الحادی عشر فی المتفرقات کتاب الہبۃ نورانی کتب خانہ کراچی ۴ / ۴۰۳
الیھا دراھم ثم مات الاب وطلب سائر الورثۃ لا میراث من ھذا المال المبعوث فقال ان تمت الوصلۃ بینھما فھو ملك لابنہ وان لم تتم فھو میراث وان کان الاب حیایرجع الی بیانہ وسئل والدی عمن بعث الی الخطیبۃ سکرا وجوزاوتمرا و غیرھا ثم بدالھم فترکو ا المعاقدۃ ھل لھذا الخاطب ان یرجع علیھم باسترداد مادفع فقال ان فرق ذلك علی الناس باذن الدافع لیس لہ حق الرجوع وان لم یأذن لہ فی ذلك فلہ ذلك کذافی التتارخانیۃ اھ قولہ فھو ملك لابنہ اقول : انت تعلم ان ھذا یرادعلی العرف فان کان العرف ان یراد بذلك تملیك العروس فھو ملکھا لاملك الزوج کما لایخفی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کے لئے کسی لڑکی سے منگنی کی اور اس لڑکی کوکچھ درہم بھیجے پھر یہ باپ مرگیا تو اس کے وارثوں نے اس مال سے میراث طلب کی جو لڑکی کو بھیجی گئی تھی توامام ابو حامد نے فرمایا کہ اگر ان دونوں میں تعلق تام ہوگیا ہے تو وہ مال اس کے بیٹے کی ملك ہوگا اور اگر تعلق تام نہیں ہوا تو وہ میراث ہوگا اور اگر باپ زندہ ہوتو اس کے بیان کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اور میرے والد سے پوچھا گی اکہ ایك مرد نے اپنی منگیتر کی طرف شکر اخروٹ بادام اور چھوہارے وغیرہ بھیجے پھر مرد والوں کی رائے میں آیا تو انہوں نے عقد ترك کردیا تو اکی اب اس مرد(خاطب)کے لئے جائز ہے کہ وہ یہ بھیجی ہوئی چیزیں واپس لے تو انہوں نے فرمایا کہ اگر لڑکی والوں نے یہ چیز اس مرد کے کہنے سے لوگوں میں تقسیم کردی ہیں تو وہ واپس لینے کا حق نہیں رکھتا اور اگر اس نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تو واپس لینے کا حق رکھتا ہے ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے اھ اس کا قول کہ وہ بیٹے کی ملك ہوگا اقول : (میں کہتا ہوں )آپ کو معلوم ہے کہ اس کا دارومدار عرف پر ہے اگر عرف میں اس مراد دلہن کی ملکیت ہوتا ہے توا س کی ملك ہوگا نہ لڑکے کی جیسا کہ مخفی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
کے لئے کسی لڑکی سے منگنی کی اور اس لڑکی کوکچھ درہم بھیجے پھر یہ باپ مرگیا تو اس کے وارثوں نے اس مال سے میراث طلب کی جو لڑکی کو بھیجی گئی تھی توامام ابو حامد نے فرمایا کہ اگر ان دونوں میں تعلق تام ہوگیا ہے تو وہ مال اس کے بیٹے کی ملك ہوگا اور اگر تعلق تام نہیں ہوا تو وہ میراث ہوگا اور اگر باپ زندہ ہوتو اس کے بیان کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اور میرے والد سے پوچھا گی اکہ ایك مرد نے اپنی منگیتر کی طرف شکر اخروٹ بادام اور چھوہارے وغیرہ بھیجے پھر مرد والوں کی رائے میں آیا تو انہوں نے عقد ترك کردیا تو اکی اب اس مرد(خاطب)کے لئے جائز ہے کہ وہ یہ بھیجی ہوئی چیزیں واپس لے تو انہوں نے فرمایا کہ اگر لڑکی والوں نے یہ چیز اس مرد کے کہنے سے لوگوں میں تقسیم کردی ہیں تو وہ واپس لینے کا حق نہیں رکھتا اور اگر اس نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تو واپس لینے کا حق رکھتا ہے ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے اھ اس کا قول کہ وہ بیٹے کی ملك ہوگا اقول : (میں کہتا ہوں )آپ کو معلوم ہے کہ اس کا دارومدار عرف پر ہے اگر عرف میں اس مراد دلہن کی ملکیت ہوتا ہے توا س کی ملك ہوگا نہ لڑکے کی جیسا کہ مخفی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب اختلاف الزوجین فی المہر مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۲۲
بسم اﷲالرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۱۲ : از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۹ صفر ۱۳۱۲ھ
حمد کے لائق ہے وہ اك پاك ذات جس نے پیدا کی یہ ساری ممکنات
اور حبیب اپنے کو بس پیدا کیا جس سے عالم میں ہوئے نوروضیا
محمد یعقوب علی خاں خلف پیر محمد خاں مرحوم نظامی چشتی قادری خدمت فیض موہب میں عرض پرواز ہے کہ یہ فتوی نوشتہ مولوی عبد الرحیم دہلوی نظر احقر سے گزرا اس کے مضمون سے اکثر ساکنان ہند اہل اسلام پرگناہ درکنار کفر عائد ہوتا ہے اس واسطے عبارت فتوی خدمت شریف میں روانہ کرکے طالب جواب ہوں کہ تسکین خاطر کی جائے ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) (بیشك اﷲتعالی احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ت)
مسئلہ ۱۱۲ : از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۹ صفر ۱۳۱۲ھ
حمد کے لائق ہے وہ اك پاك ذات جس نے پیدا کی یہ ساری ممکنات
اور حبیب اپنے کو بس پیدا کیا جس سے عالم میں ہوئے نوروضیا
محمد یعقوب علی خاں خلف پیر محمد خاں مرحوم نظامی چشتی قادری خدمت فیض موہب میں عرض پرواز ہے کہ یہ فتوی نوشتہ مولوی عبد الرحیم دہلوی نظر احقر سے گزرا اس کے مضمون سے اکثر ساکنان ہند اہل اسلام پرگناہ درکنار کفر عائد ہوتا ہے اس واسطے عبارت فتوی خدمت شریف میں روانہ کرکے طالب جواب ہوں کہ تسکین خاطر کی جائے ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) (بیشك اﷲتعالی احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۲۰
خلاصہ فتوی یہ ہے جانو اے مسلمانو! نکاح بیوہ کا ثابت ہے قرآن مجید وحدیث شریف سے فرمایا اﷲتعالی نے : و انكحوا الایامى منكم یعنی نکاح کردو بیوہ عورتوں کا۔ اور فرمایا حضرت رسول خدا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے :
النکاح سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی ۔
نکاح کرنا میری سنت ہے اور جس نے منہ پھیرا میرے طریقہ سے یعنی انکار کیا سو وہ مجھ سے نہیں ۔
پس جو لوگ اس سے انکار کریں یا عیب اور برا جانیں یا کرنے والوں پر طعن کریں حقیر جانیں ذات سے نکالیں یا نکاح کرنے والوں کو روك دیں نہ کرنے دیں یا ایسی فساد کی بات اٹھائیں جس سے حکم خدا اور سنت رسول جاری نہ ہو اورکافروں کی رسم قائم رہے یا جاہلوں کے کہنے سننے کا خیال کرکے خدا اور رسول کا حکم قبول نہ کریں سو یہ سب قسم کے لوگ کافر ہیں عورتیں انکی نکاح سے باہر ہوجاتی ہیں نماز روزہ کچھ قبول نہیں کھانا پینا ان لوگوں کے ساتھ ہرگز درست نہیں جب تك توبہ نہ کریں اس واسطے کہ ان سب صورتو ں میں انکار حکم خدا اور تحقیر سنت لازم آتی ہے اور یہ ظاہر کفر ہے جیسا کہ تمام کتابوں میں لکھا اور آیت مذکور کی تفسیر میں آیا ہے کہ جو کوئی عیب جانے دوسرے نکاح کو وہ بے ایمان ہے پس سب مسلمانوں کو واجب ہے کہ جن لوگوں کے گھر میں بیوہ عورت لائق نکاح کے ہو ان کو سمجھا دیں اور نصیحت کردیں اور جو نہ مانیں تو تعزیر دیں اور جو تعزیر کا قابوں نہ چلے تو ان کے گھر کا کھانا پینا بولنا سلام علیك کرنا سب چھوڑدیں اور اپنی شادی غمی میں ان کونہ بلائیں اور نہ ان کے جنازے پرجائیں اگر ایسا نہ کریں گے تو یہ بھی ان کے ساتھ دنیا وعاقبت کے وبال میں گرفتا ہوں گے سوائے بھائیوں ! نکاح رانڈوں کا کردو اور جونہ مانے اس سے ملنا چھوڑدو اور ذات سے ڈال دو نہیں تو تمہارے بھی ایمان جانے کاخوف ہے مکہ کے سو اسوبزرگوں نے یہ فتوی بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اب بھی جو لوگ نہ مانیں گے دنیا میں بے عزت اور تباہ ہوجائیں گے اور آخر کو بے ایمان مریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہو اکہ اسی سال ۱۲۸۸ھ میں عشاء کے وقت ہزار آدمیوں نے دیکھا کہ ایك سرخی بڑی شدت کی مدینہ مبارك کی طرف نمودار ہوئی اور بڑی دیر تك رہی پھر تمام آسمان میں پھیل گئی اس ہیبت کی تھی کہ ا س کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا مکہ شریف میں تمام بزرگوں نے فرمایا کہ بڑا بھاری
النکاح سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی ۔
نکاح کرنا میری سنت ہے اور جس نے منہ پھیرا میرے طریقہ سے یعنی انکار کیا سو وہ مجھ سے نہیں ۔
پس جو لوگ اس سے انکار کریں یا عیب اور برا جانیں یا کرنے والوں پر طعن کریں حقیر جانیں ذات سے نکالیں یا نکاح کرنے والوں کو روك دیں نہ کرنے دیں یا ایسی فساد کی بات اٹھائیں جس سے حکم خدا اور سنت رسول جاری نہ ہو اورکافروں کی رسم قائم رہے یا جاہلوں کے کہنے سننے کا خیال کرکے خدا اور رسول کا حکم قبول نہ کریں سو یہ سب قسم کے لوگ کافر ہیں عورتیں انکی نکاح سے باہر ہوجاتی ہیں نماز روزہ کچھ قبول نہیں کھانا پینا ان لوگوں کے ساتھ ہرگز درست نہیں جب تك توبہ نہ کریں اس واسطے کہ ان سب صورتو ں میں انکار حکم خدا اور تحقیر سنت لازم آتی ہے اور یہ ظاہر کفر ہے جیسا کہ تمام کتابوں میں لکھا اور آیت مذکور کی تفسیر میں آیا ہے کہ جو کوئی عیب جانے دوسرے نکاح کو وہ بے ایمان ہے پس سب مسلمانوں کو واجب ہے کہ جن لوگوں کے گھر میں بیوہ عورت لائق نکاح کے ہو ان کو سمجھا دیں اور نصیحت کردیں اور جو نہ مانیں تو تعزیر دیں اور جو تعزیر کا قابوں نہ چلے تو ان کے گھر کا کھانا پینا بولنا سلام علیك کرنا سب چھوڑدیں اور اپنی شادی غمی میں ان کونہ بلائیں اور نہ ان کے جنازے پرجائیں اگر ایسا نہ کریں گے تو یہ بھی ان کے ساتھ دنیا وعاقبت کے وبال میں گرفتا ہوں گے سوائے بھائیوں ! نکاح رانڈوں کا کردو اور جونہ مانے اس سے ملنا چھوڑدو اور ذات سے ڈال دو نہیں تو تمہارے بھی ایمان جانے کاخوف ہے مکہ کے سو اسوبزرگوں نے یہ فتوی بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اب بھی جو لوگ نہ مانیں گے دنیا میں بے عزت اور تباہ ہوجائیں گے اور آخر کو بے ایمان مریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہو اکہ اسی سال ۱۲۸۸ھ میں عشاء کے وقت ہزار آدمیوں نے دیکھا کہ ایك سرخی بڑی شدت کی مدینہ مبارك کی طرف نمودار ہوئی اور بڑی دیر تك رہی پھر تمام آسمان میں پھیل گئی اس ہیبت کی تھی کہ ا س کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا مکہ شریف میں تمام بزرگوں نے فرمایا کہ بڑا بھاری
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۷ ، صحیح مسلم کتاب النکاح باب استحباب النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۹ ، سُنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۷ ، صحیح مسلم کتاب النکاح باب استحباب النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۹ ، سُنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
غضب نازل ہونے والا ہے سو ایك بزرگ کو خواب میں الہام ہوا کہ یہ سرخی ہندوستان کی بیوہ عورتوں کا خون جمع ہوکر جناب رسول خدا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے فریاد کرنے آیا تھا سو عنقریب ان مسلمانوں پر غضب آنے والاہے جلد نکاح کردیں ورنہ بھاری وبا آئے گی اور قحط پڑے گا کہ اکثر یزید کی طرح غارت ہوجائیں گے۔ الہی! سب مسلمانوں کو ہدایت کر اور غضب سے بچا آمین یارب العالمین برحمتك یا ارحم الراحمین۔ اللھم ھدایۃ الحق والصواب
الجواب :
اس مسئلہ میں جاہلان ہنددو۲ فرقے ہوگئے ہیں : ۱اہل تفریط کہ نکاح بیوہ کو ہنود کی طرح سخت ننگ وعار جانتے اور معاذ اﷲ حرام سے بھی زائد اس سے پرہیز کرتے ہیں نوجوان لڑکی بیوہ ہوگئی اگر چہ شوہر کا منہ بھی نہ دیکھا ہو اب عمربھر یونہی ذبح ہوتی رہے ممکن ہے کہ نکاح کا حرف بھی زبان پر نہ لاسکے اگر ہزار میں ایك آدھ نے خوف خدا وترس روز جزا کرکے اپنا دین سنبھالنے کو(کہ حدیث میں آیا :
من تزوج فقد استکمل نصف دینہ فلیتق اﷲفی نصف الباقی ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم والبیہقی عن انس رضی اﷲتعالی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
جس نے نکاح کیا اس نے اپنا آدھادین پورا کرلیا باقی آدھے میں اﷲ سے ڈرے(اس کو کبیر میں امام طبرانی نے اور امام حاکم وبیہقی نے حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔ (ت)
نکاح کرلیا اس پر چار طرف سے طعن تشنیع کی بوچھار ہے بیچاری کو کسی مجلس میں جانا بلکہ اپنے کنبے میں منہ دکھانا دشوار ہے کل تك فلاں بیگم یا فلاں بانولقب تھا اب دوخصمی کی پکارہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم یہ برا کرتے اور بے شك بہت برا کرتے ہیں باتباع کفار ایك بیہودہ رسم ٹھہرا لینی پھر اس کی بناپر مباح شرعی پر اعتراض بلکہ بعض صور میں ادائے واجب سے اعراض کسی جہالت اور نہایت خوفناك حالت ہے پھر حاجت والی جوان عورتیں اگر روکی گئیں اور معاذاﷲ بشامت نفس کسی گناہ میں مبتلاہوئیں تو اس کا وبال ان روکنے والوں پر پڑے گا کہ یہ اس گناہ کے باعث ہوئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الجواب :
اس مسئلہ میں جاہلان ہنددو۲ فرقے ہوگئے ہیں : ۱اہل تفریط کہ نکاح بیوہ کو ہنود کی طرح سخت ننگ وعار جانتے اور معاذ اﷲ حرام سے بھی زائد اس سے پرہیز کرتے ہیں نوجوان لڑکی بیوہ ہوگئی اگر چہ شوہر کا منہ بھی نہ دیکھا ہو اب عمربھر یونہی ذبح ہوتی رہے ممکن ہے کہ نکاح کا حرف بھی زبان پر نہ لاسکے اگر ہزار میں ایك آدھ نے خوف خدا وترس روز جزا کرکے اپنا دین سنبھالنے کو(کہ حدیث میں آیا :
من تزوج فقد استکمل نصف دینہ فلیتق اﷲفی نصف الباقی ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم والبیہقی عن انس رضی اﷲتعالی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
جس نے نکاح کیا اس نے اپنا آدھادین پورا کرلیا باقی آدھے میں اﷲ سے ڈرے(اس کو کبیر میں امام طبرانی نے اور امام حاکم وبیہقی نے حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔ (ت)
نکاح کرلیا اس پر چار طرف سے طعن تشنیع کی بوچھار ہے بیچاری کو کسی مجلس میں جانا بلکہ اپنے کنبے میں منہ دکھانا دشوار ہے کل تك فلاں بیگم یا فلاں بانولقب تھا اب دوخصمی کی پکارہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم یہ برا کرتے اور بے شك بہت برا کرتے ہیں باتباع کفار ایك بیہودہ رسم ٹھہرا لینی پھر اس کی بناپر مباح شرعی پر اعتراض بلکہ بعض صور میں ادائے واجب سے اعراض کسی جہالت اور نہایت خوفناك حالت ہے پھر حاجت والی جوان عورتیں اگر روکی گئیں اور معاذاﷲ بشامت نفس کسی گناہ میں مبتلاہوئیں تو اس کا وبال ان روکنے والوں پر پڑے گا کہ یہ اس گناہ کے باعث ہوئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References
شعب الایمان عن انس بن مالك حدیث ٥٤٨٦ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۸۳۔ ۳۸۲
مکتوب فی التوراۃ من بلغت لہ ابنتہ اثنتی عشرۃ سنۃ فلم یزوجھا فرکبت اثما فاثم ذلك علیہ ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن امیرالمومنین عمر الفاروق وعن انس بن مالك رضی اﷲعنھما بسند صحیح۔
اﷲ عزوجل توراۃ شریف میں فرماتا ہے جس کی بیٹی بارہ۱۲ برس کی عمر کو پہنچے اور وہ اس کا نکاح نہ کردے اور یہ دختر گناہ میں مبتلا ہو تو اس کا گناہ اس شخص پر ہے(اس کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت امیرالمومنین عمر فاروق اور حضرت انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہما بسند صحیح روایت فرمایا۔ ت)
جب کنواری لڑکیوں کے بارہ میں یہ حکم ہے تو بیاہیوں کا معاملہ تو اور بھی سخت کہ دختر ان دوشیزہ کو حیاء بھی زائد ہوتی ہے اور گناہ میں تفضیح کا خوف بھی زائد اورخود ابھی اس لذت سے آگاہ نہیں صرف ایك طبعی طور پر ناواقفانہ خطرات دل میں گزرتے ہیں اور جب آدمی کسی خواہش کا لطف ایك بارپا چکا تو اب اس کا تقاضارنگ دگر پر ہوتا ہے اور ادھر نہ ویسی حیا نہ وہ خوف واندیشہ۔ اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین۔
(۲)دوسرے اہل افراط کہ اکثر واعظین وہابیہ وغیرہم جہال مشددین ہیں ان حضرات کی اکثر عادت ہے کہ ایك بیجا کے اٹھانے کو دس۱۰ بیجا اس سے بڑھ کر آپ کریں دوسرے کو خندق سے بچانا چاہیں اور آپ عمیق کنویں میں گری مسلمانوں کو وجہ بے وجہ کافر مشرك بے ایمان ٹھہرادینا تو کوئی بات ہی نہیں ان صاحبوں نے نکاح بیوہ کو گویا علی الاطلاق واجب قطعی وفرض حتمی قرار دے رکھا ہے کہ ضرورت ہو یا نہ بلکہ شرعا اجازت ہو یا نہ ہوبے نکاح کئے ہرگز نہ رہے اور نہ صرف فرض بلکہ گویا عین ایمان ہے کہ ذرا کسی بناء پر انکار کیا اور ایمان گیا اور ساتھ لگے آئے گئے پاس پڑوسی سب ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ کیوں پیچھے پڑکر نکاح نہ کردیا اور اگر بس نہ تھا تو پاس کیوں گئے بات کیوں کی سلام کیوں لیا بات بات پر عورتیں نکاح سے باہر جنازہ کی نماز حرام تمام کفر کے احکام ولاحول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھلك المتنطعون ۔ رواہ الائمۃ احمد ومسلم وابو داؤد عن ابن مسعود رضی ا ﷲتعالی عنہ۔
ہلاك ہوئے بے جا تشدد کرنے والے(اس کو امام احمد امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت عبد اﷲابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
اﷲ عزوجل توراۃ شریف میں فرماتا ہے جس کی بیٹی بارہ۱۲ برس کی عمر کو پہنچے اور وہ اس کا نکاح نہ کردے اور یہ دختر گناہ میں مبتلا ہو تو اس کا گناہ اس شخص پر ہے(اس کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت امیرالمومنین عمر فاروق اور حضرت انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہما بسند صحیح روایت فرمایا۔ ت)
جب کنواری لڑکیوں کے بارہ میں یہ حکم ہے تو بیاہیوں کا معاملہ تو اور بھی سخت کہ دختر ان دوشیزہ کو حیاء بھی زائد ہوتی ہے اور گناہ میں تفضیح کا خوف بھی زائد اورخود ابھی اس لذت سے آگاہ نہیں صرف ایك طبعی طور پر ناواقفانہ خطرات دل میں گزرتے ہیں اور جب آدمی کسی خواہش کا لطف ایك بارپا چکا تو اب اس کا تقاضارنگ دگر پر ہوتا ہے اور ادھر نہ ویسی حیا نہ وہ خوف واندیشہ۔ اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین۔
(۲)دوسرے اہل افراط کہ اکثر واعظین وہابیہ وغیرہم جہال مشددین ہیں ان حضرات کی اکثر عادت ہے کہ ایك بیجا کے اٹھانے کو دس۱۰ بیجا اس سے بڑھ کر آپ کریں دوسرے کو خندق سے بچانا چاہیں اور آپ عمیق کنویں میں گری مسلمانوں کو وجہ بے وجہ کافر مشرك بے ایمان ٹھہرادینا تو کوئی بات ہی نہیں ان صاحبوں نے نکاح بیوہ کو گویا علی الاطلاق واجب قطعی وفرض حتمی قرار دے رکھا ہے کہ ضرورت ہو یا نہ بلکہ شرعا اجازت ہو یا نہ ہوبے نکاح کئے ہرگز نہ رہے اور نہ صرف فرض بلکہ گویا عین ایمان ہے کہ ذرا کسی بناء پر انکار کیا اور ایمان گیا اور ساتھ لگے آئے گئے پاس پڑوسی سب ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ کیوں پیچھے پڑکر نکاح نہ کردیا اور اگر بس نہ تھا تو پاس کیوں گئے بات کیوں کی سلام کیوں لیا بات بات پر عورتیں نکاح سے باہر جنازہ کی نماز حرام تمام کفر کے احکام ولاحول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھلك المتنطعون ۔ رواہ الائمۃ احمد ومسلم وابو داؤد عن ابن مسعود رضی ا ﷲتعالی عنہ۔
ہلاك ہوئے بے جا تشدد کرنے والے(اس کو امام احمد امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت عبد اﷲابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۸۶۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۴۰۲
صحیح مسلم کتاب العلم باب النہی اتباع متشابہ القرآن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۳۹
صحیح مسلم کتاب العلم باب النہی اتباع متشابہ القرآن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۳۹
وانا اقول : وباﷲالتوفیق(اورمیں کہتا ہوں اور اﷲ تعالی ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ ت)حق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نکاح ثانی مثل نکاح اول فرض واجب سنت مباح مکروہ حرام سب کچھ ہے صور واحکام کی تفصیل سنیے :
(۱)جس عورت کو اپنے نفس سے خوف ہو کہ غالبا اس سے شوہر کی اطاعت اور ا س کے حقوق واجبہ کی ادانہ ہوسکے گی اسے نکاح ممنوع وناجائز ہے اگر کرے گی گنہگار ہوگی یہ صورت کراہت تحریمی کی ہے۔
(۲)اگر یہ خوف مرتبہ ظن سے تجاوز کرکے یقین تك پہنچا جب تو اسے نکاح حرام قطعی ہے۔
حکم ایسی عورتوں کو نکاح اول خواہ ثانی کی ترغیب ہرگز نہیں دے سکتے بلکہ ترغیب دینی خود خلاف شرع ومعصیت ہے کہ گناہ کا حکم دینا ہوگا یہ عورتیں یا ان کے اولیاء اگر نکاح سے انکار کرتے ہیں انہیں انکار سے پھیرنے والا جاہل ومخالف شرع۔
(۳)جنہیں اپنے نفس سے ایساخوف نہ ہو انہیں اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے معاذاﷲگناہ میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو ایسی عورتوں کو نکاح کرنا واجب ہے۔
(۴)بلکہ بے نکاح معاذاﷲ وقوع حرام کا یقین کلی ہوتو انہیں فرض قطعی یعنی جبکہ اس کے سوا کثرت روزہ وغیرہ معالجات سے تسکین متوقع نہ ہو ورنہ خاص نکاح فرض وواجب نہ ہوگا بلکہ دفع گناہ جس طریقہ سے ہو۔
حکم ایسی عورتوں کو بیشك نکاح پر جبر کیا جائے اگر خود نہ کریں گی وہ گنہگار ہوں گی اور اگر ان کے اولیاء اپنے حد مقدورتك کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے ایسی جگہ ترك وانکار پر بیشك انکار کیا جائے مگر کتنا صرف اتنا جو ترك واجب وفرض پر ہوسکتا ہے نہ یہ جاہلانہ جبر وتی حکم کہ جو انکار کرے کافر جو روك دے کافر جو نہ کرنے دے کافر فرائض ادا کرنے یاانکی ادا سے باز رکھنے پر آدمی کافر نہیں ہوتا جب تك ایسے فرض کی فرضیت کا منکر نہ ہو جس کا فرض ہونا ضروریات دین سے ہے پھر ترك واجب وفرج پر جس قدر انکار وتشددکرسکتے ہیں وہ بھی یہاں اس وقت روا ہوگا جب معلوم ہو کہ اس عورت سے اطاعت وادائے حقوق واجبہ شوہر کا ترك متیقن یا مظنون نہیں کہ ایسی حالت مین تو فرضیت ووجوب درکنار عدم جواز و حرمت کا حکم ہے پھر یہ بھی ثابت ہو کہ اس عورت کی حالت حاجت اس حد تك ہے کہ نکاح نہ کرے گی تو گناہ میں مبتلا ہوجانے کا یقین یا ظن غالب ہے کہ بغیر اس کے وجوب اصلا نہیں اور جب کسی خاص عورت کے حق میں یہ امور بروجہ شرعی ثابت نہ ہوں تو مسلمان پر بدگمانی خودحرام اور محض اپنے خیالات پر تارك فرض و واجب ٹھہرادینا بیباك کا کام پھر امر حاجت میں عورت کا اپنا بیان مقبول ہوگا کہ حاجت نکاح امر خفی و وجدانی ہے جس پر خود صاحب حاجت ہی
(۱)جس عورت کو اپنے نفس سے خوف ہو کہ غالبا اس سے شوہر کی اطاعت اور ا س کے حقوق واجبہ کی ادانہ ہوسکے گی اسے نکاح ممنوع وناجائز ہے اگر کرے گی گنہگار ہوگی یہ صورت کراہت تحریمی کی ہے۔
(۲)اگر یہ خوف مرتبہ ظن سے تجاوز کرکے یقین تك پہنچا جب تو اسے نکاح حرام قطعی ہے۔
حکم ایسی عورتوں کو نکاح اول خواہ ثانی کی ترغیب ہرگز نہیں دے سکتے بلکہ ترغیب دینی خود خلاف شرع ومعصیت ہے کہ گناہ کا حکم دینا ہوگا یہ عورتیں یا ان کے اولیاء اگر نکاح سے انکار کرتے ہیں انہیں انکار سے پھیرنے والا جاہل ومخالف شرع۔
(۳)جنہیں اپنے نفس سے ایساخوف نہ ہو انہیں اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے معاذاﷲگناہ میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو ایسی عورتوں کو نکاح کرنا واجب ہے۔
(۴)بلکہ بے نکاح معاذاﷲ وقوع حرام کا یقین کلی ہوتو انہیں فرض قطعی یعنی جبکہ اس کے سوا کثرت روزہ وغیرہ معالجات سے تسکین متوقع نہ ہو ورنہ خاص نکاح فرض وواجب نہ ہوگا بلکہ دفع گناہ جس طریقہ سے ہو۔
حکم ایسی عورتوں کو بیشك نکاح پر جبر کیا جائے اگر خود نہ کریں گی وہ گنہگار ہوں گی اور اگر ان کے اولیاء اپنے حد مقدورتك کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے ایسی جگہ ترك وانکار پر بیشك انکار کیا جائے مگر کتنا صرف اتنا جو ترك واجب وفرض پر ہوسکتا ہے نہ یہ جاہلانہ جبر وتی حکم کہ جو انکار کرے کافر جو روك دے کافر جو نہ کرنے دے کافر فرائض ادا کرنے یاانکی ادا سے باز رکھنے پر آدمی کافر نہیں ہوتا جب تك ایسے فرض کی فرضیت کا منکر نہ ہو جس کا فرض ہونا ضروریات دین سے ہے پھر ترك واجب وفرج پر جس قدر انکار وتشددکرسکتے ہیں وہ بھی یہاں اس وقت روا ہوگا جب معلوم ہو کہ اس عورت سے اطاعت وادائے حقوق واجبہ شوہر کا ترك متیقن یا مظنون نہیں کہ ایسی حالت مین تو فرضیت ووجوب درکنار عدم جواز و حرمت کا حکم ہے پھر یہ بھی ثابت ہو کہ اس عورت کی حالت حاجت اس حد تك ہے کہ نکاح نہ کرے گی تو گناہ میں مبتلا ہوجانے کا یقین یا ظن غالب ہے کہ بغیر اس کے وجوب اصلا نہیں اور جب کسی خاص عورت کے حق میں یہ امور بروجہ شرعی ثابت نہ ہوں تو مسلمان پر بدگمانی خودحرام اور محض اپنے خیالات پر تارك فرض و واجب ٹھہرادینا بیباك کا کام پھر امر حاجت میں عورت کا اپنا بیان مقبول ہوگا کہ حاجت نکاح امر خفی و وجدانی ہے جس پر خود صاحب حاجت ہی
کو ٹھیك اطلاع ہوتی ہے جب وہ بیان کرے کہ مجھے ایسی حاجت نہیں تو خواہی نخواہی اس کی تکذیب کی طرف کوئی راہ نہیں ہوسکتی عمر وغیرہ کا مظنہ سب جگہ ایك سا نہیں ہوتامزاج عقل حیا خوف اشغال احوال ہموم افکار صحبت اطوارصد ہا اختلافوں سے مختلف ہوجاتا ہے جس کی تفصیل اہل عقل وتجارب پر خوب روشن ہے درمختار میں ہے :
یکون واجبا عند التوقان(المراد شدۃ الاشتیاق کما فی الزیلعی بحیث یخاف الوقوع فی الزنا لولم یتزوج اذلایلزم من الاشتیاق الی الجماع الخوف المذکور بحر)فان تیقن الزناالابہ فرض نھایۃ(ای بان کان لایمکنہ الاحتراز من الزنا الابہ لان مالایتوصل الی ترك الحرام الابہ یکون فرضابحر وقولہ لایمکنہ الاحتراز الابہ ظاھر فی فرض المسألۃ فی عدم قدرتہ علی الصوم المانع من الوقوع فی الزنا فلو قدر علی شیئ من ذلك لم یبق النکاح فرضا او واجبا عینا بل ھو أوغیرہ مما یمنعہ من الوقوع فی المحرم)وھذا ان ملك المھر والنفقۃ والافلااثم بترکہ بدائع (ھذا الشرط اثم الی القسمین اعنی الواجب والفرض وزاد فی البحر شرطا اخر فیھما وھو عدم خوف الجور ای الظلم قال فان تعارض خوف الوقوع فی الزنا لو لم یتزوج وخوف
اور غلبہ شہوت کے وقت نکاح واجب ہوتا ہے(اس سے مراد بقول امام زیلعی کے ایسا شدید اشتیاق جماع ہے کہ اگر نکاح نہ کرے گا تو وقوع زنا کا خوف ہے کیونکہ محض اشتیاق جماع کو خوف مذکور لازم نہیں بحر)پس اگر نکاح کے بغیر زنا یقینی ہوتو نکاح فرض ہے نہایہ(یعنی نکاح کے بغیر زنا سے بچنا ممکن نہ ہو کیونکہ جس کے بغیر ترك حرام رسائی نہ ہو وہ فرض ہوتا احتراز ممکن نہیں ظاہر ہے کہ مسئلہ کی وہ صورت فرض کی گئی ہے جس میں ناکح روزے رکھنے پر قادر نہ ہو جو کہ زنا سے مانع ہیں لہذا اگر وہ روزے رکھنے پر قادر ہو تو نکاح فرض یا واجب عین نہ ہوگا بلکہ اسے اختیار ہوگا کہ نکاح کرے یا حرام یعنی زنا سے بچنے کا کوئی اور طریقہ اپنائے)اوریہ وجوب وفرضیت نکاح اس صورت میں ہے جب وہ مہر ونفقہ پر قادر ہو ورنہ ترك نکاح میں گناہ نہیں بدائع(یہ شرط دونوں قسموں یعنی نکاح واجب وفرض کی طرف راجح ہے۔ بحر میں ان دونوں قسموں میں ایك اور شرط کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو رو ظلم کا ڈر نہ ہو صاحب بحر نے فرمایا کہ عدم نکاح کی صورت میں خوف زنا نکاح کی صورت میں جوروظلم کے خوف سے متعارض ہو
یکون واجبا عند التوقان(المراد شدۃ الاشتیاق کما فی الزیلعی بحیث یخاف الوقوع فی الزنا لولم یتزوج اذلایلزم من الاشتیاق الی الجماع الخوف المذکور بحر)فان تیقن الزناالابہ فرض نھایۃ(ای بان کان لایمکنہ الاحتراز من الزنا الابہ لان مالایتوصل الی ترك الحرام الابہ یکون فرضابحر وقولہ لایمکنہ الاحتراز الابہ ظاھر فی فرض المسألۃ فی عدم قدرتہ علی الصوم المانع من الوقوع فی الزنا فلو قدر علی شیئ من ذلك لم یبق النکاح فرضا او واجبا عینا بل ھو أوغیرہ مما یمنعہ من الوقوع فی المحرم)وھذا ان ملك المھر والنفقۃ والافلااثم بترکہ بدائع (ھذا الشرط اثم الی القسمین اعنی الواجب والفرض وزاد فی البحر شرطا اخر فیھما وھو عدم خوف الجور ای الظلم قال فان تعارض خوف الوقوع فی الزنا لو لم یتزوج وخوف
اور غلبہ شہوت کے وقت نکاح واجب ہوتا ہے(اس سے مراد بقول امام زیلعی کے ایسا شدید اشتیاق جماع ہے کہ اگر نکاح نہ کرے گا تو وقوع زنا کا خوف ہے کیونکہ محض اشتیاق جماع کو خوف مذکور لازم نہیں بحر)پس اگر نکاح کے بغیر زنا یقینی ہوتو نکاح فرض ہے نہایہ(یعنی نکاح کے بغیر زنا سے بچنا ممکن نہ ہو کیونکہ جس کے بغیر ترك حرام رسائی نہ ہو وہ فرض ہوتا احتراز ممکن نہیں ظاہر ہے کہ مسئلہ کی وہ صورت فرض کی گئی ہے جس میں ناکح روزے رکھنے پر قادر نہ ہو جو کہ زنا سے مانع ہیں لہذا اگر وہ روزے رکھنے پر قادر ہو تو نکاح فرض یا واجب عین نہ ہوگا بلکہ اسے اختیار ہوگا کہ نکاح کرے یا حرام یعنی زنا سے بچنے کا کوئی اور طریقہ اپنائے)اوریہ وجوب وفرضیت نکاح اس صورت میں ہے جب وہ مہر ونفقہ پر قادر ہو ورنہ ترك نکاح میں گناہ نہیں بدائع(یہ شرط دونوں قسموں یعنی نکاح واجب وفرض کی طرف راجح ہے۔ بحر میں ان دونوں قسموں میں ایك اور شرط کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو رو ظلم کا ڈر نہ ہو صاحب بحر نے فرمایا کہ عدم نکاح کی صورت میں خوف زنا نکاح کی صورت میں جوروظلم کے خوف سے متعارض ہو
الجور لو تزوج قدم الثانی افتراض بل یکرہ افادہ الکمال فی الفتح ولعلہ لان الجور معصیۃ متعلقۃ بالعبادوالمنع من الزنا من حقوق اﷲتعالی وحق العبد مقدم عند التعارض لاحتیاجہ وغنی المولی تعالی اھ)ویکون مکروھا(ای تحریما بحر)لخوف الجور فان تیقنہ(ای الجور)حرم اھ ملخصا مزید امن رد المحتار مابین الخطین۔ اقول : ویؤید تعلیل البحر حدیث ابن ابی الدنیا وابی الشیخ عن جابر بن عبداﷲ وابی سعید الخدری رضی اﷲتعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قدیزنی ویتوب فیتوب اﷲعلیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفرلہ حتی یغفرلہ صاحبہ ۔
تو ثانی کا اعتبار مقدم و راجح ہوگا چنانچہ اس صورت میں نکاح فرض نہیں بلکہ مکروہ ہوگا کمال نے فتح میں اس کاافادہ فرمایا شاید خوف جو رکو خوف زنا پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ جورو ظلم ایسا گناہ ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور زنا سے باز رہنا حقوق اﷲ سے ہے اورحق عبد بوقت تعارض حق اﷲ پر مقدم ہوتا ہے کیونکہ عبد محتاج ہے اور مولی تعالی غنی ہے اھ)اور اس صورت میں نکاح مکروہ یعنی مکروہ تحریمی ہوگا جبکہ ظلم کا خوف ہو اور اگر ظلم کا یقین ہوتو حرام ہے۔ قوسین میں زائد عبارتیں ردالمحتار سے لی گئی ہیں
اقول : (میں کہتا ہوں کہ)بحر کی بیان کردہ علت کی تائید کرتی ہے ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ کی وہ حدیث جس کو حضرت جابر بن عبدا ﷲاور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲتعالی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا کہ غیبت سے بچو کیونکہ غیبت زناء سے سخت تر ہے اس لئے کہ آدمی زناء کرتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے تو اﷲتعالی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی مغفرت اس وقت تك نہیں ہوتی جب تك کہ وہ معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی(ت)
(۵)اگر حاجت کی حالت اعتدال پر ہویعنی نہ نکاح سے بالکل بے پروائی نہ اس شدت کاشوق کہ بے نکاح وقوع گناہ کا ظن بالیقین ہو ایسی حالت میں نکاح سنت ہے مگر بشرطیکہ عورت اپنے نفس پر اطمینان کافی رکھتی ہو کہ مجھ سے ترك اطاعت اور حقوق شوہر کی اضاعت اصلا واقع نہ ہوگی۔
تو ثانی کا اعتبار مقدم و راجح ہوگا چنانچہ اس صورت میں نکاح فرض نہیں بلکہ مکروہ ہوگا کمال نے فتح میں اس کاافادہ فرمایا شاید خوف جو رکو خوف زنا پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ جورو ظلم ایسا گناہ ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور زنا سے باز رہنا حقوق اﷲ سے ہے اورحق عبد بوقت تعارض حق اﷲ پر مقدم ہوتا ہے کیونکہ عبد محتاج ہے اور مولی تعالی غنی ہے اھ)اور اس صورت میں نکاح مکروہ یعنی مکروہ تحریمی ہوگا جبکہ ظلم کا خوف ہو اور اگر ظلم کا یقین ہوتو حرام ہے۔ قوسین میں زائد عبارتیں ردالمحتار سے لی گئی ہیں
اقول : (میں کہتا ہوں کہ)بحر کی بیان کردہ علت کی تائید کرتی ہے ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ کی وہ حدیث جس کو حضرت جابر بن عبدا ﷲاور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲتعالی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا کہ غیبت سے بچو کیونکہ غیبت زناء سے سخت تر ہے اس لئے کہ آدمی زناء کرتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے تو اﷲتعالی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی مغفرت اس وقت تك نہیں ہوتی جب تك کہ وہ معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی(ت)
(۵)اگر حاجت کی حالت اعتدال پر ہویعنی نہ نکاح سے بالکل بے پروائی نہ اس شدت کاشوق کہ بے نکاح وقوع گناہ کا ظن بالیقین ہو ایسی حالت میں نکاح سنت ہے مگر بشرطیکہ عورت اپنے نفس پر اطمینان کافی رکھتی ہو کہ مجھ سے ترك اطاعت اور حقوق شوہر کی اضاعت اصلا واقع نہ ہوگی۔
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵ ، ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۱۔ ۲۶۰
جامع الاحادیث للسیوطی قسم الاقوال حدیث ۹۳۱۰ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۰
جامع الاحادیث للسیوطی قسم الاقوال حدیث ۹۳۱۰ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۰
(۶)اگر ذرابھی اس کا اندیشہ ہوتو اس کے حق میں نکاح سنت نہ رہے گا صرف مباح ہوگا بشرطیکہ اندیشہ حد ظن تك نہ پہنچے ورنہ اباحت جدا سرے سے ممنوع وناجائز ہوجائے گاکما سبق(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت)درمختار میں ہے :
یکون سنۃ مؤکدۃ فیاثم بترکہ(مع الاصرار)حال الاعتدال(ای الاعتدال فی التوقان ان لایکون بالمعنی المارفی الواجب والفرض وھوشدۃ الاشتیاق وان لایکون فی غایۃ الفتور کالعنین ولذا فسرہ فی شرحہ علی الملتقی بان یکون بین الفتور والشوق وفی البحروالمراد حالہ عدم الخوف من الجور وترك الفرائض والسنن فلو خاف فلیس معتدلا فلایکون سنۃ فی حقہ کما افادہ فی البدائع وترك الشارح قسما سادسا ذکرہ فی البحرعن المجتبی وھوالاباحۃ ان خاف العجز عن الایفاء بمواجبہ اھ ای خوفا غیر راجح والاکان مکر وھا تحریما لان عدم الجور من مواجبہ اھ ملتقطا مزید امن ابن عابدین۔
اور حال اعتدال میں نکاح سنت مؤکدہ ہوتا ہے جس کے (باصرار)ترك پر گناہ لازم ہوتا ہے(اعتدال سے مراد یہ ہے کہ غلبہ شہوت اس حد تك پہنچا ہوا نہ ہو جیسا کہ نکاح واجب وفرض میں گزرا یعنی جماع کا اشتیاق شدید اور نہ ہی انتہائی طور پر کمزور اور قاصر ہو جیسا کہ عنین۔ اسی واسطے شرح منتقی میں اس کی تفسیر یوں فرمائی کہ وہ فتور اور شوق کے درمیان ہو۔ بحر میں ہے کہ اس سے مراد آدمی کا وہ حال ہے جس میں اسے ظلم ترك فرائض اور ترك سنن کا خوف نہ ہو اور اگر اسے ان امورکا خوف ہے تو وہ معتدل نہیں لہذا اس کے لئے نکاح سنت نہیں ہوگا جیسا کہ بدائع میں اس کا افادہ فرمایا اور شارح نے نکاح کی چھٹی قسم کا ذکرنہیں فرمایا جس کو بحر مجتبی سے ذکر کیا اور وہ ہے نکاح کا مباح ہونا جبکہ لوازم نکاح راجح نہ ہو ورنہ مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ عدم جور لوازم نکاح میں سے ہے اھ ملتقطا__زائد عبارتیں ابن عابدین سے لی گئی ہیں ۔ (ت)
حکم بحالت سنیت بیشك نکاح کی ترغیب بتاکید کی جائے اور اس سے انکار پرسخت اعتراض پہنچتا ہے اسی قدر جتنا ترك سنت پر چاہئے اور درصورت اباحت نہ نکاح پراصلا جبر کا اختیار نہ اس سے انکار پر کچھ اعتراض وانکار کہ مباح وشرع مطہر نے مکلف کی مرضی پر چھوڑا ہے چاہے کرے یانہ کرے پھر انصاف
یکون سنۃ مؤکدۃ فیاثم بترکہ(مع الاصرار)حال الاعتدال(ای الاعتدال فی التوقان ان لایکون بالمعنی المارفی الواجب والفرض وھوشدۃ الاشتیاق وان لایکون فی غایۃ الفتور کالعنین ولذا فسرہ فی شرحہ علی الملتقی بان یکون بین الفتور والشوق وفی البحروالمراد حالہ عدم الخوف من الجور وترك الفرائض والسنن فلو خاف فلیس معتدلا فلایکون سنۃ فی حقہ کما افادہ فی البدائع وترك الشارح قسما سادسا ذکرہ فی البحرعن المجتبی وھوالاباحۃ ان خاف العجز عن الایفاء بمواجبہ اھ ای خوفا غیر راجح والاکان مکر وھا تحریما لان عدم الجور من مواجبہ اھ ملتقطا مزید امن ابن عابدین۔
اور حال اعتدال میں نکاح سنت مؤکدہ ہوتا ہے جس کے (باصرار)ترك پر گناہ لازم ہوتا ہے(اعتدال سے مراد یہ ہے کہ غلبہ شہوت اس حد تك پہنچا ہوا نہ ہو جیسا کہ نکاح واجب وفرض میں گزرا یعنی جماع کا اشتیاق شدید اور نہ ہی انتہائی طور پر کمزور اور قاصر ہو جیسا کہ عنین۔ اسی واسطے شرح منتقی میں اس کی تفسیر یوں فرمائی کہ وہ فتور اور شوق کے درمیان ہو۔ بحر میں ہے کہ اس سے مراد آدمی کا وہ حال ہے جس میں اسے ظلم ترك فرائض اور ترك سنن کا خوف نہ ہو اور اگر اسے ان امورکا خوف ہے تو وہ معتدل نہیں لہذا اس کے لئے نکاح سنت نہیں ہوگا جیسا کہ بدائع میں اس کا افادہ فرمایا اور شارح نے نکاح کی چھٹی قسم کا ذکرنہیں فرمایا جس کو بحر مجتبی سے ذکر کیا اور وہ ہے نکاح کا مباح ہونا جبکہ لوازم نکاح راجح نہ ہو ورنہ مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ عدم جور لوازم نکاح میں سے ہے اھ ملتقطا__زائد عبارتیں ابن عابدین سے لی گئی ہیں ۔ (ت)
حکم بحالت سنیت بیشك نکاح کی ترغیب بتاکید کی جائے اور اس سے انکار پرسخت اعتراض پہنچتا ہے اسی قدر جتنا ترك سنت پر چاہئے اور درصورت اباحت نہ نکاح پراصلا جبر کا اختیار نہ اس سے انکار پر کچھ اعتراض وانکار کہ مباح وشرع مطہر نے مکلف کی مرضی پر چھوڑا ہے چاہے کرے یانہ کرے پھر انصاف
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵ ، ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۱
کی میزان ہاتھ میں لیجئے تو عورتوں کے حق میں سنیت نکاح بھی بہت ندرت سے ثابت ہوگی ہزار میں ایك ہی ایسی نکلے گی جس کے لئے سنت کہہ سکیں کیا کسی عورت کی نسبت خود وہ یا اس کے اولیاء یا یہ تشدد والے حضرات پورے طور پر ضامن ہوجائیں گے کہ اس سے نافرمانی شوہر یا اس کے کسی حق میں ادنی تقصیر واقع ہونے کا اصلا اندیشہ نہیں ایسی بے معنی ضمانت وہی کرسکتا ہے جسے نہ مردوں کے حقوق عظیمہ پر اطلاع نہ عورات کی عادات ونقصان عقل ودین پر وقوف کیا حدیث صحیح میں حضور پر نورسید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا ارشاد سنا کہ :
رأیت النار فلم ارکالیوم منظراقط افظع ورأیت اکثر اھلھا النساء
میں نے دوزخ ملاحظہ فرمائی تو آج کی برابر کوئی چیز سخت وشنیع نہ دیکھی اور میں نے اہل دوزخ میں عورتیں زیادہ دیکھیں ۔
فقالو! یارسول اﷲ صحابہ نے عرض کی یارسول اﷲیعنی حضور! اس کا کیا سبب ہے قال بکفر ھن فرمایا ان کے کفر کے باعث۔ قیل یکفرن باﷲ عرض کی گئی کیا اﷲعزوجل سے کفر کرتی ہیں قال یکفرن العشیر ویکفرن الاحسان فرمایا شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتی ہیں لو احسنت الی احدھن الدھرثم رأت منك شیئا قالت مارأیت منك خیراقط اگرتو ان میں سے کسی کے ساتھ عمر بھر احسان کرے پھر ذرا سی بات خلاف مزاج تجھ سے دیکھے تو کہے میں نے کبھی تجھ سے کوئی بھلائی نہ دیکھی رواہ الشیخان عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما(اس کو شیخین نے حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۲ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
ان المرأۃ خلقت من ضلع اعوج لن تستقیم لك علی طریقۃ فان استمتعت بھا وبھا عوج وان ذھبت تقیمھا کسرتھا وکسرھا طلاقھا ۔ رواہ مسلم و الترمذی عن ابی ھریرہ ونحوہ
عورت ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے ہرگز سی راہ پر تیرے لئے سیدھی نہ ہوگی اگر تو اس سے نفع لے تو اس کی کجی کے ساتھ نفع لے اور سیدھا کرنے چلے تو توڑدے اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے(اس کو امام مسلم وترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ
رأیت النار فلم ارکالیوم منظراقط افظع ورأیت اکثر اھلھا النساء
میں نے دوزخ ملاحظہ فرمائی تو آج کی برابر کوئی چیز سخت وشنیع نہ دیکھی اور میں نے اہل دوزخ میں عورتیں زیادہ دیکھیں ۔
فقالو! یارسول اﷲ صحابہ نے عرض کی یارسول اﷲیعنی حضور! اس کا کیا سبب ہے قال بکفر ھن فرمایا ان کے کفر کے باعث۔ قیل یکفرن باﷲ عرض کی گئی کیا اﷲعزوجل سے کفر کرتی ہیں قال یکفرن العشیر ویکفرن الاحسان فرمایا شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتی ہیں لو احسنت الی احدھن الدھرثم رأت منك شیئا قالت مارأیت منك خیراقط اگرتو ان میں سے کسی کے ساتھ عمر بھر احسان کرے پھر ذرا سی بات خلاف مزاج تجھ سے دیکھے تو کہے میں نے کبھی تجھ سے کوئی بھلائی نہ دیکھی رواہ الشیخان عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما(اس کو شیخین نے حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۲ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
ان المرأۃ خلقت من ضلع اعوج لن تستقیم لك علی طریقۃ فان استمتعت بھا وبھا عوج وان ذھبت تقیمھا کسرتھا وکسرھا طلاقھا ۔ رواہ مسلم و الترمذی عن ابی ھریرہ ونحوہ
عورت ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے ہرگز سی راہ پر تیرے لئے سیدھی نہ ہوگی اگر تو اس سے نفع لے تو اس کی کجی کے ساتھ نفع لے اور سیدھا کرنے چلے تو توڑدے اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے(اس کو امام مسلم وترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ
حوالہ / References
صحیح بخاری باب صلوٰۃ الکسوف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱۴۴ ، صحیح مسلم باب صلوٰۃ الکسوف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۸۳
صحیح مسلم باب الوصیۃ بالنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۸
صحیح مسلم باب الوصیۃ بالنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۸
احمد ابن حبان والحاکم عن سمرۃ بن جبدب رضی اﷲتعالی عنہما۔
تعالی عنہ سے اور اس کی مچل کو امام احمد ابن حبان اور حاکم نے حضرت سمرۃ بن جندب رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
حاصل یہ کہ پسلی ٹوٹ جائے گی مگر سیدھی نہ ہوگی عورت بھی بائیں پسلی سے بنی ہے نہ نبھے تو طلاق دے دے مگر ہر طرح موافق آئے یہ مشکل ہے۔
حدیث۳ : ایك بی بی نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! میں عورتوں کی فرستادہ ہوں حضور کی بارگاہ میں جن عورتوں کوخبر ہے اور جنہیں خبر نہیں سب میری اس حاضری کی خوہاں ہیں اﷲ عزوجل مردوں عورتوں سب کا پردگار ہے اور حضور مردوں عورتوں سب کی طرف اس کے رسول اﷲ عزوجل نے مردوں پر جہاد فرض کیا کہ فتح پائیں تو دولتمند ہوجائیں اور شہید ہوں تو اپنے رب کے پاس زندہ رہیں رزق پائیں اور ہم عورتیں ان کے کاموں کا انتظام کرنے والیاں ہیں تو ہمارے لئے وہ وہ کون سی طاعت ہے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ فرمایا :
طاعۃ ازواجھن بحقوقھم وقلیل منکن من یفعلہ ۔ رواہ البزاروالطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما۔
شوہروں کی اطاعت اور ان کے حق پہچاننا اور اس کی کرنے والیاں تم میں تھوڑی ہیں (اس کو بزار اور طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۴ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
حاملات والدات مرضعات رحیمات باولادھن لولا ما یأتین الی ازواجھن لدخل مصلیا تھن الجنۃ ۔ اخرجہ الامام احمد وابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر
حمل کی سختیاں اٹھانے والیاں دودھ پلانے والیاں جننے کی تکلیف جھیلنے والیاں اپنے بچوں پر مہر بانیں اگر نہ ہوتی وہ تقصیر جو اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نماز والیاں سیدھی جنت میں
تعالی عنہ سے اور اس کی مچل کو امام احمد ابن حبان اور حاکم نے حضرت سمرۃ بن جندب رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
حاصل یہ کہ پسلی ٹوٹ جائے گی مگر سیدھی نہ ہوگی عورت بھی بائیں پسلی سے بنی ہے نہ نبھے تو طلاق دے دے مگر ہر طرح موافق آئے یہ مشکل ہے۔
حدیث۳ : ایك بی بی نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! میں عورتوں کی فرستادہ ہوں حضور کی بارگاہ میں جن عورتوں کوخبر ہے اور جنہیں خبر نہیں سب میری اس حاضری کی خوہاں ہیں اﷲ عزوجل مردوں عورتوں سب کا پردگار ہے اور حضور مردوں عورتوں سب کی طرف اس کے رسول اﷲ عزوجل نے مردوں پر جہاد فرض کیا کہ فتح پائیں تو دولتمند ہوجائیں اور شہید ہوں تو اپنے رب کے پاس زندہ رہیں رزق پائیں اور ہم عورتیں ان کے کاموں کا انتظام کرنے والیاں ہیں تو ہمارے لئے وہ وہ کون سی طاعت ہے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ فرمایا :
طاعۃ ازواجھن بحقوقھم وقلیل منکن من یفعلہ ۔ رواہ البزاروالطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما۔
شوہروں کی اطاعت اور ان کے حق پہچاننا اور اس کی کرنے والیاں تم میں تھوڑی ہیں (اس کو بزار اور طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۴ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
حاملات والدات مرضعات رحیمات باولادھن لولا ما یأتین الی ازواجھن لدخل مصلیا تھن الجنۃ ۔ اخرجہ الامام احمد وابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر
حمل کی سختیاں اٹھانے والیاں دودھ پلانے والیاں جننے کی تکلیف جھیلنے والیاں اپنے بچوں پر مہر بانیں اگر نہ ہوتی وہ تقصیر جو اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نماز والیاں سیدھی جنت میں
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی حق المرأۃ علی الزوج دارالکتاب بیروت ۴ / ۳۰۶ ، مصنف عبد الرزاق حدیث ٥٩١٤ حبیب الرحمٰن الاعظمی بیروت۸ / ۴۶۳
المعجم الکبیر حدیث ٧٩٨٦ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۸ / ۳۰۲ ، مسند امام احمد دارالفکر بیروت ۵ / ۲۵۲
المعجم الکبیر حدیث ٧٩٨٦ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۸ / ۳۰۲ ، مسند امام احمد دارالفکر بیروت ۵ / ۲۵۲
والحاکم فی المستدرك عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
جائیں (اس کو امام احمد ابن ماجہ کبیر میں طبرانی نے اور مستدرك میں حاکم نے حضرت ابوامام رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
تو سنیت درکنار اکثر عورتوں کے لئے حدیث اباحت ہی ثابت رہے یہی بڑی بات ہے پھر ان کے انکار پر اعتراض اور نکاح پر اصرار کی کیا سبیل نہ کہ اعتراض بھی معاذاﷲتاحداکفار اور اصرار بھی ہم پہلوئے اکراہ واجبار ولہذا احادیث میں وارد کہ حقوق شوہر اور ان کی شدت سن کر متعدد بیبیوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے عمر بھرنکاح نہ کرنے کا عہد کیا اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انکار نہ فرمایا مگرجاہل واعظین خصوصا وہابیہ ہمیشہ خدا و رسول سے بڑھ کر چلاچاہتے ہیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
حدیث ۱ : ایك زن خثعمیہ نے خدمت اقدس سرور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! حضور مجھے سنائیں کہ شوہر کا حق عورت پر کیا ہے کہ میں زن بے شوہر ہوں اس کے اداکی اپنے طاقت دیکھوں تو نکاح کروں ورنہ یوں ہی بیٹھی رہوں فرمایا :
فان حق الزوج علی الزوجۃ ان سألھا نفسھا وھی علی ظھر بغیران لاتمنعہ نفسھا ومن حق الزوج علی الزوجۃ ان لاتصوم تطوعا الاباذنہ فان فعلت جاعت وعطشت ولایقبل منھا ولاتخرج من بیتھا الاباذنہ فان فعلت لعنتھا ملئکۃ السماء وملئکۃ الارض وملئکۃ الرحمۃ وملئکۃ العذاب حتی ترجع۔
تو بیشك شوہر کا حق زوجہ پر یہ ہے کہ عورت کجا وہ پر بیٹھی ہو اور مرد اسی سواری پر اس سے نزدیکی چاہے تو انکار نہ کرے اورمرد کا حق عورت پر یہ ہے کہ اس کے بے اجازت کے نفل روزہ نہ رکھے اگر رکھے گی تو عبث بھوکی پیاسی رہی روزہ قبول نہ وہوگا اور گھر سے بے اذن شوہر کہیں نہ جائے اگر جائے گی تو آسمان کے فرشتے زمین کے فرشتے رحمت کے فرشتے عذات کے فرشتے سب اس پر لعنت کرینگے جب تك پلٹ کر آئے۔
یہ ارشاد سن کر بی بی نے عرض کی : لاجرم لاتزوج ابدا ٹھیك ٹھیك یہ ہے کہ نکاح نہ کرونگی رواہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما(اس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ
جائیں (اس کو امام احمد ابن ماجہ کبیر میں طبرانی نے اور مستدرك میں حاکم نے حضرت ابوامام رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
تو سنیت درکنار اکثر عورتوں کے لئے حدیث اباحت ہی ثابت رہے یہی بڑی بات ہے پھر ان کے انکار پر اعتراض اور نکاح پر اصرار کی کیا سبیل نہ کہ اعتراض بھی معاذاﷲتاحداکفار اور اصرار بھی ہم پہلوئے اکراہ واجبار ولہذا احادیث میں وارد کہ حقوق شوہر اور ان کی شدت سن کر متعدد بیبیوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے عمر بھرنکاح نہ کرنے کا عہد کیا اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انکار نہ فرمایا مگرجاہل واعظین خصوصا وہابیہ ہمیشہ خدا و رسول سے بڑھ کر چلاچاہتے ہیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
حدیث ۱ : ایك زن خثعمیہ نے خدمت اقدس سرور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! حضور مجھے سنائیں کہ شوہر کا حق عورت پر کیا ہے کہ میں زن بے شوہر ہوں اس کے اداکی اپنے طاقت دیکھوں تو نکاح کروں ورنہ یوں ہی بیٹھی رہوں فرمایا :
فان حق الزوج علی الزوجۃ ان سألھا نفسھا وھی علی ظھر بغیران لاتمنعہ نفسھا ومن حق الزوج علی الزوجۃ ان لاتصوم تطوعا الاباذنہ فان فعلت جاعت وعطشت ولایقبل منھا ولاتخرج من بیتھا الاباذنہ فان فعلت لعنتھا ملئکۃ السماء وملئکۃ الارض وملئکۃ الرحمۃ وملئکۃ العذاب حتی ترجع۔
تو بیشك شوہر کا حق زوجہ پر یہ ہے کہ عورت کجا وہ پر بیٹھی ہو اور مرد اسی سواری پر اس سے نزدیکی چاہے تو انکار نہ کرے اورمرد کا حق عورت پر یہ ہے کہ اس کے بے اجازت کے نفل روزہ نہ رکھے اگر رکھے گی تو عبث بھوکی پیاسی رہی روزہ قبول نہ وہوگا اور گھر سے بے اذن شوہر کہیں نہ جائے اگر جائے گی تو آسمان کے فرشتے زمین کے فرشتے رحمت کے فرشتے عذات کے فرشتے سب اس پر لعنت کرینگے جب تك پلٹ کر آئے۔
یہ ارشاد سن کر بی بی نے عرض کی : لاجرم لاتزوج ابدا ٹھیك ٹھیك یہ ہے کہ نکاح نہ کرونگی رواہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما(اس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ
حوالہ / References
کشف الاستار عن زوائد البزار باب حق الزوج علی المرأۃ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ / ۱۷۷ ، مجمع الزوائد باب حق الزوج علی المرأۃ دارالکتاب بیروت ۴ / ۷۔ ۳۰۶
تعالی عنہماسے روایت کیا۔ ت)
حدیث ۲ : ایك بی بی نے دربار دربارسید الابرار صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی : میں فلاں دختر فلاں ہوں ۔ فرمایا : میں نے تجھے پہچانا اپناکام بتا۔ عرض کی : مجھے اپنے چچا کے بیٹے فلاں عابد سے کام ہے۔ فرمایا : میں نے اسے بھی پہچانا یعنی مطلب کہہ۔ عرض کی اس نے مجھے پیام دیا ہے۔ تو حضور ارشاد فرمائیں کہ شوہر کا حق عورت پر کیا ہے اگر وہ کوئی چیز قابو کی ہوتو میں اس سے نکاح کرلوں ۔ فرمایا :
من حقہ لوسال منخراہ دما او قیحا فلحستہ بلسانہا ما ادت حقہ لوکان ینبغی لبشران لیسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا اذادخل علیھا بما فضلہ اﷲعلیھا۔
مرد کے حق کا ایك ٹکڑا یہ ہے کہ اگر اس کے دونوں نتھنے خون یا پیپ سے بہتے ہوں اورعورت اسے اپنی زبان سے چاٹے تو شوہر کے حق سے ادا نہ ہوئی اگر آدمی کا آدمی کو سجدہ روا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ مرد جب باہر سے آئے اس کے سامنے آئے اسے سجدہ کرے کہ خدا نے مرد کو فضیلت ہی ایسی دی ہے۔
یہ ارشاد سن کر وہ بی بی بولیں :
والذی بعثك بالحق لااتزوج مابقیت الدنیا۔ رواہ البزاروالحاکم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں رہتی دنیا تك نکاح کانام نہ لوں گی(اسکو بزار اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
حدیث ۳ : ایك صاحب اپنی صاحبزادی کو لے کر درگاہ عالم پناہ حضور سید العالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اورعرض کی : میری یہ بیٹی نکاح کرنے سے انکار رکھتی ہے حضور صلوات اﷲتعالی علیہ نے فرمایا : “ اطیعی اباک “ ا پنے باپ کا حکم مان۔ اس لڑکی نے عرض کی : قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں نکاح نہ کروں گی جب تك حضور یہ نہ بتائیں کہ خاوند کا حق عورت پر کیا ہے۔ فرمایا :
حق الزوج علی زوجتہ لوکانت بہ قرحۃ فلحستھا اور انتثرمنخراہ صدیدا اودماثم ابتلعتہ ماادت حقہ۔
شوہر کا حق عورت پر یہ ہے اگر اس کے کوئی پھوڑا ہو عورت اسے چاٹ کر صاف کرے یا اس کے نتھنوں سے پیپ یا خون نکلے عورت اسے نگل لے تو مرد کے حق سے ادا نہ ہوئی۔
اس لڑکی نے عرض کی :
والذی بعثك بالحق لااتزوج ابدا۔
قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں کبھی شادی نہ کروں گی۔
حضور پر نور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
حدیث ۲ : ایك بی بی نے دربار دربارسید الابرار صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی : میں فلاں دختر فلاں ہوں ۔ فرمایا : میں نے تجھے پہچانا اپناکام بتا۔ عرض کی : مجھے اپنے چچا کے بیٹے فلاں عابد سے کام ہے۔ فرمایا : میں نے اسے بھی پہچانا یعنی مطلب کہہ۔ عرض کی اس نے مجھے پیام دیا ہے۔ تو حضور ارشاد فرمائیں کہ شوہر کا حق عورت پر کیا ہے اگر وہ کوئی چیز قابو کی ہوتو میں اس سے نکاح کرلوں ۔ فرمایا :
من حقہ لوسال منخراہ دما او قیحا فلحستہ بلسانہا ما ادت حقہ لوکان ینبغی لبشران لیسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا اذادخل علیھا بما فضلہ اﷲعلیھا۔
مرد کے حق کا ایك ٹکڑا یہ ہے کہ اگر اس کے دونوں نتھنے خون یا پیپ سے بہتے ہوں اورعورت اسے اپنی زبان سے چاٹے تو شوہر کے حق سے ادا نہ ہوئی اگر آدمی کا آدمی کو سجدہ روا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ مرد جب باہر سے آئے اس کے سامنے آئے اسے سجدہ کرے کہ خدا نے مرد کو فضیلت ہی ایسی دی ہے۔
یہ ارشاد سن کر وہ بی بی بولیں :
والذی بعثك بالحق لااتزوج مابقیت الدنیا۔ رواہ البزاروالحاکم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں رہتی دنیا تك نکاح کانام نہ لوں گی(اسکو بزار اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
حدیث ۳ : ایك صاحب اپنی صاحبزادی کو لے کر درگاہ عالم پناہ حضور سید العالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اورعرض کی : میری یہ بیٹی نکاح کرنے سے انکار رکھتی ہے حضور صلوات اﷲتعالی علیہ نے فرمایا : “ اطیعی اباک “ ا پنے باپ کا حکم مان۔ اس لڑکی نے عرض کی : قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں نکاح نہ کروں گی جب تك حضور یہ نہ بتائیں کہ خاوند کا حق عورت پر کیا ہے۔ فرمایا :
حق الزوج علی زوجتہ لوکانت بہ قرحۃ فلحستھا اور انتثرمنخراہ صدیدا اودماثم ابتلعتہ ماادت حقہ۔
شوہر کا حق عورت پر یہ ہے اگر اس کے کوئی پھوڑا ہو عورت اسے چاٹ کر صاف کرے یا اس کے نتھنوں سے پیپ یا خون نکلے عورت اسے نگل لے تو مرد کے حق سے ادا نہ ہوئی۔
اس لڑکی نے عرض کی :
والذی بعثك بالحق لااتزوج ابدا۔
قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں کبھی شادی نہ کروں گی۔
حضور پر نور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
حوالہ / References
مستدرك کتاب النکاح باب حق الزوج علی ال زوجۃ دارا لفکر بیروت ۲ / ۱۸۹ ، کشف الاستارعن زوائد البزار حدیث ١٤٦٦ موسسۃالرسالہ بیروت ۲ / ۱۷۸
لاتنکحوھن الاباذنھن رواہ البزار وابن حبان فی صحیحہ عن ابی سعید الخدررضی اﷲتعالی عنہ۔
“ عورتوں کا نکاح نہ کرو جب تك ان کی مرضی نہ ہو “ ۔ اس کو بزار اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
امام حافظ زکی الملۃ والدین عبد العظیم منذری رحمۃ اﷲتعالی علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث کی سند جید اور اس کے سب راوی ثقات مشہور ین ہیں انتہی سبحان اﷲ اس حدیث جلیل کو دیکھئے دختر ناکتخدا کو نکاح سے انکار باپ کو اصرار باپ حضور کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہیں صاحبزادی عین دربار اقدس میں قسم کھاتی ہیں کہ کبھی نکاح نہ کروں گی۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نہ اس انکار کرنے والی پر ناراض ہوتے ہیں نہ اعتراض کرتے ہیں بلکہ اولیاء کو ہدایت فرماتے ہیں کہ جب تك ان کی مرضی نہ ہو ان کا نکاح نہ کرو کہاں یہ ارشاد ہدایت بنیاد کہاں وہ جبروتی حکم زبر دستی کا ظلم کہ اگر چہ ایك بار نکاح ہوچکا اب بیوہ ہوگئی اور دوبارہ نکاح پر جبر کرو اور پھر بیوہ ہو تو پھر سہ بارہ گلا دباؤ اگر مان لے تو خیر اور انکار کرے تو کافرہ ہوگئی اور ساتھ لگے اولیا کی بھی خیر نہیں اگر وہ خواہ مخواہ نکاح نہ کردیں تو ان پر بھی معاذاﷲ اﷲ عزوجل کا غضب ٹوٹے عیاذاباﷲ یزید پلید کی طرح غارت ہوں مرتے وقت ایمان جانے کا اندیشہ مزہ یہ کہ ان حضرات کے نزدیك ایك حکم شریعت مطہرہ کا انہوں نے چھوڑا دوسرے حکم فرض قطعی کے ترك کی یہ مسلمانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو حالانکہ حضور سید المرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت
ہر مسلمان کے جنازہ کی نماز تم پر فرض ہے نیك ہو یا بد
“ عورتوں کا نکاح نہ کرو جب تك ان کی مرضی نہ ہو “ ۔ اس کو بزار اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
امام حافظ زکی الملۃ والدین عبد العظیم منذری رحمۃ اﷲتعالی علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث کی سند جید اور اس کے سب راوی ثقات مشہور ین ہیں انتہی سبحان اﷲ اس حدیث جلیل کو دیکھئے دختر ناکتخدا کو نکاح سے انکار باپ کو اصرار باپ حضور کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہیں صاحبزادی عین دربار اقدس میں قسم کھاتی ہیں کہ کبھی نکاح نہ کروں گی۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نہ اس انکار کرنے والی پر ناراض ہوتے ہیں نہ اعتراض کرتے ہیں بلکہ اولیاء کو ہدایت فرماتے ہیں کہ جب تك ان کی مرضی نہ ہو ان کا نکاح نہ کرو کہاں یہ ارشاد ہدایت بنیاد کہاں وہ جبروتی حکم زبر دستی کا ظلم کہ اگر چہ ایك بار نکاح ہوچکا اب بیوہ ہوگئی اور دوبارہ نکاح پر جبر کرو اور پھر بیوہ ہو تو پھر سہ بارہ گلا دباؤ اگر مان لے تو خیر اور انکار کرے تو کافرہ ہوگئی اور ساتھ لگے اولیا کی بھی خیر نہیں اگر وہ خواہ مخواہ نکاح نہ کردیں تو ان پر بھی معاذاﷲ اﷲ عزوجل کا غضب ٹوٹے عیاذاباﷲ یزید پلید کی طرح غارت ہوں مرتے وقت ایمان جانے کا اندیشہ مزہ یہ کہ ان حضرات کے نزدیك ایك حکم شریعت مطہرہ کا انہوں نے چھوڑا دوسرے حکم فرض قطعی کے ترك کی یہ مسلمانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو حالانکہ حضور سید المرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت
ہر مسلمان کے جنازہ کی نماز تم پر فرض ہے نیك ہو یا بد
حوالہ / References
کشف الاستار عن زوائد البزار حدیث ١٤٦٥ موسسۃ الرسالہ بیروت ۲ / ۱۷۸
براکان او فاجرا وان ھو عمل الکبائر ۔ اخرجہ ابو داؤد ابویعلی والبیہقی فی سننہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح علی اصولنا معشر الحنفیۃ۔
چاہے اس نے کتنے ہی گناہ کبیرہ کئے ہوں (اس کو امام ابوداؤد ابویعلی اور امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے ایسی سند کے ساتھ روایت فرمایا جو ہمارے یعنی احناف کے اصول کے مطابق صحیح ہے۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے مولائے دوجہاں سرور کون ومکاں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
صلو علی کل میت ۔ اخرجہ ابن ماجۃ عن واثلۃ والد ابی الطفیل رضی اﷲتعالی عنہما۔
ہر(مسلمان)میت کی نماز جنازہ پڑھو۔ (اس کو ابن ماجہ نے واثلہ والد ابی الطفیل رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
تیسری حدیث میں ہے حضور سید عالم مولائے اکرم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
صلواعلی من قال لاالہ الااﷲ ۔ اخرجہ ابوالقاسم الطبرانی فی معجمہ الکبیر ابونعیم فی حلیۃ الاولیاء عن عبداﷲابن الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہم۔
جس نے لاالہ الا اﷲ پڑھا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ اس کو ابو القاسم طبرانی نے اپنی معجم کبیر اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضر ت عبداﷲابن فاروق رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت فرمایا۔ (ت)
معاذاﷲ مصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے احکام کو پس پشت ڈالنا اور اپنی طرف سے نئی شریعت نکالنا بیوہ کے نکاح کرنے سے لاکھ درجے بدتر ہے۔ جبھی تو کہا تھا کہ یہ حضرات اور کو خندق سے بچائیں اور خود گہرے کنویں میں گرجائیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
بالجملہ عند التحقیق عامہ زنان خصوصازنان زمان کے حق میں غایت درجہ حکم اباحت ہے اور مباح سے انکار پر اصلا مواخذہ نہیں خصوصا جب اس کے ساتھ اور کوئی مصلحت بھی ترك نکاح پر داعی ہو۔ صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب خواہر
چاہے اس نے کتنے ہی گناہ کبیرہ کئے ہوں (اس کو امام ابوداؤد ابویعلی اور امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے ایسی سند کے ساتھ روایت فرمایا جو ہمارے یعنی احناف کے اصول کے مطابق صحیح ہے۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے مولائے دوجہاں سرور کون ومکاں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
صلو علی کل میت ۔ اخرجہ ابن ماجۃ عن واثلۃ والد ابی الطفیل رضی اﷲتعالی عنہما۔
ہر(مسلمان)میت کی نماز جنازہ پڑھو۔ (اس کو ابن ماجہ نے واثلہ والد ابی الطفیل رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
تیسری حدیث میں ہے حضور سید عالم مولائے اکرم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
صلواعلی من قال لاالہ الااﷲ ۔ اخرجہ ابوالقاسم الطبرانی فی معجمہ الکبیر ابونعیم فی حلیۃ الاولیاء عن عبداﷲابن الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہم۔
جس نے لاالہ الا اﷲ پڑھا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ اس کو ابو القاسم طبرانی نے اپنی معجم کبیر اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضر ت عبداﷲابن فاروق رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت فرمایا۔ (ت)
معاذاﷲ مصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے احکام کو پس پشت ڈالنا اور اپنی طرف سے نئی شریعت نکالنا بیوہ کے نکاح کرنے سے لاکھ درجے بدتر ہے۔ جبھی تو کہا تھا کہ یہ حضرات اور کو خندق سے بچائیں اور خود گہرے کنویں میں گرجائیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
بالجملہ عند التحقیق عامہ زنان خصوصازنان زمان کے حق میں غایت درجہ حکم اباحت ہے اور مباح سے انکار پر اصلا مواخذہ نہیں خصوصا جب اس کے ساتھ اور کوئی مصلحت بھی ترك نکاح پر داعی ہو۔ صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب خواہر
حوالہ / References
سُنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الغزومع ائمۃ الجور آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴۳ ، السنن الکبرٰی باب الصّلوٰۃ حلف من لایحمد فعلہ دارصادر بیروت ۳ / ۱۲۱
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب فی الصلوٰۃ علٰی اہل القبلہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۰
المعجم الکبیر حدیث١٣٦٢٢ مروی از عبد اﷲابن عمر المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۲ / ۴۴۷
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب فی الصلوٰۃ علٰی اہل القبلہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۰
المعجم الکبیر حدیث١٣٦٢٢ مروی از عبد اﷲابن عمر المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۲ / ۴۴۷
امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کوپیام نکاح دیا عرض کی :
مابی عنك رغبۃ یارسول اﷲ ولکن لا احب ان اتزوج وبنی صغار۔
یارسول اﷲ! کچھ حضور سے مجھے بے رغبتی تو ہے نہیں مگر مجھے یہ نہیں بھاتا کہ میں نکاح کروں اور میرے بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ۔
سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
خیر نساء رکبن الابل نساء قریش احناہ علی طفل فی صغرہ وارعاہ علی بعل فی ذات یدہ ۔ رواہ الطبرانی عنہا رضی اﷲتعالی عنہا برجال ثقات قالت خطبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت فذکرہ۔
عرب کی تمام عورتوں میں بہتر زنان قریش ہیں اپنے بچے پر اس کے بچپن میں سب سے زیادہ مہربان اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والیاں ۔ (اس کو طبرانی نے حضرت ام ہانی رضی اﷲتعالی عنہا سے ثقہ راویوں پر مشتمل سند کے ذریعہ روایت کیا وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے عرض کی اور آگے حدیث مذکورہ کو ذکر کیا۔ ت)
دوسری صحیح حدیث میں ہے جب حضور والا صلوات اﷲتعالی وسلامیہ علیہ نے انہیں پیام دیا یوں عرض کی :
یارسول اﷲلانت احب الی من سمعی وبصری وحق الزوج عظیم فاخشی ان اضیع حق الزوج ملخصا۔ اخرجہ ابن سعد بسند صحیح عن الشعبی مرسلا۔
یارسول اﷲ! بیشك حضور مجھے اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں سے زیادہ پیارے ہیں اور شوہر کا حق بڑا ہے میں ڈرتی ہوں کہ حق شوہر مجھ سے فوت نہ ہو ملخصا۔ (اس کو ابن سعد نے سند صحیح کے ساتھ شعبی سے مرسلا روایت فرمایا۔ ت)
تیسری حدیث میں ہے :
فخطبھا الی نفسھا فقالت کیف بھذاضجیعا وھذا رضیعالولدین بین یدیھا ۔
جب حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان سے نکاح کے لئے فرمایا اپنے دو۲ بچوں کی طرف کہ سامنےموجود تھے
مابی عنك رغبۃ یارسول اﷲ ولکن لا احب ان اتزوج وبنی صغار۔
یارسول اﷲ! کچھ حضور سے مجھے بے رغبتی تو ہے نہیں مگر مجھے یہ نہیں بھاتا کہ میں نکاح کروں اور میرے بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ۔
سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
خیر نساء رکبن الابل نساء قریش احناہ علی طفل فی صغرہ وارعاہ علی بعل فی ذات یدہ ۔ رواہ الطبرانی عنہا رضی اﷲتعالی عنہا برجال ثقات قالت خطبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت فذکرہ۔
عرب کی تمام عورتوں میں بہتر زنان قریش ہیں اپنے بچے پر اس کے بچپن میں سب سے زیادہ مہربان اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والیاں ۔ (اس کو طبرانی نے حضرت ام ہانی رضی اﷲتعالی عنہا سے ثقہ راویوں پر مشتمل سند کے ذریعہ روایت کیا وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے عرض کی اور آگے حدیث مذکورہ کو ذکر کیا۔ ت)
دوسری صحیح حدیث میں ہے جب حضور والا صلوات اﷲتعالی وسلامیہ علیہ نے انہیں پیام دیا یوں عرض کی :
یارسول اﷲلانت احب الی من سمعی وبصری وحق الزوج عظیم فاخشی ان اضیع حق الزوج ملخصا۔ اخرجہ ابن سعد بسند صحیح عن الشعبی مرسلا۔
یارسول اﷲ! بیشك حضور مجھے اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں سے زیادہ پیارے ہیں اور شوہر کا حق بڑا ہے میں ڈرتی ہوں کہ حق شوہر مجھ سے فوت نہ ہو ملخصا۔ (اس کو ابن سعد نے سند صحیح کے ساتھ شعبی سے مرسلا روایت فرمایا۔ ت)
تیسری حدیث میں ہے :
فخطبھا الی نفسھا فقالت کیف بھذاضجیعا وھذا رضیعالولدین بین یدیھا ۔
جب حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان سے نکاح کے لئے فرمایا اپنے دو۲ بچوں کی طرف کہ سامنےموجود تھے
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۶۷ مروی از امّ ہانی رضی اﷲعنہا المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۲۴ / ۴۳۷
الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر من النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من النساء دارصادر بیروت ۳ / ۱۵۲
الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر من النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من النساء دارصادر بیروت ۳ / ۱۵۲
الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر من النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من النساء دارصادر بیروت ۳ / ۱۵۲
الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر من النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من النساء دارصادر بیروت ۳ / ۱۵۲
رواہ عن ابی نوفل بن عقرب ایضامرسلا۔
اشارہ کرکے عرض کی یہ دودھ پینے اور یہ ساتھ سونے کو بہت ہے۔ (اس کو بھی ابن سعد نے ابو نوفل بن عقرب سے مرسلا روایت کیا۔ ت)
ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲعنہا اپنے شوہر اول حضرت ابو سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے بیوہ ہوئیں امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے انہیں پیغام نکاح کردیا انکار کردیا پھر فاروق اعظم رضی ا ﷲتعالی عنہ نے پیام دیا انکار کردیا پھر حضور سید المرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پیام دیا عرض کی :
انی امرأۃ غیری وانی امرأۃ مصیبۃ ولیس احد من اولیائی شاھدا۔
میں رشك ناك عورت ہوں (یعنی ازواج مطہرات سے شکر رنجی کا خیال ہے)اور عیالدار ہوں اور میرا کوئی ولی حاضر نہیں ۔
حضور سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان کے عذروں پر کچھ عتاب نہ فرمایا نہ یہ ارشاد ہو ا کہ تم سنت سے منکر ہوتی ہو تم پر شرعی الزام ہے بلکہ عذرسن کر ان کے علاج وجواب ارشاد فرمادئے کہ تمہارے رشك کے لئے ہم دعا فرمائیں گے اﷲتعالی اسے دور کردے(چنانچہ ایسا ہی ہوا ام المومنین ام سلمہ باقی ازواج مطہرات رضی اﷲتعالی عنہن کے ساتھ اس طرح رہتی تھیں گویا یہ ازواج ہی نہیں صلی اﷲ تعالی علی بعلہن وعلیہن وبارك وسلم اور تمہارے بچے اﷲ و رسول کے سپرد ہیں اورتمہاراکوئی ولی حاضر غائب میرے ساتھ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا رواہ احمد والنسائی عنھا رضی اﷲتعالی عنہا بسند صحیح(اس کو امام احمد اور نسائی وغیرہ نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔ ت)
ابن ابی عاصم روایتوں میں ہے منجملہ عذروں کے یہ بھی عرض کی کہ اما انا فکبیرۃ السن میری عمر زیادہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا فانا اکبر منک میں تم سے بڑاہوں ۔ رواہ من طریق عبدالواحد بن ایمن عن ابی بکر بن عبد الرحمن عنھا رضی اﷲتعالی عنہا(ابن عاصم نے اس کو عبد الواحدبن ایمن کے طریق سے ابوبکربن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت فرمایا۔ ت)
اشارہ کرکے عرض کی یہ دودھ پینے اور یہ ساتھ سونے کو بہت ہے۔ (اس کو بھی ابن سعد نے ابو نوفل بن عقرب سے مرسلا روایت کیا۔ ت)
ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲعنہا اپنے شوہر اول حضرت ابو سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے بیوہ ہوئیں امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے انہیں پیغام نکاح کردیا انکار کردیا پھر فاروق اعظم رضی ا ﷲتعالی عنہ نے پیام دیا انکار کردیا پھر حضور سید المرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پیام دیا عرض کی :
انی امرأۃ غیری وانی امرأۃ مصیبۃ ولیس احد من اولیائی شاھدا۔
میں رشك ناك عورت ہوں (یعنی ازواج مطہرات سے شکر رنجی کا خیال ہے)اور عیالدار ہوں اور میرا کوئی ولی حاضر نہیں ۔
حضور سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ان کے عذروں پر کچھ عتاب نہ فرمایا نہ یہ ارشاد ہو ا کہ تم سنت سے منکر ہوتی ہو تم پر شرعی الزام ہے بلکہ عذرسن کر ان کے علاج وجواب ارشاد فرمادئے کہ تمہارے رشك کے لئے ہم دعا فرمائیں گے اﷲتعالی اسے دور کردے(چنانچہ ایسا ہی ہوا ام المومنین ام سلمہ باقی ازواج مطہرات رضی اﷲتعالی عنہن کے ساتھ اس طرح رہتی تھیں گویا یہ ازواج ہی نہیں صلی اﷲ تعالی علی بعلہن وعلیہن وبارك وسلم اور تمہارے بچے اﷲ و رسول کے سپرد ہیں اورتمہاراکوئی ولی حاضر غائب میرے ساتھ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا رواہ احمد والنسائی عنھا رضی اﷲتعالی عنہا بسند صحیح(اس کو امام احمد اور نسائی وغیرہ نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔ ت)
ابن ابی عاصم روایتوں میں ہے منجملہ عذروں کے یہ بھی عرض کی کہ اما انا فکبیرۃ السن میری عمر زیادہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا فانا اکبر منک میں تم سے بڑاہوں ۔ رواہ من طریق عبدالواحد بن ایمن عن ابی بکر بن عبد الرحمن عنھا رضی اﷲتعالی عنہا(ابن عاصم نے اس کو عبد الواحدبن ایمن کے طریق سے ابوبکربن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت فرمایا۔ ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی از ام سلمہ دار الفکر بیروت ۶ / ۳۱۳ ، سنن النسائی کتاب النکاح المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۶۸
طبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر فی خطب النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من نساء دار صادر بیروت ۸ / ۹۱
طبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر فی خطب النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من نساء دار صادر بیروت ۸ / ۹۱
ام المومنین(ام سلمہ رضی اﷲعنہا)نے ۶۰ ھ عــــہ یا ۶۱ یا ۶۲ میں وفات پائی عمر شریف چوراسی ۸۴ برس کی ہوئی قالہ الواقدی وکثیر من العلماء نقلہ عنھم فی الاصابۃ وھوالصواب کما فی الزرقانی(واقدی اور کثیر علماء نے یہی کہا ہے جن سے اصابہ میں نقل کیا اور یہی درست ہے جیسا کہ زرقانی میں ہے۔ ت)اور حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے آخر شوال ۴ ھجری میں ان سے نکاح فرمایا ھوالصحیح کما فی الزرقانی(یہی صحیح ہے جیسا کہ زرقانی میں ہے۔ ت)تو جس وقت انہوں نے ترك نکاح کے لئے عمر زیادہ ہونے کا عذر عرض کیا ہے تیس۳۰ سال کی نہ تھیں یہی کوئی چھبیس۲۶ستائیس۲۷ برس کی عمر تھی رضی اﷲتعالی عنہا۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ابن سعد انہیں ام المومنین رضی اﷲتعالی عنہا سے راوی کہ انہوں نے فرمایا :
بلغنی انہ لیس امرأۃ یموت زوجھا وھو من اھل الجنۃ وھی من اھل الجنۃ ثم لم تزوج بعدہ الاجمع اﷲ بینھما فی الجنۃ۔
جس عورت کا شوہر مرجائے اور وہ دونوں جنتی ہوں پھر عورت اس کے بعد نکاح نہ کرے تو اﷲتعالی ان دونوں کو جنت میں جمع فرمائے۔
اسی بنا پر انہوں نے حضرت ابوسلمہ رضی اﷲتعالی عنہ سے کہا تھا آؤ ہم تم عہد کریں کہ جو پہلے مرجائے دوسرا اس کے بعد نکاح نہ کرے مگر یہ علم الہی میں امہات المومنین میں داخل ہونے والی تھیں حضرت ابوسلمہ نے قبول نہ فرمایا رواہ من طریق عاصم الاحول عن زیاد بن ابی مریم عنھا رضی اﷲتعالی عنہا(اس کو بطریق عاصم احول زیاد بن ابی مریم سے روایت کیا اور انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت فرمایا۔ ت)
عــــہ : صحح الاول الیعمری والثانی ابو عمر بن عبد البر والثالث الحافظ التقریب وھناك تصحیح رابع وھو ۵۹ صححہ القسطلانی فی المواھب قال الزرقانی وھو معارض بھذہ التصحیحات واﷲتعالی اعلم۔ (م)
اول کو یعمری ثانی کو ابوعمر بن عبد البر اور ثالث کو حافظ نے تقریب میں صحیح قرار دیا اور یہاں ایك چوتھی تصحیح ۵۹ھ کی بھی ہے جس کو قسطلانی نے مواہب میں صحیح قرار دیا زرقانی نے فرمایا کہ وہ ان تصحیحات کے معارض ہے واﷲتعالی اعلم۱۲منہ (ت)
بلغنی انہ لیس امرأۃ یموت زوجھا وھو من اھل الجنۃ وھی من اھل الجنۃ ثم لم تزوج بعدہ الاجمع اﷲ بینھما فی الجنۃ۔
جس عورت کا شوہر مرجائے اور وہ دونوں جنتی ہوں پھر عورت اس کے بعد نکاح نہ کرے تو اﷲتعالی ان دونوں کو جنت میں جمع فرمائے۔
اسی بنا پر انہوں نے حضرت ابوسلمہ رضی اﷲتعالی عنہ سے کہا تھا آؤ ہم تم عہد کریں کہ جو پہلے مرجائے دوسرا اس کے بعد نکاح نہ کرے مگر یہ علم الہی میں امہات المومنین میں داخل ہونے والی تھیں حضرت ابوسلمہ نے قبول نہ فرمایا رواہ من طریق عاصم الاحول عن زیاد بن ابی مریم عنھا رضی اﷲتعالی عنہا(اس کو بطریق عاصم احول زیاد بن ابی مریم سے روایت کیا اور انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت فرمایا۔ ت)
عــــہ : صحح الاول الیعمری والثانی ابو عمر بن عبد البر والثالث الحافظ التقریب وھناك تصحیح رابع وھو ۵۹ صححہ القسطلانی فی المواھب قال الزرقانی وھو معارض بھذہ التصحیحات واﷲتعالی اعلم۔ (م)
اول کو یعمری ثانی کو ابوعمر بن عبد البر اور ثالث کو حافظ نے تقریب میں صحیح قرار دیا اور یہاں ایك چوتھی تصحیح ۵۹ھ کی بھی ہے جس کو قسطلانی نے مواہب میں صحیح قرار دیا زرقانی نے فرمایا کہ وہ ان تصحیحات کے معارض ہے واﷲتعالی اعلم۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
الاصابہ فی تمییزالصحابہ ذکر ام سلمہ نمبر ١٣٠٩ داراصادر بیروت ۴ / ۶۰۔ ۴۵۹
الطبقات الکبرٰی ذکر من خطب النبی صلی اﷲتعالٰی وسلم من النساء دارصادر بیروت ۸ / ۸۸
شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ ذکر ام سلمہ رضی اﷲعنہا دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۴
الطبقات الکبرٰی ذکر من خطب النبی صلی اﷲتعالٰی وسلم من النساء دارصادر بیروت ۸ / ۸۸
شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ ذکر ام سلمہ رضی اﷲعنہا دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۴
حضرت سلمی بنت جابر رضی اﷲتعالی عنہا کے شوہر شہید ہوئے وہ حضرت عبد اﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ کے پاس آئیں اور کہا میرے شوہر نے شہادت پائی اور لوگ مجھے پیام دے رہے ہیں میں نکاح سے انکار رکھتی ہوں کیا آپ امید کرتے ہیں کہ اگر میں اور وہ جمع ہوئے تو میں آخرت میں ان کی زوجہ ہوں (بیوی بنوں )فرمایا : ہاں ۔
احمد فی المسند حدثنا ابو احمد ثنا ابان عبد اﷲ الباجلی عن کریم بن ابی حاز معن جدتہ سلمی بنت جابر ان زوجہا استشھد فاتت عبد اﷲ بن مسعود فقالت انی امرأۃ استشھدزوجی وقد خطبنی الرجال فابیت ان اتزوج حتی القاہ فترجولی ان اجتمعت انا وھو ان اکون من ازواجہ قال نعم فقال لہ رجل ما رأیناك نقلت ھذامذقاعدناك قال انی سمعت رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم یقول ان اسرع امتی لی لحوقافی الجنۃ امرأۃ من احمس ۔
امام احمد نے اپنی مسند میں یوں بیان فرمایا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو احمد نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابان بن عبداﷲ بجلی نے انہوں نے کریم بن ابی حازم سے اور انہوں نے اپنی دادی سلمی بنت جابر رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا کہ ان(حضرت سلمی رضی اﷲتعالی عنہا)کے شوہر شہید ہوئے تو وہ حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ کے پاس آئیں اور کہاکہ میں وہ عورت ہوں جس کے شوہر شہید ہوگئے ہیں اور بہت سے مردوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا مگر میں نے نکاح سے انکار کیا تا وقتیکہ میں اپنے شوہر سے ملوں کیا آپ میرے متعلق امید کرتے ہیں کہ اگر میں اورمیرا شوہر جمع ہوئے توان کی بیوی بنوں گی حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ نے فرمایا : ہاں ۔ ایك شخص نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ سے کہا کہ جب سے ہم آپ کے پاس بیٹھ رہے ہیں آپ کویہ نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بیشك جنت میں سب سے جلد مجھ ملنے والی عورت احمس(قریشی) سے(ت)
حضر ت سید سعید شہید سیدنا امام حسین صلی اﷲتعالی تعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم کی زوجہ مطہرہ رباب بنت امرئ القیس کہ حضرت اصغر وحضرت سکینہ رضی اﷲتعالی عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں بعد شہادت امام مظلوم رضی اﷲتعالی عنہ بہت شرفائے قریشی نے انہیں پیام نکاح دیا فرمایا :
احمد فی المسند حدثنا ابو احمد ثنا ابان عبد اﷲ الباجلی عن کریم بن ابی حاز معن جدتہ سلمی بنت جابر ان زوجہا استشھد فاتت عبد اﷲ بن مسعود فقالت انی امرأۃ استشھدزوجی وقد خطبنی الرجال فابیت ان اتزوج حتی القاہ فترجولی ان اجتمعت انا وھو ان اکون من ازواجہ قال نعم فقال لہ رجل ما رأیناك نقلت ھذامذقاعدناك قال انی سمعت رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم یقول ان اسرع امتی لی لحوقافی الجنۃ امرأۃ من احمس ۔
امام احمد نے اپنی مسند میں یوں بیان فرمایا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو احمد نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابان بن عبداﷲ بجلی نے انہوں نے کریم بن ابی حازم سے اور انہوں نے اپنی دادی سلمی بنت جابر رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا کہ ان(حضرت سلمی رضی اﷲتعالی عنہا)کے شوہر شہید ہوئے تو وہ حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ کے پاس آئیں اور کہاکہ میں وہ عورت ہوں جس کے شوہر شہید ہوگئے ہیں اور بہت سے مردوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا مگر میں نے نکاح سے انکار کیا تا وقتیکہ میں اپنے شوہر سے ملوں کیا آپ میرے متعلق امید کرتے ہیں کہ اگر میں اورمیرا شوہر جمع ہوئے توان کی بیوی بنوں گی حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ نے فرمایا : ہاں ۔ ایك شخص نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ سے کہا کہ جب سے ہم آپ کے پاس بیٹھ رہے ہیں آپ کویہ نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بیشك جنت میں سب سے جلد مجھ ملنے والی عورت احمس(قریشی) سے(ت)
حضر ت سید سعید شہید سیدنا امام حسین صلی اﷲتعالی تعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم کی زوجہ مطہرہ رباب بنت امرئ القیس کہ حضرت اصغر وحضرت سکینہ رضی اﷲتعالی عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں بعد شہادت امام مظلوم رضی اﷲتعالی عنہ بہت شرفائے قریشی نے انہیں پیام نکاح دیا فرمایا :
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲبن مسعود دارا لفکر بیروت ۱ / ۴۰۳
ماکنت لاتخذنی حموا بعد رسول صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ۔
میں وہ نہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے بعد کسی کو اپنا خسر بناؤں ۔ (ت)
جب تك زندہ رہیں نہ کیا ذکرہ ابن الاثیر فی الکامل(ابن اثیر نے اسے کامل میں ذکر کیا ہے۔ ت)مرثیہ حضرت امام انام رضی اﷲتعالی عنہ میں فرماتی ہیں :
واﷲلاابتغی صھرابصھر کم
حتی اغیب بین الرملی والطین
خداکی قسم تمہارے رشتہ کے بعد کسی سے رشتہ نہ چاہوں گی یہاں تك کہ ریت اور مٹی میں دفن کردی جاؤں ذکرہ ھشام بن الکلبی(اس کو ہشام بن کلبی نے ذکر کیا۔ ت)
بلکہ علامہ ابوالقاسم عماد الدین محمود ابن فریابی کتاب خالصۃ الحقائق لمافیہ من اسالیب الدقائق میں صحابیات حضور پر نور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے ایك بی بی رباب نامی رضی اﷲتعالی عنہا کا ذکر کرتے ہیں :
انہاکانت زوجھا لرجل یقال لہ عمر وفتعاھدا أیھما مات قبل الاخر لایتزوج الذی یبقی حتی یموت فمات فاقامت مدۃ فزوجھا ابوھا فرأت فی تلك اللیلۃ عمرا انشدھا ابیاتا فاصبحت مذعورۃ وقصت علی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم القصۃ فامرھا ان تستأنس بالوحدۃ حتی تموت وامرزوجھا بفراقھا ففعل ذلک۔
یعنی وہ ایك شخص عمر و نامی کی زوجہ تھیں ان کے آپس میں عہد ہولیا تھا کہ جو پہلے مرے دوسرا تادم مرگ نکاح نہ کرے عمر کا انتقال ہوا رباب ایك مدت تك بیوہ رہیں پھر ان کے باپ نے ان کا نکاح کردیا اسی رات اپنے پہلے شوہر کو خواب میں دیکھا انہوں نے کچھ شعر اس معاملے کی شکایت میں پڑھے یہ صبح کو خائف وترساں اٹھیں حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے حال عرض کیا حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مرتے دم تك تنہائی میں جی بہلائیں اوراس شوہر کو حکم دیاکہ انہیں چھوڑدے انہوں نے چھوڑدیا۔ (ت)
نقلہ الحافظ فی الاصابۃ وقال ھی حکایۃ مشہورۃ لغیرھذین الخ
(اس کو حافظ نے الاصابہ میں نقل کیا اور فرمایا کہ یہ حکایت ان دونوں کے غیر کے لئے مشہور ہے الخ۔ ت)بلکہ احادیث میں ہے خود
میں وہ نہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے بعد کسی کو اپنا خسر بناؤں ۔ (ت)
جب تك زندہ رہیں نہ کیا ذکرہ ابن الاثیر فی الکامل(ابن اثیر نے اسے کامل میں ذکر کیا ہے۔ ت)مرثیہ حضرت امام انام رضی اﷲتعالی عنہ میں فرماتی ہیں :
واﷲلاابتغی صھرابصھر کم
حتی اغیب بین الرملی والطین
خداکی قسم تمہارے رشتہ کے بعد کسی سے رشتہ نہ چاہوں گی یہاں تك کہ ریت اور مٹی میں دفن کردی جاؤں ذکرہ ھشام بن الکلبی(اس کو ہشام بن کلبی نے ذکر کیا۔ ت)
بلکہ علامہ ابوالقاسم عماد الدین محمود ابن فریابی کتاب خالصۃ الحقائق لمافیہ من اسالیب الدقائق میں صحابیات حضور پر نور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے ایك بی بی رباب نامی رضی اﷲتعالی عنہا کا ذکر کرتے ہیں :
انہاکانت زوجھا لرجل یقال لہ عمر وفتعاھدا أیھما مات قبل الاخر لایتزوج الذی یبقی حتی یموت فمات فاقامت مدۃ فزوجھا ابوھا فرأت فی تلك اللیلۃ عمرا انشدھا ابیاتا فاصبحت مذعورۃ وقصت علی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم القصۃ فامرھا ان تستأنس بالوحدۃ حتی تموت وامرزوجھا بفراقھا ففعل ذلک۔
یعنی وہ ایك شخص عمر و نامی کی زوجہ تھیں ان کے آپس میں عہد ہولیا تھا کہ جو پہلے مرے دوسرا تادم مرگ نکاح نہ کرے عمر کا انتقال ہوا رباب ایك مدت تك بیوہ رہیں پھر ان کے باپ نے ان کا نکاح کردیا اسی رات اپنے پہلے شوہر کو خواب میں دیکھا انہوں نے کچھ شعر اس معاملے کی شکایت میں پڑھے یہ صبح کو خائف وترساں اٹھیں حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے حال عرض کیا حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مرتے دم تك تنہائی میں جی بہلائیں اوراس شوہر کو حکم دیاکہ انہیں چھوڑدے انہوں نے چھوڑدیا۔ (ت)
نقلہ الحافظ فی الاصابۃ وقال ھی حکایۃ مشہورۃ لغیرھذین الخ
(اس کو حافظ نے الاصابہ میں نقل کیا اور فرمایا کہ یہ حکایت ان دونوں کے غیر کے لئے مشہور ہے الخ۔ ت)بلکہ احادیث میں ہے خود
حوالہ / References
الکامل فی التاریخ لابن اثیر ذکر مقتل حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ دارصادر بیروت ۴ / ۸۸
الکامل فی التاریخ لابن اثیر ذکر مقتل حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ دارصادر بیروت ۴ / ۸۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحولہ محمود بن احمد فریانی الرباب غیر منسوبہ دارصادر بیروت ۴ / ۳۰۰
الکامل فی التاریخ لابن اثیر ذکر مقتل حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ دارصادر بیروت ۴ / ۸۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحولہ محمود بن احمد فریانی الرباب غیر منسوبہ دارصادر بیروت ۴ / ۳۰۰
حضور پرنور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے اس بیوہ کی نہایت تعریف فرمائی جواپنے یتیم بچوں کولئے بیٹھی رہے اور ان کے خیال سے نکاح ثانی نہ کرے
حدیث۱ : سنن ابوداؤد میں حضرت عوف بن مالك اشجعی رضی اﷲتعالی عنہ سے مروی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
انا وامرأۃ سفعاء الخدین کھاتین یوم القیمۃ واومی بیدہ یزید بن زریع السبابۃ والوسطی امرأۃ ایمت من زوجھا ذات منصب وجمال حبست نفسھا علی یتاماھا حتی بانوا اوماتو ۔
میں اور چہرہ کارنگ بدلی ہوئی عورت روز قیامت ان دو۲ انگلیوں کے مثل ہوں گے(راوی نے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کرکے بتایا یعنی جیسے یہ دو۲انگلیاں پاس پاس ہیں یونہی اسے روز قیامت میرا قرب نصیب ہوگا)وہ عورت کہ اپنے شوہر سے بیوہ ہوئی عزت والی صورت والی با اینہمہ اس نے اپنے یتیم بچوں پر اپنی جان کو روك رکھا سبب بناؤ سنگھار کی حاجت نہیں )۔
حدیث۲ : ابن شبران انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ایما امرأۃ قعدت علی بیت اولادھا فھی معی فی الجنۃ ۔
جو عورت اپنی اولاد پر بیٹھی رہے گی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگی۔
حدیث ۳ : ابویعلی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اول من یفتح باب الجنۃ الاانی اری امرأۃ تبادرنی فاقول لھا مالك ومن انت فتقول انا امرأۃ قعدت علی ایتام لی۔
سب سے پہلے جو دروازہ جنت کھولے گا وہ میں ہوں مگر میں ایك عورت کودیکھوں گا کہ مجھ سے آگے جلدی کریگی میں فرماؤ ں گا تجھے کیا ہے اور توکون ہے وہ عرض کریگی میں وہ عورت ہوں کہ اپنے یتیموں پر بیٹھی رہی۔
حدیث۱ : سنن ابوداؤد میں حضرت عوف بن مالك اشجعی رضی اﷲتعالی عنہ سے مروی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
انا وامرأۃ سفعاء الخدین کھاتین یوم القیمۃ واومی بیدہ یزید بن زریع السبابۃ والوسطی امرأۃ ایمت من زوجھا ذات منصب وجمال حبست نفسھا علی یتاماھا حتی بانوا اوماتو ۔
میں اور چہرہ کارنگ بدلی ہوئی عورت روز قیامت ان دو۲ انگلیوں کے مثل ہوں گے(راوی نے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کرکے بتایا یعنی جیسے یہ دو۲انگلیاں پاس پاس ہیں یونہی اسے روز قیامت میرا قرب نصیب ہوگا)وہ عورت کہ اپنے شوہر سے بیوہ ہوئی عزت والی صورت والی با اینہمہ اس نے اپنے یتیم بچوں پر اپنی جان کو روك رکھا سبب بناؤ سنگھار کی حاجت نہیں )۔
حدیث۲ : ابن شبران انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ایما امرأۃ قعدت علی بیت اولادھا فھی معی فی الجنۃ ۔
جو عورت اپنی اولاد پر بیٹھی رہے گی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگی۔
حدیث ۳ : ابویعلی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اول من یفتح باب الجنۃ الاانی اری امرأۃ تبادرنی فاقول لھا مالك ومن انت فتقول انا امرأۃ قعدت علی ایتام لی۔
سب سے پہلے جو دروازہ جنت کھولے گا وہ میں ہوں مگر میں ایك عورت کودیکھوں گا کہ مجھ سے آگے جلدی کریگی میں فرماؤ ں گا تجھے کیا ہے اور توکون ہے وہ عرض کریگی میں وہ عورت ہوں کہ اپنے یتیموں پر بیٹھی رہی۔
حوالہ / References
سُنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی فضل من عال الیتامٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۴۵
کنز العمال بحوالہ ابن بشر ابن عن انس حدیث ٤٥١٣٧ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ / ۴۰۸
مسند ابی یعلٰی حدیث ٦٦٢١ موسسہ علوم القرآن بیروت ۶ / ۱۲۵
کنز العمال بحوالہ ابن بشر ابن عن انس حدیث ٤٥١٣٧ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ / ۴۰۸
مسند ابی یعلٰی حدیث ٦٦٢١ موسسہ علوم القرآن بیروت ۶ / ۱۲۵
امام عبد العظیم منذری فرماتے ہیں : اسنادہ حسن ان شاء اﷲتعالی(اس کی اسناد ان شاء اﷲتعالی حسن ہے۔ ت)
تنبیہ : حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا بہشت میں تشریف لے جانا بارہا ہوگا اولیت مطلقہ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے لئے خاص ہے دروازہ کھلنا حضور والا ہی کے لئے ہوگا رضوان دار روغہ جنت عرض کرے گا مجھے یہی حکم تھا کہ حضور سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں حضور پر کوئی نبی مرسل بھی تقدیم نہیں پاسکتا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
یہ سب مضامین احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں جن کی بعض فقیر نے پانے رسالہ مبارکہ تجلی الیقین بان نبیناسید المرسلین میں ذکر کیں ۔ حضور کے بعد جو اور بندگان خداجائیں گےدروازہ کھلاپائیں گے کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم پہلے سے فتح باب فرماچکے ہوں گے :
قال تعالی جنت عدن مفتحة لهم الابواب(۵۰) ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : بسنے کے باغ ان کے لئے سب کے دروازے کھلے ہوئے۔ (ت)
یہاں جو اس عورت کا آگے ہونا ہوایہ اور بار کے تشریف لے جانے میں ہے جب اہتمام کار امت میں آمد رفت فرماتے ہوں گے نہ کہ خاص بار اول میں وباﷲالتوفیق(اور توفیق اﷲتعالی سے ہی ہے۔ ت)
الحمدﷲ اس تحقیق انیق سے مسئلہ کا حکم بھی بنہایت ایضاح منصہ ظہور پر مرتفع ہوا اور اہل تشدد کے وہ متعصبانہ احکام بھی مخذول ومندفع والحمدﷲعلی ماوفق وعلم وصلی اﷲتعالی علی سیدنا محمد والہ وسلم(تمام تعریفیں اﷲتعالی کے لئے ہیں اس کے توفیق اور علم عطا فرمانے پر اور اﷲتعالی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا مصطفی اور آپ کی آل پر۔ ت)یہاں تك نفس نکاح اور اس پر اجبار اور عورت یا اولیاء کی جانب سے ترك یا انکار اور ان کے انکار پر زجر وانتہا کا حکم تھا۔
اب رہا نکاح ثانی پر طعن اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور اﷲہی سے توفیق ہے۔ ت)ہماری تحقیق سابق سے روشن ہوا کہ نکاح ثانی مطلقا فرض یا واجب یا سنت نہیں بلکہ عام زنان کیلئے نہایت درجہ مباح ہی ہے اورمباح پر طعن صرف اسی صورت میں کفر ہوسکتا ہے کہ اس کی اباحت ضروریا ت دین سے ہو اور باوصف اس کے یہ شخص اسے شرعا مباح نہ جانے نکاح ثانی کی اباحت توبیشك ضروریات دین
تنبیہ : حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا بہشت میں تشریف لے جانا بارہا ہوگا اولیت مطلقہ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے لئے خاص ہے دروازہ کھلنا حضور والا ہی کے لئے ہوگا رضوان دار روغہ جنت عرض کرے گا مجھے یہی حکم تھا کہ حضور سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں حضور پر کوئی نبی مرسل بھی تقدیم نہیں پاسکتا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
یہ سب مضامین احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں جن کی بعض فقیر نے پانے رسالہ مبارکہ تجلی الیقین بان نبیناسید المرسلین میں ذکر کیں ۔ حضور کے بعد جو اور بندگان خداجائیں گےدروازہ کھلاپائیں گے کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم پہلے سے فتح باب فرماچکے ہوں گے :
قال تعالی جنت عدن مفتحة لهم الابواب(۵۰) ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : بسنے کے باغ ان کے لئے سب کے دروازے کھلے ہوئے۔ (ت)
یہاں جو اس عورت کا آگے ہونا ہوایہ اور بار کے تشریف لے جانے میں ہے جب اہتمام کار امت میں آمد رفت فرماتے ہوں گے نہ کہ خاص بار اول میں وباﷲالتوفیق(اور توفیق اﷲتعالی سے ہی ہے۔ ت)
الحمدﷲ اس تحقیق انیق سے مسئلہ کا حکم بھی بنہایت ایضاح منصہ ظہور پر مرتفع ہوا اور اہل تشدد کے وہ متعصبانہ احکام بھی مخذول ومندفع والحمدﷲعلی ماوفق وعلم وصلی اﷲتعالی علی سیدنا محمد والہ وسلم(تمام تعریفیں اﷲتعالی کے لئے ہیں اس کے توفیق اور علم عطا فرمانے پر اور اﷲتعالی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا مصطفی اور آپ کی آل پر۔ ت)یہاں تك نفس نکاح اور اس پر اجبار اور عورت یا اولیاء کی جانب سے ترك یا انکار اور ان کے انکار پر زجر وانتہا کا حکم تھا۔
اب رہا نکاح ثانی پر طعن اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور اﷲہی سے توفیق ہے۔ ت)ہماری تحقیق سابق سے روشن ہوا کہ نکاح ثانی مطلقا فرض یا واجب یا سنت نہیں بلکہ عام زنان کیلئے نہایت درجہ مباح ہی ہے اورمباح پر طعن صرف اسی صورت میں کفر ہوسکتا ہے کہ اس کی اباحت ضروریا ت دین سے ہو اور باوصف اس کے یہ شخص اسے شرعا مباح نہ جانے نکاح ثانی کی اباحت توبیشك ضروریات دین
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۸ /۵۰
سے ہے کہ تمام مسلمین اس سے آگاہ قرآن عظیم کی متعدد آیتیں اس پر گواہ۔
قال اﷲتعالی عسى ربه ان طلقكن ان یبدله ازواجا خیرا منكن الی قولہ تعالی) ثیبت و ابكارا(۵) ۔ (وقال تعالی فلما قضى زید منها وطرا زوجنكها وقال تعالی فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ان کے رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیویاں بدل دے(اﷲتعالی کے قول) ثیبت و ابكارا (بیاہیاں اور کنواریاں ) تک۔ اور اﷲتعالی نے فرمایا : پھر زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ(زینب)تمہارے نکاح میں دے دی۔ اور اﷲاتعالی نے فرمایا : تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تك دوسرے خاوند کے پاس نہ آئے۔ (ت)
کریمہ و انكحوا الایامى (اور نکاح کردواپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہیں ۔ ت) میں ایم کے نکاح کردینے کو فرمایا ایم ہرزن بے شوہر کو کہتے ہیں جس کے اطلاق میں کنواری مطلقہ بیوہ سب داخل۔ اگر چہ ایم خاص بیوہ کا نام نہیں بالخصوص بیوہ کے لئے یہ آیتیں ہیں قال تعالی(اﷲتعالی نے فرمایا۔ ت) :
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسهن اربعة اشهر و عشرا-فاذا بلغن اجلهن فلا جناح علیكم فیما فعلن فی انفسهن بالمعروف-و الله بما تعملون خبیر(۲۳۴) و لا جناح علیكم فیما عرضتم به من خطبة النسآء او اكننتم فی انفسكم-علم الله انكم ستذكرونهن و لكن لا تواعدوهن سرا الا ان تقولوا قولا
اور جو تم میں مریں اور بیویاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جوتمہارے کاموں کی خبر ہے اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم نے عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپارکھو۔ اﷲتعالی جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کروگے۔ ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ رکھو یہ کہ اتنی ہی بات کہو جو شرع میں
قال اﷲتعالی عسى ربه ان طلقكن ان یبدله ازواجا خیرا منكن الی قولہ تعالی) ثیبت و ابكارا(۵) ۔ (وقال تعالی فلما قضى زید منها وطرا زوجنكها وقال تعالی فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ان کے رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیویاں بدل دے(اﷲتعالی کے قول) ثیبت و ابكارا (بیاہیاں اور کنواریاں ) تک۔ اور اﷲتعالی نے فرمایا : پھر زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ(زینب)تمہارے نکاح میں دے دی۔ اور اﷲاتعالی نے فرمایا : تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تك دوسرے خاوند کے پاس نہ آئے۔ (ت)
کریمہ و انكحوا الایامى (اور نکاح کردواپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہیں ۔ ت) میں ایم کے نکاح کردینے کو فرمایا ایم ہرزن بے شوہر کو کہتے ہیں جس کے اطلاق میں کنواری مطلقہ بیوہ سب داخل۔ اگر چہ ایم خاص بیوہ کا نام نہیں بالخصوص بیوہ کے لئے یہ آیتیں ہیں قال تعالی(اﷲتعالی نے فرمایا۔ ت) :
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسهن اربعة اشهر و عشرا-فاذا بلغن اجلهن فلا جناح علیكم فیما فعلن فی انفسهن بالمعروف-و الله بما تعملون خبیر(۲۳۴) و لا جناح علیكم فیما عرضتم به من خطبة النسآء او اكننتم فی انفسكم-علم الله انكم ستذكرونهن و لكن لا تواعدوهن سرا الا ان تقولوا قولا
اور جو تم میں مریں اور بیویاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جوتمہارے کاموں کی خبر ہے اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم نے عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپارکھو۔ اﷲتعالی جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کروگے۔ ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ رکھو یہ کہ اتنی ہی بات کہو جو شرع میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۶ /۵
القرآن الکریم ۳۳ /۳۷
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
القرآن الکریم ۳۳ /۳۷
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
معروفا۬-و لا تعزموا عقدة النكاح حتى یبلغ الكتب اجله
معروت ہے اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تك لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے۔ (ت)
وقال اﷲ تعالی :
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا -وصیة لازواجهم متاعا الى الحول غیر اخراج-فان خرجن فلا جناح علیكم فی ما فعلن فی انفسهن من معروف-و الله عزیز حكیم(۲۴۰)
اور تم میں مریں اور بیویان چھوڑجائیں وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کر جائیں سال بھر نان ونفقہ دینے کی بے نکالے پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مواخذہ نہیں جو انہیں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا اور اﷲتعالی غالب حکمت والا ہے(ت)
ان آیات کریمہ کا جملہ جملہ جواز نکاح بیوہ پر نص صریح ہے پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واہلبیت کرام وصحابہ عظام رضی اﷲتعالی عنہم اجمعین سے قولا وفعلا تقریرا اس کی اباحت متواتر ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق تھیں کما ثبت ذلك فی صحیح البخاری من حدیث نفسھا ومن حدیث ابن عباس رضی اﷲتعالی عنھم(جیسا کہ صحیح بخاری میں خود ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور حضرت عبد اﷲابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے ثابت ہے۔ ت)مگر کلام اس میں ہے کہ جاہلان ہند جو اسے ننگ وعار سمجھتے ہیں آیا اس بناء پر ہے کہ اسے ازروئے شریعت ہی حلال نہیں جانتے ایسا ہوتو بیشك کفر ہے مگر انصافا عامہ ناس سے اس کا اصلا ثبوت نہیں جس مسلمان سے پوچھئے صاف اقرار کرے گا کہ شرعا بے شك جائز ہم ناجائز وحرام نہیں جانتے بلکہ ازروئے رسم لوگوں کے نزدیك ایك ننگ وعار کی بات ہے بخیال طعن وبدنامی اس سے احتراز ہے ایسے خیالات پر ہرگز حکم تکفیر نہیں ہوسکتا سلفاوخلفا تمام لوگوں میں معاملات دنیویہ میں مصالح دنیویہ کے لحاظ سے ہی باہم ایك دوسرے پر مباحات میں طعن وسرزنش رائج ہے وہاں کیوں گیا یہ کیوں کیا فلاں سے کیوں ملا حالانکہ یہ سب امور مباحات شرعیہ ہیں یہ تو خاص خاص ہر شخص کے اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور مصلحات عامہ قوم یا شاملہ ملك میں بھی بہت باتیں مباح شرعی ہیں کہ بوجہ عرف وعادت معیوب ٹھہری ہیں کہ اس احتراز واعتراض میں اکثر یہ حضرات مکفرین بھی شریك مثلا باپ کے سامنے اپنے زوج یا زوجہ سے ہمکلام ہونا خصوصا نئے
معروت ہے اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تك لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے۔ (ت)
وقال اﷲ تعالی :
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا -وصیة لازواجهم متاعا الى الحول غیر اخراج-فان خرجن فلا جناح علیكم فی ما فعلن فی انفسهن من معروف-و الله عزیز حكیم(۲۴۰)
اور تم میں مریں اور بیویان چھوڑجائیں وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کر جائیں سال بھر نان ونفقہ دینے کی بے نکالے پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مواخذہ نہیں جو انہیں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا اور اﷲتعالی غالب حکمت والا ہے(ت)
ان آیات کریمہ کا جملہ جملہ جواز نکاح بیوہ پر نص صریح ہے پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واہلبیت کرام وصحابہ عظام رضی اﷲتعالی عنہم اجمعین سے قولا وفعلا تقریرا اس کی اباحت متواتر ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق تھیں کما ثبت ذلك فی صحیح البخاری من حدیث نفسھا ومن حدیث ابن عباس رضی اﷲتعالی عنھم(جیسا کہ صحیح بخاری میں خود ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور حضرت عبد اﷲابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے ثابت ہے۔ ت)مگر کلام اس میں ہے کہ جاہلان ہند جو اسے ننگ وعار سمجھتے ہیں آیا اس بناء پر ہے کہ اسے ازروئے شریعت ہی حلال نہیں جانتے ایسا ہوتو بیشك کفر ہے مگر انصافا عامہ ناس سے اس کا اصلا ثبوت نہیں جس مسلمان سے پوچھئے صاف اقرار کرے گا کہ شرعا بے شك جائز ہم ناجائز وحرام نہیں جانتے بلکہ ازروئے رسم لوگوں کے نزدیك ایك ننگ وعار کی بات ہے بخیال طعن وبدنامی اس سے احتراز ہے ایسے خیالات پر ہرگز حکم تکفیر نہیں ہوسکتا سلفاوخلفا تمام لوگوں میں معاملات دنیویہ میں مصالح دنیویہ کے لحاظ سے ہی باہم ایك دوسرے پر مباحات میں طعن وسرزنش رائج ہے وہاں کیوں گیا یہ کیوں کیا فلاں سے کیوں ملا حالانکہ یہ سب امور مباحات شرعیہ ہیں یہ تو خاص خاص ہر شخص کے اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور مصلحات عامہ قوم یا شاملہ ملك میں بھی بہت باتیں مباح شرعی ہیں کہ بوجہ عرف وعادت معیوب ٹھہری ہیں کہ اس احتراز واعتراض میں اکثر یہ حضرات مکفرین بھی شریك مثلا باپ کے سامنے اپنے زوج یا زوجہ سے ہمکلام ہونا خصوصا نئے
دنوں میں ۔ یوں ہی باپ یا پیر وغیرہما بزرگوں کے حضورحقہ پینا دخترو داماد رات کو ایك پلنگ پر ہوں ان کے پس جانا پاس بیٹھنا بات کرنا ان کا بدستور لیٹے رہنا۔ ماں بہن بیٹی کا اپنے بیٹے بھائی باپ کے سامنے سینہ وپستان کھولے پھرنا شریف عورتوں کا برقع اوڑھ کرسر بازار سودے خریدنا اجنبی لوگوں سے باتیں کرنا ان میں کون سی بات شرعا ممنوع وناجائز ہے مگر رسم ورواج واصطلاح حادث کی وجہ سے اب تمام اہل حیا انہیں عیب جانتے ہیں جو ایسے امور کا مرتکب ہو اس پر طعن کریں گے کیا اس بنا پر معاذاﷲسب مسلمان کافر ٹھہریں گے اسی قبیل کا طعن واعتراض یہاں کے عوام کو نکاح ثانی میں ہے تو اس پر بے تکلف حکم کفر جاری کرنا سخت مجازفت اور کلمہ طیبہ پر بیبا کانہ جرأت ہے والعیاذ باﷲ رب العلمین۔ صحیح حدیث سے ثابت کہ حضرت امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی صاحبزادی حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہا کی بہن حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سالی حضرت اسماء رضی اﷲتعالی عنہا اپنے گھر کاپانی خود بھرکر لاتیں اپنے شوہر حضرت زبیر رضی اﷲتعالی عنہ سے گھوڑے کے لئے بیرون شہر دو۲ میل پر جاکردانہائے خرمہ جمع فرماتیں ان کی گھٹری پیادہ پااپنے سر مبار پر اٹھا کر لاتیں ایك بار پلٹتے ہوئے راہ میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مع ایك جماعت انصار کرام کے ملے حضور نے انہیں بلایا اور اونٹ بیٹھنے کا حکم فرمایا کہ اپنے پیچھے سوار فرمالیں انہوں نے مردوں کے ساتھ چلنے میں حیا کی اور حضرت زبیر رضی اﷲتعالی عنہ کی غیرت کا خیال آیا نہ مانا۔ حضرت زبیر سے حال کہا فرمایا واﷲتمہارا گھٹلیاں سر پرلے کر چلنا مجھ پر زیادہ سخت تھا اس سے کہ تم حضور کے ساتھ سوار ہولیتیں ۔ صحیحین میں ہے :
عن اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہما قالت تزوجنی الزبیرومالہ فی الارض من مال ولا مملوك ولا شیئ غیر ناضح وغیر فرسہ فکنت اعلف فرسہ واستقی الماء واخرز عربہ واعجن ولم اکن احسن اخبز وکان تخبز جارات لی من الانصار وکن نسوۃ صدیق وکنت انقل النوی من ارض الزبیر التی اقطعہ رسول اﷲ
حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالی عنہما نے کہا مجھ سے حضرت زبیر رضی اﷲتعالی عنہ نے نکاح کیا حالانکہ زمین میں اس کے پاس نہ کوئی مال تھا اور نہ ہی کوئی مملوک اور ایك اونٹنی اور ایك گھوڑے کے سوا کوئی شیئ اس کے پاس نہ تھی میں اس کے گھوڑے کو چارہ دیتی اور اس کو پانی پلاتی تھی اور اس کا ڈول سیتی اور آٹا گوندتی تھی اور میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی ہماری ہمسائی انصار عورتیں تھی جو کہ بہت اچھی عورتیں تھیں وہ مجھے روٹیاں پکادیتی تھی اور میں حضرت زبیر رضی اﷲتعالی عنہ کی
عن اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہما قالت تزوجنی الزبیرومالہ فی الارض من مال ولا مملوك ولا شیئ غیر ناضح وغیر فرسہ فکنت اعلف فرسہ واستقی الماء واخرز عربہ واعجن ولم اکن احسن اخبز وکان تخبز جارات لی من الانصار وکن نسوۃ صدیق وکنت انقل النوی من ارض الزبیر التی اقطعہ رسول اﷲ
حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالی عنہما نے کہا مجھ سے حضرت زبیر رضی اﷲتعالی عنہ نے نکاح کیا حالانکہ زمین میں اس کے پاس نہ کوئی مال تھا اور نہ ہی کوئی مملوک اور ایك اونٹنی اور ایك گھوڑے کے سوا کوئی شیئ اس کے پاس نہ تھی میں اس کے گھوڑے کو چارہ دیتی اور اس کو پانی پلاتی تھی اور اس کا ڈول سیتی اور آٹا گوندتی تھی اور میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی ہماری ہمسائی انصار عورتیں تھی جو کہ بہت اچھی عورتیں تھیں وہ مجھے روٹیاں پکادیتی تھی اور میں حضرت زبیر رضی اﷲتعالی عنہ کی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی رأسی وھی منی علی ثلثی فرسخ فجئت یوماوالنوی علی رأسی فلقیت رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ومعہ نفرمن الانصار فدعانی ثم قال اخ اخ لیحملنی خلفہ فاستحیت ان اسیر مع الرجال وذکرت الزبیر وغیرتہ وکان اغیر الناس فعرف رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم انی قد استحییت فمضی فجئت الزبیر فقلت لقینی رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعلی راسی النوی ومعہ نفرمن اصحابہ فاناخ لارکب فاستحییت منہ وعرفت غیرتك فقال واﷲلحملك النوی کان اشد علی من رکوبك معہ قالت حتی ارسل ابوبکر بعد ذلك بخادم یکفینی سیاسۃ الفرس فکانما اعتقنی ۔
زمین سے جو کہ انہیں رسول ا ﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے دی تھی اپنے سر پر گھٹلیاں اٹھا کر لاتی تھی جبکہ وہ زمین مجھ سے دوتہائی فرسخ(یعنی تقریبا چھ کلومیٹر)دور تھی ایك دن میں گھٹلیاں سر پر اٹھا کر آرہی تھی پس میں رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے ملی اور آپ نے مجھے بلایا پھر(اونٹ کو بٹھانے کے لئے)فرمایا : اخ اخ تاکہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھالیں مجھے شرم آئی کہ میں مردوں کے ساتھ چلوں مجھے زبیر اور اس کی غیرت یا د آئی جبکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ غیور تھے جناب رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ میں شرم کررہی ہوں چنانچہ آپ تشریف لے گئے پھر میں زبیر کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ مجھے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ملے جبکہ گھٹلیاں میرے سر پر تھیں آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام تھے آپ نے اونٹ کو بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوجاؤں مجھے اس سے شرم آئی اور میں نے تمہاری غیرت کو یا د کیا زبیر نے کہا بخدا تمہارا گھٹلیوں کو سر پر اٹھانا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ اونٹ سوار ہونے سے مجھ پر زیادت سخت تھا۔ حضرت اسماء نے کہا میرا یہ حال رہا حتی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲتعالی عنہ نے اس کے بعد میری طرف ایك خادم بھیجا جو مجھ سے گھوڑے کے انتظام سے کفایت کرتا تھا گویا کہ اس نے مجھے آزاد کردیا۔ (ت)
تکفیر کرنے والے حضرات ذرا سچ سچ کہیں ان کے یہاں کے معزز شریف شہری لوگ کیا اسے روا رکھیں گے کہ ان کی شریف خاندانی بیبیاں گھر کا پانی کنویں سے بھر کر لائیں شہر سے دو۲دو۲ کوس پر جاکر گھوڑے کیلئے گھاس چھیلیں گھاس کا گھٹا سر پر رکھ کر سر بازار لائیں بہنوئی نہیں خاص اپنے حقیقی بھائی ہی کے پیچھے مردوں
زمین سے جو کہ انہیں رسول ا ﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے دی تھی اپنے سر پر گھٹلیاں اٹھا کر لاتی تھی جبکہ وہ زمین مجھ سے دوتہائی فرسخ(یعنی تقریبا چھ کلومیٹر)دور تھی ایك دن میں گھٹلیاں سر پر اٹھا کر آرہی تھی پس میں رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے ملی اور آپ نے مجھے بلایا پھر(اونٹ کو بٹھانے کے لئے)فرمایا : اخ اخ تاکہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھالیں مجھے شرم آئی کہ میں مردوں کے ساتھ چلوں مجھے زبیر اور اس کی غیرت یا د آئی جبکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ غیور تھے جناب رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ میں شرم کررہی ہوں چنانچہ آپ تشریف لے گئے پھر میں زبیر کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ مجھے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ملے جبکہ گھٹلیاں میرے سر پر تھیں آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام تھے آپ نے اونٹ کو بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوجاؤں مجھے اس سے شرم آئی اور میں نے تمہاری غیرت کو یا د کیا زبیر نے کہا بخدا تمہارا گھٹلیوں کو سر پر اٹھانا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ اونٹ سوار ہونے سے مجھ پر زیادت سخت تھا۔ حضرت اسماء نے کہا میرا یہ حال رہا حتی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲتعالی عنہ نے اس کے بعد میری طرف ایك خادم بھیجا جو مجھ سے گھوڑے کے انتظام سے کفایت کرتا تھا گویا کہ اس نے مجھے آزاد کردیا۔ (ت)
تکفیر کرنے والے حضرات ذرا سچ سچ کہیں ان کے یہاں کے معزز شریف شہری لوگ کیا اسے روا رکھیں گے کہ ان کی شریف خاندانی بیبیاں گھر کا پانی کنویں سے بھر کر لائیں شہر سے دو۲دو۲ کوس پر جاکر گھوڑے کیلئے گھاس چھیلیں گھاس کا گھٹا سر پر رکھ کر سر بازار لائیں بہنوئی نہیں خاص اپنے حقیقی بھائی ہی کے پیچھے مردوں
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۸۶
کے مجمع میں اونٹ پر چھڑھی پھریں کیا وہ ان باتوں کو عیب نہ جانیں گے کیا وہ ان پر طعن نہ کریں گے اگر نہیں تو زبانی جمع خرچ کی نہیں سہی ذرا کردکھائیں اور اگر ہاں تو پہلے اپنی نسبت بتائیں پھر اور مسلمانوں پر منہ آئیں میں اس قسم کی بکثرت حدیثیں پیش کرسکتا ہوں مگر عاقل کو ایك حرف کا فی اور نامنصف کودفتر ناوانی بلکہ اگرنظر تدقیق کیجئے توایك وجہ وہ بھی نکل سکتی ہے کہ کوئی شخص ان بلاد میں نکاح ثانی کو ممنوع شرعی جانے اور اس کی تکفیر کی طرف اصلا راہ نہ ہو وہ یہ کہ مثلا زید زعم کرے کہ نکاح ثانی فی نفسہ اگر چہ مباح ہے مگر ان اعصاروامصار میں نکاح بیوہ پر لوگ طعنہ زن ہوکر کبیرہ شدیدہ میں واقع ہوتے اور اس عورت کی مذمت کرتے اور اس سے نفرت رکھتے ہیں تو یہاں اس کا فعل مسلمانوں کے ایسے مہالك عظیمہ میں واقع ہونے اور ان پر دروازہ کبائر واتباع شیطان کھلنے کا باعث ہوگیا ہے اور جو مباح ایسے امور کی طرف منجر ہو اس عارض کو وجہ سے مباح نہیں رہتا شرعا قابل احتراز ہوجاتا ہے۔ نظیرنمبر۱ اس کی عوام کے سامنے حقائق عالیہ ودقائق غالیہ کا ذکر جو ان کے مدارك واقسام سے ورا ہو کہ اشاعت علم فرض اور کتمان حرام مگر یہاں عوام کا فتنہ میں پڑنا گناہ میں مبتلا ہونا متوقع لہذا ان کے سامنے ایسا بیان شرعاممنوع۔ حدیث میں ہے :
حدثواالناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اﷲ و رسولہ ۔ رواہ البخاری فی صحیحہ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالی وجہہ موقوفا علیہ والد یلمی فی مسند الفردوس عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
لوگوں سے وہ باتیں کہو جنہیں وہ پہچانیں کیا یہ چاہتے ہو کہ لوگ اﷲ ورسول کی تکذیب کریں (اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے موقوفا روایت کیا اور علمی نے مسند الفردوس میں حضرلی علی مرتضی رضی اﷲتعالی عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔ (ت)
حدیث۲ :
امرنا ان تکلم الناس علی قدر عقولھم ۔ رواہ الامام ابو عبد الرحمن السلمی ومن طریقہ الدیلمی و الحسن بن سفیان فی مسندہ وابوالحسن التمیمی فی کتاب العقل عن
ہمیں حکم ہے کہ لوگوں سے بقدر ان کے عقول کے کلام کریں ۔ اس کو امام عبد الرحمن سلمی اور ان کے طریق سے دیلمی اور حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابولحسن تمیمی نے کتاب العقل میں حضرت عبداﷲ
حدثواالناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اﷲ و رسولہ ۔ رواہ البخاری فی صحیحہ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالی وجہہ موقوفا علیہ والد یلمی فی مسند الفردوس عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
لوگوں سے وہ باتیں کہو جنہیں وہ پہچانیں کیا یہ چاہتے ہو کہ لوگ اﷲ ورسول کی تکذیب کریں (اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے موقوفا روایت کیا اور علمی نے مسند الفردوس میں حضرلی علی مرتضی رضی اﷲتعالی عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔ (ت)
حدیث۲ :
امرنا ان تکلم الناس علی قدر عقولھم ۔ رواہ الامام ابو عبد الرحمن السلمی ومن طریقہ الدیلمی و الحسن بن سفیان فی مسندہ وابوالحسن التمیمی فی کتاب العقل عن
ہمیں حکم ہے کہ لوگوں سے بقدر ان کے عقول کے کلام کریں ۔ اس کو امام عبد الرحمن سلمی اور ان کے طریق سے دیلمی اور حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابولحسن تمیمی نے کتاب العقل میں حضرت عبداﷲ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب من خصّ بالعلم قومًاالخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ١٦١١ مطبع دارالباز مکۃالمکرمۃ ۱ / ۳۹۸
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ١٦١١ مطبع دارالباز مکۃالمکرمۃ ۱ / ۳۹۸
ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے اور انہوں نے نبی اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
حدیث۳ :
ماحدث احدکم قوما بحدیث لا یفہمونہ الاکان فتنۃ علیھم۔ رواہ العقیل وابن السنی وابونعیم فی الریاضۃ وغیرہم عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
تم میں سے کوئی شخص کسی قوم سے کوئی ایسی حدیث کہ ان کی سمجھ سے ورا ہو بیان نہ کرے گا مگر یہ کہ وہ حدیث ان پر فتنہ ہوجائے گی(اس کو عقیلی ان سنی اور ابونعیم نے الریاضۃ میں اور دیگر محدثین نے حضرت عبداﷲابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے اور انہوں نے بنی اکرم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ ت)
دوسری روایت میں ہے :
لاتحدثوا امتی من احادیثی الاماتحتملہ عقولھم فیکون فتنۃ علیھم ۔ رواہ عنہ ابونعیم ومن طریقہ الدیلمی وفیہ فکان ابن عباس یخفی اشیاء من حدیثہ ویفشیھا الی اھل العلم۔
میری امت سے میری حدیثیں نہ بیان کرو مگر وہ جوان کی عقلیں اٹھالیں کہ وہ حدیث فتنہ ہوجائے گی۔ اس کو حضرت عبداﷲ ابن عبا س رضی اﷲ تعالی عنہما سے ابونعیم نے اور ان کے طریق سے دیلمی نے روایت کیا اور اس میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی حدیث سے کچھ اشیاء مخفی رکھتے اور انہیں اہل علم پر ظاہرفرماتے۔ ت)
تیسری روایت میں ہے :
یاابن عباس لاتحدث قوما حدیثا لا تحتملہ عقو لھم ۔ رواہ عنہ
اے ابن عباس ! لوگوں سے وہ حدیث بیا ن نہ کرو جو ان کی عقل میں نہ آئے۔ (اس کی مسند الفردوس
ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے اور انہوں نے نبی اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
حدیث۳ :
ماحدث احدکم قوما بحدیث لا یفہمونہ الاکان فتنۃ علیھم۔ رواہ العقیل وابن السنی وابونعیم فی الریاضۃ وغیرہم عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
تم میں سے کوئی شخص کسی قوم سے کوئی ایسی حدیث کہ ان کی سمجھ سے ورا ہو بیان نہ کرے گا مگر یہ کہ وہ حدیث ان پر فتنہ ہوجائے گی(اس کو عقیلی ان سنی اور ابونعیم نے الریاضۃ میں اور دیگر محدثین نے حضرت عبداﷲابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے اور انہوں نے بنی اکرم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ ت)
دوسری روایت میں ہے :
لاتحدثوا امتی من احادیثی الاماتحتملہ عقولھم فیکون فتنۃ علیھم ۔ رواہ عنہ ابونعیم ومن طریقہ الدیلمی وفیہ فکان ابن عباس یخفی اشیاء من حدیثہ ویفشیھا الی اھل العلم۔
میری امت سے میری حدیثیں نہ بیان کرو مگر وہ جوان کی عقلیں اٹھالیں کہ وہ حدیث فتنہ ہوجائے گی۔ اس کو حضرت عبداﷲ ابن عبا س رضی اﷲ تعالی عنہما سے ابونعیم نے اور ان کے طریق سے دیلمی نے روایت کیا اور اس میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نبی کریم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی حدیث سے کچھ اشیاء مخفی رکھتے اور انہیں اہل علم پر ظاہرفرماتے۔ ت)
تیسری روایت میں ہے :
یاابن عباس لاتحدث قوما حدیثا لا تحتملہ عقو لھم ۔ رواہ عنہ
اے ابن عباس ! لوگوں سے وہ حدیث بیا ن نہ کرو جو ان کی عقل میں نہ آئے۔ (اس کی مسند الفردوس
حوالہ / References
اتحاف السادۃ بحوالہ العقیلی فی الضعفاء بیان ما بدل من الفاظ العلو م مطبع دارالفکر بیروت ۱ / ۲۵۳
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث٧٣١٢ مطبع دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ / ۱۷
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ٨٤٣٤ مطبع دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ / ۳۵۹
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث٧٣١٢ مطبع دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ / ۱۷
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ٨٤٣٤ مطبع دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ / ۳۵۹
فی مسند الفردوس۔ میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت فرمایا۔ ت)
حدیث ۴ : حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ فرماتے ہیں :
ما انت بمحدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقولھم الاکان لبعضھم فتنۃ ۔ رواہ مسلم فی مقدمۃ صحیحہ۔
قلت ومن ھذالباب ماکان الامام احمد رضی اﷲتعالی عنہ یخفی فی بعض مجالسہ القول برویۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ربہ لیلۃ المعراج ذکرہ الزرقانی وقد صح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ انہ قال حفظت عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعائین اماحدھما فبثثتہ واما الاخرفلو بثثتہ قطع ھذا البلعوم ۔ رواہ البخاری۔
تو جب کسی قوم سے وہ حدیث بیان کرے گا جس تك ان کی عقل نہ پہنچے وہ ضرور ان میں کسی پر فتنہ ہوجائے گی۔
قلت(میں کہتا ہوں )اپنی بعض مجالس میں حضرت امام احمد رضی اﷲتعالی عنہ کاشب معراج نبی اقدس صلی اﷲتعالی عنہ وسلم کے رؤیت باری تعالی کے قول پر چھپانا اسی باب سے ہے جیساکہ زرقانی نے ذکر کیا اورحضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے حدیث صحیح مروی ہے کہ میں نبی انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے علم کی دو۲ نوعیں یاد کیں ان میں سے ایك کو تو میں نے لوگوں میں پھیلایا اور رہی دوسری تو اس کو اگر پھیلاؤں تو گلا کاٹ دیا جائے۔ اس کو بخاری نے روایت فرمایا۔ (ت)
نظیر۲ : عمامہ کا شملہ چھوڑنا یقیناسنت مگر جہاں جہال اس پر ہنستے ہوں وہاں علمائے متاخرین نے غیرحالت نماز میں اس سے بچنا اختیار فرمایا جس کا منشاء وہی حفظ دین عوام ہے۔ شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی رسالہ آداب لباس میں فرماتے ہیں :
ارسال رابر ارسال شملہ براہین قیاسی بسیارست وارسال آں سنت مؤکدہ دانندوعلمائے متاخرین سوائے صلوات پنچگانہ را ارسال ندارند برائے طعن ومسخرہ جہال زمانہ اھ ملخصا۔ فقہاء کے پاس شملہ چھوڑنے پر بہت سے دلائل قیاسیہ موجود ہیں اور وہ اس کو سنت مؤکدہ سمجھتے ہیں مگر علماء متاخرین جہال زمانہ کے طعن و تمسخر سے بچنے کے لئے سوائے نماز پنجگانہ کے شملہ نہیں چھوڑتے ہیں اھ ملخصا(ت)
حدیث ۴ : حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ فرماتے ہیں :
ما انت بمحدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقولھم الاکان لبعضھم فتنۃ ۔ رواہ مسلم فی مقدمۃ صحیحہ۔
قلت ومن ھذالباب ماکان الامام احمد رضی اﷲتعالی عنہ یخفی فی بعض مجالسہ القول برویۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ربہ لیلۃ المعراج ذکرہ الزرقانی وقد صح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ انہ قال حفظت عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعائین اماحدھما فبثثتہ واما الاخرفلو بثثتہ قطع ھذا البلعوم ۔ رواہ البخاری۔
تو جب کسی قوم سے وہ حدیث بیان کرے گا جس تك ان کی عقل نہ پہنچے وہ ضرور ان میں کسی پر فتنہ ہوجائے گی۔
قلت(میں کہتا ہوں )اپنی بعض مجالس میں حضرت امام احمد رضی اﷲتعالی عنہ کاشب معراج نبی اقدس صلی اﷲتعالی عنہ وسلم کے رؤیت باری تعالی کے قول پر چھپانا اسی باب سے ہے جیساکہ زرقانی نے ذکر کیا اورحضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے حدیث صحیح مروی ہے کہ میں نبی انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے علم کی دو۲ نوعیں یاد کیں ان میں سے ایك کو تو میں نے لوگوں میں پھیلایا اور رہی دوسری تو اس کو اگر پھیلاؤں تو گلا کاٹ دیا جائے۔ اس کو بخاری نے روایت فرمایا۔ (ت)
نظیر۲ : عمامہ کا شملہ چھوڑنا یقیناسنت مگر جہاں جہال اس پر ہنستے ہوں وہاں علمائے متاخرین نے غیرحالت نماز میں اس سے بچنا اختیار فرمایا جس کا منشاء وہی حفظ دین عوام ہے۔ شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی رسالہ آداب لباس میں فرماتے ہیں :
ارسال رابر ارسال شملہ براہین قیاسی بسیارست وارسال آں سنت مؤکدہ دانندوعلمائے متاخرین سوائے صلوات پنچگانہ را ارسال ندارند برائے طعن ومسخرہ جہال زمانہ اھ ملخصا۔ فقہاء کے پاس شملہ چھوڑنے پر بہت سے دلائل قیاسیہ موجود ہیں اور وہ اس کو سنت مؤکدہ سمجھتے ہیں مگر علماء متاخرین جہال زمانہ کے طعن و تمسخر سے بچنے کے لئے سوائے نماز پنجگانہ کے شملہ نہیں چھوڑتے ہیں اھ ملخصا(ت)
حوالہ / References
الصحیح المسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹
الصحیح البخاری کتاب العلم باب حفظ العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳
رسالہ آدابِ لباس عبدالحق دہلوی
الصحیح البخاری کتاب العلم باب حفظ العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳
رسالہ آدابِ لباس عبدالحق دہلوی
نظیر۳ : قرآن عظیم کی دسوں ۱۰ قرأتیں حق اور دسوی۱۰ منزل من اﷲ دسوں طرح حضور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے پڑھا اور حضور سے صحابہ صحابہ سے تابعین تابعین سے ہم تك پہنچا تو ان میں ہر ایك کا پڑھنا بلاشبہہ قرأت قرآن ونور ایمان ورضائے رحمان ہے۔ بایں ہمہ علماء نے ارشادفرمایا کہ جہاں جو قرأت رائج ہو نماز وغیر نماز میں عوام کے سامنے وہی قرأت پڑھیں دوسری قرأت جس سے ان کے کان آشنا نہیں نہ پڑھیں مبادا وہ اس پرہنسنے اور طعن کرنے سے اپنے دین خراب کرلیں ۔ ہندیہ میں ہے :
فی الحجۃ قراءۃ القران بالقراءات السبعۃ والروایات کلھا جائزۃ ولکنی اری الصواب ان لایقرء القرأۃ العجبیۃ بالامالات والروایات الغریبۃ کذافی التاتار خانیہ ۔
حجہ میں ہے کہ ساتوں قراء ات اور تمام روایات میں قرآن مجید پڑھنا جائز ہے لیکن اس بات کو درست سمجھتا ہوں کہ نامانوس قراء ت میں امالات اور روایات غریبہ کے ساتھ قرآن مجید نہ پڑھاجائے جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان بعض السفھاء یقولون مالایعلمون فیقعون فی الاثم والشقاء ولاینبغی للائمۃ ان یحملوا العوام علی مافیہ نقصان دینھم ولا یقرأعندھم مثل قراءۃ ابی جعفر وابن عامروعلی بن حمزۃ والکسائی صیانۃ لدینھم فلعلھم یستخفون اویضحکون وان کان کل القراءات والروایات صحیحۃ فصیحۃ وومشائخنا اختاروا قراءۃ ابی عمر وحفص عن عاصم اھ من التتارخانیۃ عن فتاوی الحجۃ۔
اس لئے کہ بعض بیوقوف وہ کچھ کہیں گے جو وہ جانتے نہیں ہیں تو گناہ اور بدبختی میں مبتلا ہوجائیں گے اور ائمہ کے لئے مناسب نہیں کہ وہ عوام کو اس چیز برانگیختہ کریں جس میں ان کے دین کا نقصان ہے اور عوام کے یدن کو بچانے کے لئے ان کے پاس ابوجعفر ابن عامر علی بن حمزہ اور کسائی کی قراء ۃ میں قرآن مجید نہ پڑھائے کیونکہ ہوسکتا ہےوہ اس کو ہلکا جانیں اور اس پر ہنسیں اگر چہ تمام قراء ات وروایات صحیح اور فصیح ہیں ۔ ہمارے مشائخ نے ابوعمر وحفص کی قراء ۃ کو اختیار کیا ہے جو عاصم سے مروی ہے اھ تتارخانیہ از فتاوی حجہ۔(ت)
فی الحجۃ قراءۃ القران بالقراءات السبعۃ والروایات کلھا جائزۃ ولکنی اری الصواب ان لایقرء القرأۃ العجبیۃ بالامالات والروایات الغریبۃ کذافی التاتار خانیہ ۔
حجہ میں ہے کہ ساتوں قراء ات اور تمام روایات میں قرآن مجید پڑھنا جائز ہے لیکن اس بات کو درست سمجھتا ہوں کہ نامانوس قراء ت میں امالات اور روایات غریبہ کے ساتھ قرآن مجید نہ پڑھاجائے جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان بعض السفھاء یقولون مالایعلمون فیقعون فی الاثم والشقاء ولاینبغی للائمۃ ان یحملوا العوام علی مافیہ نقصان دینھم ولا یقرأعندھم مثل قراءۃ ابی جعفر وابن عامروعلی بن حمزۃ والکسائی صیانۃ لدینھم فلعلھم یستخفون اویضحکون وان کان کل القراءات والروایات صحیحۃ فصیحۃ وومشائخنا اختاروا قراءۃ ابی عمر وحفص عن عاصم اھ من التتارخانیۃ عن فتاوی الحجۃ۔
اس لئے کہ بعض بیوقوف وہ کچھ کہیں گے جو وہ جانتے نہیں ہیں تو گناہ اور بدبختی میں مبتلا ہوجائیں گے اور ائمہ کے لئے مناسب نہیں کہ وہ عوام کو اس چیز برانگیختہ کریں جس میں ان کے دین کا نقصان ہے اور عوام کے یدن کو بچانے کے لئے ان کے پاس ابوجعفر ابن عامر علی بن حمزہ اور کسائی کی قراء ۃ میں قرآن مجید نہ پڑھائے کیونکہ ہوسکتا ہےوہ اس کو ہلکا جانیں اور اس پر ہنسیں اگر چہ تمام قراء ات وروایات صحیح اور فصیح ہیں ۔ ہمارے مشائخ نے ابوعمر وحفص کی قراء ۃ کو اختیار کیا ہے جو عاصم سے مروی ہے اھ تتارخانیہ از فتاوی حجہ۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ فصل الرابع فی القرا ء ۃ نورانی لکتب خانہ پشاور ۱ / ۷۹
ردالمحتار فصل فی القراءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۶۴
ردالمحتار فصل فی القراءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۶۴
نظیر۴ : قریش نے جب زمانہ جاہلیت میں کعبہ از سر نو بنایا کچھ تنگی خرچ اپنی اغراض فاسدہ سے نبائے خلیل صلی اﷲتعالی علی ابنہ وعلیہ وبارك وسلم میں بہت تغیرات کردیں دو۲ روازہ غربی شرقی سے صرف ایك در شرقی رکھا اور اسے بھی زمین سے بہت بلندی پر نکالا کہ جسے چاہیں میں خرچ زیادہ درکار تھا بآنکہ یہ صریح بدعت جاہلیت وتغییر سنت ابراہیمی علیہ الصلوۃ والتسلیم تھی مگرحضور سید المرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے محض بغرض حفظ دین نومسلمین اسے قائم وبرقرار رکھا کہ تغییر بے ہدم عمارت موجودہ نہ ہوتی خداجانے ان کے دلوں میں کیا وسوسہ گزرے۔ صحیحین میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲتعالی عنہا قالت سألت النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم عن الجدار من البیت ھو قال نعم قلت فما لھم لم یدخلوہ فی البیت قال ان قومك قصرت بھم النفقۃ قلت فماشأن بابہ مرتفعا قال فعل ذلك قومك لیدخلوا من شاءوا ویمنعوا من شاءوا ولولا ان قومك حدیث عھدھم الجاھلیۃ فاخاف ان تنکر قلوبھم ان ادخل الجدر فی البیت وان الصق بابہ بالارض وفی الاخری ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لھا یا عائشۃ لولا ان قومك حدیث عھد بجاھلیۃ لامرت بالبیت فھدم فادخلت فیہ ما اخرج منہ و الزقتہ بالارضی وجعلت لہ بابین با با شرقیا وبابا غربیا فبلغت بہ اساس ابراھیم الخ۔
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کہ کیا بیت اﷲ کا حصہ ہے حضور انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے دریافت کیا اس کو قریش نے بیت اﷲمیں کیوں داخل نہیں کیا آپ نے فرمایا : تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا ہے میں نے پوچھا پھر اس کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے یہ اس لئے کیاتا کہ وہ جس کو چاہیں بیت اﷲمیں داخل کریں اور جس کو چاہیں روك دیں اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ ان کو دلوں کو برا لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اﷲ میں داخل کردیتا اور دروازے کو زمین سے ملادیتا۔ اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ نبی انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت کے زمانہ کے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرانے کا
عن عائشۃ رضی اﷲتعالی عنہا قالت سألت النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم عن الجدار من البیت ھو قال نعم قلت فما لھم لم یدخلوہ فی البیت قال ان قومك قصرت بھم النفقۃ قلت فماشأن بابہ مرتفعا قال فعل ذلك قومك لیدخلوا من شاءوا ویمنعوا من شاءوا ولولا ان قومك حدیث عھدھم الجاھلیۃ فاخاف ان تنکر قلوبھم ان ادخل الجدر فی البیت وان الصق بابہ بالارض وفی الاخری ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لھا یا عائشۃ لولا ان قومك حدیث عھد بجاھلیۃ لامرت بالبیت فھدم فادخلت فیہ ما اخرج منہ و الزقتہ بالارضی وجعلت لہ بابین با با شرقیا وبابا غربیا فبلغت بہ اساس ابراھیم الخ۔
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کہ کیا بیت اﷲ کا حصہ ہے حضور انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے دریافت کیا اس کو قریش نے بیت اﷲمیں کیوں داخل نہیں کیا آپ نے فرمایا : تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا ہے میں نے پوچھا پھر اس کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے یہ اس لئے کیاتا کہ وہ جس کو چاہیں بیت اﷲمیں داخل کریں اور جس کو چاہیں روك دیں اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ ان کو دلوں کو برا لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اﷲ میں داخل کردیتا اور دروازے کو زمین سے ملادیتا۔ اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ نبی انور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت کے زمانہ کے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرانے کا
حوالہ / References
صحیح بخاری باب فضل المکۃ وبنیانہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۵
صحیح بخاری باب فضل المکۃ وبنیانہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۵
صحیح بخاری باب فضل المکۃ وبنیانہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۵
حکم دیتا اور اس میں سے جو خارج کردیا گیا ہے میں اس کو اس میں داخل کردیتا اور اس کو زمین کے برابر کرکے دو۲ دروازے بناتا ایك دروازہ مشرقی اور ایك دروازہ مغربی اور میں اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا۔ (ت)
یہ تقریر اگر چہ دعوی ممانعت کے اثبات سے قاصر یا سراسر غلط ہی سہی مگر شك نہیں کہ اب تکفیر قطعا محال کہ اس میں نفس اباحت کا کہ ضروریات دین سے تھی انکار نہ ہوا بلکہ اس میں کسی ایسی چیز کا بھی انکار نہیں جس کی وجہی سے تکفیر درکنار تضلیل ہوسکے غایت یہ کہ خطا وغلط کہئے وہ بھی بلحاظ دعوی ممانعت ورنہ شبہہ نہیں کہ نظائر مذکورہ ان بلاد میں نکاح ثانی سے مصلحۃ احتراز کی وجہ موجہ ہوسکتی ہیں جبکہ نوبت تا وجوب وافتراض نہ ہو کما یخفی علی اولی النھی واﷲ الھادی الی صراط سوی(جیساکہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے اور اﷲتعالی ہی سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ ت)
بالجملہ تکفیر اہل قبلہ واصحاب کلمہ طیبہ میں جرأت وحبارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال عظیم ونکال کا صریخ اندیشہ والعیاذباﷲ رب العالمین فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہوحتی الامکان کفر سے بچائیں اگر کوئی ضعیف سے ضعیف نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو جس کی رو سے حکم اسلام نکل سکتا ہوتو اس کی طرف جائیں اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانب کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں ۔ حدیث میں ہے حضور سید العالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الاسلام یعلوولایعلی ۔ اخرجہ الرؤیانی والدار قطنی والبیہقی والضیاء فی المختارۃ والخلیل کلھم عن عائذ بن عمر والمزفی رضی اﷲتعالی عنہ۔
اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس کو رؤیانی دار قطنی بیہقی مختارہ میں ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو مزنی رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
احتمال اسلام چھوڑکر احتمالات کفر کی طرف جانے والے اسلام کو مغلوب اور کفر کو غالب کرتے ہیں والعیاذباﷲ رب العالمین۔
حدیث۲ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
کفوا من اھل لاالہ الااﷲلا تکفروھم
لا الہ الا اﷲ کہنے والوں سے زبان روکو انہیں
یہ تقریر اگر چہ دعوی ممانعت کے اثبات سے قاصر یا سراسر غلط ہی سہی مگر شك نہیں کہ اب تکفیر قطعا محال کہ اس میں نفس اباحت کا کہ ضروریات دین سے تھی انکار نہ ہوا بلکہ اس میں کسی ایسی چیز کا بھی انکار نہیں جس کی وجہی سے تکفیر درکنار تضلیل ہوسکے غایت یہ کہ خطا وغلط کہئے وہ بھی بلحاظ دعوی ممانعت ورنہ شبہہ نہیں کہ نظائر مذکورہ ان بلاد میں نکاح ثانی سے مصلحۃ احتراز کی وجہ موجہ ہوسکتی ہیں جبکہ نوبت تا وجوب وافتراض نہ ہو کما یخفی علی اولی النھی واﷲ الھادی الی صراط سوی(جیساکہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے اور اﷲتعالی ہی سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ ت)
بالجملہ تکفیر اہل قبلہ واصحاب کلمہ طیبہ میں جرأت وحبارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال عظیم ونکال کا صریخ اندیشہ والعیاذباﷲ رب العالمین فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہوحتی الامکان کفر سے بچائیں اگر کوئی ضعیف سے ضعیف نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو جس کی رو سے حکم اسلام نکل سکتا ہوتو اس کی طرف جائیں اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانب کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں ۔ حدیث میں ہے حضور سید العالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الاسلام یعلوولایعلی ۔ اخرجہ الرؤیانی والدار قطنی والبیہقی والضیاء فی المختارۃ والخلیل کلھم عن عائذ بن عمر والمزفی رضی اﷲتعالی عنہ۔
اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس کو رؤیانی دار قطنی بیہقی مختارہ میں ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو مزنی رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
احتمال اسلام چھوڑکر احتمالات کفر کی طرف جانے والے اسلام کو مغلوب اور کفر کو غالب کرتے ہیں والعیاذباﷲ رب العالمین۔
حدیث۲ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
کفوا من اھل لاالہ الااﷲلا تکفروھم
لا الہ الا اﷲ کہنے والوں سے زبان روکو انہیں
حوالہ / References
سنن ادارقطنی باب المہر نشر السنۃ ملتان ۳ / ۲۵۲
بذنب فمن اکفر اھل لاالہ الااﷲفھو الی الکفر اقرب ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔
کسی گناہ پر کافر نہ کہو لاالہ الااﷲ کہنے والوں کوکافر کہے وہ خود کفر سے نزدیك تر ہے۔ (اس کو طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۳ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
ثلاث من اصل الایمان الکف عمن قال لاالہ الااﷲ ولاتکفر بذنب ولاتخرجہ من الاسلام بعمل ۔ رواہ ابودواؤد عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
تین باتیں اصل ایمان میں داخل ہیں لاالہ الااﷲ کہنے والے سے باز رہنا اور اسے گناہ کے سبب کافر نہ کہاجائے اور کسی عمل پر اسلام سے خارج نہ کہیں ۔ (اس کو ابوداؤد نے حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
حدیث۴ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
لاتکفروا احدامن اھل القبلۃ ۔ رواہ العقیلی عن ابی الدرداء رضی اﷲتعالی عنہ۔
اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہ کہو(اس کو عقیلی نے حضرت ابودرداء رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
الحمدﷲ کلام اپنی نہایت کو پہنچا اور حکم مسئلہ نے من جمیع الوجوہ رنگ ایضاح پایا خلاصہ مقصود یہ کہ عوام جو نکاح بیوہ کو باتباع رسم مردودوعنود وننگ وعار سمجھتے ہیں اورکیسی ہی حالت حاجت وضرورت شدیدہ ہو معاذاﷲحرام کے مثل اس سے احتراز رکھتے ہیں برا کرتے ہیں اور بہت برا کرتے ہیں بیجا پر ہیں اور سخت بیجا پر خاں صاحب شیخ صاحب مرزا صاحب درکنار وہ کوئی حضرت میر صاحب ہی ہو ں تو کیا ان کی بیٹیاں نہیں محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی خاص جگر پاروں سیدۃ النساء بتول زہرا صلی اﷲ تعالی علی ابیہا وعلیہا وسلم کی بطنی صاحبزادیوں سے زیادہ عزت والیاں بڑھ کر غیرت والیاں ہیں جن کے دودوتین تین اور اس سے بھی زائد نکاح ہوئے سبحان اﷲ! ع
کسی گناہ پر کافر نہ کہو لاالہ الااﷲ کہنے والوں کوکافر کہے وہ خود کفر سے نزدیك تر ہے۔ (اس کو طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۳ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
ثلاث من اصل الایمان الکف عمن قال لاالہ الااﷲ ولاتکفر بذنب ولاتخرجہ من الاسلام بعمل ۔ رواہ ابودواؤد عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
تین باتیں اصل ایمان میں داخل ہیں لاالہ الااﷲ کہنے والے سے باز رہنا اور اسے گناہ کے سبب کافر نہ کہاجائے اور کسی عمل پر اسلام سے خارج نہ کہیں ۔ (اس کو ابوداؤد نے حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ ت)
حدیث۴ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم :
لاتکفروا احدامن اھل القبلۃ ۔ رواہ العقیلی عن ابی الدرداء رضی اﷲتعالی عنہ۔
اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہ کہو(اس کو عقیلی نے حضرت ابودرداء رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
الحمدﷲ کلام اپنی نہایت کو پہنچا اور حکم مسئلہ نے من جمیع الوجوہ رنگ ایضاح پایا خلاصہ مقصود یہ کہ عوام جو نکاح بیوہ کو باتباع رسم مردودوعنود وننگ وعار سمجھتے ہیں اورکیسی ہی حالت حاجت وضرورت شدیدہ ہو معاذاﷲحرام کے مثل اس سے احتراز رکھتے ہیں برا کرتے ہیں اور بہت برا کرتے ہیں بیجا پر ہیں اور سخت بیجا پر خاں صاحب شیخ صاحب مرزا صاحب درکنار وہ کوئی حضرت میر صاحب ہی ہو ں تو کیا ان کی بیٹیاں نہیں محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی خاص جگر پاروں سیدۃ النساء بتول زہرا صلی اﷲ تعالی علی ابیہا وعلیہا وسلم کی بطنی صاحبزادیوں سے زیادہ عزت والیاں بڑھ کر غیرت والیاں ہیں جن کے دودوتین تین اور اس سے بھی زائد نکاح ہوئے سبحان اﷲ! ع
حوالہ / References
المعجم الکبیر ترجمہ ١٣٠٨٩ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۲ / ۲۷۲
سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الغزومع ایمۃ الجور آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴۳
نصب الرایہ بحوالہ العقیلی الضعفاء باب الاحادیث فی الاقتداء المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۲ / ۲۸
سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الغزومع ایمۃ الجور آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴۳
نصب الرایہ بحوالہ العقیلی الضعفاء باب الاحادیث فی الاقتداء المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۲ / ۲۸
چہ نسبت خال را باعالم پاک
(ان خاکی عورتوں کو ان پاکباز عورتوں سے کیا نسبت۔ ت)
مسلمانو! کلمہ پڑھنے کی شرم کرو اور اپنے آقا اپنے مولا اپنے بادشاہ عرش بارگاہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شریعت چھوڑ کرنا پاکوں گندوں اینٹ پتھر کے بندوں کے قدم پر قدم نہ دھرو ذرا غور کرو کس کی راہ چھوڑتے اور کس گمراہ کے پیچھے دوڑتے ہو
بقول دشمن پیماں دوست شکستی
بہ بیں کہ از کہ بریدی وباکہ پیوستی
(دشمن کے کہنے پر تو دوست کے پیماں (عہد)کو توڑنا ہے بنظر غائر دیکھ تو کس سے قطع تعلق کررہا ہے اور کس سے تعلق جوڑرہا ہے۔ ت)
نکاح کی چھ۶صورتیں اور ان کے احکام مفصلا گزرے انہیں بغور دیکھو اور بصدق دل عمل میں لاؤ کہ دنیا وآخرت کے منافع پاؤ اور اس رسم نیك کے طعن وتشنیع سے قطعا باز رہو کہ کہیں اس اندھے کنویں میں گر کر نورایمان کو خیر باد نہ کہو ادھر ان حضرات اہل تکفیر سے التماس کہ شوق سے منکر کو اٹھائیے بری رسم کو مٹائیے مگر ذرا اپنا بھی نفع ونقصان دیکھے بھالے اپنا بھی دین وایمان روکے سنبھالے یہ کیا موقع ہے اور کو نصیحت آپ کو فضیحت اﷲاکبر لاالہ الااﷲ کی عظمت جانو تو اہل لاالہ الااﷲ کی تکفیر سخت آفت مانو یہاں زبان قابو میں ہے جسے چاہو کافر بتاؤ مشرك کہہ جاؤ مگر اس دن کا بھی کچھ جواب بنا رکھو جب لاالہ الااﷲ کو اپنے قائلوں کی طرف سے جھگڑتا دیکھو۔ اے لاالہ الااﷲ کے سچے ایمان پر دنیا سے اٹھا امین امین الہ الحق امین والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲتعالی علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
الحمدﷲ کہ یہ شافی جواب خفیف جلسوں میں ۱۵ صفر ۱۳۱۲ھ کو تمام اور بلحاظ تاریخ اطائب التھانی فی النکاح الثانی۱۳۱۲ھ نام ہوا امید کرتاہوں کہ یہ سب مباحث رائقہ ودلائل فائقہ حصہ خاصہ خامہ فقیر اور اس مسئلہ کی توضیع اس مطلب کی تنقیح میں آپ ہی اپنی نظیر ہوں والحمد ﷲ اولا واخرا وباطنا وظاھرا والصلوۃ والسلام علی سید الانام محمدن الحبیب والہ الکرام ورداوصدراو سرا وجھراوالحمدﷲ رب العالمین۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
(ان خاکی عورتوں کو ان پاکباز عورتوں سے کیا نسبت۔ ت)
مسلمانو! کلمہ پڑھنے کی شرم کرو اور اپنے آقا اپنے مولا اپنے بادشاہ عرش بارگاہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شریعت چھوڑ کرنا پاکوں گندوں اینٹ پتھر کے بندوں کے قدم پر قدم نہ دھرو ذرا غور کرو کس کی راہ چھوڑتے اور کس گمراہ کے پیچھے دوڑتے ہو
بقول دشمن پیماں دوست شکستی
بہ بیں کہ از کہ بریدی وباکہ پیوستی
(دشمن کے کہنے پر تو دوست کے پیماں (عہد)کو توڑنا ہے بنظر غائر دیکھ تو کس سے قطع تعلق کررہا ہے اور کس سے تعلق جوڑرہا ہے۔ ت)
نکاح کی چھ۶صورتیں اور ان کے احکام مفصلا گزرے انہیں بغور دیکھو اور بصدق دل عمل میں لاؤ کہ دنیا وآخرت کے منافع پاؤ اور اس رسم نیك کے طعن وتشنیع سے قطعا باز رہو کہ کہیں اس اندھے کنویں میں گر کر نورایمان کو خیر باد نہ کہو ادھر ان حضرات اہل تکفیر سے التماس کہ شوق سے منکر کو اٹھائیے بری رسم کو مٹائیے مگر ذرا اپنا بھی نفع ونقصان دیکھے بھالے اپنا بھی دین وایمان روکے سنبھالے یہ کیا موقع ہے اور کو نصیحت آپ کو فضیحت اﷲاکبر لاالہ الااﷲ کی عظمت جانو تو اہل لاالہ الااﷲ کی تکفیر سخت آفت مانو یہاں زبان قابو میں ہے جسے چاہو کافر بتاؤ مشرك کہہ جاؤ مگر اس دن کا بھی کچھ جواب بنا رکھو جب لاالہ الااﷲ کو اپنے قائلوں کی طرف سے جھگڑتا دیکھو۔ اے لاالہ الااﷲ کے سچے ایمان پر دنیا سے اٹھا امین امین الہ الحق امین والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲتعالی علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
الحمدﷲ کہ یہ شافی جواب خفیف جلسوں میں ۱۵ صفر ۱۳۱۲ھ کو تمام اور بلحاظ تاریخ اطائب التھانی فی النکاح الثانی۱۳۱۲ھ نام ہوا امید کرتاہوں کہ یہ سب مباحث رائقہ ودلائل فائقہ حصہ خاصہ خامہ فقیر اور اس مسئلہ کی توضیع اس مطلب کی تنقیح میں آپ ہی اپنی نظیر ہوں والحمد ﷲ اولا واخرا وباطنا وظاھرا والصلوۃ والسلام علی سید الانام محمدن الحبیب والہ الکرام ورداوصدراو سرا وجھراوالحمدﷲ رب العالمین۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۳ : از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب مکان میر خادم علی صاحب اسٹنٹ یکم جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
چہ می فرمایند علمائے شریعت پناہ وطریقت آگاہ دریں مسئلہ کہ زوجہ مسمی زید کار فحش وناقصہ علانیہ می نماید وزوجہ عمرو بہ خلاف شوہر خود می باشد وکار فحش پوشیدہ می کند وایں کار زشتہ اوہم پہلوئے یقین کامل ست پس بہ تشکیك یقینی شوہر شوہر او طلاق دادن خواہد درست ست یا نہ بینواتوجروا۔
علمائے شریعت و طریقت کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی فحش کاری وبدکاری علانیہ کرتی ہے اور عمرو کی بیوی اپنے شوہر کے مخالف ہے اور فحش کاری خفیہ طور پر کرتی ہے اور اس کا بدکاری یقین کی حد تك ہے پختہ ظن ہوجانے پر شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو کیا یہ درست ہےبیان کرو اجرپاؤ۔ (ت)
الجواب :
درصورت مستفسرہ طلاق باجماع درست ومباح ست زیرا کہ دراباحت طلاق علماء راسہ۳قول ست : یکے آنکہ مطلقا مباح ست گو بے سبب محض باشد مشی علیہ العلامۃ الغزی فی
صورت مستفسرہ میں بالاجماع طلاق درست اور مباح ہے کیونکہ طلاق کے مباح ہونے میں علماء کے تین قول ہیں : ایک یہ کہ طلاق مطلقا مباح ہے اگر چہ بلاوجہ دی جائے۔ علامہ غزی نے تنویر کے متن
چہ می فرمایند علمائے شریعت پناہ وطریقت آگاہ دریں مسئلہ کہ زوجہ مسمی زید کار فحش وناقصہ علانیہ می نماید وزوجہ عمرو بہ خلاف شوہر خود می باشد وکار فحش پوشیدہ می کند وایں کار زشتہ اوہم پہلوئے یقین کامل ست پس بہ تشکیك یقینی شوہر شوہر او طلاق دادن خواہد درست ست یا نہ بینواتوجروا۔
علمائے شریعت و طریقت کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی فحش کاری وبدکاری علانیہ کرتی ہے اور عمرو کی بیوی اپنے شوہر کے مخالف ہے اور فحش کاری خفیہ طور پر کرتی ہے اور اس کا بدکاری یقین کی حد تك ہے پختہ ظن ہوجانے پر شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو کیا یہ درست ہےبیان کرو اجرپاؤ۔ (ت)
الجواب :
درصورت مستفسرہ طلاق باجماع درست ومباح ست زیرا کہ دراباحت طلاق علماء راسہ۳قول ست : یکے آنکہ مطلقا مباح ست گو بے سبب محض باشد مشی علیہ العلامۃ الغزی فی
صورت مستفسرہ میں بالاجماع طلاق درست اور مباح ہے کیونکہ طلاق کے مباح ہونے میں علماء کے تین قول ہیں : ایک یہ کہ طلاق مطلقا مباح ہے اگر چہ بلاوجہ دی جائے۔ علامہ غزی نے تنویر کے متن
متن التنویروزعم شارحہ العلامۃ العلائی انہ ھو قول العلامہ وادعی العلامۃ المذھب۔ دوم آنکہ جزبوجہ پیروی زن یا آوارگی وبدوضعی او اباحت نہ دارد وھو قول ضعیف کما فی ردالمحتار سوم آنکہ حاجتے باشد مباح ست ورنہ ممنوع ہمیں صحیح ومؤید بدلائل ست صححہ العلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وانتصرلہ خاتم المحققین العلامۃ الشامی بمایتعین استفادتہ ایں جاکہ آوارگی زناں متحقق ست ہرسہ قول براباحت طلاق متفق آمد بلکہ چوں فسق وارتکاب چیزے از محرمات ثابت شود طلاق مستحب گردد فی الدر المختار بل یستحب لوموذیۃ اوتارکۃ صلوۃ کذا فی الغایۃ وفی ردالمحتار الظاھران ترك الفرائض غیر الصلوۃ کالصلوۃ اما واجب نیست اگر شوئے دادن نخواہد ند ہد فی الدرالمختار لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔ میں اس کو بیان کیا ہے جس کے متعلق اس کے شارح علامہ علائی کا خیال ہے کہ علامہ غزی کایہی مؤقف ہے اور علامہ بحر نے اپنی کتاب بحر میں دعوی کیا ہے کہ یہی حق اور یہی مذہب ہے۔ دوسرا۲یہ کہ بیوی کے بڑھاپے یا اس کی آوارگی یا بدوضعی کے بغیر شوہر کے لئے طلاق دینا مباح نہیں ہے یہ ضعیف قول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔ تیسرا۳قول یہ ہے کہ اگر شوہر کو طلاق کی کوئی حاجت ہے تو مباح ہے ورنہ ممنوع ہے یہی قول صحیح اور دلائل سے مؤید ہے۔ علامہ محقق نے فتح القدیر میں اس کو صحیح قرار دیا ہے اور علامہ خاتمۃ المحققین شامی نے اس کا دفاع کیا ہے جس سے اس کی صحت مستفاد ہوتی ہے مسئولہ صورت میں جب آوارگی پائی جاتی ہے تو تینوں اقوال پر طلاق کا مباح ہونا محقق ہے بلکہ عورت کا فسق اور کسی حرام فعل کا ارتکاب ثابت ہے تو طلاق مستحب ہے۔ درمختار میں ہے : بلکہ عورت اگر موذی ہے یا نماز کو ترك کرنے کی عادی ہے تو مستحب ہے غایہ میں اسی طرح ہے اور ردالمحتار میں ہے کہ نمازکے علاوہ دیگر فرائض کا ترك بھی نماز کی طرح ہے تاہم اس صورت میں طلاق دینا واجب نہیں ہے اگر خاوند طلاق نہ دینا چاہے تو نہ دے۔ درمختار میں ہے کہ فاسقہ عورت کا طلاق دینا خاوند پرواجب نہیں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۵
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰
مسئلہ ۱۱۴ : از کسر اٹون پر گنہ شکن آباد ڈاك خانہ سر ساگنج مرسلہ تصدق حسین صاحب زمیندار ورئیس موضع مذکور ۶رجب ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نابالغہ کی شادی ایك شخص سے ہوئی جو آنکھوں سے معذور ہے عورت کی عمر اب دس۱۰ برس کی ہے اس کے سسرال والے چاہتے ہیں کہ اسے شوہر سے طلاق دلواکر شوہر کے چھوٹے بھائی سے اس کا عقد کردیں اور عورت کی بڑی بہن بیوہ کا اس نابینا سے نکاح کریں اس صورت میں چھوٹی بہن کہ بے خطا ہے کوئی شرعی جرم اس کے ذمہ نہیں طلاق دینا جائز ہے یانہیں اگرجائز ہے تو اس کا مہر ادا کرنا پڑے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
بلاوجہ شرعی طلاق دینا اﷲتعالی کو سخت ناپسند ومبغوض و مکروہ ہے حدیث میں ہے :
ابغض الحلال الی اﷲتعالی الطلاق ۔
حلال چیزوں میں سے طلاق دینا اﷲتعالی کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ (ت)
مگر وہ اس کا اختیار ضرور رکھتا ہے اگر دے گا ہوجائے گی پھر اگر زوجہ سے ابھی خلوت یعنی بغیر کسی مانع کے تنہائی یکجائی نہ کی یا زوجہ کی ابھی دہ۱۰سالہ ہے قابلیت جماع اصلا نہ رکھتی ہو جب تو نصف مہر دینا ہوگا اگر بندھا ہو اور کچھ نہ بندھا ہوتوایك پورا جوڑا جس میں دوپٹہ پاجامہ اور عورتوں کے چھوٹے کپڑے اور جوتا سب کچھ ہو اور مرد عورت دونوں کے حال کے لحاظ سے عمدہ نفیس یا کم درجہ یا متوسط ہو دینا آئے گا جس کی قیمت نہ پانچ درہم سے کم ہو نہ عورت کے نصف مہر مثل سے زیادہ ہو اگر مرد عورت دونوں غنی ہیں تو نفیس اور دونوں فقیر تو ادنی اور ایك فقیر دوسرا غنی تو اوسط اور اگر یہ دس۱۰ سالہ لڑکی قابل جماع ہے اور خلوت ہوچکی تو پورا مہر لازم ہوگا___تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے :
تجب متعۃ لمفوضۃ وہی من زوجت بلا مھر طلقت قبل الوطء وھی درع وخمار وملحفۃ(قال فخر الاسلام ھذافی دیارھم اما فی دیارنافیزاد علی انوار و
مفوضہ یعنی جس عورت سے مہر کے بغیر نکاح کیا ہوا اور اس کو وطی سے قبل طلاق دے دی ہوتو ایسی عورت کے لئے پورا جوڑا لباس دینا بطور متعہ واجب ہے اور وہ قمیص دوپٹہ اور بڑی چادر ہے (فخر الاسلام نے فرمایا یہ ان کے علاقہ کا رواج ہے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نابالغہ کی شادی ایك شخص سے ہوئی جو آنکھوں سے معذور ہے عورت کی عمر اب دس۱۰ برس کی ہے اس کے سسرال والے چاہتے ہیں کہ اسے شوہر سے طلاق دلواکر شوہر کے چھوٹے بھائی سے اس کا عقد کردیں اور عورت کی بڑی بہن بیوہ کا اس نابینا سے نکاح کریں اس صورت میں چھوٹی بہن کہ بے خطا ہے کوئی شرعی جرم اس کے ذمہ نہیں طلاق دینا جائز ہے یانہیں اگرجائز ہے تو اس کا مہر ادا کرنا پڑے گا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
بلاوجہ شرعی طلاق دینا اﷲتعالی کو سخت ناپسند ومبغوض و مکروہ ہے حدیث میں ہے :
ابغض الحلال الی اﷲتعالی الطلاق ۔
حلال چیزوں میں سے طلاق دینا اﷲتعالی کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ (ت)
مگر وہ اس کا اختیار ضرور رکھتا ہے اگر دے گا ہوجائے گی پھر اگر زوجہ سے ابھی خلوت یعنی بغیر کسی مانع کے تنہائی یکجائی نہ کی یا زوجہ کی ابھی دہ۱۰سالہ ہے قابلیت جماع اصلا نہ رکھتی ہو جب تو نصف مہر دینا ہوگا اگر بندھا ہو اور کچھ نہ بندھا ہوتوایك پورا جوڑا جس میں دوپٹہ پاجامہ اور عورتوں کے چھوٹے کپڑے اور جوتا سب کچھ ہو اور مرد عورت دونوں کے حال کے لحاظ سے عمدہ نفیس یا کم درجہ یا متوسط ہو دینا آئے گا جس کی قیمت نہ پانچ درہم سے کم ہو نہ عورت کے نصف مہر مثل سے زیادہ ہو اگر مرد عورت دونوں غنی ہیں تو نفیس اور دونوں فقیر تو ادنی اور ایك فقیر دوسرا غنی تو اوسط اور اگر یہ دس۱۰ سالہ لڑکی قابل جماع ہے اور خلوت ہوچکی تو پورا مہر لازم ہوگا___تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے :
تجب متعۃ لمفوضۃ وہی من زوجت بلا مھر طلقت قبل الوطء وھی درع وخمار وملحفۃ(قال فخر الاسلام ھذافی دیارھم اما فی دیارنافیزاد علی انوار و
مفوضہ یعنی جس عورت سے مہر کے بغیر نکاح کیا ہوا اور اس کو وطی سے قبل طلاق دے دی ہوتو ایسی عورت کے لئے پورا جوڑا لباس دینا بطور متعہ واجب ہے اور وہ قمیص دوپٹہ اور بڑی چادر ہے (فخر الاسلام نے فرمایا یہ ان کے علاقہ کا رواج ہے
حوالہ / References
سُنن ابوداؤد باب فی کراہیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
مکعب کذافی الدرایۃ قلت مقتضی ھذا ان یعبتر عرف کل بلدۃ لا ھلہا فیما تکسی بہ المرأۃ عند الخروج اھ ش)لاتزید علی نصف مھر المثل لوالزوج غنیا ولا تنقص عن خمسۃ دراھم لو فقیر او تعتبر المتعۃ حالھما کا لنفقۃ بہ یفتی(فان کان غنیین فلھا الا علی من الثیاب اوفقیرین فالادنی او مختلفین فالوسط وما ذکرہ قول الخصاف وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقۃ قال فی البحر قول الخصاف لان الولوالجی صححہ وقال وعلیہ الفتوی کما افتوا بہ فی النفقاۃ اھ ش)الکل ملخص واﷲ تعالی اعلم۔
لیکن ہمارے ہاں اس پر تہبند اور جوتا مزید دیا جائےگا۔ میں کہتا ہوں اس کا مقتضی یہ ہے کہ ہر علاقہ کا رواج وہاں کے لوگوں میں معتبر ہوگا یعنی جو لباس عورت باہر نکلتے وقت پہنتی ہو وہ دیا جائے گا اھ ش)اور وہ جوڑا قیمت میں مہر مـثل کے نصف سے زائد نہ ہو اگر خاوند امیر ہو اور اگر وہ غریب ہو تو پھر کم از کم پانچ درہم سے کم نہ ہو اور اس جوڑے میں خاوند بیوی کی حیثیت کا اعتبار ہوگا جیسا کہ نفقہ میں دونوں کا لحاظ کیا جاتا ہے اسی پر فتوی ہے پھر اگر دونوں امیر ہیں تو عورت کو اس کااعلی لباس اور اگر دونوں فقیر ہوں تو ادنی لباس اگر دونوں کی حیثیت مختلف ہو تو پھر درمیانہ لباس دیا جائے گا اور یہ جو خصاف کا قول مذکور ہے۔ اور فتح میں اس کو اشبہ بالفقہ کہا ہے۔ بحرالرائق میں کہا ہے کہ خصاف کا قول ارجح ہے کیونکہ ولوالجیہ نے اس کو صحیح بتایا ہے اور کہا کہ اس پر فتوی ہے جیسا کہ نفقہ میں فقہاء نے فتوی دیا ہے اھ ش)یہ تمام عبارت ملخص ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۵ : از ملك بنگالہ موضع سبیب پور علاقہ کملا مرسلہ انوار الدین بار اول ۱۹شعبان۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طلاق حق اﷲیاحق العباد ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
طلاق کسی کا حق نہیں حق ہے وہ جس کا مطالبہ پہنچے اور طلاق کا مطالبہ عورت کو نہیں پہنچتا بلکہ بنے وجہ شرعی مطالبہ کرے تو گنہگار ہو۔ اور اﷲ عزوجل بھی طلاق طلب نہیں فرماتا بلکہ اسے ناپسند و مبغوض رکھتا ہے تو نہ وہ حق اﷲہے نہ حق العبد ہاں جب مرد عورت کو وجہ شرعی ر نہ رکھ سکے مثلا نامرد ہوتو اس وقت شرعا
لیکن ہمارے ہاں اس پر تہبند اور جوتا مزید دیا جائےگا۔ میں کہتا ہوں اس کا مقتضی یہ ہے کہ ہر علاقہ کا رواج وہاں کے لوگوں میں معتبر ہوگا یعنی جو لباس عورت باہر نکلتے وقت پہنتی ہو وہ دیا جائے گا اھ ش)اور وہ جوڑا قیمت میں مہر مـثل کے نصف سے زائد نہ ہو اگر خاوند امیر ہو اور اگر وہ غریب ہو تو پھر کم از کم پانچ درہم سے کم نہ ہو اور اس جوڑے میں خاوند بیوی کی حیثیت کا اعتبار ہوگا جیسا کہ نفقہ میں دونوں کا لحاظ کیا جاتا ہے اسی پر فتوی ہے پھر اگر دونوں امیر ہیں تو عورت کو اس کااعلی لباس اور اگر دونوں فقیر ہوں تو ادنی لباس اگر دونوں کی حیثیت مختلف ہو تو پھر درمیانہ لباس دیا جائے گا اور یہ جو خصاف کا قول مذکور ہے۔ اور فتح میں اس کو اشبہ بالفقہ کہا ہے۔ بحرالرائق میں کہا ہے کہ خصاف کا قول ارجح ہے کیونکہ ولوالجیہ نے اس کو صحیح بتایا ہے اور کہا کہ اس پر فتوی ہے جیسا کہ نفقہ میں فقہاء نے فتوی دیا ہے اھ ش)یہ تمام عبارت ملخص ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۵ : از ملك بنگالہ موضع سبیب پور علاقہ کملا مرسلہ انوار الدین بار اول ۱۹شعبان۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طلاق حق اﷲیاحق العباد ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
طلاق کسی کا حق نہیں حق ہے وہ جس کا مطالبہ پہنچے اور طلاق کا مطالبہ عورت کو نہیں پہنچتا بلکہ بنے وجہ شرعی مطالبہ کرے تو گنہگار ہو۔ اور اﷲ عزوجل بھی طلاق طلب نہیں فرماتا بلکہ اسے ناپسند و مبغوض رکھتا ہے تو نہ وہ حق اﷲہے نہ حق العبد ہاں جب مرد عورت کو وجہ شرعی ر نہ رکھ سکے مثلا نامرد ہوتو اس وقت شرعا
حوالہ / References
ردالمحتار معہ درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۳۶
اس پر طلاق دینی لازم ہوجاتی ہے۔ قال اﷲتعالی :
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪- ۔
ان کو بھلائی کرتے ہوئے روك لو یا ان کو بھلائی کے ساتھ رخصت کردو۔ (ت)
ایسی حالت میں ضرور وہ حق العبد وحق اﷲدونوں ہوجائے گی حق العبد تو یوں کہ عورت کی خلاصی اسی سے متصور اور حق اﷲ یوں کہ ہر حق العبد حق اﷲ بھی ہے جس کے ادا کا وہ حکم فرماتا ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۶تا۱۱۷ : ازملك بنگال ضلع سلہٹ ڈاك خانہ ایٹ کہولا موضع نارائن پور مرسلہ مولوی عبد الحکیم صاحب روز عرفہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
سوال اول : کسی نے تین برس کے بعد ایك عورت کے طلاق پر گواہی دی اب شرعا گواہ مقبول ہے یا مردود اور مدت فاصلہ جو درمیاں طلاق اور شہادت کے ہے مانع شہادت ہے یا نہیں اور قبل اس شہادت کے تذکرہ طلاق اور عدم تذکرہ میں کوئی فرق ہے یا نہیں بینواتوجروامع الدلائل(دلائل کے ساتھ بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
سوال دوم : طلاق حق اﷲ ہے حق العباد مع برہان قاطع بینو اتوجروا
الجواب :
طلاق بمعنی الایقاع یعنی اس کا احداث اصلا منجملہ حقوق نہیں
حیث لامطالب لامن جھۃ العبد ولامن اﷲتعالی بل ابغض الحلال الی اﷲالطلاق۔
کیونکہ یہاں اﷲتعالی اور بندے کو طلاق کا کوئی مطالبہ نہیں پہنچتا بلکہ حلال چیزوں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز اﷲتعالی کے ہاں طلاق ہے۔ (ت)
البتہ جب ادائے حق زوجہ پر قادر نہ ہو جیسے عنین وغیرہ تو طلاق حق العبد ہے حق زن کے لئے دیانۃ بھی واجب ہے اور ہر واجب دیانۃ حق اﷲسبحنہ تواس حالت خاص میں طلاق حق العبد بھی ہے اور حق اﷲبھی ہے لقولہ تعالی :
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪- ۔
انہیں بھلائی کے ساتھ روك لویا بھلائی سے رخصت کرو۔ (ت)
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪- ۔
ان کو بھلائی کرتے ہوئے روك لو یا ان کو بھلائی کے ساتھ رخصت کردو۔ (ت)
ایسی حالت میں ضرور وہ حق العبد وحق اﷲدونوں ہوجائے گی حق العبد تو یوں کہ عورت کی خلاصی اسی سے متصور اور حق اﷲ یوں کہ ہر حق العبد حق اﷲ بھی ہے جس کے ادا کا وہ حکم فرماتا ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۶تا۱۱۷ : ازملك بنگال ضلع سلہٹ ڈاك خانہ ایٹ کہولا موضع نارائن پور مرسلہ مولوی عبد الحکیم صاحب روز عرفہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
سوال اول : کسی نے تین برس کے بعد ایك عورت کے طلاق پر گواہی دی اب شرعا گواہ مقبول ہے یا مردود اور مدت فاصلہ جو درمیاں طلاق اور شہادت کے ہے مانع شہادت ہے یا نہیں اور قبل اس شہادت کے تذکرہ طلاق اور عدم تذکرہ میں کوئی فرق ہے یا نہیں بینواتوجروامع الدلائل(دلائل کے ساتھ بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
سوال دوم : طلاق حق اﷲ ہے حق العباد مع برہان قاطع بینو اتوجروا
الجواب :
طلاق بمعنی الایقاع یعنی اس کا احداث اصلا منجملہ حقوق نہیں
حیث لامطالب لامن جھۃ العبد ولامن اﷲتعالی بل ابغض الحلال الی اﷲالطلاق۔
کیونکہ یہاں اﷲتعالی اور بندے کو طلاق کا کوئی مطالبہ نہیں پہنچتا بلکہ حلال چیزوں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز اﷲتعالی کے ہاں طلاق ہے۔ (ت)
البتہ جب ادائے حق زوجہ پر قادر نہ ہو جیسے عنین وغیرہ تو طلاق حق العبد ہے حق زن کے لئے دیانۃ بھی واجب ہے اور ہر واجب دیانۃ حق اﷲسبحنہ تواس حالت خاص میں طلاق حق العبد بھی ہے اور حق اﷲبھی ہے لقولہ تعالی :
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪- ۔
انہیں بھلائی کے ساتھ روك لویا بھلائی سے رخصت کرو۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۳۱
القرآن ۲ / ۲۳۱
القرآن ۲ / ۲۳۱
اور طلاق بمعنی الوقوع یعنی بعد حدوث اس کا ثمرہ حالا مالا تحریم فرج ہے جو حق اﷲعزوجل ہے ولہذہ اس پر ادائے شہادت کے لئے کسی کا مدعی ہونا ضرور نہیں یہاں تك زن ومرد دونوں منکر ہوں مگر دوشاہد شرعی شہادت طلاق دیں حکم طلاق دیا جائے گا اور ان دونوں کے انکار پر اصلا التفات نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے :
یجب الاداء بلا طلب لو الشہادۃ فی حقوق اﷲتعالی کطلاق امرأۃ ای بائنا وعتق امۃ وتدبیرھا (ملخصا)
طلب کئے بغیر ہی شہادت کی ادائیگی حقوق اﷲ میں ضروری ہے جیسا کہ کسی عورت کی بائنہ طلاق اور لونڈی کی آزادی اور اس کے مدبر کرنے کے بارے شہادت(ملخصا)۔(ت)
طحطاوی میں ہے :
وتقبل وان انکر الزوجان ۔
بائنہ طلاق کے متعلق شہادت قبول کرلی جائے گی اگر چہ خاوند بیوی انکار کریں ۔ (ت)
ولہذا اطلاق بائن میں اگر شاہدین جانبین جبکہ زوجین بعد طلاق بھی بروجہ ناجائز معاشرت رکھتے ہوں بلاعذر شرعی شہادت ایك عدت تك ادانہ کریں فاسق ہوجائیں گے اور اب ان کی گواہی مردود ہوگی۔ قنیہ واشباہ ودرمختار میں ہے :
متی اخرشاھد الحسبۃ شھادتہ بلا عذر فسق فیرد ۔
اگر گواہ نے بلاوجہ حقوق اﷲمیں شہادت دینے میں تاخیر کردی تو وہ فسق قرار پائےگا اور اس کی شہادت مردودہو جائے گی۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے :
شاھد الحسبۃ اذا اخرشہادتہ ھل المعتبر خمسۃ ایام او ستۃ اشھر فیہ خلاف ذکرہ فی القنیۃ ولم یذکرہ المصنف
اگر حقوق اﷲ میں شہادت دینے میں گواہ نے تاخیر کی تو تاخیر میں پانچ دن یا چھ ماہ میں سے کیا معتبر ہے اس میں اختلاف کو قنیہ نے ذکر کیا ہے اور مصنف نے
یجب الاداء بلا طلب لو الشہادۃ فی حقوق اﷲتعالی کطلاق امرأۃ ای بائنا وعتق امۃ وتدبیرھا (ملخصا)
طلب کئے بغیر ہی شہادت کی ادائیگی حقوق اﷲ میں ضروری ہے جیسا کہ کسی عورت کی بائنہ طلاق اور لونڈی کی آزادی اور اس کے مدبر کرنے کے بارے شہادت(ملخصا)۔(ت)
طحطاوی میں ہے :
وتقبل وان انکر الزوجان ۔
بائنہ طلاق کے متعلق شہادت قبول کرلی جائے گی اگر چہ خاوند بیوی انکار کریں ۔ (ت)
ولہذا اطلاق بائن میں اگر شاہدین جانبین جبکہ زوجین بعد طلاق بھی بروجہ ناجائز معاشرت رکھتے ہوں بلاعذر شرعی شہادت ایك عدت تك ادانہ کریں فاسق ہوجائیں گے اور اب ان کی گواہی مردود ہوگی۔ قنیہ واشباہ ودرمختار میں ہے :
متی اخرشاھد الحسبۃ شھادتہ بلا عذر فسق فیرد ۔
اگر گواہ نے بلاوجہ حقوق اﷲمیں شہادت دینے میں تاخیر کردی تو وہ فسق قرار پائےگا اور اس کی شہادت مردودہو جائے گی۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے :
شاھد الحسبۃ اذا اخرشہادتہ ھل المعتبر خمسۃ ایام او ستۃ اشھر فیہ خلاف ذکرہ فی القنیۃ ولم یذکرہ المصنف
اگر حقوق اﷲ میں شہادت دینے میں گواہ نے تاخیر کی تو تاخیر میں پانچ دن یا چھ ماہ میں سے کیا معتبر ہے اس میں اختلاف کو قنیہ نے ذکر کیا ہے اور مصنف نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادت مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادت دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۹
درمختار کتاب الشہادت مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادت دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۹
درمختار کتاب الشہادت مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۰
رحمہ اﷲتعالی قال بعض الفضلاء الذی یظھر ان ذکر خمسۃ ایام کلام القنیۃ لیس بقید بل المدارعلی التمکن من الشہاداۃ عند القاضی ویدل علیہ مافی الصیر فیۃ شھدا انھما کان یعیشان عیش الازواج وکان طلقھا منذکذالاتقبل لانھما صار فاسقین بتاخیرھما الشہادۃ اھ۔
ذکر نہیں کیا۔ بعض فضلاء نے کہا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ قنیہ کاکم از کم پانچ دن کا ذکر کرنا کوئی قیدنہیں ہے بلکہ قاضی کے ہاں پہنچ کر شہادت دینے کی قدرت کا مدار ہے۔ صیرفیہ کی یہ عبارت اس پر دال ہے کہ دو۲گواہوں نے شہادت دی کہ طلاق دینے کے باوجود یہ دونوں میاں بیوی کی طرح رہ رہے ہیں جبکہ زوج نے طلاق اتنی مدت سے دے لکھی ہے تو ان کی شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ شہادت کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے دونوں گواہ فاسق ہوگئے اھ(ت)
پس صورت مسئولہ میں اگر طلاق مغلظ تھی یا طلاق بائن تھی اور ادائے شہادت سے کوئی عذر صحیح مانع نہ تھا اور شہادت ادا نہ کی تو گواہی مردود ہے اگر چہ ہنوز تین ہی دن ہوئے ہوں نہ کہ تین برس اور اس سے پہلے تذکرہ وعدم تذکرہ طلاق میں کوئی فرق نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۸ : بریلی محلہ نقشبندیاں مسئولہ سید والیت حسین صاحب ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس معاملہ میں کہ زید اور اس کی خالہ کے باہم نفاق دلی ہے اور دونوں کے مکان سکنی کا صحن ایك ہ زید اپنی زوجہہ کو ممانعت کرتا ہے کہ تو میری خالہ کے صحن مکان میں مت جایا کر اور میری خالہ سے مت مل اور نہ بات کر نہ کچھ لینے دینے کا رسوم رکھ کہ وہ میری مخالف ہے۔ اور وہ اس کی نہیں مانتی اور اس کی خالہ کے مکان میں جانا اور اس سے بات کرنا اور راہ رسم نہیں چھوڑتی اور جب زید اس بات پر اس سے سخت کلامی کرتا ہے تو وہ برابر سخت کلامی کرتی ہے اور اپنے ماں باپ اور خالہ سے زید کو مجبورکراتی ہے یہاں تك کہ زید کو اور اس کی والدہ کو تنگ کرتی ہے اور بے حرمتی کی باتیں کرتی ہے اور زید اس کی نافرمانی کی وجہ سے اپنی زوجہ کو طلاق شرعی دینا چاہتا ہے تو ایسی عورت نافرمان کو طلاق دینا جائز ہے یا نہیں اور اس حالت میں کہ وہ بار حمل سے ہو جیسا ارشاد ہو عمل کیا جاوے۔
الجواب :
حدیث صحیح میں ارشاد ہوا کہ : عورت ٹیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے ٹیڑھی ہی چلے گی اور اگر تو اس سے فائدہ لینا چاہے
ذکر نہیں کیا۔ بعض فضلاء نے کہا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ قنیہ کاکم از کم پانچ دن کا ذکر کرنا کوئی قیدنہیں ہے بلکہ قاضی کے ہاں پہنچ کر شہادت دینے کی قدرت کا مدار ہے۔ صیرفیہ کی یہ عبارت اس پر دال ہے کہ دو۲گواہوں نے شہادت دی کہ طلاق دینے کے باوجود یہ دونوں میاں بیوی کی طرح رہ رہے ہیں جبکہ زوج نے طلاق اتنی مدت سے دے لکھی ہے تو ان کی شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ شہادت کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے دونوں گواہ فاسق ہوگئے اھ(ت)
پس صورت مسئولہ میں اگر طلاق مغلظ تھی یا طلاق بائن تھی اور ادائے شہادت سے کوئی عذر صحیح مانع نہ تھا اور شہادت ادا نہ کی تو گواہی مردود ہے اگر چہ ہنوز تین ہی دن ہوئے ہوں نہ کہ تین برس اور اس سے پہلے تذکرہ وعدم تذکرہ طلاق میں کوئی فرق نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۸ : بریلی محلہ نقشبندیاں مسئولہ سید والیت حسین صاحب ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس معاملہ میں کہ زید اور اس کی خالہ کے باہم نفاق دلی ہے اور دونوں کے مکان سکنی کا صحن ایك ہ زید اپنی زوجہہ کو ممانعت کرتا ہے کہ تو میری خالہ کے صحن مکان میں مت جایا کر اور میری خالہ سے مت مل اور نہ بات کر نہ کچھ لینے دینے کا رسوم رکھ کہ وہ میری مخالف ہے۔ اور وہ اس کی نہیں مانتی اور اس کی خالہ کے مکان میں جانا اور اس سے بات کرنا اور راہ رسم نہیں چھوڑتی اور جب زید اس بات پر اس سے سخت کلامی کرتا ہے تو وہ برابر سخت کلامی کرتی ہے اور اپنے ماں باپ اور خالہ سے زید کو مجبورکراتی ہے یہاں تك کہ زید کو اور اس کی والدہ کو تنگ کرتی ہے اور بے حرمتی کی باتیں کرتی ہے اور زید اس کی نافرمانی کی وجہ سے اپنی زوجہ کو طلاق شرعی دینا چاہتا ہے تو ایسی عورت نافرمان کو طلاق دینا جائز ہے یا نہیں اور اس حالت میں کہ وہ بار حمل سے ہو جیسا ارشاد ہو عمل کیا جاوے۔
الجواب :
حدیث صحیح میں ارشاد ہوا کہ : عورت ٹیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے ٹیڑھی ہی چلے گی اور اگر تو اس سے فائدہ لینا چاہے
حوالہ / References
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادت والدعاوی ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۴۷
تو اسی حال پر اس سے نفع اٹھا اور سیدھی کرنا چاہے تو ٹوٹ جائے گی اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے ۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا کہ : مسلمان عورت سے اچھا برتاؤ رکھو اگر تمہیں اس کی ایك عادت ناپسند ہوئی تو دوسری ہوگی ۔
اور اﷲعزوجل فرماتا ہے :
فعسى ان تكرهوا شیــٴـا و یجعل الله فیه خیرا كثیرا(۱۹)
قریب ہے کہ تم ایك بات کو مکروہ جانو گے اور اﷲ عزوجل اس میں بہت بھلائی رکھے گا۔
اور اگر عورت کو طلاق دے کر پھر کبھی نکاح نہ چاہے تو خیر ورنہ کیا معلوم کہ دوسری اس سے بھی بری ملے اس لئے حتی الامکان عورت کے ساتھ نیك برتاؤ اور اس کی دلجوئی اور اسے خوش کرکے اپنی اطاعت پر لانا اور اس کی کج خلقی پر صبر کرنا چاہئے اور اصطلاح ناممکن ہوتو طلاق دے سکتا ہے مگر ایك طلاق رجعی سے زیادہ دینا گناہ ہے فقط ایك بار اس سے کہے کہ میں نے تجھےطلاق دی پھر اگر عدت کے اندر یعنی حاملہ کے بچہ پیدا ہونے سے پہلے دل میں اسے رکھنے کی آئی تو زبان سے کہہ لے میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھر لیا وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی ورنہ اس سے الگ رہے یہاں تك کہ بچہ پیداہوجائے اس وقت وہ نکاح سے نکل جائے واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۱۹تا۱۲۰ : از چھاؤنی فیروز پور مرسلہ عبد العزیز خاں پنشنر یکم جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
بخدمت اقدس حامی شرع رسول حاوی معقول ومنقول حضرت مجددمائۃحاضرہ جناب مولانا صاحب دامت فیوضہم مؤدبانہ السلام علیکم کے بعد گزارش ہے کہ طلاق بہر نہج کے باشد عورتوں کو اس کا علم ہویا نہ ہو واقع ہوجاتی ہے مگر اس کا ایقاع بلاوجہ ملجیہ شرعیہ نادرست اور حرام ہے۔ درمختار میں ہے :
وایقاعہ مباح عند العامۃ لاطلاق الایات اکمل وقیل قائلہ الکمال
طلاق دینا جمہوری فقہاء کے نزدیك مباح ہے کیونکہ طلاق والی آیات کریمہ مطلق ہیں کما ذکرہ اکمل اور بعض نے
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا کہ : مسلمان عورت سے اچھا برتاؤ رکھو اگر تمہیں اس کی ایك عادت ناپسند ہوئی تو دوسری ہوگی ۔
اور اﷲعزوجل فرماتا ہے :
فعسى ان تكرهوا شیــٴـا و یجعل الله فیه خیرا كثیرا(۱۹)
قریب ہے کہ تم ایك بات کو مکروہ جانو گے اور اﷲ عزوجل اس میں بہت بھلائی رکھے گا۔
اور اگر عورت کو طلاق دے کر پھر کبھی نکاح نہ چاہے تو خیر ورنہ کیا معلوم کہ دوسری اس سے بھی بری ملے اس لئے حتی الامکان عورت کے ساتھ نیك برتاؤ اور اس کی دلجوئی اور اسے خوش کرکے اپنی اطاعت پر لانا اور اس کی کج خلقی پر صبر کرنا چاہئے اور اصطلاح ناممکن ہوتو طلاق دے سکتا ہے مگر ایك طلاق رجعی سے زیادہ دینا گناہ ہے فقط ایك بار اس سے کہے کہ میں نے تجھےطلاق دی پھر اگر عدت کے اندر یعنی حاملہ کے بچہ پیدا ہونے سے پہلے دل میں اسے رکھنے کی آئی تو زبان سے کہہ لے میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھر لیا وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی ورنہ اس سے الگ رہے یہاں تك کہ بچہ پیداہوجائے اس وقت وہ نکاح سے نکل جائے واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۱۹تا۱۲۰ : از چھاؤنی فیروز پور مرسلہ عبد العزیز خاں پنشنر یکم جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
بخدمت اقدس حامی شرع رسول حاوی معقول ومنقول حضرت مجددمائۃحاضرہ جناب مولانا صاحب دامت فیوضہم مؤدبانہ السلام علیکم کے بعد گزارش ہے کہ طلاق بہر نہج کے باشد عورتوں کو اس کا علم ہویا نہ ہو واقع ہوجاتی ہے مگر اس کا ایقاع بلاوجہ ملجیہ شرعیہ نادرست اور حرام ہے۔ درمختار میں ہے :
وایقاعہ مباح عند العامۃ لاطلاق الایات اکمل وقیل قائلہ الکمال
طلاق دینا جمہوری فقہاء کے نزدیك مباح ہے کیونکہ طلاق والی آیات کریمہ مطلق ہیں کما ذکرہ اکمل اور بعض نے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الرضاع الوصایۃ بالنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۵
صحیح مسلم کتاب الرضاع الوصایۃ بالنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۵
القرآن الکریم ۴ /۱۹
صحیح مسلم کتاب الرضاع الوصایۃ بالنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۵
القرآن الکریم ۴ /۱۹
الاصح حظرہ الالحاجۃ الخ۔
کہا یعنی کمال الدین ابن ہمام نے کہ قول اصح یہ ہے کہ طلاق ممنوع ہے مگر حاجت ہوتو مباح ہے الخ(ت)
معاشرت نساء کے بارے میں جو آیات اور احادیث وارد ہیں ان میں بھی جانب عدم ایقاع اور حرمت مرجح معلوم ہوتی ہے بعد نکاح ایقاع وعدم کل مختار ہے اور عدم ایقاع زیادہ مختار اور پسندیدہ نظرا الی الایات والاحادیث التی وردت فی المعاشرت بالنساء(ان آیات واحادیث کے پیش نظر جو عورتوں سے معاشرت کے متعلق وارد ہوئی ہیں ۔ ت)اور بعد چند سال کے اگر آپس شقاق واقع ہوتو پنچایت مطابق آیت والتی تخافون نشوزہن (اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو۔ ت) مصالحت کی راہ سے اختیار کریں بنابریں قرار پایا کہ میں اس عورت کو ہرگز طلاق نہ دوں گا تا زندگی اور اقرار نامہ لکھ دیا اور اپنے اختیار ایقاع طلاق کو اس معاہدہ سے باطل کردیا ہے اور بروئے اقرار نامہ کے طلاق نہیں دے سکتا کہ اسے نقض معاہدہ لازم آتا ہے نقض معاہدہ عام ہے و اوفوا بالعهد-ان العهد كان مسـٴـولا (۳۴) (وعدہ وفا کرو یقینا عہد کے متعلق سوال ہوگا۔ ت) واقع ہوا بدیں لحاظ ایقاع طلاق بلاوجوہ موجہ شرعیہ حرام اور محظور ہوگا لہذا سوال کے جواب میں طلاق دینا بلحاظ اقرار نامہ محظور وممنوع لکھنا درست اور استفتاء ثانی میں عدم وقوع طلاق عبارت عالمگیریہ سے بظاہر ثابت ہوتا ہے وہ بھی صحیح ہے کیونکہ حبیب خاتون کے خاوند نے طلاق نامہ اس بنا پر لکھوایا ہے کہ اسے خرچ نہ دینا پڑے لہذا اس کا طلاق نامہ لکھوانا قابل سماعت نہ ہونا چاہئے کیونکہ اس کا بیان ہے کہ میں نفقہ نہیں دوں گا میں اس کوطلاق نامہ رجسٹری بذریعہ ڈاك بھیج چکا ہوں مسماۃ حبیب خاتون نے واپس کردیا مسماۃخاتون انکاری ہے اور کہتی ہے کہ مجھے خبر تك بھی نہیں کہ مجھے طلاق دیا گیا اور طلاق نامہ میرے پاس نہیں بھیجا گیا لہذا ملتمس ہوں کہ براہ عنایت ونوازش قدیمانہ کے دست بستہ عرض ہے کہ آپ ہردو۲ استفتاء کو بعد ملاحظہ کے حقیقت مسئلہ سے آگاہ فرمائیں کیونکہ اس مسئلہ کی اشد ضرورت ہے اور جناب کی ذات والا صفات پر کمال بھروسا ہے۔
سوال : جو عورت صالحہ نمازی اﷲاور رسول کی تابعداری ہے احکام شریعت پابندی خاوندی کی تابعداری ہر ایك حکم میں مع ہذا چار پانچ سال بعد کسی ناچاقی کے وقت میں روبرو ئے پنچایت اقرار نامہ بھی لکھ دیا جس میں شرط
کہا یعنی کمال الدین ابن ہمام نے کہ قول اصح یہ ہے کہ طلاق ممنوع ہے مگر حاجت ہوتو مباح ہے الخ(ت)
معاشرت نساء کے بارے میں جو آیات اور احادیث وارد ہیں ان میں بھی جانب عدم ایقاع اور حرمت مرجح معلوم ہوتی ہے بعد نکاح ایقاع وعدم کل مختار ہے اور عدم ایقاع زیادہ مختار اور پسندیدہ نظرا الی الایات والاحادیث التی وردت فی المعاشرت بالنساء(ان آیات واحادیث کے پیش نظر جو عورتوں سے معاشرت کے متعلق وارد ہوئی ہیں ۔ ت)اور بعد چند سال کے اگر آپس شقاق واقع ہوتو پنچایت مطابق آیت والتی تخافون نشوزہن (اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو۔ ت) مصالحت کی راہ سے اختیار کریں بنابریں قرار پایا کہ میں اس عورت کو ہرگز طلاق نہ دوں گا تا زندگی اور اقرار نامہ لکھ دیا اور اپنے اختیار ایقاع طلاق کو اس معاہدہ سے باطل کردیا ہے اور بروئے اقرار نامہ کے طلاق نہیں دے سکتا کہ اسے نقض معاہدہ لازم آتا ہے نقض معاہدہ عام ہے و اوفوا بالعهد-ان العهد كان مسـٴـولا (۳۴) (وعدہ وفا کرو یقینا عہد کے متعلق سوال ہوگا۔ ت) واقع ہوا بدیں لحاظ ایقاع طلاق بلاوجوہ موجہ شرعیہ حرام اور محظور ہوگا لہذا سوال کے جواب میں طلاق دینا بلحاظ اقرار نامہ محظور وممنوع لکھنا درست اور استفتاء ثانی میں عدم وقوع طلاق عبارت عالمگیریہ سے بظاہر ثابت ہوتا ہے وہ بھی صحیح ہے کیونکہ حبیب خاتون کے خاوند نے طلاق نامہ اس بنا پر لکھوایا ہے کہ اسے خرچ نہ دینا پڑے لہذا اس کا طلاق نامہ لکھوانا قابل سماعت نہ ہونا چاہئے کیونکہ اس کا بیان ہے کہ میں نفقہ نہیں دوں گا میں اس کوطلاق نامہ رجسٹری بذریعہ ڈاك بھیج چکا ہوں مسماۃ حبیب خاتون نے واپس کردیا مسماۃخاتون انکاری ہے اور کہتی ہے کہ مجھے خبر تك بھی نہیں کہ مجھے طلاق دیا گیا اور طلاق نامہ میرے پاس نہیں بھیجا گیا لہذا ملتمس ہوں کہ براہ عنایت ونوازش قدیمانہ کے دست بستہ عرض ہے کہ آپ ہردو۲ استفتاء کو بعد ملاحظہ کے حقیقت مسئلہ سے آگاہ فرمائیں کیونکہ اس مسئلہ کی اشد ضرورت ہے اور جناب کی ذات والا صفات پر کمال بھروسا ہے۔
سوال : جو عورت صالحہ نمازی اﷲاور رسول کی تابعداری ہے احکام شریعت پابندی خاوندی کی تابعداری ہر ایك حکم میں مع ہذا چار پانچ سال بعد کسی ناچاقی کے وقت میں روبرو ئے پنچایت اقرار نامہ بھی لکھ دیا جس میں شرط
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۵
القرآن ۴ / ۳۴
القرآن ۱۷ / ۳۴
القرآن ۴ / ۳۴
القرآن ۱۷ / ۳۴
ہے کہ تازندگی طلاق نہیں دوں گا کیا ا سے پانے اس ا قرار نامہ کے رو سے اس عورت کو طلاق دینا جائز اور درست ہے اور شیرخوار لڑکی بھی اس کے پاس ہے۔
سوال متعلق سوال سابق اقرار نامہ
سائل نے یہ بھی تحریر کر دیا ہے اس اقرار نامہ کے ضمن میں نان نفقہ بابت پانچ روپیہ ما ہوردیاکروں گا خرچ نہ بھیجنے پر عورت نے حاکم کے پاس نالش کی ہے مدعا علیہ کی طلبی ہوئی اس پر جواب دعوی کے ساتھ وکیل نے طلاق نامہ لکھواکر پیش کردیا ہے یہ طلاق نامہ نان ونفقہ کے نہ لازم ہونے کے لئے پیش کیا ہے کہ میں اس کو طلاق نامہ دے چکا تھا جس سے عورت انکاری ہے کیا یہ طلاق نامہ اس کا ایسی صورت میں معتبر ہ اور نان ونفقہ اس پر واجب نہ ہوگا
جواب سوال اول
شے واحدمیں حل وحظر کا دوجہت سے مجتمع ہونا کچھ بعید نہیں طلاق فی نفسہ حلال ہے اور ازانجاکہ شرع کو اتفاق محبوب اور افتراق مبغوض ہے بے حاجت یا ریت محظور ہے حدیث میں ان دونوں جہتوں کے اجتماع کی طرف صاف اشارہ فرمایا گیا :
ابغض الحلال الی اﷲالطلاق ۔
حلال چیزوں میں سے اﷲتعالی کے ہاں طلاق ناپسندیدہ ترین ہے(ت)
حلال بھی فرمایا اور مبغوض بھی آیہ کریمہ میں مطلقا ارشاد ہوا :
یایها النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوهن لعدتهن و احصوا العدة ۔
اے نبی(صلی اﷲتعالی علیہ وسلم)!جب آپ طلاق دیں تو عدت کو پیش نظر رکھ کر طلاق دیں اور عدت کو شمار کریں ۔ (ت)
اور حدیث میں فرمایا :
سوال متعلق سوال سابق اقرار نامہ
سائل نے یہ بھی تحریر کر دیا ہے اس اقرار نامہ کے ضمن میں نان نفقہ بابت پانچ روپیہ ما ہوردیاکروں گا خرچ نہ بھیجنے پر عورت نے حاکم کے پاس نالش کی ہے مدعا علیہ کی طلبی ہوئی اس پر جواب دعوی کے ساتھ وکیل نے طلاق نامہ لکھواکر پیش کردیا ہے یہ طلاق نامہ نان ونفقہ کے نہ لازم ہونے کے لئے پیش کیا ہے کہ میں اس کو طلاق نامہ دے چکا تھا جس سے عورت انکاری ہے کیا یہ طلاق نامہ اس کا ایسی صورت میں معتبر ہ اور نان ونفقہ اس پر واجب نہ ہوگا
جواب سوال اول
شے واحدمیں حل وحظر کا دوجہت سے مجتمع ہونا کچھ بعید نہیں طلاق فی نفسہ حلال ہے اور ازانجاکہ شرع کو اتفاق محبوب اور افتراق مبغوض ہے بے حاجت یا ریت محظور ہے حدیث میں ان دونوں جہتوں کے اجتماع کی طرف صاف اشارہ فرمایا گیا :
ابغض الحلال الی اﷲالطلاق ۔
حلال چیزوں میں سے اﷲتعالی کے ہاں طلاق ناپسندیدہ ترین ہے(ت)
حلال بھی فرمایا اور مبغوض بھی آیہ کریمہ میں مطلقا ارشاد ہوا :
یایها النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوهن لعدتهن و احصوا العدة ۔
اے نبی(صلی اﷲتعالی علیہ وسلم)!جب آپ طلاق دیں تو عدت کو پیش نظر رکھ کر طلاق دیں اور عدت کو شمار کریں ۔ (ت)
اور حدیث میں فرمایا :
حوالہ / References
سنن ابوداؤد باب کراہیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
القران ۶۵ / ۱
القران ۶۵ / ۱
لعن اﷲالزواقین فـــــ۱ والزواقات ۔
نکاح کو شغل بنانے والے مرد اور عورت پر اﷲتعالی کی لعنت ہے۔ (ت)
اور فرمایا :
ان المختلعات ھن النافقات ۔
خلع طلب کرنے والی عورتیں منافق ہیں (ت)
اور فرمایا :
ماحلف بالطلاق مومن ولا استحلف بہ الامنافق ۔
طلاق کی قسم دینے والا مومن نہیں اور طلاق کی قسم لینے والا صرف منافق ہے۔ (ت)
آیت کا وہ حکم اور احادیث کے یہ ارشادات انہی وجہین حل وبغض پر ہیں اگرعورت پر کوئی شبہ ہویا وہ عاصیہ ہو یا نماز نہ پڑھتی ہو یا بوڑھی ہوگئی ہو اور اسے قسم بین النساء سے بچنا ہوتو ان سب صورتوں میں طلاق بلاکراہت جائز ومباح ہے بلکہ بعض صورتوں میں مستحب علماء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نماز نہ پڑھے اور یہ ادائے مہر پر قادرنہ بھی ہو جب بھی طلاق دے دینی چاہئے کہ
لان فـــــ۲ یلقی اﷲ ومھرھا فی عنقہ خیر لہ من ان یعاشر امرأۃ لاتصلی کما فی الخانیۃ والغنیۃ وغیرھما ۔
اﷲتعالی کے ہاں پیشی میں بیوہ کا ہر شوہر کے گلے میں پڑا ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ بے نماز عورت سے معاشرت جاری رکھے جیسا کہ خانیہ غنیہ وغیرہما میں ہے۔ (ت)
نکاح کو شغل بنانے والے مرد اور عورت پر اﷲتعالی کی لعنت ہے۔ (ت)
اور فرمایا :
ان المختلعات ھن النافقات ۔
خلع طلب کرنے والی عورتیں منافق ہیں (ت)
اور فرمایا :
ماحلف بالطلاق مومن ولا استحلف بہ الامنافق ۔
طلاق کی قسم دینے والا مومن نہیں اور طلاق کی قسم لینے والا صرف منافق ہے۔ (ت)
آیت کا وہ حکم اور احادیث کے یہ ارشادات انہی وجہین حل وبغض پر ہیں اگرعورت پر کوئی شبہ ہویا وہ عاصیہ ہو یا نماز نہ پڑھتی ہو یا بوڑھی ہوگئی ہو اور اسے قسم بین النساء سے بچنا ہوتو ان سب صورتوں میں طلاق بلاکراہت جائز ومباح ہے بلکہ بعض صورتوں میں مستحب علماء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نماز نہ پڑھے اور یہ ادائے مہر پر قادرنہ بھی ہو جب بھی طلاق دے دینی چاہئے کہ
لان فـــــ۲ یلقی اﷲ ومھرھا فی عنقہ خیر لہ من ان یعاشر امرأۃ لاتصلی کما فی الخانیۃ والغنیۃ وغیرھما ۔
اﷲتعالی کے ہاں پیشی میں بیوہ کا ہر شوہر کے گلے میں پڑا ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ بے نماز عورت سے معاشرت جاری رکھے جیسا کہ خانیہ غنیہ وغیرہما میں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
مجمع الزوائد باب من یکثر الطلاق دارالکتاب بیروت ۴ / ۳۳۵
الترغیب والترتیب باب ترہیب المرأۃ ان تسأل زوجہا مصطفی البابی مصر ۲ / ۸۴ ، جا مع الترمذی ابواب الطلاق امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ / ۱۴۲
فـــــ۱ : غالبًا حدیث کے الفاظ یُوں ہیں : ان اﷲلایحب الزوقین والزوقات۔ تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو معجم اوسط۸ / ۴۱۳ ، دُرمنثور ۱ / ۲۷۸ ، تفسیر القرطبی ۱۸ / ۱۴۹ ، کشف الاستارعن زوائد البزار ۲ / ۱۹۲ ان سب کتب میں “ ان اﷲلا یحب الزواقین “ کے الفاظ ہیں “ لعن اﷲالزواقین “ کے الفاظ نہیں۔ نذیر احمد
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۴۶۳۴۰ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۶۸۹
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٤١٦
فـــــ۲ : یہ عبارت عبد اﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے اصل الفاظ یوں ہیں : “ لان القی اﷲوصد اقھا بذمتی خیر من ان اعاشرامرأۃ لا تصلی “ ۔ ملاحظہ ہو ردالمحتار کا صفحہ مذکور ۲ / ۴۱۶۔ نذیراحمد
الترغیب والترتیب باب ترہیب المرأۃ ان تسأل زوجہا مصطفی البابی مصر ۲ / ۸۴ ، جا مع الترمذی ابواب الطلاق امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ / ۱۴۲
فـــــ۱ : غالبًا حدیث کے الفاظ یُوں ہیں : ان اﷲلایحب الزوقین والزوقات۔ تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو معجم اوسط۸ / ۴۱۳ ، دُرمنثور ۱ / ۲۷۸ ، تفسیر القرطبی ۱۸ / ۱۴۹ ، کشف الاستارعن زوائد البزار ۲ / ۱۹۲ ان سب کتب میں “ ان اﷲلا یحب الزواقین “ کے الفاظ ہیں “ لعن اﷲالزواقین “ کے الفاظ نہیں۔ نذیر احمد
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۴۶۳۴۰ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۶۸۹
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٤١٦
فـــــ۲ : یہ عبارت عبد اﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے اصل الفاظ یوں ہیں : “ لان القی اﷲوصد اقھا بذمتی خیر من ان اعاشرامرأۃ لا تصلی “ ۔ ملاحظہ ہو ردالمحتار کا صفحہ مذکور ۲ / ۴۱۶۔ نذیراحمد
بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہوتی ہے جیسے اس کو اس کے ماں باپ کو طلاق دینے کا حکم دیں اور نہ دینے میں ان کی ایذا وناراضی ہو واجب ہے کہ طلاق دے دے اگر چہ عورت کا کچھ قصور نہ ہو “ لان العقوق حرام والا جتناب عن الحرام واجب “ (کیونکہ نافرمانی حرام ہے اور حرام سے بچنا واجب ہے۔ ت)حدیث میں فرمایا :
وان امراك ان تخرج من اھلك ومالك فاخرج ۔
اگر والدین بیوی اورمال سے علیحدگی کا حکم دیں تو ایسا ہی کرو۔ (ت)
ہاں بے حاجت بلا عذر شرعی طلاق دینا مکروہ و ممنوع ہے مگر دے گا تو پڑضرور جائے گی کہ وہ اس کی زبان پر رکھی گئی “ بیده عقدة النكاح “ (نکاح کی گرہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ ت)اس کا مرتکب مکروہ وہ بلکہ گنہگار ہونا بھی اس کے وقوع کو نہیں روکتا جیسے حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے کہ حکم فطلقوهن لعدتهن (عدت کو پیش نظر رکھ کر طلاق دو۔ ت) مگر دے گا تو ضرور ہوجائے گی اور یہ گنہگار۔ عہد نامہ کا اثر فقط اتنا ہوگا کہ بلاحاجت جوطلاق جو طلاق دینا مکروہ تھا اب سخت مکروہ ہوگا کہ نقض عہد بھی ہو گامگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی ہوگا مگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی اس پر الزام آئے گا۔ اس عہد کا اگر حاصل یہ تھا کہ پانے اختیار طلاق کو سلب کرتا ہے تو وہ عہد ہی مردود ہے کہ تغیر حکم شرع ہے شرع مطہر نے اس کو مالك کیا ہے اس ملك کو باطل نہیں کرسکتا۔ حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
مابال اقوام یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲفہوردان کانت مائۃ شرط شرط اﷲاحق واوثق ۔
قوموں کا کیا حال ہوگا کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اﷲمیں نہیں ہیں جوشخص ایسی شرط لگائے جو اﷲتعالی کی کتاب میں موجود نہیں یعنی اﷲتعالی کی پسندیدہ نہیں تو وہ شرط مردود ہے اگر چہ ایسی سو۱۰۰ شرطیں ہوں صرف اﷲتعالی کی پسندیدہ شرط قبولیت کے لائق اور باوثوق ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وان امراك ان تخرج من اھلك ومالك فاخرج ۔
اگر والدین بیوی اورمال سے علیحدگی کا حکم دیں تو ایسا ہی کرو۔ (ت)
ہاں بے حاجت بلا عذر شرعی طلاق دینا مکروہ و ممنوع ہے مگر دے گا تو پڑضرور جائے گی کہ وہ اس کی زبان پر رکھی گئی “ بیده عقدة النكاح “ (نکاح کی گرہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ ت)اس کا مرتکب مکروہ وہ بلکہ گنہگار ہونا بھی اس کے وقوع کو نہیں روکتا جیسے حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے کہ حکم فطلقوهن لعدتهن (عدت کو پیش نظر رکھ کر طلاق دو۔ ت) مگر دے گا تو ضرور ہوجائے گی اور یہ گنہگار۔ عہد نامہ کا اثر فقط اتنا ہوگا کہ بلاحاجت جوطلاق جو طلاق دینا مکروہ تھا اب سخت مکروہ ہوگا کہ نقض عہد بھی ہو گامگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی ہوگا مگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی اس پر الزام آئے گا۔ اس عہد کا اگر حاصل یہ تھا کہ پانے اختیار طلاق کو سلب کرتا ہے تو وہ عہد ہی مردود ہے کہ تغیر حکم شرع ہے شرع مطہر نے اس کو مالك کیا ہے اس ملك کو باطل نہیں کرسکتا۔ حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
مابال اقوام یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲفہوردان کانت مائۃ شرط شرط اﷲاحق واوثق ۔
قوموں کا کیا حال ہوگا کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اﷲمیں نہیں ہیں جوشخص ایسی شرط لگائے جو اﷲتعالی کی کتاب میں موجود نہیں یعنی اﷲتعالی کی پسندیدہ نہیں تو وہ شرط مردود ہے اگر چہ ایسی سو۱۰۰ شرطیں ہوں صرف اﷲتعالی کی پسندیدہ شرط قبولیت کے لائق اور باوثوق ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References
الترغیب والترھیب من ترك الصّلوٰۃ تعمدًا مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۸۳ ، السنن الکبرٰی کتاب القسم والنشور دارصادبیروت ۷ / ۳۰۴ ، کنز العمال حدیث ۴۴۰۰۱۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ / ۴۹
۲ / ۲۳۷
القرآن ۶۵ / ۱
صحیح مسلم باب بیان ان الولاء طن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۹۴
۲ / ۲۳۷
القرآن ۶۵ / ۱
صحیح مسلم باب بیان ان الولاء طن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۹۴
یقع کثیر فی کلام العوام انت طالق تحلی للخنازیر وتحرمی علی وافتی فی الخیریۃ بأنہ رجعی لان قولہ وتحرمی علی ان کان للحال فخلاف المشروع لانھا لا تحرم الابعد انقضاء العدۃ وان کان للاستقبال فصحیح ولاینافی الرجعۃ وکذلك افتی بالرجعی فی قولھم انت طالق لایردك قاضی ولا عالم لانہ لا یملك اخراجہ عن موضوعہ الشرعی وایدہ فی حواشیہ علی المنح بمافی الصیرفیۃ لوقال انت طالق ولارجعۃ لی علیك فرجعیۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
عوام کے کلام میں کثیر الوقوع ہے کہ “ تجھے طلاق ہے تو خنزیروں پر حلال اور مجھ پر حرام ہے “ خیریہ میں فتوی دیا ہے کہ یہ طلاق رجعی ہے کیونکہ “ تومجھ پر حرام “ کہنا اگر اس سے مراد یہ ہے کہ “ فی الحال مجھ پر حرام “ تو یہ خلاف مشروع ہےکیونکہ طلاق کے بعد بیوی عدت ختم ہونے پر حرام ہوتی ہے اور استقبال کے لئے حرام کیا تو یہ صحیح ہے اور یہ رجوع کرنے کے خلاف نہیں اور یوں ہی فقہاء نے رجعی طلاق کا فتوی دیا ہے جب کوئی یہ کہے کہ تجھے ایسی طلاق جس پر تجھے کوئی قاضی اور عالم واپس نہ کرسکے کیونکہ ایسا کہنے کا وہ مجاز نہیں کہ جس سے وہ شرعی حکم کو معطل کردے۔ منح کے حواشی میں اس کی تائید پرصیرفیہ کا یہ بیان ذکر کیا ہے کہ اگر کسی نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور تجھے پر رجوع کا حق نہیں ہے تو یہ طلاق رجعی ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
جواب سوال دوم
طلاق نامہ دربارہ وقوع طلاق ضرور معتبر ہے اس کے کہنے سے کہ میں طلاق دے چکا ہوں ضرور طلاق ہوجائے گی
لانہ یملك انشاء ہ فی الحال فلاینازع فیما قال۔
کیونکہ فی الحال وہ طلاق کا مالك ہے تو جو اس نے کہا وہ اس کے مخالف نہیں ۔ (ت)
ہاں زمانہ کی طرف اس کی اسناد اگر کرے کہ اتنے دن ہوئے میں اسے طلاق دے چکا ہوں تو یہ مدت نہ مانی جائے گی بلکہ اسی وقت سے طلاق قرار پائے گی۔ درمختار میں ہے :
لو اقر بطلاقھا منذزمان ماض فان الفتوی انھا من وقت الاقرار نفیا
اگر ماضی میاں میں کسی وقت کی طلاق اقرار کیا تو مطلقا اس وقت اقرار سے طلاق کا فتوی ہے تاکہ
عوام کے کلام میں کثیر الوقوع ہے کہ “ تجھے طلاق ہے تو خنزیروں پر حلال اور مجھ پر حرام ہے “ خیریہ میں فتوی دیا ہے کہ یہ طلاق رجعی ہے کیونکہ “ تومجھ پر حرام “ کہنا اگر اس سے مراد یہ ہے کہ “ فی الحال مجھ پر حرام “ تو یہ خلاف مشروع ہےکیونکہ طلاق کے بعد بیوی عدت ختم ہونے پر حرام ہوتی ہے اور استقبال کے لئے حرام کیا تو یہ صحیح ہے اور یہ رجوع کرنے کے خلاف نہیں اور یوں ہی فقہاء نے رجعی طلاق کا فتوی دیا ہے جب کوئی یہ کہے کہ تجھے ایسی طلاق جس پر تجھے کوئی قاضی اور عالم واپس نہ کرسکے کیونکہ ایسا کہنے کا وہ مجاز نہیں کہ جس سے وہ شرعی حکم کو معطل کردے۔ منح کے حواشی میں اس کی تائید پرصیرفیہ کا یہ بیان ذکر کیا ہے کہ اگر کسی نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور تجھے پر رجوع کا حق نہیں ہے تو یہ طلاق رجعی ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
جواب سوال دوم
طلاق نامہ دربارہ وقوع طلاق ضرور معتبر ہے اس کے کہنے سے کہ میں طلاق دے چکا ہوں ضرور طلاق ہوجائے گی
لانہ یملك انشاء ہ فی الحال فلاینازع فیما قال۔
کیونکہ فی الحال وہ طلاق کا مالك ہے تو جو اس نے کہا وہ اس کے مخالف نہیں ۔ (ت)
ہاں زمانہ کی طرف اس کی اسناد اگر کرے کہ اتنے دن ہوئے میں اسے طلاق دے چکا ہوں تو یہ مدت نہ مانی جائے گی بلکہ اسی وقت سے طلاق قرار پائے گی۔ درمختار میں ہے :
لو اقر بطلاقھا منذزمان ماض فان الفتوی انھا من وقت الاقرار نفیا
اگر ماضی میاں میں کسی وقت کی طلاق اقرار کیا تو مطلقا اس وقت اقرار سے طلاق کا فتوی ہے تاکہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح من کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۱
لتھمۃ المواضعۃ ۔
میاں بیوی کے ناجائز سمجھوتہ کی تہمت نہ لگ سکے(ت)
مگر نفقہ مفروضی ساقط کرنے کے لئے اس کا قول معتبر نہ ہوگا اس وقت تك کا نفقہ مفروضہ دلائیں گے اور اس وقت سے مطلقہ مانیں گے اور آج سے تمامی عدت تك کا نفقہ واجب کریں گے۔ ہاں اگرعورت بھی تسلیم کرلے کہ اتنا زمانہ ہواطلاق ہوچکی اور عدت گزرچکی تو بےشك نفقہ لازم نہ آئے گا مگر طلاق بہرحال اس وقت سے لازم ہے۔ درمختار میں بعد عبارت مذکورہ ہے :
لکن ان کذبتہ فی الاسناد اوقالت لا ادری وجبت العدۃ من وقت الاقرار ولھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فکذلك غیرانہ لانفقۃ لا سکنی لقبول قولھا علی نفسھا خانیۃ (ملخصا)
لیکن اگر عورت مرد کو زمانہ کی نسبت میں جھوٹا قرار دے یا کہے کہ مجھے معلوم نہیں تو ایسی صورت میں اقرار کے وقت سے عدت شروع ہوگی اگر اس کو نفقہ اور رہائش دینی ہوگی اور عورت اس کی تصدیق کرے تو پھر حکم یہی ہے مگر وہ اپنی تصدیق کی وجہ سے اپنے نفقہ اور سکنی اور سکنی کے حق سے محروم ہوجائے گی(ملخصا)(ت)
ذخیرہ امام برہان الدین محمود پھر ہندیہ میں امام خصاف رحمۃ اﷲتعالی سے ہے :
لوان رجلا قدمتہ امرأتہ الی القاضی وطالبتہ بالنفقۃ وقال الرجل للقاضی کنت طلقتھا منذسنۃ وانقضت عدتھا وجحدت الطلاق لایقبل قولہ فان شھد لہ شاھدان بذلك والقاضی لایعرفھما فانہ یامرہ بالنفقۃ علیھا فان عدلت الشہود واقرت انہا حاضت ثلث حیض فی ھذہ السنۃ فلانفقۃ لھا علیہ فان اخذت منہ شیئاردت علیہ ۔
اگر کسی عورت نےقاضی کے ہاں کسی شخص کی پیشی کرادی اور نفقہ کا مطالبہ کیا اور مرد نے قاضی سے کہا کہ میں نے اس کو ایك سال قبل طلاق دے دی تھی اور عدت بھی گزرچکی ہے اور عورت طلاق کا انکار کردے تو قاضی مرد کی بات کو قبول نہیں کرے گا اگر دو گواہوں جن کو قاضی نہیں جانتا نے گواہی مرد کے حق میں دی تو پھر بھی قاضی نفقہ واجب کردے گا ہاں اگر عورت ان گواہوں کو عادل قراردے اور تین حیض سال بھر میں گزرنے کا اقرار کرلے تو اب عورت کے لئے نفقہ نہ ہوگا پھر اگر عورت نے کچھ وصول کیا ہو تو واپس کرے گی۔ (ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
میاں بیوی کے ناجائز سمجھوتہ کی تہمت نہ لگ سکے(ت)
مگر نفقہ مفروضی ساقط کرنے کے لئے اس کا قول معتبر نہ ہوگا اس وقت تك کا نفقہ مفروضہ دلائیں گے اور اس وقت سے مطلقہ مانیں گے اور آج سے تمامی عدت تك کا نفقہ واجب کریں گے۔ ہاں اگرعورت بھی تسلیم کرلے کہ اتنا زمانہ ہواطلاق ہوچکی اور عدت گزرچکی تو بےشك نفقہ لازم نہ آئے گا مگر طلاق بہرحال اس وقت سے لازم ہے۔ درمختار میں بعد عبارت مذکورہ ہے :
لکن ان کذبتہ فی الاسناد اوقالت لا ادری وجبت العدۃ من وقت الاقرار ولھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فکذلك غیرانہ لانفقۃ لا سکنی لقبول قولھا علی نفسھا خانیۃ (ملخصا)
لیکن اگر عورت مرد کو زمانہ کی نسبت میں جھوٹا قرار دے یا کہے کہ مجھے معلوم نہیں تو ایسی صورت میں اقرار کے وقت سے عدت شروع ہوگی اگر اس کو نفقہ اور رہائش دینی ہوگی اور عورت اس کی تصدیق کرے تو پھر حکم یہی ہے مگر وہ اپنی تصدیق کی وجہ سے اپنے نفقہ اور سکنی اور سکنی کے حق سے محروم ہوجائے گی(ملخصا)(ت)
ذخیرہ امام برہان الدین محمود پھر ہندیہ میں امام خصاف رحمۃ اﷲتعالی سے ہے :
لوان رجلا قدمتہ امرأتہ الی القاضی وطالبتہ بالنفقۃ وقال الرجل للقاضی کنت طلقتھا منذسنۃ وانقضت عدتھا وجحدت الطلاق لایقبل قولہ فان شھد لہ شاھدان بذلك والقاضی لایعرفھما فانہ یامرہ بالنفقۃ علیھا فان عدلت الشہود واقرت انہا حاضت ثلث حیض فی ھذہ السنۃ فلانفقۃ لھا علیہ فان اخذت منہ شیئاردت علیہ ۔
اگر کسی عورت نےقاضی کے ہاں کسی شخص کی پیشی کرادی اور نفقہ کا مطالبہ کیا اور مرد نے قاضی سے کہا کہ میں نے اس کو ایك سال قبل طلاق دے دی تھی اور عدت بھی گزرچکی ہے اور عورت طلاق کا انکار کردے تو قاضی مرد کی بات کو قبول نہیں کرے گا اگر دو گواہوں جن کو قاضی نہیں جانتا نے گواہی مرد کے حق میں دی تو پھر بھی قاضی نفقہ واجب کردے گا ہاں اگر عورت ان گواہوں کو عادل قراردے اور تین حیض سال بھر میں گزرنے کا اقرار کرلے تو اب عورت کے لئے نفقہ نہ ہوگا پھر اگر عورت نے کچھ وصول کیا ہو تو واپس کرے گی۔ (ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
حوالہ / References
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۷
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۷
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ نورانی کتب خانہ پشاور / ۵۵۹
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۷
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ نورانی کتب خانہ پشاور / ۵۵۹
لم یقبل قولہ فی ابطال نفقتھا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مرد کا قول بیوی کے نفقہ کو باطل کرنے میں قبول نہ ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۱ : از بنارس محلہ پترکنڈہ مکان ببوائن صاحبہ مرسلہ مولوی ابوالخیر سید حسن صاحب ۱۳جمادی الاخری ۱۳۲۰ھ
سیدی مولائی وماوائی مدظلہ اﷲ تعالی بعد السلام علیکم کے خدمت میں عرض یہ ہے کہ حضور معتمد علیہ کلی ہیں لہذا یہ استفتاء بھیجا جاتا ہے حضور ہی کے مہر پر جواز وعدم جواز ہے اگر چہ اکثر علماء نے دستخظ کیا ہے صورت سوال یہ ہے :
چہ می فرمایند دین اندریں صورت کہ زید بحضور خالد بعدم موجودگی عدم تسمیہ ہندہ یعنی زوجہ خود گنت یك طلاق دوطلاق سہ طلاق میدہم یانمی دہم ہیچك نہ گفتہ وبکر کہ بردر حقیقی زید ست می گوید کہ روبروئے من بلا تسمیہ وبلا حضور ہندہ می گفت طلاق میدہم طلاق میدہم طلاق عمرومیگوید کہ صباح زید زپر سیدم کہ شب گزشتہ درمکان شما شوروغل بچ سبب بود گفت من طلاق دادہ ام(بلاحضورہندہ وبلاتسمیہ واضافت)وہندہ لفظ طلاق از جائے دیگر شنیدہ می گوید کہ زید یعنی شوہرم مرا طلاق دادہ است زید ازو انکار می سازد۔ دریں صورت ہندہ مطلقہ خواہد شد یا نہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے خالد کے ہاں اپنی بیوی ہندہ کا نام لئے بغیر بغیر اسکی موجودگی کے لئے “ ایك طلاق دو۲طلاق تین طلاق “ ۔ اس نے “ دیتا ہوں “ یا “ نہیں دیتاہوں “ کچھ نہ کہا۔ زید کا حقیقی بھائی بکر کہتا ہے کہ میرے سامنے زید نے اپنی بیوی ہندہ کی غیرموجودگی اور اس کانام ذکر کئے بغیر کہا : “ طلاق دیتا ہوں میں طلاق دیتا ہوں میں طلاق دیتا ہوں “ ۔ عمرو کہتا ہے صبح جب میں نے زید سے پوچھا کہ تمہارے گھر گزشتہ رات کیا شوروغل ہورہاتھا اس نے کہ میں نے طلاق دی ہے۔ (یہ ہندہ کا نام اور اسکی طرف نسبت کئے بغیر اس کی غیر موجودگی میں کہا ہے)اور ہندہ نے طلاق کے متعلق کسی سے سن کر کہا کہ زید یعنی میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے جبکہ زید اس سے انکار کرتا ہے تو اس صورت میں ہندہ کو طلاق ہوئی یا نہ۔ (ت)
حضور والا راسخ المحققین ہیں گوکہ کبھی اس حقیر کو حضور وملازمت حاصل نہ ہوئی لیکن فیوضات نا متنا ہی سے مستفیض ہوتا ہے اکثر فتوے حضور کے اس شہرمیں آتے رہتے ہیں یہ واقعہ اس خاکساری کے بالمواجہ ہوا ہے زید نے بلاتسمیہ وخطاب واضافت بحالت عدم موجودگی ہندہ لفظ “ طلاق “ و “ طلاق دیتا ہوں “ کہا ہے
مرد کا قول بیوی کے نفقہ کو باطل کرنے میں قبول نہ ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۱ : از بنارس محلہ پترکنڈہ مکان ببوائن صاحبہ مرسلہ مولوی ابوالخیر سید حسن صاحب ۱۳جمادی الاخری ۱۳۲۰ھ
سیدی مولائی وماوائی مدظلہ اﷲ تعالی بعد السلام علیکم کے خدمت میں عرض یہ ہے کہ حضور معتمد علیہ کلی ہیں لہذا یہ استفتاء بھیجا جاتا ہے حضور ہی کے مہر پر جواز وعدم جواز ہے اگر چہ اکثر علماء نے دستخظ کیا ہے صورت سوال یہ ہے :
چہ می فرمایند دین اندریں صورت کہ زید بحضور خالد بعدم موجودگی عدم تسمیہ ہندہ یعنی زوجہ خود گنت یك طلاق دوطلاق سہ طلاق میدہم یانمی دہم ہیچك نہ گفتہ وبکر کہ بردر حقیقی زید ست می گوید کہ روبروئے من بلا تسمیہ وبلا حضور ہندہ می گفت طلاق میدہم طلاق میدہم طلاق عمرومیگوید کہ صباح زید زپر سیدم کہ شب گزشتہ درمکان شما شوروغل بچ سبب بود گفت من طلاق دادہ ام(بلاحضورہندہ وبلاتسمیہ واضافت)وہندہ لفظ طلاق از جائے دیگر شنیدہ می گوید کہ زید یعنی شوہرم مرا طلاق دادہ است زید ازو انکار می سازد۔ دریں صورت ہندہ مطلقہ خواہد شد یا نہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے خالد کے ہاں اپنی بیوی ہندہ کا نام لئے بغیر بغیر اسکی موجودگی کے لئے “ ایك طلاق دو۲طلاق تین طلاق “ ۔ اس نے “ دیتا ہوں “ یا “ نہیں دیتاہوں “ کچھ نہ کہا۔ زید کا حقیقی بھائی بکر کہتا ہے کہ میرے سامنے زید نے اپنی بیوی ہندہ کی غیرموجودگی اور اس کانام ذکر کئے بغیر کہا : “ طلاق دیتا ہوں میں طلاق دیتا ہوں میں طلاق دیتا ہوں “ ۔ عمرو کہتا ہے صبح جب میں نے زید سے پوچھا کہ تمہارے گھر گزشتہ رات کیا شوروغل ہورہاتھا اس نے کہ میں نے طلاق دی ہے۔ (یہ ہندہ کا نام اور اسکی طرف نسبت کئے بغیر اس کی غیر موجودگی میں کہا ہے)اور ہندہ نے طلاق کے متعلق کسی سے سن کر کہا کہ زید یعنی میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے جبکہ زید اس سے انکار کرتا ہے تو اس صورت میں ہندہ کو طلاق ہوئی یا نہ۔ (ت)
حضور والا راسخ المحققین ہیں گوکہ کبھی اس حقیر کو حضور وملازمت حاصل نہ ہوئی لیکن فیوضات نا متنا ہی سے مستفیض ہوتا ہے اکثر فتوے حضور کے اس شہرمیں آتے رہتے ہیں یہ واقعہ اس خاکساری کے بالمواجہ ہوا ہے زید نے بلاتسمیہ وخطاب واضافت بحالت عدم موجودگی ہندہ لفظ “ طلاق “ و “ طلاق دیتا ہوں “ کہا ہے
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب النفقۃ فصل فی سبب وجوب ہذہ النفقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۱۸
اور صبح کو بوقت دریافت عمرو زید نے کہا کہ میں نے جو کہا کہ میں نے طلاق دیا ہے بلاتسمیہ وبلا اضافت بطرف زوجہ اس کہنے سے زید کی مراد وہی لفظ طلاق ہے جو شب کوکہا تھا انشا نہیں خبردے رہا ہے طلاق شب کی۔ زیادہ حدادب!
الجواب :
حکم ہر دو گونہ است حکم دیانت وحکم قضاء دیانت آنکہ فیما بین العبدوربہ با شد ایں جا دیگراں را دخل نیست او داند وخدائے او۔ دریں سخن اضافت بسوئے زن نیست اگر دردل ہم قصد اضافت نہ کردہ باشد قطعاطلاق نیست وذلك لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلك الابالاضافۃ ولو فی النیۃ فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد ولازم آید طلبہ درکتاب الطلاق ازیں گونہ صدہا حکم دو۲ طرح ہوتا ہے ایك دیانۃ اور دوسرا قضاء۔ دیانۃ حکم کا معنی یہ ہے کہ بندے اور اﷲتعالی کے درمیان معاملہ ہے یہاں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہیں بندہ جانےاور اس کا خداجانے اور مسئولہ صورت میں بیوی کی طرف طلاق کی اضافت کا قصد نہ کیا ہو تو قطعا طلاق نہ ہوئی کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع)کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تك نہیں ہوسکتا جب تك طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا اس لئے ایقاع نہ ہوگا تو وقوع بھی نہ ہوگا اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبت لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے نیز دینی طلباء کتاب الطلاق
الجواب :
حکم ہر دو گونہ است حکم دیانت وحکم قضاء دیانت آنکہ فیما بین العبدوربہ با شد ایں جا دیگراں را دخل نیست او داند وخدائے او۔ دریں سخن اضافت بسوئے زن نیست اگر دردل ہم قصد اضافت نہ کردہ باشد قطعاطلاق نیست وذلك لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلك الابالاضافۃ ولو فی النیۃ فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد ولازم آید طلبہ درکتاب الطلاق ازیں گونہ صدہا حکم دو۲ طرح ہوتا ہے ایك دیانۃ اور دوسرا قضاء۔ دیانۃ حکم کا معنی یہ ہے کہ بندے اور اﷲتعالی کے درمیان معاملہ ہے یہاں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہیں بندہ جانےاور اس کا خداجانے اور مسئولہ صورت میں بیوی کی طرف طلاق کی اضافت کا قصد نہ کیا ہو تو قطعا طلاق نہ ہوئی کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع)کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تك نہیں ہوسکتا جب تك طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا اس لئے ایقاع نہ ہوگا تو وقوع بھی نہ ہوگا اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبت لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے نیز دینی طلباء کتاب الطلاق
الفاط می خوانند ودربحث وتکرار باربار زبان رانند زنان ہمہ سہ۳ طلاقہ مانند ھل ھذا الابھت بحت۔ درمحیط وہندیہ وغیرہما است لایقع فی جنس الاضافۃ اذا لم ینولعدم الاضافۃ الیھا زیدبہ نیت خود عالم ہست وعالم الضمائر والسرائر جل جلالہ از وعالم تراست اگر ارادہ طلاق ہندہ نہ کردہ بود ہندہ ہمچناں زن اوست و فہم وقول دیگراں ہیچ زیاں نیارد آنچناں کہ محبان قصد طلاق فتوائے مفتی بعدم سود نہ دارد واﷲعلیم بذات الصدور والیہ سبحانہ ترجع الامور واماحکم قضاء کہ قاضی وزن بآں کاربند ند پس تحقیق آں ست کہ قضاء نیز حکم بوقوع طلاق را ازتحقق اضافت باگزیرست کما فی کتب المذھب لا یحصی عددھا ولا ینقطع مددھا ومن فقیر درتعلیقات خودم بر ردالمحتار بعد تحقیق آں کہ اضافت در لفظ ہر چند گونہ است تحقیق آں کہ اضافت درلفظ ہر چند گو نہ است تحقیق نمودہ ام کہ چوں لفظ از ہمہ وجوہ اضافت تہی باشد آنگاہ بنگرند اگر ایں جا قرینہ باشد کہ باو راجح تر ارادہ اضافت ست قضاء
میں اس قسم کے صدہا الفاظ پڑھنے تکرار اور بحث کرنے میں بار بار زبان پر لاتے ہیں تو لازم کہ آئیگا کہ ان سب کی بیویوں کو تین طلاق پڑجائیں ۔ جبکہ یہ خالص جھوٹ ہے۔
محیط اور ہندیہ وغیرہما میں ہے کہ اضافت نہ ہونے پر طلاق نہ ہوگی تو موجودہ صورت میں زید اپنی نیت کو اس سے زیادہ جاننے والا ہے اگر ہندہ بدستور اس کی بیوی ہے۔ دوسروں کا فہم یا ان کی بات اس معاملہ میں مضر نہیں ہے جو لوگ طلاق کے خواہاں ہیں ان کوکسی مفتی کا فتوی عدم طلاق کار آمد نہیں ہوگا اﷲتعالی دل کی باتوں کو جانتا اور امور کافیصلہ آخر اس کے پاس ہوگا۔ حکم قضاء میں قاضی اور عورت کا کردار ہوگا تو اس کی تحقیق یہ ہے کہ قضاء بھی طلاق کو واقع کرنے کے حکم کے لئے اضافت کا تحقق ضروری ہے جیسا کہ مذہب کی کتب میں بے شمار مرتبہ مذکور ہے اور اس فقیر نے ردالمحتار کی تعلیقات میں بحث کرتے ہوئے پہلے لفظی اضافت کی تحقیق پیش کی کہ وہ کن کن صورتوں میں ہوسکتی ہے پھر یہ تحقیق کی کہ اگرلفظ ہر طرح اضافت سے خالی ہوں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ
میں اس قسم کے صدہا الفاظ پڑھنے تکرار اور بحث کرنے میں بار بار زبان پر لاتے ہیں تو لازم کہ آئیگا کہ ان سب کی بیویوں کو تین طلاق پڑجائیں ۔ جبکہ یہ خالص جھوٹ ہے۔
محیط اور ہندیہ وغیرہما میں ہے کہ اضافت نہ ہونے پر طلاق نہ ہوگی تو موجودہ صورت میں زید اپنی نیت کو اس سے زیادہ جاننے والا ہے اگر ہندہ بدستور اس کی بیوی ہے۔ دوسروں کا فہم یا ان کی بات اس معاملہ میں مضر نہیں ہے جو لوگ طلاق کے خواہاں ہیں ان کوکسی مفتی کا فتوی عدم طلاق کار آمد نہیں ہوگا اﷲتعالی دل کی باتوں کو جانتا اور امور کافیصلہ آخر اس کے پاس ہوگا۔ حکم قضاء میں قاضی اور عورت کا کردار ہوگا تو اس کی تحقیق یہ ہے کہ قضاء بھی طلاق کو واقع کرنے کے حکم کے لئے اضافت کا تحقق ضروری ہے جیسا کہ مذہب کی کتب میں بے شمار مرتبہ مذکور ہے اور اس فقیر نے ردالمحتار کی تعلیقات میں بحث کرتے ہوئے پہلے لفظی اضافت کی تحقیق پیش کی کہ وہ کن کن صورتوں میں ہوسکتی ہے پھر یہ تحقیق کی کہ اگرلفظ ہر طرح اضافت سے خالی ہوں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
حکم بطلاق کنند نظر الی الظاہر واﷲ یتولی السرائر اگر شوہر بہ قسم انکار ارادہ آں را کند پس اورامصدق دارند وزن را مطلقہ نانگارند لکونہ امینا فی الاخبار عن نفسہ وقداتی بما یحتملہ کلامہ درہند یہ از فتاوی می آرد رجل قال لا مرأتہا گر توزن منی سہ ۳طلاق مع حدف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا ۔ ہندیہ از محیط می نگارد سئل شیخ الاسلام الفقیۃ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدین ان اطلقك قالت نعم فقال بالفارسیۃ اگرتو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یردبہ الطلاق فالقول قولہ ہمچناں درخانیہ فرمود وزادمعللا لانہ لم یضف الطلاق
موجود ہے جس سے اضافت کا ارادہ راجح طور پر معلوم ہوتا ہو تو قضاء ظاہر قرینہ کی بناء پر طلاق کا حکم کردیا جائے گا باطنی امور اﷲتعالی کے سپرد ہیں ارادے کا انکار کرتا ہو تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اس کی بیوی مطلقہ نہ ہوگی کیونکہ وہ اپنے بارے میں خبر دینے میں امین متصور ہوگا جبکہ وہ بات بھی ایسی ہی کہتا ہے جس کا کلام میں احتمال موجود ہے۔ ہندیہ میں متعدد فتوو ں میں کہا ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا اگر تو میری بیوی تین طلاق(یائے نسبت کو مخذوف کیا)تو طلاق نہ ہوگی جب یہ بتائے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی کیونکہ یائے اضافت کو حذف کردینے کی وجہ سے بیوی کی طرف اضافت کا ذکر نہ ہوا ہندی نے محیط سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے کسی نے پوچھا کہ ایك نشے والا اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں بیوی نے جواب میں ہاں کہا تو نشے والے نے فارسی میں کہا اگر تو میری بیوی ایك طلاق دو طلاق تین طلاق اٹھ جا نکل جا۔ اور خاوند کا گمان ہے کہ میں نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا تو اس کی بات ما ن لی جائیگی۔ یوں ہی خانیہ میں ہے لیکن اس پر انہوں نے علت
موجود ہے جس سے اضافت کا ارادہ راجح طور پر معلوم ہوتا ہو تو قضاء ظاہر قرینہ کی بناء پر طلاق کا حکم کردیا جائے گا باطنی امور اﷲتعالی کے سپرد ہیں ارادے کا انکار کرتا ہو تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اس کی بیوی مطلقہ نہ ہوگی کیونکہ وہ اپنے بارے میں خبر دینے میں امین متصور ہوگا جبکہ وہ بات بھی ایسی ہی کہتا ہے جس کا کلام میں احتمال موجود ہے۔ ہندیہ میں متعدد فتوو ں میں کہا ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا اگر تو میری بیوی تین طلاق(یائے نسبت کو مخذوف کیا)تو طلاق نہ ہوگی جب یہ بتائے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی کیونکہ یائے اضافت کو حذف کردینے کی وجہ سے بیوی کی طرف اضافت کا ذکر نہ ہوا ہندی نے محیط سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے کسی نے پوچھا کہ ایك نشے والا اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں بیوی نے جواب میں ہاں کہا تو نشے والے نے فارسی میں کہا اگر تو میری بیوی ایك طلاق دو طلاق تین طلاق اٹھ جا نکل جا۔ اور خاوند کا گمان ہے کہ میں نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا تو اس کی بات ما ن لی جائیگی۔ یوں ہی خانیہ میں ہے لیکن اس پر انہوں نے علت
حوالہ / References
الفتاوٰی الہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالا الفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
الفتاوٰی الہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالا الفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
الفتاوٰی الہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالا الفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
الیھا نیز در ہندیہ ازذخیرہ می سپارد سئل نجم الدین عمن قال لامرأتہ چوں تو روی طلاق دادہ شدوقال لم انو الطلاق ھل یصدق قال نعم ہم در خانیہ وبزازیہ است قال لھا لاتخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لا یقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ واگر ہمچو قرینہ نیست آنگاہ حکم طلاق اصلا نہ کنند مگر آنکہ شوہر اقرار ارادہ طلاق نماید۔ درخلاصہ وہندیہ وجیزوانقروی وغیرہا است سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع ولفظ مجموعہ چناں ست
بیان کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا کیونکہ اس نے طلاق کی اضافت بیوی کی طرف نہ کی نیز ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول لکھا کہ نجم الدین سے ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے بیوی کو کہا جب تو گئی تو طلا ق ہوجائے گی اور کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیت نہیں کی تو کیا اس شخص کی بات مان لی جائیگی۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں مان لی جائے گی خانیہ اور بزازیہ میں بھی ہے کسی نے بیوی کو کہاکہ میری اجازت کے بغیر نہ نکلنا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو اگر عورت نکل جائے طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کو ذکر نہ کیا تو اس میں غیر بیوی کی قسم کا احتمال ہے اس لئے اس کی بات تسلیم کرلی جائے گی اگر وہاں قرینہ بالکل نہ ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی اور قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا مگر یہ کہ خاوند طلاق کے ارادے کا اقرارکرے۔ خلاصہ ہندیہ وجیزاور نقروی وغیرہا میں ہے کہ ایك نشہ والے سے اس کی بیوی فرار ہوگئی وہ پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہونے پر اس نے کہا : تین طلاق کے ساتھ پس اگر وہ خاوند کہے کہ میں نے اپنی بیوی کی نیت سے کہا تو طلاق واقع ہوگی اور اگر اس نے
بیان کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا کیونکہ اس نے طلاق کی اضافت بیوی کی طرف نہ کی نیز ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول لکھا کہ نجم الدین سے ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے بیوی کو کہا جب تو گئی تو طلا ق ہوجائے گی اور کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیت نہیں کی تو کیا اس شخص کی بات مان لی جائیگی۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں مان لی جائے گی خانیہ اور بزازیہ میں بھی ہے کسی نے بیوی کو کہاکہ میری اجازت کے بغیر نہ نکلنا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو اگر عورت نکل جائے طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کو ذکر نہ کیا تو اس میں غیر بیوی کی قسم کا احتمال ہے اس لئے اس کی بات تسلیم کرلی جائے گی اگر وہاں قرینہ بالکل نہ ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی اور قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا مگر یہ کہ خاوند طلاق کے ارادے کا اقرارکرے۔ خلاصہ ہندیہ وجیزاور نقروی وغیرہا میں ہے کہ ایك نشہ والے سے اس کی بیوی فرار ہوگئی وہ پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہونے پر اس نے کہا : تین طلاق کے ساتھ پس اگر وہ خاوند کہے کہ میں نے اپنی بیوی کی نیت سے کہا تو طلاق واقع ہوگی اور اگر اس نے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق مطبوعہ نولکشور ۱ / ۲۱۹
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۵
فتاوٰی بزازیۃ علی حاشیۃ الفتاوی الہندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۷۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق الفصل الاول من جنس اخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ جزء ۳ / ۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۵
فتاوٰی بزازیۃ علی حاشیۃ الفتاوی الہندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۷۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق الفصل الاول من جنس اخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ جزء ۳ / ۷۶
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا ودر بحرالرائق لو قال طالق فقیل من عنیبت فقال امرأتی طلقت امرأتہ اھ فقد علق الوقوع علی اقرارہ انہ عناھا این ست تحقیق انیق وبہ یحصل بتوفیق اﷲتعالی التوفیق وتمام الکلام فی غیر المقام مع توضیع المسائل وتنقیح الدلائل مذکورفیما علقنا علی ردالمحتار فعلیك بہ فانك لا تجدہ فی غیرہ والحمدﷲ العزیز الغفار۔ چوں ایں معنی عالی منجلی شد حالا در مسئلہ دائر نظر باید پیدا ست کہ لفظ عاری از اضافت ست وسائل فاضل درنامہ خودش وانمودہ کہ صدور ایں کلام از زید ابتداء بود بے مکالمہ احدے دربارہ طلاق ہندہ حتی یتوھم وجود الاضافۃ فی سوال صدر ھذاجوبا لہ و السوال معاد فی الجواب بازآغاز اظہار سوال آنست کہ زید ہمیں یك طلاق دو طلاق سہ طلاق
کچھ نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی۔ اور مجموعہ الفتاوی کے الفاظ یہ ہیں : بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا تین طلاق اگر وہ کہے میں نے بیوی کے ارادے سے یہ الفاظ کہے ہیں تو بیوی کو طلاق ہوگی ورنہ نہیں بحرالرائق میں ہے : کسی نے کہا طالق تو پوچھا گیا کہ تو نے کس کے ارادے سے کہا اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کے ارادے سے کہا ہے تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اھ۔ بحرالرائق نے طلاق واقع ہو نےکو اس کے اقرار سے مشروط کیا ہے کہ اس نے بیوی مرادلی ہے یہ واضح تحقیق ہے اور اﷲتعالی کی توفیق سے عبارات میں موافقت ہوگئی ہے اس کی مکمل بحث دوسری جگہ مسائل کی وضاحت اور دلائل کی چھان بین کے ساتھ ردالمحتار کے ہمارے حاشیہ میں مذکور ہے اس کی طرف رجوع تجھ پر لازم ہے کیونکہ دوسری جگہ ایسی تحقیق نہ پائے گا سب تعریف اﷲتعالی غالب اور بخشنے والے کے لئے ہی ہے۔ جب یہ عالی شان بحث روشن ہوگئی تو اب زیر نظر مسلہ میں غور کرنا ضروری ہے کہ یہاں لفظ اضافت سے خالی ہیں اورسائل نے اپنے خط میں خود واضح کیا ہے کہ زید سے یہ کلام ابتداء صادر ہوا ہے جس سے قبل کوئی مذاکرہ طلاق ہندہ کسی نے نہیں کیا تاکہ یہ شبہہ ہوسکے کہ ہندہ کے بارے میں طلاق کے سوال میں اضافت مذکور ہے جس کے جواب میں یہ کلام ہے
کچھ نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی۔ اور مجموعہ الفتاوی کے الفاظ یہ ہیں : بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا تین طلاق اگر وہ کہے میں نے بیوی کے ارادے سے یہ الفاظ کہے ہیں تو بیوی کو طلاق ہوگی ورنہ نہیں بحرالرائق میں ہے : کسی نے کہا طالق تو پوچھا گیا کہ تو نے کس کے ارادے سے کہا اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کے ارادے سے کہا ہے تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اھ۔ بحرالرائق نے طلاق واقع ہو نےکو اس کے اقرار سے مشروط کیا ہے کہ اس نے بیوی مرادلی ہے یہ واضح تحقیق ہے اور اﷲتعالی کی توفیق سے عبارات میں موافقت ہوگئی ہے اس کی مکمل بحث دوسری جگہ مسائل کی وضاحت اور دلائل کی چھان بین کے ساتھ ردالمحتار کے ہمارے حاشیہ میں مذکور ہے اس کی طرف رجوع تجھ پر لازم ہے کیونکہ دوسری جگہ ایسی تحقیق نہ پائے گا سب تعریف اﷲتعالی غالب اور بخشنے والے کے لئے ہی ہے۔ جب یہ عالی شان بحث روشن ہوگئی تو اب زیر نظر مسلہ میں غور کرنا ضروری ہے کہ یہاں لفظ اضافت سے خالی ہیں اورسائل نے اپنے خط میں خود واضح کیا ہے کہ زید سے یہ کلام ابتداء صادر ہوا ہے جس سے قبل کوئی مذاکرہ طلاق ہندہ کسی نے نہیں کیا تاکہ یہ شبہہ ہوسکے کہ ہندہ کے بارے میں طلاق کے سوال میں اضافت مذکور ہے جس کے جواب میں یہ کلام ہے
حوالہ / References
بحرالرائق باب الطلاق الصریح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
گفت ومی دہم وغیرہ بادہیچ نیا میخت پس ایں صورت از وجہ دوم اعنی عدم قرینہ مذکورہ باشد کما رأیت النص فی قولہ بعد طلبھا وعدم الظفر بھا سہ۳طلاق او بسہ۳ طلاق پس ایں جا قضاء نیز حکم طلاق راخود گنجائشے نیست لانہ ح یتوقف علی اقرارہ وزید ھھنا أب عنہ کماذکرہ فی السوال واگر رنگ ثبوت گیرد کہ زید طلاق می دہم گفتہ بود چناں کہ بکر بردرش دانمود آنگاہ غایت آنکہ ایں صورت از صور وجہ اول باشد فان قولہ میدہم فان نفی احتمالات اخرکانت لسری الی ماعری عنہ کان یقول سہ طلاق یرید دادنی است او دادن میخواہم اوسہ طلاق راسزا وار است الی غیرذلك ممالیس من الایقاع شیئ فلاینفی احتمال ارادۃ غیرھا ولیس باصرح من قولہ لامرأتہ لاتخرجی فانی حلف بالطلاق بل ولامن قولہ لھا اگرتو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق بل الحق ان ھذین اللفظین المنصوص علیھما اصرح وقولہ طلاق میدہم من دون
اور جواب میں سوال کا اعادہ ہونے کی وجہ سے جواب میں اضافت پائی گئی ہے پھر سائل نے سوال کی ابتداء میں ذکر کیا کہ زید نے ایك طلاق دو طلاق تین طلاق بغیر ذکر “ دیتا ہوں “ وغیرہ کہے ہیں تو اس سےقرینہ نہ ہونے کی دوسری وجہ پائی گئی جیسا کہ اسکی نص پہلے “ بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا “ آپ کو معلوم ہے تو خاوند نے “ تین طلاق “ یا “ تین طلاق کے ساتھ “ کہا تھا(اور قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی تھی)لہذا یہاں بحکم قضاء بھی طلاق کی گنجائش نہیں ہے کہ اب طلاق زید کی اقرار پر موقوف ہوئی جبکہ زید یہاں انکاری ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ زید نے “ میں دیتا ہوں “ کہاہے جیساکہ اس کا بھائی بکر کہہ رہا ہے تو ایسی صورت میں بھی یہ ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ اس کو پہلی صورتوں سے ایك صورت شمار کیا جائیگا کیونکہ زید کا کہنا “ میں دیتا ہوں “ اگر دوسرے احتمالات کی نفی بھی کردے تب بھی ان الفاظ کی طرح ہوگاجو “ میدہم یعنی میں دیتاہوں “ سے خالی ہیں جیسے تین طلاق کہنا کہ اس میں “ میں نے دی “ “ دینا چاہتا ہوں “ یا “ یہ تین طلاق کے لئے لائق “ وغیرہ احتمالات ہیں جو کہ طلاق کو واقع کرنیوالے نہیں ہیں لہذا اس سے دوسرے احتمالات کی نفی نہ ہوگی اور یہ لفظ بیوی کو کہنا “ مت نکل “ کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے بلکہ اس کو یہ کہنا “ تو اگر میری بیوی ہے ایك طلاق دوطلاق تین طلاق “ وغیرہ سے زیادہ صریح نہیں ہے بلکہ حق یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ “ طلاق می دہم “ سے زیادہ صریح ہیں اور زید کا اپنی
اور جواب میں سوال کا اعادہ ہونے کی وجہ سے جواب میں اضافت پائی گئی ہے پھر سائل نے سوال کی ابتداء میں ذکر کیا کہ زید نے ایك طلاق دو طلاق تین طلاق بغیر ذکر “ دیتا ہوں “ وغیرہ کہے ہیں تو اس سےقرینہ نہ ہونے کی دوسری وجہ پائی گئی جیسا کہ اسکی نص پہلے “ بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا “ آپ کو معلوم ہے تو خاوند نے “ تین طلاق “ یا “ تین طلاق کے ساتھ “ کہا تھا(اور قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی تھی)لہذا یہاں بحکم قضاء بھی طلاق کی گنجائش نہیں ہے کہ اب طلاق زید کی اقرار پر موقوف ہوئی جبکہ زید یہاں انکاری ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ زید نے “ میں دیتا ہوں “ کہاہے جیساکہ اس کا بھائی بکر کہہ رہا ہے تو ایسی صورت میں بھی یہ ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ اس کو پہلی صورتوں سے ایك صورت شمار کیا جائیگا کیونکہ زید کا کہنا “ میں دیتا ہوں “ اگر دوسرے احتمالات کی نفی بھی کردے تب بھی ان الفاظ کی طرح ہوگاجو “ میدہم یعنی میں دیتاہوں “ سے خالی ہیں جیسے تین طلاق کہنا کہ اس میں “ میں نے دی “ “ دینا چاہتا ہوں “ یا “ یہ تین طلاق کے لئے لائق “ وغیرہ احتمالات ہیں جو کہ طلاق کو واقع کرنیوالے نہیں ہیں لہذا اس سے دوسرے احتمالات کی نفی نہ ہوگی اور یہ لفظ بیوی کو کہنا “ مت نکل “ کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے بلکہ اس کو یہ کہنا “ تو اگر میری بیوی ہے ایك طلاق دوطلاق تین طلاق “ وغیرہ سے زیادہ صریح نہیں ہے بلکہ حق یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ “ طلاق می دہم “ سے زیادہ صریح ہیں اور زید کا اپنی
ذکر جریی لامرأتہ ہندہ ولامن غیرھا پس ایں جانیز حکم طلاق علی الاطلاق نتواں کرد بلکہ اگر زیدبقسم گوید کہ بایں سخن ارادہ طلاق زنش نہ کردہ بود مصدق دارند وزن را مطلقہ نشمارند کما قدمنا النصوص علیہ ہمچناں قول او بجواب عمرو کہ طلاق دادہ ام نیز از اضافت خالی است درسوال وجواب ہیچ جاذکر زن نیست پس قضاء حکمش ہماں حکم الفاظ سابقہ است ودیانۃ ازاں ہم آسان تراست کہ طلاق دادہ ہم صریح دراخبار است اگر ایں جا اضافت در نیت داشتہ از اضافت منویہ عاری بود لانہ ح لایکون الا اخبار کاذبا والاخبار الکاذب لایرد بہ طلاق دیانۃ کما نص علیہ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرہما من معتمدات الاسفار پس در صورت مستفسرہ حکم قضاء آن است کہ اگر ثابت ہماں بمجرد لفظ یك طلاق دوطلاق سہ طلاق بے ضم می دہم است کما مشروح فی اول السوال آنگاہ بازید ہیچ تعرض نہ کنند بعدم ثبوت الطلاق اصلا واگر بدوشاہد عدل ثبوت نہ پزیرد کہ سہ بار طلاق میدہم گفتہ بود پس زید را سوگند دہند اگر حلف کرد کہ بایں سخن طلاق زن
بیوی ہندہ یاغیر کے ذکر کے بغیر “ طلاق می دہم “ کہنے پر بھی علی الاطلاق قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا بلکہ اگر زید قسم کھا کر کہہ دے میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا تو قاضی کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی اور بیوی کو مطلقہ نہ قرار دے گا جیساکہ ہم سابقہ نصوص میں اسے بیان کرآئے ہیں اور یونہی زید کا عمرو کے جواب میں یہ کہنا “ طلاق دادہ ام “ (میں نے طلاق دی ہے)بھی اضافت سے خالی ہے لہذاقضاء اس کا حکم بھی سابقہ الفاظ کی طرح ہوگا اور دیانۃ یہ لفظ پہلے الفاظ سے آسان ہیں کیونکہ “ طلاق دادہ ام “ صریح خبر ہے اس میں یہاں اگر اضافت کی نیت ہو تب بھی طلاق نہ پڑے گی نیز مذکورہ الفاظ نیت میں اضافت سے خالی ہونے کی بناء پر جھوٹی خبریں قرار پائیں گے جبکہ جھوٹی خبر سے طلاق کا ارادہ دیانۃ درست نہیں ہے جیسا کہ اس پر خیریہ اور ردالمحتار وغیرہما معتبر کتب میں تصریح موجود ہے۔ لہذا مسئولہ صورت میں قضاء حکم یہ ہے کہ اگرصرف یہی الفاظ ہوں ایك طلاق دو طلاق تین طلاق ان کے ساتھ “ میدہم “ نہ ثابت ہو تو یہ زید سےکسی قسم کا تعرض جائز نہ ہوگا کیونکہ طلاق کا اصلا کوئی ثبوت نہیں اور اگر زید نے ان الفاظ کے ساتھ “ میدہم “ کہا ہوتو پھر اگر دو۲ گواہ عادل ثابت نہ کرسکیں کہ زید نے تین بار “ طلاق میدہم “ کہا ہے توزید سے قسم لی جائے اگر حلفا کہہ دے کہ میں نے ان الفاظ سے بیوی کی طلاق
بیوی ہندہ یاغیر کے ذکر کے بغیر “ طلاق می دہم “ کہنے پر بھی علی الاطلاق قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا بلکہ اگر زید قسم کھا کر کہہ دے میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا تو قاضی کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی اور بیوی کو مطلقہ نہ قرار دے گا جیساکہ ہم سابقہ نصوص میں اسے بیان کرآئے ہیں اور یونہی زید کا عمرو کے جواب میں یہ کہنا “ طلاق دادہ ام “ (میں نے طلاق دی ہے)بھی اضافت سے خالی ہے لہذاقضاء اس کا حکم بھی سابقہ الفاظ کی طرح ہوگا اور دیانۃ یہ لفظ پہلے الفاظ سے آسان ہیں کیونکہ “ طلاق دادہ ام “ صریح خبر ہے اس میں یہاں اگر اضافت کی نیت ہو تب بھی طلاق نہ پڑے گی نیز مذکورہ الفاظ نیت میں اضافت سے خالی ہونے کی بناء پر جھوٹی خبریں قرار پائیں گے جبکہ جھوٹی خبر سے طلاق کا ارادہ دیانۃ درست نہیں ہے جیسا کہ اس پر خیریہ اور ردالمحتار وغیرہما معتبر کتب میں تصریح موجود ہے۔ لہذا مسئولہ صورت میں قضاء حکم یہ ہے کہ اگرصرف یہی الفاظ ہوں ایك طلاق دو طلاق تین طلاق ان کے ساتھ “ میدہم “ نہ ثابت ہو تو یہ زید سےکسی قسم کا تعرض جائز نہ ہوگا کیونکہ طلاق کا اصلا کوئی ثبوت نہیں اور اگر زید نے ان الفاظ کے ساتھ “ میدہم “ کہا ہوتو پھر اگر دو۲ گواہ عادل ثابت نہ کرسکیں کہ زید نے تین بار “ طلاق میدہم “ کہا ہے توزید سے قسم لی جائے اگر حلفا کہہ دے کہ میں نے ان الفاظ سے بیوی کی طلاق
نخواستہ ام راہش گزارندوانش دارند واگر نکول کند بارادہ طلاق معترف شود سہ طلاق رنگ ثبوت یا بد۔ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
اقول : وباﷲ التوفیق بقی بعد اشیاء فانك ان تتبعت فروع ترك الاضافۃ وجدتھم ربما یقولون لایقع مالم یقل اردتھا فھذا یدل علی ان الوقوع مشروط بالقول وربما قالوایقع مالم یقل اردت غیرھا اولم اردطلاقھا فھذا یدل علی ان عدم الوقوع ھوالموقوف حتی لولم یقل ذلك وقع وان لم یقل اردت طلاقھا وربما تراھم یحکمون بالوقوع من دون حاجۃ الی النیۃ مع ترك الاضافۃ حیث وجدت فی کلام الخاطب کالمرأۃ وغیرھا وواخری تراھم ینوون مع وجودالاضافۃ فی کلام المخاطب وربما تسمعھم یحکمون بالوقوع مطلقا من دون نیۃ مع عدم الاضافۃ لافی قولہ ولافی قول غیرہ وربما ینوون فی
مرادنہیں لی تو زید بری ہے اور اس کوامن ہے اور اگر وہ قسم سے انکار کرے تو وہ طلاق کے ارادہ کا معترف قرار پائے گا اور اس کی بیوی کی تین طلاق ہوجائیں گی۔ واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم(ت)اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالی سے ہی حاصل ہے۔ ت)کچھ امور باقی ہیں کیونکہ جب آپ فقہاء کرام کی عبارات کو ترك اضافت کے مسائل میں غور سے تلاش کریں تو آپ ان کو کبھی یوں پائیں گے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق واقع نہ ہوگی جب تك خاوند بیوی مراد لینے کا قول نہ کرے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا وقوع خاوند کے اس قول سے مشروط ہ اور کبھی وہ کہتے ہیں کہ طلاق واقع ہوگی جب تك یہ نہ کہہ دے کہ کسی اورعورت کا ارادہ کیا ہے یا میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر اضافت طلاق کا عدم وقوع اس کی مذکور وضاحت پر موقوف ہے اگر وضاحت نہ کرے تو طالق ہوجائے گی اگرچہ بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ بھی ظاہر کرے۔ اور کبھی تم دیکھو گے کہ فقہاء کرام ایسی صورت میں طلاق کا حکم دیتے ہیں اور نیت کی حاجت محسوس نہیں کرتے اور اضافت بھی متروك ہوتی ہے جہاں پر کوئی بیوی یا کسی غیر سے خطاب کررہا ہو اور کبھی ان کو اضافت کے باوجود نیت کا متلاشی پاؤگے جبکہ مخاطب کے کلام میں اضافت پائی جائے اور کبھی آپ سنیں گے کہ وہ اضافت نہ ہونے کے باوجود نیت نہ ہونے پر وقوع طلاق کا
اقول : وباﷲ التوفیق بقی بعد اشیاء فانك ان تتبعت فروع ترك الاضافۃ وجدتھم ربما یقولون لایقع مالم یقل اردتھا فھذا یدل علی ان الوقوع مشروط بالقول وربما قالوایقع مالم یقل اردت غیرھا اولم اردطلاقھا فھذا یدل علی ان عدم الوقوع ھوالموقوف حتی لولم یقل ذلك وقع وان لم یقل اردت طلاقھا وربما تراھم یحکمون بالوقوع من دون حاجۃ الی النیۃ مع ترك الاضافۃ حیث وجدت فی کلام الخاطب کالمرأۃ وغیرھا وواخری تراھم ینوون مع وجودالاضافۃ فی کلام المخاطب وربما تسمعھم یحکمون بالوقوع مطلقا من دون نیۃ مع عدم الاضافۃ لافی قولہ ولافی قول غیرہ وربما ینوون فی
مرادنہیں لی تو زید بری ہے اور اس کوامن ہے اور اگر وہ قسم سے انکار کرے تو وہ طلاق کے ارادہ کا معترف قرار پائے گا اور اس کی بیوی کی تین طلاق ہوجائیں گی۔ واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم(ت)اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالی سے ہی حاصل ہے۔ ت)کچھ امور باقی ہیں کیونکہ جب آپ فقہاء کرام کی عبارات کو ترك اضافت کے مسائل میں غور سے تلاش کریں تو آپ ان کو کبھی یوں پائیں گے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق واقع نہ ہوگی جب تك خاوند بیوی مراد لینے کا قول نہ کرے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا وقوع خاوند کے اس قول سے مشروط ہ اور کبھی وہ کہتے ہیں کہ طلاق واقع ہوگی جب تك یہ نہ کہہ دے کہ کسی اورعورت کا ارادہ کیا ہے یا میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر اضافت طلاق کا عدم وقوع اس کی مذکور وضاحت پر موقوف ہے اگر وضاحت نہ کرے تو طالق ہوجائے گی اگرچہ بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ بھی ظاہر کرے۔ اور کبھی تم دیکھو گے کہ فقہاء کرام ایسی صورت میں طلاق کا حکم دیتے ہیں اور نیت کی حاجت محسوس نہیں کرتے اور اضافت بھی متروك ہوتی ہے جہاں پر کوئی بیوی یا کسی غیر سے خطاب کررہا ہو اور کبھی ان کو اضافت کے باوجود نیت کا متلاشی پاؤگے جبکہ مخاطب کے کلام میں اضافت پائی جائے اور کبھی آپ سنیں گے کہ وہ اضافت نہ ہونے کے باوجود نیت نہ ہونے پر وقوع طلاق کا
ھذہ الصورۃ فھذہ اختلافات یتحیرلدیھا من لم یتأمل ولم ینزل کل فرع علی ماینبغی ان ینزل۔
و الذی تحصل للعبد الضعیف بتوفیق المولی اللطیف جل وعلا ان الاضافۃ لابد منھا ام فی اللفظ واما فی النیۃ اذلاطلاق الابالایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولیس ذلك الابالاضافۃ وھذا ضروری لاشك فیہ اذ لولاہ لزم الطلاق عل کل من تلفظ بلفظ طلاق او طالق ونحوھما وان لم یردعلی ھذاشیئا اولم یرد طلاق امرأتہ وھو باطل قطعا فاشتراط الاضافۃ حق لامریۃ فیہ نعم قد توجد الاضافۃ فی اللفظ فلایحتاج فی الحکم الی النیۃ وقد لاتوجد فی اللفظ فیحتاج الی ظھورالنیۃ۔
اماوجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول : علی ثلثۃ انحاء الاول تحققھا صریحا فی کلام الزوج وھذا الذی ذکر الحلبی والطحاوی امثلتہ کقولہ انت طالق
حکم لگاتے ہیں حالانکہ خاوند یا غیر کے کلام میں اضافت کاکوئی ذکر نہیں ہوتا اور بعینہ اسی صورت میں کبھی وہ نیت کی بات کرتے ہیں تو فقہاء کرام کی عبارات میں یہ اختلافات ہیں جو غور کرنے والے اور ہر مسئلہ کو مناسب محمل پر محمول نہ کرنے والے کے لئے حیرت کا باعث بنتے ہیں ۔ (ت)اور عبد ضعیف کو اﷲتعالی لطف فرمانے والے جل وعلا کی توفیق سے جو حاصل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کو طلاق دینے دینے میں اضافت ضروری ہے لفظوں میں ہو خواہ وہ نیت میں ہو کیونکہ طلاق کا وقوع ایقاع پر موقوف ہے اور ایقاع کا وجود نہیں ہوتا تاوقتیکہ طلاق کو عورت سے متعلق نہ کای جائے اور یہ چیز ہے جس میں شك نہیں ہوسکتا کیونکہ اگرطلاق کو عورت کی طرف منسوب کرنا اور اس کی طرف اضافت کرنا ضروری نہ ہوتو پھر طلاق یا طالق کا تلفظ کرنے والے ہر شخص کی بیوی کو طلاق لازم ہوجائے اگرچہ وہ اس پر کسی چیز کا ارادہ نہ کرے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا لہذا طلاق کے وقوع کے لئے نسبت اور اضافت کے شرط ہونے میں کوئی شك نہیں ہاں اضافت کبھی لفظوں میں موجود ہوتی ہے تو اس وقت حکم کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اور کبھی لفظوں میں اضافت نہیں ہوتی اس وقت نیت کو ظاہر کی حاجت ہوتی ہے۔ (ت) (یا میں اضافت کاموجود ہونا فاقول : (تو میں کہتا ہوں )یہ تین طرح ہوتی ہے : اول یہ کہ خاوند کی کلام میں صراحۃ پائی جائے وہ یہ کہ جس کی مثال علامہ حلبی اور طحاوی نے یہ ذکر کی ہیں مثلا تو طلاق
و الذی تحصل للعبد الضعیف بتوفیق المولی اللطیف جل وعلا ان الاضافۃ لابد منھا ام فی اللفظ واما فی النیۃ اذلاطلاق الابالایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولیس ذلك الابالاضافۃ وھذا ضروری لاشك فیہ اذ لولاہ لزم الطلاق عل کل من تلفظ بلفظ طلاق او طالق ونحوھما وان لم یردعلی ھذاشیئا اولم یرد طلاق امرأتہ وھو باطل قطعا فاشتراط الاضافۃ حق لامریۃ فیہ نعم قد توجد الاضافۃ فی اللفظ فلایحتاج فی الحکم الی النیۃ وقد لاتوجد فی اللفظ فیحتاج الی ظھورالنیۃ۔
اماوجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول : علی ثلثۃ انحاء الاول تحققھا صریحا فی کلام الزوج وھذا الذی ذکر الحلبی والطحاوی امثلتہ کقولہ انت طالق
حکم لگاتے ہیں حالانکہ خاوند یا غیر کے کلام میں اضافت کاکوئی ذکر نہیں ہوتا اور بعینہ اسی صورت میں کبھی وہ نیت کی بات کرتے ہیں تو فقہاء کرام کی عبارات میں یہ اختلافات ہیں جو غور کرنے والے اور ہر مسئلہ کو مناسب محمل پر محمول نہ کرنے والے کے لئے حیرت کا باعث بنتے ہیں ۔ (ت)اور عبد ضعیف کو اﷲتعالی لطف فرمانے والے جل وعلا کی توفیق سے جو حاصل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کو طلاق دینے دینے میں اضافت ضروری ہے لفظوں میں ہو خواہ وہ نیت میں ہو کیونکہ طلاق کا وقوع ایقاع پر موقوف ہے اور ایقاع کا وجود نہیں ہوتا تاوقتیکہ طلاق کو عورت سے متعلق نہ کای جائے اور یہ چیز ہے جس میں شك نہیں ہوسکتا کیونکہ اگرطلاق کو عورت کی طرف منسوب کرنا اور اس کی طرف اضافت کرنا ضروری نہ ہوتو پھر طلاق یا طالق کا تلفظ کرنے والے ہر شخص کی بیوی کو طلاق لازم ہوجائے اگرچہ وہ اس پر کسی چیز کا ارادہ نہ کرے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا لہذا طلاق کے وقوع کے لئے نسبت اور اضافت کے شرط ہونے میں کوئی شك نہیں ہاں اضافت کبھی لفظوں میں موجود ہوتی ہے تو اس وقت حکم کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اور کبھی لفظوں میں اضافت نہیں ہوتی اس وقت نیت کو ظاہر کی حاجت ہوتی ہے۔ (ت) (یا میں اضافت کاموجود ہونا فاقول : (تو میں کہتا ہوں )یہ تین طرح ہوتی ہے : اول یہ کہ خاوند کی کلام میں صراحۃ پائی جائے وہ یہ کہ جس کی مثال علامہ حلبی اور طحاوی نے یہ ذکر کی ہیں مثلا تو طلاق
او طلقتك او ھذہ او زینب اوبنت زید او ام عمرو اواخت بکر او امرأتی طالق الثانی۲ تحققھا فیہ لاجل کونہ جوابا کلام تحققت فیہ فتحقق فی الجواب ایضالان السوال معاد فی الجواب وھذامافی الہندیۃ عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست تو است مراطلاق کن فقال الزوج طلاق می کنم وکررثلثا طلقت ثلثا اھ۔ وفیھا عن الذخیرۃ سئل شمس الائمۃ الاوزجندی عن امرأۃ قالت لزوجھا لوکان الطلاق بیدی لطقت نفسی الف تطلیقۃ فقال الزوج من نیز ہزار دادم ولم یقل دادم تراقال یقع الطلاق اھ وفیھا عن العمادیۃ زن را گفت ترا طلاق دادم مردماں ملامت کردند گفت دیگر دادم نہ گفت ویراونہ گفت طلاق قال یقع اذاکان فی العدۃ اھ۔ وفیھا عن الخانیۃ دخلت علیہ ام امرأتہ فقالت طلقھا ولم تحفظ حق ابیھا وعاتبتہ فی ذلك فقال الزوج ھذہ ثانیۃ او ھذہ ثالثۃ
والی ہے میں تجھے طلادی (بیوی کواشارہ کرتے ہوئے)اس کو نام لےکر زینب کو زید بیٹی کو عمرو کی ماں بکر کی بہن کو میری بیوی کو طلاق دوسری دوسری صورت یہ کہ طلاق الفاظ کسی ایسی کلام کے جواب میں ذکر کئے جائیں جس میں اضافت مذکورتھی تو اس وجہ سے وہ اضافت جوابا طلاق کے الفاظ میں بھی متحقق ہوگی کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے اس کی مثالیں ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہیں مثلا بیوی کہے “ طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے۔ “ تو جواب میں خاوند کہے “ میں نے طلاق دی “ تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقین بیوی کو پڑیں گی اھ(ت)اور ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ شمس الائمہ اوزجدنی سے سوال ہوا کہ عورت کہے اگر طلاق میرے ہاتھ میں ہوتی تو اپنے ہزار طلاق دے دیتی اس کے جواب میں خاوند نے کہا میں بھی ہزار دے دیں یہ نہ کہا کہ تجھے دے دیں تو شمس الائمہ نے جواب دیا کہ طلاق ہوجائےگی اور ہندیہ میں عمادیہ سے منقول ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی اس پر لوگوں نے ملامت کی توخاوند نے کہا میں نے دوسری دی اس میں نہ تو بیوی کی طرف نسبت کی اور نہ ہی لفظ طلاق کہا تو شمس الائمہ نے فرمایا یہ دوسری بھی ہوگئی اگر بیوی عدت میں ہواھ ہندیہ میں خانیہ سے منقول کہ خاوند کے پاس بیوی کی ماں داخل ہوئی اور کہا کہہ تونے بیوی کو طلاق دے دی تو نے
والی ہے میں تجھے طلادی (بیوی کواشارہ کرتے ہوئے)اس کو نام لےکر زینب کو زید بیٹی کو عمرو کی ماں بکر کی بہن کو میری بیوی کو طلاق دوسری دوسری صورت یہ کہ طلاق الفاظ کسی ایسی کلام کے جواب میں ذکر کئے جائیں جس میں اضافت مذکورتھی تو اس وجہ سے وہ اضافت جوابا طلاق کے الفاظ میں بھی متحقق ہوگی کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے اس کی مثالیں ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہیں مثلا بیوی کہے “ طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے۔ “ تو جواب میں خاوند کہے “ میں نے طلاق دی “ تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقین بیوی کو پڑیں گی اھ(ت)اور ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ شمس الائمہ اوزجدنی سے سوال ہوا کہ عورت کہے اگر طلاق میرے ہاتھ میں ہوتی تو اپنے ہزار طلاق دے دیتی اس کے جواب میں خاوند نے کہا میں بھی ہزار دے دیں یہ نہ کہا کہ تجھے دے دیں تو شمس الائمہ نے جواب دیا کہ طلاق ہوجائےگی اور ہندیہ میں عمادیہ سے منقول ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی اس پر لوگوں نے ملامت کی توخاوند نے کہا میں نے دوسری دی اس میں نہ تو بیوی کی طرف نسبت کی اور نہ ہی لفظ طلاق کہا تو شمس الائمہ نے فرمایا یہ دوسری بھی ہوگئی اگر بیوی عدت میں ہواھ ہندیہ میں خانیہ سے منقول کہ خاوند کے پاس بیوی کی ماں داخل ہوئی اور کہا کہہ تونے بیوی کو طلاق دے دی تو نے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
تقی اخری ولوعاتبتہ ولم تذکرالطلاق فقال ھذہ المقالۃ لاتقع الزیادۃ الابالنیۃ اھ وفی جامع الفصولین برمزفشین لفوائد شیخ الاسلام برھان الدین قال تربیك طلاق فلاموہگفت دیگر دادم یقع آخر لانہ جواب لذلك وبناء علیہ اھ قلت یعنی اذا ذکروا فی الملامۃ طلاق المرأۃ کی یکون معادافی الجواب والا لم یقع بدون نیۃ کما سمعت من الخانیۃ وانمالم یذکرہ فشین لان العادۃ ذکرمالیم علیہ فی الملامۃ کما لایخفی۔
فان قلت! لیس فی الھندیہ عن الذخیرۃ سئل نجم الدین عمن قالت لہ امرأتہ مرا برگ باتو باشیدن نیست مراطلاق دہ فقال الزوج چوں تو روئے طلاق دادہ شد وقال لم انوالطلاق ھل یصدق قال نعم ووافقہ فی ھذالجواب بعض الائمۃ اھوفیھا عن المحیط سئل اس کے باپ کے حق کا بھی پاس نہ کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خاوند کو ملامت کررہی تھی تو خاوند نے کہا یہ دوسری یا یہ تیسری ہے تویہ بھی واقع ہوجائیگی اور ملامت کرتے ہوئے اگر لفظ طلاق کو ذکر نہ کیا ہو اور خاوند واقع نہ ہوگی اھ۔ اور جامع الفصولین میں فشین کی رمز سے بیان کیا فشین کا اشارہ فوائد شیخ الاسلام برہان الدین کی طرف ہے خاوند نے بیوی کو کہا تجھے ایك طلاق لوگوں نے اس کو ملامت کی اس نے کہا اور میں نے دوسری دی دوسری واقع ہوجائےگی کیونکہ یہ جواب کے طور اور پہلی طلاق پر مبنی ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں )یعنی یہ تب ہے جب لوگوں نے ملامت میں عورت کی طلاق ذکر کی ہوتا کہ جواب میں اس کا اعادہ ہو ورنہ نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی جیسا کہ آپ نے خانیہ سے سنا ہے اس بات کو فشین نے اس لئے ذکر نہ کیا کہ عادۃ جس چیز ملامت کی جاتی وہ ملامت میں مذکور ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میں ذخیرہ سے یہ نہیں ہے کہ نجم الدین سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس کو اس کی بیوی نے کہا کہ میرا تیرے ساتھ گزارہ نہیں ہے مجھے طلاق دے تو اس کے خاوند نے کہا تیرے منہ جیسی کو طلاق دی ہوئی ہے۔ اور پھرکہتا ہے میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو کیا اس شخص کی تصدیق کی جائے گی تونجم الدین نے فرمایا ہاں ۔ اور بعض ائمہ نے اس بات میں نجم الدین کی موافقت
فان قلت! لیس فی الھندیہ عن الذخیرۃ سئل نجم الدین عمن قالت لہ امرأتہ مرا برگ باتو باشیدن نیست مراطلاق دہ فقال الزوج چوں تو روئے طلاق دادہ شد وقال لم انوالطلاق ھل یصدق قال نعم ووافقہ فی ھذالجواب بعض الائمۃ اھوفیھا عن المحیط سئل اس کے باپ کے حق کا بھی پاس نہ کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خاوند کو ملامت کررہی تھی تو خاوند نے کہا یہ دوسری یا یہ تیسری ہے تویہ بھی واقع ہوجائیگی اور ملامت کرتے ہوئے اگر لفظ طلاق کو ذکر نہ کیا ہو اور خاوند واقع نہ ہوگی اھ۔ اور جامع الفصولین میں فشین کی رمز سے بیان کیا فشین کا اشارہ فوائد شیخ الاسلام برہان الدین کی طرف ہے خاوند نے بیوی کو کہا تجھے ایك طلاق لوگوں نے اس کو ملامت کی اس نے کہا اور میں نے دوسری دی دوسری واقع ہوجائےگی کیونکہ یہ جواب کے طور اور پہلی طلاق پر مبنی ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں )یعنی یہ تب ہے جب لوگوں نے ملامت میں عورت کی طلاق ذکر کی ہوتا کہ جواب میں اس کا اعادہ ہو ورنہ نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی جیسا کہ آپ نے خانیہ سے سنا ہے اس بات کو فشین نے اس لئے ذکر نہ کیا کہ عادۃ جس چیز ملامت کی جاتی وہ ملامت میں مذکور ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میں ذخیرہ سے یہ نہیں ہے کہ نجم الدین سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس کو اس کی بیوی نے کہا کہ میرا تیرے ساتھ گزارہ نہیں ہے مجھے طلاق دے تو اس کے خاوند نے کہا تیرے منہ جیسی کو طلاق دی ہوئی ہے۔ اور پھرکہتا ہے میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو کیا اس شخص کی تصدیق کی جائے گی تونجم الدین نے فرمایا ہاں ۔ اور بعض ائمہ نے اس بات میں نجم الدین کی موافقت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الطلاق الصریح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵۲
جامع الفصولین الفصل الثانی والعشرون فی مسائل الخلع الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
فتاوی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۷
جامع الفصولین الفصل الثانی والعشرون فی مسائل الخلع الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
فتاوی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۷
نجم الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ أتریدین ان اطلقك قالت نعم فقال بالفارسیۃ اگرتو زن منی یك طلاق دوطلاق سہ طلاق قومی اخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ اھ ومثلہ فی الخانیۃ معللا بانہ لم یضف الطلاق الیھا اھ فلم یحکموا بالوقوع مع وجود الاضافۃ فی کلامھا امافی فرع الامام نجم الدین فظاہر۔ واما فی فرع الفقیہ ابی نصروالخانیۃ فلان قولھا نعم کان جوابا لقولہ اتریدین ان اطلقك فکانھا قالت اریدان تطلقنی قلت وباﷲ التوفیق المخاطب اذا اتی فی کلامہ بکلام اجنبی عن الجواب یخرج عن کونہ جوابا ویصیر کلاما مبتداء ففی المسئلتین انما کان جواب قولھا ان یقول طلاق دادہ شد اویك طلاق ودو طلاق وسہ طلاق ولواقتصر علی ھذا
کی ہے اھ اوراسی میں محیط سے مروی ہے کہ شیخ الاسلام فیقہ ابونصر سے ایك نشے والے کے بارے میں سوال ہوا جس نے بیوی کو کہا کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں بیوی نے کہا ہاں چاہتی ہوں ۔ تو اس خاوند نے بالفاظ فارسی یوں کہا اگر تو میری بیوی ہے ایك طلاق دو۲طلاق تین طلاق میرے پاس سے اٹھ اور نکل جا۔ اب خاوند کا خیال ہے کہ میں نے اس بات سے طلاق مراد نہیں لی تو خاوند کی بات مقبول ہوگی اھ کہا اس لئے کہ خاوند نے طلاق کو بیوی کی طرف منسوب نہیں کیااھ تو ان مذکورہ واقعات میں ان حضرات نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں کیاحالانکہ تمام میں بیوی کے کلام میں اضافت موجود ہے۔ نجم الدین کے مسئلہ میں توظاہر ہے لیکن فقیہ ابونصر اور خانیہ کے مسئلہ میں تو ظاہر ہے لیکن فقیہ ابو نصر اور خانیہ کے مسئلوں میں اس لئے کہ بیوی نے جب ہاں کہا تو یہ خاوندکی بات “ کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں “ کا جواب ہے تو گویا بیوی نے کہا میں چاہتی ہوں کہ تو مجھے طلاق دے (لہذا ان مسائل میں بیوی کے کلام میں اضافت مذکور ہوئی اس کے باوجود کہ خاوند کے جواب میں اضافت معتبر ہے ان حضرات نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہ دیا)قلت وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اﷲتعالی کی توفیق سے)کہ مخاطب شخص اپنے کلام میں جواب سے
کی ہے اھ اوراسی میں محیط سے مروی ہے کہ شیخ الاسلام فیقہ ابونصر سے ایك نشے والے کے بارے میں سوال ہوا جس نے بیوی کو کہا کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں بیوی نے کہا ہاں چاہتی ہوں ۔ تو اس خاوند نے بالفاظ فارسی یوں کہا اگر تو میری بیوی ہے ایك طلاق دو۲طلاق تین طلاق میرے پاس سے اٹھ اور نکل جا۔ اب خاوند کا خیال ہے کہ میں نے اس بات سے طلاق مراد نہیں لی تو خاوند کی بات مقبول ہوگی اھ کہا اس لئے کہ خاوند نے طلاق کو بیوی کی طرف منسوب نہیں کیااھ تو ان مذکورہ واقعات میں ان حضرات نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں کیاحالانکہ تمام میں بیوی کے کلام میں اضافت موجود ہے۔ نجم الدین کے مسئلہ میں توظاہر ہے لیکن فقیہ ابونصر اور خانیہ کے مسئلہ میں تو ظاہر ہے لیکن فقیہ ابو نصر اور خانیہ کے مسئلوں میں اس لئے کہ بیوی نے جب ہاں کہا تو یہ خاوندکی بات “ کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں “ کا جواب ہے تو گویا بیوی نے کہا میں چاہتی ہوں کہ تو مجھے طلاق دے (لہذا ان مسائل میں بیوی کے کلام میں اضافت مذکور ہوئی اس کے باوجود کہ خاوند کے جواب میں اضافت معتبر ہے ان حضرات نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہ دیا)قلت وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اﷲتعالی کی توفیق سے)کہ مخاطب شخص اپنے کلام میں جواب سے
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
الفتاوی القاضیخان باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۹
الفتاوی القاضیخان باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۹
الحکم بالوقوع من دون الحاجۃ الی نیۃ کماکان فی الفروع المتقدمۃ التی تلونا لکنہ لما زاد قولہ چوں تو روئے اوقولہ اگرتو زن منی لم یبق جوابا وصار کلاما مبتدأفلم تسراضافۃ السوال الیہ وقد نص علی ھذاالاصل العلماء کما لایخفی علی من خدم کلماتھم من ذلك عن الذخیرۃ قال لہ تغد معی قال واﷲ لااتغدی فذھب الی بیتہ وتغدی مع اھلہ لایحنث لان قولہ خرج جوابالسوال المخاطب وامکن جعلہ جوابالانہ لم یزد علی حرف الجواب بخلاف مالوقال واﷲلااتغدی معك لانہ زاد علی حرف الجواب ومع الزیادۃ علیہ لایمکن ان یجعل جوابا اھ ملخصا۔
فان قلت ماالجواب عن فرع الھندیۃ عن الخلاصۃ لوقالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینك طلاق لایقع ولو قال اینك طلاق یقع اھ فقد کانت
اجنبی کوئی بات کرے تو وہ جواب نہیں رہتا بلکہ نیا کلام متصور ہوتا ہے تو مذکورہ دونوں مسئلوں میں جواب صرف اتنا تھا طلاق دی گئی یا ایك طلاق دو طلاق تین طلاق اگر خاوند جواب میں اتنی بات ہی کہتا تو طلاق کے واقع ہونے کا حکم ہوتا اور نیت کی ضرورت نہ ہوتی جیسا کہ پہلے گزرے مسائل میں اس کو ہم نے بیان کیا ہے۔ لیکن جب ان دونوں مسئلوں میں خاوند نے پہلے میں “ جب توجائے “ اور دوسرے میں “ اگر تومیری عورت ہو “ جواب سے زائد کردئے تو یہ بیوی کو جواب نہ ہوا بلکہ نیا کلام بن گیا جس سے سوال والی اضافت ختم ہوگئی۔ اس قاعدہ کی علماء نے تصریح کی ہے۔ یہ بات اس شخص پر مخفی نہیں جو علماء کے کلام کا خادم ہے۔ اسی قاعدہ پر ذخیرہ سے منقول ہے ایك شخص نے دوسرے کو کہا آؤ میرے ساتھ ناشتہ کرو تو دوسرے نے جواب میں کہا خدا کی قسم میں ناشتہ نہیں کروں گا یہ کہہ کر وہ اسی شخص کے گھر جا کر اس کے گھر والوں کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے تو قسم سوال کو جواب بنانا بھی ممکن ہے کیونکہ اس نے جواب پر کوئی حرف زیادہ نہیں کیا اس کے برخلاف اگر ہو مستقل زائد کلام کرتے ہوئے یہ کہتا خدا کی قسم میں تجھ سے ناشتہ نہ کروں گا تو پھرصرف جواب ہونا ممکن نہیں (لیکن یہاں صرف ناشتہ نہ کروں گا کہا جو کہ صرف جواب کے طور پہر درست ہوسکتا ہے)اھ ملخصا(ت)
اس پر اگر تیرا اعتراض ہو کہ ہندیہ میں خلاصہ سے منقول مسئلہ کے بارے میں کیاجواب ہوگا جس میں عورت نے کہامجھے طلاق دے تو خاوند نے اس کو مارا اور کہا یہ طلاق ہے تو طلاق نہ ہوگی اور اگر
فان قلت ماالجواب عن فرع الھندیۃ عن الخلاصۃ لوقالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینك طلاق لایقع ولو قال اینك طلاق یقع اھ فقد کانت
اجنبی کوئی بات کرے تو وہ جواب نہیں رہتا بلکہ نیا کلام متصور ہوتا ہے تو مذکورہ دونوں مسئلوں میں جواب صرف اتنا تھا طلاق دی گئی یا ایك طلاق دو طلاق تین طلاق اگر خاوند جواب میں اتنی بات ہی کہتا تو طلاق کے واقع ہونے کا حکم ہوتا اور نیت کی ضرورت نہ ہوتی جیسا کہ پہلے گزرے مسائل میں اس کو ہم نے بیان کیا ہے۔ لیکن جب ان دونوں مسئلوں میں خاوند نے پہلے میں “ جب توجائے “ اور دوسرے میں “ اگر تومیری عورت ہو “ جواب سے زائد کردئے تو یہ بیوی کو جواب نہ ہوا بلکہ نیا کلام بن گیا جس سے سوال والی اضافت ختم ہوگئی۔ اس قاعدہ کی علماء نے تصریح کی ہے۔ یہ بات اس شخص پر مخفی نہیں جو علماء کے کلام کا خادم ہے۔ اسی قاعدہ پر ذخیرہ سے منقول ہے ایك شخص نے دوسرے کو کہا آؤ میرے ساتھ ناشتہ کرو تو دوسرے نے جواب میں کہا خدا کی قسم میں ناشتہ نہیں کروں گا یہ کہہ کر وہ اسی شخص کے گھر جا کر اس کے گھر والوں کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے تو قسم سوال کو جواب بنانا بھی ممکن ہے کیونکہ اس نے جواب پر کوئی حرف زیادہ نہیں کیا اس کے برخلاف اگر ہو مستقل زائد کلام کرتے ہوئے یہ کہتا خدا کی قسم میں تجھ سے ناشتہ نہ کروں گا تو پھرصرف جواب ہونا ممکن نہیں (لیکن یہاں صرف ناشتہ نہ کروں گا کہا جو کہ صرف جواب کے طور پہر درست ہوسکتا ہے)اھ ملخصا(ت)
اس پر اگر تیرا اعتراض ہو کہ ہندیہ میں خلاصہ سے منقول مسئلہ کے بارے میں کیاجواب ہوگا جس میں عورت نے کہامجھے طلاق دے تو خاوند نے اس کو مارا اور کہا یہ طلاق ہے تو طلاق نہ ہوگی اور اگر
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ ذخرہ کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۸۵
الفتاوی الہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
الفتاوی الہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
الاضافۃ موجودۃ فی السوال وھو لم یزد فی الجواب شیئا حتی یجعل کلاما مبتدأ۔
قلت لما اخذیضربھا بعد قولھاطلقنی اورث ذلك احمتالا فی کونہ جوابا وقال اینك طلاق می خواہی بل الظاہر من الضرب ھو الرد دون الجواب فان الجواب الجواب بمعنی قولھم یحتمل المسؤل وقبول المامول وھذا معنی قولھم یحتمل جوابا وسبا او جوابا وردا او جوابا محضا۔ فاذا وقع الاحتمال لم یتیقن بکونہ جوابا حتی یحکم بسرایۃ اضافۃ السوال الیہ فمعنی قولہ لایقع ای مالم ینووقولہ یقع ای وان لم ینولوجود الاضافۃ ح فی نفس الکلام۔
الثالث ان لایشتمل کلامہ علی الاضافۃ ولایکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصہ العرف بتطلیق امرأۃ فحیث یطلق یفھم منہ ایقاع الطلاق علی المرأۃ کقولھم الطلاق یلزمنی و
یوں کہا یہ تجھے طلاق ہے طلاق ہوجائے گی اھ تو اس مسئلہ میں عورت کے سوال میں اضافت موجود ہے اور خاوند نے جواب میں کوئی زائد حرف ذکر نہیں کی جس کو نیا مستقل کلام تصور کیا جائے۔ (ت)
قلت(میں کہتا ہوں )جب خاوند نے طلاق کے مطالبہ پر بیوی کو مارنا شروع کیا تو اس وجہ سے یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ یہ جواب ہے یا جواب میں رد کی کاروائی ہے۔ تو بیوی کے سوال پر مارناناراضگی کے طور پر مارکر کہا تو یہ طلاق چاہتی ہے بلکہ ظاہر یہی ہے کہ مارنا رد ہے جواب نہیں ہے کیونکہ جواب کامعنی مسئول کا جواب دینا اور سائل کی امید کو پورا کرنا دونوں میں استعمال ہوتا ہے فقہاء کے قول کہ “ یہاں جواب اور گالی یا جواب اور رد یا محض جواب کا احتمال ہے “ کا یہی مطلب ہے(یعنی جواب کے طور پر گالی یارد یا محض جواب(سائل کی امید کو پور ا کرنا ہے)تو جب خاوند کی طرف سے کارروائی میں احتمال پیدا ہوگیا تو اب محض جواب ہونے کا یقین نہ رہا تاکہ سوال میں مذکور اضافت جواب میں پائی جائے تو مسئلہ میں “ اینك طلاق “ کے ساتھ خلاصہ میں “ لایقع “ (طلاق واقع نہ ہوگی)کا معنی یہ ہے یعنی جب تك نیت طلاق نہیں ہے اور “ اینك طلاق “ کے ساتھ “ یقع “ (طلاق ہوجائےگی)کا معنی یہ یعنی اگر چہ نیت نہ بھی ہو کیونکہ لفظوں میں اب اضافت موجود ہے۔ (ت)
لفظی اضافت کی تیسری صورت یہ ہے کہ خاوند کے کلام میں اضافت کی تیسری مذکور نہ ہو اور نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر ہو لیکن عرف میں اس لفظ کو بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا گیا ہو کہ جب دینا ہی سمجھا جائے۔ مثلا کوئی کہے “ طلاق مجھ پرلازم ہوگی “
قلت لما اخذیضربھا بعد قولھاطلقنی اورث ذلك احمتالا فی کونہ جوابا وقال اینك طلاق می خواہی بل الظاہر من الضرب ھو الرد دون الجواب فان الجواب الجواب بمعنی قولھم یحتمل المسؤل وقبول المامول وھذا معنی قولھم یحتمل جوابا وسبا او جوابا وردا او جوابا محضا۔ فاذا وقع الاحتمال لم یتیقن بکونہ جوابا حتی یحکم بسرایۃ اضافۃ السوال الیہ فمعنی قولہ لایقع ای مالم ینووقولہ یقع ای وان لم ینولوجود الاضافۃ ح فی نفس الکلام۔
الثالث ان لایشتمل کلامہ علی الاضافۃ ولایکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصہ العرف بتطلیق امرأۃ فحیث یطلق یفھم منہ ایقاع الطلاق علی المرأۃ کقولھم الطلاق یلزمنی و
یوں کہا یہ تجھے طلاق ہے طلاق ہوجائے گی اھ تو اس مسئلہ میں عورت کے سوال میں اضافت موجود ہے اور خاوند نے جواب میں کوئی زائد حرف ذکر نہیں کی جس کو نیا مستقل کلام تصور کیا جائے۔ (ت)
قلت(میں کہتا ہوں )جب خاوند نے طلاق کے مطالبہ پر بیوی کو مارنا شروع کیا تو اس وجہ سے یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ یہ جواب ہے یا جواب میں رد کی کاروائی ہے۔ تو بیوی کے سوال پر مارناناراضگی کے طور پر مارکر کہا تو یہ طلاق چاہتی ہے بلکہ ظاہر یہی ہے کہ مارنا رد ہے جواب نہیں ہے کیونکہ جواب کامعنی مسئول کا جواب دینا اور سائل کی امید کو پورا کرنا دونوں میں استعمال ہوتا ہے فقہاء کے قول کہ “ یہاں جواب اور گالی یا جواب اور رد یا محض جواب کا احتمال ہے “ کا یہی مطلب ہے(یعنی جواب کے طور پر گالی یارد یا محض جواب(سائل کی امید کو پور ا کرنا ہے)تو جب خاوند کی طرف سے کارروائی میں احتمال پیدا ہوگیا تو اب محض جواب ہونے کا یقین نہ رہا تاکہ سوال میں مذکور اضافت جواب میں پائی جائے تو مسئلہ میں “ اینك طلاق “ کے ساتھ خلاصہ میں “ لایقع “ (طلاق واقع نہ ہوگی)کا معنی یہ ہے یعنی جب تك نیت طلاق نہیں ہے اور “ اینك طلاق “ کے ساتھ “ یقع “ (طلاق ہوجائےگی)کا معنی یہ یعنی اگر چہ نیت نہ بھی ہو کیونکہ لفظوں میں اب اضافت موجود ہے۔ (ت)
لفظی اضافت کی تیسری صورت یہ ہے کہ خاوند کے کلام میں اضافت کی تیسری مذکور نہ ہو اور نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر ہو لیکن عرف میں اس لفظ کو بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا گیا ہو کہ جب دینا ہی سمجھا جائے۔ مثلا کوئی کہے “ طلاق مجھ پرلازم ہوگی “
الحرام یلزمنی وعلی الطلاق وعلی الحرام فانہ کما قال فی ردالمحتار صارفاشیا فی العرف فی استعمالہ فی الطلاق لایعرفون من صیغ الطلاق غیرہ ولایحلف بہ الا الرجل فھھناوان لم تذکر الاضافۃ لفظا لکنھا ثابتۃ عرفا ولامعھود عرفا کالموجود لفظا فمن ھھنا وجدت الاضافۃ فی اللفظ وحکم بالوقوع من دون نیۃ فھذہ صورتحقق الاضافۃ فی اللفظ اما اذ خلاعنھا بوجوھھا الثلثۃ فح لابد من وجودھا فی النیۃ فان نوی وقع والالا و ھذا ماقال فی الھندیۃ عن المحیط لایقع فی جنس الاضافۃ اذا لم ینولعدم الاضافۃ الیھا اھ ھذافیما بینہ وبین ربہ تعالی۔
اما قضاء فتنقسم ھذا الصورۃ الی قسمین الاول ان توجد ھھنا قرینۃ یستأنس بھا علی تحقق النیۃ ویکون ھوالاظھرفی المقام فح یحکم بالوقوع مالم یقل انی لم اردھا فان قالہ فلا یصدق
یا “ حرام مجھ پر لازم ہوگا “ یا “ مجھ پر طلاق ہے “ یا “ مجھ پر حرام ہے “ جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہے کہ یہ الفاظ عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال میں مشہور ہوچکے ہیں حتی کہ عرف والے طلاق کے لئے دوسرے الفاظ سے واقف نہیں اور ان الفاظ کو صرف مرد ہی طلاق کی قسم کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں پر اگر اگرچہ لفظوں میں اضافت مذکور نہیں لیکن عرفا اضافت ثابت ہے اور عرفا جو چیز معلوم ہو وہ ایسے ہی معتبر ہے جیسے لفظوں میں مذکور چیز ہوتی ہے تو یہاں اضافت پائی گئی تو وقوع طلاق کا حکم نیت کے بغیر کردیا جائےگا یہ لفظوں میں اضافت پائے جانے کی صورتیں ہیں لیکن جب کوئی کلام ان تین صورتوں کی اضافت سے خالی ہوتو پھر اضافت کا نیت میں پایاجانا ضروری ہے۔ اگر نیت کرے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں ۔ ہندیہ نے محیط سے نقل میں جو یہ کہا کہ اضافت نہ پائی جائے گی اھ کا مطلب یہی ہے۔ یہ نیت کا معاملہ خاوند اور اس کے رب تعالی کے درمیان ہے۔ یعنی دیانۃ یہ حکم ہے۔ (ت)
لیکن نیت میں اضافت کا قضاء حکم دو۲قسم پر ہے : اول یہ ہے کہ ایسی صورت کہ جہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے محسوس کیا جائے کہ خاوند نے اضافت کی نیت کی ہے اور یہ مقام کے لحاظ سے واضح ہوسکے تو ایسے مقام پر طلاق کے وقوع کاحکم کیا جائے گا جب تك خاوند یہ نہ کہہ دے کہ
اما قضاء فتنقسم ھذا الصورۃ الی قسمین الاول ان توجد ھھنا قرینۃ یستأنس بھا علی تحقق النیۃ ویکون ھوالاظھرفی المقام فح یحکم بالوقوع مالم یقل انی لم اردھا فان قالہ فلا یصدق
یا “ حرام مجھ پر لازم ہوگا “ یا “ مجھ پر طلاق ہے “ یا “ مجھ پر حرام ہے “ جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہے کہ یہ الفاظ عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال میں مشہور ہوچکے ہیں حتی کہ عرف والے طلاق کے لئے دوسرے الفاظ سے واقف نہیں اور ان الفاظ کو صرف مرد ہی طلاق کی قسم کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں پر اگر اگرچہ لفظوں میں اضافت مذکور نہیں لیکن عرفا اضافت ثابت ہے اور عرفا جو چیز معلوم ہو وہ ایسے ہی معتبر ہے جیسے لفظوں میں مذکور چیز ہوتی ہے تو یہاں اضافت پائی گئی تو وقوع طلاق کا حکم نیت کے بغیر کردیا جائےگا یہ لفظوں میں اضافت پائے جانے کی صورتیں ہیں لیکن جب کوئی کلام ان تین صورتوں کی اضافت سے خالی ہوتو پھر اضافت کا نیت میں پایاجانا ضروری ہے۔ اگر نیت کرے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں ۔ ہندیہ نے محیط سے نقل میں جو یہ کہا کہ اضافت نہ پائی جائے گی اھ کا مطلب یہی ہے۔ یہ نیت کا معاملہ خاوند اور اس کے رب تعالی کے درمیان ہے۔ یعنی دیانۃ یہ حکم ہے۔ (ت)
لیکن نیت میں اضافت کا قضاء حکم دو۲قسم پر ہے : اول یہ ہے کہ ایسی صورت کہ جہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے محسوس کیا جائے کہ خاوند نے اضافت کی نیت کی ہے اور یہ مقام کے لحاظ سے واضح ہوسکے تو ایسے مقام پر طلاق کے وقوع کاحکم کیا جائے گا جب تك خاوند یہ نہ کہہ دے کہ
حوالہ / References
فتاویہ ہندیہ فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
الابالیمین فان حلف صدق لکونہ امینا فی الاخبار عما فی نفسہ وقداتی بمایحتملہ کلامہ وھذاماقال فی الھندیۃ عن خلاصۃ الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر تو زن منی سہ طلاق مع حذف الیاءلایقع اذاقال لم انو الطلاق لانہ لما حذف لم یکن مضیفا الیھا اھ فان الاضافۃ وان عدمت بوجوھھا الثلثۃ لکن التعلیق علی قولہ “ اگر تو زن منی “ یفید تبادر ارادۃ طلاق المرأۃ فیتوقف انتفاء الوقوع علی نفیہ النیۃ ولایتوقف الوقوع علی اقرارہ بھا وعلم منھا الفرعان الماران عن الامام نجم الدین وعن شیخ الاسلام ابی نصرفانھا وان خرجا عن تحقق الاضافۃ لخروج الکلام عن الاجابۃ لکن الذی جری بینھما مع قولہ فی الشرط “ چوں تو روئے “ واگر تو زن منی یفید ماذکرنا فلذاتوقف عدم الوقوع علی ادعائہ عدم
میں نے بیوی کا ارادہ نہیں کیا اور اگر اس نے ایسا کہہ دیا تو اس سے قسم لی جائے گی اور قسم کے بغیر اس کی تصدیق نہ کی جائے گی اگر اس نے قسم دے دی تو پھر اس کی تصدیق کردی جائے گی اورطلاق نہ ہوگی کیونکہ اپنی نیت کے متعلق خبر دینے میں سے امین تصور کیا جائے گا جبکہ اس نے کلام بھی ایسی کی ہے جس میں گنجائش ہے یہی وہ صورت ہے جس کوہندیہ میں خلاصۃ الفتاوی سے نقل کیا ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی سے کہا اگر تومیری بیوی ہے تین طلاق نسبت کی یاء کو طلاق سے حذف کرکے کہا تو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب وہ یہ کہےکہ میں نےبیوی کی طلاق کی نیت نہیں کی ہے کیونکہ جب اضافت حذف ہے تو طلاق کی اضافت عورت کی طرف نہ ہوئی اھ کیونکہ اگر چہ اضافت تینوں لفظی طریقوں سے نہ پائی گئی لیکن خاوند نے “ اگر تومیری بیوی ہے “ سے تعلیق کی ہے جس سے فہم میں یہی آتا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلا ق کہی ہے اس لئے طلاق کا عدم وقوع خاوند کی وضاحت پر موقوف ہوگاکہ میں نے نیت نہیں کی لیکن اس مسئلہ میں طلاق کا وقوع خاوند کے اقرار نیت پر موقوف ہوجائے گی نہ ہوگا(بلکہ نفی نہ ہونے پر خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی)تو اس بحث سے امام نجم الدین اور شیخ الاسلام ابونصر کے مذکور ہ دونوں مسئلے واضح معلوم ہوگئے کیونکہ یہ دونوں مسئلے اگر چہ اضافت سے خالی ہیں اس لئے کہ
میں نے بیوی کا ارادہ نہیں کیا اور اگر اس نے ایسا کہہ دیا تو اس سے قسم لی جائے گی اور قسم کے بغیر اس کی تصدیق نہ کی جائے گی اگر اس نے قسم دے دی تو پھر اس کی تصدیق کردی جائے گی اورطلاق نہ ہوگی کیونکہ اپنی نیت کے متعلق خبر دینے میں سے امین تصور کیا جائے گا جبکہ اس نے کلام بھی ایسی کی ہے جس میں گنجائش ہے یہی وہ صورت ہے جس کوہندیہ میں خلاصۃ الفتاوی سے نقل کیا ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی سے کہا اگر تومیری بیوی ہے تین طلاق نسبت کی یاء کو طلاق سے حذف کرکے کہا تو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب وہ یہ کہےکہ میں نےبیوی کی طلاق کی نیت نہیں کی ہے کیونکہ جب اضافت حذف ہے تو طلاق کی اضافت عورت کی طرف نہ ہوئی اھ کیونکہ اگر چہ اضافت تینوں لفظی طریقوں سے نہ پائی گئی لیکن خاوند نے “ اگر تومیری بیوی ہے “ سے تعلیق کی ہے جس سے فہم میں یہی آتا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلا ق کہی ہے اس لئے طلاق کا عدم وقوع خاوند کی وضاحت پر موقوف ہوگاکہ میں نے نیت نہیں کی لیکن اس مسئلہ میں طلاق کا وقوع خاوند کے اقرار نیت پر موقوف ہوجائے گی نہ ہوگا(بلکہ نفی نہ ہونے پر خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی)تو اس بحث سے امام نجم الدین اور شیخ الاسلام ابونصر کے مذکور ہ دونوں مسئلے واضح معلوم ہوگئے کیونکہ یہ دونوں مسئلے اگر چہ اضافت سے خالی ہیں اس لئے کہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
النیۃ ومنہ فرع البزازیہ والخانیۃ قال لھا لاتخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ اھ وذلك کما افادالشامی ان العادۃ ان من لہ امرأۃ انما یحلف بطلاقھا لابطلاق غیرھا فقولہ انی حلفت بالطلاق ینصرف الیھا مالم یرد غیرھا لانہ یحتملہ کلامہ اھ ومنہ فرع القنیۃ عن الامام برھان الدین محمود صاحب المحیط رجل دعتہ جماعتہ الی شرب الخمر فقال انی حلفت بالطلاق انی لااشرب وکان کاذبا فیہ ثم شرب طلقت وقال صاحب التحفۃ لایطلق اھ فقول البزازیۃ لایقع دیانۃ ان لم ینوقضاء ایضا ان قال لم انو بدلیل قول قولہ فالقول لہ وقول البرھان طلقت ای قضاء مالم یقل انی لم اردھاکما قال الشامی انہ یمکن حملہ علی ما اذا لم یقل انی اردت الحلف بطلاق غیرھا فلایخاف فی البزازیۃ اھ وقول صاحب التحفۃ لایطلق
یہ دونوں جواب میں نہیں ہیں لیکن خاوند بیوی میں جو گفتگو ہے اس میں خاوند نے شرط کے الفاظ کہے “ تیری منہ جیسی کو “ اور دوسرے میں “ اگر تو میری بیوی ہے “ یہ گفتگو ہمارے بیان کے مطابق فائدہ دے رہی ہے اس لئے ان میں طلاق نہ ہونا خاوند کی طرف سے نیت نہ ہونے کے بیان پر موقوف ہوگا اور اسی قبیل سے بزازیہ اور خانیہ کے بیان کردہ دونوں مسئلے ہیں کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ “ میری اجازت کے بغیر مت جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے “ بیوی باہر نکل گئی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ خاوند نے قسم میں بیوی کی طلاق کوذکر نہ کیا جس کی وجہ سے کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال ہوسکتا ہے تو اس لئے خاوند کی بات قابل قبول ہوگی اھ اس کو علامہ شامی نے یوں بیان کیا ہے کہ عادت یہ ہے کہ جس کی بیوی ہو وہ ا پنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہے نہ کہ غیر کی طلاق کے لئے اس لئے خاوند کا کہنا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے بیوی کی طرف ہی منسوب ہوگی تاوقتیکہ غیر بیوی کو مراد لینا بیان نہ کرے کیونکہ بیوی کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے غیر کا بھی احتمال ہے اھ اسی ضابطہ کے تحت
یہ دونوں جواب میں نہیں ہیں لیکن خاوند بیوی میں جو گفتگو ہے اس میں خاوند نے شرط کے الفاظ کہے “ تیری منہ جیسی کو “ اور دوسرے میں “ اگر تو میری بیوی ہے “ یہ گفتگو ہمارے بیان کے مطابق فائدہ دے رہی ہے اس لئے ان میں طلاق نہ ہونا خاوند کی طرف سے نیت نہ ہونے کے بیان پر موقوف ہوگا اور اسی قبیل سے بزازیہ اور خانیہ کے بیان کردہ دونوں مسئلے ہیں کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ “ میری اجازت کے بغیر مت جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے “ بیوی باہر نکل گئی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ خاوند نے قسم میں بیوی کی طلاق کوذکر نہ کیا جس کی وجہ سے کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال ہوسکتا ہے تو اس لئے خاوند کی بات قابل قبول ہوگی اھ اس کو علامہ شامی نے یوں بیان کیا ہے کہ عادت یہ ہے کہ جس کی بیوی ہو وہ ا پنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہے نہ کہ غیر کی طلاق کے لئے اس لئے خاوند کا کہنا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے بیوی کی طرف ہی منسوب ہوگی تاوقتیکہ غیر بیوی کو مراد لینا بیان نہ کرے کیونکہ بیوی کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے غیر کا بھی احتمال ہے اھ اسی ضابطہ کے تحت
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی حاشیۃ الفتاوی الھندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۷۰
ردالمحتار باب الصریح کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
القنیۃ کتاب الایمان المطبعۃ المشہرۃ النہانندیۃ ص۱۱۵ ، ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۹
ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
ردالمحتار باب الصریح کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
القنیۃ کتاب الایمان المطبعۃ المشہرۃ النہانندیۃ ص۱۱۵ ، ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۹
ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
دیانۃ ظاہر لان الاخبار انما کان کاذبا اما قولی انما یصدقہ بالیمین فلما صرحوابہ من انہ حیث یکون القول لہ فانما یصدق بالیمین کماصرح بہ فی التبیین وغیرہ ۔
الثانی ان لاتکون ھنا قرینۃ ذلك وح یتوقف الوقوع علی اخبار بالنیۃ فان اقروقع والا لا اذلا سبیل الی الحکم بالوقوع بالشك وھذا ماقال فی الھندیۃ عن الخلاصۃ سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال
قنیہ میں ذکر کردہ امام برہان الدین محمود صاحب محیط کا بیان کردہ مسئلہ ہے کہ ایك شخص کو چند لوگوں نے شراب پینے کی دعوت دی تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے اس لئے میں شراب نہیں پیوں گا تحفہ نے کہا کہ دیانۃ طلاق نہ ہوگی اھ۔ ان مذکورہ تینوں حضرات کے مسائل میں بزازیہ کا یہ کہنا کہ “ نہ واقع ہوگی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیت نہ کی ہو تو دیانۃ نہ ہوگی اور اس نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ میں نے اپنی بیوی کا ارادہ نہیں کیا۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ اس بات کو اس صورت پر محمول کیاجائے گا کہ جب تك خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے کسی دوسری عورت کی طلاق کی قسم کھائی ہے لہذا یہ صورت خاوند کی قسم والی خبر جھوٹی ہے باقی میرا یہ کہنا کہ خاوند کی تصدیق اس کے حلف پر کی جائے گی کیونکہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مرادلیتے ہیں جس کی تصریح کی ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مراد لیتے ہیں جس کی تصریح تبیین وغیرہا میں موجود ہے۔ (ت)
دوسری قسم یہ ہے کہ وہاں یہ قرینہ پایا جائے تو وہاں طلاق کا واقع ہونا خاوند کے اس بیان پر موقوف ہوگا کہ میں نے بیوی کی نیت کی ہے لہذا وہاں نیت میں بیوی مراد لینے کا اقرار ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں کیونکہ محض شك کی بنا پر طلاق کے حکم کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس قسم کی صورت وہ ہے جس کو ہندیہ نے خلاصہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ کسی نشے والے بیوی بھاگ گئی تو اس نے تعاقب کیا
الثانی ان لاتکون ھنا قرینۃ ذلك وح یتوقف الوقوع علی اخبار بالنیۃ فان اقروقع والا لا اذلا سبیل الی الحکم بالوقوع بالشك وھذا ماقال فی الھندیۃ عن الخلاصۃ سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال
قنیہ میں ذکر کردہ امام برہان الدین محمود صاحب محیط کا بیان کردہ مسئلہ ہے کہ ایك شخص کو چند لوگوں نے شراب پینے کی دعوت دی تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے اس لئے میں شراب نہیں پیوں گا تحفہ نے کہا کہ دیانۃ طلاق نہ ہوگی اھ۔ ان مذکورہ تینوں حضرات کے مسائل میں بزازیہ کا یہ کہنا کہ “ نہ واقع ہوگی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیت نہ کی ہو تو دیانۃ نہ ہوگی اور اس نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ میں نے اپنی بیوی کا ارادہ نہیں کیا۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ اس بات کو اس صورت پر محمول کیاجائے گا کہ جب تك خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے کسی دوسری عورت کی طلاق کی قسم کھائی ہے لہذا یہ صورت خاوند کی قسم والی خبر جھوٹی ہے باقی میرا یہ کہنا کہ خاوند کی تصدیق اس کے حلف پر کی جائے گی کیونکہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مرادلیتے ہیں جس کی تصریح کی ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مراد لیتے ہیں جس کی تصریح تبیین وغیرہا میں موجود ہے۔ (ت)
دوسری قسم یہ ہے کہ وہاں یہ قرینہ پایا جائے تو وہاں طلاق کا واقع ہونا خاوند کے اس بیان پر موقوف ہوگا کہ میں نے بیوی کی نیت کی ہے لہذا وہاں نیت میں بیوی مراد لینے کا اقرار ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں کیونکہ محض شك کی بنا پر طلاق کے حکم کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس قسم کی صورت وہ ہے جس کو ہندیہ نے خلاصہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ کسی نشے والے بیوی بھاگ گئی تو اس نے تعاقب کیا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لا یقع اھ ا وفی مجموعۃ انقروی عن البزازیۃ فرت ولم یظفربھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والالا اھ
وقال فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ اھ فقد الوقوع علی اقرارہ انہ عنی امرأتہ۔
فان قلت ماالفرق بین ھذہ الفروع وبین قولہ حلفت بالطلاق فان الرجل کما لایحلف عادۃ الا بطلاق امرأتھا کذلك لایقول سہ طلاق او طالق الا لھا فکان ینبغی الوقوع مالم یقل لم اعنھا۔ قلت الفرق بین فان ارادۃ الحلف بالطلاق متحققۃ بصریح قولہ حلفت فیحمل علی الظاہر المعتاد مالم یصرف
اور وہ کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا فارسی میں “ بسہ طلاق “ (تین طلاق کے ساتھ)تو اس صورت میں اگر وہ نشے والا کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی مراد لے کر کہا ہے تو طلاق ہوگی اور اگر کچھ بھی بیان نہ کیا تو طلاق نہ ہوگی اور اگر کچھ بھی بیان نہ کیا تو طلاق نہ وگی اھ اور یوں ہی مجموعہ انقرویہ میں بزازیہ سے منقول ہے کہ بیوی بھاگی اور وہ کامیاب نہ ہوا تو کہہ دیا “ تین طلاق “ ۔ اس پر خاوند نشے والا یہ کہے کہ میں نے بیوی کے ارادے سے کہا ہے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں اھ۔ اور بحر میں ہے کہ ایك شخص نے “ طالق “ کہا پوچھا تو نے کس کو کہا ہے تو اس نے کہا اپنی بیوی کو تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی یہاں پر انہوں نے طلاق کے وقوع کو اقرار سے معلق کیا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں نے بیوی مراد لی ہے۔ (ت)
فان قلت(اگر اعتراض ہوکہ)ان مذکورہ مسائل جن میں وقوع طلاق کے لئے تصریح ضرور ی ہے اور اس مسئلہ میں کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ “ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے “ میں کیا فرق ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا کسی دوسری عورت کے طلاق کی نہیں یونہی کوئی بھی “ تین طلاق “ یا “ طالق “ بھی اپنی بیوی کے لئے ہی استعمال کرتا ہے مناسب تھا کہ وقوع ہی مراد ہو جب تك وہ یہ نہ کہے میں نے اپنی بیوی مراد نہیں لی(پھر کیا وجہ کہ حلف والی صورت میں طلاق ہونا ظاہر ہے اور دوسری یعنی سہ طلاق یا صرف طالق والی صورت میں طلاق نہ ہونا ظاہر ہے)
وقال فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ اھ فقد الوقوع علی اقرارہ انہ عنی امرأتہ۔
فان قلت ماالفرق بین ھذہ الفروع وبین قولہ حلفت بالطلاق فان الرجل کما لایحلف عادۃ الا بطلاق امرأتھا کذلك لایقول سہ طلاق او طالق الا لھا فکان ینبغی الوقوع مالم یقل لم اعنھا۔ قلت الفرق بین فان ارادۃ الحلف بالطلاق متحققۃ بصریح قولہ حلفت فیحمل علی الظاہر المعتاد مالم یصرف
اور وہ کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا فارسی میں “ بسہ طلاق “ (تین طلاق کے ساتھ)تو اس صورت میں اگر وہ نشے والا کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی مراد لے کر کہا ہے تو طلاق ہوگی اور اگر کچھ بھی بیان نہ کیا تو طلاق نہ ہوگی اور اگر کچھ بھی بیان نہ کیا تو طلاق نہ وگی اھ اور یوں ہی مجموعہ انقرویہ میں بزازیہ سے منقول ہے کہ بیوی بھاگی اور وہ کامیاب نہ ہوا تو کہہ دیا “ تین طلاق “ ۔ اس پر خاوند نشے والا یہ کہے کہ میں نے بیوی کے ارادے سے کہا ہے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں اھ۔ اور بحر میں ہے کہ ایك شخص نے “ طالق “ کہا پوچھا تو نے کس کو کہا ہے تو اس نے کہا اپنی بیوی کو تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی یہاں پر انہوں نے طلاق کے وقوع کو اقرار سے معلق کیا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں نے بیوی مراد لی ہے۔ (ت)
فان قلت(اگر اعتراض ہوکہ)ان مذکورہ مسائل جن میں وقوع طلاق کے لئے تصریح ضرور ی ہے اور اس مسئلہ میں کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ “ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے “ میں کیا فرق ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا کسی دوسری عورت کے طلاق کی نہیں یونہی کوئی بھی “ تین طلاق “ یا “ طالق “ بھی اپنی بیوی کے لئے ہی استعمال کرتا ہے مناسب تھا کہ وقوع ہی مراد ہو جب تك وہ یہ نہ کہے میں نے اپنی بیوی مراد نہیں لی(پھر کیا وجہ کہ حلف والی صورت میں طلاق ہونا ظاہر ہے اور دوسری یعنی سہ طلاق یا صرف طالق والی صورت میں طلاق نہ ہونا ظاہر ہے)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوی انقروی مایقع الطلاق وما لا یقع بہ دارالاشاعت العربیہ قندھار ۱ / ۷۴
بحرالرائق باب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
فتاوی انقروی مایقع الطلاق وما لا یقع بہ دارالاشاعت العربیہ قندھار ۱ / ۷۴
بحرالرائق باب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
اماھھنا فارادۃ الایقاع غیر متحققۃ ولعل فی نفسہ سہ طلاق دادنش بایرادسہ طلاق راسزا وارست واما ھو جالس فی بیتہ فابتدأیتلفظ بلفظ طالق فکیف یجوز الحکم بانہ ارادبہ ایقاع الطلاق علی امرأتہ ولیس فی حال ولاقال دلیل علیہ فوجب التوقیف علی اجارہ عمافی نفسہ' ھذاکلہ مافاض اجارہ عما فی نفسہ' ھذاکلہ مافاض علی قلب العبدالذلیل من بحار فیوض الرب الجلیل فقد التأمت الفروع جمیعا وارتفع الاضطراب ونزل کل فرع منزلہ من الصواب والحمدﷲرب العالمین۔
نعم بقی ھھنا فرع فی الھندیۃ عن الخلاصۃ لاقالت گراں بخریدی بعیب بازدہ فقال بعیب بازدادمت ونوی یقع بہ الطلاق ولو قال بہ عیب بازدادم بغیر التاء لایقع وان نوی اھ فان الفصل الاخیر منہ من القسم الاخیر الذی ذکرنا فکان ینبغی علی ما اصلنا لایقع دیانۃ مالم ینوولاقضاء
قلت(میں کہتا ہوں کہ)فرق واضح ہے کہ کیونکہ پہلی صورت “ میں نے قسم کھائی ہے طلاق کی “ میں تصریح ہے میں نے قسم کھائی تو اس کو عام فہم معنی پر محمول کیا جائے گا جب تك کوئی مخالف وضاحت نہ پائی جائے اور یہاں یعنی تین طلاق یا “ طالق “ کیا صورت میں طالق کو واقع کرنے کا ارادہ متحقق نہیں کیونکہ ہوسکتا ہ کہ اس کو تین طلاق دینے سے اس کی مراد یہ ہو کہ تین طلاق کے قابل ہے لیکن ایك شخض گھر بیٹھے صرف لفظ “ طالق “ سے بات کی ابتداء کرتا ہے اور طلاق کو واقع کرلے کاکوئی حال یا کوئی بات قرینہ نہ ہو جو دلیل بن سکے تو بلاوجہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کاارادہ کیا ہے اس لئے ایسی صورت میں اپنے دل کی بات واضح کرنے پر حکم موقوف رہے گا۔ یہ تمام بحث بندہ ناچیز کے دل پر رب جلیل کے فیوضات کے سمندر سے وارد ہوئی ہے تو اس سے تمام صورتیں آپس میں موافق ہوگئیں اور اضطراب ختم ہوگیا اور ہر مسئلہ اپنے صحیح مقام پر منطبق ہوگیا الحمدﷲرب العالمین۔ (ت)
ہاں یہاں ہندیہ کا خلاصہ سے منقول ایك مسئلہ رہ گیا ہے کہ اگر بیوی نے خاوند کی وجہ سے واپس کردے تو جواب میں خاوند نے کہا عیب کی بناء پر میں نے تجھے واپس کیا طلاق کی نیت س کہا تو خاوند کے اس قول سے طلاق ہوجائے گی اور اگر خاوند نے جواب میں صرف یہ کہا میں نے عیب کی بناپر واپس کیا بیوی کو خطاب کے بغیر کہا تو طلاق کی نیت ہوکہ تو بھی طلاق نہ ہوگی اھ یقینا اس مسئلہ می جواب
نعم بقی ھھنا فرع فی الھندیۃ عن الخلاصۃ لاقالت گراں بخریدی بعیب بازدہ فقال بعیب بازدادمت ونوی یقع بہ الطلاق ولو قال بہ عیب بازدادم بغیر التاء لایقع وان نوی اھ فان الفصل الاخیر منہ من القسم الاخیر الذی ذکرنا فکان ینبغی علی ما اصلنا لایقع دیانۃ مالم ینوولاقضاء
قلت(میں کہتا ہوں کہ)فرق واضح ہے کہ کیونکہ پہلی صورت “ میں نے قسم کھائی ہے طلاق کی “ میں تصریح ہے میں نے قسم کھائی تو اس کو عام فہم معنی پر محمول کیا جائے گا جب تك کوئی مخالف وضاحت نہ پائی جائے اور یہاں یعنی تین طلاق یا “ طالق “ کیا صورت میں طالق کو واقع کرنے کا ارادہ متحقق نہیں کیونکہ ہوسکتا ہ کہ اس کو تین طلاق دینے سے اس کی مراد یہ ہو کہ تین طلاق کے قابل ہے لیکن ایك شخض گھر بیٹھے صرف لفظ “ طالق “ سے بات کی ابتداء کرتا ہے اور طلاق کو واقع کرلے کاکوئی حال یا کوئی بات قرینہ نہ ہو جو دلیل بن سکے تو بلاوجہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کاارادہ کیا ہے اس لئے ایسی صورت میں اپنے دل کی بات واضح کرنے پر حکم موقوف رہے گا۔ یہ تمام بحث بندہ ناچیز کے دل پر رب جلیل کے فیوضات کے سمندر سے وارد ہوئی ہے تو اس سے تمام صورتیں آپس میں موافق ہوگئیں اور اضطراب ختم ہوگیا اور ہر مسئلہ اپنے صحیح مقام پر منطبق ہوگیا الحمدﷲرب العالمین۔ (ت)
ہاں یہاں ہندیہ کا خلاصہ سے منقول ایك مسئلہ رہ گیا ہے کہ اگر بیوی نے خاوند کی وجہ سے واپس کردے تو جواب میں خاوند نے کہا عیب کی بناء پر میں نے تجھے واپس کیا طلاق کی نیت س کہا تو خاوند کے اس قول سے طلاق ہوجائے گی اور اگر خاوند نے جواب میں صرف یہ کہا میں نے عیب کی بناپر واپس کیا بیوی کو خطاب کے بغیر کہا تو طلاق کی نیت ہوکہ تو بھی طلاق نہ ہوگی اھ یقینا اس مسئلہ می جواب
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
مالم یخبر عن نیۃ الطلاق لاان لایقع وان نوی فانہ یفید انہ بدون التاء لیس من الفاظ الطلاق اصلا کقولہ لاحاجۃ لی فیك ولارغیۃ اولااشتیك وامثال ذلك وھوکما تری مشکل فلع المعنی ان اللفظ من الکنایات وھو مع التاء ایضا محتاج الی النیۃ کما لایخفی فاذاعدم التاء احتاج نیتین نیۃ الطلاق ونیۃ الاضافۃ ولاشك ان احدھمالاتکفی فقولہ قال بعیب بازدامت ونوی لیس معناہ الیھا لاجل کون اللفظ من الکنایات فھی المرادۃ ایضا من قرینۃ اعنی قولہ فی الفصل الاخیروان نوی ای لوقال بغیر التاء لایقع وان نوی باللفظ الطلاق لخلوہ عن الااضۃ فیحتاج بعد الی شیئ اخروھی نیۃ الاضافۃ فافھم وتأمل لعل اﷲیحدث بعد ذلك امرا۔ ھذاوبما تقرر تحرر ان لااعتراض علی الفاضل
کی دوسری صورت ہمارے پہلے ذکر کردہ آخری مسئلہ کی صورت سے متعلق ہے تو ہمارے بیان کردہ ضابطہ کے تحت جب تك نیت نہ کریگا دیانۃ طلاق نہ ہوگی اور قضاء بھی اس وقت تك نہ ہوگی جب تك طلاق کی نیت سے مطلع نہ کرے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خطاب کے بغیر نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس سے تو لازم آئے گا کہ خطاب کے بغیر “ عیب کی بنا پر واپس کیا “ یہ الفاظ طلاق میں سے ہی نہ ہوا جیسے “ تیری مجھے حاجت نہیں “ اور رغبت نہیں یا تجھ سے شوق نہیں رکھتا وغیرہ الفاظ طلاق کے لئے نہیں ہیں حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بات مشکل ہے۔ تو اس کا حل یوں ممکن ہے کہ “ تجھے عیب کی بناء پر واپس کیا “ بیوی کے جواب میں خطاب کرکے کہا ہو تو یہ ایسا کنایہ ہے جس مین ایك نیت کی ضرورت ہے اوراگر بغیر خطاب کہا تو دو نیتوں کی ضرورت ہے ایك نیت طلاق دوسری نیت اضافت اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی صورت میں ایك نیت کافی نہیں تو خاوند کا یہ کہنا “ میں نے تجھے عیب کی بنا پر واپس کیا “ اور نیت کی تو وہ طلاق کی نیت ہوگی جس کی ضرورت تھی کیونکہ یہ لفظ طلاق سے کنایہ ہے تو نیت سے مراد طلاق کی نیت ہے نیز اس کا قرینہ یہ بھی ہے کہ مسئلہ کی دوسری صورت یعنی بغیر خطاب کہا ہو تو وہاں یہ کہا گیا ہے طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو کیونکہ خطاب کے بغیر یہ صورت اضافت سے خالی ہے لہذا اس کے بعد ایك دوسری شیئ کی احتیاجی ہوگی اور وہ اضافت کی نیت ہے(یعنی نیت اضافت کا محتاج ہوگا)پس
کی دوسری صورت ہمارے پہلے ذکر کردہ آخری مسئلہ کی صورت سے متعلق ہے تو ہمارے بیان کردہ ضابطہ کے تحت جب تك نیت نہ کریگا دیانۃ طلاق نہ ہوگی اور قضاء بھی اس وقت تك نہ ہوگی جب تك طلاق کی نیت سے مطلع نہ کرے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خطاب کے بغیر نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس سے تو لازم آئے گا کہ خطاب کے بغیر “ عیب کی بنا پر واپس کیا “ یہ الفاظ طلاق میں سے ہی نہ ہوا جیسے “ تیری مجھے حاجت نہیں “ اور رغبت نہیں یا تجھ سے شوق نہیں رکھتا وغیرہ الفاظ طلاق کے لئے نہیں ہیں حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بات مشکل ہے۔ تو اس کا حل یوں ممکن ہے کہ “ تجھے عیب کی بناء پر واپس کیا “ بیوی کے جواب میں خطاب کرکے کہا ہو تو یہ ایسا کنایہ ہے جس مین ایك نیت کی ضرورت ہے اوراگر بغیر خطاب کہا تو دو نیتوں کی ضرورت ہے ایك نیت طلاق دوسری نیت اضافت اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی صورت میں ایك نیت کافی نہیں تو خاوند کا یہ کہنا “ میں نے تجھے عیب کی بنا پر واپس کیا “ اور نیت کی تو وہ طلاق کی نیت ہوگی جس کی ضرورت تھی کیونکہ یہ لفظ طلاق سے کنایہ ہے تو نیت سے مراد طلاق کی نیت ہے نیز اس کا قرینہ یہ بھی ہے کہ مسئلہ کی دوسری صورت یعنی بغیر خطاب کہا ہو تو وہاں یہ کہا گیا ہے طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو کیونکہ خطاب کے بغیر یہ صورت اضافت سے خالی ہے لہذا اس کے بعد ایك دوسری شیئ کی احتیاجی ہوگی اور وہ اضافت کی نیت ہے(یعنی نیت اضافت کا محتاج ہوگا)پس
الشارح ولاعلی العلامۃ البحررحمۃ اﷲعلیہ فانھما اتیابعین مافی الوجیز والخانیۃ فانھما ایضانصا علی عدم الوقوع وعللا بترك الاضافۃ' فکما وجب حمل کلامھما علی ماتقدم کذالك یحمل علیہ کلام ھذین الفاضلین بیدان الامامین اتیابعدہ بما اوضح المراد من قولھما ان القول قولہ والفاضلین اقتصرا علی ذلك فبقی کلامھما علی الایھام ولیس فی کلامھما ان الاضافۃ الصریحۃ اللفظیۃ شرط للوقوع حتی یتوجہ علیہ بقیۃ کلام الفاضل المحشی رحمہ اﷲ تعالی نعم علل الفاضلان الشارحان الحلبی و الطحاوی بان الاضافۃ شرط حق فی نفسہ کما قررنا و لکن لایصح ح الجزم بعدم الوجد ان فان الشرط مطلق الاضافۃ نصا اوعرفا اوجوابا والمفقود جزما ھی الاضافۃ اللفظیۃ المنصوصۃ ولیست بشرط فالاخذان کان فعلی المحشیین دون الفاضلین العلامتین۔ اللھم الافی ترك الایضاح کما علمت ھکذا ینبغی تحقیق المقام واﷲولی الفضل والانعام۔
سمجھو اور غور کرو ہوسکتا ہے کہ اﷲتعالی اس کے بعد کوئی سبیل پیدا فرمادے اسے مضبوط رکھو۔ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ فاضل علامہ بحر رحمہاﷲتعالی پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ انہوں نے وہی کچھ کہا جو وجیز اور خانیہ میں بیان کیا گیا ہے کیونکہ ان(وجیز و خانیہ)دونوں نے مذکورہ میں یہ طلاق نہ واقع ہونے کی تصریح کی اور اس کی وجہ ترك اضافت کو قرار دیا تو جس طرح وجیز اور خانیہ کی عبارت کو مذکورہ معنی پر محمول کرنا ضروری ہوا یونہی ان دونوں فاضل حضرات شارح وبحر کلام کو اسی معنی پر محمول کرنا ضروری ہے صرف اتنا ہوا کہ دونوں اماموں وجیز وخانیہ نے اس کے بعد اپنی مراد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی جبکہ دونوں فاضل حضرات نے عدم وقوع طالق کے ذکر پر اکتفاء کیا جس کی بناء پر ان کی کلام میں احتمال کی گنجائش رہ گئی حالانکہ ان دونوں حضرات کے کسی کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ اضافت کا لفظوں میں صریح طور پر مذکور ہونا وقوع طلاق کے لئے ضروری ہے تاکہ بقیدکلام فاضل محشی سے اس پر اعتراض ہوسکے ہاں فاضل حلبی اور فاضل طحاوی دونوں حضرات نے شرح میں یہ وجہ بیان کی ہے کہ اضافت شرط ہے جو یہاں موجود نہیں ہے تو ان دونوں حضرات کا یہ کہنا بجا ہے کہ اضافت شرط ہے جیسا کہ نے ذکر کیا ہے لیکن ان کایہر کہنا کہ یقینا یہاں اضافت نہیں پائی گئی یہ درست نہیں کیونکہ اضافت کا پایا جانا شرط ہے خواہ بطور نص ہو یا عرف یا جواب کے طور پر ہو اضافت کے صرف صراحتالفظی طور پر مفقود ہونے پر شرط کے مفقود ہونے کا قول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ صرف لفظی طور پر مذکور ہونا شرط نہیں ہے۔ غرضیکہ اگر مواخذہ ہو بھی تو دونوں محشی حضرات پر ہوگا
سمجھو اور غور کرو ہوسکتا ہے کہ اﷲتعالی اس کے بعد کوئی سبیل پیدا فرمادے اسے مضبوط رکھو۔ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ فاضل علامہ بحر رحمہاﷲتعالی پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ انہوں نے وہی کچھ کہا جو وجیز اور خانیہ میں بیان کیا گیا ہے کیونکہ ان(وجیز و خانیہ)دونوں نے مذکورہ میں یہ طلاق نہ واقع ہونے کی تصریح کی اور اس کی وجہ ترك اضافت کو قرار دیا تو جس طرح وجیز اور خانیہ کی عبارت کو مذکورہ معنی پر محمول کرنا ضروری ہوا یونہی ان دونوں فاضل حضرات شارح وبحر کلام کو اسی معنی پر محمول کرنا ضروری ہے صرف اتنا ہوا کہ دونوں اماموں وجیز وخانیہ نے اس کے بعد اپنی مراد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی جبکہ دونوں فاضل حضرات نے عدم وقوع طالق کے ذکر پر اکتفاء کیا جس کی بناء پر ان کی کلام میں احتمال کی گنجائش رہ گئی حالانکہ ان دونوں حضرات کے کسی کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ اضافت کا لفظوں میں صریح طور پر مذکور ہونا وقوع طلاق کے لئے ضروری ہے تاکہ بقیدکلام فاضل محشی سے اس پر اعتراض ہوسکے ہاں فاضل حلبی اور فاضل طحاوی دونوں حضرات نے شرح میں یہ وجہ بیان کی ہے کہ اضافت شرط ہے جو یہاں موجود نہیں ہے تو ان دونوں حضرات کا یہ کہنا بجا ہے کہ اضافت شرط ہے جیسا کہ نے ذکر کیا ہے لیکن ان کایہر کہنا کہ یقینا یہاں اضافت نہیں پائی گئی یہ درست نہیں کیونکہ اضافت کا پایا جانا شرط ہے خواہ بطور نص ہو یا عرف یا جواب کے طور پر ہو اضافت کے صرف صراحتالفظی طور پر مفقود ہونے پر شرط کے مفقود ہونے کا قول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ صرف لفظی طور پر مذکور ہونا شرط نہیں ہے۔ غرضیکہ اگر مواخذہ ہو بھی تو دونوں محشی حضرات پر ہوگا
نہ کہ فاضلین شارح وبحر پر۔ ہاں ان پر وضاحت نہ کرنے کا اعتراض ہوگا جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا اس مقام کی تحقیق یوں مناسب ہوگی جبکہ اﷲتعالی ہی فضل وانعام کا مالك ہے(ت)[یہاں سے غیر مربوط عبارت کو خارج کردیا گیا ہے]
مسئلہ ۱۲۲ : از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷ شعبان ۱۳۳۹ھ
شمس العلماء رئیس الفضلائے خان خاناں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ السلام علیکم! اگر بے اضافت طلاق دے جائے تو کیا حکم ہوگا واقع ہوگی یا نہ قاضی خاں مجتہدالمسائل سے ہے اور شامی ناقلوں سے ہے ان کے مابین اختلاف ہوتو کس پر حکم دیا جائے
الجواب :
طلاق بے اضافت میں جبکہ ایقاع مفاد ہو ا س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر بحلف کہہ دے گا کہ زوجہ کو طلاق مقصود نہ تھی مان لیں گے یہی مفاد قاضی خاں ہے اور یہی شامی نے تحقیق کیا ان میں تخالف نہیں خانیہ میں فالقول قولہ صراحۃ(خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ ت)اسی پر دال ہے وتمام تحقیقہ فی رسالتنا فی الباب(اس کی مکمل تحقیق اس مسئلہ سے متعلق ہمارے ایك رسالہ میں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳ : (سوال منقول نہیں )
(۱)اجمالی جواب بذریعہ تاربرقی
اگر طلاق کی نیت تھی تین طلاقیں ہوگئیں ۔
(۲)تفصیلی جواب بذریعہ ڈاک
جبکہ زید کے کلام میں عورت کی طرف طلاق کی نسبت اصلا نہ تھی کہ تجھ کو یا فلاں عورت یا اپنی زوجہ یا دختر فلان کو طلاق ایک دو تین نہ دینے ہی کا کوئی ذکر زبان پر آیا کہ طلاق ایك دوتین دی یا ہوئی جس کے باعث بحسب ظاہر زوجہ ہی کو طلاق دینا مفہوم ہوتا نہ عورت ہی کے کلام میں ایسے الفاظ تھے جن کے جواب میں زید کے یہ لفظ بظاہر اس پر ایقاع سمجھے جاتے مثلا وہ کہتی میں طلاق چاہتی ہوں مجھے طلاق دے بلکہ عورت کی طرف سے سکوت محض تھا تو جس طرح خود یہ الفاظ محض نا وصف ومحتمل ہیں ممکن کہ یہ مراد ہو کہ طلاق ایك دو تین میں نے تجھے دیں ممکن کہ یہ مقصود ہو کہ طلاق ایك دو تین کتنی چاہتی ہے جس کے باعث عنداﷲیہاں مدارنیت شوہر پر ہوا اگر ان الفاظ کے کہنے میں طلاق کی نیت تھی تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ
مسئلہ ۱۲۲ : از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷ شعبان ۱۳۳۹ھ
شمس العلماء رئیس الفضلائے خان خاناں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ السلام علیکم! اگر بے اضافت طلاق دے جائے تو کیا حکم ہوگا واقع ہوگی یا نہ قاضی خاں مجتہدالمسائل سے ہے اور شامی ناقلوں سے ہے ان کے مابین اختلاف ہوتو کس پر حکم دیا جائے
الجواب :
طلاق بے اضافت میں جبکہ ایقاع مفاد ہو ا س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر بحلف کہہ دے گا کہ زوجہ کو طلاق مقصود نہ تھی مان لیں گے یہی مفاد قاضی خاں ہے اور یہی شامی نے تحقیق کیا ان میں تخالف نہیں خانیہ میں فالقول قولہ صراحۃ(خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ ت)اسی پر دال ہے وتمام تحقیقہ فی رسالتنا فی الباب(اس کی مکمل تحقیق اس مسئلہ سے متعلق ہمارے ایك رسالہ میں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳ : (سوال منقول نہیں )
(۱)اجمالی جواب بذریعہ تاربرقی
اگر طلاق کی نیت تھی تین طلاقیں ہوگئیں ۔
(۲)تفصیلی جواب بذریعہ ڈاک
جبکہ زید کے کلام میں عورت کی طرف طلاق کی نسبت اصلا نہ تھی کہ تجھ کو یا فلاں عورت یا اپنی زوجہ یا دختر فلان کو طلاق ایک دو تین نہ دینے ہی کا کوئی ذکر زبان پر آیا کہ طلاق ایك دوتین دی یا ہوئی جس کے باعث بحسب ظاہر زوجہ ہی کو طلاق دینا مفہوم ہوتا نہ عورت ہی کے کلام میں ایسے الفاظ تھے جن کے جواب میں زید کے یہ لفظ بظاہر اس پر ایقاع سمجھے جاتے مثلا وہ کہتی میں طلاق چاہتی ہوں مجھے طلاق دے بلکہ عورت کی طرف سے سکوت محض تھا تو جس طرح خود یہ الفاظ محض نا وصف ومحتمل ہیں ممکن کہ یہ مراد ہو کہ طلاق ایك دو تین میں نے تجھے دیں ممکن کہ یہ مقصود ہو کہ طلاق ایك دو تین کتنی چاہتی ہے جس کے باعث عنداﷲیہاں مدارنیت شوہر پر ہوا اگر ان الفاظ کے کہنے میں طلاق کی نیت تھی تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ
کچھ نہیں اسی طرح بوجہ عدم ظہور مراد عند الناس بھی بیان شوہر کی طرف رجوع ضرور اگر وہ اقرار کرے کہ یہ لفظ میں نے بقصد طالق کہے تھے تین طلاقوں کا حکم دیا جائے گا اور بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکے گا۔ اس صورت میں عورت کو عدت گزرنے پر اختیار ہوگا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے وہ بدستور شوہر کی زوجیت میں سمجھی جائے گی فان الیقین لایزول بالشک(کیونکہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا۔ ت)اگر واقع میں اس نے نیت کی اور اس نے ظاہر نہ کی تو اس کا وبال اور اپنے اور عورت دونوں کے زنا کا عذاب شوہر پر ہوگا عورت پر الزام نہیں کہ دلوں کا مالك اﷲ ہے جلا وعلا۔ و لا تزر وازرة وزر اخرى (کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ ت)عورت اپنے آپ کو مطلقہ نہیں سمجھ سکتی اگر دوسرے سے نکاح کرے گی حرامکار ٹھہرے گی فانھا مکلفۃ بالظاہر واﷲتعالی یتولی السرائر(کیونکہ وہ عورت ظاہر حکم کی مکلف ہے رازوں کا اﷲتعالی ہی حاکم ہے۔ ت)ہندیہ میں محیط سے ہے :
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا۔
اضافت والے معاملہ میں طلاق نہ ہوگی جب تك اضافت کی نیت نہ کی ہو کیونکہ بیوی کی طرف اضافت نہ ہوئی۔ (ت)
اسی میں خلاصہ سے ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع۔
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے تعاقب کیا ناکامی پر کہا تین طلاق پر۔ اگر خاوند نے کہاکہ میری مراد میری بیوی ہے۔ تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر کچھ نہ بتایا تو نہ ہوگی۔ (ت)
انقرویہ میں بزازیہ سے ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق بیوی بھاگی تو خاوند نے ناکامی پر کہا : تین طلاق
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا۔
اضافت والے معاملہ میں طلاق نہ ہوگی جب تك اضافت کی نیت نہ کی ہو کیونکہ بیوی کی طرف اضافت نہ ہوئی۔ (ت)
اسی میں خلاصہ سے ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع۔
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے تعاقب کیا ناکامی پر کہا تین طلاق پر۔ اگر خاوند نے کہاکہ میری مراد میری بیوی ہے۔ تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر کچھ نہ بتایا تو نہ ہوگی۔ (ت)
انقرویہ میں بزازیہ سے ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق بیوی بھاگی تو خاوند نے ناکامی پر کہا : تین طلاق
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۱۶۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
ان قال اردت امرأتی یقع والا لا۔
اگر خاوند نے کہا کہ میری مراد میری بیوی تھی تو طلاق ورنہ نہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لوقال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ ۔
اگر خاوند نے کہا “ طالق “ ۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیری کیا مراد ہے جواب دیا کہ میری بیوی مراد ہے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
عالمگیریہ میں خلاصہ سے ہے :
قالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینك طلاق لایقع ولو قال اینکت طلاق یقع۔
بیوی نے کہا : “ مجھے طلاق دے “ تو خاوند نے اس کو پیٹ دیا اور کہا “ یہ طلاق ہے “ تو طلاق نہ ہوگی اور اگر کہا “ یہ طلاق تجھے طلاق ہے “ تو طلاق ہوجائیگی۔ (ت)
اس بیان سے واضح ہوگیا کہ دوسرے عالم کا جواب تو محض باطل وناصواب تھا بحال نیت تین طلاقیں ہوں گی جن میں رجعت محال اور بحال عدم نیت ایك بھی نہ ہوگی تو رجعت کا خیال محض خیال محال اور پہلے عالم کا جواب بھی غلط تھا کہ یہاں تین طلاقیں صرف بصورت نیت ہیں نہ مطلقا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴ : از سیرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ شیخ بدو دربان چٹکل ومحمد سراج الحق امام مسجد جامع ۲۵ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
محمد ظفر کا پنی والدہ سے جھگڑا ہوریا تھا اس کی والدہ نے کہا کہ اگر اپنی بی بی کو نہ چھوڑو گے تو تم سورکھاؤ اسی طرح تین مرتبہ بولی مظفر نےکہا طلاق دیتے ہیں پھر اس نے بلاقصد غصہ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق بغیر مخاطب کرنے کسی کو اب شرعا صورت مسئولہ میں ظفر کی بی بی پر طلاق پڑے گی یا نہیں
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر خاوند نے کہا کہ میری مراد میری بیوی تھی تو طلاق ورنہ نہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لوقال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ ۔
اگر خاوند نے کہا “ طالق “ ۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیری کیا مراد ہے جواب دیا کہ میری بیوی مراد ہے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
عالمگیریہ میں خلاصہ سے ہے :
قالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینك طلاق لایقع ولو قال اینکت طلاق یقع۔
بیوی نے کہا : “ مجھے طلاق دے “ تو خاوند نے اس کو پیٹ دیا اور کہا “ یہ طلاق ہے “ تو طلاق نہ ہوگی اور اگر کہا “ یہ طلاق تجھے طلاق ہے “ تو طلاق ہوجائیگی۔ (ت)
اس بیان سے واضح ہوگیا کہ دوسرے عالم کا جواب تو محض باطل وناصواب تھا بحال نیت تین طلاقیں ہوں گی جن میں رجعت محال اور بحال عدم نیت ایك بھی نہ ہوگی تو رجعت کا خیال محض خیال محال اور پہلے عالم کا جواب بھی غلط تھا کہ یہاں تین طلاقیں صرف بصورت نیت ہیں نہ مطلقا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴ : از سیرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ شیخ بدو دربان چٹکل ومحمد سراج الحق امام مسجد جامع ۲۵ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
محمد ظفر کا پنی والدہ سے جھگڑا ہوریا تھا اس کی والدہ نے کہا کہ اگر اپنی بی بی کو نہ چھوڑو گے تو تم سورکھاؤ اسی طرح تین مرتبہ بولی مظفر نےکہا طلاق دیتے ہیں پھر اس نے بلاقصد غصہ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق بغیر مخاطب کرنے کسی کو اب شرعا صورت مسئولہ میں ظفر کی بی بی پر طلاق پڑے گی یا نہیں
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی انقرویہ الفصل مایقع بہ الطلاق وما لایقع بہ دارالاشاعت قندھا افغانستان ۱ / ۷۴
بحرالرائق باب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
بحرالرائق باب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
مسئلہ ۱۲۵ : از مؤناٹ بھنجن دفتر مدرسہ دارالعلوم ضلع اعظم گڑھ ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ نقل اسٹامپ قیمتی عہ۔
جمن ابن منا میں ان کو لکھ کردیتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کی الفت کا خرچ بھر پورا کروں گا اور بغیر علیم اﷲستار بازکے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کروں گا اگر آپ کی حکم عدولی کروں تو آپ اور سب پنچ جو چاہیں کریں سب منظور ہے کیونکہ ہمارا کوئی ماں اور باپ نہیں ہے آپ لوگ ہمارے ماں اور باپ ہیں تاریخ ۲۰مارچ ۱۹۱۷ء اور اگر سب خلاف ہوتو اس شرط پر طلاق۔ نشانی انگوٹھا جمن مقر اسمائے شاہدان(۲)علیم اﷲ ستار باز۔ ہماری لڑکی الفت جو ہے اگر ہم قضا کرجائیں تو ہمارے گھر سامان اور جتنا مال ہو اور جتنا ہم پر قرض ہو سب الفت کا قرض بھی وہ سب دے اور مال وغیرہ وہ لے اور دوسرے کا تعلق نہیں باقی گواہ اوپر گزرے دستخط عبدالراحمن قول اجمیری بقلم خود محمد ابراہیم ابن محمد اسمعیل۔ یہ فتوی بمبئی سے آیا ہے مگر سوال نہایت مہمل یعنی اقرار نامہ کا ہے ای روپیہ کا اسٹامپ پر اقرار نامہ تحریر ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ جمن کا نکاح اس اقرار نامہ کے چار روز بعد ہوا بعد نکاح جمن مذکور الفت کو لے کر اپنے سسر کے ساتھ رہتا تھا مگر قریب دوبرس کے ہوئے علیم اﷲاپنے سسرال اور بیوی کو بھی چھوڑکر بمبئی میں آوارگی اختیار کیاہے اور بیوی کو نہ روٹی کپڑا دیتا ہے نہ کسی قسم کی خبر گیری کرتا ہے نوٹس بھی مسماۃ الفت وعلیم اﷲستار باز کے طرف سے دیگئی مگر کچھ جواب نہیں دیتا لہذا اب مسماۃ الفت مطلقہ ہوئی یا نہیں
الجواب :
صورۃ مذکورہ میں طلاق کسی طرح نہیں ہوسکتی قطع نظر اس نقص کے جو الفاظ اقرار نامہ میں ہے جس میں عورت کی طرف اضافت طلاق نہیں اور اس میں جمن کو اس انکار کی گنجائش ملتی کہ زوجہ کو طلاق مراد نہ تھی جب یہ اقرار نامہ نکاح س پہلے لکھا گیا اوراس میں شرط نکاح کا ذکر نہیں تو اگر صاف یوں لکھا ہوتا کہ میں ایسا کروں تو الفت پر تین طلاقیں اور ویسا کرتا جب بھی ہرگز طلاق نہ ہوتی اذلاملك حینئذ والا اضافۃ الیہ والیہ الی سببہ فلغی(کیونکہ ابھی تك ملکیت نہیں اور نہ ہی ملکیت کی طرف نسبت اور نہ ملکیت کے کسی سبب کی طرف نسبت ہوئی تو کلا م لغو ہو۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۶ : موضع مانیا والہ ضلع بجنور از کفایت علی صاحب وحمایت علی صاحب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
حضوروالا! بعد سلام عرض ہے کہ غلام کی بیوی اطاعت نہیں کرتی سمجھا اثر نہیں کرتا والدین بھی ناخوش ہیں والدین کی خوشی ہے کہ طلاق دے دو تو حضور اس کو کس طریقہ سے طلاق دی جائے خاکسار اور والدین میں ایك کوڑی مہر دینے کی طاقت نہیں مہر دوسو پانچ ۲۰۵ اشرفیاں میں نے قبول کرلیا تھا عورت معاف نہیں
جمن ابن منا میں ان کو لکھ کردیتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کی الفت کا خرچ بھر پورا کروں گا اور بغیر علیم اﷲستار بازکے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کروں گا اگر آپ کی حکم عدولی کروں تو آپ اور سب پنچ جو چاہیں کریں سب منظور ہے کیونکہ ہمارا کوئی ماں اور باپ نہیں ہے آپ لوگ ہمارے ماں اور باپ ہیں تاریخ ۲۰مارچ ۱۹۱۷ء اور اگر سب خلاف ہوتو اس شرط پر طلاق۔ نشانی انگوٹھا جمن مقر اسمائے شاہدان(۲)علیم اﷲ ستار باز۔ ہماری لڑکی الفت جو ہے اگر ہم قضا کرجائیں تو ہمارے گھر سامان اور جتنا مال ہو اور جتنا ہم پر قرض ہو سب الفت کا قرض بھی وہ سب دے اور مال وغیرہ وہ لے اور دوسرے کا تعلق نہیں باقی گواہ اوپر گزرے دستخط عبدالراحمن قول اجمیری بقلم خود محمد ابراہیم ابن محمد اسمعیل۔ یہ فتوی بمبئی سے آیا ہے مگر سوال نہایت مہمل یعنی اقرار نامہ کا ہے ای روپیہ کا اسٹامپ پر اقرار نامہ تحریر ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ جمن کا نکاح اس اقرار نامہ کے چار روز بعد ہوا بعد نکاح جمن مذکور الفت کو لے کر اپنے سسر کے ساتھ رہتا تھا مگر قریب دوبرس کے ہوئے علیم اﷲاپنے سسرال اور بیوی کو بھی چھوڑکر بمبئی میں آوارگی اختیار کیاہے اور بیوی کو نہ روٹی کپڑا دیتا ہے نہ کسی قسم کی خبر گیری کرتا ہے نوٹس بھی مسماۃ الفت وعلیم اﷲستار باز کے طرف سے دیگئی مگر کچھ جواب نہیں دیتا لہذا اب مسماۃ الفت مطلقہ ہوئی یا نہیں
الجواب :
صورۃ مذکورہ میں طلاق کسی طرح نہیں ہوسکتی قطع نظر اس نقص کے جو الفاظ اقرار نامہ میں ہے جس میں عورت کی طرف اضافت طلاق نہیں اور اس میں جمن کو اس انکار کی گنجائش ملتی کہ زوجہ کو طلاق مراد نہ تھی جب یہ اقرار نامہ نکاح س پہلے لکھا گیا اوراس میں شرط نکاح کا ذکر نہیں تو اگر صاف یوں لکھا ہوتا کہ میں ایسا کروں تو الفت پر تین طلاقیں اور ویسا کرتا جب بھی ہرگز طلاق نہ ہوتی اذلاملك حینئذ والا اضافۃ الیہ والیہ الی سببہ فلغی(کیونکہ ابھی تك ملکیت نہیں اور نہ ہی ملکیت کی طرف نسبت اور نہ ملکیت کے کسی سبب کی طرف نسبت ہوئی تو کلا م لغو ہو۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۶ : موضع مانیا والہ ضلع بجنور از کفایت علی صاحب وحمایت علی صاحب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
حضوروالا! بعد سلام عرض ہے کہ غلام کی بیوی اطاعت نہیں کرتی سمجھا اثر نہیں کرتا والدین بھی ناخوش ہیں والدین کی خوشی ہے کہ طلاق دے دو تو حضور اس کو کس طریقہ سے طلاق دی جائے خاکسار اور والدین میں ایك کوڑی مہر دینے کی طاقت نہیں مہر دوسو پانچ ۲۰۵ اشرفیاں میں نے قبول کرلیا تھا عورت معاف نہیں
کرتی مگر مہر کی ایك کوڑی کا گونرنمنٹی کاغذ اسٹامپ نہیں ہے کچہری سے بھی عورت کا ولی ایك کوڑی نہیں لے سکتا یہاں کے مولوی سے دریافت کیا تو یہ کہا کہ شرعااسے ساڑھے بارہ روپے دینے چاہئے۔ بینواتوجروا
الجواب :
اگر آپ طلاق دینا چاہیں تو عورت جب حیض سے فارغ ہو اس کے بعد قبل جماع اس سے ایك بار کہئے کہ میں نے تجھے طلاق دی پھر اسے چھوڑے رہئے اور اس سے بالکل الگ رہئے یہاں تك کہ طلاق کے بعد تین حیض شروع ہرکر ختم ہوجائیں اس وقت وہ نکاح سے نکل جائے گی اور مہر وہ معاف نہ کرے تو بہر حال دوسوپانچ اشرفیاں دینا لازم ہوں گی وہ کوئی جاہل شخص تھا جس نے ساڑھے بارہ روپے بتائے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷ : از بچناتھ باڑہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بچناتھ باڑہ ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی عورت کے نان نفقہ سے بے خبر تھا کہ عورت کے وارثوں میں سے کسی نے آن کر اس سے کہا کہ اگر نان نفقہ نہیں دے سکتا تو طلاق دے دے۔ چنانچہ اسی وقت اس آدمی کے روبرو طلاق دے دی تو یہ طلاق ہوئی یا نہیں کیونکہ عورت وہاں نہ تھی۔ بینو اتوجروا۔
الجواب :
طلاق ہوگئی طلاق کے لئے عورت کا وہاں حاضر ہونا کچھ شرط نہیں فان ازالۃ لاعقد کما لایخفی(کیونکہ یہ ازلہ نکاح ہے نکاح نہیں ہے(تاکہ حاضری ضروری ہوتی)جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۸ : از پیلی بھیت مرسلہ شیخ فیض محمد صاحب ۶ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ
زید اپنے مکان میں تنہا مقیم تھا اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دی لیکن زوجہ نے نہ سنی نہ دوسرے آدمی نے اس وجہ سے کہ اور آدمی دوسرے مکان میں تھے پس طلاق ہوئی یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
طلاق کے لئے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضرور نہیں بلکہ جبکہ شوہر اپنی زبان سے الفاظ طلاق ایسی آواز سے کہے جو اس کے کان تك پہنچے کے قابل تھے(اگر چہ کسی غل شور یا ثقل سماعت کے سبب نہ پہنچی عند اﷲطلاق ہوگئی عورت کو خبرہوتو وہ بھی اپنے آپ کو مطلقہ جانے ہاں اگر صرف دل میں طلاق
الجواب :
اگر آپ طلاق دینا چاہیں تو عورت جب حیض سے فارغ ہو اس کے بعد قبل جماع اس سے ایك بار کہئے کہ میں نے تجھے طلاق دی پھر اسے چھوڑے رہئے اور اس سے بالکل الگ رہئے یہاں تك کہ طلاق کے بعد تین حیض شروع ہرکر ختم ہوجائیں اس وقت وہ نکاح سے نکل جائے گی اور مہر وہ معاف نہ کرے تو بہر حال دوسوپانچ اشرفیاں دینا لازم ہوں گی وہ کوئی جاہل شخص تھا جس نے ساڑھے بارہ روپے بتائے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷ : از بچناتھ باڑہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بچناتھ باڑہ ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی عورت کے نان نفقہ سے بے خبر تھا کہ عورت کے وارثوں میں سے کسی نے آن کر اس سے کہا کہ اگر نان نفقہ نہیں دے سکتا تو طلاق دے دے۔ چنانچہ اسی وقت اس آدمی کے روبرو طلاق دے دی تو یہ طلاق ہوئی یا نہیں کیونکہ عورت وہاں نہ تھی۔ بینو اتوجروا۔
الجواب :
طلاق ہوگئی طلاق کے لئے عورت کا وہاں حاضر ہونا کچھ شرط نہیں فان ازالۃ لاعقد کما لایخفی(کیونکہ یہ ازلہ نکاح ہے نکاح نہیں ہے(تاکہ حاضری ضروری ہوتی)جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۸ : از پیلی بھیت مرسلہ شیخ فیض محمد صاحب ۶ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ
زید اپنے مکان میں تنہا مقیم تھا اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دی لیکن زوجہ نے نہ سنی نہ دوسرے آدمی نے اس وجہ سے کہ اور آدمی دوسرے مکان میں تھے پس طلاق ہوئی یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
طلاق کے لئے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضرور نہیں بلکہ جبکہ شوہر اپنی زبان سے الفاظ طلاق ایسی آواز سے کہے جو اس کے کان تك پہنچے کے قابل تھے(اگر چہ کسی غل شور یا ثقل سماعت کے سبب نہ پہنچی عند اﷲطلاق ہوگئی عورت کو خبرہوتو وہ بھی اپنے آپ کو مطلقہ جانے ہاں اگر صرف دل میں طلاق
دے لی تو بالاجماع نہ ہوگی یا زبان سے لفظ تو کہے مگر ایسے کہ زبان کو صرف جنبش ہوئی آواز اپنے کان تك آنے کے بھی قابل نہ تھی تو مذہب اصح میں یوں بھی نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار ادنی الجھرا اسماع غیرہ ادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ویجری ذلك فی کل مایتعلق بالنطق کتسمیۃ علی ذبیحۃ ووجوب سجدۃ تلاوۃ وعتاق وطلاق واستثناء فلوطلق او استثنی ولم یسمع نفسہ لم یصح فی الاصح اھ بالاختصار۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کم از کم جہریہ ہے کہ دوسرا سنے اور کم از کم خفاء یہ ہے کہ خود سن سکے۔ یہ ضابطہ ہر ایسے مقام کے لئے ہے جس کا تعلق نطق سے ہو جیسے ذبیحہ پر بسم اﷲ سجدہ تلاوت پر سجدہ کا وجوب غلام کو آزاد کرنا طلاق دینا اور کلام میں کوئی استثناء کرنا لہذا اگر طلاق دی یا استثناء کیا اور خود نہ سنا تواصح مذہب پر طلاق اور استثناء صحیح ہوگا اھ اختصارا واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۹ : از بدایوں فرشولی ٹولہ شیخ وہاب الدین احمد صاحب ۲۷رجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ اپنی زوجہ سے یہ الفاظ کہے کہ تو عمرو یا بکر سے نکاح کرلے اور زید اپنے والد کو مخاطب کرکے بموجودگی والدین ہندہ یہ کہا میری بیوی کا نکاح ولید سے کرادو۔ اس واقعہ سے دوتین مہینہ کے بعد زید نے ہندہ کے مکان پر آن کر ہندہ اور اس کے والدین کی عدم موجودگی میں ایك غیر مخاطب کرکے کہا میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر اس وقت میرے ساتھ نہ بھیجیں ۔ وہ شخص ان الفاظ کو سن کر چلنے لگا تو زید نے پھر انہی الفاظ کا اعادہ کیا اور ہندہ اس کے ساتھ نہ بھیجی گئی ہندہ حاملہ تھی اور اسی زیدنے اسی روز ہندہ کے گھر کو چھوڑنے کے بعد یہ کہا کہ میں نے یہ الفاظ دھمکانے کو کہے تھے تاکہ میری بیوی میرے ساتھ کردیں اور میں اپنے الفاظ اب واپس لیتا ہوں واپس لیتا ہوں واپس لیتا ہوں ۔ یہ واقعہ ۱۰جمادی الثانی ۱۳۲۷ھ ہجری نبوی کا ہے۔ زید عرصہ زائد از سال سے بعارضہ مراق علیل ہے آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں
الجواب :
سائل نے اظہار کیاکہ زید نے ان اخیر الفاظ میں کہ میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر اس وقت میرے ساتھ نہ بھیجیں کوئی لفظ عورت کی طرف اضافت کا نہ کہا تھا نہ نام نہ نسب نہ وصف نہ لقب نہ اشارہ مثلا فلاں عورت یا فلان کی بیٹی یا اپنی زوجہ کو یا اس کو وغیرہ وغیرہ کوئی لفظ اس قسم
فی الدرالمختار ادنی الجھرا اسماع غیرہ ادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ویجری ذلك فی کل مایتعلق بالنطق کتسمیۃ علی ذبیحۃ ووجوب سجدۃ تلاوۃ وعتاق وطلاق واستثناء فلوطلق او استثنی ولم یسمع نفسہ لم یصح فی الاصح اھ بالاختصار۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کم از کم جہریہ ہے کہ دوسرا سنے اور کم از کم خفاء یہ ہے کہ خود سن سکے۔ یہ ضابطہ ہر ایسے مقام کے لئے ہے جس کا تعلق نطق سے ہو جیسے ذبیحہ پر بسم اﷲ سجدہ تلاوت پر سجدہ کا وجوب غلام کو آزاد کرنا طلاق دینا اور کلام میں کوئی استثناء کرنا لہذا اگر طلاق دی یا استثناء کیا اور خود نہ سنا تواصح مذہب پر طلاق اور استثناء صحیح ہوگا اھ اختصارا واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۹ : از بدایوں فرشولی ٹولہ شیخ وہاب الدین احمد صاحب ۲۷رجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ اپنی زوجہ سے یہ الفاظ کہے کہ تو عمرو یا بکر سے نکاح کرلے اور زید اپنے والد کو مخاطب کرکے بموجودگی والدین ہندہ یہ کہا میری بیوی کا نکاح ولید سے کرادو۔ اس واقعہ سے دوتین مہینہ کے بعد زید نے ہندہ کے مکان پر آن کر ہندہ اور اس کے والدین کی عدم موجودگی میں ایك غیر مخاطب کرکے کہا میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر اس وقت میرے ساتھ نہ بھیجیں ۔ وہ شخص ان الفاظ کو سن کر چلنے لگا تو زید نے پھر انہی الفاظ کا اعادہ کیا اور ہندہ اس کے ساتھ نہ بھیجی گئی ہندہ حاملہ تھی اور اسی زیدنے اسی روز ہندہ کے گھر کو چھوڑنے کے بعد یہ کہا کہ میں نے یہ الفاظ دھمکانے کو کہے تھے تاکہ میری بیوی میرے ساتھ کردیں اور میں اپنے الفاظ اب واپس لیتا ہوں واپس لیتا ہوں واپس لیتا ہوں ۔ یہ واقعہ ۱۰جمادی الثانی ۱۳۲۷ھ ہجری نبوی کا ہے۔ زید عرصہ زائد از سال سے بعارضہ مراق علیل ہے آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں
الجواب :
سائل نے اظہار کیاکہ زید نے ان اخیر الفاظ میں کہ میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر اس وقت میرے ساتھ نہ بھیجیں کوئی لفظ عورت کی طرف اضافت کا نہ کہا تھا نہ نام نہ نسب نہ وصف نہ لقب نہ اشارہ مثلا فلاں عورت یا فلان کی بیٹی یا اپنی زوجہ کو یا اس کو وغیرہ وغیرہ کوئی لفظ اس قسم
حوالہ / References
درمختار فصل ویجہر الامام مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۰۔ ۷۹
کانہ تھا نہ یہ کلام کسی سوال کے جواب میں تھا جس سے اضافت پیدا ہو بلکہ ابتدا یہی الفاظ اس نے مکرر کہے اس صورت میں زید سے قسم لی جائے اگر وہ حلف کرے کہ ان الفاظ سے اپنی زوجہ مراد نہ تھی تو حکم طلاق نہ دیا جائے۔
وذلك لان زید اینکرارادۃالطلاق بھا والاضافۃ کما فی السؤال فیکون القول قولہ بیمینہ وان کان الظاہر ارادۃ المرأۃ بذلك لانہ نوی محتمل کلامہ فیصدق۔
یہ اس لئے کہ زید طلاق کے ارادے سے انکاری ہے اور اضافت سے بھی انکاری ہے جیسا کہ سوال میں ہے تو قسم لے کر اس کی بات مان لی جائے گی اگر چہ ظاہری طور اس سے بیوی مراد ہوسکتی ہے لیکن کلام خاوند میں احتمال پایا جاتا ہے جس کی نیت پر خاوند پر خاوند کی تصدیق کی جائے گی۔ (ت)
خانیہ وبزازیہ وغیرہا میں ہے :
قال لھا لاتخرجی من الدار الاباذنی فانی حلفت یا لطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۔ اھ۔
خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیر باہر مت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو بیوی نکل گئی اس صورت میں طلاق نہ ہوگی کیونکہ قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں ہے جبکہ قسم میں کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے لہذاخاوند کی بات معتبر ہوگی اھ(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
سئل شیخ الاسلام الفقیۃ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدین ان اطلقك فقالت نعم فقال اگر تو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیاگیا کہ ایك نشہ والے نے اپنی بیوی کو کہا “ کیا تو چاہتی ہے کہ میں کھے طلاق دوں “ تو بیوی نے کہا ہاں توخاوند نے کہا “ اگر تومیری بیوی ہے ایك طلاق دوطلاق تین طلاق اٹھ جا نکل میرے پاس سے “ ۔ اور پھر کہتا ہےکہ میں نے طلاق مراد نہیں لی تواس کی بات معتبر ہوگی۔ (ت)
وذلك لان زید اینکرارادۃالطلاق بھا والاضافۃ کما فی السؤال فیکون القول قولہ بیمینہ وان کان الظاہر ارادۃ المرأۃ بذلك لانہ نوی محتمل کلامہ فیصدق۔
یہ اس لئے کہ زید طلاق کے ارادے سے انکاری ہے اور اضافت سے بھی انکاری ہے جیسا کہ سوال میں ہے تو قسم لے کر اس کی بات مان لی جائے گی اگر چہ ظاہری طور اس سے بیوی مراد ہوسکتی ہے لیکن کلام خاوند میں احتمال پایا جاتا ہے جس کی نیت پر خاوند پر خاوند کی تصدیق کی جائے گی۔ (ت)
خانیہ وبزازیہ وغیرہا میں ہے :
قال لھا لاتخرجی من الدار الاباذنی فانی حلفت یا لطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۔ اھ۔
خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیر باہر مت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو بیوی نکل گئی اس صورت میں طلاق نہ ہوگی کیونکہ قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں ہے جبکہ قسم میں کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے لہذاخاوند کی بات معتبر ہوگی اھ(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
سئل شیخ الاسلام الفقیۃ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدین ان اطلقك فقالت نعم فقال اگر تو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیاگیا کہ ایك نشہ والے نے اپنی بیوی کو کہا “ کیا تو چاہتی ہے کہ میں کھے طلاق دوں “ تو بیوی نے کہا ہاں توخاوند نے کہا “ اگر تومیری بیوی ہے ایك طلاق دوطلاق تین طلاق اٹھ جا نکل میرے پاس سے “ ۔ اور پھر کہتا ہےکہ میں نے طلاق مراد نہیں لی تواس کی بات معتبر ہوگی۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۷۰
فتاوی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفاریۃ کتاب الایمان ۱ / ۳۸۳
فتاوی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفاریۃ کتاب الایمان ۱ / ۳۸۳
یونہی اس کے پہلے لفظ کہ “ تو عمرو یا بکر سے نکاح کرلے یا اس کا نکاح ولید سے کرادو “ محتاج نیت ہیں اگر بہ نیت طلاق کہے ایك طلاق بائن ہوئی اور نیت طلاق نہ تھی تو کچھ نہیں اور اس بارے میں کہ ان الفاظ سے اس نے طلاق کی نیت نہ کی تھی اس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر قسم کھالے گا حکم طلاق نہ ہوگا پھر واقع میں نیت کی تھی اور جھوٹی قسم کھالی تو وبال اس پر ہے۔ ردالمحتار میں ہے ۔
فی شر ح الجامع الصغیر لقاضی خان لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنك وفی الذخیرۃ اذھبی وتزوجی لایقع الابالنیۃ وان نوی فھی واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلاث فثلاث
قاضی خان کی شرح وجامع صغیر میں ہے : خاوند نے بیوی وکہا “ جاؤ نکاح کرو “ اور پھر کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کی بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر تجھے ممکن ہوتو نکاح کرو۔ اور ذخیرہ میں ہے : اگر خاوند نے کہا “ جاؤ نکاح کرو “ تو نیت ایك بائنہ طلاق ہوگی اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں واقع ہوگی۔ (ت)
عرض یہاں مدار اس حلف پر ہے اگر ان سب الفاظ کی نسبت قسم کھالے سے انکار کرے تو ایك طلاق بائن پڑے گی کہ برضائے زوجہ عدت میں خواہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت بے حلالہ اس سے نکاح نہ کر سکے گا یہ سب اس صورت میں ہے کہ زید کا مراد اس حد کو نہ پہنچا ہو کہ وہ فاسد العقل مختل الحواس ہوگیا ہو کبھی غافلوں کی سی بات کرے کبھی خاصے پاگلوں کی سی اور اگر یہ حالت ہے(اور اﷲخوب جانتا ہے)تو اصلا طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس نے وہ سب الفاظ بہ نیت طلاق کہے ہوں ۔ درمختار میں ہے :
لایقع طلاق المجنون والصبی والمعتوہ الخ ملخصا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مجنون بچے اور ذہنی مریض کی طلاق واقع نہ ہوگی الخ ملخصا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
فی شر ح الجامع الصغیر لقاضی خان لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنك وفی الذخیرۃ اذھبی وتزوجی لایقع الابالنیۃ وان نوی فھی واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلاث فثلاث
قاضی خان کی شرح وجامع صغیر میں ہے : خاوند نے بیوی وکہا “ جاؤ نکاح کرو “ اور پھر کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کی بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر تجھے ممکن ہوتو نکاح کرو۔ اور ذخیرہ میں ہے : اگر خاوند نے کہا “ جاؤ نکاح کرو “ تو نیت ایك بائنہ طلاق ہوگی اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں واقع ہوگی۔ (ت)
عرض یہاں مدار اس حلف پر ہے اگر ان سب الفاظ کی نسبت قسم کھالے سے انکار کرے تو ایك طلاق بائن پڑے گی کہ برضائے زوجہ عدت میں خواہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت بے حلالہ اس سے نکاح نہ کر سکے گا یہ سب اس صورت میں ہے کہ زید کا مراد اس حد کو نہ پہنچا ہو کہ وہ فاسد العقل مختل الحواس ہوگیا ہو کبھی غافلوں کی سی بات کرے کبھی خاصے پاگلوں کی سی اور اگر یہ حالت ہے(اور اﷲخوب جانتا ہے)تو اصلا طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس نے وہ سب الفاظ بہ نیت طلاق کہے ہوں ۔ درمختار میں ہے :
لایقع طلاق المجنون والصبی والمعتوہ الخ ملخصا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مجنون بچے اور ذہنی مریض کی طلاق واقع نہ ہوگی الخ ملخصا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار ۤباب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
مسئلہ ۱۳۰ : ازمارہرہ شریف ضلع ایٹہ محلہ کمبوہ مرسلہ چودھری عبدالراحمن صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایك عورت اپنے خاوند سے بہت تنگ ہو اس کا خاوند اسے ستاتا ہو تو وہ لاچار ہوکر جواب طلب کرے تو وہ جواب بھی ضد سے نہ دے اور حقوق بھی ادا نہ کرے تو پھر وہ غصہ میں جواب یعنی طلاق کا ارادہ کرے اور تنہائی میں جواب دے عورت کے سامنے تو طلاق مانی جائے گی یا نہیں دوسرے یہ کہ وہ عورت مجبور ہوکر کسی مرد سے عقد کرلے اور اس پانچ ماہ تك میاں بی بی کا واسطہ رہے اور ایك اس مرد سے لڑکا پیدا ہوگیا پھر اس پہلے خاوند نے دعوی کیا کہ میں نے طلاق چار کے سامنے تو نہیں دی غرض یہ کہ وہ واپسی لینا چاہتا ہے تو وہ عورت شرعا پہلے خاوند پر جائز رہی یا نہیں
الجواب :
بیان سوال سے ظاہریہ ہے کہ شوہر اول دینے کامقر ہے مگر عذر صرف یہ کرتا ہے کہ طلاق خفیہ دی چار اشخاص کے سامنے نہ د لہذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہونا سمجھتا ہے اگر ایسا ہے تو اس کا دعوی باطل ہے طلاق بالکل تنہائی میں دے جب بھی ہوجاتی ہے اگر عورت نے عدت گزرنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح ہوگا اور پہلے شوہر کو اس پر کچھ دعوی نہیں پہنچتا ہاں اگر شوہر سرے سے طلاق دینے سے منکر ہواور عورت کانکاح ثانی کرنا اور پانچ ماہ دوسرے کے پاس رہنا اور اس لڑکا پیداہونا ان باتوں کی شوہر اول کو خبر نہ ہو کہ کسی دوسرے شہر میں ہوئی ہوں بعد اطلاع اس نے دعوی کیا تو ضرور اس کا دعوی قابل سماعت ہےاور عورت کا بیان کہ اس نے طلاق دے دی تھی بے گواہان شرعی ہرگز مسموع نہیں عورت شوہر اول کو دلادی جائے گی پھر اگر واقع میں اس نے طلاق دے دی تھی اور جھوٹ انکار کیا تو عورت پر فرض ہے کہ جس طرح جانے اسے سے دور بھاگے یا مہر وغیرہ دے کر طلاق لے اور اگر کچھ نہ کرسکے وبال اس پر ہے اور عورت جب تك راضی نہ ہو مجبور ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱ : از پیلی بھیت محلہ پکہریا مسئولہ عبدالرحمن گھڑی ساز ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے تنہا ایك گوشہ بیٹھ کر جس کو کسی نے نہیں سنا اپنے دل کے اندر اپنی بیوی کو طلاق دی اس کے عرصہ پانچ ماہ کا گزرا اب وہ شخص رجوع کرنا چاہتا ہے اس کو کس طرح کرسکتا ہےبینواتوجروا
الجواب :
اگر فقط دل میں طلاق دی تھی یوں کہ زبان سے کچھ کہا ہی نہ تھا یا کہا مگر فقط زبان کو حرکت تھی اتنی آواز نہ تھی کہ اپنے کان تك آنے کے قابل ہو جب تو طلاق ہوئی ہی نہیں اور اگر ایسی آواز سے کہا کہ اپنے کان تك
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایك عورت اپنے خاوند سے بہت تنگ ہو اس کا خاوند اسے ستاتا ہو تو وہ لاچار ہوکر جواب طلب کرے تو وہ جواب بھی ضد سے نہ دے اور حقوق بھی ادا نہ کرے تو پھر وہ غصہ میں جواب یعنی طلاق کا ارادہ کرے اور تنہائی میں جواب دے عورت کے سامنے تو طلاق مانی جائے گی یا نہیں دوسرے یہ کہ وہ عورت مجبور ہوکر کسی مرد سے عقد کرلے اور اس پانچ ماہ تك میاں بی بی کا واسطہ رہے اور ایك اس مرد سے لڑکا پیدا ہوگیا پھر اس پہلے خاوند نے دعوی کیا کہ میں نے طلاق چار کے سامنے تو نہیں دی غرض یہ کہ وہ واپسی لینا چاہتا ہے تو وہ عورت شرعا پہلے خاوند پر جائز رہی یا نہیں
الجواب :
بیان سوال سے ظاہریہ ہے کہ شوہر اول دینے کامقر ہے مگر عذر صرف یہ کرتا ہے کہ طلاق خفیہ دی چار اشخاص کے سامنے نہ د لہذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہونا سمجھتا ہے اگر ایسا ہے تو اس کا دعوی باطل ہے طلاق بالکل تنہائی میں دے جب بھی ہوجاتی ہے اگر عورت نے عدت گزرنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح ہوگا اور پہلے شوہر کو اس پر کچھ دعوی نہیں پہنچتا ہاں اگر شوہر سرے سے طلاق دینے سے منکر ہواور عورت کانکاح ثانی کرنا اور پانچ ماہ دوسرے کے پاس رہنا اور اس لڑکا پیداہونا ان باتوں کی شوہر اول کو خبر نہ ہو کہ کسی دوسرے شہر میں ہوئی ہوں بعد اطلاع اس نے دعوی کیا تو ضرور اس کا دعوی قابل سماعت ہےاور عورت کا بیان کہ اس نے طلاق دے دی تھی بے گواہان شرعی ہرگز مسموع نہیں عورت شوہر اول کو دلادی جائے گی پھر اگر واقع میں اس نے طلاق دے دی تھی اور جھوٹ انکار کیا تو عورت پر فرض ہے کہ جس طرح جانے اسے سے دور بھاگے یا مہر وغیرہ دے کر طلاق لے اور اگر کچھ نہ کرسکے وبال اس پر ہے اور عورت جب تك راضی نہ ہو مجبور ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱ : از پیلی بھیت محلہ پکہریا مسئولہ عبدالرحمن گھڑی ساز ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے تنہا ایك گوشہ بیٹھ کر جس کو کسی نے نہیں سنا اپنے دل کے اندر اپنی بیوی کو طلاق دی اس کے عرصہ پانچ ماہ کا گزرا اب وہ شخص رجوع کرنا چاہتا ہے اس کو کس طرح کرسکتا ہےبینواتوجروا
الجواب :
اگر فقط دل میں طلاق دی تھی یوں کہ زبان سے کچھ کہا ہی نہ تھا یا کہا مگر فقط زبان کو حرکت تھی اتنی آواز نہ تھی کہ اپنے کان تك آنے کے قابل ہو جب تو طلاق ہوئی ہی نہیں اور اگر ایسی آواز سے کہا کہ اپنے کان تك
آنے کے قابل تھی اگر چہ مینہ یا ہوا یا کسی غل شور کے سبب اپنے کان تك نہ پہنچی تو طلاق ہوگئی اگر رجعی تھی تو عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے اور بائن تھی تو برضائے زوجہ اس سے نکاح کرسکتا ہے اور مغلظ تھی تو بے حلال نکاح نہیں ہوسکتا یہ ان الفاظ پر موقوف ہے جس اس نے کہا اور جتنی باز کہا واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۲ : ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ تاج الدین خاں صاحب ۱۵ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسمی زید نے غصہ میں آکر پانی منکوحہ مسماۃ ہندہ کو ایك شخص مسلمان وایك عورت قوم ہنود کے روبرو طلاق دی۔ اور یہ بھی ہے شخص مسلمان کے روبرو دومرتبہ لفظ طلاق صاف طور سے کہا کہ وہ سننے میں نہیں آیا وہ عورت اہل ہنود جو وہاں موجود تھی بیان کرتی ہے کہ میں نے سنا یہ لفظ طلاق نہیں کہا تھا زید ایك شخص بالکل جاہل اور امی ہے اس وقت زید وہندہ دونوں راضی ہیں نکاح کس طرح ہو
الجواب :
اﷲعالم الغیب والشہادۃ ہے وہ ہر ایك کے دل کی جانتا ہے اﷲسے ڈرے اگر واقع میں اس نے تیسری بار بھی طلاق دی تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور اگر وہ منکر ہے اور سوا اس کافرہ عورت کے اور کوئی تیسری طلاق کا بیان نہیں کرتا تو کافرہ کی بات اصلا معتبر نہیں جب تك عدت میں ہے وہ عورت کو رجعت کرسکتا ہے یعنی اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھرلیا وہ بدستور اس کے زوجہ رہے گی اگر پہلے کبھی ایك طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ ایك وہ اور دو یہ مل کر تین ہوگئیں عورت نکاح سے نکل گئی حلالہ کی ضرورت ہوگی یوں ہی اگر پہلے طلاق نہ دی تھی یہ دو دی ہیں تو آئندہ جب کبھی ایك طلاق دے گا عورت بے حلالہ کے نکاح میں نہ آسکے گی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳ : از را مپور مسئولہ محمد سعید
زید نے بحالت غضب اپنی زوجہ ہندہ کو یہ کہا کہ تجھ کو میں نےطلاق دیا اب اس صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں
الجواب :
ایك طلاق رجعی ہوئی غضب مانع طلاق نہیں بلکہ غالبا طلاق بحالت غضب ہی ہوتی ہے والدھش شیئ اخربینہ فی الخیریۃ وردالمحتار وتحقیقہ فی فتاونا(مدہوش اور چیز ہے اس کو خیریہ اور ردالمحتار
مسئلہ ۱۳۲ : ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ تاج الدین خاں صاحب ۱۵ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسمی زید نے غصہ میں آکر پانی منکوحہ مسماۃ ہندہ کو ایك شخص مسلمان وایك عورت قوم ہنود کے روبرو طلاق دی۔ اور یہ بھی ہے شخص مسلمان کے روبرو دومرتبہ لفظ طلاق صاف طور سے کہا کہ وہ سننے میں نہیں آیا وہ عورت اہل ہنود جو وہاں موجود تھی بیان کرتی ہے کہ میں نے سنا یہ لفظ طلاق نہیں کہا تھا زید ایك شخص بالکل جاہل اور امی ہے اس وقت زید وہندہ دونوں راضی ہیں نکاح کس طرح ہو
الجواب :
اﷲعالم الغیب والشہادۃ ہے وہ ہر ایك کے دل کی جانتا ہے اﷲسے ڈرے اگر واقع میں اس نے تیسری بار بھی طلاق دی تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور اگر وہ منکر ہے اور سوا اس کافرہ عورت کے اور کوئی تیسری طلاق کا بیان نہیں کرتا تو کافرہ کی بات اصلا معتبر نہیں جب تك عدت میں ہے وہ عورت کو رجعت کرسکتا ہے یعنی اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھرلیا وہ بدستور اس کے زوجہ رہے گی اگر پہلے کبھی ایك طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ ایك وہ اور دو یہ مل کر تین ہوگئیں عورت نکاح سے نکل گئی حلالہ کی ضرورت ہوگی یوں ہی اگر پہلے طلاق نہ دی تھی یہ دو دی ہیں تو آئندہ جب کبھی ایك طلاق دے گا عورت بے حلالہ کے نکاح میں نہ آسکے گی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳ : از را مپور مسئولہ محمد سعید
زید نے بحالت غضب اپنی زوجہ ہندہ کو یہ کہا کہ تجھ کو میں نےطلاق دیا اب اس صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں
الجواب :
ایك طلاق رجعی ہوئی غضب مانع طلاق نہیں بلکہ غالبا طلاق بحالت غضب ہی ہوتی ہے والدھش شیئ اخربینہ فی الخیریۃ وردالمحتار وتحقیقہ فی فتاونا(مدہوش اور چیز ہے اس کو خیریہ اور ردالمحتار
میں بیان کیا ہے اور اس کی تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۴ : کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ مدخولہ سے د وبارہ کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی آیا یہ کون سی طلاق واقع ہوئی اور اس کا کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں دو طلاقیں رجعی واقع ہوئیں حکم ان کا یہ ہے کہ مابین عدت کے رجعت کا اختیار ہے اور بعد انتضائے عدت اگر عورت چاہے اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے اور ایام عدت حرہ موطوہ میں تین حیض کامل ہیں اور اگر بوجہ صغر یا کبر کے حیض نہ آتا ہوتو تین مہینہ اورلونڈی میں اگر حائضہ ہوتو دوحیض ورنہ ڈیڑھ مہینہ اور طریق رجعت یہ ہے کہ مطلقہ سے ایام عدت میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھے پھیر لیا یاردکیا یا روك لیا یا امثال اس کے کہے یا مابین عدت کس کرے یا بوسہ یا جماع کرے۔ بہتر طریق او ل ہے
فی تنویرالابصار وھی فی حرۃ تحیض بعد الدخول ثلث حیض کو امل وفی من لم تحض بصغر اوکبر ثلثۃ اشھر وفی امۃ تحیض حیضتان وفی امۃ لم تحض نصف الحرۃ ملخصا وفیہ ھی استدامۃ الملك القائم فی العدۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تنویرالابصار میں ہے وہ عدت وطی شدہ حیض والی کے لئے تین حیض کامل اور جس کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ان کے لئے تین ماہ اور لونڈی حیض والی کے لئے دو حیض اور غیر حیض والی کےلئے ایسی آزاد عورت کی عدت کا نصف یعنی ڈیڑ ھ ماہ۔ اور اسی میں ہے : رجعت (رجوع کرنا)یہ عدت کے درمیان موجود ملکیت کوباقی قائم رکھنا ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۵ : ۲۳جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
زید نے غصہ میں اپنی عورت کو طلاق دی اس وقت ایك آدمی اور موجود تھا بعدہ جو شخص آیا اور پوچھا تو کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق دے دی ڈیڑہ ماہ تك علیحدہ رہے اس درمیان میں جس آدمی نے پوچھا تم کیسے علیحدہ ہوتو بار ہا یہی کہا کہ طلاق دے دی تو طلاق ہوئی یا نہیں اگر ہوگئی تو نکاح کس طور پرہونا چاہئے
الجواب :
اگر اس وقت ایك بار طلاق دی تھی اور باقی بار اوروں کے پوچھنے پرکہا اور وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ
مسئلہ ۱۳۴ : کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ مدخولہ سے د وبارہ کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی آیا یہ کون سی طلاق واقع ہوئی اور اس کا کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں دو طلاقیں رجعی واقع ہوئیں حکم ان کا یہ ہے کہ مابین عدت کے رجعت کا اختیار ہے اور بعد انتضائے عدت اگر عورت چاہے اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے اور ایام عدت حرہ موطوہ میں تین حیض کامل ہیں اور اگر بوجہ صغر یا کبر کے حیض نہ آتا ہوتو تین مہینہ اورلونڈی میں اگر حائضہ ہوتو دوحیض ورنہ ڈیڑھ مہینہ اور طریق رجعت یہ ہے کہ مطلقہ سے ایام عدت میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھے پھیر لیا یاردکیا یا روك لیا یا امثال اس کے کہے یا مابین عدت کس کرے یا بوسہ یا جماع کرے۔ بہتر طریق او ل ہے
فی تنویرالابصار وھی فی حرۃ تحیض بعد الدخول ثلث حیض کو امل وفی من لم تحض بصغر اوکبر ثلثۃ اشھر وفی امۃ تحیض حیضتان وفی امۃ لم تحض نصف الحرۃ ملخصا وفیہ ھی استدامۃ الملك القائم فی العدۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تنویرالابصار میں ہے وہ عدت وطی شدہ حیض والی کے لئے تین حیض کامل اور جس کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ان کے لئے تین ماہ اور لونڈی حیض والی کے لئے دو حیض اور غیر حیض والی کےلئے ایسی آزاد عورت کی عدت کا نصف یعنی ڈیڑ ھ ماہ۔ اور اسی میں ہے : رجعت (رجوع کرنا)یہ عدت کے درمیان موجود ملکیت کوباقی قائم رکھنا ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۵ : ۲۳جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
زید نے غصہ میں اپنی عورت کو طلاق دی اس وقت ایك آدمی اور موجود تھا بعدہ جو شخص آیا اور پوچھا تو کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق دے دی ڈیڑہ ماہ تك علیحدہ رہے اس درمیان میں جس آدمی نے پوچھا تم کیسے علیحدہ ہوتو بار ہا یہی کہا کہ طلاق دے دی تو طلاق ہوئی یا نہیں اگر ہوگئی تو نکاح کس طور پرہونا چاہئے
الجواب :
اگر اس وقت ایك بار طلاق دی تھی اور باقی بار اوروں کے پوچھنے پرکہا اور وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶۔ ۲۵۵
میں نے ان دفعوں میں طلاق دینے کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ اس کے پوچھنے پر خبر دی تھی توصرف ایك طلاق ہوئی اگر رجعی تھی رجعت کرسکتا ہے جب تك عدت نہ گزرے ورنہ دوبارہ اس سے نکاح کرلے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶ : از شہر مسئولہ علی محمد برادر ہندہ جس کابیان ہے ۲۷شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرا شوہر تھا وہ اورمیں اور میرے ماں بھائی ایك ہی مکان رہتے تھے اور روٹی کپڑے پر لڑائی ہوتی تھی تو وہ مجھ کو مارتا اور برا بھلاکہتا تھا تومیں ماں نے یہ کہا کہ اب تیرا کیا کام ہے تونے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اب یہاں مت ا۔
الجواب :
اگر یہ بیان سچ ہے تو ایك طلاق ضرور ہوگئی لیکن عورت ابھی نکاح سے نہ نکلی ہاں اگر ہاں پہلے لفظ سے بھی کہ “ تم میرے کام کی نہ رہیں ' ' اس نے طلاق کی نیت کی ہوتو دو۲ طلاقیں ہوگئیں اور عورت نکاح سے نکل گئی رہا یہ کہ اس نے اس لفظ سے بھی نیت کی تھی یا نہیں یہ اس کے بیان پر ہے اس سے قسم لی جائے نہ ہوں گی ایك ہی رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر وہ اپنے نکاح میں پھیرلے عورت بدستور اس کی زوجہ رہے گی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷ : از ستار گنج ۳جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید سے نکاح کیا مگر صحبت نہ ہوئی صبح کو بوجہ اغوائے چند اشخاص ہندہ نے مہر معاف کیا اور زید نے طلاق دے دی اس صورت میں اسی روز شام کو نکاح ہندہ عمرو کے ساتھ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر زوج وزوجہ تنہائی کے مکان میں یکجا ہولئے ہوں اور ان میں کوئی مانع حقیقی ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے وطی اصلا نہ ہوسکے اس کے بعد زید نے طلاق د ی تو بیشك ہندہ پر عدت واجب ہے اگرچہ مبا شرت نہ ہوئی
فان الخلوۃالصحیحۃ فی النکاح الصحیح مثل الوطی فی ایجاب العدۃ
عدت کو واجب کرنے میں صحیح نکاح کے بعد خلوت صحیحہ وطی کے حکم میں ہے اور یہاں خلوت کی صحت سے
مسئلہ ۱۳۶ : از شہر مسئولہ علی محمد برادر ہندہ جس کابیان ہے ۲۷شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرا شوہر تھا وہ اورمیں اور میرے ماں بھائی ایك ہی مکان رہتے تھے اور روٹی کپڑے پر لڑائی ہوتی تھی تو وہ مجھ کو مارتا اور برا بھلاکہتا تھا تومیں ماں نے یہ کہا کہ اب تیرا کیا کام ہے تونے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اب یہاں مت ا۔
الجواب :
اگر یہ بیان سچ ہے تو ایك طلاق ضرور ہوگئی لیکن عورت ابھی نکاح سے نہ نکلی ہاں اگر ہاں پہلے لفظ سے بھی کہ “ تم میرے کام کی نہ رہیں ' ' اس نے طلاق کی نیت کی ہوتو دو۲ طلاقیں ہوگئیں اور عورت نکاح سے نکل گئی رہا یہ کہ اس نے اس لفظ سے بھی نیت کی تھی یا نہیں یہ اس کے بیان پر ہے اس سے قسم لی جائے نہ ہوں گی ایك ہی رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر وہ اپنے نکاح میں پھیرلے عورت بدستور اس کی زوجہ رہے گی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷ : از ستار گنج ۳جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید سے نکاح کیا مگر صحبت نہ ہوئی صبح کو بوجہ اغوائے چند اشخاص ہندہ نے مہر معاف کیا اور زید نے طلاق دے دی اس صورت میں اسی روز شام کو نکاح ہندہ عمرو کے ساتھ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر زوج وزوجہ تنہائی کے مکان میں یکجا ہولئے ہوں اور ان میں کوئی مانع حقیقی ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے وطی اصلا نہ ہوسکے اس کے بعد زید نے طلاق د ی تو بیشك ہندہ پر عدت واجب ہے اگرچہ مبا شرت نہ ہوئی
فان الخلوۃالصحیحۃ فی النکاح الصحیح مثل الوطی فی ایجاب العدۃ
عدت کو واجب کرنے میں صحیح نکاح کے بعد خلوت صحیحہ وطی کے حکم میں ہے اور یہاں خلوت کی صحت سے
وصحۃ الخلوۃ ھھنا العدم المانع الحقیقی وان جد مانع شرعی کالصوم۔
مراد جماع سے مانع کا موجود نہ ہونا ہے اگرچہ شرعی مانع مثلا روزہ پایا جائے تو خلوت صحیحہ ہوجائیگی(ت)
شرح نقایہ میں ہے :
العدۃ للطلاق بعدالدخول او الخلوۃ الصحیحۃ فانہ طلقھا قبل الدخول اوبعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی حقیقۃ لم تجب العدۃ ولو لامر شرعی کصوم الفرض تجب کما فی قاضیخان وذکر فی المحیط انہ لاعدۃ بخلوۃ الرتقا اھ ملخصا۔
طلاق بعد دخول یا خلوت صحیحہ ہوتو عدت ہے کیونکہ اگر دخول سے قبل یا خلوت فاسدہ کے بعد طلاق ہو تو عدت واجب نہ ہوگی خلوت کا فساد یہ کہ جماع سے کوئی حقیقی مانع موجود ہو اگر شرعی مانع مثلا فرضی روزہ ہوتو وہ مانع موجود ہو اگر شرعی مانع مثلا فرضی روزہ ہووتو وہ مانع نہیں ہے اور اس پر عدت لازم ہوگی جیسا کہ قاضی خاں میں ہے اور محیط میں ذکر کیا کہ شرمگاہ میں ہڈی والی عورت سے خلوت پر عدت واجب نہ ہوگی اھ ملخصا (ت)
پس اگر عدت کے دوران کے بعد طلاق تین حیض کامل کا گزرنا ہے دوسرے سے نکاح کرے گی ہرگز صحیح نہ ہوگا اور حرام محض رہے گا۔ عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز للرجل ان یتزوج زوجۃ غیرہ وکذا المعتدہ کذافی السراج الوھاج سواء کانت العدۃ عن طلاق اووفات او دخول فی نکاح فاسد او شبھۃ نکاح کذافی البدائع ۔
کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی منکوحہ یا دوسرے کی عدت والی سے نکاح کرے۔ السراج الوہاج میں ایسے ہی ہے عدت طلاق ہویا عدت وفات ہو یا نکاح فاسد میں دخول یا شبہہ نکاح میں دخول کی وجہ سے ہو(سب میں دوسرے کا نکاح حرام ہے)بدائع میں یونہی ہے۔ (ت)
ہاں اگرخلوت بھی نہ ہوئی اور ویسے ہی طلاق دے دی تو ہندہ پر عدت نہیں اسے اختیار ہے کہ اسی وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ درمختار میں ہے :
سبب وجوبھا(یعنی العدۃ)عقد النکاح
وجوب عدت کا سبب وہ نکاح ہے جس میں بیوی
مراد جماع سے مانع کا موجود نہ ہونا ہے اگرچہ شرعی مانع مثلا روزہ پایا جائے تو خلوت صحیحہ ہوجائیگی(ت)
شرح نقایہ میں ہے :
العدۃ للطلاق بعدالدخول او الخلوۃ الصحیحۃ فانہ طلقھا قبل الدخول اوبعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی حقیقۃ لم تجب العدۃ ولو لامر شرعی کصوم الفرض تجب کما فی قاضیخان وذکر فی المحیط انہ لاعدۃ بخلوۃ الرتقا اھ ملخصا۔
طلاق بعد دخول یا خلوت صحیحہ ہوتو عدت ہے کیونکہ اگر دخول سے قبل یا خلوت فاسدہ کے بعد طلاق ہو تو عدت واجب نہ ہوگی خلوت کا فساد یہ کہ جماع سے کوئی حقیقی مانع موجود ہو اگر شرعی مانع مثلا فرضی روزہ ہوتو وہ مانع موجود ہو اگر شرعی مانع مثلا فرضی روزہ ہووتو وہ مانع نہیں ہے اور اس پر عدت لازم ہوگی جیسا کہ قاضی خاں میں ہے اور محیط میں ذکر کیا کہ شرمگاہ میں ہڈی والی عورت سے خلوت پر عدت واجب نہ ہوگی اھ ملخصا (ت)
پس اگر عدت کے دوران کے بعد طلاق تین حیض کامل کا گزرنا ہے دوسرے سے نکاح کرے گی ہرگز صحیح نہ ہوگا اور حرام محض رہے گا۔ عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز للرجل ان یتزوج زوجۃ غیرہ وکذا المعتدہ کذافی السراج الوھاج سواء کانت العدۃ عن طلاق اووفات او دخول فی نکاح فاسد او شبھۃ نکاح کذافی البدائع ۔
کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی منکوحہ یا دوسرے کی عدت والی سے نکاح کرے۔ السراج الوہاج میں ایسے ہی ہے عدت طلاق ہویا عدت وفات ہو یا نکاح فاسد میں دخول یا شبہہ نکاح میں دخول کی وجہ سے ہو(سب میں دوسرے کا نکاح حرام ہے)بدائع میں یونہی ہے۔ (ت)
ہاں اگرخلوت بھی نہ ہوئی اور ویسے ہی طلاق دے دی تو ہندہ پر عدت نہیں اسے اختیار ہے کہ اسی وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ درمختار میں ہے :
سبب وجوبھا(یعنی العدۃ)عقد النکاح
وجوب عدت کا سبب وہ نکاح ہے جس میں بیوی
حوالہ / References
جامع الرموز فصل فی العدۃ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ / ۵۷۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح القسم السادس المحرمات التی یتعلق بہا حق الغیر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح القسم السادس المحرمات التی یتعلق بہا حق الغیر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۰
المتأکد بالتسلیم وما جری مجراہ من موت او خلوت الخ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
سپرد کردی گئی ہو یا وہ جو اس کے قائم مقام ہو مثلا موت یا خلوت ہو الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۸ : از کیمپ میرٹھ لال کورتی بازار کوٹھی خان بہادر صاحب مرسلہ شیخ میر محمد صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ
زید اور عمرو(برادر منکوحہ زید)کی ایك روز کسی بات پر باہم سخت حجت ہوئی اور عمرو نے زید اپنے بہنوئی س کہا کہ مہربانی کرکے اس طرف کاارادہ نہ کیجئے جس کا مقصد یہ تھا کہ میرے(عمروکے)مکان پر نہ آئے گا۔ اس کے جواب میں زید نے غصہ کی حالت میں کہا میں اس کو طلاق دے چکا یا یہ کہا میں تو اس کوطلاق دے چکا اسی طرح تین چار مرتبہ یہی الفاظ کہے اس سے قبل اپنی زوجہ سے لفظ طلاق کبھی نہ کہے تھے کیا اس صورت میں زید کی منکوحہ پر طلاق ہوگئی یا نہیں
الجواب :
عمرو کی مراد اس طرف سے کچھ بھی سہی جبکہ زید اپنی زوجہ کی نسبت سمجھا اور اسے تین بار کہا میں اس کو یا میں تو اس کو طلاق دے چکا تین طلاقیں ہوگئیں زید گنہگار ہوا اور عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔
قال اﷲتعالی فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره
اﷲتعالی نے فرمایا : تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کے لئے دوبارہ حلال نہیں ہوسکتی تا وقتیکہ وہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ (ت)
اور غصہ کا عذر بیکار ہے طلاق اکثر غصہ ہی میں ہوتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۳۹ : از پالی مارواڑ متصل دروازہ جھالر باڑ مسئولہ بنی بخش صاحب ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی رمضانی ولد گگا نداف نے اپنی عورت جنابنت محمد بخش قوم نداف ساکنہ پالی کو۲۳ربیع الاول ۱۳۳۹ھ کوحسب ذیل تین طلاقیں دیں اور نکال دیا' پانچ روز بعد مولوی سید احمد علی صاحب کے پاس جاکر اپنا حال کہا انہوں نے جواب دیا میں شام کو فریقین کے بیان سنوں گا بعد عشاء آئے اور فریقین اور گواہوں کے بیان لے کر طلاق کا زبانی فیصلہ دے کر
سپرد کردی گئی ہو یا وہ جو اس کے قائم مقام ہو مثلا موت یا خلوت ہو الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۸ : از کیمپ میرٹھ لال کورتی بازار کوٹھی خان بہادر صاحب مرسلہ شیخ میر محمد صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ
زید اور عمرو(برادر منکوحہ زید)کی ایك روز کسی بات پر باہم سخت حجت ہوئی اور عمرو نے زید اپنے بہنوئی س کہا کہ مہربانی کرکے اس طرف کاارادہ نہ کیجئے جس کا مقصد یہ تھا کہ میرے(عمروکے)مکان پر نہ آئے گا۔ اس کے جواب میں زید نے غصہ کی حالت میں کہا میں اس کو طلاق دے چکا یا یہ کہا میں تو اس کوطلاق دے چکا اسی طرح تین چار مرتبہ یہی الفاظ کہے اس سے قبل اپنی زوجہ سے لفظ طلاق کبھی نہ کہے تھے کیا اس صورت میں زید کی منکوحہ پر طلاق ہوگئی یا نہیں
الجواب :
عمرو کی مراد اس طرف سے کچھ بھی سہی جبکہ زید اپنی زوجہ کی نسبت سمجھا اور اسے تین بار کہا میں اس کو یا میں تو اس کو طلاق دے چکا تین طلاقیں ہوگئیں زید گنہگار ہوا اور عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔
قال اﷲتعالی فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره
اﷲتعالی نے فرمایا : تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کے لئے دوبارہ حلال نہیں ہوسکتی تا وقتیکہ وہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ (ت)
اور غصہ کا عذر بیکار ہے طلاق اکثر غصہ ہی میں ہوتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۳۹ : از پالی مارواڑ متصل دروازہ جھالر باڑ مسئولہ بنی بخش صاحب ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی رمضانی ولد گگا نداف نے اپنی عورت جنابنت محمد بخش قوم نداف ساکنہ پالی کو۲۳ربیع الاول ۱۳۳۹ھ کوحسب ذیل تین طلاقیں دیں اور نکال دیا' پانچ روز بعد مولوی سید احمد علی صاحب کے پاس جاکر اپنا حال کہا انہوں نے جواب دیا میں شام کو فریقین کے بیان سنوں گا بعد عشاء آئے اور فریقین اور گواہوں کے بیان لے کر طلاق کا زبانی فیصلہ دے کر
بیان میں چلے گئے وہ بیانات درج ذیل ہیں :
بیان گواہ اول مسمی رحمان علی شاہ درویش : اس طلاق سے میں واقف ہوں اس نے اپنی عورت کو طلاق دی اور یہ لڑکی اپنے باپ کے مکان چوترے پر بیٹھی تھی تب میں نے اس سے کہا کہ آبیٹی! میں تجھ کو تیرے مکان پرلے چلوں تب وہ میرے ساتھ ہولی اس وقت رمضانی نے ایك پتھر پھینکا اور کہا کہ شاہ صاحب اس کو کہاں لے جاتے ہو میں اس لڑکی کو باپ کے گھر جانے کو کہہ دیا اور میں نے اپنی جگہ جابیٹھا تب رمضانی مذکور سے کہا گیا کہ بیأان سچ ہے یا نہیں کہاہاں سچ ہے۔ بیان گواہ ثانی مسمی بنی بخش ولد حسن جی نداف : میں ایمان سے بیان کرتا ہوں کہ یہ(رمضانی)واہی تباہی بکتا تھا میں نے کہا کہ اگر اس کورکھنا منظور نہ ہوتو اس کو چھوڑدے یعنی طلاق دے دے تب اس نے کہا کہ میں اس کو کل طلاق دے چکاہوں اور باقی رہا مہر چار روپیہ تو اس کے باپ سے میں مانگتا ہوں باقی پانے برتن بیچ کردے دونگا۔ رمضانی صاحب سے کہا گیا یہ سچ بیان کرتا ہے اس نے کہا ہاں ۔ پھر ایك قرآن مجید منگوا کر اس سے کا گیا اگر تونے طلاق نہیں دی ہے تو قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھالے جواب دیا : میں قسم نہیں کھاتا اس عورت کو قرآن دے دو اگر قسم کھالے گی سچی ہوگی شاید وہ بھی طلاق چاہتی ہو اور چھٹکارے کے واسطے قسم کھالے تو پھر کوئی علاج نہ ہوگا اس نے پھر یہی جواب دیا اگر یہ قسم کھالے تو یہ سچی ہے تب لڑکی سے کہا گیا تجھ کو اگر اس نے طلاق دے دی ہو تو قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھالے اس نے دونوں ہاتھ قسم کیلئے قرآن شریف لینے کو بڑھائے لیکن اس خیال سے کہ شاید حیض سے ہو قرآن اس کے ہاتھ میں نہ دیا اور کہا تو خدا کی قسم کھاکر بیان کر کہ کس طرح طلاق دی ہے تب اس نے قسمیہ بیان کیا کہ ہمارے باربار لڑائی رہتی ہے اس رات کو بھی ہوئی اوراس نے کہا کہ میں تجھ کو صبح ٹھیك کروں گا جب صبح میں اٹھی تو اس نے کہا کہ آٹا ہے یا نہیں تومیں نے کہا کہ آٹا تھوڑاہے زیادہ نہیں تب اس نے کہا بندولے کے واسطے کہا تھا تونے کیوں نہیں پیسا اب میں نے کہا کہ اب پیسنے لانی ہوں تب اس نے کہا اب کوئی ضرورت نہیں تو روٹی بیکر تب اس کے کہنے سے روٹی بیکرنے لگ گئی تو اس نے کہ تجھ طلاق ہے تو چلی جا تب اٹھ کر اپنے باپ کے گھر چلی آئی تو تھوڑی دیر بعد چچا مجھ کو بلواکر لے گئے تو ہم دونوں کو سمجھا کر بٹھا آئے تب میں نے روٹی پکائی تو اس نے مجھے کہا کہ تو کیوں آئی تجھ کو طلاق ہے توچلی جا تو پھر میں وہاں سے چلی آئی باقی شاہ صاحب گواہ اول اور پتھر وغیرہ کا قصہ بیان کیا تب مسمی رمضانی سے دریافت کیا کیا یہ عورت سچ کہتی ہے اس نے کہا ہاں سچ
بیان گواہ اول مسمی رحمان علی شاہ درویش : اس طلاق سے میں واقف ہوں اس نے اپنی عورت کو طلاق دی اور یہ لڑکی اپنے باپ کے مکان چوترے پر بیٹھی تھی تب میں نے اس سے کہا کہ آبیٹی! میں تجھ کو تیرے مکان پرلے چلوں تب وہ میرے ساتھ ہولی اس وقت رمضانی نے ایك پتھر پھینکا اور کہا کہ شاہ صاحب اس کو کہاں لے جاتے ہو میں اس لڑکی کو باپ کے گھر جانے کو کہہ دیا اور میں نے اپنی جگہ جابیٹھا تب رمضانی مذکور سے کہا گیا کہ بیأان سچ ہے یا نہیں کہاہاں سچ ہے۔ بیان گواہ ثانی مسمی بنی بخش ولد حسن جی نداف : میں ایمان سے بیان کرتا ہوں کہ یہ(رمضانی)واہی تباہی بکتا تھا میں نے کہا کہ اگر اس کورکھنا منظور نہ ہوتو اس کو چھوڑدے یعنی طلاق دے دے تب اس نے کہا کہ میں اس کو کل طلاق دے چکاہوں اور باقی رہا مہر چار روپیہ تو اس کے باپ سے میں مانگتا ہوں باقی پانے برتن بیچ کردے دونگا۔ رمضانی صاحب سے کہا گیا یہ سچ بیان کرتا ہے اس نے کہا ہاں ۔ پھر ایك قرآن مجید منگوا کر اس سے کا گیا اگر تونے طلاق نہیں دی ہے تو قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھالے جواب دیا : میں قسم نہیں کھاتا اس عورت کو قرآن دے دو اگر قسم کھالے گی سچی ہوگی شاید وہ بھی طلاق چاہتی ہو اور چھٹکارے کے واسطے قسم کھالے تو پھر کوئی علاج نہ ہوگا اس نے پھر یہی جواب دیا اگر یہ قسم کھالے تو یہ سچی ہے تب لڑکی سے کہا گیا تجھ کو اگر اس نے طلاق دے دی ہو تو قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھالے اس نے دونوں ہاتھ قسم کیلئے قرآن شریف لینے کو بڑھائے لیکن اس خیال سے کہ شاید حیض سے ہو قرآن اس کے ہاتھ میں نہ دیا اور کہا تو خدا کی قسم کھاکر بیان کر کہ کس طرح طلاق دی ہے تب اس نے قسمیہ بیان کیا کہ ہمارے باربار لڑائی رہتی ہے اس رات کو بھی ہوئی اوراس نے کہا کہ میں تجھ کو صبح ٹھیك کروں گا جب صبح میں اٹھی تو اس نے کہا کہ آٹا ہے یا نہیں تومیں نے کہا کہ آٹا تھوڑاہے زیادہ نہیں تب اس نے کہا بندولے کے واسطے کہا تھا تونے کیوں نہیں پیسا اب میں نے کہا کہ اب پیسنے لانی ہوں تب اس نے کہا اب کوئی ضرورت نہیں تو روٹی بیکر تب اس کے کہنے سے روٹی بیکرنے لگ گئی تو اس نے کہ تجھ طلاق ہے تو چلی جا تب اٹھ کر اپنے باپ کے گھر چلی آئی تو تھوڑی دیر بعد چچا مجھ کو بلواکر لے گئے تو ہم دونوں کو سمجھا کر بٹھا آئے تب میں نے روٹی پکائی تو اس نے مجھے کہا کہ تو کیوں آئی تجھ کو طلاق ہے توچلی جا تو پھر میں وہاں سے چلی آئی باقی شاہ صاحب گواہ اول اور پتھر وغیرہ کا قصہ بیان کیا تب مسمی رمضانی سے دریافت کیا کیا یہ عورت سچ کہتی ہے اس نے کہا ہاں سچ
ہے فقط لہذا عرض یہ ہےکہ ان بیانوں پر طلاق ہوگی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
گواہوں کے بیان ناقص ہیں اور ان میں تین طلاقوں کا کہیں ذکر نہیں اورعورت کا قسم کھانا محض نامعتبر ہے کہ وہ مدعیہ ہے مدعی کا حلف نہیں سنا جاتا اس سے گواہ مانگے جاتے ہیں گواہ نہ دے سکے تو مدعا علیہ پر حلف رکھا جاتا ہے۔ رمضانی نے جوگواہوں کے بیان کی تصدیق کی اس سے صرف طلاق ثابت ہوگی تین طلاقوں کا ثبوت نہیں کہ اس کا ذکر بیان شاہدان میں خود نہ تھا ہاں اگر ثابت ہوکہ عورت کا بیان مذکور سن کر رمضانی نے اس کی تصدیق کی تو بیشك تین طلاقیں ثابت ہوگئیں تصدیق بیان عورت کا اگر رمضانی کو اقرار ہے تو بہتر ورنہ اس تصدیق پر دو۲ گواہ لینے ہوں گے جو “ گواہی دیتا ہوں “ کہہ کر پوری صحیح شرعی شہادت ادا کریں اگر شہادت سے یہ تصدیق نہ ثابت ہوتو تین طلاقوں کا حکم نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر ان میں کسی گواہ کا بیان رمضانی کا تصدیق کرنا اس کے اقرار یا دو۲شاہدین عادلین کے اظہار سے ثابت ہو تو ایك طلاق ہوئی اگر رجعت نہ کی اور عدت گزرگئی تو عورت نکاح سے نکل گئی اور عدت کے اندر رجعت کرلی تھی تو عورت بدستور اس کی زوجہ مانی جائے گی اور اگر کسی گواہ کی بھی تصدیق ثابت نہ ہوتو ایك طلاق کا بھی حکم نہ ہو ا لیکن عورت اگر جانتی ہے کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں تو اس پر فرض ہوگاکہ جس طرح جانے اس سے بھاگے باعلانیہ طلاق حاصل کرے اگرچہ اپنے مہر کے بدلے اور مال دے کر۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۰ : از مقام دیپاسرائے پر گنہ سنبھل ضلع مراد آباد برمکان حاجی امیر حسین صاحب۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی طلاق کی نیت دل میں تو کی لیکن زبان سے کوئی طلاق کا لفظ نہیں نکالا اوردوبرس تك اس نے اس سے مجامعت بھی نہیں کی لیکن ہرطرح کا خلاملا اور خوردنوش اور کہلا انتظامات خانہ داری کا برتاؤ برابر اس کے ساتھ رکھا آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور بی بی کا وہی نکاح سابق قائم رہا یا پھر اس کی تجدید کی جاوے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
نکاح سابق باقی ہے اس وجہ سے تجدید کی کوئی حاجت نہیں نری نیت سے طلاق نہیں ہو سکتی اگر چہ دن میں سوبار نیت کرے جب تك زبان سے لفظ نہ کہے گا طلاق نہ ہوگی بلکہ زبان کی خالی حرکت بھی کافی نہیں جب تك اتنی آواز نہ ہو کہ اگر کوئی مانع نہ ہوتو اپنے کان تك پہنچے زبان کو جنبش ہوئی اور آواز اتنی بھی نہ نکلی کہ اپنے کان تك پہنچ سکتی جب بھی صحیح مذہب میں طلاق نہ ہوگی۔ تنویرالابصار ودرمختار میں ہے :
الجواب :
گواہوں کے بیان ناقص ہیں اور ان میں تین طلاقوں کا کہیں ذکر نہیں اورعورت کا قسم کھانا محض نامعتبر ہے کہ وہ مدعیہ ہے مدعی کا حلف نہیں سنا جاتا اس سے گواہ مانگے جاتے ہیں گواہ نہ دے سکے تو مدعا علیہ پر حلف رکھا جاتا ہے۔ رمضانی نے جوگواہوں کے بیان کی تصدیق کی اس سے صرف طلاق ثابت ہوگی تین طلاقوں کا ثبوت نہیں کہ اس کا ذکر بیان شاہدان میں خود نہ تھا ہاں اگر ثابت ہوکہ عورت کا بیان مذکور سن کر رمضانی نے اس کی تصدیق کی تو بیشك تین طلاقیں ثابت ہوگئیں تصدیق بیان عورت کا اگر رمضانی کو اقرار ہے تو بہتر ورنہ اس تصدیق پر دو۲ گواہ لینے ہوں گے جو “ گواہی دیتا ہوں “ کہہ کر پوری صحیح شرعی شہادت ادا کریں اگر شہادت سے یہ تصدیق نہ ثابت ہوتو تین طلاقوں کا حکم نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر ان میں کسی گواہ کا بیان رمضانی کا تصدیق کرنا اس کے اقرار یا دو۲شاہدین عادلین کے اظہار سے ثابت ہو تو ایك طلاق ہوئی اگر رجعت نہ کی اور عدت گزرگئی تو عورت نکاح سے نکل گئی اور عدت کے اندر رجعت کرلی تھی تو عورت بدستور اس کی زوجہ مانی جائے گی اور اگر کسی گواہ کی بھی تصدیق ثابت نہ ہوتو ایك طلاق کا بھی حکم نہ ہو ا لیکن عورت اگر جانتی ہے کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں تو اس پر فرض ہوگاکہ جس طرح جانے اس سے بھاگے باعلانیہ طلاق حاصل کرے اگرچہ اپنے مہر کے بدلے اور مال دے کر۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۰ : از مقام دیپاسرائے پر گنہ سنبھل ضلع مراد آباد برمکان حاجی امیر حسین صاحب۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی طلاق کی نیت دل میں تو کی لیکن زبان سے کوئی طلاق کا لفظ نہیں نکالا اوردوبرس تك اس نے اس سے مجامعت بھی نہیں کی لیکن ہرطرح کا خلاملا اور خوردنوش اور کہلا انتظامات خانہ داری کا برتاؤ برابر اس کے ساتھ رکھا آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور بی بی کا وہی نکاح سابق قائم رہا یا پھر اس کی تجدید کی جاوے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
نکاح سابق باقی ہے اس وجہ سے تجدید کی کوئی حاجت نہیں نری نیت سے طلاق نہیں ہو سکتی اگر چہ دن میں سوبار نیت کرے جب تك زبان سے لفظ نہ کہے گا طلاق نہ ہوگی بلکہ زبان کی خالی حرکت بھی کافی نہیں جب تك اتنی آواز نہ ہو کہ اگر کوئی مانع نہ ہوتو اپنے کان تك پہنچے زبان کو جنبش ہوئی اور آواز اتنی بھی نہ نکلی کہ اپنے کان تك پہنچ سکتی جب بھی صحیح مذہب میں طلاق نہ ہوگی۔ تنویرالابصار ودرمختار میں ہے :
ادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ویحری ذلك فی کل مایتعلق بنطق کتسمیۃ علی ذبیحۃ وعتاق وطلاق وغیرھا فلوطلق ولم یسمع نفسہ لم یصح فی الاصح ۔
مخفی آواز ادنی یہ ہے کہ خود کو سنائے اور یہ حکم ان تمام میں جاری ہوگا جن کا تعلق نطق سے ہو مثلا ذبیحـہ پر بسم اﷲ آزاد کرنا طلاق دیناوغیرہا تواگر طلاق کہی اور خود نہ سن سکا توصحیح قول میں طلاق نہ ہوگی(ت)
ہاں اگر آواز اتنی تھی کہ اپنے کان تك پہنچ سکتی اگر چہ کسی مانع مثلا غل شور چکی مینہ بہرے پن وغیرہا کے سبب نہ پہنچی طلاق ہوجائے گی
ادنی الحد خروج صوت یصل الی اذنہ ولوحکما کما لوکان ھناك مانع من صمم اوجبلۃ اصوات اونحو ذلک۔ واﷲتعالی اعلم۔
ادنی حد ہے کہ آواز اتنی ہو کہ اس کے اپنے کانوں تك پہنچے اگر چہ حکما ایسا ہو مثلا آواز پہنچ جاتی اگر وہاں بہرہ پن شوروغل وغیرہ نہ ہوتا۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۱ : از رامہ تحصیل گوجر خاں ڈاکخانہ جاتلی ضلع روالپنڈی مرسلہ تاج محمد صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایك لڑکے نے اپنے باپ سے بولا کہ تم میری زوجہ کو طلاق دے دو اس نے طلاق دے دی ہے یہ طلاق واقع ہوسکتی ہے یانہیں
الجواب :
نابالغ نہ خود دے سکتا ہے نہ دوسرے کو وکیل کرسکتا ہے نہ باپ بذریعہ ولایت اس کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے فانہ ضرر والولایۃ للنظر(کیونکہ یہ تو ضرر ہے جبکہ ولایت شفقت کے لئے ہوتی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۴۲ : ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ عورت چار ماہ کا حمل رکھتی ہے اورشوہر طلاق دے تو طلاق جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جائز وحلال ہے اگر چہ حمل میں بلکہ آج ہی بلکہ ابھی ابھی اس سے جماع کر چکا ہو
مخفی آواز ادنی یہ ہے کہ خود کو سنائے اور یہ حکم ان تمام میں جاری ہوگا جن کا تعلق نطق سے ہو مثلا ذبیحـہ پر بسم اﷲ آزاد کرنا طلاق دیناوغیرہا تواگر طلاق کہی اور خود نہ سن سکا توصحیح قول میں طلاق نہ ہوگی(ت)
ہاں اگر آواز اتنی تھی کہ اپنے کان تك پہنچ سکتی اگر چہ کسی مانع مثلا غل شور چکی مینہ بہرے پن وغیرہا کے سبب نہ پہنچی طلاق ہوجائے گی
ادنی الحد خروج صوت یصل الی اذنہ ولوحکما کما لوکان ھناك مانع من صمم اوجبلۃ اصوات اونحو ذلک۔ واﷲتعالی اعلم۔
ادنی حد ہے کہ آواز اتنی ہو کہ اس کے اپنے کانوں تك پہنچے اگر چہ حکما ایسا ہو مثلا آواز پہنچ جاتی اگر وہاں بہرہ پن شوروغل وغیرہ نہ ہوتا۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۱ : از رامہ تحصیل گوجر خاں ڈاکخانہ جاتلی ضلع روالپنڈی مرسلہ تاج محمد صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایك لڑکے نے اپنے باپ سے بولا کہ تم میری زوجہ کو طلاق دے دو اس نے طلاق دے دی ہے یہ طلاق واقع ہوسکتی ہے یانہیں
الجواب :
نابالغ نہ خود دے سکتا ہے نہ دوسرے کو وکیل کرسکتا ہے نہ باپ بذریعہ ولایت اس کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے فانہ ضرر والولایۃ للنظر(کیونکہ یہ تو ضرر ہے جبکہ ولایت شفقت کے لئے ہوتی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۴۲ : ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ عورت چار ماہ کا حمل رکھتی ہے اورشوہر طلاق دے تو طلاق جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جائز وحلال ہے اگر چہ حمل میں بلکہ آج ہی بلکہ ابھی ابھی اس سے جماع کر چکا ہو
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۹
فی الدرالمختار حل طلاقھن ای الایسۃ والصغیرۃ والحامل عقب وطی لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل وھو مفقود ھھنا ۔
درمختار میں ہے بوڑھی عورت نابالغہ اور حاملہ عورت کو جماع کے بعد بھی طلاق دینا حلال ہے کیونکہ مکروہ حیض والی عورت کو طہر میں جماع کے بعد طلاق دینا اس لئے تھا کہ وہاں حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جبکہ یہ احتمال یہاں نہیں ہے۔ (ت)
مگر ایك طلاق رجعی دے اگر دوتین دے گا گنہگار ہوگا
فی الدر البدعی ثلث متفرقۃ اوثنتان بمرۃ او مرتین الخ۔
درمختار میں ہے : بدعی طلاق یہ ہے کہ تین طلاقیں خواہ متفرق ہوں یا دو طلاقیں ایك مرتبہ یا متفرق دی جائیں الخ(ت)
یوں ہی طلاق بائن ایك ہی دے جب بھی ظاہر الروایۃ میں گناہ ہے
فی ردالمحتار الواحدۃ البائنۃ بدعیۃ فی ظاہر الروایۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے : ایك بائنہ طلاق بدعی طلاق ہے ظاہر روایت کے مطابق۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۳ : از یریواڈاك خانہ امریا ضلع پیلی بھیت مسئولہ جناب محمد بخش صاحب وذوالفقار خاں صاحب ۴شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ایك شخص نے حالت غصہ میں بہ سبب ملامت برادران زوجہ اپنے کے اپنی بیوی کو طلاق دی اور زمانہ طلاق میں عورت کو ۵۵ماہ کو حمل تھا بعدطلاق اورپورا ہونے مدت حمل کےعورت کے لڑکا پیدا ہوا اور تین چار روز زندہ رہ کر مرگیا یہ طلاق جائز ہے یاناجائز اور ایسی صورت میں جو حکم مسئلہ ہو اطلاع دی جائے اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہوسکتا ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
عورت کوحمل ہونا مانع وقوع طلاق نہیں اگر طلاق بائن تھی تو مطلقا اور اگررجعی تھی اور بچہ پیدا ہونے تك نہ زبانی رجعت کی نہ زوجہ کو ہاتھ لگایا تو بعد ولادت عورت نکاح سے نکل گئی اب اسے اختیار ہے جس سے
درمختار میں ہے بوڑھی عورت نابالغہ اور حاملہ عورت کو جماع کے بعد بھی طلاق دینا حلال ہے کیونکہ مکروہ حیض والی عورت کو طہر میں جماع کے بعد طلاق دینا اس لئے تھا کہ وہاں حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جبکہ یہ احتمال یہاں نہیں ہے۔ (ت)
مگر ایك طلاق رجعی دے اگر دوتین دے گا گنہگار ہوگا
فی الدر البدعی ثلث متفرقۃ اوثنتان بمرۃ او مرتین الخ۔
درمختار میں ہے : بدعی طلاق یہ ہے کہ تین طلاقیں خواہ متفرق ہوں یا دو طلاقیں ایك مرتبہ یا متفرق دی جائیں الخ(ت)
یوں ہی طلاق بائن ایك ہی دے جب بھی ظاہر الروایۃ میں گناہ ہے
فی ردالمحتار الواحدۃ البائنۃ بدعیۃ فی ظاہر الروایۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے : ایك بائنہ طلاق بدعی طلاق ہے ظاہر روایت کے مطابق۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۳ : از یریواڈاك خانہ امریا ضلع پیلی بھیت مسئولہ جناب محمد بخش صاحب وذوالفقار خاں صاحب ۴شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ایك شخص نے حالت غصہ میں بہ سبب ملامت برادران زوجہ اپنے کے اپنی بیوی کو طلاق دی اور زمانہ طلاق میں عورت کو ۵۵ماہ کو حمل تھا بعدطلاق اورپورا ہونے مدت حمل کےعورت کے لڑکا پیدا ہوا اور تین چار روز زندہ رہ کر مرگیا یہ طلاق جائز ہے یاناجائز اور ایسی صورت میں جو حکم مسئلہ ہو اطلاع دی جائے اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہوسکتا ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
عورت کوحمل ہونا مانع وقوع طلاق نہیں اگر طلاق بائن تھی تو مطلقا اور اگررجعی تھی اور بچہ پیدا ہونے تك نہ زبانی رجعت کی نہ زوجہ کو ہاتھ لگایا تو بعد ولادت عورت نکاح سے نکل گئی اب اسے اختیار ہے جس سے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۶
درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۶
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۸
درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۶
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۸
چاہے نکاح کرے اور اگر طلاق رجعی تھی اور قبل ولادت قول یا فعل کے ذریعہ سے شوہر نے رجعت کرلی تو عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ : از موضع بلہری ڈاکخانہ صفدر گنج ضلعبارہ بنکی مرسلہ مہدی حسن صاحب ۴رجب ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص درمیان فساد باہمی کے بحالت غیظ وغضب اپنی بی بی سے تین باریوں کہے کہ میں نے تجھے طلاق دیامیں نے تجھے طلاق دیا اور بروقت دینے کے یہ بھی اپنے دل میں ارادہ کر لیا کہ میں ٹھیك ٹھیك اور صحیح عقل سے کہتا ہوں باوجود درمیان جھگڑے باہمی کے غصہ میں یہ سب باتیں وقوع میں آئی ہوں تو اس حالت میں طلاق ہوئی یا نہیں اور اگر طلاق ہوگئی تو پھر چند ساعت کے بعد غصہ فروہوگیا اور میاں اپنے ان افعال قبیحہ پر منفعل ہو کر بی بی کو رجعت کرنا چاہے اور بی بی بھی رجعت پر آمادہ ہو تو کس صورت سے بی بی میاں پر حلال ہے فقط۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی یعنی اس کی عدت گزرے پھر عورت دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس سے ہمبستری بھی ہو پھر وہ اسے طلاق دے یا مرجائے اور عدت گزرجائے اس کے بعد اس شخص کو عورت سے نکاح جائز ہوگا۔
قال اﷲتعالی فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره وقال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم لاتحلین الزوجك الاول حتی یذوق الاخر عسیلتك وتذوقی عسیلتہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اگر تیسری طلاق دی تو اس کے لئے مطلقہ دوبارہ حلال نہیں ہوگی تاوقتیکہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے۔ اور رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو حلال نہ ہوگی پہلے شوہر کے لئے جب تك تو دوسرے خاوند کا مزہ اوروہ تیرا مز ہ نہ لے لے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۵ : ازشاہجہان پور محلہ باڑوزئی مسئولہ حفیظ اﷲصاحب ۱۲ ربیعالاول شریف ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ درباب طلاق فتوی مولانا عبدالحی صاحب لکھنو کا کہ مجموعۃ الفتاوی جلد دوم صہ۵۳ میں واقعہ اور پیش خدمت نقل اس کی اخیر تحریر میں موجود ہے کیا عندالضرورت ہم
مسئلہ ۱۴۴ : از موضع بلہری ڈاکخانہ صفدر گنج ضلعبارہ بنکی مرسلہ مہدی حسن صاحب ۴رجب ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص درمیان فساد باہمی کے بحالت غیظ وغضب اپنی بی بی سے تین باریوں کہے کہ میں نے تجھے طلاق دیامیں نے تجھے طلاق دیا اور بروقت دینے کے یہ بھی اپنے دل میں ارادہ کر لیا کہ میں ٹھیك ٹھیك اور صحیح عقل سے کہتا ہوں باوجود درمیان جھگڑے باہمی کے غصہ میں یہ سب باتیں وقوع میں آئی ہوں تو اس حالت میں طلاق ہوئی یا نہیں اور اگر طلاق ہوگئی تو پھر چند ساعت کے بعد غصہ فروہوگیا اور میاں اپنے ان افعال قبیحہ پر منفعل ہو کر بی بی کو رجعت کرنا چاہے اور بی بی بھی رجعت پر آمادہ ہو تو کس صورت سے بی بی میاں پر حلال ہے فقط۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی یعنی اس کی عدت گزرے پھر عورت دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس سے ہمبستری بھی ہو پھر وہ اسے طلاق دے یا مرجائے اور عدت گزرجائے اس کے بعد اس شخص کو عورت سے نکاح جائز ہوگا۔
قال اﷲتعالی فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره وقال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم لاتحلین الزوجك الاول حتی یذوق الاخر عسیلتك وتذوقی عسیلتہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اگر تیسری طلاق دی تو اس کے لئے مطلقہ دوبارہ حلال نہیں ہوگی تاوقتیکہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے۔ اور رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو حلال نہ ہوگی پہلے شوہر کے لئے جب تك تو دوسرے خاوند کا مزہ اوروہ تیرا مز ہ نہ لے لے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۵ : ازشاہجہان پور محلہ باڑوزئی مسئولہ حفیظ اﷲصاحب ۱۲ ربیعالاول شریف ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ درباب طلاق فتوی مولانا عبدالحی صاحب لکھنو کا کہ مجموعۃ الفتاوی جلد دوم صہ۵۳ میں واقعہ اور پیش خدمت نقل اس کی اخیر تحریر میں موجود ہے کیا عندالضرورت ہم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
صحیح البخاری باب لم تحرّم ما احلّ اﷲلك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۲
صحیح البخاری باب لم تحرّم ما احلّ اﷲلك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۲
لوگ اس پر عمل کرسکتے ہیں یا نہیں بینواتوجروا
نقل فتوی مولاناعبد الحی صاحب لکھنوی قدس سرہ الولی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو حالت غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا پس اس تین بارکہنے سے تین طالق واقع ہونگی یا نہیں اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلا واقع نہ ہوں تو حنفی کوشافعی مذہب پر اس صورت خاص میں عمل کرنے کے رخصت دی جائے گی یا نہیں
ھوالمصوب الجواب : اس صورت میں حنفیہ کے نزدیك تین طلاق واقع ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح نہ درست ہوگا مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کا ہو تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود وعدت ممتدۃ الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول امام مالك پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں چنانچہ ردالمحتار میں مفصلا مذکور ہے لیکن اولی یہ ہے کہ وہ شخص کسی عالم شافعی سے استفتاء کرکے اس پر عمل کرے واﷲاعلم حررہ عبدالحی عفی عنہ ۔
الجواب :
یہ فتوی گمراہ گری ہے اس پر عمل حرام قطعی ہے ان کے مجموعہ فتاوی میں این وآں وزید وعمر کے فتوی بھی بھرےہیں یہاں تك کہ غیر مقلدوں کے بھی یہ فتوی بھی کسی غیر مقلدکا ہوگا اور وہ بھی نرے جاہل اجہل کا جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایك جلسہ میں تین طلاقیں ہوجانے پر جمہور صحابہ وتابعین وائمہاربعہ رضی اﷲتعالی عنہم کااجماع ہے ہرگز امام شافعی یا کوئی امام اس کے خلاف کے قائل نہیں اور اگر وہ یہ جانتا ہے پھر امام شافعی و مخالف مانتا ہے تو سخت کذات مکار ہ اور عوام کو دھوکے دینے والا۔ امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم شریف میں فرماتے ہیں :
قال الشافعی ومالك ابوحنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع الثلث ۔
امام شافعی امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد اور پہلے اور پچھلے جمہور علماء علماء نے فرمایا تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ (ت)
نقل فتوی مولاناعبد الحی صاحب لکھنوی قدس سرہ الولی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو حالت غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا پس اس تین بارکہنے سے تین طالق واقع ہونگی یا نہیں اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلا واقع نہ ہوں تو حنفی کوشافعی مذہب پر اس صورت خاص میں عمل کرنے کے رخصت دی جائے گی یا نہیں
ھوالمصوب الجواب : اس صورت میں حنفیہ کے نزدیك تین طلاق واقع ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح نہ درست ہوگا مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کا ہو تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود وعدت ممتدۃ الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول امام مالك پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں چنانچہ ردالمحتار میں مفصلا مذکور ہے لیکن اولی یہ ہے کہ وہ شخص کسی عالم شافعی سے استفتاء کرکے اس پر عمل کرے واﷲاعلم حررہ عبدالحی عفی عنہ ۔
الجواب :
یہ فتوی گمراہ گری ہے اس پر عمل حرام قطعی ہے ان کے مجموعہ فتاوی میں این وآں وزید وعمر کے فتوی بھی بھرےہیں یہاں تك کہ غیر مقلدوں کے بھی یہ فتوی بھی کسی غیر مقلدکا ہوگا اور وہ بھی نرے جاہل اجہل کا جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایك جلسہ میں تین طلاقیں ہوجانے پر جمہور صحابہ وتابعین وائمہاربعہ رضی اﷲتعالی عنہم کااجماع ہے ہرگز امام شافعی یا کوئی امام اس کے خلاف کے قائل نہیں اور اگر وہ یہ جانتا ہے پھر امام شافعی و مخالف مانتا ہے تو سخت کذات مکار ہ اور عوام کو دھوکے دینے والا۔ امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم شریف میں فرماتے ہیں :
قال الشافعی ومالك ابوحنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع الثلث ۔
امام شافعی امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد اور پہلے اور پچھلے جمہور علماء علماء نے فرمایا تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ (ت)
حوالہ / References
مجموعہ فتاوٰی عبد الحی لکھنوی کتاب الطلاق مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ / ۴۸۔ ۳۴۷
شرح صحیح مسلم للنووی باب طلاق الثلاث قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۸
شرح صحیح مسلم للنووی باب طلاق الثلاث قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۸
یعنی امام شافعی وامام مالك وامام ابوحنیفہ وامام محمد وجمہور علمائے سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں معہذااسے ضرورت ماننا صراحتا مذہب کا ڈھانا ہے کون نہیں کہہ سکتا کہ عورت کا علیحدہ ہونا مجھ پر دشوار ہے کون نہیں کہہ سکتا کہ احتمال مفاسد ہے احتمال کو ضرورت جاننا عجب جہالت ہے نہ کہ فقط نفس پر شاق ہونے کو تمام تکلیفات شرعیہ کا ہدم کرے گا وہ سب نفس پر شاق ہونا ضرورت ٹھہرا والضرورات تبیح المحظورولاحول ولا قوۃ الا باﷲ (ضروریات ممنوعات کو مباح کرتی ہیں ولاحو ولاقوۃ الاباﷲ۔ ت)مسئلہ مفقود وامتداد طہر پر اس کا قیاس کرنا صریح وسواس ہے پھر رفع سراسر بطالت وجہالت کرخمیر ہے کسی طرح یقین نہیں کہ مولوی لکھنوی صاحب کی ہواگر چہ غلطی کاتب سے ان کانام لکھا گیا ہواور اگر واقعی ان کی ہے تو اتباع حق کا ہے نہ غیر۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۶ : ازرامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ
شمس العلماء رئیس الفضلائے خانخاں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ السلام علیکم!اگر غضب کثرت سے ہو کہ ایسا غصہ ہوکہ کامل عقل نہ ہو اس حا لت میں اگر طلاق صریح وغیرہ دیوے تو واقع ہوگی یانہ
الجواب :
غضب اگر واقعی اس درجہ شدت ہو کہ حدجنون تك پہنچا دے تو طلاق نہ ہوگی اور یہ کہ غضب اس شدت پر تھا یا تو گواہان عادل سے ثابت ہویا وہ اس کا دعوی کرے اور اس کی یہ عادت معہود معروف ہو تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیں گے ورنہ مجرد دعوی معتبر نہیں یوں تو ہر شخص اس کا ادعا کرے اور غصہ کی طلاق واقع ہی نہ ہو حالانکہ غالبا طلاق نہیں ہوتی مگر بحالت غضب
ردالمحتار میں خیریہ سے ہے :
الدھش من اقسام فلایقع واذاکان یعتادہ بان عرج ھذا الدھش مرۃ یصدق بلابرھان اھ وتمام تحقیقہ فی فتاونا۔
مدہوشی جنون کی قسم ہے۔ لہذا طلاق نہ ہوگی۔ جب عادت بن چکی ہو اور ایك مرتبہ مدہوشی معلوم ہوچکی ہوتو خاوند کی بات بلادلیل مان لی جائے گی اھ اس کی تحقیق ہمارے فتاوی سے معلوم کی جائے۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۶ : ازرامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ
شمس العلماء رئیس الفضلائے خانخاں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ السلام علیکم!اگر غضب کثرت سے ہو کہ ایسا غصہ ہوکہ کامل عقل نہ ہو اس حا لت میں اگر طلاق صریح وغیرہ دیوے تو واقع ہوگی یانہ
الجواب :
غضب اگر واقعی اس درجہ شدت ہو کہ حدجنون تك پہنچا دے تو طلاق نہ ہوگی اور یہ کہ غضب اس شدت پر تھا یا تو گواہان عادل سے ثابت ہویا وہ اس کا دعوی کرے اور اس کی یہ عادت معہود معروف ہو تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیں گے ورنہ مجرد دعوی معتبر نہیں یوں تو ہر شخص اس کا ادعا کرے اور غصہ کی طلاق واقع ہی نہ ہو حالانکہ غالبا طلاق نہیں ہوتی مگر بحالت غضب
ردالمحتار میں خیریہ سے ہے :
الدھش من اقسام فلایقع واذاکان یعتادہ بان عرج ھذا الدھش مرۃ یصدق بلابرھان اھ وتمام تحقیقہ فی فتاونا۔
مدہوشی جنون کی قسم ہے۔ لہذا طلاق نہ ہوگی۔ جب عادت بن چکی ہو اور ایك مرتبہ مدہوشی معلوم ہوچکی ہوتو خاوند کی بات بلادلیل مان لی جائے گی اھ اس کی تحقیق ہمارے فتاوی سے معلوم کی جائے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۷
مسئلہ۱۴۷ : از شہر پوربندر مقام کھاری مسجد مرسلہ مولوی محمد اسمعیل خاں صاحب ۴ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی عورت زینب سے حالت غصہ میں کہا زینب طلاق طلاق طلاق یعنی بے شمار طلاق جس کا اندازہ معلوم نہین اور زید کہتا ہے کہ مجھ کوحالت غصہ میں خبر نہیں کہ میں نے کتنے دفع طلاق دیا ہے بحضور الشاہدین اور زینب کے خویش واقارب کہتے ہیں کہ زید نے تین طلاقیں شرعا دی ہیں اور اب زید اپنی عورت زینب سے رجعت کرنا چاہتا ہے اور عورت کے وارث انکار کرتے ہیں اوریہ آدمی نمازی ہے اور غریب ہے یہاں علماء نے فتوی دیا ہے کہ رجوع صحیح ہے مگر لوگ نہیں مانتے اب حق آپ کی جانب ہے جیساکہ حکم شریعت ہو اگر آپ جواب نہ دوگے تو غریب کا حق ماراجائے گا اور دوسرا کوئی ہندوستان میں آپ جیساعالم نہیں آپ کا فتوی اطراف میں جاری ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ زید ان الفاظ سے طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے گنتی میں سہو بتاتا ہے اگر ثابت ہو کہ یہ لفظ تین بار کہے تین طلاقیں ہوگئیں رجعت ناممکن ہے بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا۔
قال اﷲتعالی
فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : تیسری طلاق کے بعد عورت حلال نہیں تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۸ : ازکلکۃ دھرم تلہ اسٹریٹ نمبر۱۶۲مرسلہ عزیز الرحمن صاحب پیش امام مسجد ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کئی آدمیوں نے مل کر ایك شخص سے کہا کہ تو اپنی اہلیہ کو طلاق دے دے۔ پس اس کی زبان سے بلانیت طلاق کے نکل پڑا “ ہاں ہاں “ تو اس صورت میں اس کی اہلیہ پر طلاق ہوگا یا نہیں جواب کتب دینیہ سے ارشاد ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
جبکہ ان اشخاص نے اس سے طلاق زن کی درخواست کی اوراس کے جواب میں اس نے “ ہاں ہاں “ کہا طلاق اصلا نہ ہوئی اگر چہ نیت طلاق ہی کہتا کہ لفظ “ ہاں “ جب امر کے جواب میں واقع ہوتو اس کا حاصل وعدہ ہوتا ہے یعنی ہاں طلاق دے دوں گا اور اس سے طلاق نہیں ہوسکتی اگر چہ نیت کرے کہ طلاق کے لئے نیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی عورت زینب سے حالت غصہ میں کہا زینب طلاق طلاق طلاق یعنی بے شمار طلاق جس کا اندازہ معلوم نہین اور زید کہتا ہے کہ مجھ کوحالت غصہ میں خبر نہیں کہ میں نے کتنے دفع طلاق دیا ہے بحضور الشاہدین اور زینب کے خویش واقارب کہتے ہیں کہ زید نے تین طلاقیں شرعا دی ہیں اور اب زید اپنی عورت زینب سے رجعت کرنا چاہتا ہے اور عورت کے وارث انکار کرتے ہیں اوریہ آدمی نمازی ہے اور غریب ہے یہاں علماء نے فتوی دیا ہے کہ رجوع صحیح ہے مگر لوگ نہیں مانتے اب حق آپ کی جانب ہے جیساکہ حکم شریعت ہو اگر آپ جواب نہ دوگے تو غریب کا حق ماراجائے گا اور دوسرا کوئی ہندوستان میں آپ جیساعالم نہیں آپ کا فتوی اطراف میں جاری ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ زید ان الفاظ سے طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے گنتی میں سہو بتاتا ہے اگر ثابت ہو کہ یہ لفظ تین بار کہے تین طلاقیں ہوگئیں رجعت ناممکن ہے بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا۔
قال اﷲتعالی
فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : تیسری طلاق کے بعد عورت حلال نہیں تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۸ : ازکلکۃ دھرم تلہ اسٹریٹ نمبر۱۶۲مرسلہ عزیز الرحمن صاحب پیش امام مسجد ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کئی آدمیوں نے مل کر ایك شخص سے کہا کہ تو اپنی اہلیہ کو طلاق دے دے۔ پس اس کی زبان سے بلانیت طلاق کے نکل پڑا “ ہاں ہاں “ تو اس صورت میں اس کی اہلیہ پر طلاق ہوگا یا نہیں جواب کتب دینیہ سے ارشاد ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
جبکہ ان اشخاص نے اس سے طلاق زن کی درخواست کی اوراس کے جواب میں اس نے “ ہاں ہاں “ کہا طلاق اصلا نہ ہوئی اگر چہ نیت طلاق ہی کہتا کہ لفظ “ ہاں “ جب امر کے جواب میں واقع ہوتو اس کا حاصل وعدہ ہوتا ہے یعنی ہاں طلاق دے دوں گا اور اس سے طلاق نہیں ہوسکتی اگر چہ نیت کرے کہ طلاق کے لئے نیت
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
بے لفظ کافی نہیں ہاں اگر وہ یوں کہتے کہ تونے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی تو یہ اخبار یا بتقدیر لفظ کیا استخبار ہوتااس کے جواب میں اگر وہ ہاں کہتا ضروروقوع کا حکم دیا جاتاکہ اب وہ تصدیق واقرار ہے اس صورت کی تصریح کی ضرورت یہ بھی تھی کہ بعض اطراف ہند کے بلاد میں فاعل فعل متعدی کے ساتھ بھی لفظ(نے)نہیں کہتے مثلا تو کہا یا آپ فرمائے بولتے ہیں اگر ان لوگوں کا یہی محاورہ معلومہ معروفہ ہیے اور “ دے دی “ بیائے معروفہ کہا تھا اور زید نے یہی معنی سمجھ کر “ ہاں “ کہا تو حکما طلاق واقع مانی جائے گی اگرچہ عنداﷲ طلاق نہ ہوئی جبکہ واقع میں نہ دی تھی اور جھوٹ اقرار کردیا۔ تاج العروس میں ہے :
فی التھذیب قد یکون نعم تصدیقا ویکون عدۃ و حاصل مافی المغنی وشروحہ انہ یکون حرف تصدیق بعد الخبر ووعدہ بعدافعل ولاتفعل الخ۔
تہذیب میں ہے کہ نعم(ہاں )کا لفظ تصدیق ہوتا اور وعدہ ہوتا ہے اور مغنی اور اس کی شروح میں مذکور کا ماحصل یہ ہے کہ نعم خبرکے بعد تصدیق اور کر(امر)اور نہ کر(نہی)بعد وعدہ ہوتا ہے الخ(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
سئل نجم الدین عن رجل قال لامرأتہ اذھبی الی بیت املك فقالت طلاق دہ تا بردم فقال تو برومن طلاق دادم فرستم قال لاتطلق لانہ وعدکذافی الخلاصۃ ۔
نجم الدین رحمہ اﷲتعالی سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا “ تو اپنی والدہ کے ہاں جا “ بیوی نے جواب میں کہا “ طلاق دے تاکہ میں جاؤں “ خاوند نے کہا “ تو جامیں نے طلاق دی ہے بھیج دی ہے “ تو نجم الدین رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ وعدہ ہوگا۔ خلاصہ میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر عن البزازیۃ والقنیۃ لوارادالخبر عن الماضی کذبالایقع دیانۃ وان اشھد قبل ذلك لایقع قضاء ایضاہ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بحر میں بزازیہ اور قنیہ سے منقول ہے کہ مذکور ہ صورت میں اگر خاوند نے ماضی کے بارے میں جھوٹی خبر دیتے ہوئے کہا ہوتو طلاق نہ ہوگی اور اگر پہلے سے گواہ بنالئے ہوں تو قضاء بھی طلاق نہ ہوگی اھ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
فی التھذیب قد یکون نعم تصدیقا ویکون عدۃ و حاصل مافی المغنی وشروحہ انہ یکون حرف تصدیق بعد الخبر ووعدہ بعدافعل ولاتفعل الخ۔
تہذیب میں ہے کہ نعم(ہاں )کا لفظ تصدیق ہوتا اور وعدہ ہوتا ہے اور مغنی اور اس کی شروح میں مذکور کا ماحصل یہ ہے کہ نعم خبرکے بعد تصدیق اور کر(امر)اور نہ کر(نہی)بعد وعدہ ہوتا ہے الخ(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
سئل نجم الدین عن رجل قال لامرأتہ اذھبی الی بیت املك فقالت طلاق دہ تا بردم فقال تو برومن طلاق دادم فرستم قال لاتطلق لانہ وعدکذافی الخلاصۃ ۔
نجم الدین رحمہ اﷲتعالی سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا “ تو اپنی والدہ کے ہاں جا “ بیوی نے جواب میں کہا “ طلاق دے تاکہ میں جاؤں “ خاوند نے کہا “ تو جامیں نے طلاق دی ہے بھیج دی ہے “ تو نجم الدین رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ وعدہ ہوگا۔ خلاصہ میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر عن البزازیۃ والقنیۃ لوارادالخبر عن الماضی کذبالایقع دیانۃ وان اشھد قبل ذلك لایقع قضاء ایضاہ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بحر میں بزازیہ اور قنیہ سے منقول ہے کہ مذکور ہ صورت میں اگر خاوند نے ماضی کے بارے میں جھوٹی خبر دیتے ہوئے کہا ہوتو طلاق نہ ہوگی اور اگر پہلے سے گواہ بنالئے ہوں تو قضاء بھی طلاق نہ ہوگی اھ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
تاج العروس فصل النون من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ / ۸۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۸
مسئلہ ۱۴۹ : از کلکتہ امر تلہ لائن نمبر۲۶ مسئولہ رحمت اﷲآدم غنی ۲۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ثابت رہا یا طلاق ہوا ہماری بی بی سے اور ہماری والدہ سے جھگڑا ہوا اس رنجش سے ہماری والدہ دوسرے مکان پر چلی گئی ایك ہفتہ بعد جمعرات کو سب لوگ گئے بی بی سے دریافت کیا کہ ہماری والدہ رنج ہوکر چلی گئی تم ان کر راضی کرکے لاؤ بی بی نے انکار کیا میں نے بہت سمجھایا مگر وہ راضی نہ ہوئی میں نے کہا جب تك میری والدہ کو راضی نہیں کروگی ہم بھی تمہارے شریك رنج ملال کے نہیں ہوں گے اس پر بی بی نے جواب دیا ہم تم کو اور تمہاری ماں کو نہیں چاہتے ہیں تم چلے جاؤ میں مکاان آئے لگا بی بی نے کہا ایسے کیوں جاتے ہو صفائی کرکے چلے جاؤ ہم نے جواب دیاکہ کس کو صفائی کے لئے بلاؤں اپنے دل میں ارادہ کیا کہ روزانہ جھگڑے سے اس کو طلاق دینا ہی بہتر ہے چلے آئے بستی والوں نے پوچھا کہ کسی کے نزدیك اس کو طلاق دیا ہم نے جواب دیا کہ اپنے دل سے طلاق اس کو دے دیا جس کو آٹھ نو مہینے کا زمانہ گزرتا ہے اس تاریخ سے آج تك ہم سے اس سے ملاقات نہیں ہے بعد پانچ چھ ماہ کے ایك شخص نے مجھ سے پوچھا کہ تم اپنی بی بی سے کیونکہ نہیں ملتے جواب دیا کہ ہم نے اس کو طلاق دے دیا بجواب اس کے تم نے کس کے نزدیك طلاق دیا ہم نے اس کو کسی کے سامنے طلاق نہیں دیا اپنے دل سے اس کو ترك کردیا بجواب اس کے ان نے کہا کہ گھر بیٹھے طلاق طلاق طلاق نہیں ہوتا ہے کسی کے سامنے طلاق دینا چاہئے اس پر اس نے کہا کہ ایسے طلاق نہیں ہوتا ہے نہ ہوا اس پر ہم نے کہا ایك طلاق دو طلاق تین طلاق یہ کہہ کر کہا اب ہوا یانہیں ان نے کہا ہوگیا۔
الجواب :
دل میں طلاق دینے سے نہیں ہوتی جب تك زبان سے نہ کہے
بل بصوت یسمع نفسہ لولامنع کما ھوالصحیح لا معتمد فی کل ماھو قول کما فی الدرر وغیرہ۔
بلکہ ایسی آواز سے جس کو مانع نہ ہونے پر خود سن سکے جیسا کہ یہی صحیح اور قابل اعتماد قول ہے ہر قولی معاملہ میں جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے(ت)
پہلے شخص کے جواب میں اگر یوں کہتا کہ اپنے دل میں طلاق دے دی تو اس سے بھی طالق نہ ہوتی لانہ اقرار بالباطل(کیونکہ یہ باطل کا اقرار ہے۔ ت)مگراس نے کہا کہ اپنے دل سے اس کو طلاق دے دی یہ ایك طلاق رجعی ہوئی عبارت سوال سے ظاہر یہ ہے کہ اس گفتگو کے پانچ چھ مہینہ بعد دوسرے شخص سے گفتگو ہوئی اور اگرایسا ہے اور اس پانچ چھ مہینے میں گفتگو ئے شخص اول کے بعد سے اب تك عورت کی تین حیض شروع ہوکر ختم ہوچکے تو یہ تین طلاقیں نہ ہوئیں لفوات المحل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ثابت رہا یا طلاق ہوا ہماری بی بی سے اور ہماری والدہ سے جھگڑا ہوا اس رنجش سے ہماری والدہ دوسرے مکان پر چلی گئی ایك ہفتہ بعد جمعرات کو سب لوگ گئے بی بی سے دریافت کیا کہ ہماری والدہ رنج ہوکر چلی گئی تم ان کر راضی کرکے لاؤ بی بی نے انکار کیا میں نے بہت سمجھایا مگر وہ راضی نہ ہوئی میں نے کہا جب تك میری والدہ کو راضی نہیں کروگی ہم بھی تمہارے شریك رنج ملال کے نہیں ہوں گے اس پر بی بی نے جواب دیا ہم تم کو اور تمہاری ماں کو نہیں چاہتے ہیں تم چلے جاؤ میں مکاان آئے لگا بی بی نے کہا ایسے کیوں جاتے ہو صفائی کرکے چلے جاؤ ہم نے جواب دیاکہ کس کو صفائی کے لئے بلاؤں اپنے دل میں ارادہ کیا کہ روزانہ جھگڑے سے اس کو طلاق دینا ہی بہتر ہے چلے آئے بستی والوں نے پوچھا کہ کسی کے نزدیك اس کو طلاق دیا ہم نے جواب دیا کہ اپنے دل سے طلاق اس کو دے دیا جس کو آٹھ نو مہینے کا زمانہ گزرتا ہے اس تاریخ سے آج تك ہم سے اس سے ملاقات نہیں ہے بعد پانچ چھ ماہ کے ایك شخص نے مجھ سے پوچھا کہ تم اپنی بی بی سے کیونکہ نہیں ملتے جواب دیا کہ ہم نے اس کو طلاق دے دیا بجواب اس کے تم نے کس کے نزدیك طلاق دیا ہم نے اس کو کسی کے سامنے طلاق نہیں دیا اپنے دل سے اس کو ترك کردیا بجواب اس کے ان نے کہا کہ گھر بیٹھے طلاق طلاق طلاق نہیں ہوتا ہے کسی کے سامنے طلاق دینا چاہئے اس پر اس نے کہا کہ ایسے طلاق نہیں ہوتا ہے نہ ہوا اس پر ہم نے کہا ایك طلاق دو طلاق تین طلاق یہ کہہ کر کہا اب ہوا یانہیں ان نے کہا ہوگیا۔
الجواب :
دل میں طلاق دینے سے نہیں ہوتی جب تك زبان سے نہ کہے
بل بصوت یسمع نفسہ لولامنع کما ھوالصحیح لا معتمد فی کل ماھو قول کما فی الدرر وغیرہ۔
بلکہ ایسی آواز سے جس کو مانع نہ ہونے پر خود سن سکے جیسا کہ یہی صحیح اور قابل اعتماد قول ہے ہر قولی معاملہ میں جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے(ت)
پہلے شخص کے جواب میں اگر یوں کہتا کہ اپنے دل میں طلاق دے دی تو اس سے بھی طالق نہ ہوتی لانہ اقرار بالباطل(کیونکہ یہ باطل کا اقرار ہے۔ ت)مگراس نے کہا کہ اپنے دل سے اس کو طلاق دے دی یہ ایك طلاق رجعی ہوئی عبارت سوال سے ظاہر یہ ہے کہ اس گفتگو کے پانچ چھ مہینہ بعد دوسرے شخص سے گفتگو ہوئی اور اگرایسا ہے اور اس پانچ چھ مہینے میں گفتگو ئے شخص اول کے بعد سے اب تك عورت کی تین حیض شروع ہوکر ختم ہوچکے تو یہ تین طلاقیں نہ ہوئیں لفوات المحل
بالبینونۃ(بائنہ طلاق کی وجہ سے اب طلاق کا محل نہ رہی۔ ت)عورت اسی پہلی طلاق پر نکاح سے نکل گئی اب بلا حلالہ اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے اور اگر اس پانچ چھ مہینے میں عورت کو تین حیض آکر ختم نہ ہوئے تو اب تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ : طلاق کتنے مرتبہ دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوسکتی ہے
الجواب :
تین مرتبہ ہوجائے تو عورت ایسی نکاح سے باہر ہوتی ہے کہ بے حلالہ پھر اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین مرتبہ سے کم کے لئے کچھ الفاظ مقرر ہیں کہ ان سے نکاح جاتا ہے مگر بے حلالہ نکاح پھر کرسکتا ہے اور ابھی عورت سے خلوت کی نوبت نہ پہنچی ہوتو کسی لفظ سے ایك ہی طلاق دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱تا۱۵۲ : از اندور چھاؤنی ریزیڈنسی گورنمنٹ پریس سنٹرل انڈیا مسئولہ عبد الکریم پسر سکندر خاں پہلواں ۱۶ جماد ی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کو واقعی طلاق نہیں دی تھی کسی مقدمہ میں برسراجلاس فریق ثانی کے سوال کے تردید میں جس نے کہ اس کی زوجہ کا بوجہ نوع بنوع تکالیف کے اس کے یہاں سے فرار ہونا ظاہر کیا تھا یہ جواب دیا کہ اس کی زوجہ فرار نہیں ہوئی بلکہ میں نے اس کو طلاق دے دی تھی لیکن بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شخص مذکور الصدر نے محض اپنی آبروریزی کے خیال سے نیز اپنی بات کوبالارکھنے کی وجہ سے طلاق کا اظہار کچہری کے روبرور کیا تھا آیا ایسی صورت میں جیساکہ اس نے کچہری کے ربرو ظاہر کیا طلاق ہونا جائز ہے کیا
(۲)شخص مذکور الصدر ہی نے ایك دعوی بازیابی زوجہ اپنی زوجہ کے خلاف کچہری مجاز میں دائر کیا کچہری نے بعد انفصال مقدمہ ایك نوٹس میعادی آٹھ یوم بایں مضمون بنام مدعی جاری کیا کہ میعاد مقررہ کے اندر مدعی اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائے ورنہ بعد انقضائے میعاد مذکور سمجھاجائے گا کہ مدعی مذکور کی جانب سے طلاق ثلاثہ ہوگئی چنانچہ نوٹس مجریہ بعد بعد اطلاع یابی مدعی بلاکسی اطلاع کے کہ مدعی اپنی زوجہ کو اتنے روز میں لے جائے گا موصول کچہری مجاز ہوگا بعد اختتام میعاد مذکور وکیل مدعا علیہا نے ازروئے قانون مروجہ ہدایت کی کہ مدعا علیہا اب اپنا عقد ثانی کرسکتی ہے اس صورت میں اگر خلاف مدعا علیہا کسی قسم کا دعوی مدعی کی طرف سے ہوگا تو اس کا ذمہ دارمیں ہوں لہذا عرض ہے کہ اس صورت میں بھی کہ جو یہاں کی گئی تحریر فرمائیں ازروئے شرع شریف طلاق ہوگئی یا نہیں
مسئلہ ۱۵۰ : طلاق کتنے مرتبہ دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوسکتی ہے
الجواب :
تین مرتبہ ہوجائے تو عورت ایسی نکاح سے باہر ہوتی ہے کہ بے حلالہ پھر اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین مرتبہ سے کم کے لئے کچھ الفاظ مقرر ہیں کہ ان سے نکاح جاتا ہے مگر بے حلالہ نکاح پھر کرسکتا ہے اور ابھی عورت سے خلوت کی نوبت نہ پہنچی ہوتو کسی لفظ سے ایك ہی طلاق دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱تا۱۵۲ : از اندور چھاؤنی ریزیڈنسی گورنمنٹ پریس سنٹرل انڈیا مسئولہ عبد الکریم پسر سکندر خاں پہلواں ۱۶ جماد ی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کو واقعی طلاق نہیں دی تھی کسی مقدمہ میں برسراجلاس فریق ثانی کے سوال کے تردید میں جس نے کہ اس کی زوجہ کا بوجہ نوع بنوع تکالیف کے اس کے یہاں سے فرار ہونا ظاہر کیا تھا یہ جواب دیا کہ اس کی زوجہ فرار نہیں ہوئی بلکہ میں نے اس کو طلاق دے دی تھی لیکن بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شخص مذکور الصدر نے محض اپنی آبروریزی کے خیال سے نیز اپنی بات کوبالارکھنے کی وجہ سے طلاق کا اظہار کچہری کے روبرور کیا تھا آیا ایسی صورت میں جیساکہ اس نے کچہری کے ربرو ظاہر کیا طلاق ہونا جائز ہے کیا
(۲)شخص مذکور الصدر ہی نے ایك دعوی بازیابی زوجہ اپنی زوجہ کے خلاف کچہری مجاز میں دائر کیا کچہری نے بعد انفصال مقدمہ ایك نوٹس میعادی آٹھ یوم بایں مضمون بنام مدعی جاری کیا کہ میعاد مقررہ کے اندر مدعی اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائے ورنہ بعد انقضائے میعاد مذکور سمجھاجائے گا کہ مدعی مذکور کی جانب سے طلاق ثلاثہ ہوگئی چنانچہ نوٹس مجریہ بعد بعد اطلاع یابی مدعی بلاکسی اطلاع کے کہ مدعی اپنی زوجہ کو اتنے روز میں لے جائے گا موصول کچہری مجاز ہوگا بعد اختتام میعاد مذکور وکیل مدعا علیہا نے ازروئے قانون مروجہ ہدایت کی کہ مدعا علیہا اب اپنا عقد ثانی کرسکتی ہے اس صورت میں اگر خلاف مدعا علیہا کسی قسم کا دعوی مدعی کی طرف سے ہوگا تو اس کا ذمہ دارمیں ہوں لہذا عرض ہے کہ اس صورت میں بھی کہ جو یہاں کی گئی تحریر فرمائیں ازروئے شرع شریف طلاق ہوگئی یا نہیں
الجواب :
پہلی صورت میں ایك طلاق ہوجانے کا حکم دیا جائے گا اگر چہ عنداﷲنہ ہو جبکہ جھوٹ کہا ہو کما فی الخیریۃ فیمن اقربا لطلاق کاذبا(جیساکہ خیریہ میں طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے والے کی بحث میں ہے۔ ت)
صورت دوم میں ہرگز طلاق نہ ہوئی نوٹس میں دوسرے کا یہ لکھ دینا اور شوہر کا جواب نہ دینا محض مہمل ہے ہرگز اس سے عورت کو دوسری جگہ نکاح کا اختیار نہیں ہوسکتا حدیث میں ہے : الطلاق لمن اخذبالساق (طلاق کا حق صرف خاوند کو ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۳ : از شہر رجمٹ اکاکور ۶۳چھاؤنی مسئولہ محمد حسین صاحب سہارنپوری ۲۰ ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو کو عشق ہوگیا تھا اور ہروقت خیال معشوق رہتا تھا اور فکر دل رہتا تھا اور خلش بہت تھی عمرو نے گھبراہٹ میں طلاق دے دی اس کلمہ کو دن میں بار بار جنون کی حالت میں بیان کرتا تھا۔
الجواب :
فقط گھبراہٹ یا دماغ پر گرمی کا نام جنون نہیں اگر واقعی مجنون نہ تھا تو طلاق ہوگئی اگر تین بار کہی تو تین بار وہ الفاظ جو اس نے بار بار کہے سائل نے بیان نہ کئے کہ ان کا مفصل حکم دیا جاتا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میں لڑائی ہوئی زید نے حالت غیظ وغضب میں ہندہ کو طلاق نامہ لکھ دیا اور اپنے مکان سے نکال دیا اسے مدت گزری یہاں تك کہ عدت گزرگئی اب زید کہتا ہے کہ مجھے طلاق منظور نہ تھی میں نے شدت غضب میں وہ طلاق نامہ لکھا تھا اور زبان سے کوئی لفظ طلاق نہ کہا تھا پس اس صورت میں زید کا یہ عذر قابل سماعت ہے یا نہیں ہندہ پر طلاق ہوئی یا نہیں اور اگر ہوئی تو اب زید اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں اور ہندہ کا ہر زید پرواجب الادا ہوگیا یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
غصہ مانع وقوع طلاق نہیں بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے تو اسے مانع قرار دینا گویا حکم طلاق کا راسا ابطال ہے ہاں اگر شدت غیظ وجوش غضب اس حدکو پہنچ جائے کہ اس سے عقل زائل ہوجائے خبر نہ رہے کیا کہتا ہوں زبان سے کیا نکلتا ہے توبیشك ایسی حالت کی طلاق ہرگز واقع نہ ہوگی پس صورت مستفسرہ میں اگر زید اس حالت تك نہ پہنچا تھا تو صرف غصہ ہونا اسے مفید نہیں اور
پہلی صورت میں ایك طلاق ہوجانے کا حکم دیا جائے گا اگر چہ عنداﷲنہ ہو جبکہ جھوٹ کہا ہو کما فی الخیریۃ فیمن اقربا لطلاق کاذبا(جیساکہ خیریہ میں طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے والے کی بحث میں ہے۔ ت)
صورت دوم میں ہرگز طلاق نہ ہوئی نوٹس میں دوسرے کا یہ لکھ دینا اور شوہر کا جواب نہ دینا محض مہمل ہے ہرگز اس سے عورت کو دوسری جگہ نکاح کا اختیار نہیں ہوسکتا حدیث میں ہے : الطلاق لمن اخذبالساق (طلاق کا حق صرف خاوند کو ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۳ : از شہر رجمٹ اکاکور ۶۳چھاؤنی مسئولہ محمد حسین صاحب سہارنپوری ۲۰ ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو کو عشق ہوگیا تھا اور ہروقت خیال معشوق رہتا تھا اور فکر دل رہتا تھا اور خلش بہت تھی عمرو نے گھبراہٹ میں طلاق دے دی اس کلمہ کو دن میں بار بار جنون کی حالت میں بیان کرتا تھا۔
الجواب :
فقط گھبراہٹ یا دماغ پر گرمی کا نام جنون نہیں اگر واقعی مجنون نہ تھا تو طلاق ہوگئی اگر تین بار کہی تو تین بار وہ الفاظ جو اس نے بار بار کہے سائل نے بیان نہ کئے کہ ان کا مفصل حکم دیا جاتا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میں لڑائی ہوئی زید نے حالت غیظ وغضب میں ہندہ کو طلاق نامہ لکھ دیا اور اپنے مکان سے نکال دیا اسے مدت گزری یہاں تك کہ عدت گزرگئی اب زید کہتا ہے کہ مجھے طلاق منظور نہ تھی میں نے شدت غضب میں وہ طلاق نامہ لکھا تھا اور زبان سے کوئی لفظ طلاق نہ کہا تھا پس اس صورت میں زید کا یہ عذر قابل سماعت ہے یا نہیں ہندہ پر طلاق ہوئی یا نہیں اور اگر ہوئی تو اب زید اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں اور ہندہ کا ہر زید پرواجب الادا ہوگیا یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
غصہ مانع وقوع طلاق نہیں بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے تو اسے مانع قرار دینا گویا حکم طلاق کا راسا ابطال ہے ہاں اگر شدت غیظ وجوش غضب اس حدکو پہنچ جائے کہ اس سے عقل زائل ہوجائے خبر نہ رہے کیا کہتا ہوں زبان سے کیا نکلتا ہے توبیشك ایسی حالت کی طلاق ہرگز واقع نہ ہوگی پس صورت مستفسرہ میں اگر زید اس حالت تك نہ پہنچا تھا تو صرف غصہ ہونا اسے مفید نہیں اور
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ باب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۲
طلاق جس طرح قول سے واقع ہوتی ہے یونہین تحریر سے پس وہ طلاق واقع ہوگئی اور بہ سبب مرور عدت کے اب رجوع بھی نہیں کرسکتا ہاں اگر تین طلاقیں نہ تھیں تو نکاح جدید بے حلالہ کے کرسکتا ہے ورنہ حلالہ کی ضرورت ہےکما ھوالحکم المعروف(جیسا کہ حکم مشہور ہے۔ ت)اور مہر ہندہ اس صورت میں بیشك زید پر واجب الادا ہے اور اگر وہ دعوی کرے کہ اس تحریر کے وقت میرا غصہ ایسی ہی حالت کو پہنچا ہوا تھا کہ میری عقل بالکل زائل ہوگئی تھی اور مجھے نہ معلوم تھا کہ میں کیا کہتا ہوں کیا میرے منہ سے نکلتا ہے تو اطمینان ہندہ کےلئے اس کا ثبوت گواہان عادل سے دے کہ اگر چہ عنداﷲوہ اپنے بیان میں سچا ہواور اسے عورت کے پاس جانا دیانتا روا ہو مگر عورت کو بے ثبوت بقائے نکاح اس کے پاس رہنا ہرگز حلال نہیں ہوسکتا توضرور ہوا کہ زید اپنے دعوی پر گواہ د ے یا اگر معلوم ومعروف ہے کہ اسے پہلے بھی کبھی اس کی ایسی حالت ہوگئی تھی تو گواہوں کی کچھ حاجت نہیں مجرد قسم کھا کر بیان کرے ورنہ مقبول نہیں (جواب ناقص ملا)
مسئلہ ۱۵۵ : از رامپورمحلہ پھول واڑہ مرسلہ محمد علی صاحب مورخہ ۷ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ طلاق کے کہ زید کی بیوی جب اپنے میکہ گئی تو علیل ہوگئی اورحاملہ بھی ہے جب کچھ فرست ہوئی تو سسرال میں آئی شام کے ۷بجے ماہ رمضان میں ایك دورہ گرمی یا کسی دوسری بیماری کے سبب سے لاحق ہوا اور اس وقت کی حالت خطر ناك تھی زید اپنے مکان پر موجود نہ تھا کچھ عرصہ کے بعد جب زید مکان پر آیا اور اپنی کو ایسی حالت میں دیکھا فورا واپس گیا تاکہ حکیم صاحب کو لائے جب حکیم صاحب کے یہاں وہ جارہا تھا تو اس نے اپنی سسرال میں بھی اس واقعہ کی خبر کردی جس پر زید کے خسر اور ساس آگئے حکیم صاحب نے اپنی تشخیص سے یہ ثابت کیا کہ کسی چوٹ کی وجہ سے یہ دورہ پڑا ہے اس پر زید کے سالے نے یہ خیال کرکے کہ زید نے اس کی ہمشیرہ کو مارا ہے سخت وسست کہنا شروع کیا جس پر زید بھی وہی کہنے کے لئے تیار ہوگیا نوبت باینجار سید کہ ہاتا پائی شروع ہوگئی زید کی والدہ نے زید کے پھوپھا زاد بھائی کو آوازدی اور وہ زید کی زوجہ سے بھی یہ رشتہ رکھتے ہیں وہ فورا آگئے اور زید کو پکڑکرلے گئے۔ اس وقت زید کی حالت ایك دیوانے کتے کی تھی اس کو کسی بات کا ہوش نہ تھا اسی رات میں اس نے یہ کہا جس عورت کی وجہ سے یہ بے عزتی مجھ کو اٹھانا پڑی میں نے اس کو تین طلاق پر چھوڑا لیکن یہ کلمہ ایك مرتبہ اس کے منہ سے نکلا زید کے خسر اپنی بیٹی کو اسی وقت لے گئے جس کو اب تك دو۲ماہ اور کچھ دن گزرے اس پر کیا حکم ہے اورزید نے اپنی بیوی بلانے کےلئے کہا ہے۔
مسئلہ ۱۵۵ : از رامپورمحلہ پھول واڑہ مرسلہ محمد علی صاحب مورخہ ۷ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ طلاق کے کہ زید کی بیوی جب اپنے میکہ گئی تو علیل ہوگئی اورحاملہ بھی ہے جب کچھ فرست ہوئی تو سسرال میں آئی شام کے ۷بجے ماہ رمضان میں ایك دورہ گرمی یا کسی دوسری بیماری کے سبب سے لاحق ہوا اور اس وقت کی حالت خطر ناك تھی زید اپنے مکان پر موجود نہ تھا کچھ عرصہ کے بعد جب زید مکان پر آیا اور اپنی کو ایسی حالت میں دیکھا فورا واپس گیا تاکہ حکیم صاحب کو لائے جب حکیم صاحب کے یہاں وہ جارہا تھا تو اس نے اپنی سسرال میں بھی اس واقعہ کی خبر کردی جس پر زید کے خسر اور ساس آگئے حکیم صاحب نے اپنی تشخیص سے یہ ثابت کیا کہ کسی چوٹ کی وجہ سے یہ دورہ پڑا ہے اس پر زید کے سالے نے یہ خیال کرکے کہ زید نے اس کی ہمشیرہ کو مارا ہے سخت وسست کہنا شروع کیا جس پر زید بھی وہی کہنے کے لئے تیار ہوگیا نوبت باینجار سید کہ ہاتا پائی شروع ہوگئی زید کی والدہ نے زید کے پھوپھا زاد بھائی کو آوازدی اور وہ زید کی زوجہ سے بھی یہ رشتہ رکھتے ہیں وہ فورا آگئے اور زید کو پکڑکرلے گئے۔ اس وقت زید کی حالت ایك دیوانے کتے کی تھی اس کو کسی بات کا ہوش نہ تھا اسی رات میں اس نے یہ کہا جس عورت کی وجہ سے یہ بے عزتی مجھ کو اٹھانا پڑی میں نے اس کو تین طلاق پر چھوڑا لیکن یہ کلمہ ایك مرتبہ اس کے منہ سے نکلا زید کے خسر اپنی بیٹی کو اسی وقت لے گئے جس کو اب تك دو۲ماہ اور کچھ دن گزرے اس پر کیا حکم ہے اورزید نے اپنی بیوی بلانے کےلئے کہا ہے۔
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں ہوسکتا مگر جبکہ گواہان عادل شرعی سے ثابت ہوکہ واقعی وہ اس وقت حالت جنون میں تھا یایہ معلوم ومشہور ہوکہ اسے جب غصہ آتا ہے عقل سے باہر ہوجاتا ہے اور حرکات مجنونانہ اس سے صادر ہوتی ہے اس حالت میں اگر وہ قسم کھاکر کہہ دے گا کہ اس وقت میرا یہی حال تھا اور میں عقل سے بالکل خالی تھا تو قبل کرلیں گے اور بحکم طلاق نہ دیں گے اگر جھوٹا حلف کریگا وبال اس پر ہے والمسئلۃ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرھا(یہ مسئلہ خیریہ اور رد المحتار وغیرہما میں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۶ : ۲۸ربیع الثانی شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کسی کے جبر وظلم سے محض ناچار ومجبور ہوکر اپنی عورت کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا اس صورت میں طلاق پڑے گی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
طلاق بخوشی دی جاےخواہ بجبر' واقع ہوجائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ شیشہ پر پتھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھٹ پڑے شیشہ ہرطرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سے الفاظ طلاق کہنے میں ہے اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔ تنویرالابصار میں ہے :
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا او مخطئا وفی ردالمحتار عن البحران المراد الاکراہ علی تلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولاحاجۃھنا ۔
ہر عاقل بالغ خاوند کی طلاق نافذ ہوجائیگی اگر چہ مجبور کیا گیا یا خطاء سے طلاق کا کہہ دیا ہو اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ کتابت کو تلفظ کے قائم مقام محض حاجت کی بناء پر کیا گیا ہے اور یہاں خاوند کو حاجت نہیں ہے۔(ت)
تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں ہوسکتا مگر جبکہ گواہان عادل شرعی سے ثابت ہوکہ واقعی وہ اس وقت حالت جنون میں تھا یایہ معلوم ومشہور ہوکہ اسے جب غصہ آتا ہے عقل سے باہر ہوجاتا ہے اور حرکات مجنونانہ اس سے صادر ہوتی ہے اس حالت میں اگر وہ قسم کھاکر کہہ دے گا کہ اس وقت میرا یہی حال تھا اور میں عقل سے بالکل خالی تھا تو قبل کرلیں گے اور بحکم طلاق نہ دیں گے اگر جھوٹا حلف کریگا وبال اس پر ہے والمسئلۃ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرھا(یہ مسئلہ خیریہ اور رد المحتار وغیرہما میں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۶ : ۲۸ربیع الثانی شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کسی کے جبر وظلم سے محض ناچار ومجبور ہوکر اپنی عورت کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا اس صورت میں طلاق پڑے گی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
طلاق بخوشی دی جاےخواہ بجبر' واقع ہوجائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ شیشہ پر پتھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھٹ پڑے شیشہ ہرطرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سے الفاظ طلاق کہنے میں ہے اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔ تنویرالابصار میں ہے :
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا او مخطئا وفی ردالمحتار عن البحران المراد الاکراہ علی تلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولاحاجۃھنا ۔
ہر عاقل بالغ خاوند کی طلاق نافذ ہوجائیگی اگر چہ مجبور کیا گیا یا خطاء سے طلاق کا کہہ دیا ہو اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ کتابت کو تلفظ کے قائم مقام محض حاجت کی بناء پر کیا گیا ہے اور یہاں خاوند کو حاجت نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۱
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۱
مگر یہ سب اس صورت میں جبکہ اکراہ شرعی ہوکہ اس سے ضرر رسانی کااندیشہ ہوا اور وہ ایذاء پر قادر ہو صرف اس قدر کہ اس نے اپنے سخت اصرارسے مجبور کردیا اور اس کے لحاظ پاس سے اسے لکھتے بنی اکراہ کے لئے کافی نہیں یوں لکھے گا تو طلاق ہوجائے گی کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷ : از ڈاك خانہ راموچکما کول ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ مفیض الرحمن ۱۰جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ
کسی نے ایك شخص کو جبرانشہ پلایا وہ حالت بیہوشی میں اگر عورت کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہوگئی
الجواب :
لوگ کسی کے اصرار کو بھی جبر کہتے ہیں یہ جبر نہیں اگر ایسے جبر سے نشہ کی چیز پی اور اس نشہ میں طلاق دی بلاشبہہ بالاتفاق ہوگئی ہاں اگر جبر واکراہ شرعی ہو۔ مثلا قتل یا قطع عضو کی دھمکی دے جس کے نفاذپر یہ اسے قادر جانتا ہو یایوں کہ کسی نے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ چیرکر حلق میں شراب ڈال دی تو یہ صورت ضرور جبر کی ہے اورتحقیق یہ ہےکہ اس نشہ میں اگر طلاق دے نہ پڑے گی۔ درمختار میں ہے :
اختلف التصحیح فیمن سکر مکرھا اومضطرا ۔
جس شخص نے مجبور ہوکر یا اضطراری حالت میں نشہ آور چیز کو استعمال کیا اور اسی نشہ میں اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو ایسے شخص کی طلاق میں تصحیح مختلف ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
صحح فی التحفۃ وغیرھا عدم الوقوع وفی النھر عن تصحیح القدوری انہ التحقیق ۔ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تحفہ وغیرہ میں طلاق واقع نہ ہونے کو صحیح قرار دیاگیا ہے اور نہر میں قدوری کی تصحیح بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی تحقیق ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵۷ : از ڈاك خانہ راموچکما کول ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ مفیض الرحمن ۱۰جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ
کسی نے ایك شخص کو جبرانشہ پلایا وہ حالت بیہوشی میں اگر عورت کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہوگئی
الجواب :
لوگ کسی کے اصرار کو بھی جبر کہتے ہیں یہ جبر نہیں اگر ایسے جبر سے نشہ کی چیز پی اور اس نشہ میں طلاق دی بلاشبہہ بالاتفاق ہوگئی ہاں اگر جبر واکراہ شرعی ہو۔ مثلا قتل یا قطع عضو کی دھمکی دے جس کے نفاذپر یہ اسے قادر جانتا ہو یایوں کہ کسی نے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ چیرکر حلق میں شراب ڈال دی تو یہ صورت ضرور جبر کی ہے اورتحقیق یہ ہےکہ اس نشہ میں اگر طلاق دے نہ پڑے گی۔ درمختار میں ہے :
اختلف التصحیح فیمن سکر مکرھا اومضطرا ۔
جس شخص نے مجبور ہوکر یا اضطراری حالت میں نشہ آور چیز کو استعمال کیا اور اسی نشہ میں اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو ایسے شخص کی طلاق میں تصحیح مختلف ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
صحح فی التحفۃ وغیرھا عدم الوقوع وفی النھر عن تصحیح القدوری انہ التحقیق ۔ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تحفہ وغیرہ میں طلاق واقع نہ ہونے کو صحیح قرار دیاگیا ہے اور نہر میں قدوری کی تصحیح بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی تحقیق ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۴
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۴
مسئلہ ۱۵۸ : ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارےامام اعظم رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے نزدیك اگر طلاق جبرا دلوائی جائے تو اگر خوف جان سے مجبورا اگر کوئی عورت اپنی کو طلاق دیوے تو طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں اور اگر لفظ نفی آہستہ سے اپنی دبی زبان سے کہہ لیوے کہ وہ نہ سمجھے اور نہ سنے تو بھی واقع ہوجاوےگی یانہیں مثلایہ کہے میں نے اپنی عورت کو طلاق(نہیں )دی یا لفظ استثنا(ان شاء اﷲ)آہستہ سے کہہ لیوے تو کیا حکم ہے یا اور کوئی حیلہ ہوسکتا ہے یا نہیں جس سے طلاق واقع نہ ہو۔
الجواب :
طلاق اگر دبی زبان سے دے کیسے ہی جبر واکراہ سے دی ہوجائے گی اور استثناء یا الحاق نفی اگر ایسی آواز سے تھا کہ خود اپنے کان تك پہنچے کے قابل بھی نہ تھی توعنداﷲبھی معتبر نہیں طلاق ہوگئی اور اگر اپنے کان تك آواز آئی اس مکرہ نے نہ سنی نہ اور حاضرین نے تو قضاء طلا ق جائے گی عنداﷲنہ ہوگی۔ حیلہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس کے اکراہ پر کہے طلا ق طلاق طلاق اور نیت یہ کرے کہ مہمل مطالبہ کررہے ہو لیکن مکرہ اگر ہوشیار ہے اور بے تصریح اضافت نہ مانے تو کوئی حیلہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۹ : از حافظ شمس الدین شاہ آباد ضلع ہردوئی گگیانمی ۲۰محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص پندرہ سال سے دیوانہ ہوگیا ہے او اس کی عورت ہے اس کو اپنی عورت سے کوئی غرض واسطہ نہیں ہے اس کاحق پورا نہیں کرسکتا کھانا کپڑا وغیرہ کچھ نہیں دے سکتا ہے عرصہ آٹھ دس ماہ کا ہوا اس سے طلاق کے واسطے کہا گیا کہ اپنی عورت کو طلاق دے دے تب اس نے دو۲ مرد اور ایك عورت کے سامنے طلاق دے دی تین بار اپنی زبان سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو طلاق دی عورت کون ہے جس کے روبرو طلاق دی دیوانہ کی ماں ہے مرد وہ کون ہیں جن کے روبرو طلاق دی ایك دیوانہ کابھائی ہے دوسرا بھانجا ہے یہ شخص ایسا دیوانہ نہیں ہے جو بالکل ہوش وحواس نہ رکھتاہو کھاتا پیتا ہے مکان میں رہتا ہے اس کی کوئی جائداد ایسی نہیں جواپنا گزرکر سکے اس کی عورت دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے آیا طلاق ہوئی یا نہیں بینواتوجروا۔ برائے مہربانی جواب سے جلد مطلع فرمائے
الجواب :
مجنون کی طلاق باطل ہے وہ لاکھ دفعہ طلاق دے ہرگز نہ ہوگی نہ عورت کو دوسرے سے نکاح جائز ہوگا نہ اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہے لان الولایۃ للنظر لاللضرر(کیونکہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارےامام اعظم رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے نزدیك اگر طلاق جبرا دلوائی جائے تو اگر خوف جان سے مجبورا اگر کوئی عورت اپنی کو طلاق دیوے تو طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں اور اگر لفظ نفی آہستہ سے اپنی دبی زبان سے کہہ لیوے کہ وہ نہ سمجھے اور نہ سنے تو بھی واقع ہوجاوےگی یانہیں مثلایہ کہے میں نے اپنی عورت کو طلاق(نہیں )دی یا لفظ استثنا(ان شاء اﷲ)آہستہ سے کہہ لیوے تو کیا حکم ہے یا اور کوئی حیلہ ہوسکتا ہے یا نہیں جس سے طلاق واقع نہ ہو۔
الجواب :
طلاق اگر دبی زبان سے دے کیسے ہی جبر واکراہ سے دی ہوجائے گی اور استثناء یا الحاق نفی اگر ایسی آواز سے تھا کہ خود اپنے کان تك پہنچے کے قابل بھی نہ تھی توعنداﷲبھی معتبر نہیں طلاق ہوگئی اور اگر اپنے کان تك آواز آئی اس مکرہ نے نہ سنی نہ اور حاضرین نے تو قضاء طلا ق جائے گی عنداﷲنہ ہوگی۔ حیلہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس کے اکراہ پر کہے طلا ق طلاق طلاق اور نیت یہ کرے کہ مہمل مطالبہ کررہے ہو لیکن مکرہ اگر ہوشیار ہے اور بے تصریح اضافت نہ مانے تو کوئی حیلہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۹ : از حافظ شمس الدین شاہ آباد ضلع ہردوئی گگیانمی ۲۰محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص پندرہ سال سے دیوانہ ہوگیا ہے او اس کی عورت ہے اس کو اپنی عورت سے کوئی غرض واسطہ نہیں ہے اس کاحق پورا نہیں کرسکتا کھانا کپڑا وغیرہ کچھ نہیں دے سکتا ہے عرصہ آٹھ دس ماہ کا ہوا اس سے طلاق کے واسطے کہا گیا کہ اپنی عورت کو طلاق دے دے تب اس نے دو۲ مرد اور ایك عورت کے سامنے طلاق دے دی تین بار اپنی زبان سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو طلاق دی عورت کون ہے جس کے روبرو طلاق دی دیوانہ کی ماں ہے مرد وہ کون ہیں جن کے روبرو طلاق دی ایك دیوانہ کابھائی ہے دوسرا بھانجا ہے یہ شخص ایسا دیوانہ نہیں ہے جو بالکل ہوش وحواس نہ رکھتاہو کھاتا پیتا ہے مکان میں رہتا ہے اس کی کوئی جائداد ایسی نہیں جواپنا گزرکر سکے اس کی عورت دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے آیا طلاق ہوئی یا نہیں بینواتوجروا۔ برائے مہربانی جواب سے جلد مطلع فرمائے
الجواب :
مجنون کی طلاق باطل ہے وہ لاکھ دفعہ طلاق دے ہرگز نہ ہوگی نہ عورت کو دوسرے سے نکاح جائز ہوگا نہ اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہے لان الولایۃ للنظر لاللضرر(کیونکہ
ولایت شفقت کے لئے ہوتی ہے ضرر کے لئے نہیں ۔ ت)کھانا پینا مکان میں رہنا منافی جنوں نہیں واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ : از شہر بریلی محلہ بہاری پور زوجہ عبدالرحمن صاحب ۴محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ محبوبن کا نکاح مستری عبدالرحمن سے عرصہ نوسال کا ہوا جب ہوا تھابعد نکاح ایك سال تك باقاعدہ رہا پھر اس کے یہاں سے چلاگیا چونکہ مکان مسماۃ محبوبن کا تھا اس واسطے وہ اکیلی مکان میں رہی محلہ والے اس کو سمجھا کر لائے غرضکہ اسی طرح کبھی وہ چلاجاتا اور کبھی آجاتا یونہی عرصہ نوسال کا ہوا بعد نوسال کے وہ لوگ جونکاح کے گواہ تھے ان کے سامنے کہہ گیا تین بار کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دی اور کہا نہ تومیری بی بی نہ میں تیرا شوہر اب اس صورت میں نکاح جائز رہا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سچ اور جھوٹ کا حال اﷲجانتا ہے یہ حلال وحرا م وقبر وحشر کا معاملہ ہے بناوٹ سے حلال حرام نہ ہوجائے گا نہ اﷲتعالی کے یہاں بناوٹ کام دے گی جولوگوں کی چھپی جانتا ہے اگر واقع میں عورت جانتی ہے کہ وہ تین بار اس سے یہ الفاظ کہہ گیا تو عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر شوہر واپس آئے اورطلاق سے منکر ہو اور گواہوں میں دو۲ گواہ حامل قبول نہ نکلیں تو طلاق ثابت نہ ہوگی شوہر کے حلف کے بعد عورت اسے جبرا واپس دلائی جائےگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱تا۱۶۳ : از فتح پور ضلع شیحا واٹی درگاہ مسئولہ پیرجی محمد حنیف صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)کتنی بار طلاق دینے سے عورت خاوند پر حرام ہوسکتی ہے
(۲)جس شخص اپنی زوجہ کو دس۱۰ بار طلاق دے اوراس کے ثبوت میں تین بار خاص اپنے ہاتھ سے تحریر لکھ لکھ کر لوگوں پر ظاہر کرے تو کیا وہ عورت بغیر حلالہ اس کے لئے بغیر نکاح حلال ہوسکتی ہے
(۳)اسی مطلقہ سے انہیں شرطوں پر بغیر حلالہ کئے رہی طلاق دینے والا خاوند صحبت کرتا رہے اور اس کو بدستور اپنے عملدرآمد میں لاتا رہے ا س کا کیا حکم ہے اس کی اولاد کیسی ہے اور اس کی جائداد کی مستحق ہوگی یانہیں اورایسا شخص قابل خلافت وسجادگی و خرقہ درویشی ہے یانہیں بینواتوجروا
مسئلہ ۱۶۰ : از شہر بریلی محلہ بہاری پور زوجہ عبدالرحمن صاحب ۴محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ محبوبن کا نکاح مستری عبدالرحمن سے عرصہ نوسال کا ہوا جب ہوا تھابعد نکاح ایك سال تك باقاعدہ رہا پھر اس کے یہاں سے چلاگیا چونکہ مکان مسماۃ محبوبن کا تھا اس واسطے وہ اکیلی مکان میں رہی محلہ والے اس کو سمجھا کر لائے غرضکہ اسی طرح کبھی وہ چلاجاتا اور کبھی آجاتا یونہی عرصہ نوسال کا ہوا بعد نوسال کے وہ لوگ جونکاح کے گواہ تھے ان کے سامنے کہہ گیا تین بار کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دی اور کہا نہ تومیری بی بی نہ میں تیرا شوہر اب اس صورت میں نکاح جائز رہا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سچ اور جھوٹ کا حال اﷲجانتا ہے یہ حلال وحرا م وقبر وحشر کا معاملہ ہے بناوٹ سے حلال حرام نہ ہوجائے گا نہ اﷲتعالی کے یہاں بناوٹ کام دے گی جولوگوں کی چھپی جانتا ہے اگر واقع میں عورت جانتی ہے کہ وہ تین بار اس سے یہ الفاظ کہہ گیا تو عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر شوہر واپس آئے اورطلاق سے منکر ہو اور گواہوں میں دو۲ گواہ حامل قبول نہ نکلیں تو طلاق ثابت نہ ہوگی شوہر کے حلف کے بعد عورت اسے جبرا واپس دلائی جائےگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱تا۱۶۳ : از فتح پور ضلع شیحا واٹی درگاہ مسئولہ پیرجی محمد حنیف صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)کتنی بار طلاق دینے سے عورت خاوند پر حرام ہوسکتی ہے
(۲)جس شخص اپنی زوجہ کو دس۱۰ بار طلاق دے اوراس کے ثبوت میں تین بار خاص اپنے ہاتھ سے تحریر لکھ لکھ کر لوگوں پر ظاہر کرے تو کیا وہ عورت بغیر حلالہ اس کے لئے بغیر نکاح حلال ہوسکتی ہے
(۳)اسی مطلقہ سے انہیں شرطوں پر بغیر حلالہ کئے رہی طلاق دینے والا خاوند صحبت کرتا رہے اور اس کو بدستور اپنے عملدرآمد میں لاتا رہے ا س کا کیا حکم ہے اس کی اولاد کیسی ہے اور اس کی جائداد کی مستحق ہوگی یانہیں اورایسا شخص قابل خلافت وسجادگی و خرقہ درویشی ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
(۱)جب طلاقیں تین تك پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لئے بے حلالہ کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی قال اﷲتعالی
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا ہے : اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ اس کےلئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
(۲)جس نے دس۱۰ طلاقیں دیں تین سے طلاق مغلظ ہوگئی اور باقی سات۷ شریعت سے اس کا استہزا تھیں بلانکاح تو مطلقہ بائن بھی حلال نہیں ہوسکتی ہے اور یہ تو نکاح سے حرام محض رہے گی جب تك حلالہ نہ ہو طلاق دے یا مرجائے اور بہر حال اس کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس پہلے سے نکاح ہوسکتا ہے ورنہ ہرگز ورنہ ہرگز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)وہ صحبت زنا ہوگی اور اسے اگر مسئلہ معلوم ہے تو یہ زانی اور شرعا سزائے زنا کا مستحق اور اولاد ولدالزناء اور ترکہ پدری سے محروم اور ایسا شخص قابل خلافت وسجادہ نشینی نہیں
وقد قال فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار انہ زنا اذاعلم بالحرمۃ ۔
ردالمحتاروغیرہ کتب میں فرمایا : جب حرام ہونا معلوم ہے تو یہ زنا ہے۔ (ت)
اور اس میں برابر ہے کہ تین طلاقیں ایك ساتھ ہوں یا متفرق۔ درمختار میں ہے :
لاحدبشبہۃ الفعل ان ظن حلہ کوطء معتدۃ الثلاث ولوجملۃ ۔ (ملخصا)
جب حلال ہونے کا گمان کیا تو یہ شبہہ فعل ہوگا جس پر حد نہیں جیسا کہ اپنی مطلقہ ثلاثہ کی عدت میں جماع کیا اگرچہ اکھٹی تین طلاقیں ہوں (ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای ولوکان تطلیقۃ الثلاث بلفظ واحد فلایسقط عنہ الحدالاان ادعی ظن الحل
یعنی ایك لفظ سے تینوں طلاقیں دے دی ہوں تو عدت میں وطی کرنے پر حد ساقط نہ ہوگی مگر ا س نے اس صورت میں حلال ہونا گمان ہوتو پھر
(۱)جب طلاقیں تین تك پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لئے بے حلالہ کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی قال اﷲتعالی
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا ہے : اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ اس کےلئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
(۲)جس نے دس۱۰ طلاقیں دیں تین سے طلاق مغلظ ہوگئی اور باقی سات۷ شریعت سے اس کا استہزا تھیں بلانکاح تو مطلقہ بائن بھی حلال نہیں ہوسکتی ہے اور یہ تو نکاح سے حرام محض رہے گی جب تك حلالہ نہ ہو طلاق دے یا مرجائے اور بہر حال اس کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس پہلے سے نکاح ہوسکتا ہے ورنہ ہرگز ورنہ ہرگز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)وہ صحبت زنا ہوگی اور اسے اگر مسئلہ معلوم ہے تو یہ زانی اور شرعا سزائے زنا کا مستحق اور اولاد ولدالزناء اور ترکہ پدری سے محروم اور ایسا شخص قابل خلافت وسجادہ نشینی نہیں
وقد قال فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار انہ زنا اذاعلم بالحرمۃ ۔
ردالمحتاروغیرہ کتب میں فرمایا : جب حرام ہونا معلوم ہے تو یہ زنا ہے۔ (ت)
اور اس میں برابر ہے کہ تین طلاقیں ایك ساتھ ہوں یا متفرق۔ درمختار میں ہے :
لاحدبشبہۃ الفعل ان ظن حلہ کوطء معتدۃ الثلاث ولوجملۃ ۔ (ملخصا)
جب حلال ہونے کا گمان کیا تو یہ شبہہ فعل ہوگا جس پر حد نہیں جیسا کہ اپنی مطلقہ ثلاثہ کی عدت میں جماع کیا اگرچہ اکھٹی تین طلاقیں ہوں (ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای ولوکان تطلیقۃ الثلاث بلفظ واحد فلایسقط عنہ الحدالاان ادعی ظن الحل
یعنی ایك لفظ سے تینوں طلاقیں دے دی ہوں تو عدت میں وطی کرنے پر حد ساقط نہ ہوگی مگر ا س نے اس صورت میں حلال ہونا گمان ہوتو پھر
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۳۰
ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۱۰ ، ۶۱۲ ، ۶۱۵
درمختار باب العطاء الذی لایوجب الحد الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱۸
ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۱۰ ، ۶۱۲ ، ۶۱۵
درمختار باب العطاء الذی لایوجب الحد الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱۸
وکذالو وقع الثلاث متفرقۃبالطریق الاولی اذلم یخالف فیہ احد لان القران ناطق بانتفاء المحل بعد الثلاثۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اس پر حد نہ ہوگی او ریوں ہی اگر اس نے تین متفرق دی ہوں تو بطریق اولی حد ساقط ہوگی کیونکہ اس میں کوئی مخالف نہیں تین طلاقوں کے بعد بیوی کامحل وطیئ نہ رہنا قرآن کی نص ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶۴تا۱۶۶ : جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغ اور نابالغہ کا نکاح بذریعہ ان کے ولی کے ہوسکتا ہے یانہیں
(۲)زید نے اپنی لڑکی نابالغہ عمر تقریبا دس۱۰سال کا نکاح ایك لڑکے چوبیس۲۴سالہ کے ساتھ کردیا اپنی ولایت سے درست ہے یانہیں
(۳)اگر اس لڑکی نے کچھ اشارہ وقت لینے اقرارکے کر دیا ہوتوبھی نکاح درست ہے۔ اب عمرو نے ان تینوں صورتوں میں ایسی کسی صورت کو حاصل کرکے اپنی بی بی کو طلاق دے دی اس کے باپ کے کہنے سے اور لڑکی بھی اپنی نادانی سے طلاق پر رضا مندتھی طلاق ہوگئی لفظ طلاق یوں کہا طلاق دی طلاق دی طلاق دی تین دفعہ کہنے سے طلاق ہوگئی اب بعد طلاق اس کا نکاح پھر پڑھا جاوے تو کس شرط کے بعد نکاح جائز ہوجائے گابینواتوجروا(بیان کرکے اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
نابالغ نابالغہ کا نکاح بذریعہ ولی ہوسکتا ہے۔
(۲)باپ نے اپنی نودس برس کی لڑکی کانکاح چوبیس سالہ لڑکے کے ساتھ کردیا درست ہے
وقد تزوج رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ام المومنین رضی اﷲتعالی عنھا وھی بنت ست سنین و بنی بھا وھی بنت تسع سنین ۔
بیشك حضور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہ سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں آپ نے رخصتی حاصل کی تو وہ نوسال کی تھیں ۔ (ت)
(۳)ولی جائز کے ہوتے نابالغہ کے اشارہ کی کوئی حاجت نہیں اور بغیر ولی کے نابالغہ کا اشارہ یا خود زبان سے صراحت ایجاب وقبول کرنا کافی نہیں شوہر عاقل بالغ نے اگر اپنی زوجہ نابالغہ کو طلاق دی
اس پر حد نہ ہوگی او ریوں ہی اگر اس نے تین متفرق دی ہوں تو بطریق اولی حد ساقط ہوگی کیونکہ اس میں کوئی مخالف نہیں تین طلاقوں کے بعد بیوی کامحل وطیئ نہ رہنا قرآن کی نص ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶۴تا۱۶۶ : جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغ اور نابالغہ کا نکاح بذریعہ ان کے ولی کے ہوسکتا ہے یانہیں
(۲)زید نے اپنی لڑکی نابالغہ عمر تقریبا دس۱۰سال کا نکاح ایك لڑکے چوبیس۲۴سالہ کے ساتھ کردیا اپنی ولایت سے درست ہے یانہیں
(۳)اگر اس لڑکی نے کچھ اشارہ وقت لینے اقرارکے کر دیا ہوتوبھی نکاح درست ہے۔ اب عمرو نے ان تینوں صورتوں میں ایسی کسی صورت کو حاصل کرکے اپنی بی بی کو طلاق دے دی اس کے باپ کے کہنے سے اور لڑکی بھی اپنی نادانی سے طلاق پر رضا مندتھی طلاق ہوگئی لفظ طلاق یوں کہا طلاق دی طلاق دی طلاق دی تین دفعہ کہنے سے طلاق ہوگئی اب بعد طلاق اس کا نکاح پھر پڑھا جاوے تو کس شرط کے بعد نکاح جائز ہوجائے گابینواتوجروا(بیان کرکے اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
نابالغ نابالغہ کا نکاح بذریعہ ولی ہوسکتا ہے۔
(۲)باپ نے اپنی نودس برس کی لڑکی کانکاح چوبیس سالہ لڑکے کے ساتھ کردیا درست ہے
وقد تزوج رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ام المومنین رضی اﷲتعالی عنھا وھی بنت ست سنین و بنی بھا وھی بنت تسع سنین ۔
بیشك حضور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہ سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں آپ نے رخصتی حاصل کی تو وہ نوسال کی تھیں ۔ (ت)
(۳)ولی جائز کے ہوتے نابالغہ کے اشارہ کی کوئی حاجت نہیں اور بغیر ولی کے نابالغہ کا اشارہ یا خود زبان سے صراحت ایجاب وقبول کرنا کافی نہیں شوہر عاقل بالغ نے اگر اپنی زوجہ نابالغہ کو طلاق دی
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی الذی یوجب الحد والذی لایوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۲
سنن ابن ماجہ باب نکاح الصفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۶
سنن ابن ماجہ باب نکاح الصفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۶
قال اﷲتعالی
فعدتهن ثلثة اشهر- و اﻼ لم یحضن ۔
اﷲتعالی نے فرمایا نابالغہ اور جن کو حیض بند ہوگیا ہے ان کی عدت تین ماہ ہے۔ (ت)
اس کے بعد اس کا نکاح ہوسکتا ہے
فی الدرالمختار العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا اوکبربان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھران وطئت فی الکل ولو احکما کالخلوۃ ولو فاسدہ مطلقا ۔
درمختارمیں ہے : جن عورتوں کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا نابالغی سے مراد جو نوسال کو نہ پہنچی اور بڑھاپے سے مراد جن کا رحم ناقابل ہوگیا تو ان سب مدخولہ عورتوں کے لئے ہے اگر چہ حکما مدخولہ ہوں جیسا کہ خلوت مطلقا خواہ فاسدہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
المطلقۃ قبل الدخول لایلحقھا طلاق اخراذالم تکن معتدۃ بخلاف ھذہ ۔
قبل از دخول مطلقہ کو دوسری طلاق ملحق نہ ہوگی بشرطیکہ عدت والی نہ ہو بخلاف عدت والی کے۔ (ت)
اور اگر ابھی خلوت نوبت نہ آئی تو ایك طلاق ہوئی اور عورت پر عدت نہیں اسی وقت جس سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۷ : از پنڈی ضلع منڈلہ مرسلہ ولی محمد صاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
محمد بخش نے اپنی عورت کو اس ترکیب سے ایك خطبہ میں طلاق دیا کہ طلاق طلاق طلاق اور مہر بھی جو کچھ تھا ادا کردیا اور طلاق دئے ہوئے عرصہ ایك سال کا ہوا اور اب پھر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں مطابق دوسرے پارہ کے جیساکہ چودھویں رکوع میں اﷲتعالی ارشاد فرماتا ہے مگر ہم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا
فعدتهن ثلثة اشهر- و اﻼ لم یحضن ۔
اﷲتعالی نے فرمایا نابالغہ اور جن کو حیض بند ہوگیا ہے ان کی عدت تین ماہ ہے۔ (ت)
اس کے بعد اس کا نکاح ہوسکتا ہے
فی الدرالمختار العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا اوکبربان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھران وطئت فی الکل ولو احکما کالخلوۃ ولو فاسدہ مطلقا ۔
درمختارمیں ہے : جن عورتوں کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا نابالغی سے مراد جو نوسال کو نہ پہنچی اور بڑھاپے سے مراد جن کا رحم ناقابل ہوگیا تو ان سب مدخولہ عورتوں کے لئے ہے اگر چہ حکما مدخولہ ہوں جیسا کہ خلوت مطلقا خواہ فاسدہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
المطلقۃ قبل الدخول لایلحقھا طلاق اخراذالم تکن معتدۃ بخلاف ھذہ ۔
قبل از دخول مطلقہ کو دوسری طلاق ملحق نہ ہوگی بشرطیکہ عدت والی نہ ہو بخلاف عدت والی کے۔ (ت)
اور اگر ابھی خلوت نوبت نہ آئی تو ایك طلاق ہوئی اور عورت پر عدت نہیں اسی وقت جس سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۷ : از پنڈی ضلع منڈلہ مرسلہ ولی محمد صاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
محمد بخش نے اپنی عورت کو اس ترکیب سے ایك خطبہ میں طلاق دیا کہ طلاق طلاق طلاق اور مہر بھی جو کچھ تھا ادا کردیا اور طلاق دئے ہوئے عرصہ ایك سال کا ہوا اور اب پھر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں مطابق دوسرے پارہ کے جیساکہ چودھویں رکوع میں اﷲتعالی ارشاد فرماتا ہے مگر ہم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا
حوالہ / References
القرآن ۶۵ / ۴
درمختار باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۶
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۱
درمختار باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۶
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۱
صورت بالا میں مطابق قرآن وحدیث کے جواب مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب :
اگر اس نے اتنے ہی لفظ کہے کہ طلاق طلاق طلاق نہ یہ کہا کہ دی نہ یہ کہاکہ تجھ کو یا اس عورت کو نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں تھے جس سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہو تو طلاق اصلا نہ ہوئی وہ بدستور اس کی عورت ہے دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں اور اگر اس کے ساتھ یا اس بات میں جس کے جواب میں یہ الفاظ تھے وہ لفظ موجود تھے جن سے یہ مفہوم ہو کہ اس نے اپنی عورت کو طلاق دی یا وہ اقرار کرےکہ میں نے یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸ : از ڈھاکہ مرسلہ عبدالکریم میاں ۱۳شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی برادری میں کوئی بات لے کر آپس میں متنازع ہورہے تھے اس گفتگو میں وہ شخص کہنے لگا بھائی! میں ایك پریشانی اٹھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنی زوجہ کی سبب سے ہمیشہ پریشان ہوں کیونکہ وہ عورت میری باتوں میں دخل دیا کرتی ہے لہذا میں شرمندہ ہوں اس وقت ان کی ز وجہ گھر میں تھی میاں نے جو اپنی زوجہ کی شکایت کیا زوجہ نے ازاول تا آخر سب سنا زوجہ نے جواب دیا اگر میرے سبب تمہارے تکلیف اور ناگوار ہوتو مجھے نکال دو گے اور کیا کرو گے زوج زوجہ کا کلام سنتے ہی خفا ہوگیا اور کہا جا ایك طلاق دوطلاق تین طلاق دادم آیا اس صورت مذکورہ میں وہ عورت تین طلاق سے مغلظہ ہوئی یا نہیں مگر طالق نہ مخاطب زوجہ کو ہوا نہ ان کا نام لیا اور سوال میں جو لفظ “ جا “ مقولہ طالق ہے یہ معنی امر کی مقصود نہیں ہے بلکہ وہ اپنے کلام میں اکثر یہ لفظ بولاکرتے ہیں معنی امر کے نہیں ہوتے ہیں باوجود ان وجوہات کے کیا حکم
الجواب :
اگر “ جا “ سرے سے کلمہ خطاب نہ ہوتا یا حسب قول سائل یہ اس کاتکیہ کلام ہے اس سے خطاب کا ارادہ نہیں کرتا اور کلام مطلق کہ جواب زوجہ میں ہے اس کے جواب میں بھی نہ ہوتا ابتداء ہو اتنا ہی کہتا کہ “ تین طالق دادم “ جب بھی بلاشبہہ حکم مغلظہ دیا جاتا کہ طلاق دینے سے ظاہر زوجہ ہی کا ارادہ ہے ہاں ازانجا کہ کلام زوجہ میں سوال طلاق نہ تھا نہ کلام زوج الفاظ ایك طلاق دو طلاق الخ عورت کی طرف اضافت ہے اور “ جا “ احتمال مذکور سائل کے علاوہ خود کنایات سے ہے صریح الفاظ سے نہیں کہ تقدم طلاق ہوکر خود مذاکرہ ثابت ہوجائے ان وجوہ سے عدم نیت کا احتمال باقی ہے اگر زوج بحلف شرعی کہہ دے کہ اس نے
الجواب :
اگر اس نے اتنے ہی لفظ کہے کہ طلاق طلاق طلاق نہ یہ کہا کہ دی نہ یہ کہاکہ تجھ کو یا اس عورت کو نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں تھے جس سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہو تو طلاق اصلا نہ ہوئی وہ بدستور اس کی عورت ہے دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں اور اگر اس کے ساتھ یا اس بات میں جس کے جواب میں یہ الفاظ تھے وہ لفظ موجود تھے جن سے یہ مفہوم ہو کہ اس نے اپنی عورت کو طلاق دی یا وہ اقرار کرےکہ میں نے یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸ : از ڈھاکہ مرسلہ عبدالکریم میاں ۱۳شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی برادری میں کوئی بات لے کر آپس میں متنازع ہورہے تھے اس گفتگو میں وہ شخص کہنے لگا بھائی! میں ایك پریشانی اٹھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنی زوجہ کی سبب سے ہمیشہ پریشان ہوں کیونکہ وہ عورت میری باتوں میں دخل دیا کرتی ہے لہذا میں شرمندہ ہوں اس وقت ان کی ز وجہ گھر میں تھی میاں نے جو اپنی زوجہ کی شکایت کیا زوجہ نے ازاول تا آخر سب سنا زوجہ نے جواب دیا اگر میرے سبب تمہارے تکلیف اور ناگوار ہوتو مجھے نکال دو گے اور کیا کرو گے زوج زوجہ کا کلام سنتے ہی خفا ہوگیا اور کہا جا ایك طلاق دوطلاق تین طلاق دادم آیا اس صورت مذکورہ میں وہ عورت تین طلاق سے مغلظہ ہوئی یا نہیں مگر طالق نہ مخاطب زوجہ کو ہوا نہ ان کا نام لیا اور سوال میں جو لفظ “ جا “ مقولہ طالق ہے یہ معنی امر کی مقصود نہیں ہے بلکہ وہ اپنے کلام میں اکثر یہ لفظ بولاکرتے ہیں معنی امر کے نہیں ہوتے ہیں باوجود ان وجوہات کے کیا حکم
الجواب :
اگر “ جا “ سرے سے کلمہ خطاب نہ ہوتا یا حسب قول سائل یہ اس کاتکیہ کلام ہے اس سے خطاب کا ارادہ نہیں کرتا اور کلام مطلق کہ جواب زوجہ میں ہے اس کے جواب میں بھی نہ ہوتا ابتداء ہو اتنا ہی کہتا کہ “ تین طالق دادم “ جب بھی بلاشبہہ حکم مغلظہ دیا جاتا کہ طلاق دینے سے ظاہر زوجہ ہی کا ارادہ ہے ہاں ازانجا کہ کلام زوجہ میں سوال طلاق نہ تھا نہ کلام زوج الفاظ ایك طلاق دو طلاق الخ عورت کی طرف اضافت ہے اور “ جا “ احتمال مذکور سائل کے علاوہ خود کنایات سے ہے صریح الفاظ سے نہیں کہ تقدم طلاق ہوکر خود مذاکرہ ثابت ہوجائے ان وجوہ سے عدم نیت کا احتمال باقی ہے اگر زوج بحلف شرعی کہہ دے کہ اس نے
ـنہ لفظـ “ جا “ بہ نیت طلاق کہا نہ “ طلاق دادم “ سے زوجہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو اس کا قول مان لیں گے اور اصلا طلاق نہ ہونے کا حکم دیں گے اگر جھوٹا حلف کرے گا اپنے زنا اور زوجہ کے زنا کا سخت شدید وبال اس کی گردن پر ہے اور اگر ان میں سے کسی بات پر حلف نہ کرے یا صرف امر دوم پر حلف کرے تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ اور اگر امر دوم پر حلف کرلے کہ اس طلاق دادم سے عورت کو طلاق کی نیت نہ تھی لیکن یہ حلف نہ کرے گا کہ لفظ “ جا “ بہ نیت نہ کہا تو عورت اسے حاکم کے یہاں پیش کرے اگر حاکم کے سامنے حلف کرلے گا کہ “ جا “ بھی طلاق کی نیت سے نہ کہا تو حکم طلاق نہ ہوگا اور اگر وہاں بھی اس پرحلف سے باز رہا تو تین طلاق ہوجانے کا حکم دیں گے۔
وذلك لان المطلوب فی اللفظ الثانی لعدم الحکم بالطلاق وجود الحلف بانہ لم ینوبہ الطلاق فاذا لم یوجد حکم بہ قال فی الخانیۃ والبزازیۃ قال لہا لا تخرجی من الدارالا باذنی فانی حلف بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ اھ وفی ردالمحتار یفھم منہ انہ لو لم یقل ذلک(ای لم یحلف انہ لم یرد بہ طلاقھا بل طلاق غیرھا)تطلق امرأتہ لان العادۃ ان من لہ امرأۃ انما یحلف بطلاقھا لابطلاق غیرھا فقولہ انی حلفت بطلاق ینصرف الیھا مالم یرد غیرھا لانہ یحتمل کلامہ اھ وتمام تحقیقہ
یہ اس لئے کہ دوسرے لفظ میں طلاق نہ ہونے کا حکم اس قسم پر کہ اس نے اس لفظ سے طلاق کا ارادہ نہیں کیا مطلوب ہے تو جب قسم نہ پائی گئی تو طلاق کا حکم دیا جائے گا خانیہ اور بزازیہ میں فرمایا خاوند نے بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر باہرمت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو بیوی باہر نکل گئی اس پر طلاق نہ ہوگی کیونکہ بیوی کی طلاق کا قسم میں ذکر نہیں ہے اور اس میں کسی غیر عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے اس لئے خاوند کی بات معتبر ہوگی اھ اور ردالمحتار میں یوں ہے کہ اس سے معلوم ہورہا ہے اگر خاوند یہ بات نہ کہے یعنی اپنی بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ کرنے اور غیر کا ارادہ کرنے کی قسم نہ کھائے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ عادت یہ ہے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ عادت یہ ہے کہ بیوی والا اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہے کسی دوسری عورت کی قسم نہیں کھاتا تو خاوندکی قسم
ـ
وذلك لان المطلوب فی اللفظ الثانی لعدم الحکم بالطلاق وجود الحلف بانہ لم ینوبہ الطلاق فاذا لم یوجد حکم بہ قال فی الخانیۃ والبزازیۃ قال لہا لا تخرجی من الدارالا باذنی فانی حلف بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ اھ وفی ردالمحتار یفھم منہ انہ لو لم یقل ذلک(ای لم یحلف انہ لم یرد بہ طلاقھا بل طلاق غیرھا)تطلق امرأتہ لان العادۃ ان من لہ امرأۃ انما یحلف بطلاقھا لابطلاق غیرھا فقولہ انی حلفت بطلاق ینصرف الیھا مالم یرد غیرھا لانہ یحتمل کلامہ اھ وتمام تحقیقہ
یہ اس لئے کہ دوسرے لفظ میں طلاق نہ ہونے کا حکم اس قسم پر کہ اس نے اس لفظ سے طلاق کا ارادہ نہیں کیا مطلوب ہے تو جب قسم نہ پائی گئی تو طلاق کا حکم دیا جائے گا خانیہ اور بزازیہ میں فرمایا خاوند نے بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر باہرمت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو بیوی باہر نکل گئی اس پر طلاق نہ ہوگی کیونکہ بیوی کی طلاق کا قسم میں ذکر نہیں ہے اور اس میں کسی غیر عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے اس لئے خاوند کی بات معتبر ہوگی اھ اور ردالمحتار میں یوں ہے کہ اس سے معلوم ہورہا ہے اگر خاوند یہ بات نہ کہے یعنی اپنی بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ کرنے اور غیر کا ارادہ کرنے کی قسم نہ کھائے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ عادت یہ ہے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ عادت یہ ہے کہ بیوی والا اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہے کسی دوسری عورت کی قسم نہیں کھاتا تو خاوندکی قسم
ـ
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش الفتاوی الھندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ۲۷۰
ردالمحتار باب الصریح من کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
ردالمحتار باب الصریح من کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
فیما علقناء علیہ والمطلوب فی الفظ الاول لحکم الطلاق بہ نکولہ عن الحلف بانی لم ینوبہ الطلاق والنکول لایکون الاعند القاضی فاذا نکل عندہ حکم بالطلاق بہ فحصلت الاضافہ فی کلامہ فحمل اللفظ الثانی من دون حاجۃ الی اقرارہ بالنیۃ لکنونہ صریحا۔ قال فی الدرالمختار من الکنایات والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی قال ط ثم ش فان نکل ای عندالقاضی لان النکول عند غیرہ لایعتبر واﷲتعالی اعلم۔
طلاق کے متعلق اسکی اپنی بیوی کےلئے ہی ہوگی جب تك دوسری عورت کے ارادے کو ظاہر نہ کرے کیونکہ دوسری کا بھی احتمال ہے اھ اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ اور پہلے لفظ یعنی “ جا “ میں طلاق کا حکم لگانے کےلئے اس کا قسم سے انکار مطلوب ہے کہ میں نے بیوی کی طلاق نہیں مراد لی جبکہ قسم سے انکار صرف قاضی کے ہاں معتبر ہوتا ہے تو جب قاضی کے سامنے قسم سے انکار کردے گا تو قاضی طلاق کا حکم کردے گا تو یوں انکار کی وجہ سے اسکے کلام میں اضافت حاصل ہوجائیگی تو دوسرے لفظ کو طلاق پر محمول کرنے کے لئے اسکے اقرار بالنیۃ کی حاجت نہیں کیونکہ وہ اس میں صریح ہے۔ درمختار کے باب کنایات میں ہے کہ نیت ہونے سے متعلق خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور گھر میں ہی اس سے قسم لینا کافی ہے اگر وہ قسم سے انکار کرے تو بیوی کو قاضی کے ہاں پیش کرنے کا حق ہوگا اگر وہ قاضی کے ہاں پیش کرنے کا حق ہوگا اگر وہ قاضی کے ہاں بھی حلف سے انکار کر دے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے گا مجتبی اھ طحاوی پھر شامی نے فرمایا کہ قسم سے انکار قاضی کے ہاں انکارمراد ہے کیونکہ غیر قاضی کے ہاں قسم سے انکار معتبر نہیں ہوتا واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۹ : از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲصاحب امام مسجد جامع ۱۹ر مضان ۱۳۳۸ھ
زید نے ہندہ کو طلاق دی دس بارہ روز بعد نکاح کرکے اسے پھر رکھ لیا برادری نے
طلاق کے متعلق اسکی اپنی بیوی کےلئے ہی ہوگی جب تك دوسری عورت کے ارادے کو ظاہر نہ کرے کیونکہ دوسری کا بھی احتمال ہے اھ اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ اور پہلے لفظ یعنی “ جا “ میں طلاق کا حکم لگانے کےلئے اس کا قسم سے انکار مطلوب ہے کہ میں نے بیوی کی طلاق نہیں مراد لی جبکہ قسم سے انکار صرف قاضی کے ہاں معتبر ہوتا ہے تو جب قاضی کے سامنے قسم سے انکار کردے گا تو قاضی طلاق کا حکم کردے گا تو یوں انکار کی وجہ سے اسکے کلام میں اضافت حاصل ہوجائیگی تو دوسرے لفظ کو طلاق پر محمول کرنے کے لئے اسکے اقرار بالنیۃ کی حاجت نہیں کیونکہ وہ اس میں صریح ہے۔ درمختار کے باب کنایات میں ہے کہ نیت ہونے سے متعلق خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور گھر میں ہی اس سے قسم لینا کافی ہے اگر وہ قسم سے انکار کرے تو بیوی کو قاضی کے ہاں پیش کرنے کا حق ہوگا اگر وہ قاضی کے ہاں پیش کرنے کا حق ہوگا اگر وہ قاضی کے ہاں بھی حلف سے انکار کر دے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے گا مجتبی اھ طحاوی پھر شامی نے فرمایا کہ قسم سے انکار قاضی کے ہاں انکارمراد ہے کیونکہ غیر قاضی کے ہاں قسم سے انکار معتبر نہیں ہوتا واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۹ : از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲصاحب امام مسجد جامع ۱۹ر مضان ۱۳۳۸ھ
زید نے ہندہ کو طلاق دی دس بارہ روز بعد نکاح کرکے اسے پھر رکھ لیا برادری نے
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۵
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۵
زید کو دبایا تو کہا میں نے طلاق رجعی دی تھی وہ بھی ایام حیض میں جوگواہ وقت طلاق موجود تھے وہ حلفی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے تین طلاقیں دیں اور زید بھی حلفی بیان کرتا ہے کہ ہاں طلاق دی مگر یہ نہیں کہتا کہ تین دیں یا ایک مجھے یاد نہیں قول زید ہے کہ عورت سے جو تکرار رہتی تھی اس لئے دھمکانے کو کاغذ تحریر کردیا تھا اب عورت ومرد نے کاغذدونوں چاك کر ڈالے زید کہتا ہے کہ حشر کا بوجھ میں پنے ذمہ لیتا ہوں گواہ غلط بیان کرتے ہیں برادری نے اس زید کو خارج کردیا ہے اور صہ عہ ۲۵ جرمانہ کردئے تو اب برادری میں اسے ملالیں یا عورت کو الك کراکرملادیں اور جرمانہ برادری کا شرعاجائز ہے یا نہیں
الجواب :
طلاق جب دی جائے واقع ہوجائے گی خواہ دھمکی مقصود ہو یا کچھ اور صریح لفظ محتاج نیت نہیں ہوتے ان سے نیت کرے یا نہ کرے طلاق ہوجاتی ہے اگر وہ تین طلاقیں دینے یا لکھنے کامقر ہے اور عذر یہ بیان کرتا کہ دھمکی مقصود تھی طلاق کی نیت نہ تھی تو بلاشك تین طلاقیں ہوگئیں اور بغیر حلالہ اسے رکھنا زنائے محض ہے جب تك اس عورت کو نکال نہ دے اور علانیہ تو بہ نہ کرے برادری میں ہرگز نہ ملایا جائے یونہی اگر وہ مقر نہ ہو مگر دو۲ گواہ ثقہ متقی عادل شرعی اپنے سامنے تین طلاقیں دینے کی شہادت دیتے ہوں جب بھی تین طلاقیں ہوگئیں اور حکم یہی ہے جو اوپر گزرا اگر نہ وہ تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہو نہ گواہوں میں دو۲شخص ثقہ قبول شرع ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (مسودہ ناقص ملا)[تاہم خلاصلہ کلام متروکہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں زید کے اقرار پر فیصلہ ہوگا۔ مترجم]
مسئلہ۱۷۰ : از لمکن ضلع بریلی مرسلہ قاضی اشفاق حسین صاحب ۲۲صفر ۱۳۱۶ھ
مع فتوائے شخصے غیر مقلد کہ تین طلاقیں ایك جلسہ میں ایك ہی طلاق حضرت ارشاد فرمائیں کہ یہ فتوی صحیح ہے یانہیں اور اس پر عمل جائز ہے یانہیں ہمیں فقط حضرت پر اطمینان ہے جو حکم ہو اس پر عمل کریں ۔ والسلام
الجواب :
مکرمی کرم فرمائے قاضی محمد اشفاق صاحب اکرمکم اﷲتعالی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔ یہ فتوی جس کی نسبت فقیر کا مسلك آپ دریافت فرماتے ہیں نظر سے گزرا یہ محض غلط حکم ہے اس پرعمل حرام ہے یہ نہ صرف ہمارے ائمہ بلکہ چاروں مذہب کے خلاف ہے اس کی تفصیل علمائے کرام اپنی تصانیف میں اعلی درجہ پر فرما چکے انہیں باتوں کو جن کے جواب ہزار ہزار بار دے دئے گئے پھر پیش کردینا حضرات وہابیہ کاقدیمی داب ہے لطف یہ ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت صریح لکھا کہ انہوں نے فتوی دیا اور پھر یہ کہ حکم خداو رسول کے خلاف
الجواب :
طلاق جب دی جائے واقع ہوجائے گی خواہ دھمکی مقصود ہو یا کچھ اور صریح لفظ محتاج نیت نہیں ہوتے ان سے نیت کرے یا نہ کرے طلاق ہوجاتی ہے اگر وہ تین طلاقیں دینے یا لکھنے کامقر ہے اور عذر یہ بیان کرتا کہ دھمکی مقصود تھی طلاق کی نیت نہ تھی تو بلاشك تین طلاقیں ہوگئیں اور بغیر حلالہ اسے رکھنا زنائے محض ہے جب تك اس عورت کو نکال نہ دے اور علانیہ تو بہ نہ کرے برادری میں ہرگز نہ ملایا جائے یونہی اگر وہ مقر نہ ہو مگر دو۲ گواہ ثقہ متقی عادل شرعی اپنے سامنے تین طلاقیں دینے کی شہادت دیتے ہوں جب بھی تین طلاقیں ہوگئیں اور حکم یہی ہے جو اوپر گزرا اگر نہ وہ تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہو نہ گواہوں میں دو۲شخص ثقہ قبول شرع ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (مسودہ ناقص ملا)[تاہم خلاصلہ کلام متروکہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں زید کے اقرار پر فیصلہ ہوگا۔ مترجم]
مسئلہ۱۷۰ : از لمکن ضلع بریلی مرسلہ قاضی اشفاق حسین صاحب ۲۲صفر ۱۳۱۶ھ
مع فتوائے شخصے غیر مقلد کہ تین طلاقیں ایك جلسہ میں ایك ہی طلاق حضرت ارشاد فرمائیں کہ یہ فتوی صحیح ہے یانہیں اور اس پر عمل جائز ہے یانہیں ہمیں فقط حضرت پر اطمینان ہے جو حکم ہو اس پر عمل کریں ۔ والسلام
الجواب :
مکرمی کرم فرمائے قاضی محمد اشفاق صاحب اکرمکم اﷲتعالی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔ یہ فتوی جس کی نسبت فقیر کا مسلك آپ دریافت فرماتے ہیں نظر سے گزرا یہ محض غلط حکم ہے اس پرعمل حرام ہے یہ نہ صرف ہمارے ائمہ بلکہ چاروں مذہب کے خلاف ہے اس کی تفصیل علمائے کرام اپنی تصانیف میں اعلی درجہ پر فرما چکے انہیں باتوں کو جن کے جواب ہزار ہزار بار دے دئے گئے پھر پیش کردینا حضرات وہابیہ کاقدیمی داب ہے لطف یہ ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت صریح لکھا کہ انہوں نے فتوی دیا اور پھر یہ کہ حکم خداو رسول کے خلاف
تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے خدا و رسول عزوجل وصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا خلاف نہ کرنا چاہا حکم خدا اور رسول خود بھی جانتے تھے کہ وہ یہی ہے کیا فتوی اپنے گھر سے جوجی میں آئے کہہ دینے کا نام ہے یا خدا و رسول عزوجل وصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا حکم بتانا ان کے اگلوں نے اسی معاملہ میں امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ پر صریح تبرا لکھے ہیں محمد ابن اسحق عــــہ کی نقل کی اور دعوی یہ کہ ہم کسی کے مقلد نہیں اگر مقلد نہیں ہو تو امام بخاری کی بات ماننی کس آیت وحدیث نے فرض کی امام بخاری سے پہلے جو ائمہ کرام اما م مالك وامام ہشام الدین بن عروہ کہ تبع تابعین تھے اور امام بخاری سے علم حدیث وعلم فقہ ہربات میں بدرجہا افضل واعلی تھے اور ان کے سوا اور ائمہ نے جو قسمیں کھاکھا کر فرمایا کہ ابن اسحاق دجال کذاب ہے وہ کیوں نہ مانے۔ اس سے مقصود یہ کہ یہ حضرات جہاں جس کی بات مطلب کی دیکھتے ہیں اس کا کلام وحی قرآن و حدیث ٹھہرالیتے ہیں ورنہ پھینك دیتے ہیں کہ ہم کسی کے مقلد نہیں والسلام!
مسئلہ ۱۷۱تا۱۷۳ : از بلرام پور ضلع گونڈہ محلہ پور نیا تالاب متصل یتیم خانہ مرسلہ نذر محمد آتشباز ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)زیدنے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایك مجمع میں دیں ۔ ہندہ عرصہ پانچ ماہ تك اپنے باپ کے گھر رہی پانچ مہینے کے بعد پھر زید کے گھر چلی گئی اور عرصہ دراز تك زید کے گھر رہی ہندہ کو جب تین طلاق کا مسئلہ معلوم ہوا تو زید سے منہ موڑناچاہاتب زید قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نے ایك طلاق دی تھی اور ایك مہینہ کے بعد رجعت کرلی تھی ہندہ رجعت کی منکر ہے اور تین طلاق پر گواہ رکھتی ہے ایسے وقت میں ہندہ کے گواہ معتبر ہوں یا زید کی قسم معتبر ہوگی۔
(۲)اگر عورت نے شہادت پیش کرکے کچہری انگریزی سے ڈگری اپنی طلاق کی حاصل کرلے تو یہ عورت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یا اب تك پہلے ہی شوہر کی منکوحہ رہے گی۔
(۳)تین طلاق یا طلاق کچہری انگریزی کی صورت میں اگر کچھ لوگ شوہر کی طرفداری کرکے عورت کو لوٹانا چاہیں تو کیا حکم ہے ان لوگوں کے ساتھ میل جول جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ایسی صورت میں ہندہ کے گواہ معتبر ہیں جبکہ قابل قبول شرع ہوں اور زید کی قسم پر کچھ لحاظ نہ ہوگا ہاں اگر گواہ ناقابل قبول ہوں تو زید کی قسم معتبر ہوگی پھر اگر ہندہ اپنے ذاتی یقینی علم سے جانتی ہے کہ زید نے اسے تین طلاقیں دی ہیں تو اسے جائز نہ ہوگا کہ زید کے ساتھ رہے ناچار اپنا مہر یا مال دے کر جس طرح ممکن ہوطلاق بائن لے اور یہ بھی ناممکن ہوتو زید سے دور بھاگے اور یہ بھی ناممکن ہوتو وبال زید
عــــہ : اصل میں بیاض ہے۱۲۔
مسئلہ ۱۷۱تا۱۷۳ : از بلرام پور ضلع گونڈہ محلہ پور نیا تالاب متصل یتیم خانہ مرسلہ نذر محمد آتشباز ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)زیدنے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایك مجمع میں دیں ۔ ہندہ عرصہ پانچ ماہ تك اپنے باپ کے گھر رہی پانچ مہینے کے بعد پھر زید کے گھر چلی گئی اور عرصہ دراز تك زید کے گھر رہی ہندہ کو جب تین طلاق کا مسئلہ معلوم ہوا تو زید سے منہ موڑناچاہاتب زید قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نے ایك طلاق دی تھی اور ایك مہینہ کے بعد رجعت کرلی تھی ہندہ رجعت کی منکر ہے اور تین طلاق پر گواہ رکھتی ہے ایسے وقت میں ہندہ کے گواہ معتبر ہوں یا زید کی قسم معتبر ہوگی۔
(۲)اگر عورت نے شہادت پیش کرکے کچہری انگریزی سے ڈگری اپنی طلاق کی حاصل کرلے تو یہ عورت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یا اب تك پہلے ہی شوہر کی منکوحہ رہے گی۔
(۳)تین طلاق یا طلاق کچہری انگریزی کی صورت میں اگر کچھ لوگ شوہر کی طرفداری کرکے عورت کو لوٹانا چاہیں تو کیا حکم ہے ان لوگوں کے ساتھ میل جول جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ایسی صورت میں ہندہ کے گواہ معتبر ہیں جبکہ قابل قبول شرع ہوں اور زید کی قسم پر کچھ لحاظ نہ ہوگا ہاں اگر گواہ ناقابل قبول ہوں تو زید کی قسم معتبر ہوگی پھر اگر ہندہ اپنے ذاتی یقینی علم سے جانتی ہے کہ زید نے اسے تین طلاقیں دی ہیں تو اسے جائز نہ ہوگا کہ زید کے ساتھ رہے ناچار اپنا مہر یا مال دے کر جس طرح ممکن ہوطلاق بائن لے اور یہ بھی ناممکن ہوتو زید سے دور بھاگے اور یہ بھی ناممکن ہوتو وبال زید
عــــہ : اصل میں بیاض ہے۱۲۔
پر ہے جب تك کہ ہندہ راضی نہ ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴تا۱۸۰ : ازجھر یا ضلع مان بھوم محلہ گوالہ ٹولی مسئولہ محمد یوسف صاحب ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)زید کاہندہ کو تین بار طلاق دینا ایك طلاق کا حکم رکھتا ہے یا تینوں طلاق واقع ہوگئیں اور حلالہ کی ضرورت ہوگی یا نہیں
(۲)باوجود ممانعت زید کا نہ ماننا اور صریح لفظوں میں تین بار یہ کہنا کہ میں نے طلاق دیا ایسی صورت میں نیت پر طلاق کا مدار رہے گا یا نہیں اور زید کا یہ قول کہ لوٹانے کی نیت تھی معتبر ہوگا۔
(۳)بہ نیت حلالہ خالد و ہندہ کو سمجھا کر راضی کرنا اور بدون اجازت ولی ہر دو کا برضاایجاب وقبول کرلینا یہ نکاح جائز ہوا یا ناجائز
(۴)اگر خالد کا نکاح درست ہے توبغیر خالد کے طالق دئے یا بغیر صحبت کئے وعدت گزارے شوہر اول سے ہندہ کا نکاح کرادینا اور میاں بیوی کی طرح دونوں کا اکٹھا رہنا کیسا ہے اور نکاح کرانے والے حضرات او رجو لوگ اس نکاح سے راضی ہیں اور جوایسے آدمی سے میل جول رکھتے ہیں ان کے لئے وعید اور حکم شرعی ہے
(۵)بالفاظ مر قومہ بالاحلالہ کی ترغیب دلانے والے کے لئے کیاحکم شرعی ہے
(۶)خلاف واقع جھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق بنانے اور رسم قدیم نہ ٹوٹنے اور اپنی مونچھ کزتار رکھنے کےلئے اور حلال وحرام کی پرواہ نہ کرنے والے کے واسطے حکم شرعی کیا ہے
(۷)لڑکی ولڑکا حد بلوغت کو کتنے برس کے بعد ہوتے ہیں اور جب بالغ دونوں ہیں تو اپنے نکاح کے مختار ہیں کہ نہیں کہ اس میں بھی ولی کی ضرورت ہے کہ نہیں
الجواب :
(۱)بلاشبہہ باجماع ائمہ اربع تین طلاقیں ہوگئیں اور بے حلالہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی قال اﷲ تعالی :
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر تیسری طلاق دے دی تو بیوی اس کے بعد حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷۴تا۱۸۰ : ازجھر یا ضلع مان بھوم محلہ گوالہ ٹولی مسئولہ محمد یوسف صاحب ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)زید کاہندہ کو تین بار طلاق دینا ایك طلاق کا حکم رکھتا ہے یا تینوں طلاق واقع ہوگئیں اور حلالہ کی ضرورت ہوگی یا نہیں
(۲)باوجود ممانعت زید کا نہ ماننا اور صریح لفظوں میں تین بار یہ کہنا کہ میں نے طلاق دیا ایسی صورت میں نیت پر طلاق کا مدار رہے گا یا نہیں اور زید کا یہ قول کہ لوٹانے کی نیت تھی معتبر ہوگا۔
(۳)بہ نیت حلالہ خالد و ہندہ کو سمجھا کر راضی کرنا اور بدون اجازت ولی ہر دو کا برضاایجاب وقبول کرلینا یہ نکاح جائز ہوا یا ناجائز
(۴)اگر خالد کا نکاح درست ہے توبغیر خالد کے طالق دئے یا بغیر صحبت کئے وعدت گزارے شوہر اول سے ہندہ کا نکاح کرادینا اور میاں بیوی کی طرح دونوں کا اکٹھا رہنا کیسا ہے اور نکاح کرانے والے حضرات او رجو لوگ اس نکاح سے راضی ہیں اور جوایسے آدمی سے میل جول رکھتے ہیں ان کے لئے وعید اور حکم شرعی ہے
(۵)بالفاظ مر قومہ بالاحلالہ کی ترغیب دلانے والے کے لئے کیاحکم شرعی ہے
(۶)خلاف واقع جھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق بنانے اور رسم قدیم نہ ٹوٹنے اور اپنی مونچھ کزتار رکھنے کےلئے اور حلال وحرام کی پرواہ نہ کرنے والے کے واسطے حکم شرعی کیا ہے
(۷)لڑکی ولڑکا حد بلوغت کو کتنے برس کے بعد ہوتے ہیں اور جب بالغ دونوں ہیں تو اپنے نکاح کے مختار ہیں کہ نہیں کہ اس میں بھی ولی کی ضرورت ہے کہ نہیں
الجواب :
(۱)بلاشبہہ باجماع ائمہ اربع تین طلاقیں ہوگئیں اور بے حلالہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی قال اﷲ تعالی :
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر تیسری طلاق دے دی تو بیوی اس کے بعد حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
(۲)اس صورت میں لوٹانے کی نیت حکم الہی کو بدلنا ہے اور یہ الفاظ صریح ہیں صریح میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی جس نے یہ فتوی دیا ہے کہ رجعت کی نیت تھی تو ایك رجعی ہوئی وہ گمراہ ہے۔
(۳)اگر خاوند ہندہ کا کفو تھا یعنی مذہب یا نسب یا چلا چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھا کہ ہندہ کا اس سے نکاح اس کمی کے سب اولیائے ہندہ کے لئے ننگ وعار ہو اور انہوں نے دو۲ گواہوں کے سامنے جو سنتے اور سمجھتے تھے ایجاب و قبول کرلیاتو صحیح ہوگیا اجازت ولی کی کوئی حاجت نہ تھی
اذلاولایۃ مجبرۃ علی البالغین لما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ۔
کیونکہ بالغ حضرات پر کسی کو جبری ولایت نہیں ہے جیسا کہ تمام کتب میں نصوص ہیں (ت)
(۴)بحالت صحت نکاح خالد ظاہر ہے کہ بے طلاق وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتی۔
قال تعالی و المحصنت من النسآء ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : شادی شدہ(منکوحہ)عورت دوسروں کے لئے حرام ہیں (ت)
اور اگر خالد بے صحبت کئے طلاق دے بھی دے جب بھی ہرگزشوہر اول کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
قال صلی اﷲتعالی علیہ لاتحلین لزوجك الاول حتی یذوق الاخر عسیلتك تذوقی عسیلتہ ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اے عورت تو حلال نہیں پہلے شوہر کیلئے جب تك دوسرا خاوند تیرا اور تو اس کا مزہ نہ چکھ لے(یعنی جماع نہ کرلو)۔ (ت)
جولوگوں نے دانستہ یہ نکاح کرادیا سب زنا کے دلال ہوئے اور زید ہندہ زانی زانی۔ اور ان سب کے لئے عذاب شدید نارجہنم کی وعیدہے یونہی وہ جو اس سے نکاح پر راضی ہوئے نکاح نہیں زنا پر راضی ہوئے۔
والرضابالحرام وقد یکون کفرا والعیاذاباﷲ تعالی۔
حرام فعل پر رضاحرام ہے اور کبھی یہ رضا کفر ہوتی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالی۔ (ت)
ان سب سے مسلمانوں کو میل جول منع ہے قال تعالی :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد
خبردار شیطان تجھے بھلا دیتا ہے یاد ہونے پر
(۳)اگر خاوند ہندہ کا کفو تھا یعنی مذہب یا نسب یا چلا چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھا کہ ہندہ کا اس سے نکاح اس کمی کے سب اولیائے ہندہ کے لئے ننگ وعار ہو اور انہوں نے دو۲ گواہوں کے سامنے جو سنتے اور سمجھتے تھے ایجاب و قبول کرلیاتو صحیح ہوگیا اجازت ولی کی کوئی حاجت نہ تھی
اذلاولایۃ مجبرۃ علی البالغین لما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ۔
کیونکہ بالغ حضرات پر کسی کو جبری ولایت نہیں ہے جیسا کہ تمام کتب میں نصوص ہیں (ت)
(۴)بحالت صحت نکاح خالد ظاہر ہے کہ بے طلاق وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتی۔
قال تعالی و المحصنت من النسآء ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : شادی شدہ(منکوحہ)عورت دوسروں کے لئے حرام ہیں (ت)
اور اگر خالد بے صحبت کئے طلاق دے بھی دے جب بھی ہرگزشوہر اول کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
قال صلی اﷲتعالی علیہ لاتحلین لزوجك الاول حتی یذوق الاخر عسیلتك تذوقی عسیلتہ ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اے عورت تو حلال نہیں پہلے شوہر کیلئے جب تك دوسرا خاوند تیرا اور تو اس کا مزہ نہ چکھ لے(یعنی جماع نہ کرلو)۔ (ت)
جولوگوں نے دانستہ یہ نکاح کرادیا سب زنا کے دلال ہوئے اور زید ہندہ زانی زانی۔ اور ان سب کے لئے عذاب شدید نارجہنم کی وعیدہے یونہی وہ جو اس سے نکاح پر راضی ہوئے نکاح نہیں زنا پر راضی ہوئے۔
والرضابالحرام وقد یکون کفرا والعیاذاباﷲ تعالی۔
حرام فعل پر رضاحرام ہے اور کبھی یہ رضا کفر ہوتی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالی۔ (ت)
ان سب سے مسلمانوں کو میل جول منع ہے قال تعالی :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد
خبردار شیطان تجھے بھلا دیتا ہے یاد ہونے پر
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۳۴
صحیح بخاری باب لم تحرم مااحل اﷲلك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۲
صحیح بخاری باب لم تحرم مااحل اﷲلك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۲
بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸)
ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ (ت)
ان سے میل جول کرنے والے اگر اس نکاح پر راضی یا اسے ہلکا جانتے ہیں تو ان کےلئے بھی یہی حکم ہے۔
(۵)اگر اس نے زن وشو میں اصلاح اور ان کی مشکل کشائی کی نیت سے ترغیب دلائی تو اس پر الزام نہیں بلکہ باعث اجر ثواب ہے۔
(۶)جھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق یا ناحق کو حق بنانا یہودیوں کی خصلت ہے۔
قال اﷲ تعالی
و لا تلبسوا الحق بالباطل و تكتموا الحق و انتم تعلمون(۴۲) ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور دیدہ و دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔ (ت)
رسم باطل کی پیروی کے لئے حلال وحرام کی پروانہ کرنا کافروں کی عادت ہے۔قالوا بل نتبـع ما الفینا علیه ابآءنا (کفار نے کہا بلکہ ہم اپنے آباء واجداد کی پیروی کریں گے۔ ت)
(۷)لڑکے اور لڑکی کو جب آثار بلوغ ظاہر ہوں مثلا لڑکے کو احتلام ہو اور لڑکی کوحیض آئے اس وقت سے وہ بالغ ہیں اور اگر آثار بلوغ ظاہر نہ ہوں تو پندرہ برس کی عمر پوری ہونے سے بالغ سمجھے جائیں گے کما فی الدرالمختار وعامۃالاسفار(جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں ہے۔ ت)بالغ کواپنے نکاح میں ولی کی اصلا ضرورت نہیں یونہی بالغہ کو جبکہ نکاح کفو سے ہو یا غیرکفؤ سے ہوتواس کا کوئی ولی نہ ہو ورنہ جب تك ولی قبل نکاح اس غیر کفؤ کو غیر کفؤجان کر صریح اجازت نہ دے گا بالغہ کا نکاح صحیح نہ ہوگا
فی الدرالمختار ویفتی فی غیرالکفؤ بعدم جوازہ اصلا لفساد لزمان واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : زمانہ کے فساد کی بناء پر غیر کفؤ میں نکاح اصلا جائز نہ ہونے پر فتوی دیاجائے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
اور ایك بات یہ بھی قابل بیان رہی کہ وہ جس نے استہزا کہا تھا چھوٹی کتاب میں جائز لکھا وہ بھی سخت گنہگار ہوا توبہ فرض ہے مسئلہ شرعیہ استہزا کا محل نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ (ت)
ان سے میل جول کرنے والے اگر اس نکاح پر راضی یا اسے ہلکا جانتے ہیں تو ان کےلئے بھی یہی حکم ہے۔
(۵)اگر اس نے زن وشو میں اصلاح اور ان کی مشکل کشائی کی نیت سے ترغیب دلائی تو اس پر الزام نہیں بلکہ باعث اجر ثواب ہے۔
(۶)جھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق یا ناحق کو حق بنانا یہودیوں کی خصلت ہے۔
قال اﷲ تعالی
و لا تلبسوا الحق بالباطل و تكتموا الحق و انتم تعلمون(۴۲) ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور دیدہ و دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔ (ت)
رسم باطل کی پیروی کے لئے حلال وحرام کی پروانہ کرنا کافروں کی عادت ہے۔قالوا بل نتبـع ما الفینا علیه ابآءنا (کفار نے کہا بلکہ ہم اپنے آباء واجداد کی پیروی کریں گے۔ ت)
(۷)لڑکے اور لڑکی کو جب آثار بلوغ ظاہر ہوں مثلا لڑکے کو احتلام ہو اور لڑکی کوحیض آئے اس وقت سے وہ بالغ ہیں اور اگر آثار بلوغ ظاہر نہ ہوں تو پندرہ برس کی عمر پوری ہونے سے بالغ سمجھے جائیں گے کما فی الدرالمختار وعامۃالاسفار(جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں ہے۔ ت)بالغ کواپنے نکاح میں ولی کی اصلا ضرورت نہیں یونہی بالغہ کو جبکہ نکاح کفو سے ہو یا غیرکفؤ سے ہوتواس کا کوئی ولی نہ ہو ورنہ جب تك ولی قبل نکاح اس غیر کفؤ کو غیر کفؤجان کر صریح اجازت نہ دے گا بالغہ کا نکاح صحیح نہ ہوگا
فی الدرالمختار ویفتی فی غیرالکفؤ بعدم جوازہ اصلا لفساد لزمان واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : زمانہ کے فساد کی بناء پر غیر کفؤ میں نکاح اصلا جائز نہ ہونے پر فتوی دیاجائے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
اور ایك بات یہ بھی قابل بیان رہی کہ وہ جس نے استہزا کہا تھا چھوٹی کتاب میں جائز لکھا وہ بھی سخت گنہگار ہوا توبہ فرض ہے مسئلہ شرعیہ استہزا کا محل نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۲ /۴۲
القرآن الکریم ۲ /۱۷۰
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
القرآن الکریم ۲ /۴۲
القرآن الکریم ۲ /۱۷۰
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
مسئلہ۱۸۱ : ازڈھاکہ پٹی ضلع نوگانوں ملك آسام مرسلہ عبد السبحان صاحب ۱۰ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تمیزالدین اپنی منکوحہ سراج النساء کی حقیقی بہن پر عاشق ہوکر ایك رات مولوی اسرائیل علی صاحب ومحمد اسرافیل بیوپاری اور تمیزالدین بیوپاری ار عبدالغفار خیاط کو اپنے گھر میں بلالے جاکر کہا کہ آپ لوگ میری سالی کے ساتھ میرا عقد پڑھا دیجئے تب یہ لوگ پوچھے کہ تم اپنی بی بی کی موجودگی میں اس کی حقیقی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتے ہو اس وقت تمیز نے کہا تین روزقبل میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا کسی نے ان میں سے تمیزالدین کو پوچھا تم نے کس طرح پر طلاق دیا وہ جواب دیا کہ میں اپنی منکوحہ کو اس طرح پر طلاق دیا کہ تم کو ایك طلاق دو طلاق تین طلاق بائن دیا اس وقت اس کا بیوی پس پردہ حاضر تھی شاہد مذکورین نے اس سے سوال کیا تجھ کو طلاق ملا وہ صاف جواب دی کہ مجھ کو طلاق ملا اس کے بعد مولوی صاحب مذکور وغیرہم عقد پڑھا کر چلے آئے اور تمیزالدین کی ساس نے صبح کو اپنی لڑکی جس پر تمیز الدین نے عاشق ہو کر عقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تمیزالدین کے گھر سے اپنے گھر میں لے گئی کئی روز بعدتمیزالدین جو اپنی بیوی کو علیحدہ رکھا تھا اس سے ہمبستر ہونا شروع کیا تب لوگوں نے پوچھا تم اپنی منکوحہ کو طلاق دے کر حاضران محفل میں اقرار بھی کرچکے اب حرامی کیوں کرتے ہو تب تمیزالدین نے جواب دیا موافق شرع کے میں اپنی منکوحہ کو طلاق نہیں دیا بلکہ ایك کاغذ میں لکھ کر الماری پر رکھا تھا اس کو میری بیوی مکان صاف کرنے کے وقت پائی اور وہ عوام الناس میں شور مچائی فی الحقیقت میں نے زبان سے طلاق نہیں دیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگا یاکہ نہیں اگرواقع ہو تو کس روز طلاق واقع ہوگا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں تمیزالدین اﷲ ورسول کےسخت گنہگار اور زانی حرامکاری ہے وہ صاف صاف تین طلاق کا اقرار کرچکا اب اس سے پھرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں پہلی عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی جب تك حلالہ نہ ہو ان مردوعورت پر فرض ہے کہ فورا جداہوجائیں اور اگر نہ مانیں تو مسلمان ان کو چھوڑدیں کہ وہ زانی اور زانیہ ہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
لووطئ معتدتہ من الثلاث علما بحرمتھا فانہ زنا یحدبہ ۔
اگر تین طلاق کے بعد بیوی سے عدت میں جماع کیا تو زنا ہوگا اور اس کو اس پر حد لگائی جائے گی بشرطیکہ خاوند کواس کے حرام ہونے کا علم ہو۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تمیزالدین اپنی منکوحہ سراج النساء کی حقیقی بہن پر عاشق ہوکر ایك رات مولوی اسرائیل علی صاحب ومحمد اسرافیل بیوپاری اور تمیزالدین بیوپاری ار عبدالغفار خیاط کو اپنے گھر میں بلالے جاکر کہا کہ آپ لوگ میری سالی کے ساتھ میرا عقد پڑھا دیجئے تب یہ لوگ پوچھے کہ تم اپنی بی بی کی موجودگی میں اس کی حقیقی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتے ہو اس وقت تمیز نے کہا تین روزقبل میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا کسی نے ان میں سے تمیزالدین کو پوچھا تم نے کس طرح پر طلاق دیا وہ جواب دیا کہ میں اپنی منکوحہ کو اس طرح پر طلاق دیا کہ تم کو ایك طلاق دو طلاق تین طلاق بائن دیا اس وقت اس کا بیوی پس پردہ حاضر تھی شاہد مذکورین نے اس سے سوال کیا تجھ کو طلاق ملا وہ صاف جواب دی کہ مجھ کو طلاق ملا اس کے بعد مولوی صاحب مذکور وغیرہم عقد پڑھا کر چلے آئے اور تمیزالدین کی ساس نے صبح کو اپنی لڑکی جس پر تمیز الدین نے عاشق ہو کر عقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تمیزالدین کے گھر سے اپنے گھر میں لے گئی کئی روز بعدتمیزالدین جو اپنی بیوی کو علیحدہ رکھا تھا اس سے ہمبستر ہونا شروع کیا تب لوگوں نے پوچھا تم اپنی منکوحہ کو طلاق دے کر حاضران محفل میں اقرار بھی کرچکے اب حرامی کیوں کرتے ہو تب تمیزالدین نے جواب دیا موافق شرع کے میں اپنی منکوحہ کو طلاق نہیں دیا بلکہ ایك کاغذ میں لکھ کر الماری پر رکھا تھا اس کو میری بیوی مکان صاف کرنے کے وقت پائی اور وہ عوام الناس میں شور مچائی فی الحقیقت میں نے زبان سے طلاق نہیں دیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگا یاکہ نہیں اگرواقع ہو تو کس روز طلاق واقع ہوگا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں تمیزالدین اﷲ ورسول کےسخت گنہگار اور زانی حرامکاری ہے وہ صاف صاف تین طلاق کا اقرار کرچکا اب اس سے پھرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں پہلی عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی جب تك حلالہ نہ ہو ان مردوعورت پر فرض ہے کہ فورا جداہوجائیں اور اگر نہ مانیں تو مسلمان ان کو چھوڑدیں کہ وہ زانی اور زانیہ ہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
لووطئ معتدتہ من الثلاث علما بحرمتھا فانہ زنا یحدبہ ۔
اگر تین طلاق کے بعد بیوی سے عدت میں جماع کیا تو زنا ہوگا اور اس کو اس پر حد لگائی جائے گی بشرطیکہ خاوند کواس کے حرام ہونے کا علم ہو۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب العدّۃ الطاعۃ المصریہ مصر ۲ / ۶۱۲
اور دوسری سے جو نکاح کیا وہ بھی حرام وباطل ہے کہ بہن کی عدت میں بھی دوسری بہن سے نکاح حرام ہے۔ درمختار میں ہے :
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ۔
محرم عورتوں کو جمع کرنا حرام ہے نکاح میں اور عدت میں ۔ (ت)
وہ لوگ کہ صرف طلاق سن کر عدت میں نکاح پڑھا آئے سب گنہگار ہوئے سب پر توبہ فرض ہے۔
مسئلہ ۱۸۲تا۱۸۳ : از لکھنؤ محلہ چار باغ بانسمنڈی مرسلہ شاہ نعیم اﷲفخری چشتی نظامی قادری سہروردی ۲۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کتاب ارشاد الطالبین فقیہ سید علی ترمذی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کا قول ہے جو بعینہ نقل کی جاتی ہے کہ :
بداں اے فرزند چہار مذہب حق اند ودانستن آں فرض سب واختلاف درمیاں ایشاں اختلاف برحمت ست نہ اختلاف بعداوت کہ الاختلاف راحت گفتہ اند وحنفی مذہب رانشاید کہ گوید مرابشافعی چہ کارست زیرا کہ درہنگام ضرورت رانشاید کہ گوید مرا بشافعی چی کارست زیرا کہ درہنگام ضرورت ازمذہبے بمذہبے انتقال کردہ شود چنانکہ بحج رفتن پیادہ بمذہب امام ابوحنیفہ روانیست پس عالمان حاجی ماشی رابمذہب مالك می سیراندکہ درمذہب او رواست وچوں بعرفات حاضر شد باز بمذہب ابو حنیفہ میگردد ایضا چوں کسے مطلقہ ثلثہ راحیلہ بکند باید کہ اورا از احکام وارکان ایمان بپرسید تا بے تحلیل نکاح جدید کند واگر ہماں را نیز میداند باید کہ اورا مذہب امام احمد آرد کہ درمذہب او حق تعالی را بذات وصفات شناختن فرض ست اگر آنرانمیداند نکاح جدید کند واگرآنرانیز میداندایں ہنگام تحلیل باید کرد۔ عبارت ارشاد الطالبین ختم۔ ارے بیٹے!چاروں مذہب حق ہیں یہ عقیدہ فرض ہے۔ ان کااختلاف رحمت ہے یہ اختلاف مخالفت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ آسانی کے لئے اختلاف کرتے ہیں کسی حنفی کو نہ چاہئے کہ وہ کہے شافعی سے مجھے کیاکام کیونکہ ضرورت کے وقت ایك مذہب چھوڑکردوسرے مذہب کی پیروی جائز ہے جس طرح کہ امام ابوحنیفہ کے مذہب میں پیدل حج جائز نہیں ہے لہذا علماء حاجی کو امام مالك رحمۃ اﷲ علیہ کے مذہب پر پیدل حج کا کہیں کیونکہ ان کے مذہب میں پیدل حج جائز ہے اور جب عرفات میں پہنچ جائے تو پھر حنفی مذہب اپنالے اور یونہی اگرکوئی شخص تین طالق دی ہوئی بیوی کے لئے حیلہ کرنا چاہے تو چاہئے کہ اس طالق دینے والے سے ایمان کے ارکان واحکام پوچھے جائیں اگر وہ بتادے تو پھر اس سے نماز کے احکام وارکان پوچھے جائیں اگر نہ بتا سکے تو وہ بغیر حلالہ اپنی مطلقہ سے نکاح کرلے اگر وہ بھی بتادے تو اس کو امام احمد کے مذہب پر پابند کریں کیونکہ ان کے مذہب
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ۔
محرم عورتوں کو جمع کرنا حرام ہے نکاح میں اور عدت میں ۔ (ت)
وہ لوگ کہ صرف طلاق سن کر عدت میں نکاح پڑھا آئے سب گنہگار ہوئے سب پر توبہ فرض ہے۔
مسئلہ ۱۸۲تا۱۸۳ : از لکھنؤ محلہ چار باغ بانسمنڈی مرسلہ شاہ نعیم اﷲفخری چشتی نظامی قادری سہروردی ۲۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کتاب ارشاد الطالبین فقیہ سید علی ترمذی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کا قول ہے جو بعینہ نقل کی جاتی ہے کہ :
بداں اے فرزند چہار مذہب حق اند ودانستن آں فرض سب واختلاف درمیاں ایشاں اختلاف برحمت ست نہ اختلاف بعداوت کہ الاختلاف راحت گفتہ اند وحنفی مذہب رانشاید کہ گوید مرابشافعی چہ کارست زیرا کہ درہنگام ضرورت رانشاید کہ گوید مرا بشافعی چی کارست زیرا کہ درہنگام ضرورت ازمذہبے بمذہبے انتقال کردہ شود چنانکہ بحج رفتن پیادہ بمذہب امام ابوحنیفہ روانیست پس عالمان حاجی ماشی رابمذہب مالك می سیراندکہ درمذہب او رواست وچوں بعرفات حاضر شد باز بمذہب ابو حنیفہ میگردد ایضا چوں کسے مطلقہ ثلثہ راحیلہ بکند باید کہ اورا از احکام وارکان ایمان بپرسید تا بے تحلیل نکاح جدید کند واگر ہماں را نیز میداند باید کہ اورا مذہب امام احمد آرد کہ درمذہب او حق تعالی را بذات وصفات شناختن فرض ست اگر آنرانمیداند نکاح جدید کند واگرآنرانیز میداندایں ہنگام تحلیل باید کرد۔ عبارت ارشاد الطالبین ختم۔ ارے بیٹے!چاروں مذہب حق ہیں یہ عقیدہ فرض ہے۔ ان کااختلاف رحمت ہے یہ اختلاف مخالفت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ آسانی کے لئے اختلاف کرتے ہیں کسی حنفی کو نہ چاہئے کہ وہ کہے شافعی سے مجھے کیاکام کیونکہ ضرورت کے وقت ایك مذہب چھوڑکردوسرے مذہب کی پیروی جائز ہے جس طرح کہ امام ابوحنیفہ کے مذہب میں پیدل حج جائز نہیں ہے لہذا علماء حاجی کو امام مالك رحمۃ اﷲ علیہ کے مذہب پر پیدل حج کا کہیں کیونکہ ان کے مذہب میں پیدل حج جائز ہے اور جب عرفات میں پہنچ جائے تو پھر حنفی مذہب اپنالے اور یونہی اگرکوئی شخص تین طالق دی ہوئی بیوی کے لئے حیلہ کرنا چاہے تو چاہئے کہ اس طالق دینے والے سے ایمان کے ارکان واحکام پوچھے جائیں اگر وہ بتادے تو پھر اس سے نماز کے احکام وارکان پوچھے جائیں اگر نہ بتا سکے تو وہ بغیر حلالہ اپنی مطلقہ سے نکاح کرلے اگر وہ بھی بتادے تو اس کو امام احمد کے مذہب پر پابند کریں کیونکہ ان کے مذہب
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
پر اﷲتعالی کی ذات وصفات کا جاننا ضروری اور فرض ہے اگر ذات وصفات باری تعالی نہ بتاسکے تو وہ بیوی سے بغیرحلالہ دوبارہ نکاح کرلے اور اگر وذات باری تعالی کو جانتا ہوتو پھر اس کو حلالہ کرنا ہوگا۔ ارشاد الطالبین کی کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)
یہ کتاب(ارشاد الطالبین)مولوی حافظ محمد جان صاحب فرنگی محلی معلم مدرسہ مولوی عین القضاۃ صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی انہوں نے کہا کہ جو کچھ کہ لکھا ہے وہ درست ہے عندالضرورۃ شرعی ایك مذہب سے دوسرے مذہب میں انتقال کرنا جائز ہے ایك جلسہ میں اگر تین طلاق دی جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك طلاق ہوجاتی ہے مگر اور ائمہ کے نزدیك طلاق نہیں ہوتی لہذا عندالضرورۃ دوسرے مذہب میں انتقال کرنے سے طلاق نہیں ہوگی اسی طریق پر اگر کسی عورت کا شو ہر مفقود الخبرہوجائے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك ۹۰ برس کے بعد اس کا دوسرا عقد ہوسکتا ہے مگر اور ائمہ کے نزدیك چار برس کے بعد اس کو عدت بٹھلا دیاجائے اور بعد گزرنے میعاد وعدت کے اس کا دوسرا عقدکیا جاسکتا ہے پس عند الضرورۃ شرعی جو عورت کہ پابند مذہب امام ابوحنیفہ ہے دوسرے ائمہ کے مذہب میں انتقال کرکے اس طریق پر نکاح جدید کرسکتی ہے پر انتقال کے معنی یہ ہیں کہ اپنے کو اس مذہب میں فرض کرلے اور ضرورت شرعی اسے کہتے ہیں کہ مثلا کا عقد نہ ہونے پر خوف ہے کہ وہ ارتکاب زنا کرے اور اس طرح سے مبتلائے گناہ ہوجائے یا اس طرح کی کوئی اور خرابی پیش آئے لہذا ایسی صورت میں مطلع صاف مذہب امام احمد میں لاکر عقد جدید کرسکتا ہے۔
(۱)مولوی صاحب نے جو فرمایا کہ وہ عورت جو کہ پابند مذہب امام ابوحنیفہ ہے اس کو دوسرے مذہب میں انتقال کرناجائز ہے مولوی حافظ محمدجان اور مولوی فقیہ سیدعلی کا قول کس مذہب کے اصول سے ہے اور اصل مقصد کیا ہے۔
(۲)جو عورت کہ پابند نہ ہوکسی مذہب خاص کی رو سے کیا کرنا چاہئے حالانکہ وہ اپنے آپ کو گروہ اسلام سے سمجھتی ہے اور دعوی مذہب حنفیہ باوجود اس دعوی کے سماع بالمزاامیرمذہب شافعیہ سے گروہ خاصان میں سے انتخاب کرکے اپنے اوپر روارکھا ہم بریں بالائے طاق وہ گانا بجانا جس میں اشتعال نفسانی ہو اوہوس شیطانی پرہیں اور ہر مذہب میں وہ سراسرحرام پایا گیا اس کا بھی وہ ارتکاب کرتی ہو اور جہالت زمانہ سے رسوم گراں وکافراں برتتی ہے کیسے پابندی مذہب حنفیہ ایسے پر نامزد ہوسکتی ہے دعوی پابندی مذہب خصوصیت کا باطل لہذا ایسی عورت کا مذہب امام احمد میں فرض کرلیناجائز ہے یا فی الواقع اتباع ضروری چونکہ یہاں خدمت میں جناب مولنا عبدالکافی صاحب مدظلہ العالی کے
یہ کتاب(ارشاد الطالبین)مولوی حافظ محمد جان صاحب فرنگی محلی معلم مدرسہ مولوی عین القضاۃ صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی انہوں نے کہا کہ جو کچھ کہ لکھا ہے وہ درست ہے عندالضرورۃ شرعی ایك مذہب سے دوسرے مذہب میں انتقال کرنا جائز ہے ایك جلسہ میں اگر تین طلاق دی جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك طلاق ہوجاتی ہے مگر اور ائمہ کے نزدیك طلاق نہیں ہوتی لہذا عندالضرورۃ دوسرے مذہب میں انتقال کرنے سے طلاق نہیں ہوگی اسی طریق پر اگر کسی عورت کا شو ہر مفقود الخبرہوجائے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك ۹۰ برس کے بعد اس کا دوسرا عقد ہوسکتا ہے مگر اور ائمہ کے نزدیك چار برس کے بعد اس کو عدت بٹھلا دیاجائے اور بعد گزرنے میعاد وعدت کے اس کا دوسرا عقدکیا جاسکتا ہے پس عند الضرورۃ شرعی جو عورت کہ پابند مذہب امام ابوحنیفہ ہے دوسرے ائمہ کے مذہب میں انتقال کرکے اس طریق پر نکاح جدید کرسکتی ہے پر انتقال کے معنی یہ ہیں کہ اپنے کو اس مذہب میں فرض کرلے اور ضرورت شرعی اسے کہتے ہیں کہ مثلا کا عقد نہ ہونے پر خوف ہے کہ وہ ارتکاب زنا کرے اور اس طرح سے مبتلائے گناہ ہوجائے یا اس طرح کی کوئی اور خرابی پیش آئے لہذا ایسی صورت میں مطلع صاف مذہب امام احمد میں لاکر عقد جدید کرسکتا ہے۔
(۱)مولوی صاحب نے جو فرمایا کہ وہ عورت جو کہ پابند مذہب امام ابوحنیفہ ہے اس کو دوسرے مذہب میں انتقال کرناجائز ہے مولوی حافظ محمدجان اور مولوی فقیہ سیدعلی کا قول کس مذہب کے اصول سے ہے اور اصل مقصد کیا ہے۔
(۲)جو عورت کہ پابند نہ ہوکسی مذہب خاص کی رو سے کیا کرنا چاہئے حالانکہ وہ اپنے آپ کو گروہ اسلام سے سمجھتی ہے اور دعوی مذہب حنفیہ باوجود اس دعوی کے سماع بالمزاامیرمذہب شافعیہ سے گروہ خاصان میں سے انتخاب کرکے اپنے اوپر روارکھا ہم بریں بالائے طاق وہ گانا بجانا جس میں اشتعال نفسانی ہو اوہوس شیطانی پرہیں اور ہر مذہب میں وہ سراسرحرام پایا گیا اس کا بھی وہ ارتکاب کرتی ہو اور جہالت زمانہ سے رسوم گراں وکافراں برتتی ہے کیسے پابندی مذہب حنفیہ ایسے پر نامزد ہوسکتی ہے دعوی پابندی مذہب خصوصیت کا باطل لہذا ایسی عورت کا مذہب امام احمد میں فرض کرلیناجائز ہے یا فی الواقع اتباع ضروری چونکہ یہاں خدمت میں جناب مولنا عبدالکافی صاحب مدظلہ العالی کے
پیش کیا گیا مولنا موصوف نے فرمایا : حضور میں مولنا احمد رضاخاں صاحب کے بھیجا جائے لہذا مستدعی کہ جواب سے سرفراز فرمایا جائے۔
الجواب :
یہ مہملات ہیں اور شریعت پر جرأت اور ایك مسلمان کو خواہی نخواہی کفر میں دھکیلنا اور بہ چاہنا کہ جس طرح بنے اسے کافر کرلیں ائمہ دین تو یہ تصریح فرماتے ہیں کہ جاہلوں سے اگر کوئی مسئلہ ذات و صفات عقائد اسلامیہ کے متعلق پوچھو تو جواب پہلے بتادو نہ کہ اس سے دقیق مسائل ذات وصفات پوچھے جائیں کہ کسی طرح اسے کافر بنالیاجائے ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ وغیرہ ائمہ دین فرماتے ہیں جو کسی مسلمان کی نسبت یہ چاہے کہ اس سے کفر صادر ہو وہ کفر کرے یا نہ کرے یہ ابھی کافر ہوگیا کہ مسلمان کا کافرہونا چاہا اور یہاں سے ظاہر ہواکہ جس مصیبت کے واسطے یہ بلائے عظیم اوڑھنی چاہی وہ دو۲وجہ سے بدستور رہی ایك تو یہ محض کذب اور جھوٹ اورشریعت پر افتراء ہے کہ تین طلاق کی مطلقہ اگر کفر کرے تو حلالہ کی حاجت نہیں اگر کفر کرے گی تو دوہری حرمت ہوگئی ایك تو تین طلاق کی تھی وہ خاص اسی کے لئے تھی اور دوسری مرتد ہونے کی ہوئی کہ اب وہ جہان بھر میں کسی مسلمان کسی کافر کسی مرتد کسی آدمی کسی جانور کے نکاح کے قابلنہ رہی مرتدہ کا نکاح جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا نہ مرتد کا جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا کما فی العلمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔ ت)اور اگر اسے کافرہ کرکے پھر مسلمان کیا جائے اور یہ سمجھاجائے کہ اب حلالہ کی حاجت نہ رہی تو یہ بھی محض ہوس رجیم ہے حلالہ ضرورکرنا ہوگا اور بغیر حلالہ قطعاحرام ایك تویہ بھاری مصیبت ہوئی دوسرے سے اس کا نکاح حلال نہ رہا اگر اب مسلمان ہوا اور یہ سمجھے کہ اب مجھے حلالہ کی حاجت نہ ہوگی تویہ وہی ہوس ملعون حلالہ ان کی دم سے بندھا ہوا ہے ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گا تو کھایا اور کال بھی نہ کٹا اور کھایا بھی کیساکہ آپ بھی مرتدعورت بھی مرتد اناالیہ راجعون(بیشك ہم اﷲتعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ ت)سید علی ترمذی کی کوئی کتاب ارشاد الطالبین ہمیں نہیں معلوم اور ہو بھی تو حکم علی ترمذی کا نہیں محمد مدنی کا ہے صلی اﷲتعالی علیہ وسلم(اس کی تفاصیل میں کلام کثیر ہے مگر اس کے بعد زیادہ تطویل کی حاجت نہیں ۔ درخانہ اگر کس است یك حرف بس است(اگر خانہ عقل میں کچھ سوجھ ہوتو اشارۃ ایك حرف بھی کافی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب :
یہ مہملات ہیں اور شریعت پر جرأت اور ایك مسلمان کو خواہی نخواہی کفر میں دھکیلنا اور بہ چاہنا کہ جس طرح بنے اسے کافر کرلیں ائمہ دین تو یہ تصریح فرماتے ہیں کہ جاہلوں سے اگر کوئی مسئلہ ذات و صفات عقائد اسلامیہ کے متعلق پوچھو تو جواب پہلے بتادو نہ کہ اس سے دقیق مسائل ذات وصفات پوچھے جائیں کہ کسی طرح اسے کافر بنالیاجائے ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ وغیرہ ائمہ دین فرماتے ہیں جو کسی مسلمان کی نسبت یہ چاہے کہ اس سے کفر صادر ہو وہ کفر کرے یا نہ کرے یہ ابھی کافر ہوگیا کہ مسلمان کا کافرہونا چاہا اور یہاں سے ظاہر ہواکہ جس مصیبت کے واسطے یہ بلائے عظیم اوڑھنی چاہی وہ دو۲وجہ سے بدستور رہی ایك تو یہ محض کذب اور جھوٹ اورشریعت پر افتراء ہے کہ تین طلاق کی مطلقہ اگر کفر کرے تو حلالہ کی حاجت نہیں اگر کفر کرے گی تو دوہری حرمت ہوگئی ایك تو تین طلاق کی تھی وہ خاص اسی کے لئے تھی اور دوسری مرتد ہونے کی ہوئی کہ اب وہ جہان بھر میں کسی مسلمان کسی کافر کسی مرتد کسی آدمی کسی جانور کے نکاح کے قابلنہ رہی مرتدہ کا نکاح جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا نہ مرتد کا جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا کما فی العلمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔ ت)اور اگر اسے کافرہ کرکے پھر مسلمان کیا جائے اور یہ سمجھاجائے کہ اب حلالہ کی حاجت نہ رہی تو یہ بھی محض ہوس رجیم ہے حلالہ ضرورکرنا ہوگا اور بغیر حلالہ قطعاحرام ایك تویہ بھاری مصیبت ہوئی دوسرے سے اس کا نکاح حلال نہ رہا اگر اب مسلمان ہوا اور یہ سمجھے کہ اب مجھے حلالہ کی حاجت نہ ہوگی تویہ وہی ہوس ملعون حلالہ ان کی دم سے بندھا ہوا ہے ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گا تو کھایا اور کال بھی نہ کٹا اور کھایا بھی کیساکہ آپ بھی مرتدعورت بھی مرتد اناالیہ راجعون(بیشك ہم اﷲتعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ ت)سید علی ترمذی کی کوئی کتاب ارشاد الطالبین ہمیں نہیں معلوم اور ہو بھی تو حکم علی ترمذی کا نہیں محمد مدنی کا ہے صلی اﷲتعالی علیہ وسلم(اس کی تفاصیل میں کلام کثیر ہے مگر اس کے بعد زیادہ تطویل کی حاجت نہیں ۔ درخانہ اگر کس است یك حرف بس است(اگر خانہ عقل میں کچھ سوجھ ہوتو اشارۃ ایك حرف بھی کافی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۸۴ : از موضع گیلانی ڈاکخانہ بربگھ ریلوے اسٹیشن لکھی سرائے مرسلہ ضمیرالحسن صاحب۲۱شوال۱۳۱۵ھ
تمامی علمائے ہند کی خدمت میں گزارش ہے کہ برابر بزرگان سے سنتے چلے آتے تھے کہ تین طلاق ایك جلسے میں دی جائے یا جلسات متفرقہ میں طلاق مغلظہ پڑے گی لیکن بالفعل لوگوں نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر جلسے میں تین طلاق دی جائے رجعی پڑے گی جو لوگ بیچارے مسکین عمر کی تائید کرتے ہیں گمراہ کرتے ہیں ۔
الجواب : عــــہ
المجیب مصیب فی الواقع مذہب منصور ومشرب جمہو روقول ائمہ اربعہ رضی اﷲتعالی عنہم یہی ہے کہ صورت مذکورہ میں تین طلاقیں واقع ہوں گی ائمہ کرام وعلمائے اعلام شکراﷲ تعالی مساعیہم بحث تمام فرماچکے اب باتباع ابن قیم ظاہری المذہب فاسد المشرب سواد اعظم امت وحق واضح کی مخالفت نہ کرے گا الا من سفہ نفسہ(مگر وہ جس نے پانے آپ کو بیوقوف بنایا ہو۔ ت) اور امیر المومنین غیظ المنافقین امام العادلین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی شان اجل دارفع میں
کلمات گستاخی بکنے اور ان کے موید کو گمراہ کہنے والا کھلا رافضی ہے خذلھم اﷲتعالی و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) (اﷲتعالی ان کو ذلیل کرے اور عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے وہ کس طرف پلٹے ہیں ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از رامپور متصل مراد آباد محلہ ملاظریف مرسلہ مولوی ریاست حسین خان صاحب ۴رمضان ۱۳۱۵ھ
بخدمت شریف جناب مولوی صاحب دامت فیوضہم بعد سلام مسنون التماس محزون اینکہ برائے جواب مسئلہ اشد ضرور تست اگر بزدد بخدمت شریف جناب مولوی صاحب دامت فیوضھم بعد سلام مسنون پریشان حال کا التماس یہ ہے کہ ایك مسئلہ کا اشد ضروری
عــــہ : بااوجواب مولوی ابوالنصر گیلانوی بود این دوحرف در تصو یبش نوشتہ شد ۱۲(م)
یہ جواب بیعینہ وہی جواب ہے جوابونصر گیلانوی نے دیا ہےیہ دوحرف اس کی درستگی سےمتعلق لکھےگئے ہیں ۱۲(ت)
تمامی علمائے ہند کی خدمت میں گزارش ہے کہ برابر بزرگان سے سنتے چلے آتے تھے کہ تین طلاق ایك جلسے میں دی جائے یا جلسات متفرقہ میں طلاق مغلظہ پڑے گی لیکن بالفعل لوگوں نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر جلسے میں تین طلاق دی جائے رجعی پڑے گی جو لوگ بیچارے مسکین عمر کی تائید کرتے ہیں گمراہ کرتے ہیں ۔
الجواب : عــــہ
المجیب مصیب فی الواقع مذہب منصور ومشرب جمہو روقول ائمہ اربعہ رضی اﷲتعالی عنہم یہی ہے کہ صورت مذکورہ میں تین طلاقیں واقع ہوں گی ائمہ کرام وعلمائے اعلام شکراﷲ تعالی مساعیہم بحث تمام فرماچکے اب باتباع ابن قیم ظاہری المذہب فاسد المشرب سواد اعظم امت وحق واضح کی مخالفت نہ کرے گا الا من سفہ نفسہ(مگر وہ جس نے پانے آپ کو بیوقوف بنایا ہو۔ ت) اور امیر المومنین غیظ المنافقین امام العادلین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی شان اجل دارفع میں
کلمات گستاخی بکنے اور ان کے موید کو گمراہ کہنے والا کھلا رافضی ہے خذلھم اﷲتعالی و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) (اﷲتعالی ان کو ذلیل کرے اور عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے وہ کس طرف پلٹے ہیں ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از رامپور متصل مراد آباد محلہ ملاظریف مرسلہ مولوی ریاست حسین خان صاحب ۴رمضان ۱۳۱۵ھ
بخدمت شریف جناب مولوی صاحب دامت فیوضہم بعد سلام مسنون التماس محزون اینکہ برائے جواب مسئلہ اشد ضرور تست اگر بزدد بخدمت شریف جناب مولوی صاحب دامت فیوضھم بعد سلام مسنون پریشان حال کا التماس یہ ہے کہ ایك مسئلہ کا اشد ضروری
عــــہ : بااوجواب مولوی ابوالنصر گیلانوی بود این دوحرف در تصو یبش نوشتہ شد ۱۲(م)
یہ جواب بیعینہ وہی جواب ہے جوابونصر گیلانوی نے دیا ہےیہ دوحرف اس کی درستگی سےمتعلق لکھےگئے ہیں ۱۲(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
تحریر فرمودہ عنایت فرماینداز عنایت واحسن بعید بخواہد شد ومرد مان بسیار دعا سازند فیصلہ دریں باب درمیان فریقین بتحریر آنجناب قرار یافتہ است وعبارت خلاصۃ التفاسیر منقولہ از تفسیر احمدی ہے اگر جلدی تحریر فرماویں تو مہر بانی ہوگی یہ آپ کی مہربانی اور احسان سے بعید نہ ہوگا اور لوگ بہت دعائیں دیں گے اس بارے میں فریقین میں فیصلہ آپ کی تحریرطے ہوا ہے اور تفسیر احمدی سے منقول خلاصۃ التفاسیر کی عبارت یہ ہے :
(چونکہ عدد طلاق کے جاہلیت میں مقرر نہ تھے جس قدر چاہتے طلاق دیتے یہاں تك کہ ایك عورت ام المومنین عائشہ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کے باربار رجوع کرنے کی شکایت کی یعنی طلاق دی جب عدت پوری ہونے آئی رجوع کیا پھر طلاق دی یونہی اسے معلق چھوڑدیا تھا حضرت صدیقہ نے حضور میں عرض کیا حق سبحانہ وتعالی نے نازل فرمایا الطلاق مرتن۪ الخ)
بباعث اردو قابل تسلیم فریقین دریك مسئلہ ہم قرار نیافتہ۔ اگر عبارت شیر احمدی مرقوم بودے قابل فیصلہ شدے اکنوں امید دادم کہ آنحضور بتحریر عبارت کتب سرفراز نمودہ فیصلہ فرمایند والسلام
زید زوجہ خودرایك طلاق رجعی دادہ درعدت رجوع کردہ بااودو سال زندگانی کردبازیك طلاق رجعی دادہ عدت رجوع کردہ سہ سال اورابخانہ خود داشت بعدہ بازدیك طلاق رجعی داد اکنوں زید زوجہ مذکورہ را بلا تحلیل تئس مستعار درنکاح خود تواں آورد یانہبینواتوجروا
اردو کی وجہ سے فریقین ایك مسئلہ پر متفق نہ ہوسکے اگر تفسیر احمدی کی اصل عبارت ہوتی تو فیصلہ کے قابل ہوتی اب آپ سے امید کہ جناب کتب کی عبارت تحریر فرماکر سرفراز فرمائیں گے والسلام(ت)
زید نے اپنی بیوی کو ایك طلاق رجعی دی اور عدت میں رجوع کرلیا اور دو سال گزارنے کے بعد پھر ایك طلاق رجعی دی اور عدت میں رجوع کرلیا تین سال گھر رکھنے کے بعد پھر ایك طلاق دی اب زید مذکورہ بیوی کونئے شخص سے نکاح اور حلالہ کے بغیر نکاح میں دوبارہ لاسکتا ہے یانہیں بیان کرواور اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
حرام ست بالنص والاجماع تابنکاح شوہرے دیگر در آید و شہد اوراذوق نماید واوطلاقش
دوسرے شخص سے نکاح اور پھر جماع کے بعد طلاق ہو یا دوسرا شخص فوت ہوجائے اور اس
(چونکہ عدد طلاق کے جاہلیت میں مقرر نہ تھے جس قدر چاہتے طلاق دیتے یہاں تك کہ ایك عورت ام المومنین عائشہ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کے باربار رجوع کرنے کی شکایت کی یعنی طلاق دی جب عدت پوری ہونے آئی رجوع کیا پھر طلاق دی یونہی اسے معلق چھوڑدیا تھا حضرت صدیقہ نے حضور میں عرض کیا حق سبحانہ وتعالی نے نازل فرمایا الطلاق مرتن۪ الخ)
بباعث اردو قابل تسلیم فریقین دریك مسئلہ ہم قرار نیافتہ۔ اگر عبارت شیر احمدی مرقوم بودے قابل فیصلہ شدے اکنوں امید دادم کہ آنحضور بتحریر عبارت کتب سرفراز نمودہ فیصلہ فرمایند والسلام
زید زوجہ خودرایك طلاق رجعی دادہ درعدت رجوع کردہ بااودو سال زندگانی کردبازیك طلاق رجعی دادہ عدت رجوع کردہ سہ سال اورابخانہ خود داشت بعدہ بازدیك طلاق رجعی داد اکنوں زید زوجہ مذکورہ را بلا تحلیل تئس مستعار درنکاح خود تواں آورد یانہبینواتوجروا
اردو کی وجہ سے فریقین ایك مسئلہ پر متفق نہ ہوسکے اگر تفسیر احمدی کی اصل عبارت ہوتی تو فیصلہ کے قابل ہوتی اب آپ سے امید کہ جناب کتب کی عبارت تحریر فرماکر سرفراز فرمائیں گے والسلام(ت)
زید نے اپنی بیوی کو ایك طلاق رجعی دی اور عدت میں رجوع کرلیا اور دو سال گزارنے کے بعد پھر ایك طلاق رجعی دی اور عدت میں رجوع کرلیا تین سال گھر رکھنے کے بعد پھر ایك طلاق دی اب زید مذکورہ بیوی کونئے شخص سے نکاح اور حلالہ کے بغیر نکاح میں دوبارہ لاسکتا ہے یانہیں بیان کرواور اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
حرام ست بالنص والاجماع تابنکاح شوہرے دیگر در آید و شہد اوراذوق نماید واوطلاقش
دوسرے شخص سے نکاح اور پھر جماع کے بعد طلاق ہو یا دوسرا شخص فوت ہوجائے اور اس
دہد میردوعدتش فراغ پذیرد قال تعالی الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان الی قولہ عزوجل فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره-فان طلقها فلا جناح علیهما ان یتراجعا الآیۃ قال رسول اﷲصلی تعالی علیہ وسلم لاتحلین لزوجك الاول حتی یذوق الاخر عسیلتك وتذوقی عسیلتہ ۔ و فی العالم عن عروۃ کان الناس فی الابتداء یطلقون من غیر حصرولاعدد وکان الرجل یطلق امرأتہ فاذا قاربت انقضاء عدتھا راجعھا ثم طلقھا کذلك ثم راجعھا یقصد مضارتھا فنزلت ھذہ الآیۃ الطلاق مرتن۪ یعنی الطلاق الذی یملك الرجعۃ عقیبہ مرتان فاذا طلق ثلثا فلاتحل
کی عدت پوری ہوجانے کے بغیر دوبارہ زید کا مذکورہ بیوی سے نکاح حرام ہے یہ حرمت نص قرآن اور اجماع سے ثابت ہے۔ اﷲتعالی نے فرمایا دو۲ طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو بھلائی کرتے ہوئے روك لے یا احسان کرتےہوئے چھوڑدے۔ تا۔ اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ بیوی اس کے بعد حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے پس اگر اس نے طلاق دے دی تو دونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے الآیۃ۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو پہلے خاوند کیلئے حلال نہ ہوگی حتی کہ تو دوسرے خاوند کا اور وہ تیرا مزہ نہ چکھ لے یعنی جماع نہ کرلے “ ۔ اور معالم التنزیل میں عروہ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء میں لوگ بے حساب او ر لاتعداد طلاقیں دیاکرتے تھے اور مرد بیوی کو طلاق دتا تو جب عدت پورا ہونے کے قریب ہوتی تو پھر طلاق دیتااور یونہی بار بار کرتا اور مقصد بیوی کوپریشان کرنا ہوتا تھا تو اس واقعہ پر قرآن پاك کی آیہ کریمہ الطلاق مرتن الآیۃ نازل ہوئی یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے دو طلاقیں ہیں تو جب تیسری طلاق دے دے تو اب دوسرے سے
کی عدت پوری ہوجانے کے بغیر دوبارہ زید کا مذکورہ بیوی سے نکاح حرام ہے یہ حرمت نص قرآن اور اجماع سے ثابت ہے۔ اﷲتعالی نے فرمایا دو۲ طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو بھلائی کرتے ہوئے روك لے یا احسان کرتےہوئے چھوڑدے۔ تا۔ اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ بیوی اس کے بعد حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے پس اگر اس نے طلاق دے دی تو دونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے الآیۃ۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو پہلے خاوند کیلئے حلال نہ ہوگی حتی کہ تو دوسرے خاوند کا اور وہ تیرا مزہ نہ چکھ لے یعنی جماع نہ کرلے “ ۔ اور معالم التنزیل میں عروہ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء میں لوگ بے حساب او ر لاتعداد طلاقیں دیاکرتے تھے اور مرد بیوی کو طلاق دتا تو جب عدت پورا ہونے کے قریب ہوتی تو پھر طلاق دیتااور یونہی بار بار کرتا اور مقصد بیوی کوپریشان کرنا ہوتا تھا تو اس واقعہ پر قرآن پاك کی آیہ کریمہ الطلاق مرتن الآیۃ نازل ہوئی یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے دو طلاقیں ہیں تو جب تیسری طلاق دے دے تو اب دوسرے سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
صحیح بخاری باب لم تحرم مااحل اﷲلك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۲
القرآن الکریم ۲ /۲۳۰
صحیح بخاری باب لم تحرم مااحل اﷲلك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۲
لہ الابعد نکاح زوج غیرہ اھ والمسئلۃ اوضح من ان توضح۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلم جل مجدہ اتم واحکم۔
نکاح کے بغیر اس کے لئے حلال نہیں ہے اھ اور مسئلہ وضاحت کا محتاج نہیں ۔ (ت)واﷲتعالی سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۸۷ : از ضلع خاندیس پچھم بھاگ تعلقہ تلو دھا ڈاکخانہ لگر مندھا بسوستان کاٹھی مقام عکلکوا مرسلہ محمد اسمعیل صاحب ۱۲جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)حلالے کے بارے میں ایك شخص نے نکاح کیا اور پہلی بی بی کاحق کل نہیں ادا کیا وہاں پر قاضی نہیں ہے اپنے مکان کے لوگ آپ ہی قاضی آپ ہی وکیل آپ گواہ جس شخص نے پہلے نکاح کیا اس نے خوشی سے طلاق دیا اور اس عورت نے خوشی سے طلاق لیا بعد دس۱۰ روز اسی عورت اور وہی دھنی ایك جگہ رہنے لگے اور اس شخص طلاق دے کر تین مہینے رکھا پھر تین مہینے بعد حلالہ کیا حلالہ کرنے والاجوشخص تھا اس کی بی بی نے رضا نہیں دی رضالینے کے واسطے اپنی بی بی مارا تو بی بی نے زبردستی سے رضا دی اس کا حلالہ درست ہوکہ نہیں
(۲)ایك دوسرا آدمی ایك عورت کا لے کر بھاگ گیا اس کی دو لڑکیا تھیں دو۲ برس بغیر نکاح کے اس عورت کو رکھا بعد دوبرس کے لڑکے ہوشیار ہوگئی اس عورت کو چھوڑ کر بیٹی کو رکھنے لگا اس شخص کے حرام سے ایك لڑکی ایك لڑکا پیدا ہوئے سو یہاں کے پنچوں نے جماعت سے باہر کردیا سوا س لڑکی سے بھی نکاح نہیں ہوا ہے بعد بارہ۱۲ مہینے کے جماعت کے آدھے لوگ اس کو ہمراہ لے گئے اور وہی لوگ کہتے تھے اس کا منہ دیکھناروا نہیں ہے اب وہی لوگ اس کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اس کے بارے میں مسئلہ کیا کہتا ہے اور یہاں اسلام کی ٹھٹھول کرتے ہیں اورکسی کو یہ خیال نہیں ہے کہ ہم اسلام کی مشکری کریں گے تو ہمارے کیا حال ہوں گے اس پر حضرت رسول خدا(صلی اﷲتعالی علیہ وسلم)کی شریعت کا کیا بیان ہے
الجواب :
(۱)شریعت کا حکم یہ ہے جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی ہوں ایك دفعہ میں خواہ برسوں میں کہ ایك کبھی دی اور رجعت کرلی پھر دوسری دی اور رجعت کرلی اب تیسری دی دونوں صورتوں
نکاح کے بغیر اس کے لئے حلال نہیں ہے اھ اور مسئلہ وضاحت کا محتاج نہیں ۔ (ت)واﷲتعالی سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۸۷ : از ضلع خاندیس پچھم بھاگ تعلقہ تلو دھا ڈاکخانہ لگر مندھا بسوستان کاٹھی مقام عکلکوا مرسلہ محمد اسمعیل صاحب ۱۲جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)حلالے کے بارے میں ایك شخص نے نکاح کیا اور پہلی بی بی کاحق کل نہیں ادا کیا وہاں پر قاضی نہیں ہے اپنے مکان کے لوگ آپ ہی قاضی آپ ہی وکیل آپ گواہ جس شخص نے پہلے نکاح کیا اس نے خوشی سے طلاق دیا اور اس عورت نے خوشی سے طلاق لیا بعد دس۱۰ روز اسی عورت اور وہی دھنی ایك جگہ رہنے لگے اور اس شخص طلاق دے کر تین مہینے رکھا پھر تین مہینے بعد حلالہ کیا حلالہ کرنے والاجوشخص تھا اس کی بی بی نے رضا نہیں دی رضالینے کے واسطے اپنی بی بی مارا تو بی بی نے زبردستی سے رضا دی اس کا حلالہ درست ہوکہ نہیں
(۲)ایك دوسرا آدمی ایك عورت کا لے کر بھاگ گیا اس کی دو لڑکیا تھیں دو۲ برس بغیر نکاح کے اس عورت کو رکھا بعد دوبرس کے لڑکے ہوشیار ہوگئی اس عورت کو چھوڑ کر بیٹی کو رکھنے لگا اس شخص کے حرام سے ایك لڑکی ایك لڑکا پیدا ہوئے سو یہاں کے پنچوں نے جماعت سے باہر کردیا سوا س لڑکی سے بھی نکاح نہیں ہوا ہے بعد بارہ۱۲ مہینے کے جماعت کے آدھے لوگ اس کو ہمراہ لے گئے اور وہی لوگ کہتے تھے اس کا منہ دیکھناروا نہیں ہے اب وہی لوگ اس کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اس کے بارے میں مسئلہ کیا کہتا ہے اور یہاں اسلام کی ٹھٹھول کرتے ہیں اورکسی کو یہ خیال نہیں ہے کہ ہم اسلام کی مشکری کریں گے تو ہمارے کیا حال ہوں گے اس پر حضرت رسول خدا(صلی اﷲتعالی علیہ وسلم)کی شریعت کا کیا بیان ہے
الجواب :
(۱)شریعت کا حکم یہ ہے جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی ہوں ایك دفعہ میں خواہ برسوں میں کہ ایك کبھی دی اور رجعت کرلی پھر دوسری دی اور رجعت کرلی اب تیسری دی دونوں صورتوں
حوالہ / References
معالم التنزیل علٰی ھامش تفسیر الخازن تفسیر آیۃ الطلاق مرتان مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲۷
میں عورت اس پر بغیر حلالہ حرام ہے۔ حلالہ کے یہ معنی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت اگر حیض والی ہے تواسے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نوبرس سے کم عمر کی لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اس طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزجائیں یا اگرحاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی اس کے بعد دوسرے شخص سے نکاح بروجہ صحیح کرے یعنی وہ شوہر ثانی اس کا کفو ہو کہ مذہب نسب چال چلن پیشہ کسی میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے اس عورت کا نکاح عورت کے اولیاء کے لئے باعث بدنامی ہو یا اگر ایسا کم ہے تو یہ عورت کا ولی نکاح ہونے سے پہلے اس کو یہ جان کر کہ یہ کفو نہیں اس کے ساتھ نکاح کی بالتصریح اجازت دے دے یا یہ ہوکہ عورت بالغہ کاکئی ولی ہی نہ ہوتو عورت کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے اور ولی نے اسے غیر کفوجانکر نکاح سے پہلے صریح اجازت نہ دی تو نکاح ہی نہو گا یونہی لڑکی اگر نابالغہ ہے ہے اور اس کے نہ باپ ہے نہ دادا بھائی چچا وغیرہ ولی ہیں لوگوں نے کسی غیر کفو سے اس کا نکاح کردیا جب بھی نکاح نہ ہوگا غرض جب شوہر ثانی سے نکاح صحیح طور پر واقع ہو اور وہ اس سے ہمبستری بھی کرلےاور اس کے بعد وہ طلاق دے اور اس طلاق کی عدت اسی طرح گزرے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیداہونے کے بعد اس کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کرسکتا ہے ان میں سے ایك بات بھی کم ہوگی تو وہ نکاح نہ ہوگا زنا ہوگا ہاں نکاح کے لئے چاہے وہ شوہر ثانی سے ہو یا پہلے سے قاضی یا وکیل یا برادری کے لوگوں کی ضرورت ہے کہ مرد نکاح ثانی کرے تو پہلے بیوی سےاجازت لے یہ سب باتیں بے اصل ہیں فقط اس طریقہ کی ضرورت ہے جو ہم نے لکھا اس طرح پر اگر اصلا نہ ہوا مثلا دوسرے شوہرنے جب طلاق دی تو اس کے دس۱۰ ہی دن بعد بے عدت گزرے پہلے شوہر نے اس سے نکاح کرلیا تو یہ نکاح نہ ہوا نراحرام ہوا اس صورت میں ضرور ہوگا کہ عورت کو اس سے جدا کردیا جائے اور نہ مانے تو اسے برادری سے خارج کردیاجائے۔
(۲)اسی طرح وہ شخص جس نے عورت کو رکھا اب اس کی بیٹی کو رکھتا ہے وہ اس پر ضرور حرام ہے اگر نکاح نہ کرے جب تو زنا ہے ہی اور نکاح کرے جب بھی حرام ہے کہ وہ اس کی بیٹی ہوچکی برادری والوں کو چاہئے کہ اگر وہ مرد وعورت جدا نہ ہوں تو اس کو برادری سے خارج کردیں ان سے سلام کلام نہ کریں ان کے پاس نہ بیٹھے انہیں اپنے پاس نہ بیٹھنے دیں اور وہ لوگ جو پہلے ان سے
(۲)اسی طرح وہ شخص جس نے عورت کو رکھا اب اس کی بیٹی کو رکھتا ہے وہ اس پر ضرور حرام ہے اگر نکاح نہ کرے جب تو زنا ہے ہی اور نکاح کرے جب بھی حرام ہے کہ وہ اس کی بیٹی ہوچکی برادری والوں کو چاہئے کہ اگر وہ مرد وعورت جدا نہ ہوں تو اس کو برادری سے خارج کردیں ان سے سلام کلام نہ کریں ان کے پاس نہ بیٹھے انہیں اپنے پاس نہ بیٹھنے دیں اور وہ لوگ جو پہلے ان سے
جدا ہوگئے تھے اوراب مل گئے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں بیجا کرتے ہیں انہیں چاہئے اس سے بازرہیں
اﷲ تعالی فرماتا ہے :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲتعالی اعلم۔
شیطان تجھے بھلادیتا ہے تو یا د آنے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حلالہ مع شرط کے یعنی اس قصد سے کہ بعد چند روز کے طلاق دے دے تاکہ زوج سابق کے واسطے بعد عدت گزرنے کے حلال ہوجائے جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز۔ شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے او رحدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔ درمختار میں ہے :
(کرہ)التزوج للثانی(تحریما)لحدیث لعن اﷲ المحلل والمحلل لہ(بشرط التحلیل)کتزوجتك علی ان احللک(امااذا اضمرا ذلك لا)یکرہ (وکان) الرجل(ماجورا)لقصد الاصلاح اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حلالہ کی شرط پر نکاح کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۹ : ازکانپور بیگم گنج طلاق محل مرسلہ احمدعلی خاں وکیل ۱۲ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك وقت حالت غصہ میں مجبور ہوکر ہندہ زوجہ کو تین بار طلاق دی نزدیك امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے مغلظ ہوگئی اور نزدیك امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کے ایك رہی تو ایسی حالت میں جو پیر وامام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا ہے رجوع کرسکتا ہے یانہیں حالات مقدمی یہ ہیں کہ زید کو ہندہ کے ساتھ محبت قلبی ہے اس نے قصدا چھوڑا
اﷲ تعالی فرماتا ہے :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲتعالی اعلم۔
شیطان تجھے بھلادیتا ہے تو یا د آنے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حلالہ مع شرط کے یعنی اس قصد سے کہ بعد چند روز کے طلاق دے دے تاکہ زوج سابق کے واسطے بعد عدت گزرنے کے حلال ہوجائے جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز۔ شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے او رحدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔ درمختار میں ہے :
(کرہ)التزوج للثانی(تحریما)لحدیث لعن اﷲ المحلل والمحلل لہ(بشرط التحلیل)کتزوجتك علی ان احللک(امااذا اضمرا ذلك لا)یکرہ (وکان) الرجل(ماجورا)لقصد الاصلاح اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حلالہ کی شرط پر نکاح کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۹ : ازکانپور بیگم گنج طلاق محل مرسلہ احمدعلی خاں وکیل ۱۲ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك وقت حالت غصہ میں مجبور ہوکر ہندہ زوجہ کو تین بار طلاق دی نزدیك امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے مغلظ ہوگئی اور نزدیك امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کے ایك رہی تو ایسی حالت میں جو پیر وامام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا ہے رجوع کرسکتا ہے یانہیں حالات مقدمی یہ ہیں کہ زید کو ہندہ کے ساتھ محبت قلبی ہے اس نے قصدا چھوڑا
دینے کی نیت سے طلاق نہیں دی اور نہ ہندہ اپنے عدول حکم پر سمجھ سکتی ہے کہ مجھ پر طلاق ہوگی کیونکہ بجائے خود نادم تھی مگر ہندہ کی بہن جو دشمن ہندہ کی ہے چند الفاظ دلانے والے جو طلاق دینے پر مبنی تھے ایسے کہ جس سے زید کو مجبورا غیظ آگیا اور دفعۃ تین بار طلاق دے کر ہندہ کے مکان سے اٹھ آیا اب زید وہندہ وسخت صدمہ ہے اور دو۲ لڑکے یعنی ایك پسر بعمر۹ سال ایك دختر بعمر۵سال جو ہندہ کے پاس ہیں اور ہندہ محتاج ہے پرورش بدقت کرسکتی ہے اور نیز بلاتعلیم رہنے کا خیال قوی ہے اور زید کو ایسا رنج ہے کہ نوبت بجان ہے برنظر حالات رجوع کرسکتا ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
ایك بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزد حنفیہ بلکہ اجماع مذاہب اربع تین طلاقیں مغلظہ ہوجاتی ہیں امام شافعی امام مالک امام احمد رضی اﷲتعالی عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلا ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہرگز اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اگر یونہی رجوع کرلی بلاحلالہ نکاح جدید باہم کرلیا تو دونوں مبتلائے حرامکاری ہوں گے اور عمر بھر حرام کاری کریں گے۔ اﷲتعالی ارشاد فرماتا ہے :
و من یتق الله یجعل له مخرجا(۲)
جو اﷲتعالی سے ڈرتا ہے اﷲتعالی اس کیلئے راستہ بنادیتا ہے۔ (ت)
اس نے تقوی نہ کیابلکہ خلاف خدا ورسول تین طلاقیں لگاتار دینے کامرتکب ہوا اﷲ عزوجل نے اس کے لئے مخرج نہ رکھا اب حلالہ کے سخت تازیانے سے اسے ہرگز مفر نہیں یہاں تك کہ ائمہئ دین نے فرمایا کہ اگرقاضی شرح حاکم اسلام ایسے مسئلہ میں ایك طلاق پڑنے کا حکم دے تو وہ حکم باطل ومردود ہے۔ وہابیہ غیر مقلدین اب اس مسئلہ میں خلاف اٹھا رہے ہیں وہ گمراہ دین ہیں ان کی تقلید حلال نہیں فتح القدیر میں ہے :
ذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلث وفی سنن ابی داؤد عن مجاہد قال کنت عند عباس رضی اﷲتعالی
جمہور صحابہ تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلك ہے بیك لفظ تین طلاقیں تین ہوں گی۔ امام مجاہد سے سنن ابو داؤد میں مروی ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ کے
الجواب :
ایك بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزد حنفیہ بلکہ اجماع مذاہب اربع تین طلاقیں مغلظہ ہوجاتی ہیں امام شافعی امام مالک امام احمد رضی اﷲتعالی عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلا ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہرگز اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اگر یونہی رجوع کرلی بلاحلالہ نکاح جدید باہم کرلیا تو دونوں مبتلائے حرامکاری ہوں گے اور عمر بھر حرام کاری کریں گے۔ اﷲتعالی ارشاد فرماتا ہے :
و من یتق الله یجعل له مخرجا(۲)
جو اﷲتعالی سے ڈرتا ہے اﷲتعالی اس کیلئے راستہ بنادیتا ہے۔ (ت)
اس نے تقوی نہ کیابلکہ خلاف خدا ورسول تین طلاقیں لگاتار دینے کامرتکب ہوا اﷲ عزوجل نے اس کے لئے مخرج نہ رکھا اب حلالہ کے سخت تازیانے سے اسے ہرگز مفر نہیں یہاں تك کہ ائمہئ دین نے فرمایا کہ اگرقاضی شرح حاکم اسلام ایسے مسئلہ میں ایك طلاق پڑنے کا حکم دے تو وہ حکم باطل ومردود ہے۔ وہابیہ غیر مقلدین اب اس مسئلہ میں خلاف اٹھا رہے ہیں وہ گمراہ دین ہیں ان کی تقلید حلال نہیں فتح القدیر میں ہے :
ذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلث وفی سنن ابی داؤد عن مجاہد قال کنت عند عباس رضی اﷲتعالی
جمہور صحابہ تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلك ہے بیك لفظ تین طلاقیں تین ہوں گی۔ امام مجاہد سے سنن ابو داؤد میں مروی ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۵ /۲
عنھما فجاء رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلثا قال فسکت حتی ظننت انہ رادھا الیہ ثم قال ایطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس فان اﷲ عزوجل قال ومن یتق اﷲیجعل لہ مخرجا عصیت ربك وبانت منك امرأتک ثم ذکر ادلتہ بروایۃ لامؤطاعن ابن عباس وابی ہریرۃ معا ومثلہ عن ابن عمرقال وروی ایضاعن عبد اﷲ بن عمروبنن العاص واسند عبدالزاق عن علقمۃ عن ابن مسعود و وکیع عن امیرالمؤمنین علی وامیر المومنین عثمان بن عفان وقد قدمہ عن امیر المومنین عمرو اوردہ بروایۃ ابن ابی شیبۃ والدار قطنی عن ابن عمر عن البنی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وذکرہ فی اخر
پاس موجود تھا تو ایك شخص آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں مجاہد کہتے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ کچھ دیر خاموش رہے تو میں نے خیال کیا کہ شاید ان عباس سائل کو بیوی واپس کردیں گے تو کچھ دیر بعد آپ نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ بیوی کو طلاق دیتے ہوئے حماقت سے کام لیتے ہیں اور پھر اے ابن عباس اے ابن عباس کہتے ہیں تو یاد رکھو اﷲتعالی نے فرمایا : جو شخص اﷲتعالی سے ڈرتا ہے تو اﷲتعالی اس کے لئے کوئی سبیل پیدا فرمادیتاہے جبکہ تو نے اﷲ تعالی کی نافرمانی کی ہے تیری بیوی تجھ سے لاتعلق ہوچکی ہے۔ اسکے بعد فتح القدیر نے اس پر دلائل ذکر کئے۔ مؤطا کے حوالہ سے ابن عباس اور ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہما کی روایت ذکرکیں جیسا کہ ابوداؤد نے ابن عباس اورابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہما سے اکھٹی روایت کی اس طرح کی روایت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ذکر کی اور کہا کہ عبداﷲبن عمر بن العاص رضی اﷲتعالی عنہ سے بھی مروی ہے اور انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق نے علقمہ عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ اور وکیع عن امیرالمومنین عمر فاروق عثمان بن عفان رضی اﷲتعالی عنہم سے سند ذکر کی اور قبل ازیں فتح القدیر نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت ذکر کی اور انہوں نے ابن ابی شیبہ اور دار قطنی کی روایت بھی ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہ کے ذریعہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے بیان کی۔ اور اسی کو انہوں نے کلام کے
پاس موجود تھا تو ایك شخص آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں مجاہد کہتے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ کچھ دیر خاموش رہے تو میں نے خیال کیا کہ شاید ان عباس سائل کو بیوی واپس کردیں گے تو کچھ دیر بعد آپ نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ بیوی کو طلاق دیتے ہوئے حماقت سے کام لیتے ہیں اور پھر اے ابن عباس اے ابن عباس کہتے ہیں تو یاد رکھو اﷲتعالی نے فرمایا : جو شخص اﷲتعالی سے ڈرتا ہے تو اﷲتعالی اس کے لئے کوئی سبیل پیدا فرمادیتاہے جبکہ تو نے اﷲ تعالی کی نافرمانی کی ہے تیری بیوی تجھ سے لاتعلق ہوچکی ہے۔ اسکے بعد فتح القدیر نے اس پر دلائل ذکر کئے۔ مؤطا کے حوالہ سے ابن عباس اور ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہما کی روایت ذکرکیں جیسا کہ ابوداؤد نے ابن عباس اورابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہما سے اکھٹی روایت کی اس طرح کی روایت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ذکر کی اور کہا کہ عبداﷲبن عمر بن العاص رضی اﷲتعالی عنہ سے بھی مروی ہے اور انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق نے علقمہ عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ اور وکیع عن امیرالمومنین عمر فاروق عثمان بن عفان رضی اﷲتعالی عنہم سے سند ذکر کی اور قبل ازیں فتح القدیر نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت ذکر کی اور انہوں نے ابن ابی شیبہ اور دار قطنی کی روایت بھی ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہ کے ذریعہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے بیان کی۔ اور اسی کو انہوں نے کلام کے
الکلام بروایۃ عبدالرزاق فی مصنفہ عن عبادۃ بن الصامت عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ورضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین الی ان قال قداثبتنا النقل عن اکثرھم صریحا بایقاع الثلث ولم یظھر لھم مخالف فما ذابعد الحق الاالضلال وعن ھذاقلنا لم یحکم حاکم بان الثلث بفم واحد واحدۃ لم ینفذ حکمہ لانہ لایسوغ الاجتھادفیہ فھو خلاف لا اختلاف (ملخصا)واﷲتعالی اعلم۔
آخر میں یوں ذکر کیا کہ عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں عبادہ بن الصامت کے واسطہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا یہاں تك کہا کہ ہم نے اکثر حضرات سے تین طلاقوں کا نافذ ہونا صراحتا ثابت کیا اور ان حضرات کوئی بھی مخالف ظاہر نہ ہوا تو اس حق کے بعد گمراہی کے سواکیا ہوسکتا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی حاکم نے بیك زبان تین طلاقوں کے ایك طلاق کا حکم دیاتو اس کاحکم نافذ نہ ہوگا کیونکہ اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے اور یہ حق کے خلاف ہوگا اس کو اختلاف نہ کہا جائے گا(ملخصا)واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۹۰ : از پیلی بھیت محلہ محمد واصل مرسلہ خلیق احمد صاحب ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مہلك مریض نے اپنیہ زوجہ کی نافرمانی کے سبب جو اس کی زوجہ نے اپنی ماں کے اشتعال کی وجہ سے اپنے زوج کو تکلیف دی اور ہر قسم کی خبرگیری شوہر سے حسب ذیل تحریر کے ذریعہ سے طلاق لکھ بھیجی مسماۃ فلاں بنت فلاں کو واضح ہو کہ تم نے اپنی ماں کو اشتعال کے باعث جو کچھ میرے ساتھ برتاؤ کیا اور اسباب متفرق معہ بکس محمولہ پارچہ وغیرہ میرا رکھ لیا بہت اچھا کیا یہ ایك عمدہ طریقہ حصول مالیت کا ہے اس طور سے بہت کچھ جمع ہوسکتا ہے اس وجہ سے تم میرے لائق نہیں ہو لہذا میں تم کو طلاق دیتا ہوں مسماۃ فلاں بنت فلاں جومیرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے طلاق دی مسماۃ فلاں بنت فلاں جو میرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے اس کوطلاق دی مسماۃ فلاں بنت فلاں جومیرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے اس کو طلاق دی۔ عورت کے بھائی کے نام کارڈ کا پتہ اس طور سے لکھا تھا جو ناخواندہ ہے بمقام فلاں محلہ
آخر میں یوں ذکر کیا کہ عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں عبادہ بن الصامت کے واسطہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا یہاں تك کہا کہ ہم نے اکثر حضرات سے تین طلاقوں کا نافذ ہونا صراحتا ثابت کیا اور ان حضرات کوئی بھی مخالف ظاہر نہ ہوا تو اس حق کے بعد گمراہی کے سواکیا ہوسکتا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی حاکم نے بیك زبان تین طلاقوں کے ایك طلاق کا حکم دیاتو اس کاحکم نافذ نہ ہوگا کیونکہ اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے اور یہ حق کے خلاف ہوگا اس کو اختلاف نہ کہا جائے گا(ملخصا)واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۹۰ : از پیلی بھیت محلہ محمد واصل مرسلہ خلیق احمد صاحب ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مہلك مریض نے اپنیہ زوجہ کی نافرمانی کے سبب جو اس کی زوجہ نے اپنی ماں کے اشتعال کی وجہ سے اپنے زوج کو تکلیف دی اور ہر قسم کی خبرگیری شوہر سے حسب ذیل تحریر کے ذریعہ سے طلاق لکھ بھیجی مسماۃ فلاں بنت فلاں کو واضح ہو کہ تم نے اپنی ماں کو اشتعال کے باعث جو کچھ میرے ساتھ برتاؤ کیا اور اسباب متفرق معہ بکس محمولہ پارچہ وغیرہ میرا رکھ لیا بہت اچھا کیا یہ ایك عمدہ طریقہ حصول مالیت کا ہے اس طور سے بہت کچھ جمع ہوسکتا ہے اس وجہ سے تم میرے لائق نہیں ہو لہذا میں تم کو طلاق دیتا ہوں مسماۃ فلاں بنت فلاں جومیرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے طلاق دی مسماۃ فلاں بنت فلاں جو میرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے اس کوطلاق دی مسماۃ فلاں بنت فلاں جومیرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے اس کو طلاق دی۔ عورت کے بھائی کے نام کارڈ کا پتہ اس طور سے لکھا تھا جو ناخواندہ ہے بمقام فلاں محلہ
حوالہ / References
فتح القدیر باب طلاق السنۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۳۳۰
فلاں پاس فلاں پہنچ کر مسماۃ فلاں بنت فلاں کوملے۔ اب چونکہ شوہر کئی ماہ بعد صحت یاب ہوالوگ طرفین پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طور طلاق نہیں ہوئی اگر تحریر پوسٹ کارڈ کسی دوسرے کے نام جاتی جواس کام کے واسطے مقررکیا جاتا اس کو لکھا جاتا کہ تم میری طرف سے بطور وکیل دے دو تب طلاق ہوجاتی دوسرے یہ کہ وہ عورت حاملہ تھی کسی صورت میں بھی طلاق نہیں ہوئی لہذا آنجناب فیض مآب کو ا طلاع دی جاتی ہے کہ اس بارہ میں جو حکم شرع شریف ہو بدلائل اس سے سائل کو جلد مطلع فرمائیے۔
الجواب :
شخص مذکور تین طلاقیں ایك ساتھ دینے سے گنہگار ہوا اور عورت پر تین طلاقیں پڑگئی وہ نکاح سے نکل گئی اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا عورت کا حاملہ ہونا یا کسی کو طلاق دینے کا وکیل نہ کرنا کچھ منافی طلاق نہیں یہ محض جاہلانہ خیال ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : ازبھموری ڈاك خانہ بھیکم پور ضلع علی گڑھ مرسلہ عبدالرزاق صاحب ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید نے بذریعہ خطوط اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پہلا خط جو کہ اپنے خسر کو لکھا یہ ہے کہ میں اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہوں مگر آپ کی رائے کامنتظر ہوں امید کہ مجھ کو اظہار خیالات کی جازت دی جائے گی مگر خسرنے جواب نہیں دیا اس پر دوسرے خط میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہی تھی مگر قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا اب میں جرأت کرتا ہوں کہ میری شادی آپ کی لڑکی سے محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی ورنہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتا ہوں آج کی تاریخ سے آپ کی لڑکی کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں آپ جانیں والد صاحب جانیں ۔ اب اس خط سے جس میں طلاق ہے اول میں انکار تھا اظہار جرأت والے خط میں اقرار تھا اس کے تین سال بعد زید کا خسر زید کے پاس گیا اور کہا میری لڑکی کے ساتھ تمہارا کیا ارادہ ہے اس نے کہا میرا کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میرے ساتھ سرائے تك چلو تاکہ تمہارے بیان کا سرائے میں کوئی گواہ بھی ہوجائے چنانچہ وہ سرائے میں آیا اور دو۲ آدمیوں کے سامنے جن کا نام مرزا محمد صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر اور دوسرے کانام حافظ فخرالدین ساکن آنوامحلہ پٹھان چنانچہ دونوں گواہوں کے بیانات ایك عالم محمد عبدالرشید سہسوانی ہیڈ مولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد کے سامنے بیان ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے یعنی زید نے کہ پہلے خطوط میں بھی اپنی بی بی کو طلاق دے چکا ہوں اوراب بھی طلاق مکررسہ کردیتا ہوں چنانچہ وہ دونوں خطوں کی نقل اور تینوں کاغذات کی نقل دوکاغذ بیانات گواہ اور ایك کاغذ مولوی عبدالرشید
الجواب :
شخص مذکور تین طلاقیں ایك ساتھ دینے سے گنہگار ہوا اور عورت پر تین طلاقیں پڑگئی وہ نکاح سے نکل گئی اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا عورت کا حاملہ ہونا یا کسی کو طلاق دینے کا وکیل نہ کرنا کچھ منافی طلاق نہیں یہ محض جاہلانہ خیال ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : ازبھموری ڈاك خانہ بھیکم پور ضلع علی گڑھ مرسلہ عبدالرزاق صاحب ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید نے بذریعہ خطوط اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پہلا خط جو کہ اپنے خسر کو لکھا یہ ہے کہ میں اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہوں مگر آپ کی رائے کامنتظر ہوں امید کہ مجھ کو اظہار خیالات کی جازت دی جائے گی مگر خسرنے جواب نہیں دیا اس پر دوسرے خط میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہی تھی مگر قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا اب میں جرأت کرتا ہوں کہ میری شادی آپ کی لڑکی سے محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی ورنہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتا ہوں آج کی تاریخ سے آپ کی لڑکی کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں آپ جانیں والد صاحب جانیں ۔ اب اس خط سے جس میں طلاق ہے اول میں انکار تھا اظہار جرأت والے خط میں اقرار تھا اس کے تین سال بعد زید کا خسر زید کے پاس گیا اور کہا میری لڑکی کے ساتھ تمہارا کیا ارادہ ہے اس نے کہا میرا کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میرے ساتھ سرائے تك چلو تاکہ تمہارے بیان کا سرائے میں کوئی گواہ بھی ہوجائے چنانچہ وہ سرائے میں آیا اور دو۲ آدمیوں کے سامنے جن کا نام مرزا محمد صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر اور دوسرے کانام حافظ فخرالدین ساکن آنوامحلہ پٹھان چنانچہ دونوں گواہوں کے بیانات ایك عالم محمد عبدالرشید سہسوانی ہیڈ مولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد کے سامنے بیان ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے یعنی زید نے کہ پہلے خطوط میں بھی اپنی بی بی کو طلاق دے چکا ہوں اوراب بھی طلاق مکررسہ کردیتا ہوں چنانچہ وہ دونوں خطوں کی نقل اور تینوں کاغذات کی نقل دوکاغذ بیانات گواہ اور ایك کاغذ مولوی عبدالرشید
صاحب موصوف کے ہمرشتہ سوال یہ ہے کہ اس صورت بالا میں زید کی بی بی کو طلاق واقع ہوئی یا نہیں اگر ہوئی ہے تو عدت خطوظ کے وقت سے شروع ہوگی یا گواہی دینے گواہان مذکور سے
نقل خط اول
قبلہ وکعبہ مدظلہ تسلیم بصد تعظیم عرصہ سے خیریت دریافت نہیں ہوئی تردد ہے امید کہ مطلع فرمایا جاؤں نیاز مندکسی قدر اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہے جو میری دانست میں ضروری ہیں لیکن بلااستخراج رائے جرأت نہیں کرسکتا مجھے امید ہے کہ آپ میری اس قسم کی گزارش کو ضرور منظور فرمائیں گے جس کی شاہدات میری نظروں میں نہایت خوش آیند ودلفریب ہیں زیادہ نیاز۔ احقر ازلی سید عابد علی۔
خط دوم بعدکا
قبلہ نعمت و کعبہ کرامت مدظلہ العالی تسلیم بعد تکریم نیاز مند قبل اس کے اظہار خیالات اپنے کی اجازت چاہی قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا نیاز مند خاموش ہورہا اب جرأت کرتا ہوں عرض کرنے کی جس کو جناب منظور فرمائیں گے۔ میری شادی جناب کی دختر کے ساتھ ہوئی محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی نہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتاہوں بموجب شرع کے آپ کی لڑکی کو آج کی تاریخ سے طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں آپ جانیں والد صاحب جانیں ۔
بیان مرزا صدیق بیگ گواہ جن کے سامنے عابد علی نے پانی زوجہ کو طلاق دینے اقرار کیا۔
عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق سے سرائے بلہور میں یوں کہا کہمیں نے تمہاری لڑکی کو ایك عرصلہ گزرا کہ بذریعہ تحریرکے طلاق دے چکاہوں تم اسی میری تحریر پر عملدرآمد کرو اور مکرر سہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان کے سامنے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں یہ اشارہ ان کا ہم مسافروں کی طرف تھا۔ بقلم مرزا صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر
بیان حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین صاحب ساکن قصبہ آنولہ محلہ پٹھاناں
عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق صاحب سے سرائے بلہور میں یوں کہا
کہ میں نے تمہاری لڑکی کو ایك عرصلہ گزرا بذریعہ اپنی تحریر کارڈ رجسٹری کے طلاق شرعی دے چکا ہوں تم اسی میری تحریر پر عملدر آمد کرو
yahan image hy
نقل خط اول
قبلہ وکعبہ مدظلہ تسلیم بصد تعظیم عرصہ سے خیریت دریافت نہیں ہوئی تردد ہے امید کہ مطلع فرمایا جاؤں نیاز مندکسی قدر اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہے جو میری دانست میں ضروری ہیں لیکن بلااستخراج رائے جرأت نہیں کرسکتا مجھے امید ہے کہ آپ میری اس قسم کی گزارش کو ضرور منظور فرمائیں گے جس کی شاہدات میری نظروں میں نہایت خوش آیند ودلفریب ہیں زیادہ نیاز۔ احقر ازلی سید عابد علی۔
خط دوم بعدکا
قبلہ نعمت و کعبہ کرامت مدظلہ العالی تسلیم بعد تکریم نیاز مند قبل اس کے اظہار خیالات اپنے کی اجازت چاہی قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا نیاز مند خاموش ہورہا اب جرأت کرتا ہوں عرض کرنے کی جس کو جناب منظور فرمائیں گے۔ میری شادی جناب کی دختر کے ساتھ ہوئی محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی نہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتاہوں بموجب شرع کے آپ کی لڑکی کو آج کی تاریخ سے طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں آپ جانیں والد صاحب جانیں ۔
بیان مرزا صدیق بیگ گواہ جن کے سامنے عابد علی نے پانی زوجہ کو طلاق دینے اقرار کیا۔
عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق سے سرائے بلہور میں یوں کہا کہمیں نے تمہاری لڑکی کو ایك عرصلہ گزرا کہ بذریعہ تحریرکے طلاق دے چکاہوں تم اسی میری تحریر پر عملدرآمد کرو اور مکرر سہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان کے سامنے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں یہ اشارہ ان کا ہم مسافروں کی طرف تھا۔ بقلم مرزا صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر
بیان حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین صاحب ساکن قصبہ آنولہ محلہ پٹھاناں
عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق صاحب سے سرائے بلہور میں یوں کہا
کہ میں نے تمہاری لڑکی کو ایك عرصلہ گزرا بذریعہ اپنی تحریر کارڈ رجسٹری کے طلاق شرعی دے چکا ہوں تم اسی میری تحریر پر عملدر آمد کرو
yahan image hy
اور اب مررسہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان سے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں یہ اشارہ ہم مسافران کی طرف تھا۔
العبد حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین ساکن آنولہ محلہ پٹھاناں بقلم خود
آج تاریخ دو جولائی ۱۹۱۷ء مطابق ۱۱رمضان المبارك ۱۳۳۵ھ سید عبدالرزاق صاحب سکنہ بھموری میرے یہاں تشریف لائے اور تین صاحب اور ان کے ہمراہ تھے سید عبدالرزاق صاحب نے میر عابد اپنے داماد کا ان کی لڑکی کو بذریعہ رجسٹرڈ تحریر موجودہ کے طلاق دینا ان تینوں ہمراہیوں میں سے دو۲صاحبوں کو میر عابد علی مذکور کے طلاق مذکور کے اقرار زبانی کا گواہ بیان کیا۔ گواہان مذکور الصدر نے میرے زبانی طلاق بدستخط اپنے اپنے بیان تحریر کئے رجسٹر تحریر موجود کا خود میر عابد علی کی تحریر ہونا اور نیز زبانی طلاق مکررسہ کردینا بخوبی ثابت ہے بیانات مذکور ہمرشتہ تحریر ہذا ہے۔ الراقم خادم الاطباوالعلماء ابو محمد عبدالرشید ظہور الاسلام سہسوانی ہیڈمولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد۔ مہر ودستخظ سے آج تاریخ ۲ جولائی ۱۹۱۷ء کوروانہ کیا گیا۔ فہرست اوراق {تحریر راقم ایک بیان مرزا صدیق بیگ ایک بیان حافظ فخرالدین صاحب ایک}کل تین اوراق۔
الجواب :
کوئی تحریر بے شہادت یا اقرار کاتب مسلم نہین ہوسکتی اگرچہ خط اسی کا معلوم ہوتا ہو علماء فرماتے ہیں :
الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم کما فی الھندیۃ وغیرہا۔
خط دوسرے خط اور مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوتی ہے جیساکہ ہندیہ وغیرہا میں ہے(ت)
یہاں عابد علی اس خط سے منکر ہے تو شہادت درکار ان دوگواہوں نے جوگواہی دی ناقص وناتمام ہے وہ اپنے بیانوں میں عابد وعبدالرزاق کہتے ہیں ملك میں اس نام کے ہزاروں ہوں گے۔ شرط شہادت یہ ہے کہ اگر وہ حاضرہوں تو ان کی طرف اشارہ کرکے گواہی دے کہ اس عابد علی نے اس عبدالرزاق کی بیٹی زوجہ کی نسبت یہ کہا اور اگر حاضر نہ ہوں تو ان کا نسب پاك دادا تك بیان کرے کہ
yahan image hy
العبد حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین ساکن آنولہ محلہ پٹھاناں بقلم خود
آج تاریخ دو جولائی ۱۹۱۷ء مطابق ۱۱رمضان المبارك ۱۳۳۵ھ سید عبدالرزاق صاحب سکنہ بھموری میرے یہاں تشریف لائے اور تین صاحب اور ان کے ہمراہ تھے سید عبدالرزاق صاحب نے میر عابد اپنے داماد کا ان کی لڑکی کو بذریعہ رجسٹرڈ تحریر موجودہ کے طلاق دینا ان تینوں ہمراہیوں میں سے دو۲صاحبوں کو میر عابد علی مذکور کے طلاق مذکور کے اقرار زبانی کا گواہ بیان کیا۔ گواہان مذکور الصدر نے میرے زبانی طلاق بدستخط اپنے اپنے بیان تحریر کئے رجسٹر تحریر موجود کا خود میر عابد علی کی تحریر ہونا اور نیز زبانی طلاق مکررسہ کردینا بخوبی ثابت ہے بیانات مذکور ہمرشتہ تحریر ہذا ہے۔ الراقم خادم الاطباوالعلماء ابو محمد عبدالرشید ظہور الاسلام سہسوانی ہیڈمولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد۔ مہر ودستخظ سے آج تاریخ ۲ جولائی ۱۹۱۷ء کوروانہ کیا گیا۔ فہرست اوراق {تحریر راقم ایک بیان مرزا صدیق بیگ ایک بیان حافظ فخرالدین صاحب ایک}کل تین اوراق۔
الجواب :
کوئی تحریر بے شہادت یا اقرار کاتب مسلم نہین ہوسکتی اگرچہ خط اسی کا معلوم ہوتا ہو علماء فرماتے ہیں :
الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم کما فی الھندیۃ وغیرہا۔
خط دوسرے خط اور مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوتی ہے جیساکہ ہندیہ وغیرہا میں ہے(ت)
یہاں عابد علی اس خط سے منکر ہے تو شہادت درکار ان دوگواہوں نے جوگواہی دی ناقص وناتمام ہے وہ اپنے بیانوں میں عابد وعبدالرزاق کہتے ہیں ملك میں اس نام کے ہزاروں ہوں گے۔ شرط شہادت یہ ہے کہ اگر وہ حاضرہوں تو ان کی طرف اشارہ کرکے گواہی دے کہ اس عابد علی نے اس عبدالرزاق کی بیٹی زوجہ کی نسبت یہ کہا اور اگر حاضر نہ ہوں تو ان کا نسب پاك دادا تك بیان کرے کہ
yahan image hy
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب ٢٣کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۸۱
عابد علی بن فلاں بن فلاں نے اپنی زوجہ فلاں بنت فلاں کی نسبت یہ کہا اور صحیح یہ ہے کہ دادا کا ذکر بھی ضرور ہے کمافی العلمگیریۃ(جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔ ت)یعنی جبکہ فقط باپ کی طرف نسبت سے تمیز کامل نہ ہوجاتی ہو
فان المقصود التعریف لاتکثیر الحروف کما فی جامع الفصولین والدرالمختار۔
کیونکہ معرفت مقصود ہے حروف کی کثرت مقصود نہیں ہے جیسا کہ جامع الفصولین اور درمختار میں ہے۔ (ت)
اگر دو۲گواہ ثقہ عادل اگر چہ یہی دو۲ ہوں اس طرح شہادت ادا کریں تو ضرور تین طلاقیں ثابت ہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۲ : ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ مظفر علی خاں ۳محرم ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی منکوحہ محمودہ کے حق میں مضمون طلاق مندرجہ ذیل بہ شہادت دوشخصوں کے تحریر کردیا طلاق بائنہ ہوئی یارجعی مضمون طلاق میں نے محمودہ منکوحہ کو طلاق دے دی اور چھوڑدیا اور مجھ کو اب اس سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور زبان سے تین بار طلاق ادا نہیں کیا صرف کاغذ پر تحریر کردی۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید سخت گنہگار ہوا عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر تین طلاقیں ہوگئیں اب بے حلالہ اس سے نکاح بھی نہیں کرسکتا زبان سے کچھ کہنا ضرور نہیں تحریر کافی ہے جبکہ بلاوجہ واکراہ شرعی ہو جیسا کہ یہاں ہوا اشباہ میں ہے : الکتاب کالخطاب (تحریر خطاب کی طرح ہے۔ ت)لفظ اول ودوم دونوں صریح طلاق ہیں اور تیسرا لفظ اگر چہ کنایہ تھا مگر تقدم طلاق نے اسے بھی طلاق کےلئے معین کردیا ردالمحتار میں ہے :
دلالۃ الحال المراد بھا الحالۃ الظاہرۃ المفیدۃ للمقصود
دلالت حال سے مراد وہ حالت جو ظاہر طور پر مقصود کو مفید ہو۔ اس کی ایك صورت پہلے
فان المقصود التعریف لاتکثیر الحروف کما فی جامع الفصولین والدرالمختار۔
کیونکہ معرفت مقصود ہے حروف کی کثرت مقصود نہیں ہے جیسا کہ جامع الفصولین اور درمختار میں ہے۔ (ت)
اگر دو۲گواہ ثقہ عادل اگر چہ یہی دو۲ ہوں اس طرح شہادت ادا کریں تو ضرور تین طلاقیں ثابت ہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۲ : ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ مظفر علی خاں ۳محرم ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی منکوحہ محمودہ کے حق میں مضمون طلاق مندرجہ ذیل بہ شہادت دوشخصوں کے تحریر کردیا طلاق بائنہ ہوئی یارجعی مضمون طلاق میں نے محمودہ منکوحہ کو طلاق دے دی اور چھوڑدیا اور مجھ کو اب اس سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور زبان سے تین بار طلاق ادا نہیں کیا صرف کاغذ پر تحریر کردی۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید سخت گنہگار ہوا عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر تین طلاقیں ہوگئیں اب بے حلالہ اس سے نکاح بھی نہیں کرسکتا زبان سے کچھ کہنا ضرور نہیں تحریر کافی ہے جبکہ بلاوجہ واکراہ شرعی ہو جیسا کہ یہاں ہوا اشباہ میں ہے : الکتاب کالخطاب (تحریر خطاب کی طرح ہے۔ ت)لفظ اول ودوم دونوں صریح طلاق ہیں اور تیسرا لفظ اگر چہ کنایہ تھا مگر تقدم طلاق نے اسے بھی طلاق کےلئے معین کردیا ردالمحتار میں ہے :
دلالۃ الحال المراد بھا الحالۃ الظاہرۃ المفیدۃ للمقصود
دلالت حال سے مراد وہ حالت جو ظاہر طور پر مقصود کو مفید ہو۔ اس کی ایك صورت پہلے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۹۶۔ ۵۹۷
ومنھا تقدم ذکر الطلاق بحر عن المحیط ۔
طلاق کا ذکر ہونا ہے محیط سے منقول بحر میں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی النھر دلالۃ الحال تعم دلالۃ المقال فتفسر المذاکرۃبسؤال الطلاق او تقدیم الایقاع کما فی اعتدی ثلاثا ۔
نہر میں ہے کہ دلالت حال دلالت قول کو شامل ہے لہذا اس کی تفسیر یوں درست ہے کہ طلاق کے مطالبہ کے طور مذاکرہ یا پہلے طلاق واقع کرنا مثلا عدت پوری کر تین کی۔ (ت)اسی طرح اور مواقع میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۳ : از شاہ گڈھ ڈاکخانہ شب نگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمن صاحب ۱۲رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہمیں کہ زید بیوہ مسماۃ ہندہ سے بدیں شرط انکار کیا کہ وہ اپنے ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلے اس نے منظور کیااور نکاح ہوگیا ہندہ مذکور نے گواس ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلیا لیکن زید نے اس سے گفتگو کرتے دیکھ لیا اور غصہ میں زید نے ایك لکھے پڑھے شخص سے کہا کہ تم مضمون لکھ دو جس سے میں ہندہ سے دست بردار ہوجاؤں اور وہ تحریر بذریعہ رجسٹری مسماۃ کے پاس بھیج دوں ۔ یہ وہ الفاظ بعینہ تھے جوادا کئے گئے تھے لکھے پڑھے شخص نے ایك تحریر لکھی جس میں ہندہ کو تحریر کیا کہ تم نے شرط پوری نہیں کی لہذاتم میری نہیں رہیں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں اب مسماۃ ہندہ کہتی ہے کہ گو میں نے شخص متعلق سے تمہاری مرضی کے خلاف گفتگو کی ہے لیکن اب کوئی واسطہ نہیں ہے نہ اب گفتگو کروں ۔ چونکہ زید کو طلاق رجعی یابائن کا کچھ علم نہیں تھا لیکن زید کے ذہن میں قطعا قطع تعلق نکاح نہ تھازید نے مضمون طلاق سن لیا تھا اب مسماۃ پشیمانی کے ساتھ طالب معافی ہے اور زیدبھی چاہتا ہے کہ مسماۃ ہندہ مذکور میرے نکاح میں رہے۔ واضح رائے عالی ہو کہ مسماۃ ہندہ کو شخص متعلق سے گفتگو کرتے دیکھ کر اس کے دوسرے تیسرے دن تحریر رجسٹری طلاق کی بھیجی تھی اور جس روز تحریری طلاق بھیجی اسی روز ہندہ اور زید میں گفتگو ہوکر خواہشمند بقائے نکاح
طلاق کا ذکر ہونا ہے محیط سے منقول بحر میں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی النھر دلالۃ الحال تعم دلالۃ المقال فتفسر المذاکرۃبسؤال الطلاق او تقدیم الایقاع کما فی اعتدی ثلاثا ۔
نہر میں ہے کہ دلالت حال دلالت قول کو شامل ہے لہذا اس کی تفسیر یوں درست ہے کہ طلاق کے مطالبہ کے طور مذاکرہ یا پہلے طلاق واقع کرنا مثلا عدت پوری کر تین کی۔ (ت)اسی طرح اور مواقع میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۳ : از شاہ گڈھ ڈاکخانہ شب نگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمن صاحب ۱۲رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہمیں کہ زید بیوہ مسماۃ ہندہ سے بدیں شرط انکار کیا کہ وہ اپنے ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلے اس نے منظور کیااور نکاح ہوگیا ہندہ مذکور نے گواس ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلیا لیکن زید نے اس سے گفتگو کرتے دیکھ لیا اور غصہ میں زید نے ایك لکھے پڑھے شخص سے کہا کہ تم مضمون لکھ دو جس سے میں ہندہ سے دست بردار ہوجاؤں اور وہ تحریر بذریعہ رجسٹری مسماۃ کے پاس بھیج دوں ۔ یہ وہ الفاظ بعینہ تھے جوادا کئے گئے تھے لکھے پڑھے شخص نے ایك تحریر لکھی جس میں ہندہ کو تحریر کیا کہ تم نے شرط پوری نہیں کی لہذاتم میری نہیں رہیں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں اب مسماۃ ہندہ کہتی ہے کہ گو میں نے شخص متعلق سے تمہاری مرضی کے خلاف گفتگو کی ہے لیکن اب کوئی واسطہ نہیں ہے نہ اب گفتگو کروں ۔ چونکہ زید کو طلاق رجعی یابائن کا کچھ علم نہیں تھا لیکن زید کے ذہن میں قطعا قطع تعلق نکاح نہ تھازید نے مضمون طلاق سن لیا تھا اب مسماۃ پشیمانی کے ساتھ طالب معافی ہے اور زیدبھی چاہتا ہے کہ مسماۃ ہندہ مذکور میرے نکاح میں رہے۔ واضح رائے عالی ہو کہ مسماۃ ہندہ کو شخص متعلق سے گفتگو کرتے دیکھ کر اس کے دوسرے تیسرے دن تحریر رجسٹری طلاق کی بھیجی تھی اور جس روز تحریری طلاق بھیجی اسی روز ہندہ اور زید میں گفتگو ہوکر خواہشمند بقائے نکاح
حوالہ / References
ردالمحتار باب ا لکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
ردالمحتار باب ا لکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
ردالمحتار باب ا لکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
ہوئے ہیں کہ نکاح رہا یانہیں
الجواب
اس نے اس کی درخواست سے لکھا اور اس نے لکھنے کے بعد سن بھی لیا اور عورت کو بھیج دیا عورت پر تین طلاقیں ہوگئیں اب بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ ذہن میں ہونے نہ ہونے وغیرہ کے عذر بیکار ہیں ۔ قال اﷲ تعالی :
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد عورت حلال نہ ہوگی تا وقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۴ : ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ عطاء اﷲخاں سوداگر جفت ۱۵صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ سے عرصہ سے ناراض ہے اس کو زوجہ کی جانب بدگمانی ہے وہ عرصہ سے اس سے تقریر وتحریری ذرائع سے واقعات کو دریافت کررہا ہے اب اس نے ایك خط اپنی زوجہ کے نام پردیس تقریری وتحریری ذرائع سے واقعات کودریافت کررہا ہے اب اس نے ایك خط اپنی زوجہ کے نام پردیس سے تحریر کیا ہے جس کی عبارت طول طویل ہے اس میں سے بقدر ضرورت عبارت ذیل میں نقل کی جاتی ہے یہ ثابت ہے کہ یہ خط زید کا ہے کیونکہ وہ اپنے والد کو لکھتا ہے کہ میرے لڑکے کو اور میرے سامان کو زوجہ سے لے لو اور زید اپنے سالے کو بھی لکھتا ہے کہ تم میرے والد کو میرا سامان دے دو اور اپنی ہمشیرہ کے جہیز کا سامان پانی ہمشیرہ کو دے دو اور میرے لڑکے کو بھی والد کو دے دو اسی خط اور بہت سی بیہودہ باتیں اپنی زوجہ کے متعلق تحریر کی ہیں اور کوئی اجنبی شخص ان کو نہیں لکھ سکتا اور زید کی بہت سے تحریریں انہیں قرائن کو ظاہر کرتی ہیں زید کے خط کی عبارت یہ ہے : “ تونے جس قدر جھوٹ سے کام لیا تیرے دل کو معلوم ہے مگر تونے اب بھی پوشیدہ حال رکھا ہے اب میں اپنے دل سے طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر کوئی بات پوشیدہ رکھی میں اس وجہ سے وہاں سے چپ ہوکر چلا آیا ہوں کہ توڈر کے مارے نہیں بتاتی۔ “ دریافت طلب امر یہ ہوا کہ زید نے جو یہ کلمات اپنے خط میں لکھے ہیں کیا اس کی زوجہ مطلقہ ہوگئی یا نہیں اگرچہ اس کی زوجہ نے کوئی راز پوشیدہ ہی رکھا ہو یا نہ رکھا ہو۔
الجواب :
ثبوت خط کے لئے اس کا اقرار ہو یا گواہان عادل کی شہادت اگر وہ انکار کرے اور گواہ نہ ہوں
الجواب
اس نے اس کی درخواست سے لکھا اور اس نے لکھنے کے بعد سن بھی لیا اور عورت کو بھیج دیا عورت پر تین طلاقیں ہوگئیں اب بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ ذہن میں ہونے نہ ہونے وغیرہ کے عذر بیکار ہیں ۔ قال اﷲ تعالی :
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد عورت حلال نہ ہوگی تا وقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۴ : ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ عطاء اﷲخاں سوداگر جفت ۱۵صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ سے عرصہ سے ناراض ہے اس کو زوجہ کی جانب بدگمانی ہے وہ عرصہ سے اس سے تقریر وتحریری ذرائع سے واقعات کو دریافت کررہا ہے اب اس نے ایك خط اپنی زوجہ کے نام پردیس تقریری وتحریری ذرائع سے واقعات کودریافت کررہا ہے اب اس نے ایك خط اپنی زوجہ کے نام پردیس سے تحریر کیا ہے جس کی عبارت طول طویل ہے اس میں سے بقدر ضرورت عبارت ذیل میں نقل کی جاتی ہے یہ ثابت ہے کہ یہ خط زید کا ہے کیونکہ وہ اپنے والد کو لکھتا ہے کہ میرے لڑکے کو اور میرے سامان کو زوجہ سے لے لو اور زید اپنے سالے کو بھی لکھتا ہے کہ تم میرے والد کو میرا سامان دے دو اور اپنی ہمشیرہ کے جہیز کا سامان پانی ہمشیرہ کو دے دو اور میرے لڑکے کو بھی والد کو دے دو اسی خط اور بہت سی بیہودہ باتیں اپنی زوجہ کے متعلق تحریر کی ہیں اور کوئی اجنبی شخص ان کو نہیں لکھ سکتا اور زید کی بہت سے تحریریں انہیں قرائن کو ظاہر کرتی ہیں زید کے خط کی عبارت یہ ہے : “ تونے جس قدر جھوٹ سے کام لیا تیرے دل کو معلوم ہے مگر تونے اب بھی پوشیدہ حال رکھا ہے اب میں اپنے دل سے طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر کوئی بات پوشیدہ رکھی میں اس وجہ سے وہاں سے چپ ہوکر چلا آیا ہوں کہ توڈر کے مارے نہیں بتاتی۔ “ دریافت طلب امر یہ ہوا کہ زید نے جو یہ کلمات اپنے خط میں لکھے ہیں کیا اس کی زوجہ مطلقہ ہوگئی یا نہیں اگرچہ اس کی زوجہ نے کوئی راز پوشیدہ ہی رکھا ہو یا نہ رکھا ہو۔
الجواب :
ثبوت خط کے لئے اس کا اقرار ہو یا گواہان عادل کی شہادت اگر وہ انکار کرے اور گواہ نہ ہوں
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۳۰
تومجرد خط ملنے یا ان قرائن سے ثبوت نہیں ہوسکتا علماء نے فرمایا ہے : لایعمل بالخط(خط پر عمل نہ کیاجائے گا۔ ت)اورفرمایا ہے :
الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم ۔
خط دوسرے خط اور مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوتی ہے۔ (ت)
پھر وہ لفظ کہ اس نے لکھے ہیں محتمل ہیں کہ پوشیدہ رکھی بیائے معروف یا بیائے مجہول اگر عورت کو وثوق ہے کہ یہ خط اسی کا ہے تو جب تك وہ انکار نہ کرے اس پر کاربندی کرسکتی ہے اگر یائے معروف ہے تو تین طلاقیں سمجھ سکتی ہے اگر کوئی بات پوشیدہ رکھی تھی اور یائے مجہول ہے تو اب تین طلاقیں سمجھ سکتی ہے اگر کوئی بات اس خط کے بعد پوشیدہ کرے لیکن اگر وہ اس خط سے منکر ہوتو عورت کو بے شہادت عادلہ بالائی وثوق کام نہ دے گا۔
مسئلہ۱۹۵ : ازمحمود آباد ضلع سیتاپور مرسلہ مولوی محمد اسمعیل صاحب سنی حنفی محمود آباوی ۱۶ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
حضرات علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کیا حکم فرماتے ہیں کہ زید نے ایك دن غصہ میں اپنی منکوحہ عورت کے واسطے فارغ خطی تحریر کیااور لکھا کہ میں نے طلاقیں دیں مگر زبان سے کچھ نہیں کہا اور نہ عورت نہ کسی اوراس کو بابت کچھ معلوم ہوا محض لکھ کراپنے پاس رکھ لیا مگر عورت نے کسی طرح معلوم کرلیا لہذا ایسی صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
اگر فارغ خطی باضابطہ لکھی تھی کہ میں فلاں بن فلاں ساکن فلاں میں نے اپنی زوجہ فلاں کو تین طلاقیں دیں جیسا کہ لفظ فارغ خطی سے بھی ظاہر ہے۔ فارغ خطی باضابطہ کاغذ ہی کوکہتے ہیں تو بلاشبہ تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی عورت کو یا کسی کو خبر نہ ہونا شرط طلاق نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶ : از شہر محلہ کوہاڑاپیر مسئولہ قمرالدین صاحب ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عقد نکاح کیا ہند کے ساتھ مگربعدہ حسب شرائط ذیل بوجوہ خانگی ومصالح خاندانی تجویز طلاق قرار پائی اور طلاقنامہ لکھا گیا مگرحسب اندراج دستاویز مذکور کلمات شرعیہ کہ طلاق دی طلاق دی طلاقی دی اور جلسہ عالم میں طلقت کہاوقوع میں نہیں آئی بلکہ
الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم ۔
خط دوسرے خط اور مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوتی ہے۔ (ت)
پھر وہ لفظ کہ اس نے لکھے ہیں محتمل ہیں کہ پوشیدہ رکھی بیائے معروف یا بیائے مجہول اگر عورت کو وثوق ہے کہ یہ خط اسی کا ہے تو جب تك وہ انکار نہ کرے اس پر کاربندی کرسکتی ہے اگر یائے معروف ہے تو تین طلاقیں سمجھ سکتی ہے اگر کوئی بات پوشیدہ رکھی تھی اور یائے مجہول ہے تو اب تین طلاقیں سمجھ سکتی ہے اگر کوئی بات اس خط کے بعد پوشیدہ کرے لیکن اگر وہ اس خط سے منکر ہوتو عورت کو بے شہادت عادلہ بالائی وثوق کام نہ دے گا۔
مسئلہ۱۹۵ : ازمحمود آباد ضلع سیتاپور مرسلہ مولوی محمد اسمعیل صاحب سنی حنفی محمود آباوی ۱۶ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
حضرات علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کیا حکم فرماتے ہیں کہ زید نے ایك دن غصہ میں اپنی منکوحہ عورت کے واسطے فارغ خطی تحریر کیااور لکھا کہ میں نے طلاقیں دیں مگر زبان سے کچھ نہیں کہا اور نہ عورت نہ کسی اوراس کو بابت کچھ معلوم ہوا محض لکھ کراپنے پاس رکھ لیا مگر عورت نے کسی طرح معلوم کرلیا لہذا ایسی صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
اگر فارغ خطی باضابطہ لکھی تھی کہ میں فلاں بن فلاں ساکن فلاں میں نے اپنی زوجہ فلاں کو تین طلاقیں دیں جیسا کہ لفظ فارغ خطی سے بھی ظاہر ہے۔ فارغ خطی باضابطہ کاغذ ہی کوکہتے ہیں تو بلاشبہ تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی عورت کو یا کسی کو خبر نہ ہونا شرط طلاق نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶ : از شہر محلہ کوہاڑاپیر مسئولہ قمرالدین صاحب ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عقد نکاح کیا ہند کے ساتھ مگربعدہ حسب شرائط ذیل بوجوہ خانگی ومصالح خاندانی تجویز طلاق قرار پائی اور طلاقنامہ لکھا گیا مگرحسب اندراج دستاویز مذکور کلمات شرعیہ کہ طلاق دی طلاق دی طلاقی دی اور جلسہ عالم میں طلقت کہاوقوع میں نہیں آئی بلکہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب ٢٣کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۸۱
سرپرست منکوحہ نے حکمت عملی سے زبرستی دستاویز حاصل کرلیا اور اس نے اس کو روك لیانیز مخفی نہ رہےکہ بعد ہنوز رخصتی کےرسم عمل میں نہیں آئی ہے آیا بعد ملاحظہ بالاولحاظ شرائط تحت طلاق جائز ہے یاواقعی عمل میں بموجب شرع شریف نہیں آئی۔
شرائط جو عمل میں نہیں آئیں
(۱)کھنڈوہ طلائی وزنی ۰۴ تولہ بوقت عقد منجانب ناکح چڑھائے گئے تھے واپس ہوں گی اور نیز مبلغ معہ / روپیہ لڑکی والا بابت خرچ ناکح کو ادا کرے گا۔
(۲)کل پارچہ پوشیدہ لڑکی والاناکح کو واپس کرے گا جو کہ بوقت عقد چڑھایا تھا۔
(۳)شرائط نمبر۱و۲کی تکمیل منجانب لڑکی والے کے ہونے کے بعد ناکح بروئے دستاویز مذکورہ طلاق دے گا جلسہ عام میں اس کا اعلان کرے گا۔
(۴)شرط نمبر۳ کی تکمیل کے ساتھ معافی مہر منجانب منکوحہ لازم تھی۔
الجواب :
ایسے معاہدوں میں معرف یہ ہے کہ دستاویز کا لکھنا معاہدے کی تمہید ہوتا ہے نہ کہ تنفیذ۔ تنفیذ انہیں شرائط پرمشروط ہوتی ہے جو معاہدے قرار پائے تو یہاں اگر چہ لفظا تعلیق ہو عرفا تعلیق ہوتی ہے والمشروط عرفا کالمشروط لفظا(عرف میں مشروط چیز لفظوں میں مذکور مشروط کی طرح ہے۔ ت)ولہذااگر شوہر عورت سے کہے کہ تو مہر معاف کردے تو میں تجھے طلاق دے دوں گا عورت نے کہا میں نے اپنا مہر معاف کیا شوہر نے طلاق نہ دی مہر معاف نہ ہوا کہ اگرچہ اس نے بلاشرط الفاظ معافی کہے لفظوں میں کوئی شرط نہ تھی مگر معنی شرط موجود تھی اور وہ نہ پائی گئی لہذامعافی نہ ہوئی اسی طرح یہاں طلاق معنی ان شرائط سے مشروط ہے اور وہ نہ پائی گئی لہذا طلاق نہ ہوئی عالمگیریہ میں ہے :
امرأۃ قالت لزوجھا کابین ترابخشیدم چنگ ازمن بداران لم یطلقھالمیبرأعن المھر کذافی الظہیریۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
بیوی نے خاوند کو کہا میں تجھے مہر بخشتی ہوں تو مجھے پر سے قبضہ ختم کردے یعنی طلاق دے دے اگرخاوند نے طلاق نہ دی تو مہر معاف نہ ہوگاظہیریہ میں اسی طرح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
شرائط جو عمل میں نہیں آئیں
(۱)کھنڈوہ طلائی وزنی ۰۴ تولہ بوقت عقد منجانب ناکح چڑھائے گئے تھے واپس ہوں گی اور نیز مبلغ معہ / روپیہ لڑکی والا بابت خرچ ناکح کو ادا کرے گا۔
(۲)کل پارچہ پوشیدہ لڑکی والاناکح کو واپس کرے گا جو کہ بوقت عقد چڑھایا تھا۔
(۳)شرائط نمبر۱و۲کی تکمیل منجانب لڑکی والے کے ہونے کے بعد ناکح بروئے دستاویز مذکورہ طلاق دے گا جلسہ عام میں اس کا اعلان کرے گا۔
(۴)شرط نمبر۳ کی تکمیل کے ساتھ معافی مہر منجانب منکوحہ لازم تھی۔
الجواب :
ایسے معاہدوں میں معرف یہ ہے کہ دستاویز کا لکھنا معاہدے کی تمہید ہوتا ہے نہ کہ تنفیذ۔ تنفیذ انہیں شرائط پرمشروط ہوتی ہے جو معاہدے قرار پائے تو یہاں اگر چہ لفظا تعلیق ہو عرفا تعلیق ہوتی ہے والمشروط عرفا کالمشروط لفظا(عرف میں مشروط چیز لفظوں میں مذکور مشروط کی طرح ہے۔ ت)ولہذااگر شوہر عورت سے کہے کہ تو مہر معاف کردے تو میں تجھے طلاق دے دوں گا عورت نے کہا میں نے اپنا مہر معاف کیا شوہر نے طلاق نہ دی مہر معاف نہ ہوا کہ اگرچہ اس نے بلاشرط الفاظ معافی کہے لفظوں میں کوئی شرط نہ تھی مگر معنی شرط موجود تھی اور وہ نہ پائی گئی لہذامعافی نہ ہوئی اسی طرح یہاں طلاق معنی ان شرائط سے مشروط ہے اور وہ نہ پائی گئی لہذا طلاق نہ ہوئی عالمگیریہ میں ہے :
امرأۃ قالت لزوجھا کابین ترابخشیدم چنگ ازمن بداران لم یطلقھالمیبرأعن المھر کذافی الظہیریۃ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
بیوی نے خاوند کو کہا میں تجھے مہر بخشتی ہوں تو مجھے پر سے قبضہ ختم کردے یعنی طلاق دے دے اگرخاوند نے طلاق نہ دی تو مہر معاف نہ ہوگاظہیریہ میں اسی طرح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل الخلع بالفارسیہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۵۸
مسئلہ ۱۹۷ : از شہر کہنہ ۱۲صفر ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ کو جس کوعرصہ قریب تین سال کے ہوا طلاق دے دی طلاق ہوجانے کا اقرار بکر نے زبانی عورت مطلقہ اور نیز عورت مذکورہ کے بھائیوں کی زبانی سنا ہے اب بکر مذکور اپنا نکاح اس عورت سے کیا چاہتا ہے لہذا شرع کا کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
سائل نے بیان کیا کہ عورت اور اس کے بھائی تین طلاقیں اتنی مدت سے ہونا بیان کرتے ہیں اور اب زید سال بھر غائب ہے اس صورت میں بکر کو چاہئے کہ اپنے دل کی طرف غور کرے اگر عورت اور اس کے بھائیوں کا بیان دل پرجمتا ہو کہ یہ لوگ اس میں سچے ہیں اور کوئی فریب نہیں کرتے تو بکر کو اختیار ہے کہ اس عورت سے نکاح کرلے جبکہ وہ اس طلاق کے بعد عدت بھی گزرجانا بیان کرتی ہو یعنی طلاق کے وقت اگر حاملہ ہونا کہے جب تو ظاہر ہے کہ تین سال کے قریب زمانہ گزرا ضرور وضع حمل ہوکر عدت گزرگئی اور اگر حمل نہ تھا تو عورت یہ بیان کرے کہ طلاق کے بعد اسے حیض تین بار شروع ہوکر ختم ہوچکا ہے اور اگر بکرکے دل پر ان کا سچ نہ جمے فریب معلوم ہوتا ہوتوہرگز نکاح نہ کرے
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ لوان امراۃ قالت لرجل ان زوجی طلقنی ثلثا وانقضت عدتی فان کانت عدلۃ وسعہ ان یتزوجھا وان کانت فاسقۃ تحری وعمل بما وقع تحریہ علیہ ۔
ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے اگر ایك عورت نے کسی مرد کو کہا کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں اور عدت بھی گزرچکی ہے تو اگر عورت عادلہ ہے تو اس شخص کو اس پر اس عورت سے نکاح کرناجائز ہے اور اگر وہ عورت فاسقہ ہے تو پھر وہ شخص غورفکر کرے اور غوروفکر کے نتیجہ پر عمل کرے۔ (ت)
اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ آج کل عادل شخص کا ملنا دشوار ہے ورنہ اگر عورت عادلہ ہو تواس کا صرف اتنا بیان ہی کہ مجھے طلاق ہوگئی اور عدت گزرگئی جواز کے لئے کافی ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸ : قاضی عبدالغنی صاحب از ڈیڈوانہ مارواڑ محلہ قاضیخان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور بسبب دلی رنجش کے بہ روبرو دوتین شخص کے حرف طلاق مکررسہ کرر زبان پر لایا ہندہ کے پاس ایك طفل شیر خوار تھا اس وجہ سے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ کو جس کوعرصہ قریب تین سال کے ہوا طلاق دے دی طلاق ہوجانے کا اقرار بکر نے زبانی عورت مطلقہ اور نیز عورت مذکورہ کے بھائیوں کی زبانی سنا ہے اب بکر مذکور اپنا نکاح اس عورت سے کیا چاہتا ہے لہذا شرع کا کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
سائل نے بیان کیا کہ عورت اور اس کے بھائی تین طلاقیں اتنی مدت سے ہونا بیان کرتے ہیں اور اب زید سال بھر غائب ہے اس صورت میں بکر کو چاہئے کہ اپنے دل کی طرف غور کرے اگر عورت اور اس کے بھائیوں کا بیان دل پرجمتا ہو کہ یہ لوگ اس میں سچے ہیں اور کوئی فریب نہیں کرتے تو بکر کو اختیار ہے کہ اس عورت سے نکاح کرلے جبکہ وہ اس طلاق کے بعد عدت بھی گزرجانا بیان کرتی ہو یعنی طلاق کے وقت اگر حاملہ ہونا کہے جب تو ظاہر ہے کہ تین سال کے قریب زمانہ گزرا ضرور وضع حمل ہوکر عدت گزرگئی اور اگر حمل نہ تھا تو عورت یہ بیان کرے کہ طلاق کے بعد اسے حیض تین بار شروع ہوکر ختم ہوچکا ہے اور اگر بکرکے دل پر ان کا سچ نہ جمے فریب معلوم ہوتا ہوتوہرگز نکاح نہ کرے
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ لوان امراۃ قالت لرجل ان زوجی طلقنی ثلثا وانقضت عدتی فان کانت عدلۃ وسعہ ان یتزوجھا وان کانت فاسقۃ تحری وعمل بما وقع تحریہ علیہ ۔
ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے اگر ایك عورت نے کسی مرد کو کہا کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں اور عدت بھی گزرچکی ہے تو اگر عورت عادلہ ہے تو اس شخص کو اس پر اس عورت سے نکاح کرناجائز ہے اور اگر وہ عورت فاسقہ ہے تو پھر وہ شخص غورفکر کرے اور غوروفکر کے نتیجہ پر عمل کرے۔ (ت)
اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ آج کل عادل شخص کا ملنا دشوار ہے ورنہ اگر عورت عادلہ ہو تواس کا صرف اتنا بیان ہی کہ مجھے طلاق ہوگئی اور عدت گزرگئی جواز کے لئے کافی ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸ : قاضی عبدالغنی صاحب از ڈیڈوانہ مارواڑ محلہ قاضیخان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور بسبب دلی رنجش کے بہ روبرو دوتین شخص کے حرف طلاق مکررسہ کرر زبان پر لایا ہندہ کے پاس ایك طفل شیر خوار تھا اس وجہ سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی العمل بخبرالواحد فی المعاملات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۳
اس نے اس کی پرورش کی درخواست کی جس کا زید نے اقرار کیا کہ ۴ / ماہوار دودھ خرچ کے دیا کرے گا چند عرصہ کے بعد ہندہ طالب مہروز ہوئی اب زید نے دیکھا کہ روپیہ ہاتھ سے جاتا ہے انکاری ہوگیا کہ میں نے طلاق نہیں دی اس غرض سے کہ ہندہ نہ تو کسی دوسرے سے نکاح کرسکے گی اور نہ گھر سے خرچ ہوگا۔ اب امر دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ طلاق جائز ہے یا نہ جائز طلاق کن کن امور سے ہوتی ہے کیا ہندہ مستحق پرورش خرچ مہر ہے
الجواب :
طلاق کے مسئلے ایسے گول لکھنے کے نہیں ہوتے حرف طلاق مکرر سہ کرر زبان پر لایا اس سے کیا معلوم ہوا کہ اس نے کیا الفاظ کہے حرف طلاق لاکھ بار زبان پر لانے سے بھی طلاق نہیں ہوتی اور ایك ہی بار کہنے سے ہوجاتی ہے اس کے پورے الفاظ لکھے جائیں جن پر اصلا کم وبیش تغیر نہ ہو اور یہ بھی کہ اس کے گواہ کون کون لوگ ہیں کہ اس نے یہ لفظ کہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹ : ازٹانڈہ ضلع فیض آباد مسئولہ حکیم سید حاضر علی ۸شوال ۱۳۳۹ھ
رہبر شریعت وطریقت جناب مولانااحمد رضاخاں صاحب السلام علیکم!ایك شخص سلیمان نےکئی آدمیوں کےسامنے طلاق دے کر طلاق پر انگھوٹھے کانشان ثبت کردیا۔ اس طلاق نامہ کے وصول پر مسماۃ صغری بی بی بالغ کے باپ نے اس کاعقد چھ ماہ ہوا ایك متمول خوبصورت شخص سے کردیا اب سلیمان چند مفسدوں کے بہکانے سے کہتا ہے میں نے طلاق نہیں دیا ہے مفسدوں کا منشا ہے کہ شوہر ثانی سے ناجائز طور پر کثیر رقم وصول ہو۔ نقل طلاق نامہ یہ ہے : “ ۱۲ / ماہ جمادی الثانی ۱۳۳۸ہجری بروز شنبہ منکہ سلیمان بن عبدالرزاق حافظ روبرو پنچوں کے لکھوادیا ہوں کہ میری طبیعت خراب رہتی ہے میرے سر پر گرمی چڑھتی ہے تو تین تین چار چار روز ہوش نہیں رہتا اس وقت طبیعت بہت ٹھیك ہے اس لئے میں چار گواہی دے کرکے میری منکوحہ مسماۃ صغری بنت حیدر اس کو تین طلاق دے کر اپنے نکاح سے دور کردیا اگر مجھ کو کوئی دیوانہ گردانے تو واقعی دیوانہ ہوں لیکن اس وقت دیوانہ نہیں ہوں اور مسماۃ مذکور کی جانب سے ولی محمد ابن امام الدین مختار ہو کر مہر وعدت معاف کردیاجب میں طلاق دیا ہوں “ ۔
ٹکٹ۱۔ (نشان انگوٹھا سلیمان ولد عبدالرزاق حافظ)
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر سلیمان کو اس تحریر کا اقرار ہے یا گواہان عادل سے ثابت ہے تو بیشك صغری پر تین طلاقیں ہوگئیں اس کا نکاح اگر عدت گزرنے کے بعد دوسرے شخص سے کیا گیا تو وہ نکاح صحیح ہے
الجواب :
طلاق کے مسئلے ایسے گول لکھنے کے نہیں ہوتے حرف طلاق مکرر سہ کرر زبان پر لایا اس سے کیا معلوم ہوا کہ اس نے کیا الفاظ کہے حرف طلاق لاکھ بار زبان پر لانے سے بھی طلاق نہیں ہوتی اور ایك ہی بار کہنے سے ہوجاتی ہے اس کے پورے الفاظ لکھے جائیں جن پر اصلا کم وبیش تغیر نہ ہو اور یہ بھی کہ اس کے گواہ کون کون لوگ ہیں کہ اس نے یہ لفظ کہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹ : ازٹانڈہ ضلع فیض آباد مسئولہ حکیم سید حاضر علی ۸شوال ۱۳۳۹ھ
رہبر شریعت وطریقت جناب مولانااحمد رضاخاں صاحب السلام علیکم!ایك شخص سلیمان نےکئی آدمیوں کےسامنے طلاق دے کر طلاق پر انگھوٹھے کانشان ثبت کردیا۔ اس طلاق نامہ کے وصول پر مسماۃ صغری بی بی بالغ کے باپ نے اس کاعقد چھ ماہ ہوا ایك متمول خوبصورت شخص سے کردیا اب سلیمان چند مفسدوں کے بہکانے سے کہتا ہے میں نے طلاق نہیں دیا ہے مفسدوں کا منشا ہے کہ شوہر ثانی سے ناجائز طور پر کثیر رقم وصول ہو۔ نقل طلاق نامہ یہ ہے : “ ۱۲ / ماہ جمادی الثانی ۱۳۳۸ہجری بروز شنبہ منکہ سلیمان بن عبدالرزاق حافظ روبرو پنچوں کے لکھوادیا ہوں کہ میری طبیعت خراب رہتی ہے میرے سر پر گرمی چڑھتی ہے تو تین تین چار چار روز ہوش نہیں رہتا اس وقت طبیعت بہت ٹھیك ہے اس لئے میں چار گواہی دے کرکے میری منکوحہ مسماۃ صغری بنت حیدر اس کو تین طلاق دے کر اپنے نکاح سے دور کردیا اگر مجھ کو کوئی دیوانہ گردانے تو واقعی دیوانہ ہوں لیکن اس وقت دیوانہ نہیں ہوں اور مسماۃ مذکور کی جانب سے ولی محمد ابن امام الدین مختار ہو کر مہر وعدت معاف کردیاجب میں طلاق دیا ہوں “ ۔
ٹکٹ۱۔ (نشان انگوٹھا سلیمان ولد عبدالرزاق حافظ)
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر سلیمان کو اس تحریر کا اقرار ہے یا گواہان عادل سے ثابت ہے تو بیشك صغری پر تین طلاقیں ہوگئیں اس کا نکاح اگر عدت گزرنے کے بعد دوسرے شخص سے کیا گیا تو وہ نکاح صحیح ہے
اور اگر عدت کے اندر کردیا کہ سوال میں انقضائے عدت کا کوئی ذکر نہیں اور طلاق نامہ میں عدت کا معاف کرنا جاہلانہ لکھا ہے تو یہ دوسرا نکاح بھی باطل ہوا مگر سلیمان کو اب بھی صغری پر کوئی دعوی نہیں پہنچتا نہ وہ صغری سے نکاح کرسکتا ہے کہ اس نکاح ثانی کے باطل ہونے کے سبب حلالہ صحیح نہ ہوا۔ درمختار میں ہے :
لاینکح مطلقۃ بالثلاث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ خرج الفاسد والموقوف ۔ (ملخصا)واﷲتعالی اعلم۔
تین طلاقوں سے مطلقہ عورت سے دوبارہ اس وقت تك نکاح نہیں ہوسکتا جب تك دوسرا خاوند صحیح اورنافذ نکاح کے ساتھ اس عورت سے جماع نہ کرلے صحیح اور نافذ نکاح کی قید سے نکاح فاسد اور نکاح موقوف خارج ہوگیا(ملخصا)واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۰ : از انبالہ چھاؤ نی صدر بازار محلہ پلیداران مرسلہ ننے خاں نبیت ۱۵رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے بخوشی چار آدمیوں کے سامنے اپنی عورت کو طلاق دی اب وہ کہتا ہے کہ میں نے نہیں دی۔ یہ طلاق ہوئی نہیں یانہیں
الجواب :
اگرواقع میں تین طلاقیں دی ہیں عنداﷲعورت اس پر حرام ہوگئی بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ قال اﷲتعالی :
فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔
مطلقہ ثلاثہ عورت خاوند کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے۔ (ت)
اور اس کا انکار اﷲعزوجل کے یہاں کچھ نفع نہ دے گا ان گواہوں پر فرض ہے کہ گواہی دیں اگر ان میں دومرد یا ایك مرد دو عورتیں ثقہ عادل شرعی ہوں طلاق ثابت ہوجائے گی اور اس کا انکار دنیا میں بھی نہ سنا جائے گا اور اگر ان میں ایسے گواہ نہ ہوں اور عورت کے سامنے طلاق نہ دی ہو تو عورت اس سے حلف لے اگر وہ حلف دے کہ میں نے طلاق نہ دی تو عورت اپنے آپ کو اس کی زوجہ سمجھے اگر اس نے حلف اٹھاجھوٹا کیا تووبال اس پرہے اور اگر خود زوجہ کے سامنے اسے تین طلاقیں
لاینکح مطلقۃ بالثلاث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ خرج الفاسد والموقوف ۔ (ملخصا)واﷲتعالی اعلم۔
تین طلاقوں سے مطلقہ عورت سے دوبارہ اس وقت تك نکاح نہیں ہوسکتا جب تك دوسرا خاوند صحیح اورنافذ نکاح کے ساتھ اس عورت سے جماع نہ کرلے صحیح اور نافذ نکاح کی قید سے نکاح فاسد اور نکاح موقوف خارج ہوگیا(ملخصا)واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۰ : از انبالہ چھاؤ نی صدر بازار محلہ پلیداران مرسلہ ننے خاں نبیت ۱۵رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے بخوشی چار آدمیوں کے سامنے اپنی عورت کو طلاق دی اب وہ کہتا ہے کہ میں نے نہیں دی۔ یہ طلاق ہوئی نہیں یانہیں
الجواب :
اگرواقع میں تین طلاقیں دی ہیں عنداﷲعورت اس پر حرام ہوگئی بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ قال اﷲتعالی :
فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔
مطلقہ ثلاثہ عورت خاوند کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے۔ (ت)
اور اس کا انکار اﷲعزوجل کے یہاں کچھ نفع نہ دے گا ان گواہوں پر فرض ہے کہ گواہی دیں اگر ان میں دومرد یا ایك مرد دو عورتیں ثقہ عادل شرعی ہوں طلاق ثابت ہوجائے گی اور اس کا انکار دنیا میں بھی نہ سنا جائے گا اور اگر ان میں ایسے گواہ نہ ہوں اور عورت کے سامنے طلاق نہ دی ہو تو عورت اس سے حلف لے اگر وہ حلف دے کہ میں نے طلاق نہ دی تو عورت اپنے آپ کو اس کی زوجہ سمجھے اگر اس نے حلف اٹھاجھوٹا کیا تووبال اس پرہے اور اگر خود زوجہ کے سامنے اسے تین طلاقیں
حوالہ / References
درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۰
القرآن ۲ / ۲۳۰
القرآن ۲ / ۲۳۰
دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملت تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر یا اور مال دے کر اور اگر وہ یوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اسے اپنے اوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضیہو پھر وبال اس پر ہے لا یكلف الله نفسا الا وسعها (اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱ : از گنج مراد آباد ضلع اوناؤ مرسلہ چیخ حرمت علی صاحب ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ قریب دوسا ل کہ ہوتا ہے کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے بارےمیں بکر اور عمر کو خط لکھے ہیں کہ میں ہندہ کو طلاق دی اس کو اب اختیار حاصل ہے ل اب زید آیا اور وہ حلفیہ بیان کرتا ہے میں نے بکر اور عمر کو خط نہیں لکھے اور وہ خط ہندہ کے پاس بکر نے رکھ دئے تھے اب گم ہوگئے اور اسی دریافت میں زید نے بکر سے کہا تم نے خود خواہش ظاہر کی تھی کہ ہندہ کو طلاق دو تب میں نے طلاقی نہیں دی ہندہ بھی اقرار کرتی ہے کہ زید سے بکر نے خواہش ظاہر کی تھی فقط بینواتوجرواباحسن الثواب۔
الجواب :
ایسے خطوط سے ثبوت طلاق دوامر پر موقوف یا تو شوہر اقرار کرے واقعی میں نے یہ خط لکھا تھا یا دو۲ مرد خواہ ایك مرد دو۲ثقہ شرعیہ دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خط مذکور لکھا اشباہ وغیرہا ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدار معنویا وثبت ذلك باقرارہ او بالبینۃ فکالخطاب ۔
اگر خاوند نے تحریری طلاق کو طلاق نامہ کے انداز سے معنون کرکے ارسال گیااور اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے کہ طلاق دی ہے تو زبانی طلاق کی طرح نافذ ہوگی۔(ت)
پس صورت مستفسرہ اگر شہادت معتمدہ سے بروجہ کافی تحریر خط ثابت ہوتو الفاظ مذکورہ سوال ایك سے تین تك جتنے خطوں میں لکھنے کا ثبوت تا بقائے عدت ہو اسی قدر طلاقیں وقت تحریر سے پڑنے کا
مسئلہ ۲۰۱ : از گنج مراد آباد ضلع اوناؤ مرسلہ چیخ حرمت علی صاحب ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ قریب دوسا ل کہ ہوتا ہے کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے بارےمیں بکر اور عمر کو خط لکھے ہیں کہ میں ہندہ کو طلاق دی اس کو اب اختیار حاصل ہے ل اب زید آیا اور وہ حلفیہ بیان کرتا ہے میں نے بکر اور عمر کو خط نہیں لکھے اور وہ خط ہندہ کے پاس بکر نے رکھ دئے تھے اب گم ہوگئے اور اسی دریافت میں زید نے بکر سے کہا تم نے خود خواہش ظاہر کی تھی کہ ہندہ کو طلاق دو تب میں نے طلاقی نہیں دی ہندہ بھی اقرار کرتی ہے کہ زید سے بکر نے خواہش ظاہر کی تھی فقط بینواتوجرواباحسن الثواب۔
الجواب :
ایسے خطوط سے ثبوت طلاق دوامر پر موقوف یا تو شوہر اقرار کرے واقعی میں نے یہ خط لکھا تھا یا دو۲ مرد خواہ ایك مرد دو۲ثقہ شرعیہ دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خط مذکور لکھا اشباہ وغیرہا ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدار معنویا وثبت ذلك باقرارہ او بالبینۃ فکالخطاب ۔
اگر خاوند نے تحریری طلاق کو طلاق نامہ کے انداز سے معنون کرکے ارسال گیااور اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے کہ طلاق دی ہے تو زبانی طلاق کی طرح نافذ ہوگی۔(ت)
پس صورت مستفسرہ اگر شہادت معتمدہ سے بروجہ کافی تحریر خط ثابت ہوتو الفاظ مذکورہ سوال ایك سے تین تك جتنے خطوں میں لکھنے کا ثبوت تا بقائے عدت ہو اسی قدر طلاقیں وقت تحریر سے پڑنے کا
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۸۰
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکامالکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۹۸۔ ۵۹۷ ، ردالمحتار کتاب القاضی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۵۳
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکامالکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۹۸۔ ۵۹۷ ، ردالمحتار کتاب القاضی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۵۳
حکم دیا جائے گا مثلا شہادت مقبولہ سے صرف ایك خط ایك ثبوت ہوا تو جس وقت اس نے یہ خط لکھا اس وقت س ایك طلاق مانیں گے اور اگر ایك خط عمرو کے نام اور دوسرا عدت کے اندر انہیں الفاظ یا ان کے مثل سے بکر یا عمرو ہی کے نام لکھنا ثابت ہوتو دواور اگر اسی طرح کے تین یا زائد ایك ہی شخص خواہ متعدد اشخاص کے نام لکھے ثابت ہوں تو تین کہ الفاظ مذکورہ کہ صریح ہیں ان میں ہر شخص کو لکھنا ہر بارکا لکھنا جدا طلاق سمجھا جائیگا۔
لما نصواعلیہ من ان التاسیس خیر من التاکید وان الصریح یلحق غیرہ۔
کیونکہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کلام سے نیافائدہ اخذکرنا پہلے ذکر شدہ فائدہ سے بہترہے اور یہ کہ صریح طلاق پہلی طلاق و لاحق ہوسکتی ہے۔ (ت)
ہاں اگر بعض خطوط میں الفاظ مذکور اور باقی میں اس طرح کا مضمون مسطور ہوکہ میں فلاں کو ایسا لکھ چکا ہوں یا میں نے پہلے ہی لکھ دیا ہے
وامثال ذلك مما یتعین الاخبار عن ذاك السابق لا یصلح للانشاء۔
اس کی مثل وہ الفاظ جو پہلے خبر کے لئے متعین ہوں چکے تو وہ الفاظ دوبارہ استعمال پر انشاء کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ (ت)
تو ان باقی خطوط کی تحریر اسی طلاق سابق کا ذکر قرار پائے گی جدا طلاق نہ ٹھہرے گی
فی الھندیۃ عن الظہیریۃ لو طلقھا ثم قال لھا طلاق دادمت یقع اخری ولوقال طلاق دادہ است لایقع اخری
ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے اگر خاوند نے طلاق دینے کے بعدکہا تجھے میں نے طلاق دی تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی اور اگر کہا طلاق دی گئی ہے تو یہ دوسری نہ ہوگی۔(ت)
اور اگر شہادت کافیہ نہ ہوتو ازانجا کہ زیدمنکرہے اصلا ثبوت طلاق نہیں اگر چہ خطوط موجود اور اس کے خط سے بالکل مشابہ ہوتے کہ خط ملنا کوئی حجت شرعیہ نہیں
لما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب ان الخط یشبہ الخط فلایعبتر ۔
کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے جیسا کہ عام کتب میں ہے لہذا خط کا اعتبار نہ ہوگا۔ (ت)
لما نصواعلیہ من ان التاسیس خیر من التاکید وان الصریح یلحق غیرہ۔
کیونکہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کلام سے نیافائدہ اخذکرنا پہلے ذکر شدہ فائدہ سے بہترہے اور یہ کہ صریح طلاق پہلی طلاق و لاحق ہوسکتی ہے۔ (ت)
ہاں اگر بعض خطوط میں الفاظ مذکور اور باقی میں اس طرح کا مضمون مسطور ہوکہ میں فلاں کو ایسا لکھ چکا ہوں یا میں نے پہلے ہی لکھ دیا ہے
وامثال ذلك مما یتعین الاخبار عن ذاك السابق لا یصلح للانشاء۔
اس کی مثل وہ الفاظ جو پہلے خبر کے لئے متعین ہوں چکے تو وہ الفاظ دوبارہ استعمال پر انشاء کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ (ت)
تو ان باقی خطوط کی تحریر اسی طلاق سابق کا ذکر قرار پائے گی جدا طلاق نہ ٹھہرے گی
فی الھندیۃ عن الظہیریۃ لو طلقھا ثم قال لھا طلاق دادمت یقع اخری ولوقال طلاق دادہ است لایقع اخری
ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے اگر خاوند نے طلاق دینے کے بعدکہا تجھے میں نے طلاق دی تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی اور اگر کہا طلاق دی گئی ہے تو یہ دوسری نہ ہوگی۔(ت)
اور اگر شہادت کافیہ نہ ہوتو ازانجا کہ زیدمنکرہے اصلا ثبوت طلاق نہیں اگر چہ خطوط موجود اور اس کے خط سے بالکل مشابہ ہوتے کہ خط ملنا کوئی حجت شرعیہ نہیں
لما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب ان الخط یشبہ الخط فلایعبتر ۔
کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے جیسا کہ عام کتب میں ہے لہذا خط کا اعتبار نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الطلاق بالصریح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵۶
فتاوٰی ہندیہ باب ٢٣کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۸۱ ، الہندیہ باب ٢٣کتاب القاضی الی القاضی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۳۹
فتاوٰی ہندیہ باب ٢٣کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۸۱ ، الہندیہ باب ٢٣کتاب القاضی الی القاضی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۳۹
بکر وعمر کا بیان کہ ہمیں خط لکھے اگرچہ وہ دونوں ثقہ عادل بھی ہون اگرچچ بکر پر اس اظہار خواہش کے سبب اس امر میں کوئی اپنی غرض وتہمت بھی نہ ہو اصلاقابل التفات نہیں کہ کوئی کسی کو اسکے سامنے خط نہیں لکھا کرتا ڈاك میں آئے یا قاصد لایا بہر حال ان کا یہ اظہار اسی مشابہت خط یا بیان ایلچی پر مبنی ہوگا اور یہ کوئی شہادت شرعیہ نہیں کما لایخفی علی ادنی خادم للفقہ وقد بیناہ فی رسالتنا الازکی الاھلال(جیسا کہ یہ بات علم کے ادنی خادم پر مخفی نہیں ہے اور اس کو ہم نے اپنے رسالہ ازکی الاھلال میں بیان کیا ہے۔ ت)یہ جو کچھ گزرا دربارہ حکم قضا ہے یعنی جب تك ان دوجوہ شہادت واقرار میں کسی وجہ سے ثبو ت نہ ہو حکم طلاق نہ دیا جائے گا عورت کو حرام ہے کہ باوصت انکار شوہر ایسی مہمل خبر پر اپنے آپ کو مطلقہ سمجھ کر کوئی کاروائی آزادی کرے مردوں کا حرام ہے کہ اسے مطلقہ ٹھہرا کر قصد تزوج کریں مگر فی الواقع اگر زیداس انکر میں جھوٹا ہے تو اس کا حساب لینے والا خدا ہے عورت اس وبال سے پاك وجد ہے خدا سے ڈرے اور حق ظاہر کرے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۲۰۲ : مرسلہ حکیم حسین خاں از بریلی محلہ فراشی ٹولہ ۲۰رجب ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ساڑھے تین سال سے رنڈی کے ساتھ نکاح کرلیا اور ہندہ قدیمہ زوجہ کو اذیت و تکلیفر دیتا رہا حتی کہ ایك روز سال گزشتہ ۱۴مئی ۱۹۱۶ء کو بمواجہہ دو شخص عاقل وبالغ مسلم عمروبکر جو کہ اس کے قرابت دار ہیں زید نے ہندہ سے کہا کہ مجھے۱دو۲عورت کی استطاعت نہیں میں ۲اپنے پسند سے رنڈی لے آیا اور تو۳میرے مطلب کی نہیں میں ۴تجھ کو رکھنا نہیں چاہتا ہوں تجھ۵کو میں نے طلاق دی تو۶میرے پاس سے چلی جا تجھ۷کو اختیار اپنا ہے جو چاہ سوکر مجھ۸کو اپنا اختیار ہے کہ میں نے رنڈی سے نکاح کرلیا اب زید طلاق سے انکار کرتا ہے اور نہ بلاتا ہے اور نہ آتا ہے اور نہ روٹی کپڑا دیتا ہے اور وۃ دونوں شخص مقر ہیں اور زید کہتا ہے کہ میں ہندہ کو خوب دق کرونگا اور ہندہ صبر وتحمل سے عاجز ہوکر نکاح ثانی کرنا چاہتی ہے پس بحکم شرع شریف طلاق ہوئی یا نہیں اور الفاظ مذکور ہ سے کتنے طلاق واقع ہوئے اور ہندہ بعد عدت نکاح ثانی کرسکتی ہے یانہیں شمار عدت کب سے ہوگا اور دین مہر کی مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
جاہلوں سے فتوی لینا حرام ہے مخالفان دین کو طرف رجوع کرناسخت اشد حرام ہے اس طلاق کو رجعی سمجھنا سخت جہالت ہ اور عدت اس وقت سے شروع نہ جاننا اگر یہ طلاق بحالت حیض ہوبلکہ جب یہ حیض ختم ہو اس کے بعد کا طہر ختم ہو جدید حیض شروع ہو اس وقت سے عدت کا آغاز لینا دوسری جہالت ہے
مسئلہ ۲۰۲ : مرسلہ حکیم حسین خاں از بریلی محلہ فراشی ٹولہ ۲۰رجب ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ساڑھے تین سال سے رنڈی کے ساتھ نکاح کرلیا اور ہندہ قدیمہ زوجہ کو اذیت و تکلیفر دیتا رہا حتی کہ ایك روز سال گزشتہ ۱۴مئی ۱۹۱۶ء کو بمواجہہ دو شخص عاقل وبالغ مسلم عمروبکر جو کہ اس کے قرابت دار ہیں زید نے ہندہ سے کہا کہ مجھے۱دو۲عورت کی استطاعت نہیں میں ۲اپنے پسند سے رنڈی لے آیا اور تو۳میرے مطلب کی نہیں میں ۴تجھ کو رکھنا نہیں چاہتا ہوں تجھ۵کو میں نے طلاق دی تو۶میرے پاس سے چلی جا تجھ۷کو اختیار اپنا ہے جو چاہ سوکر مجھ۸کو اپنا اختیار ہے کہ میں نے رنڈی سے نکاح کرلیا اب زید طلاق سے انکار کرتا ہے اور نہ بلاتا ہے اور نہ آتا ہے اور نہ روٹی کپڑا دیتا ہے اور وۃ دونوں شخص مقر ہیں اور زید کہتا ہے کہ میں ہندہ کو خوب دق کرونگا اور ہندہ صبر وتحمل سے عاجز ہوکر نکاح ثانی کرنا چاہتی ہے پس بحکم شرع شریف طلاق ہوئی یا نہیں اور الفاظ مذکور ہ سے کتنے طلاق واقع ہوئے اور ہندہ بعد عدت نکاح ثانی کرسکتی ہے یانہیں شمار عدت کب سے ہوگا اور دین مہر کی مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
جاہلوں سے فتوی لینا حرام ہے مخالفان دین کو طرف رجوع کرناسخت اشد حرام ہے اس طلاق کو رجعی سمجھنا سخت جہالت ہ اور عدت اس وقت سے شروع نہ جاننا اگر یہ طلاق بحالت حیض ہوبلکہ جب یہ حیض ختم ہو اس کے بعد کا طہر ختم ہو جدید حیض شروع ہو اس وقت سے عدت کا آغاز لینا دوسری جہالت ہے
بلکہ حکم شرعی یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں اگربیان مذکور صحیح ہے عورت پر دو۲ طلاقیں بائن پڑگئی عورت سے نکل گئی شوہر کو رجعت کا کچھ اختیار نہ رہا
فان اللفظ الخامس طلاق صریح ولاسادس لکنہ یحتمل الردان توقف علی النیۃ حتی فی المذاکرۃ فالسابع لایحتملہ وقد صارت الحالۃ بالطلاق حالۃ المذاکرۃ فوقع بلانیۃ لان البائن یلحق الصریح ولکونہ بائنا عاد الاول ایضا مثلہ لاستحالۃ الرجعۃ بعد البینونۃ فطلقت تطلیقتین بائنتین۔
کیونکہ پانچوان لفظ صریح طلاق ہے اور چھٹا لفظ جواب کا احتمال رکھتا ہے اس لئے اس میں نیت کی ضرورت ہے حتی کہ مذاکرہ طلاق میں نیت پر موقوف ہے اور ساتواں لفظ رد کا احتمال نہیں رکھتا پہلے طلاق کہنے کی بنا پر مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے یہ طلاق بھی بغیر نیت واقع ہوگئی کیونکہ یہ بائنہ طلاق ہے اور بائنہ رجعی طلاق کولاحق ہوجاتی ہے اور بائنہ پہلی کو بھی جیسی بنادیتی ہے اس لئے کہ بائنہ کے بعد رجوع ناممکن ہوجاتا ہے لہذا مذکورہ سوال میں دو۲ بائنہ طلاقیں ہوگئی ہیں ۔ (ت)
عدت اسی وقت سے لی جائیگی جب سے یہ طلاق دی اگر چہ حالت حیض میں دی ہوتمام احکام عدت مثلا عورت پر گھر سے باہر جانے کی حرمت وغیرہ اسی وقت ثابت ہوجائیں گی نہ یہ کہ حیض جدید کے بعد آغاز ہوں ہاں صرف یہ حیض شمار میں نہ آئے گا بلکہ اس کے بعد تین حیض کامل درکار ہوں گے جس وقت سے یہ طلاق پڑی عورت کا مہر واجب الادا ہوگیا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۰۳ : ازکوٹہ راجپوتانہ مرسلہ محمد ابراہیم خاں دکیل سرشتہ ۲۳رجب۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو جس کی عمر ۱۵سال کی ہے ہندہ کے باپ عمرو کے مواجہہ میں طلاق بائن مغلظ دے دیا اس طلاق کے اندازا ایك سال بعد زیدنے کسی طرح پر ہندہ کو بہکا کر یہ کہلادیا کہ مجھے طلاق نہیں ہوئی ہے اور زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اس صورت میں پدر ہندہ عمرو کو بروئے شریعت کیسا اختیار حاصل ہے کیا عمرو قاضی کے سامنے دعوی پیش کرکے استقرارطلاق کی ڈگری لے سکتا ہے اور پانی لڑکی ہندہ نابالغہ کو زید کے قبضہ سے نکال سکتا ہے
الجواب :
اﷲ عزوجل ہر غیب کو جانتا ہے فی الواقع اگر زید نے ہندہ کو طلاق مغلظہ دی تھی اور اب زید وہندہ دونوں منکر ہوگئے ہں تو ان کا نکار کچھ مسموع نہیں اور ان پر فرض ہے کہ فورافورا جدا ہوجائیں ورنہ زنا ہے اور دونوں کو عذاب جہنم وغضب جبار کا استحقاق ہے اگر وہ جدا نہ ہوں تو ہندہ کے باپ پر فرض ہے کہ قاضی کے
فان اللفظ الخامس طلاق صریح ولاسادس لکنہ یحتمل الردان توقف علی النیۃ حتی فی المذاکرۃ فالسابع لایحتملہ وقد صارت الحالۃ بالطلاق حالۃ المذاکرۃ فوقع بلانیۃ لان البائن یلحق الصریح ولکونہ بائنا عاد الاول ایضا مثلہ لاستحالۃ الرجعۃ بعد البینونۃ فطلقت تطلیقتین بائنتین۔
کیونکہ پانچوان لفظ صریح طلاق ہے اور چھٹا لفظ جواب کا احتمال رکھتا ہے اس لئے اس میں نیت کی ضرورت ہے حتی کہ مذاکرہ طلاق میں نیت پر موقوف ہے اور ساتواں لفظ رد کا احتمال نہیں رکھتا پہلے طلاق کہنے کی بنا پر مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے یہ طلاق بھی بغیر نیت واقع ہوگئی کیونکہ یہ بائنہ طلاق ہے اور بائنہ رجعی طلاق کولاحق ہوجاتی ہے اور بائنہ پہلی کو بھی جیسی بنادیتی ہے اس لئے کہ بائنہ کے بعد رجوع ناممکن ہوجاتا ہے لہذا مذکورہ سوال میں دو۲ بائنہ طلاقیں ہوگئی ہیں ۔ (ت)
عدت اسی وقت سے لی جائیگی جب سے یہ طلاق دی اگر چہ حالت حیض میں دی ہوتمام احکام عدت مثلا عورت پر گھر سے باہر جانے کی حرمت وغیرہ اسی وقت ثابت ہوجائیں گی نہ یہ کہ حیض جدید کے بعد آغاز ہوں ہاں صرف یہ حیض شمار میں نہ آئے گا بلکہ اس کے بعد تین حیض کامل درکار ہوں گے جس وقت سے یہ طلاق پڑی عورت کا مہر واجب الادا ہوگیا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۰۳ : ازکوٹہ راجپوتانہ مرسلہ محمد ابراہیم خاں دکیل سرشتہ ۲۳رجب۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو جس کی عمر ۱۵سال کی ہے ہندہ کے باپ عمرو کے مواجہہ میں طلاق بائن مغلظ دے دیا اس طلاق کے اندازا ایك سال بعد زیدنے کسی طرح پر ہندہ کو بہکا کر یہ کہلادیا کہ مجھے طلاق نہیں ہوئی ہے اور زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اس صورت میں پدر ہندہ عمرو کو بروئے شریعت کیسا اختیار حاصل ہے کیا عمرو قاضی کے سامنے دعوی پیش کرکے استقرارطلاق کی ڈگری لے سکتا ہے اور پانی لڑکی ہندہ نابالغہ کو زید کے قبضہ سے نکال سکتا ہے
الجواب :
اﷲ عزوجل ہر غیب کو جانتا ہے فی الواقع اگر زید نے ہندہ کو طلاق مغلظہ دی تھی اور اب زید وہندہ دونوں منکر ہوگئے ہں تو ان کا نکار کچھ مسموع نہیں اور ان پر فرض ہے کہ فورافورا جدا ہوجائیں ورنہ زنا ہے اور دونوں کو عذاب جہنم وغضب جبار کا استحقاق ہے اگر وہ جدا نہ ہوں تو ہندہ کے باپ پر فرض ہے کہ قاضی کے
یہاں دعوی طلاق کرکے فورا جدائی کرالے اگر وہ نہ کرے تو جو مسلمان اس پر اطلاع رکھتا ہے اس پر فرض ہے کہ دعوی کرکے ان میں جدائی کرادے اس میں ہر مسلمان کودعوی اختیار ہے بلکہ اگر کوئی شخص دعوی نہ کرے تو جن جن کے سامنے زید نے طلاق دی تھی ان پر فرض ہے کہ قاضی کے یہاں حاضر ہوکر گواہی دیں اور اگر ان میں دو۲ گواہ قابل قبول شرع ہوں تو قاضی پر فرض ہے کہ بغیر کسی مدعی کے ان کے شہادت سن لے اور ان مردوعورت کر جبرا جدا کردے۔ اشباہ والنظائر میں ہے :
تسمع الشہادۃ بدون الدعوی فی الحد الخالص وفی الطلاق والایلاء والظہار ۔
خالص حد طلاق ایلاء اور ظہار میں بغیر دعوی بھی شہادت قبول کی جاسکتی ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
تقدم الدعوی فی حقوق العباد شرط قبولا بخلاف حقوق اﷲتعالی لوجوج اقامتھا علی کل واحد فکل احد خصم فکان الدعوی موجودہ ۔
(ملخصا) حقوق العباد میں شہادت قبول کرنے کے لئے پہلے دعوی پایاجانا شرط ہے بخلاف حقوق اﷲ کے کہ ہر ایك پر واجب ہے کہ ان کو قائم کرے اس لئے حقوق اﷲ معاملہ میں ہر ایك فریق ہوسکتا ہے گویا کہ دعوی موجود قرار پائے گا۔ (ت)
ہاں واقع میں زید نے طلاق نہ دی اور ہندہ کا باپ جھوٹا دعوی طلاق کرکے جدا کرانا چاہتا ہے تو ہو سخت عذات کا مستحق ہوگا۔ والعیاذباﷲ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴ : ازبلرامپورڈاك خانہ خاص ضلع گونڈہ محلہ پھاٹك جانب اوتر سرائے بختہ مرسلہ نور محمد آتشباز ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید خواندہ آدمی ہے عرصہ پندرہ سولہ سال کا گزرتا ہے کہ زید نے اپنی بی بی ہندہ کو بوجہ وجوہ طلاق واحد تنبہا دی اور بعد گزرنے گزرنے پندرہ یوم کے دونوں میاں بیوی نے رجعت کرلی اور آج تك زید کی زوجیت میں رہی اتفاقا بعد سولہ برس کے دونوں میں نااتفاقی بوجہ ورغلانے ایك شخص کے جوزید کی تجارت میں شریك تھا ہوگئی اور زدی کے مکان سے فرار ہوگئی بعد چندس روز کے واپس آئی اور
تسمع الشہادۃ بدون الدعوی فی الحد الخالص وفی الطلاق والایلاء والظہار ۔
خالص حد طلاق ایلاء اور ظہار میں بغیر دعوی بھی شہادت قبول کی جاسکتی ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
تقدم الدعوی فی حقوق العباد شرط قبولا بخلاف حقوق اﷲتعالی لوجوج اقامتھا علی کل واحد فکل احد خصم فکان الدعوی موجودہ ۔
(ملخصا) حقوق العباد میں شہادت قبول کرنے کے لئے پہلے دعوی پایاجانا شرط ہے بخلاف حقوق اﷲ کے کہ ہر ایك پر واجب ہے کہ ان کو قائم کرے اس لئے حقوق اﷲ معاملہ میں ہر ایك فریق ہوسکتا ہے گویا کہ دعوی موجود قرار پائے گا۔ (ت)
ہاں واقع میں زید نے طلاق نہ دی اور ہندہ کا باپ جھوٹا دعوی طلاق کرکے جدا کرانا چاہتا ہے تو ہو سخت عذات کا مستحق ہوگا۔ والعیاذباﷲ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴ : ازبلرامپورڈاك خانہ خاص ضلع گونڈہ محلہ پھاٹك جانب اوتر سرائے بختہ مرسلہ نور محمد آتشباز ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید خواندہ آدمی ہے عرصہ پندرہ سولہ سال کا گزرتا ہے کہ زید نے اپنی بی بی ہندہ کو بوجہ وجوہ طلاق واحد تنبہا دی اور بعد گزرنے گزرنے پندرہ یوم کے دونوں میاں بیوی نے رجعت کرلی اور آج تك زید کی زوجیت میں رہی اتفاقا بعد سولہ برس کے دونوں میں نااتفاقی بوجہ ورغلانے ایك شخص کے جوزید کی تجارت میں شریك تھا ہوگئی اور زدی کے مکان سے فرار ہوگئی بعد چندس روز کے واپس آئی اور
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب الشہادات والد عادی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۵۸
درمختار باب الاختلاف فی الشہادۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۸
درمختار باب الاختلاف فی الشہادۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۸
سابقہ طلاق واحد کو تین طلاقوں کی مقر ہوئی چونکہ زید برادری والا آدمی ہے پنچایت میں یہ مقدہ پیش ہوا اور گواہوں نے بیان کیا مجھے یاد نہیں ہے کہ زید نے طلاق واحد دی تھی یا طلاق ثلاثہ اس وقت پنچایت میں زید سے قسم لی گئی زید نے طلاق واحد کی قسم کھالی ہندہ پھر زید کی زوجیت میں چند روز رہی بعد ازاں ہندہ پھر فرار ہوکر اور دوگواہ بے نمازی دانمی وار شراب خوارو زانی ایك برادری ودیگرے قوم دیگر کچہری دیوانی میں پیش کرکے مقدمہ دائر کرکے ڈگری حاصل کرلی اور اس شخص کے مکان پر رہتی ہے جو کہ زید کا شریك تھا اور اسی کے ورغلانے کاگمان غالب تھا پس صورت مسئولہ میں ہندہ کے گواہ مذکورہ کچہری کا قول معتبر ہوگایا کہ گواہ اول پنچایتی برادرن زید کا قسم معتبر ہوگا اور اہل برادری کو زید کے شریك جہاں ہندہ رہتی ہے اور اسی کے ورغلانے کا تمام اہل برادری کو اور زید کو گمان غالب ہے تنبیہا خاندان ترك کردینا جائز ہے یانہیں اور ہندہ زوجہ زید ہوسکتی ہے یانہیں
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے تو پنچایت کا فیصلہ حق تھااس کے بعد ہندہ کا چند روز اس پر کاربند رہ کر اغوائے شیطان سے پھر فساد اٹھانا اور دو۲فاسق گواہ پیش کرکے کچہری سے ڈگری لینا اسے شرعا کچھ مفید نہیں ہندہ بدستور زوجہ زید ہے اور شریك زید پر اگر ہندہ کے اغواکا ثبوت ہوتو اہل برادری ضرور اسے برادری سے خارج کریں اس سے میل جول چھوڑدیں اس کے پاس نہ بیٹھیں ۔ اﷲعزوجل فرماتا ہے :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیرونحوہ فی الاوسط عن ابن عمرو
ہمارے گروہ سے نہیں جوکسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے اور طبرانی نے صغیر اور اس کی مثل اوسط میں ابن عمر رضی اﷲ
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے تو پنچایت کا فیصلہ حق تھااس کے بعد ہندہ کا چند روز اس پر کاربند رہ کر اغوائے شیطان سے پھر فساد اٹھانا اور دو۲فاسق گواہ پیش کرکے کچہری سے ڈگری لینا اسے شرعا کچھ مفید نہیں ہندہ بدستور زوجہ زید ہے اور شریك زید پر اگر ہندہ کے اغواکا ثبوت ہوتو اہل برادری ضرور اسے برادری سے خارج کریں اس سے میل جول چھوڑدیں اس کے پاس نہ بیٹھیں ۔ اﷲعزوجل فرماتا ہے :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیرونحوہ فی الاوسط عن ابن عمرو
ہمارے گروہ سے نہیں جوکسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے اور طبرانی نے صغیر اور اس کی مثل اوسط میں ابن عمر رضی اﷲ
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۶۸
سنن ابوداؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶ ، المستدرك للحاکم باب لیس منّامن خبب امرأۃ علٰی زوجہا الخ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۹۶
سنن ابوداؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶ ، المستدرك للحاکم باب لیس منّامن خبب امرأۃ علٰی زوجہا الخ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۹۶
فی الاوسط کابی یعلی بسند صحیح عنابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم اجمعین۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تعالی عنہ سے اوراوسط میں ابویعلی کی طرح صحیح سند سے ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ سے مروی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ۲۰۵ : از پکھریرضلع مظفر پور محلہ نورالعین شاہ شریف آباد رائے پور مظفر پور مرسلہ شریف الرحمن صاحب ۳شعبان ۱۳۳۶ھ
ہندہ کہتی ہے کہ مجھے میرا شوہر شیخ اسمعیل نے بیکدم پانچ طلاق دی ہے اور ایك ماں اور ایك بھاوج اور ایك غیر عورت بالغ اور ایك لڑکا بارہ چودہ سالہ گواہ رکھتی ہے اس کی مائی کہتی ہے کہ ہاں پانچ طلاق دی ہے اور بھاوج کہتی ہے کہ پانچ طلاقی دی ہے غیر عورت موجودہ کہتی ہے کہ دو۲ دی ہے لڑکاکہتا ہے کہ تین۳دی ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہاں مسماۃ مورن بھی تھی مسماۃ مورن کہتی ہے کہ طلاق نہیں دی ہے اور پڑوس موجودہ لوگ سب بیك زبان کہتے ہیں کہ طلاق نہیں دی ہے اور اسمعیل شوہر ہندہ کہتا ہے کہ میں حلفاکہتا ہوں کہ میں نے ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے اور نہ دوں گا ہندہ اور ہندہ کی ماں اور بھاوج باہمی سازش سے مجھ پر تہمت جھوٹی کی ہے چونکہ میں بیمار تھا ہندہ کواپنی خدمت کے لئے تنبیہ ومجبور کرتا تھا اس لئے مجھ سے ناراض ہوکر جھوٹی تہمت مجھ پر کی ہے۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں طلاق ثابت نہیں کہ اگر وہ لڑکا بالغ ہو یا وہ خواہ بھاوج خواہ وہ دوسری عورت کہ دو۲ طلاق کہتی ہے ثقہ عادل شرعی نہ ہوں جب توظاہر یہاں تك کہ اگر یہ لڑکا بالغ اور یہ اور ماں اور بھاوج سب ثقہ عادل ہوں فقط وہ غیر عورت ثقہ نہ ہو جب بھی طلاق اصلا ثابت نہ ہوگی پہلی صورت میں اس لئے کہ صرف عورتیں ہیں اور تنہا عورتوں کی گواہ مقبول نہیں اوردوسری صورت میں اس لئے کہ عدالت نہیں اور تیسری صور ت میں اس لئے کہ ماں گواہی بیٹی کے حق میں نہیں ۔ درمختار میں ہے :
لاتقبل شہادۃ الفرع لاصلہ وبالعکس ۔ (ملخصا)
فرع(اولاد)کی شہادت اصلا(والدین اور اوپر)کے حق میں اور اس کا عکس ہوتو بھی مقبول نہیں (ملخصا)۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
فی الولوالجیۃ تجوز شہادۃ الابن علی
ولوالجیہ میں ہے کہ باپ نے اگر اپنی بیوی کو طلاق
تعالی عنہ سے اوراوسط میں ابویعلی کی طرح صحیح سند سے ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ سے مروی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ۲۰۵ : از پکھریرضلع مظفر پور محلہ نورالعین شاہ شریف آباد رائے پور مظفر پور مرسلہ شریف الرحمن صاحب ۳شعبان ۱۳۳۶ھ
ہندہ کہتی ہے کہ مجھے میرا شوہر شیخ اسمعیل نے بیکدم پانچ طلاق دی ہے اور ایك ماں اور ایك بھاوج اور ایك غیر عورت بالغ اور ایك لڑکا بارہ چودہ سالہ گواہ رکھتی ہے اس کی مائی کہتی ہے کہ ہاں پانچ طلاق دی ہے اور بھاوج کہتی ہے کہ پانچ طلاقی دی ہے غیر عورت موجودہ کہتی ہے کہ دو۲ دی ہے لڑکاکہتا ہے کہ تین۳دی ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہاں مسماۃ مورن بھی تھی مسماۃ مورن کہتی ہے کہ طلاق نہیں دی ہے اور پڑوس موجودہ لوگ سب بیك زبان کہتے ہیں کہ طلاق نہیں دی ہے اور اسمعیل شوہر ہندہ کہتا ہے کہ میں حلفاکہتا ہوں کہ میں نے ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے اور نہ دوں گا ہندہ اور ہندہ کی ماں اور بھاوج باہمی سازش سے مجھ پر تہمت جھوٹی کی ہے چونکہ میں بیمار تھا ہندہ کواپنی خدمت کے لئے تنبیہ ومجبور کرتا تھا اس لئے مجھ سے ناراض ہوکر جھوٹی تہمت مجھ پر کی ہے۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں طلاق ثابت نہیں کہ اگر وہ لڑکا بالغ ہو یا وہ خواہ بھاوج خواہ وہ دوسری عورت کہ دو۲ طلاق کہتی ہے ثقہ عادل شرعی نہ ہوں جب توظاہر یہاں تك کہ اگر یہ لڑکا بالغ اور یہ اور ماں اور بھاوج سب ثقہ عادل ہوں فقط وہ غیر عورت ثقہ نہ ہو جب بھی طلاق اصلا ثابت نہ ہوگی پہلی صورت میں اس لئے کہ صرف عورتیں ہیں اور تنہا عورتوں کی گواہ مقبول نہیں اوردوسری صورت میں اس لئے کہ عدالت نہیں اور تیسری صور ت میں اس لئے کہ ماں گواہی بیٹی کے حق میں نہیں ۔ درمختار میں ہے :
لاتقبل شہادۃ الفرع لاصلہ وبالعکس ۔ (ملخصا)
فرع(اولاد)کی شہادت اصلا(والدین اور اوپر)کے حق میں اور اس کا عکس ہوتو بھی مقبول نہیں (ملخصا)۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
فی الولوالجیۃ تجوز شہادۃ الابن علی
ولوالجیہ میں ہے کہ باپ نے اگر اپنی بیوی کو طلاق
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادت باب القبول وعدمہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۴
ابیہ بطلاق امرأتہ اذالم تکن لامہ أولضرتھا لانھا شہادۃ علی ابیہ وان کان لامہ اولضرتھالاتجوز لانھا شھادۃ لامہ ۔
دی تو بیٹے کی اپنے باپ کے خلاف شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ جس کو طلاق دی گئی ہو وہ اس بیٹے کی ماں یاماں کی سہیلی نہ ہو یہ شہادت باپ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مقبول ہوگی اور اگر بیٹے کی ماں یا اس کی سہیلی ہوتو پھر بیٹے کی یہ شہادت مقبول نہیں کیونکہ اگرچہ باپ کے خلاف ہے لیکن ماں کے حق میں ہے۔ (ت)
اور بالفرض اگر یہ لڑکا بالغ اور بھاوج اور وہ دوسری عورت سب ثقہ عادل ہوں بھی تو دو۲طلاقیں ثابت ہوسکتیں کہ اسی قدر تینوں شاہدوں کا اتفاق ہے لیکن یہ مذہب صاحبین کا ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك اب بھی شہادت مقبول نہیں کہ دو۲ اور تین۳ میں اختلاف ہے اور اختلاف شہود موجب ردشہادت۔ ہدایہ میں ہے :
یعتبر اتفاق الشاھدین فی اللفظ والمعنی عندابی حنیفۃ فاذاشہد احدھمابالف والاخربالفین لم تقبل الشہادۃ عندہ وعندھما تقبل علی الالف اذاکان المدعی یدعی الفین وعلی ھذاالطلقۃ والطلقتان والطلقۃ والثلث ۔
امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك دونوں گواہوں کا لفظ اور معنی میں اتفاق معتبر ہے لہذا اگرا یك گواہ نے ایك ہزار کہا اور دوسرے نے دوہزار کہا تو یہ شہادت امام صاحب کے نزدیك مقبول نہ ہوگی اورصاحبین رحمہا اﷲتعالی کے نزدیك مذکورہ صورت میں ایك ہزار پر دونوں گواہوں کی شہادت قبول کرلی جائے گی بشرطیکہ مدعی نے دوہزارکا دعوی کیا ہو یوں ہی ایك طلاق اور دوطلاق کا یا ایك اور تین طلاقوں میں (گواہوں کا اختلاف ہوتو امام صاحب کے نزدیك اس اختلاف میں کوئی طلاق ثابت نہ ہوگی)۔ (ت)تو ثابت ہواکہ صورت مستفسرہ میں اصلا طلاق ثابت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶ : از گلاوٹھی ضلع بلند شہر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب مدرس ۹ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ك ایك عورت کا باین ہے کہ میرے شوہر نے مجھ کو
دی تو بیٹے کی اپنے باپ کے خلاف شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ جس کو طلاق دی گئی ہو وہ اس بیٹے کی ماں یاماں کی سہیلی نہ ہو یہ شہادت باپ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مقبول ہوگی اور اگر بیٹے کی ماں یا اس کی سہیلی ہوتو پھر بیٹے کی یہ شہادت مقبول نہیں کیونکہ اگرچہ باپ کے خلاف ہے لیکن ماں کے حق میں ہے۔ (ت)
اور بالفرض اگر یہ لڑکا بالغ اور بھاوج اور وہ دوسری عورت سب ثقہ عادل ہوں بھی تو دو۲طلاقیں ثابت ہوسکتیں کہ اسی قدر تینوں شاہدوں کا اتفاق ہے لیکن یہ مذہب صاحبین کا ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك اب بھی شہادت مقبول نہیں کہ دو۲ اور تین۳ میں اختلاف ہے اور اختلاف شہود موجب ردشہادت۔ ہدایہ میں ہے :
یعتبر اتفاق الشاھدین فی اللفظ والمعنی عندابی حنیفۃ فاذاشہد احدھمابالف والاخربالفین لم تقبل الشہادۃ عندہ وعندھما تقبل علی الالف اذاکان المدعی یدعی الفین وعلی ھذاالطلقۃ والطلقتان والطلقۃ والثلث ۔
امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك دونوں گواہوں کا لفظ اور معنی میں اتفاق معتبر ہے لہذا اگرا یك گواہ نے ایك ہزار کہا اور دوسرے نے دوہزار کہا تو یہ شہادت امام صاحب کے نزدیك مقبول نہ ہوگی اورصاحبین رحمہا اﷲتعالی کے نزدیك مذکورہ صورت میں ایك ہزار پر دونوں گواہوں کی شہادت قبول کرلی جائے گی بشرطیکہ مدعی نے دوہزارکا دعوی کیا ہو یوں ہی ایك طلاق اور دوطلاق کا یا ایك اور تین طلاقوں میں (گواہوں کا اختلاف ہوتو امام صاحب کے نزدیك اس اختلاف میں کوئی طلاق ثابت نہ ہوگی)۔ (ت)تو ثابت ہواکہ صورت مستفسرہ میں اصلا طلاق ثابت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶ : از گلاوٹھی ضلع بلند شہر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب مدرس ۹ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ك ایك عورت کا باین ہے کہ میرے شوہر نے مجھ کو
حوالہ / References
بحرالرائق باب من تقبل شہادۃ ومن لاتقبل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ / ۸۰
ہدایہ باب الاختلاف فی الشہادۃ مطبع مجتبائی دہلی ۳ / ۱۶۵
ہدایہ باب الاختلاف فی الشہادۃ مطبع مجتبائی دہلی ۳ / ۱۶۵
طلاق دے دی ہے قطعی جس کو عرصہ ۷ مہینے کا ہوااور اپنے بیان کی تائید میں پنے دو۲بھائی حقیقی اور دوشخص غیر کو پیش کرتی ہے چنانچہ وہ چاروں قطعی طلاق دینا مسماۃ کوبیان کرتے ہیں اور شوہر سے جو دریافت کیا گیا تو وہ انکار کرتا ہے اس صورت میں عورت مطلقہ سمجھی جائے گی یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
ان چاروں میں اگر عورت کے دونوں بھائی یادونوں غیریا ایك بھائی ایك غیر فرض کوئی سے دو۲ شخص ثقہ عادل شرعی قابل قبول شہادت ہوں تو عورت ضرورمطلقہ سمجھی جائے گی شوہر کا انکارگواہان ثقہ کے حضور اصلا مسموع نہ ہوگا بھائی کی گواہی بہن کے حق میں شرعا قبول ہے۔ درمختارمیں ہے :
نصابھا لنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان اھ ملخصاملتقطا۔
نکاح وطلاق میں شہادت کا نصاب دو۲ مرد یا ایك مرد ااور دو۲ عورتیں ہے ___ اھ ملخصاملتقطا(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
تجوز شہادہ الاخ لاختہ کذافی محیط السرخسی ۔ واﷲتعالی اعلم۔
بھائی کی شہادت بہن کے حق میں مقبول ہے جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۷ : ازریاست رامپور مسئولہ امراؤدلہا مفتی غلام حیدر صاحب محلہ زاخ دوارہ مورخہ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کے دروازہ پرجاکر بآواز بلند اپنی زوجہ کے متعلق کہا کہ میں نے فلانے کی بیٹی فلانی کوطلاق دی اب شوہر کہتا ہے کہ میں نے یہ لفظ ایك دفعہ محض خوف دلانے کے لئے غصہ کی حالت میں کہا تھا اور گھرمیں زوجہ کے دو۲ بھائی اور والدہ اور نانی اور دروازہ پر ایك ملازم کا بیان ہے کہ ہم نے طلاق دی دی دی کا لفظ تین دفعہ سنا اوردروازہ کے باہر دوشخصوں نے بھی اسی آواز کو سنا کہتے ہیں کہ ہم نےدی کالفظ ایك دفعہ سنا اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالا میں تین طلا ق ہوئیں یاایك طلاق رجعی۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
ان چاروں میں اگر عورت کے دونوں بھائی یادونوں غیریا ایك بھائی ایك غیر فرض کوئی سے دو۲ شخص ثقہ عادل شرعی قابل قبول شہادت ہوں تو عورت ضرورمطلقہ سمجھی جائے گی شوہر کا انکارگواہان ثقہ کے حضور اصلا مسموع نہ ہوگا بھائی کی گواہی بہن کے حق میں شرعا قبول ہے۔ درمختارمیں ہے :
نصابھا لنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان اھ ملخصاملتقطا۔
نکاح وطلاق میں شہادت کا نصاب دو۲ مرد یا ایك مرد ااور دو۲ عورتیں ہے ___ اھ ملخصاملتقطا(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
تجوز شہادہ الاخ لاختہ کذافی محیط السرخسی ۔ واﷲتعالی اعلم۔
بھائی کی شہادت بہن کے حق میں مقبول ہے جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۷ : ازریاست رامپور مسئولہ امراؤدلہا مفتی غلام حیدر صاحب محلہ زاخ دوارہ مورخہ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کے دروازہ پرجاکر بآواز بلند اپنی زوجہ کے متعلق کہا کہ میں نے فلانے کی بیٹی فلانی کوطلاق دی اب شوہر کہتا ہے کہ میں نے یہ لفظ ایك دفعہ محض خوف دلانے کے لئے غصہ کی حالت میں کہا تھا اور گھرمیں زوجہ کے دو۲ بھائی اور والدہ اور نانی اور دروازہ پر ایك ملازم کا بیان ہے کہ ہم نے طلاق دی دی دی کا لفظ تین دفعہ سنا اوردروازہ کے باہر دوشخصوں نے بھی اسی آواز کو سنا کہتے ہیں کہ ہم نےدی کالفظ ایك دفعہ سنا اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالا میں تین طلا ق ہوئیں یاایك طلاق رجعی۔ بینواتوجروا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۱
الفتاوی الھندیۃ الفصل الثالث فیمن لاتقبل شہادتہ للتہمۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۷۰
الفتاوی الھندیۃ الفصل الثالث فیمن لاتقبل شہادتہ للتہمۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۷۰
الجواب :
عورت کے دونوں بھائی اور ملازم ان تینوں شخصوں میں اگر دو۲ ثقہ عادل قابل قبول شرع ہیں تو تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ نکاح میں نہیں آسکتی بشرطیکہ بھائیوں نے اسے آنکھ سے دیکھا ہو اور اس کے قول مذکور کو کان سے سنا اور اگر وہ گھر ہی میں رہے اور یہ باہر ہی رہا تو محض شناخت آواز پر شہادت نہیں ایك طلاق سے زائد ثابت نہ ہوگی پھر اگر واقع میں تین بار “ دی “ کا لفظ کہا تو اس پر فرض ہے کہ اسے چھوڑدے اور بے حلالہ ہاتھ نہ لگائے اگر خلاف کرے گا مبتلائے زناہوگا اور مستحق عذاب شدید واﷲعلی کل شیئ شہید واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸ : تحصیل کچھا نینی تال مرسلہ عبدالغنی صاحب ۱۷رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو۲ منکوحہ ہیں ہندہ زینت۔ ہندہ نے چاہا کہ زینب زوجہ ثانیہ کو طلاق ہوجائے زید کو اہل دہ نے بہت ڈرایا دھمکایامگر زید نے ہرگز نہ مانا زینب کو طلاق نہ دی ان مغویان دہ نے پٹواری دہ سے کہ از قوم ہنود تھا ساز کرکے طرح طرح کے نقصان مالی وجانی منجان کچہری کے اندیشہ پیداکردیا اورکہا تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ تم اپنی عورت زینب کو طلاز دے دو اور یہ کلمات اس پٹواری سے پورا مخوف ہوکر کہا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی تین مرتبہ اس کلمہ کا اعادہ کیا اورکرایا مگر یہ لفظ طلاق سے ثابت نہ ہوا کہ کون سی بی بی کو زید سے مرد ہنود پٹواری نے طلاق دلوائی بعد تھوڑی دیر کے جبکہ جلسہ منتشر ہوگیا پٹواری نے زید سے دریافت کیا کہ تم نے اپنی کون سی بی بی کو طلاق دی زید نے کسی کا کچھ نام بھی نہیں لیا اور کسی عورت کی طرف اشارہ بھی نہ کیا اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں اور زید شوہر اورزینب زوجہ کو باہم کیا کرنا چاہئے
الجواب :
جبکہ زیدنے تین بار جداجدا یہ لفظ اپنی زبان سے کہے کہ “ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دی “ اگر چہ ڈرانے دھمکانے جبر واکراہ سے اگرچہ وہ کہلوانے والا ہندو یا کوئی تھا اس پرتین عدد طلاق ضرور لازم آئی اگر اس کی مراد زینب تھی تو زینب پرتین طلاق ہوگئیں اور اگر ہندہ مراد تھی تو ہندہ کو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر دھمکانے سے وہ الفاظ زبان سے اداکردئے اور نیت نہ زینب کی تھی نہ ہندہ کی تو اب اس کے اختیار میں ہے جس کی طرف چاہے ڈال دے اگر زینب کو کہے گا اس پر تین طلاقیں ہوجائیں گی اور ہندہ کو تو اس پر تنویر میں ہے :
لوقال امرأتی طالق ولہ امرأتان اوثلاث تطلق واحدۃ منھن ولہ
اگر خاوند نے کہا میری بیوی کو طلاق ہے جبکہ سا کی بیویاں دو تھیں یا تین توان میں سے ایك کو طلاق
عورت کے دونوں بھائی اور ملازم ان تینوں شخصوں میں اگر دو۲ ثقہ عادل قابل قبول شرع ہیں تو تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ نکاح میں نہیں آسکتی بشرطیکہ بھائیوں نے اسے آنکھ سے دیکھا ہو اور اس کے قول مذکور کو کان سے سنا اور اگر وہ گھر ہی میں رہے اور یہ باہر ہی رہا تو محض شناخت آواز پر شہادت نہیں ایك طلاق سے زائد ثابت نہ ہوگی پھر اگر واقع میں تین بار “ دی “ کا لفظ کہا تو اس پر فرض ہے کہ اسے چھوڑدے اور بے حلالہ ہاتھ نہ لگائے اگر خلاف کرے گا مبتلائے زناہوگا اور مستحق عذاب شدید واﷲعلی کل شیئ شہید واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸ : تحصیل کچھا نینی تال مرسلہ عبدالغنی صاحب ۱۷رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو۲ منکوحہ ہیں ہندہ زینت۔ ہندہ نے چاہا کہ زینب زوجہ ثانیہ کو طلاق ہوجائے زید کو اہل دہ نے بہت ڈرایا دھمکایامگر زید نے ہرگز نہ مانا زینب کو طلاق نہ دی ان مغویان دہ نے پٹواری دہ سے کہ از قوم ہنود تھا ساز کرکے طرح طرح کے نقصان مالی وجانی منجان کچہری کے اندیشہ پیداکردیا اورکہا تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ تم اپنی عورت زینب کو طلاز دے دو اور یہ کلمات اس پٹواری سے پورا مخوف ہوکر کہا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی تین مرتبہ اس کلمہ کا اعادہ کیا اورکرایا مگر یہ لفظ طلاق سے ثابت نہ ہوا کہ کون سی بی بی کو زید سے مرد ہنود پٹواری نے طلاق دلوائی بعد تھوڑی دیر کے جبکہ جلسہ منتشر ہوگیا پٹواری نے زید سے دریافت کیا کہ تم نے اپنی کون سی بی بی کو طلاق دی زید نے کسی کا کچھ نام بھی نہیں لیا اور کسی عورت کی طرف اشارہ بھی نہ کیا اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں اور زید شوہر اورزینب زوجہ کو باہم کیا کرنا چاہئے
الجواب :
جبکہ زیدنے تین بار جداجدا یہ لفظ اپنی زبان سے کہے کہ “ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دی “ اگر چہ ڈرانے دھمکانے جبر واکراہ سے اگرچہ وہ کہلوانے والا ہندو یا کوئی تھا اس پرتین عدد طلاق ضرور لازم آئی اگر اس کی مراد زینب تھی تو زینب پرتین طلاق ہوگئیں اور اگر ہندہ مراد تھی تو ہندہ کو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر دھمکانے سے وہ الفاظ زبان سے اداکردئے اور نیت نہ زینب کی تھی نہ ہندہ کی تو اب اس کے اختیار میں ہے جس کی طرف چاہے ڈال دے اگر زینب کو کہے گا اس پر تین طلاقیں ہوجائیں گی اور ہندہ کو تو اس پر تنویر میں ہے :
لوقال امرأتی طالق ولہ امرأتان اوثلاث تطلق واحدۃ منھن ولہ
اگر خاوند نے کہا میری بیوی کو طلاق ہے جبکہ سا کی بیویاں دو تھیں یا تین توان میں سے ایك کو طلاق
خیار التعیین ۔
ہوگی ان میں سے طلاق کے لئے ایك معین کرنے کا اختیار خاوند کو حاصل ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لافرق فی ذلك بین المعلق والمنجز وکذا لافرق بین حلفہ مرۃ اواکثرفلہ صرف الاکثرالی واحدۃ ففی البزازیۃ عن فوائد شیخ الاسلام قال حلال اﷲعلیہ حرام ان فعل کذاوفعلہ وحلف بطلاق امرأتہ ان فعل کذاوفعلہ ولہ امرأتان فاراد ان یصرف ھذین الطلاقین فی واحدۃ منھا اشارفی الزیادات الی انہ یملك ذلک ۔
مذکورہ صورت میں طلاق معلق ہو یا غیر معلق ہو اور یونہی یا متعدد بار کہنے میں کوئی فرق نہیں ایك سے زائد طلاقوں کو ایك ہی بیوی کے لئے مراد لینے کا بھی خاوند کواختیار ہے تو بزازیہ میں شیخ الاسلام کے فوائد سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے کہاکہ اﷲ تعالی کی حلال کی ہوئی چیز مجھ پر حرام ہے اگر میں فلاں کام کروں اور پھر اس نے وہ کام کرلیا اور اس کے بعد پھر اس نے کہااگر میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق پھراس نے وہ کام کرلیا تو ان دونوں قسموں کے بعد خاوند کو دو۲ بیویوں کی صورت میں اختیار ہے ان دونوں طلاقوں کو ایك بیوی کے لئے قرار دے زیادات میں خاوند کو اس اختیار کامالك قرار دینے کا اشارہ دیا ہے۔ (ت)
اور جبکہ وہ خالی الذہن تھا کسی لفظ سے کسی عورت کی نیت نہ تھی لیکن یہ الفاظ خالی نہیں جاتے اور شرع اسے تعیین کا اختیار دیتی ہے تو ظاہر اس پر لازم نہیں کہ تینوں طلاقیں ایك ہی عورت پر ڈالے بلکہ ایك پر ایك اورایك پر دو۲ڈال سکتا ہے اوردونوں پر یہ طلاق رجعی ہونی چاہئے جبکہ اسے سے پہلے دو۲والی کو ایك اور ایك والی کو دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو پھر اگر دونوں کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہے تو عدت کے اندر رجعت کرلے دونوں بدستور اس کی زوجہ رہیں گی ہاں آئندہ کبھی اگر دو۲ والی ایك یا ایك والی کو دو۲ طلاقیں دے گا تو تین ہوجائیں گی اور پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکوں گا۔
اقول : والد لیل علی جواز التفریق مامر عن البزازیۃ عن
اقول : (میں کہتا ہوں )مذکورہ صورتوں میں طلاقوں کو بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اور اس کے جواز کے
ہوگی ان میں سے طلاق کے لئے ایك معین کرنے کا اختیار خاوند کو حاصل ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لافرق فی ذلك بین المعلق والمنجز وکذا لافرق بین حلفہ مرۃ اواکثرفلہ صرف الاکثرالی واحدۃ ففی البزازیۃ عن فوائد شیخ الاسلام قال حلال اﷲعلیہ حرام ان فعل کذاوفعلہ وحلف بطلاق امرأتہ ان فعل کذاوفعلہ ولہ امرأتان فاراد ان یصرف ھذین الطلاقین فی واحدۃ منھا اشارفی الزیادات الی انہ یملك ذلک ۔
مذکورہ صورت میں طلاق معلق ہو یا غیر معلق ہو اور یونہی یا متعدد بار کہنے میں کوئی فرق نہیں ایك سے زائد طلاقوں کو ایك ہی بیوی کے لئے مراد لینے کا بھی خاوند کواختیار ہے تو بزازیہ میں شیخ الاسلام کے فوائد سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے کہاکہ اﷲ تعالی کی حلال کی ہوئی چیز مجھ پر حرام ہے اگر میں فلاں کام کروں اور پھر اس نے وہ کام کرلیا اور اس کے بعد پھر اس نے کہااگر میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق پھراس نے وہ کام کرلیا تو ان دونوں قسموں کے بعد خاوند کو دو۲ بیویوں کی صورت میں اختیار ہے ان دونوں طلاقوں کو ایك بیوی کے لئے قرار دے زیادات میں خاوند کو اس اختیار کامالك قرار دینے کا اشارہ دیا ہے۔ (ت)
اور جبکہ وہ خالی الذہن تھا کسی لفظ سے کسی عورت کی نیت نہ تھی لیکن یہ الفاظ خالی نہیں جاتے اور شرع اسے تعیین کا اختیار دیتی ہے تو ظاہر اس پر لازم نہیں کہ تینوں طلاقیں ایك ہی عورت پر ڈالے بلکہ ایك پر ایك اورایك پر دو۲ڈال سکتا ہے اوردونوں پر یہ طلاق رجعی ہونی چاہئے جبکہ اسے سے پہلے دو۲والی کو ایك اور ایك والی کو دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو پھر اگر دونوں کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہے تو عدت کے اندر رجعت کرلے دونوں بدستور اس کی زوجہ رہیں گی ہاں آئندہ کبھی اگر دو۲ والی ایك یا ایك والی کو دو۲ طلاقیں دے گا تو تین ہوجائیں گی اور پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکوں گا۔
اقول : والد لیل علی جواز التفریق مامر عن البزازیۃ عن
اقول : (میں کہتا ہوں )مذکورہ صورتوں میں طلاقوں کو بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اور اس کے جواز کے
حوالہ / References
درمختار باب طلاق غیرالمدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۳
ردالمحتار باب طلاق غیر مدخول بھا داراحیاء التراث العربی ۲ / ۴۵۹
ردالمحتار باب طلاق غیر مدخول بھا داراحیاء التراث العربی ۲ / ۴۵۹
شیخ الاسلام عن اشارۃ محمد انہ یملك الصرف الی واحدۃ ان اراد فقط افاادانہ یملك التفریق ان شاء والثلاث والاربع والاثنان فی ذلك سواء ولیس قولہ طلقت طلقت طلقت أوامرأتہ طالق امرأتہ طالق امرأتہ طالق کقولہ طلقت امرأتی ثلاثا او امرأتی طالق ثلاثا فان ھنا قد افھم المغلظۃ فلایملك التخفیف بالتفریق مع ان المروی عن الامام فیہ ایضا خیار التفریق غیر انہ تقع علی کل منھن واحدۃ بائنۃ لئلایلغی وصف الاصل فی ردالمحتار رأیت بخط شیخ مشائخنا السائحاتی عن المنیۃلوکان الرجل ثلاث نساء فقال امرأتی ثلاث تطلیقات یقع ثلاث لکل واحدۃ وعندابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ لکل واحدۃ منھن طلاق بائن وھو الاصح اھ اقول : ای الا اذابین وعین احدھن فعلیھا الثلاث
دلیل بزازیہ کی گزشتہ عبارت شیخ الاسلام سے منقول کہ امام محمد نے اس میں اشارہ فرمایا کہ خاوند کو ایك ہی بیوی پر دونوں طلاقوں کو صرف کرنیکا اختیار ہے اگر چاہے تو واضح ہوا کہ انہوں نے افادہ کیا کہ خاوند اگر چاہے تو ان طلاقوں کو اپنی متعدد بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اس میں بیویوں کی تعداد دو۲ یا تین چار ہونے میں کوئی فرق نہیں اور خاوند کا “ میں نے طلاق دی “ میں نے طلاق دی “ یا یوں “ میری بیوی طلاق والی ہے “ تین بارکہنا اس کاحکم وہ نہیں جو “ میں نے بیوی کو تین طلاقیں دیں “ یا “ میری بیوی تین طلاقی والی ہے “ کا حکم ہے کیونکہ آخری دونوں الفاظ میں طلاق مغلظ مفہوم ہوتا ہے تو اب اس مغلظہ کو متعدد بیویوں پر تقسیم کرکے مخففہ نہیں بناسکتا(لہذا یہ تین ایك ہی بیوی کےلئے قرار پائیں گی)حالانکہ امام سے اس مسئلہ میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے یہاں بھی تفریق کا اختیار خاوند کو دیاہے صرف اس میں یہ بات فرمائی کہ ہر ایك بیوی کو ایك طلاق بائنہ ہوگی تاکہ اصل طلاق کا وصف لغو نہ جائے۔ ردالمحتار میں ہے کہ میں کہ میں نے شیخ المشائخ سائحاتی کے خط میں دیکھا انہوں نے منیۃ الفقہاء سے نقل کیا کہ اگر ایك شخص کی تین بیویاں ہوں اور وہ کہے “ میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں “ تو اس کی تینوں بیویوں میں سے ہر ایك کو تین تین طلاقیں واقع ہونگی اور امام ابو حنیفہ رضی اﷲتعالیعنہ کے نزدیك ہر ایک
دلیل بزازیہ کی گزشتہ عبارت شیخ الاسلام سے منقول کہ امام محمد نے اس میں اشارہ فرمایا کہ خاوند کو ایك ہی بیوی پر دونوں طلاقوں کو صرف کرنیکا اختیار ہے اگر چاہے تو واضح ہوا کہ انہوں نے افادہ کیا کہ خاوند اگر چاہے تو ان طلاقوں کو اپنی متعدد بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اس میں بیویوں کی تعداد دو۲ یا تین چار ہونے میں کوئی فرق نہیں اور خاوند کا “ میں نے طلاق دی “ میں نے طلاق دی “ یا یوں “ میری بیوی طلاق والی ہے “ تین بارکہنا اس کاحکم وہ نہیں جو “ میں نے بیوی کو تین طلاقیں دیں “ یا “ میری بیوی تین طلاقی والی ہے “ کا حکم ہے کیونکہ آخری دونوں الفاظ میں طلاق مغلظ مفہوم ہوتا ہے تو اب اس مغلظہ کو متعدد بیویوں پر تقسیم کرکے مخففہ نہیں بناسکتا(لہذا یہ تین ایك ہی بیوی کےلئے قرار پائیں گی)حالانکہ امام سے اس مسئلہ میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے یہاں بھی تفریق کا اختیار خاوند کو دیاہے صرف اس میں یہ بات فرمائی کہ ہر ایك بیوی کو ایك طلاق بائنہ ہوگی تاکہ اصل طلاق کا وصف لغو نہ جائے۔ ردالمحتار میں ہے کہ میں کہ میں نے شیخ المشائخ سائحاتی کے خط میں دیکھا انہوں نے منیۃ الفقہاء سے نقل کیا کہ اگر ایك شخص کی تین بیویاں ہوں اور وہ کہے “ میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں “ تو اس کی تینوں بیویوں میں سے ہر ایك کو تین تین طلاقیں واقع ہونگی اور امام ابو حنیفہ رضی اﷲتعالیعنہ کے نزدیك ہر ایک
حوالہ / References
ردالمحتار باب طلاق غیرالمدخول بھا داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۹
فلامخالفۃ فیہ لمسألۃ خیار التعیین خلافا لما فھم العلامۃ الشامی اما ھھنا فکل کلمۃ علی واحدۃ وکل تحتمل کل امرأتہ ولاترجیح فالیہ البیان فان شاء جمع الکل علی کل رجعیۃ اذلا اصل ھینا موصوفا بالبینونۃ وبہ انحل مافی ردالمحتار وباﷲالتوفیق واﷲتعالی اعلم۔
بیوی کو ایك ایك بائنہ طلاق ہوگی اور یہی زیادہ صحیح ہے اھ اقول(میں کہتا ہوں )مگر یہ اس صورت میں ہے جب خاوند نے بیویوں میں کسی کو معین نہ کیا ہو اور اگر اس نے تینوں بیویوں سے ایك کو واضح طور معین کرلیا تو پھر ایك کو ہی تین طلاقیں ہوں گی لہذا یہ صورت تعین کے اختیار والے مسئلہ کے مخالف نہیں یہ ابت علامہ شامی کے فہم کے خلاف ہے لیکن یہاں زیر بحث مسئلہ میں تو ہر طلاق علیحدہ ذکر کی گئی ہے جو کہ ہر بیوی کے لئے ہوسکتی ہے اور کوئی وجہ ترجیح نہیں ہے لہذاخاوند کو ہی بیان کا حق ہوگا وہ چاہے تو سب کو طلاقیں ایك کے لئے بیان کرے اگر چاہے تو ان طلاقوں کو متعدد بیویوں پر متفرق کردے اگر اس نے متفرق کردیں تو پھر ہر ایك کو طلاق رجعی ہوگی کیونکہ یہاں طلاق کو بائنہ سے موصوف نہیں کیا گیا او اس تقریر سے ردالمحتار میں ذکر کردہ اشکال حل ہوگیا اور توفیق اﷲتعالی سے ہی حاصل ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۹ : ۲۳ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو۲ زوجہ ہیں چھمی اور بشیرن اور اس نے دو۲بار یا تین بار کہا میری عورت پر طلاق اور کسی کا نام نہ لیا تو ان میں کس پر اور کتنی طلاقیں پڑیں گی بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں یا تو وہ دونوں عورتیں مدخولہ ہوں گی یا دونوں غیر مدخولہ یا ایك مدخولہ ایك غیر مدخولہ اور ہر صورت میں یا تو ایك کی تخصیص کرے گا کہ میں نے اسی کو طلاقیں دی تھیں یا دونوں کودینا بتائے گا تویہ چھ صورتیں ہوئیں اور بہر تقدیر مذکور دوبار کہا یا تین بار تو مجموع بارہ۱۲ ہیں جن میں یہ جگہ مدخولہ کے اس لحاظ سے کہ اسے پہلے ایك طلاق دے چکا ہے یا دو۲یانہیں چالیس۴۰ عــــہ بلکہ
عــــہ : دونوں مدخولہ ہونے میں چھ۶ صورتیں ہیں کہ دونوں ۱سادہ ہوں یعنی اس سے پہلے کسی کو کوئی طلاق نہ دی تھی(باقی اگلے صفحہ پر)
بیوی کو ایك ایك بائنہ طلاق ہوگی اور یہی زیادہ صحیح ہے اھ اقول(میں کہتا ہوں )مگر یہ اس صورت میں ہے جب خاوند نے بیویوں میں کسی کو معین نہ کیا ہو اور اگر اس نے تینوں بیویوں سے ایك کو واضح طور معین کرلیا تو پھر ایك کو ہی تین طلاقیں ہوں گی لہذا یہ صورت تعین کے اختیار والے مسئلہ کے مخالف نہیں یہ ابت علامہ شامی کے فہم کے خلاف ہے لیکن یہاں زیر بحث مسئلہ میں تو ہر طلاق علیحدہ ذکر کی گئی ہے جو کہ ہر بیوی کے لئے ہوسکتی ہے اور کوئی وجہ ترجیح نہیں ہے لہذاخاوند کو ہی بیان کا حق ہوگا وہ چاہے تو سب کو طلاقیں ایك کے لئے بیان کرے اگر چاہے تو ان طلاقوں کو متعدد بیویوں پر متفرق کردے اگر اس نے متفرق کردیں تو پھر ہر ایك کو طلاق رجعی ہوگی کیونکہ یہاں طلاق کو بائنہ سے موصوف نہیں کیا گیا او اس تقریر سے ردالمحتار میں ذکر کردہ اشکال حل ہوگیا اور توفیق اﷲتعالی سے ہی حاصل ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۹ : ۲۳ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو۲ زوجہ ہیں چھمی اور بشیرن اور اس نے دو۲بار یا تین بار کہا میری عورت پر طلاق اور کسی کا نام نہ لیا تو ان میں کس پر اور کتنی طلاقیں پڑیں گی بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں یا تو وہ دونوں عورتیں مدخولہ ہوں گی یا دونوں غیر مدخولہ یا ایك مدخولہ ایك غیر مدخولہ اور ہر صورت میں یا تو ایك کی تخصیص کرے گا کہ میں نے اسی کو طلاقیں دی تھیں یا دونوں کودینا بتائے گا تویہ چھ صورتیں ہوئیں اور بہر تقدیر مذکور دوبار کہا یا تین بار تو مجموع بارہ۱۲ ہیں جن میں یہ جگہ مدخولہ کے اس لحاظ سے کہ اسے پہلے ایك طلاق دے چکا ہے یا دو۲یانہیں چالیس۴۰ عــــہ بلکہ
عــــہ : دونوں مدخولہ ہونے میں چھ۶ صورتیں ہیں کہ دونوں ۱سادہ ہوں یعنی اس سے پہلے کسی کو کوئی طلاق نہ دی تھی(باقی اگلے صفحہ پر)
اٹھاون عــــہ ہوجائیں گی
ان سب کا حکم چار اصل کلی سے نکل سکتا ہے :
اول زن غیر مدخولہ تفریق طلاق کی صلاحیت نہیں رکھتی یعنی غیر مدخولہ کو یوں کہے کہ اس پر دو۲ طلاقیں یا اس پر تین طلاق جب تو اس پر دو۲ یا تین طلاقیں ہوں گی اور اگر دو یا تین یو ں کہا کہ تجھ پر طلاق تجھ پر طلاق تو ایك ہی طلاق ہوکر نکاح سے نکل جائے گی باقی لغوجائیں گی۔
دوم مدخولہ جمعا وتفریقا ہر طرح تین طلاق رك کی صالحہ ہے زیادہ کی نہیں کہ تین۳سے آگے طلاق ہی نہیں تو جس مدخولہ کو کبھی ایك طلاق دے چکا تھا اب اسے دو۲ سے زائد نہیں دے سکتا اور جسے وہ دو۲ دے چکا اس پر ایك سے زیادہ نہیں ڈال سکتا اگر زیادہ دے گا باقی لغو ہوجائیں گی۔
سوم کلام جب تك مؤثر بن سکے گا لغو نہ ٹھہرائیں اگے اور ایسا دعوی جس میں کوئی حصہ کلام کا لغو جاتا ہوتسلیم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یا دونوں کو ایك ایك دے چکا تھا یادو۳دویا ایک۴سادہ دوسری کو ایك یا ایک۵سادہ دوسری کو دو یا ایک۶کو ایك دوسری کو دو۲ اورایك مدخولہ دوسری غیر مدخولہ میں تین ۳ صورتیں ہیں کہ وہ۱مدخولہ سادہ ہو یا ایک۲پاچکی ہو یا دو۳ تو یہ نوہوئیں اور دسویں ۱۰وہ کہ دونوں غیر مدخولہ ان دسوں پر محتمل ہے کہ ایك کی تخصیص کرے یا دونوں کو دینی کہے بیس۲۰ہوئیں 'ان بیسوں ۲۰پر احتمال ہے کہ لفظ دو۲ بار کہا یا تین ۳بار چالیس۴۰ ہوئیں الخ
عــــہ : اس لئے کہ ان دس۱۰ صورتوں میں چھ۶ صورتیں اختلاف حال زوجہ کی ہیں یعنی چوتھی سے جس میں ایك سادہ اور دوسری کو ایك ہوچکی ہے نویں ایك مدخولہ اور دوسری غیر مدخولہ ہے اور چار۴ صورتیں دسوں ۱۰ سے متعلق ہونے والی ہیں دو۲کی تخصیص دو کی تقسیم تین کی تخصیص تین کی تقسیم ان صورتوں سے ان چار شکلوں میں جن میں حال زوجتین متفق ہے کوئی اختلاف نہ پڑے گا جس کی چاہو تخصیص مان لو یا تین قسم کی تقسیم جس پر طلاق چارہودو اور دوسری پر ایك واقع مان لو حکم ایك ہی رہے گا جس کی چاہو تخصیص مان لو یا تین قسم کی تقسیم جس پر طلاق چاہو دو اور دوسری پر ایك واقع مان لو حکم ایك ہی رہے گا لہذا یہ چاروں ۴ چار۴ سے مل کر سولہ۱۶ ہی ہوئیں اور اسی طرح ان چھ۶ صوراختلاف حالین میں تقسیم دو سے کوئی فرق نہ آئے گا ہر ایك پر ایك پڑے گی اور بیشك وہ دونوں ایك حال کی ہوں ایك پڑنے کی ضرور صالحہ ہیں ورنہ اس کے نکاح ہی میں نہ ہوتیں یہ چھ۶ طلاق چھ۶ہی رہیں سولہ۱۶ اور چھ۶بائیس۲۲ مگر بحالت تخصیص دو۲ یا سہ۳ یہ چھ ۶مختلف الحکم ہوں گی کہ تخصیص ۲یا ۳اس عورت سے کی یا اس سے تقسیم تین ۳ میں دو۲ اس پر مانیں اور ایك اس پر بالعکس تو یہ چھ۶ یہاں آکر بارہ ۱۲ ہوئیں اور تین۳ صور تخصیص دو۲و سہ۲وتقسیم سہ۳ سے ضرب کھاکر چھتیس۳۶ بائیس۲۲ اٹھاون۵۸ واﷲتعالی اعلم ۱۲منہ
ان سب کا حکم چار اصل کلی سے نکل سکتا ہے :
اول زن غیر مدخولہ تفریق طلاق کی صلاحیت نہیں رکھتی یعنی غیر مدخولہ کو یوں کہے کہ اس پر دو۲ طلاقیں یا اس پر تین طلاق جب تو اس پر دو۲ یا تین طلاقیں ہوں گی اور اگر دو یا تین یو ں کہا کہ تجھ پر طلاق تجھ پر طلاق تو ایك ہی طلاق ہوکر نکاح سے نکل جائے گی باقی لغوجائیں گی۔
دوم مدخولہ جمعا وتفریقا ہر طرح تین طلاق رك کی صالحہ ہے زیادہ کی نہیں کہ تین۳سے آگے طلاق ہی نہیں تو جس مدخولہ کو کبھی ایك طلاق دے چکا تھا اب اسے دو۲ سے زائد نہیں دے سکتا اور جسے وہ دو۲ دے چکا اس پر ایك سے زیادہ نہیں ڈال سکتا اگر زیادہ دے گا باقی لغو ہوجائیں گی۔
سوم کلام جب تك مؤثر بن سکے گا لغو نہ ٹھہرائیں اگے اور ایسا دعوی جس میں کوئی حصہ کلام کا لغو جاتا ہوتسلیم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یا دونوں کو ایك ایك دے چکا تھا یادو۳دویا ایک۴سادہ دوسری کو ایك یا ایک۵سادہ دوسری کو دو یا ایک۶کو ایك دوسری کو دو۲ اورایك مدخولہ دوسری غیر مدخولہ میں تین ۳ صورتیں ہیں کہ وہ۱مدخولہ سادہ ہو یا ایک۲پاچکی ہو یا دو۳ تو یہ نوہوئیں اور دسویں ۱۰وہ کہ دونوں غیر مدخولہ ان دسوں پر محتمل ہے کہ ایك کی تخصیص کرے یا دونوں کو دینی کہے بیس۲۰ہوئیں 'ان بیسوں ۲۰پر احتمال ہے کہ لفظ دو۲ بار کہا یا تین ۳بار چالیس۴۰ ہوئیں الخ
عــــہ : اس لئے کہ ان دس۱۰ صورتوں میں چھ۶ صورتیں اختلاف حال زوجہ کی ہیں یعنی چوتھی سے جس میں ایك سادہ اور دوسری کو ایك ہوچکی ہے نویں ایك مدخولہ اور دوسری غیر مدخولہ ہے اور چار۴ صورتیں دسوں ۱۰ سے متعلق ہونے والی ہیں دو۲کی تخصیص دو کی تقسیم تین کی تخصیص تین کی تقسیم ان صورتوں سے ان چار شکلوں میں جن میں حال زوجتین متفق ہے کوئی اختلاف نہ پڑے گا جس کی چاہو تخصیص مان لو یا تین قسم کی تقسیم جس پر طلاق چارہودو اور دوسری پر ایك واقع مان لو حکم ایك ہی رہے گا جس کی چاہو تخصیص مان لو یا تین قسم کی تقسیم جس پر طلاق چاہو دو اور دوسری پر ایك واقع مان لو حکم ایك ہی رہے گا لہذا یہ چاروں ۴ چار۴ سے مل کر سولہ۱۶ ہی ہوئیں اور اسی طرح ان چھ۶ صوراختلاف حالین میں تقسیم دو سے کوئی فرق نہ آئے گا ہر ایك پر ایك پڑے گی اور بیشك وہ دونوں ایك حال کی ہوں ایك پڑنے کی ضرور صالحہ ہیں ورنہ اس کے نکاح ہی میں نہ ہوتیں یہ چھ۶ طلاق چھ۶ہی رہیں سولہ۱۶ اور چھ۶بائیس۲۲ مگر بحالت تخصیص دو۲ یا سہ۳ یہ چھ ۶مختلف الحکم ہوں گی کہ تخصیص ۲یا ۳اس عورت سے کی یا اس سے تقسیم تین ۳ میں دو۲ اس پر مانیں اور ایك اس پر بالعکس تو یہ چھ۶ یہاں آکر بارہ ۱۲ ہوئیں اور تین۳ صور تخصیص دو۲و سہ۲وتقسیم سہ۳ سے ضرب کھاکر چھتیس۳۶ بائیس۲۲ اٹھاون۵۸ واﷲتعالی اعلم ۱۲منہ
نہ کریں گے۔
چہارم جس کے پاس دو۲زوجہ ہوں اور وہ بلاتعیین اپنی عورت کو طلاق دے تو اسے اختیار ہے کہ وہ طلاق ان میں سے جس کی طرف چاہے پھیرے تعیین مطلقہ میں اس کا بیان معتبر ہوگا جب تك اس کے قبول میں کلام کا لغو ہونا نہ لازم آتا ہو۔
یہ چاروں اصول جابجا کتب فقہ میں مصرح ہیں پس اگر چھمی بشیرن دونوں مدخولہ ہیں تو اب ان میں سے جس کی تخصیص کرے گا دویاتین جتنی طلاقیں دی ہیں سب اسی پر پڑیں گی دوسری پر کچھ نہیں بشرطیکہ وہ اتنی طلاقوں کی صلاحیت رکھتی ہو مثلا دوبار لفظ مذکور کہاتو اب جس کی تخصیص کرتا ہے اسے دو۲ طلاقیں کبھی نہ دی ہوں یا تین بار کہا تواصلانہ دیں ہوورنہ جس قدراس کی صلاحیت ہے اتنی اس پر باقی دوسری پر پڑیں گی جبکہ اس میں کل باقی کی صلاحیت ہوورنہ ایك طلاق بنا چاری لغو ٹھہرے گی مثلا دوبار کہا اور چھمی کی تخصیص کی اور اسے پہلے دو۲ بار دے چکا تو اس بار پر ایك ہی پڑکر وہ تین طلاقوں سے مطلقہ ہوجائے گی اور اگر تین اور اس سے پہلے ایك دے چکا تھا تو اب اس پر دو۲ ہی پڑکر تین ہوجائیں گی اور دونوں صورتوں میں باقی ایك بشیرن پر پڑے گی اور اگر چھمی کو دو دے چکا تھا تو اب تین بار کہا تو اس پر ایك پڑکر تین ہوگئیں اور باقی دو۲ بشیرن پر پڑیں گی جبکہ بشیرن پرپڑیں گی جبکہ بشیرن کو پہلے دو۲ نہ دے چکاہو ورنہ ان دو۲ باقیماندہ سے ایك ہی بشیرن پر پڑکر اس کی بھی تین ہوجائیں گی اور ایك مجبورا لغو ہوجائے گی اس کے لئے کوئی محل نہیں اوراگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو ہر ایك پر ایك ایك تو ضرور پڑے گی رہی تیسری اگر اس کی صلاحیت کسی میں نہیں تو لغوجائے گی اور خاص ایك میں ہے تو اسی پر ضرور پڑے گی اور دونوں میں ہیں تو وہ جسے بتائے گا اس پر ہوگی مثلا چھمی بشیرن دونوں پہلے دو۲ دو۲ طلاقیں پاچکی تھیں تو اب ہر ایك پر ایك ایك پڑکر تین تین ہوگئیں تیسری بیکار اوراگر مثلاچھمی کو دو۲ ہوچکی تھی اور بشیرن کو ایک تو یہ تین جو دونوں کو دیں ان میں کی دو۲ خاص بشیرن پرپڑیں گی اور چھمی پر ایک اگر چہ وہ اس کا عکس بتاتا ہوکہ میں نے چھمی پر دو۲ ڈالیں اور بشیرن پر ایک۔ اور اگر دونوں ایك ایك طلاق ہوچکی تھی یا ایك بھی نہ ہوئی تھی یا ایك کو ایک دوسری کو اصلا نہ ہوئی تھی تو دونوں ان تینوں میں سے دو۲ کی قابل ہیں جس پر دو۲بتائے گا اس پر ان کی دو۲ پڑیں گی اور جس پرایك اس پر ایک۔ اور اگر دونوں غیر مدخولہ ہیں تو ایك کی تخصیص اصلا قبول نہ ہوگی کہ باقی کو لغویت لازم آتی ہے بنلکہ ہر طرح دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور اگر تین بار کہا تھا تو تیسری عبث جائے گی۔ اور اگر مدخولہ وغیر مدخولہ ہیں اور تخصیص غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بنلکہ دو۲ کی صورت میں دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بلکہ دو۲ کی صورت میں دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ پر ایك اور باقی دو مدخولہ پر اگر اسے پہلے دو۲ نہ دے چکا ہو ورنہ اس پر بھی ایك ہی اور تیسری بیکار۔ اور اگرتخصیص مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول
چہارم جس کے پاس دو۲زوجہ ہوں اور وہ بلاتعیین اپنی عورت کو طلاق دے تو اسے اختیار ہے کہ وہ طلاق ان میں سے جس کی طرف چاہے پھیرے تعیین مطلقہ میں اس کا بیان معتبر ہوگا جب تك اس کے قبول میں کلام کا لغو ہونا نہ لازم آتا ہو۔
یہ چاروں اصول جابجا کتب فقہ میں مصرح ہیں پس اگر چھمی بشیرن دونوں مدخولہ ہیں تو اب ان میں سے جس کی تخصیص کرے گا دویاتین جتنی طلاقیں دی ہیں سب اسی پر پڑیں گی دوسری پر کچھ نہیں بشرطیکہ وہ اتنی طلاقوں کی صلاحیت رکھتی ہو مثلا دوبار لفظ مذکور کہاتو اب جس کی تخصیص کرتا ہے اسے دو۲ طلاقیں کبھی نہ دی ہوں یا تین بار کہا تواصلانہ دیں ہوورنہ جس قدراس کی صلاحیت ہے اتنی اس پر باقی دوسری پر پڑیں گی جبکہ اس میں کل باقی کی صلاحیت ہوورنہ ایك طلاق بنا چاری لغو ٹھہرے گی مثلا دوبار کہا اور چھمی کی تخصیص کی اور اسے پہلے دو۲ بار دے چکا تو اس بار پر ایك ہی پڑکر وہ تین طلاقوں سے مطلقہ ہوجائے گی اور اگر تین اور اس سے پہلے ایك دے چکا تھا تو اب اس پر دو۲ ہی پڑکر تین ہوجائیں گی اور دونوں صورتوں میں باقی ایك بشیرن پر پڑے گی اور اگر چھمی کو دو دے چکا تھا تو اب تین بار کہا تو اس پر ایك پڑکر تین ہوگئیں اور باقی دو۲ بشیرن پر پڑیں گی جبکہ بشیرن پرپڑیں گی جبکہ بشیرن کو پہلے دو۲ نہ دے چکاہو ورنہ ان دو۲ باقیماندہ سے ایك ہی بشیرن پر پڑکر اس کی بھی تین ہوجائیں گی اور ایك مجبورا لغو ہوجائے گی اس کے لئے کوئی محل نہیں اوراگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو ہر ایك پر ایك ایك تو ضرور پڑے گی رہی تیسری اگر اس کی صلاحیت کسی میں نہیں تو لغوجائے گی اور خاص ایك میں ہے تو اسی پر ضرور پڑے گی اور دونوں میں ہیں تو وہ جسے بتائے گا اس پر ہوگی مثلا چھمی بشیرن دونوں پہلے دو۲ دو۲ طلاقیں پاچکی تھیں تو اب ہر ایك پر ایك ایك پڑکر تین تین ہوگئیں تیسری بیکار اوراگر مثلاچھمی کو دو۲ ہوچکی تھی اور بشیرن کو ایک تو یہ تین جو دونوں کو دیں ان میں کی دو۲ خاص بشیرن پرپڑیں گی اور چھمی پر ایک اگر چہ وہ اس کا عکس بتاتا ہوکہ میں نے چھمی پر دو۲ ڈالیں اور بشیرن پر ایک۔ اور اگر دونوں ایك ایك طلاق ہوچکی تھی یا ایك بھی نہ ہوئی تھی یا ایك کو ایک دوسری کو اصلا نہ ہوئی تھی تو دونوں ان تینوں میں سے دو۲ کی قابل ہیں جس پر دو۲بتائے گا اس پر ان کی دو۲ پڑیں گی اور جس پرایك اس پر ایک۔ اور اگر دونوں غیر مدخولہ ہیں تو ایك کی تخصیص اصلا قبول نہ ہوگی کہ باقی کو لغویت لازم آتی ہے بنلکہ ہر طرح دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور اگر تین بار کہا تھا تو تیسری عبث جائے گی۔ اور اگر مدخولہ وغیر مدخولہ ہیں اور تخصیص غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بنلکہ دو۲ کی صورت میں دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بلکہ دو۲ کی صورت میں دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ پر ایك اور باقی دو مدخولہ پر اگر اسے پہلے دو۲ نہ دے چکا ہو ورنہ اس پر بھی ایك ہی اور تیسری بیکار۔ اور اگرتخصیص مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول
ہوگی جبکہ دو۲ کی صورت میں اسے پہلے دو۲ اور تین۳ کی صورت میں پہلے ایك یادو۲ نہ دے چکاہوورنہ ایك یا دو۲ مدخولہ پر پڑکر باقی ایك غیرمدخولہ پر پڑجائیں گی اور اگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو غیرمدخولہ پرایك ہی پڑے گی اگرچہ اس ر تین میں سے دو۲ بتاتا ہو باقی مدخولہ پر بشیرن تین کی صورت میں اسے پہلے دو۲ نہ دی ہوں ورنہ اس پر بھی ایك پڑیگی اور ایك عبث۔ غرض تقسیم طلاق وتخصیص غیرمدخولہ کے احکام یکساں ہوں گے۔ خانیہ میں ہے :
لوکان لہ امرأتان لم یدخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق بانتاوان قال اردت واحدۃ منھما لایصدق وکذالو قال امرأتی طالق وامرأتی طالق وکذا العتق ولوکان دخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق کان لہ ان یوقع الطاقین علی احدھما ۔
ایك شخص کی دو۲ بیویاں ہیں دونوں سے دخول ابھی نہیں کیا تو اس کی تصدیق نہ کی جائیگی اور یونہی اگراس نے کہا میری بیوی کو طلاق اور میری بیوی کو طلاق یعنی عطف کے ساتھ دونوں جملے کہے تو بھی یہی حکم ہے۔ یونہی اپنے دو۲ غلاموں کے بارے میں عتق کے لئے ایسے کہا تو دونوں آزاد ہوجائیں گے اور اگر دونوں بیویوں کو دخول کرچکا ہوتوان کو “ میری بیوی کو طلاق میری بیوی کو طلاق “ کہا تو خاوند کو اس صورت میں یہ اختیار ہوگا وہ دونوں طلاقوں کو ایك بیوی کے لئے قراردے۔ (ت)
جو ہمارے اس بیان کو سمجھ لے وہ اس مسئلہ کے تمام باقی صدہا صور کے بھی احکام نکال سکتا ہے مثلا دو۲ زوجہ کی حالت میں یہ لفظ چار۴ یا پانچ۵ یا چھ۶ بارکہا تین کی حالت میں دو۲ سے نو تك یا چار۴ کی صورت میں دو۲ سے بارہ۱۲ تك کہ اس سے زائد جو کچھ ہے وہ مطلقا فضو ل ہوگا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ ت)۔ رہا ایك ہی بار کہنا اس کا حکم سب صورمیں یہی ہے کہ جس پرچا ہے ڈال سکتا ہے کہ کم سے کم ایك کی صلاحیت تو ہر زوجہ میں ضرور ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۰ : ازبھیکم پور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ حرہ کو یہ ہدایت کی فلاں رشتہ دار میرا تیرا دشمن ہے لہذا تو اس سے مراسم اتحاد ترك کر زوجہ نے نہ مانا زید نے بموجودگی چند اشخاص زوجہ کو طلاق دی اور عدت منقضی ہوچکی ہے اب زید رجوع کیا چاہتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایك یا دو۲ بار اس موقع پر جہاں
لوکان لہ امرأتان لم یدخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق بانتاوان قال اردت واحدۃ منھما لایصدق وکذالو قال امرأتی طالق وامرأتی طالق وکذا العتق ولوکان دخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق کان لہ ان یوقع الطاقین علی احدھما ۔
ایك شخص کی دو۲ بیویاں ہیں دونوں سے دخول ابھی نہیں کیا تو اس کی تصدیق نہ کی جائیگی اور یونہی اگراس نے کہا میری بیوی کو طلاق اور میری بیوی کو طلاق یعنی عطف کے ساتھ دونوں جملے کہے تو بھی یہی حکم ہے۔ یونہی اپنے دو۲ غلاموں کے بارے میں عتق کے لئے ایسے کہا تو دونوں آزاد ہوجائیں گے اور اگر دونوں بیویوں کو دخول کرچکا ہوتوان کو “ میری بیوی کو طلاق میری بیوی کو طلاق “ کہا تو خاوند کو اس صورت میں یہ اختیار ہوگا وہ دونوں طلاقوں کو ایك بیوی کے لئے قراردے۔ (ت)
جو ہمارے اس بیان کو سمجھ لے وہ اس مسئلہ کے تمام باقی صدہا صور کے بھی احکام نکال سکتا ہے مثلا دو۲ زوجہ کی حالت میں یہ لفظ چار۴ یا پانچ۵ یا چھ۶ بارکہا تین کی حالت میں دو۲ سے نو تك یا چار۴ کی صورت میں دو۲ سے بارہ۱۲ تك کہ اس سے زائد جو کچھ ہے وہ مطلقا فضو ل ہوگا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ ت)۔ رہا ایك ہی بار کہنا اس کا حکم سب صورمیں یہی ہے کہ جس پرچا ہے ڈال سکتا ہے کہ کم سے کم ایك کی صلاحیت تو ہر زوجہ میں ضرور ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۰ : ازبھیکم پور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ حرہ کو یہ ہدایت کی فلاں رشتہ دار میرا تیرا دشمن ہے لہذا تو اس سے مراسم اتحاد ترك کر زوجہ نے نہ مانا زید نے بموجودگی چند اشخاص زوجہ کو طلاق دی اور عدت منقضی ہوچکی ہے اب زید رجوع کیا چاہتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایك یا دو۲ بار اس موقع پر جہاں
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشورلکنھؤ ۱ / ۲۰۷
طلاق واقع ہوئی تھی طلاق دی تھی تین مرتبہ نہیں کہا تھا اشخاص موجود دین موقعوزوجہ مطلقہ بیان زد کی تصدیق کرتے ہیں مگر عمروہندہ وصفیہ کا بیان ہے کہ جب ہم سے ملا تھا اور ہم نے اس سے کیفیت واقعہ طلاق کو اپنے مکان پردریافت کیا تو زید نے ہمارے سامنے تین مرتبہ یہ کلمہ کہا کہ(میں طلاقی دیتا ہوں )زید بیان عمرو وغیرہ کے تصدیق نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے عمرو وغیرہ میرے مخالف ہیں اور براہ مخالفت جو مجھ سے رکھتے ہیں یہ کہتے ہیں تاکہ میری عورت مغلظہ ہوجائے اور میں عورت سے رجوع نہ ہونے پاؤں ورنہ ظاہ رہے کہ موقع طلاق پر علیحدہ تین مرتبہ کہنے کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ عمرو وغیرہ نے مجھ سے کیفیت دریافت کی میں نے صورت واقعہ ظاہر کی اس صورت میں زید بتجدید نکاح پانی زوجہ سے رجوع کرسکتا ہے یانہیں اور تحلیل کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر موقع وقوع طلاق سے علیحدہ ہوکر دوسرے مقامپر عمرو وغیرہ کے سامنے تین مرتبہ جملہ مذکور کہنا تسلیم کیا جائے تو وہ جملہ متصور ہوگا یا واقع کرن والا طلاق مغلظہ کا مترصدکہ بحوالہ کتاب وحدیث سے ہدایت فرمائی جائے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت واقعہ اگر یونہی ہے تو طلاق مغلظہ ہرگز ثابت نہیں زید حرہ سے بے حاجت تحلیل نکاح کرسکتا ہے عمرو وہندہ وصفیہ میں اگر ایك ہی شخص ثقہ عادل شرعی نہیں اگر چہ باقی دوبروجہ کمال عدالۃ شرعیہ رکھتے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ نصاب شہادت کامل نہیں اور آج کل عدالۃ شرعیہ مردوں میں کم ہے نہ کہ زنان ناقصات العقل والدین کہ ان میں ثقہ شرعیہ ہندوستان میں شاید گنتی کی ہوں کما بیناہ فی کتاب الشہادۃ من فتاونا(جیساکہ ہم نے اسے اپنے فتاوی کی کتاب الشہادت میں بیان کیا ہے۔ ت)اسی طرح اگر ان میں کوئی شخص زید سے عدالت ظاہرہ دنیویہ اس حد پر رکھتا ہے جس کے باعث باوصف عدالت اس کے حق میں متہم ہوجب بھی حسب فتوی ائمہ متاخرین اس کی گواہی زید کے ضرر پر مقبول نہیں ۔ درمختار میں ہے :
تقبل من عدوبسبب الدین لانھا من التدین بخلاف الدنیویۃ فانہ لایا من من التقول علیہ۔
دینی دشمن کی شہادت قبول کی جائے گی کیونکہ شہادت دینداری ہے بخلاف دنیوی دشمن کے کہ وہ جھوٹ بولنے سے پرہیز نہیں کرتا۔ (ت)
اسی طرح اگر زیدنے مکان عمرو پر وہ جملہ اس وقت کہا ہو کہ حرہ کی عدت گزر ہو
الجواب :
صورت واقعہ اگر یونہی ہے تو طلاق مغلظہ ہرگز ثابت نہیں زید حرہ سے بے حاجت تحلیل نکاح کرسکتا ہے عمرو وہندہ وصفیہ میں اگر ایك ہی شخص ثقہ عادل شرعی نہیں اگر چہ باقی دوبروجہ کمال عدالۃ شرعیہ رکھتے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ نصاب شہادت کامل نہیں اور آج کل عدالۃ شرعیہ مردوں میں کم ہے نہ کہ زنان ناقصات العقل والدین کہ ان میں ثقہ شرعیہ ہندوستان میں شاید گنتی کی ہوں کما بیناہ فی کتاب الشہادۃ من فتاونا(جیساکہ ہم نے اسے اپنے فتاوی کی کتاب الشہادت میں بیان کیا ہے۔ ت)اسی طرح اگر ان میں کوئی شخص زید سے عدالت ظاہرہ دنیویہ اس حد پر رکھتا ہے جس کے باعث باوصف عدالت اس کے حق میں متہم ہوجب بھی حسب فتوی ائمہ متاخرین اس کی گواہی زید کے ضرر پر مقبول نہیں ۔ درمختار میں ہے :
تقبل من عدوبسبب الدین لانھا من التدین بخلاف الدنیویۃ فانہ لایا من من التقول علیہ۔
دینی دشمن کی شہادت قبول کی جائے گی کیونکہ شہادت دینداری ہے بخلاف دنیوی دشمن کے کہ وہ جھوٹ بولنے سے پرہیز نہیں کرتا۔ (ت)
اسی طرح اگر زیدنے مکان عمرو پر وہ جملہ اس وقت کہا ہو کہ حرہ کی عدت گزر ہو
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۳
فان انقضاء العدۃ یجعلھا اجنبیۃ خارجۃ عن محلیۃ الطلاق۔
کیونکہ عدت کا گزرنا جانا بیوی اجنبی بنادیتا ہے اور اسکو طلاق کے محل سے خارج کردیتا ہے(ت)
اور اگر ان سب سے قطع نظر کیجئے بلکہ مان ہی لیجئے کہ زید نے جملہ مذکورہ ضرور کہا اور ایام عدت کے اندر ہی کہا اور اس قدر شك نہیں کہ یہ جملہ زمان حال بتاتا ہے نہ زمان ماضی تو حکایت طلاق سابق نہ ہوگابلکہ جبکہ لفظ اسی قدر ہیں کہ “ میں طلاق دیتا ہوں “ اور اس میں کچھ نام وذکر نہیں کہ کسے دیتا ہوں نہ بیان کوئی قرینہ دالہ ارادہ تطلیق حرہ کا قصد کیا تھا۔ خلاصہ وہندیہ میں ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا۔
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے بیوی کا پیچھا کیا اور ناکام رہا تو اس نے کہا : تین طلاق سے اگر اس پر خاوند نے کہا میں نے بیوی مراد لی ہے تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اور اگر کچھ بھی وضاحت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی(ت)
بزازیہ وانقرویہ میں ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا ۔
عورت بھاگی تو شوہر پکڑنے میں کامیا نہ ہوا تو کہا تین طلاق اگر وصاحت کی اور کہا بیوی کو دی ہے تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لو قال طالق فقیل من عنیت فقال امرأتی طلاقت امرأترہ اھ فقد علق الوقوع علی اقرارہ انہ عنی امرأتہ۔
اگر کہا طلاق والی تو پوچھا گیا کس کو طلاق کہا ہے تو خاوند نے کہا اپنی بیوی کو تو اس کی بیوی طلاق ہوجائے گی۔ تو انہوں نے وقوع طلاق کو خاوند کے اس اقرارپر معلق رکھا کہ اس سے اس نے اپنی بیوی مراد لی ہے۔ (ت)
اور اگر بالفرض وجود قرینہ بھی تسلیم کرلیں تاہم جب کلام میں عورت کی طرف اصلا اضافت نہیں تو زید کا
کیونکہ عدت کا گزرنا جانا بیوی اجنبی بنادیتا ہے اور اسکو طلاق کے محل سے خارج کردیتا ہے(ت)
اور اگر ان سب سے قطع نظر کیجئے بلکہ مان ہی لیجئے کہ زید نے جملہ مذکورہ ضرور کہا اور ایام عدت کے اندر ہی کہا اور اس قدر شك نہیں کہ یہ جملہ زمان حال بتاتا ہے نہ زمان ماضی تو حکایت طلاق سابق نہ ہوگابلکہ جبکہ لفظ اسی قدر ہیں کہ “ میں طلاق دیتا ہوں “ اور اس میں کچھ نام وذکر نہیں کہ کسے دیتا ہوں نہ بیان کوئی قرینہ دالہ ارادہ تطلیق حرہ کا قصد کیا تھا۔ خلاصہ وہندیہ میں ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا۔
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے بیوی کا پیچھا کیا اور ناکام رہا تو اس نے کہا : تین طلاق سے اگر اس پر خاوند نے کہا میں نے بیوی مراد لی ہے تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اور اگر کچھ بھی وضاحت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی(ت)
بزازیہ وانقرویہ میں ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا ۔
عورت بھاگی تو شوہر پکڑنے میں کامیا نہ ہوا تو کہا تین طلاق اگر وصاحت کی اور کہا بیوی کو دی ہے تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لو قال طالق فقیل من عنیت فقال امرأتی طلاقت امرأترہ اھ فقد علق الوقوع علی اقرارہ انہ عنی امرأتہ۔
اگر کہا طلاق والی تو پوچھا گیا کس کو طلاق کہا ہے تو خاوند نے کہا اپنی بیوی کو تو اس کی بیوی طلاق ہوجائے گی۔ تو انہوں نے وقوع طلاق کو خاوند کے اس اقرارپر معلق رکھا کہ اس سے اس نے اپنی بیوی مراد لی ہے۔ (ت)
اور اگر بالفرض وجود قرینہ بھی تسلیم کرلیں تاہم جب کلام میں عورت کی طرف اصلا اضافت نہیں تو زید کا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوٰی انقرویہ الفصل مایقع بہ الطلاق ومالایقع بہ دارالاشاعت قندھار افغانستان ۱ / ۷۴
بحرالرائق باب الطلاق الصریح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
فتاوٰی انقرویہ الفصل مایقع بہ الطلاق ومالایقع بہ دارالاشاعت قندھار افغانستان ۱ / ۷۴
بحرالرائق باب الطلاق الصریح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۳
قول کہ میں نے طلاق حرہ کی نیت نہ کی قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق مغلظ کا حکم نہ ہوگا۔ محیط وخانیہ وہندیہ میں ہے :
سئل شیخ الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدون ان اطلقك قالت تعم فقال
اگرزن منی یك طلاق دوطلاق سہ طلاق
قومی اخرجی من عندی وھو یرعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیا گیا کہ ایك نشے والے نے اپنی بیوی سے کہا کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں تو بیوی نے کہا ہاں ۔ اس پر خاوند نے کہا تو میری بیوی ہے ایك طلاق دو طلاق تین طلاق اٹھ میرے پاس سے دور ہوجا۔ اس کے بعد خاوند نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو اس کی بات مان لی جائیگی(ت)
نیز عالمگیری میں ہے :
فی الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا ۔
فتاوی میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہ اگر تو میری بیوی ہے تین طلاق اضافت کی یاء کو حذف کرکے کہا' تو اگر وضاحت کرتے ہوئے خاوند نے کہ میں نے بیوی کی طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یائے اضافت کو حذف کرنے پر بیوی کی طرف نسبت نہ ہوئی۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لوقال ان خرجت یقع الطلاق اولا تخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لم یقع لترکہ الاضافۃ الیھا ۔
اگر خاوند نے کہا !گو تو نکے گی تو طلاق واقع ہوگی یا یوں کہا میری اجازت کے بغیر باہر نہ جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھارکھی ہے بیوی نکل گئی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے قسم میں بیوی کی طلاق کو ذکر نہیں کیا۔ (ت)
بزازیہ وخانیہ میں ہے :
لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا
مذکور ہ صورت میں طلاق اس لئے نہ ہوگی کہ اس نے
سئل شیخ الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدون ان اطلقك قالت تعم فقال
اگرزن منی یك طلاق دوطلاق سہ طلاق
قومی اخرجی من عندی وھو یرعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیا گیا کہ ایك نشے والے نے اپنی بیوی سے کہا کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں تو بیوی نے کہا ہاں ۔ اس پر خاوند نے کہا تو میری بیوی ہے ایك طلاق دو طلاق تین طلاق اٹھ میرے پاس سے دور ہوجا۔ اس کے بعد خاوند نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو اس کی بات مان لی جائیگی(ت)
نیز عالمگیری میں ہے :
فی الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا ۔
فتاوی میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہ اگر تو میری بیوی ہے تین طلاق اضافت کی یاء کو حذف کرکے کہا' تو اگر وضاحت کرتے ہوئے خاوند نے کہ میں نے بیوی کی طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یائے اضافت کو حذف کرنے پر بیوی کی طرف نسبت نہ ہوئی۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لوقال ان خرجت یقع الطلاق اولا تخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لم یقع لترکہ الاضافۃ الیھا ۔
اگر خاوند نے کہا !گو تو نکے گی تو طلاق واقع ہوگی یا یوں کہا میری اجازت کے بغیر باہر نہ جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھارکھی ہے بیوی نکل گئی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے قسم میں بیوی کی طلاق کو ذکر نہیں کیا۔ (ت)
بزازیہ وخانیہ میں ہے :
لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا
مذکور ہ صورت میں طلاق اس لئے نہ ہوگی کہ اس نے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ لافاسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ لافاسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ لافاسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول قولہ ۔
قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں کیا تو احتمال ہوسکتا ہے کہ غیر عورت کی طلاق کی قسم ہو لہذاخاوند کی وضاحت قابل قبول ہوگی۔ (ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں اگر عمرووہندہ وصفیہ کا بیان صحیح بھی ماناجائے تاہم کسی طرح تین طلاقیں ہونا ثابت نہیں البتہ اگر واقع میں زید نے ایام عدت کے اندر انشائے طلاق حرہ کی نیت سے دوبار بھی جملہ مذکورہ کہا یا اگر پہلے دوطلاقیں دی تھیں توایك ہی بار بہ نیت ایقاع طلاق کہا ہوتو عنداﷲحرہ پر طلاق مغلظ ہوگئی اگر زید غلط انکارکرے گا مفتی کا فتوی نفع نہ دے گا اﷲسے ڈرے اور جو امر واقع ہو اس پر عمل کرے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱ : از صدر بریلی ۱۵ محرم الحرام ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوج کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور بیوی کہتی ہے کہ دی اور دونوں قسم کھاتے ہیں اور زوجہ ایك کاغذپیش کرتی ہے کہ جس میں طلاق لکھی ہوئی ہے آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
مرد کی قسم معتبر ہے عورت کی قسم فضول جب گواہ نہیں مرد کو اقرار نہیں اس کاغذ کو وہ اپنا لکھا مانتا نہیں توطلاق ہرگز ثابت نہ ہوگی ہاں اگر واقع میں طلاق دے دی ہے اور جھوٹ انکار کرتا ہے تو اس کا وبال اور سخت عذاب اس پر ہے عورت خوب جانتی ہے کہ اس نے طلاق دے دی تھی تواگر وہ طلاق رجعی تھی توکچھ حرج نہیں اور اگر بائن تھی تو عورت کو اس سے کہناچاہئے کہ تونے طلاق نہیں دی سہی ازسر نو نکاح میں کیا حرج ہے اور مرد کو چاہئے کہ تجدید نکاح کرلے اور اگر عورت جانتی ہے کہ وہ تین طلاقیں دے چکا ہے تو جس طرح ممکن ہو اس سے بھاگے نجات حاصل کرے اپنا مہر وغیرہ چھوڑنے کے بدلے اس سے طلاق مل سکے تو یوں لے نہ ہوتو عذاب اس پر رہے گا جب تك یہ خود اس کے پاس جانے کی رغبت نہ کرے گی۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ : از شہر بریلی ذخیرہ مرسلہ کرامت حسین
ماقولکم ایھاالعلماء رحمکم اﷲتعالی
(اے علماء کرام اﷲتعالی آپ پر رحم فرمائے
قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں کیا تو احتمال ہوسکتا ہے کہ غیر عورت کی طلاق کی قسم ہو لہذاخاوند کی وضاحت قابل قبول ہوگی۔ (ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں اگر عمرووہندہ وصفیہ کا بیان صحیح بھی ماناجائے تاہم کسی طرح تین طلاقیں ہونا ثابت نہیں البتہ اگر واقع میں زید نے ایام عدت کے اندر انشائے طلاق حرہ کی نیت سے دوبار بھی جملہ مذکورہ کہا یا اگر پہلے دوطلاقیں دی تھیں توایك ہی بار بہ نیت ایقاع طلاق کہا ہوتو عنداﷲحرہ پر طلاق مغلظ ہوگئی اگر زید غلط انکارکرے گا مفتی کا فتوی نفع نہ دے گا اﷲسے ڈرے اور جو امر واقع ہو اس پر عمل کرے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱ : از صدر بریلی ۱۵ محرم الحرام ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوج کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور بیوی کہتی ہے کہ دی اور دونوں قسم کھاتے ہیں اور زوجہ ایك کاغذپیش کرتی ہے کہ جس میں طلاق لکھی ہوئی ہے آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
مرد کی قسم معتبر ہے عورت کی قسم فضول جب گواہ نہیں مرد کو اقرار نہیں اس کاغذ کو وہ اپنا لکھا مانتا نہیں توطلاق ہرگز ثابت نہ ہوگی ہاں اگر واقع میں طلاق دے دی ہے اور جھوٹ انکار کرتا ہے تو اس کا وبال اور سخت عذاب اس پر ہے عورت خوب جانتی ہے کہ اس نے طلاق دے دی تھی تواگر وہ طلاق رجعی تھی توکچھ حرج نہیں اور اگر بائن تھی تو عورت کو اس سے کہناچاہئے کہ تونے طلاق نہیں دی سہی ازسر نو نکاح میں کیا حرج ہے اور مرد کو چاہئے کہ تجدید نکاح کرلے اور اگر عورت جانتی ہے کہ وہ تین طلاقیں دے چکا ہے تو جس طرح ممکن ہو اس سے بھاگے نجات حاصل کرے اپنا مہر وغیرہ چھوڑنے کے بدلے اس سے طلاق مل سکے تو یوں لے نہ ہوتو عذاب اس پر رہے گا جب تك یہ خود اس کے پاس جانے کی رغبت نہ کرے گی۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ : از شہر بریلی ذخیرہ مرسلہ کرامت حسین
ماقولکم ایھاالعلماء رحمکم اﷲتعالی
(اے علماء کرام اﷲتعالی آپ پر رحم فرمائے
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۷۰
آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت)زید کہتا ہے کہ میں نے دو۲ طلاق اپنی زوجہ کودی ہیں اور زوجہ کہتی ہے کہ مجھے علم طلاق دینے کا نہیں ہے اور گواہ کہتے ہیں کہ زید نے اپنی زوجہ کوتین طلاق دی ہیں ۔ آیا قول زید کا معتبر ہوگا یاگواہوں کامع تصحیح نقل بیان فرمائیے فقط۔
الجواب :
اگر دو۲ مرد یا ایك مرد دو۲ عورتیں نماز پرہیز گار ثقہ عادل قابل قبول شرع گواہی شرعی دیں گے تو تین طلاقیں ثابت ہوجائیں گی زید کا انکار نہ سنا جائے گا اوراگر ایسے گواہ نہیں تو زید سے قسم لی جائے گی اگر اس نے قسم کھانے سے انکار ردیا جب بھی تین طلاقیں ثابت ہوجائیں گے اور اگر قسم کھالے گاکہ میں نے صرف دو۲ ہی طلاقیں دی ہیں تیسری طلاق نہ دی تو دو ہی ثابت ہوں گی پر اگر جھوٹی قسم کھالی تو اس کا وبال زید پر ہوگا عورت الزام نہیں گواہ شرعی نہ ہوں تو قسم لینے کے لئے عورت کا گھر میں اس سے قسم لے لینا کافی ہوگا۔
والمسائل کلھا منصوص علیھا فی کتب المذہب کالدرالمختار وغیرہا۔ واﷲسبحنہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ تمام مسائل مذہب کی تمام کتب میں واضح مذکور ہیں جیسا کہ درمختار وغیرہا میں ۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۲۱۳ : محمد ارشاد علی صاحب معلم درجہ اول عربی مدرسہ عالیہ ریاست رام پور
کیا فرما تے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے لوگوں کے روبرو صرف یہ کہا کہ فلاں و طلاق۔ زوجہ وغیرہ کس کا نام نہیں لیا پھر کہا “ عزیزالرحمن کے باپ کی بیٹی فلاں کو طلاق “ بلا ذکر نام زوجہ کے اوراس کے اور اس شخص کے علاوہ مطلق کی بی بی کے اور بھی کئی بیٹیاں ہیں بعد کو جب ایك شخص نے کہا یہ فلاں فلاں کیا کہتا ہے تب کہا “ آمنہ خاتون کو طلاق “ اور اس کی بیوی کا نام آمنہ خاتون ہے غرض پہلے جو طلاق مطلق اور مبہم تھی اس کو اقرار ثالث میں بالکل متعین کرکے بیان کیا ہے تو اس صورت میں اسکی بی بی پر کتنی طلاقیں واقع ہوگئیں جواب مدلل کتب فقہ سے مرحمت ہو۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں وقد فسر المبھم فنصہ بعض السوال(اس نے مبہم کی تفسیر اپنے سوال کے ایك حصہ میں کردی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
الجواب :
اگر دو۲ مرد یا ایك مرد دو۲ عورتیں نماز پرہیز گار ثقہ عادل قابل قبول شرع گواہی شرعی دیں گے تو تین طلاقیں ثابت ہوجائیں گی زید کا انکار نہ سنا جائے گا اوراگر ایسے گواہ نہیں تو زید سے قسم لی جائے گی اگر اس نے قسم کھانے سے انکار ردیا جب بھی تین طلاقیں ثابت ہوجائیں گے اور اگر قسم کھالے گاکہ میں نے صرف دو۲ ہی طلاقیں دی ہیں تیسری طلاق نہ دی تو دو ہی ثابت ہوں گی پر اگر جھوٹی قسم کھالی تو اس کا وبال زید پر ہوگا عورت الزام نہیں گواہ شرعی نہ ہوں تو قسم لینے کے لئے عورت کا گھر میں اس سے قسم لے لینا کافی ہوگا۔
والمسائل کلھا منصوص علیھا فی کتب المذہب کالدرالمختار وغیرہا۔ واﷲسبحنہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ تمام مسائل مذہب کی تمام کتب میں واضح مذکور ہیں جیسا کہ درمختار وغیرہا میں ۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۲۱۳ : محمد ارشاد علی صاحب معلم درجہ اول عربی مدرسہ عالیہ ریاست رام پور
کیا فرما تے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے لوگوں کے روبرو صرف یہ کہا کہ فلاں و طلاق۔ زوجہ وغیرہ کس کا نام نہیں لیا پھر کہا “ عزیزالرحمن کے باپ کی بیٹی فلاں کو طلاق “ بلا ذکر نام زوجہ کے اوراس کے اور اس شخص کے علاوہ مطلق کی بی بی کے اور بھی کئی بیٹیاں ہیں بعد کو جب ایك شخص نے کہا یہ فلاں فلاں کیا کہتا ہے تب کہا “ آمنہ خاتون کو طلاق “ اور اس کی بیوی کا نام آمنہ خاتون ہے غرض پہلے جو طلاق مطلق اور مبہم تھی اس کو اقرار ثالث میں بالکل متعین کرکے بیان کیا ہے تو اس صورت میں اسکی بی بی پر کتنی طلاقیں واقع ہوگئیں جواب مدلل کتب فقہ سے مرحمت ہو۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں وقد فسر المبھم فنصہ بعض السوال(اس نے مبہم کی تفسیر اپنے سوال کے ایك حصہ میں کردی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : از شاہ جہان پور محمد خلیل مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہ جہان پوری ۱۳ذی القعدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر کسی دوسرے شہر میں ہے اور اس نے طلاق تحریر کرکے اور رجسٹری بھی حسب قانون انگریزی اس پر کراکے بذریعہ ڈاك کے پاس اولیائے ہندہ کے ارسال کی تو اب سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق حالانکہ اس کا غذ پر شہادر بھی گواہوں کی لکھی یہ شرعامعتبر ہے یا نہیں اوربحالت عدم اعتبار ہندہ کونکاح ثانی اپنا دوسرے شخص سے کرنا یا ولی ہندہ کو ہندہ کا نکاح کسی شخص ثانی سے کرادینا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
ایسی مرسوم معہودہ تحریر مطلقا معتبر وموجب وقوع طلاق ہے جبکہ بلااکراہ ہو نص علی ذلك فی الاشباہ والبحر والدر و الخانیۃ والھندیۃ وسائروالہندیۃ وسائرالاسفار الغر(اشباہ بحر در خانیہ ہندیہ اور باقی مشہور کتب میں اس کو واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ ت)تو واقع میں اگر یہ تحریر شوہر بندہ نے برضائے خودلکھی دیانۃضرور طلاق واقع ہوگئی۔ رہا یہ کہ زن واولیائے زن اس پرکہا تك کاربند ہوسکتے ہیں اسکی تین صورتیں ہیں :
اگر شوہر اس تحریر کا اقرار کرتا ہے تو ثبوت طلاق ظاہر اور اگر منکر ہے تو ہرگز معتبر نہیں جب تك حجت شرعیہ قائم نہ ہو۔
فان الخط یشبہ الخط فلایعتبر والقاضی انما یقضی بالحجۃ لابمجرد الخط وقد حققناہ فی کتاب الصوم من فتاونا واکثر نا فیہ من النقول عن الائمۃ الفحول۔
خط خط کے مشابہ ہوتاہ لہذا معتبر نہ ہوگا اور قاضی دلیل کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے صرف خط کی بناء پر فیصلہ نہیں کرے گا اس کی تحقیق ہم اپنے فتاوی کی کتاب الصوم میں کرچکے ہیں اور وہاں ہم نے جلیل القدر ائمہ کرام کے اقوال خوب نقل کئے ہیں (ت)
اور اگراقرار انکار کچھ معلوم نہیں مثلا ہنوز اس شہر سے واپس نہ آیا اس صورت میں اکبر رائے وغلبہ ظن ان کےلئے حجت کاربندی ہے اگر اس خط کی صحت میں شبہہ ہوتو ہندہ کو ہر گز حلال نہیں کہ اپنے آپ کو مطلقہ عمل کرسکتے ہیں شرعا کافی لرخصۃ العمل ومغنی حاجت الاثبات میں فرق زمین وآسمان کا ہے ولہذا اگر شوہر انکار واعتراض سے پیش آئے ان کی اکبر رائے کام نہ دے گی اور پھر ثبوت بہ حجت شرعیہ کی حاجت پڑے گی خانیہ میں ہے :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر کسی دوسرے شہر میں ہے اور اس نے طلاق تحریر کرکے اور رجسٹری بھی حسب قانون انگریزی اس پر کراکے بذریعہ ڈاك کے پاس اولیائے ہندہ کے ارسال کی تو اب سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق حالانکہ اس کا غذ پر شہادر بھی گواہوں کی لکھی یہ شرعامعتبر ہے یا نہیں اوربحالت عدم اعتبار ہندہ کونکاح ثانی اپنا دوسرے شخص سے کرنا یا ولی ہندہ کو ہندہ کا نکاح کسی شخص ثانی سے کرادینا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
ایسی مرسوم معہودہ تحریر مطلقا معتبر وموجب وقوع طلاق ہے جبکہ بلااکراہ ہو نص علی ذلك فی الاشباہ والبحر والدر و الخانیۃ والھندیۃ وسائروالہندیۃ وسائرالاسفار الغر(اشباہ بحر در خانیہ ہندیہ اور باقی مشہور کتب میں اس کو واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ ت)تو واقع میں اگر یہ تحریر شوہر بندہ نے برضائے خودلکھی دیانۃضرور طلاق واقع ہوگئی۔ رہا یہ کہ زن واولیائے زن اس پرکہا تك کاربند ہوسکتے ہیں اسکی تین صورتیں ہیں :
اگر شوہر اس تحریر کا اقرار کرتا ہے تو ثبوت طلاق ظاہر اور اگر منکر ہے تو ہرگز معتبر نہیں جب تك حجت شرعیہ قائم نہ ہو۔
فان الخط یشبہ الخط فلایعتبر والقاضی انما یقضی بالحجۃ لابمجرد الخط وقد حققناہ فی کتاب الصوم من فتاونا واکثر نا فیہ من النقول عن الائمۃ الفحول۔
خط خط کے مشابہ ہوتاہ لہذا معتبر نہ ہوگا اور قاضی دلیل کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے صرف خط کی بناء پر فیصلہ نہیں کرے گا اس کی تحقیق ہم اپنے فتاوی کی کتاب الصوم میں کرچکے ہیں اور وہاں ہم نے جلیل القدر ائمہ کرام کے اقوال خوب نقل کئے ہیں (ت)
اور اگراقرار انکار کچھ معلوم نہیں مثلا ہنوز اس شہر سے واپس نہ آیا اس صورت میں اکبر رائے وغلبہ ظن ان کےلئے حجت کاربندی ہے اگر اس خط کی صحت میں شبہہ ہوتو ہندہ کو ہر گز حلال نہیں کہ اپنے آپ کو مطلقہ عمل کرسکتے ہیں شرعا کافی لرخصۃ العمل ومغنی حاجت الاثبات میں فرق زمین وآسمان کا ہے ولہذا اگر شوہر انکار واعتراض سے پیش آئے ان کی اکبر رائے کام نہ دے گی اور پھر ثبوت بہ حجت شرعیہ کی حاجت پڑے گی خانیہ میں ہے :
لوان امرأۃ غاب عنھازوجھا فاخبرھا مسلم ثقہ ان زوجہا طلاقھا ثلثا اومات عنھا اوکان غیرثقۃ فاتاھابکتاب من زوجھا بالطلاق وھی لاتدری ان الکتاب کتاب زوجہا ام لا'ان اکبر رأیھا انہ حق لا باس بان تعتدو تتزوج ۔
اگر کسی عورت کاخاوند غائب ہوچکا ہے تو ایك ثقہ مسلمان نے آکر کہاکہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں یا کہا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہے یا کوئی غیر ثقہ مسلمان آکر اس عورت کے خاوند کا طلاق نامہ دکھادے عورت کو معلوم نہیں کہ یہ اس کے خاوند کا خط ہے یا نہیں لیکن عورت کا غالب گمان یہ ہے کہ حق ودرست ہے تو عورت کو عدت گزار کر نکاح کرلینا میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
ہندیہ میں ہے :
ذکر فی کتاب قضیۃ انکتب الخلیفۃ الی قضاتہ'اذاکان الکتاب فی الحکم بشہادۃ شاہدین شہد عندہ بمنزلۃ کتاب القاضی الی القاضی لایقبل الابالشرائط التی ذکرناھا واماکتابہ انہ ولی فلانا اوعزل فلانا فیقبل عنہ بدون تلك الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ اذوقع قلبہ انہ حق ویمضی علیہ وھو نظیر کتاب ساء الرعایابشیئ من لامعاملات فانہ یقبل بدون تلك الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ وقع فی قلبہ انہ حق کذاھنا اھ۔ واﷲتعالی اعلم۔
انہوں نے کتاب الاقضیہ میں ذکر کیا کہ ااگر خلیفہ نے قاضیوں کے جام کوئی حکم نامہ بذریعہ خط جاری کیا ہو اور دو۲ گواہوں کی موجودگی میں خلیفہ نے فیصلہ اور حکم دیا تو خلیفہ کا یہ حکم نامہ کتاب القاضی الی القاضی کی طرح ہوگا لہذا خلیفہ کاوہ خط ان شرائط کے بغیر قابل قبول نہ ہوگا جن کو ہم نے کتاب القاضی میں ذکر کیا ہے لیکن اگرخلیفہ کا وہ خط کسی کی تقرری یا معزولی کے بارے میں ہوتو ان مذکورہ شرائط کے بغیر بھی قبول کرلیا جائے گا اور مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا بشرطیکہ مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا کو دلی اطمینان ہوکہ یہ درست ہے لہذا وہ عمل پیرا ہوگا اور یہ خط عام رعایا کی آپس کے معاملات میں خط وکتابت کی طرح ہوگا کہ مکتوب الیہ کو دلی اطمینان پر عمل جائز ہے یہ بھی ایسے ہی ہوگا اھ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
اگر کسی عورت کاخاوند غائب ہوچکا ہے تو ایك ثقہ مسلمان نے آکر کہاکہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں یا کہا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہے یا کوئی غیر ثقہ مسلمان آکر اس عورت کے خاوند کا طلاق نامہ دکھادے عورت کو معلوم نہیں کہ یہ اس کے خاوند کا خط ہے یا نہیں لیکن عورت کا غالب گمان یہ ہے کہ حق ودرست ہے تو عورت کو عدت گزار کر نکاح کرلینا میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
ہندیہ میں ہے :
ذکر فی کتاب قضیۃ انکتب الخلیفۃ الی قضاتہ'اذاکان الکتاب فی الحکم بشہادۃ شاہدین شہد عندہ بمنزلۃ کتاب القاضی الی القاضی لایقبل الابالشرائط التی ذکرناھا واماکتابہ انہ ولی فلانا اوعزل فلانا فیقبل عنہ بدون تلك الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ اذوقع قلبہ انہ حق ویمضی علیہ وھو نظیر کتاب ساء الرعایابشیئ من لامعاملات فانہ یقبل بدون تلك الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ وقع فی قلبہ انہ حق کذاھنا اھ۔ واﷲتعالی اعلم۔
انہوں نے کتاب الاقضیہ میں ذکر کیا کہ ااگر خلیفہ نے قاضیوں کے جام کوئی حکم نامہ بذریعہ خط جاری کیا ہو اور دو۲ گواہوں کی موجودگی میں خلیفہ نے فیصلہ اور حکم دیا تو خلیفہ کا یہ حکم نامہ کتاب القاضی الی القاضی کی طرح ہوگا لہذا خلیفہ کاوہ خط ان شرائط کے بغیر قابل قبول نہ ہوگا جن کو ہم نے کتاب القاضی میں ذکر کیا ہے لیکن اگرخلیفہ کا وہ خط کسی کی تقرری یا معزولی کے بارے میں ہوتو ان مذکورہ شرائط کے بغیر بھی قبول کرلیا جائے گا اور مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا بشرطیکہ مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا کو دلی اطمینان ہوکہ یہ درست ہے لہذا وہ عمل پیرا ہوگا اور یہ خط عام رعایا کی آپس کے معاملات میں خط وکتابت کی طرح ہوگا کہ مکتوب الیہ کو دلی اطمینان پر عمل جائز ہے یہ بھی ایسے ہی ہوگا اھ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الخطر والاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۷۹۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب القضاء الباب الثالث والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۹۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب القضاء الباب الثالث والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۹۶
مسئلہ ۲۱۵ : از بڑوودہ ملك گجرات موتی باغ ببریا مرسلہ سید غلام سرور صاحب ۲۴ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
شرع محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عالم اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ایك شخص نے اجمیر شریف سے جاکر اپنی عورت کو بڑودہ میں بذریعہ کط ایك طلاق بنام جماعت لکھ کر روانہ کیا میری عورت کو کہہ دینا میں نے ایك طلاق اپنی عورت کو دی جماعت نے عورت کو خط سنادیا دو۲ مہینے کے بعد بڑودہ میں آیا عورت نکاح میں رہی یانکل گئی سوال کے جواب عطا فرمائےے ثواب آپ کو خداوند تعالی عطا فرمائے گا۔
الجواب :
اگر واقع میں اس شخص نے یہ خط آپ کو لکھا یا دوسرے کو عبارۃ مذکورہ بتاکر لکھوایا کہ میری عورت کی نسبت یہ الفاظ لکھ دے تو جس وقت اس کے قلم یازبان سے یہ لفظ نکلے اسی وقت سے عورت ایك طلاق پڑگئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار ہوگا اگرچہ یہ خط بڑودہ نہ پہنچتا یا وہ خود ہی لکھ کر نہ بھیجتا یا مکتوب الہیم عورت کو نہ سناتے کہ جو الفاظ طلاق لکھے یا بتائے جب ان میں کوئی شرط نہیں کہ یہ خط جب پہنچے یا سنایاجائے اس وقت طلاق ہوتو ان کا لکھنا یا بتانا ہی طلاق کا موجب ہوگیا بھیجنے پہنچنے سنانے پر توقف نہ رہامگر ازانجا کہ طلاق رجعی ہے عورت نکاح سے نہ نکلے گی جب تك عدت نہ گزرجائے۔ ایام عدت میں بے تجدید نکاح عورت سے رجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے کہہ دے میں نے اسے اپنے نکاح میں پھر لیا بدستور اس کی زوجیت میں باقی رہےگی جس میں عورت کی رضامندی بھی ضرور نہیں اوراگر عدت گزرگئی تو برضائے عورت اس سے ازسرنو نکاح کرسکتا ہے کچھ حلالہ کی حاجت نہیں جبکہ اس سے پہلے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ اور اگر واقع میں یہ اس شخص کا کام نہیں بلکہ کسی اور نے بطور خود اس کے نام سے لکھ بھیجاہے تو طلاق نہ واقع ہوئی کہ دوسرے کے نزدیك طلاق اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ اسے اس خط کا اقرار ہویاانکار کرے تو گواہان عادل شرعی گواہی دیں کہ اس نے ہمارے سامنے یہ کاروائی کی بغیر اس کے صرف اتنی بات کہ خط اس کے ہاتھ کا لکھا معلوم ہوتا ہے بکار آمد نہیں ہاں اگرواقع میں یہ کاروائی اسکی تھی اور منکر ہوگیا اور گواہ نہیں تو اس کاوبال اسی پر ہے عورت پر گناہ نہیں ۔ ۱مبسوط امام محمد و۲خلاصہ و۳بزازیہ و۴اشباہ و۵شافی و۶ کفایہ و۷ردالمحتار میں ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرا معنوناوثبت ذلك باقرارہ او بالبینۃ
اگر طلاق نامہ تحریر کیا ہوتو باقاعدہ سرنامہ کے ساتھ بھیجنے کے انداز میں لکھا گیا ہواور لکھنے والے کے اقرار سے یا گواہوں سے اس کا ثبوت ہوتو وہ زبانی
شرع محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عالم اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ایك شخص نے اجمیر شریف سے جاکر اپنی عورت کو بڑودہ میں بذریعہ کط ایك طلاق بنام جماعت لکھ کر روانہ کیا میری عورت کو کہہ دینا میں نے ایك طلاق اپنی عورت کو دی جماعت نے عورت کو خط سنادیا دو۲ مہینے کے بعد بڑودہ میں آیا عورت نکاح میں رہی یانکل گئی سوال کے جواب عطا فرمائےے ثواب آپ کو خداوند تعالی عطا فرمائے گا۔
الجواب :
اگر واقع میں اس شخص نے یہ خط آپ کو لکھا یا دوسرے کو عبارۃ مذکورہ بتاکر لکھوایا کہ میری عورت کی نسبت یہ الفاظ لکھ دے تو جس وقت اس کے قلم یازبان سے یہ لفظ نکلے اسی وقت سے عورت ایك طلاق پڑگئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار ہوگا اگرچہ یہ خط بڑودہ نہ پہنچتا یا وہ خود ہی لکھ کر نہ بھیجتا یا مکتوب الہیم عورت کو نہ سناتے کہ جو الفاظ طلاق لکھے یا بتائے جب ان میں کوئی شرط نہیں کہ یہ خط جب پہنچے یا سنایاجائے اس وقت طلاق ہوتو ان کا لکھنا یا بتانا ہی طلاق کا موجب ہوگیا بھیجنے پہنچنے سنانے پر توقف نہ رہامگر ازانجا کہ طلاق رجعی ہے عورت نکاح سے نہ نکلے گی جب تك عدت نہ گزرجائے۔ ایام عدت میں بے تجدید نکاح عورت سے رجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے کہہ دے میں نے اسے اپنے نکاح میں پھر لیا بدستور اس کی زوجیت میں باقی رہےگی جس میں عورت کی رضامندی بھی ضرور نہیں اوراگر عدت گزرگئی تو برضائے عورت اس سے ازسرنو نکاح کرسکتا ہے کچھ حلالہ کی حاجت نہیں جبکہ اس سے پہلے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ اور اگر واقع میں یہ اس شخص کا کام نہیں بلکہ کسی اور نے بطور خود اس کے نام سے لکھ بھیجاہے تو طلاق نہ واقع ہوئی کہ دوسرے کے نزدیك طلاق اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ اسے اس خط کا اقرار ہویاانکار کرے تو گواہان عادل شرعی گواہی دیں کہ اس نے ہمارے سامنے یہ کاروائی کی بغیر اس کے صرف اتنی بات کہ خط اس کے ہاتھ کا لکھا معلوم ہوتا ہے بکار آمد نہیں ہاں اگرواقع میں یہ کاروائی اسکی تھی اور منکر ہوگیا اور گواہ نہیں تو اس کاوبال اسی پر ہے عورت پر گناہ نہیں ۔ ۱مبسوط امام محمد و۲خلاصہ و۳بزازیہ و۴اشباہ و۵شافی و۶ کفایہ و۷ردالمحتار میں ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرا معنوناوثبت ذلك باقرارہ او بالبینۃ
اگر طلاق نامہ تحریر کیا ہوتو باقاعدہ سرنامہ کے ساتھ بھیجنے کے انداز میں لکھا گیا ہواور لکھنے والے کے اقرار سے یا گواہوں سے اس کا ثبوت ہوتو وہ زبانی
فکالخطاب ۔
طلاق کی طرح نافذ العمل ہوگا۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں وعالمگیری میں ہے :
ان ارسل الطلاق فکما کتب یقع وتلزمھا العدۃ من وقت الکتاببۃ وان علق بمجیئ الکتاب فمالم یجیئ الیھا لا اھ ملخصا۔
اگر تحریری طلاق بھیجی ہوتو جو کچھ اس میں لکھا ہے اتنی طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور تحریر کے وقت سے عدت شمار ہوجائے گی اور اگر طلاق کو خط ملنے پر معلق کیا ہوتو آنے سے پہلے طلاق نہ ہوگی اھ ملخصا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
رجل قال لغیرہ اخبر امرأتی بطالقھا اوقل لھا انھا طالق طلقت للحال کما لوقال اکتب الی امرأتی انھا طالق اھ ملخصا۔
ایك شخص نے دوسرے کو کہا کہ میری بیوی کو طلاق کی اطلاع دے دو یا کہا کہ میری بیوی کو کہو کہ وہ طلاق والی ہے تو اسی وقت سے طلاق ہوگی جیسے کسی نے کہا تومیری بیوی کو لکھ کر وہ طلاق والی ہے تواسی وقت طلاق ہوجائے گی اھ ملخصا(ت)
ہدایہ میں ہے :
لان الکتاب یشبہ الکتاب فلایثبت ۔
تحریر تحریر کے مشابہ ہوتی ہے لہذا معتبر نہ ہوگی۔ (ت)
اس مسئلہ کی باقی تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۶ : از ملك چھتیس گڈھ شہر رائپور محلہ بیجناتھ باڑہ مکان منشی رحیم بخش عرضی نویس مرسلہ منشی محمد اسحق صاحب ۱۰ رجب ۱۳۱۲ھ
بخدمت سراپا برکت جناب فیض مآب علوم سبحانی ومعدن یزدانی جامع فروع واصول مولنا صاحب
طلاق کی طرح نافذ العمل ہوگا۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں وعالمگیری میں ہے :
ان ارسل الطلاق فکما کتب یقع وتلزمھا العدۃ من وقت الکتاببۃ وان علق بمجیئ الکتاب فمالم یجیئ الیھا لا اھ ملخصا۔
اگر تحریری طلاق بھیجی ہوتو جو کچھ اس میں لکھا ہے اتنی طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور تحریر کے وقت سے عدت شمار ہوجائے گی اور اگر طلاق کو خط ملنے پر معلق کیا ہوتو آنے سے پہلے طلاق نہ ہوگی اھ ملخصا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
رجل قال لغیرہ اخبر امرأتی بطالقھا اوقل لھا انھا طالق طلقت للحال کما لوقال اکتب الی امرأتی انھا طالق اھ ملخصا۔
ایك شخص نے دوسرے کو کہا کہ میری بیوی کو طلاق کی اطلاع دے دو یا کہا کہ میری بیوی کو کہو کہ وہ طلاق والی ہے تو اسی وقت سے طلاق ہوگی جیسے کسی نے کہا تومیری بیوی کو لکھ کر وہ طلاق والی ہے تواسی وقت طلاق ہوجائے گی اھ ملخصا(ت)
ہدایہ میں ہے :
لان الکتاب یشبہ الکتاب فلایثبت ۔
تحریر تحریر کے مشابہ ہوتی ہے لہذا معتبر نہ ہوگی۔ (ت)
اس مسئلہ کی باقی تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۶ : از ملك چھتیس گڈھ شہر رائپور محلہ بیجناتھ باڑہ مکان منشی رحیم بخش عرضی نویس مرسلہ منشی محمد اسحق صاحب ۱۰ رجب ۱۳۱۲ھ
بخدمت سراپا برکت جناب فیض مآب علوم سبحانی ومعدن یزدانی جامع فروع واصول مولنا صاحب
حوالہ / References
ردالمحتار باب کتاب القاضی الی القاضی داراحیاء التراث العر بی بیروت ۴ / ۳۵۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۸ ، فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الطلاق بالکتابۃ نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۸
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق الفصل الاول فی صریح الطلاق نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۰
ہدایہ کتاب القاضی الی لقاضی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۳۹
فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۸ ، فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الطلاق بالکتابۃ نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۸
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق الفصل الاول فی صریح الطلاق نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۰
ہدایہ کتاب القاضی الی لقاضی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۳۹
سلمہ اﷲتعالی بعد ازآداب کے بندہ محمد اسحق عرض رساں ہے کہ حضور پر نور کا فتوی پہنچا کمال درجہ کی خوشی حاصل ہوئی اﷲتعالی آپ کو اجر عظیم بفحوائے خیر الناس من ینفع الناس(لوگوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کونفع پہنچائے۔ ت)عطا فرمائے گا التماس خدمت بابرکت میں یہ ہے کہ طالعور خاں اقرار کرتا ہے ایك مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ اقرار کرچکا ہے فقط اس کا مقولہ یہ ہے کہ بیشك یہ خط تو میں نے تحریر کیا ہے اب اس کے موافق مجھے شرع سے کیا حکم ہوتا ہے اور جب یہ خط آیا تو سرمست خاں صاحب نے طالعور خاں کی زوجہ عمدہ اور اس کے والد نجم خاں کوحرف بحرف پڑھ کر سنا بھی دیا اس صورت میں یہ معلوم کرنا منظور ہ کہ ازروئے شرع عمدہ کے حق میں کیا حکم ہے طالعور خاں اس پر اپنے ساتھ نکاح کرلینے کا جبر کرسکتا ہے یانہیں اور عمدہ کو بوجہ اس کے کہ عدت گزرچکی جس سے چاہے نکاح کرلینے کا اختیار ہے یا نہیں اور حکم وقوع طلاق میں کیا صرف پہلے خط کو دخل ہے یا اوروں کو بھیبینو اتوجروا۔
الجواب :
جبکہ طالعور خاں اسی خط کے لکھنے کامقر ہ اور سرمست خاں نے حسب درخواست طالعورخاں یہ خط ان دونوں کو حرف بحرف سنا بھی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو مستفسرہ میں عمدہ کے حق میں حکم شرع یہ ہے کہ اس پر دو۲ طاقیں بائن ہوگئیں ایك تو اسی وت جبکہ طالعور خاں نے یہ لفظ لکھے تھے کہ آپ کو اجازت دیتا ہون کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاح زن اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاح زن کی اجازت دینی بیشك کنایات طلاق سے ہے اور اس خط کی عبارت اول تا آخر نیت ازالہ نکاح میں ظاہر کما لایخفی علی کل ماہر وقد بیناہ فی ماسبق(جیسا کہ کسی ماہر پر مخفی نہیں ہے اور ہم نے اس کو پہلے بیان کردیا ہے۔ ت)او ان کنایوں سے طلاق بائن ہی پڑتی ہے۔
کنزالدقائق میں ہے :
فی غیرھا بائنۃ وھی بائن حرام ابتغی الازواج اھ ملخصا۔
مذکورہ الفاظ ثلثہ کے غیر میں طلاق بائنہ ہوگی اورطلاق بائنہ کے الفاظ یہ ہیں : بائن حرام توشوہر تلاش کر اھ ملخصا (ت)
تو بغور تحریر خط طلاق ہوگئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار لیا جائے۔ فتاوی قاضی خاں میں ہے :
ان ارسل الطلاق فکما کتب وتلزمھا
اگر طلاق لکھ کر بھیجی تو جو لکھا وہ طلاق واقع ہوگی
الجواب :
جبکہ طالعور خاں اسی خط کے لکھنے کامقر ہ اور سرمست خاں نے حسب درخواست طالعورخاں یہ خط ان دونوں کو حرف بحرف سنا بھی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو مستفسرہ میں عمدہ کے حق میں حکم شرع یہ ہے کہ اس پر دو۲ طاقیں بائن ہوگئیں ایك تو اسی وت جبکہ طالعور خاں نے یہ لفظ لکھے تھے کہ آپ کو اجازت دیتا ہون کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاح زن اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاح زن کی اجازت دینی بیشك کنایات طلاق سے ہے اور اس خط کی عبارت اول تا آخر نیت ازالہ نکاح میں ظاہر کما لایخفی علی کل ماہر وقد بیناہ فی ماسبق(جیسا کہ کسی ماہر پر مخفی نہیں ہے اور ہم نے اس کو پہلے بیان کردیا ہے۔ ت)او ان کنایوں سے طلاق بائن ہی پڑتی ہے۔
کنزالدقائق میں ہے :
فی غیرھا بائنۃ وھی بائن حرام ابتغی الازواج اھ ملخصا۔
مذکورہ الفاظ ثلثہ کے غیر میں طلاق بائنہ ہوگی اورطلاق بائنہ کے الفاظ یہ ہیں : بائن حرام توشوہر تلاش کر اھ ملخصا (ت)
تو بغور تحریر خط طلاق ہوگئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار لیا جائے۔ فتاوی قاضی خاں میں ہے :
ان ارسل الطلاق فکما کتب وتلزمھا
اگر طلاق لکھ کر بھیجی تو جو لکھا وہ طلاق واقع ہوگی
حوالہ / References
کنز الدقائق باب لکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۶
العدۃ من وقت الکتابۃ الخ (ملخصا)
اور بیوی کو لکھائی کے وقت سے عدت لازم ہوگی الخ(ملخصا)۔ (ت)
اور دوسری اس وقت جبکہ یہ خط بحرف عمدہ اور اس کے والد کو سرمست خاں نے سنایا کہ طالعور خاں کا لکھنا سرمست خان سنادیں تاکہ اس پر طلاق شرعا واجب ہوجائے طلاق معلق تھی تو جب شرط ایام عدت میں پائی گئی یہ طلاق بھی واقع ہوئی اور ازانجا کہ پہلی طلاق بائن تھی یہ دوسری بھی خواہی نخواہی بائن ہوگئی۔ ردالمحتار میں ہے :
اذ الحق الصریح البائن کان بائنا لان البینونۃ السابقہ علیہ تمنع الرجعۃ کمافی الخلاصۃ ۔
اگر بائنہ طلاق کے بعدرجعی طلاق دی تو وہ رجعی بھی بائنہ ہوجائے گی کیونکہ پہلی بائنہ کے بعد رجوع ممنوع ہوجاتا ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
بالجملہ عمدہ پر واجب کہ اپنے آپ کو طالعور خاں کے نکاح سے باہر سمجھے طالعور خاں کو اس پر ہرگز جبر نہیں پہنچتا عمدہ کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے کہ طلاق بائن سے عورت خودمختار ہوجاتی ہے۔ درمختار میں ہے :
لانھا لاتملك نفسھا الاالبائن ۔
بیوی بائنہ طلاق کے بعد اپنے آپ کی مالك ہوجاتی ہے۔ (ت)
اور جبکہ پہلے ہی خط بائن طلاق پڑی اور عدت گزرچکی تو بعد کے خطوط کو وقوع طلاق میں کچھ دخل نہیں ۔ عالمگیری میں ہے :
شرطہ قیام القید فی المرأۃ نکاح او عدۃ کذافی المحیط السرخسی اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وقوع طلاق کے لئے شرط ہے کہ بیوی ابھی تك نکاح یا عدت میں مقید ہو۔ جیساکہ محیط سرخسی میں ہےاھ ملخصا۔
واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۱۷ : بریلی محلہ نیم کی چڑھائی مرسلہ چودھری اشتیاق احمد ۲۲ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کو بذریعہ تحریر کے یہ اطلاع دی کہ میں نے
اور بیوی کو لکھائی کے وقت سے عدت لازم ہوگی الخ(ملخصا)۔ (ت)
اور دوسری اس وقت جبکہ یہ خط بحرف عمدہ اور اس کے والد کو سرمست خاں نے سنایا کہ طالعور خاں کا لکھنا سرمست خان سنادیں تاکہ اس پر طلاق شرعا واجب ہوجائے طلاق معلق تھی تو جب شرط ایام عدت میں پائی گئی یہ طلاق بھی واقع ہوئی اور ازانجا کہ پہلی طلاق بائن تھی یہ دوسری بھی خواہی نخواہی بائن ہوگئی۔ ردالمحتار میں ہے :
اذ الحق الصریح البائن کان بائنا لان البینونۃ السابقہ علیہ تمنع الرجعۃ کمافی الخلاصۃ ۔
اگر بائنہ طلاق کے بعدرجعی طلاق دی تو وہ رجعی بھی بائنہ ہوجائے گی کیونکہ پہلی بائنہ کے بعد رجوع ممنوع ہوجاتا ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
بالجملہ عمدہ پر واجب کہ اپنے آپ کو طالعور خاں کے نکاح سے باہر سمجھے طالعور خاں کو اس پر ہرگز جبر نہیں پہنچتا عمدہ کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے کہ طلاق بائن سے عورت خودمختار ہوجاتی ہے۔ درمختار میں ہے :
لانھا لاتملك نفسھا الاالبائن ۔
بیوی بائنہ طلاق کے بعد اپنے آپ کی مالك ہوجاتی ہے۔ (ت)
اور جبکہ پہلے ہی خط بائن طلاق پڑی اور عدت گزرچکی تو بعد کے خطوط کو وقوع طلاق میں کچھ دخل نہیں ۔ عالمگیری میں ہے :
شرطہ قیام القید فی المرأۃ نکاح او عدۃ کذافی المحیط السرخسی اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وقوع طلاق کے لئے شرط ہے کہ بیوی ابھی تك نکاح یا عدت میں مقید ہو۔ جیساکہ محیط سرخسی میں ہےاھ ملخصا۔
واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۱۷ : بریلی محلہ نیم کی چڑھائی مرسلہ چودھری اشتیاق احمد ۲۲ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کو بذریعہ تحریر کے یہ اطلاع دی کہ میں نے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الطلاق بالکتابۃ نولکشورلکھنؤ ۲ / ۲۱۸
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۹
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق باب الاول نورانی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۴۸
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۹
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق باب الاول نورانی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۴۸
اپنی زوجہ کو علیحدہ کردیا جس پر خالد نے یہ تحریر کردیا کہ مہربانی کرکے مطلع کیجئے کہ آپ نے اپنی زوجہ ثانیہ کو طلاق دے دی زید نے خالد کی تحریر کے نیچے تحریر کردیا جی ہاں اور بعد اس کے اپنے دستخط کردئے زید کی زوجہ ثانیہ کو اس تحریر سے طلاق واقعہ ہوگئی اور زید کو رجوع کاموقعہ نہ رہا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر زید مقر ہو یا گواہان شرعی سے ثابت ہوکہ یہ دونوں تحریریں ا س کی ہیں تو عورت نکاح سے نکل گئی رجوع نہیں کرسکتا ہاں بے حلالہ دوبارہ برضائے زوجہ کرسکتا ہے اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸ : از ہاشی ضلع حصار ڈاك خانہ خاص مسئولہ محمد ظہیرالدین ومحمد نظیرالدین عطاران ۳ربیعالاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین وارباب باتمکین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مسماۃ ہندہ کو کھانے پینے کی تکلیف دیتا تھا پس مسماۃ ہندہ کے والد نے بوجہ اپنی لڑکی کی تکلیف دفع کرنے کے پنچایت کو جمع کرکے فیصلہ چاہا حالانکہ زید پنچایت کے جمع کرنے پر راضی نہ تھا پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ مسمی زید اپنی بیوی مسماۃ ہندہ کو مبلغ معہ۸ / دیا کرے جس کا ایك کاغذ بھی لکھا گیا بایں مضمون کہ “ اگر زید مذکور اپنی بیوی مسماۃ ہندہ مذکورہ کو رقم مجوزہ نہ دے گاتو ہندہ کو طلاق واقع ہوجاوے گی “ جو بغرض دھمکی پنچایت نے لکھوایاتھا نہ کہ طلاق کی نیت سے زید نے نہ کاغذ لکھنے کو کہا اپنی زبان سے اورنہ اپنے قلم سے کاغذ مذکورلکھا بلکہ ایك دوسرے شخص نے کاغذ لکھا بوجودیکہ خود شخص زید خواندہ شخص ہے اور کاغذ پر دستخط زید نے برادری کے خوف سے کئے ہیں راضی نہ تھا بعد فیصلہ پنچایت مسماۃ ہندہ کو اس کا والد اپنے مکان پر لے گیا اور ہندہ مذکورہ بعد دو۲ماہ کے زید کے مکان میں آئی تو زید برابر اس کونان نفقہ دیتا رہا مذکورہ بالا صورت میں جبکہ زید نے وہ رقم مجوزہ پنچایت نہیں دی ہندہ کو طلاق ہوگئی یا بمصداق الاعمال بالنیات(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ت)نہیں ہوئی کیونکہ نہ اس کی طلاق دینے کی نیت تھی اور نہ پنچایت طلاق دلانا چاہتی تھی بلکہ محض دھمکی تھی بینواتوجروامع عبارۃ الکتب وبحوالہ الفصل والباب (عبارت کتب اور فصل اور باب کے حوالہ کے ساتھ بیان کیجئے اور اجر پائے۔ ت)فقط۔
الجواب :
صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی اور خود لکھنا اور دوسرے کے لکھے ہوئے کو سن کر اس پر دستخط کرنا یکساں ہے اور خوف برادری کہ حد اکراہ تك نہ ہو کوئی عذر نہیں اگر تحریر میں یہ تھا کہ
الجواب :
اگر زید مقر ہو یا گواہان شرعی سے ثابت ہوکہ یہ دونوں تحریریں ا س کی ہیں تو عورت نکاح سے نکل گئی رجوع نہیں کرسکتا ہاں بے حلالہ دوبارہ برضائے زوجہ کرسکتا ہے اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸ : از ہاشی ضلع حصار ڈاك خانہ خاص مسئولہ محمد ظہیرالدین ومحمد نظیرالدین عطاران ۳ربیعالاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین وارباب باتمکین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مسماۃ ہندہ کو کھانے پینے کی تکلیف دیتا تھا پس مسماۃ ہندہ کے والد نے بوجہ اپنی لڑکی کی تکلیف دفع کرنے کے پنچایت کو جمع کرکے فیصلہ چاہا حالانکہ زید پنچایت کے جمع کرنے پر راضی نہ تھا پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ مسمی زید اپنی بیوی مسماۃ ہندہ کو مبلغ معہ۸ / دیا کرے جس کا ایك کاغذ بھی لکھا گیا بایں مضمون کہ “ اگر زید مذکور اپنی بیوی مسماۃ ہندہ مذکورہ کو رقم مجوزہ نہ دے گاتو ہندہ کو طلاق واقع ہوجاوے گی “ جو بغرض دھمکی پنچایت نے لکھوایاتھا نہ کہ طلاق کی نیت سے زید نے نہ کاغذ لکھنے کو کہا اپنی زبان سے اورنہ اپنے قلم سے کاغذ مذکورلکھا بلکہ ایك دوسرے شخص نے کاغذ لکھا بوجودیکہ خود شخص زید خواندہ شخص ہے اور کاغذ پر دستخط زید نے برادری کے خوف سے کئے ہیں راضی نہ تھا بعد فیصلہ پنچایت مسماۃ ہندہ کو اس کا والد اپنے مکان پر لے گیا اور ہندہ مذکورہ بعد دو۲ماہ کے زید کے مکان میں آئی تو زید برابر اس کونان نفقہ دیتا رہا مذکورہ بالا صورت میں جبکہ زید نے وہ رقم مجوزہ پنچایت نہیں دی ہندہ کو طلاق ہوگئی یا بمصداق الاعمال بالنیات(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ت)نہیں ہوئی کیونکہ نہ اس کی طلاق دینے کی نیت تھی اور نہ پنچایت طلاق دلانا چاہتی تھی بلکہ محض دھمکی تھی بینواتوجروامع عبارۃ الکتب وبحوالہ الفصل والباب (عبارت کتب اور فصل اور باب کے حوالہ کے ساتھ بیان کیجئے اور اجر پائے۔ ت)فقط۔
الجواب :
صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی اور خود لکھنا اور دوسرے کے لکھے ہوئے کو سن کر اس پر دستخط کرنا یکساں ہے اور خوف برادری کہ حد اکراہ تك نہ ہو کوئی عذر نہیں اگر تحریر میں یہ تھا کہ
آج سے اس قدر ماہوار یعنی ماہ بماہ دیا کرے اور مہینہ گزرگیا کہ اس نے نہ دیا توایك طلاق رجعی ہوگی عدت کے اندر اسے رجوع کااختیار ہے اگر پہلے کبھی دو۲طلاقیں نہ دے چکا ہو ورنہ تین طلاقیں ہوگئیں اور بے حلالہ نکاح نہ ہوسکے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۹ : از موضع بھر تول ضلع بریلی مسئولہ نظام علی صاحب ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بدلو کا نکاح مسماۃ کامنی سے عرصہ تین برس کا ہوا تھا کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی عرصہ ڈھائی سال کا ہوا کہ بدلو ملازم ہوکر ڈیرہ اسمعیل خاں چلاگیا خبر گیری نان نفقہ کی چھوڑدی جب اس کی بیوی کے ورثانے یعنی والدہ اور خالو نے خط بنابرخبر گیری نان نفقہ کے روانہ کئے تو اس نے اس کے جواب میں خط روانہ کیاکہ میں نے مسمی کو طلاق دی اوراسے زوجیت سے چھوڑدیا چنانچہ مزیداحتیاط والدہ خالو مسماۃ کامنی نے تھانے میں رپٹ لکھالی اور خط دکھلادیا اور ایك تار معرفت تھانہ دارروانہ کیا تار کا جواب بذریعہ خط بیرنگ کے دیا کہ میں نے مسماۃ کو طلاق دے دی پھر تیسرا خط آیا اس میں بھی یہی لفظ تحریر ہیں کہ ہم نے مسماۃ کامنی کو طلاق دے دی اب یہ طلاق شرعی ہوئی یانہیں تیسرے خط میں ہی لفظ تحریر ہیں کہ میری طرف سے تین دفعہ طلاق ہے اب ہمارے پاس خط نہ بھیجنا'اب تار پھر دیا تب بھی جواب طلاق کادیا۔
الجواب :
اگر کامنی کو واقعی صحیح اطمینان ہے کہ یہ خطوط بدلو ہی کے لکھے ہوئے ہیں تو وہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلقہ سمجھے اور بعد عدت نکاح کرسکتی ہے لیکن اگر وہ آیا اور ان خطوط کے لکھنے سے منکر ہوا تو بغیر شہادت گواہان عادل طلاق ثابت نہ ہوگی اور نکاح ثانی رد کردیا جائے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ : از رنگپور مسئولہ محمد یونس ۱۱رمضان شریف ۱۳۳۹ھ
(۱)اگر زوجین میں طلاق کی بابت اختلاف ہوخاوند منکر اور بی بی طلاق کا ثبوت دینا چاہتی ہو تو ثبوت کا کیا طریقہ
(۲)جانبین میں شاہدین موجود ہوں مطلقہ کے شاہد کی گواہی دیں اور خاوند کے اس بات پر کہ مطلقہ نے بعد طلاق ان سے کہا ہے کہ خاوند نے طلاق دینا چاہا تھا مگر نہ دی تو اب کون سی بات قابل سماعت ہے بینواتوجروا
الجواب :
بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا
مسئلہ ۲۱۹ : از موضع بھر تول ضلع بریلی مسئولہ نظام علی صاحب ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بدلو کا نکاح مسماۃ کامنی سے عرصہ تین برس کا ہوا تھا کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی عرصہ ڈھائی سال کا ہوا کہ بدلو ملازم ہوکر ڈیرہ اسمعیل خاں چلاگیا خبر گیری نان نفقہ کی چھوڑدی جب اس کی بیوی کے ورثانے یعنی والدہ اور خالو نے خط بنابرخبر گیری نان نفقہ کے روانہ کئے تو اس نے اس کے جواب میں خط روانہ کیاکہ میں نے مسمی کو طلاق دی اوراسے زوجیت سے چھوڑدیا چنانچہ مزیداحتیاط والدہ خالو مسماۃ کامنی نے تھانے میں رپٹ لکھالی اور خط دکھلادیا اور ایك تار معرفت تھانہ دارروانہ کیا تار کا جواب بذریعہ خط بیرنگ کے دیا کہ میں نے مسماۃ کو طلاق دے دی پھر تیسرا خط آیا اس میں بھی یہی لفظ تحریر ہیں کہ ہم نے مسماۃ کامنی کو طلاق دے دی اب یہ طلاق شرعی ہوئی یانہیں تیسرے خط میں ہی لفظ تحریر ہیں کہ میری طرف سے تین دفعہ طلاق ہے اب ہمارے پاس خط نہ بھیجنا'اب تار پھر دیا تب بھی جواب طلاق کادیا۔
الجواب :
اگر کامنی کو واقعی صحیح اطمینان ہے کہ یہ خطوط بدلو ہی کے لکھے ہوئے ہیں تو وہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلقہ سمجھے اور بعد عدت نکاح کرسکتی ہے لیکن اگر وہ آیا اور ان خطوط کے لکھنے سے منکر ہوا تو بغیر شہادت گواہان عادل طلاق ثابت نہ ہوگی اور نکاح ثانی رد کردیا جائے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ : از رنگپور مسئولہ محمد یونس ۱۱رمضان شریف ۱۳۳۹ھ
(۱)اگر زوجین میں طلاق کی بابت اختلاف ہوخاوند منکر اور بی بی طلاق کا ثبوت دینا چاہتی ہو تو ثبوت کا کیا طریقہ
(۲)جانبین میں شاہدین موجود ہوں مطلقہ کے شاہد کی گواہی دیں اور خاوند کے اس بات پر کہ مطلقہ نے بعد طلاق ان سے کہا ہے کہ خاوند نے طلاق دینا چاہا تھا مگر نہ دی تو اب کون سی بات قابل سماعت ہے بینواتوجروا
الجواب :
بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا
کریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلا مسموع نہ ہوگا ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۲ : از کوٹہ راجپوتانہ محلہ روذ پورہ فراش پاٹن مرسلہ عبدالشکور خاں صاحب ۱۶جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
زید کی شادی ہندہ سے ہوئی بعد عرصہ دراز ہندہ نے زید پر اس مضمون سے نالش زر مہر دائر کی کہ زید نے یہ کہہ کر کہ مجھ کو میری والدہ یہ وصیت کرکے مری ہے کہ اگر تو اپنی زوجہ کو پانی زوجیت میں رکھے گا تو میں قیامت میں دامنگیر ہوں گی گھر سے نکال دیا زید نے زرمہر اپنے ذمہ واجب سمجھ کر دعوی زرمہر سے اقبال کیا اور ہندہ کواپنی زوجہ قبول کرکے سپردگی خواہش کی کچہری نے زر مہر کی ڈگری دے دی ہندہ نے ایك سال دس۱۰ماہ بعد نالش زرمہر کو طلاق کی بنا پر ظاہر کرکے یعنی وصیت والفاظ مذکورہ بالا کی بنا پر نالش نان ونفقہ ایام عدت دائر کی زید اس بیان ہندہ سے قطعی انکاری ہے بلکہ کچہری میں نالش سپردگی زوجہ دائر کی ہے تو کیا ایسی صورت میں ایسے الفاظ سے طلاق ہوسکتی ہے اور کیا نالش زرمہر کی بنا پر تصور ہوسکتی ہے اور کیا زید اپنی زوجہ کو اپنی زوجیت میں رکھ سکتا ہے اور کیا ہندہ ایسی حالت میں نان ونفقہ ایام عدت پاسکتی ہے
الجواب :
محض بیان ہندہ سے کہ زید نے اپنی ماں کی یہ وصیت بیان کرکے اسے نکال دیا طلاق ثابت نہیں ہوسکتی جبکہ زید اس بیان ہندہ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اگر اتنے الفاظ خود بیان زید سے ثابت ہوں جب بھی مثبت طلاق نہ تھے ماں کی وصیت بیان کرنا طلاق نہیں عورت کو گھر سے نکال دینا طالق نہیں جب تك زبان سے بہ نیت طالق نہ کہے کہ “ نکل جا “ اور نیت طلاق کا حل اس کے اقرار سے ثابت ہوگا وہ کہے میں نےت طلاق نہ کہا اور قسم کھالے معتبر ہوگی۔
وذلك لان اخرجی یحتمل ردافیتوقف علی النیۃ لکل حال ویکفی تحلیفھا فی منزلۃ کما فی الدرالمختار۔
یہ اسلئے کہ “ نکل جا “ میں جواب کا احتمال ہے لہذا ہر صورت میں اس سے طلاق مراد لینا نیت پر موقوف ہوگا اورنیت کے لئے خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے(ت)
بالجملہ صورت مسئولہ میں طالق ثابت نہیں زدی اسے اپنی زوجیت میں رکھ سکتا ہے ہندہ کی نالش
مسئلہ ۲۲۲ : از کوٹہ راجپوتانہ محلہ روذ پورہ فراش پاٹن مرسلہ عبدالشکور خاں صاحب ۱۶جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
زید کی شادی ہندہ سے ہوئی بعد عرصہ دراز ہندہ نے زید پر اس مضمون سے نالش زر مہر دائر کی کہ زید نے یہ کہہ کر کہ مجھ کو میری والدہ یہ وصیت کرکے مری ہے کہ اگر تو اپنی زوجہ کو پانی زوجیت میں رکھے گا تو میں قیامت میں دامنگیر ہوں گی گھر سے نکال دیا زید نے زرمہر اپنے ذمہ واجب سمجھ کر دعوی زرمہر سے اقبال کیا اور ہندہ کواپنی زوجہ قبول کرکے سپردگی خواہش کی کچہری نے زر مہر کی ڈگری دے دی ہندہ نے ایك سال دس۱۰ماہ بعد نالش زرمہر کو طلاق کی بنا پر ظاہر کرکے یعنی وصیت والفاظ مذکورہ بالا کی بنا پر نالش نان ونفقہ ایام عدت دائر کی زید اس بیان ہندہ سے قطعی انکاری ہے بلکہ کچہری میں نالش سپردگی زوجہ دائر کی ہے تو کیا ایسی صورت میں ایسے الفاظ سے طلاق ہوسکتی ہے اور کیا نالش زرمہر کی بنا پر تصور ہوسکتی ہے اور کیا زید اپنی زوجہ کو اپنی زوجیت میں رکھ سکتا ہے اور کیا ہندہ ایسی حالت میں نان ونفقہ ایام عدت پاسکتی ہے
الجواب :
محض بیان ہندہ سے کہ زید نے اپنی ماں کی یہ وصیت بیان کرکے اسے نکال دیا طلاق ثابت نہیں ہوسکتی جبکہ زید اس بیان ہندہ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اگر اتنے الفاظ خود بیان زید سے ثابت ہوں جب بھی مثبت طلاق نہ تھے ماں کی وصیت بیان کرنا طلاق نہیں عورت کو گھر سے نکال دینا طالق نہیں جب تك زبان سے بہ نیت طالق نہ کہے کہ “ نکل جا “ اور نیت طلاق کا حل اس کے اقرار سے ثابت ہوگا وہ کہے میں نےت طلاق نہ کہا اور قسم کھالے معتبر ہوگی۔
وذلك لان اخرجی یحتمل ردافیتوقف علی النیۃ لکل حال ویکفی تحلیفھا فی منزلۃ کما فی الدرالمختار۔
یہ اسلئے کہ “ نکل جا “ میں جواب کا احتمال ہے لہذا ہر صورت میں اس سے طلاق مراد لینا نیت پر موقوف ہوگا اورنیت کے لئے خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے(ت)
بالجملہ صورت مسئولہ میں طالق ثابت نہیں زدی اسے اپنی زوجیت میں رکھ سکتا ہے ہندہ کی نالش
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
باطل ہے اور جب طلاق نہیں عدت کہا کہ اس کا نفقہ ہو نفقہ زوجیت کا ہوگا اگر شوہر کے یہاں رہے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۳ : از شہر کہنہ بریلی محلہ شاہدانہ صاحب رحمۃ اﷲتعالی علیہ مسئولہ نصر اﷲصاحب ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو مارنے گیا اور کہا کہ اگر تولڑنے اورمنہ زوری کرنے سے نہ مانے گی تو میں تجھ کو طلاق دے دوں گا وہ نہ مانی شوہر نے کہا کہ “ تجھ کو طلاق دی میں نے جاتجھ کو طلاق د ی میں نے “ ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے جا فقط اب زید رجوع کرنا چاہتا ہے بموجب شرع کے کیا حکم ہے
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی
لان(جا)وان کان یحتمل رداو غایتہ تقدم الطلاق ان الحال صال حال المذاکرۃ لکن مایحتمل الردینوی فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یرد ارادۃ فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یردارادۃ الردوکذا قولہ(اس کا نتیجہ یہ ہے)فان الناتج من نشوزھا تطلیقھا لاردہ فکان خلاف الظاہر فلایصدق فیہ قضاء والقرینۃ کالقاضی کما فی الفتح والبحر قال فی الدرالمختار ذھبی وتزوجی تقع واحدۃ بلانیۃ قال الشامی لان تزوجی قرینۃ فان نوی الثلاث فثلاث بزازیۃ ثم نازعہ بان تزوجی
اس لئے کہ “ جا “ کا لفظ اگر چہ جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے اور اگر پہلے طلاق دی ہوتو اس کی غایت بننے کا بھی احتمال رکھتا ہ چونکہ حال مذاکرہ طلاق ہے لیکن جواب کے احتمال والے لفظ میں طلاق کےلئے نیت ضروری ہے مگر یہاں خاوند کا طلاق کو واقع کرناجواب کے احتمال کو رد کردیتا ہے اور یوں ہی خاوند کا کہنا “ اس کا نتیجہ یہ ہے “ بھی جواب کے احتمال کو ختم کرتا ہے کیونکہ بیوی کی نافرمانی کا نتیجہ طلاق کو قرار دیاگیا جواب کو نہیں لہذا جواب کا احتمال خلاف ظاہر ہے اس لئے قضاء بھی اس کی تصدیق نہ ہوگی اور قرینہ قاضی کی
مسئلہ۲۲۳ : از شہر کہنہ بریلی محلہ شاہدانہ صاحب رحمۃ اﷲتعالی علیہ مسئولہ نصر اﷲصاحب ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو مارنے گیا اور کہا کہ اگر تولڑنے اورمنہ زوری کرنے سے نہ مانے گی تو میں تجھ کو طلاق دے دوں گا وہ نہ مانی شوہر نے کہا کہ “ تجھ کو طلاق دی میں نے جاتجھ کو طلاق د ی میں نے “ ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے جا فقط اب زید رجوع کرنا چاہتا ہے بموجب شرع کے کیا حکم ہے
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی
لان(جا)وان کان یحتمل رداو غایتہ تقدم الطلاق ان الحال صال حال المذاکرۃ لکن مایحتمل الردینوی فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یرد ارادۃ فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یردارادۃ الردوکذا قولہ(اس کا نتیجہ یہ ہے)فان الناتج من نشوزھا تطلیقھا لاردہ فکان خلاف الظاہر فلایصدق فیہ قضاء والقرینۃ کالقاضی کما فی الفتح والبحر قال فی الدرالمختار ذھبی وتزوجی تقع واحدۃ بلانیۃ قال الشامی لان تزوجی قرینۃ فان نوی الثلاث فثلاث بزازیۃ ثم نازعہ بان تزوجی
اس لئے کہ “ جا “ کا لفظ اگر چہ جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے اور اگر پہلے طلاق دی ہوتو اس کی غایت بننے کا بھی احتمال رکھتا ہ چونکہ حال مذاکرہ طلاق ہے لیکن جواب کے احتمال والے لفظ میں طلاق کےلئے نیت ضروری ہے مگر یہاں خاوند کا طلاق کو واقع کرناجواب کے احتمال کو رد کردیتا ہے اور یوں ہی خاوند کا کہنا “ اس کا نتیجہ یہ ہے “ بھی جواب کے احتمال کو ختم کرتا ہے کیونکہ بیوی کی نافرمانی کا نتیجہ طلاق کو قرار دیاگیا جواب کو نہیں لہذا جواب کا احتمال خلاف ظاہر ہے اس لئے قضاء بھی اس کی تصدیق نہ ہوگی اور قرینہ قاضی کی
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۷
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
ایضاکنایۃ فکیف یکون قرینۃ وان القرینۃ لابدلھا من التقدم وھو ھھنا متاخر اھ محصلہ ولاورد لشئی منھما فیما نحن فیہ لتقدم الصریح۔ واﷲ تعالی اعلم۔
طرح فیصل ہوتا ہے جیسا کہ فتح اور بحر میں ہے درمختار میں کہا کہ خاوند نے کہا “ تو چلی جا اور نکاح کرلے “ تو اس کی بیوی کوایك طلاق بغیرنیت بھی ہوجائے گی۔ علامہ شامی نے فرمایا : یہ اس لئے کہ “ نکاح کرلے “ کا لفظ قرینہ ہے اور مذکورہ صورت میں تین کی نیت کی توتین طلاقیں ہوں گی بزازیہ اھ۔ پھر علامہ شامی نے اس پرسوال اٹھا یا کہ “ نکاح کرلے “ خود کنایہ ہے تو یہ کیسے قرینہ ہوگا نیز قرینہ پہلے ہوتا ہے جبکہ “ نکاح کرلے “ “ تو چلی جا “ کے بعد ہے اھ محصلہ جبکہ ہمارے زید بحث مسئلہ میں یہ دونوں اعتراض نہیں ہیں کیونکہ یہاں صریح طلاق پہلے ہے اور “ جا “ کا لفظ بعدمیں ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۴ : از بڑودہ محلہ فتح پورہ پانی گرہ مکان رحمن مہاوت مرسلہ زینب بی بی بنت پیر خاں ۱۷ذ ی الحجہ۱۳۱۱ھ
علمائے شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مطابق میرے سوال کے جواب میں کیا ارشاد فرماتے ہیں میرے شوہر نے روبرو چارگواہ کے عرصہ دو۲ برس کا ہوا طلاق بائن دیا نکاح باطل ہوگیا یانہیں اس اس کا اجر اﷲجل شانہ دے گا۔
الجواب :
طلاق بائن دیتے ہی عورت فورا نکاح سے نکل جاتی ہے مرد کو اس پر کچھ اختیار نہیں رہتا۔ عالمگیری میں ہے :
اما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن کذافی فتح القدیر ۔ واﷲتعالی اعلم۔
طلاق کا حکم یہ ہے کہ رجعی طلاق میں عدت گزرتے ہی بیوی اور خاوند میں جدائی ہوگی اور بائنہ طلاق میں طلاق کے بعد ہی فرقت ہوجائے گی عدت گزرنے کا انتظار نہیں ہوگا کذافی فتح القدیرواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
طرح فیصل ہوتا ہے جیسا کہ فتح اور بحر میں ہے درمختار میں کہا کہ خاوند نے کہا “ تو چلی جا اور نکاح کرلے “ تو اس کی بیوی کوایك طلاق بغیرنیت بھی ہوجائے گی۔ علامہ شامی نے فرمایا : یہ اس لئے کہ “ نکاح کرلے “ کا لفظ قرینہ ہے اور مذکورہ صورت میں تین کی نیت کی توتین طلاقیں ہوں گی بزازیہ اھ۔ پھر علامہ شامی نے اس پرسوال اٹھا یا کہ “ نکاح کرلے “ خود کنایہ ہے تو یہ کیسے قرینہ ہوگا نیز قرینہ پہلے ہوتا ہے جبکہ “ نکاح کرلے “ “ تو چلی جا “ کے بعد ہے اھ محصلہ جبکہ ہمارے زید بحث مسئلہ میں یہ دونوں اعتراض نہیں ہیں کیونکہ یہاں صریح طلاق پہلے ہے اور “ جا “ کا لفظ بعدمیں ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۴ : از بڑودہ محلہ فتح پورہ پانی گرہ مکان رحمن مہاوت مرسلہ زینب بی بی بنت پیر خاں ۱۷ذ ی الحجہ۱۳۱۱ھ
علمائے شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مطابق میرے سوال کے جواب میں کیا ارشاد فرماتے ہیں میرے شوہر نے روبرو چارگواہ کے عرصہ دو۲ برس کا ہوا طلاق بائن دیا نکاح باطل ہوگیا یانہیں اس اس کا اجر اﷲجل شانہ دے گا۔
الجواب :
طلاق بائن دیتے ہی عورت فورا نکاح سے نکل جاتی ہے مرد کو اس پر کچھ اختیار نہیں رہتا۔ عالمگیری میں ہے :
اما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن کذافی فتح القدیر ۔ واﷲتعالی اعلم۔
طلاق کا حکم یہ ہے کہ رجعی طلاق میں عدت گزرتے ہی بیوی اور خاوند میں جدائی ہوگی اور بائنہ طلاق میں طلاق کے بعد ہی فرقت ہوجائے گی عدت گزرنے کا انتظار نہیں ہوگا کذافی فتح القدیرواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٤٧٤
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الباب الاوّل نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الباب الاوّل نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۸
مسئلہ۲۲۵ : ازبمبئ محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مرسلہ محمد عثمان صاحب حنفی سنی قادری ۱۴جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو ایك شخص کے سامنے کہا “ میں تجھے طلاق دیتا ہوں “ بعینہ یہی زید کی زوجہ اور خواشد امن کا کہنا ہے بعدہ ایك طلاق نامہ تحریر کیا گیا جس میں یہ عبارت درج تھی کہ اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کہہ دیا اور زید کا والد حلفا کہتا ہے کہ میرے لڑکے نے “ طلاق دیتا ہوں “ کہا تھا اور اس کے والد کی نسبت دو۲ ادمیوں نے کہا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں کہاتا اور زید کے والد نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص یعنی زید جولڑکا ہے میرا زہرہ بی بی کے والد کا نام نہ لیا جو بھولٹی تھا بلکہ زہرہ لعل محمد کو طلاق دیتا ہوں ۔ اور طلاق نامہ پانچ آدمیوں کے روبرو تحریر کیا گیا ان میں ایك آدمی یہ کہتا تھا کہ زیدسے جب کہا گیا کہ طلاق دے تو زید نے کہا “ ہوں دیتا ہوں “ اس صورت میں طلاق بائنہ ہوئی یا رجعی یا ں نہیں
الجواب :
سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زید اب طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے یا منکر ہے اگر اقرار کرتا ہے تو جیسی طلاق کو وہ مقر ہے ویسی ہوگئی رجعی یا بائن یا مغلظہ اور اگر منکر ہے تو ان بیانوں سے جو سوال میں لکھے گئے اگر واقع میں ایسے ہی میں اصلا کوئی طلاق ثابت نہیں اس کا یہ لفظ کہ “ میں تجھ کو طلاق دیتاہوں “ اس کا گواہ صرف ایك مرد ایك عورت اور وہ بھی اس کی عورت کی ماں اور طلاق نامہ کے یہ لفظ سوال میں ہیں کہ “ اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کو دیا “ اس سے طلاق نہیں ہوتی اس کا تو اتنا حاصل ہے کہ اسے طلاق دینے کےلئے کسی کو سپرد اور کیا اور اس باپ کا جو بیان ہے وہ بھی مثبت طلاق نہیں کہ پہلے مرد کے ساتھ مل کر نصاب کامل ہوجائے جب عورت کی طرف اشارہ نہیں بلکہ نام لیا اور لعل محمد کی بیٹی کہا اور وہ لعل محمد کی بیٹی نہیں تو اس کو طلاق نہیں ۔ پچھلے بیان میں اس کی طرف اضافت نہ سوال میں ہے نہ جواب میں اور طلاق نامہ لکھتے وقت کا یہ بیان ہے تومعنی ارادہ پر حمل واضح ہے غایت یہ کہ اگر وہ پہلا اور یہ پچھلا شخص ثقہ عادل ہوں تو زید سے حلف لیا جائے اگر حلفا کہہ دے کہ میرا ارادہ طلاق کانہ تھا تو ہرگز طلاق ثابت نہیں ہاں اگر نقل طلاق نامہ میں دوسرا لفظ “ کو “ قلم سائل سے زائد نکل گیا ہے اور اس میں یہ لکھا ہے کہ “ زہرہ کو تلاخ دیا “ اور اس طلاق نامہ کے لکھنے کا وہ مقر ہو یا دو۲گواہ عادل شرعی باقاعدہ شہادت دیں تو ایك طلاق رجعی ثابت ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۶ : ازشہر بریلی محلہ باغ احمد علی خاں ۳۰ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو غصہ کی حالت میں طلاق کے لفظ بولا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو ایك شخص کے سامنے کہا “ میں تجھے طلاق دیتا ہوں “ بعینہ یہی زید کی زوجہ اور خواشد امن کا کہنا ہے بعدہ ایك طلاق نامہ تحریر کیا گیا جس میں یہ عبارت درج تھی کہ اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کہہ دیا اور زید کا والد حلفا کہتا ہے کہ میرے لڑکے نے “ طلاق دیتا ہوں “ کہا تھا اور اس کے والد کی نسبت دو۲ ادمیوں نے کہا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں کہاتا اور زید کے والد نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص یعنی زید جولڑکا ہے میرا زہرہ بی بی کے والد کا نام نہ لیا جو بھولٹی تھا بلکہ زہرہ لعل محمد کو طلاق دیتا ہوں ۔ اور طلاق نامہ پانچ آدمیوں کے روبرو تحریر کیا گیا ان میں ایك آدمی یہ کہتا تھا کہ زیدسے جب کہا گیا کہ طلاق دے تو زید نے کہا “ ہوں دیتا ہوں “ اس صورت میں طلاق بائنہ ہوئی یا رجعی یا ں نہیں
الجواب :
سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زید اب طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے یا منکر ہے اگر اقرار کرتا ہے تو جیسی طلاق کو وہ مقر ہے ویسی ہوگئی رجعی یا بائن یا مغلظہ اور اگر منکر ہے تو ان بیانوں سے جو سوال میں لکھے گئے اگر واقع میں ایسے ہی میں اصلا کوئی طلاق ثابت نہیں اس کا یہ لفظ کہ “ میں تجھ کو طلاق دیتاہوں “ اس کا گواہ صرف ایك مرد ایك عورت اور وہ بھی اس کی عورت کی ماں اور طلاق نامہ کے یہ لفظ سوال میں ہیں کہ “ اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کو دیا “ اس سے طلاق نہیں ہوتی اس کا تو اتنا حاصل ہے کہ اسے طلاق دینے کےلئے کسی کو سپرد اور کیا اور اس باپ کا جو بیان ہے وہ بھی مثبت طلاق نہیں کہ پہلے مرد کے ساتھ مل کر نصاب کامل ہوجائے جب عورت کی طرف اشارہ نہیں بلکہ نام لیا اور لعل محمد کی بیٹی کہا اور وہ لعل محمد کی بیٹی نہیں تو اس کو طلاق نہیں ۔ پچھلے بیان میں اس کی طرف اضافت نہ سوال میں ہے نہ جواب میں اور طلاق نامہ لکھتے وقت کا یہ بیان ہے تومعنی ارادہ پر حمل واضح ہے غایت یہ کہ اگر وہ پہلا اور یہ پچھلا شخص ثقہ عادل ہوں تو زید سے حلف لیا جائے اگر حلفا کہہ دے کہ میرا ارادہ طلاق کانہ تھا تو ہرگز طلاق ثابت نہیں ہاں اگر نقل طلاق نامہ میں دوسرا لفظ “ کو “ قلم سائل سے زائد نکل گیا ہے اور اس میں یہ لکھا ہے کہ “ زہرہ کو تلاخ دیا “ اور اس طلاق نامہ کے لکھنے کا وہ مقر ہو یا دو۲گواہ عادل شرعی باقاعدہ شہادت دیں تو ایك طلاق رجعی ثابت ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۶ : ازشہر بریلی محلہ باغ احمد علی خاں ۳۰ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو غصہ کی حالت میں طلاق کے لفظ بولا
یعنی کہا حرامزادی تجھ کو میں نے طلاق دیا تو میرے گھر سے نکل جامیں تجھ کو نہیں رکھوں گا۔ تو اب زید کہتا ہے ہندہ کو میں نے بیشك طلاق دیا لیکن دوطلاق دی یاتین طلاق دیا اس وقت میری یاد نہیں ہے مگر اس جگہ میں اس وقت دوعورت تھی ایك زید کی میادوسری بہن یہ دونوں عورتیں کہتی ہیں زید نے اپنی بی بی کو ایك طلاق دیا اور حرامزادی میرے گھر سے نکل جا میں تجھ کو نہیں رکھوں گا اور ہندہ زید کی بیوی بھی یہی کہتی ہے۔ شرع شریف میں کیا حکم ہے طلاق واقع ہوا یا نہیں تو رجعی یا بائن یا طلاق مغلظہ بینواتوجروا زیادہ والسلام فقط۔
الجواب :
جب طلاق میں شك ہو کہ دو۲ تھی یا تین تو دو سمجھی جائیں گی جب تك گواہان شرعی سے زیادہ کا ثبوت نہ ہو
فی الاشباہ والدرالمختار والعقود الدریۃ وغیرھا لوشك اطلق واحدۃ او اکثر بنی علی الاقل ۔
اشباہ درمختار عقودریہ وغیرہا میں ہے کہ ایك طلاق یا زیادہ میں شك ہوتو کم عدد والی یقینی ہوگی۔ (ت)
زید نے اس لفظ سے کہ “ تو میرے گھر سے نکل جا “ اگر طلاق کی نیت کی تھی تو دو۲طلاقیں بائن پڑیں فان البائن یلحق الصریح والرجعی یصیر بائنا بلحوق البائن(بائن طلاق رجعی طلاق کو لاحق ہوسکتی ہے تو بائنہ کے لاحق پررجعی بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔ ت)ورنہ ایك طلاق رجعی پڑی
لان اخرجی ممایحتمل ردا فلایقع بہ بلانیۃ وان کانت الحال حال المذاکرۃ لتقدم التطلیق یقع کما نصواعلیہ۔
کیونکہ “ نکل جا “ یہ لفظ رد کا احتمال رکھتا ہے لہذا نیت کے بغیر اس سے طلاق نہ ہوگی اور اگر مذاکرہ طلاق کا حال جیسے پہلے طلاق دے دی ہو تو “ نکل جا “ سے طلاق واقع ہوگی جیسا کہ فقہاء نے اس پرتصریح کی ہے۔ (ت)
ہاں اگر یہ سارا جملہ کہ “ میں نے تجھ کو طلاق دی میرے گھر سے نکل جا “ دوبارہ کہا ان میں ایك بار بھی “ میرے گھر سے نکل جا “ سے نیت طلاق کی کی تو تین طلاقیں ہوگئیں ۔ واﷲتعالی اعلم بالصواب۔
الجواب :
جب طلاق میں شك ہو کہ دو۲ تھی یا تین تو دو سمجھی جائیں گی جب تك گواہان شرعی سے زیادہ کا ثبوت نہ ہو
فی الاشباہ والدرالمختار والعقود الدریۃ وغیرھا لوشك اطلق واحدۃ او اکثر بنی علی الاقل ۔
اشباہ درمختار عقودریہ وغیرہا میں ہے کہ ایك طلاق یا زیادہ میں شك ہوتو کم عدد والی یقینی ہوگی۔ (ت)
زید نے اس لفظ سے کہ “ تو میرے گھر سے نکل جا “ اگر طلاق کی نیت کی تھی تو دو۲طلاقیں بائن پڑیں فان البائن یلحق الصریح والرجعی یصیر بائنا بلحوق البائن(بائن طلاق رجعی طلاق کو لاحق ہوسکتی ہے تو بائنہ کے لاحق پررجعی بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔ ت)ورنہ ایك طلاق رجعی پڑی
لان اخرجی ممایحتمل ردا فلایقع بہ بلانیۃ وان کانت الحال حال المذاکرۃ لتقدم التطلیق یقع کما نصواعلیہ۔
کیونکہ “ نکل جا “ یہ لفظ رد کا احتمال رکھتا ہے لہذا نیت کے بغیر اس سے طلاق نہ ہوگی اور اگر مذاکرہ طلاق کا حال جیسے پہلے طلاق دے دی ہو تو “ نکل جا “ سے طلاق واقع ہوگی جیسا کہ فقہاء نے اس پرتصریح کی ہے۔ (ت)
ہاں اگر یہ سارا جملہ کہ “ میں نے تجھ کو طلاق دی میرے گھر سے نکل جا “ دوبارہ کہا ان میں ایك بار بھی “ میرے گھر سے نکل جا “ سے نیت طلاق کی کی تو تین طلاقیں ہوگئیں ۔ واﷲتعالی اعلم بالصواب۔
حوالہ / References
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
مسئلہ ۲۲۷ : محمد حسن از مدرسہ منظر اسلام بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ذیك میں کہ زید اپنی بی بی سے بولنا اور بوسہ لینا اور جماع کرنا اور مباشرت کرنا حرام سمجھتا ہے آیا طلاق واقع ہوگی یانہیں اور زید یہ بھی کہتا ہے کہ تمام عمر تومجھ پر حرام ہے طلاق واقع ہوئی یانہیں
الجواب :
نرے سمجھنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تك زبان سے نہ کہے اور اس کہنے سے کہ تومجھ پر حرام ہے طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے کل گئی بعد عدت اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے اور اگر اس شوہر سے نکاح چاہے تو عدت میں بھی ہوسکتا ہے اور بعد بھی۔
فی ردالمحتار تحت قولہ خلیۃ بریۃ حرام بائن الخ قولہ حرام سیأتی وقوع حرام بائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف سواء قال علی اولا الخ وتمام تحقیقۃ فیما علقناہ علیہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ماتن کے “ تواکیلی ہے توبری ہے تو حرام ہے طلاق بائن “ کے تحت لکھا ہے کہ ماتن کا قول “ حرام ہے “ عنقریب بیان آئے گا کہ اس ہمارے زمانے میں بغیر نیت بھی بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ طلاق کےلئے یہ لفظ عرف بن چکا ہے حرام کے ساتھ علی(مجھ پر)کہے یا نہ کہے الخ اسکی مکمل تحقیق اس پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۸تا۲۲۹ : از ڈاك خانہ سنواہ قادریہ ضلع چاٹگام جونیر مدرسہ مرسلہ مولوی جمال الدین صاحب ۷رمضان ۱۳۳۸ھ
(۱)اگر کسے زنے خودرادویا یك طلاق بائن دہد بعد ازاں تجدید عقد نما ید پش ثانیا مالك سہ طلاق گرددیانہ
(۲)درآن واحد سہ طالق معادادن وایقاعش نمودن از کدامی آیت وحدیث ثابت نگرددحضرت
(۱)اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایك یا دو بائنہ طلاقیں دی ہوں اور دوبارہ نکاح کرلیا ہوتو کیا وہ دوبارہ تین طلاقون کامالك قرار پائے گا یانہیں
(۲)ایك لفظ سے تین طلاقیں یا ایك وقت میں تین طلاقیں دینا کسی آیت یا حدیث سے ثابت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ذیك میں کہ زید اپنی بی بی سے بولنا اور بوسہ لینا اور جماع کرنا اور مباشرت کرنا حرام سمجھتا ہے آیا طلاق واقع ہوگی یانہیں اور زید یہ بھی کہتا ہے کہ تمام عمر تومجھ پر حرام ہے طلاق واقع ہوئی یانہیں
الجواب :
نرے سمجھنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تك زبان سے نہ کہے اور اس کہنے سے کہ تومجھ پر حرام ہے طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے کل گئی بعد عدت اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے اور اگر اس شوہر سے نکاح چاہے تو عدت میں بھی ہوسکتا ہے اور بعد بھی۔
فی ردالمحتار تحت قولہ خلیۃ بریۃ حرام بائن الخ قولہ حرام سیأتی وقوع حرام بائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف سواء قال علی اولا الخ وتمام تحقیقۃ فیما علقناہ علیہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ماتن کے “ تواکیلی ہے توبری ہے تو حرام ہے طلاق بائن “ کے تحت لکھا ہے کہ ماتن کا قول “ حرام ہے “ عنقریب بیان آئے گا کہ اس ہمارے زمانے میں بغیر نیت بھی بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ طلاق کےلئے یہ لفظ عرف بن چکا ہے حرام کے ساتھ علی(مجھ پر)کہے یا نہ کہے الخ اسکی مکمل تحقیق اس پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۸تا۲۲۹ : از ڈاك خانہ سنواہ قادریہ ضلع چاٹگام جونیر مدرسہ مرسلہ مولوی جمال الدین صاحب ۷رمضان ۱۳۳۸ھ
(۱)اگر کسے زنے خودرادویا یك طلاق بائن دہد بعد ازاں تجدید عقد نما ید پش ثانیا مالك سہ طلاق گرددیانہ
(۲)درآن واحد سہ طالق معادادن وایقاعش نمودن از کدامی آیت وحدیث ثابت نگرددحضرت
(۱)اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایك یا دو بائنہ طلاقیں دی ہوں اور دوبارہ نکاح کرلیا ہوتو کیا وہ دوبارہ تین طلاقون کامالك قرار پائے گا یانہیں
(۲)ایك لفظ سے تین طلاقیں یا ایك وقت میں تین طلاقیں دینا کسی آیت یا حدیث سے ثابت
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۴
عمر رضی اﷲتعالی عنہ ایں حکم از کجا آوردند واجماع بروئے چرانمودند واگر خلافش کند وحکم یك طالق دہد مواخذہ خواہد شد یانہ چرا
نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲتعالی عنہ کہاں سے یہ حکم لائے اور اس پراجماع کیوں ہو اگر کوئی ان مذکورہ تین کو ایك طلاق قرار دے تو مواخذہ ہوگا یانہیں تو کیوں
الجواب :
(۱)مالك سہ طلاق نہ شود ہر چہ باقی ماندہ است ہموں بدست اوست۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲)خلافش نہ کند مگر مخالف سواداعظم وحکم عمر حکم خداست قال اﷲتعالی و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃ الخفاء الراشدین وعضواعلیھا بالنواجذ وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر اما آنکہ از کنا آور د ا از انجا آوردہ کہ حق سبحنہ ہم در حق عمر فرمودہ
لعلمه الذین یستنبطونه منهم ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۱)تین طلاقوں کا مالك نہ ہوگا بلکہ باقیماندہ طالق کامالك رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲)حضرت عمر رضی اﷲتعالی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کی مخالف ہی کرے گا کیونکہ عمررضی اﷲتعالی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کا مخالف ہی کرے گا کیونکہ عمر فاروق کا حکم اﷲ تعالی کی ترجمانی ہے اﷲتعالی نے فرمایا : “ جو کچھ سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔ “ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : میرے بعد ابوبکر اور عمر رضی اﷲتعالی عنہماکی پیروی کرو۔ “ لیکن یہ کہ عمر فاروق حکم کہاں سے لائے تو وہاں سے لائے جہاں اﷲتعالی نے عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ کے متعلق فرمایا ہے حکم کو معلوم کرلیں گے وہ لوگ جو استنباط کریں تم سے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲتعالی عنہ کہاں سے یہ حکم لائے اور اس پراجماع کیوں ہو اگر کوئی ان مذکورہ تین کو ایك طلاق قرار دے تو مواخذہ ہوگا یانہیں تو کیوں
الجواب :
(۱)مالك سہ طلاق نہ شود ہر چہ باقی ماندہ است ہموں بدست اوست۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲)خلافش نہ کند مگر مخالف سواداعظم وحکم عمر حکم خداست قال اﷲتعالی و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃ الخفاء الراشدین وعضواعلیھا بالنواجذ وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر اما آنکہ از کنا آور د ا از انجا آوردہ کہ حق سبحنہ ہم در حق عمر فرمودہ
لعلمه الذین یستنبطونه منهم ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۱)تین طلاقوں کا مالك نہ ہوگا بلکہ باقیماندہ طالق کامالك رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۲)حضرت عمر رضی اﷲتعالی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کی مخالف ہی کرے گا کیونکہ عمررضی اﷲتعالی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کا مخالف ہی کرے گا کیونکہ عمر فاروق کا حکم اﷲ تعالی کی ترجمانی ہے اﷲتعالی نے فرمایا : “ جو کچھ سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔ “ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : میرے بعد ابوبکر اور عمر رضی اﷲتعالی عنہماکی پیروی کرو۔ “ لیکن یہ کہ عمر فاروق حکم کہاں سے لائے تو وہاں سے لائے جہاں اﷲتعالی نے عمر فاروق رضی اﷲتعالی عنہ کے متعلق فرمایا ہے حکم کو معلوم کرلیں گے وہ لوگ جو استنباط کریں تم سے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۷
سُنن ابن ماجہ باب اتباعِ سنت الخفاء الراشدین المہدیین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵
مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفہ بن الیمان عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بیروت ۵ / ۳۸۲
القرآن ۴ / ۸۳
سُنن ابن ماجہ باب اتباعِ سنت الخفاء الراشدین المہدیین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵
مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفہ بن الیمان عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بیروت ۵ / ۳۸۲
القرآن ۴ / ۸۳
مسئلہ ۲۳۰ : از قصبہ کوردرکوٹ ضلع اٹاوہ مسئولہ محی الدین احمدصاحب ۲۴شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور وہ اس کے گھر سے باہر ایك ہفتہ رہی اندر ایك ہفتہ کے پھر اس نے اس کو اپنے گھر میں رکھ لیا او وہ اس کے گھر میں مثل زوجہ موجود ہے اس کے واسطے شرعی کیا حکم ہے
الجواب :
اگر عورت کو طلاق دے کرہفتہ کے بعد پھر رکھ لیا اگر تین طلاقیں دی تھی فاسق وزانی ہوا یونہی اگر طلاق بائن دی تھی اور دوبارہ نکاح نہ کیا حرامکاری ہوا اور اگرطلاق بائن تھی اور نکاح کرکے رکھایا طلاق رجعی تھی اور بلا نکاح واپس کرلیا تو گناہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱ : ۸ رجب۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ کے باپ اور بھائی اور ماں اور دیگر ورثابہ نیت اس امر کے طلاق مشہور کرتے ہیں کہ جو کچھ جائداد شوہر کی ہے اس کو چھین کراور شوہر سے زوجیت کوچھڑا کر بجائے دیگر اس کا عقد کریں اور زر شوہر سےنفع اٹھاویں بموجب شرع کے ایسے شخصوں کے واسطے کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
اگر واقع میں اس نے طلاق نہ دی یہ لوگ دانستہ جھوٹ باندہ کر طلاق مشہور کرتے ہیں تاکہ عورت کو اس کے شوہر سے چھڑالیں تو سخت عذاب ولعنت الہی کے مستحق ہیں والعیاذباﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ ت)قال اﷲتعالی :
فیتعلمون منهما ما یفرقون به بین المرء و زوجه ۔
اورسیکھتے ہیں ان دونوں سے وہ جس سے مرد اور اسکی بیوی میں جدائی کرسکیں ۔ (ت)
رسول اﷲصلی تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا او عبدا علی سیدہ ۔ رواہ
وہ شخص ہم میں سے نہیں جوکسی کی بیوی کو اس کے خلاف بنائے یا کسی غلام کو اپنے آقا کے خلاف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور وہ اس کے گھر سے باہر ایك ہفتہ رہی اندر ایك ہفتہ کے پھر اس نے اس کو اپنے گھر میں رکھ لیا او وہ اس کے گھر میں مثل زوجہ موجود ہے اس کے واسطے شرعی کیا حکم ہے
الجواب :
اگر عورت کو طلاق دے کرہفتہ کے بعد پھر رکھ لیا اگر تین طلاقیں دی تھی فاسق وزانی ہوا یونہی اگر طلاق بائن دی تھی اور دوبارہ نکاح نہ کیا حرامکاری ہوا اور اگرطلاق بائن تھی اور نکاح کرکے رکھایا طلاق رجعی تھی اور بلا نکاح واپس کرلیا تو گناہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱ : ۸ رجب۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ کے باپ اور بھائی اور ماں اور دیگر ورثابہ نیت اس امر کے طلاق مشہور کرتے ہیں کہ جو کچھ جائداد شوہر کی ہے اس کو چھین کراور شوہر سے زوجیت کوچھڑا کر بجائے دیگر اس کا عقد کریں اور زر شوہر سےنفع اٹھاویں بموجب شرع کے ایسے شخصوں کے واسطے کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
اگر واقع میں اس نے طلاق نہ دی یہ لوگ دانستہ جھوٹ باندہ کر طلاق مشہور کرتے ہیں تاکہ عورت کو اس کے شوہر سے چھڑالیں تو سخت عذاب ولعنت الہی کے مستحق ہیں والعیاذباﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ ت)قال اﷲتعالی :
فیتعلمون منهما ما یفرقون به بین المرء و زوجه ۔
اورسیکھتے ہیں ان دونوں سے وہ جس سے مرد اور اسکی بیوی میں جدائی کرسکیں ۔ (ت)
رسول اﷲصلی تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا او عبدا علی سیدہ ۔ رواہ
وہ شخص ہم میں سے نہیں جوکسی کی بیوی کو اس کے خلاف بنائے یا کسی غلام کو اپنے آقا کے خلاف
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۰۲
المستدرك للحاکم باب لیس منّامن خبب امرأۃ علٰی زوجہا الخ دارافکر بیروت ۲ / ۱۹۶ ، سنن ابوداؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
المستدرك للحاکم باب لیس منّامن خبب امرأۃ علٰی زوجہا الخ دارافکر بیروت ۲ / ۱۹۶ ، سنن ابوداؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
ابوداؤد والنسائی والحاکم بسند صحیح وابن حبان فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ وھو عند احمد بسند صحیح والحاکم وقال صحیح واقرہ والبزاروابن حبان عن بریدۃ وعن الطبرانی فی الاوسط والصغیر عن ابن عمر وعند ابی یعلی والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم۔
کرے۔ اس کو ابوداؤد نسائی اور حاکم نے بسند صحیح اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا اور یہ امام احمد کے ہاں صحیح سند اور امام حاکم نے کہا صحیح ہے اور اس کو انہوں نے ثابت قرار دیا اور بزار اورابن حبان نے بریدہ رضی اﷲتعالی عنہ سے اورطبرانی نے اوسط اور صغیرمیں ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہ سے اور ابویعلی کے ہاں اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت کیا۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۲ : ازبیجناتھ باڑہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بیجناتھ باڑہ ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضلع رائے پور میں ایك موروثی قاضی نے اپنی بی بی کو شرعی طور پر طلاق دی اور طلاق دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا حتی کہ اوس کے کپڑے وغیرہ بھی دے دئے اور اپنے یہاں سے اس کی ماں کے گھر پہنچادیا بعض بعض باشندگان رائے پور نے بغرض تحقیق اس بات کے کہ طلاق دی یانہیں جلسہ کیا قاضی نے اس جلسہ میں بھی مکرر سہ کرر ان الفاظ سے بیان کی کہ میں انہوں نے بھی اپنے طور پر بہت کچھ سمجھایا تقریبا چار برس کے بعد عورت کے وارثوں نے مہر کا دعوی کیا جب نوبت وارنٹ کی پہنچی تو قاضی اوردوسرے لوگوں نے جن کی یہ منشاتھی کہ کسی طرح سے بس اس میں میل ہوجائے کسی دوسری عورت کے ذریعہ اس عورت مطلقہ کو ملادیاکچہری کا جگھڑا تو عورت کے آنے پر طے ہوا اب عدالت شرعی کیا حکم فرماتی ہے آیا طلاق ہوئی یانہیں درصورت طلاق ہونے کے یہ کس صورت میں اپنے نکاح میں لاسکتا ہے اور یہ شخص امامت اور قضاء ت کرسکتا ہے یانہیں اور دوسرا شخص اس کے حکم سے نیابت کرسکتا ہے یانہیں اور جن اشخاص نے عورت کو راضی کرنے اور بلانے میں مددکی ان کے واسطے کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
جبکہ قاضی نے اپنی عورت کو طلاق دی طلاق ہوگئی اس میں تو اصلا شبہہ نہیں پھر اگر طلاق
کرے۔ اس کو ابوداؤد نسائی اور حاکم نے بسند صحیح اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا اور یہ امام احمد کے ہاں صحیح سند اور امام حاکم نے کہا صحیح ہے اور اس کو انہوں نے ثابت قرار دیا اور بزار اورابن حبان نے بریدہ رضی اﷲتعالی عنہ سے اورطبرانی نے اوسط اور صغیرمیں ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہ سے اور ابویعلی کے ہاں اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت کیا۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۲ : ازبیجناتھ باڑہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بیجناتھ باڑہ ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضلع رائے پور میں ایك موروثی قاضی نے اپنی بی بی کو شرعی طور پر طلاق دی اور طلاق دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا حتی کہ اوس کے کپڑے وغیرہ بھی دے دئے اور اپنے یہاں سے اس کی ماں کے گھر پہنچادیا بعض بعض باشندگان رائے پور نے بغرض تحقیق اس بات کے کہ طلاق دی یانہیں جلسہ کیا قاضی نے اس جلسہ میں بھی مکرر سہ کرر ان الفاظ سے بیان کی کہ میں انہوں نے بھی اپنے طور پر بہت کچھ سمجھایا تقریبا چار برس کے بعد عورت کے وارثوں نے مہر کا دعوی کیا جب نوبت وارنٹ کی پہنچی تو قاضی اوردوسرے لوگوں نے جن کی یہ منشاتھی کہ کسی طرح سے بس اس میں میل ہوجائے کسی دوسری عورت کے ذریعہ اس عورت مطلقہ کو ملادیاکچہری کا جگھڑا تو عورت کے آنے پر طے ہوا اب عدالت شرعی کیا حکم فرماتی ہے آیا طلاق ہوئی یانہیں درصورت طلاق ہونے کے یہ کس صورت میں اپنے نکاح میں لاسکتا ہے اور یہ شخص امامت اور قضاء ت کرسکتا ہے یانہیں اور دوسرا شخص اس کے حکم سے نیابت کرسکتا ہے یانہیں اور جن اشخاص نے عورت کو راضی کرنے اور بلانے میں مددکی ان کے واسطے کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
جبکہ قاضی نے اپنی عورت کو طلاق دی طلاق ہوگئی اس میں تو اصلا شبہہ نہیں پھر اگر طلاق
بائن دی تھی یا عدت گزرکر بائن ہوگئی تو بے نکاح جدید اسی عورت سے مل جانا حرام قطعی تھا اور اگر تین طلاقیں دے چکا جب تو بے حلالہ نکاح جدید بھی ناممکن تھااور یہ خیال کہ غصہ میں مطلقا طلاق نہیں ہوتی محض جاہلانہ خیال ہے طلاق اکثر غصہ ہی میں ہوتی ہے رضامندی میں کون چھوڑتا ہے پس دو۲ صورت سابقہ میں اگر قاضی نے بے نکاح جدید اور صورت اخیرہ میں بے حلالہ ونکاح اس عورت سے میل کرلیا تو وہ او اس کے ساتھی جتنے لوگ اس ملانے میں شریك ومددگار تھے سب مرتکب حرام وفاسق ہوئے فاسق امام بنانے کے لائق نہیں یہاں تك کہ جو اسےامامت پر باقی رکھے گا گنہگار ہوگا کما نص علیہ فی ردالمحتار عن الغنیۃ عن الحجۃ(جیسا کہ ردالمحتار میں غنیہ کے حوالے سے حجہ سے صراحتا نقل کیا۔ ت)یونہی وہ عہدہ قضائے شرعی کا بھی مستحق نہیں (کرم خردوہونے کی وجہ سے عبارت ختم ہوگئی ہے۱۲)
فی الدرالمختار الفاسق لایقلد وجوبا ویأثم مقلدہ بہ یفتی اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے ضروری ہے کہ فاسق کو قاضی کاعہدہ نہ سونپا جائے اس کو قاضی کرنیوالا گنہگار ہوتا ہے اسی پر فتوی ہے اھ ملخصا(ت)
اور وہ خود ان عہدوں پر نہ رکہا جائے دوسرے کونائب کیاکرے گا اور یہ قضائے عرف عینی نکاح خوانی جسے عہدہ قضابولتے ہیں یہ بھی فاسق کو تفویض نہ کرنا چاہئے کہ نکاح خاص امردین ہے اور عمر بھر صدہا احکام دینیہ اس پر متفرع ہوتے رہتے ہیں اور فاسق کا امور دینیہ میں کچھ اعتبار نہیں نہ اس پر کسی بات میں اطمینان ولہذاقرآن عظیم میں ارشاد ہوا :
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا الایۃ۔
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تواس کی خوب چھان بین کرلے الآیۃ(ت)
مسئلہ ۲۳۳ : ازبھدرك ضلع بالسیر ملك اوڑیسہ مسئولہ ضمیر خاں نگھا ۸شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضمیر خاں نامی ایك شخص نے اپنی حقیقی سالی سے زنا کا مرتکب ہوا اسکے شوہر نے ضمیر پر کچہری میں مقدمہ دائر کیا بعدمقدمہ اس کی سالی کو اسکے شوہر نے باقاعدہ طلاق دے دی لیکن جس وقت مقدمہ چل رہا تھا ضمیر کی زوجہ کے ضمیر کو سخت سست کہنے سے غصہ میں اپنی زوجہ کوتین طلاق دے چکا تھاجب مقدمہ سے ضمیرنے خلاص پایا اس نے اپنی سالی سے
فی الدرالمختار الفاسق لایقلد وجوبا ویأثم مقلدہ بہ یفتی اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے ضروری ہے کہ فاسق کو قاضی کاعہدہ نہ سونپا جائے اس کو قاضی کرنیوالا گنہگار ہوتا ہے اسی پر فتوی ہے اھ ملخصا(ت)
اور وہ خود ان عہدوں پر نہ رکہا جائے دوسرے کونائب کیاکرے گا اور یہ قضائے عرف عینی نکاح خوانی جسے عہدہ قضابولتے ہیں یہ بھی فاسق کو تفویض نہ کرنا چاہئے کہ نکاح خاص امردین ہے اور عمر بھر صدہا احکام دینیہ اس پر متفرع ہوتے رہتے ہیں اور فاسق کا امور دینیہ میں کچھ اعتبار نہیں نہ اس پر کسی بات میں اطمینان ولہذاقرآن عظیم میں ارشاد ہوا :
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا الایۃ۔
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تواس کی خوب چھان بین کرلے الآیۃ(ت)
مسئلہ ۲۳۳ : ازبھدرك ضلع بالسیر ملك اوڑیسہ مسئولہ ضمیر خاں نگھا ۸شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضمیر خاں نامی ایك شخص نے اپنی حقیقی سالی سے زنا کا مرتکب ہوا اسکے شوہر نے ضمیر پر کچہری میں مقدمہ دائر کیا بعدمقدمہ اس کی سالی کو اسکے شوہر نے باقاعدہ طلاق دے دی لیکن جس وقت مقدمہ چل رہا تھا ضمیر کی زوجہ کے ضمیر کو سخت سست کہنے سے غصہ میں اپنی زوجہ کوتین طلاق دے چکا تھاجب مقدمہ سے ضمیرنے خلاص پایا اس نے اپنی سالی سے
وعدہ کیا تھا اگرمیں مقدمہ سے خلاص ہوا تو تجھے اپنے مکان میں رکھوں گا لہذااپنی سالی کی زبان بندی سے مقدمہ سے مخلص پایا اور اپنی سالی کو اپنے مکاں میں لے آیا اوپر کے بیان کے مطابق ضمیر کو کاروائی کرنے سے بستی والوں نے جبر کیا اور ایك جلسہ کرکے کہا تو چاہے چھوٹی کو نکال دے یا بڑی کو طلاق دے اور چھوٹی سے نکاح کرلے اس وقت ضمیر نے اپنی منکوحہ کو طلاق ثلثہ دیا اوراپنی سالی سے نکاح کرلیا ایسی حالت میں کیا حکم شرع شریف ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
اس کی پہلی زوجہ کو تین طلاقیں ہوگئی اسکی عدت گزرنے کے بعد نکاح کیا ہے نیز سالی کو اس کے شوہر نے جو طلاق دی اس کی عدت بھی گزرنے کے بعد تو یہ نکاح صحیح ہوگیا اوراگر دونوں عدتوں میں سے کوئی عدت باقی تھی تو حرام فاسد ہوا اس پر فرض ہے کہ اس دوسری کو بھی چھوڑدے جب دونوں بہنوں کی عدتیں گزرجائیں اس دوسری سے نکاح کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۲۳۴ : از دلیل گنج ڈاك خانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر یار خان صاحب وحافظ سید میر صاحب ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت جوغیر جگہ کی رہنے والی تھی اس کی ماں ایك عرصہ سے یہاں آباد تھی جب اس کی ماں بیمار ہوئی تو اس کے دیکھنے کی غرض وہ عورت یعنی اس کی لڑکی دلیل گنج آئی اس کی ماں اس عرصہ میں مرگئی اسکی دو۲ بہنیں بھی دلیل گنج میں موجود ہیں جن کی شادی بھی یہیں ہوئے بعد انتقال اس کی ماں کے اس کے بہنوئی کے بھائی نے اپنے گھر میں رکھ لیا کچھ عرصہ تك وہ اپنے بہنوئی کے بھائی کے یہاں رہی پھر اس کے خاوند کو بلوایا اور چودہ۱۴ روپے دے کر اس کے خاوند سے طلاق دلوائی اب وہ بدستور اس شخص کے یہاں موجود ہے یہ فیصلہ جن پنچوں نے کیا ہے آیا صحیح ہے اور ان شخصوں کی بابت کیا حکم ہے جنہوں نے یہ پنجایت کی اور اس کی نسبت جس کے گھر میں غیر نکاحی عورت موجود ہے اب اس کا نکاح بعد عدت کرنے کا ارادہ ہے آیا وہ نکاح صحیح ہوگا یاغلط
الجواب :
طلاق ہوگئی بعد عدت نکاح صحیح ہوگا اور یہ جس نے بلا نکاح اسے اپنے یہاں رکھا ہے اگر کسی امر ناجائز کا اس کے ساتھ مرتکب ہوا ہے اگر چہ اسی قدر کہ تنہا مکان میں ایك منٹ کے لئے ساتھ ہونا تو فاسق ہے مستحق عذاب ہ اور چودہ۱۴روپے اگر چہ بطور مالکانہ نہ دئے گئے جیسا بعض رذیل جاہلوں میں رواج ہے تو یہ لینا دینا دونوں حرام اور وہ فیصلہ کرنے والے سب مبتلائے آثام اور اگر مردوزن میں اتفاق
الجواب :
اس کی پہلی زوجہ کو تین طلاقیں ہوگئی اسکی عدت گزرنے کے بعد نکاح کیا ہے نیز سالی کو اس کے شوہر نے جو طلاق دی اس کی عدت بھی گزرنے کے بعد تو یہ نکاح صحیح ہوگیا اوراگر دونوں عدتوں میں سے کوئی عدت باقی تھی تو حرام فاسد ہوا اس پر فرض ہے کہ اس دوسری کو بھی چھوڑدے جب دونوں بہنوں کی عدتیں گزرجائیں اس دوسری سے نکاح کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۲۳۴ : از دلیل گنج ڈاك خانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر یار خان صاحب وحافظ سید میر صاحب ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت جوغیر جگہ کی رہنے والی تھی اس کی ماں ایك عرصہ سے یہاں آباد تھی جب اس کی ماں بیمار ہوئی تو اس کے دیکھنے کی غرض وہ عورت یعنی اس کی لڑکی دلیل گنج آئی اس کی ماں اس عرصہ میں مرگئی اسکی دو۲ بہنیں بھی دلیل گنج میں موجود ہیں جن کی شادی بھی یہیں ہوئے بعد انتقال اس کی ماں کے اس کے بہنوئی کے بھائی نے اپنے گھر میں رکھ لیا کچھ عرصہ تك وہ اپنے بہنوئی کے بھائی کے یہاں رہی پھر اس کے خاوند کو بلوایا اور چودہ۱۴ روپے دے کر اس کے خاوند سے طلاق دلوائی اب وہ بدستور اس شخص کے یہاں موجود ہے یہ فیصلہ جن پنچوں نے کیا ہے آیا صحیح ہے اور ان شخصوں کی بابت کیا حکم ہے جنہوں نے یہ پنجایت کی اور اس کی نسبت جس کے گھر میں غیر نکاحی عورت موجود ہے اب اس کا نکاح بعد عدت کرنے کا ارادہ ہے آیا وہ نکاح صحیح ہوگا یاغلط
الجواب :
طلاق ہوگئی بعد عدت نکاح صحیح ہوگا اور یہ جس نے بلا نکاح اسے اپنے یہاں رکھا ہے اگر کسی امر ناجائز کا اس کے ساتھ مرتکب ہوا ہے اگر چہ اسی قدر کہ تنہا مکان میں ایك منٹ کے لئے ساتھ ہونا تو فاسق ہے مستحق عذاب ہ اور چودہ۱۴روپے اگر چہ بطور مالکانہ نہ دئے گئے جیسا بعض رذیل جاہلوں میں رواج ہے تو یہ لینا دینا دونوں حرام اور وہ فیصلہ کرنے والے سب مبتلائے آثام اور اگر مردوزن میں اتفاق
کی کوئی صورت نہ تھی اور عورت نے روپے دے کر طلاق لی یا اس کی طرف سے کسی اور نے دئے تو یہ صورت خلع میں آجائے اور جس کی طرف سے زیادتی ہے اس پر الزام رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۵ : ازموضع آواں ڈاکخانہ بیگووال ریاست کپور تھلہ ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید اپنی منکوحہ سے نو یادس ۱۰ سال سے جدا ہوگیا البتہ خط ارسال کرتا رہا اس کی منکوحہ روز نکاح سے اپنے والدین کے گھر میں رہی اب ایك سال سے زید کی منکوحہ نے خود زاپنا دوسرے خاوند بکر سے نکاح کرلیا اس کے نطفہ سے ایك لڑکا پیدا ہوا لیکن اس کے پہلے خاوند مسمی زید کی خبر اور خط آتے رہتے ہیں اب عرض یہ ہےکہ نکاح جائز ہے اور اولاد اس عورت سے بکر نے جو حاصل کی طریقہ جائز ہے اور وہ اولاد شرعا حلال ہےاور بکر امام مسجد بھی ہے اور اس نے یہ ناجائز کام کیاتو جو شخص اس کے پیچھے نمازیں ادا کرتے رہے کیا وہ درست ہیں اور اگر درست نہیں تو انہیں کیا تعزیر ہونی چاہئے
الجواب :
بکر نے جو اس عورت سے نکاح کیا اگر اسے معلوم نہ تھا کہ یہ دوسرے کی منکوحہ ہے تو یہ نکاح اس کے حق میں گناہ نہ ہوا اور اس نکاح سے اگر چھ۶مہینے یا زیادہ کے بعد بچہ پیدا ہوا تو اسے ولدالزنا نہ کہیں گے اور وہ اسی بکر کا ہے
علی مارجع الیہ الامام وعلیہ الفتوی تجنیس خانیہ سراجیۃ ھندیۃ وغیرہا۔
امام صاحب نے جس طرف رجوع فرمایا اس کی بناء پر اور اسی پر فتوی ہے۔ تجنیس خانیہ سراجیہ ہندیہ وغیرہ۔ (ت)
پھر اگر اسے اب تك نہیں معلوم تو اس پر الزام نہیں نہ اس وجہ سے اس کی امامت میں کوئی حرج اور اگر بعد کو معلوم ہوگیا اور عورت کو نہیں چھوڑتا تو زانی ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھی تو پھیرنی واجب اور اگر وقت نکاح ہی سے اسے معلوم تھا کہ یہ دوسرے کی منکوحہ ہے اور دانستہ نکاح کیا تو نکاح نہ ہوا زنائے محض ہوا بہ یفتی ذخیرۃ بزازیۃ فتح بحر(اسی پر فتوی ہے ذخیرہ بزازیہ فتح بحر۔ ت)اور اس صورت میں لڑگا کا زید کاہے۔ نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بچہ شوہر کا اور زانی کو پھتر واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۵ : ازموضع آواں ڈاکخانہ بیگووال ریاست کپور تھلہ ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید اپنی منکوحہ سے نو یادس ۱۰ سال سے جدا ہوگیا البتہ خط ارسال کرتا رہا اس کی منکوحہ روز نکاح سے اپنے والدین کے گھر میں رہی اب ایك سال سے زید کی منکوحہ نے خود زاپنا دوسرے خاوند بکر سے نکاح کرلیا اس کے نطفہ سے ایك لڑکا پیدا ہوا لیکن اس کے پہلے خاوند مسمی زید کی خبر اور خط آتے رہتے ہیں اب عرض یہ ہےکہ نکاح جائز ہے اور اولاد اس عورت سے بکر نے جو حاصل کی طریقہ جائز ہے اور وہ اولاد شرعا حلال ہےاور بکر امام مسجد بھی ہے اور اس نے یہ ناجائز کام کیاتو جو شخص اس کے پیچھے نمازیں ادا کرتے رہے کیا وہ درست ہیں اور اگر درست نہیں تو انہیں کیا تعزیر ہونی چاہئے
الجواب :
بکر نے جو اس عورت سے نکاح کیا اگر اسے معلوم نہ تھا کہ یہ دوسرے کی منکوحہ ہے تو یہ نکاح اس کے حق میں گناہ نہ ہوا اور اس نکاح سے اگر چھ۶مہینے یا زیادہ کے بعد بچہ پیدا ہوا تو اسے ولدالزنا نہ کہیں گے اور وہ اسی بکر کا ہے
علی مارجع الیہ الامام وعلیہ الفتوی تجنیس خانیہ سراجیۃ ھندیۃ وغیرہا۔
امام صاحب نے جس طرف رجوع فرمایا اس کی بناء پر اور اسی پر فتوی ہے۔ تجنیس خانیہ سراجیہ ہندیہ وغیرہ۔ (ت)
پھر اگر اسے اب تك نہیں معلوم تو اس پر الزام نہیں نہ اس وجہ سے اس کی امامت میں کوئی حرج اور اگر بعد کو معلوم ہوگیا اور عورت کو نہیں چھوڑتا تو زانی ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھی تو پھیرنی واجب اور اگر وقت نکاح ہی سے اسے معلوم تھا کہ یہ دوسرے کی منکوحہ ہے اور دانستہ نکاح کیا تو نکاح نہ ہوا زنائے محض ہوا بہ یفتی ذخیرۃ بزازیۃ فتح بحر(اسی پر فتوی ہے ذخیرہ بزازیہ فتح بحر۔ ت)اور اس صورت میں لڑگا کا زید کاہے۔ نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بچہ شوہر کا اور زانی کو پھتر واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث بن عفان دارالفکر بیروت ۱ / ۵۹ ، کنز العمال حدیث ١٢٩١٧ تراث الاسلامی حلب بیروت ۵ / ۲۹۳
مسئلہ۲۳۶ : ازرائے پور ممالك متوسط محلہ بیجناتھ بارہ مرسلہ منشی محمد اسحق صاحب ۲۹جمادی الآخرہ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو عورت مطلقہ بطلاق بائن غیر مغلظہ ہے تو اس کانکاح بعد عدت اس کے زوج سے تو ہوسکتا ہے لیکن جس صورت میں کہ وہ اپنے زوج سے راضی نہ ہو بعد عدت بائن کسی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے عند الشرع یا نہیں بینواتوجروا(بیان کرواجرپاؤ۔ ت)
الجواب :
شوہرسے تو اسی وقت نکاح ہوسکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں ہاں دوسرے شخص سے بعد عدت گزرنے کے کرسکتی ہے جس عورت پر طلاق بائن ہو وہ فورا طلاق پڑتے ہیں خود مختار ہوجاتی ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے شوہر اول سے نکاح کرنے پر مجبور نہیں ہوسکتی
فی الھندیۃ عن الھدایۃ اذاکان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا الخ وفیھا عن الفتح حکمہ وقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن اھ وفی الدرالمختارا لانھا لاتملك نفسھاالابالبائن اھ وفی العقود الدریۃ وقع علیہ طلقۃ بائنۃ ملکت بھا نفسہا وحیث انقضت عدتھا صارت اجنبیۃ اھ ملخصا والمسائل کلھا واضحۃ شھیرۃ معلومۃ۔ وا ﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں ہدایہ سے منقول ہے کہ جب طلاق بائنہ ہو اور تین سے کم ہوں تو خاوند کو عدت کے اندر اور ختم ہونے پر دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگاالخ اور ہندیہ میں فتح سے منقول ہے کہ طلاق کا حکم یہ ہے کہ رجعی ہوتوعدت ختم ہوجانے پر اور بائنہ ہوتو عدت ختم ہوئے بغیر بھی جدائی ہوجائے گی اھ درمختار میں ہے کہ بائنہ طلاق سے بیوی نکاح کے لئے خود مختار ہوجاتی ہے اھ عقوددریہ میں ہے کہ بائنہ طلاق واقع ہوجانے پر اپنے آپ کی مالك ہوجاتی ہے اور عدت ختم ہوجانے پر وہ خاوندکیلئے اجنبی بن جاتی ہے ملخصا یہ تمام مسائل مشہور اور واضح طور پر معلوم ہیں ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو عورت مطلقہ بطلاق بائن غیر مغلظہ ہے تو اس کانکاح بعد عدت اس کے زوج سے تو ہوسکتا ہے لیکن جس صورت میں کہ وہ اپنے زوج سے راضی نہ ہو بعد عدت بائن کسی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے عند الشرع یا نہیں بینواتوجروا(بیان کرواجرپاؤ۔ ت)
الجواب :
شوہرسے تو اسی وقت نکاح ہوسکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں ہاں دوسرے شخص سے بعد عدت گزرنے کے کرسکتی ہے جس عورت پر طلاق بائن ہو وہ فورا طلاق پڑتے ہیں خود مختار ہوجاتی ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے شوہر اول سے نکاح کرنے پر مجبور نہیں ہوسکتی
فی الھندیۃ عن الھدایۃ اذاکان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا الخ وفیھا عن الفتح حکمہ وقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن اھ وفی الدرالمختارا لانھا لاتملك نفسھاالابالبائن اھ وفی العقود الدریۃ وقع علیہ طلقۃ بائنۃ ملکت بھا نفسہا وحیث انقضت عدتھا صارت اجنبیۃ اھ ملخصا والمسائل کلھا واضحۃ شھیرۃ معلومۃ۔ وا ﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں ہدایہ سے منقول ہے کہ جب طلاق بائنہ ہو اور تین سے کم ہوں تو خاوند کو عدت کے اندر اور ختم ہونے پر دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگاالخ اور ہندیہ میں فتح سے منقول ہے کہ طلاق کا حکم یہ ہے کہ رجعی ہوتوعدت ختم ہوجانے پر اور بائنہ ہوتو عدت ختم ہوئے بغیر بھی جدائی ہوجائے گی اھ درمختار میں ہے کہ بائنہ طلاق سے بیوی نکاح کے لئے خود مختار ہوجاتی ہے اھ عقوددریہ میں ہے کہ بائنہ طلاق واقع ہوجانے پر اپنے آپ کی مالك ہوجاتی ہے اور عدت ختم ہوجانے پر وہ خاوندکیلئے اجنبی بن جاتی ہے ملخصا یہ تمام مسائل مشہور اور واضح طور پر معلوم ہیں ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ومایتصل بہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۳۔ ۴۷۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۸
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ / ۳۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۸
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ / ۳۵
مسئلہ ۲۳۷ : ازموضع لال پور ڈاکخانہ موہن پور بنگال مرسلہ منیر الدین احمد لالپوری کمر لوی ۸شوال ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ شرك پر عین اعتقادرکھے اور بتخانے میں سجدہ وغیرہ کرنے سے اپنی بی بی کے نکاح سے خارج ہوگیا وہ اگر توبہ کرکے مسلمان ہوجائے بی بی مذکورہ سے نکاح کرے تو حلالہ کرے یابغیر حلالہ کے نکاح درست ہے
الجواب :
جوتین طلاق دے چکا ہو وہ یا جورویا دونوں اگر قہار کی لعنت اپنے سرلینے کو مرتد مشرک بت پرست کچھ بھی ہوجائیں و ہ تین طلاقیں رہیں گی مسلمان ہوجانے کے بعد پھر حلالہ کی ضرورت ہوگی بے حلالہ ہرگز ہر گز درست نہ ہوگا۔ وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے طلاق زید سے دو۲ مہینے بعد بکر سے نکاح کرلیا ۱۸سال تك اس کے یہاں رہی اس مدت میں چار بیٹے ہوئے زید قیدہوگیا تھا بعد قید بھی ہندہ کا دعوی دار نہ ہوا اب اس قدر مدت کثیر کے بعد ہندہ بے رضائے بکر خانہ بکر سے نکل کر خالد کے ہیں چلی گئی اس صورت میں ہندہ منکوحہ بکر ہے اور اس پر بکر کا دعوی اپنے پاس رکھنے کا پہنچتا ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں اگر طلاق کے بعد ہندہ کو تین حیض عــــہ کامل گزرچکے تھے اس کے بعد نکاح ہوا یعنی حیض بعد طلاق شروع ہوئے ہوں اور قبل نکاح ثانی ختم ہوچکے ہوں یا وقت طلاق زید ہندہ حاملہ تھی اور بعد طلاق وضع حمل ہوگیا اگرچہ اس دن ہوا ہواس کے بعد اس نے بکر سے نکاح کیا تو ان دونوں صورتوں میں تو بیشك نکاح بکر صحیح تھا اور بکر اسے لینے کا دعوی کرسکتا ہے عورت جبرا اسے دلائی جائے گی
قال اﷲتعالی الرجال قومون على النسآء ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : مردوں کوعورتوں پر غلبہ حاصل ہے۔ (ت)
اور اگر ان دومہینے میں تین حیض کامل بعد طلاق گزرے تھے نہ وضع حمل ہوا کہ بکر سے نکاح کرلیا تو وہ
عــــہ : امام اعظم کے نزدیك تین حیض کم سے کم ساٹھ دن اور صاحبین کے نزدیك اڑتالیس دن میں ہوسکتے ہیں ۱۲۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ شرك پر عین اعتقادرکھے اور بتخانے میں سجدہ وغیرہ کرنے سے اپنی بی بی کے نکاح سے خارج ہوگیا وہ اگر توبہ کرکے مسلمان ہوجائے بی بی مذکورہ سے نکاح کرے تو حلالہ کرے یابغیر حلالہ کے نکاح درست ہے
الجواب :
جوتین طلاق دے چکا ہو وہ یا جورویا دونوں اگر قہار کی لعنت اپنے سرلینے کو مرتد مشرک بت پرست کچھ بھی ہوجائیں و ہ تین طلاقیں رہیں گی مسلمان ہوجانے کے بعد پھر حلالہ کی ضرورت ہوگی بے حلالہ ہرگز ہر گز درست نہ ہوگا۔ وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے طلاق زید سے دو۲ مہینے بعد بکر سے نکاح کرلیا ۱۸سال تك اس کے یہاں رہی اس مدت میں چار بیٹے ہوئے زید قیدہوگیا تھا بعد قید بھی ہندہ کا دعوی دار نہ ہوا اب اس قدر مدت کثیر کے بعد ہندہ بے رضائے بکر خانہ بکر سے نکل کر خالد کے ہیں چلی گئی اس صورت میں ہندہ منکوحہ بکر ہے اور اس پر بکر کا دعوی اپنے پاس رکھنے کا پہنچتا ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں اگر طلاق کے بعد ہندہ کو تین حیض عــــہ کامل گزرچکے تھے اس کے بعد نکاح ہوا یعنی حیض بعد طلاق شروع ہوئے ہوں اور قبل نکاح ثانی ختم ہوچکے ہوں یا وقت طلاق زید ہندہ حاملہ تھی اور بعد طلاق وضع حمل ہوگیا اگرچہ اس دن ہوا ہواس کے بعد اس نے بکر سے نکاح کیا تو ان دونوں صورتوں میں تو بیشك نکاح بکر صحیح تھا اور بکر اسے لینے کا دعوی کرسکتا ہے عورت جبرا اسے دلائی جائے گی
قال اﷲتعالی الرجال قومون على النسآء ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : مردوں کوعورتوں پر غلبہ حاصل ہے۔ (ت)
اور اگر ان دومہینے میں تین حیض کامل بعد طلاق گزرے تھے نہ وضع حمل ہوا کہ بکر سے نکاح کرلیا تو وہ
عــــہ : امام اعظم کے نزدیك تین حیض کم سے کم ساٹھ دن اور صاحبین کے نزدیك اڑتالیس دن میں ہوسکتے ہیں ۱۲۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۳۴
نکاح ہر گز صحیح نہ ہوا
قال تعالی و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء وقال تعالی و لا تعزموا عقدة النكاح حتى یبلغ الكتب اجله ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تك پابند رکھیں ۔ اور اﷲتعالی نے فرمایاعدت مکمل ہونے تك مطلقہ عورتیں نئے نکاح کا عزم نہ کریں ۔ (ت)
اس صورت میں عورت پر بکر کے پاس جانے کاجبر ہونا درکنار ان دونوں پر فرض ہے کہ باہم جدا ہوجائیں اور ترك تعلق کریں اور بکر نہ مانے تو عورت بطور خود جدا ہوسکتی ہے ورنہ حاکم بالجبر جدائی کرادے
فی الدر المختار یثبت لکل واحد منھا فسخہ ولو بغیر محضر صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : دونوں کو ایك دوسرے کی موجودگی یا غیر موجودگی میں فسخ کا اختیار ہے دخول کر چکاہو یانہ کیا ہو اصح قول یہی ہے تاکہ گناہ سے اجتناب ہوسکے لہذا یہ بات وجوب فسخ کے منافی نہیں بلکہ اس کے باوجود قاضی پر واجب ہے کہ دونوں میں تفریق کرے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۳۹ : از کانپور محلہ فیل خانہ بازار کہنہ مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل مرسلہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۱۴ رمضان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فتاوی شمس الدین وفتاوی تمرتاشی میں ہے کہ اگر کسی عورت سے نکاح کیا لیکن نیت میں ہے کہ بعد اتنے دنوں کے طلاق دوں تو یہ نکاح درست ہے پس جو شخص دوچار روز یا دوچار مہینے میں طلاق دے دیاکرے اور اس قسم نکاح پر مدادمت کرے اور لوگوں کو بھی اس جانب مائل کرے تا کہ وہ لوگ زناسے محفوظ رہیں تو آیا ایسے شخص کوثواب ملے گا یانہیں اور مدادمت کی صورت میں متعہ تو نہ ہوگابینواتوجروا
الجواب :
متعہ تو ہرگز نہ ہوگا جب تك نفس عقد میں مدت معینہ خوا غیر معینہ کی حد نہ مقرر کی جائیگی
قال تعالی و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء وقال تعالی و لا تعزموا عقدة النكاح حتى یبلغ الكتب اجله ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تك پابند رکھیں ۔ اور اﷲتعالی نے فرمایاعدت مکمل ہونے تك مطلقہ عورتیں نئے نکاح کا عزم نہ کریں ۔ (ت)
اس صورت میں عورت پر بکر کے پاس جانے کاجبر ہونا درکنار ان دونوں پر فرض ہے کہ باہم جدا ہوجائیں اور ترك تعلق کریں اور بکر نہ مانے تو عورت بطور خود جدا ہوسکتی ہے ورنہ حاکم بالجبر جدائی کرادے
فی الدر المختار یثبت لکل واحد منھا فسخہ ولو بغیر محضر صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : دونوں کو ایك دوسرے کی موجودگی یا غیر موجودگی میں فسخ کا اختیار ہے دخول کر چکاہو یانہ کیا ہو اصح قول یہی ہے تاکہ گناہ سے اجتناب ہوسکے لہذا یہ بات وجوب فسخ کے منافی نہیں بلکہ اس کے باوجود قاضی پر واجب ہے کہ دونوں میں تفریق کرے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۳۹ : از کانپور محلہ فیل خانہ بازار کہنہ مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل مرسلہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۱۴ رمضان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فتاوی شمس الدین وفتاوی تمرتاشی میں ہے کہ اگر کسی عورت سے نکاح کیا لیکن نیت میں ہے کہ بعد اتنے دنوں کے طلاق دوں تو یہ نکاح درست ہے پس جو شخص دوچار روز یا دوچار مہینے میں طلاق دے دیاکرے اور اس قسم نکاح پر مدادمت کرے اور لوگوں کو بھی اس جانب مائل کرے تا کہ وہ لوگ زناسے محفوظ رہیں تو آیا ایسے شخص کوثواب ملے گا یانہیں اور مدادمت کی صورت میں متعہ تو نہ ہوگابینواتوجروا
الجواب :
متعہ تو ہرگز نہ ہوگا جب تك نفس عقد میں مدت معینہ خوا غیر معینہ کی حد نہ مقرر کی جائیگی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲ /۳۳۵
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
القرآن الکریم ۲ /۳۳۵
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
فی الدرالمختار بطل نکاح متعۃ مؤقت وان جھلت المدۃ اوطالت فی الاصح ولیس منہ مالو نکحھا علی ان یطلقھا بعد شھر اونوی مکثہ معھامدۃ معینۃ ۔
درمختار میں ہے : متعہ اور مقررہ مدت تك کانکاح باطل ہے اگر ہو مدت مقررہ مجہول ہو یا دراز ہو اصح قول میں اور اگر ایك ماہ بعد طلاق دینے کی شرط پر نکاح کیا یاصرف نیت میں معینہ مدت تك پاس رکھنا مقصود ہوتو یہ دونوں صورتیں از قبیل باطل نہ ہوں گے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
التوقیت انما یکون باللفظ ۔
مدت مقررہ تك نکاح کے لئے زبانی مدت کا تعین ضروری ہے(جو کہ باطل ہے)۔ (ت)
مگر ایسے کی طرف لوگوں کو ترغیب نہ کی جائے اور خود بھی اس سے احتراز چاہئے جب تك کوئی حاجت صحیحہ شرعیہ ہر بار طلاق زوجہ کی طرف داعی نہ ہو کہ بے حاجت شرعیہ عورت کو طلاق دینا ثواب درکنار شرعا ممنوع
علی ماصححہ فی الفتح وحققہ فی ردالمحتار وفیہ وعنہ عن مشائخ المذھب ان الاصل فیہ الحظر لمافیہ من کفران نعمۃ النکاح والاباحۃ للحاجۃ الی الخلاص ۔
شرعی ضرورت کے بغیر طلاق دینا ممنوع ہے جس کی تصحیح فتح میں ہے اور اس کی تحقیق ردالمحتارمیں ہے اور اسی میں فتح سےمنقول کہ مشائخ سے مروی ہے کہ طلاق میں اصل ممانعت ہے کیونکہ اس میں نکاح جیسی نعمت کی ناشکری ہے اورطلاق کا مباح ہونا خلاصی کے لئے حاجت کی وجہ سے ہے۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
تزوجوا ولاتطلقوا فان اﷲ لا یحب الذواقین ولا الذواقات وفی لفظ لاتطلقو النساء
نکاح کرو اور جب تك عورت کی طرف سے کوئی شك نہ پیدا ہو(یعنی بے حاجت صحیحہ)طلاق نہ دو
درمختار میں ہے : متعہ اور مقررہ مدت تك کانکاح باطل ہے اگر ہو مدت مقررہ مجہول ہو یا دراز ہو اصح قول میں اور اگر ایك ماہ بعد طلاق دینے کی شرط پر نکاح کیا یاصرف نیت میں معینہ مدت تك پاس رکھنا مقصود ہوتو یہ دونوں صورتیں از قبیل باطل نہ ہوں گے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
التوقیت انما یکون باللفظ ۔
مدت مقررہ تك نکاح کے لئے زبانی مدت کا تعین ضروری ہے(جو کہ باطل ہے)۔ (ت)
مگر ایسے کی طرف لوگوں کو ترغیب نہ کی جائے اور خود بھی اس سے احتراز چاہئے جب تك کوئی حاجت صحیحہ شرعیہ ہر بار طلاق زوجہ کی طرف داعی نہ ہو کہ بے حاجت شرعیہ عورت کو طلاق دینا ثواب درکنار شرعا ممنوع
علی ماصححہ فی الفتح وحققہ فی ردالمحتار وفیہ وعنہ عن مشائخ المذھب ان الاصل فیہ الحظر لمافیہ من کفران نعمۃ النکاح والاباحۃ للحاجۃ الی الخلاص ۔
شرعی ضرورت کے بغیر طلاق دینا ممنوع ہے جس کی تصحیح فتح میں ہے اور اس کی تحقیق ردالمحتارمیں ہے اور اسی میں فتح سےمنقول کہ مشائخ سے مروی ہے کہ طلاق میں اصل ممانعت ہے کیونکہ اس میں نکاح جیسی نعمت کی ناشکری ہے اورطلاق کا مباح ہونا خلاصی کے لئے حاجت کی وجہ سے ہے۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
تزوجوا ولاتطلقوا فان اﷲ لا یحب الذواقین ولا الذواقات وفی لفظ لاتطلقو النساء
نکاح کرو اور جب تك عورت کی طرف سے کوئی شك نہ پیدا ہو(یعنی بے حاجت صحیحہ)طلاق نہ دو
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰
بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۰۸
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
تاریخ بغداد ترجمہ نمبر٦٦٥٤ دارالکتاب العربی بیروت ۱۲ / ۱۹۱
مجمع الزوائد باب فیمن یکثر الطلاق دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۳۳۵
بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۰۸
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
تاریخ بغداد ترجمہ نمبر٦٦٥٤ دارالکتاب العربی بیروت ۱۲ / ۱۹۱
مجمع الزوائد باب فیمن یکثر الطلاق دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۳۳۵
الامن ریبۃ فان اﷲ تعالی لا یحب الذاوقین ولا الذواقات ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲتعالی عنہ۔
کہ اﷲ بہت چکھنے والے مردوں اور بہت چکھنے والی عورتوں کودوست نہیں رکھتا یعنی جو چکھ چکھ کر چھوڑدینے کے لئے نکاح کرتے ہیں (اس کو طبرانی نے کبیر میں ابوموسی اشعری رضی ا ﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
غور کیجئے تو آیہ کریمہ محصنین غیر مسفحین میں بھی اسی سے ممانعت کی طرف اشارہ ہے یعنی نکاح کروعورتوں کو قید میں رکھنے نہ مستی نکالنے پانی گرانے۔ بعض صحابہ کرام مثل سیدنا امام حسن مجتبی ومغیرہ بن شعبہ وغیرہما رضی اﷲتعالی عنہم سے جو کثرت نکاح وطلاق منقول ہے اسی حالت حاجت شرعیہ پر محمول ہے
فی ردالمحتار اذا وجدت الحاجۃ المذکورۃ ابیح وعلیہا یحمل ماوقع منہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ومن اصحابہ وغیرہم من الائمۃ صونالھم عن العبث والایذاء بلاسبب ۔
ردالمحتار میں ہے کہ جب حاجت مذکورہ پائی جائے تو طلاق مباح ہے اور اسی معنی پر محمول ہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام اور دیگر ائمہ کرام سے متعدد نکاح کے واقعات ہوئے تاکہ ان حضرات کی طرف عبث اور ایذاء رسانی کی نسبت نہ ہونے پائے۔ (ت)
محفوظ زنا کاعذر بے معنی ہے ایك وقت میں چار۴ تك شرعی اجازت ہے اور اس سے زائد کبھی جمع نہیں ہوسکتیں اور عقل ونقل وتجربہ شاہد ہیں کہ نفس امارہ کی باگ جتنی کھینچئے دبتا ہے اور جس قدر ڈھیل دیجئے زیادہ پاؤں پھیلاتا ہے
والنفس کالطفل ان تمھلہ شب علی حب الرضاع وان تفطمہ ینفطم
(نفس بچے کی طرح ہے اگر آپ اسے موقعہ دیں گے تو وہ ماں کا دودھ پینے میں دلیر رہے گا اور آپ دودھ چھڑادیں تو وہ چھوڑدے گا۔ ت)
کہ اﷲ بہت چکھنے والے مردوں اور بہت چکھنے والی عورتوں کودوست نہیں رکھتا یعنی جو چکھ چکھ کر چھوڑدینے کے لئے نکاح کرتے ہیں (اس کو طبرانی نے کبیر میں ابوموسی اشعری رضی ا ﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
غور کیجئے تو آیہ کریمہ محصنین غیر مسفحین میں بھی اسی سے ممانعت کی طرف اشارہ ہے یعنی نکاح کروعورتوں کو قید میں رکھنے نہ مستی نکالنے پانی گرانے۔ بعض صحابہ کرام مثل سیدنا امام حسن مجتبی ومغیرہ بن شعبہ وغیرہما رضی اﷲتعالی عنہم سے جو کثرت نکاح وطلاق منقول ہے اسی حالت حاجت شرعیہ پر محمول ہے
فی ردالمحتار اذا وجدت الحاجۃ المذکورۃ ابیح وعلیہا یحمل ماوقع منہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ومن اصحابہ وغیرہم من الائمۃ صونالھم عن العبث والایذاء بلاسبب ۔
ردالمحتار میں ہے کہ جب حاجت مذکورہ پائی جائے تو طلاق مباح ہے اور اسی معنی پر محمول ہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام اور دیگر ائمہ کرام سے متعدد نکاح کے واقعات ہوئے تاکہ ان حضرات کی طرف عبث اور ایذاء رسانی کی نسبت نہ ہونے پائے۔ (ت)
محفوظ زنا کاعذر بے معنی ہے ایك وقت میں چار۴ تك شرعی اجازت ہے اور اس سے زائد کبھی جمع نہیں ہوسکتیں اور عقل ونقل وتجربہ شاہد ہیں کہ نفس امارہ کی باگ جتنی کھینچئے دبتا ہے اور جس قدر ڈھیل دیجئے زیادہ پاؤں پھیلاتا ہے
والنفس کالطفل ان تمھلہ شب علی حب الرضاع وان تفطمہ ینفطم
(نفس بچے کی طرح ہے اگر آپ اسے موقعہ دیں گے تو وہ ماں کا دودھ پینے میں دلیر رہے گا اور آپ دودھ چھڑادیں تو وہ چھوڑدے گا۔ ت)
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث نمبر ٧٨٤٤ المکتبۃ المعارف الریاض ۸ / ۴۱۳
القرآن الکریم ۴ /۲۴
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
القرآن الکریم ۴ /۲۴
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
جب ہمیشہ خواہش نو کی عادت ڈالی گئی اور پرظاہر کہ چند روزرکھ کر چھوڑنے کےلئے دو اما تازہ عورت کا ملنا خصوصا ہندوستان میں سخت مشکل ہے تو جب اس میں کمی ہوگی نفس بدخو جسے صبرکاخوگر کیا ہی نہ تھا وہ رنگ لائے گا کہ ایك پرقناعت کرنے والے اس کی ہوا سے آگاہ نہیں ۔ والعیاذباﷲتعالی واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۰تا۲۴۱ : مرسلہ محمد عبدالرحمن جلشانی شافعی از بنارس محلہ مدنپورہ مدرسہ امداد العلوم مسجد کلاں ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں ازروئے مذہب شافعی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے :
(۱)ایك شخص شافعی المذہب زوجین باہم رہتے تھے شوہرکو جذام کا عارضہ ہوگیا جس کے خوف کی وجہ سے اس کی زوجہ اپنے ماں کے یہاں چلی گئی شوہر اس کو بلاتا رہا مگر اس کے لاحقہ عارضہ کے خوف سے اس کی زوجہ نہ آئی یہاں تك کہ شوہر اس کا اسی عارضہ میں فوت ہوا اس صورت میں مہرو ورثہ ونان نفقہ زوج کے ترکہ سے زوجہ کو پہنچ سکتا ہے یانہیں از روئے شرع الطیف بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمایا جاوے۔
(۲)بعض اشخاس زوجہ مذکورہ بالا کو زوج مرحوم کے ترکہ سے ورثہ ونان نفقہ دینے میں انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زوجہ کوکچھ پہنچتا ہی نہیں ورثہ زوجہ قرآن مجید سے ثابت یا نہیں اور منکر ا س کا دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا یا نہیں فقط بینوا توجروا
الجواب :
زوجہ متوفی کو صورت مستفسرہ میں باتفاق ائمہ حنیفہ وشافعیہ رحمہم اﷲتعالی مہر ورترکہ قطعا ملے گا ائمہ حنیفہ کے نزدیك تو جب وعنت یعنی آلت بریدگی یا نامردی کے سوا کوئی مرض شوہر مطلقا سبب فسخ نکاح نہیں درمختار میں ہے :
لا یتخیر احد الزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون وجذام وبرص الخ۔
خاوند بیوی میں کسی کو دوسرے کے عیب جسمانی مثلا جنون جذام اور برص کے امراض کی وجہ سے فسخ کا اختیار نہیں ہے الخ(ت)
مسئلہ ۲۴۰تا۲۴۱ : مرسلہ محمد عبدالرحمن جلشانی شافعی از بنارس محلہ مدنپورہ مدرسہ امداد العلوم مسجد کلاں ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں ازروئے مذہب شافعی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے :
(۱)ایك شخص شافعی المذہب زوجین باہم رہتے تھے شوہرکو جذام کا عارضہ ہوگیا جس کے خوف کی وجہ سے اس کی زوجہ اپنے ماں کے یہاں چلی گئی شوہر اس کو بلاتا رہا مگر اس کے لاحقہ عارضہ کے خوف سے اس کی زوجہ نہ آئی یہاں تك کہ شوہر اس کا اسی عارضہ میں فوت ہوا اس صورت میں مہرو ورثہ ونان نفقہ زوج کے ترکہ سے زوجہ کو پہنچ سکتا ہے یانہیں از روئے شرع الطیف بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمایا جاوے۔
(۲)بعض اشخاس زوجہ مذکورہ بالا کو زوج مرحوم کے ترکہ سے ورثہ ونان نفقہ دینے میں انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زوجہ کوکچھ پہنچتا ہی نہیں ورثہ زوجہ قرآن مجید سے ثابت یا نہیں اور منکر ا س کا دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا یا نہیں فقط بینوا توجروا
الجواب :
زوجہ متوفی کو صورت مستفسرہ میں باتفاق ائمہ حنیفہ وشافعیہ رحمہم اﷲتعالی مہر ورترکہ قطعا ملے گا ائمہ حنیفہ کے نزدیك تو جب وعنت یعنی آلت بریدگی یا نامردی کے سوا کوئی مرض شوہر مطلقا سبب فسخ نکاح نہیں درمختار میں ہے :
لا یتخیر احد الزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون وجذام وبرص الخ۔
خاوند بیوی میں کسی کو دوسرے کے عیب جسمانی مثلا جنون جذام اور برص کے امراض کی وجہ سے فسخ کا اختیار نہیں ہے الخ(ت)
حوالہ / References
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
اور ائمہ شافعیہ کے یہاں اگرچہ جنون و جذام مستحکم وبرص مستحکم سے خیار فسخ حاصل ہوتا ہے مگراس کے یہ معنی نہیں کہ ان امراض کے سبب آپ ہی نکاح زائل یا عورت کو بطور خود فسخ نکاح کااختیار حاصل ہوجائے بلکہ یہ معنی کہ فی الفور بلاتاخیر قاضی شرع کے حضور مطالبہ فسخ پیش کرنے کا اختیار ملتا ہے جب وہ حکم فسخ دے اس وقت نکاح فسخ ہوتا ہے بغیر اس کے وہ بدستور زوج وزوجہ ہیں ۔ امام علامہ یوسف اردبیلی رحمہ اﷲتعالی علیہ کہ اجلہ شافعیہ سے ہیں کتاب الانوار میں فرماتے ہیں :
لایثبت بالبرص والجذام قبل الاستحکام خیار العیب علی الفور ولاینفردان بالفسخ بل لابدمن الرفع الی القاضی اھ ملتقطا۔
برص اور جذام کے مستحکم ہونے سے قبل فوری طور پر خیار عیب ثابت نہیں ہوتا اور خاوند بیوی خود فسخ نہیں کرسکتے بلکہ قاضی کے ہاں مرافعت ضروری ہے اھ ملتقطا(ت)
یہاں جبکہ نہ حاکم شرع کی طرف مرافعہ ہوا نہ اس نے فسخ نکاح کا حکم دیا بلکہ عورت بطور خود اپنی ماں کے یہاں چلی گئی تو باتفاق ائمہ نکاح قائم رہا پس بنص قطعی قرآن عظیم وہ اس کے ترکہ میں مستحق فریضۃاﷲ ہے۔
قال اﷲتعالی :
و لهن الربع مما تركتم ان لم یكن لكم ولد-فان كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصیة توصون بها او دین ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اگر تم نے ترکہ چھوڑا اور تمہاری اولاد نہ ہوتو بیویوں کو ترکہ کا چوتھائی حصہ اور اگر تمہاری اولاد ہوتو پھر بیویوں کو تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا یہ تقسیم وراثت تمہاری وصیت اور قرضہ ادا کرنے کے بعد ہے۔ (ت)
وراثت زوجہ بلاشبہہ ضروریات دین سے ہے جس پر تمام فرق اسلام کااجماع اور ہر خاص وعام کو اس کی اطلاع تو مطلقا اس کا انکار یعنی یہ کہنا کہ زوجیت شرع میں ذریعہ وراثت ہی نہیں صریح کلمہ کفر ہے ہاں اگر براہ ناواقفی عروض جذام کو خود مزیل نکاح سمجھ کر اس عورت کے استحقاق وراثت سے انکار کیا تو جہل وسفاہت باتفاق اور شرع مطہر پر بے باکانہ جرأت ہے کفر نہیں بالجملہ صورت مسئولہ میں عورت یقینا مستحق ترکہ ہے یونہی باتفاق مہر مسمی تمام وکمال واجب الاداہے حنفیہ کے طور پر تو ظاہر ہے شافعیہ کے نزدیك یوں کہ شوہر قبل انفساخ نکاح مرگیا انوارمیں ہے :
لایثبت بالبرص والجذام قبل الاستحکام خیار العیب علی الفور ولاینفردان بالفسخ بل لابدمن الرفع الی القاضی اھ ملتقطا۔
برص اور جذام کے مستحکم ہونے سے قبل فوری طور پر خیار عیب ثابت نہیں ہوتا اور خاوند بیوی خود فسخ نہیں کرسکتے بلکہ قاضی کے ہاں مرافعت ضروری ہے اھ ملتقطا(ت)
یہاں جبکہ نہ حاکم شرع کی طرف مرافعہ ہوا نہ اس نے فسخ نکاح کا حکم دیا بلکہ عورت بطور خود اپنی ماں کے یہاں چلی گئی تو باتفاق ائمہ نکاح قائم رہا پس بنص قطعی قرآن عظیم وہ اس کے ترکہ میں مستحق فریضۃاﷲ ہے۔
قال اﷲتعالی :
و لهن الربع مما تركتم ان لم یكن لكم ولد-فان كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصیة توصون بها او دین ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اگر تم نے ترکہ چھوڑا اور تمہاری اولاد نہ ہوتو بیویوں کو ترکہ کا چوتھائی حصہ اور اگر تمہاری اولاد ہوتو پھر بیویوں کو تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا یہ تقسیم وراثت تمہاری وصیت اور قرضہ ادا کرنے کے بعد ہے۔ (ت)
وراثت زوجہ بلاشبہہ ضروریات دین سے ہے جس پر تمام فرق اسلام کااجماع اور ہر خاص وعام کو اس کی اطلاع تو مطلقا اس کا انکار یعنی یہ کہنا کہ زوجیت شرع میں ذریعہ وراثت ہی نہیں صریح کلمہ کفر ہے ہاں اگر براہ ناواقفی عروض جذام کو خود مزیل نکاح سمجھ کر اس عورت کے استحقاق وراثت سے انکار کیا تو جہل وسفاہت باتفاق اور شرع مطہر پر بے باکانہ جرأت ہے کفر نہیں بالجملہ صورت مسئولہ میں عورت یقینا مستحق ترکہ ہے یونہی باتفاق مہر مسمی تمام وکمال واجب الاداہے حنفیہ کے طور پر تو ظاہر ہے شافعیہ کے نزدیك یوں کہ شوہر قبل انفساخ نکاح مرگیا انوارمیں ہے :
حوالہ / References
الانوار لاعمال الابرار الطرف العاشرفی العیوب مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۷۳
القرآن الکریم ۴ /۱۲
القرآن الکریم ۴ /۱۲
لومات المعیب قبل الفسخ تقرر المھر ولافسخ ۔
عیب والا خاوند اگر فسخ سے قبل فوت ہوجائے تو مہر لازم ہوگا فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
بلکہ یہاں تو بالفرض اگر نکاح فسخ بھی کردیاجاتا جب بھی مہرمثل ساقط نہ ہوتا۔ عبارت سوال سے ظاہر کہ شوہرکو اس مرض کا حدوث بعد زفاف ہوا تو بحالت فسخ بھی پورا مہر لازم الادا۔ انوارمیں ہے :
اذافسخ فان کان قبل الدخول سقط المہر ولامتعۃ فسخ ھواوھی وان کان بعدہ فان کان بعیب مقارن او حادث قبل الدخول وجب مھر المثل وان کان بحادث بعدہ وجب المسمی ۔
مردیا عورت نے نکاح فسخ کیا تو اگریہ فسخ دخول سے قبل ہوا تو مہر ساقط ہوجائےگا اور جوڑا ساقط نہ ہوگا اور اگر فسخ نکاح دخول کے بعد ہوا تو اگر دخول کے ساتھ یا دخول سے قبل عیب پیداہوا تو مہر مثل واجب ہوگا اور دخول کے بعد عیب پیدا ہواتو پھر مقررہ مہر واجب ہوگا۔ (ت)
رہا نان ونفقہ وہ بعد موت شوہر زمانہ عدت یا اس کے بعد کا باتفاق مذہب صحیح حنفی وشافعی اصلا واجب نہیں اس کے دینے سے ورثہ انکار کرتے ہوں تو بیشك بجا ہے۔ درمختار میں ہے :
لاتجب النفقۃ بانواعھا لمعتد ۃ موت مطلقا ولو حاملا ۔
کسی قسم کا نفقہ موت کی عدت والی کے لئے مطلقا واجب نہ ہوگا اگرچہ حاملہ ہو۔ (ت)
انوار شافعی میں ہے :
المعتدۃ عن النکاح الفاسد لانفقۃ لھا حاملاکانت او حائلا وکذاالممتدۃ عن الوفاۃ ۔
نکاح فاسد کی عدت والی کے لئے کوئی نفقہ نہیں حاملہ ہو یا غیر حاملہ ہو اور یہی حکم موت کی عدت والی کا ہے۔ (ت)
حاشیۃ الکمثری علی الانوار میں ہے :
المعتدۃ عن الوفاۃ لاتستحق النفقۃ والمؤنۃ
موت کی عدت والی نفقہ اور خرچہ کی مستحق نہیں ہے
عیب والا خاوند اگر فسخ سے قبل فوت ہوجائے تو مہر لازم ہوگا فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
بلکہ یہاں تو بالفرض اگر نکاح فسخ بھی کردیاجاتا جب بھی مہرمثل ساقط نہ ہوتا۔ عبارت سوال سے ظاہر کہ شوہرکو اس مرض کا حدوث بعد زفاف ہوا تو بحالت فسخ بھی پورا مہر لازم الادا۔ انوارمیں ہے :
اذافسخ فان کان قبل الدخول سقط المہر ولامتعۃ فسخ ھواوھی وان کان بعدہ فان کان بعیب مقارن او حادث قبل الدخول وجب مھر المثل وان کان بحادث بعدہ وجب المسمی ۔
مردیا عورت نے نکاح فسخ کیا تو اگریہ فسخ دخول سے قبل ہوا تو مہر ساقط ہوجائےگا اور جوڑا ساقط نہ ہوگا اور اگر فسخ نکاح دخول کے بعد ہوا تو اگر دخول کے ساتھ یا دخول سے قبل عیب پیداہوا تو مہر مثل واجب ہوگا اور دخول کے بعد عیب پیدا ہواتو پھر مقررہ مہر واجب ہوگا۔ (ت)
رہا نان ونفقہ وہ بعد موت شوہر زمانہ عدت یا اس کے بعد کا باتفاق مذہب صحیح حنفی وشافعی اصلا واجب نہیں اس کے دینے سے ورثہ انکار کرتے ہوں تو بیشك بجا ہے۔ درمختار میں ہے :
لاتجب النفقۃ بانواعھا لمعتد ۃ موت مطلقا ولو حاملا ۔
کسی قسم کا نفقہ موت کی عدت والی کے لئے مطلقا واجب نہ ہوگا اگرچہ حاملہ ہو۔ (ت)
انوار شافعی میں ہے :
المعتدۃ عن النکاح الفاسد لانفقۃ لھا حاملاکانت او حائلا وکذاالممتدۃ عن الوفاۃ ۔
نکاح فاسد کی عدت والی کے لئے کوئی نفقہ نہیں حاملہ ہو یا غیر حاملہ ہو اور یہی حکم موت کی عدت والی کا ہے۔ (ت)
حاشیۃ الکمثری علی الانوار میں ہے :
المعتدۃ عن الوفاۃ لاتستحق النفقۃ والمؤنۃ
موت کی عدت والی نفقہ اور خرچہ کی مستحق نہیں ہے
حوالہ / References
الانوار الاعمال الابرار الطرف العاشرفی العیوب مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۷۳
الانوار الاعمال الابرار الطرف العاشرفی العیوب مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۷۳
درمختار باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷۳
الانوار لاعمال الابرار کتاب النفقات الطرف الثالث فی موانع النفقۃ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۸
الانوار الاعمال الابرار الطرف العاشرفی العیوب مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۷۳
درمختار باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷۳
الانوار لاعمال الابرار کتاب النفقات الطرف الثالث فی موانع النفقۃ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۸
لصحۃالخبربذلک ۔
کیونکہ اس معاملہ میں صحیح حدیث ہے۔ (ت)
اسی طرح اگر ان دنوں کا نفقہ مانگتی ہے جن میں وہ بے اجازت شوہر اپنی ماں کے یہاں چلی گئی اور شوہر بلاتا رہا نہ آئی تو ان ایام کا نفقہ بھی بالاتفاق نہ پائے گی کہ اس چلے جانے سے وہ ناشزہ ونافرمان ہے اور ناشزہ کےلئے جب تك ناشزہ رہے بالاجماع نفقہ نہیں ۔ قرۃ العین علامہ زین شافعی میں ہے :
تسقط بنشوزولو ساعۃ کامتناع من تمتع لالعذر وخروج من مسکن بلااذن ۔
بیوی کی نافرمانی اگرچہ ایك دفعہ ہو جیسا کہ بلاعذر جماع سے انکار یابغیر اجازت گھرسے نکلنا نفقہ کو ساقط کردیتا ہے۔ (ت)
انوارمیں ہے :
لانفقۃ للناشزۃ وان قدر علی ردھا الی الطاعۃ قھراولوھربت منہ او خرجت بلااذنہ من بیتہ فناشزۃ اھ ملخصا۔
نافرمان بیوی کےلئے نفقہ کا استحقاق نہیں اگرچہ جبرا خاوند اسے اطاعت پر مجبور کرسکتا ہو اور اگر بیوی بھاگ جائے یا گھر سے بلااجازت نکل جائے تو وہ نافرمان قرار پائے گی اھ ملخصا(ت)
ہاں اس سے پہلے ایام تسلیم نفس وعدم نشوز میں اگر کسی دن کا نفقہ نہ ملا تھا تو ہمارے ائمہ کے نزدیك تو اس کا بھی دعوی نہیں کرسکتی کہ نفقہ اگر مفروضہ بحکم حاکم ہو موت احدالزجین سے ساقط ہوجاتا ہے مگرجبکہ نفقہ مفروضہ شوہر سے نہ ملا اور بحکم قاضی شرع عورت نے قرض لے لے کر خرچ کیا ہو کہ اس صورت میں ذمہ شوہر پر دین قرار پاکر موت سے ساقط نہیں ہوتا تنویر حنفی میں ہے :
بموت احدھما وطلاقھا یسقط المفروض الااذا استدانت بامرالقاضی ۔
بیوی اور خاوند میں سے کسی ایك کے فوت ہوجانے یا طلاق ہوجانے سابقہ مقررہ نفقہ ساقط ہوجائےگا لیکن اگرقاضی کے حکم پر بیوی قرض لے کر خرچ کرتی رہی تو وہ قرض ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
البتہ ائمہ شافعیہ کے نزدیك جب ایام مذکورہ کا نفقہ نہ ملا شوہر پر مطلقا دین ہے کہ کسی کی موت سے
کیونکہ اس معاملہ میں صحیح حدیث ہے۔ (ت)
اسی طرح اگر ان دنوں کا نفقہ مانگتی ہے جن میں وہ بے اجازت شوہر اپنی ماں کے یہاں چلی گئی اور شوہر بلاتا رہا نہ آئی تو ان ایام کا نفقہ بھی بالاتفاق نہ پائے گی کہ اس چلے جانے سے وہ ناشزہ ونافرمان ہے اور ناشزہ کےلئے جب تك ناشزہ رہے بالاجماع نفقہ نہیں ۔ قرۃ العین علامہ زین شافعی میں ہے :
تسقط بنشوزولو ساعۃ کامتناع من تمتع لالعذر وخروج من مسکن بلااذن ۔
بیوی کی نافرمانی اگرچہ ایك دفعہ ہو جیسا کہ بلاعذر جماع سے انکار یابغیر اجازت گھرسے نکلنا نفقہ کو ساقط کردیتا ہے۔ (ت)
انوارمیں ہے :
لانفقۃ للناشزۃ وان قدر علی ردھا الی الطاعۃ قھراولوھربت منہ او خرجت بلااذنہ من بیتہ فناشزۃ اھ ملخصا۔
نافرمان بیوی کےلئے نفقہ کا استحقاق نہیں اگرچہ جبرا خاوند اسے اطاعت پر مجبور کرسکتا ہو اور اگر بیوی بھاگ جائے یا گھر سے بلااجازت نکل جائے تو وہ نافرمان قرار پائے گی اھ ملخصا(ت)
ہاں اس سے پہلے ایام تسلیم نفس وعدم نشوز میں اگر کسی دن کا نفقہ نہ ملا تھا تو ہمارے ائمہ کے نزدیك تو اس کا بھی دعوی نہیں کرسکتی کہ نفقہ اگر مفروضہ بحکم حاکم ہو موت احدالزجین سے ساقط ہوجاتا ہے مگرجبکہ نفقہ مفروضہ شوہر سے نہ ملا اور بحکم قاضی شرع عورت نے قرض لے لے کر خرچ کیا ہو کہ اس صورت میں ذمہ شوہر پر دین قرار پاکر موت سے ساقط نہیں ہوتا تنویر حنفی میں ہے :
بموت احدھما وطلاقھا یسقط المفروض الااذا استدانت بامرالقاضی ۔
بیوی اور خاوند میں سے کسی ایك کے فوت ہوجانے یا طلاق ہوجانے سابقہ مقررہ نفقہ ساقط ہوجائےگا لیکن اگرقاضی کے حکم پر بیوی قرض لے کر خرچ کرتی رہی تو وہ قرض ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
البتہ ائمہ شافعیہ کے نزدیك جب ایام مذکورہ کا نفقہ نہ ملا شوہر پر مطلقا دین ہے کہ کسی کی موت سے
حوالہ / References
الکمثری علی الانوار الطرف الثالث فی موانع النفقۃ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۸
قرۃ العین فی شرح فتح المعین فصل فی النفقۃ عامر الاسلام پور پریس اتروانگاری کبیرص۲۲۰تا۲۲۲
الانوار لاعمال الابرار الطرف الثالث فی موانع النفقہ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۸
درمختار شرح تنویرالابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷۰
قرۃ العین فی شرح فتح المعین فصل فی النفقۃ عامر الاسلام پور پریس اتروانگاری کبیرص۲۲۰تا۲۲۲
الانوار لاعمال الابرار الطرف الثالث فی موانع النفقہ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۸
درمختار شرح تنویرالابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷۰
ساقط نہ ہوگا اتنے دعوی کے نزدیك کرسکتی ہے۔ ہدایہ حنفیہ میں ہے :
قال الشافعی رحمہ اﷲتعالی تصیر دینا قبل القضاء ولاتسقط بالموت لانہ عوض عندہ فصارکسائر الدیون ۔
امام شافعی رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : قاضی کے حکم کے بغیر بھی بیوی کا لیا ہوا قرض برائے نفقہ موت کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا کیونکہ ان کے نزدیك نفقہ معاوضہ ہے لہذا دوسرے واجب الادا امور کی طرح ہوگا۔ (ت)
انوار شافعیہ میں ہے :
لولم یکسھامدۃ صارۃ علیہ دینا ۔
اگر کچھ مدت بیوی کو لباس نہ دیا تو وہ خاوند کے ذمہ قرض ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوماتت فی اثنائہ بلاقبض فدین فی ذمتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر بیوی اسی اثناء میں فوت ہوجائے تب بھی خاوند کے ذمہ واجب الادا ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۴۲ : ازکٹگھر مرسلہ شیخ احمد بخش ۵رمضان المبارك ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ ساتھ بکر کے تیرہ۱۳ ہوئے جب بطور زوجہ اور شوہر بہ تعین مہرصہ عہ ہزار روپے اور دس۱۰دینار سرخ کے اس کے مکان میں رہی آٹھ برس تك برابر رہی ہندہ کے جانے سے مکان میں بکر کے دو۲ برس کے بعدبکر کو بیماری جذام کی شروع ہوئی جب چھ۶ برس تك ہندہ سے اور بکر سے صحبت مثل زن وشوہر کے نہیں ہوئی اسکے بعد آٹھ برس کے ہندہ کو بکر نے اپنے گھر سے نکال دیا ہندہ اپنی گزر اوقات جس طرح ممکن ہواکرتی رہی مکان سے نکال دینے سے چھ۶ماہ بعد ہندہ پر بکر نے دعوی فراری فوجداری میں دائر کیا اس میں ہندہ نے زوجیت سے انکار کیا اور بکر نے بجائے صہ عہ ہزار روپے سوروپے کے مہر کا اقرار کیا کچہری فوجداری نے زوجہ ہونا قائم رکھا بعد اس کے سال بھر بعد دلاپانے زوجہ کا دعوی دیوانی میں دائر کیا اس وقت حسب تصفیہ باہمی یہ طے ہوا کہ ہندہ جہاں چاہے رہے اس عرصہ پانچ برس نان نفقہ نہیں دیتا ہے اور عرصہ تیرہ برس سے بوجہ بیماری صحبت نہیں ہوئی او ر بکر نے واقعی
قال الشافعی رحمہ اﷲتعالی تصیر دینا قبل القضاء ولاتسقط بالموت لانہ عوض عندہ فصارکسائر الدیون ۔
امام شافعی رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : قاضی کے حکم کے بغیر بھی بیوی کا لیا ہوا قرض برائے نفقہ موت کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا کیونکہ ان کے نزدیك نفقہ معاوضہ ہے لہذا دوسرے واجب الادا امور کی طرح ہوگا۔ (ت)
انوار شافعیہ میں ہے :
لولم یکسھامدۃ صارۃ علیہ دینا ۔
اگر کچھ مدت بیوی کو لباس نہ دیا تو وہ خاوند کے ذمہ قرض ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوماتت فی اثنائہ بلاقبض فدین فی ذمتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر بیوی اسی اثناء میں فوت ہوجائے تب بھی خاوند کے ذمہ واجب الادا ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۴۲ : ازکٹگھر مرسلہ شیخ احمد بخش ۵رمضان المبارك ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ ساتھ بکر کے تیرہ۱۳ ہوئے جب بطور زوجہ اور شوہر بہ تعین مہرصہ عہ ہزار روپے اور دس۱۰دینار سرخ کے اس کے مکان میں رہی آٹھ برس تك برابر رہی ہندہ کے جانے سے مکان میں بکر کے دو۲ برس کے بعدبکر کو بیماری جذام کی شروع ہوئی جب چھ۶ برس تك ہندہ سے اور بکر سے صحبت مثل زن وشوہر کے نہیں ہوئی اسکے بعد آٹھ برس کے ہندہ کو بکر نے اپنے گھر سے نکال دیا ہندہ اپنی گزر اوقات جس طرح ممکن ہواکرتی رہی مکان سے نکال دینے سے چھ۶ماہ بعد ہندہ پر بکر نے دعوی فراری فوجداری میں دائر کیا اس میں ہندہ نے زوجیت سے انکار کیا اور بکر نے بجائے صہ عہ ہزار روپے سوروپے کے مہر کا اقرار کیا کچہری فوجداری نے زوجہ ہونا قائم رکھا بعد اس کے سال بھر بعد دلاپانے زوجہ کا دعوی دیوانی میں دائر کیا اس وقت حسب تصفیہ باہمی یہ طے ہوا کہ ہندہ جہاں چاہے رہے اس عرصہ پانچ برس نان نفقہ نہیں دیتا ہے اور عرصہ تیرہ برس سے بوجہ بیماری صحبت نہیں ہوئی او ر بکر نے واقعی
حوالہ / References
الہدایۃ باب النفقۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۴۲۰
الانوار لاعمال الابرار کتاب النفقات الطرف الثانی فی کیفیۃ الانفاق مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۵
الانوار لاعمال الابرار کتاب النفقات الطرف الثانی فی کیفیۃ الانفاق مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۵
الانوار لاعمال الابرار کتاب النفقات الطرف الثانی فی کیفیۃ الانفاق مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۵
الانوار لاعمال الابرار کتاب النفقات الطرف الثانی فی کیفیۃ الانفاق مطبعۃ جمالیۃ مصر ۲ / ۲۲۵
مہر سے انکار کیا اور نان نفقہ نہیں دیتاہے اور قابل صحبت نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا چارہ ہندہ کے واسطے ہونا چاہئے ہندہ خلایاطلاق پاسکتی ہے یاکیا ہندہ نان نفقہ اور کرایہ مکان پاسکتی ہے یانہیں کیونکہ بکر اپنی زوجہ کے ساتھ معہ اپنی دختر کے ایك کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور ہندہ علیحدہ ایك مکان میں بکر کے مکان سے بفاصلہ ایك جریب کرایہ پر رہتی ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
بکر پر نان ونفقہ ومسکن ہندہ کا انتظام لازم ہے جبکہ ہندہ اپنے آپ کو اس کی قید میں رکھے آوارہ گردکانان نفقہ نہیں ہوتا اگر ہندہ اپنی جانب سے کوئی بات سقط نان ونفقہ نہ کرے اور بکر پھر بھی نفقہ نہ دے تو حاکم بکر کو مجبور کرے کہ نفقہ دے ورنہ طلاق دے یا بکر راضی ہوتو ہندہ اس سے مہر وغیرہ مال پر خلع کرلے بغیر اس کے جب تك بکر زندہ ہے اگر چہ بیمار ہے ناقابل صحبت ہوگیا ہندہ خود مختار نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ : ازسنگ پور مرسلہ ابراہیم صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك شخص بعارضہ جذام مبتلا ہوکر بستی سے نکل گیا مگر اپنی زوجہ کو باوجود علیحدگی بھی طلاق نہں دیتا عورت مذکورازحدخواہش نکاح رکھتی ہے دیگر ایك شخص مسمی رستم نے اسی عورت مندرجہ بالا سے زنا کیا جس کا مقرہے زیادہ ثبوت کا حاجت نہیں بردران اسلام نے اس جرم پر اس کا حقہ پانی سلام وکلام ترك کردیا ہے اب وہ نادم اور توبہ کار ہے لہذااس کو ملانا چاہتے تو آیا وہ اس طریقہ سے شامل برادرن اسلام ہوسکتا ہےفقط والسلام۔
الجواب :
اگروہ شخص عورت سے صحبت کرسکتا ہے اور اس کے ادائے حق پر قادر ہے تو اس پر واجب نہیں کہ عورت کو طلاق دے اور عورت اس سے جدائی نہیں کرسکتی اور اگر اس کاحق ادا کرنے پر قادر نہیں تو اس پر واجب ہے کہ عورت کو طلاق دے دے اگرنہ دے گا گنہگار ہوگا اس صورت میں کہ صورت اس پر واجب ہو اور نہ دی اگر جبرا اس سے طلاق لے لی جائے تو ہوجائے گی۔ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ہریرۃ
ہمارے گروہ سے نہیں جس کسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ
الجواب :
بکر پر نان ونفقہ ومسکن ہندہ کا انتظام لازم ہے جبکہ ہندہ اپنے آپ کو اس کی قید میں رکھے آوارہ گردکانان نفقہ نہیں ہوتا اگر ہندہ اپنی جانب سے کوئی بات سقط نان ونفقہ نہ کرے اور بکر پھر بھی نفقہ نہ دے تو حاکم بکر کو مجبور کرے کہ نفقہ دے ورنہ طلاق دے یا بکر راضی ہوتو ہندہ اس سے مہر وغیرہ مال پر خلع کرلے بغیر اس کے جب تك بکر زندہ ہے اگر چہ بیمار ہے ناقابل صحبت ہوگیا ہندہ خود مختار نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ : ازسنگ پور مرسلہ ابراہیم صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك شخص بعارضہ جذام مبتلا ہوکر بستی سے نکل گیا مگر اپنی زوجہ کو باوجود علیحدگی بھی طلاق نہں دیتا عورت مذکورازحدخواہش نکاح رکھتی ہے دیگر ایك شخص مسمی رستم نے اسی عورت مندرجہ بالا سے زنا کیا جس کا مقرہے زیادہ ثبوت کا حاجت نہیں بردران اسلام نے اس جرم پر اس کا حقہ پانی سلام وکلام ترك کردیا ہے اب وہ نادم اور توبہ کار ہے لہذااس کو ملانا چاہتے تو آیا وہ اس طریقہ سے شامل برادرن اسلام ہوسکتا ہےفقط والسلام۔
الجواب :
اگروہ شخص عورت سے صحبت کرسکتا ہے اور اس کے ادائے حق پر قادر ہے تو اس پر واجب نہیں کہ عورت کو طلاق دے اور عورت اس سے جدائی نہیں کرسکتی اور اگر اس کاحق ادا کرنے پر قادر نہیں تو اس پر واجب ہے کہ عورت کو طلاق دے دے اگرنہ دے گا گنہگار ہوگا اس صورت میں کہ صورت اس پر واجب ہو اور نہ دی اگر جبرا اس سے طلاق لے لی جائے تو ہوجائے گی۔ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ہریرۃ
ہمارے گروہ سے نہیں جس کسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ
حوالہ / References
سُنن ابوداؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶ ، المستدرك للحاکم باب لیس منّا من جب امرأۃ علٰی زوجہا الخ دارالفکربیروت ۲ / ۱۹۶
والطبرانی فی الصغیر ونحوہ فی الاوسط عن ابن عمر وفی الاوسط کابی یعلی بسند صحیح عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم اجمعین۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے اور طبرانی نے صغیر میں اور ایسے ہی اوسط میں عمر رضی اﷲتعالی عنہما اور اوسط میں ابویعلی کی طرح ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۴۴ : ازبلرام پور ضلع گونڈہ متصل یتیم خانہ مرسلہ نذرمحمد صاحب ۱۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے پیر سالگی میں ہندہ نوجوان سے نکاح کیا بعد چند روز کے ہندہ اور زید میں طرح طرح کی مخالفتیں واقع ہوئیں اور بوجہ بدکرداری زید کے ہندہ نے زید سے طلاق مانگا اس شرط پر کہ میں مہر معاف کردوں اور تم طلاق دے دو زید نے نہ مانا مجبور ہوکر ہندہ نے اپنا معاملہ حاکم تحصیل کی کچہری میں پیش کیا حاکم تحصیل نے ہندہ کو طلاق کی ڈگری دے دی اب ہندہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اگر عورت جوان طاقتور ہے اور شوہر بڈھا فرتوت ہے عورت شوہر کے پاس نہیں رہنا چاہتی ہے شوہر چھوڑنا نہیں چاہتا تو شرعا کیا صورت اختیار کرنی چاہئے
الجواب :
لاالہ الا اﷲ بے شوہر کے طلاق دئے طلاق تحصیلدار کے دئے نہیں ہوسکتی قال اﷲتعالی بیده عقدة النكاح (اﷲتعالی نے فرمایا : نکاح کی گرہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے۔ ت)دوسری جگہ نکاح کرے گی تو حرام قطعی وزنا ہوگاقال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲتعالی نے فرمایا : اور حرام ہیں منکوحہ عورتیں ۔ ت)ہاں شوہر پر فرض ہے کہ اسے اچھی طرح رکھے اس کے حقوق اداکرے اگر وہ اس پر قادر نہیں تو اس پر فرض ہے کہ اسے طلاق دے دے
قال اﷲتعالی فامسكوهن بمعروف او فارقوهن بمعروف ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك یا دوطلاقوں کے بعدبیوی کو حسن سلوك سے پاس رکھو یا ان کو بھلائی کے ساتھ فارغ کردو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴۵ : ازبلرامپورمحلہ پورنیا تالاب ضلع گونڈہ مرسلہ تیغ بہادر خاں ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہندہ نے اپنے شوہر زید پر بحالت نزاع
ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے اور طبرانی نے صغیر میں اور ایسے ہی اوسط میں عمر رضی اﷲتعالی عنہما اور اوسط میں ابویعلی کی طرح ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۴۴ : ازبلرام پور ضلع گونڈہ متصل یتیم خانہ مرسلہ نذرمحمد صاحب ۱۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے پیر سالگی میں ہندہ نوجوان سے نکاح کیا بعد چند روز کے ہندہ اور زید میں طرح طرح کی مخالفتیں واقع ہوئیں اور بوجہ بدکرداری زید کے ہندہ نے زید سے طلاق مانگا اس شرط پر کہ میں مہر معاف کردوں اور تم طلاق دے دو زید نے نہ مانا مجبور ہوکر ہندہ نے اپنا معاملہ حاکم تحصیل کی کچہری میں پیش کیا حاکم تحصیل نے ہندہ کو طلاق کی ڈگری دے دی اب ہندہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اگر عورت جوان طاقتور ہے اور شوہر بڈھا فرتوت ہے عورت شوہر کے پاس نہیں رہنا چاہتی ہے شوہر چھوڑنا نہیں چاہتا تو شرعا کیا صورت اختیار کرنی چاہئے
الجواب :
لاالہ الا اﷲ بے شوہر کے طلاق دئے طلاق تحصیلدار کے دئے نہیں ہوسکتی قال اﷲتعالی بیده عقدة النكاح (اﷲتعالی نے فرمایا : نکاح کی گرہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے۔ ت)دوسری جگہ نکاح کرے گی تو حرام قطعی وزنا ہوگاقال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲتعالی نے فرمایا : اور حرام ہیں منکوحہ عورتیں ۔ ت)ہاں شوہر پر فرض ہے کہ اسے اچھی طرح رکھے اس کے حقوق اداکرے اگر وہ اس پر قادر نہیں تو اس پر فرض ہے کہ اسے طلاق دے دے
قال اﷲتعالی فامسكوهن بمعروف او فارقوهن بمعروف ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك یا دوطلاقوں کے بعدبیوی کو حسن سلوك سے پاس رکھو یا ان کو بھلائی کے ساتھ فارغ کردو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴۵ : ازبلرامپورمحلہ پورنیا تالاب ضلع گونڈہ مرسلہ تیغ بہادر خاں ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہندہ نے اپنے شوہر زید پر بحالت نزاع
کچہری دیوانی میں دعوی طلاق دائرکیا۔ شہادت وغیرہ پیش کرکے عورت نے اپنی طلاق کی ڈگری حاصل کرلی اب یہ عورت ازروئے شرع شریف دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اور اگر بعد طلاق حاصل کردو شوہر اول اس سے بعد چار پانچ ماہ کے رجعت کرے تو جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
اگرواقع میں زید نے طلاق دی تھی اور ہندہ نے سچا دعوی رکے ڈگری لی تو اگر طلاق بائن تھی تو بعد عدت مطلقا اور اگر رجعی تھی تو اس شرط پر کہ زید نے عدت میں رجعت نہ کی ہو نکاح کرسکتی ہ اور اگر زید نے واقع میں طلاق نہ دی تھی ہندہ نے جھوٹے گواہ پیش کرکے ڈگری لے لی یا طلاق وجعی دی تھی اور ختم عدت سے پہلے زید نے رجعت کرلی تو ہندہ کو دوسری جگہ نکاح حرام قطعی ہےاگر کرے گی زناہوگاقال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲتعالی نے فرمایا : اور منکوحہ عورتیں حرام ہیں ۔ ت) حیض والی عورت کی عدت تین حیض ہیں جو طلاق کے بعدشروع ہوکر ختم ہوں
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔
طلاق دی ہوئی عورت اپنے آپ کو تین حیض تك پابند کریں (ت)
اگر اس چار پانچ مہینے یں تین حیض شروع ہوکر ختم نہ ہوئے ہوں تو شوہر رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۶ : ازبریلی محلہ بہاری پور مرسلہ غلام مرتضی صاحب ۱۶شعبان ۱۳۲۶ھ
ہندہ صالحہ ہے اور اس کا شوہر فاسق فاجر موذی معلن سود خوار ہ اور شرابی وعیاش ہے ہندہ کو مار پیٹ کرتا تھا بلکہ چاقو چھری سے آمادہ رہتا تھا اور ایك بار چاقو مارا کہ جس سے گھائی دہنے ہاتھ کی کٹ گئی دوسری مرتبہ ایك چاقو مارا جس بائی ہاتھ کی کلائی میں زخم پہنچا جس کے ہر نشان اب تك موجود ہیں اکثر عورت کو شراب پینے پر بحالت نشہ مجبورکرتا تھا چنانچہ ایك بار اس کے جبر پر ہندہ نے شراب سے نفرت ظاہر کی تو اس کے وہی گلاس ماراجس سے اس کو چوٹ لگ گئی اور آنکھوں میں شراچ پڑی جس سے آنکھیں دکھ آئیں اور عرصہ تك تکلیف رہی اور شخص مذکورتعلق ناجائز کئی عورتیں سے رکھتا تھا ان میں سے ایك عورت سے نکاح کرلیاتھا چند روز بعد اسے مارپیٹ کر نکال دیا شوہر کی ان حرکات ناشائستہ سے ہندہ نہایت پریشان رہتی تھی ار ان بدچلن عورتوں کو اکثر گھر میں رکھتاتھا آخر کار
الجواب :
اگرواقع میں زید نے طلاق دی تھی اور ہندہ نے سچا دعوی رکے ڈگری لی تو اگر طلاق بائن تھی تو بعد عدت مطلقا اور اگر رجعی تھی تو اس شرط پر کہ زید نے عدت میں رجعت نہ کی ہو نکاح کرسکتی ہ اور اگر زید نے واقع میں طلاق نہ دی تھی ہندہ نے جھوٹے گواہ پیش کرکے ڈگری لے لی یا طلاق وجعی دی تھی اور ختم عدت سے پہلے زید نے رجعت کرلی تو ہندہ کو دوسری جگہ نکاح حرام قطعی ہےاگر کرے گی زناہوگاقال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲتعالی نے فرمایا : اور منکوحہ عورتیں حرام ہیں ۔ ت) حیض والی عورت کی عدت تین حیض ہیں جو طلاق کے بعدشروع ہوکر ختم ہوں
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔
طلاق دی ہوئی عورت اپنے آپ کو تین حیض تك پابند کریں (ت)
اگر اس چار پانچ مہینے یں تین حیض شروع ہوکر ختم نہ ہوئے ہوں تو شوہر رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۶ : ازبریلی محلہ بہاری پور مرسلہ غلام مرتضی صاحب ۱۶شعبان ۱۳۲۶ھ
ہندہ صالحہ ہے اور اس کا شوہر فاسق فاجر موذی معلن سود خوار ہ اور شرابی وعیاش ہے ہندہ کو مار پیٹ کرتا تھا بلکہ چاقو چھری سے آمادہ رہتا تھا اور ایك بار چاقو مارا کہ جس سے گھائی دہنے ہاتھ کی کٹ گئی دوسری مرتبہ ایك چاقو مارا جس بائی ہاتھ کی کلائی میں زخم پہنچا جس کے ہر نشان اب تك موجود ہیں اکثر عورت کو شراب پینے پر بحالت نشہ مجبورکرتا تھا چنانچہ ایك بار اس کے جبر پر ہندہ نے شراب سے نفرت ظاہر کی تو اس کے وہی گلاس ماراجس سے اس کو چوٹ لگ گئی اور آنکھوں میں شراچ پڑی جس سے آنکھیں دکھ آئیں اور عرصہ تك تکلیف رہی اور شخص مذکورتعلق ناجائز کئی عورتیں سے رکھتا تھا ان میں سے ایك عورت سے نکاح کرلیاتھا چند روز بعد اسے مارپیٹ کر نکال دیا شوہر کی ان حرکات ناشائستہ سے ہندہ نہایت پریشان رہتی تھی ار ان بدچلن عورتوں کو اکثر گھر میں رکھتاتھا آخر کار
مجبورا ہندہ کے والدین نے عرصہ سات۴ سال کا ہوابٹھالیا اس مدت میں شوہر ہندہ نے نان ونفقہ کی کچھ خبر نہ لی اور بدچلنی اس کی اب تك برابر اسی روش پر ہے عرصہ ڈھائی سال کے قریب ہوا کہ ایك عورت اور کرلی ہے اسی دوران میں شوہر نے نالش دلاپانے زوجہ کے دائر کی کہ وہ بوجہ ثبوت بدچلنی کے خارج ہوگئی پر شوہر نے اپیل بھی کی وہ بھی خارج ہوگئی ہندہ کی یہ خواہش ہرگز نہیں ہے کہ میں اس موذی کے گھر جاؤں کیونکہ علاوہ دیگر تکالیف کے اب اندیشہ ئجان بھی غالب ہے اس لئے کہ نالش مذکور خارج ہوجانے سے مخالفت باہمی بہت کچھ بڑھ گئی ہے پس اس صورت میں علمائے دین سے استفسار ہے کہ شوہر سے طلاق یا دست برداری ہوسکتی ہے یانہیں اور شرعا فسخ نکاح بھی رسکتا ہے یانہیں
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عورت پر ہرگز جبرنہ ہوگا کہ شوہر کے یہاں جائے کہ اس میں دینی دنیوی وجانی وجسمانی اس کا ہر طرح کا ضررہے جان جانے کا اندیشہ باقی وموجود اور ضرر شرعا واجب الدفع ہے اﷲعزوجل فرماتا ہے : و لا تضآروهن عورتوں کو ضرر نہ پہنچاؤ۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاضرر ولاضرارفی السلام ۔
اسلام میں نہ ضرر ہے نہ کسی کو ضرر دینا۔
پس اگر کچھ لوگ صالحین واہل دین میسر ہوسکتے جن کی حمایت میں عورت کا رہنا شرعا بھی جائز ہو اور وہ اس کی نگہداشت کافی طور پر کرسکیں اور شوہر کو اس کے دین جسم وجاں پر تعدی نہ کرنے دیں جب تو عورت وہاں اپنے آپ کو سپرد شوہر کرتی کہ اس میں دونوں کے حق مراعات رہتے۔ ردالمحتار میں ہے :
فی البحر لوقالت انہ بضربنی ویوذینی فمرو ان یسکننی بین قوم صالحین فان علم القاضی ذلك زجرہ ومنعہ عن التعدی فی حقھا والایسأل عن صنیعہ فان صدقوھا منعہ عن التعدی فی حقھا ولا یترکھا ثمہ
بحر میں ہے اگر بیوی نے قاضی کو درخواست دی کہ خاوند مجھے مارتا اور اذیت دیتا ہے تو اس حکم دیجئے کہ مجھے نیك لوگوں میں سکونت دے اگر قاضی خود اس معاملہ سے آگاہ ہوتو خاوند کو ڈانٹے اور مارنے اور زیادتی سے منع کرے ورنہ پڑوسیوں سے خاوند کے رویے کے متعلق معلوم کرے اگر وہ بیوی کی تصدیق کریں تو قاضی خاوند کو زیادتی سے منع
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عورت پر ہرگز جبرنہ ہوگا کہ شوہر کے یہاں جائے کہ اس میں دینی دنیوی وجانی وجسمانی اس کا ہر طرح کا ضررہے جان جانے کا اندیشہ باقی وموجود اور ضرر شرعا واجب الدفع ہے اﷲعزوجل فرماتا ہے : و لا تضآروهن عورتوں کو ضرر نہ پہنچاؤ۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاضرر ولاضرارفی السلام ۔
اسلام میں نہ ضرر ہے نہ کسی کو ضرر دینا۔
پس اگر کچھ لوگ صالحین واہل دین میسر ہوسکتے جن کی حمایت میں عورت کا رہنا شرعا بھی جائز ہو اور وہ اس کی نگہداشت کافی طور پر کرسکیں اور شوہر کو اس کے دین جسم وجاں پر تعدی نہ کرنے دیں جب تو عورت وہاں اپنے آپ کو سپرد شوہر کرتی کہ اس میں دونوں کے حق مراعات رہتے۔ ردالمحتار میں ہے :
فی البحر لوقالت انہ بضربنی ویوذینی فمرو ان یسکننی بین قوم صالحین فان علم القاضی ذلك زجرہ ومنعہ عن التعدی فی حقھا والایسأل عن صنیعہ فان صدقوھا منعہ عن التعدی فی حقھا ولا یترکھا ثمہ
بحر میں ہے اگر بیوی نے قاضی کو درخواست دی کہ خاوند مجھے مارتا اور اذیت دیتا ہے تو اس حکم دیجئے کہ مجھے نیك لوگوں میں سکونت دے اگر قاضی خود اس معاملہ سے آگاہ ہوتو خاوند کو ڈانٹے اور مارنے اور زیادتی سے منع کرے ورنہ پڑوسیوں سے خاوند کے رویے کے متعلق معلوم کرے اگر وہ بیوی کی تصدیق کریں تو قاضی خاوند کو زیادتی سے منع
وان لم یکن فی جوارھا من یوثق بہ او کانوا یمیلون الی الزوج امرہ باسکانھا بین قوم صالحین ۔
کرے ورنہ اسی مسکن میں رہنے دے او اگر اس کے پڑوس میں کوئی ثقہ آدمی نہ ہو یا پڑوسی خاوند کی طرفداری کریں تو خاوند کو پابند کرے کہ وہ بیوی کو نیك لوگوں میں رہائش دے۔ (ت)
مگر غیر لوگوں سے اس زمانے میں نہ ایسی امید نہ ایسے لوگو ملیں گے پر نان نفقہ لازم کای جائے لانھا لیست بناشزۃ لان امتناعھا بحق(کیونکہ وہ نافرمان نہیں کیونك اپنے حق کےلئے وہ خاوند کو جماع سے روکتی ہے۔ ت)پھر اگر اس کے ساتھ خولت میں اندیشہ ہوتو اس سے منع کریں اور یہی صورت معتبر ہے اور اگر اب اندیشہ صحیحہ ہواور بندوبست کافی کی امید نہ ہو اور فی الواقع شرابی کا بندوبست ناممکن سا ہے تو حاکم شوہر پر جبر کرے کہ عورت کوطلاق دے۔ اﷲتعالی فرماتا ہے :
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف۪
ان کو پاس روکے رکھو بھلائی کے ساتھ یا ان کو فارغ کردو بھلائی کے ساتھ۔ (ت)
عورتوں کو تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو جب اچھی طرح رکھنا نہیں تو اچھی طرح چھوڑنا اس پر واجب ہوا اور ترك واجب گناہ ہے اس گناہ پر حاکم سزادے سکتا ہے
کمافی البحر والدروغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھا فیھاالتعزیر ۔
جیسا کہ بحر میں ہے کہ وہ گناہ جس پر حد نہ ہو اس پرتعزیر ہوتی ہے۔ (ت)
بغیر اس کے بطور خود فسخ نکاح کی صورت ہمارے یہاں مذہب میں نہیں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ : ازموضع گھورنی ڈاك خانہ کرشن گڑھ ضلع ندیا ۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
فسخ نکاح بہروجہیکہ بود بلا تفرقہ قاضی شرع وبشرط بنودن قاضی شرع بلا حکم حاکم وقت میتواند شدیانہ ودریں بلادما نکاح کا فسخ جیسے بھی ہو قاضی کو تفریق کے بغیر اور قاضی شرع نہ ہونے کی وجہ سے وقت کے حاکم کے بغیر ہوسکے گا یانہیں اور ہمارے ملك
کرے ورنہ اسی مسکن میں رہنے دے او اگر اس کے پڑوس میں کوئی ثقہ آدمی نہ ہو یا پڑوسی خاوند کی طرفداری کریں تو خاوند کو پابند کرے کہ وہ بیوی کو نیك لوگوں میں رہائش دے۔ (ت)
مگر غیر لوگوں سے اس زمانے میں نہ ایسی امید نہ ایسے لوگو ملیں گے پر نان نفقہ لازم کای جائے لانھا لیست بناشزۃ لان امتناعھا بحق(کیونکہ وہ نافرمان نہیں کیونك اپنے حق کےلئے وہ خاوند کو جماع سے روکتی ہے۔ ت)پھر اگر اس کے ساتھ خولت میں اندیشہ ہوتو اس سے منع کریں اور یہی صورت معتبر ہے اور اگر اب اندیشہ صحیحہ ہواور بندوبست کافی کی امید نہ ہو اور فی الواقع شرابی کا بندوبست ناممکن سا ہے تو حاکم شوہر پر جبر کرے کہ عورت کوطلاق دے۔ اﷲتعالی فرماتا ہے :
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف۪
ان کو پاس روکے رکھو بھلائی کے ساتھ یا ان کو فارغ کردو بھلائی کے ساتھ۔ (ت)
عورتوں کو تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو جب اچھی طرح رکھنا نہیں تو اچھی طرح چھوڑنا اس پر واجب ہوا اور ترك واجب گناہ ہے اس گناہ پر حاکم سزادے سکتا ہے
کمافی البحر والدروغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھا فیھاالتعزیر ۔
جیسا کہ بحر میں ہے کہ وہ گناہ جس پر حد نہ ہو اس پرتعزیر ہوتی ہے۔ (ت)
بغیر اس کے بطور خود فسخ نکاح کی صورت ہمارے یہاں مذہب میں نہیں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ : ازموضع گھورنی ڈاك خانہ کرشن گڑھ ضلع ندیا ۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
فسخ نکاح بہروجہیکہ بود بلا تفرقہ قاضی شرع وبشرط بنودن قاضی شرع بلا حکم حاکم وقت میتواند شدیانہ ودریں بلادما نکاح کا فسخ جیسے بھی ہو قاضی کو تفریق کے بغیر اور قاضی شرع نہ ہونے کی وجہ سے وقت کے حاکم کے بغیر ہوسکے گا یانہیں اور ہمارے ملك
حوالہ / References
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۶۴
القرآن الکریم ۲ /۲۳۱
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
القرآن الکریم ۲ /۲۳۱
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
کہ قاضی شرع عدیم الوجودست حکم حاکم غیر مسلم مناسب تفرقہ قاضی میواند شد یا نہ بتقدیر جواز نیابت اذن اولا بدیست یانہ میں شرعی قاضی موجود نہیں تو کیا غیر مسلم حکمران قاضی کے قائم مقام ہوکر نکاح کو فسخ کرسکتے ہیں یانہیں اور اگر یہ فسخ کرسکتے ہیں تو کیانیابت کیلئے ان کو اجازت حاصل کرنا ضروری ہے یانہیں (ت)
الجواب :
فسخ نکاح بردوگونہ است یکے آنکہ حقا للشرع باشد مقارن ہمچونکاح زنے برخواہرش یا اصول وفروع ممسوسہ یا آنکہ حرمت رضاعت داشتہ باشد الی غیرذلك خواہ طاری چوں آنکہ رضاع یا مصاہرت بعد نکاح حرمت آرد یا شوہر مرتد شود والعیاذباﷲ تعالی درہمچوصور ہیچ حاجت قضانیست برہریك زن وشوہر واجب ست فسخ کردنش اعظا ما للشریعۃ واعد اما للمعصیۃ نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار دوم آنکہ برائے حق زن باشد چوں خیار بلوغ وعنین وغیرہما اینجا قضائے قاضی شرط ست تنہا زن یاولی اوباد مستبد تنواں شد اگر ولی بے تفریق قاضی جدا کردہ بزنے دیگر دہد حرام باشد زیرا کہ حق زوج باد متعلق ست وشرع حکم بتفریق نہ فرمودہ است واصل ایں منصب شرع مطہرر است کہ کار کاردین ست پس ایں تفریق نہ رسد مگر قاضی راکہ نائب
نکاح کا فسخ دو۲قسم ہے ایك شرع کی پاسداری کےلئے اور یہ شرعی حق کوابتداء سے عارض ہو جیسے بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن سے نکاح یا بیوی کے اصول(ماں دادی)وغیرہ یا فروع(بیوی کی پہلی بیٹی)کو شہوت سے چھواہو یابیوی رضاعت کی وجہ سے حرام ہو وغیرہ ذالک یا شرعی حق نکاح کے بعد لاحق ہوا مثلا رضاعت یا مصاہرت کی حرمت نکاح کے بعد عارض ہوئی ہو یا والعیاذباﷲتعالی خاوند مرتد ہوگیا ہو تو ان تمام صورتوں میں فسخ نکاح کےلئے قاضی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ مرد وعورت دونوں پر لازم ہے کہ وہ فسخ قرار دے کر جدائی اختیار کریں تاکہ شریعت کی تعظیم اور گناہ سے اجتناب کیا جاسکے اس پردرمختار وغیرہ معتبر کتب میں تصریح کی گئی ہے فسخ کی دوسری قسم یہ ہے کہ بیوی کے حق کی وجہ سے فسخ کیاجائے مثلا بیوی کوبالغ ہونے پر فسخ کا اختیار حاصل ہو یا خاوند نامرد ہو وغیرہ تو اس قسم میں فسخ کے لئے قاضی شرط ہے بیوی یا اس کے ولی کو مستقل اختیار نہیں کہ وہ قاضی کے بغیر جدائی کا فیصلہ کریں اگر اس صورت میں ولی نے قاضی کے بغیر ہ عورت کا دوسرے سے نکاح کردیاتو یہ نکاح حرام ہوگاکیونکہ ابھی پہلے
الجواب :
فسخ نکاح بردوگونہ است یکے آنکہ حقا للشرع باشد مقارن ہمچونکاح زنے برخواہرش یا اصول وفروع ممسوسہ یا آنکہ حرمت رضاعت داشتہ باشد الی غیرذلك خواہ طاری چوں آنکہ رضاع یا مصاہرت بعد نکاح حرمت آرد یا شوہر مرتد شود والعیاذباﷲ تعالی درہمچوصور ہیچ حاجت قضانیست برہریك زن وشوہر واجب ست فسخ کردنش اعظا ما للشریعۃ واعد اما للمعصیۃ نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار دوم آنکہ برائے حق زن باشد چوں خیار بلوغ وعنین وغیرہما اینجا قضائے قاضی شرط ست تنہا زن یاولی اوباد مستبد تنواں شد اگر ولی بے تفریق قاضی جدا کردہ بزنے دیگر دہد حرام باشد زیرا کہ حق زوج باد متعلق ست وشرع حکم بتفریق نہ فرمودہ است واصل ایں منصب شرع مطہرر است کہ کار کاردین ست پس ایں تفریق نہ رسد مگر قاضی راکہ نائب
نکاح کا فسخ دو۲قسم ہے ایك شرع کی پاسداری کےلئے اور یہ شرعی حق کوابتداء سے عارض ہو جیسے بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن سے نکاح یا بیوی کے اصول(ماں دادی)وغیرہ یا فروع(بیوی کی پہلی بیٹی)کو شہوت سے چھواہو یابیوی رضاعت کی وجہ سے حرام ہو وغیرہ ذالک یا شرعی حق نکاح کے بعد لاحق ہوا مثلا رضاعت یا مصاہرت کی حرمت نکاح کے بعد عارض ہوئی ہو یا والعیاذباﷲتعالی خاوند مرتد ہوگیا ہو تو ان تمام صورتوں میں فسخ نکاح کےلئے قاضی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ مرد وعورت دونوں پر لازم ہے کہ وہ فسخ قرار دے کر جدائی اختیار کریں تاکہ شریعت کی تعظیم اور گناہ سے اجتناب کیا جاسکے اس پردرمختار وغیرہ معتبر کتب میں تصریح کی گئی ہے فسخ کی دوسری قسم یہ ہے کہ بیوی کے حق کی وجہ سے فسخ کیاجائے مثلا بیوی کوبالغ ہونے پر فسخ کا اختیار حاصل ہو یا خاوند نامرد ہو وغیرہ تو اس قسم میں فسخ کے لئے قاضی شرط ہے بیوی یا اس کے ولی کو مستقل اختیار نہیں کہ وہ قاضی کے بغیر جدائی کا فیصلہ کریں اگر اس صورت میں ولی نے قاضی کے بغیر ہ عورت کا دوسرے سے نکاح کردیاتو یہ نکاح حرام ہوگاکیونکہ ابھی پہلے
شرع مطہر است چنانکہ امامت درنماز حق حکام ست فاما شرط اسلام ست واﷲتعالی اعلم۔
خاوند کا حق اس عورت پر باقی ہے اور شرعا یہ تفریق نہ ہوگی کیونکہ یہ دینی معاملہ ہے جس میں شرع کو ہی حق ہے لہذا یہ کاروائی قاضی کے بغیر نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ وہی شرع کا نائب ہے جیسا کہ نماز میں حق امامت حاکم کو ہی حاصل ہے ہاں مسلمان ہونا شرط ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴۸ : سائل مذکوررالصد(سائل وہی پہلے مذکور ہے۔ ت)
زنے راکہ شوہرش دیوانہ شدہ از سہ چہار سال بہسپتال مقید گردیدہ است میرسد کہ بلا تفرقہ قاضی شرعی یا بلاحکم حاکم فسخ نکاح خودکند یا نہ و بلا انقضائے عدت فسخ بادیگرے نکاح خود میتواند کردیانہ یا ولی اورا میرسد کہ بطلب اویا بلاطلب او تفریق را وبلا تفرقہ قاضی محج بجہت مجنون شدن شوہر نکاح اوبدیگرے کردہ بدہد یانہ وبوقت ضرورت مثلا خوف زناواحتیاج نفقہ وغیرہ عمل بمذہب دیگر یا بقول غیر مفتی بہ از اقوال کے از ائمہ حنفیہ روا باشد یا نہ وبشرط جواز قول کسے دربارہ جواز فسخ نکاح آں مجنون الزوج رابلا تفرقہ قاضی ہست یا نہ ودرصورت عدم فسخ نکاح حکم ناکح ومنکوحہ ومنکح چیست۔ جس عورت کاخاوند دیوانہ ہونے کی وجہ سے تین چار سال ہسپتال میں پابند ہے ایسی عورت کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاضی کی تفریق کے بغیر یا حکم حاکم کے بغیرنکاح فسخ کرلے یانہیں اور فسخ کی عدت پوری کئے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں یا کیا اس کے ولی کو یہ اختیار ہے عورت کے مطالبہ پر یابغیر مطالبہ خود ہی قاضی تفریق کے بغیر صرف خاوند کے مجنون ہونے کی بناپر دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح کردے یانہ اور کیا بوقت ضرورت مثلا زنا یا نفقہ کی محتاجی کے خطرہ پر غیرمفتی بہ قول کے مطابق حنفی مذہب کے علاوہ دوسرے کسی مذہب پر عمل جائز ہوگا یانہیں اگرجائز ہے تو دوسرے کسی امام کے مذہب پر خاوند کے مجنون ہونے پر قاضی کے بغیر فسخ نکاح کا اختیار ہے یانہیں قاضی کے فسخ کے بغیر عدم جواز کی صورت میں نکاح کرانے والے اور نکاح کرنے والے مرد اور عورت کا کیا حکم ہے
الجواب :
شوہراگرمجنون گردد نزد ماہیچ گاہ فسخ نکاح نتواں شد واگرقاضی شرع مقلد حنفی حکم بفسخ کند نیز باطل ست اذلیس للمقدان
خاوند اگر مجنون ہوجائے تو کسی طرح بھی ہمارے مذہب حنفی میں نکاح کا فسخ جائز نہیں ہے۔ اگر قاضی حنفی مذہب کامقلد ہوتو اگر وہ فسخ کرے گا تو اس کا
خاوند کا حق اس عورت پر باقی ہے اور شرعا یہ تفریق نہ ہوگی کیونکہ یہ دینی معاملہ ہے جس میں شرع کو ہی حق ہے لہذا یہ کاروائی قاضی کے بغیر نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ وہی شرع کا نائب ہے جیسا کہ نماز میں حق امامت حاکم کو ہی حاصل ہے ہاں مسلمان ہونا شرط ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴۸ : سائل مذکوررالصد(سائل وہی پہلے مذکور ہے۔ ت)
زنے راکہ شوہرش دیوانہ شدہ از سہ چہار سال بہسپتال مقید گردیدہ است میرسد کہ بلا تفرقہ قاضی شرعی یا بلاحکم حاکم فسخ نکاح خودکند یا نہ و بلا انقضائے عدت فسخ بادیگرے نکاح خود میتواند کردیانہ یا ولی اورا میرسد کہ بطلب اویا بلاطلب او تفریق را وبلا تفرقہ قاضی محج بجہت مجنون شدن شوہر نکاح اوبدیگرے کردہ بدہد یانہ وبوقت ضرورت مثلا خوف زناواحتیاج نفقہ وغیرہ عمل بمذہب دیگر یا بقول غیر مفتی بہ از اقوال کے از ائمہ حنفیہ روا باشد یا نہ وبشرط جواز قول کسے دربارہ جواز فسخ نکاح آں مجنون الزوج رابلا تفرقہ قاضی ہست یا نہ ودرصورت عدم فسخ نکاح حکم ناکح ومنکوحہ ومنکح چیست۔ جس عورت کاخاوند دیوانہ ہونے کی وجہ سے تین چار سال ہسپتال میں پابند ہے ایسی عورت کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاضی کی تفریق کے بغیر یا حکم حاکم کے بغیرنکاح فسخ کرلے یانہیں اور فسخ کی عدت پوری کئے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں یا کیا اس کے ولی کو یہ اختیار ہے عورت کے مطالبہ پر یابغیر مطالبہ خود ہی قاضی تفریق کے بغیر صرف خاوند کے مجنون ہونے کی بناپر دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح کردے یانہ اور کیا بوقت ضرورت مثلا زنا یا نفقہ کی محتاجی کے خطرہ پر غیرمفتی بہ قول کے مطابق حنفی مذہب کے علاوہ دوسرے کسی مذہب پر عمل جائز ہوگا یانہیں اگرجائز ہے تو دوسرے کسی امام کے مذہب پر خاوند کے مجنون ہونے پر قاضی کے بغیر فسخ نکاح کا اختیار ہے یانہیں قاضی کے فسخ کے بغیر عدم جواز کی صورت میں نکاح کرانے والے اور نکاح کرنے والے مرد اور عورت کا کیا حکم ہے
الجواب :
شوہراگرمجنون گردد نزد ماہیچ گاہ فسخ نکاح نتواں شد واگرقاضی شرع مقلد حنفی حکم بفسخ کند نیز باطل ست اذلیس للمقدان
خاوند اگر مجنون ہوجائے تو کسی طرح بھی ہمارے مذہب حنفی میں نکاح کا فسخ جائز نہیں ہے۔ اگر قاضی حنفی مذہب کامقلد ہوتو اگر وہ فسخ کرے گا تو اس کا
یخالف مذہبہ درصحیح القدوری علامہ قاسم باز ودرمختار ست الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع (ومجتہد خود از صدہا سال مفقود است آرے اگر قاضی شرعی شافعی المذہب باشد یاحنفی مگر سلطان کہ اورا برقضاداشتہ است اذن دادہ باشد مثلا ہنگام ضرورت بقول مرجوح فی المذہب یا بمذہب دیگر قضاکنی آں گاہ قضائے اوصحیح ونافذ باشد وپیداست کہ ایں تفریق اگر باشد بخاطر جااگر بے تفریق قاضی شرع ولی بزنے دیگر دہد یازن خودش بدگرے نکاح کند زنہار جائز نیست ناکح ومنکوحہ ہردوبزہ کار ومنکح نیز اگربریں حال مطلع باشد بوقت ضرورت اگر صادقہ باشد عمل بقول مرجوح یا مذہب امام دیگر درآں خاص مسئلہ مبتلابرائے نفس خودش عمل میتواں کرد فامامفتی رانمی رسد کہ باوفتوی دہدیاقاضی مقلد مقید بالقضابالمذہب باوحکم تواں کرد واگر کند باطل شد کما قد مناوکل ذلك مصرح بہ فی الکتب المعتمدۃ و آنکہ برائے نفس خودش باوعمل کند واجب ست کہ جملہ شرائط آں قول مرعی دارد مثلا قول امام محمد در تفریق زن مجنون شرط تفریق قاضی کہ بے روبراں قول مرجوح ہم عمل بناشد بلکہ بہوائے نفس والعیاذ فسخ باطل ہوگا کیونکہ مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں کرسکتا قدوری کی تصحیح میں علامہ قاسم نے اور پھر درمختار میں فرمایا کہ فتوی اور فیصلہ قول مرجوح پر جہالت ہے اور اجماع کےخلاف ہے اور مستقل مجتہدصدیوں سے مفقود ہے ہاں اگر شافعی یا حنفی قاضی کو سلطان نے عہدہ پر مقرر کرتے ہوئے یہ اجازت دی ہو کہ وہ ضرورت کی بنا پراپنے مذہب کے مرجوح قول یا دوسرے مذہب پر فیصلہ کرسکتا ہے تو اس قاضی کافیصلہ صحیح ہوگا اور نافذ بھی ہوگا۔ اور یہ واضح ہے کہ اگر یہ تفریق ہوگی توعورت کی خاطر ہوگی شریعت کے حق کے لئے نہ ہوگی جبکہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ ایسی صورت میں اگر ولی نے یاخود عورت نے قاضی کی تفریق کے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کیا تو ہر گز جائز نہ ہوگا نکاح کے دونوں فریق اور نکاح کرکے دینے والے زناکاری میں مبتلا ہوں گے بشرطیکہ نکاح پڑھانے والے کو صورت حال کا علم ہو ضرورت اگر صحیح اور واقعی ہوتو پھر مرجوح قول یا دوسرے مذہب پر مبتلا شخص کو چاہئے کہ وہ خود عمل کرے لیکن مفتی ہرگز فتوی نہیں دے سکتا اور وہ قاضی بھی جو اپنے مذہب کے مطابق فیصلے کرنے کا پابند ہو وہ بھی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا اگر فیصلہ کرے گا تووہ بھی باطل ہوگا جیسا کہ ہم پہلے بیان کرآئے ہیں اور قابل اعتمادکتب میں اس کی تصریح موجود ہے اور اگر مبتلا شخص خود دوسرے
حوالہ / References
درمختار مقدمہ کتاب رسم المفتی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
باﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مذہب یامرجوح قول پر عمل کرے تو ضروری ہے کہ وہ ان تمام شرائط کی رعایت کرے مثلا امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے مجنون کی بیوی کے متعلق تفریق کے جواز کو قاضی سے مشروط کیا ہے اس کے بغیر مرجوح قول پر بھی تفریق جائز نہ ہوگی بلکہ یہ نفسانی خواہش کی پیروی ہوگی۔ والعیاذ باﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۹ : ازاعظم گڈھ ڈاکخانہ مبارکپور محلہ پرانی بستی متصل مکان ناظر جی مرسلہ حبیب اﷲ ولدبابو ۱۴جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کا نابالغی میں نکاح ہوا اور وہ بی بی میکے سے اب تك رخصت ہوکرسسرال نہیں گئی عرصہ تین برس کا ہوا کہ شوہر بیمارہوگیا ہے اور برابر علاج بھی ہورہا ہے مگرکوئی دوا فائدہ نہیں کرتی اور نہ کوئی حکیم مرض کا پتا بتائے کہ کون سامرض ہے اب شوہر کی یہ حالت ہے کہ کوئی عضو کام کرنے کے لائق نہیں ہے ہر عضو سے معذور ہے نہ چل سکتا ہے نہ کھڑاہوسکتا ہے اور پاخانہ پیشاب سے بالکل معذور ہے اور زبان بھی درست نہیں ہے کہ زبان سے کوئی بات صاف نکلے کہ جو کوئی سمجھ سکے بلکہ پاخانہ پھرتا ہے تو دوسرا آبدست لے دیتا ہے یہی حالت آج تین برس سے ہے اور وہ باولے کی شکل ہوگیا ہے اپنے کپڑے کا کچھ خیال نہیں کرتا ننگا مادر زاد بھی ہوجاتا ہے اپنا خرچ بھی نہیں چلاسکتا اور نہ عورت کاچلاسکتا اورنہ شوہر کے والدین نے اس عورت کے نان نفقہ کا ابھی تك خیال کیا لڑکی کے والدین عاجز ہوکر کے آپ کے پاس یہ سوال حبیب اﷲ ولد بابو نے روانہ کیا ہے ان سب حالتوں میں لڑکی کا نکاح فسخ ہوسکتا ہے یا نہیں یہ سب حالت اور واقعہ سچاتحریر ہے۔
الجواب :
ان وجوہ سے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا درمختار میں ہے :
لایتخیراحد الزوجین بعیب الاخر ولو فاحشا کجنون وجذام وبرص ورتق وقرن ۔
خاوند بیوی سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناپر فسخ کا اختیار نہیں ہے اگر وہ عیب واضح ہو مثلا جنون جذام برص یا عورت کی شرمگاہ میں تنگی یا اس میں ہڈی یا غدود پیداہوگئی ہو۔ (ت)
اس میں ہے :
مذہب یامرجوح قول پر عمل کرے تو ضروری ہے کہ وہ ان تمام شرائط کی رعایت کرے مثلا امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے مجنون کی بیوی کے متعلق تفریق کے جواز کو قاضی سے مشروط کیا ہے اس کے بغیر مرجوح قول پر بھی تفریق جائز نہ ہوگی بلکہ یہ نفسانی خواہش کی پیروی ہوگی۔ والعیاذ باﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۹ : ازاعظم گڈھ ڈاکخانہ مبارکپور محلہ پرانی بستی متصل مکان ناظر جی مرسلہ حبیب اﷲ ولدبابو ۱۴جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کا نابالغی میں نکاح ہوا اور وہ بی بی میکے سے اب تك رخصت ہوکرسسرال نہیں گئی عرصہ تین برس کا ہوا کہ شوہر بیمارہوگیا ہے اور برابر علاج بھی ہورہا ہے مگرکوئی دوا فائدہ نہیں کرتی اور نہ کوئی حکیم مرض کا پتا بتائے کہ کون سامرض ہے اب شوہر کی یہ حالت ہے کہ کوئی عضو کام کرنے کے لائق نہیں ہے ہر عضو سے معذور ہے نہ چل سکتا ہے نہ کھڑاہوسکتا ہے اور پاخانہ پیشاب سے بالکل معذور ہے اور زبان بھی درست نہیں ہے کہ زبان سے کوئی بات صاف نکلے کہ جو کوئی سمجھ سکے بلکہ پاخانہ پھرتا ہے تو دوسرا آبدست لے دیتا ہے یہی حالت آج تین برس سے ہے اور وہ باولے کی شکل ہوگیا ہے اپنے کپڑے کا کچھ خیال نہیں کرتا ننگا مادر زاد بھی ہوجاتا ہے اپنا خرچ بھی نہیں چلاسکتا اور نہ عورت کاچلاسکتا اورنہ شوہر کے والدین نے اس عورت کے نان نفقہ کا ابھی تك خیال کیا لڑکی کے والدین عاجز ہوکر کے آپ کے پاس یہ سوال حبیب اﷲ ولد بابو نے روانہ کیا ہے ان سب حالتوں میں لڑکی کا نکاح فسخ ہوسکتا ہے یا نہیں یہ سب حالت اور واقعہ سچاتحریر ہے۔
الجواب :
ان وجوہ سے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا درمختار میں ہے :
لایتخیراحد الزوجین بعیب الاخر ولو فاحشا کجنون وجذام وبرص ورتق وقرن ۔
خاوند بیوی سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناپر فسخ کا اختیار نہیں ہے اگر وہ عیب واضح ہو مثلا جنون جذام برص یا عورت کی شرمگاہ میں تنگی یا اس میں ہڈی یا غدود پیداہوگئی ہو۔ (ت)
اس میں ہے :
حوالہ / References
دُرمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
لایفرق بینھما بعجزہ عنھاای عن النفقۃ ولوقضی بہ حنفی لم ینفذ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
خاوند اگر نفقہ دینے سے عاجز ہوتو بھی تفریق جائز نہیں اگر حنفی قاضی نے ایسا فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
مسئلہ۲۵۰تا۲۵۴ : ازم بمبئی پوسٹ ۹پیرولین مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب مینجر طلسمی پریس ۲۶جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی شادی ہندہ سے ہوئی ۷سال ہوئے اور اس تمام زمانہ کا خرچہ والدین پر رہا زید کوئی کام کرنا نہیں چاہتا اپنے چھوٹے بھائی کی معمولی آمدنی پر اپنا بار ڈالے ہوئے ہے اسی وجہ سے زید کے والد بھی ناخوش ہیں کہ باوجود ان کے بہت سمجھانے کے بھی کچھ کام نہیں چاہتا ہندہ کے والد کے انتقال کے بعد زید کو اس کی خوشدامن نے بلا کر سمجھایا مگر وہ نہ مانا اور اپنے مکان جاکر یہ خط بھیج دیابعدہ ہندہ کی والدہ نے انتقال کے بعد ہندہ کے ایك رشتہ دار بھائی نے خط کتابت کی اس لئے کہ حقیقی کوئی بھائی بھی نہیں ہے لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ مندرجہ ذیل عبارات پر فسخ نکاح یا تفویض طلاق کا حکم ہوسکتا ہے یا نہیں اور بفتوائے امام شافعی رحمۃ اﷲتعالی بحالت عدم وصولی نان نفقہ کیا حکم ہےبینواتوجروا
(۱)خط خوشدامن کے نام ماسوا اس کے میں تمہارا کوئی مزاحم نہیں اور نہ میں تمہارے کسی کام میں دخل دے سکتا ہوں مجھے تمہاری خیریت اور خبر کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنی لونڈیا کی وجہ سے خط بھیجتا ہوں تمہارے ہر کام کا تم کو اختیار ہے ہم کوئی نہیں ہیں کیوں دخل دیں گے جو تمہارے لوگوں کے مزاج میں آوے وہ کرو بعد انتقال والدین عمرورشتہ کے بھائی نے خط بھیجا کہ اب تو خبرگیری کرواب نہایت نازك وقت ہے اس کا جواب ذیل ہے۔
(۲)ذرا قرآن اور حدیث کو سامنے رکھئے اور پھر تصفیہ کیجئے گا کہ مرد پر کون سی عورت کا حق ہے اور کس وجوہات سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے بہت معاملات اور عادات ایسے کہ اگر مرد ان عادات کو عورت کی گوارہ کرے تو جہنمی ہوجائے وہ میری نیك بخت بیوی میں سب موجود ہیں بعدہ یہ لکھنے پر کہ خبر گیری کرو اور خبرگیری اپنے ذمہ واجب نہیں سمجھتے تو صاف صاف علیحدگی کے الفاظ لکھ دو اگر کوئی صورت بھی منظور کرتے ہوتو میں یہ رعایت کروں گا کہ بحالت یکجائی اب تك کے حقوق ہند ہ سے معاف کرادوں گا اور بحالت علیحدگی مہر بھی تاکہ عنداﷲ بھی آپ ماخوذ نہ ہیں ۔
خاوند اگر نفقہ دینے سے عاجز ہوتو بھی تفریق جائز نہیں اگر حنفی قاضی نے ایسا فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
مسئلہ۲۵۰تا۲۵۴ : ازم بمبئی پوسٹ ۹پیرولین مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب مینجر طلسمی پریس ۲۶جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی شادی ہندہ سے ہوئی ۷سال ہوئے اور اس تمام زمانہ کا خرچہ والدین پر رہا زید کوئی کام کرنا نہیں چاہتا اپنے چھوٹے بھائی کی معمولی آمدنی پر اپنا بار ڈالے ہوئے ہے اسی وجہ سے زید کے والد بھی ناخوش ہیں کہ باوجود ان کے بہت سمجھانے کے بھی کچھ کام نہیں چاہتا ہندہ کے والد کے انتقال کے بعد زید کو اس کی خوشدامن نے بلا کر سمجھایا مگر وہ نہ مانا اور اپنے مکان جاکر یہ خط بھیج دیابعدہ ہندہ کی والدہ نے انتقال کے بعد ہندہ کے ایك رشتہ دار بھائی نے خط کتابت کی اس لئے کہ حقیقی کوئی بھائی بھی نہیں ہے لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ مندرجہ ذیل عبارات پر فسخ نکاح یا تفویض طلاق کا حکم ہوسکتا ہے یا نہیں اور بفتوائے امام شافعی رحمۃ اﷲتعالی بحالت عدم وصولی نان نفقہ کیا حکم ہےبینواتوجروا
(۱)خط خوشدامن کے نام ماسوا اس کے میں تمہارا کوئی مزاحم نہیں اور نہ میں تمہارے کسی کام میں دخل دے سکتا ہوں مجھے تمہاری خیریت اور خبر کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنی لونڈیا کی وجہ سے خط بھیجتا ہوں تمہارے ہر کام کا تم کو اختیار ہے ہم کوئی نہیں ہیں کیوں دخل دیں گے جو تمہارے لوگوں کے مزاج میں آوے وہ کرو بعد انتقال والدین عمرورشتہ کے بھائی نے خط بھیجا کہ اب تو خبرگیری کرواب نہایت نازك وقت ہے اس کا جواب ذیل ہے۔
(۲)ذرا قرآن اور حدیث کو سامنے رکھئے اور پھر تصفیہ کیجئے گا کہ مرد پر کون سی عورت کا حق ہے اور کس وجوہات سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے بہت معاملات اور عادات ایسے کہ اگر مرد ان عادات کو عورت کی گوارہ کرے تو جہنمی ہوجائے وہ میری نیك بخت بیوی میں سب موجود ہیں بعدہ یہ لکھنے پر کہ خبر گیری کرو اور خبرگیری اپنے ذمہ واجب نہیں سمجھتے تو صاف صاف علیحدگی کے الفاظ لکھ دو اگر کوئی صورت بھی منظور کرتے ہوتو میں یہ رعایت کروں گا کہ بحالت یکجائی اب تك کے حقوق ہند ہ سے معاف کرادوں گا اور بحالت علیحدگی مہر بھی تاکہ عنداﷲ بھی آپ ماخوذ نہ ہیں ۔
حوالہ / References
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۹
(۳)جواب : آپ کا تو اب یہ خیال ہے جناب قبلہ خواشد امن صاحبہ نے بعد انتقال خسر صاحب مجھ کو یہاں سے بلایا اور مجھ سے بجائے اسکے ککہ وہ رکھنے پر مجبور کرتیں یہ کہا کہ تم طلاق دیدو تو بہتر ہے میں خاموش ہورہا اگرمیں طرح نہ دے دیتا تو جب ہی معاملہ طے تھا مگر مجھے خالوتوں سے واقفیت ہوگئی اور میں نے پھر وہاں رہ کر انتظار کیاکہ شاید مزاج عالی درست ہوجائے مگر ماشاء اﷲ اس مزاج مبارك نے وہ عروج حاصل کیا کہ ہمیشہ سے چہار چند سوار نگرد کھلایااور خیر مجھے شکایت نہیں ہے میں ایسے نافرمان متکبر لوگوں کی صحبت میں کبھی رہنا پسندنہیں کرتا اس واسطے کہ میں خود بدطینت ہوں اس وجہ سے بہتر ہے کہ وہ بھی آزادانہ زندگی بسرکریں میری بھی یہی رائے ہے لیکن یہ لکھ دیجئے کہ زہرہ کا کیا حشر ہوگا یہ فیصلہ آپ کے سر ہے جو آپ کردیں اگر زہرہ کو بھی دے دیں تو آپ کو مرضی میں تیار ہوں اگر آپ نہ دیں تو بھی راضی ہوں بہر حال جو تصفیہ آپ کریں اس خط کے جواب پر آپ جو چاہیں گے میں لکھ دوں گا(بعدہ دوسرا خط آیا)۔
(۴)برائے کرم جواب سے خط ہذا کے مطلع فرمائیے تاکہ جو رائے ہو اس پر عمل در آمد کیا جائے اس پر عمرو کے یہ کہنے پر کہ زہرہ ابھی صغیر سن ہے اور تم لوگوں کی صورت سے ناآشنا ایسی حالت میں اس کو علیحدہ کرنا گویا زندہ درگور کرنا ہے لہذا یہ معاملہ آئندہ پر رکھو اور اپنی علیحدگی کی تحریر دوچار دستخط کرکے بھیج دو تمہارے اطمینان کو یہ لکھے دیتے ہیں کو ہندہ کے تمام حقوق بشرطیکہ تم اپنی تحریر ایسی بھیجد ومعاف ہیں (اس کو جواب یہ آیا)۔
(۵)میں یہ نہیں چاہتا کہ فی الحال زہرہ آپ لوگوں سے علیحدگی کی جائے کیونکہ ابھی وہ صغیرہ ہے جب تك وہ ہوشیار نہ ہوجائے تب تك میں اس کو وہاں رکھنا پسند رکتا ہوں جس وقت وہ مجھ تك نہ آجائیگی جب تك یہ امر دشوار ہے فقط۔
الجواب :
پہلا خط خوشدامن کے نام ہے اس میں نہ زوجہ سے خطاب نہ اس کا ذکر۔ اگر خود زوجہ سے کہتا تم کو اختیار ہے اور تفویض طلاق چاہتا تو اختیار بھی اسی مجلس پر موقوف رہتا نہ کہ اب تك مستمر۔ درمختارمیں ہے :
قال لہا اختاری اوامرك بیدك ینوی تفویض الطلاق فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مالم تقم او تعمل مایقطعہ۔
خاوند نے بیوی کو کہا تجھے اختیار ہ یا ترا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ الفاظ بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کی نیت سے کہے تو بیوی کو اسی مجلس میں جس میں اس کو اس اختیار کے ملنے کی اطلاع ملی اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہوگا بشرطیکہ وہ سن کر وہاں سے
(۴)برائے کرم جواب سے خط ہذا کے مطلع فرمائیے تاکہ جو رائے ہو اس پر عمل در آمد کیا جائے اس پر عمرو کے یہ کہنے پر کہ زہرہ ابھی صغیر سن ہے اور تم لوگوں کی صورت سے ناآشنا ایسی حالت میں اس کو علیحدہ کرنا گویا زندہ درگور کرنا ہے لہذا یہ معاملہ آئندہ پر رکھو اور اپنی علیحدگی کی تحریر دوچار دستخط کرکے بھیج دو تمہارے اطمینان کو یہ لکھے دیتے ہیں کو ہندہ کے تمام حقوق بشرطیکہ تم اپنی تحریر ایسی بھیجد ومعاف ہیں (اس کو جواب یہ آیا)۔
(۵)میں یہ نہیں چاہتا کہ فی الحال زہرہ آپ لوگوں سے علیحدگی کی جائے کیونکہ ابھی وہ صغیرہ ہے جب تك وہ ہوشیار نہ ہوجائے تب تك میں اس کو وہاں رکھنا پسند رکتا ہوں جس وقت وہ مجھ تك نہ آجائیگی جب تك یہ امر دشوار ہے فقط۔
الجواب :
پہلا خط خوشدامن کے نام ہے اس میں نہ زوجہ سے خطاب نہ اس کا ذکر۔ اگر خود زوجہ سے کہتا تم کو اختیار ہے اور تفویض طلاق چاہتا تو اختیار بھی اسی مجلس پر موقوف رہتا نہ کہ اب تك مستمر۔ درمختارمیں ہے :
قال لہا اختاری اوامرك بیدك ینوی تفویض الطلاق فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مالم تقم او تعمل مایقطعہ۔
خاوند نے بیوی کو کہا تجھے اختیار ہ یا ترا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ الفاظ بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کی نیت سے کہے تو بیوی کو اسی مجلس میں جس میں اس کو اس اختیار کے ملنے کی اطلاع ملی اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہوگا بشرطیکہ وہ سن کر وہاں سے
حوالہ / References
درمختارتفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
اٹھ نہ گئی ہو یا ایسا عمل نہ کیا ہو جس سے اس کا اختیار باطل ہوتا ہو۔ (ت)
اور “ اگر ہم کوئی نہیں “ کی جگہ خود زوجہ سے کہتا “ نہ تومیری زو جہ میں نہ میں تیرا شوہر “ جب بھی طلاق صاحبین کے نزدیك مطلقانہ ہوتی
وفی جواہر الاخلاطی والخلاصۃ وخزانۃ المفتین ھوالمختار وان نوی ۔
جواہر اخلاطی خلاصہ خزانۃ المفتین میں ہے کہ اگرچہ نیت کی ہو یہی مختار قول ہے(ت)
اور امام کے نزدیك کی نیت پر موقوف رہتی
قدمہ فی الخانیۃ واقتصر علیہ فی البدائع والکنز والملتقی وکان ھوالاوجہ۔
خانیہ میں اس کو پہلے ذکر کیا۔ بدائع اور کنز اور ملتقی میں اسی پر اکتفاء کیا لہذا یہی راجح ہے(ت)
درمختار میں ہے :
لست لك بزوج ولست لی بامرأۃ طلاق ان نواہ خلافا لھما ۔ (ملخصا)
خاوند نے اگر بیوی کو کہا “ میں تیرا خاوند نہیں تومیری بیوی نہیں “ طلاق کی نیت سے کہا تو ہوگی۔ اس میں صاحبین کا قول مخالف ہے(ملخصا)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قید بالنیۃ لانہ لایقع بدونھا اتفاقا لکونہ من الکنایات واشار الی انہ لایقوم مقامھا دلالۃ الحال لان ذلك فیما یصلح جوابا فقط وھو الفاظ لیس ھذا منھا ۔
نیت سے مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر نیت طلاق نہ ہوگی بالاتفاق کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے۔ اس میں یہ اشارہ دیا کہ دلالت حال نیت کے قائم مقام نہیں بن سکتا کیونکہ دلالت حال وہاں معتبر ہوتاہے جہاں وہ فقط جواب بن سکے اور وہ خاص الفاظ ہیں یہ ان میں سے نہیں ہے۔ (ت)
خط دوم میں یہ پوچھا ہے کہ کن وجوہ سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اسے انشائے طلاق سے کچھ علاقہ نہیں اگرچہ اس کے د ل میں یہی کہ ہندہ میں بعض وجوہ ایسی ہوئیں جن کے سبب وہ نکاح سے
اور “ اگر ہم کوئی نہیں “ کی جگہ خود زوجہ سے کہتا “ نہ تومیری زو جہ میں نہ میں تیرا شوہر “ جب بھی طلاق صاحبین کے نزدیك مطلقانہ ہوتی
وفی جواہر الاخلاطی والخلاصۃ وخزانۃ المفتین ھوالمختار وان نوی ۔
جواہر اخلاطی خلاصہ خزانۃ المفتین میں ہے کہ اگرچہ نیت کی ہو یہی مختار قول ہے(ت)
اور امام کے نزدیك کی نیت پر موقوف رہتی
قدمہ فی الخانیۃ واقتصر علیہ فی البدائع والکنز والملتقی وکان ھوالاوجہ۔
خانیہ میں اس کو پہلے ذکر کیا۔ بدائع اور کنز اور ملتقی میں اسی پر اکتفاء کیا لہذا یہی راجح ہے(ت)
درمختار میں ہے :
لست لك بزوج ولست لی بامرأۃ طلاق ان نواہ خلافا لھما ۔ (ملخصا)
خاوند نے اگر بیوی کو کہا “ میں تیرا خاوند نہیں تومیری بیوی نہیں “ طلاق کی نیت سے کہا تو ہوگی۔ اس میں صاحبین کا قول مخالف ہے(ملخصا)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قید بالنیۃ لانہ لایقع بدونھا اتفاقا لکونہ من الکنایات واشار الی انہ لایقوم مقامھا دلالۃ الحال لان ذلك فیما یصلح جوابا فقط وھو الفاظ لیس ھذا منھا ۔
نیت سے مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر نیت طلاق نہ ہوگی بالاتفاق کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے۔ اس میں یہ اشارہ دیا کہ دلالت حال نیت کے قائم مقام نہیں بن سکتا کیونکہ دلالت حال وہاں معتبر ہوتاہے جہاں وہ فقط جواب بن سکے اور وہ خاص الفاظ ہیں یہ ان میں سے نہیں ہے۔ (ت)
خط دوم میں یہ پوچھا ہے کہ کن وجوہ سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اسے انشائے طلاق سے کچھ علاقہ نہیں اگرچہ اس کے د ل میں یہی کہ ہندہ میں بعض وجوہ ایسی ہوئیں جن کے سبب وہ نکاح سے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۹۷
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۳
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۳
باہرہوگئی کہ طلاق لفظ سے ہوئی ہے دل کا تصور کچھ نہیں اسی خط میں اس میں اس نے کہا ہے کہ میری بی بی الخ خط سوم میں فیصلہ دوسرے کے سر رکھا ہے اور یہ کہ جو آپ چاہیں گے میں لکھ دوں گا یہ ایك وعدہ ہے اور وہ ایك رائے ہے کہ بہتر ہے کہ وہ بھی آزادانہ ذندگی بسر کریں یہ کہ اسے آزاد کیا۔
خط چہارم میں طلب مشورہ ہے۔
خط پنجم میں جب تك زہرہ نہ مل جائے طلاق دینے سے انکار ہے۔
غرض ان خطوط میں کوئی حرف صورت طلاق کانہیں چارہئ کار معززین کے دباؤ خواہ نالش سے مجبور کرتا ہے کہ نان نفقہ دے یا طلاق بغیر اس کے کوئی صورت خالص نہیں ۔ امام شافعی رضی اﷲتعالی عنہ بھی نفقہ نہ دےنے پر تفریق نہیں کراتے بلکہ عاجز محتاج ہونے پر جوادائے نفقہ پر قادر نہ ہو اوراگر ہو بھی تو حنفی کو اپنے امام کا اتباع واجب ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ : از رامپور محلہ گھیر یوسف الدین خاں دیوار جنوبی انگوری باغ متصل مسجد پاکھر مطب نمبر ۳۴ مسئولہ سید مختار احمد یتمی ڈاکٹر ۱۷جمادی الاولی
ایك مرد مسلمان کا پاك عورت مسلمان کے ساتھ عقد شرعی ہوا لیکن اب منکوحہ سے شوہر مذکورکوئی تعلق ظاہری وباطنی نہیں رکھتا اور ہرطرح منکوحہ سے بے پروا ہے ابتدائے نکاح سے ہنوز کوئی بات تخلیہ شوہریت کا بھی نہیں ہوا معلوم ہوا کہ شوہر دائرہ مردانیت سے بالکل بعید ہے یعنی نامرد ہے لہذا اس قسم سے یا ایسے نامرد سے منکوحہ نکاح جائز ہے یا ناجائز اس عورت کو کیا عمل کرنے کی ضرورت ہے اور موافق حدیث شریف کیا حکم ہے
الجواب :
نکاح صحیح ہوگیا عورت بےموت یا طلاق جدانہیں ہوسکتی اگرچہ مردنامرد ہو۔ ہاں چارہ کارحاکم شرعی کے یہاں دعوی ہے وہ اس ثبوت لینے کے بعد کہ مرد اس پر قادر نہ ہوا مرد کو ایك سال کی کامل مہلت دے کہ اپنا علاج کرے اس سال میں عورت مرد سے جدا نہ رہے اگر سال گزر جائے اور اب بھی قادر نہ ہو عورت پھر دعوی کرے اور حاکم پھر ثبوت لینے کے بعد عورت پوچھے کہ تو اپنے اس شوہر کے پاس رہناچاہتی ہے یا اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے اگر عورت فورا بلاتاخیر کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو حاکم ان میں تفریق وجدائی کردے یہ تفریق طلاق ہوئی اور اب بعد عدت عورت دوسرے سے نکاح کرسکے گی ورنہ نہیں یہ حکم عورت کی جانب ہے رہامرد اسے حکم شریعت ہے کہ جب وہ عورت کا حق ادا نہیں کرسکتا تو اس پر فرض ہے کہ عورت کو طلاق دے دے نہ دے گا تو گنہگار ومستحق عذاب
خط چہارم میں طلب مشورہ ہے۔
خط پنجم میں جب تك زہرہ نہ مل جائے طلاق دینے سے انکار ہے۔
غرض ان خطوط میں کوئی حرف صورت طلاق کانہیں چارہئ کار معززین کے دباؤ خواہ نالش سے مجبور کرتا ہے کہ نان نفقہ دے یا طلاق بغیر اس کے کوئی صورت خالص نہیں ۔ امام شافعی رضی اﷲتعالی عنہ بھی نفقہ نہ دےنے پر تفریق نہیں کراتے بلکہ عاجز محتاج ہونے پر جوادائے نفقہ پر قادر نہ ہو اوراگر ہو بھی تو حنفی کو اپنے امام کا اتباع واجب ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ : از رامپور محلہ گھیر یوسف الدین خاں دیوار جنوبی انگوری باغ متصل مسجد پاکھر مطب نمبر ۳۴ مسئولہ سید مختار احمد یتمی ڈاکٹر ۱۷جمادی الاولی
ایك مرد مسلمان کا پاك عورت مسلمان کے ساتھ عقد شرعی ہوا لیکن اب منکوحہ سے شوہر مذکورکوئی تعلق ظاہری وباطنی نہیں رکھتا اور ہرطرح منکوحہ سے بے پروا ہے ابتدائے نکاح سے ہنوز کوئی بات تخلیہ شوہریت کا بھی نہیں ہوا معلوم ہوا کہ شوہر دائرہ مردانیت سے بالکل بعید ہے یعنی نامرد ہے لہذا اس قسم سے یا ایسے نامرد سے منکوحہ نکاح جائز ہے یا ناجائز اس عورت کو کیا عمل کرنے کی ضرورت ہے اور موافق حدیث شریف کیا حکم ہے
الجواب :
نکاح صحیح ہوگیا عورت بےموت یا طلاق جدانہیں ہوسکتی اگرچہ مردنامرد ہو۔ ہاں چارہ کارحاکم شرعی کے یہاں دعوی ہے وہ اس ثبوت لینے کے بعد کہ مرد اس پر قادر نہ ہوا مرد کو ایك سال کی کامل مہلت دے کہ اپنا علاج کرے اس سال میں عورت مرد سے جدا نہ رہے اگر سال گزر جائے اور اب بھی قادر نہ ہو عورت پھر دعوی کرے اور حاکم پھر ثبوت لینے کے بعد عورت پوچھے کہ تو اپنے اس شوہر کے پاس رہناچاہتی ہے یا اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے اگر عورت فورا بلاتاخیر کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو حاکم ان میں تفریق وجدائی کردے یہ تفریق طلاق ہوئی اور اب بعد عدت عورت دوسرے سے نکاح کرسکے گی ورنہ نہیں یہ حکم عورت کی جانب ہے رہامرد اسے حکم شریعت ہے کہ جب وہ عورت کا حق ادا نہیں کرسکتا تو اس پر فرض ہے کہ عورت کو طلاق دے دے نہ دے گا تو گنہگار ومستحق عذاب
ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ : مرسلہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس ساکن شیر کوٹ تاجر الموڑہ ۶ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
یہاں کوہ الموڑہ پر ایك شخص امان اﷲ نے اپنی دختر کا نکاح سید فضل حسین شاہ باشندہ ٹھاکردوارہ سے دیا رخصت ہوگئی سال بھر تك عورت اپنے شوہر کے پاس رہی اور ہم بستری ہوئی پھرباپ کے یہاں آئی امان اﷲ وسید فضل حسین میں کوئی رنجش پیدا ہوئی فضل حسین اپنی منکوحہ کوٹھاکردوارہ لے جانا چاہا امان اﷲنے لے جانے نہ دیا بلکہ قسم قسم کے تنازع ہوگئے یہاں تك کہ نوبت نالش کی آئی۔ امان اﷲ نے جھوٹا طلاق کا دعوی کیا کہ بوجہ ظہو دروغ حاکم نے خارج کردیا۔
ثانیا مقدمہ اجازت فعل مختاری قائم کیاوہ بھی خارج ہوا بعد ازاں سید فضل حسین اپنے مکان پر تھا یہاں کے تھانہ دار سے کچھ مخاصمت تھی تھانہ دار نے عنادا سید مذکور کو بریلی کے پاگل خانے میں بھیج دیا اس اثناء میاں امان اﷲ موقع پاکر بربناء پاگل ہونے کے مقدمہ دائر کرکے حاکم سے اجازت نکاح ثانی کی چاہی حاکم ہندو نے وجہ پاگل ہونے کی قائم کرکے نکاح ثانی کی اجازت دے دی امان اﷲ نے اجازت سے دس۱۰ دن بعد نکاح ثانی کردیا جسے اب کئی سال گزرے جب سید فضل حسین رہائی یاب ہوا تو آکر داد خواہ ہوا اور مقدمہ دائر کردیا۔ لہذا علمائے دین ومفتیان شرع متین سے اس صورت میں استفسار مطلوب ہے کہ نکاح ثانی دختر امان اﷲ کا بنائے مجنونیت پر جائزہوا یا نہیں اگر ناجائز ہوتو بوجہ مرور مدت چند سال فضل حسین کا دعوی ساقط ہوا یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ہندہ کا یہ نکاح ثانی کہ اس نے زندگی شوہر میں بے وقوع طلاق دوسرے شخص سے کرلیا بالاتفاق محض ناجائز مردود ہے اور حاکم کی اجازت باطل ومطرود۔ ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ نے جن کے ہم پیروہیں اور ان کے اعظم اصحاب حضرت امام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے مذہب پر تو اس بیہودہ نکاح کے عدم جوازاور عورت کا اب تك بدوستور زوجیت شوہر اول میں ہونا آفتاب نیمروز سے زیادہ روشن کہ ہمارے امام کے مذہب میں جنون شوہر کے باعث عورت کو ہرگز کسی وقت تفریق کرانے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا اور یہی مذہب اعظم ارکان مذہب امام ابویوسف کا ہے اور اسی کو بوجوہ کثیرہ ترجیح حاصل اسی کو تمام متون مذہب مثل کنز و وافی و وقایہ ونقایہ ومختارواصلاح وتنویروملتقی وغیرہا میں اختیار فرمایا اسی دلیل کو عامہ شروح معتمدہ مثل ہدایہ وکافی وتبیین واختیار وفتح القدیر وغیرہ میں مرجح کیا اسی پر اکثر فتاوی کا اطباق ہوا اسی کو امام اجل قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں
مسئلہ ۲۵۶ : مرسلہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس ساکن شیر کوٹ تاجر الموڑہ ۶ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
یہاں کوہ الموڑہ پر ایك شخص امان اﷲ نے اپنی دختر کا نکاح سید فضل حسین شاہ باشندہ ٹھاکردوارہ سے دیا رخصت ہوگئی سال بھر تك عورت اپنے شوہر کے پاس رہی اور ہم بستری ہوئی پھرباپ کے یہاں آئی امان اﷲ وسید فضل حسین میں کوئی رنجش پیدا ہوئی فضل حسین اپنی منکوحہ کوٹھاکردوارہ لے جانا چاہا امان اﷲنے لے جانے نہ دیا بلکہ قسم قسم کے تنازع ہوگئے یہاں تك کہ نوبت نالش کی آئی۔ امان اﷲ نے جھوٹا طلاق کا دعوی کیا کہ بوجہ ظہو دروغ حاکم نے خارج کردیا۔
ثانیا مقدمہ اجازت فعل مختاری قائم کیاوہ بھی خارج ہوا بعد ازاں سید فضل حسین اپنے مکان پر تھا یہاں کے تھانہ دار سے کچھ مخاصمت تھی تھانہ دار نے عنادا سید مذکور کو بریلی کے پاگل خانے میں بھیج دیا اس اثناء میاں امان اﷲ موقع پاکر بربناء پاگل ہونے کے مقدمہ دائر کرکے حاکم سے اجازت نکاح ثانی کی چاہی حاکم ہندو نے وجہ پاگل ہونے کی قائم کرکے نکاح ثانی کی اجازت دے دی امان اﷲ نے اجازت سے دس۱۰ دن بعد نکاح ثانی کردیا جسے اب کئی سال گزرے جب سید فضل حسین رہائی یاب ہوا تو آکر داد خواہ ہوا اور مقدمہ دائر کردیا۔ لہذا علمائے دین ومفتیان شرع متین سے اس صورت میں استفسار مطلوب ہے کہ نکاح ثانی دختر امان اﷲ کا بنائے مجنونیت پر جائزہوا یا نہیں اگر ناجائز ہوتو بوجہ مرور مدت چند سال فضل حسین کا دعوی ساقط ہوا یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ہندہ کا یہ نکاح ثانی کہ اس نے زندگی شوہر میں بے وقوع طلاق دوسرے شخص سے کرلیا بالاتفاق محض ناجائز مردود ہے اور حاکم کی اجازت باطل ومطرود۔ ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ نے جن کے ہم پیروہیں اور ان کے اعظم اصحاب حضرت امام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے مذہب پر تو اس بیہودہ نکاح کے عدم جوازاور عورت کا اب تك بدوستور زوجیت شوہر اول میں ہونا آفتاب نیمروز سے زیادہ روشن کہ ہمارے امام کے مذہب میں جنون شوہر کے باعث عورت کو ہرگز کسی وقت تفریق کرانے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا اور یہی مذہب اعظم ارکان مذہب امام ابویوسف کا ہے اور اسی کو بوجوہ کثیرہ ترجیح حاصل اسی کو تمام متون مذہب مثل کنز و وافی و وقایہ ونقایہ ومختارواصلاح وتنویروملتقی وغیرہا میں اختیار فرمایا اسی دلیل کو عامہ شروح معتمدہ مثل ہدایہ وکافی وتبیین واختیار وفتح القدیر وغیرہ میں مرجح کیا اسی پر اکثر فتاوی کا اطباق ہوا اسی کو امام اجل قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں
مقدم رکھا اور وہ اسی قول کو مقدم رکھتے ہیں جو راجح ومعتمد ہو اسی کو علامہ ابراہیم حلبی نے ملتقی الابحر میں تقدیم دی اور وہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو مؤیدہو اسی کو خانیہ پھر خزانۃ المفتین میں ہمارا مذہب کہا ا مام علامہ فخرالدین زیلعی نے شرح کنزالدقائق پھر امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام نے شرح ہدایہ میں اس عظیم وجلیل تحقیق کے ساتھ ہمارے اس مذہب کی تائید وتوصیف اورقول خلاف کی تضعیف وتزییف فرمائی کہ اصلا گنجائش کلام باقی نہ رکھی من شاء فلیشرف بمطالعتھما(جو چاہے ان کے مطالعہ مشرف ہو۔ ت)او راکثر کتب مذہب میں تواس پر ایسا جزم قطعی فرمایا کہ قول خلاف کا نام تك نہ لیا میں یہاں صرف چند کتابوں کی عبارتیں نقل کرتا ہوں ۱وقایہ و۲نقایہ۳اصلاح تینوں کتابوں میں ہے :
لایتخیر احد ھما بعیب الاخر ۔
دونوں میں سے کسی کے عیب کی وجہ سے دوسرے کو فسخ کا اختیار نہیں ہے۔ (ت)
۴کنز میں ہے :
لم یتخیر احدھما بعیب ۔
ایك کے عیب کی وجہ سے دوسرا فسخ کو اختیار نہیں کرسکتا۔ (ت)
۵ملتقی الابحر اور اس کی ۶شرح مجمع الانہر میں ہے :
لاخیار لھا ان وجدت(المرأۃ)بہ(ای بالزوج) جنوبا الخ۔
بیوی کو اختیار نہ ہوگا اگر وہ خاوند میں جنون پائے الخ(ت)
اختیار ۷شرح مختارمیں ہے :
الحاصل اذا کان باحد الزوجین عیب فلاخیار للاخرالافی الجب والعنۃ والخصی ۔
اگر زوجین میں سے کسی میں عیب ہوتو دوسرے کے اختیار نہ ہوگا مگر جب شوہر مقطوع الذکر یا نامرد یا خصی ہوتو عورت کا اختیار ہوگا۔ (ت)
۸خزانۃالمفتین و۹فتاوی امام قاضی میں ہے :
لایتخیر احد ھما بعیب الاخر ۔
دونوں میں سے کسی کے عیب کی وجہ سے دوسرے کو فسخ کا اختیار نہیں ہے۔ (ت)
۴کنز میں ہے :
لم یتخیر احدھما بعیب ۔
ایك کے عیب کی وجہ سے دوسرا فسخ کو اختیار نہیں کرسکتا۔ (ت)
۵ملتقی الابحر اور اس کی ۶شرح مجمع الانہر میں ہے :
لاخیار لھا ان وجدت(المرأۃ)بہ(ای بالزوج) جنوبا الخ۔
بیوی کو اختیار نہ ہوگا اگر وہ خاوند میں جنون پائے الخ(ت)
اختیار ۷شرح مختارمیں ہے :
الحاصل اذا کان باحد الزوجین عیب فلاخیار للاخرالافی الجب والعنۃ والخصی ۔
اگر زوجین میں سے کسی میں عیب ہوتو دوسرے کے اختیار نہ ہوگا مگر جب شوہر مقطوع الذکر یا نامرد یا خصی ہوتو عورت کا اختیار ہوگا۔ (ت)
۸خزانۃالمفتین و۹فتاوی امام قاضی میں ہے :
حوالہ / References
مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایۃ کتاب الطلاق نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۷۱۔ ۷۰
کنز الدقائق باب العنین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶۳
الاختیار لتعلیل المختار فصل فی العیوب التی یثبت بہ الخیار الخ دارفراس للنشر والتوزیع ۳ / ۱۱۵
کنز الدقائق باب العنین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶۳
الاختیار لتعلیل المختار فصل فی العیوب التی یثبت بہ الخیار الخ دارفراس للنشر والتوزیع ۳ / ۱۱۵
حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلاترد المرأۃ بعیب ما وان وجدت المرأۃ زوجہا جنوبا وجذاماوبرصا لیس لھا حق الفرقۃ ملخصا۔
ہمارے نزدیك عیب کی وجہ سے نکاح کے فسخ کا حق نہ ہوگا لہذا بیوی کسی عیب کی وجہ سے رد نہیں کیا جاسکے گا اور عورت اگر خاوند میں جنون جذام یابرص کامرض پائے تو اس کو جدائی کا حق نہ ہوگا ملخصا۔ (ت)
۱۰تنویرالابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون الخ۔
خاوند او ربیوی سے کسی کے عیب اگرچہ فحش ہو پر دوسرے کو اختیار فسخ نہیں مثلا جنون الخ(ت)
فقیر کی اس اجمالی تقریر سے واضح ہوگیا کہ ہمارا یہ مذہب کتنی وجوہ کثیر سے ترجیح رکھتا ہے :
اولا خود یہی کہ وہ مذہب امام ہے اور مذہب امام امام مذاہب جس سے عدول ہرگز جائز نہیں ۔
الالضرورۃ ضعف دلیلہ اوتعامل بخلافہ کما نصوا علیہ وقد او ضحناہ فی فتاونا۔
مگر ضعف دلیل یا تعامل کے خلاف ہونے پر جیسا کہ فقہا نے اس پر تصریح کی ہے جس کی وضاحت ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے۔ (ت)
ثانیا یہی امام ابویوسف اعظم ارکان مذہب کا قول ہے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بعد ارشاد امام اعظم قول امام ابویوسف مرجح ومقدم ہے۔ درمختار میں ہے :
یأخذالقاضی کا لمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ثم بقول ابی یوسف ثم بقول محمد الخ
قاضی بھی مفتی کی طرح مطلقا امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے قول کو اپنائے گا پھر امام ابویوسف پھرامام محمد کے قول کو الخ۔ (ت)
ثالثا اس پر اجماع متون جن کی جلالت شان کو کئی کتاب نہیں پہنچ سکتی کما نصو علیہ قاطبۃ وحققناہ فی کتاب النکاح من فتاونا(جیسا کہ تمام فقہاء نے اس پر تصریح کی ہے اورہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی کی کتاب النکاح میں کی ہے۔ ت)
ہمارے نزدیك عیب کی وجہ سے نکاح کے فسخ کا حق نہ ہوگا لہذا بیوی کسی عیب کی وجہ سے رد نہیں کیا جاسکے گا اور عورت اگر خاوند میں جنون جذام یابرص کامرض پائے تو اس کو جدائی کا حق نہ ہوگا ملخصا۔ (ت)
۱۰تنویرالابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون الخ۔
خاوند او ربیوی سے کسی کے عیب اگرچہ فحش ہو پر دوسرے کو اختیار فسخ نہیں مثلا جنون الخ(ت)
فقیر کی اس اجمالی تقریر سے واضح ہوگیا کہ ہمارا یہ مذہب کتنی وجوہ کثیر سے ترجیح رکھتا ہے :
اولا خود یہی کہ وہ مذہب امام ہے اور مذہب امام امام مذاہب جس سے عدول ہرگز جائز نہیں ۔
الالضرورۃ ضعف دلیلہ اوتعامل بخلافہ کما نصوا علیہ وقد او ضحناہ فی فتاونا۔
مگر ضعف دلیل یا تعامل کے خلاف ہونے پر جیسا کہ فقہا نے اس پر تصریح کی ہے جس کی وضاحت ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے۔ (ت)
ثانیا یہی امام ابویوسف اعظم ارکان مذہب کا قول ہے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بعد ارشاد امام اعظم قول امام ابویوسف مرجح ومقدم ہے۔ درمختار میں ہے :
یأخذالقاضی کا لمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ثم بقول ابی یوسف ثم بقول محمد الخ
قاضی بھی مفتی کی طرح مطلقا امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے قول کو اپنائے گا پھر امام ابویوسف پھرامام محمد کے قول کو الخ۔ (ت)
ثالثا اس پر اجماع متون جن کی جلالت شان کو کئی کتاب نہیں پہنچ سکتی کما نصو علیہ قاطبۃ وحققناہ فی کتاب النکاح من فتاونا(جیسا کہ تمام فقہاء نے اس پر تصریح کی ہے اورہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی کی کتاب النکاح میں کی ہے۔ ت)
حوالہ / References
قاضی خاں فصل الخیارات التی تتعلق بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۷
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
رابعا تظافرشروحکہ بتصریح علماء فتاوی پر مقدم ہیں و سیاتی عن الغمر(غمز سے عنقریب منقول ہوگا۔ ت)
خامسا اس پر جزم واعتماد کرنے والوں کی کثرت۔ امداد الفتاح وردالمحتار وعقوالدریہ میں ہے : القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر (قاعدہ یہ ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا۔ ت)
سادسا اس کر مرجح ومختار رکھنے والوں کی جلالت وعظمت جن میں مثل برہان الدین صاحب ہدایہ وامام قاضی خاں وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم اجلہئ ائمہ اعلامہ ہیں علماء فرماتے ہیں امام قاضی خان کی ترجیح اوروں کی ترجیح پر مقدم ہے اور فرماتے ہیں اس سے عدول نہ کیا جائے کہ وہ فقیہ النفس ہیں کما فی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ ت)
سابعاقوت دلیل کہ بعد ملاحظہ تبیین الحقائق وفتح القدیر آفتاب کی طرح واضح ہوجاتی ہے۔
اقول : فثبت بحمد اﷲ نقول الحاوی القدسی بقول محمد ھنا بہ ناخذ کما نقلہ عنہ فی الھندیۃ انما ھو کقولہ ایضالروایۃ شاذۃ عن ابی یوسف مخالفۃ للمذہب المعتمدالمجمع علیہ بین المتون والشروح والفتاوی وھی عدم کراھیۃ النفل یوم الجمعۃ عند الاستواء لان النار لاتسعرفیہ ان علیہ الفتوی کما نقلہ فی الاشباہ عن الحلیۃ عن الحاوی قلت والمراد ھوھذا اعنی حاوی القدسی فقد رأیت التصریح بہ فی الحلیۃ قال العلامۃ السید الحموی فی غمزالعیون مجردد عوی الحاوی ان الفتوی علیہ لایقتضی انہ المصحح
اقول : (میں کہتا ہوں )الحمد ﷲ یہ ثابت ہوگیا کہ حاوی قدسی کایہاں کہنا کہ امام محمد کے قول کو ہم لیں گے جیسا کہ ہندیہ میں ان سے منقول ہے تو یہ ایسے ہے جیسے انہوں نے امام ابویوسف سے ایك شاذ روایت جو کہ معتمد مذہب اور تمام متون وشروح وفتاوی کے خلاف ہے کہ جمعہ کے روز استواء شمس کے وقت نفل پڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ اس دن آگ شعلہ زن نہیں ہوتی کے متعلق علیہ الفتوی(اس پر فتوی ہے)کہہ دیا جیسا کہ اس کو اشباہ میں حلیہ سے انہوں نے حاوی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں )وہاں حاوی سے یہی حاوی قدسی مراد ہے کیونکہ میں نے اس کی تصریح حلیہ میں دیکھی ہے علامہ سید حموی نے غمز العیون میں فرمایا کہ حاوی کاصرف یہ دعوی کرنا کہ “ اس پر فتوی ہے “ سے لازم نہیں آتا کہ یہ تصحیح شدہ
خامسا اس پر جزم واعتماد کرنے والوں کی کثرت۔ امداد الفتاح وردالمحتار وعقوالدریہ میں ہے : القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر (قاعدہ یہ ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا۔ ت)
سادسا اس کر مرجح ومختار رکھنے والوں کی جلالت وعظمت جن میں مثل برہان الدین صاحب ہدایہ وامام قاضی خاں وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم اجلہئ ائمہ اعلامہ ہیں علماء فرماتے ہیں امام قاضی خان کی ترجیح اوروں کی ترجیح پر مقدم ہے اور فرماتے ہیں اس سے عدول نہ کیا جائے کہ وہ فقیہ النفس ہیں کما فی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ ت)
سابعاقوت دلیل کہ بعد ملاحظہ تبیین الحقائق وفتح القدیر آفتاب کی طرح واضح ہوجاتی ہے۔
اقول : فثبت بحمد اﷲ نقول الحاوی القدسی بقول محمد ھنا بہ ناخذ کما نقلہ عنہ فی الھندیۃ انما ھو کقولہ ایضالروایۃ شاذۃ عن ابی یوسف مخالفۃ للمذہب المعتمدالمجمع علیہ بین المتون والشروح والفتاوی وھی عدم کراھیۃ النفل یوم الجمعۃ عند الاستواء لان النار لاتسعرفیہ ان علیہ الفتوی کما نقلہ فی الاشباہ عن الحلیۃ عن الحاوی قلت والمراد ھوھذا اعنی حاوی القدسی فقد رأیت التصریح بہ فی الحلیۃ قال العلامۃ السید الحموی فی غمزالعیون مجردد عوی الحاوی ان الفتوی علیہ لایقتضی انہ المصحح
اقول : (میں کہتا ہوں )الحمد ﷲ یہ ثابت ہوگیا کہ حاوی قدسی کایہاں کہنا کہ امام محمد کے قول کو ہم لیں گے جیسا کہ ہندیہ میں ان سے منقول ہے تو یہ ایسے ہے جیسے انہوں نے امام ابویوسف سے ایك شاذ روایت جو کہ معتمد مذہب اور تمام متون وشروح وفتاوی کے خلاف ہے کہ جمعہ کے روز استواء شمس کے وقت نفل پڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ اس دن آگ شعلہ زن نہیں ہوتی کے متعلق علیہ الفتوی(اس پر فتوی ہے)کہہ دیا جیسا کہ اس کو اشباہ میں حلیہ سے انہوں نے حاوی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں )وہاں حاوی سے یہی حاوی قدسی مراد ہے کیونکہ میں نے اس کی تصریح حلیہ میں دیکھی ہے علامہ سید حموی نے غمز العیون میں فرمایا کہ حاوی کاصرف یہ دعوی کرنا کہ “ اس پر فتوی ہے “ سے لازم نہیں آتا کہ یہ تصحیح شدہ
حوالہ / References
العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحادیۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۲ / ۲۵۶
المعتمد فی المذہب کیف واصحاب المتون قاطبۃ والشروح ماشون علی قولھما(یعنی الطرفین رضی اﷲعنھما)ومشی اصحاب المتون تصحیح التزامی علی ان مافی المنون والشروح مقدم علی مافی الفتاوی اھ۔
ہو اور مذہب معتمد علیہ ہو یہ کیونکر ہوسکتا جبکہ تمام اصحاب متون وشروح طرفین کے قول پر قائم ہیں اور اصحاب متون کی طرف سے یہ التزامی تصریح موجود ہے کہ متون وشروح کا بیان فتوی کے بیان پر مقدم ہے اھ(ت)
خیر یہاں تك ہمارے اصلا مذہب پر بنائے سخن تھی مگر مجھے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ نکاح مذکور کو روایت خلاف سے بھی اصلا تعلق نہیں بلکہ وہ باتفاق ہمارے تمام ائمہ کے محض ناجائز واقع ہوا۔ میں اگرچہ اسے متعدد دلائل سے ثابت کرسکتا ہوں مگر یہاں صرف چند واضح امور پر اقتضاد کافی روایت خلاف کا ہرگز یہ حکم نہیں کہ جنون شوہر میں مطلقا حاکم فورا اجازت نکاح ثانی دے بلکہ جب جنون پیدا ہوتو لازم کہ روزمرافعہ سے مردکو سال بھر کامل کی مہلت دے اگر اس میں اچھا ہوگیا تو اب ہرگزتفریق جائز نہیں اور نہ اچھا ہوا تو عورت جب تك پھر دعوی نہ کرے حاکم ہرگز حکم نہ دے وہ بدستور زوج زوجہ رہیں گے ہاں اگر اب عورت پھر دوبارہ خواستگاری تفریق کو آئے تو قاضی اسے اختیار دے کہ چاہے تو اپنے نفس کو اختیار کریاشوہرکو اگر اس نے شوہر کو اختیار کیا یا بغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا قاضی سپاہیوں نے اسے اٹھادیا قاضی فورا اٹھ کر کھڑا ہوا تو اب اسے اصلا اختیار نہ رہا ہمیشہ کے لئے اس کی زوجہ ہے کہ کبھی دعوی تفریق نہیں کرسکتی اور اگراسی جلسہ میں اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب قاضی تفریق کردے یہ تفریق طلاق بائن گنی جائے گی اس کے بعد عورت ایام عدت پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے اور ضرور ہے کہ عورت درخواست قاضی مصر یا مدینہ کے حضور پیش کرے وہ سال بھر کی مدت دے اس کے سوادنیا میں کسی کی تاجیل کی معتبرنہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
قال محمد ان کان الجنون حادثایؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ۔ اھ
امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : اگر خاوند کو جنون نیا عارض ہوا تو اس کو نامردی کی طرح ایك سال کی مہلت دی جائے گی پھر سال کے بعد بیوی کو فسخ کا اختیار دیاجائیگا بشرطیکہ تندرست ہوا ہواھ(ت)
ہو اور مذہب معتمد علیہ ہو یہ کیونکر ہوسکتا جبکہ تمام اصحاب متون وشروح طرفین کے قول پر قائم ہیں اور اصحاب متون کی طرف سے یہ التزامی تصریح موجود ہے کہ متون وشروح کا بیان فتوی کے بیان پر مقدم ہے اھ(ت)
خیر یہاں تك ہمارے اصلا مذہب پر بنائے سخن تھی مگر مجھے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ نکاح مذکور کو روایت خلاف سے بھی اصلا تعلق نہیں بلکہ وہ باتفاق ہمارے تمام ائمہ کے محض ناجائز واقع ہوا۔ میں اگرچہ اسے متعدد دلائل سے ثابت کرسکتا ہوں مگر یہاں صرف چند واضح امور پر اقتضاد کافی روایت خلاف کا ہرگز یہ حکم نہیں کہ جنون شوہر میں مطلقا حاکم فورا اجازت نکاح ثانی دے بلکہ جب جنون پیدا ہوتو لازم کہ روزمرافعہ سے مردکو سال بھر کامل کی مہلت دے اگر اس میں اچھا ہوگیا تو اب ہرگزتفریق جائز نہیں اور نہ اچھا ہوا تو عورت جب تك پھر دعوی نہ کرے حاکم ہرگز حکم نہ دے وہ بدستور زوج زوجہ رہیں گے ہاں اگر اب عورت پھر دوبارہ خواستگاری تفریق کو آئے تو قاضی اسے اختیار دے کہ چاہے تو اپنے نفس کو اختیار کریاشوہرکو اگر اس نے شوہر کو اختیار کیا یا بغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا قاضی سپاہیوں نے اسے اٹھادیا قاضی فورا اٹھ کر کھڑا ہوا تو اب اسے اصلا اختیار نہ رہا ہمیشہ کے لئے اس کی زوجہ ہے کہ کبھی دعوی تفریق نہیں کرسکتی اور اگراسی جلسہ میں اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب قاضی تفریق کردے یہ تفریق طلاق بائن گنی جائے گی اس کے بعد عورت ایام عدت پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے اور ضرور ہے کہ عورت درخواست قاضی مصر یا مدینہ کے حضور پیش کرے وہ سال بھر کی مدت دے اس کے سوادنیا میں کسی کی تاجیل کی معتبرنہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
قال محمد ان کان الجنون حادثایؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ۔ اھ
امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : اگر خاوند کو جنون نیا عارض ہوا تو اس کو نامردی کی طرح ایك سال کی مہلت دی جائے گی پھر سال کے بعد بیوی کو فسخ کا اختیار دیاجائیگا بشرطیکہ تندرست ہوا ہواھ(ت)
حوالہ / References
غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر القول احکام الجمعۃ ادارۃ القرآن کراچی ۳ / ۲۳۸
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۶
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۶
اسی میں ہے :
جاءت المرأۃ الی القاضی بعد مضی الاجل والزوج لم یصل الیھا خیرھا القاضی فی الفرقۃ کذا فی شرح الجامع الصغیرلقاضی خان فان اختارت زوجہا اوقامت عن مجلسھا اواقامھا اعوان القاضی اوقام القاضی قبل ان تختار بطل خیارھا کذافی المحیط و ھکذا روی عن محمد رحمہ اﷲتعالی عنہ وعلیہ الفتوی کذافی التاتارخانیہ ناقلا عن الواقعات ان اختارات الفرقۃ امرالقاضی ان یطلقھا بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد فی الاصل کذافی التبیین اھ ملخصا۔
مذکورہ صورت میں عورت سال کے بعد آکر کہے میرا خاوند تندرست نہیں ہوا خاوند اس دوران جماع نہ کرسکا ہوتو قاضی بیوی کو اس وقت اختیار دے گا شرح جامع صغیرہ قاضی خاں میں ایسے ہی ذکر کیا ہے تو قاضی کے اس اختیار پر عورت نے اپنے خاوند کو ترجیح دی یا اس مجلس اختیار سے اٹھ گئی یا قاضی کے اہلکاروں نے اسے وہاں سے اٹھادیا یا قاضی عورت کے فیصلہ بتانے سے قبل چلاگیا تو عورت کا اختیار ختم ہوجائے گا محیط میں ایسے ہی بیان ہے اور یونہی امام محمد امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے مروی ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ تاتارخانیہ میں واقعات سے یونہی منقول ہے اور اگر مذکور صورتوں کو خلاف عورت نے خاوند سے فرقت کو ترجیح دی تو قاضی خاوند کو بائنہ طلاق دینے کا حکم صادر کرے گا اگر خاوند نے طلاق سے انکار کردیا تو پھر قاضی خود دونوں میں تفریق کردے گا امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے اصل(مبسوط)میں یوں ذکر فرمایا جیسا کہ تبیین میں ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
لایکون ھذاالتاجیل الاعند قاضی مصر اومدینۃ فان اجلتہ المرأۃ اواجلہ غیر القاضی لایعتبر ذلك کذافی فتاوی قاضی خاں ۔
یہ مہلت کا حکم قاضی شہر کی موجودگی میں دیا جائیگا اگر خود عورت نے خاوند کو یہ مہلت دی یا کسی غیر قاضی نے دی ہوتو یہ معتبر نہ ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے(ت)
اسی میں ہے :
جاءت المرأۃ الی القاضی بعد مضی الاجل والزوج لم یصل الیھا خیرھا القاضی فی الفرقۃ کذا فی شرح الجامع الصغیرلقاضی خان فان اختارت زوجہا اوقامت عن مجلسھا اواقامھا اعوان القاضی اوقام القاضی قبل ان تختار بطل خیارھا کذافی المحیط و ھکذا روی عن محمد رحمہ اﷲتعالی عنہ وعلیہ الفتوی کذافی التاتارخانیہ ناقلا عن الواقعات ان اختارات الفرقۃ امرالقاضی ان یطلقھا بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد فی الاصل کذافی التبیین اھ ملخصا۔
مذکورہ صورت میں عورت سال کے بعد آکر کہے میرا خاوند تندرست نہیں ہوا خاوند اس دوران جماع نہ کرسکا ہوتو قاضی بیوی کو اس وقت اختیار دے گا شرح جامع صغیرہ قاضی خاں میں ایسے ہی ذکر کیا ہے تو قاضی کے اس اختیار پر عورت نے اپنے خاوند کو ترجیح دی یا اس مجلس اختیار سے اٹھ گئی یا قاضی کے اہلکاروں نے اسے وہاں سے اٹھادیا یا قاضی عورت کے فیصلہ بتانے سے قبل چلاگیا تو عورت کا اختیار ختم ہوجائے گا محیط میں ایسے ہی بیان ہے اور یونہی امام محمد امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے مروی ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ تاتارخانیہ میں واقعات سے یونہی منقول ہے اور اگر مذکور صورتوں کو خلاف عورت نے خاوند سے فرقت کو ترجیح دی تو قاضی خاوند کو بائنہ طلاق دینے کا حکم صادر کرے گا اگر خاوند نے طلاق سے انکار کردیا تو پھر قاضی خود دونوں میں تفریق کردے گا امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے اصل(مبسوط)میں یوں ذکر فرمایا جیسا کہ تبیین میں ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
لایکون ھذاالتاجیل الاعند قاضی مصر اومدینۃ فان اجلتہ المرأۃ اواجلہ غیر القاضی لایعتبر ذلك کذافی فتاوی قاضی خاں ۔
یہ مہلت کا حکم قاضی شہر کی موجودگی میں دیا جائیگا اگر خود عورت نے خاوند کو یہ مہلت دی یا کسی غیر قاضی نے دی ہوتو یہ معتبر نہ ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے(ت)
اسی میں ہے :
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۴
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۳
لاتصح ولایۃ القاضی حتی یجتمع فی المولی شرائط الشہادۃ کذافی الھدایۃ من الاسلام والحریۃ و التکلیف الخ۔
قاضی کی دی ہوئی مہلت بھی تب معتبر ہوگی جب اس قاضی میں تقرری کے تمام شرائط موجود ہوں وہ شہادت والے شرائط ہیں یعنی اسلام آزاد ہونا اور مکلف ہونا الخ(ت)
ظاہر ہے صورت مظہرہ سوال میں شوہر کا جنون نو پیدا تھا کہ بغرض ثبوت ہنوز چار ہی مہینے گزرے تھے تو جوز نکاح ثانی وتحصیل فرقت کا یہ طریقہ ہرگز نہ تھا کہ حاکم اسے نکاح ثانی کی اجازت دے دیتا بلکہ اس پر فرض تھا کہ ثبوت کامل کے کر سال بھی کی مہلت دیتا اس کے بعد کاروائی مذکور کرتا۔ یہاں نہ سال۱کی مہلت دی گئی نہ بعد۲مہلت عورت نے دوبارہ دعوی کیا نہ بعد۳تخییر عورت نے اسی جلسہ میں اپنے نفس کر اختیار کرنا ظاہر کیا طرفہ۴یہ کہ حاکم سرے سے مسلمان بھی نہیں ایسی کاروائی اصلا قابل اعتبار نہیں ہوسکتی نہ اس کے سبب وہ زوجیت شوہر اول سے باہر آسکتی ہے نکاح وطلاق ہم مسلمانوں کے دینی ومذہبی معاملات ہیں جن میں ہماری شریعت تمام احکام کی مراعات بغیر چارہ نہیں اگر کوئی زن شوہر دار کو بے وقوع طلاق وافتراق اجازت نکاح دے دے تو کیا اسے جائز ہوجائے گا کہ وہ جس سے چاہے نکاح کرلے حاشا ہرگز روانہ ہوگا نہ وہ عصمت شوہر سے باہر آئے گی۔ یہاں بعینہ یہی صورت واقع ہوئی طرہ یہ کہ عورت عدت بھی نہ بیٹھی اجازت سے دس۱۰ ہی دن بعد نکاح ثانی کرلیا اس کے حرام ہونے میں کیا شبہہ ہے ہم ابھی عالمگیری سے نقل کر آئے کہ یہ تفریق بائن ہوتی ہے اور طلاق میں تین حیض کی عدت فرض۔
قال اﷲتعالی
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : عدت والی عورتیں اپنے آپ تین حیض کامل ہونے تك پابند رکھیں (ت)
بالجملہ یہ دوسرا نکاح بالیقین ناجائز اور ہمارے سب ائمہ کے نزدیك یہ وہی چیز قانون حال میں ازدواج مکرر کہتے ہیں اور کوئی سفیہ سافیہ گمان نہیں کرسکتا کہ مرور مدت سے زوجیت زوجل ہوگئی اور ہوگئی اب شوہر کس بناپر دعوی کرسکتا ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم پس عورت پر واجب حتمی ہے کہ اس حرام سے باز آئے اور اپنے شوہر کے سوا دوسرے سے کنارہ کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
قاضی کی دی ہوئی مہلت بھی تب معتبر ہوگی جب اس قاضی میں تقرری کے تمام شرائط موجود ہوں وہ شہادت والے شرائط ہیں یعنی اسلام آزاد ہونا اور مکلف ہونا الخ(ت)
ظاہر ہے صورت مظہرہ سوال میں شوہر کا جنون نو پیدا تھا کہ بغرض ثبوت ہنوز چار ہی مہینے گزرے تھے تو جوز نکاح ثانی وتحصیل فرقت کا یہ طریقہ ہرگز نہ تھا کہ حاکم اسے نکاح ثانی کی اجازت دے دیتا بلکہ اس پر فرض تھا کہ ثبوت کامل کے کر سال بھی کی مہلت دیتا اس کے بعد کاروائی مذکور کرتا۔ یہاں نہ سال۱کی مہلت دی گئی نہ بعد۲مہلت عورت نے دوبارہ دعوی کیا نہ بعد۳تخییر عورت نے اسی جلسہ میں اپنے نفس کر اختیار کرنا ظاہر کیا طرفہ۴یہ کہ حاکم سرے سے مسلمان بھی نہیں ایسی کاروائی اصلا قابل اعتبار نہیں ہوسکتی نہ اس کے سبب وہ زوجیت شوہر اول سے باہر آسکتی ہے نکاح وطلاق ہم مسلمانوں کے دینی ومذہبی معاملات ہیں جن میں ہماری شریعت تمام احکام کی مراعات بغیر چارہ نہیں اگر کوئی زن شوہر دار کو بے وقوع طلاق وافتراق اجازت نکاح دے دے تو کیا اسے جائز ہوجائے گا کہ وہ جس سے چاہے نکاح کرلے حاشا ہرگز روانہ ہوگا نہ وہ عصمت شوہر سے باہر آئے گی۔ یہاں بعینہ یہی صورت واقع ہوئی طرہ یہ کہ عورت عدت بھی نہ بیٹھی اجازت سے دس۱۰ ہی دن بعد نکاح ثانی کرلیا اس کے حرام ہونے میں کیا شبہہ ہے ہم ابھی عالمگیری سے نقل کر آئے کہ یہ تفریق بائن ہوتی ہے اور طلاق میں تین حیض کی عدت فرض۔
قال اﷲتعالی
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : عدت والی عورتیں اپنے آپ تین حیض کامل ہونے تك پابند رکھیں (ت)
بالجملہ یہ دوسرا نکاح بالیقین ناجائز اور ہمارے سب ائمہ کے نزدیك یہ وہی چیز قانون حال میں ازدواج مکرر کہتے ہیں اور کوئی سفیہ سافیہ گمان نہیں کرسکتا کہ مرور مدت سے زوجیت زوجل ہوگئی اور ہوگئی اب شوہر کس بناپر دعوی کرسکتا ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم پس عورت پر واجب حتمی ہے کہ اس حرام سے باز آئے اور اپنے شوہر کے سوا دوسرے سے کنارہ کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول فی تفسیر معنی الادب الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۰۷
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
مسئلہ ۲۵۷ : ۲۲محرم الحرام ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر پیدائشی عنین یعنی نامرد نکلا چنانچہ ڈاکٹر نے اس کا ملاحظہ کیا اور سند نامرد ہونے کی دے دی دریں صورت نکاح اس کا شرعا کیا حکم رکھتا ہے آیا زوجہ شوہر سے محتاج طلاق ہے یانہیں اور ایسی حالت میں مستحق کسی جزء مہر کی ہوتی ہے یانہیں اور ڈاکٹری سند ثبوت نامردی کےلئے کافی ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
زوج کا عنین ہونا مانع صحت نکاح نہیں زوجہ عنین مثل دیگر زنان بے طلاق شوہر سے جدائی کا اختیار نہیں رکھتی خلوت صحیحہ اگر ہولی تو مہر تمام وکمال پائے گی
فی التنویرالخلوۃ بلامانع کا لوطء ولومجبوبا او عنینا اوخصیا فی ثبوت النسب وتاکد المہر اھ ملتقطا۔
تنویر میں ہے : خلوت میں مانع نہ ہوتو وہ وطی کے حکم میں ہوگی اگرچہ خاوند کا ذکر کٹاہواہو یانامرد یا خصی ہو تو یہ خلوت نسب کے ثبوت اور مہر کو لازم کرنے میں وطی کی طرح ہوگی اھ ملتقطا(ت)
سند ڈاکٹری محض ناکافی ونامعتبر ہے
قال اﷲتعالی
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا الایۃ۔واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی وضاحت کولوالآیہ۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۵۸ : ازشہر بریلی محلہ کوہاڑاپیر مسئولہ نصیر اﷲصاحب ۷جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت اپنے شوہر کی ناقابلیت بیان کرتی ہے کہ چھ۶ برس کا عرصہ شادی کو ہوا اب تك شوہر میں کوئی مردی نہیں ۔ مرد کی ایسی حالت اس کے ورثاء کو بھی معلوم ہے مرد خود علاج کراتا رہتا ہے لیکن کوئی علاج مفید نہ ہوااب عورت چاہتی ہے میرا عقد دوسرا شخص کے ساتھ ہوجائے مرد کواس کے خیال سے تعرض نہیں تو ایسے مرد کے ساتھ نکاح جائز ہوا یا نہیں اور اپنا ارادہ کس طرح پورا کرے آیا طلاق دے یا کوئی ضرورت نہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر پیدائشی عنین یعنی نامرد نکلا چنانچہ ڈاکٹر نے اس کا ملاحظہ کیا اور سند نامرد ہونے کی دے دی دریں صورت نکاح اس کا شرعا کیا حکم رکھتا ہے آیا زوجہ شوہر سے محتاج طلاق ہے یانہیں اور ایسی حالت میں مستحق کسی جزء مہر کی ہوتی ہے یانہیں اور ڈاکٹری سند ثبوت نامردی کےلئے کافی ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
زوج کا عنین ہونا مانع صحت نکاح نہیں زوجہ عنین مثل دیگر زنان بے طلاق شوہر سے جدائی کا اختیار نہیں رکھتی خلوت صحیحہ اگر ہولی تو مہر تمام وکمال پائے گی
فی التنویرالخلوۃ بلامانع کا لوطء ولومجبوبا او عنینا اوخصیا فی ثبوت النسب وتاکد المہر اھ ملتقطا۔
تنویر میں ہے : خلوت میں مانع نہ ہوتو وہ وطی کے حکم میں ہوگی اگرچہ خاوند کا ذکر کٹاہواہو یانامرد یا خصی ہو تو یہ خلوت نسب کے ثبوت اور مہر کو لازم کرنے میں وطی کی طرح ہوگی اھ ملتقطا(ت)
سند ڈاکٹری محض ناکافی ونامعتبر ہے
قال اﷲتعالی
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا الایۃ۔واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی وضاحت کولوالآیہ۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۵۸ : ازشہر بریلی محلہ کوہاڑاپیر مسئولہ نصیر اﷲصاحب ۷جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت اپنے شوہر کی ناقابلیت بیان کرتی ہے کہ چھ۶ برس کا عرصہ شادی کو ہوا اب تك شوہر میں کوئی مردی نہیں ۔ مرد کی ایسی حالت اس کے ورثاء کو بھی معلوم ہے مرد خود علاج کراتا رہتا ہے لیکن کوئی علاج مفید نہ ہوااب عورت چاہتی ہے میرا عقد دوسرا شخص کے ساتھ ہوجائے مرد کواس کے خیال سے تعرض نہیں تو ایسے مرد کے ساتھ نکاح جائز ہوا یا نہیں اور اپنا ارادہ کس طرح پورا کرے آیا طلاق دے یا کوئی ضرورت نہیں
الجواب :
نکاح مذکورجائز وصحیح ہے عورت کو ہرگز روا نہیں کہ بے طلاق یا فرقت شرعیہ کے دوسرے سے نکاح کرلے اگر کرے محض حرام ہوگا۔ مردجب ہمبستری میں عورت کا حق ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو اس پر فرض ہے کہ عورت کوطلاق دے دے۔
قال اﷲتعالی
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪ ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی پاس رکھ لویا بھلائی کے ساتھ آزاد کردو۔ (ت)
بعد طلاق عورت عدت بیٹھے اگر مرد خلوت کرچکا ہواگرچہ اس پر قادر نہ ہواہو۔ ا س کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگر اب تك خلوت نہ ہوئی تو بعد طلاق فورا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
فی الھندیۃ من باب العنین علیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا وان لم یخل بھا فلاعدۃ علیھا الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں “ نامردکے احکام “ کے باب میں ہے کہ عورت پر بالاجماع عدت ہوگی جب خاوند نے خلوت کرلی ہو اور اگر خلوت نہ پائی ہوتو پھر عورت پر عدت نہیں ہے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۵۹ : از محکمہ پیمائش ضلع گور کھپور مرسلہ منشی فریداحمداہلکار پیشی کرنیل ۹ربیع الاول۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مریم دس۱۰ برس کی تھی اور زید پندرہ۱۵ برس کا کہ ان کے والدین نے برضا ورغبت خود ان کانکاح کردیا جب مریم بالغہ ہوئی تو اسے ظاہر ہواکہ شوہر نامرد ہے اس صورت میں وہ نکاح ہوا یا نہیں اور مریم بے طلاق زید کے دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اور شوہر طلاق نہ دے تو صورت خلاص کیا ہے دعوی مہرپہنچتا ہے یانہیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں نکاح قطعا صحیح ہے لصدررھا عن اھلہ فی محلہ(کیونکہ یہ نکاح اپنے محل میں اپنے اہل سے صادر ہوا ہے۔ ت)اور جب تك زید کی طرف سے طلا ق نہ ہو اس کی زوجہ ہے اور دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں قال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲتعالی نے فرمایا :
نکاح مذکورجائز وصحیح ہے عورت کو ہرگز روا نہیں کہ بے طلاق یا فرقت شرعیہ کے دوسرے سے نکاح کرلے اگر کرے محض حرام ہوگا۔ مردجب ہمبستری میں عورت کا حق ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو اس پر فرض ہے کہ عورت کوطلاق دے دے۔
قال اﷲتعالی
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪ ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی پاس رکھ لویا بھلائی کے ساتھ آزاد کردو۔ (ت)
بعد طلاق عورت عدت بیٹھے اگر مرد خلوت کرچکا ہواگرچہ اس پر قادر نہ ہواہو۔ ا س کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگر اب تك خلوت نہ ہوئی تو بعد طلاق فورا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
فی الھندیۃ من باب العنین علیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا وان لم یخل بھا فلاعدۃ علیھا الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں “ نامردکے احکام “ کے باب میں ہے کہ عورت پر بالاجماع عدت ہوگی جب خاوند نے خلوت کرلی ہو اور اگر خلوت نہ پائی ہوتو پھر عورت پر عدت نہیں ہے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۵۹ : از محکمہ پیمائش ضلع گور کھپور مرسلہ منشی فریداحمداہلکار پیشی کرنیل ۹ربیع الاول۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مریم دس۱۰ برس کی تھی اور زید پندرہ۱۵ برس کا کہ ان کے والدین نے برضا ورغبت خود ان کانکاح کردیا جب مریم بالغہ ہوئی تو اسے ظاہر ہواکہ شوہر نامرد ہے اس صورت میں وہ نکاح ہوا یا نہیں اور مریم بے طلاق زید کے دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اور شوہر طلاق نہ دے تو صورت خلاص کیا ہے دعوی مہرپہنچتا ہے یانہیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں نکاح قطعا صحیح ہے لصدررھا عن اھلہ فی محلہ(کیونکہ یہ نکاح اپنے محل میں اپنے اہل سے صادر ہوا ہے۔ ت)اور جب تك زید کی طرف سے طلا ق نہ ہو اس کی زوجہ ہے اور دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں قال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲتعالی نے فرمایا :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۱
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۴
القرآن الکریم ۴ /۲۴
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۴
القرآن الکریم ۴ /۲۴
عورتوں سے منکوحہ عورتیں حرام ہیں ۔ ت)عقودالدریہ میں ہے :
سئل فی بکرصغیرۃ زوجھا ابوھا من رجل ودخل بھا ثم بلغت رشیدۃ وادعت بہ عنۃ وطلبت التفریق فماالحکم الجواب لایفرق بینھما بمجرد دعواھا انہ عنین الخ
ان سےسوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی باکراہ نابالغہ بیٹی کا نکاح ایك شخص سے کیا اورخاوند نے جماع کرلیا اس کے بعدہ وہ بیٹی بالغ ہوئی تو اس نے عقل وفہم کے باوجود خاوند کے نامرد ہونے کا دعوی کیا جس میں اس نے تفریق(فسخ نکاح)کا مطالبہ کیا تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے توجواب دیا کہ لڑکی کے محض اس دعوی پرکہ خاوند نامرد ہے تفریق نہ ہوگی الخ(ت)
البتہ جب زید نے غیر قادر اور اس کے ادائے حق سے قاصر ہے تو اس پر بنص قطعی قرآن طلاق دینا واجب اگر یونہی رکھ چھوڑے گا گنہگار ہوگا۔
قال تعالی
فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی کو بھلائی کے ساتھ پاس روك لو یا نیکی کے ساتھ آزاد کردو۔ (ت)
پس اگر وہ طلاق نہ دے تو صورت خلاص یہ ہے کہ مریم وزید کسی عالم دین فقیہ متین کو پنچ کریں
فی الفتاوی الخیریۃ للعلامۃ خیرالدین الرملی سئل فی العنین اذاجعل بینہ وبین زوجۃ محکمین فاجلوہ سنۃ ومضت ھل لھم ان یفرقوابینھما اذاطلبت ام لااجاب نعم یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس یحدو لقودولایۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقو بطلب الزوجۃ واﷲ اعلم اھ قلت وھذا نص یقدم علی استظھار
فتاوی خیریہ میں ہے مصنف خیرالدین رملی سے سوال کیا گیانامرد ہونے کے دعوی پرخاوند اور بیوی کے معاملہ میں ثالث بنایا جائے اور وہ ثالثی والے حضرات خاوند کوایك سال کی مہلت دیں اور مہلت ختم ہوجائے تو کیا ثالث حضرات اس پر تفریق کا فیصلہ کرسکتے ہیں یانہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ نامرد ہے حد یا قصاص یا عاقلہ پر دیت کامعاملہ نہیں ہےاس لئے ثالث حضرات کو بیوی کے
سئل فی بکرصغیرۃ زوجھا ابوھا من رجل ودخل بھا ثم بلغت رشیدۃ وادعت بہ عنۃ وطلبت التفریق فماالحکم الجواب لایفرق بینھما بمجرد دعواھا انہ عنین الخ
ان سےسوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی باکراہ نابالغہ بیٹی کا نکاح ایك شخص سے کیا اورخاوند نے جماع کرلیا اس کے بعدہ وہ بیٹی بالغ ہوئی تو اس نے عقل وفہم کے باوجود خاوند کے نامرد ہونے کا دعوی کیا جس میں اس نے تفریق(فسخ نکاح)کا مطالبہ کیا تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے توجواب دیا کہ لڑکی کے محض اس دعوی پرکہ خاوند نامرد ہے تفریق نہ ہوگی الخ(ت)
البتہ جب زید نے غیر قادر اور اس کے ادائے حق سے قاصر ہے تو اس پر بنص قطعی قرآن طلاق دینا واجب اگر یونہی رکھ چھوڑے گا گنہگار ہوگا۔
قال تعالی
فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی کو بھلائی کے ساتھ پاس روك لو یا نیکی کے ساتھ آزاد کردو۔ (ت)
پس اگر وہ طلاق نہ دے تو صورت خلاص یہ ہے کہ مریم وزید کسی عالم دین فقیہ متین کو پنچ کریں
فی الفتاوی الخیریۃ للعلامۃ خیرالدین الرملی سئل فی العنین اذاجعل بینہ وبین زوجۃ محکمین فاجلوہ سنۃ ومضت ھل لھم ان یفرقوابینھما اذاطلبت ام لااجاب نعم یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس یحدو لقودولایۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقو بطلب الزوجۃ واﷲ اعلم اھ قلت وھذا نص یقدم علی استظھار
فتاوی خیریہ میں ہے مصنف خیرالدین رملی سے سوال کیا گیانامرد ہونے کے دعوی پرخاوند اور بیوی کے معاملہ میں ثالث بنایا جائے اور وہ ثالثی والے حضرات خاوند کوایك سال کی مہلت دیں اور مہلت ختم ہوجائے تو کیا ثالث حضرات اس پر تفریق کا فیصلہ کرسکتے ہیں یانہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ نامرد ہے حد یا قصاص یا عاقلہ پر دیت کامعاملہ نہیں ہےاس لئے ثالث حضرات کو بیوی کے
حوالہ / References
عقودالدریہ باب العنین حاجی الغفار وپسران قندھار افغانستان۱ / ۳۲
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
فتاوٰی خیریہ باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۶
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
فتاوٰی خیریہ باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۶
مطالبہ پر یہ تفریق جائز ہے واﷲاعلم اھ__العلامۃ امین الدین ابن عابدین امابالتامل مع ان ما استظہر بہ لایفیدہ کما اوضحنا فیما علقناہ علیہ فتبصر۔
قلت(میں کہتا ہوں )ی فقہی نص ہے جو علامہ ابن عابدین کی رائے پر مقدم ہے لیکن بغور معلوم ہورہا ہے کہ ان کی رائے ان کو خود مفید نہیں ہے جیسا کہ ہم نے وہاں حاشیہ میں واضح کیا ہے تو غور چاہئے۔ (ت)
ہندہ اگر اس کے حضور دعوی کرے حکم زید سے جواب لے اگر اپنی نامردی اور مریم پر قدرت نہ پانے کا مقر ہو اسے آج سے سال بھر کامل کی مہلت دے اور منکر ہوتو عورت ثقہ نمازی پرہیز گار مریم کو دیکھے جب وہ شہادت دے کہ واقعی مریم ہنوز بکر ہے تو زید کو سال بھر کی مہلت دی جائے اگر وہ دن ختم ماہ قمری ہوتو سال کے بارہ۱۲ مہینے تیرہ ۱۳ ہلالوں سےلئے جائیں ورنہ تین سوساٹھ۳۶۰دن شمار کرلیں اور اس مدت میں جتنے دنوں مریم باختیار خود زید کے مسکن میں نہ رہے یا اسے خواہ زید کو ایسا مرض ہو جس میں مجامعت نہ ہوسکے وہ دن شمار میں نہ آئیں گے اور اگر زید ہی اسے نہ رکھے یا اس کے پاس نہ آئے تو کچھ مجرانہ پائے گا یونہی ایام حیض بھی مجرا نہ ہونگے جب اس طرح سال گزرجائے اور زید مریم پر قدرت نہ پائے مریم پھر حکم کے پاس تفریق وازالہ نکاح کا دعوی کر حکم پھر زید سے وجاب لے اگر معترف ہو یا بحالت انکار پھر کسی عورت معتمدہ نمازی متقیہ کی شہادت معانیہ سے ثابت ہو کہ اب بھی مریم بدستور بکر ہے تو حکم مریم سے پوچھے تو زید کو اختیار کرتی ہے یا اپنے نفس کو اگر کہے زید کو یا بغیر کچھ کہے چلی جائے یا کھڑی ہوجائے یا اٹھادی جائے یا حکم اٹھ کھڑا ہوتو اب اس کا دعوی باطل اور نکاح لازم ہوگیااور اگر اسی جلسہ میں کہہ دے میں اپنے نفس کو اختیار کیا تو حکم زید کو حکم دے کہ اسے طلاق دے کہ بحکم شرع تجھ پر طلاق دینی واجب ہے اگر دیدے فبہا ورنہ حکم کہہ دے میں تم دونوں میں تفریق کردی فورامریم اس کے نکاح سے نکل جائے گی جس سے چاہے نکاح کرلے پس اگر زید ومریم میں خلوت ہوچکی تو مریم پر عدت اور زید کے ذمہ پورا مہر ورنہ عدت نہیں اور آدھا مہر
فی تنویرالابصار والدرالمختار وردالمحتار لووجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ بالااھلۃ علی المذہب ولواجل فی اثناء الشھر فبالایام اجماعا(کل شھر ثلثون یوما) ورمضان وایام
تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کو نامرد پائے تو خاوند کو ایك سال کی قمری مہینوں کے حساب سے مہلت دی جائے گی جیسا کہ مذہب میں ہے اور اگر مہینہ کے درمیان مہلت دی گئی تو پھر بالاجماع دنوں کی گنتی بحساب ہرماہ تیس دن مہلت شمار ہوگی اور ماہ رمضان اور
قلت(میں کہتا ہوں )ی فقہی نص ہے جو علامہ ابن عابدین کی رائے پر مقدم ہے لیکن بغور معلوم ہورہا ہے کہ ان کی رائے ان کو خود مفید نہیں ہے جیسا کہ ہم نے وہاں حاشیہ میں واضح کیا ہے تو غور چاہئے۔ (ت)
ہندہ اگر اس کے حضور دعوی کرے حکم زید سے جواب لے اگر اپنی نامردی اور مریم پر قدرت نہ پانے کا مقر ہو اسے آج سے سال بھر کامل کی مہلت دے اور منکر ہوتو عورت ثقہ نمازی پرہیز گار مریم کو دیکھے جب وہ شہادت دے کہ واقعی مریم ہنوز بکر ہے تو زید کو سال بھر کی مہلت دی جائے اگر وہ دن ختم ماہ قمری ہوتو سال کے بارہ۱۲ مہینے تیرہ ۱۳ ہلالوں سےلئے جائیں ورنہ تین سوساٹھ۳۶۰دن شمار کرلیں اور اس مدت میں جتنے دنوں مریم باختیار خود زید کے مسکن میں نہ رہے یا اسے خواہ زید کو ایسا مرض ہو جس میں مجامعت نہ ہوسکے وہ دن شمار میں نہ آئیں گے اور اگر زید ہی اسے نہ رکھے یا اس کے پاس نہ آئے تو کچھ مجرانہ پائے گا یونہی ایام حیض بھی مجرا نہ ہونگے جب اس طرح سال گزرجائے اور زید مریم پر قدرت نہ پائے مریم پھر حکم کے پاس تفریق وازالہ نکاح کا دعوی کر حکم پھر زید سے وجاب لے اگر معترف ہو یا بحالت انکار پھر کسی عورت معتمدہ نمازی متقیہ کی شہادت معانیہ سے ثابت ہو کہ اب بھی مریم بدستور بکر ہے تو حکم مریم سے پوچھے تو زید کو اختیار کرتی ہے یا اپنے نفس کو اگر کہے زید کو یا بغیر کچھ کہے چلی جائے یا کھڑی ہوجائے یا اٹھادی جائے یا حکم اٹھ کھڑا ہوتو اب اس کا دعوی باطل اور نکاح لازم ہوگیااور اگر اسی جلسہ میں کہہ دے میں اپنے نفس کو اختیار کیا تو حکم زید کو حکم دے کہ اسے طلاق دے کہ بحکم شرع تجھ پر طلاق دینی واجب ہے اگر دیدے فبہا ورنہ حکم کہہ دے میں تم دونوں میں تفریق کردی فورامریم اس کے نکاح سے نکل جائے گی جس سے چاہے نکاح کرلے پس اگر زید ومریم میں خلوت ہوچکی تو مریم پر عدت اور زید کے ذمہ پورا مہر ورنہ عدت نہیں اور آدھا مہر
فی تنویرالابصار والدرالمختار وردالمحتار لووجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ بالااھلۃ علی المذہب ولواجل فی اثناء الشھر فبالایام اجماعا(کل شھر ثلثون یوما) ورمضان وایام
تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کو نامرد پائے تو خاوند کو ایك سال کی قمری مہینوں کے حساب سے مہلت دی جائے گی جیسا کہ مذہب میں ہے اور اگر مہینہ کے درمیان مہلت دی گئی تو پھر بالاجماع دنوں کی گنتی بحساب ہرماہ تیس دن مہلت شمار ہوگی اور ماہ رمضان اور
حیضھا منھا وکذاحجہ وغیبتہ لامدۃ حجھا وغیبتھاومرضہ ومرضا ویوجل من وقت الخصومۃ فان وطئ مرۃ فبھا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا یتعلق بالجمیع(ای جمیع الافعال وھی فرق واجل وبانت)ولوادعی وانکرتہ فقالت امرأۃ ثقۃ والثنتان احوط ھی بکر خیرت فی مجلسھا(ای یخیرھا القاضی)وان اختارتہ بطل حقھا کما لو وجد منھا دلیل اعراض بان قامت من مجلسھا واقامھا اعوان القاضی او قام القاضی قبل ان تختار شیئا بہ یفتی لامکانہ مع القیام اھ ملتقطا۔
عورت کے حیض کے دن مہلت میں شمار ہوں گے اور یونہی خاوند کے حج اور غیر حاضری کے ایام مہلت میں شمار نہ ہوں گے اورمہلت کاشمار دعوی پیش ہونے کے وقت سے ہوگا اس دوران مہلت اگر خاوندی نے بیوی سے ایك مرتبہ جماع کرلیا تو بہتر ہے ورنہ قاضی کی تفریق سے بیوی بائنہ ہوجائے گی اگرچہ خاوند طلاق دینے سے انکار کردے یہ کاروائی بیوی کے مطالبہ پر ہوگی عورت کے مطالبہ کا تعلق تفریق مہلت اور اس کے بائنہ ہونے تمام امور سے ہے اگر مہلت کے دوران خاوند وطئ کرنے کا مدعی ہواور بیوی انکار کرتی ہو تو پھر ثقہ ایك عورت یا دو۲ عورتوں نے کہہ دیا کہ بیوی تا حال باکرہ ہے تو بیوی کواسی مجلس میں اختیار ہوگا اور یہ اختیار قاضی دے گا اگر بیوی نے اس موقعہ پر خاوند کو اپنایا تو بیوی کا اختیار ختم ہوجائیگا جس طرح مجلس اختیار میں بیوی خاوند سے جدائی کو ناپسند کرتے ہوئے اٹھ جائے یا قاضی کے عملہ نے بیوی کواٹھا دیا یا قاضی خود اٹھ کر چلاگیا اور بیوی نے ابھی تك کوئی فیصلہ نہ کیا تھا تو ان تمام صورتوں میں بیوی کا اختیار باطل ہوجائے گا اسی پرفتوی ہے کیونکہ بیوی کے اٹھ جانے میں یہ امکان موجود ہے اھ ملتقطا(ت)
عالمگیری میں ہے :
ان اختارت الفرقۃ امرالقاضی ان یطلقھا بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد رحمہ اﷲتعالی فی الاصل کذا فی التبیین
اگر بیوی نے فرقت کو پسند کیا تو قاضی خاوند کوبائنہ طلاق دینے کا حکم دے گا اگر خاوند انکار کردے تو قاضی خود تفریق کردے۔ امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے اصل(مبسوط)میں یونہی فرمایاہے جیسا
عورت کے حیض کے دن مہلت میں شمار ہوں گے اور یونہی خاوند کے حج اور غیر حاضری کے ایام مہلت میں شمار نہ ہوں گے اورمہلت کاشمار دعوی پیش ہونے کے وقت سے ہوگا اس دوران مہلت اگر خاوندی نے بیوی سے ایك مرتبہ جماع کرلیا تو بہتر ہے ورنہ قاضی کی تفریق سے بیوی بائنہ ہوجائے گی اگرچہ خاوند طلاق دینے سے انکار کردے یہ کاروائی بیوی کے مطالبہ پر ہوگی عورت کے مطالبہ کا تعلق تفریق مہلت اور اس کے بائنہ ہونے تمام امور سے ہے اگر مہلت کے دوران خاوند وطئ کرنے کا مدعی ہواور بیوی انکار کرتی ہو تو پھر ثقہ ایك عورت یا دو۲ عورتوں نے کہہ دیا کہ بیوی تا حال باکرہ ہے تو بیوی کواسی مجلس میں اختیار ہوگا اور یہ اختیار قاضی دے گا اگر بیوی نے اس موقعہ پر خاوند کو اپنایا تو بیوی کا اختیار ختم ہوجائیگا جس طرح مجلس اختیار میں بیوی خاوند سے جدائی کو ناپسند کرتے ہوئے اٹھ جائے یا قاضی کے عملہ نے بیوی کواٹھا دیا یا قاضی خود اٹھ کر چلاگیا اور بیوی نے ابھی تك کوئی فیصلہ نہ کیا تھا تو ان تمام صورتوں میں بیوی کا اختیار باطل ہوجائے گا اسی پرفتوی ہے کیونکہ بیوی کے اٹھ جانے میں یہ امکان موجود ہے اھ ملتقطا(ت)
عالمگیری میں ہے :
ان اختارت الفرقۃ امرالقاضی ان یطلقھا بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد رحمہ اﷲتعالی فی الاصل کذا فی التبیین
اگر بیوی نے فرقت کو پسند کیا تو قاضی خاوند کوبائنہ طلاق دینے کا حکم دے گا اگر خاوند انکار کردے تو قاضی خود تفریق کردے۔ امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے اصل(مبسوط)میں یونہی فرمایاہے جیسا
حوالہ / References
در مختار شرح تنویر الابصار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴ ، ردالمحتار باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۵
والفرقۃ تطلیقہ بائنۃ کذافی الکافی ولھا المھر کاملا وعلیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قدخلابھا وان لم یدخل بھا فلاعدۃ علیھا ولھا نصف المھر ان کان مسمی والمتعۃ ان لم یکن مسمی کذا فی البدائع اھ ۔
کہ تبیین میں مذکور ہے اور قاضی کی تفریق بائنہ طلاق قرار پائے گی جیسا کہ کافی میں مذکور ہے۔ بیوی کے لئے کامل مہر ہوگا اور اس پر بالاجماع عدت لازم ہوگی بشرطیکہ خاوند نے خلوت پالی ہو اور اگر اس نے خلوت بیوی سے نہ کی ہو تو عدت نہ ہوگی اور مہر بھی نصف ہوگا اور اگر مہر مقررہ نہ تھا تو اس صورت میں صرف(متعہ)جوڑا دیا جائے گا جیسا کہ بدائع میں مذکور ہے اھ(ت)
اصل حکم یہ ہے پھر زید براہ شرارت واضرار زوجہ کسی کو پنچ کرنے پر راضی نہ ہوتو چارہ کاریہ ہے کہ اس شہر میں جو عالم دین وہاں کے سب اہل علم فقہ وعلوم دینیہ میں زائد ہو مریم اس کے یہاں بطور خود دعوی مذکور کرے عالم موصوف زید کو بلا کرکاروائی بروجہ مذکور کرے۔
فان اعلم البلد لایحتاج فی زماننا فی امثال ھذاالی التحکیم کما نص علیہ المولی الفاضل سیدی عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ عن الامام العتابی وعن السید السمہودی ثم عن المناوی رحمھم اﷲتعالی علیہم اجمعین۔
کیونکہ علاقہ کابڑا عالم ہمارے زمانہ میں کسی پنچایت کا پابند نہیں یعنی ثالثی کا محتاج نہیں جیسا کہ فاضل محترم مولانا عبد الغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں اس پر تصریح فرماتے ہوئے امام عتابی اور سید سمہودی اور پھر علامہ مناوی رحمہم اﷲتعالی علیہم اجمعین سے نقل کیا ہے۔ (ت)
پھر اگر زید کو آنے میں بھی انکار ہو تو عالم ممدوح خود اس کے پاس تکلیف کرے
فی الھندیۃ یذھب بنفسہ اویبعث من یحضرہ ورسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہم فعل کلاالنوعین اھ ملخصا۔
ہندیہ میں ہے خود جائے یا کسی کو بھیج کر طلب کرے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے دونوں طریقے اپنائے ہیں اھ ملخصا(ت)
اور غالبا ہنوز حکم مسئلہ سے ناواقفی کے باعث اسے عالم موصوف سے ملنے اور گفتگو کرنے میں باك نہ ہوگا بس صرف اتنا اس سے دریافت کرلے کہ مریم تیری نامردی کی شاکی ہے آیا واقعی ایسا ہی نہیں اگراقرار
کہ تبیین میں مذکور ہے اور قاضی کی تفریق بائنہ طلاق قرار پائے گی جیسا کہ کافی میں مذکور ہے۔ بیوی کے لئے کامل مہر ہوگا اور اس پر بالاجماع عدت لازم ہوگی بشرطیکہ خاوند نے خلوت پالی ہو اور اگر اس نے خلوت بیوی سے نہ کی ہو تو عدت نہ ہوگی اور مہر بھی نصف ہوگا اور اگر مہر مقررہ نہ تھا تو اس صورت میں صرف(متعہ)جوڑا دیا جائے گا جیسا کہ بدائع میں مذکور ہے اھ(ت)
اصل حکم یہ ہے پھر زید براہ شرارت واضرار زوجہ کسی کو پنچ کرنے پر راضی نہ ہوتو چارہ کاریہ ہے کہ اس شہر میں جو عالم دین وہاں کے سب اہل علم فقہ وعلوم دینیہ میں زائد ہو مریم اس کے یہاں بطور خود دعوی مذکور کرے عالم موصوف زید کو بلا کرکاروائی بروجہ مذکور کرے۔
فان اعلم البلد لایحتاج فی زماننا فی امثال ھذاالی التحکیم کما نص علیہ المولی الفاضل سیدی عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ عن الامام العتابی وعن السید السمہودی ثم عن المناوی رحمھم اﷲتعالی علیہم اجمعین۔
کیونکہ علاقہ کابڑا عالم ہمارے زمانہ میں کسی پنچایت کا پابند نہیں یعنی ثالثی کا محتاج نہیں جیسا کہ فاضل محترم مولانا عبد الغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں اس پر تصریح فرماتے ہوئے امام عتابی اور سید سمہودی اور پھر علامہ مناوی رحمہم اﷲتعالی علیہم اجمعین سے نقل کیا ہے۔ (ت)
پھر اگر زید کو آنے میں بھی انکار ہو تو عالم ممدوح خود اس کے پاس تکلیف کرے
فی الھندیۃ یذھب بنفسہ اویبعث من یحضرہ ورسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہم فعل کلاالنوعین اھ ملخصا۔
ہندیہ میں ہے خود جائے یا کسی کو بھیج کر طلب کرے رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے دونوں طریقے اپنائے ہیں اھ ملخصا(ت)
اور غالبا ہنوز حکم مسئلہ سے ناواقفی کے باعث اسے عالم موصوف سے ملنے اور گفتگو کرنے میں باك نہ ہوگا بس صرف اتنا اس سے دریافت کرلے کہ مریم تیری نامردی کی شاکی ہے آیا واقعی ایسا ہی نہیں اگراقرار
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۳۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۳۵
کرے سال بھر کی مہلت دے د اور بحالت انکار زنان ثقات کو دکھا کر بقائے بکارت کا ثبوت لے کر زید کو مہلت ایك سال کی اطلاع کودے جب بعد مرورمدت عورت پھر جدائی چاہے عالم دوبارہ زید کے پاس جائے بن پڑے توکاروائی مذکور کرے مگر جب زید کوخواہی نخواہی ایذاوضرر مریم ہی منظور ہے تو بعد سماع مہلت عجب نہیں کہ دوبارہ عالم سے نہ ملے کہ آخر جبر شرعی کی طرف تو کوئی راہ ہی نہیں اگر ایسی صورت واقع ہوتو مریم اس بار دوم کی کاروائی میں اپنے آپ کو اعانت عالم سے غنی سمجھے اور صرف اس قدر امداد پر جو اول بار بحکم عالم نامردی زید ثابت ہوکر مہلت یکساں دی گئی تھی قناعت کرے اب کہ زید عالم سے نہ ملے اور کاروائی آئندہ نہ ہونے دے ہندہ خود کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور زیدکے نکاح سے باہر آئی مذہب صاحبین پراس قدربھی کافی ہوجائے گا اور مریم اس کے ظلم سے نجات پائے گی
فی ردالمحتار تحت قولہ والابانت بالتفریق من القاضی وقیل یکفی اختیارھا نفسھا ولایحتاج الی القضاء کخیار العتق قیل وھو الاصح کذا فی غایۃ البیان وجعل فی المجمع الاول قول الامام والثانی قولھما نھر وفی البدائع عن شرح مختصر الطحاوی ان الثانی ظاہرالروایۃ ثم قال وزکر فی بعض المواضع ان ماذکر فی ظاہرالروایۃ قولھما انتہی۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول(ورنہ قاضی کی تفریق سے بائنہ ہوجائے گا)کے تحت بیان کیا کہ بعض نے کہا قاضی کی تفریق کے بجائے بیوی خود اپنے کو علیحدہ قرار دے تو کافی ہے اور قاضی کی ضرورت نہیں جیسا کہ عتق میں خیار کی صورت میں عورت کو خودکاروائی کا اختیار ہے بعض نے اس قول کو اصح قرار دیا جیساکہ غایۃ البیان میں ہے۔ اور مجمع میں پہلے قول(قاضی کی تفریق)کو امام صاحب رضی اﷲتعالی عنہ کا قول اوردوسرے کو صاحبین کا قول قرار دیاہے نہر۔ اور بدائع میں مختصر الطحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ دوسراقول ظاہر روایۃ ہے اور پھر کہا کہ بعض مواقع میں ظاہر روایۃ صاحبین کا قول ہے اھ۔ (ت)
اقول : وقد نص علمائنا ان تقلید الغیریجوز فی
اقول : (میں کہتا ہوں )ہمارے علماء نے نص فرمائی ہے کہ اپنے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ
فی ردالمحتار تحت قولہ والابانت بالتفریق من القاضی وقیل یکفی اختیارھا نفسھا ولایحتاج الی القضاء کخیار العتق قیل وھو الاصح کذا فی غایۃ البیان وجعل فی المجمع الاول قول الامام والثانی قولھما نھر وفی البدائع عن شرح مختصر الطحاوی ان الثانی ظاہرالروایۃ ثم قال وزکر فی بعض المواضع ان ماذکر فی ظاہرالروایۃ قولھما انتہی۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول(ورنہ قاضی کی تفریق سے بائنہ ہوجائے گا)کے تحت بیان کیا کہ بعض نے کہا قاضی کی تفریق کے بجائے بیوی خود اپنے کو علیحدہ قرار دے تو کافی ہے اور قاضی کی ضرورت نہیں جیسا کہ عتق میں خیار کی صورت میں عورت کو خودکاروائی کا اختیار ہے بعض نے اس قول کو اصح قرار دیا جیساکہ غایۃ البیان میں ہے۔ اور مجمع میں پہلے قول(قاضی کی تفریق)کو امام صاحب رضی اﷲتعالی عنہ کا قول اوردوسرے کو صاحبین کا قول قرار دیاہے نہر۔ اور بدائع میں مختصر الطحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ دوسراقول ظاہر روایۃ ہے اور پھر کہا کہ بعض مواقع میں ظاہر روایۃ صاحبین کا قول ہے اھ۔ (ت)
اقول : وقد نص علمائنا ان تقلید الغیریجوز فی
اقول : (میں کہتا ہوں )ہمارے علماء نے نص فرمائی ہے کہ اپنے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۵
مواقع الضرورۃ قال اﷲتعالی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج فماظنك بالعمل بقول صاحبی الامام المثبت فی ظاہرالروایۃ المذیل بترجیح مافقد صرحوا انہ لیس فی المذہب قول لاحد غیر الامام الھمام رضی اﷲتعالی عنہ واماماینسب الی الصاحبین او الی احدھما فما ھو الاروایۃ عنہ مال الیھا بعض الاصحاب فنسبت الیہ کما اقسم علیہ الاصحاب بایمان غلاظ شداد کما ذکرہ فی ردالمحتار و غیرہا من الاسفار واﷲیحب التیسر ولایرضی بالظلم ولاضرر ولاضرار فی الاسلام والیہ المشتکی من احوال الزمان واﷲ تعالی اعلم۔
کے علاوہ کی تقلید بوقت ضرورت جائز ہے اور اﷲتعالی نے فرمایا : “ اﷲتعالی نے تمہارےلئے دین میں تنگی نہیں فرمائی۔ “ توامام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے دونوں شاگردوں (صاحبین) کے قول پر عمل کے بارے میں تجھے کیا تردد ہوسکتا جبکہ وہ قول ظاہر الروایۃ کے ضمن میں ایك طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے فقہاء میں ایك طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ مذہب میں امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کے ماسواکوئی قول نہیں اور جوصاحبین یا ان میں کسی ایك کی طرف منسوب ہے تو وہ بھی امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کا ہی قول ہے جوان سے مروی ہوتا ہے اور بعض شاگرد اس قول کو اپنالیتے ہیں جیسا کہ اس کو آپ کے شاگردوں نے شدید قسموں کے ذریعے ذکر فرمایا ہے کہ جیسا کہ اس کو ردالمحتار وغیرہ کتب میں بیان کیاہے اور اﷲ تعالی آسانی پیدا کرنے کو پسند فرماتا ہے اور ظلم اور ضرر کو اسلام میں پسند نہیں فرماتا اور اس کے دربار میں ہی زمانہ کے احوال کی شکایت ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۶۰ : ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نامرد ہے اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی اب وہ مقدمہ جھوٹا بنا کرکچہری چڑھتا ہے کہ ہم نے طلاق نہیں دی ہے کچہری سے حکم ہوا ڈاکٹر معاینہ کرے اس کا ملاحظہ بھی ہوا وہ نامرد ہے دوچار شخصوں نے اس کوچڑھا کر نالش کردی ہے اس مسئلہ میں کیا حکم ہے
الجواب :
جب طلاق دے دی اور عدت گزر گئی طلاق بائن تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی اور وہ جھوٹی
کے علاوہ کی تقلید بوقت ضرورت جائز ہے اور اﷲتعالی نے فرمایا : “ اﷲتعالی نے تمہارےلئے دین میں تنگی نہیں فرمائی۔ “ توامام صاحب رحمہ اﷲتعالی کے دونوں شاگردوں (صاحبین) کے قول پر عمل کے بارے میں تجھے کیا تردد ہوسکتا جبکہ وہ قول ظاہر الروایۃ کے ضمن میں ایك طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے فقہاء میں ایك طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ مذہب میں امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کے ماسواکوئی قول نہیں اور جوصاحبین یا ان میں کسی ایك کی طرف منسوب ہے تو وہ بھی امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کا ہی قول ہے جوان سے مروی ہوتا ہے اور بعض شاگرد اس قول کو اپنالیتے ہیں جیسا کہ اس کو آپ کے شاگردوں نے شدید قسموں کے ذریعے ذکر فرمایا ہے کہ جیسا کہ اس کو ردالمحتار وغیرہ کتب میں بیان کیاہے اور اﷲ تعالی آسانی پیدا کرنے کو پسند فرماتا ہے اور ظلم اور ضرر کو اسلام میں پسند نہیں فرماتا اور اس کے دربار میں ہی زمانہ کے احوال کی شکایت ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۶۰ : ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نامرد ہے اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی اب وہ مقدمہ جھوٹا بنا کرکچہری چڑھتا ہے کہ ہم نے طلاق نہیں دی ہے کچہری سے حکم ہوا ڈاکٹر معاینہ کرے اس کا ملاحظہ بھی ہوا وہ نامرد ہے دوچار شخصوں نے اس کوچڑھا کر نالش کردی ہے اس مسئلہ میں کیا حکم ہے
الجواب :
جب طلاق دے دی اور عدت گزر گئی طلاق بائن تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی اور وہ جھوٹی
نالش کرنے سے سخت گنہگار ہوا اور اگر طلاق رجعی تھی اور عدت کے اندر رجعت کرلی تو عورت اس کے نکاح میں ہے اور نالش میں وہ گنہگار نہ ہوا اگرچہ طلاق نہ دی کہنا نہ چاہئے تھا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱ : ۲۸ربیع الآخرشریف۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع بلارعایت کسی کے مسائل مفصلہ ذیل میں ایك عورت جوان تیس۳۰ سالہ کہ جس کا خاوند مدت دراز سے مجنون ہے اور اس کا علاج بھی ہرقسم سے کرایاگیا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا م اور اس شخص کا جنون حد کو پہنچ گیاکہ جس کو فقہ والے جنون مطبق کہتے ہیں اورنیز اس مجنون کے پاس کچھ مال واسباب بھی نہیں ہے جس سے اس عورت کے نان ونفقہ کا انتظام ہوسکے ایسے مجنون کی زوجہ کو ائمہ ثلثہ سے کسی امام کے نزدیك خیار تفریق ہے یا نہیں اور مسئلہ میں خیار تفریق کس امام کے قول پر فتوی ہے۔ اگر ضرورت کے وقت مسئلہ شرعی میں دوسرے امام کے قول پر فتوی دیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے چنانچہ فقہ کی کتابوں میں مثلا شرح وقایہ وہدایہ وشامی وغیرہ میں اکثر مسائل کے اندر صاحبین کے قول کی ترجیح امام کے قول پر ثابت کرتے ہیں اور کتب فتاوی مثلا عالمگیریہ وقاضی خاں وغیرہ میں صاحبین کے قول پر فتوی دیتے ہیں آیا یہ بات جائز ہے یانہیں ۔ جن مسائل میں قاضی وحاکم حکم وغیرہ نہیں ہے چنانچہ آج کل عملداری نصاری کی ہے تو اس صورت میں مفتی کا فتوی قائم مقام ہوسکتا ہے یانہیں جواب مسئلہ صاف صاف معہ حوالہ کتب کے مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب :
ہمارے مذہب میں جنون کی وجہ سے ہرگز تفریق نہیں ہوسکتی۔ درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاخر ولو فاحشا کجنون الخ
خاوند بیوی میں سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناء پر اگرچہ وہ عیب جنون کی طرح واضح ہو فسخ کا اختیار نہیں الخ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وقد تکفل فی الفتح بردمااستدل بہ الائمۃ الثلثۃ و محمد بمالامزید علیہ ۔
فتح میں ائمہ ثلثہ اور امام محمد رحمہم اﷲتعالی کے مؤقف کاخوب رد کیا جس سے زائد کی گنجائش نہیں ہے(ت)
مسئلہ ۲۶۱ : ۲۸ربیع الآخرشریف۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع بلارعایت کسی کے مسائل مفصلہ ذیل میں ایك عورت جوان تیس۳۰ سالہ کہ جس کا خاوند مدت دراز سے مجنون ہے اور اس کا علاج بھی ہرقسم سے کرایاگیا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا م اور اس شخص کا جنون حد کو پہنچ گیاکہ جس کو فقہ والے جنون مطبق کہتے ہیں اورنیز اس مجنون کے پاس کچھ مال واسباب بھی نہیں ہے جس سے اس عورت کے نان ونفقہ کا انتظام ہوسکے ایسے مجنون کی زوجہ کو ائمہ ثلثہ سے کسی امام کے نزدیك خیار تفریق ہے یا نہیں اور مسئلہ میں خیار تفریق کس امام کے قول پر فتوی ہے۔ اگر ضرورت کے وقت مسئلہ شرعی میں دوسرے امام کے قول پر فتوی دیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے چنانچہ فقہ کی کتابوں میں مثلا شرح وقایہ وہدایہ وشامی وغیرہ میں اکثر مسائل کے اندر صاحبین کے قول کی ترجیح امام کے قول پر ثابت کرتے ہیں اور کتب فتاوی مثلا عالمگیریہ وقاضی خاں وغیرہ میں صاحبین کے قول پر فتوی دیتے ہیں آیا یہ بات جائز ہے یانہیں ۔ جن مسائل میں قاضی وحاکم حکم وغیرہ نہیں ہے چنانچہ آج کل عملداری نصاری کی ہے تو اس صورت میں مفتی کا فتوی قائم مقام ہوسکتا ہے یانہیں جواب مسئلہ صاف صاف معہ حوالہ کتب کے مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب :
ہمارے مذہب میں جنون کی وجہ سے ہرگز تفریق نہیں ہوسکتی۔ درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاخر ولو فاحشا کجنون الخ
خاوند بیوی میں سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناء پر اگرچہ وہ عیب جنون کی طرح واضح ہو فسخ کا اختیار نہیں الخ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وقد تکفل فی الفتح بردمااستدل بہ الائمۃ الثلثۃ و محمد بمالامزید علیہ ۔
فتح میں ائمہ ثلثہ اور امام محمد رحمہم اﷲتعالی کے مؤقف کاخوب رد کیا جس سے زائد کی گنجائش نہیں ہے(ت)
حوالہ / References
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
ردالمحتار باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۷
ردالمحتار باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۷
ہمارے علماء سے امام محمد رحمۃ اﷲتعالی علیہ جانب خیار گئے اور حاوی قدسی میں حسب عادت برخلاف عامہ متون وشروح وفتاوی اس کی نسبت “ بہ ناخذ “ (ہمارا اخذ مختار ہے۔ ت)بھی لکھ دیا جیسا کہ اس سے عالمگیریہ میں منقول ہوا۔ فقیر کے فتاوی میں بتفصیل تام واضح کردیا گیا ہے کہ ماخوذ ومختار معتمد و واجب التعویل مذہب مہذب سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ سے :
وان قول الحاوی لخلافہ بہ ناخذ قدخالف فیہ المذہب وجمہورائمۃ المذہب والدلیل ایضافان الدلیل مع الامام فلایلتفت الی خلافہ۔
حاوی کا امام صاحب کے قول کے خلاف پر بہ ناخذ(ہماری یہی مختار ہے)کہنا یہ مذہب اور جمہور ائمہ مذہب کے خلاف ہے جبکہ دلیل بھی امام صاحب رحمہ اﷲتعالی کی ہی قوی ہے اس لئے اس اس کے خلاف کی طرف التفات کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
بانیہمہ اگر جنون حادث ہے پیش از نکاح شوہر مجنون نہ تھا بعد کو پیدا ہوا اور حالت ضرورت بلامکر وفریب وپیروی نفس سچی سچی واقعی متحقق ہے تو قول امام محمد پر عمل ممکن۔
فقد اجاز والتحقق الضرورۃ الصحیحۃ تقلید الغیر بشرائط فھذا اولی بالجواز اذلیس بحمد اﷲفی المذہب قول خارج عن اقوال الامام کما نص علیہ العلماء الکرام وذکرہ اصحاب امامنا رضی اﷲتعالی عنہ وعنھم بغلاظ الایمان وشد ادالاقسام لاسیما وقد ذیل لما ھو اکدالفاظ الافتاء۔
فقہاء کرام نے صحیح ضرورت کی بناء پر دیگر ائمہ کی تقلید کو جائز قرار دیا ہے تو یہاں امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے قول کی بطریق اولی اتباع جائز ہوگی کیونکہ بحمدہ تعالی مذہب کا کوئی قول امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے قول سے خارج نہیں ہے جیسا کہ اس پر علماء کرام نے نص کی ہے اور ا اس چیز کو ہمارے امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے شاگردوں نے غلیظ حلفوں اور شدید قسموں کے ذریعہ بیان کیا ہے خصوصا جبکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے قول کے ذیل میں فتوی کے پر تاکید الفاظ کو ذکر کیا گیا ہو۔ (ت)
مگر قول امام محمد یہ نہیں کہ شوہر کو جنون ہوجائے تو عورت بطور خود اس سے فرقت کرکے دوسرے سے نکاح کرلے یہ کسی کے نزدیك جائز نہیں
لان فیہ خلافا عظیما شدیدا قویا بل اجل واقوی فلایترجح ھذا الجانب الا بالقضاء کمافی العنۃ بل
کیونکہ اس میں عظیم قوی اور شدید بلکہ بہت بڑاقوی خلاف ہے اس لئے اس پہلو کو قاضی کے فیصلہ کے بغیر ترجیح نہیں ہوسکتی جیسا کہ مسئلہ
وان قول الحاوی لخلافہ بہ ناخذ قدخالف فیہ المذہب وجمہورائمۃ المذہب والدلیل ایضافان الدلیل مع الامام فلایلتفت الی خلافہ۔
حاوی کا امام صاحب کے قول کے خلاف پر بہ ناخذ(ہماری یہی مختار ہے)کہنا یہ مذہب اور جمہور ائمہ مذہب کے خلاف ہے جبکہ دلیل بھی امام صاحب رحمہ اﷲتعالی کی ہی قوی ہے اس لئے اس اس کے خلاف کی طرف التفات کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
بانیہمہ اگر جنون حادث ہے پیش از نکاح شوہر مجنون نہ تھا بعد کو پیدا ہوا اور حالت ضرورت بلامکر وفریب وپیروی نفس سچی سچی واقعی متحقق ہے تو قول امام محمد پر عمل ممکن۔
فقد اجاز والتحقق الضرورۃ الصحیحۃ تقلید الغیر بشرائط فھذا اولی بالجواز اذلیس بحمد اﷲفی المذہب قول خارج عن اقوال الامام کما نص علیہ العلماء الکرام وذکرہ اصحاب امامنا رضی اﷲتعالی عنہ وعنھم بغلاظ الایمان وشد ادالاقسام لاسیما وقد ذیل لما ھو اکدالفاظ الافتاء۔
فقہاء کرام نے صحیح ضرورت کی بناء پر دیگر ائمہ کی تقلید کو جائز قرار دیا ہے تو یہاں امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے قول کی بطریق اولی اتباع جائز ہوگی کیونکہ بحمدہ تعالی مذہب کا کوئی قول امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے قول سے خارج نہیں ہے جیسا کہ اس پر علماء کرام نے نص کی ہے اور ا اس چیز کو ہمارے امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے شاگردوں نے غلیظ حلفوں اور شدید قسموں کے ذریعہ بیان کیا ہے خصوصا جبکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے قول کے ذیل میں فتوی کے پر تاکید الفاظ کو ذکر کیا گیا ہو۔ (ت)
مگر قول امام محمد یہ نہیں کہ شوہر کو جنون ہوجائے تو عورت بطور خود اس سے فرقت کرکے دوسرے سے نکاح کرلے یہ کسی کے نزدیك جائز نہیں
لان فیہ خلافا عظیما شدیدا قویا بل اجل واقوی فلایترجح ھذا الجانب الا بالقضاء کمافی العنۃ بل
کیونکہ اس میں عظیم قوی اور شدید بلکہ بہت بڑاقوی خلاف ہے اس لئے اس پہلو کو قاضی کے فیصلہ کے بغیر ترجیح نہیں ہوسکتی جیسا کہ مسئلہ
اولی کما لایخفی۔
عنین(نامرد)بلکہ اس سے بھی اولی تر جیسا کہ مخفی نہیں ۔ (ت)
بلکہ حکم یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور دعوی کرے وہ ثبوت جنون لےکر روزنالش ایك سال کامل کی مہلت دے اگر اس مدت میں شوہر اچھا ہوگیا فبہا اورا اگر اچھا نہ ہوا اور عورت نے بعد انقضائے سال پھر دعوی نہ کیا تو وہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور اگر پھر رجوع لائی اور حاکم کو ثابت ہوا کہ شوہر ہنوز مجنون ہے تو اب وہ عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو اور اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلا اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی اور اگر مجلس بدلنے سے پہلے عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب حاکم تفریق کردے گا اس روز سے عورت طلاق کی عدت بیٹھے بعدہ جس سے چاہے نکاح کرے یہ اس صورت میں ہے کوجنون ثابت ہوا س کا مطبق ہونا ثابت نہ ہوا اور اگر حاکم کو ثابت ہوجائے کہ واقعی مدتہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتاجنون اس کا مطبق یعنی ملازم وممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو(عــــہ بیان ہوئے)ہندیہ میں ہے :
اذاکان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لھا کذا فی الکافی قال محمدرحمۃ اﷲ تعالی علیہ ان کان الجنون حادثا یؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ وان کان مطبقا فھو کالجب وبہ ناخذ کذافی الحاوی القدسی ۔
جب خاوند میں جنون برص یا جذام جیسی امراض کا عیب ہوتو بھی بیوی کو فسخ کااختیار نہیں ہے جیسا کہ کافی میں ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : اگر خاوند کو نکاح کے بعد جنون لاحق ہوا تو نامرد کی طرح اس کو بھی قاضی ایك سال کی مہلت دے گا پھر سال کے بعدتندرست نہ ہونے پر عورت کو نکاح کے فسخ کا اختیار دیا جائے گا اور اگر جنون شروع سے چلا آرہا ہوتو اس کا حکم ذکر کٹے کی طرح ہوگا اور اسی پر ہمارا عمل ہے جیسا کہ حاوی قدسی میں بیان کیا ہے۔ (ت)
عــــہ : یہاں اصل میں بیاض ہے۔
عنین(نامرد)بلکہ اس سے بھی اولی تر جیسا کہ مخفی نہیں ۔ (ت)
بلکہ حکم یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور دعوی کرے وہ ثبوت جنون لےکر روزنالش ایك سال کامل کی مہلت دے اگر اس مدت میں شوہر اچھا ہوگیا فبہا اورا اگر اچھا نہ ہوا اور عورت نے بعد انقضائے سال پھر دعوی نہ کیا تو وہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور اگر پھر رجوع لائی اور حاکم کو ثابت ہوا کہ شوہر ہنوز مجنون ہے تو اب وہ عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو اور اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلا اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی اور اگر مجلس بدلنے سے پہلے عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب حاکم تفریق کردے گا اس روز سے عورت طلاق کی عدت بیٹھے بعدہ جس سے چاہے نکاح کرے یہ اس صورت میں ہے کوجنون ثابت ہوا س کا مطبق ہونا ثابت نہ ہوا اور اگر حاکم کو ثابت ہوجائے کہ واقعی مدتہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتاجنون اس کا مطبق یعنی ملازم وممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو(عــــہ بیان ہوئے)ہندیہ میں ہے :
اذاکان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لھا کذا فی الکافی قال محمدرحمۃ اﷲ تعالی علیہ ان کان الجنون حادثا یؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ وان کان مطبقا فھو کالجب وبہ ناخذ کذافی الحاوی القدسی ۔
جب خاوند میں جنون برص یا جذام جیسی امراض کا عیب ہوتو بھی بیوی کو فسخ کااختیار نہیں ہے جیسا کہ کافی میں ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : اگر خاوند کو نکاح کے بعد جنون لاحق ہوا تو نامرد کی طرح اس کو بھی قاضی ایك سال کی مہلت دے گا پھر سال کے بعدتندرست نہ ہونے پر عورت کو نکاح کے فسخ کا اختیار دیا جائے گا اور اگر جنون شروع سے چلا آرہا ہوتو اس کا حکم ذکر کٹے کی طرح ہوگا اور اسی پر ہمارا عمل ہے جیسا کہ حاوی قدسی میں بیان کیا ہے۔ (ت)
عــــہ : یہاں اصل میں بیاض ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۶
بہر حال یہ تفریق بے حکم شرع نہیں جہاں قاضی شرع نہ ہو وہاں جو عالم دین سچا تمام اہل شہر میں فقہ کا اعلم ہوایسے امورمیں حاکم شرعی ہے :
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالی علیہ۔
جیسا کہ اس پر فتاوی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے(ت)
مگر یہ لحاظ لازم ہے کہ ایسا فیصلہ اس کے لئے کسی قانونی دقت کا موجب نہ ہو ورنہ عالم اس سے ضرور احتراز کرے اور یہ لوگ رامپور وغیرہ ریاست اسلامیہ میں چارہ جوئی کریں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۶۲ : از بہیٹری ۳ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کانکاح اس کے باپ نے زید کے ساتھ کیا اب کئی سال گزرے رخصت بھی ہوگئی مگر زید نامرد نکلا ہندہ اس کے پاس بدقت تمام کچھ دنوں تك رہی ہر چند زید سے کہا جاتا ہے طلاق بھی نہیں دیتا اس وقت میں ہندہ کے واسطے چارہ کار کیا ہےبینواتوجروا
الجواب :
جبکہ زید نے ہندہ پرقدرت نہ پائی اور اس کے ادائے حق واجب میں قاصر رہا تو اس پر شرعا فرض ہے کہ ہندہ کو طلاق دے دے اگر نہ دے گا گنہگار رہے گا۔
قال اﷲ تعالی فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك طلاق یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی کوبھلائی کے ساتھ پاس روك لویا نیکی کے ساتھ اس کو آزادی دے دی۔ (ت)
اگر زید خدا ناترسی کرکے طلاق نہیں دیتا تواس کی تدبیر شرع مطہر میں یہ ہے کہ ہندہ حاکم شرع کے حضور دعوی کرے حاکم زید سے جواب لے اگر وہ ہندہ پر اپنے قادر نہ ہونے کا قرار کرلے فبہا ورنہ حاکم کسی عورت مسلمان نیك پارساثقہ معتمدہ ہوشیار کو دکھا کر شہادت لے کہ ہندہ دوشیزہ ہے بعدہ زیدکو ایك سال کامل کی مہلت دے اس سال میں زید ہندہ پر قاسر ہوجائے تو بہتر ورنہ عورت پھر دعوی کرے اور تفریق چاہے اب پھر اگر زید خواہ شھادت یك عورت مسلمہ ثقہ سے ہندہ کی دوشیزگی ثابت ہوتو حاکم عورت سے دریافت کرے کہ اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے یا شوہر کو اگر عورت شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کے اختیار میں تاخیر کرے کہ مجلس بدل جائے تو اب اس کا دعوی بالکل ساقط ہوجائے گا لہذا اسی جلسہ میں
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالی علیہ۔
جیسا کہ اس پر فتاوی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے(ت)
مگر یہ لحاظ لازم ہے کہ ایسا فیصلہ اس کے لئے کسی قانونی دقت کا موجب نہ ہو ورنہ عالم اس سے ضرور احتراز کرے اور یہ لوگ رامپور وغیرہ ریاست اسلامیہ میں چارہ جوئی کریں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۶۲ : از بہیٹری ۳ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کانکاح اس کے باپ نے زید کے ساتھ کیا اب کئی سال گزرے رخصت بھی ہوگئی مگر زید نامرد نکلا ہندہ اس کے پاس بدقت تمام کچھ دنوں تك رہی ہر چند زید سے کہا جاتا ہے طلاق بھی نہیں دیتا اس وقت میں ہندہ کے واسطے چارہ کار کیا ہےبینواتوجروا
الجواب :
جبکہ زید نے ہندہ پرقدرت نہ پائی اور اس کے ادائے حق واجب میں قاصر رہا تو اس پر شرعا فرض ہے کہ ہندہ کو طلاق دے دے اگر نہ دے گا گنہگار رہے گا۔
قال اﷲ تعالی فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك طلاق یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی کوبھلائی کے ساتھ پاس روك لویا نیکی کے ساتھ اس کو آزادی دے دی۔ (ت)
اگر زید خدا ناترسی کرکے طلاق نہیں دیتا تواس کی تدبیر شرع مطہر میں یہ ہے کہ ہندہ حاکم شرع کے حضور دعوی کرے حاکم زید سے جواب لے اگر وہ ہندہ پر اپنے قادر نہ ہونے کا قرار کرلے فبہا ورنہ حاکم کسی عورت مسلمان نیك پارساثقہ معتمدہ ہوشیار کو دکھا کر شہادت لے کہ ہندہ دوشیزہ ہے بعدہ زیدکو ایك سال کامل کی مہلت دے اس سال میں زید ہندہ پر قاسر ہوجائے تو بہتر ورنہ عورت پھر دعوی کرے اور تفریق چاہے اب پھر اگر زید خواہ شھادت یك عورت مسلمہ ثقہ سے ہندہ کی دوشیزگی ثابت ہوتو حاکم عورت سے دریافت کرے کہ اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے یا شوہر کو اگر عورت شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کے اختیار میں تاخیر کرے کہ مجلس بدل جائے تو اب اس کا دعوی بالکل ساقط ہوجائے گا لہذا اسی جلسہ میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
فورا اپنے نفس کو اختیار کرلے اس وقت حاکم زید کوحکم دے وہ اگر مان لے بہتر ورنہ حاکم خود ان میں تفریق کا حکم کردے یہ تفریق طلاق بائن ہوجائے گی بعد مرورعدت ہندہ کو اختیار ملے گا جس سے چاہے نکاح کرلے
فی الدرالمختار لووجد تہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ فان وطئ مرۃ فبہا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا ھ ملخصا۔
درمختارمیں ہے اگر بیوی خاوند کو نامرد پائے تو قمری مہینوں کے حساب سے سال بھر کی خاوند کو مہلت دی جائے گی اگر اس دوران میں ایك مرتبہ وطی کرلے تو بہتر ورنہ عورت کے مطالبہ پر قاضی کی تفریق سے بیوی کو بائنہ طلاق ہوگی اگر خاوند طلاق دینے سے انکار کرے اھ ملخصا۔ (ت)
یہ ساری کارروائی قاضی شرع کے حضور جسے حاکم اسلام نے فصل مقدمات پر مقررکیا ہو فی الدرلاعبرۃ بتاجیل غیر قاضی البلدۃ (درمختار میں ہے کہ شہر کے قاضی کے علاوہ کسی اور کی مہلت کا اعتبار نہیں ہے۔ ت) اگر ان کے شہر میں کوئی ایسا قاضی نہ ہو تو زید وہندہ کسی ذی علم کو پنچ مقرر کریں اس کے یہاں یہ کاروائیاں ہوں
فی الخیریۃ یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس بحدولاقود ولادیۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقوابطلب الزوجۃ ۔
فتاوی خیریہ میں ہے نامرد کے مسئلہ میں ثانی فیصلہ جائز ہے کیونکہ یہ حد قصاص یا عاقلہ پردیت کا مسئلہ نہیں ہے توثالث حضرات کو بیوی کے مطالبہ پر تفریق کرنا جائز ہے۔ (ت)
اگر زید کسی کو پنچ بنانے پر راضی نہ ہو تو ہندہ رامپور وغیرہ بلاد اسلامیہ میں جاکر قاضی شرع کے یہاں دعوی کرے جس کی قضاء کو والی اسلام نے اس کے خاص اس شہر والوں سے مخصوص نہ کردیا ہو
فان القضاء یقبل التخصیص بالزمان والمکان کمافی الاشباہ وغیرہا۔
کیونکہ قضاء زمانہ اور مکان کے لئے مخصوص ہوسکتی ہے جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
وہ احکام مذکورہ پر عملدرآمد کرے۔
فی بحرالرائق وردالمحتار وغیرہما من
بحرالرائق ردالمحتار وغیرہما کتب میں ہے کہ
فی الدرالمختار لووجد تہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ فان وطئ مرۃ فبہا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا ھ ملخصا۔
درمختارمیں ہے اگر بیوی خاوند کو نامرد پائے تو قمری مہینوں کے حساب سے سال بھر کی خاوند کو مہلت دی جائے گی اگر اس دوران میں ایك مرتبہ وطی کرلے تو بہتر ورنہ عورت کے مطالبہ پر قاضی کی تفریق سے بیوی کو بائنہ طلاق ہوگی اگر خاوند طلاق دینے سے انکار کرے اھ ملخصا۔ (ت)
یہ ساری کارروائی قاضی شرع کے حضور جسے حاکم اسلام نے فصل مقدمات پر مقررکیا ہو فی الدرلاعبرۃ بتاجیل غیر قاضی البلدۃ (درمختار میں ہے کہ شہر کے قاضی کے علاوہ کسی اور کی مہلت کا اعتبار نہیں ہے۔ ت) اگر ان کے شہر میں کوئی ایسا قاضی نہ ہو تو زید وہندہ کسی ذی علم کو پنچ مقرر کریں اس کے یہاں یہ کاروائیاں ہوں
فی الخیریۃ یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس بحدولاقود ولادیۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقوابطلب الزوجۃ ۔
فتاوی خیریہ میں ہے نامرد کے مسئلہ میں ثانی فیصلہ جائز ہے کیونکہ یہ حد قصاص یا عاقلہ پردیت کا مسئلہ نہیں ہے توثالث حضرات کو بیوی کے مطالبہ پر تفریق کرنا جائز ہے۔ (ت)
اگر زید کسی کو پنچ بنانے پر راضی نہ ہو تو ہندہ رامپور وغیرہ بلاد اسلامیہ میں جاکر قاضی شرع کے یہاں دعوی کرے جس کی قضاء کو والی اسلام نے اس کے خاص اس شہر والوں سے مخصوص نہ کردیا ہو
فان القضاء یقبل التخصیص بالزمان والمکان کمافی الاشباہ وغیرہا۔
کیونکہ قضاء زمانہ اور مکان کے لئے مخصوص ہوسکتی ہے جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
وہ احکام مذکورہ پر عملدرآمد کرے۔
فی بحرالرائق وردالمحتار وغیرہما من
بحرالرائق ردالمحتار وغیرہما کتب میں ہے کہ
حوالہ / References
درمختار باب العنین مطبع مجتبادئی دہلی ۱ / ۲۵۴
درمختار باب العنین مطبع مجتبادئی دہلی ۱ / ۲۵۴
فتاوٰی خیریہ باب التحکم دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۶
درمختار باب العنین مطبع مجتبادئی دہلی ۱ / ۲۵۴
فتاوٰی خیریہ باب التحکم دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۶
الاسفار ولایشترط ان یکون المتداعیان عن بلدالقاضی ۔ واﷲتعالی اعلم
دعوی کرنے والوں کےلئے ضروری نہیں کہ وہ قاضی کے شہر کے ہوں الخ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۳ : ازبریلی محلہ باغ احمد علی خاں متصل بانس منڈی مسئولہ اسحق احمد صاحب ۲۵شوال۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نصیبن کا نکاح زید کے ساتھ ہوا زید نامرد ہے اور نصیبن خانہ زوج میں بخوشی اپنی موجود تھی مگر والدین نصیبن مذکور چاہتے ہیں کہ مسماۃ مذکور اس سے علیحدہ کرلی جائے زید سے طلاق لینا واجب ہے یانہیں نصیبن کے نکاح کو عرصہ ڈھائی برس کا ہوا شروع نکاح میں صرف تین مرتبہ ہمبستری کا اتفاق ہواازاں بعد نامردہوگیا اب نصیبن مذکور ناخوش ہے بنائے ناخوشی یہ ہے کہ زید کے باپ نے ایك مکان وقت نکاح اس کے نام کردیا تھا اب جبرا واپس لے لیا اور رجسٹری کرالی۔
الجواب :
طلاق لینا واجب نہیں نہ اب بربنائے نامردی دعوی ہوسکتا ہے کہ ایك بار چھوڑ تین بار ہمبستری کرچکا ہے ہاں اگر زید جانتا ہے کہ وہ اس کے ادائے حق سے قاصر ہے تو عنداﷲ اس پر لازم ہے کہ اسے طلاق دے دے جبکہ وہ اپنا حق جماع چھوڑنے پر راضی نہ ہو
قال تعالی فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك طلاق یا دو طلاق کے بعد بیوی کو بھلائی کے ساتھ روك رکھو یا اسے نیکی کے ساتھ آزاد کردو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۶۴ : ازبریلی محلہ ملوکپور مسئولہ امانت علی صاحب ۳۰جمادی الاولی۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے دو۲ جگہ اپنے نکاح کا پیام بھیجا لڑکی والوں کو تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص نامرد ہے تیسری جگہ دھوکہ دے کر ایك لڑکی سے عقد کرلیا اور نامرد ثابت ہوا پس ایسی حالت میں نکاح جائز ہوا یا نہیں
الجواب :
ہاں نکاح ہوگیا عورت دعوی کرے گی کہ تو بعد ثبوت نامردی مرد کو سال بھر کامل کی مہلت دی جائیگی
دعوی کرنے والوں کےلئے ضروری نہیں کہ وہ قاضی کے شہر کے ہوں الخ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۳ : ازبریلی محلہ باغ احمد علی خاں متصل بانس منڈی مسئولہ اسحق احمد صاحب ۲۵شوال۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نصیبن کا نکاح زید کے ساتھ ہوا زید نامرد ہے اور نصیبن خانہ زوج میں بخوشی اپنی موجود تھی مگر والدین نصیبن مذکور چاہتے ہیں کہ مسماۃ مذکور اس سے علیحدہ کرلی جائے زید سے طلاق لینا واجب ہے یانہیں نصیبن کے نکاح کو عرصہ ڈھائی برس کا ہوا شروع نکاح میں صرف تین مرتبہ ہمبستری کا اتفاق ہواازاں بعد نامردہوگیا اب نصیبن مذکور ناخوش ہے بنائے ناخوشی یہ ہے کہ زید کے باپ نے ایك مکان وقت نکاح اس کے نام کردیا تھا اب جبرا واپس لے لیا اور رجسٹری کرالی۔
الجواب :
طلاق لینا واجب نہیں نہ اب بربنائے نامردی دعوی ہوسکتا ہے کہ ایك بار چھوڑ تین بار ہمبستری کرچکا ہے ہاں اگر زید جانتا ہے کہ وہ اس کے ادائے حق سے قاصر ہے تو عنداﷲ اس پر لازم ہے کہ اسے طلاق دے دے جبکہ وہ اپنا حق جماع چھوڑنے پر راضی نہ ہو
قال تعالی فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : ایك طلاق یا دو طلاق کے بعد بیوی کو بھلائی کے ساتھ روك رکھو یا اسے نیکی کے ساتھ آزاد کردو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۶۴ : ازبریلی محلہ ملوکپور مسئولہ امانت علی صاحب ۳۰جمادی الاولی۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے دو۲ جگہ اپنے نکاح کا پیام بھیجا لڑکی والوں کو تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص نامرد ہے تیسری جگہ دھوکہ دے کر ایك لڑکی سے عقد کرلیا اور نامرد ثابت ہوا پس ایسی حالت میں نکاح جائز ہوا یا نہیں
الجواب :
ہاں نکاح ہوگیا عورت دعوی کرے گی کہ تو بعد ثبوت نامردی مرد کو سال بھر کامل کی مہلت دی جائیگی
اگر اس مدت میں اس عورت پر قادر ہوگیا فبہا ورنہ پھرعورت کے دعوی کرے اور اب بھی نامردی ثابت ہوجانے پرحاکم عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کے پاس رہنا مانے یا جدائی اگر وہ فورا کہے گی کہ جدائی چاہتی ہوں تودونوں میں تفریق کردے گا اس وقت عورت بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۵ : از پرتاب گڑھ محلہ سیدامین مسئولہ عبدالرب صاحب ۲۶ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جس عورت کا مرد پانچ سال سے زیادہ تك نامعلوم وبے نشان ہے تو ایسی صورت میں عورت کو اختیار ہے کہ دوسرا شوہر کرلیوے۔ امام مالك شافعی رحمۃ اﷲتعالی بیچ ایك قول کے فرماتے ہیں کہ “ جب گزرجائیں چار برس تو تفریق کرادے درمیان میں ان دونوں کے قاضی بعد اس کے نکاح کریں زوج ثانی سے۔ “ اور غرض مستفسر کی یہ ہے کہ برتقدیر جائز ہونے اس مسئلہ کے فسخ نکاح کی کیوں کر قاضی سے کرادی جائے اس زمانہ پر آشوب میں بباعث حکام غیرمذہب کے احکام قاضی کے بالکل مسدود ہوگئے ہیں پس ایسے وقت میں طریقہ اس کے فسخ کرنے نکاح کے کیونکر عمل میں لائی جائے گی۔ دوسرے۲یہ کہ بعد فسخ کرادینے نکاح قاضی کے آیا اس کے لئے کوئی عدت طلاق یا وفات کی کرنا چاہئے یا کہ بدون عدت کے نکاح ثانی کرلے۔ تیسرے۳یہ کہ اگر کوئی شخص ضرورت کے وقت بعض مسئلوں میں امام شافعی وامام مالك کے قول پر عمل کرے تو اس صورت میں اس شخص کو ہمیشہ کے لئے کل مسئلوں میں اس امام کی تقلید لازم ہوتی ہے یانہیں چوتھے۴یہ کہ حنفیہ بھی اس فتوے کے موافق فتوی دے سکتے ہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہمارے مذہب میں وہ نکاح نہیں کرسکتی جب تك شوہر کی عمر سے ستر۷۰ سال گزر کر اس کی موت کا حکم نہ دیا جائے اس وقت وہ بعد عدت وفات نکاح کرسکے گی یہی مذہب امام احمد کا ہے اور اسی طرف امام شافعی نے رجوع فرمائی امام مالك کہ چار سال مقرر فرماتے ہیں وہ اس کے گم ہونے کی دن سے نہیں بلکہ قاضی کےیہاں مرافعہ کے دن دے سے خود امام مالك نے کتاب مدونہ میں تصریح فرمائی کہ مرافعہ سے پہلے اگرچہ بیس۲۰برس گزر چکے ہوں ان کا اعتبار نہیں ادعائے ضرورت کا علاج تو ان کے یہاں بھی نہ نکلا آج تك تو جتنا زمانہ گزرا بیکار ہے اب قاضی شرع اگر ہو بھی او راسکے یہاں مرافعہ کیا جائے اور وہ شوہر کامفقود الخبر ہونا تصدیق کرے اس کے بعد چار برس کی مہلت دے اور پھر اب تك مفقود رہنا تحقیق کرے اس کے بعدتفریق کرے اور عورت عدت بیٹھے یہ ممتد زمانہ بے شوہر اور بے نان نفقہ کے کیسے گزرے گا مذہب بھی چھوڑا اور کال بھی نہ کٹا لہذا وہ کرے جوامیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ تعالی نے فرمایا :
ھی امرأۃ ابتلیت فلتصبر
یہ ایك عورت ہے جسے اﷲتعالی نے بلا میں مبتلا
مسئلہ۲۶۵ : از پرتاب گڑھ محلہ سیدامین مسئولہ عبدالرب صاحب ۲۶ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جس عورت کا مرد پانچ سال سے زیادہ تك نامعلوم وبے نشان ہے تو ایسی صورت میں عورت کو اختیار ہے کہ دوسرا شوہر کرلیوے۔ امام مالك شافعی رحمۃ اﷲتعالی بیچ ایك قول کے فرماتے ہیں کہ “ جب گزرجائیں چار برس تو تفریق کرادے درمیان میں ان دونوں کے قاضی بعد اس کے نکاح کریں زوج ثانی سے۔ “ اور غرض مستفسر کی یہ ہے کہ برتقدیر جائز ہونے اس مسئلہ کے فسخ نکاح کی کیوں کر قاضی سے کرادی جائے اس زمانہ پر آشوب میں بباعث حکام غیرمذہب کے احکام قاضی کے بالکل مسدود ہوگئے ہیں پس ایسے وقت میں طریقہ اس کے فسخ کرنے نکاح کے کیونکر عمل میں لائی جائے گی۔ دوسرے۲یہ کہ بعد فسخ کرادینے نکاح قاضی کے آیا اس کے لئے کوئی عدت طلاق یا وفات کی کرنا چاہئے یا کہ بدون عدت کے نکاح ثانی کرلے۔ تیسرے۳یہ کہ اگر کوئی شخص ضرورت کے وقت بعض مسئلوں میں امام شافعی وامام مالك کے قول پر عمل کرے تو اس صورت میں اس شخص کو ہمیشہ کے لئے کل مسئلوں میں اس امام کی تقلید لازم ہوتی ہے یانہیں چوتھے۴یہ کہ حنفیہ بھی اس فتوے کے موافق فتوی دے سکتے ہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہمارے مذہب میں وہ نکاح نہیں کرسکتی جب تك شوہر کی عمر سے ستر۷۰ سال گزر کر اس کی موت کا حکم نہ دیا جائے اس وقت وہ بعد عدت وفات نکاح کرسکے گی یہی مذہب امام احمد کا ہے اور اسی طرف امام شافعی نے رجوع فرمائی امام مالك کہ چار سال مقرر فرماتے ہیں وہ اس کے گم ہونے کی دن سے نہیں بلکہ قاضی کےیہاں مرافعہ کے دن دے سے خود امام مالك نے کتاب مدونہ میں تصریح فرمائی کہ مرافعہ سے پہلے اگرچہ بیس۲۰برس گزر چکے ہوں ان کا اعتبار نہیں ادعائے ضرورت کا علاج تو ان کے یہاں بھی نہ نکلا آج تك تو جتنا زمانہ گزرا بیکار ہے اب قاضی شرع اگر ہو بھی او راسکے یہاں مرافعہ کیا جائے اور وہ شوہر کامفقود الخبر ہونا تصدیق کرے اس کے بعد چار برس کی مہلت دے اور پھر اب تك مفقود رہنا تحقیق کرے اس کے بعدتفریق کرے اور عورت عدت بیٹھے یہ ممتد زمانہ بے شوہر اور بے نان نفقہ کے کیسے گزرے گا مذہب بھی چھوڑا اور کال بھی نہ کٹا لہذا وہ کرے جوامیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ تعالی نے فرمایا :
ھی امرأۃ ابتلیت فلتصبر
یہ ایك عورت ہے جسے اﷲتعالی نے بلا میں مبتلا
حتی یأیتھا موت اوطلاق ۔
فرمایا ہے اس پر لازم ہے کہ صبر کرے یہاں تك کہ شوہر کی موت یاطلاق ظاہرہو۔
ضرورت صادقہ کے وقت جو کسی مسئلہ میں ائمہ ثلثہ سے کسی امام کی تقلید کی جاتی ہے صرف اس مسئلہ میں اس کے مذہب کی رعایت امور واجبہ میں ضرور ہوگی دیگر مسائل میں اپنے امام ہی کی تقلید کی جائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے خاوند نے اپنی زوجہ کے قتل کی نیت سے چاقومارے اور اپنی دانست میں اس کا کام تمام کردیا تھا مگر قضائے الہی سے وہ زندہ بچ گئی شوہر بعد میں سزائے جرم میں دس برس کے لئے دریائے شور بھیجا گیا شوہر نے لفظ طلاق کا کچھ نہیں کہا تھا اب زوجہ محتاج ہے اور کسب پر قادر نہیں دوسرے شخص سے وہ نکاح کرسکتی ہے یانہیں وقت مقدمہ جب انگریز نے شوہر کو دریائے شور بھیجا تھااور شوہر نے یہ بیان کیا تھا میں نے تو اس کو بالکل مارڈالا تھا وارثان زوجہ نے حاکم سے یہ کہا کہ اس شخص سے زوجہ کو طلاق بھی دلوادو تو حاکم نے یہ کہا کہ تم اپنے علماء سے دریافت کرو باقی مجرم نے تو اپنی زوجہ کو اپنے ذہن میں قتل ہی کر ڈالاتھا طلاق کے استفسار وطلب کی حاجت کیا ہے اور واقعی شوہر نے زوجہ کو اس طور مارا تھا کہ اس کا بچ جانا تعجبات سے ہے یعنی زوجہ کی آنتیں وغیرہ سب نکل کر باہر آگئی تھیں فی الجملہ صورت مستفسرہ میں ہندہ زوج کے نکاح میں ہے یا نہیں اور دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اور جس عورت کا شوہر دائم الحبس ہوگیا وہ نکاح دوسرے سے کرسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی ہمارے نزدیک غیبت خواہ عسرت کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعث تفریق نہیں بلکہ شافعیہ وغیرہم کے نزدیك بھی جواز تفریق کے یہ معنی کہ عورت قاضی شرع کے حضور دعوی پیش کرے اور قاضی گواہ شرعی لے کر تفریق کردے نہ یہ کہ عورت بطور خود جس سے چاہے نکاح کرلے یہ ہرگز ائمہ اربعہ میں
فرمایا ہے اس پر لازم ہے کہ صبر کرے یہاں تك کہ شوہر کی موت یاطلاق ظاہرہو۔
ضرورت صادقہ کے وقت جو کسی مسئلہ میں ائمہ ثلثہ سے کسی امام کی تقلید کی جاتی ہے صرف اس مسئلہ میں اس کے مذہب کی رعایت امور واجبہ میں ضرور ہوگی دیگر مسائل میں اپنے امام ہی کی تقلید کی جائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے خاوند نے اپنی زوجہ کے قتل کی نیت سے چاقومارے اور اپنی دانست میں اس کا کام تمام کردیا تھا مگر قضائے الہی سے وہ زندہ بچ گئی شوہر بعد میں سزائے جرم میں دس برس کے لئے دریائے شور بھیجا گیا شوہر نے لفظ طلاق کا کچھ نہیں کہا تھا اب زوجہ محتاج ہے اور کسب پر قادر نہیں دوسرے شخص سے وہ نکاح کرسکتی ہے یانہیں وقت مقدمہ جب انگریز نے شوہر کو دریائے شور بھیجا تھااور شوہر نے یہ بیان کیا تھا میں نے تو اس کو بالکل مارڈالا تھا وارثان زوجہ نے حاکم سے یہ کہا کہ اس شخص سے زوجہ کو طلاق بھی دلوادو تو حاکم نے یہ کہا کہ تم اپنے علماء سے دریافت کرو باقی مجرم نے تو اپنی زوجہ کو اپنے ذہن میں قتل ہی کر ڈالاتھا طلاق کے استفسار وطلب کی حاجت کیا ہے اور واقعی شوہر نے زوجہ کو اس طور مارا تھا کہ اس کا بچ جانا تعجبات سے ہے یعنی زوجہ کی آنتیں وغیرہ سب نکل کر باہر آگئی تھیں فی الجملہ صورت مستفسرہ میں ہندہ زوج کے نکاح میں ہے یا نہیں اور دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اور جس عورت کا شوہر دائم الحبس ہوگیا وہ نکاح دوسرے سے کرسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی ہمارے نزدیک غیبت خواہ عسرت کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعث تفریق نہیں بلکہ شافعیہ وغیرہم کے نزدیك بھی جواز تفریق کے یہ معنی کہ عورت قاضی شرع کے حضور دعوی پیش کرے اور قاضی گواہ شرعی لے کر تفریق کردے نہ یہ کہ عورت بطور خود جس سے چاہے نکاح کرلے یہ ہرگز ائمہ اربعہ میں
حوالہ / References
مصنّفِ عبدالرزاق باب التی تعلم مہلك زوجہا المکتبۃ الاسلامی بیروت ۷ / ۹۱۔ ۹۰حدیث نمبر۱۲۳۳۰ ، ۱۲۳۳۲ ، ۱۲۳۳۴
سے کسی کامذہب نہیں اسی طرح شوہر کا بقصد قتل زوجہ پر حربہ کرنا اور اپنے گمان میں اس کاکام تمام کردینا کسی کے نزدیك موجب افتراق نہیں کوئی جاہل ساجاہل بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی زوجہ منکوحہ جس کی عمرتخمینا صہ صہ سال کی تھی فوت ہوگئی وہ بوجہ ناقابل ہونے زوجیت کے مباشرت شوہری سے مجبور ہے اندام نہانی قابل ادخال نہ تھا قدرۃ اس میں قابلیت مباشرت نہ تھی زن وشوہر میں کبھی مجامعت نہ ہوئی نہ کوئی اولاد پیدا ہوئی بس اس زوجہ کے شوہرپر کیا کیا حقوق عائدہوسکتے ہیں اور شوہر متروکہ منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ میں حقوق شرعی رکھتا ہے یادونوں ایك دوسرے کی مالیت میں کچھ حق نہیں رکھتے یا فلاں اس قدر کہتا ہے اور فلاں اس قدر یا فلاں بالکل حق نہیں رکھتا اور فلاں رکھتا ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں زن و شوہر کے باہمی حقوق ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے زن قابل جماع کے ساتھ صرف فرق اتنا ہے کہ اگر فرج داخل میں بقدرحشفہ ادخال ناممکن تھا اور ایسی حالت میں شوہر طلاق دیتا تو نصف مہر لازم آتا اگرچہ خلوت کرچکا ہوتا کہ وہ خلوت بوجہ مانع خلوت صحیح نہ تھی اور عدت جب بھی لازم آتی اور عورت کا نفقہ بھی شوہر پر لازم آتا اب کہ عورت کا انتقال ہوگیا اس کاکل مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگیا اور عورت کا نصف ترکہ شوہر کو وراثۃ پہنچے گا کہ ایسی عورت کے ساتھ نکاح شرعا صحیح بلکہ لازم ہوتا ہے کہ شوہر دعوی فسخ نہیں کرسکتا درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون وجذام ورتق وقرن۔
فحش عیب ہوتو بھی خاوند بیوی میں سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناء پر فسخ نکاح کا اختیار نہیں مثلا جنون جذام بیوی کی شرمگاہ میں تنگی یا ہڈی ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
الخلوۃ بلامانع کرتق وقرن وعقل کالوطء فی تاکد المھر وتجب العدۃ فی الکل ولو فاسدۃو
خلوت جس میں مانع جماع نہ پایا جائے مثلا عورت کی شرمگاہ میں تنگی یا ہڈی وغیرہ ہوتو ایسی خلوت وطی کے حکم میں ہوگی جس سے مہر لازم ہوجائے گا
مسئلہ۲۶۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی زوجہ منکوحہ جس کی عمرتخمینا صہ صہ سال کی تھی فوت ہوگئی وہ بوجہ ناقابل ہونے زوجیت کے مباشرت شوہری سے مجبور ہے اندام نہانی قابل ادخال نہ تھا قدرۃ اس میں قابلیت مباشرت نہ تھی زن وشوہر میں کبھی مجامعت نہ ہوئی نہ کوئی اولاد پیدا ہوئی بس اس زوجہ کے شوہرپر کیا کیا حقوق عائدہوسکتے ہیں اور شوہر متروکہ منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ میں حقوق شرعی رکھتا ہے یادونوں ایك دوسرے کی مالیت میں کچھ حق نہیں رکھتے یا فلاں اس قدر کہتا ہے اور فلاں اس قدر یا فلاں بالکل حق نہیں رکھتا اور فلاں رکھتا ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں زن و شوہر کے باہمی حقوق ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے زن قابل جماع کے ساتھ صرف فرق اتنا ہے کہ اگر فرج داخل میں بقدرحشفہ ادخال ناممکن تھا اور ایسی حالت میں شوہر طلاق دیتا تو نصف مہر لازم آتا اگرچہ خلوت کرچکا ہوتا کہ وہ خلوت بوجہ مانع خلوت صحیح نہ تھی اور عدت جب بھی لازم آتی اور عورت کا نفقہ بھی شوہر پر لازم آتا اب کہ عورت کا انتقال ہوگیا اس کاکل مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگیا اور عورت کا نصف ترکہ شوہر کو وراثۃ پہنچے گا کہ ایسی عورت کے ساتھ نکاح شرعا صحیح بلکہ لازم ہوتا ہے کہ شوہر دعوی فسخ نہیں کرسکتا درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون وجذام ورتق وقرن۔
فحش عیب ہوتو بھی خاوند بیوی میں سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناء پر فسخ نکاح کا اختیار نہیں مثلا جنون جذام بیوی کی شرمگاہ میں تنگی یا ہڈی ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
الخلوۃ بلامانع کرتق وقرن وعقل کالوطء فی تاکد المھر وتجب العدۃ فی الکل ولو فاسدۃو
خلوت جس میں مانع جماع نہ پایا جائے مثلا عورت کی شرمگاہ میں تنگی یا ہڈی وغیرہ ہوتو ایسی خلوت وطی کے حکم میں ہوگی جس سے مہر لازم ہوجائے گا
حوالہ / References
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
الموت ایضا کالوطی فی حق العدۃ والمھر اھ ملتقطا۔
عدت واجب ہوگی اگرچہ نکاح فاسد ہو اور موت بھی وطی کی طرح ہے اس سے بھی مہر اور عدت لازم ہوگی اھ ملتقطا (ت)
اسی میں ہے :
النفقۃ تجب للزوجۃ بنکاح صحیح ولو رتقاء اوقرناء اوکبیرۃ لاتوطأ (ملخصا)
بیوی کے لئے نفقہ واجب ہے نکاح صحیح ہو خواہ بیوی کی شرمگاہ میں ہڈی یا غدود کی وجہ سے تنگی ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے جماع کے قابل نہ ہو(ملخصا)(ت)
اسی میں ہے :
یستحق الارث بنکاح صحیح لافاسد ولاباطل (ملخصا)۔ واﷲتعالی اعلم۔
صحیح نکاح میں وراثت کا استحقاق ہوتا ہے فاسد یا باطل میں نہیں (ملخصا)واﷲتعالی اعلم(ت)
_________________
عدت واجب ہوگی اگرچہ نکاح فاسد ہو اور موت بھی وطی کی طرح ہے اس سے بھی مہر اور عدت لازم ہوگی اھ ملتقطا (ت)
اسی میں ہے :
النفقۃ تجب للزوجۃ بنکاح صحیح ولو رتقاء اوقرناء اوکبیرۃ لاتوطأ (ملخصا)
بیوی کے لئے نفقہ واجب ہے نکاح صحیح ہو خواہ بیوی کی شرمگاہ میں ہڈی یا غدود کی وجہ سے تنگی ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے جماع کے قابل نہ ہو(ملخصا)(ت)
اسی میں ہے :
یستحق الارث بنکاح صحیح لافاسد ولاباطل (ملخصا)۔ واﷲتعالی اعلم۔
صحیح نکاح میں وراثت کا استحقاق ہوتا ہے فاسد یا باطل میں نہیں (ملخصا)واﷲتعالی اعلم(ت)
_________________
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۷۔ ۲۶۶
درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۵۲
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۷۔ ۲۶۶
درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۵۲
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۲۶۸ : ازبڑودہ ضلع گجرات کلاں ٹھکانہ پائیگاہ قاسم حالہ مرسلہ غلام حسین حالہ ۱۱ جمادی الاخری ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں عالم شریعت محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت کے ساتھ نکاح کیا چند روز بعد اس کے خاوند نے طلاق بائن دی جائز یانہیں عورت فاحشہ ہے خاوند نے طلاق بائن دیاجائز ہے یانہیں طلاق بائن کسے کہتے ہیں طلاق بائن کا کیا طریقہ ہےطلاق بائن کس طور سے دیتے ہیں جس وقت چاہے خاوند اپنی عورت کو طلاق بائن دے سکتا ہے یانہیں مع مہر ونام کتاب عبارت عربی ترجمہ اردو خلاصہ تحریر فرمائیے اس کا اجر آپ کو خداوند کریم عطا کرے گا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
بائن وہ طلاق جس کے سبب عورت فورا نکاح سے نکل جائے اگر بعد نکاح ابھی وطی وجماع کی نوبت نہ پہنچی اگرچہ خلوت ہوچکی ہوتو طلاق دی جائے بائن ہی ہوگی۔
مسئلہ ۲۶۸ : ازبڑودہ ضلع گجرات کلاں ٹھکانہ پائیگاہ قاسم حالہ مرسلہ غلام حسین حالہ ۱۱ جمادی الاخری ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں عالم شریعت محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت کے ساتھ نکاح کیا چند روز بعد اس کے خاوند نے طلاق بائن دی جائز یانہیں عورت فاحشہ ہے خاوند نے طلاق بائن دیاجائز ہے یانہیں طلاق بائن کسے کہتے ہیں طلاق بائن کا کیا طریقہ ہےطلاق بائن کس طور سے دیتے ہیں جس وقت چاہے خاوند اپنی عورت کو طلاق بائن دے سکتا ہے یانہیں مع مہر ونام کتاب عبارت عربی ترجمہ اردو خلاصہ تحریر فرمائیے اس کا اجر آپ کو خداوند کریم عطا کرے گا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
بائن وہ طلاق جس کے سبب عورت فورا نکاح سے نکل جائے اگر بعد نکاح ابھی وطی وجماع کی نوبت نہ پہنچی اگرچہ خلوت ہوچکی ہوتو طلاق دی جائے بائن ہی ہوگی۔
فی التنویروالدروردالمحتار الخلوۃ لاتکون کالوطی فی حق الرجعۃ لارجعۃ لہ بعد الطلاق الصریح بعد الخلوۃ بحرای لوقرع الطلاق بائنا اھ بالالتقاط۔
تنویر در ردالمحتار میں ہے کہ بیوی سے رجوع کے معاملہ میں خلوت وطی کی طرح نہیں یعنی خلوت کے بعد اور جماع سے پہلے طلاق دی ہوتو اس صریح طلاق کے بعد بیوی سے رجوع نہیں ہوسکتا ہے بحر ___کیونکہ صریح طلاق قبل از جماع بائنہ ہوتی ہے اھ ملتقطا(ت)
یونہی جب طلاقیں تین تك پہنچ جائیں خواہ ایك بار میں خواہ دس برس میں تو وہ بھی بائن ہوجاتی ہیں بلکہ وہ بائن کی قسم اکبر ہیں کہ پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ بائن کی تیسری صورت وہ طلاق کہ مال کے بدلے دی جائے مثلا شوہرنے کہا میں بعوض ہزار روپیہ تجھے طلاق دی یا تیرے مہر کے بدلے طلاق دی اورعورت نے قبول کرلیا یا عورت نے کہا میں نے اپنے مہر یا فلاں قرض سے تجھے بری کیا اس شرط پر کہ تو مجھے طلاق دے دے مرد نے دے دی یا مرد نے کہا جتنے حق عورتوں کے شوہروں پر ہوتے ہیں ان سب سے مجھے بری کر اس نے کہا بری کیا اس نے فورا کہا میں نے طلاق دی کہ اس میں اگرچہ صراحۃ ذکر عوض نہ تھا مگر صورت حال دلیل معاوضہ ہے
فی التنویر الواقع بالطلاق علی مال طلاق بائن اھ وفی ردالمحتار ارادبالمال مایشمل الابراء منہ حتی لو قالت ابرأتك عمالی علیك علی طلاقی ففعل برئ و بانت بحر عن البزازیۃ وفی الفتح اخر الباب قال ابرئینی من کل حق یکون للنساء علی الرجال ففعلت فقال فی فورہ طلقتك وھی مدخول بھا یقع بائنا لانہ بعوض ۔
تنویر میں ہے کہ مال کے عوض طلاق بائنہ طلاق ہوگی اھ اور ردالمحتار میں ہے کہ مال سے مراد عام ہے نقد ہو یا خاوند کے ذمہ اگر بیوی کا مال ہو مثلا مہر وغیرہ تو طلاق کے عوض بیوی کا خاوند کو اپنے حق سے بری کرنا حتی کہ اگر بیوی نے کہہ دیا کہ طلاق کے عوض میں تجھے اپنے حق سے بری کرتی ہوں اور اس نے طلاق دے دی تو یہ طلاق بائنہ ہوگی بحر نے اس کوبزازیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور فتح میں اس باب کے آخر میں ہے خاوند نے کہا تو مجھے ہر ایسے حق سے بری کردے جو عورتوں کا مردوں کے ذمہ ہوتا ہے اوربیوی نے ایسے کردیا تو خاوند نے فوری طور پر کہہ دیا میں نے تجھے طلاق دی اگر بیوی مدخولہ ہوتو یہ طلاق بائنہ
تنویر در ردالمحتار میں ہے کہ بیوی سے رجوع کے معاملہ میں خلوت وطی کی طرح نہیں یعنی خلوت کے بعد اور جماع سے پہلے طلاق دی ہوتو اس صریح طلاق کے بعد بیوی سے رجوع نہیں ہوسکتا ہے بحر ___کیونکہ صریح طلاق قبل از جماع بائنہ ہوتی ہے اھ ملتقطا(ت)
یونہی جب طلاقیں تین تك پہنچ جائیں خواہ ایك بار میں خواہ دس برس میں تو وہ بھی بائن ہوجاتی ہیں بلکہ وہ بائن کی قسم اکبر ہیں کہ پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ بائن کی تیسری صورت وہ طلاق کہ مال کے بدلے دی جائے مثلا شوہرنے کہا میں بعوض ہزار روپیہ تجھے طلاق دی یا تیرے مہر کے بدلے طلاق دی اورعورت نے قبول کرلیا یا عورت نے کہا میں نے اپنے مہر یا فلاں قرض سے تجھے بری کیا اس شرط پر کہ تو مجھے طلاق دے دے مرد نے دے دی یا مرد نے کہا جتنے حق عورتوں کے شوہروں پر ہوتے ہیں ان سب سے مجھے بری کر اس نے کہا بری کیا اس نے فورا کہا میں نے طلاق دی کہ اس میں اگرچہ صراحۃ ذکر عوض نہ تھا مگر صورت حال دلیل معاوضہ ہے
فی التنویر الواقع بالطلاق علی مال طلاق بائن اھ وفی ردالمحتار ارادبالمال مایشمل الابراء منہ حتی لو قالت ابرأتك عمالی علیك علی طلاقی ففعل برئ و بانت بحر عن البزازیۃ وفی الفتح اخر الباب قال ابرئینی من کل حق یکون للنساء علی الرجال ففعلت فقال فی فورہ طلقتك وھی مدخول بھا یقع بائنا لانہ بعوض ۔
تنویر میں ہے کہ مال کے عوض طلاق بائنہ طلاق ہوگی اھ اور ردالمحتار میں ہے کہ مال سے مراد عام ہے نقد ہو یا خاوند کے ذمہ اگر بیوی کا مال ہو مثلا مہر وغیرہ تو طلاق کے عوض بیوی کا خاوند کو اپنے حق سے بری کرنا حتی کہ اگر بیوی نے کہہ دیا کہ طلاق کے عوض میں تجھے اپنے حق سے بری کرتی ہوں اور اس نے طلاق دے دی تو یہ طلاق بائنہ ہوگی بحر نے اس کوبزازیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور فتح میں اس باب کے آخر میں ہے خاوند نے کہا تو مجھے ہر ایسے حق سے بری کردے جو عورتوں کا مردوں کے ذمہ ہوتا ہے اوربیوی نے ایسے کردیا تو خاوند نے فوری طور پر کہہ دیا میں نے تجھے طلاق دی اگر بیوی مدخولہ ہوتو یہ طلاق بائنہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۲
درمختار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۵
ردالمحتار باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۶۰
درمختار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۵
ردالمحتار باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۶۰
ہوگی کیونکہ یہ طلاق بالعوض ہے۔ (ت)
چوتھی جو طلاق کسی قسم کی دی گئی اور بغیر رجعت ہوئے عدت گزرگئی وہ طلاق بھی بائن ہوگی۔ ان چاروں صورتوں میں کسی لفظ کی تخصیص نہیں سب الفاظ ایك ہی حکم رکھتے ہیں ۔
پانچواں یہ کہ عورت سے جماع ہولے اس کے بعد طلاق د ے اور گنتی بھی تین تك نہ پہنچے نہ مال کے بدلے طلاق ہونہ عدت گزرے باایں ہمہ طلاق دیتے ہی بائن ہوجائے اس کے لئے الفاظ مقرر ہیں کہ ان لفظوں سے کہا تو بائن ہوگی اور ان سے کہا تو رجعی کہ عدت کے اندر رجعت کا اختیار دیا جائیگا مثلا اگر زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا تو عورت نکاح سے نکلنے نہ پائے گی بدستور زوجہ رہے گی اور حکم طلاق زائل نہ ہوگا۔
بائن کے بعض الفاظ یہ ہیں :
۱جا ۲نکل ۳چل ۴روانہ ہو ۵اٹھ ۶کھڑی ہو ۷پردہ کر ۸دوپٹہ اوڑھ ۹نقاب ڈال ۱۰ہٹ ۱۱سرک ۱۲جگہ چھوڑ ۱۳گھرخالی کر ۱۴دورہو ۱۵چل دور ۱۶اے خالی ۱۷اے بریبفتح با ۱۸اے جدا ۱۹تو مجھ سے جدا ہے ۲۰میں نے تجھ بے قیدکیا ۲۱میں نے تجھ سے مفارقت کی ۲۲تو جدا ہے
فی الدرفنحواخرجی واذھبی وقومی تقنعی تخمری استتری انتقلی انطلقی اغربی اعزبی من الغربۃ اومن العزوبۃ یحتمل ردا ونحو خلیۃ بریۃ حرام بائن ومراد فھا کبتۃ بتلۃ یصلح سبا انت حر ۃ سرحتک فارقتك لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضی تتوقف الاقسام علی نیۃ (ملتقطا)۔
درمیں ہے نکل جا چلی جا کھڑی ہوجا پردہ کر دوپٹہ اوڑھ ہٹ جا جگہ چھوڑ دور ہو خالی ہو۔ اغربی یا اعزبی غربت یا عزوبت سے ہے یہ الفاظ جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں اوراکیلی اے بری یا حرام یا بائنہ یہ الفاظ اور ان کے ہم معنی جیسے تو مجھ سے جدا ہے میں نے تجھے آزادی دی ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں اور تو مجھ سے آزاد ہے میں نے تجھے بے قید کیا میں نے تجھ سے مفارقت کی یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتے یہ تمام اقسام رضا کی حالت میں کہے ہوں تو نیت پر موقوف ہوں گے۔ (ت)
چوتھی جو طلاق کسی قسم کی دی گئی اور بغیر رجعت ہوئے عدت گزرگئی وہ طلاق بھی بائن ہوگی۔ ان چاروں صورتوں میں کسی لفظ کی تخصیص نہیں سب الفاظ ایك ہی حکم رکھتے ہیں ۔
پانچواں یہ کہ عورت سے جماع ہولے اس کے بعد طلاق د ے اور گنتی بھی تین تك نہ پہنچے نہ مال کے بدلے طلاق ہونہ عدت گزرے باایں ہمہ طلاق دیتے ہی بائن ہوجائے اس کے لئے الفاظ مقرر ہیں کہ ان لفظوں سے کہا تو بائن ہوگی اور ان سے کہا تو رجعی کہ عدت کے اندر رجعت کا اختیار دیا جائیگا مثلا اگر زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا تو عورت نکاح سے نکلنے نہ پائے گی بدستور زوجہ رہے گی اور حکم طلاق زائل نہ ہوگا۔
بائن کے بعض الفاظ یہ ہیں :
۱جا ۲نکل ۳چل ۴روانہ ہو ۵اٹھ ۶کھڑی ہو ۷پردہ کر ۸دوپٹہ اوڑھ ۹نقاب ڈال ۱۰ہٹ ۱۱سرک ۱۲جگہ چھوڑ ۱۳گھرخالی کر ۱۴دورہو ۱۵چل دور ۱۶اے خالی ۱۷اے بریبفتح با ۱۸اے جدا ۱۹تو مجھ سے جدا ہے ۲۰میں نے تجھ بے قیدکیا ۲۱میں نے تجھ سے مفارقت کی ۲۲تو جدا ہے
فی الدرفنحواخرجی واذھبی وقومی تقنعی تخمری استتری انتقلی انطلقی اغربی اعزبی من الغربۃ اومن العزوبۃ یحتمل ردا ونحو خلیۃ بریۃ حرام بائن ومراد فھا کبتۃ بتلۃ یصلح سبا انت حر ۃ سرحتک فارقتك لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضی تتوقف الاقسام علی نیۃ (ملتقطا)۔
درمیں ہے نکل جا چلی جا کھڑی ہوجا پردہ کر دوپٹہ اوڑھ ہٹ جا جگہ چھوڑ دور ہو خالی ہو۔ اغربی یا اعزبی غربت یا عزوبت سے ہے یہ الفاظ جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں اوراکیلی اے بری یا حرام یا بائنہ یہ الفاظ اور ان کے ہم معنی جیسے تو مجھ سے جدا ہے میں نے تجھے آزادی دی ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں اور تو مجھ سے آزاد ہے میں نے تجھے بے قید کیا میں نے تجھ سے مفارقت کی یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتے یہ تمام اقسام رضا کی حالت میں کہے ہوں تو نیت پر موقوف ہوں گے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
۲۳رستہ ناپ ۲۴اپنی راہ لےکنایتان عن الذھابیہ دونوں کنایہ ہیں جانے سے۔ (ت)۲۵کالامنہ کر ۲۶چال دکھا ۲۷چلتی بن ۲۸چلتی نظرآ ۲۹دفع ہو ۳۰دال فے عین ہو ۳۱رفوچکرہو ۳۲پنجرا خالی کر ۳۳ہٹ کے سڑ ۳۴اپنی صورت گما ۳۵بستر اٹھا ۳۶اپنا سوجھتا دیکھ ۳۷اپنی گٹھڑی باندھ ۳۸اپنی نجاست الگ پھیلا ۳۹تشریف لے جائیے ۴۰تشریف کا ٹوکرا لے جائیے ۴۱جہاں سینگ سمائے جا ۴۲اپنا مانگ کھا ۴۳بہت ہوچکی اب مہربانی فرمائیے کلہا کنایۃ عن البعد والذھابیہ سب دور ہونے اور جانے سے کنایہ ہیں ۔ (ت)۴۴اے بے علاقہ ہو کقولہ بتۃ بتلۃ “ بے علاقہ ہو “ کہا توبتۃ اور بتلۃ کی طرح ہے۔ (ت)۴۵منہ چھپا ؤ کقولہ تقنعی تخمری استتریپردہ کر اوڑھنی لے نقاب ڈال کی طرح ہیں ۔ (ت)۴۶جہنم میں جا ۴۷چولھے میں جا ۴۸بھاڑمیں جاپڑ
فی فروع الدراذھبی الی جہنم یقع ان نوی خلاصۃ ۔
در کے فروعی مسائل میں ہے : جہنم میں جا کہا اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی خلاصہ۔ ت
۴۹میرے پاس سے چل ۵۰اپنی مراد پر فتح مند ہو ۵۱میں نے نکاح فسخ کیا ۵۲تو مجھ پرمثل مردار یا۵۳سوئریا۵۴شراب کے ہے
فیھا ایضا وکذا اذھبی عنی وافلحی وفسخت النکاح وانت علی کالمیتۃ او کلحم الخنزیر اوحرام کالماء ۔
اسی میں ہے اور یوں ہی اگر کہا میرے پاس سے چلی جا اپنی مراد پر کامیاب ہو میں نے نکاح فسخ کیا تو مجھ پر مردار کی طرح ہے تومجھ پر خنزیر کی طرح یا شراب کی طرح ہے۔)ت(
نہ مثل بھنگ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ فلاں کے
فی ردالمحتار تحت قول الدرانت علی کالمیتۃ والمراد التشبیہ بما ھو محرم العین کالخمروالخنزیر و المیتۃ فالحکم فیہ کالحکم فی انت علی حرام بخلاف مالوقال انت علی کمتاع فلاں فلایقع وان نوی افادہ فی الذخیرۃ ۔
ردالمحتار میں درمختار کے قول “ تو مجھ پر مردار کی طرح ہے “ سے مراد وہ چیز ہے جو قطعی حرام ہے جیسے شراب خنزیر اور مردار۔ ان کا حکم وہی ہے جو “ تو مجھ پر حرام ہے “ کاہے اس کے بخلاف اگر اس نے کہا “ تو مجھ پر فلاں کے مال کی طرح ہے “ اس میں نیت کی ہو تب بھی طلاق نہ ہوگی ذخیرہ میں یہ افادہ کیا۔ (ت)
فی فروع الدراذھبی الی جہنم یقع ان نوی خلاصۃ ۔
در کے فروعی مسائل میں ہے : جہنم میں جا کہا اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی خلاصہ۔ ت
۴۹میرے پاس سے چل ۵۰اپنی مراد پر فتح مند ہو ۵۱میں نے نکاح فسخ کیا ۵۲تو مجھ پرمثل مردار یا۵۳سوئریا۵۴شراب کے ہے
فیھا ایضا وکذا اذھبی عنی وافلحی وفسخت النکاح وانت علی کالمیتۃ او کلحم الخنزیر اوحرام کالماء ۔
اسی میں ہے اور یوں ہی اگر کہا میرے پاس سے چلی جا اپنی مراد پر کامیاب ہو میں نے نکاح فسخ کیا تو مجھ پر مردار کی طرح ہے تومجھ پر خنزیر کی طرح یا شراب کی طرح ہے۔)ت(
نہ مثل بھنگ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ فلاں کے
فی ردالمحتار تحت قول الدرانت علی کالمیتۃ والمراد التشبیہ بما ھو محرم العین کالخمروالخنزیر و المیتۃ فالحکم فیہ کالحکم فی انت علی حرام بخلاف مالوقال انت علی کمتاع فلاں فلایقع وان نوی افادہ فی الذخیرۃ ۔
ردالمحتار میں درمختار کے قول “ تو مجھ پر مردار کی طرح ہے “ سے مراد وہ چیز ہے جو قطعی حرام ہے جیسے شراب خنزیر اور مردار۔ ان کا حکم وہی ہے جو “ تو مجھ پر حرام ہے “ کاہے اس کے بخلاف اگر اس نے کہا “ تو مجھ پر فلاں کے مال کی طرح ہے “ اس میں نیت کی ہو تب بھی طلاق نہ ہوگی ذخیرہ میں یہ افادہ کیا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
۵۵تو مثل میری ماں یا۵۶بہن یا۵۷بیٹی کے ہے اور یوں کہا کہ توماں بہن بیٹی ہے توگناہ کے سوا کچھ نہیں
فی الدروان نوی بانت علی مثل امی اوکامی وکذالو حذف علی خانیہ برااوظہارااو طلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینوشیئا او حذف الکاف لغاوتعین الادنی اے البریعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویا بنتی ویااختی ونحوہ ۔
در میں ہے اگر بیوی کوکہا “ تومجھ پر میری ماں کی طرح “ لفظ مثل یا کاف کو تشبیہ کے لیے ذکر کیا اور یوں ہی اگر لفظ علی(مجھ پر)کو حذف کردیا ہواور خدمت یا ظہار یا طلاق جو بھی نیت کرے گا وہی حکم ہوگا ہر ایك کی نیت صحیح ہوگی کیونکہ یہ لفظ کنایہ ہے اور کچھ بھی نیت نہ تھی یا تشبیہ کے لفظ کو حذف کردیا ہوتو یہ لغو کلام ہوگا اور صرف ادنی معنی یعنی خدمت وکرامت مراد ہوگا اور “ تومیری ماں ہے اور اے میری بیٹی اے میری بہن “ جیسے الفاظ مکروہ ہیں ۔ (ت)
۵۹تیری گلوخلاصی ہوئی ۶۰تو خالص ہوئی فی ردالمحتار انت خالصۃ (ردالمحتار میں ہے : توخالص ہوئی۔ ت)۶۱حلال خدا یا۶۲حلال مسلمانان۶۳یا ہر حلال مجھ پر حرام ۶۴تومیرے ساتھ حرام میں ہے
الکل فی الشامی کما یأتی صریحا وخالف فیھا المتاخرون ائمتنا المتقدمین فقالوالاحاجۃ الی النیۃ لانہ المتعارف قلت وفی بلادنا قدانعدم التعارف فال الامرالی ماکان علیہ قال الشامی ان المتاخرین خالفوا العرف الحادث فیتوقف الان وقوع البائن بہ علی وجود العرف۔
یہ تمام فتاوی شامی میں ہے جیسا کہ آئندہ صراحتا آئے گا ان میں متاخرین فقہاء نے ہمارے متقدمین ائمہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ان الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ طلاق میں عرف بن چکے ہیں قلت(میں کہتا ہوں )ہمارے علاقہ میں یہ عرف نہیں ہے تو یہ الفاظ اپنے اصل پر لوٹ آئیں گے علامہ شامی نے فرمایا : متاخرین نے جدید عرف کی بناپر خلاف کیا تو اس کے ساتھ وقوع بائن وجود عرف پر موقوف ہوگا۔ (ت)
۶۵میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اگر کسی عوض کا ذکر نہ کرے
فی ردالمحتار عن الخانیۃ ولو قال بعت نفسك منك فقالت اشتریت یقع
ردالمحتار میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کوکہا کہ “ میں نے تجھے تیرے پاس فروخت کیا “ تو
فی الدروان نوی بانت علی مثل امی اوکامی وکذالو حذف علی خانیہ برااوظہارااو طلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینوشیئا او حذف الکاف لغاوتعین الادنی اے البریعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویا بنتی ویااختی ونحوہ ۔
در میں ہے اگر بیوی کوکہا “ تومجھ پر میری ماں کی طرح “ لفظ مثل یا کاف کو تشبیہ کے لیے ذکر کیا اور یوں ہی اگر لفظ علی(مجھ پر)کو حذف کردیا ہواور خدمت یا ظہار یا طلاق جو بھی نیت کرے گا وہی حکم ہوگا ہر ایك کی نیت صحیح ہوگی کیونکہ یہ لفظ کنایہ ہے اور کچھ بھی نیت نہ تھی یا تشبیہ کے لفظ کو حذف کردیا ہوتو یہ لغو کلام ہوگا اور صرف ادنی معنی یعنی خدمت وکرامت مراد ہوگا اور “ تومیری ماں ہے اور اے میری بیٹی اے میری بہن “ جیسے الفاظ مکروہ ہیں ۔ (ت)
۵۹تیری گلوخلاصی ہوئی ۶۰تو خالص ہوئی فی ردالمحتار انت خالصۃ (ردالمحتار میں ہے : توخالص ہوئی۔ ت)۶۱حلال خدا یا۶۲حلال مسلمانان۶۳یا ہر حلال مجھ پر حرام ۶۴تومیرے ساتھ حرام میں ہے
الکل فی الشامی کما یأتی صریحا وخالف فیھا المتاخرون ائمتنا المتقدمین فقالوالاحاجۃ الی النیۃ لانہ المتعارف قلت وفی بلادنا قدانعدم التعارف فال الامرالی ماکان علیہ قال الشامی ان المتاخرین خالفوا العرف الحادث فیتوقف الان وقوع البائن بہ علی وجود العرف۔
یہ تمام فتاوی شامی میں ہے جیسا کہ آئندہ صراحتا آئے گا ان میں متاخرین فقہاء نے ہمارے متقدمین ائمہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ان الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ طلاق میں عرف بن چکے ہیں قلت(میں کہتا ہوں )ہمارے علاقہ میں یہ عرف نہیں ہے تو یہ الفاظ اپنے اصل پر لوٹ آئیں گے علامہ شامی نے فرمایا : متاخرین نے جدید عرف کی بناپر خلاف کیا تو اس کے ساتھ وقوع بائن وجود عرف پر موقوف ہوگا۔ (ت)
۶۵میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اگر کسی عوض کا ذکر نہ کرے
فی ردالمحتار عن الخانیۃ ولو قال بعت نفسك منك فقالت اشتریت یقع
ردالمحتار میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کوکہا کہ “ میں نے تجھے تیرے پاس فروخت کیا “ تو
حوالہ / References
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۹
ردالمحتار باب الکنایات داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۲
ردالمحتار باب الکنایات داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۲
طلاق بائن لان بیع نفسھا تملیك النفس من المرأۃ وملك النفس لایحصل الابالبائن فیکون بائنا اھ۔
بیوی نے کہا میں نے خریدا تو بائنہ طلاق ہوجائیگی کیونکہ بیوی کو اس کے پاس فروخت کرنا بیوی کو اپنے نفس کا مالك بنانا ہے نفس کی ملکیت بیوی کو بغیر بائنہ طلاق کے حاصل نہیں ہوسکتی لہذا بائنہ طلاق ہوگی اھ۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں )یہاں عورت کے اس کہنے کی بھی حاجت نہیں کہ میں نے خریدا
لانہ تملیك نفسھا منھا وھی لاتملك نفسھا الابالبائن بخلاف ماسیجئی من قولہ بعت منك طلاقك فانہ تملیك الطلاق منھا فکان تفویضا فاشترط قبولھا۔
کیونکہ یہ بیوی کو اپنے نفس کا مالك قرار دینا ہے تو بیوی اپنے نفس کی مالك بائنہ طلاق کے بغیر نہیں بن سکتی اسکے بخلاف جو آئندہ عنقریب آئے گا کہ خاوند اگر یوں کہے “ میں نے تجھے تیری طلاق فروخت کی “ تو اسے یہ طلاق کا مالك بنانا ہوا لہذا یہ خاوند کا بیوی کو طلاق تفویض کرنا ہے جس میں بیوی کا قبول کرنا شرط ہے۔ (ت)
۶۶میں تجھ سے باز آیا ۶۷میں تجھ سے در گزرا فی ردالمحتار عدیت عنھا (ردالمحتار میں ہے : میں تجھ سے درگزرا۔ ت) ۶۸تو میرے کام کی نہیں ۶۹میرے مطلب کی نہیں ۷۰مصرف کی نہیں کما حققناہ علی ھامش ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس تحقیق کی ہے۔ ت)۷۱مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں ۷۲کچھ قابو نہیں ۸۷ملك نہیں ۷۴میں نے تیری راہ خالی کردی ۷۵تومیری ملك سے نکل گئی ۷۶میں نے تجھ سے خلع کیا ۷۷اپنے میکے بیٹھ ۷۸تیری باگ ڈھیلی کی ۷۹تیر ی رسی چھوڑدی ۸۰تیری لگام اتارلی ۸۱اپنے رفیقوں سے جامل
فی الھندیۃ وألحق ابویوسف رحمہ اﷲتعالی بخلیۃ وبریۃ وبتۃ وبائن وحرام اربعۃ اخری ذکرھا السرخسی فی المبسوط وقاضی خان فی شرح الجامع الصغیر واخرون وھی لاسبیل لی علیک لاملك لی علیک خلیت سبیلک فارقتک ولاروایۃ فی خرجت من ملکی قالواھو
ہندیہ میں ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲ نے خلیۃ بریۃ بتۃ بائن اور حرام کے الفاظ کے ساتھ دیگر چار الفاظ کو ملحق کیا ہے ان دیگر چاروں کو امام سرخسی نے مبسوط میں اور قاضیخاں نے شرح جامع صغیر میں اور دوسرے حضرات نے ذکرکیا ہے وہ لاسبیل لی علیک(مجھے تجھ پر چارہ نہیں ) لاملك لی علیک(تجھ پر میری ملکیت نہیں ) خلیت سبیلک(میں نے تیرا راستہ آزاد کیا) فارقتک(میں نے تجھ سے مفارقت کی)
بیوی نے کہا میں نے خریدا تو بائنہ طلاق ہوجائیگی کیونکہ بیوی کو اس کے پاس فروخت کرنا بیوی کو اپنے نفس کا مالك بنانا ہے نفس کی ملکیت بیوی کو بغیر بائنہ طلاق کے حاصل نہیں ہوسکتی لہذا بائنہ طلاق ہوگی اھ۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں )یہاں عورت کے اس کہنے کی بھی حاجت نہیں کہ میں نے خریدا
لانہ تملیك نفسھا منھا وھی لاتملك نفسھا الابالبائن بخلاف ماسیجئی من قولہ بعت منك طلاقك فانہ تملیك الطلاق منھا فکان تفویضا فاشترط قبولھا۔
کیونکہ یہ بیوی کو اپنے نفس کا مالك قرار دینا ہے تو بیوی اپنے نفس کی مالك بائنہ طلاق کے بغیر نہیں بن سکتی اسکے بخلاف جو آئندہ عنقریب آئے گا کہ خاوند اگر یوں کہے “ میں نے تجھے تیری طلاق فروخت کی “ تو اسے یہ طلاق کا مالك بنانا ہوا لہذا یہ خاوند کا بیوی کو طلاق تفویض کرنا ہے جس میں بیوی کا قبول کرنا شرط ہے۔ (ت)
۶۶میں تجھ سے باز آیا ۶۷میں تجھ سے در گزرا فی ردالمحتار عدیت عنھا (ردالمحتار میں ہے : میں تجھ سے درگزرا۔ ت) ۶۸تو میرے کام کی نہیں ۶۹میرے مطلب کی نہیں ۷۰مصرف کی نہیں کما حققناہ علی ھامش ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس تحقیق کی ہے۔ ت)۷۱مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں ۷۲کچھ قابو نہیں ۸۷ملك نہیں ۷۴میں نے تیری راہ خالی کردی ۷۵تومیری ملك سے نکل گئی ۷۶میں نے تجھ سے خلع کیا ۷۷اپنے میکے بیٹھ ۷۸تیری باگ ڈھیلی کی ۷۹تیر ی رسی چھوڑدی ۸۰تیری لگام اتارلی ۸۱اپنے رفیقوں سے جامل
فی الھندیۃ وألحق ابویوسف رحمہ اﷲتعالی بخلیۃ وبریۃ وبتۃ وبائن وحرام اربعۃ اخری ذکرھا السرخسی فی المبسوط وقاضی خان فی شرح الجامع الصغیر واخرون وھی لاسبیل لی علیک لاملك لی علیک خلیت سبیلک فارقتک ولاروایۃ فی خرجت من ملکی قالواھو
ہندیہ میں ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲ نے خلیۃ بریۃ بتۃ بائن اور حرام کے الفاظ کے ساتھ دیگر چار الفاظ کو ملحق کیا ہے ان دیگر چاروں کو امام سرخسی نے مبسوط میں اور قاضیخاں نے شرح جامع صغیر میں اور دوسرے حضرات نے ذکرکیا ہے وہ لاسبیل لی علیک(مجھے تجھ پر چارہ نہیں ) لاملك لی علیک(تجھ پر میری ملکیت نہیں ) خلیت سبیلک(میں نے تیرا راستہ آزاد کیا) فارقتک(میں نے تجھ سے مفارقت کی)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الخلع قولہ کبعت نفسک مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۵۵۹
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۲
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۲
بمنزلۃ خلیت سبیلک وفی الینا بیع الحق ابویوسف رحمہ اﷲتعالی بالخمسۃ ستۃ اخری وھی الابعۃ المتقدمۃ وزادخالعتك والحقی باھلك ھکذا فی غایۃ السرجی اھ قلت وھو فی حدیث المستعیذۃ وفیھا ایضا وفی قولہ حبلك علی غاربك لایقع الطلاق الا بالنیۃ کذافی فتاوی قاضی خان وانتقلی وانطلقی کالحقی وفی البزازیۃ وفی الحقی برفقتك یقع اذا نوی کذافی البحر الرائق ۔
اورخرجت من ملکی(تومیری ملکیت سے نکل گئی)میں کوئی روایت نہیں ہے او ر فقہاء نے فرمایا یہ بمنزلہ “ خلیت سبیلک “ کے ہے اور ینابیع میں ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی نے پانچ الفاظ کے ساتھ مزید چھ الفاظ ملحق فرمائے ہیں اور وہ چار پہلے ذکر شدہ اور دو۲ مزید وہ خالعتک(میں نے تجھ سے خلع کیا)الحقی باھلک(اپنے خاندان میں چلی جا)غایۃ السروجی میں یونہی مذکور ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں )یہ بات پناہ طلب کرنے والی میں ہے۔ اور اسی غایۃ السروجی میں یہ بھی ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا “ تیری ڈوری تیرے کندھے پر ہے “ تونیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے تومنتقل ہو توجا الحقی کی طرح ہے__اور بزازیہ میں ہے اگر یوں کہا “ اپنے دوستوں سے مل جا “ نیت کی تو طلاق ہوجائے گی بحرالرائق میں یونہی ہے۔ (ت)
۸۲مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں ھو کقولہ لاسبیل لی علیک(جیسا کہ اس کا قول “ مجھے تجھ پر چارہ نہیں ۔ ت)۸۳خاوندتلاش کر
فی الھندیۃ ویاتبغی الازواج تقع واحدۃ بائنۃ ان نواھا عــــہ واثنتین وثلث ان نواھا ھکذا فی شرح الوقایۃ ۔
اور ہندیہ میں ہے اگر یوں کہا “ تو خاوند تلاش کر “ ایك بائنہ طلاق ہوگی اگر نیت کی ہو یادو۲ اور تین ہونگی اگر ان کی نیت کی ہو شرح وقایہ میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
عــــہ : قابلت عبارۃ عن اصل الہندیۃ فوجد تھا ھکذا او ثنتان وثلث حامدرضا غفرلہ۔
میں نے ہندیہ کے اصل قلمی نسخہ سے مقابلہ کیا تو میں نے وہاں یوں عبارت پائی اور دو اور تین ۱۲ حامد رضا غفرلہ(ت)
اورخرجت من ملکی(تومیری ملکیت سے نکل گئی)میں کوئی روایت نہیں ہے او ر فقہاء نے فرمایا یہ بمنزلہ “ خلیت سبیلک “ کے ہے اور ینابیع میں ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی نے پانچ الفاظ کے ساتھ مزید چھ الفاظ ملحق فرمائے ہیں اور وہ چار پہلے ذکر شدہ اور دو۲ مزید وہ خالعتک(میں نے تجھ سے خلع کیا)الحقی باھلک(اپنے خاندان میں چلی جا)غایۃ السروجی میں یونہی مذکور ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں )یہ بات پناہ طلب کرنے والی میں ہے۔ اور اسی غایۃ السروجی میں یہ بھی ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا “ تیری ڈوری تیرے کندھے پر ہے “ تونیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے تومنتقل ہو توجا الحقی کی طرح ہے__اور بزازیہ میں ہے اگر یوں کہا “ اپنے دوستوں سے مل جا “ نیت کی تو طلاق ہوجائے گی بحرالرائق میں یونہی ہے۔ (ت)
۸۲مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں ھو کقولہ لاسبیل لی علیک(جیسا کہ اس کا قول “ مجھے تجھ پر چارہ نہیں ۔ ت)۸۳خاوندتلاش کر
فی الھندیۃ ویاتبغی الازواج تقع واحدۃ بائنۃ ان نواھا عــــہ واثنتین وثلث ان نواھا ھکذا فی شرح الوقایۃ ۔
اور ہندیہ میں ہے اگر یوں کہا “ تو خاوند تلاش کر “ ایك بائنہ طلاق ہوگی اگر نیت کی ہو یادو۲ اور تین ہونگی اگر ان کی نیت کی ہو شرح وقایہ میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
عــــہ : قابلت عبارۃ عن اصل الہندیۃ فوجد تھا ھکذا او ثنتان وثلث حامدرضا غفرلہ۔
میں نے ہندیہ کے اصل قلمی نسخہ سے مقابلہ کیا تو میں نے وہاں یوں عبارت پائی اور دو اور تین ۱۲ حامد رضا غفرلہ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
۸۴مجھے تیری حاجت نہیں ۲مجھے تجھ سے سروکار نہیں ۳تجھ سے مجھے کام نہیں ۴غرض نہیں ۵مطلب نہیں ۶تومجھے درکار نہیں ۷تجھ سے مجھے رغبت نہیں ۸میں تجھے نہیں چاہتا یہ محض مہمل ہیں اگرچہ نیت کرے
فی الھندیۃ ولو قال لاحاجۃ لی فیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج واذاقال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی کذافی بحرالرائق۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا “ مجھے تجھ میں حاجت نہیں ہے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج وہاج میں مذکور ہے اور جب یوں کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ یا “ میں تجھے پسند نہیں کرتا “ یا “ میں تجھ میں خواہش نہیں رکھتا “ یا “ مجھے تجھ میں دلچسپی نہیں “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کی ہو یہ امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کاقول ہے بحرالرائق نے ایسے ہی بیان کیا۔ (ت)
۸۵میں تجھ سے جدا ہوں یاہوا(فقط میں جدا ہوں یا ہواکافی نہیں اگرچہ بنیت طلاق کہے)
فی الھندیۃ ولو قال انا منك بائن ونوی الطلاق یقع ولو قال انا بائن ولم یقل منك لایقع وان نوی کذافی محیط السرخسی ۔
ہندیہ میں ہے اگر یوں کہا میں تجھ سے بائن ہوں اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی اور اگر صرف میں بائن ہوں اور “ تجھ سے “ نہ کہا تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی محیط سرخسی میں ایسے ہی مذکور ہے۔ (ت)
۸۶میں نے تجھے جدا کردیا میں نے تجھ سے جدائی کی ۸۷تو خودمختار ہے ۸۸تو آزاد ہے
فی الھندیۃ ولوقال فی حال مذاکرۃ الطلاق باینتك او ابنتك اوکابنت منك اوانت سائبۃ اوانت حرۃ یقع الطلاق وان قال لم انو الطلاق لایصدق قضاء ۔
ہندیہ میں ہے اگر حالت مذاکرہ طلاق میں میں تجھ سے جدا ہوں میں نے تجھ کوجدا کیا میں تجھ سے جداہوا تو سائبہ ہے یا تو آزاد ہے تو طلاق ہوجائے گی اور اگر وہ کہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو قضاء اس کی تصدیق نہ کی جائے گی(ت)
فی الھندیۃ ولو قال لاحاجۃ لی فیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج واذاقال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی کذافی بحرالرائق۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا “ مجھے تجھ میں حاجت نہیں ہے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج وہاج میں مذکور ہے اور جب یوں کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ یا “ میں تجھے پسند نہیں کرتا “ یا “ میں تجھ میں خواہش نہیں رکھتا “ یا “ مجھے تجھ میں دلچسپی نہیں “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کی ہو یہ امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کاقول ہے بحرالرائق نے ایسے ہی بیان کیا۔ (ت)
۸۵میں تجھ سے جدا ہوں یاہوا(فقط میں جدا ہوں یا ہواکافی نہیں اگرچہ بنیت طلاق کہے)
فی الھندیۃ ولو قال انا منك بائن ونوی الطلاق یقع ولو قال انا بائن ولم یقل منك لایقع وان نوی کذافی محیط السرخسی ۔
ہندیہ میں ہے اگر یوں کہا میں تجھ سے بائن ہوں اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی اور اگر صرف میں بائن ہوں اور “ تجھ سے “ نہ کہا تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی محیط سرخسی میں ایسے ہی مذکور ہے۔ (ت)
۸۶میں نے تجھے جدا کردیا میں نے تجھ سے جدائی کی ۸۷تو خودمختار ہے ۸۸تو آزاد ہے
فی الھندیۃ ولوقال فی حال مذاکرۃ الطلاق باینتك او ابنتك اوکابنت منك اوانت سائبۃ اوانت حرۃ یقع الطلاق وان قال لم انو الطلاق لایصدق قضاء ۔
ہندیہ میں ہے اگر حالت مذاکرہ طلاق میں میں تجھ سے جدا ہوں میں نے تجھ کوجدا کیا میں تجھ سے جداہوا تو سائبہ ہے یا تو آزاد ہے تو طلاق ہوجائے گی اور اگر وہ کہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو قضاء اس کی تصدیق نہ کی جائے گی(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصلالخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصلالخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصلالخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصلالخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصلالخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
۸۹مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں ۹۰مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا
فی الھندیۃ ولوقال لھا لانکاح بینی وبینك اوقال لم یبق بینی وبینك نکاح یقع الطلاق اذانوی کذافی فتاوی قاضی خاں ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا تجھ میں مجھ میں نکاح نہیں یا کہا مجھ میں اور تجھ میں نکاح باقی نہیں ہے تو نیت طلاق سے طلاق ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضیخاں میں ہے۔ (ت)
۹۱میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا۹۲باپ یا۹۳ماں یا۹۴خاوندوں کو دیایا۹۵خود تجھ کو دے ڈالا(اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو کہا تو کچھ نہیں )
فی الھندیۃ روی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انہ اذا قال وھبتك لاخیك اولخالك اولعمك اولفلان الاجنبی لم یکن طلاق کذافی السراج الوھاج ولوقال لھا وھبت نفسك منك فھو من جملۃ الکنایات ان نوی بہ الطلاق یقع والافلا ۔
ہندیہ میں ہے : امام حسن رحمہ اﷲتعالی نے امام اعظم رحمہ اﷲتعالی سے روایت کیا کہ اگریوں کہا میں نے تجھے تیرے بھائی خالو چچے یا فلاں اجنبی کو ہبہ کیا طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج وہاج میں ہے۔ اور اگر یوں کہا میں نے تیرا نفس تجھے ہبہ کیا تو کنایہ کے الفاظ میں سے ہے اگرنیت کی تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ (ت)
۹۶مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا تجھ میں مجھ میں کچھ شئی نہیں اگرچہ نیت کرے
فی الھندیۃ ولوقال لم یبق بینی وبینك شئی ونوی بہ الطلاق لایقع وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینك عمل ونوی یقع کذافی العتابیۃ ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا تیرے اور میرے درمیان کوئی شئی باقی نہیں اور اس سے نیت طلاق کی ہو تو طلاق نہ ہوگی اور فتاوی میں مذکور ہے اگر یوں کہا تیرے اور میرے درمیان کوئی معاملہ باقی نہیں رہا نیت کی ہوتو طلاق ہوگی جیسا کہ عتابیہ میں مذکور ہے۔ (ت)
۹۷میں تیرے نکاح سے بری ہوں ۹۸بیزار ہوں
فیھا عن الخانیۃ ولوقال انابریئ من
ہندیہ میں ہے خانیہ سے منقول ہے اگر کہا میں تیرے
فی الھندیۃ ولوقال لھا لانکاح بینی وبینك اوقال لم یبق بینی وبینك نکاح یقع الطلاق اذانوی کذافی فتاوی قاضی خاں ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا تجھ میں مجھ میں نکاح نہیں یا کہا مجھ میں اور تجھ میں نکاح باقی نہیں ہے تو نیت طلاق سے طلاق ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضیخاں میں ہے۔ (ت)
۹۱میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا۹۲باپ یا۹۳ماں یا۹۴خاوندوں کو دیایا۹۵خود تجھ کو دے ڈالا(اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو کہا تو کچھ نہیں )
فی الھندیۃ روی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انہ اذا قال وھبتك لاخیك اولخالك اولعمك اولفلان الاجنبی لم یکن طلاق کذافی السراج الوھاج ولوقال لھا وھبت نفسك منك فھو من جملۃ الکنایات ان نوی بہ الطلاق یقع والافلا ۔
ہندیہ میں ہے : امام حسن رحمہ اﷲتعالی نے امام اعظم رحمہ اﷲتعالی سے روایت کیا کہ اگریوں کہا میں نے تجھے تیرے بھائی خالو چچے یا فلاں اجنبی کو ہبہ کیا طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج وہاج میں ہے۔ اور اگر یوں کہا میں نے تیرا نفس تجھے ہبہ کیا تو کنایہ کے الفاظ میں سے ہے اگرنیت کی تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ (ت)
۹۶مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا تجھ میں مجھ میں کچھ شئی نہیں اگرچہ نیت کرے
فی الھندیۃ ولوقال لم یبق بینی وبینك شئی ونوی بہ الطلاق لایقع وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینك عمل ونوی یقع کذافی العتابیۃ ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا تیرے اور میرے درمیان کوئی شئی باقی نہیں اور اس سے نیت طلاق کی ہو تو طلاق نہ ہوگی اور فتاوی میں مذکور ہے اگر یوں کہا تیرے اور میرے درمیان کوئی معاملہ باقی نہیں رہا نیت کی ہوتو طلاق ہوگی جیسا کہ عتابیہ میں مذکور ہے۔ (ت)
۹۷میں تیرے نکاح سے بری ہوں ۹۸بیزار ہوں
فیھا عن الخانیۃ ولوقال انابریئ من
ہندیہ میں ہے خانیہ سے منقول ہے اگر کہا میں تیرے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
نکاحك یقع الطلاق اذانوی ۔
نکاح سے بری ہوں طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
۹۹مجھ سے دور ہوجا
فیھا عنھا ولوقال ابعدی عنی ونوی الطلاق یقع ۔
ہندیہ میں خانیہ سے منقول ہے اگر کہا تو مجھ سے دور ہوجا طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائے گی(ت)
۱۰۰مجھے صورت نہ دکھا
وھذابمعنی ابعدی عنی وفیہ ینوی کما مرانفا بخلاف استتری منی فانہ بزیادۃ منی خرج عن کونہ کما فی الخانیۃ ایضا قال الشامی یکون قولہ منی قرینۃ لفظیۃ علی ارادۃ الطلاق بمنزلۃ المذاکرۃ تأمل اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول وذلك بخلاف ان یقول لاترنی وجھك فانہ یکون عبارۃ عن البغض والتنفرفلایزول الاحتمال اھ فافھم ۔
اور یہ “ مجھ سے دور ہوجا “ کے معنی میں ہے اور اس میں نیت کرے گا جیسا کہ ابھی گزرا اس کے بر خلاف “ مجھ سے پردہ کر “ منی(مجھ سے)کا لفظ زائد ہونے کی وجہ سے کنایہ سے خارج ہے جیسا کہ خانیہ میں بھی ہے نیز علامہ شامی نے فرمایا کہ یہاں منی(مجھ سے)کا لفظ قرینہ لفظیہ ہے کہ اس نے طلاق مراد لی ہے یہ بمنزلہ مذاکرہ طلاق ہے غور چاہئے اھ مجھے اس کے حاشیے پر لکھنا یاد ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول : (میں کہتاہوں )کہ اس کے برخلاف ہے یہ کہنا تو اپنا چہرہ مجھے نہ دکھا کیونکہ یہ لفظ بغض اور نفرت کے اظہار کےلئے ہے لہذا دوسرااحتمال ختم نہ ہوگا اھ غور کرو۔ (ت)
۱۰۱کنارے ہو ۱۰۲تونے مجھ سے نجات پائی
فی الھندیۃ ومن الکنایات تنحی عنی ونجوت منی کذا فی فتح القدیر ۔
ہندیہ میں ہے : الفاظ کنایہ میں سے کنارے ہو مجھ سے تو نے نجات پائی ایسے ہی فتح القدیر میں ہے۔ (ت)
نکاح سے بری ہوں طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
۹۹مجھ سے دور ہوجا
فیھا عنھا ولوقال ابعدی عنی ونوی الطلاق یقع ۔
ہندیہ میں خانیہ سے منقول ہے اگر کہا تو مجھ سے دور ہوجا طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائے گی(ت)
۱۰۰مجھے صورت نہ دکھا
وھذابمعنی ابعدی عنی وفیہ ینوی کما مرانفا بخلاف استتری منی فانہ بزیادۃ منی خرج عن کونہ کما فی الخانیۃ ایضا قال الشامی یکون قولہ منی قرینۃ لفظیۃ علی ارادۃ الطلاق بمنزلۃ المذاکرۃ تأمل اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول وذلك بخلاف ان یقول لاترنی وجھك فانہ یکون عبارۃ عن البغض والتنفرفلایزول الاحتمال اھ فافھم ۔
اور یہ “ مجھ سے دور ہوجا “ کے معنی میں ہے اور اس میں نیت کرے گا جیسا کہ ابھی گزرا اس کے بر خلاف “ مجھ سے پردہ کر “ منی(مجھ سے)کا لفظ زائد ہونے کی وجہ سے کنایہ سے خارج ہے جیسا کہ خانیہ میں بھی ہے نیز علامہ شامی نے فرمایا کہ یہاں منی(مجھ سے)کا لفظ قرینہ لفظیہ ہے کہ اس نے طلاق مراد لی ہے یہ بمنزلہ مذاکرہ طلاق ہے غور چاہئے اھ مجھے اس کے حاشیے پر لکھنا یاد ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول : (میں کہتاہوں )کہ اس کے برخلاف ہے یہ کہنا تو اپنا چہرہ مجھے نہ دکھا کیونکہ یہ لفظ بغض اور نفرت کے اظہار کےلئے ہے لہذا دوسرااحتمال ختم نہ ہوگا اھ غور کرو۔ (ت)
۱۰۱کنارے ہو ۱۰۲تونے مجھ سے نجات پائی
فی الھندیۃ ومن الکنایات تنحی عنی ونجوت منی کذا فی فتح القدیر ۔
ہندیہ میں ہے : الفاظ کنایہ میں سے کنارے ہو مجھ سے تو نے نجات پائی ایسے ہی فتح القدیر میں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
جدالممتار باب الکنایات حاشیۃ ٩٦٠ المجمع الاسلامی مبارکپور ۲ / ۵۱۵
فتاوی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
جدالممتار باب الکنایات حاشیۃ ٩٦٠ المجمع الاسلامی مبارکپور ۲ / ۵۱۵
فتاوی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
ومثلھا(اور اسی کی مثال ہے۔ ت)۱۰۳الگ ہو ۱۰۴میں نے تیراپاؤں کھول دیا
لعدم التعارف فی بلادنا ومافی الخلاصۃ پای کشادہ کردم ترا تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا وتقع بدون النیۃ اھ فمبنی کما تری علی العرف فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ظہیر الدین یفتی فیما سواھا باشتراط النیۃ ویکون الواقع بائنا ۔
ہمارے علاقہ کا عرف نہ ہونے کی بناپر اور جو خلاصہ میں ہے کہ “ میں نے تیرے پاؤں کھول دئے عرف میں “ میں نے تجھے طلاق دی “ کے ہم معنی ہے لہذااس سے طلاق رجعی ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوجائے گی اھ تو یہ عرف پر مبنی ہے جیسا کہ تودیکھ رہاہے ہندیہ میں ذخیرہ سے امام ظہیرالدین سے منقول ہے کہ مذکورہ الفاظ کے علاوہ میں نیت شرط ہونے پر فتوی دیا جائے گا اور اس سے بائنہ طلاق ہوگی۔ (ت)
۱۰۵میں نے تجھے آزاد کیا ۱۰۶آزاد ہوجا
فیہا ولوقال اعتقتك طلقت بالنیۃ کذا فی معراج الدرایۃ وکونی حرۃ اواعتقی مثل انت حرۃ کذافی بحرالرائق ۔
ہندیہ میں ہے : اور اگر خاوند کہے “ میں نے تجھے آزاد کیا “ تو نیت سے طلاق ہوگی جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے اور “ توآزاد ہوجا “ یا “ توآزاد ہے “ انت حرۃکی طرح ہے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے۔ (ت)
۱۰۷تیری بند کٹی ۱۰۸توبے قید ہے
فیھا ولوقال انت السراح فھو کما قال لھا انت خلیۃ کذافی فتاوی قاضی خان ۔
ہندیہ میں ہے : اگر کہا “ توبے قید ہے “ یہ ایسے ہی ہے جیسے یوں کہے “ توجدا ہے “ جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (ت)
۱۰۹میں تجھ سے بری ہوں
فیھا فی مجموع النوازل امرأۃ قالت لزوجھا انا بریئۃ منك فقال الزوج
ہندیہ میں ہے کہ مجموع النوازل میں ہے بیوی نے کہا “ میں تجھ سے بری ہوں “ تو خاوند نے جواب میں
لعدم التعارف فی بلادنا ومافی الخلاصۃ پای کشادہ کردم ترا تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا وتقع بدون النیۃ اھ فمبنی کما تری علی العرف فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ظہیر الدین یفتی فیما سواھا باشتراط النیۃ ویکون الواقع بائنا ۔
ہمارے علاقہ کا عرف نہ ہونے کی بناپر اور جو خلاصہ میں ہے کہ “ میں نے تیرے پاؤں کھول دئے عرف میں “ میں نے تجھے طلاق دی “ کے ہم معنی ہے لہذااس سے طلاق رجعی ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوجائے گی اھ تو یہ عرف پر مبنی ہے جیسا کہ تودیکھ رہاہے ہندیہ میں ذخیرہ سے امام ظہیرالدین سے منقول ہے کہ مذکورہ الفاظ کے علاوہ میں نیت شرط ہونے پر فتوی دیا جائے گا اور اس سے بائنہ طلاق ہوگی۔ (ت)
۱۰۵میں نے تجھے آزاد کیا ۱۰۶آزاد ہوجا
فیہا ولوقال اعتقتك طلقت بالنیۃ کذا فی معراج الدرایۃ وکونی حرۃ اواعتقی مثل انت حرۃ کذافی بحرالرائق ۔
ہندیہ میں ہے : اور اگر خاوند کہے “ میں نے تجھے آزاد کیا “ تو نیت سے طلاق ہوگی جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے اور “ توآزاد ہوجا “ یا “ توآزاد ہے “ انت حرۃکی طرح ہے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے۔ (ت)
۱۰۷تیری بند کٹی ۱۰۸توبے قید ہے
فیھا ولوقال انت السراح فھو کما قال لھا انت خلیۃ کذافی فتاوی قاضی خان ۔
ہندیہ میں ہے : اگر کہا “ توبے قید ہے “ یہ ایسے ہی ہے جیسے یوں کہے “ توجدا ہے “ جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (ت)
۱۰۹میں تجھ سے بری ہوں
فیھا فی مجموع النوازل امرأۃ قالت لزوجھا انا بریئۃ منك فقال الزوج
ہندیہ میں ہے کہ مجموع النوازل میں ہے بیوی نے کہا “ میں تجھ سے بری ہوں “ تو خاوند نے جواب میں
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۹۹
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۹
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۹
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
انابرئ منك ایضا' فقالت ماذا تقول فقال مانویت الطلاق لایقع الطلاق لعدم النیۃ کذافی المحیط ۔
کہا “ میں بھی تجھ سے بری ہوں “ پھر بیوی نے کہا خیال کرو کیا کہہ رہے ہو تو خاوند نے کہا میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ نیت نہیں ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
۱۱۰اپنا نکاح کر ۱۱۱جس سے چاہے نکاح کر
فیھا ولو قال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلث صح وان لم ینوشیئا لم یقع کذافی العتابیۃ ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا “ تو نکاح کرلے “ اور طلاق کی نیت کی ہوتو ایك طلاق اور تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔ اور کوئی نیت نہیں کی تو کوئی طلاق نہ ہوگی جیسا کہ عتابیہ میں ہے (ت)
۱۱۲میں تجھ سے بیزار ہوا
فیھا عن الخلاصۃ ولوقال لھا ازتو بیزار شدم لایقع بدون النیۃ قلت وظاھران لیس کقولہ انامنك طالق فافھم عــــہ وثبت۔
ہندیہ میں خلاصہ سے ہے اگرکہا “ میں تجھ سے بیزار ہوں “ تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔ قلت(میں کہتاہوں )ظاہر یہ ہے مذکور لفظ خاوند کے قول “ میں تجھ سے طلاق والاہوں “ کی طرح نہیں ہے غور کرو اور ثابت رہو۔ (ت)
۱۱۳میرے لئے تجھ پر نکاح نہیں
فی الخانیۃ وفی قولك لانکاح لی علیك لایقع الطلاق الابالنیۃ ۔ (ملخصا)
خانیہ میں ہے : خاوند کے اس قول سے کہ “ میرے لئے تجھ پرنکاح نہیں ہے “ نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
۱۱۴میں نے تیرا نکاح فسخ کیا
فیھا ولوقال لھا فسخت نکاحك یقع الطلاق
خانیہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا “ میں نے تیرا نکاح
عــــہ : اشارۃ الی ان مافی الدرسہو۱۲منہ
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو درمختار میں ہے وہ سہو ہے ۱۲منہ (ت)
کہا “ میں بھی تجھ سے بری ہوں “ پھر بیوی نے کہا خیال کرو کیا کہہ رہے ہو تو خاوند نے کہا میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ نیت نہیں ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
۱۱۰اپنا نکاح کر ۱۱۱جس سے چاہے نکاح کر
فیھا ولو قال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلث صح وان لم ینوشیئا لم یقع کذافی العتابیۃ ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا “ تو نکاح کرلے “ اور طلاق کی نیت کی ہوتو ایك طلاق اور تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔ اور کوئی نیت نہیں کی تو کوئی طلاق نہ ہوگی جیسا کہ عتابیہ میں ہے (ت)
۱۱۲میں تجھ سے بیزار ہوا
فیھا عن الخلاصۃ ولوقال لھا ازتو بیزار شدم لایقع بدون النیۃ قلت وظاھران لیس کقولہ انامنك طالق فافھم عــــہ وثبت۔
ہندیہ میں خلاصہ سے ہے اگرکہا “ میں تجھ سے بیزار ہوں “ تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔ قلت(میں کہتاہوں )ظاہر یہ ہے مذکور لفظ خاوند کے قول “ میں تجھ سے طلاق والاہوں “ کی طرح نہیں ہے غور کرو اور ثابت رہو۔ (ت)
۱۱۳میرے لئے تجھ پر نکاح نہیں
فی الخانیۃ وفی قولك لانکاح لی علیك لایقع الطلاق الابالنیۃ ۔ (ملخصا)
خانیہ میں ہے : خاوند کے اس قول سے کہ “ میرے لئے تجھ پرنکاح نہیں ہے “ نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
۱۱۴میں نے تیرا نکاح فسخ کیا
فیھا ولوقال لھا فسخت نکاحك یقع الطلاق
خانیہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا “ میں نے تیرا نکاح
عــــہ : اشارۃ الی ان مافی الدرسہو۱۲منہ
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو درمختار میں ہے وہ سہو ہے ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۶
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۶
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۶
اذانوی ۔ فسخ کیا نیت سے طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
۱۱۵تجھ پر چاروں راہیں کھول دیں (اور اگریوں کہا کہ “ تجھ پر چاروں کھلی ہیں “ تو کچھ نہیں جب تك یہ بھی نہ کہے ۱۱۶جو راستہ چاہے اختیار کر
فھاولوقال لھا “ اربع طرق علیك مفتوحۃ ونوی الطلاق لایقع الطلاق الاان یقول اربع طرق علیك مفتوحۃ فخذی فی ای طریق شئت فحینئذ یقع الطلاق اذا نوی ولاقال(چہارراہ برتو کشادم)لایقع الطلاق ما لم ینو وفی الھندیۃ اذاقال لہا چہارراہ برتو کشادہ است لایقع الطلاق وان نوی مالم یقل خذی ایما شئت عند اکثر المشائخ وانہ منقول عن محمد رحمہ اﷲتعالی واذاقال لھا چہارراہ برتو کشادم یقع الطلاق اذانوی وان لم یقل خذی ایما شئت ۔
خانیہ میں ہے : اگرخاوند نے کہا “ چاروں راہ تجھ پر کھلے ہیں “ اور طلاق کی نیت کی تو طلاق نہ ہوگی جب تك ساتھ یہ نہ کہے جس راستے کوتوچاہے اختیار کرلے اگر طلاق کی نیت سے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی اور اگر کہا تجھ پر چاروں راہیں کھول دیں تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور ہندیہ میں بھی ہے کہ اگر خاوند نے صرف یہ کہا “ تجھ پر چار راہیں کھلی ہیں تو نیت کے باوجود نہ ہوگی جب تك ساتھ یہ نہ کہے “ تو جس کو چاہے “ اختیار کرلے۔ “ اکثر مشائخ کے ہاں یہ ہے۔ اور امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے یہی منقول ہے۔ اور اگر کہا “ تجھ پر چاروں راہیں کھولتا ہوں “ تو نیت کی توطلاق ہوجائیگی اگرچہ اس نے “ جس کو توچاہے اختیار کرے “ نہ کہا ہو۔ (ت)
۱۱۷میں تجھ سے دست بردار ہوا
فی الخانیۃ(چنگ باز داشتم)از تو قال الفقیۃ ابو جعفر واحدۃ بائنۃ وغیرہ یقع رجعیۃ والاول اصح ۔
خانیہ میں ہے : اگر خاوند نے کہا “ میں تجھ سے دستبردار ہوا “ تو ابوجعفر فقیہ نے کہاایك طلاق بائنہ ہوگی اور دوسروں نے کہا کہ ایك طلاق رجعی ہوگی پہلا قول اصح ہے (ت)
۱۱۵تجھ پر چاروں راہیں کھول دیں (اور اگریوں کہا کہ “ تجھ پر چاروں کھلی ہیں “ تو کچھ نہیں جب تك یہ بھی نہ کہے ۱۱۶جو راستہ چاہے اختیار کر
فھاولوقال لھا “ اربع طرق علیك مفتوحۃ ونوی الطلاق لایقع الطلاق الاان یقول اربع طرق علیك مفتوحۃ فخذی فی ای طریق شئت فحینئذ یقع الطلاق اذا نوی ولاقال(چہارراہ برتو کشادم)لایقع الطلاق ما لم ینو وفی الھندیۃ اذاقال لہا چہارراہ برتو کشادہ است لایقع الطلاق وان نوی مالم یقل خذی ایما شئت عند اکثر المشائخ وانہ منقول عن محمد رحمہ اﷲتعالی واذاقال لھا چہارراہ برتو کشادم یقع الطلاق اذانوی وان لم یقل خذی ایما شئت ۔
خانیہ میں ہے : اگرخاوند نے کہا “ چاروں راہ تجھ پر کھلے ہیں “ اور طلاق کی نیت کی تو طلاق نہ ہوگی جب تك ساتھ یہ نہ کہے جس راستے کوتوچاہے اختیار کرلے اگر طلاق کی نیت سے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی اور اگر کہا تجھ پر چاروں راہیں کھول دیں تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور ہندیہ میں بھی ہے کہ اگر خاوند نے صرف یہ کہا “ تجھ پر چار راہیں کھلی ہیں تو نیت کے باوجود نہ ہوگی جب تك ساتھ یہ نہ کہے “ تو جس کو چاہے “ اختیار کرلے۔ “ اکثر مشائخ کے ہاں یہ ہے۔ اور امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے یہی منقول ہے۔ اور اگر کہا “ تجھ پر چاروں راہیں کھولتا ہوں “ تو نیت کی توطلاق ہوجائیگی اگرچہ اس نے “ جس کو توچاہے اختیار کرے “ نہ کہا ہو۔ (ت)
۱۱۷میں تجھ سے دست بردار ہوا
فی الخانیۃ(چنگ باز داشتم)از تو قال الفقیۃ ابو جعفر واحدۃ بائنۃ وغیرہ یقع رجعیۃ والاول اصح ۔
خانیہ میں ہے : اگر خاوند نے کہا “ میں تجھ سے دستبردار ہوا “ تو ابوجعفر فقیہ نے کہاایك طلاق بائنہ ہوگی اور دوسروں نے کہا کہ ایك طلاق رجعی ہوگی پہلا قول اصح ہے (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشورلکھنؤ ۲ / ۲۱۶
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشورلکھنؤ ۲ / ۲۱۷
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۱
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۷
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشورلکھنؤ ۲ / ۲۱۷
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۱
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۷
۱۱۸میں نے تجھے تیرے گھروالوں یا۱۱۹باپ یا۱۲۰ماں کو واپس دیا
فی الطحطاوی عن الدرالمنتقی رددتك الیھم ولا یشترط قبولھم ۔
طحطاوی میں درمنتقی سے منقول ہے خاوند نے کہا “ میں نے تجھے تیرے گھر والوں کو واپس کردیا “ توگھر والوں کا قبول کرنا شرط نہیں ہے(ت)
۱۲۱تومیری عصمت سے نکل گئی
فی العقودصرح فی الوجیز لبرھان الائمۃ انہ لوقال فسخت النکاح بینی وبینك ولم یبق بینی وبینك لایقع الابالنیۃ ولایخفی ان قولہ انت خارجۃ عن عصمتی مثلہ فی المعنی من الفتاوی المزبورۃ قلت فان الخروج عن العصمۃ یکون بطلاق وفسخ کطریق حرمۃ مصاھرۃ ولومن قبلہ فلم یتعین للطلاق وکذاالخروج عن الملك کمامر۔
عقوددریہ میں ہے کہ علامہ برہان الائمہ نے وجیز میں تصریح کی ہے اگر خاوند نے کہا “ میرے اور تیرے درمیاں نکاح فسخ ہوگیا ہے اور ہمارے درمیان نکاح باقی نہ رہا “ تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور یہ مخفی نہیں کہ خاوند کا کہنا کہ “ تومیری عصمت سے خارج ہے “ معنی میں اسی کی مثل ہے جو فتاوی مذکورہ سے مروی ہےقلت(میں کہتاہوں )عصمت سے خارج ہونا طلاق اور فسخ کے ساتھ ہوتا ہے__مثلا حرمت مصاہرۃ کی بنا پر جو کہ خاوند کی طرف سے بھی طاری ہوسکتی ہے لہذا فسخ کے لئے طلاق متعین نہیں ہے اور اسی طرح ملکیت سے خارج ہونا بھی ہے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
۱۲۲میں نے تیری ملك سے شرعی طور پراپنا نام اتاردیا
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال فی حال الغضب وسؤال الطلاق لزوجتہ نزلت عنھا نزولاشرعیا ھل تبین بذلك ام لا(اجاب)لم ارمن تعرض لھذا فی کلامھم لکن رأیت فروعا متعددۃ فی الکنایات تقتضی انہ
خیریہ میں ہے : ان سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے بیوی کو غصہ میں اور طلاق کے مطالبہ پر کہا “ میں نے اس سے شرعی نام اتاردیا “ تو کیا اس شخص کی بیوی بائنہ ہوجائے گی یانہیں انہوں نے جواب دیا میں نے فقہاء کے کلام میں اس مسئلہ کے بیان کو نہیں پایا لیکن میں نے کنایہ کے بہت سے مسائل
فی الطحطاوی عن الدرالمنتقی رددتك الیھم ولا یشترط قبولھم ۔
طحطاوی میں درمنتقی سے منقول ہے خاوند نے کہا “ میں نے تجھے تیرے گھر والوں کو واپس کردیا “ توگھر والوں کا قبول کرنا شرط نہیں ہے(ت)
۱۲۱تومیری عصمت سے نکل گئی
فی العقودصرح فی الوجیز لبرھان الائمۃ انہ لوقال فسخت النکاح بینی وبینك ولم یبق بینی وبینك لایقع الابالنیۃ ولایخفی ان قولہ انت خارجۃ عن عصمتی مثلہ فی المعنی من الفتاوی المزبورۃ قلت فان الخروج عن العصمۃ یکون بطلاق وفسخ کطریق حرمۃ مصاھرۃ ولومن قبلہ فلم یتعین للطلاق وکذاالخروج عن الملك کمامر۔
عقوددریہ میں ہے کہ علامہ برہان الائمہ نے وجیز میں تصریح کی ہے اگر خاوند نے کہا “ میرے اور تیرے درمیاں نکاح فسخ ہوگیا ہے اور ہمارے درمیان نکاح باقی نہ رہا “ تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور یہ مخفی نہیں کہ خاوند کا کہنا کہ “ تومیری عصمت سے خارج ہے “ معنی میں اسی کی مثل ہے جو فتاوی مذکورہ سے مروی ہےقلت(میں کہتاہوں )عصمت سے خارج ہونا طلاق اور فسخ کے ساتھ ہوتا ہے__مثلا حرمت مصاہرۃ کی بنا پر جو کہ خاوند کی طرف سے بھی طاری ہوسکتی ہے لہذا فسخ کے لئے طلاق متعین نہیں ہے اور اسی طرح ملکیت سے خارج ہونا بھی ہے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
۱۲۲میں نے تیری ملك سے شرعی طور پراپنا نام اتاردیا
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال فی حال الغضب وسؤال الطلاق لزوجتہ نزلت عنھا نزولاشرعیا ھل تبین بذلك ام لا(اجاب)لم ارمن تعرض لھذا فی کلامھم لکن رأیت فروعا متعددۃ فی الکنایات تقتضی انہ
خیریہ میں ہے : ان سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے بیوی کو غصہ میں اور طلاق کے مطالبہ پر کہا “ میں نے اس سے شرعی نام اتاردیا “ تو کیا اس شخص کی بیوی بائنہ ہوجائے گی یانہیں انہوں نے جواب دیا میں نے فقہاء کے کلام میں اس مسئلہ کے بیان کو نہیں پایا لیکن میں نے کنایہ کے بہت سے مسائل
حوالہ / References
طحطاوی علی الدرالمختار باب الکنایات دارالمعرفۃبیروت ۲ / ۱۳۸
عقودالدریہ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب الطلاق حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان ۱ / ۴۳
عقودالدریہ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب الطلاق حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان ۱ / ۴۳
یقع بمثلہ الطلاق البائن اذاوجدت النیۃ اودلالۃ الحال فتعین الافتاء بالوقوع فی الحادثۃ واذاعلمت ان ھذایصلح جوابا لارداوشتیمۃ وتأملت فی فروع ذکرھاصاحب البحر والتتارخانیۃ وغیرھا قطعت بما ذکرنا ۔
دیکھے ہیں جن کی روشنی میں اس صورت مذکورہ میں طلاق بائنہ ہوگی جب نیت پائی جائے یا حال کی دلالت پائی جائے لہذا ا س مذکورہ حادثہ میں طلاق کا فتوی متعین ہوگا جب معلوم ہوگیا کہ مسئلہ مذکور میں خاوند کا قول جواب ہی ہوسکتا ہے اور میں نے بحراور تاتارخانیہ وغیرہما میں مذکور فرو عات میں غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ طلاق کے وقوع کا حکم ایسے ہی ہے جیسے ہم نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
۱۲۳تومیرے لائق نہیں قیامت یا۱۲۴عمر بھر
فی الخلاصۃ ولوقال لامرأتہ تومرانہ شائی تا قیامت اوہمہ عمر لایقع الطلاق بدون النیۃ۔
خلاصہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا “ تومیرے لائق نہیں ہے قیامت تك یا عمر بھر تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
۱۲۵تو مجھ سے ایسی دور ہے جیسے مکہ معظمہ مدینہ طیبہ سے یادلی لکھنؤ سے
فی الخلاصۃ ولوقال لھا تو از چناں دوری کہ مکہ ازمدینہ لایقع الطلاق بدون النیۃ ۔
خلاصہ میں ہے : اگر بیوی کوکہا “ تومجھ سے ایسی دور ہے جیسے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ “ تو بغیرنیت طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
ان سب صورتوں میں اگر طلاق کی نیت ہوطلاق بائن پڑجائے گی تو۱مطلقہ بائنہ ہے(بے حرف عطف)یا تو۲مطلقہ پس بائنہ ہے تجھ پر۳سب سے فحش تر طلاق ۴شیطانی طلاق ۵بدعت کی طلاق ۶بدتر طلاق ۷پہاڑ کی مثل ۸ہزار کے مثل ۹کوٹھری بھر کے۱۰سخت یا۱۱لمبی یا۱۲چوڑی طلاق ۱۳سب سے بری ۱۴سب سے کری ۱۵سب سے گندی ۱۶سب سے ناپاک ۱۷سب سے کڑی ۱۸ سب سے بڑی ۱۹سب سے چوڑی ۲۰سب سے لمبی ۲۱سب سے موٹی طلاق ۲۲کلاں تر طلاق
دیکھے ہیں جن کی روشنی میں اس صورت مذکورہ میں طلاق بائنہ ہوگی جب نیت پائی جائے یا حال کی دلالت پائی جائے لہذا ا س مذکورہ حادثہ میں طلاق کا فتوی متعین ہوگا جب معلوم ہوگیا کہ مسئلہ مذکور میں خاوند کا قول جواب ہی ہوسکتا ہے اور میں نے بحراور تاتارخانیہ وغیرہما میں مذکور فرو عات میں غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ طلاق کے وقوع کا حکم ایسے ہی ہے جیسے ہم نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
۱۲۳تومیرے لائق نہیں قیامت یا۱۲۴عمر بھر
فی الخلاصۃ ولوقال لامرأتہ تومرانہ شائی تا قیامت اوہمہ عمر لایقع الطلاق بدون النیۃ۔
خلاصہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا “ تومیرے لائق نہیں ہے قیامت تك یا عمر بھر تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
۱۲۵تو مجھ سے ایسی دور ہے جیسے مکہ معظمہ مدینہ طیبہ سے یادلی لکھنؤ سے
فی الخلاصۃ ولوقال لھا تو از چناں دوری کہ مکہ ازمدینہ لایقع الطلاق بدون النیۃ ۔
خلاصہ میں ہے : اگر بیوی کوکہا “ تومجھ سے ایسی دور ہے جیسے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ “ تو بغیرنیت طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
ان سب صورتوں میں اگر طلاق کی نیت ہوطلاق بائن پڑجائے گی تو۱مطلقہ بائنہ ہے(بے حرف عطف)یا تو۲مطلقہ پس بائنہ ہے تجھ پر۳سب سے فحش تر طلاق ۴شیطانی طلاق ۵بدعت کی طلاق ۶بدتر طلاق ۷پہاڑ کی مثل ۸ہزار کے مثل ۹کوٹھری بھر کے۱۰سخت یا۱۱لمبی یا۱۲چوڑی طلاق ۱۳سب سے بری ۱۴سب سے کری ۱۵سب سے گندی ۱۶سب سے ناپاک ۱۷سب سے کڑی ۱۸ سب سے بڑی ۱۹سب سے چوڑی ۲۰سب سے لمبی ۲۱سب سے موٹی طلاق ۲۲کلاں تر طلاق
حوالہ / References
الفتاوٰی الخیریہ کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۰
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثان فی الکنایات مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۰۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۹۹
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثان فی الکنایات مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۰۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۹۹
فی الدرویقع بقولہ انت طالق بائن اوافحش الطلاق اوطلاق الشیطان والبدعۃ او اشر الطلاق اوکالجبل اوکالف اوملئ البیت او تطلیقۃ شدیدۃ او طویلۃ او عریضۃ اواسوأہ او اشدہ او اخبثہ او اکبرہ اواعرضہ او اطولہ او اغلظہ او اعظمہ واحدۃ بائنۃ ان لم ینو ثلاثا فیہ ایضا ولو بالفاء(ای فی قولہ انت طالق فبائن)فبائنۃ ذخیرۃ ۔ (ملخصا)
درمیں ہے : خاوند نے بیوی کو کہا تجھے بائن طلاق فحش تر طلاق شیطانی طلاق بدترطلاق بدعت طلاق یا پہاڑ برابر یا ہزار برابر کوٹھری بھر طلاق شدید طلاق طویل عریض سب سے بری سب سے شدید سب بڑی سب سے عریض سب سے طویل سب سے غلیظ سب سے عظیم طلاق۔ تو ان تمام صورتوں میں ایك بائنہ طلاق ہوگی جبکہ یہاں بھی تین کی نیت نہ کی ہو۔ اور اگر بائن کو ف کے ساتھ ذکر کرے مثلا تو طلاق والی “ فبائنہ “ کہا تو بائنہ ہوگی۔ ذخیرہ۔ (ت)
۲۳تجھ پرایسی طلاق جس سے تو اپنے اختیار میں ہوجائے
فی الدرکما یقع البائن لوقالت انت طالق طلقۃ تملکی بھا نفسك لانھا لاتملك نفسھا الابالبائن ۔
در میں ہے : اگر کہا “ تجھ پر ایسی طلاق جس سے تو اپنے اختیار میں ہوجائے “ تو بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ بیوی بائنہ طلاق کے بغیر اپنی مالك نہیں ہوسکتی(ت)
۲۴تجھ پر بائن طلاق
فی ردالمحتار تحت قولہ لانہ لا تملك نفسھا صرح بہ فی البدائع وقال اذاوصف الطلاق بصفۃ تدل علی البینونۃ کان بائنااھ وھذہ الصفۃ بمعنی قولہ انت طالق طلقۃ بائنۃ الخ۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول کہ “ اپنے نفس کی مالك نہ ہوگی “ کے تحت ہے اس کی تصریح بدائع میں کی ہے اور کہاکہ جب طلاق ایسے وصف سے موصوف ہوجو بائنہ ہونے پر دلالت کرے تو وہ طلاق بائنہ ہوگی اھ اور یہ صفت “ تو بائنہ طلاق والی ہے “ کے معنی میں ہوگی الخ(ت)
درمیں ہے : خاوند نے بیوی کو کہا تجھے بائن طلاق فحش تر طلاق شیطانی طلاق بدترطلاق بدعت طلاق یا پہاڑ برابر یا ہزار برابر کوٹھری بھر طلاق شدید طلاق طویل عریض سب سے بری سب سے شدید سب بڑی سب سے عریض سب سے طویل سب سے غلیظ سب سے عظیم طلاق۔ تو ان تمام صورتوں میں ایك بائنہ طلاق ہوگی جبکہ یہاں بھی تین کی نیت نہ کی ہو۔ اور اگر بائن کو ف کے ساتھ ذکر کرے مثلا تو طلاق والی “ فبائنہ “ کہا تو بائنہ ہوگی۔ ذخیرہ۔ (ت)
۲۳تجھ پرایسی طلاق جس سے تو اپنے اختیار میں ہوجائے
فی الدرکما یقع البائن لوقالت انت طالق طلقۃ تملکی بھا نفسك لانھا لاتملك نفسھا الابالبائن ۔
در میں ہے : اگر کہا “ تجھ پر ایسی طلاق جس سے تو اپنے اختیار میں ہوجائے “ تو بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ بیوی بائنہ طلاق کے بغیر اپنی مالك نہیں ہوسکتی(ت)
۲۴تجھ پر بائن طلاق
فی ردالمحتار تحت قولہ لانہ لا تملك نفسھا صرح بہ فی البدائع وقال اذاوصف الطلاق بصفۃ تدل علی البینونۃ کان بائنااھ وھذہ الصفۃ بمعنی قولہ انت طالق طلقۃ بائنۃ الخ۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول کہ “ اپنے نفس کی مالك نہ ہوگی “ کے تحت ہے اس کی تصریح بدائع میں کی ہے اور کہاکہ جب طلاق ایسے وصف سے موصوف ہوجو بائنہ ہونے پر دلالت کرے تو وہ طلاق بائنہ ہوگی اھ اور یہ صفت “ تو بائنہ طلاق والی ہے “ کے معنی میں ہوگی الخ(ت)
حوالہ / References
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۰
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۰
۲۵تجھ پروہ طلاق جس میں مجھے رجعت کااختیارنہیں اس میں بالاتفاق ہمارے ائمہ کے مذہب میں طلاق بائن ہوگی۔ اوراگر یہ کہا “ تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجعت کااختیار نہیں جوہرہ میں فرمایا کہ اس میں رجعی ہوگی اور بائن ہونے کو ضعیف بتایا مگر تبیین الحقائق اور غایۃ البیان اور فتح القدیر میں فرمایا کہ اول تو ہمیں رجعی ہونا مسلم نہیں اور ہو بھی تو اس کی وجہ یہ ہے یہ ایك بحث ہے جس سے اصلا مذہب ہمارے ائمہ کا اس صورت میں وقوع بائن ہونا ثابت نہیں ہوتا اگرچہ بحرالرائق میں اسی بحث کی بناء پر جزم فرمایاکہ یہاں وقوع بائن ہمارا مذہب ہے
فی البحر عن الجوھرۃ ان قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیك یلغوویملك الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلث فثلاث اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال واذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا اھ
بحر میں جوہرہ سے منقول ہے : اگر خاوند نے کہا تجھے طلاق اس شرط پر جس میں مجھے رجعت کا اختیار نہیں تویہ رجعی ہوگی اور بعض نے کہا ایك بائنہ واقع ہوگی اور اگر تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔ اور ہدایہ کے بیان سے ظاہر یہ ہے کہ دوسرا قول مختارمذہب ہے کیونکہ اس نے کہا کہ اگر طلاق کو کسی شدت اور زیادتی کے ساتھ موصوف کیا جائے تو وہ بائنہ ہوگی اھ(ت)
اس کے سوا تیسری صورت ایك اور ہے وہ یہ کہ تجھے طلاق ہے اور مجھے رجعت کا اختیار نہیں اس میں بلاشبہ رجعی ہوگی کما فی الشامی ویاتی(جیسا کہ شامی میں ہے اور آگے آئے گا۔ ت)یونہی اگر کہا تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ اس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یوں کہا تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یوں کہا کہ تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی تو ان سب صورتوں میں بلاخلاف رجعی ہونا چاہئے
والسر فیہ ان الصور ھھنا ثلث العطف والشرط و الوصف کقولہ انت طالق ولارجعۃ لی علیك اوانت طالق علی ان لارجعۃ لی علیك اوانت طالق طلقۃ
اس میں رازیہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں ایك عطف دوسری شرط تیسری وصف پہلی جیسے کہے “ تجھے طلاق اور مجھے رجوع کاحق تجھ پر نہیں ۔ “ دوسری جیسے کہے “ تجھے طلاق اس شرط پر کہ مجھے
فی البحر عن الجوھرۃ ان قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیك یلغوویملك الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلث فثلاث اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال واذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا اھ
بحر میں جوہرہ سے منقول ہے : اگر خاوند نے کہا تجھے طلاق اس شرط پر جس میں مجھے رجعت کا اختیار نہیں تویہ رجعی ہوگی اور بعض نے کہا ایك بائنہ واقع ہوگی اور اگر تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔ اور ہدایہ کے بیان سے ظاہر یہ ہے کہ دوسرا قول مختارمذہب ہے کیونکہ اس نے کہا کہ اگر طلاق کو کسی شدت اور زیادتی کے ساتھ موصوف کیا جائے تو وہ بائنہ ہوگی اھ(ت)
اس کے سوا تیسری صورت ایك اور ہے وہ یہ کہ تجھے طلاق ہے اور مجھے رجعت کا اختیار نہیں اس میں بلاشبہ رجعی ہوگی کما فی الشامی ویاتی(جیسا کہ شامی میں ہے اور آگے آئے گا۔ ت)یونہی اگر کہا تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ اس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یوں کہا تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یوں کہا کہ تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی تو ان سب صورتوں میں بلاخلاف رجعی ہونا چاہئے
والسر فیہ ان الصور ھھنا ثلث العطف والشرط و الوصف کقولہ انت طالق ولارجعۃ لی علیك اوانت طالق علی ان لارجعۃ لی علیك اوانت طالق طلقۃ
اس میں رازیہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں ایك عطف دوسری شرط تیسری وصف پہلی جیسے کہے “ تجھے طلاق اور مجھے رجوع کاحق تجھ پر نہیں ۔ “ دوسری جیسے کہے “ تجھے طلاق اس شرط پر کہ مجھے
حوالہ / References
بحرالرائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۹۱
لارجعۃ لی فیھا علیک الاول کلام مستقل لایغیر ماقبلہ فلایتغیرعن حکمہ الشرعی والثانی مغیر ویختلف النظرفیہ فمن نظر الی انہ تغیر لحکم الشرع الغاہ و اوقع الرجعی لان شرط الرجعی احق واوثق ومن شرط مالیس فی کتاب اﷲ فشرطہ باطل وان شرط مائۃ شرط کماارشد الیہ الحدیث الصحیح ومن ارجعہ الی معنی الوصف اوقع بہ البائن فلم یجعلہ تغیرابل تعبیراکانہ یقول ان مرادی طلاق لارجعۃ لی فیہ وانت تعلم ان الاول اظہر لکن ربما یؤید ھذالان الاعمال اولی من الاھمال واماالثالث فلاشبہۃ فیہ عندنا لما مرانہ اذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا اماما ذکرت انہ ینبغی وقوع الرجعی بلاخلاف فیما اذاقال انت طالق طلقۃ لااراجعك بعدھا فالوجہ فیہ ان الطلاق الرجعی لایستلزم الرجعۃ فلاینافی عدمھا انما ینافی عدم اختیارھا فحل محل ابعاد وبھذا القدر لایسلب منہ خیار الرجعۃ فمن جہتہ احتمال ھذاالمعنی لم یکن نصا فی ارادۃ
رجوع کا حق نہیں “ ۔ تیسری جیسے کہے “ تجھے وہ طلاق جس میں مجھے تجھ پر رجوع کا حق نہیں “ پہلی صورت میں عطف کی وجہ سے مستقل کلام ہے ماقبل کو تبدیل نہیں کرےگا اور ماقبل اپنے شرعی حکم سے متغیر نہ ہوگا اور دوسری صورت میں شرط کی وجہ سے ماقبل متغیر کرے گا اور اس میں وجہ مختلف ہے جس نے یہ وجہ بنائی کہ ماقبل کےلئے مغیر ہے اور شرعی حکم متغیر کررہا ہے تو اس شرط کو لغو قرار دیااور ماقبل کو رجعی قرار دیا کیونکہ اس کو رجعی کی شرط بنانا زیادہ وزنی ہے اور یہ کہا کہ اﷲ کے حکم کے خلاف شرط باطل ہے اگرچہ ایسی سوشرطیں بھی ہوں تو وہ باطل ہوں گی جیساکہ حدیث صحیح میں ارشاد ہے۔ اور تیسری صورت وصف تو جس نے یہاں وصف قرار دیا انہوں نے کہا اس وصف کی وجہ سے طلاق بائنہ ہوگی لہذا ان کے نزدیك یہ وصف پہلے بیان کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ اس کی تعبیرہے گویا اس نے کہا “ طلاق سے میری مراد ایسی طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو “ ۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلی صورت واضح ہے اور دوسری صورت میں شرط کو مؤثر ماننے کو ترجیح ہوگی کیونکہ کسی کلام کو عمل میں لانا اسے مہمل قراردینے سے بہتر ہے اور تیسری صورت میں کوئی شبہہ نہیں ہے کیونکہ جب طلاق کوکسی شدید اور زیادتی والے وصف سے موصوف کیا جائے تو وہ طلاق بائنہ ہوجاتی ہے لیکن خاوند کے اس قول میں “ تجھے طلاق وہ کہ میں تجھ سے رجوع نہ کروں گا “ کے متعلق جو میں نے ذکر کیا ہے کہ اس میں بالاتفاق رجعی
رجوع کا حق نہیں “ ۔ تیسری جیسے کہے “ تجھے وہ طلاق جس میں مجھے تجھ پر رجوع کا حق نہیں “ پہلی صورت میں عطف کی وجہ سے مستقل کلام ہے ماقبل کو تبدیل نہیں کرےگا اور ماقبل اپنے شرعی حکم سے متغیر نہ ہوگا اور دوسری صورت میں شرط کی وجہ سے ماقبل متغیر کرے گا اور اس میں وجہ مختلف ہے جس نے یہ وجہ بنائی کہ ماقبل کےلئے مغیر ہے اور شرعی حکم متغیر کررہا ہے تو اس شرط کو لغو قرار دیااور ماقبل کو رجعی قرار دیا کیونکہ اس کو رجعی کی شرط بنانا زیادہ وزنی ہے اور یہ کہا کہ اﷲ کے حکم کے خلاف شرط باطل ہے اگرچہ ایسی سوشرطیں بھی ہوں تو وہ باطل ہوں گی جیساکہ حدیث صحیح میں ارشاد ہے۔ اور تیسری صورت وصف تو جس نے یہاں وصف قرار دیا انہوں نے کہا اس وصف کی وجہ سے طلاق بائنہ ہوگی لہذا ان کے نزدیك یہ وصف پہلے بیان کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ اس کی تعبیرہے گویا اس نے کہا “ طلاق سے میری مراد ایسی طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو “ ۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلی صورت واضح ہے اور دوسری صورت میں شرط کو مؤثر ماننے کو ترجیح ہوگی کیونکہ کسی کلام کو عمل میں لانا اسے مہمل قراردینے سے بہتر ہے اور تیسری صورت میں کوئی شبہہ نہیں ہے کیونکہ جب طلاق کوکسی شدید اور زیادتی والے وصف سے موصوف کیا جائے تو وہ طلاق بائنہ ہوجاتی ہے لیکن خاوند کے اس قول میں “ تجھے طلاق وہ کہ میں تجھ سے رجوع نہ کروں گا “ کے متعلق جو میں نے ذکر کیا ہے کہ اس میں بالاتفاق رجعی
حوالہ / References
صحیح البخاری باب اذاالشرط فی شروطالاتحمل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
البینونۃ فلم یکن بائنا بالشک فاذا کان ھذا فی الوصف ففی الشرط اولی ھذاماظھر لی فلیراجع ولیحرر واﷲتعالی اعلم۔
طلاق ہونی چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق رجعی کو رجوع لازم نہیں ہے بلکہ خاوند کی مرضی پر ہے ہاں خاوند کا کہنا “ میں رجوع نہ کروں گا “ رجوع کے عمل کے خلاف ہے تو اس کا یہ کہنا رجوع سے بعید ہے منافی نہیں لہذا صرف اس وجہ سے خاوند کوعملا رجوع سے نہیں روکا جاسکتا تو اس احتمال کی بناپر مذکورہ الفاظ “ بائنہ طلاق کے لئے نص نہ بن سکیں گے “ تو اس شك کی وجہ سے طلاق بائنہ نہ ہوگی۔ جب وصف میں یہ گنجائش ہے تو شرط میں بطریق اولی گنجائش ہوگی یہ وہ ہے جو مجھ پر عیاں ہوا تاہم تحقیق کی طرف رجوع اور وضاحت کو اختیار کرنا چاہئے
۲۷مجھ سے پردہ کر
کما تقدم عن الشامی وھو قولہ استتری منی۔
جیسا کہ شامی کا بیان گزرا اور وہ تومجھ سے پردہ کر۔ (ت)
۲۸اے حرام ۲۹تو حرام ہے ۳۰تومجھ پر حرام ہے ۳۱میں نے تجھے حرام کیا ۳۲میں نے تجھے اپنے اوپرحرام کیا ۳۳میں تجھ پر حرام ہوں ۳۴میں نے اپنے آپ کو تجھ پر حرام کیا یہاں فقط حرام ہوں یا میں نے اپنے آپ کو حرام کیا کافی نہیں جب تك تجھ پر نہ کہے۔
فی ردالمحتار قولہ حرام سیاتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذلك بین محرمۃ وحرمتك سواء قال علی اولا اوحلال المسلمین علی حرام وکل حل علی حرام وانت معی فی الحرام وفی قولہ حرمت نفسی لابدان یقول علیک اھ قلت وھو کذلك بھذہ الالفاظ متعارف عندنا بخلاف مامر من قولہ حلال اﷲ او المسلمین اوکل حلال فبھذہ الثلثۃ لایقع الطلاق
ردالمحتار میں ہے : خاوند کاکہنا “ تو حرام ہے “ عنقریب آئے گا کہ اس سے ہمارے زمانہ میں طلاق کے لیے عرف بن جانے کی وجہ سے بغیر نیت طلاق ہوجائے گی۔ اس میں محرمۃ یا حرمتک(حرام شدہ یا تجھے حرام کرتا ہوں )میں کوئی فرق نہیں اور پھر “ مجھ پر “ کالفظ کہے یا نہ کہے تو بھی کوئی فرق نہ ہوگا اور خاوند کا کہنا مسلمانوں کا حلال مجھ پر حرام اور ہر حلال مجھ پر حرام تو میرے ساتھ حرام میں ہے ان میں کوئی فرق نہیں تاہم حرمت نفسی(میں نے اپنے نفس حرام کیا)کے
طلاق ہونی چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق رجعی کو رجوع لازم نہیں ہے بلکہ خاوند کی مرضی پر ہے ہاں خاوند کا کہنا “ میں رجوع نہ کروں گا “ رجوع کے عمل کے خلاف ہے تو اس کا یہ کہنا رجوع سے بعید ہے منافی نہیں لہذا صرف اس وجہ سے خاوند کوعملا رجوع سے نہیں روکا جاسکتا تو اس احتمال کی بناپر مذکورہ الفاظ “ بائنہ طلاق کے لئے نص نہ بن سکیں گے “ تو اس شك کی وجہ سے طلاق بائنہ نہ ہوگی۔ جب وصف میں یہ گنجائش ہے تو شرط میں بطریق اولی گنجائش ہوگی یہ وہ ہے جو مجھ پر عیاں ہوا تاہم تحقیق کی طرف رجوع اور وضاحت کو اختیار کرنا چاہئے
۲۷مجھ سے پردہ کر
کما تقدم عن الشامی وھو قولہ استتری منی۔
جیسا کہ شامی کا بیان گزرا اور وہ تومجھ سے پردہ کر۔ (ت)
۲۸اے حرام ۲۹تو حرام ہے ۳۰تومجھ پر حرام ہے ۳۱میں نے تجھے حرام کیا ۳۲میں نے تجھے اپنے اوپرحرام کیا ۳۳میں تجھ پر حرام ہوں ۳۴میں نے اپنے آپ کو تجھ پر حرام کیا یہاں فقط حرام ہوں یا میں نے اپنے آپ کو حرام کیا کافی نہیں جب تك تجھ پر نہ کہے۔
فی ردالمحتار قولہ حرام سیاتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذلك بین محرمۃ وحرمتك سواء قال علی اولا اوحلال المسلمین علی حرام وکل حل علی حرام وانت معی فی الحرام وفی قولہ حرمت نفسی لابدان یقول علیک اھ قلت وھو کذلك بھذہ الالفاظ متعارف عندنا بخلاف مامر من قولہ حلال اﷲ او المسلمین اوکل حلال فبھذہ الثلثۃ لایقع الطلاق
ردالمحتار میں ہے : خاوند کاکہنا “ تو حرام ہے “ عنقریب آئے گا کہ اس سے ہمارے زمانہ میں طلاق کے لیے عرف بن جانے کی وجہ سے بغیر نیت طلاق ہوجائے گی۔ اس میں محرمۃ یا حرمتک(حرام شدہ یا تجھے حرام کرتا ہوں )میں کوئی فرق نہیں اور پھر “ مجھ پر “ کالفظ کہے یا نہ کہے تو بھی کوئی فرق نہ ہوگا اور خاوند کا کہنا مسلمانوں کا حلال مجھ پر حرام اور ہر حلال مجھ پر حرام تو میرے ساتھ حرام میں ہے ان میں کوئی فرق نہیں تاہم حرمت نفسی(میں نے اپنے نفس حرام کیا)کے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۴۹
الابالنیۃ لعدم العرف فی زماننا۔
ساتھ علیک(تجھ پر)کہنا ضروری ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں ) اس لفظ میں ہمارے زمانے میں بھی یہی حکم ہے کہ بغیر نیت طلاق ہوجائے گی لیکن “ اﷲکا حلال یامسلمانوں کا حلال اور ہر حلال مجھ پر حرام ہے “ اس کے برخلاف ہے ان تین الفاظ سے بغیر نیت طلاق نہ ہوگی کیونکہ ہمارے زمانے میں یہ طلاق کےلئے معروف نہیں ہیں ۔ (ت)
(۳۵)ہزار طلاق کے برابرایك طلاق
شامی عن البحر وفی واحدۃ کالف واحدۃ اتفاقا وان نوی الثلث ۔
شامی نے بحر سے نقل کیا “ ہزار طلاق کے برابر ایك طلاق “ میں اتفاق ہے کہ ایك ہی ہوگی اگرچہ وہ تین کی نیت کرے۔ (ت)
ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق بائن کاحکم دیا جائے گا۔
رجعی کے بعض الفاظ یہ ہیں :
۱میں نے تجھے طلاق دی ۲ اے مطلقہ بتشدید لام ۳اے طلاق گرفتہ ۴اے طلاق دی گئی ۵اے طلاقن ۶اے طلاق شدہ ۷اے طلاق یافتہ ۸اے طلاق کردہ
فی الدروانت طالق ومطلقۃ بالتشدید ۔
درمیں ہے “ تو طلاق والی ہے یا طلاق دی ہوئی “ بالتشدید۔ (ت)
۹اے طلاق دادہ
فی الخزانۃ ولو قال لھا ای طلاق دادہ یقع واحدۃ ۔
خزانہ میں ہے کہ اگر کہا “ اے طلاق دی ہوئی “ تو ایك طلاق واقع ہوگی(ت)
مگر اس عورت نے اگر اپنے پہلے شوہر سے طلاق پائی تھی بایں معنی اس نے یہ آٹھ الفاظ کہے تو طلاق نہ ہوگی
فی الخانیۃ رجل قال لامرأتہ یا مطلقۃ وکان لھا زوج قبلہ وقد کان طلقھا ذلک
خانیہ میں ہے : اگر خاوند نے بیوی کو کہا “ اے طلاق دی ہوئی “ جبکہ اس بیوی کوپہلے کسی خاوند نے طلاق
ساتھ علیک(تجھ پر)کہنا ضروری ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں ) اس لفظ میں ہمارے زمانے میں بھی یہی حکم ہے کہ بغیر نیت طلاق ہوجائے گی لیکن “ اﷲکا حلال یامسلمانوں کا حلال اور ہر حلال مجھ پر حرام ہے “ اس کے برخلاف ہے ان تین الفاظ سے بغیر نیت طلاق نہ ہوگی کیونکہ ہمارے زمانے میں یہ طلاق کےلئے معروف نہیں ہیں ۔ (ت)
(۳۵)ہزار طلاق کے برابرایك طلاق
شامی عن البحر وفی واحدۃ کالف واحدۃ اتفاقا وان نوی الثلث ۔
شامی نے بحر سے نقل کیا “ ہزار طلاق کے برابر ایك طلاق “ میں اتفاق ہے کہ ایك ہی ہوگی اگرچہ وہ تین کی نیت کرے۔ (ت)
ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق بائن کاحکم دیا جائے گا۔
رجعی کے بعض الفاظ یہ ہیں :
۱میں نے تجھے طلاق دی ۲ اے مطلقہ بتشدید لام ۳اے طلاق گرفتہ ۴اے طلاق دی گئی ۵اے طلاقن ۶اے طلاق شدہ ۷اے طلاق یافتہ ۸اے طلاق کردہ
فی الدروانت طالق ومطلقۃ بالتشدید ۔
درمیں ہے “ تو طلاق والی ہے یا طلاق دی ہوئی “ بالتشدید۔ (ت)
۹اے طلاق دادہ
فی الخزانۃ ولو قال لھا ای طلاق دادہ یقع واحدۃ ۔
خزانہ میں ہے کہ اگر کہا “ اے طلاق دی ہوئی “ تو ایك طلاق واقع ہوگی(ت)
مگر اس عورت نے اگر اپنے پہلے شوہر سے طلاق پائی تھی بایں معنی اس نے یہ آٹھ الفاظ کہے تو طلاق نہ ہوگی
فی الخانیۃ رجل قال لامرأتہ یا مطلقۃ وکان لھا زوج قبلہ وقد کان طلقھا ذلک
خانیہ میں ہے : اگر خاوند نے بیوی کو کہا “ اے طلاق دی ہوئی “ جبکہ اس بیوی کوپہلے کسی خاوند نے طلاق
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۴
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
خزانۃ المفتین فصل فی صریح الطلاق قلمی نسخہ ۱ / ۱۱۰
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
خزانۃ المفتین فصل فی صریح الطلاق قلمی نسخہ ۱ / ۱۱۰
الزوج ان لم ینوبکلامہ الاخبار طلقت وان قال عنیت بہ الاخبار دین فیما بینہ وبین اﷲتعالی وھل یدین فی القضاء اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یدین ۔
دی تھی تو اگر خاوند نے پہلے واقعہ کی حکایت کی نیت نہ کی تو طلاق ہوجائے گی اور اگر اس نے کہا کہ میں نے پہلے واقعہ کی حکایت اور خبردی ہے تو دیانۃ یعنی اﷲ تعالی کے ہاں اس بات کو تسلیم کیا جائے گا لیکن کیا قضاء بھی اس کی بات تسلیم کی جائےگی یانہیں اس میں روایات کا اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ تصدیق کیجائے اور طلاق نہ ہونے کا فیصلہ دیاجائے گا۔ (ت)
۱۰میں نے تجھے چھوڑدیا
فی الھندیۃ ترابھشتم فھذا تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا “ میں نے تجھے چھوڑدیا “ تو عرف میں یہ “ میں نے تجھے طلاق دی “ کے معنی میں ہے حتی کہ اس سے رجعی طلاق ہوگی(ت)
۱۱میں نے تجھے فارغخطی یا۱۲فارکھتی دی
فانہ بلسان کثیر من اھل الحرف الدنیۃ کالحائکین وغیرہم صریح فی الطلاق بل کثیر منھم لایعرف للطلاق لفظا غیرھذا ومعلوم ان کلام کل حالف یحمل علی عرف عــــہ خاصۃ ولایجب شیوع ذلك العرف فی الناس عامۃ کما صرح بہ المحقق حیث اطلق۔
تو یہ لفظ کسبی لوگوں کی زبان میں صریح کے معنی میں ہے بلکہ بہت سے لوگ اس کے علاوہ کوئی لفظ طلاق کےلئے سمجھتے ہی نہیں اور یہ بات مسلمہ ہے حلف والے کی کلام کو اس کے خاص عرف پر محمول کیا جائے گا اور اس عرف کا تمام لوگوں میں معروف ہونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ اس پر محقق ابن ہمام نے تصریح کی ہے(ت)
۱۳تجھے تیرے شوہر نے طلاق دی اس کا بھی وہی حکم ہے
عــــہ : ھکذا فی الاصل بقلم الناسخ والصواب عندی علی عرفہ۔ حامد رضا غفرلہ۔
اصل میں ناقل کے قلم سے اسی طرح ہے جبکہ میرے نزدیك علی عرفہ درست ہے۔ حامد رضاغفرلہ(ت)
دی تھی تو اگر خاوند نے پہلے واقعہ کی حکایت کی نیت نہ کی تو طلاق ہوجائے گی اور اگر اس نے کہا کہ میں نے پہلے واقعہ کی حکایت اور خبردی ہے تو دیانۃ یعنی اﷲ تعالی کے ہاں اس بات کو تسلیم کیا جائے گا لیکن کیا قضاء بھی اس کی بات تسلیم کی جائےگی یانہیں اس میں روایات کا اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ تصدیق کیجائے اور طلاق نہ ہونے کا فیصلہ دیاجائے گا۔ (ت)
۱۰میں نے تجھے چھوڑدیا
فی الھندیۃ ترابھشتم فھذا تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا ۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا “ میں نے تجھے چھوڑدیا “ تو عرف میں یہ “ میں نے تجھے طلاق دی “ کے معنی میں ہے حتی کہ اس سے رجعی طلاق ہوگی(ت)
۱۱میں نے تجھے فارغخطی یا۱۲فارکھتی دی
فانہ بلسان کثیر من اھل الحرف الدنیۃ کالحائکین وغیرہم صریح فی الطلاق بل کثیر منھم لایعرف للطلاق لفظا غیرھذا ومعلوم ان کلام کل حالف یحمل علی عرف عــــہ خاصۃ ولایجب شیوع ذلك العرف فی الناس عامۃ کما صرح بہ المحقق حیث اطلق۔
تو یہ لفظ کسبی لوگوں کی زبان میں صریح کے معنی میں ہے بلکہ بہت سے لوگ اس کے علاوہ کوئی لفظ طلاق کےلئے سمجھتے ہی نہیں اور یہ بات مسلمہ ہے حلف والے کی کلام کو اس کے خاص عرف پر محمول کیا جائے گا اور اس عرف کا تمام لوگوں میں معروف ہونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ اس پر محقق ابن ہمام نے تصریح کی ہے(ت)
۱۳تجھے تیرے شوہر نے طلاق دی اس کا بھی وہی حکم ہے
عــــہ : ھکذا فی الاصل بقلم الناسخ والصواب عندی علی عرفہ۔ حامد رضا غفرلہ۔
اصل میں ناقل کے قلم سے اسی طرح ہے جبکہ میرے نزدیك علی عرفہ درست ہے۔ حامد رضاغفرلہ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰۹
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابی فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ ۱ / ۳۸۹
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابی فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ ۱ / ۳۸۹
فی الھندیۃ سئل بعضھم عن سکران قال لامرأتہ
ای سرخ لبك بماہ ماند رویت
کہ بانوی من طلاق دادہ شویت
قال ینظر ان کانت المرأۃ ثیبا وکان قبل ھذا لھا زوج طلقھا ثم تزوجہا ھذا فانہ لایقع الطلاق بھذا اللفظ ان لم تکن لہ نیۃ الطلاق وان لم یکن لہ قبل ھذا زوج یقع الطلاق نوی اولم ینوکذافی التتارخانیۃ ۔
ہندیہ میں ہے کہ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ جب کوئی شخص نشے میں اپنی بیوی کو یوں کہے :
“ اے سرخ رخسارچاند جیسے چہرے والی میری بانو! تجھے طلاق دی گئی “
تو انہوں نے جواب دیا کہ دیکھا جائے گا کہ اگر بیوی پہلے کسی خاوند سے مطلقہ اور مدخولہ ہے اور بعد میں اس سے نکاح کیا تو پھر اس لفظ سے طلاق نہ ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی ہو اور اگر وہ بیوی کسی سے مطلقہ نہ ہوئی تھی تو نیت کی یا نہ کی ہرطرح طلاق ہوجائے گی جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
۱۵تجھ پر طلاق
فانہ من اصرح صریح فی زماننا وعرفنا فلایرد مافی البحر و ذلك مثل قول الدر علی الطلاق یقع بلانیۃ للعرف قال الشامی ولاینافی ذلك مایاتی من انہ لوقال طلاقك علی لم یقع لان ذاك عند عدم غلبۃ العرف ۔ الخ۔
تو یہ صریح طلاق سے بھی زیادہ واضح طلاق ہے ہمارے زمانہ اور عرف میں لہذا بحر کابیان یہاں اعتراض کے طور پر وارد نہ ہوگا اور جیسا کہ در کا قول کہ “ مجھ پر طلاق ہے “ کہا توبغیر نیت بھی طلاق ہوجائے گی کیونکہ یہ عرف میں طلاق ہے تو اس پر علامہ شامی نے فرمایا : در کی یہ بات آئندہ آنے والی اس بات کے منافی نہیں جس میں کہا گیا ہے کہ “ مجھ پر طلاق “ کہنے پر طلاق نہ ہوگی یہ اس لئے کہ یہ وہاں ہے جہاں یہ لفظ طلاق کےلئے عرف غالب نہ ہو الخ(ت)
۱۶طلاق ہوجا
فی الدرویدخل طلاق باش بلافرق بین
در میں ہے کہ اگرکہا “ طلاق ہو “ یہ بھی صریح طلاق
ای سرخ لبك بماہ ماند رویت
کہ بانوی من طلاق دادہ شویت
قال ینظر ان کانت المرأۃ ثیبا وکان قبل ھذا لھا زوج طلقھا ثم تزوجہا ھذا فانہ لایقع الطلاق بھذا اللفظ ان لم تکن لہ نیۃ الطلاق وان لم یکن لہ قبل ھذا زوج یقع الطلاق نوی اولم ینوکذافی التتارخانیۃ ۔
ہندیہ میں ہے کہ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ جب کوئی شخص نشے میں اپنی بیوی کو یوں کہے :
“ اے سرخ رخسارچاند جیسے چہرے والی میری بانو! تجھے طلاق دی گئی “
تو انہوں نے جواب دیا کہ دیکھا جائے گا کہ اگر بیوی پہلے کسی خاوند سے مطلقہ اور مدخولہ ہے اور بعد میں اس سے نکاح کیا تو پھر اس لفظ سے طلاق نہ ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی ہو اور اگر وہ بیوی کسی سے مطلقہ نہ ہوئی تھی تو نیت کی یا نہ کی ہرطرح طلاق ہوجائے گی جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
۱۵تجھ پر طلاق
فانہ من اصرح صریح فی زماننا وعرفنا فلایرد مافی البحر و ذلك مثل قول الدر علی الطلاق یقع بلانیۃ للعرف قال الشامی ولاینافی ذلك مایاتی من انہ لوقال طلاقك علی لم یقع لان ذاك عند عدم غلبۃ العرف ۔ الخ۔
تو یہ صریح طلاق سے بھی زیادہ واضح طلاق ہے ہمارے زمانہ اور عرف میں لہذا بحر کابیان یہاں اعتراض کے طور پر وارد نہ ہوگا اور جیسا کہ در کا قول کہ “ مجھ پر طلاق ہے “ کہا توبغیر نیت بھی طلاق ہوجائے گی کیونکہ یہ عرف میں طلاق ہے تو اس پر علامہ شامی نے فرمایا : در کی یہ بات آئندہ آنے والی اس بات کے منافی نہیں جس میں کہا گیا ہے کہ “ مجھ پر طلاق “ کہنے پر طلاق نہ ہوگی یہ اس لئے کہ یہ وہاں ہے جہاں یہ لفظ طلاق کےلئے عرف غالب نہ ہو الخ(ت)
۱۶طلاق ہوجا
فی الدرویدخل طلاق باش بلافرق بین
در میں ہے کہ اگرکہا “ طلاق ہو “ یہ بھی صریح طلاق
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ فصل فیمن یقع طلاقہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵۴
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۲
عالم وجاہل ۔
کے حکم میں داخل ہے خواہ عالم کہے یاجاہل کہے کوئی فرق نہیں ۔ (ت)
۱۷تو طلاق ہے ۱۸تو طلاق ہوگئی
فی الدروفی انت الطلاق او طلاق یقع واحدۃ رجعیۃ ان لم ینوشیئا اونوی واحدۃ او ثنتین فان نوی ثلاثا فثلث ۔
درمیں ہے : اگر کہا “ تو طلاق ہے “ تو ایك رجعی طلاق ہوگی خواہ کوئی نیت نہ ہویا ایك یادو کی نیت کی ہو اور اگر تین طلاق کی نیت سے یہ لفظ کہا تو تین طلاقیں ہوں گی۔ (ت)
۱۹طلاق لے
فی ردالمحتار خذی طلاقك فقالت اخذت فقد صحح الوقوع بہ بلااشتراط نیۃ کما فی الفتح وکذایشترط قولھا اخذت کما فی البحر ۔
ردالمحتار میں ہے : اگرکہا “ اپنی طلاق لے “ جواب میں بیوی نے کہا “ میں نے لی “ تو نیت کے بغیر بھی طلاق ہوگی صحیح یہی ہے جیسا کہ فتح میں ہے اور اس میں عورت کا جواب میں “ میں نے لی “ کہنا بھی شرط نہیں ہے جیساکہ بحر میں ہے(ت)
وہ باہر جاتی تھی کہ کہا۲۰طلاق لئے جا
فی الخانیۃ واذاجرت الخصومۃ بینھا وبین زوجھا فقامت لتخرج فقال(الزوج سہ طلاق باخویشتن طلاق ببر)فقال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲتعالی ان نوی الایقاء یقع فان لم تکن لہ نیۃ فکذلك لانہ ایقاء ظاھرا ۔
خانیہ میں ہے : اگر خاوند بیوی میں جھگڑا ہوا اور بیوی اٹھ کر باہر جانے لگی تو خاوند نے کہا “ اپنے ہمراہ تین طلاقیں لے جا “ اس پر شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : اگرخاوند نے طلاق واقع کرنے کی نیت سے کہا تو طلاق ہوجائے گی اور نیت نہ ہو تو بھی طلاق ہوجائیگی کیونکہ اس کلام کاظاہر طلاق ہے۔ (ت)
کے حکم میں داخل ہے خواہ عالم کہے یاجاہل کہے کوئی فرق نہیں ۔ (ت)
۱۷تو طلاق ہے ۱۸تو طلاق ہوگئی
فی الدروفی انت الطلاق او طلاق یقع واحدۃ رجعیۃ ان لم ینوشیئا اونوی واحدۃ او ثنتین فان نوی ثلاثا فثلث ۔
درمیں ہے : اگر کہا “ تو طلاق ہے “ تو ایك رجعی طلاق ہوگی خواہ کوئی نیت نہ ہویا ایك یادو کی نیت کی ہو اور اگر تین طلاق کی نیت سے یہ لفظ کہا تو تین طلاقیں ہوں گی۔ (ت)
۱۹طلاق لے
فی ردالمحتار خذی طلاقك فقالت اخذت فقد صحح الوقوع بہ بلااشتراط نیۃ کما فی الفتح وکذایشترط قولھا اخذت کما فی البحر ۔
ردالمحتار میں ہے : اگرکہا “ اپنی طلاق لے “ جواب میں بیوی نے کہا “ میں نے لی “ تو نیت کے بغیر بھی طلاق ہوگی صحیح یہی ہے جیسا کہ فتح میں ہے اور اس میں عورت کا جواب میں “ میں نے لی “ کہنا بھی شرط نہیں ہے جیساکہ بحر میں ہے(ت)
وہ باہر جاتی تھی کہ کہا۲۰طلاق لئے جا
فی الخانیۃ واذاجرت الخصومۃ بینھا وبین زوجھا فقامت لتخرج فقال(الزوج سہ طلاق باخویشتن طلاق ببر)فقال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲتعالی ان نوی الایقاء یقع فان لم تکن لہ نیۃ فکذلك لانہ ایقاء ظاھرا ۔
خانیہ میں ہے : اگر خاوند بیوی میں جھگڑا ہوا اور بیوی اٹھ کر باہر جانے لگی تو خاوند نے کہا “ اپنے ہمراہ تین طلاقیں لے جا “ اس پر شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا : اگرخاوند نے طلاق واقع کرنے کی نیت سے کہا تو طلاق ہوجائے گی اور نیت نہ ہو تو بھی طلاق ہوجائیگی کیونکہ اس کلام کاظاہر طلاق ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۲
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۲
۲۱اپنی طلاق اٹھا اور روانہ ہو
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ ولو قال لھاسہ طلاق خود بردار ورفتی یقع بدون النیۃ ۔
ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے : اگر کہا “ تو اپنی طلاق اٹھا اور جا “ تو بغیر نیت بھی طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
۲۲میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی
فی الخزانۃ عن الخلاصۃ ولو قال سہ طلاق بکرانہ چادر تو بربستم بروتطلق ۔
خزانہ میں خلاصہ سے منقول ہے : اگرکہا “ میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی جا “ توطلاق ہوگی(ت)
۲۳جاتجھ پرطلاق(اور اگر صرف جا بنیت طلاق کہتا تو بائن تھی)
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق ھل تطلق طلاقا رجعیا ام بائنا واذاقلتم تطلق رجعیا فما الفرق بینہ وبین مااذا اقتصر علی قولہ روحی ناویا بہ طلاقا حیث افتیتم بانہ بائن اجاب بانہ فی قولہ روحی طالق معناہ روحی بصفۃ الطلاق فوقع بالصریح بخلاف روحی فان وقوعہ بلفظ الکنایۃ ۔
خیریہ میں ہے : ان سے سوال کیاگیا کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا “ جا تجھ پر طلاق رجعی ہوگی یابائنہ ہوگی۔ اگر آپ کہیں کہ یہ رجعی ہے تو پھر صرف “ جا “ کہنے میں اور اس میں کیا فرق ہوگا جبکہ طلاق کی نیت سے صرف “ جا “ کہا تو آپ کا فتوی ہے کہ یہ طلاق بائنہ ہے۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا “ جا تجھ پر طلاق “ کامطلب یہ ہے کہ تو طلاق کی صفت سے موصوف ہوکر جا تو یہ صریح طلاق ہے اس لئے رجعی ہوگی اس کے برخلاف اگر صرف “ جا “ کہا توصریح نہیں بلکہ کنایہ ہے اس لئے یہ بائنہ ہوگی۔ (ت)
۲۴تجھے طلاق یا طلاق تجھ کو
فی الھندیۃ خزانۃ المفتین ولو قال
ہندیہ میں خزانۃ المفتین سے منقول ہے “ تجھے طلاق
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ ولو قال لھاسہ طلاق خود بردار ورفتی یقع بدون النیۃ ۔
ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے : اگر کہا “ تو اپنی طلاق اٹھا اور جا “ تو بغیر نیت بھی طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
۲۲میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی
فی الخزانۃ عن الخلاصۃ ولو قال سہ طلاق بکرانہ چادر تو بربستم بروتطلق ۔
خزانہ میں خلاصہ سے منقول ہے : اگرکہا “ میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی جا “ توطلاق ہوگی(ت)
۲۳جاتجھ پرطلاق(اور اگر صرف جا بنیت طلاق کہتا تو بائن تھی)
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق ھل تطلق طلاقا رجعیا ام بائنا واذاقلتم تطلق رجعیا فما الفرق بینہ وبین مااذا اقتصر علی قولہ روحی ناویا بہ طلاقا حیث افتیتم بانہ بائن اجاب بانہ فی قولہ روحی طالق معناہ روحی بصفۃ الطلاق فوقع بالصریح بخلاف روحی فان وقوعہ بلفظ الکنایۃ ۔
خیریہ میں ہے : ان سے سوال کیاگیا کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا “ جا تجھ پر طلاق رجعی ہوگی یابائنہ ہوگی۔ اگر آپ کہیں کہ یہ رجعی ہے تو پھر صرف “ جا “ کہنے میں اور اس میں کیا فرق ہوگا جبکہ طلاق کی نیت سے صرف “ جا “ کہا تو آپ کا فتوی ہے کہ یہ طلاق بائنہ ہے۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا “ جا تجھ پر طلاق “ کامطلب یہ ہے کہ تو طلاق کی صفت سے موصوف ہوکر جا تو یہ صریح طلاق ہے اس لئے رجعی ہوگی اس کے برخلاف اگر صرف “ جا “ کہا توصریح نہیں بلکہ کنایہ ہے اس لئے یہ بائنہ ہوگی۔ (ت)
۲۴تجھے طلاق یا طلاق تجھ کو
فی الھندیۃ خزانۃ المفتین ولو قال
ہندیہ میں خزانۃ المفتین سے منقول ہے “ تجھے طلاق
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
خزانہ المفتین فصل فی صریح الطلاق قلمی نسخہ ۱ / ۱۰۸
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق بولاق مصر ۱ / ۵۱
خزانہ المفتین فصل فی صریح الطلاق قلمی نسخہ ۱ / ۱۰۸
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق بولاق مصر ۱ / ۵۱
لھا تراطلاق او طلاق ترا فھی طلاق ولافرق بین التقدیم والتاخیر ۔
یا طلاق تجھے “ تو اس تقدیم و تاخیر میں کوئی فرق نہیں ہرطرح یہ طلاق ہوجائے گی(ت)
یوں ہی وہ الفاظ جو کچی زبان والے کہتے ہیں مثلا۲۶تلاق ۲۷تلاک ۲۸تلاغ ۲۹تلاکھ ۳۰تلاخ ۳۱تلاکھ ۳۲تلاخ ھذا ن بتشدید اللام(یہ دونوں الفاظ لام مشدد کے ساتھ بھی ہیں ۔ ت)بلکہ توتلے کی زبان سے۳۳تلات
وعلی ھذاالقیاس وکلہ ظاھر فی الطحطاوی ذکرفی البحران الفاظ المصحفۃ خمسۃ وھی تلاق وتلاغ وطلاك وطلاغ تلاك زادفی النھر تلاع وتلال و ینبغی ان یقال ان الفاء اماطاء اوتاء واللام اماقاف اوعین اوغین اوکاف اولام واثنان فی خمسۃ بعشرۃ الصریح منھا الطاء مع القاف وماعداذلك مصحف اھ اقول : وذکر فی الخلاصۃ رجل قال لامرأتہ تراتلاق ھھنا خمسۃ الفاظ(وعد منھا)طلاغ وتلاك عن الامام ابی بکر محمد بن الفضل انہ یقع وان تعمد وقصدان لایقع عــــہ قضاء ویصدق دیانۃ ۔
اسی پرقیاس ہے اور سب ظاہر ہے۔ طحطاوی میں ہے کہ بحر میں ہے کہ تبدیل شدہ الفاظ پانچ ہیں : تلاق تلاغ طلاک طلاغ تلاک ۔ اور نہر میں تلاع اور تلال کوبھی شامل کیا ہے۔ تو یہاں یہ بیان مناسب ہوگا ان الفاظ میں پہلا حرف(فاء کلمہ)ت یاط ہے اور آخری حرف(لام کلمہ) ق ع غ ک یال ہے تو یوں پہلے حرف کے دو۲ احتمال کو آخری حرف کے پانچ احتمالات میں ضرب سے کل دس۱۰ صورتیں (الفاظ)ہوئیں ان میں سے ط اور ق کے ساتھ لفظ طلاق میں صریح ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام تبدیل شدہ ہیں اھ___اقول : (میں کہتا ہوں کہ)خلاصہ میں یوں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے بیوی کو کہا تجھے تلاق ہے یہاں پانچ الفاظ ہیں ان میں انہوں نے طلاغ اور تلاك کو شمار کیا ہے اور کہا کہ امام ابوبکر محمد بن فضل نے فرمایا کہ ان
عــــہ : ھھنا سقط والعبارۃ فی الخلاصۃ ھکذا ولایصدق قضاءحامد رضاغفرلہ۔
یہاں کچھ عبارت رہ گئی ہے خلاصہ میں عبارت اس طرح ہے قضاء تصدیق نہ کی جائے ۱۲ حامد رضاغفرلہ(ت)
یا طلاق تجھے “ تو اس تقدیم و تاخیر میں کوئی فرق نہیں ہرطرح یہ طلاق ہوجائے گی(ت)
یوں ہی وہ الفاظ جو کچی زبان والے کہتے ہیں مثلا۲۶تلاق ۲۷تلاک ۲۸تلاغ ۲۹تلاکھ ۳۰تلاخ ۳۱تلاکھ ۳۲تلاخ ھذا ن بتشدید اللام(یہ دونوں الفاظ لام مشدد کے ساتھ بھی ہیں ۔ ت)بلکہ توتلے کی زبان سے۳۳تلات
وعلی ھذاالقیاس وکلہ ظاھر فی الطحطاوی ذکرفی البحران الفاظ المصحفۃ خمسۃ وھی تلاق وتلاغ وطلاك وطلاغ تلاك زادفی النھر تلاع وتلال و ینبغی ان یقال ان الفاء اماطاء اوتاء واللام اماقاف اوعین اوغین اوکاف اولام واثنان فی خمسۃ بعشرۃ الصریح منھا الطاء مع القاف وماعداذلك مصحف اھ اقول : وذکر فی الخلاصۃ رجل قال لامرأتہ تراتلاق ھھنا خمسۃ الفاظ(وعد منھا)طلاغ وتلاك عن الامام ابی بکر محمد بن الفضل انہ یقع وان تعمد وقصدان لایقع عــــہ قضاء ویصدق دیانۃ ۔
اسی پرقیاس ہے اور سب ظاہر ہے۔ طحطاوی میں ہے کہ بحر میں ہے کہ تبدیل شدہ الفاظ پانچ ہیں : تلاق تلاغ طلاک طلاغ تلاک ۔ اور نہر میں تلاع اور تلال کوبھی شامل کیا ہے۔ تو یہاں یہ بیان مناسب ہوگا ان الفاظ میں پہلا حرف(فاء کلمہ)ت یاط ہے اور آخری حرف(لام کلمہ) ق ع غ ک یال ہے تو یوں پہلے حرف کے دو۲ احتمال کو آخری حرف کے پانچ احتمالات میں ضرب سے کل دس۱۰ صورتیں (الفاظ)ہوئیں ان میں سے ط اور ق کے ساتھ لفظ طلاق میں صریح ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام تبدیل شدہ ہیں اھ___اقول : (میں کہتا ہوں کہ)خلاصہ میں یوں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے بیوی کو کہا تجھے تلاق ہے یہاں پانچ الفاظ ہیں ان میں انہوں نے طلاغ اور تلاك کو شمار کیا ہے اور کہا کہ امام ابوبکر محمد بن فضل نے فرمایا کہ ان
عــــہ : ھھنا سقط والعبارۃ فی الخلاصۃ ھکذا ولایصدق قضاءحامد رضاغفرلہ۔
یہاں کچھ عبارت رہ گئی ہے خلاصہ میں عبارت اس طرح ہے قضاء تصدیق نہ کی جائے ۱۲ حامد رضاغفرلہ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
طحطاوی علی الدرالمختار باب الصریح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۱۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق جنس آخرفی الفاظ الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۸۳
طحطاوی علی الدرالمختار باب الصریح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۱۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق جنس آخرفی الفاظ الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۸۳
الفاظ سے طلاق واقع ہوگی اور اگر وہ قاضی کے ہاں کہے میں نے ان الفاظ سے یہ قصد کیا ہے کہ طلاق واقع نہ تو قاضی اس کی تصدیق نہ کرے گا لیکن دیانۃ تصدیق کی جائے گی۔ (ت)
کسی نے کہا تیری عورت پر طلاق ہے کہا۳۳ہاں یا۳۴کیوں نہیں
فی الدرولوقیل لہ طلقت امرأتك فقال نعم اوبلی بالھجاء طلقت بحر ۔
درمیں ہے : اگر کسی نے خاوند سے پوچھا “ تونے بیوی کو طلاق دی ہے “ تواس نے جواب میں کہا “ ہاں “ یا “ کیوں نہیں “ کے ہجے کرتے ہوئے توطلاق ہوجائے گی بحر۔(ت)
مگرجب ایسی سخت آواز ایسے لہجہ سے کہا جس سے انکا وعدم اقرار سمجھاجائے یہ فائدہ اکثر جگہ قابل لحاظ ہے فی الخانیۃ والخزانۃ وغیرہما(خانیہ اور خزانہ وغیرہما میں ہے۔ ت)یا کہا تیری عورت پر طلاق نہیں کہا کیوں نہیں (اور اگر کہے نہ یا ہاں تو طلاق نہ ہوگی)
اما الاول فانہ صریح فی الانکار اما الاخر ففیہ احتمالان اثبات النفی واثبات المنفی ای الطلاق فلایقع بالشک اقول ولایردمافی الفتح من عدم الفرق بین نعم وبلی لان مبناہ علی العرف کما قال صاحب الفتح والذی ینبغی عدم الفرق فان اھل العرف لایفرقون بل یفھمون منھما ایجاب المنفی اھ امافی عرفنا فمعناہ کما قلت فی ردالمحتار عن البحر ان موجب نعم تصدیق
ان میں پہلا لفظ(نہ)صریح انکار ہے اور دوسرا(ہاں )تو اس میں کئی احتمالات ہیں نفی کااثبات یا منفی یعنی طلاق کا اثبات تو ایسی صورت میں شك ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ اقول(میں کہتا ہوں )فتح میں یہاں “ ہاں “ اور “ کیوں نہیں “ میں عدم فرق کوذکر کرنا قابل اعتراض نہیں کیونکہ ان کے اس بیان کا مبنی عرف پر ہے جیسا کہ صاحب فتح نے خود بیان کیا ہے کہ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں میں فرق نہ ہو کیونکہ عرف والے ان میں فرق نہیں کرتے بلکہ وہ دونوں میں منفی کا اثبات سمجھتے ہیں اھ لیکن ہمارے عرف میں ان دونوں میں فرق ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے۔ ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ نعم(ہاں )کا
کسی نے کہا تیری عورت پر طلاق ہے کہا۳۳ہاں یا۳۴کیوں نہیں
فی الدرولوقیل لہ طلقت امرأتك فقال نعم اوبلی بالھجاء طلقت بحر ۔
درمیں ہے : اگر کسی نے خاوند سے پوچھا “ تونے بیوی کو طلاق دی ہے “ تواس نے جواب میں کہا “ ہاں “ یا “ کیوں نہیں “ کے ہجے کرتے ہوئے توطلاق ہوجائے گی بحر۔(ت)
مگرجب ایسی سخت آواز ایسے لہجہ سے کہا جس سے انکا وعدم اقرار سمجھاجائے یہ فائدہ اکثر جگہ قابل لحاظ ہے فی الخانیۃ والخزانۃ وغیرہما(خانیہ اور خزانہ وغیرہما میں ہے۔ ت)یا کہا تیری عورت پر طلاق نہیں کہا کیوں نہیں (اور اگر کہے نہ یا ہاں تو طلاق نہ ہوگی)
اما الاول فانہ صریح فی الانکار اما الاخر ففیہ احتمالان اثبات النفی واثبات المنفی ای الطلاق فلایقع بالشک اقول ولایردمافی الفتح من عدم الفرق بین نعم وبلی لان مبناہ علی العرف کما قال صاحب الفتح والذی ینبغی عدم الفرق فان اھل العرف لایفرقون بل یفھمون منھما ایجاب المنفی اھ امافی عرفنا فمعناہ کما قلت فی ردالمحتار عن البحر ان موجب نعم تصدیق
ان میں پہلا لفظ(نہ)صریح انکار ہے اور دوسرا(ہاں )تو اس میں کئی احتمالات ہیں نفی کااثبات یا منفی یعنی طلاق کا اثبات تو ایسی صورت میں شك ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ اقول(میں کہتا ہوں )فتح میں یہاں “ ہاں “ اور “ کیوں نہیں “ میں عدم فرق کوذکر کرنا قابل اعتراض نہیں کیونکہ ان کے اس بیان کا مبنی عرف پر ہے جیسا کہ صاحب فتح نے خود بیان کیا ہے کہ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں میں فرق نہ ہو کیونکہ عرف والے ان میں فرق نہیں کرتے بلکہ وہ دونوں میں منفی کا اثبات سمجھتے ہیں اھ لیکن ہمارے عرف میں ان دونوں میں فرق ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے۔ ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ نعم(ہاں )کا
حوالہ / References
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
ردالمحتار بحوالہ فتح القدیر مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۵۳
ردالمحتار بحوالہ فتح القدیر مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۵۳
ماقبلھا من کلام منفی اومثبت استفہاماکان اوخبرا وموجب بلی ایجاب مابعد النفی استفھاما کان اوخبرا الاان المعتبر فی احکام الشرع العرف حتی یقام کل واحد منھما مقام الاخر اھ۔
استعمال پہلی کلام کی تصدیق کےلئے ہوتا ہے خواہ وہ مثبت ہو منفی استفہامی ہو یا خبر ہو اوربلی(کیوں نہیں )کا استعمال پہلی کلام میں نفی کا اثبا ت کرنے لئے ہوتاہے خواہ وہ نفی استفہام میں ہویا خبر میں مگر احکام شرع میں بہر حال عرف کا اعتبار ہے حتی کہ عرف میں ایك دوسرے کی جگہ استعمال مراد لیا جاتا ہے اھ(ت)
۳۷تجھے طلاق ہے اور مجھے اختیار رجعت نہیں
فی الشامی عن الخیریۃ عن الصیرفیۃ انت طالق ولارجعۃ لی علیك فرجعیۃ ۔
فتاوی شامی میں خیریہ سے اور انہوں نے صیرفیہ سے نقل کیا کہ اگرخاوند نے کہا “ تجھے طلاق اور مجھے رجوع کا حق نہیں ہے “ تو ایك رجعی طلاق ہوگی(ت)
۳۸تجھ پر طلاق ہے نہ پھیرے تجھے کوئی قاضی نہ حاکم نہ عالم
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ انت طالق لا یردك قاضی ولاوال ولاعالم ھل یکون بائنا ام رجعیا اجاب ھو رجعی ولایملك اخراجہ عن موضوعہ الشرعی بذلك ۔
خیریہ میں ہے : سوال کیاگیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا “ تجھے طلاق ہے تجھے کوئی قاضی کوئی حاکم یا عالم واپس نہ کرسکے تو کیا اس صورت میں طلاق رجعی ہوگی یابائن تو انہوں نے جواب دیا کہ رجعی ہوگی اور اس کے کہنے سے شرعی ضابطہ ختم نہ ہوگا۔ (ت)
تو۳۹مذہب یہودیا نصاری یا چاروں مذہب یا سب۴۱مذاہب مسلمین پر مطلقہ
فی الخیریۃ قال فی منح الغفار اقول وقد کثر فی زماننا قول الرجل انت طالق علی الاربعۃ مذاھب یرید بذلك ان الطلاق یقع علیھا
خیریہ میں ہے : منح الغفار میں کہا “ میں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں خاوند کا قول تجھے چاروں مذہب طلاق “ تو اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مذاہب پر متفقہ طلاق ہے تو ایسی صورت میں یقینا طلاق
استعمال پہلی کلام کی تصدیق کےلئے ہوتا ہے خواہ وہ مثبت ہو منفی استفہامی ہو یا خبر ہو اوربلی(کیوں نہیں )کا استعمال پہلی کلام میں نفی کا اثبا ت کرنے لئے ہوتاہے خواہ وہ نفی استفہام میں ہویا خبر میں مگر احکام شرع میں بہر حال عرف کا اعتبار ہے حتی کہ عرف میں ایك دوسرے کی جگہ استعمال مراد لیا جاتا ہے اھ(ت)
۳۷تجھے طلاق ہے اور مجھے اختیار رجعت نہیں
فی الشامی عن الخیریۃ عن الصیرفیۃ انت طالق ولارجعۃ لی علیك فرجعیۃ ۔
فتاوی شامی میں خیریہ سے اور انہوں نے صیرفیہ سے نقل کیا کہ اگرخاوند نے کہا “ تجھے طلاق اور مجھے رجوع کا حق نہیں ہے “ تو ایك رجعی طلاق ہوگی(ت)
۳۸تجھ پر طلاق ہے نہ پھیرے تجھے کوئی قاضی نہ حاکم نہ عالم
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ انت طالق لا یردك قاضی ولاوال ولاعالم ھل یکون بائنا ام رجعیا اجاب ھو رجعی ولایملك اخراجہ عن موضوعہ الشرعی بذلك ۔
خیریہ میں ہے : سوال کیاگیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا “ تجھے طلاق ہے تجھے کوئی قاضی کوئی حاکم یا عالم واپس نہ کرسکے تو کیا اس صورت میں طلاق رجعی ہوگی یابائن تو انہوں نے جواب دیا کہ رجعی ہوگی اور اس کے کہنے سے شرعی ضابطہ ختم نہ ہوگا۔ (ت)
تو۳۹مذہب یہودیا نصاری یا چاروں مذہب یا سب۴۱مذاہب مسلمین پر مطلقہ
فی الخیریۃ قال فی منح الغفار اقول وقد کثر فی زماننا قول الرجل انت طالق علی الاربعۃ مذاھب یرید بذلك ان الطلاق یقع علیھا
خیریہ میں ہے : منح الغفار میں کہا “ میں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں خاوند کا قول تجھے چاروں مذہب طلاق “ تو اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مذاہب پر متفقہ طلاق ہے تو ایسی صورت میں یقینا طلاق
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۳
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۱
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۶
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۱
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۶
باتفاقھم وینبغی الجزم بوقوعہ قضاء ودیانۃ کما لا یخفی اھ اقول : ولاشبہۃ فی کونہ رجعیا لابائنا لما قدمنا سئل عن رجل قال لزوجتہ انت طالق علی مذہب الیھود والنصاری وعن رجل قال لزوجتہ انت طالق علی سائر مذاھب المسلمین اجاب فیھما بانہ طلاق رجعی ۔
ہوجائے گی قضاء بھی اور دیانۃ بھی جیسا کہ واضح ہے اھ اقول : (میں کہتاہوں )یہ طلاق بلاشبہہ رجعی ہوگی بائنہ نہ ہوگی جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے نیز ان سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا تجھے یہودی اور نصرانی مذہب پر طلاق دوسرے نے کہا تجھے مسلمانوں کے تمام مذاہب پر طلاق تو انہوں نے جواب دیاکہ یہ طلاق رجعی ہوگی۔ (ت)
۴۲جا تجھے طلاق ہے ۴۳سوئروں یا یہودیوں کو حلال اور مجھ پر حرام ہو
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق تحلی للیہودی وتحرمی علی وعمن قال روحی طالق تحلی للخنازیر وتحرمی علی اجاب بانہ رجعی لان قولہ روحی طالق صریح فیہ وقولہ تحلی للیہود او للخنازیر لغولانہ خلاف المشروع وھو لایملکہ وقولہ وتحرمی ای حرمۃ تحصل بانقضاء العدۃ اذھو ثابت شرعا بصریح الطلاق بعد الدخول ۔
خیریہ میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا “ جا طلاق ہے تو یہودیوں کے لئے حلال اور مجھ پر حرام “ اور یوں ایك دوسرے نے بیوی کو کہا “ جا طلاق ہے توخنزیروں کے لئے حلال اور مجھ پر حرام ہے “ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طلاق رجعی ہوگی کیونکہ “ جا طلاق ہے “ صریق طلاق ہے اور اس کا یہ کہناتو یہودیوں یاخنزیروں کےلئے حلال ہے لغوبات ہے اور خلاف شرع ہے جس کا اسے اختیار نہیں اور اس کا یہ کہنا کہ “ تومجھ پر حرام ہے “ سے مراد وہ حرمت ہے جو عدت گزرنے کے بعد ہوتی ہے جیسا کہ شریعت میں مدخولہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد حرمت ہوتی ہے(ت)
مگر یہ اس وقت جبکہ اس لفظ سے کہ “ مجھ پرحرام ہو “ طلاق کی نیت نہ کی ورنہ دوبائن پڑیں گی
فی الشامی نعم لو قصد بقولہ وتحرمی
فتاوی شامی میں ہے ہاں اگر اس نے “ تومجھ پر
ہوجائے گی قضاء بھی اور دیانۃ بھی جیسا کہ واضح ہے اھ اقول : (میں کہتاہوں )یہ طلاق بلاشبہہ رجعی ہوگی بائنہ نہ ہوگی جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے نیز ان سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا تجھے یہودی اور نصرانی مذہب پر طلاق دوسرے نے کہا تجھے مسلمانوں کے تمام مذاہب پر طلاق تو انہوں نے جواب دیاکہ یہ طلاق رجعی ہوگی۔ (ت)
۴۲جا تجھے طلاق ہے ۴۳سوئروں یا یہودیوں کو حلال اور مجھ پر حرام ہو
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق تحلی للیہودی وتحرمی علی وعمن قال روحی طالق تحلی للخنازیر وتحرمی علی اجاب بانہ رجعی لان قولہ روحی طالق صریح فیہ وقولہ تحلی للیہود او للخنازیر لغولانہ خلاف المشروع وھو لایملکہ وقولہ وتحرمی ای حرمۃ تحصل بانقضاء العدۃ اذھو ثابت شرعا بصریح الطلاق بعد الدخول ۔
خیریہ میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا “ جا طلاق ہے تو یہودیوں کے لئے حلال اور مجھ پر حرام “ اور یوں ایك دوسرے نے بیوی کو کہا “ جا طلاق ہے توخنزیروں کے لئے حلال اور مجھ پر حرام ہے “ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طلاق رجعی ہوگی کیونکہ “ جا طلاق ہے “ صریق طلاق ہے اور اس کا یہ کہناتو یہودیوں یاخنزیروں کےلئے حلال ہے لغوبات ہے اور خلاف شرع ہے جس کا اسے اختیار نہیں اور اس کا یہ کہنا کہ “ تومجھ پر حرام ہے “ سے مراد وہ حرمت ہے جو عدت گزرنے کے بعد ہوتی ہے جیسا کہ شریعت میں مدخولہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد حرمت ہوتی ہے(ت)
مگر یہ اس وقت جبکہ اس لفظ سے کہ “ مجھ پرحرام ہو “ طلاق کی نیت نہ کی ورنہ دوبائن پڑیں گی
فی الشامی نعم لو قصد بقولہ وتحرمی
فتاوی شامی میں ہے ہاں اگر اس نے “ تومجھ پر
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۶
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۷
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۰
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۷
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۰
علی ایقاع الطلاق وقع بہ اخری بائنۃ اھ اقول : ولایردان تحریما اوتحریم نفسہ علیہا طلاق بلانیۃ کما تقدم لان ھذا مضارع ظاہرہ الاستقبال کقولہ طلاق کنم او تکونین مطلقۃ فافھم۔
حرام ہے “ سے نئی طلاق واقع کرنے کا ارادہ کیا ہوتو یہ دوسری طلاق بائنہ ہوگی اھ اقول : (میں کہتا ہوں )یہاں یہ اعتراض ہوگا کہ پہلے گزرا ہے کہ بیوی کو اپنے لئے یا اپنے آپ کو بیوی پر حرام کرنا بغیر نیت بھی طلاق ہوگی جبکہ یہاں یہ کہنا کہ “ نئی طلاق کی نیت سے مجھ پر حرام ہے “ کہا تو نیت سے طلاق تو دونوں بیان آپس میں مختلف ہیں تو جواب یہ کہ یہاں “ تحرمی “ (تو مجھ پرحرام ہوگی)ظاہر طور پر یہ استقبال ہے جیسا کہ میں طلاق دوں گا یا تو طلاق والی ہوگی کا حکم ہے غور کرو۔ (ت)
۴۴تومطلقہ اور بائنہ یا۴۵مطلقہ پھر بائنہ ہے
فی الدرولو عطف فقال وبائن اوثم بائن ولم ینو شیئا فرجعیۃ ۔
درمیں ہے : اگر عطف کیا تو یوں کہا انت طالق وبائن یا یوں کہا انت طالق ثم بائن اور لفظ بائن سے کوئی نئی طلاق مراد نہ لی تو ایك ہی رجعی طلاق ہوگی(ت)
مگر جبکہ ہر لفظ سے جدا طلاق کی نیت کی ہوتو دو۲ بائنہ ہیں
فی ردالمحتار ومفھوم التقیید بعدم النیۃ انہ لو نوی تکریر الایقاع مع الحروف الثلثۃ اونوی بالبائن الثلاث انہ یقع مانوی ۔
ردالمحتار میں ہے : نیت نہ ہونے کامطلب یہ ہوا کہ اگر اس نے نئی طلاق کی نیت سے تینوں حروف کہے ہوں اور تین طلاقوں کی نیت سے یہ تکرار کیا یا بائن سے تین کی نیت کی ہو جو بھی نیت کی ہوگی وہ واقع ہوگی۔ (ت)
۴۶عورت کے بیٹے کو دیکھ کر کہ اے طلاقن کے جنے ۴۷اے مادر طلاقہ عــــہ
عــــہ : ھکذا فی الاصل ولعلہ نسخہ الناسخ وعندی صوابہ ای مادرت شش طلاقہ کما یجئی عن الھندیۃ فقیر حامد رضا قادری
اصل(قلمی نسخہ)میں ایسے ہی ہے اور ممکن ہے یہ ناقل کی غلطی ہو میرے خیال میں درست یوں ہے اے مادرت شش طلاقہ جیسا کہ ہندیہ سے آئیگا۱۲ فقیر حامد رضاقادری
حرام ہے “ سے نئی طلاق واقع کرنے کا ارادہ کیا ہوتو یہ دوسری طلاق بائنہ ہوگی اھ اقول : (میں کہتا ہوں )یہاں یہ اعتراض ہوگا کہ پہلے گزرا ہے کہ بیوی کو اپنے لئے یا اپنے آپ کو بیوی پر حرام کرنا بغیر نیت بھی طلاق ہوگی جبکہ یہاں یہ کہنا کہ “ نئی طلاق کی نیت سے مجھ پر حرام ہے “ کہا تو نیت سے طلاق تو دونوں بیان آپس میں مختلف ہیں تو جواب یہ کہ یہاں “ تحرمی “ (تو مجھ پرحرام ہوگی)ظاہر طور پر یہ استقبال ہے جیسا کہ میں طلاق دوں گا یا تو طلاق والی ہوگی کا حکم ہے غور کرو۔ (ت)
۴۴تومطلقہ اور بائنہ یا۴۵مطلقہ پھر بائنہ ہے
فی الدرولو عطف فقال وبائن اوثم بائن ولم ینو شیئا فرجعیۃ ۔
درمیں ہے : اگر عطف کیا تو یوں کہا انت طالق وبائن یا یوں کہا انت طالق ثم بائن اور لفظ بائن سے کوئی نئی طلاق مراد نہ لی تو ایك ہی رجعی طلاق ہوگی(ت)
مگر جبکہ ہر لفظ سے جدا طلاق کی نیت کی ہوتو دو۲ بائنہ ہیں
فی ردالمحتار ومفھوم التقیید بعدم النیۃ انہ لو نوی تکریر الایقاع مع الحروف الثلثۃ اونوی بالبائن الثلاث انہ یقع مانوی ۔
ردالمحتار میں ہے : نیت نہ ہونے کامطلب یہ ہوا کہ اگر اس نے نئی طلاق کی نیت سے تینوں حروف کہے ہوں اور تین طلاقوں کی نیت سے یہ تکرار کیا یا بائن سے تین کی نیت کی ہو جو بھی نیت کی ہوگی وہ واقع ہوگی۔ (ت)
۴۶عورت کے بیٹے کو دیکھ کر کہ اے طلاقن کے جنے ۴۷اے مادر طلاقہ عــــہ
عــــہ : ھکذا فی الاصل ولعلہ نسخہ الناسخ وعندی صوابہ ای مادرت شش طلاقہ کما یجئی عن الھندیۃ فقیر حامد رضا قادری
اصل(قلمی نسخہ)میں ایسے ہی ہے اور ممکن ہے یہ ناقل کی غلطی ہو میرے خیال میں درست یوں ہے اے مادرت شش طلاقہ جیسا کہ ہندیہ سے آئیگا۱۲ فقیر حامد رضاقادری
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۱
درمختار باب الصریح مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۰
درمختار باب الصریح مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۰
فی الھندیۃ عن الظہیریۃ رجل من عادتہ ان یقول اذارأی صبیا ای ماردت شش طلاقہ فسکرمن الخمر فاتاہ ابنہ فظنہ صبیا اجنبیا فقال رواے مادرت شش طلاقہ ولم یعلم انہ ابنہ طلقت امرأتہ ثلثا اھ۔
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ ایك شخص کی عادت ہے کہ وہ جب کسی بچے کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے “ اے تیری ماں چھ طلاق والی “ تو اس کو شراب کا نشہ تھا اس حالت میں اس کا اپنا بیٹاآیا تواس نے نشے میں سمجھا کہ کوئی اجنبی بچہ ہے تو اس نے اس کو بھی “ جا اے تیری ماں چھ طلاق والی “ کہہ دیاتو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی اھ(ت)
اقول : (اس میں بھی وہی تفصیل چاہئے جو لفظ مطلقہ وغیرہ میں گزری کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)۴۸تجھ پر پوری یا۴۹آدھی یا۵۰تہائی وغیرہ۵۱تجھ پر طلاق کا ہزارواں حصہ
فی الدروجزء الطلقۃ ولو من الف جزء تطلیقۃ لعدم التجزی ۔
درمیں ہے : طلاق کی جزء خواہ ہزارویں جز ایك ہی طلاق ہوگی کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہوسکتے۔ (ت)
۵۲تجھ پر کم درجہ کی طلاق
فی الخانیۃ ولو قال اقل الطلاق یقع واحدۃ۔
خانیہ میں ہے اگرکہا کم از کم طلاق تو ایك ہی ہوگی۔ (ت)
۵۳تیرے پر نصف ۵۴تیرے چوتھائی پر طلاق ۵۵تیرے ہزارویں ٹکڑے پرطلاق ۵۶تیری روح پر طلاق ۵۷تیری جان پر طلاق ۵۸تیری ناك پر طلاق(اور اگر انف یا بینی پر کہے یا عربی فارسی میں انفك طالق بربینی تو طلاق(تیری ناك پر طلاق۔ ت)کہے تو کچھ نہیں برعکس اس کے عربی میں عنقك طالق یا فرجك طالق(تیر ی گردن کو طلاق یا تیری شرمگاہ کو طلاق۔ ت)کہے طلاق ہوجائے گی اور اردو میں تیری عنق یا گردن یا فرج پر طلاق کہے تو کچھ نہیں جبکہ لفظ فرج یا اس کا اور مرادف بولے جس سے عرف ہند میں کل عورت مراد نہ لیتے ہوں اگرچہ خاص اردو ہی کا لفظ ہو وجہ یہ ہے کہ یہاں خاص وہ لفظ ہونا چاہئے جس سے اس زبان میں انسان کی ذات کو تعبیر ہوں عربی میں عنق وفرج ایسے ہی ہیں اور ہماری زبان میں عنق وگردن وخاص لفظ وبینی وغیرہ ایسے نہیں اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہے
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ ایك شخص کی عادت ہے کہ وہ جب کسی بچے کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے “ اے تیری ماں چھ طلاق والی “ تو اس کو شراب کا نشہ تھا اس حالت میں اس کا اپنا بیٹاآیا تواس نے نشے میں سمجھا کہ کوئی اجنبی بچہ ہے تو اس نے اس کو بھی “ جا اے تیری ماں چھ طلاق والی “ کہہ دیاتو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی اھ(ت)
اقول : (اس میں بھی وہی تفصیل چاہئے جو لفظ مطلقہ وغیرہ میں گزری کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)۴۸تجھ پر پوری یا۴۹آدھی یا۵۰تہائی وغیرہ۵۱تجھ پر طلاق کا ہزارواں حصہ
فی الدروجزء الطلقۃ ولو من الف جزء تطلیقۃ لعدم التجزی ۔
درمیں ہے : طلاق کی جزء خواہ ہزارویں جز ایك ہی طلاق ہوگی کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہوسکتے۔ (ت)
۵۲تجھ پر کم درجہ کی طلاق
فی الخانیۃ ولو قال اقل الطلاق یقع واحدۃ۔
خانیہ میں ہے اگرکہا کم از کم طلاق تو ایك ہی ہوگی۔ (ت)
۵۳تیرے پر نصف ۵۴تیرے چوتھائی پر طلاق ۵۵تیرے ہزارویں ٹکڑے پرطلاق ۵۶تیری روح پر طلاق ۵۷تیری جان پر طلاق ۵۸تیری ناك پر طلاق(اور اگر انف یا بینی پر کہے یا عربی فارسی میں انفك طالق بربینی تو طلاق(تیری ناك پر طلاق۔ ت)کہے تو کچھ نہیں برعکس اس کے عربی میں عنقك طالق یا فرجك طالق(تیر ی گردن کو طلاق یا تیری شرمگاہ کو طلاق۔ ت)کہے طلاق ہوجائے گی اور اردو میں تیری عنق یا گردن یا فرج پر طلاق کہے تو کچھ نہیں جبکہ لفظ فرج یا اس کا اور مرادف بولے جس سے عرف ہند میں کل عورت مراد نہ لیتے ہوں اگرچہ خاص اردو ہی کا لفظ ہو وجہ یہ ہے کہ یہاں خاص وہ لفظ ہونا چاہئے جس سے اس زبان میں انسان کی ذات کو تعبیر ہوں عربی میں عنق وفرج ایسے ہی ہیں اور ہماری زبان میں عنق وگردن وخاص لفظ وبینی وغیرہ ایسے نہیں اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۵
درمختار باب السابع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰۸
درمختار باب السابع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰۸
کہ فلاں شخص شہر بھر کی ناك ہے خاندان کی ناك ہے عورت موم کی ناك ہے تو ظاہر اس میں طلاق ہوجانا چاہئے۔ اسی طرح فرج کا وہ نام جس سے کل عورت مراد لیتے ہوں ۔
فی الدر واذااضاف الطلاق الیھا اوالی مایعبربہ عنھا کالرقبۃ والعنق والروح والبدن والجسد(الاطراف داخلۃ فی الجسد دون البدن)والفرج والوجہ والراس وکذاالاست بخلاف البضع والدم علی المختار خلاصۃ او اضافہ الی جزء شائع منھا کنصفھا وثلثھا الی عشرھا(وکذالواضافہ الی جزء من الف جزء منھا کما فی الخانیۃ)وقع لعدم تجزیہ اھ مزیدا من ردالمحتار وفیہ ایضا کمالایقع لواضافہ الی الانف ۔
درمختار میں ہے کہ جب طلاق کو بیوی کی طرف یا اس کے ایسے حصے کی طرف منسوب کرے جس سے بیوی کی شخصیت مراد لی جاتی ہو مثلا گردن رقبہ روح بدن جسم(ہاتھ اور پاؤں جسد کا حصہ ہیں بدن کا حصہ نہیں ہیں )شرمگاہ چہرہ سر اور اسی طرح سرین تو بیوی کو طلاق ہوگی مگر بضع دبر اور خون کی طرف نسبت کی طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں اس کو مختار قرار دیا ہے اور یونہی اگر طلاق کو بیوی کے غیرمعین حصہ مثلانصف ثلث تا دسویں حصہ کی طرف منسوب کیا اور اگر معین حصہ خواہ کتنا مثلا ہزارواں حصہ تو طلاق ہو جائے گی کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہیں جیسا کہ خانیہ میں اضافہ ہے اھ ردالمحتار میں اضافہ کرتے ہوئےکہا کہ جس طرح ناك کی طرف طلاق کی نسبت مثلا تیری ناك کو طلاق تو طلاق نہ ہو گی۔ (ت)
کسی سے اپنی عورت کی نسبت کہا اسے اس کی طلاق کی خبر دے یا۶۱مژدہ دے یا۶۲اس کی طلاق کی خبر اس کے پاس لے جایا۶۳اسے خبر دے یا۶۴اس لکھ بھیج یا اس سے کہہ کہ وہ مطلقہ ہے یا۶۶اس کے لئے اس کی طلاق کی سند یا۷۶یاداشت لکھ دے ابھی طلاق ہوگئی اگرچہ یہ اس سے نہ کہے نہ لکھے اور یوں کہا کہ اس سے کہہ کہ تو مطلقہ ہے تو جب جاکر کہے گا اس وقت پڑے گی ورنہ نہیں
فی الخانیۃ رجل قال لغیرہ اخبرامرأتی بطلاقھا او احمل الیھا طلاقھا اواخبرھا انھا طالق
خانیہ میں ہے اگر دوسرے شخص کو کہا میری بیوی کو اس کی طلاق کی خبر دے یا اس کی طلاق اس کی طرف لے جا اسکو خبردے دویا کہہ دو کہ وہ طلاق والی ہے
فی الدر واذااضاف الطلاق الیھا اوالی مایعبربہ عنھا کالرقبۃ والعنق والروح والبدن والجسد(الاطراف داخلۃ فی الجسد دون البدن)والفرج والوجہ والراس وکذاالاست بخلاف البضع والدم علی المختار خلاصۃ او اضافہ الی جزء شائع منھا کنصفھا وثلثھا الی عشرھا(وکذالواضافہ الی جزء من الف جزء منھا کما فی الخانیۃ)وقع لعدم تجزیہ اھ مزیدا من ردالمحتار وفیہ ایضا کمالایقع لواضافہ الی الانف ۔
درمختار میں ہے کہ جب طلاق کو بیوی کی طرف یا اس کے ایسے حصے کی طرف منسوب کرے جس سے بیوی کی شخصیت مراد لی جاتی ہو مثلا گردن رقبہ روح بدن جسم(ہاتھ اور پاؤں جسد کا حصہ ہیں بدن کا حصہ نہیں ہیں )شرمگاہ چہرہ سر اور اسی طرح سرین تو بیوی کو طلاق ہوگی مگر بضع دبر اور خون کی طرف نسبت کی طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں اس کو مختار قرار دیا ہے اور یونہی اگر طلاق کو بیوی کے غیرمعین حصہ مثلانصف ثلث تا دسویں حصہ کی طرف منسوب کیا اور اگر معین حصہ خواہ کتنا مثلا ہزارواں حصہ تو طلاق ہو جائے گی کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہیں جیسا کہ خانیہ میں اضافہ ہے اھ ردالمحتار میں اضافہ کرتے ہوئےکہا کہ جس طرح ناك کی طرف طلاق کی نسبت مثلا تیری ناك کو طلاق تو طلاق نہ ہو گی۔ (ت)
کسی سے اپنی عورت کی نسبت کہا اسے اس کی طلاق کی خبر دے یا۶۱مژدہ دے یا۶۲اس کی طلاق کی خبر اس کے پاس لے جایا۶۳اسے خبر دے یا۶۴اس لکھ بھیج یا اس سے کہہ کہ وہ مطلقہ ہے یا۶۶اس کے لئے اس کی طلاق کی سند یا۷۶یاداشت لکھ دے ابھی طلاق ہوگئی اگرچہ یہ اس سے نہ کہے نہ لکھے اور یوں کہا کہ اس سے کہہ کہ تو مطلقہ ہے تو جب جاکر کہے گا اس وقت پڑے گی ورنہ نہیں
فی الخانیۃ رجل قال لغیرہ اخبرامرأتی بطلاقھا او احمل الیھا طلاقھا اواخبرھا انھا طالق
خانیہ میں ہے اگر دوسرے شخص کو کہا میری بیوی کو اس کی طلاق کی خبر دے یا اس کی طلاق اس کی طرف لے جا اسکو خبردے دویا کہہ دو کہ وہ طلاق والی ہے
حوالہ / References
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹ ، ردالمحتار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۳۶
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹
اوقل لھا انھا طالق طلقت للحال ولایتوقف علی وصول الخبر الیھا ولاعلی قول المامورذلک ولوقال قل لھا انت طالق لایقع الطلاق مالم یقل لھا الما مور ذلک ولو قال اکتب لھا طلاقھا ینبغی ان یقع الطلاق للحال کما لوقال احمل الیھا طلاقھا وکما لو قال اکتب الی امرأتی انھا طالق وخالف العقود فی مسئلۃ قل لھا ھی کذافجعلہ توکیلا فراجع عــــہ ۔
تو ان صورتوں میں اسی وقت طلاق ہوجائے گی اور بیوی کو خبر پہنچنے یااس شخص کے بیوی کو کہہ دینے پر موقوف نہ ہوگی اور اگر یوں کہا کہ تو اس کو کہہ دے کہ تو طلاق والی ہے تو اس صورت میں اس وقت تك طلاق نہ ہوگی جب تك وہ شخص بیوی کو یہ بات کہہ نہ دے اور اگر دوسرے کو کہا کہ تو میری بیوی کو طلاق لکھ دے تو اسی وقت طلاق ہوگی جس طرح کہ کہا “ اس کو طلاق پہنچادے “ یا جس طرح کہا “ تو میری بیوی کی طرف لکھ دے کہ اس کو طلاق ہے۔ “ اور عقوددریہ نے “ بیوی کو کہہ دے کہ اس کو طلاق ہے “ کے مسئلہ میں مخالف قول کیا ہے اور کہا کہ یہ خاوند کی طرف سے یہ دوسرے شخص کو وکیل بنانا ہے تو عقوددریہ کی طرف تحقیق کے لئے رجوع کرنا چاہئے۔ (ت)
عــــہ : عبارۃ العقود ھکذا سئل فی رجل قال لآخر قل لامرأتی تکون طالقۃ بالثلث ولم یقل لھا الاخر شیئا فھل لاتطلق مالم یقل لھا الجواب نعم لانہ توکیل کما صرح بہ فی البزازیۃ فی نوع الفاظہ اھ وکنت کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول : المضارع
عقود کی عبارت یوں ہے : اس شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے دوسرے کو کہا “ تو میری بیوی سے کہہ دے کہ تو تین طلاق والی ہے “ اور جبکہ دوسرے شخص نے یہ بات اس کی بیوی کو نہ کہی ہو تو کیا طلاق نہ ہوگی جب تك وہ شخص بیوی کو یہ بات نہ کہہ دے اس سوال کے جواب میں فرمایا ہاں (نہ ہوگی)کیونکہ وکالت ہے جیسا کہ بزازیہ میں اس کی تصریح “ طلاق کے الفاظ کے اقسام “ میں ہے اھ۔ میں نے اس کے حاشیہ پر لکھا جو یہ ہے اقول : (میں کہتا ہوں )مضارع (باقی اگلے صفحہ پر)
تو ان صورتوں میں اسی وقت طلاق ہوجائے گی اور بیوی کو خبر پہنچنے یااس شخص کے بیوی کو کہہ دینے پر موقوف نہ ہوگی اور اگر یوں کہا کہ تو اس کو کہہ دے کہ تو طلاق والی ہے تو اس صورت میں اس وقت تك طلاق نہ ہوگی جب تك وہ شخص بیوی کو یہ بات کہہ نہ دے اور اگر دوسرے کو کہا کہ تو میری بیوی کو طلاق لکھ دے تو اسی وقت طلاق ہوگی جس طرح کہ کہا “ اس کو طلاق پہنچادے “ یا جس طرح کہا “ تو میری بیوی کی طرف لکھ دے کہ اس کو طلاق ہے۔ “ اور عقوددریہ نے “ بیوی کو کہہ دے کہ اس کو طلاق ہے “ کے مسئلہ میں مخالف قول کیا ہے اور کہا کہ یہ خاوند کی طرف سے یہ دوسرے شخص کو وکیل بنانا ہے تو عقوددریہ کی طرف تحقیق کے لئے رجوع کرنا چاہئے۔ (ت)
عــــہ : عبارۃ العقود ھکذا سئل فی رجل قال لآخر قل لامرأتی تکون طالقۃ بالثلث ولم یقل لھا الاخر شیئا فھل لاتطلق مالم یقل لھا الجواب نعم لانہ توکیل کما صرح بہ فی البزازیۃ فی نوع الفاظہ اھ وکنت کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول : المضارع
عقود کی عبارت یوں ہے : اس شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے دوسرے کو کہا “ تو میری بیوی سے کہہ دے کہ تو تین طلاق والی ہے “ اور جبکہ دوسرے شخص نے یہ بات اس کی بیوی کو نہ کہی ہو تو کیا طلاق نہ ہوگی جب تك وہ شخص بیوی کو یہ بات نہ کہہ دے اس سوال کے جواب میں فرمایا ہاں (نہ ہوگی)کیونکہ وکالت ہے جیسا کہ بزازیہ میں اس کی تصریح “ طلاق کے الفاظ کے اقسام “ میں ہے اھ۔ میں نے اس کے حاشیہ پر لکھا جو یہ ہے اقول : (میں کہتا ہوں )مضارع (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۰
العقودالدریۃ کتاب الطلاق حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱ / ۴۱
العقودالدریۃ کتاب الطلاق حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱ / ۴۱
۶۸میں تجھے طلاق دیتا ہوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
انما یعمل اذا غلب للحال ح ھو کقولہ قل لھا ھی طالق وصرح فی الخانیہ انھا تطلق بذلك فی الحال بخلاف قولہ قل لھا انت طالق فلاتطلق مالم یقل راجع و حرر وان کانت المسئلۃ(اعنی مسئلۃ العقود)قل لامرأتی تکوی طالقۃ(بزیادۃ الیاء وحذف النون کما ھو لغۃ شائعۃ لاسیمافی العوام حتی تکون الصیغۃ للخطاب)فالجواب صحیح بلاریب وموافق لما فی الخانیۃ فلتراجع البزازیۃ اھ ثم من المولی سبحنہ وتعالی بالبزازیۃ فاتضح ان الامر کما فھمت وان (تکون)تصحیف من(تکونی)فان عبارۃ البزازیۃ ھکذا قال لھا قولی اناطالق فقالت وقع وان لم یقل لا بخلاف مالو قال لاخر قل لامرأتی
کا صیغہ طلاق میں تب عمل کرے گا جب اس سے غالب طور پر حال مراد ہو توا یسی صورت میں اس کا حکم ایسا ہوگا جیسے خاوند دوسرے کو کہے کہ بیوی کو کہہ دو اس کو طلاق ہے اور خانیہ میں تصریح ہے کہ اس سے اسی وقت طلاق ہوگی بخلاف جب کہے “ بیوی کو تو کہہ دے کہ تجھے طلاق ہے “ تو طلاق نہ ہوگی جب تك وہ نہ کہہ دے اس کی طرف رجوع کرکے دیکھو اور اگر یہ عقود کا مسئلہ یوں ہو کہ دوسرے کو خاوند کہے کہ تومیری بیوی سے کہہ دے “ تو طلاق والی ہوجا “ (تکون میں نون کا حذف اور یاء کا اضافہ کرکے کہے جیسا کہ یہ عام طور پر خصوصا عوام میں مشہور ہے تو یہ بصیغہ امر خطاب ہوگا)تو عقود کا یہ جواب بلاشك وشبہہ درست ہوگا اور خانیہ کے بیان کے موافق ہوگا تو بزازیہ کی عبارت پر غور کرواھ پھر اﷲتعالی نے احسان فرماکر بزازیہ کا مسئلہ واضح کردیا کہ معاملہ وہی ہے جو میں نے ذکر کیا اورسمجھا کہ “ تکونی “ کی تبدیلی میں “ تکون “ ہوگیا کیونکہ بزازیہ کی عبارت یوں ہے خاوند نے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی ورنہ اگر خاوند نے نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی اس کے برخلاف جب خاوند نے دوسرے شخص کو کہا کہ تومیری بیوی سے(باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
انما یعمل اذا غلب للحال ح ھو کقولہ قل لھا ھی طالق وصرح فی الخانیہ انھا تطلق بذلك فی الحال بخلاف قولہ قل لھا انت طالق فلاتطلق مالم یقل راجع و حرر وان کانت المسئلۃ(اعنی مسئلۃ العقود)قل لامرأتی تکوی طالقۃ(بزیادۃ الیاء وحذف النون کما ھو لغۃ شائعۃ لاسیمافی العوام حتی تکون الصیغۃ للخطاب)فالجواب صحیح بلاریب وموافق لما فی الخانیۃ فلتراجع البزازیۃ اھ ثم من المولی سبحنہ وتعالی بالبزازیۃ فاتضح ان الامر کما فھمت وان (تکون)تصحیف من(تکونی)فان عبارۃ البزازیۃ ھکذا قال لھا قولی اناطالق فقالت وقع وان لم یقل لا بخلاف مالو قال لاخر قل لامرأتی
کا صیغہ طلاق میں تب عمل کرے گا جب اس سے غالب طور پر حال مراد ہو توا یسی صورت میں اس کا حکم ایسا ہوگا جیسے خاوند دوسرے کو کہے کہ بیوی کو کہہ دو اس کو طلاق ہے اور خانیہ میں تصریح ہے کہ اس سے اسی وقت طلاق ہوگی بخلاف جب کہے “ بیوی کو تو کہہ دے کہ تجھے طلاق ہے “ تو طلاق نہ ہوگی جب تك وہ نہ کہہ دے اس کی طرف رجوع کرکے دیکھو اور اگر یہ عقود کا مسئلہ یوں ہو کہ دوسرے کو خاوند کہے کہ تومیری بیوی سے کہہ دے “ تو طلاق والی ہوجا “ (تکون میں نون کا حذف اور یاء کا اضافہ کرکے کہے جیسا کہ یہ عام طور پر خصوصا عوام میں مشہور ہے تو یہ بصیغہ امر خطاب ہوگا)تو عقود کا یہ جواب بلاشك وشبہہ درست ہوگا اور خانیہ کے بیان کے موافق ہوگا تو بزازیہ کی عبارت پر غور کرواھ پھر اﷲتعالی نے احسان فرماکر بزازیہ کا مسئلہ واضح کردیا کہ معاملہ وہی ہے جو میں نے ذکر کیا اورسمجھا کہ “ تکونی “ کی تبدیلی میں “ تکون “ ہوگیا کیونکہ بزازیہ کی عبارت یوں ہے خاوند نے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی ورنہ اگر خاوند نے نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی اس کے برخلاف جب خاوند نے دوسرے شخص کو کہا کہ تومیری بیوی سے(باقی برصفحہ ائندہ)
فی الھندیۃ وفی المحیط لوقال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الااذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا وفیھا عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست مرا طلاق کن فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم وکرر ثلثا طلاقت ثلثا بخلاف قولہ کنم لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک۔
ہندیہ میں ہے : اور محیط میں ہے اگر عربی میں مضارع (اطلق)کہا تو طلاق نہ ہوگی مگر جب یہ لفظ غالب طور پر حال کے لئے استعمال ہوتا ہو توطلاق ہوجائے گی اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ بیوی نے خاوند کو کہا “ طلاق تیرے اختیار میں ہے مجھے طلاق کردے “ تو خاوند نے اگر جواب میں یہ کہا “ میں طلاق کررہا ہوں طلاق کررہا ہوں “ تین مرتبہ تکرار کیا تو تین طلاقیں ہوں گی اس کے برخلاف اگر یوں کہے “ میں کروں گا “ تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ استقبال ہے لہذا شك ہوگا اور طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
۶۹میں تجھے طلاق چھوڑتا ہوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
انھا طالق حیث تطلق قال الرجل ام لا اصلہ ماذکر فی الاصل قال لآخراخبرھا بطلاقھا او بشرھا اواحمل الیھا طلاقھا یقع اخبر ام لا ولو قال لاخر قل لھا انت طالق لاتطلق مالم یقل لانہ توکیل اھ فھو کما تری مطابق لما فی الخانیۃ ومختص بصورۃ الخطاب۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب منہ۔
کہہ دے کہ “ وہ طلاق والی ہے “ تو طلاق ہوجائے گی وہ شخص بیوی سے کہے یا نہ کہے اس کا اصل مبسوط میں مذکور ہے کہ خاوند نے دوسرے کو کہا کہ تومیری بیوی کو طلاق کہہ دے یا اس کو خوشخبری طلاق کی دے یا تو اس کی طلاق اس کو لیجادے ا ن صورتوں میں خبر دے یا نہ دے ہر طرح طلاق ہوگی اور خاوند نے دوسرے کو یوں کہا کہ تومیری کوکہہ کہ تجھے طلاق ہے تو جب تك وہ شخص بیوی کو کہہ نہ دے گا طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ اس شخص کو وکیل بنانا ہوا اھ تو جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ خانیہ کے مطابق ہے اور خطاب کے صیغہ سے مختص صورت ہے۔ واﷲتعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
ہندیہ میں ہے : اور محیط میں ہے اگر عربی میں مضارع (اطلق)کہا تو طلاق نہ ہوگی مگر جب یہ لفظ غالب طور پر حال کے لئے استعمال ہوتا ہو توطلاق ہوجائے گی اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ بیوی نے خاوند کو کہا “ طلاق تیرے اختیار میں ہے مجھے طلاق کردے “ تو خاوند نے اگر جواب میں یہ کہا “ میں طلاق کررہا ہوں طلاق کررہا ہوں “ تین مرتبہ تکرار کیا تو تین طلاقیں ہوں گی اس کے برخلاف اگر یوں کہے “ میں کروں گا “ تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ استقبال ہے لہذا شك ہوگا اور طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
۶۹میں تجھے طلاق چھوڑتا ہوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
انھا طالق حیث تطلق قال الرجل ام لا اصلہ ماذکر فی الاصل قال لآخراخبرھا بطلاقھا او بشرھا اواحمل الیھا طلاقھا یقع اخبر ام لا ولو قال لاخر قل لھا انت طالق لاتطلق مالم یقل لانہ توکیل اھ فھو کما تری مطابق لما فی الخانیۃ ومختص بصورۃ الخطاب۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب منہ۔
کہہ دے کہ “ وہ طلاق والی ہے “ تو طلاق ہوجائے گی وہ شخص بیوی سے کہے یا نہ کہے اس کا اصل مبسوط میں مذکور ہے کہ خاوند نے دوسرے کو کہا کہ تومیری بیوی کو طلاق کہہ دے یا اس کو خوشخبری طلاق کی دے یا تو اس کی طلاق اس کو لیجادے ا ن صورتوں میں خبر دے یا نہ دے ہر طرح طلاق ہوگی اور خاوند نے دوسرے کو یوں کہا کہ تومیری کوکہہ کہ تجھے طلاق ہے تو جب تك وہ شخص بیوی کو کہہ نہ دے گا طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ اس شخص کو وکیل بنانا ہوا اھ تو جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ خانیہ کے مطابق ہے اور خطاب کے صیغہ سے مختص صورت ہے۔ واﷲتعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
فتاوٰی ہندیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۷۵۔ ۱۷۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۴
فتاوٰی ہندیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۷۵۔ ۱۷۴
فی ردالمحتار عن البحر من الصریح المضارع اذاغلب فی الحال اھ قلت فکیف اذا تمحض لہ وچھوڑنا من الصریح بلساننا۔
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ مضارع کا صیغہ جب حال کے لئے غالب الاستعمال ہوتو یہ طلاق صریح میں شمار ہوگا قلت(میں کہتا ہوں )اور اگر خالص حال کے لئے ہوتو پھر طریق اولی صریح ہوگا جبکہ “ چھوڑنا “ کالفظ ہماری زبان میں طلاق میں صریح ہے(ت)
ہاں اگر عزم وارادہ کی نیت پر کہے گا بایں معنی کہ تجھے طلاق دیا چاہتا ہوں تو عنداﷲطلاق نہ ہوگی
فی الخیریۃ یدین علی کل حال أی ولو غلط فی الحال ۔
فتاوی خیریہ میں ہے : مضارع میں خاوند کی بات پر دیانۃ تصدیق بہرحال ہوگی اگرچہ وہ مضارع حال کے معنی میں غالب ہو۔ (ت)
۷۰تجھ پر دو۲ مہینے سے طلاق ہے اور واقع میں نہ دی تھی ابھی پڑگئی بشرطیکہ نکاح کو دو۲ مہینے سےکم نہ ہوئے ہوں ورنہ کچھ نہیں اور اگر جھوٹی خبر کی نیت تھی تو عنداﷲکچھ نہیں یہ ہر صیغہ میں جاری ہے
کمافی الخیریۃ وغیرھا وفیہ ایضاقال لھا انت مطلقۃ من شھرین ویقول نویت الاخبار فی الماضی کاذباھل یقع علیہ الطلاق ام لاواذا قلتم یقع ھل لہ ان یردھا ام لا اجاب یقع قضاء لادیانۃ وعلی حکم القضاء لہ مراجعتھا فی العدۃ بغیرعقد وبعدھا بعقدجدید حیث لم یصدر منہ سوی ماذکر وفی الدروکذاانت طالق امس وقد نکحھا الیوم ولونکحھا قبل امس وقع الان لان الانشاء فی الماضی انشاء فی الحال ۔ (ملخصا)
خیریہ وغیرہ میں جیسے ہے کہ اگر کہا “ تودو۲ ماہ سے مطلقہ ہے اور اس کے بعد کہا کہ میں نے یہ ماضی کی خبر کاذب کے طور پر کہا ہے تو کیا اس پر طلاق ہوگی یانہیں اور اگر آپ فرمائیں کہ طلاق ہوگی تو اس کو رجوع کا حق ہوگا یا نہیں اس کا جواب دیا کہ قضاء طلاق ہوگی دیانۃ نہ ہوگی اور قاضی کے فیصلہ پر اس کو عدت میں بغیر نکاح اور عدت کے بعد جدید نکاح سے رجوع کا حق ہوگا جبکہ مذکورہ کارروائی کے علاوہ خاوند نے کچھ اور نہ کہا ہو اور در میں ہے کہ یونہی اگر خاوند نے کہا “ تو گزشتہ روز سے طلاق والی ہے “ تو اگر نکاح آج کیا ہوتو یہ بات لغوہوگی اور گزشتہ روز سے قبل نکاح کیا ہوتو ابھی سے طلاق ہوجائیگی کیونکہ ماضی کا انشاء حال کا انشاء متصور ہوگا(ت)
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ مضارع کا صیغہ جب حال کے لئے غالب الاستعمال ہوتو یہ طلاق صریح میں شمار ہوگا قلت(میں کہتا ہوں )اور اگر خالص حال کے لئے ہوتو پھر طریق اولی صریح ہوگا جبکہ “ چھوڑنا “ کالفظ ہماری زبان میں طلاق میں صریح ہے(ت)
ہاں اگر عزم وارادہ کی نیت پر کہے گا بایں معنی کہ تجھے طلاق دیا چاہتا ہوں تو عنداﷲطلاق نہ ہوگی
فی الخیریۃ یدین علی کل حال أی ولو غلط فی الحال ۔
فتاوی خیریہ میں ہے : مضارع میں خاوند کی بات پر دیانۃ تصدیق بہرحال ہوگی اگرچہ وہ مضارع حال کے معنی میں غالب ہو۔ (ت)
۷۰تجھ پر دو۲ مہینے سے طلاق ہے اور واقع میں نہ دی تھی ابھی پڑگئی بشرطیکہ نکاح کو دو۲ مہینے سےکم نہ ہوئے ہوں ورنہ کچھ نہیں اور اگر جھوٹی خبر کی نیت تھی تو عنداﷲکچھ نہیں یہ ہر صیغہ میں جاری ہے
کمافی الخیریۃ وغیرھا وفیہ ایضاقال لھا انت مطلقۃ من شھرین ویقول نویت الاخبار فی الماضی کاذباھل یقع علیہ الطلاق ام لاواذا قلتم یقع ھل لہ ان یردھا ام لا اجاب یقع قضاء لادیانۃ وعلی حکم القضاء لہ مراجعتھا فی العدۃ بغیرعقد وبعدھا بعقدجدید حیث لم یصدر منہ سوی ماذکر وفی الدروکذاانت طالق امس وقد نکحھا الیوم ولونکحھا قبل امس وقع الان لان الانشاء فی الماضی انشاء فی الحال ۔ (ملخصا)
خیریہ وغیرہ میں جیسے ہے کہ اگر کہا “ تودو۲ ماہ سے مطلقہ ہے اور اس کے بعد کہا کہ میں نے یہ ماضی کی خبر کاذب کے طور پر کہا ہے تو کیا اس پر طلاق ہوگی یانہیں اور اگر آپ فرمائیں کہ طلاق ہوگی تو اس کو رجوع کا حق ہوگا یا نہیں اس کا جواب دیا کہ قضاء طلاق ہوگی دیانۃ نہ ہوگی اور قاضی کے فیصلہ پر اس کو عدت میں بغیر نکاح اور عدت کے بعد جدید نکاح سے رجوع کا حق ہوگا جبکہ مذکورہ کارروائی کے علاوہ خاوند نے کچھ اور نہ کہا ہو اور در میں ہے کہ یونہی اگر خاوند نے کہا “ تو گزشتہ روز سے طلاق والی ہے “ تو اگر نکاح آج کیا ہوتو یہ بات لغوہوگی اور گزشتہ روز سے قبل نکاح کیا ہوتو ابھی سے طلاق ہوجائیگی کیونکہ ماضی کا انشاء حال کا انشاء متصور ہوگا(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۰
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۰
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۰
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۰
۷۱تجھ بر دو برس تك طلاق ہے اس میں دو برس بعد پڑے گی
فی الخیریۃ قال لھا انت طالق الی سنتین ولانیۃ لہ فما الحکم اجاب یقع علیھا بعد السنتین طلقۃ واحدۃ رجعیۃ صرح بہ صاحب البحر والبزازیۃ والولو الجیۃ وغیرھم من کتب الحنفیۃ۔
خیریہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا “ تجھے دو۲سال پر طلاق “ اور کوئی خاص نیت نہ کی ہوتو کیا حکم ہے تو جواب دیا کہ دو۲سال بعد رجعی طلاق ہوگی اس کی تصریح بحر بزازیہ اور ولوالجیہ وغیرہ کتب حنفیہ میں موجود ہے۔ (ت)
۷۲تجھ پر یہاں سے عرب تك طلاق اور اگر یوں کہا کہ اتنی لمی یا بڑی طلاق تو بائن ہوگی
فی الدروبقولہ من ھنا الی الشام واحدۃ رجعیۃ مالم یصفھا بطول اوکبر فبائنۃ۔
درمیں ہے : خاوند نے کہا “ تجھے یہاں سے ملك شام تك طلاق ہے تو ایك رجعی طلاق ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کو کسی طوالت یا بڑائی سے موصوف نہ کیاہو اور اگر ایسی صفت سے موصوف کیا تو بائنہ ہوگی(ت)
۷۳تو فلاں عورت سے زیادہ مطلقہ ہے طلاق ہوجائے گی اگرچہ فلاں عورت مطلقہ نہ بھی ہو
بخلاف مالوقال بالعربیۃ انت اطلق من فلانۃ فلاتطلق الابالنیۃ بشرط ان تکون فلانۃ مطلقۃ فقد عد فی الدر قولہ انت اطلق من امرأۃ فلان وھی مطلقۃ من الکنایات التی یقع بھا الرجعی قال الشامی عﷲ فی الفتح بان افعل التفضیل لیس صریحا فافھم اھ بخلاف مانحن فیہ فانہ مطلقۃ صریحۃ ولایعتریہ الاحتمال بزیادۃ فما فیہ الاثبات الطلاق
بخلاف اس کے جب بزبان یوں کہا “ انت اطلق من فلانۃ “ تو نیت کے بغیرطلاق نہ ہوگی نیت سے بھی تب ہوگی جب وہ فلاں عورت مطلقہ ہو خاوند کے اس قول کہ “ تجھے فلاں کی عورت سے بڑی طلاق بشرطیکہ وہ فلاں کی عورت مطلقہ ہو تو در میں اس کو ان کنایات میں شمار کیا ہے جن سے ایك رجعی طلاق ہوتی ہے۔ علامہ شامی نے اس پر فرمایا کہ فتح میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ صیغہ تفضیل طلاق میں صریح نہیں ہے غور کرواھ اس کے برخلاف وہ
فی الخیریۃ قال لھا انت طالق الی سنتین ولانیۃ لہ فما الحکم اجاب یقع علیھا بعد السنتین طلقۃ واحدۃ رجعیۃ صرح بہ صاحب البحر والبزازیۃ والولو الجیۃ وغیرھم من کتب الحنفیۃ۔
خیریہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا “ تجھے دو۲سال پر طلاق “ اور کوئی خاص نیت نہ کی ہوتو کیا حکم ہے تو جواب دیا کہ دو۲سال بعد رجعی طلاق ہوگی اس کی تصریح بحر بزازیہ اور ولوالجیہ وغیرہ کتب حنفیہ میں موجود ہے۔ (ت)
۷۲تجھ پر یہاں سے عرب تك طلاق اور اگر یوں کہا کہ اتنی لمی یا بڑی طلاق تو بائن ہوگی
فی الدروبقولہ من ھنا الی الشام واحدۃ رجعیۃ مالم یصفھا بطول اوکبر فبائنۃ۔
درمیں ہے : خاوند نے کہا “ تجھے یہاں سے ملك شام تك طلاق ہے تو ایك رجعی طلاق ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کو کسی طوالت یا بڑائی سے موصوف نہ کیاہو اور اگر ایسی صفت سے موصوف کیا تو بائنہ ہوگی(ت)
۷۳تو فلاں عورت سے زیادہ مطلقہ ہے طلاق ہوجائے گی اگرچہ فلاں عورت مطلقہ نہ بھی ہو
بخلاف مالوقال بالعربیۃ انت اطلق من فلانۃ فلاتطلق الابالنیۃ بشرط ان تکون فلانۃ مطلقۃ فقد عد فی الدر قولہ انت اطلق من امرأۃ فلان وھی مطلقۃ من الکنایات التی یقع بھا الرجعی قال الشامی عﷲ فی الفتح بان افعل التفضیل لیس صریحا فافھم اھ بخلاف مانحن فیہ فانہ مطلقۃ صریحۃ ولایعتریہ الاحتمال بزیادۃ فما فیہ الاثبات الطلاق
بخلاف اس کے جب بزبان یوں کہا “ انت اطلق من فلانۃ “ تو نیت کے بغیرطلاق نہ ہوگی نیت سے بھی تب ہوگی جب وہ فلاں عورت مطلقہ ہو خاوند کے اس قول کہ “ تجھے فلاں کی عورت سے بڑی طلاق بشرطیکہ وہ فلاں کی عورت مطلقہ ہو تو در میں اس کو ان کنایات میں شمار کیا ہے جن سے ایك رجعی طلاق ہوتی ہے۔ علامہ شامی نے اس پر فرمایا کہ فتح میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ صیغہ تفضیل طلاق میں صریح نہیں ہے غور کرواھ اس کے برخلاف وہ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃبیروت ۱ / ۵۱
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت۲ / ۴۶۶
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۹
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت۲ / ۴۶۶
والزیادۃ وقد حققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
صورت جو ہم نے ذکر کی ہے کیونکہ وہ صریح مطلقہ ہے اس میں زیادتی وغیرہ کا احتمال رکاوٹ نہ ہوگا یہ طلاق اور زیادتی کا اثبات ہےاور اس کو ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں محقق کیا ہے۔ (ت)
ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق رجعی پڑتی ہے ۱اے مطلقہ بسکون طاء فی الدر انت مطلقۃ بالتخفیف(درمیں ہے خاوندنے مطلقہ یعنی ط پر جزم کے ساتھ بیوی کو کہا “ تو مطلقہ ہے “ ۔ ت)۲میں نے تیری طلاق چھوڑدی ۳میں نے تیری طلاق روانہ کردی ۴میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا
فی ردالمحتار قولہ خلیت سبیل طلاقك وکذا خلیت طلاقك او ترکت طلاقك ان نوی وقع والا فلا خانیۃ۔
ردالمحتار میں ہے : خاوند نے کہا “ میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا میں نے تیری طلاق روانہ کردی میں نے تیری طلاق چھوڑدی “ تو اگر نیت کی تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں خانیہ۔ (ت)
۵تجھ پر ط ل ا ق۔ ۶تجھ پر طا لام الف قاف۔
فی ردالمحتار قولہ او ط ل ا ق ظاھر ماھنا مثلہ فی الفتح والبحران یاتی بمسمی احرف الھجاء والظاھر عدم الفرق بینھا وبین اسمائھا ففی الذخیرۃ قال لامرأتہ الف نون تاء طاء الف لام قاف انہ ان نوی الطلاق تطلق المرأۃ ۔ (ملخصا)
ردالمحتار میں ہے : یا خاوند کا قول ط ل ا ق تو یہ طلاق میں ظاہر ہے اسی کی مثل فتح اور بحر میں ہے کہ حروف ہجاء اور اس کے مسمی کو ذکر کرے تو ظاہر میں کوئی فرق نہیں ہم نے حروف کے اسماء کو بیان کردیا ہے توذخیرہ میں ہے کہ اگر بیوی کو کہا الف نون تاء طاء الف لام قاف اور طلاق کی نیت کیا تو طلاق ہوگی(ملخصا)۔ (ت)
۷میں نے تیری طلاق تجھے ہبہ کی ۸قرض دی ۹تیرے پاس گرو کی ۱۰امانت رکھی ۱۱میں نے تیری طلاق چاہی ۱۲تیرے لئے طلاق ہے اﷲنے تیری طلاق چاہی ۱۳اﷲتعالی نے تیری طلاق مقدر کی
فی ردالمحتار وغیرذلك مثل الطلاق
ردالمحتار میں ماتن کے قول وغیرہ ذلك کے تحت
صورت جو ہم نے ذکر کی ہے کیونکہ وہ صریح مطلقہ ہے اس میں زیادتی وغیرہ کا احتمال رکاوٹ نہ ہوگا یہ طلاق اور زیادتی کا اثبات ہےاور اس کو ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں محقق کیا ہے۔ (ت)
ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق رجعی پڑتی ہے ۱اے مطلقہ بسکون طاء فی الدر انت مطلقۃ بالتخفیف(درمیں ہے خاوندنے مطلقہ یعنی ط پر جزم کے ساتھ بیوی کو کہا “ تو مطلقہ ہے “ ۔ ت)۲میں نے تیری طلاق چھوڑدی ۳میں نے تیری طلاق روانہ کردی ۴میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا
فی ردالمحتار قولہ خلیت سبیل طلاقك وکذا خلیت طلاقك او ترکت طلاقك ان نوی وقع والا فلا خانیۃ۔
ردالمحتار میں ہے : خاوند نے کہا “ میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا میں نے تیری طلاق روانہ کردی میں نے تیری طلاق چھوڑدی “ تو اگر نیت کی تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں خانیہ۔ (ت)
۵تجھ پر ط ل ا ق۔ ۶تجھ پر طا لام الف قاف۔
فی ردالمحتار قولہ او ط ل ا ق ظاھر ماھنا مثلہ فی الفتح والبحران یاتی بمسمی احرف الھجاء والظاھر عدم الفرق بینھا وبین اسمائھا ففی الذخیرۃ قال لامرأتہ الف نون تاء طاء الف لام قاف انہ ان نوی الطلاق تطلق المرأۃ ۔ (ملخصا)
ردالمحتار میں ہے : یا خاوند کا قول ط ل ا ق تو یہ طلاق میں ظاہر ہے اسی کی مثل فتح اور بحر میں ہے کہ حروف ہجاء اور اس کے مسمی کو ذکر کرے تو ظاہر میں کوئی فرق نہیں ہم نے حروف کے اسماء کو بیان کردیا ہے توذخیرہ میں ہے کہ اگر بیوی کو کہا الف نون تاء طاء الف لام قاف اور طلاق کی نیت کیا تو طلاق ہوگی(ملخصا)۔ (ت)
۷میں نے تیری طلاق تجھے ہبہ کی ۸قرض دی ۹تیرے پاس گرو کی ۱۰امانت رکھی ۱۱میں نے تیری طلاق چاہی ۱۲تیرے لئے طلاق ہے اﷲنے تیری طلاق چاہی ۱۳اﷲتعالی نے تیری طلاق مقدر کی
فی ردالمحتار وغیرذلك مثل الطلاق
ردالمحتار میں ماتن کے قول وغیرہ ذلك کے تحت
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۴۶۶
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العر بی بیروت ۲ / ۴۳۰
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العر بی بیروت ۲ / ۴۳۰
علیك وھبتك طلاقک بعتك طلاقك اذا قالت اشتریت من غیر بدل خذی طلاقك اقرضتك طلاقك شاء اﷲ طلاقك او قضاء او شئت ففی الکل یقع بالنیۃ رجعی کما فی الفتح زادفی البحرالطلاق لك الخ وفیہ امامافی البحر ایضا من ان منہ اودعتك طلاقك ورھنتك طلاقك فسیذکر الشارح تصحیح عدم الوقوع بہ اقول : ای ان لم ینولان المقصود بہ الرد علی البحر فی جعلہ صریحا۔
بیان کیا مثلا میں نے تجھے تیری طلاق ہبہ کی میں نے تیری طلاق تجھ کو فروخت کی جب جواب میں عورت یہ کہے کہ میں نے بدلہ کے بغیرخریدی میں نے تیری طلاق تجھے قرض دی اﷲنے تیری طلاق چاہی یا اﷲنے تیری طلاق مقدر فرمائی کیا تو چاہتی ہے ان مذکورہ صورتوں میں نیت کی تو ایك طلاق رجعی ہو گی جیسا کہ فتح میں ہے بحر میں اس پر زائد ہے تیرے لئے طلاق ہے الخ اور اسی ردالمحتار میں ہے لیکن جو بحر نے افادہ فرمایا وہ بھی کہ میں نے تیرے پاس تیری طلاق امانت رکھی ہے یا رہن رکھی ہے اس پر شارح طلاق نے واقع ہونے کی تصحیح ذکر کررہے ہیں اقول : (میں کہتاہوں )یعنی اگر نیت نہ کی ہوتو یہ مسئلہ ہے کیونکہ اس سے مقصد بحر پر رد کرنا ہے کیونکہ وہ اس کو صریح قراد دیتے ہیں ۔ (ت)
۱۵میں نے تیری طلاق تیرے ہاتھ بیچی عورت نے کہا میں نے خریدی اور کسی عوض مالی کا ذکر نہ ہوا ورنہ بائن ہوگی)
فی ردالمحتار عن البحر ولو قال بعت منك تطلیقۃ فقالت اشتریت یقع رجعیا مجانالانہ صریح اھ وفی الدر وحکم الواقع بالطلاق الصریح علی مال طلاق بائن ۔
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے : اگر خاوند نے کہا میں تجھے ایك طلاق فروخت کرتا ہوں تو بیوی نے جواب میں کہا میں نے خریدا تو بلامعاوضہ ایك طلاق رجعی ہوگی کیونکہ یہ صریح ہے اھ اور در میں ہے کہ مال کے بدلے صریح طلاق واقع ہوتو وہ بائنہ کے حکم میں ہوگی(ت)
بیان کیا مثلا میں نے تجھے تیری طلاق ہبہ کی میں نے تیری طلاق تجھ کو فروخت کی جب جواب میں عورت یہ کہے کہ میں نے بدلہ کے بغیرخریدی میں نے تیری طلاق تجھے قرض دی اﷲنے تیری طلاق چاہی یا اﷲنے تیری طلاق مقدر فرمائی کیا تو چاہتی ہے ان مذکورہ صورتوں میں نیت کی تو ایك طلاق رجعی ہو گی جیسا کہ فتح میں ہے بحر میں اس پر زائد ہے تیرے لئے طلاق ہے الخ اور اسی ردالمحتار میں ہے لیکن جو بحر نے افادہ فرمایا وہ بھی کہ میں نے تیرے پاس تیری طلاق امانت رکھی ہے یا رہن رکھی ہے اس پر شارح طلاق نے واقع ہونے کی تصحیح ذکر کررہے ہیں اقول : (میں کہتاہوں )یعنی اگر نیت نہ کی ہوتو یہ مسئلہ ہے کیونکہ اس سے مقصد بحر پر رد کرنا ہے کیونکہ وہ اس کو صریح قراد دیتے ہیں ۔ (ت)
۱۵میں نے تیری طلاق تیرے ہاتھ بیچی عورت نے کہا میں نے خریدی اور کسی عوض مالی کا ذکر نہ ہوا ورنہ بائن ہوگی)
فی ردالمحتار عن البحر ولو قال بعت منك تطلیقۃ فقالت اشتریت یقع رجعیا مجانالانہ صریح اھ وفی الدر وحکم الواقع بالطلاق الصریح علی مال طلاق بائن ۔
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے : اگر خاوند نے کہا میں تجھے ایك طلاق فروخت کرتا ہوں تو بیوی نے جواب میں کہا میں نے خریدا تو بلامعاوضہ ایك طلاق رجعی ہوگی کیونکہ یہ صریح ہے اھ اور در میں ہے کہ مال کے بدلے صریح طلاق واقع ہوتو وہ بائنہ کے حکم میں ہوگی(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۷
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
ردالمحتار باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۵۹
درمختار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۵
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۰
ردالمحتار باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۵۹
درمختار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۵
(۱۶)میں نے تجھے اس عورت پر طلاق دی کہ تو اتنے دنوں کے لئے فلاں مطالبہ مجھ سے ہٹادے۔
فان العوض غیرمال ففی ردالمحتار بعد ذکر الطلاق علی مال بخلاف طلقنی علی ان اؤخر مالی علیک فان التاخیر لیس بمال وصح التاخیر لولہ غایۃ معلومۃ والا فلا والطلاق رجعی مطلقا بحر عن البزازیۃ کمامر۔
کیونکہ یہ عوض مال نہیں تو ردالمحتار میں طلاق بعوض مال کے بعد ذکر کیا بخلاف اس کے کہ جب بیوی کہے میرا جو مال تیرے ذمہ ہے اسے میں تجھ پر مؤخر کرتی ہوں اس کے عوض تومجھے طلاق دے۔ خاوند نے اس پر طلاق دے دی تو وہ رجعی ہوگی کیونکہ یہ عوض یعنی تاخیر مال نہیں ہے۔ اگر مال کی کوئی مدت مقرر تھی یہ تاخیردرست ہوگی ورنہ نہیں بزازیہ سے بحر نے گزشتہ کی طرح نقل کیا۔ (ت)
۱۷میں نے طلاق تیرے دامن میں رکھ دی عــــہ۱
فی الخزانۃ عن الخلاصۃ ولو قال ہزار طلاق دردامنت کردم ان نوی او کان فی حال مذاکرۃ الطلاق یقع والافلا ۔
خرانہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ خاوند نے کہا “ میں نے تیرے دامن میں ہزار طلاق رکھ دی ہے “ اگر نیت کی تو طلاق ہوگی یونہی اگر یہ بات طلاق کے مذاکرہ کے بعد کہی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں ۔ (ت)
۱۸عدت بیٹھ فی ردالمحتار عــــہ۲ ۱۹تجھ پر ایک
عــــہ۱ : اقول : شاید مسئلہ دامن ومسئلہ سابقہ چادر میں فرق بوجہ اضافت وعدم اضافت طلاق ہے کہ وہاں یہ کہا تھا تیری طلاق تیرے آنچل باندھی لہذا بے نیت پڑگئی یہاں صرف طلاق کہا تیری طلاق نہ کہا لہذا نیت پر رہی ولیحرر واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۱۲منہ
عــــہ ۲ : ھھنا فی الاصل بیاض ولعل العبارۃ المطلوبۃ منھا ھی مانقل ھھنا فی الذیل قولہ اعتدی امر بالاعتداد الذی ھومن العدۃ اومن العد ای اعتدی نعمی علیك بدائع اھ الفقیر حامد رضا قادری غفرلہ۔
یہاں قلمی نسخہ میں بیاض ہے ہوسکتا ہے اس سے مطلوب وہ عبارت ہو جس کی ذیل میں نقل کیا جاتا ہے کہ اعتدی اعتداد سے امر ہے جو عدت سے ہے یا عد سے ہے یعنی میرے نکاح کو اپنے اوپر خدا کو نعمت شمار کر بدائع اھ۱۲ الفقیر حامد رضاقادری غفرلہ (ت)
فان العوض غیرمال ففی ردالمحتار بعد ذکر الطلاق علی مال بخلاف طلقنی علی ان اؤخر مالی علیک فان التاخیر لیس بمال وصح التاخیر لولہ غایۃ معلومۃ والا فلا والطلاق رجعی مطلقا بحر عن البزازیۃ کمامر۔
کیونکہ یہ عوض مال نہیں تو ردالمحتار میں طلاق بعوض مال کے بعد ذکر کیا بخلاف اس کے کہ جب بیوی کہے میرا جو مال تیرے ذمہ ہے اسے میں تجھ پر مؤخر کرتی ہوں اس کے عوض تومجھے طلاق دے۔ خاوند نے اس پر طلاق دے دی تو وہ رجعی ہوگی کیونکہ یہ عوض یعنی تاخیر مال نہیں ہے۔ اگر مال کی کوئی مدت مقرر تھی یہ تاخیردرست ہوگی ورنہ نہیں بزازیہ سے بحر نے گزشتہ کی طرح نقل کیا۔ (ت)
۱۷میں نے طلاق تیرے دامن میں رکھ دی عــــہ۱
فی الخزانۃ عن الخلاصۃ ولو قال ہزار طلاق دردامنت کردم ان نوی او کان فی حال مذاکرۃ الطلاق یقع والافلا ۔
خرانہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ خاوند نے کہا “ میں نے تیرے دامن میں ہزار طلاق رکھ دی ہے “ اگر نیت کی تو طلاق ہوگی یونہی اگر یہ بات طلاق کے مذاکرہ کے بعد کہی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں ۔ (ت)
۱۸عدت بیٹھ فی ردالمحتار عــــہ۲ ۱۹تجھ پر ایک
عــــہ۱ : اقول : شاید مسئلہ دامن ومسئلہ سابقہ چادر میں فرق بوجہ اضافت وعدم اضافت طلاق ہے کہ وہاں یہ کہا تھا تیری طلاق تیرے آنچل باندھی لہذا بے نیت پڑگئی یہاں صرف طلاق کہا تیری طلاق نہ کہا لہذا نیت پر رہی ولیحرر واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۱۲منہ
عــــہ ۲ : ھھنا فی الاصل بیاض ولعل العبارۃ المطلوبۃ منھا ھی مانقل ھھنا فی الذیل قولہ اعتدی امر بالاعتداد الذی ھومن العدۃ اومن العد ای اعتدی نعمی علیك بدائع اھ الفقیر حامد رضا قادری غفرلہ۔
یہاں قلمی نسخہ میں بیاض ہے ہوسکتا ہے اس سے مطلوب وہ عبارت ہو جس کی ذیل میں نقل کیا جاتا ہے کہ اعتدی اعتداد سے امر ہے جو عدت سے ہے یا عد سے ہے یعنی میرے نکاح کو اپنے اوپر خدا کو نعمت شمار کر بدائع اھ۱۲ الفقیر حامد رضاقادری غفرلہ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۵۶۰
خزانۃ المفتین فصل فی صریح الطلاق قلمی نسخہ ۱ / ۱۰۸
خزانۃ المفتین فصل فی صریح الطلاق قلمی نسخہ ۱ / ۱۰۸
فی المتون انت واحدۃ ویعرف ماترجمنا من یعرف الدلیل۔
متون میں ہے : تو ایك ہے تو ہمارے قائم کردہ عنوان سے دلیل جاننے والے کو معلوم ہے۔ (ت)
۱۰تجھ پر دو اس میں دو۲ طلاقیں رجعی بحالت نیت پڑیں گی
فانہ مثلہ بعین الوجہ لان الوقوع بطلاق مضمر فکان رجعیا ویحتمل غیرہ فتوقف علی النیۃ وعد فی البحر من ھذا القسم لست لی بامرأۃ وما انالك بزوج حیث یقع رجعی ان نوی قلت والوقوع بہ مذھب الامام وعندھما لاوان نوی کما فی الخانیۃ و قد قدم قول الامام لکن فی الخلاصۃ وخزانۃ المفتین وجواھر الاخلاطی والھندیۃ فی قولہ توزن من نیی لایقع وان نوی ھوالمختار واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ بھی پہلی ہی وجہ کی طرح معلوم ہے کہ یہاں لفظ طلاق پوشیدہ ہے جس سے یہ طلاق رجعی ہوگی اورغیر طلاق کا احتمال ہونے کی وجہ سے نیت پر موقوف ہوگی اور بحر میں اسی قسم سے شمار کیا ہے جب یہ کہے کہ “ تومیری بیوی نہیں اور میں تیرا خاوند نہیں “ نیت کی تو ایك رجعی طلاق ہوگی قلت(میں کہتاہوں )اس کلام سے طلاق کا وقوع امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کا مذہب ہے اور صاحبین کے نزدیك نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی اور بحرمیں امام کے قول کو پہلے ذکر کیا ہے لیکن خلاصہ خزانۃ المفتین جواھر الاخلاطی اور ہندیہ میں مذکور ہے کہ خاوند نے کہا “ تو میری بیوی نہیں ہے “ تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی یہی مختار ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
ان سب میں نیت کی حاجت ہے اگر نیت نہیں تو کچھ نہیں اور ہے تو طلاق رجعی عــــہ ۔ ۱بے وجہ بے سبب طلاق
عــــہ : اصل میں اتنی عبارت اور زائد ہے یہ دوسوبیس۲۲۰الفاظ طلاق ہیں جن میں سے ایك سو تیس ۱۳۰سے بائن پڑتی ہے نوے۹۰ سے رجعی۔ دونوں میں ننانوے۹۹ سے بے نیت باقی سے منوی اور ہنوز ہر قسم میں زیادت کو اور الفاظ باقی اقوال بعد تکمیل الفاظ اضافہ فرمائے گئے لہذامنوی ایك سوپینتالیس۱۴۵ غیر منوی ایك سوآٹھ ۱۰۸ یہ کل دوسوترپن الفاظ ہیں ۲۵۳ ایك سوساٹھ ۱۶۰سے بائن اور ترانوے ۹۳رجعی۱۲حامد رضا غفرلہ
متون میں ہے : تو ایك ہے تو ہمارے قائم کردہ عنوان سے دلیل جاننے والے کو معلوم ہے۔ (ت)
۱۰تجھ پر دو اس میں دو۲ طلاقیں رجعی بحالت نیت پڑیں گی
فانہ مثلہ بعین الوجہ لان الوقوع بطلاق مضمر فکان رجعیا ویحتمل غیرہ فتوقف علی النیۃ وعد فی البحر من ھذا القسم لست لی بامرأۃ وما انالك بزوج حیث یقع رجعی ان نوی قلت والوقوع بہ مذھب الامام وعندھما لاوان نوی کما فی الخانیۃ و قد قدم قول الامام لکن فی الخلاصۃ وخزانۃ المفتین وجواھر الاخلاطی والھندیۃ فی قولہ توزن من نیی لایقع وان نوی ھوالمختار واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ بھی پہلی ہی وجہ کی طرح معلوم ہے کہ یہاں لفظ طلاق پوشیدہ ہے جس سے یہ طلاق رجعی ہوگی اورغیر طلاق کا احتمال ہونے کی وجہ سے نیت پر موقوف ہوگی اور بحر میں اسی قسم سے شمار کیا ہے جب یہ کہے کہ “ تومیری بیوی نہیں اور میں تیرا خاوند نہیں “ نیت کی تو ایك رجعی طلاق ہوگی قلت(میں کہتاہوں )اس کلام سے طلاق کا وقوع امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کا مذہب ہے اور صاحبین کے نزدیك نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی اور بحرمیں امام کے قول کو پہلے ذکر کیا ہے لیکن خلاصہ خزانۃ المفتین جواھر الاخلاطی اور ہندیہ میں مذکور ہے کہ خاوند نے کہا “ تو میری بیوی نہیں ہے “ تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی یہی مختار ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
ان سب میں نیت کی حاجت ہے اگر نیت نہیں تو کچھ نہیں اور ہے تو طلاق رجعی عــــہ ۔ ۱بے وجہ بے سبب طلاق
عــــہ : اصل میں اتنی عبارت اور زائد ہے یہ دوسوبیس۲۲۰الفاظ طلاق ہیں جن میں سے ایك سو تیس ۱۳۰سے بائن پڑتی ہے نوے۹۰ سے رجعی۔ دونوں میں ننانوے۹۹ سے بے نیت باقی سے منوی اور ہنوز ہر قسم میں زیادت کو اور الفاظ باقی اقوال بعد تکمیل الفاظ اضافہ فرمائے گئے لہذامنوی ایك سوپینتالیس۱۴۵ غیر منوی ایك سوآٹھ ۱۰۸ یہ کل دوسوترپن الفاظ ہیں ۲۵۳ ایك سوساٹھ ۱۶۰سے بائن اور ترانوے ۹۳رجعی۱۲حامد رضا غفرلہ
حوالہ / References
بحرالرائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۳۰۰
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۶
دینا فی نفسہ ناپسندیدہ بلکہ شرعا مذموم ہے ۲خصوصا بائن کے بے ضرورت محض بدعت وممنوع ہے۔ عورت کا معاذاﷲفاحشہ ہونا اگرچہ سب سے بڑھ کر اجازت طلاق کی وجہ مگر بائن کی بھی کاربرآری ممکن کہ طلاق رجعی بطور مسنون دے اور رجعت نہ کرے خود ہی بائن ہوجائے گی وقت طلاق میں بھی یہ خصوصیت ہے کہ زن مدخولہ کو۳حیض یا۴نفاس میں طلاق نہ دے مگر خلع وغیرہ جو طلاق مال کے عوض ہو وہ اس حال میں بھی جائز ہے ۵عورت کی عمر اگر نو۹برس سے کم ہے ۶یاپچپن تك پہنچ چکی ہو ۷یاجوان تو ہوئی مگر حیض کبھی نہ آیا ۸یا حاملہ ہے تو ایس عورت کو ایك مہینے میں دو طلاق نہ دے اور۹جوعورت ان چار کے علاوہ ہے اسے ایسی پاکی نہ دے کہ اس میں یا۱۰اس سے پہلے کے حیض میں یہ اسے طلاق دے چکا یا۱۱ان میں یا۱۲دھوکے سے دوسرا شخص اس سے جماع کرچکا ہے طلاق میں یہ بارہ ۱۲صورتیں منع ہیں پھر ان سب ممانعتوں کے یہ معنی کہ مرد ان کے خلاف سے گنہگار ہوگا ورنہ طلاق تو بہر حال پڑجاتی ہے جب تك عورت پر قید نکاح یا عدت اور مرد کے ہاتھ میں کوئی طلاق باقی ہے
فی فتح القدیر اول کتاب الطلاق الاصح حظرہ الالحاجۃ غیران الحاجۃ لاتقتصر علی الکبر والریبۃ اھ ملخصا فی ردالمحتار ان الضعیف ھو عدم اباحتہ الاکبر او ریبۃ والذی صححہ فی الفتح عدم التقیید بذلك کماھو مقتضی اطلاقھم الحاجۃ وبما قررناہ ظہران لامخالفۃ بین ماادعاہ انہ المذہب وما صححہ فی الفتح اھ وفیہ عن البحر عن الفتح الواحدۃ البائنۃ بدعیۃ فی ظاھر الروایۃ الخ
فتح القدیر میں کتاب الطلاق کے شروع میں ہے اصح یہ ہے کہ طلاق ممنوع ہے مگر حاجت ہوتو ممنوع نہیں ہے مگر حاجت صرف بڑھاپے اور شکوك میں منحصر نہیں ہے اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں ہے کہ طلاق کا صرف بڑھاپے یا شکوك کی بناء پر مباح ہونا ضعیف ہے اور جس کو فتح میں صحیح قرار دیا ہے اس میں اس کی قید نہیں بیان کی جیسا کہ فقہاء کرام نے مطلق حاجت کو بیا ن کیا ہے اور ہماری تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ جس کے متعلق مذہب ہونے کا دعوی کیا اور جس کی تصحیح فتح میں کی ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اھ اور اسی میں بحر اور اس نے فتح سے نقل کیا کہ ایك بائنہ طلاق ظاہر روایت میں بدعی طلاق
فی فتح القدیر اول کتاب الطلاق الاصح حظرہ الالحاجۃ غیران الحاجۃ لاتقتصر علی الکبر والریبۃ اھ ملخصا فی ردالمحتار ان الضعیف ھو عدم اباحتہ الاکبر او ریبۃ والذی صححہ فی الفتح عدم التقیید بذلك کماھو مقتضی اطلاقھم الحاجۃ وبما قررناہ ظہران لامخالفۃ بین ماادعاہ انہ المذہب وما صححہ فی الفتح اھ وفیہ عن البحر عن الفتح الواحدۃ البائنۃ بدعیۃ فی ظاھر الروایۃ الخ
فتح القدیر میں کتاب الطلاق کے شروع میں ہے اصح یہ ہے کہ طلاق ممنوع ہے مگر حاجت ہوتو ممنوع نہیں ہے مگر حاجت صرف بڑھاپے اور شکوك میں منحصر نہیں ہے اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں ہے کہ طلاق کا صرف بڑھاپے یا شکوك کی بناء پر مباح ہونا ضعیف ہے اور جس کو فتح میں صحیح قرار دیا ہے اس میں اس کی قید نہیں بیان کی جیسا کہ فقہاء کرام نے مطلق حاجت کو بیا ن کیا ہے اور ہماری تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ جس کے متعلق مذہب ہونے کا دعوی کیا اور جس کی تصحیح فتح میں کی ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اھ اور اسی میں بحر اور اس نے فتح سے نقل کیا کہ ایك بائنہ طلاق ظاہر روایت میں بدعی طلاق
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطلاق نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۳۲۷
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
کتاب الطلاق ۲ / ۴۱۸
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۶
کتاب الطلاق ۲ / ۴۱۸
فی الدرطلقۃ رجعیۃ فقط فی طھر لاوطی فیہ احسن وطلقۃ لغیر موطؤۃ ولو فی حیض ولموطوئـۃتفریق الثلث فی ثلاثۃ اطھار لاوطی فیھا ولافی حیض قبلھا ولاطلاق فیہ فیمن تحیض وفی ثلثۃ اشھر فی حق غیرھا حسن وسنی وحل طلاق الایسۃوالصغیرۃ و الحامل عقب وطی لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل والبدعی ماخالفھما والخلع فی الحیض لایکرہ والنفاس کالحیض اھ ملخصا قال الشامی قولہ لاوطء فیہ لم یقل منہ لیدخل فی کلامہ مالووطئت بشھۃ فان طلاقھا فیہ حینئذ بدعی نص علیہ الاسبیجابی وبھذا عرف ان کلام المصنف اولی من قول غیرہ لم یجامعھافیہ لکن لابدان
ہے الخ اور در میں ہے کہ ایك رجعی طلاق ایسے طہر میں جس میں وطی نہ کی ہو فقط وہی احسن طلاق ہے اور غیر موطؤہ بیوی کو اگرچہ حیض کے دوران ایك طلاق اور وطی شدہ کو تین طہروں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی اور نہ ایسے طہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو حیض والی کے لئے اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی ہو اور نہ ایسے طہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو حیض والی کے لئے اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جس کو حیض نہ آتا ہو تو ایسی طلاقیں حسن اور سنی ہوں گی۔ اور بوڑھی نابالغہ اور حاملہ کو وطی کے بعد طلاق دینا حلال ہے کیونکہ وطی کے بعد طلاق دینا اسلئے مکروہ ہے کہ حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جو کہ جوان حیض والی میں ہوسکتا ہے اور بدعی طلاق وہ ہے جوان مذکورہ دو۲قسموں (احسن اور حسن) کے خلاف ہو اور حیض میں خلع مکروہ نہیں اور نفاس بھی حیض کا حکم رکھتا ہے اھ ملخصا۔ علامہ شامی نے فرمایا : ماتن کا قول “ وہ طہر جس میں وطی نہ ہو “ کہا یہ نہ کہا کہ اس خاوند سے وطی نہ ہوئی ہو یہ اس لئے تاکہ کلام شبہہ سے وطی کو بھی شامل ہوسکے کیونکہ ایسی صورت میں بھی طلاق بدعی ہوگی جیسا کہ ا س پر اسبیجابی نے نص کی ہے۔ اوراس سے معلوم ہوا
ہے الخ اور در میں ہے کہ ایك رجعی طلاق ایسے طہر میں جس میں وطی نہ کی ہو فقط وہی احسن طلاق ہے اور غیر موطؤہ بیوی کو اگرچہ حیض کے دوران ایك طلاق اور وطی شدہ کو تین طہروں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی اور نہ ایسے طہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو حیض والی کے لئے اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی ہو اور نہ ایسے طہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو حیض والی کے لئے اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جس کو حیض نہ آتا ہو تو ایسی طلاقیں حسن اور سنی ہوں گی۔ اور بوڑھی نابالغہ اور حاملہ کو وطی کے بعد طلاق دینا حلال ہے کیونکہ وطی کے بعد طلاق دینا اسلئے مکروہ ہے کہ حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جو کہ جوان حیض والی میں ہوسکتا ہے اور بدعی طلاق وہ ہے جوان مذکورہ دو۲قسموں (احسن اور حسن) کے خلاف ہو اور حیض میں خلع مکروہ نہیں اور نفاس بھی حیض کا حکم رکھتا ہے اھ ملخصا۔ علامہ شامی نے فرمایا : ماتن کا قول “ وہ طہر جس میں وطی نہ ہو “ کہا یہ نہ کہا کہ اس خاوند سے وطی نہ ہوئی ہو یہ اس لئے تاکہ کلام شبہہ سے وطی کو بھی شامل ہوسکے کیونکہ ایسی صورت میں بھی طلاق بدعی ہوگی جیسا کہ ا س پر اسبیجابی نے نص کی ہے۔ اوراس سے معلوم ہوا
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۵تا۲۱۷
یقول ولافی حیض قبلہ ولاطلاق فیھما ولم یظھر حملھا ولم تکن آیسۃ ولاصغیرۃ کما فی البدائع لانہ لو طلقھا فی طھر وطئھا فی حیض قبلہ کان بدعیا وکذا لوکان قد طلقھا فیہ وفی ھذاالطھر لان الجمع بین تطلیقتین فی طھر واحد مکروہ عندنا قولہ فی حق غیرھا ای فی حق من بلغت بالسن ولم تر دما اوکانت حاملا او صغیرۃ لم تبلغ تسع سنین علی المختار او ایسۃ بلغت خمس وخمسین سنۃ علی الراجح اما ممتدۃ الطھر فمن ذوات الاقراء لانہا شابۃ رأت الدم فلایطلقھا للسنۃ الاواحدۃ مالم تدخل فی حد الایاس قال فی الذخیرۃ عن المنتقی لاباس بان
کہ مصنف کی کلام دوسروں کی نسبت اولی ہے کیونکہ دوسروں نے یوں کہا ہے کہ خاوند نے اس طہر میں وطی نہ کی ہو لیکن مصنف کی کلام میں یہ کہنا بھی ضروری تھا کہ اس طہر سے قبل حیض میں بھی وطی نہ ہو اور نہ طلاق ہو اور حمل ظاہر نہ ہو اور بوڑھی اور نابالغہ نہ ہو جیسا کہ بدائع میں ہے کیونکہ اگر ایسے طہر میں طلاق دی جس سے قبل حیض میں وطی کی ہو تو وہ طلاق بدعی ہوگی اگرچہ طہر میں وطی نہ ہو اور یوں ہی اگر اس حیض میں طلاق کے بعد طہر میں طلاق دی ہو کیونکہ ایسی صورت میں ایك طہر میں دو۲ طلاقیں شمار ہوں گی جو کہ ہمارے ہاں مکروہ ہے۔ اور ماتن کا قول کہ “ اس کے غیر میں “ یعنی وہ عورت حیض کی بجائے عمر کے حساب سے بالغ قرار پائے اور اس نے کسی حیض کا خون نہ دیکھا اور نہ پایا یا عورت حاملہ ہو یا ایسی نابالغہ جو نو۹سال سے کم عمر والی ہو مختار قول کے مطابق یاآئسہ (وہ عورت جوپچپن ۵۵سال کو پہنچ چکی ہو) راجح قول کے مطابق یا حیض والی عورتوں میں وہ عورت جس کا طہر دراز مدت تك ختم نہ ہو کیونکہ نوجوان عورت جس کو خون حیض آچکا ہے تو اس کو سنت طلاق صرف ایك ہی ہوگی جب تك وہ حدایاس تك نہ پہنچی ہو۔ ذخیرہ میں منتقی سے منقول ہے : اگر بیوی سے کوئی ناپسندیدہ
کہ مصنف کی کلام دوسروں کی نسبت اولی ہے کیونکہ دوسروں نے یوں کہا ہے کہ خاوند نے اس طہر میں وطی نہ کی ہو لیکن مصنف کی کلام میں یہ کہنا بھی ضروری تھا کہ اس طہر سے قبل حیض میں بھی وطی نہ ہو اور نہ طلاق ہو اور حمل ظاہر نہ ہو اور بوڑھی اور نابالغہ نہ ہو جیسا کہ بدائع میں ہے کیونکہ اگر ایسے طہر میں طلاق دی جس سے قبل حیض میں وطی کی ہو تو وہ طلاق بدعی ہوگی اگرچہ طہر میں وطی نہ ہو اور یوں ہی اگر اس حیض میں طلاق کے بعد طہر میں طلاق دی ہو کیونکہ ایسی صورت میں ایك طہر میں دو۲ طلاقیں شمار ہوں گی جو کہ ہمارے ہاں مکروہ ہے۔ اور ماتن کا قول کہ “ اس کے غیر میں “ یعنی وہ عورت حیض کی بجائے عمر کے حساب سے بالغ قرار پائے اور اس نے کسی حیض کا خون نہ دیکھا اور نہ پایا یا عورت حاملہ ہو یا ایسی نابالغہ جو نو۹سال سے کم عمر والی ہو مختار قول کے مطابق یاآئسہ (وہ عورت جوپچپن ۵۵سال کو پہنچ چکی ہو) راجح قول کے مطابق یا حیض والی عورتوں میں وہ عورت جس کا طہر دراز مدت تك ختم نہ ہو کیونکہ نوجوان عورت جس کو خون حیض آچکا ہے تو اس کو سنت طلاق صرف ایك ہی ہوگی جب تك وہ حدایاس تك نہ پہنچی ہو۔ ذخیرہ میں منتقی سے منقول ہے : اگر بیوی سے کوئی ناپسندیدہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۸
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۹
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۹
یخلعھا فی الحیض اذا ارای منھا مایکرہ اھ وکذا الطلاق علی مال لایکرہ فی الحیض کما صرح بہ فی البحر عن المعراج والمراد بالخلع مااذاکان خلعا بمال قولہ والنفاس کالحیض قال فی البحر ولما کان المنع من الطلاق فی الحیض لتطویل العدۃ علیھا کان النفاس مثلہ جوھرۃ اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
امر محسوس کرے تو حیض کے دوران بھی خلع کرنے میں کوئی حرج نہیں اھ یوں ہی مال کے عوض طلاق حیض میں دی جائے تو مکروہ نہیں جیسا کہ بحر میں معراج سے نقل کرتے ہوئے تصریح کی ہے اور خلع سے مراد وہ ہے جو مال کے عوض ہو۔ ماتن کاقول کہ “ نفاس حیض کی طرح ہے “ ۔ بحر میں فرمایا کہ حیض میں طلاق عورت کی عدت کو طوالت سے بچانے کی وجہ سے ممنوع ہے تو نفاس میں یہی بات ہے اس لئے یہ بھی حیض کی طرح ہے اھ (ردالمحتار کی تمام عبارت ملتقطا) واﷲتعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
فہرست الفاظ طلاق
ان سب صورتوں میں اگر طلاق کی نیت ہو طلاق بائن پڑجائے گی
نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ
ا جا ۵۱۵ ۱۱ سرک ۵۱۵
۲ نکل ۵۱۵ ۱۲ جگہ چھوڑ ۵۱۵
۳ چل ۵۱۵ ۱۳ گھر خالی کر ۵۱۵
۴ روانہ ہو ۵۱۵ ۱۴ دور ہو ۵۱۵
۵ اٹھ ۵۱۵ ۱۵ چل دور ۵۱۵
۶ کھڑی ہو ۵۱۵ ۱۶ اے خالی ۵۱۵
۷ پردہ کر ۵۱۵ ۱۷ اے بری ۵۱۵
۸ دوپٹہ اوڑھ ۵۱۵ ۱۸ اے جدا ۵۱۵
۹ نقاب ڈال ۵۱۵ ۱۹ تو جدا ہے ۵۱۵
۱۰ ہٹ ۵۱۵ ۲۰ تو مجھ سے جدا ہے ۵۱۵
امر محسوس کرے تو حیض کے دوران بھی خلع کرنے میں کوئی حرج نہیں اھ یوں ہی مال کے عوض طلاق حیض میں دی جائے تو مکروہ نہیں جیسا کہ بحر میں معراج سے نقل کرتے ہوئے تصریح کی ہے اور خلع سے مراد وہ ہے جو مال کے عوض ہو۔ ماتن کاقول کہ “ نفاس حیض کی طرح ہے “ ۔ بحر میں فرمایا کہ حیض میں طلاق عورت کی عدت کو طوالت سے بچانے کی وجہ سے ممنوع ہے تو نفاس میں یہی بات ہے اس لئے یہ بھی حیض کی طرح ہے اھ (ردالمحتار کی تمام عبارت ملتقطا) واﷲتعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
فہرست الفاظ طلاق
ان سب صورتوں میں اگر طلاق کی نیت ہو طلاق بائن پڑجائے گی
نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ
ا جا ۵۱۵ ۱۱ سرک ۵۱۵
۲ نکل ۵۱۵ ۱۲ جگہ چھوڑ ۵۱۵
۳ چل ۵۱۵ ۱۳ گھر خالی کر ۵۱۵
۴ روانہ ہو ۵۱۵ ۱۴ دور ہو ۵۱۵
۵ اٹھ ۵۱۵ ۱۵ چل دور ۵۱۵
۶ کھڑی ہو ۵۱۵ ۱۶ اے خالی ۵۱۵
۷ پردہ کر ۵۱۵ ۱۷ اے بری ۵۱۵
۸ دوپٹہ اوڑھ ۵۱۵ ۱۸ اے جدا ۵۱۵
۹ نقاب ڈال ۵۱۵ ۱۹ تو جدا ہے ۵۱۵
۱۰ ہٹ ۵۱۵ ۲۰ تو مجھ سے جدا ہے ۵۱۵
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۸
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۸
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۱۸
نمبر شمار
الفاظ طلاق صفحہ نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ
۲۱ میں نے تجھے بے قید کیا ۵۱۵ ۴۰ تشریف کا ٹوکرالے جائیے ۵۱۵
۲۲ میں نے تجھ سے مفارقت کی ۵۱۵ ۴۱ جہاں سینگ سمائے جا ۵۱۵
۲۳ رستہ ناپ ۵۱۶ ۴۲ اپنا مانگ کھا ۵۱۵
۲۴ اپنی راہ لے ۵۱۶ ۴۳ بہت ہوچکی اب مہربانی فرمائیے ۵۱۵
۲۵ کالا منہ کر ۵۱۶ ۴۴ اے بے علاقہ ۵۱۵
۲۶ چال دکھا ۵۱۶ ۴۵ منہ چھپا ۵۱۵
۲۷ چلتی بن ۵۱۶ ۴۶ جہنم میں جا ۵۱۵
۲۸ چلتی نظرآ ۵۱۶ ۴۷ چولھے میں جا ۵۱۵
۲۹ دفع ہو ۵۱۶ ۴۸ بھاڑمیں جا ۵۱۵
۳۰ دال فے عین ہو ۵۱۶ ۴۹ میرے پاس سے چل ۵۱۵
۳۱ رفو چکر ہو ۵۱۶ ۵۰ اپنی مراد پر فتحمند ہو ۵۱۵
۳۲ پنجراخالی کر ۵۱۶ ۵۱ میں نے نکاح فسخ کیا ۵۱۵
۳۳ ہٹ کے سڑ ۵۱۶ ۵۲ تو مجھ پر مثل مردار عــــہ۱ ۵۱۵
۳۴ اپنی صورت گما ۵۱۶ ۵۳ یا مثل سوئر ۵۱۵
۳۵ بستر اٹھا ۵۱۶ ۵۴ یا مثل شراب کے ہے ۵۱۵
۳۶ اپنا سوجھتا دیکھ ۵۱۶ ۵۵ تو مثل میری ماں عــــہ۲ ۵۱۷
۳۷ اپنی گٹھڑی باندھ ۵۱۶ ۵۶ یا بہن ۵۱۵
۳۸ اپنی نجاست الگ پھیلا ۵۱۶ ۵۷ یا بیٹی کے ہے ۵۱۵
۳۹ تشریف لے جایئے ۵۱۶ ۵۸ تو خلاص ہے ۵۱۵
عــــہ۱ : نہ مثل بھنگ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ فلاں کے۔
عــــہ۲ : یوں کہا توماں بیٹی ہے تو گناہ کے سوا کچھ نہیں ۔
الفاظ طلاق صفحہ نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ
۲۱ میں نے تجھے بے قید کیا ۵۱۵ ۴۰ تشریف کا ٹوکرالے جائیے ۵۱۵
۲۲ میں نے تجھ سے مفارقت کی ۵۱۵ ۴۱ جہاں سینگ سمائے جا ۵۱۵
۲۳ رستہ ناپ ۵۱۶ ۴۲ اپنا مانگ کھا ۵۱۵
۲۴ اپنی راہ لے ۵۱۶ ۴۳ بہت ہوچکی اب مہربانی فرمائیے ۵۱۵
۲۵ کالا منہ کر ۵۱۶ ۴۴ اے بے علاقہ ۵۱۵
۲۶ چال دکھا ۵۱۶ ۴۵ منہ چھپا ۵۱۵
۲۷ چلتی بن ۵۱۶ ۴۶ جہنم میں جا ۵۱۵
۲۸ چلتی نظرآ ۵۱۶ ۴۷ چولھے میں جا ۵۱۵
۲۹ دفع ہو ۵۱۶ ۴۸ بھاڑمیں جا ۵۱۵
۳۰ دال فے عین ہو ۵۱۶ ۴۹ میرے پاس سے چل ۵۱۵
۳۱ رفو چکر ہو ۵۱۶ ۵۰ اپنی مراد پر فتحمند ہو ۵۱۵
۳۲ پنجراخالی کر ۵۱۶ ۵۱ میں نے نکاح فسخ کیا ۵۱۵
۳۳ ہٹ کے سڑ ۵۱۶ ۵۲ تو مجھ پر مثل مردار عــــہ۱ ۵۱۵
۳۴ اپنی صورت گما ۵۱۶ ۵۳ یا مثل سوئر ۵۱۵
۳۵ بستر اٹھا ۵۱۶ ۵۴ یا مثل شراب کے ہے ۵۱۵
۳۶ اپنا سوجھتا دیکھ ۵۱۶ ۵۵ تو مثل میری ماں عــــہ۲ ۵۱۷
۳۷ اپنی گٹھڑی باندھ ۵۱۶ ۵۶ یا بہن ۵۱۵
۳۸ اپنی نجاست الگ پھیلا ۵۱۶ ۵۷ یا بیٹی کے ہے ۵۱۵
۳۹ تشریف لے جایئے ۵۱۶ ۵۸ تو خلاص ہے ۵۱۵
عــــہ۱ : نہ مثل بھنگ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ فلاں کے۔
عــــہ۲ : یوں کہا توماں بیٹی ہے تو گناہ کے سوا کچھ نہیں ۔
نمبر شمار
الفاظ طلاق صفحہ نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ
۵۹ تیری گلوخلاصی ہوئی ۵۱۷ ۷۹ تیری رسی چھوڑدی ۵۱۸
۶۰ تو خالص ہوئی ۵۱۷ ۸۰ تیری لگام اتارلی ۵۱۸
۶۱ حلال خدا ۵۱۷ ۸۱ اپنے رفیقوں سے جاہل ۵۱۸
۶۲ یا حلال مسلماناں ۵۱۷ ۸۲ مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں ۵۱۹
۶۳ یاہر حلال مجھ پر حرام ۵۱۷ ۸۳ خاوند تلاش کر ۵۱۹
۶۴ تو میرے ساتھ حرام میں ہے ۵۱۷ ۸۴ میں تجھ سے جد اہوں یاہوا عــــہ۲ ۵۲۰
۶۵ میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا عــــہ۱ ۵۱۷ ۸۵ میں نے تجھے جدا کیا ۵۲۰
۶۶ میں تجھ سے باز آیا ۵۱۸ ۸۶ میں نے تجھ سے جدائی کی ۵۲۰
۶۷ میں تجھ سے در گزرا ۵۱۸ ۸۷ تو خود مختار ہے ۵۲۰
۶۸ تومیرے کام کی نہیں ۵۱۸ ۸۸ تو آزاد ہے ۵۲۰
۶۹ میرے مطلب کی نہیں ۵۱۸ ۸۹ مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں ۵۲۱
۷۰ میرے مصرف کی نہیں ۵۱۸ ۹۰ مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا ۵۲۱
۷۱ مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں ۵۱۸ ۹۱ میں نے تجھے تیرے گھر والوں عــــہ۳ ۵۲۱
۷۲ کچھ قابو نہیں ۵۱۸ ۹۲ یاباپ ۵۲۱
۷۳ ملك نہیں ۵۱۸ ۹۳ یا ماں ۵۲۱
۷۴ میں نے تیری راہ خالی کردی ۵۱۸ ۹۴ یا خاوندوں کو دیا ۵۲۱
۷۵ تومیری ملك سے نکل گئی ۵۱۸ ۹۵ یا خود تجھ کو دے ڈالا ۵۲۱
۷۶ میں نے تجھ سے خلع کیا ۵۱۸ ۹۶ مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا عــــہ۴ ۵۲۱
۷۷ اپنے میکے بیٹھ ۵۱۸ ۹۷ میں تیرے نکاح سے بری ہوں ۵۲۱
۷۸ تیری باگ ڈھیلی کی ۵۱۸ ۹۸ بیزار ہوں ۵۲۱
عــــہ۱ : اگرچہ کسی عوض کاذکر نہ کرے اور عورت کے اس کہنے کی بھی حاجت نہیں کہ میں نے خریدا۔
عــــہ۲ : فقط میں جدا ہوں یا ہوا کافی نہیں اگرچہ بہ نیت طلاق کہے۔
عــــہ۳ : کیا میں نے تجھے تیرے بھائی یا ماموں یا چچایا کسی اجنبی کو دے دیا تو کچھ نہیں ۔
عــــہ۴ : مجھ میں تجھ میں کچھ نہیں رہاسے کچھ نہیں اگرچہ نیت کرے۔
الفاظ طلاق صفحہ نمبر شمار الفاظ طلاق صفحہ
۵۹ تیری گلوخلاصی ہوئی ۵۱۷ ۷۹ تیری رسی چھوڑدی ۵۱۸
۶۰ تو خالص ہوئی ۵۱۷ ۸۰ تیری لگام اتارلی ۵۱۸
۶۱ حلال خدا ۵۱۷ ۸۱ اپنے رفیقوں سے جاہل ۵۱۸
۶۲ یا حلال مسلماناں ۵۱۷ ۸۲ مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں ۵۱۹
۶۳ یاہر حلال مجھ پر حرام ۵۱۷ ۸۳ خاوند تلاش کر ۵۱۹
۶۴ تو میرے ساتھ حرام میں ہے ۵۱۷ ۸۴ میں تجھ سے جد اہوں یاہوا عــــہ۲ ۵۲۰
۶۵ میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا عــــہ۱ ۵۱۷ ۸۵ میں نے تجھے جدا کیا ۵۲۰
۶۶ میں تجھ سے باز آیا ۵۱۸ ۸۶ میں نے تجھ سے جدائی کی ۵۲۰
۶۷ میں تجھ سے در گزرا ۵۱۸ ۸۷ تو خود مختار ہے ۵۲۰
۶۸ تومیرے کام کی نہیں ۵۱۸ ۸۸ تو آزاد ہے ۵۲۰
۶۹ میرے مطلب کی نہیں ۵۱۸ ۸۹ مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں ۵۲۱
۷۰ میرے مصرف کی نہیں ۵۱۸ ۹۰ مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا ۵۲۱
۷۱ مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں ۵۱۸ ۹۱ میں نے تجھے تیرے گھر والوں عــــہ۳ ۵۲۱
۷۲ کچھ قابو نہیں ۵۱۸ ۹۲ یاباپ ۵۲۱
۷۳ ملك نہیں ۵۱۸ ۹۳ یا ماں ۵۲۱
۷۴ میں نے تیری راہ خالی کردی ۵۱۸ ۹۴ یا خاوندوں کو دیا ۵۲۱
۷۵ تومیری ملك سے نکل گئی ۵۱۸ ۹۵ یا خود تجھ کو دے ڈالا ۵۲۱
۷۶ میں نے تجھ سے خلع کیا ۵۱۸ ۹۶ مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا عــــہ۴ ۵۲۱
۷۷ اپنے میکے بیٹھ ۵۱۸ ۹۷ میں تیرے نکاح سے بری ہوں ۵۲۱
۷۸ تیری باگ ڈھیلی کی ۵۱۸ ۹۸ بیزار ہوں ۵۲۱
عــــہ۱ : اگرچہ کسی عوض کاذکر نہ کرے اور عورت کے اس کہنے کی بھی حاجت نہیں کہ میں نے خریدا۔
عــــہ۲ : فقط میں جدا ہوں یا ہوا کافی نہیں اگرچہ بہ نیت طلاق کہے۔
عــــہ۳ : کیا میں نے تجھے تیرے بھائی یا ماموں یا چچایا کسی اجنبی کو دے دیا تو کچھ نہیں ۔
عــــہ۴ : مجھ میں تجھ میں کچھ نہیں رہاسے کچھ نہیں اگرچہ نیت کرے۔
مسئلہ۲۶۹ : از کانپور فراش خانہ عقت آبکاری سڑك جدید متصل کوڑہ گھر مکان حافظ زبیر حسن مرسلہ مولوی سید سعید الحسن صاحب ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ نے اپنے شوہر زید کو بذریعہ خط یہ لکھا کہ تم مجھ کو فارغ خطی دے دو اوراس زوجہ ہند ہ کے لکھنے پر شوہر زید نے یہ لکھ دیا کہ میری طرف سے تین مرتبہ فارغ خطی ہے مجھ کو تم سے کچھ مطلب نہیں جو تمہارا جی چاہے وہ کرو تو اب اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہ اور مسماۃ ہندہ کو اب کیا کرنا چاہئے شوہر زید کے پاس جانا درست ہے یانہ اگر جائے تو کیا ہےبینوافی الکتاب توجروایوم الحساب۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں تین طلاقیں ہوگئیں زیدکے پاس اسے جانا حرام محض ہے بے حلالہ کے زید سے نکاح نہیں ہوسکتا
فان ھذا اللفظ من الرجل لامرأتہ لایستعمل الافی معنی الطلاق ولایرادو لایفھم منہ الاھذا فکان من الصریح الذی لایحتاج الی النیۃ لانہ حیث یقع جوابا لسؤالھا کما ھھنا فانہ لایحتمل الردکما لایخفی۔
خاوند کی طرف سے بیوی کے لئے اس لفظ کا استعمال صرف طلاق کے معنی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد اور فہم یہی ہوتا ہے لہذا یہ لفظ صریح ہے جس میں نیت کی محتاجی نہیں ہے کیونکہ جیسے یہاں بیوی کے سوال کے جواب میں مذکور ہوتو اس سے رد کا احتمال نہیں ہوتا جیسا کہ مخفی نہیں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
فمالایستعمل فیھا الافی الطلاق فہوصریح یقع بلانیۃ ومااستعمل فیما استعمال الطلاق وغیرہ فحکمہ حکم کنایات العربیۃ فی جمیع الاحکام بحر ۔
جو لفظ صرف طلاق میں استعمال ہو وہ صریح ہوتا ہے جس میں نیت کی حاجت نہیں اور جو لفظ طلاق اور غیرطلاق میں استعمال ہوتواس حکم تمام احکام میں عربی کنایہ جیسا ہوتا ہے بحر۔ (ت)
اسی طرح عالمگیریہ میں بدائع سے ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ نے اپنے شوہر زید کو بذریعہ خط یہ لکھا کہ تم مجھ کو فارغ خطی دے دو اوراس زوجہ ہند ہ کے لکھنے پر شوہر زید نے یہ لکھ دیا کہ میری طرف سے تین مرتبہ فارغ خطی ہے مجھ کو تم سے کچھ مطلب نہیں جو تمہارا جی چاہے وہ کرو تو اب اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہ اور مسماۃ ہندہ کو اب کیا کرنا چاہئے شوہر زید کے پاس جانا درست ہے یانہ اگر جائے تو کیا ہےبینوافی الکتاب توجروایوم الحساب۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں تین طلاقیں ہوگئیں زیدکے پاس اسے جانا حرام محض ہے بے حلالہ کے زید سے نکاح نہیں ہوسکتا
فان ھذا اللفظ من الرجل لامرأتہ لایستعمل الافی معنی الطلاق ولایرادو لایفھم منہ الاھذا فکان من الصریح الذی لایحتاج الی النیۃ لانہ حیث یقع جوابا لسؤالھا کما ھھنا فانہ لایحتمل الردکما لایخفی۔
خاوند کی طرف سے بیوی کے لئے اس لفظ کا استعمال صرف طلاق کے معنی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد اور فہم یہی ہوتا ہے لہذا یہ لفظ صریح ہے جس میں نیت کی محتاجی نہیں ہے کیونکہ جیسے یہاں بیوی کے سوال کے جواب میں مذکور ہوتو اس سے رد کا احتمال نہیں ہوتا جیسا کہ مخفی نہیں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
فمالایستعمل فیھا الافی الطلاق فہوصریح یقع بلانیۃ ومااستعمل فیما استعمال الطلاق وغیرہ فحکمہ حکم کنایات العربیۃ فی جمیع الاحکام بحر ۔
جو لفظ صرف طلاق میں استعمال ہو وہ صریح ہوتا ہے جس میں نیت کی حاجت نہیں اور جو لفظ طلاق اور غیرطلاق میں استعمال ہوتواس حکم تمام احکام میں عربی کنایہ جیسا ہوتا ہے بحر۔ (ت)
اسی طرح عالمگیریہ میں بدائع سے ہے۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۹
مسئلہ۲۷۰ : (مسودہ میں سوال نہیں ملا)
الجواب :
اگر یہ بات اس نے صحیح کہی کہ میں تو پہلے خط میں فارغ خطی بھیج چکا ہوں تو اگر اس خط میں یہ تھا کہ میں نے تجھے فارغ خطی دی تو خط لکھتے ہی ایك طلاق ہوگئی تھی اور اگر خط میں یہ تھا کہ جب یہ خط تجھے پہنچے تو تجھے فارغ خطی ہے اور وہ خط اسے پہنچا تو اس وقت اسے طلاق ہوگئی تھی بہرحال اس طلاق کے بعداگر تین حیض عورت کو ہوچکے تھے اس کے بعد یہ خط لکھا جس کی نقل سوال میں ہے جب تو یہ خط بیکار ہے کہ پہلے طلاق ہوچکی اور عدت گزرلی اور اگر اس نے رجعت نہ کی تو عورت اجنبیہ ہوگئی اس کی طلاق کا محل نہ رہی اس صورت میں عورت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اور اگر اس خط کے لکھنے یا پہنچنے کے بعد عورت کو ابھی تین حیض نہ ہوئے یا خط پہنچنے پر طلاق لکھی تھی اور وہ نہ پہنچایا اس نے سرے سے خط لکھا ہی نہ تھا یوں ہی غلط لکھ دیا تو ان سب صورتوں میں اس پر تین طلاقیں ہوگئیں بعد انقضائے عدت سوائے شوہر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے شوہر سے بے حلالہ نہیں ہوسکتا حلبی پھر شامی علی الدرالمختار میں ہے :
انت علی المفتی بہ من عدم تو قفہ علی النیۃ لکونہ بائنا ملخصا۔
تو مجھ پر حرام ہے کہنے پر مفتی بہ قول میں نیت پر موقوف نہیں حالانکہ یہ طلاق بائنہ ہے ملخصا(ت)
نیز ردالمحتار میں ہے :
افتی المتاخرون فی انت علی حرام بانہ طلاق بائن للعرف بلانیۃ۔
متاخرین نے کہا “ تومجھ پر حرام ہے “ کہنے میں طلاق بائنہ ہوگی عرف کی وجہ سے نیت کے بغیر واقع ہوگی(ت)
فارغ خطی عرف میں طلاق صریح ہے کہ عورت کی طرف اس کی اضافت سے طلاق ہی مراد ومفاد ہوتی ہے ردالمحتار میں ہے :
الصریح ماغلب فی العرف استعمالہ فی الطلاق بحیث لایستعمل عرفا الافیہ من ای لغۃ کانت وھذافی عرف زماننا کذلك فوجب اعتبارہ صریحا ۔
صریح وہ لفط ہے جس کا عر ف میں غالب استعمال طلاق کے لئے ہو۔ اور کسی بھی عرف میں وہ بغیر نیت صرف طلاق کے لئے استعمال ہو اور یہ لفظ ہمارے زمانہ کے عرف میں ایسا ہی ہے لہذا اس کے صریح ہونے کا اعتبار ضروری ہوگا۔ (ت)
الجواب :
اگر یہ بات اس نے صحیح کہی کہ میں تو پہلے خط میں فارغ خطی بھیج چکا ہوں تو اگر اس خط میں یہ تھا کہ میں نے تجھے فارغ خطی دی تو خط لکھتے ہی ایك طلاق ہوگئی تھی اور اگر خط میں یہ تھا کہ جب یہ خط تجھے پہنچے تو تجھے فارغ خطی ہے اور وہ خط اسے پہنچا تو اس وقت اسے طلاق ہوگئی تھی بہرحال اس طلاق کے بعداگر تین حیض عورت کو ہوچکے تھے اس کے بعد یہ خط لکھا جس کی نقل سوال میں ہے جب تو یہ خط بیکار ہے کہ پہلے طلاق ہوچکی اور عدت گزرلی اور اگر اس نے رجعت نہ کی تو عورت اجنبیہ ہوگئی اس کی طلاق کا محل نہ رہی اس صورت میں عورت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اور اگر اس خط کے لکھنے یا پہنچنے کے بعد عورت کو ابھی تین حیض نہ ہوئے یا خط پہنچنے پر طلاق لکھی تھی اور وہ نہ پہنچایا اس نے سرے سے خط لکھا ہی نہ تھا یوں ہی غلط لکھ دیا تو ان سب صورتوں میں اس پر تین طلاقیں ہوگئیں بعد انقضائے عدت سوائے شوہر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے شوہر سے بے حلالہ نہیں ہوسکتا حلبی پھر شامی علی الدرالمختار میں ہے :
انت علی المفتی بہ من عدم تو قفہ علی النیۃ لکونہ بائنا ملخصا۔
تو مجھ پر حرام ہے کہنے پر مفتی بہ قول میں نیت پر موقوف نہیں حالانکہ یہ طلاق بائنہ ہے ملخصا(ت)
نیز ردالمحتار میں ہے :
افتی المتاخرون فی انت علی حرام بانہ طلاق بائن للعرف بلانیۃ۔
متاخرین نے کہا “ تومجھ پر حرام ہے “ کہنے میں طلاق بائنہ ہوگی عرف کی وجہ سے نیت کے بغیر واقع ہوگی(ت)
فارغ خطی عرف میں طلاق صریح ہے کہ عورت کی طرف اس کی اضافت سے طلاق ہی مراد ومفاد ہوتی ہے ردالمحتار میں ہے :
الصریح ماغلب فی العرف استعمالہ فی الطلاق بحیث لایستعمل عرفا الافیہ من ای لغۃ کانت وھذافی عرف زماننا کذلك فوجب اعتبارہ صریحا ۔
صریح وہ لفط ہے جس کا عر ف میں غالب استعمال طلاق کے لئے ہو۔ اور کسی بھی عرف میں وہ بغیر نیت صرف طلاق کے لئے استعمال ہو اور یہ لفظ ہمارے زمانہ کے عرف میں ایسا ہی ہے لہذا اس کے صریح ہونے کا اعتبار ضروری ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۹
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۲
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۳۲
اور صحیح یہ ہے کہ طلاق لے طلاق صریح ہے محیط پھر ہندیہ میں ہے :
لوقال لھا داد طلاق یقع من غیرنیۃ وھو الاشبہ لان قولہ داد فی العادۃ وقولہ خذسواء ولو قال لھا خذی طلاقك یقع من غیرنیۃ کذاھھنا کذافی المحیط ملخصا۔
اگر خاوند نے کہا “ طلاق دے “ تو بغیر نیت طلاق ہوجائے گی اور یہی اشبہ بالحق ہے کیونکہ “ داد “ کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے “ خذ “ (لے پکڑ) کہا تو عادت میں “ داد “ (فارسی) اور خذ (عربی) دونوں مساوی ہیں اور اگر خاوند کہے “ لے طلاق پکڑ “ تو بغیر نیت طلاق ہوجاتی ہے تو یہاں بھی ایسے ہی ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے۔ ملخصا (ت)
اور دوبارہ لفظ کے طلاق جدید ہوگا نہ تاکید اشباہ میں ہے :
التاسیس خیر من التاکید فاذا دار اللفظ بینھما تعین الحمل علی التاسیس ولذا قال اصحابنا رحمہم اﷲ تعالی لو قال لزوجتہ انت طالق طالق طالق طلقت ثلثا واﷲتعالی اعلم۔
تاسیس یعنی نیا فائدہ تاکید سے بہتر ہے لہذاجب کوئی لفظ تاسیس اور تاکید دونوں کا احتمال رکھے تو اس کو تاسیس پر محمول کرنا متعین ہوگا اس لئے ہمارے اصحاب رحمہم اﷲتعالی نے فرمایا اگر خاوند نے لفظ طلاق کوتین مرتبہ دہرایا تو تین طلاقیں ہوں گی۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۷۱ : ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
اگر خط مذکور میں “ لے “ کا لفظ مکرر نہ ہوتا یوں ہوتا کہ کہ فارغ خطی لے تو بقیہ کی وجہ سے تین طلاقیں ہوتیں یا کیا حکم تھابینواتوجروا
الجواب :
خط لکھنے اور پہنچنے کے احکام وہی ہیں جو گزرے اور اگر اس میں خط پہنچنے پر طلاق لکھی تھی اور وہ نہ پہنچا تو دو۲ طلاقیں بائن ہوئیں تو اگر اس نے اس لفظ کہ “ تو میرے کام کی نہیں “ طلاق کی نیت کی تو ایك اس سے
وانما احتاج الی النیۃ مع ان الحال حال المذاکرۃ کما ذکرہ مسندا
حالت مذاکرہ طلاق(جیسا کہ بیوی کے باپ کے خط کا حوالہ ہے) ہونے کے باوجود نیت کا محتاج ہوگا
لوقال لھا داد طلاق یقع من غیرنیۃ وھو الاشبہ لان قولہ داد فی العادۃ وقولہ خذسواء ولو قال لھا خذی طلاقك یقع من غیرنیۃ کذاھھنا کذافی المحیط ملخصا۔
اگر خاوند نے کہا “ طلاق دے “ تو بغیر نیت طلاق ہوجائے گی اور یہی اشبہ بالحق ہے کیونکہ “ داد “ کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے “ خذ “ (لے پکڑ) کہا تو عادت میں “ داد “ (فارسی) اور خذ (عربی) دونوں مساوی ہیں اور اگر خاوند کہے “ لے طلاق پکڑ “ تو بغیر نیت طلاق ہوجاتی ہے تو یہاں بھی ایسے ہی ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے۔ ملخصا (ت)
اور دوبارہ لفظ کے طلاق جدید ہوگا نہ تاکید اشباہ میں ہے :
التاسیس خیر من التاکید فاذا دار اللفظ بینھما تعین الحمل علی التاسیس ولذا قال اصحابنا رحمہم اﷲ تعالی لو قال لزوجتہ انت طالق طالق طالق طلقت ثلثا واﷲتعالی اعلم۔
تاسیس یعنی نیا فائدہ تاکید سے بہتر ہے لہذاجب کوئی لفظ تاسیس اور تاکید دونوں کا احتمال رکھے تو اس کو تاسیس پر محمول کرنا متعین ہوگا اس لئے ہمارے اصحاب رحمہم اﷲتعالی نے فرمایا اگر خاوند نے لفظ طلاق کوتین مرتبہ دہرایا تو تین طلاقیں ہوں گی۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۷۱ : ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
اگر خط مذکور میں “ لے “ کا لفظ مکرر نہ ہوتا یوں ہوتا کہ کہ فارغ خطی لے تو بقیہ کی وجہ سے تین طلاقیں ہوتیں یا کیا حکم تھابینواتوجروا
الجواب :
خط لکھنے اور پہنچنے کے احکام وہی ہیں جو گزرے اور اگر اس میں خط پہنچنے پر طلاق لکھی تھی اور وہ نہ پہنچا تو دو۲ طلاقیں بائن ہوئیں تو اگر اس نے اس لفظ کہ “ تو میرے کام کی نہیں “ طلاق کی نیت کی تو ایك اس سے
وانما احتاج الی النیۃ مع ان الحال حال المذاکرۃ کما ذکرہ مسندا
حالت مذاکرہ طلاق(جیسا کہ بیوی کے باپ کے خط کا حوالہ ہے) ہونے کے باوجود نیت کا محتاج ہوگا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
الاشباہ والنظائر التاسیس خیر من التاکید ادارۃالقرآن کراچی ۱ / ۱۸۱
الاشباہ والنظائر التاسیس خیر من التاکید ادارۃالقرآن کراچی ۱ / ۱۸۱
الی کتاب ابیھا لانہ یحتمل السب کما حققناہ فی جدالممتار والحالۃ حالۃ الغضب فلاتجعلہ المذاکرۃ غنیا من النیۃ کما حققناہ فیہ مستفتدین اور دوسری فارغ خطی لے سے لانہ رجعی صریح فیلحق البائن اماقولہ حرام ہوچکی فھو وان صار صریحا بالعرف لایلحق البائن علی مافی الحلبی ثم الشامی حیث قالا ولایردانت علی حرام علی المفتی بہ من عدم توقفہ علی النیۃ مع انہ لایلحق البائن ولایلحقہ البائن لکونہ بائنا لما ان عدم توقفہ علی النیۃ امر عارض لہ لا بحسب اصل وضعہ اھ۔
کیونکہ یہ لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم جدالممتار میں تحقیق کرچکے ہیں جبکہ یہاں حالت بھی غصہ کی ہے اس لئے مذاکرہ طلاق یہاں نیت سے مستغنی نہیں کرسکتا جیسا کہ ہم نے فتح القدیر سے ان کو استفادہ کرکے تحقیق کی ہے اور دوسری(طلاق یہ کہنے سے کہ “ فارغ خطی لے “ کیونکہ یہ صریح رجعی طلاق ہے تو بائن کو لاحق ہوگی لیکن خاوند کا کہنا “ حرام ہوچکی ہے “ یہ لفظ اگرچہ عرف کی بناء پر صریح طلاق بن چکاہے لیکن بائن کو لاحق نہ ہوگی حلبی اور پھر شامی کے بیان پرکہ “ ضابطہ پر تو مجھ پر حرام ہے “ سے اعتراض نہ ہوگا جیسا کہ مفتی بہ قول پر یہ نیت پر موقوف نہیں ہے (یعنی صریح طلاق ہے) حالانکہ نہ بائنہ اس کو لاحق ہوسکتی اور نہ ہی یہ بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ ایسی بائنہ ہے جو نیت پر موقوف نہیں ہے اور اس کا نیت پر موقوف نہ ہونا(یعنی صریح ہونا) عارضہ کی بناء پر ہے اپنے اصل کے اعتبار سے نہیں اھ(ت)
اقول : والوجہ فیہ انہ یمکن جعلہ اخبار افلاضرورۃ جعلہ انشاء
(میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کو قبل ازیں طلاق سے حکایت اور خبر قرار دیا جاسکتا ہے اس لئے اس کو انشاء قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ت) اور اگر اس لفظ سے کہ “ تو میرے کام کی نہیں “ اس نے نیت طلاق کی تو ایك حرام سے ہوچکی اور دوسری فارغ خطی سے بہر حال باقی الفاظ سے کچھ نہ پڑے گی
لان کل مابعدہ کنایات بوائن فلاتلحق البائن و اللفظ الثانی وان کان الواقع بہ رجعیا قدصار بلحوقہ البائن بائنا فلاتلحقہ
کیونکہ اس کے بعد تمام الفاظ بائنہ طلاق والے ہیں لہذا وہ بائنہ کو لاحق نہ ہوں گے اور دوسرا لفظ اگرچہ اس سے رجعی طلاق ہوئی مگر اس کو بائنہ لاحق ہونے پر وہ بائنہ ہوگئی اس لئے اس کو
کیونکہ یہ لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم جدالممتار میں تحقیق کرچکے ہیں جبکہ یہاں حالت بھی غصہ کی ہے اس لئے مذاکرہ طلاق یہاں نیت سے مستغنی نہیں کرسکتا جیسا کہ ہم نے فتح القدیر سے ان کو استفادہ کرکے تحقیق کی ہے اور دوسری(طلاق یہ کہنے سے کہ “ فارغ خطی لے “ کیونکہ یہ صریح رجعی طلاق ہے تو بائن کو لاحق ہوگی لیکن خاوند کا کہنا “ حرام ہوچکی ہے “ یہ لفظ اگرچہ عرف کی بناء پر صریح طلاق بن چکاہے لیکن بائن کو لاحق نہ ہوگی حلبی اور پھر شامی کے بیان پرکہ “ ضابطہ پر تو مجھ پر حرام ہے “ سے اعتراض نہ ہوگا جیسا کہ مفتی بہ قول پر یہ نیت پر موقوف نہیں ہے (یعنی صریح طلاق ہے) حالانکہ نہ بائنہ اس کو لاحق ہوسکتی اور نہ ہی یہ بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ ایسی بائنہ ہے جو نیت پر موقوف نہیں ہے اور اس کا نیت پر موقوف نہ ہونا(یعنی صریح ہونا) عارضہ کی بناء پر ہے اپنے اصل کے اعتبار سے نہیں اھ(ت)
اقول : والوجہ فیہ انہ یمکن جعلہ اخبار افلاضرورۃ جعلہ انشاء
(میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کو قبل ازیں طلاق سے حکایت اور خبر قرار دیا جاسکتا ہے اس لئے اس کو انشاء قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ت) اور اگر اس لفظ سے کہ “ تو میرے کام کی نہیں “ اس نے نیت طلاق کی تو ایك حرام سے ہوچکی اور دوسری فارغ خطی سے بہر حال باقی الفاظ سے کچھ نہ پڑے گی
لان کل مابعدہ کنایات بوائن فلاتلحق البائن و اللفظ الثانی وان کان الواقع بہ رجعیا قدصار بلحوقہ البائن بائنا فلاتلحقہ
کیونکہ اس کے بعد تمام الفاظ بائنہ طلاق والے ہیں لہذا وہ بائنہ کو لاحق نہ ہوں گے اور دوسرا لفظ اگرچہ اس سے رجعی طلاق ہوئی مگر اس کو بائنہ لاحق ہونے پر وہ بائنہ ہوگئی اس لئے اس کو
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۹
کنایۃ بائن لامکان جعلہ اخبار ابل لحوقہ بالثانی لحوقہ بالاول وقد کان بائنا فیمتنع کلہ کما بیناہ فی جدالممتار
کنایہ والی بائنہ لاحق نہ ہوسکے گی بلکہ اس کو خبر بنایا جانا ممکن ہے اس لئے اس کو طلاق نہ قرار دینے کی وجہ سے بھی لحوق نہ ہوگا بلکہ اس کو ثانی کو لحوق ہی اول کو لحوق قرار دیا جائے گا جبکہ یہ بائنہ ہے لہذااس کے بعد والی تمام بائنہ ممنوع ہوں گی جیسا کہ ہم نے جدالممتار میں بیان کیا ہے۔ (ت)
اور اگر وہ خط اس نے لکھا ہی نہ تھا تو تین طلاقیں ہونا چاہئے۔
لان اقرارہ بتقدیم فار غخطی اقرار بالطلاق فیکون طلاقا قضاء والباقیان باللفظین المذکورین ھذاماظھرلی والعلم بالحق عند ربی۔ واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ اس کا “ فارغ خطی “ کے بارے میں پہلے ہونے کااقرار طلاق کا اقرار ہے تو یہ قضاء طلاق ہوگی اور باقی دو۲ طلاقیں مذکورہ دو۲ لفظوں سے ہوجائیں گی مجھے یہ معلوم ہوا جبکہ حقیقت کا علم میرے رب کے پاس ہے۔
واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۲ : ازمرزا پور کلکتہ مرسلہ عبدالغفور خاں ۴شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھ میں اور میری بی بی میں تکرار ہوئی اس کو مار پیٹ کیا جس گھر میں وہ تھی اس گھر میں سے ہم باہر نکل آئے اپنے کارخانے میں بیٹھے ہوئے لڑکے نے جو دوسری بیوی سے ہے ہم سے کہا کہ اس کو چھوڑدو ہم جو پیدا کریں گے تم کو دیں گے تو ہم نے کہا کہ تم کہتے ہو تو ہم اس کو مانگتا نہیں دو۲ مرتبہ کہا ہم اس کو مانگتا نہیں مانگتا نہیں بیٹے نے کہا تم اس کو فارغ خطی دے دو ہم نے کہا تم کو اختیار ہے لڑکا ہمارا فارغ خطی لکھ کر لایا لکھوا لایا ہم نے اس کو پڑھوایا نہیں دستخط اس پر کردئے فارغ خطی زبان بنگلہ میں ہے بجنسہ بلف ہذامرسل ہے اس صورت میں طلاق ہوا یا نہیں اب عورت چاہتی ہے کہ بے حلالہ کے نکاح ہوجائے یہ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
بلاشبہہ جائز ہے حلالہ کی اصلا ضرورت نہیں اس سوال کے ساتھ زبان وخط بنگلہ میں دو۲ کاغذ آئے ایك ازجانب زوجہ جس میں شوہر سے مہر وطلاق پانے کا ذکر ہے دوسرا از جانب شوہر جس کا ترجمہ چند معتبر مسلمان بنگالی طلبہ علم نے یہ کیا(میں عبدالغفور خاں ساکن کلکتہ مرزا پور طلاق یہ ہے کہ شاہد النساء کو ساڑھے تین روپے دین مہر مطابق شریعت دین محمدی کے نکاح کیا اس وقت راضی سے مہر ادا کرکے طلاق بائنہ دی۔ راقم عبدالغفور خاں ) عبدالغفور کا دو۲ خواہ دس۱۰بارکہنا ہم اس کو مانگتا نہیں
کنایہ والی بائنہ لاحق نہ ہوسکے گی بلکہ اس کو خبر بنایا جانا ممکن ہے اس لئے اس کو طلاق نہ قرار دینے کی وجہ سے بھی لحوق نہ ہوگا بلکہ اس کو ثانی کو لحوق ہی اول کو لحوق قرار دیا جائے گا جبکہ یہ بائنہ ہے لہذااس کے بعد والی تمام بائنہ ممنوع ہوں گی جیسا کہ ہم نے جدالممتار میں بیان کیا ہے۔ (ت)
اور اگر وہ خط اس نے لکھا ہی نہ تھا تو تین طلاقیں ہونا چاہئے۔
لان اقرارہ بتقدیم فار غخطی اقرار بالطلاق فیکون طلاقا قضاء والباقیان باللفظین المذکورین ھذاماظھرلی والعلم بالحق عند ربی۔ واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ اس کا “ فارغ خطی “ کے بارے میں پہلے ہونے کااقرار طلاق کا اقرار ہے تو یہ قضاء طلاق ہوگی اور باقی دو۲ طلاقیں مذکورہ دو۲ لفظوں سے ہوجائیں گی مجھے یہ معلوم ہوا جبکہ حقیقت کا علم میرے رب کے پاس ہے۔
واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۲ : ازمرزا پور کلکتہ مرسلہ عبدالغفور خاں ۴شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھ میں اور میری بی بی میں تکرار ہوئی اس کو مار پیٹ کیا جس گھر میں وہ تھی اس گھر میں سے ہم باہر نکل آئے اپنے کارخانے میں بیٹھے ہوئے لڑکے نے جو دوسری بیوی سے ہے ہم سے کہا کہ اس کو چھوڑدو ہم جو پیدا کریں گے تم کو دیں گے تو ہم نے کہا کہ تم کہتے ہو تو ہم اس کو مانگتا نہیں دو۲ مرتبہ کہا ہم اس کو مانگتا نہیں مانگتا نہیں بیٹے نے کہا تم اس کو فارغ خطی دے دو ہم نے کہا تم کو اختیار ہے لڑکا ہمارا فارغ خطی لکھ کر لایا لکھوا لایا ہم نے اس کو پڑھوایا نہیں دستخط اس پر کردئے فارغ خطی زبان بنگلہ میں ہے بجنسہ بلف ہذامرسل ہے اس صورت میں طلاق ہوا یا نہیں اب عورت چاہتی ہے کہ بے حلالہ کے نکاح ہوجائے یہ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
بلاشبہہ جائز ہے حلالہ کی اصلا ضرورت نہیں اس سوال کے ساتھ زبان وخط بنگلہ میں دو۲ کاغذ آئے ایك ازجانب زوجہ جس میں شوہر سے مہر وطلاق پانے کا ذکر ہے دوسرا از جانب شوہر جس کا ترجمہ چند معتبر مسلمان بنگالی طلبہ علم نے یہ کیا(میں عبدالغفور خاں ساکن کلکتہ مرزا پور طلاق یہ ہے کہ شاہد النساء کو ساڑھے تین روپے دین مہر مطابق شریعت دین محمدی کے نکاح کیا اس وقت راضی سے مہر ادا کرکے طلاق بائنہ دی۔ راقم عبدالغفور خاں ) عبدالغفور کا دو۲ خواہ دس۱۰بارکہنا ہم اس کو مانگتا نہیں
مانگتا نہیں یہ تو محض بے اثر تھا کہ اس کے معنی نفی خواہش وطلب وارادہ ہے اور ان کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق کہے
فی الھندیۃ اذاقال لااریدک اولااحبک اولا اشتھیک اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی کذافی البحرالرائق۔
ہندیہ میں ہے : جب خاوند نے کہا میں تجھے نہیں چاہتا یا میں تجھے پسند نہیں کرتا میں تیری خواہش نہیں کرتا یا مجھے رغبت نہیں ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت ہو یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے قول میں ہے بحر الرائق میں یونہی ہے۔ (ت)
اور فارغ خطی کی اصل وضع اس کاغذ کے لئے ہے جو مدیون کو بابت بے باقی وبرأت ذمہ لکھ کردیا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اب اس پر کچھ مطالبہ نہ رہا یہ لفظ جب عورت کی طرف نسبت کیا جائے تو اس سے مراد عورت کو لکھ دینا ہوتا ہے کہ وہ اس کے مطالبہ وحقوق نکاح سے بری ہوئی جس کا حاصل طلاق نامہ بائن تحریری تھی
علاانہ ھو الحقیقۃ العرفیۃ کما علمت فھو ظاھر بنفسہ وان لم یکن ھناك مظہرلہ ۔
اس کے علاوہ یہ حقیقت عرفیہ ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ خود ظاہر ہے اگرچہ کوئی دوسری چیز اس کو ظاہرنہ کرے۔ (ت)
پسر عبدالغفور خاں نے جبکہ اس سے فارغ خطی دینے کی درخواست کی اور اس نے کہا تم کو اختیار ہے تو یہ طلاق بائن تحریری کا اسے اختیار دینا ہوا مرد جسے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دے اس میں حکم یہ ہے کہ وہ اختیار اسی جلسہ تك باقی رہتا ہے اگر وہ شخص بلاضرورت خواہ کسی ایسی ضرورت کیلئے جو اس کار طلاق سے متعلق نہ تھی اٹھ جائے یا وہیں بیٹھا کسی اور کام بلکہ بے علاقہ کلام میں مشغول ہوجائے تو وہ اختیار زائل ہوجاتا ہے
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الصغری لوقال لاجنبی امرامرأتی بیدک یقتصر علی المجلس ولایملك الرجوع اھ وفیھا
اگر کسی اجنبی کو کہا کہ میری بیوی کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو اختیار اسی مجلس کے لئے ہوگا اور رجوع کا اختیار نہ ہوگا اھ اور اسی میں خانیہ
فی الھندیۃ اذاقال لااریدک اولااحبک اولا اشتھیک اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی کذافی البحرالرائق۔
ہندیہ میں ہے : جب خاوند نے کہا میں تجھے نہیں چاہتا یا میں تجھے پسند نہیں کرتا میں تیری خواہش نہیں کرتا یا مجھے رغبت نہیں ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت ہو یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے قول میں ہے بحر الرائق میں یونہی ہے۔ (ت)
اور فارغ خطی کی اصل وضع اس کاغذ کے لئے ہے جو مدیون کو بابت بے باقی وبرأت ذمہ لکھ کردیا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اب اس پر کچھ مطالبہ نہ رہا یہ لفظ جب عورت کی طرف نسبت کیا جائے تو اس سے مراد عورت کو لکھ دینا ہوتا ہے کہ وہ اس کے مطالبہ وحقوق نکاح سے بری ہوئی جس کا حاصل طلاق نامہ بائن تحریری تھی
علاانہ ھو الحقیقۃ العرفیۃ کما علمت فھو ظاھر بنفسہ وان لم یکن ھناك مظہرلہ ۔
اس کے علاوہ یہ حقیقت عرفیہ ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ خود ظاہر ہے اگرچہ کوئی دوسری چیز اس کو ظاہرنہ کرے۔ (ت)
پسر عبدالغفور خاں نے جبکہ اس سے فارغ خطی دینے کی درخواست کی اور اس نے کہا تم کو اختیار ہے تو یہ طلاق بائن تحریری کا اسے اختیار دینا ہوا مرد جسے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دے اس میں حکم یہ ہے کہ وہ اختیار اسی جلسہ تك باقی رہتا ہے اگر وہ شخص بلاضرورت خواہ کسی ایسی ضرورت کیلئے جو اس کار طلاق سے متعلق نہ تھی اٹھ جائے یا وہیں بیٹھا کسی اور کام بلکہ بے علاقہ کلام میں مشغول ہوجائے تو وہ اختیار زائل ہوجاتا ہے
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الصغری لوقال لاجنبی امرامرأتی بیدک یقتصر علی المجلس ولایملك الرجوع اھ وفیھا
اگر کسی اجنبی کو کہا کہ میری بیوی کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو اختیار اسی مجلس کے لئے ہوگا اور رجوع کا اختیار نہ ہوگا اھ اور اسی میں خانیہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰیہ ہندیہ الفصل الثانی فی الامر بالید ۱ / ۳۹۳
فتاوٰیہ ہندیہ الفصل الثانی فی الامر بالید ۱ / ۳۹۳
عن الخانیۃ لوقال لغیرہ طلق امرأتی فقد جعلت ذلك الیك فھو تفویض یقتصر الی المجلس الخ وفی الدرالمختار فی قولہ لاجنبی طلق امرأتی یصح رجوعہ عنہ ولم یقید بالمجلس لانہ توکیل الا اذا علقہ بالمشیئۃ فیصیر تملیکا والفرق بینھما فی خمسۃ احکام ففی التملیك لایرجع ولایعزل ویتقید بمجلس الخ ملخصا وفی ردالمحتار عن الفتح المبدل للمجلس مایکون قطعا للکلام الاول وافاضۃ فی غیرہ الخ وفیہ الاصح انہ لابدان یکون مع القیام دلیل الاعراض اھ وفیہ الکلام الاجنبی دلیل الاعراض اھ ۔
سے منقول ہے : اگر خاوند نے دوسرے کو طلاق کااختیار دیتے ہوئے کہا “ تو میری بیوی کو طلاق دے “ تو یہ اختیار اسی مجلس کےلئے ہوگا الخ درمختار میں ہے اگر خاوند نے دوسرے کو کہا “ تو میری بیوی کو طلاق دے “ اگر اجنبی نے اس اختیار سے طلاق دے دی تو رجعی ہوگی انہوں نے اس اختیار کو صرف مجلس کےلئے نہیں کہا اور کہا یہ توکیل ہے اور اگر تیری مرضی ہوتو میری بیوی کو طلاق کہا تو پھر تملیك ہوگی اور وکیل بنانا اور مالك بنانا ان دونوں باتوں میں پانچ فرق ہیں مالك بنانے پر اختیار کو واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے معزول کرسکتا ہے اور یہ اختیار مجلس کے لئے ہی ہوگا الخ ملخصا۔ ردالمحتار میں ہے کہ مجلس کی تبدیلی ایسی چیز سے ہوگی جو پہلی بات کو منقطع کردے اور دوسرے کام میں مصروف کردے الخ۔ اور اسی میں ہے مجلس سے کھڑا ہوجانا اس میں اعراض کےلئے دلیل بھی ہونی ضروری ہے اھ اسی میں ہے پہلے بات سے ہٹ کرکوئی اجنبی بات کرنا اعراض کی دلیل ہے اھ(ت)
الفاظ سوال یہ ہیں کہ فارغ خطی لکھ کر لایا لکھوایا جس سے ظاہر ہے کہ پسر نے اسی جگہ فارغ خطی نہ لکھی بلکہ وہاں سے اٹھ کرجانے کے بعد تحریر ہوئی اب اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ کاغذ مذکورپسر نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور اس سے پہلے کسی غیر کام میں مصروف نہ ہوا یہ اٹھ کر جانا بضرورت قلم یا دوات یا کاغذ لینے کے تھا یہ اشیا وہاں موجود نہ تھیں جب تو یہ تحریر اسی اختیار کی بناء پر واقع ہوئی اور پسر کے لکھتے ہی شاہدالنساء پر ایك طلاق
سے منقول ہے : اگر خاوند نے دوسرے کو طلاق کااختیار دیتے ہوئے کہا “ تو میری بیوی کو طلاق دے “ تو یہ اختیار اسی مجلس کےلئے ہوگا الخ درمختار میں ہے اگر خاوند نے دوسرے کو کہا “ تو میری بیوی کو طلاق دے “ اگر اجنبی نے اس اختیار سے طلاق دے دی تو رجعی ہوگی انہوں نے اس اختیار کو صرف مجلس کےلئے نہیں کہا اور کہا یہ توکیل ہے اور اگر تیری مرضی ہوتو میری بیوی کو طلاق کہا تو پھر تملیك ہوگی اور وکیل بنانا اور مالك بنانا ان دونوں باتوں میں پانچ فرق ہیں مالك بنانے پر اختیار کو واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے معزول کرسکتا ہے اور یہ اختیار مجلس کے لئے ہی ہوگا الخ ملخصا۔ ردالمحتار میں ہے کہ مجلس کی تبدیلی ایسی چیز سے ہوگی جو پہلی بات کو منقطع کردے اور دوسرے کام میں مصروف کردے الخ۔ اور اسی میں ہے مجلس سے کھڑا ہوجانا اس میں اعراض کےلئے دلیل بھی ہونی ضروری ہے اھ اسی میں ہے پہلے بات سے ہٹ کرکوئی اجنبی بات کرنا اعراض کی دلیل ہے اھ(ت)
الفاظ سوال یہ ہیں کہ فارغ خطی لکھ کر لایا لکھوایا جس سے ظاہر ہے کہ پسر نے اسی جگہ فارغ خطی نہ لکھی بلکہ وہاں سے اٹھ کرجانے کے بعد تحریر ہوئی اب اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ کاغذ مذکورپسر نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور اس سے پہلے کسی غیر کام میں مصروف نہ ہوا یہ اٹھ کر جانا بضرورت قلم یا دوات یا کاغذ لینے کے تھا یہ اشیا وہاں موجود نہ تھیں جب تو یہ تحریر اسی اختیار کی بناء پر واقع ہوئی اور پسر کے لکھتے ہی شاہدالنساء پر ایك طلاق
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی الامربالید نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۹۳
درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۸
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی ۲ / ۴۷۷
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی ۲ / ۴۷۷
درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۸
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی ۲ / ۴۷۷
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی ۲ / ۴۷۷
بائن پڑگئی عبدالغفور خاں کا اس تحریر کو پڑھنا سننا کچھ ضرور نہ تھا
فانہ انما عمل بموجب التفویض والمفوض مملك والمملك یعمل بمشیۃ نفسہ من دون توقف علی رضا المملك بالکسر حتی لو رجع بعد ماملك لم یملك الرجوع کما تقدم۔
کیونکہ اس نے تفویض کے مطابق عمل کیا ہے اور جس کو تفویض کیا گیا ہو وہ مالك بنادیا جاتا ہے اور جس کو مالك بنایا گیا ہو وہ اپنی مرضی سے عمل کرتا ہے اور مالك بنانے والے کی مرضی پر موقوف نہیں رہتا حتی کہ جب کسی کومالك بنادیا تو اب مالك بنانیوالا واپس لینے کا مالك نہیں رہتا جیسا کہ پہلے گزرا۔ (ت)
اور اگر یہ اٹھ کرجانا بے ضرورت یا ضرورت تحریر سے جدا کسی اور غرض کے لئے تھایا وہ تحریر اس نے کسی اور سے لکھوائی تو ان صورتوں میں اس اختیار کی بناء پر نہ ہوابلکہ ایك فضول واجنبی کا لکھنا تھا
فان المفوض الیہ بفصل اجنبی یصیراجنبیا وھو انما فوض الیہ التطلیق دون التوکیل کما ان الوکیل بالطلاق لایملك ان یوکل غیرہ اویجیز مافعل غیرہ کما نص علیہ فی الانقروی من الخانیۃ۔
جس کوکوئی اختیار سونپا جائے تو اجنبی شخص سے دخل کی وجہ سے وہ بھی اجنبی ہوجاتا ہے کیونکہ مالك نے اس کو طلاق دینے کااختیار سونپا ہے نہ کہ دوسرے کو وکیل بنانے کا اختیار سونپا جس طرح وکیل بالطلاق دوسرے کو وکیل بنانے کا مجاز نہیں اور نہ ہی وہ دوسرے کے عمل کے اس میں جائز کرسکتا ہے جیسا کہ انقروی نے خانیہ سے نقل میں اس کی تصریح کی ہے۔ (ت)
اور فضولی شخص جسے شوہر کی طرف سے امر یا اذن تحریر نہیں یا نہ رہا وہ اگر عورت کی طلاق لکھ لائے تو اس کا نفاذ اجازت شوہر پر موقوف رہتا ہے اگر وہ اس کے مضمون پر مطلع ہوکر اس تحریر کو نافذ کردے مثلا صراحۃ کہہ دے کہ میں نے جائز کیا یا اجازت دی یانفاذ دیا کوئی فعل ایسا کرے جونافذ کرنے پر دلیل ہو مثلا اس پر اپنے دستخط کردے یا اپنی طرف سے عورت کے پاس روانہ کرے یا بھیجنے کوکہے تو وہ تحریر نافذ ہوجاتی اور گویا خود شوہر کی تحریر قرار پاتی ہے ورنہ نہیں
فی البزازیۃ قبیل مسائل المجازاۃ کتب غیرالزوج کتاب الطلاق وقرأہ علی الزوج فاخذہ وختم علیہ اوقال لرجل ابعث ھذاالکتاب الیھا فھذا بمنزلۃ کتابتہ
بزازیہ میں اجازت کے مسائل سے تھوڑا پہلے ہے کہ زوج کے غیر نے طلاق نامہ لکھا اور پھر اس کو خاوند پر پڑھا تو خاوند نے لے کراس پر مہر لگائی یا دوسرے کسی شخص کو کہا یہ طلاق نامہ میری بیوی کو جاکردے دو تو یہ کارروائی ایسے ہی ہوگی جیسے خاوند نے خود
فانہ انما عمل بموجب التفویض والمفوض مملك والمملك یعمل بمشیۃ نفسہ من دون توقف علی رضا المملك بالکسر حتی لو رجع بعد ماملك لم یملك الرجوع کما تقدم۔
کیونکہ اس نے تفویض کے مطابق عمل کیا ہے اور جس کو تفویض کیا گیا ہو وہ مالك بنادیا جاتا ہے اور جس کو مالك بنایا گیا ہو وہ اپنی مرضی سے عمل کرتا ہے اور مالك بنانے والے کی مرضی پر موقوف نہیں رہتا حتی کہ جب کسی کومالك بنادیا تو اب مالك بنانیوالا واپس لینے کا مالك نہیں رہتا جیسا کہ پہلے گزرا۔ (ت)
اور اگر یہ اٹھ کرجانا بے ضرورت یا ضرورت تحریر سے جدا کسی اور غرض کے لئے تھایا وہ تحریر اس نے کسی اور سے لکھوائی تو ان صورتوں میں اس اختیار کی بناء پر نہ ہوابلکہ ایك فضول واجنبی کا لکھنا تھا
فان المفوض الیہ بفصل اجنبی یصیراجنبیا وھو انما فوض الیہ التطلیق دون التوکیل کما ان الوکیل بالطلاق لایملك ان یوکل غیرہ اویجیز مافعل غیرہ کما نص علیہ فی الانقروی من الخانیۃ۔
جس کوکوئی اختیار سونپا جائے تو اجنبی شخص سے دخل کی وجہ سے وہ بھی اجنبی ہوجاتا ہے کیونکہ مالك نے اس کو طلاق دینے کااختیار سونپا ہے نہ کہ دوسرے کو وکیل بنانے کا اختیار سونپا جس طرح وکیل بالطلاق دوسرے کو وکیل بنانے کا مجاز نہیں اور نہ ہی وہ دوسرے کے عمل کے اس میں جائز کرسکتا ہے جیسا کہ انقروی نے خانیہ سے نقل میں اس کی تصریح کی ہے۔ (ت)
اور فضولی شخص جسے شوہر کی طرف سے امر یا اذن تحریر نہیں یا نہ رہا وہ اگر عورت کی طلاق لکھ لائے تو اس کا نفاذ اجازت شوہر پر موقوف رہتا ہے اگر وہ اس کے مضمون پر مطلع ہوکر اس تحریر کو نافذ کردے مثلا صراحۃ کہہ دے کہ میں نے جائز کیا یا اجازت دی یانفاذ دیا کوئی فعل ایسا کرے جونافذ کرنے پر دلیل ہو مثلا اس پر اپنے دستخط کردے یا اپنی طرف سے عورت کے پاس روانہ کرے یا بھیجنے کوکہے تو وہ تحریر نافذ ہوجاتی اور گویا خود شوہر کی تحریر قرار پاتی ہے ورنہ نہیں
فی البزازیۃ قبیل مسائل المجازاۃ کتب غیرالزوج کتاب الطلاق وقرأہ علی الزوج فاخذہ وختم علیہ اوقال لرجل ابعث ھذاالکتاب الیھا فھذا بمنزلۃ کتابتہ
بزازیہ میں اجازت کے مسائل سے تھوڑا پہلے ہے کہ زوج کے غیر نے طلاق نامہ لکھا اور پھر اس کو خاوند پر پڑھا تو خاوند نے لے کراس پر مہر لگائی یا دوسرے کسی شخص کو کہا یہ طلاق نامہ میری بیوی کو جاکردے دو تو یہ کارروائی ایسے ہی ہوگی جیسے خاوند نے خود
بنفسہ اھ ومثلہ فی الخلاصۃ قلت ولعل ھذاھو محمل مافی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی وفی ردالمحتار عن التاترخانیۃ ان کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ لایقع الطلاق بہ اذالم یقرانہ کتابہ اھ فان الاقرار کما یکون صریحا فکذالك دلالۃ۔
طلاق نامہ لکھا ہو اھ اور خلاصہ میں بھی ایسا ہے قلت(میں کہتا ہوں ) ہندیہ میں محیط سے اور انہوں نے منتقی سے اور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے جو ذکرکیا کہ جو طلاق نامہ خاوند نے خود نہ لکھا نہ لکھوایا تو اس سے طلاق نہ ہوگی تاوقتیکہ خاوند اس تحریر کی تصدیق نہ کردے کہ یہ میری کارروائی ہے تو بزازیہ کی مذکورہ عبارت کا محمل بھی یہی ہے کیونکہ جس طرح اقرارصراحتا ہوتا ہے یونہی دلالۃ بھی ہوسکتا ہے(ت)
اور پرظاہر کہ تنفیذ کے لئے صرف مضمون پر مطلع ہونا درکار ہے اور وہ اس میں منحصر نہیں کہ حرف بحرف اسے پڑھواکر سنے بلکہ آپ پڑھ لے یا دیکھ لے یا دوسرا پڑھ دے یا اس کا خلاصہ مضمون بتادے ہر طرح حاصل ہے۔
فقول البزازیۃ قرأہ علی الزوج غیر قید بل تصویر لاطلاع الزوج علی مافیہ فانہ لامعنی لتنفیذ ما لایدری۔
تو بزازیہ کا قول کہ “ خاوند پر پڑھے اور سنائے “ قید نہیں ہے بلکہ خاوند کوطلاق نامہ کی تحریر پر اطلاع کی ایك صورت ہے کیونکہ خاوند کے علم کے بغیر اس کی طرف سے کارروائی بے معنی ہے(ت)
اشباہ میں ہے :
قال فی فتح القدیر وصورتہ ان یکتب الیھا بخطبھا فاذا بلغھا الکتاب احضرت الشھودوقرأتہ علیھم وقالت زوجت نفسی منہ او تقول ان فلانا کتب الی یخطبنی فاشھدوا انی قدزوجت نفسی منہ امالولم تقل
فتح القدیرمیں فرمایا : اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کو خط لکھے اور اس نکاح کے پیغام کوکوئی لے جاکر عورت کو پیش کرے عورت گواہوں کو حاضر کرکے انہیں خط سنائے اور پھر یوں کہے کہ میں نے فلاں سے اپنا نکاح کیا یا یوں کہے کہ فلاں نے مجھے منگنی کا پیغام لکھا ہے تو تم گواہ بن جاؤ کہ میں نے اپنا نکاح اس سے کردیا ہے۔ لیکن اگر عورت نکاح کا پیغام
طلاق نامہ لکھا ہو اھ اور خلاصہ میں بھی ایسا ہے قلت(میں کہتا ہوں ) ہندیہ میں محیط سے اور انہوں نے منتقی سے اور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے جو ذکرکیا کہ جو طلاق نامہ خاوند نے خود نہ لکھا نہ لکھوایا تو اس سے طلاق نہ ہوگی تاوقتیکہ خاوند اس تحریر کی تصدیق نہ کردے کہ یہ میری کارروائی ہے تو بزازیہ کی مذکورہ عبارت کا محمل بھی یہی ہے کیونکہ جس طرح اقرارصراحتا ہوتا ہے یونہی دلالۃ بھی ہوسکتا ہے(ت)
اور پرظاہر کہ تنفیذ کے لئے صرف مضمون پر مطلع ہونا درکار ہے اور وہ اس میں منحصر نہیں کہ حرف بحرف اسے پڑھواکر سنے بلکہ آپ پڑھ لے یا دیکھ لے یا دوسرا پڑھ دے یا اس کا خلاصہ مضمون بتادے ہر طرح حاصل ہے۔
فقول البزازیۃ قرأہ علی الزوج غیر قید بل تصویر لاطلاع الزوج علی مافیہ فانہ لامعنی لتنفیذ ما لایدری۔
تو بزازیہ کا قول کہ “ خاوند پر پڑھے اور سنائے “ قید نہیں ہے بلکہ خاوند کوطلاق نامہ کی تحریر پر اطلاع کی ایك صورت ہے کیونکہ خاوند کے علم کے بغیر اس کی طرف سے کارروائی بے معنی ہے(ت)
اشباہ میں ہے :
قال فی فتح القدیر وصورتہ ان یکتب الیھا بخطبھا فاذا بلغھا الکتاب احضرت الشھودوقرأتہ علیھم وقالت زوجت نفسی منہ او تقول ان فلانا کتب الی یخطبنی فاشھدوا انی قدزوجت نفسی منہ امالولم تقل
فتح القدیرمیں فرمایا : اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کو خط لکھے اور اس نکاح کے پیغام کوکوئی لے جاکر عورت کو پیش کرے عورت گواہوں کو حاضر کرکے انہیں خط سنائے اور پھر یوں کہے کہ میں نے فلاں سے اپنا نکاح کیا یا یوں کہے کہ فلاں نے مجھے منگنی کا پیغام لکھا ہے تو تم گواہ بن جاؤ کہ میں نے اپنا نکاح اس سے کردیا ہے۔ لیکن اگر عورت نکاح کا پیغام
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش ہندیہ نوع آخر التوکیل والکنایۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۸۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۸۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۸۵
بحضرتھم سوی زوجت نفسی من فلان لاینعقد لان سماع الشطرین شرط باسماعہم الکتاب اوالتعبیرعنہ منھا قد سمعوا الشطرین بخلاف ما اذا انتفیا ۔
سنائے بغیرمجلس میں موجود گواہوں کو صرف یہ کہے کہ میں نے اپنا نکاح فلاں سے کردیا ہے تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ گواہوں کا ایجاب اور قبول دونوں باتوں کو ایك مجلس میں سننا ضروری ہے تو عورت کا گواہوں کو منگنی کا خط سنانا یا منگنی کو فلاں کی طرف سے ذکر کرنا اورپھر اپنی طرف سے قبولیت کو ذکر کرنے سے نکاح کے دونوں رکن گواہوں نے ایك مجلس میں سن لئے اس کے برخلاف اگر یہ چیز منتفی ہوتو نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
اور بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جوشخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وہ حرف بحرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیالکھا ہے پس اگر ایسا ہی ہوا اور عبدالغفور خاں نے اس کے مضمون پر مطلع ہو کر مہر کی تو اب وقت مہر سے شاہد النساء پر طلاق پڑگئی اور شاید اس کے خلاف ہی واقع ہوا اور بے اطلاع مضمون مہر کردی تو البتہ طلاق نہ ہوئی بالجملہ اگر یہ پچھلی صورت واقع ہے جب تو شاہدالنساء بدستورنکاح نکاح عبدالغفور خاں میں ہے اور اگر وہ پہلی دو۲ صورتیں واقع ہوئیں تو ایك صورت پر تحریر پسر اور دوسری صورت پر مہر کرنے کے وقت طلاق پڑی بہر حال ایك طلاق سے زائد نہ ہوئی اگر اس سے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دے چکا تھاتو بے تکلف اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی کچھ حاجت نہیں ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف والعلم بالحق عندالخبیر اللطیف (یہ تمام وہ ہے جو اس عبد ضعیف(مصنف) پر ظاہر ہوا جبکہ حقیقت کا علم علیم خبیر کے پاس ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۳ : از مانگرول بندر کاٹھیا واڑ تائی باڑی مرسلہ فتح محمد بن نور محمد جمعدار ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
حضرت قبلہ گاہ مولنا صاحب سلمہم اﷲتعالی از جانب مانگرول بندر فدوی خاکسار فتح محمد ابن نور محمد جمعدار کے ازحد آداب وتسلیمات کے واضح ہوکہ میں نے میری عورت کو پڑوسی کے ساتھ تکرار کرنے میں منع کرنے سے نہ ماننے کے سبب غصہ میں طلاق فارقتی لکھ کے اس کی والدہ کے اس کو فارقتی بھیج دی پھر بہت پچھتایا ایك اور بچہ بھی صغیر برس روز کا ساتھ ہے اس کے بعد دونوں کو تڑپ بے حد ہے
سنائے بغیرمجلس میں موجود گواہوں کو صرف یہ کہے کہ میں نے اپنا نکاح فلاں سے کردیا ہے تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ گواہوں کا ایجاب اور قبول دونوں باتوں کو ایك مجلس میں سننا ضروری ہے تو عورت کا گواہوں کو منگنی کا خط سنانا یا منگنی کو فلاں کی طرف سے ذکر کرنا اورپھر اپنی طرف سے قبولیت کو ذکر کرنے سے نکاح کے دونوں رکن گواہوں نے ایك مجلس میں سن لئے اس کے برخلاف اگر یہ چیز منتفی ہوتو نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
اور بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جوشخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وہ حرف بحرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیالکھا ہے پس اگر ایسا ہی ہوا اور عبدالغفور خاں نے اس کے مضمون پر مطلع ہو کر مہر کی تو اب وقت مہر سے شاہد النساء پر طلاق پڑگئی اور شاید اس کے خلاف ہی واقع ہوا اور بے اطلاع مضمون مہر کردی تو البتہ طلاق نہ ہوئی بالجملہ اگر یہ پچھلی صورت واقع ہے جب تو شاہدالنساء بدستورنکاح نکاح عبدالغفور خاں میں ہے اور اگر وہ پہلی دو۲ صورتیں واقع ہوئیں تو ایك صورت پر تحریر پسر اور دوسری صورت پر مہر کرنے کے وقت طلاق پڑی بہر حال ایك طلاق سے زائد نہ ہوئی اگر اس سے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دے چکا تھاتو بے تکلف اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی کچھ حاجت نہیں ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف والعلم بالحق عندالخبیر اللطیف (یہ تمام وہ ہے جو اس عبد ضعیف(مصنف) پر ظاہر ہوا جبکہ حقیقت کا علم علیم خبیر کے پاس ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۳ : از مانگرول بندر کاٹھیا واڑ تائی باڑی مرسلہ فتح محمد بن نور محمد جمعدار ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
حضرت قبلہ گاہ مولنا صاحب سلمہم اﷲتعالی از جانب مانگرول بندر فدوی خاکسار فتح محمد ابن نور محمد جمعدار کے ازحد آداب وتسلیمات کے واضح ہوکہ میں نے میری عورت کو پڑوسی کے ساتھ تکرار کرنے میں منع کرنے سے نہ ماننے کے سبب غصہ میں طلاق فارقتی لکھ کے اس کی والدہ کے اس کو فارقتی بھیج دی پھر بہت پچھتایا ایك اور بچہ بھی صغیر برس روز کا ساتھ ہے اس کے بعد دونوں کو تڑپ بے حد ہے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۵۹۷۔ ۱۹۶
وہ رات روز رو رہے ہیں اور فارقتی لکھ کر دی ہے اور منہ سے کچھ بھی نہیں کہا ہے آخر اس کے رونے پر اور میرا بچہ چھوٹا ساتھ ہونے پر پھر گھر میں لانے کا خیال کیا ہے ہمارے یہاں کے عالموں میں مولوی احمد سے دریافت کیا تو فرماتے ہیں کہ سواحلالہ کے درست نہیں ہوسکتی اور مولوی محمود انتقال کرگئے اب آپ اس میں جو حکم فرمائیے سوکیا جائے گا۔
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مرد نے اپنی زوجہ کو بباعث کسی منازعت کے حالت غصہ میں اس کے والدین کے گھر جانے کے بعد ایك ورقہ میں مبہم بلاعدد لفظ طلاق کے یوں لکھا کہ طلاق دے کر فارقتی دیتا ہوں جواب بحوالہ کتب مرحمت فرمائیں ۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں دو۲ طلاقیں ہوگئیں حلالہ کی کوئی حاجت نہیں اگر اس طلاق کے بعد عدت گزرگئی ہے یعنی تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے جب تو عورت کی رضامندی سے اس کے ساتھ نکاح کرلے اور اگر عدت باقی تو دوصورتیں ہیں اگر فارقتی دینا وہاں کے محاورہ میں طلاق کے الفاظ صریحہ سے سمجھاجاتا ہے جیسا کہ یہاں کی بعض اقوام میں ہے کہ عورت کی نسبت اس کے کہنے سے طلاق ہی مفہوم ہوتی ہے جب تو دو۲ طلاقیں رجعی ہوئیں کہ عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے مثلا زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی بشرطیکہ اس سے پہلے کبھی ایك طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ بیشك اب تین ہو گئیں اور اب بے حلالہ جائز نہیں اور اگر یہ لفظ وہاں صریح نہیں سمجھا جاتا تودو طلاقیں بائن ہوئیں عورت نکاح سے نکل گئی مگر اس کی رضا کے ساتھ دوبارہ اس سے نکاح کرسکتا ہے خواہ عدت گزری ہو یانہیں اسی شرط پر کہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو یہ سب اس صورت میں کہ فارغ خطی سے اس نے وہ کاغذ مراد نہ رکھا ہو اور اگر یہ مقصود ہے کہ طلاق دے کر یہ اس کی سند بھیجتا ہوں تو اس صورت میں ایك ہی طلاق رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے جب کہ پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۴ : از دفتر مدرسہ رحمانیہ پیلی بھیت مرسلہ مولوی فضل حق صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کے سسرالیوں میں رنجش کے ساتھ گفتگو ہورہی تھی اس درمیان میں ہندہ جو زوجہ زید تھی اس کے چھوڑدینے کی بات چھڑگئی اور زید سے کہا گیا کہ اس روز روز کے جھگڑے سے چھوڑدو زید نے کہا تم کل چھڑاتی ہو میں ابھی چھوڑتا ہوں ۔ اس اخیر جملہ کی تین بار یا اس سے زیادہ تکرار کی ہندہ پر طلاق ہوئی یا نہیں اور کس قسم کی طلاق پڑی بحوالہ کتب سے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مرد نے اپنی زوجہ کو بباعث کسی منازعت کے حالت غصہ میں اس کے والدین کے گھر جانے کے بعد ایك ورقہ میں مبہم بلاعدد لفظ طلاق کے یوں لکھا کہ طلاق دے کر فارقتی دیتا ہوں جواب بحوالہ کتب مرحمت فرمائیں ۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں دو۲ طلاقیں ہوگئیں حلالہ کی کوئی حاجت نہیں اگر اس طلاق کے بعد عدت گزرگئی ہے یعنی تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے جب تو عورت کی رضامندی سے اس کے ساتھ نکاح کرلے اور اگر عدت باقی تو دوصورتیں ہیں اگر فارقتی دینا وہاں کے محاورہ میں طلاق کے الفاظ صریحہ سے سمجھاجاتا ہے جیسا کہ یہاں کی بعض اقوام میں ہے کہ عورت کی نسبت اس کے کہنے سے طلاق ہی مفہوم ہوتی ہے جب تو دو۲ طلاقیں رجعی ہوئیں کہ عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے مثلا زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی بشرطیکہ اس سے پہلے کبھی ایك طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ بیشك اب تین ہو گئیں اور اب بے حلالہ جائز نہیں اور اگر یہ لفظ وہاں صریح نہیں سمجھا جاتا تودو طلاقیں بائن ہوئیں عورت نکاح سے نکل گئی مگر اس کی رضا کے ساتھ دوبارہ اس سے نکاح کرسکتا ہے خواہ عدت گزری ہو یانہیں اسی شرط پر کہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو یہ سب اس صورت میں کہ فارغ خطی سے اس نے وہ کاغذ مراد نہ رکھا ہو اور اگر یہ مقصود ہے کہ طلاق دے کر یہ اس کی سند بھیجتا ہوں تو اس صورت میں ایك ہی طلاق رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے جب کہ پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۴ : از دفتر مدرسہ رحمانیہ پیلی بھیت مرسلہ مولوی فضل حق صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کے سسرالیوں میں رنجش کے ساتھ گفتگو ہورہی تھی اس درمیان میں ہندہ جو زوجہ زید تھی اس کے چھوڑدینے کی بات چھڑگئی اور زید سے کہا گیا کہ اس روز روز کے جھگڑے سے چھوڑدو زید نے کہا تم کل چھڑاتی ہو میں ابھی چھوڑتا ہوں ۔ اس اخیر جملہ کی تین بار یا اس سے زیادہ تکرار کی ہندہ پر طلاق ہوئی یا نہیں اور کس قسم کی طلاق پڑی بحوالہ کتب سے
عبارت جواب کا جلد امیدوار ہوں ۔
الجواب :
تین طلاقیں مغلظہ ہوگئیں محیط وذخیرہ وخلاصہ وہندیہ کی تصریحات کے علاوہ ذی علم پر یہ مسئلہ بدیہیات سے ہے تو وہ اس پر حوالہ وعبارت طلب نہ کرے گا اور جاہل کا حوالہ وہ بھی مع عبارت طلب کرنا سوء ادب ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۵ : ازپیلی بھیت محلہ عبداللطیف خاں مسئولہ پیارے ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خسر اور داماد میں لڑائی ہونے پر داماد کہے کہ اگر تم کل چھوڑواتے ہوتو میں آج ہی چھوڑتا ہوں اس لفظ کے کہنا پرطلاق ہوئی یانہیں
الجواب :
طلاق رجعی ہوگئی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۶ : از شہر کانپور اے بی روڈ دکان جناب حافظ پیر بخش صاحب سوداگر مسئولہ ولی محمد صاحب ۱۷ جمادی الاخری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ کو رخصت کرانے کے لئے جب اپنے سسرال گیاتو اس کی خوشدامن نے کہا کہ ہم لڑکی کو رخصت نہیں کریں گے بلکہ ہم قصہ ختم کرنا چاہتے ہیں اس پر زید نے اپنی خوشدامن سے کہا کہ میں جانتاہوں کہ میراآنا آپ لوگوں کو بہت ناگوارا ہوا پھر خوشدامن نے کچھ ایسے الفاظ کہے جس سے اس کا منشاء یہ تھا کہ زید اپنی زوجہ کو طلاق دے دے اس پر زید نہایت برہم ہوا اور کہا کہ اگر میں پسند نہیں ہوں تو دوسرے سے نکاح کردو اس کے جواب میں خوشدامن نے کہاہاں تو پسند نہیں ہے آیا ایسی صورت میں زید کی زوجہ کو طلاق ہوجائے گی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر بہ نیت طلاق تھا ایك طلاق بائن گئی اور اگر بقسم کہے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی قبول کرینگے اور وقوع طلاق کا حکم نہ دیں گے۔ عالمگیریہ میں عنایہ سے ہے :
لوقال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلاث صح وان لم ینوشیئا لم یقع۔
اگر خاوند بیوی کو کہے کہ تو نکاح کرلے طلاق کی نیت یا تین طلاقوں کی نیت کی ہونیت کے مطابق ایك یا تین طلاقیں صحیح ہوں گی اور اگر کچھ نیت نہ کی تو واقع نہ ہو گی (ت)
الجواب :
تین طلاقیں مغلظہ ہوگئیں محیط وذخیرہ وخلاصہ وہندیہ کی تصریحات کے علاوہ ذی علم پر یہ مسئلہ بدیہیات سے ہے تو وہ اس پر حوالہ وعبارت طلب نہ کرے گا اور جاہل کا حوالہ وہ بھی مع عبارت طلب کرنا سوء ادب ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۵ : ازپیلی بھیت محلہ عبداللطیف خاں مسئولہ پیارے ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خسر اور داماد میں لڑائی ہونے پر داماد کہے کہ اگر تم کل چھوڑواتے ہوتو میں آج ہی چھوڑتا ہوں اس لفظ کے کہنا پرطلاق ہوئی یانہیں
الجواب :
طلاق رجعی ہوگئی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۶ : از شہر کانپور اے بی روڈ دکان جناب حافظ پیر بخش صاحب سوداگر مسئولہ ولی محمد صاحب ۱۷ جمادی الاخری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ کو رخصت کرانے کے لئے جب اپنے سسرال گیاتو اس کی خوشدامن نے کہا کہ ہم لڑکی کو رخصت نہیں کریں گے بلکہ ہم قصہ ختم کرنا چاہتے ہیں اس پر زید نے اپنی خوشدامن سے کہا کہ میں جانتاہوں کہ میراآنا آپ لوگوں کو بہت ناگوارا ہوا پھر خوشدامن نے کچھ ایسے الفاظ کہے جس سے اس کا منشاء یہ تھا کہ زید اپنی زوجہ کو طلاق دے دے اس پر زید نہایت برہم ہوا اور کہا کہ اگر میں پسند نہیں ہوں تو دوسرے سے نکاح کردو اس کے جواب میں خوشدامن نے کہاہاں تو پسند نہیں ہے آیا ایسی صورت میں زید کی زوجہ کو طلاق ہوجائے گی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر بہ نیت طلاق تھا ایك طلاق بائن گئی اور اگر بقسم کہے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی قبول کرینگے اور وقوع طلاق کا حکم نہ دیں گے۔ عالمگیریہ میں عنایہ سے ہے :
لوقال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلاث صح وان لم ینوشیئا لم یقع۔
اگر خاوند بیوی کو کہے کہ تو نکاح کرلے طلاق کی نیت یا تین طلاقوں کی نیت کی ہونیت کے مطابق ایك یا تین طلاقیں صحیح ہوں گی اور اگر کچھ نیت نہ کی تو واقع نہ ہو گی (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
ردالمحتار میں شرح جامع صغیر امام قاضی خاں سے ہے :
لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنک ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر کچھ نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کے کہنے کا مقصد یہ ہوگا کہ تجھے ممکن ہوتو نکاح کر(جبکہ طلاق کے بغیر ممکن نہیں تو طلاق نہ ہوگی) واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۷ : ازموضع نان ٹو ڈاکخانہ اکبر آباد ضلع علی گڑھ مسئولہ محمد تحسین علی صاحب یکم رجب المرجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو بدچلنی اور بدکاری کے الزام لگائے اور اس سے کہا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا تو میرے کام کی نہیں مگر زید کہتا ہے کہ میں نے ہرگز طلاق نہیں دی تو کیا اس صورت میں ادائے لفظ طلاق زید کی بیوی زید کے نکاح سے خارج ہوگی یانہیں
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے تو دو۲ طلاقیں بائن ہوگئیں عورت نکاح سے خارج ہوگئی اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور پھر کبھی ایك طلاق دے گا تو تین ہوجائیں گی اور بے حلالہ نکاح نہ کرسکے گا اور اگر اس وقت عورت اس سے دوبارہ نکاح پر راضی نہیں تو یہ اس پر جبر نہیں کرسکتا اور اگر پہلے کبھی ایك طلاق اسے دے چکا تھا تو ابھی تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا
وذلك لان اللفظ الاول صریح والثانی کنایۃ یحتمل السب وقدصار الحال باللفظ الاول حال المذاکرۃ فوقع بہ بائن فجعل الاول ایضا بائنا۔ واﷲتعالی اعلم۔
یہ اسلئے کہ پہلا لفظ طلاق میں صریح ہے اور دوسراکنایہ ہے جو کہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتا ہے جبکہ پہلے لفظ کی وجہ سے مذاکرہ طلاق کی حالت ہوگئی تو اس قرینہ کی وجہ سے کنایہ کا لفظ بھی طلاق بائنہ قرار پائے گا جس کی وجہ سے صریح طلاق بھی بائنہ کے حکم میں ہوجائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۷۸ : ازپیلی بھیت محلہ پکریامسئولہ بشیر احمد صاحب ۱۵ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید جس کی علمی لیاقت علم عربی میں قریب دستاربندی ہے اب بیوی کو چند باریہ الفاظ بحالت صحت نفس کہے کہ میں تم کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ جہاں تمہارا
لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنک ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر کچھ نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کے کہنے کا مقصد یہ ہوگا کہ تجھے ممکن ہوتو نکاح کر(جبکہ طلاق کے بغیر ممکن نہیں تو طلاق نہ ہوگی) واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۷ : ازموضع نان ٹو ڈاکخانہ اکبر آباد ضلع علی گڑھ مسئولہ محمد تحسین علی صاحب یکم رجب المرجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو بدچلنی اور بدکاری کے الزام لگائے اور اس سے کہا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا تو میرے کام کی نہیں مگر زید کہتا ہے کہ میں نے ہرگز طلاق نہیں دی تو کیا اس صورت میں ادائے لفظ طلاق زید کی بیوی زید کے نکاح سے خارج ہوگی یانہیں
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے تو دو۲ طلاقیں بائن ہوگئیں عورت نکاح سے خارج ہوگئی اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور پھر کبھی ایك طلاق دے گا تو تین ہوجائیں گی اور بے حلالہ نکاح نہ کرسکے گا اور اگر اس وقت عورت اس سے دوبارہ نکاح پر راضی نہیں تو یہ اس پر جبر نہیں کرسکتا اور اگر پہلے کبھی ایك طلاق اسے دے چکا تھا تو ابھی تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا
وذلك لان اللفظ الاول صریح والثانی کنایۃ یحتمل السب وقدصار الحال باللفظ الاول حال المذاکرۃ فوقع بہ بائن فجعل الاول ایضا بائنا۔ واﷲتعالی اعلم۔
یہ اسلئے کہ پہلا لفظ طلاق میں صریح ہے اور دوسراکنایہ ہے جو کہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتا ہے جبکہ پہلے لفظ کی وجہ سے مذاکرہ طلاق کی حالت ہوگئی تو اس قرینہ کی وجہ سے کنایہ کا لفظ بھی طلاق بائنہ قرار پائے گا جس کی وجہ سے صریح طلاق بھی بائنہ کے حکم میں ہوجائے گی۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۷۸ : ازپیلی بھیت محلہ پکریامسئولہ بشیر احمد صاحب ۱۵ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید جس کی علمی لیاقت علم عربی میں قریب دستاربندی ہے اب بیوی کو چند باریہ الفاظ بحالت صحت نفس کہے کہ میں تم کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ جہاں تمہارا
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
دل چاہے چلی جاؤ خواہ تم دوسرا خاوند کرلو خواہ بلا خاوند رہو مگر بی بی چند باریہ الفاظ سن کر بھی خاموش تہی تو کچھ دن کے بعد یہ کہا کہ مجھ کو افسوس ہے کہ کیسی بے حیا عورت ہے کہ میں خوشی سے اجازت چلے جانے کی دیتاہوں اور میرا پیچھا نہیں چھوڑتی جب بی بی پر یہ ملامت ڈالی تو بی بی نے جانے کی تیاری کی تو زید نے کاغذات دیہہ زمینداری بی بی جس کا زید کا رکن تھا حوالہ کردئے تو اب اس مسئلہ میں شرع شریف کا کیا حکم ہے اور بیوی اب زید سے راضی نہیں ہے اور زید سے قطع تعلق کرتی ہے۔
الجواب :
یہ الفاظ کنایہ ہیں نیت پر حکم ہے اگر زید نے بہ نیت طلاق کہے ایك طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اس سے بلاحلالہ اس کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے جبکہ اس سے پہلے اس عورت کو دو۲ طاقیں نہ دے چکاہو اور اگر وہ قسم کھاکر انکار کردے کہ میں نے یہ الفاظ بہ نیت طلاق نہ کہے تھے تو طلاق نہ مانی جائے گی اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۹ : از آرہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب ۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ زینب سے کہا بصورت نااتفاقی کہ ہم تمہارے ہاتھ کا کھانا نہیں کھائیں گے تب اس پر بی بی مذکور نے کہا کہ جب کھانا نہیں کھاؤگے تو ہم کو صفائی دے دو تب زید نے کہا کہ صفائی دے دیا بی بی نے کہا صفائی دے دیا تو پھر کہا کہ صفائی دے دیا پھر بی بی نے کہ صفائی دے دیا تو پھر کہا صفائی دے دیا تو بی بی نے کہا کہ تب ہم کہیں چلے جائیں تو زید نے کہا کہ کہیں چلی جاؤ اس صورت مذکورہ میں طلاق مغلظہ واقع ہوا کہ نہیں اگر طلاق واقع نہیں ہو اتوکیا دلیل بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مذکورہ میں طلاق مغلظ تو کسی طرح نہ ہوئی فان البائن لایلحق البائن کما فی المتون (کیونکہ بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی جیسا کہ متون میں ہے۔ ت)ہاں اگر ان چار لفظوں میں جو زید نے کہے اگر کسی ایك لفظ یا دوتین یا چاروں سے عورت کو طلاق دینے کی نیت زید نے کی تو ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کی رضاسے اس سے نکاح دوبارہ کرسکتا ہے اور اگر اصلا کسی لفظ سے نیت طلاق نہ کی تو وہ بدستور اس کی زوجہ ہے طلاق نہ ہوئی درمختار میں ہے :
الجواب :
یہ الفاظ کنایہ ہیں نیت پر حکم ہے اگر زید نے بہ نیت طلاق کہے ایك طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اس سے بلاحلالہ اس کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے جبکہ اس سے پہلے اس عورت کو دو۲ طاقیں نہ دے چکاہو اور اگر وہ قسم کھاکر انکار کردے کہ میں نے یہ الفاظ بہ نیت طلاق نہ کہے تھے تو طلاق نہ مانی جائے گی اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۹ : از آرہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب ۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ زینب سے کہا بصورت نااتفاقی کہ ہم تمہارے ہاتھ کا کھانا نہیں کھائیں گے تب اس پر بی بی مذکور نے کہا کہ جب کھانا نہیں کھاؤگے تو ہم کو صفائی دے دو تب زید نے کہا کہ صفائی دے دیا بی بی نے کہا صفائی دے دیا تو پھر کہا کہ صفائی دے دیا پھر بی بی نے کہ صفائی دے دیا تو پھر کہا صفائی دے دیا تو بی بی نے کہا کہ تب ہم کہیں چلے جائیں تو زید نے کہا کہ کہیں چلی جاؤ اس صورت مذکورہ میں طلاق مغلظہ واقع ہوا کہ نہیں اگر طلاق واقع نہیں ہو اتوکیا دلیل بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مذکورہ میں طلاق مغلظ تو کسی طرح نہ ہوئی فان البائن لایلحق البائن کما فی المتون (کیونکہ بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی جیسا کہ متون میں ہے۔ ت)ہاں اگر ان چار لفظوں میں جو زید نے کہے اگر کسی ایك لفظ یا دوتین یا چاروں سے عورت کو طلاق دینے کی نیت زید نے کی تو ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کی رضاسے اس سے نکاح دوبارہ کرسکتا ہے اور اگر اصلا کسی لفظ سے نیت طلاق نہ کی تو وہ بدستور اس کی زوجہ ہے طلاق نہ ہوئی درمختار میں ہے :
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
اذھبی یحتمل رداونحوخلیۃ بریۃ یصلح سبا (الی قولہ) فی الغضب توقف الاولان ان نوی وقع والالا۔
اس لئے کہ یہ جواب بھی بن سکتا ہے اور توجدا ہے تو بری ہے یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال رکھتے ہیں اس کے قول کہ “ غصہ میں پہلے دونوں الفاظ موقوف رہیں گے اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں “ تک۔ (ت)
مبسوط امام سرخسی میں ہے :
وعن ابی یوسف رحمہ اﷲتعالی انہ الحق بھذہ الالفاظ خلیت سبیلک فارقتک لاسبیل الیک لاملك لی علیك لانھا تحتمل السب ___ای لاملك لی علیك لانك ادون من ان تملکی وفارقتك اتقاء لشرك وخلیت سبیلك لھوانك علی (ملخصا)
امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك یہ “ میں نے تیرا رستہ کھول دیا “ “ میں تجھ سے جدا ہو “ اور “ میری تجھ پر کوئی ملکیت نہیں “ کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں یعنی “ میری تجھ پر ملکیت نہیں “ کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تو اس قابل نہیں کہ میں تیرا مالك بنوں اور میں تجھ سے جداہوا یعنی تیرے شرسے جد ا ہوں میں نے تیرا راستہ کھولا کیونکہ میرے ہاں تو حقیر ہے(ملخصا) (ت)
فتح القدیر میں ہے :
یدین فی الغضب لان ھذہ الالفاظ تذکر للابعاد وحالۃ الغضب یبعد الانسان عن الزوجۃ۔
غصہ میں ان الفاظ کے متعلق خاوند کی تصدیق کی جائیگی کیونکہ یہ الفاظ دور کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ غصہ کی حالت میں انسان بیوی سے دور رہتا ہے۔ (ت)
یہ بات کہ ان میں اصلا کسی لفظ سے طلاق کی نیت نہ کی تھی اگر زید قسم کھاکر کہہ دے قبول کرلیں گے اورحکم طلاق نہ دیں گے اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہوگا یہ قسم گھر میں عورت بھی کرسکتی ہے۔ درمختار میں ہے :
ویکفی تحلیفھا لہ فی
عورت کا مردسے گھر قسم لینا
اس لئے کہ یہ جواب بھی بن سکتا ہے اور توجدا ہے تو بری ہے یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال رکھتے ہیں اس کے قول کہ “ غصہ میں پہلے دونوں الفاظ موقوف رہیں گے اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں “ تک۔ (ت)
مبسوط امام سرخسی میں ہے :
وعن ابی یوسف رحمہ اﷲتعالی انہ الحق بھذہ الالفاظ خلیت سبیلک فارقتک لاسبیل الیک لاملك لی علیك لانھا تحتمل السب ___ای لاملك لی علیك لانك ادون من ان تملکی وفارقتك اتقاء لشرك وخلیت سبیلك لھوانك علی (ملخصا)
امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك یہ “ میں نے تیرا رستہ کھول دیا “ “ میں تجھ سے جدا ہو “ اور “ میری تجھ پر کوئی ملکیت نہیں “ کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں یعنی “ میری تجھ پر ملکیت نہیں “ کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تو اس قابل نہیں کہ میں تیرا مالك بنوں اور میں تجھ سے جداہوا یعنی تیرے شرسے جد ا ہوں میں نے تیرا راستہ کھولا کیونکہ میرے ہاں تو حقیر ہے(ملخصا) (ت)
فتح القدیر میں ہے :
یدین فی الغضب لان ھذہ الالفاظ تذکر للابعاد وحالۃ الغضب یبعد الانسان عن الزوجۃ۔
غصہ میں ان الفاظ کے متعلق خاوند کی تصدیق کی جائیگی کیونکہ یہ الفاظ دور کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ غصہ کی حالت میں انسان بیوی سے دور رہتا ہے۔ (ت)
یہ بات کہ ان میں اصلا کسی لفظ سے طلاق کی نیت نہ کی تھی اگر زید قسم کھاکر کہہ دے قبول کرلیں گے اورحکم طلاق نہ دیں گے اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہوگا یہ قسم گھر میں عورت بھی کرسکتی ہے۔ درمختار میں ہے :
ویکفی تحلیفھا لہ فی
عورت کا مردسے گھر قسم لینا
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۔ ۲۲۴
مبسوط امام سرخسی باب ماتقع بہ الفرقۃ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۶ / ۸۱
فتح القدیر فصل فی الطلاق قبل الدخول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۴۰۲
مبسوط امام سرخسی باب ماتقع بہ الفرقۃ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۶ / ۸۱
فتح القدیر فصل فی الطلاق قبل الدخول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۴۰۲
منزلہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۸۰ : ازمارہرہ مطہرہ مسئولہ حافظ عبدالکریم صاحب ۲۵محرم ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس امر کے ایك شخص نے اپنی خواشدامن وخسر ونیز روبرو چند عورات دیگر کے یہ کہا کہ میں تمہاری دختر سے لادعوی ہوتا ہوں تم اس کو بلالو ورنہ میں اس کو بے عزت کرکے نکال دوں گا۔ اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر اس نے ان لفظوں سے کہ “ میں تمہاری دختر سے لادعوی ہوتا ہوں “ طلاق دینے کا قصد کیا تھا اور بہ نیت طلاق یہ کلام کہا تھا تو طلاق واقع ہوگئی ورنہ نہیں ۔ فتاوی امام خیرالدین رملی میں ہے :
سئل فی رجل ضرب زوجتہ فلامہ اھلھا فقالت انت مجارۃ انی مااقربك غیرنا وطلاقا ھل تطلق بھذا القول ام لا'(اجاب)لاتطلق ففی الخانیۃ فی قولہ لاملك لی علیک لاسبیل لی علیك خلیت سبیلک الحقی باھلک لوقال ذلك فی حال مذاکرۃ الطلاق اوفی الغضب وقال لم انوبہ الطلاق یصدق قضاء فی قول ابی حنیفۃ وقال ابویوسف لایصدق ومعنی انت مجارۃ انت منتقذۃ معاذۃ مما تکرھینہ وھو قریب من معنی ھذہ الالفاظ واﷲاعلم انتہی اقول :
ان میں سے ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو پیٹا تو خاوند کو بیوی کے گھر والوں نے ملامت کی اس پر خاوند نے بیوی کوکہا کہ “ تو محفوظ ہوگئی میں تیرے قریب نہ ہوں گا “ طلاق کی نیت نہ کی ہوتو کیا اس بات سے طلاق ہو جائے گی یا نہیں جواب میں انہوں نے فرمایا طلاق نہ ہوگی۔ تو خانیہ میں ہے : خاوند کا بیوی کوکہنا تجھ پر میری ملکیت نہیں تجھ پر مجھے کوئی چارہ نہیں تیرا راستہ میں نے کھول دیا “ یا کہا “ تو اپنے گھر والوں کے ہاں جا “ ۔ اگر یہ الفاظ مذاکرہ طلاق یاغصہ میں کہے اور بیان کیا کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك قضاء خاوند کی بات مان لی جائے گی اور امام ابویوسف کے نزدیك قضاء تصدیق نہ کی جائے گی “ تومجارہ “ کامعنی تو بچی ہوئی پناہ میں ہے اس چیز سے جس کو توناپسند کرتی ہے اور یہ لفظ اوپر مذکورہ الفاظ کے قریب ہے واﷲتعالی اعلم انتہی اقول :
کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۸۰ : ازمارہرہ مطہرہ مسئولہ حافظ عبدالکریم صاحب ۲۵محرم ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس امر کے ایك شخص نے اپنی خواشدامن وخسر ونیز روبرو چند عورات دیگر کے یہ کہا کہ میں تمہاری دختر سے لادعوی ہوتا ہوں تم اس کو بلالو ورنہ میں اس کو بے عزت کرکے نکال دوں گا۔ اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر اس نے ان لفظوں سے کہ “ میں تمہاری دختر سے لادعوی ہوتا ہوں “ طلاق دینے کا قصد کیا تھا اور بہ نیت طلاق یہ کلام کہا تھا تو طلاق واقع ہوگئی ورنہ نہیں ۔ فتاوی امام خیرالدین رملی میں ہے :
سئل فی رجل ضرب زوجتہ فلامہ اھلھا فقالت انت مجارۃ انی مااقربك غیرنا وطلاقا ھل تطلق بھذا القول ام لا'(اجاب)لاتطلق ففی الخانیۃ فی قولہ لاملك لی علیک لاسبیل لی علیك خلیت سبیلک الحقی باھلک لوقال ذلك فی حال مذاکرۃ الطلاق اوفی الغضب وقال لم انوبہ الطلاق یصدق قضاء فی قول ابی حنیفۃ وقال ابویوسف لایصدق ومعنی انت مجارۃ انت منتقذۃ معاذۃ مما تکرھینہ وھو قریب من معنی ھذہ الالفاظ واﷲاعلم انتہی اقول :
ان میں سے ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو پیٹا تو خاوند کو بیوی کے گھر والوں نے ملامت کی اس پر خاوند نے بیوی کوکہا کہ “ تو محفوظ ہوگئی میں تیرے قریب نہ ہوں گا “ طلاق کی نیت نہ کی ہوتو کیا اس بات سے طلاق ہو جائے گی یا نہیں جواب میں انہوں نے فرمایا طلاق نہ ہوگی۔ تو خانیہ میں ہے : خاوند کا بیوی کوکہنا تجھ پر میری ملکیت نہیں تجھ پر مجھے کوئی چارہ نہیں تیرا راستہ میں نے کھول دیا “ یا کہا “ تو اپنے گھر والوں کے ہاں جا “ ۔ اگر یہ الفاظ مذاکرہ طلاق یاغصہ میں کہے اور بیان کیا کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك قضاء خاوند کی بات مان لی جائے گی اور امام ابویوسف کے نزدیك قضاء تصدیق نہ کی جائے گی “ تومجارہ “ کامعنی تو بچی ہوئی پناہ میں ہے اس چیز سے جس کو توناپسند کرتی ہے اور یہ لفظ اوپر مذکورہ الفاظ کے قریب ہے واﷲتعالی اعلم انتہی اقول :
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۱
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۱
وانت تعلم ان مسئلتنا ھذہ اقرب الی المنصوص من مسئلۃ الخیریۃ کما لایخفی۔
(میں کہتا ہوں کہ)ہمارا زیر بحث مسئلہ خیریہ میں بیان کردہ مسئلہ کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
پس اگر وہ قسم کھاکر کہہ دے کہ ان لفظوں سے میں نے طلاق دینے کی نیت نہ کی تھی قبول کرلیں گے اوروقوع طلاق کا حکم نہ دیں گے
فی الدرالمختار القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی ۔
درمختار میں ہے : نیت ہونے نہ ہونے میں خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور اس سے گھر میں ہی حلف لے لینا کافی ہے اور اگر وہ حلف دینے سے انکار کرے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرسکتی ہے تو اگر وہاں بھی حلف سے انکار پر مصررہے تو پھر حاکم خاوند بیوی میں تفریق کردے مجتبی۔ (ت)
ہاں اگر واقع میں اس نے نیت طلاق کی تھی اور اب جھوٹی قسم کھالی تو عنداﷲطلاق ہوگئی مگر اس کا وبال شوہر پر ہے عورت پر الزام نہیں واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۱ : از بریلی صدر مسئولہ شیخ عبدالخالق ۱۷محرم شریف۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عبدالخالق نے اپنی عورت کو طلاق نامہ لکھا اور اس دستاویز میں ان الفاظ سے طلاق لکھی “ میں لادعوی ہوں یہ عورت جہاں چاہے شادی کرلے “ ایسی صورت میں طلاق ہوئی یانہیں اور اگر عبدالخالق پھر اسے نکاح میں لانا چاہے تو ضرورت حلالہ ہوگی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جب کہ طلاق لکھنے کی نیت سے یہ الفاظ لکھے ہوں عورت پر ایك طلاق ہوگئی وہ نکاح سے نکل گئی اب اس سے نکاح کرے تو صرف نکاح جدید برضائے زوجہ کافی ہے حلالہ کی کچھ حاجت نہیں اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲ : مرسلہ حکیم احمد حسین صاحب محلہ طویلہ ۷شوال ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میاں بی بی میں باہم جھگڑا رہتا تھا اکثر اسے
(میں کہتا ہوں کہ)ہمارا زیر بحث مسئلہ خیریہ میں بیان کردہ مسئلہ کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
پس اگر وہ قسم کھاکر کہہ دے کہ ان لفظوں سے میں نے طلاق دینے کی نیت نہ کی تھی قبول کرلیں گے اوروقوع طلاق کا حکم نہ دیں گے
فی الدرالمختار القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی ۔
درمختار میں ہے : نیت ہونے نہ ہونے میں خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور اس سے گھر میں ہی حلف لے لینا کافی ہے اور اگر وہ حلف دینے سے انکار کرے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرسکتی ہے تو اگر وہاں بھی حلف سے انکار پر مصررہے تو پھر حاکم خاوند بیوی میں تفریق کردے مجتبی۔ (ت)
ہاں اگر واقع میں اس نے نیت طلاق کی تھی اور اب جھوٹی قسم کھالی تو عنداﷲطلاق ہوگئی مگر اس کا وبال شوہر پر ہے عورت پر الزام نہیں واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۱ : از بریلی صدر مسئولہ شیخ عبدالخالق ۱۷محرم شریف۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عبدالخالق نے اپنی عورت کو طلاق نامہ لکھا اور اس دستاویز میں ان الفاظ سے طلاق لکھی “ میں لادعوی ہوں یہ عورت جہاں چاہے شادی کرلے “ ایسی صورت میں طلاق ہوئی یانہیں اور اگر عبدالخالق پھر اسے نکاح میں لانا چاہے تو ضرورت حلالہ ہوگی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جب کہ طلاق لکھنے کی نیت سے یہ الفاظ لکھے ہوں عورت پر ایك طلاق ہوگئی وہ نکاح سے نکل گئی اب اس سے نکاح کرے تو صرف نکاح جدید برضائے زوجہ کافی ہے حلالہ کی کچھ حاجت نہیں اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲ : مرسلہ حکیم احمد حسین صاحب محلہ طویلہ ۷شوال ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میاں بی بی میں باہم جھگڑا رہتا تھا اکثر اسے
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
تکلیف دیتا اور مارتا ایکدن اس سے زیور مانگا اس نے انکار کیا کہا تجھے چاقو سے مارڈالوں گا ہندہ بخوف جان والدین کے یہاں چلی آئی شوہر نے چوری کا الزام بھی لگایا اور تھانہ میں رپٹ کاارادہ کیا لوگوں نے سمجھایا اس وقت یہ گفتگو ہوئی جو لکھی جاتی ہے ناصح کیا فضیحت کراؤگے۔ زید : وہ میری بیوی ہی نہیں رہی فضیحت کیسی۔ ناصح : دیکھو لغو باتیں نہ کرو۔ زید : جب وہ میری بلا اجازت چلی گئی میرے نکاح سے باہر ہے اور وہ میرے کام کی نہ رہی مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں ۔ ناصح : دیکھو کنایہ اشارہ سے بھی طلاق ہوجاتی ہے ذرا سوچ سمجھ کر کہو تم پڑھے لکھے آدمی ہو۔ زید : مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں نہ وہ میری بیوی ہے۔ آیا اس گفتگو سے وہ عورت مطلقہ ہوئی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
زید کا پچھلا قول کہ “ نہ وہ میری بیوی ہے “ مذہب مختار پر اصلا الفاظ طلاق سے نہیں یہاں تك کہ بہ نیت طلاق بھی کہے تاہم واقع نہ ہوگی۔ عالمگیری میں ہے :
لوقال توزن من نئی لایقع وان نوی ھو المختار کذافی جواھرالاخلاطی ۔
اگر کہا تومیری بیوی نہ ہے تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی یہی قول مختار ہے جیسا کہ جواہراخلاطی میں ہے۔ (ت)
اسی طرح “ مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں “ یہ بھی لفظ طلاق نہیں کہ غرض بمعنی شوق مستعمل ہے کما فی القاموس(جیسا کہ قاموس میں ہے۔ ت)یا قصد وخواہش کما فی المنتخب(جیسا کہ منتخب میں ہے۔ ت)یا حاجت کما فی شروح النصاب (جیساکہ شروح النصاب میں ہے۔ ت)اور ان اشیاء کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق اطلاق کرے۔ عالمگیری میں ہے :
لو قال لاحاجۃ لی فیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج اذا قال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی کذافی البحر الرائق ۔
اگر کہا “ مجھے تیرے بارے کوئی حاجت نہیں “ اور طلاق کی نیت کی ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی سراج وہاج میں ایسے ہی ہے۔ اور کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ “ میں تجھے پسند نہیں کرتا “ “ تیرے بارے مجھے رغبت نہیں “ اگر نیت ہوتب بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك طلاق نہ ہوگی بحرالرائق میں یوں ہی ہے۔ (ت)
الجواب :
زید کا پچھلا قول کہ “ نہ وہ میری بیوی ہے “ مذہب مختار پر اصلا الفاظ طلاق سے نہیں یہاں تك کہ بہ نیت طلاق بھی کہے تاہم واقع نہ ہوگی۔ عالمگیری میں ہے :
لوقال توزن من نئی لایقع وان نوی ھو المختار کذافی جواھرالاخلاطی ۔
اگر کہا تومیری بیوی نہ ہے تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی یہی قول مختار ہے جیسا کہ جواہراخلاطی میں ہے۔ (ت)
اسی طرح “ مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں “ یہ بھی لفظ طلاق نہیں کہ غرض بمعنی شوق مستعمل ہے کما فی القاموس(جیسا کہ قاموس میں ہے۔ ت)یا قصد وخواہش کما فی المنتخب(جیسا کہ منتخب میں ہے۔ ت)یا حاجت کما فی شروح النصاب (جیساکہ شروح النصاب میں ہے۔ ت)اور ان اشیاء کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق اطلاق کرے۔ عالمگیری میں ہے :
لو قال لاحاجۃ لی فیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج اذا قال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی کذافی البحر الرائق ۔
اگر کہا “ مجھے تیرے بارے کوئی حاجت نہیں “ اور طلاق کی نیت کی ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی سراج وہاج میں ایسے ہی ہے۔ اور کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ “ میں تجھے پسند نہیں کرتا “ “ تیرے بارے مجھے رغبت نہیں “ اگر نیت ہوتب بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك طلاق نہ ہوگی بحرالرائق میں یوں ہی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۶
فتاوٰی ہندیہ الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
اسی میں ہے :
رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع کذافی الظہیریۃ۔
کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا “ تومیرے لئے کام کی نہیں “ تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ (ت)
ہاں “ وہ میری بیوی ہی نہ رہی “ کنایات طلاق سے ہے۔ عالمگیری میں ہے :
لوقال صرت غیرامرأتی فی رضاأو سخط تطلق اذانوی کذافی الخلاصۃ ۔
اگر خاوند نے رضایا ناراضگی میں کہا “ تومیری بیوی نہ رہی “ اگر طلاق کی نیت ہوتو طلاق ہوجائے گی جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
اسی طرح یہ لفظ بھی کہ “ وہ میرے نکاح سے باہر ہے “ صریح نہیں کنایہ ہے
لان الخروج من النکاح یکون بالطلاق وبکل فرقۃ جاءت من قبلہ کتقبیلہ بنتھا اومن قبلھا کتقبیلھا ابنہ وغیر ذلک فلم یتعین لافادۃ الطلاق وصار کقولہ لم یبق اولیس بینی وبینك نکاح بل ھما عبارتان عن معنی واحد وھذایتوقف علی النیۃ فکذاذاک۔
کیونکہ نکاح سے خروج طلاق کے ساتھ اور دیگر وجوہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ مثلا خاوند بیوی کی بیٹی کا(شہوت کے ساتھ)بوسہ لے یا بیوی خاوند کے بیٹے کا اسی طرح بوسہ لے یا اس کے علاوہ بھی کئی طرح سے فرقت کے اسباب ہوسکتے ہیں لہذا یہ لفظ طلاق کےلئے خاص نہ رہا جب وہ کہے “ نکاح باقی نہ رہا “ یا “ تیرے میرے درمیان نکاح نہیں ہے “ بلکہ یہ دونوں ہم معنی ہیں تو نیت پر موقوف ہوں گے یہ بھی ایسا ہے(ت)
عالمگیری میں ہے :
لوقال لھا لانکاح بینی وبینك اوقال لم یبق بینی وبینك نکاح یقع الطلاق اذانوی ۔
اگر کہا “ تیرے میرے درمیان نکاح باقی نہیں رہا “ اگر نیت ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں ۔ (ت)
یوں ہی “ وہ میرے کام کی نہ رہی “ بھی کنایات سے ہے
کما حققناہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار
رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع کذافی الظہیریۃ۔
کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا “ تومیرے لئے کام کی نہیں “ تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ (ت)
ہاں “ وہ میری بیوی ہی نہ رہی “ کنایات طلاق سے ہے۔ عالمگیری میں ہے :
لوقال صرت غیرامرأتی فی رضاأو سخط تطلق اذانوی کذافی الخلاصۃ ۔
اگر خاوند نے رضایا ناراضگی میں کہا “ تومیری بیوی نہ رہی “ اگر طلاق کی نیت ہوتو طلاق ہوجائے گی جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
اسی طرح یہ لفظ بھی کہ “ وہ میرے نکاح سے باہر ہے “ صریح نہیں کنایہ ہے
لان الخروج من النکاح یکون بالطلاق وبکل فرقۃ جاءت من قبلہ کتقبیلہ بنتھا اومن قبلھا کتقبیلھا ابنہ وغیر ذلک فلم یتعین لافادۃ الطلاق وصار کقولہ لم یبق اولیس بینی وبینك نکاح بل ھما عبارتان عن معنی واحد وھذایتوقف علی النیۃ فکذاذاک۔
کیونکہ نکاح سے خروج طلاق کے ساتھ اور دیگر وجوہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ مثلا خاوند بیوی کی بیٹی کا(شہوت کے ساتھ)بوسہ لے یا بیوی خاوند کے بیٹے کا اسی طرح بوسہ لے یا اس کے علاوہ بھی کئی طرح سے فرقت کے اسباب ہوسکتے ہیں لہذا یہ لفظ طلاق کےلئے خاص نہ رہا جب وہ کہے “ نکاح باقی نہ رہا “ یا “ تیرے میرے درمیان نکاح نہیں ہے “ بلکہ یہ دونوں ہم معنی ہیں تو نیت پر موقوف ہوں گے یہ بھی ایسا ہے(ت)
عالمگیری میں ہے :
لوقال لھا لانکاح بینی وبینك اوقال لم یبق بینی وبینك نکاح یقع الطلاق اذانوی ۔
اگر کہا “ تیرے میرے درمیان نکاح باقی نہیں رہا “ اگر نیت ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں ۔ (ت)
یوں ہی “ وہ میرے کام کی نہ رہی “ بھی کنایات سے ہے
کما حققناہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار
حوالہ / References
فتاوی ہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۰
فتاوی ہندیۃ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوی ہندیۃ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوی ہندیۃ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوی ہندیۃ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کردی ہے۔ ت)مگر سوق کلام سے ظاہر یہ ہے کہ زید نے یہ الفاظ بطور اخبار کہے نہ نیت انشائے طلاق۔ تیسرا لفظ دوسرے پرمعطوف ہے اور دوسرا پہلے کی شرح وبیان علت اور اس اخبار کا مبنی وہ غلط گمان جو عوام زمانہ میں شائع ہے کہ عورت بے اجازت شوہر گھر سے چلی جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اور جو اخبار واقرار طلاق بربنائے غلط فہمی مسئلہ ہو دیانۃ اصلا مؤثر نہیں
فی الخیریۃ عن الاشباہ عن جامع الفصولین والقنیۃ اذااقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع ۔
خیریہ میں اشباہ سے اور وہاں سے جامع الفصولین اور قنیہ سے منقول ہے کہ اگر مفتی کے فتوی کی بنا پر طلاق ہونے کا اقرار کیا تو پھر معلوم ہوا کہ طلاق نہ ہوئی تو اس اقرار کو طلاق نہ قرار دیا جائے گا۔ (ت)
خیربہر حال مدار کارنیت پر ہے اگر زید نے ان تینوں لفظوں میں کل یا بعض کسی سے طلاق دینے کا قصد کیا تھاتو ایك طلاق بائن واقع ہوئی کہ عورت راضی ہوتو اب یا عدت کے بعد جب چاہے بے حلالہ اس سے نکاح کرسکتی ہے۔ عالمگیری میں ہے :
لایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھا انت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ ۔
اگر کہا تجھے ایك بائنہ طلاق اس کے بعد دوبارہ کہا تجھے بائنہ طلاق تو ایك ہی بائنہ طلاق ہوگی کیونکہ پہلے بائنہ کے بعد دوسری بائنہ اس کو لاحق نہیں ہوسکتی۔ (ت)
اور اگر ان تین میں کسی لفظ سے طلاق دینے کی نیت نہ کی اگرچہ اخیر کے دونوں لفظ بہ نیت طلاق کہے ہوں تو اصلا طلاق نہ ہوئی وہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور نیت طلاق نہ ہونے میں شوہر کاقول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر وہ بقسم کہہ دے کہ میں نے ان تینوں لفظوں میں کسی سے نیت انشائے طلاق نہ کی تھی قطعا مان لیں گے اور انہیں زوج وزوجہ جانیں گے اگر وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وبال اس پر ہے عورت پر الزام نہیں ۔ درمختار میں ہے : القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ (نیت نہ ہونے میں خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
فی الخیریۃ عن الاشباہ عن جامع الفصولین والقنیۃ اذااقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع ۔
خیریہ میں اشباہ سے اور وہاں سے جامع الفصولین اور قنیہ سے منقول ہے کہ اگر مفتی کے فتوی کی بنا پر طلاق ہونے کا اقرار کیا تو پھر معلوم ہوا کہ طلاق نہ ہوئی تو اس اقرار کو طلاق نہ قرار دیا جائے گا۔ (ت)
خیربہر حال مدار کارنیت پر ہے اگر زید نے ان تینوں لفظوں میں کل یا بعض کسی سے طلاق دینے کا قصد کیا تھاتو ایك طلاق بائن واقع ہوئی کہ عورت راضی ہوتو اب یا عدت کے بعد جب چاہے بے حلالہ اس سے نکاح کرسکتی ہے۔ عالمگیری میں ہے :
لایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھا انت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ ۔
اگر کہا تجھے ایك بائنہ طلاق اس کے بعد دوبارہ کہا تجھے بائنہ طلاق تو ایك ہی بائنہ طلاق ہوگی کیونکہ پہلے بائنہ کے بعد دوسری بائنہ اس کو لاحق نہیں ہوسکتی۔ (ت)
اور اگر ان تین میں کسی لفظ سے طلاق دینے کی نیت نہ کی اگرچہ اخیر کے دونوں لفظ بہ نیت طلاق کہے ہوں تو اصلا طلاق نہ ہوئی وہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور نیت طلاق نہ ہونے میں شوہر کاقول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر وہ بقسم کہہ دے کہ میں نے ان تینوں لفظوں میں کسی سے نیت انشائے طلاق نہ کی تھی قطعا مان لیں گے اور انہیں زوج وزوجہ جانیں گے اگر وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وبال اس پر ہے عورت پر الزام نہیں ۔ درمختار میں ہے : القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ (نیت نہ ہونے میں خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۷
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۷
درمختار با ب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۷
درمختار با ب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
مسئلہ۲۸۳ : از متھرا محلہ کیشور پورہ مرسلہ حکیم تو حیدالحق صاحب ۲۲ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید عاقل وبالغ بفہمائش دیگر مرداں وزبردستی والدین بایجاب ہندہ رضادادہ او ر ابنکاح خوددر آرد وخلوت صحیحہ بوقوع نیاید کہ ہندہ پیش مادر خود باشد وہنوز رخصت نشدہ باشد وباز ید پیش دوسہ مردماں صادق وعادل بناراضی بگوید کہ من بایجاب ہندہ برضا ورغبت خود اقرارندادہ ام محض بفہمائش وزبردستی مردماں اقرار بلسان نمودم ایں نکاح من مسلم نشدہ باز از سر نوخواہد شد واندراں حالت ناراضی از خویش واقارب رنجیدہ بجائے سفر نماید واز ہندہ خبرے نگیرد نہ از قرائن واطوار او توقع باز آمدن ماند ودر انجا قاضی وشاہدان عندالایجاب اقرار بالجزم دہد کہ من ناکتخداام ہنوز نکاحم ازکسے نگردیدہ ونہ از خویش واقارب ماکسے زندہ نہ مارا ازکسے دروطن سروکارے است ونہ خواہد شد حالاہندہ درنکاح زید ماندہ یا نہ ودریں صورت چگونہ از زید آزاد گردد فقط۔ علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں کہ زید عاقل بالغ نے دوسرے لوگوں کی تلقین اور والدین کے جبر پر ہندہ سے ایجاب وقبول کیا اور اس سے نکاح کرلیا اور ابھی رخصتی نہ ہوئی اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی کیونکہ ہندہ ابھی والدہ کے پاس ہے اس کے بعد زید نے دوتین سچے اور عادل حضرات کے سامنے نکاح پر عدم رضامندی ظاہر کی اور کہا کہ میں نے ہندہ سے اپنی رضا مندی اور رغبت کے ساتھ ایجاب نہیں کیا بلکہ محض دوسروں کی زبردستی کی بنا پر اور ان کی تلقین کی وجہ سے صرف زبانی رضامندی ظاہر کی تھی اس لئے یہ نکاح مجھے منظور نہیں یہ نکاح دوبارہ ہونا چاہئے اندریں حالات خویش واقارب کی ناراضگی ہوئی جس پر وہ کہیں سفر پر نکل گیا اور ہندہ کی خبر تك نہ لی اور اس کے قرائن واطوار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ واپس نہیں آئے گا وہاں اس نے تمام گواہوں اور قاضی وغیرہ کو بالجزم یہ تاثر دیا کہ وہ ابھی کنوارہ غیرشادی شدہ ہے اور کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوا اوریہ بھی تاثر دیا کہ میرے خویش واقارب میں کوئی بھی زندہ نہیں رہا اور میرا اب وطن سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا۔ تو مذکورہ حالات میں ہندہ ابھی زید کے نکاح میں ہے یانہیں اور اس صورت میں زید سے ہندہ کا چھٹکارا کیسے ہوفقط۔
الجواب :
درصورت مستفسرہ بقطع نظر از انکہ تحقق اکراہ شرعی معلوم نیست جبر واکراہ دربارہ نکاح مخل صحت ونفاذ ولزوم نباشدفی الھندیۃ
صورت مسئولہ میں قطع نظر اس بات کے کہ یہ جبر واکراہ شرعی تھا یا نہیں نکاح میں جبر واکراہ اس کے نفاذ اور لزوم کے لئے مانع نہیں ہوتا۔ ہندیہ میں ہے
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید عاقل وبالغ بفہمائش دیگر مرداں وزبردستی والدین بایجاب ہندہ رضادادہ او ر ابنکاح خوددر آرد وخلوت صحیحہ بوقوع نیاید کہ ہندہ پیش مادر خود باشد وہنوز رخصت نشدہ باشد وباز ید پیش دوسہ مردماں صادق وعادل بناراضی بگوید کہ من بایجاب ہندہ برضا ورغبت خود اقرارندادہ ام محض بفہمائش وزبردستی مردماں اقرار بلسان نمودم ایں نکاح من مسلم نشدہ باز از سر نوخواہد شد واندراں حالت ناراضی از خویش واقارب رنجیدہ بجائے سفر نماید واز ہندہ خبرے نگیرد نہ از قرائن واطوار او توقع باز آمدن ماند ودر انجا قاضی وشاہدان عندالایجاب اقرار بالجزم دہد کہ من ناکتخداام ہنوز نکاحم ازکسے نگردیدہ ونہ از خویش واقارب ماکسے زندہ نہ مارا ازکسے دروطن سروکارے است ونہ خواہد شد حالاہندہ درنکاح زید ماندہ یا نہ ودریں صورت چگونہ از زید آزاد گردد فقط۔ علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں کہ زید عاقل بالغ نے دوسرے لوگوں کی تلقین اور والدین کے جبر پر ہندہ سے ایجاب وقبول کیا اور اس سے نکاح کرلیا اور ابھی رخصتی نہ ہوئی اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی کیونکہ ہندہ ابھی والدہ کے پاس ہے اس کے بعد زید نے دوتین سچے اور عادل حضرات کے سامنے نکاح پر عدم رضامندی ظاہر کی اور کہا کہ میں نے ہندہ سے اپنی رضا مندی اور رغبت کے ساتھ ایجاب نہیں کیا بلکہ محض دوسروں کی زبردستی کی بنا پر اور ان کی تلقین کی وجہ سے صرف زبانی رضامندی ظاہر کی تھی اس لئے یہ نکاح مجھے منظور نہیں یہ نکاح دوبارہ ہونا چاہئے اندریں حالات خویش واقارب کی ناراضگی ہوئی جس پر وہ کہیں سفر پر نکل گیا اور ہندہ کی خبر تك نہ لی اور اس کے قرائن واطوار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ واپس نہیں آئے گا وہاں اس نے تمام گواہوں اور قاضی وغیرہ کو بالجزم یہ تاثر دیا کہ وہ ابھی کنوارہ غیرشادی شدہ ہے اور کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوا اوریہ بھی تاثر دیا کہ میرے خویش واقارب میں کوئی بھی زندہ نہیں رہا اور میرا اب وطن سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا۔ تو مذکورہ حالات میں ہندہ ابھی زید کے نکاح میں ہے یانہیں اور اس صورت میں زید سے ہندہ کا چھٹکارا کیسے ہوفقط۔
الجواب :
درصورت مستفسرہ بقطع نظر از انکہ تحقق اکراہ شرعی معلوم نیست جبر واکراہ دربارہ نکاح مخل صحت ونفاذ ولزوم نباشدفی الھندیۃ
صورت مسئولہ میں قطع نظر اس بات کے کہ یہ جبر واکراہ شرعی تھا یا نہیں نکاح میں جبر واکراہ اس کے نفاذ اور لزوم کے لئے مانع نہیں ہوتا۔ ہندیہ میں ہے
تصرفات المکرہ کلھا قولامنعقدۃ عندنا وما لا یحتمل الفسخ منہ کالطلاق والعتاق والنکاح فہو لازم کذافی الکافی اھ ملخصا
قول اومن ناکتخداام وہنوز باکسے نکاح نہ کردہ چیزے نیست زیراکہ جحود نکاح خبر دروغ ست واثرے ندارد
فی الھندیۃ ان قال لم اتزوجك ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع ولوقال مالی امرأۃ لایقع وان نوی
ہمچناں قول اومرادر وطن باکسے سروکارے نیست ونخواہد بود کہ سروکار نبودن بمعنی نفی غرض وتعلق قلب ست کہ عبارت از رغبت وحاجت باشد گویا گفت باکسے غرضے ندارم یا حاجتم نیست یا پروائے کسے ندارم واینہا خود از الفاظ طلاق نیست
فی الھندیۃ لوقال لاحاجۃ لی فیک ینوی الطلاق فلیس بطلاق اذاقال لااریدك ولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی باز علماء
کہ مجبور کئے ہوئے شخص کے قولی تصرفات ہمارے نزدیك منعقد ہوجاتے ہیں اور وہ امور جوفسخ کا احتمال نہیں رکھتے ہیں مثلا طلاق عتاق اور نکاح یہ لازم ہو جاتے ہیں جیسا کہ کافی میں ہے ملخصا۔ لہذا اس کا یہ کہنا کہ میں ابھی کنواراہوں اور ابھی تك کسی سے نکاح نہیں کیا کوئی چیز نہیں کیونکہ نکاح کا انکار جھوٹی خبر ہے جس کا کچھ اعتبار نہیں ۔ ہندیہ میں ہے کہ اگرکہے “ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا “ تو طلاق کی نیت ہوتو بھی طلاق بالاجماع نہ ہوگی جیسا کہ بدائع میں ہے اور یونہیں اگر کہے “ میری کوئی بیوی نہیں “ طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ زید کا یہ کہنا کہ “ وطن میں میرا کسی سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہوگا “ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا قلبی تعلق یا غرض کسی سے نہیں ہے جس کا معنی رغبت اور حاجت ہے گویا اس نے یوں کہا مجھے کسی سے غرض یا حاجت نہیں ہے یامجھے کسی کی پروانہیں ہے جبکہ یہ مذکور الفاظ طلاق میں سے نہیں ہیں ہندیہ میں ہے اگر خاوند نے کہا مجھے تجھ میں حاجت نہیں یا میں تجھے پسند نہیں کرتا میں تیری خواہش نہیں رکھتا مجھے تجھ سے رغبت نہیں تو طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے کہے امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیک۔ نیز علماء کرام نے فرمایا ہے
قول اومن ناکتخداام وہنوز باکسے نکاح نہ کردہ چیزے نیست زیراکہ جحود نکاح خبر دروغ ست واثرے ندارد
فی الھندیۃ ان قال لم اتزوجك ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع ولوقال مالی امرأۃ لایقع وان نوی
ہمچناں قول اومرادر وطن باکسے سروکارے نیست ونخواہد بود کہ سروکار نبودن بمعنی نفی غرض وتعلق قلب ست کہ عبارت از رغبت وحاجت باشد گویا گفت باکسے غرضے ندارم یا حاجتم نیست یا پروائے کسے ندارم واینہا خود از الفاظ طلاق نیست
فی الھندیۃ لوقال لاحاجۃ لی فیک ینوی الطلاق فلیس بطلاق اذاقال لااریدك ولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی باز علماء
کہ مجبور کئے ہوئے شخص کے قولی تصرفات ہمارے نزدیك منعقد ہوجاتے ہیں اور وہ امور جوفسخ کا احتمال نہیں رکھتے ہیں مثلا طلاق عتاق اور نکاح یہ لازم ہو جاتے ہیں جیسا کہ کافی میں ہے ملخصا۔ لہذا اس کا یہ کہنا کہ میں ابھی کنواراہوں اور ابھی تك کسی سے نکاح نہیں کیا کوئی چیز نہیں کیونکہ نکاح کا انکار جھوٹی خبر ہے جس کا کچھ اعتبار نہیں ۔ ہندیہ میں ہے کہ اگرکہے “ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا “ تو طلاق کی نیت ہوتو بھی طلاق بالاجماع نہ ہوگی جیسا کہ بدائع میں ہے اور یونہیں اگر کہے “ میری کوئی بیوی نہیں “ طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ زید کا یہ کہنا کہ “ وطن میں میرا کسی سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہوگا “ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا قلبی تعلق یا غرض کسی سے نہیں ہے جس کا معنی رغبت اور حاجت ہے گویا اس نے یوں کہا مجھے کسی سے غرض یا حاجت نہیں ہے یامجھے کسی کی پروانہیں ہے جبکہ یہ مذکور الفاظ طلاق میں سے نہیں ہیں ہندیہ میں ہے اگر خاوند نے کہا مجھے تجھ میں حاجت نہیں یا میں تجھے پسند نہیں کرتا میں تیری خواہش نہیں رکھتا مجھے تجھ سے رغبت نہیں تو طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے کہے امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیک۔ نیز علماء کرام نے فرمایا ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الاول فی تفسیر شرعاًالخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فرمودہ انداگر گفت زنانے بغداد ہمہ طلاقہ اند وزن او نیزاز بغداد ست مطلقہ نشود مگر آں کہ بالتعبیر نیت اوکردہ باشد
فی ردالمحتار ذکر فی الذخیرۃ اولا الخلاف فی نساء اھل بغداد طالق فعندابی یوسف وروایۃ عن محمد لاتطلق الاان ینویھا لان ھذاامرعام وفیہ ایضا عن الاشباہ عن الخانیۃ الفتوی علی قول ابی یوسف
(ایں جا لفظ وطن گفتہ است کہ از بلدہ وقریہ عام ترست باز تخصیص زناں ہم نہ کرد مطلق لفظ کسے گفت کہ زناں ومرداں وپسراں ودختراں ہمہ راشامل است بالجملہ درصورت مسئولہ نکاح صحیح ولازم ست وطلاق ثابت نیست چارہ کار جزیں چیست کہ رجوع بحکومت کردہ آید تاطلاق رسد یا حقوق زنا شوئی مودی شود۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
کہ کوئی شخص کہے بغداد کی تمام عورتوں کو طلاق ہے اور اس کی بیوی بھی بغداد میں ہوتو اس کی بیوی کو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب تك اس لفظ سے بیوی کی طلاق کی نیت نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے تمام بغداد والوں کی عورتوں کو طلاق تو ذخیرہ میں اولا اسکے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك طلاق نہ ہوگی اور امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك ایك روایت بھی یہی ہے تاوقتیکہ بیوی کی نیت سے نہ کہے کیونکہ یہ عام بات ہے اور اس میں اشباہ اور وہاں خانیہ سے منقول ہے کہ فتوی اما م ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے زید نے وطن کہا ہے جو کئی شہروں اور قریوں پر مشتمل ہے اور پھر اس نے خاص عورتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف “ وطن سے سروکار نہیں “ کہا تو وطن سب مردوں عورتوں بچوں اور بچیوں کو شامل ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں زید کا ہندہ سے نکاح صحیح ثابت ہے اور طلاق ثابت نہیں ہے چھٹکارے کا چارہ کار یہی ہے کہ کسی شرعی حاکم کے ہاں رجوع کرے تاکہ وہ طلاق حاصل کرائے یا حقوق زوجیت بحال کرائے ۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۴ : از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مینہ شاہ مرسلہ نظام الدین شانہ گر ۲۹رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت مدخولہ سے تین بار کہا “ میں نے تجھے آزاد کیا “ اس صورت میں نکاح قائم رہا یا نہیں اور اب اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں بینواتوجروا
فی ردالمحتار ذکر فی الذخیرۃ اولا الخلاف فی نساء اھل بغداد طالق فعندابی یوسف وروایۃ عن محمد لاتطلق الاان ینویھا لان ھذاامرعام وفیہ ایضا عن الاشباہ عن الخانیۃ الفتوی علی قول ابی یوسف
(ایں جا لفظ وطن گفتہ است کہ از بلدہ وقریہ عام ترست باز تخصیص زناں ہم نہ کرد مطلق لفظ کسے گفت کہ زناں ومرداں وپسراں ودختراں ہمہ راشامل است بالجملہ درصورت مسئولہ نکاح صحیح ولازم ست وطلاق ثابت نیست چارہ کار جزیں چیست کہ رجوع بحکومت کردہ آید تاطلاق رسد یا حقوق زنا شوئی مودی شود۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
کہ کوئی شخص کہے بغداد کی تمام عورتوں کو طلاق ہے اور اس کی بیوی بھی بغداد میں ہوتو اس کی بیوی کو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب تك اس لفظ سے بیوی کی طلاق کی نیت نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے تمام بغداد والوں کی عورتوں کو طلاق تو ذخیرہ میں اولا اسکے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك طلاق نہ ہوگی اور امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك ایك روایت بھی یہی ہے تاوقتیکہ بیوی کی نیت سے نہ کہے کیونکہ یہ عام بات ہے اور اس میں اشباہ اور وہاں خانیہ سے منقول ہے کہ فتوی اما م ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے قول پر ہے زید نے وطن کہا ہے جو کئی شہروں اور قریوں پر مشتمل ہے اور پھر اس نے خاص عورتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف “ وطن سے سروکار نہیں “ کہا تو وطن سب مردوں عورتوں بچوں اور بچیوں کو شامل ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں زید کا ہندہ سے نکاح صحیح ثابت ہے اور طلاق ثابت نہیں ہے چھٹکارے کا چارہ کار یہی ہے کہ کسی شرعی حاکم کے ہاں رجوع کرے تاکہ وہ طلاق حاصل کرائے یا حقوق زوجیت بحال کرائے ۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۴ : از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مینہ شاہ مرسلہ نظام الدین شانہ گر ۲۹رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت مدخولہ سے تین بار کہا “ میں نے تجھے آزاد کیا “ اس صورت میں نکاح قائم رہا یا نہیں اور اب اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں بینواتوجروا
حوالہ / References
ردالمحتار باب الطلاق غیر المدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۱
ردالمحتار باب الطلاق غیر المدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۱
ردالمحتار باب الطلاق غیر المدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۱
الجواب
یہ لفظ کہ “ مردنے عورت سے کہا “ اگر ان سے طلاق کے معنی مراد نہ تھے جب تو طلاق اصلا نہ ہوئی اوراگر بہ نیت طلاق کہے توایك طلاق پڑگئی عورت نکاح سے نکل گئی مگر حلالہ وغیرہ کی کچھ ضرورت نہیں نہ اسے کچھ انتظار کی حاجت دونوں آپس میں راضی ہوں تو اسی وقت پھر نئے سرے سے نکاح کرلیں ہاں اگر شوہر نے خود ہی ان میں کوئی لفظ تین طلاقوں کی نیت سے کہا تو بیشك طلاق مغلظہ ہوگئی کہ اب بے حلالہ کے اس سے نکاح نہیں کرسکتا
فی الھندیۃ لوقال اعتقتک طلقت بالنیۃ کذافی معراج الدرایۃ اھ وفی الدر کنایتہ مالم یوضع لہ ای الطلاق واحتملہ وغیرہ ویقع البائن ان نواھا اوالثنتین وثلث ان نواہ ولایلحق البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن او ابنتك بتطلیقۃ فلایقع لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء بخلاف ابنتك باخری اوقال نویت البینونہ الکبری لتعذرحملہ علی الاخبار فیجعل انشاء اھ ملتقطا۔
ہندیہ میں ہے اگر خاوند نے کہا “ میں نے تجھے آزاد کیا “ تو نیت طلاق سے طلاق ہوجائے گی جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے اھ اور در میں ہے وہ لفظ کنایہ ہوتا ہے جو طلاق کے لئے وضع نہ ہو اور وہ طلاق اور غیر طلاق دونوں قسم کا احتمال رکھتاہو تو ایسے لفظ سے بائنہ طلاق ہوگی اور ایسے لفظ سے بائنہ طلاق ہو گی ایك یا دو کی نیت سے ایک اور تین کی نیت سے تین ہو ں گی اور ایسا لفظ پہلے بائنہ طلاق کو لاحق نہ ہوگا مگر جب وہ پہلی طلاق کی حکایت کا احتمال رکھتا ہو تو اس کو خبر وحکایت ہی قرار دیا جائے گا مثلا یوں کہے “ تو بائن بائن ہے “ یا کہے “ میں نے ایك طلاق بائنہ دی ہے “ تو دوسری بائنہ واقع نہ ہوگی کیونکہ اس کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں اس کے برخلاف جب یوں کہے “ میں نے تجھے دوسری بائنہ طلاق دی “ یاکہے “ میں نے بڑی بائنہ کی نیت کی ہے “ تو اس صورت میں اس کو خبر قرار دینا درست نہیں ہوسکتا لہذا اس کو انشاء ہی ماننا پڑے گا اھ ملتقطا(ت)
مسئلہ ۲۸۵ : از بدایوں مرسلہ اعلیحضرت سید ابوالحسن احمد نوری رضی اﷲتعالی عنہ ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
ایك عورت سے ایك مرد اجنبی نے جبریہ زنا کیا شوہر نے سنا تو اعتبار جبر نہ کرکے یہ کلمات کہے کہ
یہ لفظ کہ “ مردنے عورت سے کہا “ اگر ان سے طلاق کے معنی مراد نہ تھے جب تو طلاق اصلا نہ ہوئی اوراگر بہ نیت طلاق کہے توایك طلاق پڑگئی عورت نکاح سے نکل گئی مگر حلالہ وغیرہ کی کچھ ضرورت نہیں نہ اسے کچھ انتظار کی حاجت دونوں آپس میں راضی ہوں تو اسی وقت پھر نئے سرے سے نکاح کرلیں ہاں اگر شوہر نے خود ہی ان میں کوئی لفظ تین طلاقوں کی نیت سے کہا تو بیشك طلاق مغلظہ ہوگئی کہ اب بے حلالہ کے اس سے نکاح نہیں کرسکتا
فی الھندیۃ لوقال اعتقتک طلقت بالنیۃ کذافی معراج الدرایۃ اھ وفی الدر کنایتہ مالم یوضع لہ ای الطلاق واحتملہ وغیرہ ویقع البائن ان نواھا اوالثنتین وثلث ان نواہ ولایلحق البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن او ابنتك بتطلیقۃ فلایقع لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء بخلاف ابنتك باخری اوقال نویت البینونہ الکبری لتعذرحملہ علی الاخبار فیجعل انشاء اھ ملتقطا۔
ہندیہ میں ہے اگر خاوند نے کہا “ میں نے تجھے آزاد کیا “ تو نیت طلاق سے طلاق ہوجائے گی جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے اھ اور در میں ہے وہ لفظ کنایہ ہوتا ہے جو طلاق کے لئے وضع نہ ہو اور وہ طلاق اور غیر طلاق دونوں قسم کا احتمال رکھتاہو تو ایسے لفظ سے بائنہ طلاق ہوگی اور ایسے لفظ سے بائنہ طلاق ہو گی ایك یا دو کی نیت سے ایک اور تین کی نیت سے تین ہو ں گی اور ایسا لفظ پہلے بائنہ طلاق کو لاحق نہ ہوگا مگر جب وہ پہلی طلاق کی حکایت کا احتمال رکھتا ہو تو اس کو خبر وحکایت ہی قرار دیا جائے گا مثلا یوں کہے “ تو بائن بائن ہے “ یا کہے “ میں نے ایك طلاق بائنہ دی ہے “ تو دوسری بائنہ واقع نہ ہوگی کیونکہ اس کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں اس کے برخلاف جب یوں کہے “ میں نے تجھے دوسری بائنہ طلاق دی “ یاکہے “ میں نے بڑی بائنہ کی نیت کی ہے “ تو اس صورت میں اس کو خبر قرار دینا درست نہیں ہوسکتا لہذا اس کو انشاء ہی ماننا پڑے گا اھ ملتقطا(ت)
مسئلہ ۲۸۵ : از بدایوں مرسلہ اعلیحضرت سید ابوالحسن احمد نوری رضی اﷲتعالی عنہ ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
ایك عورت سے ایك مرد اجنبی نے جبریہ زنا کیا شوہر نے سنا تو اعتبار جبر نہ کرکے یہ کلمات کہے کہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
“ میرے کام کی نہ رہی میں نے چھوڑدی اگر آئے گی تو ناك کاٹ لوں گا جہاں چاہے چلی جائے جو چاہے سوکرے “ ۔ اور اس کو عرصہ سال بھر سے زیادہ گزرگیا آیا طلاق پڑی یا نہیں وہ عورت دوسرا نکاح کرے یانہ کرےخاوند نے باوجود فہمائش بھی رجوع نہ کیا بدستور مقر اسی بات کا ہے جو کہی تھی الفاظ طلاق صریح نہ تھے یہی تھے جو کہے فقط۔
الجواب :
عورت کو چھوڑدینا عرفا طلاق میں صریح ہے خلاصہ وہندیہ میں ہے :
لوقال الرجل لامرأتہ
تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترا
فھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ ۔
اگر کوئی شخص بیوی کو کہے “ میں نے تیرا چنگل باز رکھا تجھے چھوڑا ہے تجھے جدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں تویہ تمام الفاظ عرفا “ تجھے طلاق دی “ کے ہم معنی ہیں اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔ (ت)
“ اور جہاں چاہے چلی جائے “ کنایات طلاق سے ہے کہ کلام میں تقدم طلاق صریح کے باعث وہ بھی تنقیح نیت کا محتاج نہ رہا
فی التنویر کنایتہ مالم یوضع لہ واحتملہ وغیرہ فلاتطلق بھا الابنیۃ اودلالۃ الحال فی ردالمحتار المراد بھا الحالۃ الظاہرۃ المفیدۃ المقصودۃ ومنھا تقدم ذکر الطلاق بحرعن المحیط ۔
تنویر الابصار میں ہے کہ جو لفظ طلاق کےلئے وضع نہ ہو اور طلاق وغیر طلاق کا احتمال رکھتا ہوتو ایسے لفظ سے بغیردلالت ونیت طلاق نہ ہوگی اس پر ردالمحتار میں ہے : دلالت سے مرادیہ ہے کہ کوئی ظاہر ایسی حالت ہو جو مقصود کےلئے مفید ہوسکے اسی قبیل سے ہے کہ ان الفاظ سے قبل طلاق کا ذکر ہوچکا ہو بحر میں محیط سے منقول ہے۔ (ت)
اور جبکہ یہ بائنہ اس طلاق صریح رجعی سے ملی وہ بھی بائنہ ہوگئی
فان البائن یلحق الرجعی وبلحوقہ یبطل
بائنہ طلاق جب رجعی کو لاحق ہوجائے تو اب خاوند کو
الجواب :
عورت کو چھوڑدینا عرفا طلاق میں صریح ہے خلاصہ وہندیہ میں ہے :
لوقال الرجل لامرأتہ
تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترا
فھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ ۔
اگر کوئی شخص بیوی کو کہے “ میں نے تیرا چنگل باز رکھا تجھے چھوڑا ہے تجھے جدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں تویہ تمام الفاظ عرفا “ تجھے طلاق دی “ کے ہم معنی ہیں اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔ (ت)
“ اور جہاں چاہے چلی جائے “ کنایات طلاق سے ہے کہ کلام میں تقدم طلاق صریح کے باعث وہ بھی تنقیح نیت کا محتاج نہ رہا
فی التنویر کنایتہ مالم یوضع لہ واحتملہ وغیرہ فلاتطلق بھا الابنیۃ اودلالۃ الحال فی ردالمحتار المراد بھا الحالۃ الظاہرۃ المفیدۃ المقصودۃ ومنھا تقدم ذکر الطلاق بحرعن المحیط ۔
تنویر الابصار میں ہے کہ جو لفظ طلاق کےلئے وضع نہ ہو اور طلاق وغیر طلاق کا احتمال رکھتا ہوتو ایسے لفظ سے بغیردلالت ونیت طلاق نہ ہوگی اس پر ردالمحتار میں ہے : دلالت سے مرادیہ ہے کہ کوئی ظاہر ایسی حالت ہو جو مقصود کےلئے مفید ہوسکے اسی قبیل سے ہے کہ ان الفاظ سے قبل طلاق کا ذکر ہوچکا ہو بحر میں محیط سے منقول ہے۔ (ت)
اور جبکہ یہ بائنہ اس طلاق صریح رجعی سے ملی وہ بھی بائنہ ہوگئی
فان البائن یلحق الرجعی وبلحوقہ یبطل
بائنہ طلاق جب رجعی کو لاحق ہوجائے تو اب خاوند کو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۹
درمختار شرح تنویر الابصار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
خیار الرجعۃ فیصیران بائنین کما صرحوابہ۔
رجوع کا اختیار ختم ہوجاتا ہے کیونکہ دونوں بائنہ بن جاتی ہیں جیساکہ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے(ت)
پس صورت مذکورہ میں عورت نکاح سے نکل گئی اس پر دو۲ طلاقیں بائن پڑگئیں اگر اس مدت میں عدت گزرگئی ہوتو اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۶ : ۲۶ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
اپنی عورت کو دومرتبہ اس نے چھٹی دی اس کے بعد جو آدمی اس کے محلے کے ہیں وہ کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی اور اس کا آدمی کہتا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی اور عورت کہتی ہے کہ مجھ کو طلاق نہیں دی صرف آدمیوں کے سامنے اس آدمی نے یہ کہا کہ چھٹی دی اور دوسرے یہ کہ جب عورت اپنے مکان کو چلی گئی تو اس کے مکان کو آگ لگ گئی تو لوگوں نے کہا کہ آگ اس شخص نے دی جس کی تو عورت ہے اب اس کانام لے کر آدمی کو اور عورت کو دونوں کو چوکی پر لئے جاتے تھے اور یہ کہتے تھے یہ کہو کہ اس شخص کی ماں بہن ہیں اور اس شخص نے بوجہ خوف کے یہ بات کہہ دی کہ یہ عورت میری بہن ہے تو ان دونوں کو ان آ دمیوں نے چھوڑا اب وہ عورت مرد دونوں باہم راضی ہیں تو اس کا نکاح ہوسکتا ہے یانہیں اور جو شخص آپ کے پاس سے فتوی لے جاوے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو اس کاکیا نتیجہ ہے بینواتوجرواعنداﷲ۔
الجواب :
عورت کی نسبت یہ لفظ کہا کہ “ یہ میری بہن ہے “ نکاح میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔ سائل نے اظہار کیا کہ اس شخص نے حالت غضب میں اپنی زوجہ کی نسبت دوبار یہ لفظ کہے کہ “ میں نے اسے چھٹی دی “ اس کہنے سے عورت پرایك طلاق بائن پڑگئی وہ نکاح سے نکل گئی جب مرد وعورت دونوں راضی ہیں نئے سرے سے پھر نکاح کرلیں
فی تنویرالابصار اخرجی واذھبی یحتمل ردا وحرام بائن یصلح سباوسرحتك لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضا تتوقف الاقسام علی نیۃ وفی الغضب الاولان وفی مذاکرۃ الطلاق الاول فقط اھ مختصرا ۔
تنویر الابصار میں ہے' خاوند کا بیوی کو کہنا “ تو نکل جا تو چلی جا “ یہ جواب کا احتمال بھی رکھتے ہیں اور اس کا یوں کہنا “ حرام ہے بائن ہے “ یہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں ۔ اور یہ کہنا “ میں نے تجھے آزاد کردیا “ یہ ڈانٹ اورجواب دونوں کا احتمال نہیں رکھتے تو رضا کی حالت میں یہ تمام الفاظ نیت پر موقوف ہوں گے اور غصہ کی حالت میں پہلے دونوں موقوف اور مذاکرہ طلاق میں صرف پہلا لفظ نیت پر موقوف ہوگااھ مختصرا(ت)
رجوع کا اختیار ختم ہوجاتا ہے کیونکہ دونوں بائنہ بن جاتی ہیں جیساکہ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے(ت)
پس صورت مذکورہ میں عورت نکاح سے نکل گئی اس پر دو۲ طلاقیں بائن پڑگئیں اگر اس مدت میں عدت گزرگئی ہوتو اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۶ : ۲۶ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
اپنی عورت کو دومرتبہ اس نے چھٹی دی اس کے بعد جو آدمی اس کے محلے کے ہیں وہ کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی اور اس کا آدمی کہتا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی اور عورت کہتی ہے کہ مجھ کو طلاق نہیں دی صرف آدمیوں کے سامنے اس آدمی نے یہ کہا کہ چھٹی دی اور دوسرے یہ کہ جب عورت اپنے مکان کو چلی گئی تو اس کے مکان کو آگ لگ گئی تو لوگوں نے کہا کہ آگ اس شخص نے دی جس کی تو عورت ہے اب اس کانام لے کر آدمی کو اور عورت کو دونوں کو چوکی پر لئے جاتے تھے اور یہ کہتے تھے یہ کہو کہ اس شخص کی ماں بہن ہیں اور اس شخص نے بوجہ خوف کے یہ بات کہہ دی کہ یہ عورت میری بہن ہے تو ان دونوں کو ان آ دمیوں نے چھوڑا اب وہ عورت مرد دونوں باہم راضی ہیں تو اس کا نکاح ہوسکتا ہے یانہیں اور جو شخص آپ کے پاس سے فتوی لے جاوے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو اس کاکیا نتیجہ ہے بینواتوجرواعنداﷲ۔
الجواب :
عورت کی نسبت یہ لفظ کہا کہ “ یہ میری بہن ہے “ نکاح میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔ سائل نے اظہار کیا کہ اس شخص نے حالت غضب میں اپنی زوجہ کی نسبت دوبار یہ لفظ کہے کہ “ میں نے اسے چھٹی دی “ اس کہنے سے عورت پرایك طلاق بائن پڑگئی وہ نکاح سے نکل گئی جب مرد وعورت دونوں راضی ہیں نئے سرے سے پھر نکاح کرلیں
فی تنویرالابصار اخرجی واذھبی یحتمل ردا وحرام بائن یصلح سباوسرحتك لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضا تتوقف الاقسام علی نیۃ وفی الغضب الاولان وفی مذاکرۃ الطلاق الاول فقط اھ مختصرا ۔
تنویر الابصار میں ہے' خاوند کا بیوی کو کہنا “ تو نکل جا تو چلی جا “ یہ جواب کا احتمال بھی رکھتے ہیں اور اس کا یوں کہنا “ حرام ہے بائن ہے “ یہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں ۔ اور یہ کہنا “ میں نے تجھے آزاد کردیا “ یہ ڈانٹ اورجواب دونوں کا احتمال نہیں رکھتے تو رضا کی حالت میں یہ تمام الفاظ نیت پر موقوف ہوں گے اور غصہ کی حالت میں پہلے دونوں موقوف اور مذاکرہ طلاق میں صرف پہلا لفظ نیت پر موقوف ہوگااھ مختصرا(ت)
حوالہ / References
در مختار شرح تنویرالابصار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
جو شخص شریعت مطہرہ کے فتوی پر عمل نہ کرے گنہگار مستحق سزا وعذاب ہے والعیاذ باﷲتعالی واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۸۷ : ازنجیب آباد ضلع بجنور مرسلہ شیخ عبدالرزاق ۱۵شعبان ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بحالت غصہ اپنی زوجہ سے بہ نیت طلاق ایك وقت میں تین بار کہاکہ “ میں نے تجھے آزاد کیا “ اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی مغلظ یا بائنہ یا رجعیفقط۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں عورت پر ایك طلاق بائن واقع ہوئی یعنی عورت نکاح سے نکل گئی زوج کو اس پر کوئی اختیار جبر نہ رہا وہ عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے مگر حلالہ کی اصلا حاجت نہیں جب کہ اس بارسے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں اس عورت کو نہ دے چکاہو زن ومرد اگر راضی ہوں تو شوہر عدت میں اور بعد عدت اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے یہاں تین طلاق کا حکم دینا یوں غلط ہے کہ تمام متون وشروح وفتاوی میں تصریح ہے کہ کنایہ بائنہ طلاق بائن کے بعد طلاق جدید نہیں ٹھہرتا بلکہ اسی طلاق اول سے اخبار ہوتا ہے الاان ینص بما لایحتملہ(مگر ایسے الفاظ سے واضح کہے جو دوسرے معنی کا احتمال نہ رکھتا ہو۔ ت)درمختار میں ہے :
لایلحق البائن البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن اوابنتك بتطلیقۃ فلایقع لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء بخلاف ابنتك باخری ۔
بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی جب دوسری بائنہ پہلی سے حکایت وخبر ہو مثلا “ تو بائن بائن ہے “ یا “ میں نے تجھے طلاق سے بائنہ کیا “ تو دوسری بائنہ واقع نہ ہوگی کیونکہ پہلی سے حکایت وخبر ہے لہذا اس کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف جب یوں کہے “ میں نے تجھے دوسری بائنہ طلاق دی۔ (ت)
اور ایك ہی پڑنے کی یہ وجہ ٹھہرانا کہ الفاظ طلاق متفرقا کہے جب اول پڑی اب عورت محل طلاق نہ رہی لہذا دوسری نہ پڑی یہ یوں جہل محض ہے یہ حکم خاص زن غیر مدخولہ کے ساتھ ہے زن مدخولہ جب تك عدت نہ گزرے تین طلاق مجموع ومفرق سب کی محل ہے کما نصواعلیہ قاطبۃ فی جمیع کتب المذہب(جیسا کہ اس پر مذہب کی تمام کتب میں نص ہے۔ ت)اور یہاں مدخولہ ہے کما افصح عنہ السائل فی سوال آخر(جیسا کہ سائل
مسئلہ۲۸۷ : ازنجیب آباد ضلع بجنور مرسلہ شیخ عبدالرزاق ۱۵شعبان ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بحالت غصہ اپنی زوجہ سے بہ نیت طلاق ایك وقت میں تین بار کہاکہ “ میں نے تجھے آزاد کیا “ اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی مغلظ یا بائنہ یا رجعیفقط۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں عورت پر ایك طلاق بائن واقع ہوئی یعنی عورت نکاح سے نکل گئی زوج کو اس پر کوئی اختیار جبر نہ رہا وہ عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے مگر حلالہ کی اصلا حاجت نہیں جب کہ اس بارسے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں اس عورت کو نہ دے چکاہو زن ومرد اگر راضی ہوں تو شوہر عدت میں اور بعد عدت اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے یہاں تین طلاق کا حکم دینا یوں غلط ہے کہ تمام متون وشروح وفتاوی میں تصریح ہے کہ کنایہ بائنہ طلاق بائن کے بعد طلاق جدید نہیں ٹھہرتا بلکہ اسی طلاق اول سے اخبار ہوتا ہے الاان ینص بما لایحتملہ(مگر ایسے الفاظ سے واضح کہے جو دوسرے معنی کا احتمال نہ رکھتا ہو۔ ت)درمختار میں ہے :
لایلحق البائن البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن اوابنتك بتطلیقۃ فلایقع لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء بخلاف ابنتك باخری ۔
بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی جب دوسری بائنہ پہلی سے حکایت وخبر ہو مثلا “ تو بائن بائن ہے “ یا “ میں نے تجھے طلاق سے بائنہ کیا “ تو دوسری بائنہ واقع نہ ہوگی کیونکہ پہلی سے حکایت وخبر ہے لہذا اس کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف جب یوں کہے “ میں نے تجھے دوسری بائنہ طلاق دی۔ (ت)
اور ایك ہی پڑنے کی یہ وجہ ٹھہرانا کہ الفاظ طلاق متفرقا کہے جب اول پڑی اب عورت محل طلاق نہ رہی لہذا دوسری نہ پڑی یہ یوں جہل محض ہے یہ حکم خاص زن غیر مدخولہ کے ساتھ ہے زن مدخولہ جب تك عدت نہ گزرے تین طلاق مجموع ومفرق سب کی محل ہے کما نصواعلیہ قاطبۃ فی جمیع کتب المذہب(جیسا کہ اس پر مذہب کی تمام کتب میں نص ہے۔ ت)اور یہاں مدخولہ ہے کما افصح عنہ السائل فی سوال آخر(جیسا کہ سائل
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
نے خود اس کو دوسرے سوال میں واضح کیا ہے۔ ت)بلکہ ایك پڑنے کی صحیح وجہ یہ ہے جو فقیر نے بیان کی وباﷲ التوفیق واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۸ : ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲآپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ ت)اس صورت میں کہ زید کی زوجہ کو کسی نے دوسرے ایك شخص کے ساتھ ایك مکان میں بند کیا جب زید کوخبر ہوئی تو اس نے چار پانچ آدمیوں کے روبرو اپنے خسر سے مخاطب ہوکر کہا کہ چونکہ تم لوگوں نے میری زوجہ کو غیر شخص کے ساتھ ایك مکان میں بند کیا لہذا اب وہ مجھ پر حرام پس کیا حکم ہے آیا وہ زوجہ طلاق ہوگئی یا ہنوز حسب سابق اس کی زوجہ ہے برتقدیر تعلق زوجیت کے قائل کے ذمہ کچھ کفارہ ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہر چند یہ لفظ بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے کہ بے حاجت نیت طلاق بائن واقع ہو
فی ردالمحتار قولہ حرام سیأتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذلك بین محرمۃ وحرمتك سواء قال علی اولا اھ ملخصا وتمامہ فیہ۔
ردالمحتار میں ہے کہ خاوندکا کہنا “ توحرام ہے “ عنقریب بیان ہوگا کہ اس لفظ سے ہمارے زمانے میں بغیر نیت بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس کے طلاق ہونے پر عرف بن چکا ہے۔ تو مجھ پر حرام ہے اور میں نے تجھے حرام کیا دونوں برابر ہیں یہاں “ مجھ پر “ کا لفظ کہے نہ کہے کوئی فرق نہیں ہے اھ ملخصا مکمل عبارت کتاب میں ہے۔ (ت)
مگر کلام زید “ چونکہ تم نے ایسا کیا لہذا حرام ہے “ اس کے یہ معنی بھی محتمل کہ صرف اس بند کرنے کو موجب حرمت بتاتا ہے جیسے بہت جہال کے خیال میں ہوتا ہے کہ عورت بے اجازت شوہر باہر جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اس تقدیر پر یہ کلام انشائے طلاق نہ ہوگا بلکہ ایك مبنائے باطل پر اقرار اطلاق اور وہ محض لغو ہے
فی الخانیۃ رجل طلق امرأتہ وھو صاحب برسام فلماصح قال قد طلقت امرأتی ثم قال انی کنت اظن ان الطلاق فی تلك الحالۃ کان واقعا قال مشائخنا رحمہم اﷲتعالي
خانیہ میں ہے کہ ایك شخص نے خیال کیا کہ مرض برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے اس بناء پر اس نے کہا “ میری بیوی مطلقہ ہوگئی “ پھر تندرست ہونے کے بعد طلاق کا اقرار کرتے ہوئے کہتا ہے میں نے گمان کیا کہ برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے
مسئلہ۲۸۸ : ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲآپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ ت)اس صورت میں کہ زید کی زوجہ کو کسی نے دوسرے ایك شخص کے ساتھ ایك مکان میں بند کیا جب زید کوخبر ہوئی تو اس نے چار پانچ آدمیوں کے روبرو اپنے خسر سے مخاطب ہوکر کہا کہ چونکہ تم لوگوں نے میری زوجہ کو غیر شخص کے ساتھ ایك مکان میں بند کیا لہذا اب وہ مجھ پر حرام پس کیا حکم ہے آیا وہ زوجہ طلاق ہوگئی یا ہنوز حسب سابق اس کی زوجہ ہے برتقدیر تعلق زوجیت کے قائل کے ذمہ کچھ کفارہ ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہر چند یہ لفظ بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے کہ بے حاجت نیت طلاق بائن واقع ہو
فی ردالمحتار قولہ حرام سیأتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذلك بین محرمۃ وحرمتك سواء قال علی اولا اھ ملخصا وتمامہ فیہ۔
ردالمحتار میں ہے کہ خاوندکا کہنا “ توحرام ہے “ عنقریب بیان ہوگا کہ اس لفظ سے ہمارے زمانے میں بغیر نیت بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس کے طلاق ہونے پر عرف بن چکا ہے۔ تو مجھ پر حرام ہے اور میں نے تجھے حرام کیا دونوں برابر ہیں یہاں “ مجھ پر “ کا لفظ کہے نہ کہے کوئی فرق نہیں ہے اھ ملخصا مکمل عبارت کتاب میں ہے۔ (ت)
مگر کلام زید “ چونکہ تم نے ایسا کیا لہذا حرام ہے “ اس کے یہ معنی بھی محتمل کہ صرف اس بند کرنے کو موجب حرمت بتاتا ہے جیسے بہت جہال کے خیال میں ہوتا ہے کہ عورت بے اجازت شوہر باہر جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اس تقدیر پر یہ کلام انشائے طلاق نہ ہوگا بلکہ ایك مبنائے باطل پر اقرار اطلاق اور وہ محض لغو ہے
فی الخانیۃ رجل طلق امرأتہ وھو صاحب برسام فلماصح قال قد طلقت امرأتی ثم قال انی کنت اظن ان الطلاق فی تلك الحالۃ کان واقعا قال مشائخنا رحمہم اﷲتعالي
خانیہ میں ہے کہ ایك شخص نے خیال کیا کہ مرض برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے اس بناء پر اس نے کہا “ میری بیوی مطلقہ ہوگئی “ پھر تندرست ہونے کے بعد طلاق کا اقرار کرتے ہوئے کہتا ہے میں نے گمان کیا کہ برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۴
حین ما اقربالطلاق ان ردہ الی حالۃ البرسام وقال قد طلقت امرأتی فی حالۃ البرسام فالطلاق غیرواقع الخ۔
تو اس صورت میں ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اگر طلاق کااقرار کرتے ہوئے مرض کو وجہ بتائے اورکہے کہ “ میں نے مرض برسام میں طلاق دی ہے “ تو طلاق واقع نہ ہوگی الخ۔ (ت)
پس اگر یہی معنی مراد تھے تو نہ طلاق ہوئی نہ کوئی کفارہ لازم اور اگر بہ نیت طلاق الفاظ مذکورہ کہے تو ایك طلاق بائن ہوئی عورت نکاح سے نکل گئی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۹ : ازبحری آباد ڈاکخانہ سادات ضلع غازی پور ۱۷ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ مسئلہ محمد ابوالخیر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ مرتکب زنا سمجھ کر ناراض ہوکر اس کے باپ کے گھر پہنچادیا اور یہ کلام کیا کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے تو ہمارے قابل نہ رہی اور بعد دوایك مہینہ کے نہیں معلوم کہاں چلا گیا اس کو عرصہ سات۷برس کا ہوا کہ ہنوز مفقود الخبر ہے اس کے بعد اس کے باپ نے زوجہ کے شوہر کے بڑے بھائی کو جو مالك وبزرگ خانداری ہے بلاکر یہ کہاکہ یہ عورت عزت وآبرو تمہاری ہے لے جاؤ ہمارے یہاں اس کا گزر نہیں ہوگا اس کے شوہر کے بڑے بھائی نے انکار کیا اور یہ کہا اول تو شوہر اس کا مکان پر نہیں ہے دوسرے یہ عورت ہمارے کام کے لائق نہیں ہے ہم نہ لے جائیں گے تم کو اختیار ہے کہ جہاں چاہو کردو اس جواب پر اس کا باپ دوسرے نکاح کے سامان میں تھا کہ اس اثناء میں وہ عورت بطور خود ایك شخص کے ساتھ بلانکاح چلی گئی اور اسی مرد کے ساتھ اس زمانہ سے بلانکاح رہی اب اس عورت نے اس شخص کے ساتھ جس کے ساتھ بطور خود چلی گئی تھی نکاح کرلیا تو آیا یہ نکاح ثانی اس کاشرعا جائز ہوایانہیں اور زوج اول کا غصے سے یہ کہنا کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے تو ہماری قابل نہیں رہی اور بعد اس کے اس کو چھوڑ دینا اور دی ہوئی چیز واپس لینا حکم میں طلاق کے ہے یانہیں اور بقرائن مذکور اس کہنے سے کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے طلاق واقع ہوئی یانہیں حالانکہ قرائن حالیہ ودلالت حال اس امر پر موجود ہے کہ زید نے کلام بالاجو کنایہ طلاق ہے بارادہ طلاق کہاتھا مختصر وقایہ میں ہے :
وکنایۃ مایحتملہ وغیرہ فنحواخرجی واذھبی وقومی یحتمل ردا ونحو خلیۃ وبریۃ بتہ حرام بائن یصلح سباونحواعتدی واستبرئ
اور کنایہ وہ ہے کہ طلاق اور غیرطلاق دونوں کا احتمال رکھتا ہومثلانکل جا چلی جا اٹھ جا۔ یہ الفاظ کسی بات کا جواب ہوسکتے ہیں اور جدا بری ہے علیحدہ ہے حرام ہے بائن ہے ڈانٹ کا احتمال
تو اس صورت میں ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اگر طلاق کااقرار کرتے ہوئے مرض کو وجہ بتائے اورکہے کہ “ میں نے مرض برسام میں طلاق دی ہے “ تو طلاق واقع نہ ہوگی الخ۔ (ت)
پس اگر یہی معنی مراد تھے تو نہ طلاق ہوئی نہ کوئی کفارہ لازم اور اگر بہ نیت طلاق الفاظ مذکورہ کہے تو ایك طلاق بائن ہوئی عورت نکاح سے نکل گئی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۹ : ازبحری آباد ڈاکخانہ سادات ضلع غازی پور ۱۷ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ مسئلہ محمد ابوالخیر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ مرتکب زنا سمجھ کر ناراض ہوکر اس کے باپ کے گھر پہنچادیا اور یہ کلام کیا کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے تو ہمارے قابل نہ رہی اور بعد دوایك مہینہ کے نہیں معلوم کہاں چلا گیا اس کو عرصہ سات۷برس کا ہوا کہ ہنوز مفقود الخبر ہے اس کے بعد اس کے باپ نے زوجہ کے شوہر کے بڑے بھائی کو جو مالك وبزرگ خانداری ہے بلاکر یہ کہاکہ یہ عورت عزت وآبرو تمہاری ہے لے جاؤ ہمارے یہاں اس کا گزر نہیں ہوگا اس کے شوہر کے بڑے بھائی نے انکار کیا اور یہ کہا اول تو شوہر اس کا مکان پر نہیں ہے دوسرے یہ عورت ہمارے کام کے لائق نہیں ہے ہم نہ لے جائیں گے تم کو اختیار ہے کہ جہاں چاہو کردو اس جواب پر اس کا باپ دوسرے نکاح کے سامان میں تھا کہ اس اثناء میں وہ عورت بطور خود ایك شخص کے ساتھ بلانکاح چلی گئی اور اسی مرد کے ساتھ اس زمانہ سے بلانکاح رہی اب اس عورت نے اس شخص کے ساتھ جس کے ساتھ بطور خود چلی گئی تھی نکاح کرلیا تو آیا یہ نکاح ثانی اس کاشرعا جائز ہوایانہیں اور زوج اول کا غصے سے یہ کہنا کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے تو ہماری قابل نہیں رہی اور بعد اس کے اس کو چھوڑ دینا اور دی ہوئی چیز واپس لینا حکم میں طلاق کے ہے یانہیں اور بقرائن مذکور اس کہنے سے کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے طلاق واقع ہوئی یانہیں حالانکہ قرائن حالیہ ودلالت حال اس امر پر موجود ہے کہ زید نے کلام بالاجو کنایہ طلاق ہے بارادہ طلاق کہاتھا مختصر وقایہ میں ہے :
وکنایۃ مایحتملہ وغیرہ فنحواخرجی واذھبی وقومی یحتمل ردا ونحو خلیۃ وبریۃ بتہ حرام بائن یصلح سباونحواعتدی واستبرئ
اور کنایہ وہ ہے کہ طلاق اور غیرطلاق دونوں کا احتمال رکھتا ہومثلانکل جا چلی جا اٹھ جا۔ یہ الفاظ کسی بات کا جواب ہوسکتے ہیں اور جدا بری ہے علیحدہ ہے حرام ہے بائن ہے ڈانٹ کا احتمال
حوالہ / References
قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۳
رحمك انت واحدۃ انت حرۃ اختاری امرك بیدك سرحتك فارقتک لایحتمل الردوالسب ۔
رکھتے ہیں اور مثلا عدت پوری کر رحم کوصاف کر تواکیلی ہے توآزاد ہے تجھے اپنا اختیار ہے تیرامعاملہ تیرے اختیار میں ہے میں نے تجھے چھوڑدیا میں نے تجھ سے فرقت کرلی یہ صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں ۔ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
وفی حالۃ الغضب یتوقف الاولان ای مایصلح رداو مایصلح سبا علی النیۃ ان نوی الطلاق یقع بہ الطلاق وان لم ینو لایقع واما القسم الاخیر وھو ما یصلح ردالاسبایقع بہ الطلاق وان لم ینو اھ۔
اور غصہ کی حالت میں پہلے دونوں الفاظ یعنی جوجواب بن سکتے اور وہ جو ڈانٹ بن سکتے ہیں نیت پر موقوف ہوں گے اگر طلاق کی نیت نہ ہوتوطلاق واقع نہ ہوگی لیکن تیسری قسم جو ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہ غصہ کی حالت میں بغیر نیت بھی طلاق قرار پائیں گے اھ(ت)
اور ظاہر ہے کہ ہم نے تجھ کو چھوڑ دیا ہم تجھے نہ رکھیں گے متحد المفاد وداخل قسم اخیر ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
ہم تجھ کو نہ رکھیں گے متمحض للاستقبال والابعاد ہے اور ایسا لفظ اگر صریح بھی ہو ا اصلا موثر نہیں مثلا اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دوں گا طلاق نہ ہوگی۔
وھذا ظاھر جدا وفی جواھرالاخلاطی فقال الزوج طلاق میکنم انھا ثلاث لان می کنم یتمحض للحل وھو تحقیق بخلاف قولہ کنم لانہ یتمحض للاستقبال وبالعربیۃ قولہ اطلق لایکون طلاقا لانہ دائر بین الحال والاستقبال
یہ بالکل ظاہر ہے : اور جواہراخلاطی میں ہے خاوند نے کہا “ میں طلاق کرتا ہوں طلاق کرتا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی کیونکہ اس کا قول “ کرتا ہوں “ صرف حال کیلئے مختص ہے اور یہ طلاق کو واقع کرتا ہے اس کے برخلاف اس کا یہ کہنا “ طلاق کروں گا “ یہ خالص استقبال کے لئے ہے اور عربی میں اطلق(طلاق دوں گا)سے طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ
رکھتے ہیں اور مثلا عدت پوری کر رحم کوصاف کر تواکیلی ہے توآزاد ہے تجھے اپنا اختیار ہے تیرامعاملہ تیرے اختیار میں ہے میں نے تجھے چھوڑدیا میں نے تجھ سے فرقت کرلی یہ صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں ۔ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
وفی حالۃ الغضب یتوقف الاولان ای مایصلح رداو مایصلح سبا علی النیۃ ان نوی الطلاق یقع بہ الطلاق وان لم ینو لایقع واما القسم الاخیر وھو ما یصلح ردالاسبایقع بہ الطلاق وان لم ینو اھ۔
اور غصہ کی حالت میں پہلے دونوں الفاظ یعنی جوجواب بن سکتے اور وہ جو ڈانٹ بن سکتے ہیں نیت پر موقوف ہوں گے اگر طلاق کی نیت نہ ہوتوطلاق واقع نہ ہوگی لیکن تیسری قسم جو ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہ غصہ کی حالت میں بغیر نیت بھی طلاق قرار پائیں گے اھ(ت)
اور ظاہر ہے کہ ہم نے تجھ کو چھوڑ دیا ہم تجھے نہ رکھیں گے متحد المفاد وداخل قسم اخیر ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
ہم تجھ کو نہ رکھیں گے متمحض للاستقبال والابعاد ہے اور ایسا لفظ اگر صریح بھی ہو ا اصلا موثر نہیں مثلا اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دوں گا طلاق نہ ہوگی۔
وھذا ظاھر جدا وفی جواھرالاخلاطی فقال الزوج طلاق میکنم انھا ثلاث لان می کنم یتمحض للحل وھو تحقیق بخلاف قولہ کنم لانہ یتمحض للاستقبال وبالعربیۃ قولہ اطلق لایکون طلاقا لانہ دائر بین الحال والاستقبال
یہ بالکل ظاہر ہے : اور جواہراخلاطی میں ہے خاوند نے کہا “ میں طلاق کرتا ہوں طلاق کرتا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی کیونکہ اس کا قول “ کرتا ہوں “ صرف حال کیلئے مختص ہے اور یہ طلاق کو واقع کرتا ہے اس کے برخلاف اس کا یہ کہنا “ طلاق کروں گا “ یہ خالص استقبال کے لئے ہے اور عربی میں اطلق(طلاق دوں گا)سے طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ
حوالہ / References
مختصر الوقایہ کتاب الطلاق نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۶۱
شرح الوقایہ باب ایقاع الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۸۸
شرح الوقایہ باب ایقاع الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۸۸
فلم یکن تحقیقا مع الشک الخ۔
حال اور استقبال دونوں میں مشترك ہے لہذا شك کی بناء پر طلاق واقع نہ ہوگی الخ(ت)
اور “ تو ہمار ے قابل نہ رہی “ اگرچہ کنایہ ہوسکتا ہے مگر وہ سب کو بھی محتمل ہے کہ اس کی نالائقی وناکارگی کا اظہار ہے جس طرح برادر شوہر نے بھی اس مضمون کے لفظ کہے اور جب کہ حالت غضب تھی جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر تو الفاظ صالحہ سب محتاج نیت رہیں گے بے ظہور نیت بوجہ شك حکم طلاق نہیں دے سکتے کما یظہر من عبارۃ النقایۃ التی نقل السائل و الجواھر التی نقلنا(جیسا کہ نقایہ کی عبارت جس کو سائل نے نقل کیاہے۔ سے ظاہر ہورہا ہے اور جواہر اخلاطی کی عبارت جس کو ہم نے نقل کیا ہے سے بھی ظاہر ہورہا ہے۔ ت)اور اسے نکال دینا کپڑے وغیرہ چھین لینا دلیل غضب ہے نہ دلیل طلاق تو بے ظہور طلاق یا وضوح موت حقیقیہ یا بالحکم بمرور مدت معینہ للمفقود بمذہب مفتی بہ مؤید بالحدیث روز ولادت سے ستر۷۰سال ہے عورت کو نکاح ثانی ہرگز نہ تھا نہ ہے وہ اب بھی معصیت ومخالفت شرع مطہر میں مبتلا ہے والعیاذ باﷲ تعالی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ سے بحالت غضب یہ لفظ کہے : “ ۱مجھے تجھ سے کچھ کام نہیں ۔ ۲جس سے چاہ مباشرت کر۔ ۳جسے چاہے اپنا خاوند بنا۔ ۴مجھ سے تجھ سے کچھ تعلق نہ رہا “ اس صورت میں طلاق واقع اور ہندہ اس کے نکاح سے خارج ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مسئول بہا میں لفظ اول یعنی “ مجھے تجھ سے کچھ کام نہیں “ الفاظ طلاق ہی سے نہیں حتی کہ اگر اس سے نیت کرے گا تاہم واقع نہ ہوگی
فی فتاوی الامام قاضی عــــہ خاں لوقال
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے : اگر خاوند نے کہا
عــــہ : قال فی الہندیۃ لو قال لہا مراباتو کارے نیست وترابامن نے
اعطینی ماکان لی عندك واذھبی حیث شئت لایقع بدون النیۃ کذا فی الخلاصۃ
مفتی اعظم الامہ مصطفی رضامد ظلہ۔
ہندیہ میں کہا اگر یوں کہے میرا تجھ سے کا م نہیں اور تیرا مجھ سے نہیں میرا جو کچھ تیرے پاس ہے مجھے دے دے جہاں چاہے چلی جا تو بغیر نیت طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں یونہی ہے۱۲مفتی اعظم الامۃ مصطفی رضامدظلہ(ت)
حال اور استقبال دونوں میں مشترك ہے لہذا شك کی بناء پر طلاق واقع نہ ہوگی الخ(ت)
اور “ تو ہمار ے قابل نہ رہی “ اگرچہ کنایہ ہوسکتا ہے مگر وہ سب کو بھی محتمل ہے کہ اس کی نالائقی وناکارگی کا اظہار ہے جس طرح برادر شوہر نے بھی اس مضمون کے لفظ کہے اور جب کہ حالت غضب تھی جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر تو الفاظ صالحہ سب محتاج نیت رہیں گے بے ظہور نیت بوجہ شك حکم طلاق نہیں دے سکتے کما یظہر من عبارۃ النقایۃ التی نقل السائل و الجواھر التی نقلنا(جیسا کہ نقایہ کی عبارت جس کو سائل نے نقل کیاہے۔ سے ظاہر ہورہا ہے اور جواہر اخلاطی کی عبارت جس کو ہم نے نقل کیا ہے سے بھی ظاہر ہورہا ہے۔ ت)اور اسے نکال دینا کپڑے وغیرہ چھین لینا دلیل غضب ہے نہ دلیل طلاق تو بے ظہور طلاق یا وضوح موت حقیقیہ یا بالحکم بمرور مدت معینہ للمفقود بمذہب مفتی بہ مؤید بالحدیث روز ولادت سے ستر۷۰سال ہے عورت کو نکاح ثانی ہرگز نہ تھا نہ ہے وہ اب بھی معصیت ومخالفت شرع مطہر میں مبتلا ہے والعیاذ باﷲ تعالی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ سے بحالت غضب یہ لفظ کہے : “ ۱مجھے تجھ سے کچھ کام نہیں ۔ ۲جس سے چاہ مباشرت کر۔ ۳جسے چاہے اپنا خاوند بنا۔ ۴مجھ سے تجھ سے کچھ تعلق نہ رہا “ اس صورت میں طلاق واقع اور ہندہ اس کے نکاح سے خارج ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مسئول بہا میں لفظ اول یعنی “ مجھے تجھ سے کچھ کام نہیں “ الفاظ طلاق ہی سے نہیں حتی کہ اگر اس سے نیت کرے گا تاہم واقع نہ ہوگی
فی فتاوی الامام قاضی عــــہ خاں لوقال
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے : اگر خاوند نے کہا
عــــہ : قال فی الہندیۃ لو قال لہا مراباتو کارے نیست وترابامن نے
اعطینی ماکان لی عندك واذھبی حیث شئت لایقع بدون النیۃ کذا فی الخلاصۃ
مفتی اعظم الامہ مصطفی رضامد ظلہ۔
ہندیہ میں کہا اگر یوں کہے میرا تجھ سے کا م نہیں اور تیرا مجھ سے نہیں میرا جو کچھ تیرے پاس ہے مجھے دے دے جہاں چاہے چلی جا تو بغیر نیت طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں یونہی ہے۱۲مفتی اعظم الامۃ مصطفی رضامدظلہ(ت)
حوالہ / References
جواہرالاخلاطی فصل فی طلاق الصریح قلمی نسخہ ص۷۰۔ ۶۹
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۵
لاحاجۃ لی فیك ونوی الطلاق لایقع وکذا لوقال مرابکارنیستی وکذالوقال مااریدک اھ
“ مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں “ اور طلاق کی نیت کی ہوتب بھی طلاق نہ ہوگی یونہی اگر کہا “ تو میرے کام کی نہیں “ اور یونہی اگر کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت طلاق ہواھ(ت)
باقی الفاظ ثلثہ میں چند صورتیں ہیں :
(۱)اگر اس نے کسی لفظ سے نیت طلاق نہ کی تو ایك طلاق بائن واقع ہونے کا حکم دیاجائےگا کہ لفظ ثالث محتمل رد وسب نہیں اور ایسے الفاظ حالت غضب میں حاجت نیت نہیں رکھتے۔
فی الھدایۃ فی حالۃ الغضب یصدق فی جمیع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فیما یصلح للطلاق ولایصلح للرد والشتم انتہی۔
ہدایہ میں ہے کہ غصہ کی حالت میں ان تمام الفاظ میں خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں مگر وہ الفاظ جو صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں اور ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہاں تصدیق نہ کی جائیگی اھ۔ (ت)
(۲)اور جو صرف پہلے سے نیت طلاق کی تو بشرطیکہ لفظ ثانی سے معنی حقیقی یعنی میں توطلاق دے چکا اب تزویج کا تجھے اختیار ہے مراد نہ لئے ہوں تو دو۲ بائنہ واقع ہوں گی لفظ اول سے بحکم نیت اور ثانی سے بدیں سبب کہ بوجہ تقدم ومقارنت نیت حالت حالت مذاکرہ ہوگئی اور اس حالت میں الفاظ غیر صالحہ رد پابند نیت نہیں رہتے
فی الھدایۃ لما نوی بالاولی الطلاق صار الحال حال مذاکرۃ الطلاق فتعین الباقیان للطلاق بھذہ الدلالۃ بخلاف ما اذا قال نویت بالثلاثۃ الطلاق دون الاولیین حیث لایقع الا واحدۃ لان الحال
ہدایہ میں ہے : جب پہلے لفظ سے طلاق کی نیت کی ہوتو مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے باقی دو۲ الفاظ بھی طلاق کےلئے متعین ہوجائیں گے اس کے برخلاف جب یہ کہے کہ میں نے تیسرے لفظ سے طلاق مرادلی ہے تو پھر پہلے دونوں لفظ طلاق نہ ہونگے صرف آخری ایك طلاق ہوگی کیونکہ پہلے دونوں کے
“ مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں “ اور طلاق کی نیت کی ہوتب بھی طلاق نہ ہوگی یونہی اگر کہا “ تو میرے کام کی نہیں “ اور یونہی اگر کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت طلاق ہواھ(ت)
باقی الفاظ ثلثہ میں چند صورتیں ہیں :
(۱)اگر اس نے کسی لفظ سے نیت طلاق نہ کی تو ایك طلاق بائن واقع ہونے کا حکم دیاجائےگا کہ لفظ ثالث محتمل رد وسب نہیں اور ایسے الفاظ حالت غضب میں حاجت نیت نہیں رکھتے۔
فی الھدایۃ فی حالۃ الغضب یصدق فی جمیع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فیما یصلح للطلاق ولایصلح للرد والشتم انتہی۔
ہدایہ میں ہے کہ غصہ کی حالت میں ان تمام الفاظ میں خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں مگر وہ الفاظ جو صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں اور ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہاں تصدیق نہ کی جائیگی اھ۔ (ت)
(۲)اور جو صرف پہلے سے نیت طلاق کی تو بشرطیکہ لفظ ثانی سے معنی حقیقی یعنی میں توطلاق دے چکا اب تزویج کا تجھے اختیار ہے مراد نہ لئے ہوں تو دو۲ بائنہ واقع ہوں گی لفظ اول سے بحکم نیت اور ثانی سے بدیں سبب کہ بوجہ تقدم ومقارنت نیت حالت حالت مذاکرہ ہوگئی اور اس حالت میں الفاظ غیر صالحہ رد پابند نیت نہیں رہتے
فی الھدایۃ لما نوی بالاولی الطلاق صار الحال حال مذاکرۃ الطلاق فتعین الباقیان للطلاق بھذہ الدلالۃ بخلاف ما اذا قال نویت بالثلاثۃ الطلاق دون الاولیین حیث لایقع الا واحدۃ لان الحال
ہدایہ میں ہے : جب پہلے لفظ سے طلاق کی نیت کی ہوتو مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے باقی دو۲ الفاظ بھی طلاق کےلئے متعین ہوجائیں گے اس کے برخلاف جب یہ کہے کہ میں نے تیسرے لفظ سے طلاق مرادلی ہے تو پھر پہلے دونوں لفظ طلاق نہ ہونگے صرف آخری ایك طلاق ہوگی کیونکہ پہلے دونوں کے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۶
الہدایہ فصل فی الطلاق قبل الدخول المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۵۴
الہدایہ فصل فی الطلاق قبل الدخول المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۵۴
عند الاولیین لم تکن حال مذاکرۃ الطلاق (وفیہا) قال نویت بالاولی طلاقا وبالثانی حیضادین فی القضاء لانہ نوی حقیقۃ کلامہ ملخصا انتہی وفی الکافی شرح الوافی فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق یقع الطلاق فی سائر الاقسام قضاء لافیما یصلح جوابا وردافانہ لایجعل طلاقا عزاہ لہ فی العلمگیریۃ۔
وقت مذاکرہ طلاق نہ تھا اور اسی میں اگرمذکورہ صورت میں یہ کہے کہ میں نے پہلے لفظ سے طلاق اور دوسرے سے حیض مراد لیا ہے تو خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس نے لفظ کے حقیقی معنی کی نیت کی ہے اھ ملخصا(ت)اور کافی شرح وافی میں ہے کہ مذاکرہ طلاق میں ان تمام الفاظ سے قضاء طلاق واقع ہوگی جو طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور جو صرف ڈانٹ یا جواب بننے کا احتمال رکھتے ہیں ان میں طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان کو طلاق قرارنہ دیاجائے گا اس عبارت کو عالمگیری میں کافی کی طرف منسوب کیا ہے۔ (ت)
رہا تیسرا لفظ ہرچند وہ بھی محتاج نیت نہ تھا مگر اس سبب سے کہ دوسری طلاق سابق سے اخبار قرار دینا ممکن اور ایسی صورت میں بائن سے بائن لاحق نہیں ہوتی اس سے طلاق واقع نہ ہوئی
فی الدرالمختار لایلحق البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن او ابنتك بتطلیقۃ لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء ۔
درمختار میں ہے : بائن کے بعد دوسری بائن نہ ہوگی جبکہ دوسری بائن پہلی سے حکایت بن سکے مثلا “ تو بائن بائن ہے “ یا “ میں نے تجھے طلاق کے ساتھ بائنہ کردیا “ یہ اخبار ہے اول سے کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ت)
(۳)اسی طرح اگرپہلی یا دوسری دونوں (۴)یا تینوں سے نیت طلاق کی تو دوہی بائنہ واقع ہوں گی
لمامرمن ان البائن لایلحق البائن ماامکن حملہ علی الاخبار۔
جیسا کہ گزرا کہ بائن بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی جب وہ پہلی سے حکایت بن سکے(ت)
باقی سب صورت میں خواہ(۵)صرف دوسرا(۶)یا صرف تیسرا(۷)یا پہلا اور تیسرا دونوں (۸)یا
وقت مذاکرہ طلاق نہ تھا اور اسی میں اگرمذکورہ صورت میں یہ کہے کہ میں نے پہلے لفظ سے طلاق اور دوسرے سے حیض مراد لیا ہے تو خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس نے لفظ کے حقیقی معنی کی نیت کی ہے اھ ملخصا(ت)اور کافی شرح وافی میں ہے کہ مذاکرہ طلاق میں ان تمام الفاظ سے قضاء طلاق واقع ہوگی جو طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور جو صرف ڈانٹ یا جواب بننے کا احتمال رکھتے ہیں ان میں طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان کو طلاق قرارنہ دیاجائے گا اس عبارت کو عالمگیری میں کافی کی طرف منسوب کیا ہے۔ (ت)
رہا تیسرا لفظ ہرچند وہ بھی محتاج نیت نہ تھا مگر اس سبب سے کہ دوسری طلاق سابق سے اخبار قرار دینا ممکن اور ایسی صورت میں بائن سے بائن لاحق نہیں ہوتی اس سے طلاق واقع نہ ہوئی
فی الدرالمختار لایلحق البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن او ابنتك بتطلیقۃ لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء ۔
درمختار میں ہے : بائن کے بعد دوسری بائن نہ ہوگی جبکہ دوسری بائن پہلی سے حکایت بن سکے مثلا “ تو بائن بائن ہے “ یا “ میں نے تجھے طلاق کے ساتھ بائنہ کردیا “ یہ اخبار ہے اول سے کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ت)
(۳)اسی طرح اگرپہلی یا دوسری دونوں (۴)یا تینوں سے نیت طلاق کی تو دوہی بائنہ واقع ہوں گی
لمامرمن ان البائن لایلحق البائن ماامکن حملہ علی الاخبار۔
جیسا کہ گزرا کہ بائن بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی جب وہ پہلی سے حکایت بن سکے(ت)
باقی سب صورت میں خواہ(۵)صرف دوسرا(۶)یا صرف تیسرا(۷)یا پہلا اور تیسرا دونوں (۸)یا
حوالہ / References
الہدایہ فصل فی الطلاق قبل الدخول المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۵۵
الکافی شرح الوافی
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
الکافی شرح الوافی
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
دوسرااور تیسرا مقرون بہ نیت ہوں تو ایك ہی بائنہ واقع ہوگی
کما یظھر مماالقینا علیك من الادلۃ وان لاطلاق بالثالثۃ کلما تقدمھا طلاق۔
جیسے ہم نے آپ کو دلائل بیان کردئے اس سے ظاہر ہے اور یہ کہ تیسرے لفظ سے طلاق نہ ہوگی جب اس سے قبل طلاق بائنہ ہوچکی ہو۔ (ت)
پس اس میں شبہہ نہیں کہ ہندہ نکاح زید سے خارج ہوگئی اور تاوقتیکہ زید اس سے نکاح جدید نہ کرے وہ اس کی زوجہ نہیں ہوسکتی
فی تنویر الابصار وینکح مبانتہ بمادون الثلث فی العدۃ وبعدھا بالاجماع ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تنویر الابصار میں ہے کہ تین سے کم بائنہ میں دوبارہ نکاح کی ضرورت ہوتی ہے خواہ عدت میں ہو یاعدت کے بعد ہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۹۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی نسبت کہا “ مجھے اس سے کچھ کام نہیں میں اسکو نہیں رکھوں گا اگر اسے گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں “ پھر اس اندیشہ سے کہ شاید اس سے طلاق نہ ہوگئی ہو اس سے پھر نکاح کرلیا اس صورت میں عورت پر طلاق ہوئی یانہیں اور یہ نکاح کافی ہوا یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس عورت پر طلاق واقع نہ ہوئی اور پہلا ہی نکاح اس کا بحال خود قائم ہے دوسرے نکاح کی کچھ حاجت نہ تھی یہ عبث واقع ہوا۔
فی العالمگیریۃ رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع انتہی۔
عالمگیری میں ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کوکہا “ تومیرے کام کی نہیں “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت بھی کی ہواھ(ت)
اماقولہ “ میں اس کو نہیں رکھوں گا “
فھذا وان احتمل الجماع لان رکھنا بلغتنا یکنی بہ عن الجماع الا انہ عدۃ فلایفید شیئا واما قولہ
(اس کو گھر میں رکھوں تو یہ اگرچہ جماع کا احتمال بھی رکھتا ہے کیونکہ “ رکھنا “ ہماری لغت میں جماع سے کنایہ ہوتا ہے مگریہ وعدہ ہے لہذا اس سے کچھ بھی مراد نہ ہوگا اور اس کا
کما یظھر مماالقینا علیك من الادلۃ وان لاطلاق بالثالثۃ کلما تقدمھا طلاق۔
جیسے ہم نے آپ کو دلائل بیان کردئے اس سے ظاہر ہے اور یہ کہ تیسرے لفظ سے طلاق نہ ہوگی جب اس سے قبل طلاق بائنہ ہوچکی ہو۔ (ت)
پس اس میں شبہہ نہیں کہ ہندہ نکاح زید سے خارج ہوگئی اور تاوقتیکہ زید اس سے نکاح جدید نہ کرے وہ اس کی زوجہ نہیں ہوسکتی
فی تنویر الابصار وینکح مبانتہ بمادون الثلث فی العدۃ وبعدھا بالاجماع ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تنویر الابصار میں ہے کہ تین سے کم بائنہ میں دوبارہ نکاح کی ضرورت ہوتی ہے خواہ عدت میں ہو یاعدت کے بعد ہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۹۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی نسبت کہا “ مجھے اس سے کچھ کام نہیں میں اسکو نہیں رکھوں گا اگر اسے گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں “ پھر اس اندیشہ سے کہ شاید اس سے طلاق نہ ہوگئی ہو اس سے پھر نکاح کرلیا اس صورت میں عورت پر طلاق ہوئی یانہیں اور یہ نکاح کافی ہوا یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس عورت پر طلاق واقع نہ ہوئی اور پہلا ہی نکاح اس کا بحال خود قائم ہے دوسرے نکاح کی کچھ حاجت نہ تھی یہ عبث واقع ہوا۔
فی العالمگیریۃ رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع انتہی۔
عالمگیری میں ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کوکہا “ تومیرے کام کی نہیں “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت بھی کی ہواھ(ت)
اماقولہ “ میں اس کو نہیں رکھوں گا “
فھذا وان احتمل الجماع لان رکھنا بلغتنا یکنی بہ عن الجماع الا انہ عدۃ فلایفید شیئا واما قولہ
(اس کو گھر میں رکھوں تو یہ اگرچہ جماع کا احتمال بھی رکھتا ہے کیونکہ “ رکھنا “ ہماری لغت میں جماع سے کنایہ ہوتا ہے مگریہ وعدہ ہے لہذا اس سے کچھ بھی مراد نہ ہوگا اور اس کا
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۰
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۰
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۰
تو اسی کا دودھ پیوں )
فھذہ لیس من باب الایلاء فی شئی لان گھر میں رکھنا انما ھو الایلاء ای ھوالتمکین من ان تسکن فی بیتہ ولایکنی بہ عن الوطی و لا یکون یمینا ایضاحتی لواواھا ومکنہا بعد من التمکن لاتلزمہ کفارۃ یمین لان شرب لبن العرس غایتہ ان یکون حراما وقولہ ان فعلت کذافانا زان او سارق او شارب خمر اواکل ربو فلیس بحالف ھکذافی الھندیۃ عن الکافی فلایلزمہ بذلك شیئ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
قول “ اس کو گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں “ تو یہ ایلاء یعنی قسم کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ گھر میں رکھنا گھر میں رہنے کی اجازت دینا ہے اس سے وطی مراد نہیں ہوسکتی اور قسم بھی نہیں ہوسکتی حتی کہ اس کو گھر میں رکھا بھی تو قسم کا کفارہ نہ پڑے گا کیونکہ بیوی کا دودھ پینا زیادہ سے زیادہ حرام ہے اور یوں ہی اگر کہا اگر میں یہ کام کروں تو میں زانی یا چوریا شرابی یاسود خور قرار پاؤں قسم نہ ہوگی۔ ہندیہ میں کافی سے یہی منقول ہے لہذا اس سے کوئی کفارہ لازم نہ ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۹۲ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس باب کے کہ زید نے حالت ناراضگی یاراضگی میں ہندہ سے جو اس کی زوجہ ہے یہ کلمے کہے کہ “ میرے مکان سے نکل جا اور میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا تواب اور کوئی شوہر کرلے یاکسی سے آشنائی کر مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں اور اگر تومیرے کہنے سے نہ نکلے گی تو پھر میں تیری ناك کاٹ لوں گا کہ پھر تو خاوند کرنے سے بھی بیکار ہوجائے گی “ وہ ہندہ بخوف ناك اور بسبب یہ کلمے کہنے زید کے وہاں سے نکل کر ایك مکان میں کہ جو اس کے اقرباؤں کا تھا چلی آئی چرچا اس کا محلہ میں پھیلا جب زید سے آکر اہل محلہ نے کہا ہندہ کے باپ نے جواب پایا زید سے کہ “ میری اب طبیعت اس سے بہت ناراض ہے میں اس کو اب اپنے پاس نہ رکھوں گا “ اور جس نے کہا یہی جواب پایا کہ “ مجھ کو اس سے کچھ سروکار نہیں اس کواختیار ہے کہ جہاں چاہے وہاں جائے “ اور ایك صاحب نے کہا کہ تمہاری بے حرمتی ہوگی تو زید نے کہا “ کیا بے حرمتی ہوگی کیا مرد عورت کو چھوڑنہیں دیتے ہیں کچھ بے حرمتی اور بے عزتی نہیں ہے “ بس یہ کلمے زید کے مثل طلاق ہوئے بیچ حق ہندہ کے یا نہیں جو حکم شرعی ہوارقام فرمائیں فقط بینواتوجروا۔
الجواب :
یہ کلمات جو زید نے کہے کنایات طلاق میں سے ہیں ان الفاظ سے ایك طلاق واقع ہوتی ہے یعنی
فھذہ لیس من باب الایلاء فی شئی لان گھر میں رکھنا انما ھو الایلاء ای ھوالتمکین من ان تسکن فی بیتہ ولایکنی بہ عن الوطی و لا یکون یمینا ایضاحتی لواواھا ومکنہا بعد من التمکن لاتلزمہ کفارۃ یمین لان شرب لبن العرس غایتہ ان یکون حراما وقولہ ان فعلت کذافانا زان او سارق او شارب خمر اواکل ربو فلیس بحالف ھکذافی الھندیۃ عن الکافی فلایلزمہ بذلك شیئ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
قول “ اس کو گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں “ تو یہ ایلاء یعنی قسم کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ گھر میں رکھنا گھر میں رہنے کی اجازت دینا ہے اس سے وطی مراد نہیں ہوسکتی اور قسم بھی نہیں ہوسکتی حتی کہ اس کو گھر میں رکھا بھی تو قسم کا کفارہ نہ پڑے گا کیونکہ بیوی کا دودھ پینا زیادہ سے زیادہ حرام ہے اور یوں ہی اگر کہا اگر میں یہ کام کروں تو میں زانی یا چوریا شرابی یاسود خور قرار پاؤں قسم نہ ہوگی۔ ہندیہ میں کافی سے یہی منقول ہے لہذا اس سے کوئی کفارہ لازم نہ ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۲۹۲ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس باب کے کہ زید نے حالت ناراضگی یاراضگی میں ہندہ سے جو اس کی زوجہ ہے یہ کلمے کہے کہ “ میرے مکان سے نکل جا اور میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا تواب اور کوئی شوہر کرلے یاکسی سے آشنائی کر مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں اور اگر تومیرے کہنے سے نہ نکلے گی تو پھر میں تیری ناك کاٹ لوں گا کہ پھر تو خاوند کرنے سے بھی بیکار ہوجائے گی “ وہ ہندہ بخوف ناك اور بسبب یہ کلمے کہنے زید کے وہاں سے نکل کر ایك مکان میں کہ جو اس کے اقرباؤں کا تھا چلی آئی چرچا اس کا محلہ میں پھیلا جب زید سے آکر اہل محلہ نے کہا ہندہ کے باپ نے جواب پایا زید سے کہ “ میری اب طبیعت اس سے بہت ناراض ہے میں اس کو اب اپنے پاس نہ رکھوں گا “ اور جس نے کہا یہی جواب پایا کہ “ مجھ کو اس سے کچھ سروکار نہیں اس کواختیار ہے کہ جہاں چاہے وہاں جائے “ اور ایك صاحب نے کہا کہ تمہاری بے حرمتی ہوگی تو زید نے کہا “ کیا بے حرمتی ہوگی کیا مرد عورت کو چھوڑنہیں دیتے ہیں کچھ بے حرمتی اور بے عزتی نہیں ہے “ بس یہ کلمے زید کے مثل طلاق ہوئے بیچ حق ہندہ کے یا نہیں جو حکم شرعی ہوارقام فرمائیں فقط بینواتوجروا۔
الجواب :
یہ کلمات جو زید نے کہے کنایات طلاق میں سے ہیں ان الفاظ سے ایك طلاق واقع ہوتی ہے یعنی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الایمان الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۵۵
زید مذکور کو اختیار ہے کہ اس سے رجعت کرلے یا بعد انقضائے عدت نکاح کرلے۔ درمختار میں خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ :
اذھبی وتزوجی یقع واحدۃ بلا نیۃ ۔
یعنی اگر شوہر نے زوجہ کوکہا کہ چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے تو اس سے ایك طلاق پڑجائے گی خود شوہر کی نیت طلاق کی ہویانہ ہو۔
کتبہ محمد احسن الصدیقی الحنفی
محمد احسن صدیقی ۱۲۷۶
الجواب :
اقول : وباﷲ استعین(میں کہتا ہوں اور اﷲ سے مدد مانگتا ہوں ۔ ت)جواب میں الفاظ مندرجہ سوال سے تعرض نہیں اور جس بات کا حکم درمختار سے نقل کیا یعنی اگر شوہر نے زوجہ کو کہا “ چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے “ سوال میں بہیئت کذائی نہیں اگر “ اخرجی اوراذھبی “ میں فرق نہ کیا جائے تاہم بسبب لفظ ثالث یعنی اس کلام کے کہ “ میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا “ صورت مسئلہ کی بدل جائے گی پس دلیل جناب مجیب کی قطع نظر اس سے کہ رجعی ہونا صورت محکوم علیہا کا اس سے ظاہر نہیں سوال سے علاقہ نہیں رکھتی کہ حکم ہیئت اجتماعیہ کا حالت انفراد کے حکم سے مغایر ہوسکتا ہے فلایتم التقریب اصلا (تو دعوی اور دلیل مطابق نہ ہوئے۔ ت)علاوہ بریں بعد تسلیم اس امر کے کہ یہ کلمات کنایات طلاق سے ہیں طلاق مذکورہ کو رجعی قراردینا بس عجیب ہے اس لئے کہ سواچند الفاظ کے کہ کتب فقہ میں مذکورہ ہیں باقی کنایات سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے اور لفظ ابتغی الازواج(خاوند تلاش کر۔ ت)کو وقایۃ الروایۃ میں کنایات میں ذکر کرکے کہا واحدۃ بائنۃ (ایك بائنہ طلاق ہوگی۔ ت)
پس جواب صحیح یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں تین لفظ کنایات طلاق سے مذکور ہیں :
۱اول تو میرے مکان سے نکل جا کہ حاصل معنی “ اخرجی “ کا ہے بشرط نیت اس سے طلاق بائن ہوجاتی ہے کما مر(جیسا کہ گزرچکا ہے۔ ت)
۲دوم تو اب کوئی شوہر کرلے یا کسی سے آشنائی کر اس تردید کے جزء اول کا بھی یہی حکم ہے وقد مرایضا(اور یہ بھی گزرچکا۔ ت)
۳سوم مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں یہ لفظ بھی کنایات طلاق سے ہےکہ بشرط نیت اس سے
اذھبی وتزوجی یقع واحدۃ بلا نیۃ ۔
یعنی اگر شوہر نے زوجہ کوکہا کہ چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے تو اس سے ایك طلاق پڑجائے گی خود شوہر کی نیت طلاق کی ہویانہ ہو۔
کتبہ محمد احسن الصدیقی الحنفی
محمد احسن صدیقی ۱۲۷۶
الجواب :
اقول : وباﷲ استعین(میں کہتا ہوں اور اﷲ سے مدد مانگتا ہوں ۔ ت)جواب میں الفاظ مندرجہ سوال سے تعرض نہیں اور جس بات کا حکم درمختار سے نقل کیا یعنی اگر شوہر نے زوجہ کو کہا “ چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے “ سوال میں بہیئت کذائی نہیں اگر “ اخرجی اوراذھبی “ میں فرق نہ کیا جائے تاہم بسبب لفظ ثالث یعنی اس کلام کے کہ “ میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا “ صورت مسئلہ کی بدل جائے گی پس دلیل جناب مجیب کی قطع نظر اس سے کہ رجعی ہونا صورت محکوم علیہا کا اس سے ظاہر نہیں سوال سے علاقہ نہیں رکھتی کہ حکم ہیئت اجتماعیہ کا حالت انفراد کے حکم سے مغایر ہوسکتا ہے فلایتم التقریب اصلا (تو دعوی اور دلیل مطابق نہ ہوئے۔ ت)علاوہ بریں بعد تسلیم اس امر کے کہ یہ کلمات کنایات طلاق سے ہیں طلاق مذکورہ کو رجعی قراردینا بس عجیب ہے اس لئے کہ سواچند الفاظ کے کہ کتب فقہ میں مذکورہ ہیں باقی کنایات سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے اور لفظ ابتغی الازواج(خاوند تلاش کر۔ ت)کو وقایۃ الروایۃ میں کنایات میں ذکر کرکے کہا واحدۃ بائنۃ (ایك بائنہ طلاق ہوگی۔ ت)
پس جواب صحیح یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں تین لفظ کنایات طلاق سے مذکور ہیں :
۱اول تو میرے مکان سے نکل جا کہ حاصل معنی “ اخرجی “ کا ہے بشرط نیت اس سے طلاق بائن ہوجاتی ہے کما مر(جیسا کہ گزرچکا ہے۔ ت)
۲دوم تو اب کوئی شوہر کرلے یا کسی سے آشنائی کر اس تردید کے جزء اول کا بھی یہی حکم ہے وقد مرایضا(اور یہ بھی گزرچکا۔ ت)
۳سوم مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں یہ لفظ بھی کنایات طلاق سے ہےکہ بشرط نیت اس سے
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
شرح الوقایہ باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۸۷
شرح الوقایہ باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۸۷
طلاق بائن ہوتی ہے۔ فتاوی قاضی خاں میں ہے :
ولوقال لم یبق بینی وبینك عمل یقع الطلاق اذانوی ۔
اگریوں کہا کہ “ تیرے اور میرے درمیان کوئی عمل نہ رہا “ جب طلاق کی نیت سے ہو طلاق واقع ہوگی۔ (ت)
پس اگرجملہ یا بعض الفاظ مذکورہ بہ نیت طلاق کے کہے طلاق بائن واقع ہوئی بے تجدید نکاح کے مباشرت عورت سے حرام ہے۔ تنویر الابصار میں ہے :
البائن یلحق الصریح لاالبائن الااذا ۔
بائن طلاق صریح کو لاحق ہوسکتی ہے بائن کو نہیں مگر جب۔ (ت)
(جواب ناقص ملا)
مسئلہ۲۹۳ : ازشہر کہنہ ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے اپنی زوجہ سے جس کا نام ہندہ اور جو کئی سال سے اس کے نکاح میں تھی بغرض اپنی شادی دوسری جگہ کرنے کے اس کو طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کیں اوربجبر اس پر تہمت زنا کی لگاکر ایك پرچہ تحریر کیا اور پر چہ اپنے قلمدان میں رکھا اس روز ہندہ کو سختی ایسی دی کہ زید کے وارثان نے ہندہ کے وارثوں کو خبر دی کہ تم اپنی لڑکی کو اپنے گھر لے جاؤ وہ سخت تکلیف میں ہے۔ اس پر ہندہ کی ماں ہندہ کو اپنے گھر لے آئی اور پرچہ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے وہ بھی ہندہ اپنے ساتھ لائی اس پر ہندہ کے وارثوں نے ایك مجمع عام میں زید کو ایسے کلمات کی تحریر سے نصیحۃ فہمائش کی بجواب اس کے زید نے کہا کہ میں نے چھوڑا مجھے کچھ تعلق نہیں جو اسباب ہندہ کا ہے ابھی مجھ سے لے لو۔ ہندہ کے وارثوں نے دوشخصوں کو زید کے پاس ہندہ کا اسباب لینے کو بھیجا زید نے کل اسباب دے دیا ان لوگوں نے ہندہ کے حوالہ کردیا ہندہ نے کہا کہ میرا زیور باقی ہے وہ بھی لاؤ ۔ وہ ہی شخص زیور لینے زید کے پاس گئے زید نے زیورکا وعدہ کیا کہ بیس۲۰روزمیں دوں گا۔ چنانچہ زید نے بیسویں روز روبرو چار آدمیوں کے کل زیور دے دیا اور پھر کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں ۔ اس صورت میں زیدنے دومرتبہ یہ کلمہ کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں ۔ منشا زید کا ان کلمات سے ظاہر ہے۔ عرصہ چار سال ہوا جب سے اس وقت تك کچھ تعلق نہیں رکھا۔ اس صورت میں شرعا ہندہ پر طلاق واقع ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ہندہ پر طلاق پڑجانے اور نکاح زید سے باہر ہوجانے کا حکم دیا جائےگا ہاں
ولوقال لم یبق بینی وبینك عمل یقع الطلاق اذانوی ۔
اگریوں کہا کہ “ تیرے اور میرے درمیان کوئی عمل نہ رہا “ جب طلاق کی نیت سے ہو طلاق واقع ہوگی۔ (ت)
پس اگرجملہ یا بعض الفاظ مذکورہ بہ نیت طلاق کے کہے طلاق بائن واقع ہوئی بے تجدید نکاح کے مباشرت عورت سے حرام ہے۔ تنویر الابصار میں ہے :
البائن یلحق الصریح لاالبائن الااذا ۔
بائن طلاق صریح کو لاحق ہوسکتی ہے بائن کو نہیں مگر جب۔ (ت)
(جواب ناقص ملا)
مسئلہ۲۹۳ : ازشہر کہنہ ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے اپنی زوجہ سے جس کا نام ہندہ اور جو کئی سال سے اس کے نکاح میں تھی بغرض اپنی شادی دوسری جگہ کرنے کے اس کو طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کیں اوربجبر اس پر تہمت زنا کی لگاکر ایك پرچہ تحریر کیا اور پر چہ اپنے قلمدان میں رکھا اس روز ہندہ کو سختی ایسی دی کہ زید کے وارثان نے ہندہ کے وارثوں کو خبر دی کہ تم اپنی لڑکی کو اپنے گھر لے جاؤ وہ سخت تکلیف میں ہے۔ اس پر ہندہ کی ماں ہندہ کو اپنے گھر لے آئی اور پرچہ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے وہ بھی ہندہ اپنے ساتھ لائی اس پر ہندہ کے وارثوں نے ایك مجمع عام میں زید کو ایسے کلمات کی تحریر سے نصیحۃ فہمائش کی بجواب اس کے زید نے کہا کہ میں نے چھوڑا مجھے کچھ تعلق نہیں جو اسباب ہندہ کا ہے ابھی مجھ سے لے لو۔ ہندہ کے وارثوں نے دوشخصوں کو زید کے پاس ہندہ کا اسباب لینے کو بھیجا زید نے کل اسباب دے دیا ان لوگوں نے ہندہ کے حوالہ کردیا ہندہ نے کہا کہ میرا زیور باقی ہے وہ بھی لاؤ ۔ وہ ہی شخص زیور لینے زید کے پاس گئے زید نے زیورکا وعدہ کیا کہ بیس۲۰روزمیں دوں گا۔ چنانچہ زید نے بیسویں روز روبرو چار آدمیوں کے کل زیور دے دیا اور پھر کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں ۔ اس صورت میں زیدنے دومرتبہ یہ کلمہ کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں ۔ منشا زید کا ان کلمات سے ظاہر ہے۔ عرصہ چار سال ہوا جب سے اس وقت تك کچھ تعلق نہیں رکھا۔ اس صورت میں شرعا ہندہ پر طلاق واقع ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ہندہ پر طلاق پڑجانے اور نکاح زید سے باہر ہوجانے کا حکم دیا جائےگا ہاں
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۶
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۵
اگرلفظ جو زید نےکہے اسی قدر ہیں اور اس حالت میں وہ حلف شرعی کے ساتھ بیان کرے کہ میں نے یہ الفاظ ہندہ کی نسبت نہ کہے تھے اسے چھوڑنا مراد نہ تھا تو وقوع طلاق کا حکم نہ دیں گے پھر اگر وہ اپنے اس حلف میں جھوٹا ہوتو اس کا وبال اور عذاب الہی کا استحقاق زید ہی پر رہے گا ہندہ پر الزام نہ آئے گا
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر تو زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لا یقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا اھ وفی البزازیۃ والخانیۃ فی قولہ لا تخرجی من الدارالاباذنی فانی حلفت بالطلاق انہ یحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول قولہ اھ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں خلاصہ سے اور وہاں فتاوی سے منقول ہے اگر کسی نے بیوی کو کہا “ اگر توعورت ہے تو مجھ سے تین طلاق “ عورت کے ساتھ یاء نسبت کو ذکر نہ کیا تو پھر کہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق نہ ہوگی اس نے جب یاء کو حذف کردیا تو اب طلاق بیوی کی طرف منسوب نہ ہوئی اھ۔ بزازیہ اور خانیہ میں ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیرمت نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو اس میں خاوند کی وضاحت معتبر ہوگی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے کسی اور کی طلاق مراد لے کر قسم کھائی ہواھ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۹۴ : ازقصبہ ولی تحصیل آنولہ ضلع بریلی مرسلہ مسماۃ محمودی بنت شیخ علیم اﷲ ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسمی ولایت خاں شوہر(مجھ مسماۃ محمودی)نے عرصہ دراز سے مجھ کو چھوڑدیا ہے نہ مجھ کو نان نفقہ دیتا ہے میں بوجہ نہ ملنے نان ونفقہ کے بہت تکلیف میں ہوں لہذا میں بھی اس شخص سے بوجہ تارك الصلوۃ ونیزنہ دینے نان ونفقہ کے ناخوش ہوں چنانچہ ایك پرچہ نوٹس ناخوشی شوہر مذکور کا میرے پاس آیا وہ ہمرشتہ سوال ہذاہے امید کہ برائے خدائے علمائے دین بموجب شرع شریف حکم آزادگی کا ارقام فرمائیں تاکہ میں نکاح اپنا کسی شخص صالح سےکرلوں اور عمر میری بسر ہو عبارت نوٹس یہ ہے کہ پرچہ نوٹس آپ کا دربارہ نالشی متذکرہ نان ونفقہ دختر آپ کی کا یعنی محمودی کا آیا اس کاجواب یہ ہے کہ جب تك آپ کی لڑکی میرے گھر رہی تب تك آپ میرے خسررہے جس روز سے کہ اس کو میں نے آزاد
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر تو زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لا یقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا اھ وفی البزازیۃ والخانیۃ فی قولہ لا تخرجی من الدارالاباذنی فانی حلفت بالطلاق انہ یحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول قولہ اھ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں خلاصہ سے اور وہاں فتاوی سے منقول ہے اگر کسی نے بیوی کو کہا “ اگر توعورت ہے تو مجھ سے تین طلاق “ عورت کے ساتھ یاء نسبت کو ذکر نہ کیا تو پھر کہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق نہ ہوگی اس نے جب یاء کو حذف کردیا تو اب طلاق بیوی کی طرف منسوب نہ ہوئی اھ۔ بزازیہ اور خانیہ میں ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیرمت نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو اس میں خاوند کی وضاحت معتبر ہوگی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے کسی اور کی طلاق مراد لے کر قسم کھائی ہواھ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۹۴ : ازقصبہ ولی تحصیل آنولہ ضلع بریلی مرسلہ مسماۃ محمودی بنت شیخ علیم اﷲ ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسمی ولایت خاں شوہر(مجھ مسماۃ محمودی)نے عرصہ دراز سے مجھ کو چھوڑدیا ہے نہ مجھ کو نان نفقہ دیتا ہے میں بوجہ نہ ملنے نان ونفقہ کے بہت تکلیف میں ہوں لہذا میں بھی اس شخص سے بوجہ تارك الصلوۃ ونیزنہ دینے نان ونفقہ کے ناخوش ہوں چنانچہ ایك پرچہ نوٹس ناخوشی شوہر مذکور کا میرے پاس آیا وہ ہمرشتہ سوال ہذاہے امید کہ برائے خدائے علمائے دین بموجب شرع شریف حکم آزادگی کا ارقام فرمائیں تاکہ میں نکاح اپنا کسی شخص صالح سےکرلوں اور عمر میری بسر ہو عبارت نوٹس یہ ہے کہ پرچہ نوٹس آپ کا دربارہ نالشی متذکرہ نان ونفقہ دختر آپ کی کا یعنی محمودی کا آیا اس کاجواب یہ ہے کہ جب تك آپ کی لڑکی میرے گھر رہی تب تك آپ میرے خسررہے جس روز سے کہ اس کو میں نے آزاد
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۵
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۵
کرکے معہ جملہ اسباب جہیز وغیرہ اس کے ہمراہ کردیا گیا اور آپ کے گھربھیج دیا گیا مجھ سے اور اس سے کچھ تعلق شرعا نہیں رہا نہ اس کا کوئی سامان میرے ذمہ باقی رہا بلکہ اس روز بہت پنچان قصبہ سرولی کے موجود تھے وہ بھی اس امر کے گواہ ہیں اگر مجھ سے اور مسماۃ مذکور سے کچھ تعلق ہوتا تو میں ضرور اس کے نان ونفقہ کی فکر کرتا آپ کیوں برابر تحریر کرتے ہیں اب آپ کے نوٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ پھر پنچان جمع کرکے میرے مکان پر لانے والے ہیں اگر آپ نے ایسا کیاتو مجھ سے اور آپ سے رنج حد کو پہنچے گا لہذا اب آپ پنچان کے جمع کرنے کا ارادہ نہ کریں اس واسطے نوٹس دیا گیا مطلع رہو۔ ازمقام دھنورہ مرسلہ ولایت خاں ۲۱ / اکتوبر ۱۹۲۰ء۔
الجواب :
عبارت نوٹس سے(کہ جب تك میرے گھر رہی آپ میرے خسر رہے جس روز سے اس کو میں نے آزاد کرکے آپ کے گھر بھیج دیا)صاف اقرار طلاق ظاہر ہے
اعتاق المرأۃ وان کانت من الکنایات فلایتحمل رداولاسباکمالایخفی وفی الدر المختار انت حرۃ لا یحتمل السب والرد قال الشامی واعتقتك مثل انت حرۃ کما فی الفتح والحالۃ کماتری حالۃ الغضب فلایفھم فی الحکم الاالطلاق والمرأۃ کالقاضی کمافی الفتح وغیرہ۔
بیوی کو “ آزاد ہے “ کہنا اگرچہ الفاظ کنایہ میں سے ہے تاہم یہ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا اور صرف طلاق مراد ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں ہے درمختار میں ہے : بیوی کو کہنا “ توآزاد ہے “ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا اور اس پرعلامہ شامی نے فرمایا “ میں نے تجھے آزاد کیا “ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے “ توآزاد ہے “ جیسا کہ فتح میں ہے اور حالت بھی غصہ کی ہوتو پھر طلاق ہی حکم سمجھاجاسکتا ہے اس میں عورت قاضی کی مانند ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔ (ت)
پس اگر گواہان شرعی سے ثابت ہوکہ یہ نوٹس اسی کا لکھا ہوا ہے یا وہ مقر ہوتو ایك طلاق بائن واقع ہوگئی اور وقت تحریر نوٹس سے عدت لی جائے گی اگرچہ ہندہ بھی تسلیم کرتی ہوکہ جس وقت اس نے گھر سے نکالا تھا طلاق دے دی تھی جس کا اقرار اس نوٹس میں ہے ہا ں اگر ہندہ گھر سے نکالتے وقت
الجواب :
عبارت نوٹس سے(کہ جب تك میرے گھر رہی آپ میرے خسر رہے جس روز سے اس کو میں نے آزاد کرکے آپ کے گھر بھیج دیا)صاف اقرار طلاق ظاہر ہے
اعتاق المرأۃ وان کانت من الکنایات فلایتحمل رداولاسباکمالایخفی وفی الدر المختار انت حرۃ لا یحتمل السب والرد قال الشامی واعتقتك مثل انت حرۃ کما فی الفتح والحالۃ کماتری حالۃ الغضب فلایفھم فی الحکم الاالطلاق والمرأۃ کالقاضی کمافی الفتح وغیرہ۔
بیوی کو “ آزاد ہے “ کہنا اگرچہ الفاظ کنایہ میں سے ہے تاہم یہ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا اور صرف طلاق مراد ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں ہے درمختار میں ہے : بیوی کو کہنا “ توآزاد ہے “ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا اور اس پرعلامہ شامی نے فرمایا “ میں نے تجھے آزاد کیا “ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے “ توآزاد ہے “ جیسا کہ فتح میں ہے اور حالت بھی غصہ کی ہوتو پھر طلاق ہی حکم سمجھاجاسکتا ہے اس میں عورت قاضی کی مانند ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔ (ت)
پس اگر گواہان شرعی سے ثابت ہوکہ یہ نوٹس اسی کا لکھا ہوا ہے یا وہ مقر ہوتو ایك طلاق بائن واقع ہوگئی اور وقت تحریر نوٹس سے عدت لی جائے گی اگرچہ ہندہ بھی تسلیم کرتی ہوکہ جس وقت اس نے گھر سے نکالا تھا طلاق دے دی تھی جس کا اقرار اس نوٹس میں ہے ہا ں اگر ہندہ گھر سے نکالتے وقت
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۵
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۵
طلاق دینے کی مقر ہے اور اس وقت سے تحریر نوٹس کے وقت تك اتنازمانہ گزرگیا جس میں عدت منقضی ہوتو عدت تو محمودی کو روز تحریرنوٹس ہی سے کرنی پڑے گی مگر اس عدت کا نفقہ شوہر سے نہ پائے گی۔
مواخذۃ علیھا باقرارھا وان امرہ الشرع بالعدۃ قطعاللتزویر۔
یہ بیوی کے اپنے اقرار پر مواخذہ ہے اگرچہ شرع نے اس کو عدت کا حکم دیا ہے کیونکہ جھوٹ ہوسکتا ہے۔ (ت)
اگر محمودی اس وقت طلاق دئے جانے کی مقر نہیں تو اس عدت کے ایام کا نفقہ بھی شوہر سے پائے گی
لان نفقۃ عدۃ الطلاق علی الزوج بالنص وبہ ظھر ضعف مافی الخیریۃ۔
فی الخیریۃ سئل فی رجل فرض علیہ القاضی نفقۃ وکسوۃ لزوجتہ و مضت مدۃ فادعی طلاقھا منذ زمان اجاب ان کذبتہ فی الاسناد ولم تقم بینۃ کان علیھا العدۃ من وقت الدعوی ولھا فیھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فلانفقۃ لھاو لا سکنی (ملخصا) واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ طلاق کی عدت میں نفقہ خاوند پر نص کی وجہ سے ثابت ہواہے اس سے خیریہ کے بیان کا ضعف واضح ہوگیا ہے(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے سوال کیا گیا کہ ایك شخص پر اس کی بیوی کا نفقہ اور لباس قاضی نے لازم کیا اور کچھ مدت گزرنے پرخاوند نے یہ دعوی کیا کہ میں نے بیوی کو مدت سے طلاق دے رکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر عورت خاوند کے اس دعوی کو دلیل سے جھوٹ ثابت کردے اور گواہ پیش نہ کرسکے تو بیوی پر دعوی کے وقت سے عدت لازم ہوجائے گی اور عدت میں اس کو نفقہ اور رہائش ملے گی اور اگر بیوی خاوند کے دعوے کو سچ قرار دے تو پھر عدت میں نفقہ اور رہائش نہ ملے گی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مواخذۃ علیھا باقرارھا وان امرہ الشرع بالعدۃ قطعاللتزویر۔
یہ بیوی کے اپنے اقرار پر مواخذہ ہے اگرچہ شرع نے اس کو عدت کا حکم دیا ہے کیونکہ جھوٹ ہوسکتا ہے۔ (ت)
اگر محمودی اس وقت طلاق دئے جانے کی مقر نہیں تو اس عدت کے ایام کا نفقہ بھی شوہر سے پائے گی
لان نفقۃ عدۃ الطلاق علی الزوج بالنص وبہ ظھر ضعف مافی الخیریۃ۔
فی الخیریۃ سئل فی رجل فرض علیہ القاضی نفقۃ وکسوۃ لزوجتہ و مضت مدۃ فادعی طلاقھا منذ زمان اجاب ان کذبتہ فی الاسناد ولم تقم بینۃ کان علیھا العدۃ من وقت الدعوی ولھا فیھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فلانفقۃ لھاو لا سکنی (ملخصا) واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ طلاق کی عدت میں نفقہ خاوند پر نص کی وجہ سے ثابت ہواہے اس سے خیریہ کے بیان کا ضعف واضح ہوگیا ہے(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے سوال کیا گیا کہ ایك شخص پر اس کی بیوی کا نفقہ اور لباس قاضی نے لازم کیا اور کچھ مدت گزرنے پرخاوند نے یہ دعوی کیا کہ میں نے بیوی کو مدت سے طلاق دے رکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر عورت خاوند کے اس دعوی کو دلیل سے جھوٹ ثابت کردے اور گواہ پیش نہ کرسکے تو بیوی پر دعوی کے وقت سے عدت لازم ہوجائے گی اور عدت میں اس کو نفقہ اور رہائش ملے گی اور اگر بیوی خاوند کے دعوے کو سچ قرار دے تو پھر عدت میں نفقہ اور رہائش نہ ملے گی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۵
مسئلہ۲۹۵ :
ماقولکم رحمکم اﷲ فی ھذہ المسئلۃ نکاح زید باہندہ حسب آئین شرع محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم منعقد گشت بعد چند روز ہندہ راخلل جن واقع گردید از دعا ودواہیچ فاقہ نہ شد سالے بہ میں حال مبتلا ماند والدین ہندہ ہندہ رابرمکان خود آوردند ووالدین زید زیدرا نصیحت کردند کہ انقطاع واحترازاز صحبت ہندہ باید کرد مباداایں بلابرتوہم مستولی نشود زید نوعے خیال ایں سخن نکرد وخفیہ از والدین خود آمد وشد جاری داشت وقتیکہ والدین زید ازیں آمد وشد مطلع شدند زید راتنگ گرفتند وممانعت قطعی نمودند زید نصیحت وامتناع والدین کا رگرشد واز ہندہ انقطاع کلی کرد وہمدریں اثنا بفضل الہی ہندہ را صحت کلی حاصل گشت مگر زید از وانقطاع دارد وتا حال بہ ہندہ رجوع نگردید وارادہ رجوع ہم ندارد وتاسہ سال کامل نزدوالدین خود قیام نمودوتاحال موجود ست جملہ مصارف ہندہ متعلق والدین ہندہ ماند ووالدین ہندہ مفلوك الحال ومزدور پیشہ ہستند وزید از قرض نانے ہم باہندہ گاہے مسلوك نگشت ونمی شود بارہا گفتگوئے ایں بجانبین درمیان آمد الازید ووالدینش صاف جواب دادوگفت کہ(مارااز ہندہ مطلق سروکار نیست از جانب ماایں جواب صاف را طلاق فہمید)پس اندریں صورت نکاح ہندہ بادیگر کس کردن جائز خواہد شد یانہ علمائے
علمائے کرام آپ رحمکم اﷲتعالی کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ زید کاہندہ کے ساتھ شرع محمدی کے مطابق نکاح ہوا اس کے چند روز بعد ہندہ کو آسیب ہوگیا علاج ودعا کے باوجود ہندہ کوکوئی افاقہ نہ ہوا ایك سال اسی حال میں مبتلا رہی تو ہندہ کے والدین ہندہ کو اپنے گھر لے گئے اور زید کے والدین زید کو ہندہ سے انقطاع اور احتراز کی تاکید کرتے رہے تاکہ زید اس بیماری سے متاثر نہ ہو تو زید نے اپنے والدین کی اس نصیحت کی پروا نہ کرتے ہوئے خفیہ طور پر ہندہ کے پاس آناجانا جاری رکھا جب زید کے والدین کو اس پر اطلاع ہوئی تو انہوں نے زید کو سختی سے ا س میل جول سے منع کردیا او رزید نے والدین کی ممانعت پر عمل کرتے ہوئے ہندہ سے کلی طور انقطاع کرلیا اسی دوران اﷲکا فضل ہوا اور ہندہ بالکل تندرست ہوگئی مگر زید نے اپنا کلی انقطاع قائم رکھا اور اب تك اس نے ہندہ کی طرف رجوع نہ کیااورنہ ہی رجوع کا ارادہ رکھتا ہے اور دوتین سال سے والدین کے پاس ہی ہندہ تمام مصارف پورے کررہی ہے اور تمام بوجھ ہندہ کے والدین پر ہے جب کہ ہندہ کے والدین خود مفلوك الحال اور مزدور پیشہ ہیں اور زید نے کبھی ہندہ کے لئے روٹی کی ٹکیہ تك خرچہ نہ بھیجا متعدد بار فریقین میں معاملہ بنانے کی کوشش ہوئی مگر زید اور اس کے والدین نے صاف جواب دے دیا اور کہا ہمار ا ہندہ سے کوئی سروکار نہیں اور ہماری طرف سے یہ صاف
ماقولکم رحمکم اﷲ فی ھذہ المسئلۃ نکاح زید باہندہ حسب آئین شرع محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم منعقد گشت بعد چند روز ہندہ راخلل جن واقع گردید از دعا ودواہیچ فاقہ نہ شد سالے بہ میں حال مبتلا ماند والدین ہندہ ہندہ رابرمکان خود آوردند ووالدین زید زیدرا نصیحت کردند کہ انقطاع واحترازاز صحبت ہندہ باید کرد مباداایں بلابرتوہم مستولی نشود زید نوعے خیال ایں سخن نکرد وخفیہ از والدین خود آمد وشد جاری داشت وقتیکہ والدین زید ازیں آمد وشد مطلع شدند زید راتنگ گرفتند وممانعت قطعی نمودند زید نصیحت وامتناع والدین کا رگرشد واز ہندہ انقطاع کلی کرد وہمدریں اثنا بفضل الہی ہندہ را صحت کلی حاصل گشت مگر زید از وانقطاع دارد وتا حال بہ ہندہ رجوع نگردید وارادہ رجوع ہم ندارد وتاسہ سال کامل نزدوالدین خود قیام نمودوتاحال موجود ست جملہ مصارف ہندہ متعلق والدین ہندہ ماند ووالدین ہندہ مفلوك الحال ومزدور پیشہ ہستند وزید از قرض نانے ہم باہندہ گاہے مسلوك نگشت ونمی شود بارہا گفتگوئے ایں بجانبین درمیان آمد الازید ووالدینش صاف جواب دادوگفت کہ(مارااز ہندہ مطلق سروکار نیست از جانب ماایں جواب صاف را طلاق فہمید)پس اندریں صورت نکاح ہندہ بادیگر کس کردن جائز خواہد شد یانہ علمائے
علمائے کرام آپ رحمکم اﷲتعالی کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ زید کاہندہ کے ساتھ شرع محمدی کے مطابق نکاح ہوا اس کے چند روز بعد ہندہ کو آسیب ہوگیا علاج ودعا کے باوجود ہندہ کوکوئی افاقہ نہ ہوا ایك سال اسی حال میں مبتلا رہی تو ہندہ کے والدین ہندہ کو اپنے گھر لے گئے اور زید کے والدین زید کو ہندہ سے انقطاع اور احتراز کی تاکید کرتے رہے تاکہ زید اس بیماری سے متاثر نہ ہو تو زید نے اپنے والدین کی اس نصیحت کی پروا نہ کرتے ہوئے خفیہ طور پر ہندہ کے پاس آناجانا جاری رکھا جب زید کے والدین کو اس پر اطلاع ہوئی تو انہوں نے زید کو سختی سے ا س میل جول سے منع کردیا او رزید نے والدین کی ممانعت پر عمل کرتے ہوئے ہندہ سے کلی طور انقطاع کرلیا اسی دوران اﷲکا فضل ہوا اور ہندہ بالکل تندرست ہوگئی مگر زید نے اپنا کلی انقطاع قائم رکھا اور اب تك اس نے ہندہ کی طرف رجوع نہ کیااورنہ ہی رجوع کا ارادہ رکھتا ہے اور دوتین سال سے والدین کے پاس ہی ہندہ تمام مصارف پورے کررہی ہے اور تمام بوجھ ہندہ کے والدین پر ہے جب کہ ہندہ کے والدین خود مفلوك الحال اور مزدور پیشہ ہیں اور زید نے کبھی ہندہ کے لئے روٹی کی ٹکیہ تك خرچہ نہ بھیجا متعدد بار فریقین میں معاملہ بنانے کی کوشش ہوئی مگر زید اور اس کے والدین نے صاف جواب دے دیا اور کہا ہمار ا ہندہ سے کوئی سروکار نہیں اور ہماری طرف سے یہ صاف
ذوی الکرام ومفتیان ذوی الاحترام استفتاء رااز مواہیرودستخط بجواب صاف شرعیہ مزین فرمایند بینواتوجروا مکر را ینکہ گفتگو ے اووالدینش کہ آں برجواب صاف دادن مبنی ست جواز طلاق دادن رایانہ فقط جواب ہے اور اس کو طلاق سمجھا جائے تو کیا اندریں حالات ہندہ کا کسی دوسرے شخص سے نکاح جائز ہوگایانہیں علمائے کرام اور مفتیان ذوی الاحترام سے درخواست ہے کہ استفتاء کا جواب اپنے دستخطوں اور مہروں سے مزین فرماکر ماجور ہوں نیز مکررہے کہ زید اور اس کے والدین کا یہ کہناکہ “ ہمارے صاف جواب کو طلاق سمجھا جائے “ کو طلاق دینامتصور کیا جائے یانہیں فقط (ت)
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
در صورت مستفسرہ طلاق براں زن واقع نشد زیرا کہ سروکار نبودن جز اظہار بے غرضی وبے پروائی افادۃ معنی دیگر نمی کند واگر شوہر مرزنش راگوید مراباتوغرضے نیست یا پروائے تو نداریم یا تو مرابکار نیستی یا تومراچیزے نباشی یا میان من وتوچیزے نماندہ است ہرگز طلاق واقع نشود اگرچہ باینہاارادہ ونیت طلاق کردہ شد وپر ظاہر کہ سروکار نبودن بیش ازیں الفاظ نیست بلکہ علماء روشن گفتہ اند کہ اگر زن را گفت تو مرابیگانہ ایں ہم لغوو مہمل باشد پس لفظ مذکور فی السؤال اولی باہمال
فی العلمگیریۃ لوقال لاحاجۃ لی الیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق(وفیھا)اذا قال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہم
اے اﷲ! حق کی رہنما ئی فرما۔ (ت)
مسئولہ صورت میں عورت کوطلاق نہ ہوئی کیونکہ سروکار نہ ہونا بے غرضی بے پروائی کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اگر شوہر خاص بیوی کو کہے “ مجھے تجھ سے غرض نہیں میں تیری پروا نہیں رکھتا تو میرے کام کی نہیں تو میرے لئے کوئی چیز نہیں یا تیرے اورمیرے درمیان کوئی چیز باقی نہیں رہی “ تب بھی ہرگز طلاق نہ ہوگی اگرچہ یہ الفاظ طلاق کی نیت سے بھی کہہ دے اور طلاق کی نیت کرے تو “ سروکار نہیں “ ان مذکورہ الفاظ سے زیادہ سخت نہیں بلکہ مشہور علماء کاارشاد ہے کہ اگر خاوند بیوی کویہ کہے “ تومیرے لئے بیگانی ہے “ تو یہ مہمل اور لغوکلام ہوگی تو سوال میں مذکور الفاظ بطریق اولی مہمل ہیں عالمگیری میں ہے کہ خاوند بیوی کوکہے “ مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں “ اور طلاق کی نیت کرے تو بھی طلاق نہ ہوگی۔ اور اسی میں ہے اگر یوں کہے کہ “ میں تجھے نہیں چاہتا میں تجھے پسند نہیں کرتا میں تجھ سے خواہش نہیں رکھتا “ یا کہے “ مجھے تجھ میں کوئی رغبت
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
در صورت مستفسرہ طلاق براں زن واقع نشد زیرا کہ سروکار نبودن جز اظہار بے غرضی وبے پروائی افادۃ معنی دیگر نمی کند واگر شوہر مرزنش راگوید مراباتوغرضے نیست یا پروائے تو نداریم یا تو مرابکار نیستی یا تومراچیزے نباشی یا میان من وتوچیزے نماندہ است ہرگز طلاق واقع نشود اگرچہ باینہاارادہ ونیت طلاق کردہ شد وپر ظاہر کہ سروکار نبودن بیش ازیں الفاظ نیست بلکہ علماء روشن گفتہ اند کہ اگر زن را گفت تو مرابیگانہ ایں ہم لغوو مہمل باشد پس لفظ مذکور فی السؤال اولی باہمال
فی العلمگیریۃ لوقال لاحاجۃ لی الیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق(وفیھا)اذا قال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہم
اے اﷲ! حق کی رہنما ئی فرما۔ (ت)
مسئولہ صورت میں عورت کوطلاق نہ ہوئی کیونکہ سروکار نہ ہونا بے غرضی بے پروائی کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اگر شوہر خاص بیوی کو کہے “ مجھے تجھ سے غرض نہیں میں تیری پروا نہیں رکھتا تو میرے کام کی نہیں تو میرے لئے کوئی چیز نہیں یا تیرے اورمیرے درمیان کوئی چیز باقی نہیں رہی “ تب بھی ہرگز طلاق نہ ہوگی اگرچہ یہ الفاظ طلاق کی نیت سے بھی کہہ دے اور طلاق کی نیت کرے تو “ سروکار نہیں “ ان مذکورہ الفاظ سے زیادہ سخت نہیں بلکہ مشہور علماء کاارشاد ہے کہ اگر خاوند بیوی کویہ کہے “ تومیرے لئے بیگانی ہے “ تو یہ مہمل اور لغوکلام ہوگی تو سوال میں مذکور الفاظ بطریق اولی مہمل ہیں عالمگیری میں ہے کہ خاوند بیوی کوکہے “ مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں “ اور طلاق کی نیت کرے تو بھی طلاق نہ ہوگی۔ اور اسی میں ہے اگر یوں کہے کہ “ میں تجھے نہیں چاہتا میں تجھے پسند نہیں کرتا میں تجھ سے خواہش نہیں رکھتا “ یا کہے “ مجھے تجھ میں کوئی رغبت
اﷲتعالی (وفیھا)لوقال لم یبق بینی وبینك شیئ ونوی بہ الطلاق لایقع وفی الخلاصۃ قال تومرابیگانہ او قال لا حاجۃ لی فیك لایقع وان نوی وفی الھندیۃ ایضا سئل ابوبکر عن سکران قال لامرأتہ بیزارم بیزارم بیزارم تو مراچیزے نباشی الی قولہ ارجو انھا لاتطلق وھی امرأتہ وچوں ظاہر شد کہ ایں لفظ ازالفاظ طلاق نیست نہ صریح نہ کنایہ پس قول اوکہ از جانب ماایں جواب صاف را طلاق فہمند نیز لغو باشد زیر آکہ اوپیش از اظہار طلاق نیست پس گویا حاصل کلامش آن ست کہ چنیں گفتہ کہ بایں گفتن نیت طلاق کردم وخود اگر نیت مے کردکار گرنمی باشد کما اوضحناپس اظہار مہمل جز مہمل نباشد
قلت ولایمکن جعلہ طلاقا مبتدألانہ
نہیں “ تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے قول کے مطابق ہے۔ اور اسی میں ہے کہ اگر یوں کہا “ میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز باقی نہیں “ تو نیت طلاق کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ اور خلاصہ میں ہے اگر خاوند نے کہا تو میرے لئے بیگانی ہے یاکہے مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ عالمگیری میں ہے کہ علامہ ابوبکر سے نشہ والے کے بارے میں سوال کیا گیا اس نے اپنی بیوی کو کہا “ میں بیزار ہوں میں بیزار ہوں میں بیزار ہوں 'تو میرے لئے کچھ نہیں “ تو انہوں نے جواب میں بیان فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ طلاق نہ ہوگی اور بیوی بحال رہے گی۔ تو واضح ہوگیا کہ سوال میں مذکور لفظ صریح یا کنایہ طلاق کالفظ نہیں ہے تو ان کا کہنا کہ “ ہمارا صاف جواب طلاق سمجھاجائے “ بھی لغو اور مہمل ہے کیونکہ اس سے قبل زید کی طرف سے طلاق کاکوئی اظہار نہیں تو اس کی کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ گویا اس نے کہا “ میں نے اس بات سے طلاق کی نیت کی ہے “ اور نیت بھی کرے تب بھی طلاق کےلئے کارگرنہیں ہے جیسا کہ واضح ہوچکا ہے پس یہ مہمل
قلت ولایمکن جعلہ طلاقا مبتدألانہ
نہیں “ تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالی کے قول کے مطابق ہے۔ اور اسی میں ہے کہ اگر یوں کہا “ میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز باقی نہیں “ تو نیت طلاق کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ اور خلاصہ میں ہے اگر خاوند نے کہا تو میرے لئے بیگانی ہے یاکہے مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ عالمگیری میں ہے کہ علامہ ابوبکر سے نشہ والے کے بارے میں سوال کیا گیا اس نے اپنی بیوی کو کہا “ میں بیزار ہوں میں بیزار ہوں میں بیزار ہوں 'تو میرے لئے کچھ نہیں “ تو انہوں نے جواب میں بیان فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ طلاق نہ ہوگی اور بیوی بحال رہے گی۔ تو واضح ہوگیا کہ سوال میں مذکور لفظ صریح یا کنایہ طلاق کالفظ نہیں ہے تو ان کا کہنا کہ “ ہمارا صاف جواب طلاق سمجھاجائے “ بھی لغو اور مہمل ہے کیونکہ اس سے قبل زید کی طرف سے طلاق کاکوئی اظہار نہیں تو اس کی کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ گویا اس نے کہا “ میں نے اس بات سے طلاق کی نیت کی ہے “ اور نیت بھی کرے تب بھی طلاق کےلئے کارگرنہیں ہے جیسا کہ واضح ہوچکا ہے پس یہ مہمل
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۹۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۹۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۳
ارشاد الی غیر معتبرشرعا وما لم یعتبر شرعا فلیس فی وسع احدان یجعلہ معتبرا قال فی الدرالمحتار لا یقع طلاق النائم ولوقال اجزتہ اواوقعتہ لایقع لانہ اعاد الضمیرالی غیر معتبرجوہرۃ اھ وقد صرح بالجزئیۃ فی الخانیۃ حیث قال قال لھا احسبی انك طالق لایقع وان نوی اھ ملخصا پس درصورت مذکورہ زنہار روانیست کہ ہندہ بامردے دگرنکاح کند ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
برائے مہمل ہے۔ قلت(میں کہتا ہوں ۔ ت)اس گفتگو کو ابتداء طلاق قرار دینا درست نہیں کیونکہ شرعی طور پر غیر معتبر لفظ سے اشارہ ہے اور جو شرعا غیر معتبر ہواس کوکوئی بھی معتبر نہیں بناسکتا درمختار میں فرمایا کہ سوئے ہوئے کی طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ وہ بیدار ہوکر کہے کہ میں نے اسے جائز قرار دیا ہے یا اس کو واقع کرتا ہوں تو پھر بھی نہ ہوگی کیونکہ وہ جس کلام کو واقع کرنا چاہتا ہے وہ نیند کی کلام ہے جو غیر معتبر ہے جوہرہ اھ۔ اورخانیہ میں اس خاص جزئیہ کی تصریح کی ہے کہ اگر خاوند بیوی کو کہے تو یہ خیال کرلے کہ توطلاق والی ہے تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے بھی کہے اھ ملخصا لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ کو ہرگز جائز نہیں کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ یہ میری تحقیق ہے حقیقی علم اﷲتعالی رب العزت کو ہے۔
واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۹۶ : ۵ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچہری میں اپنی بی بی کی نسبت بیان کیا کہ میرا اس سے نکاح نہیں ہوا اور اس کی اولاد میرے نطفہ سے نہیں ہے اورحاکم نے بموجب بیان کے مقدمہ کو فیصل کرکے اس کی بی بی اور اس کی اولاد قرار نہ دی حالانکہ نکاح اس کا درحقیقت اسی عورت سے ہوچکا تھا اب شرعا نکاح اس کا جائز رہایانہ رہا اور اولاد اس کی فوت ہونے کے بعد اس کا ترکہ پائے گی یانہ پائے گی اور بعد حنث اس شخص پرکفارہ یمین عائد ہوگا یا نہیں بینواتوجروا۔
برائے مہمل ہے۔ قلت(میں کہتا ہوں ۔ ت)اس گفتگو کو ابتداء طلاق قرار دینا درست نہیں کیونکہ شرعی طور پر غیر معتبر لفظ سے اشارہ ہے اور جو شرعا غیر معتبر ہواس کوکوئی بھی معتبر نہیں بناسکتا درمختار میں فرمایا کہ سوئے ہوئے کی طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ وہ بیدار ہوکر کہے کہ میں نے اسے جائز قرار دیا ہے یا اس کو واقع کرتا ہوں تو پھر بھی نہ ہوگی کیونکہ وہ جس کلام کو واقع کرنا چاہتا ہے وہ نیند کی کلام ہے جو غیر معتبر ہے جوہرہ اھ۔ اورخانیہ میں اس خاص جزئیہ کی تصریح کی ہے کہ اگر خاوند بیوی کو کہے تو یہ خیال کرلے کہ توطلاق والی ہے تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے بھی کہے اھ ملخصا لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ کو ہرگز جائز نہیں کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ یہ میری تحقیق ہے حقیقی علم اﷲتعالی رب العزت کو ہے۔
واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۹۶ : ۵ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچہری میں اپنی بی بی کی نسبت بیان کیا کہ میرا اس سے نکاح نہیں ہوا اور اس کی اولاد میرے نطفہ سے نہیں ہے اورحاکم نے بموجب بیان کے مقدمہ کو فیصل کرکے اس کی بی بی اور اس کی اولاد قرار نہ دی حالانکہ نکاح اس کا درحقیقت اسی عورت سے ہوچکا تھا اب شرعا نکاح اس کا جائز رہایانہ رہا اور اولاد اس کی فوت ہونے کے بعد اس کا ترکہ پائے گی یانہ پائے گی اور بعد حنث اس شخص پرکفارہ یمین عائد ہوگا یا نہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۸
قاضی خان کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۰
قاضی خان کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۰
الجواب :
سائل مظہر کہ شخص مذکور نے انگریزی کچہری میں کسی مصلحت سے ایسا اظہار حلفی دیا پس صورت مستفسرہ میں وہ شخص جھوٹے حلف کا گنہگار ہوا توبہ استغفار کرے باقی نہ نکاح گیانہ کفارہ آیا نہ اولاد اس کے لئے ترکہ سے محروم ہوئی
امابقاء النکاح فلان جحودہ لایزیلہ والمقام ھھنا متعین للاخبار لانہ فی اظہار لاسیمامع الحلف بل اللفظ بنفسہ لایحتمل الانشاء کما لایخفی بخلاف قول القائل لست لی بامرأۃفلم یکن طلاقا اجماعا۔
نکاح کا باقی رہنا اس لئے کہ اس کا انکار نکاح کوموثر نہیں کرتا جبکہ یہ مقام بھی خبر دینے کے لئے متعین ہے کیونکہ یہ اظہار ہے اور وہ بھی حلف کے ساتھ ہے بلکہ خود لفظ بھی انشاء کا احتمال نہیں رکھتا جیسا کہ مخفی نہیں اس کے برخلاف اگر کوئی کہے کہ “ تومیری بیوی نہیں ہے تو یہ بالاجماع طلاق نہیں (باوجود یکہ یہ انشاء ہے)۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
ان قال لم اتزوجك ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع۔
اگرخاوند کہے “ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا “ تو بالاجماع طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی جیسا کہ بدائع میں ہے(ت)
اسی میں ہے :
اتفقواجمیعا انہ لوقال واﷲ ماانت لی بامرأۃ ولست واﷲ بامرأۃفانہ لایقع شیئ وان نوی کذافی السراج الوھاج ملخصا۔
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر خاوند کہے “ خدا کی قسم تومیری بیوی نہیں “ یایوں کہے “ خدا کی قسم میری بیوی نہیں “ تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج الوہاج میں ہے ملخصا۔ (ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے :
واما عدم الکفارۃ فلان المعھود فی محاکمھم غیر القسم وان کان فلاکفارۃ
اور لیکن کفارہ اس لئے نہیں کہ کچہری میں حلف کو قسم نہیں قرار دیاجاتا ہے اور اگر قسم ہوبھی تو
سائل مظہر کہ شخص مذکور نے انگریزی کچہری میں کسی مصلحت سے ایسا اظہار حلفی دیا پس صورت مستفسرہ میں وہ شخص جھوٹے حلف کا گنہگار ہوا توبہ استغفار کرے باقی نہ نکاح گیانہ کفارہ آیا نہ اولاد اس کے لئے ترکہ سے محروم ہوئی
امابقاء النکاح فلان جحودہ لایزیلہ والمقام ھھنا متعین للاخبار لانہ فی اظہار لاسیمامع الحلف بل اللفظ بنفسہ لایحتمل الانشاء کما لایخفی بخلاف قول القائل لست لی بامرأۃفلم یکن طلاقا اجماعا۔
نکاح کا باقی رہنا اس لئے کہ اس کا انکار نکاح کوموثر نہیں کرتا جبکہ یہ مقام بھی خبر دینے کے لئے متعین ہے کیونکہ یہ اظہار ہے اور وہ بھی حلف کے ساتھ ہے بلکہ خود لفظ بھی انشاء کا احتمال نہیں رکھتا جیسا کہ مخفی نہیں اس کے برخلاف اگر کوئی کہے کہ “ تومیری بیوی نہیں ہے تو یہ بالاجماع طلاق نہیں (باوجود یکہ یہ انشاء ہے)۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
ان قال لم اتزوجك ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع۔
اگرخاوند کہے “ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا “ تو بالاجماع طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی جیسا کہ بدائع میں ہے(ت)
اسی میں ہے :
اتفقواجمیعا انہ لوقال واﷲ ماانت لی بامرأۃ ولست واﷲ بامرأۃفانہ لایقع شیئ وان نوی کذافی السراج الوھاج ملخصا۔
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر خاوند کہے “ خدا کی قسم تومیری بیوی نہیں “ یایوں کہے “ خدا کی قسم میری بیوی نہیں “ تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج الوہاج میں ہے ملخصا۔ (ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے :
واما عدم الکفارۃ فلان المعھود فی محاکمھم غیر القسم وان کان فلاکفارۃ
اور لیکن کفارہ اس لئے نہیں کہ کچہری میں حلف کو قسم نہیں قرار دیاجاتا ہے اور اگر قسم ہوبھی تو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فی غموس واماعدم انتفاء نسب الولد حتی یحرموا من ترکۃ فلعدم تحقق اللعان ومجرد النفی لاینفی وان تصادق علیہ الزوجان۔
یہ یمین غموس ہے جس پر کفارہ لازم نہیں ہوتا (ماضی کے معاملہ میں جھوٹی قسم کو یمین غموس کہتے ہیں )باقی بچے کے نسب کا انتفاء اس لئے نہیں ہوگا کہ لعان کے بغیر نکاح کی نسبت منتفی نہیں ہوسکتی اورلعان کے بغیرنفی پر خاوند بیوی دونوں متفق ہوجائیں تب بھی اولاد کی نسب منتفی نہیں ہوسکتی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
من قذف زوجتہ ونفی نسب الولد منہ اومن غیرہ وطالبتہ بموجب القذف وھوالحد لاعن فان لاعنت بعدہ والاجست تلاعن او تصدقہ فان صدقہ لا ینتفی النسب لانہ حق الولد فلایصدقان فی ابطالہ اھ ملتقطا واﷲتعالی اعلم۔
جس نے بیوی پر زنا کی تہمت لگائی یا بچے کے نسب سے انکار کردیا یا بیوی کے پہلے خاوند سے بچے کے نسب کو اس کے والد سے منتفی کیا اور بیوی نے قاضی کے ہاں اس پر حدقذف کا دعوی کیا تو خاوند نے لعان کیا تو اس کے بعد اگر عورت نے لعان کیا تو بہتر ورنہ بیوی کو قید کیا جائےگا حتی کہ وہ لعان کے لئے تیار ہوجائے یا خاوند کی تصدیق کرے اور خاوند کی تصدیق کردی تو نسب منتفی نہ ہوگا کیونکہ یہ بچے کا حق ہے لہذا بچے کے حق کو باطل کرنے میں ان دونوں کی بات تسلیم نہ کی جائیگی اھ ملتقطا وا ﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۹۷ : ۱۹ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی منکوحہ سے دو۲بار کہا کہ “ تو میرے نکاح سے باہر ہے بجائے میری ماں بہن کے ہے “ آیا اس کی منکوحہ پر طلاق پڑی یانہیں اور یہ ظہار ہے یانہیں اور اگر طلاق ہوگئی تو رجعت ہوسکتی ہے یانہیں اور بعد رجعت کفارہ ظہار زوج کو ادا کرنا چاہئے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سائل نے عندالتفتیش بیان کیا کہ اس نے ایك جگہ جانے کے لئے اپنی زوجہ کو کہا تھا اس نے
یہ یمین غموس ہے جس پر کفارہ لازم نہیں ہوتا (ماضی کے معاملہ میں جھوٹی قسم کو یمین غموس کہتے ہیں )باقی بچے کے نسب کا انتفاء اس لئے نہیں ہوگا کہ لعان کے بغیر نکاح کی نسبت منتفی نہیں ہوسکتی اورلعان کے بغیرنفی پر خاوند بیوی دونوں متفق ہوجائیں تب بھی اولاد کی نسب منتفی نہیں ہوسکتی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
من قذف زوجتہ ونفی نسب الولد منہ اومن غیرہ وطالبتہ بموجب القذف وھوالحد لاعن فان لاعنت بعدہ والاجست تلاعن او تصدقہ فان صدقہ لا ینتفی النسب لانہ حق الولد فلایصدقان فی ابطالہ اھ ملتقطا واﷲتعالی اعلم۔
جس نے بیوی پر زنا کی تہمت لگائی یا بچے کے نسب سے انکار کردیا یا بیوی کے پہلے خاوند سے بچے کے نسب کو اس کے والد سے منتفی کیا اور بیوی نے قاضی کے ہاں اس پر حدقذف کا دعوی کیا تو خاوند نے لعان کیا تو اس کے بعد اگر عورت نے لعان کیا تو بہتر ورنہ بیوی کو قید کیا جائےگا حتی کہ وہ لعان کے لئے تیار ہوجائے یا خاوند کی تصدیق کرے اور خاوند کی تصدیق کردی تو نسب منتفی نہ ہوگا کیونکہ یہ بچے کا حق ہے لہذا بچے کے حق کو باطل کرنے میں ان دونوں کی بات تسلیم نہ کی جائیگی اھ ملتقطا وا ﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۹۷ : ۱۹ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی منکوحہ سے دو۲بار کہا کہ “ تو میرے نکاح سے باہر ہے بجائے میری ماں بہن کے ہے “ آیا اس کی منکوحہ پر طلاق پڑی یانہیں اور یہ ظہار ہے یانہیں اور اگر طلاق ہوگئی تو رجعت ہوسکتی ہے یانہیں اور بعد رجعت کفارہ ظہار زوج کو ادا کرنا چاہئے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سائل نے عندالتفتیش بیان کیا کہ اس نے ایك جگہ جانے کے لئے اپنی زوجہ کو کہا تھا اس نے
حوالہ / References
درمختار باب اللعان مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲۔ ۲۵۱
انکار کیا اس نے اصرار کیا آخرکہا “ اگر نہ جائے گی تو میرے نکاح سے باہر ہوجائے گی “ اس نے پھر بھی نہ مانا تو کہا “ تومیرے نکاح سے باہر ہوگئی توبجائے میری ماں بہن کے ہے “ اس صورت میں عورت پر ایك طلاق بائن پڑجانے کا حکم ہے
لان اللفظ من الکنایات کقولہ لم یبق بینی وبینك نکاح کما فی الھندیۃ وظاھر انہ لایصلح رداولاسبا والحالۃ حالۃ الغضب۔
کیونکہ یہ لفظ کنایات میں سے ہے جیسا کہ “ تیرے اور میرے درمیان نکاح نہیں “ جیسا کہ ہندیہ میں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتا اور حالت بھی غصہ والی ہے۔ (ت)
اور اب ظہار کاکوئی محل نہیں
فان الظہار یعتمد الزوجیۃ کما فی الدرالمختار وانہ بعد البینونۃ صادق فی بیان الحرمۃ کما فی رد المحتار ۔
کیونکہ ظہار نکاح میں ہوسکتا ہے جیسا کہ درمختار میں ہے اور خاوند طلاق بائن کے بعد اپنے بیان حرمت میں سچا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا گیا ہے۔ (ت)
تو کفارے کی حاجت نہیں اور صرف رجعت کی صورت نہیں بلکہ نکاح پھر کرے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۸ : ازرچھا تھانہ بہیٹری ضلع بریلی ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے بیٹوں سے ناخوش ہوا اور ان کو علیحدہ کردیا لوگ برادری کے جمع ہوئے کہ ان کو ایك جگہ جمع کردیں باپ یعنی زید کو سمجھانا شروع کیا اسی اثناء میں زید نے اپنی بی بی کی نسبت کہا کہ مجھ کو اس سے کوئی تعلق نہیں خواہ یہ اپنے لڑکوں میں رہے یا کسی جگہ چلی جائے میں لادعوی ہوں مجھ کو اس سےکچھ مطلب نہیں وہ برادری کے لوگ جو جمع تھے ان میں سے ایك شخص عمرو نے کہا کہ اے زید !خاموش ہو اپنی زبان کو روک یہ کیا کہتا ہے ایسے لفظ نہیں بولتے ہیں زید نے پھر دوبارہ سہ بارہ اسیطرح سےکہا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ مجھ کوکوئی دعوی نہیں جہاں چاہے چلی جائے مجھ کو کچھ تعلق نہیں غرض جوں جوں عمرو اس کو سمجھاتا تھااتنا ہی زید ان الفاظ کو بار بار کہتا تھا چار چھ مرتبہ ان سب کے روبرویہ الفاظ زید نے اپنی زبان سے نکالے اب زید چاہتا ہے کہ میں بی بی کو اپنے پاس رکھوں برادری کے بعض لوگ بھی کہتے ہیں کہ زید نے اس وقت غصے میں کہہ دیا تھا کچھ حرج نہیں اور چاہتے ہیں کہ میاں بی بی کا میل جول کرادے تو فرمائیے کہ اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں اور میاں بی بی کو خلط ملط
لان اللفظ من الکنایات کقولہ لم یبق بینی وبینك نکاح کما فی الھندیۃ وظاھر انہ لایصلح رداولاسبا والحالۃ حالۃ الغضب۔
کیونکہ یہ لفظ کنایات میں سے ہے جیسا کہ “ تیرے اور میرے درمیان نکاح نہیں “ جیسا کہ ہندیہ میں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتا اور حالت بھی غصہ والی ہے۔ (ت)
اور اب ظہار کاکوئی محل نہیں
فان الظہار یعتمد الزوجیۃ کما فی الدرالمختار وانہ بعد البینونۃ صادق فی بیان الحرمۃ کما فی رد المحتار ۔
کیونکہ ظہار نکاح میں ہوسکتا ہے جیسا کہ درمختار میں ہے اور خاوند طلاق بائن کے بعد اپنے بیان حرمت میں سچا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا گیا ہے۔ (ت)
تو کفارے کی حاجت نہیں اور صرف رجعت کی صورت نہیں بلکہ نکاح پھر کرے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۸ : ازرچھا تھانہ بہیٹری ضلع بریلی ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے بیٹوں سے ناخوش ہوا اور ان کو علیحدہ کردیا لوگ برادری کے جمع ہوئے کہ ان کو ایك جگہ جمع کردیں باپ یعنی زید کو سمجھانا شروع کیا اسی اثناء میں زید نے اپنی بی بی کی نسبت کہا کہ مجھ کو اس سے کوئی تعلق نہیں خواہ یہ اپنے لڑکوں میں رہے یا کسی جگہ چلی جائے میں لادعوی ہوں مجھ کو اس سےکچھ مطلب نہیں وہ برادری کے لوگ جو جمع تھے ان میں سے ایك شخص عمرو نے کہا کہ اے زید !خاموش ہو اپنی زبان کو روک یہ کیا کہتا ہے ایسے لفظ نہیں بولتے ہیں زید نے پھر دوبارہ سہ بارہ اسیطرح سےکہا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ مجھ کوکوئی دعوی نہیں جہاں چاہے چلی جائے مجھ کو کچھ تعلق نہیں غرض جوں جوں عمرو اس کو سمجھاتا تھااتنا ہی زید ان الفاظ کو بار بار کہتا تھا چار چھ مرتبہ ان سب کے روبرویہ الفاظ زید نے اپنی زبان سے نکالے اب زید چاہتا ہے کہ میں بی بی کو اپنے پاس رکھوں برادری کے بعض لوگ بھی کہتے ہیں کہ زید نے اس وقت غصے میں کہہ دیا تھا کچھ حرج نہیں اور چاہتے ہیں کہ میاں بی بی کا میل جول کرادے تو فرمائیے کہ اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں اور میاں بی بی کو خلط ملط
حوالہ / References
فتاویٰ ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
جائز ہے یانہیں یا جوبات عنداﷲ ہو بیان فرمائیے بینوا بالصدق والصواب وتوجروا عنداﷲیوم الحساب۔
الجواب :
“ مجھے اس سے کچھ مطلب نہیں “ کے سواباقی الفاظ کنایات طلاق سے ہیں ان کے کہنے میں اگر زید نے عورت کو طلاق دینے اور اپنے نکاح سے باہر کردینے کی نیت کی تھی تو ایك طلاق بائن ہوگئی
ولایتعدد بالتکرار لان الکنایۃ البائنۃ لاتلحق طلاقا بائنا کما فی البحر والدروغیرہا۔
اور یہ تکرار کی وجہ سے متعدد طلاقیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ کنایہ والی بائنہ طلاق پہلی بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی جیسا کہ بحر اور در وغیرہما میں ہے(ت)
اس صورت میں تو عورت کو رضا مندی کے ساتھ اس سے نکاح کرلے اور اگر یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیت سے نہ کہے تھے تو طلاق ہی نہ ہوئی عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے یہ بات کہ ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی تھی یا نہ کی تھی خود زید کے بیان سے معلوم ہوگی عورت اس سے قسم لے کرپوچھے اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو طلاق کا حکم نہ ہوگا
فی الدرالمختار ویکفی تحلیفہالہ فی منزلہ۔
درمختار میں ہے کہ عورت کا گھرمیں خاوند سے قسم لے لینا کافی ہے(ت)
اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال زید ہی پر ہے عورت الزام سے بری ہے اور اگر زید قسم کھانے سے انکارکردے یا صاف اقرار کردے کہ میں نے وہ الفاظ بنیت طلاق کہے تھے تو بغیر نکاح جدید کے ا ن میں میل جول نہیں ہوسکتا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۹ : ازسرولی پر گنہ آنولہ ضلع بریلی محلہ رنگریزاں مرسلہ مسیتن زوجہ وزیر بیگ ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھ مسماۃ مسیتن کو مرزا وزیر بیگ شوہر میرے نے عرصہ دراز سے ہر طرح کی تکلیف دے کر اپنے مکان سے نکال دیا ہے اور میں اپنے باپ کے گھر رہتی ہوں یہاں تك کہ میں نان شبینہ کو محتاج ہوں چنانچہ چند بار میں نے شوہر مذکور سے بابت نان ونفقہ بذریعہ تحریر طلب کیا سو اس کے جواب میں یہ نوٹس بھیجا جوہمرشتہ سوال ہذا ہے یقین ہے کہ ملاحظہ سے گزرا ہوگا لہذا امید ہوں کہ برائے عنداﷲ بموجب حکم شرع شریف کے اجازت ہوکہ میں اپنا نکاح کسی مرد صالح
الجواب :
“ مجھے اس سے کچھ مطلب نہیں “ کے سواباقی الفاظ کنایات طلاق سے ہیں ان کے کہنے میں اگر زید نے عورت کو طلاق دینے اور اپنے نکاح سے باہر کردینے کی نیت کی تھی تو ایك طلاق بائن ہوگئی
ولایتعدد بالتکرار لان الکنایۃ البائنۃ لاتلحق طلاقا بائنا کما فی البحر والدروغیرہا۔
اور یہ تکرار کی وجہ سے متعدد طلاقیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ کنایہ والی بائنہ طلاق پہلی بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی جیسا کہ بحر اور در وغیرہما میں ہے(ت)
اس صورت میں تو عورت کو رضا مندی کے ساتھ اس سے نکاح کرلے اور اگر یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیت سے نہ کہے تھے تو طلاق ہی نہ ہوئی عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے یہ بات کہ ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی تھی یا نہ کی تھی خود زید کے بیان سے معلوم ہوگی عورت اس سے قسم لے کرپوچھے اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو طلاق کا حکم نہ ہوگا
فی الدرالمختار ویکفی تحلیفہالہ فی منزلہ۔
درمختار میں ہے کہ عورت کا گھرمیں خاوند سے قسم لے لینا کافی ہے(ت)
اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال زید ہی پر ہے عورت الزام سے بری ہے اور اگر زید قسم کھانے سے انکارکردے یا صاف اقرار کردے کہ میں نے وہ الفاظ بنیت طلاق کہے تھے تو بغیر نکاح جدید کے ا ن میں میل جول نہیں ہوسکتا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۹ : ازسرولی پر گنہ آنولہ ضلع بریلی محلہ رنگریزاں مرسلہ مسیتن زوجہ وزیر بیگ ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھ مسماۃ مسیتن کو مرزا وزیر بیگ شوہر میرے نے عرصہ دراز سے ہر طرح کی تکلیف دے کر اپنے مکان سے نکال دیا ہے اور میں اپنے باپ کے گھر رہتی ہوں یہاں تك کہ میں نان شبینہ کو محتاج ہوں چنانچہ چند بار میں نے شوہر مذکور سے بابت نان ونفقہ بذریعہ تحریر طلب کیا سو اس کے جواب میں یہ نوٹس بھیجا جوہمرشتہ سوال ہذا ہے یقین ہے کہ ملاحظہ سے گزرا ہوگا لہذا امید ہوں کہ برائے عنداﷲ بموجب حکم شرع شریف کے اجازت ہوکہ میں اپنا نکاح کسی مرد صالح
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
کے ساتھ کرلوں جس سے قوت بسری میری متصور ہو فقط
نقل نوٹس : نوٹس بنام مسماۃ مسیتن دخیرخیراتی واضح ہو تم نے چند بار واسطے خرچ کے مجھ کو لکھا کہ مجھ کو خرچ کی سخت ضرورت ہے خوب بات ہے اگر تم بلااجازت میرے اپنی ماں کے گھر نہ چلی جاتیں تو میں تم کو خرچ کچھ نہ کچھ دیا کرتا اگرچہ میں پہلے ہی تم سے ازحد ناخوش ہوں مگر اب تو میرا بالکل ہی تم سے کچھ تعلق نہیں رہا مجھ سے تم کسی قسم کی امید مت رکھنا بلکہ تم کو اپنی ذات کا اختیار ہوچکا میں تم سے دست بردار ہوں زیادہ اور لکھوں فقط راقم وزیر بیگ از پیاس ۹جولائی ۱۹۰۴ء
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ایك طلاق بائن پڑنے کا حکم دیا جائے گا عورت اپنے آپ کو نکاح سے باہر سمجھے اور روز طلاق کے بعد تین حیض کامل شروع ہوکر ختم ہوجانے کے بعد اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے
لان نفی التعلق من بین کنایات التطلیق وکذا دست برداری ولا یحتملان ردا و لاسبا والحالۃ حالۃ الغضب فیحکم بالوقوع بل اللفظ الباقی ایضا کنایۃ عن التطلیق دون التفویض کما یعلم من یعرف اسالیب التحاور واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ کنایات میں تعلق کی نفی کو طلاق دینا قرار دیاگیا ہے اور یونہی “ دستبردارہونا “ کا حکم ہے یہ دونوں لفظ جواب اور ڈانٹ کا احتمال نہیں رکھتے اور حالت بھی غصہ والی ہے اس لئے طلاق واقع ہونے کا حکم ہوگا اور اسی طرح باقی الفاظ بھی کنایہ والے ہیں جن سے طلاق ہی مراد ہوتی ہے اور ان سے بیوی کو اختیار دینا نہیں ہوتا جیسا کہ محاورات کے مفہومات کو سمجھنے والا ہر شخص جانتا ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت اور اس کا مرد یعنی خاوند اس کا میاں بی بی میں جھگڑا اور فساد ہوا اور غصہ تھا اس غصہ کی حالت میں عورت نے کہا مجھ کو طلاق دے دو اس کے میاں نے غصہ کی حالت میں تین بار کہا تو ہماری بہن ہوچکی تو ہماری بہن ہوچکی تو ہماری بہن ہوچکی۔ اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں جب غصہ اترا تو خیال کیا یہ ہم نے کیا کہافقط۔ یہ واقعہ ہوا ہے ایك نومبر ۱۹۰۶ء کو آج پانچواں دن ہے۔
الجواب :
تین طلاق کی اس صورت میں اصلا گنجائش نہیں
لانہ کان بائنا والبائن لایلحق البائن
کیونکہ اگر بائنہ ہوتو وہ پہلی بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی
نقل نوٹس : نوٹس بنام مسماۃ مسیتن دخیرخیراتی واضح ہو تم نے چند بار واسطے خرچ کے مجھ کو لکھا کہ مجھ کو خرچ کی سخت ضرورت ہے خوب بات ہے اگر تم بلااجازت میرے اپنی ماں کے گھر نہ چلی جاتیں تو میں تم کو خرچ کچھ نہ کچھ دیا کرتا اگرچہ میں پہلے ہی تم سے ازحد ناخوش ہوں مگر اب تو میرا بالکل ہی تم سے کچھ تعلق نہیں رہا مجھ سے تم کسی قسم کی امید مت رکھنا بلکہ تم کو اپنی ذات کا اختیار ہوچکا میں تم سے دست بردار ہوں زیادہ اور لکھوں فقط راقم وزیر بیگ از پیاس ۹جولائی ۱۹۰۴ء
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ایك طلاق بائن پڑنے کا حکم دیا جائے گا عورت اپنے آپ کو نکاح سے باہر سمجھے اور روز طلاق کے بعد تین حیض کامل شروع ہوکر ختم ہوجانے کے بعد اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے
لان نفی التعلق من بین کنایات التطلیق وکذا دست برداری ولا یحتملان ردا و لاسبا والحالۃ حالۃ الغضب فیحکم بالوقوع بل اللفظ الباقی ایضا کنایۃ عن التطلیق دون التفویض کما یعلم من یعرف اسالیب التحاور واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ کنایات میں تعلق کی نفی کو طلاق دینا قرار دیاگیا ہے اور یونہی “ دستبردارہونا “ کا حکم ہے یہ دونوں لفظ جواب اور ڈانٹ کا احتمال نہیں رکھتے اور حالت بھی غصہ والی ہے اس لئے طلاق واقع ہونے کا حکم ہوگا اور اسی طرح باقی الفاظ بھی کنایہ والے ہیں جن سے طلاق ہی مراد ہوتی ہے اور ان سے بیوی کو اختیار دینا نہیں ہوتا جیسا کہ محاورات کے مفہومات کو سمجھنے والا ہر شخص جانتا ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت اور اس کا مرد یعنی خاوند اس کا میاں بی بی میں جھگڑا اور فساد ہوا اور غصہ تھا اس غصہ کی حالت میں عورت نے کہا مجھ کو طلاق دے دو اس کے میاں نے غصہ کی حالت میں تین بار کہا تو ہماری بہن ہوچکی تو ہماری بہن ہوچکی تو ہماری بہن ہوچکی۔ اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں جب غصہ اترا تو خیال کیا یہ ہم نے کیا کہافقط۔ یہ واقعہ ہوا ہے ایك نومبر ۱۹۰۶ء کو آج پانچواں دن ہے۔
الجواب :
تین طلاق کی اس صورت میں اصلا گنجائش نہیں
لانہ کان بائنا والبائن لایلحق البائن
کیونکہ اگر بائنہ ہوتو وہ پہلی بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی
وظاھر انہ لیس ظہار العدم التشبیہ وظاھر کلامھم ان لاطلاق فیہ تامل۔
اور ظاہر یہ ہے کہ ظہار نہیں کیونکہ ظہار میں تشبیہ ہوتی ہے جو یہاں نہیں ہے لہذا فقہاء کرام کا ظاہر قول یہی ہے کہ اس صورت میں طلاق نہ ہوگی غور کی ضرورت ہے۔ (ت)
احتیاط یہ کہ آپس میں نکاح نئے سرے سے کرلیں دو۲ مردوں یا ایك مرد اور دوعورتوں کے سامنے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۱ : از شاہجہانپور محلہ باروزی اول ۸شوال ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ اپنی ساس کی بدمزاجی اور سخت کلامی سے اپنے والدین کے مکان پر چلی آئی زید اس کے شوہر نے جو پردیس میں ملازم ہے ایك خط بقلم خود بذیعہ ڈاك ہندہ کے باپ کے نام لکھا علاوہ کلمات سخت کے یہ بھی لکھا کہ اب آپ عمر بھر لڑکی کو بٹھائے رکھئے اور اب وہ کبھی نہیں بلائی جاوے گی اور اب آپ دیکھئے گا کہ مجھ کو لوگ کیسے لڑکی دیتے ہیں اور اب آپ لڑکی کو اپنے پاس رکھئے اور آپ کی لڑکی میں کیا صفت ہے اب آپ لڑکی کو بٹھائے رکھئے جب تك جی چاہے اور میرا اس کا کچھ تعلق نہیں اور اب آپ کی لڑکی کوکوئی نہیں بلائے گا اور میں والد صاحب کو لکھ دوں گا کہ آپ سے کچھ تعلق نہ رکھا جاوے اور لڑکی کو بلایا جاوے اور میری آپ کی خط وکتابت بھی یہیں سے قطع ہوتی ہے اب آپ جواب اس کا نہ دیجئے گا میں نہیں چاہتا پس یہ کلمات جو زید نے لکھے وہ طلاق تك پہنچے یانہیں
الجواب :
ایسے خط سے طلاق نہیں ہوسکتی جب تك زید اس کے لکھنے کا اقرار نہ کرے پھر بعد اقرار بھی حکم طلاق نہیں ہوسکتا جب تك وہ اس لفظ کے بہ نیت طلاق کہنے کا اقرار نہ کرے کہ میرا اس کا کوئی تعلق نہیں ہاں اگر وہ کہے کہ یہ خط میں نے اور یہ الفاظ بہ نیت طلاق لکھے تھے تو ضرور ایك طلاق بائن کا حکم دیاجائیگا اور اگر واقع میں اس نے یہ لفظ بہ نیت طلاق لکھے تھے اور اب اس کا انکار کرجائیگا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۲ : از شاہجہان پور محلہ دلدداك متصل مسجد کوٹھی بابوسمیع اﷲ خاں مرسلہ سید امجد علی صاحب ہیڈکانسٹیبل پنشنر۲۵ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو ایك نوکری پیشہ ہے اور اس کی ایك لڑکی محمودہ اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی عرصہ تین چار سال ہواکہ اس کی ماں سوتیلی نے اپنے حقیقی بھائی کی صلاح سے جو محمود کا سوتیلا ماموں ہے بلارضا مندی عمرو محمودہ جس کی عمر۱۴سال تھی کی شادی خالد جوبدچلن لامذہب آدمی ہے سے کردی دس بارہ یوم میں محمودہ کو جب علم ہو ا کہ یہاں پرکوئی کام مطابق شرع نہیں تب خالد کو فہمائش پابندی نماز کی کی جس پر
اور ظاہر یہ ہے کہ ظہار نہیں کیونکہ ظہار میں تشبیہ ہوتی ہے جو یہاں نہیں ہے لہذا فقہاء کرام کا ظاہر قول یہی ہے کہ اس صورت میں طلاق نہ ہوگی غور کی ضرورت ہے۔ (ت)
احتیاط یہ کہ آپس میں نکاح نئے سرے سے کرلیں دو۲ مردوں یا ایك مرد اور دوعورتوں کے سامنے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۱ : از شاہجہانپور محلہ باروزی اول ۸شوال ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ اپنی ساس کی بدمزاجی اور سخت کلامی سے اپنے والدین کے مکان پر چلی آئی زید اس کے شوہر نے جو پردیس میں ملازم ہے ایك خط بقلم خود بذیعہ ڈاك ہندہ کے باپ کے نام لکھا علاوہ کلمات سخت کے یہ بھی لکھا کہ اب آپ عمر بھر لڑکی کو بٹھائے رکھئے اور اب وہ کبھی نہیں بلائی جاوے گی اور اب آپ دیکھئے گا کہ مجھ کو لوگ کیسے لڑکی دیتے ہیں اور اب آپ لڑکی کو اپنے پاس رکھئے اور آپ کی لڑکی میں کیا صفت ہے اب آپ لڑکی کو بٹھائے رکھئے جب تك جی چاہے اور میرا اس کا کچھ تعلق نہیں اور اب آپ کی لڑکی کوکوئی نہیں بلائے گا اور میں والد صاحب کو لکھ دوں گا کہ آپ سے کچھ تعلق نہ رکھا جاوے اور لڑکی کو بلایا جاوے اور میری آپ کی خط وکتابت بھی یہیں سے قطع ہوتی ہے اب آپ جواب اس کا نہ دیجئے گا میں نہیں چاہتا پس یہ کلمات جو زید نے لکھے وہ طلاق تك پہنچے یانہیں
الجواب :
ایسے خط سے طلاق نہیں ہوسکتی جب تك زید اس کے لکھنے کا اقرار نہ کرے پھر بعد اقرار بھی حکم طلاق نہیں ہوسکتا جب تك وہ اس لفظ کے بہ نیت طلاق کہنے کا اقرار نہ کرے کہ میرا اس کا کوئی تعلق نہیں ہاں اگر وہ کہے کہ یہ خط میں نے اور یہ الفاظ بہ نیت طلاق لکھے تھے تو ضرور ایك طلاق بائن کا حکم دیاجائیگا اور اگر واقع میں اس نے یہ لفظ بہ نیت طلاق لکھے تھے اور اب اس کا انکار کرجائیگا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۲ : از شاہجہان پور محلہ دلدداك متصل مسجد کوٹھی بابوسمیع اﷲ خاں مرسلہ سید امجد علی صاحب ہیڈکانسٹیبل پنشنر۲۵ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو ایك نوکری پیشہ ہے اور اس کی ایك لڑکی محمودہ اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی عرصہ تین چار سال ہواکہ اس کی ماں سوتیلی نے اپنے حقیقی بھائی کی صلاح سے جو محمود کا سوتیلا ماموں ہے بلارضا مندی عمرو محمودہ جس کی عمر۱۴سال تھی کی شادی خالد جوبدچلن لامذہب آدمی ہے سے کردی دس بارہ یوم میں محمودہ کو جب علم ہو ا کہ یہاں پرکوئی کام مطابق شرع نہیں تب خالد کو فہمائش پابندی نماز کی کی جس پر
محمودہ کو سخت وسست کہا گیا اور ہرطرح کی تکلیف خوردونوش اور صوم وصلاۃ کی دی گئی اور آخرکارخالد نے محمودہ کو باپ کے گھر پہنچادیا کچھ عرصہ بعد والدہ و نانی خالد کی آئیں اور خدا اور رسول کو درمیان میں ڈال کر اور اقرار اس بات کا کرکے کہ اب لڑکی کو تکلیف نہ ہوگی اور اس کو ناخوش نہ رکھاجائے گا محمودہ کو رخصت کرالے گئیں دس پندرہ یوم تك محمودہ وہاں رہی مگر قسم اور اقرار کی پابندی نہ دیکھ کروہ میکہ چلی آئی غرضیکہ اس عرصہ چار سال میں چار پانچ مرتبہ ایسا ہی اتفاق ہوا اخیر مرتبہ خالد کے باپ نے حلف لیا اور ذمہ دار ہوا اور لڑکی کو رخصت کرالے گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد خالد نے محمودہ سے بات چیت کرنا گھر میں آناچھوڑدیااور بالآخر زیور وکپڑا اتارکریہ کہہ کر کہ اب عمر بھر کوجاؤ ہم سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اس کو میکے میں پہنچادیا اور ایك جماعت کثیر کے جلسہ میں جس میں چند اصحاب نمازی اور پابند صوم وصلوۃ موجود تھے کہا کہ ہم نے اب دربہ ہی پھونك دیا اور مجھ سے ومحمودہ سے کوئی تعلق نہیں رہا اور جب سے اب تك کوئی خبر گیری نہ لی۔
الجواب :
لوگ بہت گول سوال کرتے ہیں کچھ نہ بتایا کہ نکاح کے وقت محمودہ بالغہ تھی یانابالغہ چودہ سال کی عمر میں دونوں باتیں محتمل ہیں اگر عارضہ ماہواری آتا ہو بالغہ ہے ورنہ نابالغہ یہ نہیں بتایا گیا کہ ا گر بالغہ تھی تو اس کا اذن لیاگیا یانہیں اور نابالغہ تھی تو باپ نے اس نکاح کو سن کرکیا کہااور یہ رخصت کس کی اجازت سے ہوئی۔ جب تك ان باتوں کی تفصیل نہ بتائی جائے حکم متعین نہیں ہوسکتا اور ہرشق کا حکم بتانا خلاف مصلحت شرعیہ ہے تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ نکاح کو صحیح مان کر طلاق کی نسبت استفسار ہے کہ ان لفظوں سے ہوئی یانہیں اگر وہ واقعی لامذہب ہے بایں معنی کہ زندیق ودہریہ ہے کوئی دین نہیں رکھتا یابایں معنی کہ وہابی غیرمقلد ہے جب تو نکاح ہی نہ ہوا طلاق کیسی اور اگر بایں معنی کہا کہ دین کے احکام پر قائم نہیں ہر قسم کے لوگوں سے میل جول ہے تو اگر نکاح صحیح فرض کرلیاجائے جس کی حقیقت بغیر امور مذکورہ کے واضح نہ ہوگی تو طلاق کی نسبت اتنا جواب ہے کہ یہ الفاظ کنایہ ہیں طلاق اس کی نیت پر موقوف ہے اگر بہ نیت طلاق کہے ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی ورنہ نہیں اور نیت ہونے نہ ہونے میں مرد کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۳ : از رانچی اوپربازار مرسلہ جناب عبدالرب ۷جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
شوہر نے اپنی بی بی سے کہا کہ مجھ سے اور تجھ سے کوئی سروکار واسطہ نہیں میں نے تجھ کو چھوڑ دیا
الجواب :
لوگ بہت گول سوال کرتے ہیں کچھ نہ بتایا کہ نکاح کے وقت محمودہ بالغہ تھی یانابالغہ چودہ سال کی عمر میں دونوں باتیں محتمل ہیں اگر عارضہ ماہواری آتا ہو بالغہ ہے ورنہ نابالغہ یہ نہیں بتایا گیا کہ ا گر بالغہ تھی تو اس کا اذن لیاگیا یانہیں اور نابالغہ تھی تو باپ نے اس نکاح کو سن کرکیا کہااور یہ رخصت کس کی اجازت سے ہوئی۔ جب تك ان باتوں کی تفصیل نہ بتائی جائے حکم متعین نہیں ہوسکتا اور ہرشق کا حکم بتانا خلاف مصلحت شرعیہ ہے تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ نکاح کو صحیح مان کر طلاق کی نسبت استفسار ہے کہ ان لفظوں سے ہوئی یانہیں اگر وہ واقعی لامذہب ہے بایں معنی کہ زندیق ودہریہ ہے کوئی دین نہیں رکھتا یابایں معنی کہ وہابی غیرمقلد ہے جب تو نکاح ہی نہ ہوا طلاق کیسی اور اگر بایں معنی کہا کہ دین کے احکام پر قائم نہیں ہر قسم کے لوگوں سے میل جول ہے تو اگر نکاح صحیح فرض کرلیاجائے جس کی حقیقت بغیر امور مذکورہ کے واضح نہ ہوگی تو طلاق کی نسبت اتنا جواب ہے کہ یہ الفاظ کنایہ ہیں طلاق اس کی نیت پر موقوف ہے اگر بہ نیت طلاق کہے ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی ورنہ نہیں اور نیت ہونے نہ ہونے میں مرد کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۳ : از رانچی اوپربازار مرسلہ جناب عبدالرب ۷جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
شوہر نے اپنی بی بی سے کہا کہ مجھ سے اور تجھ سے کوئی سروکار واسطہ نہیں میں نے تجھ کو چھوڑ دیا
بعد کہنے ان الفاظ کے تفرقہ وقطع تعلق بعد زمانہ ڈیڑھ سال کے دوسرے مرد نے اس عورت سے نکاح کرنا چاہا بعض نے کہا کہ اسے شوہر نے طلاق نہیں دیا ہے شوہر سے پوچھا کہ تم نے طلاق دی ہے یانہیں اس نے بیان کیا کہ ڈیڑھ دوسال سے میں نے اس کو چھوڑدیاہے اور کوئی واسطہ وسروکار نہیں ہے اور وہ داخل طلاق ہے اور طلاق ہی جانئے سوال یہ ہے کہ واسطہ وسروکار نہیں اورمیں نے اسی کو چھوڑدیاہے طلاق بالکنایہ محتاج نیت ودلالت حا ل کی ہے عرصہ ڈیڑھ دوبرس سے باہمی تفرقہ وقطع تعلق رکھنا موافق قول ثانی امام محمد کے جو مختار سغدی ہے دلیل اوپر نیت طلاق کے ہے تیسرا جملہ داخل طلاق یاطلاق ہی جانیے صریح ہے پس وقوع طلاق مسند زمان ماض اندر مدت ڈیڑھ دوسال کے ثابت ہے یانہیں اور انقضائے عدت زمانہ وقوع طلاق سے عرصہ ڈیڑھ دوسال کے اندر موافق روایات فقہیہ متعلق ہے یانہیں اور یہ دوسرا نکاح بعد ڈیڑھ دوسال کے صحیح ہوا یانہیں زید بسند کتب معتبرہ فقہیہ ہدایہ وبحر وفتح وغیرہ ثابت کرتا ہے کہ جب وقوع طلاق باسناد سند زمان ماض متعلق ہے اور طلاق سبب عدت تو عدت اندر ڈیڑھ دوسال کے گزرگئی نکاح دوسرا صحیح ہے بکر کہتا ہے کہ نہیں بلکہ وقت اقرار سے عدت محسوب ہوگی یہ دوسرا نکاح باطل ہے بلکہ تمتع فیما بین داخل زنا پس قول بکر کا صحیح ہے یازید کا
الجواب
“ مجھ کو تجھ سے کوئی سروکار نہیں “ یہ تو الفاظ طلاق سے ہی نہیں
کقولہ لاحاجۃ لی فیك لااشتھیک کمانص علیہ فی العلمگیریۃ وغیرہا۔
جیسا کہ خاوند کہے “ مجھے تجھ میں حاجت نہیں تجھ میں میری خواہش نہیں ہے جیسا کہ عالمگیری وغیرہ میں اس پر نص موجود ہے(ت)
“ مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں “ یہ ضرور کنایات طلاق سے ہے کقولہ لم یبق بینی وبینك شیئ (جیسا کہ یوں کہے میرے اور تیرے درمیان کچھ نہیں ہے۔ ت)اور “ میں نے تجھ کو چھوڑدیا “ یہ لفظ صریح ہے کما بیناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کو بیان کردیا ہے۔ ت)اب اگر اس نے ان لفظوں سے کہ “ مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں “ طلاق کی نیت کی تھی تو دوطلاقیں بائن ہوگئیں
الجواب
“ مجھ کو تجھ سے کوئی سروکار نہیں “ یہ تو الفاظ طلاق سے ہی نہیں
کقولہ لاحاجۃ لی فیك لااشتھیک کمانص علیہ فی العلمگیریۃ وغیرہا۔
جیسا کہ خاوند کہے “ مجھے تجھ میں حاجت نہیں تجھ میں میری خواہش نہیں ہے جیسا کہ عالمگیری وغیرہ میں اس پر نص موجود ہے(ت)
“ مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں “ یہ ضرور کنایات طلاق سے ہے کقولہ لم یبق بینی وبینك شیئ (جیسا کہ یوں کہے میرے اور تیرے درمیان کچھ نہیں ہے۔ ت)اور “ میں نے تجھ کو چھوڑدیا “ یہ لفظ صریح ہے کما بیناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کو بیان کردیا ہے۔ ت)اب اگر اس نے ان لفظوں سے کہ “ مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں “ طلاق کی نیت کی تھی تو دوطلاقیں بائن ہوگئیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فان الصریح یلحق البائن والرجعی اذاجامعہ البائن جعلہ بائنا لامتناع الرجعۃ۔
کیونکہ صریح بائن کولاحق ہوتی ہے اور صریح اور بائن جمع ہوجائیں تو بائنہ صریح کو بائنہ بنادیتی ہے کیونکہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ (ت)
اور اگر اس سے طلاق کی نیت نہ کی ہوتو ایك طلاق رجعی ہوئی اگر چہ دوسرے لفظ سے بھی نیت نہ کی ہو
لان الصریح لایحتاج الی النیۃ ولتاخرہ عن الکنایۃ لم یکن قرینۃ علی نیۃ الطلاق بھا۔
کیونکہ صریح طلاق نیت کی محتاج نہیں ہوتی چونکہ صریح طلاق یہاں کنایہ کے بعد ہے لہذا کنایہ کے وقت نیت طلاق کا قرینہ موجود نہ تھا۔ (ت)
عالمگیریہ میں محیط سے ہے :
لوقال لھا بینی فانت طالق فھی واحدۃ اذالم ینو بقولہ بینی طلاقا ۔
اگر خاوند کہے “ تو جدا ہو تجھے طلاق “ تو یہ ایك طلاق ہے اگر اس نے “ توجدا ہو “ سے طلاق کی نیت نہ کی ہو۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
قال لامرأتہ فی حال الغضب روحی طالق یقع واحدۃ رجعیۃ وان نوی الاکثراوالابانۃ اولم ینوشیئا لانہ صریح اذالکنایۃ ماتحتمل الطلاق ولایکون الطلاق مذکورایضاکما صرح بہ قاضی خاں فی الکنایات وھنا الصریح مذکور ۔
خاوند نے بیوی کو غصہ میں کہا “ میری روح طلاق والی ہے “ تو ایك طلاق رجعی ہوگی اگرچہ وہ زیادہ طلاقوں کی یابائنہ کی نیت کرے یا کوئی نیت نہ کرے ہرطرح ایك رجعی ہوگی کیونکہ یہ صریح ہے اورکنایہ وہ ہوتی ہے جس میں طلاق کا احتمال ہواور طلاق کا ذکر بھی نہ ہو جیسا کہ اس کو قاضی خاں نے کنایات کے باب میں ذکر کیا ہے جبکہ یہاں صریح طلاق مذکور ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
انہ مذکوربعدہ والقرینۃ لابد ان تتقدم کما یعلم ممامر
یہ بعد میں مذکور ہے جبکہ قرینہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے ہو جیسا کہ پہلے اعتدی(تو عدت
کیونکہ صریح بائن کولاحق ہوتی ہے اور صریح اور بائن جمع ہوجائیں تو بائنہ صریح کو بائنہ بنادیتی ہے کیونکہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ (ت)
اور اگر اس سے طلاق کی نیت نہ کی ہوتو ایك طلاق رجعی ہوئی اگر چہ دوسرے لفظ سے بھی نیت نہ کی ہو
لان الصریح لایحتاج الی النیۃ ولتاخرہ عن الکنایۃ لم یکن قرینۃ علی نیۃ الطلاق بھا۔
کیونکہ صریح طلاق نیت کی محتاج نہیں ہوتی چونکہ صریح طلاق یہاں کنایہ کے بعد ہے لہذا کنایہ کے وقت نیت طلاق کا قرینہ موجود نہ تھا۔ (ت)
عالمگیریہ میں محیط سے ہے :
لوقال لھا بینی فانت طالق فھی واحدۃ اذالم ینو بقولہ بینی طلاقا ۔
اگر خاوند کہے “ تو جدا ہو تجھے طلاق “ تو یہ ایك طلاق ہے اگر اس نے “ توجدا ہو “ سے طلاق کی نیت نہ کی ہو۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
قال لامرأتہ فی حال الغضب روحی طالق یقع واحدۃ رجعیۃ وان نوی الاکثراوالابانۃ اولم ینوشیئا لانہ صریح اذالکنایۃ ماتحتمل الطلاق ولایکون الطلاق مذکورایضاکما صرح بہ قاضی خاں فی الکنایات وھنا الصریح مذکور ۔
خاوند نے بیوی کو غصہ میں کہا “ میری روح طلاق والی ہے “ تو ایك طلاق رجعی ہوگی اگرچہ وہ زیادہ طلاقوں کی یابائنہ کی نیت کرے یا کوئی نیت نہ کرے ہرطرح ایك رجعی ہوگی کیونکہ یہ صریح ہے اورکنایہ وہ ہوتی ہے جس میں طلاق کا احتمال ہواور طلاق کا ذکر بھی نہ ہو جیسا کہ اس کو قاضی خاں نے کنایات کے باب میں ذکر کیا ہے جبکہ یہاں صریح طلاق مذکور ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
انہ مذکوربعدہ والقرینۃ لابد ان تتقدم کما یعلم ممامر
یہ بعد میں مذکور ہے جبکہ قرینہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے ہو جیسا کہ پہلے اعتدی(تو عدت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۷
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۴ و ۵۵
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۴ و ۵۵
فی اعتدی ثلثا ۔
پوری کر)تین مرتبہ کہنے کے متعلق معلوم ہوچکا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لایقع بالاول شیئ لانہ لم ینوبہ ودلالۃ الحال وجدت بعدہ اقول : وفیما ذکر فی الخیریۃ نوع مخالفۃ لمامر عن المحیط والظاھر مافی المحیط و عبارۃ الخانیۃ الکنایۃ ماتحتمل الطلاق ولایکون الطلاق مذکورانصا فانما معناہ لایکون نصافی الطلاق کیف وقد قال فیہا لوقال انت طالق فاعتدی وقال عنیت بہ العدۃ صحت نیتہ وان عنی بہ تطلیقۃ اخری اولم ینو شیئا فھی تطلیقۃ اخری وکذلك واعتدی اوقال اعتدی بغیر حرف العطف فقد اوقع بالکنایۃ اخری عند النیۃ مع وجود الصریح وانما لم یحتج الی النیۃ لتقدم الصریح فکان من المذاکرۃ بخلاف مانحن فیہ فانہ کقولہ بینی فانت طالق واﷲ تعالی اعلم۔
کنایہ پہلے ہوتو اس سے کوئی طلاق نہ ہوگی جبکہ نیت طلاق نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں نیت اور دلالت دونوں نہ پائے گئے اور دلالت اگرچہ ہے مگر بعد میں ہے جو کہ قرینہ نہیں بن سکتی اقول : (میں کہتاہوں )خیریہ میں جومذکور ہے وہ محیط سے منقول کے کچھ خلاف ہے جبکہ ظاہر وہی ہے جو محیط میں ہے خانیہ کی عبارت یوں ہے کہ کنایہ وہ جو طلاق کا احتمال رکھے اور صراحۃ طلاق مذکور نہ ہواھ جبکہ اس کامعنی یہ ہے کہ طلاق میں نص نہ ہو یہ کیونکر نہ ہو جبکہ انہوں نے خانیہ میں فرمایا کہ اگر خاوند بیوی کو کہے “ تو طلاق والی ہے پس تو عدت پوری کر “ اور پھر کہے کہ میں نے فاعتدی(پس توعدت پوری کر)سے عدت مرادلی ہے تواس کی نیت صحیح ہوگی اور اگر کہے کہ میں نے اس سے دوسری طلاق مراد لی ہے یا کہے کہ میں نے کوئی نیت نہیں کی تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی اور یونہی اگر “ و “ عطف کے ساتھ یا بغیر عطف واعتدی اور اعتدی کہے تو بھی یہی حکم ہے تو یہاں اس بیان میں انہوں نے “ اعتدی “ کے کنایہ سے نیت کے ساتھ دوسری طلاق' باوجود یکہ اس سے پہلے صریح طلاق مذکور ہے واقع ہونا تسلیم کیاہے تو بلاشك کنایہ میں نیت کی ضرورت نہ ہوگی جہاں صریح طلاق پہلے مذکور ہو تاکہ وہ مذاکرہ طلاق بن سکے اس کے برخلاف جو ہم بیان کررہے ہیں اس میں کنایہ پہلے اور صریح بعد میں ہے
پوری کر)تین مرتبہ کہنے کے متعلق معلوم ہوچکا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لایقع بالاول شیئ لانہ لم ینوبہ ودلالۃ الحال وجدت بعدہ اقول : وفیما ذکر فی الخیریۃ نوع مخالفۃ لمامر عن المحیط والظاھر مافی المحیط و عبارۃ الخانیۃ الکنایۃ ماتحتمل الطلاق ولایکون الطلاق مذکورانصا فانما معناہ لایکون نصافی الطلاق کیف وقد قال فیہا لوقال انت طالق فاعتدی وقال عنیت بہ العدۃ صحت نیتہ وان عنی بہ تطلیقۃ اخری اولم ینو شیئا فھی تطلیقۃ اخری وکذلك واعتدی اوقال اعتدی بغیر حرف العطف فقد اوقع بالکنایۃ اخری عند النیۃ مع وجود الصریح وانما لم یحتج الی النیۃ لتقدم الصریح فکان من المذاکرۃ بخلاف مانحن فیہ فانہ کقولہ بینی فانت طالق واﷲ تعالی اعلم۔
کنایہ پہلے ہوتو اس سے کوئی طلاق نہ ہوگی جبکہ نیت طلاق نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں نیت اور دلالت دونوں نہ پائے گئے اور دلالت اگرچہ ہے مگر بعد میں ہے جو کہ قرینہ نہیں بن سکتی اقول : (میں کہتاہوں )خیریہ میں جومذکور ہے وہ محیط سے منقول کے کچھ خلاف ہے جبکہ ظاہر وہی ہے جو محیط میں ہے خانیہ کی عبارت یوں ہے کہ کنایہ وہ جو طلاق کا احتمال رکھے اور صراحۃ طلاق مذکور نہ ہواھ جبکہ اس کامعنی یہ ہے کہ طلاق میں نص نہ ہو یہ کیونکر نہ ہو جبکہ انہوں نے خانیہ میں فرمایا کہ اگر خاوند بیوی کو کہے “ تو طلاق والی ہے پس تو عدت پوری کر “ اور پھر کہے کہ میں نے فاعتدی(پس توعدت پوری کر)سے عدت مرادلی ہے تواس کی نیت صحیح ہوگی اور اگر کہے کہ میں نے اس سے دوسری طلاق مراد لی ہے یا کہے کہ میں نے کوئی نیت نہیں کی تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی اور یونہی اگر “ و “ عطف کے ساتھ یا بغیر عطف واعتدی اور اعتدی کہے تو بھی یہی حکم ہے تو یہاں اس بیان میں انہوں نے “ اعتدی “ کے کنایہ سے نیت کے ساتھ دوسری طلاق' باوجود یکہ اس سے پہلے صریح طلاق مذکور ہے واقع ہونا تسلیم کیاہے تو بلاشك کنایہ میں نیت کی ضرورت نہ ہوگی جہاں صریح طلاق پہلے مذکور ہو تاکہ وہ مذاکرہ طلاق بن سکے اس کے برخلاف جو ہم بیان کررہے ہیں اس میں کنایہ پہلے اور صریح بعد میں ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۴
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۶
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۶
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۴
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۶
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۶
لہذا وہ “ تو جدا ہوتجھے طلاق ہے “ کی طرح ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
وقت اقرار سے عدت معتبر ہونا کہ برخلاف ائمہ اربعہ وجمہور صحابہ وتابعین رضی اﷲتعالی عنہم اجمعین فتوائے متاخرین ہے صرف محل تہمت میں ہے اور وہ بھی وہاں کہ طلاق صرف اقرار سے ثابت ہواگر پہلے سے معلوم ہے تو بلاشبہہ بالاجماع وقت طلاق ہی سے عدت ہے یوں ہی اگر پہلے سے طلاق کا ثبوت نہیں مگر جس وقت سے طلاق دینا بیان کرتا ہے جب سے زوجہ کو جدا کردیا ہے تو اس صورت سے بھی فتوائے متاخرین متعلق نہیں اور یہاں یہ دونوں باتیں موجود ہیں طلاق قبل اقرار ثابت ہے اور اس وقت سے وہ اسے جدا بھی کرچکا تو یہاں وقت اقرار سے عدت لیناصراحۃ باطل وخلاف اجماع ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر ظاھر کلام محمد فی المبسوط وعبارۃ الکنز اعتبارھا من وقت الطلاق الاان المتاخرین اختار وا وجوبھا من وقت الاقرار حتی لایحل لہ التزوج باختھا واربع سواھا زجرالہ حیث کتم طلاقھا وھو المختار کما فی الصغری اھ و وفق السغدی بحمل کلام محمد علی مااذاکان متفرقین من الوقت الذی اسند الطلاق الیہ اما اذاکان مجتمعین فالکذب فی کلامھما ظاھر لایصدقان فی الاسناد قال فی البحروھذا ھو التوفیق ان شاء اﷲ تعالی وفی الفتح ان فتوی المتاخرین مخالفۃ للائمۃ الاربعۃ وجمہور الصحابہ والتابعین وحیث کانت مخالفتھم للتھمۃ فینبغی ان یتحری بہ محالھا و الناس الذین ھم مظانھا ولہذا فصل السغدی بما مراھ ملخصاو
بحر میں فرمایا کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کا مبسوط میں ظاہر کلام اور کنز کی عبارت میں ہے کہ عدت کا اعتبار طلاق کے وقت سے ہے مگر متاخرین نے اس میں اقرار کے وقت سے عدت کا وجوب مانا ہے اس لئے اس کو بیوی کی بہن اور اس کے ماسوازائد چارعورتوں سے نکاح حلال نہ ہوگا جب تك اقرار کے بعد مکمل عدت پوری نہ ہوجائے متاخرین کایہ حکم طلاق کو چھپانے کی سزا کے طور پر ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ صغری میں ہے اھ اور سغدی نے امام محمد اور متاخرین کے کلاموں میں موافقت پیدا کرتے ہوئے یوں کہا کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے کلام کا محمل یہ ہے کہ جب خاوند اور بیوی بیان کردہ وقت طلاق سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں اور اگر وہ دونوں اس وقت سے اب اقرار تك اکٹھے رہ رہے ہوں توپھر طلاق کے لئے بیان کردہ وقت میں دونوں کا جھوٹ ظاہر ہے اس لئے وقت کے بیان میں تصدیق نہ کی جائے گی(اور اقرار کے وقت سے ہی
وقت اقرار سے عدت معتبر ہونا کہ برخلاف ائمہ اربعہ وجمہور صحابہ وتابعین رضی اﷲتعالی عنہم اجمعین فتوائے متاخرین ہے صرف محل تہمت میں ہے اور وہ بھی وہاں کہ طلاق صرف اقرار سے ثابت ہواگر پہلے سے معلوم ہے تو بلاشبہہ بالاجماع وقت طلاق ہی سے عدت ہے یوں ہی اگر پہلے سے طلاق کا ثبوت نہیں مگر جس وقت سے طلاق دینا بیان کرتا ہے جب سے زوجہ کو جدا کردیا ہے تو اس صورت سے بھی فتوائے متاخرین متعلق نہیں اور یہاں یہ دونوں باتیں موجود ہیں طلاق قبل اقرار ثابت ہے اور اس وقت سے وہ اسے جدا بھی کرچکا تو یہاں وقت اقرار سے عدت لیناصراحۃ باطل وخلاف اجماع ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر ظاھر کلام محمد فی المبسوط وعبارۃ الکنز اعتبارھا من وقت الطلاق الاان المتاخرین اختار وا وجوبھا من وقت الاقرار حتی لایحل لہ التزوج باختھا واربع سواھا زجرالہ حیث کتم طلاقھا وھو المختار کما فی الصغری اھ و وفق السغدی بحمل کلام محمد علی مااذاکان متفرقین من الوقت الذی اسند الطلاق الیہ اما اذاکان مجتمعین فالکذب فی کلامھما ظاھر لایصدقان فی الاسناد قال فی البحروھذا ھو التوفیق ان شاء اﷲ تعالی وفی الفتح ان فتوی المتاخرین مخالفۃ للائمۃ الاربعۃ وجمہور الصحابہ والتابعین وحیث کانت مخالفتھم للتھمۃ فینبغی ان یتحری بہ محالھا و الناس الذین ھم مظانھا ولہذا فصل السغدی بما مراھ ملخصاو
بحر میں فرمایا کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کا مبسوط میں ظاہر کلام اور کنز کی عبارت میں ہے کہ عدت کا اعتبار طلاق کے وقت سے ہے مگر متاخرین نے اس میں اقرار کے وقت سے عدت کا وجوب مانا ہے اس لئے اس کو بیوی کی بہن اور اس کے ماسوازائد چارعورتوں سے نکاح حلال نہ ہوگا جب تك اقرار کے بعد مکمل عدت پوری نہ ہوجائے متاخرین کایہ حکم طلاق کو چھپانے کی سزا کے طور پر ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ صغری میں ہے اھ اور سغدی نے امام محمد اور متاخرین کے کلاموں میں موافقت پیدا کرتے ہوئے یوں کہا کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے کلام کا محمل یہ ہے کہ جب خاوند اور بیوی بیان کردہ وقت طلاق سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں اور اگر وہ دونوں اس وقت سے اب اقرار تك اکٹھے رہ رہے ہوں توپھر طلاق کے لئے بیان کردہ وقت میں دونوں کا جھوٹ ظاہر ہے اس لئے وقت کے بیان میں تصدیق نہ کی جائے گی(اور اقرار کے وقت سے ہی
اقرہ فی البحروالنھر۔
عدت شمار ہوگی)اور بحرمیں فرمایا یہ موافقت درست ہے ان شاء اﷲ تعالی۔ اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوی ائمہ اربعہ جمہور صحابہ کرام اور تابعین کے قول کے مخالف ہے تو یہ مخالفت تہمت کے مقام میں ہے تو بہتر ہے کہ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے سوچ بچار سے کام لیاجائے اور لوگوں میں ایسے واقعات موجود ہیں اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل بیان کی ہے جو گزرچکی اھ ملخصا اور اس کو بحر اور نھر میں ثابت رکھا ہے۔ (ت)
ڈیڑھ دوسال میں اگرچہ ذوات الحیض کی مدت کا انقضاء لازم نہیں فقد تکون ممتدۃ الطہر(کیونکہ کبھی لمبے طہر والی ہوتی ہے۔ ت)مگر شك نہیں کہ اتنی مدت انقضائے عدت کے لئے کافی ضرورہے کہ امام کے نزدیك کم ازکم دو۲ مہینے اور صاحبین کے ہاں انتالیس۳۹دن میں تین حیض گزرسکتے ہیں اور عورت کانکاح پر اقدام انقضائے عدت کا اقرار تو صحت نکاح میں کوئی شبہہ نہیں جب تك کہ عورت کا اس اقرار میں کذب شرعا نہ ثابت ہویوں کہ طلاق سے مثلا ڈیڑھ برس بعد نکاح کیا اور اس نکاح کو چھ۶ مہینے اور طلاق کو دوبرس گزرنے سے پہلے بچہ پیدا ہوا کہ اس صورت میں صاف ظاہر ہوا کہ عدت نہ گزری تھی بدائع و بحر و درمختار وغیرہا میں ہے :
اقدامھاعلی التزوج دلیل انقضاء عدتھا ۔
بیوی کانکاح کے لئے اقدام اس کی عدت ختم ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے(ت)
بالجملہ قول بکر غلط محض ہے اور حاصل قول زید کا اس وجہ پر کہ ہم نے تقریر کی ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۴ : سائل مذکورالصدر بتاریخ مذکور
اسی مسئلہ کے متعلق بکر بزور طبع زید کو ترغیب عزت واحترام دنیاوی دلاکرکہتا ہے کہ تم اس مسئلہ میں اقرار شبہہ کا اقرار کرو تو ہم بمقابلہ عوام تمہاری عزت دونی کرادیویں گے اگر کوئی اعتراض کرے گا تو صدہا غلطیاں وشبہات خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین پیش کرکے لوگوں کو سرنگوں کر دیویں گے وبصورت عدم اقرارشبہہ بدعتی کا حکم لگادیں گے غور فرمایا جائے کہ بمقابلہ عوام کے خواص کی غلطیاں دکھلانا ایك جزئی مسئلہ میں توہین خواص متصور ہے یانہیں اورایك مسلمان کو بدعتی کہنا کیسا ہے
عدت شمار ہوگی)اور بحرمیں فرمایا یہ موافقت درست ہے ان شاء اﷲ تعالی۔ اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوی ائمہ اربعہ جمہور صحابہ کرام اور تابعین کے قول کے مخالف ہے تو یہ مخالفت تہمت کے مقام میں ہے تو بہتر ہے کہ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے سوچ بچار سے کام لیاجائے اور لوگوں میں ایسے واقعات موجود ہیں اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل بیان کی ہے جو گزرچکی اھ ملخصا اور اس کو بحر اور نھر میں ثابت رکھا ہے۔ (ت)
ڈیڑھ دوسال میں اگرچہ ذوات الحیض کی مدت کا انقضاء لازم نہیں فقد تکون ممتدۃ الطہر(کیونکہ کبھی لمبے طہر والی ہوتی ہے۔ ت)مگر شك نہیں کہ اتنی مدت انقضائے عدت کے لئے کافی ضرورہے کہ امام کے نزدیك کم ازکم دو۲ مہینے اور صاحبین کے ہاں انتالیس۳۹دن میں تین حیض گزرسکتے ہیں اور عورت کانکاح پر اقدام انقضائے عدت کا اقرار تو صحت نکاح میں کوئی شبہہ نہیں جب تك کہ عورت کا اس اقرار میں کذب شرعا نہ ثابت ہویوں کہ طلاق سے مثلا ڈیڑھ برس بعد نکاح کیا اور اس نکاح کو چھ۶ مہینے اور طلاق کو دوبرس گزرنے سے پہلے بچہ پیدا ہوا کہ اس صورت میں صاف ظاہر ہوا کہ عدت نہ گزری تھی بدائع و بحر و درمختار وغیرہا میں ہے :
اقدامھاعلی التزوج دلیل انقضاء عدتھا ۔
بیوی کانکاح کے لئے اقدام اس کی عدت ختم ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے(ت)
بالجملہ قول بکر غلط محض ہے اور حاصل قول زید کا اس وجہ پر کہ ہم نے تقریر کی ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۴ : سائل مذکورالصدر بتاریخ مذکور
اسی مسئلہ کے متعلق بکر بزور طبع زید کو ترغیب عزت واحترام دنیاوی دلاکرکہتا ہے کہ تم اس مسئلہ میں اقرار شبہہ کا اقرار کرو تو ہم بمقابلہ عوام تمہاری عزت دونی کرادیویں گے اگر کوئی اعتراض کرے گا تو صدہا غلطیاں وشبہات خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین پیش کرکے لوگوں کو سرنگوں کر دیویں گے وبصورت عدم اقرارشبہہ بدعتی کا حکم لگادیں گے غور فرمایا جائے کہ بمقابلہ عوام کے خواص کی غلطیاں دکھلانا ایك جزئی مسئلہ میں توہین خواص متصور ہے یانہیں اورایك مسلمان کو بدعتی کہنا کیسا ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب العدّۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۱۰
بحرالرائق باب العدّۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۱۴۷
بحرالرائق باب العدّۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۱۴۷
الجواب :
بکر نے جو حکم لگایا تھا کہ یہ نکاح نہ ہوا اور تمتع زنا ہوگا یہ شریعت مطہرہ پر اس کا افتراء تھا اسی پر اپنی خطا کا اقرار لازم ہے اگر اصرار کرے تو وہی بدعتی ہے کہ احکام شریعت کو نہیں مانتا اور اپنے گھڑے حکم پر جما ہے اس وقت تك اگر اس کا افتراء نادانستہ تھا اور اب جان کر مصر ہوگا تو قصدا مفتری علی اﷲ ہوگا۔ اوراﷲعزوجل فرماتا ہے :
انما یفتری الكذب الذین لا یؤمنون ۔
جھوٹا افتراء وہ لوگ بناتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ (ت)
اوراﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۶۹) ۔
بیشك جو لوگ اﷲتعالی پر جھوٹ افتراء بازی کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ (ت)
اس کا یہ طمع کی رشوت دیناکہ ہم تمہاری عزت بڑھادیں گے ناپاك ومردود ہے عزت سب اﷲکے ہاتھ ہے
ایبتغون عندهم العزة فان العزة لله جمیعا(۱۳۹) ۔
کیا وہ ان کے ہاں عزت چاہتے ہیں تو عزت ساری کی ساری بیشك اﷲتعالی کے لئے ہے(ت)
دانستہ حق کو باطل کہنا اور حق سے رجوع کرکے اس میں اپنا شبہہ بتانا موجب عزت نہیں دارین میں سخت ذلت کا باعث ہے خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین رضی اﷲتعالی عنہم نے کبھی رجوع عن الحق نہ فرمائی ان کا اس طرح ذکر بلاشبہہ توہین ہے بکر بے ادب مختل الدین ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۵ : ازمارہرہ ضلع ایٹہ عقب تھانہ مرسلہ عصمت اﷲخاں قادری ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
مسماۃ مجیدن جس کی عمر قریب ۹سال کے تھی اس کا نکاح اس کی پھپی کے لڑکے رحیم خاں سے ہوا کبھی میل جول عورت مرد کا جیسا ہونا چاہئے نہ ہوا اس وقت مجیدن کی عمرقریب ۱۳سال کے ہے اس کے شوہر نے گاؤں میں مشہور کیا کہ وہ مرد نہیں ہے نہ عورت کے قابل چند آدمی اپنے رشتہ داراور غیرلوگوں
بکر نے جو حکم لگایا تھا کہ یہ نکاح نہ ہوا اور تمتع زنا ہوگا یہ شریعت مطہرہ پر اس کا افتراء تھا اسی پر اپنی خطا کا اقرار لازم ہے اگر اصرار کرے تو وہی بدعتی ہے کہ احکام شریعت کو نہیں مانتا اور اپنے گھڑے حکم پر جما ہے اس وقت تك اگر اس کا افتراء نادانستہ تھا اور اب جان کر مصر ہوگا تو قصدا مفتری علی اﷲ ہوگا۔ اوراﷲعزوجل فرماتا ہے :
انما یفتری الكذب الذین لا یؤمنون ۔
جھوٹا افتراء وہ لوگ بناتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ (ت)
اوراﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۶۹) ۔
بیشك جو لوگ اﷲتعالی پر جھوٹ افتراء بازی کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ (ت)
اس کا یہ طمع کی رشوت دیناکہ ہم تمہاری عزت بڑھادیں گے ناپاك ومردود ہے عزت سب اﷲکے ہاتھ ہے
ایبتغون عندهم العزة فان العزة لله جمیعا(۱۳۹) ۔
کیا وہ ان کے ہاں عزت چاہتے ہیں تو عزت ساری کی ساری بیشك اﷲتعالی کے لئے ہے(ت)
دانستہ حق کو باطل کہنا اور حق سے رجوع کرکے اس میں اپنا شبہہ بتانا موجب عزت نہیں دارین میں سخت ذلت کا باعث ہے خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین رضی اﷲتعالی عنہم نے کبھی رجوع عن الحق نہ فرمائی ان کا اس طرح ذکر بلاشبہہ توہین ہے بکر بے ادب مختل الدین ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۵ : ازمارہرہ ضلع ایٹہ عقب تھانہ مرسلہ عصمت اﷲخاں قادری ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
مسماۃ مجیدن جس کی عمر قریب ۹سال کے تھی اس کا نکاح اس کی پھپی کے لڑکے رحیم خاں سے ہوا کبھی میل جول عورت مرد کا جیسا ہونا چاہئے نہ ہوا اس وقت مجیدن کی عمرقریب ۱۳سال کے ہے اس کے شوہر نے گاؤں میں مشہور کیا کہ وہ مرد نہیں ہے نہ عورت کے قابل چند آدمی اپنے رشتہ داراور غیرلوگوں
حوالہ / References
القرآن ۱۶ / ۱۰۵
القرآن ۱۰ / ۶۹
القرآن ۴ / ۱۳۹
القرآن ۱۰ / ۶۹
القرآن ۴ / ۱۳۹
اور اپنی ساس سے یہ کہا کہ میں کسی قابل نہیں ہوں میں جواب دے دوں گا میرے چھوٹے بھائی سے اس کا عقد کردو یہ بیوی نہیں ہے بلکہ ماموں زاد بہن ہے۔ اس پر اس کی ساس بہت ناخوش ہوئی اب اس سے جواب کے لئے کہا جاتا ہے وہ انکار کرتا ہے کبھی کہتا ہے میں اب مردہوگیا کبھی لوگوں سے کہا میں اس عورت کی ناك کاٹ لوں گا۔ یہ عورت اس کے گھر جانا نہیں چاہتی نہ اس کی ماں اس کو بھیجنا چاہتی ہے بلکہ دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔ آیا وہ عورت اب بلاطلاق لئے دوسری جگہ اس کا نکاح کرسکتی ہے
الجواب :
اس کا کہنا کہ میں کسی قابل نہیں اور یہ کہ میں جواب دے دوں گا اور یہ کہ میری بی بی نہیں اور یہ کہ ماموں زاد بہن ہے ان میں سے کوئی لفظ کلمہ طلاق نہیں البتہ اس کا یہ لفظ کہ “ فلاں سے اس کاعقد کردو “ کنایہ طلاق ہوسکتا ہے
علی معنی زوجو ھا فلانا لانی طلقتھا کما قال ش فیمن زوج امرأتہ من غیرہ موجھا لمن قال ان نوی طلقت لعل وجہہ ان قولہ زوجتك امرأتی فلانۃ یحتمل ان یکون علی تقدیر ان صح تزویجھا منك اوتقدیر لانھا طالق منی فاذا نوی الطلاق تعین الثانی فتطلق اھ ۔“
اس کا نکاح فلاں سے کردو کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے “ کے مطابق ہے جیسا کہ علامہ شامی نے ماتن کے قول “ جس نے اپنی بیوی کا نکاح دوسرے سے کردیا “ کے متعلق جس نے کہا اگر طلاق نیت کی ہوطلاق ہوجائیگی اس قول کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا خاوند کا کہنا کہ “ میں نے اپنی فلاں بیوی کا تجھ سے نکاح کیا “ اس میں ایك احتمال یہ ہے کہ تجھ سے نکاح کیا اگرتجھ سے نکاح کرنا جائز ہو۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے تجھ سے نکاح کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے رکھی ہے تو جب طلاق کی نیت سے کہے تو صرف دوسرا احتمال مراد ہوگا اس لئے طلاق ہوجائے گی اھ(ت)
رحیم خاں سے قسم لی جائے کہ تونے اس لفظ سے طلاق کی نیت کی تھی یانہیں اگر قسم کھالے گا کہ میں نے اس لفظ سے طلاق مجیدن کی نیت نہ کی تھی طلاق ثابت نہ ہوگی دوسری جگہ نکاح حرام محض ہوگا اور اگر قسم کھانے سے انکار کردے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت اسی وقت سے جب سے
الجواب :
اس کا کہنا کہ میں کسی قابل نہیں اور یہ کہ میں جواب دے دوں گا اور یہ کہ میری بی بی نہیں اور یہ کہ ماموں زاد بہن ہے ان میں سے کوئی لفظ کلمہ طلاق نہیں البتہ اس کا یہ لفظ کہ “ فلاں سے اس کاعقد کردو “ کنایہ طلاق ہوسکتا ہے
علی معنی زوجو ھا فلانا لانی طلقتھا کما قال ش فیمن زوج امرأتہ من غیرہ موجھا لمن قال ان نوی طلقت لعل وجہہ ان قولہ زوجتك امرأتی فلانۃ یحتمل ان یکون علی تقدیر ان صح تزویجھا منك اوتقدیر لانھا طالق منی فاذا نوی الطلاق تعین الثانی فتطلق اھ ۔“
اس کا نکاح فلاں سے کردو کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے “ کے مطابق ہے جیسا کہ علامہ شامی نے ماتن کے قول “ جس نے اپنی بیوی کا نکاح دوسرے سے کردیا “ کے متعلق جس نے کہا اگر طلاق نیت کی ہوطلاق ہوجائیگی اس قول کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا خاوند کا کہنا کہ “ میں نے اپنی فلاں بیوی کا تجھ سے نکاح کیا “ اس میں ایك احتمال یہ ہے کہ تجھ سے نکاح کیا اگرتجھ سے نکاح کرنا جائز ہو۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے تجھ سے نکاح کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے رکھی ہے تو جب طلاق کی نیت سے کہے تو صرف دوسرا احتمال مراد ہوگا اس لئے طلاق ہوجائے گی اھ(ت)
رحیم خاں سے قسم لی جائے کہ تونے اس لفظ سے طلاق کی نیت کی تھی یانہیں اگر قسم کھالے گا کہ میں نے اس لفظ سے طلاق مجیدن کی نیت نہ کی تھی طلاق ثابت نہ ہوگی دوسری جگہ نکاح حرام محض ہوگا اور اگر قسم کھانے سے انکار کردے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت اسی وقت سے جب سے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۴
یہ الفاظ اس نے اپنی ساس سے کہے تھے نکاح سے باہر سمجھی جائے گی پھر اگر خلوت اصلا نہ ہوئی جب تو عورت وقت طلاق ہی سے نکاح ثانی کی محل ہوگئی اور اگر خلوت ہوئی اگرچہ جماع نہ کرسکا تو اگر جب سے اب تك عدت یعنی بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے تو اب ورنہ جب ختم ہوں دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہے اور اگر رحیم خاں نہ ملے کہ اس پر قسم رکھی جاتی تو طلاق ثابت نہیں نکاح حرام ہوگا قال اﷲتعالی و المحصنت من النسآء (اﷲ تعالی نے فرمایا : اور شادی شدہ عورتیں حرام ہیں ۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۶ : ازچھپر امحلہ نئی بازار تربنہ مرسلہ حاجی عبدالرزاق صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
زید نے بارہا اپنی بی بی کو غصہ کی حالت میں کہاتم ہمارے سامنے ونظر سے دور ہوجاؤ جب وہ سامنے سے دور نہیں ہوتی اس وقت وہ جوتا لے کر دوڑتا ہے تب وہ سامنے سے علیحدہ ہوجاتی ہے آیا طلاق عائد ہوتا ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس نے بہ نیت طلاق یہ الفاظ نہ کہے تو طلاق نہ ہوئی اور اگر ایك بار بھی بہ نیت طلاق کہے تو طلاق ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی مرد سے قسم لی جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ کبھی بہ نیت طلاق نہ کہے تو حکم طلاق نہ دیں گے اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہے یہ قسم حاکم کے سامنے ہونا ضروری نہیں عورت گھر میں قسم لے سکتی ہے۔ درمختار میں ہے :
یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
عورت کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۷ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تقریبا ۱۱سال کاہوا میری شادی کو ہوئے میرے شوہرنے مجھ کو تین چار بار اپنے مکان سے نکال دیا برادر جمع ہوئے اور مجھ کو میرے شوہر کے یہاں پہنچادیا اور پھر چند عرصہ کے بعد میرے شوہر نے مجھ کو اپنے مکان سے باہر نکال دیا اور کہہ دیا کہ “ تونکل جا آج سے مجھ سے اور تجھ سے کسی قسم کا کچھ تعلق نہیں “ ۔ اب عرصہ چھ ۶سال سے اپنے والدین کے مکان پرہوں بردران نے دو۲ شخص مقررکئے وہ بتاریخ ۲شوال ۱۳۳۶ھ یوم جمعہ کو میرے شوہر کے مکان پر گئے اور انہوں نے یہ لفظ میرے شوہر سے کہے کہ تمہاری بی بی بہت تکلیف میں ہے اور وہ تمہارے
مسئلہ۳۰۶ : ازچھپر امحلہ نئی بازار تربنہ مرسلہ حاجی عبدالرزاق صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
زید نے بارہا اپنی بی بی کو غصہ کی حالت میں کہاتم ہمارے سامنے ونظر سے دور ہوجاؤ جب وہ سامنے سے دور نہیں ہوتی اس وقت وہ جوتا لے کر دوڑتا ہے تب وہ سامنے سے علیحدہ ہوجاتی ہے آیا طلاق عائد ہوتا ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس نے بہ نیت طلاق یہ الفاظ نہ کہے تو طلاق نہ ہوئی اور اگر ایك بار بھی بہ نیت طلاق کہے تو طلاق ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی مرد سے قسم لی جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ کبھی بہ نیت طلاق نہ کہے تو حکم طلاق نہ دیں گے اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہے یہ قسم حاکم کے سامنے ہونا ضروری نہیں عورت گھر میں قسم لے سکتی ہے۔ درمختار میں ہے :
یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
عورت کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۷ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تقریبا ۱۱سال کاہوا میری شادی کو ہوئے میرے شوہرنے مجھ کو تین چار بار اپنے مکان سے نکال دیا برادر جمع ہوئے اور مجھ کو میرے شوہر کے یہاں پہنچادیا اور پھر چند عرصہ کے بعد میرے شوہر نے مجھ کو اپنے مکان سے باہر نکال دیا اور کہہ دیا کہ “ تونکل جا آج سے مجھ سے اور تجھ سے کسی قسم کا کچھ تعلق نہیں “ ۔ اب عرصہ چھ ۶سال سے اپنے والدین کے مکان پرہوں بردران نے دو۲ شخص مقررکئے وہ بتاریخ ۲شوال ۱۳۳۶ھ یوم جمعہ کو میرے شوہر کے مکان پر گئے اور انہوں نے یہ لفظ میرے شوہر سے کہے کہ تمہاری بی بی بہت تکلیف میں ہے اور وہ تمہارے
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
پاس آنا چاہتی ہے اس پر میرے شوہر نے یہ جواب دیا کہ “ وہ میری بی بی تو اسی تاریخ سے نہیں رہی جب سے وہ گئی ہے اور اسی تاریخ سے چھوڑچکا ہوں صرف اس کو پریشان کرنے کے واسطے چھوڑرکھا ہے “ ۔ اب کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں اپنے شوہر کی زوجیت میں رہی یانہیں
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عورت پر ایك طلاق بائن ہوگئی اور وہ اس کی زوجیت سے نکل گئی اگراس روز سے آج تك جسے سائلہ چھ۶سال کا عرصہ بتاتی ہے اسے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے ہوں جیسا کہ ظاہر یہی ہے اس صورت میں اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگر شاید ابھی تین حیض نہ ہوئے ہوں تو جب ہوجائیں اس وقت اسے دوسرے سے نکاح جائز ہوگا اس لئے کہ وہ چھ۶برس سے طلاق دینے کا مقر ہے اور وہ دونوں اسی وقت سے جدا ہیں تو عدت جبھی سے لی جائے گی۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر وظاھر کلام محمد فی المبسوط وعبارۃ الکنز اعتبارھا من وقت الطلاق الاان المتاخرین اختار و اوجوبھا من وقت الاقرار حتی لایحل لہ التزوج باختہا واربع سواھا زجرالہ حیث کتم طلاقھا وھو المختار کما فی الصغری اھ ووفق السغدی بحمل کلام محمد علی مااذاکان متفرقین من الوقت الذی اسند الطلاق الیہ امااذاکانا مجتمعین فالکذب فی کلامھما ظاھر فلایصدقان فی الاسناد قال فی البحر وھذاھوالتوفیق ان شاء اﷲتعالی وفی الفتح ان فتوی المتاخرین مخالفۃ للائمۃ الاربعۃ و
بحرمیں فرمایا کہ مبسوط میں امام محمد کا ظاہر کلام اور کنز کی عبارت میں ہے کہ عدت کا اعتبار طلاق کے وقت سے ہے مگر متاخیرین نے اس میں اقرار کے وقت سے عدت کا وجوب مانا ہے اس لئے ایسے شخص کو بیوی کی بہن اور اس کی بیوی کے ماسواچارعوتوں سے نکال حلال نہ ہوگا جب تك اقرار کے بعد مکمل عدت پوری نہ ہوجائے متاخرین کایہ حکم طلاق کو چھپانے کی سزا کے طور پر ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ صغری میں ہے اھ اور سغدی نے امام محمد اور متاخرین کے کلاموں میں موافقت پیداکرتے ہوئے کہاکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے کلام کا محمل یہ ہے کہ جب خاوند وبیوی بیان کردہ وقت طلاق سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں اور اگروہ دونوں اس وقت سے وقت اقرار تك اکٹھے رہ رہے ہوں تو دونوں کا جھوٹ ظاہر ہے لہذا وقت کے بیان میں دونوں کی تصدیق نہ کی جائے گی(اور اقرار کے وقت سے ہی عدت شمار ہوگی)
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عورت پر ایك طلاق بائن ہوگئی اور وہ اس کی زوجیت سے نکل گئی اگراس روز سے آج تك جسے سائلہ چھ۶سال کا عرصہ بتاتی ہے اسے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے ہوں جیسا کہ ظاہر یہی ہے اس صورت میں اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگر شاید ابھی تین حیض نہ ہوئے ہوں تو جب ہوجائیں اس وقت اسے دوسرے سے نکاح جائز ہوگا اس لئے کہ وہ چھ۶برس سے طلاق دینے کا مقر ہے اور وہ دونوں اسی وقت سے جدا ہیں تو عدت جبھی سے لی جائے گی۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر وظاھر کلام محمد فی المبسوط وعبارۃ الکنز اعتبارھا من وقت الطلاق الاان المتاخرین اختار و اوجوبھا من وقت الاقرار حتی لایحل لہ التزوج باختہا واربع سواھا زجرالہ حیث کتم طلاقھا وھو المختار کما فی الصغری اھ ووفق السغدی بحمل کلام محمد علی مااذاکان متفرقین من الوقت الذی اسند الطلاق الیہ امااذاکانا مجتمعین فالکذب فی کلامھما ظاھر فلایصدقان فی الاسناد قال فی البحر وھذاھوالتوفیق ان شاء اﷲتعالی وفی الفتح ان فتوی المتاخرین مخالفۃ للائمۃ الاربعۃ و
بحرمیں فرمایا کہ مبسوط میں امام محمد کا ظاہر کلام اور کنز کی عبارت میں ہے کہ عدت کا اعتبار طلاق کے وقت سے ہے مگر متاخیرین نے اس میں اقرار کے وقت سے عدت کا وجوب مانا ہے اس لئے ایسے شخص کو بیوی کی بہن اور اس کی بیوی کے ماسواچارعوتوں سے نکال حلال نہ ہوگا جب تك اقرار کے بعد مکمل عدت پوری نہ ہوجائے متاخرین کایہ حکم طلاق کو چھپانے کی سزا کے طور پر ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ صغری میں ہے اھ اور سغدی نے امام محمد اور متاخرین کے کلاموں میں موافقت پیداکرتے ہوئے کہاکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالی کے کلام کا محمل یہ ہے کہ جب خاوند وبیوی بیان کردہ وقت طلاق سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں اور اگروہ دونوں اس وقت سے وقت اقرار تك اکٹھے رہ رہے ہوں تو دونوں کا جھوٹ ظاہر ہے لہذا وقت کے بیان میں دونوں کی تصدیق نہ کی جائے گی(اور اقرار کے وقت سے ہی عدت شمار ہوگی)
جمھور الصحابۃ والتابعین رضی اﷲتعالی عنھم وحیث کانت مخالفتھم للتھمۃ فینبغی ان یتحری بہ محالھا والناس الذین ھم مظانھا ولھذا فصل السغدی بمامر اھ واقرہ فی البحر والنھر اھ اقول : وانما اسند الامر الی اقرارہ لان قولہ “ نکل جا “ یحتمل الرد کما نصوا علیہ و قولہ “ تعلق نہیں “ یحتمل السب کما حققناہ فی جدالممتار والحال حال الغضب فلایحکم بالطلاق الااذا اقر بالنیۃ و “ چھوڑنا “ من الصریح بلساننا فان کان قولہ “ اسی تاریخ سے “ الخ راجعا الی ذینك اللفظین کان اقرار بالنیۃ فالعدۃ مذذاك بالاجماع وان فرض علی خلاف الظاھر صرفہ عن الکلام المعروف الی کلام باطن مجہول اوجعل اقرار کاذبا کاف انشاء مسند افالعدۃ مذذاك بحکم التوفیق۔ واﷲتعالی اعلم۔
بحر میں فرمایا دونوں کلاموں میں یہ توفیق ان شاء اﷲ درست ہے اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوی ائمہ اربعہ جمہور صحابہ اور تابعین رضی اﷲتعالی عنہم کے مخالف ہے اور متاخرین کا یہ فتوی مقام تہمت کے لئے ہے لہذامناسب ہے کہ موقع محل کے متعلق سوچ بچار سے کام لیاجائے اور لوگوں میں ایسے واقعات پائے جاتے ہیں اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل واضح کرتے ہوئے مذکورہ موافقت بیان کی ہے اھ اور اس کو بحر اور نہر میں ثابت رکھا ہے اھ اقول : (میں کہتاہوں )اور خاوند کے اقرار سے حکم متعلق اس لئے ہوگا کہ خاوند کا کہنا “ نکل جا “ جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پرنص کی ہے اور خاوند کا کہنا “ تعلق نہیں “ ڈانٹ کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے جدالممتار حاشیہ ردالمحتار میں تحقیق کی ہے جبکہ حالت بھی غضب والی ہے تو اس وقت تك طلاق کا حکم نہ ہوگا جب تك طلاق کی نیت کا اقرارنہ کرے اور لفظ “ چھوڑنا “ ہماری زبان میں صریح طلاق ہے اس لئے خاوند کا کہنا “ اسی تاریخ سے الخ “ اگر پہلے دونوں لفظوں کی طرف راجح ہو تو یہ نیت طلاق کا اقرار قرار پائے گا لہذا عدت کا شمار بالاجماع اسی تاریخ سے ہوگا اور اگر اس کی بات کو معروف معنی کے بجائے مجہول اور مخفی معنی کی طرف پھیراجائے یا اقرار کو جھوٹ قرار دیاجائے اگرچہ یہ خلاف ظاہرہے تاہم یہ انشاء ہوگا اور اس وقت کا اعتبار ہوگا لہذا عدت یہاں سے شمار ہوگی جیساکہ موافقت کی صورت میں ذکر ہوا ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
بحر میں فرمایا دونوں کلاموں میں یہ توفیق ان شاء اﷲ درست ہے اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوی ائمہ اربعہ جمہور صحابہ اور تابعین رضی اﷲتعالی عنہم کے مخالف ہے اور متاخرین کا یہ فتوی مقام تہمت کے لئے ہے لہذامناسب ہے کہ موقع محل کے متعلق سوچ بچار سے کام لیاجائے اور لوگوں میں ایسے واقعات پائے جاتے ہیں اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل واضح کرتے ہوئے مذکورہ موافقت بیان کی ہے اھ اور اس کو بحر اور نہر میں ثابت رکھا ہے اھ اقول : (میں کہتاہوں )اور خاوند کے اقرار سے حکم متعلق اس لئے ہوگا کہ خاوند کا کہنا “ نکل جا “ جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پرنص کی ہے اور خاوند کا کہنا “ تعلق نہیں “ ڈانٹ کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے جدالممتار حاشیہ ردالمحتار میں تحقیق کی ہے جبکہ حالت بھی غضب والی ہے تو اس وقت تك طلاق کا حکم نہ ہوگا جب تك طلاق کی نیت کا اقرارنہ کرے اور لفظ “ چھوڑنا “ ہماری زبان میں صریح طلاق ہے اس لئے خاوند کا کہنا “ اسی تاریخ سے الخ “ اگر پہلے دونوں لفظوں کی طرف راجح ہو تو یہ نیت طلاق کا اقرار قرار پائے گا لہذا عدت کا شمار بالاجماع اسی تاریخ سے ہوگا اور اگر اس کی بات کو معروف معنی کے بجائے مجہول اور مخفی معنی کی طرف پھیراجائے یا اقرار کو جھوٹ قرار دیاجائے اگرچہ یہ خلاف ظاہرہے تاہم یہ انشاء ہوگا اور اس وقت کا اعتبار ہوگا لہذا عدت یہاں سے شمار ہوگی جیساکہ موافقت کی صورت میں ذکر ہوا ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۱۰
مسئلہ۳۰۸ : از ریاست رامپور محلہ شاہ آباد دروازہ مسئولہ سید نادر علی صاحب ۲۸ذیقعدہ ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی منکوحہ کو بوجہ زبان درازی مارا اس پراور زیادہ بدکلامی اور گفتگو ناشائستہ کرنی چاہی زید نے اور سختی کی اور یہ لفظ مجبور ہوکر منکوحہ سے کہا کہ چلی جا۔ اس واقعہ کے وقت زید کے رشتہ کے بہنوئی موجود تھے لفظ “ چلی جا “ سن کر زید سے کہا کہ اب تمہارا نکاح کب رہا اس پر زید کو اور زیادغیظ بڑھا جو انتہا درجہ پر شمار کیاجائے اور کوئی نشیب وفراز کا خیال نہ کیا اسی حالت غیظ میں اپنے بہنوئی کی طرف مخاطب ہوکر چونکہ وہ اس کے پاس کھڑا تھا لفظ طلاق چند بار جس کی تعداد پورے طور یا د نہیں کہا اور یہ بھی کہا کہ “ آزاد کیا “ ان لفظوں کی ادائیگی زید نے متوجہ کرکے یا مخاطب ہوکر اپنی منکوحہ سے نہ کہے بلکہ اس وقت زید کا فاصلہ اپنی منکوحہ سے آٹھ سات قدم کا تھا اور منکوحہ زید کے روبرو نہ تھی اور اس کا ایجاب وقبول نہ ہوا۔ ایسی صور ت میں نکاح جائز رہا یاباطل ہوااور زید کی منکوحہ ۵ماہ کی حاملہ بھی ہے لہذا یہ مسئلہ علمائے دین کی خدمت میں پیش کیاجاتا ہے کہ آپ صاحبان اپنی مہر ودستخط سے مزین فرمائیں ۔
الجواب :
زید نے لفظ “ طلاق طلاق “ چند بار کہا اگر اس سے اپنی زوجہ کو طلاق دینی مقصود تھی تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی
لانہ ان ثلث فذاك وان ثنی فثالثھما قولہ قولہ “ آزاد کیا “ لانہ لایحتمل رداولاسباوقدصارت الحال حال المذاکرۃ لانہ قالہ لمدخولہ “ طلاق طلاق “ کما ذکرہ السائل والاضافۃ فی السابق اضافۃ فی اللاحق کقولہ طلقتك طلقتک۔
کیونکہ اگر تین مرتبہ کہا تو تین ورنہ اگر دو مرتبہ طلاق کہا تو پھر تیسری طلاق اس کے “ آزاد کیا “ کہنے پر ہوگئی کیونکہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب بننے کا احتمال نہیں رکھتا جبکہ پہلے “ طلاق “ کہنے پر مذاکرہ طلاق بھی بن چکا ہے کیونکہ مدخولہ عورت(وطی شدہ)کو طلاق طلاق کہا ہے جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے اور پہلے طلاق میں بیوی کی نسبت آخری لفظ میں بھی معتبر ہوگی'جیسا کہ “ میں نے تجھے طلاق دی “ میں ہوتا ہے۔ (ت)
مگر یہ اس کے اقرار پر موقوف ہے کہ اس لفظ “ طلاق طلاق “ سے زوجہ کو طلاق دینی مرادتھی اگر اقرار نہ کرے گا ان الفاظ سے حکم طلاق نہ ہوگا اگر واقع میں اس نے نیت طلاق کی تھی اور مکر جائے گا تو وبال اس پر رہے گا
زید نے اپنی منکوحہ کو بوجہ زبان درازی مارا اس پراور زیادہ بدکلامی اور گفتگو ناشائستہ کرنی چاہی زید نے اور سختی کی اور یہ لفظ مجبور ہوکر منکوحہ سے کہا کہ چلی جا۔ اس واقعہ کے وقت زید کے رشتہ کے بہنوئی موجود تھے لفظ “ چلی جا “ سن کر زید سے کہا کہ اب تمہارا نکاح کب رہا اس پر زید کو اور زیادغیظ بڑھا جو انتہا درجہ پر شمار کیاجائے اور کوئی نشیب وفراز کا خیال نہ کیا اسی حالت غیظ میں اپنے بہنوئی کی طرف مخاطب ہوکر چونکہ وہ اس کے پاس کھڑا تھا لفظ طلاق چند بار جس کی تعداد پورے طور یا د نہیں کہا اور یہ بھی کہا کہ “ آزاد کیا “ ان لفظوں کی ادائیگی زید نے متوجہ کرکے یا مخاطب ہوکر اپنی منکوحہ سے نہ کہے بلکہ اس وقت زید کا فاصلہ اپنی منکوحہ سے آٹھ سات قدم کا تھا اور منکوحہ زید کے روبرو نہ تھی اور اس کا ایجاب وقبول نہ ہوا۔ ایسی صور ت میں نکاح جائز رہا یاباطل ہوااور زید کی منکوحہ ۵ماہ کی حاملہ بھی ہے لہذا یہ مسئلہ علمائے دین کی خدمت میں پیش کیاجاتا ہے کہ آپ صاحبان اپنی مہر ودستخط سے مزین فرمائیں ۔
الجواب :
زید نے لفظ “ طلاق طلاق “ چند بار کہا اگر اس سے اپنی زوجہ کو طلاق دینی مقصود تھی تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی
لانہ ان ثلث فذاك وان ثنی فثالثھما قولہ قولہ “ آزاد کیا “ لانہ لایحتمل رداولاسباوقدصارت الحال حال المذاکرۃ لانہ قالہ لمدخولہ “ طلاق طلاق “ کما ذکرہ السائل والاضافۃ فی السابق اضافۃ فی اللاحق کقولہ طلقتك طلقتک۔
کیونکہ اگر تین مرتبہ کہا تو تین ورنہ اگر دو مرتبہ طلاق کہا تو پھر تیسری طلاق اس کے “ آزاد کیا “ کہنے پر ہوگئی کیونکہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب بننے کا احتمال نہیں رکھتا جبکہ پہلے “ طلاق “ کہنے پر مذاکرہ طلاق بھی بن چکا ہے کیونکہ مدخولہ عورت(وطی شدہ)کو طلاق طلاق کہا ہے جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے اور پہلے طلاق میں بیوی کی نسبت آخری لفظ میں بھی معتبر ہوگی'جیسا کہ “ میں نے تجھے طلاق دی “ میں ہوتا ہے۔ (ت)
مگر یہ اس کے اقرار پر موقوف ہے کہ اس لفظ “ طلاق طلاق “ سے زوجہ کو طلاق دینی مرادتھی اگر اقرار نہ کرے گا ان الفاظ سے حکم طلاق نہ ہوگا اگر واقع میں اس نے نیت طلاق کی تھی اور مکر جائے گا تو وبال اس پر رہے گا
مستحق عذاب نار ہوگا عورت کے پاس جانا اس کے لئے زنا ہوگا عورت پر الزام نہ ہوگا۔ خلاصہ پھر ہندیہ میں ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع ۔
ایك نشے والے کی بیوی اس سے بھاگ گئی تو یہ اس کے پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہوا تو(بالفاظ فارسی)کہا “ تین طلاق “ بعد میں اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو کہا تھا تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر کچھ نہ کہاتو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
وجیز کردری پھر انقرویہ میں ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والالا ۔
بیوی بھاگی تو کامیاب نہ ہونے پر اس نے کہا “ تین طلاق “ اگر بعد میں کہے “ میں نے بیوی کو کہا ہے “ تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں ۔ (ت)
پھر اگر وہ اقرار مذکور کرلے جب تو کوئی بحث ہی نہ رہی کہ تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اقرار نہ کرے تو یہ الفاظ خارج ہوکر دو۲ لفظ رہے “ چلی جا “ اور “ آزاد کیا “ پہلا لفظ مطلقا محتاج نیت نہیں ہے۔ درمختار میں : اذھبی یحتمل ردا (کیونکہ جواب بن سکتا ہے۔ ت)اگر قسم کھاکرکہے کہ بہ نیت تفریق زن نہ کہا تھا تو اس لفظ سے طلاق نہ مانیں گے یہ قسم مکان ہی پر کافی ہے حاکم کے سامنے ہونا ضرور نہیں اگر جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا بھی پھرزنا کا وبال اس پر ہے درمختار میں ہے :
یکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ ۔
خاوند سے گھر میں ہی قسم لے لینا کافی ہے(ت)
دوسرا لفظ “ آزاد کیا “ اگر چہ نہ محتمل رد ہے نہ محتمل سب اور حالت غضب ہے تو طلاق مطلقا ہونی چاہئے تھی درمختار میں ہے :
انت حرۃ لایحتمل السب والرد ۔
“ توآزاد ہے “ کہنا ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتا۔ (ت)
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع ۔
ایك نشے والے کی بیوی اس سے بھاگ گئی تو یہ اس کے پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہوا تو(بالفاظ فارسی)کہا “ تین طلاق “ بعد میں اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو کہا تھا تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر کچھ نہ کہاتو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
وجیز کردری پھر انقرویہ میں ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والالا ۔
بیوی بھاگی تو کامیاب نہ ہونے پر اس نے کہا “ تین طلاق “ اگر بعد میں کہے “ میں نے بیوی کو کہا ہے “ تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں ۔ (ت)
پھر اگر وہ اقرار مذکور کرلے جب تو کوئی بحث ہی نہ رہی کہ تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اقرار نہ کرے تو یہ الفاظ خارج ہوکر دو۲ لفظ رہے “ چلی جا “ اور “ آزاد کیا “ پہلا لفظ مطلقا محتاج نیت نہیں ہے۔ درمختار میں : اذھبی یحتمل ردا (کیونکہ جواب بن سکتا ہے۔ ت)اگر قسم کھاکرکہے کہ بہ نیت تفریق زن نہ کہا تھا تو اس لفظ سے طلاق نہ مانیں گے یہ قسم مکان ہی پر کافی ہے حاکم کے سامنے ہونا ضرور نہیں اگر جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا بھی پھرزنا کا وبال اس پر ہے درمختار میں ہے :
یکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ ۔
خاوند سے گھر میں ہی قسم لے لینا کافی ہے(ت)
دوسرا لفظ “ آزاد کیا “ اگر چہ نہ محتمل رد ہے نہ محتمل سب اور حالت غضب ہے تو طلاق مطلقا ہونی چاہئے تھی درمختار میں ہے :
انت حرۃ لایحتمل السب والرد ۔
“ توآزاد ہے “ کہنا ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۲
فتاوٰی انقرویہ کتاب الطلاق دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان۱ / ۷۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
فتاوٰی انقرویہ کتاب الطلاق دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان۱ / ۷۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
مگر لفظ آزاد کیا میں عورت کی طرف اضافت نہیں تو اگر بحلف کہہ دے گا کہ عورت کی نسبت نہ کہا تھا' تو طلاق کا اصلا حکم نہ ہوگا اگر جھوٹا حلف کرے گا تو اس کا پھر زنا کا وبال اور عذاب شدید کا استحقاق اس پر ہے۔ خانیہ وبزازیہ میں ہے :
لاتخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لا یقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ “
تومیری اجازت کے بغیر مت نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے “ کہا تو عورت نکل گئی طلاق نہ ہوگی کیونکہ بیوی کی طلاق کی قسم نہ کہا اور احتمال ہے کہ کسی دوسری عورت کی طلاق مرادلی ہے لہذا شوہر کی وضاحت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (ت)
بالجملہ اگر “ طلاق طلاق “ سے نیت طلاق کی اقرار کرے تو تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ ایك بائن کا حکم ہے عورت نکاح سے نکل گئی عدت میں خواہ بعد عدت اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے مگریہ کہ بحلف کہے کہ لفظ “ آزاد کیا “ اس زوجہ کی نسبت نہ کہا تھا تو اب اس سے حلف لیں گے کہ “ چلی جا “ سے اس عورت کو طلاق بائن کا ارادہ کیا تھا یانہیں اگر اس پر بھی حلف کرلے گا تواصلا حکم طلاق نہ ہوگا اور اگر اس پر حلف سے انکار کرے تو قاضی کے حضور پیش کیاجائے اگر حاکم کے سامنے بھی انکار کرے تو ایك طلاق بائن کا حکم دیا جائے گا عورت نکاح سے نکل گئی غصہ یا حمل یا عورت کا دور ہونا کچھ منافی طلاق نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۹ : از شاہجہان پور محلہ مہمند گڑھی مرسلہ حافظ نذیر حسن صاحب ۲۶صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو عرصہ سات برس سے چھوڑرکھا اور اس کا اصلا خبر گیراں نہیں ہوتا ہے نہ روٹی دیتا ہے نہ کپڑا دیتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے کہ اس کا دوسری جگہ نکاح کردیا جائے اور اس کا کوئی علاقہ بندوں سے دستگیر نہیں ہے کہ اس کا نان نفقہ کسی طرح پر چل سکے سخت مجبور ہے اب جو حکم صاحبان شرع متین کا ہواس پر عمل کیا جائے بیان کرو اجر پاؤ اور اس مدت کے درمیان میں مسماۃ نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ اب میرا شوہر مجھ کو رخصت کرلیجاوے اور بطور اپنی زوجہ کے مجھ کو سمجھے اس کے واسطے مسماۃ نے چند خط بھی روانہ کئے اور آدمیوں کو بھی بھیجا لیکن شوہر نے کچھ توجہ نہیں کی پھر اس کے بعد خود بھی گئی پھربھی اس نے نہیں رکھا واپس کردیا تب مجبور ہوکرعدالت سے نان نفقہ کا دعوی کیا وہاں اس نے روٹی کپڑا
لاتخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لا یقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ “
تومیری اجازت کے بغیر مت نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے “ کہا تو عورت نکل گئی طلاق نہ ہوگی کیونکہ بیوی کی طلاق کی قسم نہ کہا اور احتمال ہے کہ کسی دوسری عورت کی طلاق مرادلی ہے لہذا شوہر کی وضاحت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (ت)
بالجملہ اگر “ طلاق طلاق “ سے نیت طلاق کی اقرار کرے تو تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ ایك بائن کا حکم ہے عورت نکاح سے نکل گئی عدت میں خواہ بعد عدت اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے مگریہ کہ بحلف کہے کہ لفظ “ آزاد کیا “ اس زوجہ کی نسبت نہ کہا تھا تو اب اس سے حلف لیں گے کہ “ چلی جا “ سے اس عورت کو طلاق بائن کا ارادہ کیا تھا یانہیں اگر اس پر بھی حلف کرلے گا تواصلا حکم طلاق نہ ہوگا اور اگر اس پر حلف سے انکار کرے تو قاضی کے حضور پیش کیاجائے اگر حاکم کے سامنے بھی انکار کرے تو ایك طلاق بائن کا حکم دیا جائے گا عورت نکاح سے نکل گئی غصہ یا حمل یا عورت کا دور ہونا کچھ منافی طلاق نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۹ : از شاہجہان پور محلہ مہمند گڑھی مرسلہ حافظ نذیر حسن صاحب ۲۶صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو عرصہ سات برس سے چھوڑرکھا اور اس کا اصلا خبر گیراں نہیں ہوتا ہے نہ روٹی دیتا ہے نہ کپڑا دیتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے کہ اس کا دوسری جگہ نکاح کردیا جائے اور اس کا کوئی علاقہ بندوں سے دستگیر نہیں ہے کہ اس کا نان نفقہ کسی طرح پر چل سکے سخت مجبور ہے اب جو حکم صاحبان شرع متین کا ہواس پر عمل کیا جائے بیان کرو اجر پاؤ اور اس مدت کے درمیان میں مسماۃ نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ اب میرا شوہر مجھ کو رخصت کرلیجاوے اور بطور اپنی زوجہ کے مجھ کو سمجھے اس کے واسطے مسماۃ نے چند خط بھی روانہ کئے اور آدمیوں کو بھی بھیجا لیکن شوہر نے کچھ توجہ نہیں کی پھر اس کے بعد خود بھی گئی پھربھی اس نے نہیں رکھا واپس کردیا تب مجبور ہوکرعدالت سے نان نفقہ کا دعوی کیا وہاں اس نے روٹی کپڑا
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۵
دینے کا اقرار کیا اس پر بھی وہ مقدمہ خارج کیا گیا پھر اس کے بعد مسماۃ نے کچھ عرصہ تك انتظار کیا پھر مسماۃ نے وہاں خبر بھیجی اس پر اس نے ایك ایسا کارڈ روانہ کیا کہ جس کو دیکھ کر عقل گم ہوگئی چونکہ ظاہرمیں وہ شخص اقرار کرتا ہے اور باطن میں وہ ایسا ہے پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مسماۃ کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور وہ شخص ضلع شاہجہان پور مقام موضع سندھول کا رہنے والا ہے اور مسماۃ باشندہ شاہجہان پور ہے محلہ مہمند گھڑی اور جوکارڈ اس نے روانہ کیا وہ کارڈ بھی اس میں رکھا ہے آپ ا پنے دستخط اور جو علمائے سنت ہوں ان کے دستخط کرواکے روانہ کیجئے نہایت عاجز اور مسکین ہوں فقر فاقہ کرتی ہوں آپ صاحبان علمائے دین کے دستخط ہوکر فتوی آجائے گا تو اور جگہ نکاح کرلوں گی اور آپ کو دعا دوں گی اور آپ کو اﷲتعالی اس کا اجر عظیم دے گا واسطے اﷲکے میرے اوپر رحم کیجئے۔
الجواب :
کارڈ دیکھا گیا اس میں صرف یہ لفظ ہے آپ کہتے ہیں اپنی عورت کو لے جاؤ اور اس نے مجھ پر مقدمہ چلایا اور وکیلوں کے پاس گئی اور پھری گئی اور ہرکس وناکس سے ملی اس لئے وہ بالکل میرے کام کی نہ رہی اتنے لفظ پر جب تك طلاق کی نیت سے کہنا ثابت نہ ہو طلاق کا حکم نہیں ہوسکتا نہ ہرگز عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اگر کرے گی محض حرام ہوگا اس سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرے کہ ہاں میں نے یہ لفظ بہ نیت طلاق کہا تھا تو جبھی سے طلاق ہوگئی جب سے اب تك اگر عورت کو تین حیض آکر ختم ہوگئے یا جب ختم ہوجائیں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر وہ نیت طلاق کا اقرار نہ کرے اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے نیت طلاق نہ کی تھی تو ہرگز حکم طلاق نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ (خاوند سے گھرمیں ہی قسم لے لینا کافی ہے۔ ت)اور اگر حلف سے انکار کرے تو شرعی نالش کی جائے کہ اس نے یہ الفاظ کہے ہیں اور ان سے طلاق کا احتمال ہے اگر وہ حاکم کے سامنے بھی اس حلف سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی اور اگر وہاں حلف کرلیا تو طلاق ثانب نہ ہوگی اگر جھوٹی حلف یہاں یا وہاں کیا تو وبال اس پر ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۱۰ : ازبریلی شہرکہنہ محلہ قرولی مرسلہ عظیم اﷲخاں صاحب ۹شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مے نوشی وقمار بازی کرتا ہے اس نے
الجواب :
کارڈ دیکھا گیا اس میں صرف یہ لفظ ہے آپ کہتے ہیں اپنی عورت کو لے جاؤ اور اس نے مجھ پر مقدمہ چلایا اور وکیلوں کے پاس گئی اور پھری گئی اور ہرکس وناکس سے ملی اس لئے وہ بالکل میرے کام کی نہ رہی اتنے لفظ پر جب تك طلاق کی نیت سے کہنا ثابت نہ ہو طلاق کا حکم نہیں ہوسکتا نہ ہرگز عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اگر کرے گی محض حرام ہوگا اس سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرے کہ ہاں میں نے یہ لفظ بہ نیت طلاق کہا تھا تو جبھی سے طلاق ہوگئی جب سے اب تك اگر عورت کو تین حیض آکر ختم ہوگئے یا جب ختم ہوجائیں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر وہ نیت طلاق کا اقرار نہ کرے اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے نیت طلاق نہ کی تھی تو ہرگز حکم طلاق نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ (خاوند سے گھرمیں ہی قسم لے لینا کافی ہے۔ ت)اور اگر حلف سے انکار کرے تو شرعی نالش کی جائے کہ اس نے یہ الفاظ کہے ہیں اور ان سے طلاق کا احتمال ہے اگر وہ حاکم کے سامنے بھی اس حلف سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی اور اگر وہاں حلف کرلیا تو طلاق ثانب نہ ہوگی اگر جھوٹی حلف یہاں یا وہاں کیا تو وبال اس پر ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۱۰ : ازبریلی شہرکہنہ محلہ قرولی مرسلہ عظیم اﷲخاں صاحب ۹شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مے نوشی وقمار بازی کرتا ہے اس نے
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
حالت مے نوشی وہار کی سوزش قمار بازی میں بیوی اپنی سے روپیہ طلب کیا روپیہ دینے میں بیوی نے تسہل کیا یہ سمجھ کر کہ حالت غیر ہے اس وجہ سے تشدد ہے نیز یہ بھی خیال کیا کہ بچوں کو تکلیف نہ ہو یہ سستی کرنا اور انکارروپیہ سے کرنا اس کو اس قدرناگوار ہوا کہ یہ تحریر لکھ کر دے دی جو حضور کے پیش نظر ہے :
نقل تحریر : مسماۃ عائشہ بیگم کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ چاہے کسی کے ساتھ عقد کرے یابیٹھی رہے مجھے کچھ عذر نہیں ہے۔ عنایت اﷲ ولد محمد مصطفی ساکن بریلی شہر کہنہ محلہ قرولی مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۹ء۔
الجواب :
اگریہ تحریر اس نے بہ نیت طلاق لکھی یعنی “ میں نے اسے طلاق دے کر آزاد خود مختار کردیا چاہے تو دوسرے سے نکاح کرلے “ جب تو ایك طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کواختیار ہے کہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگرنیت طلاق سے نہ لکھی تو طلاق نہ ہوئی یہ بات کہ طلاق کی نیت نہ تھی زید کے حلف پر ہے اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے گا کہ میں نے اس سے اسے اپنے نکاح سے خارج کرنے کی نیت نہ کی تھی مان لیں گے اور حکم طلاق نہ دیں گے اگر زید جھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے۔ درمختار میں ہے :
والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھالہ فی منزلہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس کی بات قسم کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی اور بیوی کا گھر میں خاوند سے قسم لینا کافی ہوگا۔ (ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۱ : از شہر بریلی کیمپ صدر مسئولہ حبیب احمد صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایك شخص کی شادی ہوئے عرصہ۹ سال کا ہوا شادی کرکے وہ شخص صرف پندرہ روز اپنی زوجہ کے پاس رہا بعد میں وہ سفر کو چلاگیا اور ۹سال سے آوارہ پھرتا ہے جب اس کے قیام کی خبر دہلی میں معلوم ہوئی اس کی زوجہ اس کے پاس گئی اس نے کہا “ تویہاں سے چلی جا ورنہ تیری ناك کاٹ لوں گا جو تیرادل چاہے وہ توکر میرے پاس مت آ۔ “ عورت نوجوان ہے شوہر متذکرہ بالا پر کیا نکاح جائر رہا
الجواب :
اگر اس کی نیت ان لفظوں سے طلاق کی نیت ہونا ثابت ہوجائے حکم طالق دے دیں گے ورنہ
نقل تحریر : مسماۃ عائشہ بیگم کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ چاہے کسی کے ساتھ عقد کرے یابیٹھی رہے مجھے کچھ عذر نہیں ہے۔ عنایت اﷲ ولد محمد مصطفی ساکن بریلی شہر کہنہ محلہ قرولی مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۹ء۔
الجواب :
اگریہ تحریر اس نے بہ نیت طلاق لکھی یعنی “ میں نے اسے طلاق دے کر آزاد خود مختار کردیا چاہے تو دوسرے سے نکاح کرلے “ جب تو ایك طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کواختیار ہے کہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگرنیت طلاق سے نہ لکھی تو طلاق نہ ہوئی یہ بات کہ طلاق کی نیت نہ تھی زید کے حلف پر ہے اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے گا کہ میں نے اس سے اسے اپنے نکاح سے خارج کرنے کی نیت نہ کی تھی مان لیں گے اور حکم طلاق نہ دیں گے اگر زید جھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے۔ درمختار میں ہے :
والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھالہ فی منزلہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس کی بات قسم کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی اور بیوی کا گھر میں خاوند سے قسم لینا کافی ہوگا۔ (ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۱ : از شہر بریلی کیمپ صدر مسئولہ حبیب احمد صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایك شخص کی شادی ہوئے عرصہ۹ سال کا ہوا شادی کرکے وہ شخص صرف پندرہ روز اپنی زوجہ کے پاس رہا بعد میں وہ سفر کو چلاگیا اور ۹سال سے آوارہ پھرتا ہے جب اس کے قیام کی خبر دہلی میں معلوم ہوئی اس کی زوجہ اس کے پاس گئی اس نے کہا “ تویہاں سے چلی جا ورنہ تیری ناك کاٹ لوں گا جو تیرادل چاہے وہ توکر میرے پاس مت آ۔ “ عورت نوجوان ہے شوہر متذکرہ بالا پر کیا نکاح جائر رہا
الجواب :
اگر اس کی نیت ان لفظوں سے طلاق کی نیت ہونا ثابت ہوجائے حکم طالق دے دیں گے ورنہ
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
نہیں اس سے پوچھا جائے کہ تونے یہ لفظ بہ نیت طلاق کہے تھے یانہیں اگر قسم کھالے کہ میں نے بہ نیت طلاق نہ کہے تھے تو طلاق نہ مانی جائے گی اور اگر قسم کھانے سے انکار کے توطلاق ثابت ہوجائے گی جب تك یہ انکار حاکم شرع کے حضور نہ ہو طلاق ثابت نہ ہوگی ہاں اگراقرار کردے کہ بہ نیت طلاق کہے تھے تو طلاق ہوگئی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲ : ازپیلی بھیت محلہ شیر محمد مسئولہ اویس خاں عرف شریف اﷲخاں ۱۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص ملازم فوج ہوکر پردیس جانے کے وقت اپنے والدین سے یہ کہہ کر رخصت ہوا کہ میری یہ عورت میرے مطلب کی نہیں ہے میری واپسی سے قبل نہایت ایذا کے ساتھ اس کو نکال دینا میں واپس آکر دوسری شادی کرلوں گا۔ چنانچہ اس شخص کی عورت کو مطابق استدعا کے اس کے والدین نے اندر دو۲ماہ نکال دیا اور اس عورت نے اندر ایك ماہ دوسرے شخص کے ساتھ اپنا نکاح کرلیا عورت مذکورہ دوسرے شوہر کے یہاں سے بھی بلاطلاق کے بوجہ حمل ہونے کے نکال دی گئی اب اس عورت کو اپنے پہلے شوہر کے مکان سے نکلے ہوئے تقریبا ایك سال گزرگیا اور اس کا شوہر بھی ملازمت فوج سے واپس آیا اور پانچ چھ ماہ ہوئے وقت واپسی کے آج تك عورت مذکور کا خبرگیراں نہیں ہوا اور قبل جانے پر دیس کے ایك دن اس کے شوہر نے طلاق نامہ لکھنے کا بندوبست کیا تھا اور کچھ لوگوں کو جمع کیا تھا مگر اس کو کسی خیال نے تکمیل طلاق نامہ سے روك دیا تھا عورت مذکور کو اس کے ماں باپ بھی اپنے پاس رکھنے کے روا دار نہیں ہیں اور اس کی گود میں ایك لڑکا ساتھ سال کا پہلے شوہر کا موجود ہے کیا عورت مذکور اپنا نکاح کسی اور شخص سے کرسکتی ہے
الجواب :
یہ لفظ کہ “ یہ عورت میرے مطلب کی نہیں ' ' کنایات سے ہے اور محتمل سب ہے اور حالت حالت غضب ہے تو حکم طلاق نیت پرموقوف ہے کہ پہلا شوہر اگریہ اقرار کرے کہ بہ نیت طلاق یہ لفظ کہے تھے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور بعد وضع حمل عدت گزرگئی دوسرے سے نکاح کا اسے اختیار ہوگا اگر وہ نیت طلاق کا انکار کرے تو اس سے حلف لیاجائے اگر حلف کرے گا کہ اس کی نیت طلاق کی نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی اور عورت کو دوسری جگہ نکاح حرام ہوگا اور وہ جو دوسرے سے نکاح کیا تھا وہ تو بہر حال حرام تھا کہ بلاثبوت طلاق تھا اور اگر ثبوت بھی ہوجاتا تو عدت کے اندر تھا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۳ : ازاجمیر شریف محلہ چاہ ارٹ مسئولہ سید محمد عظیم صاحب ۲۲رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ عورت کا بیان ہے کہ میرے خاوند سے عرصہ دوبرس سے کوئی تعلق نا اتفاقیوں کے باعث نہیں تھا چنانچہ اب اس نے زبانی اور تحریر سے یہ لکھ دیا ہے کہ “ تو ہفتہ کے اندر میرے
مسئلہ ۳۱۲ : ازپیلی بھیت محلہ شیر محمد مسئولہ اویس خاں عرف شریف اﷲخاں ۱۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص ملازم فوج ہوکر پردیس جانے کے وقت اپنے والدین سے یہ کہہ کر رخصت ہوا کہ میری یہ عورت میرے مطلب کی نہیں ہے میری واپسی سے قبل نہایت ایذا کے ساتھ اس کو نکال دینا میں واپس آکر دوسری شادی کرلوں گا۔ چنانچہ اس شخص کی عورت کو مطابق استدعا کے اس کے والدین نے اندر دو۲ماہ نکال دیا اور اس عورت نے اندر ایك ماہ دوسرے شخص کے ساتھ اپنا نکاح کرلیا عورت مذکورہ دوسرے شوہر کے یہاں سے بھی بلاطلاق کے بوجہ حمل ہونے کے نکال دی گئی اب اس عورت کو اپنے پہلے شوہر کے مکان سے نکلے ہوئے تقریبا ایك سال گزرگیا اور اس کا شوہر بھی ملازمت فوج سے واپس آیا اور پانچ چھ ماہ ہوئے وقت واپسی کے آج تك عورت مذکور کا خبرگیراں نہیں ہوا اور قبل جانے پر دیس کے ایك دن اس کے شوہر نے طلاق نامہ لکھنے کا بندوبست کیا تھا اور کچھ لوگوں کو جمع کیا تھا مگر اس کو کسی خیال نے تکمیل طلاق نامہ سے روك دیا تھا عورت مذکور کو اس کے ماں باپ بھی اپنے پاس رکھنے کے روا دار نہیں ہیں اور اس کی گود میں ایك لڑکا ساتھ سال کا پہلے شوہر کا موجود ہے کیا عورت مذکور اپنا نکاح کسی اور شخص سے کرسکتی ہے
الجواب :
یہ لفظ کہ “ یہ عورت میرے مطلب کی نہیں ' ' کنایات سے ہے اور محتمل سب ہے اور حالت حالت غضب ہے تو حکم طلاق نیت پرموقوف ہے کہ پہلا شوہر اگریہ اقرار کرے کہ بہ نیت طلاق یہ لفظ کہے تھے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور بعد وضع حمل عدت گزرگئی دوسرے سے نکاح کا اسے اختیار ہوگا اگر وہ نیت طلاق کا انکار کرے تو اس سے حلف لیاجائے اگر حلف کرے گا کہ اس کی نیت طلاق کی نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی اور عورت کو دوسری جگہ نکاح حرام ہوگا اور وہ جو دوسرے سے نکاح کیا تھا وہ تو بہر حال حرام تھا کہ بلاثبوت طلاق تھا اور اگر ثبوت بھی ہوجاتا تو عدت کے اندر تھا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۳ : ازاجمیر شریف محلہ چاہ ارٹ مسئولہ سید محمد عظیم صاحب ۲۲رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ عورت کا بیان ہے کہ میرے خاوند سے عرصہ دوبرس سے کوئی تعلق نا اتفاقیوں کے باعث نہیں تھا چنانچہ اب اس نے زبانی اور تحریر سے یہ لکھ دیا ہے کہ “ تو ہفتہ کے اندر میرے
پاس نہ آئے تو جہاں پر چاہے جا تجھے اختیار ہے تیرے دل کا اور مجھے اختیار ہے اپنے دل کا۔ “ لہذا عورت نے ان الفاظ کو طلاق سمجھ کر اپنے کو بائن کرلیا لہذا فرمائیے کہ یہ طلاق ہوئی یانہیں اور عورت بعد عدت دوسرے سے عقد کرسکتی ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اس صورت میں طلاق ہونا نیت شوہر پر موقوف ہے عورت کو کوئی اختیار نہیں کہ بطور خود اپنے آپ کو مطلقہ سمجھے شوہر اگر قسم سے کہہ دے گا کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو ہرگزطلاق نہ مانی جائے گی اور وہ بدستور اس کی زوجہ ہوگی ہاں اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو حاکم شرعی کے حضور نالش کی جائے اگر شوہر اس کے سامنے بھی حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۴ : از شہر بریلی ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غصہ کی حالت میں اور دوران طلب طلاق میں زید نے اپنی ساس اور خسر سے کہا اگر میں پسند نہیں ہوں تو دوسرے سے نکاح کردو یا شادی کردو سا نے جواب میں کہا ہاں تو پسند نہیں ہے اس سے نکاح ٹوٹ گیا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
حالت حالت مذ اکرہ وغضب ہے اور لفظ نہ محتمل رد نہ محتمل سب ہے لہذا طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی ھذا ما عندی(یہ جواب میرے ہاں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۱۵ : ازجیت پور کاٹھیاواڑ جامع مسجد مدرسہ معرفت جناب مولوی سید غلام حیدر صاحب مسئولہ مولوی جمیل الرحمن صاحب رضوی بریلی ۱۴ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کا اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی بی بی ہند ہ پر سخت غصہ ہوکر بحالت غصہ یہ کہا کہ “ تواپنے گھر کو جا میرے کام کی نہیں میں نے تجھ کو طلاق دی “ ۔ ہندہ کو آٹھ ماہ کا حمل ہے زید حلف اٹھاتا ہے کہ “ میں نے فقط تنبیہ کے لئے یہ الفاظ کہے تھے ہرگز ایسے الفاظ طلاق کی غرض سے نہ کہے تھے اور میں اس وقت غصہ میں آپے سے باہر تھا “ اب زید و ہندہ کیا کرنا چاہئے اگر حلالہ لازم آتا ہو تو کوئی صورت شریعت مطہرہ نے ایسی بھی بتائی ہے کہ حلالہ نہ کرنا پڑے اور زید وہندہ کے تعلقات قائم رہیں یا قائم ہوجائیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
اس صورت میں طلاق ہونا نیت شوہر پر موقوف ہے عورت کو کوئی اختیار نہیں کہ بطور خود اپنے آپ کو مطلقہ سمجھے شوہر اگر قسم سے کہہ دے گا کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو ہرگزطلاق نہ مانی جائے گی اور وہ بدستور اس کی زوجہ ہوگی ہاں اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو حاکم شرعی کے حضور نالش کی جائے اگر شوہر اس کے سامنے بھی حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۴ : از شہر بریلی ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غصہ کی حالت میں اور دوران طلب طلاق میں زید نے اپنی ساس اور خسر سے کہا اگر میں پسند نہیں ہوں تو دوسرے سے نکاح کردو یا شادی کردو سا نے جواب میں کہا ہاں تو پسند نہیں ہے اس سے نکاح ٹوٹ گیا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
حالت حالت مذ اکرہ وغضب ہے اور لفظ نہ محتمل رد نہ محتمل سب ہے لہذا طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی ھذا ما عندی(یہ جواب میرے ہاں ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۱۵ : ازجیت پور کاٹھیاواڑ جامع مسجد مدرسہ معرفت جناب مولوی سید غلام حیدر صاحب مسئولہ مولوی جمیل الرحمن صاحب رضوی بریلی ۱۴ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کا اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی بی بی ہند ہ پر سخت غصہ ہوکر بحالت غصہ یہ کہا کہ “ تواپنے گھر کو جا میرے کام کی نہیں میں نے تجھ کو طلاق دی “ ۔ ہندہ کو آٹھ ماہ کا حمل ہے زید حلف اٹھاتا ہے کہ “ میں نے فقط تنبیہ کے لئے یہ الفاظ کہے تھے ہرگز ایسے الفاظ طلاق کی غرض سے نہ کہے تھے اور میں اس وقت غصہ میں آپے سے باہر تھا “ اب زید و ہندہ کیا کرنا چاہئے اگر حلالہ لازم آتا ہو تو کوئی صورت شریعت مطہرہ نے ایسی بھی بتائی ہے کہ حلالہ نہ کرنا پڑے اور زید وہندہ کے تعلقات قائم رہیں یا قائم ہوجائیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر واقعہ اسی قدرہے عورت نے یاکسی اور نے عورت کے لئے طلاق نہ مانگی تھی جس کے جواب میں یہ لفظ اس نے کہے نہ اس نے ان الفاظ کو مکرر کہا بلکہ صرف ایك ہی بارکہا تو اس صورت میں ایك ہی طلاق رجعی واقع ہوئی
لان اللفظ الاول یحتمل الرد فینوی علی کل حال والثانی یحتمل السب فینوی فی الغضب وقد حلف ویکفی حلفہ فی منزلہ کما فی الدرالمختار واللفظ الثالث وان کان صریحا لایکون قرینۃ فی الاولین لان شرط النیۃ ان تتقدم کما فی ردالمحتار۔
کیونکہ پہلا لفظ جواب کا بھی احتمال رکھتالہذا بہر صورت نیت طلاق ضروری ہے اور دوسرا لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے اس لئے صرف غصہ کی حالت میں طلاق کی نیت کرنی ہوگی جبکہ وہ قسم دے چکا ہے اور گھرمیں قسم دے دینا کافی ہے جیس کہ درمختار میں ہے۔ اور تیسرا لفظ اگرچہ طلاق میں صریح ہے لیکن یہ پہلے دونوں لفظوں کےلئے قرینہ کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ قرینہ کے لئے پہلے ہونا شرط ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
پس اگر اس سے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دی تھیں نہ ایك طلاق بائن دی تھی جس کی عدت باقی ہوتو جب تك وضع حمل نہ ہورجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے اتنا کہہ دے کہ “ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا “ تو وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی اور اگر وضع حمل تك رجعت نہ کرے گا تو اس کے بعد برضائے زن اس سے دوبارہ نکاح کرنے کی حاجت ہوگی حلالہ کی حاجت دونوں صورتو ں میں نہیں حلالہ تین طلاقوں پر لازم ہوتاہے اور جب لازم ہوتاہے اس کے ساقط کرنے کی کوئی صورت نہیں وکل ماذکر فی القنیۃ من الحیل وغیرہا باطل لااصل لہ(قنیہ میں جو حیلے ذکر کئے گئے وہ باطل ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۶ : مرسلہ مستقیم خاں زمیندار ۱۴صفر ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علی محمد خاں کی بیٹی کا نکاح بھوراخاں کے ساتھ ہوا ابھی رخصت نہ ہوئی تھی کہ باہم نزاع ہوگیا۔ برکت اﷲخاں مستقیم خاں نظیرالدین خاں صلح کےلئے گئے۔ سب کے سامنے بھورا خاں نے کہا “ یہ میری زوجہ نہیں ہے میں نے اس کو پہلے چھوڑدیا ہے “ اور چند مرتبہ کہا “ میں نے چھوڑدی چھوڑدی مجھ کو کچھ سروکار نہیں میری بی بی نہیں ہے “ اس صورت میں طلاق ہوئی یا
اگر واقعہ اسی قدرہے عورت نے یاکسی اور نے عورت کے لئے طلاق نہ مانگی تھی جس کے جواب میں یہ لفظ اس نے کہے نہ اس نے ان الفاظ کو مکرر کہا بلکہ صرف ایك ہی بارکہا تو اس صورت میں ایك ہی طلاق رجعی واقع ہوئی
لان اللفظ الاول یحتمل الرد فینوی علی کل حال والثانی یحتمل السب فینوی فی الغضب وقد حلف ویکفی حلفہ فی منزلہ کما فی الدرالمختار واللفظ الثالث وان کان صریحا لایکون قرینۃ فی الاولین لان شرط النیۃ ان تتقدم کما فی ردالمحتار۔
کیونکہ پہلا لفظ جواب کا بھی احتمال رکھتالہذا بہر صورت نیت طلاق ضروری ہے اور دوسرا لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے اس لئے صرف غصہ کی حالت میں طلاق کی نیت کرنی ہوگی جبکہ وہ قسم دے چکا ہے اور گھرمیں قسم دے دینا کافی ہے جیس کہ درمختار میں ہے۔ اور تیسرا لفظ اگرچہ طلاق میں صریح ہے لیکن یہ پہلے دونوں لفظوں کےلئے قرینہ کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ قرینہ کے لئے پہلے ہونا شرط ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
پس اگر اس سے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دی تھیں نہ ایك طلاق بائن دی تھی جس کی عدت باقی ہوتو جب تك وضع حمل نہ ہورجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے اتنا کہہ دے کہ “ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا “ تو وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی اور اگر وضع حمل تك رجعت نہ کرے گا تو اس کے بعد برضائے زن اس سے دوبارہ نکاح کرنے کی حاجت ہوگی حلالہ کی حاجت دونوں صورتو ں میں نہیں حلالہ تین طلاقوں پر لازم ہوتاہے اور جب لازم ہوتاہے اس کے ساقط کرنے کی کوئی صورت نہیں وکل ماذکر فی القنیۃ من الحیل وغیرہا باطل لااصل لہ(قنیہ میں جو حیلے ذکر کئے گئے وہ باطل ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۶ : مرسلہ مستقیم خاں زمیندار ۱۴صفر ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علی محمد خاں کی بیٹی کا نکاح بھوراخاں کے ساتھ ہوا ابھی رخصت نہ ہوئی تھی کہ باہم نزاع ہوگیا۔ برکت اﷲخاں مستقیم خاں نظیرالدین خاں صلح کےلئے گئے۔ سب کے سامنے بھورا خاں نے کہا “ یہ میری زوجہ نہیں ہے میں نے اس کو پہلے چھوڑدیا ہے “ اور چند مرتبہ کہا “ میں نے چھوڑدی چھوڑدی مجھ کو کچھ سروکار نہیں میری بی بی نہیں ہے “ اس صورت میں طلاق ہوئی یا
حوالہ / References
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اس صورت میں عورت نکاح سے نکل گئی اس پر ایك طلاق بائن ہوگئی آدھا مہر شوہر پر واجب الادا ہوا عورت کو عدت کی ضرورت نہیں جس وقت چاہے نکاح کرلے اگر اس شوہر سابق ہی سے راضی ہوتو اس سے بھی نکاح ہوسکتا ہے حلالے کی حاجت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۷ : مسئولہ مولانا حشمت علی صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۱۹رجب شریف یوم جمعہ ۱۳۳۸ھ بریلی شریف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی ساس سے کہا “ میں تمہاری لڑکی کو چھوڑتا ہوں میرے کام کی نہیں “ اب سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
دوطلاقیں بائن ہوگئیں عورت نکاح سے نکل گئی عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر رخصت نہ ہوئی تھی تو عدت کی بھی حاجت نہیں اور اگر زید ہی سے نکاح چاہے تو اس سے بھی کرسکتی ہے عدت میں خواہ عدت کے بعد جبکہ اس سے پہلے کوئی طلاق اسے نہ دے چکاہو کہ ایسا تھا توتین ہوگئیں بے حلالہ نہیں ہوسکے گا
وذلك لان اللفظ الاول صریح فوقع بہ طلاق وان لم ینو وصار الحال بہ حال المذاکرۃ واللفظ الثانی لا یحتمل الرد بل السب فاستغنی عن النیۃ لاجل المذاکرۃ والواقع بہ بائن لانہ من الکنایات غیر الثلاث المعلومۃ اعتدی واخیہا فلحوقہ جعل الرجعی الاول ایضا بائنا لامتناع الرجعۃ بالثانی فبانت بثنتین۔ واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ پہلا لفظ صریح ہے اس لئے یہ طلاق ہوئی اگرچہ نیت نہ بھی ہو اس سے مذاکرہ طلاق کا حال ہوگیا اور دوسرا لفظ صرف ڈانٹ کا احتمال رکھتا اور جواب نہیں بن سکتا لہذا یہاں نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ مذاکرہ طلا ق ہوچکا ہے اس سے بائنہ طلاق ہوئی کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے لیکن اعتدی اور اس جیسے الفاظ کنایہ تین میں سے نہیں ہے لہذا اس دوسرے لفظ سے پہلی صریح طلاق بھی بائنہ ہوگئی کیونکہ دوسری بائنہ ہے جس کی وجہ سے پہلی میں رجوع ممکن نہ رہا لہذا بیوی کو دو۲بائنہ طلاقیں ہوئیں واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب :
اس صورت میں عورت نکاح سے نکل گئی اس پر ایك طلاق بائن ہوگئی آدھا مہر شوہر پر واجب الادا ہوا عورت کو عدت کی ضرورت نہیں جس وقت چاہے نکاح کرلے اگر اس شوہر سابق ہی سے راضی ہوتو اس سے بھی نکاح ہوسکتا ہے حلالے کی حاجت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۷ : مسئولہ مولانا حشمت علی صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۱۹رجب شریف یوم جمعہ ۱۳۳۸ھ بریلی شریف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی ساس سے کہا “ میں تمہاری لڑکی کو چھوڑتا ہوں میرے کام کی نہیں “ اب سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
دوطلاقیں بائن ہوگئیں عورت نکاح سے نکل گئی عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر رخصت نہ ہوئی تھی تو عدت کی بھی حاجت نہیں اور اگر زید ہی سے نکاح چاہے تو اس سے بھی کرسکتی ہے عدت میں خواہ عدت کے بعد جبکہ اس سے پہلے کوئی طلاق اسے نہ دے چکاہو کہ ایسا تھا توتین ہوگئیں بے حلالہ نہیں ہوسکے گا
وذلك لان اللفظ الاول صریح فوقع بہ طلاق وان لم ینو وصار الحال بہ حال المذاکرۃ واللفظ الثانی لا یحتمل الرد بل السب فاستغنی عن النیۃ لاجل المذاکرۃ والواقع بہ بائن لانہ من الکنایات غیر الثلاث المعلومۃ اعتدی واخیہا فلحوقہ جعل الرجعی الاول ایضا بائنا لامتناع الرجعۃ بالثانی فبانت بثنتین۔ واﷲتعالی اعلم۔
کیونکہ پہلا لفظ صریح ہے اس لئے یہ طلاق ہوئی اگرچہ نیت نہ بھی ہو اس سے مذاکرہ طلاق کا حال ہوگیا اور دوسرا لفظ صرف ڈانٹ کا احتمال رکھتا اور جواب نہیں بن سکتا لہذا یہاں نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ مذاکرہ طلا ق ہوچکا ہے اس سے بائنہ طلاق ہوئی کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے لیکن اعتدی اور اس جیسے الفاظ کنایہ تین میں سے نہیں ہے لہذا اس دوسرے لفظ سے پہلی صریح طلاق بھی بائنہ ہوگئی کیونکہ دوسری بائنہ ہے جس کی وجہ سے پہلی میں رجوع ممکن نہ رہا لہذا بیوی کو دو۲بائنہ طلاقیں ہوئیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۸ : ۲۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ “ جا میں نے تجھے چھوڑدیا “ اور چند مرتبہ اور چند آدمیوں کے سامنے یہی کہا کہ “ میں نے اس کو چھوڑدیا “ مگر “ طلاق “ کا لفظ نہیں کہا تو طلاق ہوئی یانہیں
الجواب :
اگر تین بار کہا تین طلاقیں ہوگئیں اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین بار سے کم کہا اور عدت گزرگئی تو دوسرا نکاح آپس میں کرسکتے ہیں اور عدت نہ گزری تو مرد کا اتنا کہنا کافی ہے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۹ : ازشہر بریلی محلہ ذخیرہ مسئولہ سیدشرافت علی صاحب ۷رجب مرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی اپنے میکہ میں ہے زید کے گھر سے ایك آدمی اس کو لینے گیا اس کے والدین نے نہیں بھیجا دوسرے دن زید خود گیا پھر بھی نہیں بھیجا اور نہ کوئی وجہ خاص بتلائی زید کو ناگوار ہوا اس نے کہا کہ “ اگر آپ نہیں بھیجتے تو آپ کی لڑکی کوجواب دے دوں گا اور آپ اس وقت دوچار آدمیوں کو بلوالیجئے تاکہ میں اس وقت ان کی موجودگی میں جواب دے دوں اور قطع تعلق کرلوں ۔ “ زیدکے خسر او ساس نے جواب دیا کہ “ نہ ہم آدمیوں کو جمع کریں گے اور نہ جواب لینا منظور ہے “ زید یہ کہہ کر کہ “ میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپناکوئی تعلق نہیں رکھتا اور کل بذریعہ رجسٹری ڈاکخانہ سے دوبارہ آپ کو اطلاع دوں گا “ ۔ دوسرے دن اس نے یہ لکھ کر کہ “ میں قطع تعلق کرتا ہوں اور طلاق دیتاہوں “ رجسٹری کردی زید کے خسر نے واپس کردی زید پردیس چلاگیا وہاں سے دو۲ماہ کے بعد آیا اس وقت زید کے ایك عزیز نے جو کہ اس کی بی بی کا قریبی رشتہ دار تھا زید سے مل کریہ چاہا کہ بیوی سے صلح ہوجائے زید نے اس کو یہ جواب دیا کہ “ میں طلاق دے چکاہوں اب صلح کیسی “ وہ خاموش ہوگیا چنانچہ ایك اور آدمی سے بھی زید نے یہ کہا کہ “ میں اپنی بی بی کو طلاق دے چکا ہوں “ اب زید معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اس کی بی بی کو طلاق ہوگئی یانہیں
الجواب :
طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دے چکا تھا تو برضائے زن اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت نہیں اور اگر پہلے ایك طلاق بھی دے چکاتھا تو اب بے حلالہ نہیں کرسکتا کہ تین ہوگئیں ایك پہلے اور ایك اس وقت اس کا کہنا کہ “ میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپنا کوئی تعلق نہیں رکھتا “ __________________پھر لکھنا کہ “ میں قطع تعلق کرتا ہوں “ یہ مجموع ایك ہی ہوگی فان البائن لایلحق البائن والنیۃ قد ظہرت
زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ “ جا میں نے تجھے چھوڑدیا “ اور چند مرتبہ اور چند آدمیوں کے سامنے یہی کہا کہ “ میں نے اس کو چھوڑدیا “ مگر “ طلاق “ کا لفظ نہیں کہا تو طلاق ہوئی یانہیں
الجواب :
اگر تین بار کہا تین طلاقیں ہوگئیں اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین بار سے کم کہا اور عدت گزرگئی تو دوسرا نکاح آپس میں کرسکتے ہیں اور عدت نہ گزری تو مرد کا اتنا کہنا کافی ہے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۹ : ازشہر بریلی محلہ ذخیرہ مسئولہ سیدشرافت علی صاحب ۷رجب مرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی اپنے میکہ میں ہے زید کے گھر سے ایك آدمی اس کو لینے گیا اس کے والدین نے نہیں بھیجا دوسرے دن زید خود گیا پھر بھی نہیں بھیجا اور نہ کوئی وجہ خاص بتلائی زید کو ناگوار ہوا اس نے کہا کہ “ اگر آپ نہیں بھیجتے تو آپ کی لڑکی کوجواب دے دوں گا اور آپ اس وقت دوچار آدمیوں کو بلوالیجئے تاکہ میں اس وقت ان کی موجودگی میں جواب دے دوں اور قطع تعلق کرلوں ۔ “ زیدکے خسر او ساس نے جواب دیا کہ “ نہ ہم آدمیوں کو جمع کریں گے اور نہ جواب لینا منظور ہے “ زید یہ کہہ کر کہ “ میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپناکوئی تعلق نہیں رکھتا اور کل بذریعہ رجسٹری ڈاکخانہ سے دوبارہ آپ کو اطلاع دوں گا “ ۔ دوسرے دن اس نے یہ لکھ کر کہ “ میں قطع تعلق کرتا ہوں اور طلاق دیتاہوں “ رجسٹری کردی زید کے خسر نے واپس کردی زید پردیس چلاگیا وہاں سے دو۲ماہ کے بعد آیا اس وقت زید کے ایك عزیز نے جو کہ اس کی بی بی کا قریبی رشتہ دار تھا زید سے مل کریہ چاہا کہ بیوی سے صلح ہوجائے زید نے اس کو یہ جواب دیا کہ “ میں طلاق دے چکاہوں اب صلح کیسی “ وہ خاموش ہوگیا چنانچہ ایك اور آدمی سے بھی زید نے یہ کہا کہ “ میں اپنی بی بی کو طلاق دے چکا ہوں “ اب زید معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اس کی بی بی کو طلاق ہوگئی یانہیں
الجواب :
طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دے چکا تھا تو برضائے زن اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت نہیں اور اگر پہلے ایك طلاق بھی دے چکاتھا تو اب بے حلالہ نہیں کرسکتا کہ تین ہوگئیں ایك پہلے اور ایك اس وقت اس کا کہنا کہ “ میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپنا کوئی تعلق نہیں رکھتا “ __________________پھر لکھنا کہ “ میں قطع تعلق کرتا ہوں “ یہ مجموع ایك ہی ہوگی فان البائن لایلحق البائن والنیۃ قد ظہرت
(بائنہ طلاق پہلی بائنہ کے بعد نہیں آسکتی اس میں نیت کی ضرورت تھی جو کہ پائی گئی۔ ت)اورایك اس کا لکھنا کہ “ طلاق دیتا ہوں “ اور رجسٹری واپس دینے سے طلاق واپس نہ ہوگی کہ بلا شر ط تھی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۰ : ازملك متوسط شہر رائپور محلہ بیجناتھ بارہ مرسلہ منشی محمد اسحق مولود خواں عرائض نویس ۱۹جمادی الاخرہ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی طالع ورخاں نے بحالت غیظ وغضب ایك خط اپنے خسر حقیقی کے نام لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے جناب ماموں نجم خاں صاحب دام ظلہ بعد السلام علیکم واضح ہو میں نے آپ سے بارہا کہا کہ عمدہ کو یہاں سے مت لے جاؤ مگر آپ لے ہی گئے بغیر رضامندی آپ نے اپنی ہی ضد کی میں بھی اس کے اطوار سے نہایت درجہ ناخوش تھا اس چار مہینہ کے عرصہ میں کبھی میری خدمت نہ کی اطوار ناشائستہ جو اسمیں ہیں ان کا دفع غیرممکن ہے اس سے بڑھ کر خراب عادات عمدہ میں ہیں لہذابخوشی تمام آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کیونکہ جس حالت میں میرادل اس سے خوش نہیں اوراس کا بھی مجھ سے نہیں ایسی حالت میں ایك دوسرے کی جان کے ضرور خواہاں رہیں گے ایسا نہ ہونا سبب برضاورغبت آپکو اجازت دیا اس کا خرابانہ ہونا سبب دوسرے نکاح کی اجازت دیا تاکہ خدائے پاك مجھ کو اپنے فضل سے مرتکب گناہ نہ کرے اس خط کو بطور طلاقنامہ کے تصور فرمائیں اگر آپ اس کا نکاح کرادیں گے تو مجھ کو کسی نوع کا عذر تکرار آگے نہیں اور نہ کروں گا صرف ڈیڑھ سوروپیہ نکاح میں صرف ہوا اس کا تو البتہ افسوس ہے کہ حج کا روپیہ خرچ ہوگیامگر کیا علاج ہے کچھ چارہ نہیں مرضی مولی ازہمہ اولی۔ آپ اپنے دل میں بھی اس امر کا رنج نہ کریں تحریر مختصر کو کثیر تصور فرمائیں عمدہ سے اور مجھ سے اب کچھ سروکار نہ رہا جو رشتہ پہلے تھا وہی اب قائم رہے گا سرمست خاں اس خط کو حرف بحرف پڑھ کر ماموں صاحب اور عمدہ کو بھی سنادیں تاکہ اس پر شرعا طلاق واجب ہوجائے کیونکہ وہ میری بلااجازت گئی تو نکاح کے باہر ہونا اظہر من الشمس ہے فقط بندہ طالع ورخاں ازمقام ساکولی۔
جس وقت یہ خط پہنچا سرمست خاں نے عمدہ اور اس کے والد نجم خاں کو سنادیا بعد ایك ہفتہ کے طالع ورخاں اپنے خسر کے یہاں آئے اور کہنے لگے کہ میری زوجہ عمدہ کو میرے ساتھ روانہ کردو نجم خاں نے روبروچند آدمیوں کے بھیجنے کا اقرار کیا پھر بعد دو۲ گھنٹہ کے طالع ورخاں لینے آئے تومعلوم ہو اکہ نجم خاں دیہات پر چلاگیا بعد چند ماہ کے نجم خاں نے طالعورخاں سے صراحۃ کہہ دیا کہ ہم لڑکی کو کیسے روانہ کریں تم نے تو طلاقنامہ لکھ کر روانہ کردیا پھربائیس۲۲ماہ کے بعد طالعور خان نے اپنے خسر کے نام یہ خط لکھا :
جناب ماموں صاحب!بعد سلام علیك واضح ہو میں نے یہاں پر کئی علماء سے دریافت کیا سب
مسئلہ۳۲۰ : ازملك متوسط شہر رائپور محلہ بیجناتھ بارہ مرسلہ منشی محمد اسحق مولود خواں عرائض نویس ۱۹جمادی الاخرہ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی طالع ورخاں نے بحالت غیظ وغضب ایك خط اپنے خسر حقیقی کے نام لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے جناب ماموں نجم خاں صاحب دام ظلہ بعد السلام علیکم واضح ہو میں نے آپ سے بارہا کہا کہ عمدہ کو یہاں سے مت لے جاؤ مگر آپ لے ہی گئے بغیر رضامندی آپ نے اپنی ہی ضد کی میں بھی اس کے اطوار سے نہایت درجہ ناخوش تھا اس چار مہینہ کے عرصہ میں کبھی میری خدمت نہ کی اطوار ناشائستہ جو اسمیں ہیں ان کا دفع غیرممکن ہے اس سے بڑھ کر خراب عادات عمدہ میں ہیں لہذابخوشی تمام آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کیونکہ جس حالت میں میرادل اس سے خوش نہیں اوراس کا بھی مجھ سے نہیں ایسی حالت میں ایك دوسرے کی جان کے ضرور خواہاں رہیں گے ایسا نہ ہونا سبب برضاورغبت آپکو اجازت دیا اس کا خرابانہ ہونا سبب دوسرے نکاح کی اجازت دیا تاکہ خدائے پاك مجھ کو اپنے فضل سے مرتکب گناہ نہ کرے اس خط کو بطور طلاقنامہ کے تصور فرمائیں اگر آپ اس کا نکاح کرادیں گے تو مجھ کو کسی نوع کا عذر تکرار آگے نہیں اور نہ کروں گا صرف ڈیڑھ سوروپیہ نکاح میں صرف ہوا اس کا تو البتہ افسوس ہے کہ حج کا روپیہ خرچ ہوگیامگر کیا علاج ہے کچھ چارہ نہیں مرضی مولی ازہمہ اولی۔ آپ اپنے دل میں بھی اس امر کا رنج نہ کریں تحریر مختصر کو کثیر تصور فرمائیں عمدہ سے اور مجھ سے اب کچھ سروکار نہ رہا جو رشتہ پہلے تھا وہی اب قائم رہے گا سرمست خاں اس خط کو حرف بحرف پڑھ کر ماموں صاحب اور عمدہ کو بھی سنادیں تاکہ اس پر شرعا طلاق واجب ہوجائے کیونکہ وہ میری بلااجازت گئی تو نکاح کے باہر ہونا اظہر من الشمس ہے فقط بندہ طالع ورخاں ازمقام ساکولی۔
جس وقت یہ خط پہنچا سرمست خاں نے عمدہ اور اس کے والد نجم خاں کو سنادیا بعد ایك ہفتہ کے طالع ورخاں اپنے خسر کے یہاں آئے اور کہنے لگے کہ میری زوجہ عمدہ کو میرے ساتھ روانہ کردو نجم خاں نے روبروچند آدمیوں کے بھیجنے کا اقرار کیا پھر بعد دو۲ گھنٹہ کے طالع ورخاں لینے آئے تومعلوم ہو اکہ نجم خاں دیہات پر چلاگیا بعد چند ماہ کے نجم خاں نے طالعورخاں سے صراحۃ کہہ دیا کہ ہم لڑکی کو کیسے روانہ کریں تم نے تو طلاقنامہ لکھ کر روانہ کردیا پھربائیس۲۲ماہ کے بعد طالعور خان نے اپنے خسر کے نام یہ خط لکھا :
جناب ماموں صاحب!بعد سلام علیك واضح ہو میں نے یہاں پر کئی علماء سے دریافت کیا سب
یہی کہتے ہیں کہ طلاق ہوچکی اس لئے عرض پرداز ہوں کہ آپ اپنی لڑکی کانکاح کرادیجئے مجھ سے کوئی واسطہ نہ رہا آپ رنجیدہ نہ ہوں امر مجبوری ہے ورنہ کوئی صورت لانے کی کیا ہوتافقط
پھر نوماہ کے بعد خسر کو خط لکھا کہ فرنگی محل کے علماء سے خط بھیج کر فتوی طلب کیا تھا جواب آیا کہ طلاق ہوچکی مہر کے نسبت انہوں نے فتوی دیا کہ نصف مہر دینا چاہئے مگر میں اور جوابوں کا منتظر ہوں پس عرض یہ ہے کہ صورت مرقومہ بالا میں عمدہ پر طلاق ہوئی یانہیں اگر ہوئی تو کن لفظوں سےاور کس قسم کیاور کتنی طلاق متحقق ہوئیں غرض عمدہ طالعور خاں کے نکاح میں رہی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
اس خط میں آٹھ لفظ تھے :
(۱)بخوشی تمام اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے کے ساتھ کردو۔
(۲)برضاورغبت آپ کو اجازت دیا۔
(۳)اس کا خرابانہ ہونا سبب دوسرے نکاح کی اجازت دیا۔
(۴)اس خط کو بطور طلاق نامہ تصور فرمائیں ۔
(۵)اگر آپ اس کا نکاح کرادیں گے تو مجھ کو کسی نوع کا عذر تکرار آگے نہیں اور نہ کروں گا۔
(۶)عمدہ سے اور مجھ سے کوئی سروکار نہ رہا۔
(۷)اس خط کو ماموں صاحب اور عمدہ کو سنادیں کہ اس پر شرعا طلاق واجب ہوجائے۔
(۸)وہ میری بلااجازت گئی تو نکاح کے باہر ہونا اظہر من الشمس ہے۔
ان میں لفظ چہارم صالح ایقاع طلاق نہیں کہ بطور طلاق نامہ تصور فرمائیں کے صاف یہ معنی کہ حقیقت میں طلاق نامہ نہیں فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
امرأۃ قالت لزوجھا مراطلاق دہ فقال الزوج دادہ انگار اوکردہ انگار لایقع وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انك طالق وان قال ذلك لایقع وان نوی اھ ملخصا ۔
بیوی نے خاوند کوکہا “ مجھے طلاق دے “ خاوند نے جواب میں کہا “ تودی ہوئی یاکی ہوئی خیال کرلے “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو کیونکہ عربی میں اس کا معنی یوں ہے “ تو گمان کرلے کہ تو طلاق والی ہے “ اور اگر یوں بالفاظ عربی کہا تو طلاق نہ ہوگی چاہے طلاق کی نیت کی ہواھ ملخصا(ت)
پھر نوماہ کے بعد خسر کو خط لکھا کہ فرنگی محل کے علماء سے خط بھیج کر فتوی طلب کیا تھا جواب آیا کہ طلاق ہوچکی مہر کے نسبت انہوں نے فتوی دیا کہ نصف مہر دینا چاہئے مگر میں اور جوابوں کا منتظر ہوں پس عرض یہ ہے کہ صورت مرقومہ بالا میں عمدہ پر طلاق ہوئی یانہیں اگر ہوئی تو کن لفظوں سےاور کس قسم کیاور کتنی طلاق متحقق ہوئیں غرض عمدہ طالعور خاں کے نکاح میں رہی یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
اس خط میں آٹھ لفظ تھے :
(۱)بخوشی تمام اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے کے ساتھ کردو۔
(۲)برضاورغبت آپ کو اجازت دیا۔
(۳)اس کا خرابانہ ہونا سبب دوسرے نکاح کی اجازت دیا۔
(۴)اس خط کو بطور طلاق نامہ تصور فرمائیں ۔
(۵)اگر آپ اس کا نکاح کرادیں گے تو مجھ کو کسی نوع کا عذر تکرار آگے نہیں اور نہ کروں گا۔
(۶)عمدہ سے اور مجھ سے کوئی سروکار نہ رہا۔
(۷)اس خط کو ماموں صاحب اور عمدہ کو سنادیں کہ اس پر شرعا طلاق واجب ہوجائے۔
(۸)وہ میری بلااجازت گئی تو نکاح کے باہر ہونا اظہر من الشمس ہے۔
ان میں لفظ چہارم صالح ایقاع طلاق نہیں کہ بطور طلاق نامہ تصور فرمائیں کے صاف یہ معنی کہ حقیقت میں طلاق نامہ نہیں فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
امرأۃ قالت لزوجھا مراطلاق دہ فقال الزوج دادہ انگار اوکردہ انگار لایقع وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انك طالق وان قال ذلك لایقع وان نوی اھ ملخصا ۔
بیوی نے خاوند کوکہا “ مجھے طلاق دے “ خاوند نے جواب میں کہا “ تودی ہوئی یاکی ہوئی خیال کرلے “ تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو کیونکہ عربی میں اس کا معنی یوں ہے “ تو گمان کرلے کہ تو طلاق والی ہے “ اور اگر یوں بالفاظ عربی کہا تو طلاق نہ ہوگی چاہے طلاق کی نیت کی ہواھ ملخصا(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۰
اسی میں ہے :
لوقیل لرجل اطلقت امرأتك فقال عدھا مطلقۃ اواحسبھا مطلقۃ لاتطلق امرأتہ اھ تمام تحقیق ذلك فی فتاونا المفصلۃ۔
ایك شخص نے دوسرے سے کہا “ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے “ اور دوسرا جواب میں کہے “ تواس کو طلاق دی ہوئی شمار کرلے تو مطلقہ سمجھ لے “ تو بیوی کو طلاق نہ ہوگی اھ اس کی مکمل تحقیق ہمارے مفصل فتووں میں ہے۔ (ت)
لفظ پنجم ظاہرا ترك نزاع کا وعدہ ہے
“ آگے بمعنی آئندہ “ اوھو تعلیق علی الانکاح ان ارید بقولہ “ آگے “ بعد الانکاح او اخبار عن النیۃ فی بعض الالفاظ السابقۃ ان ارید بہ من بعدما کتبت ھذا۔
آگے بمعنی آئندہ یایہ نکاح کردینے پر معلق ہے اگر اس نے “ آگے “ کے لفظ سے نکاح کردینے کے بعد کی نیت کی ہو یا پہلے مذکور الفاظ میں سے کسی لفظ میں نیت کی خبردینا ہے جبکہ اس نے وہ لفظ لکھنے کے بعد مراد لی ہو۔ اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
لفظ ششم بھی الفاظ طلاق سے نہیں سر بمعنی خیال وخواہش اور کاربمعنی حاجت ہے سروکار نہیں یعنی غرض مطلب حاجت کام نہیں اور ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق کہے۔ خانیہ وبزازیہ وغیرہما میں ہے :
لوقال لاحاجۃ لی فیك ونوی الطلاق لایقع وکذالو قال مرابکارنیستی وکذالو قال مااریدک ۔
اگر خاوند نے کہا “ مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں ' ' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ یوں ہی اگر اس نے کہا “ تو میرے کام کی نہیں “ یوں ہی اگر اس نے کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ تو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
اذاقال لاحاجۃ لی فیك اولااریدك او لااحبك اولا اشتھیك اولارغبۃ
اگرخاوند نے یہ الفاظ کہے “ مجھے تجھ میں حاجت نہیں میں تجھے نہیں چاہتا میں تجھے پسند نہیں کرتا
لوقیل لرجل اطلقت امرأتك فقال عدھا مطلقۃ اواحسبھا مطلقۃ لاتطلق امرأتہ اھ تمام تحقیق ذلك فی فتاونا المفصلۃ۔
ایك شخص نے دوسرے سے کہا “ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے “ اور دوسرا جواب میں کہے “ تواس کو طلاق دی ہوئی شمار کرلے تو مطلقہ سمجھ لے “ تو بیوی کو طلاق نہ ہوگی اھ اس کی مکمل تحقیق ہمارے مفصل فتووں میں ہے۔ (ت)
لفظ پنجم ظاہرا ترك نزاع کا وعدہ ہے
“ آگے بمعنی آئندہ “ اوھو تعلیق علی الانکاح ان ارید بقولہ “ آگے “ بعد الانکاح او اخبار عن النیۃ فی بعض الالفاظ السابقۃ ان ارید بہ من بعدما کتبت ھذا۔
آگے بمعنی آئندہ یایہ نکاح کردینے پر معلق ہے اگر اس نے “ آگے “ کے لفظ سے نکاح کردینے کے بعد کی نیت کی ہو یا پہلے مذکور الفاظ میں سے کسی لفظ میں نیت کی خبردینا ہے جبکہ اس نے وہ لفظ لکھنے کے بعد مراد لی ہو۔ اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
لفظ ششم بھی الفاظ طلاق سے نہیں سر بمعنی خیال وخواہش اور کاربمعنی حاجت ہے سروکار نہیں یعنی غرض مطلب حاجت کام نہیں اور ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق کہے۔ خانیہ وبزازیہ وغیرہما میں ہے :
لوقال لاحاجۃ لی فیك ونوی الطلاق لایقع وکذالو قال مرابکارنیستی وکذالو قال مااریدک ۔
اگر خاوند نے کہا “ مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں ' ' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ یوں ہی اگر اس نے کہا “ تو میرے کام کی نہیں “ یوں ہی اگر اس نے کہا “ میں تجھے نہیں چاہتا “ تو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
اذاقال لاحاجۃ لی فیك اولااریدك او لااحبك اولا اشتھیك اولارغبۃ
اگرخاوند نے یہ الفاظ کہے “ مجھے تجھ میں حاجت نہیں میں تجھے نہیں چاہتا میں تجھے پسند نہیں کرتا
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۳
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۶
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۶
لی فیك فانہ لایقع وان نوی ۔
مجھے تیری خواہش نہیں تجھ میں میرے لئے رغبت نہیں “ تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
لفظ ہشتم بھی محض لغو وغلط ہے کہ ایك باطل خیال جہاں پر نکاح سے باہر ہونا بتاتا ہے بے اجازت شوہر عورت چلی جائے تو نکاح سے باہر نہیں ہوتی اور جو اقرار غلط بنا پر ہومعتبر نہیں ۔ خانیہ میں ہے :
صبی قال ان شربت فکل امرأۃ تزوجہا فھی طالق فشرب وھو صبی فتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقع فقال ھذا البالغ(آرے حرام است برمن) لا تحرم امرأتہ ھوالصحیح لانہ ما اقربالحرمۃ ابتداء وانما اقربالسبب الذی تصادقا علیہ وذلك السبب باطل اھ ملخصا۔
ایك بچے نے کہا “ اگر میں یہ پی لوں تو جس عورت سے بھی نکاح کروں تو اس کو طلاق “ پھر اس نے دوران بچپن وہ چیز پی لی پھر بالغ ہونے کے بعد اس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے سسرال نے خیال کیا کہ اس کے مذکور قول کے مطابق کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو اس لڑکے نے کہا “ ہاں یہ مجھ پر حرام ہے “ تو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی کیونکہ یہاں ابتداء بیوی کو حرام نہیں کہا بلکہ اس نے اس سبب کے وجود کا اقرار کیا جس پر یہ دونوں سچے اور جس سبب پر اس نے یہ اقرار کیا وہ باطل ہے اھ ملخصا(ت)
بقیہ چار الفاظ میں تین لفظ پیشین کا حاصل اجازت نکاح دینا ہے اور وہ بیشك کنایات سے ہے
فانہ ینبئ عن رفع قید النکاح واخراجھا عن عصمۃ لنفسہ کقولہ تزوجی کما فی الخانیۃ وابتغی الازواج کما فی الکنز ووھبتك للازواج کما فی
کیونکہ یہ الفاظ نکاح کی قید کو ختم کرنے کی خبر دیتے ہیں اور اپنی عصمت سے نکالنے کی خبر دیتے ہیں جیسے کہ خاوند یوں کہے “ تو نکاح کر “ جیسا کہ خانیہ میں ہے “ تو خاوند تلاش کر “ جیسا کہ کنز میں ہے
مجھے تیری خواہش نہیں تجھ میں میرے لئے رغبت نہیں “ تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
لفظ ہشتم بھی محض لغو وغلط ہے کہ ایك باطل خیال جہاں پر نکاح سے باہر ہونا بتاتا ہے بے اجازت شوہر عورت چلی جائے تو نکاح سے باہر نہیں ہوتی اور جو اقرار غلط بنا پر ہومعتبر نہیں ۔ خانیہ میں ہے :
صبی قال ان شربت فکل امرأۃ تزوجہا فھی طالق فشرب وھو صبی فتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقع فقال ھذا البالغ(آرے حرام است برمن) لا تحرم امرأتہ ھوالصحیح لانہ ما اقربالحرمۃ ابتداء وانما اقربالسبب الذی تصادقا علیہ وذلك السبب باطل اھ ملخصا۔
ایك بچے نے کہا “ اگر میں یہ پی لوں تو جس عورت سے بھی نکاح کروں تو اس کو طلاق “ پھر اس نے دوران بچپن وہ چیز پی لی پھر بالغ ہونے کے بعد اس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے سسرال نے خیال کیا کہ اس کے مذکور قول کے مطابق کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو اس لڑکے نے کہا “ ہاں یہ مجھ پر حرام ہے “ تو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی کیونکہ یہاں ابتداء بیوی کو حرام نہیں کہا بلکہ اس نے اس سبب کے وجود کا اقرار کیا جس پر یہ دونوں سچے اور جس سبب پر اس نے یہ اقرار کیا وہ باطل ہے اھ ملخصا(ت)
بقیہ چار الفاظ میں تین لفظ پیشین کا حاصل اجازت نکاح دینا ہے اور وہ بیشك کنایات سے ہے
فانہ ینبئ عن رفع قید النکاح واخراجھا عن عصمۃ لنفسہ کقولہ تزوجی کما فی الخانیۃ وابتغی الازواج کما فی الکنز ووھبتك للازواج کما فی
کیونکہ یہ الفاظ نکاح کی قید کو ختم کرنے کی خبر دیتے ہیں اور اپنی عصمت سے نکالنے کی خبر دیتے ہیں جیسے کہ خاوند یوں کہے “ تو نکاح کر “ جیسا کہ خانیہ میں ہے “ تو خاوند تلاش کر “ جیسا کہ کنز میں ہے
حوالہ / References
بحرالرائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۳۰۳
فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۳۵
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۶
کنز الدقائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۳۵
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۶
کنز الدقائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷۶
الھندیۃ۔ “
میں نے تجھ کو خاوندوں کے سپرد کیا “ جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔ (ت)
مگران تین اور ان کے ساتھ کتنی ہی کنایات بائن ہوں سب سے ہوگی تو ایك ہی طلاق بائن ہوگی اگر چہ سب سےنیت کی ہو فان البائن لایلحق البائن(کیونکہ بائن طلاق کے بعد دوسری بائنہ لاحق نہیں ہوسکتی۔ (ت)
لفظ ہفتم طلاق صریح ہے مگراس شرط پر معلق کہ سرمست خاں نجم خاں اور عمدہ کو حرف بحرف خط پڑھ کر سنادے
فان لفظہ تاکہ تضیدھھنا ترتب الطلاق علی الاسماع ای ربط حصول ذاك بحصول ھذاوھذاھو معنی التعلیق وفی الدرالمختار یکفی معنی الشرط ۔
اس لئے کہ “ تاکہ “ کا لفظ یہاں سنانے پر طلاق کو مرتب کرنے کےلئے ہے یعنی اس چیز کے حاصل ہوجانے پر اس چیز کا حصول بتانے کے لئے ہے اور یہی تعلیق کا معنی ہوتا ہے۔ اور درمختار میں ہے کہ تعلیق کا معنی ہی شرط کے لئے کافی ہوتاہے(ت)
تو ان آٹھ لفظوں کا حاصل صرف دو۲ لفظ رہے ایك کنایہ جس سے بلحاظ نیت طلاق بائن پڑیگی دوسر اصریح معلق جس سے بعد تحقق شرط طلاق رجعی ہوگی صریح کا حکم تو دیانتا وقضاء دونوں میں ایك ہی ہے کہ اگر سرمست خاں نے خط مذکور دونوں کو حرف بحرف سنا دیا تو طلاق ہوگئی اور اگر ان میں ایك کو سنا نے میں بھی کچھ کمی رہی جسے حرف بحرف سنانا نہ کہیں تو نہ ہوئی مگر حکم کنایہ یہاں مختلف ہے دیانۃ حاجت نیت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
لایقع دیانۃ بدون النیۃ ولو وجدت دلالۃ الحال فوقوعہ بواحد من النیۃ اودلالۃ الحال انما ھو فی القضاء فقط کما ھو صریح البحر وغیرہ ۔
کنایہ کی صورت میں نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور اگر دلالت حال بھی پائی جائے تو طلاق کا وقوع نیت یادلالت حال میں سے ایك کے ساتھ ہوگا یہ صرف قضاء طلاق ہوتی ہے بحر وغیرہ کی صراحت یہی ہے۔ (ت)
اور قضاء بوجہ قرائن سباق وسیاق وقوع طلاق کا حکم علی الاطلاق
میں نے تجھ کو خاوندوں کے سپرد کیا “ جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔ (ت)
مگران تین اور ان کے ساتھ کتنی ہی کنایات بائن ہوں سب سے ہوگی تو ایك ہی طلاق بائن ہوگی اگر چہ سب سےنیت کی ہو فان البائن لایلحق البائن(کیونکہ بائن طلاق کے بعد دوسری بائنہ لاحق نہیں ہوسکتی۔ (ت)
لفظ ہفتم طلاق صریح ہے مگراس شرط پر معلق کہ سرمست خاں نجم خاں اور عمدہ کو حرف بحرف خط پڑھ کر سنادے
فان لفظہ تاکہ تضیدھھنا ترتب الطلاق علی الاسماع ای ربط حصول ذاك بحصول ھذاوھذاھو معنی التعلیق وفی الدرالمختار یکفی معنی الشرط ۔
اس لئے کہ “ تاکہ “ کا لفظ یہاں سنانے پر طلاق کو مرتب کرنے کےلئے ہے یعنی اس چیز کے حاصل ہوجانے پر اس چیز کا حصول بتانے کے لئے ہے اور یہی تعلیق کا معنی ہوتا ہے۔ اور درمختار میں ہے کہ تعلیق کا معنی ہی شرط کے لئے کافی ہوتاہے(ت)
تو ان آٹھ لفظوں کا حاصل صرف دو۲ لفظ رہے ایك کنایہ جس سے بلحاظ نیت طلاق بائن پڑیگی دوسر اصریح معلق جس سے بعد تحقق شرط طلاق رجعی ہوگی صریح کا حکم تو دیانتا وقضاء دونوں میں ایك ہی ہے کہ اگر سرمست خاں نے خط مذکور دونوں کو حرف بحرف سنا دیا تو طلاق ہوگئی اور اگر ان میں ایك کو سنا نے میں بھی کچھ کمی رہی جسے حرف بحرف سنانا نہ کہیں تو نہ ہوئی مگر حکم کنایہ یہاں مختلف ہے دیانۃ حاجت نیت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
لایقع دیانۃ بدون النیۃ ولو وجدت دلالۃ الحال فوقوعہ بواحد من النیۃ اودلالۃ الحال انما ھو فی القضاء فقط کما ھو صریح البحر وغیرہ ۔
کنایہ کی صورت میں نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور اگر دلالت حال بھی پائی جائے تو طلاق کا وقوع نیت یادلالت حال میں سے ایك کے ساتھ ہوگا یہ صرف قضاء طلاق ہوتی ہے بحر وغیرہ کی صراحت یہی ہے۔ (ت)
اور قضاء بوجہ قرائن سباق وسیاق وقوع طلاق کا حکم علی الاطلاق
حوالہ / References
درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳۰
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
فان اللفظ وان کان مما یصلح ردا کما فی الغرر والبحر والخانیۃ لکن قد حفتہ قرائن ترد معنی الرد کقولہ لھذا وقولہ ایسا نہ ہونا سبب وقولہ اس کا خرابانہ ہونا سبب وقولہ تاکہ خدائے پاك الخ فان ھذہ التعلیلات والتفریعات لاتلائم قصد الرد کما لایخفی ودلالۃ القال کدلالۃ الحال۔
غرر بحراور خانیہ میں جیسا کہ مذکور ہے کہ لفظ اگرچہ جواب بن سکتا ہومگر وہاں قرائن کا ہجوم اس کے جواب ہونے کو مرد ود قرار دیتا ہے جیسا کہ یہاں ایسا نہ ہونا سبب اس کا خرابانہ ہونا سبب تاکہ خدائے پاك الخ “ کے الفاظ ہیں کیونکہ یہ الفاظ تعلیل اور تفریع ہونے کی بنا پر جواب کے ارادہ سے مناسب نہیں ہیں جیساکہ مخفی نہیں ہے اور دلالت قال دلالت حال کی طرح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں نہرالفائق سے ہے دلالۃ الحال تعم دلالۃ المقال (دلالت حال دلالت قال کو بھی شامل ہے۔ ت)
مگر خط کی بنا پر وقوع طلاق کا حکم اسی حالت میں ہوسکتا ہے جب کہ شوہر مقر یا گواہان عادل شرعی دو۲ مرد یا ایك مرد دو۲ عورت سے ثابت ہوکہ یہ خط اس کا ہے ورنہ صرف مشابہت خط پر حکم نہیں ۔ اشباہ میں ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرامعنونا وثبت ذلك باقرارہ او بالبینۃ فکالخطاب ۔
اگر خط کا عنوان شروع کرکے لکھا اور پھر اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے تو یہ لکھنا زبانی خطاب کی طرح ہے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں حکم قضا یہ ہے کہ اگر اس خط کا طالعور خاں کا ہونا نہ اس کے اقرار سے ثابت نہ گواہان عادل سے جب تو اصلا حکم طلاق نہیں اور اگر اقرار یا شہادت سے ثبوت ہے تو عمدہ پر طلاق بائن پڑگئی اگر سرمست خاں نے عمدہ ونجم خاں دونوں کو حرف بحرف سنادیا جب تو دوطلاقیں بائن ہو ئیں
فان الصریح یلحق البائن والرجعی اذالحقہ صار مثلہ لعدم امکان اثبات الرجعۃ کما فی البزازیۃ
اس لئے کہ صریح طلاق بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے اور جب بائنہ کے بعد اس کو رجعی لاحق ہوتو وہ رجعی طلاق بھی بائنہ کی طرح ہوجاتی ہے
غرر بحراور خانیہ میں جیسا کہ مذکور ہے کہ لفظ اگرچہ جواب بن سکتا ہومگر وہاں قرائن کا ہجوم اس کے جواب ہونے کو مرد ود قرار دیتا ہے جیسا کہ یہاں ایسا نہ ہونا سبب اس کا خرابانہ ہونا سبب تاکہ خدائے پاك الخ “ کے الفاظ ہیں کیونکہ یہ الفاظ تعلیل اور تفریع ہونے کی بنا پر جواب کے ارادہ سے مناسب نہیں ہیں جیساکہ مخفی نہیں ہے اور دلالت قال دلالت حال کی طرح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں نہرالفائق سے ہے دلالۃ الحال تعم دلالۃ المقال (دلالت حال دلالت قال کو بھی شامل ہے۔ ت)
مگر خط کی بنا پر وقوع طلاق کا حکم اسی حالت میں ہوسکتا ہے جب کہ شوہر مقر یا گواہان عادل شرعی دو۲ مرد یا ایك مرد دو۲ عورت سے ثابت ہوکہ یہ خط اس کا ہے ورنہ صرف مشابہت خط پر حکم نہیں ۔ اشباہ میں ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرامعنونا وثبت ذلك باقرارہ او بالبینۃ فکالخطاب ۔
اگر خط کا عنوان شروع کرکے لکھا اور پھر اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے تو یہ لکھنا زبانی خطاب کی طرح ہے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں حکم قضا یہ ہے کہ اگر اس خط کا طالعور خاں کا ہونا نہ اس کے اقرار سے ثابت نہ گواہان عادل سے جب تو اصلا حکم طلاق نہیں اور اگر اقرار یا شہادت سے ثبوت ہے تو عمدہ پر طلاق بائن پڑگئی اگر سرمست خاں نے عمدہ ونجم خاں دونوں کو حرف بحرف سنادیا جب تو دوطلاقیں بائن ہو ئیں
فان الصریح یلحق البائن والرجعی اذالحقہ صار مثلہ لعدم امکان اثبات الرجعۃ کما فی البزازیۃ
اس لئے کہ صریح طلاق بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے اور جب بائنہ کے بعد اس کو رجعی لاحق ہوتو وہ رجعی طلاق بھی بائنہ کی طرح ہوجاتی ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۳
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۹۸۔ ۲۹۷
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۹۸۔ ۲۹۷
وغیرہا۔
کیونکہ ایسی صورت میں رجوع کا امکان نہیں رہتا جیسا کہ بزازیہ وغیرہ میں ہے(ت)
ورنہ ایك ضرور ہوئی بہرحال عمدہ نکاح سے نکل گئی یہی تفصیل جو حکم قضائی ہے عمدہ کو اسی پر عمل واجب ہے فان المرأۃ کالقاضی کما فی الفتح وغیرہ(کیونکہ بیوی اس میں قاضی کی طرح ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔ ت)اور حکم دیانت یہ ہے کہ اگر یہ خط طالع ورخاں کا ہے اور اس نے الفاظ کنایہ میں کل یا بعض سے نیت ازالہ نکاح کی تو طلاق بائن ہوئی پھر اسکے ساتھ وہ خط سنانے کی شرط بھی پوری پائی گئی تو دو۲ طلاقیں بائن ہوئی بہر حال عمدہ نکاح سے باہر ہوئی اور اگر نیت کی تو سنانے کی شرط پائے جانے کی حالت میں ایك طلاق رجعی پڑی جس میں اسے اختیار رجعت تاایام عدت تھا اور اگر اس شرط میں بھی کمی رہی تو اصلا طلاق نہ پڑی یونہی اگر یہ خط اس کا نہیں جب بھی طلاق نہ ہوئی اگرچہ گواہ گواہی دیں یا خو د اس نے غلط اقرار کردیا ہو
فان الاقرار الکاذب لااثر دیانۃ ھذاجملۃ القول و التفصیل فی فتونا المذکورۃ۔
اس لئے کہ جھوٹے اقرار کاکوئی اثر دیانۃ نہیں ہے یہ تمام خلاصہ کلام ہے اورتفصیل ہمارے فتاوی میں مذکور ہے۔ (ت)
اور جب کہ عمدہ وطالعور خاں میں خلوت صحیحہ ہولی جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر ہے کہ وہ چار مہینے شوہر کے یہاں رہی تو بعد طلاق کل مہر واجب الادا ہے نصف ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
کیونکہ ایسی صورت میں رجوع کا امکان نہیں رہتا جیسا کہ بزازیہ وغیرہ میں ہے(ت)
ورنہ ایك ضرور ہوئی بہرحال عمدہ نکاح سے نکل گئی یہی تفصیل جو حکم قضائی ہے عمدہ کو اسی پر عمل واجب ہے فان المرأۃ کالقاضی کما فی الفتح وغیرہ(کیونکہ بیوی اس میں قاضی کی طرح ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔ ت)اور حکم دیانت یہ ہے کہ اگر یہ خط طالع ورخاں کا ہے اور اس نے الفاظ کنایہ میں کل یا بعض سے نیت ازالہ نکاح کی تو طلاق بائن ہوئی پھر اسکے ساتھ وہ خط سنانے کی شرط بھی پوری پائی گئی تو دو۲ طلاقیں بائن ہوئی بہر حال عمدہ نکاح سے باہر ہوئی اور اگر نیت کی تو سنانے کی شرط پائے جانے کی حالت میں ایك طلاق رجعی پڑی جس میں اسے اختیار رجعت تاایام عدت تھا اور اگر اس شرط میں بھی کمی رہی تو اصلا طلاق نہ پڑی یونہی اگر یہ خط اس کا نہیں جب بھی طلاق نہ ہوئی اگرچہ گواہ گواہی دیں یا خو د اس نے غلط اقرار کردیا ہو
فان الاقرار الکاذب لااثر دیانۃ ھذاجملۃ القول و التفصیل فی فتونا المذکورۃ۔
اس لئے کہ جھوٹے اقرار کاکوئی اثر دیانۃ نہیں ہے یہ تمام خلاصہ کلام ہے اورتفصیل ہمارے فتاوی میں مذکور ہے۔ (ت)
اور جب کہ عمدہ وطالعور خاں میں خلوت صحیحہ ہولی جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر ہے کہ وہ چار مہینے شوہر کے یہاں رہی تو بعد طلاق کل مہر واجب الادا ہے نصف ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الطلاق باب الطلاق الصریح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۵۷ ، ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۶۸
باب تفویض الطلاق
(تفویض طلاق کا بیان)
مسئلہ ۳۲۱ : ازملك بنگالہ ضلع سلہٹ پوسٹ آفس کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۶رجب ۱۳۱۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ فی الدارین(اﷲ تعالی دونوں جہانوں میں آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیا ارشاد مبارك ہے۔ ت)اس مسئلہ میں کہ زید نے اپناخاتون مسمی زینب کو طلاق دے کر ہندہ کو خطبہ کیا تب ہندہ کہے کہ اگر اس شرط پر راضی ہوتو تیرے نکاح میں آسکتی ہوں ورنہ نہیں شرط یہ ہے بغیر اذن ہمارے اس خاتون مطلقہ کویا کسی اور غیر کو نکاح میں نہ لائیں اگر لائیں تو اختیار تین طلاق کی میرے ہاتھ میں رہے زید نے شرط کو قبول کیا اور ہندہ کو نکاح میں لاکر پانچ چھ مہینے رہا پھر زید نے زینب کو بہ نکاح گھر میں لایا ہندہ خفا ہوکر زینب کے ساتھ تھوڑی دیر جنگ وخصومت کے بعد اس کے کہا کہ اب میں مطابق اقرار نامہ نہیں رہ سکتی ہوں کہہ کر گھر سے نکل گئی اس قول ہندہ کے ساتھ گواہ بھی شرط ہے یانہیں اور اس طرح کے اختیار کرنا صحیح ہوگا یانہیں اور بعد آٹھ نو مہینے کے ولی ہندہ نے جاکر زید سے طلاق مانگا زید نے کہا کہ جو میں نے ستر۷۰روپے مہر بانو کو دیا تھا واپس دے دو تب طلاق دوں گا بحسب کہنے زید کے ستر۷۰ روپے جو کہ بابت مہر کے تھے واپس دے کر طلاق دلایا صحیح ہے یا لغو بعد اس طلاق کے ہندہ پر عدت واجب ہے یا نہیں اگر عدت کے اندر ہندہ بکر کے ساتھ نکاح بیٹھے تو وہ نکاح شرعا حرام ہے یاحلال بینوا توجروا۔
(تفویض طلاق کا بیان)
مسئلہ ۳۲۱ : ازملك بنگالہ ضلع سلہٹ پوسٹ آفس کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۶رجب ۱۳۱۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ فی الدارین(اﷲ تعالی دونوں جہانوں میں آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیا ارشاد مبارك ہے۔ ت)اس مسئلہ میں کہ زید نے اپناخاتون مسمی زینب کو طلاق دے کر ہندہ کو خطبہ کیا تب ہندہ کہے کہ اگر اس شرط پر راضی ہوتو تیرے نکاح میں آسکتی ہوں ورنہ نہیں شرط یہ ہے بغیر اذن ہمارے اس خاتون مطلقہ کویا کسی اور غیر کو نکاح میں نہ لائیں اگر لائیں تو اختیار تین طلاق کی میرے ہاتھ میں رہے زید نے شرط کو قبول کیا اور ہندہ کو نکاح میں لاکر پانچ چھ مہینے رہا پھر زید نے زینب کو بہ نکاح گھر میں لایا ہندہ خفا ہوکر زینب کے ساتھ تھوڑی دیر جنگ وخصومت کے بعد اس کے کہا کہ اب میں مطابق اقرار نامہ نہیں رہ سکتی ہوں کہہ کر گھر سے نکل گئی اس قول ہندہ کے ساتھ گواہ بھی شرط ہے یانہیں اور اس طرح کے اختیار کرنا صحیح ہوگا یانہیں اور بعد آٹھ نو مہینے کے ولی ہندہ نے جاکر زید سے طلاق مانگا زید نے کہا کہ جو میں نے ستر۷۰روپے مہر بانو کو دیا تھا واپس دے دو تب طلاق دوں گا بحسب کہنے زید کے ستر۷۰ روپے جو کہ بابت مہر کے تھے واپس دے کر طلاق دلایا صحیح ہے یا لغو بعد اس طلاق کے ہندہ پر عدت واجب ہے یا نہیں اگر عدت کے اندر ہندہ بکر کے ساتھ نکاح بیٹھے تو وہ نکاح شرعا حرام ہے یاحلال بینوا توجروا۔
الجواب :
قطع نظر اس سے کہ زید وہندہ میں جو یہ گفتگو قبل از نکاح ہوئی اس میں تعلیق صحیح شرعی واضافۃ الی الملك کہاں تك متحقق تھی کہ اگر اس وقت الفاظ ناکافیہ تھے تو خاص عقد نکاح میں بھی اس شرط کا ذکر آیا یانہیں آیا تو کن الفاظ سےاور ایجاب میں تھایا قبول میں ان تفاصیل پر نظر کے بعد یہ واضح ہو گا کہ ہندہ کو اس قرارداد کی بناء پر برتقدیر نکاح زینب بے اذن ہندہ اپنے نفس کو تین طلاق دے لینے کااختیار حاصل بھی ہوا یانہیں صورت یہی فرض کرلیجئے کہ شرعا اختیار حاصل ہوگیا تھا پھر بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ بعد تحقق شرط جس مجلس میں ہندہ کو نکاح زینب کی اطلاع ہوااس مجلس میں بے کسی کلام اجنبی کے اپنے نفس کو طلاق دے لے یہ کہہ کر چلاجانا کہ اب میں مطابق اختیار نامہ رہ نہیں سکتی ہوں طلاق نہیں اور جب اپنے نفس کو بےطلاق دئے چلی گئی مجلس بدل گئی اور اختیار جاتا رہا بلکہ اگر یہ کہنا طلاق ہی فرض کیاجائے تاہم اس سے پہلے زینب سے جنگ وجدل کلام فضولی واجنبی کیا ان سے بھی مجلس بدل گئی اور اختیار نہ رہا درمختار میں ہے :
مایوقعہ باذنہ وانواعہ ثلثۃ تفویض وتوکیل ورسالۃ والفاظ التفویض ثلثۃ تخییر وامر بیدو مشیئۃ قال لھا اختاری اوامرك بیدك ینوی تفویض الطلاق او طلقی نفسک فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مشافہۃ اواخبارا وان طال یوما او اکثر مالم یوقتہ ویمضی الوقت قبل علمھا مالم تقم لتبدل مجلسھا حقیقۃ اوحکما بان تعمل مایقطعہ ممایدل علی الاعراض۔
خاوند کی اجازت سے دوسرا کوئی شخص طلاق واقع کرے تو اس کے لئے تین طریقے ہیں : ۱تفویض ۲توکیل اور۳)خط یا قاصد۔ بیوی کو طلاق کاحق تفویض کرنے کیلئے تین الفاظ ہیں بیوی کوطلاق کا اختیار یا معاملہ طلاق سپرد کرنا یا اس کی مرضی پر رضا مندی ظاہرکرنا لہذا بیوی کوکہا “ اختیار کرلے “ یا “ تیرامعاملہ تیرے سپرد “ تو تفویض طلاق ہوگی۔ یا اس کو کہا “ تو اپنے آپ کو طلاق دے “ تو ان صورتوں میں بیوی کو جس مجلس میں اس تفویض کا علم ہوا اس مجلس علم میں وہ بالمشافہ یا بطور اطلاع اپنے اختیار کو استعمال کرسکتی ہے اگر خاوند نے یہ اختیار کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہ کیا ہوتو یہ مجلس ایك پورا دن یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے اور اختیار کو کسی وقت سے مخصوص کیا ہو اور وہ وقت بیوی کے علم سے قبل ختم ہوگیا تب
قطع نظر اس سے کہ زید وہندہ میں جو یہ گفتگو قبل از نکاح ہوئی اس میں تعلیق صحیح شرعی واضافۃ الی الملك کہاں تك متحقق تھی کہ اگر اس وقت الفاظ ناکافیہ تھے تو خاص عقد نکاح میں بھی اس شرط کا ذکر آیا یانہیں آیا تو کن الفاظ سےاور ایجاب میں تھایا قبول میں ان تفاصیل پر نظر کے بعد یہ واضح ہو گا کہ ہندہ کو اس قرارداد کی بناء پر برتقدیر نکاح زینب بے اذن ہندہ اپنے نفس کو تین طلاق دے لینے کااختیار حاصل بھی ہوا یانہیں صورت یہی فرض کرلیجئے کہ شرعا اختیار حاصل ہوگیا تھا پھر بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ بعد تحقق شرط جس مجلس میں ہندہ کو نکاح زینب کی اطلاع ہوااس مجلس میں بے کسی کلام اجنبی کے اپنے نفس کو طلاق دے لے یہ کہہ کر چلاجانا کہ اب میں مطابق اختیار نامہ رہ نہیں سکتی ہوں طلاق نہیں اور جب اپنے نفس کو بےطلاق دئے چلی گئی مجلس بدل گئی اور اختیار جاتا رہا بلکہ اگر یہ کہنا طلاق ہی فرض کیاجائے تاہم اس سے پہلے زینب سے جنگ وجدل کلام فضولی واجنبی کیا ان سے بھی مجلس بدل گئی اور اختیار نہ رہا درمختار میں ہے :
مایوقعہ باذنہ وانواعہ ثلثۃ تفویض وتوکیل ورسالۃ والفاظ التفویض ثلثۃ تخییر وامر بیدو مشیئۃ قال لھا اختاری اوامرك بیدك ینوی تفویض الطلاق او طلقی نفسک فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مشافہۃ اواخبارا وان طال یوما او اکثر مالم یوقتہ ویمضی الوقت قبل علمھا مالم تقم لتبدل مجلسھا حقیقۃ اوحکما بان تعمل مایقطعہ ممایدل علی الاعراض۔
خاوند کی اجازت سے دوسرا کوئی شخص طلاق واقع کرے تو اس کے لئے تین طریقے ہیں : ۱تفویض ۲توکیل اور۳)خط یا قاصد۔ بیوی کو طلاق کاحق تفویض کرنے کیلئے تین الفاظ ہیں بیوی کوطلاق کا اختیار یا معاملہ طلاق سپرد کرنا یا اس کی مرضی پر رضا مندی ظاہرکرنا لہذا بیوی کوکہا “ اختیار کرلے “ یا “ تیرامعاملہ تیرے سپرد “ تو تفویض طلاق ہوگی۔ یا اس کو کہا “ تو اپنے آپ کو طلاق دے “ تو ان صورتوں میں بیوی کو جس مجلس میں اس تفویض کا علم ہوا اس مجلس علم میں وہ بالمشافہ یا بطور اطلاع اپنے اختیار کو استعمال کرسکتی ہے اگر خاوند نے یہ اختیار کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہ کیا ہوتو یہ مجلس ایك پورا دن یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے اور اختیار کو کسی وقت سے مخصوص کیا ہو اور وہ وقت بیوی کے علم سے قبل ختم ہوگیا تب
حوالہ / References
درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
بھی بیوی کو مجلس علم میں اختیار باقی ہوگا بشرطیکہ اس مجلس علم میں کوئی تبدیلی اٹھنے یا اٹھنے کے مترادف کوئی کام یا بات کرنے سے نہ آئی ہو کیونکہ ایسی بات یا کام حقیقۃ یا حکمامجلس کی تبدیلی قرار پائے گا مثلاکسی ایسے کام میں وہاں ہی مصروف ہوجائے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس نے اختیار کو چھوڑدیا اور ختم کردیا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ودخل فی العمل الکلام الاجنبی۔
ایسے کام میں اجنبی اور اختیار سے لاتعلق کلام بھی اعراض سمجھاجائے گا۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں وہ اختیار ہرگز صحیح نہ ہوا نہ اس وقت تك ہندہ پر کوئی طلاق پڑی ہاں جب ولی ہندہ نے طلاق مانگی اور زید نے مہر واپس لے کر طلاق دی یہ طلاق بیشك صحیح ہوئی اور اسی طلاق کے وقت سے ہندہ پر عدت لازم آئی اگر ختم عدت سے پہلے بکر وغیرہ زید کے سواکسی سے نکاح کرے گی باطل محض وحرام قطعی ہوگا
قال اﷲ تعالی
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا ہے : طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض ختم ہونے تك عدت میں پابند رکھیں واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۲۲ : ازبنگالہ ضلع سلہٹ ڈاکخانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۲۲ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی فی الدارین(اﷲتعالی دونوں جہانوں میں آپ پر رحم فرمائے آپ کاکیا فرمان ہے۔ ت)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی اگلی خاتون مسماۃ زینب کو طلاق دے کر ہندہ کو اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر بلااذن ہندہ اپنے اگلے خاتون مطلقہ کویااور دوسری کسی کو اپنے نکاح میں لائے تو ہندہ کو تین طلاق کا اختیار ہے خواہ کہ طلاق کواختیار کرکے اپنے نفس کو چھڑائے یا مرضی شوہر پر رہے۔ اب زید بلااذن ہندہ اپنی اگلی خاتون مطلقہ کو بہ نکاح گھر میں لایا اس صورت میں ہندہ کو اختیار ایقاع طلاق کے واسطے مجلس شرط ہے یانہیں ہندہ دعوی کرتی ہے کہ بمجرد آتے ہی زینب کے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تھا زید اور دو عورت حاضر مجلس ہندہ تھے کہتے ہیں ہندہ نے کوئی بات
ردالمحتار میں ہے :
ودخل فی العمل الکلام الاجنبی۔
ایسے کام میں اجنبی اور اختیار سے لاتعلق کلام بھی اعراض سمجھاجائے گا۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں وہ اختیار ہرگز صحیح نہ ہوا نہ اس وقت تك ہندہ پر کوئی طلاق پڑی ہاں جب ولی ہندہ نے طلاق مانگی اور زید نے مہر واپس لے کر طلاق دی یہ طلاق بیشك صحیح ہوئی اور اسی طلاق کے وقت سے ہندہ پر عدت لازم آئی اگر ختم عدت سے پہلے بکر وغیرہ زید کے سواکسی سے نکاح کرے گی باطل محض وحرام قطعی ہوگا
قال اﷲ تعالی
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا ہے : طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض ختم ہونے تك عدت میں پابند رکھیں واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۲۲ : ازبنگالہ ضلع سلہٹ ڈاکخانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۲۲ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی فی الدارین(اﷲتعالی دونوں جہانوں میں آپ پر رحم فرمائے آپ کاکیا فرمان ہے۔ ت)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی اگلی خاتون مسماۃ زینب کو طلاق دے کر ہندہ کو اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر بلااذن ہندہ اپنے اگلے خاتون مطلقہ کویااور دوسری کسی کو اپنے نکاح میں لائے تو ہندہ کو تین طلاق کا اختیار ہے خواہ کہ طلاق کواختیار کرکے اپنے نفس کو چھڑائے یا مرضی شوہر پر رہے۔ اب زید بلااذن ہندہ اپنی اگلی خاتون مطلقہ کو بہ نکاح گھر میں لایا اس صورت میں ہندہ کو اختیار ایقاع طلاق کے واسطے مجلس شرط ہے یانہیں ہندہ دعوی کرتی ہے کہ بمجرد آتے ہی زینب کے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تھا زید اور دو عورت حاضر مجلس ہندہ تھے کہتے ہیں ہندہ نے کوئی بات
حوالہ / References
ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۷۶
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
نہ کہی بلکہ گھر سے باہر گئی اور زینب سے جنگ وخصومت کی اس اختلاف میں عندالشرع گواہ معتبر ہے یا قول ہندہ معتبرمع الدلیل بیان فرمائیں اگر ہندہ اس دعوی مذکور کے بنا پر بعد تین مہینے کے بکر کے پاس نکاح بیٹھے تو یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں اور باوجود اس دعوی مذکورہ کے ہندہ نے زید سے خلع کیا تو یہ خلع عندالشرع معتبر ہے یانہیں معترض کہتا ہے اگر وہ دعوی ہندہ صحیح ہوتا تو کیوں خلع کیا ہندہ کہتی ہے بسبب خوف حاکم خلع کیا تھا نہ عدم اختیار نفس کے اختلاف زوجین کی صورت میں قول زوجہ عالمگیری میں ثابت ہے جیسا کہ :
واذاجعل امرھا بیدھا وطلقت نفسھا وقال الزوج انما طلقت نفسك بعد اشتغالك بکلام او بعمل وقالت بل طلقت نفسی فی ذلك المجلس من غیران اشتغل بکلام اخروبشیئ اخر فالقول قولھا وقع الطلاق کذافی فصول الاستروشنی انتہی۔
اگر خاوند نے بیوی کو اس کی طلاق کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور بیوی نے اس پر اپنے آپ کو طلاق دے دی اور خاوند نے کہا چونکہ تو دوسرے کام میں مشغول ہوگئی تھی یادوسری بات میں مشغول ہوچکی تھی اور اس کے بعد تو نے طلاق دی ہے اور بیوی نے خاوند کے اس الزام کا انکار کرتے ہوئے کہا “ نہیں بلکہ میں نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے اور میں کسی دوسرے کام میں مشغول یا اجنبی بات میں مشغول نہیں ہوئی “ تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اور بیوی کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجائیگی استروشنی کے فصول میں یوں ہی مذکور ہے۔ انتہی (ت)
اس صورت مسطور میں عندالشرع کس کی دلیل معتبر ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں قول زوج قسم کے ساتھ معتبر ہے ہندہ جب تك گواہان عادل شرعی دو۲ مرد یا ایك مرد دو۲ عورتوں کی شہادت سے ثابت نہ کرے کہ میں نے اسی مجلس میں اپنے نفس کو طلاق دے لی تھی اس کی بات ہرگز نہ سنی جائے گی نہ اسے بکر سے نکاح کی اجازت ہوگی خلع جو کیا صحیح ہے خلع کی عدت گزرنے پر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اس صورت واقعہ اور صورت مسئلہ فتاوی عالمگیری میں فرق عظیم ہے وہاں شوہر کو بھی تسلیم تھا کہ عورت نے اپنے نفس کو طلاق دی مگر یہ کہتا تھا کہ اس کا یہ طلاق دینا باطل واقع ہوا کہ بعد تبدل مجلس تھا یہ صراحۃ خلاف ظاہر ہے کہ جب عورت نے بعد تخییر طلاق کا قصد کیا توظاہر یہی ہے
واذاجعل امرھا بیدھا وطلقت نفسھا وقال الزوج انما طلقت نفسك بعد اشتغالك بکلام او بعمل وقالت بل طلقت نفسی فی ذلك المجلس من غیران اشتغل بکلام اخروبشیئ اخر فالقول قولھا وقع الطلاق کذافی فصول الاستروشنی انتہی۔
اگر خاوند نے بیوی کو اس کی طلاق کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور بیوی نے اس پر اپنے آپ کو طلاق دے دی اور خاوند نے کہا چونکہ تو دوسرے کام میں مشغول ہوگئی تھی یادوسری بات میں مشغول ہوچکی تھی اور اس کے بعد تو نے طلاق دی ہے اور بیوی نے خاوند کے اس الزام کا انکار کرتے ہوئے کہا “ نہیں بلکہ میں نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے اور میں کسی دوسرے کام میں مشغول یا اجنبی بات میں مشغول نہیں ہوئی “ تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اور بیوی کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجائیگی استروشنی کے فصول میں یوں ہی مذکور ہے۔ انتہی (ت)
اس صورت مسطور میں عندالشرع کس کی دلیل معتبر ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں قول زوج قسم کے ساتھ معتبر ہے ہندہ جب تك گواہان عادل شرعی دو۲ مرد یا ایك مرد دو۲ عورتوں کی شہادت سے ثابت نہ کرے کہ میں نے اسی مجلس میں اپنے نفس کو طلاق دے لی تھی اس کی بات ہرگز نہ سنی جائے گی نہ اسے بکر سے نکاح کی اجازت ہوگی خلع جو کیا صحیح ہے خلع کی عدت گزرنے پر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اس صورت واقعہ اور صورت مسئلہ فتاوی عالمگیری میں فرق عظیم ہے وہاں شوہر کو بھی تسلیم تھا کہ عورت نے اپنے نفس کو طلاق دی مگر یہ کہتا تھا کہ اس کا یہ طلاق دینا باطل واقع ہوا کہ بعد تبدل مجلس تھا یہ صراحۃ خلاف ظاہر ہے کہ جب عورت نے بعد تخییر طلاق کا قصد کیا توظاہر یہی ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی الامر بالید نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۹۱
کہ ایسے ہی وقت طلاق دی جس سے اس کا یہ قصد پورا ہو یعنی مجلس بدلنے سے پہلے تو اس صورت میں شوہر خلاف ظاہر دعوی کرتا تھا لہذا قول عورت کا معتبر ہوا اور یہاں شوہر سرے سے ایقاع طلاق ہی کا اقرار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ ہندہ بے طلاق دئے چلی گئی اور ہندہ دعوی طلاق کرتی ہے تو وہ زوال نکاح کی مدعیہ اور شوہر منکر ہے لہذا قول شوہر معتبر ہے اور اختیار طلاق دئے جانے سے خواہی نخواہی یہی ظاہر نہیں کہ عورت طلاق ہی اختیار کرے گی جامع الفصولین میں ہے :
ت(ای الزیادات)قال امرك بیدك فطلقت نفسھا فقال انما طلقت نفسك بعد الاشتغال بکلام او عمل وقالت بل طلقت نفسی فی ذلك المجلس بلا تبدل فالقول قولھا لانہ وجد سببہ باقرارہ محم (ای مختصرالحاکم)قال خیرتك امس فلم تختاری وقالت قد اخترت فالقول قولہ شخ(ای شمس الائمۃ السرخسی)قال لقنہ جعلت امرك بیدك فی العتق امس فلم تعتق نفسك قال القن فعلتہ لا یصدق اذ المولی لم یقربعتقہ لان جعل الامر بیدہ لایوجب العتق مالم یعتق القن نفسہ والقن یدعی ذلك والمولی ینکرہ ولاقول للقن فی الحال لانہ یخبربما
ت(یعنی زیادات)میں ہے خاوند نے بیوی کو کہا کہ “ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے “ تو اس پر بیوی نے اپنے آپ کو طلاق دے دی اس کے بعد خاوند نے اسے کہا کہ تونے اختیار کے بعد مجلس میں کسی تبدیلی کے بغیر اپنے کو طلاق دی ہے تو اس صورت میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ بیوی کی تصدیق کا سبب خاوند کا اپنا اقرار ہے کہ(بیوی نے طلاق دی ہے)وہ پایا گیا ہے محم(یعنی مختصر الحاکم) خاوند نے بیوی کو کہا “ میں نے تجھے کل اختیار دیا تھا تو نے اپنا اختیار استعمال نہ کیا “ تو جواب میں بیوی نے کہا “ میں نے اختیار کو استعمال کرلیا ہے “ تو خاوند کی بات معتبر ہوگی شخ(یعنی شمس الائمہ سرخسی) مالك نے اپنے غلام کو کہا کہ “ میں نے تجھے کل آزاد ہونے کا اختیار دیا تو تونے اپنے آپ کو آزاد نہ کیا “ تو غلام نے کہا “ میں نے کرلیا ہے “ تو غلام کی بات معتبر نہ ہوگی کیونکہ مالك نے اس کی آزادی کا اقرار نہ کیا کیونکہ محض آزادی کا اختیار دینا عتق کولازم نہیں کرتا جب تك مالك کے اختیار پر غلام اپنے آپ کو آزاد نہ کرلے جبکہ غلام اسکا مدعی ہے اور مالک
ت(ای الزیادات)قال امرك بیدك فطلقت نفسھا فقال انما طلقت نفسك بعد الاشتغال بکلام او عمل وقالت بل طلقت نفسی فی ذلك المجلس بلا تبدل فالقول قولھا لانہ وجد سببہ باقرارہ محم (ای مختصرالحاکم)قال خیرتك امس فلم تختاری وقالت قد اخترت فالقول قولہ شخ(ای شمس الائمۃ السرخسی)قال لقنہ جعلت امرك بیدك فی العتق امس فلم تعتق نفسك قال القن فعلتہ لا یصدق اذ المولی لم یقربعتقہ لان جعل الامر بیدہ لایوجب العتق مالم یعتق القن نفسہ والقن یدعی ذلك والمولی ینکرہ ولاقول للقن فی الحال لانہ یخبربما
ت(یعنی زیادات)میں ہے خاوند نے بیوی کو کہا کہ “ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے “ تو اس پر بیوی نے اپنے آپ کو طلاق دے دی اس کے بعد خاوند نے اسے کہا کہ تونے اختیار کے بعد مجلس میں کسی تبدیلی کے بغیر اپنے کو طلاق دی ہے تو اس صورت میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ بیوی کی تصدیق کا سبب خاوند کا اپنا اقرار ہے کہ(بیوی نے طلاق دی ہے)وہ پایا گیا ہے محم(یعنی مختصر الحاکم) خاوند نے بیوی کو کہا “ میں نے تجھے کل اختیار دیا تھا تو نے اپنا اختیار استعمال نہ کیا “ تو جواب میں بیوی نے کہا “ میں نے اختیار کو استعمال کرلیا ہے “ تو خاوند کی بات معتبر ہوگی شخ(یعنی شمس الائمہ سرخسی) مالك نے اپنے غلام کو کہا کہ “ میں نے تجھے کل آزاد ہونے کا اختیار دیا تو تونے اپنے آپ کو آزاد نہ کیا “ تو غلام نے کہا “ میں نے کرلیا ہے “ تو غلام کی بات معتبر نہ ہوگی کیونکہ مالك نے اس کی آزادی کا اقرار نہ کیا کیونکہ محض آزادی کا اختیار دینا عتق کولازم نہیں کرتا جب تك مالك کے اختیار پر غلام اپنے آپ کو آزاد نہ کرلے جبکہ غلام اسکا مدعی ہے اور مالک
لایملك انشاءہ لخروج الامر من یدہ بتبدل مجلسہ وکذا لو قال اعتقتك علی مال امس فلم تقبل فقال القن قبلت فالقول للمولی وکذاھذا کلہ فی الطلاق وفی امرك بیدك اھ ملخصا۔
انکار کرتا ہے اور اس گفتگو میں غلام کا کہنا کہ میں نے اپنے آپ کو آزاد کرلیا ہے یہ اس چیز کی خبردے رہا ہے جس کی انشاء کا ابھی تك وہ مالك نہیں بنا تو فی الحال غلام کا کوئی قول نہیں ہے کیونکہ اب مجلس بدلنے کی وجہ سے اختیار اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور یونہی اگر کہا کہ “ میں نے کل تجھے مال کے عوض آزادی کا اختیار دیا تھا جسے تونے قبول نہ کیا “ تو غلام نے کہا “ میں نے قبول کرلیا تھا “ تو مالك کی بات معتبر ہوگی۔ اور یہی تمام صورتیں طلاق اور بیوی کے ہاتھ میں اختیار دینے کے متعلق ہیں اھ ملخصا(ت)
بحرالرائق میں ہے :
الفرق بینھما ان فی المسئلۃ الاولی اتفقا علی صدور الایقاع منھا بعد التفویض والزوج یدعی ابطال ایقاعھا فلایقبل منہ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مذکورہ صوتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے مسئلہ میں خاوند وبیوی دونوں اختیار کے بعد مجلس میں اختیار کو استعمال کرنے پر متفق ہیں مگر خاوند بیوی کے حق کو باطل کرنے کا مدعی ہے اس لئے اس کی بات مقبول نہ ہوگی الخ۔ واﷲسبحانہ و تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۲۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت سے قبل نکاح یہ قرار دیا کہ اگر میں دوسرا نکاح کسی اور عورت سے کروں تو تجھ کو اختیار ہے کہ تو اپنے آپ کوطلاق دے لے اس شخص نے دوسرا نکاح کرلیا عورت اپنے آپ کو فورا حسب اختیار طلاق دے لے اور شوہر اس پر رضا مند نہ ہوتو طلاق ہوگی یانہیں اور قبل نکاح یہ شرط جائز تصور ہوگی یانہیں
الجواب :
اگر لفظ جو اس شخص نے اس عورت سے قبل نکاح کہے اسی قدر اور یونہی ہیں جس طرح سوال میں
انکار کرتا ہے اور اس گفتگو میں غلام کا کہنا کہ میں نے اپنے آپ کو آزاد کرلیا ہے یہ اس چیز کی خبردے رہا ہے جس کی انشاء کا ابھی تك وہ مالك نہیں بنا تو فی الحال غلام کا کوئی قول نہیں ہے کیونکہ اب مجلس بدلنے کی وجہ سے اختیار اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور یونہی اگر کہا کہ “ میں نے کل تجھے مال کے عوض آزادی کا اختیار دیا تھا جسے تونے قبول نہ کیا “ تو غلام نے کہا “ میں نے قبول کرلیا تھا “ تو مالك کی بات معتبر ہوگی۔ اور یہی تمام صورتیں طلاق اور بیوی کے ہاتھ میں اختیار دینے کے متعلق ہیں اھ ملخصا(ت)
بحرالرائق میں ہے :
الفرق بینھما ان فی المسئلۃ الاولی اتفقا علی صدور الایقاع منھا بعد التفویض والزوج یدعی ابطال ایقاعھا فلایقبل منہ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مذکورہ صوتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے مسئلہ میں خاوند وبیوی دونوں اختیار کے بعد مجلس میں اختیار کو استعمال کرنے پر متفق ہیں مگر خاوند بیوی کے حق کو باطل کرنے کا مدعی ہے اس لئے اس کی بات مقبول نہ ہوگی الخ۔ واﷲسبحانہ و تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۲۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت سے قبل نکاح یہ قرار دیا کہ اگر میں دوسرا نکاح کسی اور عورت سے کروں تو تجھ کو اختیار ہے کہ تو اپنے آپ کوطلاق دے لے اس شخص نے دوسرا نکاح کرلیا عورت اپنے آپ کو فورا حسب اختیار طلاق دے لے اور شوہر اس پر رضا مند نہ ہوتو طلاق ہوگی یانہیں اور قبل نکاح یہ شرط جائز تصور ہوگی یانہیں
الجواب :
اگر لفظ جو اس شخص نے اس عورت سے قبل نکاح کہے اسی قدر اور یونہی ہیں جس طرح سوال میں
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثالث والعشرون فی الامر بالید ومتعلقہ اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱ / ۳۔ ۳۰۲
بحرالرائق فصل فی الامر بالید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۳۲۶
بحرالرائق فصل فی الامر بالید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۳۲۶
مذکور ہوئے تو اس صورت میں عورت کو بر تقدیر نکاح ثانی کوئی اختیار طلاق دے لینے کا حاصل نہ ہو ااس کا اپنے نفس کو طلاق دینا کافی نہیں جب تك شوہر اس طلاق کو نافذ نہ کرے
فان الملك اوالاضافۃ(الیہ لابد منہ ولم یوجد او طلاق الفضولی یتوقف عندنا علی اجازۃ الزوج۔
کیونکہ طلاق دیتے وقت ملکیت یا اس کی طرف نسبت کاموجود ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں یہ موجود نہیں یا یہ کہ یہ فضولی کی طلاق ہے جبکہ فضولی کی طلاق خاوند کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے(ت)
پیش از نکاح جو ان الفاظ سے شرط کی جائے لغو ومہمل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۴ : ازبنگالہ ۲۰ربیع الآخر شریف۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اس شرط پر زینب سے نکاح کیا کہ اگر تم کو چھ۶ مہینے تك بے خوراك وبے خبری چھوڑوں گا تو اختیار ایقاع تین طلاق کی ملك تیرے ہاتھ دے دیا اب زید نے بعد ایك سال کے اپنی منکوحہ کو خوش وراضی کرکے فی ماہ خوراك مقرر کرکے واسطے کسی کام کے سفر میں گیا اور تین گواہ بھی موجود ہیں اب بعد چند روز کے منکوحہ زید دعوی کرتی ہے کہ میری طلاق واقع ہوگئی آیا یہ دعوی زینب صحیح ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر الفاظ شرط کہ زید نے کہے یہی ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے تو اس میں چار۴صورتیں ہیں :
اول یہ لفظ زید نے پیش از نکاح کہے اگرچہ اسی وقت معا نکاح کرلیا۔
دوم خاص ایجاب وقبول میں شرط کی اور ابتدائے ایجاب اس شرط کے ساتھ جانب زید سے تھی یعنی زید نے کہا میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط پر کہ اگر تجھ کو چھ۶مہینے تك الخ زینب نے کہا میں نے قبول کیا۔
سوم شرط خود عقد میں تھی اور ابتدائے ایجاب زینب کی طرف سے مثلا زینب یا اس کے وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا اپنی مؤکلہ زینب بنت فلاں بن فلاں کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ اگر تو تیرے چھ۶مہینے تك الخ زید نے کہا میں نے قبول کیا یا زینب خواہ وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا مؤکلہ مذکورہ کو تیرے نکاح میں دیا زید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر میں تجھ کو چھ۶مہینے تك الخ۔
چہارم یہ شرط بعد تحقق ایجاب وقبول کی پہلی دو۲ صورتوں میں سرے سے یہ تفویض طلاق یعنی زینب کو بشرط مذکور طلاق کا اختیار دینا ہی صحیح نہ ہوا اگر بالفرض زید چھ برس بے نفقہ وبے خبر گیری چھوڑے اور
فان الملك اوالاضافۃ(الیہ لابد منہ ولم یوجد او طلاق الفضولی یتوقف عندنا علی اجازۃ الزوج۔
کیونکہ طلاق دیتے وقت ملکیت یا اس کی طرف نسبت کاموجود ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں یہ موجود نہیں یا یہ کہ یہ فضولی کی طلاق ہے جبکہ فضولی کی طلاق خاوند کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے(ت)
پیش از نکاح جو ان الفاظ سے شرط کی جائے لغو ومہمل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۴ : ازبنگالہ ۲۰ربیع الآخر شریف۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اس شرط پر زینب سے نکاح کیا کہ اگر تم کو چھ۶ مہینے تك بے خوراك وبے خبری چھوڑوں گا تو اختیار ایقاع تین طلاق کی ملك تیرے ہاتھ دے دیا اب زید نے بعد ایك سال کے اپنی منکوحہ کو خوش وراضی کرکے فی ماہ خوراك مقرر کرکے واسطے کسی کام کے سفر میں گیا اور تین گواہ بھی موجود ہیں اب بعد چند روز کے منکوحہ زید دعوی کرتی ہے کہ میری طلاق واقع ہوگئی آیا یہ دعوی زینب صحیح ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر الفاظ شرط کہ زید نے کہے یہی ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے تو اس میں چار۴صورتیں ہیں :
اول یہ لفظ زید نے پیش از نکاح کہے اگرچہ اسی وقت معا نکاح کرلیا۔
دوم خاص ایجاب وقبول میں شرط کی اور ابتدائے ایجاب اس شرط کے ساتھ جانب زید سے تھی یعنی زید نے کہا میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط پر کہ اگر تجھ کو چھ۶مہینے تك الخ زینب نے کہا میں نے قبول کیا۔
سوم شرط خود عقد میں تھی اور ابتدائے ایجاب زینب کی طرف سے مثلا زینب یا اس کے وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا اپنی مؤکلہ زینب بنت فلاں بن فلاں کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ اگر تو تیرے چھ۶مہینے تك الخ زید نے کہا میں نے قبول کیا یا زینب خواہ وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا مؤکلہ مذکورہ کو تیرے نکاح میں دیا زید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر میں تجھ کو چھ۶مہینے تك الخ۔
چہارم یہ شرط بعد تحقق ایجاب وقبول کی پہلی دو۲ صورتوں میں سرے سے یہ تفویض طلاق یعنی زینب کو بشرط مذکور طلاق کا اختیار دینا ہی صحیح نہ ہوا اگر بالفرض زید چھ برس بے نفقہ وبے خبر گیری چھوڑے اور
زینب سوبار اپنے نفس کو طلاق دے طلاق نہ پڑے گی
لان التفویض تعتمد الملك اوالاضافۃ الیہ ولم یوجد۔
کیونکہ تفویض کا دار ومدار ملکیت یا اس کی طرف نسبت پر ہے جوکہ یہاں موجود نہیں ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں وغیرہ میں ہے :
البدأۃ اذاکانت من الزوج کان التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صار کانہ قال قبلت علی ان یکون الامر بیدک فیصیر مفوضا بعد النکاح اھ مختصرا۔
بیوی نے خاوند سے طلاق کا اختیار طلب کیا تو اب خاوند نے تفویض کی ابتداء کی تو یہ تفویض نکاح کے بعد متصور ہوگی کیونکہ اگر بیوی کے جواب میں صرف “ قبلت “ (میں نے قبول کیا)کہا تو یہ تفویض نکاح کے بعد اس لئے ہوگی کہ سوال کا جواب میں اعادہ معتبر ہوتا ہے گویا کہ یوں کہا میں نے قبول کیا کہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہواھ مختصرا(ت)
اور پچھلی دو۲ صورتوں میں تفویض صحیح ہوگئی اب اگر زید نے بعد نکاح چھ۶مہینے تك بے نفقہ وخبرگیری نہ چھوڑا تو بھی زینب پر طلاق ہونے کے کوئی معنی نہیں لعدم تحقق الشرط(شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ ت)اور اگر شرط مذکور پائی گئی تو جس وقت چھ۶مہینے گزرے زینب کو اپنی طلاق دے لینے کا اختیار تو ضرور حاصل ہوا مگر یہ اختیار اسی جلسہ تك رہے گا اگر مجلس بدلی یا کوئی فعل یا قول زینب سے ایسا صادر ہو جو اپنے آپ کو طلاق دینے سے اجنبی ہوتو وہ اختیار فورا جاتا رہا اب چاہے سوبار اپنے نفس کو طلاق دے نہ ہوگی مثلا جس وقت چھ۶ مہینے گزرے زینب ایك جگہ بیٹھی تھی وہاں سے کھڑی ہوگئی یا کھڑی تھی چلنے لگی یا کھانا مانگا یا کنگھی کی یا کسی سے کوئی اجنبی بات اس معاملے کے علاوہ کہی اس کے بعد اپنے آپ کو طلاق دی ہرگز نہ پڑے گی اور اگر اسی جلسہ میں بغیر کسی ایسے قول وفعل اپنے آپ کو طلاق دے سب سے پہلے یہی بات کی تو بیشك طلاق ہوگئی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے :
التفویض المعلق بشرط اما ان یکون مطلقا عن الوقت واماان یکون مؤقتا فان کان مطلقا بان قال اذا قدم فلان فامرك بیدك فقدم فلان فامرھا بیدھا اذاعلمت فی مجلسھاالذی
وہ تفویض جو کسی شرط سے معلق ہوتو اس کی دو۲ صورتیں ہیں وقت مقرر ہوگا یا مقرر نہ ہوگا۔ اگر شرط کے ساتھ وقت مقرر نہ ہوجیسے یوں کہے “ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے جب فلاں شخص آجائے تو
لان التفویض تعتمد الملك اوالاضافۃ الیہ ولم یوجد۔
کیونکہ تفویض کا دار ومدار ملکیت یا اس کی طرف نسبت پر ہے جوکہ یہاں موجود نہیں ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں وغیرہ میں ہے :
البدأۃ اذاکانت من الزوج کان التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صار کانہ قال قبلت علی ان یکون الامر بیدک فیصیر مفوضا بعد النکاح اھ مختصرا۔
بیوی نے خاوند سے طلاق کا اختیار طلب کیا تو اب خاوند نے تفویض کی ابتداء کی تو یہ تفویض نکاح کے بعد متصور ہوگی کیونکہ اگر بیوی کے جواب میں صرف “ قبلت “ (میں نے قبول کیا)کہا تو یہ تفویض نکاح کے بعد اس لئے ہوگی کہ سوال کا جواب میں اعادہ معتبر ہوتا ہے گویا کہ یوں کہا میں نے قبول کیا کہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہواھ مختصرا(ت)
اور پچھلی دو۲ صورتوں میں تفویض صحیح ہوگئی اب اگر زید نے بعد نکاح چھ۶مہینے تك بے نفقہ وخبرگیری نہ چھوڑا تو بھی زینب پر طلاق ہونے کے کوئی معنی نہیں لعدم تحقق الشرط(شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ ت)اور اگر شرط مذکور پائی گئی تو جس وقت چھ۶مہینے گزرے زینب کو اپنی طلاق دے لینے کا اختیار تو ضرور حاصل ہوا مگر یہ اختیار اسی جلسہ تك رہے گا اگر مجلس بدلی یا کوئی فعل یا قول زینب سے ایسا صادر ہو جو اپنے آپ کو طلاق دینے سے اجنبی ہوتو وہ اختیار فورا جاتا رہا اب چاہے سوبار اپنے نفس کو طلاق دے نہ ہوگی مثلا جس وقت چھ۶ مہینے گزرے زینب ایك جگہ بیٹھی تھی وہاں سے کھڑی ہوگئی یا کھڑی تھی چلنے لگی یا کھانا مانگا یا کنگھی کی یا کسی سے کوئی اجنبی بات اس معاملے کے علاوہ کہی اس کے بعد اپنے آپ کو طلاق دی ہرگز نہ پڑے گی اور اگر اسی جلسہ میں بغیر کسی ایسے قول وفعل اپنے آپ کو طلاق دے سب سے پہلے یہی بات کی تو بیشك طلاق ہوگئی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے :
التفویض المعلق بشرط اما ان یکون مطلقا عن الوقت واماان یکون مؤقتا فان کان مطلقا بان قال اذا قدم فلان فامرك بیدك فقدم فلان فامرھا بیدھا اذاعلمت فی مجلسھاالذی
وہ تفویض جو کسی شرط سے معلق ہوتو اس کی دو۲ صورتیں ہیں وقت مقرر ہوگا یا مقرر نہ ہوگا۔ اگر شرط کے ساتھ وقت مقرر نہ ہوجیسے یوں کہے “ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے جب فلاں شخص آجائے تو
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی النکاح علی الشرط نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۲
قدم فیہ الخ
اس صورت میں بیوی کو فلاں کے آنے کی اطلاع والی مجلس میں اپنا اختیار حاصل ہوجائے گا الخ(ت)
اسی میں ہے :
اذاقامت عن مجلسھا قبل ان تختار نفسھا وکذا اذا اشتغلت بعمل اخر یعلم انہ کان قاطعا لما قبلہ کما اذاادعت بطعام لتأکلہ او نامت او نشطت او اغتسلت او اختضبت او جامعھا زوجہا او خاطبت رجلا بالبیع والشراء فھذا کلہ یبطل خیارھا کذافی السراج الوھاج۔
اگر بیوی مجلس میں اپنے کو طلاق دینے سے قبل اٹھ کھڑی ہوئی یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہوگئی جس سے معلوم ہوجائے کہ یہ اختیار کے لئے قاطع ہے مثلا بیوی اس مجلس میں اختیار استعمال کرنے سے قبل کھانے کےلئے کھانا طلب کرلے یا کنگھی کرنا شروع کردے یا غسل شروع کردے یا خضاب مہندی لگانا شروع کردے یا خاوند سے ہمبستری شروع کردے یاکسی دوسر ے شخص سے خرید وفروخت کی بات شروع کردے تو یہ تمام افعال اس کے اختیار کو باطل کردیں گے۔ سراج الوہاج میں ایسے ہی مذکور ہے(ت)
درمختار میں ہے :
والفلك لھا کالبیت وسیرد ابتھا کسیرھا حتی لایتبدل المجلس بجری الفلك ویتبدل بسیر الدابۃ الخ۔
کشتی گھر کی طرح ہے اور سواری کا چلنا عورت کے اپنے چلنے کی طرح ہے حتی کہ مجلس اختیار تبدیل نہ ہوگی جب کشتی چلتی رہی ہو مگر سواری کے چلنے پر مجلس تبدیل ہوجائے گی الخ (ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں زینب پر طلاق ہونے کےلئے تین امور ضرور :
ایك یہ کہ وہ تفویض جانب زوج سے صحیح واقع ہوئی یعنی بعد نکاح یہ اختیار دیا ہو یا وقت نکاح اس طور پر کہ ابتدائے ایجاب عورت کی طرف سے ہو۔
دوسرے یہ کہ بعد نکاح چھ۶مہینے بے نفقہ وخبر گیری گزرے ہوں ۔
اس صورت میں بیوی کو فلاں کے آنے کی اطلاع والی مجلس میں اپنا اختیار حاصل ہوجائے گا الخ(ت)
اسی میں ہے :
اذاقامت عن مجلسھا قبل ان تختار نفسھا وکذا اذا اشتغلت بعمل اخر یعلم انہ کان قاطعا لما قبلہ کما اذاادعت بطعام لتأکلہ او نامت او نشطت او اغتسلت او اختضبت او جامعھا زوجہا او خاطبت رجلا بالبیع والشراء فھذا کلہ یبطل خیارھا کذافی السراج الوھاج۔
اگر بیوی مجلس میں اپنے کو طلاق دینے سے قبل اٹھ کھڑی ہوئی یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہوگئی جس سے معلوم ہوجائے کہ یہ اختیار کے لئے قاطع ہے مثلا بیوی اس مجلس میں اختیار استعمال کرنے سے قبل کھانے کےلئے کھانا طلب کرلے یا کنگھی کرنا شروع کردے یا غسل شروع کردے یا خضاب مہندی لگانا شروع کردے یا خاوند سے ہمبستری شروع کردے یاکسی دوسر ے شخص سے خرید وفروخت کی بات شروع کردے تو یہ تمام افعال اس کے اختیار کو باطل کردیں گے۔ سراج الوہاج میں ایسے ہی مذکور ہے(ت)
درمختار میں ہے :
والفلك لھا کالبیت وسیرد ابتھا کسیرھا حتی لایتبدل المجلس بجری الفلك ویتبدل بسیر الدابۃ الخ۔
کشتی گھر کی طرح ہے اور سواری کا چلنا عورت کے اپنے چلنے کی طرح ہے حتی کہ مجلس اختیار تبدیل نہ ہوگی جب کشتی چلتی رہی ہو مگر سواری کے چلنے پر مجلس تبدیل ہوجائے گی الخ (ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں زینب پر طلاق ہونے کےلئے تین امور ضرور :
ایك یہ کہ وہ تفویض جانب زوج سے صحیح واقع ہوئی یعنی بعد نکاح یہ اختیار دیا ہو یا وقت نکاح اس طور پر کہ ابتدائے ایجاب عورت کی طرف سے ہو۔
دوسرے یہ کہ بعد نکاح چھ۶مہینے بے نفقہ وخبر گیری گزرے ہوں ۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی الامر بالید نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۹۲
فتاوٰی ہندیہ الباب الثالث فی تفویض الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۷
درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
فتاوٰی ہندیہ الباب الثالث فی تفویض الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸۷
درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
تیسرے یہ کہ ان کے گزرتے ہی اسی مجلس میں بے کسی اجنبی بات کے زینب نے اپنے آپ کو طلاق دے لی ہو۔
ان تین امور سے اگر ایك بھی کم ہے دعوی طلاق محض غلط وباطل ہے اب اگر زید ان تینوں باتوں کے وجود کا مقر ہوتو آپ ہی طلاق ثابت ہوجائے گی اور اگر ان میں بعض کا منکر ہوتو امر اول ودوم میں زینب پر گواہ دینے ضرور ہیں شہادت شرعیہ سے ثابت کرے کہ شوہر نے اسے تفویض طلاق بروجہ مقبول شرعی کی اور چھ مہینے بے نفقہ وخبر گیری گزرگئے اگر گواہان عادل سے اسے ثابت نہ کرسکے گی تو زید کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت نہ ہوگی اور امر سوم میں اگر زید کو سرے سے بعد حصول شرط زوجہ کی جانب سے ایقاع طلاق صادر ہونے ہی کا انکار ہے جب بھی گواہ ذمہ زینب ہیں اور اگر ایقاع بھی زیدکو تسلیم ہے تو گواہ دینا زید پر لازم ہے یعنی صحت تفویض وانقضائے ششماہی وایقاع طلاق زید کو تسلیم یا گواہوں سے ثابت ہے اور تنقیح صرف اس بات کی باقی ہے کہ اس مدت گزرنے پر زینب نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے لی یا بعد زینب کہتی ہے اسی وقت میں نے دے لی تھی اور زید منکر ہے تو اس کا بار ثبوت زید پر ہے یہ گواہوں سے ثابت کرے کہ جس وقت چھ مہینے گزرے ہیں زینب بے طلاق دئے ہوئے کسی اور کام میں مشغول ہوگئی اگر ثابت کردے گا طلاق نہ ہوگی ورنہ زینب کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت کردیں گے۔ درمختار میں ہے :
قالت طلقت نفسی فی المجلس بلاتبدل وانکر فالقول لہا جعل امرھا بیدھا ان ضربھا بغیرجنایۃ فضربھا ثم اختلفافالقول لہ لانہ منکر وتقبل بینتھا علی الشرط المنفی کما سیجی۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
بیوی نے کہا میں نے مجلس تبدیل کئے بغیر اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے اور خاوند اس کاا نکار کرتا ہے تو بیوی کی بات معتبر ہوگی مرد نے عورت کو طلاق کا اختیار دیا اگر وہ اس کے بغیر قصور مارے پھر خاوند نے بیوی کو پیٹ دیا تو اب بغیر قصور پیٹنے کی شرط پائے جانے میں خاوند بیوی کااختلاف ہوا تو خاوند کا قول معتر ہوگا کہ وہ منکر ہے اگر عورت شرط کے نہ پائے جانے کے موقف پر خاوند کے خلاف شہادت پیش کرے تو قبول کی جائے گی جیسا کہ عنقریب ذکر آئیگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۲۵ : ازملك بنگالہ ضلع سلہٹ مرسلہ مولوی عبدالحکیم صاحب ۲۱شعبان۱۳۲۰ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین شرع متین اندریں مسئلہ کہ عبدالکریم میاں مسماۃ ٹکخبنگ بی بی را علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عبدالکریم نے مسماۃ ٹکخبنگ بی بی سے
ان تین امور سے اگر ایك بھی کم ہے دعوی طلاق محض غلط وباطل ہے اب اگر زید ان تینوں باتوں کے وجود کا مقر ہوتو آپ ہی طلاق ثابت ہوجائے گی اور اگر ان میں بعض کا منکر ہوتو امر اول ودوم میں زینب پر گواہ دینے ضرور ہیں شہادت شرعیہ سے ثابت کرے کہ شوہر نے اسے تفویض طلاق بروجہ مقبول شرعی کی اور چھ مہینے بے نفقہ وخبر گیری گزرگئے اگر گواہان عادل سے اسے ثابت نہ کرسکے گی تو زید کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت نہ ہوگی اور امر سوم میں اگر زید کو سرے سے بعد حصول شرط زوجہ کی جانب سے ایقاع طلاق صادر ہونے ہی کا انکار ہے جب بھی گواہ ذمہ زینب ہیں اور اگر ایقاع بھی زیدکو تسلیم ہے تو گواہ دینا زید پر لازم ہے یعنی صحت تفویض وانقضائے ششماہی وایقاع طلاق زید کو تسلیم یا گواہوں سے ثابت ہے اور تنقیح صرف اس بات کی باقی ہے کہ اس مدت گزرنے پر زینب نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے لی یا بعد زینب کہتی ہے اسی وقت میں نے دے لی تھی اور زید منکر ہے تو اس کا بار ثبوت زید پر ہے یہ گواہوں سے ثابت کرے کہ جس وقت چھ مہینے گزرے ہیں زینب بے طلاق دئے ہوئے کسی اور کام میں مشغول ہوگئی اگر ثابت کردے گا طلاق نہ ہوگی ورنہ زینب کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت کردیں گے۔ درمختار میں ہے :
قالت طلقت نفسی فی المجلس بلاتبدل وانکر فالقول لہا جعل امرھا بیدھا ان ضربھا بغیرجنایۃ فضربھا ثم اختلفافالقول لہ لانہ منکر وتقبل بینتھا علی الشرط المنفی کما سیجی۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
بیوی نے کہا میں نے مجلس تبدیل کئے بغیر اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے اور خاوند اس کاا نکار کرتا ہے تو بیوی کی بات معتبر ہوگی مرد نے عورت کو طلاق کا اختیار دیا اگر وہ اس کے بغیر قصور مارے پھر خاوند نے بیوی کو پیٹ دیا تو اب بغیر قصور پیٹنے کی شرط پائے جانے میں خاوند بیوی کااختلاف ہوا تو خاوند کا قول معتر ہوگا کہ وہ منکر ہے اگر عورت شرط کے نہ پائے جانے کے موقف پر خاوند کے خلاف شہادت پیش کرے تو قبول کی جائے گی جیسا کہ عنقریب ذکر آئیگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۲۵ : ازملك بنگالہ ضلع سلہٹ مرسلہ مولوی عبدالحکیم صاحب ۲۱شعبان۱۳۲۰ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین شرع متین اندریں مسئلہ کہ عبدالکریم میاں مسماۃ ٹکخبنگ بی بی را علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عبدالکریم نے مسماۃ ٹکخبنگ بی بی سے
حوالہ / References
درمختار باب الامر بالید مطبع مجتبادئی دہلی ۱ / ۲۲۹
درعقد نکاح خود آورد واز بطن مذکورہ دخترے تولد شد بعد ازاں عبدالکریم از کسے وجہ ناراضی بانو موصوفہ را طلاق بائن داد بی بی مذکوراز مکان عبدالکریم بمکان دیگر رفت بعد ازاں عبدالکریم مسماۃ مائتون بی بی را نکاح کردونامہ بطور کابین بریں مضمون نوشتہ داد کہ بغیر توہیچ زن راخواہ ٹکخبنگ بی بی باشد یازن دیگر درنکاح من نیارم اگر آرم وآں زن دیگر در باب چوکھٹ پائے داروپس ترااختیار طلاق ثلثہ است بہر وقتے کہ باید خودرا از نکاح من خارج کردہ باشوہر دیگر نکاح توانی کرد اگر درآں وقت دعوے زوجیت بکنم خلاف شریعت وقانون انگریزی خواہد شد نوشتہ بدست مائتون بی بی داد چند کس رااز مجلس مسلمین گواہ کرد پس از چند روز عبدالکریم قول خود راخلاف نمودہ بانو اول ٹکخبنگ بی بی را بمکان خودآوردبعد ازاں میان ہر دوزن جنگ وجدال شد ٹکخبنگ از شجاعت ودلیری خود مائتون بی بی را از مکان عبدالکریم بیروں کرد پس مائتون بی بی جبرا روزے بمکان والد عبدالکریم ماندہ بروز دیگر سخنہائے کہ ضرہ خود دیروز شدہ بود بیان کردہ گفت کہ من بمطابق اقرا ر نامہ سہ طلاق خود را اختیار می روم وبمکان والدین رفت بعد ازاں عبدالکریم قول خودر ا خلاف اقرار نامہ کردہ دعوی زوجیت کرد پس مائتون بی بی بعد چہار ماہ بخوف جنگ وجدال شوہرے خودرا ہفتاد
نکاح کیا اور اس کے بطن سے ایك لڑکی پیداہوئی اس کے بعد عبدالکریم نے بانوموصوفہ کو بائن طلاق دے دی اور وہ عبدالکریم کے مکان سے دوسرے مکان میں چلی گئی پھر عبدالکریم نے مسماۃ مائتون بی بی سے نکاح کیا اور نکاح نامہ میں یہ تحریر کر کے مائتون بی بی کو دے دیا کہ “ وہ تیرے بغیر ٹکخبنگ بی بی یا کسی دوسرے عورت سے نکاح کروں تو وہ جب دروازے کی چوکھٹ پر قدم رکھے تو تجھے تین طلاقوں کا اختیار دیتا ہوں کہ تو جس وقت چاہے میرے نکاح سے خارج ہوجائے اور دوسرے جس شخص سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اگر اس وقت میں تجھ پر زوجیت کا دعوی کروں تو یہ دعوی شریعت اور انگریزی قانون کے خلاف متصور ہوگا “ اس تحریرپرچند حاضر مسلمانوں کو گواہ بنایا اسکے بعد چند روز میں ہی عبدالکریم نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلی بیوی ٹکخبنگ بی بی کو اپنے مکان پر لے آیا جس کے بعد دونوں بیویوں میں جھگڑا شروع ہوگیا اور ٹکخبنگ بی بی نے اپنی جرأت اور دلیری سے مائتون بی بی کو عبدالکریم کے مکان سے نکال دیا تو مائتون بی بی ایك روز زبردستی عبدالکریم کے والد کے گھر ٹھہری اور وہاں عبدالکریم کے والد کو اپنی سوکن کے ساتھ ہونے والی گزشتہ روز کی کہانی سنائی اور کہا کہ میں نے نکاح نامہ تحریر شدہ عبدالکریم کے اقرار کے مطابق اپنے آپ کو طلاق دیتی ہوں اور اپنے اختیار کو استعمال کرتی ہوں وہ یہ کہہ کر اپنے والدین کے
نکاح کیا اور اس کے بطن سے ایك لڑکی پیداہوئی اس کے بعد عبدالکریم نے بانوموصوفہ کو بائن طلاق دے دی اور وہ عبدالکریم کے مکان سے دوسرے مکان میں چلی گئی پھر عبدالکریم نے مسماۃ مائتون بی بی سے نکاح کیا اور نکاح نامہ میں یہ تحریر کر کے مائتون بی بی کو دے دیا کہ “ وہ تیرے بغیر ٹکخبنگ بی بی یا کسی دوسرے عورت سے نکاح کروں تو وہ جب دروازے کی چوکھٹ پر قدم رکھے تو تجھے تین طلاقوں کا اختیار دیتا ہوں کہ تو جس وقت چاہے میرے نکاح سے خارج ہوجائے اور دوسرے جس شخص سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اگر اس وقت میں تجھ پر زوجیت کا دعوی کروں تو یہ دعوی شریعت اور انگریزی قانون کے خلاف متصور ہوگا “ اس تحریرپرچند حاضر مسلمانوں کو گواہ بنایا اسکے بعد چند روز میں ہی عبدالکریم نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلی بیوی ٹکخبنگ بی بی کو اپنے مکان پر لے آیا جس کے بعد دونوں بیویوں میں جھگڑا شروع ہوگیا اور ٹکخبنگ بی بی نے اپنی جرأت اور دلیری سے مائتون بی بی کو عبدالکریم کے مکان سے نکال دیا تو مائتون بی بی ایك روز زبردستی عبدالکریم کے والد کے گھر ٹھہری اور وہاں عبدالکریم کے والد کو اپنی سوکن کے ساتھ ہونے والی گزشتہ روز کی کہانی سنائی اور کہا کہ میں نے نکاح نامہ تحریر شدہ عبدالکریم کے اقرار کے مطابق اپنے آپ کو طلاق دیتی ہوں اور اپنے اختیار کو استعمال کرتی ہوں وہ یہ کہہ کر اپنے والدین کے
روپیہ دادہ خلع کرد عبدالکریم مائتون بی بی را سہ طلاق داد پس مائتون بی بی بعد یك روز بامرد دیگر نکاح خود کردپس ایں نکاح جائز شد یا نہ بابراہین شرعیہ ودلائل قویہ باید نوشت مخفی نماند کہ از سہ سال دربارہ ایں مسئلہ اختلاف ست بینوا توجروا۔
گھر چلی گئی اس کے بعد عبدالکریم نے اپنے اقرار نامہ کے برخلاف مائتون بی بی پر اپنی زوجیت کا دعوی کردیا تو مائتون بی بی نے جنگ وجدال سے بچتے ہوئے عبدالکریم کو اس کے دعوی کے عوض ستر روپے خلع کے طور پر چار ماہ بعد اداکردئے تو عبدالکریم نے اس وقت مائتون بی بی کو تین طلاقیں دیں تو اس کے ایك روز بعد مائتون بی بی نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا تو کیا اس کایہ نکاح جائز ہے یانہیں براہین شرعیہ اور دلائل قویہ سے جواب لکھا جائے۔ یادرہے کہ اس مسئلہ میں تین سال سے اختلاف چلا آرہا ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر عبدالکریم آں نامہ پیش از نکاح نوشت وآنجا الفاظ ہمیں قدر بود کہ سائل ذکر نمود بزنے گرفتن مائتون شرطا بالتصریح مذکور نبود مثلا اگر ترانکاح کنم وباز برتو زنے دیگر بزنے گیرم واوبخانہ ام آید پس ترا اختیار سہ طلاق ست الخ پس دریں صورت آں نامہ لغووباطل ست وبزنے گرفتن منکوحہ اولی خواہ غیراومائتون راہیچ اختیار طلاق دادن خودش رواندارد اوہمچناں زن عبدالکریم است تاآنکہ خلع کرد وعبدالکریم سہ طلاق داد ازیں وقت مطلقہ شد وعدت بروواجب آمد پیش ازمرورعدت نکاحی کہ بامرددیگر کردناجائز وباطل وزنا وحرام بوداز باز ماندن فرض ست قال اﷲتعالی
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء وردالمحتار ست لو قال لھا
اگر عبدالکریم نے وہ تحریر نکاح سے پہلے لکھی ہو اور اس میں وہی الفاظ ہوں جو سائل نے تحریر کئے ہیں جس میں مائتوں بی بی سے نکاح کو بطور شرط صراحۃ ذکر نہیں کیا گیا مثلا یہ صورت ہو کہ اگر تجھ سے نکاح کروں اور پھر تجھ پردوسری عورت کو بیوی بناؤں اور وہ میرے گھر آئے توتجھے تین طلاقوں کا اختیار ہے الخ___تو ایسی صورت میں یہ تحریر لغو اور باطل ہے اور پہلی بیوی یا کسی دوسری کو نکاح کرکے گھر لائے تو مائتون بی بی کو اختیار نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاق دے وہ بدستور عبدالکریم کی بیوی ہوگی اور خلع کے بعد اس کو عبدالکریم کے تین طلاق دینے پر وہ مطلقہ قرار پائی اور اس وقت سے اس کی عدت شمار ہوئی اور عدت پوری ہونے سے قبل دوسرے شخص سے اس کا نکاح حرام
گھر چلی گئی اس کے بعد عبدالکریم نے اپنے اقرار نامہ کے برخلاف مائتون بی بی پر اپنی زوجیت کا دعوی کردیا تو مائتون بی بی نے جنگ وجدال سے بچتے ہوئے عبدالکریم کو اس کے دعوی کے عوض ستر روپے خلع کے طور پر چار ماہ بعد اداکردئے تو عبدالکریم نے اس وقت مائتون بی بی کو تین طلاقیں دیں تو اس کے ایك روز بعد مائتون بی بی نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا تو کیا اس کایہ نکاح جائز ہے یانہیں براہین شرعیہ اور دلائل قویہ سے جواب لکھا جائے۔ یادرہے کہ اس مسئلہ میں تین سال سے اختلاف چلا آرہا ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر عبدالکریم آں نامہ پیش از نکاح نوشت وآنجا الفاظ ہمیں قدر بود کہ سائل ذکر نمود بزنے گرفتن مائتون شرطا بالتصریح مذکور نبود مثلا اگر ترانکاح کنم وباز برتو زنے دیگر بزنے گیرم واوبخانہ ام آید پس ترا اختیار سہ طلاق ست الخ پس دریں صورت آں نامہ لغووباطل ست وبزنے گرفتن منکوحہ اولی خواہ غیراومائتون راہیچ اختیار طلاق دادن خودش رواندارد اوہمچناں زن عبدالکریم است تاآنکہ خلع کرد وعبدالکریم سہ طلاق داد ازیں وقت مطلقہ شد وعدت بروواجب آمد پیش ازمرورعدت نکاحی کہ بامرددیگر کردناجائز وباطل وزنا وحرام بوداز باز ماندن فرض ست قال اﷲتعالی
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء وردالمحتار ست لو قال لھا
اگر عبدالکریم نے وہ تحریر نکاح سے پہلے لکھی ہو اور اس میں وہی الفاظ ہوں جو سائل نے تحریر کئے ہیں جس میں مائتوں بی بی سے نکاح کو بطور شرط صراحۃ ذکر نہیں کیا گیا مثلا یہ صورت ہو کہ اگر تجھ سے نکاح کروں اور پھر تجھ پردوسری عورت کو بیوی بناؤں اور وہ میرے گھر آئے توتجھے تین طلاقوں کا اختیار ہے الخ___تو ایسی صورت میں یہ تحریر لغو اور باطل ہے اور پہلی بیوی یا کسی دوسری کو نکاح کرکے گھر لائے تو مائتون بی بی کو اختیار نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاق دے وہ بدستور عبدالکریم کی بیوی ہوگی اور خلع کے بعد اس کو عبدالکریم کے تین طلاق دینے پر وہ مطلقہ قرار پائی اور اس وقت سے اس کی عدت شمار ہوئی اور عدت پوری ہونے سے قبل دوسرے شخص سے اس کا نکاح حرام
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۲۸
تزوجتك علی ان امرك بیدك فقبلت جاز النکاح ولغا الشرط لان الامر انما یصح فی الملك او مضافا الیہ ولم یوجد واحد منھما بخلاف مامر فان الامر صار بیدھا مقارنا لصیروتھا منکوحۃ اھ نھر
واگر تحریر نامہ پس از نکاح مائتون ست تفویض طلاق نجانہ عــــہ آنچناں کہ دراں نامہ گفتہ است صحیح شدوبوجہ قول عبدالکریم بہر وقتیکہ باید الخ
متقید بمجلس نماندفی الدرالمختار من فصل المشیئۃ تقید بالمجلس لانہ تملیك الااذا زاد متی شئت ونحوہ مما یفید عموم الوقت فتطلق مطلقا
پس بریں تقدیر زاں باز کہ طلاق خویش اختیار کرداز نکاح بیروں شد اگر چہ ایں معنی روز دوم رونمود وذلك لان قولہ بہروقتیکہ باید الخ
توضیح للتفویض المذکور فی قولہ پس ترااختیار ثلاثہ است کما ھو الظاھر لمتبادر المفھوم المتعارف من امثال التحاور وان فرض کونہ کلاما بحیالہ فھو تفویض
ناجائز اور باطل بلکہ زنا ہے اس لئے مائتون کو اس دوسرے شخص سے علیحدہ ہوکر باز رہنا ضروری اور فرض ہے اﷲتعالی کا ارشاد ہے : اور مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تك اپنے آپ کوپابند رکھیں ۔ ردالمحتار میں ہے : اگر ایك شخص نے کسی عورت سے کہا کہ میں تجھ سے اس شرط پرنکاح کرتا ہوں کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو عورت نے اس شرط پر نکاح کو قبول کرلیا تو نکاح صحیح ہوگا اور شرط مذکور لغوہوجائیگی کیونکہ طلاق کا اختیار نکاح میں یا نکاح کی طرف نسبت کرنے میں صحیح ہوسکتا ہے جبکہ یہ دونوں امر یہاں نہیں ہیں اس کے برخلاف جوگزرا کیونکہ وہاں طلاق کا اختیار نکاح سے مقارن ہوجاتا ہے عورت کے منکوحہ ہوجانے کی وجہ سے اھ نہر۔ اور اگر عبدالکریم نے وہ تحریر نامہ مائتون بی بی سے نکاح کرنے کے بعد لکھا ہے تو پھر تین طلاقوں کی تفویض جس طرح اختیار نامہ میں موجود ہے صحیح ہے اور عبدالکریم کے تحریر نامہ “ جس وقت چاہے “ لکھنے کی وجہ سے یہ تفویض اس مجلس سے مقید نہ رہی۔ درمختار کی فصل فی المشئیۃ میں ہے کہ یہ مشیت یعنی اختیار طلاق مجلس موجود میں رہتا ہے اور اسی سے مقید ہوتا ہے اسکے
عــــہ : یہاں کرم خوردہ ہے۱۲
واگر تحریر نامہ پس از نکاح مائتون ست تفویض طلاق نجانہ عــــہ آنچناں کہ دراں نامہ گفتہ است صحیح شدوبوجہ قول عبدالکریم بہر وقتیکہ باید الخ
متقید بمجلس نماندفی الدرالمختار من فصل المشیئۃ تقید بالمجلس لانہ تملیك الااذا زاد متی شئت ونحوہ مما یفید عموم الوقت فتطلق مطلقا
پس بریں تقدیر زاں باز کہ طلاق خویش اختیار کرداز نکاح بیروں شد اگر چہ ایں معنی روز دوم رونمود وذلك لان قولہ بہروقتیکہ باید الخ
توضیح للتفویض المذکور فی قولہ پس ترااختیار ثلاثہ است کما ھو الظاھر لمتبادر المفھوم المتعارف من امثال التحاور وان فرض کونہ کلاما بحیالہ فھو تفویض
ناجائز اور باطل بلکہ زنا ہے اس لئے مائتون کو اس دوسرے شخص سے علیحدہ ہوکر باز رہنا ضروری اور فرض ہے اﷲتعالی کا ارشاد ہے : اور مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تك اپنے آپ کوپابند رکھیں ۔ ردالمحتار میں ہے : اگر ایك شخص نے کسی عورت سے کہا کہ میں تجھ سے اس شرط پرنکاح کرتا ہوں کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو عورت نے اس شرط پر نکاح کو قبول کرلیا تو نکاح صحیح ہوگا اور شرط مذکور لغوہوجائیگی کیونکہ طلاق کا اختیار نکاح میں یا نکاح کی طرف نسبت کرنے میں صحیح ہوسکتا ہے جبکہ یہ دونوں امر یہاں نہیں ہیں اس کے برخلاف جوگزرا کیونکہ وہاں طلاق کا اختیار نکاح سے مقارن ہوجاتا ہے عورت کے منکوحہ ہوجانے کی وجہ سے اھ نہر۔ اور اگر عبدالکریم نے وہ تحریر نامہ مائتون بی بی سے نکاح کرنے کے بعد لکھا ہے تو پھر تین طلاقوں کی تفویض جس طرح اختیار نامہ میں موجود ہے صحیح ہے اور عبدالکریم کے تحریر نامہ “ جس وقت چاہے “ لکھنے کی وجہ سے یہ تفویض اس مجلس سے مقید نہ رہی۔ درمختار کی فصل فی المشئیۃ میں ہے کہ یہ مشیت یعنی اختیار طلاق مجلس موجود میں رہتا ہے اور اسی سے مقید ہوتا ہے اسکے
عــــہ : یہاں کرم خوردہ ہے۱۲
حوالہ / References
ردالمحتار باب الرجعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۴۰
درمختار باب الامر بالید مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۹
درمختار باب الامر بالید مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۹
بنفسہ ولیس فیہ التنصیص علی تفویض طلاق واحد حتی ینافیہ اختیار الثلاث عند الامام انما ھو کلام مطلق لیشتمل کل بینونۃ بواحد اتت اوباکثر فصح علی ھذا ایضا وان لم تبن الابواحدۃ وعلی الاول بثلث قال فی ردالمحتار لایقع شیئ فیما اذاامرھا بالواحدۃ فطلقت ثلثا بکلمۃ واحدۃ عند الامام امالوقالت واحدۃ وواحدۃ وواحدۃ وقعت واحدۃ اتفاقا لانہ لم یتعرض للعدد لفظا واللفظ صالح للعموم والخصوص وتمامہ فی البحر
اگرایں سخن ہمچناں راست باشد کہ سائل وانمود یعنی درکلام عبدالکریم لفظ(ہروقتیکہ باید)نیز زائد بود پس دریں حالت اگر پس آں طلاق مائتون راسہ حیض کامل آمدہ ختم شدہ بود بعد آں نکاح باشخصے دیگر کرد جائز باشد ورنہ حرام ووقوع ایں معنی بعد چارماہ از طلاق اولیں دلیل قطعی
بعد نہیں رہتا کیونکہ یہ تملیك ہے لیکن اگر “ جب چاہے “ کا لفظ زائد کیا ہو یا اس کی مثل اور کوئی عموم وقت کےلئے لفظ زائد کیا ہوتو پھر مجلس کی قید کے بغیر مطلقا طلاق ہوگی پس اس صورت میں مائتون بی بی کا اپنے آپ کو طلاق دینا درست ہوا اور وہ عبدالکریم کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے اگرچہ عبدالکریم اس کارروائی کے دوسرے روز اس کے خلاف اقدام کرکے رد بھی کردے تاہم نکاح ختم ہوگیا ہے یہ اس لئے کہ اس نے “ جس وقت چاہے “ کالفظ ذکر کیا اور یہ تین طلاقوں کی تفویض کی وضاحت ہے جیسا کہ عرف میں اس محاورہ کے استعال سے متبادر طور پر مفہوما سمجھا جاتا ہے اور اگر بعینہ اس کو کلام فرض کیا جائے تو یہ بنفسہ تفویض ہوگی اور تفویض میں چونکہ ایك طلاق کا ذکر نہیں ہے اس لئے یہاں تین طلاقوں کو اختیار کرنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں منافی نہ ہوگا (ہاں اگر بیوی تین طلاقوں کو بیك لفظ کی بجائے “ ایك اور ایك اورایک “ تین مرتبہ کہتی ہے تو پھر بالاتفاق ایك ہوتی)لیکن یہاں تو مطلق کلام ہے جس میں ایك یا زیادہ بائنہ طلاقیں ہوں سب کو شامل ہے تو اس بناء پر بھی تین طلاقیں اپنانا درست ہے اگرچہ علیحدہ علیحدہ کہنے میں ایك ہی سے بائنہ اور بیك لفظ میں تین طلاقوں سے ہی بائنہ ہوجاتی ہے ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو ایك طلاق کا
اگرایں سخن ہمچناں راست باشد کہ سائل وانمود یعنی درکلام عبدالکریم لفظ(ہروقتیکہ باید)نیز زائد بود پس دریں حالت اگر پس آں طلاق مائتون راسہ حیض کامل آمدہ ختم شدہ بود بعد آں نکاح باشخصے دیگر کرد جائز باشد ورنہ حرام ووقوع ایں معنی بعد چارماہ از طلاق اولیں دلیل قطعی
بعد نہیں رہتا کیونکہ یہ تملیك ہے لیکن اگر “ جب چاہے “ کا لفظ زائد کیا ہو یا اس کی مثل اور کوئی عموم وقت کےلئے لفظ زائد کیا ہوتو پھر مجلس کی قید کے بغیر مطلقا طلاق ہوگی پس اس صورت میں مائتون بی بی کا اپنے آپ کو طلاق دینا درست ہوا اور وہ عبدالکریم کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے اگرچہ عبدالکریم اس کارروائی کے دوسرے روز اس کے خلاف اقدام کرکے رد بھی کردے تاہم نکاح ختم ہوگیا ہے یہ اس لئے کہ اس نے “ جس وقت چاہے “ کالفظ ذکر کیا اور یہ تین طلاقوں کی تفویض کی وضاحت ہے جیسا کہ عرف میں اس محاورہ کے استعال سے متبادر طور پر مفہوما سمجھا جاتا ہے اور اگر بعینہ اس کو کلام فرض کیا جائے تو یہ بنفسہ تفویض ہوگی اور تفویض میں چونکہ ایك طلاق کا ذکر نہیں ہے اس لئے یہاں تین طلاقوں کو اختیار کرنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں منافی نہ ہوگا (ہاں اگر بیوی تین طلاقوں کو بیك لفظ کی بجائے “ ایك اور ایك اورایک “ تین مرتبہ کہتی ہے تو پھر بالاتفاق ایك ہوتی)لیکن یہاں تو مطلق کلام ہے جس میں ایك یا زیادہ بائنہ طلاقیں ہوں سب کو شامل ہے تو اس بناء پر بھی تین طلاقیں اپنانا درست ہے اگرچہ علیحدہ علیحدہ کہنے میں ایك ہی سے بائنہ اور بیك لفظ میں تین طلاقوں سے ہی بائنہ ہوجاتی ہے ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو ایك طلاق کا
حوالہ / References
ردالمحتار باب فی المشیۃ داراحیاء التراث العر بی بیروت ۲ / ۴۸۸
انقضائے عدت نیست زن بحال خود عالمہ است می تواند کہ گاہے درسہ سال نیز سہ حیض تمام نشود ایں ست حکم صورت مسؤلہ امافقیر می ترسم کہ ایں مسئلہ ہماں ست کہ در ۱۳۱۷ھ سہ باراز ہمیں سلہٹ نزد فقیر آمدہ بود وسائل ایں بار نیز گفت کہ ایں فساد از سہ سال آنجابرپاست بار اول۶ / رجب ۱۳۱۷ھ بیانے کہ آمدظاہرش آنست کہ ایں اقرار زید یعنی عبدالکریم پیش از نکاح ہندہ اعنی مائتون بود وآنجا نیز تصریح اضافت بملك یا سبب ملك نیست وقطع نظر ازاں ۶ / رجب و۱۹شوال و۲۲ذی قعدہ ۱۳۱۷ھ درسوالات ہر سہ بار ہیچ ذکرایں زیادت تازہ کہ ہر وقتیکہ باید نبود بلکہ در سوال اول لفظ ہندہ ہمیں قدر نوشتہ بود کہ اب میں مطابق اقرار نامہ نہیں رہ سکتی ہوں ایں گفت واز خانہ بروں رفت جواب دادم کہ ایں الفاظ طلاق نبود بالفرض اگر طلاق باشد پیش آنہاباز ضرہ خود جنگ وجدل سخنے فضول واجنبی بود مجلس متبد ل شد واختیار طلاق ازدست رفت طلاق ازاں روز شد کہ خلع کرد ازیں روز امر درعدت واجب ست ورنہ نکاح حرام بریں واجب جواب در سوال شوال نیز ہمیں از تقیید بمجلس سوال کرد جواب رفت در سوال ذیقعدہ فزود کہ ہندہ دعوی میکند کہ بمجرد آمدن
اختیار دیا اور بیوی نے تین کو بیك لفظ اپنایا تو امام صاحب کے نزدیك کوئی طلاق نہ ہوگی اور ایك ایك کرکے تین طلاقوں کو اپنے لئے اختیار کیا تو پہلی ایك بالاتفاق واقع ہوگی کیونکہ لفظوں میں خاوند نے عدد کو ذکر نہیں کیا اس میں عموم اور خصوص دونوں کا احتمال ہے اس کی پوری بحث بحرمیں ہے ___
تو اگر بات ایسے ہی ہے جیسے سائل نے ظاہر کی ہے یعنی عبدالکریم نے اختیارسونپتے ہوئے “ جب چاہے “ بھی زائد کیا ہے پس اندریں صورت مائتون بی بی کے طلاق کو اپنانے کے بعد تین حیض کامل گزرچکے ہوں اور اس کے بعد اس نے دوسرے شخص سے نکاح کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے ورنہ عدت مکمل ہوئے بغیر نکاح کیا تو یہ حرام ہے اور محض چار ماہ طلاق کے بعد گزرنا یہ عدت کے پورا ہونے کی قطعی دلیل نہیں ہے اس کے متعلق عورت کو علم ہوتا ہے کیونکہ کبھی تین سال میں بھی تین حیض مکمل نہیں ہوتے یہ صورت مسئولہ کا حکم ہے۔ مجھ فقیر کو خطرہ ہے کہ یہ وہی مسئلہ ہو جو میرے پاس ۱۳۱۷ھ میں تین بار سلہٹ سے آیا تھا اور سائل نے بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں یہ فسادتین سال سے چلاآرہا ہے۔ پہلی بار ۶ / رجب۱۳۱۷ھ کویہ سوال آیا تو اس میں یہ بیان تھا کہ زید یعنی عبدالکریم کا یہ اقرار نامہ نکاح سے پہلے لکھا گیا ہے اور اس میں مائتون سے نکاح کی ملکیت یا سبب کا ذکر بھی نہ تھا اس سے قطع نظر ۶ / رجب ۱۹ شوال اور ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۱۷ تین مرتبہ سولات کئے گئے جن میں اس تازہ
اختیار دیا اور بیوی نے تین کو بیك لفظ اپنایا تو امام صاحب کے نزدیك کوئی طلاق نہ ہوگی اور ایك ایك کرکے تین طلاقوں کو اپنے لئے اختیار کیا تو پہلی ایك بالاتفاق واقع ہوگی کیونکہ لفظوں میں خاوند نے عدد کو ذکر نہیں کیا اس میں عموم اور خصوص دونوں کا احتمال ہے اس کی پوری بحث بحرمیں ہے ___
تو اگر بات ایسے ہی ہے جیسے سائل نے ظاہر کی ہے یعنی عبدالکریم نے اختیارسونپتے ہوئے “ جب چاہے “ بھی زائد کیا ہے پس اندریں صورت مائتون بی بی کے طلاق کو اپنانے کے بعد تین حیض کامل گزرچکے ہوں اور اس کے بعد اس نے دوسرے شخص سے نکاح کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے ورنہ عدت مکمل ہوئے بغیر نکاح کیا تو یہ حرام ہے اور محض چار ماہ طلاق کے بعد گزرنا یہ عدت کے پورا ہونے کی قطعی دلیل نہیں ہے اس کے متعلق عورت کو علم ہوتا ہے کیونکہ کبھی تین سال میں بھی تین حیض مکمل نہیں ہوتے یہ صورت مسئولہ کا حکم ہے۔ مجھ فقیر کو خطرہ ہے کہ یہ وہی مسئلہ ہو جو میرے پاس ۱۳۱۷ھ میں تین بار سلہٹ سے آیا تھا اور سائل نے بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں یہ فسادتین سال سے چلاآرہا ہے۔ پہلی بار ۶ / رجب۱۳۱۷ھ کویہ سوال آیا تو اس میں یہ بیان تھا کہ زید یعنی عبدالکریم کا یہ اقرار نامہ نکاح سے پہلے لکھا گیا ہے اور اس میں مائتون سے نکاح کی ملکیت یا سبب کا ذکر بھی نہ تھا اس سے قطع نظر ۶ / رجب ۱۹ شوال اور ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۱۷ تین مرتبہ سولات کئے گئے جن میں اس تازہ
ضرہ بخانہ ہماں وقت نفس خودم را اختیار کردہ بودم وشوہر منکر اصل ایں معنی ست میگوید کہ ہندہ ہیچ نگفت وبدر رفت دریں صورت قول کراست جواب نوشتم زید راست بعد سہ سال چہارم بار ایں سوال آمد ودر ولفظے زائد است کہ تقیید مجلس از بیخ برانداخت بایں معنی باخبر باید بود اگرایں سوال متعلق بہمہ واقعہ است پس تبدیل کنندگاں از خدا ترسند اگر بہ تعبیر واقعہ حکمے از مفتی بدست آرند عالم الغیب والشہادۃ راچہ جواب دہند “
فمن بدله بعد ما سمعه فانما اثمه على الذین یبدلونه “ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
زائد لفظ “ جب چاہے “ کا اضافہ نہ تھا بلکہ پہلی مرتبہ سوال میں ہندہ کے عنوان سے لکھا گیا کہ “ اب میں اقرار نامہ کے مطابق نہیں رہ سکتی ہوں یہ کہا اور زید کے گھر سے چلی گئی تو میں نے اس کا جواب دیا کہ یہ الفاظ طلاق نہیں بن سکتے اور اگر بالفرض ہندہ کے یہ الفاظ طلاق ہوں بھی تو اس کا پہلے اپنی سوکن کے ساتھ جھگڑا کرنا لاتعلق اور اجنبی بات ہو نے کی وجہ سے اختیار والی مجلس تبدیل ہوگئی جس سے ہندہ کے ہاتھ طلاق کا اختیار جاتا رہا لہذا ہندہ یعنی مائتون بی بی کو اس روز طلاق ہوئی جس روز اس نے خاوند سے خلع کیا اور اسی دن سے عدت واجب ہوئی اور اس کا مکمل ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا نکاح حرام ہے اس جواب کے بعدشوال والے سوال میں بھی خاوند کی طرف سے دئے گئے اختیار والی مجلس کی قید سے سوال کیا گیا اس کو جواب دیا گیا اور ذیقعدہ والے سوال میں یہ بات زائد تھی کہ ہندہ دعوی کرتی ہے کہ خاوند نے صرف سوکن کی گھر آمد پر مجھے طلاق کا اختیار دیا تھا جس کو میں نے اس موقع پر استعمال کر لیا تھا اور خاوند اس بات سے انکار کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہندہ نے اس موقع پرکچھ نہیں کہا اور گھر سے چلی گئی اس صورت کے بارے میں سوال کیا گیا خاوند یا بیوی کس کی بات معتبرہے میں نے جواب میں لکھا زید یعنی خاوند کی بات معتبر ہے۔ مذکور تین بار سوال کے بعد چوتھی مرتبہ تین سال کے بعد اب یہ سوال آیا ہے اور اس میں ایك مزید اضافہ کیا گیا( “ اور جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے دے “ )لکھا گیا ہے اور مجلس کی قید والی صورت کو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا لہذا اس معاملہ کی تحقیق ہو نی چاہئے اگر یہ آخری سوال بھی ان پہلے تین سوالوں کا واقعہ ہے تو پھر سوال میں تبدیلی کرنے والوں کو خدا سے ڈرنا چاہئے اگرچہ سوال کی تبدیلی کے ذریعہ مفتی سے مطلب کا حکم حاصل کرلیں گے لیکن عالم الغیب والشہادت اﷲتعالی کے ہاں کیا جواب دیں گے۔ جس نے اس کو سننے کے بعد تبدیل کیا تو گناہ بدلنے والوں پر ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
فمن بدله بعد ما سمعه فانما اثمه على الذین یبدلونه “ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
زائد لفظ “ جب چاہے “ کا اضافہ نہ تھا بلکہ پہلی مرتبہ سوال میں ہندہ کے عنوان سے لکھا گیا کہ “ اب میں اقرار نامہ کے مطابق نہیں رہ سکتی ہوں یہ کہا اور زید کے گھر سے چلی گئی تو میں نے اس کا جواب دیا کہ یہ الفاظ طلاق نہیں بن سکتے اور اگر بالفرض ہندہ کے یہ الفاظ طلاق ہوں بھی تو اس کا پہلے اپنی سوکن کے ساتھ جھگڑا کرنا لاتعلق اور اجنبی بات ہو نے کی وجہ سے اختیار والی مجلس تبدیل ہوگئی جس سے ہندہ کے ہاتھ طلاق کا اختیار جاتا رہا لہذا ہندہ یعنی مائتون بی بی کو اس روز طلاق ہوئی جس روز اس نے خاوند سے خلع کیا اور اسی دن سے عدت واجب ہوئی اور اس کا مکمل ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا نکاح حرام ہے اس جواب کے بعدشوال والے سوال میں بھی خاوند کی طرف سے دئے گئے اختیار والی مجلس کی قید سے سوال کیا گیا اس کو جواب دیا گیا اور ذیقعدہ والے سوال میں یہ بات زائد تھی کہ ہندہ دعوی کرتی ہے کہ خاوند نے صرف سوکن کی گھر آمد پر مجھے طلاق کا اختیار دیا تھا جس کو میں نے اس موقع پر استعمال کر لیا تھا اور خاوند اس بات سے انکار کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہندہ نے اس موقع پرکچھ نہیں کہا اور گھر سے چلی گئی اس صورت کے بارے میں سوال کیا گیا خاوند یا بیوی کس کی بات معتبرہے میں نے جواب میں لکھا زید یعنی خاوند کی بات معتبر ہے۔ مذکور تین بار سوال کے بعد چوتھی مرتبہ تین سال کے بعد اب یہ سوال آیا ہے اور اس میں ایك مزید اضافہ کیا گیا( “ اور جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے دے “ )لکھا گیا ہے اور مجلس کی قید والی صورت کو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا لہذا اس معاملہ کی تحقیق ہو نی چاہئے اگر یہ آخری سوال بھی ان پہلے تین سوالوں کا واقعہ ہے تو پھر سوال میں تبدیلی کرنے والوں کو خدا سے ڈرنا چاہئے اگرچہ سوال کی تبدیلی کے ذریعہ مفتی سے مطلب کا حکم حاصل کرلیں گے لیکن عالم الغیب والشہادت اﷲتعالی کے ہاں کیا جواب دیں گے۔ جس نے اس کو سننے کے بعد تبدیل کیا تو گناہ بدلنے والوں پر ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۸۱
مسئلہ۳۲۶ : ازخیر آباد میانسرائے مدرسہ عربیہ ضلع سیتاپور اودھ مرسلہ سید فخر الحسن صاحب رضوی ۲۷جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
مسمی زاہد علی ولد عابد علی کا عقد نکاح مسماۃ کریما بنت عبدا ﷲکے ساتھ باقرار امر بالید منعقد ہوا حسب ذیل نکاح نامہ تحریر ہوا :
نقل نکاح نامہ
الحمدﷲ الذی فاصلابین الحلال والحرام وواصلا بسلك النظام'وحرم السفاح عصمۃ للعالم وحفظا لنسل بنی ادم والصلوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد سید الانام وعلی الہ البررۃ الکرام واصحابہ العظام۔
تمام تعریفیں اﷲتعالی کے لئے جو حرام وحلال میں فرق فرمانے والا ہے اور نظام کی ڈوری جوڑنے والا ہے اور جس نے نظام عالم کی حفاظت کے لئے اور نسل بنی آدم کو محفوظ رکھنے کے لئے زنا کو حرام فرمایا ہے صلوۃ وسلام اﷲتعالی کی بہترین مخلوق جہان کے آقا محمد صلی اﷲتعالی علیہ وآلہ وسلم پر اس آل جو پاك اور بزرگ ہے اور صحابہ پر جوعظیم مرتبہ والے ہیں ۔ (ت)
اما بعد میں سید زاہد علی ولد سید عابد علی ساکن بلدہ خیر آباد نے برضاورغبت خود مسماۃ کریما دختر سید عبداﷲ کو بعض مہر معجل چار مثقال نقرہ جس کے ایك سو چھپن بروئے وزن روپیہ چہرہ دار رائج الوقت ہوتے ہیں اپنے عقد نکاح میں لایا اور مسماۃ کریما موصوفہ کو برضا مندی خود بلااکراہ و اجباراحدے مضمون امرھا بیدھا(پر مختار کردیا یعنی مسماۃ کریما ممدوحہ جب چاہیں اپنی ذات کو میرے عقد نکاح سے خارج کرکے آزاد کرلیں مجھ کو کبھی کسی طرح اپنے نکاح میں رہنے کا دعوی نہ ہوسکے گا کیونکہ یہ مضمون امرھا بیدھااس وقت قطعا ویقینا وہ میرے عقد سے خارج ہوجائیں گی لہذا یہ تحریر لکھ دی کہ وقت ضرورت کام آئے فقط چونکہ قبل انعقاد نکاح کے مسمی زاہد علی کی بداطواری وخراب چلنی کی شکایت خارجا مسموع ہوئی تھی جس کی بالاتفاق اکثر اہل برادری نے تکذیب کرکے نکاح کردینے پر سید عبد اﷲکو مجبور کیا اور بالآخر سید عبداﷲ نے بطریق مندرجہ بالانکاح کردیا تھا اور بالآخر ہموں آش درکاسہ سامنے آیا بمقتضائے
خوئے بددر طبیعتے کہ نشست
نرود جز بوقت مرگ از دست
(بری عادت جو طبیعت میں رچ بس جائے وہ وقت موت تك زائل نہیں ہوتی۔ ت)
مسمی زاہد علی نے بعد چند روز کے وہی بدچلنی اختیار کی اور انجام کار کچہری سے سزایاب ہوگیا۔ مسماۃ کریما اگرچہ
مسمی زاہد علی ولد عابد علی کا عقد نکاح مسماۃ کریما بنت عبدا ﷲکے ساتھ باقرار امر بالید منعقد ہوا حسب ذیل نکاح نامہ تحریر ہوا :
نقل نکاح نامہ
الحمدﷲ الذی فاصلابین الحلال والحرام وواصلا بسلك النظام'وحرم السفاح عصمۃ للعالم وحفظا لنسل بنی ادم والصلوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد سید الانام وعلی الہ البررۃ الکرام واصحابہ العظام۔
تمام تعریفیں اﷲتعالی کے لئے جو حرام وحلال میں فرق فرمانے والا ہے اور نظام کی ڈوری جوڑنے والا ہے اور جس نے نظام عالم کی حفاظت کے لئے اور نسل بنی آدم کو محفوظ رکھنے کے لئے زنا کو حرام فرمایا ہے صلوۃ وسلام اﷲتعالی کی بہترین مخلوق جہان کے آقا محمد صلی اﷲتعالی علیہ وآلہ وسلم پر اس آل جو پاك اور بزرگ ہے اور صحابہ پر جوعظیم مرتبہ والے ہیں ۔ (ت)
اما بعد میں سید زاہد علی ولد سید عابد علی ساکن بلدہ خیر آباد نے برضاورغبت خود مسماۃ کریما دختر سید عبداﷲ کو بعض مہر معجل چار مثقال نقرہ جس کے ایك سو چھپن بروئے وزن روپیہ چہرہ دار رائج الوقت ہوتے ہیں اپنے عقد نکاح میں لایا اور مسماۃ کریما موصوفہ کو برضا مندی خود بلااکراہ و اجباراحدے مضمون امرھا بیدھا(پر مختار کردیا یعنی مسماۃ کریما ممدوحہ جب چاہیں اپنی ذات کو میرے عقد نکاح سے خارج کرکے آزاد کرلیں مجھ کو کبھی کسی طرح اپنے نکاح میں رہنے کا دعوی نہ ہوسکے گا کیونکہ یہ مضمون امرھا بیدھااس وقت قطعا ویقینا وہ میرے عقد سے خارج ہوجائیں گی لہذا یہ تحریر لکھ دی کہ وقت ضرورت کام آئے فقط چونکہ قبل انعقاد نکاح کے مسمی زاہد علی کی بداطواری وخراب چلنی کی شکایت خارجا مسموع ہوئی تھی جس کی بالاتفاق اکثر اہل برادری نے تکذیب کرکے نکاح کردینے پر سید عبد اﷲکو مجبور کیا اور بالآخر سید عبداﷲ نے بطریق مندرجہ بالانکاح کردیا تھا اور بالآخر ہموں آش درکاسہ سامنے آیا بمقتضائے
خوئے بددر طبیعتے کہ نشست
نرود جز بوقت مرگ از دست
(بری عادت جو طبیعت میں رچ بس جائے وہ وقت موت تك زائل نہیں ہوتی۔ ت)
مسمی زاہد علی نے بعد چند روز کے وہی بدچلنی اختیار کی اور انجام کار کچہری سے سزایاب ہوگیا۔ مسماۃ کریما اگرچہ
بوجہ شرم وغیرت خلقی کے کوفت وسوخت درونی کا کسی پر اظہار نہیں کرتی مگر تحلیل ہوتی جاتی ہے چونکہ کریما ہنوز نوعمر و جوان ہے سید عبداﷲ ونیز دیگر اعزاکا خیال ہے کہ بشرط رضا مندی مسماۃ کریما اس سے طلاق مسنونہ دلاکر دوسری جگہ مناسب پر اس کا نکاح کردیاجائے پس اس ضرورت سے ہدایت خواہ ہوں کہ ایسے الفاظ اردو کا کوئی فقرہ یا چند فقرات بتائے جائیں جس کو مسماۃ کریما اپنی زبان سے روبرو چند لوگوں کے ادا کرکے طلاق مسنونہ حاصل کرکے جس میں کوئی قباحت وسقم شرعی باقی نہ رہے اس طلاق مسنونہ حاصل کرنے کے متعلق جو طریقہ عمدہ ہو اور جوجوالفاظ اردو مناسب ہوں اس سے مفصلا وتصریحا ہدایت فرمائی جائے۔
الجواب :
اس تحریرمیں امرھا بیدھا مختار کردیا نکاح سے خارج ہونا آزاد ہونا جتنے الفاظ ہیں سب کنایہ ہیں اور حالت حالت رضا ہے نہ غضب ہے نہ مذاکرہ طلاق اور حالت رضا میں جملہ الفاظ نیت زوج پر موقوف رہتے ہیں کریما اپنے آپ کو ایك طلاق دے کہ میں نے بحکم اس اختیار عام کے جو میرے شوہر نے مجھے دیا اپنے آپ کو شوہر کی طرف سے ایك طلاق دی اس پر زاہد علی سے دریافت کیا جائے کہ تونے جو وہ الفاظ لکھے ان میں طلاق کا اختیار دینے کی تیری نیت تھی یا نہیں اگر وہ اقرار کرے فبھا اور اگر انکار کرے تو اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف کرلے کہ میری نیت یہ نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی۔ اگر جھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے اور اگر حلف سے انکار کردے گا تو طلاق ہوجائے گی اور دونوں صورتوں میں بائن ہوگی۔ عورت نکاح سے نکل جائے گی اگر اب تك خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی ورنہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۷ : از رامپور کوٹھی چڑیا خانہ مرسلہ حسین احمد صاحب دفعدار ۲۲صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ بنت زید کا عقد بکر کے ساتھ اس شرائط سے ہوا چنانچہ ایك اقرار نامہ بکر نے اسی وقت بعد عقد مذکور کے لکھ دیا کہ۲تولہ کی بالی طلائی اور ۴ماشہ کی نتھنی اندر میعاد چھ ماہ کے بنوادوں گا ورنہ طلاق ہے ہندہ میعاد مذکور پر اپنے باپ زید کے گھر چلی آئی اقرار نامہ پر عمر خالد وغیرہ رشتہ داران بکر کی گواہی اور بکر کے(العبد) انگوٹھے کے نشان موجود ہیں پس اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں
الجواب :
اقرارنامہ کی نقل بھی ملاحظہ ہوئی اس میں بھی یہی لفظ ہے کہ “ ورنہ طلاق ہے “ یہ بیان نہیں کہ کس کو طلاق ہے لہذا صورت مستفسرہ میں باعتبار ظاہر جبکہ اس نے چھ۶مہینے کے اندر یہ چیزیں بنواکر نہ دیں ایک
الجواب :
اس تحریرمیں امرھا بیدھا مختار کردیا نکاح سے خارج ہونا آزاد ہونا جتنے الفاظ ہیں سب کنایہ ہیں اور حالت حالت رضا ہے نہ غضب ہے نہ مذاکرہ طلاق اور حالت رضا میں جملہ الفاظ نیت زوج پر موقوف رہتے ہیں کریما اپنے آپ کو ایك طلاق دے کہ میں نے بحکم اس اختیار عام کے جو میرے شوہر نے مجھے دیا اپنے آپ کو شوہر کی طرف سے ایك طلاق دی اس پر زاہد علی سے دریافت کیا جائے کہ تونے جو وہ الفاظ لکھے ان میں طلاق کا اختیار دینے کی تیری نیت تھی یا نہیں اگر وہ اقرار کرے فبھا اور اگر انکار کرے تو اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف کرلے کہ میری نیت یہ نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی۔ اگر جھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے اور اگر حلف سے انکار کردے گا تو طلاق ہوجائے گی اور دونوں صورتوں میں بائن ہوگی۔ عورت نکاح سے نکل جائے گی اگر اب تك خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی ورنہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۷ : از رامپور کوٹھی چڑیا خانہ مرسلہ حسین احمد صاحب دفعدار ۲۲صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ بنت زید کا عقد بکر کے ساتھ اس شرائط سے ہوا چنانچہ ایك اقرار نامہ بکر نے اسی وقت بعد عقد مذکور کے لکھ دیا کہ۲تولہ کی بالی طلائی اور ۴ماشہ کی نتھنی اندر میعاد چھ ماہ کے بنوادوں گا ورنہ طلاق ہے ہندہ میعاد مذکور پر اپنے باپ زید کے گھر چلی آئی اقرار نامہ پر عمر خالد وغیرہ رشتہ داران بکر کی گواہی اور بکر کے(العبد) انگوٹھے کے نشان موجود ہیں پس اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں
الجواب :
اقرارنامہ کی نقل بھی ملاحظہ ہوئی اس میں بھی یہی لفظ ہے کہ “ ورنہ طلاق ہے “ یہ بیان نہیں کہ کس کو طلاق ہے لہذا صورت مستفسرہ میں باعتبار ظاہر جبکہ اس نے چھ۶مہینے کے اندر یہ چیزیں بنواکر نہ دیں ایک
طلاق رجعی سمجھی جائے گی کہ عدت کے اندر شوہر کو رجعت کا اختیار ہوگا لیکن اگر زید قسم کھاکرکہہ دے کہ اس نے “ طلاق ہے “ سے ہندہ کو طلاق دینا مراد نہ لیا تھا اس کی بات مان لی جائے اور اصلا حکم طلاق نہ ہوگا اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا
قال لھا لاتخرجی من الدار الا باذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرہا فالقول لہ (ردالمحتار عن البزازیۃ)واﷲتعالی اعلم۔
خاوند نے اگر بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو اگر بیوی باہر نکل جائے تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کا ذکر نہیں کیاجبکہ دوسری کسی عورت کی طلاق کی قسم ہوسکتی ہے لہذا یہاں خاوند کی بات معتبر ہوگی جیسا کہ ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۲۸ : ۳۰جمادی الاولی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی ساس ہندہ کے یہاں رہتا تھا ہندہ نے اس سے مکان خالی کرنے کو کہا اس نے انکار کیا اس نے اس کا اسباب پھینك دینا چاہا اس نے کہا اگر میرا اسباب پھینکوگی تو میں تمہاری لڑکی کو طلاق دے دوں گا اس پر دو۲مرد اور ایك عورت تویہ گواہی دیتے ہیں کہ زید نے ہمارے سامنے طلاق دے دی اور دو۲ مرد کہتے ہیں اس نے صرف یہ کہا کہ مال پھینکا تو طلاق دے دونگا نہ اس نے پھینکا نہ اس نے طلاق دی زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اس صورت میں طلاق ثابت ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ان دو۲ مردوں اور ایك عورت جو مدعی طلاق تھے ایك مرد کی نسبت معلوم ہوا کہ بے قید آدمی ہے یہاں تك کہ نماز کا بھی پابند نہیں اور ایك مرد پہلے کہتا تھا اب وہ منکر ہے کہ میرے سامنے طلاق نہ دی میں سنی سنائی کہتا تھا اور اس عورت کی عدالت معلوم نہیں اور ہو بھی تو ایك عورت کی
قال لھا لاتخرجی من الدار الا باذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرہا فالقول لہ (ردالمحتار عن البزازیۃ)واﷲتعالی اعلم۔
خاوند نے اگر بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو اگر بیوی باہر نکل جائے تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کا ذکر نہیں کیاجبکہ دوسری کسی عورت کی طلاق کی قسم ہوسکتی ہے لہذا یہاں خاوند کی بات معتبر ہوگی جیسا کہ ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۲۸ : ۳۰جمادی الاولی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی ساس ہندہ کے یہاں رہتا تھا ہندہ نے اس سے مکان خالی کرنے کو کہا اس نے انکار کیا اس نے اس کا اسباب پھینك دینا چاہا اس نے کہا اگر میرا اسباب پھینکوگی تو میں تمہاری لڑکی کو طلاق دے دوں گا اس پر دو۲مرد اور ایك عورت تویہ گواہی دیتے ہیں کہ زید نے ہمارے سامنے طلاق دے دی اور دو۲ مرد کہتے ہیں اس نے صرف یہ کہا کہ مال پھینکا تو طلاق دے دونگا نہ اس نے پھینکا نہ اس نے طلاق دی زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اس صورت میں طلاق ثابت ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ان دو۲ مردوں اور ایك عورت جو مدعی طلاق تھے ایك مرد کی نسبت معلوم ہوا کہ بے قید آدمی ہے یہاں تك کہ نماز کا بھی پابند نہیں اور ایك مرد پہلے کہتا تھا اب وہ منکر ہے کہ میرے سامنے طلاق نہ دی میں سنی سنائی کہتا تھا اور اس عورت کی عدالت معلوم نہیں اور ہو بھی تو ایك عورت کی
حوالہ / References
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۲۹
گواہی سے ثبوت نہیں ہوتا اور زید نے ہمارے سامنے حلف شرعی کے ساتھ کہا کہ میں نے ہرگزطلاق نہ دی میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ مال پھینکوگی تو طلاق دے دوں گا پس اس صورت میں طلاق ثابت نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
نوٹ :
اس جلد کا آخری عنوان “ باب تفویض الطلاق “ ہے تیرھویں جلد کا آغاز “ باب تعلیق الطلاق “ سے ہوگا
___________________
نوٹ :
اس جلد کا آخری عنوان “ باب تفویض الطلاق “ ہے تیرھویں جلد کا آغاز “ باب تعلیق الطلاق “ سے ہوگا
___________________
مآخذومراجع
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ امالی فی الحدیث عبدالملك بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۷۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۸۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
۱۹۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۲۰۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ ۲۰۰
۲۱ الام محمدبن ادریس الشافعی ۲۰۴
۲۲۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری ۲۵۶
۲۳۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی ۳۶۰
۲۴۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری ۴۰۵
۲۵۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۶۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی ۶۷۶
۲۷۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی ۶۷۶
۲۸۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی ۶۳۰
۲۹۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی ۸۰۶
۳۰۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی ۸۵۲
۳۱۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی ۹۰۳
۳۲۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۳۳۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی ۹۷۴
۳۴۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری) ۱۰۱۴
۳۵۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم ۱۱۷۹
۳۶۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۳۷۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی ۱۲۷۳
۳۸۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۳۹۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا ۴۲۸
۱۷۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۸۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
۱۹۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۲۰۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ ۲۰۰
۲۱ الام محمدبن ادریس الشافعی ۲۰۴
۲۲۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری ۲۵۶
۲۳۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی ۳۶۰
۲۴۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری ۴۰۵
۲۵۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۶۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی ۶۷۶
۲۷۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی ۶۷۶
۲۸۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی ۶۳۰
۲۹۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی ۸۰۶
۳۰۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی ۸۵۲
۳۱۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی ۹۰۳
۳۲۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۳۳۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی ۹۷۴
۳۴۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری) ۱۰۱۴
۳۵۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم ۱۱۷۹
۳۶۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۳۷۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی ۱۲۷۳
۳۸۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۳۹۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا ۴۲۸
۳۹۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا ۴۲۸
ب
۴۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۴۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۴۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۴۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۴۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۴۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۴۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
۴۷۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی ۷۱۳
۴۸۔ بلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی ۸۵۲
۴۹۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ ۱۲۳۹
۵۰۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ۱۹۰۵ء
ت
۵۱۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۵۲۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۵۳۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۴۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۵۵۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۵۶۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۵۷۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۵۸۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۵۹۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۶۰۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
ب
۴۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۴۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۴۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۴۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۴۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۴۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۴۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
۴۷۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی ۷۱۳
۴۸۔ بلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی ۸۵۲
۴۹۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ ۱۲۳۹
۵۰۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ۱۹۰۵ء
ت
۵۱۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۵۲۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۵۳۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۴۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۵۵۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۵۶۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۵۷۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۵۸۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۵۹۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۶۰۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۶۱۔ تنبیہ الانام فی آداب الصیام
۶۲۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۶۴۔ ۹۱۱
۶۳۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۶۴۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی ۹۲۳
۶۵۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ) ۳۲۷
۶۶۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر ۱۳۱۰
۶۷۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۶۸۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۶۹۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۷۰۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۷۱۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۷۲۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۷۳۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۷۴۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۷۵۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۷۶۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
۷۷۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری ۳۱۰
۷۸۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳۷۳
۷۹۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار ۶۴۳
۸۰۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۸۱۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ ۷۴۷
۸۲۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۳۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۴۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی ۷۹۲
۸۵۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۶۲۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۶۴۔ ۹۱۱
۶۳۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۶۴۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی ۹۲۳
۶۵۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ) ۳۲۷
۶۶۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر ۱۳۱۰
۶۷۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۶۸۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۶۹۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۷۰۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۷۱۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۷۲۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۷۳۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۷۴۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۷۵۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۷۶۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
۷۷۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری ۳۱۰
۷۸۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳۷۳
۷۹۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار ۶۴۳
۸۰۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۸۱۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ ۷۴۷
۸۲۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۳۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۴۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی ۷۹۲
۸۵۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۸۶۔ التعقبات علی الموضوعات جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۸۸۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۱۰۰۸
۸۹۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۹۰۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون ۱۱۳۰
۹۱۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۹۲۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی ۱۲۳۹
۹۳۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین ۱۲۵۲
۹۴۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی ۱۳۲۳
۹۵۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی ۹۸۶
۹۶۔ تجنیس الملتقط
۹۷۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۹۸۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ ۹۱۰
ث
۹۹۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری ۳۶۰
۱۰۰۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۱۰۱۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۱۰۲۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۱۰۳۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۱۰۴۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۰۵۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۱۰۶۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۸۸۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۱۰۰۸
۸۹۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۹۰۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون ۱۱۳۰
۹۱۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۹۲۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی ۱۲۳۹
۹۳۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین ۱۲۵۲
۹۴۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی ۱۳۲۳
۹۵۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی ۹۸۶
۹۶۔ تجنیس الملتقط
۹۷۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۹۸۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ ۹۱۰
ث
۹۹۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری ۳۶۰
۱۰۰۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۱۰۱۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۱۰۲۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۱۰۳۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۱۰۴۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۰۵۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۱۰۶۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۱۰۷۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۱۰۸۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۱۰۹۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۱۱۰۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۱۱۱۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۱۱۲۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۱۳۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۱۱۴۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۱۱۵۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن(تفسیرطبری)محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۱۶۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز ۲۵۶
۱۱۷۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۱۱۸۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی ۶۳۶
۱۱۹۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی ۶۴۶
۱۲۰۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری ۹۱۱
۱۲۱۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری ۹۷۰
۱۲۲۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی ۹۱۱
۱۲۳۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اﷲ علیہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۲۴۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
۱۲۵۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۵۵۶
ح
۱۲۶۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۱۲۷۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۱۲۸۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۱۲۹۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۰۸۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۱۰۹۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۱۱۰۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۱۱۱۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۱۱۲۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۱۳۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۱۱۴۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۱۱۵۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن(تفسیرطبری)محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۱۶۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز ۲۵۶
۱۱۷۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۱۱۸۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی ۶۳۶
۱۱۹۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی ۶۴۶
۱۲۰۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری ۹۱۱
۱۲۱۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری ۹۷۰
۱۲۲۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی ۹۱۱
۱۲۳۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اﷲ علیہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۲۴۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
۱۲۵۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۵۵۶
ح
۱۲۶۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۱۲۷۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۱۲۸۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۱۲۹۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۳۰۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی
۱۳۱۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۱۳۲۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۱۳۳۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۱۳۴۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۱۳۵۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۱۳۶۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
۱۳۷۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی ۵۹۰
۱۳۸۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی ۶۸۲
۱۳۹۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری ۸۳۳
۱۴۰۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۴۱۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی ۶۶۸
۱۴۲۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۱۴۳۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۴۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۵۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی ۱۲۵۷
۱۴۶۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۱۴۷۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۱۴۸۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۱۴۹۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۰۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
خ
۱۵۱۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۱۵۲۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۳۱۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۱۳۲۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۱۳۳۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۱۳۴۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۱۳۵۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۱۳۶۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
۱۳۷۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی ۵۹۰
۱۳۸۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی ۶۸۲
۱۳۹۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری ۸۳۳
۱۴۰۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۴۱۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی ۶۶۸
۱۴۲۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۱۴۳۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۴۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۵۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی ۱۲۵۷
۱۴۶۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۱۴۷۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۱۴۸۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۱۴۹۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۰۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
خ
۱۵۱۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۱۵۲۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۳۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۱۵۴۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۱۵۵۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۶۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
۱۵۷۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۸۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
۱۵۹۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی ۱۰۸۸
د
۱۶۰۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۶۱۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۱۶۲۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۶۳۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۱۶۴۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
ذ
۱۶۵۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۱۶۶۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۱۶۷۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۱۶۸۔ الرحمانیۃ
۱۶۹۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۰۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۱۷۱۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملك بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۱۵۴۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۱۵۵۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۶۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
۱۵۷۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۸۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
۱۵۹۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی ۱۰۸۸
د
۱۶۰۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۶۱۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۱۶۲۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۶۳۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۱۶۴۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
ذ
۱۶۵۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۱۶۶۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۱۶۷۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۱۶۸۔ الرحمانیۃ
۱۶۹۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۰۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۱۷۱۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملك بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۱۷۲۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۱۷۳۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
۱۷۴۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۷۵۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری ۴۶۵
۱۷۶۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی ۸۵۵
۱۷۷۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری ۸۷۹
۱۷۸۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۷۹۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۸۰۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۱۸۱۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری ۱۰۱۴
۱۸۲۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی ۱۰۹۸
۱۸۳۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۱۷۹
۱۸۴۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۱۸۵۔ رسالہ میلاد مبارك (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی ۱۳۱۷
۱۸۶۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی ۶۹۴
۱۸۷۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۸۸۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۱۸۹۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۳۴۳
ز
۱۹۰۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۱۹۱۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۱۹۲۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۹۳۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۴۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۷۳۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
۱۷۴۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۷۵۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری ۴۶۵
۱۷۶۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی ۸۵۵
۱۷۷۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری ۸۷۹
۱۷۸۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۷۹۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۸۰۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۱۸۱۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری ۱۰۱۴
۱۸۲۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی ۱۰۹۸
۱۸۳۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۱۷۹
۱۸۴۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۱۸۵۔ رسالہ میلاد مبارك (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی ۱۳۱۷
۱۸۶۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی ۶۹۴
۱۸۷۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۸۸۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۱۸۹۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۳۴۳
ز
۱۹۰۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۱۹۱۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۱۹۲۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۹۳۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۴۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۹۵۔ زہرالربی علی المجتبی جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۱۹۶۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ ۹۲۱
۱۹۷۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۹۸۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
۱۹۹۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
س
۲۰۰۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۲۰۱۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۲۰۲۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۲۰۳۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۲۰۴۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۲۰۵۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۲۰۶۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۲۰۷۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
۲۰۸۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملك بن ہشام ۲۱۳
۲۰۹۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس ۷۳۴
۲۱۰۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۲۱۱۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی ۷۳۸
۲۱۲۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی ۱۳۰۴
۲۱۳۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۲۱۴۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار ۱۵۱
۲۱۵۔ سراج القاری
۲۱۶۔ السعدیہ
۲۱۷۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی ۱۳۰۴
۱۹۶۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ ۹۲۱
۱۹۷۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۹۸۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
۱۹۹۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
س
۲۰۰۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۲۰۱۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۲۰۲۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۲۰۳۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۲۰۴۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۲۰۵۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۲۰۶۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۲۰۷۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
۲۰۸۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملك بن ہشام ۲۱۳
۲۰۹۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس ۷۳۴
۲۱۰۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۲۱۱۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی ۷۳۸
۲۱۲۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی ۱۳۰۴
۲۱۳۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۲۱۴۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار ۱۵۱
۲۱۵۔ سراج القاری
۲۱۶۔ السعدیہ
۲۱۷۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی ۱۳۰۴
ش
۲۱۸۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۲۱۹۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۲۰۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۲۲۱۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۲۲۲۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۲۲۳۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۲۲۴۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۲۲۵۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۲۶۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۲۲۷۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۲۲۸۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۲۹۔ شرح الغریبین
۲۳۰۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۱۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۲۳۲۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۲۳۳۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۳۴۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۲۳۵۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۶۔ شرح مؤطاامام مالك علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۷۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۸۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۲۳۹۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۲۴۰۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۲۱۸۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۲۱۹۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۲۰۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۲۲۱۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۲۲۲۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۲۲۳۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۲۲۴۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۲۲۵۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۲۶۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۲۲۷۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۲۲۸۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۲۹۔ شرح الغریبین
۲۳۰۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۱۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۲۳۲۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۲۳۳۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۳۴۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۲۳۵۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۶۔ شرح مؤطاامام مالك علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۷۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۸۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۲۳۹۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۲۴۰۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۲۴۰۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۲۴۱۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۲۴۲۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۲۴۳۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۴۴۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
۲۴۵۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی ۵۴۴
۲۴۶۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۸۶
۲۴۷۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۸۶
۲۴۸۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی ۷۳۹
۲۴۹۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی ۷۵۶
۲۵۰۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۱۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۲۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۳۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۴۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی ۸۴۱
۲۵۵۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین ۹۵۴
۲۵۶۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۷۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۸۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۵۹۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۰۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۱۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۲۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۳۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز ۹۰۷
۲۶۴۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری ۴۰۶
۲۶۵۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
۲۴۱۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۲۴۲۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۲۴۳۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۴۴۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
۲۴۵۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی ۵۴۴
۲۴۶۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۸۶
۲۴۷۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۸۶
۲۴۸۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی ۷۳۹
۲۴۹۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی ۷۵۶
۲۵۰۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۱۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۲۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۳۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۴۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی ۸۴۱
۲۵۵۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین ۹۵۴
۲۵۶۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۷۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۸۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۵۹۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۰۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۱۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۲۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۳۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز ۹۰۷
۲۶۴۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری ۴۰۶
۲۶۵۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
۲۶۴۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری ۴۰۶
۲۶۶۔ شرح جامع الاصول للمضیف مبارك بن محمدالمعروف بابن الاثیرالجزری ۶۸۶
۲۶۷۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی ۹۸۷
۲۶۸۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان ۷۶۸
ص
۲۶۹۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۲۷۰۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان ۳۵۴
۲۷۱۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۲۷۲۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
۲۷۳۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی ۹۵۶
۲۷۴۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی ۱۲۴۶
۲۷۵۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
ط
۲۷۶۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۷۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۸۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۹۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۲۸۰۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المعروف ببرکلی ۹۸۱
۲۸۱۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۲۸۲۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۲۸۳۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۲۸۴۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۲۶۶۔ شرح جامع الاصول للمضیف مبارك بن محمدالمعروف بابن الاثیرالجزری ۶۸۶
۲۶۷۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی ۹۸۷
۲۶۸۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان ۷۶۸
ص
۲۶۹۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۲۷۰۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان ۳۵۴
۲۷۱۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۲۷۲۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
۲۷۳۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی ۹۵۶
۲۷۴۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی ۱۲۴۶
۲۷۵۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
ط
۲۷۶۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۷۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۸۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۹۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۲۸۰۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المعروف ببرکلی ۹۸۱
۲۸۱۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۲۸۲۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۲۸۳۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۲۸۴۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۲۸۵۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۲۸۶۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۸۷۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۲۸۸۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی ۳۶۴
۲۸۹۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی ۶۳۲
۲۹۰۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی ۶۹۹
۲۹۱۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی ۸۳۰
۲۹۲۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۹۳۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۲۹۴۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی ۱۳۰۴
غ
۲۹۵۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۲۹۶۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۲۹۷۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۲۹۸۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۲۹۹۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۳۰۰۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۳۰۱۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
ف
۳۰۲۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۳۰۳۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۳۰۴۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۳۰۵۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۸۶۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۸۷۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۲۸۸۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی ۳۶۴
۲۸۹۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی ۶۳۲
۲۹۰۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی ۶۹۹
۲۹۱۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی ۸۳۰
۲۹۲۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۹۳۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۲۹۴۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی ۱۳۰۴
غ
۲۹۵۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۲۹۶۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۲۹۷۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۲۹۸۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۲۹۹۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۳۰۰۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۳۰۱۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
ف
۳۰۲۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۳۰۳۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۳۰۴۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۳۰۵۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۳۰۶۔ فتاوی حجہ
۳۰۷۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۳۰۸۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۳۰۹۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۳۱۰۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۳۱۱۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۳۱۲۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۳۱۳۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۳۱۴۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۳۱۵۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۳۱۶۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۳۱۷۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۳۱۸۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۳۱۹۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۳۲۰۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۳۲۱۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۳۲۲۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۳۲۳۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۳۲۴۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
۳۲۵۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی ۲۹۴
۳۲۶۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی ۴۹۲
۳۲۷۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی ۶۳۶
۳۲۸۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی ۷۸۶
۳۲۹۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۳
۳۳۰۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۳۰۷۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۳۰۸۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۳۰۹۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۳۱۰۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۳۱۱۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۳۱۲۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۳۱۳۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۳۱۴۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۳۱۵۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۳۱۶۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۳۱۷۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۳۱۸۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۳۱۹۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۳۲۰۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۳۲۱۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۳۲۲۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۳۲۳۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۳۲۴۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
۳۲۵۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی ۲۹۴
۳۲۶۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی ۴۹۲
۳۲۷۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی ۶۳۶
۳۲۸۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی ۷۸۶
۳۲۹۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۳
۳۳۰۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۳۳۱۔ فتح المعین شرح اربعین شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۲۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۳۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۴۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی ۱۰۹۸
۳۳۵۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی ۱۱۱۶
۳۳۶۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی ۱۲۵۰
۳۳۷۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱۲۸۴
۳۳۸۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۳۳۹۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۳۴۰۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۳۴۲۔ فتح الملك المجید
۳۴۳۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی ۱۲۳۹
ق
۳۴۴۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۳۴۵۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۳۴۶۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۳۴۷۔ القرآن الکریم
۳۴۸۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی ۳۸۶
۳۴۹۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی ۸۵۲
۳۵۰۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۱۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۲۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری ۱۳۰۴
۳۵۳۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی ۱۳۰۴
۳۳۲۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۳۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۴۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی ۱۰۹۸
۳۳۵۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی ۱۱۱۶
۳۳۶۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی ۱۲۵۰
۳۳۷۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱۲۸۴
۳۳۸۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۳۳۹۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۳۴۰۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۳۴۲۔ فتح الملك المجید
۳۴۳۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی ۱۲۳۹
ق
۳۴۴۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۳۴۵۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۳۴۶۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۳۴۷۔ القرآن الکریم
۳۴۸۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی ۳۸۶
۳۴۹۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی ۸۵۲
۳۵۰۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۱۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۲۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری ۱۳۰۴
۳۵۳۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی ۱۳۰۴
ک
۳۵۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۳۵۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۳۵۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۳۵۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۵۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۳۵۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۳۶۰۔ کتاب السواك ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۳۶۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۳۶۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۳۶۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۳۶۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۶۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۳۶۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۳۶۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۳۶۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۳۶۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۳۷۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۳۷۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۳۷۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۳۷۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۳۷۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۳۷۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۳۷۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۳۵۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۳۵۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۳۵۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۳۵۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۵۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۳۵۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۳۶۰۔ کتاب السواك ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۳۶۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۳۶۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۳۶۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۳۶۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۶۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۳۶۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۳۶۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۳۶۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۳۶۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۳۷۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۳۷۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۳۷۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۳۷۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۳۷۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۳۷۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۳۷۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۳۷۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۳۷۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارك ۱۸۰
۳۷۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
۳۸۰۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۱۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۲۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی ۲۷۵
۳۸۳۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۴۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۵۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی ۳۲۲
۳۸۶۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی ۴۵۸
۳۸۷۔ کتاب الرواۃ عن مالك ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۳۸۸۔ کتاب الحجہ علی تارك الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی ۴۹۰
۳۸۹۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۳۹۰۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی ۹۳۹
ابن ابی زہرالقہروانی
۳۹۱۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ ۱۰۶۷
۳۹۲۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
۳۹۳۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۳۹۴۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۳۹۵۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری ۱۲۳۳
۳۹۶۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی ۲۰۷
ل
۳۹۷۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۳۹۸۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
۳۷۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارك ۱۸۰
۳۷۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
۳۸۰۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۱۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۲۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی ۲۷۵
۳۸۳۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۴۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۵۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی ۳۲۲
۳۸۶۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی ۴۵۸
۳۸۷۔ کتاب الرواۃ عن مالك ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۳۸۸۔ کتاب الحجہ علی تارك الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی ۴۹۰
۳۸۹۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۳۹۰۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی ۹۳۹
ابن ابی زہرالقہروانی
۳۹۱۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ ۱۰۶۷
۳۹۲۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
۳۹۳۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۳۹۴۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۳۹۵۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری ۱۲۳۳
۳۹۶۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی ۲۰۷
ل
۳۹۷۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۳۹۸۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
۳۹۹۔ لسان العرب جمال الدین محمدبن مکرم ابن منظورالمصری ۷۱۱
۴۰۰۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۰۱۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
م
۴۰۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملك ۸۰۱
۴۰۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۴۰۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۴۰۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی ۹۹۵
۴۰۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۴۰۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۴۰۸۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ ۱۰۷۸
۴۰۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۴۱۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۴۱۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۴۱۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۴۱۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۴۱۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۴۱۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۴۱۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۴۱۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۴۲۰۔ المستدرك للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۴۲۱۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۴۰۰۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۰۱۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
م
۴۰۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملك ۸۰۱
۴۰۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۴۰۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۴۰۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی ۹۹۵
۴۰۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۴۰۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۴۰۸۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ ۱۰۷۸
۴۰۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۴۱۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۴۱۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۴۱۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۴۱۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۴۱۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۴۱۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۴۱۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۴۱۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۴۲۰۔ المستدرك للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۴۲۱۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۴۲۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۴۲۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۴۲۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۴۲۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۴۲۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۴۲۷۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۴۲۸۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۴۲۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۴۳۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۴۳۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۳۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۴۳۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۴۳۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۴۳۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۴۳۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۴۴۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۴۴۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۴۴۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۴۴۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۴۴۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی ۹۳۱
۴۴۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۴۴۶۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۴۲۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۴۲۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۴۲۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۴۲۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۴۲۷۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۴۲۸۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۴۲۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۴۳۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۴۳۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۳۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۴۳۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۴۳۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۴۳۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۴۳۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۴۴۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۴۴۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۴۴۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۴۴۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۴۴۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی ۹۳۱
۴۴۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۴۴۶۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۴۴۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۴۴۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۴۴۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۴۵۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۴۵۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۴۵۲۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۴۵۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۴۵۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۴۵۵۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۴۵۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۴۵۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۴۵۸۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۴۵۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۴۶۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۴۶۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۴۶۲۔ موطاامام مالك امام مالك بن انس المدنی ۱۷۹
۴۶۳۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۴۶۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۴۶۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۴۶۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۴۶۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۴۶۸۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۴۶۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
۴۷۰۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ۱۵۰
۴۷۱۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی ۱۸۹
۴۴۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۴۴۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۴۵۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۴۵۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۴۵۲۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۴۵۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۴۵۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۴۵۵۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۴۵۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۴۵۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۴۵۸۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۴۵۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۴۶۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۴۶۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۴۶۲۔ موطاامام مالك امام مالك بن انس المدنی ۱۷۹
۴۶۳۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۴۶۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۴۶۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۴۶۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۴۶۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۴۶۸۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۴۶۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
۴۷۰۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ۱۵۰
۴۷۱۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی ۱۸۹
۴۷۲۔ المسندفی الحدیث حسن بن سفیان النسوی ۳۰۳
۴۷۳۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی ۳۸۸
۴۷۴۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری ۵۱۶
۴۷۵۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی ۵۱۶
۴۷۶۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی ۵۴۸
۴۷۷۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی ۵۹۷
۴۷۸۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح ۶۴۲
۴۷۹۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۴۸۰۔ مدارك التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۸۱۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد ۷۵۶
۴۸۲۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۴۸۳۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۲
۴۸۴۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی ۹۲۳
۴۸۵۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۶۔ المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۷۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی ۱۰۵۲
۴۸۸۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین ۱۰۹۶
۴۸۹۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالك شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۰۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۱۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۲۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۳۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۴۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۴۹۵۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۲۴۳
۴۹۶۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی ۱۲۴۳
۴۷۳۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی ۳۸۸
۴۷۴۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری ۵۱۶
۴۷۵۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی ۵۱۶
۴۷۶۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی ۵۴۸
۴۷۷۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی ۵۹۷
۴۷۸۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح ۶۴۲
۴۷۹۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۴۸۰۔ مدارك التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۸۱۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد ۷۵۶
۴۸۲۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۴۸۳۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۲
۴۸۴۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی ۹۲۳
۴۸۵۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۶۔ المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۷۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی ۱۰۵۲
۴۸۸۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین ۱۰۹۶
۴۸۹۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالك شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۰۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۱۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۲۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۳۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۴۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۴۹۵۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۲۴۳
۴۹۶۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی ۱۲۴۳
۴۹۷۔ مظاہرحق مولوی نذیرالحق میرٹھی
۴۹۸۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی ۱۰۳۴
۴۹۹۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۵۰۰۔ مفتاح الصلوۃ
۵۰۱۔ مجتبی شرح قدوری
۵۰۲۔ مشیخہ ابن شاذان
۵۰۳۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی ۴۳۰
۵۰۴۔ مفاتیح الغیب(تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی ۶۰۶
ن
۵۰۵۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۵۰۶۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۵۰۷۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۵۰۸۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۵۰۹۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارك بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۵۱۰۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۵۱۱۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۵۱۲۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۵۱۳۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۵۱۴۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
و
۵۱۵۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۵۱۶۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۵۱۷۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۴۹۸۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی ۱۰۳۴
۴۹۹۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۵۰۰۔ مفتاح الصلوۃ
۵۰۱۔ مجتبی شرح قدوری
۵۰۲۔ مشیخہ ابن شاذان
۵۰۳۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی ۴۳۰
۵۰۴۔ مفاتیح الغیب(تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی ۶۰۶
ن
۵۰۵۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۵۰۶۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۵۰۷۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۵۰۸۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۵۰۹۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارك بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۵۱۰۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۵۱۱۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۵۱۲۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۵۱۳۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۵۱۴۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
و
۵۱۵۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۵۱۶۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۵۱۷۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۵۱۸۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۵۱۹۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۵۲۰۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۵۲۱۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
_______________________
ھ
۵۱۹۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۵۲۰۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۵۲۱۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
_______________________
ضمیمہ
مآخذومراجع
نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی ۶۹۱ / ۶۹۶ / ۶۸۵
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین ۱ / ۴۶۳
۲۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی ۴۶۲
۳۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی ۱۰۰۴
۴۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۵۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی ۳۸۵
۶۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی ۵۴۳
۷۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی ۴۶۸
۸۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۶ ۱۲۴
۹۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۰۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۱۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی ۱۰۴۴
۱۲۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۳۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی ۹۸۹
مآخذومراجع
نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی ۶۹۱ / ۶۹۶ / ۶۸۵
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین ۱ / ۴۶۳
۲۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی ۴۶۲
۳۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی ۱۰۰۴
۴۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۵۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی ۳۸۵
۶۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی ۵۴۳
۷۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی ۴۶۸
۸۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۶ ۱۲۴
۹۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۰۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۱۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی ۱۰۴۴
۱۲۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۳۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی ۹۸۹
۱۴۔ ارشادالساری الی مناسك الملاعلی القاری حسین بن محمدسعیدعبدالغنی المکی الحنفی
۱۵۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۶۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی ۵۵۵
۱۷۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۸۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملك ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین ۴۷۸
۱۹۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
۲۰۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی ۵۸۴
ت
۲۱۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی ۶۵۲
۲۲۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی ۷۳۹
۲۳۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۲۴۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۲۵۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی ۵۳۵
۲۶۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۲۷۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۸۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری ۵۳۴
۲۹۔ تفہیم المسائل
۳۰۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
ث
۳۱۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی ۴۸۹
۳۲۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
ج
۳۳۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی ۶۷۱
۱۵۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۶۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی ۵۵۵
۱۷۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۸۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملك ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین ۴۷۸
۱۹۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
۲۰۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی ۵۸۴
ت
۲۱۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی ۶۵۲
۲۲۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی ۷۳۹
۲۳۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۲۴۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۲۵۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی ۵۳۵
۲۶۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۲۷۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۸۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری ۵۳۴
۲۹۔ تفہیم المسائل
۳۰۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
ث
۳۱۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی ۴۸۹
۳۲۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
ج
۳۳۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی ۶۷۱
۳۳۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی ۶۷۱
۳۴۔ جامع المضمرات والمشکلات(شرح قدوری) یوسف بن عمرالصوفی ۸۳۲
۳۵۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں ۱۳۴۰
ح
۳۶۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی ۶۴۴
۳۷۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی ۱۰۶۲
۳۸۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی ۹۸۲
۳۹۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
۴۰۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
خ
۴۱۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
د
۴۲۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۳۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۴۴۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی ۸۶۷
۴۵۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۶۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۷۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار ۶۴۳
۴۸۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان ۱۳۰۴
ذ
۴۹۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی ۲۸۱
۳۴۔ جامع المضمرات والمشکلات(شرح قدوری) یوسف بن عمرالصوفی ۸۳۲
۳۵۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں ۱۳۴۰
ح
۳۶۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی ۶۴۴
۳۷۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی ۱۰۶۲
۳۸۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی ۹۸۲
۳۹۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
۴۰۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
خ
۴۱۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
د
۴۲۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۳۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۴۴۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی ۸۶۷
۴۵۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۶۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۷۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار ۶۴۳
۴۸۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان ۱۳۰۴
ذ
۴۹۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی ۲۸۱
ر
۵۰۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
س
۵۱۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی ۵۸۶
۵۲۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی ۱۰۷۰
۵۳۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۵۴۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی ۳۵۳
ش
۵۵۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری ۱۲۷۶
۵۶۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی ۸۹۵
۵۷۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی ۴۰۲
۵۸۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی ۷۹۶
۵۹۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
۶۰۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۶۱۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین ۹۳۳
۶۲۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
ص
۶۳۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اﷲ علیہ تعالی علیہ وسلم
۶۴۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۶۵۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۵۰۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
س
۵۱۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی ۵۸۶
۵۲۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی ۱۰۷۰
۵۳۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۵۴۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی ۳۵۳
ش
۵۵۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری ۱۲۷۶
۵۶۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی ۸۹۵
۵۷۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی ۴۰۲
۵۸۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی ۷۹۶
۵۹۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
۶۰۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۶۱۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین ۹۳۳
۶۲۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
ص
۶۳۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اﷲ علیہ تعالی علیہ وسلم
۶۴۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۶۵۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۶۵۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
ط
۶۶۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری ۲۳۰
غ
۶۷۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری ۷۲۸
۶۸۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی ۲۲۴
۶۹۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی ۲۸۵
۷۰۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
ف
۷۱۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۷۲۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی ۲۸۱
۷۳۔ فاتح شرح قدوری
۷۴۔ فوائدحاکم وخلاص
۷۵۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۷۶۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۷۷۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین ۱۱۳۳
۷۸۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی ۹۷۴
۷۹۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۸۰۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی ۵۶۱
۸۱۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی ۱۰۰۴
ق
۸۲۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
ط
۶۶۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری ۲۳۰
غ
۶۷۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری ۷۲۸
۶۸۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی ۲۲۴
۶۹۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی ۲۸۵
۷۰۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
ف
۷۱۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۷۲۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی ۲۸۱
۷۳۔ فاتح شرح قدوری
۷۴۔ فوائدحاکم وخلاص
۷۵۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۷۶۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۷۷۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین ۱۱۳۳
۷۸۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی ۹۷۴
۷۹۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۸۰۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی ۵۶۱
۸۱۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی ۱۰۰۴
ق
۸۲۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
ک
۸۳۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۸۴۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی ۲۸۵
۸۵۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی ۳۶۰
۸۶۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر ۳۹۹
۸۷۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی ۱۱۴۳
۸۸۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل ۲۴۱
۸۹۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۹۰۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۹۱۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی ۲۴۳
۹۲۔ کتاب ذکرالموت
۹۳۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی ۱۲۸۹
۹۴۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۹۵۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی ۱۸۲
۹۶۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
ل
۹۷۔ لباب المناسك شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی ۹۷۸
م
۹۸۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
مجموعہ خانی (فارسی)
۹۹۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۱۰۰۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۴
۸۳۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۸۴۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی ۲۸۵
۸۵۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی ۳۶۰
۸۶۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر ۳۹۹
۸۷۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی ۱۱۴۳
۸۸۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل ۲۴۱
۸۹۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۹۰۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۹۱۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی ۲۴۳
۹۲۔ کتاب ذکرالموت
۹۳۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی ۱۲۸۹
۹۴۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۹۵۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی ۱۸۲
۹۶۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
ل
۹۷۔ لباب المناسك شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی ۹۷۸
م
۹۸۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
مجموعہ خانی (فارسی)
۹۹۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۱۰۰۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۴
۱۰۱۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابومحمدعبیدبن حمید الکشی ۲۴۹
۱۰۲۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ ۷۲۸
۱۰۳۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
۱۰۴۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی ۷۳۹
۱۰۵۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی ۳۱۶
۱۰۶۔ مسندالشامیین
۱۰۷۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۸۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۹۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۱۰۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور ۷۱۱
۱۱۱۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۲۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۳۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۱۴۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب ۷۴۰
۱۱۵۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۱۶۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۲۳۰
۱۱۷۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی ۷۲۲
۱۱۸۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف ۸۱۶
۱۱۹۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی ۷۹۱
۱۲۰۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۱۲۱۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۱۲۲۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
۱۲۳۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
ن
۱۲۴۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۴۰۲
۱۰۲۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ ۷۲۸
۱۰۳۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
۱۰۴۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی ۷۳۹
۱۰۵۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی ۳۱۶
۱۰۶۔ مسندالشامیین
۱۰۷۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۸۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۹۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۱۰۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور ۷۱۱
۱۱۱۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۲۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۳۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۱۴۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب ۷۴۰
۱۱۵۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۱۶۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۲۳۰
۱۱۷۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی ۷۲۲
۱۱۸۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف ۸۱۶
۱۱۹۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی ۷۹۱
۱۲۰۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۱۲۱۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۱۲۲۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
۱۲۳۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
ن
۱۲۴۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۴۰۲
۱۲۴۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۴۰۲
۱۲۵۔ نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۲۶۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی بلہوری ۱۲۷۱
۱۲۷۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی ۸۹۸
۱۲۸۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی ۱۰۶۹
۱۲۹۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری ۸۳۳
۱۳۰۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی ۸۵۲
۱۳۱۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی ۱۳۰۶
۱۳۲۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی ۲۵۵
۱۳۳۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۱۳۴۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۱۳۵۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ ۹۴۴
۱۳۶۔ نافع شرح قدوری
۱۳۷۔ نام حق شرف الدین بخاری
۱۳۸۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ ۹۸۸
و
۱۳۹۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان ۶۸۱
۱۴۰۔ واقعات المفتیین ۳۲۵
۱۴۱۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
ھ
۱۴۲۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۳۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
_______________________
۱۲۵۔ نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۲۶۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی بلہوری ۱۲۷۱
۱۲۷۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی ۸۹۸
۱۲۸۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی ۱۰۶۹
۱۲۹۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری ۸۳۳
۱۳۰۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی ۸۵۲
۱۳۱۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی ۱۳۰۶
۱۳۲۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی ۲۵۵
۱۳۳۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۱۳۴۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۱۳۵۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ ۹۴۴
۱۳۶۔ نافع شرح قدوری
۱۳۷۔ نام حق شرف الدین بخاری
۱۳۸۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ ۹۸۸
و
۱۳۹۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان ۶۸۱
۱۴۰۔ واقعات المفتیین ۳۲۵
۱۴۱۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
ھ
۱۴۲۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۳۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
_______________________







