Fatawa Razaviah Volume 13 in Typed Format

#14135 · پیش لفظ
بسم اﷲالرحمن الرحیم
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلی حضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تک ادارہ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کی متعدد تصنیف شائع کر چکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کار نامہ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی ترجمہ و تخریج کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے ۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ھ / مارچ ء میں ہوا تھاا ور بفضلہ تعالی جل مجدہ و بعنا یۃ رسولہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اب تک تقریبا آٹھ سال کے مختصر عرصہ میں کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان اور کتاب الحدود و التغریر پر مشتمل تیرہ۱۳ جلدیں شائع ہو چکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات اور مجموعی صفحات کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
#14136 · پیش لفظ
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
پہلی جلد کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
دوسری جلد کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
تیسری جلد کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
چوتھی جلد کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
پانچویں جلد کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
چھٹی جلد کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
ساتویں جلد کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
آٹھویں جلد کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
نویں جلد کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
دسویں جلد کتاب زکوۃ صوم حج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
گیارھویں جلد کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
بارھویں جلد کتاب نکاح طلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
تیرھویں جلد کتاب طلاق ایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ مارچ ۶۸۸
تیرھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ جلد پنجم کے باب تعلیق الطلاق سے جلد پنجم کے آخر تک سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔اس جلد کی عربی و فارسی عبارات کا ترجمہ بتوفیق اللہ تعالی و بفضلہ راقم پر تقصیر عفی اللہ عنہ نے کیاہے۔علاوہ ازیں اس جلد کے مسائل و رسائل کی مکمل ومفصل فہرست نیز مسائل ضمنیہ کی فہرست راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیار کر دی ہے۔ متعدد ضمنی مسائل و فوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل چودہ عنوانات زیر بحث لائے گئے ہیں:
() باب تعلیق الطلاق ()باب الایلاء
()باب الخلع ()باب الظھار
()باب العدۃ ()باب الحداد (سوگ)
#14138 · پیش لفظ
()زوجۃ مفقود الخبر () باب النسب
() باب الحضانۃ (پیدائش) () باب النفقۃ
()کتاب الایمان ()باب النذر
()باب الکفارۃ ()کتاب الحدودو التعزیر
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور نادر تحقیقات و تدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل دو رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں:
()اکد التحقیق بباب التعلیق(ھ)
مسئلہ تعلیق میں ایک دیو بندی مفتی کا رد ببلیغ
()الجوھرالثمین فی علل نازلۃالیمین(ھ)
ایک نوع کی قسم کے بارے میں اجتہادی جز ئیہ اور اس پر تفصیلی بحث
بنگالہ ضلع نواکھالی ڈاکخانہ بیگم گنج سے محرم الحرام ھ کو ارسال کردہ جناب مولنا عبدالمجید شنوپوری کا استفتاء جو فتاوی رضویہ جلد پنجم قدیم کے صفحہ پر مذکور تھا چونکہ وہی رسالہ آکد التحقیق بباب التعلیق کے معرض تحریر میں آنے کا موجب بنا لہذا ترتیب سابق میں تبدیلی کرکے جلد ہذا میں اس استفتا ء و جواب استفتاء کو رسالہ مذکورہ سے پہلے کردیا گیا تاکہ دونوں آپس میں مربوط ہوجائیں۔ ایک اور ترمیم یہ کی گئی ہے کہ کتاب المفقود جو کہ فتاوی رضویہ قدیم میں جلد سادس میں مندرج تھی اور ابواب فقہیہ کی ترتیب کے اعتبار سے اس کو وہاں پر ہی ہونا چاہئے تھا مگر اس کے تحت چو چند فتوے مذکور ہیں اتفاق سے وہ سب ہی زوجہ مفقود الخبر سے متعلق ہیں لہذامفتی کی سہولت کے پیش نظر مناسب سمجھاگیا کہ کتاب المفقود کو وہاں سے نکال کر باب زوجہ مفقو دالخبر کے عنوان سے جلد ہذامیں شامل کردیا جائے علاوہ ازیں اعلحضرت علیہ الرحمۃ کا ایک مفصل فتوی جو فتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ تھا (جس میں متعدد وجوہ سےمولوی اشرف علی تھانوی کے جہالت پر مبنی ایک فتوے کارد ببلیغ کیا گیا اور بیسیوں جید علما کرام نے اس کی تصدیق و تائید فرماتے ہوئے اس پر مہریں ثبت فرمائی ہیں) جلد ہذامیں شامل کر لیا گیا ہے جس کو آپ صفحہ پرملا حظہ فرما سکتے ہیں نیز جلد ہذا کا مسئلہ نمبر دراصل فتاوی افریقہ کا مسئلہ نمبر ہے جس کو باب النذر کی مناسبت سے اس جلد میں شامل کیا گیا ہے۔
ذیقعدہ ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
مارچ ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#14140 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
باب تعلیق الطلاق
(تعلیق طلاق کا بیان)

مسئلہ ۱: از ضلع مظفر پور ڈاك خانہ رائے پور سب ڈویژن سیتامڈھی مقام گوری دروازہ سرفراز علیخاں مرسلہ ایوب علی خاں صاحب ذی الحجہ ھ
زوج زید نے عقب میں زوجہ ہندہ کے بمقابلہ بکر کے سوگند کھائی کہ ہم اپنے برادر خالد سے کار زمینداری نہ کرائیں گے اگر کرائیں تو اس کی زوجہ کو طلاق ہے بعد چند روز کے زید نے برادر موصوف سے کام مذکور کرایا اس صورت میں زوجہ ہندہ مطلقہ ہوگی یانہیں اور اگر ہوگی تو کون سی دلیل مطلقہ ہونے کی ہے کیونکہ اﷲجل جلالہ نے اپنے کلام مجید فرقان حمید میں کسی جگہ ذکر اس قسم کی سوگند کا نہیں کیا اگر بمجرد سوگندہندہ مطلقہ ہوئی تو کون سی صورت نکاح قائم رہنے کی ہے اور اس سوگند میں کفارہ ہے یانہیںفقط۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں زوجہ پر ایك طلاق پڑگئی اس کی دلیل اجماع ائمہ دین کہ جب طلاق کسی شرط پر مشروط کی جائے تو اس شرط کے واقع ہوجانے سے واقع ہوجائے گی
فی الھدایۃ اذا اضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامرأتہ ان دخلت الدار فانت طالق
ہدایہ میں ہے کہ اگر طلاق کو شرط کی طرف منسوب کیا ہو تو وہ شرط کے پائے جانے کے بعد واقع ہوگی مثلا یوں کہے"اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے"
#14142 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
وھذا بالاتفاق۔
یہ ضابطہ متفق علیہ ہے۔(ت)
بلکہ وہ آیہ کریمہ الطلاق مرتن وغیرہ سے ثابت ہے
فان الایات ذکرت الطلاق بالاطلاق فشمل المنجز المعلق۔
کیونکہ آیات میں مطلق طلاق کا ذکر ہے جو مشروط اور غیر مشروط دونوں طلاق کو شامل ہے۔(ت)
اسے سوگند یمین کہنا ایك اصطلاح علمی ہے جس کا پتا آیہ کریمہ یایها النبی لم تحرم ما احل الله لك قد فرض الله لكم تحلة ایمانكم (اے نبی صلی اﷲتعالی علیك وسلم! اﷲتعالی نے آپ کے لئے جو حلال فرمایا اسے آپ کیونکہ حرام فرماتے ہیں تا اﷲتعالی کے ارشاد: بیشك اﷲتعالی نے تمہارے لئے قسموں کو حلال فرمانا فرض فرمایا ہے۔ت) سے مستفاد ہوتا ہے کہ یہاں بھی تحریم حلال ہے اور آیت میں تحریم حلال ہی کو یمین فرمایا:
علی کما بینہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح قبیل باب الیمین فی الدخول والسکنی اقول وللعبد الضعیف ھھنا کلام ذکرتہ علی ھامشہ۔
جیسا کہ محقق ابن ہمام نے فتح القدیر میں دخول وسکنی کے باب سے تھوڑا پہلے بیان فرمایا اقول (میں کہتاہوں) یہاں اس عبد ضعیف کو اعتراض ہے جس کومیں نے اس کے حاشیے پر ذکر کیا ہے۔(ت)
بلکہ تعلیق طلاق پر حلف کا اطلاق حدیث میں بھی وارد ہے ابن عساکر حضرت انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماحلف بالطلاق مومن ولااستحلف بہ الامنافق۔
مومن طلاق کی قسم نہیں کھاتا اور طلاق کی قسم نہیں لیتا مگر منافق۔(ت)
مگر اس سوگند میں کفار ہ نہیں اﷲعزوجل کی قسم میں ہے نہ بمجرد سوگند طلاق واقع ہوگی بلکہ بعد وقوع شرط واقع ہوگی۔ نکاح قائم رہنے کی صورت یہ ہے کہ شرط واقع نہ ہویا اگر ایك یا دو طلاق رجعی کی سوگند ہے تو بعد وقوع شرط رجعت کرلے۔ واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References الہدایہ باب الایمان فی الطلاق المکتبۃ العربیۃ کراچی ٢/٣٦٥
القرآن الکریم ۶۶ /۱،۲
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن انس حدیث ٤٦٣٤٠ کتاب الیمین من قسم الاقوال موسسۃ الرسالۃ بیروت١٦/٦٨٩
#14143 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
مسئلہ تا: از ملك آسام ضلع جو رہاٹ ڈاك خانہ کٹنگا بمقام سرائے مرسلہ سید صفاء الدین ۹ / ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں:
سوال اول: زید نے اپنی پہلی زوجہ ہندہ کے نکاح کے قبل وعدہ کیا تھا کہ اگر بلااجازت اس زوجہ مسمی بہ ہندہ کے نکاح ثانی کروں تو زوجہ ثانی کو تین طلاق اس صورت میں کیا حکم ہےـ
سوال دوم: زید نے وقت نکاح اپنی زوجہ ہندہ سے یہ شرط کی کہ اگر بلااجازت تیرے نکاح ثانی کروں تو تجھ کو تین طلاق۔
سوال سوم: زید نے قبل نکاح کے یہ شرط کی کہ میں اگر بلااجازت اس منکوحہ کے نکاح ثانی کروں تو میرا نکاح باطل اس صورت میں کس بی بی کو طلاق ہوگیبینواتوجروا۔
الجواب:
جواب سوال اول:اللھم ھدایۃ الحق والصواب(حق وصواب کےلئے رہنمائی فرما۔ت)صورت مستفسرہ میں تعلیق صحیح ہوگئی
لوجود الاضافۃ الی سبب الملك وھو النکاح ولایضر کونہ قبل نکاح الاولی اذلیس المعلق طلاقھا حتی یحتاج الی ملکھا اوالاضافۃ الیہ اوالی سببہ بل طلاق الاخری وقد اضافہ الی نکاحھا۔
ملکیت کے سبب(نکاح) کی طرف اضافت پائے جانے کی وجہ سے اور پہلی بیوی کے نکاح سے قبل اضافت کا ہونا مضر نہیں کیونکہ اس نکاح والی کی طلاق کو معلق نہیں کیاگیا تاکہ اس کےلئے نکاح یا نکاح کی طرف اضافت یا ملکیت یعنی نکاح کے سبب کی طرف اضافت ضروری ہو بلکہ یہ دوسری عورت کی طلاق کی تعلیق ہے جس کو اس کے نکاح کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
شرطہ الملك حقیقۃ کقنہ اوحکما کمنکوحتہ او معتدتہ اوالاضافۃ الی الملك کان ملکت عبدا و ملکتك او نکحتك اھ ملخصا۔
ثبوت تعلیق کی شرط حقیقی ملکیت جیسا کہ لونڈی یا حکمی ملکیت جیسا کہ منکوحہ بیوی یا عدت میں مصروف بیوی یا ملکیت کی طرف اضافت ہو مثلا یوں کہے اگر میں عبد کا مالك بن جاؤں یا تیرا مالك بن جاؤں یا تجھ سے نکاح کروں اھ ملخصا(ت)
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٠
#14145 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
الاضافۃ الیہ بان یکون معلقا بلاملك کما مثل وکقولہ ان صرت زوجۃ لی او بسبب الملك کالنکاح ای التزوج وکالشراء اھ ۔
ملکیت کی طرف اضافت جیسے ملکیت کے ساتھ معلق کرنا جیسا کہ مثال بیان ہوئی اور یہ کہ اگر تو میری بیوی ہوجائے یا ملکیت کے سبب کی طرف اضافت ہو یعنی نکاح کی طرف نسبت ہو مثلا یوں کہے"جب میں نکاح کروںیا خریدوں"اھ(ت)
مگر قبل نکاح ہندہ اس کےلئے کچھ اثر نہیں کہ شرط وہ نکاح ہے جو نکاح ہندہ سے ثانی ہو پس اگر پیش از نکاح ہندہ کسی عورت سے بے اجازت ہندہ نکاح کرے گا اسے طلاق نہ ہوگی نہ بعد موت ہندہ اس کا اثرباقی رہے گا کہ شرط اذن ہندہ ہے اور میت صالح اذن نہیں تو بعد موت ہندہ جس سے نکاح کرےگا اس پر بھی طلاق نہ ہوگی اب وہ تعلیق ہی نہ رہی
فان امکان البر شرط بقاء الیمین ایضا عند الطرفین کما ھو شرط انعقادھا عندھما رضی اﷲتعالی عنہما۔
کیونکہ قسم کے پورا ہونے کا امکان قسم کے باقی رہنے کیلئے بھی امام اعظم اور امام محمد رضی اﷲعنہما کے نزدیك اسطرح شرط ہے جس طرح کہ ان کے ہاں یہ امکان قسم کے تحقق کےلئے شرط ہے(ت)
فتح القدیر میں ہے:
اذا حلف لایعطیہ حتی یا ذن فلان فمات فلان ثم اعطاہ لم یحنث اھ مثلہ فی ردالمحتار عن البحر۔
جب کسی نے یہ قسم اٹھائی کہ میں فلاں کو یہ چیز نہ دوں گاجب تك دوسرافلاں اجازت نہ دےا ور دوسرے فلاں کے فوت ہوجانے کے بعد دے تو قسم نہ ٹوٹے گی اھ اسی کی مثل رد المحتار میں بحر سے منقول ہے(ت)
ہاں بقاء میں نکاح ہندہ کچھ شرط نہیں یہاں تك کہ اگر ہندہ اس کے نکاح سے خارج ہوجائے اگرچہ طلاق مغلظہ سے تاہم جب تك وہ زندہ ہے اگر بے اس کے اذن کے نکاح ثانی کرے گا زوجہ ثانیہ پر تین طلاقیں پڑجائیں گی
فان المرأۃ لاحکم لھا علی بعل
عورت کا کوئی حکم خاوند پر لازم نہیںخاوند کے لئے
حوالہ / References ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٩٥
فتح القدیر
#14146 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
فحال الزوجیۃ وعدمھا سواء بخلاف الرجل فانھا تحتاج شرعا الی اذنہ فی خروجھا وغیرہ من امور کثیرۃ مادامت الوصلۃ باقیۃ فاذن الرجل فی مثل قولہ لاتخرج الاباذنی ینصرف الی ذلك المعہود والثابت بالشرح اماھی فلم تحتج الی اذنھا الا بالتعلیق ولم یفصل فیہ فلینتظم اذنھا مادامت حیۃ وان زال النکاح۔
زوجیت اور عدم زوجیت دونوں حال برابر ہیں اس کے برخلاف بیوی کے لئے خاوند کا حکم الزم ہے کیونکہ بیوی باہر نکلنے اور دیگر امور میں خاوند کی اجازت کی شرعا محتاج ہے جب تك زوجیت باقی ہے تو خاوند کا بیوی کو یہ کہنا کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ نکل اسی عرف اور شرعی ضابطہ کی طرف سے پابندی ہے لیکن خاوندتعلیق کے ماسوا بیوی کی کسی اجازت کا محتاج نہیں ہے اور یہاں خاوند نے کوئی تفصیل بیان نہیں کی لہذا بیوی سے نکاح ختم ہوجانے کے بعد بھی خاوند بیوی کی زندگی بھر میں اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرے گا تو دوسری کو طلاق ہوجائیگی۔(ت)
ردالمحتار باب الیمین فی الضرب واقتل میں ہے:
لو قال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیر اذنك فطالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا او ثلثا ثم تزوج بغیر اذنھا طلقت لانہ لم یتقید یمینہ ببقاء النکاح لانھا انما تتقید والمنع بعقد النکاح اھ فتح ای بخلاف الزوج فانہ یستفید ولایۃ الاذن بالعقد وکذارب الدین کما فی الذخیرۃ ۔
اگر خاوند نے بیوی کو کہا میں جس عورت سے بھی تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تو اس کو طلاق ہوگی اب خاوند نے بیوی کو طلاق بائنہ یا تین طلاقیں دے دیں اس کے بعد اس نے کسی عورت سے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو طلاق واقع ہو جائیگی کیونکہ اس نے قسم میں اجازت کو بیوی کے نکاح سے مقید نہ کیا تھا اور یہ اجازت نکاح کے ساتھ مقید تب ہوتی جب عورت اپنے نکاح کی وجہ سے اذن یا منع کی ولایت حاصل کرتی اھ فتح میں ہے یعنی اس کے برخلاف خاوند کو نکاح کی وجہ سے ولایت اذن خودبخود حاصل ہوجاتی ہے اور ایسے قرض دینے والے کو خود بخود قرض لینے والے پر ولایت حاصل ہوجاتی (کہ جب چاہے مطالبہ کرے) جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت)
پس حاصل حکم یہ کہ اگر بعد نکاح ہندہ بحالت حیات ہندہ طلاق ہندہ بے اذن ہندہ کسی
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الضرب والقتل داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٣٦
#14149 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
عورت سے نکاح کرے گا تو نکاح کرتے ہی فورا وہ زوجہ ثانی تین طلاقوں سے مطلقہ ہوجائے گی مگر اس کا اثر ایك باہر کر ختم ہوجائے گا یعنی اس کے بعد اگر پھر اور نکاح بے اذن ہندہ کرے گا اگر چہ بعد حلالہ اسی زوجہ ثانیہ سےتو اب طلاق نہ ہوگی کہ تعلیق میں تعمیم نہ تھی کہ جتنے نکاح بے اذن کرے سب میں طلاق پڑے لہذاصرف ایك بار پر انتہا ہو کر آئندہ کچھ اثر نہ ڈالے گی
فی التنویر ینحل الیمین اذاوجد الشرط مرۃ الافی کلما ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تنویر میں ہے کہ قسم ایك دفعہ شرط کے پائے جانے سے ختم ہوجاتی ہے الایۃکہ اس نے قسم میں"کلما"(جب بھی) کا لفظ استعمال کیا ہوتو قسم ختم نہ ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم۔
جواب سوال دوم : اگر یہ شرط ایجاب وقبول سے پہلے کی اگرچہ اس کے متصل بلافصل ہی ایجاب وقبول واقع ہوئے جب تو محض باطل وبے اثر ہے لعدم الملك والاضافۃ جمیعا(ملکیت اور اس کی طرف اضافت بھی نہ ہونے کی وجہ سے۔ت) پس اگر سو نکاح بے اجازت ہندہ کرےگا ہندہ پر طلاق نہ ہوگی اور اگر بعد ایجاب وقبول کی اگرچہ فورا بلاتاخیر تو یقینا صحیح ہوگئی لوقوعہ فی الملک(ملکیت میں وقوع کی وجہ سے۔ت)اب جب تك ہندہ اس کے نکاح یا عدت طلاق غیر مغلظ میں بے اجازت ہندہ نکاح ثانی کرے گا ہندہ پر تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
فی الدرالمختار الصریح یلحق الصریح والبائن بشرط العدۃ الصریح مالایحتاج الی نیۃ بائناکان الواقع بہ اورجعیا فتح فمنہ الطلاق الثلاث فیلحقھما اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے: صریح طلاق صریح اور بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے بشرطیکہ وہ پہلی بائن کی عدت میں واقع ہو۔ صریح وہ ہوتی ہے جس میں نیت کی ضرورت نہ ہو خواہ اس سے رجعی طلاق پڑے یابائنہ پڑے فتح تو اسی قبیل سے مغلظہ طلاق ہے تو یہ رجعی اور بائنہ دونوں کو لاحق ہوسکتی ہےاھ ملخصا(ت)
ہاں اگر اس نکاح ثانی سے پہلے ہندہ کو طلاقیں ایك یا دودیں اور عدت گزرگئی اور اسی حالت میں کہ وہ اس کے نکاح سے باہر ہے بے اس کی اجازت کے نکاح ثانی کیا تو ہندہ پر طلاق نہ ہوگی کہ اس حالت میں وہ طلاق کی محل ہی نہیں اور اس نکاح ثانی سے وہ تعلیق ختم ہوجائے گی یہاں تك کہ اب اگر ہندہ سے پھر نکاح کرے اور اس کے بعد کتنے ہی نکاح بے اجازت ہندہ کرے تو ہندہ پر طلاق نہ ہوگی یونہی
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٥
#14150 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
اگر ہندہ کو قبل از نکاح ثانی تین طلاقیں دے دیں تو اب کسی صورت میں نکاح ثانی بے اجازت ہندہ سے ہندہ پر طلاق نہ پڑے گی اگر چہ یہ نکاح اس وقت کرے جبکہ ہندہ بعد حلالہ اس کے نکاح میں آچکی ہو لانتھاء التعلیق بتنجیز الثلاث(تین غیر معلق طلاقوں کے باعث تعلیق ختم ہونے کی وجہ سے۔ت)ہدایہ میں ہے:
زوال الملك بعد الیمین لایبطلھا لبقاء محلہ فبقی الیمین ثم ان وجد الشرط فی ملکہ انحلت الیمین ووقع الطلاق وان وجد فی غیر الملك انحلت الیمین لوجود الشرط ولم یقع شیئ لانعدام المحلیۃ اھ ملخصا۔
تعلیق اور یمین کے بعد ملکیت کا ختم ہونا یمین کو باطل نہیں کرتا کیونکہ یمین کا محل ابھی باقی ہےپھر اگر شرط ملکیت کے دوران پائی جائے تو یمین وقسم ختم ہوجاتی ہے اور طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر ملکیت کے بغیر شرط پائی جائے تو شرط کی وجہ سے قسم ختم ہوجائیگی جبکہ طلاق نہ ہوگی کیونکہ طلاق کا محل یعنی نکاح ختم ہوچکا ہے اھ ملخصا(ت)
فتح میں ہے:
لوطلقھا فانقضت عدتھا بعد التعلیق بدخول الدارثم تزوجھا فدخلت طلقت ولابد من تقیید عدم البطلان بما زال الملك بمادون الثلاث امااذا طلقھا ثلثا فتزوجت بغیرہ ثم عادت فدخلت لاتطلق علی ماسیأتی اھ مختصرا
قلت والاتی ھو قول الھدایۃ ان قال لھا ان دخلت الدار فانت طالق ثلثا ثم قال لھا انت طالق ثلثا فتزوجت غیرہ ودخل بھا ثم رجعت الی الاول فدخلت الدارلم یقع شیئ۔
اگر خاوند نے دخول سے طلاق کے معلق کرنے کے بعد بیوی کو طلاق دے دی اور عدت بھی گزرگئیاور اس کے بعد دوبارہ سے نکاح کیا اور اب وہ گھر میں داخل ہوئی تو اب شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگیاور زوال ملکیت سے قسم ویمین کے عدم بطلان کو تین سے کم طلاقوں سے مقید کرنا ضروری ہے اس لئے کہ اگر تین طلاقیں دیں اور حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کیا تو اب گھر میں داخل ہوئی تو طلاق نہ ہوگی جیسا کہ عنقریب آئے گا اھ مختصرا میں کہتا ہوں عنقریب آنے والی عبارت ہدایہ کی ہے جو یہ ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا اگرتو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاق
حوالہ / References الھدایۃ باب الایمان فی الطلاق المکتبۃ العربیۃ کراچی ٢/٣٦٦
فتح القدیر باب الایمان فی الطلاق نوریہ رضویہ سکھر ٣/٤٥٠
الھدایۃ باب الایمان فی الطلاق المکتبۃ العربیہ کراچی ٢/٣٦٩
#14168 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
اس کے بعد خاوندنے بیوی کو بغیر تعلیق تین طلاقیں دے دیں اور کہا تجھے تین طلاق۔اس کے بعد مطلقہ نے حلالہ شرعیہ کے بعد دوبارہ پہلے سے نکاح کیا اور اب گھر میں داخل ہوئی تو کوئی طلاق نہ ہوگی۔(ت)
اوراگر زید نے یہ شرط نفس ایجاب وقبول میں کی تو اس کی دو صورتیں ہیں:اگر پہلے زید نے کہا کہ میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط کہ اگر تیری بے اجازت کے نکاح ثانی کروں تو تجھ پر تین طلاقہندہ نے کہا میں نے قبول کیاتو اس کاحکم مثل صورت اولی ہے یعنی شرط محض باطل وبے اثر ہے کہ جب تك ہندہ نے قبول نہ کیا تھا وہ اس کی زوجہ نہ ہوئی تھی تو اس کی تعلیق پر بے حصول ملك یا اضافہ بہ ملك اسے کچھ اختیار نہ تھا۔اور اگر پہلے ہندہ نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیازید نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ اگر بے تیری اجازت الی اخرہ تو شرط صحیح ہوگئیاور وقوع طلاق کے وہی احکام ہوں گے جو اوپر گزرے کہ جب کلام اول جانب ہندہ سے تھا تو یہ تعلیق بعد تحقق ایجاب وقبول وثبوت زوجیت متحقق ہوئی اور اس وقت اسے اختیار کامل تھاخانیہ وبزازیہ وعمادیہ وبحر ونہر وغیرہا میں ہے:
واللفظ للامام الاجل فقیہ النفس رجل تزوج امرأۃ علی انھا طالق او علی ان امرھا فی الطلاق بیدھا ذکر محمد رحمہ اﷲتعالی فی الجامع انہ یجوز النکاح والطلاق باطل ولایکون الامر بیدھاقال الفقیہ ابو اللیث رحمہ اﷲتعالی ھذااذا ابدأ الزوج فقال تزوجتك علی انك طالق وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منك علی انی طالق فقال قبلت جاز النکاح ویقع الطلاق لان البدایۃ اذا کانت من الزوج کان الطلاق والتفویض قبل النکاح فلایصح
الفاظ امام فقیہ النفس کے ہیں کہ ایك شخص نے ایك عورت کو کہا میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ"تو طلاق والی ہےیا اس شرط پر کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے"۔اس کے متعلق امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے جامع میں ذکر فرمایا کہ یہ نکاح صحیح ہے اور طلاق کی شرط باطل ہے اور بیوی کو طلاق کا اختیار بھی نہ ہوگا۔اس پر فقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اگر خاوند نے ابتداء کرتے ہوئے کہا"میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہے"تو پھر مذکور حکم یعنی نکاح صحیح اور طلاق باطل ہےاوراگر عورت ابتداء کرتے ہوئے کہے میں نے اپنے آپ کو تجھ سے نکاح دیا اس شرط پر کہ مجھے طلاق ہو تو خاوند نے جواب میں کہا میں نے قبول کیاتو نکاح صحیح ہوکر طلاق ہوجائے گی کیونکہ خاوند کی طرف سے ابتداء کرنے میں طلاق اور تفویضنکاح سے قبل
#14171 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
امااذاکانت البدایۃ من قبل المرأۃ یصیر التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صارکانہ قال قبلت علی انك طالق او علی ان یکون الامر بیدك فیصیر مفوضا بعد النکاح اھ باختصار اقول: انت تعلم ان کلام المرأۃ لاعبرۃ بھا فی قبول الزوج لاجل ان السؤال معادفی الجواب فاذاوقع فیہ تحقیقا کان اولی بالصحۃ کما یرشدك الیہ قولہ رحمہ اﷲتعالی قال قبلت علی انك طالق الخ' وبما افادفی الخانیۃ ظھر الفرق بین البدایتین کما اوضحناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار وان کان خفی علی العلامۃ الشامی رحمہ اﷲتعالی۔
ہوئی تو طلاق کی شرط صحیح نہ ہوئیلیکن عورت کی طرف سے ابتداء ہوئی تو پھر طلاق کی تفویض نکاح کے بعد ہوئی کیونکہ جب زوج نے عورت کی کلام کے بعد جواب میں"میں نے قبول کیا"کہاتو چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہوتاہے تو گویا خاوند نے یوں کہا کہ"میں نے نکاح قبول کیا اس شرط پرکہ تجھے طلاق ہو یاطلاق کا معاملہ تیرے اختیار میں ہو"تو یوں نکاح پہلے ہوگیا اور تفویض طلاق بعد ہوئی اھاختصارا۔
اقول:(میں کہتا ہوں)آپ کو معلوم ہے کہ طلاق کے معاملہ میں عورت کی بات کا اعتبار نہیں ہوتا لیکن یہ طلاق خاوند کے نکاح کو قبول کرنے پر خاوند کی طرف سے مقدر ہوئی کیونکہ خاوند کے جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہےتو جب سوال معتبر ہے تو صحت نکاح پر طلاق مرتب ہوئی لہذاطلاق صحیح ہوگیجیسا کہ ابولیث رحمہ اﷲتعالی کا قول کہ خاوند کا"قبول ہے"کہہ کر کہنا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہے الختیری رہنمائی کررہا ہےاور خانیہ کا یہ بیان دونوں ابتداؤں میں فرق کو واضح کررہا ہے جیسا کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیے میں واضح کیا ہےاگرچہ یہ فرق علامہ شامی رحمہ اﷲتعالی پر مخفی رہا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لوقال لھا تزوجتك علی ان امرك بیدك فقبلت جاز النکاح ولغا الشرط لان الامر انما یصح
اگر مرد کسی عورت کو کہے کہ میں نے تجھ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ طلاق کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہےتو عورت نے قبول کرلیا اس صورت میں نکاح صحیح اور شرط لغو ہوگی کیونکہ طلاق کا
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں فصل فی النکاح علی الشرط نولکشور لکھنؤ ١/١٥٢
#14173 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
فی الملك او مضافا الیہ ولم یوجد واحد منھما بخلاف مامر فان الامر صار بیدھا مقارنا لصیرروتھا منکوحۃ اھ نھروالحاصل ان الشرط صحیح اذا ابتدأت المرأۃ لااذاابتدأ الرجل ولکن الفرق خفی الخ۔واﷲتعالی اعلم۔
اختیار دینا نکاح میں یا نکاح کی طرف منسوب کرنے میں درست ہوسکتا ہے جب کہ یہاں دونوں باتوں میں کوئی بھی موجود نہیں ہےاس کے برخلاف جب عورت ابتداء کرے تو پھر اختیار طلاق عورت کو بیوی بننے سمیت ہوااھنہر۔ حاصل یہ ہے کہ اگر عورت ابتداء کرے تو شرط صحیح ہوگی اور اگر مرد ابتداء کرے تو شرط صحیح نہ ہوگیلیکن فرق مخفی رہا الخ۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
جواب سوال سوم:دوسری کو مگر انہیں شرائط سے جوجواب اول میں گزریں کہ پہلاوہ نکاح جو بعد نکاح ہندہ بحیات ہندہ اگرچہ بعد افتراق ہندہ بے اجازت ہندہ کسی عورت سے کرے گا اس عورت کو طلاق ہوگیاصل یہ ہے کہ یہ لفظ کہ"تو میرا نکاح باطل"مجمل ومحتمل تھا کہ اس میں بیان نہ کیا کہ کون نکاح باطلاگر بعد نکاح ہندہ یہ الفاظ کہتا یاقبل نکاح یوں کہا ہوتا کہ اگر ہندہ سے نکاح کروں اور اس کے بعد کسی عورت سے بے اس کی اجازت کے نکاح ثانی کروں تو میرا نکاح باطلتو اسے اختیار تھا کہ زوجہ اولی یا ثانیہ جس کی طرف چاہے پھیردے کہ دونوں اس تعلیق تطلیق کی صالح تھیں
الاولی لتحقق الملك وفی الاخری کا لاخری فیھما لحصول الاضافۃ۔
پہلی کو اس لئے کہ وہ ملکیت نکاح میں ہے اور دوسری کے لئے اسکےلئے کہ یہ پہلی کے بعد دوسری ہے اور اضافت نکاح موجود ہے(ت)
فتح القدیر پھر ہندیہ میں ہے:
لوقال لامرأۃ ان تزوجت علیك ماعشت فالطلاق علی واجب ثم تزوج علیھا تقع تطلیقۃ علی واحدۃ منھما یصرفھا الی ایتھما شاء اھ ملخصا۔
اگر کسی عورت کوکہا"جب تك تو زندہ ہے تجھ پر نکاح کروں تو مجھ پر طلاق واجب ہے"اس کے بعد خاوند نے اس پر دوسرا نکاح کرلیا تو یہ طلاق ان بیویوں میں سے ایك پر پڑجائے گیدونوں میں سے جس کی طرف چاہے طلاق کو پھیردے اھ ملخصا(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الرجعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٤٠
فتاوٰی ہندیہ فصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٢٦،فتاوٰی قاضیخاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ١/٢٣٧
#14175 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
یہاں کہ قبل نکاح ہندہ یہ لفظ کہا اور اس میں نکاح ہندہ کی طرف وہ اضافت بھی نہیں جو یہاں کام دے یعنی صریح الفاظ شرط کہ زن معینہ میں اسی کی حاجت ہے معنی شرط کافی نہیں
کما فی الفتح وغیرہ قال فی الدر یکفی معنی الشرط الا فی المعینۃ باسم او نسب او اشارۃ الخ ۔
جس طرح فتح وغیرہ میں ہےدر میں کہا کہ شرط کا معنی کافی ہے ماسوائے نام یا نسب یا اشارہ کے ساتھ معین کردہ عورت کے۔(ت)
غرضیکہ صرف نکاح ثانیہ کی طرف اضافت اورصحت تعلیق کئے سے وجود ملك یا اضافت بملك لازم تو ہندہ اس تعلیق کی اصلا محل نہیںلاجرم زوجہ ثانیہ متعین ہوگئیبالجملہ ہندہ اس تعلیق میں اجنبیہ محض ہے بخلاف ثانیہتو اجنبیہ کی طرف پھیرنے کی کوئی راہ نہیں
لما فیہ من اھمال الکلام ھو محترز عنہ مھما امکن اعمالہ۔
کیونکہ اس میں کلام کو مہمل بنانا لازم آتاہے جبکہ اس سے حتی الامکان بچنا ہوتا ہے(ت)
یہ تو ایسا ہو اجیسے اپنی عورت اور ایك اجنبیہ کو ملاکر کہا میں نے تم دونوں میں سے ایك کو طلاق دی خواہی نخواہی اس کی عورت ہی پرطلاق پڑے گی اجنبیہ کی طرف پھیرنے کا اختیار نہ دیا جائے گا کہ اسے طلاق دینا اس کے قابو میں نہ تھا
الھندیۃ لوضم الی امرأتہ امرأۃ اجنبیۃ وقال احدکما طالق او قال ھذہ طالق او ھذہ لاتطلق امرأتہ الا بالنیۃ لان الاجنبیۃ محل لذلك خبراو ان لم تکن محلا لہ انشاء وھذہ الصیغۃ بحقیقتھا اخبار ولو قال فی ھذہ الصورۃ طلقت احدکما طلقت امرأتہ من غیرنیۃ ذکرہ فی طلاق الاصل اھ
ہندیہ میں ہے:اگر خاوند نے اپنی بیوی کے ساتھ اجنبی عورت کو ملا کر کہا تم دونوں میں سے ایك کو طلاقیایوں کہا اس کو یا اس کو طلاق ہےتو اس کی بیوی کو بغیر نیت کئے طلاق نہ ہوگیکیونکہ اجنبی عورت اگرچہ انشاء طلاق کے محل نہیں لیکن طلاق کی خبر وحکایت کا محل ہے جبکہ خاوند کا کلام حقیقۃ خبر ہےہاں اگر یوں کہے میں نے تم دونوں میں سے ایك کو طلاق دیتو بیوی کو نیت کے بغیر طلاق ہوجائے گیاس کو مبسوط کے طلاق میں ذکر
حوالہ / References درمختار با ب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٠
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الطلاق الصریح نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٦٣
#14176 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
وانت تعلم ان التعلیق انشاء التعلیق وان الاولی لیست محلالہ لترك الاضافۃ فوجب الصرف الی المحل لابقاء العمل وھذا کلہ واضح جداواﷲتعالی اعلم۔
کیا ہے اھ آپ کو معلوم ہے کہ معلق کرناتعلیق کا انشاء ہےجبکہ اجنبیہ اسکا محل نہیں کیونکہ وہ نہ نکاح میں ہے اور نہ اس سے نکاح کی طرف نسبت ہے اس لئے محل کی طرف پھیرنا ضروری ہے تاکہ کلام بامقصد بن سکےاور یہ تمام خوب واضح ہےواﷲتعالی اعلم(ت)
کیا ہے اھ آپ کو معلوم ہے کہ معلق کرناتعلیق کا انشاء ہےجبکہ اجنبیہ اسکا محل نہیں کیونکہ وہ نہ نکاح میں ہے اور نہ اس سے نکاح کی طرف نسبت ہے اس لئے محل کی طرف پھیرنا ضروری ہے تاکہ کلام بامقصد بن سکےاور یہ تمام خوب واضح ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے بعوض ہزار روپیہ کےنکاح کیا اور قبل نکاح درمیان نکاح کے یہ شرط کی کہ نصف مہر یعنی پانسو روپیہ اگر عند الطلب زوجہ ادا نہ کروں تو ہند ہ پرتین طلاقیں ہیںپس نکاح کے بعد ہندہ مذکور نے روپیہ طلب کیا زید نے روپیہ مذکورہ اس وقت ادا نہ کیا اور شرط مذکورہ ایجاب میں ہوا تھا اور ایجاب جانب عورت سے اور قبول جانب مرد سےاب اس صورت میں ہندہ پر طلاق واقع ہوگی یانہیں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہندہ پر تین طلاقیں ہوگئیںفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
تزوج علی انھا طالق ذکر محمد رحمہ اﷲتعالی انہ یجوز النکاح والطلاق باطل قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲتعالی ھذا اذاابدأ الزوج فقال تزوجتك علی انك طالق وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منك علی انی طالق فقال زوجت نفسی منك علی انی طالق فقال قبلت جازالنکاح ویقع الطلاق الخ واﷲتعالی اعلم۔
مرد نے کہا میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہےامام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا تو نکاح صحیح اور طلاق باطل ہوگیفقیہ ابولیث رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا یہ جب ہے کہ یہ بات خاوند پہلے کہےاگر عورت نے ابتداء کرتے ہوئے یوں کہا"میں نے اپنے آپ کو تیرے نکاح میں اس شرط پر دیا کہ مجھے طلاق ہوتو خاوند کے قبول کرنے پر نکاح صحیح ہوکر طلاق ہوجائے گی الخ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از مدراس محلہ جمکنڈی مسیت مکہ مرسلہ مولوی عبد الرزاق صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص حنفی نے یمین مضاف کی ہواس طرح پر
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں فصل فی النکاح علی الشرط نولکشور لکھنؤ ١/١٥٢
#14180 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
کہ اگرمیں تجھ سے نکاح کروں تو طلاق ہے وطلاق ہے وطلاق ہےآیا اس کو تقلید مذہب شافعی کی جائز ہے تاکہ وطی اس عورت کی بلاتردد ہوجائے کیونکہ عند الشافعی یمین مضاف میں طلاق نہیں واقع ہوتی
کمافی الدرالمختار فی المجتبی عن محمد فی المضافۃ لایقع وبہ افتی ائمۃ خوارزم انتہی وھو قول الشافعی
جیسا کہ درمختا رمیں ہے کہ مجتبی میں امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے مروی ہے کہ جس عورت کے نکاح سے کوئی شرط منسوب کی جائے تو طلاق نہ ہوگیاسی پر ائمہ خورازم کا فتوی ہے اھیہی امام شافعی رحمہ اﷲتعالی کا قول ہے یانہیں۔ (ت)
الجواب:
ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲعنہم کا اجماع ہے کہ یمین مضاف منعقد ہے اور ایسی صورت میں نکاح کرتے ہی فورا طلاق بائن ہوجائے گیوہ روایت ضعیفہ کہ مجتبی میں امام محمد رحمۃ اﷲتعالی علیہ سے جس کا پانا بیان کیا قطع نظر اس سے کہ زاہدی چنداں موثوق فی النقل نہیں وہ خود بھی اس کے ضعف کا معترف ایسی روایات شاذہ ساقطہ پر فتوی دینا جائز نہیںولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نہ مفتی کو اس روایت پرافتا کی مجالنہ کسی کو اس پر عمل حلال۔درمختار میں عبارت منقولہ سائل کے بعد ہے:
ھذا یعلم ولایفتی بہ
(اس کو معلوم کرلیاجائے لیکن اس پر فتوی نہ دیا جائے۔ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی البزازیۃ وعن الصدر اقول لایحل لاحدان یفعل ذلك وقال الحلوانی یعلم ولایفتی بہ لئلایتطرق الجھال الی ھدم المذھب اھ بحر ۔
بزازیہ میں ہے اورصدر سے مروی ہے میں کہتا ہوں کہ کسی کو یہ کام حلال نہیںاورحلوانی نے فرمایا معلوم کرلیا جائے لیکن اس پر فتوی نہ دیا جائے تاکہ جاہل لوگ مذہب کے خلاف نہ مصروف ہوجائیں اھ بحر۔(ت)
اسی میں ہے:
فلیس للمفتی الافتاء بالروایۃ الضعیفۃ وکونھا افتی بھا کثیر من ائمۃ خوارزم
مفتی کو ضعیف روایت اختیار نہیں کرنی چاہئےاور ائمہ خوارزم کا اس پر فتوی اس کے ضعف کو
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
ردالمحتار باب التعلیق الطباعۃ المصریۃ بمصر ٢/٤٩٦
#14181 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
لاینفی ضعفھا ولذاتقدم عن الصدر انہ لایحل لاحدان یفعل ذلك وکذا ماتقدم عن الحلوانی من انہ یعلم ولایفتی بہ فلو تثبت ھذہ الروایۃ عن محمد وکانت صحیحۃ لبنوا الحکم علیھا ولم یحتاجوا الی بنائہ علی مذھب الشافعی فھذا یدل علی انھا روایۃ شاذۃ کما یشیر الیہ کلام المجتبی المار ۔
ختم نہیں کرسکتااسی لئے صدر سے منقول گزرا کہ کسی کو یہ کام حلال نہیںاور یوں ہی علامہ حلوانی سے منقول گزرا کہ اس کو جان لیاجائے مگر فتوی نہ دیا جائےتو اگر یہ بات امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے صحیح ثابت ہو تو پھر چاہئے تھا کہ اس قول محمد رحمہ اﷲتعالی کو مبنی حکم بناتے اور امام شافعی کے قول کے محتاج نہ ہوتےاس سے معلوم ہوا کہ یہ روایت شاذ ہے جیسا کہ اس پر گزشتہ مجتبی کا کلام اشارہ کررہا ہے۔(ت)
پھر اگر مخلص چاہے تو کچھ تقلید امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کی حاجت نہیںخو داپنے مذہب میں مخلص موجود ہے مثلا صورت مستفسرہ میں اس عورت سے نکاح کرلےنکاح کرتے ہی طلاق پڑجائے گیاور ازانجاکہ عورت غیر مدخولہ ہے اور اس نے تین طلاقیں بتفریق ذکر کی ہیں کہ طلاق ہے وطلاق ہے وطلاق ہے لہذا ایك ہی واقع ہوگی
فی الدرالمختار وان فرق بوصف او خبر اوجمل بعطف اوغیرہ بانت بالاولی لاالی عدۃ ولذالم تقع الثانیۃ بخلاف الموطوۃ حیث یقع الکل۔
درمختار میں ہے:اگر طلاق کو متفرق وصف یا خبریا حکم کے ساتھ متفرق کرے خواہ عطف کے ذریعہ یا بغیر عطف تو عورت پہلی طلاق سے ہی بائنہ ہوجائے گی اور عدت نہ ہوگی اسی وجہ سے دوسری طلاق واقع نہ ہوگیاس کے برخلاف اگر وطی شدہ بیوی کو ایسے کہا تو سب طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت)
پس اسی وقت پھر اس سے نکاح کرلے اب طلاق نہ پڑے گی کہ یمین ایك بار سے کھل گئی
فی التنویر الفاظ الشرط ان واذا واذا ماوکل وکلما ومتی ومتی ما
تنویر میں ہے:عربی شرط کے الفاظ یہ ہیں:اناذااذاما کلکلمامتیمتی ما
حوالہ / References ردالمحتار باب التعلیق الطباعۃ المصریۃ بمصر ٢/٤٩٧
درمختار باب طلاق غیر المدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٣
#14182 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
تنحل الیمین اذا وجد الشرط مرۃ الافی کلما فانہ ینحل بعد الثلاث۔
ان تمام الفاظ کی شرط جب پائی جائے تو قسم ختم ہوجائے گی ماسوائے لفظ"کلما"کیونکہ اس میں شرط تین طلاقوں کے بعد ختم ہوگی۔(ت)
مگر اتنا ہوگا کہ عورت پر صرف دو طلاقوں کا مالك رہے گا کہ ایك تو نکاح پیش میں پڑچکی اب اگر کبھی دو طلاقیں دے گا مغلظہ ہوجائے گی۔دوسری صورت یہ ہے کہ کسی ذی علم کے سامنے تذکرہ کہے کہ میں نے یوں حلف کرلیا ہے کہ مجھے نکاح فضولی کی حاجت ہے یا کیا اچھا ہوتا کہ کوئی شخص بے میری تو کیل کے بطور خود میرا نکاح اس سے کردے تا ذی علم مذکور خود یا کسی اور اسے کہہ کر عورت کا نکاح اس سے کردے جب اس شخص کو نکاح کی خبر پہنچے یہ زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ کوئی فعل ایسا کرے جس سے اس نکاح موقوف کی اجازت ہوجائےمثلا عورت کو مہر بھیج دے یا لوگوں کی مبارکباد قبول کرے کہ اس صورت میں نکاح ہوجائے گا اور طلاق اصلا واقع نہ ہوگی
فی درالمحتار عن البحر عن البزازیۃ ینبغی ان یجیئ الی عالم ویقول لہ ماحلف واحتیاجہ الی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأۃ ویجیزبالفعل فلا یحنث وکذا اذا قال لجماعۃ لی حاجۃ الی نکاح الفضولی فزوجہ واحد منھماما اذا قال لرجل اعقد لی عقد فضولی یکون توکیلا اھ
ردالمحتار میں بحر سے منقول اور وہاں بزازیہ سے منقول ہے کہ مناسب ہے کہ کسی عالم کے پاس آکر جو اس نے قسم اٹھائی ہے اس کو بیان کرے اور کسی ایسے فضولی شخص(جو اس کی بیوی کو پہچانتا ہو)کی ضرورت کو بیان کرے تو وہ عالم اس کا کسی عورت سے نکاح کردے اور یہ اس عالم کی کارروائی کو کسی اپنے عمل سے جائز کردے تو حانث نہ ہوگا اور یونہی کسی ایسی جماعت کے سامنے اپنے لئے فضولی کے نکاح کی ضرورت کو پیش کرے تو اس جماعت میں کوئی شخص خود اس کا نکاح کردے البتہ خاص کسی شخص کو فضولی بننے کےلئے نہ کہے کیونکہ کسی کو کہنا کہ تو فضولی بن میرا نکاح کردےتو یہ فضولی نہ ہوگابلکہ یہ تو اس کو وکیل بنانا ہوااھ(ت)
مسئلہ: از سیتاپور رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زن وشو میں باہم نزاع لفظی واقع ہوا اس پر شوہر نے کہا تو میری چیز کھائے تو طلاق ہےشوہر کی مراد اس سے نقصان نکاح کی ہر گز ہرگز نہیں ہے غصہ میں
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٩٧
#14183 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
ایك مہمل لفظ زبان سے نکل گیااب زوجہ شوہر کی دی ہوئی کوئی چیز نہ لیتی ہےنہ کھاتی ہےنہ پہنتی ہےنہ قریب آتی ہےاور کہتی ہے کہ مجھ کو یہ خوف ہے کہ اگر میں کھاؤں تو مجھ پر شرعی نقصان پڑجائے گاشوہر اس امر سے قطعی انکار کرتا ہے اس کا بیان ہے کہ غصہ میں میرے منہ سے نکل گیا ہے ہرگز میری یہ مراد نہ تھیبقسم شرعی کہتا ہےیوم عقد سے گاہے اس نے ایسا لفظ بد منہ سے نہیں نکالا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر الفاظ اسی قدر تھے جو مذکور ہوئے جن میں کچھ ذکر نہیں کہ کون طلاق ہے کس پر طلاق ہےاور ایسی حالت میں شوہر کا بقسم بیان کہ ان الفاظ سے میں نے طلاق زوجہ کی نیت نہ کی تو صورت مذکورہ میں بموجب روایات کثیرہ فتاوی قاضی خاں وفتاوی خلاصہ وفتاوی بزازیہ وفتاوی ہندیہ وفتاوی ذخیرہ ومحیط امام برہان الدین وقنیہ وبحرالرائق ودرمختار وغیرہا ان الفاظ سے نکاح پر کوئی اثر نہ اب ہے نہ آئندہ کسی چیز کے کھانے سے پیدا ہواور بنظر دقیق احتیاط یہ ہے کہ اگر الفاظ یہی تھے کہ میری چیز کھائے الخ جب تو جو چیز کھانے سے پہلے زوجہ کو شوہر ہبہ کردے کہ اب میری چیز کھانا صادق نہیںاور اگرلفظ وہ ہیں جو کرامت نامہ میں ارشاد ہوئے کہ اب اگر میری لائی ہوئی کھائے الخ تو علاج یہ ہے کہ خود چیز نہ لائی جائے نوکر یا عزیز یا غیر اوروں سے منگواکردی جائےیہ احتیاط صرف کھانے میں ہے اس کے سوا پہننابولناقریب آناجانا وغیرہا کسی فعل سے کوئی اثر ضرر نہیں اور ایك بار سہوا خواہ قصدا ایسا واقع ہوجائے کہ خلاف شرط کھانا عمل میں آئے تو الفاظ مذکورہ سے بنظر احتیاط بھی صرف ایك طلاق رجعی کا حکم ہوگا کہ عدت کے اندر فقط زبان سے اتنا کہہ دینا کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا کفایت کرے گااس کے بعد وہ شرط باطل ہوجائے گی جو چاہے اور جتنی بارچاہے شوہر کی چیز اسی کی لائی ہوئی کھائے ہرگز طلاق نہ ہوگی۔واﷲتعالی اعلم۔
#14184 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
نوٹ
اعلحضرت علیہ الرحمۃ کا یہ وہ مفصل فتوی ہے جس کا ذکر پیش لفظ میں گزرچکا ہےیہ فتوی فتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ تھا اس مسئلہ کی اہمیت اور اس باب سے متعلقہ ہونے کے پیش نظر اس مقام پر جلد ہذا میں شامل کرلیا گیا ہے۔
مسئلہ۸: از انبٹھہ ضلع سہارن پور مرسلہ فضل کریم انصاری
بسم اﷲالرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی فضل کریم نے اپنی زوجہ مسماۃ حسینہ بی کو بلایااس کی والدہ نے بھیجنے سے انکار کیافضل کریم اس کے پاس گیا اور سمجھایاجب دیکھا کہ وہ راضی نہیں ہوتی تو اس سے کہا کہ"اگر آج آپ عصر تك اپنے گھر نہ آئیں تو میں آپ کو اپنے نکاح سے علیحدہ کردوں گا"اور اثنائے راستہ میں بہنگام واپسی مکان خسر خود صدیق احمد یا تایا زوجہ خود کے مل جانے پر اس سے بھی فضل کریم نے کہا کہ"ان کو سمجھا کر بھجوادو میں کہہ آیا ہوں کہ عصر تك اپنے گھر نہ آئیں تو میں اپنے نکاح سے علیحدہ کردوں گا"اس پر اہالی زوجہ نے اس کو روك رکھا اور لفظ یہ بتائے کہ فضل کریم یہ لفظ کہہ گیا تھا کہ"اگر آپ عصر تك اپنے مکان میں نہ آئیں تو میری طرف سے جواب ہے"اور یہ الفاظ فضل کریم نے بحالت غیظ وغضب کہے تھے نیز یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ فضل کریم نے باہر از مکان خسر خود تایا زوجہ خود سے کہا تھا کہ"معافی نامہ مہر میرے پاس لکھا رکھا ہے اور میں کہہ آیا ہوں کہ"اگر عصر تك آپ اپنے گھر نہ آئیں تو میری طرف سے جواب ہے"فضل کریم ان الفاظ سے منکر ہے نیز بحلف شرعی کہتا ہے کہ بالفرض لفظ یوں ہوں یا کچھ ہوں جو کچھ ہوں میں نے کہا تھا اس سے زوجہ مذکور کو طلاق دینے کی نیت میری نہ تھی"اس پر بعض صاحبان عــــہ نے بے تحکیم فضل کریم
عــــہ: یعنی جناب مولوی اشرفعلی صاحب تھانوی مصنف حفظ الایمان جن کی نسبت حسام الحرمین شریف میں علماء کرام حرمین شریفین کا حکم مشہور ومعروف ہے
#14186 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
(بوجہ مراسم تایا مسماۃ حسینہ بی تایامذکور کے بلالانے پر)بطور خود حکم ہونے کا دعوی کیا اور یہ فیصلہ لکھ دیا کہ زوجہ فضل کریم مسماۃ حسینہ بی پر ایك طلاق بائن ہوگئی اور اس صورت میں کہ فضل کریم نے لفظ"جواب ہے"کہا تھا نیت فضل کریم کی حاجت نہیںاور زوجہ حسینہ بی اپنے معاملہ میں قاضی ہے
اور یہ بھی لکھا کہ فضل کریم شہادت پیش کرنے سے قاصر رہاحالانکہ منجانب حسینہ بی اس کے رشتہ دار گواہ جو ثقہ اور عادل ہیں پیش ہوئےاگر چہ فیصلہ مذکور میں شہادت پیش شدہ غیر محدود صورت کے ساتھ ہے لیکن ایك اقربا حسینہ بی سے معلوم ہوا کہ تایا مذکور وچچی وتائی زوجہ مذکور نے اور ان کی ایك ماما غیر پردہ نشین نے بیان مسماۃ حسینہ بی کی تائید کی ہے۔
قابل استفتاء یہ امور ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا اور صورت مذکورہ میں طلاق کا حکم دینا شرعا حق ہے یاباطلاور عورت کو اس موقعہ پر کیا سمجھنے کا حکم ہے وہ خودقاضی ہوسکتی ہے یانہیںاور جن لوگوں نے ایسا فیصلہ دیا ان کی نسبت کیا حکم ہے اور ان ہردو اقوال میں فضل کریم شوہر کا قول معتبر ہے یازوجہ حسینہ بی اور اس کے اقربا مذکورہ کااور ان ہردو الفاظ سے شرعاکسی قسم کی طلاق مذکورہ بالا صورت میں عائد ہوگی یانہیںمدلل مرقوم فرمائیںبینواتوجروا۔احقر فضل کریم انصاری ساکن انبٹھہ ضلع سہارنپور
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مستفسرہ میں ہر گز حکم طلاق نہیںیہاں شرعا فضل کریم کا قول معتبر ہے کہ حسینہ طلاق کی مدعیہ ہے اور فضل کریم اس سے منکر اور قاعدہ شرع ہے کہ القول للمنکر والبینۃ علی المدعی(منکر کی بات معتبر ہے اور گواہی مدعی کے ذمہ ہے۔ت)اگر اس نے یہی لفظ کہے تھے کہ"نکاح سے علیحدہ کردوں گا"جب تو ظاہر ہے کہ یہ نراوعدہ ہے اور وعدے سے طلاق نہیں ہوتی۔جواہر اخلاطی میں ہے:
طلاق میکنم طلاق بخلاف قولہ کنم لانہ یتمحض الاستقبال ۔
طلاق میکنمحال ہونے کی وجہ سے طلاق ہے اس کے برخلاف طلاق کنمکہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ محض استقبال ہے۔ (ت)
اور اگر بالفرض اس نے وہی لفظ کہے ہوں جواہالی زن بیان کرتے ہیں تو جبکہ وہ عدم نیت طلاق پرحلف کرتا ہے حکم طلاق محض باطل وخطا ہےاولا لفظ جواب اگر چہ اردو میں بمعنے ترك تعلق بھی آتا ہے جس کے سبب طلاق سے کنایہ ہوسکتا ہے
حوالہ / References جواہر الاخلاطی فصل فی طلاق الصریح قلمی نسخہ ص٦٩
#14187 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
نوکر کو جواب دے دیا یعنی برخاست کردیامگر وہ اردوئےمعلی بلکہ فارسی میں بھی بمعنی رد و انکار وعدم قبول شائع وذائع ہے گدارا جواب داد(فقیر کو جواب دیا۔ت)یعنی اس کا سوال رد کیادینے سے انکار کردیازید سے فلاں کام کو کہا اس نے جواب دیا یعنی نہ ماناقبول نہ کیاعمرو سے کوئی درخواست کی اس نے کہا میری طرف سے جواب ہے یعنی مجھے منظور نہیں۔مخلص کا شی راست
دریں زمانہ گدارنگ می تواند بست
اگر زخواجہ ممسك جواب میگیرد
(اس زمانہ میں گدا گر اپنے ڈنگ کا بختہ ہے اگر چہ بخل والاجواب بھی دے دے۔ت)
فصیح الملك
نامہ برکہتا ہے اب لاتا ہوں دلبر کا جواب
سن چکا میں چاردن پہلے مقدر کا جواب
اس قسم کے محاورات نظم ونثر میں بکثرت ہیں۔
تو کلمہ یقینا صالح رد ہےاور جو کلمہ صالح رد ہو مطلقا ہر حال میں محتاج نیت ہے اگر چہ حالت غضب ہو اگر چہ حالت مذاکرہ طلاق ہو۔درمختار میں ہے:
الحالات ثلثۃ رضی وغضب ومذاکرۃ والکنایات ثلث مایحتمل الرداومایصلح للسب اولا ولاففی الرضی تتوقف الثلثۃ علی نیۃ للاحتمال وفی الغضب الاولان وفی مذاکرۃ الطلاق الاول فقط ۔
حالات تین ہیں:رضاغصہ اور مذاکرہ طلاقاور کنائے تین ہیں:رد کا احتمال نہ رکھتا ہوتو رضا کی صورت میں تینوں احتمال ہوسکتے ہیں جس کی نیت کریگا وہی ہوگااورغصہ کی صورت میں پہلے دونوں اور مذاکرہ کی صورت میں صرف پہلا احتمال یعنی رد ہوسکتا ہے۔(ت)
اور جب وہ حلف کے ساتھ نیت کا انکار کرتا ہے تو یقینا اس کا قول ماناجائے گا۔نہ قاضی حکم طلاق دے سکتاہے نہ عورت اپنے آپ کو مطلقہ سمجھ سکتی ہے۔درمختار میں ہے:
والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ ۔
قسم کے ساتھ خاوند کی بات معتبر ہوگی اور بیوی کا گھر میں اس سے قسم لے لینا کافی ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٤
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٤
#14188 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ للاحتمال لما ذکرنا من ان کل واحد من الالفاظ یحتمل الطلاق وغیرہ والحال لاتدل علی احدھما فیسأل عن نیتہ ویصدق فی ذلك قضاء بدائع ۔
ماتن کے قول للاحتمال کی وجہ جو ہم نے ذکر کی کہ مذکور الفاظ میں سے ہرایك طلاق وغیر طلاق کا احتمال رکھتا ہے جبکہ حال کی دلالت کسی ایك پر نہیں لہذااس کی نیت پوچھی جائے گی اور قضاء اس کے بیان کی تصدیق کی جائے گیبدائع۔(ت)
ثانیا بالفرض لفظ"جواب"معنی رد وانکار کا صالح نہ ہوتا بلکہ جانے دیجئے یوں فرض کیجئے کہ وہ سرے سے کنایہ ہی نہ ہوتا بلکہ خاص صریح ہوتا جب بھی صورت مستفسرہ میں بعد اس کے کہ فضل کریم نے حلفا انکار نیت کیاحکم طلاق زنہار ممکن نہ تھا کہ یہاں عورت کی طرف اضافت نہیںصرف اتنا کہا ہے کہ"میری طرف سے جواب ہے"یہ کچھ نہ کہا کہ کس کو جواب ہےاور ترك اضافت ہمیشہ مانع حکم طلاق ہے جبکہ شوہر بحلف انکار نیت کرے۔فتاوی خانیہ میں پھرفتاوی خلاصہ پھر فتاوی عالمگیری میں ہے:
واللفظ للاولی رجل قال لامرأتہ فی الغضب اگر تو زن من سہ طلاق وحذف الیاء لاتطلق لانہ مااضاف الطلاق الیھا ۔
یعنی اگر کسی شخص نے اپنی عورت سے حالت غضب میں کہا"تو میری عورت ہے توتین طلاق"۔اور یوں نہ کہا کہ"تو میری عورت ہے تو تجھے تین طلاق"طلاق نہ ہوگی کہ جب اس نے"تجھے"کا لفظ نہ کہا تو طلاق کو عورت کی طرف اضافت نہ کیا۔
نیز فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی ثلاثا فقال الزوج اینك ہزار طلاق لاتطلق امرأتہ لانہ کلام محتمل۔
یعنی عورت نے شوہر سے کہا"مجھے تین طلاق دے دے"اس نے کہا"فی الحال ہزار طلاق"طلاق نہ ہوگی کہ اس میں اپنی عورت کو طلاق دینا صاف نہیں۔
فتاوی خلاصہ میں ہے:
قالت طلقنی فضربھا وقال اینك طلاق
یعنی عورت نے کہا"مجھے طلاق دے دے"اس پر
حوالہ / References ردالمحتار باب الکنایات احیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٦٥
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشورلکھنؤ ٢/٢١٥
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشورلکھنؤ ٢/٢١٥
#14189 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
لایقع ولوقال اینك طلاق یقع۔
مردنے اسے مارا اور کہا"فی الحال طلاق"طلاق نہ ہوگی اور اگر کہا"فی الحال تجھے طلاق"طلاق ہوجائیگی۔
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
رجل قال"نان خردیم ونبیذخوریم زنان ما بسہ"ثم قال لہ رجل بعد ماسکت"بسہ طلاق"فقال الرجل"بسہ طلاق"لاتطلق امرأتہ لانہ لما فرغ عن الکلام وسکت ساعۃ کان ھذاابتداء کلام لیس فیہ اضافۃ الی شیئ۔
ایك شخص نے کہا"ہم نے روٹی کھائی اور نبیذ پی ہماری عورتوں کو تین"پھر جب چپ رہا دوسرے نے اس سے کہا"تین طلاقیں"تو جواب میں اس نے کہا"تین طلاقیں"طلاق نہ ہوگی کہ جب وہ پہلی بات کہہ کر کچھ دیر چپ رہاتو اب یہ ابتدائی کلام ہوا اور اس میں کسی طرف اضافت نہیں۔
محیط پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
سئل شیخ الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدون ان اطلقك قالت نعم فقال بالفارسیۃ اگر تو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔
یعنی امام شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال ہو اکہ ایك شخص نے اپنی عوت سے نشہ میں کہا"کیا توچاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں"اس نے کہا"ہاں"مرد نے کہا"اگر تو میری جوروہے ایك طلاق دو طلاق تین طلاقاٹھ میرے پاس سے دور ہو"اور اس کا بیان ہے کہ اس نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کیتو اس کا قول معتبر ہے۔
امام اجل قاضی خان نے فرمایا:
لانہ لم یضف الطلاق الیھا
اس کا قول اس لئے معتبر ہوا کہ اس نے ان لفظوں میں طلاق کو عورت کی طرف نسبت نہ کیا تھا یعنی یوں نہ کہا تھا کہ اگر تو میری عورت ہے تو تجھے ایك طلاق دو طلاق تین طلاق۔فتاوی ذخیرہ پھر فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
سئل نجم الدین عمن قالت لہ امرأتہ مرا
امام نجم الدین رحمہ اﷲتعالی سے سوال ہوا ایك شخص
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ٢/٧٦
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٥
فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٨٣
فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٩
#14191 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
برگ باتوباشیدن نیست مراطلاق دہ فقال الزوج چوں تو روی طلاق دادہ شد وقال لم انوالطلاق ھل یصدق قال نعم۔
سے اس کی عورت نے کہا"تیرے ساتھ میرے رہنے کا فائدہ نہیں مجھے طلاق دے دے"شوہر نے کہا"تجھ جیسی کو طلاق دے دی گئی"اور کہا میری نیت طلاق کی نہ تھیکیااس کا قول مانا جائیگا۔فرمایا ہاں۔
فتاوی امام قاضی خاں پھر فتاوی بزازیہ میں ہے:
قال لھا لاتخرجی الابا ذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ ۔
یعنی عورت سے کہا"بے میری اجازت کے باہر نہ جانا کہ میں طلاق کا حلف کرچکا ہوں"۔عورت بے اجازت چلی گئیطلاق نہ ہوگی کہ اس نے یہ نہ کہا کہ تیری طلاق کا حلف کرچکا ہوں ممکن ہے کہ اورکسی کی طلاق کا حلف کیا ہوتو جب وہ اس عورت کو طلاق دینے کی نیت سے منکر ہے تو اس کا قول معتبر ہے۔
درمختار ہے:
لم یقع لترکہ اضافۃ الیھا۔
اس صورت میں طلاق اس لئے نہ ہوئی کہ عورت کی طرف طلاق کی اضافت نہ کی۔
کتب معتمدہ میں اس مسئلہ میں سندیں بہت بکثرت ہیں اور تمام تحقیق ہمارے رسالہ الکاس الدھاق باضافۃ الطلاق (ھ)میں ہے تو آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ جس شخص نے خود حکم بن کر یہاں حکم طلاق دیا اور حسینہ کے نکاح سے نکلنے کا فیصلہ کیا وہ اس کا محض جہل وظلم وزعم باطل تھا۔وہ حکم جہالت اور وہ فیصلہ بطالت اور وہ حکم بن بیٹھنا افتراء وضلالت۔
اولا اس نے اپنی جہالت سے لفظ"جواب ہے"کو محتمل دشنام ٹھہراکر اس بناء پر کہ یہ الفاظ فضل کریم نے بحالت غیظ وغضب میں کہے تھے قضاء وقوع طلاق کا حکم دیا اور نہ جانا کہ وہ محتمل رد ہے اور جو لفظ محتمل رد ہو اس سے کسی حالت میں بے نیت طلاق نہیں ہوسکتی نہ دیانۃ نہ قضاء۔ہدایہ میں ہے:
فی حالۃ الغضب یصدق فی جمیع
غصہ کی حالت میں مذکورہ تمام صورتوں میں قائل کی تصدیق
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣١٥
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ٤ /٢٧٠
درمختار کتاب الطلاق باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ١/٢١٨
#14193 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
ذلك لاحتمال الرد ۔
کی جائے گی کیونکہ رد کا احتمال ہے۔(ت)
کافی میں ہے:
فی مذاکرۃ الطلاق یقع الطلاق فی سائر الاقسام قضاء الافیما یصلح جوابا وردافانہ لایجعل طلاقا ۔
قضاء مذاکرہ طلاق میں تمام صورتوں میں طلاق واقع ہو جائیگی لیکن جن صورتوں میں جواب اور رد ہونے کا احتمال ہو ان صورتوں میں طلاق نہ ہوگی۔(ت)
ثانیا اسے نہ سوجھا کہ لفظ اضافت سے خالی ہے تو بحال انکار نیت حکم طلاق ناممکن ہے اگرچہ خود لفظ"طلاق"ہوتا جیسا کہ مسائل مذکورہ میں گزرانہ کہ لفظ"جواب"کہ کنایہ ہے اور وہ بھی محتمل رد وانکار۔محیط میں ہے:
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا ۔
یعنی جنس اضافت میں جب طلاق کو عورت کی طرف اضافت نہ کرے طلاق نہ ہوگی جب تك شوہر نیت نہ کرے۔
ثالثا اس نے عورت کو خود اپنے معاملے میں قاضی بتایا اس کا اگریہ مطلب کہ عورت خود حاکم ہے اوراس کا حکم مثل قاضی شرع نافذ وناطق ہے جب تو صریح جہالت ہےہاں جہاں کہ مرد خود حکم بن بیٹھتے ہوں وہاں کی عورتیں اگر خود قاضی بن بیٹھیں تو کیا عجب۔اور اگریہ مراد کہ الفاظ طلاق میں عورت کو وہی سمجھنا چاہئے جو عام لوگوں اور قاضی کو کہ دل کا حال اﷲ جانتا ہےیہ سب ظاہر پر عمل کرنے والے ہیں تو ہم درمختارو ردالمحتار وفتاوی قاضی خاں وفتاوی عالمگیری وفتاوی خلاصہ وفتاوی ذخیرہ وفتاوی بزازیہ وفتاوی محیط وبحرالرائق وکافی شرح وافی وہدایہ کے نصوص جلیلہ سنا چکے کہ اس صورت میں جبکہ شوہر بحلف منکرنیت ہے قاضی بھی طلاق نہیں ٹھہراسکتا تو عورت کیا چیز ہے۔
رابعا اس کی جہالت کا صاف واضح نمونہ وہ ہے کہ فضل کریم شہادت پیش کرنے میں قاصر رہا وہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ یہاں فضل کریم مدعا علیہ ہے اور حسینہ مدعیہ ہے مدعا علیہ کو شہادت کی کیا حاجت جس کے
حوالہ / References الہدایۃ فصل فی الطلاق قبل الدخول مکتبۃ العربیۃ کراچی ٢/٣٥٤
کافی
محیط
#14194 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
پیش کرنے سے اسے قاصر کیا جائے۔
خامسا حکم بننے میں اگر اس نے یہ زعم کیا کہ فضل کریم نے اسے حکم کیا اور وہ واقع میں ایسا نہ تھا تو اس نے ایك مسلمان پر افتراء کیا اور شرع مطہر میں مفتری کی سزا اسلام کے یہاں اسی کوڑے ہیں___ و لعذاب الاخرة اكبر (اور بیشك آخرت کاعذاب اور سخت تر)اور اگریہ ٹھہرایا کہ گو فضل کریم نے مجھے حکم نہ کیا مگر شریعت نے بے رضا وتحکیم خود حکم بن بیٹھنا اور فیصلہ کردینا جائز کیاہے اور ایسا فیصلہ شرعا صحیح ونافذ ہوتا ہے تو اس نے شریعت مطہرہ پر افترا کیااور شریعت مطہرہ پر افترا اﷲ عزوجل پر افترا ہے اور اﷲ عزوجل پر افترا بے ایمان ہی کرتا ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے: انما یفتری الكذب الذین لا یؤمنون جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو مسلمان نہیں۔
سادسا وہ جانتا تھا کہ شرع مطہر سے اس صورت میں حکم طلاق نہیں ہوسکتا اور پھر دانستہ خلاف حکم شرع حکم کیا جب تو ان آیات کریمہ سے اپنا حکم معلوم کرے کہ:
و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الظلمون(۴۵) و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الفسقون(۴۷) و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الكفرون(۴۴)
جو اﷲکے اتارے پر حکم نہ کریں وہ ظالم ہیںجو اﷲکے اتارے پرحکم نہ کریں وہ فاسق ہیںجو اﷲکے اتارے پرحکم نہ کریں وہ کافر ہیں۔
جب حکم شرع پر حکم نہ کرنے والوں کےلئے یہ احکام ہیں تو جو دانستہ حکم شرع کے خلاف کریں اور اسے حکم شرع بتائیں ان پرکس درجہ سخت تر ہوں گے اور اگر نہ جانتا تھا اور بے علم فتوی دیاتو اپنا حکم اس حدیث سے لے: افتوابغیر علم فضلوا واضلوا رواہ الائمۃ احمد و البخاری ومسلم والترمذی وابن ماجۃ عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲتعالی عنھما۔
بے علم فتوی دیا تو آپ بھی گمراہ ہوئے اور اوروں کوبھی گمراہ کیا(اسے امام احمدبخاریمسلمترمذی اور ابن ماجہ نے عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۹ /۲۶
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ٥ /٤٤تا٤٧
صحیح مسلم کتاب العلم باب رفع العلم وقبضہٖ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٣٤٠
#14196 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
اور اس حدیث سے معلوم کرے:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔(اسے ابن عساکر نے امیرا لمومنین حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
بلکہ نظر بواقع صورت حاضرہ میں دونوں شقیں موجود ہیںیہ حکم بن بیٹھنے والا خلاف شرع حکم دینے والا جاہل بھی ہےاس کا جہل خود اس کے اس حکم ہی سے ہم نے بوجوہ ظاہر کردیااور دیدہ ودانستہ خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنے والا بھی ہے کہ ابھی چند روز ہوئے بمقدمہ حاجی بنیاد علی بجنوری اس نے یہی جہالت کی تھی اوراس پر دارالافتاء سے تنبیہ کی گئی حکم صحیح بتایا گیا پھر سائل کے مقرر سوال بغرض دفع اوہام جہال پر دوبارہ مفصل فتوی مرسل ہوا تو حکم اگر جب نہ جانتا تھا اب معلوم تھا اور پھر قصدا اس کا خلاف کیاوالعیاذ باﷲ تعالی۔
سابعا اس نے یہ ما انزل اﷲ کاخلاف اپنی کسی خانگی بات میں نہ کیا بلکہ ایك مسلمان کی زوجہ کو ناحق ناروااسکے نکاح سے خارج ٹھہرا یا اور شوہر سے برگشتہ بنایااور یہ شیاطین کا کام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
و لكن الشیطین كفروا یعلمون الناس السحر الی قولہ تعالی فیتعلمون منهما ما یفرقون به بین المرء و زوجه ۔
شیاطین کافرہیں لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں(الی قولہ تعالی) جس سے مرد اور اس کی عورت میں جدائی ڈالتے ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من خبب امرأتہ علی زوجھا ۔رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن
جو کسی مرد سے اس کی زوجہ کو برگشتہ کرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں(اس کو ابوداؤد اور حاکم
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی حدیث ٢٩٠١٨ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ١٠/١٩٣
القرآن الکریم ٢ /١٠٢
القرآن الکریم ٢ /١٠٢
سنن ابوداؤد کتاب الطلاق باب من خبب امرأتہ علی زوجہا آفتاب عالم پریس لاہور١/٢٩٦
#14197 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیر والاوسط بنحوہ عن ابن عمر و ابویعلی بسند صحیح والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہم۔
نے ابوہریرہ سے طبرانی نے صغیر اور اوسط میں اسی طرح ابن عمرو سے ابویعلی نے بسند صحیح اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
اس حکم بننے والے کا جہل وظلم بہت وجوہ سے بیان ہوسکتا ہےاور یہ سات بعد دسبع سموات کیا کم ہیں واﷲتعالی اعلم
image
#14198 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
تصدقات علمائے بدایوں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
حامدا ومصلیا ومسلما
اگرزوج نے فقط یہی لفظ کہے تھے کہ"اگر عصر تك نہ آئیں تو نکاح سے میں تم کو علیحدہ کردوں گا"تو یہ تو فقط وعدہ ہے طلاق سے تعلق ہی کیا۔اور اگر یہ لفظ کہے تھے کہ"میری طرف سے جواب ہے"تو یہ کنایہ طلاق میں داخل ہوسکتا ہے مگر جب شوہر بحلف کہتا ہے کہ میری نیت نہ تھی تو اسی کا قول معتبر ہے جیسا کہ مجیب لبیب نے کتاب ردالمحتار وغیرہ سے ثابت کیاہےبہر حال صرف انہیں کلمات کی بناء پر باوجود حلف شوہر کے عدم نیت طلاق پر حکم طلاق بائن دے دینا ازروئے کتب فقہ حنفی صریح غلطی ہے کما فصلہ المجیب المصیبواﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔حررہ عبد الرسول محب احمد القادری عفا اﷲ عنہ
image
#14202 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
تصدقات علمائے دہلی
صورت مسئولہ میں طلاق بائن واقع ہونے کا فتوی باوجود انکار اور حلف فضل کریم کے بیشك غلط ہےصحیح یہی ہے جو مجیب صاحب نے تحریر فرمائیباقی رہی یہ بات کہ مفتی مخطی نے اگر عمدایہ کارروائی کی والعیاذباﷲتو بلاریب مسحق عذاب الہی ہے اور اگر سہوا ان سے غلط سر زد ہوگیا ہے اور وہ صاحب عالم ہیں اہل افتاء ہیں تو اس صورت میں عفو کے مسحتق ہیں۔
image
#14203 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
تصدقات علمائے میرٹھ
جواب مذکور الصدر درست ہے اور جواب میں جو عبارات بطور نقل تحریر فرمائی ہیں وہ جواب کی صحت کو آفتاب کی طرح روشن کرتی ہیںیہ عبارت کہ"اگر آپ عصر تك اپنے مکان پر نہ آئیں تو میری طرف سے جواب ہے"قابل غور ہےواضح لفظ"جواب"اردو زبان میں لفظ مشترك ہے او رلفظ مشترك بدون بیان احناف کے نزدیك قابل عمل نہیںاگر کسی آدمی نے وصیت کی کہ ثلث مال میرے موالی کو دینا اور وصیت کنندہ کا آزاد کرنے والا ہے اور وہ بھی ہے جس کو وصیت کنندہ نے آزاد کیاہے تو احناف کے نزدیك وصیت باطل ہے اور وجہ بطلان کی بیان کرتے ہیں کہ لفظ مولی مشترك ہے معلوم نہیں کہ حکم کا ذہن اس کے ادراك سے کیوں بے نصیب رہااور باوجود انکار وعدم اضافتجواب طلاق بائنہ کا ہار فضل کریم کی گردن میں کیوں چسپاں کردیاآفریں بادبریں ہمت مردانہ اوپس فیصلہ حکم کا جہالت پر مبنی ہے اور طریق احناف سے خارج ہےمیں فقہائے احناف کی عبارات نقل کرکے طول دینا نہیں چاہتاجواب میں جو عبارات تحریر فرمائی ہیں وہ کافی ہیں بلکہ عندا لانصاف کفایت سے زائد ہیںواﷲتعالی اعلم۔
image
تصدیقات علمائے احمد آباد
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الرؤف الرحیم
اما بعدبندہ نے اول سے آخر تك اس فتوی کو پڑھاحضرت مولنا مولوی حامئ دین متین جناب احمد رضاخاں صاحب عم فیضہ الصوری والمعنوی نے اس میں دریائے تحقیق بہادیا ہےاب جس میں مادہ ایمان ہے اس کے واسطے سوائے تسلیم کے اور س کے حکم کو سر پر چڑھانے کے چارہ نہیںاور جو لوگ اس فتوی کے خلاف حکم کرتے ہیں ان کے حال کو خاکسار اپنے احباب کو سمجھاتا ہے ان پر وحی شیطان کی نازل ہوتی ہے اس کی خبر رب العالمین اپنے کلام مجید میں دیتا ہے:
#14206 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا شیطین الانس و الجن یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کئے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایك دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات دھو کے کو۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
و یحسبون انهم على شیء-الا انهم هم الكذبون(۱۸) استحوذ علیهم الشیطن فانسىهم ذكر الله-اولىك حزب الشیطن-الا ان حزب الشیطن هم الخسرون(۱۹)
عزیزے شیطان لعین رادیدکہ فارغ نشستہ ست واز تضلیل واغوا خاطر جمع ساختہ آں عزیز سر آنرا پرسید لعین گفت کہ علمائے سوءایں وقت دریں کار بامن خود مدد عظیم کردندو مراازیں مہم فارغ ساختند والحق دریں زمان ہر سستی ومداہنتی کہ درامور شرعیہ واقع شدہ است وہر فتوے کہ در ترویج ملت ودین ظاہر گشتہ ست ہمہ از شومی علمائے سوء ست وفساد نیات ایشاں ۔
اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیاسنتے ہو بیشك وہی جھوٹے ہیںان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اﷲ کی یاد بھلادیوہ شیطان کے گروہ ہیں سنتا ہے بیشك شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔(ت)
ایك عزیز نے شیطان کو فارغ بیٹھا اور گمراہ کرنے اور حق سے ہٹانے کے کام سے مطمئن پایا تو عزیز نے اس سے وجہ پوچھی تو شیطان لعین نے کہااس وقت کے علمائے سوء اس کام میں میرے بڑے مددگار ہیں اور مجھے اس کام سے انہوں نے فارغ کردیا اور حقیقت یہی ہے کہ اس زمانے میں دین وشریعت کے امور میں جو سستی اور مداہنت اور ہر کرتاہی جو دین وملت کی ترویج میں ظاہر ہورہی ہے یہ تمام علمائے سوء کی نحوست اور بدنیتی کی وجہ سے ہے۔(ت)
یہ عبارت راقم نے مکتوبات امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس اﷲ سرہ العزیز کی جلد اول کے ص مکتوب سے نقل کی ہےاب جو لوگ شیطان کی وحی پر چلنا چاہتے ہیں وہ اپنے نفس کی شامت سے حزب الشیطان ہو جائیں ان کے جلانے اور سزادینے کے واسطے اﷲتعالی نے جہنم تیارکررکھی ہے اور جو شیطان سے
حوالہ / References القرآن الکریم ٦ /١١٢
القرآن الکریم ٥٨ /١٩۔١٨
مکتوبات امام ربانی مکتوب سی وسوم نولکشور لکھنؤ ١/٤٧
#14208 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
کفر کرتے ہیں اور خدائے تعالی پر ایمان لاتے ہیں ان کی فہمائش کےلئے علمائے ربانیین نے حکم شریعت مدلل لکھ دیا ہے فماذا بعد الحق الااضلال(پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ت)حضرت رب العزت تبارك وتعالی اس تحریر پر تنویر کو سبب ہدایت اپنے بندوں کا کرے امین ثم امین ھذاما عندیواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
image
#14209 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
تصدیقات علمائے مراد آباد
نحمدہ ونصلی علی حبیبہ الکریم
بے شك فضل کریم کا قول معتبر ہے جس حالت میں کہ وہ حلف کررہا ہے کیونکہ وہ مدعا علیہ ہےاور اس کے الفاظ طلاق نہیں ہیں کما صرحہ العلامۃ المجیب دامت برکاتھماوراگر اہالی زن کے بیان کر دہ الفاظ بھی ثابت ہوجائیں تو بھی حکم طلاق جہل محض ہےحضرت مجدد مائۃ حاضرہ متع اﷲ المسلمین ببرکات انفاسہ نے جو تحقیق فرمائی ہے بالکل حق وصواب ہے۔جزاہ اﷲتعالی احسن الجزاء وصلی اﷲتعالی علی خیر خلقہ سید نا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔
الجواب:
صحیح وصوابالعبد المسکین محمد عباد الدین عفی عنہ محمد نعیم الدین عفی عنہ
واضح ہوکہ صورت مسئولہ میں جو فضل کریم نے اپنی زوجہ حسینہ بی کے حق میں کہا کہ آپ آج اپنے گھر میں نہ آئیں تو میں آپ کو اپنے نکاح سے علیحدہ کر دوں گا انتہی۔اس سے ظاہرہے کہ یہ ایقاع طلاق کا وعدہ ہے اس میں طلاق کا وعدہ ہے اس میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔پھر اگر وہ مسماۃ اپنے گھر میں نہ آئیں جب بھی طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس میں محض ایقاع طلاق کا وعدہ ہے اور بعد نہ آنے اس کے فضل کریم سے ایقاع طلاق کے کوئی کلام(الفاظ)وقوع میں بھی نہ آئے بلکہ پیرایہ وعدہ ہی رہے لہذا طلاق شرعا ثابت نہیں ہوئی اور نہ اس عوت نے اپنے زوج فضل کریم سے سوال کیا تھا نہ اس کے متعلقین نے کہ تو اس کو طلاق دے دے تاکہ یہ صورت مذاکرہ طلاق کی ہوتیاور لفظ"جواب"کو"جو کلام دوسرے"فضل کریم میں واقع ہوا یعنی اگر آپ عصر تك مکان پر نہ آئیں تو میرا جواب ہے لیکن یہ کلام دوسرا بعد دیر کے اس نے کہا اور فضل کریم زوج مسماۃ مذکورہ کا ان الفاظ سے انکار ہے اور نیز حلف شرعی سے کہتا ہے یوں ہی ہو یا جو کچھ ہو میں نے اس سے زوجہ مذکور کو نیت طلاق کی نہیں کی تھیبعض متعلقین مسماۃ مذکورہ نے بیچارے فضل کریم کے ذمہ زبردستی سے اس لفظ کو چپکا دیا ور کسی ملا نے نافہمی اپنی سے مفہوم طلاق بائن کا سمجھ کر حکم طلاق بائن کادیا۔اور برتقدیر فرض اگر اس نے یہ لفظ کہا ہے جب بھی طلاق بائن نہیں ہوئی
اولا اس واسطے کہ یہ لفظ بعد دیر کےکہا پھر یہ کلام کلام جدید ہے اور اضافت اس میں
#14211 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
الی شیئ ناپدید ہے۔
قال قاضی خان فی فتاوہ رجل قال نان خوردیم ونبیذ خوردیم زنان مابسہ ثم قال لہ رجل بعد ماسکت بسہ طلاق فقال الرجل بسہ طلاق لاتطلق امرأتہ لانہ لما فرغ عن الکلام وسکت ساعۃ کان ھذا ابتداء کلام لیس فیہ اضافۃ الی شیئ۔
قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں فرمایاایك شخص نے کہا ہم نے روٹی کھائی اور نبیذ پیا ہماری عورتوں کو تینپھر کچھ دیر بعد اس کو ایك شخص نے کہا"تین طلاقیں"تو اس نے کہا"تین طلاقیں"تو اس کی بیو ی کو طلاق نہ ہوئی کیونکہ جب خاموش ہوکر کچھ دیر کے بعد کہا تو یہ نیاکلام ہے اور اس میں اضافت کسی کی طرف نہ پائی گئی۔(ت)
ثانیا یہ کہ لفظ"جواب"موضوع واسطے طلاق کے نہیں ہے بلکہ یہ ایك ہندی کلمہ ہے کہیں بمعنی ترك و رد کے آتاہےچنانچہ زید نے عمرو سے کچھ مانگا اس نے جواب دیا یعنی رد کیا کچھ نہ دیا خالی ہاتھ چلا گیادوسرا یہ کہ خالد نے مثلا بکر سے سوال کیا نماز میں کتنے فرض اور کتنے واجب ہیں اس کا جواب دےدیا یعنی اس کے سوال کو تسلیم کرکےا س کا جواب دیا یعنی رد نہ کیا بتلادیا اتنے فرض ہیں اتنے واجب ہیں۔اور کبھی ایك شیئ کے مقابلہ میں دوسری شیئ تیار کی جائے ا س کو ہندی میں جواب کہتے ہیںمثلا ایك شخص نے مکان بنایا اور اس میں چار در اور چار طاق محاذی ایك دوسرے کے بنائے اس کو اردو میں ایك دوسرے کا جواب کہتے ہیں۔اور یہ بھی مفہوم لفظ جواب کا ہوسکتا ہے کہ اگر تم اپنے گھر نہ آئیں تو ہمارا بھی جواب ہے یعنی ہم بھی تمہارے گھر نہ آئیں گے۔اور یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ تم ہم سے اگر قرینہ نیك سے اورحسن معاشرت سے رہوگی تو ہم بھی اسی قاعدہ سے رہیں گے اگر تم ہم سے سر کشی رکھوگی ہم بھی سرکشی رکھیں گے۔اور یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ پہلے اس سے اس مخاطبہ نے اپنے زوج فضل کریم سے کوئی چیز مانگی ہوتو اس کے دینے میں سکوت کیا اور وہ رنجیدہ ہوکر اپنے گھر چلی گئیجب اس نے اس مسماۃ سے جاکر کہا کہ تم اپنے گھر چلو اس نے نہ مانا تو اس کے مقابلہ میں زوج نے کہا کہ ہمارا بھی جواب ہےتو اس طرح سے یہ لفظ جواب اردو میں چند معنی میں مستعمل ہوتا ہے توپھر لفظ جواب سے خاص کر طلاق بائن کا مفہوم سمجھنا دلیل نافہمی کی ہے
کما حققہ الفاضل المحقق الکامل جناب مولنا احمد رضاخان صاحب دام مجدھم بعد التی والتیاما ترک
جیسا کہ اس کی تحقیق فاضل محقق کامل جناب مولانا احمد رضاخاں صاحب دام مجدہ نے فرمائی بہر صورت انہوں نے اس معاملہ میں تحقیق میں
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق مطبع نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٥
#14212 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
المحقق المذکور من التحقیق فی ھذا الامرشیأ لعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا۔واﷲ اعلم وعلمہ اکمل واتم۔
کوئی کمی نہ چھوڑیہوسکتا ہے اﷲ تعالی اس کے بعد کوئی مزید سبیل پیدا فرمادےواﷲتعالی اعلم وعلمہ اکمل واتم۔ (ت)
عبد الباری
قد ضل المجیب السابق فی فھمہ ضلالا بعیدا وقد صارفی ردہ المحقق المذکور مولنا مصیبا۔
پہلے مجیب اپنے فہم میں زیادہ بھٹك گئے اور ان کے جواب اور رد میں محقق مذکور نے درست فرمایا۔(ت)
کتبہ المعتصم بحبل اﷲ الاحد محمد ابوالفضل المدعو بفضل احمد
تصدیقات علمائے لاہو ر
الحق حق لاشك فیہمحمد عبدالعزیز عفی عنہ مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور
ھذا الجواب صحیح والمجیب نجیحمحمد یار عفی عنہ امام مسجد طلائی لاہور بقلمہ
ھذاھوالحقفقیر محمد شفیق بگوی حنفی نقشبندی خطیب مسجد شاہی لاہور
ھذاھو الحق المبینالراجی الی الہ العلمینالمسکین اﷲ دین مدرس اول مدرس نعمانیہ لاہور
الجواب صحیحمحمدذاکر بگوی عفی عنہ مدرس اول حمیدیہ
الحق لایتعداہ المومنونعبیدہ اصغر علی المدارس العربیۃ
المجیب مصیب فیما اجاب فﷲ درہ فیما اجتھد واصابکتبہ العبد الضعیف المسکین محمد اکرام الدین البخاری عفی عنہ الباری مشہور بواعظ الاسلام حال خطیب وامام فی مسجد نواب وزیر خان رحمہ اﷲ الملك المنان لاہور۔
تصدیقات علمائے بمبئی
بسم اﷲالرحمن الرحیمحامداومصلیا ومسلماجو کچھ اعلحضرت عظیم البرکت امام اہلسنت
#14213 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
مدظلہم العالی نے صورت مسئولہ طلاق کے عدم وقوع کی نسبت ارشاد فرمایا ہے اور جابر حکم کے فیصلہ باطلہ کی نسبت فرمایا:تو آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ جس شخص نے خود حکم بن کر یہاں حکم طلاق دیا اور حسینہ کے نکاح سے نکلنے کا فیصلہ دیا وہ اس کا محض جہل وظلم وزعم باطل تھا وہ حکم جہالت اور وہ فیصلہ بطالتوہ حکم بن بیٹھنا افتراء وضلالت"۔یہ سب صحیح ہے مسلمانوں پرلازم ہے کہ ایسے جاہل مضل سے دور رہیں اور اس کے ایسے باطل فیصلہ پر ہرگز ہرگز عمل نہ کریں۔
حررہ العبد الفقیر محمد عمرالدین السنی الحنفی القادری الہزاروی عفا اﷲتعالی عنہ
بسم اﷲالرحمن الرحیم
جو کچھ کہ اعلحضرت امام المسلمین مراد المومنین مولنا وسیدنا احمد رضاخان صاحب مدظلہم العالی نے عدم وقوع طلاق کے بارے میں تحریر فرمایا ہے وہ سب صحیح ہے اور اس حکم جاہل کا فیصلہ بالکل لغو وقبیح ہے۔
حررہ الاحقر محمد عبدالرزاق السنی الحنفی القادری المقتدری عفا اﷲتعالی عنہ
حامدا ومصلیا ومسلما
اما بعد خاکسارامید وار رحمت پروردگار نے یہ جواب کاشف حجاب عجب العجاب من اولہ الی آخرہ بنظر غور دیکھاالحمدﷲ دربارہ عدم وقوع طلاق وضوح حق نے سروردیا حق تعالی جل شانہ اعلحضرت عظیم البرکۃ واقف حقیقت مروج شریعت مجدد طریقت حکیم الامت علامہ زمان وفہامہ یگان مولنا وبالفضل اولنا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہم العالی کو دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے اور جمیع اہلسنت وجماعت کو اس پر عمل کی توفیق بخشےآمین ثم آمین!
حررہ حافظ عبد الحلیم السنی الحنفی القادری امام مسجد جاملی محلہ بمبئی
ما اجاب المجیب اللبیب فہو فیہ مصیب۔حررہ خادم الشرع القاضی
اسمعیل الجلمائی الشافعی عفا اﷲ تعالی عنہ وعن والدیہ وعن استاذیہ وعن المومنینآمین یا رب العالمین!
تصدقات علمائے پیلی بھیت
مجدد مائۃ حاضرہ صاحب حجت قاہرہ اعلحضرت مولنا وسید نا مولوی احمد رضا خان صاحب
#14214 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
امام اہلسنت کا جواب بتوفیق رب الارباب عین صواب ہے فقط۔
image
مسئلہ: از بنگالہ ضلع نواکھالی ڈاك خانہ بیگم گنج مرسلہ مولوی عبد المجید صاحب شنوپوری محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی بی بی کو بعد نماز مغرب کے کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہےبعدہ وہ بی بی عشاء کی نماز نہیں پڑھیفجر سے لے کر نماز شروع کیاور وہ شخس بعد فجر کے رجعت بھی کرلیا ہےپھر چند برس کے بعد وہ شخص اور دو طلاق بلاشرط دیا اب اس شخص کا رجعت کرنا جائز ہے یانہیں کیونکہ دو طلاق سابق اور یہ دو طلاق مجموعہ چار طلاق ہوئیاب سہ طلاق ہوکر محرمہ ابدی ہوئی یا نہاور سابق دو طلاق کو جب نماز پر شرط کیا اور نماز بھی نہ پڑھی یعنی عشاء کیتو طلاق ہوگی یانہبینوامع الدلیل(دلیل کے ساتھ بیان کئے۔ت)۔بعض عالم کہتے ہیں
#14215 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
اول جو طلاق نماز پر شرط کیا تھا نہیں واقع ہوگی کیونکہ قول زوج کا"اگر نماز نہ پڑھے گی"مستقبل کی طرف اشارہ ہے اور مستقبل تا حیات کے لئے ہوتا ہےاور ثانی جو دو طلاق بلاشرط ابھی دیا ہے اس کے لئے رجعت جائز ہے اور دوسرے طرف کے علماء کہتے ہیں اب رجعت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ سہ طلاق ہو کر مغلظ ہو گئی ہے اس وجہ سے کہ اول جو دو طلاق شرط نماز پر کیا تھا تا حیات پرموقوف نہیں کیونکہ زوج کی مقصود اور نیت یہ ہے کہ زوجہ کبھی نماز نہ چھوڑےاور تاکید حکم شرع پر کرتا ہے اگر ایك وقت نماز چھوڑے گی توامر صادق آویگیاور رامپور کےبعض علماء کہتے ہیں اول دو طلاق بائن واقع ہوگی کیونکہ طلاق رجعی کی جب شرط پر معلق کرتا ہے تو بائن ہوجاتا ہے اور بائن کےلئے در مدت نکاح جدید چاہئے جب نکاح جدید در مدت نہ کیا اور مدت گزرگیا اب بعدہا طلاق صحیح نہیں ہے فقط اول دونوں طلاق واقع ہوں گی اور بعد کے طلاق کی ملك نہیں ہے۔
الجواب :
اللھم لك الحمد اسألك ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! تیرے لئے حمد ہےمیں تجھ سے حق اور صواب کی رہنمائی طلب کرتا ہوں۔ت)فقیر نے ہرسہ فریق علمائے بنگالہ وبعض علمائے رامپور کے اقوال مذکور اور دلائل مزبور مطالعہ کئے جہاں تك اپنی نظر قاصر کا مبلغ بحکم خیرالامور اوسطھا(درمیانی چیز بہتر ہے۔ت)ان میں قول وسط عدل و وسط و صحیح وبے غلط ہےفریق سوم کا زعم تو محض باطل وبے اصل ہے تعلیق ربط مضمون جملہ بمضمون آخر ہے نہ کہ خبط مضمون بربط آخر ان دخلت الدار فانت طالق(اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق۔ت)کہنے والے نے انت طالق کے مفاد شرعی کو دخول دار پر معلق کیا تو ہنگام دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا نہ کہ مفا دسے عدولاور قطعا معلوم کہ اس کا مفاد نہیںمگر طلاق رجعی یہاں تك کہ اگر انت طالق کہے تو طلاق بائن کی نیت کرے جب بھی رجعی ہوگی کہ وہ تغییر حکم شرع پر قدر ت نہیں رکھتاتنویر میں ہے:
صریحہ کطلقت وانت طالق ومطلقۃ یقع بھا واحدۃ رجعیۃ وان نوی خلافھا ۔
صریح طلاق یہ ہے"میں نے تجھے طلاق دیتو طلاق والی ہےتو مطلقہ ہے"جیسے الفاظ ہیںان الفاظ سے ایك رجعی طلاق ہوگی اگرچہ نیت اس کے خلاف بھی کرے۔(ت)
ہدایہ میں ہے۔
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ١/٢١٨
#14217 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
انت طالق ومطلقۃ وطلقتك فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی ولایفتقرالی النیۃ وکذا اذا نوی الابانۃ لانہ قصدالتنجیز ماعلقہ الشرع بانقضاء العدۃ فیرد علیہ (ملخصا)
تجھے طلاقتو مطلقہ ہےمیں نے تجھے طلاق دیان الفاظ سے رجعی طلاق ہوگی اور کسی نیت کی ضرورت نہیں ہےیونہی اگر ان الفاظ سے بائنہ طلاق کی نیت کرے تب بھی رجعی ہی ہوگی کیونکہ شریعت نے ان الفاظ سے طلاق بائنہ کو عدت ختم ہونے تك معلق رکھا ہے جبکہ طلاق دینے والے نے فی الحال نافذ ہونے کی نیت کی ہے اس لئے بائنہ نہ ہوگی(ملخصا)۔ (ت)
ہمارے علماء کرام کے نزدیك وقت حلول شرط نزول جزایوں ہوتا ہے کہ گویا اس وقت تکلم بالجزامنجز واقع ہوا اور ظاہر ہے کہ انت طالق کا تکلم ہرگز مفید نہ ہوگا مگر طلاق رجعی کا۔فتح القدیر میں ہے:
انہ ینزل سببا عندالشرط کانہ عندالشرط اوقع تنجیزا ۔
کیونکہ طلاق کا سببشرط پائے جانے پر وارد ہوتا ہے گویا کہ شرط پائے جانے پر وہ طلاق بول کرنافذ کررہا ہے۔(ت)
ظاہرا ان بعض علماء کو ایك عبارت درمختار نے دھوکا دیا کہ اواخرباب طلاق بالصریح میں فرمایا:
لوقال انت طالق علی ان لارجعۃ لی علیکلہ الرجعۃ وقیل لاجوھرۃ و رجح فی البحر الثانیخطأ من افتی بالرجعی فی التعالیق وقول الموثقین تکون طالقا طلقۃ تملك بھا نفسھا
اگر کہا"تجھے اس شرط پر طلاق ہے کہ مجھے رجوع کا اختیار نہیںتو اس کو رجوع کا حق باقی ہوگا۔بعض نے کہا اس کو رجوع کا حق نہیں ہے۔جوہرہ۔بحر میں دوسرے قول کو ترجیح دے کر کہا کہ جس نے معلق طلاق میں رجوع کا فتوی دیا اس نے خطا کی ہےاور پختہ کار لوگ فرماتے ہیں کہ مذکورہ صورت میں ایسی طلاق ہوگی جس میں اختیار بیوی کو ہوگا کہ وہ نکاح دوبارہ کرے یا نہ کرے یعنی بائنہ طلاق ہوگی۔(ت)
اس عبارت میں جملہ"وخطأ من افتی الخ"کے یہ معنی سمجھ لیے کہ علامہ بحرصاحب بحر رحمہ اﷲ تعالی نے مطلقا تعلیقات میں طلاق رجعی ماننے کو خطا ٹھہرایاحالانکہ یہ محض سوئے فہم یا قلت تدبر سے ناشی ہے یہاں
حوالہ / References الہدایۃ باب ایقاع الطلاق المکتبۃ العر بیۃ کراچی ١/٣٣٩
فتح القدیر باب الایمان فی الطلاق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣/٤٤٥
درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٢
#14218 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
خاص صورت یہ زیر بحث ہے کہ جزائے معلق میں وصف بینونت مذکور ہومثلا:
ان دخلت الدار فانت طالق طلاقا لارجعہ لی علیك فیہ یا ان تفعل کذاتکن طالقا طلقۃ تملك بھا نفسھا۔
اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو وہ طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہویا یوں کہے اگرتو یہ کام کرے تو تجھے وہ طلاق ہے جس میں اختیار تیرے ہاتھ میں ہو۔(ت)
عبارت درمیں
وقول الموثقین بالجر زیر فی داخل
(قول الموثقین جرکے ساتھ التعالیق پر داخل"فی"کے تحت ہے۔ ت)
اور التعالیق کا عطف تفسیری ہےبحر۔ردالمحتار میں ہے:
قولہ وخطاء ای نسبہ الی الخطاءوقولہ وقول الموثقین بالجر قال ح عطف تفسیر علی التعالیق قلت واصل المسئلۃ التی ذکرھا صاحب البحروقد الف فیھا رسالۃ ایضاھی ان رجلا قال لزوجتہ متی ظھر لی امرأۃ غیرك فانت طالق واحدۃ تملکین بھا نفسکثم ظھرلہ امرأۃ غیرھا فاجاب فیھا بانہ بائن و ردمن افتی رجعی (ملخصا)
اس کا قول کہ"خطاء"یعنی اس کو خطاء کی طرف منسوب کیااور اس کا قول"قول الموثقینجریعنی زیر کے ساتھتو اب اس کا تعالیق پر عطف تفسیری ہوگا۔قلت اصل مسئلہ وہ ہے جس کو صاحب بحر نے ذکر کیا اور اس پر رسالہ بھی لکھا ہے کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا کہ اگرتیرے سوا کوئی میری بیوی معلوم ہوجائے تو تجھے ایك طلاق ہے جس میں تجھے اپنا اختیار ہوگااس کے بعد اس شخص کی دوسری بیوی معلوم ہوئی تو بحر والے نے جواب دیا کہ یہ طلاق بائن ہوگیاور انہوں نے اس شخص کا رد بھی کیا جس نے اس کے رجعی ہونے کا فتوی دیا(ملخصا)(ت)
خود علامہ بحر کی عبارت سنئے کہ در سے روشن تر ہے بحر میں فرماتے ہیں:
فی الجوھرۃ قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیك یلغو ویملك الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال
جوہرہ میں ہے کہ اگر ایك شخص نے بیوی کوکہا تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوع اختیار نہ ہوگاتو ایسی میں رجوع نہ ہونے کی شرط لغواور اس طلاق پر خاوند کو رجوع کااختیار باقی رہے گااور بعض نے کہا ہے کہ یہ ایك بائنہ طلاق ہوگی اھ
حوالہ / References ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٥٠
#14219 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
واذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا وقال الشافعی یقع رجعیا اذاکان بعد الدخول لانہ وصفہ بالبینونۃ خلاف المشروع فیلغو کما اذا قال انت طالق علی ان لارجعۃ لی علیك ولنا انہ وصفہ بما یحتملہ ومسئلۃ الرجعۃ ممنوعۃ اھقال فی العنایۃ ای لانسلم انہ لایقع بائنا بل تقع واحدۃ بائنۃ اھ وھکذا فی فتح القدیر وغایۃ البیان والتبیین فقد علمت ان المذھب وقوع البائنوقد تمسك بہ بعض من لاخبرۃ لہ ولادرایۃ بالمذھب علی ان قول الموثقین فی التعالیق تکون طالقا طلقۃ تملك بھا نفسھا لایوجب البینونۃ مستدلابانہ لوقال انت طالق علی ان لارجعۃ کان رجعیاوھو خطأ وقد اوسعت الکلام فیھا فی رسالۃ اھ ملخصا۔
جبکہ ہدایہ کی عبارت سے ظاہر یوں ہےکہ دوسرا قول راجح ہےکیونکہ انہوں نےیوں فرمایا کہ جب طلاق کو ایسے وصف سے موصوف کیا جائے جو شدت اور زیادتی پر دلالت کرے تو وہ طلاق بائنہ ہوتی ہے اور امام شافعی نے فرمایا کہ یہ طلاق رجعی ہوگی بشرطیکہ بیوی سے دخول کرچکا ہو کیونکہ اس نے صریح ایك طلاق کو بائن کے وصف سے موصوف کیا ہے جو کہ خلاف مشروع ہے لہذا یہ وصف لغو ہوگاجیسا کہ کوئی یوں کہے کہ تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا اختیار نہ ہوگا تو رجوع کا حق باقی رہے گا اور طلاق رجعی ہوگیاورامام شافعی رحمہ اﷲ تعالی کے اس قول کے مقاملہ میں ہماری دلیل یہ ہے کہ خاوند نے طلاق مذکورہ کو ایسے وصف سے موصوف کیا جس کا اس میں احتمال بن سکتا ہے اور جس مسئلہ پر آپ نے قیاس کیا یعنی رجوع نہ کرنے کی شرطتوہمارے لئے وہ ایسے نہیں ہے بلکہ وہ طلاق بائنہ ہے اھ۔ عنایہ میں حنفی مسلك کی تائید میں فرمایا کہ مذکورہ صورت میں بائنہ طلاق نہ ہونا تسلیم نہیں کرتے بلکہ ایك طلاق بائنہ ہوگی اھ عنایہ کے علاوہ فتح القدیرغایۃ البیان اور تبیین میں ایسے ہی ہےاور آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ حنفی مذہب میں طلاق بائنہ ہوگیجن لوگوں کومذہب کی خبر اور سمجھ نہیں انہوں نے یہاں استدلال کیا ہے کہ"قول الموثقین فی التعالیق"سے مراد یہ ہے کہ اگر خاوند بیوی کو کہے کہ"تجھے ایك رجعی طلاق جس میں تجھے اپنا اختیار حاصل ہے"تو اس میں طلاق بائنہ نہ ہوگیاس پر انہوں نے دلیل یہ دی کہ اگر کوئی بیوی کو کہے کہ تجھے ایك طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا اختیار نہ ہوگاتو یہ بھی رجعی طلاق ہوگیحالانکہ ان لوگوں کا یہ بیان واستدلال خطأ ہےاور میں نے اس بات کو تفصیل سے رسالہ میں لکھا ہے اھ ملخصا(ت)
حوالہ / References بحرالرائق فصل انت طالق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/٢٩١
#14221 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
نیز علامہ بحر کے اس رسالہ میں جس کا حوالہ ردالمحتار اور خود بحرالرائق میں گزرا یہاں وقوع بائن کی علت زیادۃ لفظ تملك بھا نفسھابیان فرمائی نہ یہ کہ نفس تعلیق موجب بینونت ہے رسالہ مذکورہ میں بعد بیان صورت واقعہ فرماتے ہیں:
وقع الطلاق ما ینبئی علی الزیادۃ وھو قولہ تملك بھا نفسھا فیکون بائنا وان کان صریحافی البدائع البائن ان یکون بحروف الابانۃ او بحروف الطلاق لکن موصوفا بصفۃ تنبئی عن البینونۃ اھ ولاشك ان قولہ تملك بھا نفسھا یکون بالبائن لابالرجعی فی فتح القدیر لاتملك نفسھا الابالبائن اھ مختصرا
یہاں طلاق کا وقوعزائد الفاظ یعنی"وہ اپنے نفس کی مالك ہوگی"کے ساتھ ہوگالہذا یہ طلاق بائن ہوگیاگرچہ صریح طلاق مذکور ہےبدائع میں ہےکہ کسی جدائی والے لفظ یا لفظ طلاق کو جدائی والے کسی لفظ سے موصوف کردیا جائےتو یہ بائن طلاق ہوگی اھاور اس میں شك نہیں کہ عورت کو اپنے نفس کا اختیار بائن طلاق سے حاصل ہوتا ہے رجعی سے نہیں ہوتا۔فتح القدیر میں ہے کہ رجعی طلاق میں عورت کو اپنے نفس کا اختیار حاصل نہیں ہوتااور بدائع میں ہے کہ عورت اپنے نفس کی مالك صرف بائن طلاق سے بنتی ہے اھ مختصرا (ت)
مطلقا تعلیق سے بائن کا وقوع علاوہ ان دلائل واضحہ کے کہ صدر کلام میں معروض ہولئے صدہا فروع منصوصہ فی المذہب سے باطل ہے۔اسی درمختار میں ہے:
علق الثلث بالوطء حنث بالتقاء الختانین ولم یجب العقر باللبث بعد الایلاج ولم یصربہ مراجعا فی الطلاق الرجعی الااذااخرج ثم اولج فیصیر مراجعا ۔
خاوند نے اگر طلاق مغلظہ کو وطی سے معلق کیا تو وطی کے ابتدائی مرحلہ میں دونوں شرمگاہوں کےملنے پر ہی طلاق ہوجائے گی اور دخول کے بعد وقفہ پر بیوی کے لئے جوڑا (عقر) لازم نہ ہوگا اور نہ ہی اس کو طلاق رجعی میں رجوع قرار دیا جائے گاہاں اگر دخول کے بعد شرمگاہوں کے جداہونے کے بعد دوبارہ دخول کیا تو رجوع قرار پائے گا۔(ت)
حوالہ / References الرسالۃ السابعۃ فی الطلاق المعلق علی الابراء ھل ھورجعی او بائن مع الاشباہ والنظائر۔ادارۃ القرآن کراچی ٢/٢٦
درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٢و ٢٣٣
#14223 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فی الطلاق الرجعی ای فیما اذاکان المعلق علی الوطی طلاقا رجعیا ۔
ماتن کا قول کہ"رجعی طلاق میں"یہ وہ صورت ہے جس میں رجعی طلق کو وطی کے ساتھ معلق کیا ہو۔(ت)
اسی طرح بحرالرائق وہدایہ وفتح القدیر وعامہ کتب مذہب میں ہے۔خود رسالہ مذکورہ علامہ زین میں بعد بیان صورت واقعہ کہ زوج نے کہا تھا:
متی ابرأیتنی من مھرك فانت طالق الخ
تو مجھے مہر سے بری کردے تو تجھے طلاق ہے الخ(ت)
اور اثبات بینوت بوجہ زیادت صفت متقدمہ بیان فرمایا:
فان قلت لولم تجعلہ بائنا بسبب اشتراط الابراء من المھرفان الطلاق الموقع فی مقابلۃ الابراء یکون بائناوعﷲ فی التجنیس بانہ یقع بعوض وھو لالہ اھ قلت فی مسئلتنا جعل الطلاق معلقا بالابراء شرطا لہ لاعوضافلذالم تجعلہ بائنا الاان یوجد نقل یدل علی ذلك اھ ملتقطا۔
اگر تو اعتراض کرے کہ مہر سے بری کرنے کی شرط پر طلاق کوتم نے بائنہ کیوں نہ بنایاکیونکہ ابراء کے مقابلہ میں طلاق بائنہ ہوتی ہے نہ کہ شرط سےتجنیس میں اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس صورت میں یہ طلاق الیسے عوض کے مقابلہ میں ہے جو خاوند کے حق میں نہیں اھ میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں طلاق کو ابراء سے معلق کیا گیا ہے جس میں ابراء کو شرط بنایا ہے عوض نہیں بنایااسی لئے تو ہم نے اس کو بائن نہیں بنایا الایہ کہ کوئی نقل اس پر مل جائے جو ا س پر دلالت کرے اھ ملتقطا۔(ت)
نیز فتح القدیر میں زیر مسئلہ آتیۃ قریبا انت طالق ان لم اطلقک(اگر تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے۔ت)ارشاد فرمایا:
الطلاق یتحقق منہ الیاس بموتھا واذا حکمنا بوقوعہ قبل موتھا
کہ طلاق سے مایوسی عورت کی موت سے ہی ہوسکتی اور جب ہم بیوی کی موت سے قبل وقوع طلاق کا حکم
حوالہ / References ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ١/٥٠٨
الرسالۃ السابعۃ فی الطلاق المعلق الخ مع الاشباہ والنظائر ادارۃالقرآن کراچی ٢/٨٣٩
#14225 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
لایرث منھا الزوج لانھا بانت قبل الموت فلم یبق بینھما زوجیۃ حال الموت وانما حکمنا بالبینونۃ وان کان المعلق صریحا لانتفاء العدۃ کغیرالمدخول بھا لان الفرج ان الوقوع فی اخرجزء لایتجزأ فلم ینلہ الالموت وبہ تبیین اھ
دیں تو خاوند اس بیوی کا وارث نہ ہوگاکیونکہ موت سے طلاق بائنہ ہوتی ہے تو موت کے وقت زوجیت دونوں کی ختم ہوچکی ہوگیاور بیشك ہم نے اس طلاق کو بائنہ قرار دیاہے اگر چہ لفظوں میں یہ صریح طلاق ہےکیونکہ اس پر عدت نہیں ہوتی جیسا کہ قبل دخول طلاق کی صورت میں ہوتا ہے اس لئے کہ فرض یہ کیا ہوا ہے کہ موت سے قبل ایك ادنی جز جس میں موت کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا تھا اس میں طلاق واقع ہوئی اس سے وہ بائنہ بن گئی اھ۔(ت)
بالجملہ امرواضح اور بشدت وضوح ایضاح سے مستغنی ہے۔رہا فریق اول الفاظ کہ زبان زوج سے نکلے یعنی اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہےاگر لغۃ ان کا مفاد دیکھا جائے تو واقعہ اسی قدر ہے جوا س فریق نے سمجھا اس لئے کہ یہاں معلق بہ عدم یعنی نماز نہ پڑھنا ہے اور عدم متحقق نہ ہوگا مگر عورت کے آخر جزء حیات میں اگر آج سے عمر بھر کبھی کوئی نماز نہ پڑھتی تو عدم مذکور صادق آتا اور عورت کی پچھلی سانس پر طلاق نازل ہوتی یہاں تك کہ اس نے صبح کی نماز پڑھی تو عدم معدوم اور اس کا نقیض موجود ہواتو چاہئے تھا کہ یہ دو طلاقیں اصلا نہ پڑتیں۔ہدایہ فصل اضافۃ الطلاق الی الزمان میں ہے:
العدم لایتحقق الابالیأس عن الحیاۃ وھو الشرط کما فی قولہ ان لم ات البصرۃ ۔
عدم طلاق کا تحقق صرف زندگی سے مایوس ہوجانے پر ہوسکتا ہے جبکہ طلاق نہ دینا شرط ہےجیسا کہ کوئی یوں کہے"اگر میں بصرہ نہ آؤں"تو بصرہ میں نہ آنا زندگی بھر میں متوقع رہتاہے صرف موت سے ہی یہ توقع ختم ہوتی ہے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
ولوقال انت طالق ان لم اطلقك لم تطلق حتی یموت باتفاق الفقہاء لان الشرط ان لایطلقھا
اگر خاوند نے کہا"اگر تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے"کی صورت میں موت کے بغیر طلاق نہ ہوگیاس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہےاس لئے کہ طلاق
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ٣/٣٧٣
الہدایۃ فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان المکتبۃ العربیۃ کراچی ١/٣٤٥
#14227 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
وذلك لایتحقق الابالیأس عن الحیاۃ لانہ متی طلقھا فی عمرہ لم یصدق انہ لم یطلقھا بل صدق نقیضہ وھو انہ طلقھا والیأس یکون فی اخرجزء من اجزاء حیاتہ ۔
نہ دینے کی شرط ہےاور یہ شرط تاحیات متحقق نہ ہوگی صرف زندگی سے مایوسی پر ہی متحقق ہوگیکیونکہ زندگی میں جب طلاق دے گا تو طلاق نہ دینا صادق نہ آئے گا بلکہ اس کی نقیض صادق آئے گیاور وہ یہ کہ اس نے طلاق دی ہےاس لئے طلاق نہ دینا عمر کے آخری ادنی جزء میں معلوم ہوسکے گا اور وہی زندگی سے مایوسی کا وقت ہے۔(ت)
مگر یہاں ایك نکتہ بدیعہ ہے جس سے غفلت اس فریق کے لئے باعث غلط ہوئی۔الفاظ کا مفاد لغو ہمارے ائمہ کے نزدیك مبنائے یمین نہیں بلکہ معانی عرفیہ پر بنائے کا رہے۔درمختار میں ہے:
الاصل ان الایمان مبنیۃ عند الشافعی رحمہ اﷲ تعالی علی الحقیقۃ اللغویۃ وعند مالك رحمہ اﷲ تعالی علی الاستعمال القرانی وعند احمد رحمہ اﷲ تعالی علی النیۃ وعندنا علی العرف مالم ینو ما یتحملہ اللفظ۔
امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی کے ہاں قسم میں حقیقی لغوی معنی کا لحاظ کیا جاتا ہے اور اما م مالك رحمہ اﷲکے ہاں قسم میں قرآن پاك میں استعمال شدہ الفاظ ومعانی کا لحاظ کیا جاتا ہے جبکہ امام احمد رحمہ اﷲ تعالی عنہ کے ہاں نیت کا لحاظ ہوتا ہے اور ہمارے احناف کے ہاں قسم میں عرفی معانی کا اعتبار ہوتا ہے بشرطیکہ قسم والے نے کسی احتمالی معنی کی نیت نہ کی ہو۔(ت)
اور اغراض ومقاصد جس قدر مفاد لفظ سے زائد ہوں یعنی عموم واطلاق بھی انہیں متناول نہ ہو ملحوظ نہیں ہوتے۔الایمان مبینۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض (قمسوں میں الفاظ کا لحاظ ہوتا ہے اغراض کا لحاظ نہیں ہوتا۔ت) کہ تنویر وغیرہ عامہ کتب مذہب میں ارشاد ہے اس سے یہی مراد ہے کہ لفظ کی تناول عرفی سے اجنبی خارج وبیگانہ و زائد بات اگرچہ عرفا مقصود حالف ہو منظور نہ ہوگی مگر اغراض مخصص ضرور ہوسکتی ہیںدلالت لفظ کہ عموم پر تھی بنظر غرض خاص پر مقصود ہوجائے گی یہ مدلول لفظ سے خروج نہیں بلکہ بعض مدلولات پر قصر ہےیہ وہ تحقیق انیق ہے جس سےکلمات ائمہ مذہب میں توفیق ہے اور فروع متکاثرہ مذہب کی شہادت متواترہ سے اس کی توثیق ہے جس کا نفیس وروشن بیان علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالی نے ردالمحتار میں افادہ فرمایا اور اس کے بیان میں ایك مستقل رسالہ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ٣/٧٣۔٣٧٢
درمختار باب الیمین فی الدخول والخروج والسکنی الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٦
درمختار شرح تنویر الابصار باب الیمین فی الدخول والخروج والسکنی الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٦
#14229 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
علی قولھم الایمان مبینۃ علی الالفاط لاعلی الاغراض تالیف کیا۔تلخیص الجامع الکبیر للامام ابی عبد اﷲ صدرالدین محمد بن عباد میں ہے:
وبالعرف یخص ولایزاد حتی خص الرأس بما یکبس ولم یرد الملك فی تعلیق طلاق الاجنبیۃ بالدخول ۔
عرف سے تخصیص ہوسکے گی اور لفظ کے مفہوم پر زیادتی نہ ہوسکے گی چنانچہ سر بھونے جانے والی سری سے مختص ہوگا اور اجنبی عورت کی طلاق کو گھر میں داخل ہونے کی تعلیق میں ملکیت مراد نہیں ہوسکتی۔(ت)
علامہ علاء الدین ابوالحسن علی بن بلبان بن عبداﷲ فارسی اس کی شرح تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص میں فرماتے ہیں:
رجلان تساوما ثوبا فحلف المشتری انہ لایشتریہ بعشرۃ فاشتراہ باحد عشرحنث فی یمینہولوکان الحالف البائع لایبیعہ بعشرۃ فباعہ باحد عشرلم یحنثوھذا لان البیع بالعشرۃ نوعان بیع بعشرۃ مفردۃ وبیع بعشرۃ مقرونۃ بالزیادۃ ففی المشتری مطلق لادلالۃ فیہ علی تعیین احد النوعین فکان مرادہ العشرۃ المطلقۃاماالبائع فمرادہ البیع بعشرۃ مفردۃ بدلالۃ الحال اذغرضہ ان یزیدہ المشتری علی العشرۃ ولم یوجد شرط حنثہ وھو
دو حضرات نے کپڑے کا ایك سودا کرتے ہوئےگفتگو میں خریدار نے قسم اٹھائی کہ میں اسے دسمیں نہ خریدوں گا اس کے بعد اس نے گیارہ کا خرید لیا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گیاور اگر فروخت کرنے والا قسم اٹھا ئے کہ میں اسے دس میں فروخت نہ کروں گااسکے بعد اس نے گیارہ کا فروخت کردیا تو بائع کی قسم نہ ٹوٹے گییہ اسلئے کہ دس سے فروخت کرنے کے دو معنے ہیںایك یہ کہ صرف دس سے فروخت کرنا اور دوسرا معنی یہ کہ اس دہائی کے ساتھ کوئی اکائی بھی ہوتو مشتری کے حلف میں مطلق دس ہے جس میں دونوں قسموں میں سے کسی ایك کے معین کرنے پر کوئی قرینہ نہیں ہے لہذا یہاں دس مطلق مراد ہوں گے یعنی صرف دس یا دس سے کچھ اکائی کے ساتھ زائددونوں معنی میں سے کوئی بھی ہو لیکن فروخت کرنے والے کی قسم میں صرف
حوالہ / References رفع الانتقاض الخ رسالہ مجموعہ رسائل ابن عابدین بحوالہ تلخیص الجامع الکبیر سہیل اکیڈمی لاہور ١/٢٩٣
#14230 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
البیع بعشرۃ مفردۃ فلایحنثوھذا ھوالمتعارف بین الناس فیحمل الیمین علی ماتعارفوہ وقولہ فی المتن وبالعرف یخص ولایزاد جواب عن سوال مقدروھو ان یقال البائع بتسعۃ مفردۃ وجب ان یحنث لان المنع عن ازالۃ ملکہ بعشرۃ منع عن ازالتہ بتسعۃ عرفاوالجواب ان الحکم لایثبت بمجرد الغرض وانما یثبت باللفظ والذی تلفظ بہ البائعھو العشرۃ واسم العشرۃ لایحتمل التسعۃ لیتعین بغرضہ والزیادۃ علی اللفظ بالعرف لاتجوز بخلاف الشراء بتسعۃ لان العشرۃ فی جانب المشتری تحتمل عشرۃ مفردۃ وعشرۃ مقرونۃ فتعین احدھما بغرضہ اذالعام یجوز تخصیصہ و تقییدہ بالعرف اھ ملتقطا۔
دس بغیر اکائی مراد ہیں جیسا کہ اس پر حال کی دلالت ہے کہ بائع کی غرض یہ کہ مشتری اسے زائد دے تو گیارہ میں فروخت کرنے پر شرط(یعنی صرف دس میں فروختگی)نہ پائی گئی لہذا قسم نہ ٹوٹیلوگوں میں یہی متعارف ہے لہذا قسم کو لوگوں کے عرف پر محمول کیاجائیگا۔ اور متن میں یہ قول کہ"عرف سے تخصیص ہوتی ہے زیادتی نہیں ہوتی"یہ ایك سوال کا جواب ہےسوال یہ مقدر ہے کہ بائع اگر مذکورہ صورت میں نو سے فروخت کردے تو قسم کا ٹوٹنا ضروری ہوگا کیونکہ جبکہ دس سے اپنی ملکیت نہیں چھوڑتا تو نو سے بطریقہ اولی نہ چھوڑنا ہوگا جیسا کہ عرف میں ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ محض غرض ہے جبکہ حکم محض غرض سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس لفظ کا بھی اعبتار ہوتا ہے جس سے تلفظ کیاہے اور بائع نے جو لفظ بولا ہے وہ دس ہےجبکہ اس کا اسمنو کا احتمال نہیں رکھتا جس کو غرض کے طور پر متعین کیاجاسکے۔دس کا نامنو۹ پر مراد لینا یہ لفظی زیادتی ہے جو کہ عرف سے ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ عرف صرف تخصیص کرتا ہے زیادتی نہیں کرسکتااس کے برخلاف جب مشتری کپڑے کو دس کی بجائے نوسے خرید لے تو عرف یہاں کارآمد ہوگا کیونکہ مشتری کی قسم میں دس کی مذکورہ دونوں قسموں کا احتمال ہے صرف دس یا بمع اکائی مراد ہوتو یہاں جب دس کا لفظ عام ہے تو عرف اس کی ایك قسم کی تخصیص یا تقیید کرسکتا ہے اھ ملتقطا۔(ت)
رفع الانتقاض میں ہے:
حوالہ / References رفع الانتقاض الخ رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین بحوالہ شرح تلخیص الجامع الکبیر سہیل اکیڈمی لاہور ١/٩٤۔٢٩٣
رفع الانتقاض الخ رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین بحوالہ شرح تلخیص الجامع الکبیر سہیل اکیڈمی لاہور ١/٩٨۔٢٩٧
#14231 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
اعلم ان الغرض الذی یقصدہ المتکلم بکلامہ قد یکون معنی اللفظ الذی تکلم بہ حقیقۃ او مجاز او قد یکون امرا اخرخارجا عن اللفظفالاول کقولہ لا اشتریہ بعشرۃ فغرض المشتری منع نفسہ من التزام العشرۃ فی ثمن ذلك المبیع سواء کانت عشرۃ مفردۃ او مقرونۃ بزیادۃ والعرف ارادۃ ذلك ایضا فھنا اجتمع الغرض والعرف فی لفظ الحالف فاذا اشتری باحد عشر حنث لانہ ارادالعشرۃ المطلقۃ و ھی موجودۃ فی الاحد عشروالثانی کقولہ لاابیعہ بعشرۃ فباعہ بتسعۃ لایحنث لان اغراض البائع ان یبیعہ باکثر من عشرۃولایرید بیعہ بتسعہ لکن التسعۃ لم تذکرفی کلامہ لان العشرۃ لم توضع للتسعۃ لالغۃ ولاعرفافغرضہ الذی ھو قصدہ من ھذا الکلام خارج عن اللفظوالعبرۃ فی الایمان للالفاظ لالمجرد الاغراض لان الاغراض یصلح مخصصا لامزیداوالتخصیص من عوارض الالفاظ فاذا کان اللفظ عاما والغرض الخصوص اعبتر ماقصدہ
جاننا چاہئے کہ متکلم جب کوئی کلام کرتا ہے تو اس کی غرض اس کلام کا حقیقی معنی ہوتا ہے اور کبھی مجازی معنی ہوتا ہے اور کبھی لفظ سے خارج کوئی اور معنی غرض بنتا ہے۔اول کی مثال جیسے مشتری کا کہنا کہ میں دس سے نہ خریدوں گا تو یہاں مشتری کی غرض یہ ہے کہ دس درہم دینے سے باز رہنا ہے یہ محض دس ہوں یا بمع اکائی ہوں مبیع کے عوض نہ دے گااور عرف بھی یہی ہے تو یہاں حلف میں غرض اور عرف دونوں حقیقی معنی میں مجتمع ہیںلہذایہاں اگر مشتری نے گیارہ میں خریدا تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اس نے مطلق دس مراد لئے تھے جبکہ یہ دسگیارہ میں بھی موجود ہے۔دوسرے کی مثالجیسے بائع کہے کہ میں بھی دس درہم سے نہ فروخت کروں گا یہاں اگر اس نے نو میں فروخت کیا تو قسم نہ ٹوٹے گیکیونکہ اس کلام سے بائع کی غرض یہ ہے کہ دس سے زائد یعنی دس مع اکائی کے بدلے فروخت کرے گانو ا سکی مراد میں نہیں ہے کیونکہ اس کی کلام میں یہ مذکور نہیں ہے کہ دس کا اسم لغت اور عرف میں نو کیلئے وضع نہیں ہے تو دس بول کر نومراد لینا لفظ سے خارج کسی اور معنی کو مراد لینا ہے جبکہ حلف میں محض غرض کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ لفظ کا اعتبار ضروری ہےکیونکہ غرض مخصص تو بن سکتی ہے لیکن زیادتی پیدا نہیں کرسکتی جبکہ تخصیص لفظ کی صفت ہے لہذا لفظ کا اعتبار ضروری ہے محض غرض کا فی نہیں ہے توجب لفظ عام ہو اور غرض خاص ہو تو پھر
#14494 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
کالراس فی لااکل رأسافان لفظہ عام والغرض منہ خاص کما مر و اعتبار ھذاا لغرض لایبطل اللفظ لانہ بعض ما وضع لہ اللفظ اھ مختصرا
خاص مقصد کا اعتبار ہوتا ہے جیسے کوئی کہے میں سر نہ کھاؤں گاتو اس میں لفظ سرعام ہے جو ماکول اور غیر ماکول دونوں کو شامل ہے جبکہ غرض خاص یعنی ماکول ہے جیسے گزرا تو یہ خاص غرض لفظ کے مدلول کے خلاف نہیں ہےکیونکہ یہ لفظ کے معنی کا ایك خاص حصہ ہےاھ مختصرا۔(ت)
وتمامہ فیہیمین الفور جسے خاص فکر بلندثریا پیوند امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے استنباط فرمایا اور دیگر ائمہ کرام قدست اسرار ہم نے بحکم الفقھاء کلھم عیال لابی حنیفۃ(تمام فقہاء ابوحنیفہ کی عیال ہیںکے حکم سے۔ت)اس جناب کا اتباع کیا اس کے مسائل اسی اصل جلیل تخصیص بالغرض پر مبنی ہیں متون وشروح وفتاوائے مذہب میں صدہا فروع اس پر مبنی ہیں مثلا:
()عورت باہر جانے کوہوئیشوہر نے کہا باہر جائے تو تجھ پر طلاقعورت بیٹھ گئی اور دوسرے وقت باہر گئیطلاق نہ ہوگی۔
تنویر ودر میں ہے:
شرط للحنث فی قولہ ان خرجت مثلا فانت طالق او ان ضربت عبدك فعبدی حر لمرید الخروج والضربفعلہ فورا لان قصدہ المنع عن ذلك الفعل عرفاومدار الایمان علیہ وھذہ تسمی یمین الفور تفردابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی باظہارھا ولم یخالفہ احد۔
جب بیوی باہر نکلنے یا غلام کو مارنے کے لئے تیار ہو اس وقت خاوند اگر کہے کہ تو نے مارا یا باہر نکلی تو تجھے طلاق ہےتو مارنے اور باہر نکلنے سے وہی مراد ہے جس کے لئے وہ تیار کھڑی ہے صرف اسی مارنے پر یا اسی نکلنے پر طلاق ہوگی کیونکہ خاوند کا اس عمل سے روکنا مقصود ہے یہی عرف ہے جبکہ حلف کا مدار یہی عرف ہےاس کا نام یمین فور ہے جس کے اظہار اور بیان میں امام ابوحنیفہ متفرد ہیں اور کسی نے ان کی مخالفت نہ کی۔(ت)
فتح القدیر وغنیہ ذوی الاحکام وردالمحتارمیں ہے:
تھیأت للخروج فحلف لاتخرج فاذا
بیوی باہر نکلنے کو تیار تھی کہ خاوند نے حلف اٹھایا
حوالہ / References رفع الانتقاض الخ رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ١/٠١۔٣٠٠
درمختار باب الیمین فی الدخول والخروج والسکنی مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٨
#14495 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
جلست ساعۃ ثم خرجت لایحنثلان قصدہ منعھا من الخروج الذی تھیأت لہفکانہ قال ان خرجت الساعۃوھذااذالم یکن لہ نیۃ فان نوی شیأ عمل بہ ۔
کہ اگر تو باہر نکلے تو تجھے طلاق ہےتو بیوی بیٹھ گئی اور کچھ دیر بعد نکلی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ خاوند کا مقصد وہ نکلنا ہے جس کےلئے وہ تیار تھی اور اس نکلنے سے منع کرنا مقصود تھاپس گویا خاوند نے یوں کہا کہ تو اب نکلے تو تجھے طلاق ہےیہ حکم تب ہوگا جب خاوند نے کوئی نیت نہ کی ہواور اگر اس نے کوئی نیت کی ہو تو اس پر عمل ہوگا۔(ت)
()زید نے عمرو سے کہا"میرے ساتھ کھا نا کھالو"۔عمرو:"میں کھاؤں تو عورت مطلقہ ہو"۔کل زید کے ساتھ کھانا کھایا طلاق نہ ہوگی۔تنویر ودر:
وکذافی حلفہ ان تغدیت فکذابعد قول الطالب تعال تغد معی شرط الحنث تغدیہ معہ ذلك الطعام المدعو الیہ۔
یوں ہی اگر کھانے پر دعوت دینے والے کے جواب میں کوئی کہے"اگر میں کھانا کھاؤں تو بیوی کو طلاق ہے"تو یہاں بھی طلاق ہونے کےلئے جس کھانے پر دعوت دی گئی اسی کو دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا شرط ہے۔(ت)
()عورت کو جماع کےلئے بلایا اس نے انکار کیاشوہر نے کہا"اگر میرے پاس اس کوٹھری میں نہ آئی تو تجھ پر طلاق"عورت آئی مگر اس وقت مرد کی شہوت ساکن ہوچکی تھیتو طلاق ہوگئیاشباہ ودر:
ان للتراخی الابقرینۃ الفورومنہ طلب جماعھا فابت فقال ان لم تدخلی معی البیت فانت طالق فدخلت بعد سکون شہوتہ حنث ۔
لفظ"ان"تراخی کےلئے استعمال ہے مگر جہاں فور کا قرینہ پایا جائے تو تراخی مراد نہ ہوگیاسی فور پر قرینہ کی مثال یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کیلئے طلب کیا تو بیوی کے انکار پر خاوند نے کہا تو میرے کمرے میں داخل نہ ہوئی تو طلاق ہے۔تو فورا داخل نہ ہوئی بلکہ خاوند کی شہوت وخواہش ختم ہونے کے بعد داخل ہوئی تو طلاق ہوجائے گی۔(ت)
()حاکم نے حلف کیا کہ اگر شہر میں بدمعاش آئے اور میں خبر نہ دوں تو عورت طلاق ہےبد معاش آیا اور اس نے حاکم کو خبر نہ دی اس وقت کہا وہ معزول ہوگیا تھا طلاق ہوگئی۔تنویر:
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الدخول والخروج الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٨٤
درمختار باب الیمین فی الدخول والخروج الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٨
درمختار باب الیمین فی الدخول والخروج الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٩
#14496 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
حلفہ وال لیعلمنہ بکل داعر دخل البلدتقید بقیام ولایتہ ۔
شہر کے حاکم نے ایك ملازم سے حلف لیا کہ شہرمیں داخل ہونے والے ہر بدقماش کی مجھے اطلاع دے گاتو یہ حلف اس حاکم کی ولایت کے قائم رہنے تك مقید ہے(ت)
درمختار میں ہے:
بیان لکون الیمین المطلقۃ تصیرمقیدۃ بدلالۃ الحال وینبغی تقیید یمینہ بفورعلمہ ۔
اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ مطلق حلف کو حال کی دلالت کی وجہ سے مقید ہونے کی مثال ہے اس میں یہ بھی قیدہوگی کہ وہ ملازم معلوم ہونے پر فورا اطلاع دے گا۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
ثم ان الحالف لو علم الداعر ولم یعلمہ لم یحنث الااذامات ھو او المستحلف او عزل ۔
اگر حلف اٹھانے والے کو بدمعاش کا علم ہوجائے اور وہ حاکم کو مطلع نہ کرے تو قسم صرف حلف دینے یا حلف لینے والے کی موت یا حاکم کے معزول ہوجانے پر ٹوٹے گی(ت)
فتح القدیر میں ہے:
ولو حکم بانعقاد ھذہ للفور لم یکن بعید ا نظرا الی المقصود وھو المبادرۃ لزجرہ ودفع شرہ ۔
اگر اس حلف کو فوری ہونے کا حکم دیا جائے تو بعید نہ ہوگا کیونکہ حاکم کا مقصد بدقماش کو فوری سزادینا اور اس کے شرکادفاع کرنا ہے۔(ت)
()دائن نے مدیون سے حلف لیا کہ تیرے بے اذن باہر نہ جاؤں گایہ حلف بقائے دین تك رہے گا بعد ادا یا ابراء اذن کی حاجت نہیںتنویر ودر میں ہے:
لو حلف رب الدین غریمہ او الکفیل بامر المکفول عنہ ان لایخرج من البلد الاباذنہ تقید بالخروج حال قیام الدین
قرض خواہ نے مقروض یا مقروض کے بنائے ہوئے ضامن سے حلف لیا کہ تو میری اجازت کے بغیر شہرسے باہر نہ جائے گاتو یہ حلف قرض اور ضمانت کی
حوالہ / References درمختار باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٣
درمختار باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٣
تبیین الحقائق باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ٣/١٦١
فتح القدیر کتاب الایمان مسائل متفرقہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٦٨
#14497 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
بالکفالۃ ۔
بقاء تك مقید قرار پائے گاقرض یا ضمانت ختم ہوجانے کے بعد حالف کو اجازت کی ضرورت نہ رہے گی(ت)
()قسم کھائی عوت بے میرے اذن کے باہر نہ جائے گییہ قیام زوجیت تك محدود ہے۔تنویر ودر میں ہے:
لو حلف لاتخرج امرأتہ الا باذنہ تقید بحال قیام الزوجیۃ ۔
خاوند نے قسم اٹھائی کہ بیوی اجازت کے بغیر باہر نہ جائیگیتو یہ حلف بھی زوجیت کے قیام تك محدود ہوگا۔(ت)
()وہی مسئلہ کہ دس کو نہ بیچوں گا اور گیارہ کو بیچا حانث نہ ہوا اگر چہ گیارہ میں دس موجود ہیں کہ مراد خاص قسم کے دس یعنی تنہا بلازیادت تھے۔یہ سب تقییدیں اور عام کی تخصیص صرف بنظر اغراض متعارفہ ہوئی ہیں کہ یمین کی بناہی عرف پر ہے ولہذا امام ہمام بن الہمام نے عبارت مذکورہ ہدایہ کی شرح میں(جہاں ارشاد ہواتھا کہ عدم بے سلب کلی متحقق نہ ہوگا)فرمایا:
کما قولہ فی ان لم ات البصرۃ اعطاء نظیر والمراد ان کل شرط بأن منفی حکمہ کذلکوھو ان لایقع الطلاق او العتاق اذاعلق بہ الابالموت لما ذکرناوزاد قیداحسنا فی المبتغی بالغین المعجمۃ قال اذاقال لامرأتہ ان لم تخبرینی بکذا فانت طالق ثلاثا فھو علی الابد اذالم یکن ثم مایدل علی الفورانتہی ومن ثمہ قالو الو اراد ان یجامع امرأتہ فلم تطاوعہ فقال ان لم تدخلی معی فانت طالق فدخلت بعد ماسکنت شھوتہ طلقتلان مقصودہ من الدخول کان قضاء الشہوۃ وقد فات ۔
اس کا قولجیسا کہاگر میں بصرہ میں نہ آؤں تویہ نظیر ہےجس سے مراد یہ ہے جو شرط بھی لفظ ان کے ساتھ ذکر کی جائے تو اس کا حکم یونہی منفی رہے گا یعنی اس کے ساتھ طلاق یا عتاق کو معلق کیاگیا ہو تو شرط کے منفی ہونے پر موت سے پہلے قسم نہ ٹوٹے گیجیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور پھر اس پر ایك اچھی قید بڑھائی کہ مبتغی(غین کے ساتھ)میں کہا کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اگر مجھے فلاں خبر نہ د ے تو تجھے تین طلاقیں ہوں گیتو اگر فور پر کوئی قرینہ نہ ہو تو یہ قسم ابدی ہوگی اھاور اسی قبیل سے یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کےلئے طلب کیا تو بیوی نے اطاعت نہ کی تو کہا اگر تو میرے پاس کمرے میں نہ آئی تو تجھے طلاقاگر بیوی فورا نہ آئے بلکہ خاوند کی شہوت اور
حوالہ / References درمختار باب الیمین فی الضرب والقتل الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٣
درمختار باب الیمین فی الضرب والقتل الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٣
فتح القدیر فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر ٣/٣٧٣
#14498 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
خواہش ختم ہونے کے بعد آئی طلاق ہوجائے گی کیونکہ طلب مقصد اپنی شہوت کو پورا کرنا تھا جواب ختم ہوگئی ہے(ت)
اور شك نہیں کہ ہمارے مسئلہ دائرہ میں بھی اس حلف سے شوہر کی یہ غرض نہیں کہ عورت اپنی مدۃ العمر میں کبھی کسی وقت کسی طرح دوسجدے کرلے اور بری ہوجائے بلکہ یقینا بحکم دلالت حال اس سے پابندی نماز مقصود ہے تو جس طرح عوت کا باہر جانا مطلق تھا لفظ شوہر میں کوئی قید نہ تھی کہ اس وقت ہویا کب ہو مگر بدلالۃحال خاص اس وقت کا خروج معتبر ہوا جس طرح کلام عمرو میں کھانامطلق تھا کہ آج ہو یا کل یہ کھانا ہو یا اورمگر بحکم عرف خاص اس وقت یہ کھانا زید کے ساتھ کھانا ملحوظ رہاجس طرح عورت کا کوٹھری میں شوہر کے پاس آنا عام تھا کہ اس شہوت موجودہ کی بقا میں ہویا عمر میں کبھی کسی حالت میں ہواور عدم متحقق نہ ہوگا مگراخیر جزء حیات شوہر یا زن میں اور جبکہ کوٹھری میں شوہر کے پاس آئی اگر چہ زوال شہوت کے بعد تو عدم صادق نہ آیا اور بنظر مفاد لغوی لفظ لازم تھا کہ طلاق واقع نہ ہو لیکن بدلالت حال خاص وہ آنا مقصود رہا جو اس شہوت کی قضا کے لئے مطلوب تھا اور اسی کی انتقا پر شرط متحقق اور طلاق واقع مانی گئیوقس علی ھذااسی طرح یہاں بھی اگرچہ عشرہ مفردہ مقرونہ کی مانند نماز پڑھنا بھی دو قسم ہےایك ملتزم کہ پابندی کے ساتھ ہو دوسرا اس کا غیر یا دو قسم ہےایك مبرئ ذمہ جس میں فرض نماز کا مطالبہ ذمے پر نہ رہےدوسرا اس کے خلاف اور فعل بعینہ ان لم تدخلی(اگر تومیرے پاس نہ آئی۔ت) مذکور کی طرح حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا مگر بحالت دلالت حال واجب ہے کہ قسم اول یعنی صلاۃ ملتزمہ مبرہ مراد ہو اور اس کا انتفا ایك وقت کی نماز فرض عمدا بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے تو لازم ہو ا کہ جب عورت نے اس حلف کے بعد نماز عشاء نہ پڑھی صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پر دو طلاقیں پڑگئیں جیسے وہاں سکون شہوت ہوتے ہی عورت مطلقہ ہوگئی تھی بلکہ اگر شوہر نے یہ لفظ اس وقت کہے تھے کہ ہنوز وقت مغرب باقی تھا اور عورت ادا پر قادر تھی تو شفق ڈوبتے ہی دوطلاقیں ہوگئیںہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر عورت سے کہاتو نماز ترك کرے تو تجھے طلاقعورت نے ایك نماز قصدا قضا کی طلاق ہوجائے گی اگرچہ اس قضا کو ادا بھی کرلےدرمختار میں ہے:
قال ان ترکت الصلوۃ فطالق فصلتھا قضا طلقت علی الاظہرظہیریۃ ۔
بیوی کو کہا اگر تو نے نماز ترك کی تو تجھے طلاق ہےاب اگر عورت نے نماز قضاکی تو زیادہ واضح قول یہی ہے کہ طلاق ہوجائیگیظہیریہ۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب الیمین فی البیع والشراء الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٠
#14499 · باب تعلیق الطلاق (تعلیقِ طلاق کا بیان)
یہ حکم اس لفظ میں ہے جہاں الصلوۃ معرف باللام ہے جس میں کلام ہوگا کہ عرفا تارك الصلوۃ کسے کہتے ہیں اور ہمارا مسئلہ دائرہ تو بحکم تحقیق مذکور ان ترکت صلوۃ(اگر تو نماز چھوڑے۔ت)بلالام کے مثل ہے یعنی اگر تو ایك نماز چھوڑے تو طلاق ہےیہاں قضا کرنے سے وقوع طلاق میں کیا شك ہوسکتا ہے صاف بتادیا کہ اس کی مراد وہی صلاۃ خاصہ ملتزمہ تھی اس پر دلیل واضح اس کا وقت صبح رجعت کرنا ہےاگر وہ معنی مراد ہوتے جو فریق اول نے زعم کئے تو پیش از وقوع رجعت کے کیا معنی تھے اور امثال مقام میں نیت شوہر اگرچہ دلالت حال کے خلاف بھی ہو وہی معبتر رہتی ہے۔امام محقق علی الاطلاق وغیرہ علماء کا ارشاد گزرا کہ:
ھذا اذالم یکن لہ نیۃ فان نوی شیأ عمل بہ ۔
یہ جب ہے کہ اس نے نیت نہ کی ہوا گر اس نے کوئی نیت کی ہو تو اس پر عمل ہوگا۔(ت)
تو جہاں دلالت حال ونیت دونوں متوافق ہیں نہ اس دلالت کو مانئے نہ شوہر کی سنئے اور اپنی طرف سے ایك معنی تراش کر اس پر عمل کیجئے کس قدر فقہ سے بعید بلکہ قاببلیت التفات سے دور ہےاور اوپر واضح ہوچکا کہ یہ دونوں طلاقیں رجعی تھیںلاجرم عورت بعد رجعت بدستور ملك نکاح میں باقی اور آئندہ طلاق کی محل رہیاب کہ شوہر نے چند سال بعد دو طلاقیں اور دیں ایك تو لغو ہوگئی کہ حد شرع سے متجاوز تھی اور ایك ان پہلی دو کے ساتھ مل کر تین طلاقیں مغلظہ ہوگئیں جن سے عورت حرام ابدی تو نہیں ہوسکتی ہاں بے حلالہ اب اس شخص کے نکاح میں آنے کے قابل نہ رہیھذاماظہر لی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو مجھے معلوم ہواحق تو میرے رب کے ہاں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الدخول والخروج الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٨٤
#14500 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
رسالہ
آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ
(باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ : از بنگالہ موضع نواکھالی ڈاك خانہ بیگم گنج مرسلہ عبد المجید صاحب از رامپور محرم الحرام ھ
بگرامی خدمتفیضدرجتمجمع الفضائلمنبع الفواضلکاشف دقائق شرعیہواقف حقائق عقلیہ نقلیہمحی السنۃ النبویہمروج الاحادیث المصطفویہصاحب التحقیقات الرائقہزبدۃ السعادت الفائقہاعنی مولانا المولوی شاہ احمد رضا خاں صاحب دام افضالہم۔ بعداد ائے تسلیمات فرواواں وکور نشات بیکراں معرض آں خدمت یہ ہے جناب حضور نے جو فتوائے طلاق معلق بالصلوۃکی تحریر فرما کر ارسال فرمائے تھے بندہ گم گشتہ نے ملك کو بھیج دیا اور سب علمائے موافقین ومخالفین نے دیکھ کر بہت خر سندیں حاصل کیں بلکہ سب علماء متفق ہوکر بسبب فرمان فتوائے موصوف کے زوج احمد سے زوجہ مغلظہ کو علیحدہ کیا تھااور اس پر بہت دن گزر گئے مگر مولوی وجیہ اﷲ جو دیوبند سے عنقریب تحصیل کرکے گھر کو گئے اس نے زوج احمد کو کہا کہ تمہاری زوجہ مطلقہ مغلظہ نہیں ہوئی تم ہماری رائے پر چلو تو ہم فتوائے ہند کو مردود کردیں گےچنانچہ احمد علی بھی بوجہ نفع اپنے کے اور بوجہ تعلیم اپنے قول سے منکر ہوگئے یعنی جو پہلے تعمیم
#14501 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
کے منکر اور تخصیص کے راجعاب بعد چندیں مدت اپنی نیت ظاہر کرتے ہیں کہ نیت ہمارا علی الابد کے لئے ہے اور مولوی وجیہ اﷲ نے اس وقت کے نیت کے مطابق ایك فتوی بھی لکھا وہی فتوی آپ کی خدمت عالی میں ارسال کرتاہوں اور فتوی تحریر کرکے احمد علی کو مدعی بناکر کچہری میں مقدمہ دائر کئے ہیں بعدہ اس کے فتوی اور آنحضور کی تحریر مبارك دونوں کچہری میں پیش ہوا اور مولوی وجیہ اﷲ کو اور اس طرف کے علماؤں کو حاکم نے طلب کیا اور دونوں فتوی کے مطلب حاکم کو سمجھا دئے مگر مولوی وجیہ اﷲ نے حضور کے فتوی پر اور مذہب کے قیل وقال ناشائستہ بیان کیا مگر حاکم کے نزدیك کچھ اعتبار نہیں ہوا اور حاکم نے خود کہا کہ جناب مولینا شاہ احمد رضا خاں صاحب کو میں خوب جانتا ہوں اور ا ن کی حالت مجھے خوب معلوم ہے اور دیوبند کے علمائے لامذہب کو بھی معلوم ہے کہ میں ہند کی سیر کرنے والا ہوںمولوی وجیہ اﷲ نے کہا کہ صاحبزجرا وتنبیہا بغرض نصیحت طلاق دینے سے طلاق نہیں ہو تیاور دلالت حال ویمین الفور کا شرعا کچھ اعتبار نہیں ہےاگر تسلیم بھی کیا جائے کہ طلاقیں مغلظ واقع ہوگئیں تاہم بوجہ رجعت کے اولین طلاق باطل بعد وجود جوطلاق بلاشرط دیا ہے اس کے لئے رجعت جائز ہےاوردلیل بھی بیان کیا اس وجہ سے حاکم کے دل میں خدشہ پیدا ہوا حاکم نے اس طرف کے علماؤں کو فرمایا کہ آپ لوگ مولونا موصوف کے بیسدن کے اندر مولوی وجیہ اﷲ کا رد جواب منگوائیے ورنہ یہ شبہ کس طرح دور ہوسکتا ہےاور حاکم نے بیس روز مقدمہ کا حکم مؤخر کردئےاکنوں دست بستہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ آپ ازروئے مہر بانی وشفقت گزاری کے پندرہ یا سولہ روزکے اندر جواب تحریر فرمادیجئے اور ہم لوگوں کو بحر غموم سے خلاص کر لیجئے ورنہ جمیع علماء کی ببلکہ ملك ہند کی بھی بدنامی کی بات ہےزیادہ کیا عرض کروں۔عرض گزار خادم عبد المجید عفا اﷲ عنہ
نقل فتوی مولوی وجیہ اﷲ دیوبندی باشندہ بنگالہ
سوال:چہ مے فرمایند علمائے دین وراز داران شرع متین کہ درحاضر ان مجلس بحضور علماء وغیرہم کہ احمد علی بزبان خود اقرار نمود کہ من دائما زوجہ ام برائے نماز خوانی تاکید وزجرمی کردہ بودم وبرائے نماز خوانی چند قواعد نماز تعلیم ہم کردم لیکن بعد روزے چند بوقت مغرب مرزوجہ ام را گفتم کہ تو نماز بخواں زن مذکورہ
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ورازداران شرع متین کہ حاضرین مجلس علماء وغیرہم کی موجودگی میں احمد علی نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں ہمیشہ اپنی بیوی کو تاکیداور تنبیہ کرتا رہا ہوں اور نمازپڑھنے کا طریقہ سکھا تا رہا ہوں لیکن چند روز بعد مغرب کے وقت میں نے بیوی سے کہا کہ نماز پڑھو تو بیوی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فرصت نہیں ہے
#14502 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اباوانکار کردو گفت کہ مرافرصتے نیست ازیں وجہ گفتم کہ اگر تو نماز نگزاری برتو دو طلاق معلق دادم کہ بزبان بنگالہ(دیلام) ودر لغت اردو(دیامیں)استعمال کنندبعدہ زن مذکورہ نماز عشا نخواند وقضاہم نہ گزارد ونماز فجر بخواند بعد فجر رجعت ہم کرد وبعد سالے بلاشرط دو طلاق آں زوجہ مذکورہ را ایضاہم داد و احمد علی بمحفل مذکور علماء وغیرہم نیت بوقت بیان تعمیم و تخصیص ہر دو منکر بود بلاقرینہ برائے تخصیص راجع اما بعد شش ماہ بجہت تعلیم مخالفین وبوجہ نفع خود بگوید کہ نیتم برائے دائم وعلی الابدست اکنوں از روئے شرع شریف اقرار ش صحیح بود یا چہ وبگوید کہ زجرا وتنبیہا برائے تعود للصلوۃ طلاق واقع نمی شود بلکہ معنی آں وعدہ طلاق شود ووعدہ طلاق طلاق واقع نمی شود بگوید کہ قول زوج بخوان صیغہ امر بردلالت حال راجع لیکن فور ثابت نمی شود بلکہ فور راہیچ اعتبار نیست بر تقدیر تسلیم کہ طلاقین اولین بوجہ رجعت باطل ست کما ھوالمعروف اکنوں بہر حال برائے زوج احمد علی رجعت صحیح است آیا حکمش فے الواقع ہمیں ست یا زوجہ احمد علی بہ سہ طلاق شدہ مغلظہ شد بینوابالتفصیلاندریں صورت کہ زوج احمد علی بزبان خود اقرار مے کند کہ روزے بعد ادائے نماز مغرب مرزوجہ خودر ابسبب تارك الصلوۃ
اس پر میں نے اسے کہا"اگر تو نماز نہ پڑھے توتجھ پر دو طلاقیں معلق طور پر دیتا ہوں"یہ بات بنگالی زبان میں (دیلام)جس کا اردو میں معنی(میں نے دیا)ہےکہااس کے بعد بیوی نے عشاء کی نماز ادا نہ کی اور نہ قضا کی اور پھر فجر کی نماز پڑھی فجر کے بعد اس نے رجوع کرلیااور اس کے ایك سال بعد خاوند نے اس بیوی کو دو طلاقیں بغیر شرط پھر دے دیںاحمد علی مذکور نے علماء کی مجلس مذکورہ میں بیان دیتے ہوئے بیوی کو نہ نماز پڑھنے پر طلاق کو معلق کرنے میں تعمیموتخصیص کی نیت کا انکار کیا بلکہ تخصیص کا قرینہ راجع معلوم تھالیکن اس کے چھ ماہ بعد ہمارے مخالفوں کے سمجھانے سے اور اپنے فائدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس نے کہا کہ میں نے تو دائمی وابدی کوئی نماز نہ پڑھنے کی نیت سے کہا تھا(یعنی کوئی خاص نماز نہیں بلکہ زندگی میں نماز نہ پڑھنے کی نیت سے طلاق دینے کی بات کی تھی)کیا اب اس کا یہ اقرار درست ہے یاکیا ہےاب کوئی کہتا ہے کہ اس نے بیوی کو نماز کا عادی بنانے کےلئےیہ بات بطور تنبیہ اور ڈانٹ کی تھی اور یہ طلاق نہیں ہے بلکہ طلاق کا وعدہ تھا جبکہ طلاق کا وعدہ طلاق نہیں ہوتیاور کوئی کہتا ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ"نماز پڑھ"صیغہ امر ہے جس کی حالت پر دلالت واضح ہے لیکن یہ یمین فور ثابت نہیں ہے بلکہ فور کا کوئی اعتبار نہیں ہےاور اگر تسلیم کر بھی لیاجائے
#14503 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
زجر وتوبیخ کردکشاں کشاں آنکہ باعتدال طبع واستقلال مزاج بطریق زجر وتنبیہ گفت کہ تو نماز بخواں اگر نماز نخوانی ترادو طلاق وآں زن نیت نماز وسورہ بخوبی ندانستی غرض آنکہ زن عشاء نخواند بوقت فجر وضو کردہ برائے گزاردن نماز فجر استاد شویش نیت وسورۃ تعلیم کردووے نماز خواند بعد دو سہ روز میانجی محلہ را طلبیدہ رجعت نمود و در صورت کذائیہ زوجہ اش برائےوے حلال ماندیا چہ وبعد چند ماہ دو طلاق بلاشرط ایضا برآں زوجہ مذکورہ اش دادہ استآیا کہ اگر تسلیم کردہ شود کہ اول طلاقین واقع شد ند بر تقدیر ش بوجہ رجعت اول طلاقین بن باطل شد یاچہواکنوں رجعت کردہ از زوجہ مذکورہ استمتاع گرفتن رواست یا نہبینوا۔
کہ پہلی دو طلاقیں رجعی تھیں تو اس کے رجوع کرلینے کے بعد وہ دونوں طلاقیں ختماور باطل ہوگئیں جیسا کہ مشہور ہے لہذااب دوسری باردو طلاقوں کے بعد اب احمد علی خاوند کا دوبارہ رجوع کرنا صحیح ہے۔کیا یہ باتیں درست ہیں یا پہلی دونوں طلاقوں کے بعد دو طلاقوں سے احمد علی کی بیوی کو تین طلاقیں یعنی مغلظہ طلاق ہوگئی ہےتفصیل سے بیان کیجئے۔ خلاصہ اس سوال کا یہ ہے کہ احمد علی خاوند نے خود اقرار کیا کہ ایك روز نماز مغرب ادا کرنے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو نماز کی تارك ہونے پر ڈانٹ اور سختی سے سمجھا یا اور پھر معتدل مزاجی اور مستقل مزاجی سے ڈانٹ کے طور پر کہا نماز اگر تو نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق ہیںجبکہ وہ بیوی نماز کی نیت اور کوئی سورت اچھی طرح نہیں جانتی غرضیکہ بیوی نے عشاء کی نماز بھی نہ پڑھی فجر کی نماز کےلئے اس نے وضو کیا تاکہ نماز پڑھےنماز کے لئے کھڑی ہوئی تو خاوند نے اس کو نماز کی نیت اور سورۃ سکھائی اور اس نے نماز پڑھیاس سے دو تین روز بعد محلہ کے مولوی صاحب کو طلب کرکے احمد علی نے بیوی سے رجوع کیاتو اس صورت میں رجوع کرنے پر احمد علی کےلئے اس کی بیوی حلال ہوئی یانہیںپھر اس کے چند ماہ بعد مزید دوطلاقیں بلاشرط اس کو دیں کیا یہ تسلیم کرلینے پر پہلی دو طلاقیں واقع ہوگئی تھیں تو ان سے رجوع کرلینے پر کیا وہ پہلی طلاقیں کا لعدم اور باطل ہوجائیں گی یانہیںاور دوسری طلاقوں کے بعد اس کا بیوی سے رجوع کرنا اور ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیںبیان کیجئے۔
الجواب:البتہ زوجہ اش برائے وے حلال ماند چہ دریں صورت مطلق طلاق واقع نشد نہ حاجت تجدید نکاح نہ رجعت ھم واحتیاطا امرے دیگر قولہ
الجواب:یقینا احمد علی کی بیوی اس پر حلال رہی کیونکہ اس صورت میں مطلقا کوئی طلاق نہ ہوئی اور نہ ہی تجدید نکاح اور نہ ہی رجعت کی کوئی ضرورت ہےہاں احتیاط کریں تو اور بات ہےاحمد علی کا
#14504 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اگر نماز نخوانی ترادو طلاق اولا گویم کہ ایں قول تعلیق طلاق نیست بلکہ وعدہ طلاق دادن ست زیراکہ میان تو طلاق وطالق وترا طلاق فرق ست در اول وصف زن ست ومحمول بروے ودر ثانی طلاق ایقاع زوج ست پس دریں قول فعل ایقاع زوج ضرورمحذوف است در تنجیز معنی تراطلاق دادم ست ودر صورت تعلیق یعنی اگر ایں کا رکنی تراطلاق معنی آں ترا طلاق خواہم دادہست چہ در تعلیق شرط وجزا ہر دو خودند وجزاہمیشہ مستقبل مے شود ولو معنی پس دریں مقام مطلب اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق خواہم دادہست وخواہم درفعل ایقاع مخذوف است وپیدا ست اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق خواہم داد وعدہ طلاق دادن ست نہ تعلیق طلاق واز وعدہ طلاقطلاق واقع نشود وایں مطلب از خود نگرفتم بلکہ احمدعلی خود میگوید کہ من بہ نیت طلاق دادن نگفتم بلکہ بطریق زجر وتہدید تنبیہا بغرض تعود للصلاۃ گفتم وطلاق دادن در دلم مطلقا مخطور نشد وظاہر ست کہ وعدہ طلاق مفید ایں مدعاست وباغراض متکلم خوب چسپاں ومقتضائے قرینہ ہم ہمچنیں ست۔
کہنا"اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق"اس کے متعلق میں کہتا ہوں:اولایہ تعلیق طلاق نہیں بلکہ وعدہ طلاق ہے کیونکہ تو طلاقتو طلاق والیاور تجھ کو طلاقان تینوں میں فرق ہے۔پہلی عورت کی صفت اوراسی پر محمول ہے۔دوسری میں خاوند کا طلاق دینا ہےلہذا اس میں خاوند کا طلاق دینا ضرور محذوف ہے جب شرط سے معلق نہ ہو یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ تجھ کو میں نے طلاق دی ہےاور اگر شرط سے معلق ہو مثلا یہ کہ اگر تو یہ کام کرے تو تجھے طلاق ہے تو اس کا معنی طلاق کا وعدہ ہے کہ تجھے طلاق دوں گا کیونکہ تعلیق میں شرط وجزا دونوں ہوتے ہیں اور جزا ہمیشہ مستقبل میں ہوتی ہے خواہ معنا ہو اس مقام میں مطلب یہ ہے کہ اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے میں دو طلاق دوں گا کیونکہ"دوں گا"یہاں فعل محذوف ہوگاتو ظاہر ہوا کہ یوں کہا"اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق دوں گا"تو یہ طلاق دینے کا وعدہ ہوا نہ کہ تعلیق طلاق ہوا جبکہ طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتییہ مطلب میں نے خود نہیں نکالابلکہ احمد علی خود کہتا ہے کہ میں نے یہ بات طلاق دینے کے ارادے سے نہیں کہی بلکہ ڈانٹ اور زجر کے لیے کہی ہے تاکہ بیوی نماز کی عادی بن جائے اور طلاق دینے کا میرے دل میں خیال تك نہ تھاتو ظاہر ہوا کہ یہ صرف طلاق دینے کا وعدہ تھایہی بات احمد علی کے قول سے حاصل ہوئی اور متکلم کی غرض کے یہی مطابق ہے اور قرینہ بھی یہی بتاتا ہے۔
ثانیا گویم قولہ تو نماز بخواں اگر
ثانیا میں کہتا ہوں کہ احمد علی کا بیوی کو یہ
#14505 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
نماز نخوانی ترادو طلاقتعلیق طلاق ست اگرچہ از مطلب متکلم فرسنگہا دورست معنی آں ترادو طلاق ہستباید دانست کہ در تعلیق طلاق معلق ہرسہ گونہ است وہر یك دو گانہ است جانب وجود جانب عدم مجموعہ شش قسمت ست فعل الزوجین وجودا او عدما وفعل الغیر وجودا اوعدما کما لایخفی من شرح الوقایۃ دریں جا معلق بہ فعل عدمی زوجہ است یعنی نماز نخواند ومعنی التعلیق ربط حصول مضمون جملۃ ای جزا بحصول مضمون جملۃ اخری ای الشرط فاذا وجد الشرط وجد المشروط وکذا اذا فات الشرط فات المشروط وھذا یعم الصورۃ الستۃ کلھا من غیر فرق پس ہرگاہ ایں قول تعلیق طلاق مسلم نشت حالانکہ ایں قول مطلق ست مقید بوقت دون وقت نیست وغرض متکلم نیز معتاد للصلوۃ شدن زوجہ است دائما پس تخصیص نماز عشاء نہ فجر وغیرہ از کجا آمد وقرینہ یمین الفور ہم مفقود بل اعتبار نیست چہ قائل باعتدال مزاج واستقلال طبع بغیر غضب بطریق نصیحت مے گفت
کہنا کہ"تو نماز پڑھ۔اگرتو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق"اس کو تعلیق قرار دیا جائےاگرچہ یہ احتمال متکلم کے مقصد سے کوسوں دور ہےتاہم دو طلاق درست ہوں گیلیکن معلوم ہونا چاہئے کہ طلاق کوکسی شرط سے معلق کرنا تین طرح ہوتا ہےپھر ہر ایك کی دو دو صورتیں ہوتی ہیںشرط کا وجوددوسری شرط کا عدم ہے تو مجموعی چھ صورتیں بنیںوہ شرط خاوند کا فعل یا بیوی کا فعل وجودا یا عدمااسی طرح اگر وہ شرط کسی غیر کا فعل ہوتو وجودا یا عدما ہوگاجیسا کہ شرح وقایہ میں واضح ہے۔ یہاں زیر بحث صورت میں شرط بیوی کا فعل عدما ہے یعنی اس کا نماز نہ پڑھنا اور تعلیق کا معنی یہ ہے کہ ایك جملہ کے مضمون کو دوسرے جملے کے مضمون یعنی جزاء کے جملے کو شرط کے مضمون جملہ سے معلق کرنا ہےتو جب شرط پائی جائے گی جزاء بھی پائی جائےگیاور جب شرط نہ پائی جائے تو جزاء بھی نہ پائی جائےگی۔یہ بات سب صورتوں کو شامل ہے جن میں کوئی فرق نہیں لہذا جب احمد علی کے قول کو تعلیق تسلیم کرلیںحالانکہ یہ قول مطلق ہے اور کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ہےاور متکلم کی غرض صرف بیوی کو نماز کا عادی بنانا ہےتو یہاں کسی نماز عشاء یا فجر کی کوئی تخصیص نہ ہوگی کہ اس کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی یہ یمین فور بنتی ہے کیونکہ احمد علی نے معتدل مزاجی غصہ کے بغیر مستقل مزاجی سے یہ بات کہی ہے
#14506 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
یمین الفور از کجا برخاست تا ایں قول را مخصوص باقرب الاوقات للصلوۃ گر داند بلکہ ایں تعلیق طلاق ست پس مطلق طلاق ماند چہ قاعدہ اصول ست المطلق یجری علی اطلاقہ والمقید یجری علی تقییدہ ووجود صلاۃ مطلق صادق آید بسبب وجود صلاۃ مایعنی یك صلاۃ بطریق فرد منتشر وعدم صلوۃ مطلق صادق آید بسبب عدم جمیع افراد صلاۃ در مدت العمر وجود مطلق الصلوہ متحقق شود بسبب تحقق وجود فرد ما وینتفی بانتفائے فرد ما ھذا ھو الفرق بین مطلق الشیئ والشیئ المطلق وہمیں ست فرق میان موضوع مہملہ قد مائیہ وموضوع قضیہ طبعیہ ومطلق الشیئ یعنی مطلق الصلاۃ موضوع مہملہ قد ماست والشیئ المطلق یعنی الصلاۃ المطلقہ موضوع قضیہ طبعیہ است پس درینجا معلق بعدم الصلاۃ المطلقۃ ست وآں بسبب عدم جمیع افراد نماز از زبان متکلم بالتعلیق تا قبیل موت متحقق شود وعدم صلاۃ مطلق منتفی زیر اکہ زوجہ احمد علی صرف دراں روز نماز نخواند ونماز فجر خواند متعود بالصلوہ گشت وہویداست کہ انتفائے عدم صلاۃ مطلق عدم عدم صلاۃ مطلق ست وعدم عدم صلاۃ مطلق وجود صلاۃ مطلق ست پس وجود صلاۃ مطلق متحقق وعدم صلاۃ مطلق معدوم وفائت حالانکہ آں شرط ومعلق بہ بود و فوت شد فاذا فات الشرط
اورنصیحت کے طور پر کہی ہےتو یہ یمین فور کیسے ہوسکتی ہے تاکہ احمد علی کے اس قول کے قریب ترین وقت کی نماز سے مخصوص کیا جائےاس لئے اس کو تعلیق طلاق ہی کہا جائے گا اور وہ بھی مطلق ہے اور قاعدہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر باقی رکھا جائے اور مقید کو قید سے پابند کیا جائےلہذا کسی نماز سے بھی مطلق نماز کاوجود ہوسکتا ہے یعنی نماز کافرد پایا جائے تو مطلق نماز کاتحقق ہوجائے گایو نہی مطلق نماز کا عدم عمر بھر تمام نمازوں کے نہ پائے جانے پر متحقق ہوجائیگا مطلق الصلوۃ کا وجود اور انتفاء ایك فردکے وجود اور نفی سے ہوتا ہے یہی وہ فرق ہے جو منطقی حضراتمہملہ قد مائیہ اور قضیہ طبعیہ کے موضوع کے بارے میں بیان کرتے ہیں یعنی مطلق الشیئ قضیہ مہملہ قد مائیہ کا موضوع اور الشیئ المطلق قضیہ طبعیہ کا موضوع ہےپس یہاں شرط میں نماز مطلقہ کا عدم ہے جس کی نفی اور عدم کےلئے متکلم کے تعلیق کے وقت سے لے کر موت سے تھوڑا قبل تك تمام نمازوں کے معدوم ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں نماز مطلقہ کا عدم نہیں پایا گیاکیونکہ احمد علی کی بیوی نے صرف ایك نماز نہیں پڑھی اس کے بعد اس نے فجر کی نماز اور باقی نمازیں پڑھیں اور نماز کی عادی ہوگئیتو واضح ہوا کہ نماز مطلقہ کے عدم کا نہ ہونا نماز مطلقہ کے عدم کا عدم ہےاور نماز مطلقہ کے عدم کا عدم نمازمطلق کا وجود ہے تو اس طرح نماز مطلق کا تحقق ہوا اور نماز مطلقہ کا عدم معدوم ہوا حالانکہ طلاقعدم نماز مطلقہ سے معلق ہے جو منتفی ہے اور جب شرط منتفی ہوجائے
#14507 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فات المشروط وھو المدعاپس طلاق واقع نشد آنکہ درسلك تحریر کشیدہ شد صرف گفتگو در نفس عبارت اقرار بود حالا اثبات مطلوب بادلہ فقیہہ میگویند در عالمگیر یہ جلد دوم ص آورد الاصل ان الیمین متی عقدت علی عدم الفعل فی محلین ینظر فیھما الی شرط البروعند فوات شرط البریتعین الحنث (در ماسخن شرط البرفائت نشد پس حنث متحقق نشودوایضا ھناك مسطور ولو قال ان لم تعطین ھذاالثوب ودخلت الدار لم یقع الطلاق حتی یجتمع امران دخول الداروعدم الاعطاوعدم الاعطاء انما یتحقق بموت احدھما او بھلاك الثوب وہمچنیں عدم الصلاۃ المطلقۃ قبیل موت زن مذکورہ متحقق تواں شد قبل آں نے وایضا فیہ ص رجل قال لامرأتہ ان لم تصل الیوم رکعتین فانت طالق فحاضت قبل ان تشرع فی الصلاۃ او بعد ماصلت رکعۃ
تو مشروط بھی منتفی ہوگایہی مطلوب ہےپس طلاق نہ ہوئی۔یہ جو کچھ تحریر ہوا صرف احمد علی کے اقرارمیں گفتگو تھیاور اب ہم مطلوب کو فقہی دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔عالمگیریہ کی جلد دوم صفحہ میں ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی فعل کے عدم پر جو دو محل میں ہوتو دونوں میں سے جس محل میں قسم پورا ہونے کی شرط پائی جائے اس کو پیش نظر رکھا جائے گا اور جب شرط فوت ہوتو پھر قسم کا ٹوٹنا متعین ہوگااس قاعدہ کی رو سے ہماری بحث میں قسم پورا ہونے والی موجود ہے وہ فوت نہیں اس لئے حنث یعنی قسم نہ ٹوٹے گینیز اسی میں ہے اگر خاوند نے بیوی کو کہا"اگرتو مجھے یہ کپڑا نہ دے اور تو گھر میں ویسے ہی داخل ہوجائے تو تجھے طلاق ہے"تو اس صورت میں اس وقت تك طلاق نہ ہوگی جب تك کپڑا نہ دینا اور گھر میں داخل ہونا نہ پایا جائے یعنی دونوں باتیں پائی جا ئیں تو طلاق ہوگی ورنہ نہیںجبکہ کپڑا نہ دینے والی بات خاوند یا بیوی میں سے کسی ایك کے مرنے یا اس کپڑے کے ختم ہوجانے تك باقی رہے گی اور قسم نہ ٹوٹے گیاسی طرح یہاں بھی نماز مطلقہ کا عدمعورت کے مرنے سے تھوڑا پہلے تك باقی رہے گا اور قسم نہ ٹوٹے گی بلکہ عورت کے مرنے سے ایك گھڑی پہلے جب یہ نماز مطلقہ کے عدم کا احتمال ختم ہوجائے گا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذاوغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٢٩
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذاوغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٢٩
#14508 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
حکی ان الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی انہ کان یقول ان کان وقت الحلف الی وقت الحیض مقدار ما یمکنھا ان تصلی رکعتین تنعقد الیمین عند الکل وتطلق دریں عبارت قید الیوم ورکعتین موجود ست ولہذا حکمش مغایر حکم مانحن فیہ شد فافترقتا ولاتشکوا وایضا فیہ ص رجل ضرب رجلا ضربا وجیعا فقال المضروب اگرمن سزائے وے نکنم فامرأتہ کذا فمضی زمان ولم یجاز قالوا ھذا لایقع علی المجازاۃ الشرعیۃ من القصاص اوالارش او التعزیر او نحوہ و انما یقع علی الاساءۃ بای وجہ یکون فان نوی الفور فھو علی الفور وان لم ینویکون مطلقا کذا فی فتاوی قاضی خاں ایں مطابق صورت مانحن فیہ ست فرق لفظی آنکہ سزائے
تب قسم ٹوٹے گی۔نیز اسی کے صفحہ پر ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا"اگر تو آج نماز دو رکعتیں نہ پڑھے تو تجھے طلاق ہے"تو اس عورت کو نماز شروع کرنے سے قبل حیض آجائے یا ایك رکعت پڑھنے کے بعد حیض آجائے تو شیخ شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے کہ اگر خاوند کی قسم اور حیض آنے کے درمیان اتنا وقت تھا کہ وہ نماز دو رکعتیں پڑھ سکتی تھی تو بالاتفاق یہ قسم صحیح ہوگی اور عورت کو طلاق ہوجائے گی چونکہ اس مسئلہ میں"آج کے دن"اور"دو رکعتوں"کی قید ہے اس لئے یہ مسئلہ اور زیر بحث مسئلہ مختلف ہوگئے جن کا حکم بھی مختلف ہوگالہذا اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔نیز اسی میں صفحہ پر ہے:ایك شخص نے دوسرے کو ضرب لگائی تو مضرورب نے کہا اگر میں اس کو سزا نہ دوں تو بیوی کو فلاں طلاقتو کچھ وقت گزرجانے کے باوجود اس نے سزانہ دی(یعنی سزاسے مراد شرعی سزا قصاص یا تعزیر تاوان نہیں بلکہ کوئی تکلیف پہنچانا مرادہے)تو اس قسم والے نے اگر یمین فور کی نیت کی تو فورا اس ضرب کے وقت سزا مراد ہوگی اور اگر کوئی نیت نہ کی ہوتو پھر مطلق سزا ہوگی یعنی کسی وقت بھی سزا دینا مراد ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں مذکور ہے یہ مسئلہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کے موافق ہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٣٦
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٤٦
#14509 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
وے نکنم معلق بہ فعل عدمی زوج ست در مانحن فیہ اگر نخوانی معلق بہ فعل عدمی زوجہ است حکم اگر نماز نخوانی ترادو طلاق ان نوی الفور فھو علی الفور وان لم ینویکون مطلقا لیکن احمد علی نیت فور نکردہ نہ قرینہ فور یافتہ شود پس یمین مطلق باقی ماند فی شرح الوقایۃ صانت کذا ان لم اطلقك یقع فی اخر عمرہ زیراکہ طلاق ندادن در آخر عمر صادق آید ورنہ ہر وقت احتمال طلاق ہست ہمچنیں نماز خواندن در آخر عمر صادق آید ورنہ نماز خواندن ہر وقت در مدۃ العمر محتمل ستوفی القھستانی صویقع فی الاصح اخر العمر او قبیل موتہ او موتھا وفی النوادر لایقع بموتھا فی قولہ انت طالق وان لم اطلقک ہمچنیں آں اگر زن قبیل موت نماز نہ خواند بروئے دو طلاق رجعی واقع شود مانحن فیہ چناں نیست بلکہ
صرف لفظی فرق ہے کہ یہاں"سزانہ دوں"جو کہ خاوند کے فعل کاعدم ہےکے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں"نماز نہ پڑھنے"کو جو کہ بیوی کے فعل کاعدم ہےکو معلق کیا گیا ہے۔لہذا دونوں مسئلوں کا حکم ایك ہے جیسے گزرا چنانچہ یہی حکمبیوی کے نماز نہ پڑھنے پر ہوگا کہ اگر خاوند نے یمین فور کی نیت کیفوری مرادہوگی۔اور اگر یمین فور کی نیت نہ کی ہو تو عام اور مطلق یعنی نماز کسی بھی وقت نہ پڑھنا مراد ہوگالیکن احمد نے فوری یمین مراد نہیں لی اور نہ ہی یمین فور کا یہاں کوئی قرینہ ہےلہذا یہ قسم مطلق مراد ہوگی اور بعد میں بھی باقی رہے گی۔شرح وقایہ کے صفحہ پرہے:خاوند نے بیوی کو کہا"اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے"تو یہ قسم عمر بھر کےلئے ہےاگر عمر بھر طلاق نہ دی تو موت کے قریب آخری گھڑی میں طلاق ہوگی کیونکہ اس وقت معلوم ہوگا اس نے عمر بھر طلاق نہ دی ورنہ زندگی میں ہر وقت طلاق کا احتمال تھاتو اسی طرح"نماز نہ پڑھنے کی شرط"کا وقوع عمر کے آخرمیں ہوگا ورنہ زندگی میں ہر وقت نماز پڑھنے کا احتمال موجود ہے۔ قہستانی ص میں ہے کہ اصح قول یہ ہے کہ عمر کے آخری حصہ میں خاوند یا بیوی کی موت سے ایك گھڑی قبل شرط کا وقوع
حوالہ / References شرح الوقایہ بیان لفویۃ التطلیق قبل التزوج مطبع مجتبائی دہلی ٢/٧٧
جامع الرموز(قہستانی) کتاب الطلاق مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١/٥١٣
#14510 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
آں زن ازاں تاریخ تاایں دم متعودہ گشت فی قاضی خاں ص ولو قال اذا طلقتك فانت طالق واذا لم اطلقك فانت طالق فلم یطلق حتی ماتت طلقت ثنتین فی اخر جزء من اجزاء حیاتہ ایں ہمہ ثبوت مدعا ست ایضافیہ ص رجل قال لامرأتہ ان لم اجامعك علی راس ھذاالرمح فانت طالق فما داما حیین والرمح قائم لایحنث وقبیل موت احدہما یا بعد ضیاع رمح حانث شود ہکذا مانحن فیہ واﷲتعالی اعلماگرتسلیم کردہ شود کہ طلاقین اولین واقع شدند تاہم بوجہ رجعت باطل چنانکہ بعد طلاق بائن اگر تجدید نکاح کند بعدہ ایضا طلاق دہد طلاقین اولین با طل شوند بعد تجدید نکاح اگر طلاق دہد آں در حساب کردہ آید نہ طلاق قبل تجدید نکاح ہمچنیں بعد رجعت اول طلاق باطل است کما فی
معلوم ہوگااور نوادر میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا"تجھے طلاق اگرچہ میں طلاق نہ دوں"تو بیوی کے مرنے پر طلاق نہ ہوگیاسی طرح اس مسئلہ میں بیوی مرنے سے قبل نماز نہ پڑھے گی تو اس کو دو طلاقیں رجعی ہونگی جبکہ زیر بحث صورت میں بیوی نے نماز نہ چھوڑی بلکہ اس وقت سے لے کر آج تك وہ نماز کی عادی اور پابند ہے۔قاضی خاں کے ص میں ہے کہ اگر خاوند نے کہا"جب میں تجھے طلاق دوں توتجھے طلاق اور جب تجھے نہ دوں تو تجھے طلاق"اس صورت میں عورت کے مرنے پر اس کو طلاق ہوگی اور اس کی عمر کی آخری گھڑی میں دو طلاقیں ہونگی یہ تمام بحث مدعی کے ثبوت کےلئے تائید ہے۔اسی میں ص پر ہے کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا کہ"اگر میں نے اس نیزے کے سر پر تجھ سے جماع نہ کروں تو تجھے طلاق ہے۔"اس صورت میں جب تك خاوند اور بیوی زندہ ہیں اور نیزہ بھی موجود ہے طلاق نہ ہوگیہاں کسی کے مرنے یا نیزے کے ختم ہوجانے پر طلاق ہوگیتو زیر بحث مسئلہ بھی ایسا ہی ہےواﷲ تعالی اعلم۔اگر تسلیم کرلیا جائے کہ احمد علی کی بیوی کو پہلی دوطلاقیں ہوگئی ہیں تو تب بھی ان سے رجوع کرلینے پر وہ کالعدم ہوگئیں جس طرح کہا بائنہ طلاق کے بعد اگر تجدید نکاح کرلیں اور اس کے بعد طلاق
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ١/٢٢٠
فتاوی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ١/٢٢٨
#14511 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
الدرالمختار لوطلقھار جعیا فجعلہ بائنا او ثلثا
وردالمحتار قولہ قبل الرجعۃ لانہ بعدھا یبطل عمل الطلاق فیتعذر جعلھابائنا او ثالثا ھکذا فی الطحطاوی ازیں عبارت خوب واضح شد طلاقین اولیین بوجہ رجعت باطل ست اکنوں برائے طلاق بلاشرط رجعت صحیح است وھوالمدعی۔واﷲتعالی اعلم۔المستخرج محمد وجیہ اﷲ۔
دے دے تو بعد والی گنتی میں ہوگی اور پہلی گنتی میں نہ ہوگی کیونکہ پہلی تجدید نکاح سے کالعدم ہوگئی ہے۔اسی طرح رجوع کرلینے کے بعد پہلی دی ہوئی طلاقیں کالعدم ہوجائیں گیجیسا کہ درمختار میں ہے کہ اگر رجعی طلاق دی ہوتو اس کو بائنہ بنادے یا تین طلاق دے دے۔ اس پر ردالمحتار میں کہا کہ ماتن کا قول"رجعت سے پہلے"یہ اس لئے کہ اگر رجعت کے بعد ہوتو طلاق کا عمل باطل ہوجاتا ہے اس لئے اس کو بائن یا تین بنانا ممکن نہ رہے گاطحطاوی میں یوں ہے:اس عبارت سے خوب واضع ہوگیا کہ احمد علی کی بیوی کی پہلی دونوں طلاقیں رجعت کی وجہ سے کالعدم ہوجائیں گی۔اب اس کے بعد کسی شرط کے بغیر دی ہوئی طلاق پر رجوع کرنا صحیح ہوگایہی مطلوب ہےواﷲ تعالی اعلم۔ مسئلہ کا حل پیش کرنے والا محمد وجیہ اﷲ۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطن واعوذبك رب ان یحضرون
در صورت مستفسرہ زن احمد علی از حبالہ نکاحش بدررفتونہ آنچناں کہ بمجرد تجدید نکاح باز زن اوتواں شد بلکہ تحلیل لازم ست وبے توسط شوہر دیگر حرمت جازم قال اﷲ تعالی فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره حالانکہ
اے اﷲ! حق اور درستگی کی رہنمائی فرمااے رب! میں شیطان کے غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوںاور اے رب! شیطانوں کی موجودگی سے تیری پناہ چاہتا ہوںمسئولہ صورت میں احمد علی کی بیوی اس کے نکاح سے خارج ہوگئی اور اب تجدید نکاح سے بھی حلال نہ ہوگی ببلکہ حلالہ ضروری ہے اور دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر قطعی حرام رہے گیاﷲ تعالی نے فرمایا ہے:اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد بیوی حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ دوسرے
حوالہ / References درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٥
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ /٤٦
القرآن الکریم ٢ /٢٣٠
#14512 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
احمد علی بتعلیم کسے ادعائے ارادہ عموم میکند یعنی آنکہ اگر تو درہمہ عمر خودت ہیچگاہ پیراموں نماز نکردی ودر مدت حیات یك نماز ہم ادا نہ کنی برتو دو طلاق باشد حیلہ ایست کاسدہ وبہانہ ایست بس فاسدہ کہ غیر طفلاں بخبر ہیچ عاقلے بجوئے نخرومقصود وعظ زجرآں می شد کہ پابند نماز شود ہمیں معنی در مستفاہم عرف کہ مبنائے ایمان ست مفہوم شود نہ آنکہ در مدت العمر یك سجدہ پسند ست اگر ترابینم کہ مردے واز دنیا رخت بردی ہیچ گاہ یك سجدہ الہ نکردی آنگاہ بدم واپسیں کہ خود از نکاح من بیروں مے روی برتو دو طلاق باشد ایں معنی کہ اضحوکہ بیش نیست زنہار نہ مراد قائلاں مے باشد ونہ مفہوم اہل عرف وزبانوخود احمد علی صباح آں شب بکار روائی عملی خود مرا خودش کہ آشکارا بود آشکارا تر نمود کہ چوں زن نماز عشاء نگزارد بامداد آں رجعت نمود اگر قصدآں بودے کہ حالا بآموز گاری دستاں سازاں دامے نماید طلاق بر کہ بود ورجعت از چہ فرمودازیں ہمہ واضحات گزشتن وگزاشتن وبہر تحلیل فرج حرام نظر بر فریب وحیلہ گماشتن کار مسلمانی نیست وہم ازینجا حیلہ قصد وعدہ از ہم پاشد بل ہر حیلہ کہ فسو نسازے حالاتراشد عمل بامدادی
شخص سےنکاح نہ کرے اب احمد علی نے کسی کے سکھانے پر جو حیلہ گھڑا اور کہا کہ عموم کا ارادہ کیا ہے یعنی تمام عمر کبھی کہیں کوئی نماز بیوی نہ پڑھے اور تمام عمر ایك نماز بھی نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیںیہ حیلہ جھوٹ اور خالص فاسد بہا نہ ہے جس کو بیخبر بچوں کے علاوہ کوئی عقلمند تسلیم نہیں کرے گا جبکہ مقصد یہ ہے کہ بیوی کو نماز کا پابند بنانے کےلئے نصیحت اور ڈانٹ کے طور پر بات کی گئی ہے لوگوں کے عرف میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ بیوی کو نماز کا پابند بنانے کے لئے کوئی نماز ترك کرنے پر اس کو دو طلاقیں ہوں گینہ یہ کہ تیرا ایك سجدہ ہی پسند ہے اور جب تو مرنے لگی اور دنیا سے رخصت ہوتی دیکھوں کہ تونے کوئی ایك سجدہ نہ کیا اور دنیاسے واپس جاتے ہوئے جبکہ از خود نکاح ختم ہورہا ہو تو تجھے دو طلاقیں ہوں گییہ معنی تو مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں اور نہ ہی ایسی بات کرنے والوں کا ہرگزیہ مقصود ہوتا ہے اور نہ ہی اہل زبان اور اہل عرف یہ معنی سمجھتے ہیں۔ احمد علی نے رات کی کارروائی جو کہ پہلے واضح تھی اس کو صبح مزید واضح کرتے ہوئے بیوی کے عشاء کی نماز رات کو نہ پڑھنے پر دو رجعی طلاقوں کے بعد صبح اس نے رجوع کیااگر اس کا مقصد وہی تھا جو حیلہ سازوں نے اس کو سکھایا تو عشاء کی نماز نہ پڑھنے سے طلاق نہ ہوئی تو رجوع کیسا اور کس سے رجوع کیااس تمام واضح چیز کو نظر انداز کرنا اور
#14513 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
احمد علی ہمہ را جان خراشد وقولہ ایں بیچارہ بے علم چہ داند فقیر سخن ازاں در رد معلم اومی راند وہمچناں ابطال طلاق بہ رجعت کہ ایں کلمہ ملعونہ از زبانش ہماں بتعلیم ضلال بر آمد ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم حکم مسئلہ در فتوائے جلیلہ سابقہ ہر چہ تمامتر روشن شدہ است اینجاتسکینا للھو اجس وتو ھبنا للوساوس والدسائس حرفے چند نافع و سود مند در رد فتوائے دیوبند بر نگاریم وامید توفیق از حضرت عزت عزوعلا داریم ایں طرفہ فتوی جامع الخطا والطغوی کہ اثر دیو بند یش از ہر سطر اش ہویدا وجان وجہاں دیوبند یاں برحرف حرفش شیدا بملاحظہ آمدنوبادہ دیوبندیاں در تحلیل حرام خدا بہ تسویل نفس پر دغاچہ ستم اعجوبہا بکاربرد کہ کہن مشقاں دیوبندرا نیز رونق بازار برد تفصیلی مفضی تطویللہذا بر ماقل وکفی تعویل وحاشا روئے سخن برہمچوناشنا سان فن بلکہ مقصود نصح عوام مومناں ستتا مباداباغوائے کسے حرام خدارا حلال پنداردوکلمات خطا وضلال حتی کہ تکذیب صریح کلام ذی الجلال را سہل انگارند والعیاذ باﷲ العزیز الرحیم ولا حول ولاقوۃالا باﷲ
فریب اور غلط حیلہ سے حرام شرمگاہ کو حلال کرنا مسلمانوں کا کام نہیں ہےنیز یہاں یہ حیلہ کرنا کہ احمد علی نے وعدہ طلاق کا قصد کیا ہےخود بخود ختم ہوگیا بلکہ وہ تمام حیلے جو کار سازوں نے اسے سکھائے ہیں ان سب کو خود احمد علی نے صبح رجوع کی کارروائی سے باطل قرار دیا اور اس مجیب بیچارے بے علم کو کیا معلوم ہےیہ فقیر اس کے استاذ کے رد میں بیان کرتا ہے اور یونہی استاذ کے سکھائے ہوئے اس کلام میں کہ رجوع کرنے سے پہلی طلاقیں باطل ہوگئی ہیں جو کسی گمراہ کے بہکانے پر اس کی زبان نے استعمال کی ہیں کا رد کیا جائے گا۔ان گمراہ کلمات پر"لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم"ہی پڑھی جاسکتی ہےمسئولہ صورت کا جواب مذکور کلمات سے مکمل ہوگیا ہے تاہم شکوك کو ختم کرنے اور وسوسوں کو مٹانے کیلئے دیوبندی کے فتوی کے رد میں کچھ کلام کی جائے تو مفیداور سود مند ہوگی جس کے لئے میں اﷲ تعالی سے توفیق کا خواستگار ہوں۔ یہ ردی فتوی جو گمراہی ا ور غلطیوں کا مجموعہ ہے اس کی ہرسطر سے دیوبند یت اور جہالت نمایاں ہورہی ہے اور اس کے ہر حرف سے دیوبندیوں کا سرمایہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہےدیوبندیوں کا یہ نیا تماشہ جو اﷲ کی حرام کردہ کو حلال بنانے کےلئے من گھڑت فریب سے پر ہے۔ان عجوبوں پر ظلم یہ کہ دیوبند کی کہنہ مشق شخصیات بھی بازار کی رونق
#14514 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
العلی العظیمعزیزان ہلہ ہشیار ومے شتاب زدگی نباید شہسوار خامہ برق بار را بچالش آمدن دہید بحولہ تعالی حالاخالی شود وبیان بہ عیاں رسد کہ بیچارہ ازاثر دیوبندی چسپاں تکذیب نص قطعی قرآن وخرق اجماع ائمہ مومناں علیہم الرضوان نمودوبطمع آنکہ مگر فرجے حرام را برائے دیگرے حلال نماید حیا در ملابرروئے خودش کشود وقد صدق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیما یرویہ عنہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عند البیھقی فی شعب الایمان من اسوء الناس منزلۃ من اذھب اخرتہ بدنیا غیرہ ۔والعیاذ باﷲ رب العلمین ہماچیدہ چیدہ در تنبیہات عدیدہ مفیدہ بر چند خطایائے ایں فتوی نوچاویدہ آگاہی دہیمتا عاقلاں پے برند وغافلاں خبر دار شوند وخاطیاں اگر توفیق یا بندد گررہ ہمچناں کور کورانہ نروند وباﷲ التوفیق ووصول التحقیق۔ ثابت ہوئے ضرورت سے زائد بات موجب تطویل ہوگی لہذا ہم پر قلیل اور کافی کو پیش کرنا مناسب ہے ان جیسے ناسمجھ لوگوں سے ہرگز روئے سخن نہیں ہے بلکہ اہل ایمان کو نصیحت مقصود ہے تاکہ کہیں کسی کے بہکانے پر اﷲ تعالی کے حرام کردہ کو حلال نہ سمجھ لیںاور غلط وگمراہی کی باتیں حتی کہ اﷲ تعالی کے صریح کلام کی تکذیب ہیں پر سہل انگاری سے کام نہ لیں العیاذ باﷲ العزیز الرحیمولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ عزیزان نہایت ہوشیار بے صبری نہیں چاہئےتیز رفتار شہسوار قلم کو حرکت میں آنے دو اﷲ تعالی کے فضل سے میدان صاف اور بیان واضح ہوجائے گا کہ اس مجیب بیچارے نے دیوبندی اثر کی بنا پر قرآن پاك کی نص قطعی کی تکذیب اور مومنوں کے ائمہ کرام رضوان اﷲ علیہم کے اجماع کی خلاف ورزی کس طرح کی ہے اور وہ بھی حرام شرمگاہ کو غیر کے لئے حلال کرنے کے لالچ میں جرأت کرکے شرمساری اپنے ذمے لے لی ہے۔ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا سچا ارشاد روایت فرمایا جس کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے کہ لوگوں میں سب سے بڑابدبخت وہ شخص ہے جو غیر کی دنیا کے لئے اپنی آخرت خراب کرے والعیاذ باﷲ رب العلمیناب ہم چند تنبیہات مفیدہاس عجیب فتوی کی چند غلطیوں پر آگاہی کے لئے ذکر کریں گے تاکہ بے پر عاقل اور غافل لو
حوالہ / References شعب الایمان باب فی اخلاص العمل ﷲ وترك الرباء حدیث ٢٩٣٨ دارالکتب العلمیہ بیروت ٥/٣٥٨
#14515 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
خبردار ہوجائیں اورخطاکار اگر توفیق پائیں تو دوسروں کے نہ راستے کو نہ اپنائیںتوفیق اور حق تك رسائی اﷲ تعالی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔(ت)
اول:آنکہ خرق طلاق را تبدیل صورت سوال رفو خواست سوال کہ ایں جا آمدہ بود لفظش آں بود کہ"ایك شخص نے اپنی بی بی کو بعد نماز مغرب کے کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہے"۔وتعلیم سوال دیوبندی آنچناں ساخت کہ باعتدال طبع واستقلال مزاج بطریق زجر وتنبیہ گفت کہ نماز بخواں اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق بجائے تو دو طلاقہترا دو طلاق نمود تا بزعم باطل خودش اورا از تعلیق برآوردہ وعدہ طلاق نماید وبد نداں طمع گرہ از کار احمد علی کشاید وپیداست کہ تبدیل صورت بعد اطلاع بر حکم شرعی نمی باشد مگر از راہ مکروخدع باز سائل ماکہ دوبارہ ایں سوال فرستاد نقاب ازروئے دستاں ایں ہوا پر ستاں کشادہ کہ لفظ خاص احمد علی بزبان بنگالہ"دیلام"کہ صراحۃ بمعنی دادم ست نوشت وبساط اختراع وعد یکسر در نوشت۔
اول:یہ کہطلاق کے نشان کو سوال کی صورت میں تبدیلی کرکےمٹانا چاہایہاں جو سوال آیا اسکے الفاظ یہ ہیں کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو نماز مغرب کے بعد کہا"اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہے"اور دیوبندی کی تعلیم سے سوال یوں بنادیا:ایك شخص نے اعتدال طبع اور مستقل مزاجی سے زجر اور تنبیہ کے طور بیوی کو کہا کہ تو نماز پڑھاگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیوں اس نے"تو دو طلاق"کی بجائے"تجھے دو طلاق"بنادیاتاکہ اپنے باطل زعم میں وہ تعلیق طلاق سے نکال کر وعدہ طلاق بناسکے اور لالچ کے دانتوں سے احمد علی کی کارروائی کی گرہ کو کھولےاور واضح بات ہے کسی شرعی حکم کے معلوم ہونے پر سوال کی صورت کو تبدیل کرنا صرف مکروفریب ہی کہلا سکتا ہے پھر جس نے ہمارے پاس دوبارہ یہ سوال بھیجا ہے اس نے ان نفسانی خواہشات پرستوں کی داستان سے پردہ ہٹادیا ہے کہ احمد علی نے جو لفط خاص اس موقعہ پر بنگالی زبان میں استعمال کیا ہے وہ"دیلام"ہے جو کہ صراحۃ"میں نے دی"کے معنی میں ہونا لکھا ہے اور وعدہ کی اختراعی صورت بالکل ختم کردی۔(ت)
#14516 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
دوم:فرقے کہ در تو طلاق وترا طالق از پیش خویش بر آو رد محض ایجاد بندہ است بیچارہ در انشائے تعلیق وتعلیق انشا فرق نمی داند مقصود ومفاہم عرف اول ست نہ ثانیومعنی استقبال خود لازم ہر جز است چنانکہ در قولش اگر چناں کنی تو طلاق معنی آنست کہ مطلقہ شوی ہم بایں انشانہ بانشائے جدیدکہ آں وقت وعدہ ابدایش میدہدہمچناں در قولش اگر نچناں کنی ترا طلاق معنی ہمان ست کہ تراطلاق شود بہمیں انشاء نہ بانشائے موعودوطلاق آنچناں کہ صدورا وصف مردست کہ از وبمصدر مبنی للفاعل اے مطلقیت بالکسر تعبیر کند ہمچناں وقوعا صفت زن کہ از وبمصدر مبنی للمفعول اعنی مطلقیت بالفتح نشان دہد پس مقدر خواہد شد بود نہ کہ خواہم داداگر مجرد ملاحظہ آنکہ ایں صفت زن بے فعل شوے صورت نہ بندد مشعر فعل جدید موعود ومفید معنی وعدہ شود پس ایں خود در قول اواگر چناں شود تو طلاق نیز نقد وقت ست زیراکہ از طلاق بمعنی رفع کہ فعل زوج ست اور ا نیز ناگزیر ست بلکہ ہیچ لفظے ازیں معنی بے نیاز نبود پس اگر ایں ملاحظہ بموجب معنی وعدہ شدے ہمانا ہیچ تعلیق صورت نہ بستے مثلا در تو طلاق نیز تواں گفت کہ معنی آنست کہ تو مطلقہ خواہی شد ومطلقہ نیست مگر آنکہ بروئے ایقاع طلاق نمودہ شود پس معنی آں شد کہ برتو ایقاع طلاق کردہ خواہد شد وپیدااست کہ ایں وعدہ طلاق نیست بالجملہ ایں وسوسہ وتفرقہ جہالتے بیش نیست۔
دوم:"تو طلاقاور تجھے طلاق"کا فرق خود اپنی طرف سے من گھڑت بنایااس بیچارے کو تعلیق کی انشاء اور انشاء کی تعلیق کا فرق معلوم نہ ہوسکاجبکہ عرف میں پہلا یعنی تعلیق کی انشاء مقصود ومتعارف ہے نہ کہ دوسرااور پھر ہر جزء کو استقبال خود لازم ہے مثلا یہ کہنا کہ"تو اگر یوں کرے تو طلاق ہے"اس کا معنی یہ ہے کہ"تو مطلقہ ہوجائے گی"اور انشاء بھی یہی ہوگا نہ کہ کوئی بعد میں جدید انشاء ہوگااور طلاق صادر ہونے کے اعتبار میں خاوند کی صفت ہوتی ہے جس کو طلاق دینے والاسے تعبیر کرتے ہیں۔اور یونہی وہ وقوع کے اعتبار سے بیوی کی صفت ہوتی ہے جس کو مطلقہ سے تعبیر کرتے ہیں(یعنی خاوند کے لئے طلاق مصدر مبنی للفاعل اور بیوی کےلئے وہی طلاق مصدر مبنی للمفعول بن جاتا ہے)تو یہاں"ہوجائے گی"کی تقدیر بنے گی نہ کہ"میں دوں گا"کی تقدیر بنے گی۔اوراگرصرف یہ لحاظ ہو کہ یہ بیوی کی صفت خاوند کے فعل کے بغیر بن گئی تو بات نہ بنے گی اور اس سے خاوند کے جدید آئندہ فعل اور طلاق کا وعدہ نہ بن سکے گاپس خاوند کا یہ کہنا کہ"اگر یہ ہوجائے تو طلاق"بھی بروقت انشاء ہے کیونکہ طلاق جس کا معنی ہٹانا اور کھولنا ہے بھی خاوند کے فعل کا نام ہے جو کہ ضروری ہےبلکہ کوئی لفظ طلاق بھی خاوند کے فعل سے بے نیاز نہیں ہوسکتاپس اگر اس لحاظ سے اس کو وعدہ والامعنی قرار دیا جائے تو پھر تعلیق کےلئے کوئی صورت نہیں بن سکے گی مثلا کوئی یوں کہے"تو طلاق ہے"تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے تو مطلقہ ہوسکے گی اور ابھی
#14517 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
سوم:جناب مجتہد العصر باجتہاد خودش ایں فرق بدیع ابداع نمود و ندید یا دیداز چشم حق پوشید کہ در کتب مذہب تصریحا جا بجا لفط"تراطلاق"تعلیق قراردادہ اند نہ وعدہدر فتاوی خلاصہ و فتاوی عالمگیریہ فرمود اگر مرانخواہی تراطلاق فقالت می خواہم لاتطلق ھذا تعلیق بالارادۃ وانھا امر باطن لایوقف علیہ فیتعلق بالاختیار درفتاوی قاضی خاں و خزانۃ المفتین و غیرہما فرمودند اگر سہ ماہ رانیایم ودہ دینار نیارم ترا طلاق فجاء ولم یات بالدنانیر تطلق درفتاوی ظہیریہ وخزانہ امام سمعانی فرمودہ قال لھا اگرتو حرام کنی تراسہ طلاق فابانھا ثم جامعھا فی العدۃ یحنث وتطلق ثلثا حالانکہ مجتہد دیوبند از چشم کشادہ نظر فرماید کہ آں بالاخو اینہائے وعدو تقدیرخواہم داد کجا شد۔
چہارم:احمد علی رادریں دستاں استاذ خود می گوید کہ ایں مطلب از خود نگر فتم بلکہ احمد علی میگوید حالانکہ معاملہ واژ گونہ است بے چارہ مطلقہ نہ ہوئی۔اور جس عورت کوکئی طلاق دے تو معنی یہ ہوجائے گا کہ طلاق دوں گا حالانکہ وہ طلاق واقع کررہا ہے اور طلاق کا وعدہ نہیں کررہاغرضیکہ یہ فرق کا وسوسہ جہالت ہےاس سے زیادہ کچھ نہیں۔سوم:یہ عجیب فرق کرنے پر مجتہد العصر نے یہ بھی نہ دیکھا یا دیکھا اور حق نظر نہ آیا کہ مذہب کی تمام کتب میں جابجا صراحۃ"تجھے طلاق ہے"کو تعلیق قرار دیا گیا ہے نہ کہ وعدہ طلاق قرار دیا گیا۔فتاوی خلاصہ اور فتاوی عالمگیریہ میں ہے اگر خاوند نے بیوی کو کہا کہ"اگر تو مجھے نہیں چاہتی تو تجھے طلاق ہے"بیوی نے جواب میں کہا"میں چاہتی ہوں"تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ بیوی کے ارادہ سے معلق ہے اور ارادہ باطنی چیز ہے اس پر واقفیت نہیں ہوسکتی لہذا بیوی کے اختیار پر فیصلہ ہوگااور فتاوی قاضی خان اور خزانۃ المفتین وغیرہما میں فرمایا ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا"اگر میں تین ماہ کو نہ آؤں اور دس دینار نہ لاؤں تو تجھے طلاق"۔تو تین ماہ کے بعد آیا اور دس دینار نہ لایا تو طلاق ہوجائے گی۔ فتاوی ظہیریہ اور خزانہ امام سمعانی میں فرمایا اگر بیوی کو کہا اگر تو حرام کرے تو تجھے تین طلاق۔اس کے بعد اس نے بیوی کو طلاق بائنہ دے کر اس سے عدت میں جماع کیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اور تین طلاقیں ہوجائیں گی دیوبندی مجتہد آنکھ کھول کر دیکھے کہ مذکورہ بالاعبارات میں وعدہ اور"طلاق دوں گا"کہاں ہے۔چہارم:احمد علی کی اس داستان کا استاذ خو د کہتا ہے کہ"یہ مطلب میں نے خود نہیں بنایا بلکہ احمد علی کہتا ہے"حالانکہ یہ گہرا معاملہ ہے اگربے چارہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٨٧
خزانۃ المفتین فصل فی التعلیق قلمی نسخہ ١/١١٣
خزانۃ المفتین فصل فی التعلیق قلمی نسخہ ١/١١٢
#14518 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
احمد علی اگر ازیں کید عظیم آگہی داشتے صبحگاہ چارتخم رجعت کاختے۔
احمد علی اس عظیم مکرکو سمجھتا تو صبح کو رجوع کیوں کرتا۔
پنجم:باز کہ باعتراف حق گزائید سخنے لغو وبے سود چادیدن گرفت کہ معلق برسہ گونہ است وقسم را قسمت دانستہ میگوید مجموعہ شش قسمت است حالانکہ ایں تقسیم را در مسئلہ دائرہ دخلے نیست اینجا وفرق حکم میان قسمے وقسمے نیست خودش می سراید ھذا یعم الصورۃ الستۃ کلھا من غیر فرق ہو شمندرا پر سیدن ست کہ چوں اینجا ہر قسم را حکم یکے ست ذکر ایں تقسیم ازش چہ رو در میان آمد جزینکہ بینندہ داند کہ جناب اجتہاد مآب را گاہے بر شرح وقایہ ہم نظر افتادہ است ولو مع عدم الفھم۔
پنجم:پھر حق کے اعتراف سے گزیر کرتے ہوئے لغو اور بے سود معاملہ میں الجھ گیا کہ"معلق تین قسم پر ہے"اور قسم کو تقسیم سمجھ کر کہتا ہے"مجموعہ چھ قسم ہے"حالانکہ زیر بحث مسئلہ میں اس تقسیم کا کوئی دخل نہیں ہے اور یہاں اقسام میں کوئی فرق نہیں ہے اور خود کہتاہے کہ یہ حکم تمام چھ اقسام کو شامل ہےاس عقلمند سے کوئی پوچھے کہ جب سب کا حکم ایك ہے تو پھر اس تقسیم کوکس وجہ سے درمیان میں لایا گیا سوائے اس کے کہ دیکھنے والے کو معلوم ہوجائے کہ جناب مجتہد صاحب کی نظرشرح وقایہ پر بھی پڑی ہے اگرچہ سمجھ نہیں آئی۔
ششم:شان الہی نظارہ کردنی ست کہ خوددر ضمن باطل نادانستہ لب بحق می کشاید وبازاز خطب بہ جذب می گراید مرادش آں بود کہ ایں تعلیق رادائم نماز چسپاں نماید تا بوقوع صلوۃ ولو مرۃ زن را تحفظ از طلاق بدست آید از ہمیں رومنطق الطیر خود را خرچ نمود ومطلب را کشاں کشاں برآں منزل آورکہ اگر از زن احمد علی یك نماز ہم پیش از مرگ واقع شد اورا طلاق نیست حالانکہ ایں جا خود می گوید حیث لایشعر راہ حق می پویدکہ غرض متکلم نیز معتاد للصلوۃ شدن زوجہ ست دائما سبحان اﷲ ایں شترگر بگی بیں غرض متکلم آں بود کہ زوجہ دائما معتاد نماز شود یا آں شد کہ زن در مدۃ العمر یك سجدہ بجاآرد گو در سائر عمر خودش ہیچ روئے بقبلہ میار ببیں تفاوت رہ از کجاست
ششم:خداکی شان دیکھئے کہ باطل کے ضمن میں غیر شعوری طور پر حق زبان سے نکل گیا اور پھر دوبارہ گڑھے میں گرگیا اس کا مقصد تو یہ تھاکہ اس تعلیق کا تعلق دائمی ترك نماز سے بنائے تاکہ ایك نماز بھی پڑھ لینے پر بیوی کو طلاق سے تحفظ مل سکےاسی بناء پر اپنی منطق کواستعمال کرتے ہوئے مطلب کو کھینچ تان کر اس منزل پر لے آیا کہ اگر احمد علی کی بیوی مرنے سے قبل ایك نماز بھی پڑھ لے تو طلاق نہ ہوگی حالانکہ یہاں راہ حق کوغیر شعوری طور پر پاتے ہوئے کہتا ہے کہ متکلم کی غرض بھی یہی کہ اس کی بیوی دائمی طورپر نماز کی عادی ہوجائےسبحان اﷲ! اس شتر کی چال دیکھئے کہ یا متکلم کی غرض بیوی کو دائمی نما ز کا پابند بنانا ہے یا یہ غرض ہے کہ پوری عمر ایك سجدہ بجالائے اگرچہ باقی عمر بھر قبلہ رونہ ہو
#14519 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
تا بکجا۔
یہ تفاوت دیکھئے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
ہفتم:خود معترف شدہ کہ غرض متکلم دائما خوگر بودن زن بہ نماز ستمی گوید پس تخصیص نماز عشاوفجروغیرہ از کجا امداجتہاد تا بامانیز ہمیں می گویم کہ غرض تعوددائم ست تخصیص ہیچ نماز نیستہر نماز یکہ عمدا بلاعذر شرعی ترك دہد طلاق شود عشا باشد یا فجر چوں وقت عشا گزشت وزن نماز گزاشت وادا نکرد طلاقہ شدہ۔
ہفتم:جب خود معترف ہے کہ متکلم کی غرض بیوی کو نماز کا دائمی پابند بنانا ہےتو عشاء یا فجر کی نماز وغیرہ کی تخصیص کہاں سے آئیتمہارا اور ہمارا اجتہاد بھی یہی کہتاہے کہ غرض نماز کا دائمی عادی بنانا ہے جس میں کسی نماز کی تخصیص نہیں ہے جو نماز بھی شرعی عذر کے بغیر ترك کرے گی طلاق ہوجائے گیوہ نماز عشا ہو یا فجر جب عشاء کی نماز کا وقت ختم ہوجائے اور بیوی نے نماز وقت میں ادا نہ کی تو اس کو طلاق ہوگئی۔
ہشتم:باعتراف آنکہ غرض متکلم تعود دائم ست ایں چانہ زنی کہ قرینہ یمین ہم مفقود مگر از باب اجتہاد دیوبند خواہد بود یاہما نا معنی معتاد صلوۃ شدن زوجہ دائما آں باشد کہ در ہمہ عمر جز یکبار ہیچ نماز ادا نہ کند ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ۔
ہشتم:اس اعتراف کے باوجود کہ متکلم کی غرض دائمی نماز کا عادی بنانا ہےیہ کہنا کہ"قرینہ یمین خود بھی مفقود ہے"کیسے درست ہو سکتا ہے __لیکن دیوبند کےاجتہاد میں یہ ہوسکتا ہے کیونکہ بیوی کو ہمیشہ نماز کا عادی بنانے کا مطلب جن کے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ تمام عمر میں ایك نماز کے علاوہ کوئی نماز نہ پڑھے(ان کے ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے)لاحول ولاقوۃ الاباﷲ۔
نہم:تخصیص یمین الفور بصورت غضب وبے اعتدالی طبع نیز از اجتہادات دیوبندیہ است کہ در کتب مذہب ازاں نشانے نیست در فتوائے جلیلہ سابقہ چند امثلہ اش از کتب معتمدہ مذکورہ است چشم مالیدہ آنجا بیند کہ غبار ایں تخصیص از دلش بنشیند درمثال چہارم فرمودہ اند حاکم حلف کرد اگر در شہر بد معاشے آید وتراجزانہ دہم زن طلاقہ باشد ایں نیز از باب یمین الفور ست اینجا کدام غضب واشتعال طبع بود مگر جناب اجتہاد مآب از وجوہ تسمیہ الفور یك وجہ
نہم:یمین الفور کی تخصیص غصہ اور بے اعتدالی طبع سے کرنا بھی دیوبند کا اجتہاد ہےجبکہ مذہب کی کسی کتاب میں اس تخصیص کا کوئی نشان نہیں ہےگزشتہ چند معتمد علیہ کتب کے فتاوی جلیلہ کی کچھ مثالیں گزری ہیں ان کو آنکھیں صاف کرکے دیکھیں تاکہ ان کے دل سے تخصیص کی غبار نکل سکےچوتھی مثال میں فرمایا گیا ہے کہ اگر حاکم نے قسم اٹھائی کہ"اگر کوئی بدمعاش شہر میں داخل ہوا تجھے سزا نہ دوں تو بیوی کو طلاق ہے"یہ بھی یمین فور ہے حالانکہ یہاں غصہ اور اشتعال طبع
#14520 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
راملاحظہ فرمودہ گمان بردہ باشند کہ مشبہ ومشبہ بہ یکے ست ومناسبت تسمیہ لازم حقیقت شیئ ست وایں خود از اثر تعلیم دیوبندی دور نیست۔
موجود نہیں ہے مگر اس مجتہد صاحب نے یمین فور کی وجہ تسمیہ کے وجوہ میں سے ایك وجہ کو دیکھ کر گمان کرلیا کہ مشبہ اور مشبہ بہ ایك ہی چیز ہیں اور وجہ تسمیہ کی مناسبت شیئ کی حقیقت کو لازم ہوتی ہےیہ بھی تو دیوبند تعلیم کے اثر کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
دہم:ازیں جاتاقول وھکذا ما نحن فیہ واﷲ تعالی اعلم کہ دوثلث تحریر اومی شود اگر فتوائے جلیلہ سابقہ را بچشم عقل وفہم ودیدن تو انستے از ینہمہ یاوہ سرائہیا معاف داشتے ایں معنی کہ ظاہر مفاد لغوی لفط تعلیق طلاق برعدم دائم نماز ست در فتوائے جلیلہ بالفاظ جزیلہ قلیلہ ادا شدہ بود باز تخصیص بالفرض بورجہے سمت ایضاح تا فت کہ آفتاب حق بے حجاب سحاب تافت وخود اینکس نادانستہ ایمان آورد کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلوۃ شدن زوجہ است دائما پس حق روشن شد وپردہ از جہالت دیوبندیہ بر افتادودریں دو ثلث تحریر بے تحریر ہر چہ جاوید ہمہ لغو وضائع رفت کہ حاجت التفات نماند کما لا یخفی علی کل عاقل فضلا عن فاضل ایں الفاظ مختصرہ فتوائے جلیلہ سابقہ را کہ فعل حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجا تا ہےاور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا باتقریر طویل پریشانی اینکس باید سنجید عــــہ وباز تحقیق حق ناصح راکہ مگر بحکم دلالت حا ل واجب ست کہ خاص قسم اول یعنی صلوۃ ملتزمہ مبرئہ مراد ہو اور اس کا انتفاء
دہم:یہاں سے لے کر اس کے اس قول"ہمارے زیر بحث مسئلہ میں ایسے ہی ہے واﷲ اعلم"تك جو کہ اس کی تحریر کا دوتہائی حصہ ہے کے متعلق اگر پہلے مذکور فتوی جلیلہ کو عقل وفہم کی آنکھ سے دیکھ لے اس کی یہ تمام یا وہ گوئی ختم ہوجائے اور تعلیق طلاق کا لغوی معنی جس کا مفاد ظاہرا دلالت کررہا ہے کہ"اگر تو نماز نہ پڑھے گی"کا مطلب دوام نماز کاعدم ہے یعنی کوئی ایك نماز نہ پڑھےمذکورہ فتوی جلیلہ کے الفاظ نے بھر پور انداز میں اس کو بیان کردیا ہے پھر نماز فرض کی تخصیص واضح انداز میں بادل سے بے حجاب سورج کی طرح روشن ہو گئی ہےاور خود اس شخص نے نادانستہ طور پر اعتراف کرلیا کہ"متکلم کا مقصد بیوی کو دائمی نماز کا پابند بنانا ہے"پس حق واضح ہوگیا اور دیوبندی کی جہالت سے پردہ اٹھ گیااور اس کی دو ثلث تحریر بے تحقیق یہاں لغو اور ضائع ہوگئی اور اس کی طرف التفات کی ضرورت نہیں جیسا کہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی رہے گزشتہ فتاوی جلیلہ کے مختصر الفاظ کو"کہ فعل حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ

عــــہ:یہاں مسودہ میں بیاض ہے
#14521 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ایك وقت کی نماز فرض عمدا بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے تو لازم ہوا کہ جب عوت نے اس حلف کے بعد عشاء نہ پڑھی صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پردو طلاقیں پڑگئیں باعتراف اینکس کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلوۃ شدن زوجہ است دائما باید دید تو وبخدائے توہیچ پردہ برچہرہ حق ماندہ است حاشا ثم حاشا بشرط آنکہ تعلیم دیوبندی عقل ترا دیوبندی یعنی بندی دیو نکردہ باشد۔
ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز نہ پڑھیصادق نہ رہا"کو اپنی طویل پراگندہ تقریر کے مقابلہ میں اس شخص کو دیکھنا چاہئےاور پھر اس کے بعد واضح حق کو"کہ مگر بحکم دلالت حال واجب ہے کہ خاص قسم اول یعنی صلوۃ ملتزمہ مبرئیہ مراد ہواور اس کا انتفاء ایك وقت کی نماز فرض عمدا بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے اس حلف کے بعد عشاء نہ پڑھیصبح صادق طالع ہوتے اس پر دو طلاقیں پڑگئیں"کو یہ شخص اپنے اس اعتراف کے ساتھ"کہ متکلم کی غرض بھی بیوی کو دائمی طور پر نماز کی عادی بناناہے"ملاکر دیکھے تو بخدا بتائے کہ حق کے چہرہ پر کوئی پردہ باقی رہتا ہےہرگز ہرگز نہیں رہتابشرطیکہ دیوبندی تعلیم نے اس کی عقل کو دیوبندی یعنی شیطان کا غلام نہ بنایا ہو۔
یازدہم:مسکین بیچارہ کہ در مدرسہ دیوبند گا ہے الفاظ میرزاہد بر ملاجلال را ترجمہ شنیدہ باشد بشامت بخت منطقہ منطق بر رخت فقاہت دیوبندی بست ومطلبے را کہ در فتوائے جلیلہ سابقہ باحسن طریقہ اصول ایضاح یافتہ بود باخس طرق معقول نا معقول خودش اثبات خواست و باآنکہ محققین ایں تدقیق ذائع عمدۃ المدققین سید زاہد مرحوم را بوجوہ کثیرہ رد فرمودہ اند بیچارہ دست نظرقاصر از انہا کو تاہ داشتہ بر تقلید جامد سید زاہد بسند نمودونداشت کہ موضوع قضیہ طبعیہ معروض کلیت است وکلیت از معقولات ثانیہ پس قضیہ ذہنیہ باشد نہ خارجیہ وزنہار ایں مرتبہ از وجود خارجی بوئے نشود نہ بوجود فردے واحد نہ بوجود جمیع افراد فی الخارج بلکہ وجود فردے فی الخارج مستلزم وجود انتزاعی ایں مرتبہ ہم نتواں شد
یازدہم:بیچارے مسکین نے کبھی دیوبند کے مدرسہ میں ملا جلال پر میر زاہد کے الفاظ کا ترجمہ سن لیا ہوگا جس پر بدقسمتی سے منطق کی بات شروع کردی اور دیوبندی فقاہت بنادی اور مذکورہ فتاوی جلیلہ کا مطلب جو وضاحت کے اصول پر بہت اچھی طرح واضح ہوچکا تھا اس کو اپنی نامعقول منطق سے ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے اگرچہ محققین نے عمدۃ المدققین علامہ سید میر زاہد مرحوم کی بعض مشہور تدقیقات کا کثیر وجوہ سے رد کیا یہ بیچارہ اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے محققین کی بیان کردہ وجوہ سے محروم رہ کر سید زاہد کی تقلید جامد پر ہی انحصار کرسکا۔اسے معلوم نہیں کہ قضیہ طبعیہ کا موضوع کلیت کا معروض ہوتا ہے اور کلیت معقولات ثانیہ سے ہے جس کو وجود صرف ذہنی ہوتا ہےلہذا یہ طبعیہ صرف قضیہ ذہنیہ ہوتا ہے
#14522 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فان المنتزع تابع للانتزاع فمالم ینتزع لم یوجد ولو وجد مایصح الانتزاع منہ آیا نہ بینی کہ ایں مرتبہ بے لحاظ ماہیت مع الاطلاق ای فی العنوان دون المعنون صورت نہ بنددپس بے لحاظ لاحظ بمجرد وجود فرد فی الخارج چسپاں وجود ذہنی پزیرد۔
خارجہ نہیں ہوتااور یہ ہرگز وجود خارجی کا مرتبہ نہیں پاسکتا یہ اپنے ایك فرد یا جمیع افراد کے خارجی وجود سے بھی خارج میں متحقق نہیں ہوسکتا بلکہ کسی فرد کے خارج میں پائے جانے سے اس مرتبہ کا وجود انتزاعی بھی نہیں ہوسکتاکیونکہ انتزاع کی ہوئی چیزانتزاع کے تابع ہوتی ہے تو جب تك انتزاع نہ کیا جائے اس کا وجود نہیں ہوتا اگرچہ وہ چیز موجود تھی جس سے انتزاع کیا جاسکتا ہوکیا غور نہیں کرتے کہ یہ مرتبہ ماہیت کے ساتھ اطلاق کو ملحوظ رکھے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا یعنی اطلاق کا لحاظ صرف عنوان میں ہو معنون میں نہ ہوتو کسی فرد کے محض خارج میں لحاظ کرنے والے کے لحاظ کے بغیرپائے جانے سے ذہنی وجود کس طرح پیدا ہوسکے گا۔
دوازدہم:مراد از وجود طبیعت موضوع طبعیہ وجود خارجی است یا وجود ذہنی اول را خود اوشایاں نیست ودوم در گرد وجود فرونبود کہ بانتفائے افراد منتفی شود۔
دوازدہم:قضیہ کے موضوع کے لئے طبیعت کے وجود سے مراد خارجی وجود یا ذہنی وجود ہے وجود خارجی تو خود طبیعت کے شایاں نہیںاور ذہنی وجود مراد ہوتو وہ حاصل نہیں(کیونکہ یہ افراد سے متعلق نہیں)کہ وہ افراد کے انتفاء سے منتفی ہوجائے۔
سیزدہم:الشیئ المطلق کہ ملحوظ بلحاظ عموم وکلیت واطلاق است احکام افراد بادساری نشود پس چرا بوجود فرد موجود یا بانتفائے افراد منتفی شود۔
سیزدہم:الشیئ المطلق کے مرتبہ میں عمومکلیت اور اطلاق ملحوظ ہوتا ہےاس میں افراد کے احکام سرایت نہیں کرتے تواس مرتبہ کے متعلق یہ کہنا کہ ایك فرد کے وجود سے موجود یا ایك فرد کے انتفاء سے منتفی ہوجانا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
چہاردہم:اگر بفرض باطل طبعیہ راخارجیہ گویم پس وجود طبیعت بوجود ہر یك از افراد متعاقبہ ہماں نحو وجود ست کہ بوجود فرد اول عارض شود یا غیر آں ولو بالاعتبار اول باطل ست کہ تحصیل حاصل ست وعلی الثانی چوں بوجود ہر فرد نحوے از وجود عارض شود بانتفائے آں فرد ہمانحووجود منتفی شود پس
چہاردہم:اگر بفرض باطلہم مان لیں کہ قضیہ طبعیہ کا وجود خارجی ہے تو طبیعہ کا وجود اس کے افراد متعاقبہ میں سے ہر فرد کے وجود سے ہوگا جو کہ اس کے فرد اول کا وجود ہے یا اس کا کوئی غیر وجود ہوگا اگرچہ یہ غیریت اعتباری ہی ہواول باطل ہے کیونکہ یہ
#14523 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
انتفا بانتفائے ہر فرد رو نماید وتفرقہ ایں حکم میان مطلق الشیئ والشیئ المطلق ضائع برآید۔
تحصیل حاصل ہےاور دوسری شق پر جب ہر فرد کے وجود سے طبیعت کو ایك قسم کا وجود عارض ہوا تو اس فرد کے انتفاء سے طبیعت کو حاصل شدہ وجود منتفی ہوگاتو لازم آئے گا کہ ہرفرد کے انتفاء سے طبیعت کا انتفاء ہوجائے تو اس حکم میں مطلق الشیئ اور الشیئ المطلق کا فرق فضول ہوگا۔
پانزدہم:ایرادات قاہرہ بریں تفرقہ باہرہ در کلمات زائرہ ملك العلماء بحر العلوم قدس سرہ مطالعہ کن غرض بالقدر مایتعلق بالمقام این ست کہ احمد علی زن خود را گفت اگر نماز نخوانی ترادو طلاق پس بالبداہۃ مقصود اونمازے ست کہ خواندن وگزاردن وادا نمودن در خارج برروئے کار آوردن را شایاں بود نہ نمازے کہ وجود ش محض ذہنی واعتباری باشد وقاببلیت ایقاع وادا اصلاندارد پس محال ست انچہ گفتہ کہ مراد در ینجا الصلوۃ مطلقۃ یعنی موضوع قضیہ طبعیہ است وبہ بطلانش بطلان ہمہ انچہ برو متفرع کردہ واضح فان فساد المبنی فساد البناء۔
پانزدہم:اس فرق پر مضبوط اعتر اضات کا مطالعہ ملك العلماء بحر العلوم کے کلام میں کرو۔زیربحث مقام سے متعلق غرض یہ ہے کہ احمد علی نے اپنی بیوی کو کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیںپس بالبداہت معلوم ہے کہ اس کا مقصد وہ نماز ہے جو خارج میں پڑھی اور ادا کی جاسکےنہ وہ نماز جس کا وجود محض ذہنی اور اعتباری ہو اور خارج میں پڑھنے اور ادا کرنے کے قابل نہ ہوتو یہ کہنا کہ یہاں صلوۃ مطلقہ مرا دہے جو قضیہ طبعیہ کا موضوع ہےمحال ہوگااس کے بطلان کے بعد وہ تمام باتیں باطل ہوگئیں جو اس پر متفرع کی گئی ہیںیہ واضح بات ہے کیونکہ مبنی کے فساد سے بناء کا فساد ہوتا ہے۔
شانزدہم:ہنگام تحقق شرط بر عدم حنث نہ خفائے داشت کہ محتاج بہ نقل بودے فاما مجتہد دیوبند کمال سلیقہ خودر را در جلوہ دادن خواست وعبارت عالمگیری الاصل ان الیمین متی عقدت علی عدم الفعل فی محلین ینظر فیہما الی شرط البرکہ ازیں محل بیعلاقہ بود بہ سند نمود مسکین اگر آں واضحہ را در محل لائق او نتوانستی دید کاش ہم از ینجا بر فقرہ
شانزدہم:عدم فعل کی شرط کے پائے جانے پر حنث کا پایا جانا واضح بات ہے جس پر کسی نقل کی ضرورت نہ تھیلیکن دیوبندی مجتہد بڑے سلیقہ سے اپنا جلوہ دکھانا چاہتا ہے اور اس کا یہاں عالمگیری کی عبارت"کہ قاعدہ یہ ہے کہ اگر قسم کا تعلق ایسے عدم فعل سے ہو جس کا تعلق دو محل سے ہو تو دونوں میں قسم پورا ہونے کی شرط کو دیکھا جائے گا"کو بطور سند پیش کرنا بے علاقہ
#14524 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
وعند فوات شرط البر یتعین الحنث کہ بہ تکلف متکلف بطور مفہوم مخالف بامقصود اوموافق می تواں شد قناعت کردے تعلیق یمین بہ د ومحل را دریں محل چہ مقام ومحل۔
بات ہے اس غریب کو اس واضح بات پر کوئی مناسب دلیل نظر نہ آئی تھی تو یہاں اس فقرہ پر کہ"اور قسم پورا ہونے کی شرط کے فوت ہوجانے پر حنث لازم اور متعین ہوگا"اکتفاء کرلیتا کیونکہ یہ بطور مفہوم مخالف اس کے مقصد کے موافق تھیتوا س مفہوم مخالف کا تکلف کرلیتاجبکہ قسم کو دو محلوں سے معلق کرنے کا یہاں کیا مقام تھا۔
ہفدہم:آنکہ از عالمگیریہ مسئلہ ان لم تعطینی ھذا الثوب بازمسئلہ ان لم اطأك مع ھذہ المقنعۃ آوردو مسکین درمیان ایں دو مسئلہ مسئلہ کہ ہمیں عالمگیری از محیط از فتاوائے امام فقیہ ابواللیث سمر قندی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ آورد واز بے بصری نہ دیدیا دید واز بے بصیر تی نہ فہمید یا فہمید واز راہ مغالطہ عوام قطع وبرید گزیدببیں کہ در ہمیں سطور عالمگیری چہ میں فرماید فی فتاوی ابی اللیث رحمہ اﷲ تعالی اذا اراد الرجل ان یجامع امرأتہ فقال لھا ان لم تدخلی معی فی البیت فانت طالق فدخلت بعد ماسکنت شہوتہ وقع الطلاق علیھا وان دخلت قبل ذلك لاتطلق کذا فی المحیط اینجاچرانہ گوید کہ محلوف علیہ عدم دخول مطلق ست ودخول
ہفدہم:یہ کہ عالمگیریہ کا مسئلہکہ بیوی کو کہا اگر تو مجھے یہ کپڑا نہ دے تو طلاق۔اور پھر دوسرامسئلہاگر میں تجھ سے وطی نہ کروں اس اوڑھنی کے ساتھکو اس کفایت دینے والے مسئلہ کے ساتھ ذکر کیا اور اس غریب نے ان مذکورہ دونوں مسئلوں کے درمیانعالمگیری کا محیط سے اور اس کا امام فقیہ ابواللیث سمر قندی سے منقولہ مسئلہ کو ذکر کیا اور بے بصری میں دیکھا نہیں یادیکھا ہے تو بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے سمجھا نہیں یا سمجھا ہے تو عوام کے مغالطہ دینے کےلئے قطع وبرید کردیدیکھئے عالمگیری کی انہی سطروں میں کیا بیان کیا ہے کہ فتاوی ابو لیث رحمہ اﷲ تعالی میں ہے کہ خاوند نے بیوی سے مجامعت کا ارادہ کرتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر تو میرے ساتھ اندر کمرے میں داخل نہ ہوئی تو تجھے طلاق ہےاس کے بعد عورت اس وقت داخل ہوئی جب خاوند کی شہوت ختم ہوگئی تو بیوی کو طلاق ہوگیاو ر اگر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٢٩
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤۳۱
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤۳۰
#14525 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مطلق موضوع قضیہ طبعیہ ست واومنتفی نشود مگر بانتفائے جمیع افراد دخول وایں نبود مگر بعدم دخول اصلاتا حصول موت احد ہما پس دخول گا ہے متحقق شود اگرچہ بعد دہ سال عدم دخول مطلق منتفی گردد و شرط حنث صورت نہ بندد۔
شہوت ختم ہونے سے قبل داخل ہوئی تو طلاق نہ ہوگیجیسا کہ محیط میں ہےیہاں اس عبارت پر اس نے اپنی مذکور تقریر نہ کی کہ عدم دخول پر قسم کھائی ہے اور عدم دخول مطلق ہے اوردخول مطلق قضیہ طبعیہ کا موضوع ہے جو تمام افراد کے منتفی ہوئے بغیر منتفی نہیں ہوگا مگر اس وقت جب کبھی دخول نہ پایا جائے اور یہ بات خاوند بیوی دونوں میں سے ایك کے مرنے پر معلوم ہوسکے گی تو جب دخول متحقق ہو خواہ دس سال بعد ہو اس وقت تك دخول مطلق کا عدم منتفی رہے گااور قسم کے ٹوٹنے کے پائے جانے کی صورت نہ بنے گی۔
ہیچدہم:بازاز عالمگیریہ مسئلہ ان لم تصل الیوم رکعتین فانت طالق فحاضت قبل ان تشرع فی الصلوۃ او بعد ما صلت رکعۃ آورد کہ اگر وقت یمین تا آغاز حیض زمانے بود کہ دو رکعت راگنجائش دارد مطلقہ شود وایں مسئلہ را بظاہر منافی مسئلہ دائرہ انگاشتہ سنگ تطبیق و توفیق برسراجتہاد برمی دارد کہ درین عبارت قیدالیوم ورکعتین موجود ست لہذا حکمش مغائر مانحن فیہ شد فافترقتاولاتشکواونمی داند کہ دریں جہت اصلا نہ در مسائل افترا ق نہ در حکم تغیرصلوۃ رکعتین فی الیوم نیز طبیعت کلیہ دارد و انتفائے شیئ بانتفائے جمیع افراد شود چوں روز گزشت وہیچ فردازافراد صلوۃ دو رکعت دراں متحقق نہ شد شرط بر منتفی گشت وحنث رو نمود وتوہم آنکہ شوہر الیوم گفت وبجا آوری دورکعت در مدۃ العمر
ہیچدہم:پھر عالمگیری کا مسئلہ ذکر کیاکہ خاوند نے بیوی کو کہا اگر تو آج دو رکعتیں نماز نہ پڑھے تو تجھے طلاقاس کے بعد بیوی کو نماز شروع کرنے سے قبل حیض آگیایا ایك رکعت پڑھنے کے بعد حیض آگیاتو بتایا کہ اگر قسم اور نماز شروع کرنے کے درمیان اتنا وقت تھا کہ دورکعتیں نماز پڑھ سکےتو بیوی کو طلاق ہوجائے گیاس نے اس مسئلہ کو ظاہری طور پر زیر بحث کے منافی بتایا اور تطبیق و توفیق کا پتھر اجتہاد کے سرپر اٹھا کر کہا اس مسئلہ کی عبارت میں"آج"اور"دو رکعتوں"کی قید ذکر کی گئی ہے لہذا اس مسئلے کا حکم ہمارے زیر بحث کے حکم سے مغایر ہے۔لہذا دونوں مسئلے جدا ہیں اور تمہارا اعتراض نہ ہواس کو معلوم نہ ہوا کہ اس وجہ کی بنا پر مسائل میں اختلاف اور نہ ہی حکم متغیر ہوا"آج دو رکعتیں نماز"کی بھی طبیعت کلیہ ہے اور کسی چیز کا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٣٦
#14526 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
بہیچ روزے از روز ہائے عمر اینجا بسند کند وہمینست کہ ہیچ غیر دیوبندی را عارض نتواں شد اگر چہ در غایت جہل و عنادت باشد حاجت رفعش مگر بقیاس عقول علیہ دیوبندیہ افتاد باز رکعتیں را موجب تفرقہ دانستن طرہ براں۔
انتفاء اس کے تمام افراد کے انتفاء سے ہوجاتا ہے تو جب دن بھر میں کوئی فرد نماز کا نہ پایا گیا اور اس دن میں دو رکعتوں کا وجود نہ پایا گیا تو دو رکعت نماز نہ پڑھنے کی شرط پائے جانے کی وجہ سے قسم ٹوٹ گئی تو طلاق ہوگئی ہےاور اس کا یہ وہم کرنا کہ خاوند نے"'آج"کا لفظ کہا ورنہ"دو رکعتیں پڑھنے"کا عمر بھر میں سے کوئی دن بھی ہوسکتا تھا تو یہ وہم دیوبندی کے علاوہ کسی کو خواہ کتنا ہی جاہل اور غبی ہوکسی کو لاحق اور عارض نہیں ہوسکتالہذا صرف دیوبندی عقول عالیہ کوہی اس وہم کو دفع کرنے کی حاجت محسوس ہوئی پھر اس پر طرہ یہ کہ اس نے دو رکعتوں کو بھی وجہ فرق بتایا۔
نوزدہم:باز بکمال ذیہوشی مسئلہ"اگر سزائے وے نکنم فامرأتہ کذا آورد اگر نیت فور کند بر فور باشد ورنہ مطلق وخود ش گفت کہ ایں صورت مطابق مانحن فیہ است واعتراف کرد کہ ہمچنیں حکم اگر نمازنخوانی ترا دو طلاق ان نوی الفور فھو علی الفور تا اینجا نا دانستہ بحق رجوع آورد باز زخم نامند مل راچارہ کار بہماں مکابرہ وانکار جست لیکن احمد علی نیت فور نکردہ نہ قرینہ فور یافتہ شد سبحان اﷲ قرینہ فور از کلام خودت پرس کہ خواہر زادہ خالہ تو بالاچہ گفتہ است کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلوۃ شدن زوجہ است دائما ونیت احمد علی ہم بامدادکا ر بامداداحمد علی دریاب کہ چون زن نماز عشاء نگزارد وصباح رجعت نمود اگر نیت فور نبودے رجعت از کدام راہ رونمودےالحمد ﷲ کہ حق واضح ست فاما مکابرہ راچہ علاج۔
نوزدہم:پھر اپنی کمال عقلمندی دکھاتے ہوئےیہ مسئلہ کہ اگر اس کو سزا نہ دوں تو بیوی کو طلاقذکرکرکے کہا کہ نیت فور کی کرے تو فور ہوگا ورنہ مطلق ہوگااور خود کہا کہ یہ مسئلہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کے مطابق ہے اور اعتراف کیا کہ یوں ہی عورت کو کہنا اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیںاس کا حکم بھی وہی ہوگا کہ اگر فور کی نیت کی تو فور ہوگایہ کہہ کر اس نے حق کی طرف رجوع نادانستہ طور پر کرلیا اور پھر اس مندمل نہ ہونے والے زخم کا علاج اس مکابرہ اور انکار سے کرتے ہوئے کہالیکن احمد علی نے فور کی نیت نہیں کی اور نہ ہی فورکا قرینہ پایاگیاسبحان اﷲ! فور کا قرینہ خود اپنے کلام سے پوچھ کہ تیری خالہ کے بھانجے نے(تونے)اوپر کیا کہا ہے"کہ متکلم کی غرض بیوی کو ہمیشہ نماز کا عادی بنانا ہے"اور پھر احمد علی کی نیت معلوم کرنے کےلئے احمد علی سے پوچھ کہ اس کی بیوی کے رات کو عشاء کی نماز نہ پڑھنے پر طلاقوں سے صبح رجوع کرلیااگر فور کی نیت نہ ہوتی تو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٤٦
#14527 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
رجوع کرنے کا کیا جواز تھاالحمد ﷲ حق تو واضح ہے مگر مکابرہ کا کیا علاج ہے۔
بستم:بازاز شرح وقایہ قہستانی وقاضیخاں مسئلہ انت کذا ان لم اطلقك ومسئلہ ان لم اجامعك علی راس ھذا الرمح می آرد کہ تاکہ آخر عمر وتا بقائے نیزہ مہلت دادہ اند وہماں مقدمہ مسلمہ را کہ خود در فتوائے جلیلہ سابقہ بوضح وجوہ واحسن بیان باستناد عبارات ہدایہ وفتح القدیر رنگ ایضاح یافتہ بود بار بار ایضاح واضح می جوید وبتحصیل حاصل می پوید واز نکتہ بدیعہ رفیعہ کہ بحوالہائے تلخیص الجامع الکبیروشرح التلخیص للعلامۃ الفاسی وانتقاض الاعتراض وتنویر الابصار ودر مختار وفتح القدیر وشرنبلالیہ وردالمحتار واشباہ والنظائر وتبیین الحقائق وغیرہا افادہ شدہ بود چشم می پوشد وبباطل می کو شد یارب مگر ایں راچہ گفتہ آید مادیدہ را دیدہ کشودہ سہل ست آنکہ صدبار دیدہ دیدہ پوشیدہ ودیدہ ونادیدہ ساختہ اورا چارہ کدام
بستم:پھر قاضی خاںقہستانی اور شرح وقایہ سے نقل کرتے ہوئے مسئلہ"تجھے طلاق ہے اگر تجھے طلاق نہ دوں"اور مسئلہ"اگر اس نیزے کے سر پر تجھ سے جماع نہ کروں تو طلاق ہے کو ذکرکرکے کہاکہ ان مسئلوں میں فقہاء نے آخر عمر اور نیزے کی بقاء تك مہلت دی ہے اور تمام وہ مقدمات مسلمہ جن کو فقہائے کرام نے اپنے فتاوی جلیلہ میں بہت اچھے انداز سے واضح کرکے ہدایہفتح القدیر کی عبارات سے مستند کیا ہے ان کو بار بار یہ ذکر کرتا ہے اور واضح کو بے مقصد واضح اور تحصیل حاصل کر تا چلاجاتا ہے اور بلند پایہ نکتہ جس کو تلخیص الجامع الکبیرشرح تلخیص علامہ فاسیانتقاض الاعتراضتنویر الابصار درمختارفتح القدیرشرنبلالیہردالمحتاراشباہ ونظائر اور تبیین الحقائق وغیرہا کے حوالوں سے مستفاد کیا گیا ہےکو مسلسل نظر انداز کررہا ہے اور باطل کے درپے ہےیارب!کیا کہا جائے نہ دیکھی چیز کو دکھانا آسان ہے اورصد بار دیکھی چیز سے بند آنکھ اور دیدہ کو نادیدہ بنانے والے کےلئے کیا چارہ کیا جائے۔ بارے مگردر شرح وقایہ بلکہ خو د وقایہ ایں مسئلہ ندیدی کہ شرط للحنث فی ان خرجت وان ضربت(فانت طالق) لمریدۃ خروج او ضرب عبد فعلھما فور او در قہستانی فیہ اشارۃ الی ماتفرد بہ ابوحنیفۃ رحمہ اﷲفی استنباطہ
کیا آپ نے شرح وقایہ بلکہ خود وقایہ میں یہ مسئلہ کبھی نہیں دیکھا کہ جب بیوی باہر
حوالہ / References شرح الوقایہ بیان لغویۃ التعلیق قبل التزوج مطبع مجتبائی دہلی ٢/٧٧
فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ١/٢٢٨
مختصر الوقایہ فی مسائل الھدایۃ فصل حلف الفعل نور محمد کتب خانہ تجارت کراچی ص٨٦
#14528 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
من اتمام اقسام الیمین فان سلفہ قسموھا الی المؤبدۃ لفظا ومعنیوالمؤقتۃ کذلکمثل لاافعل کذاولاافعلہ الیوم ثم زاد الامام اتماما ماسمی بیمین الفور او یمین الحال مما ھی المؤبدۃ لفظا و الموقتۃ معنی کما مر (ملخصا) ودر قاضی خاںسکران ضرب امرأتہ فخرجت من دارہ فقال ان لم تعودی الی فانت طالق وکان ذلك عند العصر فعادت الیہ عند العشاء قالوا یحنث فی یمینہ لان یمینہ تقع علی الفور وان قال لم انوالفور لایصدق قضاءوفی المرأۃ اذا قامت لتخرج فقال الزوج ان خرجت فانت طالق وجلست ثم خرجت بعدذلك بساعۃ لایحنث فی یمینہ مکرایں بیچار گاں چہ کنند کہ تعلیم نجدیت در قرآن و حدیث نیز بمصداق افتؤمنون ببعض الكتب و تكفرون ببعض کار میکند ولا حول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
جانے کو یا غلام کو مارنے کےلئے تیار ہوتو اس وقت اس کو کہنا کہ تو باہر نکلی یا تو نے مارا تو تجھے طلاق ہےتو یہ دونوں یمین فور ہیں۔امام قہستانی نے فرمایا کہ اس مسئلہ میں اشارہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے قسموں کے اقسام مکمل فرمانے میں اپنے استنباط میں تفرد فرمایا ہے کیونکہ آپ سے قبل اسلاف نے یمین کو صرف لفظا ومعنی مؤبدہ اور موقتہ پر تقسیم فرمایا تھا مثلا میں یہ نہ کروں گااور میں آج یہ نہ کروں گا۔پھر امام صاحب نے لفظا ومعنامؤبدہ اور مؤقتہ پر ایك قسم زائد بیان کی جس کو یمین فور یا یمین حال کہا جاتا ہے یہ قسم لفظا مؤبد ہے اور معنا موقت ہے جیسا کہ پہلے گزرا قاضیخاں میں ہے کہ ایك نشے والے نے اپنی بیوی کو پیٹا تو وہ باہر نکل گئی تو اس نے کہا اگر تو واپس میرے پاس نہ آئی تو تجھے طلاق ہےیہ واقعہ عصر کے وقت ہوا تو بیوی اس کے پاس عشاء کے وقت لوٹ آئیاس پر فقہاء نے فرمایا قسم ٹوٹ گئیکیونکہ یہ اس کی قسم یمین فور تھی اگر وہ کہے کہ میں نے فور کی نیت نہیں کی تھی تو قاضی اس کی تصدیق نہ کریگااور اس مسئلہ میں کہ بیوی باہر نکلنے لگی تو خاوند نے کہہ دیا کہ اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہےاس پر بیوی واپس بیٹھ گئی اور تھوڑی دیر بعد نکلی تو قسم نہ ٹوٹے گییہ بیچارے کیا جانیںان کو قرآن وحدیث کی نجدی تعلیم
حوالہ / References جامع الرموز فصل حلف الفعل مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ٢/٦٦٥
قاضی خان باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ١/٢٣٥
القرآن الکریم ٢ /٨٥
#14529 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ہےاور پھر بعض کتاب مانتے ہواو ربعض کا انکار کرتے ہو کے مصداق عمل کرتے ہیںلاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیم۔
بست ویکم:تااینجا جہالات دیوبندیہ بود حالاضلالات دیوبند یہ جوش رد بیباك بے ادراك کلمہ گفت کہ بد ریا ہا نتواں شست کہ"اگر تسلیم کر دہ شود کہ طلاقین اولین واقع شد ند تاہم بوجہ رجعت باطل الی قولہ اکنواں برائے طلاق بلاشرط رجعت صحیح ست"انا ﷲ وانا لایہ راجعونo
ع آدمیاں گم شدند ملك گرفت اجتہاد
بست ویکم:یہاں تك دیوبندی جہالتیں تھیں اب دیوبندی گمراہی نے جوش مارا اور بے سوچے سمجھے بے دریغ ایسا کلمہ کہہ دیا کہ تمام دریا بھی اس کو صاف نہ کرسکیںاور کہا کہ اگر تسلیم کرلیا جائے کہ پہلی دو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں تب بھی احمد علی کے رجوع کرلینے پر وہ باطل ہوگئی ہیںاور آخر میں کہا کہ اب غیر مشروط طلاق کے بعد اس کا رجوع صحیح ہے اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
آدمی ختم ہوگئے اب فرشتہ اجتہاد شروع کررہاہے۔
تعلیم دیوبندی دریں عــــہ۱ قرآن عظیم وحدیث کریم واجماع ائمہ حدیث وقدیم ہمہ را یکسرپس پشت انداخت وبزور زبان وزور بہتان بمصداق ارشاد حضور سید الاسیاد علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام الی یوم القیام کہ یستحلون الخ شرمگاہ زناں را حلال خواہند گرفت فرج حرام را حلال ساخت قال اﷲ تعالی عزوجل الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان الی قولہ تبارك وتعالی
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره
یعنی طلاق کہ بعد وے اختیار رجعت ست ہمیں تا دو بار ست کہ شوی رادر ماندن زن بخوبی یا آزاد کردن بہ نیکوئی عــــہ۲ اختیارست پس اگر بعد اینہا طلاق دگر دہد
دیوبندی تعلیم نے یہاں پر قرآن وحدیث اور ائمہ قدیم وجدید کا اجماع تمام کو یکسر نظر انداز کردیا ہےاور زبان وبہتان کے زور پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد"عورتوں کی حرام شرمگاہوں کو حلال کریں گے"کے مصداق اس کا ارتکاب کیاحالانکہ اﷲ تعالی نے فرمایادو طلاقیں ہوں تو پھر خوبصورتی سے رجوع کرکے روك لو یا نیکی کے طور پر آزاد کردو۔اور اس کے بعد اﷲ تعالی کے قول"پس اگر تیسری طلاق دے دی ہو تو بیوی اس کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے"تک۔یعنی جس

عــــہ۱: یہاں مسودہ میں بیاض ہے عــــہ۲: یہاں مسودہ میں بیاض ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٩۔٢٢٨
#14530 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
زن مرا در احلال نبود تا باشوئے دگر ہمخوابہ نشودائمہ تفسیر وحدیث سبب نزول کریمہ چناں آوردہ اند کہ پیش ازیں طلاق راعددے معدود حدے محدود نبود ہر قدر بار شائے خواستے طلاقہا دادے ورجعت ہا کردے وآنکہ اضرار زن خواستے طلاقش دادے تاکہ آنکہ چوں عدتش برسرگز شتن آمدن رجعت کردے باز طلاق دادے باز در قرب انقضائے عدت رجعت نمودے وہمچناں کردے تاآنگاہ کہ دلش خواستے بیچارہ زن بایں کار معلقہ باندے نہ رائے رفتن نہ روئے ماندنزن ازیں معنی بحضور بارگاہ رسالت فریاد آوردآنگاہ آیہ کریمہ نزول فرمود وبعد سہ طلاق اختیار رجعت نماند وکارزن بدست زن شد امام بغوی در تفسیر معالم التنزیل فرمود قولہ تعالی الطلاق مرتن۪ روی عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما قال کان الناس فی الابتداء یطلقون من غیر حصر ولاعدد وکان الرجل یطلق امرأتہ فاذا قاربت انقضاء عدتھا راجعھا ثم طلقھا کذلك ثم راجعھا یقصد مضارتھا فنزلت ھذہ الایۃ الطلاق مرتن۪ یعنی الطلاق الذی یملك الرجعۃ عقیبہ مرتان فاذاطلق ثلثا فلاتحل لہ الابعد نکاح زوج اخر امام رازی درتفسیر کبیر
طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا ہے وہ دوبار طلاق ہے کہ جس میں خاوند کو اختیار ہے کہ بیوی کو روك رکھے یا نیکی کے ساتھ آزاد کرتے ہوئے طلاق دے دےاس کے بعد اگر طلاق دے گا تو بیوی اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا وقتیکہ وہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ائمہ تفسیر وحدیث نے اس آیہ کریمہ کا شان نزول یوں بیان فرمایا کہ اسلام سے قبل طلاق کی کوئی تعداد یا حد مقرر نہ تھی بلکہ خاوند جتنی بار بھی طلاق دے کر رجوع کرنا چاہتا کرلیتااور جب بیوی کو تنگ کرنا مقصود ہوتا تو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب وہ رجوع کرلیتا اور رجوع کے بعد پھر طلاق دیتا اور عدت کے خاتمہ کے قریب رجوع کرلیتا اور جتنی بار دل چاہتا کرتا بیوی بیچاری لٹك کر رہ جاتی ا س کےلئے آزادی یا آبادی کا کوئی طریقہ نہ رہتااسی پریشانی میں ایك عورت دربار رسالت میں حاضر ہوئی اور فریاد کیتو اس پر یہ آیہ کریم نازل ہوئیاورتین طلاقوں کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہوگیا اور بیوی خود مختار ہوگئی۔ امام بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں فرمایا کہ اﷲ تعالی کا ارشاد" الطلاق مرتن۪ الخ"الآیۃ کا شان نزول یہ ہے جس کو حضرت عروہ بن زبیر رضی تعالی عنہ نے بیان فرمایا کہ لوگ ابتداء میں بے شماراور لاتعداد طلاقیں دیتے تھےاور کوئی بھی شخص بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیتا اور پھرطلاق
حوالہ / References معالم التنزیل علٰی حاشیۃ تفسیر الخازن تفسیر آیۃ الطلاق مرتٰن الخ مصطفی البابی مصر ١/٢٢٧
#14531 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فرمود المسئلۃ الاولی کان الرجل فی الجاھلیۃ یطلق امرأتہ ثم یراجعھا قبل ان تنقضی عدتھا ولو طلقھا الف مرۃ کانت القدرۃ علی المراجعۃ ثابتۃ لہ فجاءت امرأۃ الی عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا فشکت ان زوجھا یطلقھا ویراجعھا یضارھا بذلك فذکرت عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا ذلك لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فنزل قولہ تعالی الطلاق مرتن۪
دے دیتا اور یوں بار بار کرتا رہتا جس کا مقصد بیوی کو تنگ کرنا تھاتو یہ آیہ کریمہ نازل ہوئییعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے وہ دوبارہےاور جب تین طلاقیں پوری کردے تو اس کےلئے بیوی حلال نہ ہوگی مگر بیوی دوسرے شخص سے نکاح کرے تو اس کے بعد حلال ہوسکے گی۔امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرماما:مسئلہ اولییہ کہ جاہلیت میں مرد بیوی کو طلاق دے کر پھرعدت کے خاتمہ کے قریب رجوع کرلیتا اور اس طرح ہزار طلاق بھی ہوتی تب بھی خاوند کو رجوع کا اختیار رہتاتو ایك عورت حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ وہ طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا ہے اور تنگ کررہا ہے تو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے یہ واقعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بیان کیا تو اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی الطلاق مرتانالآیۃ۔
درتفسیرات احمدیہ ست لما کان عدد الطلاق فی الجاھلیۃ غیر مقرر علی وتیرۃ واحدۃ حتی انہ لو طلقھا عشرۃ یمکنہ رجعتھا وکان یراجعھا وقت انقضاء العدۃ ثم یطلقھا ویراجعھا حتی ان جاءت امرأۃ الی عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا تشکومن مراجعۃ زوجھا ثم تطلیقھا ثم وثم ھکذافعرضت الی
تفسیرات احمدیہ میں ہے کہ چونکہ جاہلیت میں طلاق دے کر بھی پھر رجوع کرلیتا اور عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرکے پھر طلاق دے دیتاحتی کہ ایك عورت نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس آکر اپنے خاوند کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ با ربار طلاق دیتا اور رجوع کرلیتا ہےتو حضرت
حوالہ / References تفسیر کبیر زیر آیۃ الطلاق مرتان الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ بمصر ٦/١٠٢
#14532 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فنزل قولہ تعالی الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان یعنی ان الطلاق الرجعی الذی یتعلق بہ الرجعۃ مرتان ای اثنتان لازائد تان فبعد ذلك امساکھا بمعروف او تسریحھا کذلك وھذا امر بصیغۃ الخبر کانہ قیل طلقوا الرجعی مرتین وھذا التوجیہ المذکور فی الحسینی والزاھدی والبیضاوی والتلویح وھو الموافق لمذھب الشافعی وابی حنیفۃ جمیعا ترمذی وابن مردودیہ وحاکم بافادہ تصحیح وبیہقی در سنن از ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا روایت کنند قالت کان الناس والرجل یطلق امرأتہ ماشاء ان یطلقھا و ھی امرأتہ اذا ارتجعھاوھی فی العدۃ وان طلقھا مائۃ مرۃ اواکثر حتی قال رجل لامرأتہ واﷲ لااطلقك فتبینین منی ولاأویك ابداقالت وکیف ذلك قال اطلقك فکلما ھمت عدتك ان تنقضی راجعتک فذھبت المرأۃ حتی دخلت علی عائشۃ فاخبرتھا فسکتت عائشۃ رضی اﷲتعالی عنھاحتی
عائشہ رضی اﷲ تعالی عنھا نے یہ بات حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیتو اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئیاﷲ تعالی نے فرمایا: الطلاق مرتن۪ الآیۃیعنی وہ طلاق جس کے بعد رجوع کرنا جائز ہے وہ دوبار طلاق ہے اس سے زائد نہیں اس کے بعد بھلائی سے بیوی کو پاس رکھنا ہوگا یانیکی کے ساتھ آزاد کرتے ہوئے آخری طلاق دینا ہوگی۔اورتفسیر بیان کی جو امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہمااﷲتعالی دونوں کے مذہب کے موافق ہے۔ ترمذیابن مردودیہحاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاانہوں نے فرمایا کہ لوگ اپنی بیوی کو جتنی چاہتے طلاقیں دیتے اس کے باوجود وہ بیوی رہتی جبکہ وہ عدت کے دوران رجوع لیتااگرچہ سومرتبہ یا اس سے بھی زائد طلاقیں دے چکا ہوتا حتی کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے طلاق نہ دوں کہ تو جدا ہوجائے اور نہ ہی تجھے پاس رکھوں تو ہمیشہ ایسے ہی رہے گیبیوی نے پوچھا وہ کیسے تو اس نے کہا میں تجھے طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل جب عدت ختم ہونیوالی ہوگی تو رجوع کرلوں گاتواس عورت نے جاکر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے یہ شکایت کییہ سن کر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا خاموش ہوگئیں حتی کہ
حوالہ / References تفسیرات احمدیہ زیر آیت الطلاق مرتان الخ مکتبہ کریمی واقع بمبئی ص١٢٣
#14533 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
جاء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاخبرتہ فسکت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی نزل القران الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان
حضور علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بات پر مطلع کیا جس پر آپ نے سکوت فرمایا حتی یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی الطلاق مرتن الخ
نیز ابن مردودیہ وبیہقی از ام المومنین روایت آرندقالت یکن للطلاق وقت یطلق امرأتہ ثم یراجعھا مالم تنقض العدۃ وکان بین رجل وبین اھلہ بعض مایکون بین الناس فقال واﷲلاترکنکلاایما ولاذات زوج فجعل یطلقھا حتی اذا کادت العدۃ ان تنقضی راجعھا ففعل ذلك مرارا فانزل اﷲ فیہ
نیز ابن مردودیہ اور بیہقی نے حضرت ام المومنین رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت کیآپ نے بیان کیاکہ بیوی کو طلاق دینے اور پھر رجوع کرنے کا کوئی ضابطہ نہ تھاکوئی بھی بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا اور خاوند بیوی میں کوئی خانگی جھگڑا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے ہوتا تو خاوند کہتا خداکی قسم میں تجھے نہ خاوند والی اور نہ غیرخاوند والی بنادوں گااس کےلئے وہ بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا اور بار بار ایسے کرتا اس پر اﷲ تعالی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی
الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان فوقت لھم الطلاق ثلثا یراجعھا فی الواحدۃ وفی الثنتین ولیس فی الثلاثۃ رجعۃ حتی تنکح زوجا غیرہ ابو داؤد ونسائی وبیہقی از عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما روایت داردند ان الرجل کان اذا طلق امرأتہ فھو احق برجعتھا وان طلقھا ثلاثا فنسخ ذلك فقال الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف
الطلاق مرتن۪ الآیۃجس میں تین طلاقیں مقررکردی گئی ہیںجس میں سے ایك اور دو کے بعد رجوع کا حق دیا گیا ہے اور تیسری کے بعد رجوع نہیں ہوگا تا وقتیکہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ابوداؤدنسائی اور بیہقی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ ابتداء میں مرد کو طلاق دے دیتا تو اس کو منسوخ کرکے اﷲ تعالی نے فرمایا الطلاق
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الطلاق الثلاث امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١/١٤٣،السنن الکبرٰی للبیہقی باب ماجاء فی امضاء الطلاق دارصادر بیروت ٧/٣٣٣
تفسیر د رمنثور بحوالہ ابن مردودیہ والبیہقی تحت آیۃ الطلاق مرتان مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم،ایران ١/٢٧٧
#14534 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
او تسریح باحسان اجلہ ائمہ مالك وشافعی وعبد بن حمید وترمذی وابن جریر وابن ابی حاتم وبیہقی از عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما آرند
قال کان الرجل اذا طلق امرأتہ ثم ار تجعھا قبل ان تنقضی عدتھا کان ذلك لہ وان طلقھا الف مرۃ فعمد رجل الی امرأتہ فطلقھا حتی اذاماجاء وقت انقضاء عدتھا ارتجعھا ثم طلقھا ثم قال واﷲ لااویك الی ولاتحلین لی ابدا فانزل اﷲ تعالی الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان
مسلمان دمے انصاف دہید تعلیم دیوبندی چسپاں مقصود شریعت وحکم آیت را برھم میزند وظلم وستم جاہلیت را از سر نو تازہ می کند اگر طلاق پیشین برجعت باطل شود وبعد اوشوئے را از سراختیار سہ طلاق بدست ماند چنانکہ ایں کس زعم نمود پس لاجرم ہماں آتش جاہلیت بکا سہ اندرست وانسداد ظلمے کہ خدائے خواست معاذاﷲ باطل وبے اثرہر کہ خواہد ھزار بار طلاق دہد وہربار رجعت کند طلاق ہائے دادہ نادادہ شود واختیارات نامتنا ہیہ بدست مرتن فامساك بمعروف او تسریح باحسان
امام مالکامام شافعیعبد بن حمیدترمذیابن جریرابن ابی حاتم بیہقی ان اجلہ ائمہ کرام نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاکہ ابتداء میں مرد کو اختیار تھا کہ وہ طلاق کی عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلے اگرچہ وہ ہزار طلاقیں بھی دے دےتو ایك مرد نے بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیا اور پھر طلاق دے دی پھر کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے نہ رکھوں گا نہ دوسرے کےلئے بھی حلال ہوسکے گیتو اﷲ تعالی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی
الطلاق مرتن۪-فامساك بمعروف او تسریح باحسان اب مسلمانوں کو انصاف سے غور کرنا چاہئے کہ دیوبندی کس طرح شریعت کے مقصداور آیہ کریمہ کے حکم کو پامال کرتے ہیں اور جاہلیت کے ظلم وستم کو دوبارہ تازہ کررہے ہیںاگر پہلی طلاقیں رجوع کرنے سے باطل ہوجائیں اور خاوند کونئے سرے سے دوبارہ تین طلاقوں کا اختیار مل جائے جیسا کہ یہ شخص کہہ رہا ہے تو لازمی طور پر جاہلیت کی آگ محفوظ رہے گی اور اﷲ تعالی نے جس ظلم کو ختم کرنا چاہا ہے وہ سب باطل اور بے اثر ہوکر رہ جائے گا اور جاہلیت دوبارہ عود کرآئے گیاور جو شخص بھی ہزار بارطلاق دے کر رجوع کرتا رہے تو رجوع سے پہلی طلاق کا ہونا نہ ہونا برابر
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الطلاق الثلاث امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١/١٤٣،السنن الکبرٰی للبیہقی باب ماجاء فی امضاء الطلاق دارصادر بیروت ٧/٣٣٣
تفسیر د رمنثور بحوالہ ابن مردودیہ والبیہقی تحت آیۃ الطلاق مرتان مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم،ایران ١/٢٧٧
#14535 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
شوہر بود ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باقرآن عظیم۔
ہوجائے گا اور خاوند کو نہ ختم ہونے والااختیار حاصل ہوجائے گالاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔دیوبندی کی یہ تعلیم قرآن کے مخالف ہے۔
بست ودوم:خاص جزئیہ مسئلہ کہ طلاق بعد رجعت باطل نہ شد ومحسوب ماند در صحیحین بخاری ومسلم وعامہ کتب اسلام مصرح ست عبداﷲ بن عمر رض اﷲ تعالی عنہما زوجہ خودرابحالت حیض طلاق داد سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر مراجعت فرمودہ باوصف رجعت آں طلاق را محسوب داشتفی صحیح البخاری عن انس بن سیرین قال سمعت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر رضی اﷲتعالی عنہ للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لیرا جعھا قلت تحتسب قال فمہ وعن قتادۃ عن یونس بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال مرہ فلیراجعھا قلت تحتسبقال أرأیتہ ان عجز واستحمق وعن سعید بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال حسبت علی بتطلیقۃ وفی صحیح مسلم
بست ودوم:خاص یہ جزئیہ کہ رجوع کے بعد طلاق کالعدم نہیں ہوتیتو بخاری ومسلم اور عام اسلامی کتب میں تصریح ہے کہ عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طلاق سے رجوع کا حکم دیا اور رجوع کے باوجود یہ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوئی صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کو سنا انہوں نے فرمایا کہ عبداﷲ بن عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی تو عمر رضی اﷲتعالی عنہ نے یہ اطلاع حضور علیہ الصلوۃ والسلام کودی توحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا رجوع کرےتو میں نے عرض کی کہ کیا وہ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوگیتو عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا اور کیا۔حضر ت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے انہوں نے یونس بن جبیر سے انہوں نے ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ عبداﷲ سے کہو کہ وہ رجوع کرے تو میں نے پو چھا کہ کیا پہلی طلاق شمار ہوگیتو جواب
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الطلاق باب اذا طلقت الحائض الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٧٩٠
صحیح البخاری کتاب الطلاق باب اذا طلقت الحائض الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٧٩٠
صحیح البخاری کتاب الطلاق باب اذا طلقت الحائض الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٧٩٠
#14536 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
عن عبیداﷲ عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما نحوہ وقال فی اخرہ قال عبیداﷲ قلت لنافع ماصنعت التطلیقۃ قال واحدۃ اعتدبھا وعن سالم بن عبداﷲ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم عن ابیہ وفیہ کان عبداﷲ طلقھا تطلیقۃ فحسبت من طلاقھا وراجعھا عبداﷲ کما امرہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفی لفظ اخر قال قال ابن عمر فراجعتھاوحسبت لھا التطلیقۃ التی طلقتھا وعن ابن سیرین عن یونس بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم انہ امران یراجعھا قال قلت افحسبت علیہقال فمہ اوان عجز واستحمق وعن انس بن سیرین قال قلت فاعتددت بتلك التطلیقۃ التی طلقت وہی حائض قال مالی لا اعتد بھا وان کنت عجزت واستحمقت بلکہ عبدالحق اشبیلی دراحکام و بیہقی در سنن از عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما روایت کردند ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ھی واحدۃ اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باحدیث کریم۔
میں فرمایا تو بتااگر وہ رجوع کئے بغیر عاجز ہوجائے حماقت کرے یعنی رجوع نہ کرے تو کیا طلاق نہ ہوگیاور سعید بن جبیر رضی اﷲ تعالی عنہ عبد اﷲ بن عمر سے راوی ہیں کہ میں نے اسے ایك طلاق شمار کیا۔اور صحیح مسلم میں عبیداﷲ نافع سےاور وہ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسی کی مثل روایت کی اور اس کے آخر میں ہے کہ عبیداﷲ نے کہا کہ میں نے نافع کو کہا کہ تو نے اس طلاق کو کیا خیال کیاتو انہوں نے کہا میں نے اسے ایك شمار کیا۔اور سالم عبداﷲ سے انہوں نے عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سےانہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور اس روایت میں ہے کہ عبداﷲ نے بیوی کو ایك طلاق دی تو میں نے اس کو طلاق شمار کیا اور اس نے رجوع کرلیا جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا۔اور دوسرے الفاظ میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما نےفرمایا کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیا اور میں نے جو طلاق دی اس کو میں نے ایك طلاق شمار کیااور ابن سیرینیونس بن جبیر سے وہ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی کہ فرمایا کہ رجوع کرنے کا حکم فرمایامیں نے پوچھا کہ یہ طلاق شمار ہوگی تو فرمایا اور کیا۔رجوع سے عاجز ہوجائے یا حماقت کرتے ہوئے رجوع نہ کرے تو کیا طلاق نہ ہوگی
حوالہ / References صحیح مسلم باب تحریم طلاق الحائض قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٧٦
صحیح مسلم باب تحریم طلاق الحائض قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٧٦
صحیح مسلم باب تحریم طلاق الحائض قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٧٦
صحیح مسلم باب تحریم طلاق الحائض قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٧٧
صحیح مسلم باب تحریم طلاق الحائض قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٧٧
السنن الکبری باب ماجاء فی طلاق السنۃ وطلاق البدعۃ دارصادر بیروت ٧ /٣٢٤
#14537 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
انس بن سیرین سے مروی ہے انہوں نے کہا کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی جو حالت حیض میں آپ نے دی ہے تو انہوں نے مجھے فرمایا شمار نہ کرنے کی وجہ کیا ہوسکتیاگر میں عاجز ہوجاؤں یا حماقت کروں تو کیا نہ ہوگیجبکہ عبدالحق اشبیلی نے احکام میں اور بیہقی نے سنن میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا یہ ایك طلاق ہےیہ ہے دیوبندی تعلیم کی حدیث کی مخالفت۔
بست وسوم:قال اﷲ تعالی فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره درتفسیر جلالین ست فان طلقھا الزوج بعد الثنتین درجمل فرمود ای سواء کان قد راجعھا ام لا ایں حکم کہ اطلاق آیت مراد متناول ست ہیچکس از علمائے امت رادر وخلاف نیست کتب فقہ بلاخلاف مطلقا ثلاث را مثبت حرمت غلیظہ گویند وزنہار در ہیچ کتابے بوئے ازیں وسوسہ نجسہ نیست کہ بعد رجعت طلاق اول در حساب نمی ماند وشوھر از سر سہ طلاق را مالك می شود عبارات ہزار در ہزار بر بطلان ایں ضلالت شاہد ست تنبیہ غافل وتعلیم جاہل را ہمیں مسئلہ دوارہ در کتب بسند ست کہ در ۱کنز الدقائق و ۲بحرالرائق فرمودند(کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلثۃ فی بطون
بست وسوم:اﷲ تعالی نے فرمایا اگر خاوند تیسری طلاق دے دے تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔تفسیر جلالین میں ہے اگر خاوند دو طلاق کے بعد تیسری طلاق دے۔اور تفسیر جمل میں مزید ہے کہ رجوع کرچکا ہو یانہ۔مطلب یہ کہ تیسری طلاق کا یہ حکم مطلق ہے ہر صورت کو شامل ہے۔اس میں علمائے امت میں سے کسی نے اختلاف نہیں کیا۔کتب فقہ میں بھی بلااختلاف تین طلاقوں کو مطلقا حرمت غلیظہ کے لئے مثبت بیان کرتی ہیںاور ہرگز کسی کتاب میں بھی اس پلید وسوسہ کی بو تك نہیں ہے کہ رجوع کے بعد پہلے دی ہوئی طلاق کالعدم ہوجاتی ہے اور خاوند نئے سرے سے پوری تین طلاقوں کامالك ہوجاتا ہےاور ہزار ہا عبارات اس گمراہی کے بطلان پر شاہد ہیں۔غافل کی تنبیہ اور جاہل کی تعلیم کےلئے اس مسئلہ کا تمام کتب میں دائر ہونا کافی سند ہے۔کنزالدقائق اور بحرالرائق میں فرماتے ہیں کہ"خاوند نے کہا جب بھی
حوالہ / References القرآن ٢/٢٣٠
تفسیر جلالین تحت الطلاق مرتان ملك سراجدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص ٣٥
تفسیر جمل(الفتوحات الالٰہیہ) تحت الطلاق مرتٰن مصطفی البابی مصر ١/١٨٥
#14538 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فالولد الثانی والثالث رجعۃ)لوقوع الطلاق بالاول و تثبت الرجعۃ بالثانی والثالث ویقع بکل طلقۃ اخری فتحرم حرمۃ غلیظۃ ۳درتبیین الحقائق فرمود لانھا بولادۃ الاول وقع علیھا الطلاق ثم اذا جاءت بولد اخرمن بطن اخر علم انہ من علوق حدث فتثبت بہ الرجعۃ وتقع طلقۃ اخری بولادتہ ثم اذا جاءت بالثالث تبین انہ کان راجعھا بوقوع الثانیۃ لما قلنا وتقع طلقۃ ثالثۃ بولادتہ فتحرم علیہ حرمۃ غلیظۃ اھ مختصرا ۴در شرح مسکین فرمود(فالولدالثانی) یصیر بہ مراجعا فی الطلاق الاول(والثالث)یصیر فی الطلاق الثانی(رجعۃ)ویقع الطلاق الثالث بولادۃ الولد الثالث ولاسبیل الی الرجعۃ ۵درتنویر الابصار و ۶درمختار فرمودند فی کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلث بطون
تو بچہ جنے تو تجھے طلاق ہےاس کے بعد بیوی نے نئے نئے حمل پر تین بچے جنےتو دوسرا بچہ اور تیسرا بچہ پہلی اور دوسری طلاق سے رجوع قرار پائے گااس لئے کہ پہلے بچہ سے جو طلاق ہوئی اس سے دوسرے بچے کی وجہ سے رجوع ہوااور یونہی دوسرے بچے سے جو طلاق ہوئی اس سے تیسرے بچے کی وجہ سے رجوع ثابت ہوا جبکہ تیسرے سے جو طلاق ہوئی وہ تیسری طلاق ہے جس حرمت غلیظہ ہوگئی۳تبیین الحقائق میں فرمایا: یہ اس لئے کہ جب پہلے بچےکی وجہ سے طلاق ہوئی پھر جب اس کے بعد نئے حمل سے دوسرا بچہ پیدا ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ نئے نطفہ سے پیدا ہوا ہے جس سے رجوع ثابت ہوا اور دوسری طلاق ہوگئیپھر جب تیسرا بچہ پیدا ہوا تو اس بیان مذکور سے دوسری طلاق سے بھی رجوع ثابت ہوا اور تیسری طلاق ہوگئی اور بیوی حرمت غلیظہ کے طور پر حرام ہوگئی اھ اور ۴شرح ملا مسکین میں فرمایا کہ دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلی طلاق سے اور تیسرے بچے کی پیدائش سے دوسری طلاق سے رجوع ہوا اور تیسری طلاق ہوگئی جس کے بعد رجوع کےلئے چارہ نہ رہا۵تنویر الابصار اور ۶در مختار میں ہے کہ خاوندنے بیوی کو کہا کہ تو جب بھی بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے تو اس نے تین حمل کے ساتھ تین بچے جنے تو تین طلاق
حوالہ / References بحرالرائق باب الرجعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/٥٥
تبیین الحقائق باب الرجعۃ المکتبۃ الامیریہ بولاق مصر ٢/٢٥٦
شرح کنز لملامسکین حاشیۃ فتح المعین باب الرجعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢/١٦٩
#14539 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
تقع الثلاث والولدالثانی رجعۃ فی الطلاق الاول وتطلق بہ ثانیا کالولدالثالثفانہ رجعۃ فی الثانی وتطلق بہ ثلثا عملا بکلما ۷درغرر و ۸درر فرمود لوقال (کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلثۃ ببطون یقع) طلقات(ثلاث و)الولد(الثانی والثالث رجعۃ ۹درملتقی الابحر و۱۰مجمع الانہر فرمودند(کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلثۃ فی بطون فالثانی والثالث رجعۃ و تتم) الطلقات (الثلث بولادۃ الثالث)فتحتاج الی زوج اخر ۱۱در ۱۲وقایہ و۱۳شرح اش فرمودند فی کلما ولدت فولدت ثلثۃ ببطون تقع الثلث والولدالثانی رجعۃ کالثالث در ۱۴غایۃ البیان وذخیرۃ العقبی فرمودند اعلم انھا تطلق ثلثا ویثبت نسب الاولادمن الزوج وعلیھا العدۃ بثلث حیض بعد ولادۃ الولد الثالث ۱۵دراصلاح و ۱۶ایضاح
ہوجائیں گییوں کہ دوسرا بچہ پہلی طلاق سے اور تیسرا بچہ دوسری طلاق سے رجوع قرار پائے گا اور تین طلاقیں کلما کہنے کی وجہ سے ہوجائیں گی۔۷غرر اور ۸درر میں فرمایا کہ جب بیوی کو کہا کہ تو جب بھی بچہ جنے تجھے طلاق ہےتو اس نے ہر بار نئےحمل سے تین بچے جنے تو تین طلاقیں ہوجائیں گیاور دوسرا اور تیسرا بچہ رجوع ثابت کردے گا۹ملتقی الابحر اور ۱۰مجمع الانہر میں فرمایابیوی کو کہاجب بھی تو بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے تو اس نے مختلف حملوں میں تین بچے جنے تو دوسرا اور تیسرا بچہ رجعت ثابت کریں گے اور تین طلاقیں مکمل ہو جائیں گیتیسرے بچے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کی ضرورت ہوگی۔۱۰وقایہ اور ۱۱اس کی شرح میں ہے:جب بھی بچہ جنے کہنے پرتین مختلف حملوں میں تین بچے جننے پر بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور دوسرا بچہ پہلی طلاق سے جیسا کہ تیسرا دوسری طلاق سے رجوع ثابت ہوگا۔۱۲غایۃ البیان اور ۱۳ذخیرۃ العقبی میں فرمایا کہ یاد رکھو مذکورہ صورت میں تین طلاقیں ہوجائیں گی اور تینوں بچوں کے نسب اس خاوند سے ثابت ہوں گے او ربیوی پر تیسرے بچے کی ولادت کے بعد عدت تین حیض ہوگی۔
حوالہ / References درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٩
الدررالحکام فی شرح غررالاحکام باب الرجعۃ مطبعہ احمد کامل الکائنہ دار سعادت بیروت ١/٣٨٦
ملتقی الابحر و مجمع الانہر باب الرجعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ١/٤٣٧
شرح الوقایہ باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢/١١٦
ذخیرۃ العقبٰی باب الرجعۃ مطبع نولکشور کانپور ٢/٢١٣
#14540 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فرمودند کلما ولدت فولدت ثلثۃ ببطون یقع ثلث والولدالثانی رجعۃ کالثالث امام اجل صدر شہید در شرح ۱۷جامع صغیر امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ فرمود لما ولدت الولد الثالث صار مراجعا ایضا بالوطی بعد الطلاق ووقع اخر بالولادۃ ولارجعۃ بعد ذلك لانہ تم الثلاث در۱۸خزانۃ المفتین بر مز ۱۹اختیار شرح مختار فرمود یقع ثلاث والولد الثانی رجعۃ کالثالث اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باائمہ امت ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اصلاح وایضاح میں فرمایا کہ جب بھی توبچہ جنے تو تجھے طلاقکہنے پر جب تین بچے یکے بعد دیگرے حمل سے پیدا ہوجائیں تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور دوسرا بچہ رجوع ثابت ہوگا جیسا کہ تیسرا بچہ دوسری طلاق سے رجوع ثابت ہوگا۔امام اجل صدر شہید نے امام محمد کی ۱۷جامع صغیر کی شرح میں فرمایا کہ مذکورہ صورت میں جب تیسرا بچہ جنا تو دوسرے بچے کی طرح یہ بھی طلاق سے وطی کے بعد رجوع ثابت ہوگااور تیسرے بچے کی ولادت سے آخری طلاق ہوجائیگی جس کے بعد رجوع نہ ہوسکے گا کیونکہ تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔۱۸خزانۃ المفتین میں ۱۹اختیار شرح ۲۰مختار کی علامت سے بیان فرمایا کہ مذکورہ صورت میں تین طلاقیں ہوجائیں گی اور دوسرا بچہ پہلی طلاق سے جس طرح تیسرا دوسری طلاق سے رجعت ثابت ہوگا۔یہ ہے دیوبندی تعلیمائمہ امت کے مخالف۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
بست وچہارم:ازغایت غباوت وغوایت اوست قول او چنانکہ بعد طلاق بائن اگر تجدید نکاح کند بعدہ ایضا طلاق دہد طلاقین اولین باطل شوند وبعد تجدید نکاح اگر طلاق دہد آں در حساب کردہ آید نہ طلاق قبل تجدید نکاح ہمچنیں بعد رجعت اول طلاق باطل است آفریں باوچہ خوش اصوات خارجہ از سوراخ فم اوست کہ دہن از آواز پر وذہن از معنی
بست وچہارم:اس کی انتہائی غباوت اور گمراہی اس کا یہ کہنا ہے کہ"جس طرح طلاق بائنہ کے بعد دوبارہ نکاح کرے تو اس کے بعد بھی طلاق دے دے تو پہلی دو طلاقیں کالعدم ہوجاتی ہیں اور دوبارہ نکاح کے بعد اگر طلاق دے تو وہ حساب میں آئے گی اور دوبارہ نکاح سے پہلے دی ہوئی شمار نہ ہوگی اسی طرح رجوع کے بعد پہلی طلاق کالعدم ہوجاتی ہے"
حوالہ / References اصلاح وایضاح
حاشیہ علی الجامع الصغیر بحوالہ صدر الشہید باب الرجعۃ مکتبۃ الیوسفی لکھنؤ ص٥٩
خزانۃ المفتین فصل فی الرجعۃ قلمی نسخہ ١/١٣٦
#14541 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
تہیوبیچارہ چہ کند کہ ہنوز ازیں نو عروساں منصہ دیوبندیت را بامطلب ومعنی جفت نکردہ اندکدام دوطلاق پیشین ست کہ بطلان بائن بعد تجدید نکاح باطل می شود وچوں طلاق قبل تجدید نکاح نزد تو خود در حساب نیست بطلانش بر طلاق بائن بعد تجدید چہ موقوف باشد واگر از کسے شنیدہ است کہ بائن بہ بائن لاحق نشود ایں خود عام نیست باز عدم لحوق بطلان اول را چرا موجب شود باز مبنائش حمل بر اخبار ست در رجعی بعد رجعت اور اچہ کاراست باز اگر باشد بطلان یکے باشدنہ ہردو وبقطع نظر از جملہ وجوہ امر جامع میان رجعت بعد رجعی وطلاق بائن بعد تجدید نکاح بعد بائن چیست مگر آنکہ بدعقلی وکج فہمی لائق نجدیت وتعلیم دیوبندی است۔
اس پر آفرین کہ منہ کے سوراخ سے کیااچھی آواز نکال رہا ہےاس کا منہ آواز سے پر اور ذہن فہم سے خالی ہےیہ بیچارہ کیا کرے کہ ابھی دیوبندیت کی نئی نویلی دلہن سے مطلب ومعنی میں جفتی نہیں ہےکون سی دوطلاقیں پہلے ہیں جوطلاق بائنہ کے بعد دوبارہ نکاح سے کالعدم ہوجاتی ہیں۔جب تیرے ہاں دوبارہ نکاح سے قبل والی طلاق کالعدم ہوجاتی ہےتو اس کا کالعدم ہونا دوبارہ نکاح سے طلاق بائنہ پر کیونکر موقوف ہوگا اور اگر کسی سے یہ سن لیا ہے کہ بائنہ کے بعد بائنہ لاحق نہیں ہوسکتی تو یہ عام قاعدہ نہیں ہے تو پھر پہلی طلاق کو بطلان کے لاحق ہونے کی وجہ کیسے ہواپھر اسکا مبنی اخبار ہونے پر ہے تو رجعی طلاق کے بعد رجوع سے کیا تعلق ہےپھر اگر ہوبھی تو ایك کا بطلان ہونا چاہئے نہ کہ دو کااور ان تمام وجوہ سے قطع نظررجعی کے بعد اور بائنہ طلاق کے بعد دوبارہ رجوع کے بعد بائنہ میں کون ساجامع امر ہےاس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ نجدیت کی بدعقلی اور کج فہمی اور دیوبندی تعلیم ہے۔
بست وپنجم:از استنادش بمسئلہ درمختار طلقھا رجعیا فجعلہ بائنا او ثلاثا مع عبارت ردالمحتار وطحطاوی لانہ بعدھا یبطل عمل الطلاق چہ جائے شکوے کہ ہمچومدہو شاں وبیہوشاں در بطلان طلاق وبطلان عمل اگر فرق نکنند سزائے ایشاں فاما ہر مسلم عاقل را مسلم ومعقول ست کہ برجعت عمل طلاق مرتفع می شود نہ آنکہ طلاق کردہ ناکردہ گرددواز
بست وپنجم:درمختار کے مسئلہکہ رجعی طلاق دے کر اس کو بائنہ یا تین کرنااس کے ساتھ ردالمحتار اور طحطاوی کی عبارت کہ اس لئے کہ اس کے بعد طلاق کا عمل باطل ہوجاتا ہےکہ دلیل بناناان مدہوش اور بیہوش لوگوں کا جو بطلان طلاق اور بطلان عمل میں فرق کرنہ سکیںکیا شکوہ کیا جائیےیہ انہی کو لائق ہےلیکن ہر عاقل مسلمان جانتا ہے کہ رجوع سے طلاق کا
حوالہ / References درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٥
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٦٨
#14542 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
صفحہ واقع ارتفاع پزیرد۔مسئلہ را بنہایت ایضاح اتضاح دادہ ایم بیش ازیں اطالت در کار نیست۔
عمل ختم ہوجاتا ہے نہ کہ طلاق ختم ہوجاتی ہے اور کالعدم ہوجاتی ہے۔ہم نے مسئلہ کو مفصل طور پر واضح کردیا ہے اس سے زائد طوالت کی ضرورت نہیں ہے۔
بالجملہ حکم ہمان ست کہ زن احمد علی سہ طلاقہ شد وبے تحلیل بہ تحلیل مجتہدان دیوبندی حلال نشود بلکہ ایناں کہ بدعت زائغہ بطلان طلاقہائے پیشین برجعت پسیں در شرح ودین نہا دندالحق کہ بتحلیل حرام قطعی لب کشادند او برحکم فقہی کفرے ست حتمی۔زن احمد علی بتحلیل ایناں حلال نشد مگر ترسند کہ ہما زناں ایناں بحکم فقہ برایناں حرام شدند ہمچوکساں را باید کہ برائے حطام دنیا حلال نسازند وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
بالجملہ حاصل کلام یہ ہے کہ زیر بحث مسئلہ کاحکم یہ ہے کہ احمد علی کی بیوی کو تین طلاقیں ہوچکی ہیںدیوبندی مجتہدین کے حلال کرنیکے باوجود بغیر حلالہ کے حلال نہ ہوگیبلکہ یہ کہبعد والی رجعت سے پہلی طلاقیں کالعدم ہوجاتی ہیںیہ ان کی دین اور شریعت میں نئی بدعت ہےحق یہ ہے کہ حرام قطعی کہ انہوں نے حلال کہہ دیا ہے جو کہ فقہی حکم کے مطابق قطعی کفر ہےاحمد علی کی بیوی ان کے حلال کرنے سے حلال نہ ہوگی مگران کو یہ فکر کرنی چاہئے کہ فقہی حکم کے مطابق ان کی بیویاں ان پر حرام ہوچکی ہیںان سب کو چاہئے کہ وہ خود تجدید اسلام اور اتجدید نکاح کریںاور اﷲ تعالی کے حرام کردہ کو دنیاوی ایندھن کی خاطر حلال نہ کریںوباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم۔(ت)(رسالہ ختم ہوا)
مسئلہ: از جام جودھ ملك کاٹھیا واڑ جماعت اہلسنت وجماعت مرسلہ آدم احمد صاحب شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ایك چھوٹی سی بستی میں ایك عالم مدت دس پندرہ سال سے وعظ بیان کرتا تھا ہمیشہ چند لوگ اس عالم کی گلہ وغیبت کیا کرتے تھے اتفاقا ایك روز ناٹك والے لوگوں کی فاسق کمپنی آئی اور چند مسلمان اس چھوٹی بستی کے اس تماشے میں داخل ہوئے اوراس اثناء میں ایك سید کے مکان پر وعظ کی محفل منعقد ہوئی چند لوگ ناٹك کے تماشا گر بھی اس محفل میں شریك تھےواعظ صاحب کی نظر جب ان فاسقوں پرپڑی تو وعظ میں بہت لعن طعن کئےفجر کو فاسقوں منافقوں نے غل مچایافساد ودنگاکرنے کی باتیں کیںایك شخص نے ان لوگوں کی طرف سے ان کو کہا کہ تم نے رات کو جو وعظ کیا سو چند آدمی آپ سے البتہ فساد کریں گے اور آپ کو فقط نماز روزہ کا وعظ کرنا چاہئے ورنہ ہمیشہ فساد ہوا کرے گاکبھی دنگا اس کام سے نہ مٹے گاپس واعظ کو غصہ آیا تو یہ لفظ عین غضب میں منہ سے نکالا کہ جو کوئی اس بستی میں
#14543 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
وعظ کرے اس کی جوروپر طلاق ہے جو کوئی اس بستی میں وعظ کرے سے خود کی نیت کی تھی لیکن تین یا دو کا لفظ منہ سے نہ نکلا اور تین کی نیت نہ تھیاور وہ مسلمان لوگ سب مل کر واعظ کے پاس عاجزی سے کہتے ہیں کہ تم وعظ کروپس واعظ کہتا ہے کہ اگر میں وعظ کروں تو میری زوجہ مطلقہ ہوتی ہے میں ہرگز وعظ نہ کروں گاپس ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے یانہیںاور کون سی طلاق بائن یا کیااور وعظ وہ کرے یانہیںاور جب وعظ کرے تو بائن واقع ہونے سے کیا کرےاور اگر قسم کی طلاقیں واقع ہوتی ہیں تو ان کا بھی خلاصہ لکھناکل مسلمان اہلسنت وجماعت آپ کے جواب کے منتظر ہیںان الفاظ میں اگر نیت ثلاثہ کی کی ہوتو کیا ثلاثہ واقع ہوگی یا نہیںوالسلام۔
الجواب:
واعظ کو نہ چاہئے کہ طلاق کی قسم کھاتا کہ شرعاناپسندیدہ ہے یہاں تك کہ حدیث میں آیا:
ماحلف بالطلاق مومن وما استحلف بہ الا منافق ۔رواہ ابن عساکر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مومن طلاق کی قسم نہیں کھاتا اور طلاق کی قسم نہیں لیتا مگر منافق۔اس کو ابن عساکر نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
اب کہ کہہ چکا ضرور وہاں وعظ کہنے سے عورت پر ایك طلاق رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر رجعت کرلینے سے بدستور وہ اس کی زوجہ رہے گی۔درمختار میں ہے:
جماعۃ یتحدثون فی مجلس فقال رجل منھم من تکلم بعد ھذافامرأتہ طالق ثم تکلم الحالف طلقت امرأتہ لان کلمۃ من للتعمیم والحالف لایخرج نفسہ عن الیمین فیحنث ۔
ایك جماعت مجلس میں باتیں کررہی تھی کہ ان میں سے ایك نے کہااس کے بعد جو بھی بات کرے اس کی بیوی کو طلاق پھر خود قسم کھانیوالے نے بات کرلیتو اس کی بیوی کو طلاق ہوگئیکیونکہ"جوبھی"کالفظ عام ہے تو حلف اٹھانے والے کو بھی شامل ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خارج نہیں کیااس لئے اس کی قسم ٹوٹ گئی۔(ت)
ہاں اگر اس قول میں تین طلاقوں کی نیت کی تھی تو تین پڑیں گی اور عورت بے حلالہ نکاح میں نہ آسکے گی۔درمختار میں ہے:
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن انس حدیث ٤٦٣٤٠کتاب الیمین من قسم الاقوال موسسۃ الرسالہ بیروت ١٦/٦٨٩
درمختار باب طلاق غیر المدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٤
#14544 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فی انت الطلاق یقع واحدۃ رجعیۃ ان لم ینو شیأ اونوی واحدۃ اثنین لانہ صریح مصدر لایحتمل العدد فان نوی ثلثا فثلث لانہ فرد حکمی ملخصا۔
"تو طلاق ہے"کے لفظ سے ایك طلاق رجعی ہوگیایك کی یا دو طلاقوں کییا کوئی نیت نہ ہوتب بھی یہی حکم ہے کیونکہ طلاق مصدر صریح ہے اس میں عدد کی گنجائش نہیںاور اگر کہنے والے نے اس لفظ سے تین طلاقوں کی نیت کی ہو تو تین ہوں گی کیونکہ طلاق میں تین کل جنس ہونے کی وجہ سے حکمی فرد بن گیاملخصا(ت)
رہا یہ کہ اب وہاں وعظ کرے یانہیںاگر وہ وعظ اﷲ عزوجل کےلئے کرتا ہے اور طلب مال یااپنی شہرت وریاست مقصود نہیں اور اس کا وعظ مطابق شرع ہےاتنا علم دین کافی ووافی رکھتا ہے جس سے اسے وعظ کی اجازت ہوجب تو ظاہر ہے کہ ایسے بندہ خداہادی راہ ہدی کا وعظ کہنا ہی اس کےان مسلمانوں کے سب کے حق میں بہتر ہےاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرمنھا فلیات الذی ھو خیرولیکفر عن یمینہ ۔رواہ الائمۃ احمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی بات پر قسم کھالے پھر دیکھے کہ اس قسم کا خلاف بہتر ہے تو وہی بہتر کام کرے اور قسم کا کفارہ دے لے(اس کوامام احمدمسلم اور ترمذی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اور اگر ان باتوں سے کوئی بات کم ہے مثلا علم دین کافی نہیں یا کسی غرض فاسد یا عقیدہ فاسدہ کے باعث وعظ خلاف شرع کہے جب تو ظاہر کہ اس کا وعظ اس کے اور مسلمانوں سب کے حق میں برا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القران بغیر علم فلیتبوأمقعدہ من النار ۔رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔
جس نے بغیر علم قرآن کا مطلب بیان کیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنائے۔اس کو ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیااور صحیح قرار دیا۔(ت)
اور اگر مال یا شہرت مقصود ہے تو اگرچہ مسلمانوں کےلئے اس کا وعط مفید ہو خود اس کے حق میں سخت
حوالہ / References درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ١/٢١٩
مسند احمد بن حنبل دارالمعرفۃ بیروت ٤/٢٥٨
جامع ترمذی باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢/١١٩
#14546 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مضر ہےعلماء فرماتے ہیں ایسی اغراض کے لئے وعظ ضلالت اور یہود ونصاری کی سنت ہے۔درمختار میں ہے:
التذکیر علی المنا برللوعظ والاتعاذسنۃ الانبیاء والمرسلین ولریاسۃ ومال وقبول عامۃ من ضلالۃ الیھودوالنصاری۔
منبر پر وعظ و نصیحت کرنا انبیاء اور مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔اپنی بڑائیمال یا اپنی مقبولیت کے لئے وعظ کہنا یہود ونصاری کی گمراہی جیسے ہے۔(ت)
صورت ثانیہ میں اسے وعظ کی اجازت ہی نہیںنہ کہ ایسی حالت میں کہ اس کے سبب عورت پر طلاق ہوگی اور طلاق اﷲ عزوجل کو بلاوجہ شرعی سخت نا پسند ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ابغض الحلال الی اﷲ الطلاق ۔رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما وفی لفظ للحاکم بسند صحیح عنہ موصولا ولابی داؤد عن محارب بن دثار مرسلا مااحل اﷲ شیأ ابغض الیہ من الطلاق ۔
اﷲ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال طلاق ہے۔ اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور دوسرے الفاظ میں عبداﷲ بن عمر ہی سے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ موصولا روایت کیاابوداؤد نے محارب بن دثاررضی اﷲ تعالی عنہ سے مرسلا یوں روایت کی ہے: اﷲ تعالی کی حلال کردہ چیزوں میں سے طلاق اﷲ تعالی کے ہاں زیادہ ناپسندہے۔(ت)
اور اگر صورت صورت اولی ہے جس میں وعظ کہنااس کے حق میں بہتر ہے تو وعظ کہے اور عورت کو رجعت کرلےاور اگر تین طلاق کی نیت کی تھی تو اگر چاہے تو یہ حیلہ ممکن ہے کہ عورت کو ایك طلاق دے جب عدت گزرجائے اور عورت نکاح سے نکل جائے اس وقت وعظ کہے پھر عورت سے نکا ح کرلے اور وعظ کہتا رہے طلاق نہ پڑے گی
لانہ لما ابانھا وانقضت العدۃ لم تبق محلا للطلاق فاذاحنث بعدہ
کیونکہ جب بیوی کو بائنہ کردیا اور عدت گزر گئی تو اب وہ طلاق کا محل نہ رہیاب اس کے بعد قسم ٹوٹنے
حوالہ / References درمختار فصل فی البیع کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢/٢٥٣
سنن ابوداؤد باب فی کراھیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ١/٢٩٦
سنن ابوداؤد باب فی کراھیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ١/٢٩٦
#14547 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
نزل الجزاء المعلق ولم یصادف محلا فمضی ھملا وقد انتہی الیمین لعدم مایدل علی التکرار فاذا تزوجھا بعد وعظ لم یحنث۔
کی وجہ سے معلق شدہ جزاء وارد ہوگی تو اس وقت محل نہ ہونے کی وجہ سے مہمل ہوجائے گی اور قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ اس میں تکراروالی کوئی بات نہیںاور اب وعظ کرلے اور اس کے بعد دوبارہ نکاح کرلے تو حنث نہ ہوگا۔ (ت)
درمختار میں ہے:
تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا لکن ان وجد فی الملك طلقت والالا فحیلۃ من علق الثلاث بدخول الداران یطلقھا واحدۃ ثم بعد العدۃ تدخلھا فتنحل الیمین فینکحھما ۔
مطلقا شرط پائے جانے کے بعد قسم ٹوٹ جاتی ہے لیکن وہ شرط اگر ملکیت نکاح میں پائی جائے تو طلاق ہوجائیگی ورنہ نہیںتو جس نے تین طلاقوں کو دخول دار کی شرط سے معلق کیا ہو اس کے لئے حیلہ یہ ہے کہ بیوی کو ایك طلاق دے دے جب اس کی عدت ختم ہوجائے تو عدت کے بعد عورت دخول دار کرلے اب قسم ٹوٹ کر ختم ہو جائے گی پھر وہ عورت سے نکاح کرلے۔(ت)
مگر یہ صورت دقت سے خالی نہیں بعد انقضاء عدت عورت خود مختار ہوجائے گی اور اگر وہ اس سے نکاح نہ کرے تو اس پر جبر کا کوئی اختیار نہیں۔یونہی یہ سب صورتیں اس تقدیر پر ہیں کہ اس سے پہلے کبھی اس عورت کو دو طلاقیں مجموع خواہ متفرق نہ دے چکا ہو ورنہ وعظ کہتے ہی یا قبل وعظ ایك طلاق دیتے ہی فورا تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اب سواحلالہ کوئی علاج نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از ریاست رامپور محلہ باجوری ٹولہ متصل زیارت حافظ جمال اﷲ صاحب مرسلہ محمد ضمیر خاں صاحب ذی
قعدہھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمرو سے اس کی بیوی نے طلاق طلب کی۔عمرو نے یہ کہا کہ تو مہر بخش دے تو تین طلاق دوں گا۔عورت نے یہ کہا اگر تم مجھے طلاق دو تو میں نے مہر بخش دیا۔عورت نے تین مرتبہ یہ کہا کہ اگر میرا شوہر مجھے طلاق دے تو میں نے مہر بخش دیا۔پھر عمرو نے دو مرتبہ یہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔اس واقعہ کو قریب ایك ہفتہ کے ہوا اور یہ واقعہ درمیان شوہر اور بیوی کے غصہ کی حالت میں ہواآیا طلاق ہوئی یانہیںبینواتوجروا
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
#14548 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
الجواب:
اگر عورت مدخولہ ہے دو طلاقیں ہوگئیں مگر جب تك عدت نہ گزرے رجعت کرسکتاہےمثلا زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی اگر اس سے پہلے کبھی کوئی طلاق نہ دے چکا ہو۔اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے تو ایك طلاق بائن پڑی اور عورت نکاح سے نکل گئیمگر اس کی رضا کے ساتھ عدت میں خواہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے رہا مہر وہ کسی حالت میں ساقط نہ ہوا بدستور باقی ہے بزازیہ کتاب البیوع میں ہے:
تعلیق الھبۃ بکلمۃ ان باطل۔
ہبہ کو کسی شرط سے معلق کرنا باطل ہے(ت)
اشباہ میں ہے:
تعلیق التملیکات بالشرط باطل کالبیع والشراء والھبۃ والابراء (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
بیع وشراءہبہ اور حق کی وصولی سے کسی کو بری کرنا جیسی چیزوں کی تملیك کسی شرط سے معلق کرنا باطل ہے(ملخصا)واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از ریاست رامپور سرشتہ پولیس مرسلہ سید جعفر حسین صاحب محرر سرشتہ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس شرط پر نکاح کیا نصف مہر یعنی پانسوروپے اگر بوقت طلب زوجہ ہندہ ادا نہ کروں تو ہندہ پر سہ طلاق ہیں اب بعد نکاح کے ہندہ نے زید سے نصف مہر طلب کیا زید نے اس وقت روپیہ مذکور ادا نہ کیا اس صورت میں ہندہ پر سہ طلاق ہوئیں یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
اگر عقد نکاح میں ایجاب یعنی ابتدائے کلام بشرط مذکور جانب زید سے ہو مثلا زید نے ہندہ سے کہا میں تجھے بعوض ہزار روپے مہر کے اپنے نکاح میں لایااس شرط پر کہ اگر نصف مہر تیری طلب کے وقت ادا نہ کروں تو تجھ پر تین طلاقہندہ نے کہا میں نے قبول کیاتو صورت مستفسرہ میں اگر زید نے ہنگام طلب نصف مہر ادا نہ کیا ہندہ پر اصلا طلاق نہ ہوئیاور اگر ابتدائے عقد جانب ہندہ سے تھی خواہ شرط کلام ہندہ میں مذکور ہومثلا ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو اس شرط پر تیرے نکاح میں دیا تو نصف مہر الخزید نے کہا میں نے
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع نورانی کتب خانہ پشاور ٤/٤٢٥
اشباہ والنظائر القول فی الشرط والتعلیق ادارۃ القرآن کراچی ٢/٦٢٦،٣٢٥
#14549 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
قبول کیا یا کلام زید میں ہو مثلا ہندہ نے کہا میں نے اپنی جان تیری زوجیت میں دیزید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر نصف مہر الخ یا ابتدائے ایجاب تو جانب زید سے تھی مگر شرط ہندہ نے قبول میں ذکر کی اور زید نے منظور کرلیمثلا زید نے کہا میں نے تجھے اپنی زوجیت میں لیاہندہ نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ اگر تو نصف مہر الخزید نے کہا مجھے منظور ہےتوان صورتوں میں جب نصف مہر عندالطلب ادا نہ کیا ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں والفرق نفیس حسن بیناہ فی فتاونا(اور یہ فرق نفیس خوب ہےاس کو ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔ت)یہ مسئلہ خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وبحرالرائق وہندیہ وردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از بنگالی ضلع پاپنا ڈاکخانہ سراج گنج موضع قاضی پور مرسلہ امید علی صاحب صفر ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی ھذہ المسئلۃ(اے علماء کرام! اﷲ تعالی آپ پر رحمت فرمائےآپ کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے۔ ت)کہ ایك شخص نے اپنی منکوحہ سے کہا کلمادخلت الدار فانت طالق(جب بھی تو گھر میں داخل ہوگی تجھے طلاق ہے۔ت)بعد اس کے اس نے ایك طلاق دی بعد عدت عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیابعدہ دوسرے نے بھی طلاق دے دیبعد چند روز اول سے نکاح کرلیا پھر دخول دار پایا گیا اب طلاق پڑے گی یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
اگر تین بار دخول دار سے انحلال یمین یا تین طلاق تنجیزی خواہ تعلیقی خواہ مختلط سے زوال حل نہ ہولیا تھا تو یمین ضرور باقی ہے وقوع شرط سے طلاق واقع ہوگی والتفصیل یستدعی التطویل(اس کی تفصیل کےلئے تطویل کی ضرورت ہے۔ت) در مختار میں ہے:
اعلم ان التعلیق یبطل بزوال الحل لابزوال الملك فلو علق الثلث او مادونھا بدخول الدار ثم نجز الثلاث ثم نکحھا بعد التحلیل بطل التعلیق فلا یقع بدخولھا شیئ ولو کان نجز ما دونھا لم یبطل فیقع المعلق کلہ و اوقع محمد بقیۃ الاول و ھی
معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تعلیق حلف ختم ہونے پر باطل ہوگی محض ملکیت ختم ہونے پر تعلیق ختم نہ ہوگیاگرخاوند نے تین طلاقوں یا ایك دوکودخول دار سے معلق کیا ہو اور پھر اس کے بعد اس نے اس بیوی کو غیر مشروط طور پر تین طلاقیں دے دیں جس پر بیوی مذکورہ نے حلالہ شرعیہ کے بعد دوبارہ اس پہلے خاوند سے نکاح کیا تو اس دوسرے نکاح کے بعد بیوی کے گھر میں داخل ہونے پر کوئی طلاق نہ ہوگی اور تعلیق ختم ہے
#14550 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مسألۃ الھدم الخ۔
اور اگر مذکورہ صورت میں خاوند نے تعلیق کے بعد تین سےکم طلاقیں دی ہوں تو اس کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرلینے کے بعد بھی تعلیق ختم نہ ہوگی لہذا دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر دخول دار ہوا تو تمام معلق طلاقیں واقع ہوجائیں گیجبکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی پہلی دی ہوئی طلاق سے بقیہ طلاقوں کو واقع مانتے ہیں ان کا یہ قولدوسرے خاوند سے نکاح کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر پہلی طلاقوں کے ساقط ہوجانے کے اختلافی مسئلہ پر ان کے مؤقف پر مبنی ہے الخ(ت)
اسی میں ہے:
تبطل الیمین ببطلان التعلیق اذا وجد الشرط مرۃ الافی کلما فانہ ینحل بعد الثلاث لاقتضا ئھا عموم الافعال کاقتضاء کل عموم الاسماء فلایقع ان نکحھا بعد زوج اخر الخ۔
تعلیق سے متعلق یمینتعلیق کے باطل ہوجانے پر ختم ہوجائے گی جب ایك دفعہ شرط پائی گئی ہومگر لفظ"کلما"کے ساتھ کسی شرط سے تعلیق کی گئی ہو تو وہ یمین تین طلاقوں کے بعد ختم ہوگی کیونکہ"کلما"افعال کے عموم کو چاہتا ہے جیسا کہ"کل" عموم اسماء پر دلالت کرتا ہےلہذا اس صورت میں تین طلاقوں کے بعد حلالہ کرنے پر پہلے خاوند سے نکاح کرے تو اب دخول دار سے طلاق نہ ہوگی الخ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فلایقع تفریع علی قولہ فانہ ینحل بعد الثلاث وانما لم یقع لان المحلوف علیہ طلقات ھذہ الملك وھو متناھیۃ کمامراما لو کان الزوج الاخر قبل الثلاث فانہ یقع مابقی ۔
ماتن کا قول"فلایقع"اسکے اپنے قول"تین طلاقوں کے بعد یمین ختم ہوجائے گی"پر تفریع ہےیہ اس لئے کہ حلف کاتعلق موجودہ ملکیت کی پوری طلاقوں سے ہوتاہے اور وہ محدودہیں اس لئے تین طلاقوں پر یمین ختم ہوجائے گیجیسا کہ گزرا ہےاور اگر تین طلاقوں سے کم پر دوسرے خاوند کے بعد پہلے سے نکاح کرے تو اب شرط پائے جانے پر باقی ماندہ طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت)
اسی میں قبیل باب التعلیق ہے:
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبا ئی دہلی ١/٢٣١
درمختار باب التعلیق مطبع مجتبا ئی دہلی ١/٢٣١
ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٠٠
#14551 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اذا قال کلما دخلت الدار فانت طالق فدخلتھا مرتین ووقع علیھا الطلاق وانقضت عدتھا ثم عادت الیہ بعد زوج اخرفعند ھما تطلق کلما دخلت الدار الی ان تبین بثلاث طلقات خلافالمحمد کما ذکرہ الزیلعی الخ وانظر ماعلقنا علی قولہ السابق۔
اگرتعلیق میں"کلما"کے ساتھ شرط بیان کرتے ہوئے کہا جب بھی تو گھر میں داخل ہوتجھے طلاق ہےتو اگر دو مرتبہ گھر میں دخول پایا گیا اور اس پر دو طلاقیں ہونے اور عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کیا تو امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك تین مرتبہ داخلہ کے ساتھ تین طلاقیں ہوجائیں گیاور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك اب صرف ایك مرتبہ گھر میں داخلہ کے ساتھ ایك ہی باقیماندہ طلاق ہوگیجیسا کہ اس کو امام زیلعی نے ذکر فرمایا الخ۔ردالمحتارکے پہلے قول پر ہمارا حاشیہ ملاحظہ کیا جائے۔(ت)
درمختار میں ہے:
تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا لکن ان وجد فی الملك طلقت والالا ۔
مطلقا شرط پائے جانے پر یمین ختم ہوجاتی ہے اگر وہ شرط ملکیت یعنی نکاح کے دوران پائی جائے تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں۔(ت)
اس پر ردالمحتارمیں ہے:
المحقق فی الفتح افادفی باب التعلیق ان قولھم المعلق طلقات ھذا الملك الثلاث مقید بمادام مالکا لھا فاذا زال ملکہ لبعضھا صار المعلق ثلثا اھ وانظر ماکتبت علی ھامش الفتح من ھذاالقول واذا جمعت ھذہ کلھا عرفت بعون اﷲ تعالی تفاصیل صور المسئلۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
فتح القدیر کے باب التعلیق میں محقق صاحب نے افادہ فرمایا کہ موجودہ ملکیت تین طلاقیں ہوتی ہیںاس عبارت سے انہوں نے یہ قید بیان فرمائی کہ موجودہ ملکیت جب تك باقی ہے یمین وتعلیق باقی ہے اور اگر تین میں سے بعض طلاقوں کی ملکیت ختم ہوجائے تو تین تك تعلیق رہے گی اھفتح القدیر کے اس قول پر میرے حاشیہ کو دیکھوتو جب یہ تمام عبارات ملاحظہ میں آئیں تو اس مسئلہ کی تمام صورتوں کی تفصیل بعون اﷲآپ کو معلوم ہوگئی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی المشیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٩٠
درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
ردالمحتار فصل فی المشیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت٢/٤٩٠
#14556 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مسئلہ: ازہردوار مسئولہ فضل حسین
ایك شخص نے بحالت غصہ اپنی عورت سے یہ کہا کہ اگر تو میرے گھر آئی تو تجھ کو طلاق ہے اور اگر میں تیرے ساتھ کوئی بات کروں(یعنی صحبت کروں)تو حرام کروںان الفاظ سے طلاق ثابت ہوتی ہے یانہیں اور اس عورت کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ کرنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے
الجواب:
اس کہنے کے وقت اگر عورت شوہر کے گھر کے علاوہ اور جگہ تھی تو جب شوہر کے گھر آئے گی ایك طلاق رجعی پڑے گی اور اگر اس وقت شوہر ہی کے گھر میں تھی تو جب تك یہاں رہے گی طلاق نہ ہوگی جب کہیں اور جاکر وہاں سے شوہر کے یہاں آئے گی اس وقت طلاق پڑے گیاور بہر حال طلاق رجعی ہوگیعدت کے اندر اگر شوہر اتنا کہہ دے کہ میں نے اسے اپنے نکاح میں پھیرلیا تو وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی اور اس کا نکاح دوسرے سے نہ ہوسکے گاہاں اگر طلاق پڑے اور شوہر اسے اپنے نکاح میں واپس نہ لے یہاں تك کہ طلاق ہونے کے بعد سے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں تو اس وقت عورت نکاح سے نکل جائے گی اور دوسرے سے نکاح جائز ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از کلکتہ مرسلہ ابوالقمر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے قسمیہ اپنی منکوحہ عورت سے کہہ دیا کہ اگر بغیر عذر شرعی کے تم نے کبھی نماز نہ پڑھی تو تجھ کو میری طرف سے تین طلاقیں ہوں گیکیا ایك جگہ ایك وقت ایك ہی دفعہ ایك لفظ سے تین طلاقیں واقع ہوں گی چونکہ اس قسم کا سلسلہ دراز ہے جب تك زوج اور زوجہ زندہ ہیں مدام اندیشہ میں ہیں اور اس زمانہ کے لوگ سست ہیں دین کے کاموں میں بے پرواہوگئے ہیںممکن ہے کہ کسی وقت عورت سے غفلت ہوجائے تو اس کو طلاق پڑجائے گی۔کیا کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے کہ طلاق کے واقع ہونے سے قبل کوئی ایسا حیلہ کیا جائے کہ عورت پر طلاق نہ پڑے۔
الجواب:
چاراماموں چاروں مذہب کا اجماع ہے کہ تین طلاقیں ایك جگہ ایك وقت ایك ہی دفعہ ایك ہی لفظ میں واقع ہوجاتی ہیں۔
قال ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما بانت امرأتك وعصیت ربك ان لم تتق اﷲ فلم یجعل لک
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا تیری بیوی بائنہ طلاق والی ہوگئی ہے اور تو نے اﷲ تعالی کی نافرمانی کی ہے اگر تو اﷲ تعالی کے عذاب سے
#14558 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مخرجا ۔
خوف نہ کرے گا تو پھر تیرے لئے اﷲ تعالی کوئی سبیل نہ فرمائے گا۔(ت)
وہابی گمراہ بددین اس میں خلاف کرتے اور حرام کو حلال ٹھہراتے ہیںزید نے جبکہ ایك وقت کی نماز نہ پڑھنے پر حکم طلاق مغلظ معلق کیا جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر تو عورت جب بے عذر شرعی ایك وقت کی نماز بھی چھوڑے گی فورا اس پر تین طلاقیں ہوجائیں گی اور بے حلالہ اس کے نکاح میں نہ آسکے گی فان الجزاء ینزل عند نزول الشرط کما فی الھدایۃ وغیرہا (شرط پائے جانے پر جزاء پائی جاتی ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور اس کا حیلہ ارتکاب کبیرہ بالعمد پر مشتمل ہے اوراس کا بتانا بھی حرام ہے یہ اس معنی پر ہے جس پر سوال مبنی اور اگر مراد زید اور ہے تو اس کا اسی سے استفسار ہو
فان للکلام محملین اخرین لانذکرھا کیلایکون تعلیما والمفتی منھی عنہ بل یسأل فھو اعلم بمرادہ۔
اس کلام کے دو محمل اور جن کو ہم ذکر نہیں کرتے تاکہ تعلیم نہ قرار پائے مفتی کو اس سے بازرہنے کا حکم ہے بلکہ وہ صرف سوال کرے کیونکہ مبتلا شخص اپنی مرادکو بہتر جانتا ہے۔(ت)
اس وقت اس کا جواب دیا جائےوجیز کردری وعقودالدریہ میں ہےھ:
احب المفتی ان لایقول یصدق دیانۃ لانہ تعلیم بل ادبہ ان یقول لایصدق۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مفتی کے آداب میں سے ہے کہ وہ کسی بات پر دیانت کی تصدیق نہ کرے کیونکہ یہ مبتلاء کو تعلیم قرار پاتی ہے بلکہ ادب المفتی یہ ہے کہ وہ کہے کہ تصدیق نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مرسلہ مولانا عبدالاحد صاحب رمضان المبارك ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے پدر سے کسی تذکرہ میں کہا تھا کہ اگر میری بیوی فلاں مکان میں جائے گی تو میری بیوی ہی نہ رہے گی پھر اس کے چند روز بعد دوسرے جلسے میں زید نے پدر ہندہ سے الفاظ مذکورہ دوبارہ پھر ادا کئے کہ ہندہ اگر فلاں مکان میں جائے گی تو میری بی بی ہی نہ رہیگیبعد تھوڑے عرصہ کے ہندہ بلارضا مندی اپنے شوہر کے اس مکان میں چلی گئی جس کی بابت زید دومرتبہ دو جلسوں میں پدر ہندہ سے عدم رضا مندی اپنی ظاہر کرچکا تھا اور اب عرصہ پانچ ماہ سے ہندہ اسی مکان میں مقیم ہے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث آفتاب عالم پریس لاہور ۲۹۹/۱
عقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ فوائد تتعلق بآداب المفتی حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ١/٣
#14560 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
پس اس صورت میں نکاح زید سے قائم رہا یانہیں اور مباد اگر نکاح ہندہ زید سے نہیں قائم رہا تو کون سی طلاق ہندہ پر پڑسکتی ہے اور کیا صورت رجعت کی از روئے شرع شریف ہوسکتی ہے
الجواب:
اگر زید نے وہ الفاظ دونوں بار خواہ ایك بار بہ نیت ایقاع طلاق کے کہے تھے یعنی یہ مطلب تھا کہ اگر وہ وہاں جائے تو اس پر طلا ق ہے تو وہاں جانے سے عورت پر ایك طلاق بائن ہوگی نکاح سے نکل گئی رجعت نہیں کرسکتاہاں عورت کی رضا سے دوبارہ اس سے نکاح کرسکتا ہے عدت میں خواہ عدت کے بعدبہر حال حلالہ کی حاجت نہیں اگر چہ لفظ مذکور تین بار کہا ہو اور اگر کسی بار اس سے نیت طلاق بمعنی مذکور نہ تھی تو عورت کا وہاں جانے سے کچھ نہ ہوا اور وہ بدستور اس کی زوجہ ہےرہا یہ کہ نیت تھی یا نہ تھی یہ بیان زید پر ہے اگر وہ بحلف کہہ دے کہ میرا وہ مطلب ان لفظوں سے کسی بار میں بھی نہ تھا توطلاق اصلا نہ مانیں گے اگر زید جھوٹا حلف کرلے گا وبال اس پر رہے گادرمختار میں ہے:
القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا فی منزلہ۔واﷲتعالی اعلم۔
نیت نہ ہونے کے متعلق خاوند کی بات حلف کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی اور بیوی کا گھر میں ہی اس سے قسم لے لینا کافی ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از ملك بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتہیامرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں فضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے یوں کہہ کر نکاح کیا کہ میں تمہاری بلااجازت دوسرا نکاح نہیں کروں گا اگر کروں تو طلاق مغلظہ ہوگیاب اس صورت میں شرط فوت ہوجائے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیںاور ہوتو کے طلاق ہوں گیبینواتوجروامع الدلیل۔
الجواب:
اگر زید نے یہ الفاظ عقد نکاح سے پہلے کہے تھے یا خود نفس عقد میں یہ شرط کی مگرایجاب یعنی ابتدائے الفاظ عقد جانب زید سے تھیمثلا اس نے کہا میں نے تجھے اپنے نکاح میں لیا اس شرط پر کہ بے تیری اجازت کے نکاح ثانی نہ کروں گا اگر کروں تو طلاق مغلظہ ہوہندہ نے کہا میں نے قبول کیا جب تو بحال وقوع شرط زوجہ ثانیہ پر طلاق نہ ہوگی اور اگر بعد نکاح الفاظ مذکورہ کہے یانفس عقد اس شرط پر ہوا اور زید کی جانب سے قبول تھا مثلا ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا زید نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر الخ یا ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ تو بے میری اجازت کے نکاح ثانی نہ کرے اگر کرے تو طلاق مغلظہ ہوزید نے کہا میں نے قبول کیاتو در صورت وقوع شرط دونوں عورتوں میں سے ایك
#14562 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مطلقہ ہوگی زید کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جس کی طرف چاہے طلاق کو پھیردے خواہ ہندہ کی طرف خواہ منکوحہ ثانیہ کی جانب
فی الھندیۃ عن الفتحلوقال لامرأتہ ان تزوجت علیك ما عشت فالطلاق علی واجب ثم تزوج علیھا یقع تطلیقۃ علی واحدۃ منھمایصرفھا الی ایتھما شاء اھ ملخصا قلت ففی الفصل الثانی لما وقع التکلم بالشرط بعد ثبوت النکاح لانہ یتم باللفظین فقد کانت ھندۃ محلا للتطلیق لثبوت ملکہ علیھافقولہ یکن طلاق مغلظ یحتملھما فیصرفہ الی ایتہما احب اما فی فصل الاول لما کان التکلم بہ قبل حصول النکاح حیث لاتمام لہ بمجرد الایجاب لم تکن ھندۃ محلالہ لعدم الملك والاضافۃ الی نکاح ہندۃ فتعینت الاخری اعمالا للکلام کما لو قال لامرأتہ واجنبیۃ طلقت احدکما تطلق امرأتہ من غیرنیۃ
ہندیہ میں فتح سے منقول ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا:"اگر تیری زندگی میں تجھ پر کسی دوسری عورت سے نکاح کروں تو مجھ پر طلاق واجب ہے"اس کے بعد اس نے اس بیوی پر دوسرا نکاح کرلیا تو پہلی اور دوسری دونوں بیویوں میں سے ایك کو طلاق ہوجائیگی خاوند اس طلاق کو جس پر چاہے نافذ کردے اھ(ملخصا)_(میں کہتا ہوں کہ)دوسری صورت یعنی نکاح کے بعد یا بیوی کی طرف سے ایجاب میں یہ الفاظ کہے ہوںتو چونکہ شرط والے الفاظ کا تکلم ثبوت نکاح کے بعد ہوا کیونکہ نکاح ایجاب وقبول کے دولفظوں سے تام ہوتا ہے لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ طلاق کا محل بن گئی کیونکہ نکاح کے تام ہونے پر ملکیت نکاح مکمل ہوگئی ہےچونکہ زید نے اس موقعہ پر طلاق مغلظہ واقع ہونے کی بات کی ہے لہذا دوسرا نکاح کرنے پر مغلظہ طلاق کا احتمال دونوں بیویوں میں سے ہر ایك کے لئے ہے لہذا زید اس طلاق کو دونوں میں سے جس پر چاہے نافذ کردے لیکن پہلی صورت یعنی جب نکاح تام ہونے سے قبل شرط کا تکلم ہوا کیونکہ صرف ایجاب سے نکاح تام نہیں ہوتااس لئے اس صورت میں ہندہ طلاق کا محل نہ بن سکے گی کیونکہ ابھی نکاح نہ ہوا اور نہ ہی نکاح کی طرف طلاق کو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان،اذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٢٦
#14563 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
لتعینھا الانشاء کما فی الھندیۃ عن المحیط عن المبسوط وفی الدرالمختار من باب الرجعۃلوخافت ان لایطلقھا تقول زوجتك نفسی علی ان امری بیدیزیلعی وتمامہ فی العمادیۃ اھ فی ردالمحتار حیث قال ولو قال لھا تزوجتك علی ان امرك فقبلت جاز النکاح ولغا الشرط لان الامر انما یصح فی الملك اومضافا الیہ ولم یوجد واحدمنھما بخلاف مامر فان الامر صار بیدھا مقارنا لصیرورتھا منکوحۃاھ نھروالحاصل ان الشرط صحیح اذاابتدأت المرأۃ لااذاابتدأالرجل ولکن الفرق خفی اھ کلام الشامی باختصارورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول بل ھو ظاھر والحمد ﷲ فان الزوج اذا ابتدأفقال
منسوب کیا گیالہذا یہ طلاق لازما دوسری بیوی کو ہوگی اور وہی طلاق کے لئے متعین قرار پائیگی تاکہ زید کا کلام لغو نہ ہوجیسا کہ کوئی شخص اپنی بیوی اور اجنبی عورت کو خطاب کرکے کہے میں نے تم دونوں سے ایك کو طلاق دی ہےتو اس کی بیوی کو ہی بغیر نیت طلاق ہوگی کیونکہ وہی انشاء طلاق کا محل ہونے کی وجہ سے متعین ہوگیاس کو ہندیہ میں محیط کے حوالے سے مبسوط سے نقل کیا ہے۔درمختار کے باب الرجعۃ میں ہے کہ اگر بیوی کو ڈر ہو کہ کہیں خاوند طلاق نہ دے دے تو نکاح کے وقت بیوی یوں کہے کہ میں تجھ سے اپنا نکاح اس شرط پر کرتی ہوں کہ میری طلاق کا اختیار میرے ہاتھ میں ہوگا اس کو امام زیلعی نے بیان کیا یہ بحث عمادیہ میں ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند نے ایجاب کرتے ہوئے یوں کہا میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو عورت نے قبول کیااس صورت میں نکاح جائز ہوگا اور شرط کا ذکر لغو ہوگاکیونکہ تفویض طلاق کےلئے جواز تب پیدا ہوتا ہے جب نکاح موجود ہو یا طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کیا ہوجبکہ اس صورت میں دونوں باتوں میں سے کوئی بھی نہ پائی گئی بخلاف پہلے مذکور مسئلہ کے کہ وہاں عورت کی طرف سے ایجاب میں شرط کو خاوند نے قبول کیا تو نکاح اور طلاق کی شرط دونوں اکٹھے پائے گئے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی ایقاع الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٦٣
درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤١
ردالمحتار باب الرجعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٤٠
#14565 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
تزوجتك علی انك طالق فقالت قبلت کان التعلیق قبل حصول الملکاذلاملك الابعد تمام الرکنین ولاتعلیق علی سبب الملکفان المعینۃ یجب فیھا حقیقۃ الشرط لامعناہ کما تقدم فکان باطلا کما نقلہ عن النھرامااذاکانت ھی المبتدأۃ انی زوجتك نفسی علی انی طالق فقال قبلت کان السؤال معادا فی الجوابفکانہ قال بعد ایجابھا قبلت علی انك طالق فوقع بعد تمام الرکنینافادہ فی الخانیۃ حیث قال لان البدأۃ اذاکانت من الزوج کان الطلاق فلایصح اما اذا کانت البدأۃ من قبل المرأۃ یصیر التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صار کانہ قال قبلت علی انك طالق اوعلی
اس لئے طلاق کا اختیار عورت کو حاصل ہوگااھ نہرحاصل یہ کہ شرط عورت کے پہل کرنے پر صحیح ہوگیمرد کے پہل کرنے پر درست نہ ہوگیلیکن یہ فرق مخفی رہااختصاراعلامہ شامی کاکلام ختم ہوا۔ مجھے یادہے کہ میں نے علامہ شامی کے اس کلام پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول:(میں کہتا ہوں کہ)فرق مخفی نہیں بلکہ ظاہر ہے الحمد ﷲکیونکہ خاوند کے پہل کرنے اور یہ کہنے پر کہ میں تجھ سے نکاح اس شرط پر کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہے تو عورت نے قبول کرلیا تو یہ تعلیق ملکیت نکاح کے دونوں رکن(ایجاب وقبول)سے پہلے ہوئی ہے لہذ ا ملکیت حاصل نہ ہوئی اور ملکیت کے سبب پر بھی تعلیق نہیں کیونکہ معینہ عورت کے لئے حقیقۃ شرط کا پایا جانا ضروری ہے محض شرط کا معنی کافی نہیںجیسا کہ پہلے گزرا ہےتو یہ تعلیق بالطلاق باطل ہوگی جس طرح انہوں نے اس کو نہر سے نقل کیا ہے لیکناگر عورت پہل کرکے ایجاب میں کہے میں نے تجھے اپنا نفس نکاح کرکے دیا اس شرط پر کہ مجھے طلاق ہے تو خاوند نے قبول کرتے ہوئے کہا میں نے قبول کیاچونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے اس لئے گویا خاوند نے یوں کہا"میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہے"تو یہ تعلیق نکاح کے دونوں رکن(ایجاب وقبول)پائے جانے کے بعد پائی گئی اس کا خانیہ نے افادہ فرمایا جہاں انہوں نے فرمایا کہ جب ابتداء زوج کرے تو طلاق اور تفویض دونوں نکاح سے قبل پائی گئیں لہذا صحیح نہ ہوں گی لیکن جب عورت ابتداء کرے تو تفویض نکاح کے بعد پائی گئی کیونکہ جب خاوند نے جواب میں کہا"میں نے
#14566 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ان یکون الامر بیدك فیصیرمفوضا بعد النکاح اھ قلت وبہ تبین حکم مااذا ابتدأت المرأۃ من دون شرط وقبل الزوج بشرط حیث یصح الطلاق و التفویض لان کلام المرأۃ لاعبرۃ بھا فی ھذاالباب کانت الصحۃ فیما مرلوقوعہ فی قبول الزوج تقدیرا لتضمن الجواب مافی السؤالفاذا وقع فیہ تحقیقا کان اولی بالصحۃ اھ ماکتبت علیہ وبہ یظھرلك کل ماذکرنا ھھنا۔
قبول کیا"چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ مراد ہوتا ہے تو گویا یوں کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہےیاتفویض کی صورت میں یوں کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو تفویض نکاح کے بعد ہوئی اھ(میں کہتاہوں)اس سے صورت کا حکم معلوم ہوگیاجس میں بغیر شرط عورت ایجاب میں پہل کرے اور خاوند قبول کرتے ہوئے شرط ذکر کرے تو طلاق اور تفویض صحیح ہوگیکیونکہ طلاق کے متعلق عورت کا کلام بے معنی ہے اس کی صحت کا دارومدار خاوند کے قبول کرنے پر ہے جو کہ قبول کرنے میں مقدر طور پر مذکور ہے کیونکہ خاوند کا جواب عورت کے ایجاب یعنی سوال کو متضمن ہے تو جب خاوند کے قبول کرنے میں صراحتا شرط مذکور ہو تو بطریق اولی صحیح ہوگا اھ میں نے یہاں حاشیہ میں جو لکھا وہ ختم ہوااس سے یہاں پر تمام بحث کا آپ کو علم ہوگیا۔(ت
پھر بہر صورت منکوحہ ثانیہ خواہ ہندہ صورت مذکورہ میں جس پر طلاق پڑے گی تین طلاقیں ہوں گی کہ عرف میں طلاق مغلظہ اسی کو کہتے ہیں۔
اقول وحیث کان البناء علیہ فلایرد ان قال انت طالق اغلظ الطلاق واحدۃ بائنۃ ان لم ینو ثلثا کما فی التنویر ثم اعلم ان الوقوع بالصفۃ عند ذکرھا کما اذا قال انت طالق البتۃ حتی لوقال بعدھا ان شاء اﷲ متصلا لایقع ولو کان الوقوع باسم الفاعل لوقع کما فی ردالمحتار فلایتوھم
اقول(میں کہتا ہوں کہ)جب گفتگو عرف پر مبنی ہے تو اب تنویر کی اس عبار ت سے اعتراض پیدا نہ ہوگا کہ"غلیظ تر طلاق والی ہے"یہ ایك طلاق بائنہ ہوگی بشرطیکہ تین کی نیت نہ کرے۔پھر یہ معلوم ہونا چاہئے کہ طلاق کا وقوع صفت کے ساتھ ہوگا جب صفت مذکور ہوگیمثلا جب خاوند کہے"تجھے طلاق ہے قطعی"حتی کہ اس کے ساتھ متصل ان شاء اﷲ کہہ دے تو یہ طلاق واقع نہ ہو گی(کیونکہ ان شاء اﷲ کا تعلق طلاق قطعی کے ساتھ ہے صرف"قطعی"سے نہیں)اگر اس میں
حوالہ / References جدالممتار حاشیۃ ردالمحتار باب الرجعۃ حاشیہ نمبر١٠٨٧ المجمع الاسلامی مبارکپور انڈیا ٢/٦٦۔٥٦٥
درمختار شرح تنویر الابصار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٢
#14567 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ان الاخری ینزل علیھا الطلاق وھو غیرمدخول بھا والتعلیق کالتکلم عند وجود الشرط فکانہ قال لھا حینئذانت طالق طلاقامغلظا فطلقت بطالق ولغا الوصف فافھمواﷲ سبحانہ تعالی اعلم۔
طلاق کا وقوع صرف لفظ"طالق"اسم فاعل سے ہوتا تو پھر ان شاء اﷲ کا تعلق صرف لفظ"قطعی"یعنی البتۃ سے ہوتااور طالق کے ساتھ نہ ہونے کی بناء پر طلاق واقع ہوجاتی جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے تو اس قاعدہ کی بنا پر یہ وہم نہیں کیا جاسکتا کہ دوسری نئی بیوی غیرمدخولہ ہونے کی وجہ سے اس پر مذکورہ شرط والی مغلظہ طلاق نہ پڑی تو وہ انت طالق(تو طلاق والی ہے)سے بائنہ ہوگئیکیونکہ تعلیق میں شرط کے پائے جانے کے وقت طلاق والی کلام کا تکلم متحقق ہوتا ہے تو شرط پائے جانے پر گویا اس نے کہا تو طلاق والی ہے طلاق مغلظہ کے ساتھتو غیر مدخولہ کو طالق کہنے پر بائنہ طلاق ہوگئی اور اس کے بعد مغلظ کا وصف لغو قرار پایااس وہم کے مدفوع ہونے پر غور کرنا چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ: از ریاست رامپور مرسلہ حبیب اﷲ بیگ جماعت مولوی فاضل اورنٹیل کالج صفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی عورت سے کہتا ہے کہ تجھ پر تین شرطوں سے طلاق قول من حیث ہو قول کیاکسی چیز کی طرف اشارہ وغیرہ نہیں کیا بس تین شرطوں سے کہہ دیا یہ طلاق کون طلاقواقع ہوگئی اور کیوںاور تین شرطوں سے کیا مراد ہے اور کیوں
الجواب:
ظاہر الفاظ کا مفادیہ ہے کہ طلاق بشرط مجہول دیتا ہے تو یہ کہنا ایسا ہوا کہ مطلقہ ہےاگر تین شرطیں پائی جائیں اس صورت میں طلاق اصلا واقع نہ ہوگیدرمختار میں ہے:
وشرط صحتہ ذکر المشروط فنحو"انت طالق ان"لغوبہ یفتی ۔
تعلیق کی صحت کے لئے مشروط کا ذکر ضروری ہےتو یوں کہنا"تجھے طلاق ہے اگر"لغو قرار پائے گااسی پر فتوی ہے (ت)
اور ایك احتمال یہ بھی ممکن کہ اس نے اپنے جاہلانہ محاو رہ سے تین عدد کو تین شرطیں کہا ہو جیسے تین بار ہاتھ دھونے کو بعض جہال کہتے ہیں تینوں شرطیں پوری کرلو۔اگر یہ اس کا محاورہ ومقصود ہے تو تین طلاقیں ہوگئیں۔ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٠
#14568 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
یحمل کلام کل عاقل وحالف علی عرفہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
عقد کرنے والے کے اور حلف دینے والے کلام کو اس کے عرف پر محمول کیا جائے گا۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از چھاؤنی برار علاقہ ریاست گوالیار متصل عقب گرلس اسکول بمعرفت منشی سید امجد علی صاحب مرسلہ عطا حسین صاحب نقشہ نویس ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے والد اور ہندہ نے زیدسے اسٹامپ لکھواکر کچہری میں رجسٹری کروالی ہے جن میں کے چند شرائط درج ہیں:
()ہندہ تمام عمر اپنے باپ ہی کے مکان پر رہے گی۔
()جو اس وقت اولاد موجود ہے اس کی مالك ہندہ ہوگی زید مالك نہیں ہوسکتا اور آئندہ جواولاد ہوگی اس اولاد کی بھی مالك ہندہ ہوگی۔
()ہندہ کی حیات میں تم دوسری شادی نہیں کرسکوگے۔
()دسروپیہ ماہوار ہندہ کے خرچ کے لئے زید کو ہندہ کے والد کے مکان پر بھیجنا ہوں گے۔
()میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر کسی وقت میں تین ماہ تك بہ استثنائے حوادثات زمانہ جس کو میری زوجہ تسلیم کرلے خرچ نہ بھیجوں یا شرط مذکورہ بالا میں سے کسی شرط کا ایفاء نہ کروں تو میری یہ تحریر بجائے تین طلاق مغلظ وشرع کے سمجھی جائےیہ سب شرائط لکھنے کے بعد زید چھماہ تك ہندہ سے ملنے نہیں گیا اور نہ چھ ماہ تك ہندہ کے لیے خرچ بھیجابعد چھ ماہ کے زید ہندہ کے مکان پر گیاہندہ کے والد نے زید کو ہندہ سے ملنے دیا اور ہندہ کو زید کے ہمراہ رخصت کردیازیدہندہ کواپنے مکان پر لے آیااسی طرح سے آنا جانا بنا رہابعد چارماہ کے ہندہ کا خط زید کے پاس آیا مجھ کو خرچ بھیجوزید اس وقت بوجہ قرضداری کے خرچ نہیں بھیج سکاہندہ کے والد نے پھر ایك خط زید کو بھیجا تم نے اپنی تحریر کے موافق خرچ نہیں بھیجا تین ماہ کے بجائے چار ماہ گزرگئے اس لئے تم دونوں کو شریعت نے بالکل علیحدہ کیا طلاق ہوچکی اب کسی طرح میل جول نہیں ہوسکتا تم کو نوٹس دیا جاتا ہے کہ تیرہ سوبیس روپے حق مہر یکمشت ادا کردواس وقت اولاد کا دعوی کرنازید ہندہ کے والد کے پاس گیا زید نے یہ کہا جبکہ میں نے چھ چھ ماہ تك خرچ نہیں بھیجا اور ہندہ کو آپ نے میرے ہمراہ رخصت کردیااتنے عرصہ تك خرچ نہ بھیجنے پر اس وقت طلاق کیوں نہیں ہوئیہندہ کے والد نے جواب دیا ہندہ نے تم کو خرچ بھیجنے کیلئے نہیں لکھا تھا اب ہندہ نے تم کو خرچ منگوانے کے لئے لکھا ہے اس وقت سے تین ماہ رکھے گئے ہیںپھر زید نے
حوالہ / References ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٩٩
#14570 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
یہ سوال کیاکہ اسٹامپ میں آپ نے یاہندہ نے یہ نہیں درج کروایا ہے کہ خرچ منگوانے پر تین ماہ رکھے جائیںپھر زید نے ہندہ کا خط ہندہ کے والد کے روبرو پیش کیاتین ماہ گزرنے میں پانچ یوم باقی ہیں ہندہ کے والد نے زید سے کہا تین ماہ کے تیسروپے دے دو تیس روپے دینے پر بھی تم ہندہ سے نہیں مل سکو گے اس وقت تك جبکہ تمہاری زوجہ کو خرچ نہ بھیجنے پر معذور سمجھےاور علمائے دین سے دریافت کیا جائے اگر علمائے دین ملنے کی اجازت دے دیں اس وقت تم کو اطلاع دے دیں گے تم آکر اپنی زوجہ کو رخصت کرالے جانااور اگر علمائے دین نے ملنے کی اجازت نہ دی اور طلاق مقرر کردی تو تمہارے تیس روپے واپس کردئے جائیں گےزید نے کہا اس وقت میرے پاس تیس روپے نہیں فی الحال دس روپے لئے لیجیئے مکان پر پہنچ کر بیس روپے اور بھیج دوں گا انہوں نے دس روپے نہیں لئےزید کو واپس لوٹا دیاہندہ کے والد نہ تو زید کو اولاد دیتے ہیں اور نہ ہندہ سے ملنے دیتے ہیںزید میں اس قدر حیثیت نہیں ہے کہ تیرہ سوبیس روپیہ حق مہر یکمشت ادا کرسکےاب ہندہ کے والد یہ کہتے ہیں کہ علماء سے اجازت لو اگر علمائے دین ہندہ سے ملنے کی اجازت دے دیں تو پھر مجھ کو کچھ عذر نہ ہوگا تمہارے ساتھ ہندہ کو رخصت کردوں گااب عرض یہ ہے کہ ان سب شرائط سے طلاق ہوئی یانہیں ہندہ کے والد نے زید کو لکھا کہ جس عالم سے تم فتوی منگواؤ اگر وہ لکھیں کہ طلاق نہیں ہوئی تو ان کو یہ ضرور لکھ دینا کہ جس کتاب سے طلاق نہیں ہوئی ہے(ثابت ہے)اس کتاب کا نام اور صفحہ کا نمبر ضرور لکھیں۔بینواتوجروا
الجواب:
یہ سب جاہلانہ خرافات ہیںوہ اقرار نامہ باطل محض ہے اس میں جتنی شرطیں لگائیں سب باطل ومردود وخلاف شرع ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فھو باطل وان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق ۔رواہ البخاری ومسلم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جواﷲ کی شریعت میں نہیںجو شرط شریعت کے خلاف ہو وہ باطل ہے اگر چہ سو شرطیں ہوںاﷲ کا حکم حق ہےاور اﷲ کی شرط مؤکد۔(اس کو بخاری اور مسلم نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت)
اور اب باپ ہی کے یہاں رہے گی اور موجودہ او لاد کی وہی مالك ہوگی اور آئندہ اولاد کی بھی وہی مالك ہوگی اور
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٣٧٧
#14572 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
باپ کے گھر بیٹھے نفع پائے گی یہ سب شرطیں خلاف شرع ومردود ہیں پانچویں شرط کو خلاف کرے تو یہی تحریر تین طلاق سمجھی جائے یہ بھی باطل ہےغیر طلاق کو طلاق سمجھنا کیا معنیفتاوی قاضی خاں میں ہے:
امرأۃ قالت لزوجھامراطلاق دہفقال الزوج دادہ انگار او کردہ انگار لایقع وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انك طالق وان قال ذلك لایقع وان نوی اھ ملخصا۔
ایك عورت نے اپنے خاوند کو کہا تو مجھے طلاق دےتو خاوند نے کہا دی ہوئی یا کی ہوئی سمجھتو طلاق نہ ہوگی خواہ نیت بھی کی ہو۔گویا خاوند نے عربی میں کہا تو خیال کرلے کہ تو طلاق والی ہے۔تو ایساکہنے پر طلاق نہیں اگرچہ نیت طلاق بھی ہواھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
لوقیل لرجل اطلقت امرأتك فقال عدھا مطلقۃ او احسبھا مطلقۃ لاتطلق امرأتہ ۔
اگر کسی شخص کو یہ کہا جائے کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو وہ جواب میں کہے تو اس مطلقہ شمار کریاکہے بیوی کو مطلقہ سمجھ لےتو اس سے طلاق نہ ہوگی(ت)
بالجملہ نہ صورت مستفسرہ میں طلاق ہوئی نہ عورت مالك اولاد ہوسکتی ہے
قال اﷲ تعالی و على المولود له رزقهن ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:بیوی کا نفقہ اولاد والے یعنی خاوند پر ہے۔(ت)
ہاں بحق حضانت لڑکا سات برس کی عمر تك ماں کے پاس رہے گا اور لڑکی نو برس کی عمر تکپھر باپ لے گا۔شوہر اگر اپنے پاس بلانا چاہے تو عورت کو باپ کے گھر رہنے کا اختیار نہیں
قال اﷲ تعالی اسكنوهن من حیث سكنتم ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:تم اپنی بیویوں کو وہاں رکھو جہاں سکونت پذیر ہو۔(ت)
اگر شوہر کے پاس آنے سے انکار کرے گی نفقہ پانے کی مستحق نہ ہوگی۔عامہ کتب میں ہے:لانفقۃ للناشزۃ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٠
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٣
القرآن الکریم ٢ /٢۳٣
القرآن الکریم ٦٥ /٦
بحرالرائق باب النفقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/١٧٩، ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٧
#14574 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
(نافرمان بیوی کے لئے نفقہ نہیں۔ت)مہر اگر نہ معجل تھا نہ مؤجل یعنی رخصت سے پہلے دینا قرار پایا تھا نہ کوئی میعاد معین مثلا سال دو سال قرارپائی تھیتو جب تك موت یا طلاق نہ ہو عورت کو اس کے مطالبہ کا کچھ اختیار نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
مؤخر المھرحق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق ۔
مؤخر کردہ مہر کامطالبہطلاق یا موت کے بعد ہوسکتا ہے۔ (ت)
پدر ہندہ کا یہ شرط لگانا کہ کتاب کاصفحہ بتایا جائے انہیں شرائط کے قبیل سے ہے جو اس نے اقرار نامہ میں لکھوائیں اگر وہ ذی علم ہوتا اس پر یہ احکام مخفی نہ رہتے نہ ایسا مہمل اقرار نامہ لکھواتا نہ یہ ہوتا کہ چھ مہینے گزرنے پر طلاق نہ سمجھیتین مہینے گزرنے پر طلاق ہےاور جوبے علم ہے اس کا حوالہ وصفحہ طلب کرنا اپنے منصف سے بڑھنا ہے اور اسے صفحہ بتانا فضولاسے یہ حکم ہے کہ علماء سے دریافت کرے نہ یہ کہ صفحہ سطر جانچے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از جبلپور محلہ بھان تلیا مرسلہ محمد نظیر داد خاں سوال نویس کچہری خفیفہ رجب ھ
منکہ علاء الدین ولد شیخ رجب قوم مسلمان ساکن جبلپور محلہ گلگلاتالاب کا ہوںچونکہ بوجہ دو عورتوں کے بیاہا تھا عورت میری سے آپس میں تکرار ہوا کرتی تھی سو آج کے روز روبرو گواہان ذیل یہ تصفیہ ہوا کہ میں بلاعذر کھانا کپڑا دیا کروں گا اوررات کے وقت مکان میں بھی رہا کروں گا اور بالفرض اگر میں ایك ماہ تك بلاوجہ کھانا کپڑا نہ دوں اور مکان میں رات کے وقت نہ رہوں تو روبرو گواہان یہ تصفیہ ہوا کہ عورت مذکورہ ہمارے نکاح سے باہر مثل طلاق کے ہوجائے اور میری لگت فسخ ہوجائے اور جوڈگری عدالت سےہمارے نام کی ہے وہ بھی باطل ہوجائے اور بیاہتا عورت کواختیار ہے کہ وہ اپنے مکان میں جو اس کے باپ کا ہے رہے میں بھی اسی جگہ رہوں گا اور کھانا کپڑا دوں گا اس میں کسی طرح کا عذر وحیلہ نہ کروں گا عذر کروں تو جھوٹاس واسطے یہ چند کلمے بطریق اقرار نامہ کے لکھ دئے کہ سندر ہے اور وقت ضرورت کام آئے۔
میری شادی علاء الدین کے ساتھ عرصہ سات سال کاہوا ہوگئی تھی اب میرے والدین قضا کرگئے اور میرا کوئی شرپرست نہیں رہامیرے خاوند نے عرصہ چھ۶ سال کا ہوا کہ ایك دوسرا نکاح کرلیا اور اس کے ہمراہ رہا کرتا ہے میری کسی طرح سے کفالت نہیں کرتا ایك مرتبہ پنچایت میں ا س نے میرے نان نفقہ کا اقرار کرکے ایك اقرار نامہ مورخہجون ء کو تحریر کردیا تھا اور اقرار کیا تھاکہ اگر اقرار پورا نہ کروں تو طلاق ہوجائے مگر اس نے اپنا عہد پور ا نہیں کیا اور میری وہ کیفیت ہے جو سابق میں تھی اب میں گزر اوقات کس طرح کروں اور میں نکاح سے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی المجلس داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٣٤٣
#14575 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
باہر کیونکر ہو سکتی ہوں مجھے اس سے کچھ امید نہیں۔مؤرخہاگست ء عرضی مسماۃ بتول ولد بیچن خاں میاں نظیر داد خاں:باوجود ہونے پنچایت اور تحریر اقرار نامہ کے علاء الدین مسماۃ بتول کی پرورش بالکل نہیں کرتا اور مخفی رہتا ہےکیا بموجب تحریر اسٹامپ طلاق ہوگئیاگر ہوگئی ہو تومطلع کرو اس کا عقد ثانی کردیا جائے تاکہ بلاسے نجات ہواس شخص نے کبھی کفالت نہیں کی اور نہ امید پائی جاتی ہے۔مورخہ / اگست ء
محمد خاں:بخدمت مولنا عبدالسلام صاحب زاد فیضہ۔چونکہ یہ مذہبی معاملہ ہےمیرے پاس یہ کاغذات آئےمیں نے شروع سے اخیر تك دیکھا واقعی علاء الدین اپنی بیاہتا عورت سے کسی قسم کا سروکار نہیں رکھتا اور نہ اس کی کفالت کرتا ہےاس نے ایك دوسرا نکاح کرلیا ہے اس کی ہمراہی میں رہتا ہےایسی حالت میں اسکی زندگی پار ہونا بہت مشکل معلوم ہوتا ہےآپ تحریر فرمائیے کہ یہ نکاح سے باہرہوئی یانہیںاور عقد ثانی ہوسکتا ہے یانہیںفقط۔ / اگست ءمحمد نظیر داد
خلاصہ جواب:صورت مستفسرہ میں ثبوت کتابت اقرار نامہ ہذابلااکراہاز علاء الدین یا از جانب علاء الدین مع تحقیق خلاف اقرار نامہ یعنی ترك نان ونفقہ زوجہ وترك شب باشی با زوجہ تابیك ماہ معلق علیہا الطلاق مستلزم ترتب الجزاء علی الشرط یعنی وقوع طلاق کا ہے بمجرد انقضائے مدۃ معینہ بلاشك اس کی زوجہ مذکورہ پر طلاق بائن واقع ہوگی اور وہ عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجائے گی۔فتاوی الخیریہ لنفع البریہ میں ہے:
لاشك اذا وجدت الغیبۃ والترك المعلق علیھما الطلاق انہ یقع لوجود الشرط الموجب للجزاء الخ ۔
اس میں شك نہیں کہ وہ غیرحاضری اور ترك معاملہ جس پر طلاق کو معلق کیا گیا ہو اگر پایا جائے تو طلاق ہوجائیگی کیونکہ جزاء لازم کرنے والی شرط پائی گئی الخ(ت)بعد انقضائے عدت طلاق وہ عورت عقد کرسکتی ہے۔
بجنسہ کاغذات ہذا خدمت میں عالی جناب مولانا احمد رضا صاحب بریلوی مرسلہ ہوکر گزارش کی جائے بعد ملاحظہ رائے مناسب سے اطلاع بخشیں۔المرقوم ستمبرء
الجواب :
فی الواقع علاء الدین کا کلام مذکور جہاں تك مقتضاء نظر فقہی ہے تعلیق شرعی ہے کہ وقت وجود شرط موجب وقوع طلاق بائن وزوال نکاح جواز نکاح ثانی زن بعد انقضائے عدت ہے جیسا کہ فاضل مجیب سلمہ اﷲالقریب المجیب نے بیان فرمایا
حوالہ / References فتاوی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ١/٤٥
#14577 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
الظاھران لایجعل قولہ توروبرو گوہان یہ تصفیہ ہو فاصلا بین الشرط والجزاء لانہ من باب التاکید المفید والتائید المزید فلایکون اجنبیا(قال فی الدر)فقال لھا انت طالق ان شاء اﷲ تعالی متصلا الالتنفس او سعال اوجشاء او عطاس او ثقل لسان او امساك فم او فاصل مفید لتاکید او تکمیل اوحد او طالق او نداءکانت طالق یازانیۃ اوطالق ان شاء اﷲ صح الاستثناءبخلاف الفاصل اللغو کانت طالق رجعیا ان شاء اﷲ الخ وفی الھندیۃ رجل قال لامرأتہ انت طالق ثلاثا فاعلمی ان شاء اﷲ صح الاستثناء ولو قال انت طالق ثلاثا اعلمی ان شاء اﷲ او قال اذھبی ان شاء اﷲ طلقت ثلثا وبطل الاستثناء کذافی فتاوی قاضی خاں اھ وفیھا فی فصل الطلاق قبل الدخول لو قال انت طالق اشھدواثلثا فواحدۃ ولو قال فاشھدوا فثلت
ظاہر یہی ہے کہ خاوند کا کہنا"رو بروگواہان یہ تصفیہ ہو"شرط اور جزاء کے درمیان فاصل نہ بنے گا کیونکہ درمیان میں اس کا یہ کہنا مفید تاکید وتائید مزید ہے لہذا یہ کلام اجنبی نہ ہوگادر میں فرمایا:خاوند نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے ان شاء اﷲ تعالیتو یہ متصل استثناء صحیح ہوگا یعنی طلاق نہ ہوگی اور اگر کھانسی سانس یا باسی ڈکار یا چھینك یا زبان کے ثقل یا منہ کی بندش یا کوئی اور فاصل جومفید تاکید یا تکمیل ہو یا وہ فاصل حد یا طلاق یا نداکیلئے مفید ہوتو بھی استثناء صحیح ہوگامثلا کوئی کہے انت طالق اے زانیہ ان شاء اﷲ یا کہے تجھے طلاق ان شاء اﷲتو طلاق نہ ہوگیاس کے برخلاف کلام اور استثناء میں وہ فاصل ہے جو لغوہو مثلا یوں کہے تجھے طلاق رجعی ان شاء اﷲاستثناء صحیح نہ ہوگا او طلاق ہوجائے گی الخ۔ہندیہ میں ہے ایك شخص نے بیوی کو کہا تجھے تین طلاق پس جان لے ان شاء اﷲ تو استثناء صحیح ہوگااور اگر یوں کہا تجھے تین طلاق جان لے ان شاء اﷲیا کہا جاچلی جا ان شاء اﷲ تو بیو ی کو تین طلاقیں واقع ہونگی اور یہ استثناء باطل قرار پائیگایوں ہی فتاوی قاضی خان میں ہے الخ۔اور ہندیہ میں طلاق قبل دخول کی فصل میں ہے کہ اگر کہے تجھے طلاق ہے گواہ ہوجاؤ ان شاء اﷲتو استثناء صحیح نہ ہوگا اور ایك طلاق ہوگیاور اگر گواہ ہوجاؤ
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٣
فتاوی ہندیہ الفصل الرابع فی الاستثناء نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٦٠
#14579 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
کذافی العتابیۃ اھ ومثلہ فی ھذاالباب المذکور من رد المحتار عن البحر من الظہیریۃ قال وحاصلہ ان انقطاع النفس وامساك الفم لایقطع لاتصال بین الطلاق وعددہ وکذاالنداء لانہ لتعیین المخاطبۃ وکذا عطف فاشھدبالفاء لانھا تعلق مابعدھا بما قبلھا فصارالکل کلاما واحدا ۔
کی بجائے پس گواہ ہوجاؤ کہاتو تین طلاقیں ہوں گیعتابیہ میں یونہی ہے اھاسی باب میں ردالمحتار میں بحر سے انہوں نے ظہیریہ سے نقل کیا اور کہا حاصل یہ ہے سانس کا ٹوٹ جانایا منہ بندہوجانا طلاق اور اس کے عدد میں اتصال کو منقطع نہ کرے گا اور یوں مخاطبہ کو معین کرنے کے لئے ندابھی فاصل نہ بنے گیا ور اسی طرح فاشھدوافاء کے ساتھ عطف بھی فاصل نہ ہوگا کیونکہ مابعد کا ماقبل سے تعلق ہوتا ہے تو پورا کلام واحدہوگا(ت)
تحقق شرط میں اتنے امر کالحاظ ضرور ہے کہ مہینہ بھر تك روٹی کپڑا نہ دینااور شب کو مکان میں نہ رہنا بلاوجہ مقبول شرعی ہوا ہو کہ شرط میں"بلاوجہ"کا لفظ مذکور ہے تو کسی وجہ قابل قبول شرع کے باعث اگر مہینہ بلکہ برس گزرگیا اور اسے نہ کھانا کپڑا دیا نہ مکان میں رہا تو طلاق نہ ہو گییونہی اگر دونوں شرط مذکور یعنی عدم انفاق وعدم شب باشی سے صرف ایك ثابت ہوئی مثلا یہ تو ثابت ہواکہ بلاوجہ مہینہ بھر تك روٹی کپڑا نہ دیا مگر مہینہ بھر تك رات کو مکان میں بلاوجہ نہ رہنے کا ثبوت نہ ہوسکا یا بالعکس تو جب بھی طلاق ثابت نہ ہوگی کہ یہاں دونوں شرطوں کاثبوت ثبوت طلاق کے لئے ضرور ہے۔
فی ردالمحتاران لم یکرر اداۃ الشرط فلابد من وجود الشیئین قدم الجزاء علیھا اواخرہ بحرملخصا۔
ردالمحتار میں ہے اگر حرف شرط مکرر نہ ہوتو دو چیزوں یعنی شرط وجزا کا پایا جانا ضروری ہےجزاء کو شرط سے مقدم ذکر کیا ہو یا موخر ذکر کیا ہوبرابر ہےبحرملخصا۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اس مقدمے میں بالاتفاق بارثبوت عورت کے ذمے ہے کہ مہینہ بھر تك نان ونفقہ نہ ملنے کے باب میں اگر چہ عورت محتاج گواہان نہیں بلکہ صرف اس کا بیان حلفی کافی ہے
وعند قیام الزوجیۃ وکونھا مستحقۃ
زوجیت پائی جائے اور بیوی خاوند سے خرچہ وصول
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٧٣
ردالمحتار باب طلاق غیر المدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٥٦
ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٠٨
#14580 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
لینفقہ کما یشھد بہ کتابۃ الزوج لایکون الوجہ المانع الاحادثا فیکون الظاھر مع المرأۃ المنکرۃ حدوثہ فان ادعاہ الزوج فلیثبتہ۔
کرنے کی مستحق ہوجیسا کہ خاوند کی تحریر شاہد ہے تو پھر کسی نئے حادثہ کے بغیر نفقہ سے کوئی مانع نہیں اور ظاہر حال عورت کے حق میں جبکہ وہ ایسے حادثے کا انکار کرتی ہو پھر اگر خاوند اس حادثہ کا مدعی ہوتو خاوند پر حادثہ کو ثابت کرنا لازم ہوگا(ت)
مگر صرف اسی قدرتو شرط طلاق نہ تھا بلکہ مہینہ بھر تك بلاوجہ ترك شب باشی بھیاور اس کا ثبوت گواہان شرعی سے دینا بلاشبہہ عورت پر لازم ہے فقط اس کا بیان اگرچہ حلفی ہو یہاں ہرگز معتبر نہیں
لانھا ترید بھذااثبات الطلاق وھوینکرہ والبینۃ علی النفی مسموعۃ فی الشروطفی الدرالمختار(ان اختلفا فی وجود الشرط)ای ثبوتہ لیعم العدمی (فالقول لہ مع الیمین)لانکارہ الطلاق ومفادہ انہ لو علق طلاقھا بعدم وصول نفقتھا ایاما فادعی الوصول وانکرت ان القول لہ وبہ جزم فی القنیۃ لکن صحح فی الخلاصۃ والبزازیۃ ان القول لھا واقرہ فی البحر والنھر وھو یقتضی تخصیص المتونلکن قال المصنف وجزم شیخنا فی فتواہ بما تفیدہ المتون والشروح لانھا الموضوعۃ لنقل المذہب کمالا یخفی(الااذا برھنت)فان البینۃ
کیونکہ بیوی اس سے اثبات طلاق کا ارادہ رکھتی ہے اور خاوند طلاق سے انکار کررہا ہے جبکہ شرائط کے متعلق نفی پر بھی گواہی قابل سماعت ہے۔درمختار میں ہے(اگر خاوند اور بیوی نے طلاق سے متعلق شرط کے پائے جانے میں اختلاف کیا)یعنی شرط کے ثبوت میںتاکہ یہ عدمی شرط کو بھی شامل ہوسکے(تو خاوند کی بات کو اس سے قسم لے کرتسلیم کرلیا جائے گا)کیونکہ وہ طلاق سے انکاری ہے۔اس مسئلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خاوند نے طلاق کو چند دن نفقہ نہ پہنچانے سے معلق کیا تھا تو اب اختلاف میں خاوند کا مؤقف یہ ہے کہ اس نے نفقہ پابندی سے پہنچایا ہے اور بیوی اس کا انکار کرتی ہے تو اس میں خاوند کی بات معتبر ہوگیقنیہ میں اسی پر جزم کیا ہے لیکن خلاصہ اور بزازیہ میں بیوی کی بات معتبر قرار دینے کو صحیح قرار دیا ہےاسی کو بحر اور نہر میں ثابت رکھا ہےاور وہ متون کی تخصیص کا متقاضی ہے لیکن مصنف نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اپنے فتاوی میں اس پر جزم کا اظہار فرمایا جس کو متون اور شروح نے بیان کیا ہے کیونکہ مذہب کی ترجمانی کےلئے یہی موضوع ہیں جیسا کہ مخفی نہیں ہے(الایہ کہ بیوی گواہ پیش
#14582 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
تقبل علی الشرط وان کان نفیا اھ فی ردالمحتار قولہ واقرہ فی البحر حیث قال فی فصل الامر بالید قیل القول لہ لانہ ینکرالوقوع لکن لایثبت وصول النفقۃ الیھا والاصح ان القول قولھا فی ھذاوفی کل موضع یدعی ایفاء حق وھی تنکراھونقل الخیر الرملی ایضا تصحیحہ عن الفیض والفصولقولہ وھو یقتضی تخصیص المتون ای تخصیصھا بکون القول لہ اذالم یتضمن دعوی ایصال مال حملا للمطلق علی المقید اھ باختصارالبزازیۃ عدم قبول قولہ فی کل موضع یدعی ایفاء حق مالی وھی تنکر فھذا یقتضی تخصیص المتون فاغتنم ھذا ۔
کردے)کیونکہ شرط کے متعلق گواہی قبول ہوتی ہے اگر چہ یہ شرط منفی ہواھاس مقام پر ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول کہ اس(بیوی کی بات معتبر ہے)کو بحر میں ثابت رکھایہ بات انہوں نے فصل امر بالید میں یوں کہی ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ خاوندکی بات معتبر ہوگی کیونکہ وہ طلاق کے وقوع کا منکر ہےمگر اس کے ساتھ وہ نفقہ بیوی تك پہنچانے کوثابت نہیں کررہالہذا اصح یہ ہے کہ اس مسئلہ میں بیوی کی بات معتبر ہوگی اور اسی طرح ہر ایسے مقام میں جہاں خاوند حق کو پورا کرنے کا مدعی ہواور بیوی منکر ہو تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اھخیرالدین رملی نے بھی فیض اور فصول سے اس کی تصحیح کو نقل کیا ہےاور ماتن کا قول کہ یہ(بیوی کی بات کا معتبر قرار دینا)متون کی تخصیص کا متقاضی ہے یعنی متون کے اس قول کا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی بایں صورت کہ خاوند کا دعو ی مالی حق کو پہنچانے پر مشتمل نہ ہو یعنی متون کی مطلق عبارت کو مقید بنانے سے تخصیص ہو گی اھ مختصرا۔اور غمز العیون میں ہے کہ خلاصۃ الفتاوی اور بزازیہ میں ہے ہر ایسے مقام پر جہاں خاوند کے مالی حق کو پہنچانے کا دعوی ہو اور بیوی کا انکار ہو تو خاوند کی بات کے معتبر نہ ہونے کی تصحیح کی ہےلہذا یہ بات متون کی تخصیص کا تقاضا کررہی ہےاس بحث کو غنیمت سمجھو۔(ت)
وجوہ شرعیہ جو یہاں قابل قبول ہوں متعدد مگر ان کے بیان سے دست کشی کی جاتی ہے کہ تعلیم نہ ہواگر کوئی وجہ باعث ترك تھی تو علاء الدین خود بیان کردے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از کلکتہ ٹرین اسٹریٹ مسجد سمر مد خلیفہ مرسلہ عبدالرشید صاحب ذی الحجہ المبارك ھ
مرجع خاص وعام ملاذ علمائے کرام لازالت عتبتہم کہف الانام سلام مسنون برسیم فدویان عقیدت کیش
حوالہ / References درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣١
ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٠٢
غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الطلاق ادارۃالقرآن کراچی ١/٢٥٦
#14583 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
بجا آوردہگزارش یہ ہے بنگالہ کے بعض دیار میں یہ دستور ہے کہ جب نوشہ شامل برات دلہن کے مکان پر جاتا ہے تو دلہن کے اولیاء واقرباء غیر مناسب شرائط سے کابین لکھوا کر نوشہ کو اوپر دستخط کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور در صورت عدم دستخط لڑکی دینے سے انکار کرتے ہیںبیچارہ نوشہ بخوف ندامت وتضیع زیورات واسباب شادی جبرا وقہرا اس پر دستخط کردیتا ہے اوربعد دستخط کرنے کے باقاعدہ رجسٹری بھی کرادیتا ہے حالانکہ پیشتراس مجلس نکاح کے ان بیہودہ شرائط کا تذکرہ تك نہیں ہوتا ہےمنجملہ ان غیر مناسب شرائط کے ایك شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ تاحین حیات منکوحہ ہذا اور کسی عورت سے ہرگز شادی ونکاح نہ کروں گااگر کروں تو دوسری عورت مطلقہ بطلاق ثلاثہ بائنہ ہوگی خواہ منکوحہ ہذا بروقت نکاح بازن دیگر میرے نکاح میں موجود ہو یا نہ ہو۔پس دریں صورت مسئولست کہ شرعا ایسی بھی صورت ہے کہ ناکح مذکور کو اس منکوحہ کے حین حیات میں دوسری عورت سے نکاح کرنا جائز ہوجائےبینوابحوالۃ الکتاب توجروا عند الوھاب جواب بحوالہ کتب فقہیہ مع نقل عبارت مرحمت ہو۔
الجواب:
اگر کوئی فضولی بطور خود بے اس کی توکیل کے اس کا نکاح کسی عورت سے کردے اور وہ شخص اجازت فعلی سے اسے جائز ونافذ کردے زبان سے کچھ لفظ نہ کہے تو اس صورت میں منکوحہ ثانیہ پر طلاق اصلا نہ ہوگی اگرچہ منکوحۃ اولی ہنوز خود اس کے نکاح میں موجودہو اور فضولی یوں آپ نہ کردے تو اس قسم کے الفاظ اس کے سامنے کہے کہ کاش کوئی فلاں عورت سے میرا نکاح کردیتا یا کیا اچھا ہوتا کہ کوئی دوست بطور خود میرا عقد اس سے کردیتا
وذلك لان ھذاالفاظ الامانی دون الانابۃ حتی یکون توکیلا۔
یہ اس لئے کہ یہ الفاظ تمنائی ہیں یہ نیا بت ثابت نہیں کرتے حتی کہ وکیل بنانا متصور ہوسکے۔(ت)
اور اجازت فعل یہ کہ مثلا عورت کو مہر جو مقرر ہوا ہے بھیج دے یا زبان سے نہ کہے کاغذ پر لکھ دے کہ میں نے اس نکاح کو نافذ کیا اور اگر فضولی خواہ کسی نے اس عقد فضولی کی اس کو مبارکباد دی اور اسے سن کر سکوت کیا جب بھی عقد صحیح اور نافذ ہوگیا اور طلاق نہ پڑے گیدرمختارمیں ہے:
زوجہ فضولی فاجاز بالقول حنث وبالفعل ومنہ الکتابۃ لایحنث بہ یفتی خانیۃ۔
کسی کا نکاح فضولی شخص نے کردیا تو اس شخص نے زبانی جائز کہہ دیا تو قسم ٹوٹ جائیگی اور عملی کارروائی سے جس میں لکھنا بھی شامل ہےجائز کرے تو قسم نہ ٹوٹے گیخانیہ۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذٰلك مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٤
#14585 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ردالمحتار میں ہے:
فی حاوی الزاھدی لوھنأہ الناس بنکاح الفضولی فسکت فھذا اجازۃ ۔
زاہدی کی کتاب حاوی میں ہے کہ اگر کسی کو لوگوں نے فضولی نکاح پر مبارکباددیتو وہ خاموش رہاتو یہ اجازت متصور ہوگی۔(ت)
اشباہ میں ہے:
حلف لایتزوج فالحیلۃ ان یزوجہ فضولی ویجیزہ بالفعل ۔
اگر کسی نے شادی نہ کرنے کی قسم کھارکھی ہوتو اس کے لئے شادی کرنے کا حیلہ یہ ہے کہ کوئی فضولی شخص اس کا نکاح کردے اور یہ شخص کسی فعل کے ذریعہ سے اس نکاح کو جائز کردے۔(ت)
غمز میں ہے:
الاجازۃ بالفعل کبعث المھر وشئی منہ والمراد الوصول الیھا ذکرہ الصدر الشہید رحمہ اﷲ تعالی وقیل سوق المھر یکفی مطلقا لان المجوزۃ الاجازۃ بالفعل وھو تحقق بالسوق ۔
عملا(فعل کے ذریعے)نکاح جائز کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص مہر یااپنی طرف سے کوئی چیز بھیج دے یعنی منکوحہ کو۔اس سے مراد یہ ہے کہ خاص اس تك پہنچادے۔یہ بات صدر شہید نے ذکر کی ہے۔بعض کا قول یہ ہے کہ بیوی کودینے کی بجائے محض مہر روانہ کردینا ہی نکاح کی فعلی اجازت کو کافی ہے کیونکہ بالفعل اجازت کو جائز قرار دیاگیا ہے تو روانہ کردینا بھی فعل ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے:
ینبغی ان یجیئ الی عالم ویقول لہ ماحلف واحتیاجہ الی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأۃ یجیزبالفعل فلایحنث وکذااذاقال لجماعۃ لی حاجۃ الی نکاح الفضولی
مناسب یہ ہے کہ ایسا شخص کسی عالم کے پاس آکر اپنی قسم کے بارے میں بتائے اور فضولی شخص کے نکاح کردینے کی حاجت ظاہر کرے تو وہ عالم اس کا کسی عورت سے خود نکاح کردے اور یہ اس نکاح کی اجازت اپنے کسی فعل سے دے تو
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذٰلك داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٣٧
الاشباہ والنظائر الفن الخامس الحیل فی النکاح ادارۃ القرآن کراچی ٢/٩٦،٢٩٥
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائع مع الاشباہ الفن الخامس الحیل فی النکاح ادارۃ القرآن کراچی ٢/٩٦،٢٩۵
#14587 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فزوجہ واحد منھم اما اذا قال لرجل اعقدلی عقد فضولی یکون توکیلا اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔
قسم نہ ٹوٹے گی اور یہی حکم ہے اگر کسی جماعت کے سامنے وہ کہے کہ مجھے فضولی شخص کے نکاح کی ضرورت ہے تو اس جماعت کاکوئی فرد اس کا نکاح کردےلیکن جب کسی کو اس نے یوں کہہ دیا کہ تو فضولی بن کر میرا نکاح کردے تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اس صورت میں وکیل بنارہا ہے لہذا وہ وکیل بنے گا فضولی نہ ہوگا۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ : از کلکتہ مولوی امداد علی لین مرسلہ مولوی محمد عبدالعزیز صاحب شوال ھ
بذرورہ عرض خدام برتر مقام دام اقبالکمپس از سلام سنت خیر الانام علیہ افضل الصلوۃ والسلاممعروض اینکہ مسئلہ مالاینحل فی دیارنا پیشکش ملازمان می نہیام جواب شافیش عنایت فرمودہ رہین منت سازند جناب من بعضے اختلاف بدینگونہ می آورند کہ برغیرمدخول بہا بعد از وقوع یك طلاق ثانی وثالث واقع نخواہد شد مگر ارادہ آنکس در ینجاوقوع طلاق علی الانفراد نیست بلکہ باہم واقع کردن ست وسیاق کلام بنگالہ اش ہم ہمچنیں است احقر درینجا بعیہنہ ترجمہ بنگالہ نمودزیادہ حدادب۔
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی
اندریں شخص درکابین نامہ زوجہ خود نوشتہ داد کہ من بلااجازت تو واجازت ولی معتبر تو نکاح دیگر نخواہم کردو اگر بکنم کل دین مہر تو ادا نمودہ از تو وازولی تو اجازت گرفتہ خواہم کردہ ورنہ بر منکوحہائے دیگر یك طلاق دو طلاق سہ طلاق واقع خواہد شد پس آں شخص یکے راہم از شرائط مذکور بعمل نیا وردہ زنے را بعقد نکاح خود آوردہ اینك زوجہ ثانیہ اش خدام کی عرض کو پورا کرنے والےبرتر مقام والےدام اقبالکم حضور علیہ والصلوۃوالسلام کے مسنون سلام کے بعد معروض یہ ہے کہ ہمارے علاقہ کا ایك لاینحل مسئلہ جناب کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اس کاشافی جواب عنایت فرمادیں تو ممنون احسان ہوں گےجناب من! بعض نے یہ اختلاف کیاہے کہ طلاق غیرمدخولہ عورت پر ایك طلاق کے بعد دوسری اور تیسری طلاق واقع نہ ہوگی جبکہ یہاں خاوند کا منشاء تینوں طلاقوں کا علیحدہ علیحدہ دینا نہیں ہے بلکہ اکٹھی دینے کا ارادہ ہے اور بنگالی زبان کا سیاق بھی یہی ہے۔احقر یہاں بنگالی زبان کا ترجمہ بعینہ پیش کرتا ہےزیادہ ادب۔
اﷲ تعالی آپ پر رحم فرماتے آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے نکاح نامہ میں بیوی کو لکھ دیا کہ میں تیری اور تیرے معتبر ولی کی اجازت کے بغیر دوسرا نکاح نہ کروں گااگر کروں تو تیر امکمل مہر ادا شدہ ہوگا اور تجھ سے اور تیرے ولی سے اجازت کے ساتھ ہوگا ورنہ میری دوسری منکوحہ پر ایك طلاق
حوالہ / References بحرالرائق باب التعلیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/٧
#14589 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مطلقہ بسہ طلاق خواہد شد یا نہبینواتوجروا۔
دوسری طلاق اور تیسری طلاق ہوگیاس کے بعد اس شخص نے کوئی شرط پوری کئے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرلیاتو اس کی دوسری بیوی کو تین طلاق ہوں گی یانہیں بینوا توجروا(ت)
الجواب:
اصل اینست کہ معلق ہنگام وجود شرط فرودمی آید گویا اینك بجز منجز تکلم کردہ است وزن نامدخولہ اگرچہ محل وقوع سہ طلاق بیکبار ہست ولہذا اگر اورا گوید برتو سہ طلاق یا اگر بایں خانہ در آئی سہ طلاق باشی در صورت اولی فورا ودر اخری ہنگام دخولہ خانہ سہ طلاق واقع شود بلکہ اگر سہ طلاق جداگانہ تعلیق کرد اما معطوفہ بغیر حرف"ثم"وشرط را مؤخرآورد مثلاگفت تو طلاقی وطلاقی وطلاقی اگر چناں کنی نیز بحصول شرط سہ طلاق افتد زیرا کہ عطف بوا ویافا آنہارا موصول کردہ وتا خیر شرط اول سخن را بہ تعلیق تغییر دادہ است پس مجموع معلق شد وبوقوع شرط دفعۃ فرود آمد اما غیر مدخولہ وقوع بتفریق را صلاحیت ندارد ولہذا اگر گفت ترایك طلاق ودو طلاق وسہ طلاق یااگر اینکار کنی تو طلاقی و طلاقی و وطلاقی بتقدیم شرط یا تو طلاقی طلاقی طلاقی اگر چناں کنی بتاخیر شرط وترك عطف ہمیں بیك طلاق بائن شود وباقی لغو رود زیراکہ در صورت اولی چوں ترا یك طلاق گفت ایں طلاق افتد وزن از عصمت نکاح بیروں شد وعدت ہم نیست پس محلیت طلاق نماند ومعطوفات باقیہ ہنگام انعدام محلیت بر زماں آمد وبیکار رفت ودر ثانیہ چوں شرط مقدم ست گویا ہنگام وقوع شرط
قاعدہ یہ ہے کہ کسی شرط کے ساتھ معلق طلاقاس شرط کے پائے جانے پر وقوع پذیر ہوتی ہے گویا کہ اس وقت اس نے طلاق کا تکلم غیر مشروط طور پر کیا ہے اور غیر مدخولہ عورت یکبار تین طلاقوں کے وقوع کا محل ہے لہذا اگر خاوند نے غیر مدخولہ بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیا کہا تو اگر اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقتو پہلی صورت میں فورا اور دوسری صورت میں اس کے گھر میں داخل ہونے پر تین طلاقیں ہوجائیں گیبلکہ اگر متفرق طور پر تین طلاقیں کسی شرط سے معلق کردے بشرطیکہ ان متفرق طلاقوں کو لفظ"واؤ"یا"فاء"کے ساتھ بطور عطف ذکر کرے نہ کہ لفظ"ثم"کے ساتھاور شرط کا ذکر اس کے بعد کرےمثلا یوں کہے تجھے طلاق وطلاق وطلاق اگر تو فلاں کا م کرےتو اس صورت میں بھی شرط پائے جانے پر تین طلاقیں ہوں گیکیونکہ واؤ ا ور فاء کا عطف سب کو ملا دیتا ہے اور جب اس کے بعد شرط ذکر کی تو اس شرط نے پہلی پوری کلام کو معلق کردیا تو شرط کے پائے جانے پر اس سے معلق تینوں طلاقیں دفعۃ واقع ہوجائیں گی لیکن اس کے برخلاف اگر غیر مدخولہ کوتین طلاقیں غیر مشروط طور پرمتفرق دے مثلا یوں کہے تجھے ایك طلاق اور دوسری طلاق اور تیسری یا تینوں کو متفرق طور پر ذکر کرے مگر شرط کو ان سے پہلے ذکر کرے مثلا یوں کہے اگر تونے فلاں کام کیا تو تجھے طلاق
#14590 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
چناں گفت کہ تو طلاقی وطلاقی وطلاقی وبدلیلی ہمیں عــــہ یك وقوع یافت ودر ثالثہ مغیر کہ در آخر کلام یافتہ شد ہمیں طلاق ثالث را از تنجیز بہ تعلیق تغییر داد کہ ماسلف بجہت ترك عطف باد مربوط نبودپس ہنگام تکلم بہ کلمہ اولی یك طلاق فی الحال واقع شدومحل تنجیز دوم وتعلیق سوم نماند چوں ایں مسائل حالی شد حکم مسئلہ مسئولہ رنگ وضوح یافت کہ بر منکوحہ ثانیہ ہمیں یك طلاق واقع شود وبس۔
فی الھندیۃ ان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق وطالق و طالق وھی غیر مدخولۃ بانت بواحدۃ عند وجود الشرط فی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ولغا الباقیوان کان الشرط مؤخرافقال انت طالق وطالق وطالق ان دخلت الدارأوذکرہ بالفاء فدخلت الدار بانت بثلث اجماعا سواء کانت مدخولۃ اوغیر مدخولۃفان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال
اور طلاق اور طلاقیا مشروط تین طلاقیں ذکرکرے مگر طلاقوں کو بغیر عطف شرط سے پہلے ذکر کردیا ہو مثلا یوں کہے تجھے طلاق طلاق طلاق اگر تو فلاں کام کرےتو ان تینوں صورتوں میں متفرق شدہ طلاقوں میں سے ایك ہی طلاق ہوگی جوبائنہ ہوجائے گی اور باقی دو لغو ہوجائیں گیکیونکہ ان میں سے پہلی صورت میں جب اس نے"تجھے ایك طلاق"کہا تو بیوی بغیر عدت نکاح سے خارج ہوجائے گی تو وہ اس کے بعد طلاق کا محل ہی نہ رہی تو باقی دوکے وقوع کے وقت بیوی طلاق کا محل نہ تھی لہذا وہ دونوں طلاقیں بیکار(لغو)ہوگئیںاور دوسری صورت میں چونکہ شرط مقدم ہے اس لئے شرط کے وجود پر پہلی طلاق کے بعد باقی دو طلاقوں کا محل نہ رہی کیونکہ وہ پہلی طلاق کے ساتھ ہی بائنہ ہوگئی لہذا باقی دونوں لغو ہوگئیں شرط کے پائے جانے پرگویا یوں کہا تجھے طلاق وطلاق وطلاقتویہ پہلی صورت کی طرح ہوگئیاور تیسری صورت میں اس لئے کہ تعلیق کا تعلق صرف آخری طلاق سے ہوا کیونکہ طلاقوں کے بعد اس نے شرط ذکر کی جس نے تیسری طلاق کے وقوع سے روك دیااور پہلی دونوں عطف نہ ہونے کی وجہ سے تیسری کے ساتھ مربوط نہ ہوسکیںلہذا وہ دونوں ذکر کرتے ہی غیر مشروط واقع ہوگئیں تو جب پہلی واقع ہوئی تو وہ بائنہ ہوگئی تو اس کے بعد وہ دوسری غیر مشروط اور تیسری معلق اور مشروط کا محل نہ رہی لہذا دوسری اور تیسری لغو ہوگئیںجب یہ مذکورہ مسائل معلوم ہوگئے

عــــہ: یہاں مسودہ میں بیاض ہے۔
#14592 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وھی غیر مدخولۃ فالاول معلق بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغووان اخرفالاول ینزل للحال ولغاالباقی کذافی السراج اھ ملخصاوفی الدرالمختار یقع بانت طالق واحدۃوواحدۃ ان دخلت الدار ثنتان لودخلت لتعلقھما بالشرط دفعۃ وتقع واحدۃ ان قدم الشرط لان المعلق کالمنجز اھ
فی ردالمحتار قولہ لتعلقھما بالشرط دفعۃ لان الشرط مغیر للایقاع فاذا اتصل المغیر توقف صدر الکلام علیہ فیتعلق بہ کل من الطلقتین معا فیقعان عند وجود الشرط کذلك بخلاف مالوقدم الشرط فلا یتوقف لعدم المغیرقولہ لان المعلق کالمنجز ای یصیر عند وجود شرطہ کالمنجز ولونجزہ حقیقۃ لم تقع الثانیۃ بخلاف مااذااخرالشرط لوجود المغیر
تو مسئلہ مسئولہ واضح ہوگیا کہ دوسری منکوحہ کو بھی یہ ایك ہی طلاق ہوگیاور بس۔ہندیہ میں ہے اگر کسی نے طلاق کو مشروط کیا اور شرط کو پہلے ذکر کیا مثلا یوں کہا اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق جبکہ عورت غیر مدخولہ ہوتو شرط پائے جانے پر وہ پہلی طلاق سے بائنہ ہوجائے گی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے مسلك پر اور باقی دو لغو ہوجائیں گیا ور اگر شرط مؤخر ذکر کی ہو مثلا یوں کہا تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق اگر تو گھر میں داخل ہوئییا فاء کے ساتھ عطف کیاتو عورت جب گھر میں داخل ہوگئی تو تین طلاقوں سے بائن ہوجائے گی خواہ عورت مدخولہ ہو یا غیر مدخولہیہ مسئلہ بالاجماع ہےاور اگر طلاقوں کا ذکر عطف کے بغیر ہوتو اگر شرط مقدم ہومثلا یوں کہے اگر تو گھرمیں داخل ہوئی تو تجھے طلاق طلاق طلاقجب بیوی غیر مدخولہ ہوتو پہلی طلاق شرط سے معلق ہوگی دوسری فی الحال واقع ہوجائے گی جو بائنہ ہوگی اور تیسری لغوہو جائے گیاور اگر شرط کو مؤخرذکرکیا تو پہلی طلاق فورا واقع ہوگی اور باقی دونوں لغو ہوں گیسراج میں ایسے ہی مذکور ہے اھ ملخصا۔درمختار میں ہے اگر کسی نے یوں کہا تجھے ایك طلاق اور ایک(عطف کے ساتھ)اگر تو گھرمیں داخل ہوتو دونوں طلاقیں واقع ہوں گی کیونکہ دونوں ایك شرط سے مشروط ہیںلہذا
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٧٤
درمختار باب طلاق غیر المدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٣
#14594 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
زیلعیوفی العطف بثم ان اخرہ تنجزت واحدۃ ولغاما بعدھا وان قدم لغا الثالث وتنجز الثانی وتعلق الاول فیقع عند الشرط بعدالتزوج الثانی اھ مختصرا وفی البحرالرائق لوقال لامرأۃ یوم اتزوجك فانت طالق وطالق وطالق فتزوجھا وقعت واحدۃ وبطلت الثنتان ولو قال انت طالق وطالق و طالق یوم اتزوجك وقعت الثلاث کذافی الحاوی القدسی وکذا لوقال ان تزوجتك کما فی المحیط اھ ۔
تمام تفاصیل ایں مسئلہ کہ بلحاظ آنکہ عطف بواؤ وفاء باشد یا بثم یا ہیچ وبہر تقدیر منجز باشد معلق بشرط مقدم یا مؤخر وبہروجہ زن مدخولہ باشد یا غیر آں بہیجدہ صورت میرسد وبلحاظ تفصیلات اخر صوردیگر صورت بند داز بزازیہ وفتح القدیر وبحرالرائق وہندیہ تواں جست۔واﷲتعالی اعلم۔
شرط پائے جانے پر دونوں دفعۃ واقع ہوجائیں گی۔اور اگر شرط کو مقدم ذکر کیا تو ایك طلاق واقع ہوگی کیونکہ یہاں مشروطغیر مشروط کی طرح ہے اھ۔ردالمحتار میں اس پر فرمایا کہ ماتن کا قول کہ"(پہلی صورت میں)دونوں معلق بشرط واحد ہیں"کیونکہ شرط کے ذکرنے دونوں کو غیر مشروط سے مشروط بنادیا اس لئے کہ اس تبدیلی والی شرط کی وجہ سے پہلا کلام اس پر موقوف ہوگیا لہذا دونوں طلاقوں کا معا اس شرط سے تعلق ہوگیا لہذا شرط پائے جانے پر دونوں اس طرح معا واقع ہوجائیں گیاس کے برخلاف اگر شر ط کو مقدم ذکر کیا ہوتو دونوں پر موقوف نہ ہوں گی بلکہ صرف پہلی معلق ہوگی اور دوسری غیر مشروط رہے گی جو فی الحال فورا واقع ہوجائیں گیاور اس کا قول"(دوسری صورت میں)کہ مشروطغیر مشروط کی طرح ہوگی"یعنی معلق بالشرط وہ شرط کے پائے جانے پر غیرمشروط کی طرح ہوگی اور حقیقۃ غیر مشروط ہوتو پھر دوسری واقع نہ ہوگی کیونکہ وہ پہلی سے ہی بائنہ ہوجائے گیاس کے برخلاف جب شرط کو مؤخر ذکر کرے کیونکہ وہاں دونوں طلاقیں بعد والی شرط سے مشروط ہوجانے کی وجہ سے معلق ہوجائیں گیاور شرط کو مقدم کیا تو تیسری لغو اور دوسری فورا واقع۔اور پہلی شرط سے معلق ہوکر شرط پائے جانے پر واقع ہوگی جب وہ دوسرے خاوند کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کرے گااھ مختصرا۔اور بحرالرائق میں ہے اگر کسی نے ایك عورت کو کہا جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق اور طلاق اور طلاقاس کے بعد اس سے نکاح کیا تو ایك طلاق واقع ہوگی اور باقی لغو وباطل ہوجائیں گیاور
حوالہ / References ردالمحتار باب طلاق غیر المدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٥٧
بحرالرائق فصل فی الطلاق غیر المدخول بہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/٢٩٧
#14595 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اگریوں کہا کہ تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق ہے جس دن میں تجھ سے نکاح کروںتو شرط کو بعد میں ذکر کرنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گیحاوی قدسی میں یوں ذکر ہےاور یہی حکم ہے جب کہے اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو طلاق اور طلاق اور طلاقکہ شرط کو مؤخر اور مقدم کرنے پر فرق ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے اھ اس مسئلہ کی واؤ اور فاء یا ثم یا کسی اور عطف اور پھر ہر صورت میں بالشرط یا بغیر شرط اور پھر شرط کو مقدم یا مؤخر ذکر کرنے اور پھر ہر صورت میں بیوی کے مدخولہ اور غیر مدخولہ ہونے کے لحاظ سے کل اٹھارہ صورتیں بنتی ہیں اور دیگر تفصیلات کے اعتبار سے مزید صورتیں بن سکتی ہیںیہ بزازیہفتح القدیربحرالرائقاور ہندیہ سے تلاش کی جاسکتی ہیںواﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ:غلام گیلانی صاحب پنجابی از ضلع پترہ ڈاکخانہ پٹن موضع چنبك نگر معرفت تار وچودھری اوائل صفرھ
زوج نے قبل عقد نکاح کے کابین نامہ میں عورت کو یہ شرط لکھ دی کہ میں اگر آپ سے ایك برس کی مدت تك جدا رہوں یا کسی صورت سے آپ کا خبر گیر نہ ہوں تو اگر آپ کی مرضی ہوتو ہم کو شوہر سے چھوڑ کر طلاق دے سکتی ہوانتہی۔کابین میں بنگلہ زبان میں ایسی عبارت مہمل لکھی ہے جس کا ترجمہ بعینہا یہی ہوتا ہےآیا یہ معنی ظاہری اس کا ترك کرکے عرفی موافق غرض زوجہ کے اس صورت سے لے سکتے ہیں(تم مجھ کو اپنی شوہری اور زوجیت سے نکال کرطلاق دے سکتی ہو)مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کس کو طلاق دے سکتے ہو۔اضافت طلاق زوجہ کی طرف نہیں ہےبنگلہ زبان میں زوج نے قصدا ایسی عبارت لکھی ہے کہ جس کا ترجمہ ایسا کچھ بنتا ہے جیسا کہ انامنك طالق(میں تجھ سے طلاق والا ہوں۔ت)اور اب زوجہ وقوع شرط کی مدعیہ ہے اور زوج منکر ہےوہ کہتا ہے کہ میں مدت کے اندر چند بار آیا مگر مجھ کو زوجہ کے اقارب نے زوجہ کے پاس جانےملاقاتبات چیت کرنے سے روك دیا اور مکان میں داخل ہونے نہیں دیادونوں اپنے دعوے پر بینہ رکھتے ہیںمگر زوج کسی مولوی کو حکم نہیں بناتا اور نہ کسی کے پاس آتا ہےتین برس گزاردیاہےاور معلوم ہوتا ہے کہ زوج بھی اپنے الفاظ سے عرفی معنی موافق مدعائے عورت لے کر انکار وقوع شروط کا کرتا ہے ورنہ زوجہ کے دفعہ میں اس کو اسی قدر بس ہے کہ کہہ دے کہ میری عبارت سے یہ نہیں نکلتا کہ عورت کو بعد وقوع شرط کے اختیار طلاق کا ہے۔اب فقیر پر تقصیر عرض کرتا ہے کہ حضور والاارشاد فرمائیں کہ اس عبارت سے کیا مطلب لیا جائے اور عورت کا بینہ معتبر ہوگا یا کیا کتنی طلاق دے سکتی ہے یانہیں
#14596 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
دے سکتی
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عورت کو کسی طرح اپنے نفس کو طلاق دینے کااختیار نہیںالفاظ شرط کابین نامہ اگر اسی قدر ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے اور اضافت الی النکاح کا اس میں کہیں ذکر نہیں کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں یا جب میں تجھے اپنی زوجیت میں لاؤں اس کے بعد اگر ایسا واقع ہوتو تجھے اختیار طلاق ہے جب تو شرط کابین نامہ محض فضول وباطل ہے کہ اس کی تحریر قبل نکاح ہوئی اور نکاح کی طرف اس میں اضافت نہیں تو نہ ملك پائی گئی نہ اضافت ملکاور ایسی تعلیق محض باطل ہے درمختار میں ہے:
شرطہ الملك کقولہ لمنکوحتہ ان ذھبت فانت طالق او الاضافۃ الیہ کان نکحت امرأۃ وان نکحتك فانت طالق فلغا قولہ لاجنبیۃ ان زرت زید افانت طالق فنکحھا فزارت لم تطلق لعدم الملك والاضافۃ الیہ انتہی مختصرا۔
اس کی شرط یہ ہے کہ ملکیت یا ملکیت کی طر ف اضافت پائی جائےملکیت مثلا منکوحہ بیوی کو کہے اگر تو گئی تو تجھے طلاقملکیت کی طر ف اضافت مثلا کہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں کسی اجنبی عورت کویوں کہے اگرمیں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاقتو محض اجنبی عورت کو اس کا یہ کہنا اگر تو نے زید کو دیکھا تو تجھے طلاقلغو ہوگالہذا اگر اس کے بعد وہ اس عورت سے نکاح کرلے اور وہ عورت زید کی زیارت کو چلی جائے تو بھی طلاق نہ ہوگیکیونکہ یہاں نہ ملکیت ہے اور نہ ہی ملکیت کی طر ف طلاق کی اضافت ہےاھ(ت)
اور اگر کابین نامہ میں اضافت الی النکاح ہے تو یہ تعلیق و تفویض صحیح ہوگئی اور اس کا مفاد مثل انا منك طالق کے نہیں کہ لفظ"ہم کو"لفظ"چھوڑ کر"سے متعلق ہے نہ کہ لفظ طلاق سےاور اس طلاق کی اضافت کلام زوج میں عورت کی طرف نہ ہونا کچھ منافی صحت تفویض نہیں کہ تفویض میں زن وشوہر دونوں کی اضافت سے ایك کے کلام میں اضافت کافی ہے۔درمختار یں ہے:
وذکر النفس اوالاختیار فی کلام احدکلامیھما شرط صحۃ الوقوع بالاجماعویشترط ذکرھا
نفس یا لفظ اختیار کا ذکر کرنا خاوند اور بیوی دونوں میں سے کسی ایك کے کلام میں وقوع طلاق کے لئے شرط ہے بالاجماعاور اس کا متصل ہونا شرط
حوالہ / References در مختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٠
#14597 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
متصلا فان کان منفصلا فان فی المجلس صح والالافلوقال اختاری اختیارۃ اوطلقۃ وقع لوقالت اخترت فان ذکر الاختیار کذکر النفس وکذاذکر التطلیقۃ والشرط ذکر ذلك فی کلام احدھما فلم یختص بکلام الزوج کما ظن انتہی مختصرا۔
ہے اگر منفصل ذکر کیا جائے تواگر اسی مجلس میں ہوتوصحیح ہے ورنہ نہیںلہذا اگر خاوندنے بیوی کو کہا اختاری اختیارۃ یا اختاری طلقۃاگر بیوی نے جواب میں اخترت(میں نے اختیار کرلیا)کہا تو طلاق واقع ہوجائیگی کیونکہ"اختیارۃ"کا ذکر ایسا ہی ہے جیسے نفس کو ذکر کردیا جائےاور طلقۃ کا ذکر بھی ایسا ہی ہے اور نفس یا قائم مقام نفس کا خاوند بیوی میں سے کسی ایك کے کلام میں ذکر ہونا شرط ہے نہ کہ خاوند کا کلام اس کے لئے مخصوص ہےجیسا کہ بعض کا گمان ہے اھ مختصرا(ت)
مگر تفویض طلاق کہ معلق بالشرط ہوبعد وقوع شرط اسی مجلس پر محدود رہتی ہے جس میں عورت کو وقوع شرط کا علم ہوا مجلس بدلنے کے بعد اسے طلاق لینے کااختیار نہیں رہتا۔درمختار میں ہے:
التعلیق بالمشیئۃ اوالارادۃ اوالرضاء اوالھوی او المحبۃ یکون تملیکا فیہ معنی التعلیق فتقید بالمجلس ۔
طلاق کو عورت کی مشیتارادہرضاخواہش یا محبت پر معلق کرنا بیوی کو تعلیق کے طور پر طلاق کا مالك بنانا ہے تو یہ تملیك مقید بمجلس تك محدود ہوگی(یعنی بیوی کو طلاق کا اختیار اسی مجلس تك محدود ہوگا۔(ت)
یہاں کہ عورت مدعیہ شرط ہے اور اس نے اب تك اپنے کو طلاق نہ دی مجلس اول ختم ہوتے ہی اسے اختیار طلاق نہ رہابہر حال صورت مسئولہ میں عورت کا دعوی اصلا قابل سماعت نہیںواﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کو بریلی سے رام پور بھیج دیاکہ بوجہ رنج ہوجانے کے باہم زید و ماموں زوجہ زیدکے اور ایك رقعہ بھی لکھ دیا کہ میں اپنی بیوی کو بخوشی معہ زیور کے بوجہ رنجش کے رامپور کو رخصت کرتا ہوں اور آئندہ مجھ کو کوئی تعلق نہ ہوگا اور دو روپیہ ماہوار لڑکی کے دودھ پلائی کے مقرر کرتا ہوںلوگوں نے زید سے دریافت کیا کہ کیا طلاق دیتے ہوزید نے طلاق سے انکار کرکے یہ کہا جس وقت میری حالت غصہ درست ہوجائے تو پھر ببلوالوں گابعد ایك ہفتہ کے جبکہ زوجہ زید رامپور
حوالہ / References درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٧
درمختار فصل فی المشیۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٠
#14598 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
چلی گئیزید نے ایك خط بنام مولوی لطف اﷲ صاحب کے لکھا کہ باہم میرے اور میری زوجہ کے ماموں میں رنج ہوگیا ہے آپ صفائی کرادیں اور ان سے کہہ دیجئے کہ یکم تاریخ تك روانہ بریلی کردیں اور اگر نہ روانہ کریں گے تو یہ ایك طلاق دیتا ہوں ایسے درمیان میں جو زید نے واسطے آنے میعاد اپنی زوجہ کے مقرر کی تھی رامپور میں بحضور اپنی زوجہ کے رجوع کرلیا لیکن زوجہ زید رامپور سے بریلی کو اس میعاد مقررہ کے اندر نہیں آئی ایسی صورت طلاق واقع ہوئی یانہیںاگر ہوئی تو کس قسم کی رجعی یابائنبعد ایك ماہ کے زیدرامپورگیازوجہ کے ماموں نے یہ کہا کہ طلاق ہوگئی ہے میں رخصت ابھی نہ کروں گااس پر زیدنے جواب دیا کہ آج ہی اس معاملہ کا فیصلہ نہ ہوگا تو تین طلاق پوری کروں گایہ کہہ کر چلاآیاطلاق واقع ہوئی یانہیںہوئی تو کس قسم کی واقع ہوئی رجعی یا بائنبعض علماء کابیان ہے کہ یہ طلاق بوجہ معلق ہونے کے بائن ہوگئییہ قول کیسا ہےبینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ایك طلاق رجعی واقع ہوئیزید کا کہنا کہ تینوں طلاق پوری کردوں گا محض وعدہ ہے اور وعدہ سے طلاق نہیں ہوتیاور زید کا میعاد وقوع طلاق یعنی یکم آنے سے پہلے جاکر رجوع کرنا محض بے اثر ہے فان الرجوع لایتقدم(کیونکہ رجوعطلاق کے وقوع سے پہلے نہیں ہوسکتا۔ت)تو نہ رہا مگر زید کا وہ قول کہ یکم تك نہ روانہ کرینگے تو یہ ایك طلاق دیتا ہوںیہ طلاق اس شرط پر معلق تھی یکم گزرگئی اور عورت کو روانہ نہ کیاشرط متحقق ہوئی طلاق پڑگئیاور یہ طلاق یقینا رجعی ہےتعلیق کے سبب بائن ہوجانا باطل قطعی کما قدمنا تحقیقہ(جیسا کہ اس کی تحقیق گزرگئی۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از بنگالہ نواکھالی محلہ رامپور فضل الرحمان صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی کو اس شرط کے ساتھ کابین نامہ لکھ دیا کہ اگر تمہارے سوا کوئی دوسری بی بی کروں تو وہ ایك دو تین طلاق ہےبعد اس کے زید نے اپنی منکوحہ سے اجازت لے کر دوسری کرلی مگر کابین اجازت وغیرہ کا ذکر مطلقا نہیں آیا۔صورت مذکورہ میں وہ اجازت عندالشرع معتبر ہوگی یا نہیںاور شرعا ایسی شرط کرنا درست ہے یانہیںاگرکرلے تو کیا حکم بینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نکاح ہوتے ہی زوجہ ثانیہ پر معا ایك طلاق بائن ہوگی وہ نکاح سے نکل گئی مگر حلالہ کی حاجت نہیںاگر زید چاہے تو اس سے دوبارہ نکاح کرلے خواہ اور عورت سے نکاح کرےاب زوجہ کو طلاق نہ ہوگی اگرچہ زوجہ اولی اجازت بھی نہ دے۔
#14599 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اماوقوع الطلاق فلتحقق الشرط والاجازۃ لاتمنعہ واماالواحدۃ والبینونۃ فلو قوعہ قبل الدخول وتفریقہ فی الایقاع حیث لم یقل تین بل ایك دوتین ام عدم الوقوع اذانکح اخری او ھذہ مرۃ اخری فلانحلال الیمین لعدم کلما وما یقوم مقامہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
طلاق کا وقوع اس لئے ہے کہ شرط پائی گئی اور اجازت اس کے لئے مانع نہیں ہےلیکن ایك اور بائنہ طلاق اس لئے کہ یہ طلاق قبل دخول اور تینوں کے جدا جداواقع ہونے سے پہلی واقع ہوئی اس لئے کہ خاوند نے تین کا لفظ نہیں کہا بلکہ ایکدوتین کہااور دوسری عورت سے یا اسی بیوی سے دوبارہ نکاح سے مزید طلاق نہ ہوگی اس لئے کہ اس نے"کلما "یااس کا ہم معنی لفظ نہیں کہا۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ:از بمبئی پیرولین پوسٹ عمر کھاڑی مرسلہ منشی محمد صدیق قدسیہ جنتری جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے محکمہ قضاء میں حاضر ہوکراقرار کیا کہ آج سے آئندہ میں اگر شرط پیوں یا فتنہ وفساد کروں اور وہ پانچ اشخاص(جن کے نام اقرار نامہ میں بطورنگرانی درج ہیں)میری بدچلنی کا ثبوت پہنچا دیں تو میری زوجہ مسماۃ ہندہ میرے نکاح سے باہر ہے اور میری مطلقہ ہے پس بعد عہد واقرار مذکور کے پانچ یا سات نفر معتبرنے جو تحریر اقرار نامہ کے وقت موجود تھے زید کو برسرراہ حالت نشہ میں پایا اور زید کے والد کو نیز مرقومہ بالا پانچ اشخاص معینہ میں سے ایك شخص کو اسی وقت حالت نشہ کی خبر دی مگر زید کے والد اور شخص مذکور نے بخوف یا بپاس خاطر زید توجہ نہ کی اور اس واقعہ کے چند روز بعد زید نے اپنے والد کے ساتھ حالت نشہ میں فساد کیا اور گرفتارہوکر محکمہ میں اسی بناء یعنی شراب خوری فساد ریزی پر جرمانہ دیا بعد ازاں اہل جماعت جمع ہوئے جن میں مذکور الصدر پانچ اشخاص بھی بصورت منصف موجود تھے اور زید کو تقصیر وار گردانا مگرمقدمہ مذکورہ بالا میں زید کی ظاہری بدچلنی جو وقوع میں آئی اس کو زبانی بیان کرنے میں بپاس عــــہ رکھتے ہیںپس ان تمام صورتوں میں زید کی زوجہ پر طلاق واقع ہوئی یانہیںاگر طلاق واقع ہوئی تو عدت کس روز سے شمار ہوگیبینواتوجروا
الجواب:
قول زید کاحاصل یہ ہے کہ اگر اس سے شراب خوری یا فتنہ وفساد کا صدور ہواوردونوں میں سے جو کچھ ہو اس کے ساتھ ایك اورامر ضرور ہو وہ یہ پانچ اشخاص مذکورین اس کی بدچلنی کا ثبوت پہنچائیںان باتوں کے جمع ہونے پر اس کی عورت اس کے نکاح سے باہر اور اس کی مطلقہ ہے
عــــہ: یہاں مسودہ میں بیاض ہے۔
#14600 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
وذلك لانہ عطف الثانی علی الاول باو ثم الثالث بالواؤ فکان الشرط وقوع احد الامرین الاولین مع الثالث۔
یہ اسلئے کہ دوسری بات کو پہلی پر لفظ او(یا)سے اور پھر تیسری کا دوسری پر"و"سے عطف کیا لہذا تیسری بات کا وقوع پہلی دونوں میں سے ایك کے وقوع سے مشروط ہوگا۔(ت)
امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرہ اصول میں فرماتے ہیں:
ولھذا قلنا فیمن قال ھذا حراوھذاوھذا ان الثالث یعلق ویخیربین الاولین لان صدر الکلام تناول احدھما عملا بکلمۃ التخییر والواؤ تو جب الشرکۃ فیما سبق لہ الکلام فیصیر عطفا علی المعتق من الاولین کقولہ احدکماحروھذا ۔
اسی بناء پر ہم نے کہا کہ اگر مالك نے کہا"یہ آزاد یا یہ اور یہ ہے"توتیسرا لازمی طور پرآزاد ہوجائیگا اور پہلے دونوں میں سے کسی ایك کو آزادی کیلئے متعین کرنے کااختیار مالك کو ہوگاکیونکہ اس کے کلام کا ابتدائی حصہ پہلے دونوں میں سے ایك کو شامل ہے لفظ"او"کے عمل کی وجہ سے اور بعد میں واؤ کا عطف پہلے دونوں میں مصداق کو شراکت کو چاہتا ہے لہذا پہلے دونوں میں سے جو آزاد ہوگا اس پر عطف ہوگایہ یوں ہوا جیسے کسی نے پہلے دونوں کو کہا ہو تم میں سے ایك اور یہ آزاد ہے(ت)
ہماری زبان میں کسی شئی کا ثبوت پہنچانااور کوئی شئی ثبوت کو پہنچاناان دونوں میں فرق ہے لفظ اول میں ثبوت عــــہ۱ ہوتاہے یعنی شہادت زبانی حجت تحریری اور اس کا پہنچانامہیا کرناادا کرناپیش کرنااور لفظ ثبوت عــــہ۲ اپنے معنی پر اور ثبوت کو پہنچانا ثابت و مدلل کرنا اس کے ثبوت کا حکم دیناپہلے لفظ کا تعلق شاہد وساعی ثبوت سے ہے اور دوسرے کا حاکم وقاضی ثبوت سے بھی غالب مراد ظاہر مفاد یہی ہےاگر وہاں بھی عرف اسی طرح ہےتو وہ اشخاص جبکہ بخوف وہراس یا بہ لحاظ وپاس اس کی بدچلنی زبان پر لانے سے بھی احتراز کرتے ہیں تو بدچلنی کا ثبوت پہنچانا ان سے واقع نہ ہوا اور وہ بھی جزاء شرط تھا تو شرط کا مل متحقق نہ ہوئی تو طلاق اصلا نہ ہوئی
لان ماعلق وجود شیئین لاینزل الابعد وجودھما جمیعا۔
کیونکہ جس چیز کو دو۲ چیزوں کے وجود پر معلق کیا ہوتو وہ مشروط دونوں شرطوں کے اکھٹے پائے جانے پر متحقق ہوگا۔ (ت)

عــــہ۱:اصل میں یہاں بیاض ہے۔ عــــہ۲: اصل میں یہاں کرم خوردہ ہے۔
حوالہ / References اصول امام فخرالدین بزدوی باب حروف المعانی نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص١٠٣
#14601 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اور اگر وہاں کے عرف ومحاورہ میں یہ فرق نہیں کسی شئے کے ثابت قرار دینے کو بھی اس شئے کا ثبوت پہنچاناکہتے ہیں تو جبکہ پانچ اشخاص مذکورین نے اس کی بدچلنی کا ثبوت مانا اور اس بناپر اسے تقصیر وار ٹھہرایا ہو اور واقع میں اس سے بعد معاہدہ شرابخوری یا فتنہ وفساد کاصدور بھی ہوا ہو تو ہندہ پر طلاق ہوگئی لاجتماع کل اجزئی الشرطین فینزل الجزاء(کیونکہ دونوں شرطوں کے اجزاء پائے جانے کی وجہ سے مکمل جزاء پائی جائے گی۔ت)اور عدت اسی وقت سے لی جائیگی جس وقت ان پانچ اشخاص نے اس کی بدچلنی کے ثبوت کاحکم دیالان الوقوع بالمجموع وانما العدۃ من حین الوقوع(کیونکہ طلاق کا وقوع دونوں کے مجموعہ پر ہوااور عدت بلاشبہہ وقوع طلاق کے وقت سے شمار ہوگی۔ت)مجرد تقصیر وار ٹھہرانا اگر بدچلنی ثابت مان کر نہ ہو وقوع طلاق کےلئے کافی نہ ہوگا
لان الشرط ھذالاذاك واثبات التقصیر مطلقا لا یستلزم اثبات الدعارت۔
کیونکہ یہ شرط ہےوہ نہیں ہے کیونکہ تقصیر کااثبات مطلق طور پر بدچلنی کے اثبات کو مستلزم نہیں ہے(ت)
یونہی اگر فی الواقع اس سے شراب خوری وفتنہ پر دازی بعد معاہدہ صادر نہ ہوئی اور ثبوت غلط طور پر بہم پہنچایا گیا جس سے اشخاص مذکورین نے حکم ثبوت دیاتو عند اﷲ اس صورت میں بھی ہندہ پر طلاق نہ ہوگی لعدم تحقق الجزاء الاول(پہلی جزاء کے نہ پانے جانے کی وجہ سے۔ت)اگرچہ محکمہ قضاء میں ثبوت شرعی کے باعث قضاۃ حکم طلاق دیں اور جبکہ ثبوت شرعی گزرگیا اور اشخاص مذکورین نے حکم ثبوت دیا ہو اور محاور ہ کا وہ فرق کہ اوپر مذکور ہو وہاں کے عرف میں نہ ہوتو عورت پر بھی لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ جانے لان المرأۃ کالقاضی کما فی الفتح وردالمحتار وغیرہ (کیونکہ اس معاملہ میں عورت یعنی بیوی قاضی کا حکم رکھتی ہےجیسا کہ فتح اورردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ: از بریلی مرسلہ مولوی بشیرالدین صاحب وکیل جمادی الاول ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اقرار نامہ مصدقہ رجسٹری میں معاہدہ حسب ذیل اپنی منکوحہ بی بی سے کیا وہ معاہدہ جائز ہے یانہیںاور اس معاہدہ کا نفاذ ہوسکتا ہے یانہیں جو کہ مسماۃ مشتری جان طوائف دختر با داﷲ زوجہ منکوحہ مقر کی ہے مسماۃ مذکور مقر سے خواستگار اجازت مسماۃ مذکور نے کی ہے لہذا بصحت نفس وثبات عقل بخوشی خاطر اپنے بلاکسی جبر ودباؤ کے اچھی طرح سمجھ کو مسماۃ مشتری جان مذکور کو اجازت دیتا ہوں کہ پیشہ ناچنے وگانے کا جس طور سے سابق دستور کرتی چلی آئی ہے
حوالہ / References ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٦٨
#14602 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
بدستور جاری وقائم رکھے اور بغرض مدد کرنے ناچ و گانے کے خواہ بداؤں سکونت رکھے یا دیگر جگہ قیام کرے میں کسی وقت اور کسی حالت میں مانع اور مزاحم یا حارج نہیں ہوں گا اگر میرے فعل یا ترك فعل سے کسی وقت میں مسماۃ مذکور کا نقصان یا حرج واقع ہوتو ایسی حالت میں نکاح فسخ ہوجائے گا اور مسماۃ کوہرقسم کی آزادی حاصل ہوگی لہذا یہ اقرار نامہ بلانالش لکھ دیا کہ سند رہےواضح ہے کہ معاہدہ کرنے والا شریف خاندان کنچنے وغیرہ سے نہیں ہے اور ان الفاظ کی تحریر سے نکاح فسخ ہوجائے گا یانہیں اور شوہر اسے اجازت ناچنے وگانے کی اور دیگر جگہ اسے کام کے واسطے اجازت دے سکتا ہے یانہیںاور اسے اجازت جائز ہے یانہیں
الجواب:
ایسی اجازت حرام قطعی ہے اور اجازت دینے والا دیوث ہےاگر توبہ نہ کرے تو اس پرجنت حراماور اس پر اﷲکی لعنت ہے۔رسول اﷲصلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۔رواہ حاکم والبیہقی فی شعب الایمان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند صحیح۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے اپنے ماں باپ کو ناحق ایذا دینے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت(اس کو حاکم نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر ۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔
تین شخص کبھی جنت میں نہ جائیں گے دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شرابی(اس کو طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الایمان دارالفکر بیروت ١/٧٢،شعب الایمان باب فی الغیرۃ والمذاء حدیث ١٠٧٩٩ دارالکتب العلمیہ بیروت٤/٤١٢
شعب الایمان باب فی الغیرۃ والمذاء حدیث۱۰۸۰۰ دارالکتب العلمیہ بیروت٤/٤١٢،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب فیمن لایرضی باہلہ بالخبث دارالکتاب العربی ٤/٣٢٧
#14603 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
ثلثۃ قد حرم اﷲ علیہم الجنۃ مدمن الخمر والعاق لوالدیہ والدیوث الذی یقرفی اھلہ الخبث ۔رواہ احمد والنساءی والبزار والحاکم وقال صحیح الاسناد۔
تین شخصوں پر اﷲ تعالی نے جنت حرام فرمادی ہے شرابی اور ماں باپ کا موذی اور دیوث کہ اپنے اہل میں گندی بات بر قراررکھے(اس کو احمدنسائیبزار اور حاکم نے صحیح الاسناد کہہ کر روایت کیا۔ت)
رہی طلاق اس کا حکم یہ ہے کہ فسخ نکاح کنایات سے ہے اگر شوہرنے اس لفظ سے طلاق مراد لی ہے طلاق پڑجائے گی ورنہ نہیں
درمختار میں ہے:
اذھبی الی جھنم یقع ان نوی خلاصۃ وکذا اذھبی عنی وافلحی وفسخت النکاح ۔
"جہنم میں جا"طلاق کی نیت سے کہاتو طلاق ہوجائیگی خلاصہ۔اور اگر یوں کہا"میرے پاس سے چلی جاتو فلاح پالےاور میں نے نکاح فسخ کیا"اور ان صورتوں میں طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائیگی۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لوقال فسخت النکاح ونوی الطلاق یقع ۔
اگر کہا"میں نے نکاح فسخ کیا"اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی۔(ت)
یہی حال آزادی کا ہے پس صورت مسئولہ میں اگر شوہر اقرار کرےکہ یہ الفاظ اس نے بہ نیت طلاق لکھے تھے تو بحال وقوع عورت پر ایك طلاق بائن ہوجائے گی اور اگر وہ اقرار نہ کرے تو اس سے قسم لی جائے گی قسم کھانے سے انکار کردے تو اب بھی جبکہ شرط واقع ہوئی ہووقوع طلاق کا حکم ہوگا اور اگر قسم کھالی کہ واﷲ میں نے یہ الفاظ بہ نیت طلاق نہ لکھے تھے تو حکم طلاق نہ ہوگا عورت بدستور اس کی منکوحہ رہے گیپھر اگر وہ جھوٹ قسم کھالے گا تو اس کا وبال اس پر ہے عورت پر الزام نہیں۔درمختار میں ہے:
نحواخرجی یحتمل رداونحوخلیۃ یصلح سبا ونحو انت حرۃ لایحتمل
"نکل جا"جیسے الفاظ رد وجواب سوال طلاق کا احتمال رکھتے ہیںخلیہ۔جیسے الفاظ گالی ہونے کا
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از ابن عمر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ٢/٦٩
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٦
فتاوی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایا ت نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٧٥
#14604 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
السب والرد ففی حالۃ الرضاای غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الاقسام الثلثۃ تاثیرا علی نیۃ للاحتمال والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی اھ ملتقطاواﷲتعالی اعلم۔
احتمال رکھتے ہیںاور"تو آزاد ہے"جیسے الفاط سب ودشنام اور جواب ہونے کا احتمال نہیں رکھتےتوحالت رضامندی میں یعنی غصہ کی حالت میں نہ ہو اور مذاکرہ طلاق بھی نہ ہو تو یہ تینوں قسم کے کنایا ت کی تاثیر نیت پر موقوف ہوگیکیونکہ نیت اور عدم نیت کا احتمال ہےاور طلاق کی نیت نہ ہونے میں خاوند کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا اور بیوی کا اس سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہےاور اگر خاوند گھر میں بیوی کو قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی حاکم کے پاس اپنا معاملہ پیش کرےوہاں بھی اگر خاوند انکار کرے تو بیوی حاکم کے پاس اپنا معاملہ پیش کرےوہاں بھی اگر خاوند انکار کرے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از صدر بازار چھاؤنی نیمچ محلہ بڑی منڈی مرسلہ چودھری ننھے سود اگر چرم جمادی الاولیھ
بکر نے شادی زید کے ساتھ اپنی دختر کی کی جس کو عرصہ سال کا ہوا بکر اور زید دونوں فقیر ہیں بوقت شادی زید کی عمر سال کی تھی اور لڑکی کی قریبا سولہ سال کیشادی ہوتے ہی زید کے ہمراہ بھیج دی گئی تین ماہ بعد بکر کے یہاں آئی اور پھر چھ ماہ بعد زید کے ہمراہ بھیج دی گئی چھ ماہ بعد زید مع اپنی بی بی کے بکر کے یہاں آیا اور رہنے لگے چار ماہ بعد زید چلاگیا اور چوری کی علت میں گرفتار ہوگیابکر زیدکو چھڑا کر لے آیا مگر آٹھ دس روز کے بعد پھر کسی کی چیز لے کر بھاگ گیا بکر پھر اس کو لے آیا کوئی ایك ماہ رہا پھر ایك بقال کا غلہ چرا کر بھاگ گیا ڈھائی ماہ بعد پھر زید آگیا اور اقرار نامہ منسلکہ تحریر کردیاکوئی دو ماہ بعد زید اپنی عورت سے مار پیٹ کرکے جبرا زیور لے کر بھاگ گیا کوئی تین ماہ بعدذات کی پنچایت ہوئی اور پنچوں نے پنچنامہ منسلکہ تحریر کیا زید کوئی چھ ماہ بعد پھر بکر کے پاس آکر رہنے لگا اور دو ماہ بعد لوگوں کے برتن وغیرہ لے کر بھاگ گیا اس وقت اس کی عورت کاحمل تھاایك سال کے بعد زید کا باپ زید کی عورت کو لینے آیا زید کی عورت نے جانے سے انکار کیا پھر زید کو بذریعہ خطوط وغیرہ بلایا گیا جسے عرصہ آٹھ ماہ کا منقضی ہوا ہے نہ زید آیا نہ خطوں کا جواب دیاقریب ایك سال کے زید کی بی بی بچے کا بار بکر پر ہےزید کی عورت زید کے پاس رہنے سے نارضا مند ہےایسی صورت میں زید کی عورت کا دوسرانکاح ہوسکتا ہے یانہیں
نقل اقرار نامہ
میں کہ سبور شاہ ولد مدھاری شاہ فقیر ساکن موضع رسینٹ ماریہ علاقہ شاہ پور کاہوں جوکہ
حوالہ / References درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٤
#14605 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
میری شادی ہمراہ مسماۃ مایلی بنت کنور دی شاہ فقیر ساکن چنادی نیمچ ہوئی ہےبعد شادی کے میں بخانہ کنوردی شاہ خسر خودرہا اور موضع رسینٹ ماریہ بھی بوجہ تنازع چلاگیا اب کہ میں بخانہ کنوردی شاہ خسر خود رہ کر زندگی خود بسر کرنا چاہتا ہوںلہذا اقرار کرتا ہوں اور لکھ دیتا ہوں کہ میں تازندگی خود بخانہ کنوردی شاہ رہوں گا اور جو کچھ کما کر یا مانگ کر لاؤں گا وہ اپنے خسر وزوجہ وخوشدامن کو دوں گا اور زوجہ خود کو کسی طرح کی تکلیف نہ دوں گا نہ ماروں گا اور نہ کوئی فعل خراب کروں گا اور برتقدیر کہیں باہر چلاجاؤں تو اس کی اطلاع کنوردی شاہ وزوجہ خود واہل محلہ سے کردوں گا اگر میں چنادی بخانہ خسر نہ رہوں یا کوئی خراب فعل کروں اور بدون اجازت کے چنادی سے چلا جاؤں تو کنوردی شاہ خسر میرے کو اختیار ہے کہ دوسری جگہ زوجہ میری کا نکاح کردے میں کوئی طرح کا دعوی جھگڑا کچہری وپنچوں میں نہ کروں گابناء براں یہ چند کلمے بطور اقرار نامہ لکھ دئے کہ سند رہے جمادی اولی ھ(دسمبر)
العبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد
نشانی انگوٹھا سپورف شاہ
گواہ شد گواہ شد گواہ شد گواہ شد
اﷲ بخش ولد شیخ کلوچودھری قمرالدین ولد شیخ گیا نتھن ولد منا بورپاری رحیم بخش ولد سعدی مجاور
الجواب:
جب تك طلاق ثابت نہ ہو یا وہ مر نہ جائے عورت کا نکاح دوسری جگہ نہیں ہوسکتاوہ اقرار جو اس نے لکھاثبوت طلاق کےلئے کافی نہیںہاں اگر وہ اقرار کرے کہ اس اقرار نامہ سے میری مراد عورت کو طلاق دینا تھییہ جو اس نے کہا کہ ایسا کروں تو خسر کو اختیار ہے کہ جس سے چاہے اس کا نکاح کردے اس سے مراد یہ تھی کہ ایسا کروں تو اسے طلاق ہے تو اس صورت میں طلاق ثابت ہوجائیگیاور جبکہ وہ یہ سب باتیں کرچکا تو اسی وقت سے عورت نکاح سے نکل گئیاور اگر وہ اقرار نہ کرے تو اس سے قسم لی جائےاگر قسم کھالے گا کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو وہ بدستور اس کی عورت ہے دوسری جگہ نکاح حرام قطعی ہے اوراگر قسم کھانے سے انکار کرے گا توطلاق ثابت ہوجائے گیاور اگر عدت گزرگئی یا اب گزرجائے تو دوسری جگہ نکاح جائز ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از جھالود ضلع پنچ محال گجرات احاطہ بمبئی مرسلہ شیخ عمر ولی ڈاہیا ذی القعدہھ
محمد آدم ساکن مورا نے ابراہیم ساکن جھالود اس کی لڑکی کی شادی کا پیام کیاابراہیم نے کہا کہ مجھ کو چند شرطیں لکھ دو تو میں تم سے شادی کردوںمحمد آدم نے قبول کیا اور کہا کہ جو شرط کرو بخوشی منظور ہے
#14606 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
بعد اس کے مسمی آدم نے ایك اسٹامپ تحریر کردیاتحریر ذیل مسماۃ فاطمہ بنت ابراہیم ساکن جھالود عمر سال محمد آدم ساکن موراعمرسالمیں تمہارے ساتھ برسم برادری شادی کرتا ہوںبعد شادی ہونے کے ہم اور تم بطور مرد عورت کے رہیں گےبعد میں اس کے متعلق اقرار نامہ برادری کی رسم کے مطابق زیور تولہ چاندی کے بعوض مہر دیتا ہوں اس زیو ر پر میرا کسی قسم کا حق نہیںاور اقرار کرتا ہوں کہ اپنا وطن مورا چھوڑکر جھالود میں سکونت کروں گا باوجود اس کے اگر میری نیت میں فرق اور تم مارپیٹ کرکے جھالود سے دوسری جگہ یا کوئی گاؤں یا جھالود سے باہر لے جاؤں توبغیر طلاق کے طلاق طلاق طلاق واقع ہویہ اقرار نامہ صحیح میں نے لکھ دیا مجھے اور میرے وارثوں کو منظور ہے سوائے اس کے میں تم کو بارہ ماہ کے اندر راضی اور خوش رکھوں گا اور رہوں گا اگر خلاف اس کے کروں تو تحریر بالا کے مطابق سمجھنایہ لکھا ہو اصحیح ہےاگر بارہ ماہ تك میں تم سے جد ارہوں یا دوسری جگہ چھوڑ کر چلاجاؤں تو طلاق سمجھنا یہ لکھا ہو ادرست ہے بعد تحریر دستاویز مذکور لڑکی کو سنایا گیا لڑکی نے قبول کیاستائیس روز بعد برسم برادری بشرائط مرقومہ بالاشادی کرکے لڑکی کو رخصت کیا۔تین سال تك جھالود میں رہی بعد تین سال کے ایك روز بلارضامندی عورت کے جھالود سے جیبرن گاؤں میں سوار کرکے چلاقریب پون میل گیاہوگا کہ اس کے والد کو معلوم ہو ا کہ لڑکی کو لے گیا اس وقت وہ خود اور برادری کے تین چار آدمی دوڑ کرگئے اور گاڑی روك لیلڑکی سے دریافت کیا کہ تو کہاں جاتی ہےکہا میں بخوشی نہیں جاتی بلکہ مجھے مارپیٹ کر جیبرن لئے جاتاہےلڑکی سےکہا کہ گاڑی سے اترفورا اترآئیمحمد آدم سے کہا کہ تونے اقرار نامہ لکھ دیا ہے اور کہاں لئے جاتا ہےجواب دیا کہ میں اپنے گاؤں نہیں لے جاتا دوسری جگہ لے جاتا ہوں یعنی خود دکان کرنے جاتا ہوںانہوں نے کہا کہ تم نے شرط توڑدی اس لئے عورت کو طلاق ہوگئیپھر قاضی کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ تو نے شرطی دستاویز لکھ دیا ہے کہاہاں بیشك میں نے لکھ دیا ہے اور میں موری نہیں لے جاتا ہوں دوسرے گاؤں خود ہی جاتا ہوں۔
الجواب:
شرط میں اپنے گاؤں کی تخصیص نہ تھی اس کا عذر غلط ہے اس میں عام تھا کہ جھالود سے کسی دوسری جگہ لے جاؤں لیکن شرط میں ما ر پیٹ کر لے جانا ہےاس کا ثبوت یاتو گواہان ثقہ سے ہو یا آدم اقرار کرے کہ ہاں مارپیٹ کرلے گیا فقط عورت کا کہنا کافی نہیں اگر گواہان یا اقرار سے مارپیٹ کرلے جانا ثابت ہوتو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتی۔
قال اﷲ تعالی
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اگرخاوند تیسری طلاق دے دے توعورت حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ (ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٣٠
#14607 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اور اگرگواہ نہ ہوں یا وہ گواہ ثقہ شرعی نہ ہوں اور آدم مار پیٹ کرلے جانے کا اقراربھی نہ کرے تو آدم سے حلف لیا جائے اگر حلف کرے گا کہ مار پیٹ کر نہیں لے گیاتو طلاق نہ ہوگی اور اس حلف کا حاکم کے سامنے ہونا ضرور نہیں مکان پر بھی لیا جاسکتا ہےدرمختار میں ہے:
یکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ ۔
بیوی کا خاوند سے اپنے گھر میں ہی قسم لے لینا کافی ہے۔(ت)
پھر اگر حلف کرلے اور عورت جانتی ہو کہ اس نے جھوٹا کیاتو عورت پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلقہ سمجھے اور بوجہ طلاق نہ ثابت ہونے کے بذریعہ حکومت جبر نہیں کرسکتی لہذا اپنا مہر چھوڑ کر یا اور مال دے کر اس سے اعلانیہ طلاق لےاگر طلاق نہ دے تو جس طرح جانے اس کے پاس سے بھاگے اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہوتو مجبور ہے اور وبال شوہر پر ہےردالمحتار میں ہے:
اذا سمعت اواخبرھا عدل لایحل لھا تمکینہ بل تفدی نفسھا بمال اوتھرب فان حلف ولابینۃ لھا فالاثم علیہ اذالم تقدر علی الفداء اوالھرب (باختصار ) واﷲتعالی اعلم
اگر خود عورتمرد کی طرف سے تین طلاقیں سن لےیا کسی عادل شخص نے اس کو یہ اطلاع دے دی تو پھر بیوی کو حلال(جائز)نہیں کہ وہ خاوند کو اپنے پر جماع کا موقعہ دے بلکہ جیسے بن پڑے مال دے کر اعلانیہ طلاق لے یا بھاگ کر اپنے کو بچائےاور اگر خاوند طلاق نہ دینے کی قسم کھالے اور طلاق پر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں اور بیوی مال کے بدلے یا بھاگ کر اپنے آپ کو نہ بچا سکے تو اب گناہ خاوند پر ہوگا (باختصار)۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از جونپور مرسلہ مولوی عبدالاول صاحب رمضان ھ
زید نے اپنی زوجہ کے کابین نامہ میں منجملہ شرائط ایك شرط یہ لکھی کہ اگر بغیر رجسٹری شدہ اجازت نامہ تم سے حاصل کئے ہوئے اور بغیر تمہارا کل مہر اداکئے ہوئے دوسرا نکاح کروں تو منکوحہ جدیدہ کومیری طرف سے تین طلاق ہوں گیاب صورت حال یہ ہے کہ زوجہ نے مہر معاف کردیا اور اجازت نامہ نکاح بلارجسٹری شدہ شوہر نے حاصل کرکے دوسرا نکاح کرلیااب شرعا اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ اجازت نامہ بلارجسٹری شدہ ہے اور ایفائے مہر نہیں پایا بلکہ زوجہ نے معاف کردیا تو منکوحہ جدیدہ مطلقہ ہوگی
حوالہ / References درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٢٤
ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٣٢
#14608 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
یانہیں
الجواب :
فقیر شب ہلال ماہ مبارك سے بغرض علاج بعض اعزہ اس پہاڑ پر آیا ہوا ہےوطن سے دورکتب سے مہجوربظاہر مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں طلاق نہ ہوگی کہ ایفاسے مقصود برأت ذمہ ہے وہ حاصل اور رجسٹری کہ وقت انکار تحفظ کے لیے ہوتی ہے جب عورت نے اجازت دے دی اجازت نامہ لکھوا دیا اصل مقصود حاصل ہوگیا جیسے عورت سے کہا اگر کل مجھے فلاں چیز لاکر نہ دے یا فلاں چیز لے کر نہ آئے تو تجھ پر طلاقاس نے چیز کسی کے ہاتھ بھیج دیطلاق نہ ہوئی جبکہ مقصود اس شئے کا پہنچنا ہو۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از محکمہ شرعیہ نل بازار بمبئی مسئولہ سید حسین صاحب نائب قاضی رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص نے ایك اقرار نامہ اپنی زوجہ کو لکھ دیا جس میں ایك شرط یہ تھی کہ اگر منمقر اپنی توبہ کا پابند نہ ہوااور خلاف شرع کوئی فعل کرے تو اسی وقت میری زوجہ کو اختیار ہوگاکہ وہ بلااجازت میری اپنے ورثاء کے یہاں یا اپنے باپ بھائی کے یہاں فورا چلی جائے یا اس کے ورثاء بلامیری دریافت کے اسے لے جائیں اور اس خلاف ورزی شرع شریف میں میری جانب سے میری زوجہ کو طلاق قطعی سمجھی جائے نیز میری زوجہ کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ بموجب ہوجانے طلاق طلاق شرعی کے بعد میعاد عدت اپنا نکاح ثانی خود کرلے یا اس کے ورثاء اس کا نکاح ثانی جہاں اس کی خوشی ہو کر دیں مجھ کو اس میں کسی قسم کا عذر نہ ہوگا اگر وہ اپنے تحریر کردہ شرط کی خلاف شرط کی ورزی کرکے تو طلاق ہوئی یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں طلاق نہ ہوئی
کما بیناہ فی فتاونا ونص فی الخانیۃ ف ان احسبی انك طالق لیس بطلاق ۔وفی الھندیۃ عن الخلاصۃ
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہےاور خانیہ میں نص موجود ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ"تو طلاق سمجھ لے"یہ طلاق نہیں ہےاور ہندیہ
حوالہ / References فتاوی قاضیخان کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٠
ف:خانیہ کے الفاظ اس طرح ہیں:لایقع الطلاق وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انك طالق وان قال ذٰلك لایقع وان نوی۔نذیر احمد سعیدی)
#14609 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
امرأۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگارلایقع وان نوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہاکہ"مجھے طلاق دے"تو خاوند نے جواب میں کہا"تو اس کو طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے"تو طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہو:از سرائے بھنولی ڈاك خانہ شاہ گنج ضلع فیض آباد مرسلہ محمد فیض اﷲ صاحب جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
()ایك اقرار نامہ مندرجہ ذیل مضمون کا لکھا گیا جس کے کل شرائط ولی ہندہ کے مقرر کئے ہوئے ہیں جو کہ مضمون اقرار نامہ سے صاف ظاہر ہے اور محمد شفیع کی طرف سے کوئی شرط مقرر نہیں کی گئی اور نہ اس کو قرار داد شرط کی اجازت دی گئی حالانکہ اقرار نامہ کے ایك لفظ سے بھی محمد شفیع کو اتفاق نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی معاون وولی تھا کہ کچھ عذر کرتاولی ہندہ ایك زبردست واہل مقدور شخص ہے اس نے بالجبر محمد شفیع سے دستخط کرالیاپس یہ اقرار نامہ شرعا معتبرہے یاکہ غیر معتبربینواتوجروا۔
()قبل تحریر اقرار نامہ ولی ہندہ جو کہ بمقابلہ محمد شفیع ہر حالت میں بدرجہا زور آور واہل مقدور تھا بیکس وبے بس محمد شفیع سے بالجبر طلاق لینے پر آمادہ تھا مگر اس وقت محمد شفیع کچھ گریہ وزاری سے منت وسماجت کی کہ اس کا اثر اس پر کار گر ہواورنتیجہ یہ ہوا کہ طلاق سے تو باز رہے مگر اقرار نامہ مذکورہ ذیل پر دستخط کرالیا محمد شفیع نے اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر دستخط کردیاکچھ دن کے بعد محمد شفیع رنگون چلا گیا اور تھوڑے عرصے تك حسب وسعت مبلغ بیس بچیس روپیہ ہندہ کو روانہ کیا مگر کچھ عرصہ تك بوجہ مجبوری خرچ روانہ نہ کرسکا البتہ خطوط روانہ کرتا رہا اور اسکے ذریعہ سے اپنی مجبوری ظاہر کرتا رہا اور بعد کو بھی تین چار روپیہ روانہ کیا اب محمد شفیع قریب ساڑھے تین سال کے بعد رنگون سے واپس آیا اور وجہ عدم ادائیگی خرچ میں یہ عذر بیان کیا کہ میں سخت جل گیا تھا اور کوئی امید زندگی نہ تھیچنانچہ چھ ماہ میں ہسپتال میں پڑا رہا(جلنے کا حال زبانی آئند گان آنصوبہ سے بھی سنا گیا اور اب بھی اس کے جسم پر نشان دیکھا گیا یعنی موجود پایاگیا)اس حالت میں مبلغ پچاس روپیہ کا قرضدار ہوگیا بعد صحت چند روز بیکار رہااور جب کامیاب ہوا تو قرض ادا کیا بقیہ زاد راہ میں صرف ہوا عدم روانگی خرچ سے ہندہ بوجہ اہل مقدور ہونے اپنے ولی کے محتاج نان ونفقہ نہ تھی
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ الفصل السابع بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٨٠
#14610 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
علاوہ اس کے قریب دو صد روپیہ کی مالیت کا زیور کہ ملکیت محمد شفیع تھی اس کے پاس موجود تھے غرضیکہ ہندہ اور اس کے ولی کو نسبت نان ونفقہ وعدم روانگی خرچ کوئی شکایت نہیں ہے اور سب اس سے رضا مند ہیں پاس سوال یہ ہے کہ بحالت صحت اقرار نامہ ایسی صورت میں ہندہ زوجیت سے خارج ہوئی یانہیںبینواتوجروا۔
نقل اقرار نامہ
منکہ محمد شفیع ولد عبدالقادر متوفی ساکن موضع سرائے بھنولی پر گنہ کچرانہ تحصیل کالو ضلع فیض آبادامچونکہ باغوائے شیطان چند افعال ناجائز مجھ سے آج تك ہوتے رہے میں نے اپنی منکوحہ مسماۃ ہندہ بنت محمد یسین خاں کے نان نفقہ سے بالکل غافل تھا حتی کہ میں نے آج تك ادنی ضرورت بھی اس کی رفع نہ کی اور خلاف حکم خدا رسول(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)اس کے نان نفقہ سے بالکل بے خبر تھامگر اب میں اپنے افعال شنیعہ اور سرا سر غفلت وبے فکری سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لئے اقرار کرتا ہوں کہ مطابق مرضی منکوحہ اور اس کے والدین کے ہر ایك فعل کی پابندی کرتا رہوں گا اور جو کچھ وہ لوگ کہیں گے اس پر عملدرآمد کروں گا اور اپنے گھر سے غیر ملك نہ جاؤں گا حسب اتفاق اگر غیر ملك جانے کے موقع نہ ہو اور میں چلا جاؤں تو اپنی منکوحہ کے نان ونفقہ کی خبر گیری کرتا رہوں گا اگر ایسی غفلت کروں یعنی اپنی منکوحہ کا نان نفقہ وخبر گیری نہ کروں تو وہ عدم خبر گیری میری بجائے طلاق ثلاثہ کے سمجھی جائے اور پھر مجھ کوکوئی عذر نہ ہوگالہذا یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ کے لکھ دئے تاکہ سندرہے اور عندالضرورت کام آئےفقط بقلم محمد فیض اﷲجولائی ء العبد محمد شفیع بقلم خود۔
الجواب:
فرصت غنیمت سمجھ کر دستخط کردیا جبر واکراہ نہیں مگر وہ اقرار نامہ بذاتہ خود ہی باطل و مہمل ہےاگر محمد شفیع بے کسی قریب کے آپ ہی لکھتا اور پھر بلاضرورت غیر ملك کو چلاجاتا اور قصدا بلاعذر خبر گیری زوجہ سے دستکش رہتا اور ایك پیسہ کبھی نہ بھیجتا جب بھی اس باطل اقرار نامہ کی رو سے اصلا طلاق نہ ہوسکتی وہ اس میں طلاق نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ میری عدم خبر گیری کو بجائے طلاق ثلثہ سمجھا جائے"یہ سمجھ کر"صریح باطل ہے عدم خبر گیری ایك طلاق بھی نہیں ہوسکتی نہ کہ تین طلاق کی جگہ اور باطل سمجھ کی اجازت دیں باطلجیسے کوئی کہے اگر میں نہ آؤں تو دیوار کو طلاق سمجھ لینا کیا اس کے کہنے یا کسی کے سمجھ لینے سے دیوار طلاق بن جائے گی اور جب وہ اجازت وقول وفہم سب باطل ہے اور باطل پر کچھ اثر مرتب نہیں ہوسکتا لہذا وہ اقرار نامہ مہمل ہے اور طلاق اصلا نہ ہوئیفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوقال الزوج دادہ انگار او قال کردہ انگار
اگر خاوند نے کہا"تو طلاق ہوئی سمجھ"یا کہا"تو
#14611 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
لایقع الطلاق وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انك طالق وان قال ذلك لایقع وان نوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
طلاق کی ہوئی سمجھ"تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہوکیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی عربی میں کہے' ترجمہ:تو خیال کرلے کہ تو طلاق والی ہے"تو یہ بات کہنے سے طلاق نہ ہوگیاگرچہ طلاق کی نیت بھی کرلے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:از رامپور محلہ فرنگن محل بزریا ملاظریف مرسلہ مولوی ریاست حسین خاں صاحب شوالھ
چہ می فرمایند اصحاب شرع وار باب ورع اندرینکہ شخصے بعد ایجاب وقبول نکاح خودرا اقرارنامہ ایں عبارت تحریر نمود کہ منکہ یونس علی پسر حسین علی مرحوم حال ساکن ناکندیہ علاقہ تھانہ منکنڈ وضلع ارکانم منمقر در حالت صحت ذات وثبات عقل بلااجبارواکراہ بخوشی مہر النساء دختر غلام علی مرحوم را بچند شرائط بنکاح خود آوردم:
شرط اول اینکہ مسماۃ مذبورہ را در باب تعلیم احکام شرعیہ مثل نماز وروزہ وغیرہ امور دینیہ کوشش کما حقہ بکار آرم(الی ان قال)شرطہشتم بغیر رضا ورغبت مسماۃ مذکورہ زنے دیگر بنکاح خود نیارم اگر آرم برثانیہ سہ طلاق واقع خواہد شد۔شرط نہم اگر زشرطے ازیں شرائط مرقومہ بالاانحراف ورزم آنگہ اختیار مسماۃ موصوفہ را است کہ بتوسل کاغذ ہذا نفس خود را از زوجیتم سہ طلاق کردہ بنکاح دیگر پرداز دیا بنکاح ماند انتہی نقل اقرار نامہ بعینہ۔ کیافرماتے ہیں اصحاب شرع وتقوی اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے نکاح میں ایجاب وقبول کے بعد اقرار نامہ میں یہ تحریر کیا کہ منکہ یونس علی پسر حسین علی مرحوم ساکن ناکند یہ علاقہ تھانہ منکنڈ وضلع اراکانماپنی صحت اور بقائمی عقل بغیر جبر واکراہ اپنی خوشی سے اقرار کرتا کہ مسماۃ مہر النساء دختر غلام علی مرحوم کو چند شرائط کے ساتھ اپنے نکاح میں لاتا ہوں:
پہلی شرط یہ کہ مسماہ مذکورہ کو شرعی تعلیم بابت نمازروزہ وغیرہ امور دینیہ دینے میں پوری کوشش کروں گاحتی کہ یہ کہا آٹھویں شرط یہ ہے کہ مسماۃ مذکورہ کی مرضی کے بغیر کسی دوسری عورت سے اپنا نکاح نہ کروں گااگر کروں تو دوسری بیوی کو تین طلاق ہوں گیاور نویں شرط یہ کہ اگر مذکور شرائط میں سے کسی شرط سے انحراف کروں تو مسماۃ موصوفہ کو اختیار ہوگا کہ اس کاغذ اور تحریر کے بموجب اپنے آپ کو تین طلاق کے ساتھ میری زوجیت سے خارج کرکے دوسرے شخص سے نکاح کرلے یا میرے نکاح میں رہےنقل بعینہ اقرار نامہ ختم ہوئی۔
حوالہ / References فتاوی قاضیخان کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ١/٢١٠
#14612 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
اکنوں یونس علی مسماۃ مہر النساء راسہ طلاق دادہ بلارضا ورغبت مہر النساء بزن دیگر نکاح نمود است دریں صورت مرقومہ بزوجہ ثانیہ یونس علی سہ طلاق واقع خواہد شد یا نہجناب فیضماب مولانا صاحب دام اقبالہم وفیضہم بعد سلام عرض اینکہ جواب سوال بزودی عنایت فرمودہ ممنون فرمایند چنانکہ نختین ہم مرہون منت وممتاز دارین فرمودہ بودند دریں باب نیز علماء مختلف اند بعضے طلاق ثانیہ قائلے ست وبعضے بعد مش مصر فیصلہ چیست و مفتی بہ ومختار کدامنزدم کتب مختلفہ موجود نیست بناء علیہ مکلف شدم عفو فرمایندوالسلام۔
اب اس کے بعد یونس علی نے مسماۃ مذکور کو تین طلاقیں دے کر مہرالنساء کی رضا ورغبت کے بغیر دوسرانکاح کرلیاتو مسئولہ صورت میں یونس علی کی دوسری بیوی کو تین طلاقیں ہوئیں یانہیںجناب فیض مآب مولانا صاحب! آپ کا فیض واقبال ہمیشہ قائم رہےسلام کے بعد وعرض ہے کہ اس سوال کا جواب جلدی عنایت فرماکر ممنون فرمائیں تاکہ ہم ہمیشہ ممنون احسان رہیںاس مسئلہ میں دوسرے علماء بھی اختلاف کررہے ہیںبعض دوسری بیوی کی طلاق پر مصر ہیں اور بعض اس کی طلاق نہیں مانتےآپ کا فیصلہ اور فتوی کیا ہے اور مختار قول کیا ہے میں اپنے مختلف کتب نہ ہونے کی بناء پر تکلیف دے رہا ہوںتکلیف پر معافی چاہتا ہوںفقطوالسلام۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب درصورت مستفسرہ قضیہ نظر فقہی تفصیل ستاگر مہر النساء گوید کہ یونس علی ایں نکاح دوم بے رضا ورغبت من کردہ استویونس علی دریں معنی تصدیق بیانش کند زن پسیں ہم از وقت نکاح سہ طلاق شود ورنہ ہیچ طلاق وفراق نیست۔
اقول: وباﷲالتوفیق تحقیق مقام آنست کہ طلاق زن ثانیہ معلق بوقوع نکاحش متلبس باعدم رضاورغبت مہر النساء ستپس ہم وقت نکاح ایں عدم بایدوتحقق شرط کہ
اے اﷲتجھ سے حق وصواب(درستگی)کی رہنمائی کا طلبگار ہوںمسئولہ صورت میں شرعی فیصلہ فقہی نظر میں تفصیل طلب ہےاگر مہرالنساء کہے کہ یونس علی نے یہ دوسرا نکاح میری رضاورغبت کے بغیر کیا ہے اور یونس علی اس کی تصدیق کرتا ہے تو دوسری بیوی کو نکاح کے وقت سے ہی تین طلاقیں ہوگئیںورنہ کوئی طلاق اور جدائی نہ ہوگی
اقول: وباﷲالتوفیق(اﷲ کی توفیق سے میں کہتا ہوں کہ)اس مقام کی تحقیق یہ ہے کہ دوسری بیوی کی طلاقمہر النساء کی رضاورغبت کے معدوم ہونے سے مشروط ہےتو شرط کا پایا جانا جزاء کے
#14613 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مستلزم تحقق جزا وزوال عصمت است تسلیم او مرہون ثبوت شرعی است کہ اقرار زوج باشد یا اظہار بینہ اما البینۃ فلانھا کاسمھا مبینۃاما اعتراف الزوج فلانہ یملك الانشاء فلایزاحم فی الاخبارتنہا بیان مہر النساء در حق زوجہ ثانیہ شنودن ندارد کہ بیان یك زن حجت شرعیہ نیست خاصۃدر حق ضرہ کہ محل تہمت ست واقدام یونس علی بریں عقد بے استئذان مہر النساء مثبت شرط نتواں شد کہ شرط عدم رضا بود نہ ترك استرضاوشتان ماہماولہذا علماء گفتہ اند کہ در تعلیق بالرضاعلم برضا در کار نیستمثلا شوہر حلف بطلان کردہ مرزنش را گوید کہ بے رضائے من بیروں نروی باز آہستہ گفت بروزن نشنید یا شنید ونفہمید وبیروں رفت طالق نہ شود کہ بے رضا نرفتہ استگوخود برضا مطلع مباش بخلاف اذن کہ او نباشد الابقول مسموع ومفہوم تاآنکہ دلائل واضحہ رضانیز آں جابکار نیا یدمثلا حلف کند بے اذن زن نیا شامم زن کا سہ بدست خود گرفتہ نو شاند وبرزبان ہیچ نگفت یا گفت وشوے نشنود یا مفہومش نشد حانث شود کہ اذن متحقق نگشت پس عدم اذن در محل شرط بہ بینہ ثابت تواں کردلان الشہادۃ علی النفی مقبولۃ فی الشروط اماباثبات عدم رضا ورغبت راہے نیست زیرا کہ او صفتے قلبی ست وعلمش از علوم غیبی نہایت کار شہود چنگ بدلائل خارجہ زدن ست ودرہمچو
پائے جانے کو مستلزم ہوگا جس سے نکاح ختم ہوجائے گا لیکن اس کو تسلیم کرنا شرعی ثبوت پر موقوف ہے اور ثبوت شرعی خاوند کا اقراریا شہادت ہےشہادت اس لئے ضروری کہ وہ معاملہ کو واضح کرتی ہےاور زوج کا اقرار اس لئے کہ خاوند ہی طلاق کو نافذکرنے کا مالك ہےلہذا حال کی خبر وہ خود ہی دے سکتا ہےتنہا مہر النساء کا بیان دوسری بیوی کے متعلق قابل سماعت نہیں ہے کیونکہ ایك عورت کا بیان شرعی حجت نہیں ہے خاص کر اپنی سوکن کے بارے میں کہ تہمت کا احتمال ہے اور یونس علی کا مہر النساء سے اجازت طلب کئے بغیر یہ دوسرا نکاح کرنا طلاق کی شرط کے پائے جانے کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ طلاق کی شرط مہر النساء کی عدم رضا ورغبت ہے نہ کہ اس سے اجازت طلب کرناجبکہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ رضا کے ساتھ مشروط امر کے پائے جانے میں رضا کا علم ضروری نہیں بلکہ رضا کا پایا جانا ہی کافی ہےمثلا ایك شخص نے طلاق کا حلف کہتے ہوئے اپنی بیوی کو کہا کہ تو میری رضاکے بغیر باہر مت جا۔پھر آہستہ سے کہا جابیوی نے نہ سنایا سنا مگر سمجھا نہیں اور باہر چلی گئی تو طلاق نہ ہوگیکیونکہ وہ رضا پر باہر گئی اگرچہ وہ خود رضا پر مطلع نہ ہوئیاس کے برخلاف اگر رضا کی جگہ وہ اذن کا لفظ کہتا تو طلاق ہوجاتی کیونکہ اذن کے لئے ایسا قول ضروری ہے جو سنا اور سمجھا جاسکے حتی کہ وہاں اذن کی واضح دلیل بھی پائی جائے تو کار آمد نہ ہوگیمثلا خاوند نے بحلف کہا کہ میں بیوی کی اجازت
#14614 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
مقام امارات ظاہرہ اگر باچند ہر چہ تمامتر واضحہ باشد بکار نیایدعلماء فرمودہ اند زن را گفت اگر فلاں مومن ست تو طلاقہ وفلاں رامی بینم از صلحائے امصار واتقیائے روز گار ست اور ھزار گفتہ باشد من مومنم در حق تطلیق تصدیق نباشد وطلاق نیفتد تازوج بایں معنی اعتراف نکند زیرا کہ ایمان در دل ست وامارات ازینجا حجیت منعزل وشہادت فرداز قبول منفصلباز ایں دلائل اگر بعد وقوع ایں نکاح ثانی یافتہ شد مثلامہر النساء را خبر رسید او روئےدرہم کشید یا پیش از نکاح منع ایں معنی می کرد وبرذکر او غضب می آورد خود بکار نیست زیرا کہ شرط بوقوع نکاح متلبسا بعدم الرضاستدل ہر وقت بریك حال نیستالقلب یتقلبپس عدم رضائے سابق ولاحق دلیل عدم مقارن نتواں شد الا بہ استصحاب در سابق یا قیاس در لاحق واینہمہ از ظاہر ست وظاہر واقع است نہ مثبت بلکہ آں سابق ولاحق نیز خود ظاہری بیش نبود واﷲ علیم بذات الصدور ایں ظاہر در ظاہر شد وضعف در ضعف راہ یافت واگر خود عین وقت ایں عقد دلائل غضب یافتہ شود علت منحصر دریں نیست اسباب غضب ہزار ست یمکن کہ یاد تطلیق خودش در غضب آوردہ باشد نہ عدم رضا بایں عقداطلاع بر آنکہ وجہ غضب چیست باز نیاز بآں آرد کہ آں وقت سخناں مہر النساء اور دستاویز نمایند ایں باز رجوع بہ بیان زن شدہ وشہادت شہود از میاں بر خاست
کے بغیر نہ پیوں گااگر بیوی اپنے ہاتھ سے پانی والا پیالہ دے اور وہ پی لے اور بیوی نے اس موقعہ پر اپنی زبان سے کچھ نہ کہا یا زبان سے پینے کو کہا مگر خاوند نے نہ سنا یا سنا مگر سمجھ نہ سکاتو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اذن نہ پایاگیاپس عدم اذن کی شرط ہوتو یہ گواہی سے ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ شرائط میں منفی پر گواہی سے ثابت کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ قلبی معاملہ ہے جس کا علم غیبی علوم میں سے ہےجبکہ گواہی میں خارجی امور پر سہارا ہوتاہے اور ایسے قلبی حال پرکتنی ہی واضح علامات کیوں نہ ہوں وہ کار آمد نہیں ہو سکتیںعلماء نے فرمایا کہ خاوند بیوی کو کہے اگر فلاں شخص مومن ہے تو تجھے طلاق ہےجبکہ فلاں شخص کو شہر میں نیك اور زمانہ کا پرہیز گار دیکھا جارہا ہواور وہ ہزار بار مومن ہونے کا دعوی کرے لیکن طلاق دینے کے معاملہ میں اس کی بات کی تصدیق نہ کی جائے گی اورطلاق نہ پڑے گی جب تك خاوند اس کے مومن ہونے کا اعتراف نہ کرے گا طلاق نہ ہوگیکیونکہ ایمان دل میں ہے اس پر علامات یہاں حجت نہیں بن سکتیں اور کسی فردکی شہادت پر علامات یہاں مقبول نہ ہوں گیپھر اگر یہ علامات نکاح ثانی کے بعد سر زد ہوںمثلا مہر النساء کو دوسرے نکاح سے قبل مہر النساء نے اس سے منع کیا ہو اور دوسرے نکاح کے ذکر پرناراض ہوئی ہویہ علامات بھی کار آمد نہیں ہوسکتیں کیونکہ شرط یہ ہے کہ دوسرا نکاح مہر النساء کے دل کی رضا مندی سے نہ ہوتوطلاق ہوگیجبکہ دل کاحال
#14615 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
بلے غالب عادت زناں خاصہ دریں بلاد وزماں ہمانست کہ نکاح ثانی شوہر ان پسند نکنند اگرچہ خود آنہا طلاقہ شدہ باشندامااین ظاہربآنکہ ظاہر واز جمعیت قاصر ست ضعیف ترستبارہا زناں مطلقہ بلکہ معلقہ بدعاآرزو کنند کہ شوہر پنجہ زنے بلایا سلیطہ کج ادا گرفتار آید تا کیفر کردار خود چشد وعذابے کہ ماراکردہ است خمیازہ اش کشد ورضا بچیزے را علم بآں چیزہم در وقت حدوث اورضروری نیست مثلا پدر زید را تمنا است کہ زید بمنصب وزارت رسد در غیبت پدر وزیرش کردند گفتہ نشود کہ ایں وزارت بے رضائے پدرست پس وقوع ایں عقد بے اطلاع مہر النساء نیز محقق شرط نباشدبالجملہ راہ باثبات ایں شرط نیستجز باخبار مہر النساء مع تصدیق یونس علیواصل کار ہماں اقرار یونس علی ست اگر یافتہ شد سہ طلاق بفور نکاح نقد وقت ثانیہ است کہ نامدخولہ محل سہ طلاق دفعی ست اگرچہ تفریق برنیابد کہ امتثال تعلیقات بزمان بقائے زوجیت زوجہ اولی مقتصر نیست ورنہ خیر۔
بدلتا رہتا ہےپس پہلے یا بعد کی عدم رضا نکاح کے وقت ناراضگی دل کی دلیل نہیں بن سکتیہاں سابق ناراضگی استصحاب حال اور بعد والی قیاس بن سکتی ہےلیکن یہ سب کچھ ظاہری چیزیں جبکہ ظاہر واقع تو ہوسکتا مگر وہ مثبت نہیں بن سکتا بلکہ وہ سابق اور لاحق خود بھی ظاہر سے بڑھ کر نہیں ہیںدل کی کیفیت تو اﷲ تعالی ہی جانتا ہے یہ جوکچھ ظاہر ہو ظاہری معاملہ ہے اور ضعف ہے جو کہ ضعف کا راستہ پاتا ہے بلکہ عین نکاح ثانی کے وقت بھی مہر النساء کا غصہ پایاجائے تو یہ بھی دلیل نہیں ہوسکتی کہ یہ دوسرے نکاح سے ناراض ہورہی ہے کیونکہ غصہ کی وجود کئی ہوسکتی ہیں ممکن ہے اس وقت نکاح عدم رضا کی وجہ سے نہ ہویہ معلوم کرنا کہ غصہ کی وجہ کیا ہے آخر کاردلیل اس کی یہی ہوسکتی ہے کہ مہر النساء نے دوسرے نکاح کے وقت غصہ کی باتیں کی ہیں یہ پھر بیوی کے بیان پر موقوف ہوااور درمیان میں گواہوں کی گواہی ناپیدرہی بلکہ تسلیم شدہ ہے کہ اس ملك میں موجودہ زمانے کی عورتوں کی عادت ہے کہ وہ خاوند کے دوسرے نکاح کو پسند نہیں کرتیں اگرچہ ان میں سے خود طلاق بھی حاصل کرچکی ہوں مگر یہ بات عادت بھی تو ظاہر معاملہ ہے اور نکاح کے وقت دل کی کیفیت پر دلالت قاصر اور ضعیف تر ہےکیونکہ بارہا اور معلقہ عورتیں بدعائیں اور بری آرزوئیں کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خاوند کا برا ہو اور کسی بری عورت کے پنجہ یا مصیبت میں گرفتار ہوتا کہ وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچے اور اس نے جو مجھے تکلیف دی اس کا خمیازہ بھگتےکسی چیز پر رضا کو یہ لازم نہیں کہ اس چیز کے حدوث اور وجود کاعلم بھی ہو مثلا زید کے والد کی تمنا ہے کہ زید وزارت کے منصب تك پہنچے جبکہ والد کی عدم موجودگی میں زید کو وزیر بنادیاجائے تو یہ نہ کہا جائے گا کہ یہ وزارت والد کی رضا کے بغیر دی گئی ہے(غرضیکہ رضاوعدم رضا پائے جانے کے باوجود یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ عین واقعہ کے وقت رضا موجود تھی)پس یونس علی کے دوسرے نکاح کامہر النساء کی اطلاع کے بغیر ہونا بھی شرط کا ثبوت نہیں بنتاحاصل یہ کہ
#14616 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
حالابرخے از کلمات علماء برخوانیم وانچہ گفتہ ایم بپایہ اثبات رسانیموباﷲ التوفیق۔
دوسرے نکاح کے وقت مہر النساء کی عدم رضا کا اثبات سوائے اس کے ممکن نہیں کہ مہر النساء خود بتائے اور یونس علی اس کی تصدیق کرے بلکہ اصل دارومدار یونس علی کے اقرارپر ہے اگر اس کا یہ اقرار پایاجائے تو فوری طور پر دوسرے نکاح کو کرتے ہی دوسری غیر مدخولہ کو بیك وقت تین طلاقیں ہوجائیں گیکیونکہ غیر مدخولہ بیوی بیك لفظ تین طلاقوں کا محل ہے اگرچہ متفرق طلاقوں میں تینوں کا محل نہیںکیونکہ تعلیقات کاعمل پہلی بیوی کی زوجیت کی بقاء پر منحصر نہیں ہے اور اگر یونس علی کا اقرار نہ ہوتو خیر(یعنی طلاق نہ ہوگی)(ت)
امام محقق علی الاطلاق در فتح القدیر کتاب الایمان فی مسائل متفرقہ فرماید
لو قال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیر اذنك طالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا اوثلاثا ثم تزوج بغیراذنھا طلقت لانہ لم تتقید یمینہ ببقاء النکاح لانہا انما تتقید بہ لوکانت المرأۃ تستفید ولایۃ الاذن والمنع بعقد النکاح ۔
علامہ محقق زین بن نجیم د ربحرالرائق فرماید
الاذن یطلع علیہ بالقول بخلاف المحبۃ ملخصاہمدان ست حقیقۃ المحبۃ والبغض امر خفی لایوقف علیھا من قبل احد لامن قبلھا ولامن قبل غیرھا لان القلب یتقلب لایستقر
اب ہم علماء کا کچھ کلام بیان کرکے اپنے مذکورہ موقف کوثابت کریں گے وباﷲ التوفیق۔امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں کتاب الایمان کے مسائل متفرقہ میں فرمایا ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے جس عورت سے بھی تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تو اسے طلاق ہےپھر اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دی یا تین طلاقیں دے دیں پھر اس نے اس دوران پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کیا تو دوسری کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ اس نے حلف میں دوسری عورت سے ناکح کو پہلی بیوی کے نکاح کے باقی رہنے سے مقید نہیں کیااس سے مقید تب ہوتا جب پہلی بیوی اپنے نکاح کے وقت اذن یا منع کااختیار حاصل کرتی۔(ت)علامہ محقق زین بن نجیم نے بحرالرائق میں فرمایا اذن پر صرف قول کے ذریعہ اطلاع ہوسکتی ہے بخلاف محبت کےاسی میں یہ بھی فرمایا کہ محبت اور بغض کی حقیقت مخفی معاملہ ہے اس پر مرد یا عورت کسی کی طرف سے واقفیت نہیں ہوسکتیکیونکہ یہ دلی کیفیت ہے جو بدلتی رہتی ہے کیونکہ دل بدلتے رہنے والی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الایمان مسائل متفرقۃ مکتبہ نوریہ رضوریہ سکھر ٤/٤ ٦٨
بحرالرائق باب التعلیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/٢٦
#14617 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
علی شیئ ۔
چیز ہے دل کو کسی ایك چیز پر قرار نہیں۔(ت)(
امام حافظ الدین محمد کردری در وجیز کتاب الایمان فصل تاسع فرماید
ان اذن ولم تسمع لایعتبر عند الامام ومحمد رحمہما اﷲ تعالیوفی الصغریلاتخرجی الا برضائی اوبغیررضائی فاذنھا ولم تسمع او سمعت ولم تفھم لایحنث بالخروجبخلاف الاباذنی اوبغیر اذنی حیث یحنث لان الرضا یتحقق بلاعلمھا والاذن لایتحقق ۔
امام حافظ الدین محمد کردری نے وجیز کتاب الایمان کی نویں فصل میں فرمایا:اگر اذن دیا اور دوسرے نے نہ سنا تو یہ اذن معتبر نہ ہوگایہ امام اعظم اور امام محمد رحمہمااﷲکا مسلك ہےصغری میں ہے:خاوند نے بیوی کو کہا تو میری رضا کے بغیر باہر نہ جائیگیتو اس کے بعد خاوند نے بیوی کو اجازت دی مگر بیوی نے نہ سنایا سنا ہے لیکن سمجھی نہیں تو بیوی نکل جانے سے حانث نہ ہوگیاس کے برخلاف اگر اس نے بیوی کے نکلنے کو اذن پر موقوف کیا ہوتو مذکورہ صورت میں خلاف ورزی قرار پائے گی یعنی حانث ہوگیکیونکہ رضابیوی کے علم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے جبکہ اذن اس کے علم کے بغیر متحقق نہیں ہوسکتا۔(ت)
ہمدراں ست لایشرب الاباذنہ فناولہ القدح بیدہ ولم یقل بلسانہ شیأ فشرب یحنث لانہ دلیل الرضالاالاذنلاتخرج امرأتہ الا بعلمہ فخرجت وھو یراھا لایحنثوان اذن لھا بالخروج فخرجت بعدہ بلاعلمہ لایحنث ۔
اسی میں ہے:ایك نے دوسرے کو کہا"تو میرے اذن کے بغیر نہ پئے گا"اس کے بعد اس نے خود پانی کا پیالہ اس کے ہاتھ میں دے دیا لیکن زبان سے کچھ نہ کہا دوسرے نے پانی لیا تو خلاف ورزی ہوجائیگی اور وہ حانث ہوجائیگا(کیونکہ ہاتھ میں دینا رضا کی دلیل تو ہوسکتی ہے مگر اذن نہیں ہوسکتا)یونہی بیوی کو کہا"میرے علم کے بغیرباہرنہ جائے گی"پھر اس کے دیکھتے ہوئے اس کی عورت نکلی تو حانث نہ ہوگااور اگر اس کے بعد نکلنے کی اجازت زبانی دے دی تو اب علم کے بغیر بھی نکل جائے تو حانث نہ ہوگا۔(ت)
حوالہ / References بحرالرائق باب التعلیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/٢٧
فتاوی بزازیۃ علٰی ھامش فتاوی ہندیۃ التاسع فی الیمین فی الاذن نورانی کتب خانہ کراچی ٤/٢٩٤
فتاوی بزازیۃ علٰی ھامش فتاوی ہندیۃ التاسع فی الیمین فی الاذن نورانی کتب خانہ کراچی ٤/٢٩٦
#14618 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
امام اجل برہان الملۃ والدین در ہدایہ فرماید
امام اجل برہان الملۃ والدین نے ہدایہ میں فرمایا
ان کان الشرط لایعلم الا من جھتھا فالقول قولھافی حق نفسھا مثل ان یقول ان حضت فانت طالق وفلانۃ فقالت قد حضت طلقت ھی ولم تطلق فلانۃ ووقوع الطلاق استحسانوالقیاس ان لایقع لانہ شرط فلا تصدق کما فی الدخولوجہ الاستحسان انہا امینۃ فی حق نفسھا اذلایعلم ذلك الامن جھتھا فیقبل قولھا کماقیل فی حق العدۃ والغشیان ولکنھا شاہدۃ فی حق ضرتھا بل ھی متھمۃ فلایقبل قولھا فی حقھا در فتح القدیر ست شہادتھا علی ذلك شہادۃفرد واختبارھا بہ لایسری فی حقھا مع التکذیب علامہ آفندی شامی در ردالمحتار فرماید قال فی البحر قید بمحبتھا لانہ لو علقہ بمحبۃ غیرھا فظاھر مافی المحیط انہ لابد من تصدیق الزوج
اگر شرط ایسی ہو کہ اس کا علم صرف عورت کے بیان و اظہارپر موقوف ہوتو عورت کی بات معتبر ہوگی جس کا تعلق اس عورت کی ذات سے ہومثلا کہا اگر تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق ہے اور فلانی کو بھیاب اس عورت نے کہ مجھے حیض آیا ہےتو اس کو خود طلاق ہوجائیگی دوسری فلانی کونہ ہوگی اس کو طلاق ہونا بطور استحسان ہے جبکہ قیاس یہ ہے کہ طلاق نہ ہوکیونکہ یہ شرط ہے جبکہ شرط کے وقوع میں صرف عورت کی بات معتبر نہیں ہوتی جیسا کہ دخول وغیرہ کی شرط میںاستحسان کی وجہ یہ ہے کہ اپنے معاملہ میں وہ امین متصور ہوگی کیونکہ معاملہ ایسا ہے جس کا علم اس کے بیان پر موقوف ہے اس لئے اس کی ذات کے بارے میں اس کی بات معتبر ہوگیجیسا کہ عدت اور اس سے وطی کے متعلق اس کی بات معتبر ہوتی ہے لیکن اس کی یہ بات سوکن کے حق میں شہادت بنتی ہے ببلکہ تہمت متصور ہوتی ہے اس لئے سوکن وغیرہ دوسری عورت کے بارے میں اس کی یہ بات معتبر نہیں ہوگی اور قبول نہ کی جائےگی۔فتح القدیر میں ہے:عورت کی گواہی دوسری عورت کے بارے میں یہ ایك فرد کی گواہی بنتی ہے تو اس لئے اس کی یہ بات دوسری پر اثر انداز نہ ہوگی تہمت کی وجہ سے اس کو جھوٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔علامہ آفندی شامی نے ردالمحتار
حوالہ / References ہدایہ باب الایمان فی الطلاق المکتبۃ العربیۃ کراچی ٢/٣٦٦
فتح القدیر باب الایمان فی الطلاق المکتبۃ العربیۃ کراچی ٣/٤٥١
#14619 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
فانہ قال لوقال انت طالق ان لم تکن امك تھوی ذلك فقالت الام انا اھوی وکذبھا الزوج لاتطلق فان صدقھا طلقت لما عرفوروی ابن رستم عن محمد انہ لوقال ان کان فلان مؤمنا فانت طالق لا تطلق لان ھذالایعلمہ الا ھوولایصدق ھوعلی غیرہ و ان کان ھو من المسلمین یصلی ویحجولو قال الاخرلی الیك حاجۃ فاقضھا لی فقال امرأتہ طالق ان لم اقض حاجتکفقال حاجتی ان تطلق زوجتك فلہ ان لایصدقہ فیہ ولاتطلق زوجتہ لانہ محتمل للصدق والکذب فلایصدق علی غیرہ اھقال الخیر الرملی وقد علم من ھذہ الفروع انہ ان علق بفعل الغیر
میں فرمایا کہ بحر میں کہا ہے کہ بیوی کی محبت سے اس کو مقید کیا کیونکہ اگر کسی غیر کی محبت سے طلاق کو مشروط کیا جائےتو محیط کے بیان سے ظاہر یہی ہے کہ خاوند کی تصدیق کے بغیرمحض بیوی کے کہنے پر طلاق نہ ہوگی کیونکہ وہاں یہ فرمایا ہے کہ اگر خاوند نے کہااگر تیری ماں یہ نہ چاہتیاور خاوند نے ماں کی بات کو غلط قرار دیا تو طلاق نہ ہوگی ہا ں اگر خاوند ماں کی تصدیق کر د ے تو طلاق ہو جائے گی جیسے کہ معلوم ہے۔ابن رستم نے امام محمد سے نقل کیا کہ خاوند نے کہا اگر فلاں مومن ہے تو تجھے طلاق ہےتو یہاں طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے جس کی اطلاع وہ فلاں شخص خود دے سکتا ہے لیکن اس کا بیان دوسرے کے خلاف قابل تصدیق نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ مسلمان نظر آئے نماز اور حج وغیرہ ادا کرتا ہواور اگر ایك نے دوسرے کوکہا مجھے تجھ سے ایك حاجت ہے تو میری حاجت پوری کردےدوسرے نے کہا اگر میں تیری حاجت پوری نہ کروں تومیری بیوی کو طلاقتو پہلے نے کہا میری حاجت یہ ہے کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دےتو دوسرے شخص کو حق ہے کہ وہ اس کی بات تسلیم کرنے سے انکار کردے تو بیوی کو طلاق نہ ہوگی کیونکہ پہلے کی بات جھوٹ اور سچ ہونے کا احتمال رکھتی ہے لہذا غیر کے خلاف یہ دلیل نہیں قرارنہیں دی جاسکتی اھخیرالدین رملی نے اس پر فرمایا کہ ان مسائل سے معلوم ہوا کہ اگر دوسرے کے فعل پر طلاق کو مشروط کیا ہوتو اس
#14620 · آکدالتحقیق بباب التعلیق ۱۳۲۲ھ (باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)
لایصدق ذلك الغیر علیہ سواءکان مما لایعلم الامنہ ام لاولابدمن تصدیق الزوج فیھما او البینۃ فیما یثبت بھا من الامر الذی یعلم ایں عین جزئیہ مطلوبہ ماستوﷲالحمدواﷲ تعالی اعلم۔
غیر کی تصدیق ضروری نہیں ہے خواہ غیر کا یہ فعل دوسروں کو معلوم ہوسکے یا صرف وہی اظہار کرسکتا ہو دوسری کو معلوم نہ ہوسکتا ہودونوں صورتوں میں خاوند کی طرف سے تصدیق کرنا ضروری ہے یا پھرگواہی سے ثابت ہوجائے وہ فعل جس پر دوسروں کو اطلاع ہو سکتی ہویہی ہمارا مطلوبہ جزئیہ ہے و ﷲالحمدواﷲ تعالی اعلم(ت)
___________________
حوالہ / References ردالمحتار باب التعلیق داراحیاءالتراث العربی بیروت ٢ /٥٠٥
#14621 · باب الایلاء (ایلاء کا بیان)
باب الایلاء
(ایلاء کا بیان)

مسئلہ : شعبان معظم ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایلاء کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا حکم ہے اور اس سے طلاق مغلظہ پڑتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ایلاء کے یہ معنی کہ مرد اپنی عورت سے جماع کی قسم کھا لے یا تعلیق کرے یعنی یوں کہے کہ اس سے جماع کروں تو مجھ پر یہ جزالازم آئےاور یہ قسم وتعلیق یا تومطلق ہوں مثلا واﷲ میں تجھ سے جماع نہ کروں گایا تجھ سے جماع کروں تو مجھ پر روزہ لازمیا موبد یعنی صراحۃہمیشہ کے لئے ہوں مثلا خدا کی قسم میں تجھ سے کبھی صحبت نہ کروں گایا تجھ سے کبھی صحبت کروں تو مجھ پرحج واجب ہویا کسی خاص مدت کے لئے ہوں تو وہ مدت چار مہینے سے کم نہ ہو مثلا مجھے قسم ہے چار مہینے تك تیرے پاس نہ جاؤں گایا پانچ مہینے تك تجھ سے وطی کروں تو مجھ پر سو رکعت نماز لازماور تعلیق کی صورت میں یہ بھی ضرور کہ وہ امر جس کا لازم آنا کہے اس میں مشقت ہو جیسے امثلہ مذکورہیا یہ کہ میرا غلام آزاد ہےیا تجھ پر طلاق ہےیا میرا مال خیرات ہےیامجھ پر قسم کا کفارہ ہو وغیر ذلکاور وہ شرعا تعلیق کہے سے بھی لازم آسکتا ہو جیسے نمازروزہحجصدقہاعتکاف عمرہ طلاق کفارہوغیرہانہ مثل وضو وغسل وتلاوت قرآن وسجدہ تلاوت واتباع جنازہ وغیرہ کے یہ چیزیں نذر وتعلیق سے لازم نہیں ہو جاتیںاور یہ قسم وتعلیق ایسے طور پر واقع ہو کہ بے کسی چیز کے لازم آئے اصلا مفر نہ رہےایسی صورت نہ نکل سکے کہ یہ اس
#14622 · باب الایلاء (ایلاء کا بیان)
عورت سے جماع کرے اور کچھ لازم نہ آئےجب یہ پانچوں باتیں جمع ہوں گی ایلاء ہوگا اور ایك بھی کم ہوئی تو نہیںمثلا نہ قسم کھائی نہ تعلیقخالی عہد کرلیا کہ عمر بھرتیرے پاس نہ جاؤں گا یہ کچھ بھی نہیں کہ خالی عہد سے کچھ نہیں ہوتایا قسم تعلیق توذکر کی مگر مدت چار مہینے سے کم رکھی اگرچہ ایك ہی ساعت کمیہ ایلاء نہ ہواجتنی مدت کی قید لگائی ہے اس کے اندر جماع کیا تو بصورت قسم خاص کفارہ اور بصورت تعلیق روزہ وغیرہ جو کچھ لازم آنا کہا تھا خواہ مثل قسم کفارہ لازم آئے گا کہ یہ حکم تو اس قسم و تعلیق کا ہےمگر مدت بے جماع گزرگئی تو عورت نکاح سے نہ نکلے گی جو خاص حکم ایلاء ہےیونہی اگر تعلیق میں دو رکعت نماز لازم آنی کہے تو ایلاء نہیں کہ دورکعت میں کچھ مشقت نہیںاگر مدت کے اندر پاس گیا تو دو رکعتیں پڑھنی ہوں گی اور مدت خالی گزرگئی تو کچھ نہیںاور اگر تعلیق میں تلاوت قرآن وغیرہ اشیائے غیر لازمہ ذکر کیں تو محض مہملنہ مدت گزرنے پر طلاق پڑی نہ مدت کے اندر صحبت کرنے سے کچھ لازماسی طرح اگر یوں کہا کہ واﷲ میں اس میں تجھ سے وطی نہ کروں گا یا اس شہر میں تجھے کبھی ہاتھ لگاؤں تو مجھ پر سوحج لازمیہ بھی ایلاء نہیں کہ جب اس گھر یا شہر کی تخصیص ہے توبغیر کچھ لازم آئے مفر موجود ہے جب چاہے اس گھر یاشہر سے باہر لے جاکر جماع کرسکتا ہے کچھ بھی لازم نہ آئے گابس بے جماع چار مہینے نہیں کتنی ہی مدت گزرجائے طلاق نہ ہوگیہاں وہ قسم یا تعلیق جھوٹی کی تو اس کا جرمانہ اسی طرح دیناہوگا کہ قسم خاص کفارہ اورتعلیق میں اختیار ہے چاہے وہ چیز بجالائے جو لازم مانی تھی چاہے قسم کے مثل کفارہ دے لے علی ہذا لقیاس جس جس صورت میں بغیر کچھ لازم آئے مفر ملتی ہو ایلا نہیںان سب قیود واحکام کی تصریح وتفصیل درمختار وردالمحتار میں ہے من شاء فلیرا جعھما (جس کا جی چاہے ان کی طرف رجوع کرے۔ت)پھر جب ایلاء متحقق ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ چار مہینے کے اندر اس عورت سے جماع کیا تو بتفصیل معلوم قسم کا کفارہ یا وہی امر شاق جس کا لازم آنا کہا تھا لازم آئے گا اور چار مہینے گزرگئے کہ اس سے جماع نہ کیا یا جماع مثلا بوجہ مرض یا حبس یا دوری مسافت کہ مدت کے اندر عورت تك نہیں پہنچ سکتا ناممکن تھا تو زبانی رجوع نہ کیا مثلا یوں نہ کہہ لیا کہ میں نے اپنی عورت کی طرف رجوع کی یا اپنے اس کہنے سے پھر گیا یا میں نے ایلاء باطل کردیا تو اس صورت میں عورت پر ایك طلاق بائن پڑجائے گی جس سے وہ خود مختار ہوجائے گی
فی الدرحکمہ وقوع طلقۃ بائنۃ ان بر ولم یطأولزم الکفارۃ او الجزاء المعلق ان حنث بالقربان فی رد المحتار
در میں ہے کہ ایلاء کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم پر قائم رہا اور وطی نہ کی تو طلاق بائنہ ہوجائے گی اور جماع کرنے پر کفارہ لازم ہوگا یا اگر کسی چیز کو معلق کیا تھا تو جماع کرنے پر وہ جزاء لازم ہوگی۔ردالمحتار میں
حوالہ / References درمختار باب الایلاء مطبع مجتبائی دہلی ١/ ٢٤٢
#14623 · باب الایلاء (ایلاء کا بیان)
قولہ ولم یطأعطف تفسیر والمراد بالوطی حقیقتہ عند القدرۃ او مایقوم مقامہ کالقول عند العجز فالمراد ولم یفئی ای لم یرجع الی ماحلف علیہ اھ
اس پر فرمایا کہ ماتن کا قول"ولم یطأ"(اور وطی نہ کی)عطف تفسیری ہےاور وطی سے حقیقی جماع مراد ہے اگر قدرت ہواگر قدرت نہ ہو تو جماع کے قائم مقام مثلا یہ کہنا کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیاکہےاس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی قسم پر قائم نہ رہے اور قسم کو پورا نہ کرے تو کفارہ لازم آئے گا اھ
وفی الدر عجز عجز احقیقیا لاحکمیا کا حرام لکونہ باختیارہ عن وطئھا لمرض باحدھما او صغرھا او جبہ او عنتہ او بمسافۃ لایقدر علی قطعھا فی مدۃ الایلاء او لحبسہ لابحق ففیؤہ نحوقولہ بلسانہ فئت الیھا او ر اجعتك او ابطلت الایلاء او ر جعت عما قلت ونحوہ اھ ملخصا۔
اور در میں ہے"عاجز ہوجائے"سے مراد حقیقی عجز ہے حکمی عجز نہیں جیسا کہ احرام کی حالت میں ہونا عجز حکمی ہے کیونکہ یہ عجز اختیاری ہےبیوی سے وطی کے عجز کا مطلب یہ ہے کہ خاوند یابیوی کو مرض لاحق ہویا بیوی صغیرہ ہویا خاوند نامرد یا آلہ سے محروم ہےیا اتنی دور مسافت ہے کہ قسم کی مدت میں اس کو طے کرناقدرت میں نہیں ہےیا ناحق قید میں ہےتو ان صورتو ں میں بیوی سے رجوع زبانی کرے اور یوں کہے کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیا ہے یا میں نے ایلاء یعنی قسم کو باطل کردیا ہےیا کہے میں نے قسم کھائی اس سے میں نے رجوع کرلیا ہے یا اس کی مثل الفاظ کہہ دےاھ ملخصا(ت)
مگر ایلاء طلاق مغلظہ نہیں کہ حلالہ کی ضرورت ہوعدت میں خواہ بعد عدت جب چاہیں باہم نکاح کرسکتے ہیںہاں اس سے پہلے کبھی دو طلاقیں دے چکا تھا تو آپ ہی حلالہ درکار ہوگا کہ اب یہ تیسری مل کر تین طلاقیں ہوگئیں یہ جدا بات ہے یا اگر(مدت عــــہ)کی قید نہ تھی بلکہ مطلق یا صراحۃ موبد تھا اور چار مہینے بے رجوع گزر گئے کہ ایك طلاق بائن پڑی پھر اس سے نکاح کرلیا اور پھر چار مہینے خالی گزرگئے تو دوسری پڑے گی پھر نکاح کرلیا اور یونہی چار مہینے گزرگئے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اب بے حلالہ نکاح میں نہ لاسکے گا
فی التنویر فی الحلف باﷲ وجبت الکفارۃ
تنویر میں ہے:ایلاء میںاگر اﷲ کی قسمکہ تو اس سے

عــــہ:اصل میں کرم خوردہ ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الایلاء دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۴۶
درمختار باب الایلاء مطبع مجتبائی دہلی ١/۲۴۳
#14624 · باب الایلاء (ایلاء کا بیان)
وفی غیرہ وجب الجزاء وسقط الایلاء والابانت بواحدۃ وسقط الحلف لو مو قتا لالوکان موبدافلو نکحھا ثانیا وثالثا ومضت المدتان من وقت التزوج فان نکحھا بعد زوج اخرلم تطلق وان وطئھا کفر لبقاء الیمین ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
رجوع کرنے پر کفارہ لازم ہوگااور اگرکوئی شرط رکھی تھی تو وہ جزاء لازم آئے گیاور ایلاء ساقط ہوجائیگا ورنہ قسم کو پورا کرنے پر بیوی ایك طلاق سے بائنہ ہوجائیگی اور حلف مقررہ وقت کیلئے ہو تو ختم ہوجائے گا اور اگر حلف ابدی ہوتو ختم نہ ہوگالہذا دوبارہ اور سہ بارہ نکاح کرنے پر ایلاء کی مدت پورا ہونے اور رجوع نہ کرنے پر دوسری اور تیسری طلاق سے بائنہ ہوتی رہے گی اور قسم کی مدت کا اعتبار نکاح کے وقت ہوگا لہذا اگر بیوی حلالہ کے بعد واپس اس کے نکاح میں آئے تو طلاق نہ ہوگی تاہم وطی کرنے پر کفارہ ضرور لازم ہوگاکیونکہ قسم ابدی ہونے کی وجہ سے باقی ہےواﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: ڈالور فرسٹ ایچ روڈمکان مسئولہ ابوبکر شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتاہے کہ میں نے کتاب میں دیکھاہے کوئی شخص حنفی مذہب کے موافق اپنی عورت سے کسی معاملہ میں ان بن ہوگئی اور چہارحیض تك کچھ تعلق نہ رہا تو ایك طلاق ہوگیپھر اس پر ایك اور حیض گزرنے سے دوسری طلاق ہوگی پھر ایك اور حیض گزرنے سے تیسری طلاق ہوگییہ صحیح ہے یانہیں
الجواب:
یہ محض بے اصل ہے اس کا پتا نہ مذہب حنفی میں ہے نہ کسی مذہب میںاصل حکم جو ہے کہ یہ شخص اپنی عورت سے قربت کی قسم کھائےرب عزوجل نے اسے چار مہینے کی مہلت دی ہےاگر چار مہینے کے اندر قربت کرلے گا تو عورت نکاح سے نہ نکلے گی کفارہ دیناہوگااور اگر چار مہینے کامل گزرجائینگے تو ایك طلاق بائن ہوجائے گیعورت نکاح سے نکل جائے گیپھر دوسرے یا تیسرے مہینے کوئی طلاق نہ ہوگی
للذین یؤلون من نسآىهم تربص اربعة اشهر
اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ لوگ جو بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں ان کی قسم کی مدت چار ماہ ہے
حوالہ / References درمختار باب الایلاء مطبع مجتبائی دہلی ١/٤٣۔٢٤٢
#14625 · باب الایلاء (ایلاء کا بیان)
فان فآءو فان الله غفور رحیم(۲۲۶)
و ان عزموا الطلاق فان الله سمیع علیم(۲۲۷) واﷲ تعالی اعلم۔
اگر اس دوران رجوع کرلیں تو اﷲ تعالی بخشنے والارحم فرمانے والاہےاور اگر وہ(رجوع نہ کرکے)طلاق کا عزم کئے ہوں تو اﷲ تعالی سننے والا جاننے والا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
__________________
#14626 · بابُ الخُلع (خلع کا بیان)
باب الخلع
(خلع کا بیان)

مسئلہ: از ریاست رامپور محلہ مردان خاں مرسلہ سید محمد نور صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زوجین میں باہم نزاع وجھگڑا رہتا تھا اور کسی صورت سے مصالحت نہیں ہوتی تھی آخر الامر زوجین نے چند اہل محلہ کو جمع کیاخلاصہ یہ کہ زوجین نے اپنی علیحدگی ہونے کا تصفیہ چاہااہل محلہ نے تصفیہ اس طرح پر کیا کہ جو اشیائے موجودہ زوجہ کی تحت میں تھیں مثل پلنگ وصندوق وزیور وغیرہ زوجہ کو دلوادئے گئے اور زوجہ سے کل مہر بخشوادیا اور زوج نے طلاق دی اور لفظ طلاق کا ایك مرتبہ یا دو مرتبہ کہاآیا یہ طلاق رجعی واقع ہوئی یا بائنکتب معتمدہ حنفیہ سے تفصیلا وتشریحا جواب مرحمت فرمائیے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس تصفیہ یاباہمی مکالمات یا قرائن حالات سے واضح تھا کہ یہ طلاق اس معافی مہر کے عوض دی گئی تو طلاق بائن ہوئی
فی فتح القدیر ثم ردالمحتار قال ابرئینی من کل حق یکون للنساء علی الرجال ففعلت فقال فی فورہ طلقتك وھی
فتح القدیر میں ہے اور پھر ردالمحتار میں کہ اگر خاوند نے بیوی کوکہا تو مجھے ان تمام حقوق سے بری کردے جو بھی بیوی کےلئے خاوند کے ذمہ ہوتے ہیںتو بیوی نے ایسا کردیا تو اس کے ساتھ متصل فورا خاوند نے
#14627 · بابُ الخُلع (خلع کا بیان)
مدخول بھا یقع بائنا لانہ بعوض اھ
کہہ دیاکہ میں نے تجھے طلاق دیبیوی اگر مدخولہ ہوتو یہ طلاق بائنہ ہوگی کیونکہ یہ طلاق بالعوض ہے اھ
وفی الذخیرۃ والخانیۃ وغیرھما وعنھما فی ردالمحتار تقع بائنۃ لانہ طلاق بعوض وھو الابراء دلالۃ اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
اور ذخیرہ خانیہ وغیرہما میںاور ردالمحتار میں بھی ان دونوں سے منقول ہے کہ یہ طلاق بائنہ ہوگی کیونکہ یہ طلاق بالعوض ہے اور حقوق سے بری کرنا وہ دلالۃ معاوضہ ہےاھ۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از چوبیس پرگنہ ڈاکخانہ حالی شہر مقام حاجی نگر چٹکل ڈیلی سردار مرسلہ امیر اﷲ میاں جمادی الاولی ھ
زید کی ہمشیرہ کی نابالغی کی حالت میں حسب رواج قوم بکر سے شادی ہوئیاب وہ سن ببلوغ کو پہنچیاور وہ قرآن شریف وغیرہ بھی پڑھی ہے اور صوم وصلوۃ میں از بس پابند ہےاور شرع شریف کے بھی برخلاف نہیں ہےاور اس کا بیان یعنی بکر بالکل تبرہ اسلام ہے یعنی نہ وہ نماز پڑھتا ہے نہ روزہ رکھتا ہے بلکہ اس لڑکی یعنی زید کی بہن کو نماز پڑھنے وروزہ رکھنے پر نقل ومضحکہ کرتا ہےاور وہ بکر تاڑی بھی پیتا ہےاور لڑکی کے ورثہ اسے ان فعلوں سے بہت روکتے اور سمجھاتے ہیں لیکن وہ ایك نہیں مانتااور لڑکی اسی وجہ سے بہت دن سے میکے میں ہےاور بکر کی چال چلن اب تك نہیں بدلیاس لئے لڑکی وارث بھی بہت تنگ ہیں کہ لڑکی کو کیا کریںکتنے دن تك بالغ لڑکی کو کنواری رکھیںاور لڑکی بھی بکر سے بیزار ہوکر چاہتی ہے کہ میں اس سے خلع کرالوںاور ورثہ کی بھی یہی رائے ہے۔آیا لڑکی ایسی حالت میں خلع کراسکتی ہے یانہیںاور بکر کے ساتھ اب تك خلوت صحیحہ بھی ہوئی نہیں۔
الجواب:
خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضائے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے تنہا زوجہ کے لئے نہیں ہوسکتااور نابالغہ کا نکاح جو اس کے باپ نے کیا ہو عورت بالغہ ہو اس پر اعتراض کا بھی حق نہیں رکھتیاور اگر باپ دادا کے سوا اور ولی نے کیا اور شوہر اس وقت عورت کا کفوتھا
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ فتح القدیر باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٦٠
ردالمحتار بحوالہ الذخیرۃ والخانیہ باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٦٦
#14628 · بابُ الخُلع (خلع کا بیان)
یعنی مذہب یانسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایساکم نہ تھا اس سے نکاح اولیائے زن کے لئے باعث ننگ وعار ہوتو اس صورت میں اگرچہ عورت کوبعد ببلوغ فسخ کرانے کا اختیار ملتا ہے مگر جبکہ بالغ ہوتے ہی فورا اس سے اظہار ناراضی کرے کہ مجھے یہ نکاح منظور نہیںچارہ کاریہ ہے کہ اس سے طلاق لی جائے یہ اس صورت میں کہ وہ اسلام پر قائم ہوسائل نے نہ لکھا کہ وہ نماز روزہ پر عورت سے کیا مضحکہ کرتا ہےا گر وہ مضحکہ نماز روزہ کی طرف راجع ہوتو وہ اسلام ہی سے نکل گیا اور عورت اس کے نکاح سے خارج ہوگئیاور اگر واقعی اب تك خلوت نہیں ہوئی تو عدت کی بھی حاجت نہیںابھی جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
#14629 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
باب الظھار
(ظہار کابیان)

مسئلہ: از بہیڑی پنچم محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت پرغصہ ہوکر زوجہ سے یہ لفظ کہے کہ میں تجھ کو طلاق دے دوں گا میں تجھے بجائے ماں بہن کے سمجھتا ہوں اگر تجھ سے کلام کروں تو اپنی بہن سے کلام کروں۔اس صورت میں عورت اس کے نکاح سے خارج ہوگئی یانہیںتو اس کی نسبت کیاحکم ہے۔بینواتوجروا
الجواب:
پہلا لفظ کہ"میں تجھے طلاق دے دوں گا"محض نامعتبر ہے کہ صرف وعدہ ہی وعدہ ہے اس سے کچھ نہیں ہوتایونہی پچھلا لفظ کہ"میں تجھ سے کلام کروں تو اپنی ماں بہن سے کلام کروں"کوئی چیز نہیں اگرچہ کلام کرنے سے ہمبستری ہی کرنا مراد لیا ہو
فی الھندیۃ لو قال ان وطئتك وطئت امی فلاشئی علیہ کذافی غایۃ السروجی ۔
ہندیہ میں ہے کہ اگرخاوند نے کہا اگر میں تجھ سے وطی کروں تو اپنی ماں سے وطی کروںتو خاوند پر کچھ لازم نہیں۔ غایۃ السروجی میں یونہی مذکورہے(ت)
رہابیچ کا لفظاس کی نسبت سائل مظہر کہ میری مراد اس کہنے سے یہ تھی کہ تجھے مثل اپنی ماں بہن کے اپنے اوپر
حوالہ / References فتاوٰ ی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٧
#14630 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
حرام سمجھتا ہوں طلاق دینا میری نیت میں نہ تھااگر یہ بیان واقعی ہے تو صورت ظہارکی ہے
فی العالمگیریۃ لو قال لھا انت علی مثل امی ان نوی التحریم اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہاراعند الکل کذافی فتاوی قاضی خاں اھ ملخصا وفی ردالمحتار عن البحر منی وعندی ومعی کعلی اھ اقول وانت تعلم ان سمجھتا ہوںبلساننا یودی مؤدی عندی بلسان العرب۔
عالمگیری میں ہے:اگر خاوند نے کہا"تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے"اگر اس سے حرام کرنے کی نیت کی ہوتو اس میں روایات کا اختلاف ہےاور صحیح روایت یہ ہے کہ یہ ظہار ہوگا سب کے نزدیك جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں ہے اھ ملخصا
اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ"اگر تو مجھ پر"کی بجائے"مجھ سےمیرے ہاںمیرے ساتھ"کے الفاظ کہے تو وہ بھی"مجھ پر"کے حکم میں ہوں گے۔ اقول:(میں کہتا ہوں)ہماری زبان میں"سمجھتا ہوں"کا لفظ عربی زبان میں"عندی"کے قائم مقام ہے۔(ت)پس صورت مسئوہ کا حکم یہ ہے کہ عورت نکاح سے نہ نکلی مگر اسے اس کے ساتھ صحبت کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا شہوت سے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا یا اسی طور پر اس کی شرمگاہ دیکھنا یہ سب باتیں حرام ہوگئیں اور ہمیشہ حرام رہیں گی جب تك کفارہ ادا نہ کرے
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار یصیربہ مظاھر افیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ من القبلۃ والمس والنظر الی فرجھا بشھوۃ اما المس بغیر شھوۃ فخارج بالاجماع نھروکذا یحرم علیھا تمکینہ ولایحرم النظر الی ظھرھا اوبطنھا ولاالی الشعر
تنویر الابصاردرمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ان الفاظ سے وہ شخص ظہار کرنے والا قرار پائے گالہذا بیوی سے وطی اور وطی کے دواعی اس پر حرام ہوجائیں گےوطی کے دواعی بوس وکنار اور شہوت سے بیوی کی شرمگاہ پر نظر ڈالنا وغیرہ ہیں لیکن بغیر شہوت چھونا اس حکم سے بالاجماع خارج ہےنہر اور یونہی بیوی پر خاوند کو جماع کا موقعہ دینا حرام ہےاوربیوی کی پشت پیٹچھاتی اور بالوں
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٧
ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٥
#14631 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
والصدر بحرای ولو بشہوۃ بخلاف النظر الی الفرج بشہوۃعن محمد لوقدم من سفرلہ تقبیلھا للشفقۃ حتی یکفر غایۃ لقولہ فیحرم اھ ملخصۃ۔
کو دیکھنا حرام نہیں ہے بحر یعنی اگرچہ شہوت سے ہواس کے برخلاف بیوی کی شرمگاہ کو شہوت سے دیکھنا حرام ہے اور امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ سے روایت ہے کہ اگر سفر سے آئے اور بیوی کو شفقت سے بوسہ دے لے تو جائز ہے حتی یکفر(کفارہ دینے تک)یہ ماتن کے قول فیحرم(پس حرام ہے)کی غایت ہے(ت)
اور کفارہ اس کا یہ ہے کہ ایك غلام آزاد کرے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دو مہینے کے روزے لگاتاررکھےان دنوں کے بیچ میں نہ کوئی روزہ چھوٹے نہ دن کو یارات کوکسی وقت عورت سے صحبت کرے ورنہ پھر سرے سے روزے رکھنے پڑیں گےاور جو ایسا بیمار یا اتنا بوڑھا ہے کہ روزوں کی طاقت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا ساٹھ مسکینوں کو گیہوں دے فی مسکین بریلی کی تول سے پونے دوسیرآٹھ آنے بھر زائد یا اس قدر کی قیمت ادا کرےجب تك اس کفارہ سے فارغ نہ ہو ہر گز عورت کو ہاتھ نہ لگائے
فی الدرالمختارھی تحریررقبۃ فان لم یجد ما یعتقصام شھرین ولوثمانیۃ وخمسین یوما بالھلال والافستین یوما متتابعین قبل المسیس فان افطر بعذراو بغیرہ اووطئھا فی الشھرین مطلقا لیلا او نھارا عامدا اوناسیا استأنف الصوم لا الا طعام فان عجز عن الصوم لمرض لایرجی برؤہ او کبر اطعم ستین مسکینا ولو حکما کالفطرۃ او قیمۃ ذلک وان غداھم وعشاھم واشبعھم جازا کمالو اطعم واحداستین یوما لتجدد الحاجۃ اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے:کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہےاگر یہ نہ ہوسکے تو جماع سے قبل دوماہ کے روزے رکھےاگرچہ چاند کے حساب سے یہ کل روزے اٹھاون بنیںورنہ دنوں کے حساب سے ساٹھ روزے مسلسل پورے کرےپھر اگر درمیان میں کوئی روزہ چھوڑدیا عذر کی بناء پر خواہ بغیر عذریا ان دوماہ میں بیوی سے جماع کرلیادن یا رات میںقصدا یا بھول کر جیسے بھی ہوتو پھر نئے حساب سے ساٹھ روزے رکھےاگر طعام کی صورت میں کفارہ ادا کرے اور کھانا کھلانے کے دوران بیوی سے جماع کرلیا تو نئے سرے سے کھانا کھلانا لازم نہیں آئے گاپھر اگر کسی ایسے مرض کی وجہ سے جس سے برأت کی امید نہیںروزہ نہ رکھ سکےیابڑھاپے کی وجہ سے روزے پر قدرت نہ ہوتو پھر
حوالہ / References ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٧٦۔٥٧٥
درمختار باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥١۔٢٥٠
#14632 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اگرچہ کھلانا حکمی ہو یعنی غلہ بمقدار فطرا نہ دے دے یا اس کی قیمت دے دےاور اگر صبح وشام دو وقت کھانے سے مسکینوں کو سیر کردیا تو یہ جائز ہوجائیگاجس طرح ایك ہی مسکین کو ساٹھ روز صبح وشام سیر کرکے کھلادیا تو بھی جائز ہے کیونکہ ایك مسکین کو بھی روزانہ نئی حاجت ہوتی ہے اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از متھرا محلہ کیشور پورہ مرسلہ سید مدد علی صاحب رئیس شعبان ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ زید از ہندہ الفتے گیرد ودر خلوت اظہار محبت گرداند ہندہ بگوید کہ تو مرا چرا دو ست پنداری کہ حمر ازوجہ خود بداری زید در جواب او مکرر وسہ کررا ز ہندہ و پیش ہمچشماں خود بگوید کہ من در محبت تو حمرا زوجہ خود را بجائے مادر وہمشیرہ خود میدانم وترادو ست می انگارم وزید دیگر بارہم عند الاستفسار در مجمع بیان کند کہ وقتے کہ ہندہ از من پر سیدہ بود من واقعی نسبت حمرا زوجہ خود اطلاق مادروہمشیرہ کردہ ام دریں صورت حمر ادر نکاح زید ماندہ است یانہوحکم شرع دریں مسئلہ چیست براہ نوازش مربیانہ فتوی بہ تدقیق وتحقیق ارشاد شود۔بینوا توجروا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین دین ومفتیان شرع متین کہ زید ہندہ سے محبت کرتا ہے اور خلوت میں اس سے اظہار محبت کرتے ہوئےہندہ کے اس سوال کے جواب میں کہتو مجھ سے محبت کیوں کرتا ہے جبکہ حمراتیری بیوی موجود ہے دو بار بلکہ تین بارہندہ اور دوسرے حاضرین کے سامنے زید نے کہا کہ میں تیری محبت میں اپنی بیوی حمرا کو اپنی ماں بہن کی جگہ سمجھتا ہوں اور تجھے پسند کرتا ہوںاور پھر زید ایك بار مجلس میں پوچھنے پر بیان کرتا ہے کہ جب ہندہ نے مجھ سے پوچھاتھا تو واقعی میں نے حمرا کی بابت یہ بات کہی تھی کہ وہ میری ماں بہن ہےتو کیا اس صورت میں حمرا زید کے نکاح میں باقی رہی یانہ ا س مسئلہ میں شرعی حکم کیاہےبراہ نواز ش تحقیق وتدقیق کے ساتھ فتوی ارشاد فرمائیں بینوا توجروا
الجواب:
در صورت مستفسرہ زید باطلاق ہمچو کلمات فساق آثم وبزہ کارست قال تعالی ما هن امهتهم-ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا ہمخواہ بہا مادراں ایشاں
مسئولہ صورت میں زید اپنے ان کلمات کی وجہ سے فاسقگنہگار اور جھوٹا ہےاﷲ تعالی نے فرمایا وہ(بیویاں) مائیں نہیں ہیں مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے اور بیشك یہ بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔پھر اگر زید نے ان کلمات سے بیوی کو طلاق دینے کا اراد ہ کیا
حوالہ / References القرآن الکریم ٥٨ /٢
#14633 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
نیندہم مادراں شاں ہم آناں اند کہ ایناں را زائیدہ اند وبدرستی ہمچناں ست کہ ایشاں ہرزہ می لافند ودر وغ مے بافندباز اگر زید بایں کلمہ ارادہ طلاق حمراداشت ودل برا خراجش از قید نکاح گماشت حمرا بیك طلاق بائن مطلقہ شد اگرچہ نوبت تکلم بایں کلمہ بسہ رسید باشد طلاق مغلظ نشود لان البائن لایلحق کما صرحوا بہ فی عامۃ الکتبپس برضائے حمرابے حاجت تحلیل حمراء رابسلك نکاح خود میتواں کشیدواگر بقصد ظہار گفت مظاہر گشت کہ حمرا ہمچناں در نکاح است اماجماع حمرا وبوسہ شہوت ودست بخواہش بہ تنش سودن ونگاہ رغبت بفرجش نمودن ہمہ ہا بروحرام شد وتن باینہا دادن برحمراحرامتاآنکہ زید کفارہ ظہار ادانمایدواو بندہ آزاد کردن ست کہ فائت جنسے از اجناس منفعت نیست ہمچو سمع وبصرو بیہوش وہردودست یا ہردو پایا یك دست وپاازیك جانب بریدہ وامثال اینہا در کفارہ بکار نیایندواگر بندہ نیابد دو ماہ پے در پے بے فصل روزے پیش ازجماع آں زوجہ روزہ دارد اگر در مدت صیام بآں زن نزدیکے نمود اگرچہ شبانہ اگرچہ بسہوتا روزہا از سرگیرد واگر نہایت پیرانہ سالی یا مرضے قوی بے امید بہی طاقت
اور دل میں بیوی حمرا کا نکاح سے خارج کردینے کا ارادہ کررکھا تھا تو حمرا کو ایك بائنہ طلاق ہوگئیاگرچہ کلمات تین بار کہے ہوں ایك ہی طلاق ہوگیتین طلاقوں سے مغلظہ نہ ہو گیکیونکہ بائنہ کے بعد بائنہ طلاق نہیں ہوتیجیسا کہ عام کتب میں اس کی تصریح ہےلہذا زید دوبارہ حمرا سے بغیر حلالہ حمرا کی رضا مندی سے نکاح کرسکتا ہےاور اگر زید نے یہ کلمات ظہار کی نیت سے کہے ہوں تو ظہار ہوگالہذا اس صورت میں حمرا زید کے نکاح میں بدستور رہے گی لیکن حمرا سے جماع یا بوس وکنارشہوت کے ساتھ چھوناشہوت کے ساتھ ا سکی شرمگاہ کو دیکھنا یہ تمام چیزیں زید پر حرام ہیں اور بیوی پر خاوند کو جماع کا موقعہ دینا حرام ہے تا وقتیکہ زید کفارہ ظہار ادا نہ کردےاور کفارہ ظہار یہ ہے کہ غلام ایسا آزاد کرے جو کسی عیب سے متصف نہ ہو جس کی وجہ سے اس کی کوئی جسمانی منفعت ختم ہوگئی ہو مثلا سمعبصرعقل وغیرہ منفعت ختم نہ ہولہذا نابینابہرامجنونبے ہوشدونوں ہاتھ یا دونوں پاؤں یا ایك ہی جانب کا ایك ہاتھ اور پاؤں کٹا ہوااور اس قسم کے دیگر عیب والا غلام کفارہ کی ادائیگی میں کار آمد نہ ہوگااور اگر غلام نہ ملے تو پھر پے درپے مسلسل بغیر ناغہ دو ماہ کے روزے اپنے بیوی کے ساتھ جماع سے قبل رکھے گااگر اس دوماہ کے روزوں میں بیوی سے دن یارات کو بھول کر یا قصدا جماع کرلیا تو نئے سرے سے پھر دوماہ کے روزے مسلسل رکھنے پڑیں گےاور اگر
#14634 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
اور اگر روز ہائے پیہم بروہ است شصت مسکین را طعامے ہمچو صدقہ فطر رساند یعنی بہر مسکین صاعے از جو یانیم صاع گندم یا قیمت اینہا تملیك کند یا شصت مسکین را کہ خوراك معتاد انسان جوان خوردن توانند شاموپگاہ شکم سیر خوراند چوں ایں چنیں کند حمرابر وحلال شود واگر مراوزید بایں کلمات مجرد حرمت حمرا بر خود بود بے قصد طلاق وظہار یعنی اورادر محبت تو برخود چناں حرام میدانم تاہم ظاہر خواہد شد وہماں احکام کفارہ در کارواگر ہیچ نیت نہ داشت ہمیں سخنے بود کہ بے قصد معنی برزبان راند آنگاہ ہیچ لازم نیا ید حمرا بدستور در نکاح وجماع ودواعی جملگی مباح ہمچناں اگر کلام مذکور بایں قصد گفت کہ زن خود در بروکرامت بجائے مادر وخواہر خویش میدانم تاہم چیزے لازم نیست۔
نہایت بڑھاپے یا کسی قوی مرض جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت بحال ہونے کی امید بھی نہ ہوتو پھر ایسا شخص ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار کھانا دے یعنی ہر مسکین کو ایك صاع جویانصف صاع گندم یا ان کی قیمت کا مالك بنائے یا ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائےجب یہ کام کرلے تو اس کی بیوی حمرااس کے لئے حلال ہوجائے گیاور اگر زید نے ان کلمات سے صرف حمرا کا حرام ہونا مراد لیا ہواور طلاق یا ظہار کی نیت نہ کی ہو یعنی یوں کہاتیری محبت میں اس کو میں اپنے اوپر حرام جانتا ہوں۔تو بھی ظہار ہی ہوگا اور کفارہ لازم ہوگااور اگر اس نے ان کلمات سے طلاقظہار یا حرام ہونا کچھ مراد نہ لیا اور صرف زبان پر یہ کلمات بغیر نیت جاری ہوگئے تو پھر زید کے ذمہ کچھ نہ ہوگااور حمرابدستور اس کی بیوی ہوگی اس سے جماع اور دواعی جماع سب مباح ہوں گےاور اگر زید نے ان کلمات سے یہ نیت کی ہو کہ حمرا میرے لئے ماں اور بہن کی طرح کرامت والی ہے تو بھی کچھ لازم نہ آئے گا۔(ت)
در تنویر الابصار ودرمختار و ردالمحتار فرمودہ اند ان نوی بانت علی مثل امی اوکلامی وکذا لوحذف علی"خانیۃ"برا او ظہارا او طلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ (قال فی البحر واذانوی بہ الطلاق کان بائناوقال خیر الرملی و کذا لو نوی الحرمۃ المجردۃ ینبغی ان یکون ظہارا
تنویر الابصاردرمختار اور ردالمحتار میں فرمایا ہے اگر بیوی کو یوں کہاکہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل یامیری ماں کی طرح ہے او یوں ہی اگر"علی"(مجھ پر)کا لفظ حذف کردے خانیہ۔ان الفاظ سے اگر تعظیم زوجہ یا طلاق یا ظہار کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے۔(بحرمیں فرمایا خاوند نے جب طلاق کی نیت کی تو طلاق بائنہ ہوگی۔اور خیرالدین رملی نے فرمایا:یوں ہی اگر صرف حرام ہونے کی نیت کی تو ظہار ہوگااور جھگڑے
#14635 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
وینبغی ان لایصدق قضاء فی ارادۃ البراذاکان فی حال المشاجرۃ وذکر الطلاق اھ)والاینوشیأ لغا وتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃم انتھت ملخصات
ومذاکرہ طلاق میں اگر یہ بات کہی ہو اور خاوند کہے کہ میں نے اس سے ماں کی طرح عزت وکرامت والی مرادلی ہےتو قاضی کو چاہئے کہ وہ اس کی تصدیق نہ کرے اھ)اور اگر یہ بات کرتے وقت کوئی نیت نہ تھی تو کلام لغو ہوگااور ادنی احتمال یعنی کرامت والا متعین ہوگاعبارات کی تلخیص ختم ہوئی۔
وفیھمایصیربہ مظاھرا فیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ (من القبلۃ والمس والنظر الی فرجھا بشہوۃ اماالمس بغیر شہوۃ فخارج بالاجماع نھر)وکذا یحرم علیھا تمکینہ ولایحرم النظر(ای الی طھرھا وبطنھا ولاالی الشعر والصدر بحرای ولو بشھوۃ بخلاف النظر الی الفرج بشہوۃ)وعن محمد لوقدم من سفر لہ تقبیلھا للشفقۃ(افادان التقبیل لایحرم الا اذا کان عن شہوۃ)حتی یکفر انتھت تلخیصاوفیھما الکفارۃ تحریررقبۃ
درمختار وردالمحتار میں ہے:ان الفاظ سے وہ شخص ظہار کرنے والاقرارپائے گا لہذا خاوند پر بیوی سے وطی اور اس کے دواعی یعنی بوس وکنارشہوت سے شرمگاہ کو دیکھنا وغیرہ حرام ہوں گےتاہم بغیر شہوت چھونا بالاجماع حرام ہونے سے خارج ہےنہر۔یونہی بیوی پر حرام ہے کہ وہ خاوند کو جماع کا موقعہ دےاور ظہار میں خاوند کو بیوی کی پیٹھپیٹبال اور چھاتی کو دیکھنا حرام نہیں ہے بحریعنی دیکھنا اگرچہ شہوت سے ہواس کے برخلاف شرمگاہ کو شہوت سے دیکھنا حرام ہے۔امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے کہ اگر خاوند سفر سے واپس آئے اور ازراہ شفقت بیوی کو بوسہ دے دے تو جائز ہے(اس سے معلوم ہوا کہ بوسہ لینا صرف شہوت سے حرام ہے)یہ حرمت
حوالہ / References درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت٢/٧٧۔٥٧٦
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩،ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/ ٧٦۔٥٧٥
#14636 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
ولو صغیرارضیعا او اصم ان صبیح بہ یسمعوالا لالافائت جنس المنفعۃ(ای البصر والسمع والنطق والبطش والسعی والعقل قھستانیوالمراد فوت منفعۃ بتمامھا)کالاعمی ومجنون الذی لایعقل والمقطوع یداہ اورجلاہ اویدورجل من جانب فان لم یجد مایعتق صام شہرین متتابعین قبل المسیس فان وطئھا ای المظاھر منھا فیھما ای الشھرین لیلااو نھارا عامدااو ناسیا استأنف الصوم فان عجز لمرض لایرجی برؤہ او کبر اطعم ای ملك ستین مسکینا کالفطرۃ قدر او مصرفا او قیمۃ ذلك وان اراد الاباحۃ غداھم وعشاھم جاز(ولوکان فیمن اطعمھم صبی فطیم لویجیزہ لانہ لایستوفی کاملا المراد بالفطیم من لایستوفی فی الطعام المعتاد) انتھت بالتلخیص۔
کفارہ کی ادائیگی تك ہوگی اھ تلخیصا۔درمختار وردالمحتار میں ہے کہ کفارہ یہ ہے کہ غلام آزاد کرے اگرچہ غلام دودھ پینے والا بچہ یا ایسا جو بلند آواز کو سن سکے اور جو کوئی آواز نہ سن سکے تو وہ جائز نہیں اور بدنی منفعت(مثلا دیکھناسننابولناپکڑناچلنا اور عقل سے کلیۃ محرومجائز نہیںقہستانیاور بدنی منفعت فوت ہونے سے مراد یہ ہےکہ وہ کلیۃ فوت ہو)جیسے نابینا مجنون بے عقلدونوں ہاتھدونوں پاؤں یا ایك پاؤں یاا یك ہی جانب سے ایك ہاتھ اور پاؤں کٹا ہواور اگر غلام نہ پائے تودوماہ کے روزے پے درپے جماع سے قبل رکھےاور اگرظہار والے نے ان دوماہ کے دوران دن یا رات کوبھول کر یا قصدا جماع کرلیا تو پھر نئے سرے سے دوبارہ دوماہ کے روزے رکھےپھر اگر وہ مظاہر کسی ختم نہ ہونے والی مرض یانہایت بڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا ملك کرےاور یہ کھانا فطر کی مقدار ہے اور مصرف بھی صدقہ فطر والا ہوگا یا اتنی مقدار غلہ کی قیمت دے دے اور اگر کفارہ کی مقدار کو مسکینوں کی ملکیت کی بجائے دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلادے تو جائز ہے(اگر مسکینوں میں کوئی شیرخواری سے فارغ بچہ ہوتو اس کو شمار نہ کرے کیونکہ وہ پوری خورا ك نہیں کھاسکتااور شیر خواری سے فارغ بچے سے مراد یہ ہے کہ وہ پوری عادیخوراك نہ کھاسکے)اھ ملخصا (ت)
حوالہ / References ردالمحتار،باب الکفارۃ،داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٩ ودرمختار،باب الکفارۃ،مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٠
#14637 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
این ست تفصیل صورایں قول منکر زید باارادہ کہ داشت نیکو داناست وخدائے اودانا تر ازواز خدائے ترسد وبہرارادہ کہ ایں سخن گفتہ باشد حکمش ازیں تفصیل برآرد براں کار بند واینہا حکم دیانت بود فاما قضاء درمسئلہ دائرہ صورت آخرہ را گنجائش نیست طرز کلام وسیاق وسباق وحال آں وقت ہمہ گواہ عدل ست کہ زیدآن ہنگام از ارادہ برو کرامت حمرا بمراحل دو ربود وضابطہ کلیہ شرع ست کہ از محتملات سخن ہرچہ خلاف ظاہر باشد زنہار قضاء پذیر انیفتد خاصۃ کہ دراں تحفیفے باشد مرمدعی را ودر نظر تحقیق سقوط ایں احتمال موجب سقوط احتمال چہارم نیز ست زیرا کہ ہم از ضوابط شرع ست کہ تاتوانند کلام عاقل بالغ رامہمل نگزارند لما فیہ من الحاقہ بالبھائم وقد عقد لذلك فی الاشباہ والنظائر قاعدۃ مستقلۃ آخر ندیدی کہ در مختار بحالت عدم نیت چوں کلام را لغو بمعنی غیر مثمرحکم کردند ہمچناں مہمل وبیمعنی نہ گزاشتند بلکہ برادنی محتملات یعنی معنی بروکرامت فرود آوردند حیث قال والاینو شیأ لغاویتعین الادنی ای البر ایں جاچوں معنی بررابار نیست چنانکہ شنیدی لاجرم برادنی البواقی کہ ظہار وتحریم
یہ زید کے ناپسندیدہ قول کی تفصیل ہے اور وہ اپنی نیت کے متعلق بہتر جانتا ہے اوراﷲتعالی زیادہ بہتر جانتا ہے اس لئے نیت کے بیان میں وہ اﷲ تعالی کا خوف کرےاس نے جو بات کی ہے اور جس ارادہ سے کیاس تفصیلی حکم کے مطابق اس پر عمل کرےیہ تمام بحث دیانۃ حکم کی تفصیل ہے لیکن قضاء اس کی اس بات میں آخری احتمال یعنی ماں جیسی عزت وکرامت والیمراد لینا جائز نہ ہوگااس کی گنجائشانداز کلام اور اس کے سیاق سباق اور حال کی وجہ سے نہیں ہوسکتی کینوکہ یہ تمام امور اس بات کی شہادت ہیں کہ یہاں وہ حمرا بیوی کو ماں جیسی عزت وکرامت دینے کے درپے نہیں ہے بلکہ یہ احتمال بعید ترہےاور شریعت کا ضابطہ کلیہ ہے کہ کلام میں وہ احتمال ساقط قرار پائیگا جو ظاہر کے خلاف ہوگاخصوصا جبکہ وہ احتمال قائل کےلئے تخفیف کا باعث بھی ہواور تحقیق نظر میں اس احتمال کا یہاں ساقط قرار پانا احتمال چہارم یعنی نیت نہ ہونے پر لغو ہوناکو بھی ساقط کردے گاکیونکہ یہ بھی شرعی ضابطہ ہے کہ جہاں تك ممکن ہو عاقل بالغ کے کلام کو مہمل ہونے سے بچایا جائےکیونکہ اس کی بات کو مہمل قرار دینا گویا اس کو حیوان قرار دینا ہے اشباہ ونظائر میں اس کے لئے مستقل قاعدہ بیان کیاگیا ہےکیا آپ نے درمختار کو دیکھا نہیں کہ اس کلام میں کوئی بھی نیت نہ ہونے کو لغو بمعنی غیر ثمر آور قرار دیتے ہوئے یونہی مہمل اور بے معنی قرار نہ دیا بلکہ اس کو
حوالہ / References درمختار باب الظہار مطبع متجبائی دہلی ١/٢٤٩
#14638 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
ست تنزیل کردہ آیدوخود چہ گونہ گو ارائے عقل سلیم باشد کہ زید بکرات ومرات درجواب ہندہ وبخطاب مرد ماں ایں کلام گوید وہیچ گاہ ارادہ ہیچ معنی بدل ندارد بلکہ ہمچناں بے قصد معنے در رنگ ہذیان برزبان آرد ہیچ احتمالے بعید تر ازیں احتمال می شناسی باز ہنگام استفسار سپید وآشکار اقرار مے کند کہ واقعی ہمخوابہ خود را برابر مادر خواہر نہادہ ام ونمی گوید کہ بفضولے سخنے بیمعنے بے نیت وقصدے بر د ادہ املاجرم قضاء از اں پنج صور ہمیں سہ صورت پیشین را مساغ ست پس اگر زید اعتراف بہ نیت یکے از انہا کند حکمش پیدا ست ورنہ انکارش قضاء نا مسموع وحمل بریکے ازانہا لازم فاما طلاق کہ اعلی وابعد ست وہیچ دلیلے براں نے از میاں رودوظہار یا مجرد تحریم کہ حاصل ہر دو یکبست باقی ماندواگر نیکو بنگری ملاحظہ حال عوام ہمیں معنی تحریم را متعین میکند اگر تفتیش ہمانا بینی کہ جزیں معنی ایں کلام را در ذہن ایشاں کمتر محملے بودہ باشد۔
ادنی احتمال قرار دے کر عزت وکرامت کے معنی پر محمول کیا__________ اور یوں کہا اگر کوئی نیت نہ کی تو لغو ہو کر ادنی معنی متعین قرار پائیگایعنی عزت وکرامت مراد ہوگا
جب یہاں عزت و کرامت والامعنی نہیں بن سکتا جیساکہ آپ سن چکے تو باقی پہلے تین احتمالات میں ادنی معنی مراد ہوگاجو کہ ظہار یا تحریم ہےزید چونکہ کئی مرتبہ ہندہ کے جواب میں اور لوگوں سے خطاب میں یہ بات کہہ چکا ہے تو عقل سلیم کیسے یہ گوارا کرلے کہ اس نے یہ بات بغیر نیت اور کوئی معنی مراد لئے بغیر بطور ہذیان زبان سے کہہ دی ہےتو اس احتمال سے بعید اور کوئی احتمال نہیں ہوسکتا۔پھر زید نے استفسار کرنے پر واضح طور پر اقرارکیا ہے کہ واقعی میں نے اپنی بیوی کو ماں اور بہن کے بر ابر قرار دیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ میں نے فضول اور بے معنی بات کی ہےتو لازم طور پر قضاء پانچ مذکورہ صورتوں میں سے پہلی تین صورتوں کو ہی متعین کیا جائےلہذا اگر زید ان تین میں سے کسی ایك کے ارادہ کرنے کا اعتراف کرے تو وہ حکم اس پر نافذ ہوجائے گاورنہ ان سب سے انکار قضاء قابل قبول نہ ہوگابلکہ کسی ایك احتمال پر کرنا ضروری ہوگاان میں طلاق کا احتمال تو آخری بات ہے اور بعید ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے تو ظہار یا تحریم جن دونوں کا حاصل ایك ہی ہے باقی رہ جاتے ہیںاور قاضی اگر بہتر سمجھے تو عوام کے حال کو ملاحظہ کرتے ہوئے تحریم والامعنی متعین قرار دے گا کیونکہ غور کرنے سے معلوم ہوجائے گا عوام اس لفظ سے تحریم سے کم معنی مراد نہیں لیتے اور کم از کم یہی مراد ہوتا ہے۔(ت)
بالجملہ زید اگر اقرار نیت طلاق کند طلاق بود ورنہ بہر حال در چشم قاضی ظہار
حاصل کلام یہ ہے کہزید اگر طلاق کا اقرار کرلے تو طلاق ہے ورنہ بہر حال قاضی کی نگاہ میں
#14639 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
باشد ودیگر ہیچ وزن دریں کار بمشابہ قاضی است لاشتراکھما کسائر الخلق فی قصر النظر علی الظہار واﷲ سبحنہ یتولی السرائر پس حمرا گر بگوش خود شنیدیا مرد عادل وثقہ اوراخبر رسانید کہ شوہرش ایں چنیں چانہ زدہ است ناچار خویشتن رازن مظاہر داند وتن بجماع در ند ہد و زید را بشہوت بوسہ چیدن ودر بر کشیدن ودست رسانیدن وشرمگاہ دیدن نگزار د نظر برفرج بے شہوت یا ہر غیر فرج اگرچہ سینہ وشکم اگرچہ بشہوت باکے نیست کما مرعن ردالمحتار پس اگر زید کفارہ ندہد وحمرا راازقصد جماع ودواعی جماع معاف نہ دارد وحمرا ہر چوں کہ تو اند خویشتن را از دست عــــہ اویعنی بعوض مہر خواہ ببدل مال دیگر طلاق از دستاند اگر بیند کہ طلاق ہم نمی دہد بپائے کہ دارد از خانہ گریزد وبحاکم رجوع آرد تا اورابالجبر بحبس وضرب بریکے از دو کار دارد
ظہار ہے اور کوئی بھی خواہ بیوی ہو وہ قاضی کی موافقت کرے گا کیونکہ وہ سب عام لوگوں کی طرح ظہار ہی سمجھیں گےاور اﷲ تعالی ہی باطنی امور کا مالك ہےپھر اگر حمرا نے اپنے کانوں سے سنا یا کسی عادل اور ثقہ آدمی نے اس کو اطلاع دی کہ اس کے خاوند نے یوں بات کی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو ظہار کی ہوئی سمجھے اور اپنے آپ کو زید سے جماع اور شہوت کے ساتھ اس کو ہاتھ لگانےبوس وکنار کرنے اور شرمگاہ کو بنظر شہوت دیکھنے سے محفوظ رکھےلیکن بغیر شہوت شرمگاہ یا کسی عضو کو مثلا چھاتیپیٹ اگرچہ شہوت سے چھوئے تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ ردالمحتار کے حوالہ سے بیان گزرا ہےپس اگر زید کفارہ نہ دے اور اس دوران حمرا سے جماع یا دواعی جماع کے متعلق باز نہ آئے تو پھر خود حمرا کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اس کے قبضہ سے کسی مال کے عوض خواہ مہر کے بدلے طلاق حاصل کرے اور اگر طلاق نہ دے تو پھر جس طرح ممکن ہو اس کے گھر سے جدا رہے اور حاکم وقت سے شکایت کرے تاکہ وہ جبرا اس کو باز رکھنے کےلئے قید کرے یاسزا دے اور دو کاموں میں سے ایك پر اس کو مجبور کرے کہ رکھنا ہوتو شریعت کے مطابق رکھے ورنہ اس کو آزاد کردےیعنی کفارے یا
فامساك بمعروف او تسریح باحسان کفارہ دہد یا طلاق وقد حرم علیہ ربہ ان یذرھا کالمعلقۃدرردالمحتار فرمود المرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ او اخبرھا عدل لایحل لھا تمکینہ والفتوی علی انہ لیس

عــــہ:مسودہ میں بیاض ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٢٩
#14640 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
طلاق پر مجبور کرے ان دو صورتوں کے بغیر کہ اس کو معلق چھوڑدے اﷲ تعالی نے حرام قرار دیا ہے۔ردالحتار میں ہے:جب عورت خود سن لے یا ثقہ عادل شخص اس کو مطلع کردے تو پھر عورت کو حلال نہیں کہ وہ خاوند کو جماع کا موقعہ دے اور اس معاملہ میں فتوی اس پر ہے کہ
ھا قتلہ ولاتقتل نفسھا بل تفدی نفسھا بمال او تھربوفی البزازیۃ عن الاوزجندی انھا ترفع الامر للقاضی فان حلف ولابینۃ لھا فالاثم علیہ اھ قلت ای اذالم تقدر علی الفداء او الھرب ولاعلی منعہ عنھا فلاینافی ماقبلہ اھ باختصاردردرمختار ست للمرأۃ ان تطالبہ بالوطی لتعلق حقھا بہوعلیہا ان تمنعہ من الاستمتاع حتی یکفروعلی القاضی الزامہ بہ بالتکفیر دفعا للضرر عنھا بحبس او ضرب الی ان یکفر او یطلق
آری اگر زید خبر دہد کہ من کفارہا ادا کردم وپیشتر ازیں معروف بکذب ودروغ گوئی نبودہ باشد آنگاہ حمرارا می رسد کہ سخنش باورکردہ بااو بہم آید واز جماع وغیرہ اباننماید اگر در واقع زید بہ نیت ظہار آں سخن گفتہ وہنوز کفارہ نہ دادہ بغلط اظہار نمودہ است تا گناہ برگردن اوست حمر ا از جرم یکسوست فی الدرالمختار فان قال کفرت صدق مالم یعرف بالکذب ۔
عورت کو مرد کا قتل کرنا یا خود کشی کرنا جائز نہیںبلکہ عورت مال کے بدلے اپنے آپ کو آزاد کرائے یا اس کے گھر سے دورہوجائےاس معاملہ میں عورت خود فیصلہ کرنے میں قاضی کا حکم رکھتی ہےاور بزازیہ میں اوزجندی سے منقول ہے کہ بیوی اپنے معاملہ کو قاضی کے ہاں پیش کرے پھرعورت کے گواہ نہ ہونے کی صورت میں اگر خاوند قسم دے دے تو پھر گناہ خاوند پر ہے اھمیں کہتا ہوں یہ جب ہے کہ عورت خود کو فدیہ دے کر یا بھاگ کر نہ بچا سکے اور نہ ہی اپنے آپ کو خاوند سے روك سکےلہذا بزازیہ کا بیان پہلے کلام کے منافی نہ ہوگا اھ اختصارادرمختار میں ہے:عورت کو وطی کے مطالبہ کا حق ہے کیونکہ عورت کا حق وطی کے ساتھ متعلق ہے اور اس کے ساتھ عورت پر لازم ہے کہ وہ کفارہ کے بغیر خاوند کو جماع سے باز رکھےاور قاضی پر لازم ہے کہ مردکو کفارہ دے کر عورت کے حقوق کی ادائیگی پر مجبور کرے تاکہ عورت کا ضرر ختم ہوسکےوہ یوں کہ قاضی اس کو قید کرکے یا سزادے کر طلاق یاکفارہ پر مجبور کرسکتا ہے ہاں اگر زید قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے ظہار کا
حوالہ / References ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٣
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
#14641 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
کفارہ دے دیا ہے جبکہ زید قبل ازیں دروغ گوئی اور جھوٹ بولنے میں معروف و مشہور نہیں ہے تو اس صورت میں حمرا کو جائز ہے کہ وہ زید کی بات کو تسلیم کرکے جماع وغیرہ کا موقعہ دے دے اور انکار نہ کرے اور اگر فی الواقع زید نے ظہار کی نیت سے وہ کلام کیا تھا اور ابھی تك کفارہ ادا نہ کیا ہو اور غلط بیانی کرتا ہو کہ میں نے کفارہ ادا کردیا ہے تو پھر گناہ زید پر ہوگا حمرااس گناہ سے بری ہوگی۔درمختار میں ہے:اگر خاوند کہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو اس کی بات تسلیم کی جائے گی بشرطیکہ وہ اس سے قبل جھوٹ بولنے میں معروف نہ ہو۔(ت)
فقیر گویم آں چناں کہ ایں بدترین تدبیرے است مر کسے را کہ در واقع ظہار کردہ وکفارہ ندادہ غلط اخبار ہمچناں نیکو بدترے ست مر کسے را کہ معروف بکذب نیست وسخن مذکور بے نیت طلاق وظہار و تحریم برزبانش آمد وبوجہ دلالت حالے چنانکہ ایں جاستقضاء دعوی ارادہ بر مقبول نیفتا دکہ اگر کفارہ ندہد زن بجماع تن نہ دہد واگر راضی شود آثمہ گردد واگر ایں کس کفارہ دہد مالے بے سبب از دست مے رود یا مشقت روزہ دو ماہہ بر سر آید زیرا کہ دیانۃ بوجہ عدم موجب کفارہ برولازم نبودہ است پس باید کہ بسوئے مولی سبحنہ وتعالی از شناعت آں قول منکر توبہ آرد ایں توبہ کفارہ اش خواہد شد باز زن را گوید من کفارہ ادا کردم او کفارہ معلومہ ظہار پندارد ورضا بجماع دادن براورا روا گر ددایں ست تنقیح حکم بروجہ کافی واﷲ تعالی اعلم۔
میں فقیر کہتا ہوں کہ یہ بہت بری تدبیر ہے کہ فی الواقع کوئی شخص ظہار کرکے کفارہ نہ دے کر غلط خبر دے اس سے زیادہ بر اوہ شخص ہے جو معروف بکذب نہ ہو اور کہے کہ میں نے ظہارطلاق اور تحریم کی نیت کے بغیر وہ کلام کی ہے دلالت حال کی بنا پر جس طرح کہ اس مسئولہ صورت میں ہے تو قاضی اس کے اس دعوی کو قبول نہ کرے گا اور اگر کفارہ نہ دیا ہوتو عورت کو لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاوند کے جماع سے دور رکھےاور اگر وہ اس پر راضی ہوئی تو گنہگار ہوگیاور اگر فی الواقع وہ شخص سچا ہے تو اس کفارہ میں مال دینا یا دو ماہ کے روزوں کی مشقت برداشت کرنا بے مقصد ہے کیونکہ دیانۃ اس پر کفارہ دینا واجب نہیں ہےتو اسے چاہئے کہ وہ اﷲ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس لغو بات پر توبہ کرے اور بخشش طلب کرے یہ توبہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے تو اس کے بعد بیوی کو کہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے اور بیوی اس کو کفارہ ظہار سمجھتے ہوئے جماع پر راضی ہوجائے تو جائز ہوگایہ اس مسئلہ کی تنقیح ہے جو کافی ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دیندار ومشائخ باوقار اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کو بحالت غصہ میں ماں بہن کہہ دیا مگر نان نفقہ دیتا رہا عورت ا س کے نکاح میں رہی یا بحکم شرع شریف جاتی رہی
#14642 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
الجواب
زوجہ کو ماں بہن کہنا(خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارےیا یوں کہے تو میری ماں بہن ہےسخت گناہ وناجائز ہے۔
قال اﷲ تعالی ما هن امهتهم-ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا
جو روئیں ان کی مائیں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے اور وہ بیشك بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔
مگر اس سے نہ نکاح میں خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہودرمختار میں ہے:
الاینو شیأ او حذف الکاف لغا وتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویاابنتی ویااختی ونحوہ ۔
اگر کوئی نیت نہ کی یا حرف تشبیہ(کاف)کو ذکر نہ کیا ہوتو یہ نیت لغوہے اور احتمالات میں سے ادنی احتمال یعنی عزت وکرامت متعین ہوگا اور یہ کہنا کہ تو میری ماں ہے یا میری بیٹی ہے یا میری بہن ہے یا اس کی مثل الفاظمکروہ ہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ حذف الکاف بان قال انت امی ومن بعض الظن جعلہ من باب زید اسد در منتقی عن القہستانی قلت ویدل علیہ مانذکرہ عن الفتح من انہ لابد من التصریح بالاداۃ ۔
قولہ کاف تشبیہ کو حذف کرنا مثلا یوں کہتا ہے تو میری ماں ہے نہ کہ جیسے بعض نے گمان کیا کہ"زید اسد"کی طرح حرف تشبیہ کو محذوف ماناجائےاور تشبیہ بببلیغ ہے جیسا کہ درمنتقی میں قہستانی سے منقول ہے قلت میں کہتا ہوں کہ حرف تشبیہ کے بغیر ہونے پر دلیل وہ ہے جو ہم عنقریب فتح سے نقل کریں گے کہ ظہار کےلئے حرف تشبیہ کا ذکر ضروری ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
انت امی بلاتشبیہ فانہ باطل وان نوی ۔
حرف تشبیہ کے بغیر"تومیری ماں ہے"کہنا اگرچہ طلاق کی نیت سے کہا باطل ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ٥٨ /٢
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٥٧۷
ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٤
#14643 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایك طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تك کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہوگیااور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایك غلام آزاد کرےاسکی طاقت نہ ہوتو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھےاس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے کما امربہ المولی سبحنہ وتعالی فی القران العظیم(جیسا کہ اﷲ سبحانہ وتعالی نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا ہے۔ت)اور اگر ان میں سے کوئی نیت نہ تھی تو یہ لفظ بھی لغو ومہمل ہوگا جس سے طلاق یا کفارہ وغیرہ کچھ لازم نہ آئے گا۔ درمختار میں ہے:
ان نوی بانت علی مثل امی وکامی وکذا لوحذف"علی"خانیۃبرا اوظہارا اوطلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والالغا۔
اگر(طلاق کی)نیت کرے گا تو بیوی بائنہ ہوجائیگیجب یوں کہے تو مجھ پر میری ماں کی مثل یا ماں کی طرح ہےیاحرف علی(مجھ پر)کو حذف کرکے کہےخانیہ۔ان الفاظ سے کرامت زوجہ یا ظہار یا طلاق کی نیت کرے تو اس کی نیت صحیح ہوگی جو بھی نیت کرے وہی حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے اور اگر کوئی نیت نہ کی ہوتو یہ بات لغو ہوگی۔(ت)
ہندیہ میں خانیہ سے ہے:
ان نوی التحریم اختلف الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہارا عند الکل واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم۔
اگر اس سے صرف تحریم کی نیت کی تو اس میں روایات مختلف ہیںصحیح یہ ہے کہ سب کے نزدیك ظہار ہوگا۔
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ:از کلکتہ امام باغ لین نمبر مسجدمرسلہ حافظ عزیز الرحمان صاحب جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص طلاق کے معنی و مطالب سے آگاہ نہ ہو اور وہ بالعوض طلاق بائن کے اپنی زوجہ سے یوں کہے کہ تو ماں ہے میریاور اس کو مطلقہ لوگوں میں مشہور کرے اور اپنے اوپر حرام سمجھے تو آیا اس شخص کی زوجہ مطلقہ ہوگی یا نہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٧
#14644 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
الجواب:
عورت کو یوں کہنے سے کہ تو اس شخص کی ماں بہن یا بیٹی ہے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق کہےردالمحتار میں ہے:
انت امی بلاتشبیہ فانہ باطل وان نوی ۔
اگر تشبیہ کے بغیر"تو میری ماں ہے"کہا تو یہ باطل ہے اگرچہ طلاق کی نیت سے کہے(ت)
لوگوں میں اسے مشہور کرنا اور اپنے اوپر حرام سمجھنا اگر انہیں لفظوں کی بناء پر تھا تو عنداﷲ یہ بھی محض باطل کہ بربنائے غلط فہمی تھااسی طرح اگر اس کے بیان سے ظاہر تھا کہ یہ اقرار طلاق انہیں الفاظ کی بناء پر ہے تو عند الناس بھی طلاق نہ ہوئیہاں اگر بیان و قرائن سے یہ امر ظاہر نہ ہو تو مطلقہ مشہور کرنے سے عندالناس اس پر طلاق مانی جائے گی اپنے اقرار پر ماخوذ ہوگا۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل طلق امرأتہ وھو صاحب برسام فلما صح قال قد طلقت امرأتیثم قال انی کنت اظن ان الطلاق فی تلك الحالۃ کان واقعاقال مشائخنا رحمھم اﷲ تعالی حین مااقر بالطلاق ان ردہ الی حالۃ البرسام وقال قد طلقت امرأتی فی حالۃ البرسام فالطلاق غیر واقع وان لم یرد الی حالۃ البرسام فھو ما خوذبذلك قضاء ۔
کسی نے مرض برسام کی حالت میں بیوی کو طلاق دی جب تندرست ہوا تو اس نے طلاق کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ میرا گمان تھا کہ اس مرض کی وجہ سے طلاق ہوجاتی ہےتو ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اقرار طلاق کے وقت اگراس نے طلاق کو مرض برسام کی طر ف منسوب کیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو برسام کی حالت میں طلاق دی ہے تو طلاق نہ ہوگی اور اگر اس وقت اس نے طلاق کو مرض برسام کی طرف منسوب نہ کیاتو قضاء طلاق ہوجائے گی۔(ت)
اسی میں ہے:
صبی قال ان شربت فکل امرأۃ اتزوجھا فھی طالق
ایك نابالغ بچے نے کہا اگر میں نوش کروں تو جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے
حوالہ / References ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٤
فتاوی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ٢/٢١٣
#14645 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
فشرب وھو صبیفتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقعفقال ھذا البالغ آرے حرام است برمن قالواھذا اقرار منہ بالحرمۃ فتحرم امرأتہ وھو الصحیح لانہ ما اقربا لحرمۃ ابتداء وانما اقر بالسبب الذی تصادقا علیہ وذلك السبب باطل انتہیواﷲ تعالی اعلم۔
اس کے بعد اس نے نابالغی میں نوش کرلیا پھر اس نے بالغ ہونے پر نکاح کیا اور اس کے سسرال نے گمان کیا کہ اس کہنے پر طلاق ہوگئیاس پر اس لڑکے بالغ نے کہا ہاں بیوی مجھ پر حرام ہےتو فقہاء نے فرمایا چونکہ لڑکے نے حرام ہونے کا اقرار کیا ہے لہذا اس کی بیوی اس پر ابتداء حرام ہوگئیاور بعض نے فرمایا کہ حرام نہ ہوگیاور یہی صحیح ہے کیونکہ اس نے ابتداء حرام ہونے کا اقرار نہیں کیا بلکہ سسرال کی بات پر اس نے یہ کہا ہےاور سسرال والوں کے کہنے کا سبب بچپن کی بات ہے جوکہ باطل ہے کیونکہ نابالغ کی طلاق نہیں ہوتی انتہیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از پیلی بھیت محلہ اشرف خاں مرسلہ عزیز الرحمان خاں ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی ماں سے یہ بات کہی کہ تیری لڑکی تاحیات تیریمثل اپنی بہن کے سمجھتا ہوںتو اس میں کیا حکم شرع ہےبینواتوجروا
الجواب:
اگر ان لفظوں سے اس کی مراد ظہار یا تحریم تھی یعنی تیری حیات تك اپنی زوجہ سے ظہار کرتا ہوں یا تیری حیات تك اسے حرام سمجھتا ہوںجب تو ظہار ہوگیا یعنی نکاح بدستور باقی ہےمگر حیات خوشدامن تك بے کفارہ دئے عورت کے پاس جانا بلکہ شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا بھی حرام ہوگیاکفارہ ایك غلام آزاد کرناار اس کی قدرت نہ تو دو مہینے کے لگاتارروزےاس کی طاقت بھی نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کے مثل اناج یا اس کی قیمت دینا یا دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلاناجب تك ساس زندہ ہے بغیر کفارہ دئے عورت کو ہاتھ لگائے گا تو گنہگار ہوگاتو بہ کرےاور پھر نزدیك نہ ہو جب تك کفارہ نہ ادا کرلےہاں بعد انتقال خوشدامن ظہار جاتارہے گااور بے کفارہ عورت سے جماع حلال ہوجائے گاپھر اگر ساس زندہ ہے اور یہ شخص کفارہ نہیں دیتا جس کے سبب عورت حلال ہوجائے تو منکوحہ اس پر دعوی کرسکتی ہے کہ یا تو کفارہ دے کر جماع کرے یا طلاق دے کہ عورت پر سے ضرر دفع ہو
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ٢/٢٣٥
#14699 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
فی تنویر الابصار فیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ حتی یکفر فان وطی قبلہ استغفر وکفر للظھار فقط ولایعود قبلھا الخ وفیہ الکفارۃ تحریررقبۃ فان لم یجد صام شھرین متتا بعین قبل المسیسفان عجز اطعم ستین مسکینا کالفطرۃ او قیمۃ ذلك وان غداھم و عشاھم جاز اھ ملخصا وفی الدر لو قیدہ بوقت سقط بمضیہ اھ فی ردالمحتار کفارۃ بحر اھ
تنویر الابصار میں ہے:ظہار کرنے والے پر بیوی سے وطی اور اس کے دواعی حرام ہوجاتے ہیں تا وقتیکہ وہ کفارہ دےاگر اس نے کفارہ سے قبل وطی کرلی تو توبہ کرکے صرف ظہار کا کفارہ دے اور پھر کفارہ سے قبل ایسا نہ کرے الخاور اسی میں ہے ظہار میں کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہےاگر یہ نہ ہوسکے تو پھر وطی سے قبل دو ماہ کے روزے مسلسل پورے کرےاگر یہ بھی نہ ہوسکے بلکہ عاجز ہوتو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے ہر مسکین کو صدقہ فطر کی مقدار دے یا اسکی قیمت دےاگر صبح وشام دو وقت کا کھانا پیٹ پھر کر کھلادے تو جائز ہے اھ ملخصااور درمختار میں ہے اگر ظہار کو کسی مقررہ وقت کے ساتھ مقید کیا ہو تو اس وقت کے گزرجانے پر ظہار ختم ہوجائیگااھ اس پر ردالمحتار میں ہے کہ اگر اس مقررہ وقت کے اندر جماع کرنا چاہے تو کفارہ دئے بغیر جائز نہیں بحر اھ
وفی الدر للمرأۃ ان تطالبہ بالوطی وعلی القاضی الزامہ بہ بالتکفیر دفعاللضرر عنھا بحبس او ضرب الی ان یکفر او یطلق اھ ملخصا۔
اور درمختار میں ہے کہ ظہار میں بیوی کو جماع کے مطالبے کا حق ہے لہذا قاضی خاوند کو کفارہ ادا کرنے پر مجبور کرے تاکہ بیوی کے ضرر کا ازالہ ہوسکے یوں کہ قاضی اس کو قید کرے یا سزادے یہاں تك کہ خاوند کفارہ ادا کرے یا عورت کو طلاق دے اھ ملخصا(ت)
ظاہر ان لفظوں سے یہی نیت تحریم و ظہار ہوتی ہے خصوصا جبکہ ایك وقت تك اسے محدود کردیا کہ تیری حیات تك ایسا سمجھتا ہوںاس کا حکم وہ تھا اور شاید اس نے یہ الفاظ بارادہ طلاق کہے تھے تو ظاہرا ایك طلاق بائن ہوکر عورت نکاح سے نکل گئی کسی حد تك محدود کرکے طلاق دینا بھی طلاق دائم ہے اور وہ حد نامعتبر عــــہ
عــــہ:مسودہ میں بیاض ہے
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
درمختار باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥١۔٢٥٠
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٦
درمختار باب الظہار مطبع مجتبا ئی دہلی ١/٢٤٩
#14700 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
واما"الحسبان"ففی مثل الکلام انما یرادبہ التحقیق للتشبیہ لانفیہ عن نفس الامر کمن اراد الامتناع عن تناول شئی یقول احسبہ علی کالخنزیر فانما یرید انہ محرم علیہ کمثلہبخلاف مااذا قیل لہ اطلقت امرأتك فقال عدھا او احسبھا مطلقۃ حیث لایقع وان نوی وکذااحسبی انك طالق کمافی الخانیۃ فانہ ظاہر فی نفی الطلاق فی نفس الامروالفرق بینھما لایخفی علی من عرف العرف فافھم واعلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
"سمجھنا اور خیال کرنا"اگر ایسے کلام میں ہوتو اس سے تشبیہ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے اور واقع سے اس کا انتفاء مراد نہیں ہوتاجس طرح کوئی شخص کسی چیز کو لینے سے انکار کرتے ہوئے کہے کہ اس کو میں اپنے لئے خنزیر سمجھتا ہوں تو اس سے اس چیز کا اس پر قطعا حرام ہونا مراد ہوتا ہے جس طرح خنزیر حرام ہےاس کے برخلاف طلاق کے معاملہ میں جب کوئی پوچھے کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہےتو جواب میں یوں کہے"تو طلاق شمار کرلےیا کہے تو اس کو مطلقہ خیال کرلے"تو یہاں طلاق نہ ہوگی اگرچہ وہ طلاق کی نیت سے کہے اور یوں ہی حکم ہے اگر بیوی کو کہے کہ تو اپنے آپ کو طلاق والی سمجھ لےجیسا کہ خانیہ میں مذکور ہےکیونکہ یہاں یہ الفاظ ظاہری طور پر طلاق کے وقوع میں نفی پر دلالت کرتے ہیں اور دونوں مقاموں میں ان الفاظ کا فرق عرف کو جاننے والے پر مخفی نہیں ہےسمجھو اور غور کرو۔واﷲتعالی اعلم(ت)
اور اگر کچھ نیت نہ تھی یا اعزازواکرام خواہ الفت ومحبت کی نیت تھی یعنی اپنی بہن کے برابر عزیز یا پیاری جانتا ہوں تو یہ الفاظ لغو و فضول ہیں عورت بدستور عورت اور کفارہ وغیرہ کچھ دینا نہیں مگر اگر اس وقت کی گفتگو وحالت شاہد ہو کہ یہ الفاظ اس نے بلانیت یا بہ نیت اعزاز و محبت نہ کہے تھے تو حاکم اس دعوے کو نہ مانے گا تو عورت اسے قبول کرسکتی ہے
فان المرأۃ کالقاضی کما فی الفتح وغیرہ وفی الدر المختار ان نوی بانت علی مثل امی اوکامی وکذالو حذف"علی"خانیۃبرااوظھارااوطلاقا صحت
کیونکہ عورت اس معاملہ میں قاضی کا حکم رکھتی ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہےاور درمختار میں ہے اگر بیوی کویوں کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل یا میری ماں کی طرح ہےاور یونہی اگر"علی"(مجھ پر)کا لفظ حذف کرکے کہا ہوخانیہ۔ان الفاظ سے اگر
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ٢/۲۱۰
ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٦٨
#14702 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینو شیأ او حذف الکاف لغا وتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃ اھ
تعظیم زوجہ یا طلاق یا ظہار کی نیت کی ہوتو اس کی نیت صحیح ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے(لہذا اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی ہوتو طلاق بائنہ ہوگی)اور اگرکوئی نیت نہ کی ہو یا حرف تشبیہ کو ترك کردیا ہوتو یہ کلام لغو ہوکر احتمالات میں سے ادنی احتمال یعنی عزت وکرامت متعین قرار پائے گا اھ
وفی الھندیۃ عن الخانیۃ وان نوی التحریم اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہار عند الکل اھ وفی ردالمحتار عن العلامۃ خیر الدین الرملی وینبغی ان لایصدق قضاء فی ارادۃ البراذاکان فی حالۃ المشاجرۃ و ذکر الطلاق اھواﷲ تعالی اعلم۔
اور ہندیہ میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر حرام کرنا مراد ہو تو اس میں روایات مختلف ہیں اور صحیح یہی ہے کہ سب کے ہاں ظہار ہوگا اھ ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے منقول ہے:مناسب ہوگا کہ اس صورت میں کرامت وعزت والااحتمال مراد لینے کی قضاء تصدیق نہ کی جائے جبکہ لڑائی جھگڑے اور طلاق کے مذاکرہ کے وقت یہ الفاظ کہے ہوں اھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر شوہر عادات زوجہ کو عادات محارم سے تشبیہ دے یا عورت اپنے اعضاء خواہ عادات کو محارم شوہر کے اعضاء وعادات سے تشبیہ دے تو ان صورتوں میں کفارہ لازم اور اس کی اداتك عورت حرام ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
تاوقتیکہ اپنی زوجہ یا اس کے ان اعضاء کو جن سے کل جسم تعبیر کیا جاتا ہے مثلا عربی میں راسورقبہوظہروفرجیا اس کے ایك جزوشائع مثل نصفوربعوثلث کو کسی محرم ابدی سے تشبیہ نہ دے ظہار نہیں ہوتا پس تشبیہ عادات زوجہ بعادات محارم موجب حرمت و کفارہ نہیں
فی الدرالمختار ھو تشبیہ زوجتہ او مایعبربہ عنھا من اعضائھا او تشبیہ جزشائع منھا بمحرم
درمختار میں ہے کہ بیوی کو یا اس کے کسی ایسے عضو کو جس سے اس کی ذات کو تعبیر کیا جاسکتا ہو یا غیر معین حصہ مثلا نصف وغیرہ کو ابدی محرمات کے ساتھ
حوالہ / References درمختار باب اظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٧
ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٦
#14703 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
علیہ تابید ۔
تشبیہ دینے کوظہار کہتے ہیں۔(ت)
اور عورت تو اگر اعضائے شوہر کو بھی اپنے محارم کے اعضاء سے تشبیہ دے تو شوہر اس پر حرام نہیں ہوجاتا
کما فی الدرالمختار وظہارھاعــــہمنہ لغو فلاحرمۃ اھ۔
جیسا کہ درمختار میں ہے کہ عورت کاخاوند کو اپنے محرمات کے ساتھ تشبیہ دینا لغو کلام ہے اس سے حرمت نہ ہوگی(ت)
پس جبکہ اس کا قول خود اپنے حق میں مؤثر نہ ہوا تو حق شوہر میں کیا تاثیر کرے گا اور اپنے اعضاوعادات محارم شوہر سے تشبیہ دے گی تو کیونکہ اس پر حرام ہوجائے گی اور سبب کفارہظہار ہے جب ظہار نہ پایا گیا تو کفارہ کہاں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از گوڈھوا ضلع پلاموں مرسلہ محمد اسمعیل صاحب سود اگر چرم جمادی الآخرہ ھ
ایك شخص اہل اسلام نے اپنے گھر میں میاں بی بی سے جھگڑا اور غصہ کی حالت میں یہاں تك بیتاب ہوگیا کہ اپنی بی بی کو ماں کہہ بیٹھا اور اس کا سینہ منہ میں رکھ لیا اور بی بی نے بھی غصہ کی حالت میں کہا کہ اگر تو مجھ کو ماں کہتا ہے تو میں بھی تجھ کو بیٹا کہتی ہوںبعد اس جھگڑے کے جب ان دونوں کاغصہ رفع ہوا تو اپنے اس کلام اور اس فعل سے نہایت نادم وشرمندہ ہوئے اور کہنے لگے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کے مواخذہ میں ہم دونوں گنہگار ہوںاور اسی وقت کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سب علیحدہ کرلیااب وہ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ اس بارے میں مطابق حکم خدا اور رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علمائے دین کیا فتوی دیتے ہیںآیا میاں بی بی ہیں یا نہیںاور یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ بی بی کا دودھ شوہر کے منہ میں نہیں آیا تو بی بی نکاح
عــــہ:علی قولہ محمد المصحح المفتی بہ قال فی العالمگیریۃ لاتکون المرأۃ مظاھرۃ من زوجھا عند محمد رحمہ اﷲ تعالی والفتوی علیہ وھوالصحیح کذافی السراج الوھاج مفتی اعظم
عــــہ:یہ مسئلہ امام محمد کے تصیح شدہ اور مفتی بہ قول پر ہے فتاوی ہندیہ میں ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك عورت اپنے شوہر سے مظاہر نہیں ہوتیفتوی اسی پر ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ سراج وہاج میں ہےمفتی اعظم(ت)
حوالہ / References درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٨
درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٤٩
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٧
#14704 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
کے اندر ہے یا باہرطلاق ہوا یانہیں
الجواب:
صورت مذکورہ میں وہ اسے ماں اور اسے بیٹا کہنے سے دونوں گنہگار ہوئے
قال اﷲتعالی و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا کہ بیشك لوگوں کا(بیوی کو ماں بہن کہنا)بری بات اور جھوٹ ہے(ت)
مگر نکاح میں کچھ فرق نہ آیااور پستان منہ میں لینا تو کوئی چیز نہیںاگر دودھ پی بھی لیتا تو وہ پینا حرام ہوتامگرنکاح میں اس سے خلل نہ آتا کہ ڈھائی برس کی عمر کے بعد دودھ سے حرمت نہیں ہوتی اور دونوں کو جدا رہنے کی کوئی حاجت نہیںوہ بدستور زوج و زوجہ ہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از درؤ ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیزخاں رمضان المبارك ھ
زید کی عورت نے بحالت غصہ زید سے کہا کہ تمہارے نزد یك میریایك بال زیر ناف کے برابر بھی قدر نہیں۔اس پر زید نے ازراہ تمسخر اس سے یہ کہا کہ میں تجھ کو اپنے باپ اور دادا سے زیادہ سمجھتا ہوں۔ایسی حالت میں زید پرظہار کا حکم لازم آتا ہے یانہیں
الجواب:
یہ لغو ومہمل الفاظ ہیں انہیں ظہار یا کفارے سے کوئی تعلق نہیں فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
التشبیہ بالرجل ای رجل کان لایکون ظہارا ۔
عورت کو کسی بھی مردسے تشبیہ دینا ظہار نہیں ہوتا۔(ت)
بدائع ونہر میں ہے:
من شرائط عــــہ الظہارکون المظاھر بہ
ظہار کی شرائط میں سے یہ ہے کہ ظہار میں جس سے تشبیہ

عــــہ:لکن مافی العالمگیریہ فیہ تفصیل حیث قال لامرأتہ علی کظہر الخ۔ عــــہ:لیکن عالمگیری میں اس کے متعلق تفصیل ہے جہاں انہوں نے بیان کیا کہ کوئی بیوی کو کہے تو مجھ پر پیٹھ کی طرح الخ(ت)
حوالہ / References القرآن ٥٨/٢
فتاوی قاضی خاں کتاب الظہار نولکشور لکھنؤ
فتاوی ہندیۃ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٦
#14706 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
من جنس النساء ۔واﷲ تعالی اعلم۔
دی جائے وہ عورت کی جنس ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ : ازلکھنؤ امین الدولہ پارك مرسلہ محمد ابراہیم ایس اینڈ سنگرکمپنی شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے رات کے وقت اپنی زوجہ کو واسطہ صحبت کے بلایا تو بیوی کے انکار کرنے پر زید نے یہ قسم کھائی کہ اب میں تم سے صحبت کروں تو اپنی ماں سے زنا کروںبعدہ زید بہت شرمندہ ہوا اور توبہ واستغفار کیااس معاملہ میں زید کو کیا کرنا چاہئےبالفرض اگر زید نے اسی شب بعد استغفار صحبت بھی کی تو کیا کرنا چاہئے
الجواب:
اس نے بر اکیا براکیاتوبہ و استغفار کے سوا اور کچھ لازم اس پر نہیںصحبت کی تو کچھ حرج نہ ہوانہ اس سے نکاح پر کچھ حرف آیاکمایظھر بمراجعۃ الفتح والدر وغیرہما(جیسا کہ فتح اور در وغیرہ کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:خاوند نے ماں بہن کہاطلاق نہیں دییہ صورت مسئلہ ہےلہذا عندالشرع کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
صورت مذکورہ میں طلاق ثابت نہیںنہ یہ ظہارصرف برا کہااور گناہگار ہواتو بہ کرے وبس
قال اﷲ تعالی
و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا-و ان الله لعفو غفور(۲) واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲ تعالی نے فرمایا اور وہ بیشك بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشك اﷲ ضرور معاف کرنیوالااور بخشنے والا ہے۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر بریلی گڑھی مسئولہ عبدالکریم صاحب ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مکان پرجبکہ اس کی بیوی اپنے میکہ گئی ہوئی تھیاپنے بھائی وغیرہ کے روبرو کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو اس وقت سے ماں بہن کے برابر جانتا ہوں اس کو خبر کردو کہ وہ اپنا ٹھکانا دوسری جگہ کرلےاور یہ بات اس وقت اس نے کہی تھی کہ جب اس کی دوسرے شخص سے لڑائی ہوئی تھی اور لوگوں نے اس کو جھوٹی خبر دی تھی کہ تم کو تمہارے سسرنے پٹوایا ہےیہ حالت سخت غصہ
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل واماالذی یرجع الی المظاھر بہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/٢٣٣
#14707 · بابُ الظّھار (ظہار کابیان)
کی تھیآیا اس کو اب نکاح کرنا چاہئے یا نکاح سابق جائزرہا
الجواب:
یہ لفظ کہ"اس کو خبر کردوکہ وہ اپناٹھکانا دوسری جگہ کرلے"اگر بہ نیت طلاق نہ کہے جب تو طلاق نہ ہوئی اور اس کا قسم کھاکرکہہ دینا مان لیا جائے گا کہ اس کی نیت طلاق کی نہ تھی اور اگر بہ نیت طلاق کہے تو طلاق ہوگئینکاح جاتا رہانئے سرے سے اس کی مرضی سے اس سے نکاح کرسکتا ہے اگر پہلے دو طلاقیں نہ دے چکا ہو حلالہ کی حاجت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
________________
#14708 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
باب العدۃ
(عدت کا بیان)

مسئلہ : رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت جس کی عمر اس وقت بارہ برس ہے کوئی علامت ببلوغ کی پائی نہیں جاتیاس حالت میں اس کو شوہر طلاق دے تو عدت بیٹھے گی یانہیںاور اس کی شادی کو عرصہ تین برس کاگزرا تھا۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر اب تك شوہر سے خلوت نہ ہوئی تھی تو اصلا عدت نہیں اسی وقت اس کا نکاح کیا جاسکتا ہے اور اگر شوہر اس کے پاس جا چکا تھا تو چار مہینے دس دن انتظار کرائیںاگر اس مدت میں عورت کو حمل ظاہر ہوتو وضع حمل تك عدت بیٹھےاور اگر حمل ظاہر نہ ہوتو عدت تین ہی مہینے گزشتہ گزرچکی آگے انتظار نہ کرایا جائے
فی ردالمحتار فی البحر عن الامام الفضلی انھا اذاکانت مراھقۃ لاتنقضی عدتھا بالاشھربلایوقف حالھا حتی یظھر ھل حبلت من ذلك الوطی ام لافان ظھر حبلھا اعتدت بالوضع والافبالاشھر قال فی
ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں امام فضلی سے منقول ہے کہ جب مطلقہ عورت مراہقہ ہوتو وہ اپنی عدت مہینوں کے حساب سے نہ گزارے بلکہ اس کی عدت کا حال اس بات پر موقوف رہے گا کیا اس کو حمل ٹھہرا ہے یانہیںاگر واضح ہوجائے کہ حمل ہوا ہے تواس کی عدت وضع حمل قرار پائے گی ورنہ عدت تین ماہ
#14710 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
الفتح ویعتد بزمن التوقف من عدتھا اھ قلت یعنی اذاظہر عدم حبلھا یحکم بمضی العدۃ بثلاثۃ اشھر مضت ویکون زمن التوقف بعدھا لغوا حتی لو تزوجت فیہ صح عقدھا وفی نفقات الفتح فی الخلاصۃ عدۃ الصغیرۃ ثلثۃ اشھر الااذاکانت مراھقۃ فینفق علیھا مالم یظھر فراغ رحمھا کذافی المحیط اھ من غیر ذکر خلاف وھو حسن اھ کلام الفتحلکن ینبغی الافتاء بہ احتیاطا قبل العقد بان لایعقد علیھا الا بعدالتوقف لکن لم یذکروامدۃ التوقف التی یظھر بھا الحمل وذکر فی الحامدیۃ عن بیوع البزازیۃ انہ یصدق فی دعوی الحبل فی روایۃ اذاکان من حین شرائھا اربعۃ اشھر وعشرلااقلوفی روایۃ بعد شھرین وخمسۃ ایام وعلیہ عمل الناس اھ ومشی فی الحامدیۃ علی الاخیرۃ وفیہ نظر لان المراد من مسألتنا التوقف بعد مضی ثلثۃ اشھر فالاولی الاخذ بالروایۃ الاولی فاذامضت
شمارہوگی اور فتح میں ہے کہ توقف کا زمانہ بھی عدت میں شامل کیاجائے گا اھ قلت(میں کہتا ہوں)اگر حمل ظاہر نہ ہو تو گزشتہ تین ماہ کو عدت قرار دیا جائیگا اور ان تین ماہ کے بعد والا توقف بیکار ہوگا حتی کہ اگر اس نے تین ماہ کے بعد اور نکاح کرلیا تو وہ صحیح ہو گا اور فتح میں نفقات کی بحث میں خلاصہ سے منقول ہے کہ نابالغہ کی عدت تین ماہ ہے ہاں اگر وہ مراہقہ ہوتو پھر اس کو خاوند اس وقت تك نفقہ دیتا رہے گا جب تك رحم کا خالی ہونا واضح نہ ہوجائےمحیط میں یوں ہی مذکور ہے اھ۔اور اس میں اختلاف کو ذکر نہیں کیااور یہ بہتر کلام ہےفتح کا کلام ختم ہوالیکن نکاح سے قبل اس پر فتوی مناسب ہے تاکہ توقف کے بغیر عدت کا فیصلہ نہ کردیا جائےلیکن یہاں فقہاء نے توقف کی عدت کو ذکر نہیں کیا وہ کتنی مدت ہے جس سے حمل ظاہر ہوسکے حامدیہ میں مذکور ہوا کہ بزازیہ کے مسائل بیوع میں ہے کہ اگر لونڈی خریدی ہو تو ایك روایت کے مطابق مالك کے دعوی حمل کی تصدیق تب کی جائے گی جب لونڈی کو خریدے ہوئے چار ماہ دس دن گزر چکے ہوںاس سے کم مدت میں اس دعوی کی تصدیق نہ ہوگیاور دوسری روایت میں ہے کہ دو ماہ پانچ دن کے بعد تصدیق ہوسکے گی جبکہ لوگوں کا عمل اسی پر ہے اھ۔اور حامدیہ نے دوسری روایت پر عمل کیا ہے اور اس میں اعتراض ہے کہ ہماری بحث اس صورت میں ہے جب تین ماہ گزرجانے کے بعد توقف ہو لہذا پہلی
#14711 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
اربعۃ اشہروعشرولم یظھر الحبل علم ان العدۃ انقضت من حین مضی ثلثۃ اشھر اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔
روایت پر عمل بہتر ہوگاتو جب چار ماہ دس دن گزرجائیں اور حمل ظاہر نہ ہوتو معلوم ہوگا کہ اس کی عدت گزرچکی ہے جب تین ماہ پورے ہوچکے تھے اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از بنگالہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ صغیرہ مطلقہ ہو یا متوفیہ الزوج مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ شرعا اس کے لئے عدت ہے یانہیں اور حد صغر کہا ں تك ہےبینواتوجروا(بیان کرکے اجر حاصل کرو)
الجواب:
وفات کی عدت عورت غیر حامل پر مطلقا چار مہینے دس دن ہے خواہ صغیرہ ہو یاکبیرہمدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اور طلاق کی عد ت غیر مدخولہ پر اصلا نہیں اگرچہ کبیرہ ہو اور مدخولہ پر یعنی جس سے خلوت واقع ہولی اگرچہ خلوت فاسد ہو یانکاح فاسد میں حقیقۃ وطی کرلی غیر حیض والی کےلئے تین مہینے ہیں خواہ صغیرہ ہو کہ ابھی حیض آیا ہی نہیں یا کبیرہ آئسہ کہ اب عمر حیض کی نہ رہی۔درمختار میں ہے:
العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا اوکبر بان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھر ان وطئت فی الکل ولو حکما کالخلوۃ ولو فاسدۃ والعدۃ للموت اربعۃ اوکتابیۃ تحت مسلم ولو عبدافلم یخرج عنھا الاالحامل والخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ اھ ملتقطا۔
بچپن کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو کہ وہ ابھی نو سال سے کم عمر ہے یا بڑھاپے کی وجہ سے کہ وہ عمر رسیدہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ حیض والی نہیں ہے توان کی عدت تین ماہ ہوگی جبکہ حقیقۃ وطی یا حکما یعنی خلوت ہوچکی ہواگرچہ خلوت فاسدہ ہواور موت والی کی عدت مطلقا چار ماہ دس دن ہے بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اگرچہ نابالغہ ہو یا کتابیہ مسلمان کے نکاح میں اگرچہ مسلمان غلام ہو موت کی عدت کا یہی حکم ہے اس حکم سے صرف حاملہ بیوی خارج ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہےاور فاسد نکاح میں خلوت سے عدت واجب نہیں ہوتی اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠١
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥٦۔٢٥٥
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥٦۔٢٥٥
#14712 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
عورت کے لئے حد صغر سال کی عمر تك ہے اس سے کم عمر میں جوانی ہر گز نہیں ہوتیاس کے بعد سال کی عمر تك احتمال ہے اگر آثار ببلوغ حیض آنا یا احتلام ہونا یا حمل رہ جانا پایا جائے تو بالغہ ہے ورنہ جب سال کامل کی عمر ہوجائے گی جوانی کا حکم کردیں گے اگرچہ آثار کچھ ظاہر نہ ہوں بہ قال وعلیہ الفتوی کما فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر(یہی کہا اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ در وغیرہ مشہور کتب میں ہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ: از ٹھاکر دوارہ ضلع مرادآباد بازار گنج مرسلہ نجیب اﷲ صاحب عطار شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك عورت کو اس کے خاوند نے اپنے گھر سے نکال دیا اور کہہ دیا کہ تجھ کو نہیں رکھتایہاں تك کہ اس عورت نے اپنے خاوند کے ڈرانے کی غرض سے خود کشی کا قصد کیا اور کچہری سے بجرم خودکشی تیس روپیہ جرمانہ عورت پر ہوئےاس کے خاوند کو کچھ سروکار نہ ہوا بلکہ کچہری میں بیان کیا کہ میں نے عورت کو چھوڑدیا مجھ سے کچھ غرض نہیںاس روز سے وہ عورت دوسرے مرد کے پاس ہےاس کے خاوند سے چند بار کہا گیا کہ عورت اپنی کو طلاق دےوہ کہتا ہے میں طلاق کو نہیں جانتا میں نے عرصہ پانچ سال کا ہوا چھوڑ دیا۔اب نکاح دوسرے آدمی کے ساتھ جس کے ساتھ وہ رہتی ہے جائز ہے یا نہیں
الجواب:
اگر واقعی کچہری میں اس نے وہ الفاظ کہے کہ"میں نے اس کو چھوڑ دیا"تو اسی وقت سے طلاق ہوگئیاس وقت سے اگر تین حیض شروع ہوکرختم ہوگئے تو دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر ابھی ختم نہ ہوئے تو جب ختم ہوجائیں اس کے بعد کرسکتی ہے اور یوں جو عزیزوں کے یہاں رہتی ہے یہ حرام ہےاور وہ جو اس نے کہا"پانچ برس سے چھوڑچکا ہوں"اس کا اعتبار نہیں اگرچہ کچہری میں"چھوڑنے"کا لفظ پہلے کہا تھا تو جب سے عدت ہے اور اگر یہ لفظ پانچ برس سے چھوڑنے کا پہلے کہا تھا تو جب سے ہے غرض جو لفظ کہا ہو اس کے بعد تین حیض شروع ہوکر ختم ہونا درکار ہے بغیر اس کے دوسری جگہ نکاح حرام ہےوھو تعالی اعلم۔
مسئلہ: از میونڈی ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب شوال ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عدت بیوی کی کتنی ہے اور مطلقہ کی کتنی
الجواب:
حاملہ کی عدت وضع حمل ہے مطلقہ ہو یا بیوہاور غیر حاملہ بیوہ کی عدت اگر خاوند کسی مہینے کی پہلی شب یا پہلی تاریخ میں مرا اگرچہ عصر کے وقتچار مہینے دس دن ہیں یعنی چار ہلال اور ہوکر اس
#14714 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
پانچویں ہلال پر وقت وفات شوہر کے اعتبار سے دس دن کامل اور گزرجائیں اورپہلی تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں مرا تو ایك سوتیس دن کامل لئے جائیں اور مطلقہ اگر حیض والی ہے تو بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں اور اگر صغیرہ کہ ابھی حیض نہیں آتا یا کبیرہ کہ حیض آنے کی عمر گزرگئی تو عدت تین مہینے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از شہر یکم ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کانکاح نابالغی میں کردیا تھا چونکہ لڑکی اس لڑکے کے قابل نہ تھی لہـذا اس نے ہرطرح کی تکلیفیں پہنچائیںلڑکی کے والدین نے اسے اپنے گھررکھ لیااس لڑکے نے چار بار برادروں کو جمع کرکے کہا میں طلاق دے دوں لیکن برادروں نے اسے باز رکھااب جبکہ اس نے دوسرا نکاح کرلیا تو برادروں نے طلاق دلوادیتو ایسی صورت میں عدت معتبر ہوگی یانہیں
الجواب:
اگر لڑکی قابل جماع تھی اگرچہ خاص اس مرد کے قابل نہ ہو اور خلوت صحیحہ ہوچکی تھی عدت لازم ہے ورنہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: مولنا حافظ حشمت علی صاحب لکھنوی طالب علم مدرسہ اہلسنت بریلی محرم ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دے دی بوجہ اس کی بدچلنی کے۔ہندہ طلاق کے بعد عمرو کے پاس رہی اور ہندہ کو عمرو سے حمل رہ گیاعمرو نے ہندہ کے ساتھ بعد گزرنے ایام عدت نکاح کرلیا اور بعد نکاح عمرو کو اس بات کا علم ہواکہ ہندہ کو مجھ سے حمل ہےآیا یہ نکاح جائز ہے اور یہ کہ بعد طلاقنکاح کے واسطے عدت کا زمانہ کیا ہے
الجواب:
طلاق کی عدت حیض والی کے لئے تین حیض ہیں جو بعد طلاق شروع ہوکر ختم ہوجائیںاور جسے حیض ابھی نہیں آیا یا حیض کی عمر سے گزرچکی اس کے لئے تین مہینہ اور حمل والی کے لئے وضع حمل۔یہ احکام قرآن عظیم میں منصوص ہیں اور عمرو نے جو قبل عدت اس سے تعلق کیا اور حسب بیان سائل اس سے حمل رہ گیا تو وہ کون سے ایام عدت تھے جو اس نے گزارےاس کی عدت تین حیض تھےاور حاملہ کو حیض آتا نہیںاور حاملہ کی عدت وضع حمل ہےاور ابھی وضع حمل ہوا نہیںیہ نکاح فاسد ہوااس پر فرض ہے کہ عورت کو فورا الگ کردے اور انتظار کیا جائے اگر یہ بچہ طلاق شوہر سے دو برس کے اندر پیدا ہوتو شوہر ہی کا ہے اور اب وہ عدت سے نکلی اس سے نکاح ہوسکتا ہے اور دو برس کے بعد پیدا ہوتو شوہر کا نہیں اب نکاح ہر حال جائز ہوگا۔واﷲتعالی اعلم۔
#14715 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مسئلہ : از موضع کیسر پورضلع بریلی مسئولہ خدا بخش انصاری ربیع الآخرھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح ایك بیوہ عورت سے مقرر ہواجس وقت نکاح ہوا برادری کےلوگ جمع ہوئے اور ان کے روبرو عاقد نے دریافت کیا کہ اس عورت میں کوئی نقص یا جھگڑا تو نہیں ہے تو اس میں دو شخصوں نے کہا کہ کچھ نہیں بیوہ ہے آپ نکاح پڑھا دیںآخر کلام نکاح ہوگیا اب جس وقت شب کو خلوت ہوئی تو معلوم ہوا کہ عورت حاملہ ہےآخر پولیس کو خبر ہوگئی تو داروغہ پولیس نے عورت سے دریافت کیااس نے جس کا حمل تھا اس کو نہ بتایا اور شخص کانام لے دیاپولیس نے اس کے سپرد کردیااور اہل برادری میں کئی شخص اس بیوہ کو جانتے تھے مگر پوشیدہ رکھا ظاہر نہ کیااب شرع شریف سے جس کے گھروہ عورت ہے اس کو کیا حکم ہے اور عاقد وکیل و شاہدوں کےلئے کیا حکم ہے
الجواب:
سائل کا بیان ہے کہ شوہر کے انتقال کے ڈیڑھ برس ہوا اور حمل وہیں کا معلوم ہوتا ہےاس صورت میں جس شخص سے اس کا نکاح ہوا ہے اس پر لازم ہے کہ عورت کو اپنے سے جدا دوسرے مکان میں رکھے اور بچہ پیداہونے کا انتظار کرےاگر شوہر کی وفات سے پورے دو برس کے اندر بچہ پیدا ہوجائے تو یہ نکاح باطل محض ہوا اور جولوگ واقف حال شریك نکاح تھے سخت گنہ گار ہوئےبعد بچہ پیداہونے کے پھر یہ شخص اس سے نکاح کرسکتا ہےاور اگر وفات شوہر کو دو برس کامل گزرجائیں اس کے بعد بچہ پیدا ہو تو یہ نکاح صحیح ہوگیا دوبارہ نکاح کی حاجت نہیںبچہ پیداہونے کے بعد اسے ہاتھ لگانا بھی جائز ہوجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:از جلیسر ضلع ایٹہ بالائے قلعہ مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نے نکاح کیا جس کو ابتك چھ ماہ ہوئےبعد تین ماہ کے اس کا خاوند مرگیااور اس کو خلوت صحیحہ نہیں ہوئی اب تك اپنے ماں باپ کے یہاں ہےمدت عدت وفات کی دو صورتیں ہیںیاوہ بعد وفات کے حاملہ ہے یا حمل کا انتظار ہےبہر حال اس کو حمل نہیں ہوانیز ایام معمولی آتے ہیںمدت چار ماہ دس دن محض اس غرض سے تھی کہ اس عرصہ میں ظہور حمل ہوجائے گااس صورت میں وہ قبل از عدت وفات عقد ثانی کرلے یا بعد گزرنے چارماہ دس دن کے نکاح کرےعدت طلاق تین قروء ہیںاگر اس کو خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تو اس کو تین قروء کی ضرورت نہیںبعد طلاق فورا عقد کرسکتے ہیںعلی ہذا صورت مسئولہ کی شکل بھی یہی ہےجبکہ وہ خاوند کے یہاں نہیں گئی اور خلوت صحیحہ نہیں نصیب ہوئی تو پھر عدت وفات کی کیاضرورت ہےبہر حال دونوں صورتیں ایك ہیںلہذا جو حکم شرع
#14717 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
ہے وہ سرآنکھوں پر کوئی دلیل عقلی ضرور ہونی چاہئے تاکہ دونوں صورتوں میں تمیز ہوجائے کوئی مسئلہ شرعی ایسا نہیں جو کسی اصول پر مبنی نہ ہوعقل کاحکم تو یہی ہے کہ جو عورت ہمبستر نہ ہو اس پرعدت کی ضرورت نہیں پھر چار ماہ دس دن کے انتظار کی کیاضرورت یتربصن بانفسهن اربعة اشهر و عشرا (وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ت)محض ظہور حمل کےلئے چار ماہ دس دن کا انتظار ہےسو صورت ہذا میں نہ خلوت نہ حمل فتاوی عالمگیری اکثر جزئیات سے مملو ہے جو جزئی چا ہو اس میں نکال سکتے ہیں شاید اس میں اس خاص جزئی کا ذکر ہو لیکن دلیل عقلی کی ازحد ضرورت ہے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اس پر چار مہینے دس دن عدت فرض ہے اس سے پہلے نکاح بلکہ نکاح کی گفتگو بھی حرام ہے۔درمختار میں ہے: وللموت اربعۃ اشھرو عشرا مطلقا وطئت اولا ولو صغیرۃ اوکتابیۃ تحت مسلم ولو عبد افلم یخرج عنھا الاالحامل ۔
موت کی عدت مطلقا چارماہ دس دن ہے بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اگرچہ نابالغہ ہویا کتابیہ مسلمان آزاد کے نکاح میں ہو یا مسلمان غلام کے نکاح میںصرف حاملہ کا حکم اس سے علیحدہ ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے(ت)
احکام الہی میں چون وچرا نہیں کرتےالاسلام گردن نہادن نہ کہ زبان بجرأت کشادن(اسلامسر تسلیم خم کرنا ہے نہ کہ دلیری سے لب کشائی کرنا۔ت)بہت احکام الہیہ تعبدی ہوتےہیں اور جو معقول المعنی ہیں ان کی حکمتیں بھی من وتو کی سمجھ میں نہیں آتیں۔صبح کو دومغرب کی تینباقی کی چار چار رکعتیں کیوں ہیںتعرف براءت رحم کےلئے ایك حیض کافی تھا تین اگر احتیاطا رکھے گئے تو عدت وفات حیضوں سے بدل کر مہینے کیوں ہوئی اور ہوتی تو تین مہینے ہوتی جس طرح آئسہ وصغیرہ میں تین حیض کی جگہ تین مہینے قائم فرمائے ہیں ایك مہینہ دس دن اور زائد کیوں فرمائے گئےغرض ایسے بیہودہ سوالوں کا دروازہ کھولنا علوم وبرکات کا دروازہ بند کرنا ہےمسلمان کی شان یہ ہے:
سمعنا و اطعنا ﱪ غفرانك ربنا و الیك المصیر(۲۸۵) ۔
ہم نے سنا اور اطاعت کیتیری بخشش کے طلبگار ہیں اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٣٤
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٦
القرآن الکریم ٢ /٢٨٥
#14719 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
صور ت طلاق تعرف براء ت رحم کے لیے ہے قبل خلوت براءت خود معلوم پھر عدت کیوں ہو اور عدت وفات میں صرف یہی مقصود نہیں بلکہ موت شوہر کا سوگ بھی۔اور اس میں خلوت ہونے نہ ہونے کو کچھ دخل نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لایحل لامرأۃ تؤمن باﷲ والیوم الاخر ان تحد علی میت فوق ثلث لیا ل الاعلی زوج اربعۃ اشھر وعشرا ۔رواہ البخاری ومسلم عن ام المومنین ام حبیبۃ و زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالی عنہما۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲاورآخر پر ایمان رکھنے والی عورت کےلئے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی موت کے بغیر کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرےصرف خاوند کے موت کے لئے چار مہینے دس دن سوگ ہے۔اس کوبخاری اور مسلم نے ام المومنین ام حبیبہ اور زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ :ازقصبہ کریالی تحصیل کھاریاں ضلع گجرات پنجاب ڈاکخانہ سرائے اورنگ آباد مسئولہ غلام یسین صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر شیر خوارہ مسماۃ نور بانو کا نکاح ہمراہ مسمی عمرو جس کی عمر پچیس سال ہے کردیابعد نکاح کے اس دختر شیر خوارہ کو اس کی والدہ ایك مکان میں جہاں عمرو جس کے ساتھ مسماۃ نور بانو شیرخوارہ کا نکاح ہوا تھا مع عمرو کے چھوڑ کر کہیں باہر چلی گئی اس کے بعد جب والدہ شیر خوارہ واپس آئی عمرو نے اس شیرخوارہ منکوحہ خود کو طلاق بائن دے دیآیا خلوت صحیحہ ثابت ہوئی یا نہ اور اس مطلقہ شیرخوارہ پر عدت لازم ہوئی یانہ اور مستحق مہر ہوئی یانہبینواتوجروا
الجواب:
خلوت صحیحہ نہ ہوئینہ عدت لازم آئینصف مہر دینا ہوگادرمختار میں ہے:لاعدۃ بخلوۃ الرتقاء (ناقابل جماع بیوی کی خلوت پر عدت نہیں ہے۔ت)جامع الرموز میں ہے:
لوطلقھا قبل الدخول او بعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی
اگر جماع سے پہلے یا خلوت فاسدہ کے بعد طلاق دی ہو اور فساد مثلا یہ کہ خاوند وطی سے حقیقۃ عاجز ہو
حوالہ / References صحیح مسلم باب وجوب الاحداد فی عدۃ الوفاۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٨٦
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٥
#14720 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
حقیقۃ لم تجب العدۃ اھ وانظر ما کتبنا علی رد المحتار۔
تو اس صورت میں عدت لازم نہ ہوگی اھ یہاں ردالمحتار پر میرا حاشیہ دیکھو۔(ت)
مسئلہ:ازموضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مطلقہ عورت کی عدت تین ماہ ہو یا زائد
الجواب:
مطلقہ اگر حاملہ ہوتو عدت وضع حمل ہے۔اور اگر نابالغہ ہو یا کبرسن کے سبب اب حیض نہیں آتا تو عدت تین ماہ ہے ورنہ تین حیض خواہ دومہینے ہوں یامثلا دو برس میں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:از قصبہ میترانوالی ڈاکخانہ گلکہرریلوے ضلع گوجرانوالہ مرسلہ میاں امیر احمد صاحب محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے عورت مطلقہ کو بلانکاح دو سال تك اپنے گھر میں رکھا بلکہ اس سے اولاد بھی ہوئی پھر وہ شخص فوت ہوگیا تو اس کے برادر حقیقی نے اس عورت کے ساتھ بغیر عدت گزرے نکاح کرلیا اس عورت پر عد ت لازم ہے یانہیںبعض کہتے ہیں کہ زنا کی کوئی عدت نہیں اور بعض کہتے ہیں وہ مثل عورت خاوند کے دو سال تك رہے واسطے استبراء رحم کے عدت لازم ہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے)
الجواب:
اگروہ دونوں ایك مکان میں مثل زن وشوہر رہتے اور باہم انبساط زوج وزوجہ رکھتےمرد اسے بیبیوں کی طرح رکھتاعورت اس کے پاس ازواج کی مانند رہتی تو وہ دونوں شرعا زوج و زوجہ ہی سمجھے جائیں گے یہاں تك کہ جس نے ان کی یہ حالت دیکھی اسے قاضی شرع کے حضور زن و شوہر ہونے پر گواہی دینی حلال اگرچہ نکاح ہوتے نہ دیکھا ہوہدایہ میں ہے:
اذارأی رجلا وامرأۃ یسکنان بیتا وینبسط کل واحد منھما الی الاخر انبساط الازواج وسعہ ان یشھد انھا زوجتہ ۔
جب کوئی شخص مرد و عورت کو ایك مکان میں رہتے ہوئے اور خاوند بیوی والی بے تکلفی کے طور پر دونوں کو رہتے ہوئے دیکھے تو ایسے شخص کو جائز ہے کہ وہ شہادت دے کہ یہ دونوں خاوند بیوی ہیں(ت)
حوالہ / References جامع الرموز فصل العدۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ١/٥٧٨
ہدایہ باب مایتحملہ الشاہد مطبع یوسفی لکھنؤ ٣/١٥٨
#14722 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
اپنے سامنے نکاح نہ ہونے کو نکاح نہ ہونا سمجھ لینا سخت سفاہت ہےعدم علمعلم عدم نہیں۔دنیا میں بے شمار زوج وزوجہ ہیں کیا ہم سب کے عقد میں حاضر تھے۔پھر ہم کیونکر انہیں ناکح و منکوحہ سمجھتے ہیںشرع مطہر بدگمانی کو سخت حرام فرماتی ہےاور جب وہ شرعا زن وشوہر قرار دئے گئے تو بے انقضائے عدت نکاح بنص قطعی قرآن ناجائز وحرام۔یہاں تك کہ بعض علماء نے فرمایا کہ اس عقد پر اصلاکوئی حکم نکاح مترتب نہ ہوگا کہ معتدہ غیر سے دانستہ نکاح کرناباطل محض ہے۔ردالمحتار میں ہے: فی البحر عن المجتبی اما نکاح منکوحۃ الغیر و معتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا ۔
بحر میں مجتبی سے منقول ہے کہ غیر کی منکوحہ بیوی یا غیر مطلقہ عدت والی سے نکاح کے بعد دخول سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ وہ جانتا ہو کہ یہ غیر کی منکوحہ یا معتدہ ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلا منعقد نہ ہوا۔(ت)
ہاں اگر صورت مذکورہ نہ ہواور ان کا زانی وزانیہ ہونا متحقق ہو تو بیشك یہ نکاح صحیح ہوگیا کہ زنا کے پانی کی شرع میں کوئی حرمت نہیں نہ زانیہ پر زنا کی عدتیہاں تك کہ جس عورت کو زنا کا حمل ہوغیر زانی کو بھی باوجود حمل اس سے نکاح جائزالبتہ ازانجا کہ حمل غیر ہے تاوضع حمل جماع ناجائز ہےدرمختار میں ہے:
صح نکاح حبلی من زنا وان حرم وطؤھا حتی تضع لئلایسقی ماءہ زرع غیرہ ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
زنا سے حاملہ عورت کے ساتھ نکاح جائز ہے اگرچہ نکاح کے بعد وطی حرام ہے تاوقتیکہ بچے کی پیدائش ہو تاکہ غیر کی کھیتی کواپنے پانی سے سیراب کرنے والا نہ بنے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از شہر بریلی رمضان المبارك ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت رانڈ ہوگئیرانڈ اپنے بہنوئی کے پاس گئی اور بہن بھی موجود تھی بہنوئی نے اس کا بھی نکاح اپنے ساتھ کرلیااب کئی سال سے اس عورت کو نکال دیااستعفار وغیرہ نہیں دیااب وہ عورت اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہےنکاح جائز ہے یانہیں
الجواب:
بہن کی موجودگی میں بہنوئی سے نکاح حرام حرام سخت حرام ہوابہنوئی نے کہ اس کو نکالا اگر کوئی لفظ
حوالہ / References ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٧
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٩
#14723 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
ایسے کہے تھے اس وقت خواہ اس کے بعدجن سے اس کا عزم اس پر سمجھا جائے کہ اب ا س عورت کو کبھی نہ رکھے گا اور ان الفاظ کے کہنے کے بعد اس عورت کو تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے تو یہ اور جگہ نکاح کرسکتی ہےاور اگر ایسے الفاظ ثابت نہ ہوں تو اب عورت کہہ دے میں نے اس نکاح کو رد کیا جو بہنوئی سے کرلیا تھا اس کے بعد حیض دیکھ کر دوسرے سے نکاح کرلے۔درمختار میں ہے:
مبدؤھافی النکاح الفاسد بعد التفریق اواظہار العزم علی ترك وطئھا ۔
نکاح فاسد کی عدت کی ابتداء تفریق کے بعد یا خود خاوند کے متارکہ کے بعد ہےمتارکہ یہ کہ خاوند نے عورت سے وطی کے ترك پر اپنے عزم کا اظہار کردیا ہو۔(ت)
اسی میں ہے:
ویثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح ۔
خاوند اور بیوی دونوں کو فاسد نکاح میں فسخ کا اختیار ہےدونوں کو یہ اختیار دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی ہے دخول کیا ہو یانہاصح روایت یہی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی البحر ورجحنا فی باب المھر انھا(ای المتارکۃ) تکون من المرأۃ ایضا اھ والمقدسی تابع البحر اھ۔ اقول: وحققنا فیما علقنا علیہ ان الفساد ان کان مقارنا کما ھھنا کان لکل فسخہ والمتارکۃ غیرہ وان کان طارئا تفرد بہ الزوج۔واﷲتعالی اعلم۔
بحر میں فرمایا ہے کہ ہم نے باب المہر میں عورت کی طرف سے متارکہ کو بھی جائز ہونے کی ترجیح ذکر کی ہے اھ اور مقدسی نے بحر کی اتباع کی ہے اھ اقول:(میں کہتا ہوں)میں نے ردالمحتارکے حاشیہ میں یہ تحقیق کی ہے کہ اگر نکاح کا فساد ابتداء نکاح سے مقارن ہو جیسے یہاں ہے تو پھر خاوند اور بیوی دونوں کو فسخ کا اختیار ہے اور متارکہ کا حکم علیحدہ ہےاور اگر نکاح کا فساد بعد میں طاری ہوتو پھر صرف خاوند کا اختیار ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٨
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١
ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت٢/٦١٢
#14725 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مسئلہ: رجب مرجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دی ایام عدت منقضی نہ ہوئے تھے صرف بیس پچیس دن بعد بکر نے اس سے نکاح کرلیاچار برس بعد بکر نے بھی طلاق دیاب شخص ثالث اس سے نکاح کیا چاہتا ہےیہ نکاح طلاق کے چار مہینے دس دن بعد ہو یا فورا ہوسکتا ہے کہ بکرنے قبل انقضائے عدت نکاح کرلیا تھا جو شرعا نادرست تھا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہواتو اس کے لئے اصلا عدت نہیں اگرچہ بکر نے صدہا بار عورت سے جماع کیا ہوکہ زنا کاپانی شرع میں کچھ عزت ووقعت نہیں رکھتا عورت کو اختیار ہے جب چاہے نکاح کرلے
فی ردالمحتار عن البحرالرائق اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا ولھذا یجب الحدمع العلم بالحرمۃ لکونہ زنا کما فی القنیۃ وغیرہا۔
ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ غیر کی منکوحہ بیوی یا غیر کی مطلقہ عدت والی سے نکاح کے بعد دخول سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلا منعقد نہ ہوایہی وجہ ہے کہ یہ معلوم ہونے پرکہ یہ غیر کی منکوحہ ہے اس کے باوجود نکاح اور دخول پر حد زنا لازم ہوگی کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اور اگر بکر نے انجانی میں نکاح کیا تو یہ دیکھیں گے کہ اس چار برس میں ا س نے عورت سے کبھی جماع کیا ہے یانہیںاگر کبھی نہ کیا تو بھی عدت نہیںبکر کے چھوڑتے ہی فورا جس سے چاہے نکاح کرلے
ففی البحر فی امثلۃ النکاح فسد ولم یبطل نکاح المعتدۃ الخ وقیدہ الشامی بما اذالم یعلم بانھا معتدۃ لما مرعن البحر
بحر میں ایسے نکاح جو فاسد ہو ں مگر باطل نہ ہو ں کی مثالوں میں غیر کی معتدہ کا نکاح ذکر کیا ہے۔اھ اور علامہ شامی نے اس کو غیر کی معتدہ کا علم نہ ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا
حوالہ / References ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٧
بحرالرائق
#14726 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
وفی الدرالمختار فی احکام النکاح الفاسدتجب العدۃ بعد الوطی لاالخلوۃ وقت التفریق او متارکۃ الزوج اھ ملخصا۔
اور درمختار کے احکام نکاح فاسد میں مذکور ہے کہ فاسد نکاح میں وطی کے بعد عدت لازم ہوگیصرف خلوت سے لازم نہ ہوگی اور یہ عدت یا خود خاوند کی طر ف سے متارکہ کے وقت سے شروع ہوگی اھ ملخصا(ت)
اور جو ایك بار بھی جماع کرچکا ہے تو جس دن بکر نے چھوڑ ا اس دن سے عورت پر عدت واجب ہوئی جب تك اس کی عدت سے نہ نکلے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتیاور عدت طلاق کی چار مہینے دس دن نہیں یہ عدت موت کی ہےطلاق کی عدت تین حیض کا مل ہیں یعنی بعد طلاق کے ایك نیا حیض آئےپھر دوسراپھر تیسراجب یہ تیسرا ختم ہوگا اس وقت عدت سے نکلے گی اور اسے جس سے چاہے نکاح کرنا روا ہوگا
قال اﷲ تعالی و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تك اپنے آپ کو روکے رکھیں۔(ت)
مسئلہ: ازمتھرا محلہ مہوپورہ مرسلہ رمضان خاں شعبان ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص کی زوجہ منکوحہ ایك عرصہ سے بوجہ کسی خاص رنجی کے بلاطلاق اپنے شوہر سے علیحدہ ہوکر اور خلاف مرضی اس کے کہیں چلی گئی اور کسی غیر شخص سے اپنا عقد کرلیا بالفعل وہاں سے بھی نکل کر پھر شوہر اول سے عقد چاہتی ہے اور طلاق ہر دو شوہروں کی جانب سے ثابت نہیںپس قابل استفسار یہ امر ہے کہ اب شوہر اول سے عقد قائم رہے گا یا عقد جدید کی ضرورت ہے یا اس کے سوا کوئی اور شرعی صورت ہےبینواتوجروا
الجواب:
عقد قدیم قائم ہے جدید کی کچھ حاجت نہیںدوسرا شخص جس نے اس منکوحہ غیر سے نکاح کیا اگر آگاہ تھا کہ یہ منکوحہ غیر ہے جب تو عدت کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ زنا تھا اور زنا کی عد ت نہیںدرمختار میں ہے:لاعدۃ للزنا (زنا کی عدت نہیں ہوتی۔ت)اور اگر وہ واقف نہ تھا عورت کو خالی و حلال سمجھ کر نکاح
حوالہ / References درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١
القرآن الکریم ٢ /٢٢٨
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٥
#14727 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
میں لایا تو اس پر فرض قطعی ہے کہ عورت کو ترك کردے وقت ترك سے عورت تین حیض کی عدت کرے اس کے بعد شوہر اول بے حاجت تجدید نکاح اس سے مترتب کرسکتا ہےیہ اس تقدیر پر کہ شخص ثانی نے عورت سے صحبت یعنی مجامعت کرلی ہوورنہ حاجت عدت نہیںدرمختار میں ہے: لاعدۃ لو تزوج امرأۃ الغیر ووطئھا عالما بذلك وفی نسخ المتن ودخل بھا ولابد منہ وبہ یفتی ولہذا یحد مع العلم بالحرمۃ لانہ زنا والمزنی بھا لاتحرم علی زوجھاالخ ۔واﷲتعالی اعلم۔
غیر کی منکوحہ سے نکاح کے بعد وطی کرنے سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے اور متن کے نسخوں میں"دخل بھا"(اس نے دخول کیا ہو)کا لفظ ہے جبکہ یہ قید ضروری ہے۔اور فتوی اسی پر دیا جائے گا۔اس لئے علم کے باوجود اس حرام کاری پر حد لگائی جائے کیونکہ یہ زناہے اور زناوالی عورت اپنے خاوند پر اس وجہ سے حرام نہیں ہوتی الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از موضع ٹانڈا پر گنہ بہیٹری معرفت پیارے میاں جمادی الاخری ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دینایك شخص اپنی قضا سے فوت ہوگیا اور اس کی بیوی کو حمل تھابعد اس کے مرجانے کے ایك مہینہ کے بعد وہ حمل ساقط ہوگیاتو اس عورت کو عدت کرنا چاہئے یااس حمل کے گرجانے سے عدت جاتی رہی اور وہ حمل چار یا پانچ مہینہ کا تھا اہل شرع کیا فرماتے ہیں
الجواب:
سائل نے ظاہر کیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں بن گئے تھے تو ا س کے گرجانے سے عدت تمام ہوگئی اب عدت کی حاجت نہیں
فی ردالمحتار اذااسقطت سقطا ان استبان بعض خلقہ انقضت بہ العدۃ لانہ ولد والافلا ۔واﷲتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے تو اگر بچے کے کچھ اعضاء کی تخلیق ظاہر ہوتی ہوتو پھر اس سے عدت ختم ہوگئی کیونکہ یہ مکمل بچہ شمار ہوتا ہے اور اگر ابھی اعضاء ظاہر نہ ہوئے ہوں تو عدت ختم نہ ہوگی۔واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٩
ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٤
#14728 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مسئلہ: از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاك خانہ کمال گنج موضع پھولٹولی مرسلہ عبدالغنی صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح صحیح کیاقبل از دخول بعد خلوت صحیحہ طلاق دیاب عدت ہندہ پر واجب ہے یانہیںایك جگہ عالمگیری سے مفہوم ہوتا ہے کہ واجب ہے
رجل تزوج امرأۃ نکاحاجائز افطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیھا العدۃ کذافی فتاوی قاضی خان ۔
کسی نے ایك عورت سے صحیح نکاح کیا پھر دخول کے بعد طلاق دی یا خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دی تو اس عورت پر عدت لازم ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے۔(ت)
اور دوسری جگہ عالمگیری سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بعد خلوت صحیحہ کے ہو عدت واجب نہیں
اربع من النساء لاعدۃ علیھن المطلقۃ قبل الدخول الخ۔
چار عورتیں ہیں جن پر عدت نہیں ان میں سے ایك قبل از دخول طلاق والی ہے الخ(ت)
اور کلام مجید میں ایك جگہ یوں ہے:
اذا نكحتم المؤمنت ثم طلقتموهن من قبل ان تمسوهن فما لكم علیهن من عدة تعتدونها ۔
جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرکے قبل از دخول ان کو طلاق دے دو تو تمہارے حق میں ان عورتوں پر عدت نہیں۔ (ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عدت واجب ہے اور عالمگیری کی دونوں عبارتوں میں تنافی نہ آیہ کریمہ عبارت اولی کی نافیاصل یہی ہے کہ موجب عدۃ مس ودخول یعنی وطی ہے مگر نکاح صحیح میں مجرد خلوت اگرچہ صحیحہ ہو ایجاب عدت کے لئے قائم مقام وطی ہےتنویر میں ہے:
الخلوۃ کالوطء فی العدۃ (ملخصا)۔
عدت کے معاملے میں خلوت کا حکم وطی والاہے(ت)
حوالہ / References فتاوی ہندیہ باب العدۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٢٦
فتاوی ہندیہ باب العدۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٢٦
القرآن الکریم ۳۳ /۴۹
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٩٩۔١٩٨
#14729 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
وجوبھا من احکام الخلوۃ سواء کانت صحیحۃ ام لاط ای اذاکانت فی نکاح صحیح اما الفاسد فتجب العدۃ بالوطء کما سیأتی۔
عدت کا وجوب خلوت کے احکام میں سے ہے خلوت صحیحہ ہویا فاسدہ ہوطحاوییعنی صحیح نکاح میں یہ حکم ہے لیکن فاسد نکاح میں صرف وطی سے عدت لازم ہوتی ہےجیسا کہ عنقریب آئے گا۔(ت)
مدارك شریف میں ہے:من
قبل ان تمسوھن والخلوۃ الصحیحۃ کالمس اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشھا الاولی ان یقول قدس سرہ والخلوۃ فی النکاح الصحیح کالمس فیقید النکاح بالصحیح ویطلق الخلوۃ لان الخلوۃ وان فسدت توجب العدۃ اذاصح النکاحاماالفاسد فلاعدۃ فیہ الا بحقیقۃ الوطء کمافی الدر وغیرہ واﷲتعالی اعلم۔
قبل ازیں کہ تم ان کو مس کرو(یعنی جماع کرو)اور خلوت صحیحہ بھی جماع کی طرح ہے اھ اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے کہ بہتر تھا کہ صاحب مدارك یوں کہتے اور خلوت نکاح صحیح میں جماع کی طرح ہے اس طرح نکاح کو صحیح کی قید سے مقید اور خلوت کو مطلق قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ جب نکاح صحیح ہو تو خلوت فاسدہ بھی عدت کو لازم کرتی ہے لیکن نکاح فاسد میں صرف حقیقی وطی سے ہی عدت لازم ہوتی ہے جیسا کہ در وغیرہ میں ہےواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہتا: از شہر کہنہ بریلی
حضور والا! مسمی جمن کا بیان ہے کہ۱میری لڑکی نابالغ کا نکاح میرے حقیقی بھائی نے بلارضا مندی میرے کردیا اور مجھ کو راضی کرکے رخصت کرادیوہ لڑکی اپنے اس خاوند کے پس رہی اور نوبت مجامعت کی پہنچیاس کے یہاں سے بعد کو رخصت ہوکرجس وقت کہ وہ اپنے باپ کے مکان پر آئی کہ اس کو عرصہ تین سال کا ہوا پھر کبھی نہ گئی حتی کہ نوبت نالش تك پہنچی بالآخر اس نےا س کو فیصلہ پنچایت سے طلاق دی
حوالہ / References ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٣٤١
مدارك التنزیل تحت سورۃ الاحزاب دارالکتاب العربیہ ٣/٣٠٨
حواشی مدارك اعلٰحضرت رحمۃ اﷲ علیہ
#14730 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
اب اس کا نکاح درمیان عدت طلاق کے ہوسکتا ہے یانہیں۲اور یہ نکاح اول جو نابالغی میں بلااستر ضا باپ کے ہواجائز تھا یا نہیںفقطاس قوم میں نابالغ لڑکیوں کا نکاح نابالغ لڑکوں کے ساتھ بولایت اکثر ہوتا ہے اور حالت ببلوغ تك پہنچنے سے پہلے کسی مخالفت سے طلاق ہوجاتی ہے۳اس صورت میں عدت طلاق کی لازم آتی ہے یانہیں۴اور مہر کس قدر دلایا جاسکتا ہے۵بحالت خلوت صحیحہ اور مجامعت کے کیاحکم ہے۶اور بحالت طلاق اس کا کیاحکم ہے۷اگر بحالت لازم آنے عدت کے نکاح ہوجائے اور وہ اپنے خاوند سے علیحدہ رہ کر تین ماہ تمام کرے تو یہ نکاح صحیح رہے گا یا پھر نکاح کرنا چاہئےفقط
الجواب:
نکاح اول کہ بے اجازت پدر چچا نے خود کردیا تھا اجازت پدر پر موقوف تھااگر اس نکاح کے بعد اس نے کوئی لفظ نامنظوری اور رد کرنے کا کہاتھا تو باطل ہوگیا اور زن وشوہر میں کوئی علاقہ نہ رہا تھااس کے بعد جو رخصت ہوئی محض حرام ہوئی اور جو مجامعت ہوئی نری زنا ہوئی فان الاجازۃ لاتلحق المفسوخ(کیونکہ فسخ شدہ کو اجازت لاحق نہیں ہوتی۔ت)طلاق کی کوئی حاجت نہیں نہ اس فراق کی عدت اذلانکاح فلاطلاق فلاعدۃ(اس لئے کہ نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق اور عدت کا ہے کی۔ت)جس وقت چاہے نکاح کرے اور اگر نکاح کے بعد قبل اظہار نامنظوری باپ نے کوئی لفظ منظوری کہا یا بھائی کے اصرار سے لڑکی کو رخصت کردیا(کہ رخصت کردینا بھی صحت نکاح کو کافی ہے جبکہ نامنظوری نہ ظاہر کرچکا ہو)تو اب یہ نکاح صحیح ہوگیا اور یہ طلاق طلاق ہوئی اور اس کی عدت لازم ہےعدت گزرنے سے پہلے جو نکاح کیا جائیگا باطل محض ہوگانابالغ لڑکا اہل طلاق نہیںنہ اس کے دئے سے طلاق ہوسکتی ہے نہ اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہےببلوغ پسر سے پہلے جوبوجہ مخالفت طلاق دلوالیتے ہیں محض باطل ہےنہ اس کی عدت ہے نہ اس کے بعد دوسرے سے نکاح کسی طرح حلال ہوسکتا ہے ہاں عاقل بالغ جو طلاق دے اگر قبل خلوت صحیحہ دی نصف مہر لازم آئے گا اور بعد خلوت صحیحہ دی تو پھرپورا مہرعدت کے اندر نکاح محض باطل ہے وہ نکاح ہی نہ ہوگا اگرچہ عدت تك اس دوسرے مرد سے جدا رہےبعد ختم تحصیل زوجیت کے لئے دوبارہ نکاح فرض ہوگا ورنہ زنا ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : مسئولہ مولوی عبدالرشید صاحب مدرس اول مدرسہ اکبریہ ربیع الآخر ھ
کیافرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ اگر تو میکے سے میرے گھر نہ آئی تو تجھ کو طلاق دے دوں گاعورت دوبرس اپنے میکے میں رہیپھر اس عورت نے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح ثانی کرنے کا قصد کیاشوہر نے کہا کہ میں نے تجھے طلاق نہیں دی تو نکاح کیسا کرتی ہے اگر مجھ کو سوروپے
#14731 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
دے تو میں تجھے طلاق دے دوںعورت نے سو روپے دے دئے شوہرنے طلاق دے دیاب اس پر عدت پوری کرنا چاہئےیا نہیں بینواتوجروا
الجواب:
ضروراور اس کا دوبرس خواہ دس برس شوہر سے جدا رہنا مسقط عدت نہیں ہوسکتا
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ اﷲ تعالی کا قول کہ"مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تك روك رکھیں"مطلق ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے گھر بیمار ہے اور اس کی زوجہ اس حالت بیماری میں اس کے پاس ہےزوجہ زید کی برضا مندی اپنے شوہر کے اپنے گھرگئی اسی کو دوسرے روز پھر بلایا تو وہ عورت بلحاظ اس کے کہ میرا زیور وغیرہ نہ چھین لیں اور مجھ کو برا نہ کہیں نہ گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ زید درحالت اصلی کہا کرتا تھا کہ میں سفر کولے جاؤں گا اور اس کے یعنی زوجہ کے والدین اس وجہ سے باہر جانے کے مانع ہوتے تھے کہ اس عورت یعنی زوجہ زید کو حمل تھا بوجہ زید کی زوجہ کے تکلیف کی غرض سےاب وہ زید بیمار بعد تین دن کے مرگیا اور زوجہ زید کی اپنے والدین کے یہاں ہے بس وہ عدت کہاں ختم کرے اور دیگر یہ کہ اپنے شوہر کے یہاں بغرض نقصان اپنے مال یا اپنی جان بچانے کی وجہ سے وہاں جانا ناپسند کرتی ہے کہ مجھ کومیرے زوجہ کے متعلقین مارنہ ڈالیں یامیرا اسباب چھین لیںپس اس صورت میں کیا حکم ہے اور مہر زوجہ کا کس کے ذمہ باقی ہےاوریہاں تك اس کے والدین کو اندیشہ ہے کہ ہم باہر چلے جائیں گے تو شاید آبرو بچے ورنہ ناممکناور زوجہ زید اب تك حالت حمل میں ہے یعنی حمل اس کو قریب چھ ماہ کا ہےان صورتوں میں کیا حکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
زوجہ پر فرض ہے کہ اپنے شوہر کی خبر مرگ سنتے ہی فورا اس کے گھر چلی جائے اور وضع حمل تك وہیں رہے اور غلط عذر درمیان میں نہ لائےایسا خیال بہت ناقابل قبول ہے کہ قتل کردی جائے گیرہا مال اسے ساتھ نہ لے جائےاپنے ساتھ اپنے اقارب سے کسی کو رکھے جس سے حفاظت متوقع ہوہاں اگر
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٢٨
#14732 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
کوئی صورت ممکن نہ ہو اور واقعی سچا اندیشہ جان کا ہے جس کا تدارك اس کے قابو میں نہیں تونہ جانے کے لئے عذر صحیح ہےاور اﷲ تعالی صحیح وغلط سب کو خوب جانتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از ملك موضع مہمانیہ سیری رامپور ضلع باریسال مرسلہ عبدالحمید صاحب رمضان المبارکھ
سوال اینکہ زینب نابالغہ راکہ سنش بہ نہ سال نہ رسیدہ است وتخمینا مدت نکاحش بدوسال رسیدہ زوجش طلاق دادہ خواہر زینب رازوج زینب بعد یکروز یا دو روز نکاح کرد حالانکہ زوج زینب می گوید کہ زینب را قبل دخول طلاق دادہ پس اکنوں نکاح کردن زوج زینب خواہر زینب را پیش از گزشتن عدت طلاق زینب موجب شرع شریف درست باشد یا چہاگر نکاح مذکور زوج زینب را روا باشد پس عبارات درمختار وردالمحتار ودیگر کتب کہ عدت مطلقہ صغیرہ کہ سنش بہ نہ سال نہ رسیدہ است سہ ماہ است بلاقید دخول وبعد دخول آمدہ است مطالب آنہا چہبینواتوجروا۔
سوال یہ ہے کہ زینب نامی لڑکی جس کی عمر ابھی نو سال نہیں ہوئی اس کا نکاح اندازا دو سال قبل ایك شخص سے ہوا تو اس کے خاوند نے اسے طلاق دے کر ایك دو دن بعد اس کی بہن سے نکاح کرلیا جبکہ زینب کی عدت گزرنے سے قبل اس کی بہن سے نکاح بموجب شرع شریف درست ہوا یانہیںاگر نکاح مذکور درست ہوا ہے تو پھر درمختار وردالمحتار اور دیگر کتب کی یہ عبارت کہ نابالغہ لڑکی جس کی عمر نو سال سے کم ہو اس کی عدت تین ماہ ہے جس میں دخول کے بعد یا قبل کی کوئی قید مذکور نہیں ہےا س کا مطلب کیا ہےبیان کیجئے اور اجر حاصل کیجئے۔
الجواب:
اگرمیان زن شو خلوت واقع شدہ بود اگرچہ خلوت فاسدہ باشد بعد ازاں شوہر بالغ آں دختر ہفت یا ہشت سالہ را طلاق داد عدت سہ ماہ واجب است ونکاح باخواہرش قبل انقضائے عدت ناجائز و حراماگر خلوت ہم نشدہ بود البتہ از عدت اثرے نیست واز بعد طلاقش خواہرش را بزنی تواں گرفت قال اﷲ تعالی فما لكم علیهن من عدة تعتدونها د رکتب مذکورہ
اگر زینب اور اس کے خاوند میں خلوت صحیحہ یا فاسدہ ہوچکی ہو تو اس کے بعد طلاق دی ہو اگرچہ زینب کی عمر سات یاآٹھ سال ہوتو عدت واجب ہے اور اس کی عدت گزرنے سے قبل اس کی بہن سے نکاح ناجائز ہے۔اور اگر خلوت نہ ہوئی ہوتو پھر زینب پرکوئی عدت نہیں ہے اوراس کو طلاق دینے کے بعد اس کی بہن سے نکاح جائز ہے۔اﷲ تعالی نے فرمایا تمہارے حق میں دخول سے قبل مطلقہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۳ /۴۹
#14733 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
حکم عدت را مطلق نگزاشتہ اند بلکہ سابقا ولاحقا دو جا مقید بدخول یعنی ولو حکما کالخلوۃ ولو فاسدۃ داشتہ اندعبارت تنویر الابصار و درمختار بالتقاط واختصار این ست العدۃ سبب وجوبھا النکاح والمتأکد بالتسلیم وما جری مجراہ من موت او خلوۃوھی فی حق حرۃ تحیض بعد الدخول حقیقۃ او حکما ثلث حیضوفی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا او کبر ثلثۃ اشھران وطئت فی الکل ولوحکما کالخلوۃ ولو فاسدۃ (ملخصا)درردالمحتار ست قولہ فی الکل یعنی ان التقیید بالوطی شرط فی جمیع مامر من مسائل العدۃ بالحیض و العدۃ با لاشھر کما افادہ سابقا بقولہ راجع للجمیع ۔واﷲ تعالی اعلم۔
بیویوں پر عدت نہیں ہے جس کو تم شمار کرو۔کتب مذکور میں نابالغہ کی عدت کو عام قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس سے قبل اور بعد دونوں جگہ عبارت دخول کی قید سے مقید ہے اگرچہ وہ دخول حکمی ہو جیسے خلوت خواہ فاسد ہی کیوں نہ ہو تنویر الابصار اور درمختار کی عبارت ملتقطا اور اختصارا یوں ہے عدت کے وجوب کا سبب نکاح جو رخصتی یا اس کے قائم مقام موت یا خلوت سے پختہ ہوتا ہے اور وہ عدت آزاد حیض والی عورت کے لئے اس سے دخول حقیقی یا حکمی کے بعد ہوتو تین حیض ہےاور جو عورت حیض والی نہ ہوتو اس کی عدت تین ماہ ہےیہ تمام بیان مدخولہ عورتوں کےلئے ہے اگرچہ دخول حکمی ہوجیسے خلوت اگرچہ فاسدہ ہو(ملخصا) اور ردالمحتار میں اس پر یوں ہے ماتن کاقول"فی الکل"یعنی وطی شرط ہے تمام مذکورہ مسائل عدت میں خواہ حیض والی کی عدت ہو یا مہینوں والوں کیجیسا کہ ماتن اس کو پہلے بیان کرچکے ہیں اس قول کے ساتھ کہ"یہ سب کو شامل ہے"(یعنی عدت بالحیض وعدت بالاشہر دونوں کو شامل ہے)۔(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دی اب
حوالہ / References درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٦
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥٦۔٢٥٥
ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٢
#14735 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
تاوقتیکہ عدت پوری کرےنان نفقہ آیا زید کے ذمہ ہے یا وارث ہندہ کےاور وہ مکان جس میں ہندہ اپنی عدت پوری کرے زید پر لازم ہے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
تمام عدت تك نان نفقہ زید کے ذمہ ہے اور زید ہی کے مکان میں عدت پوری کرے جبکہ قبل از طلاق وہی مکان اس کے رہنے کا تھا اگرچہ علاج کےلئے چند ماہ پیشتر اپنے باپ کے یہاں چلی آئی تھی کما قال لی السائل بلسانہ(جیسا کہ سائل نے خود اپنی زبان سے مجھے بیان کیاہے۔ت)اور یہ طلاق کہ بطریق خلع واقع ہوئی تھی کما بین ایضا(جیسا کہ اس نے یہ بھی کہا۔ت)بائنہ تھی تو زید پرلازم ہے کہ عدت پوری ہونے تك اپنے ہی مکان میں اسے جگہ دے اور بوجہ زوال نکاح اس سے پردہ کرےاور اگر زید ظلمااپنے گھر میں نہ رہنے دے تو کوئی اور مکان بتائے جس میں وہ عدت پوری کرے اور اگر وہ مکان کرایہ کا ہوتو اختتام عدت تك کرایہ زید کے ذمہ ہےاور جب زید اپنے مکان میں رہنے دے یادوسرا مکان اس کے لئے بتائے تو ہندہ پر لازم ہے کہ فورا اس مکان میں چلی جائے اور ختم عدت تك ہرگز ا س سے باہر نہ آئے
فی الخانیۃ المعتدۃ عن الطلاق تستحق النفقۃ والسکنی کان الطلاق رجعیا او بائنا او ثلثا الخوفی الدرالمختار طلقت او مات وھی زائرۃ فی غیر مسکنھا عادت الیہ فورا لوجوبہ علیھا وتعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ(ھوما یضاف الیھما بالسکنی قبل الفرقۃ الخ شامی)ولایخرجان منہ الا ان تخرج(وشمل اخراج الزوج ظلما الخ شامی فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الی حیث شاء الزوج(وحکم ماانتقلت الیہ حکم المسکن الاصلی فلا تخرج
خانیہ میں ہے کہ طلاق کی عدت والی نفقہ اور سکنی کی مستحق ہے خواہ طلاق رجعی یا بائنہ یا تین طلاقوں والی ہو الخ اور در مختار میں ہے عورت جب گھر سے باہر کسی کو ملنے گئی ہواور اس دوران اس کو طلاق ہوجائے یا خاوند فوت ہوجائے تو فورا گھر واپس آجائے کہ یہ اس پر واجب ہےاور دونوں یعنی طلاق اور موت کی وجہ سے عدت والی عورتیں اس گھر میں عدت بسر کریں جس گھر میں عدت واجب ہوئی ہے(یہ وہ گھر ہے جو فرقت سے قبل ان کی رہائش کےلئے منسوب ہے الخ شامی)اور وہ اس گھر سے منتقل نہ ہوں الا یہ کہ ان کو جبرا نکالا جائے(اس میں خاوند کا ظلما نکالنا بھی شامل ہے الخ شامی) موت کی عدت والی کو
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں فصل فی نفقۃ العدۃ نولکشور لکھنؤ ١/٢٠٠
#14736 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
منہ شامی اھ)ملخصاواﷲتعالی اعلم۔
اگر مجبورا نکلنا پڑے تو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے اور طلاق کی عدت والی خاوند جس مکان میں چاہے وہاں منتقل ہوجائے(اور جب دوسرے مکان میں منتقل ہوتو پھروہی اصل مسکن کے حکم میں ہوگا لہذا عورت وہاں سے نہ نکلے الخ شامی) ملخصاوا ﷲتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے اپنی زوجہ کو طلاق دی ایك جلسہ میں تین مرتبہ سامنے دو شخص نمازیوں کےاور وہ عورت حاملہ بھی تھیاب زید اپنے گھرسے اس کو نکال دے یا نہیںیا اپنے گھر میں اس کو رکھے اور کھانے کو اس کو دے اور کب تك اس کو کھانے کو دےاور زید نے تکرار زن وشوہر کے سبب سے طلاق دی تھیاب دونوں رضا مند ہیںاب زید چاہتا ہے کہ پھر گھر میں رکھےاب سائل کا سوال علمائے دین سے یہ ہے کہ از روئے قرآن وحدیث کیا حکم ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ اور امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ اور امام ابن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك شرع شریف سے کیا حکم ہے
الجواب:
تین طلاقیں ہوگئیںچاروں اماموں کا یہی مذہب ہےاب وہ بغیر حلالے اس سے نکاح نہیں کرسکتایہی حکم قرآن وحدیث کا ہے وہ عدت تك یعنی بچہ ہونے تك گھر میں رہے گی اور روٹی کپڑا زید کو دیناہوگا مگر بالکل غیر واجنبی عورت کی طرح رہے اس سے پردہ کرے
قال اﷲتعالی
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن-و ان كن اولات حمل فانفقوا علیهن حتى یضعن حملهن ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:عدت والی عورتوں کو وہاں رہائش دو جہاں تم خود رہائش رکھتے ہو اپنی حیثیت کے مطابقاور ان کو تنگی دے کر ضرر مت پہنچاؤپھر اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو خر چہ دو تاوقتیکہ وہ بچے کو جنم دیں۔(ت)
صورت حمل میں یہی مذہب چاروں ائمہ کا ہے۔واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الحداد داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٢١،درمختار فصل فی الحداد مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٠
القرآن الکریم ٦٥ /٦
#14737 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مسئلہ :از محلہ مرداد مرسلہ حضرت مولانا سلیمان اشرف صاحب(سابق پر وفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)شوال ھ عالم اہلسنت فاضل بریلوی متع اﷲ المسلمین بطول بقائکمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہزید نے اپنی بی بی کو طلاق بائن دی اور بعد ایك مہینہ کے مرگیااب اس کی بی بی کتنی مدت بعد عقد ثانی کرےبینواتوجروا
الجواب:
یہ مطلقہ اگر حاملہ تھی تو عدت حمل ہے مطلقااور اگر حمل نہ تھا تو طلاق مذکوراگر شوہر نے اپنی صحت میں دی یا برضائے زوجہ مرض الموت میں دی تو عدت تین حیض ہےموت شوہر سے نہ بدلے گیاور اگر طلاق بائن مرض الموت میں بے رضائے زن دی تو تین حیضاورچار مہینے دس دن سے جو مدت دراز تر ہے وہ عدت ہے یعنی چار ماہ ودہ روز بعد موت گزرنے سے پہلے طلاق کے بعد تین حیض کامل ختم ہوجائیں تو بعد مرگ چار ماہ دس یوم انتظار کرےاور اگر مرگ شوہر پر چار مہینے دس دن ہوگئے اور ہنوز بعد طلاق تین حیض کا مل نہ ہوئے توتین حیض کامل ہونے تك منتظر رہے
فی ردالمحتار ابانھا فی مرضہ بغیر رضاھا بحیث صارفارا و مات فی عدتھا فعدتھا ابعد الاجلینولو ابانھا برضاھا بحیث لم یصرفاراتعتد عدۃ الطلاق فقطولوطلقھا بائنا فی صحتہ ثم مات لاتنتقل عدتھا اتفاقااھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے خاوند نے اپنی مرض الموت میں بیوی کی مرضی کے بغیر طلاق دے دی عورت کے وارث بننے سے فرار اختیار کرتے ہوئے پھر وہ خاوند مطلقہ بیوی کی عدت میں فوت ہوجائے توایسی صورت میں عورت کی عدتموت یا طلاق کی عدت میں سے جو بھی طویل ہو وہی قرار پائے گی۔اور اگر مرض موت میں عورت کی رضامندی سے طلاق دی ہو کہ اس سے وہ عورت کے وارث ہونے سے فرار اختیار کرنے والا نہ ہوگا تو ایسی صورت میں عورت کی فقط طلاق والی عدت ہوگیاور اگر خاوند نے اپنی صحت میں طلاق بائنہ دی ہو پھر بیوی کی عدت کے دوران خاوند فوت ہوجائے تو اس صورت میں بالاتفاق طلاق والی عدت ہوگی اور موت کی وجہ سے عدت تبدیل نہ ہوگی اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٥
#14739 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مسئلہ :از مارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سید حسین حیدر میاں صاحب رمضان المبارك ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ والدین ہندہ سنی المذہب نے ہندہ سنی المذہب کا نکاح زید شیعہ مذہب سے(جو پورا پورا عقائد مجتہدین حال لکھنؤ کا پیرو تھا جناب مولی علی کرم اﷲتعالی وجہہ کو سوائے سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے تمام انبیائے سلف سے افضل جانتا اور قرآن مجید کو ناقص اور محرف مانتا)بوجہ کفو وبرادری کے کردیازید قبل از عقد مرض الموت مریض تھا بعد عقد اور اشتداد ہوا کہ روز وشب میں گاہ گاہ لمحہ بھر کو ہوش آتا اس باعث سے خلوت صحیحہ نہ ہوسکی صرف اتنا ہوا کہ ہندہ کی چچی ہندہ کو بوقت شام زید کے پاس لے گئی اس کے قریب جو چوکی بچھی تھی اس پر بٹھا دیازید کو اس وقت اتنا ہوش آیا تھا کہ اس نے ہندہ کے منہ پر سے ہاتھ اٹھانے کا قصد کیا مگر ہاتھ لگاتے ہی کثرت ضعف و بیہوشی سے زید کا ہاتھ گر پڑایہ حال دیکھ کر اس کی چچی کہ کچھ دور علیحدہ کھڑی دیکھی رہی تھی آئی اور ہندہ کو اٹھالے گئیاس کے بعد کبھی نوبت ایك دوسرے کو دیکھنے کی بھی نہ آئی کہ زید سات آٹھ روز میں مرگیاوالدین نے ہندہ کا نکاح بکر سنی المذہب کے ساتھ نیز کفو وبرادری تھا چار مہینے دس دن گزرنے سے پہلے کردیاذی الحجہ کو زید سے نکاح ہوا تھا ذی الحجہ کو زید مرگیا ربیع الثانی کو ہندہ کا نکاح بکر سے ہواعدت میں روز کم تھےاب ہندہ صاحب اولاد ہےبعض لوگ اولاد ہندہ کی صحت نسب پر معترض ہیں کہ بکر نے یہ نکاح عدت کے اندر ہی کرلیااس صورت میں بعد نظر عمیق ان مراتب کا جواب عنایت ہوکہ زید وہندہ کا عقد صحیح ہوا تھا یا نہیںہندہ پر بوجہ عدم صحت نکاح یا عدم وقوع خلوت صحیحہ کے بعد مرگ زید عدت موت واجب تھی یا نہیںعقد ثانی اوراس سے جواولاد پیدا ہوئی اس کی نسبت کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عقد ثانی بلاتامل صحیح اور اس سے جواولاد ہوئی بلاوجہ صحیح النسب ہےعدت موت چار مہینے دس دن ہونے کےلئے اگرچہ خلوت وغیرہ کسی بات کی حاجت نہیں غیر حاملہ عورت پر مرگ شوہر سے عدت لازم آتی ہے
فی الدرالمختار العدۃ للموت اربعۃ اشھرو عشرا بشرط بقاء النکاح صحیحا الی الموت مطلقا وطئت اولاولوصغیرۃ فلم یخرج عنھا الاالحامل ۔
درمختار میں ہے کہ موت کی وجہ سے عدت مطلقا چار ماہ دس دن ہوگی بشرطیکہ موت تك نکاح صحیح رہا ہوبیوی سے وطی ہوئی یانہبیوی اگرچہ نابالغہ ہی کیوں نہ ہواس ضابطہ سے صرف حاملہ عورت کی عدت مختلف ہوگی۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٦
#14740 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مگر عدت تو منکوحہ پر ہوتی ہے ہندہ و زید میں باہم نکاح ہی اصلا نہ تھا کہ جب زید مثل عام روافض زمانہ ان عقائد کفر کا معتقد تھا تو قطعا کافر مرتد تھا عالمگیریہ میں ہے: یجب اکفارالروافض فی قولھم(وعد بعض عقائد ھم المکفرۃ وقال)وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذا فی الظھیریۃ ۔ رافضیوں کو کافر قرار دینا ضروری ہے ان کے عقائد کی بابت(یہاں روافض کے بعد عقائد کفر یہ ذکر کرکے ہندیہ میں فرمایا کہ)یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہےاور ان کے احکام مرتدین جیسے ہوں گے جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت)
اور مرتد مرد خواہ عورت کا نکاح کسی ملت ومذہب والے سے ہوہی نہیں سکتا نہ مومنین سے نہ کفار سے نہ خود اسی کے ہم مذہبوں سے۔ہندیہ میں ہے: لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط۔ مرتد کو جائز نہیں کہ وہ مرتدہمسلمان یا کافرہ اصلیہ سے نکاح کرےاور یونہی مرتدہ کا نکاح کسی سے بھی جائز نہیںجیسا کہ مبسوط میں ہے(ت)
تو ہندہ اگرچہ زید کی حیات ہی میں بلاطلاق اسی وقت اپنا عقد بکر سے کرلیتی جب بھی جائز وصحیح تھا۔(جواب ناقص ملا)۔
مسئلہ: ازمارہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ محبوب علی صاحب / شوال المکرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے اپنے شوہر زید کی حیات میں جس کی طلاق ثابت نہیں عمرو نامی سے بطور عاشقی کے دوسرے شہر میں جاکر عقد نکاح کیااس کے تھوڑے ہی دن بعد شوہر سابق مرگیابعد مرنے کے چار برس تك عورت عمرو کے قبضہ میں رہی بطور زوجہ۔ایك روز باہم نااتفاقی اور لڑائی کے عمرو نے عورت کو طلاق بائن دی اور کئی روز تك کہا کہ میں نے طلاق دی اور ایك جلسہ میں دس پانچ دفعہ کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دیاور پندرہ روز تك علیحدہ رہا۔اب بباعث عشق باہمی کے عورت اور عمرو چاہتا ہے کہ پھرتجدید نکاح کی ہونی چاہئےاور عذر کرتا ہے کہ جب بغیر طلاق شوہر سابق کے نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کیا چیز ہے اور عمرو مسجد میں مؤذن ہے اہل اسلام اس کو تجدید نکاح سے روك
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٢٦٤
فتاوی ہندیۃ باب فی المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ١/٢٨٢
#14742 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مرنے شوہر سابق اور گزرنے عدت سے وہ نکاح ہی قائم ہوگیا کہ جس کی وجہ سے تیری زوجیت پانچ سال رہی ورنہ کیا آج تك تونے اس سے حرام کیا ہم تجھ کو مسجد سے نکال دیں گے جب تك حلالہ نہ ہوجائےجب تك نکاح جدید نہ ہوجائے عورت تجھ پر حرام ہےاور علاوہ اس کے عمرو غیر کفو بھی ہےاس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں آیا نکاح جدید کیا جائے یا بعد حلالہ کے عورت سے نکاح جائز ہوگااور اگر اس عورت سے عمرو خلاف شرع کوئی فعل کرے تو مؤذن بنانا چاہئے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
اگر یہ امر واقعی ہے کہ زید کی حیات میں بے طلاق عورت نے عمرو سے نکاح کرلیا پھر بعد موت زید و انقضائے عدت وفات عمرو کے ساتھ نکاح جدید نہ کیا بلکہ اسی نکاح باطل پر قائم رہی تو وہ ہرگز زن وشوہر نہ تھے بلکہ زانی وزانیہ تھےطلاقیں کہ عمرو نے دیں محض لغو تھیںحلالے کی کوئی حاجت نہیںصرف نکاح از سر نو کرلینا کافی ہے جبکہ عمر و قوم یا مذہب یا پیشے وغیرہ میں عورت کے اولیاء سے ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے زن کےلئے باعث ننگ وعار ہو یا ایسا کم ہے تو عورت کے ولی نے پیش از نکاح عمرو کو ایسا جان کر اس سے نکاح زن مذکور کی صریح اجازت دے دی یا عورت کوئی ولی رکھتی ہی نہ ہوان تینوں صورتوں میں نکاح ہوجائے گا ورنہ عمرو ایسا کم رتبہ ہے اور عورت ولی رکھتی ہے اور ولی پیش از نکاح اس کی کم رتبگی پر مطلع ہوکر اجازت نکاح نہ دے تو عورت کا عمرو سے نکاح کسی طرح نہیں ہوسکتا۔عمرو جب تك تائب ہوکر بحال جواز نکاحنکاح نہ کرے یا عورت سے صاف جدا نہ ہوجائے ہرگز مؤذن نہ بنایا جائے وہ فاسق معلن ہے اور فاسق اس عہدہ دین کے لائق نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: ازموضع کرگینا مرسلہ امام بخش علی بخش ربیع الآخرھ
مٹھو لوہار کی عورت بیوہ تھی مہینے سےچند روز بعد کچھ عورتوں نے شناخت کیا کہ یہ حاملہ ہےاس سے دریافت کیا تو اس نے کہا اپنی تنہائی میں زبردستی عظیم اﷲ قوم نداف نے میرے ساتھ یہ کام کیا میں حاملہ ہوئیتو بعد کولوگوں نے عورت کو بند کردیا حفاظت اس کی کیبعد کو جب لڑکا پیدا ہوا تو نکالدیا وہ چلی گئی اور عظیم اﷲ نے عوام میں مشہور کیا کہ لڑکا میرا ہےبستی والوں نے اس کو بند کردیاعورت کو نکال دیااب ان کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
ان کےلئے سخت سزاکا حکم ہے مگریہاں کون سزادے سکتا ہے یہی سزا کافی ہے کہ برادری سے خارج رکھے جائیں۔رہا لڑکااگر مٹھو کے مرنے سے دوبرس بعد پیدا ہوا یا چار مہینے دس دن بعد عورت نے
#14743 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
اقرار کرلیا تھا کہ وہ عدت سے فارغ ہوگئی تو ان دو صورتوں میں وہ لڑکا مجہول النسب ہے اور اگر عدت سے فارغ ہونے کا اقرار نہ کیا تھا اور مٹھو کے مرنے سے دو برس کے اندر لڑکا پیدا ہوا تو لڑکا مٹھو کا ہے وہ نداف جھوٹا ہے۔وا ﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از رانچی محلہ اوپر بازار مرسلہ مولوی عبدالرب صاحب جمادی الاول ھ
اگر معتدہ غیر سے بصورت لاعلمی کوئی شخص نکاح کرے اور تمتع کرے اور بصورت علم اس سے کنارہ عــــہ کیا یہ تمتع داخل زنا ہوگا یانہیں
الجواب:
جبکہ اسے معلوم نہ تھااور جس وقت معلوم ہوافورا جدا کردیاتو اس کے حق میں کسی طرح زنا نہیںزنا ہونا درکنار اس پر کوئی الزام بھی نہیں البتہ وہ وطی واقع میں ضرور وطی حرام تھی اور اثم مرفوعکمانصواعلیہ وذلك لان الجھل فی موضع الخفاء عذر مقبول(جیسا کہ اس پر نص ہے اور یہ اس لئے کہ پوشیدہ مقام پر جہالت عذر مقبول ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از شہر مرسلہ نواب نثار احمد صاحب مورخہ صفرھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیاں شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوا ایك موضع میں رہتا تھا وہاں کوئی طبیب نہیں ہےپس اس کی زوجہ ایام عدت ہی میں بوجہ علالت اپنی دختر نیز اپنے بچوں خورد سال کے واسطے علاج کے کسی دوسری جگہ جاسکتی ہے یانہیں اور نبض کسی حکیم کو دکھاسکتی ہے یانہیں
الجواب:
نبض بضرورت دکھاسکتی ہے اور دوسری جگہ اس طور پر جاسکتی ہے کہ رات کا اکثر حصہ شوہر ہی کے مکان میں گزارےاور اگر اسی مکان میں ممکن ہوتو یہ بھی حرام ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از ریاست فریدکوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مرسلہ منشی محمد علی ارم رجب ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایام عدت طلاق یا مرگ میں نکاح ہوجائے تو از خود فسخ ہے یا اعادہ طلاق کی ضرورت ہوگی عدت پہلی ہی رہی یا جدیداور دانستہ ایسا نکاح پڑھانے والے کا کیا حکم ہے
الجواب:
عدت کے اندر نکاح حرام قطعی ہے مرد وزن دونوں پر اس کا ترك فرض ہے مرد کہے میں نے اس
عــــہ:کرم خوردہ تھا۔
#14744 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
نکاح کوترك کیا خواہ اس سے کہہ دےاور دونوں نہ مانیں تو حاکم شرع جبرا تفریق کردے بس یہ ترك یاتفریق ہی کافی ہے طلاق کی حاجت نہیںاس دوسرے شخص نے اگر اس سے قربت نہ کی تو عدت وہی پہلی ہے ورنہ دوسری بھی لازم آئی دونوں ایك ساتھ ادا ہوتی جائیں گی اخیر میں جو باقی رہے گی پوری کرلی جائے گی وا ﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہرمحلہ بھوڑ مسئولہ شیخ ننھے رجب ھ
ایك لڑکی جسے طلاق ہوئے ایك مہینہ نہیں ہوا تھا دوسری جگہ ایك حافظ سے نکاح ہوا وہ پیش امام ہےیہ نکاح درست ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور اس میں جو لوگ شریك ہوئے ان کےلئے کیا حکم ہے
الجواب:
اگر وہ لڑکی اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اور حاملہ نہ تھی کہ اس مہینہ کے اندر بعد طلاق بچہ پیدا ہوگیا ہواس کے بعد نکاح ثانی ہوا ہوتو یہ دوسرا نکاح عدت کے اندر ہوا اور محض حرام حرام ہوا اور میں قربت خالص زنااگر جس کے ساتھ زنا ہواا سے خبر تھی کہ یہ مطلقہ ہے اور ہنوز عدت نہ گزری جان کر نکاح کرلیا تو اشد فاسق و فاجر ہےاس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجباور اسے امام بنانا گناہ گناہیونہی اگر معلوم نہ تھا اور اب معلوم ہوا اور فورا جدا نہ ہوگیا جب بھی اس پر یہی احکام ہیں اور جو لوگ دانستہ اس حرام نکاح میں شریك ہوئے اور کھایا پیا وہ بھی سخت گنہگار ہوئے اور وہ حرام کھانے والے ہوئے ان سب پر بھی توبہ فرض ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از چھٹن شاہ رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ ایك شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا اس کی عورت کو زید تین ہفتہ کے اندر لے گیازید رہنے والا دیس کا تھا اسلئے اس عورت سے نکاح کیا وہ عورت راضی نہیں تھی ایك ماہ کے اندر چلی آئی اب اس کا نکاح اور جگہ کیا جائے جائز ہے یانہیں
الجواب:
وہ نکاح حرام محض ہواپھر اگر زید نے اس سے صحبت نہ کی تو وفات شوہر سے چار مہینے دس دن کے بعد نکاح کرسکتی ہےاور اگر زید صحبت کرچکا تو ان پر فرض ہے کہ جدا ہوجائیں اور عورت تین حیض کا انتظار کرےاگر تین حیض اسی چار مہینے دس دن کے اندر گزرجائیں تو چار مہینے دس دن کے بعد نکاح کرلےاور اگر ابھی تین حیض اس جدائی کے بعد نہ گزریں تو انتظار اسی جدائی کے بعد اور کرے کہ تین حیض پورے ہوجائیں اور اس وقت دوسرے سے نکاح کرےدرمختار میں ہے:
اذا وطئت المعتدۃ بشبھۃ وجبت عدۃ
اگر عدت والی مطلقہ عورت سے شبہہ کی وجہ سے وطی
#14768 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
اخری وتداخلتا وعلیہا ان تتم العدۃ الثانیۃ ان تمت الاولی ۔
کرلی جائے تو اس عورت پر دوسری عدت ضروری ہے اور پہلی عدت کی بقیہ مدت دوسری میں شمار ہوجائےگی اور اگر پہلی عدت ختم ہوچکی ہو تو پھر دوسری عد ت پوری کرے۔ (ت)
مسئلہ : از موضع پستوڑ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ فدا حسین صاحب رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عبدالرحمن نے مبلغ دوسور وپے مجھ سےلے کر بخوشی استعفاء دے دیا اپنی بی بی کواب اس میں نکاح ابھی ہوسکتا ہے یانہیںیابعد عدت عورت کےتین سال سے بیوی اپنی ماں کے مکان پر تھی اس اثناء میں خاوند استعفاء دے گیا۔
الجواب:
جب تك عدت نہ گزرے نکاح کا پیام دیناحرام قطعی ہےاور وہ روپیہ کہ دیا رشوت تھادینا لینا دونوں حرام تھا۔عبدالرحمن پر لازم ہے کہ وہ روپیہ فداحسین کو واپس دے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از قصبہ پکسر الورن ڈاکخانہ رسولپور ضلع رائے بریلی مسئولہ عبدالوہاب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کہ اس کے شوہر نے عرصہ چار برس سے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا ہے اور طلاق نہیں دیاور اس اثناء میں وہ زنا سے حاملہ ہوچکی ہے اب اس کا شوہر انتقال کرگیا ہے مگر عدت پوری نہیں ہوئی ایسی حالت میں جبکہ وہ زنا کی مرتکب ہوئی ہے عدت کے اندر نکاح جائز ہے یانہیں
الجواب:
عدت کے اندر نکاح حرام قطعی ہےاور جب یہ حمل حیات شوہر سے ہے شرعا شوہر کا ہے اور جب تك وضع نہ ہو عدت ہی میں ہے۔ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الولد للفراش ولللعاھر الحجر وقال تعالی و اولات الاحمال اجلهن ان یضعن حملهن ۔واﷲ تعالی اعلم۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بچہ نکاح والے کی طرف ہی منسوب ہوگا اور زانی نسب سے محروم ہوگا اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:حمل والی عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تك ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٦
صحیح البخاری کتاب الفرائض قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩،مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ٢/٤٠٩
القرآن الکریم ٦٥ /٤
#14781 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
مسئلہ: شعبانھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دی اور عمرو نے اس کے دوسرے دن یا اسی دن ہندہ سے نکاح کرلیایہ نکاح جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے ظاہر ہوا کہ شوہر اول اس عورت سے خلوت کرچکا تھا کئی سال کے بعد طلاق دی اور عورت کو حمل نہ تھا پس یہ نکاح کہ قبل گزرنے عدت کے دوسرے شخص سے ہوااصلا صحیح نہیںا ن دونوں پر فرض ہے کہ فورا جد ا ہوجائیں۔
قال اﷲ تعالی و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تك اپنے آپ کو روکے رکھیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مثلا زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دیاس نے بعد منقضی ہونے ایك ماہ یا دوماہ کے دوسرے شخص سے نکاح کرلیایہ نکاح بدون انقضائے عدت کے شخص اجنبی سے ہوا شرعا جائز ہے یانہیںاور ہندہ کو اس شخص سے دعوی مہر اور وراثت جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔(بیان کرو اور اجر پاؤ۔)
الجواب:
سائل مظہر کہ ہندہ معتدات بالحیض سے ہے پس صورت مستفسرہ میں اگر وہ نکاح ایك مہینہ بعد ہو اتھا بیشك فاسد کہ اس قدر مدت میں مضی عدت معقول نہیںہندہ ترکہ کی مستحق نہیںاور مہر مسمی و مہر مثل سے جو کم ہوگا اس قدر پائے گیاور اگر مہر مسمی کچھ نہ تھا مجہول ہوگیا تو پورا مہر مثل لازم آئے گا
فی الدرالمختار ویجب مہر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزد علی المسمی لرضاھا بالحط ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل لفساد التسمیۃ بفساد العقدولولم یسم او جھل لزم
درمختار میں ہے اور نکاح فاسد میں صرف وطی کی وجہ سے مہر مثل واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر نہیںپھر وہ مہر مثل مقررہ سے زائد نہ ہوگا کیونکہ عورت مقررہ کم مہر پر راضی تھیاور اگر مہر مثل مقرر مہر سے کم ہوتو ایسی صورت میں مہر مثل ہی واجب ہوگا کیونکہ نکاح کے فساد کی وجہ سے مقررہ مہر فاسد ہوجاتا ہےاور اگر مہر
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٢٨
#14782 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
بالغامابلغ انتہی ملخصا وفیہ ایضا یستحق الارث برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولا باطل اجماعا انتہی ملتقطا
مقرر نہ کیا گیا ہویا مقدار معلوم نہ ہوسکے تو پھر مہر مثل جتنا بھی ہو وہی لازم ہوگا اھ ملخصا اور اسی میں ہے کہ وراثت کا استحقاق رشتہ اور صحیح نکاح کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا محض نکاح فاسد یا باطل کی بناء پر استحقاق وراثت بالاجماع نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
اور جو بعد گزرنے دو مہینے یعنی ساٹھ دن کے ہوا اور ہندہ دعوی کرے کہ تین حیض کامل اس وقت تك گزر چکے اور عدت منقضی ہوگئی تھی تو قول ہندہ بقسم معتبر ہوگااگر ورثاء زوج ثانی اس کا خلاف گواہوں سے ثابت کردینگے تو حکم اس صورت کا بھی مثل صورت اولی کے ہے ورنہ جب ہندہ مضی عدت بحلف بیان کردے گی تو میراث ومہر دونوں پائے گی
فی الدرالمختارقالت مضت عدتی والمدۃ تحتملہ وکذبھا الزوج قبل قولھا مع حلفھا والاتحتملہ المدۃ لالان الامین انما یصدق فیما لایخالفہ الظاھرثم لو بالشہور فالمقدار المذکورولو بالحیض فاقلھا للحرۃ ستون یوما واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے:بیوی نے کہا میری عدت ختم ہوچکی ہے اور خاوند اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے تو اگر مدت اتنی ہو جو عدت گزرنے کی گنجائش رکھتی ہے تو حلف لے کر عورت کی تصدیق کردی جائے گیاگر وہ مدت ایسی نہیں تو پھر عورت کی تصدیق نہ کی جائیگیکیونکہ کسی امین کی تصدیق ایسی صورت میں کی جاتی ہے جب ظاہر شواہد اس کے مخالف نہ ہوں پھر اگر عدت مہینوں کے حساب سے ہوتو تین ماہ عدت کے ہیں اور عدت حیض کے حساب سے ہوتو کم از کم آزاد عورت کےلئے ساٹھ دن عدت ہے(جس پر عورت کی تصدیق کی جائے گی) واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از شہر کہنہ مسئولہ ننھے محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کو طلاق دی بعد طلاق تین یا چار یوم اس کا نکاح اور جگہ ہوگیا اور ایك یاڈیڑھ سال تك وہاں رہی بعد کو خاوند نے اس کو نکال دیا اس عورت نے تیسری جگہ نکاح کیااب یہ دریافت کرنا ہے کہ اس عورت کا دوسرا نکاح جو بعد طلاق بعد چھ یا چار یوم ہوا آیا جائز تھا یا
حوالہ / References درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١
درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ٢/٣٥٢
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٨
#14783 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
ناجائزاور تیسرا نکاح بھی اسی طرح جائز ہوا یاناجائز بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل بیان کرتا ہے کہ عورت پہلے خاوند کے پاس رخصت ہوکر رہ چکی تھی اس کے بعد طلاق ہوئی اور طلاق کے بعد دوسرے نکاح سے پہلے عورت کے کوئی بچہ پیدا نہ ہوا طلاق کے تین چار ہی دن بعد عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اس شخص کو بھی یہ سب حال معلوم تھا کہ ابھی طلاق کو تین چار ہی دن ہوئے پس اس صورت میں عورت کا یہ دوسرا نکاح حسب اختیار بحرالرائق محض زنا ہوا یہاں اس کی لڑکی بھی پیدا ہوئی پھر اس دوسرے شخص نے نکال دیا اور عورت نے تین چار ہی دن کے بعد تیسرے شخص سے نکاح کرلیایہ تیسرا نکاح صحیح و جائز ہوا کہ اب پہلے نکاح کی عدت گزرچکی تھی اور دوسرا نکاح نکاح ہی نہ تھا نرا زنا تھا اور زناکے پانی کی شرع میں کوئی حرمتنہ اس کے لئے عدت۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کو اپنی ماں کہا اور ایك سال تك اسی زوجہ سے اس طور پر مفارقت رکھی کہ زوجہ کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا جب ایك سال گزر گیا تب زید نے بالفاظ صریح اپنی زوجہ کو طلاق دے دیزوجہ نے بعد گزرنے ایك ہفتہ کے دوسرے شخص سے نکاح کرلیاپس یہ نکاح قبل انقضائے عدت جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
زوجہ کو ماں کہنا گناہ مگر اس سے طلاق نہیں ہوتی
کما نص علیہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ثم العلامۃ الشامی فی ردالمحتار وقد قال تعالی و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا وفی الحدیث أ اختك ھی فکرہ ذلك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونھی عنہ ۔
جیساکہ اس کو محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں پھر علامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا ہے اور اﷲ تعالی نے فرمایا کہ یہ لوگ غلط اور جھوٹی بات کہتے ہیںاور حدیث شریف میں بہن کہنے پر فرمایا:کیا یہ تیری بہن ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ناپسند فرماتے ہوئے یہی فرمایا اور اس سے منع فرمایا۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ٥٨ /٢
سنن ابو داؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ١/٣٠١،سنن الکبری باب مایکرہ من ذلك دارصادر بیروت ٧/٣٦٦
#14784 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
تو جس روز سے طلاق دی اس دن سے مطلقہ ہوئی اور پیش از انقضائے عدت نکاح قطعا ناجائز حرام ہوا ان پر جدا ہوجانا فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: مرسلہ رفیع الدین صاحب مختار شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاند بی بی کا نکاح بعمر گیارہ برس پیر خاں کے ساتھ ہواچاند بی بی بعدنکاح حسب دستور اپنے شوہر کے گھر آئیایك دو روز رہ کر ماں باپ کے گھر واپس گئیبعد نکاح کے تین برس بعد بیوہ ہوگئیمسماۃ مذکور کا نکاح ثانی عطاخاں کے ساتھ جس کی عمر چھ برس کی تھی بعد فاتحہ چالیسویں کے کردیاانتظار گزرنے عدت کا نہ کیا گیاوقت نکاح ثانی چاند بی بی تخمینا برس کی ہوگیاب یہ بات دریافت طلب ہے کہ بلاانتظار گزرنے عدت کے یہ نکاح ثانی جائز ہوا یانہیںاور بیوہ کے بھائی اور ماں زندہ ہیں تو کس کی اجازت درکار ہے
الجواب:
جو عورت آزاد کسی عقد صحیح سے کسی مسلمان کے نکاح میں ہواور موت شوہر تك وہ نکاح اپنی صحت پر باقی رہےکوئی فساد اس میں عارض نہ ہواور موت شوہر کے وقت عورت کو کسی طرح کا حمل ہونا ثابت نہ ہو تو عورت پر ہر حال میں خواہ مسلمہ ہویا کتابیہ بالغہ ہو یا صغیرہ شوہر بالغ تھا یاصبی خلوت ورخصت ہوئی یا نہیں بہر صورت چار مہینے دس دن کا انتظار لازم ہوتا ہےاس مدت کے گزرنے سے پہلے اس کا نکاح حرام و ناجائز ہے
فی الدرالمختار العدۃ(للموت اربعۃ اشھرو عشرا) بشرط بقاء النکاح صحیحا الی الموت(ملتقطا)وطئت اولا ولو صغیرۃ او کتابیۃ تحت مسلم ولو عبدافلم یخرج عنھا الاالحامل (ولو)کان (زوجھا) المیت (صغیرا)غیر مراھق اھ ملتقطا۔
درمختار میں ہے موت کی وجہ سے عدت چار ماہ دس دن ہے بشرطیکہ موت تك نکاح صحیح رہاہو مطلقایعنی وطی کی گئی ہو یانہ کی گئی ہواگر چہ عورت نابالغہ ہو یا کوئی کتابیہ عورت مسلمان کے نکاح میں ہو اگرچہ وہ مسلمان غلام ہی ہو سب کا حکم یہی ہےاگرچہ خاوند اس قدر چھوٹا ہو جو ببلوغ کے قریب نہ ہو فوت ہواہو اھ ملتقطا۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٦
#14786 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
سائل مظہر کی چاند بی بی کا یہ دوسرا نکاح شوہر متوفی کے باپ نے اپنے بیٹے کی موت سے اکتالیسویں بیالیسویں دن اپنے دوسرے بیٹے صغیر السن کے ساتھ کردیا تو یہ نکاح از آنجا کہ دیدہ و دانستہ عدت کے اندر کیا گیا محض باطل ہوا جسے نکاح ہی نہیں کہہ سکتے کما ذکرہ فی البحر وعنہ فی ردالمحتار(جیسا کہ بحر میں اور اس سے ردالمحتار میں ذکر کیاگیا ہے۔ت)چار مہینے دس دن موت شوہر سے گزرنے کے بعد چاند بی بی اگر بالغہ ہوتو اسے خود ورنہ اس کے ولی کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کردے چاند بی بی کے اگر باپ داد ا نہیں تو اس کا جوان بھائی حقیقی ولی نکاح ہے اس کے ہوتے ہوئے ماں کواختیار نہیں والمسائل ظاھرۃ و فی الکتب دائرۃ(یہ مسائل ظاہر ہیں اور کتب میں مذکور چلے آرہے ہیں۔)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ: از احمد آباد متصل مسجد کانچ محلہ جمالپور مرسلہ مولنا عبدالرحیم صاحب صفر ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت کو تاریخ شعبان ھ کو طلاق دی اور وہ عورت مدخولہ بہا تھی اور زوج ثانی نے اسی شعبان کی تاریخ کو نکاح کیا اور اس نے اپنی زوجہ کو اپنے مکان میں دن رکھ کر اس سے صحبت کی اس عرصہ میں اس کو حمل رہ گیا اب علماء نے اس کو فتوی دیا کہ نکاح عدت کے اندر ہوا ہے اس لئے فاسد ہوااب اس نے شوال کے تاریخ یا کو پھر دوبارہ عورت سے نکاح کیااب یہ نکاح شرعا جائز ہے یانہیںشق ثانی میں زوج شرعا کیا کرےبینواتو جروابیانا شافیا۔
الجواب:
اگر عورت وقت طلاق حاملہ تھی اور شعبان کو جوزوج ثانی نے نکاح کیا اس سے پہلے وضع حمل ہوچکا تھا تو وہ نکاح صحیح ہوا اور عدت کے بعد ہی ہوا دوبارہ نکاح کی حاجت نہ تھیاور اگر عورت کا وقت طلاق حاملہ ہونا ثابت نہ تھا تو یہ دونوں نکاح کہ شخص دوم نے کئے ناجائز وباطل ہیں کہ دونوں عدت کے اندر واقع ہوئےپہلے کا عدت میں ہونا تو ظاہر کہ دن میں تین حیض نہیں گزرسکتے اور دوسرے کایوں کہ جب زن مطلقہ عدت کے اندر حاملہ ہوجائے تو اب اس کی عدت اس حمل کے وضع تك ہوجاتی ہےپس اس پر فرض ہے کہ عورت کو فورا الگ کر دےیہ حمل جواب ظاہر ہوا ہے اس کے وضع کاانتظار کرےبعد وضع اس سے نکاح کرسکتا ہے
فی ردالمحتار عن النھر الفائق عن البدائع اعلم ان المعتدۃ لو حملت فی عدتھا ذکر الکرخی ان
ردالمحتار میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے بدائع سے نقل کیا کہ واضح رہے کہ عدت والی دوران عدت اگر حاملہ ہوجائے تو امام کرخی کے قول کے
#14787 · باب العدّۃ (عدّت کا بیان)
عدتھا وضع الحمل ولم یفصلوالذی ذکرہ محمد ان ھذا فی عدۃ الطلاق امافی عدۃ الوفاۃ فلاتتغیر بالحمل وھو الصحیح اھ اقول: ووجہہ ظاہر ان عدۃ الوفاۃ بالاشھر والطلاق بالحیض والحیض یرتفع بالحبل فافھمواﷲ تعالی اعلم۔
مطابق اس کی عدت بچے کی پیدائش تك ہےامام کرخی نے اس کی تفصیل نہ فرمائیاور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے خود جو ذکر فرمایا اس کے مطابق یہ حکم طلاق کی عدت کا ہے لیکن اگروفات کی عدت ہو تو پھر حمل کی وجہ سے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہی رہے گی اور وفات والی عدت میں تبدیل نہ ہوگییہی صحیح مذہب ہےاھ اقول:(میں کہتا ہوں)اس کی وجہ ظاہر کہ وفات کی عدت مہینوں کے حساب سے ہوتی ہے اور طلاق کی عدت حیض کے حساب سے ہوتی ہے اور حیض حمل کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہےغور کرو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
___________________
حوالہ / References ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٤
#14788 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
باب الحداد
(سوگ کا بیان)
مسئلہ: مسئولہ محمد عنایت اﷲ ربیع الاول شریف ھ
حضرت مولوی تسلیم عرضوہ لڑکی کہ بیوہ ہوگئی ہے میں اسے شاہجہان پور لے جانا چاہتا ہوں اس میں کیا حکم ہے اور ایام عدت وفات میں عورت بضرورت بھی دوسرے مکان یا دوسری جگہ جاسکتی ہے یانہیںوالسلام محمد عنایت اﷲ
الجواب:
تاختم عدت عورت پر اسی مکان میں رہنا واجب ہےشاہجہان پور خواہ کسی جگہ لے جاناجائز نہیںہاں جس کے پاس کھانے پہننے کو نہیں اور ان چیزوں کی تحصیل میں باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ بغیر اس کے خوردونوش کا سامان گھر میں بیٹھے نہیں کرسکتی تو وہ صبح و شام باہر نکلے اور شب اسی مکان میں بسر کرے دوسرے مکان میں چلے جانا ہر گز جائزنہیںمگر یہ مکان اس کا نہ تھا مالکان مکان نے جبرا نکال دیایا کرایہ پر رہتی تھی اب کرایہ دینے کی طاقت نہیں یا مکان گرپڑایا گرنے کو ہے یا اور کسی طرح اپنی جان یا مال کا اندیشہ ہے غرض اسی طرح کی ضرور تیں ہوں تو وہاں سے نکل کر جو مکان اس کے مکان سے قریب تر ہو اس میں چلی جائے ورنہ ہرگز نہیں درمختار میں ہے:
#14789 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین و تبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج حتی لوکان عندھا کفایتھا صارت کالمطلقۃ فلایحللھا الخروج فتح اھ اقول فکذااذا قدرت علی الکسب فی البیت من دون خروج فان المبیح ھی بالضرورۃ فبحیث لاضرورۃ فلااباحۃ وھذا واضح جدا۔
موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے باہر نکل سکتی ہےاو ر رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں ہی رہے کیونکہ اس نے اپنا خرچہ خود پورا کرنا ہے اس لئے وہ باہر نکلنے کی محتاج ہے حتی کہ اگر اپنی کفایت اور ضرورت کےلئے اس کے پاس نفقہ ہوتو یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اس کو باہر نکلنا حلال نہیں ہےفتح اھ اقول:(میں کہتا ہوں) یونہی اگر وہ گھر میں رہ کر کوئی محنت کرکے اپنا خرچہ بناسکتی ہے تو نکلناحلال نہ ہوگا کیونکہ اس کا باہر نکلنا ضرورت کی بناء پر جائزہوا ہے اور جب ضرورت نہیں تو جواز بھی نہیںاور یہ بات بالکل واضح ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وتعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا او لاتجد کراء البیت ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الی حیث شاء الزوج ۔واﷲ تعالی اعلم۔
موت اور طلاق کی عدت والی عورتیں اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی اور وہاں سے باہر نہ نکلیں الایہ کہ ان کو جبرا نکالا جائے یا وہ مکان گر جائے یا گرنے کا خطرہ ہویا وہاں مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکا ن کرایہ پر تھاعورت میں کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو یا اور اس قسم کی ضروریات ہوں تو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائےاور طلاق والی کو یہ حکم ہے کہ جہاں خاوند اسے سکونت دے وہاں رہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:از بریلی محلہ شاہ آباد متصل چاہ کنکر مسئولہ سید منصور علی صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت جس کا خاوند مرگیا وہ ایام عدت میں اپنے کسی استحقاق وراثت کے استحکام کے واسطے باہر گھر سے جاسکتی ہے یانہیںاور اگر باہر جائے تو کس قدر عرصہ تك اور اس کے باہر جائے سے اس کے کسی حقوق میں فرق تو نہ آئے گا بینواتوجروا۔
حوالہ / References درمختار باب الحداد مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٠
درمختار باب الحداد مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٠
#14790 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
الجواب
سائل نے ظاہر کیا کہ عورت مسکینہ ہے پانچ روپے کی ایك معاش کہ اس کے شوہر نے اسے لکھ دی تھی صرف وہی پاس رکھتی ہے اور اہلکار کچہری کوکمیشن دے کر بلانے کی استطاعت اصلا نہیں اور اگر نہ جائے تو وہ جائداد اس کے نام نہ ہوگی اور وہ جگہ جہاں جانا چاہتی ہے اس کے مکان عدت سے صرف چھ میل دور ہے دن ہی دن میں جانا اور مکان میں واپس آ نا ہو جائے گا رات یہیں آ کر بسر کرے گی اگر بات یوں ہے تو صورت مذکور ہ میں اسے جانا اور دن کے دن واپس آکر رات مکان عدت ہی میں بسر کرنے کی اجازت ہے۔درمختار میں ہے:
معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین وتبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج حتی لوکان عندھا کفایتھا صارت کالمطلقۃ ولایحل لھا الخروج فتحوجوزفی القنیۃ خروجھا لاصلاح لا بدلھا منہ کزراعۃ ولاوکیل لھا ۔
موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے نکلے اور رات کا اکثر حصہ واپس اپنے مکان ہی میں بسر کرے کیونکہ اس کا اپنا خرچہ خود اس کے ذمہ ہے اس لئے وہ محتاج ہے کہ باہر نکلے حتی کہ اگر اس کے پاس کفایت کے مطابق خرچہ موجود ہے تو پھر یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اس کو باہر جانا جائز نہیں ہےفتح۔اور قنیہ میں اسے اپنی ضروری اشیاء کی اصلاح کے لئے نکلنا جائز قرار دیا ہےمثلا زراعت کی نگرانی کرنی ہے اور اس کا کوئی وکیل نہ ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی النھر ولابدان یقید ذلك بان تبیت زوجھا ۔واﷲ تعالی اعلم۔
نہر میں کہاہے یہ قید ضروری ہے کہ رات کو خاوند والے گھر میں واپس آئے اور وہاں رات گزارے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از شہر روہیلی ٹولہ بریلی مسئولہ مسیت خاں رجب المرجب ھ
زیدفوت ہوااس کی زوجہ کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی اور نہ کوئی شخص ورثاء و متعلقین متوفی سے اس کے نان ونفقہ کا متکفل ہو بلکہ اشخاص مذکور کی جانب سے چور شارب الخمر تارك الصلوۃ قمار باز ہیں ونیز دیگر امو ر خلاف شریعت کے مرتکب رہتے ہیں نسبت مسماۃ مذکور کے انعدام عصمت واتلاف مال و دیگر قسم کے
حوالہ / References درمختار باب الحداد مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٠
ردالمحتار باب الحداد داراحیاء التراث العربی بیروت٢/٦٢٠
#14953 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
فساد کا اندیشہ کامل وقوی ہے ایسی صورت میں مسماۃ مذکورہ کو مکان مسکونہ اپنا چھوڑ کر کسی دوسری جگہ پرایام گزاری عدت جائز ہے یانہیں
الجواب:
عدت موت کا نفقہ کسی پر نہیں ہوتا خود اپنے پاس سے کھائے پاس نہ ہوتو دن کو محنت و مزدور ی کےلئے باہر جاسکتی ہےچار مہینے دس دن وہیں گزار نا فرض ہےاﷲ عزوجل کے ادائے فرض میں حیلے نہ کئے جائیں و الله یعلم المفسد من المصلح (اﷲ تعالی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے۔ت)اگر اندیشہ واقعی و صحیح ہے بذریعہ حکومت بندو بست کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از پرانا شہرر وہیلی ٹولہ بریلی مرسلہ احمد اﷲ خاں صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ قوم حجام سے ہے اور ہمیشہ بوجہ حجامی باہر نکلتی ہےایسی صورت میں اس کو بایام عدت دن میں اور شب میں باہر نکلنا جائز ہے یانہیںاور قیام شب دوسرے مکان پر کرسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل کے بیان سے معلوم ہواکہ یہ عدت موت کی ہےپس اگر عورت کے پاس اتنا مال ہے کہ چار ماہ دس دن گھر بیٹھ کر کھائے جب تو اسے نکلنا جائز نہیں ورنہ جتنے دنوں کھانے کا سامان رکھتی ہے اتنے دنوں اسے گھر بیٹھ کر کھانا لازماور پھر نکلنا جائزرات اپنے گھر میں گزارے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از شہر بریلی رمضان ھ
زید فوت ہواایك زوجہ حاملہ اور ایك لڑا اور دو لڑکیا ں نابالغ چھوڑیںوہ ایك غریب آدمی تھا جس کے رہنے کو مکان بھی نہ تھا کرایہ کا مکان تھا مکان والے کا دو مہینہ کا کرایہ چاہئے وہ کہتا ہے کہ کرایہ دو یا مکان خالی کروزوجہ زید کے پاس نہ کھانے پینے کو کچھ ہے اور نہ کرایہ مکان ادا کرنے کوایسی حالت میں زوجہ زید اندر میعاد عدت کے وہ مکان جس میں زید فوت ہوا چھوڑ کر اپنی ماں کے گھر جاسکتی ہے یانہیں
الجواب:
جہاں سے ممکن ہو کرایہ ادا کرے اور عدت کے دن وہیں گزارے
امرت بہ السائلۃ وھی ام المتوفی عنھا زوجھا فرضیت فعلمت انھا قادرۃ انما ذلك احتیال
جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا یہ بات میں نے اس کی ماں سے کہی وہی سائلہ تھی تو اس بات پر وہ راضی ہوگئی تومیں نے معلوم کرلیا کہ عورت کرایہ اور نفقہ پر
#14954 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
للانتقال وکم جربنا مثل ذلک۔
قادر ہےاور یہ بیان منتقل ہونے کا ایك بہانہ تھا اس بات کا تجربہ بارہا ہم کرچکے ہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وھی فی دار باجرۃ قادرۃ علے دفعھا فلیس لھا ان تخرج بل تدفع ۔
اگر موت کی عدت والی کسی کرایہ کے مکان میں ہواور کرایہ دینے پر قادر ہوتو اس کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں بلکہ کرایہ ادا کرے(ت)
درمختار میں ہے:
تعتدان معتدۃ طلاق و موت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا اولا تجد کراء البیت و غیر ذلك من الضروریات فتخرج لاقرب موضع الیہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
موت اور طلاق کی عدت والی عورتوں کو گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں اسی مکان میں عدت بسر کریں جہاں عدت واجب ہوئی ہے الایہ کہ ان کو جبرا نکالا جائے یا وہ مکان گر جائے یا گرنے کا خطرہ ہو یا وہاں مال کے نقصان کا خطرہ ہویا مکان کرایہ پر تھا عورت کرایہ دینے کی طاقت نہ رکھتی ہویا اور اس قسم کی ضروریات ہوں جن سے مجبور ہوتو قریب ترین موضع میں منتقل ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: یہ چند مسائل محمد میر خان صاحب پیلی بھیت کو ارسال فرمائے گئے۔ بتاریخ شعبان المعظم
عدت میں عورت کو یہ چیزیں منع ہیں:ہر قسم کا گہنا یہاں تك کہ انگوٹھی چھلا بھی مہندیسرمہعطرریشمی کپڑاہار پھولبدن یا کپڑے میں کسی قسم کی خوشبوسر میں کنگھی کرنااور مجبوری ہوتو موٹے دندانوں کی کنگھی کرے جس سے فقط بال سلجھالے پٹی نہ جھکالے۔پھلیل میٹھا تیلکسمکیسر کے رنگے کپڑےیونہی ہر رنگ جس سے زینت ہوتی ہواگرچہ پڑیہ گیرو کاچوڑیاں اگرچہ کانچ کیغرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تك منع ہے۔چارپائی پر سونابچھونا سونے یا بیٹھنے میں بچھانا منع نہیں۔
مسئلہ۱۰۲: از میونڈی ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ درمیان عدت کے عورت سے واسطے کرنے نکاح کے دریافت
حوالہ / References ردالمحتار باب الحداد داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٢٠
درمختار باب الحداد مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٠
#14955 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
کرنا کیسا ہے
الجواب:
عدت میں نکاح کا پیام دینا بھی حرام ہے اور اگر پیام نہیںمثلا اس کے گھر والے دریافت کریں کہ نکاح ثانی کا ارادہ ہے یاکیاتو حرج نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از شہر متصل جامع مسجد پیارے میاں معرفت عنایت خاں محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ باہر تھی اور خبر انتقال شوہر سن کر آئی اور ایك مکان میں قیام کیا جس میں بیٹھك ہے اور ایك دروازہ صدر ہے لہذاایام عدت میں بیٹھك سے مکان میں جاسکتی ہے یانہیں
الجواب:
سائل نے بیان کیا کہ عورت گوالیار میں تھی اور وہاں سے آئیشوہر کا مکان گاؤں میںیہ وہاں نہ گئی بلکہ شہر میں ایك غیر شخص کے یہاں ٹھہریاس کے بیٹھك اور زنانخانہ کیا پوچھنا اس سے سفر کرکے آنا حرام تھا اور غیر شخص کے یہاں ٹھہرنا حرام
تھابیٹھك ہویازنانخانہ اسے حکم ہے کہ شوہر کے مکان میں عدت پوری کرےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: صفر ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرگیا حالت نابالغی میںعمر یا برس کی تھیزوجہ اس کی ہندہ سال کیکوئی علامت ببلوغت کی نہ تھیبعد مر نے زید کے تین روز کے بعد زید کا باپ زید کی زوجہ کو اپنے مکان کولے گیاموضع سوڑامیںاور وہاں لے جاکر ہندہ سے اسٹامپ لکھایا معافی مہر کادوچار روز رہ کر پھر اسی مکان پرآگیا جہاں زید کا انتقال ہوا تھا وہ مکان زید کی نانی کاتھااب زید کا باپ ہندہ کے باپ کو ہندہ کو دیکھنے نہیں دیتاکہتا ہے بعد عدت یا عدت کے اندر میں ہندہ کا نکاح اپنی رائے سے کردوں گا اور ہندہ بیمار ہے جاڑابخار آتا ہےہندہ کے باپ کو صدمہ ہوتا ہے کہ میں اس کا علاج کروں لیکن زید کا باپ نہیں بھیجتا نہ دیکھنے دےہندہ کے کسی رشتہ دار کو نہیں دیکھنے دیتاہندہ کا باپ کہتا ہے کہ شریعت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بدلنے مکان کے وہی قید باقی رہی ہندہ کے ذمہ یا بدل گئی کیونکہ زید کا باپ ہندہ کو اس مکان سے اور مکان میں لے گیا دوچار روز رکھا اب ہندہ کا باپ چاہتا ہے کہ شریعت اجازت دے تو میں ہندہ کو اپنے مکان پر لے آؤں اس وجہ سے کہ ہندہ کو زید کے سامنے تکلیف پہنچاتا تھا اب تو اور بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے ہندہ کولہذا سوال کا جواب عنایت فرمایا جائےزید کی نانی کے مکان سے زید کے باپ
#14956 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
کا مکان چار کوس ہے۔
الجواب:
عدت کے اندراسے دوسری جگہ لے جانا حرام تھا اور جب تك وہاں رکھا یہ بھی حرام ہوا مگر اس سے عدت جاتی نہ رہی موت سے چار مہینے دس دن تك شوہر ہی کے مکان پر رہنا پڑے گا اگر وہ نابالغہ ہے تو اس کے معاف کئے سے مہر معاف نہیں ہوسکتا اور عدت کے اندر توکوئی اس کا نکاح نہیں کرسکتا جو کرے گا باطل محض ہوگا عدت کے بعد ہندہ کے باپ کو اس کے نکاح کا اختیار ہے پدر زید کو کچھ اختیار نہیں کہ اگر یہ کردے گا پدر ہندہ کی اجازت پر موقوف رہے گا وہ رد کردے فورا ردہوجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر کا انتقال ہوگیااور وہ غیر شہر میں جس مکان میں اس کا شوہر سکونت رکھتا تھا عدت میں ہےلیکن بسبب نادانی اور غیر محرم کے وحشتناك ہوکر چاہتی ہے کہ والدین کے مکان میں جاکر رہوںآیا اس کو شرع اجازت دیتی ہے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
اولا یہاں شرعا واقع عذر سچی مجبوری دیکھی جاتی ہے و الله یعلم المفسد من المصلح (اﷲ تعالی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے۔ت)خدا ہرایك کا نہاں وعیاں سب جانتا ہے اگر ایام عدت تك وہاں رہنے میں کوئی خوف صحیح واندیشہ واقعی ہندہ کے مال یا جان ناموس پر نہیںکوئی ضرر صحیح وہاں اتنے دن گزارنے میں نہیں یا ہے تو اس کا علاج اسے ممکن ہے مثلا ا سکے بعض اعزہ محارم اس کے پاس رہ سکتے ہیں یا قابل اعتماد عورات کو ساتھ کےلئے رکھ سکتی ہے اگرچہ اجرت دے کرتو اسے ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی خوف میں شاید اور عجب نہیں کا لحاظ نہیں ہوتا خوف صحیح منشاء صحیح سے ناشی ہونا چاہئے نہ اس وحشت کا کچھ اعتبار جو کم عمری کا لازمہ ہے خصوصا ایسے غم کی حالت میں جب تك وہ ایسی شدت پر نہ ہو جس سے نقصان صریح عقل وغیرہ پر پہنچنے کا خطرہ ہو۔
ثانیا اور اگر واقعی حالت مجبوری ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ اس مکان سکونت سے قریب تر کون سے مکان ایسا ہے جس میں وہ اندیشہ وخطرہ نہ ہوا گر اسی شہر میں کوئی دوسرامکان قابل اطمینان اپنے کسی عزیز کا ہو تو وہاں چلی جائےشہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں بلکہ وہیں دو محلوں میں دومکان قابل اطمینان ہوں ایك دور ایك پاستو دور والے میں جانے کی اجازت نہیںاور اگر اس شہر میں نہ ہو مگر دوسرے شہر کہ بہ نسبت شہر والدین اور اس شہر سکونت سے قریب ترہے میں کوئی مکان قابل اطمینان ہے تو وہیں جائےہاں اگر
#14957 · بابُ الحداد (سوگ کا بیان)
سب صورتیں معدوم ہوں تو البتہ بحالت ضرر صریح ومجبوری محض اجازت ہے۔درمختار میں ہے:
تعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا اولا تجد کراء البیت ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الی حیث شاء الزوج ۔
موت او ر طلاق کی عدت والی عورتیں اسی مکان میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی ہواور وہاں سے منتقل نہ ہوں الایہ کہ ان کو جبرا نکالا جائے یا وہ مکان گرجائے یاگرنے کا خطرہ ہو یا مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکان کرایہ پر ہو اور عورت کرایہ نہ پائےاور دیگر ایسی ضروریا ت کی وجہ سے مجبور ہوتو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائےاور طلاق والی کو یہ حکمہے کہ جہاں خاوند انتظام کرے وہاں رہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
المعتدۃ اذاکانت فی منزل لیس معھا احد وھی لا تخاف من اللصوص ولامن الجیران ولکنھا تفزع من امر المبیت ان لم یکن الخوف شدیدالیس لھا ان تنتقل من ذلك الموضعوان کان الخوف شدیدا کان لھا ان تنتقل کذافی فتاوی قاضی خاں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عدت والی عورت جب کسی ایسے مکان میں ہو کہ وہاں اس کے ساتھ کوئی نہ رہتا ہو اور چوروں یا پڑوسیوں سے خائف نہ ہو لیکن وہ عورت رات کو ڈرتی ہواگر یہ ڈر شدید نہ ہو تو عورت کو وہاں سے منتقل ہو نا جائز نہیںاور اگر یہ ڈر شدید ہو تو عورت کو پھر منتقل ہو نا جائزہے۔فتاوی قاضی خاں میں ایسے ہی مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References درمختار باب الحداد مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٠
فتاوی ہندیہ الباب الرابع عشر فی الحداد نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٣٥
#14958 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
باب زوجۃ المفقود
(مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
مسئلہ:زوجہ عــــہ مفقود کے لئے چار برس کی مہلت کہ حضرت امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب ہے جمہور ائمہ کرام اس کے خلاف پر ہیںادھر قرآن عظیم صاف صاف ارشاد فرمارہا ہے: و المحصنت من النسآء تم پر حرام ہیں وہ عورتیں جو دوسرے کے نکاح میں ہیں۔اس عورت کا نکاح مفقود میں ہونا تو یقینا معلوماور چار برس کے بعد اس کی موت مشکوك و موہومکیا آدمی اتنی مدت میں خواہ مخواہ مرہی جاتا ہے یا اس کی مرگ پر ظن غلبہ کرتا ہے یہاں تك کہ خود علمائے مالکیہ رحمہم اﷲ تعالی اقرار فرماتے ہیں کہ اس چار سال کی تقدیر پر سواء تقلید امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیںنہ ہرگز نظر فقہی اس کے مساعد
کما نقل العلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطا عن الکافی انھا مسئلۃ قلد نافیھا
جیسا کہ علامہ زرقانی نے شرح المؤطا میں کافی سے نقل کیا کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں ہم نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ

عــــہ:یہ مضمون مسئلہ ازاجین تکمولوی ضیاء المصطفی صاحب نے کسی رسالہ سے نقل کرکے دیا اور مولانا عبدالرؤف صاحب مرحوم نے شامل کیا
حوالہ / References القرآن الکریم ٤ /٢٤
#14959 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
عمر ولیست مسئلۃ النظر ۔
کی تقلید کی ہے اور یہ نظری مسئلہ نہیں ہے(ت)
اور تمام ائمہ کہ شك سے یقین زائل نہیں ہوتاولہذا خود ائمہ مالکیہ دربارہ مال اس تقدیر چار سال کے قائل نہ ہوئےحالانکہ یہ نہایت مستبعد ہے کہ آدمی مہلت چار سال کے بعد حق زوجہ میں مردہ ٹھہر کراس کا مال ورثاء پر تقسیم نہ ہوفاضل ابراہیم شرح انواراردبیلی میں لکھتے ہیں: نقض حکمہ لمخالفتہ القیاس الجلی اذلایجوز ان یکون حیا فی مالہ ومیتا فی حق زوجہ ۔
قاضی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے گا کہ یہ ظاہر قیاس کے خلاف ہے کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے مفقود شخص کو مال کے حق میں زندہ اور بیوی کے حق میں مردہ قرار دیاجائے۔(ت)
تو نص قطعی و قضیہ یقینی کے خلاف ایك موہوم بات پر کہ حق مال میں بالاتفاق مقبول نہیںکیونکر زن زید نکاح عمرو میں آسکتی ہےادھر احادیث حضور المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اس مذہب کاکہیں پتا نہیںبلکہ حدیث آئی ہے تو ہمارے ہی موافق آئی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امرأۃ المفقود امرأتہ حتی یأتیھا البیان ۔رواہ الدار قطنی فی سننہ عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اﷲ عنہ۔
مفقود کی عورت اسی کی عورت ہے یہاں تك کہ اس کی موت کا حال ظاہر ہو۔(اس کو دار قطنی نے اپنی سنن میں مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
امیر المومنین مولی المسلمین حضرت سیدنا علی المرتضی وکنیف العلم سید الفقہاء سند الائمہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما ہماری ہی طرف ہیں رواہ عنھما عبدالرزاق فی مصنفہ(اس کو عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں دونوں حضرات علی اور ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)اور قوت برقوت یہ کہ امیر المومنین امام العادلین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کہ پہلے قائل چار سال کے تھے بلکہ وہی پہلے قائل چار سال کے ہوئے بعدہ قول حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی طرف رجوع فرمایا کما ذکرہ فقیہ الکوفۃ ابن ابی لیلی رحمہ اﷲ تعالی
جیسا کہ اس کو فقیہہ الکوفہ ابن ابی لیلی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ
حوالہ / References شرح الزرقانی علی مؤطاامام مالك عدۃ التی تفقد زوجھا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ٣/٢٠٠
شرح الانوار فصل القسم الثانی عدۃ الوفاۃ مطبعۃ الجمالیہ مصر ٢/٢١٢
سنن الدار قطنی باب المہر حدیث٢٥٥ نشر السنۃ ملتان ٣/٣١٢
مصنف عبدالرزاق باب التی لاتعلم مہلك زوجہا حدیث ١٢٣٣٠ مجلس علمی بیروت ٧/٩٠ و ٩١
#14960 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
نقلہ المحقق فی الفتح ۔
نے ذکر فرمایایہ فتح القدیر میں محقق سے منقول ہے(ت)
تو وہ دلیل کہ مالکیہ کو اس قول پر حامل تھی یعنی تقلید فاروقی وہ بھی نہ رہی۔اسی طرح حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ ارشد تلامذہ امام مالك ہیں پہلے قول امام مالك کے قائل تھے پھر ہمارے ہی قول کے طرف رجوع لائےاور وہی ان کے مذہب میں راجح قرار پایا
کما فی میزان الشریعۃ الکبریورحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃوھذا لفظھما اختلفوا فی زوجۃ المفقود فقال ابوحنیفۃ والشافعی فی الجدید الراجح و احمد فی احد روایتیہ لاتحل للازواج حتی تمضی مدۃ لا یعیش فی مثلھا غالبا ۔
جیسا کہ میزان الشریعۃ الکبری اور رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ میں ہےیہ الفاظ دونوں سے متفق ہیں کہ مفقود کی بیوی کے متعلق فقہاء نے اختلاف کیا ہےامام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے جدید راجح قو ل اور امام احمد کے ایك قول کے مطابق اس کو دوسرا نکاح حلال نہیں حتی کہ گم شدہ اتنی عمر میں غالب طور پر زندہ نہ رہ سکے۔(ت)
بلکہ جمہور ائمہ شافعیہ رحمہم ا ﷲ تعالی تو یہاں تك اس سے اختلاف رکھتے ہیں کہ اگر قاضی مہلت چار سالہ بعد تفریق کردے تو اس کی قضا توڑدی جائے کہ اس دلیل صریح کے خلاف حکم کیاامام نورالدین یوسف بن ابراہیم اردبیلی شافعی کتاب الانوار لعمل الابرار میں فرماتے ہیں:
لوحکم حاکم بانھا تتربص اربع سنین فتعتدعدۃ الوفاۃ ثم تنکح وتربصت وحکم ثانیا بالفرقۃ واعتدت ونکحت نقض حکمہ الا اذابان انہ کان میتا وقت الحکم۔
اگر کسی حاکم نے یہ فیصلہ دیاکہ وہ چار سال انتظار کے بعد وفات کی عدت پوری کرے اور پھر کسی سے نکاح کرے چنانچہ فیصلہ کے مطابق اگر عورت نے چار سال انتظار کیا اور اس حاکم نے فرقت کا نیا حکم دے دیا اور اس کے بعد عورت نے عدت گزار کر نکاح کرلیا تو قاضی کا یہ حکم کالعدم قرار پائے گا الایہ کہ واضح ہوجائے کہ قاضی کے مذکور فیصلے کے وقت گمشدہ شخص فوت ہوچکا تھا۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References فتح القدیر کتاب المفقود مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٥/٣٧٢
المیزان الکبری کتاب العدد والا ستبراء مصطفی البابی مصر ٢/١٣٦،رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ کتاب العدد مطابع قطر الوطنیۃ الدوحۃ قطر ص٣١٢
الانوار لاعمال الابرار فصل القسم الثانی عدۃ الوفاۃ مطبعۃ الجمالیہ مصر ٢/٢١٢
#14961 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
لوقضی قاض بصحۃ نکاح زوجۃ المفقود بعد اربع سنین ومدۃ العدۃ نقض حکمہ اھ ملخصا۔
اگر کسی قاضی نے مفقود کی بیوی کے متعلق چار سال انتظار اور اس کے بعد عدت پوری کرکے نکاح کی صحت کافیصلہ دیا تو اس کا حکم کالعدم ہوگا اھ ملخصا(ت)
شرح انوار میں ہے:
لمخالفتہ القیاس الجلی فی جعل المفقود میتا فی النکاح دون المال وما جزم بہ المصنف ھوالذی علیہ الاکثرون کما یعلم من کلام الرافعی ھنا الخ۔
یہ قیاس جلی کی مخالفت کی وجہ سے کہ مفقود کو نکاح کے حق میں مردہ اور مال کے حق میں زندہ قرار دیاجائےاور مصنف نے جس پر جزم فرمایا وہ ہے جس پر اکثر ائمہ نے اعتماد فرمایا جیسا کہ یہاں امام رافعی کے کلام سے معلوم ہورہا ہے الخ (ت)
تو جو اس قول کے قائل تھے ان پر بھی اس کا ضعف ظاہر ہوا جب تو اس سے رجوع کرتے آئے اور قول ضعیف پر حکم و فتوی دینا جہل و مخالفت اجماع ہے۔
فی الدرالمختارحاصل ماذکرہ الشیخ قاسم القاضی الاان المفتی مخبر عن الحکم والقاضی ملزم بہ وان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق الاجماع ۔
درمختارمیں ہے:شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں جوذکر فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ مفتی اور قاضی کا یہاں کوئی فرق نہیں ماسوائے اس کے کہ مفتی حکم کی خبر دیتا ہے اور قاضی اس کو نافذ کرتا ہے جبکہ مرجوح قول پر فتوی اور فیصلہ جہالت ہے اور اجماع کی مخالفت ہے۔(ت)
پھر معاملہ بھی کون سا معاملہ فروج جس میں شریعت مطہرہ کو سخت احتیاط ملحوظیہاں تك کہ بآنکہ اصل اشیاء میں اباحت وحلت ہےفروج میں اصل حرمت ٹھہریتو ایسے امر میں ایسے قول کی طرف اپنا ایسا قوی و مدلل مذہب چھوڑکر جانا کیسی کھلی بے احتیاطی ہےرہا دعوی ضرورتاس کا حال یوں کھلتا ہے کہ ہندوستان کی نوجوان عورتیں جو بیوہ ہوجاتی ہیں باآنکہ انہیں شرعا نکاح ثانیہ کی اجازت ہے اپنی ایك جھوٹی رسم کی پیروی میں عمر بھر بیٹھی رہتی ہیں اس وقت نہ انہیں ضرورت سوجھتی ہے نہ یہی خیال آتا ہے کہ جوانی کیونکر کٹے گی نہ یہ کہ نان ونفقہ کہاں سے
حوالہ / References الانوار لاعمال الابرار کتاب ادب القضاء الطرف السابع فی الاشہادالخ مطبعۃ الجمالیہ مصر ٢/٤١٣ و ٤١٤
شرح الانوار کتاب ادب القضاء الطرف السابع فی الاشہادالخ مطبعۃ الجمالیہ مصر ٢/٤١٣
درمختار رسم المفتی مطبع مجتبائی دہلی ١/١٥
#14962 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
ملے گا مگر خاوند مفقود ہوکریہ سب دعوی ہجوم کرتے ہیںاگر ضرورت کا دعوی سچا ہے تو وہاں صبر کیونکر ہوتا ہے اور جب وہاں کیاجاتا ہےحالانکہ قطعا بے شوہراور ازواج کے لئے حلال ہیں تو یہاں صبر کیوں نہیں کیا جاتا کہ یقینا شوہر دار تھیں اور موت شوہر ثابت نہیں ہوئی مگر ہے یہ کہ جہال کے نزدیك رسم کا اتباع حکم کے اتباع سے زیادہ اہم ہےیہاں حیلے تلاش کئے جاتے ہیں کہ کسی مذہب میں کوئی راستہ نکلے اگر چہ اپنے مذہب میں نراحرام ہووہاں رسم نہیں چھوڑی جاتی اگرچہ چاروں مذہب میں کھلی حلت ہےاﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت فرمائےبات یہ ہے کہ نفس کی باگ جب نرم کرلیجئے دبالیتا ہے۔اس وقت ضرورتحاجتمعذوریمجبوریسوجھتی ہے اور باگ جب کری کرلیجئے دب جاتا ہے۔اس وقت ظاہر ہوتاہے کہ وہ جوش نرادعو ی ہی دعو ی تھا۔حدیث میں حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استغنی باﷲ اغناہ اﷲ ومن استعف اعفہ اﷲ ۔ رواہ الامام احمد والنسائی والضیاء عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو اﷲ عزوجل کے بھروسا پر خلق سے بے پروائی کریگا اﷲ تعالی اسے غنی کردے گااور جو سچے دل سے پارسا بننا چاہے گا اﷲ تعالی اسے پارسا بنا دے گا۔(اسے امام احمدنسائی اور ضیاء نے ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
جنہیں نکاح پر قدرت نہ ہو ان کاعلاج صحیح حدیث میں روزے رکھنا ہواہے:
من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء ۔رواہ احمد والستۃ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلموسوق الحدیث وان کان فی الرجالفالنساء شقائقھم ۔بعضکم من بعض۔
جو نکاح پر قدرت نہ رکھے اس کو روزہ لازم ہے کیونکہ یہ اس کےلئے شہوت سے رکاوٹ ہے۔اس کو امام احمد اور ائمہ ستہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہےاور حدیث کے یہ ا لفاظ اگرچہ مردوں کے بارے میں ہیںتو عورتیں وہ مردوں کی طرح ہیں اور تم آپس میں ایك دوسرے کی طرح ہو۔(ت)
بلکہ احتیاج نفقہ کے عذر کو غور کیجئے تو وہ بھی اسی عذر جوانی کے ساتھ ہے جس کا علاج حدیث میں ارشاد ہوگیا۔
حوالہ / References سنن النسائی کتاب ا لزکوٰۃ باب الالحاف فی المسلۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١/٣٦
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ١/٤٢٤
جامع الترمذی ابواب الطہارۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١/١٦
#14963 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
سن رسیدہ عورتیں جن کے شوہر مرتے یا مفقود ہوجاتے ہیں انہیں تلاش نفقہ کے لئے فکر نکاح نہیں ہوتی وہ کیونکر بسر کرتی ہیں اور یہ حالت بیوگی تو ہند کی نوجوانیں بھی اسی حال میں شریك ہیںوہاں خداجانے شان رزاقی خاوند میں کیوں نہیں منحصر ہوجاتی ہےلطف یہ ہے کہ یہاں تقلید امام مالك رحمۃاﷲ تعالی علیہ کا دامن پکڑا جاتا ہےجاہل لوگ ان کا مذہب یہ سمجھتے ہیں کہ مرد کو گمے چار برس گزرے اور عورت کویونہی عدت بیٹھ کر نکاح حلال ہوگیاحاشایہ ان کا مذہب نہیں بلکہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ عورت قاضی شرع کے حضور دعو ی پیش کرےقاضی بعد ثبوت مفقود ی کہ اس کی خبر ملنے سے بالکل ناامید ہوگئی ہو اب چار برس کی مدت اپنے حکم سے مقرر کرےاس مدت میں بھی پتا نہ چلے تو پھر قاضی تفریق کردےاس کے بعد عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے اور شوہروں کے لئے حلال ہوجائےحضور قاضی میں رجوع لانے سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں تو ا سکا اصلا اعتبار نہیں۔علامہ زرقانی مالکی شرح مؤطائے امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
قول مالك لو اقامت عشرین سنۃ ثم رفعت یستأنف لھا الاجل ۔
امام مالك کا قول ہے کہ اگر عورت بیس سال بھی گزارچکے اور بعد میں قاضی کے ہاں معاملہ پیش کرے تو بھی قاضی اس کے لئے نئی مہلت مقرر کرے گا۔(ت)
اسی میں ہے:
قول مالك ایضا تستأنف الاربع من بعد الیأس وانھا من یوم الرفع ۔
امام مالك کا یہ بھی قول ہے کہ نا امیدی کے بعد چار سال کی نئی مہلت مقرر کی جائے گی اور اس مہلت کی ابتداء قاضی کے ہاں معاملہ پیش ہونے کے بعد ہوگی(ت)
اب کہئے قول امام مالك ہی پر عمل کیجئے تواول تو یہاں قاضی مالکی کہاں! اور قاضی حنفی اپنے خلاف مذہب کیوں حکم دینے لگا! اور دے بھی تو اس کے نفاذ میں دقتیں ہیںاور نافذ ہوبھی جائے تو ابھی ساڑھے چار برس پڑے ہیں یہ کیونکر کٹیں گے !ایسی بے صبری وادعائے بے رزقی کا علاج تو یوں بھی نہ بنا۔غرض خلاصہ مقصد یہ ہے کہ اﷲ سے ڈرےاﷲ سے ڈرے۔اور امر فروج کو سہل نہ جانے۔نہ فقدان شوہر کو مرگ شوہر کے پلے میں رکھے اور اتباع حکم کو اتباع رسم سے اہم ترسمجھے اور تصور کرے کہ ہند کی نوجوانیں بیوہ ہوکر کیونکربسر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی درکنار اس دارالفتن ہند پرمحن میں بہت شریف زادیاں ایسی نکلیں گی جن کے
حوالہ / References شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك عدۃ التی تفقد زوجہا المکتبۃ التجارۃ الکبرٰی مصر ٣/١٩٩
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك عدۃ التی تفقد زوجہا المکتبۃ التجارۃ الکبرٰی مصر ٣/١٩٩
#14964 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
خداناترس شوہروں نے انہیں جیتے جی معلقہ کر رکھا ہے نہ تعلق رکھیں نہ قطع کریںوہ بیچاریاں نہ شوہر والیاں نہ بے شوہروں میں۔پھر وہ کیاکرتی اوراپنی عفتباپ دادا کی عزتشرع کی اطاعت کیونکر نگاہ رکھتی ہیں۔قطع خواہش کے لئے روزوں کی کثرت کرے۔خیالات دل کو یاد موت و قبر سے لگائے کہ موت کی یاد ہر خواہش و لذت کو بھلادیتی ہے۔اگر ماں باپ بھائی کے ذریعہ سے گزر کی صورت نہیںسینے پرونے وغیرہ کاموں سے وقت کاٹے کہ اﷲ عزوجل کے یہاں صابروں میں لکھی جائے اور بہ حکم قرآن بے حساب ثواب پائے۔اقاربمحارم اگر خبر گیری کرسکتے ہیں تو اﷲ تعالی کا ثواب عظیم لیںاپنی بیٹی بے ثبوت بیوگی نکاح غیر کی بلامیں نہ پڑنے دیں۔عوام ہند ذرا ذرا سے فضول و بے جا دنیوی جھگڑوں پر دختروں خواہروں کو بٹھارکھتے اور ان کاکلی خرچ اپنے پاس سے کرتے ہیں۔یہ دینی حکم ہے اور اپنی ناموس کے خاص حرام و حلال کا معاملہاس میں بھی ذرا غیرت و حمیت کوکام میں لائیں اور سمجھ بوجھ کر انجان نہ بن جائیںوباﷲ التوفیق وھو الھادی الی سواء الطریق۔مؤ یدین:()محدث سورتی صاحب علیہ الرحمۃ()مولانا عبدالمقتدرصاحب بدایونی()مولانا الشاہ احمد حسن صاحب کانپوری ()مولانا کرامت اﷲ صاحب دہلوی()مولاناالشاہ ہدایت رسول صاحب قادری۔
مسئلہ: از اجین مرسلہ محمد یعقوب علی صاحب ربیع الآخرھ
چہ فرمایند علمائے اہل حق و مفتیان برحق دریں مسئلہ کہ برادر عبداﷲ دائمی محبوس گردید عورت خودراطلاقے نمی دہدو او بدون شوہر نمی تواند ماند صورت ایں مسئلہ چگونہ استوشوہر محمودہ نیز از مدت دوازدہ سالہ مفقود الخبروزوجہ اوجوان طاقتے ضبط ندارد لہذا موافق مذہب امام مالك رحمۃ اﷲ علیہ کہ نزد او شان تفریق درچہار سال صحیح عمل نمودہ در حبالہ نکاح میر تقی دادہ شد بعد از چند روز نکاح شوئے سابق اورا مقام ہذاآمدہ بودہعورت مستحق اواز ہر دو کیست و مہرش بر کہ واجب می شود دریں مسئلہ چہ حکم شرع بیان فرمایند بعبارت کتب مشرح رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔
علمائے حق اور مفتیان برحق کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ عبداﷲ کابھائی قید دوامی ہوا ہے اپنی عورت کو طلاق نہیں دیتا اور بیوی کا شوہر کے بغیر گزارہ نہیںاس مسئلہ کا کیا حکم:نیز مسئلہ یہ ہے کہ محمودہ کا شوہر بارہ سال سے مفقود الخبر ہےاس کی بیوی جوان ہے اپنے پر کنٹرول نہیں کرسکتی لہذا امام مالك کے مذہب کے موافق جن کے ہاں چار سال کی مدت پر تفریق صحیح ہے پر عمل کرکے اس عورت کا نکاح میر تقی سے کردیا گیا اور اس نکاح کے چند روز بعد اس عورت کا سابق خاوند وہاں آگیا تو وہ عورت اب کس کی بیوی قرار پائے گی اور مہر کس پر واجب ہوگاان دونوں مسئلوں میں شرعی حکم کو کتب کی عبارات سے واضح فرمائیں رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین (ت)
#14965 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
الجواب:
درصورت اولی براد ر عبداﷲ فرمان آں چنان ست کہ زن را طلاق دہد قال اﷲ تعالی:
فامساك بمعروف او تسریح باحسان مرد چوں از داشتن بخوبی عاجز آمد گزاشتن بہ نیکی واجب گشت و در اداے ایں واجب اگر طلاق بافعل ندہد تفویض طلاق نیز کافی ست زیرا کہ مقصود آنست کہ زن از مضرت فتذروها كالمعلقة محفوظ ماند وایں بہ سپردن طلاق بدست زن نیز حاصل ست یعنی زن را بنویسد کہ طلاق تو بدست تو نہادم ہر گاہ کہ خواہی خود را طلاق دہی واز قید نکاح من بدر آئینفعش آنست کہ زن مصلحت خود دیدہ کار خواہد بو فاداری شوہر صبر پیش گرفتن خواہ بنا چاری خواہش چارہ دگر جستن اماتا از شوئے افتراق نشود نکاح با دیگر حرام بود قال اﷲ تعالی و المحصنت من النسآء ودرصورت ثانیہ زن بلاشبہہ بزوج پیشین دادہ شودفی رد المحتار عن شرح المجمع لابن ملك تحت قول الدرغاب من امرأتہ فتزوجت باخرو
پہلی صورت میں عبداﷲ کے بھائی کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ بیوی کو بھلائی سے پاس رکھو یا نیکی کے ساتھ آزاد کردوخاوند بخوبی پاس رکھنے سے عاجز ہے تو نیکی کے ساتھ چھوڑدینا اس پر واجب ہےاس واجب کی ادائیگی میں اگر بالفعل طلاق نہیں دیتا تو بیوی کو طلاق کا اختیار سونپ دے تو بھی کافی ہے کیونکہ مقصد یہ ہے کہ عورت کو معلق کرکے رکھنے کے ضرر سے بچایا جائے تو یہ مقصد عورت کو اختیار تفویض کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے یعنی بیوی کو لکھ دے کہ تیری طلاق تیرے ہاتھ دیتا ہوں تو جب چاہے طلاق اختیار کرلے اور میری قید سے آزاد ہوجااس کا فائدہ یہ ہے کہ بیوی اپنی مصلحت کے مطابق فیصلہ کریگی خواہ خاوند کی وفاداری میں صبر کرے خواہ مجبوری خواہشات کی بنا پر کوئی دوسرا راستہ اپنالےتاہم جب تك خاوند سے مفارقت نہ ہوجائے کسی اور سے نکاح حرام ہےاﷲ تعالی نے فرمایا کہ نکاح والی عورتیں بلاشبہہ پہلے خاوند کی بیوی ہے اسی کو دی جائے۔ردالمحتار میں شرح المجمع ابن ملك سے درمختار کے قولایك شخص بیوی کو چھوڑ کر غائب ہوگیا
حوالہ / References القرآن الکریم ٢ /٢٢٩
القرآن ٤/١٢٩
القرآن الکریم ٤ /٢٤
#14966 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
ولدت اولادثم جاء الزوج الاول مانصہالمرأۃ ترد الی الاول اجماعا ومہرے کہ در نکاح اول بستہ بودند خود بر ذمہ شوہر اول است و بریں دوم نیز مہر مثل لازم بشرطیکہ باایں زن بہم آمدہ وجماعش کردہ باشد امااگر کابینے در نکاح ثانی قراردادہ اند کم از مہر مثل ست تاآنگاہ ہموں قدر دہند وبرو نیفز ایند ورنہ مہر مثل تمام و کمال لازم آید وزیادہ براں بہیچ صورت واجب نشود گو مہر قرار دادہ ایشاں زائد ازوباشد خلاصہ آنکہ ہرچہ ازمہر مثل ومہر مسمی کم ست ہموں لازم بوداما وجوب المھر فیما استحل من فرجھا واما ماذکرنا من التقدیر فلظھور فساد النکاح وھذاھو حکم المھر فی النکاح الفاسد فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی لرضاھا بالحط ولوکان دون المسمی لزم مھر المثل لفساد التسمیۃ بفساد العقد بالالتقاط۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اس نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور اس سے اولاد ہوگئی پھر پہلا خاوند واپس آگیاکے تحت نقل کیاجس کی عبارت یہ ہے کہ عورت پہلے خاوند کو بالاجماع واپس کی جائیگیاور مہر پہلے خاوندنے جومقرر کیا وہ پہلے خاوند کے ذمہ ہے اور دوسرے خاوند پر بھی مہر مثلا ادا کرنا واجب ہے بشرطیکہ دوسرے نے اس عورت سے جماع کرلیا ہولیکن اگر نکاح ثانی میں مہر مثل سے کم مقرر ہوتو وہی واجب الادا ہوگا اس پر زائد واجب نہ ہوگا ورنہ مقررہ نہ ہونے یا مہر مثل سے زائد مقرر ہونے کی صورت صرف مہر مثل اور مقررہ سے جو بھی کم ہوگا وہی واجب الادا ہوگامہر اس لئے دینا ہوگا کہ اس کے بدلے شرمگاہ کو حلال کیا اور بیان کردہ مقدار اس لئے کہ اس ثانی نکاح کا فساد واضح ہوگیا اور نکاح فاسد میں بھی مہر کا حکم اسی طرح ہےدرمختار میں ہے کہ وطی کرنے پر نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے شرمگاہ میں وطی کے بغیر مہر واجب نہیں ہوتا اگرچہ خلوت کرچکاہواور مہر مثل اور اگر وہ مہر مقررہ سے کم ہوتو مہر مثل واجب ہوگا کیونکہ مہر مقررہ کا فساد نکاح کے فساد پر ہوگیا(ملتقطا)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ: از بنگال کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر عرصہ چار سال سے
حوالہ / References ردالمحتارفصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣١
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١
#14967 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
مفقود الخبرہے اس کی حیات و موت کی کچھ خبر نہیں ملی اور وہ گھر میں اپنی بی بی کو خورد و نوش بھی نہیں دے گیا ہے اور ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑگیا ہے جس سے اس کی بیوی کی گزراوقات ہواور اس بی بی کو کہیں سے قرض دام بھی نہیں ملتا ہےاور وہ بی بی کوئی حرفہ یا پیشہ نہیں جانتی ہے جس سے گزراوقات ہو یایہ کہ اس وقت مفقود کی بیوی ایسی ہے کہ انواع انواع کی تکلیف میں مبتلا ہے اور نیز خوف زنا بھی ہےتو ایسی صورت میں اس کو نکاح ثانی کرنا جائز ہے یانہیں اور اگر جائز ہے تو بلا عدت گزارے اور بلاحکم قاضی یا حاکم مسلم کسی مولوی یا کم علم سے کہہ دینے سے نکاح دوسرا کرسکتی ہے یانہیں یا عدت بھی گزارے گی اور عدت کب سے گزارے گی یا اس روز سے عدت محسوب ہوگی کہ جس روز سے شوہر مفقود ہوا ہے یا جس روز سے قاضی نے حکم تفریق نکاح کا کیا ہے اور جو شخص فتوی اس بات کا لکھے کہ بلاعدت گزارے یا بلاتفریق قاضی نکاح ثانی ہندہ خود کرے اور یہ کہے کہ جب بعد انقضائے سال موافق امام مالك رحمۃ اﷲ علیہ کے مفقود اموات میں شمار ہو ااب اگر قاضی تفریق کرے گا اور مردہ کے واسطے عدت ہے نہ فسخ نکاحاور جس حالت میں یہ چار سال گزر چکے اب اسے عدت کی ضرورت نہیںاس بناء پر ہندہ کا نکاح بلاتفریق کرائے قاضی اور بلاعدت پوری کرنے وفات کے کسی دوسرے سے کرادے تو وہ فتوی دینے والامرتکب حرام ہوا یا نہیں اور یہ نکاح ثانی جائز ہوایانہیں اور ایسے فتوی لکھنا اس کو درست ہیں یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
نکاح ثانی حرام ہوااور ایسا فتوی دینا حرام ہےایسے مفتی کو بند کرنا واجب ہےچار برس گزرنے پر بطور خود نکاح کرلینا کسی امام کا مذہب نہیںامام مالك نے کہ چار برس رکھے ہیںیوں کہ عورت قاضی شرع کے حضورنالش کرے وہ بعد ثبوت اپنے یہاں سے آج سے چار برس کی مہلت دے اس سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں اصلا معتبر نہیں اور ہمارے مذہب میں عورت پر انتظار فرض ہے یہاں تك کہ شوہر کی عمر سے ستر برس گزر جائیںاگر پچاس برس کی عمر میں مفقود ہوا ہے تو بیس برس انتظار کرے اور ساٹھ برس کی عمر میں دس برساس کے بعد اس کی موت کا حکم دیا جائےاور عورت چارمہینے دس دن عدت کرے پھر دوسرے سے نکاح کرسکتی ہےیہی مذہب امام شافعی کا ہے اسی طرف انہوں نے رجوع فرمائیاور یہی قول امام احمد کا ہےاور دوسرا قول مثل امام مالك ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔اس سوال کی ہولناك باتیں کہ نہ وہ چھوڑ گیا نہ اس کے پاس کچھ ہے نہ کچھ حرفہ کرسکتی ہے نہ کہیں سے قرض مل سکتا ہےاس کا حاصل یہ ہے کہ تمام ذرائع رزق بند ہیں مگر یہ قرآن کے خلافرزق اﷲ پر ہےنہ کہ شوہر پر وعلى الله رزقها نہ کہ علی الزوج و من یتق الله یجعل له
حوالہ / References القرآن الکریم ١١ /٦
#14968 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
مخرجا(۲) و یرزقه من حیث لا یحتسب اور جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کے لئے راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی پہنچائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔صدہا نہیں ہزارہا وہ ہیں کہ ان کے شوہر زندہ بیٹھے ہیں اور انہیں معلق چھوڑ رکھاہےنہ روٹی کپڑا دیتے ہیں نہ حقوق زوجیت ادا کرتے ہیںاب انہیں بھی اجازت دے دو کہ شوہر زندہ بیٹھا ہے اور طلاق ہوئی نہیں جس سے چاہیں نکاح کرلیں یعنی خوف زنا سے بچنے کےلئے واقعی زنا کرو۔خوف زنا سے بچنے کا علاج حدیث میں کثرت روزہ فرمایا ہے:
ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء ۔
اور جو قدرت نہ رکھے ا س پر روزہ لازم ہے کیونکہ اس کے لئے شہوت کوروکتا ہے(ت)
اور فرمایا:
ومن استعف اعفہ اﷲ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
جو پارسائی چاہے گا اﷲ اسے پارسا بنادے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: مرسلہ مولوی نظر محمد صاحب پیش امام جامع مسجد منگانہ ضلع رہتک
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی گمشدہ ہے اور اس کے مرنے کی کوئی معتبر سند نہیں اور نہ کسی نے دیکھا صرف یہ ہوا کہ ہسپتال میں سکھ تھا یعنی زیر علاج تھا وہ اپنے کپڑے چھوڑ کر گم ہوگیا انگریزوں نے یہ مشہور کردیا کہ وہ مرگیا اور مرا کسی نے نہیں دیکھا اب اس کی بیوی سے دوسرا شخص نکاح کرسکتا ہے یانہیں عرصہ آٹھ ماہ سے گم ہےاور کتنے عرصہ کے بعد نکاح درست ہوگااور اب جو شخص اس عورت کا نکاح پڑھادے گا اور گواہان کے اوپر کیا الزام آئے گا اس کی پوری پوری بمعہ حوالہ کتب تصریح فرمادیں اور جو الزام آئے گا ان پر اس سے بری ہونے کا کیا راستہ ہوگا
الجواب:
اگر تحقیق ہوجائے کہ وہ ہسپتال میں یا کہیں اور مرگیا تو عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر موت ثابت نہ ہوتو جب اس شخص کی پیدا ئش سے ستر برس گزرجائیں یا زندہ ہوتا تو جس وقت ستر برس کا ہوجاتا اس وقت تك اگر اس کی موت وحیات کا پتا نہ چلے تو اس وقت اس کی موت کا حکم دیا جائے اور عدت کے بعد
حوالہ / References القرآن الکریم ٦٥ /٣
مسند امام احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن مسعود رضی ا ﷲ عنہ دارالفکر بیروت ١/٤٢٤
سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب الالحاف فی المسئلۃ نورمحمد کارخانہ کتب کراچی ١/٣٦٣
#14969 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
عورت نکاح کرسکے گی ورنہ حرام حرام حراماﷲ عزوجل قرآن مجید میں فرماتا ہے: و المحصنت من النسآء (اور خاوند والی حرام ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از للت پور مسئولہ محمد بخشکریم بخش سوداگران شوالھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کی ماں اور سوتیلے باپ نے کردیا تھا بعدہ لڑکی کا شوہر فوج میں نوکر ہوکر چلاگیا آٹھ سال سے زائد عرصہ ہوااور چھ سال سے اس نے نہ کوئی خط بھیجا نہ خرچہ متواتر بھیجے مگر اس کاپتا نہیں کہ مرگیا یا زندہ ہے اور اب لڑکی بالغ ہوگئی ہے اس کے ماں باپ خرچ برداشت نہیں کرسکتے خود لڑکی اور اس کے والدین دوسرا نکاح کرناچاہتے ہیں لہذا دوسرا نکاح جائز ہوگا یانہیں اور اگر پہلا شوہر واپس آجائے توکیا حکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جس سے نکاح کیا گیا اگر وہ اس لڑکی کا کفو شرعی تھا یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہ تھا کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے دختر کے لئے باعث ننگ و عار ہوجیسا کہ یہی ظاہر سوال ہے تو نکاح صحیح ہوگیا اور جبکہ لڑکی نے بفورببلوغ خیارببلوغ کا استعمال نہ کیا جیسا کہ یہی مفاد سوال ہے تو اب نکاح لازم ہوگیاعورت پر فرض ہے کہ اتنی مدت انتظار کرے کہ شوہر اگر زندہ رہے تو ستر برس کامل کا ہوجائے اس وقت تك اگر اس کی موت وحیات کا پتا نہ چلے اس کی موت کا حکم کیا جائےگاپھر عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ورنہ نہیںپھر اگر اتنی مدت گزرگئی اور عورت نے بعد عدت نکاح کرلیا اسکے بعد شوہر اول واپس آیا تواپنی عورت کو شوہر دوم سے لے گا اور دوم سے اگر اولاد ہوچکی ہے تو وہ اولاد دوم ہی کو دلائی جائے گی صرف عورت شوہر اول کو ملے گیردالمحتار میں ہے:
لوعاد حیابعد الحکم بموتہ قال ط رأیت المرحوم ابا السعود نقل عن زوجتہ لہ والاولاد للثانی اھ مافی شلکن فی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ انہ ان عاد زوجھاحیا بعد مضی المدۃ فھواحق
اگر قاضی کے فیصلہ کے بعد پہلا خاوند واپس آجائے تو طحاوی نے فرمایا:میں نے مرحوم ابوسعود کو نقل کرتے ہوئے پایا کہ وہ عورت پہلے خاوند کی بیوی ہوگی اور دوسرے سے اولاد ہوتو وہ دوسرے کی ہوگیشامی کا بیان ختم ہوالیکن ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہےکہ اگر قاضی کی طرف سے مقررہ مہلت ختم
حوالہ / References القرآن الکریم ٤ /٢٤
ردالمحتار کتاب المفقود داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٣٣٢
#14970 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
بھا وان تزوجت فلا سبیل لہ علیھا اھ اقول: ووجہ الاول ان تزوجھا کان بظن موتہ وقد بان حیا ولا عبرۃ بالظن البین خطؤ وھی محصنۃ زید فکیف تسلم لعمرو وجہ الثانی ان الشرع حکم بموتہ بعد مضی المدۃ وحلھا للازواج فلاینقض قضاء الشرع کما لاینقض قضاء القاضی بلا اولی لکن قدصرح فی التاتارخانیۃ انہ ان عادحیاولم تتزوج فھواحق بھافلو کان حکم الشرع بموتہ حتما مقضیا لکان الشرع فرق بینھما فکیف یکون احق بھا فلیحرر و لیراجعواﷲ تعالی اعلم۔
ہونے کے بعد خاوند واپس آئے تو وہی بیوی کا حقدار ہے اور اگر بیوی نے اس صورت میں دوسرا نکاح کرلیا تو پھر پہلے خاوند کو استحقاق نہیں ہے اھاقول(میں کہتا ہوں)ردالمحتار کے قول کی وجہ یہ ہے کہ خود بیوی نے خاوند کے فوت ہوجانے کاگمان کرکے نکاح کیا تو اب پہلے خاوند کی واپسی پر معلوم ہوا کہ زندہ ہے تو اس صورت میں غلط گمان پر مبنی کارروائی ہے لہذامعتبر نہ ہوگی جبکہ وہ عورت خاوند(زید)کی منکوحہ ہے تو عمرو کےلئے کیسے بیوی بن سکتی ہےاور دوسرے قول یعنی ہندیہ والے قول کی وجہ یہ ہے کہ یہاں قاضی کے فیصلہ موت کے بعد کارروائی ہے جوکہ شرعی حکم اور مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد دوسرے نکاح کے لئے حلال قرار دینے پر کارروائی ہے تو یہ شرعی فیصلہ کالعدم نہ ہوگا جیسا کہ قاضی کا فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا بلکہ اس سے اولی تر محفوظ ہوگا حالانکہ تاتارخانیہ میں تصریح ہے کہ اگر قاضی کے حکم کے بعد ابھی دوسرا نکاح نہ ہوتو پہلا خاوند ہی حقدار ہوگااگرمہلت گزرے بغیر محض قاضی کے حکم موت کو ہی قطعی فیصلہ قرار دیا جاتاتو پھر پہلے خاوند سے تفریق شرعی ہوجاتی تو ایسی صورت میں پہلاخاوند کیسے حقدار قرار پاتااس کی تنقیح کرلی جائے اور کتب کی طرف مراجعت چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہتا: از کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ مسئولہ ابو یوسف محمد شریف ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دس پندرہ سال کی عمر میں ملازم ہوکر کہیں چلاگیابیس پچیس سال اس کی تلاش کرتے رہےکچھ پتا نہ چلا پچیس سال گزرنے کے بعد اس کی زوجہ نے نان نفقہ ضروریات سے تنگ آکر ایك حنفی عالم سے فتوی لے کر ایك حنفی شخص حافظ قرآن کے ساتھ نکاح کرلیاآج بیس سال اس کو نکاح کئے ہوئے اور زید کو گم ہوئے پینتالیس سال ہوگئے ہیںا ب حافظ موصوف کے گھر اس عورت کے بطن سے تین چار لڑکیاں بھی پیداہوئیںاب ایك حنفی عالم نے فتوی دیا ہے کہ حافظ صاحب موصوف کا یہ نکاح بالکل ناجائز ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھناہرگز درست نہیں اور ایك اور عالم حنفی المذہب ان کے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب المفقود نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٣٠٠
#14980 · باب زوجۃ المفقود (مفقود الخبر کی زوجہ کا حکم)
پیچھے نماز درست بتاتے ہیں اور مطابق تحقیق شامی ودیگر فقہاء رحمہم اﷲ امام مالك کی روایت پر عمل کرلینا بوقت ضرورت جائز سمجھ کر نکاح بھی جائز قرار دیتے ہیںپس آپ اس امر کا فیصلہ فرمائیں:
()کیا حافظ صاحب کا نکاح کسی صورت جائز قرار دیا جاسکتا ہے یانہیں
()کیا حنفی کسی وقت کسی حالت میں بھی کسی دوسرے مذہب کی روایت پر عمل نہیں کرسکتااگر نہیں کرسکتا تو عبدالحی لکھنؤی نے عمدۃ الرعایہ میں جو لکھا ہے کہ اتفاقا دوسرے مذہب کی روایت پر عمل کرسکتا ہے'اس کا کیا مطلب ہےاور اگر کر سکتا ہے تو یہ نکاح کیوں ناجائز ہوگابینواتوجروا
الجواب:
مذہب ائمہ حنفیہ وجمہور ائمہ کرام میں زن مفقود پر انتظار فرض ہے یہاں تك کہ اتنا زمانہ گزرجائے کہ عادۃ موت مفقود مظنون ہوا اور اس کی تقدیر مفتی بہ مؤید بحدیث صحیح یہ ہے کہ روز ولادت مفقود سے ستر سال گزرجائےامام مالك رضی اﷲ عنہ بھی دربارہ مال مفقود یہی حکم دیتے ہیں مگر دربارہ زن خلاف کرتے ہیں پھر بھی ہرگزیہ ان کا مذہب نہیں جو آج کل کے جہال بلکہ بعض مدعیان علم نے سمجھ رکھا ہے کہ مفقود ہوئے چار برس گزرے اور عورت بطور خود نکاح کرلے بلکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ زن مفقود قاضی شرع کے حضور مرافعہ کرے قاضی بعد تحقیق روز مرافعہ سے چار برس کی مہلت اپنی طرف سے دےعورت یہ دن گزارےاس کے بعد پھر مستغیث ہواور قاضی بعد تحقیق تفریق کرےاسکے بعد عورت عدت بیٹھے پھر نکاح کرسکتی ہےخودامام مالك نے اپنی کتاب مدونہ میں اس کی تصریح فرمائی اور صاف ارشاد فرمایا کہ مرافعہ سے پہلے اگرچہ بیس برس گزرگئے وہ اصلا شمار میں نہ آئیں گےآج سے چار برس لئے جائیں گےحنفی وقت تحقق ضرورت صحیحہ اس پر عمل کرسکتا ہے نہ یہ کہ اپنی ایك اختراعی بات پر کہ ہرگز امام مالك کا بھی مذہب نہیںچلو اور مذہب امام مالك پر عمل کا نام لواس کی نظیر یہی ہے کہ مذہب حنفی میں زن عنین کے لئے حکم ہے کہ قاضی کے حضور مرافعہ کرے قاضی بعد تحقیق اپنی طرف سے ایك سال کامل کی مہلت دےجب سال گزرجائے اور مطلب حاصل نہ ہو عورت پھر مرافعہ کرےقاضی بعد تحقیق شوہر کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائےاگر وہ نہ مانے عورت سے پوچھے تو اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے یاشوہر کواگروہ فورا اپنے نفس کو اختیار کرے قاضی ان میں تفریق کردےعورت عدت بیٹھے اور اب جس سے چاہے نکاح کرلےتاجیل قاضی سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں ان کا اصلا لحاظ نہ ہوگا آج سے ایك سال کامل لیا جائےگا۔کیا اگر کسی عنین کی عورت بطور خود وقت نکاح سے سال بھر کے بعد اسے چھوڑکر چل دے اور دوسرا نکاح کرلے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے مذہب حنفی پر عمل کیاکیا اس کا یہ نکاح جائز واقع ہواحاشا(ایسا نہیں۔ت)ونسأل اﷲ العفووالعافیۃ ان تمام مسائل کی تحقیق ہمارے فتاوی اور رسالہ اللواء المعقود لبیان حکم امرأۃالمفقود میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
#14984 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
باب النسب
(نسب کا بیان)

مسئلہ۱۱: ۲۳ ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك بیوہ عورت کو لاعلمی میں معتبر و نیکبخت جان کر اس کے ساتھ نکاح کیا اور بعد پانچ ماہ کے اس عورت کے بطن سے ایك لڑکی زندہ پورے دنوں کی سی یعنی اس بچی کے کسی عضو میں کسی طرح فرق نہیں ہے پیدا ہوئی اور جملہ عورات ومرد گمان کرتے ہیں کہ ایسا بچہ نکاح کرنے کے بعد پانچ ماہ کا نہیں ہوسکتابلکہ وہ حمل قیاسا نکاح کرنے سے پہلے کا معلوم ہوتا ہے اور عورت کا یہ بیان ہے کہ یہ حمل میرے شوہر کا ہے اور زید یعنی خاوند کو کوئی آثار بعد نکاح ڈیڑھ ماہ تك نہیں معلوم ہوئے جب اس عورت نے بیان کیا تو معلوم ہوااس صورت میں زید اس عورت کو چھوڑدے یا رہنے دےاور اگر اپنی بدنامی کا خیال کرکے چھوڑدے تو دین مہر اس عورت کا ذمہ زید واجب الادا ہے یانہیںاور نکاح عورت سے رہا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
عورت جو دعوی کرتی ہے کہ یہ حمل اسی شوہر سے تھا اگر یوں کہتی ہے کہ اس کی پیدائش سے چھ مہینے پہلے نکاح ہوگیا تھایا چھ مہینے سے زائد بتائے اور اس کے ساتھ قسم بھی کھائے تو اس کا قول معتبر ہوگا اور یہ لڑکی اسی شوہر کی ٹھہرے گی اور نکاح میں اصلا خلل نہ آئے گا شوہر اس کی پیدائش اور عورت کے ساتھ اپنے نکاح میں چھ مہینے اسے کم فاصلہ بتایا کرے اصلا نہ سناجائے گااگر اپنے بیان پر گواہ بھی دے گا مسموع نہ ہونگے
#14990 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
بلکہ یوں قراردیں گے حنفیہ نکاح تو اس عورت کا ہولیا تھا جس کا عورت دعوی کرتی ہے اور اس کے بعد علانیہ نکاح آپس میں پھر کیا جس کا بیان شوہر اور اس کے گواہ کرتے ہیںدرمختار میں ہے:
لوولدت فاختلفا فی المدۃ فقالت المرأۃ نکحتنی منذ نصف حول وادعی الاقل فالقول لھا وقال تحلف والو لدابنہ حملالہا علی الاصلاح اھ ملخصا۔
اگر معتدہ کا بچہ پیدا ہو پھر خاوند بیوی میں مدت حمل میں اختلاف ہو عورت کہے چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں کہ تو نے مجھ سے نکاح کیا ہےاور خاوند چھ ماہ سے کم مدت کا دعوی کرے تو اس صورت میں بیوی کی بات بلاقسم معتبر ہوگیصاحبین کے نزدیك عورت سے قسم لی جائے اور بچہ اس شخص کا قرار پائیگا تاکہ عورت کا معاملہ اصلاح پر رہے اھ ملخصا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لاتسمع بینتہ ولابینۃ ورثتہ علی تاریخ نکاحھا بمایطابق قولہ لانھا شہادۃ علی النفی معنی فلاتقبل والنسب یحتال لاثباتہ مہماامکن والا مکان ھھنا بسبق التزوج بھا سرا بمھر یسیر وجھرا باکثر سمعۃ ویقع ذلك کثیرا ۔
خاوند اور اس کے ورثاء کی طرف سے بیوی کے نکاح کے متعلق تاریخ پر گواہی نہ لی جائے گی کہ خاوندسچا ہے کیونکہ معنی یہ شہادت نفی پر ہے جو مقبول نہ ہوگیاور نسب کے اثبات کےلئے بقدرا مکان حیلہ کیا جانا چاہئے اور وہ یہاں موجود ہے ہوسکتا ہے کہ پہلے پوشیدہ طور پر قلیل مہر کے ساتھ نکاح کیا گیا ہو(جیسے بیوی کہتی ہےاور بعد میں لوگوں کو مطلع کرنے کےلئے اعلانیہ زیادہ مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا ہو(جیسے کہ ورثاء اور گواہ کہتے ہیں)اور بہت دفعہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔(ت)
اس صورت میں اگر زید عورت کو چھوڑدے گا تمام وکمال مہر جتنا بندھا تھا لازم آئے گا اوراگر عورت مذکورہ بقسم بیان نہیں کرتی بلکہ اسی نکاح کے بعد جسے پیدائش دختر تك چھ مہینے نہ گزرے تھے حمل رہنا کہتی ہے یا پیش از نکاح مانتی ہے یا کچھ نہیں کہتی صرف یونہی دعوی کئے جاتی ہے کہ یہ دختر اسی شوہر سے ہے تو اس کا کہنا ہرگز مسموع نہ ہوگا اور یہ لڑکی اس شوہر سے ہرگز نہیں ٹہہرسکتی کہ بچہ چھ مہینے سے کم پیٹ میں نہیں رہ سکتا نہ شوہر اول کی ٹھہر سکتی ہے کہ حسب بیان سائل اس کی موت کو چار برس سے زیادہ گزرچکے تھے جب لڑکی پیدا ہوئی اور کوئی بچہ دوبرس سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہتامگر لڑکی ولدالزنا بھی نہ کہی جائیگی
حوالہ / References درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٢
ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیا ء التراث العربی بیروت ٢/٦٢٧
#14994 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
صرف مجہول النسب کہیں گے یعنی باپ معلوم نہیں نہ یہ کہ زنا سے ہونا معلوم ہے کہ ممکن ہے کہ اس شوہر موجود سے پہلے بیوہ نے خفیہ کسی اور سے نکاح کیا ہو یہ حمل اس سے رہاہو یا کسی شخص نے دھوکے اور شبہہ سے اس عورت کے ساتھ ہمبستری کی ہو یہ لڑکی اس جماع کی ہوان دونوں صورتوں میں لڑکی ولدالزنا نہ ہوگیاور جب اس حمل کا زنا سے ہونا ثابت نہ ہوا تو عورت کا نکاح اس شوہر موجود سے فاسد ہوگیا
ولایکون باطلا کما یفیدہ کلام البدائع والبحر والھندیۃ وردالمحتار کما بیناہ علی ھامشہ من باب ثبوت النسب لاسیما ھھنا فان الزوج لم یکن عالما بحبلھا کما ذکر السائل فلایتاتی ھھناکلام القنیۃ والمجتبی۔
اور باطل نہ ہوگا جیسا کہ بدائعبحرہندیہ اور ردالمحتار کے کلام کا مفاد ہے اور جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ پر ثبوت نسب کے باب میں اس کو بیان کیاہے خصوصا یہاں کیونکہ خاوند بیوی کے حمل پر مطلع نہ ہوا جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہےلہذا یہاں قنیہ اور مجتبی کا کلام منطبق نہیں ہوتا۔(ت)
اب شوہر پر لازم ہے کہ عورت کو فورا چھوڑدے اس صورت میں اگرزید نے عورت سے صحبت یعنی خاص فرج میں جماع کیا تھا تو مہر مثل ومہر مسمی سے جو کم ہے وہ دینا آئے گا یعنی یہ دیکھیں گے کہ مہر بندھا کتنا تھا اور اس عورت کامہر مثل کیا ہے ان دونو ں میں جو کم ہے وہ دیا جائے گاردالمحتار میں ہے:
فی الزیلعی وغیرہ لوولدت المنکوحۃ لاقل من ستۃ اشھر مذتزوجھا لم یثبت النسب لان العلوق سابق علی النکاح ویفسد النکاح لاحتمال انہ من زوج اخربنکاح صحیح او بشبہۃ ۔
زیلعی وغیرہ میں ہے کہ اگر منکوحہ نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں بچے کو جنم دے تو خاوند سے نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ نطفہ کا استقرار نکاح سے قبل ہوااور نکاح اس احتمال کی بنا پر فاسد قرار پائیگا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ نطفہ کسی دوسرے صحیح نکاح یاشبہہ نکاح سے ٹھہراہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ ولم یزد مھر المثل علی السمی ولو
فاسد نکاح میں مہر مثل تب واجب ہوگا جبکہ خاوند نے شرمگاہ میں وطی کی ہووطی کے علاوہ کسی اور طریقہ سے مثلا خلوت سے واجب نہ ہوگااور یہ مہر مثل
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٢
#14995 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
کان دون المسمی لزم مھرالمثل اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مقررکردہ مہر سے کم ہو تو مہر مثل ہی لازم ہوگا اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱:از چاٹگام ملك بنگالہ مرسلہ شیخ اصغر علی محلہ قطب دیاجمادی الاولیھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ زن دوشیزہ را کہ ہنوز بحبالہ نکاح کسے نیامدہ است فرزندے آمدزن میگوید کہ بخواب دیدم کہ مردے بامن بہم شدو احتلام کردم وبار گرفتم ایں پسرازان ست دریں صورت قولش مقبول شود یا نہ وپسر را ولدالزنا دانند یا چہبینواتوجروا
آپ حضرات(رحمکم اﷲ تعالی)کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ ایك نوجوان کنواری لڑکی نے بچے کو جنم دیا ہے اور وہ یہ کہتی ہے کہ میں نے خواب میں ایك مرد کو اپنے ساتھ دیکھا جس کی وجہ سے مجھے احتلام ہوا اور یہ بچہ اس حمل سے پیدا ہوا ہےکیا اس صورت میں اس لڑکی کی بات تسلیم کی جائے گی یا نہیں اور اس بچے کو ولدالزنا کہا جائے گا یانہیں۔بینوا توجروا (ت)
الجواب:
ہمچو سخنے بے معنی ہیچ گونہ قابل پذیرائی نیست کہ بجماع خواب بار آورشدن محال عادی ست ہمچنانکہ پسر بے پدر بوجود آمدن فی میزان الامام العارف الشعرانی ان الولد لایتخلق الامن ماء الرجل والمرأۃ معاو تخلق الولد من ماء واحد من خصائص عیسی علیہ الصلوۃ و السلام اگر امثال ایں دعاوی بگوش قبول آید در فتنہ عظیمہ برروئے مسلمانان کشاید زنان بے قید ہرچہ خواہند کنند و ہنگام مواخذہ بہمچواکاذیب واضحہ چنگ زنند کما قال الامام الاجل سیدنا مالك بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ فیما ھواظہرو
ایسی بے معنی بات کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ خواب میں جماع کی وجہ سے حمل کا ٹھہرنا اور ایسے ہی بغیر باپ بچہ پیدا ہونا محال عادی ہےامام عارف شعرانی نے میزان میں فرمایا کہ بچہ مرد اور عورت کے مشترکہ نطفہ سے پیدا ہوتا ہے اور صرف ایك کے نطفہ سے بچہ کا پیداہونا حضرت عیسی علیہ السلام کی ہی خصوصیت ہےاگر ایسی بات تسلیم کرلی جائے تو مسلمانوں میں عظیم فتنہ پیداہوجائے اور عورتیں جو چاہیں کرتی رہیں گی اور مواخذہ کے وقت ایسے جھوٹ گھڑنا شروع کردیں گیجیسا کہ امام اجل سیدنا مالك بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا یعنی جن کاکسی انسان عورت سے نکاح کے بطلان کے متعلق
حوالہ / References درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١
المیزان الکبریٰ باب حکم الزنا مصطفی البابی مصر ٢/١٥٩
#14996 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
اقرب من ھذا اعنی نکاح الجنی انسیۃ انی اکرہ اذا وجدت امرأۃ حاملا قیل لھا من زوجك قالت من الجن فیکثر الفساد فی الاسلام بذلک رواہ ابو عثمن بن سید بن العباس الرازی فی کتاب الالھام والوسوسۃ قال حدثنا مقاتل عن سعید بن داؤد الزبیدی فذکرہ وفیہ قصۃ اوردہ سیدی احمد الحموی فی الغمز اما آنکہ در ہمچو صورت زن رازانیہ وپسر رازنازادہ گویند یا نہ روایت بدائع مفید اول ست فی الدر المختار لو تزوجت معتدۃ بائن فولدت لاقل من الاقل مذ تزوجت ولاکثر منھما مذبانت لم یلزم الاول ولاالثانی والنکاح صحیح اھ ملتقطاقال الشامی صحیح ای عندھما وعندابی یوسف فاسد لانہ اذا لم یثبت من الثانی کان من الزناونکاح الحامل من الزنا
زیادہ واضح اور ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ جب کسی عورت کو حاملہ پایاجائے تو اس سے پوچھا جائے کہ تجھ سے کس نے قربت کی ہے تو وہ کہے کہ میرا نکاح جن سے ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ حمل ہے مجھے یہ بات زیادہ ناپسند اس لئے ہے کہ اس کی وجہ سے اسلام میں عظیم فتنہ و فساد برپا ہوجائےگااس کو ابوعثمان بن سعید بن عباس نے کتاب الالہام والوسوسہ میں روایت کہا ہے انہوں نے یوں بیان کیا کہ مجھے مقاتل نے سعید بن داؤد زبیدی سے بیان کیا ہے اور اس میں ایك قصہ ہے جس کو سید احمد حموی نے غمز میں ذکر کیا ہےبہر حال ایسی صورت میں اس عورت کو زانیہ اور بچے کو ولدالزنا کہا جائے یانہبدائع کی روایت پہلے احمال یعنی عورت کو زانیہ اور بچے کو ولدالزنا قرار دینے کے لئے مفید ہےدرمختار میں ہے کہ اگر بائنہ طلاق والی معتدہ دوران عدت نکاح کرے اور نکاح کے بعد چھ ماہ سے قبل بچے کو جنم دے یا طلاق بائنہ کے دو سال بعد بچہ جنے تو وہ نسب نہ پہلے خاوند اور نہ دوسرے خاوند کے لئے ثابت ہوگا جبکہ نکاح صحیح قرار پائے گا اھ ملتقطااس پر علامہ شامی نے کہا کہ یہ نکاح امام اعظم اور امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہما کے نزدیك صحیح ہوگااور امام ابو یوسف رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك فاسد ہوگا کیونکہ جب دوسرے خاوند کا
حوالہ / References المیزان الکبریٰ باب حکم الزنا مصطفی البابی مصر ٢/١٥٩
الاشباہ والنظائر بحوالہ ابوعثمان فی کتاب الالہام والوسوسۃ احکام الجن ادارۃ القرآن کراچی ٢/٨٣۔٥٨٤
درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٣
#14997 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
صحیح عند ھمالاعندہ کما فی البدائع وروایت امام زیلعی وغیرہ مفید ثانی ست وہمین است اظہر من حیث الدلیل وہمدرین ست احتیاط جمیل درہمچو امر جلیل چہ می رسد کہ زن پنہانی عقد زن و شوئی باکسے بستہ یا بوطی شبہہ مبتلا گشتہ باشد حالابوجہ حیا تسترمی پوشد بسخنے باطل می کوشد آری مجہول النسب خوانندش یعنی پسرے کہ پدرش معلوم نیست ففی
ردالمحتار فی الزیلعی وغیرہ لوولدت المنکوحۃ لاقل من ستۃ اشھر مذتزوجھا لم یثبت النسب لان العلوق سابق علی النکاح ویفسد المنکاح لاحتمال انہ من زوج اخر بنکاح صحیح او بشبھۃ وپیش ازاں بعد نقل کلام بدائع فرمود تبعہ فی البحر ولم یظھرلی وجہہ لانہ اذالم یثبت من واحد منھماعلم انہ من غیرھما ولایلزم ان یکون من الزنا لاحتمال کونہ بشبھۃولا یصح النکاح الااذاعلم انہ من زنا ففی الزیلعی وغیرہ الی اخرہ فلیتأمل اھواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
نسب بھی ثابت نہ ہواتو حمل زنا سے ہوگا جبکہ زنا سے حاملہ کا نکاح امام اعظم اور امام محمد رحمہما اﷲ کے نزدیك صحیح ہوتا ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك فاسد ہوتا ہے بدائع میں یونہی مذکور ہے اھاور امام زیلعی وغیرہ کی روایت دوسرے احتمال یعنی زانیہ اور ولدالزنا نہ کہنے کو مفید ہے جبکہ دلیل کے اعتبار سے بھی یہی زیادہ واضح ہے نیز ایسے عظیم معاملہ میں احتیاط کی خوبی بھی اسی میں ہےکیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس عورت نے خفیہ نکاح کیا باشبہہ میں اس سے کسی نے وطی کرلی ہو اور اب حیاوشرم کی وجہ سے وہ پردہ پوشی کررہی ہو اور غلط بیانی سے کام لے رہی ہو اس لئے بچے مجہول(یعنی ایسا بچہ جس کا باپ معلوم نہ ہو)قرار دینا ہی مناسب ہےردالمحتار میں ہے کہ زیلعی وغیرہ میں ہے کہ اگر کسی منکوحہ نے نکاح کے بعد چھ ماہ پورے ہونے سے قبل بچے کو جنم دیا تو اس خاوند سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ یہ نطفہ نکاح سے قبل کا ہے اور یہ نکاح فاسد قرار پائے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ حمل کسی دوسرے شخص سے نکاح صحیح یا شبہ سے وطی کے ساتھ ٹھہرا ہوانہوں نے اس سے قبل بدائع کا کلام نقل کرکے فرمایا کہ بحر میں بدائع کی اتباع کی ہے جبکہ مجھے بدائع کے کلام کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ ایسی صورت میں جب بچے کا نسب نہ پہلے خاوند سے ثابت ہوا اور نہ ہی دوسرے
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٢
ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٣٣۔٦٣٢
ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٢
#14998 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
سےتو ظاہر ہے کہ دونوں کے علاوہ کسی غیر کا ہے اور وہ غیر ضروری نہیں کہ زنا ہوہوسکتا ہے کہ یہ حمل وطی بالشبہہ کی وجہ سے ہوا ہواور یہ نکاح صحیح نہ ہوگا مگر جب معلوم ہوجائے کہ یہ حمل زنا سے ہےپھر زیلعی وغیرہ کا گزشتہ کلام آخر تك ہےپس اس میں غور کرنا چاہے اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: ربیع الآخر شریفھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ مجیدن ساکنہ بدایوں عرصہ سال ہوا کہ اپنے گھر سے بھاگ کر خدامعلوم کہاں کہاں رہی بعد دوبرس کے معلوم ہوا کہ نوکری آیا گیری کرلی چنانچہ وہاں کا حمل بھی رہا اور دعوی ایك انگریز پر اس حمل کاکیا پھر بریلی میں مسمی اسد علی خاں سے ملاقات کرلی اور اس حمل کو اسد علی خاں کی یہاں وضع کیابعد وضع کے ایك ماہ اور رہیاور پھر بچہ چھوڑ کر بھاگ گئیاور نوکری آیا گیری کرلیوہاں اسد علی خاں بھی پہنچے اور چندسال کے بعد وہیں انتقال کیاوہ عورت بعد انتقال اسد علی خاں کے آوارہ پھرتی رہی اور کئی بچے پیداہوکر مرگئےان میں سے ایك لڑکا پندرہ برس کا اور ایك سال بھر کاموجود ہےجس مدت میں کہ اس علی خاں سے ملاقات سے ملاقات تھی پردہ میں ہرگز نہیں رہی اس کے نکاح کا کوئی گواہ کامل نہیںممن میاں بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب اسد علی خاں کو بہت غیرت دلائی تو کہا کہ میں نے نکاح کرلیا ہے۔چند امیاں بیان کرتے ہیں کہ میرے سامنے ہوا تھا اس کی عمر اس وقت تیس برس کی ہے اور بوقت نکاح کی دس برس کی تھی کیونکہ اس واقعہ کو بیس برس پورے ہوگئے تو ان کی شہادت بوقت نابالغی کی ہے اور جو لڑکا کہ پندرہ یا سولہ برس کا ہے اس کو اسد علی خاں کا بتاتے ہیںپس اس صورت میں استفسار ہے کہ یہ عورت بدایوں والے خاوند کے نکاح میں رہی یانہیںاور ممن میاں جو اسد علی خاں کے قول کو نقل کرتے ہیں یہ نقل کرنا قول کا شہادت عقد کاکام دے سکتا ہے یانہیںاور چندامیاں شخص واحد نابالغ کی شہادت معتبر ہے یانہیں اور وہ لڑکا جواسد علی خاں کا بتاتے ہیں ان کا ہے یانہیںہاں زمانہ قرار نطفہ ان کی حیات کا زمانہ ہے اور در صورت ثبوت نکاح کے وہ لڑکا وارث ترکہ اسد علی خان کا ہے یانہیںفقط بینوابسند الکتاب توجروافی یوم الحساب۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مجیدن بدستور اپنے شوہر بدایونی کے نکاح میں ہے کہ آوارگی و بدکارگی مزیل نکاح نہیں
لحدیث ابی داؤد والنسائی
ابوداؤد اور نسائی کی حدیث میں ہے خاوند
#14999 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
قال فـــــ انی احبھا قال فامسکھا وفی الدر المختار عن القنیۃ لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۔
نے کہا مجھے بیوی سے محبت ہےتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:تو اسے پاس رکھ لےاور درمختار میں قنیہ سے منقول ہے فاجرہ بیوی کو طلاق دینا خاوند پر واجب نہیں ہے۔ (ت)
اور شہادت مذکورہ ناکافیہ ہے کہ نکاح میں جب ایك گواہ معاینہ اور ایك اقرار بیان کرے تو یہ اختلاف شرعا موجب رد شہادت ہے
فی الخانیۃ ثم الھندیۃ لوکان المشھور بہقولا لایتم الا بفعلکالنکاح واختلف الشھود فی المکان والزمان اوفی الانشاء والاقرار لاتقبل شہادتھم اھوفی جامع الفصولین لو اختلف الشاھد بان شھد احدھما علی الانشاءوالاخر علی اقرارفی فعل کجنایۃ اوقول ملحق بالفعل کنکاح یمنع
خانیہ پھر ہندیہ میں ہے جس کے متعلق گواہی دی جارہی ہو وہ ایسا قول ہو جو فعل کے بغیر تام نہ ہومثلا نکاحتو وہاں گواہوں کا مکان یا زمان یااس کے انشاء یا اقرار میں اختلاف ہوتو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی اھاور جامع الفصولین میں ہے اگر دو گواہوں کا کسی فعل کے متعلق اختلاف ہوکہ ایك نے انشاء اور دوسرے نے اقرار کی گواہی دی مثلا جنایت یا اختلاف شہادت اس قول سے متعلق جو فعل پر تام ہومثلا نکاح تو ان کا یہ
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب النکاح آفتاب عالم پریس لاہور ١/٢٨٠،سنن النسائی تزویج الزانیۃ ٢/٧١ وباب ماجاء فی الخلع ٢/١٠٧ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩٠و ٢/٢٥٤
فتاوٰی قاضی خاں فصل الشہادۃ التی تخالف الدعوٰی نولکشور لکھنؤ ٣/٥٤٩،فتاوٰی ہندیہ الباب الثامن فی الاختلاف بین الشاہدین نورانی کتب خانہ پشاور ٣/٥٠٩
فـــــ:سنن ابوداؤد کے الفاظ یوں ہیں:ان امرأتی لاتمنع ید لامس قال غربھا قال اخاف ان تتبعھا نفسی قال فاستمتع بھا،اور سنن النسائی ص ١٠٧ پر بھی یہی الفاظ ہیں جبکہ ص ١٧ پر الفاظ یوں ہیں:ان عندی امرأۃ ھی احب من الناس الیّ وھی لاتمنع یدلامس قال طلقھا قال لااصبر عنھا قال استمتع بھا۔نذیر احمد سعیدی
#15000 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
قبول الشہادۃ اھ ملخصا وفیہ من الفصل من اختلاف الدعوی والشہادۃ لو شھداحدھما بنکاح والاخرباقرار بہ لایقبل کغصب
اختلاف شہادت کے قبول کرنے کے لئے مانع ہوگا اھملخصا اسی میں فصل اختلاف دعوے و شہادت سے ہے کہ ایك نے نکاح اور دوسرے نے اس کے اقرار پر شہادت دی تو یہ مقبول نہ ہوگی جیسا کہ غصب میں بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
پس جبکہ شوہر کا فراش صحیحہ ثابت اور اسد علی خاں کے نکاح کا اصلا ثبوت نہیں کہ برتقدیر تزوج بحالت ناواقفی از نکاح غیر فراش فاسد حقیقی ٹھہر کر فراش صحیح حکمی پر بربنائے روایت مفتی بہا ماخوذ للامام الثانی مرجح رہیکما حققہ فی الدرالمختار و اوضحہ فی ردالمحتار(جیسا کہ درمختار میں ا سکی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ت)تو بحکم حدیث صحیح متواتر الولد للفراش وللعاھراالحجر(بچے کا نسب نکاح والے کے لئے ہے اور زانی کے لئے محرومی ہے۔ت)وہ لڑکا شرعا اسی بدایونی کا قرار پائے گا مالم ینف لعانا(جب تك لعان سے نسب کی نفی نہ کرے۔ت)اسد علی خان سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا کہ اس کا وارث ہوسکے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت بعد وفات اپنے شوہر کے کس قدر ایام تك نکاح کرنے سے ممنوع ہے اگر درمیان عدت کے عورت مذکورکے ساتھ کوئی شخص نکاح کرلے تو وہ نکاح صحیح ہے یانہیں اور اولاد جو نکاح مذکور کے بعد پیدا ہوگی وہ صحیح النسب سمجھی جائیگی یا کیسےبینوامع حوالۃ الکتاب۔
الجواب:
اگر حامل ہے تو وضع حمل تك ورنہ چار مہینے دس دن تك نکاح نہیں کرسکتی کما ھو منصوص فی القران العزیز(جیسا کہ اس کے بارے میں قرآن کریم میں نص وارد ہوئی ہے۔ت):
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسهن اربعة اشهر و عشرا ۔
اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔(ت)
حوالہ / References جامع الفصولین فصل ١١فی الاختلاف بین الدعوٰی والشہادت الخ اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ١/٦٤۔١٦٣
جامع الفصولین فصل ١١فی الاختلاف بین الدعوٰی والشہادت الخ اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ١/١٦٥
القرآن الکریم ٢ /٢٣٤
#15001 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
عدت کے اندر نکاح مطلقا ناجائز ہےہاں اگر شوہر کو معلوم نہ تھا کہ دوسرے کی عدت میں ہے نادانستگی میں نکاح کرلیا تو اولاد صحیح النسب سمجھی جائے گی اور دانستہ اس حرام خالص کامرتکب ہوا تو قنیہ و مجتبی و بحر الرائق وغیرہا کا مقتضی یہ ہے کہ اولاد ولدالزنا ہوردالمحتار میں ہے: فی البحر عن المجتبی ان نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا اصلا ولھذا یجب الحدمع العلم بالحرمۃ لانہ زنا کما فی القنیۃ وغیرہ ۔
بحر میں مجتبی سے ہے اگر غیر شخص کی منکوحہ یا معتدہ کو جانتے ہوئے کسی نے اس سے نکاح کے بعد جماع کیا تو اس سے عورت پر عدت لازم نہ ہوگی کیونکہ کسی نے بھی اس کو جائزنہیں کہا اس لئے یہ نکاح منعقد ہی نہ ہوگا اس لئے جان بوجھ کر ایسا کرنے والے پر زنا کی حد واجب ہوگی کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
مگر تحقیق یہ ہے کہ اس صورت میں حتی الامکان اولاد شوہر اول کی ٹھہرے گی جبکہ اس کی موت سے دو برس کے اندر ہوئی ہو اور اگر دو برس کے بعد ہوئی تو شوہر ثانی کی قرار دیں گے جبکہ نکاح ووطی سے چھ مہینے بعد ہوئی ہواور اگر اول کی موت کو دوسال کامل ہوچکے تھےاور دوسرے کے نکاح ووطی کو ابھی چھ مہینے نہ ہوئے تو اسے مجہول النسب کہیں گےفی البحر عن البدائع (بحرمیں ہے بدائع سے منقول ہے۔ت)
فان علم وقع الثانی فاسد فان جاءت بولد فان النسب یثبت من الاول ان امکن اثباتہ منہ بان جاءت بہ لاقل من سنتین منذطلقھا الاول او مات ۔
یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ یہ عورت غیرکی عدت میں ہے اگر کسی نے اس سے نکاح کرلیا تو نکاح ثانی فاسد ہوگاپھر اگر وہ عورت بچہ جنے تو بچے کا نسب پہلے خاوند سے قرار دیا جائے گا اگر اس سے ثابت کرنا ممکن ہومثلا یوں کہ پہلے خاوند کی طلاق یا اس کی موت سے دو سال کے اندر بچہ پیدا ہوتو نسب پہلے کا قرار دیاجائیگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
امااذالم یمکن بان جاءت بہ لاکثر من سنتین مذبانت ولستۃ اشھر
لیکن جب ایسا ممکن نہ ہو مثلا بچے کی پیدائش طلاق بائنہ سے دوسال بعد اور دوسرے نکاح سے چھ ماہ
حوالہ / References ردالمحتار باب العدّۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠٧
بحرالرائق باب ثبوت النسب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/١٥٨
#15002 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
مذ تزوجت فھو للثانی کما فی البحر عن البدائع ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
پورے ہونے پر ہوئی تو اس صورت میں بچہ دوسرے کی طرف منسوب ہوگا جیسا کہ بحر میں بدائع سے منقول ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: جمادی الاخریھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق بائن دی جو اس کے پاس بعد نکاح پندرہ روز رہی تھی مگر مرد نے خلوت اس کے ساتھ نہیں کیدو اشخاص درمیانیوں نے کہ جو پورے اس حال سے واقف تھے اسی روز رشوت لے کر دوسرے شخص سے نکاح اس عورت کا کرادیابعد ایك سال کے اس عورت سے ایك لڑکا پیدا ہوااس وقت خاوند کو معلوم ہوا کہ ایام عدت پورے ہونے سے پہلے نکاح ہوگیا تھااب وہ لوگ جنہوں نے اس شخص کا نکاح دھوکے سے کرادیا تھا کہتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیںعورت کا ازروئے شرع شریف کے نکاح جائز ہوا یانہیںاگر نہیں ہوا تو کیا حکم کرانے والوں کے واسطے معہ زوجہ زوج کے اور اس لڑکے کے واسطےآیا حرام ہے یا نہیں فقطبینواتوجروا۔
الجواب:
خلوت کے معنی یہ ہیں کہ مرد و عورت دونوں تنہا ایك مکان میں تھوڑی دیر اکٹھے ہوئے ہوں جہاں مباشرت سے کوئی مانع نہ ہواگرچہ مباشرت واقع نہ ہو۔اگر خلوت بایں معنی ان مرد وزن میں نہ ہوئی تھی کہ مرد نے طلاق دے دی تو عورت پر اصلا عدت لازم نہ ہوئیاسی وقت اس سے نکاح کرلینا جائز تھااس تقدیر پر دوسرا نکاح کہ اس عورت نے کیا جائز ہوااور اولاد ولدالحلال ہےہاں اگر ایسی خلوت ہوگئی تھی اور پھر طلاق ہوئی اور عورت نے عدت نہ کی تو نکاح ثانی حرام قطعی ہوا اور جتنے لوگ اس سے واقف ہو نکاح ثانی میں شریك وساعی ہوئے سب حرام عظیم میں مبتلا ہوئےشوہر دوم کو اگر اطلاع نہ تھی کہ یہ عورت مطلقہ ہے اور ہنوز عدت نہیں گزری ہے ببلکہ بعد ولادت پسر اطلاع ہوئی جیسا کہ بیان سائل ہے جب تو یہ بچہ بلا شبہہ ولدالزنا نہیںاور اگر وہ بھی آگاہ تھا اور دانستہ اس امر کا مرتکب ہوا تو بھی بچہ حرامی نہیںفرق اتنا ہے کہ پہلی صورت میں شوہر ثانی کا بچہ قرار پائے گا اور دوسری صورت میں شوہر اول کا۔درمختار میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٣
#15003 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
تزوجت معتدۃ بائن فولدت لاقل من سنتین مذبانت ولنصف حول مذتزوجت عن البدائع انہا للثانی معللا بان اقدامھا علی التزوج دلیل انقضاء عدتھاحتی لو علمہ بالعدۃ فالنکاح فاسد وولدھا للاول اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔
بائنہ طلا ق کی عدت والی نے نکاح کرلیا پھراس نے بائنہ طلاق کے وقت سے دو سال کے اندر اندر دوسرے نکاح سے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیاتو بدائع سے منقول ہے کہ یہ بچہ دوسرے کا ہوگااس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا عورت کا دوسرے نکاح کےلئے اقدام کرنا عدت ختم ہونے کی دلیل قرار دی جائیگی حتی کہ اگر مرد و عورت دونوں کو معلوم ہو کہ عدت ابھی باقی ہےتو یہ نکاح فاسد ہوگااور بچہ پہلے خاوند کا قرار دیا جائے گاملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: جمادی الآخرہھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ عورت خراب اور بدکار ہےپس وہ عورت مذکورہ ایك مدت آوارہ طور پر پھر اکیاب زید نے اس عورت کو اپنے مکان میں لاکر رکھ لیامکان میں داخل ہونے کے تین ماہ بعد دختر پیداہوئیاس صورت میں اول تو یہ کہ زید کا نکاح نکاح رہا یا نہیںدوسرے یہ کہ وہ لڑکی زید کی قرار دی جائے گی یاحرام کیکیونکہ ایام آوارگی میں کبھی زید کے پاس نہیں آئیاور اب زید نے جو اس عورت کو پھر رکھا ہے نکاح کرے یانہیںاور زید عورت کے نکال دینے پر اور پھر رکھ لینے پر از روئے شریف مستوجب کسی سزا ہے
الجواب:
صرف نکال دینے سے زید کے نکاح میں کچھ فرق نہ آیالڑکی زید ہی کی قرار پائے گی اگرچہ ایام آوارگی میں یہ عورت کبھی زید کے پا س نہ آتی اور مکان میں واپس آتے ہی اسی دن لڑکی پیدا ہوجاتی۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الولد للفراش وللعاھرالحجر ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کو محرومی ہے(ت)
حوالہ / References درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٣
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩
#15004 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
زید کو دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں پھر رکھ لینے میں اس پر کوئی الزام نہیںہاں نکال دینا اگر بلاوجہ شرعی تھا تو گنہگار ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا داد اپٹھان تھادادی اور والدہ سیدانی۔اس صورت میں زید سید ہے یاپٹھانبینواتوجروا
الجواب:
شرع مطہر میں نسب باپ سے لیا جاتا ہے جس کے باپ دادا پٹھان یا مغل یا شیخ ہوں وہ انہیں قوموں سے ہوگا اگرچہ اس کی ماں اور دادی سب سیدانیاں ہوںنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا ہے:
من ادعی الی غیرابیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ یوم القیمۃ صرفا ولاعدلا ۔ھذامختصر۔
جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کو نسبت کرے اس پر خود اﷲ تعالی اور سب فرشتوں اور آدمیوں کی لعنت ہےاﷲ تعالی قیامت کے دن اس کا نہ فرض قبول کرے نہ نفل۔مختصرا۔
بخاری و مسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وغیرہم نے یہ حدیث مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے روایت کی ہےہاں اﷲ تعالی نے یہ فضیلت خاص امام حسن وامام حسین اور ان کے حقیقی بھائی بہنوں کو عطا فرمائی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بیٹے ٹھہرے پھر ان کی جو خاص اولاد ہے ان میں بھی وہی قاعدہ عام جاری ہوا کہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہوں اس لئے سبطین کریمین کی اولاد سید ہیں نہ کہ بنات فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی اولاد کہ وہ اپنے والدوں ہی کی طرف نسبت کی جائیں گیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ:ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ نواب پورہ مرسلہ نیاز اﷲ خاں ربیع الاول شریفھ
حضور لامع النور عالم ظاہر و باطن ومعقول ومنقول جناب فیص مآب مفتی محمد احمد رضاخاں صاحب دام فیوضہمعالیجاہ! عرض یہ ہے کہ ایك شخص نے ایك عورت سے زنا کیا مدت تك پھر اسی کی زندگی میں اس کی بیٹی سے بھی حرام کیایہاں تك کہ دس برس تك اسے گھر میں ڈال کرپردہ میں رکھ کر حرام کرتا رہاچار بچے پیداہوئے تین لڑکیاں اور ایك لڑکاوہ پرورش پاگئےاور یہ عورت منکوحہ جس کی یہ اولاد حرامی موجود ہے
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ٦٤ مروی از عمرو بن خارجہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ١٧/٣٤
#15005 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
دوسرے شخص کی منکوحہ تھی اس کے پاس سے بھاگ کرزانی کے پاس رہنے لگیخاوند اس کو لینے آیا خلق بیان کرتی ہے کہ خاوند نے اس فعل کو دیکھ کربرادری کے سبب سے طلاق دے دی واﷲ اعلم بالصواب والغیب عنداﷲ اب وہ شخص زنا سے توبہ کرکے نکاح میں لانا چاہتا ہےآیا نکاح ہوسکتا ہے یانہیںاور در صورت ناجائز ہونے نکاح کے وہ عورت مع ان بچوں کے نکال دی جائے گی یابچے اس سے وہ شخص پرورش کرنے کےلئے لے گابینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر شوہر نے اسے طلاق بھی دی ہوتاہم زانی سے نکاح نہیں ہوسکتا جب یہ اس کی ماں سے زنا کرچکابیٹی ہمیشہ کو حرام ہوگئی
فی الدرالمختار حرم اصل مزنیۃ وممسوسۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن اھ ملخصا۔
درمختار میں مزنیہ اور جس عورت کو شہوت کے ساتھ مس کیا اور وہ جس کی شرمگاہ کے داخل حصہ کو شہوت سے دیکھا ہوان عورتوں کے اصول و فروع حرام ہوجائیں گے اھ ملخصا(ت)
اور جبکہ معلوم ہے کہ اس زانی نے اب تك اس سے نکاح نہ کیا تھا اب زنا سے توبہ کرکے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یہ بچے اس شخص کے کسی طرح نہیں ٹھہرسکتے بلکہ اگر شوہر نے طلاق نہ دی یا طلاق سے پہلے یا اس کے بعد چھ مہینے کے اندر تك یہ اولادیں پیداہوئیں تو سب شوہر ہی کی قرار پائیں گی اور زانی کے لئے پتھر۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کو محرومی ہے(ت)
اور طلاق سے چھ مہینے یا زائد کے عــــہ رجعی تھی اور بچہ اس وقت ہوا کہ عورت نے ہنوز عدت گزرجانے کا اقرار نہ کیا تھا یا اقرار ایسے وقت کیا تھا کہ اتنی مدت میں عدت کا گزرجانا محتمل نہیں یعنی امام کے نزدیك طلاق کو دو مہینے اور صاحبین کے نزدیك انتالیس دن نہ گزرے تھے یا اقرار وقت تو گزرنا محتمل تھا مگر بعد کو اس کا
عــــہ: مسودہ میں بیاض ہے۔
حوالہ / References درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٨
صحیح البخاری باب الولد للفراش حرۃ کانت اواَمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩
#15006 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
کذب ظاہر ہوا کہ جو وقت اس نے انقضائے عدت کا بتا یا تھا اس سے چھ۶ مہینے کے اندر بچہ ہوا تو ان صورتوں میں پہلا بچہ جو بعد طلاق ہوا ہے علی الاطلاق شوہر ہی کا ٹھہرے گا طلاق سے بیس برس بعد پیدا ہوا کہ طہر کےلئے زیادت کی جانب کوئی حد مقرر نہیں ممکن ہے کہ تین حیض تیس برس میں آئیں تو انقضائے عدت نہ فی نفسہ ثابت ہوا نہ عورت کے اقرار مقبول سےلاجرم اس کا پیٹ میں رہنا ایام نکاح میں تھا یازمانہ عدت میں ہر طرح نسب ثابت ہے کہ طلاق رجعی میں شوہر جب عدت کے اندر وطی کرے تو وہ حرام نہیں ہوتی بلکہ رجعت ہوجاتی ہے ولہذا عدت ہی میں حمل رہنا ثابت نہ ہوا بلکہ محتمل کہ طلاق سے پہلے کا ہو تو اس کی ولادت مثبت رجعت نہ ہوگی بلکہ مثبت انقضائے عدت ہوگی کہ وضع حمل کے بعد بقائے عدت کے کوئی معنی نہیںاس صورت میں اور بچے جواسی کی ولادت کے چھ مہینے یا زائد کے بعد پیدا ہوئے شوہر کے نہیں ٹھہرسکتے کہ ان کا پیٹ میں رہنا نہ ایام نکاح میں ہو انہ زمانہ عدت میںہاں اگر دوسرا بچہ اس سے پہلے کی پیدائش سے چھ مہینے کے اندر ہوگیا تو یہ بھی شوہر کا قرار پائے گا کہ چھ۶ مہینے سے کم میں دوسرے حمل کا بچہ نہیں ہوسکتالاجرم یہ اسی کے ساتھ تھااور اگر طلاق بائن تھی اگرچہ مغلظہ ہواور عورت اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اوراس نے ہنوز انقضائے عدت کے اقرار مقبولہ بمعنی مذکور کیا تھا کہ طلاق سے دو۲ برس کے اندر بچہ ہوا تو بھی شوہر کا ٹھہرے گا کہ اس کا پیٹ میں رہنا ایام نکاح میں محتمل ہےاور دو برس کے بعد ہوا تو اب حمل زمانہ نکاح کا تو یقینا نہ تھا نہ ایام عدت کا ٹھہراسکتے ہیں کہ بے نکاح جدید عدت بائن میں قربت حرام ہےاس صورت میں ناچار شوہر کا نہ ہوگا مگریہ کہ وہ اپنا ایك بچہ ہولیا تھا یہ دوسرا اس سے چھ۶ مہینے کے اندر ہوگیا تو بوجہ سابق اسے بھی شوہر کا ٹھہرادیں گےبالجملہ اتنی صورتیں ہیں جن میں یہ بچے کل یا بعض شوہر ہی کے ٹھہریں گے اور ثابت النسب ہوں گے اور انہیں ولد الزنا کہنا ناجائز ہوگااور اگر بالفرض ان صورتوں سے کوئی شکل نہ پائی جائے تو غایت یہ کہ شوہر کے نہ ٹھہریں ولدالزنا یامجہول النسب ہوںبہر حال زانی کے کسی طرح نہیں ٹھہر سکتے نہ اسے ان پر کوئی استحقاق ودعوی۔تنویر الابصار و درمختار وردالمحتار میں ہے:
یثبت نسب ولد معتدۃ الرجعی وان ولدت لاکثر من سنتین ولو لعشرین سنۃ فاکثر لاحتمال امتداد طھرھا وعلوقھا فی العدۃ مالم تقربمضی العدۃ وکانت الولادۃ
رجعی طلاق کی عدت والی کے ہاں بچہ پیدا ہوتو نسب اسی خاوند کا ہوگا اگرچہ یہ بچہ طلاق سے دو سالبیس سال یا بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ میں پیدا ہو اہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نطفہ عدت میں ٹھہرا ہو اور عدت کے دوران طہر طویل ہوئے ہوں تا وقتیکہ
#15007 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
رجعۃ لوفی الاکثر منھما اولتمامھما لعلوقھافی العدۃ (فیصیر فـــــ بالوطء مراجعا نھر)لافی الاقل للشك (فان اقرت بانقضائھا والمدۃ تحتملۃ بان تکون ستین یوما علی قول الامام وتسعۃ وثلثین علی قولھما ثم جاءت بولد لایثبت نسبہ الا اذاجاءت بہ لاقل من ستۃ اشھر من وقت الاقرار فانہ یثبت نسبہ للتیقن بقیام الحمل وقت الاقرار فیظھر کذبھا وکذاھذافی المطلقۃ البائنۃ والمتوفی عنھا اذا ادعت انقضائھا ثم جاءت بولد لتمام ستۃ اشھر لایثبت نسبہولاقل یثبت کما یثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ(یشمل البت بالواحدۃ والثلاث تزوجھا فی العدۃ اولابحر)جاءت بہ لاقل منھما من
عورت نے عدت ختم ہونے سے پہلے اقرار نہ کیا ہو اور بچے کی ولادت کو خاوند کا رجوع قرار دیا جائے گا اگر مطلقہ رجعی دوسال یا دو سال کے بعد بچہ جنم دے کیونکہ ممکن ہے کہ استقرار حمل عدت میں ہوا ہو(لہذا خاوند وطی کے ساتھ رجوع کرنے والا قرار پائے گانہر)اور دوسال سے کم مدت میں پیدائش ہوتو شك کی بناپر خاوند کا رجوع ثابت نہ ہوگا(کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ حمل طلاق سے پہلے کا ہو)پھر اگرعورت نے عد ت ختم ہونے کا اقرار کرلیا ہو اور وہ مدت بھی عدت کے ختم ہونے کا احتمال رکھتی ہو مثلا امام اعظم کے قول پر ساٹھ دن اور صاحبین کے قول پر انتالیس دن گزرچکے ہیں پھر اس اقرار کے بعد بچہ کو جنم دے تو اس صوت میں بچے کا نسب پہلے خاوند سے ثابت نہ ہوگا مگر جبکہ اقرار کے وقت سے چھ ماہ کے اندر بچہ جنم دے تو نسب اسی سے ہی ثابت ہوگا کیونکہ اب یقینا اقرار کے وقت وہ حاملہ تھی تو اس سے عورت کا اقرار جھوٹا ثابت ہوجائے گا اور یوں ہی اگر مطلقہ بائنہ یا جس کا خاوند فوت ہوجائے گا اور یوں ہی اگر مطلقہ بائنہ یا جس کا خاوند فوت ہوا ہو جب وہ عدت ختم ہوجانے کادعوی کرے پھر دعوی کے چھ ماہ بعد بچہ کو جنم دے تو یہ نسب بھی پہلے خاوند کا نہ ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت ہوتو احتیاطا نسب پہلے خاوند کا ہوگا جیسا کہ بغیر دعوی بھی بائنہ طلاق والی میں نسب ثابت ہوتاہے(خواہ ایك طلاق یاتین طلاق سے بائنہ ہوئی ہو اور اس نے عدت میں دوسرے سے نکاح کیا یانہ کیا ہوبحر)بشرطیکہ اس نے طلاق سے دو سال کے اندر

فـــــ:قوسین کے درمیان والی عبارت ردالمحتار کی ہے جبکہ قوسین سے باہر والی عبارت تنویر اور درمختار کی ہے۔نذیر احمد
#15008 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
وقت الطلاق لجوازہ وجودہ وقتہ ولم تقر بمضیھا کما مرولولتمامھما لایثبت النسب الابدعوتہ لانہ التزمہ وھی شبھۃعقدایضا والا اذا ولدت توأمین احدھما لاقل من سنتین والاخر لاکثر فیثبت لکن فی القھستانی الدعوۃ مشروطۃ فی الولادۃ لاکثر منھما وان لم تصدقہ المرأۃ فی الاوجہ فتحویثبت نسب ولد المقرۃ بمضیہا لولاقل من اقل مدتہ من وقت الاقرار ولا قل من اکثرھا من وقت البت للتیقن بکذبھا (استشکلہ الزیلعی بماذااقرت بعد سنۃ مثلا ثم ولدت لاقل من ستۃ اشھر من وقت الاقرار ولا قل من ستین من وقت الفراق فانہ یحتمل بانقضائھا ان تنقضی فی ذلك الوقت فلم یظھر کذبھا بیقین الااذاقالت انقضت عدتی الساعۃ ثم ولدت لاقل المدۃمن ذلک
بچہ کو جنم دیا ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ طلاق کے وقت اس کا حمل موجود ہواور اقرار بھی نہ پایاگیا ہو جیسا کہ گزرچکا ہے اور اگر طلاق سے دوسال پورے ہوجانے کے بعد بچہ جنا ہوتو پھر اس کے دعوی کے بغیر نسب ثابت نہ ہوگاکیونکہ زوج نے نسب اپنے اوپر خود لازم کرلیا اور یہ مشابہ عقد بھی ہے مگر یہ کہ عورت نے اس حمل سے دو بچے جنے یوں کہ ایك کو دو سال پورے ہونے سے قبل اور دوسرے کو دوسال کے بعد جنم دیا ہوتو اس صورت میں دعوی کے بغیر نسب ثابت ہوجائے گا لیکن قہستانی میں ہے اوجہ روایت کے مطابق دو سال کے بعد کی ولادت کی صورت میں دعوی شرط ہے اگرچہ عورت زوج کی تصدیق نہ کرتی ہوفتح۔ایسی عورت جس نے عد ت گزرجانے کا اقرار کر رکھا ہو اور وہ اقرار کے وقت سے چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ کو جنم دے یا طلاق بائن کے وقت سے دو سال کے اندر بچہ کو جنم دے تو اس بچے کا نسب ثابت ہوگا کیونکہ اس صورت میں عورت کا جھوٹا ہونا یقینی ہےاس پر زیلعی نے یہ اشکال پیدا کیا ہے کہ مثلا جب عورت سال بعد عدت ختم ہونے کا اقرار کرے پھر وقت اقرار سے چھ ماہ کے اندر اور وقت فراق سے دو سال کے اندر بچے کو جنم دے تو ایسی صورت میں عدت کے ختم ہونے کا احتمال موجود ہے کہ عدت اسی وقت میں ختم ہوئی ہوتو عورت کا جھوٹا ہونا بطور یقین ثابت نہ ہوگا مگر اس صورت میں کہ جب وہ یوں کہے کہ میری عدت اب ختم ہوئی ہے پھر اس وقت سے چھ ماہ کے اندر بچہ کو جنم دے تو جھوٹا ہونا ظاہر
#15009 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
الوقت اھ استظہرہ فی البحروقال یجب حمل کلامھم علیہ کما یفھم من غایۃ البیان وتبعہ فی النھروالشرنبلالیۃ انتہت ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم۔
ہوگا اھ اس کو بحر میں ظاہر قرار دیااور کہا کہ فقہاء کے کلام کو اس معنی پر محمول کرنا ضروری ہے جیسا کہ غایۃ البیان سے سمجھا جارہا ہےاور نہر اور شرنبلالی میں اس کی پیروی کی ہے انتہت ملتقطاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہتا: از کوہ منصوری ڈاکخانہ کلہڑی کام اپر انڈیاگیٹ مرسلہ کلیم اﷲ صاحب جمادی الاولی ھ
۱ کتاب بہشتی زیور میں حصہ چہارم میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند مرجائے اور ایك دن کم دو سال کے اندر بچہ پید اہوتو وہ مرحوم خاوند کا مانا جائے گایہ مسئلہ شرع محمدی یا طب یا ڈاکٹری سے تحقیق ہےیہ جائز ہے یاناجائز اور اگر جائز ہے تو کب سے ہےیاکہ پرانا مسئلہ ہے یااولیائے کرام سے جائز ہے
۲دوسرے یہ کہ چار مہینے دس دن جو شرع سے قائم ہیں بعد عدت سے نکاح کرے تو بعد کوایك سال یا مہینے کے بچہ پیداہوا تو پہلے خاوند کا ماناجائے گا یا ب جس سے نکاح ہوااس کا
۳تیسرے یہ کہ وہ بچہ کونسی حق ملکیت میں مستحق ہوگا پہلے باپ کی ملکیت میں یادوسرے کی
۴چوتھے یہ کہ بعض امام سلام پھیر کر سر پر ہاتھ رکھتے ہیں تو کس مصلحت سے رکھتے ہیں
الجواب:
کتاب بہشتی زیور نہ دیکھا کیجئےاس کا دیکھنا حرام ہےاس میں بہت سے مسائل غلط اور بہت باتیں گمراہی کی ہیں اس کے مصنف کو تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام لے کر لکھاہے من شك فی کفرہ فقد کفر جواس شخص مذکور کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
یہ مسئلہ یوں ٹھیك نہیں بلکہ اگر چار مہینے دس دن عدت کے گزارکر عورت نکاح کرلے اور نکاح سے چھ مہینے بعدبچہ پیدا ہو کہ موت شوہر سے دس مہنیے دس ہی دن بعد ہوا ہر گز پہلے شوہر کا نہ ٹھھرے گا بلکہ اسی دوسرے کا ہے پہلے شوہر کے ترکہ سے اسے کچھ نہ ملے گایہ دوسراشخص ہی اس کا باپ ہے اگر یہ مرے گا تو وہ بچہ اس کا وارث ہوگا بلکہ اگر عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ بھی کرے صرف اتنا ہوکہ چار ماہ دس دن بعد وہ اپنی عدت
حوالہ / References درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ١/٦٢۔٢٦١،ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٢٣تا٦٢٦
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٥٦
#15010 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
گزرجانے کا اقرار کر چکی ہو اس کے چھ مہینے بعد بچہ پیدا ہوا جب بھی ہرگزاس شوہر مردہ کا نہ ٹھہرے گا۔درمختار میں ہے:
لواقرت بمضیھا بعد اربعۃ اشھروعشرا فولاد تہ لستۃ اشھرلم یثبت لاحتمال حدوثہ بعد الاقرار (ملخصا)
اگر عورت موت زوج کے وقت سے چار ماہ دس دن عدت گزرنے کا اقرار کرے پھر وقت اقرار سے پورے چھ ماہ میں بچہ کو جنم دے تو بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ احتمال ہے کہ حمل کا حدوث اقرار کے بعد ہواہو۔(ت)
نماز کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ایك دعا پڑھنا حدیث میں آیا ہے کارڈ میں دعا لکھنے کی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ :از پیلی بھیت مرسلہ عثمان صاحب معرفت مولوی عبدالحق صاحب شوال ھ
ہندہ سے اس کے شوہر نے پونے تین سال سے قربت نہیں کی اور اس زمانہ میں پونے تین سال ہندہ اپنے باپ کے یہاں رہی اور اس صورت میں کہ میکے میں سوائے باپ کے اور کوئی اس کا رشتہ دار نہیں تھا اور ماں بھی اس کی نہیں تھی اور نہ کوئی عورت اور اس کے پاس تھیاب پونے تین سال کے بعد اس کے بچہ پیدا ہواہندہ حلف سے اور قسم سے کہتی ہے کہ بچہ میرے شوہر کا ہے جس طرح چاہے اطمینان کرلواس زمانہ پونے تین سال میں اپنے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو یا اپنے ماں با پ کے رشتہ داروں کو مطلع نہیں کیا حالانکہ دونوں طرف بچہ ہونے کی کمال تمنا تھی کیونکہ اس کے شوہر کی دوسری بی بی سے بھی نیز اس سے اور کوئی اولاد نہ تھیہندہ کہتی ہے کہ مجھ کو دو ڈھائی مہینے سے آثار حمل کچھ ظاہر ہوئے میں نے بوجہ اپنی سوت کے کسی سے اظہار نہیں کیا کہ مبادا سوت درپے آزار ہو مگر میں نے اپنے شوہر کو نیز اپنی چچی کو بلایا وہ میرے پاس نہیں آئی بچہ باپ کے یہاں پیدا ہواچوتھے روز شوہر کو بذریعہ تحریر مطلع کیاہندہ نے یہ بھی اپنی چچی سے کہا میری بینائی میں فرق آگیا ہے اور میراجسم اکثرپکتا ہےیہ اس کی حالت تھییہ اس کی چچی کا بھی بیان ہے اور ایام بھی بند تھے مگر گاہے کچھ معلوم ہو کر بند ہو جاتا تھاجب ہندہ اور اس کے باپ نے بذریعہ تحریر شوہر کو اطلاع دی مولود کیتب شوہر نے حالت غم میں اس کا جواب تحریری بھیجا کہ عرصہ سے میرا اس سے تعلق نہیں لہذاوہ بچہ میرا نہیں ہے اور میرا اس سے تعلق نہیں ہے۔اس کا جواب عبارات فقہاء واحادیث وتمثیلات سے فرمایا جائےفقط۔
حوالہ / References درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٢
#15011 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ بچہ شرعا بلاشبہہ اسی شوہر کا ہے اسے اس کا انکار جائزنہیں پونے تین در کنار تیس چالیس برس سے دونوں الگ ہوتے جب بھی بچہ اسی کا ہوتا۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔
بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی کےلئے محرومی ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
قد اکتفوابقیام الفراش بلا دخول کتزوج المغربی بمشر قیۃ بینھما مسافۃ سنۃ فولدت لستۃ اشھر مذتزوجھا لتصور کرامۃ واستخدامافتح ۔
فقہاء کرام نے ثبوت نسب میں نکاح موجود ہونے کو کافی قرار دیا اگرچہ جماع نہ پایاجائےجیسے کوئی مغرب میں رہنے والا شخص مشرق میں رہنے والی عورت سے نکاح کرے اور دونوں کے درمیان سال بھر کی مسافت ہوا ور اس عورت کے ہاں وقت نکاح سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوتو نسب نکاح والے کا ہوگا کیونکہ کرامت اور استخدام کے طور پر یہ ممکن ہے اور متصور ہےفتح۔(ت)
ہمارے ائمہ نے اکثرمدت حمل دو سال رکھی ہے کہ غالب یہی ہے اور فقہ میں غالب ہی کا اعتبار ہے نادر خصوصا ایسا کہ صدہا سال کروڑوں ولادتوں میں اس کا خلاف نہ مسموع ہو لحاظ نہیں کیا جاتاامیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے عہد مبارك میں ایك صاحب اپنی زوجہ کو وطن میں چھوڑ کر سفر کو گئے دو برس بعد واپس آئے تو عورت کو حاملہ پایا ایك مدت بعد بچہ ہوا قد نبتت ثنیتاہ یشبہ اباہ اس کے اگلے چاروں دانت پیٹ ہی سے نکل چکے تھے صورت میں اپنے باپ سے مشابہ تھا فلمارأہ الرجل قال ولدی ورب الکعبۃجب ان صاحب نے اس بچے کو دیکھا کہا خدا کی قسم میرا بچہ ذکرہ فی الفتحوقال انما ھو بقیام الفراش ودعوی الرجل نسبہ اھ(اس کو فتح میں ذکرکیا ہےاور فرمایا یہ تب ہے کہ نکاح موجود ہو اور زوج نسب کا دعوی کرے اھ۔ت)
اقول: فی صدر الحدیث ان عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ھم برجمھا
اقول:(میں کہتا ہوں کہ)حدیث کے شروع میں ہے کہ عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس عورت کو رجم
حوالہ / References صحیح البخاری باب الولد للفراش حرۃ کانت اواَمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩
درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ١/٦٢٣
فتح القدیر باب فصل فی ثبوت النسب نوریہ رضویہ سکھر ٤/١٨١
#15012 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
فقال لہ معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ ان کان لك علیھا سبیل فلاسبیل لك علی مافی بطنھافترکہا حتی ولدت ولداقد نبتت الخ فالفراش قد کان قائما حین ھم برجمھا وھو لایحتاج الی الدعوۃ فالصواب ان یشاء اﷲ تعالی ان ذلك قد یقع بغایۃ الندرۃ والعبرۃ فی الفقہ الغالب فافھم ثم بعد سویعۃ رأیت وﷲ الحمد الامام السرخسی رحمہ اﷲ تعالی صرح فی مبسوطہ بما سبق الیہ خاطر الفقیر اذقال بعد ذکر الحدیث المذکور والاحکام تبتنی علی العادۃ الظاہرۃ وبقاء الولد فی بطن امہ اکثر من سنتین فی غایۃ الندرۃ ۔
کرنے کاقصد فرمایا تو ان سے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ اگرچہ آپ کو اس عورت پر قدرت ہے مگر اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کی قدرت نہیںتو اس پر عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے عورت کو چھوڑدیا حتی کہ اس عورت نے ایسے بچے کو جنم دیا جس کے دانت نکل چکے تھے الخ تو جب حضرت عمر فاروق نے اس عورت کے رجم کا ارادہ فرمایا تو اس وقت اس کا نکاح موجودتھاتو ایسی صورت میں نسب کا دعوی کی ضرورت نہیںتو درست یہی ہے۔اگر اﷲ تعالی نے چاہا کہ ایسا واقعہ انتہائی نادر ہوتا ہے۔جبکہ فقہ میں کثیر الوقوع کا اعتبار کیا جاتا ہےاس پر غور کرو۔ پھر تھوڑی دیر بعد ﷲ الحمد میں نے امام سرخسی کا نقل کردہ کلام دیکھا کہ آپ نے اپنی مبسوط میں اسی بات کی تصریح فرمائی جو میرے دل پر وارد ہوئی تھیجب انہوں نے مذکورہ حدیث اور کچھ ایسے واقعات جن کا ذکر آرہا ہےکو بیان کرکے فرمایا ہمارے لئے احکام ظاہر عادت پر مبنی ہیںجبکہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زائد عرصہ بچے کا رہنا انتہائی نادر واقعہ ہے۔ (ت)
دارقطنی وبیہقی اپنے اپنے سنن میں ولید بن مسلم سے راوی امام دار الہجرۃ عالم المدینہ سید ناامام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
ھذہ جارتنا امرأۃ محمد بن عجلان امرأۃ صدق و زوجھا رجل صدق حملت ثلثۃ ابطن فی اثنی عشرۃ سنۃ کل بطن فی اربع سنین ۔
یہ ہیں ہماری ہمسائی محمد بن عجلان کی بی بییہ سچی عورت اور وہ سچے مردان کے تین حمل بارہ برس میں ہوئےہرحمل چار سال میں۔
حوالہ / References فتح القدیر باب ثبوت النسب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/١٨١
مبسوط سرخسی باب العدۃ وخروج المرأۃ من بیتہا دارالمعرفۃ بیروت ٦/٤٥
فتح القدیر بحوالہ الدارقطنی والبیہقی باب ثبوت النسب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر٤/٨١۔١٨٠
#15013 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
امام شمس الائمہ سرخسی مبسوط میں فرماتے ہیں:
قیل ان الضحاك ولدتہ امہ لاربع سنینوولدتہ امہ لاربع سنینوولدتہ بعد مانبتت ثنیتاہ وھو یضحك فسمی ضحاکاوعبدالعزیز الماجشونی رضی اﷲ تعالی عنہ ولدتہ امہ لاربع سنین وھذہ عادۃ معروفۃ فی نساء ماجشون رضی اﷲ تعالی عنہم انہن یلدن لاربع سنین ۔
یعنی منقول ہوا کہ امام مفسر محدت ضحاك چار برس ماں کے پیٹ میں رہےپیداہوئے تو اگلے چاروں دانت نکل چکے تھےہنستے معلوم ہوتے تھے اس لئے ضحاك نام رکھا گیا(یعنی بہت ہنسنے والے)اور امام محدث عبدالعزیز ماجشونی بھی چار برس حمل میں رہےاور بنی ماجشون کی عورتوں کی یہ عادت مشہور ہے کہ بچہ ان کے پیٹ میں چار برس رہتا ہے۔
شوہر زن کا کہنا ہے کہ وہ بچہ میرا نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیںاس لفظ اخیر میں اگر لفظ اول کے خلاف اس کی ضمیر بچے کی طرف ہے جب تو ظاہر کہ اسے طلاق سے کوئی تعلق نہیں اور اگر مثل اول ضمیر عورت کی طرف ہے تو یہ لفظ کنایات طلاق سے ہے اور وہ محتمل سب و ذم ہے یعنی میں ایسی عورت سے بیزار ہوں اور حالت حالت غضب ہے تو بے اقرار شوہر نیت طلاق کا ثبوت نہ ہوگا اس سے قسم لی جائے اگر بحلف کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ نہ نیت ازالہ علاقہ نکاح نہ کہا تھا تو طلاق نہ ہوئی اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہےمبسوط امام شمس الائمہ میں ہے:
انت بائن حرام بتۃ خلیۃ بریۃ تحتمل معنی السب ای انت بائن من الدین بریۃ من الاسلام خلیۃ من الخیر حرام الصحبۃ والعشرۃ بتۃ عن الاخلاق الحسنۃ وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ الحق بھذہ الالفاظ اربعۃ الفاظ اخر خلیت سبیلك فارقتك لاسبیل لی علیك لاملک
اگر خاوند بیوی کو کہے"تو بائن ہےحرام ہےدور ہےخالی ہےبری ہے"تو یہ الفاظ محتمل معنی سب وذم ہیں یعنی تو دین سے الگ ہےتو اسلام سے بری ہےخیر سے خالی ہےصحبت وعشرت سے محروم ہےاخلاق حسنہ سے دور ہے(لہذا یہ الفاظ مذکورہ معانی کی وجہ سے گالی بن سکتے ہیں اس لئے طلاق کی نیت کئے بغیر طلاق نہ ہوگی)امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ انہوں نے ان پانچ الفاظ پر مزید چار الفاظ ذکر فرمائے(جن میں گالی کا احتمال ہونے
حوالہ / References مبسوط السرخسی باب العدۃ و خروج المرأۃ من بیتہا دارالمعرفۃ بیروت ٦/٤٥
#15014 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
لی علیك لانھا تحتمل معنی السب ای لاملك لی علیك لانك ادون من ان تملکیلاسبیل لی علیك لشرك وسوء خلقکوفارقتك انقاء لشرك و خلیت سبیلك لھوانك علی ۔
کی وجہ سے بغیر نیت طلاق نہ ہوگی)وہ چار الفاظ یہ ہیںمیں نے تیرا راستہ کھول دیامیں تجھ سے الگ ہوںمیرا تجھ پر چارہ نہیںمیری تجھ پر ملکیت نہیں۔کیونکہ یہ الفاظ گالی کا احتمال رکھتے ہیں یعنی میری تجھ پر ملکیت نہیں کیونکہ تو ا س قابل نہیںمیرا تجھ پر چارہ نہیں تیرے شر اور بداخلاقی کی وجہ سےمیں تجھ سے الگ ہوں تیرے شر اور بداخلاقی سے بچتے ہوئےمیں نے تیرا راستہ کھول دیا ہے کہ تو میرے ہاں کمینی ہے۔(ت)
اسی طرح تبیین امام زیلعی میں ہے۔بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
روی عن ابی یوسف انہ زاد علی ھذہ الالفاظ الخمسۃ خمسۃ اخری لاسبیل لی علیکفارقتکخلیت سبیلکلاملك لی علیکبنت منیلان ھذہ الالفاظ تحتمل الشتم کما تحتمل الطلاقفیقول الزوج لاسبیل لی علیك لشرکوفارقتك فی المکان لکراھۃ اجتماعی معکوخلیت سبیلك وماانت علیہولاملك لی علیك لانك اقل من اتملک وبنت منی لانك بائن من الدین اوالخ ۔
امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ انہوں نے ان پہلے پانچ مذکورہ الفاظ پر مزید پانچ ذکر فرمائے جن میں چار وہی پہلے والے اور ایک"تو مجھ سے دور ہےکیونکہ یہ الفاظ جیسے طلاق کا احتمال رکھتے ہیں گالی ہونے کا احتمال بھی رکھتے ہیںمثلا خاوند کہتا ہے تیرے شر کی وجہ سے میرا تجھ پر چارہ نہیںمیں مکان میں تجھ سے جدا رہتا ہوں کیونکہ تیرے ساتھ اکٹھا رہنا نا پسند کرتا ہوںتیرا راستہ تیرے حال پر کھولتا ہوںتجھ پر میری ملکیت نہیں کیونکہ تو اس قابل نہیںتو مجھ سے دور ہوکیونکہ تو دین سے دور ہے یا الخ(ت)
ہدایہ میں ہے:
عن ابی یوسف فی قولہ لاملک
"تو مجھ سے دور ہے"کہ ماسوا باقی چار الفاظ کو
حوالہ / References مبسوط السرخسی باب ماتقع بہ الفرقۃ ممایشبہ الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ٦/٨٠و ٨١
بدائع الصنائع فصل وامالکنایۃ فنوعان الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/١٠٧
#15015 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
لی علیك ولاسبیل لی علیك وخلیت سبیلك وفارقتکانہ یصدق فی حالۃ الغضب لما فیھا من احتمال معنی السب ۔
ذکر کرکے کہا کہ ابو یوسف سے مروی ہے کہ اگر خاوند کہے کہ یہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہےتوغصہ کی حالت میں کہنے پر خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ ان الفاظ میں گالی ہونے کا احتمال ہے۔(ت)
عنایہ میں ہے:
فان قولہ لاملك لی علیك یحتمل ان یکون معناہ لانك اقل من ان تنسبی الی ملکی او نسب الیك بالملك ولاسبیل لی علیك لسوء خلقك واجتماع انواع الشرفیکوخلیت سبیلك لقذارتك و فارقتك فی المضجع لذفرك وعدم نظافتك والحقی باھلك لانك اوحش من ان تکونی خلیلتی۔
خاوند کا کہنا کہ"تجھ پر میری ملکیت نہیں ہے"کامعنی ہوسکتا ہے کہ تو میری ملکیت کے قابل نہیں یا میں تیرا مالك بنوں تو اس قابل نہیں"میرا تجھ پر چارہ نہیں"کا یہ معنی ہوسکتا ہے کہ یہ تیری بداخلاقی کی وجہ سے اور تیرے ہرقسم کے شرکی وجہ سےاورتیراراستہ کھول دیا تیری بری حالت کی وجہ سےمیں تجھ سے جدا ہوں لیٹنے میں تیری بدبو اور صفائی نہ ہونے کی وجہ سےتو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا کیونکہ تو میرے ہمراہ رہنے میں وحشت محسوس کرتی ہے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
الحق ابویوسف بالتی تحتمل السب الفاظ اخری وھی لاملك علیکلاسبیل لی علیکخلیت سبیلک فارقتك فھذہ اربعۃ الفاظ ذکرھا الوالوالجی وذکرھا العتابی خمسۃلاسبیللاملکخلیت سبیلک الحقی باھلکحبلك علی
ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے جوان الفاظ کے ساتھ گالی ہونے کا احتمال رکھتے ہیں مزید چار مذکورہ الفاظ شامل کئےانہی چاروں کو ولوالجی نے ذکر کیا اور عتابیہ میں یہ پانچ ذکر کئے تجھ پر چارہ نہیںتجھ پر ملکیت نہیںتیر راستہ کھول دیا اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاتیری رسی تیرے کندھے پر ہے ایضاح اور شرح جامع صغیرمیں شمس الائمہ نے پانچ یہی ذکر فرمائےلیکنتیری رسی تیرے کندھے پر ہےکی
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الطلاق فصل فی الطلاق قبل الدخول المکتبۃ العربیہ کراچی ٢/٣٥٥
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر فصل فی الطلاق قبل الدخول مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر٣/٤٠٢
#15016 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
غاربکوفی الایضاح وشرح الجامع الصغیرلشمس الائمۃ ذکر خمسۃ ھی ھذہ الاانہ ذکر مکان حبلك علی غاربك فارقتکفتتم ستۃ الفاظ ووجہ احتمالھا السب ان لاملك لی یعنی انت اقل من ان تنسبی الی بالملک ولاسبیل لی علیك لزیادۃ شرکوخلیت سبیلک وفارقتك والحقی باھلکوحبلك علی غاربك ای انت مسیئۃ لایشتغل احد بتأدیبك اذلا طاقۃ لاحد بمما رستک اقول: والدلیل دلیل ان لا حصر بل کل لفظ یدل علی التبری عنھا والتخلی و الانقطاع وترك الاشتغال بھا فھو مما یحتمل المعنی المذکور کما لایخفی۔
بجائے انہوں نے"میں تجھ سے الگ ہوں"ذکر کیایوں کل چھ الفاظ ہوئےان کی وجہ یہی ہے کہ گالی ہونے کا احتمال رکھتے ہیں"تومیری ملك نہیں"یعنی تو اس قابل نہیں کہ میری ملکیت کےلئے منسوب ہو"میرا تجھ پر چارہ نہیں"یعنی تیری بداخلاقی اورتیرے شر کی وجہ سے"میں نے تیرا راستہ کھول دیا"یعنی میں تجھ سے جدا ہوا"تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا""تیر ی رسی تیرے کندھے"یعنی تو ایسی بد ہے کہ کوئی تجھے تربیت نہیں دے سکتا کیونکہ باربار سمجھانے کی کسی میں طاقت نہیں ہے اھاقول:(میں کہتا ہوں)مذکور بیان اس بات کی دلیل ہے کہ ان الفاظ میں حصر نہیں بلکہ جو الفاظ بھی براءت علیحدگی انقطاع اور بیوی سے ترك تعلق پر دلالت کریں وہ تمام گالی بننے کا احتمال رکھتے ہیںجیسا کہ مخفی نہیں(ت)
درمختار میں ہے:
القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی ۔
مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد خاوند بیان دے کہ طلاق کی نیت نہ کی تھیتو اس کی تصدیق کردی جائے گیاور اس معاملہ میں بیوی کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے اور اگر خاوند اپنے بیان سے متعلق گھر میں قسم نہ کھائے بلکہ انکار کردے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرے اگر حاکم کے مطالبے پر بھی قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر حاکم میاں بیوی میں علیحدگی کا فیصلہ دے دےمجتبی۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
فان نکل ای عند القاضی لان
اگر قاضی کے ہاں قسم سے انکار کرے تو تفریق کرے
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی الطلاق قبل الدخول مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ٣/٤٠٢
درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٣٠
#15017 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
النکول عند غیرہ لایعتبرط اھ ۔اقول: ھو مستفاد من قولہ فان ابی رفعتہ فلم یجعل اباءہ عندھا شیأ۔
کیونکہ قاضی کے علاوہ کسی غیرکے ہاں انکار کرے تو وہ انکار تفریق کےلئے معتبر نہیں ہوگاطاھ۔اقول:(میں کہتا ہوں) یہ بات ماتن کے اس قول سے عیاں ہورہی ہے کہ"اگر گھرمیں انکار کرے تو بیوی حاکم کے ہاں معاملہ کو پیش کرے"تو انہوں نے بیوی کے ہاں انکار کو غیر معتبر قرار دیا۔(ت)
ہاں اگر وہ اقرار کرے کہ(اس)کی ضمیر عورت کی طرف تھی اور یہ لفظ قطع تعلق نکاح ہی کی نیت سے کہے تو بیشك ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئیاور اب بچہ اسی شوہر کو ایسا لازم ہوگیا کہ اس سے چھوٹ ہی نہیں سکتا کہ بینونت کے بعد احتمال لعان بھی نہ رہا جو حاکم اسلام کے حضور ہوسکتا اور جب اس کے بعد قاضی ان زن وشو میں تفریق کرکے بچے کی نسبت اس شوہر سے قطع کردیتا اس کا نہ ٹھہرتا مجہول النسب رہ جاتادرمختار میں باب اللعان میں ہے:شرطہ قیام الزوجیۃ (لعان کی شرط یہ ہے کہ نکاح موجود ہو۔ت)اسی میں ہے:
ویسقط بعد وجوبہ بالطلاق البائن ثم لایعود بتزوجھا ۔
لعان واجب ہوجانے کے بعد بائنہ طلاق دے دینے پر ساقط ہوجائے گااور دوبارہ نکاح کرنے پر بھی لعان نہ ہوسکے گا۔(ت)
اسی میں ہے:
وان قذف الزوج بولدحی نفی الحاکم نسبہ عن ابیہ والحقہ بامہ ۔
جب خاوند بیوی پر تہمت لگائے کسی زندہ بچے کے بارے میںتو حاکم اس بچے کے نسب کو اس خاوند سے منقطع کردے اور بچے کو ماں سے ملحق کردے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای لابد ان یقول قطعت نسب ھذا
یعنی قاضی کے لئے اس موقعہ پر ضروری ہے کہ وہ یہ
حوالہ / References ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٦٥
درمختار باب اللعان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥١
درمختار باب اللعان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٢
درمختار باب اللعان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٢
#15018 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
الولد عنہ بعد ماقال فرقت بینکما وفی المبسوط ھذا ھوالصحیح ۔واﷲ تعالی اعلم۔
اعلان کرے کہ میں نے اس بچے کا نسب اس شخص سے منقطع کردیا ہےیہ اعلان وہ تفریق کرنے کے بعد کرے۔اور مبسوط میں ہے کہ یہی صحیح ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ : ازریاست جے پور نمك منڈی اجمیری دروازہ مرسلہ محمد عبدالعزیز بیگ شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے دختر رابعہ پیدا ہوتے ہی ہندہ کا انتقال ہوگیا چنانچہ مسماۃ رابعہ نے ابتدائے پیدائش خود سے ڈیڑھ سال کامل ایام رضاعت میں مسماۃ شافیہ وکافیہ کا دودھ پیا' اتفاق سے مسماۃ شافیہ و کافیہ کے حقیقی بھائی مسمی بزید سے مسماۃ رابعہ کا عقد ہوکر اولاد بھی ہوگئی(حالانکہ مسمی بزید ومسماۃ رابعہ زن و شوہر باہمی رضاعی ماموں وبھانجی ہوتے ہیں)تو ایسی صورت میں نکاح قائم رہ سکتا ہے یانہیں اور بصورت قائم رہنے کے کفارہ عائد ہوگا یانہیں اور اولاد کس کی کفالت میں رہے گی اور بار مہر زوج پر عائد ہوگا یانہیں
الجواب:
حاشا وہ خبیث نکاح ہرگز قائم نہ رکھا جائے گامردو عورت پر فرض فرض عظیم فرض ہے کہ فورا فورا جدا ہوجائیںمرد نہ مانے تو عورت خود جدا ہوجائےدونوں نہ مانیں تو حاکم بالجبر جدا کردے گا۔عورت کےلئے مرد پر پورا مہر مثل ہے اگرچہ جو مہر بندھا تھا اس سے کتنا ہی زائد ہواولاد میں لڑکا سات برس اور لڑکی نوبرس کی عمرتك ماں کے پاس رہے پھر باپ لے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
فی الخانیۃ لوتزوج محرمہ لاحد علیہ عند الامام علیہ مھر مثلھا بالغامابلغ ۔
خانیہ میں ہے اگر کسی نے اپنی محرم سے نکاح کیا تو اس پر حد نہیں(بلکہ سخت تعزیر ہے)اور مہر مثل جتنا بھی ہو اس پر لازم ہوگایہ امام اعظم کے نزدیك ہے۔(ت)
اسی میں نہر سے ہے:
قال فی الدرایۃ الصحیح انہا شبھۃ عقد فیثبت النسب وھکذاذکرفی المنیۃ اھ
درایہ میں ہے کہ یہ شبہہ نکاح ہے لہذا نسب ثابت ہوجائے گامنیہ میں بھی یونہی مذکور ہے اھ ملخصا
حوالہ / References ردالمحتار باب اللعان داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٨٩
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٣٥١
ردالمحتار باب الوطی داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٥٤
#15019 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
(ملخصا)وذکرہ الخیرالرملی عن العینی ومجمع الفتاوی۔واﷲتعالی اعلم۔
اور اس کو خیرالدین رملی عینی اور مجمع الفتاوی سے نقل کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از حافظ گنج ضلع بریلی مسئولہ حیدر بخش
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت رانڈ ہوگئی اور اس کے حمل عرصہ تین ماہ سے رہ گیاجب پنچوں نے دریافت کیا تومسمی حیدر بخش نے جو اسی گاؤں کا آدمی تھا یعنی اس عورت کابھانجا ہے کہ میں اس عورت کو بعد وضع حمل نکاح میں لاؤں گا میں نے اس عورت کا عیب ثواب اپنے اوپر رکھ لیااس بات پرپنچوں نے اور کل بستی نے بوجہ ہونے حرام کے اس عورت واس شخص یعنی حیدر بخش دونوں کا حقہ پانی اس غرض سے بندکردیا کہ آئندہ عورت وآدمی ایسا فعل ناجائز نہ کرےاب جو حکم شریعت ہووہ کیا جائے یا بروئے شریعت کھولاجائے۔
الجواب:
خاوند کی موت سے دوبرس کے اندر بچہ پیدا ہو وہ خاوند ہی کا ہےسائل بیان کرتا ہے کہ خاوند کی موت کو دس مہینے ہوئے اور تین مہینے سے حمل بتاتا ہے اگر عورت چار مہینے دس دن کے بعد عدت ختم ہوجانے کا اقرار نہ کرچکی ہو اوریہ مرگ شوہر سے دو برس کے اندر پیدا ہوتو شوہر ہی کا ہوگا اور عورت کو حرام کی طرف نسبت کرنا حرام ہوگااگر عورت چار مہینے دس دن کے بعد اپنی عدت ختم ہوجانا ظاہر کر چکی تھی اور اب تین مہینے سے حمل ظاہر ہواتو عورت پر الزام ہے اس کا حقہ پانی لبند کردیںلیکن حیدر بخش پر اس کہنے سے کوئی الزام نہیں اس کا حقہ پانی کھول دیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از موضع کریلی ضلع بریلی مسئولہ امام الدین صاحب شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو ہندہ سے نکاح کئے ہوئے پانچ ماہ اور دس یوم ہوئے ہیںہندہ نے بچہ جناتو اس بچہ پر کیا حکم ہے آیا وہ زید کا قرار دیا جائے گا یانہیںاہل برادری معترض ہیں تو اس حالت میں زید اورہندہ پر اور بچہ پر کیا حکم ہے
الجواب:
سائل نے بیان کیا کہ عورت بیوہ تھی شوہر کے مرے تین برس ہوئےاس کے بعد یہ بچہ ہوا تو یہ نہ اگلے شوہر کا ہے نہ زید کابلکہ مجہول النسب ہےاور زید پر کچھ الزام نہیںہندہ کا حال خداجانےبے ثبوت اسے بھی زانیہ نہیں کہہ سکتےممکن کہ دھوکے سے وطی واقع ہوئی ہو جس سے یہ بچہ ہے۔بدائع و بحر ودرمختاروہندیہ میں ہے:
#15020 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
ان جاءت بہ لاکثر من سنتین منذطلقھا الاول اومات ولاقل من ستۃ اشھر منذتزوجھا الثانی لم یکن للاول ولاللثانی وھل یجوز نکاح الثانی فی قول ابی حنیفۃ ومحمد جائزاھ ۔وتأمل فی ھذا الجواز فی رد المحتار فراجعہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
پہلے خاوند کی موت یا طلاق کے بعد دوسال سے زائد عرصہ پر عورت نے بچے کو جنم دیا ہو یا دوسرے نکاح سے چھ ماہ کے اندر جنم دیا ہو تو اس بچے کا نسب نہ پہلے سے ہوگا نہ دوسرے سے۔اور کیا اس صورت میں دوسرا نکاح صحیح پائے گاتو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك جائز قرار پائے گااھردالمحتار میں اس جواز پر تأمل کیا ہےاس کی طرف رجوع کرو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہتا۱۳۰: از گوپندگڑھ ضلع اجمیر شریف مسجد خورد مرسلہ فیض محمد صاحب امام مسجد شوالھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
()ایك شخص ایك عورت کو فرار کرکے لے گیاعورت کاخاوند زندہ ہےوہ عورت مرگئی اور وہ شخص واپس چلاآیاا س عورت کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی پیداہوئیاب ان بچوں اور اس شخص کے واسطے کیا حکم ہےاس کے ساتھ مصافحہ اور کھانا کھانا کیسا ہے
()ایك شخص نے اپنی ساس سے زنا کیا اور حمل رہالڑکی ہوئی اور پھر شادی کیاس شادی سے لڑکا ہوااس لڑکے پر کیا حکم ہے
الجواب:
()صورت مذکورہ میں وہ شخص زانی ہےسزائے زناء کا سزا وار اور مستحق عذاب نار ہےمسلمان اگر اس سے سلام کلام نہ کریںاس کے ساتھ کھانا نہ کھائیںاس سے مصافحہ نہ کریں تو وہ ضرور اس قابل ہے جب تك توبہ نہ کرےشوہر اور عورت کے بچے اس کے شوہر ہی کے ہوتے ہیں۔صحیح حدیث میں فرمایا:
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔
بچہ اس کا جس کا بچھونا یعنی خاوند کا اور زانی کے لئے پتھر۔
(۲)جس نے اپنی ساس سے زنا کیا اس نے اپنی ماں سے زنا کیااور شادی اگر کسی اور عورت سے کی اور اس سے لڑکا پیدا ہواتو اس لڑکے میں کوئی خلل نہیںاور اگر سائل کا مطلب یہ ہے کہ ایك شخص نے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الخامش عشر فی ثبوت النسب نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٣٨
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩
#15021 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
ایك عورت سے زنا کیا پھر اس کی لڑکی سے نکاح کیا اس سے لڑکا ہو ا تو وہ شخص اس وقت بھی زانی ہوا اور اس نکاح میں بھی حرام کار کہ یہ اس کی بیٹی کی جگہ ہےاور اب یہ جو لڑکا پیدا ہوا ولدالحرام ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ:از شہر بریلی مدرسہ اہلسنت و جماعت مسئولہ طالبعلم مدرسہ مذکور شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی علاتی اخت کی نواسی کے ساتھ چھ برس ہوئے نکاح کیا تھا اس سے ایك لڑکی ہوئیاب زید کو اور محلہ کے لوگوں کو معلوم ہو ا کہ زید کا یہ نکاح صحیح نہیں ہوا زید سے تفریق کرادیزید کا یہ نکاح صحیح ہو ایانہیں تو اس لڑکی کا مستحق کون ہےمہر لازم ہو ایانہیںعدت ہوگی یانہیںاور اس نکاح کے وکیل و گواہ اور پڑھانے والوں کا کیاحکم اور زید پر کیا حکمباوجود اس کے کہ بے علم ہیں۔
الجواب:
نکاح مذکور حرام حرام قطعی حراماور زیداور نکاح خواں ووکیل و گواہ سب سخت تر گناہ کبیرہ میں گرفتاراور جہل اس کے گناہ کبیرہ ہونے سے خارج نہ کرے گا بلکہ جہل خود دوسرا گناہ کبیرہ ہےولہذا حدیث میں ہے:
ذنب العالم واحد وذنب الجاھل ذنبان ۔
عالم کا گناہ ایك گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ۔
عورت پر ضرور عدت لازم ہے اور زید پر پورا مہر مثل واجب ہے یعنی اس طر ح کہ عورت کا مہر مثل کیا ہے وہ جو باندھا تھااس کا لحاظ نہ ہوگا چاہے مہر مثل سے کم ہو یا زائدفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
اذا تزوج بذات رحم محرم منہ ودخل بھا لاحد علیہ وعلیہ مھر مثلھا بالغاما بلغ ۔(ملخصا)
جب کسی نے ذی رحم محرم عورت سے نکاح کرکے جماع کرلیا تو اس پر حد نہیں(بلکہ تعزیر سخت ہے)اور مہر مثل جتنا بھی ہو اس پر لازم ہوگا(ملخصا)۔(ت)
لڑکی زید ہی کو دلائیں گےبرس کی عمر ہونے تك ماں کے پاس رہے گی اور اگر وہ کسی ایسے سے نکاح کرے جو اس لڑکی کا محرم مثل چچا کے نہ ہواس کے بعد باپ یعنی زید لے لے گا۔درمختار کتاب الحدود میں ہے: انھا من شبھۃ المحل وفیھا
یہ محل کا شبہہ ہے اور اس میں نسب
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ فر،عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ٢٨٧٨٤ موسسۃ الرسالہ بیروت ١٠/١٥٣،کنز العمال بحوالہ فر،عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ٢٨٩١١ موسسۃ الرسالہ بیروت ١٠/١٧٥
فتاوٰی قاضی خاں باب ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ ١/١٧٥
#15022 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
یثبت النسب ۔ ثابت ہوجاتا ہے۔(ت)
معراج الدرایہ پھر نہرالفائق پھر ردالمحتار میں ہے:
الصحیح انھا شبھۃ عقد لانہ روی عن محمد انہ قال سقوط الحد عنہ لشبھۃ حکمیۃ فیثبت النسب و ھکذا ذکر فی المنیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
صحیح یہ ہے کہ یہ شبہہ نکاح ہے کیونکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اس سے حد کا سقوط حکمی شبہہ کی بناء پر ہےلہذا نسب ثابت ہوگامنیہ میں یونہی ذکر کیا ہے۔
مسئلہ: از اندور رانی پورہ مسئولہ واحد ملا محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام وفضلائے عظام اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ہےہندہ نے ساتویں ماہ عقد کیا بکر کے ساتھاور ہندہ کو پانچ چھ ماہ کا حمل تھابروقت نکاح ہندہ نے حمل کو ظاہر نہ کیابعد عقد ایك ماہ کے ہندہ اور بکر میں جھگڑا ہوا کہ حمل کس کا ہےبکر کہتا ہے میرا حمل ہے اور ہندہ کہتی ہے تیرا نہیں ہےتو یہ نکاح جائز ہے یانہیںاور یہ حمل کس کا قائم ہوگابینوا توجروا
الجواب:
اگر موت شوہر اول سے دوسال کے بعد بچہ پیدا ہوتو شوہر دوم کا ہے اور نکاح صحیح ہے اور دو سال سے کم میں پیدا ہوتو لڑکا پہلے شوہر کا ہے اور اس دوسرے کا نکاح باطلکما یظہر مما لخصناہ علی ھامش ردالمحتار(جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ردالمحتار پر حاشیہ میں ہم نے اس کی تلخیص کی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازکریلی ضلع بریلی مسئولہ رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدت حمل کی زائد سے زائد کے برس ہےاور کم سے کم کتنے سال ہیںبینوا توجروا
الجواب:
کم سے کم چھ مہینے اور زیادہ سے زیادہ دوسال کامل بے کم و بیشمگر عورت جس کا شوہر زندہ ہواگرچہ کتنے ہی برسوں سے اس سے کتنا ہی دور ہواس کی اولاد شوہر ہی کی اولاد قرار پائے گیاس کے لئے دس بیس پچاس سال
حوالہ / References درمختار باب الوطء یوجب الحدوالذی لایوجبہ مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٩
ردالمحتار باب الوطی الذی یوجب الحد والذی لایوجب داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٥٤
#15023 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
کوئی مدت مقرر نہیںر سول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھرالحجر ۔واﷲ تعالی اعلم۔
بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی محروم ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ سیدعبدالجلیل صاحب شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقد ہندہ سے واقع ہوامگر بموجب رواج ہندوستان رسم رخصت عروس عمل میں نہ آئی اور زید وہندہ دونوں بالغ تھے اور ایك ہی مکان میں سکونت پذیر تھے اور اس مکان میں غیرمردوں کا بھی گزرتھا اہل کفومیں سے نامحرم لوگ آتے جاتے تھےیکایك ہندہ کو حمل رہ گیااس نے اس کو پوشیدہ رکھا یہاں تك کہ وضع حمل قریب آگیاجب لڑکا پیداہوا تو لوگوں کو نہایت تعجب آیاالغرض مولود تو اسی دم مرگیا اور ہندہ سے مستورات نے بطور خود دریافت کیا کہ یہ حمل کس کاہےہندہ نے اپنے اعزہ میں سے ایك شخص کا نام لیا اور اس قضیہ کو عرصہ قریب چار سال کے گزرگیاپس شوہر اس کا بسبب اس فعل شنیع کے اس سے ناراض ہےہندہ کو اپنے عقد میں رکھنا نہیں چاہتابظاہر زن وشو میں مقاربت و مواصلت واقع نہ ہوئیمگر پوشیدہ طور پر ممکن ہے کہ وہ حمل زید کا ہوچونکہ رسم رخصت عمل میں نہ آئی تھی شایدبوجہ لحاظ وشرم غیرکانام ظاہرکردیا ہو اور زید کا نام نہ لیا ہو۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید سے ہندہ کو طلاق دلوائی جائے تو عدت ہندہ کی کے ماہ کی ہوگیاور درباب مہر کے بھی ارشاد ہو کہ بذمہ زید کس قدر واجب ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگرچہ دنیوی خیالات کو بہت وسعت ہےاہل بدگمانی کے نزدیك ناراضی زید جدا خبر دے رہی ہے کہ اپنا ہوتا تو وہ خود جانتااور ہندہ کا دوسرے کی طرف نسبت کرنا جدا۔پھر اسے یوں بنانا کہ بوجہ عدم رخصت شرم دنیا کے سبب شوہر کا نام نہ لیابہت پوچ عذر ہےآخر قبل رخصت جماع حلال ہونا اہل دنیا کے نزدیك زنا سے زیادہ شرم کی بات نہیںیہ خیالات بدگمانیوں کو بہت تائید دیں گےمگر حاشا شرع مطہر انہیں اصلا مقبول نہیں فرماتی اور قطعا حکم دیتی ہے کہ لڑکا شوہر ہی کا تھا حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الولد للفراش وللعاھرالحجر (بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی محروم ہے۔ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب الولدللفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩
صحیح بخاری باب الولدللفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩٩،مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ٢/٤٠٩
#15024 · بابُ النسب (نسب کا بیان)
جب شریعت نے مرد مغربی و زن مشرقی کے مسئلہ میں باوجود بعد المشرقین باحتمال کرامت یا استخدام جن بچہ شوہر ہی کا ٹھہرایا تو زید وہندہ تو ایك ہی مکان میں رہتے تھے یہاں کیونکر ممکن کہ بے ثبوت قطعی شرعی فلاں کا معاذ اﷲ زانی یا باوجود فراش صحیح بچہ کو ولدالحرام قرار دیں۔رہا ہندہ کا فلاں کی نسبت کردیناممکن ہندہ کو اس سے کوئی عداوت ہوا ور شاید وہ رنجش اسی بنا پر پیدا ہوئی ہو کہ ہندہ نے اس سے بدنگاہی پائیمانع آئیکارگر نہ ہوادشمن ہوگئیاور بوجہ شدت غیظ اس خیال سے کہ اولیائے ہندہ یہ امر عظیم سن کر حتی المقدور ا س شخص کے درپے آزار ہوں گےاس تہمت کی مرتکب ہوئیاپنا بھی صریح ضرر سہیاہل مکر وحیلہ سے اس قسم کی بات کا صدور کچھ عجب نہیں جس میں ا ن کے دشمن کو ایذا پہنچے اگرچہ خودبھی_____ عــــہ ان كیدكن عظیم(۲۸) (بیشك تمہارا چرتر بہت بڑا ہے۔ت) اوراب ناراضی زید کی بھی صریح توجیہ موجود کہ بغلط و دروغ اپنے ساتھ اس امرناپاك کا وقوع بتانے پر ہندہ سے بیزارہوابہر حال حکم یہی ہے کہ وہ بچہ زید ہی کا تھااور جب شرع نے یہ مان لیا تو ہندہ کا مدخولہ ہونا خود ہی ثابت ہولیا طلاق تین حیض کامل کی عدت لازم و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء (طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تك روك رکھیں۔ ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
عــــہ: مسودہ میں بیاض ہے۔
#15025 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
باب الحضانۃ
(پرورش کا بیان)
مسئلہ: رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے رحلت کیدوپسر نابالغ زوجہ اولی سے جو زید کے روبرو فوت ہوچکی ہے اور تین دختر زوجہ ثانیہ سے جو حی و قائم ہے وارث چھوڑےاب دربارہ ان بچوں نابالغان کے ولایت کی فکر در پیش ہےنابالغان مذکورین کے اجداد میں دو شخص موجود ہیں ایك مسمی عمرو دادا کا چچازاد بھائیدوسرا بکر دادا کا ماموں زاد بھائی جس کو مسمی زید مورث کی حقیقی ہمشیرہ جوان پانچوں نابالغان کی حقیقی پھوپھی ہے منسوب ہےاور تین پھوپھی حقیقی بیاہی ہندہ و معصومہ و صدیقہ اور دختران مذکورین کی والدہ اور پسران مذکورین کی نانی وماموں موجود ہیں پس اس صورت میں ان پانچوں نابالغان کی ولایت کا استحقاق کس کس شخص کو مرتبہ حاصل ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دونوں کا حق حضانت ان کی نانی کو ہے کہ سات برس کی عمر تك اس کے پاس رہیں گے جوانی تك عمرو کے پاس کہ دادا کا چچا زاد بھائی ہے رکھے جائیں گے۔درمختار میں ہے:
الحاضنۃ امااو غیرھا احق بالغلام
پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اوروہ لڑکے کی
#15026 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
حتی یستغنی عن النساء وقدربسبع وبہ یفتی ۔
حقدار ہوگی جب تك لڑکا عورت کی پرورش سے مستغنی نہیں ہوجاتا اور یہ مدت اندازا سات سال ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا۔
ردالمحتار میں ہے:
اذااستغنی الغلام فالعصبۃ اولی یقدم الاقرب فا لاقرب ۔
جب بچہ مستغنی ہوجائے تو پھر درجہ بدرجہ عصبات اس کے حقدار ہیںقریب ترین کو تقدم حاصل ہوگا۔(ت)
اور لڑکیوں کی شادی ہوجائے وہ شوہروں کے قابل ہوں تو شوہروں کے پاس رہیں گی ورنہ نوبرس کی عمر تك ماں کے پاسپھر اگر ان کے محارم میں کوئی مرد عاقل بالغ مثل حقیقی ماموں وغیرہ کے ہوگا تو اس کے سپرد کی جائیں گی ورنہ جوانی تك ماں ہی رکھے گیدرمختارمیں ہے:
الام والجدۃ احق بالصغیرۃ حتی فی ظاھر الروایۃ وغیرھما احق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی وعن محمد ان الحکم فی الام والجدۃ کذلك وبہ یفتی لکثرۃ الفساد زیلعی وافاد انہ لاتسقط الحضانۃ بتزوجھا مادامت لاتصلح للرجال ملخصا۔
لڑکی کی حقدار اس کی ماں یا دادی ہے جب تك وہ بالغ نہ ہوجائےیہ ظاہر روایت ہےاور ماں اور دادی کے غیر ہوں تو پھر وہ لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تك حقدار ہوں گےیہ مدت اندازا نوسال ہےاور اسی پر فتوی دیا جائے گااور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ ماں اور دادی کےلئے بھی یہی حکم ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا فتنہ کی کثرت کی وجہ سےزیلعی___اور اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عورت کا حق حضانۃ(پرورش)نکاح کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا جب تك لڑکی مرد کے قابل نہیں ہوجاتی ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فان صلحت تسقط الخ ۔اقول: واخترنا ظاہرالروایۃ حین لامحرم لھا لانھا ھی المتعینۃ
جب بچی مرد کے قابل ہوجائے تو پرورش کرنے والی کا حق ساقط ہوجائے گا الخ(ت)اقول:(میں کہتا ہوں)ہم ظاہرروایت کو ہی ترجیح دیں گےجب بچی کا کوئی محرم ولی نہ ہواور یہ ظاہر
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤١
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤١
#15027 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
ح للفتیافان نشوھا فی حضن امھا خیر لھا والنظر من ترکھا ضائقۃ لاحاضن لھا وقد علمت ان لاحق لغیر محرم فی حضانتھا۔
روایت ہی فتوی کے لئے متعین ہے کیونکہ اس صورت میں بچی کا اپنی ماں کے پاس نشوو نما پانا بہتر ہے اورماں کو چھوڑنے میں بچی پر کمزور شفقت ہوگی جبکہ اس کا کوئی پرورش کرنے والا محض نہ ہو حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ غیر محرم کو بچی کاحق حضانت نہیں ہے۔(ت)
اور ان پانچوں نابالغوں کے نکاح کی ولایت عمروہی کوہے لان العصبۃ لاغیر(کیونکہ ان کے علاوہ کوئی عصبہ نہیں۔ت)اور ماں کی ولایت ان مذکورین میں سے کسی کو نہیں لاختصاصھا بالاب ووصیہ والجد ووصیہ والحاکم الشرعی(یہ ولایت باپ اور اس کے وصی یا دادا اور اس کے وصی اور شرعی حاکم کے ساتھ خاص ہے۔ت)ہاں اگر زید ان لوگوں خواہ ان کے غیر میں سے کسی کو اپنی جائداد کے حفظ و نگہداشت یا اولاد کے غور و پر داخت کے لئے کہہ گیا ہوتو ولایت مال اسے ہوگی لکونہ وصیاعلیھم(کیونکہ وہ ان پر وصی مقر رہوا۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ: ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عباد اﷲ ایك زوجہ اور ایك پسر نابالغ اور ایك چچازاد بھائی فیض اﷲ چھوڑ کر فوت ہواعورت نے ایك اجنبی شخص سے نکاح کرلیا جسے اس نابالغ سے کوئی علاقہ نہیںاس بچے کی نہ نانی ہے نہ دادی ہے نہ کوئی بہن ببلکہ سوتیلی خالہ اور سگی پھوپھی ہےاس صورت میں یہ بچہ جس کی چار برس کی عمر ہے کس کے پاس رہے گاا ور اس کے مال کی ولایت فیض اﷲ کو ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
جبکہ نابالغ کی ماں نے ایك اجنبی سے نکاح کرلیااب اسے نابالغ کے رکھنے کا اختیار نہ رہا ایك سات برس کی عمر تك سوتیلی خالہ کے پاس رہے گااگر وہ نہ مانے گی تو پھوپھی کے پاس رکھا جائے گا اور اگر وہ بھی انکار کرے گے تو جبرا خالہ کے پاس رہے گایہ سب اس صورت میں ہے کہ خالہ اور پھوپھی دونوں میں کوئی مانع حضانت نہ ہو ورنہ اگر ایك میں مانع حضانت ہو تودوسرے کے پاس رہے گاسات برس کے عمر بعد جوان ہونے تك فیض اﷲ کے پاس رہے گا
فی الدر المختار الحضانۃ للام الاان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیرمحرم الصغیر الخ۔
درمختار میں ہے بچے کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے مگر یہ کہ وہ فاجرہ ہو یا بچے کے غیر محرم سے نکاح کرلے(ت)
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15028 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
اسی میں ہے:
ثم بعد الام بان ماتت اولم تقبل او تزوجت باجنبی ام الام ثم ام الاب ثم الاخت لاب وام ثم لام ثم لاب ثم الخالات کذلك ثم العمات الخ۔
ماں فوت ہوجائے یا ماں قبول نہ کرے یا بچے کے اجنبی وسے نکاح کرلے توماں کے بعد نانی پھر دادی کو پھر حقیقی بہن کو پھر مادری بہن کو پھر پدری بہن کو پھر خالات کو اسی ترتیب سے پھر پھوپھیوں کو الخ۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
ظاہر کلامھم ان الام اذامتنعت وعرض علی من دونھا من الحاضنات فامتنعت اجبرت الام لامن دونھا
فقہاء کرام کا ظاہر کلام یہ ہے کہ جب ماں انکار کردے اور بچے کو دوسری پرورش کنندہ پر پیش کیا گیا ہوتو اس نے بھی انکار کردیا ہوتو ایسی صورت میں ماں کو پرورش پر مجبور کیا جائیگاماں کے سوا دوسری پرورش کنندہ کو مجبور نہیں جائے گا۔(ت)
خلاصہ وغیرہ میں ہے:
ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن وسواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب ۔
اگر بچے کا باپ نہ ہو اور پرورش کی مدت ختم ہوچکی ہوتو پھر دوسرے عصبات ولی ہوں گےان کو ولایت درجہ بدرجہ قرابت کے لحاظ سے ہوگی یعنی سب سے قریب تر کو پہلے حق ہوگا۔(ت)
اور ولایت مال میں فیض اﷲ کا اصلا حق نہیں بلکہ اسے ملے گی جسے نابالغ کا باپ کہہ کر مرا ہو کہ میری اولاد کی نگہداشت تو کرنا یا میرے ترکہ کی غور پر داخت تیرے متعلق ہے یا اس بچہ کو میں تیری سپردگی میں دیتا ہوںا سے وصی کہتے ہیںاگر باپ کا کوئی وصی موجود نہ ہوتو باپ کے وصی نے جسے اپنا وصی کیا ہو وہ ولی مال ہوگاوہ بھی نہ ہو تو دادا کا وصیوہ بھی نہ ہوتو دادا کے وصی کا وصی۔درمختار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ الخواﷲ سبحنہ
بچے کا ولی باپپھر اس کا وصیپر وصی کا وصیپھر اس کا جد صحیح(یعنی جو عورت کے واسطہ کے بغیر جد ہو)پھر اس کاوصی پھر اس کے وصی
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
بحرالرائق باب الحضانۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/١٦٦
ردالمحتار بحوالہ خلاصہ وغیرہا باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٣
درمختار کتاب المأذون مطبع مجتبائی دہلی ٢/٢٠٣
#15029 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
وتعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب۔
کاوصی الخواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔(ت)
مسئلہ: ربیع الآخر شریفھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے والدین اور ایك زوجہ اور ایك شیر خوار لڑکا چھوڑکر انتقال کیالڑکے کی نانی پہلے فوت ہوچکی ہےاس صوت میں اگر لڑکے کی ماں کسی اجنبی سے نکاح کرے تو لڑکا کس کے پاس رہے گابینواتوجروا
الجواب:
اگر ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کرلے جو لڑکے کا محرم نسبی مثل چچا وغیرہ کے نہ ہوتو لڑکا ماں سے لے لیا جائے گا اور جبکہ نانی نہیں ہے تو سات برس کی عمر تك دادی کے پاس رہے گا پھر دادا رکھے گا۔
فی الدرثم بعد الام بان ماتت اولم تقبلاو اسقطت حقھا او تزوجت باجنبی ام الام وان علت عند عدم اھلیۃ القربیثم ام الاب وان علت بالشرط المذکور الخ وفیہ والحاضنۃ اما او غیرھا احق بہ ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدربسبعوبہ یفتی اھ وفی ردالمحتار عن شرح المجمع و اذا استغنی الغلام عن الخدمۃ اجبر الاب اوالوصی او الولی علی اخذہ لانہ اقدر علی تادیبہ وتعلیمہ اھ وفی الخلاصۃ وغیرہا واذا استغنی الغلام فالعصبۃ اولی یقدم الاقرب فالاقرب اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ مان فوت ہوجائے یا بچے کو قبول نہ کرے یا اپناحق حضانت ساقط کردے یا بچے کے کسی اجنبی سے نکاح کرلے تو پھر ماں کے بعد نانی کو پرورش کا حق ہے اگرچہ اوپر تك جب کوئی قریبی عورت پرورش کا حق نہ رکھتی ہو پھر دادی کو اوپر تك بشرطیکہ اس سے کوئی قریبی عورت نہ ہو الخاسی میں ہے پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اورتو ان کو لڑکے کے متعلق یہ حق اس وقت تك ہے جب تك لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہ ہوجائےجس کی مدت کا اندازہ سات سال کی عمر ہےاور اسی پر فتوی دیا جائے گا اھاس پر ردالمحتار میں شرح المجمع سے منقول ہے کہ جب لڑکا عورتوں کی خدمت سے مستغنی ہوجائے تو باپ یا اس کے وصی یا ولی کو مجبور کی جائے گا کہ وہ لڑکے حاصل کرے کیونکہ اس کے بعد یہ لوگ عورتوں کی بنسبت لڑکے کی تعلیم و
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢/٢٦٥
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٠
#15030 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
تربیت زیادہ بہتر جانتے ہیں اھ خلاصہ وغیرہ میں ہے کہ جب لڑکا مستغنی ہوجائے تو اس کے عصبہ مرد قرابت کے لحاظ سے درجہ بدرجہ اس کے حقدار ہوں گے اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حق حضانت اور پرورش اطفال صغیر سن کابعد وفات ماں کے کس کو ہے اور ماموں چچامیں کس کو ترجیح ہے اور وہ حق کس عمر تك رہتا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ اطفال لڑکیاں ہیںان کے باپبھائیبھتیجابہنیںنانیماموںچچا حقیقی ہیںایك لڑکی نوبرس کی ہے ایك گیارہ کیپس صورت مستفسرہ میں نانی ماموں کو ان کے رکھنے کا کچھ اختیار نہیںلڑکیاں اپنے چچا کے پاس رہیں گی کہ جب نوبرس کی ہوجائے تو ماں بھی اسے نہیں رکھی سکتی چچاکو دلادی جائے گینانی وغیرہا تو دوسرا درجہ ہے۔درمختار میں ہے:
الام والجدۃ لام اولاب احق بالصغیرۃ حتی تحیض وغیرہما احق بہا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی وعن محمد ان الحکم فی الام والجدۃ کذلك وبہ یفتی اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
ماں نانی اور دادی لڑکی کی حقدار اس کو حیض آنے تك ہیں اور دوسری عورتین لڑکی مشتہاۃ ہونے کت حقدار ہیںاور مشہتاۃ کا اندازہ سال کی عمر لگایا گیا ہےاسی پر فتوی دیا جائے گااور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ ماں نانی اور دادی کا بھی یہی حکم ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از میران پور کٹرہ کما ل زئی شاہجہان پور مرسلہ نادر خاں صاحب رئیس کٹرہ ذیقعدہھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرو صغیرہ جن کی ماں انتقال کرگئی اور باپ نے دوسرا نکاح کرلیا ناناماموں ممانی اور خالہ زاد اور پھوپھی زاد نانیاں اور نانیوں کی بیٹی بیٹیاں ہیں بچے نانا کے پاس ہیں باپ ان سے بالجبر لینا چاہتا ہے حالانکہ بوجہ نکاح ثانی اس کے پاس بچوں کی مضرت جان کا اندیشہ ہےاس صورت میں حق پرورش اطفال کس کو ہے پوری تفصیل درج ہو کہ حق حضانت ترتیب وار کس کو ہے اور پرورش کنندہ کے پاس کس عمر تك رہیں گے بینواتوجروا
الجواب:
حق حضانت ذی رحم محرم کے لئے ہے یعنی وہ نسبی رشتہ جس میں نکاح ہمیشہ کو حرام ہوتا ہے تو نانی
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
#15031 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
کی خالہ زاد یا پھوپھی زاد بہنوں یا ان کی اولاد یا ممانی کےلئے کوئی حق حضانت نہیں جیسے خود صغیر صغیرہ کی خالہ زاد ماموں زاد پھوپھی زاد چچا زادبہنیں کہ یہ محارم سے خارج ہیں۔درمختار میں ہے:
لاحق لولد عم وعمۃ وخالۃ لعدم المحرمیۃ ۔
چچازادپھوپھی زاداور خالہ زادکو بچے کا حق پرورش نہیں ہے کیونکہ یہ محارم نہیں ہیں(ت)
پھر محارم میں پہلے مستحق عورتیں ہیں بشرطیکہ معاذاﷲ مرتدہ یا بدکار یا بے اطمینان یا کسی ایسے شخص کے نکاح میں نہ ہوں جس اس بچہ کا محرم نہیںبے اطمینانی کی یہ صورت کہ بچہ کوبے حفاظت چھوڑ کر باہر چلی جایا کرتی ہوایسی بے پرورائی ماں بھی کرے تو بچے اس سے بھی لے لئے جائیں گے درمختار میں ہے:
الحضانۃ للام الاان تکون مرتدۃ او فاجرۃ او غیرما مونۃ بان تخرج کل وقت و تترك الولد ضائعا او متزوجۃ بغیر محرم الصغیر الخ ملخصا۔
پرورش کا حق ماں کو ہے مگرجب ہو مرتدہ یا فاجرہ یاغیر محتاط ہو کہ ہر وقت بچے کو چھوڑ کر باہر چلی جاتی ہو یا اس نے بچے کے غیر محرم اجنبی سے نکاح کرلیا ہو الخ ملخصا(ت)
عورتوں سب سے مقدم ۱ماں ہےپھر ۲سگی نانیپھر اس کی ۳ماںپھر ۴سگی دادیپھراس کی ۵ماںپھر۶اس کی بہنپھر مادری ۷بہن(یعنی جو اس بچے سے ماں میں شریك اور باپ میں جدا ہو)پھر روایت متون میں ۸سوتیلی بہنپھر۹ سگی بھانجیپھر۱۰ مادری(یعنی مادری بہن کی)بیٹیپھر ۱۱سگی خالہپھر ۱۲مادری خالہپھر ۱۳سوتیلی خالہپھر ۱۴سگی بھانجیپھر۱۵سوتیلی بھانجی پھر۱۶سگی بھتیجی پھر۱۷ سوتیلیپھر۱۸ سگی پھوپھیپھر۱۹ مادریپھر ۲۰سوتیلیپھر ۲۱ماں کی سگی خالہ۲۲پھر مادریپھر ۲۳سوتیلی پھر ۲۴باپ کی سگی خالہپھر ۲۵مادری پھر ۲۶سوتیلیپھر ۲۷ماں کی سگی پھوپھی۲۸پھر مادری۲۹پھر سوتیلی۳۰پھر باپ کی سگی پھوپھی۳۱پھر مادری۳۲پھر سوتیلییہ بتیس عورتیں ہیں جب ان سے کوئی نہ ہو یابوجوہ مذکورہ مستحق نہ رہے تو حق حضانت عصبات ذکور کی طرف منتقل ہوگا جن میں سب سے مقدم باپ ہےپھر داداپھر سگا بھائیپھر سوتیلاپھر سگا بھتیجاپھر سوتیلا پھر سگا چچاپھر سوتیلا۔ان میں سے کسی کے ہوتے نانا ماموں وغیرہما ذوی الارحام کو استحقاق نہیں تو خود باپ کے سامنے کب مستحق ہوسکتے ہیںدرمختار میں ہے:ثم بعد الام۱ ام الام وان علتثم ۲ام الاب وان
ماں کے بعد ۱نانی اوپر تکپھر ۲دادی اوپر تکپھر
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15032 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
علتثم ۳الاخت لاب وامثم ۴لامثم ۵لابثم ۶بنت الاخت لابوین ثم ۷لامثم ۸لابثم ۹الخالات کذلك ای الابوینثم ۱۰لامثم ۱۱لابثم ۱۲بنت الاخت لاب ثم ۱۳بنات الاخ(لاب واماو ۱۴لام او ۱۵لاب علی الترتیب) ثم ۱۶العمات(لاب وامثم ۱۷لام ثم ۱۸لاب) ثم ۱۹خالۃ الام کذلکثم ۲۰خالۃ الاب کذلکثم ۲۱عمات الامھات و۲۲الاباء بھذا الترتیب ثم ۲۳العصبات بترتیب الارث فیقدم الابثم ۲۴الجد ثم ۲۵الاخ الشقیقثم ۲۶لاب ثم ۲۷بنوہ کذلکثم ۲۸العم۲۹ثم بنوہثم اذالم تکن عصبۃ فلذوی ۳۰الارحام اھ ملخصا منقحامزیدامن رد المحتار۔ ۳
حقیقی بہنپھر ماں کی طرف سے ۴سگی بہنپھر باپ کی طرف سے ۵سگی بہنپھر ۶حقیقی بہن کی بیٹیپھر ماں کی طرف سے ۷بہن کی بیٹیپھر باپ کی طرف سے ۸سگی بہن کی بیٹیپھر باپ کی طرف سے سگی بہن کی بیتیپھر اس ترتیب پر ۱۱۱۰۹خالاتپھر باپ کی طرف سے ۱۲بہن کی بیٹیپھر بھائی کی ۱۵۱۴۱۳بیٹیاں اس ترتیبپھر ۱۸۱۷۱۶پھوپھیاں اس ترتیب پرپھر ۱۹ماں کی خالہپھر ۲۰باپ کی خالہ اس ترتیب سےپھر ماؤں کی ۲۱پھوپھیاںپھر آباء کی ۲۲پھوپھیاں اسی ترتیب پر پھر عصبہ مرد حضرات وارث ہونے کی ترتیب پر یعنی پہلے ۲۳باپ ۲۴پھرداداپھر ۲۵حقیقی بھائیپھر باپ کی طرف سے ۲۶سگا بھائیپھر ۲۷بھائی کے بیٹے اس ترتیب پرپھر ۲۸چچاپھر ۲۹اس کے بیٹے اور پھر اگر عصبات نہ ہوں تو ۳۰ذوالارحام حقدار ہوں گے اھ ملخصامنتحا اس پر ردالمحتار سے بڑھاتے ہوئے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں ان بتیس ۳۲ عورتوں سے اگر کوئی عورت بھی قابل حضانت موجود ہے جس نے بوجہ موانع مذکورہ اپنے حق حضانت کو ساقط نہ کیا تو صغیر صغیرہ نانا سے لے کر اس عورت کے پاس رکھے جائیں گے لڑکا سات برس کی عمراور لڑکی نوبرس کے سن تك بعد ازاں باپ کو دے دئے جائیں گے اور اگر زنان مذکورہ سے کوئی عورت مستحق باقی نہیں تو آج ہی سے بچے باپ کے پاس رہیں گےنانا کہ اکتالیسویں درجہ میں ہے ان کا استحقاق نہیں رکھتا اور نکاح ثانی کے سبب باپ کے پاس مضرت جان اطفال کا اندیشہ گمان فاسد ہے
فان العلماء لایعدون التزوج من مسقطات حضانۃ العصبات کیف والرجال قوامون علی النساء بخلاف المرأۃ فانھن عوان بین یدیکم۔
علمائے عصبہ مردوں کے حق حضانت کو ان کے نکاح کرلینے کی وجہ سے ساقط نہیں کیا ان کا حق کیسے ساقط ہو جبکہ یہ مرد بیویوں پر غالب ہیں اسکے برخلاف عورت کا معاملہ ہے کیونکہ وہ خاوند کے کنٹرول میں ہے۔(ت)
اور بالفرض اگر یہ امر باطل بثبوت کافی ثابت بھی ہوجائے تو غایت یہ کہ باپ سے لے کر اور نیچے کے عصبات بترتیب مذکور کودیں گے جب تك ان سے کوئی باقی ہے نانا کو استحقاق نہیںماموں تونانا سے بھی
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٦٥۔٢٦٤
#15033 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
پانچویں درجہ میں ہے
کما یظھر من الدرالمختار وردالمحتارواﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار سے ظاہر ہورہاہے واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور لڑکا اور ایك لڑکی نابالغ اور ایك بیٹی بالغہ منکوحہ اور ایك بھائی چھوڑ کر انتقال کیا زوجہ نے کہ ان بچوں کی ماں ہے ایك اجنبی آدمی سے نکاح کرلیالڑکا چار برس کا ہے اورلڑکی آٹھ کیاس کی ماں اس کا نکاح ایك جگہ کیا چاہتی ہےچچا وہاں راضی نہیں بلکہ اپنے بھیتیجے سے نکاح کرنا چاہتا ہےاس صورت میں ان نابالغوں کے نکاح کا اختیار ماں کو یا چچاکو ہےاور ان کو رکھنے کا اختیار کسے ہےنابالغوں کی دادی کوئی نہیںخالہ اور دو۲ پھوپھیاں ہیںاور پھوپھیاں انہیں اپنے پاس رکھنے پر راضی نہیںاور نابالغوں کا کچھ مال نہیںتو ان کا کھلانا بلانا کس کے ذمہ ہےبینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نابالغوں کے نکاح کا اختیار ان کے چچا کے سوا کسی کو نہیںاسکے ہوتے ہوئے ماں کا نکاح میں کچھ دخل نہیںاور جبکہ وہ ایك اجنبی شخص سے نکاح کرچکی تو اسے بچوں کے رکھنے کا بھی اختیار نہیںبلکہ لڑکا سات برس کی عمر تك اور لڑکی جوانی تك اپنی بہن کے پاس رہیںاور وہ نہ رکھے تو خالہ کے پاساور وہ بھی قبول نہ کرے تو پھوپھیوں کے پاس
فی الدرالمختار الحضانۃ للام الا ان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیر محرم الصغیرثم بعد الام بان ماتت اولم تقبل اوتزوجت باجنبی ام الامثم ام الاب ثم الاخت ثم الخالات ثم العمات اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے:ماں اگر فاجر ہ یا بچے کے غیر محرم سے نکاح والی نہ توو ہی پرورش کا حق رکھتی ہےپھر ماں اگر فوت ہوجائے یا بچے کو قبول نہ کرے یابچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو اس کے بعد نانی پھر دادی پھر بہن پھرخالاتپھر پھوپھیوں کو حق حضانت ہے اھ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15034 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
الحاضنۃ لاتجبر اذا لم تتعین لھا لان المحضون ح لایضیع حقہ لوجود من یحضنہ غیرہا وتجبر اذا تعینت لعدم من یحضنہ غیرھا اھ ملتقطا وتمام تحقیقہ فیہ وھذاحاصل ما وفق بہ بین نقلین مختلفین۔
پرورش کرنے والی صرف ایك ہونے کی وجہ سے متعین نہ ہوتو اس کو پرورش پر مجبور نہ کیا جائے گا کیونکہ دوسری پرورش کرنے والی موجود ہونے کی وجہ سے بچے کی پرورش ضائع نہ ہوگی اور اگر وہ ایك ہی متعین ہوتو اس کو مجبور کی اجائے گا کیونکہ کوئی دوسرا نہیں ہے اھ ملتقطا اور اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار میں ہے یہ دو مختلف روایات میں تطبیق و توفیق کا ماحاصل ہے۔(ت)
اور جبکہ ان یتیم نابالغوں کا کچھ مال نہیں تو ان کا کھانا کپڑا ان کے ان قابلان وراثت پر ہے جن کے پاس اپنے ااور اپنے بال بچوں کے کھانے پہننے وغیرہ ضروری مصارف کے بعد پس انداز ہوتا ہو جس سے اپنے ان عزیزوں کی امداد کرسکیں یہاں ماں بہن چچا پھوپھی خالہ اگرچہ سب محارم ہیں مگر خالہ پھوپھی ان تین کے سامنے وارث نہیں لہذا ان میں اگر کوئی ویسا مرفہ الحال ہوتو خالہ پھوپھی پر نفقہ دینا واجب نہیں۔
فی الدر المختار ویجب ایضا لکل ذی محرم رحم محرم صغیر او انثی مطلقا ولو کانت الانثی بالغۃ صحیحۃ اوکان الذکر بالغا لکن عاجزا عن الکسب نحو زمانۃ کعمی وعتہ وفلج اولایحسن الکسب فقیرابحیث تحل لہ الصدقۃ ولولہ منزل وخادم علی الصواب بدائع اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ ہر ذی محرم(خواہ نابالغ ہو یا عورت ہو)کانفقہ واجب ہےاگرچہ عورت بالغہ اور صحتمند ہویا مرد بالغ ہو لیکن عاجز ہو محنت نہ کرسکتا ہو مثلا اپاہجنابینابے عقل یا فالج زدہ ہویا محنت کی مہارت نہ رکھنے والا محتاج ہو جس کو صدقہ حلال ہواگرچہ اس کا مکان اور خادم ہودرست قول کے مطابق یہی حکم ہےبدائعملخصا(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
لوکان لہ عم وعمۃ وخالۃ فالنفقۃ علی العم فان کان العم معسرا فالنفقۃ علیھما ۔
اگرچچاپھوپھی اور خالہ ہوتونفقہ چچے پر لازم ہوگااور اگر چچا تنگدست ہوتو پھر پھوپھی اور خالہ دونوں پرلازم ہوگا۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٦
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٦
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی النفقۃ ذوی الارحام نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٦٦
#15035 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
اب یہ دیکھنا رہا کہ ان تین وارثوں میں اس طرح کا مالدار کون ہے جس کا ہم نے بیان کیااور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عورت اگراپنا کچھ نہ رکھتی ہوتو وہ مرفہ الحال نہ گنی جائے گی اور اس سے نفقہ نہ لیا جائے گا اگرچہ اس کا شوہر ہزاروں کا آدمی ہو والا لزم ایجاب النفقۃ علی الاجنبی کمالایخفی(ورنہ اجنبی پر نفقہ واجب کرنا لازم آئے گا جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)پس اگر صورت مستفسرہ میں ان تینوں وارثوں سے صرف ایك ایسا مرفہ الحال ہی باقی ہے تو ان دونوں بچوں کا نفقہ صرف اس ایك پر واجب ہوگا خواہ ماں ہو یا بہن یا چچااور اگر صرف دو ماں اور بہن مالدار ہیں چچا نہیں تو جس قدر ان بچوں کے کھانے پہننے میں صرف ہونا سمجھا جائے اس کے پانچ حصے کریں دو حصے ماں سے لئے جائیں اور تین حصے بہن سےمثلا سوار وپے مہینے کا خرچ سمجھیں تو / ماں دے اور / بہناور اگر چچا مالدار ہیں بہن نہیں تو تین حصے کریں دو تہائی ماں سے لیں ایك تہائی چچا سےاور اگر بہنچچا مالدار ہیں ماں نہیں تو چار سہام کریں ایك چوتھائی چچا دے تین حصے بہناور اگر تینوں مالدار تو چھ سہام کریں دو حصے ماں دےتین حصے بہنایك حصہ چچا
وذلك لما عرفت ان النفقۃ بقدر الارث وقد قال فی الھندیۃ الاصل فی ھذا ان کل من کان یحرز جمیع المیراث وھو معسر یجعل کالمیت واذا جعل کالمیت کانت النفقۃ علی الباقیین علی قدر مواریثھم وکل من کان یحرز بعض المیراث لایجعل کالمیت فکانت النفقۃ علی قدر مواریث من کان یرث معہ الخ ومثلہ فی الدرالمختار وغیرہ وقد علمت انہ لیس ھھنا احد من الثلثۃ یحجب الباقیین ویحرز کل
یہ اس لئے کہ جس کو آپ نے جان لیا کہ نفقہ بقدر وراثت لازم ہوتا ہےاور ہندہ میں کہا ہے اس میں ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص تمام وراثت حاصل کرنے کا حق رکھتا ہو جب وہ تنگدست ہو تو اس کو مردہ(کالعدم)قرار دیا جاتا ہے اور جب وہ کالعدم قرار پائے گا تو پھر نفقہ باقی ورثاء پر بقدر وراثت واجب ہوگا اور وہ وارث یہ تمام وراثت کو حاصل نہیں کرتا بلکہ وراثت کا کچھ حصہ پاتا ہے تو اس کو تنگدستی پر مردہ (کالعدم) نہیں قرار دیا جاتا لہذا اس کی موجودگی میں اس کے ساتھ جو لوگ وراثت میں حصہ دار ہوتے ہوں ان پر حصہ کے مطابق نفقہ لازم ہوگا الخاور اسی طرح درمختار وغیرہ میں مذکور ہےاور آپ معلوم کرچکے ہیں کہ یہاں تینوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوسرے ورثاء کو محروم
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٦٦
#15036 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
المیراث فان کان احدھم معسرا لایجعل کالمیت و یعتبر فی التقسیم ثم یخرج من البین کما یفعل فی الخارج وح یتضح لك ماذکرنابتوفیق اﷲ سبحنہ وتعالیواﷲتعالی اعلم۔
کرکے تمام وراثت کو حاصل کرسکے تو ان میں سے اگر کوئی تنگدست ہوجائے تو اس کو مردہ(کالعدم)نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ اس کو تقسیم میں باقی اور شامل تصور کرکے درمیان سے الگ کردیا جائے گاجیسا کہ وراثت کی تقسیم میں کسی کو الگ کردیا جاتا ہےتو اب وہ بات واضح ہوگئی جو ہم نے ذکر کی ہے اﷲسبحنہ کی توفیق سےواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور مادر اس کیاور طفل شیر خوار اس نے چھوڑا اور شوہر بھی اس کا باقی رہا لیکن کوئی شخص ماں یا بہن یا پھوپھی وغیرہ شوہر ہندہ کا نہیں رہا ہے کہ پرورش اس طفل شیر خوار گی کی کرےنانی اس طفل مذکور کی پرورش کرتی ہے اور باپ اس طفل کا نہیں چاہتا ہے کہ نانی کے پاس وہ لڑکا رہےتو اس حالت میں وہ لڑکا باپ کو عندالشرع دلایا جائے گا یا نانی کے پاس رہے گا اور اسباب و ظروف وغیرہ کہ ہندہ متوفیہ کا جہیز ہندہ نے پایا تھا وہ بھی شوہر اس کے نے اپنے تصرف میں کرلیا تو وہ مال واسباب متصرفہ شوہر ہندہ ملك اس پسر صغیرہ کی ہوگا یا اس کے باپ کے قبضہ میں رہے گا اور مصارف نان ونفقہ ایام رضاعت کا کس کے ذمہ چاہئےبینواتوجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں سات برس کی عمر تك پسر کی پرورش ان کی نانی کا حق ہےباپ بلاوجہ شرعی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا فی الدرالمختار الحضانۃ تثبت للام ثم ام الام والحاضنۃ امااو غیرھا احق بہ ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع وبہ یفتی اھ ملتقطا۔
درمختار میں ہے:پرورش کا حق ماں کو پھر نانی کو ہےاور پرورش کرنے والی عورت لڑکے کی اس وقت تك حقدار ہے جب تك وہ عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا جس کی مدت اندازا سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15037 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
اور ہندہ نے جو کچھ اسباب اپنےجہیز میں پایاتھا سب اسی کی ملك تھا اور بعد اس کی مرگ کے فرائض اﷲ پر تقسیم پائے گا
فی العقود الدریۃ کل احد یعلم ان الجھاز ملك البنت لاحق لاحد فیھا ۔
عقود الدریہ میں ہے کہ ہر ایك جانتا ہے کہ جہیز لڑکی کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی اور کاحق نہیں ہوتا۔(ت)
البتہ جس قدر مال حصہ نابالغ قرار پائے گا اس پر قبضہ اس کے باپ ہی کا ہوگا مگر نہ مالکانہ از راہ ولایت کہ باپ کے ہوتے ہوئے دوسرا شخص بچہ کا ولی اور اس کے مال کا محافظ نہیں کما فی الدرالمختار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ درمختار اور عامہ کتب میں ہے۔ت)رہایہ بچے کا نان و نفقہ اور اجرت رضاعت وغیرہ مصارف کثیرہ ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر بچہ نے اپنی ماں کے ترکہ یا کسی اور وجہ سے اتنا مال پایا ہے جس کے سبب اسے شرعا غنی کہا جائے اورزکوۃ دیناناروا ہو تو یہ سب صرف خاص اسی کے مال سے ہوں گے باپ پر واجب نہیں کہ اپنے پاس سے صرف کرےہاں ان مصارف کی کار پر دازی بحکم ولایت باپ کے ذمہ ہوگیاور اگربچہ کے پاس اتنا مال نہیں تو بیشك یہ صرف باپ کے ذمہ ہیں
فی ردالمحتار عن الخیر الرملی ان الحضانۃ کالرضاع فلھا الاجرۃ من مال الصغیران کان لہ مال والافمن مال ابیہ ا ملخصاوفی الدرالمختار وتجب النفقۃ لطفہ الفقیر فان نفقۃ الغنی فی مالہ الحاضر وتجب ایضا لکل ذی رحم محرم فقیرابحیث تحل لہ الصدقۃ ولولہ منزل وخادم علی الصواب بدائع اھ بالالتقاط فی ردالمحتار قولہ ولولہ منزل وخادم وھو محتاج الیہما۔وھذاعام فی الوالدین والمولودین وذوی الارحام کما صرح
ردالمحتار میں خیرالدین رملی سے منقول ہے کہ پرورش کا حکم رضاعت والاہے لہذا پرورش کرنیوالی کو اجرت کا استحقاق ہےاگر بچے کا اپنا مال ہوتو اس میں سے ورنہ بچے کے والد کے مال میں سے اجرت دی جائے گی اھ ملخصا۔اور درمختار میں ہے کہ بچے کا نفقہ اگروہ فقیر ہوتو باپ پر ہے کیونکہ اگر وہ فقیر نہ ہوتو غنی ہونے کی وجہ سے نفقہ اس کے اپنے موجود مال سے کیا جائےگااور یونہی جو ذی محرم فقیر ہو اس کے لئے صدقہ حلال ہو تو اس کےلئے بھی نفقہ ضروری ہے اگرچہ اس کا مکان اور خادم بھی ہو یہ حکم درست قو ل کے مطابق ہے
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٧
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣ و ٢٧٦
#15038 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
بدائعاھ ملتقطا۔فی الذخیرۃ اھواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
اس پر ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول کہ"اگرچہ اس کا مکان اور خادم ہو"یعنی جبکہ اس کو ان کی احتیاجی ہو۔یہ حکم والدیناولاد اور ذوالارحام سب کو شامل ہے جیسا کہ ذخیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے اھواﷲ سبحانہوتعالی اعلم(ت)
مسئلہ: ربیع الاول شریفھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی زید نے ہندہ کو طلاق دی اور ایك پسر شیر خوار جو زید کو نطفے سے ہے واسطے پرورش کے ہندہ کے پاس چھوڑا اور اس کی پرورش کے واسطے ماہانہ مقرر کردیا اب وہ لڑکا بعمر تین برس کچھ ماہ کے ہواہندہ نے نکاح ایك شخص سے کرلیا اب وہ لڑکا زید کو مل سکتا ہے یانہیںاور اگر مل سکتا ہے تو کس عمرمیںاور ہندہ کو اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر شوہر کے یہاں چلی گئی وہ عورت ہندہ کی مادر حقیقی نہیں ہے تو زید کے مقابلہ میں ہندہ کے ماں باپ کو استحقاق پرورش پسر مذکور حاصل ہے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ ہندہ نے جس شخص سے نکاح کیا وہ لڑکے کا محرم نہیں بلکہ اجنبی شخص ہے اور ہندہ کی ماں اور نانی مرگئیںباپ اورسوتیلی ماںاور ہندہ کی سگی دادی خود کی سگی دادی زندہ ہیںپس صورت مذکورہ میں ہندہ کے باپ یا سوتیلی ماں کو لڑکے کے رکھنے کا کوئی حق نہیں بلکہ سات برس کی عمر تك اپنی دادی کے پاس رہے گا بعدہ باپ لے لے گا ماں کی دادی بھی لڑکے کی دادی کے ہوتے نہیں رکھ سکتی۔
فی الدرالمختار ثم بعد الام بان ماتت اوتزوجت بالجنبی ام الام ووان علت عند عدم اھلیۃ القربی ثم ام الاب وان علت بالشرط المذکورواما ام اب الام فتؤخر عن ام لاب بل عن الخالۃ ایضا بحر و الام احق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع وبہ یفتی اھ ملتقطاو
درمختار میں سے کہ ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی غیر محرم سے نکاح کرلے تو ماں کے بعد نانی خواہ اوپر والی ہو جبکہ کوئی قریبی عورت پرورش کا حق نہ رکھتیپھر دادی خواہ اوپر والی ہو مذکورلہ شرط کے ساتھلیکن ماں کی دادی تو وہ بچے کی دادی بلکہ اس کی خالہ سے بھی مؤخڑ ہےبحر۔ماں لڑکے کی حقدار ہے جب تك لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہ ہوجائے جس کا اندازہ سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوی دیاجائیگا
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٨٢
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15039 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
فی ردالمحتار عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الام ۔واﷲ تعالی اعلم۔اھ ملتقطا
اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ والد کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ بچے کوماں کی نگرانی سے مستغنی ہوجانے کے بعد اپنی تحویل میں لے لے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دی جس کو عرصہ پانچ سال کا ہوا اور اس کا ایك لڑکا تھا وہ بھی تقریبا پانچ سال کاہوااب ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا ہےاور اس لڑکے کی نانی سوتیلی ہے اور خالہ نابالغ ہے اور اس کی دادی اور پر دادی اوردادا اور باپ موجود ہیں اس حالت میں لڑکا مذکور کس کے پاس رہنا چاہئےبان کیجئے۔بینواتوجروا
الجواب:
سائل نے بیان کیا کہ عورت نے اجنبی شخص سے نکاح کیا جو اس لڑکے کا کوئی نہیں اور نانی سوتیلی ہےاور سگی نانی کی ماں بھی نہیں اور دادی حقیقی ہےپس اس صورت میں ماں کو اس لڑکے کے رکھنے کا کوئی حق نہ رہااور سوتیلی نانی کوئی چیز نہیںلڑکا سات برس کی عمر تك دادی یعنی اپنے باپ کی ماں کے پاس رہے گا پھر باپ لے لے گا۔درمختار میں ہے:
الحاضنۃ یسقط حقھا بنکاح غیر محرم الصغیر۔
پرورش کرنے والی کا حق ساقط ہوجاتا ہے جب وہ بچے کے غیرمحرم سے نکاح کرلے۔(ت)
اسی میں ہے:
ثم بعد الام ان ماتت اوتزوجت باجنبی ام الام وان علت ثم ام الاب اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم۔
ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو پھر نانی کو حق ہے خواہ اوپر والی ہوپھر دادی کو حق ہے اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ نے انتقال کیا اور ایك لڑکا بعمر چھ سات ماہ
حوالہ / References ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٠
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15040 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
کا شیرخوار چھوڑااور شوہر اور مسماۃ متوفیہ کی پھوپھی یعنی اس کے باپ کی حقیقی بہن اور مسماۃ بہن اور مسماۃ متوفیہ کا ماموں موجود ہیںان سب میں کس کو ولایت پرورش پہنچ سکتی ہے اور بحالت انکار اول حقدار کے دویم درجہ میں کس کو پہنچے گی
الجواب:
جبکہ اس لڑکے کی نہ نانی ہے نہ کوئی جوان بہن ہےنہ بھانجی نہ خالہنہ پھوپھی نہ ماں کی خالہنہ باپ کی خالہصرف ماں کی پھوپھی ہے اور وہ بیوہ ہے۔جیسا کہ سائلوں نے بیان کیا تو اس صورت میں لڑکا سات برس کی عمر تك ماں کی پھوپھی کے پاس رہے گا اس کے ہوتے ہوئے باپ کو بھی اختیار نہیں ماں کا ماموں تو بہت بعید ہے اور جبکہ لڑکے کے باپ کی پھوپھی بھی حسب بیان سائلان نہیںغرض ماں کی پھوپھی کے سوا کوئی عورت جسے حق حضانت ہو موجود نہیں تو ماں کی پھوپھی کو اس سے انکار کا اختیار نہیں البتہ اس پرورش کی اجرت لینی چاہے تو باپ کو دینی ہوگی۔تنویر الابصار میں ہے:
الحضانۃ تثبت للامثم ام الامثم ام الاب وان علتثم الاخت لاب وامثم لامثم لابثم بنت الاخت لابوینثم لامثم الخالاتثم العمات ثم خالۃ الامثم خالۃ الابثم عمات الامھات والاباءبھذا الترتیب ثم العصبات بترتیب الارث۔
پرورش کا حق ماں کو ہے پھر نانی پھر دادی کو اگرچہ اوپر والی ہوںپھر حقیقی بہن کو پھر ماں کی طرف سے سگی بہن کو پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کو پھر حقیقی بہن کی بیٹی کو پھر ماں کی طرف سے بہن کی بیٹی کو پھر خالات کو پھر پھوپھیوں کو پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ کو پھر ماں اور باپ کی پھوپھیوں کواسی ترتیب سے پھرعصبہ مردوں کو وراثت کی ترتیب پر۔(ت)
انہیں میں ہے:
ولاتقدر الحاضنۃ علی ابطال حق الصغیر وان لم یوجد غیرھا اجبرت بلاخلاف وتستحق اجرۃ الحضانۃ وھی غیراجرۃ ارضاعہ ونفقتہ بحر عن
پرورش کرنے والی حق صغیرکو باطل نہیں کرسکتیاگر ماں کے علاوہ کوئی پرورش کرنےوالی نہ ہو تو ماں کو بچے کی پرورش پر مجبور کیاجائے گااس میں اختلاف نہیںوہ البتہ پرورش کی اجرت کی مستحق ہوگی جو کہ دودھ پلانے کی اجرت اور نفقہ ولد کے علاوہ
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15041 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
السراجیۃ اھ ملخصینواﷲ تعالی اعلم۔
ہوگی بحر نے اسے سراجیہ سے نقل کیا ہے اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از ریاست رامپور محلہ چاہ شور مرسلہ مناخاں جمادی الاولی ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے وقت وفات اپنی ایك زوجہ منکوحہ اور ایك پسر نابالغ اور دو لڑکیاں نابالغہ ہیںوراثت مع الحصر چھوڑکر وفات پائیاور بعدوفات مذکور کے اس کی منکوحہ وارثہ نے بقضاء الہی وفات پائیاب ایك لڑکا نابالغ اور دو لڑکیا ں نابالغہ بطن مسماۃ متوفیہ سے باقی رہیمسماۃ متوفیہ مذکورہ کا دادھیال اور نانھیال میں سے کوئی ذکور اور اناث میں سے نہیں ہے اور زید مرحوم مذکور کے دو چچا زاد بھائی ہیں اور ایك عورت حسینی کہ متوفیہ مرحومہ کو بطور فرزندی پرورش کیا تھا دعویدار ہیں کہ ولایت ان ہرسہ نابالغ صغیرہ کی ہم کو پہنچی ہے پس ولایت صغیر ان مذکوربرادران زید متوفی جو چچا زاد بھائی زید کے ہیں اور وہ عورت جس نے منکوحہ کو فرزندانہ پرورش کیا تھا ان دونوں میں کس کو حسب شرع شریف حق ولایت نابالغان حاصل ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ پسر کی عمر گیارہ سال ہے اورایك دختر کی دس سال اور دوسرے کی تین سالپس صورت مستفسرہ میں لڑکا جوان ہونے تك زید کے چچا زاد بھائی کے پاس رہے گا اور لڑکے اورلڑکیوں کے نکاح کرنے کی ولایت بھی بھائیوں کو ہے مگر لڑکیاں ان میں سے کسی کو سپرد نہ کی جائیں گی قاضی شرع پر فرض ہے کہ ان کے رکھنے کےلئے کوئی عورت صالحہ متدینہ امینہ تجویز کرے کہ تاببلوغ یا جب تك شادی نہ ہو لڑکیاں اس کی حفاظت میں رہیں اور ان تینوں نابالغوں نابالغوں کا جو مال ہے اگر ان کے باپ یا دادا کا کوئی وصی موجود ہے یعنی جسے وہ اپنے مال یا اولاد کی حفاظت و نگہداشت کی وصیت کرگئے ہوں یا وہ نہ ہوتو ایسے وصی کا جو وصی ہواس کی حفاظت میں سپرد کیا جائے ورنہ اس کے لئے بھی قاضی شرع پر فرض ہے کہ امین صالح دیندار قادر نیك مسلمان تجویز کرے جو قرآن پر سچا ایمان رکھے یتیم کے مال کو آگ جانے اور ا ﷲ ان سب حسب لینے والا ہےرہی وہ عورت جس نے ان کی ماں کو پالا تھا ا س کا اصلا کوئی حق نہیںہاں لڑکیوں کی حفاظت کےلئے اگر قاضی شرع کی رائے میں وہ عورت ہی انسب ہوتو اسے دے دے مگر نکاح یا حفاظت مال میں اس کا کوئی اختیار نہ ہوگا۔منہاج و خلاصہ و تاتارخانیہ و حاشیہ الخیر الرملی وردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15042 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن سواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب غیران الاثنی لا تدفع الاالی محرم ۔
جب بچے کی پرورش کی مدت ختم ہوجائے اور باپ نہ ہو تو باپ کے بعد والے عصبہ مردوں میں سے جو قریب تر ہو اس کی تحویل میں دے دیا جا ئے گا لیکن اگر لڑکی ہو تو اسے غیر محرم کی تحویل میں نہ دیا جائے گا۔(ت)
تحفۃ الفقہاءوبحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
ان لم یکن للجاریۃ غیرابن العم فالاختیار للقاضی ان راہ اصلح الیہ والاتوضع علی یدامینۃ اھ(قال الشامی)مافی التحفۃ عﷲ فی شرحھا البدائع بقولہ لان الولایۃ فی ھذہ الحالۃ الیہ فیراعی الاصلح اھ وھو ظاہر فی انہ لاحق لابن العم فی الجاریۃ مطلقا الخ۔
اگر لڑکی کا چچا زاد کے بغیر کوئی عصبہ نہ ہوتو قاضی کو اختیار ہے کہ اگر وہ چچا زاد کو نیك وصالح سمجھتا ہے تو لڑکی اس کی تحویل میں دے دے ورنہ کسی امین صالح عورت کے سپرد کرے اھعلامہ شامی نے فرمایا کہ تحفہ میں جو بیان ہے اس کی وجہ اور علت کو اس کی شرح بدائع میں یوں بیان کیا ہےچونکہ ایسی صورت میں قاضی کو ولایت حاصل ہوتی ہے لہذا وہ بہتری کی تدبیر کرے اھیہ بات ظاہر ہے کیونکہ چچا زاد کو لڑکی پر حق مطلقا نہیں ہے الخ۔(ت)
تنویرالابصار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ(بعد موتہ)ثم وصی وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم القاضی اھ مزید ا من الدرالمختارواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
بچے کا ولی اس کا باپ پھر باپ کے فوت ہونے پر باپ کا وصی اور پھر وصی کاوصیپھر داداپھر اس کاوصیپھر اس کے وصی کا وصیاور پھر قاضی ہے اھدرمختارسے کچھ زیادتی شامل کرتے ہوئےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٢
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٩
درمختار شرح تنویر الابصار مطبع مجتبائی دہلی ٢/٢٠٣
#15043 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
مسئلہ:از پیلی بھیت پنجابی ٹولہ مرسلہ شیخ عبدالعزیز / شوال ھ

حاجی کفایت اﷲ نے انتقال کیا اورانہوں نے اپنی ایك مادر جو سن خزافت کو پہنچ گئی ہیں اور ہوش وحواس ان کے قائم نہیں ہیں اور دو بہنیں اور ایك زوجہ اور اسی زوجہ حیات سے دو لڑکے اور چار لڑکیاں اور دوسری زوجہ متوفیہ سے تین لڑکے اور دولڑکیاں چھوڑیںفریق اول یعنی زوجہ اولی کی اولاد سب بالغ ہے اور فریق ثانی زوجہ ثانیہ کی اولاد بعض بالغ اور بعض نابالغ ہیں۔فریق اول چونکہ بالغ اورغالب تھے اور فریق ثانی نابالغ اور مغلوبلہذا فریق اول کو ہمیشہ فریق ثانی کے ساتھ بوجہ سوتیلے پن کے قدرتی مخالفت ہےچنانچہ ان نابالغان کے سوتیلے بہن بھائی بہ اتفاق نجم النساء سوتیلی ماں کی والدہ نابالغان کے مخالف اور درپے تخریب وایذارسانی و دل آزاری رہی اور شرکت شادی وغمی اور ملنا جلنا تاحیات متوفیہ حمیدالنساء والدہ نابالغان قطعی ترك رہا مگر حین حیات حاجی کفایت اﷲ ان کی عداوت کا کوئی اثر پورے طور پر ظاہر نہیں ہو پایا لیکن بعد وفات حاجی کفایت اﷲ فریق اول کی عداوت فریق ثانی کے ساتھ بخوبی ظاہر ہوگئی چنانچہ اس کی وجوہات یہ ہیں:
()یہ کہ بعد وفات حاجی کفایت اﷲ ان میں سے نابالغوں کو جو سب سے چھوٹے اور ان کے اختیار میں تھے ایك خادمہ کے سپرد کرکے گڑھی مانکپور کو جو جائے سکونت سے ایك مسافت بعید پر واقع ہے باقی اعزاواقارب سے جدا کرکے روانہ کردیا چھ ماہ تك ان کو لاوارث حیثیت سے چھوڑ رکھا جس کی وجہ سے ان کو طرح طرح کی خورد ونوش وغیرہ کی تکلیف اور اذیتیں پہنچیں۔

yahan image hy
#15044 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
()یہ کہ جملہ آمدنی ان کے حصص واقعہ میں سے اپنے صرف میں لاچکے ہیں اور ان کے مصارف کی کوئی خبر گیری نہیں کرتے۔
()یہ کہ بہت سے اشیاء منقولہ زر نقد و زیورات و اشیاء خانگی جو نابالغان سے تعلق رکھتے ہیں ان لوگوں نے مخفی کرلیں اور ظاہر نہیں کیں اور دیون مورث کے وصول کرکے تصرف ذاتی اپنے میں لائے۔
()یہ کہ طریقہ زندگی سوتیلے بھائیوں ان نابالغان کا ناشائستہ اورغیر مہذب بدچلنی کے ساتھ ہے۔
سوال
حاجی محمد کفایت اﷲ متوفی نے انتقال کرکے اس شجرہ مذکورہ بالا کے مطابق ورثاء چھوڑے اب ان اولاد نابالغان زوجہ ثانی متوفیہفضل حقضیاء الحقریاض الحق واحمدی بیگم کا حق ولایت جان ومال ازروئے شرع شریف ان اولیاء میں سے بمقابلہ وجوہات بالا کے کس کو پہنچتا ہے:
اخ لاب۔ اخ لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت الاب وام۔جدہ صحیحہ۔ عمہ۔ عمہ۔
عبدالحق۔ احسان الحق۔ عجائب النساء۔ لطیف النساء۔ حبیب النساء۔ جمیل النساء۔ کریم النساء۔ اﷲ جلائی۔ نجم النساء۔صاحب النساء۔
الجواب:
حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر میں نو برس کی عمر تك رہتا ہے اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی جو عصوبت میں مقدم ہے یہاں بھی مقدم ہے بشرطیکہ فاسق بدچلن نہ ہو اس سے صغیر پر اندیشہ نہ ہو اور دختر کے لئے اس کا محرم ہونا بھی شرط۔اور سات یا نو برس کی عمر تك جو حق حضانت میں عورات ذوات فروض مثل مادر و خواہر پھر ذوات رحم مثل خالہ وعمہ عصبات پر مقدم ہیں ان میں شرط یہ ہے کہ صغیر کے نامحرم کے نکاح میں نہ ہوں ورنہ بچے ماں کو بھی سپرد نہ کئے جائیں گے جہاں شرائط حضانت کی جامعہ کوئی عورت نہ ہوگیحضانت عصبات پھر ذوی الارحام ذکور کی طرف انتقال کرے گی اور دختر کے لئے وہی محرمیت ضرور ہوگی پھر اگر کوئی ذی رحم ان بچوں کے حق میں قابل اعتماد نہ ہوتو ذی علم دیندار خداترس مسلمانان شہر کہ کوئی بدعت کفریہ مثل نیچریت ورفض وغیرہما نہ رکھتے ہوں نہ مکذبان باری عزوجل یامنکران ختم نبوت نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو مسلمان جانتے ہوں جمع ہوکر کسی ایسے ہی متدین لائق کو بچوں کی حفاظت کےلئے تجویز کریں اور لڑکیاں بالخصوص کسی ایسی ہی عورت عاقلہ امینہ قادرہ کو سپرد کی جائیں جو نامحرم کے نکاح میں نہ ہو نہ ایسوں کے یہاں رہتی ہو جن سے بچوں پر مضرت واذیت کا اندیشہ ہوا ور یہ شرط عدم نیچریت ورفض وغیرہ بدعات کفریہ کہ ہم نے ان رائے و ہندوں کے لئے ذکر کی مطلقا
#15045 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
ہر عورت و مرد میں ضرور ہے جسے حضانت یا حفاظت جان یا مال دی جائے بچوں کے مال کو ولایت باپ کے بعد باپ کے وصی کو ہے یعنی جسے وہ کہہ کر مرا ہو کہ میری اولاد کی غور پر داخت کرنا یا کہا ہو میری جائداد کی نگہداشت کرناوصی نہ ہو تو وصی کاوصیوہ بھی نہ ہو تو داداپھر دادا کاوصیپھر اس کے وصی کاوصیاور ان میں کوئی نہ ہوتو پھر وہی حکم ہے کہ ذی علم متدین مسلمان نہایت غائر نظر سے مشورہ کرکے کسی ایسے ہی مسلمان کو محافط مقرر کریں جو یتیم کے مال کو آگ جانتا ہواور جس شہر میں کوئی عالم دین معتمد سنی المذہب فقیہ متدین موجود ہوتو ان امور میں رائے اسی کی معتبر ہےاور جہاں ایسے چند عالم ہوں وہاں جو ان سب میں زیادہ علم والا ہواس پر نظر ہےجب کوئی مستحق حضانت وولایت مال نہ ہوتو وہ عالم شہر اپنی رائے سے بلحاظ امور مذکورہ بچوں کی سپردگی جان و مال کے لئے رجال ونساء باوصاف مذکورہ تجویز کرےشریعت کی ایسی باتوں میںجہاں قاضی اسلام نہ ہواس عالم شہر کی رائے رائے قاضی اسلام کی مثل ہےاور مسلمانوں پر اس کا اتباع لازم ہےگونمنٹ نے معاملات مثل نکاح و طلاق وحضانت وولایت ووراثت ووصایت میں مسلمانوں کو آزادی دی ہے وہ ہرگز مجبور نہیں کرتی کہ تم ان امور کو اپنی شرع کے مطابق باہم فیصلہ نہ کر لوبلکہ وہ خود ان امور میں شریعت و فتوی کی طرف رجوع کرتی ہےجہاں تك میرا خیال ہے یہ اموراسی قبیل سے ہیںاوراگر فی الواقع ایسانہیں بلکہ آزادی کسی حد تك محدود کی گئی ہے تو جہاں تك آزادی ہے اس پر کارروائی لازم ہے واﷲ الموفقدرمختار میں ہے:
الحاضنۃاحق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدربسبع وبہ یفتی واحق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی ۔
لڑکے پر پرورش کرنے والی کا حق اس وقت تك ہے جب تك وہ عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا جس کا اندازہ سات سال عمر ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا اور لڑکی پر اس کا حق لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تك ہے جس کا اندازہ نو سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوی دیاجائیگا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی حاشیۃ البحر للرملی فی المنہاج والخلاصۃ و التا تارخانیۃ ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن سواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب غیران الانثی لاتدفع الاالی محرم ۔
بحر پر رملی کے حاشیہ میں ہے کہ منہاجخلاصہ اورتاتارخانیہ میں مذکور ہے کہ اگربچے کا والد نہ ہو اور بچے کی مدت پرورش ختم ہوجائے تو قریب ترین مرد عصبہ کے سپرد کیا جائیگامگر بچی ہو تو وہ غیر محرم عصبہ کے سپرد نہ کی جائے گی۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٣
#15046 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
تنویر الابصار میں ہے:
الحضانۃ تثبت للام الاان تکون مرتدۃ او غیرما مونۃ او متزوجۃ بغیر محرم ثم ام الام ثم ام الاب ثم الاخت لاب وام ثم لام ثم لاب ثم الخالات ثم العمات کذلک ۔
پرورش کا حق والدہ کو ہوگابشرطیکہ وہ مرتدہغیر محتاط اور بچے کے غیر محرم کی منکوحہ نہ ہووالدہ کے بعد نانیپھر دادیپھر حقیقی بہنپھر ماں کی طرف سے سگی بہنپھر والد کی طرف سے سگی بہنپھر خالات اور پھر پھوپھیاں اسی ترتیب سے۔(ت)
درمختار میں ہے:
ثم العصبات بترتیب الارث سوی فاسق و معتوہ ثم اذالم یکن عصبۃ فلذوی الارحام (ملخصا)
پھر عصبہ مرد حضرات وراثت کی ترتیب پر ماسوائے فاسق اور پاگل کےاگر عصبات نہ ہوں تو ذوی الارحام حقدار ہوں گے(ملخصا)۔(ت)
برہان وعینی وبحر وردالمحتار میں ہے:
فی البدائع لوکانت الاخوۃ والاعمام غیرمأمومنین علی نفسھا اومالہا لاتسلم الیہم وینظر القاضی امرأۃ ثقۃ عدلۃ امینۃ فتسلمھا الیھا الی أن تبلغ ۔
بدائع میں مذکور ہے اگر بھائی اور چچےلڑکی اور اس کے مال کی حفاظت میں غیر محتاط ہوں تو لڑکی ان کے سپرد نہ کیا جائے گی اور قاضی لڑکی کے بالغ ہونے تك کسی قابل اعتماد عادہ دیانتدار عورت کے سپرد کردے گا۔(ت)
درمختار میں ہے:
الحاضنۃ یسقط حقھا بنکاح غیرمحرمہ ای الصغیر وکذابسکنھا عندالمبغضین لہ ۔
پرورش کرنے والی بچے کے غیر محرم کی منکوحہ ہونے یا بچے کے مخالفین کے ہاں رہائش پذیر ہونے کی بناء پر پرورش صغیر کی حقدار نہ رہے گی۔(ت)اسی میں ہے:
حوالہ / References درمختار تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
درمختار تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٨
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
#15047 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم القاضی ۔
بچے کے مال کے متعلق والی والد ہوگا پھر والد کا وصی پھر وصی کا وصی پھر حقیقی جد صحیح(جو کسی عورت کے واسطہ کے بغیر ہو) پھر دادے کا وصی پھر اس کے وصی کا وصی اور پھر قاضی ہوگا۔ (ت)
حدیقہ ندیہ میں ہے:
فی العتابی اذااخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور کلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم ۔
عتابی میں مذکور ہے کہ جس وقت بااختیار حاکم شرعی نہ پایاجائے تو پھر معاملات علماء کے سپرد قرار پائینگے تو امت پرلازم ہے کہ وہ علماء کی طرف اپنے معاملات میں رجوع کرےپھر جب سب کا ایك عالم کی طرف رجوع کرنا مشکل ہوتو پھر ہر علاقہ والے اپنے اپنے علاقہ کے علماء کی طرف راجع ہوںاور اگر علاقہ میں علماء کی کثرت ہوتو پھر سب سے بڑے عالم کی اتباع کریں۔(ت)
جب یہ مسائل معلوم ہولئے اب صورت مستفسرہ کی طرف چلئےفضل حق و ضیاء الحق تو حد حضانت سے نکل چکے ہیں کہ ان کی عمریں سات سال سے زائد ہیںانہیں چاہئے تھا کہ عصبات کے سپرد ہوںعصبہ یہاں سوتیلے بھائی ہیں جنہیں سائل بدچلن بتاتا ہے اور نابالغوں کا بدخواہ و دشمن بھیاورفی الواقع سوتیلوں میں خصوصاجہاں جائداد کا قدم درمیان ہو بدخواہی نہ ہونا ہی تعجب ہےتو لازم ہے کہ ان دونوں بچوں کےلئے کوئی اور عصبہ دیندار معتمد بشرائط مذکورہ تلاش کیاجائےسائل نے زبانی احمدی بیگم کو ریاض الحق سے بھی چھوٹی بتایا تو یہ دونوں ابھی حضانت طلب ہیںاﷲجلائی کو سائل مختل الحواس بتاتا ہے اور کریم النساءحقیقی بہن بچوں کے نامحرم کے نکاح میں ہے یونہی سوتیلی بہنیں بھیاور ان کا نا معتمد ہونا علاوہبچوں کی کوئی خالہ بیان میں نہ آئیپھوپھیوں کی نسبت بھی مسموع ہوا کہ نامحرموں کے نکاح میں ہیںاس تقدیر ان کی حضانت بھی بھائیوں کی طرف آتی ہے مگر ان میں وہی موانع ہیں تو اس کےلئے بھی کوئی عصبہ اوروہ نہ ہوتو ذوم رحم تلاش کرنا چاہئے اور احمدی بیگم کے واسطے اس کا محرم بھی درکاریہ حفاظت جان تھیرہی سپردگی مال اس کے لئے لازم کہ باپ کا وصی یا
حوالہ / References درمختار کتاب المأذون مطبع مجتبائی دہلی ٢/٢٠٣
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ١/٣٥١
#15048 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
وصی وصی یا دادا یعنی پدر پدر کا وصی وصی کی تحقیق کریںمثلا حاجی کفایت اﷲ نے اگر کریم النساء یا اپنی بہن نجم النساء یا صاحب النساء یا جس کسی شخص کوان بچوں یا اپنی جائداد کی نگہداشت کی وصیت کی ہو نا بالغوں کے مال اسی کو سپرد کئے جائیں گےیہ تین مقام تلاش و تحقیق کے ہیںان میں سے جس میں بعد تلاش بھی کوئی شخص ان شرائط کا نہ ملے تو عالم شہر کی رائے لی جائے گی۔یہ مسئلہ پیلی بھیت کا ہے اور وہاں ان صفات مذکورہ کا کوئی عالم نہیں سوا مولنا وصی احمد صاحب محدث سورتی دامت فیوضھم کےتو ان کی طرف رجوع لازم اور ان پر واجب کے بعد غور تمام وتحیقات تام جملہ مسائل مذکورہ ومصالح نابالغین و مالہم و ماعلیہم پر نظرع غائر فرماکر جزم واحتیاط کامل سے کام لیں اور ذی رائے دیندار اہلسنت عمائد شہر کو رائے و شوری میں شریك کریںوباﷲ العصمۃ والتوفیق(اور اﷲ تعالی کی امداد سے ہی عصمت اور توفیق ہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ:ایك عورت کا خاوند فوت ہوگیابعد انتقال دوماہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا اور بعد چندے زمانہ عدت گزرنے پر عورت نے نکاح ثانی کرلیاپرورش اس بچے کی اب تك کہ قریب تین سال کےہوئے وہ عورت کرتی ہے اس بچہ کے دادا نے اس درمیان میں یہ چاہا تھا کہ اس بچہ کی پرورش میں کروں لیکن اس عورت نے نہیں دیا اور کہا کہ بعد ہوشیار ہوجانے کے لے لینااب صورت مسئولہ یہ ہے کہ اس بچہ کی پرورش اس کی والدہ کب تك کرنے کی مستحق ہےاگر دادا بچہ کا اس بچہ کو اپنے پاس رکھنے کو لے تو اس کی ماں کو بطریقہ شرعی کچھ خوراك یا نفقہ معین کرنا یا معاوضہ میں دینا چاہئے یانہیںاور اس زیور میں اس لڑکے کا کچھ حق ہے یانہیں جو اس کی ماں کے پاس ہےاگر ہے تو کس قدر ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
عورت نے اگر پسر کے محرم مثلا حقیقی چچا سے نکاح کیا ہے تو لڑکا سات برس کی عمر تك ماں ہی کے پاس رہے گا اور اس مدت تك عورت اسی کے پالنے پر ماہانہ پائے گی جس کا وجوب لڑکے کے مال میں ہوگا اور لڑکے کا مال نہ رہے تو اس کے دادا پر ہوگا۔
فی الدرالمختار تستحق الحاضنۃ اجرۃ الحضانۃ وھی غیراجرۃ ارضاعہ ونفقتہ کما فی البحر عن السراجیۃ وفی کتب الشافعیۃ مؤنۃ الحضانۃ
درمختار میں ہے کہ پرورش کرنے والی اجرت کی مستحق ہوگی جو بچے کو دودھ پلانے کی اجرت اور نفقہ ولد کے علاوہ ہوگی جیسا کہ بحر نے سراجیہ سے نقل کیا ہے اور شافعی حضرات کی کتب میں ہے کہ پرورش کا خرچہ
#15049 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
فی مال المحضون لولہ مال والافعلی من تلزمہ نفقتہ قال شیخنا وقواعدنا تقتضیہ فیفتی بہ اھ مختصرا وفی ردالمحتار عن الشامی عن البرجندی تجبرالام علی الحضانۃ اذالم یکن لھا زوج والنفقۃ علی الابوقال الفقیہ ابوجعفر تجبر وینفق علیھا من مال الصغیرۃ وبہ اخذ الفقیہ ابواللیث اھ مختصرا۔
پرورش پانے والے بچے کے مال سے ادا ہوگا اگر بچے کا اپنا مال ہواگر بچے کا اپنا مال نہ ہوتو پھر یہ اسی شخص پر ہوگا جس پر بچے کا نفقہ واجبہمارے شیخ نے فرمایا ہمارے قواعد بھی یہی تقاضا کرتے ہیں لہذا اس پر فتوی دیاجائے گا اھ مختصرا۔ رد المحتار میں شامی نے برجندی سے نقل کیا ہے کہ جب خاوند نہ ہو تو ماں کو پرورش پر مجبور کیا جائے گا اور پرورش کا خرچہ بچے کے والد پرہوگااور ابوجعفر فقیہ نے فرمایاکہ بچے کی پرورش کے لئے ماں کو مجبور کیا جائے گا اور خرچہ خود بچے کے مال سے ادا کیا جائے گااسی کو فقیہ ابواللیث سمر قندی نے لیا ہے اھ مختصرا(ت)
ہاں اگر لڑکے کی کوئی قریب رشتہ دار عورت لائق حضانۃ مثلا خالہ یا پھوپھی بلا اجرت حضانت پر راضی ہو تو اس صورت میں کہ لڑکا مال رکھتا ہے اور اس کا مال بچانے کو لڑکے کی ماں سے کہا جائے گا یا تو تو مفت اپنے پاس رکھ یا اس دوسرے کو دے دے کہ مفت پرورش کرے
فی ردالمحتار ان کان المتبرع غیراجنبیوالصغیرلہ مال یقال للام اما ان تمسکیہ مجانا او تدفعیہ للعمۃ مثلا المتبرعۃ صونا لما لہ لولہ مال (ملخصا)
ردالمحتار میں ہے:اگر مفت میں پرورش کرنے والی غیر اجنبی عورت(محرم)ہو اور بچے کا اپنا مال ہوتو ماں کو کہا جائے گا کہ توبچے کی مفت میں پرورش کر یا پھر مفت پرورش کرنے والی محرمہ مثلا پھوپھی کو سونپ دےیہ اس لئے کہ بچے کا مال محفوظ رہے(ملخصا)۔(ت)
اور جس سے عورت نے نکاح کیا لڑکے کا محرم نہیں تو عورت کا حق حضانت ساقط ہوگیا لڑکا اس سے فورا لے لیا جائے اور نانی وہ نہ ہوتو دادی پھر بہن پھر خالہ پھر پھوپھی جوان میں قابل حضانت ہو کہ لڑکے کے اجنبی کے نکاح میں نہ ہو اسی کے سات سال کی عمر تك رکھا جائے اور عورتوں میں کوئی ایسی نہ تو دادا
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٦
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٨
#15050 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
لے لےجو زیور اس کے باپ نے اس کی ماں کو ہبہ کردیا ہو اس میں لڑکے کا حق نہیں ورنہ بعد فرض اصحاب فرائض باقی لڑکے کا ہے مثلا اس کے باپ کا سوازوجہ و پدر وپسر کے کوئی وارث نہ ہوتو بعد دین ووصیت حصے ہوکر حصے زوجہ اور والد پسر کو ملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: شعبانھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور ایك لڑکا ایك لڑکی نابالغ اور ایك بیٹی بالغہ منکوحہ بیوہ اور ایك بھائی چھوڑکر انتقال کیازوجہ نے کہ اس بچے کی ماں ہے ایك اجنبی سے نکاح کرلیا جو ان بچوں کا رشتہ دار نہیںلڑکا چار برس کا ہے اور لڑکی آٹھ برس کیاس کی ماں ایك جگہ اس کا نکاح کیا چاہتی ہےچچا وہاں راضی نہیں اپنے بھتیجے یعنی دوسرے بھائی کے پسر سے نکاح کرنا چاہتا ہےاس صورت میں ان نابالغوں کے اختیار ماں کو ہے یا چچا کو اور ان کے رکھنے کا اختیار کسے ہے نابالغوں کی نانی دادی کوئی نہیںخالہ اور دوپھوپھیاں انہیں اپنے پاس رکھنے پر راضی نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ان نابالغوں کے نکاح کا اختیار چچا کے سوا کسی کو نہیںاس کے ہوتے ہوئے ماں نکاح میں کچھ دخل نہیں رکھتی۔
فی تنویر الابصار لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
تنویرالابصار میں ہے:اگر کوئی عصبہ ولی نہ ہوتو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی۔(ت)
اور جبکہ وہ اپنا نکاح ایك اجنبی شخص سے کرچکی تو اسے ان بچوں کے رکھنے کا بھی اختیارنہیں
فی الدرالمختار الحضانۃ للام الاان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیر محرم الصغیر اھ مختصرا۔
درمختار میں ہے:پرورش کا حق ماں کو ہے مگر جب وہ فاجرہ ہو یا بچے کے غیرمحرم کی منکوحہ ہو تو پھر نہیں اھ مختصرا(ت)
بلکہ لڑکا برس اور لڑکی نوبرس کی عمر تك اپنی بیوہ بہن کے پاس رہیںاور و ہ نہ رکھے تو خالہ کے پاسوہ بھی قبول نہ کرے تو پھوپھیوں کے پاس
فی الدرالمختار ثم بعد الام بان ماتت
درمختار میں ہے:ماں فوت ہوجائے یا بچے کو قبول
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩٣
درمختار شرح تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
#15051 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
اولم تقبل اوتزوجت باجنبی ام الامثم ام الاب ثم الاختثم الخالاتثم العمات اھ مختصرا وفی ردالمحتار الحاضنۃ لاتجبراذالم تتعین لھالان المحضون ح لایضیع حقہ لوجودمن یحضنہ غیرھا و تجبر اذا تعنیت لعدم من یحضنہ غیرھا اھ ملتقطا وتمام تحقیقہ فیہ وھذا حاصل ماوفق بہ بین نقلین مختلفینوفی الدرالمختار الحاضنۃ اما او غیرھا احق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدد بسبع وبہ یفتی و بالصغیرۃ حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی اھ بالالتقاطواﷲ تعالی اعلم۔
نہ کرے یا بچے کے غیرمحرم کی منکوحہ ہوتو پھر ماں کے بعدد نانیپھر دادیپھر بہنپھر خالاتپھر پھوپھیاں ترتیب وار حقدار ہیں اھ مختصرااور ردالمحتار میں ہے کہ پرورش کرنے والی اگر واحد اکیلی نہ ہوتو اس کو مجبور نہ کیا جائے کیونکہ پرورش کرنے والی اگر واحد اکیلی نہ ہوتو اس کو مجبور نہ کیاجائے کیونکہ پرورش پانے والے بچے کا حق ضائع نہ ہوگا اس لئے کہ دوسری پرورش کرنے والی موجود ہےہاں اگر پرورش کرنے والی واحد اکیلی ہونے کی وجہ سے وہی متعین ہے تو اس کو مجبور کیا جائے گاکیونکہ دوسری نہ ہونے کی وجہ سے بچے کا حق ضائع ہوگا اھ ملتقطااس بحث ك مکمل تحقیق اسی میں ہےیہ دو مختلف نقول میں توفیق کا حاصل ہےدرمختار میں ہے کہ پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور وہ لڑکے کی حقدار ہیں جب تك لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتاجس کا اندازہ سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوی دیا جائےگااور پرورش کرنے والی لڑکی کی حقدار ہیں جب تك لڑکی مشتہاۃ نہ ہوجائے جس کا اندازہ نو سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوی دیاجائے گا اھ ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: جمادی الآخرہھ
زن وشوہر میں نااتفاقی ہے ان کی لڑکی کی عمر قریب چھ برس کے ہے شوہر نے جبر کرکے اس کو ماں کے پاس سے علیحدہ کرلیا ہے اور اس کو ماں کے پاس نہیں آنے دیتا ہےپس اس صورت میں حکم شرع شریف استفسار ہے کہ لڑکی کس کے پاس رہے اور حق ماں کو لڑکی کے رکھنے کا کے برس کی عمر تك ہے اور باپ لڑکی کا بحالت موجود ہونے لڑکی کی ماں کے مستطیع ہے اور اس کی تعلیم اچھی طرح کرسکتی ہے"لڑکی کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٤
ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٣٦
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
#15052 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
یانہیں اور باپ لڑکی کا غیر مستطیع ہے فقط بینواتوجروا
الجواب:
لڑکی نوبرس کی عمر تك ماں کے پاس رہے گی بعدہ باپ کو دے دی جائے گیاس سے پہلے جب تك ماں میں کوئی اور مسقط حضانت نہ ثابت ہوکسی کو بلاوجہ شرعی اس سے لینے کااختیارنہیں
فی الدرالمختار الام والجدۃ احق بھا حتی تشتھی وبہ یفتی ۔
درمختار میں ہے کہ ماں اور دادی لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تك حقدار ہیںاور اسی پر فتوی دیا جائے گا۔(ت)
اسی میں ہے:
وقدر بتسع وبہ یفتی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مشتہاۃ اندازا نو سال کی عمر ہےاور اسی پرفتوی دیا جائیگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از رنگون سورتی بازار دکان مرسلہ شیخ عبدالستار بن اسمعیل صاحب ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمر کی دو لڑکیاں زبیدہ اور ہندہ تھیںزبیدہ کا نکاح خالد سے ہوا اور ہندہ کا نکاح بکر کے لڑکے دلید سے۔ولید سے ہندہ کو ایك لڑکا زید تولد ہوابعد کو ولید انتقال کرگیاکچھ عرصہ بعد زبیدہ جو کہ خالد کے نکاح میں تھی گزرگئیاس کے بھی چند اولاد ہیںبعد ایك عرصہ کے عمرو نے سنت رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم سمجھ کر بیوہ ہندہ کا نکاح اپنی مرحولم لڑکی زبیدہ کے خاوند سے کردیایہ بات ہندہ کے اگلے شوہر ولید کے باپ بکر کو ناگوار گزری اور ولید کے لڑکے زید کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس لڑکے کو اس کی والدہ سے اور والدہ کے رشتہ داروں سے ملنے جلنے نہ پائے اس کا سخت بدوبست کیا اس طرف اب زید کی والدہ جو نکاح ثانی کرچکی ہے لڑکے فراق میں سخت بے چین ہے روز و شب لڑکے کو یاد کرتی ہے اس بچے سے کسی طرح بھی ملنا چاہتی ہے حتی کہ ہندہ کی صحت بھی بگڑھ چکی ہے اس سبب سے ہندہ کے والد عمرو بھی بے چین ہیں اوربہت ذریعے سے بکر سے عرض کرچکے ہیں حتی کہ ایك جلسے جماعت مسلمین میں بھی یہ طے پایا کہ بکر کو جماعت کی طرف سے عرض کیا جائے کہ زید کو اس کی والدہ ہندہ کے پاس وقتا فوقتا کچھ دیر ملاقات کے لئے بھیجا کرےمگر پھر بھی نتیجہ کچھ حاصل نہ ہوااب سوال یہ ہے کہ فعل بکر کا جائز ہے یانہیں کس طرح کے حقوق اس وقت ایك دوسرے پر ہیںکیا بکر پر فرض نہیں کہ زید کو اس کی والدہ کے پاس صرف ملاقات کے لئے بھیجا کرےکیا ایسے
حوالہ / References درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٥
#15053 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
افعال اور جبر سے نکاح ثانی جو کہ نہایت ضروری سنت شریف ہے کہ کرنے میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں گی خصوصا ایسی حالت میں جبکہ ہند میں اکثریہ مذموم رسم جاری ہے کہ نکاح ثانی نہیں کرتےکیا والدہ بیچاری جس کی محبت بچے کے ساتھ اظہر من الشمس ہے خصوصا بچہ جبکہ ساتآٹھنوسال ہی کا ہو اتنا بھی حق نہیں رکھتی کہ ایك آدھ مرتبہ بچے کی صورت دیکھ لے۔
الجواب:
اگر ماں دوسرا نکاح نہ بھی کرے تو لڑکا سات برس کی عمر کے بعد اس کے پاس نہ رکھا جائے گا دادا سے لے لے گا اور اگر سات برس سے کم عمر ہواور ماں دوسرا نکاح نہ کرے یا کرے تو لڑکے کے محرم یعنی چچا سےتو لڑکا سات سال کی عمر ہیونے تك ماں کے پس رہے گا دادا نہیں لے سکتالیکن جب لڑکے کے نامحرم مثلا خالو سے نکاح کر لے جیسے یہاں ہوا تو اس نکاح کرنے کو جو برا کہے گا سخت گنہگار ہوگا لیکن شوہر دوم نامحرم پسر ہونے کے سبب لڑکا ماں سے لے لیاجائے گایہ سب مسائل درمختار وغیرہ عامہ کتب میں مصرح ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ ماں سے بالکل تڑا لیا جائے اس سے ملنے تك نہ دیںیہ حرام اور سخت حرام ہے۔سنن ابن ماجہ میں ابو موسی اشعری رضی اﷲ عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعنہ اﷲ من فرق بین الوالدۃ ولدھا ۔
اﷲ کی لعنت ہے اس پر جو ماں اور اس کے بچے میں جدائی ڈالے۔
بکر پرلازم ہے کہ اس حرکت سے توبہ کرے اور بچے کو اس کی ماں سے ملنے دے اور بلاوجہ ایذائے مسلمان کا شدید وبال اپنے سر نہ لے۔صحیح حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من اذی مسلما اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔واﷲ تعالی اعلم۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی۔(اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب النہی عن التفریق بین الصبی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٦٣
المعجم الاوسط حدیث٣٦٣٢ مکتبۃ المعارف الریاض ٤/٣٧٣
#15054 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
مسئلہ: از حسن پور ضلع سارن مسئولہ شاہ حمیدہ احمد رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے باپبی بی اور دس سالہ لڑکی نابالغہ چھوڑکرانتقال کیازید کی بی بی نے بعد ایام عدت زید کے ایك ایسے بھائی سے عقد ثانی کرلیا جو بعد وفات پدر زید کے اس کے ترکہ وہی وارث جائز ہے اور مکان بھی اس کا بالکل زید کے مکان سے متصل ہے اور زید کے ہرجزوجائداد میں حصہ دار بھی ہے اور لڑکی زید کی آج تك پرورش اور پر داخت میں اپنی ماں کے ہےایسی صورت میں حق پرورش و پرداخت وولایت نکاح کا لڑکی کی ماں کو حاصل ہے یا دادا کو باوجود لڑکی ہنوز پرورش وپرداخت میں اپنی ماں کی ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
لڑکی کے نکاح یا اس کے مال کی نگہداشت کا حق تو باپ کے بعد دادا کے سواکسی کو نہ تھاپاس رکھنے کا حق ماں کو تھاجب لڑکی نوبرس کی ہوئی وہ بھی ختم ہوگیا اب دادا اسے لے لے گاماں یا چچا کسی کو تعرض کا اختیار نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ: از ریاست جاورہ سڑك رتلام دروازہ مرسلہ چھوٹے خاں معرفت سید حسن انسپکٹر جماد ی الآخرہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حامد لاولد کو زید صاحب اولاد نے اپنی ایك دختر بسبب محبت ویگانگت و ہمدردی ا سلامی لوجہ اﷲ دے کر یہ اختیار دے دیا کہ اب یہ لڑکی تمہاری ہے ہمارا کسی قسم کا اس پر دعوی جھگڑا نہیں ہے اس کو بطور اولاد کے تم پرورش کرو اور جہاں چاہو اس کی شادی وغیرہ کردینا ہمیں کوئی تعلق نہیںچنانچہ حامد نے دس گیارہ سال تك اس دختر کو بطور اولاد خود اپنے پاس رکھ کر اپنے صرفہ سے پرورش کیا اور اب جبکہ دختر ہوشیار ہوئی تو زید نے بباعث طمع یا جو کچھ ہو اپنی طرف اس کو لوٹانا چاہا اور حامد اس کے دینے سے انکاری ہے توایسی صورت میں عندالشرع دختر مذکورہ اس کے والدین کو دلائی جاسکتی ہے یانہیں اور اگر دلائی جاسکتی ہے تو کیا بلاادائے صرفہ پرورش دختر
الجواب:
دختر کا ہبہ کردینا باطل ہے نہ وہ باپ کی ملك تھی نہ حامد کی ملك ہوگئیاور اب کہ بالغہ ہوئی یا قریب ببلوغ پہنچی جب تك شادی نہ ہو ضرور اس کو باپ کے پاس رہنا چاہئے یہاں تك کہ نوبرس کی عمر
#15055 · بابُ الحضانۃ (پرورش کا بیان)
کے بعد سگی ماں سے لڑکی لے لی جائے گی اور باپ کے پاس رہے گی نہ کہ اجنبی جس کے پاس رہنا کسی طرح جائز ہی نہیںبیٹی کرکے پانے سے بیٹی نہیں ہوجاتیاس نے جو خرچ کیا اپنی اولاد بنا کر کیا نہ کہ بطور قرضلہذاواپسی کابھی مستحق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
#15056 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
باب النفقۃ
(نفقہ کا بیان)

مسئلہ: ربیع الاول شریفھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیں اور عدت گزرچکی اب عورت کانفقہ زید پر واجب ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اگر فی الواقع عدت گزرچکی(یعنی حاملہ تھی تو وضع حمل ہوگیا ورنہ طلاق کے بعد تین حیض شروع ہوکر ختم ہولئے)تواب نفقہ واجب نہیں کہ مطلقہ کا نفقہ عدت تك ہے بعد عدت کوئی علاقہ باقی نہیں جس کے سبب نفقہ لازم ہوفی ردالمحتار النفقۃ تابعۃ للعدۃ (ردالمحتار میں ہے:عورت کا نفقہ عدت کے تابع ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از ٹونك محلہ قافلہ مرسلہ مولوی سید ولی اﷲ صاحب شوالھ
بعدعالی جناب فیض مآب حضرت مولنا وبالفضل اولانا قبلہ وکعبہ ام مولنا احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیضہپس از تسلیم نیاز معروض می دارد۔نقل اقرار نامہ بذریعہ ہذا خدمت شریف میں ابلاغ ہے بروئے اس کے
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٦٩
#15057 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مدعیہ مسماۃ رقیہ بیگم کو اختیار حاصل ہے کہ بصورت ہونے تکلیف کے اپنے والدین کے مکان پر جاکر ہمیشہ رہے یا نہیںاور جواز اس کا شرع سے ہے یانہیں
اول یہ تکلیف ہے نان نفقہ جو پہلے دیتا تھا نہیں دیتا باوجود مقدوری کے۔
دوسرے سخت و سست بولتا ہے۔
تیسرے بد عہدی کرتا ہے کہ حق زوجہ ادا نہیں کرتا ہے۔
چوتھے والدین کے مکان پر حسب اقرار جانے نہیں دیتا۔
پانچویں وعدہ تھا کہ مہر معجل دوں گااور ڈگری بھی شریعت سے ہوگئی یکمشت دلانے کیآج تك نہیں دیابرخلاف اس کے(ماعہ / )دئے ہیں باقی ہنوز بے وصول ہیںاور یہ بھی مسماۃ کہتی ہے اگر مکان مسکونہ جو متصل والدین کے ہے ا س میں تکلیف ہے دیگر محلہ میں رہے تو نہیں رہنے دیتایہ درخواست بھی قابل لحاظ ہے یانہیں مہر شریعت ناظم شریعت
نقل اقرار نامہ
میں کہ سید احمد علی بن سید اکبر علی مرحوم ساکن کالی پلٹن ام جو کہ مسماۃ رقیہ بیگم زوجہ مظہر نے نسبت میرے دعویات تکلیفات قسم قسم و زر مہر وغیرہ دائر عدالت شرع شریف کئے ہیں بناء براں فی الحال اقرارکرتا ہوں و لکھے دیتا ہوں کہ آئندہ کسی قسم کی تکلیف مسماۃ مذکور کو نہ دوں گا اور حسن سلوك خود سے سب طرح رضا مند رکھا کروں گا اگر خلاف شرع کے کوئی بات نسبت مسماۃ مذکور کروں اور زوجہ میری مجھ سے ناراض ہوتو بدل اس بدعہدی کااس صورت میں حسب تحریر معاہدہ ہذا کے مدعیہ اختیار کھتی ہے کہ اپنے والدین کے مکان پر جارہے میں مزاحمت نہیں کروں گا اور مسافرت کو نہیں جانے پائے گیلہذا یہ چند کلمہ بطریق اقرار نامہ لکھ دئے کہ سند ہو فقطالمرقوم ذی قعدہ ہجریہ
العبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد
سید احمد علی
گواہ شد گواہ شد
منشی عبداﷲ وکیل بقلم خود نصرت یا رخاں(دستخط ہندی)
امید کہ براہ عنایت بزرگانہ اس کا جواب تحریر فرماکر تابعدار کو سرفراز فرمایا جائے۔عریضہ ادب:محمد ولی اﷲ عفا عنہ مولاہ برادر حقیقی مولوی سید ظہور ا ﷲ صاحب از ریاست ٹونک
#15058 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
الجواب:
یہ اقرار نامہ کوئی چیز نہیںنہ اس کے سبب رقیہ بیگم اپنے شوہر کا وہ حق جو شرع اس کے لئے ثابت کرےبعد ثابت ہونے کے ساقط و باطل کرسکتی ہےشرع مطہر نے شوہر کو حق حبس دیا ہے کہ عورت کو اپنے پاس رکھےمگر یہاں بات یہ ہے کہ جب سید احمد علی نے ابھی رقیہ بیگم کا مہر معجل ہی پورا ادا نہ کیا ہنوز سید مذکور کو رقیہ بیگم کے حبس کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا سرے سے اختیار ہی حاصل نہ ہوا کہ شوہر کو یہ اختیار بعد ادائے مہر معجل حاصل ہوتا ہے بلکہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب میں تو اس کے وصول سے پہلے برضائے زوجہ وطی واقع ہونا بھی عورت کو حبس پر مجبور نہیں کرتا
ھذاھو مذہب الامام وعلیہ المتون فعلیہ التعویل کماحققناہ فی کتاب النکاح من فتاونا بتوفیق اﷲ تعالی۔
امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کا یہی مذہب اور اس پر متون وارد اسی پر اعتماد ہے جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی کے کتاب النکاح میں اس کی تحقیق کی ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
لھامنعہ من الوطی ودواعیہشرح مجمعوالسفر بھا ولو بعد وطی وخلوۃ رضیتھمالان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی ۔
بیوی کو حق حاصل ہوگا کہ وہ خاوند کو جماع اور اس کے دواعی سے روك دےشرح مجمع۔اور سفر پر ہمراہ لے جانے سے بھی روك سکتی ہے اگرچہ وطی اور خلوت برضا کے بعد چاہے تو بھی روك سکتی ہےکیونکہ ہر بار کا جماع عقد کا بد ل ہے بعض کو سونپنا کل بدل کا سونپ دینا نہیں بنتا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ والسفر الاولی التعبیر بالاخراج کما عبرفی الکنز لیعم الاخراج من بیتھا کما قالہ شارحوہ ط۔
قولہ سفر پر لے جانایہ باہر لے جانے کی تعبیر سے بہتر ہے جیسا کہ کنز میں تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ باہر لے جانا تو گھر باہر ہمراہ کرنے کوبھی شامل ہے جیسا کہ کنز کے شارحین نے کہا ہے ط۔(ت)
تو صورت مستفسرہ میں جب تك باقی مہر معجل ادا نہ ہوجائے رقیہ بیگم کو اختیار ہے کہ شوہر گھر نہ جائے اسے اپنے
حوالہ / References درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠٢
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٣٥٨
#15059 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
پاس آنے نہ دےنہ اپنے بدن کو ہاتھ لگانے دےہاں جب وہ مہر معجل تمام و کمال ادا کرلے اس وقت رقیہ بیگم بے اذن شوہر اپنے گھر نہیں رہ سکتینہ اس اقرار نامہ کی بنا پر شوہر سے مواخذہ کرسکتی ہے کہ بالفعل شوہر کو حق حبس حاصل نہ ہونا جس طرح ابھی رقیہ بیگم کو تاادائے مہر معجل آزادی دے رہا ہے یونہی اقرار نامہ کو بھی باطل محض و بے اثر کررہا ہے کہ اس کا حاصل اگر ہے تو یہی کہ شوہردر صورت بد عہدی اپنے حق حبس کو ساقط کرتا ہے وہ حق اسے ہنوز حاصل ہی نہیں تو ساقط کس چیز کو کرے گااسقاط کےلئے پہلے ثبو ت درکارجو شئی ہنوز ثابت نہیں ساقط کیا ہوگیتو احمد علی کی یہ تحریر محض مہمل و بیکار ہوئی جس سے رقیہ بیگم کو کسی وقت استناد کا محل نہیںامام علامہ زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں فرماتے ہیں:
لھا ان ترجع ان وھبت قسمھا للاخریلانھا اسقطت حقالم یجب بعدفلا یسقطوھذالان الاسقاط انما یتحقق فی القائم الخ۔
بیوی نے اگر اپنی باری کا حق دوسری بیوی کو دیا ہو تو وہ واپس اپنا حق لے سکتی ہے کیونکہ اس نے اپنے حق کو ساقط کیا جو ابھی تك خود اس کے لئے واجب وثابت نہ ہوا تھا لہذا وہ ساقط نہ ہوایہ اس لئے کہ اسقاط تب قرار پاتا ہے جب وہ خود ثابت ہوجائے(ت)
پھر اس تقریر کی بھی حاجت کہ نفس عبارت دستاویز کو خلل سے سالم مان لیا جائے ورنہ نظر فقہی تو(قطع نظر اس سے کہ مہر معجل ہنوز ادا ہوا یانہیں اور وطی برضائے رقیہ بیگم واقع ہوئی یانہیں)خود اس نفس تحریر کو مہمل و مختل بتاتی ہے کہ اس نے اسقاط حبس کو معلق کیا اور یہ اسقاط سرے سے قاببلیت تعلیق نہیں رکھتا
لانہ مما لایحلف کما لایخفی وکل اسقاط لایحلف بہ فانہ لایصح تعلیقہ۔
کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کا حلف(کسی شئے سے مشروط کرنا) نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ مخفی نہیں ہےا ور ہرا س چیز کا اسقاط جوقابل حلف نہ ہوتو اس کی تعلیق(شرط سے مشروط کرنا)صحیح نہیں۔(ت)
درمختار میں ہے:
مایجوز تعلیقہ بالشرط مختص بالاسقاطات المحضۃ التی یحلف بھا کطلاق وعتاق وبالالتزامات التی یحلف
جس چیز کوکسی شرط سے مشروط کیا جاسکتا ہے وہ صرف اسقاطات محضہ ہیں جن کا حلف دیا جاسکتا ہے جیسا کہ طلاق و عتاق ہےاوروہ التزامات ہیں جن کا حلف
حوالہ / References تبیین الحقائق باب القسم المطبعۃ الکبریٰ الامیریہ ببولاق مصر ٢/١٨١
#15060 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
بھا کحج وصلوۃ والتولیات کقضاء وامارۃ عینی وزیلعی ۔
دیا جاسکتا جیسا کہ حج و نماز ہے اور وہ معاملات کی ذمہ داریاں ہیںجیسا کہ قضاء اور امارت ہےعینی اور زیلعی۔(ت)
ردالمحتار میں خلاصہ سے ہے:
انمایحتمل التعلیق بالشرط مایجوز ان یحلف بہ ۔
کسی شرط کے ساتھ وہی چیزیں معلق ہونے کا احتمال رکھتی ہیں جن کا حلف دیا جاسکے۔(ت)
اسی میں عینی سے ہے:
انہ لیس مما یحلف بہ فلایصح تعلیقہ بالشرط ۔ (تلخیصا)
وہ چونکہ ایسی چیز ہے جس کا حلف نہیں دیاجاسکتا لہذا اس کی کسی شرط سے تعلیق جائز نہیں تلخیصا(ت)
اسی میں ہے:
اعلم ان قولہ لایصح تعلیقہ لیس المراد بہ بطلان نفس التعلیق مع صحۃ المعلق بل المراد انہ لایقبل التعلیق بمعنی انہ یفسد بہ ۔
واضح کہ ماتن کے قول"لایصح تعلیقہ"سے مراد یہ نہیں کہ معلق شدہ چیز کی صحت کے باوجود محض معلق کرنا (نفس تعلیق)باطل ہےبلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز تعلیق کو قبول نہیں کرتی لہذا وہ تعلیق کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیق سے فاسد ہوجاتی ہے(ت)
بہر حال حکم یہی ہے کہ دستاویز مذکور مہمل و باطل اور رقیہ بیگم کو تاادائے مہر معجل اپنے ماں باپ کے گھر رہنے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دینے کا خود ہی اختیار حاصل اور بعد ایفائے تمام مہر معجل رقیہ بیگم کایہ اختیار یك لخت زائلہاں والدین کے یہاں آٹھویں دن بے اجازت شوہر بھی جاسکتی ہے کہ دن کے دن رہے اور رات کو چلی آئے۔ردالمحتار میں ہے:
فی البحر الصحیح المفتی بہ انھا تخرج
بحر میں ہے:صحیح مفتی بہ یہ ہے کہ بیوی ہر ہفتہ میں
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ مطبع مجتبائی دہلی ٢/٥٤
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٢٥
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٢٦
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤ /٢٢٢
#15061 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
للوالدین فی کل جمعۃ باذنہ وبدونہ وللمحارم فی کل سنۃ مرۃ باذنہ وبدونہ ۔
(شرعی اصطلاح جمعہ میں)خاوند کی اجازت ہو یا نہ ہو والدین کی ملاقات کے لئے گھر سے باہر جاسکتی ہے اور اپنے باقی محارم کی ملاقات کے لئے سال میں ایك مرتبہ جاسکتی ہے خاوند کی اجازت ہو یانہ ہو۔(ت)
اور دوسرے محلہ میں رہنے کی درخواست سے اگر رقیہ بیگم کی یہ مراد ہے کہ شوہر سے جدا رہے اور شوہر اس کے پاس نہ آنے پائے تو اس کا جواب تو ہوچکا کہ قبل ادائے مہر معجل اسے شوہر سے جدائی کا اختیار ہے اور بعد ادا ہر گز نہیںاور اگر یہ مقصود ہے کہ یہاں شوہر اسے ایذائیں پہنچاتا تکلیفیں دیتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا لہذا چاہتی ہے کہ شوہر اسے ایسی جگہ اپنے پاس رکھے جہاں اس کا دست تعدی کوتاہ رہے تو بیشك یہ درخواست اس کی ضرور قابل لحاظ ہے حاکم شرع اس معاملہ میں غور فرمائے گا اگر رقیہ بیگم کا یہ بیان صحیح جانے گا اور شوہر کو زجرو منع سے کام چلتا نہ دیکھے گا نہ وہاں ہمسایوں میں کوئی اس قابل پائے گا جو شوہر کو دبائے اور ایذائے زوجہ سے مانع آئے تو ضرور ایسی ہی کوئی امن کی جگہ تجویز کرکے احمد علی کو حکم دے گا کہ رقیہ بیگم کو وہاں رکھےعالمگیری میں ہے:
ان اسکنھا فی منزل لیس معھا احد فشکت الی القاضی ان الزوج یضربھا ویؤذیھا و سألت القاضی ان یأمرہ ان یسکنھا بین قوم صالحین یعرفون احسانہ واساء تہ فان علم القاضی ان الامر کما قالت زجرہ عن ذلك و منعہ عن التعدی وان لم یعلم ینظر ان کان جیران ھذہ الدار قوما صالحین اقرھا ھناك ولکن یسأل الجیران عن صنعہ فان ذکر وامثل الذی ذکرت
اگرخاوند نے بیوی کو ایسے مکان میں رہائش دی جہاں عورت اکیلی ہے تو عورت نے قاضی سے شکایت کی کہ خاوند اسے پیٹتا اور اذیت دیتا ہےاور قاضی سے درخواست کرتی ہے کہ وہ خاوند کو حکم دے کہ وہ ایسی جگہ اس کو رہائش دے جہاں ارد گرد نیگ لوگ ہوں جو خاوند کی نیکی وبدی معلوم کرسکیں تو اگر قاضی کومعلوم ہو عورت کی شکایت درست ہے تو وہ خاوندکو ڈانٹ کر اس کو زیادتی سے منع کرے اگر قاضی کو معلوم نہ ہوتو وہ معلوم کرے کہ اگر ارد گرد والے نیك لوگ ہیں تو عورت کو وہاں رہنے پر پابند کرے لیکن ساتھ ہی قاضی پڑوسیوں سے خاوند کے سلوك کے متعلق معلومات حاصل کرے اگر پڑوسیعورت کی شکایت کی تائید کریں
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ٢/٦٦٤
#15062 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
زجرہ عن ذلك ومنعہ عن التعدی فی حقھا وان ذکر وا انہ لایؤذیہا فالقاضی یترکھا ثمہ وان لم یکن فی جوارہ من یوثق بہ اوکانوایمیلون الی الزوج فالقاضی یا مرالزوج ان یسکنھا فی قوم صالحین ویسأل عن ذلك ویبنی الامر علی خبرھم کذافی المحیط واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
تو قاضی خاوند کو ڈانٹے اور زیادتی سے منع کرےاور اگر پڑوسی لوگ کہیں کہ خاوند کوئی زیادتی اور اذیت نہیں دیتا تو قاضی عورت کو اسی مکان میں رہنے کا پابند کرے اور اگر عورت کے پڑوس میں کوئی قابل اعتماد شخص نہ ہو یا پڑوسی خاوند کے طرفدار ہوں تو پھر قاضی خاوند کو حکم دے گا کہ عورت کو نیك لوگوں کے پڑوس میں رہائش دے اور پھر قاضی اس معاملہ کے متعلق معلومات حاصل کرے اور پڑوسیوں کے بیان کو کارروائی کی بنیاد بنائےمحیط میں یوں ہی بیان کیا ہےواﷲ تعالی اعلماوراﷲ جل مجدہ کا علم کامل اور محکم ہے(ت)
مسئلہ: از ڈاکخانہ سجولی ضلع بہرائچ مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایام عدت کا نفقہ اور سکونت کا مکان دینا بذمہ زید واجب تھا لیکن زید نے بعد طلاق ہندہ کو اپنے مکان سے نکال دیا اور نفقہ بھی نہیں دیا اس شکل میں ایام عدت کا نفقہ اور مکان سکونت کا معاوضہ ہندہ زید سے پاسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
عدت طلاق کا نفقہ وسکنی اگرچہ بذمہ زید واجب تھا اور وہ عورت کو نکال دینے سے گنہگار ہوا مگر جبکہ عدت گزر گئی اور نفقہ مفروض ومقدور نہ ہوچکا تھا تو اس کا کوئی معاوضہ ہندہ کو نہ ملے گا۔
فی الھندیۃ المعتدۃ اذالم تخاصم نفقتھا ولم یفرض القاضی شیأ حتی انقضت العدۃ فلانفقۃ لھا کذافی المحیط ۔واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں ہے کہ جب عدت والی عورت اپنے نفقہ کے متعلق خاوند کے خلاف دعوی نہ کرے اور نہ ہی قاضی نے ابھی اس کے لئے کوئی نفقہ مقرر کیا ہوحتی کہ عدت ختم ہوجائے تو اب عورت کے لئے نفقہ کا استحقاق نہیں ہےمحیط میں یونہی مذکور ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی السکنیٰ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٥٦
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٥٨
#15063 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ : از پیلی بھیت شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے دو نکاح کئے اور ایك زوجہ کے نان ونفقہ میں کم کمی کی اس زوجہ نے بوجہ تکلیف ضروریات بقدر ضرورت قرض لے کر خرچ کیا اس صورت میں ادائے قرضہ ذمہ زوج ہوگایا زوجہ اور مستحق و طالب اپنے مہر کی بغیرطلاق ہر وقت ہے یانہیں ا ور در صورت نہ وہونے طلاق خواہان مکان سکونت و نیز ہوسکتی ہے یانہیں اور برتقدیر ثبوت وطلب زوج کی آمدنی سے کس قدر لے سکتی ہےبینوتواجروا۔
الجواب:
زوجہ کو بلاوجہ تکلیف دینا ایك گناہ اور دوسری زوجہ سے کم رکھنا دوسرا گناہ شدید جس کی تحریم پر قرآن و حدیث ناطق مگر جب تك نفقہ باہمی تراضی اور قضائے قاضی سے مقرر نہ ہوجائے عورت جو کچھ بطور خود اپنے مصارف کے لئے قرض لے کراٹھائے گی وہ قرض عورت ہی پر ہوگا شوہر سے مجرانہ پاسکے گی اگر خورد و نوش وغیرہما مصارف ضروریہ ہی کے لئے بقدر ضرورت و بحال ضرور ت ہی لے اگرچہ زوج محض ظلما اسے نفقہ نہ دے۔عالمگیری میں ہے:
استدانت علی الزوج قبل الفرض والتراضی فانفقت انھا لاترجع بذلك علی زوجھا بل تکون متطوعۃ بالانفاق سواء کان الزوج غائبااوحاضرا ۔
عدت والی نے خاوند کے نام پر قرض لیا جبکہ ابھی تك قاضی نے کوئی مقرر نہ کیا ہو اور نہ ہی ابھی آپس میں رضامندی سے نفقہ ہوا جبکہ عورت اس قرض کو خرچ کرچکی ہوتو اب عورت اس قرض کے متعلق خاوند سے مطالبہ نہیں کرسکتی بلکہ یہ کارروائی اس کی رضا کارانہ قرار دی جائے گیخاوند موجود ہو یا غائب دونوں صورتوں میں حکم یکساں ہے۔(ت)
ہاں اگر حکم قاضی یا باہمی تراضی سے قرار پاگیا تھا کہ مثلا روپے روز یا بیس روپے ماہانہ خواہ اس قدر غلہ ولباس سالانہ اس عورت کا نفقہ ہے کہ روزانہ یا ماہ بماہ یا سالانہ شوہر ادا کرے گا اور اس قرار داد کے بعد نہ دیا اور عورت نے قرض لیا خواہ اپنے ذاتی مال سے صرف کیا تو بیشك شوہر سے بقرار داد مجرا لے سکتی ہے
وان کان الدین علیھا نفسھا اذا لم تکن الاستدانۃ بامرالقاضی۔
اگر عورت نے قرض لیا ہوتو وہ خود ذمہ دار جب وہ قرض قاضی کے فیصلہ کے بغیر لیا ہو۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ نورانی کتب کاخانہ پشاور ١/٥٥١
#15064 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
عالمگیری میں ہے:
ولوانقضت من مالھا بعد الفرض او التراضی لھا ان ترجع علی الزوج وکذا اذا استدانت علی الزوج سواء کانت استد انتھا باذن القاضی او بغیر اذنہ غیر انھا ان کانت بغیر اذن القاضی کانت المطالبۃ علیھا خاصۃ ولم یکن للغریم ان یطالب الزوج بمااستدانت وان کانت باذن القاضی لھا ان تحیل الغریم علی الزوج فیطالبہ بالدین ھکذا فی البدائع ۔
اگر عورت نے اپنے مال میں سے صرف کیا جبکہ قاضی نے اس کا نفقہ مقرر کردیا ہو یا آپس میں عورت اور خاوند نے طے کرلیا ہوتو پھر عورت وہ صرف شدہ مال خاوند سے وصول کرسکتی ہے اور یونہی اپنے مال کی بجائے اگر اس نے خاوند کے نام پر قرض لیا ہو تو اگر قاضی کے حکم واجازت پر لیا ہو توخاوند سے وصول کرے گی اور اگر قاضی کےحکم واجازت کے بغیر لیا ہوتو قرض کا مطالبہ صرف عورت سے ہوگا قرض خواہ کو عورت کی بجائے خاوند سے مطالبہ کا حق نہ ہوگااور جب قاضی کے حکم اور اجازت سے عورت نے قرض لیا تو عورت کو جائز ہوگا کہ وہ اس قرض کے مطالبہ کو خاوند کے ذمہ کر دے تاکہ قرض خواہ اب خاوند سے مطالبہ کرےبدائع میں یوں ہی بیان ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
النفقۃ لا تصیر دینا الابا لقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافاو دراہم فقبل ذلك لایلزمہ شیئ و بعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض ۔
عورت کا لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ صرف اس وقت ہوگا جب عورت نے وہ قرض قاضی کے حکم پر یا خود خاوند کے ساتھ مصالحت میں طے کرلیا ہو کہ فلاں جنس یا نقد اتنی مقدار ہوگیاس سے قبل لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ نہ ہوگااور بعد میں عورت کا لیا ہواقرضخواہ اپنے مال سے ہی قاضی کے حکم کے بغیر اس نے صرف کیا ہو تو خاوند سے وصول کرسکتی ہے(ت)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
لاترجع بما استقرضت بل بالمفروض فقط ۔
عورت نے نفقہ کے لئے قرض لیا تو خاوند سے اس کا مطالبہ نہیں ہوگا بلکہ خاوند سے صرف اسی صورت میں مطالبہ کرسکے گی جب قاضی کی طرف سے یا آپس میں طے کرلیا ہو۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٥١
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبا ئی دہلی ١/٢٧٠
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٩
#15065 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
اورمہر میں جبکہ تعجیل و تاجیل کچھ بیان میں نہ آئی یہ نہ شرط کی جائے کہ کل اس قدر پیشگی لیا جائے گا نہ کوئی میعاد قرار پائے کہ فلاں وقت معلوم یا اتنی مدت کے بعدادا ہوگا تو اس وقت عرف ورواج بلد پر چھوڑا جائے گا۔نقایہ میں ہے:
المعجل والمؤجل ان بینا فذلك والا فالمتعارف ۔
مہر معجل یا مؤجل اگر بیان کردیا ہوتو وہی ورنہ عرف کے مطابق ہوگا۔(ت)
سائل زبانی مظہر کے یہاں صورت واقعہ یونہی تھی یعنی تعجیل و تاجیل کچھ مشروط نہ ہوئی اور واقعی ہمارے بلاد میں عامہ مہور ایسے ہی بندھتے ہیں تو بحکم عرف شائع و ذائع(کہ ہرگز نہ کسی قدر مہر پیشگی دینا معہود ہےنہ اسکے لئے کوئی میعاد معلوم متعارف ببلکہ عامہ بیوت میں موت یا طلاق تك مؤخر رہتا ہے)یہاں کی عورتیں جب تك مرگ یا طلاق سے افتراق نہ واقع ہوہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں رکھتیںنہ قاضی کو اختیار کہ ایسی صورت میں پیش از فراق ادائے مہر پر جبر کرےخانیہ میں ہے:
ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصحولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولا یحبسہ ۔
اگر مہر کی مدت مقرر ہے تو مؤخر صحیح ہے ورنہ صحیح نہیں اور قاضی باقی مہر کی ادائیگی کےلئے خاوند پر جبر نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو قید کرسکتا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت اوالطلاق لامن وقت النکاح ۔
کیونکہ بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق خاوند کی موت یا طلاق کے بعد ہوگانکاح کرتے ہی مطالبے کا حق نہیں ہوگا۔(ت)
اور جب تك کوئی امر مانع نفقہ مثلا عورت کا شوہر کے گھر سے ناحق نکل جانا یا اس کے یہاں آنے سے ناحق انکار کرنا نہ پایا جائے بلاشبہہ وہ مستحق نفقہ وسکنی رہے گیاسی طرح جب یہ موانع زائل ہوجائیں گے مثلا عورت شوہر کے یہاں واپس آئے گی تو پھر بدستور مستحق نفقہ ہوجائے گیدرمختارمیں ہے:
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولو
اگر بیوی اپنے والد کے گھر ہو تو خاوند اس کو اپنے
حوالہ / References مختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایۃ فصل اقل المہر عشرۃ دراہم نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص٥٦
فتاوٰی قاضی خاں باب فی ذکر مسائل المہر نولکشور لکھنؤ١/٧٤۔١٧٣
ردالمحتار فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٣٤٣
#15066 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ھی فی بیت ابیھا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذا اذا طالبھا ولم تمتنع او امتنعت للمھر لاخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود اھ ملخصا۔
گھر منتقل کرنے کا مطالبہ نہ کرے تو تب بھی خاوند پر نفقہ زوجہ واجب ہوگااور یوں ہی جب وہ خاوند کے مطالبہ پر اس کے گھر منتقل ہونے سے انکار نہ کرتی ہو یا وہ اپنے مہر کے مطالبہ کی وجہ سے منتقل ہونے سے انکار کر رہی ہوتو بھی خاوند پر اس کا نفقہ واجب ہوگا جبکہ خاوند کے گھرسے باہر بلاوجہ رہ رہی ہوتو نفقہ واجب نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں وہ خاوند کے گھر واپس نہ آنے تك نافرمان قرار پائے گی اھ ملخصا(ت)
رہا مطالبہ اگر نفقہ قضایا رضا سے مقرر ہولیا ہے تو جتنے دن بعد قرار داد بے نفقہ گزر گئے ان کا بھی مطالبہ کرسکتی ہےکما اسلفنا (جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے۔ت)اور آئندہ کے لئے بھی جو میعاد تکرار نفقہ کے لئے قرار پائی ہے اس کے شروع کے بعد اسی قدر کا مطالبہ کرسکتی ہے مثلا نفقہ ماہ بماہ دینا ٹھہرا ہوتو ہر مہینے کے شروع پر اس مہینے اور سال بسال مقرر ہوا ہوتو ہر سال کے آغاز پر اس سال کا نفقہ مانگ سکتی ہے اس سے زیادہ مثلا چاند دیکھے یا سال پلٹے آئندہ کے دو مہینے یا دوبرس خواہ اس ماہ یا سال کا ہنوز آغاز نہ ہوا نفقہ نہیں مانگ سکتیردالمحتار میں ہے:
النفقۃ تفرض لمعنی الحاجۃ المتجددۃ فاذا فرضت کل شھر کذاصارت الحاجۃ متجددۃ بتجدد کل شھر فقبل تجددہ لایتجدد الفرض فلم تجب النفقۃ قبلہ انہ لو فرض کل سنۃ کذاصح الابراء عن سنۃ دخلتلاعن اکثر ولاعن سنۃ لم تدخل اھ ملخصا۔
آئندہ کا نفقہ آئندہ نئی حاجت کی وجہ سے فرض ہوتا ہے تو جب ماہانہ خرچہ مقرر ہولے تو نئے ماہ پر گویا عورت کو حاجت بھی نئی ہوئی تو نئی حاجت سے قبل نیا نفقہ مقرر نہ ہوگا لہذاادائیگی بھی پہلے واجب نہ ہوگیاور اگر خرچہ سالانہ طے شدہ ہوتو صرف شروع ہونے والے سال کا نفقہ لازم ہوگاسال شروع ہونے سے پہلے کا اور سال سے زیادہ کا بھی لازم نہ ہوگااھ ملخصا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
الفرض فی الشھر الاول تنجز وفیما
سال کے پہلے مہینہ میں دیا ہوا خرچہ مدت کے اختتام
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٣
#15067 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
بعدہ مضاف فتنجز بدخول الشہر وھکذا ۔
تك کی ادائیگی ہوتی ہے اس کے بعد اضافت ہوتی ہے اس لئے مہینہ شروع ہونے پر ہی ادائیگی ہوگییوں ہی جاری رہے گا۔(ت)
اور اگر ہنوز نفقہ کے لئے کوئی تقرر وتعین نہ قضاء ہوا نہ رضاء تو عورت نہ ایام ماضیہ کا مطالبہ کرسکتی ہے نہ آئندہ کا۔ردالمحتار میں ہے:
لایلزمہ عما مضی قبل الفرض بالقضاء او الرضاء ولاعما یستقبل لانہ لم یجب بعد ۔
قاضی کی طرف سے مقرر کئے یا آپس میں مصالحت سے طے کئے بغیر سابقہ مدت کا خرچہ خاوند پر لازم نہ ہوگا اور یونہی پیشگی ادا کرنا بھی لازم نہ ہوگا کیونکہ نفقہ ابھی خاوند کے ذمہ واجب نہیں ہوا۔(ت)
ہاں قبل از قرار داد عورت یہ اختیار رکھتی ہے کہ شوہر برضا مندی نفقہ مقرر نہ کرے تو حاکم شرع کے حضور قرار داد کرنے کی نالش کرے جب بحکم قاضی کوئی ماہانہ سالانہ یا روزانہ یا فصلانہ مقرر ہوجائے تو اس کے بعد اسے بہ تفصیل مذکور مطالبہ و دعوی پہلے گا۔تنویر الابصار میں ہے:یقدرھا ان طلبتہ اھ ملخصا(اگر عورت مطالبہ کرے تو قاضی نفقہ مقررکردے اھ ملخصا۔ت) اور نفقہ مردوزن دونوں کی حیثیت دیکھ کر مقرر کیا جائے گا اسی قدر آمدنی زوج سے لے سکتی ہےاگر دونوں غنی ہیں تو اغنیاء کے لائقاور دونوں فقیر تو فقراء کے قابلاور ایك غنی اور ایك فقیر تو متوسط یعنی نفقہ اغنیاء سے کم اور نفقہ فقراء سے زائدمثلا عورت کی حیثیت اطلس و زر بفت و مشجر پہننے اور بریانی و مزعفر وگوشت مرغ کھانے کی ہے اور مرد کی مقدرت چھینٹ چار خانے دال ماش نان جو کھانے کے قابل یا بالعکس تو عورت کےلئے تنزیب و گلبدن و مشروع کا لباس اور گوشت گو سپند و نان گندم مقرر کریں گےجتنا بالفعل دے سکتا ہے دے باقی اس کے ذمے دین رہے گا یہاں تك کہ اﷲ عزوجل استطاعت بخشے۔درمختارمیں ہے:
تجب علی زوجھا بقدرحا لھما بہ یفتی ویخاطب بقدروسعہ والباقی دین الی المیسرۃ اھ ملخصا۔
خاوندپر دونوں کی حیثیت کے لحاظ سے نفقہ واجب ہوگااسی پر فتوی دیا جائے گااور خاوند اپنی وسعت کے مطابق ادائیگی کا مکلف ہوگا اور باقی رہ جائے تو وہ اس کے ذمہ قرض ہوگا جس کو اپنی سہولت سے ادا کریگااھ ملخصا(ت)
حوالہ / References بحرالرائق باب النفقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/١٨٨
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٨
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
#15068 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر اتفقوا علی وجوب نفقۃ الموسرین اذاکانا موسرین وعلی نفقۃ المعسرین اذاکانا معسرین وانما الاختلاف فیما اذاکان احدھما موسرا او الاخر معسرا فعلی المفتی بہ تجب نفقۃ الوسط وھو فوق نفقۃ المعسرۃ ودون نفقۃ الموسرۃ اھ ملخصا۔
بحر میں ہے:سب کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں خوشحال ہیں تو ان کے حال کے مطابق خاوند پر نفقہ واجب ہوگا اور اگر دونوں تنگ دست ہیں تو ان کے حال کے مطابق خاوند پر واجب ہوگااور اختلاف صرف اس صورت میں ہے جب دونوں میں سے ایك امیراور دوسرا غریب ہے تو مفتی بہ قول یہ ہے کہ دونوں کے حال کی رعایت پر درمیانہ نفقہ واجب ہوگااور وہ یہ کہ خوشحالی سے کم اور تنگ دستی سے زائد ہواھ ملخصا۔(ت)
اسی میں بدائع سے ہے:
حتی لوکان الرجل مفرطا فی الیسار یاکل خبز الحواری ولحم الدجاج والمراۃ مفرطۃ فی الفقرتأکل فی بیت اھلھا خبز الشعیر یطعمھا خبز الحنطۃ ولحم الشاۃ ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر خاوند انتہائی خوشحال ہونے کی بناء پر صاف باریك آٹامرغ کا گوشت کھاتا ہے اور بیوی انتہائی تنگ دستی کی بناء پر اپنے گھر والوں کے ہاں جو کی روٹی کھاتی ہو تو خاوند اس کو گندم کی روٹی اوربکرے کا گوشت نفقہ کے طور پرکھانے کو دے گا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ: از لبکن ضلع بریلی مرسلہ شیخ احمد حسین رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جو ایك قلیل حقیت کی زمیندار تھی بلارضا مندی و اجازت زید اپنے شوہر کے بطور بدکاری عمرو کے ساتھ فرار ہوگئی اور مدت دراز تك عمرو کے ساتھ رہیپھر واپس آئیاب زید پر دعوی مہر اور دلا پانے نان نفقہ کا کرتی ہے اس صورت میں وہ مہر و نفقہ پائے گی یانہیںاور زید محض نادار ہے مگر زید کا باپ متمول ہے تو دعوی ہندہ کا پدر زید پر کچھ اثر ہوگا یا نہیںاور ہندہ بحالت فراری زید کا حمل رکھتی تھیبعد وضع حمل اس نابالغ کی پرورش کا زید ذمہ دار ہوگا
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٥
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٥
#15069 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
یا نہیں بینواتوجروا
الجواب:
جتنی مدت عورت فرار رہی اس مدت کا نفقہ تو زید پراصلا نہیںہاں اب کہ واپس آئی آئندہ نفقہ کی مستحق ہے زید سے نفقہ طلب کرےاگر دے فبہاورنہ قاضی کے یہاں نالش کرکے اپنا نفقہ مقرر کرالے اگر زید نادار ہے قاضی حکم دے گا کہ تو قرض لے کر صرف کراور جب زید کو استطاعت ہو اس سے مجرالے
فی الدرالمختار لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود ولو بعد سفرہ ۔
بیوی اگر خاوند کے گھر سے باہر بلاوجہ رہائش پذیر ہو تو وہ واپس خاوند کے پاس آنے تك نافرمان قرار پائے گی اگرچہ خاوند کے سفر پر جانے کے بعد ہی ایسا کرے لہذا اس کے لئے نفقہ لازم نہیں ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای فتستحق النفقۃ فتکتب الیہ لینفق علیھا اوترفع امرھا الی القاضی لیقرض لھا علیہ نفقۃ ۔
یعنی خاوند سفر میں ہواور بیوی نفقہ کی مستحق ہوتووہ خاوند کو خط لکھ کر مطالبہ کرے کہ میرا نفقہ ادا کیا جائےیا بیوی قاضی کے ہاں درخواست کرے تاکہ قاضی خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دے۔(ت)
درمختار میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا وبعد الفرض یامرہ القاضی بالاستدانۃ لتحیل علیہ ۔
خاوند اگر نفقہ کی ادائیگی سے عاجز ہوتو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی اور نفقہ مقرر کردیا ہوتو قاضی خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دے گا۔(ت)
اور زید کے باپ پر دعوی کا اصلا اثر نہیں ہوسکتا کہ جوان بیٹے غیراپاہج کی زوجہ کا نفقہ باپ پر کہیں لازم نہیںدرمختار میں ہے:
فی الملتقی نفقۃ زوجۃ الابن علی ابیہ ان کان
ملتقی میں مذکور ہے کہ اگر خاوند نابالغ فقیر یا اپاہج ہوتو اسکی
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٦
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٩
#15070 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
صغیرافقیرا اوزمنا ۔
بیوی کا نفقہ نابالغ کے والد کے ذمہ ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وقد علمت ان المذھب عدم وجوب النفقۃ لزوجۃ الابن ولوصغیرافقیرا ۔
آپ کو معلوم ہوگیا ہے کہ نابالغ کی بیوی کا نفقہ والد کے ذمہ نہ ہونا ہی مذہب ہے اگرچہ وہ فقیر ہو۔(ت)
رہا مہر سائل مظہر کہ اس میں کوئی شرط تعجیل و تاجیل نہ تھی اورلبکن میں بھی یہی رواج ہے جو یہاں عامہ بلاد میں ہے کہ قبل از افتراق بموت یا طلاق ادا نہیں ہوتا تو ہندہ کا مطالبہ مہر بیجا ہے جب تك زید اسے طلاق نہ دے یا دونوں میں کوئی مر نہ جائے۔ نقایہ میں ہے:
المعجل والمؤجل ان بینافذاك والافالمتعارف ۔
مہر معجل یا مؤجل اگر بیان کردیا ہوتو وہی واجب ہے ورنہ عرف میں جو رواج ہو وہ واجب ہوگا۔(ت)
اور ا س بچے نابالغ کی پرورش بیشك ذمہ زید لازم ہےرہے گا سات برس کی عمر تك ماں کے پاس بشرطیکہ وہ اپنی بدکاری سے بازآئے اور آوارگی چھوڑچکی ہو اور نفقہ پائے گا باپ سے بشرطیکہ اپنا کوئی مال نہ رکھتا ہو اس عمر تك اجرت یا حرفت سے اپنے کھانے پہننے کے قابل کماسکے اس کی خبر گیری باپ پر واجب ہےدرمختار میں ہے:
تجب النفقۃ لطفلہ الفقیر ۔چھوٹے فقیر بچے کا نفقہ والد پر لازم ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے: ای ان لم یبلغ حدالکسب فان بلغہ کان للاب ان یوجرہ او یدفعہ فی حرفۃ لیکتسب وینفق علیہ من کسبہ لوکان ذکرا الخواﷲ تعالی اعلم۔
بشرطیکہ وہ نابالغ بچہ محنت کی عمر کو نہ پہنچا ہواور اگر وہ اس عمر کو پہنچ گیا ہوتو والد اس کوملازمت دلائے یا کسی کارخانہ میں مزدوری پر لگائے تاکہ اس کی کمائی کو اس پر خرچ کرے بشرطیکہ لڑکا ہوالخواﷲتعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٧٤
المختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایۃ کتاب النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٥٦١
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٧٠ و ٦٧١
#15071 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ: از بڑودہ گجرات کلاں محلہ بھوتنی کا چھاپہ نظام پورہ مرسلہ امراؤ بائی بنت غلام حسین حالہ رجبھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں(مسئلہ اولی)ایك شخص نے اپنی حقیقی پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کیاچند روز بعد ایك آدمی اور ایك عورت کے ہمراہ کسی کام ضروری کے لئے کہیں بھیجابعد واپس آنے کے دو برس تك نان ونفقہ موقوف کردیاکچہری گائیکواڑی میں یہ مقدمہ پیش ہےکچہری کہتی ہے نان و نفقہ کیوں نہیں دیتاخاوند کہتا ہے بغیر حکم میرے یہ کیوں گئیعورت نے گواہ شاہد قوی اپنے حقیقی چچا اور چچی اور کئی آدمی کنبہ کو پیش کیا ہے سب نے یہی کہا کہ ہمارے روبرو اس کے خاوند نے اپنی عورت کو جانے کے لئے حکم دیا اور حلف بھی اٹھایااس صورت میں شریعت کا کیاحکم ہے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عورت کونان و نفقہ نہ دینا اس شخص کا محض ظلم ہے جس کے سبب وہ ظالم و گنہگار اور عورت کے حق میں گرفتار ہےا ﷲتعالی فرماتا ہے:
و على المولود له رزقهن و كسوتهن بالمعروف ۔
بیویوں کا نفقہ اور لباس بھلائی کے ساتھ اس کے ذمہ ہے جس کےلئے اولاد ہے۔(ت)
اوراس کا یہ بیہودہ عذر کہ"عورت بے میرے حکم کے کیوں گئی"محض باطل و ناقابل سماعت ہے اگر وہ اس میں سچا بھی ہوتو عورت جب بے اجازت شوہر ناحق چلی جائے تو اس کا نان و نفقہ اسی مدت تك کالازم نہیں ہوتا جب تك وہ اس ناحق طور پر باہر رہے جب پھر شوہر کے گھر چلی آئے گی اسی وقت سے نان و نفقہ دینا شوہر پر فرض ہوجائے گادرمختارمیں ہے:
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق حتی تعود ولو بعد سفرہ ۔
بلاوجہ خاوند کے گھرسے باہر رہنے والی کے لئے نفقہ نہیں تاوقتیکہ وہ واپس نہ آجائے اگرچہ خاوند کے سفر پر جانے کے بعد ہی باہر رہی ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لوعادت الی بیت الزوج بعد ماسافر
یعنی اگر خاوند کے سفر پر جانے کے بعد بیوی خاوند کے گھر لوٹ آئے
حوالہ / References القرآن ٢/٢٣٣
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
#15072 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
خرجت عن کونھا ناشزۃ بحر عن الخلاصۃ ای فتستحق النفقۃ ۔
تو اس کی نافرمانی ختم ہوجائے گییہ بحرمیں خلاصہ سے منقول ہےیعنی اس وقت بیوی نفقہ کی حقدار ہوگی۔(ت)
تواس شخص نے کہ عورت کے واپس آنے کے بعد نان و نفقہ موقوف کردیا نراظلم کیاتو اس پر فرض ہے کہ اسی وقت سے جاری کردے۔رہا گزشتہ مدت کا نفقہاسکی دو صورتیں ہیںاگر پہلے آپس کی رضامندی یا قاضی کے حکم سے مقدار نفقہ مقرر ہوچکی تھی کہ مثلا مہینے میں اتنے روپے یا اس قدر اناج اور کپڑا دیا جائے گا اور اب بلاوجہ شرعی بند کردیا تو جب تك نہیں دیا ہے اس ساری مدت کا اسی قرار داد کے حساب سے عورت کو دلایا جائے گااور اگر عورت یونہی رہتی کھانا کھاتی کپڑا پہنتی تھی کچھ قرارداد باہمی یا بحکم قاضی نہ ہوا تھا کہ ماہواریا سالانہ یا ششماہی پر اتنا دیا جائے گا تو جتنے دنوں اس نے نہ دیا ظالم وگنہگار ہوا مگر عورت اس گزری مدت کا دعوی نہیں کرسکتی اب سے دعوی کرکے بحکم قاضی آئندہ کے لئے مقرر کرالےاس کے بعد اگر وہ نہ دے گا تو یہ جبرا بذریعہ نالش وصول کرسکتی ہےدرمختار میں ہے: النفقۃ لاتصیر دینا الابا لقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافاو دراہم فقبل ذلك لایلزمہ شیئ و بعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض ۔
عورت کا لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ صرف اس وقت ہوگا جب عورت نے وہ قرض قاضی کے حکم پر یا خود خاوند کے ساتھ مصالحت میں طے کرلیا ہو کہ فلاں جنس یا نقد اتنی مقدار ہوگیاس سے قبل لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ نہ ہوگااور بعد میں عورت کا لیا ہواقرضخواہ اپنے مال سے ہی قاضی کے حکم کے بغیر اس نے صرف کیا ہو تو خاوند سے وصول کرسکتی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لاتصیردینا ای اذالم ینفق علیھا بان غاب عنھا اوکان حاضرا فامتنع فلایطالب بھا بل تسقط بمضی
نفقہ قرض نہ بنے گا یعنی جب خاوند غائب رہا یا موجود رہا لیکن بیوی کو نفقہ نہ دیا ہو تو اس مدت کے نفقہ کا مطالبہ خاوند سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ مدت گزرجانے
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٦
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبا ئی دہلی ١/٢٧٠
#15073 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
المدۃ ۔
کی بناپر ساقط ہوجائے گا۔(ت)
اسی میں ہے:
الابالقضاء بان یفرضھا القاضی علیہ اصنافااودراھم اودنانیرنھر ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مگر یہ کہ جو نفقہ قاضی نے خاوند پر مقرر کیا ہو جنسدراہم یا دنانیر تو وہ خاوند کے ذمہ واجب الادا ہوگانہر واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا ایك لڑکا بالغ جس کی عمر تیس برس کے قریب ہے اور کمائی پر خوب قدرت رکھتا ہے اور پیشہ حجامی وغیرہ طرق سے تحصیل رزق کرسکتا ہے زید پر اپنے کھانے پہننے وغیرہ مصارف کابار ڈالتا ہے اور اسے اپنے مال میں تصرف سے مانع آتا ہےآیا اس صورت میں زید پر روٹی کپڑا اس کا واجب اور زید اپنے مال میں تصرف سے ممنوع ہے یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب
جبکہ وہ لڑکا بالغ اور کسب پر ہرطرح قادر تو اس کا روٹی کپڑا یاکوئی صرفہ زید پر واجب نہیں زید کو اختیار ہے اسے کچھ نہ دے اور زید اس لڑکے کے منع کرنے سے اپنی جائداد میں تصرف سے ممنوع نہیں ہوسکتا
فی الدرالمختار وکذاتجب لولدہ الکبیر العاجز عن الکسب کأنثی مطلقا و زمن ومن یلحقہ العار بالتکسب وطالب علم لایتفرغ لذلك کذافی الزیلعی والعینی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ یوں ہی بڑے بالغ بیٹے کا نفقہ لازم ہوگا جو کسب و محنت سے عاجز ہو جیسا کہ بیٹی کے لئے مطلقا اور اپاہج بیٹے کے لئے اور اولاد کے لئے جن کو محنت مزدوری کرنے میں عار ہواور اس طالبعلم کےلئے جو مزدوری فراغت نہ پائے زیلعی اور عینی میں یوں مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور اس کے بطن سے ایك لڑکی اب سات برس کی ہے اور ایك لڑکاکہ ابھی پانچ چھ مہینے کا ہے پیدا ہوئےاب زید نے اپنا اور
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العر بی بیروت ٢/٦٥٨
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العر بی بیروت ٢/٦٥٨
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣
#15074 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
نکاح کرلیا اور ہندہ کو جبرا نکال دیا کہ وہ مع دونوں بچوں کے اپنے باپ کے یہاں چلی آئیاب زید نہ اسے بلاتا ہے نہ اس کے بچوں کے کھانے پہننے کی خبر گیری کرتا ہےاس صورت میں ہندہ ودختر و پسر کا نان ونفقہ زید پر لازم ہے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
بیشك ہندہ کا نان نفقہ زید پر لازم ہے اور بچوں کا اپنا کوئی ذاتی مال نہ ہوتو ان کی خبرگیری بھی زید پر واجب ہے اگر شوہر نہ دے عورت حاکم کے یہاں رجوع کرکے اپنا اوراپنے بچوں کا نفقہ مقرر کراسکتی ہے
فی الدرالمختار النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولوھی فی بیت ابیھا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذاان طالبھا ولم تمنع ملخصا ۔
درمختار میں ہے:بیوی اگرچہ اپنے والد کے گھر ہو اور خاوند وہاں سے اپنے گھر منتقل ہونے کا مطالبہ نہ کرتا ہو یا مطالبہ کرتا ہو اور بیوی انکاری نہیں ہے تو خاوند پر نفقہ واجب ہوگااسی پر فتوی دیا جائیگاملخصا۔(ت)
اسی میں ہے:
تجب النفقۃ بانواعھالطفلہ الانثی و الجمع الفقیرفان نفقۃ الغنی فی مالہ ولو خاصمتہ الام فی نفقتھم فرضھا القاضی وامرہ بدفعھا للام مالم تثبت خیانتھا فیدفع لھا صباحا ومساء اویأمرمن ینفق علیھم ۔انتھتا ملخصین۔واﷲ تعالی اعلم۔
بیٹی اور فقیر عاجز لڑکوں کے لئے نفقہ واجب ہے کیونکہ غنی اولاد کا نفقہ اس کے اپنے ذاتی مال سے ہےاور اگر مذکورہ بچوں کے لئے ان کی ماں قاضی کی طرف سے مقرر کردہ نفقہ کو وصول کرنے میں اصرار کرے تو قاضی نفقہ مقرر کرکے خاوند کو ادائیگی کا حکم دیگا بشرطیکہ بچوں پر صرف کرنے میں ماں کی خیانت ثابت نہ ہو تو خاوند صبح و شام ماں کو ان کا خرچہ ادا کرے گا یا وہ کسی کو ان پر خرچ کرنے کےلئے کہے گادونوں عبارتیں ختم ہوئیں ملخص طور پرواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اپنے دیور کے ساتھ متہم ہوئی اس کے شوہرزیداور زید کے باپ نے اسے اپنے یہاں سے نکال دیاہندہ اب دو برس سے اپنے باپ کے یہاں ہے نہ تو زید اسے بلاتا ہے اور نہ روٹی کپڑا پہنچاتا ہے نہ طلاق دیتا ہےاس میں ہندہ کا روٹی کپڑا ذمہ زید کے واجب ہے یا نہیںاور زید اس صور ت میں گناہ گار ہے یانہیں
الجواب:
جبکہ ہندہ کا اپنے باپ کے یہاں رہنا اس بناء پر ہوکہ اسے زید اور زید
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣
#15075 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
کے باپ نے نکال دیا اور زید بلاتا بھی نہیں اور بلائے تو اسے جانے میں انکار بھی نہیں تو بیشك اس کا روٹی کپڑا زید کے ذمہ واجب ہے
فی الدرالمختار النفقۃ تجب للزوجۃ ولو ھی فی بیت ابیہا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذا اذاطالبھا ولم تمنع اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے:اگرچہ بیوی اپنے والد کے گھر ہو جب خاوند اپنے گھر منتقل ہونے کا مطالبہ نہ کرے تو خاوند پر اس کا نفقہ واجب ہوگااسی پر فتوی ہےاوریونہی اگر خاوند مطالبہ کرے لیکن بیوی انکار نہ کرے تو بھی واجب ہوگااھملخصا(ت)
اور اس تہمت کی وجہ سے اگرچہ وہ واقع میں صحیح ہی ہو نکاح زائل نہیں ہوتا
ففی الحدیث ان رجلا قال للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان امرأتی لاتردیدلامس قال ففارقھا قال انی احبھا قال فامسکھا ۔اوکما قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم .وفی الدرالمختار وغیرہ لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ اھ فکان ذلك نصافی بقاء النکاح۔
حدیث شریف میں ہے:ایك شخص نے حضور علیہ والصلوہ والسلام سے عرض کی کہ میری بیوی چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتیتوآپ نے فرمایا اس کو علیحدہ کردے۔تواس شخص نے عرض کی مجھے اس سے محبت ہےتو آپ نے فرمایا:پھر اسے پاس رکھ یا جیسے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہےاور درمختار وغیرہ میں ہے کہ خاوند پر فاجرہ بیوی کو طلاق دینا لازم نہیں ہے اھتو یہ عبارت نکاح کے باقی رہنے میں نص ہے(ت)
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
سنن ابی داؤد کتاب النکاح آفتاب عالم پریس لاہور ١/٢٨٠،سنن النسائی کتاب النکاح تزویج الزانیۃ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ٢/٧١،سنن النسائی کتاب الطلاق باب ماجاء فی الخلع نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ٢/١٠٧،ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٢٩٢
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩٠
#15076 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
جاہلوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت اگر معاذاﷲ بدوصفی کرے تو نکاح جاتا رہتا ہے محض غلط بات ہےاور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں زید پر فرض ہے کہ یا تو اسے طلاق دے دے یا اس کے نان نفقہ کی خبر گیری کرے ورنہ یوں معلق رکھنے میں زید بیشك گنہگار ہے اور صریح حکم قرآن کا خلاف کرنے والا
فلا تمیلوا كل المیل فتذروها كالمعلقة ۔واﷲ تعالی اعلم۔
اور کلی میلان نہ ہو کہ بیوی کو معلق کر چھوڑوواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ : از شاہجہان پور مرسلہ مہر بان علی صاحب شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت بے اجازت شوہر زید کے اپنے بھائیوں کے گھر چلی گئیجب زید اپنی نوکری سے آیا عورت کو نہ پایااس صورت میں نکاح و مہر باقی رہا یا نہیں بعد ایك عرصہ کے زید حسب مصلحت اور پاس اپنی حرمت کے زید نے کچھ خرچ نان و نفقہ کا مسماۃ مذکورہ کا مقرر کردیا تھا کہ خواہ زوجہ میرے مکان میں رہے یااپنے بھائی کے پاس رہے دیا جائے گااب بموجب شرع شریف کے وہ نان ونفقہ حسب وجوہ مندرجہ بالاذمہ زید کے واجب الادا رہا یانہیںفقط۔
الجواب
نکاح ومہر بدستور قائم رہےہاں بے اجازت شوہر چلے جانے کے باعث نفقہ ساقط ہوگیاسائل مظہر کہ زید بلاتا ہے اور وہ نہیں آتی تو اب تك وہ نان نفقہ کی اصلا مستحق نہیں جب تك شوہر کے گھر میں نہ آئےدرمختار میں ہے:
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعودوتسقط بہ المفروضۃ (ملخصا)۔
بلاوجہ خاوند کے گھر سے باہر رہنے والی نافرمان ہے تاوقتیکہ واپس اس کے گھر نہ آئے اس کے لئے نفقہ نہیں ہے خواہ نفقہ قاضی کی طرف سے ہی کیوں نہ مقرر ہو۔(ت)
گھربیٹھے کا جو نفقہ زید نے مقرر کردیا اول تو وہ نفقہ واجب نہ تھا فان النفقۃ جزاء الاحتباس(کیونکہ نفقہ بیوی کے پابند ہونے کا صلہ ہے۔ت)بلکہ صرف ایك احسانی وعدہ تھا اور وعدہ پر جبر نہیں کمافی العالمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)معہذاجب اس نے بلایا اور وہ نہ آئی وہ بھی ساقط ہوگیا کما من الدرالمختار(جیسا کہ درمختار سے معلوم ہواہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ٤ /١٢٩
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی ١/٢٦٧
#15077 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ: محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ سے نکاح کرکے قبل رخصت نوکری پر چلاگیابارہا والدین ہندہ نے رخصت کو کہاچار برس کے بعد رخصت کراکراپنے گھر لے گیاہندہ بیمار تھی دو ایك دن کے بعد پھر والدین کے یہاں واپس آکر ایك ماہ بعد فوت ہوگئینفقہ اس چار سال کا اور جو خرچ دو اوعلاج وتجہیز و تکفین میں والدین نے کیا شوہر پر واجب ہے یانہیںجہیز شوہر کو ملے گا یا ماں باپ کوبینواتوجروا
الجواب:
نفقہ وخرچ دواوعلاج کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتادرمختار میں ہے:
لاتصیردیناالابالقضاء اوالرضاء وبموت احدھما وطلاقھا یسقط المفروض لانھا صلۃ الااذااستدانت بامرالقاضی ۔
نفقہ خاوند کے ذمہ قرض نہیں بنتا تاوقتیکہ قاضی کا مقرر کردہ یا باہمی رضامندی سے طے کردہ نہ ہواور خاوند بیوی دونوں میں سے ایك کی موت یا طلاق سے نفقہ ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ یہ صلہ کے طور پر لازم ہوتاہےہاں اگر قاضی کے حکم پر بیوی نے قرض لے رکھا ہو تو پھر خاوند کو اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
علیہ ماتقطع بہ الصنان لاالدواء للمرض ولااجرۃ الطبیب ولاالفصاد ولاالحجام ۔
خاوند پر بدن کی حفاظت والی چیز لازم ہے۔مرض کیلئے دواطبیب کی اجرتفصد یا سنگی لگانے کی اجرت لازم نہیں ہے۔(ت)
یونہی خرچ تجہیز وتکفین بھی مجرا نہ ملے گا جبکہ والدین خواہ کسی نے بے اذن شوہر بطور خود کیا
فی اواخر وصایا ردالمحتار عن حاشیۃ الفصولین للرملی الزوجۃ اذاصرفہ من مالہ غیرالزوج بلااذانہ اواذن القاضی فھو متبرع کالاجنبی ۔
ردالمحتار میں وصایا کی بحث کے آخر میں فصولین پر رملی کے حاشیہ سے منقول ہے کہ اگرکسی نے خاوند یا قاضی کی اجازت کے بغیر اس کی بیوی کو کفن دیا تو یہ خرچہ صرف کرنے والے کی طرف سے مفت ہوگا جیسا کہ کوئی اجنبی اپنی طرف سے مفت خرچ کردے (ت)
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٠
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤۹
ردالمحتار فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ٥/٤٥٩
#15078 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
جہیز ملك و ترکہ ہندہ ہے برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر و تقدیم دین ووصیت چھ سہام ہو کر تین سہم شوہردو سہم پدرایك مادر کوملے گا۔اسی حساب سے مہر ہندہ اگر باقی ہوتقسیم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: جمادی الاولیھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو سے کیا اور پیش از نکاح ایك اقرار نامہ زید نے عمرو سے لکھوایا کہ میں بے رضامندی زوجہ کے اسے کہیں نہیں لیجا سکتا ہوں اور خود میں وہیں یعنی زوجہ کے مکان پر رہوں گا اور درصورت وعدہ خلافی میں نان نفقہ دوں گابعدہ نکاح ہوا اور مہر ڈھائی سو روپے کا بندھا جس میں کوئی شرط پیشگی دینے یا کسی میعاد کے قرار نہ پائیاب عمرو اپنے خسر کے یہاں شب کو رہنا چاہتا ہے تو اس کا خسر اور خود زوجہ اسے گوارہ نہیں کرتےعمرو کا مکان اسی شہر میں ہے وہ چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائےاس صورت میں اسے اس امر کا اختیار ہے یانہیںاور اگر زید نہ لے جانے دے اور ہندہ نہ جائے تومستحق نان نفقہ کی ہوگی یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
بیشك صورت مستفسرہ میں زید کواختیار ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جاکر رکھےزوجہ اوراس کے باپ کا بلاوجہ شرعی روکنا محض ظلم ہےاور زوجہ نہ جائے گی تونان نفقہ کی مستحق نہ ہوگی
لانھا ناشزۃ لامتناعھا بغیر حق وانما النفقۃ جزاء الاحتباس فاذلااحتباس لانفقۃ کما صرحوابہ قاطبۃ۔
کیونکہ وہ نافرمان ہے اس لئے کہ وہ بلاوجہ مانع بنی ہوئی ہے جبکہ نفقہ خاوند کے حق میں پابند ہونے کا عوض ہے تو جہاں پابندی نہیں وہاں نفقہ نہیں ہوگا جیسا کہ سب نے اس کی تصریح کی ہے(ت)
عمرو کا اقرار نامہ لکھ دینا کہ در صورت وعدہ خلافی نان نفقۃ دوں گا کوئی چیز نہیں
فان شرط اﷲ احقومن اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہوان شرط مائۃ مرۃ کماقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الحدیث الصحیحواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اﷲ تعالی کے حکم کے موافق شرط مقبول ہے اور جس نے اﷲ تعالی کے حکم کے خلاف کوئی شرط لگائی تو وہ ناحق ہے اگرچہ ہزار بار شرط لگائےجیسا کہ صحیح حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب بیان ان الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٤٩٤
#15079 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ: ذی الحجہ ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ ہرگاہ بازیدپدر ہندہ گفت دخترم را شادی بکن زید گفت من فی الحال شادی نتوانستم چرا کہ طالب علم ہستم و حصول علم را مدتے معلوم نیست کہ بچند سال بدست آید و قدرت نان و نفقہ اندریں مدت ندارم و پدر ہندہ دریں حالت اضطراری اوبہ پیش چند مرد ماں ایں ہمہ شرا ئط مذکورہ برذمہ خود قبول کردہ وراضی شدہ دختر او بازید نکاح کنانیدہ برائے تحصیل علوم اجازت دادپس بعد از چند سال قبل از تحصیل علوم ازونان ونفقہ طلب کردوبریں تقدیر نان ونفقہ وغیرہ دادن بروے واجب خواہد شد یانہ واز ہندہ اگر بامرد اجنبی ازیں مدت حرام کاری وغیرہ صادر گردد در نکاح زید ثابت ماند یا نہ وبرہندہ شرعا چہ حکم دادہ شود و شوہر ہندہ ازبدفعلی او بری کردد یانہ واگر ہندہ مہر خود عندالرضا ساقط گردد بعد ازاں عندالنزاع می گوید کہ مہرم رازوساقط نکردہ ام دعوے مہر اوبرزید شرعا ثابت گردد یا نہ۔بینواتوجروا۔
علمائے کرام(رحمکم اﷲ تعالی)آپ کی کیارائے ہےکیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے باپ نے زید کو کہا کہ میری بیٹی سے شادی کرلوزید نے کہا کہ میں فی الحال شادی نہیں کرسکتا کیونکہ میں طالبعلم ہوں اور حصول علم میں نہ معلوم کتنی مدت صرف ہومجھے اس مدت میں بیوی کے نان ونفقہ پر قدرت نہ ہوگیتو اس پر ہندہ کے والد نے چند لوگوں کی موجودگی میں زید کی اس مجبوری کے حالت کی تمام ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی اور رضامندی کے ساتھ زید سے اپنی لڑکی کانکاح کردیا اور زید کو تحصیل علم کے لئے اجازت دے دیاور اس کے چند سال بعد زید کی طلب علمی کے دوران تحصیل علم سے پہلےہندہ کے والد نے زید سے نان ونفقہ کامطالبہ کردیاتو کیا اس صورت میں زید کو بیوی کانان و نفقہ دینا واجب ہوگا یانہیںا ور اس دوران اگر ہندہ کسی غیر مرد سے بدکاری کرے تو کیا وہ زید کے نکاح میں باقی رہے گی یانہیں اور ہندہ پر کیا حکم شرعی ہوگا اور زید اپنی بیوی کی اس بدفعلی سے بری قرار پائے گا یانہیںاور اگر ہندہ رضامندی سے اپنا مہر معاف کردے اور بعد مخالفت ہوجانے پر کہے کہ میں نے اس کو مہر معاف نہیں کیا تو کیا اب زید پر شرعا مہر کا دعوی کرسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
درصورت مستفسرہ اگر از جانب زن تسلیم نفس واقع شد وخویشتن رااز شوہر بناواجبی باز نداشت نفقہ اوبرذمہ شوہر لازم شد وآں کہ پدر زن پیش از نکاح آں شرائط برذمہ خود قبول کرداگر
مسئولہ صورت میں اگر بیوی نے اپنے آپ کو زید کے سپرد کردیا اور بلاوجہ رکاوٹ نہ کی ہوتو خاوند کے ذمہ اس کا نفقہ واجب ہوگا اور بیوی کے والد کا نکاح سے پہلے اس کی ذمہ داریوں کو اپنے ذمہ لینا اگر
#15080 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
معنیش اینست کہ اوبنا دادن نفقہ راضی شد و پیمان داد کہ تامدت تحصیل علم زن از تو نان و نفقہ نخواہد ایں رضاوپیمان خود چیزے نیست اگرچہ حسب اجازت زن بالغہ شدہ باشد زیرا کہ اسقاط دین پیش از وجوب معنی ندارد خاصۃ نفقہ کہ روزانہ
شیأ فشیأ واجب می شود فی الدرالمختار الابراء قبل الفرض باطل و بعدہ یصح مما مضی ومن شھر مستقبل حتی لوشرط فی العقد ان النفقۃ تکون من غیر تقدیر والکسوۃ کسوۃ الشتاء والصیف لم یلزم فلھا بعد ذلك طلب التقدیر فیھما الخوفی رد المحتار عن الفتح فھو اسقاط للشیئی قبل وجوبہ فلا یجوز
واگر مراد آنست کہ از جانب شوہر ایں دین را کفیل شدہ برذمہ خود گرفت اگرمقصود برأت شوہر ست کما ھو ظاہر الکلام ایں حوالت باشد فان الکفالۃ بشرط برائۃ الاصیل حوالہ وحوالہ نقل دین ست
اس کا مطلب یہ تھا کہ اس دوران نفقہ نہ دینے پر راضی ہے اور عہد کرتا ہے کہ تحصیل علم کے دوران بیوی تجھ سے نان ونفقہ طلب نہ کرے گی تو والد کا یہ عہد و پیمان اور رضامندی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اگرچہ بالغ بیوی کی رضامندی سے یہ معاہدہ کیا ہو کیونکہ واجب ہونے سے پہلے دین کو ساقط کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے خصوصا نفقہ کا معاملہ جو کہ روزانہ تھوڑاتھوڑا واجب ہوتا ہے۔درمختار میں ہے کہمقرر ہونے سے قبل بری(ساقط)کرنا باطل ہے جبکہ مقرر ہوجانے کے بعد گزشتہ یا آئندہ ماہ کے نفقہ کو ساقط کرنا صحیح ہےحتی کہ اگر نکاح میں یہ شرط رکھی کہ نفقہ کا تقرر نہ ہوگا اور لباس سردی اور گرمی میں ایك ہوگا تو اس شرط کا کوئی اعتبار نہ ہوگا لہذابیوی نکاح کے بعد نفقہ اور لباس کے تقرر کا مطالبہ کرسکے گی الخ۔اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کیونکہ یہ وجوب سے قبل کسی چیز کو ساقط کرنا ہے لہذا جائزنہ ہوگااور اگر والد کے اس عہد ورضا کا مطلب یہ تھا کہ بیوی کے نان ونفقہ کا خاوند کی بجائے میں خود کفیل ہوں گا اور میں ذمہ دارہوں گا تو اس سے مقصد خاوند کو ذمہ سے بری کرناہے جیسا کہ ظاہر ہے تو یہ عقد حوالہ ہو گا کیونکہ اصل کوبری کرنے کی شرط سے کفالت تبدیل ہو کر حوالہ بن جاتی ہے جبکہ حوالہ کا معنی یہ ہے کہ
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٣
#15081 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
کمافی التنویر وھوالصحیح کمافی الھندیۃ عن النھر آنچناں کہ دین خود معدوم ست نقل راچہ معنی فی الدرالمختار تصح فی الدین المعلوم الخفی رد المحتار الشر ط کون الدین للمحتال علی المحیل الخ وفیہ لاتصح ھذہ الحوالۃ مع جہالۃالمال الخ وفیہ لاتصح ھذہ الحوالۃ لان کلامن الغازی والمستحق لم یثبت لہ دین فی ذمۃ الامام والناظر الخ واگر براءت شوہر منظور نیست کفالت اگرچہ صحیح شد کما فی الھندیۃ من فصل النکاح ضمان المھر من صحۃ الضمان بالمھر عند الخطبۃ قبل النکاح فراجعھا ان شئت وھوالموافق للمفتی بہ من قول الامام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی ان الکفالۃ بالنفقۃ المستقبلۃ تصح وان لم تجب بعد کما او ضحہ فی
کسی کو قرض سے بری کرکے اپنے ذمے لے لیناجیسا کہ تنویرالابصار میں ہےاس کو ہندیہ میں نہر سے نقل کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہےتو اس صورت میں ابھی قرض معدوم ہے تو اس کو نقل کرکے دوسرے کے ذمہ کیسے کیا جاسکتا ہے
درمختار میں ہے کہحوالہمعلوم قرض میں صحیح ہوتا ہے الخردالمحتار میں ہے کہحوالہ میں یہ شرط ہے کہ قرضخواہ کا اصیل پر قرض ثابت ہو الخاور اس میں یہ بھی کہےکہمال مجہول ہونے پر حوالہ صحیح نہ ہوگاالخاور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہغازی اور دیگر مستحق شخص کے وظیفہ کا حوالہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ یہ وظیفہ حاکم اور نگران کے ذمہ ان کے لئے ثابت شدہ نہیں ہے الخاور اگر والد کے اس عہد ورضا سے خاوند کو نفقہ سے بری قرار دینا نہیں تھا تو یہ کفالت صحیح ہوگی(اور خاوند بری الذمہ نہ ہوگا)کیونکہ ہندیہ میں ہے"مہر کی ضمانت پر نکاح کی فصل"میں ہے کہنکاح سے قبل مہر کی ضمانت صحیح ہےاگر آپ چاہیں تو ہندیہ کی طرف رجوع کریںاور یہ ہندیہ کابیان امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے مفتی بہ قول کے موافق ہے کہ مستقبل کے نفقہ کی کفالت صحیح ہے اگرچہ یہ نفقہ ابھی واجب نہیں ہواجیسا کہ اس بات کو ردالمحتار میں واضح کیا ہے
حوالہ / References درمختار کتاب الحوالۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢/٦٩
ردالمحتار کتاب الحوالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٩٠
ردالمحتار کتاب الحوالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٩٠
ردالمحتار کتاب الحوالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٩١
#15082 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ردالمحتار اماکفالت موجب براءت ذمہ شوہر نباشدپس بہر حال نفقہ برشوہر بشرائطہالازم ستآرے اگر بتراضی یا قضائے قاضی نفقہ رافرضے و تقدیرے میان نیامد مثلا ماہانہ ایں قدر زریا ایں مقدار طعام و پارچہ آں گاہ ہر قدر مدت کے بے ادائے نفقہ گزشت نفقہ اوساقط گشت مطالبہ اش نتواں کرد آئندہ راطلب فرض وتقدیر کند تا دین شود وبرمطالبہ دست یا بد
فی الدرالمختار النفقۃ لاتصیردینا الا بالقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافا اودراھم فقبل ذلك لایلزمہ شیئوبعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض وفی ردالمحتار لایلزمہ عما مضی قبل الفرض بالقضاء اوالرضاء ولا عما یستقبل لانہ لم یجب بعد
زن اگر شوئے خودرا از مہر ابرائے شرعی بلا اکراہ کرد مہر از ذمہ شوہر ساقط شد اگرچہ ایں معنی در خلوت محضہ
(لہذا والد کی کفالت خاوند(زید)کی نفقہ سے براءت کو واجب نہیں کرتی)پس ہر حال میں خاوند پر نفقہ اپنی شرائط کے مطابق واجب ہوگا۔ہاں اگر باہمی رضامندی یا قاضی کے فیصلہ سے ابھی نفقہ کی مقدار متعین نہیں ہوئی تھیمثلا ماہانہ اس قدر نقد یا خوراك کی یہ مقدار اور فلاں وقت پر لباس طے نہیں ہوا تھا اور کچھ مدت نفقہ دئے بغیر گزرگئی ہوتو گزشتہ مدت کا نفقہ ساقط ہوجائے گا بیوی کو اس کے مطالبہ کا حق نہ ہوگااور آئندہ کےلئے مقدار متعین کرانے کا اس کو حق ہوگا تاکہ خاوند کے ذمہ قرض بن سکے اور مطالبہ پر اسے حاصل کرسکے درمختار میں ہے کہنفقہ خاوند کے ذمہ قرض نہیں بنتا تاوقتیکہ قاضی نے یا باہمی رضامندی سے طے نہ کرلیا گیا ہومثلا یوں کہ اتنی مقدار جنس یا نقد مقرر کرلیا گیا ہوتو اس فیصلہ سے قبل کا نفقہ واجب الادا نہ ہوگا اور اس کے بعد والے نفقہ میں جو بیوی نے قرض لے کر یا خود اپنے مال سے قاضی کے حکم کے بغیر جو خرچ کیا ہوتو وہ خاوند سے وصول کرسکتی ہے الخ ردالمحتار میں ہے:قاضی یا باہمی رضامندی سے قبل کا گزشتہ نفقہ خاوند پر واجب الادانہ ہوگا(البتہ طے کرنے کے بعد کا واجب الادا ہوگا)اورآئندہ مستقبل کا نفقہ بھی واجب الادا نہ ہوگا کیونکہ وہ ابھی واجب نہیں ہوابیوی نے اگر شرعی طور پر اپنی رضامندی سے بلا جبر واکراہ خاوند کو مہر سے بری کردیا ہوتو وہ مہر
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الکفالہ داراحیاء التراث العربی بیرت ٤/٢٦٣
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٠
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العر بی بیروت ٢/٦٥٨
#15083 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
روئے داد فامانزد قاضی بے اقرار زن یا بینہ عادلہ رنگ ثبوت نیابد اگر خدا ناترسی کردہ بعد ابرأبد عوے پر داز قاضی بر ذمہ شوہر ثابت سازد و معاملہ باطنی ایشاں بمحکمہ قاضی حقیقی عالم الغیب والشہادۃ جل جلالہ پردہ از روئے حقیقت اندازد فالقاضی انما یقضی بالظاھر واﷲ سبحانہ یتولی السرائر آرے جائیکہ تعجیل و تأجیل مہر بہ بیان نیامدہ باشد چناں کہ غالب مہور ایں دیار ہمچناں مے باشد آنجا بنائے کاربر عرف دیارست وعرف عام وشائع ایں بلادبلکہ د یگر ممالك ھم ہمین ست کہ بہمچو صورت مہر نزد افتراق بموت یاطلاق حال مے شود پس پیش ازاں مطالبہ زن مسموعی ندارد کما بیناہ فی فتاونا مرارازنائےزناں موجب بطلان نکاح آناں نیست قال تعالی بیده عقدة النكاح تاآنکہ اگر باپدر یا پسر شوہر ایں چنیں وقاحت روئے دہد ہم نکاح باطل نشود اگرچہ زن حرام ابدی گردد و متارکہ فی الفور فرض شودفی الدرالمختار بحرمۃ المصاھرۃ
خاوندسے ساقط ہوجائے گا اگرچہ بیوی نے اپنی خلوت میں معاف کیا ہولیکن قاضی کے ہاں بیوی کے اقرار یا شہادت کے بغیربراءت ثابت نہ ہوگیاگر بیوی خداترسی نہ کرتے ہوئے معاف کرنے کے بعد قاضی کے ہاں مہر کا دعوی کردے تو قاضی خاوند کے ذمہ مہر کی ادائیگی لازم کردے گا۔تاہم دونوں کا یہ باطنی معاملہاﷲتعالی جو کہ حقیقی قاضی عالم الغیب والشہادۃہے کے دربار میں پیش ہوگا اورحقیقی فیصلہ پائے گاقاضی تو ظاہر پر فیصلہ دیتا ہے باطنی امور تو اﷲ تعالی کے سپرد ہیںہاں اگر مہر کے معجل ہونے یا مؤجل کا فیصلہ نہ ہواہو جیسا کہ عام طور پر اس علاقے میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں معاملہ علاقہ کے عرف پر ہوگاجبکہ اس علاقے بلکہ دیگر ممالك میں بھی یہی ہے کہ میاں یا بیوی کی موت یا طلاق کے وقت جو بھی مہر ہو وہ ادا کیا جاتا ہے اور اس سے قبل عورت کے مطالبہ کو قابل توجہ نہیں سمجھا جاتاجیسا کہ ہم نے کئی مرتبہ اپنے فتاوی میں بیان کیاہے بیوی کے زنا سے نکاح باطل نہیں ہوتااﷲ تعالی نے فرمایا:بیدہ عقدۃ النکاح(نکاح کی گرہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے)یہی وجہ ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کے باپ یا بیٹے سے بدفعلی کرے تو بھی نکاح باطل نہیں ہوتا اگرچہ بیوی ہمیشہ کے لئے خاوند پر حرام ہوجاتی ہےاور فوری طور پر دونوں میں متارکہ فرض ہوجا تاہے۔درمختارمیں ہے کہحرمت مصاہرہ
#15084 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخر الا بعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطی بھا لایکون زنا
بہر حال زن بقدر جرم خودش مستحق حد یا تعزیر شود شوئے اگر در حفظ ومنعش از قدر واجب تقصیر نہ کرد وبریں کار راضی نشد ہیچ وبال برونیست و لا تزر وازرة وزر اخرى واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کے ساتھ نکاح باطل نہیں ہوتا حتی کہ دوسرے شخص سے اس بیوی کا نکاح حلال نہیں ہوگا تاوقتیکہ متارکہ کے بعد عدت نہ گزرجائےاور متارکہ سے قبل اگر خاوند وطی کرلے تو زنا کا حکم نہ لگے گابہر حال بیوی اپنے جرم کی خود ذمہ دار ہے اس پر حد لگے گی یا تعزیر ہوگیخاوند نے اگر حفاظت و نگرانی میں کوتاہی نہ کی ہو اور وہ اس کے اس فعل سے راضی نہ ہو تو اس پر کوئی وبال نہیں ہوگااﷲ تعالی نے فرمایا:ایك کا بوجھ دوسرے پر نہ ہوگا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: ۲۲ربیع الاول شریف ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید صاحب جائداد ہے اس نے عرصہ بیس سال سے اپنی زوجہ ہندہ کو بسبب ڈال لینے دوسرے عورت کے تکرار کے بلا قصور شرعی گھر سے نکال دیا وہ اپنے باپ خالد کے مکان پرچلی آئی اس کا باپ متکفل رہا اس وجہ سے اس کو نان و نفقہ حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہوئی چونکہ اب خالد کا انتقال ہوگیا لہذا اس کو نان ونفقہ حاصل کرنے کی ضرورت ہےاس مدت بیس سال میں زید ہندہ کو اتفاق یکجائی نہ ہوا یہ امرمانع نان ونفقہ تونہ ہوگا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
بیس سال گزشتہ کا نفقہ تو ہر طرح ساقط ہی ہوگیاآئندہ کے لئے جبکہ اس کا نکلنا اپنی خوشی سے نہ تھا بلکہ شوہر نے نکال دیا یہ دیکھا جائے گا کہ عورت کا اپنے باپ کے گھر رہنا شوہر ہی کے جبر سے ہے کہ وہ بلائے تو اسے جانے سے انکار نہ ہو تو وہ خود ہی نہیں بلاتا اس کا آنا نہیں چاہتا جب تو نفقہ کی مستحق ہے اور اگر یہی جانا نہیں چاہتیوہ بلاتا ہے اور یہ نہیں جاتی تو استحقاق نہیں
فی الدرالمختار تجب للزوجۃ ولو ھی فی بیت ابیھا اذا لم یطالبھا الزوج بالنقلۃ وبہ یفتی
درمختار میں ہے:بیوی اگر اپنے والد کے گھر ہواور خاوند اپنے گھر منتقل ہونے کا مطالبہ نہ کرے تو بیوی کے لئے نفقہ واجب ہوگااسی پر فتوی دیا جائیگا
حوالہ / References درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٨
#15085 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
وکذااذاطالبھا ولم تمتنع او مرضت وفی منزلھا بقیت ولنفسھا ما منعت وعلیہ الفتوی اھ ملتقطاوفی الھندیۃ عن البدائع لھا النفقۃ بعد النقلۃ وقبلھا ایضا اذا طلبت النفقۃ فلم ینقلھا الزوج وھی لاتمنع من النقلۃ لوطالبھا الزوج وانکانت تمنع فلانفقۃ لھا کالصحیحۃ قلت والشرط عدم منعھا لاوجود طلبھا کما حققنافیما علقناہ علی ردالمحتار وھو المصرح فی الفتح عن الخلاصۃ عن الجامع الکبیر والیہ اخر کلام البدائع ایضا یشیر۔واﷲ تعالی اعلم۔
اور یونہی اگر وہ منتقل ہونے کا مطالبہ کرے اور بیوی انکار نہ کرے یا بیوی اس وقت بیمار ہو اور اپنے گھر میں اور اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کرنے سے مانع نہ ہو تو بیوی کا نفقہ واجب ہےاسی پر فتوی ہے اھ ملتقطا۔ اور ہندیہ میں بدائع سے منقول ہے بیوی کیلئے نفقہ واجب ہوگا جب وہ خاوند کے ہاں منتقل ہوجائےیا قبل منتقل ہونے کے جب عورت نفقہ کا مطالبہ کرے تو خاوند اسے منتقل نہ کرے حالانکہ بیوی منتقل ہونے سے انکارینہ اگر خاوند اسے منتقل کرنا چاہےاور اگر وہ منتقل ہونے سے انکار کرے تو پھر اس کےلئے نفقہ نہیں جیسا کہ صحت مند ہونے کے باوجود منع کرنے پر نفقہ نہیں ہے قلت(میں کہتا ہوں)شرط یہ ہے کہ عورت انکاری نہ ہو خاوند کا مطالبہ کرنا شرط نہیںجیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور یہی فتح میں خلاصہ سے بحوالہ جامع کبیر منقول ہےاور بدائع کا آخری کلام بھی یہی اشارہ دیتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ:ازمنڈی ہلدوانی ضلع نینی تال سر رشتہ ڈپٹی کمشنری مرسلہ منشی علی الدین احمد رمضان المبارك ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عورت ہندہ زید سے سخت دشمنی رکھتی ہےایك دفعہ زید کے غیبت میں اناج بیچازید نے بہت تھوڑا سامارا کنویں میں کود پڑیغیرمردوں نے نکالاباریك کپڑے جوان عمرپانی میں بھیگ کر بے ستری ہوئیکنویں سے نکل کر بولی بازار اور سراء میں بیٹھوں گی مگر زید کے گھر نہ جاؤں گیاس پر وہ غیر آدمی اپنے گھر لے گئے جب زید نوکری سے آیا وہاں سے سوار ہوکر ہندہ کے ماں باپ کے یہاں بھیج دیاوہاں سے پھر آئی اور یہ عادت رکھی کہ ذراسی تکرار پر دن دوپہر کو سر بازار پیادہ پا آدھ آدھ میل تك کسی کے مکان زیدکو زك دینے اور بدنام کرنے کے لئے چلی جاتی ہےزید کے لڑکے بالغ ہوگئے ہیں وہ ہر طرح اپنی ماں کے ساتھ ہیں اس سے مل کر زید کا مقابببلہ کرتے ہیں کاٹنے اور داڑی پکڑنے تك نوبت پہنچ گئی ہے
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
فتاوی ہندیہ الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٤٦
#15086 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
اور کہتے ہیں تمہارے پاس مسالہ ہی کیا ہے جس پر مزاج دکھاتے ہو تم سے زائد تو اب ہمارے پاس ہےہندہ کو اپنے شوہر کے پاس آنے سے بھی عذر اور حیلہ اور انکار ہمیشہ رکھتی ہےایك قاعدہ یہ بھی مقرر کیا ہے کہ بغیر اطلاع زید کے کسی لڑکے کو ساتھ لے کر زید کے یہاں آجاتی ہے اور چار پانچ مہینے رہ کر کل نقد و جنس اپنے قبضے میں کر کے جب زید اپنی نوکری پر الہ آباد جاتا ہے ہندہ اور لڑکا اپنے ماں کے یہاں لکھنؤ چلے آتے ہیں اس مال کاپھر کبھی پتہ نہیں چلتا اس صورت میں لڑکوں کے حق حقوق اور ہندہ کے نان ونفقہ اور مہر کی نسبت از روئے شرع شریف کیا حکم فرماتے ہیںبینواتوجروا۔
الجواب
لڑکے جبکہ جوان اور خودمالدار ہیں تو ان کا کوئی حق ذمہ زید باقی نہیں خصوصا ایسی حالت میں کہ وہ اس قدر موذی وعاق ہیں والعیاذ باﷲ رب العلمین ایسے لڑکوں اور عورت کےلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب شدید وغضب عظیم کا استحقاق ہےعورت جبکہ اس کے یہاں آنے سے ہمیشہ عذر وانکار رکھتی ہے اور جب کبھی آناہوتا ہے وہ اس لئے نہیں کہ شوہر کی قیدی بن کر رہے بلکہ خودمختارا نہ بالجبر آنا اس غرض فاسدسے ہوتا ہے کہ اندوختہ لوٹ کر لے جائے جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر تو ایسی صورت میں یہ عورت صریح ناشزہ ہے اس کانان و نفقہ اصلا زید کے ذمہ نہیںدرمختار میں ہے:
النفقۃ جزاء الاجتناس وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ تلزمہ نفقتہ ۔
نفقہ بیوی کے پابند ہونے کا معاوضہ ہے اور جو دوسرے کے حق میں محبوس ہوتو اس کا نفقہ پر لازم ہوتا ہے۔(ت)
البتہ مہران حرکات سے ساقط نہیں ہوتا اور اس کی کوئی میعاد ادا مقرر نہ ہوئی تھی تو حسب عرف بلاد بعد موت یا طلاق ادا کرنا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازریاست رام پور بزریا ملا ظریف گھیر عبدالرحمن خاں مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خاں محرم ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص شرارت سے نہ تو اپنی زوجہ کو اپنے پاس بلاتا ہے نہ طلاق دیتا ہے بلکہ کہتا ہے کہ تجھ کو معلقہ رکھوں گااب اس صورت میں وہ بیچاری حاکم عدالت سے فریاد کرکے طلاق لے سکتی ہے یانہیںبینوا توجروا۔
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
#15089 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
الجواب
قال اﷲ سبحانہ وتعالی فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۔
وقال تعالی فامساك بمعروف او تسریح باحسان ۔
وقال تعالی و عاشروهن بالمعروف ۔
وقال تعالی اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن ۔
وقال تعالی فلا تمیلوا كل المیل فتذروها كالمعلقة ۔ (اﷲ سبحانہ وتعالی نے فرمایا:)عورتوں کویاتو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو۔
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)یا بھلائی کے ساتھ رکھنا یا نکوئی کے ساتھ چھوڑدینا۔
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)عورتوں سے اچھے برتاؤ کے ساتھ زندگانی کرو۔
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھواپنے مقدور کے قابل اور انہیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)پورے ایك طرف نہ جھك جاؤ کہ عورتوں کو یوں چھوڑکر جیسی ادھر میں لٹکتی۔
بالجملہ عورت کو نان ونفقہ بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہواور اسے معلقہ کردینا حراماور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تك ترك جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائزاور بعد نکاح ایك بار جماع تو بالاجماع بالاتفاق حق زن ہے کہ اسے بھی ادا نہ کرسکے تو عورت کے دعوی پر قاضی مرد کو سال بھر کی مہلت دے گا اگر اس میں بھی جماع نہ ہوتو بطلب زن تفریق کردے گامگر ایك بار کے بعد پھر جبری تفریق کا قاضی کو اختیار نہیںنہ ہمارے نزدیك نفقہ نہ دینے پر تفریق ہوسکتی ہےہاں قاضی اعانت ضعفاء و مدد مظلومین کے لئے مقرر ہوا ہےتو اس پر لازم کہ جس طرح ممکن ہودفع ظلم کرےردالمحتار میں ہے:
قال فی الفتح اعلم ان ترك جماعھا
فتح القدیر میں فرمایا:واضح ہوکہ بیوی سے جماع مطلقا
#15092 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مطلقا لایحل لہ صرح اصحابنا بان جماعھا احیانا واجب دیانۃ لکن لایدخل تحت القضاء والالزام الاالوطأۃ الاولی ولم یقدروافیہ مدۃویجب ان لایبلغ بہ مدۃ الایلاء الا برضاھا وطیب نفسھا بہ اھ ویسقط حقھا بمرۃ فی القضاء ای لانہ لولم یصبھا مرۃ یؤجلہ القاضی سنۃ ثم یفسخ العقد امالواصابھا مرۃ واحدۃ لم یتعرض لہ لانہ علم انہ غیرعنین وقت العقد بل یأمرہ بالزیادۃ احیانا لو جوبھا علیہ الالعذرمرض او عنۃ عارضۃ او نحوذلك وسیأتی فی باب الظہار ان علی القاضی الزام المظاھر بالتکفیر دفعاللضرر عنھا بجس او ضرب الی ان یکفر اویطلق اھ مختصرا۔
ترك کردینا حلال نہیںہمارے اصحاب نے تصریح فرمائی ہے کہ دیانۃ گاہے گاہے بیوی سے جماع کرنا واجب ہے لیکن اس پر قاضی کو کاروائی کا حق نہیں کہ وہ خاوند پر لازم قرار دے تاہم نکاح کے بعد پہلا جماع خاوند پر قاضی لازم کرسکتا ہے اور فقہاء کرام نے اس جماع کے لئے مدت کا تعین نہیں کیا کہ کتنہ مدت کے اندر واجب ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ وقفہ ایلاء کی مدت(چار ماہ)تك نہ پہنچنے پائے الایہ کہ بیوی کی رضا مندی اور خو ش طبعی سے جتنا وقفہ ہو اھ ایك دفعہ جماع کرلینے سے قضاء بیوی کا حق ساقط ہوجائےگا یعنی اگردوران نکاح ایك مرتبہ بھی جماع نہ کیا ہوتو بیوی کے مطالبے پر قاضی خاوند کو ایك سال کی مہلت دے گا اور اس مدت میں جماع نہ کرنے پر قاضی نکاح کو فسخ کردے گااور ایك مرتبہ جماع کرلیا ہو تو پھر قاضی مداخلت نہ کرے کیونکہ معلوم ہوچکا ہے کہ خاوند نکاح کے وقت نامرد نہ تھا تاہم قاضی خاوند کو مزید جماع کا مشور دے گا کیونکہ خاوند پر حقوق زوجیت واجب ہے لیکن مریض ہویا عارضی مردمی کمزوری یا کوئی اور وجہ ہوتو واجب نہیں اور ظہار کے باب میں بیان رہا ہے کہ قاض پر ضروری ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے ظہار کرنے والے خاوند کو کفارہ ظہاردینے پر قید اورجسمانی سزا کے ساتھ مجبور کرے تاکہ وہ کفارہ دے یا طلاق دےاھمختصرا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
قالو وللمرأۃ ان تطالبہ بالوطأ وعلیھا ان تمنعہ الاستمتاع حتی یکفروعلی القاضی ان یجبرہ علی التکفیر
فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ عورت کو حق کہ خاوند سے جماع کا مطالبہ کرےاور ساتھ ہی اس پر لازم ہے کہ کفارہ دینے تك خاوند کو جماع سے روکےاورقاضی کو
حوالہ / References ردالمحتار باب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٣٩٨
#15093 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
دفعا للضرر عنھا بحبس فان ابی ضربہ ولا یضرب فی الدین ولو قال قد کفرت صدق مالم یعرف بالکذب وفی التتارخانیۃ اذا ابی عن التکفیر عزرہ بالضرب والحبس الی ان یکفراویطلق ۔
حق ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے خاوند کو قید کرکے کفارہ دینے پر مجبور کرے اور اگر خاوند انکار کرے تو اس کو جسمانی سزادے جبکہ قرض کے معاملہ میں قاضی جسمانی سزا نہیں دے سکتااور اگر خاوند بتائے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو قاضی اس کی تصدیق کرے جب تك اس کا جھوٹ واضح نہ ہواور تاتارخانیہ میں ہے کہ اگرکفارہ دینے سے انکار کرے تو قاضی خاوند کے کفارہ ادا کرنے یا طلاق دینے تك اسے جسمانی تعزیر اور قید کرسکتا ہے۔(ت)
جب یہ اصول معلوم ہوگئے حکم مسئلہ واضح ہوگیا پاس نہ بلانا ترك جماع کو مستلزم اور نفقہ نہ دینے کو بھی محتملترك جماع اگر رأسا ہے یعنی بعد نکاح اس کے پاس گیا ہی نہیں تو قاضی شرع اس پر جبر کرے گا کہ پاس جائےاگر ظاہر ہوگا کہ اسے اس عورت سے مجامعت پر قدرت نہیں تو بعد دعوی عورت وہی مسائل عنین و مہلت یکسال و تفریق جبری بطلب زن جاری ہوںگےاور اگر باوصف قدرت نہیں جاتا خواہ ابتداء خواہ ترك مطلق کا ارادہ کرلیا ہے اور عورت کو اس سے ضرر ہے تو قاضی مجبور کرے گا کہ جماع کرے یا طلاق دےاگر نہ مانے گا قید کرے گا اگر نہ مانے گا مارے گا یہاں تك دوباتوں سے ایك کرے
وذلك رفعا للمعصیۃ ودفعا للضرر وقد نصواکمافی البحر والد وغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھاففیھا التعزیر وفی ردالمحتار قولہ وعلی القاضی الزامہ بہاعتراض بانہ لافائدۃ للاجبار علی التکفیر الاالوطئ والوطئ لایقضی بہ علیہ الامرۃقال الحموی و فرض المسئلۃ فیما اذالم یطأھا
یہ تعزیر اس لئے ہے کہ خاوند گناہ ختم کرے اور بیوی کی پریشانی دور کرےاور فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ وہ جرم جس پر حد نہیں ہے تو اس میں تعزیر ہوگی جیسا کہ بحر اور در وغیرہما میں مذکور ہے۔اور ردالمحتار میں ہے کہ درمختار کا یہ بیان کہ قاضی پر لازم ہے الخیہ ایك اعتراض کا جواب ہےاعتراض یہ ہے کہ خاوند کو کفارہ دینے پر مجبور کرنے کا مقصد صرف بیوی سے جماع ہے جبکہ جماع کے معاملے میں قاضی خاوند کو نکاح کے بعدف ایك سے زائد مرتبہ پر مجبور نہیں کرسکتا تو حموی نے کہا اور جواب کےلئے
حوالہ / References بحرالرائق باب الظہار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤ /٩٧۔٩٦
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٢٧
#15094 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
قبل الظہار ابدا بعیداوقد یقال فائدۃ الاجبار رفع المعصیۃ اھ ای ان الظہار معصیۃ حاملۃ لہ علی الامتناع من حقھا الواجب علیہ دیانۃ فیأمرہ برفعھا لتحل لہ کما یأمر المولی من امرأتہ بقربانھا فی المدۃ اویفرق بینھما لدفع الضرر عنھا اھ مختصرا۔
یہ فرض کرنا کہ ظہار سے قبل خاوند نے ایك مرتبہ بھی جماع نہ کیا ہوتو تب قاضی مجبور کرسکتا ہےتویہ بعید سی بات ہےیا جواب میں یوں کہا جائے گا کہ خاوند کو مجبور کرنے کا مقصد خاوند کے جرم کا ازالہ ہے اھیعنی ظہار کرنا جرام ہے جو خاوند کو بیوی کے اس حق کی ادائیگی سے روکتا ہے جو دیانۃ ہر خاوند پر واجب ہے تو اس لئے قاضی اس کو جرم کے ازالہ کا حکم دے گا تاکہ بیوی حلال ہوسکےجیسے مولی اپنے غلام کو ظہارکی مدت میں بیوی سے جماع کرنے یا طلاق دینے کاحکم کرسکتا ہے تاکہ بیوی کی پریشانی دور ہوسکے۔اھ مختصرا(ت)
اور نفقہ نہ دینے پر اگر ادائے نفقہ پر قادر ہے تو قاضی بقدر مناسب عورت کے لئے نفقہ مقرر کرے گا اور شوہر کو اس کے ادا کا حکم دے گا اگر نہ مانے گا قید کرے گا اور اس مدت میں اس سے نہ پانے کے سبب جو کچھ عورت قرض لے کر خواہ اپنے مال سے اپنے نفقہ میں صرف کرے گی سب شوہر پر دین ہوگا اور اس سے دلایاجائیگا مگر یہاں تفریق کردینے یا طلاق پر جبر کرنے کی صورت نہیں
اقول: اور وجہ فرق ظاہر ہے جماع ونفقہ دونوں کی طرف عورت محتاج اور ان کے نہ ملنے میں اس کا ضرراور دفع ضرر جس طرح ممکن ہوواجباور طرق دفع میں آسان ترکالحاظ لازم کہ طرف ثانی کا بھی اضرار نہ ہوجماع ایسی چیز ہے کہ غیر شوہر سے اس کا ملنا محالتو طریق دفع اس میں منحصر کہ شوہر جما ع کرے یا طلاق دے کہ وہ دوسرے سے نکاح کرسکے بخلاف نفقہ کہ یہ حاجت اپنے مال سے خواہ دوسرے سے قرض لے کر بھی مندفع ہوسکتی ہےعورت کا ضرر یوں دفع ہوگیا کہ حاجت رواہوئی اورجواٹھاوہ بعد فرض قاضی شوہر پر قرض رہا تو یہاں طلاق پر مجبور کرنے میں شوہر کا ضرر زائد ہے جس کی طرف عورت سے دفع ضرر میں حاجت نہیں۔تنویر میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا ولابعدم ایفائہ حقھا ولو موسرا ۔اھ مختصرا۔
نفقہ سے عاجز ہوجانے پر اور امیرہوتے ہوئے بھی بیوی کو پورا حق نہ دینے پر قاضی دونوں کی تفریق نہ کرے گااھ مختصرا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References تنویرالابصار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٦
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی ١/٢٦٩
#15098 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
بل یفرض لھا النفقۃ علیہ ویأمرھا بالاستدانۃ ۔
بلکہ قاضی خاوند کے ذمہ بویی کا نفقہ کردے گا اور بیوی کو خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا فیصلہ دے گا۔(ت)
درمختار میں ہے:
وبعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امرقاض ۔
اس کے بعد بیوی خرچ کیلئے نفقہ کو خاوند سے وصول کرے گی جو بیوی نے خرچ کیا ہو خواہ اس نے پانے ہی مال سے قاضی کے حکم کے بغیر خرچ کیا ہو۔(ت)
شامیہ میں بدائع سے ہے:
یحبس فی نفقۃ الاقارب کالزوجات ۔
قریبیوں کے نفقہ میں قید کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بیویوں کے نفقہ میں قید کیا جاسکتا ہے۔(ت)
اور اگر شوہر فقیر ہے کہ نفقہ نہیں دے سکتاجب بھی حکم یہی ہے کہ تفریق نہیں اور محتانی معلوم ہوتو قید بھی نہیں بلکہ قاضی نفقہ مقرر کرکے عورت کو قرضا صرف کرنے کا حکم دے جو کچھ حسب قرار داد قاضی خرچ ہوتا رہے ذمہ شوہر دین ہواکرے گا یہاں تك کہ زمانہ اس کو تونگری کی طرف پلٹالےاس وقت سب وصول کرلیا جائے مگراگر قاضی دیکھے کہ عورت کواس امید پر قرض نہیں ملتا تو شوہر کو سمجھائے کہ طلاق دے دےاگر نہ مانے تو قاضی جبکہ نائب مقرر کرنے کا اختیار ہو باختیار خود ورنہ بحکم والی مسلم مقدمہ کسی شافعی المذہب کے سپرد کردے کہ ان کے یہاں جب کہ شوہر کا نفقہ دینے سے عاجز ہو تفریق کرادیتے ہیں وہ فریقین کو بلا کر بعد سماع مقدمہ و ثبوت عجز تفریق کردےیہ حکم جب قاضی حنفی کے حضور پیش ہواسے نافذ کردے کہ شوہر جب حاضر ہوتو حاکم شافعی کا ایسا حکم ہمارے نزدیك لائق تنفیذ مانا جاتا ہےیوں عورت اس بلاسے خلاصی پاسکتی ہے۔ درمختار میں ہے:
جوزہ الشافعی باعسار الزوجولو قضی بہ حنفی لم ینفذ نعم لو امر شافعیافقضی بہ نفذ ۔
خاوند کے تنگدست ہوجانے پر نفقہ کی وجہ سے تفریق کو امام شافعی نے جائز قرار دیا ہےاور اگر حنفی قاضی یہ فیصلہ دے تونافذ نہ ہوگاہاں حنفی قاضی اگر شافعی قاضی کو فیصلہ دینا سپرد کردے پھر شافعی قاضی فیصلہ دے تو اس کا فیصلہ دے تو اس کافیصلہ نافذ ہوجائے گا۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٦
درمختار باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٠
ردالمحتار بحوالہ البدائع باب النفقۃ ٢/٦٨٧و فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٣٢٢
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٩
#15111 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ نعم لوامر شافعیاای بشرط ان یکون ماذونا لہ بالاستنابۃخانیۃقال فی غررالاذکار ثم اعلم ان مشائخنااستحسنوا ان ینصب القاضی الحنفی نائبا ممن مذھبہ التفریق بینھما اذاکان الزوج حاضرا و ابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانۃ اذالظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وغنی الزوج مالا امرمتوھم فالتفریق ضروری اذاطلبتہ وان کان غائبا لایفرق لان عجزہ غیرمعلوم حال غیبتہ وان قضی بالتفریق لاینفذ قضائہ لانہ لیس فی مجتہد فیہ لان العجزلم یثبت اھ وتمامہ فیہ واﷲ تعالی اعلم۔
ماتن کا کہنا کہ"ہاں اگر شافعی کوکہے"یعنی بشرطیکہ ہو حنفی قاضی دوسرے کو فیصلہ سپرد کرنے کا مجازہوخانیہ غررالاذکار میں کہا ہے کہ واضح ہو کہ ہمارے مشائخ نے یہ پسند کیا ہے حنفی قاضی کسی ایسے شخص کو اپنا نائب قرار دے جس کا مذہب یہ ہو کہ خاوند اور بیوی میں نفقہ کی وجہ سے تفریق جائز ہےتوجب خاوند حاضر ہو اور طلاق دینے سے انکاری ہوتو وہ نائب بیوی کے مطالبہ پر تفریق کردے کیونکہ نفقہ کی دائمہ حاجت قرض لینے سے حل نہیں ہوتی جبکہ ظاہر یہی ہے کہ بیوی کسی قرض دینے والے کو نہیں پاتی اور خاوند کا بعدمیں کسی وقت امیر ہونا موہوم معاملہ ہے لہذا بیوی کے مطالبہ پر تفریق ضروری ہےاور اگر خاوند غائب ہوتو پھر تفریق نہ کرے کیونکہ غیر موجود گی کی وجہ سے خاوند کا نفقہ سے عاجز ہونا معلوم نہیں ہے تو اس صورت میں اگر تفریق کی تو نافذ نہ ہوگی کیونکہ غائب ہونے کی صورت میں عجز ثابت نہ ہونے پر مسئلہ اجتہادی نہ رہے گامکمل بیان ردالمحتار میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ : از پنچاب مرسلہ مولوی فاضل صاحب صفرھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو ہمشیریں حالت جوانی میں بیوہ ہوگئیں اور انہوں نے عقد ثانی نہیں کیا اور دونوں کے پاس دو مکان پیدا کردہ شوہر کے ہیں لیکن ترکہ پدری کچھ بھی نہیں ہے کہ جس سے ان بیوگان کی گزرہوسکےاور زید بھی کم مقدرت ہے اور اہل وعیال رکھتا ہے مگر اپنے اوپر تکلیف اٹھا کر ہمیشروں کی خبرگیری بھی کرتا ہےپس اس صورت میں زید کا بہنوں کے ساتھ یہ برتاؤ از قسم سلوك ہے یا از قسم واجباور بہنوں کا نان ونفقہ بھائیوں پر واجب ہے یا تورع واحساناور اگر واجب ہے تو کس صورت میںبینواتوجروا۔
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٦
#15116 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بہنوں کا نان ونفقہ بھائی پر واجب ہے دوشرط سے:
اول:زید ان کی اعانت پر قادر ہو یعنی اپنی حاجت اصلیہ سے فاضل چھپن روپے کا مالك ہو یا ایسا مال نہیں رکھتا بلکہ پیشہ ورہے تو اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے نفقہ سے پس انداز ہوتا ہو جس سے بہنوں کی اعانت کرسکے۔
دوم:بہنیں زیور وغیرہ کوئی مال ذاتی نہ رکھتی ہوں جوان کی حاجت اصلیہ سے زائد چھپن روپے کا ہونہ کھانے کے لئے اناج پہننے کےلئے کپڑا یا دام موجود ہو کہ یہ جب تك رہے گا اس قدر نفقہ دوسرے پر واجب نہ ہوگا اگرچہ چھپن روپیہ سے کم کا ہونہ مکان اس قابل ہو کہ اس کا ایك حصہ بیچ کر باقی میں گزر کرسکیںایسا ہوگا تو بیچ کر خود اپنے نفقہ میں اٹھانا لازم ہوگا جب نہ رہے گا بھائی پر نفقہ آئے گانہ وہ عورتیں دستکاری مثل سلائی وغیرہ کے ایسا کررہی ہوں جوان کے نفقہ کو کافی ہواگر ایسا ہے تو اپنا نفقہ خود انہیں پر ہے بھائی پر نہیںہاں اگر وہ دستکاری نہیں کرتیںنہ اپنے کسی مال سے اپنی بسر کرسکتی ہےں تو بھائی پر نفقہ واجب ہوگا اور وہ یہ نہ کہہ سکے گا کہ تم سلائی وغیرہ کوئی کام مزدوری کا کرکے اپنا پیٹ پالویہ دوشرطیں متحقق ہوں تو نفقہ بھائی پر ہے تنہا اس پر جب کہ ان عورتوں کاوارث صرف وہی ہو ورنہ بقدر میراث جبکہ اس کے سوا ان کا اور کوئی وارث ذی مقدور مثل دوسرے بھائی یا بہن یا دختر کے ہو۔درمختارمیں ہے:
تجب(علی موسریسار الفطرۃ)علی الاجع ورجع الزیلعی والکمال انفاق فاضل کسبہ(النفقۃ لکل ذی رحم محرم صغیر او انثی)مطلقا(ولو بالغۃ صحیحۃ او)کان الذکر(بالغا عاجزا)عن الکسب(فقیرا)حال من المجموع بحیث تحل لہ الصدقۃ ولو لہ منزل و خادم علی الصواب بدائع(بقدر الارث) اھ ملتقطا۔
(فطرانہ کے وجوب والی استعداد والے پر)زیادہ راجح قول کے مطابق نفقہ واجب ہےجبکہ زیلعی اور کمال نے ضروری آمدن سے زائد کسب والے پر وجوب کو ترجیح دی ہے(نفقہ دینا ہر ذی رحم محرم نابالغ یا عورت کو)مطلقا(اگرچہ عورت بالغہ صحت مندہو)یالڑکا(بالغ عاجز ہو)محنت سے(جبکہ یہ فقیر ہوں)لازم ہے تو فقیر ہونا تمام کا حال ہے یوں کہ اس کو صدقہ حلال ہو اگرچہ اس کا اپنا مکان اور خادم ہودرست قول کے مطابق یہی حکم ہےبدائع(یہ نفقہ ہرایك کو بقدر وراثت دینا لازم ہے)اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٤تا ٢٧٦
#15120 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ مطلقا قید للانثی ای سواء کانت بالغۃ اوصحیحۃ قادرۃ علی الکسب لکن لوکانت مکتسبۃ بالفعل کالقابلۃ والمغسلۃ لانفقۃ لھاقولہ بحیث تحل لہ الصدقۃ بان لایملك نصابانامیا اوغیرنام زائداعن حوائجہ الاصلیۃ والظاہر ان المراد ماکان من غیر جنس النفقۃ اذلوکان یملك دون نصاب من طعام او نقود تحل لہ الصدقۃ ولاتجب لہ النفقۃ فیما یظھر لانھا معللۃ بالکفایۃ ومادام عندہ مایکفیہ من ذلك لایلزم غیرہ کفایتہقولہ ولولہ منزلہ منزل وخادم ای وھو محتاج الیھماوفی الذخیرۃ لوکان یکفیہ بعض المنزل امر ببیع بعضہ وانفاقہ علی نفسہ وکذالو کانت لہ دابۃ نفیسۃ یومر بشراء الادنی وانفاق الفضل اھ ومثلہ فی شرح ادب القاضی اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم۔
ماتن کا قول"مطلقا"یہ لفظ"انثی"کی قید ہے یعنی خواہ بالغہ ہو یا تندرست ہو محنت پر قادر ہولیکن اگر وہ عملا محنت کررہی ہو مثلا دایہ یا غسل دینے والی ہوتو اس کے لئے نفقہ واجب نہ ہوگااور ماتن کا قول"بحیث تحل لہ الصدقۃ"(اس کے لئے صدقہ حلال ہو)یعنی وہ نامی نصاب یا غیر نامی جو اصلی حاجت سے زائدکا مالك نہ ہواس میں ظاہر یہ ہے کہ جس مال کاوہ مالك ہو وہ نفقہ کی جنس سے نہ ہوکیونکہ اگروہ نصاب سے کم غلہ یا نقد کا مالك ہو تو اگرچہ اس کے لئے صدقہ حلال ہے لیکن اس کے لئے نفقہ ظاہرا واجب نہیںکیونکہ نفقہ کے وجوب کی علت ضرورت کی کفایت ہے اور جب تك اس کے پاس نفقہ کی کفایت والامال موجود ہے تو دوسرے پر اس کا نفقہ نہ ہوگا۔اور ماتن کا قول"لو لہ منزل وخادم"(اگرچہ اس کا مکان اورخادم ہو)یعنی جبکہ وہ ان کا حاجتمند ہو۔اور ذخیرہ میں ہے کہ اگر اس کی حاجت مکان کے کچھ حصے میں پوری ہوجاتی ہے تو ا س کو مکان کے باقی حصہ کو فروخت کرکے اپنے نفقہ میں خرچ کرنے کو کہا جائے گااور یونہی اگر اس کے پاس اعلی قسم کی سواری ہے تو اس کو فروخت کرکے ادنی قسم کی سواری خریدنے کے لئے کہا جائے گا تاکہ زائد رقم کو اپنے نفقہ میں خرچ کرے اھ اور شرح ادب القاضی میں اس کی مثل بیان ہےاھ مختصرا۔(ت)
مسئلہتا۱۷۱: ازبھونافارکیٹ کراچی بندر مرسلہ پیر سید ابراہیم گیلانی قادری بغدادی رجبھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ٢/٨٢۔٦٨١
#15124 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
()جو شخص العمر باپ کو اصلی وطن میں مفلسی اور محتاجی کی حالت میں چھوڑدے اور اس کو رنج و مصیبت میں ایسے ڈال دے کہ وہ ضعیف العمر اس کے پیچھے دربدر شہر بہ شہر پھرے شریف خاندان ایسے شخص عاق الوالدین اور نافرمانی عقوق الوالدین میں داخل ہے یانہیںاس کے پیچھے نماز جائز ہے:
()جو شخص اپنی منکوحہ بی بی کو مع دو جوان بالغ لڑکیاں جو کہ اس کے نطفہ سے ہوں بلانان و نفقہ چھوڑرکھا ہو اور ان کی خبر نہ لیتا ہو اور لوگوں کی تحریر سے معلوم ہوا کہ نہایت سختی و کمال ذلت سے اوقات بسر کررہے ہیں ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے
الجواب:
()اگر باپ ضعیف و محتاج ہے اور یہ اس کی خدمت واعانت کرسکتا ہے اور نہ کرے اور اس سے باز رہے اوراس کے فقر و فاقے کی پروانہ رکھے تو بیشك عاق ہے اور مستحق جہنمایسا شخص قابل امامت نہیںاس کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہوگی۔
()ایساشخس گنہگار اور حقوق العباد میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہے۔حدیث میں فرمایا:
کفی بالمرء اثماان یضیع من یقوت ۔واﷲ تعالی اعلم۔
کسی شخص کو یہ گناہ کافی ہے کہ جس کا نفقہ اس کے ذمہ ہواسے ادا نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ:ازکانپور محلہ فیل خانہ بازار کہنہ مکان سید اشرف صاحب وکیل مرسلہ سید محمد آصف صاحب ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زوجہ کے نان و نفقہ وغیرہ اخراجات کابار زوج کا والد یا کوئی عزیز اٹھاتا ہو اور وہ عورت کو والدین کے یہاں جانے کی اجازت دے تو خاوند زوجہ کو جانے سے روك سکتا ہے اور عورت بلااجازت خاوند کے جانے سے گنہگار ہوگی یا زوج کو روکنا جائز نہیں اور زوجہ جانے سے گنہگار نہ ہوگیبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر مہر معجل نہ تھا یا جس قدر معجل تھا ادا ہوگیا تو چند مواضع حاجت شرعیہ جن کا استثناء فرمادیا گیا مثلا والدین کے یہاں آٹھویں دن دیگر محارم کے یہاں سال پیچھے دن کے دن کو جانا اور شب شوہر ہی کے یہاں کرنا وغیر ذلك ان کے سوا کسی جگہ عورت کو بے اذن شوہر جانے کی اجازت نہیںاگر جائے گی گنہگار ہوگیشوہر
حوالہ / References المستدرك علی الصحیحین کتاب الزکوٰۃ دارالفکر بیروت ١/٤١٥
#15129 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
روکنے کا اختیار رکھتا ہے اگرچہ نفقہ کا بار دوسرا شخص اٹھاتا اور وہ دوسرا عورت کو جانے کی اجازت دیتا ہو اس کی اجازت مہمل ہوگی اور شوہر کی ممانعت واجب العمل۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بعدادائے مہر معجل عورت مطلقا پابند شوہر ہے اس میں کوئی قید و تخصیص ادائے نفقہ و تکفل حوائج کی نہیں فرماتے۔درمختار میں ہے:
لھا الخروج من بیت زوجھا للحاجۃ ولھا زیارۃ اھلھا بلا اذنہ مالم تقبض المعجل فلا تخرج الالحق لھا او علیھااوزیارۃ ابویھا کل جمعۃ مرۃ او المحارم کل سنۃ اولکونھا قابلۃ او غاسلۃ لافیما عدا ذلک ۔ (ملخصا)
بیوی کو حاجت کے وقت خاوند کے گھر سے نکلنا جائز ہے اور اپنے گھر والوں(والدین)کی زیارت کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز جب تك اس نے مہر معجل وصول نہ کیا ہولہذا وہ اپنے حق کی وصولی یا اپنے ذمہ حق کی ادائیگی یا والدین کی زیارت ہفتہ میں ایك مرتبہاور ذی محرم کی زیارت سال میں ایك مرتبہدایہ گیری یا غسل دینے کے بغیر کسی اور وجہ کےلئے باہر نہ نکلے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فلاتخرج جواب شرط مقدر ای فان قبضتہ فلاتخرج الخ۔
ماتن کا قول"فلاتخرج"(تو باہر بہ نکلے)یہ مقدر شرط کا جواب ہےیعنی اگر اس نے مہر معجل وصول کرلیاہوتو نہ نکلے الخ (ت)
والد کا متکفل نفقہ پسر وزن پسر ہونا تو ہمارے بلاد میں معمول ہے اور دیگر بعض اعزہ بھی تبرعا تکفل کریں تو یہ ضرور نہیں کہ شوہر نفقہ دینے سے منکر ہوعلمائے کرام تو اس صورت میں کہ شوہر نے ظلما انفاق سے دست کشی کی یہاں تك کہ عورت محتاج نالش ہوئی تا آنکہ شوہر کو نفقہ دینے پر مجبور کرنے کے لئے حبس کی درخواست دی اور حاکم نے شوہر کا تعنت دیکھ کر اسے قید کردیا اس صورت میں تصریح فرماتے ہیں کہ عورت شوہر ہی کے گھر رہے بلکہ عورت پر واقعی اندیشہ فساد ہوتو شوہر قید خانہ میں اپنے پاس رکھنے کی درخواست کرسکتا ہے اور محبس میں مکان تنہا ہوتو حاکم عورت کو حکم گے گا کہ وہیں اس کے پاس رہے۔ہندیہ میں ہے:
لوفرض الحاکم النفقۃ علی الزوج فامتنع من دفعھا وھو موسر وطلبت المرأۃ حبسہ لہ ان یحبسہ
اگر حاکم نے خاوند پر بیوی کا نفقہ مقررکردیا ہو اور خاوند استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دے اور بیوی خاوند کو قید کرنے کا مطالبہ کرے تو قاضی اس کو قید کرسکتا ہے
حوالہ / References درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠٢
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٣٥٩
#15134 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
کذافی البدائعواذاحبسہ لاتسقط عنہ النفقۃ و تؤمر بالاستدانۃ حتی ترجع علی الزوج فان قال الزوج للقاضی احبسھا معی فان لی موضعا فی الحبس خالیا فالقاضی لایحبسھا معہ ولکنھا تصبر فی منزل الزوج ویحبس الزوج کذافی المحیط ۔
جیسا کہ بدائع میں ہےاور جب قید کردیا ہوتب بھی نفقہ اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوگااور بیوی کو کہا جائے گا کہ وہ قرض لے کر خرچ کرے تاکہ بعد میں خاوند سے اس کو وصول کرسکےاگر خاوند قید میں قاضی سے یہ مطالبہ کرے کہ بیوی کو قید میں میرے ساتھ رکھا جائے کیونکہ یہاں میرے پاس خالی جگہ ہے تو قاضی بیوی کو اس کے ساتھ قیدمیں نہ دے گا تاہم بیوی خاوند کے گھر میں صبر سے رہے گی اور خاوند قید ہوگاجیسا کہ محیط میں ہے(ت)
درمختار میں ہے:
وفی البحر عن مال الفتاوی ولو خیف علیھا الفساد تحبس معہ عند المتاخرین ۔
بحر میں مآل الفتاوی سے منقول ہے:اور اگر بیوی کو تنہائی میں فساد کا خطرہ ہوتو متاخرین فقہاء کے نزدیك بیوی کو خاوند کے پاس قید میں رکھا جائے گا۔(ت)
تو جب صریح نفقہ نہ دینے پر بھی عورت پابند شوہر رہی تو صورت سوال میں کیونکر خود مختار ہوسکتی ہے نفقہ نہ دینا رافع پابندی ہوتو نفقہ نہ دینا مسقط نفقہ ہوجائے اور عورت کو ہرگز دعوی نفقہ کا اختیار نہ رہے کہ نفقہ جزائے پابندی ہے جب پابندی نہیں نفقہ کس بات کا ہے۔درمختارمیں ہے:
النفقۃ جزاء الاحتباس وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ یلزمہ نفقتہ کمفت وقاض ووصی زیلعی الخ۔
اقول: وایاك ان تتوھم ان النفقۃ اذاکانت جزاء الحبس فاذا عدمت عدم وذلك لان وجوبھا متفرع عنہ فوجوب الاحتباس علیھا متقدم علی وجوب النفقۃ علیہ لا ان الاحتباس
نفقہ بیوی کو پابند کرنے کا بدل ہے جو کسی غیر کے فائدہ کےلئے پابند ہو اس کا نفقہ پابند کرنے والے پر ہوتا ہے جیسا کہ مفتی اور وصیزیلعی الخ اقول:(میں کہتا ہوں)تجھے یہ وہم نہ ہو کہ جب نفقہ پابندی کی جزا ہے تو نفقہ معدوم ہوجانے پر پابندی بھی معدوم ہوجائے گییہ وہم اس لئے درست نہیں کہ نفقہ پابندی پر متفرع ہوتا ہے تو بیوی پر پابندی پہلے لازم ہوگی اسکے بعد شوہر پر نفقہ لازم ہوگا نہ یہ کہ پابندی
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٥٢
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
#15137 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
متفرع علی الانفاق فان عدم عدموبالجملۃ ان کان اللازم فوجوب الانفاق لاوقوعہ فبرفع الوقوع لایرتفع الملزوم۔واﷲ تعالی اعلم۔
نفقہ پر متفرع ہے کہ نفقہ معدوم ہوجائے تو حبس بھی معدوم ہوجائے تاہم اگرنفقہ کو پابندی پرلازم قرار دیا جائے تو نفقہ کا وجوب لازم اس کی ادائیگی لازم نہ ہوگی کہ ادائیگی ختم ہوجانے پرپابندی ختم ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: محرم الحرام ھ
اگر کوئی شخص اپنے نکاح کے بعد یہ ظاہر کرے کہ میری زوجہ کی مادر کے ساتھ قبل نکاح سے میری آشنائی یعنی سابقہ زناکاری تھی اس واسطے میرا نکاح باطل ہوا میری زوجہ کا اس سبب سے مجھ پر کچھ حق نہیں ہے اور یہ معاملہ پندرہ پیس برس کے بعد ظاہر کرے کہ اولاد بھی زوجہ مذکور سے موجود تھی تو ایسے شخص کے واسطے علمائے دین کیا فرماتے ہیں علمائے دین کیافرماتے ہیں یعنی زوجہ اس کی دین مہر ونان ونفقہ کی مستحق ہے یا نہیں جس کے علم میں اپنے شوہر کی یہ حرکت نہ تھی۔بینواتوجروا۔
الجواب:
شوہر کے اس بیان سے نکاح کے فساد کا فورا بحکم ہوگیا
فی الدرالمختار عن الخلاصۃ قیل لہ مافعلت بام امرأتك فقال جامعتھا تثبت الحرمۃ ولایصدق انہ کذب ولوھازلا ۔
درمختار میں خلاصہ سے منقول ہے کہ خاوند سے پوچھا گیا کہ تو نے اپنی بیوی کی ماں(ساس)سے کیا کار روائی کی ہے توجواب میں اس نے کہ میں نے اس سے جماع کیا ہے تو اسکے بیان واقرار پر بیوی اس پر حرام ہوجائے گیاس کے بعد اس کا یہ کہنا کہ میں نے مذاق میں جھوٹ بولا قابل قبول نہ ہوگا۔ (ت)
اس پر لازم ہوگیا کہ عورت کو فورا جدا کردے اور عورت پر روز متارکہ سے عدت لازم ہےجب تك عدت میں رہے گی اسکا نان و نفقہ شوہر پرلازم رہے گاشوہر کا کہنا کہ اس کا کوئی حق مجھ پر نہیں محض جھوٹ ہے۔
فی ردالمحتار عن البحر الحاصل ان الفرقۃ امامن قبلہ اومن قبلھا فلو من قبلہ فلھا النفقۃ مطلقا سواء کان بمعصیۃ اولاطلاقا او فسخا
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ خاوند بیوی میں فرقت خاوند کی کاروائی کی وجہ سے ہوگی یا بیوی کی کاروائی سے ہوگی اگر خاوند کی طرف سے ہوتو بیوی کو ہر حال میں نفقہ دینا ہوگا خاوند کی کاروائی گناہ ہویا نہ ہو
حوالہ / References درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٨
#15141 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
وان کانت من قبلھا فان کانت بمعصیۃ فلا نفقۃ لھا ولھا السکنی فی جمیع الصور ۔
طلاق ہو یافسخ ہواور اگر بیوی کی طرف سے فرقت کی کاروائی ہوئی ہو فسخ واجب ہوا تو اگر اسکی کاروائی جرم تھی تو اس کو نفقہ نہیںتاہم اس کو رہائش تمام صورتوں میں ملے گی۔(ت)
رہا مہر اگر تسلیم کرے کہ شوہر نے اس کی ماں سے پیش از نکاح زنا کیا تھا تو اس صورت میں جو مہر مثلا اس عورت کا ہو اور جو مقرر ہو اہو ان دونوں میں جو کم ہے وہ دینا آئے گا مثلا مہر مثل ہزارروپے ہے اور دو ہزار بندھے تھے تو ہزاردینے آئیں گے اور مہر مثل دو ہزار ہے اورہزار بندھے تھے توبھی ہزار ہی ہوں گے
فی التنویر یجب مہر المثل فی نکاح فاسد بالوطئ لابغیرہ ولم یزد علی السمی ۔
تنویر میں ہے:فاسد نکاح میں وطئ کے بغیر مہر مثل واجب نہ ہوگا اور یہ مہر مثلمقررہ مہر سے زائد نہ ہوگا۔(ت)
اور اگر تکذیب کرے تو جو مہر بندھا تھا کامل پائے گی وھی مسئلۃ مااذا کذبتہ فی الاسناد(یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب بیوی خاوند کو جھوٹا قراردے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ: رمضان المبارك ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو خاوند نے نکال دیا وہ تین برس تك محنت کرکے تن پر وری کرتی رہی بعدہ یہ تصفیہ ہواکہ اگر تومیرے کہنے پر الگ ایك مکان میں رہے جس طرح کہ رہتی ہے(اس لئے کہ اس شخص کے دوسری بی بی ہے)تو میں تجھ کو دس روپیہ ماہوار دیتا رہوں گابموجب اس تصفیہ کے خاوند نے دوسال اور کچھ دن تك ماہوار دیا با گیارہ ماہ کچھ دن سے نہ دیا عورت نے نوٹس دیا خاوند نے لے کر رکھ لیا اور کچھ دن بعد عورت کے مکان پر آکر بہت فساد مچایا بعدہ تین طلاقیں دے دیںاب علمائے دین سے معلوم ہوناچاہئے کہ وہ جو اوس کے ذمے واجب الادا یعنی طلاق سے پیشتر کا نفقہ اس سے لینے کی عورت پر مجاز ہے یانہیں اور مہر بھی اس کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں
الجواب:
طلاق سے مہر تمام وکمال واجب الادا ہوگیا اور بیان سوال سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ قصور مرد کا ہے یہی اسے نفقہ دینا نہیں چاہتا تو اس صورت میں نفقہ واجب ہےدرمختار وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی وعلمائے کبار کا فتوی موافق اعتماد وترجیح محقق صاحب بحر الرائق ومحقق شرنبلالی وتصحیح صریح صاحب خزانۃ المفتین رحمہم اﷲ تعالی
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٦٩
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١
#15145 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
جمیعا یہی ہے کہ جو ماہوار باہم دونوں میں رضامندی سے قرار پایا تھاجب تك کانہ ملا سب لینے کا عورت کو اختیار ہے۔درمختار میں ہے:
صحیح الشربنلالی فی شرحہ للوھبانیۃ مابحثہ فی البحر من عدم السقوط ولو بائنأ قال ھوالاصح ورد ما ذکرہ ابن الشحنۃ فیتأمل عندالفتوی ۔
شرنبلالی نے وہبانیہ کی شرح میں بحر کی اس بحث کوکہ اگرچہ بائنہ طلاق ہوتو بھی نفقہ ساقط نہ ہوگاصحیح قرار دیا ہےاور کہا کہ یہی اصح ہے اور ابن شحنہ نے جو ذکر کیا اس کا انہوں نے رد کیا ہےتو فتوی دیتے وقت غور کرنا چاہئے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
بان ینظر فی حال الرجل ھل فعل ذلك تخلصا من النفقۃ اولسوء اخلاقھا مثلا فان کان الاول یلزم بھا وان کان الثانی لایلزم ھذا ماقالہ المقدسی وینبغی التعویل علیہ ط۔
ایسی کارروائی میں قاضی کو غور کرنا چاہئے کہ کیا خاوند مثلا یہ کاروائی نفقہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کی ہے یا واقعتا بیوی بدفطرت ہےاگر پہلی وجہ ہوتو قاضی بیوی کے لئے نفقہ کو لازم قرار دے اور اگر دوسری وجہ ہوتو پھر لازم نہ کرےیہ مقدسی کا بیان ہے اوراسی پر اعتمادچاہئے۔طحطاوی۔(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
المفروضۃ لاتسقط بالطلاق علی الاصح ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مقررہ نفقہ طلاق کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا اصح قول پر۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از سرولی ضلع بریلی مرسلہ جناب عشاق احمد صاحب مورخہ ذی الحجہ ھ
چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ ایك شخص کی عورت عرصہ دو سال سے اپنے ساس اور سسر سے ناراض ہوکر میکے چلی گئی خانگی جھگڑے پراور وہی عورت اپنے خاوند سے رضامند ہے لیکن خاوند اس کا پانے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا اس وجہ سے وہ عورت اپنی سسرال میں نہیں آتی باوجود یکہ چند مرتبہ اس کے ساس اور سسر رخصت کے واسطے اس عورت کے مکان پر گئے لیکن نہیں آئیاب لڑکے کے والدین
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٠
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٩
خزانۃ المفتین فصل فی النفقۃ قلمی نسخہ ١/١٠٢
#15149 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کو طلاق دینا نہیں چاہتے اس صورت میں پہلی بیوی ازروئے شرع اپنے مہر کا مطالبہ بذریعہ نالش کرسکتیاور اگر طلاق دے دی جائے تو مستحق مہر کی ہوگی یا نہیں کیونکہ اس کے والدین طلاق کو کہتے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر طلاق دی جائے گی عورت مطالبہ مہر کرسکے گی ورنہ جو مہر نہ معجل بندھا ہو نہ اس کی کوئی میعاد مقرر کی گئی ہو عورت قبل موت یا طلاق اس کا مطالبہ نہیں کرسکتیجبکہ وہ ناراض ہوکر اپنے میکے چلی گئی اور بلانے سے نہیں آئی تو اس کا نان و نفقہ بھی شوہر پر سے ساقط ہے جب تك وہ شوہر کے یہاں واپس نہ آئے اور شوہر پر یہ بھی لازم نہیں اسے طلاق دےجب کہ یہ بلانا چاہتا ہے اور وہ بلاوجہ شرعی نہیں آتی تو الزام عورت پر ہے شوہر پر نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از ریاست جاورہ ڈونکر دروازہ مرسلہ ہدایت نورخاں صاحب برادر نواب جاورہ رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عورت اپنے زوج کی نافرمانی کرکے بلااجازت و بغیر حق مکان شوہر سے نکل کر علیحدہ بخانہ والدین کسی عزیز کے یہاں جرکر سکونت کرے جس کو اہل شرع ناشزہ کہتے ہیں پس اس عورت کا نان ونفقہ کفیل پر دینا واجب ہوگا نہیں اور ایسی عورت میں کفیل کی کفالت وضمانت صحیح و معتبر رہی یانہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
زنان نشوز کانفقہ دینا نہ آئے گا یعنی جب تك وہ بے اجازت شوہر بروجہ ناحق جگہ رہے گی اتنی مدت کے نفقہ کا مطالبہ کفیل سے بھی نہیں کرسکتی کہ کفالت ضم الذمۃ الی الذمۃ فی الدین(ایك ذمہ دار کے ساتھ دوسری ذمہ دار کو قرضہ میں ملانا)یا فی المطالبۃ وھو الاصح کما فی الھدایۃ(مطالبہ میں ملانایہی اصح ہے جیساکہ ہدایہ میں ہے)اور ناشزہ کا نفقہ خود اصیل یعنی زوج ہی پر لازم نہیں تو کفیل سے اس کا مطالبہ کیونکر ممکن۔رہا یہ کہ اس صور ت میں کفالت نفقہ صحیح رہی یا نہیںاگر کفالت ابتداء بروجہ صحت واقع ہولی ہے اور وہ کسی مدت معینہ تك کے لئے نہ تھی کہ اس کی انتہا سے منتہی ہوجائے تو عورت کا ناشزہ ہونا اسے رفع نہ کرے گااگر عورت نشوز سے باز آکر پھر تسلیم نفس شوہر کو کردے گی تو جتنے نفقہ کی مستحق ہوگی کفیل سے اس کا مطالبہ کرسکے گی مذہب مفتی بہ میں کفالت نفقہ اگر مطلقہ ہوابد کے لئے ہے۔درمختارمیں ہے:
ولوکفل لھا کل شھر کذا ابدا وقع علی الابد وکذا لولم یقل ابداعند
بیوی کے لئے ہر ماہ اتنا نفقہ دائمی ہوگاکا کوئی شخص اگر ضامن بنے تو یہ دائما اتنے کا ضامن ہوگا اور امام
#15151 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
الثانی وبہ یفتی بحر وتحقیق المقام فی ردالمحتار۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ابویوسف کے نزدیك اگر دائما نہ کہے تو بھی دائمی ہوگااسی پر فتوی دیاجائے گابحر۔اس مقام کی مکمل تحقیق ردالمحتار میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از ساندھن ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ محبوب احمد صاحب ربیع الآخرھ
زید نے زبیدہ کے وارثوں کو نوٹس او زبانی ذریعہ سے ولی بننے کو کہا اور زبیدہ کے وارثوں نے انکار کردیازید نے نوٹس کے ذریعہ ا طلاع دی کہ اگر اب تم ولی نہ بنوگے اور بعدمیں بننا چاہوگے تو تم سے زبیدہ کے خورد و نوش وغیرہ کا خرچ لے لیا جائے گااب اگر چند سال بعدزبیدہ کے وارث ولی بننا چاہیں تو کیا زبیدہ کے خورد نوش وغیرہ کا خرچ لے سکتا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ نوٹس کوئی عقد شرع نہیں اس کی بناء پر کوئی مطالبہ نہیں ہوسکتا۔و اﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از حافظ اسمعیل خاں عقب کو توالی بریلی رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو زید نے طلاق مغلظہ دے دی اور اس کی زید سے ایك دختر صغیرہ ہے چند سال بعد ہندہ مدعی ہوئی کہ وہ اتنی مدت سے اپنے میکے میں رہتی ہے میں نے اب تك قرض دام لے کر اپنی اور اپنی دختر کی حاجت پوری کی لہذا روز طلاق سے چار مہینے دس دن بعد تك میرا نفقہ اور آج تك کا دختر کا پچاس پچاس روپے ماہوار کے حساب سے مجھ کودلایا جائے حالانکہ نہ کوئی ماہوار وغیرہ تقرر نفقہ زید نے کیا نہ حاکم نے بلکہ ہندہ اس سے پہلے نفقہ کا دعوی فوجداری میں دائر کرچکی تھی جو خارج ہو ااس صورت میں ہندہ کا دعوی مسموع ہے یانہیں اور کل گزشتہ مدت کا نفقہ ہندہ یا دختر ہندہ کا زید پر واجب الاداہے یا نہیں اور عورت اور اولاد کے نفقہ میں اس بارے میں کوئی فرق ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں ہندہ کا دعوی محض باطل و نامسموع ہے گزشتہ ماہ کا ایك حبہ نہ عورت کے نفقہ کا زید پرلازم ہے نہ دختر کازن اور اولاد کے نفقہ میں یہ فرق کہے کہ عورت اگرچہ مالدار ہو اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہوتا ہے جبکہ وہ اس کے یہاں رہے اور بلاوجہ شرعی میکے میں رہے تو اصلا نفقہ کی مستحق نہیں اور اولاد کا نفقہ ان کی محتاجی کی حالت میں لازم ہوتا ہےاگر مال رکھتے ہیں ان کا نفقہ باپ پر نہیں ورنہ ہے
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
#15152 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
اگرچہ وہ اس کے یہاں نہ رہیںپھر جو نفقہ نہ باہمی قرارداد سے مقرر ہوا ہو نہ حاکم کے حکم سے اسے اگر ایك مہینہ یا زیادہ کتنے ہی برس گزرجائیں اور اس مدت میں عورت اور اولاد قرض دام سے خواہ کسی طریقہ سے اپنی حاجت نکالتے رہیں یا عورت اپنے مال خواہ قرض یا گداگری سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالے تن ڈھکے تو ا س مدت کے کسی حبہ کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتاہاں اگر بحکم حاکم یا تراضی باہمی قرار داد نفقہ ہولیا تھا کہ مثلا اتنا ماہوار دینا ٹھہرااور مدتیں گزریں شوہر نے نہ اس کا نفقہ دیا نہ اولاد کاتو عورت اپنے نفقہ مقرر شدہ کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اولادکا نفقہ اگرچہ برضائے باہمی یا بحکم حاکم مقرر ہوا ہو جب وقت گزر گیا ساقط ہوگیا کہ وہ بوجہ حاجت تھا اور مدت گزشتہ کی حاجت نکل چکی اگرچہ کسی طرح نکلی یہاں تك کہ اگر حاکم نے صغیر بچہ کے لئے ماہوار اس کے باپ پر مقرر کیا اور ماں کو حکم دیا کہ اس سے نہ ملے توتو قرض لے کر بچہ پر خرچ کر تو اگر اس نے قرض لے کر خرچ کیا جب تو بوجہ حکم حاکم باپ سے واپس پائےگی اور اگر اپنے پاس سے خر چ کیا تو حبہ لینے کی مستحق نہ ہوگی کہ حاکم نے قرض لے کر خرچ کرنے کو کہا تھا ہو اس نے نہ کیادرمختارمیں ہے:
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود ۔
خاوند کے گھر سے باہررہنے والی کے لئے نفقہ نہیں ہے وہ واپس آنے تك نافرمان قرار پائے گی۔(ت)
اسی میں ہے:
النفقۃ لا تصیر دینا الا بالقضاء او الرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اضافا اودراہم فقبل ذلك لایلزمہ شئی ۔
نفقہ اس وقت تك خاوند کے ذمہ قرض نہ ہوگا جب تك قاضی نے یا باہمی رضامندی سے طے نہ کرلیا ہویعنی جب تك خاوند بیوی نے باہمی مصالحت سے نفقہ کی مقدارجنس یا نقد متعین نہ کردی ہوتو اس سے قبل خاوند پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔(ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
قضی بنفقۃ غیر الزوجۃ ومضت مدۃ سقطت ۔
اگر قاضی نے بیوی کے علاوہ غیر کا نفقہ لازم کیا ہو اور بغیر ادائیگی جو مدت گزرگئی اس مدت کانفقہ ساقط قرار پائے گا۔ (ت)
حوالہ / References درمختار با ب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
درمختار با ب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٠
درمختار شرح تنویرالابصار با ب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٧
#15153 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ہدایہ میں ہے:
اذا القاضی للولد والوالدین وذوی الارحام بالنفقۃ فمضت مدہ سقطت الاان یاذن القاضی بالاستدانۃ علیہ
جب قاضی اولادوالدین یا ذوی الارحام کے لئے نفقہ کی ادائیگی کا فیصلہ دے تو گزری ہوئی مدت کا نفقہ ساقط ہوجائے گا الایہ کہ قاضی نے اس کے نام پر ان لوگوں کو قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دیا ہوتو ساقط نہ ہوگا۔(ت)
فتاوی بزازیہ میں ہے:
وان انفقت(ای الام)علیہ من مالھا اومن المسئلۃ من الناس لاترجع علی الاب ۔
اگر ماں نے بچے پر اپنا مال خرچ کیا ہویا لوگوں سے مانگ کر خرچ کیا ہوتو اس خرچہ کو بچے کے والد سے وصول نہ کرسکے گی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
امرت بالاستدانۃ فلم تستدن بل انفقت من مالھا فلا رجوع لھالانھا لم تفعل ماامرھا بہ القاضی ۔ (ملخصا)
اگر قاضی نے عورت کو قرض لے کر خرچ کرنے کا فیصلہ دیاہو تو پھر عورت نے قرض کی بجائے اپنامال خرچ کیاتو اس کی وصولی کا حق اسے نہ ہوگاکیونکہ اس نے قاضی کے فیصلہ پر عمل نہ کیا۔(ملخصا)۔(ت)
اور عدت طلاق چار مہینے دس دن سمجھنا محض جہالت ہے اس کی مدت تین حیض ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از یادسوگنج ضلع ہردوئی(اودھ)مرسلہ سید عنایت حسین گرد اور قانون گو ذی الحجہھ
زید کی شادی تقریبا تین سال ہوئے کہ ہوئیاس وقت تك کوئی اولاد نہیں ہوئیعورت منکوحہ ناقص العقل یہاں تك کہ ایك آنہ کا حساب نہیں جانتیتین سو روپے کا زیور گم کرچکی ہےناقص العقل ہونے کی وجہ سے اسے گم کردیااسے گفتگو کی تمیز نہیں ہے کہ جو اس کاہے اس سے گفتگو کرسکےوہ کھانا پکانا اور کپڑاسینا بھی نہیں جانتی ہے اور نماز روزے کو بھی نہیں سمجھتی ہے اور نہ اسے یاد ہوتا ہےاب وہ شخص شادی دوسری ان وجوہات سے کرنا چاہتا ہےمسئلہ اسلام اجازت دیتا ہے یانہیںاور اس کو کس صورت سے
حوالہ / References ہدایہ باب النفقۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ١/٢٩۔٤٢٨
فتاوی بزایزیۃ علی ھامش فتاوی ہندیہ التاسع عشر النفقات نورانی کتب خانہ پشاور ٤/١٦٥
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٨٦
#15154 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
شوہر کو رکھنا پڑے گا جبکہ وہ خبط الحواس ہےکیا اخراجات دونوں عورتوں کے برابر اٹھانا پڑیں گے یانہیںاور اگر وہ منکوحہ دوسری عورت صاحب جائداد ہو وے تب کس حیثیت سے اس کو رکھنا چاہئے اور آیا شوہر کو دونوں عورتیں اپنے ہمراہ رکھنا پڑیں گی یا صرف ایك اور ایك بہ سبب خبط الحواس ہونے کے نہیں رکھنا پڑے گی۔
الجواب:
دوسری شادی کی اجازت ہے مگر عدل فرض ہوگادونوں کو برابر رکھنا ہوگایہ جائز نہ ہوگا کہ دوسری کے پاس رہے اور پہلی سے اس کی کم عقلی کے باعث جدارہےدوسری عورت اگر مالدار ہے اور پہلی محتاج ہے تو شوہر اگر مالدار ہے تو دوسری کے لئے مالداروں کا نفقہ واجب ہوگا اور پہلی کےلئے مالداروں اور محتاجوں کے نفقہ کا اوسطاور اگر شوہر محتاج ہے تو پہلے کے لئے محتاجوں کا نفقہ واجب ہوگا اور دوسری کےلئے اوسطیہ اوسط اب نہ دے سکا تو جتنا دے سکے دے گا باقی اس پراس دوسری عورت کےلئے قرض رہے گا جب طاقت پائے ادا کرے۔درمختارمیں ہے:
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوحھا بقدر حالھما بہ یفتی ویخاطب بقدر وسعہ والباقی دین الی المیسرۃ ۔ ملخصا۔
خاوند پر بیوی کا نفقہ دونوں کے حال کے پیش نظر واجب ہوگااسی پر فتوی دیاجائے گالہذا خاوند سے وصولی اس کی توفیق کے مطابق ہوگیاگر کچھ باقی رہ جائے تو وہ خاوند کے ذمہ قرض ہوگا جس کی وصولی اس کی بہتر پوزیشن پر کی جائے گیملخصا۔ (ت)
دونوں عورتوں کے نفقہ میں فرق ہوگا اگر ایك ان میں مالدار اور دوسری محتاج ہےباقی رات کو رہنے اور لینے دینے وغیرہ اختیاری باتوں میں دونوں کو برابر رکھنا ہوگا اگرچہ ایك کم عقل اور بے سلیقہ ہے۔عالمگیری میں ہے:
یسوی بین الجدیدۃ والقدیمۃ والبکر والثیت والصحیحۃ والمریضۃ والرتقاء والمجنونۃ التی لا یخاف منھا والحائض والنفساء والحامل والحائل والصغیرۃ التنی یمکن وطؤھا کذافی التبیین ۔وھو تعالی اعلم۔
نئیپرانیباکرہثیبہتندرستبیمارشرمگاہ کی تنگی والی مجنونہ جس سے ضرر کاخوف نہ ہوحیض ونفاس والیحاملہ وغیرہ اور نابالغہ جس سے وطی کی جاسکتی ہوتمام بیویوں کا حق برابر اس پر ہوگاجیسا کہ تبیین الحقائق میں ہے۔وھو تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
فتاوی ہندیہ باب القسم نورانی کتب خانہ ١/٣٤٠
#15155 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ:از علی گڑھ مدرسۃ العلوم مولوی عبداﷲ صاحب ناظم دینیات و نصرت شیر خاں محرر دینیات ربیع الاول ھ
زید کو عرصہ تئیس سال سے پچھتر روپے ماہوار بذیعہ ملازمت کے ملتا ہے اور بجز اس ماہواری تنخواہ کے ااور کسی قسم کی زید کو آمدنی نہیں ہے اور زید کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ جو روپیہ ماہواری ملتا ہے وہ سب کا سب اپنی اہلیہ کو دے دیتا ہےاور زید نے اپنی اہلیہ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ جو مقدار شرعی طور سے تمہارے نان نفقہ میں یا میرے ذاتی اخراجات یا میری زوجہ اولی کی اولاد پر اس میں سے خرچ ہوکر جو کچھ پس انداز ہو اس رقم کو تم اپنے مہرمیں محسوب کرتی رہو تاکہ آٹھ دس برس میں تمہارے مہر سے مجھ کو سبکدوش حاصل ہواور اس معاملہ پر زید نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے اقربا کو گواہ بھی کرلیا ہے اور زید کی زوجہ کو بھی اس معاہدہ اور معاملہ سے انکار نہیں ہے بلکہ اس وقت تك اقرار ہے لیکن نان نفقہ کی مقدار رقم میں زید اور اس کی زوجہ کا اختلا ف ہےزید تویہ کہتا ہے کہ میرے پاس بجزاس ملازمت کی آمدنی کے اور کسی قسم کی آمدنی نہیں او میں پانچ ہزار روپے کا قرضدار ہوں جو مہر کا ہے جس کے ادا کرنے کا میں نے ڈول ڈالا ہےاس صورت میں نان نفقہ کی مقدار رقم ماہواری معسر یعنی تنگدست کی شرعا ہونی چاہئےاور زید کی زوجہ رائقہ یہ کہتی ہے کہ تمہارا مشاہرہ بڑامشاہرہ ہے نان و نفقہ کی رقم ماہواری کی مقدار موسر یعنی مالدار کی حیثیت سے مقرر ہونی چاہئےاب علمائے اسلام عالی مقام سے یہ سوال ہے کہ شرعا زید کا کہنا مقبول ہے یا زید کی زوجہ رائقہ کا قول شرعا مقبول ہے اور معسر شخص کو کتنے روپے ماہوار آٹھ سال سابق سے دینے چاہئے اور اس زمانہ میں جو گرانی ہے کے روپیہ نان و نفقہ کے لگائے جائیں اور یہ بھی عرض کردینا ضرور ہے کہ باہر کے کام مثلا غلہ یا دال یا پان وغیرہ منگانے کا زید اپنی وجاہت سے کسی نہ کسی سے کرادیتا ہے اور گھر کے کھانا پکانے کا کام جب سے نکاح ہو ازید کی زوجہ یا اس کی والدہ نے اپنے متعلق کررکھا ہے جیسے کہ عموما شرفاء کے گھروں میں عرفا مروج معمول بہ ہورہاہےبینواتوجروا۔
الجواب:
یہاں متعداد امور ملحوظ ہوتے ہیں:
()مقدار دخل۔
()گرانی وارزانی۔
()حال مقاممثلا زیادہ سرد ممالك جاڑے کا سامان درکار ہوتا ہے معتدل میں کماور بلحاظآب و ہوا غذا میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔
()زمانہ موجودہ میں عادت بلد جہاں جیسی خوراك وپوشاك معتاد و معہود ہو مثلا اب عرب خصوصا مدینہ طیبہ
#15156 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
میں عموما خوش خوراکی وخوش پوشاکی معمول ہے حالانکہ یہی عرب ایك وقت کمال سادگی وتقلل سے موصوف تھا اعتبار عام عوائد کا ہوگا نہ خاص کسی بخیل یامسرف کا بعض بلاد مثلا شاہجہانپور میں عام طورپر تیل کھاتے ہیںپلاؤ قورمہ پر اٹھے کے ہوتے ہیںہمارے بلاد میں یہ طبعا مکروہ اور عرفا معیوبتووہاں گھی کا مطالبہ نہ ہوگا یہاں ہوگا وقس علیہمتعارف طور پر ان سب باتوں کے لحاظ کے بعد کہہ سکتے ہیں کہ اتنی آمدنی اتنے مصارف والا ایسے وقت ایسے مقام میں موسر مرفہ الحال یا معسر تنگدست یا متوسط۔تنویر الابصار میں ہے:
یقدرھا بقدر الغلاء والرخص ۔
نفقہ مہنگائی اور ارزانی کی اعتبار سے ہوگا۔(ت)
نیز اسی میں اور بحوالہ اختیار درمختار میں ہے:
یختلف ذلك یساراواعسار اوحالا اوبلدا ۔
نفقہ خوشحالیتنگدستیعلاقے اور صورت حال کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لو قال ووقتا لکان اولی ۔
اگر ماتن یہاں وقت کو بھی ذکر کرتے تو بہتر ہوتا(ت)
اسی میں ہے: یراعی کل وقت اومکان بماینا سبہ ۔ وقت اور جگہ کا اعتبار کرتے ہوئے نفقہ مناسب مقرر ہوگا۔ (ت)
اسی میں ذخیرہ سے ہے:
ماذکرہ محمد علی عادتھم وذلك یختلف باختلاف الاماکن حرا وبردا و العادات فعلی القاضی اعتبار الکفالۃ بالمعروف فی کل وقت مکان ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے لوگوں کی عادت کے اعتبار کو ذکر کیا ہےتو نفقہ جگہوں کے گرم سرد اور وہاں کی عادات کے اختلاف سے مختلف ہوگاتو قاضی کو ہر مقام اور وقت کے لحاظ سے عرف میں کفایت کااعتبار کرنا ہوگا۔(ت)
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
درمختار شرح تنویر الابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٢
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥١
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٢
#15157 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
بحر میں ہے:
فی الظھیریۃ قدر محمد الکسوۃ بدرعین وخمارین وملحفۃ فی کل سنۃارادبھما صیفیا وشتویا ولم یذکر السراویل فی الصیف اذلا بد منہ فی الشتاء وھذا فی عرفھم امافی عرفنا فتجب السراویل وثیاب اخر کالجبۃ والفراش التی تنام علیہ واللحاف وما تدفع بہ اذی الحر والبردوفی الشتاء درع خز وجبۃ قز وخمارابریسم اھ وفی المجتبی ان ذلك یختلف باختلاف الاماکن والعادات فیجب علی القاضی اعتبارالکفایۃ بالمعروف وفی کل وقت و مکان ۔
ظہیریہ میں ہے کہ امام رحمہ اﷲ تعالی نے لباس میں سالانہ دوچادروںایك لحاظ اور دو اوڑھنیوں کی مقدار ذکر کی ہے اس سے مراد گرما اور سرما دونوں موسموں کے لئے انہوں نے موسم گرما میں شلوار کاذکر نہ فرمایا کیونکہ یہ سردی کے موسم میں ضروری ہےیہ ان کے عرف میں ہےلیکن ہمارے عرف میں شلوار اور دیگر کپڑے مثلاگدا جس پر سوتے ہیں اور لحاف اور وہ کپڑا جس سے سردی اور گرمی کی شدت سے تحفظ کیا جاتا ہے اور سردیوں میں اونی چادر اور گرم جبہ اور ریشمی دوپٹہ اھمجتبی میں ہے کہ لباس علاقوں اور عادتوں کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ ہر علاقے اور وقت کا اعتبار کرتے ہوئے وہاں کے عرف کے مطابق کفایت والے کا فیصلہ کرے۔(ت)
اسی طرح فتح القدیر میں اقضیہ اور ہندیہ میں محیط سے ہے۔رہا شوہر کا مدیون ہونا اقول(میں کہتا ہوں۔ت)ظاہرا اس کے سبب نفقہ زن میں تنگی نہیں کرسکتے کہ یہ بھی مطالبہ عبد ہے بلکہ فتاوی امام اجل قاضی خاں پھر ہندیہ میں ہے:
المحبوس بالدین اذاکان یسرف فی اتخاذ الطعام یمنع القاضی عن الاسراف ویقدر لہ الکفاف المعروف وکذلك فی الثیاب یقتصد فیھا ویأمرہ بالوسط ولایضیق علیہ فی مأکولہ ومشروبہ وملبوسہ ۔
قرض میں مقید شخص اگر خوراك کی تیاری میں اسراف سے کام لیتا ہوتو قاضی اس کو اسراف سے منع کرے اور بقدر کفایت عرف کے مطابق خرچ کا پابندکرے اور ایسے ہی لباس کے معاملے میں میانہ روی سے کا م لے اور اس کا پابند کرے تاہم کھانے پینے اور لباس میں اس پر تنگی نہ کرے۔(ت)
حوالہ / References بحرالرائق باب النفقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٤/١٧٧
فتاوی قاضی خاں کتاب الحجر نولکشور لکھنؤ ٤/٩١٨
#15158 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
جب مدیون پر خود اس کے نفقہ میں تنگی نہ کی گئی اوسط کا لحاظ رہا تو دوسرے کے نفقہ واجبہ میں بدرجہ اولی فلیراجع ولیحرر(اس کی طرف رجوع کیا جائے اور چھان بین کی جائے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔اس کے ساتھ عورت کا خود اپنا حال بھی دیکھا جائے گا کہ غنیہ مفرطہ فی الغنا ہے یا فقیرہ یا متوسطۃ الحال۔اگر زن و شودونوں ایك طرح کے ہیں تو اسی طرح کا نفقہ لازم آئے گا اور مختلف ہیں تو دونوں کے حال کے اوسط مثلا ایك کے اعتبار سے عورت کا نفقہ دس روپے ماہوار ہونا چاہئے اور دوسرے کے لحاظ سے چار روپے تو سات روپے ماہوار واجب کریں گے پھر اگر شوہر فی الحال اس کی ادا پر قادر ہے فبہا ورنہ جس قدر پر قادر ہے دے گا باقی وقت فراخی تك اس پر دین رہے گا۔
قال اﷲ تعالی لینفق ذو سعة من سعته-و من قدر علیه رزقه فلینفق مما اتىه الله-لا یكلف الله نفسا الا ما اتىها-سیجعل الله بعد عسر یسرا(۷)
اﷲ تعالی نے فرمایا:وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر خرچہ مقدر کیا گیا ہو وہ اﷲ تعالی کے دئے سے خرچ کرے اﷲ تعالی کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے جو اس نے اسے عطا کیا ہے عنقریب اﷲ تعالی تنگی کے بعد آسانی فرمائےگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
یستحق النفقۃ بقدر حالھما بہ یفتی ویخاطب بقدروسعہ والباقی دین الی المیسرہ ۔
دونوں کے حال کے مطابق وہ نفقہ برداشت کرے گااسی پر فتوی دیاجائےگااور جتنی توفیق ہو اسی کے مطابق ادائیگی کا حکم ہوگا اور باقی اس کے ذمہ ہوگا اس کو آسانی کے وقت ادا کرے گا۔(ت)
ردالمحتار وبحرالرائق میں ہے:
اتفقوا علی وجوب نفقۃ الموسرین اذا کانا موسرین وعلی نفقۃ المعسرین اذاکانا معسرینوانما الاختلاف فیما اذاکان احدھما موسراوالاخر
فقہاء کرام کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں کشادہ حال ہوں تو ا سکے مطابق اور اگر دونوں تنگدست ہوں تو اس کے مطابق نفقہ واجب ہوگا اور اختلاف صرف اس صورت میں ہے جب ایك فراخی والا ہو اور دوسرا
حوالہ / References القرآن ٦٥/٧
درمختا ر باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
#15159 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
معسرا فعلی ظاہرا الروایۃ الاعتبار لحال الرجل فان کان موسرا وھی معسرۃ فعلیہ نفقۃ الموسرین وفی عکسہ نفقۃ المعسرین واما علی المفتی بہ فتجب نفقۃ المعسرین واما علی المفتی بہ فتجب نفقۃ الوسط فی المسألتین وھو فوق نفقۃ المعسرۃ ودون نفقہ الموسرۃ ۔
تنگدست ہو تو ظاہر روایت کے مطابق اس صورت میں خاوند کی حالت کا اعتبار ہوگا اگر خاوند فراخ دست اور بیوی تنگدست ہوتو فراخی والا نفقہ اور اگر خاوند تنگدست ہو اور بیوی امیر ہو توتنگی والا نفقہ واجب ہوگا جبکہ فتوی والا قول یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں صرف خاوند کے حال کی بجائے دونوں کے حال کے اعتبار سے درمیانہ نفقہ واجب ہوگااور وہ تنگ حالی سے زائد اور فراخی سے کم ہوگا۔(ت)
اس کے سوا ایسا ر واعسار کی کوئی خاص تحدید یہاں علماء نے نہ فرمائی امر عرف پر دائر رکھاہے بخلاف نفقہ اقارب کے وہاں یسار مقدر بہ نصاب ہے
ورأیت فتاوی الخیریۃ انہ ساق الی ھنا ماذکروہ ثمہاذسئل فی الزوجین اذاکانا غنیین ھل تجب علیہ نفقۃ الاغنیاء وماحدالغنی فی باب النفقۃ(اجاب) نعم تجب نفقۃ الاغنیاء قال فی البحر اختلفوا فی حدالیسارعلی اربعۃ اقوال احدھا انہ مقدر بنصاب الزکوۃ قال فی الخلاصہ وبہ یفتی واختارہ الولو الجی معللا بان النفقۃ تجب علی الموسر ونھایۃ الیسار لاحدلھا وبدایتہ النصاب فیقدربہوالثانی انہ نصاب حرمان الصدقۃ وھو النصاب الذی لیس بنام قال فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی وصححہ فی الذخیرۃ اھ
اور میں نے فتاوی خیریہ میں دیکھا تو انہوں نے وہی روش اختیار کی جو فقہا نے اوپر ذکر کی ہےجب ان سے سوال ہوا کہ جب دونوں غنی ہوں تو کیا غنی والانفقہ واجب ہوگا اور نفقہ میں غنی کی حد کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ہاں غنی والانفقہ واجب ہوگابحر میں فرمایا کہ غنا کی حدمیں فقہاء نے اختلاف کیاجو چار قول ہیںایك یہ غنا کی حد نصاب زکوۃ کا اندازہ ہےخلاصہ میں کہاا سی پر فتوی ہےولوالجی نے اسی کو پسند کیا اور وجہ یہ بیان کی کہ نفقہ سہولت پر مبنی ہے اور سہولت کی کوئی آخری حد نہیں ہے جبکہ اس کی ابتدائی حد نصاب ہے لہذا اسی کو معیاد قرار دیا جائے گا۔اور دوسرا قول یہ کہ غناء کی حد وہ ہے جس پر صدقہ لینا حرام ہوتا ہے یہ وہ نصاب ہے جو نامی نہ ہو یعنی تجارتی یا نقدی والا نصاب نہ ہوہدایہ میں فرمایا اسی پر فتوی ہےاور ذخیرہ میں اسی کو صحیح
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٥
#15160 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
والذی یظھر للفقیہ البارع فی الفقہ ان الاول اولی بالقبول لان مالیس بنام سریع النفاد اذاتواردت علیہ النفقات کما ھوظاھر واﷲ تعالی اعلم اھ مافی الخیریۃاقول: تعلیل الامام الولو الجی لایفید الاشتراط النصاب دون النمو الاان یضم الیہ ما افادالعلامۃ الرملی وفیہ تامل فتامل ثم اقول: فی سوقہ الی ھنا نظر فان المعتبر فی الاقارب القدرۃ حتی اوجب محمد علی من یکسب کل یوم درھما وتکفیہ اربع دوانق ان ینفق الدانقین علی محارمہ قال فی الفتح وھذا یجب ان یعول علیہ فی الفتوی اھ فالموسر ثمہ من یمکنہ دفع حاجۃ غیرہ بدون لحوق ضرر بہ والمعسر بخلافہ ولذا لم تجب علیہ اصلا اما نفقۃ المرأۃ فتجب علی الزوج مطلقا وان لم یکن
قرار دیا ہے اھ اورفقہ میں مہارت رکھنے والے پر جو ظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ پہلا قول قبولیت میں اولی ہے کیونکہ جو نصاب نامی نہ ہویکے بعد دیگرے اخراجات میں وہ جلدی ختم ہوجاتا ہے جیسا کہ ظاہر ہےواﷲ تعالی اعلمخیریہ کی عبارت ختم ہوئیاقول:(میں کہتا ہوں)امام ولوالجی کی بیان کردہ علت صرف نصاب کی متقاضی ہے نامی ہونے کو متقاضی نہیں ہے ہاں اگر علامہ رملی کی بیان کردہ وجہ کہ نفقہ کے باب میں غناء کا اعتبار ہوتا ہےکوشامل کیا جائے تو نامی کی وجہ بن سکتی ہےکو شامل کیا جائے تو نامی کی وجہ بن سکتی ہے جبکہ وہ قابل غور بات ہے تو غور کروثم اقول:(میں پھر کہتا ہوں) خیریہ کا جو یہاں تك بیان ہے اس میں اعتراض ہے کیونکہ اقرباء کے نفقہ میں صرف قدرت والی وسعت معتبر ہے حتی کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے روزانہ ایك درھم کمانے والے پر اقرباء کے نفقہ کے متعلق یہ واجب کیاہے کہ اگر درھم کمانے والے کا گزارچار دانق پر ہوتا ہے تو وہ اپنے ذوالارحام پر دو دانق خرچ کرے۔فتح میں فرمایا کہ یہی وہ قول ہے جس پر فتوی دینے میں اعتباد کیا جاسکتا ہے اھتو ذوی الارحام کے نفقہ میں جو دوسرے کی حاجت کو پورا کرسکے اور خود ضرر میں مبتلا نہ ہو وہ فراخ دست کہلائے گااور تنگدست وہ ہوگا جو ایسا نہ کرسکے اور اس وجہ سے اس پر بالکل واجب نہ ہوگا لیکن بیوی کا نفقہ تو خاوند پر ہر حال میں
حوالہ / References فتاوی خیریۃ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ١/٧٥
فتح القدیر فصل وعلی الرجل ان ینفق علی ابویہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٢٢٧
#15161 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
لہ شیئ وانما الموسر والمعسر ھھنا بمعنی الموسع و المقتر وذلك لایتقید بالنصاب ولایلزمہبل یختلف بما قدمنا فجعلھم مالك النصاب قادرا لا یستلزم جعلہ موسعاوان یلزم علیہ لامرأتہ نفقۃ الاغنیاءوھی ربما تفنی النصاب فی اقل من نصب سنۃ بل فی ربعھا۔
واجب ہوتا ہے اگرچہ خاوند کے پاس کچھ بھی نہ ہوتو بیوی کے نفقہ کے معاملہ میں غنی اور تنگدست بمعنی صاحب و سعت اور تنگی ہے اور یہ معنی نصاب سے مقید نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کو نصاب لازم ہے بلکہ دونوں جدا ہوجاتے ہیںجیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہےتو ان کا خاوند کو صاحب نصاب قرار دے کر نفقہ پر قادر ماننا اس چیز کو مستلزم نہیں کہ خاوند وسعت والا قرار پائے اور اس پر غنیوں والانفقہ بیوی کے لئے واجب ہو جبکہ بیوی چھ ماہ میں نصاب کا خاتمہ کردیتی ہے بلکہ سال کے چوتھائی حصہ میں خاتمہ کردیتی ہے۔(ت)
لاجرم ردالمحتار میں ہے:
صرحواببیان الیسار والاعسار فی نفقۃ الاقارب ولم ارمن عرفھما فی نفقۃ الزوجۃ ولعلھم وکلو ذلك الی العرف والنظر الی الحال من التوسع فی الانفاق و عدمہ ویؤیدہ قول البدائع لوکان الرجل مفر طافی الیسار الخوسیاتی تمامہ۔
فقہاء نے اقرباء کے نفقہ میں خوشحالی اور تنگ حالی کو بیان کیا لیکن میں نے بیوی کے نفقہ میں کسی کو خوشحالی اور تنگ خالی کے کے معیار کو بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھااور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ معیار عرف پر چھوڑدیاہو کہ عرف میں خوشحالی کا نفقہ اور غیر خوش خالی کا کیا ہےاور اس کی تائید بدائع کا یہ قو ل کہ"اگر کوئی شخص خوش حالی میں انتہائی زیادہ ہو الخ"کررہا ہےبدائع کا مکمل قول آگے آرہا ہے۔(ت)
ولہذا نفقہ اقارب میں دوہی قسمیں رہیں کہ قادر اور عاجز میں حصر ہے اور یہاں تین قسمیں ہیں:غنیفقیرمتوسط۔اور ان کے نفقات کے فرق میں عبارات مختلف آئیںامام سراج الدین قاری الہدایہ نے فرمایاغنی کے لئے دونوں وقت گیہوں کی روٹی اور گوشت ہےمتوسط کے لئے روٹی اور روغنفقیر کے لئے روٹی اور پنیرو سرکہ۔اقضیہ میں فرمایا:غنی کی نانخورش گوشتمتوسط کی دودھفقیر کی روغن یعنی زیتونوقال تعالی و صبغ للاكلین(۲۰) (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے۔ت) اور
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٥
القرآن الکریم ٢٣ /٢٠
#15162 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ہمارے عرف سے قریب تر وہ ہے جو امام ملك العلماء نے فرمایا کہ اعلی درجہ مرغ کا گوشت اور سوجی کے پھلکےاور اوسط گیہوں کی روٹی بکر ی کا گوشت اور ادنی جو کی روٹی۔عقودالدریہ میں ہے:
سئل قاری الھدایۃ اذا طلبت تقدیر النفقۃ لھا ولاولدھادراھم ھل لھا ذلک(اجاب)لایجب بل الواجب علیہ طعام وادام علی الغنی خبز حنطۃ ولحم غدا وعشاء بقدر کفایتھاوالمتوسط خبز و دھن وعلی الفقیر خبز وجبن وخل ۔
قاری الہدایہ سے سوال کیاگیا کہ جب بیوی اپنے لئے اور اوالاد کے لئے روزانہ چند درہم کا نفقہ مقرر کرنے کا مطالبہ کرے تو کیا اس کویہ حق ہےتو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ عورت کا یہ مطالبہ پورا کرنا ضروری نہیں بلکہ خاوند پر اگر غنی ہوتو روٹی اور سالن میں صبح و شام گندم کی روٹی اور گوشت بقدر کفایت اور درمیانے حال والا ہوتو اس پردونوں وقت روٹی اور روغناور اگر فقیر ہوتو روٹیپنیر اور سرکہ واجب ہے(ت)
فتح القدیر میں ہے:
وفی الاقضیۃ یفرض الادام ایضا اعلاہ اللحم وادناہ الزیت واوسط اللبن ۔
فیصلوں کے بیان میں ہے کہ سالن بھی مقرر کیا جائے جس کا اعلی درجہ گوشتادنی درجہ زیتون اور درمیانہ درجہ دودھ ہیے۔(ت)
ردالمحتار میں بدائع سے ہے:
لوکان الرجل مفر طافی الیسار یاکل خبز الحواری ولحم الدجاج والمرأۃ مفرطۃ فی الفقر تأکل فی بیت اھلھا خبز الشعیر یطعمھا خبز الحنطۃ ولحم الشاۃ ۔
اگر خاوند اعلی درجے کا امیر ہے جو سوجی کے پھلکے اور مرغ کا گوشت کھاتا ہے اور عورت انتہائی فقیر ہو جو اپنے گھر میں جو کی روٹی کھاتی ہوتو یہ خاوند اس کو گندم کی روٹی اور بکری کا گوشت دے۔(ت)
عالمگیریہ میں کافی سے ہے:
ان کانت موسرۃ وھو معسر لھا فوق مایفرض لوکانت معسرۃ فیقال
اگر خاوند فقیر ہوتو امیر بیوی کو وہ خوراك دے جو غریب بیوی کے لئے مقررہ سے زیادہ ہواس
حوالہ / References عقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ باب النفقۃ حاجی عبدالغفار تاجران ارگ بازار قندھار افغانستان ١/٧٤
فتح القدیر باب النفقۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٢٠٠
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٥
#15163 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
لہ اطعمھا خبز البر وباجۃ او باجتینوان کان الزوج موسرا مفرط الیسار نحوان یاکل الحلواء واللحم الشوی والباجات و ھی فقیرۃ کانت تاکل فی بیتھا خبز الشعیر لایجب علیہ ان یطعمھا مایاکل بنفسہ ولاماکانت تاکل فی بیتھالکن یطعمھا خبزالبر وباجۃ اوباجتین ۔
صورت میں خاوند کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اس کو گندم کی روٹی باجہ یا دو باجے(بھیڑ بکری کے پائے)خوراك دےاور اگر خاوند اعلی درجے کا امیر ہو مثلا وہ حلواگوشت بھنا ہوا یا بھیڑ بکری کے پائے کھاتا ہے اور بیوی فقیر ہوجو اپنے گھر میں جو کی روٹی کھاتی تھی تو خاوند پر یہ واجب نہیں کہ اس کو وہی خوراك دے جو خود کھاتا ہےاور نہ ہی وہ خوراك دے جو بیوی اپنے گھر میں کھاتی تھی بلکہ وہ اس کو گندم کی روٹی اور بھیڑ بکری کے پائے ایك یا دو خوراك میں دے۔(ت)
ان اعصاروامصار میں پچھتر روپے ماہوار کی آمدنی والا نہ امیر کہلائے گا نہ فقیر بلکہ ایك متوسط الحال ہےاگر عورت بھی ایسی ہی ہے اور متوسط زناں کا نفقہ لیا گیہوں کی روٹی اور بکری کا گوشت کبھی سادہ کبھی ترکاری کاکبھی اور کھانا کہ قیمۃ اس کے قریب ہواور پہننے کو ململ خاصا چھینٹ(یہاں مسودہ میں بیاض ہے)تو حق بحقدار رسیدنہ یہ اس میں کمی کرسکتا ہے نہ وہ اس سے زائد کے مطالبے یا صرف کا اختیار رکھتی ہےاور اگر وہ غنا میں طبقہ اعلی سے ہے تو ضرور زائد کی مستحق ہے جو اوسط اعلی کے اوسط سے زائد نہ ہواور اگر طبقہ ادنی سے ہے تو ضرور کم کی مستحق ومستوجب ہے جو اوسط وادنی کے اوسط سے کم نہ ہوان اصول پر صحیح محاسبہ کیاجائےاگر اس نے اپنے استحقاق سے زیادت قلیلہ کی ہے تو قابل لحاظ نہیں اور زیادت فاحشہ کی ہے مثلا اس کے خر چ میں حساب شرعی سے دس۱۰ روپے ماہوار ہونا چاہئے تھا اور اس نے پندرہ روپے ماہوار خرچ کیا تو جبکہ اول سے شوہر نےاسے مقدار شرعی پر خرچ کی اجازت دی تھی زیادت غصب ہوئی اور اس کا تاوان عورت پر آیا جو اس کے مہر میں محسوب ہوسکتا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علی الیدما اخذت حتی تؤدی ۔ھذا ماظھرلی واﷲ تعالی اعلم۔
ہاتھ نے جو لیا وہ اس پر بوجہ ہے جب تك وہ اسے ادا نہ کرے۔ یہ وہ بحث ہے جو مجھ پر ظاہر ہوئی۔واﷲتعالی اعلم (ت)
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٤٨
جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١/١٥٢
#15164 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ: ازجاورہ محلہ مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ جو جوان العمر نیك چلن ہے عرصہ آٹھ نوسال سے ہندہ کے شوہر زید نے ہندہ کو چھوڑ دیا ہے اس کا نان ونفقہ نہیں دیتا ہےنہ کسی طرح کی خبر گیری اس کی کرتا ہےبلکہ ہندہ کو ایذا وتکلیف پہنچانے کی غرض سے طلاق بھی نہیں دیتا ہے تاکہ ہندہ اس کے ظلم سے نجات پاکر کسی شخص سے نکاح کرکے اپنی گزراوقات کرےہندہ پردہ نشین ہے اس کوکوئی کھانا کپڑا دینے والا نہیں ہےنہ اس کوکوئی قرض دیتا ہےنہ اس کے پاس اثاثہ ہے جس کو فروخت کرکے بسر اوقات کرےنہ ہندہ دستکار ہےکہ جس کی اجرت سے ضروریات خورد ونوش کو پوراکرسکےاگر ہندہ کا نکاح ثانی نہ ہوگاتو وہ یقینی طور پر ضرور زناکاری میں مبتلا ہوگی کیونکہ اس کا عالم شباب ہے اور بغیر نکاح ثانی کئے دوسرا ذریعہ معاش نہیں ہوسکتااو رہندہ ایسے مقام پر ہے جہاں قاضی نہیں ہے پس صورت مرقومہ میں ہندہ کے واسطے خاوند ظالم سے کوئی صورت رہائی کی نکلتی ہے یانہیں اگر کوئی صورت ہندہ کی خلاصی کی نہیں نکلتی ہے تو کیا شرع ہندہ کو زنا کراکر گزر اوقات کرنے کی اجازت دیتی ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
شرع مطہر اﷲ ورسول کا حکم ہےاﷲ ورسول سے زنا کی اجازت مانگنی کفر ہےجب تك شوہر زندہ ہے اور طلاق نہیں دی دوسرا نکاح حرام حرام حرامزنا زنا زنا ہے۔وساوس اور اندیشے کاہے کے ہیں زناکےموہوم زناسے بچنے کےلئے موجود زنا کراؤ یہ کون سا دین ہےچارہ کارنالش ہے کہ روٹی کپڑا دے یا طلاقاور یہ بھی نہ ہوسکے تو سوائے صبر کے کچھ علاج نہیںاور جو ا ﷲ کے لئے صبر کرتا ہے اﷲ اس کی مشکل کھول دیتا ہےرزق اﷲ پر ہے شوہر رزاق نہیںمحنت مزدوری کرے اور غلبہ خواہش کےلئے روزے رکھے۔نبی صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء ۔
اور جو شادی کے خرچے کی استطاعت نہیں رکھتا اس پر لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لئے شہوت کاتوڑ ہے۔(ت)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
و من یتق الله یجعل له مخرجا(۲)
جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کے لئے راہ نکال دے گا
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اﷲ بن عباس دارالمعرفۃ بیروت ١/٤٢٤،٤۳٢
#15165 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
و یرزقه من حیث لا یحتسب-و من یتوكل على الله فهو حسبه
اور اسے وہاں سے رزق پہنچائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگاجو اﷲ پر بھروسہ کرے تو اﷲ اسے کافی ہے۔
اور فرماتا ہے:
و من یتق الله یكفر عنه سیاته و یعظم له اجرا(۵)
جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کا کام آسان کردے گا۔
اﷲ سچا اور اس کے وعدے سچےاور شیطان جھوٹا اور اس کے ڈراوے جھوٹےاﷲ سے ڈرے اور اس پر بھروسہ کرےیقینا اﷲ اس کے لئے آسانی کردے گا اور اس کے لئے راہ نکال دے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:از اودے پور میواڑراجپوتانہ محلہ چھاوت واڑی مرسلہ قادر بخش چابك سوار رمضان ۱ھ
کیا کوئی ایسی تحریر دستاویز کہ جس کو زید نے مسماۃ ہندہ کو دوسری شادی کے وقت بابت انتظام نان نفقہ لکھ دی ہو کیا بعد طلاق ہندہ کااس تحریر سے کسی قسم کا کوئی حق رہتا ہے:
الجواب:
مہر ونفقہ ایام عدت کے سوا اور کوئی حق واجب شرعا نہیں اور اگر زید نے لکھ دیا ہو کہ عمر بھر تیرانان و نفقہ میرے ذمہ ہے تو یہ ایك وعدہ ہے اسے وفا کرنا چاہئے مگر اس کی بناپر جبرا مطالبہ نہیں ہوسکتا۔اشباہ میں ہے:لاجبر فـــــ علی الوفاء بالوعد (وعدہ پورا کرنے پر جبر نہیں۔ت) اس کے سوااس تحریر کا حاصل اگر کچھ اور ہوتو بعد ملاحظہ تحریر معلوم ہوسکتا ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ٦٥ /٢و ٣
القرآن الکریم ٦٥ /۵
الاشباہ والنظائر کتاب الحظر والاباحۃ ادارۃ القرآن کراچی ٢/١١٠و ٥١١
فـــــ:وفائے وعدہ سے متعلق اشباہ سے جو عبارت مجھے ملی اس کے الفاظ یوں ہیں:وعدہ ان یأتیہ فلم یأتہ لایأثم ولا یلزم الوعد الااذا کان معلقا ___اسی معنیٰ کی عبارت فتاوی ہندیۃ الباب السابع فی اجازۃ المستاجر جلد ٤ص ٤٢٧پر ملاحظہ ہو۔نذیر احمد سعیدی
#15166 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ: از چتوڑگڑھ محلہ چھیپیاں مسئولہ جمیع مسلمانان گنگرار محرم ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کو شوہر عرصہ آٹھ سال سے ہندوستان چھوڑ کر غیر ملك میں چلاگیا زندہ ہے خیریت کا حال لکھتا رہتا ہے مگر اس کے لئے نہ تو یہاں اس کی جائداد ہے اور نہ اس نے آج تك خرچ کے لئے زوجہ کے پاس روپیہ پیسہ روانہ کیا نہ اس عرصہ میں وہ کبھی آیا اور نہ آئندہ آنے کا قصد رکھتا ہےزوجہ نے نان نفقہ کے انتظام کے لئے کئی مرتبہ اسے لکھا مجبور ہوکر طلاق چاہی مگر نہ تو نان نفقہ دیتاہے اور نہ طلاق دیتا ہےاب سنا جاتا ہے کہ عورت پریشان ہوکر نصرانیت اختیار کرنے والی ہےایسی صورت میں عورت مذکورہ سے معاملہ مندرجہ سوال میں کسی عالم بامعتبر سے فسخ نکاح کی درخواست کراکے بعدانقضائے عدت فسخ نکاح نکاح جدید کسی دوسرے شخص سے کرادینا جائز ہے یاناجائزآیا اس کے لئے کوئی صورت ہے شرعی کہ اسے مرتدہ ہونے سے بچائے۔
الجواب:
جس نے مرتدہ ہونے کا قصد کیا وہ اس وقت مرتدہ ہوگئیبچائی کاہے سے جائےاور شوہر کی زندگی میں بلاطلاق دوسرے سے نکاح کی کوئی صورت نہیں قال تعالی و المحصنت من النسآء (اﷲ تعالی نے فرمایا:نکاح والی عورتیں(حرام ہیں)۔ت)یہاں نہ کوئی حنبلی مذہب کا قاضی ہے نہ کسی حنفی مقلد کو اس مذہب کے خلاف قضا کا اختیار ہے اور اگر کرے گا نافذ نہ ہوگی ایسی تو سیعیں لازم مذہب کرتی ہیںوالتفصیل فی البحرالرائق وردالمحتار وغیرھما من الاسفار(اور اسکی تفصیل بحرالرائق اور ردالمحتار وغیرہما کتب میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از اکورہا ڈاك خانہ گنگیری ضلع علی گڑھ مسئولہ امداد علی خاں صاحب مدرس اول محرم ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میری زوجہ وقت نکاح بدمزاج معلوم ہوتی تھی بعد میں وہی بدمزاجی بڑھتے بڑھتے فتور عقل ثابت ہوئیفاتر العقلی کی حالت میں اس سے تین بچے بھی مختلف اوقات میں پیداہوئے اور مرےاس کے مرض کا علاج مدت مدیر تك حکیموںدائیوںڈاکٹروںعاملوں کے ذریعہ کرایا گیا اور اپنی حیثیت سے زیادہ صرف کیا مگر کوئی صورت افاقہ کی نہ ہوئی اور مریضہ کے عملوں سے بہت کچھ نقصانات مالی ظہور میں آئےاس کی حالت فاتر العقلی کے باعث ایسی ہوگئی ہے کہ وہ
حوالہ / References القرآن الکریم ٤ /٢٤
#15167 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
احکام شرعیہ اور خاوند کے جائز حکموں کی تعمیل نہیں کرسکتی نہ وہ اپنی خواہشات کو محسوس کرسکتی ہے نہ پاکی و ناپاکی میں تمیز رکھتی ہے نہ امورات خانہ داری و علائق زندگی کو سمجھ سکتی ہے غرض کہ مجھے اس سے تمام مصلحتیں فوت نظر آتی ہیں اس کے علاج سے ہر طرح مایوس ہوکر اعزاواقربا کے اصرار واپنی آسائش و قیام نسلی کی امید پر میں نے بحالت مجبوری بعد بسیار کے دوسری شادی کرلی ہے اس سے بفضلہ ایك بچہ بھی پیدا ہوا ہےاب میرے متعلقین میں میری ایك والدہ ضعیفہ اور زوجگان وایك بچہ و ایك میں خود یہ پانچ کس ہیں اور کچھ بار قرضہ بھی ہے جو بوجہ ضروریات شرعی ہوا ہے اب زوجہ سابقہ یعنی فاترا لعقلی کی والدہ کو(میرے خیال میں تجاہل عارفانہ سے)شبہہ ہے کہ میری لڑکی کو ان لوگوں سے تکالیف پہنچتی ہیںاور نہ وہ ان لوگوں میں آسائش رہ سکتی ہےاس لئے ان کی خواہش ہے کہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر میری نصف آمدنی کو بٹالیں اور اسی امید پر وہ عنقریب کچہری مجاز میں نالش کرنے والی ہیں میں ان سے کہہ رہاہوں کہ میری جانب سے کوئی تکلیف کبھی نہیں ہوئی نہ آئندہ ہوگی بلکہ آپ خودرہ کر میرے کاموں میں مدد کیجئے اور اپنی بیٹی کو حسب منشاآرام پہنچائیے اور بوجہ ناپاك رہنے اور ہوش وحواس درست نہ ہونے کے اپنی بیٹی کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے برتنوں سے احتیاط رکھئے یا زردین مہر سے دست بردار ہوکر مجھ سے اپنی بیٹی زوجہ میرے کے واسطے چار روپیہ ماہوار علاوہ پارچہ پوشیدنی کے تاحین حیات لیتی رہئےکیونکہ اس وقت پانچ آدمیوں کی پرورشقرضہ کی ادائیگیتربیت اولاداتفاقی ضروریات کا پورا کرنا میرے ذمہ ہےاور اس کو اپنے مکان پر رکھئے وہ ان باتوں میں سے کسی کو منظور نہیں کرتیںپس ایسی صورت میں میرے لئے شرع شریف کا کیا حکم ہے جس سے کہ میں خدا ورسول کے نزدیك مواخذہ دار نہ ہوں اس میں دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسی عورت کا دین مہر و نان نفقہ کسی خدمت کے عوض مجھ پر واجب ہے۔
الجواب:
مہر کسی خدمت کا معاوضہ نہیں وہ نکاح میں بضع کا عوض ہے اور بہر حال واجب ہے اور جب فاتر العقل ہے تو اس کے مہر سے دستبرداری نہ وہ کرسکتی ہے نہ اس کی ماں نہ کوئی اوریوں ہی جب تك وہ شوہر کے گھر ہے یا اس کے گھر آنے سے انکار نہ کرےاس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے جو زن و شو دونوں کو حال کی رعایت سے بقدر متوسط دلایا جائے گا مادر زن کا نصف آمدنی مانگنا ظلم صریح ہے جب کہ یہ مقدار نفقہ زن سے زائد ہودرمختار میں ہے:
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا بقدر حالھما بہ یفتی ویخاطب
خاوندپر بیوی کا نفقہ ان دونوں کے حال کے مطابق ہےاسی پر فتوی دیا جائے گااور خاوند کو اس کی
#15168 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
بقدر وسعہ والباقی دین الی المیسرۃ واﷲ تعالی اعلم۔
وسعت کے مطابق ادائیگی کا حکم ہوگا اور باقی ہوتو اس کے ذمہ واجب الادا رہے گا جب وہ آسانی والا ہوگاواﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ: از جامع مسجد بریلی مسئولہ نواب چھوٹے میاں صاحب رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کا عقد بکر کے لڑکے کے ساتھ کیا عقد کے بعد ایك ماہ تك زید کی لڑکی اپنے شوہر کے مکان پر رہی اس وقت سے زمانہ تخمینا نو ماہ کا ہوا کہ لڑکی زید کے مکان پر موجود ہےنان نفقہ کی شوہر یا شوہر کے باپ نے خبر نہیں لیاب اس امر کا تقاضا ہےکہ زید اپنی لڑکی کی رخصت کردےزید کو رخصت کرنے سے کچھ انکار نہیں ہےعلمائے دین کی خدمت میں صرف یہ گزارش ہے کہ ان ایام کا نان نفقہ کس پر فرض ہے اور لڑکی رخصت ہونے کے بعد زید کے اور شرعی خاندان کے تعلق والوں کے کس کس کے یہاں جا سکتی ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اس نو مہینے کا نان نفقہ کسی پر نہیںجو دن گزرگئے گزرگئےہاں اگر نان ونفقہ کچھ مقرر و معین قرار پاچکا کہ اتنا ماہوار دیں گےاور زید نے لڑکی کو بٹھانہ رکھانہ لڑکی نے شوہر کے یہاں جانے سے انکار کیا بلکہ باپ کے یہاں آئی تھیپھر شوہر کے بلانے کی منتظر رہی اور اس نے اتنے مہینوں نہ بلایا تو اس صورت میں وہ مقررشدہ نفقہ ان مہینوں کا دے گااور اگر یہ بلانا چاہتا تھا اور لڑکی نہ گئی تو ان مہینوں کا نفقہ کسی پر نہیں اگرچہ مقرر شدہ ہوعورت آٹھویں دن اپنے ماں باپ کے یہاں صبح سے شام تك کےلئے بلا اجازت شوہر جاسکتی ہے اور اپنے محارم مثلا حقیقی یا سوتیلے بہنبھائیبھتیجےبھتیجی بھانجےبھانجی چچا ماموںپھوپھیخالہنانادادا کے یہاں ہر سال بھر بعد دن بھر کے لئےرات کو بہر حال شوہر کے یہاں آنا ہوگایہ بلااجازت ہےاور شوہر کی اجازت سے انہیں لوگوں کے یہاں مہینہ بھر اور زائد جتنے دنوں کی وہ اجازت دے رہ سکتی ہےلیکن غیر محارم مثلا چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹوں بیٹیوں یا جیٹھ دیور بہنوئی وغیرہم یا اجنبی کے یہاں شوہر کی اجازت سے بھی نہیں جاسکتی اگر شوہر اجازت دے گا تو وہ بھی گنہگار ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازشہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ احمد یار خاں صاحب شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے چند اولادیں ہوئیں ان میں سے ایک
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٦
#15169 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
لڑکی بعمر چھ سال موجود ہے اس عورت کے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بہت سخت تکلیف ہوتی ہے اور قریب المرگ ہوجاتی ہےلہذا اب یہ عورت اور اس کی ماں و بھائی وغیرہ کہتے یہں کہ ہم کو جان بچانا فرض ہےاور یہ عورت اپنے خاوند سے جماع کرنا نہیں چاہتی اور کہتی ہے کہ مجھ کو اپنی جان کا اندیشہ ہےاس حالت میں اس کے خاوند پر نان نفقہ دینا لازم ہے یانہیں اور یہ عورت اور اس کی ماں و بھائی کہتے ہیں کہ تم اپنی دوسری شادی کرلواس کے خاوند میں اتنی قوت نہیں کہ دو عورتوں کا خرچ برداشت کرسکے کیونکہ یہ بیحد غریب آدمی ہےلہذا شرع شریف کا جو حکم ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب:
عورت اگر مکان شوہر میں نہ رہے نفقہ نہ پائے گیاور اگر یہاں رہے اور جماع پر راضی نہ ہومگر شوہر چاہے تو جماع کرسکے پھر اگرچہ نہ کرے نفقہ پائے گیمرد اگر دو کا خرچ برداشت نہ کرسکنے کے سبب اسے نکال دے گا اور عورت اس کے یہاں رہنا چاہے گی اور یہ اس سے زبرستی جماع پر قادر ہوگا تو نفقہ آئے گا۔درمختار میں ہے:
لھا النفقۃ لو مرضت وفی منزلھا بقیت ولنفسھا مامنعت لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود قید بالخروج لانھا لو مانعتہ من الوطئ لم تکن ناشزۃ اھ۔
بیوی کےلئے نفقہ کا حق ہوگا وہ بیمار ہواور اپنے گھر میں ہو اور اپنے آپ کو سپرد کرنے سے مانع نہ ہو اور خاوند کے گھر سے بلاوجہ باہر رہنے والی کے لئے نفقہ نہیں وہ نافرمان ہوگی تا وقتیکہ واپس آئےاور ماتن نے خاوند کے گھر سے باہر کی قید ذکر کیاس لئے کہ اگر خاوند کے گھر میں رہتے ہوئے جماع سے رکاوٹ کرے تو نافرمان نہ ہوگی اھ(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لو مانعتہ قیدہ فی السراج بمنزل الزوج و بقدرتہ علی وطئھا کرھا ۔واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارنے جو کہا کہ جماع سے منع کرےتو اس کو سراج الوہاج میںخاوند کے گھراور خاوند کو جبرا اس سے جماع کی قدرت ہوکے ساتھ مقید کیا ہے(کہ ایسی صورت ہوتو وہ نافرمان نہ کہلائے گی)واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References درمختا ر باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٧
#15170 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہ:ازکانپور طلاق محل مکان حکیم نورالدین مسئولہ عبیداﷲ شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آوارہ اور بدچلن ہونے کے علاوہ نان و نفقہ کاکفیل بھی نہیں ہوسکتا اور اس کا باپ یعنی خالد اگرچہ نان ونفقہ کا کفیل ہوسکتا ہے اگر وہ چاہےمگر وہ اور اس کی اہلیہ وغیرہ بھی ہندہ کو سخت تکالیف کھانے پینے پہننے کی دیتے ہیں اور سخت خدمت مثل ایك لونڈی کے لیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں ہندہ کو اپنے نفس کے روکنے کا اختیار ہے کیونکہ ان کی معاشرت نہایت خراب ہے بلکہ جان کا خطرہ ہےاور کیا قاضی کو حق ہے کہ وہ دونوں میں تفریق یعنی خلع کرادے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
نفقہ نہ دینے پر حاکم اسے مجبور کرے گا کہ نفقہ دے یا طلاق لقولہ تعالی فامساك بمعروف او تسریح باحسان (کیونکہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:بھلائی کے ساتھ پاس رکھو یا نیکی کرتے ہوئے چھوڑدو۔ت)لیکن قاضی بطور خود اس وجہ سے تفریق نہیں کرسکتا۔درمختار میں ہے: لایفرق بینھما بعجزہ عنھا بانواعھا الثلثۃ(وھی ماکول و ملبوس و مسکن ح اھ ش)ولا بعدم ایفائہ حقھا ولو موسرا ۔واﷲ تعالی اعلم۔
تینوں کے حقوق سے عجز پر خاوند او ربیوی میں تفریق نہ ہوگیوہ حقوقخوراکلباس اور مسکن ہیںبحراھ ش (شرح کی عبارت ختم)اور نہ ہی امیر ہونے کے باوجود بیوی کے یہ حقوق مکمل نہ کرنے پر تفریق ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از اودے پور میواڑ مدرسہ شرقیہ مرسلہ سید عبدالرحیم صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادر بخش کی عورت مسماۃ محرم ہے سال شادی کو ہوئے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نام بردہ سے عقد ثانی کیا اور محرم کو اس مضمون کی تحریر لکھ دی کہ جو میرا گاؤں جاگیر کا ہے اس میں ۳ روپے سالانے ادا کرتا رہوں گا بلا عذ راور حال میں نیا مکان جو بنایا ہے وہ تیرےرہنے کو دے دیااگر تیرے لڑکا ہوگا تو میری تمام جائداد کا مالك ہوگا اور اگر اس دوسری عورت سے ہوگا تو وہ اس تحریر کی پابندی کرے گاکچھ عرصہ بعددوسری کے لڑکا پیدا ہوامسماۃ محرم قادر بخش کی تابعداری کرتی رہی لیکن دوسری عورت کی اور اس کی باہمی تکرار اس بنا پر ہوتی رہی کہ جو تحریر قادر بخش نے زوجہ اولی کو لکھ دی ہے وہ واپس دے دے کیونکہ میرے لڑکا تولد ہوگیا ہےمحرم نے باوجود تکرار فساد
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /٢١٩
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٩،ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٦
#15171 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
تحریر نہیں دیقادر بخش نے زوجہ ثانیہ کے بہکانے سے پہلی کو نکال دیاجبکہ محرم نے کچہری میں نان و نفقہ وپابندی تحریر کا دعوی کیا اس پر شوہر نے اپنا بیان قلمبند کرایا کہ محرم کو میں نے طلاق دے دیلیکن اصلیت یہ ہے کہ اس نے اسے طلاق نہ دی نہ کوئی طلاق نامہ تحریر کیا نہ کوئی گواہ طلاق دینے کا ہےصرف دوسری عورت کے ورغلانے پر اس نے ایسا کہہ دیا ہے اور مشہور کیا ہےمحرم نے شوہر کی کوئی خطا نہیں کی ہےکیا قادر بخش کے ایسا کہہ دینے اور شہرت دے دینے سے محرم کو عندالشرع طلاق ہوگئی اگرہوگئی تو محرم کو عند الشرع یہ حق حاصل ہے کہ وہ تحریر جو قادر بخش نے محرم کو دی ہے اس کی پابندی کرانے کی وہ کس حد تك مستحق ہے
الجواب:
طلاق شوہر کے زبان پر ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق دے دی طلاق ہوگئی نہ دی تھی تو اب ہوگئی اور رہنے کو مکان دینا مالك کردینا نہیں جب تك ولایت تملیك ثابت نہ ہواور اس کے ساتھ اپنے اسباب وغیرہا سے خالی کرکے قبضہ دلادینا ضرور ہےتین سو روپے سالانہ دینا اگر علاوہ نان ونفقہ تھا تو محض ایك وعدہ تھا وعدہ کی بناء پر دعوی نہیں ہوسکتا۔اشباہ وغیرہما میں ہے:لاجبر علی الوفاء بالوعد (وعدہ پوراکرنے پر جبر نہیں۔ت)اور اگر یہ نفقہ مقرر کیا گیا تھا تو طلاق سے ساقط ہوگیا اس کا دعوی نہیں کرسکتیمگر ماہ رواں کا جس میں اس نے کہا کہ میں نے اسے طلاق دے دی۔تنویر میں ہے:
بموت احدھما وطلاقھما یسقط المفروض ۔
خاوند بیوی میں سے ایك کے فوت ہوجانے یا طلاق سے مقررہ نفقہ ساقط ہوجاتا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال الخیرالرملی وقید السقوط بالطلاق شیخنا الشیخ محمد بن سراج الدین الحانوتی بمااذا مضی شھر فازید وھو قید لابد منہ تامل اھ واﷲ تعالی اعلم۔
خیرالدین رملی نے فرمایا کہ طلاق کی وجہ سے نفقہ ساقط ہونے کوہمارے شیخ محمد بن سراج الدین حانوتی نے ایك ماہ یا زائد گزرجانے سے مقید کیا ہے اور یہ قید ضروری ہےغور کروا ھواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب الحظر والاباحۃ ادارۃ القرآن کراچی ٢/١١٠،٥١١
درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٠
ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٩
#15172 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مسئلہتا: از مہاندی ہیڈورکس ڈویژن ضلع رائے پورسی پی مرسلہ سردار خاں کلرك صفر ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ ہندہ اس سے سخت بدزبانی او ردرشت کلامی سے پیش آتی ہے اور مندرجہ ذیل امور اس نے بغیر اپنے خاوند زید کی رضامندی کے کئے
()بغیر اجازت زید کے وہ اپنے مکان سے باہر کئی مرتبہ گئی اور اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی شادی میں اس نے زید کی کئی چیزیں بغیر اجازت و رضامندی زید کے بطور جہیز دے دیں۔
()بلااجازت و مرضی زیداس نے اپنے چھوٹے بھائی کی لڑکی کو اپنا متبنی کیا اور زیوراتآب و خورش اور ملبوسات سے اس کی کفالت کرتی رہییہ زیورات وغیرہ بھی اس نے بلااجازت زید کے اس لڑکی کیلئے زید کی آمدنی سے بنوائے۔
()چونکہ زید کی ملازمت ایسی ہے کہ اسے گاہے گاہے حکام کے ساتھ دورہ پر نیز کار گورنمنٹ کی بجاآوری کے لئے دوسری جگہ جانا پڑا اس لئے اس نے ہندہ کو ساتھ چلنے کےلئے کہا مگر اس نے تعمیل احکام زید نہ کی یا اگر کی بھی تو کسی بہانہ سے چند روز کے بعد بلا اس کی اجازت رضامندی کے واپس آگئی اس لئے اپنے انتظامات کے خیال سے زید کو دوسری ملازمہ رکھنی پڑی اور مزید خرچ کا بار اٹھانا پڑا۔
()زید نے ان امور کو ضبط اور تحمل سے اس وجہ سے برداشت کیا کہ وہ شریف ہے اور ہندہ بدزبان بدکلامنیز ہندہ کے رشتہ دار اس کے معاونمبادازیادہ فساد برپا ہوغرض جو کچھ فضول خرچیاں اور دیگر امور بلارضامندی زید کے ہوتے رہے انہیں دیکھ کر زید نے خاموشی اختیار کی مگر جب زید نے دیکھا ہندہ کسی طرح راہ راست پر نہیں آتی تو اس نے اسے بہت کچھ سمجھایا اور تاکید کی کہ ایسا نہ کرے مگر ہندہ نے بالعوض راستی اختیار کرنے کے زید کو دھمکایا اور اس نے نہایت فحش الفاظ میں برا کہا کہ اگر تم اپنے باپ کی اولاد ہوتو ہمیں طلاق دے دو اور ہرگز ہم سے بات نہ کروپس صورت مسئولہ میں تحقیق طلب یہ امور ہیںبلااجازت زید کے جب ہندہ نے باہر قدم رکھا تو آیا وہ نان ونفقہ کی مستحق ہے یانہیںہندہ نے بلااجازت زید کے ایك لڑکی کو اپنی فرزندی میں لیا ونیز خلاف مرضی زید کے اس کو زیورات و لباس و خورش کی کفیل ہوتی رہی و نیز دورہ ودیگر مقامات میں زید کے ہمراہ نہ رہ کراس پر مزید خرچہ کا بارڈالا پس ایسی حالت میں کیا وہ اپنے پورے مہر مستحق ہوسکتی ہے اگرچہ مہر اس کا واجب ہے تو ہندہ جو زید کے ساتھ نہ گئی اور نہ ہی جس کی وجہ سے زید کو مزید خرچہ کابار پڑا اس کا دین دار کون ہوگااور لڑکی متبنی کو زید کی بلااجازت اپنی فرزندی میں لی اور خلاف مرضی زید کے اس کو زیورات اور لباس و خورش کی کفیل جو ہوتی رہی اس کا دیندار کون ہوگایہ امر ذہن نشین رہے کہ زید نے شرافت کو مد نظر رکھ کر
#15173 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
ائندہ کے فساد کی مدافعت کے خیال سے جیسا کہ فقرہ نمبر میں مذکور ہے ہندہ کے معاملات میں دخل نہیں دیا۔
()چونکہ ہندہ نے زید کو قسم دی کہ اسے طلاق دے دے پس ایسی حالت میں خلع کی صورت ہوسکتی ہے کیا۔
الجواب
ہندہ سخت گنہگار ہے مگر صرف اتنی بات کہ اس نے اپنے منہ سے طلاق مانگی خلع نہیں ہوسکتینوکر وغیر ہ کا مزید بار جو زید پر اپنے آرام کے لئے پڑاہندہ سے اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا اگرچہ ہندہ کا اس کے پاس نہ رہنا ہی اس کے باعث ہواہوہاں جتنے دنوں بے اجازت زید زید کے یہاں سے جاکر دوسری جگہ رہی اتنے دنوں نفقہ نہ پائیگی جو مال زید اس نے اس متبنی یا اپنے اعزا کی شادیوں یا متبنی کے خوردونوش میں بے اجازت زید صرف کیا اس کا تاوان ہندہ پر لازم ہے اور ناگواری کے ساتھ زید کا خاموش رہنا اجازت نہ سمجھا جائے گا"لاینسب الی ساکت قول"(خاموش کی طرف قول منسوب نہ کیا جائے۔ت)اس سب کا مجموعہ جتنی قیمت کا ہو زید اس کے مہر میں سے کم کرسکتا ہے لصحۃ جریان المقاصۃ بینھما(کیونکہ خاوند بیوی میں لین دین کا حساب صحیح ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا: ازسکندرہ راؤ ضلع علی گڑھ مرسلہ امداد علی خاں رجب المرجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری زوجہ فاترا لعقل ہونے کے باعث اپنی ضروریات زندگی و نفسانی خواہش کو محسوس نہیں کرسکتی یا ظاہر نہیں کرتی۔نہ مری آبرواور جان و مال کی حفاظت کرتی ہے بلکہ اشیاء کو خراب و برباد کرتی ہے اور تربیت اولاد و پاکیزگی جسم وصوم و صلوۃ امورات شرعیہ و معاملات خانہ داری سے بالکل غافل ہے ہدایت پر عمل نہیں کرتیجب بیماری شروع تھی تو اس سے تین لڑکے پیداہوئےبے حفاظتی کے باعث بقضائے الہی فوت ہوئےوقت شادی سے جس کو عرصہ تقریبا دس سال کا گزرا ان نقصانات کو برداشت کرتے ہوئے حتی الامکان میں نے اور میری ضعیفہ ماں نے مریضہ کی دلجوئیخاطر تواضع میں کوئی کمی نہ کی مرض کایقین ہونے پر حکیموں ڈاکٹروں دائیوں اور عاملوں سے علاج کرانے پر بھی کامیابی نہ ہوئیمرض مستقل ہوگیا صحت سے مایوسی ہوگئی تقریبا پانچ سال سے خاموشی طاری ہے اور وہ میری خدمت سے قاصر ہےاب میری ماں کی رائے اور میری خواہش ہے کہ دوسری عورت سے عقد کیا جائے مگر مریضہ کی ماں نے اس امر سے مطلع ہوکر مجھ سے اور میری ماں سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اسی بنا پر تجاہل عارفانہ سے کام لے کر تمام برادری میں مشہور کرتی ہیں کہ میری بیٹی پاگل نہیں ہے بلکہ اس کے سسرالیوں کے ظلم سے اس کی بدمزاجی بڑھ گئی ہےاور اپنے اس قول کی تائید کے لئے اپنی بیٹی کو بلارضامندی اپنے پاس تقریبا چھ ماہ سے رکھ چھوڑا ہپے اور چاہتی ہیں کہ میرے پاس ہی اس کےلئے پانچ روپیہ ماہوار اور خوردنو ش کو مقر ر کردو یا ساڑھے پانچ سورو پیہ ماہوار زر مہر معینہ ادا کرکے اس کو
#15174 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
طلاق دے دومیں نے مریضہ کی ماں سے درخواست کی مہر سے لادعوی ہوکر مجھ سے تین روپیہ ماہوار کا اقرار نامہ عمر بھر کے واسطے لکھا لو یہ اس کے خوردو نوش کو کافی ہے مجھے اتنی ہی توفیق ہے اور کل زر مہر ادا کرنے کی استطاعت اس وقت مجھے نہیں ہےوہ اس درخواست کو منظور نہیں کرتیںاس صورت میں ازروئے شرع مجھے کیا عمل کرنا چاہئے
دوم یہ کہ مندرجہ صورت میں دوسرا عقد ہونے پر اگر عورت خاوند کی خدمت و اطاعت کم کرے یا بالکل نہ کرے اور دوسری عورت اس سے زیادہ خدمت و اطاعت کرے تو حقوق زو جگان میں مساوات رکھنی شوہر کے ذمہ لازم ہوگی یا کوئی تفریق رہ سکتی ہے اور کیا
الجواب:
جب تك وہ آپ کی اجازت کے بغیر اپنی ماں کے یہاں یا کسی دوسری جگہ رہے نفقہ کی مستحق نہیںاور جب تك طلاق یا موت نہ ہو غیر میعادی مہر واجب الادا نہیں ہوتا۔دوسری شادی اگر کی جائے اور زوجہ اولی بھی شوہر کے پاس رہے تو دینے لینے اور شب کو پاس رہنے میں مساوات ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر بریلی محلہ کانکرٹولہ مسئولہ تلن ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا حالت نابالغی میں نکاح کردیا تھا وہ اپنے شوہر کے گھر بالغ ہوئی اور اس کے اولادیں پیدا ہوئیں حتی کہ اب اس کے اولا د جوان موجود ہے مگر اسی عرصہ میں وہ آوارہ اور زانیہ ہو گئی اس سبب سے اس کے شوہر نے نکال کر اس کے حقیقی بھائی کے گھر پہنچادیابھائی نے پھر اس کو شوہر کے یہاں پہنچادیاایسا قصہ تین چار مرتبہ ہوااور ایك مرتبہ ایسا ہوا کہ ہندہ کو اس کے شوہر کے چچا نے اپنی لڑکیوں کی شادی میں ببلوایااور چودھری نے اسکے شوہر کے یہاں حلقہ شادی میں پہنچادیامگر صبح کو پھر اس کے شوہر نے اس کو اس کے بھائی کے یہاں پہنچا دیااور ایك مرتبہ ہندہ مذکور کو بھائی نے نہیں رکھا تو وہ اپنے ماموں کے گھر آئی تو ماموں نے چند روز رکھ کے کہا کہ میں کنبہ والا ہوں مجھ میں اب طاقت رکھنے کی نہیں ہے اپنے چچا تایاؤں اور دوسرے عزیزوں کے یہاں رہوبرادر لوگبھائی اور ہندہ کے ماموں کا حقہ پانی بند کرتے ہیںازروئے شرع کے ان کا حقہ پانی بند ہونا چاہئے یانہیں اور ہندہ کا رکھنا کس پر واجب ہوگا چچا یا شوہر یا ماموں اور بھائی وغیرہ کس پر اس کا روٹی کپڑا مقرر ہوگا یا کوئی بھی رکھنے کا ذمہ دار نہ ہوگا ہندہ کو نکال دیا جائے یا کیاکیا جائے مکرر یہ کہ شوہر نے ہندہ کو ابھی طلاق نہیں دی ہے اور برابر اس کو روٹی کپڑا دیتا ہےسال بھر سے ماقبل کے اپنے بھائی اور ماموں کے سر ہے شوہر کے بوجہ نہ دینے طلاق کے نان و نفقہ ہندہ کو دینا چاہئے یا نہیںاور شوہر کو تحقیق ہوجانے زنا پر فورا طلاق دینا چاہئے یا روٹی بندکرنا چاہئے
#15175 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
الجواب:
اگر زنا متحقق بھی ہوجائے جب بھی طلاق دینا واجب نہیں جب تك طلاق نہ دےاور ہندہ اس کے یہاں سے خود نہ نکلے تو روٹی کپڑا شوہرکے ذمہ ہے اس پر واجب ہے کہ روٹی کپڑا دے یا طلاق دے گا تو ختم عدت تك کاروٹی کپڑا اور مہر اسے ادا کرنا ہوگابعد عدت ہندہ مہر وغیرہ اپنے مال سے کھائے گی اگر مال رکھتی ہو یا دوسرے شوہر کے پاس سےاگر دوسرا نکاح کرےاور مال نہ رکھتی ہو نہ کما سکتی ہو نہ دوسرا نکاح ہوتو اس کا روٹی کپڑا اس کے جوان بیٹے پر واجب ہے بھائی یا چچا یا ماموں وغیرہ پر کچھ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از کلکتہ دھرم تلالین مکان حاجی سلیمان یوسف مہ پارہ نمبر مرسلہ مولوی سید ابراہیم صاحب مدنی شوال ھ
ماقولکم دام فضلکم معشر علماء الاسلام رحمکم اﷲ تعالی فی الدارین فی رجل یشرب الخمر دائما ویھتك ویمزق الاوراق الکریمۃ التی فیھا نقش المسجد الحرام والروضۃ المطھرۃ النبویۃ علیہ الف الف صلوۃ وتحیۃ ویعلق بدلھا علی الجدران تصاویر الھۃ الکفار الفجاروقدرمی اوراق المتبرکۃ فی القاذورات ویضرب الزوجۃ علی اداء الصلوۃ ویمنعھا وویضربھا اذا لاتشرب الخمر واذا قیل لہ تعال نذھب الی المسجد فیقول انااذھب الی المسکرات لاشربھا ومالی حاجۃ الیہ ولاینفق علیہا النفقۃ واذااجبر علی الطلاق لایطلقھا ویأبی الطلاق حتی عجزت ورفعت شکواھا الی الحاکم فاقر عندہ فی الشھر بعشرۃ مضروبۃ مسکوکۃ والان
علماء اسلام کی جماعتاﷲ تعالی تم پردونو ں جہان میں رحمت فرمائے اور تمہاری فضیلت کو دائم رکھےآپ کا کیا ارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جو ہمیشہ شراب پیتا ہے اور مسجد حرام اور روضہ مطہر نبی پاك ان پر ہزار ہزار صلوۃ وسلام ہوکے نقش والے مبارك اوراق کی ہتك کرتے ہوئے ان کو پھاڑتا ہےاور دیوار پر ان کی جگہ کافروں کے بتوں کی تصاویر کو آویزاں کرتا ہے اور اس نے مبارك اور اق کو گندگی میں پھینکا ہے اور بیوی کو نماز سے روکتا اور مارتا ہے اور اسے شراب نہ پینے پر مارتا ہےاور جب اسے مسجد میں جانے کے لئے کہا جاتا ہے تو کہتا ہے میں تو شراب خانوں میں جاکر شراب نوشی کرونگا اور مجھے مسجد میں جانے کی ضرورت نہیں ہےاور بیوی کو نفقہ نہیں دیتا اور جب اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے تو وہ انکار کرتے ہوئے بیوی کو طلاق نہیں دیتا حتی کہ بیوی نفقہ سے عاجز ہوکر حاکم سے شکایت کرتی ہے تو وہ حاکم کے پاس بیوی کو ماہانہ دس روپے دینے کا اقرار کرتا ہے جبکہ اب تك
#15176 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
صارت ثلث مااعطاھا شیأ من ذلك فما حکمہ فی الصور المرقومۃ ھل بقیت زوجتہ فی النکاح ام لا وھل یحکم بکفرہ ام لا فاذا بطل نکاحہ بالامور المذکورۃ ھل یجوز لھا ان تنکح رجلا اخر للضرورۃ والظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وھل استحسن الاحناف ان ینصب القاضی الحنفی نائبا شافعی المذھب یفرق بینھما اذاکان الزوج حاضرا وابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانۃ فالتفریق امر ضروری بینوابالکتاب تؤجروا بیوم الحساب۔
تین سال ہوچکے ہیں اس نے بیوی کو کچھ نہیں دیاتو ان تمام مذکورہ صورتوں میں اس شخص کے لئے کیا حکم ہےکیا اس کی بیوی اس کے نکاح میں باقی ہےاور کیا اس کے کافر ہوجانے کا حکم ہوگا یا نہیںتو کیا مذکورامور کی وجہ سے جب اس کا نکاح باطل ہے تو بیوی دوسری شخص سے ضرورت کی بناپر نکاح کرسکتی ہے جبکہ ظاہر یہ ہے کہ نفقہ کے لئے اس کو قرض دینے والا کوئی نہیں ملتا اور کیا احناف نے حنفی قاضی کے لئے کسی شافعی مذہب والے کو اپنا نائب بنانا پسند کیا ہے تاکہ وہ شافعی مذہب کے مطابق خاوند کی موجودگی میں اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور انکار پر وہ دونوں میں تفریق کا فیصلہ دےکیونکہ بیوی کی دائمی نفقہ کی حاجت قرض سے پوری ہونا آسان نہیں ہے اس بنا پر دونوں میں ضرورت کی وجہ سے تفریق کے بغیر چارہ نہیں ہےکتاب کے حوالے سے بیان کرو اور قیامت کے روز اجر پاؤ۔(ت)
الجواب:
اللھم لك الحمد رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعوذبك رب ان یحضرون کل ماوصف فی السوال فما للرجل من سیئ الافعال واسوء الاقوال فکبائر متناھیۃ فی الاثم والو بال وکلہ کفر علی الاحتمال فان شرب الخمر کبیرۃ والادمان اکبر صحبہ استحلال لھا اواستخفاف بحرمتھا فقد کفر و تمزیق الاوراق الکریمۃ المذکورات
یا ﷲ!تیرے لئے ہی حمد ہےاے رب ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوںاور اے رب!شیطانوں کی موجودگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔سوال میں شخص مذکور کے برے افعال اور بدترین اقوال جو ذکر کئے گئے ہیں وہ گناہ اور وبال میں انتہائی کبیرہ ہیںاور تمام کفر کا احتمال رکھتے ہیں کیونکہ شراب پینا کبیرہ گناہ ہے اور اس پر دوام اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور اس پر دوام اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور اگر اس سے کے ساتھ ساتھ وہ حلال جان کر اور شراب کی حرمت میں تخفیف جان کر پیتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اور مبارك اوراق کو پھاڑنا اور
#15177 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
والقاء وھافی موضع القاذورات ان کان مبنیا علی اصول الوھابیۃ النجدیۃ خذلھم اﷲتعالی من ان ذلك بدعۃ والبدعۃ تزالفجھل وضلال واستحقاق لعذاب ونکال وان قصد اھانۃ تلك البقاع فکفر بواح وارتداد صراح وتعلیق تلك التصاویر النجسۃ علی الجدران ان کان علی مایتعاداہ المجان یزعمون فیہ تزیین المکان غیر متعمدین الی الکفرمن الکفران فکبیرۃ خبیثۃ تدعواالی النیران وتبعد الملئکۃ وتقرب الشیطانوان وقع علی جھۃ استحسان صنیع الکفاروتعظیم الھۃ اصحاب النارفکفر صریح جلی الاکفار وضرب المرأۃ علی اداء الصلوۃ ومنعھا منہ وضربھا علی ترك شرب الخمر وابائھا عنہ کل ذلك تناہ فی التشطین والبغی والتفرعن وان کان مع ذلك ینکر فرضیۃ الصلوۃ اوحرمۃ الخمر او یستخف بالشرع والنھی والامر فکفر واعراضہ عن المسجد خیر الاماکن ومکابرۃ الداعی الی اﷲ بذلك القول الخبیث المنتن فھو بہ للکفراقرب منہ للایمان و باﷲ العیاذ من مجون المجان فان کان قالہ علی نھج الملاعبۃ فیالھا
ان کو گندگی میں پھینکنا اگر بدنام زمان نجدی وہابیوں کی روش پر مبنی ہے کہ یہ بدعت ہیں اور بدعت کوختم کرنا چاہئے تو یہ جہالتگمراہی اور عذاب و سزا کا مستحق بننا ہےاور اگر اس عمل سے اس کا مقصد اوراق پر تصویروں والے مقامات کی اہانت و تحقیر مقصود ہیے تو یہ کھلا کفر ہےاور واضح طور پر ارتداد ہے۔ اور بتوں کی ناپاك تصویروں کو دیواروں پر آویزاں کرنا اگر ویسے عادت کے طور پر کہ اس کو پاگل لوگ مکانات کی زینت سمجھتے ہیں اور کسی کو کفر کی طرف تجاوز نہ کیا ہوتویہ خبیث ترین کبیرہ گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے والا فرشتوں کودور اور شیطانوں کو قریب کرنے والا ہےاور اگر یہ کام کفار کی رسم کو پسند کرتے ہوئے اور دوزخیوں کے معبودوں کی تعظیم کے طور پر کیا ہوتو یہ صریح کفر جو اس کی تکفیر کا باعث ہےواضح وارتداد فاضح بیوی کو نماز کی ادائیگی پر مارنا اور اس سے منع کرنا اور شراب نہ پینے پر اور شراب نوشی سے انکار پر اس کو مارنا تو یہ تمام انتہائی شیطینتفرعونیت اور بغاوت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ نماز کی فرضیت اور شراب کی حرمت کا منکر ہے اور شریعت اور اس کے اومر اورنواہی کی تحقیر کرتا ہے تو یہ کھلا کفر ہے اور رسواکن ارتداد ہے۔ا س کا بہترین مکان جو مسجد ہے سے اعراض کرنا اور اﷲ تعالی کی دعوت سنانے والے کو مکابرہ کے طور پر خبیث اور بدبو والی بات کہنا(کہ میں شراب خانے جاؤں گا مجھے مسجد کی ضرورت نہیں ہے)تو اس سے وہ کفر سے قریب اور ایمان سے دور ہوگیا(پاگلوں کے پاگل پن سے اﷲ تعالی کی پناہ)تو یہ بات
#15178 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
من کبیرۃ کثیرۃ الشناعۃ والافالکفر ظاہر فیہ لاشك یعتریہ بید ان الکفر امر شدید لایحکمبہ مع احتمال الاسلام ولو من بعید والمرأۃ لاتبین الا بتفریق مبین اوکفر متبین نعم یومر بالتوبۃ عن تلك القبائح ثم بعد ذلك بتجدید النکاح فی جامع الفصولین اواخرالفصل قیل لہ یا یك درہم بدہ تا بعمارت مسجد صرف کنم یا بہ مسجد بیا بنماز فقال من نہ بمسجد آیم ونہ درہم دہم مرابمسجد چہ کار وھو مصر علی ذلك لایکفر ولکن یعزر واما التفریق لعدم الانفاق والزوج حاضر وموسر قادر فلم یقل بہ حنفی ولاشافعی بل نص علی خلافہ الامام الشافعی فلا سبیل للمرام الاالاشتکاء الی الحکام لیجبروہ علی الانفاق وان لم یرضہ فعلی الطلاق لقولہ تعالی
فامساك بمعروف او تسریح باحسان
اگر کھیل میں رغبت کے طور پر کی ہے تو یہ کتنی بڑی جرأت کبیرہ ہے اور بہت زیادہ قابل نفرت ہےورنہ یہ کھلا کفر ہے جس میں کوئی شك نہیںتاہم کفر شدید معاملہ ہےتو جب تك اسلام کا پہلو نکل سکتا ہے کفر کا حکم نہ لگایا جائےاگرچہ اسلام کا احتمال بعید ہی کیوں نہ ہوجبکہ بیوی صرف قاضی کی تفریق یا واضح کفر کی بناء پر ہی نکاح سے خارج ہوگیہاں ایسے شخص کو اس کی مذکورہ قباحتوں پر توبہ کرنے اور پھر بعد میں تجدید نکاح کا حکم کیا جائےجامع الفصولین کی فصل نمبر کے آخر میں ہے کسی شخص کو کہا کہ مسجد کی عمارت کے لیے ایك درہم چندہ دے یا اس کو کہا گیا مسجد میں آکر نماز پڑھتو اس نے جواب میں یوں کہا کہ میں نہ مسجد میں آتا ہوں اور نہ درہم دیتا ہوں مجھے مسجد سے کیا کاماور اس نے اصرار کیا ہو تو اسے کافر نہ کہا جائے گا لیکن تعزیر لگائی جائیگی۔لیکن خرچ نہ دینے پر جب خاوند حاضر ہو اور امیر ہو نفقہ دینے پر قادر ہو تو اس صورت میں کسی حنفی نہ کسی شافعی نے تفریق کا قول کیا ہے بلکہ امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی نے اس کے خلاف تصریح کی ہے لہذا خاوند جب قادر ہو اور امیر ہوتو پھر مقصد برآری کی یہی صورت ہے کہ حکام سے بیوی شکایت کرے تاکہ وہ خاوند کو نفقہ دینے پر مجبور کریں اگر نفقہ دینے پر راضی نہ ہوتو پھراس کو طلاق دینے پر مجبور کریں کیونکہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ٢/٣١٦
القرآن الکریم ٢ /۲۲۹
#15179 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
فی ردالمحتار عن غرر الاذکار ثم اعلم ان مشائخنا استحسنوا ان ینصب القاضی الحنفی نائبا ممن مذھبہ التفریق بینھما اذاکان الزوج حاضرا وابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانہ اذ الظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وغنی الزوج مالا امرمتوھم فالتفریق ضروری اذا طلبتہ وان کان غائبا لایفرق لان عجزہ غیر معلوم حال غیبتہ وان قضی عجزہ غیر معلوم حال غیبتہ وان قضی بالتفریق لاینفذ قضاؤہ لانہ لیس فی مجتھد فیہ لان العجز لم یثبت اھ فانظر الی قولہ وغنی الزوج مالا امرمتوھم وقولہ فی الغائب لان عجزہ غیر معلوم یرشد انك ان الکلام انما ھو فی العاجز المعسر دون القادر المستکبر وانظر اخر الکلام یفیدك ان القضاء بالتفریق حیث لم یثبت عجزہ باطل سحیق وقد قال فی ردالمحتارایضا قبلہ
بیویوں کو اچھی طرح رکھو یا ان سے بھلائی کے ساتھ جدائی کرلو۔ردالمحتار میں غررالاذکار سے منقول ہے کہ ہمارے مشائخ نے یہ پسند کیا ہے کہ حنفی قاضی کسی شافعی یا اس شخص کو جس کا مذہب یہ ہو کہ نفقہ نہ دینے پر حاضر خاوند کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اگرطلاق نہ دے تو قاضی تفریق کرےاپنا نائب بناکر اس سے تفریق کرادے کیونکہ نفقہ کی حاجت دائمی ہے جو کہ بیوی کے قرض اٹھانے پر پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ظاہر میں کوئی ایساشخص نہیں ملتا جو اس کو قرض دیتا رہے جبکہ خاوند کا بالآخرغنی ہو کر نفقہ ادا کرنا موہوم بات ہے تو بیوی کے مطالبہ پر اس صورت میں تفریق ضروری ہےاور مذکورہ صورت میں اگر خاوند غائب ہوتو تفریق نہ کی جائے کیونکہ غائب ہونے کی صورت میں خاوند کا نفقہ سے عجز معلوم نہ ہوسکے گا اس صورت میں اگر تفریق کردی تو وہ نافذ نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں تفریق مجتہدین کے ہاں زیر بحث مسئلہ نہیں ہے کیونکہ خاوند کا عجز معلوم نہیں ہےاھ۔ اس عبارت میں"بالآخر خاوند کا غنی ہونا موہوم ہے"اور غائب ہونے والے کے بارے میں"یہ کہ اس کا عجز معلوم نہیں"پر غور کریں تو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تفریق کی بات صرف خاوند کے تنگدست اور عاجز ہونے کی صورت میں ہےنہ کہ قادر اورہٹ دھرم خاوند کی صورت میںاور پھر مذکورہ کلام کاآخری حصہ تو واضح طور پر بتارہا ہے کہ جب خاوند کا عجز ثابت نہ ہوتو وہاں تفریق کافیصلہ
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٦
#15180 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
مانصہ والحاصل ان عند الشافعی اذا اعسر الزوج بالنفقۃ فلھا الفسخ وکذااذاغاب وتعذر تحصیلھا منہ علی مااختارہ کثیرون منھم لکن الاصح المعتمد عندھم ان لافسخ مادام موسراوان انقطع خبرہ وتعذر استیفاء النفقۃ من مالہ کما صرح بہ فی الام قال فی التحفۃ(یعنی سیدنا الامام الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ) قال(یعنی العلامۃ ابن حجر المکی الشافعی رحمہ اﷲ تعالی)بعد نقلہ ذلك فجزم شیخنا(یعنی العلامۃ شیخ الاسلام زکریا الانصاری)فی شرح منھجہان القول بالفسخ فی منقطع خبر لامال لہ حاضر مخالف للمنقول کما علمت الخ وفی کتاب الانوار للامام یوسف ارد بیلی الشافعی رحمہ اﷲ تعالی لوامتنع مع القدرۃ اوغاب مع الیسار اوقدرت علی مالہ فلاخیار ۔وفیہ ولو جھل حال الغائب من الیسار او الاعسار او شك فی یسارہ فلا خیار لان
بالکل باطل ہے جبکہ ردالمحتار میں مذکور کلام سے قبل بھی فرمایاعبارت یوں ہےالحاصل امام شافعی کے ہاں جب خاوند تنگدست قرار پائے تو بیوی کو فسخ کے مطالبے کا حق ہوتا ہے اور یونہی اگر خاوند غائب ہو اور اس کے ملنے کی امید نہ ہوتو بھی نفقہ کی ناامیدی پر اکثر شوافع حضرات کے ہاں فسخ مختار ہے لیکن ان کے مذہب میں معتمد علیہ اور اصح یہ ہے کہ اس وقت تك فسخ کا اختیار نہیں جب تك اس کی تنگدستی ثابت نہ ہوجائے اگرچہ غائب ہوکہ اس کی کوئی خبر نہ ہو اور اس کے مال سے بیوی کےلئے نفقہ کی کوئی صورت نہ بن پاتی ہوجیسا کہ امام شافعی کی کتاب"الام"میں تصریح ہے کہ امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی نے تحفہ میں فرمایاعلامہ ابن حجر مکی شافعی نے یہ عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ہمارے شیخ یعنی شیخ الاسلام زکریا انصاری نے اپنی منہج کی شرح میں یہ جزم فرمایا ہے کہ ایسے غائب شخص جس کی کوئی خبر نہ ہو اور اس کا مال بھی موجود نہ ہوتو فسخ کا فیصلہ منقول کے خلاف ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا ہے۔ امام یوسف اردبیلی شافعی کی"کتاب الانوار"میں ہے کہ خاوند قادر ہونے کے باوجود نہ دےیا امیر ہونے پر وہ غائب ہویابیوی اس کے مال سے نفقہ حاصل کرنے پر قادر ہو تو پھر فسخ کا اختیار نہیں ہےاور اس میں ہے کہ اگر غائب ہو اور اس کی تنگدستی یا تو نگری معلوم نہ ہو یا اس کے حال میں شك ہوتو فسخ کا اختیار نہیں ہوگا کیونکہ فسخ کا
حوالہ / References ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٦
الانوار
#15181 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
السبب لم یتحقق ویفھم من ھذاانہ لوغاب معسر اومضت مدۃ فلاخیار لھا لاحتمال الیسار وفی شرح الکمثری قال فی التحفۃ والمنھاج والاصح ان لافسخ بمنع موسراو متوسط حضر اوغاب لتمکنھا منہ ولو غائبا کمالہ بالحاکم والمعتمد مافی المتن ومن ثم صرح فی الام بانہ لافسخ مادام موسراوان انقطع خبرہ وتعذر استیفاء النفقۃ من مالہ والمذھب نقل کما قالہ الاذرعی فجزم شیخنافی شرح منھجہ بالفسخ فی منقطع خبر لامال لہ حاضرا مخالف للمنقول کما علمت ولافسخ بغیبتہ من جھل حالہ یسارا او اعسارا بل لو شھدت بینۃ انہ غاب معسرا فلافسخ مایشھد باعسارہ الان اھ کلام التحفۃ ھ باختصاروفی تعلیقاتہ للفاضل ابراھیم الشافعی جزم فی شرح منھجہ بالفسخ فی منقطع خبر
سبب موجود نہیں ہے۔اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر خاوند تنگدست غائب ہو اور کچھ مدت گزر جائے تو بھی اختیار فسخ نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اب وہ امیر بن چکا ہو۔کمثری کی شرح میں ہے کہ تحفہ اور منہاج میں فرمایا کہ اصح یہ ہے کہ امیر خاوند غائب یا متوسط حال والاحاضر ہو یا غائب تو فسخ نہیں ہوگا کیونکہ بیوی کو نفقہ کا حصول ممکن ہے جیساکہ غائب ہونے کی صورت میں اس کا مال موجود ہوتو قاضی کے ذریعہ حاصل کرسکتی ہےاور قابل اعتماد وہ ہے جو متن میں ہےاسی لئے الام میں تصریح ہے کہ امیر خاوند غائب ہواگرچہ اس کی کوئی خبر نہ ہواور اس کے مال سے نفقہ حاصل کرنا مشکل ہویہی مذہب منقول ہےجیسا کہ اذرعی نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اپنی منہج کی شرح میں فرمایا کہ ایسا غائب جس کی کوئی خبر نہ ہواور حاضر مال بھی نہ ہوتو اس صورت میں فسخ کا قول منقول مذہب کے خلاف ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہوا ہےاور فسخ جب بھی نہیں کہ غائب شخص کے تنگدست یا امیر ہونے کا علم نہ ہو بلکہ گواہوں نے شہادت بھی دی ہو کہ غائب ہونے والاتنگدست ہے تب بھی فسخ نہیں کہ یہ شہادت موجودہ حال کی نہیں ہےتحفہ کا کلام ختم ہوااھ اختصارا۔ الفاضل ابراہیم شافعی نے اپنی تعلیقات میں فرمایا کہ شیخ نے اپنی منہج کی شرح میں اس پر جزم کیا ہے کہ وہ غائب جس کی خبر
حوالہ / References الانوار
الانوار
#15182 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
لامال لہ قال ابن حجر وھو خلاف المنقول فانہ صرح فی الام بانہ فسخ مادام موسر اوان انقطع خبرہ وتعذر استیفاء النفقۃ من مالہ اھ وفی قرۃ العین بمھمات الدین وشرحھا فتح المعین کلاھما للعلامۃ زین الدین الشافعی تلمیذ الامام ابن حجر المکی رحمھمااﷲتعالی(فسخ نکاح من اعسر فلا فسخ)علی المعتمد(بامتناع غیرہ) موسرا او متوسطا من الانفاق حضراوغاب(و)لافسخ(قبل ثبوت اعسارہ) باقرارہ او بینۃ تذکراعسارہ الان ولا تکفی بینۃ ذکرت انہ غاب معسرا اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم۔
معلوم نہ ہو اور اس کا مال نہ ہوتو فسخ ہوگا جبکہ ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ منقول مذہب کے خلاف ہے کیونکہ امام شافعی نے الام میں تصریح کی ہے کہ غائب شخص جس کی خبر معلوم نہ ہو وہ جب تك امیر ہے اور اس کے مال سے نفقہ پورا کرنا مشکل ہوتو بھی فسخ نہ ہوگا۔علامہ زین الدین شافعی تلمیذ امام ابن حجر مکی رحمہمااﷲتعالی کی دونوں کتبقرۃ العین بمہمات الدیناور اس کی شرح فتح المعینمیں ہے کہ تنگ دست کانکاح فسخ ہوگا اور معتمد قول کے مطابق کسی ایسے شخص کا جوامیر ہویا متوسط ہو اور وہ نفقہ نہ دے خواہ حاضر ہو یا غائب کانکاح فسخ نہ ہوگا تنگدستی کا ثبوت اس کے ا قرارسے ہوگا یا شہادت سے ہوگا جس میں یہ ذکر ہو کہ اب تنگدست ہے اس میں یہ ذکر کافی نہیں کہ غائب ہوتے وقت وہ تنگدست تھااھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از ہوڑہ رام کشٹوپور محلہ بانس تلاگھاٹ روڈ مرسلہ محمد حسن رضاخاں صاحب شعبان المعظم ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت پردہ نشین اپنے شوہر کی مطلقہ ہےبعد عدت عقد ثانی کیابعد گزرنے ایك برس میکے آئی اور ذاتی یا زوجی تکلیف کی وجہ سے شوہر ثانی کے یہاں جانا پسند نہیں کرتی ہے اور اس سے خلع چاہتی ہے اور شوہر اولی کی موانست کو پسند کرتی ہےشوہر ثانی باعث جہالت اور بہکانے دوسروں کے طلاق نہیں دیتا اور نہ کافی طورپر بی بی کا حق ادا کرسکتا ہے اور صورت اوقات بسری عورت کی ذاتی حیثیت کچھ بھی نہیں اور نہ میکے میں فراغتپردہ بھی فرض ہے اور کھانا کپڑا بھی واجبپھر ایسے موقعہ میں کیوں اقتداء مسائل حضرت امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ چاروں امام جب کہ برحق ہیں اور اگر اقتداامام شافعی کی کی جائے تو حقیقت اس مسئلہ کی کیا ہےایسی حالت میں پیروی دوسرے
حوالہ / References تعلیقات
فتح المعین شرح قرۃ العین عامر الاسلام پور پرس ترونگاری کبیر ص٤٢٤تا٤٢٧
#15183 · بابُ النفقۃ (نفقہ کا بیان)
امام کی نہ کرنے سے خوف غلبہ شیطان کا ہے نہ معلوم کس گناہ کبیرہ میں مرتکب ہو اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ضرورۃ اور مصلحۃ اقتداء لازم ہے۔
الجواب:
قرآن عظیم نے شوہر دار عورتوں کو حرام قطعی فرمایا سائل کے گول لفظ شرط مذہب شافعی کو پورا نہیں کرتےعورتوں کو ہوائے نفس کا اتباع کرنا اور اسے کسی امام دین کے سر رکھنا دین نہیں نہ حنفی اس پر فتوے کا مجاز بلکہ اگرحنفی حاکم شرعی اس پر حکم دے گا قضا نافذ نہ ہوگیدرمختار میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا ولابعدم ایفائہ حقھا ولو قضی بہ حنفی لم ینفذ ۔
حنفی مذہب میں نفقہ سے عاجز ہونے یا بیوی کا حق پورا نہ کرنے پر تفریق نہ ہوگی اگر کسی حنفی نے یہ تفریق کی تو نافذ نہ ہوگی۔(ت)
چارہ کار حکومت کی طرف رجوع ہے کہ وہ اسے دوباتوں میں سے ایك پر مجبور کرے یا ادائے نفقہ یا طلاقواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٩
#15184 · کتابُ الایمان
کتاب الایمان
مسئلہ: جمادی الآخرہ ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمoالحمد ﷲ رب العلمینoوالعاقبۃ للمتقینoوالصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعینo
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ مقدمہ میں کہ زید نے قسم مغلظہ کھائی ساتھ اس معاہدہ کے کہ اگر میں بکر سے کسی وقت میں ہمکلام ہوں تو زوجہ میری کو طلاق ہے چنانچہ بعد اس عہد کے بکر نے وفات پائی اور زید قبر پر گیا اور احکام شرعیہ کو کام میں لانا یعنی سلام علیکم کہہ کر فاتحہ قبر پر زید نے پڑھی تو اس صورت میں زوجہ زید پر طلاق عائد ہوئی یانہیںفقط
الجواب:
الحمد الکثیر للحی القدیروالصلوۃ والسلام علی السمیع البصیر والہ وصحبہ الی یوم المصیر۔
کثیر ترین حمدیں زندہ قدرت والے کے لئے ہیںصلوۃ وسلام کامل سمع و بصر والے پر اور ان کی آل واصحاب پر تایوم القیامۃ۔(ت)
صورت مستفسرہ میں زن زیدپر طلاق نہ ہوئی جامع صغیرامام محمد رحمہ اﷲتعالی میں ہے:
محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنھم رجل قال
امام محمد نے امام ابویوسف سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا کہ ایك شخص نے دوسرے
#15185 · کتابُ الایمان
لاخر ان ضربتك فعبدی حرفمات فضربہ قال فھو علی الحیوۃوکذلك الکسوۃ والکلام والدخول انتہی۔
کو کہا اگرمیں تجھے ماروں تو میرا غلام آزاد ہےدوسرے کے فوت ہونے کے بعد اس نے اسے مارا(تو قسم نہ ٹوٹے گی)یوں ہی لباسکلام یا دخول دار کی قسم کھائی ہوتو وہ بھی فوت ہونے کے بعد کارروائی پر نہ ٹوٹے گی کہ ان قسموں کا تعلق زندہ سے ہوتا ہے اھ(ت)
وجہ اس کی یہ ہے کہ بنائے یمین عرف پر ہے اور عرف میں اس سے کلام بعد الموت مقصود ومفہوم نہیں ہوتانہ بعد موت کلام و سلام کویہ کہتے ہیں کہ زائرمیت سے باتیں کررہا ہے اگرچہ و حقیقۃ وشرعا کلام و سلام ہے جیسے قسم کھانے والاکہ گوشت نہ کھائے گا مچھلی کھانے سے حانث نہ ہوگا اگرچہ حقیقۃ وشرعا گوشت اس پر بھی صادق
قال اﷲ تعالی لتاكلوا منه لحما طریا ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:تم دریا سے تازہ گوشت کھاؤ۔(ت)
ولہذا اگرقسم کھائی کہ کلام نہ کرے گا اور قرآن پڑھاتسبیح و تہلیل کیحانث نہ ہوگاحالانکہ حقیقۃ و شرعا یہ بھی کلام ہے
قال اﷲتعالی الیه یصعد الكلم الطیب وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان حبیبتان الی الرحمن سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم ۔رواہ البخاری۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اسی کی طرف طیب کلمات اٹھتے ہیں۔
اورحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:دو کلمے زبان پر خفیف ترازوں میں بھاریاﷲ تعالی کے ہاں محبوب ہیں سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیماس کو بخاری نے روایت کیا (ت)
یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں اگر قسم کھائی زید سے کلام نہ کروں گا اور زید نماز جماعت میں اس کے برابر کھڑا تھا سلام پھیرتے وقت اس کی طرف منہ کرکے السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہا حانث نہ ہوااگرچہ اس سلام میں نیت حاضرین کا قطعا حکم ہے اسی طرح اگر جس کی نسبت قسم کھائی تھی وہ امام ہوا اور نماز میں بھولا اس نے بتایا قرأت میں لقمہ دیا حانث نہ ہوگا حالانکہ یہ قطعا اس سے خطاب ہے اور خاص بقصد خطاب صادر
فی الھندیۃ لوحلف لایتکلم ولانیۃ
ہندیہ میں ہے کسی نے قسم کھائی کہ کلام نہ کروں گااور
حوالہ / References جامع الصغیر باب الیمین فی القتل والضرب مطبع یوسفی لکھنؤ ص٧٤
القرآن الکریم ١٦ /١٣
القرآن الکریم ٣٥ /١٠
صحیح بخاری کتاب الرد علی الجہیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/١١٢٩
#15186 · کتابُ الایمان
لہ فصلی وقرأفیھا اوسبح او ھلل لم یحنث وقال الفقیہ ابواللیث ان عقد یمینہ بالفارسیۃ لایحنث بالقراءۃ والتسبیح خارج الصلوۃ ایضا للعرف فانہ یسمی قارئا ومسبحا لامتکلما وعلیہ الفتوی کذافی الکافی اھ ملخصا۔
خاص نیت نہ کیتو نمازپڑھنے میں قرأت کرنےتسبیح و تہلیل کرنے پر قسم نہ ٹوٹے گی۔اور ابوللیث فقیہ نے فرمایا اگر کسی نے فارسی زبان میں قسم کھائی کہ بات نہ کروں گاتو خارج از نماز قرأت کرنے اور تسبیح پڑھنے پر بھی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس عمل والے کو عرف میں قاری اور تسبیح پڑھنے والاکہا جاتا ہے کلام کرنے والانہیں کہا جاتااور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ کافی میں ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
اذاحلف لایکلم فلانا فاقتدی الحالف بالمحلوف علیہ فسھا المحلوف علیہ فسبح لہ الحالف لم یحنث کذافی المحیط ۔
اگر قسم کھائی کہ وہ فلاں سے بات نہ کرے گاتو اس کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے وہ بھول جائے تو قسم کھانے والے نے اسے سبحان اﷲ کہہ کر لقمہ دیا تو حانث نہ ہوگایعنی قسم نہ ٹوٹے گی جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
کذا اذا سلم عن الصلوۃ وفلان عن جنبہ کذافی العتابیۃ ۔
یونہی جب نماز سے سلام پھیرے اور وہ فلاں اس کے پہلو میں ہوجیسے کہ عتابیہ میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لوکان المحلوف علیہ اماماوالحالف مقتدیابہ ففتح علی الامام لایحنث الخ۔
جس کے متعلق قسم کھائی اگر وہ امام ہو اور قسم کھانے والا مقتدی ہوتو امام کو لقمہ دینے پر وہ حانث نہ ہوگاالخ(ت)
اسی طرح صدہا مسائل میں جن کا ماخذ وہی عرف پر احکام ایمان کی بنا ہےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ:ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو سے قسمیہ کہا کہ یہ کام کراور اس نے
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
#15188 · کتابُ الایمان
نہ کیا تو بہ سبب انکار اس کام کے عمروپر قسم عائد ہوتی ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
کسی کے قسم دلانے سے نہ اس پر قسم عائد ہو نہ اس کام کا کرنا واجبحدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لاتقسم قسم نہ دو۔معلوم ہواکہ دلانے سے ماننا واجب نہیں ہوتاہاں اگر حرج نہ ہوتومان لینا مستحب ہے کما نص علیہ الفقھاء الکرام(جیسا کہ اس پر فقہاء کرام نے تصریح فرمائی۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:قرآن مجید کی قسم کھانے سے قسم ہوجاتی ہے یانہیںاور اس کا کفارہ کیا ہے اور اگر کسی گناہ کرنے پر قسم کھائی ہوتو اسے توڑے یا کیا کرے اور جوشخص دوسرے کو دھوکا دینے کے لئے قسم کھائے اس کے پورے کرنے کا دل میں ارادہ نہ ہو اس کا کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
قرآن مجید کی قسم شرعا قسم ہے
فی الدرالمختار قال الکمال لایخفی ان الحلف بالقران الان متعارف فیکون یمینا انتہی ۔
درمختار میں ہے کہ کمال نے فرمایا کہ مخفی نہ رہے کہ آجکل قرآن پاك کی قسم متعارف ہوچکی ہے لہذا یہ قسم قرار پائیگی اھ(ت)
اسی میں ہے:
الایمان مبنیۃ علی العرف فما تعورف الحلف بہ فیمین وما لافلا انتہی ۔
قسموں کی بناء عرف پر ہےتوعرف میں جس چیز کی قسم متعارف ہوجائے وہ قسم قرار پائے گیاور جو متعارف نہ ہوقسم نہ ہوگی اھ(ت)
اور قسم اگرامر مستقبل پر ہے جس کا کرنا اس کے قبضہ اقتدار میں ہے تو اس کے جھوٹا کرنے میں گناہ ہے اور کفارہ اس کا رافعبشرطیکہ وہ کسی معصیت پر نہ ہو مثلا شراب پئے گا یا نماز نہ پڑھے گا کہ اس کا تو جھوٹا کرنا پھر کفارہ دینا واجب ہے
فی الدرالمختار ومنعقدۃ وھی حلفہ علی مستقبل ات یمکنہ وفیہ الکفارۃ
درمختارمیں ہے:یمین منعقدہ اور وہ ہوتی ہے کہ آئندہ ممکنہ چیز کے متعلق حلف دیا جائےاس میں حانث
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عباس دارالفکر بیروت ١/٢١٩
الدرالمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩١
الدرالمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩١
#15189 · کتابُ الایمان
ان حنث وھی ای الکفارۃ ترفع الاثم وان لم توجد منہ التوبۃ معھا ای مع الکفارۃسراجیہ اھ ملخصا وفیہ ایضا من حلف علی معصیۃ کعدم الکلام مع ابویہ اوقتل فلان وجب الحنث والتکفیر لانہ اھون الامرین ۔
ہونے پر کفارہ ہوتا ہے اور وہ کفارہ قسم کے گناہ کو ختم کردیتا ہے اگرچہ اس کے ساتھ توبہ بھی نہ کرےسراجیہ اھ ملخصا۔
اس میں یہ بھی ہے اگر کسی نے گناہ پر قسم کھائی مثلا کہا میں والدین سے بات نہ کروں گا یافلاں کو قتل کروں گاتو اس پر لازم ہے کہ وہ حنث کرے(یعنی قسم توڑ دے)اور کفارہ دے دے کیونکہ یہ کفارہ اس گناہ کے مقابلہ میں کم تر ہے۔(ت)
اور کفارہ ایك غلام آزاد کرنا یادس مسکینوں کو متوسط کھانا یا کپڑا دینا جو تین مہینہ سے زیادہ چلے اور سب بدن ڈھك لےاور جو کچھ نہ ہوسکے تو متواتر تین روزے رکھناہے
فی الدرالمختار وکفارتہ تحریررقبۃ اواطعام عشرۃ مساکین کمافی الظہار او کسوتھم بما یصلح للاوساط وینفع بہ فوق ثلثۃ اشھر ویستر عامۃ البدن فان عجز عنھا کلھا وقت الاداء صام ثلثۃ ایام ولاء اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ گردن آزاد کرےیا دس مسکینوں کو کھانا دے جیسا کہ ظہار میں ہوتا ہےیادس مسکینوں کو درمیانہ لباس دے جو عام بدن کو ڈھانپ لے اور کم از کم تین ماہ تك وہ لباس کام دے۔اور اگر ان امور کی ادائیگی سے عاجز ہوتو مسلسل تین دن روزے رکھے اھ ملخصا (ت)
اور اپنی بریت کو مغالطہ مسلمین کے لئے قصدا جھوٹی قسم کھانا کہ زبان سے قسم کھانا اور دل میں اس کے خلاف پر عزم رکھتا ہو ہر گز جائز نہیںاور احترام نام پاك الہی سے بالکل خلاف ہےحق سبحانہ وتعالی نے قرآن عظیم میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو قسموں کو اپنی سپر بناتے ہیںکفارہ اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اگر احیانا حنث واقع ہو یہ اس کا مصلح ہوسکے نہ کہ یہ کفارہ پر تکیہ کرکے قصدا جھوٹی قسم کھائے اسے اپنی بریت کی ڈھال بنائےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ: رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے قسم کھائی کہ میں آج ظہر جماعت کے ساتھ ادا کروں گا
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٠
الدرالمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩۳
الدرالمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/۹۳۔٢٩۲
#15190 · کتابُ الایمان
اور مسجد کو گیا مگر امام دو رکعت پڑھ چکا تھا دو رکعت سے امام کے ساتھ اس صورت میں زید کی قسم پوری ہوئی یا نہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
زید کی قسم پوری نہ ہوئی کہ دو رکعت بلکہ تین رکعت پانے والاجماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والا نہیںدرمختار میں ہے:
وکذامدرك الثلث لایکون مصلیا بجماعۃ علی الاظھر وقال السرخسی للاکثر حکم الکل وضعفہ فی البحر ۔
جماعت میں تین رکعتیں پانے والا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والانہ قرار پائے گااظہر قول کے مطابق اور امام سرخسی نے فرمایا:اکثر کا حکم کل والا ہوتا ہےلیکن اس کو بحر میں ضعیف قرار دیا ہے۔(ت)
ہاں ثواب جماعت کا قعدہ میں شامل ہونے پر بھی پائے گا وہ جدا بات ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ جو گھر سے بارادہ جماعت چلے اور جماعت ہوچکی اس نے ثواب پالیا فقد وقع اجرہ علی اﷲ(ہاں اجر وثواب اﷲ تعالی سے پائے گا۔ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : مسئولہ شیخ عاشق علی خادم مسجد بی بی صاحبہ شہر بریلی جمادی الاول ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی نے غصہ میں قسم کھالی کہ میں بریلی ہی میں نہ رہوں گاپھر غصہ دور ہوجانے کے بعد وہ پچھتایاتو کوئی تدبیر ایسی ہے کہ بریلی میں رہے اور حانث نہ ہو یا سواکفارہ ادا کرنے کے کوئی صورت نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
بریلی سے ترك سکونت کرکے نکل جانے کے لئے جس سامان وتدبیر ضروری کی اسے حاجت واقعیہ تھی اگر اس کلمہ کے زبان سے نکلتے ہی اس نے شروع نہ کردی یا اس میں معمولی واقعی کوشش نہ کی یا سامان مہیا ہوجانے پر پھر نکلنے میں ڈھیل کی توحانث ہوگیا اور کفارہ لازماب چاہے نکلے یانہ نکلے کفارہ دینا ہوگا اور نکلنا کچھ ضرور نہ رہااو راگر اسی وقت سے سچے طور پر تدبیر میں مشغول ہے اور اس میں ایسی سستی نہ کی جسے عرف میں ایسے کام میں سستی گنیں تو جب تك سامان مہیا کرنے میں رہے گا حانث نہ ہوگا اگرچہ کچھ دن گزر جائیںہاں سامان درست ہوتے ہی نکل جانا ہوگاایسی کوئی صورت نہیں کہ باختیارخود بریلی میں رہے
حوالہ / References الدرالمختار باب ادراک الفریضۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/١٠٠
#15191 · کتابُ الایمان
اور کفارہ دینا نہ پڑےالبتہ اگر یہ تہیہ میں مشغول تھا کہ کسی نے قید کرلیا اور نکلنے نہ دیا توجب تك یہ مجبوری رہے گی حانث نہ ہوگااگرچہ عمر گزرجائےیوں ہی اگر بریلی کے سواکہیں اس کے رہنے کا ٹھکانا نہیں نہ اپنے ذاتی مال یا حرفت یا تجارت کے ذریعہ سے دوسری جگہ بسر ممکن ہے تو بھی مجبور سمجھاجائے گا جب تك حالت ایسی باقی رہے
فی تنویر الابصار والدرالمختار دوام الرکوب و اللبس والسکنی کالانشاء فیحنث بمکثہ ساعۃ فی رد المحتار یعنی لو حلف لایرکب ھذہ الدابۃ وھو راکبھا اولایلبس ھذالثوب وھولابسہ اولا یسکن ھذہ الدار وھو ساکنھا فمکث ساعۃ حنث فلو نزل او نزع الثوب او اخذفی النقلۃ من ساعتہ لایحنث ۔
تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ لباس اور سواری اور سکنی پر مداومت کرنا یعنی قسم کے بعد اس کو جاری رکھنا ابتداء عمل کی طرح ہےلہذا قسم کے بعد ایك گھڑی بھی باقی رکھنے پر قسم ٹوٹ جائےگی ردالمحتار میں ہے:یعنی اگر قسم کھائی کہ میں اس جانور پر سواری نہ کروں گا جبکہ اس پر سوار تھا یا یہ کپڑا نہ پہنوں گا جبکہ وہ پہنے ہوئے تھایااس گھر میں رہائش نہ کروں گا جبکہ اس میں رہائش پذیر تھاتو قسم کے بعد ایك گھڑی بھی اس حال پر باقی رہا تو قسم ٹوٹ جائے گیاور اگر فورا سواری سے اتر گیا یا کپڑا اتاردیایا مکان سے منتقل ہونا شروع ہوگیا تو حانث نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
قال فی الفتح ثم انما یحنث بتاخیر ساعۃ اذا امکنہ النقل فیھا والا بان کان لعذر خوف اللص او منع ذی سلطان او عدم موضع ینتقل الیہ او اغلق علیہ الباب فلم یستطع فتحہ لایحنث ویلحق ذلك الوقت بالعدم للعذر اھ ولو قدر علی الخروج بھدم بعض الحائط ولم یھدم لم یحنث لان المعتبر القدرۃ علی الخروج
فتح میں فرمایا کہ پھر اگر کچھ دیر کردی جبکہ اس کو فورا منتقل ہونا ممکن تھا تو حانث ہوجائے گاورنہ اگر فورا ممکن نہ تھا کہ وہاں چوری کا ڈر تھایا اختیار والے حاکم کی طرف سے رکاوٹ تھییا منتقل ہونے کو دوسرا مکان نہ تھایا دوسرے مکان کو تالا پڑاہوا تھا جس کو کھولنے پر قادر نہ ہواتو حانث نہ ہوگا کیونکہ فورا منتقل ہونے میں یہ وقت بھی شمار ہوگااور عذر کی وجہ سے اس وقفہ کو کالعدم قرار دیاجائے گا اھاور اگر وہاں
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٧
ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٧۶
#15192 · کتابُ الایمان
من الوجہ المعھودعند الناس کذافی الظہیریۃ بحر اھ ملتقطا۔
سے دیوار توڑ کر فورا نکلنے پر قدرت ہوتو بھی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ نکلنے کےلئے معروف طریقے پر نکلنا معتبر ہے جیساکہ ظہیریہ میں ہےبحراھ ملتقطا(ت)
اسی میں زیر قول درمختار
لویمکنہ الخروج او اشتغل بطلب داراخری او دابۃ وان بقی ایامالم یحنث
(اگر نکلنا ممکن ہو یا وہ دوسرا مکان تلاش کرنے یا منتقل ہونے کے لئے سواری کی تلاش میں مصروف ہوگیا اور کئی روز اس تلاش میں گزرگئے تو بھی حانث نہ ہوگا۔ت)فرمایا:
ھوالصحیح لان طلب المنزل من عمل النقلۃ فصار مدۃ الطلب مستثنی اذالم یفرط فی الطلب فتح اھ۔واﷲتعالی اعلم۔
یہی صحیح ہےکیونکہ دوسرامکان تلاش کرنا یہ منتقل ہونے کاعمل ہے لہذا تلاش کی مدت شمار نہ ہوگی بشرطیکہ تلاش کرنے میں کوتاہی نہ کرےفتحاھ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ:از سیتا پور تامسن گنج دولت کدہ حضرت سید صادق میاں صاحب مرسلہ سید ارتضاحسین صاحب جمادی الاول ھ
زید نے قسم کھائی کہ میں مغرب کی نماز میں امام کے ساتھ آدھی میں شریك ہوں گااور وہ وضو کررہا تھااب وہ تیسری رکعت میں شریك ہواآیا وہ حانث ہوگا یانہیںاور آیا اس کو آدھی نماز ملی یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
حانث ہوگاظاہر ہے کہ ایك رکعت تین کی تہائی ہے نہ کہ آدھی۔قسم پوری اس وقت ہوتی کہ دو رکوع پاتا کہ دوتہائی اگرچہ نصف سے زائد ہے مگر زیادت مانع بر نہیں
وبھذاالوجہ کان البرمتصورافانعقدت الیمین وان لم یکن للصلوۃ الثلاثۃ نصف معتبر فی الشرع نعم ان حلف لیدرکن نصفھا لااقل ولاازید فالظاھر
تو اس طرح قسم کو پور ا کرنا متصور ہوسکتا ہے لہذا قسم قرار پائے گی اگرچہ شرعا تین رکعت والی نماز کا نصف نہیں ہوتاہاں اگر قسم میں یوں کہا ہو میں اس نماز کا نصف پاؤں گا نہ اس سے کم نہ زیادہتو پھر ظاہر یہ ہے کہ بالکل
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٧٨۔٧٧
ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٧٨
#15193 · کتابُ الایمان
انہ لایحنث اصلا لعدم تصور البر فیما یظھر وھو شرط الانعقاد کما قدصرحوابہ فی مسئلۃ الکوز و غیرہ ھذاماظھرلی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حانث نہ ہوگاکیونکہ اس صورت میں قسم کا پورا ہونا ممکن نہیںیہی ظاہر ہورہا ہے کیونکہ قسم منعقد ہونے کے لئےاس کا پورا ہونا متصور ہویہ شرط ہےجیسا کہ فقہاء نے کوزے کے مسئلہ میں تصریح فرمائی ہے۔یہ ہے جو مجھے ظاہر معلوم ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: ازبنگالہ زین العابدین سراج گنج۔
کسے شخص رابرامر شرعی سو گند خدا ورسول داداست کہ اگر چنیں کار خواہی کرد بر تو سوگند خدا ورسول است آنکس سوگند خداورسول در حسابے نیاوردہ ہر کارے از ومنع کردہ بود از راہ سر کشی آں کار کرد شرعا بر آنکس چہ حکم صادر آید وتعزیرش در پیش آید۔ بینواتوجروا۔
اگر کوئی شخص دوسرے کو خداو رسول کی قسم دیتے ہوئے یوں کہے اگر تو نے یہ کام کیا تو تجھے اﷲ ورسول کی قسم ہے تو وہ دوسرا شخص اس قسم کی پروا نہ کرتے ہوئے جس کام سے منع کیا تھا اس کوکرنے پر بضد رہے تو اس شخص پر شرعا کیا حکم ہوگا اور اس پر کیا تعزیر ہوگی۔ بینواتوجروا۔(ت)
الجواب:
سوگند بدادن کسے بردیگر ے لازم نمی شود بے آنکہ دیگر سوگند برخود گیرد پذیرد پس در قبول نکردنش برآں الزامے نیست ففی الحدیث ان الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ عبررؤیا فاخبرہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ اصاب بعضا واخطأ بعضا تالیفا للصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ان نجھرہ واقسم علیہ صلی اﷲ تعالی وسلم فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تقسم ۔
دوسرے کو قسم دینے سے دوسرے کو اس وقت تك قسم لازم نہ ہوگی جب تك وہ خود قسم نہ اٹھائے لہذا مذکورہ صورت میں دوسرے شخص پر قسم لازم نہ ہوئی اس لئے اگر وہ قبول نہ کرے تو اس پر الزام نہ ہوگا اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك خواب کی تعبیر بیان کی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کو بتایا کہ یہ تعبیر کچھ درست ہے اورکچھ غلط ہے یہ بات حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی تالیف قلبی کے طور پر فرمائی کہ خطا کو ظاہر نہ فرمایا۔ اس پر حضرت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو قسم دی کہ
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مرویات ابن عباس دارالفکر بیروت
#15194 · کتابُ الایمان
ففیہ دلیل واضح علی ماقلنا وقد نص علی المسألۃ العلماء۔واﷲ تعالی اعلم۔
آپ بتائیں (کیاخطا اور کیا درست) تو آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دو تو اس حدیث میں واضح دلیل ہے ہمارے بیان پر اور علمائے کرام نے بھی یونہی مسئلہ ذکر کیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از کریلی ضلع بریلی مرسلہ مولوی انعام الحق صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چار شریکوں نے باغ کی فصل خرید کی اور حصے بخرے پر جھگڑا پیدا ہوا ایك شخص نے منجملہ ان شریکوں کے قسم کھائی اگر اس باغ میں رہوں تو اپنی ماں اور بیٹی سے زنا کروں اور اپنے مکان کو چلاگیا آخر کار دو آدمی اس کو جبرا اسی باغ میں لائے اور رات کو بھی رکھا اور قسم کے خلاف عمل میں آیا لیکن جبرا عمل میں آیا ہے اور صبح کو اپنا فیصلہ کرکے مکان کو چلاگیا اور شخصوں نے اس کو اپنی برادری سے خارج کیا ہے تو اب اس پر جو قسم خوردہ ہے کیا تعزیر ہونا چاہئےیانہیں ہوناچاہئےبینواتوجروا۔
الجواب:
وہ ناپاك و بیہودہ قسم محض مہمل ہیے لوگ بعد قسم اسے باغ میں لائے اور شب کو رکھا اس سے اس قسم کھانے والے پر کوئی تعزیر نہ آئی نہ وہ اس بناء پر برادری سے خارج کئے جانے کے قابل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا: ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گروہ نے آپس میں فردافردا حلف اٹھایا ہے نماز کی پابندی پر اور ان قواعد کی پابندی پر جو ہمرشتہ تحریر ہذاپیش ہیں اب وہ گروہ والے یہ چاہتے ہیں کہ ان قواعد میں جو قاعدہ جرمانے کا ہے وہ منسوخ ہوجائے او رحلف دروغی کے بھی مرتکب نہ ہوں اور قواعد نمازکی ترمیم بھی ہوسکے تو وہ صورت کون سی ہوسکتی ہے جس سے حلف دروغی عائد نہ ہو اور جرمانہ نماز بند ہوجائے اور قواعد نماز ترمیم ہوجائے
سوال: نماز کی قضایا اس کی قضا ادا کرنے پر بطور تنبیہ اگر کوئی جرمانہ مقرر کردیاجائے تو وہ خلاف شرع تو نہیں ہے
سوال: اگرجرمانہ نماز خلاف شرع شریف ہو اور اس پر حلف سہوا اٹھالیاگیا تو وہ حلف جائز طور سے ہوا یا ناجائز اور اس کے توڑنے سے گنہگار ہوں گے یانہیں
قواعد متعلق پابندی نماز
() اگر کوئی ممبر کسی وقت کی نماز کی قضا بھی ادا نہ کرے گا اس کو یکم نومبر ایسے فی وقت کے
#15195 · کتابُ الایمان
عوض ایك پائی بطور جرمانہ کے انجمن کے اس عہدہ دار یا ممبر کے پاس داخل کرنا ہوگا جس کے سپرد انجمن اس خدمت کو کرے گی۔
() ہر ممبر اور عہدہ دار پر لازم ہوگا کہ ایسی نماز کی اطلاع کہ جس کی قضاء بھی اس سے ادا نہ ہوئی ہو بلادریافت کے ہفتہ وار انجمن کو کردے۔
() آمدنی جرمانہ کارجسٹر جدا ہوگا۔
() یہ آمدنی کسی کار خیر میں صرف ہوگی۔
() جرمانہ قضا نماز کی ادائیگی بحالت موجودگی بریلی ہفتہ وار ہوا کرے گی۔
() اگر ممبر یا عہدہ دار ایسا جرمانہ قصدا وقت معینہ پر ادا نہ کرے گا اور انجمن کی رائے میں اس کا یہ ارادہ مفسد انہ پایا جائے گا تو اس ممبر کا نام باجازت کورم جلسہ معمولی انجمن کیا جائے گا(تعداد ممبران کی ایك حد کا نام کورم ہے)
() اگر کوئی قصدا حلف دروغی کا مرتکب ہوگا وہ انجمن سے خارج کیا جائے گا۔
() کوئی مسلمان ممبر بلاحلف اٹھائے اس انجمن کا ممبر نہ بنایاجائے گا۔
عبارت حلف
() میں حلف کرتا ہوں کہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی میں کوشش کروں گا۔
() اور اگر سہوا یا اتفاقا یا عمدا قضا ہوجائے گی تو اس کو دوسرے وقت ادا کروں گا۔
() اگر قضا بھی ادا نہ کرسکوں گا تو یکم نومبر ء سے جوقواعد متعلق پابندی نماز انجمن ہذا سے تیار ہوئے ہیں ان کی پابندی بدل وجان کروں گا۔ واضح رہے کہ حلف اٹھانے سے قبل اور بعد بھی یہ بات سمجھادی گئی تھی کہ حلف بالا کی سطر اول اورد وم کا اثر تم لوگوں پر تمام عمر رہے گا اور سطر سوم وچہارم کا اثر فقط اسی زمانے تك رہے گا جب تك کہ تم اس انجمن کے ممبر ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب:
جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطا کے عوض لے لیا جائے منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں کما حققہ الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالی والمسألۃ فی الدرالمختار وغیرہ وقد بیناھا علی ھامش ردالمحتار (جیسا کہ اس کی تحقیق امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمائی اور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے____________اور ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ میں بیان کیا ہے۔ت)اور ناجائز بات پر عمل کرنا جس حلف سے لازم آتا ہو اس کو توڑنا واجب ہے کما ارشد الیہ الحدیث
#15196 · کتابُ الایمان
وفصلہ فی الھندیۃ (جیسا کہ اس کےلئے حدیث میں ارشاد ہے اور ا سکی تفصیل ہندیہ میں ہے۔ت) مگر صورت مذکورہ میں وہ جرمانہ انجمن والوں نے اپنے لئے لینا نہ قرار دیا بلکہ کسی کارخیر میں اس کا صرف کرنا بتایا ہے اور اس کے لینے میں انجمن کی طرف سے کوئی جبرواکراہ نہیں صرف اتنا قاعدہ قرار دیا ہے کہ جو جرمانہ نہ دے انجمن سے خارج کیا جائے تو انجمن میں داخل رہنے کےلئے جو شخص یہ رقم ادا کرے گا بجبر و تعدی نہ ہوگا بلکہ اس کی اپنی رضا سے ہوگا کہ انجمن سے خارج ہونے میں اس کا کوئی ضرر نہ تھا اس نے باختیار خود یہ پسند کیا کہ یہ رقم اس سے لے کر کار خیر میں صرف ہو لہذایہ قانون جرمانہ ناجائز ہ کی حد تك نہیں پہنچتا۔ رہا حلف وہ اگر عبارت حلف بے کم وکاست اسی قدر ہے اور اس سے قبل یا بعد زبانی کوئی لفظ ایسا نہ کہلوایا گیا کہ حلف کو ان چاروں سطروں سے شرعا متعلق کردے تو حلف صرف دو سطر سابق سے متعلق ہوکہ بعد کی دو سطریں حرف عطف سے خالی ہیں
والجملۃ المستقلۃ لاتتعلق بالسابقۃ الابعاطف فبقیت خارجۃ عن الحلف لماعلم ان فصل الاجنبی یبطل عمل الحلف حتی لو قال واﷲ والرسول لافعلن کذا لم یکن یمینا لان قولہ والرسول لیس یمینا فکان فاصلا کما فی العلمگیریۃ وغیرہا فکان کقول القائل واﷲ لاشربن لاقومن لم یدخل تحت الحلف الاالشرب دون القیام بخلاف قولہ ولاقومن ھذا ماظہرلی وارجو ان یکونا صوابا۔
اور یہ جملہ مستقلہ ہے اس کا پہلے عطف کے بغیر تعلق نہیں ہوسکتا لہذا یہ قسم سے خارج ہے کیونکہ اجنبی جملہ کے فاصلہ سے قسم کا عمل ختم ہوجاتا ہے حتی کہ اگر کوئی شخص یوں کہے اﷲ اور رسول کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا تو قسم نہ ہوگی کیونکہ اﷲ کی قسم ہوتی ہے تو درمیان میں رسول کا لفظ فاصل بن گیاکیونکہ رسول کی قسم نہیں ہوتی جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں بیان ہے تو یہ یوں ہوا جیسے کوئی کہے خدا کی قسم میں ضرور نوش کروں گا ضرور کھڑا ہوں گا تو یہ نوش کرنے کی قسم ہوگی کھڑے ہونے کی قسم نہ ہوگی اس کے برخلاف اگر حرف عطف کے بعد میں ضرور کھڑا ہوں گا کہے تو کھڑے ہونے کی بھی قسم ہوگی۔ یہ مجھے ظاہر ہوااور مجھے امید ہے کہ یہ درست ہوگا۔(ت)
اس تقدیر پر پابندی جرمانہ ودیگر قواعد انجمن زیر حلف داخل ہی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از دولت پورضلع بلندشہر مرسلہ بشیر محمد خان صاحب شوال ھ
اگر چند بار کسی شخص نے حلف شرعی کسی امر کے واسطے کیا ہواور پھر اس کے خلاف کرے اور اس امر کافیصلہ کہ جس کے بابت اس نے حلف شرعی کئی مرتبہ کیا ہے تو وہ اس کا فیصلہ قابل مان لینے کے
#15197 · کتابُ الایمان
ہوگا یانہیں
الجواب:
اگر خلاف کرنے میں شرعا خیر دیکھے تو خلاف کرے اور کفارہ دے ورنہ بلاوجہ شرعی قسم توڑناحرام ہے۔
قال اﷲ تعالی و احفظوا ایمانكم ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اپنی قسموں کو پوراکرو۔(ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرامنھا فلیأت الذی ھو خیرولیکفر عن یمینہ ۔ رواہ احمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جس نے کسی چیز کا حلف دیا اور اس کے خلاف سے بہتر محسوس کرے تو بہتر کو بجالائے اور قسم کا کفارہ دے۔ اس کو احمد مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
یہی حال فیصلہ کا ہے اگر حلف کیا تھا کہ یوں فیصلہ کرے گا پھر حکم شرع اس کے خلاف پایا تو اس پر فرض ہے کہ خلاف ہی کرے اور کفارہ دے اور اگر حکم شرع وہی تھا جس پر حلف کیا پھر اس کا خلاف کیا تو قسم توڑنے کا بھی گناہ ہواور ظلم وناحق فیصلہ کا گناہ سخت تر ہوا۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از سرونج مسئولہ عبدالرشید خاں صاحب جمادی الاول ھ
ایك امیر نے اپنے ملازم کو خدمت کے صلہ میں زمین دی پھر کسی بات پر ملازم سے خفا ہوکر حالت غصہ میں قسم کھائی کہ میں تیری زمین ضبط کروں گا اور یہ بھی حلف لیا کہ میں تیرے گھر کا کھانا بھی نہ کھاؤں گا۔ اب وہ امیر اگر حلف شکنی کرے تو کیا کفارہ لازم آئے گا یا نہیں
الجواب:
قسم کا کفارہ لازم ہوگا کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھاناکھلائے یا دس مسکینوں کو جوڑے دے یا دس مسکینوں کوفی مسکین ایك صاع جو یا نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت دے صاع سو روپیہ کے سیر سے ایك روپیہ پھراوپر ساڑھے تین سیر ہے اور جس سے یہ نہ ہوسکے وہ تین روزے رکھے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازرائپورگول بازار ممالك متوسط مرسلہ مولوی محمد سلیم خاں کتب فروش جمادی الآخرہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی دوسری والدہ کے روبرو
حوالہ / References القرآن الکریم ٥ /٨٩
صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٤٨
#15198 · کتابُ الایمان
ہوش وحواس میں قسم کھائی کہ مجھ کو خداکا دیدار اور حضرت (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) کی شفاعت نصیب نہ ہو جو میں اپنے والد کی کمائی کا روپیہ یا جائداد موجودگی یا عدم موجودگی یا بعد وفات والد ماجد کے لوں جائداد میں یا ان کی کمائی میں اب وہ شخص کسی طرح سے اپنے باپ کی جائداد یا کمائی کا روپیہ لے سکتا ہے یانہیںامید کہ جواب امور مذکورہ بالااز روئے کتب حنفیہ عنایت فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
وہ جو اس نے کہاشرعا قسم نہیں بلکہ اپنے حق میں بددعا ہے اس کے سبب مال پدر سے لے لینا ناجائز نہ ہوگیا لے سکتا ہے اور ایسے برے لفظ سے توبہ کرے۔ردالمحتارمیں ہے:
علیہ غضبہ لایکون یمینا ایضالانہ دعاء علی نفسہ ولا یستلزم وقوع المدعو بل ذلك متعلق باستجابۃ دعائہ لانہ غیر متعارف فتح واﷲ تعالی اعلم۔
اگر کسی نے یوں کہا مجھ پر ا ﷲتعالی کا غضب ہوتو یہ بھی قسم نہ ہوگی کیونکہ یہ اپنے لئے بددعا ہے اور اس کا وقوع لازم نہیں ہے اس لئے یہ وقوع اس کی دعا کے قبول ہونے پر موقوف ہے کیونکہ یہ غیر متعارف ہے فتح۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: رمضان المبارکھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے متعلقوں سے ناراض ہوکر قسم کھائی اگر میں حج کو نہ چلاجاؤں تو خداکرے میں کافر ہوجاؤں اس پر لوگوں نے سمجھایا کہ ایسی قسم مت کھا مگر زید نے مکررسہ کرر قسم کھاکر کہا اگر میں حج کو نہ چلا جاؤں کافر ہوجاؤں لہذابستی والوں نے مبلغ صہ روپیہ چندہ کرکے دے دئے چنانچہ زید وہ روپیہ لے کر اس بستی سے حج کے ارادہ سے ظاہرا روانہ ہوگیا مگر دس روز کے بعد پھر اپنی بستی میں واپس آگیااور کہا میں بمبئی سے لوٹ آیا ہوں حج کو نہیں جاؤں گا ایك روز زید مسجد میں نماز پڑھنے کو گیا وہاں بکر نے دعامانگی:یااﷲ پاک! تو ہر مسلمان کو حج نصیب کر۔ اس دعا کو سن کر زید نے بکر کو گالیاں دیں مجھ کو تو طعنہ دیتا ہے درانحالیکہ زید اس وقت اندازا مبلغ ڈھائی سوروپے کی چیزوں کا بذات خود مالك ہے یعنی بیل بھینس اور ہل نیشکر کا مالك ہے تو ایسی حالت میں اس چندہ کا کیاحکم ہے جو کہ وہ ہضم کرچکا ہے اور اس کو شرع کون سے لفظ سے نامزد کرتی ہے اور مسلمان لوگ کیا برتاؤ کریں اگر زید اس فعل مذکور سے احاطہ اسلام سے خارج ہوگیا تو دائرہ اسلام میں کس ترکیب سے داخل ہوسکتا ہے اور کس طرح گناہ سے بری ہوسکتا ہے اور کوئی مسلمان اس حالت موجودہ میں اس سے ارتباط ومیل جول رکھے تو ایسے مسلمان کے واسطے کیا حکم ہے اور منکوحہ اس کی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٥٧
#15199 · کتابُ الایمان
اور اولاد اس کی کا کیا ہے کہ یہ سب زید کے ساتھ کیا سلوك کریں ورنہ اولاد اور منکوحہ اس کی کے ساتھ مسلمان کیا تعلق رکھیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب:
زید نے جو الفاظ کہے قسم نہ تھی اسکے بعد حج کو نہ جانے کے سبب احاطہ اسلام سے خارج نہ ہوا روپیہ کہ چندہ والوں نے دیا وہ ہبہ تھا کہ زید بعد قبضہ اس کا ٹکٹ لے کر گیا اگر واقعی زید کا اس وقت ارادہ حج کو جانے کا تھا اور بمبئی تك گیا اور کوئی عذر پیش آیا کہ نہ جاسکا مثلا زید بہت ضعیف ہواور محتاج معین ہو اور اسے کوئی ایسا نہ ملا کہ اس سفر میں اس کی اعانت کرے بمجبوری پلٹ آیا تو اس پر کچھ الزام نہیں چندہ کا روپیہ بہتر یہ ہے کہ واپس کردے ورنہ شرعا اس پر واپسی لازم نہیں ہاں اگر وہ دھوکا دے کر جھوٹ ارادہ ظاہر کرتا اور اس ذریعہ سے لوگوں سے روپیہ لے کر چلتا ہو ضرور شخص مجرم تھا مگر صورت سوال سے اس کا ہرگز یہ ارادہ نہیں عــــہنہ کسی پر بدگمانی جائز بلاوجہ قطعی اور بلاثبوت شرعی دھوکا دینے اور جھوٹ ارادہ روپیہ ہضم کرلینے عــــہ۲ کرلیں گے وہ سخت مجرم ہوں گے اس پر توبہ فرض ہے واﷲ تعالی اعلم۔
_____________________
عــــہ۱: مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۲: مسودہ میں بیاض ہے۔
#15200 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
رسالہ
الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمینھ
(قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)

مسئلہ۲۱۴: از شمس آباد ضلع اٹك مرسلہ جناب مولنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب محرم شریف ھ
چہ می فرمایند علمائے اندریں مسئلہ کہ زید از پسر خود بوجہ امرے خلاف مرضی ناراض شدہ زن خود راگفت کہ اگر ایں پسر مرادر خانہ گزاشتی تو برمن سہ طلاق طلاق ہستی باز بعد از چند مدت بوجہ عذر خواہی پسرش زید خود ازاں پسر راضی شدودر خانہ گذاشت وزن اوچیزے ازلاونعم نگفت آیا آں زن برزید طلاق شد یانہبینواتوجروا۔ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید کسی ناپسندیدہ معاملہ پر اپنے بیٹے سے ناراض ہوا تو زید نے اپنی بیوی کو کہا اگر تونے میرے اس بیٹے کو گھر میں چھوڑا تو مجھ پر توتین طلاق ہے پھر کچھ مدت کے بعد بیٹے کی معذرت خواہی پر زید اپنے اس بیٹے سے راضی ہوگیا اور گھرمیں آنے دیا بیٹے کے گھر آنے پر زید کی بیوی نے بیٹے کو کچھ نہ کہا نہ ہاں اور نہ ہی نہ کہا تو کیا اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق ہوگئی یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔ الحمد ﷲرب بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔
یااﷲ! تجھ سے ہی حق و صواب میں رہنمائی ہے۔ سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو
#15201 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
العلمین وافضل الصلوۃ والسلام علی السید الامین الذی قال لہ ربہ فسلم لك من اصحب الیمین اجلہ اجلالاوعززہ تعزیزاوجعل تعلیقات مواعید فضلہ فی حق امتہ تنجیزا صلی اﷲ تعالی وسلم علیہ وعلی الہ وصحبہ المیامین عدد کل برو فاجر وبروحنث وعھد ویمین امین!
سب جہانوں کو پالنے والا ہے بہترین صلوۃ وسلام اس آقا امین پر جس کے اﷲ تعالی نے فرمایا: اے حبیب ! آپ کےلئے دائیں جانب والے اصحاب کی طرف سے سلام ہے اور اس کو انتہائی بزرگیوں سے نوازاور اس کو اعلی اعزاز عطا فرمایا اوراس نے اپنے فضل کے مشروط وعدوں کو آپ کی امت کے حق میں غیر مشروط فرمایا اﷲ تعالی کی رحمتیں اور سلام آپ پر اور آل واصحاب پر جو دائیں جانب والے ہیں ہر نیك وبد اور پورا کرنے والے اور توڑنے والے اور عہدو قسم کی تعداد کے برابر ہو آمین!
فقیر غفرلہ المولی القدیر دریں مسئلہ نگاہ تنقیح راجولاں دادم وبقدر قدرت وفرصت دورفرستادم عدم طلاق راوجہے کہ ثلج صدر دہد نیا فتم بخانہ گزاشتن ترك وتخلیہ است واوبد ووجہ منتفی شود منع بالفعل یانہی بالقول واینجا بتصریح سوال ہر دو نافی منتفی پس تخلیہ کہ شرط حنث بود روئے نمود وسہ طلاق لازم شد در فتاوی امام اجل قاضی خاں کتاب الایمان مسائل الیمین علی الترك است رجل اجر دارہ سنۃ ثم قال للمستاجر واﷲ لااترکك فی داری ثم قال لہ اخرج من داری یصیربارا در عقودالدریہ از
اس فقیر(اﷲ تعالی اس کی مغفرت فرمائے) نے اس مسئلہ میں چھان بین کے لئے نظر دوڑائی اور اپنی ہمت اور فرصت کے مطابق دور گہرائی تك پہنچا تو طلاق نہ ہونے کی کوئی اطمینان بخش وجہ نہ پائیگھر میں چھوڑنا جس کا مطلب ترك کردینا اور علیحدہ ہونا ہے اور یہ ترك وعلیحدہ ہونا دو طریقوں عملا منع کرنے یا زبانی بات کرنے کے ذریعے روکنے سے منتفی ہوسکتا ہے اوریہاں پر سوال سے واضح ہورہا ہے کہ بیوی نے بیٹے کو دونوں طریقوں میں سے کسی ایك طریقہ سے بھی منع نہیں کیا تو جب منع کرنا منتفی ہے تو تخلیہ و ترك متحقق ہوگیا جو حنث کے لئے شرط قراردی تھی تو اس تخلیہ کے پائے جانے سے بیوی کو تین طلاقیں لازم ہوگئی ہیں
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترك نولکشور لکھنؤ ٢/٢٩٦
#15202 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
فتاوی صغری است باز درخانیہ فرمود رجل حلف ان لایدع فلانا یدخل ھذہ الدار فان کانت الدار للحالف فمنعہ بالقول ولم یمنعہ بالفعل حتی دخل حنث فی یمینہ فیکون شرط برہ المنع بالقول والفعل بقدر مایطیق وان لم تکن الدارللحالف فمنعہ بالقول دون الفعل حتی لودخل لایکون حانثا باز فرمود رجل حلف بطلاق امرأتہ ان لایدع فلانا یمر علی ھذہ القنطرۃ فمنعہ بالقول یکون بارالانہ لایمنعہ بالقول یکون بارالانہ لایملك المنع بالفعل باز فرمود رجل قال لابنہ ان ترکتك تعمل مع فلان فامرأتہ کذا فان کان الابن بالغا لایقدر علی منعہ بالفعل فمنعہ بالقول یکون باراوان کان الابن صغیراکان شرط برہ المنع بالقول والفعل جمیعا ودربزازیہ چنانست قال لابنہ الکبیر ان ترکتك تعمل مع فلان فھو علی المنع بالقول ولو صغیرافعلی
امام اجل قاضی خاں کے فتاوی کے کتاب الایمان میں ترك پر قسم کے مسائل میں ہے کہ ایك شخص نے اپنا گھر ایك سال کے لئے کرایہ پردیا تو پھر اس نے کرایہ دار کو کہا خداکی قسم میں تجھے اپنے گھرمیں نہ چھوڑوں گا یہ کہہ کر پھر اس نے کرایہ دار کو زبانی کہا تو میرے گھر سے نکل جا تو اس کہنے پر وہ مالك قسم میں سچا ہوگیا اور اس نے اپنی قسم پوری کرلی۔اسی طرح عقودالدریہ میں فتاوی صغری سے منقول ہے اور پھر خانیہ میں فرمایا کہ ایك شخص نے قسم کھائی کہ"میں فلاں کو اس گھر میں داخل نہ ہونے دوں گا" تو اگر یہ گھر قسم کھانیوالے کی ملکیت ہوتو اس نے اس کو زبانی منع کیا اور عملا منع نہ کیا پس وہ شخص اس گھر میں داخل ہوگیا تو قسم کھانے والے کی قسم ٹوٹ گئی کیونکہ گھر کامالك ہونے کی وجہ سے اس کی قسم پوری ہونے کے لئے ضروری تھا کہ وہ زبانی اور عملی دونوں طریقوں سے حسب طاقت منع کرتا اور اگر وہ گھر قسم کھانے والے کی ملکیت نہ ہوتو اس کو زبانی منع کیا اور عملا منع نہ کیا حتی کہ اگر وہ شخص اس مکان میں داخل ہو گیا تو حانث نہ ہوگاخانیہ میں پھر فرمایا کہ ایك شخص نے بیوی کی طلاق کی قسم کھائی کہ وہ فلاں شخص کو اس پل سے نہ گزرنے دے گا پھر اس نے زبانی اس کو گزرنے سے روکا تواس کی قسم پوری ہوگئی کیونکہ وہ اس کو عملا منع کرنے پر قادر نہ تھا۔پھر فرمایا ایك شخص نے اپنے بیٹے کو کہا اگرمیں تجھے فلاں کے ساتھ کام کرنے کے لئے چھوڑوں
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترك نولکشور لکھنؤ ٢/٢٩٦
فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترك نولکشور لکھنؤ ٢/٢٩٦
فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترك نولکشور لکھنؤ ٢/٢٩٦
#15203 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
القول والفعل بازدر خانیہ فرمود ولو قال ان ترکت فلانا یدخل بیتی فامرأتہ کذا فدخل فلان ولم یعلم بہ الحالف لایحنث وان علم ولم یمنعہ حنث درفتح القدیر آخر ایمان ست حلف لااترك فلانا یفعل کذا کلایمر اولایذھب اولایدخل یبر بقولہ لہ لاتفعل لاتخرج لاتمر اطاعہ اوعصاہ در عقود الدریہ است حلف بالطلاق علی اختہ البالغۃ لااخلیك تسکنین مع حماتك فی الدار فحیث لاتکن الدار للحالف فمنعھا بالقول دون الفعل لایحنث کذا فی الخانیۃ و البزازیۃ ورسائل العلامۃ الشرنبلالیۃ دراں از قنیہ است حلف لیخرجن ساکن دارہ الیوم والساکن ظالم غالب یتکلف فی اخراجہ فان لم یمکنہ فالیمین علی التلفظ باللسان درعالمگیریہ است
تو میری بیوی کو طلاق تو اگر بیٹا بالغ ہو جس کو عملا نہ روك سکتا ہوتو اس کو صرف زبانی منع کرنے پر قسم پوری ہوجائیگی اور اگر بیٹا نابالغ ہوتو پھر قسم پورا ہونے کے لئے زبانی اور عملی دونوں طرح منع کرنا شرط ہوگا۔اور بزازیہ میں یوں ہے کہ اگر بیٹا بالغ ہوتو پھر صرف زبانی منع کرنا قسم پوراہونے کیلئے شرط ہے اوراگر بیٹا نابالغ ہوتو پھر زبانی اور عملی دونوں طریقوں سے منع کرنا شرط ہوگا۔پھر خانیہ میں فرمایا کہ اگر کسی نے یوں کہا اگر میں فلاں کو اپنے گھر میں داخل ہوتا چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق پس وہ شخص اس کی لاعلمی میں داخل ہوگیا تو حانث نہ ہوگا اور اگر اس کے داخلے پر علم ہو اور منع نہ کیا تو حانث ہوگا۔فتح القدیر میں قسموں کے بیان کے آخر میں ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی کہ میں فلاں کو اس کام پر نہ چھوڑوں گا مثلا گزرنے نہ دوں گا جانے نہ دوں گا داخل نہ ہونے دوں گا تو صرف زبانی نہ کر نہ داخل ہو نہ گزر کہہ دینا قسم کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے وہ مانے یا نہ مانے عقود الدریہ میں ہے ایك شخص نے طلاق کی قسم کھاتے ہوئے اپنی بالغ بہن کو کہا میں تجھے گھر میں تیرے دیوروں کے ساتھ رہتا نہ چھوڑوں گا توجب وہ گھر قسم کھانے والے کا نہ ہوتو پھر زبانی روکنا مراد ہوگا عملا روکنا مراد نہیں ہوگا تو زبانی روك دیا قسم پوری ہوجائیگی
حوالہ / References فتاوی بزازیۃ علی حاشیۃ فتاوی ہندیہ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ٤/ ٣٥٠
فتاوی قاضی خان مسائل الیمین علی الترك نولکشورلکھنؤ ٢/٢٩٧
فتح القدیر کتاب الایمان مسائل متفرقہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٧٤
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق قندھار، افغانستان ١/٣٨
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق قندھار، افغانستان ١/٥٠
#15204 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
اذ قال ان ترکت فلانا یدخل ھذہ الدار فامرأتی طالق فان کان الحالف یملك ھذہ الدار فشرط برہ ان یمنعہ عن الدخول بالقول الفعل ھکذا ذکرہ الصدر الشہید رحمہ اﷲ تعالی فی واقعاتہ وفی النوازل شرط برہ ملك المنع ولم یعترض لملك الدار فقال ان کان الحالف یملك منعہ عن الدخول فھو علی النھی والمنع جمیعا وان کان لایملك منعہ فھو علی النھی دون المنع وکان شیخ الامام ظھیرالدین یعتبر ملك المنع وعلیہ الفتوی ۔
یوں خانیہ بزازیہ اور علامہ شرنبلالی کے رسائل میں ہے اور اس میں قنیہ کے حوالے سے ہے کہ ایك نے قسم کھائی کہ میں آج فلاں رہائشی کو ضرور نکال باہر کروں گا تو وہ رہائشی ظالم اور غالب ہو جس کو نکالنا مشکل ہوتو پھر نکالنے سے مراد زبانی کہنا ہوگا لہذا زبانی کہہ دینا کہ نکل جا قسم کے پورا ہونے کے لئے کافی ہے عالمگیریہ میں ہے کسی نے کہا اگر میں فلاں کو اس گھر میں داخل ہوتا چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق تو اگر گھر اس کی ملکیت ہوتو پھر قسم پورا ہونے کے لئے زبانی اور عملی دونوں طرح منع کرنا ضروری ہے اس کو صدرالشہید رحمہ اﷲ تعالی نے اپنی کتاب واقعات میں یونہی ذکر فرمایا ہے اور نوازل میں ہے قسم پورا کرنے کے لئے منع کی قدرت شرط ہے انہوں نے گھر کی ملکیت کا ذکر نہیں فرمایا اور یوں کہا اگر قسم کھانے والا اس کو دخول سے منع کرسکتا ہے تو پھر زبانی اور عملی دونوں طرح منع مراد ہوگا اور اگروہ دخول سے روکنے پر قادر نہ ہوتو پھر صرف زبانی منع مراد ہوگااور امام شیخ ظہیرالدین منع کی قدرت کا اعتبار کرتے ہیں اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
اقول: اینجا تنبہ باید برامور اولا عبارات علما چنانکہ دیدی در مسئلہ عدم ترك فلاں مثلا نگزارم کہ بخانہ آید بر رنگہائے مختلف آمدہ امام صدر شہید اعتبار ملك دار فرمود کہ اگر خانہ خانہ اوست منع بقول وفعل کند اگر تنہا بنہی زبانی عمل نماید حانث ہمیں است نص دوم امام قاضی خاں آرے اگر خانہ ملك اونیست منع زبانی بس استوامام فقیہ ابواللیث ملك منع رامعتبر داشت کہ اگر بزور باز داشتن تواند مجرد نہی کفایت نکند گوخانہ خانہ اش مباش ورنہ کافی است گوخانہ خود از آں او باش امام ظہیرالدین ہمبریں فتوی داد ونص اول امام قاضی خاں و
اقول:(میں کہتاہوں یہاں چند امور پر تنبیہ ضروری ہے اول جیساکہ آپ نے دیکھا عدم ترك فلاں یعنی فلاں کو نہ چھوڑوں گا کہ وہ گھر میں آئے کے مسئلہ میں علماء کرام کی عبارات مختلف ہیں امام صدر شہید گھر کے مالك ہونے کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر گھر اس کا اپنا ہے تو پھر زبانی اور عملی دونوں طرح سے روکے اور اگر صرف زبانی روکا تو حانث ہوجائےگا اور امام قاضی خاں کی دوسری نص بھی یہی ہے ہاں اگر گھر اس کا اپنا نہ ہوتوپھر زبانی روکنا کافی ہےاور امام فقیہ ابواللیث نے روکنے کی قدرت واختیار کو معتبر رکھا ہے کہ اس
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان الخ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٣٦
#15205 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
امام حسام الدین در فتاوی صغری مسئلہ خود در دار مملوکہ حالف وضع فرمود وعلی الاطلاق بر نہی زبانی اقتصاد نمود وہمیں ست قضا ونص مذکور فتح القدیرودر بزازیہ جائے دار پسر فرق بصغیر وکبیر فرمود کہ صغیر را باز داشتن بقول وفعل جمیعا لازم است وکبیررا تنہا بقول واز نص چہارم خانیہ تقیید مستفادست کہ اگر بر کبیر قدرت منع بالفعل نہ باشد منع بالقول ست ودر نص سومش در حق اجنبی مطلقا منع قولی گرفت کہ منع فعلی نمی تواند
صورت میں اگر طاقت سے روك سکتا ہے تو پھر زبانی روکنا کافی نہیں ہے اگرچہ وہ گھر اپنا نہ بھی ہو ورنہ صرف زبانی روکنا کافی ہے اگرچہ گھر اپنا ہی ہو امام ظہیرالدین نے اسی پر فتوی دیا ہے۔ امام قاضی خان کی پہلی نص اور امام حسام الدین نے فتاوی صغری میں اپنایہ مسئلہ قسم اٹھانے والے کے اپنے گھر کے متعلق بیان کیا اور وہاں انہوں نے مطلقا زبانی روکنے پر اقتصار فرمایا اور یہی فتح القدیر کا فیصلہ اور نص ہے
اور بزازیہ میں بیٹے کے معاملہ میں صغیروکبیر کافرق کیا ہے کہ اگر بیٹا صغیرہو تو زبانی اور عملی دونوں طرح گھر سے روکنا ضروری ہے اور اگر کبیر ہو تو پھرصرف زبانی روکنا کافی قرار دیا ہےاورخانیہ(قاضیخاں) کی چوتھی نص میں یہ تقیید عیاں فرمائی کہ اگر کبیربیٹے پر عملا روکنے کی قدرت نہ ہوتوتب زبانی روکنا کافی ہے اور ان کی تیسری نص اجنبی شخص کے متعلق ہے کہ اس کو مطلقا زبانی روکنا ہی کافی ہوگا کیونکہ عملی طور اجنبی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔
فقیر گویم بحقیقت اینجا ہیچ اختلاف نیست اصل سخن آن ست کہ درخانیہ بآں اشارہ رفت کہ قدر ما یطیق پیداست کہ ہر کہ گفت فلاں را بخانہ نگزارم وقادر بود براخراج اوگرچہ خانہ خانہ دیگرے باشد واینکس باجارہ یا اعارہ وغیرہما آنجامی ماند واگرچہ آنکس پسر بالغ یا اجنبی بود چوں طاقت خودرا بکار بزدوتنہا ہر یکبار گفتن کہ میا یا بیروں شوقناعت در زید قطعا اورابخانہ گزاشت وحانث شود ہر کہ نتواند گو خانہ خانہ اش باشد وآنکس پسر صغیرمثلا حالف مقعد یا زمن یا مفلوج ست وپسر سیزدہ چہاردہ سالہ شریر کہ سر بفرمان ننہد لاجرم اینجا ہمیں نہی بقول کافی بود درخانہ خودش غالب اختیار کلی باشد واحکام فقیہ نظر بغالب دارد ازینجہت امام صدر شہید آں تفرقہ فرمود کہ تعبیر اصل بمظنہ نیست عــــہ در زمن متأخر
میں فقیر کہتا ہوں کہ حقیقتا یہ اختلاف نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت وہ ہے جس کی طرف خانیہ میں اشارہ گزرا کہ قدرت کے مطابق روکنا مراد ہے ظاہر ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ میں فلاں کو گھر میں نہ چھوڑوں گا تو اگر وہ اس کو نکالنے پر قادر ہو گھر اس کا اپنا ہو یا نہ ہو بلکہ کرایہ دار ہو یا عاریۃ ہو جو بھی صورت رہنے کی ہو تو جس کے متعلق یہ کہا وہ بیٹا بالغ ہو یا کوئی اجنبی ہو اس کو روکنے کی

عــــہ:مسودہ میں بیاض ہے۔
#15206 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
اختیار تام جزبر اطفال صغار نماند لہذا تفریق صغیر و کبیر کردند کہ نیز از ہماں دادی است دیگراں نظر بفساد زمان گفتند کہ غالبا منع بتدافع وتدافع بتضارب انجامد وآتش فتنہ سر بالا کشود والفتنۃ اشد من القتل لہذا از سر اقتصار بر سخن کردند ومراد جملہ یکے وباﷲ التوفیق بالجملہ بریں قدر اتفاق ست کہ نگزا شتن راکم از کم بزبان باز داشتن ناگزیر است ہرکہ ایں رازن آں پسر را برآوردن نتوانست آخر کم نہ ازاں کہ یکبار گفتی میاں یا بیروں رود محلش نہ بود مگر اول وہلہ چوں آں گاہ خموشی گزید گزاشتن حاصل شد وطلاق نازل باز منع بے سود ولاطائل واگرآں وقت یکبار منع کردی سوگند منتہی شدے کہ مصدر بکلمہ کلما نبود پس ازاں ترك اگرچہ مستمر ماندے زیاں نہ رساندے وکل ذلك واضح مما قدمنا من نصوص العلماء
طاقت رکھتا ہے تو پھر زبانی روکنا کافی نہ ہوگا کہ ایك بار زبانی منع کردے اور کہے کہ یہاں نہ آیا باہر ہوجا بلکہ عملی اور زبانی ہر طرح روکنا ہوگا ورنہ اندر چھوڑا تو قطعا حانث ہوجائے گا اور جو روکنے پر قدرت نہیں رکھتا گو وہ گھر اس کا اپنا ہو اور بیٹا بھی صغیر ہو تو زبانی روکنا ہی کافی ہےمثلا قسم کھانے والا اپاہج ہو یا معذور ہو یا مفلوج ہو اور بیٹا تیرہ چودہ سال کا شریر ہو کہ فرمانبرداری نہیں کرتا تو ایسی صورت میں مجبورا زبانی روکنا ہی کافی قرار پائے گا چونکہ اپنے ذاتی گھر میں کلی اختیار ہونا اغلب ہے اورفقہی احکام کا مدار بھی غالب امور پر ہوتاہے اس لئے امام صدر شہید نے اپنے اور غیر گھر کا فرق ذکر کیا ہے ورنہ یہ قاعدہ کابیان نہیں ہے اور چونکہ آخر زمانہ میں باپ کو صرف صغیر بیٹے پر ہی مکمل اختیار ہوتا ہے اس لیے فقہاء نے صغیر وکبیر بیٹے کا فرق بیان کرنا بھی اسی وجہ سے ہے دوسرے فقہاء نے زمانہ کے فساد کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف زبانی روکنے کو ذکر کیا کیونکہ اغلب طور پر روکنے کے لئے عملی رکاوٹ ضروری ہوتی ہے اور عملی رکاوٹ مار پیٹ سے ہوتی ہے جبکہ اس سے فتنہ کی آگ بھڑك اٹھتی ہے اور فتنہ قتل سے بھی برا ہے اس لیے تمام عبارات کا ماحاصل ایك ہی ہے یہ توفیق بیان اﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔تاہم خلاصہ یہ ہے کہ نہ چھوڑنے کےلئے کم از کم زبانی روکنا ضروری ہے تو جب کسی نے زبانی روکنے کا عمل بھی نہ کیا تو گویااس نے چھوڑا۔ تو زیربحث مسئلہ میں بیوی اگر بیٹے کو عملا باہر نہیں نکال سکتی تھی
#15207 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
اقول:والسرافیہ ان التخلیۃ عدمیۃ لانھا عدم النھی والتعرض وقد اثبتت فی الشرط فیکون منفیۃ ونفی النفی اثبات و الاثبات تکفی مرۃ کان قال ان لم تمنعی تطلقی ای ان منعت فلافاذا انھت نحت والیمین قد انتھت۔
توایك بار زبانی یہ کہہ دینے سے تو عاجز نہ تھی کہ گھر میں مت آ یا باہر جا روکنے کا مقام ابتدائی مرحلہ میں ہوتا ہے جب ابتداء میں وہ خاموش رہی تو بیٹے کو گھر میں چھوڑنا متحقق ہوگیا اور طلاق کی وجہ پائی گئی اور طلاق ہوگئی بعدمیں منع کرنا اور روکنا بے سود ہے اگر وہ ابتداء میں ایك بار بھی زبان سے روك دیتی تو قسم ختم ہوجاتی کیونکہ قسم میں ہمیشگی کےلئے"کلما" کا لفظ نہ تھا ایك دفعہ روکنے کے بعد اگر نہ روکنا باقی رہتا تو کوئی حرج نہ تھایہ تمام گفتگو علماء کرام کے مذکورہ نصوص سے واضح ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوں) اس میں نکتہ یہ ہے کہ تخلیہ یعنی لا تعلقی عدمی چیز ہے کیونکہ یہ نہ روکنے اور نہ چھیڑنے کا نام ہے تو شرط میں اس تخلیہ کا اثبات کیا گیا جس سے یہ منفی بن گیا اور جب اس منفی کا ترك ہوا تو نفی پر نفی ہو جانے سے اثبات ہوگیا(یعنی نہ روکنے کا عدم ہوجانے سے روکنا متحقق ہوگیا)تو قسم کے پورا ہونے کے لئے ایك دفعہ اثبات یعنی روکنا کافی ہے جس کا ماحصل یوں ہوا گویا اس نے بیوی کو کہا اگر تونے منع نہ کیا تو تجھے طلاق ہے یعنی اگر تو منع کردے تو طلاق نہ ہوگی تو جب وہ منع کردے تو طلاق سے بچ گئی اور قسم ختم ہوگئی۔ (ت)
ثانیا اقول: من قدر علی المنع بالفعل فاکتفی بہ کفی اذ لایصح ان یقال انہ ترك وخلی بل اتی بما ھو نھایۃ المعنی و مقصد ہ الاعلی فلیس علیہ ان یجمع معہ القول جمعا فما یتوھم من ظاہر لفظ الواقعات والنوازل وثانی عبارات الخانیۃ واربعھا والوجیز لیس مراد قطعا۔
ثانیا اقول:(دوسری بات کہتا ہوں کہ) جو عملا روکنے پر قادر ہو عملا روکنے پر اکتفاء کردینا کافی ہے کیونکہ اس عملی رکاوٹ پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے گھر میں اسے چھوڑ ا اور اس سے لاتعلق رہا بلکہ اس نے شرط کا مقصد پورا کردیا اب اس پر زبانی منع کرنا لازم نہ رہا تو واقعات اور نوازل اورخانیہ کی دوسری اور چوتھی عبارت اور وجیز کی ظاہر عبارات سے جو وہم ہوتا ہے وہ قطعامراد نہیں ہے(ت)
ثالثا اقول: عند الفقیہ شرط برہ المنع فلفظ الملك وقع زائدافی عبارۃ النوازل اماالملك ای القدرۃ فشرط
ثالثا اقول: (تیسری بار کہتا ہوں کہ) فقیہ ابواللیث کے نزدیك قسم پورا کرنے کی شرط صرف روکنا ہےلہذا نوازل کی عبارت"ملك المنع" میں"ملک" کالفظ زائد ہے لیکن اگر ملك سے
#15208 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
انعقاد الیمین مطلقا وباقء الموقتۃ خصوصا اذبہ تصور البر ولیس الکلام فیہ بل فیما اذااتی بہ بر الا ان یقال انہ من وزان حصول الصورۃ ای المنع المملوك ای قدر ماقدر۔
مرادقدرت ہوتو یہ مطلقا قسم بننے کے لئے ضروری ہے اور وقت سے مقید قسم کی بقاء کے لئے خصوصا ضروری ہے کیونکہ اسی قدرت سے ہی قسم کو پورا کرنا متصور ہوتا ہے۔ لیکن ملك بمعنی قدر ت میں یہاں بحث نہیں ہے بلکہ یہاں تو قسم کو پورا کرنیوالی چیز میں بحث ہے۔ ہاں اگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ حصول مراد کا بیان ہے کہ جس قدر ممکن طور پر روکنے پر قدرت رکھتا ہو۔(ت)
رابعا اقول: المنع یعم الفعلی والقولی کما تقدم عن عدۃ نصوص وقد یخص بالفعلی بقرینۃ المقابلۃ بالقولی وھو المراد فی کلام النوازل من قولہ یملك منعہ الی قولہ دون المنع والاول المراد فی قولہ اوفی ملك المنع وکذاقول الھندیۃ اخر فتثبت ولاتزل۔
رابعااقول:(چوتھی بار کہتا ہوں کہ) روکنا عملی اور قولی دونوں طریقوں کو شامل ہے جیسا کہ متعدد نصوص میں پہلے مذکور ہوا ہے اور جبکہ اس کو قولی کے مقابلہ میں ذکر کیاگیا ہوتو اس قرینہ کی بناء پر صرف عملی روکنے کو خاص ہوگا اور نوازل کے کلام میں جہاں انہوں نے"یملك منعہ" کہہ کر اس کے بعد"دون المنع" تك عبارت ذکر کی تو جہاں انہوں نے"منع کا مالك ہو" کہا وہاں پہلا معنی یعنی دونوں کو شامل مراد ہے اور جہاں انہوں نے"منع کا مالك نہ ہو" کہا وہاں دوسرا معنی یعنی صرف عملی منع مراد ہے اسی طرح ہندیہ کا دوسرا قول ہے توثابت قدم رہو اور تردد مت کرو۔(ت)
ایں نصوص کہ آرایم عین جزئیہ مسئلہ دائرہ بود کہ بحث ہمیں از یمین برگزاشتن است وآنکہ شرط بروحنث در وچیست وتفاوت بآنکہ من نگزارم اگرتو بگزاری چیزے نیست کہ تغیئر جزئیہ کند حالاہر کہ خواہد کہ صورت دائرہ را ازاں حکم برآرد محتاج بینہ واضحہ باشد ورنہ حکم ہمان ست کہ از نصوص عیان ست تبیین مرام وتسکین اوہام را نظر کردم وچند شبہہ بخاطر رسید بخیال آنکہ مباد بذہن
جو نصوص میں نے پیش کی ہیں یہ زیر بحث مسئلہ کا بعینہ جزئیہ ہے کیونکہ ان میں"چھوڑنے" کے متعلق بحث ہے اور اس میں قسم کے پورا ہونے اور اس کے ٹوٹنے کے متعلق یہی بحث ہے اور"میں نہ چھوڑوں گا" اور"تو نے اگر چھوڑا" کے فرق سے جزئیہ تبدیل نہیں ہوتا اور اس کے باوجود اگر کوئی زیر بحث صورت کوا ن نصوص سے الگ کرے تو اس کو واضح دلیل پیش کرنی ہوگی ورنہ اس کا حکم وہی ہے جوان نصوص سے عیاں ہوا مقصد کو واضح اور اوہام کو دور کرنے میں میں نے غور سے کام لیا تو چند
#15209 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
کسے عــــہ۱ آید جائے جواب بہتر بیند آنہمہ راپیش نہم وبتوفیقہ تعالی عــــہ۲ اماوہم شبہہ اولی پسر را مرد بخانہ گزاشت نہ زن اقول ایں درایواگنجائش داشت کہ فعل حقیقۃ از فاعل ست و بہ ساکت اگر منسوب شود بمعنی رضا ومجاز باشد اما گزاشتن کہ تخلیہ وترك تعرضات شك نیست کہ از زن حقیقۃ متحقق ست مرد عــــہ۳ زن را منع نکر داوداشت ایں گزاشت پس در ترك زن چہ جائے ظن۔
شبہات دل پروارد ہوئے اس خیال سے کہ شاید کسی کے ذہن میں آئیں تو ان کو وہ جواب کے لئے بہتر خیال کرے اس لئے میں ان سب کو پیش نظر رکھتے ہوئے بحث کرتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے۔ لیکن پہلے شبہہ کا وہم وہ یہ کہ مسئولہ صورت میں گھر میں بیٹے کومرد نے چھوڑا بیوی نے نہیں چھوڑا۔ اقول(میں کہتا ہوں) اس شبہہ کی گنجائش یہاں اس بنیاد پر ہے کہ فعل حقیقۃ فاعل کا ہوتا ہے اور اس فعل پر خاموش رہنے والے کی طرف وہ فعل رضا کے طور مجازا منسوب ہوسکتا ہے لیکن یہاں"چھوڑنا" جوکہ تخلیہ اور تعرض نہ کرنا ہے یہ بیشك بیوی سے حقیقتا متحقق ہوچکا ہے مرد نے اس پر بیوی کو منع نہ کیا اور اس نے اس چھوڑنے کو قائم رکھا تو اس سے بیوی کے فعل کے نہ ہونے کا گمان کہاں ہوسکتا ہے۔(ت)
شبہہ ثانیہ: زن تابع است ولا حکم للتبع مع الاصل اقول: لامرد للحقائق در صدور ترك تعرض از زن جائے سخن نیست سائل خود گوید کہ زن چیزے از لاونعم نہ گفت وہمیں قدر شرط حنث بود بیش ازیں درکار نیست آیا نہ بینی کہ در مکان غیرشرط برنہی بالقول داشتہ اند گوبخانہ آرندہ محلوف علیہ خود صاحب خانہ باش یادیگر آوردیا خود آمد وصاحب خانہ ہم معترض نہ شد لاطلاق حکم الکل فی جمیع الکتب بلکہ تصریح فرمودہ اند کہ امر عدمی بحالت اکراہ نیز موجب حنث شود چہ جائے رضا ولو تبعا امام قاضی خاں فرماید الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل فرق و
دوسرا شبہہ: یہ کہ بیوی مرد کے تابع ہے تو اصل کی موجودگی میں تابع پر حکم نہیں ہوتا اقول (میں کہتا ہوں کہ) حقائق کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ بیٹے سے تعرض نہ کرنا بیوی سے اس کے صادر ہونے میں شبہہ نہیں ہوسکتا کیونکہ سائل نے خود کہا ہے کہ بیوی نے اس موقعہ پر ہاں یانہ کچھ نہ کہا توحانث ہونے کےلئے بس یہی کافی ہے اس سے زیادہ کوئی ضرورت نہیں صرف زبانی روکنا ہی کافی قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میں قسم کھائی ہے اس کو گھر لانے والا خود صاحب مکان ہو یا کوئی غیر ہو یا وہ خود آجائے اور گھر والا آنے پر اعتراض نہ کرے ہر صورت میں حانث ہوتا ہے کیونکہ

عــــہ۱:مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۲: مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۳: مسودہ میں بیاض ہے۔
#15210 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
قا ل فی قولہ ان لم اخرج اذا منعہ مانع حنث وفی قولہ لااسکن اذا منعہ مانع عن الخروج لایحنث و الفتوی علی قولہ لان فی قولہ لااسکن شرط الحنث السکنی والفعل لایتحقق بدون الاختیار وفی قولہ ان لم اخرج شرط الحنث عدم الخروج والعدم یتحقق بدون الاختیار ۔
تمام کتب میں ان جملہ صورتوں کاحکم مطلق رکھا گیا ہے بلکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عدمی امور میں جبر واکراہ کی صورت میں بھی حانث ہوجاتا ہے چہ جائیکہ رضامندی سے ہواگرچہ تبعا ہی ہو۔ امام قاضی خاں فرماتے ہیں کہ شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل نے فرق کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی یوں قسم اٹھائے کہ"اگر میں نہ نکلوں تو" اس قسم میں اگر کسی نے اس کو نکلنے سے منع کیا تب بھی حانث ہوگا اگر یوں قسم کھائی کہ"میں یہاں رہائش نہ رکھوں تو" اس قسم میں اگر کسی نے اس کو وہاں سے جانے اور نکلنے سے منع کیا تو قسم نہ ٹوٹے گی اور اس فرق والے قول پر فتوی ہےکیونکہ میں یہاں رہائش نہ رکھوں گا میں حانث ہونے کی شرط وہاں رہائش پذیر ہونا ہے اور یہ فعل ہے جبکہ کوئی فعل اختیار کے بغیر متحقق نہیں ہوتا اور"اگر نہ نکلوں تو" کی صورت میں حانث ہونے کی شرط نہ نکلنا ہے جو کہ عدمی چیز ہے اور عدمی چیز اختیار کے بغیر بھی متحقق ہوجاتی ہے۔(ت)
شبہہ ثالثہ:ایں جا داعی یمین صفت عقوق وہذا درپسر بود ویمین بزوال صفات داعیہ زائل شود کما فی لایاکل ھذا البسر فصار رطبااو الرطب فصارا تمرا کمافی الھدایۃ وسائر الکتبدر عقود دریہ است ھذہ صفات داعیۃ الی الیمین فتتقید بہ در فتح القدیر فرمود الاصل ان المحلوف علیہ اذا کان بصفۃ داعیۃ الی الیمین تقید بہ فی المعرف والمنکر فاذازالت زال الیمین
تیسرا شبہہ: یہ کہ یہاں قسم کا سبب نافرمانی ہے اور نافرمانی بیٹے کی صفت تھی لہذا قسم کا سبب نافرمانی ختم ہوجانے پر قسم بھی ختم ہوجائے گی جیسا کہ کسی نے قسم کھائی کہ میں یہ بسر کھجور نہ کھاؤں گا تو اب وہ ر طب ہوگئی یا قسم کھائی کہ یہ رطب نہ کھاؤں گا تو اب وہ تمر بن گئی۔ ایسی صورت میں قسم ختم ہوجاتی ہے جیسا کہ ہدایہ اور دیگر کتب میں ہے عقود الدریہ میں ہے کہ کھجور کی یہ صفات قسم کا سبب تھی تو قسم بھی ان صفات سے مقید قرار پائے گی لہذا یہ صفات تبدیل ہوگئیں تو قسم بھی باقی نہ رہے گیفتح القدیر میں فرمایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی وہ چیز اگر صفت رکھتی ہے
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی التزویج نولکشور لکھنؤ ٢/٢٩٦
الہدایہ باب الیمین فی الاکل والشرب المکتبۃ العربیہ کراچی ٢/٤٦٧
عقود الدریۃ کتاب الطلاق ومطالبہ حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان ١/٤٩
#15211 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
عنہ وما لاتصلح داعیۃ اعتبر فی المنکر دون المعرف ۔
جو قسم کا سبب بن سکتی ہے تو وہ قسم اس صفت سے مقید ہوگی خواہ وہ چیز معرفہ کے طور پر مذکور ہو یا نکرہ مذکور ہو تو جب وہ صفت ختم ہوجائے تو قسم بھی ختم ہوجائے گی اور اگر اس چیز کی صفت قسم کا سبب بننے والی نہ ہو تو پھر اس کو نکرہ ذکر کرنے پر قسم میں اس کی صفت کا اعتبار ہوگا معرفہ میں اعتبار نہ ہوگا۔
اقول: محلش آنجاست کہ در حلف آن صفت داعیہ را ذکرکردہ باشد اگرچہ در معرف اگرچہ بالاشارہ باآنکہ وصف در حاضر لغواست ولہذا الوحلف لایکلم ھذا الصبی فکلمہ شابا حنث اماداعی بود نش داعی اعتبارش میشود چنانکہ در ھذا البسر وھذا الرطب وھذا اللبن الی غیرذلك ورنہ وصف ملحوظ رامدار بقائے یمین نتواں کرد کہ بنائے ایمان بر الفاظ ست نہ براغراضدر فتح القدیر فرمود من صور تخصیص الحال ان یقول لااکلم ھذاالرجل وھو قائم ونوی فی حال قیامہ فنیتہ لغو بخلاف مالو قال لا اکلم ھذا الرجل القائم فان نیتہ تعمل فیما بینہ وبین اﷲ تعالی پیدا ست کہ در دیانت صفت داعیہ وغیرداعیہ یکساں ست نیت خصوص باید امابے ذکر در لفظ نیت مجردہ دیانۃ نیز بکار نیامد تابقضا چہ رسدہمدران ست ان خرجت فعبدی حرو نوی السفر مثلا یصدق دیانۃ فلا یحنث بالخروج الی غیرہ تخصیصا لنفس الخروج مالونوی الخروج
اقول(میں کہتا ہوں) اس قاعدہ کا محل وہ ہے جہاں قسم کا سبب بننے والی صفت کو قسم میں ذکر کیا گیا ہواگرچہ وہ معرفہ کے طور پر مذکور ہو خواہ معرفہ اشارہ سے بنایا گیا ہو کیونکہ اشارہ حاضر چیز کی طرف ہوتا ہے باوجود یکہ حاضرین میں صفت کا ذکر لغو قرار پاتا ہے اسی لئے اگر قسم کھائی کہ میں اس بچے سے بات نہ کروں گا تو اگر اس سے جوانی میں بات کی تو تب بھی حانث ہوگا تاہم وصف اگر قسم کا داعی ہوگا تو اس کے اعتبار کا بھی داعی ہوگا جیساکہ یہ بسر اور یہ رطب وغیرہ میں اور یہ دودھ وغیرہ میں یہ صفات قسم کا داعی ہونے کے ساتھ قسم میں بھی معتبر ہیں اگر ایسا نہ ہوتو پھر وصف داعی بھی ہوتو غیر معتبر ہونے کی صورت میں اس کی بقاء قسم کی بقاء کے لئے مدار نہیں بن سکتی کیونکہ قسمیں الفاظ پر مبنی ہوتی ہیں اغراض پر مبنی نہیں ہوتیںفتح القدیر میں فرمایا حال کی تخصیص کرنے کی صورت یوں ہے کہ ایك شخص کھڑا ہوتو کوئی اس کے بارے میں قسم کھائے کہ
حوالہ / References فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب المکتبۃ العربیۃ کراچی ٤/٣٩٦
فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤١٠
#15212 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
الی مکان خاص کبغداد حیث لایصح لان المکان غیر مذکور ۔
میں اس سے بات نہ کروں گا اور قسم میں اس کے کھڑے ہونے کی نیت کرے تو یہ نیت لغو ہوگی بخلاف جب یوں کہے کہ میں اس کھڑے شخص سے بات نہ کروں گا تو اس صورت میں قسم میں کھڑے ہونے کی نیت کا اعتبار عنداﷲ ہوسکتا ہے اس سے واضح ہواکہ دیانۃیعنی عنداﷲ میں وصف داعی اور غیر داعی دونوں یکساں ہیں اس لئے نیت تخصیص ضرور ی ہے لیکن وصف کو ذکر کئے بغیر محض نیت کرنا دیانت میں بھی کار آمد نہیں ہے تو قضاء کیسے کار آمد ہوسکتی ہےاسی میں ہے اگر کوئی شخص کہتاہے کہ اگر میں باہر جاؤں تو میرا غلام آزاد ہے اور باہر جانے سے سفر کی نیت کی تو اس کی تصدیق دیانۃ کی جاسکتی ہے کیونکہ باہر نکلنے کو سفر کے ساتھ خاص کیاہے تو یہ خروج مذکور کی تخصیص ہے لہذاکسی اور مقصد کےلئے باہر نکلے تو حانث نہ ہوگا اس کے برخلاف اگر اس سے وہ کسی خاص جگہ مثلا بغداد کے لئے نکلنا مراد لے تو یہ نیت صحیح نہ ہوگی کیونکہ قسم میں جگہ کا ذکر نہیں اس لئے جگہ کی تخصیص بھی معتبر نہیں ہے۔ (ت)
شبہہ رابعہ: دریمین زوال سبب زوال یمین ست گو در لفظ مذکور مباش ولہذا اگر دائن مدیون یا کفیل را یا کفیل بالنفس مکفول عنہ یا کفیل بالامر اصیل را سوگند دہد بے اذن من بیرون شہر نروی ودین ادا شد یا کفالت نماند یمین منتہی شودکہ باعث برونبود مگر دین وکفالت پس بزوالش زائل شود در ہندیہ از محیط ست حلف صاحب الدین مدیونہ ان لا یخرج من البلدۃ الاباذنہ فالیمین مقیدۃ بحال قیام الدین درخانیہ فرماید الکفیل بالنفس اذا حلف الاصیل ان لایخرج من البلدۃ الاباذنہ فقضی الاصیل دین الطالب ثم خرج الحالف بعد ذلك
چوتھا شبہہ: یہ کہ قسم کے سبب کے ختم ہوجانے پر قسم بھی ختم ہوجاتی اگرچہ وہ سبب قسم میں مذکور نہ ہو لہذااگر قرض خواہ اپنے مقروض کو یا اس کے کفیل کو یا نفس کا کفیل اپنے مکفول عنہ کو یا کفیل بالامر اپنے اصیل یعنی اصل ذمہ دارکو قسم دے کہ تو میری اجازت کے بغیرشہر سے باہر مت جائے گا تو اس قسم کا سبب قرضہ یا کفالت ختم ہوجائے تو یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی۔ ہندیہ میں محیط سے منقول ہے کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تومیری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا تو یہ قسم قرض کی بقاء سے مقید ہوگی کہ جب تك قرض ہے قسم باقی رہے گی ورنہ قرض ختم ہوجانے پر یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی۔خانیہ میں ہے کفیل بالنفس یعنی کسی شخص کو حاضر کرنے کا ضامن اپنے اصل ذمہ دار کو قسم دے کہ تو میری
حوالہ / References فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٠٩
فتاوٰی ہندیہ
#15213 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
لایحنث درتنویر فرمود حلف رب الدین غریمہ او الکفیل بامرالمکفول عنہ ان لایخرج من البلد الا باذنہ تقید بالخروج حال قیام الدین بالکفالۃ وپیدا است کہ ایں جا سبب یمین ہمیں خشم وناراضی ست چوں برضا بدل شد سبب نماند ومسبب رفت
اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا تو جب اصیل نے قرض والے کا قرض ادا کردیا تو پھر وہ اس کی اجازت کے بغیر شہر سے باہر گیا تو قسم نہ ٹوٹے گی۔تنویر میں فرمایا کہ اگر قرض خواہ نے مقروض کو یا کسی معاملے کے ضامن نے اپنے مکفول کو قسم دی کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گا تو نکلنے کے متعلق یہ قسم قرض کی بقاء اور کفالت کی بقاء سے مقید ہوگی کہ قرض و کفالت ختم ہوجائے تو یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی تو مذکورہ بیان سے واضح ہوگیا کہ زیر بحث مسئلہ میں قسم کا سبب بیٹے پر باپ کی ناراضگی اور غصہ ہے تو جب یہ غصہ و ناراضگی رضا میں بدل گئی تو یہ سبب ختم ہوگیا تو مسبب یعنی بیوی کے متعلق طلاق کی قسم بھی ختم ہوگئی
اقول: چناں نیست نہ ہیچ کس باوقائل ورنہ عامہ ایمان عامہ کہ مبتنی برخشم وناچاقی وغضب ونااتفاقی باشد بفلاں سخن نکند ورویش نہ بیند بخانہ اش نہ رود وبخانہ اش راہ نہ دہد اوراصد چوب زند چنیں کند چناں کند ورنہ زن طلاقہ شود وغیرذلك ہزاراں ھزار سوگند ھمہ بمجرد زوال خشم برباد رفتے وبے حنث وکفارہ ولزوم ہیچ جزا باطل شدے واصلا احتیاج احتیال بر اثر بر نماندے آیا ہیچکس بجہاں قائل ایں قول شنیدہ ائمہ کرام در ایمان مذکور بصورتہائے گو نا گوں وتفریعات بو قلموں بہ نقیر و قطمیر سخن فرمودہ وبہر پہلوئے آنہا موج موج تحقیات رفیعہ وفوج فوج تنقیحات بدیعہ نمودہ فاما ہیچگاہ ہیچ جابہ ہیچ کتاب نگفتہ اند کہ ایں ہمہ برودمات تابقائے خشم ست چوں رضا آمد سوگند سپری
اقول:(میں کہتا ہوں) ایسا ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کا قائل ہے ورنہ عام قسمیں جو غصہ اور ناراضگی نااتفاقی پر مبنی ہوتی ہیں مثلا فلاں سے بات نہ کروں گا فلاں کی شکل نہ دیکھوں گا فلاں کے گھر نہ جاؤں گا فلاں کو گھر کی راہ نہ دوں گا فلاں کو ایك سو چھڑی ماروں گا اگر ایسا کروں تو یہ ہوجائے یا وہ جائے یا بیوی کو طلاق ہوجائے وغیرہ تولازم آئے گا کہ ہزار ہا قسمیں غصہ ختم ہوجانے پر برباد ہوجائیں اور بغیر کفارہ اور بغیر حانث ہوئے ختم ہوکر رہ جائیں اور ان قسموں پر کوئی جزا لاگو نہ ہو اور ان قسموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اصلا کسی حیلہ کی ضرورت پیش نہ آئے اور ایسی قسموں
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی الخروج نولکشور لکھنؤ ٢/٣١٥
الدرالمختار باب الیمین فی الضرب الخ مطبع مجتبائی دہلی ١/٣١٣
#15214 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
شد و جملہ احکام نظری تا آنکہ اگر کسے سوگند خورد کہ اگر بازید سخن کند زن سہ طلاقہ ست بازمی خواہد کہ بااوسخن گوید چہ بایدش کرد کہ طلاق مغلظ واقع نشود اور ا فرمودہ اند کہ زن رایك طلاق بائن دہد وبگزارد تا از عدت برآید باز بازید سخن راند جزا فرود آید ومحل نیابد وبے اثر رود باز بازن نکاح کندوبازید ہمکلام ماندد گر طلاق نیفتد کہ یمین بیکبار منحل شد۔
کاکوئی اثر نہ رہے کیاآپ نے دنیا میں کبھی کسی سے یہ بات سنی ہے حالانکہ ائمہ کرام نے ان مذکورہ قسموں کی بابت گوناگوں بحثیں کی ہیں اور طرح طرح کی تفریعات بیان کی ہیں اور ان کے متعلق ہر پہلو سے بلند تحقیقات اور عجیب تنقیحات کے دریا بہادئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی کسی جگہ کسی کتاب میں یہ بات نہ فرمائی کہ یہ تمام قسمیں غصہ تك ہیں جب غصہ ختم ہوجائے اور رضامندی ہوجائے تو قسمیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اوران کے تمام غور وخوض پر مبنی احکام محض تکلف بن کر رہ جائیں مثلا اگر کسی نے قسم کھائی کہ اگر زید سے بات کروں تو بیوی کو تین طلاقیں ہیں پھر یہ قسم کھانے والا زید سے بات کرنا چاہتا ہے تو کیا کیا جائے کیونکہ بات کرنے پر بیوی کوتین طلاقیں پڑتی ہیں اور کیا صورت ہو کہ بات کرلے اور تین طلاقیں نہ پڑیں تو ایسے شخص کوان فقہاء کرام نے فرمایا کہ یہ شخص اپنی بیوی کو ایك طلاق بائنہ دے دے تو اس کی عدت پوری ہونے کے بعد زید سے بات کرے تو اب اس پر جزایعنی طلاق وارد ہوگی لیکن اس وقت بیوی بائنہ ہوجانے کی وجہ سے طلاق کا محل نہ رہے گی کیونکہ ایك دفعہ قسم ٹوٹ چکی ہے اور ختم ہوچکی ہے۔
در سراجیہ باز ہندیہ فرمود اذاحلف بثلث تطلیقات ان لا یکلم فلانا فالسبیل ان یطلقھا واحدۃ بائنۃ و یدعھا حتی تنقضی عدتھا ثم یتکلم فلانا ثم یتزوجھا اینہمہ تکلفات چراست چرانگفتند کہ چوں آں خشم رفت وباہم مصالحت شد سوگند خود باطل گشتواین ست نبی اﷲ سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام در ایام بلازوجہ مقدسہ اش رحمہ بنت آفرائیم یا میشا بن یوسف بن یعقوب بن اسحق بن ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم بمزدوری ومحنت نان پیدا کردے وبرائے نبی اﷲ آوردے روزے نان بسیار ے آورد نبی اﷲ گمان برد مباد امال کسے بخیانت گرفت خشم کرد
سراجیہ پھر ہندیہ میں فرمایا کہ جب کسی نے تین طلاقوں کی قسم کھاکر کہا میں فلاں سے بات نہ کروں گا تو اس کےلئے تین طلاقوں سے بچنے کی سبیل یہ ہے کہ بیوی کو پہلے
حوالہ / References فتاوی ہندیہ کتاب الحیل الفصل السابع فی الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ٦/٣٩٧
#15215 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
سوگند خورد صد چوب زند باوخشم رفت وباعلام الہی برات خاتون ظاہر گشت فاما یمین برجاماند تا آنکہ حضرت عزت جل جلالہ راہ خلاص ازاں تعلیم فرمود کہ و خذ بیدك ضغثا فاضرب به و لا تحنث دستہ بدست گیرد زن را زن وسوگند مشکن پیداشد کہ بزوال حامل وانتفائے سبب یمین باطل نشود اخرج ابن المنذر عن سعید بن المسیب رضی اﷲ تعالی عنہ انہ بلغہ ان ایوب علیہ الصلوۃ والسلام حلف لیضربن امرأتہ مائۃ فی ان جاءتہ فی زیادۃ علی ماکانت تأتی بہ من الخبز الذی کانت تعمل علیہ وخشی ان تکون قارفت من الخیانۃ فلما رحمہ اﷲ وکشف عنہ الضر علم براءۃ امرأتہ مما اتھمھا بہ فقال اﷲ عزوجل" و خذ بیدك ضغثا فاضرب به و لا تحنث فاخذضغثامن ثمام وھو مائۃ عود
ایك بائنہ طلاق دے دے اور اس کی عدت گزرجائے تو پھر اس فلاں سے بات کرے اور اس کے بعد دوبارہ بیوی سے نکاح کرلے تو ان فقہاء نے اس قسم کے تکلفات کیوں فرمائے اور یہ کیوں نہ فرمادیا کہ یہ غصہ اور ناراضگی کی قسم تھی تو غصہ وناراضگی ختم ہوگئی اور مصالحت ہوگئی تو قسم خود بخود ختم ہوگئیدیکھئے حضرت سیدنا ایوب علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلام اﷲ تعالی کے پیارے نبی ہیں کہ آزمائش وابتلاء کے دور میں آپ کی پاکیزہ بیوی جن کا نام رحمہ بنت آفرائیم یا میشا بنت یوسف بن یعقوب بن اسحق بن ابراہیم علیہم الصلوۃ والسلام تھا وہ آپ کےلئے محنت ومزدوری کرکے خوراك مہیا فرماتی تھیں ایك دن انہوں نے حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں زیادہ کھانا پیش کیا تو حضرت ایوب علیہ السلام کو گمان ہوا کہ شاید وہ کسی کا مال خیانت کے ذریعہ حاصل کرلائی ہیں اس پر آپ کو غصہ آیا تو آپ نے قسم کھائی کہ اس کو ایك سو چھڑی ماروں گا اس کے بعد اﷲ تعالی کی طرف سے بیوی کی برأت معلوم ہوئی تو آپ کا غصہ ختم ہوا مگر قسم باقی تھی اسی لیے اﷲ تعالی نے آپ کو اس قسم سے خلاصی کی تعلیم دی کہ سوچھڑیوں کا مٹھا ہاتھ میں لے کر ایك دفعہ ماردیں اور قسم نہ توڑیں تو اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ قسم کا سبب اور داعی ختم ہوجانے کے باوجودقسم باقی رہتی ہے اوراس کے خاتمہ سے قسم ختم نہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ٣٨ /٤٤
#15216 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
فضرت بہ کما امرہ اﷲ تعالی اھ ۔
ہوتی (قرآن پاك میں اس واقعہ کو اشارۃ بیان فرمایا گیا) ابن منذر نے سعید بن مسیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیوی کو سو چھڑی مارنے کی قسم کھائی کہ بیوی محنت سے روٹی مہیا کرتی تھیں ایك روز اس نے زائد روٹی آپ کی خدمت میں پیش کی جس پر آپ کو خطرہ محسوس ہواکہ ہوسکتا ہے کہ یہ زائد خوراك کسی کے مال میں خیانت کرکے لائی ہیںتو جب اﷲ تعالی کی طرف سے آپ پر خاص رحمت کے ذریعہ تکلیف کی شدت ختم ہوئی اور بیوی کے بارے میں جو آپ کو شبہ تھا اس کی برأت معلوم ہوئی تو اﷲ تعالی نے فرمایا کہ آپ ایك مٹھا لے کر اپنے ہاتھ سے اس کو ماردیں اور قسم نہ توڑیں تو آپ نے شاخوں کا ایك مٹھا جو سو چھڑیوں کا مجموعہ تھا لے کر اﷲ تعالی کے حکم کے مطابق بیوی کو مارا اھ۔(ت)
اقول: وھذا احسن ما سمعناہ فی الباب وعلیہ التعویل ولااصغاء الی مازاد الناس من تھویل وقال وقیل من دون اصل اصیل واﷲ الھادی الی سواء السبیل ودر مسائل مذکورہ وجہ نہ آنست بلکہ آنجا تقیید ونفس بیان ست زیرا کہ بااذن مقید کردہ اندپس مخصوص باشد بزمانہ ولایت آنہا مراذن ومنع راوآں نیست مگر زمان قیام دین و کفالت ولہذا اگر کہ سلطان اسیرے راحلف دہند کہ بے اذن ملك ایشاں برون نرود متقید ماند بزمان بقائے سلطنتش تاآنکہ اگر اورامعزول کنند باز نشانند واسیر بے اذن او بیروں رود حانث نشود
اقول:(میں کہتا ہوں کہ) یہ واقعہ اس بحث میں بہترین دلیل ہے جو ہم پرواضح ہوئی اور اسی پر اعتماد ہوناچاہئے اور اس پرلوگوں کی زائد باتوں اور بے اصل قیل وقال پر تو جہ نہ دی جائے اور اﷲ تعالی ہی سیدھے راستے کی رہنمائی فرماتا ہے اور اس شبہ میں ذکر کردہ مسائل کی وجہ وہ نہیں جو شبہ کرنے والوں نے ظاہر کی بلکہ وہاں قسم کی تقیید اور اس کابیان ہے کیونکہ انہوں نے وہاں اذن (اجازت) کے ساتھ مقید کرکے اس قسم کو اذن و منع کی ولایت کی مدت کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور ولایت کی یہ مدت صرف قرض وکفالت کے زمانہ تك ہے اسی لئے اگر کوئی سلطان کسی قیدی کو قسم دے کہ تو میری اجازت کے بغیر میرے ملك سے باہر نہ جائے گا تو یہ قسم اس سلطان کی حکومت کی بقا
حوالہ / References درمنثور بحوالہ ابن منذر تحت آیہ مذکورہ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ٥/٣١٧
#15217 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
کہ یمین بزوال ملك منتہی شد وباز بہ عودش نکنند ہمچناں اگر شوہر زن یا مولی غلام یا شہ یکے از رعایا را حلف دہد باخودسوگند خورد کہ بے اذن من بیروں نروی متقید ماند بزمان بقائے زوجیت وملك ملك تاآنکہ اگر زن را جدا کرد باز بزنے آورد یا غلام را فروخت باز خرید یا معزول باز منصوب شد ودریں ملك وملك حادث زن وغلام ورعیت بے اذن بیرون روند حنث روئے ننماید کہ ولایت اذن ہمیں تابقائے نکاح وملك وملك بود ودر حدوث تازہ یمین تازہ نکرد ولہذا اگر بے تقیید بودند کررست ولہذا اگر زن را گوید اگر بے اذن توزنے را بزنے می گیرم مطلقہ باشد یمین مطلقہ غیر مقیدہ باشد تا آنکہ اگر زن را نکاح بروں کردبا زنے بے اذن اولی بنکاح آورد مطلقہ شود زیرا کہ زن بزنے مالك اذن ومنع نمی شود پس دلیل تقیید منتفی شد واذن ومنع نمی شود پس دلیل تقیید منتفی شد واذ ن بر اذن لغوی محمول گشت نہ اذن شرعی واذن لغوی مقتصر بر بقائے زوجیت نیست آرے آں روز کہ آں زن میرد یمین منتہی شود کہ حالا او را صلاحیت اذن نمانددردرمختار بعد عبارت مذکورہ فرمودلو قال لھا ان خرجت من ھذہ الدار الا باذنی فانت طالق ثلثا فطلقھا بائنا فخرجت
کے ساتھ ہوتی ہے حتی کہ اگر اس سلطان کو معزول کردیں تو اب اگر قیدی اس کی اجازت کے بغیر ملك سے باہر چلا جائے تو قیدی کی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ وہ قسم سلطان کے معزول ہونے پر ختم ہوگئی اوردوبارہ سلطان کے بحال ہونے سے قسم بحال نہ ہوگی اسی طرح اگر خاوند کو یاآقا اپنے غلام کو یا بادشاہ اپنی رعیت میں سے کسی کو قسم دے یا وہ خود قسم کھائے کہ میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے تو یہ قسم بھی بقاء زوجیت بقاء ملک بقاء ملك کے ساتھ مقید ہوگی حتی کہ اگر بیوی کو نکاح سے خارج کردیا اور اس کے بعد دوبارہ نکاح کیا یا مالك نے غلام کو فروخت کردیا اور دوبارہ خریدایا معزول شدہ کو دوبارہ بحال کردیا تو اس دوسری نئی زوجیت ملک ملك میں بیوی غلام رعیت بغیر اجازت کے باہر چلے جائیں تو حانث نہ ہوگا کیونکہ ان لوگوں کو اذن واجازت کی ولایت اس وقت کی موجودہ ولایت تك تھی اور بعد میں دوبارہ نئی ولایت حاصل ہونے پر دوبارہ قسم بحال نہ ہوگی لہذا اگر بیوی کو باہر جانے سے روکنے کےلئے بیوی کو قسم دی یا خود قسم کھائی جس میں اجازت کی قید کا ذکرنہیں ہے اس لئے اگر بیوی کو کہا کہ میں تیری اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہوگی تویہ قسم مطلق اور بغیر قید ہوگی حتی کہ اگر پہلی بیوی کو نکاح سے خارج بھی کردے تب بھی اس کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرنے پر دوسری کو طلاق ہوجائیگی کیونکہ بیوی دوسری عورت سے نکاح کوروکنے اور اجازت دینے کی مالك نہیں بن سکتی اس لئے اس صورت میں اجازت کا ذکر ہونے کے باوجود وہ قید نہ ہوگی
#15218 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
بغیر اذنہ لایحنث لان یمینہ تقیدت بحال تمام ولایۃ المنع عن الخروج وولایۃ المنع تزول بالطلاق البائن وھو کالسلطان اذاحلف رجلا ان لا یخرج من البلدۃ الا باذنہ فعزل السلطان ثم خرج الحالف لایحنث (ومعہ عـــــــہ مسئلۃ الکفیل المذکورۃ ثم قال) ولوان الحالف تزوج المرأۃ بعد ماابانھا فخرجت بغیر اذنہ لاتطلق لان الیمین بطلت بالابانۃ فلاتعود بعد ذلکوذکر فی اسیر اھل الحرب اذا حلفوا لاسیر ان لایخرج الاباذن ملکھم فعزل الملك ثم عاد ملك فخرج الاسیر بغیراذنہ لا یحنث وکذا لو قال الرجل لعبدہ ان خرجت بغیر اذنی فانت حرفباعہ ثم اشتراہ فخرج بغیر اذنہ لایعتق
اور یہ بیوی کی اجازت لغوی معنی میں ہوگی شرعی معنی میں اجازت مراد نہ ہوگی اور لغوی اجازت بقائے نکاح پر موقوف نہ ہوگی اور نکاح ختم ہونے کے بعد بھی پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہوگی ہاں جس روز وہ فوت ہوجائے گی تو قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ اب اجازت دینے کی صلاحیت نہ رہی تو اب قسم پوری ہونے کا احتمال ختم ہوجانے پر اجازت سے مشروط قسم بھی ختم ہوجائیگی۔درمختار میں مذکورہ عبارت کے بعد فرمایا کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر باہر نکلی تو تجھے تین طلاق ہوں گی اس کے بعد خاوند نے اس کو طلاق بائنہ دے دی اور وہ خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نکل گئی تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ بائنہ طلاق کی وجہ سے اب خاوند کو اجازت کا اختیار ختم ہوگیا جبکہ یہ قسم بیوی کو باہر نکلنے سے منع کرنے کی ولایت اور اختیار سے مقید تھی اور یہ اختیار نکاح کے باقی رہنے تك تھا جو نکاح ختم ہوجانے پر ختم ہوگیا________جیسا کہ کسی حکمران نے کسی کو قسم دی کہ تو میری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا اب اگر وہ شخص حکمران کے معزول ہوجانے پر شہر سے باہر اس کی اجازت

عــــہ: مسودہ میں بیاض ہے۔
#15219 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
در تبیین الحقائق و فتح القدیر ست وھذا لفظ الفتح یتقید بحال قیام الدین والکفالۃ لان الاذن انما یصح ممن لہ ولایۃ المنع وکذا الاتخرج امرأتہ الا باذنہ بقیام الزوجیۃ بخلاف ما لو حلف لا تخرج امرأتہ من الدارفانہ لایتقید بہ اذلم یذکر الاذن فلا موجب لتقییدہ بزمان الولایۃ فی الاذن و کذا الحال فی حلفہ علی العبد مطلقا ومقیدا وعلی ھذالوقال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیر اذنك طالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا او ثلثا ثم تزوج بغیر اذنھا طلقت لانہ لم تتقید ببقاء النکاح لانھا انما تقیدبہ لوکانت المرأۃ تستفید ولایۃ الاذن والمنع بعقد النکاح در ہدایہ وفتح فرمایند لوقال ان کلمت فلانا الاان یقدم فلان او یاذن فلان ومات فلان سقط الیمین لان الممنوع منہ کلام ینتھی المنع منہ بالاذن والقدوم
کے بغیر نکل جائے تو قسم نہ ٹوٹے گی(اس کے ساتھ انہوں نے کفالت مذکورہ کا مسئلہ بھی بیان کیا اور پھر فرمایا) اگر مذکورہ قسم اٹھانے والے خاوند نے مذکورہ بائنہ بیوی سے دوبارہ نکاح کیا تو اب اگر بیوی اس کی اجازت کے بغیر باہر جائے تو اب طلاق نہ ہوگی کیونکہ وہ حلف بیوی بائنہ ہوجانے پر باطل ہوگیا اور دوبارہ نکاح سے وہ حلف بحال نہ ہوگا درمختار نے اہل حرب کے قیدی کے متعلق ذکر کیا کہ اس کو قید کرتے ہوئے انہوں نے یہ قسم دی کہ توحاکم کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گا تو اس حاکم کے معزول ہونے کے بعد دوبارہ بحال ہونے پر وہ قیدی اس حاکم کی اجازت کے بغیر باہر نکلاتو حانث نہ ہوگا یعنی قسم نہ ٹوٹے گی اور یونہی اگر مالك نے اپنے غلام کو کہا کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر باہر نکلے تو تو آزاد ہے اب مالك نے اس غلام کو فروخت کردیا اور پھر دوبارہ خریدا تو تو اب غلام مالك کی اجازت کے بغیر باہر نکلا تو آزاد نہ ہوگا۔تبیین الحقائق اور فتح القدیر میں ہے یہ عبارت فتح القدیر کی ہے کہ قسم قرض اور کفالت کی بقاء سے مقید ہوگی کیونکہ اجازت تب متصور ہوسکتی جبکہ اس کو روکنے کی ولایت حاصل ہو اور یہ ولایت قرض اور کفالت تك ہوتی ہے اور یونہی خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو میری اجازت کے بغیر نہ نکلے گی تو یہ قسم اس زوجیت کے وجود سے مقید ہوگی اس کے برخلاف اگر خاوند یوں کہے کہ میری بیوی گھر سے باہر نہ نکلے گی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الایمان مسائل متفرقہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٦٨
#15220 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ولم یبق الاذن والقدوم بعد الموت متصور الوجود وبقاء تصورۃ شرط بقاء الموقتۃ عند ابی حنیفۃ ومحمد وھذہ الیمین موقتۃ بوقت الاذن والقدوم اذبھما یتمکن من البر اذیتمکن من الکلام بلاحنث فیسقط بسقوط تصور البراھ ملخصا مخلوطا قال فی الفتح فان قیل لانسلم عدم تصور البر بموتہ لانہ سبحنہ وتعالی قادر علی اعادۃ فلان فیمکن ان یقدم ویاذن فالجواب ان الحیاۃ المعادۃ غیر الحیاۃ المحلوف علی اذنہ فیھا وقدومہ وھی الحیاۃ القائمۃ حالۃ الحلف لان تلك عرض تلاشی لایمکن اعادتھا بعینھا وان اعیدت الروح فان الحیاۃ غیرالروح لانہ امر لازم للروح فیمالہ روح اھ۔
تواس قسم میں اجازت کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے یہ قسم زوجیت کی بقاء سے مقید نہ ہوگی کیونکہ زوجیت کی ضرورت اجازت کی ولایت کے لئے تھیاور یوں ہی غلام کے بارے میں اجازت سے مقید قسم اور غیر مقید قسم کا حال ہے اسی قاعدہ کی بناء پر اگر کسی نے اپنی بیوی کوکہا کہ میں جس عورت سے تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تواس عورت کوطلاق ہوگی اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کوبائنہ یا مغلظہ طلاق دے دی پھر کسی عورت سے پہلی مطلقہ بیوی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تواس عورت کوطلاق ہوجائے گی اور یہ قسم بقائے زوجیت پر موقوف نہ ہو گی کیونکہ بیوی کو نکاح سے روکنے یا اجازت دینے کی ولایت نہیں ہو تی (لہذا قسم میں مذکور اجازت کےلئے ولایت اجازت ضروری نہ تھی۔ لہذا نکاح ختم ہونے سے اجازت کی شرط ختم ہوگی)ہدایہ اور فتح القدیر میں فرماتے ہیں اگر کسی نے کہا اگر فلاں سے اس کی اجازت یا اس کی آمد کے بغیر بات کروں تویہ ہوجائے اس کے بعد وہ فلاں فوت ہوجائے توقسم ختم ہوجائے گی کیونکہ اس سے کلام کی ممانعت کا اختتام اس کی اجازت یا آمد پر موقوف تھا جبکہ اس کی موت سے اجازت اور آمد کا تصور ختم ہوگیا کیونکہ جب قسم کسی چیز سے مشروط ہوتواس شرط کا متصور ہونا اس قسم کی بقاء کے لئے امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك ضروری ہے چونکہ یہ قسم اس فلاں کی اجازت یا آمد سے مشروط ہے تواس شرط کے وجود سے قسم پوری ہوسکے گی توجب شرط کے وجود کے بغیر کلام کرنے پر حانث ہونے کا احتمال ختم ہوگیا توقسم پورا ہونے کااحتمال بھی ختم ہوگیا لہذا یہ قسم باطل ہوجائے گی اھ ملخصافتح القدیر میں مزید فرمایا کہ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس فلاں کی موت سے شرط کے وجود کا احتمال ختم ہوجانا ناقابل تسلیم نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالی قادر ہے کہ اس کودوبارہ زندہ کردے اور وہ زندہ
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الایمان باب الیمین فی الکلام نوریہ رضویہ سکھر ٤/٢٤۔٤٢٢
فتح القدیر کتاب الایمان باب الیمین فی الکلام نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٢٤
#15221 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ہوکر اجازت دے یا آجائےتواس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کی حیات اس حیات کا غیر ہے جس حیات سے اجازت یا آمد کی قسم کھائی تھی اور قسم والی یہ حیات وہ ہے جوقسم کے وقت تھی کیونکہ حیات ایك ایسا عارضہ ہے جس کوبعینہ واپس لانا ممکن نہیں اگرچہ روح واپس ہوجائے کہ روح اور حیات آپس میں ایك دوسرے کے مغایر ہیں کیونکہ حیات روح والی چیز کی روح کا لازم ہے نہ کہ وہ روح ہے اھ(ت)
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول فیہ ان الحیاۃ عرض لاتبقی زمانین فالحیاۃ التی بعد الحلف غیر التی کانت عند الحلف والجواب ان مبنی الایمان علی العرف واھل العرف یعدونھا واحدۃ مستمترۃ والمعادۃ غیرھا۔
اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا جس کی عبارت یوں ہے اقول:(میں کہتا ہوں)اس کلام میں بحث ہے کہ حیات جب عرض ہے تووہ دوزمانوں میں باقی نہیں رہ سکتی تواس سے لازم آئیگا کہ حلف کے بعد والی حیات بھی حلف کے وقت والی حیات کا غیر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قسموں کی بنیاد عرف پر ہوتی ہے تو عرف والے لوگ مختلف اوقات کی حیات کو ایك ہی جاریہ حیات قرار دیتے ہیں لیکن موت کے بعد والی حیات کو پہلی حیات کے مغایر قرار دیتے ہیں۔
اقول: لکن لقائل ان یقول لانظر فی الحلف الی تلك الحیاۃ خصوصھا بل الی تسلیم زمانہ فی ھذاالامر الاباذنہ مثلا والشخص لایتبدل بتبدل الحیاۃ بدلیل الحشر والعقد فی تلك الحیوۃ غیر العقد علی تلك الحیاۃ والاذن وان لم یکن الامن حی فلا یستلزم ذلك عقد الحلف علی تلك الحیاۃ بعینھا الا تری ان الاذن لایمکن ایضا الامن عاقل ولو جن فلان لایسقط
اقول(میں کہتاہوں) لیکن یہاں اعتراض ہوسکتا ہے کہ قسم میں خاص اس زندگی کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ یہاں یہ بات پیش نظر ہوتی ہے کہ قسم کھانے والے کو زمانہ اگر یہ موقعہ دے کہ مثلا وہ فلاں سے بات کرسکے تو وہ اسکی اجازت کے بغیر نہ کرے گا جبکہ حیات کی تبدیلی سے شخص تبدیل نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کے بعد حشر میں وہی شخص ہوتا ہوگا تو اس زندگی میں قسم کھانے کا یہ مطلب نہیں کہ اسی زندگی پر حلف کادارمدار ہے اجازت کا تعلق اگرچہ زندہ سے ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حلف کا تعلق خاص اسی زندگی سے ہو دیکھئے اجازت صرف عقل والے سے ہی متصور ہوسکتی ہے
#15222 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
الیمین لاحتمال ان یعود عقلہ والمسألۃ منصوص علیھا واکبر ظنی انھا فی الخانیۃ بل ھو فیھا اذقال فی فصل فی الخروج ثلثۃ حلفوارجلاان لایخرج من بخارا الاباذنھم فجن احدھم وخرج الحالف باذن الاخرین حنث وان مات احدھم فخرج لایحنث لان الیمین تقیدت باذنھم وقد فات اذنھم بموت احدھم فلایبقی الیمین وفی الوجہ الاول لم یقع الیأس عن اذنھم اھ
لیکن فلاں عاقل اگر عقل کھوبیٹھے اور اس پر جنون طاری ہوجائے تو اس کے باوجود قسم ساقط نہیں ہوتی کیونکہ عقل کے بحال ہونے کا احتمال ابھی باقی ہے یہ عقل والا مسئلہ کتب میں مذکور ہے جبکہ میرا غالب گمان ہے کہ یہ مسئلہ خانیہ میں ہے بلکہ یقینا اس میں ہے جہاں انہوں نے فصل فی الخروج میں یہ ذکر کیا ہے کہ تین حضرات نے ایك شخص کو یہ قسم دی کہ وہ ان تینوں کی اجازت کے بغیر بخارا سے باہر نہ جائے گا اس کے بعد ان تینوں میں سے ایك مجنون ہوگیا اور باقی دو کی اجازت سے باہر چلاگیا قسم ٹوٹ جائے گی لیکن اگر ان میں سے کوئی ایك فوت ہوجائے تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ قسم تینوں کی مشترکہ اجازت سے مشروط تھی تو ایك کے فوت ہوجانے سے وہ شرط ختم ہوجائے گی اور قسم باقی نہ رہے گی اور پہلی جنون والی صورت میں عقل بحال ہونے کے امکان کی وجہ سے مشترکہ اجازت سے مایوسی نہیں پائی جاتی اھ۔
ثم اقول: یختلج ببالی ان لو قیل ان الموقتۃ اذاکانت علی امریمکن عادۃ فشرط بقاءھا تصور البر عادۃ لامجرد احتمال عقلی لحصل الجواب عن ھذاویؤمی الیہ قول الخانیۃ لم یقع الیأس فانہ یفید ان لو وقع الیأس سقط الیمین ولاشك ان
ثم اقول:(میں پھر کہتاہوں کہ) اس اشکال کا جواب جو کہ میرے دل پر وارد ہوا ہے یوں ممکن ہے کہ قسم جب ایسی شرط سے مشروط ہو جس کا وقوع عادتا ممکن تو اس کی بقاء کے لئے اس شرط کے عادتا پائے جانے کا امکان ضروری ہے تاکہ قسم کا پورا ہونا متصور ہوسکے ورنہ محض عقلی احتمال کافی نہیں ہوگا جبکہ خانیہ کا قول کہ"ابھی مایوسی نہیں ہوئی" اس جواب کی صحت کی طرف اشارہ کررہا ہے کیونکہ ان کا یہ قول
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی الخروج نولکشور لکھنؤ ٢/٣١٦
#15223 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
المستحیل عادۃ مایوس عنہ و قد قال فی الفتح فی مسئلۃ من حلف لیصعد السماء اولیقلبن ھذا الحجر ذھبا ان العجز ثابت عادۃ فلابرفی زوالہ اھ وھذاھو معنی الیاس وقد استشھد لھا فی الھدایۃ بما اذا مات الحالف فانہ یحنث مع احتمال اعادۃ الحیاۃ قال فی الفتح فیثبت معہ احتمال ان یفعل المحلوف علیہ ولکن لم یعتبر ذلك الاحتمال بخلاف العادۃ فحکم بالحنث اجماعا الخ فتبین انہ لیس الوجہ مغائرۃ الحیاۃ المعادۃ للحیاۃ المعقود علیھا الحلف والالم یتم الاستشھاد لکون العجز اذن عقلا کما قررہ المحقق الاعادۃ بخلاف صعود السماء وقلب الحجر ذھبا فاذن لیس النظر الاالی الیاس العادی و
بتارہا ہے کہ اگر مایوسی ہوجائے تو قسم ساقط ہوجائیگی جبکہ مایوسی اسی چیز سے ہوتی جب وہ عادتا محال ہو اور فتح میں آسمان پر چھڑھنے اور اس پتھر کو سونے میں بدلنے کے متعلق قسم کے بیان میں فرمایا کہ اگرچہ آسمان پر چڑھنا اور پتھر کا سونے میں بدل جانا عقلا ممکن ہے لیکن عادتا اس سے عجز ثابت ہے لہذا قسم ٹوٹ جائیگی کیونکہ ایسا کرنا عادتا ممکن نہیں ہے اھ مایوسی کا یہی معنی ہے۔ اس پر ہدایہ میں یوں تائید ذکر کی ہے کہ اس صورت میں قسم کھانے والے کے فوت ہوجانے پر قسم باطل نہ ہوگی کیونکہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہےفتح القدیر میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے یوں فرمایا کہ اس امکان سے حلف والے کام کو کرنے کا احتمال ثابت ہو رہا ہے مگر اس کے باوجود یہ احتمال معتبر نہیں کیونکہ یہ خلاف عادت ہے اس لئے فوت ہوجانے پر بالاجماع قسم کے ٹوٹ جانے کا حکم ہوگا الخ تو اس بیان سے واضح ہوگیا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے میں قسم کے بحال نہ ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ دوبارہ زندگی پہلی زندگی کے مغایر ہے ورنہ ہدایہ اور فتح القدیر کا استشہاد تام نہ ہو گا کیو نکہ ان کا استشہاد عادی عجز پر تھا جبکہ دونوں زندگیوں کے مغایر ہوجانے پر عجزعقلی ہوجاتا ہے حالانکہ محقق صاحب فتح القدیر نے دوبارہ زندگی
حوالہ / References فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/١٦۔٤١٥
ہدایہ باب الیمین فی الاکل والشرب مکتبہ عربیہ کراچی ١/٤٧٣
فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب مکتبہ نوریہ رضویہ ٤/٤١٦
#15224 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ھو المقصوداقول: ویظھر لی توجیھہ ان من حلف علی محال عادی فقد عقد علی امکانہ العقلی فلم یکن شرط الانعقاد الاھذا امامن عقد الموقتۃ علی ممکن عادہ ثم استحال فلایبعد ان تبقی الیمین لان ھذا الامکان غیرالمعقود علیہ فلیتا مل ولیحرر واﷲ تعالی اعلم اھ ماکتبت علیہ۔
کے احتمال کو ثابت رکھا ہے اس کے برخلاف آسمان پر چڑھنے اور پتھر کے سونے میں تبدیل ہونے میں عقلی عجز نہیں ہے بلکہ یہاں صرف عادی مایوسی ہے جو قسم کے ٹوٹ جانے میں مقصود ہےاقول(میں کہتا ہوں) اس کی توجیہ مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس نے کسی عادی محال چیز جو کہ عقلی طور پرممکن ہوپر قسم کھائی تو اس کی قسم کےلئے یہی عقلی امکان شرط ہوگا لیکن جس نے کسی عادۃ ممکن چیز پر قسم کھائی اور وہ چیز قسم کے بعد عادۃ محال ہوجائے تو اس صورت میں قسم باقی نہ رہے گی کیونکہ اب صرف عقلی امکان باقی ہے جبکہ قسم اس امکان پر مبنی نہ تھی بلکہ وہ عادی امکان پر مبنی تھی جو باقی نہ رہا غور کرنا اور معاملہ کو صاف کرنا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم میراحاشیہ ختم ہوا۔(ت)
شبہہ خامسہ: یمین بدلالت حال متقید شود اگرچہ در قال مقید نبود وازیں باب ست تقید بغرض تا آنکہ غرض راباآنکہ بنائے ایمان برونیست تخصیص دانستہ و تصریح فرمودہ اند کہ غرض در یمین نفزاید فاما عــــہ خصوص را شاید در ردالمحتار ست فی تلخیص الجامع الکبیر وبالعرف یخص ولایزاد حتی خص الراس بما یکبس ولم یرد الملك فی تعلیق طلاق الاجنبیۃ بالدخول اھ ومعناہ ان اللفظ اذاکان عاما یجوز تخصیصہ بالعرف کما لو حلف لایأکل رأسا فانہ فی العرف اسم لما یکبس فی التنور ویباع
پانچواں شبہہ :کہ قسم حال کی دلالت سے مقید بن جاتی ہے اگرچہ لفظوں میں وہ مطلق ہو اور اس کے ساتھ قید کا ذکر نہ ہو اسی باب سے کلام کاغرض سے مقید ہونا ہے اگرچہ قسموں کی بنیاد اغراض پرنہیں ہے تاہم اغراض میں تخصیص پیداکردیتی ہیں چنانچہ فقہاء کرام نے یہ تصریح کی ہے کہ غرض قسم میں زیادتی پیدا نہیں کرتی لیکن تخصیص پیدا کرسکتی ہےردالمحتار میں ہے کہ جامع کبیر کی تخصیص میں مذکور ہے کہ عرف سے تخصیص ہوسکتی ہے لیکن زیادتی نہیں ہوسکتی حتی کہ کسی نے سری کے متعلق قسم کھائی تو اس سے وہ سری مراد ہوگی جس کو عرف میں آگ سے بھون کر کھایا جائے اور اجنبی عورت کے متعلق کہا"اگر وہ گھر میں داخل ہوئی تو اسے طلاق ہے" تو اس عورت کی ملکیت نکاح مراد نہیں ہوسکتی اھ

عــــہ: مسودہ میں بیاض ہے۔
#15225 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
فی الاسواق وھو راس الغنم دون رأس العصفور ونحوہ فالغرض العرفی یخصص عمومہ فاذا اطلق ینصرف الی المتعارف بخلاف الزیادۃ الخارجۃ عن اللفظ کما لو قال لاجنبیۃ ان دخلت الدار فانت طالق فانہ یلغو ولاتصح ارادۃ الملك ای ان دخلت وانت فی نکاحی وان کان ھو المتعارف لان ذلك غیر مذکور ودلالۃ العرف لاتاثیر لھا فی جعل غیر الملفوظ ملفوظا ہمدران ست الغرض یصلح مخصصا لامزید واگر تقییدات کہ بدلالت حال باغراض حالفین کردہ اند فروع آنہا را بر خوانیم دفتر باید بر دوسہ مثال منصوص فی المذہب اختیار کنیم:
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اگر لفظ عام ہوتو عرف کے ذریعہ اس کی تخصیص کی جاسکتی ہے جیساکہ جب کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ سری نہ کھاؤں گا تو قسم میں اگرچہ سری عام اور مطلق مذکور ہے لیکن عرف میں وہی سری مراد ہوتی ہے جس کو بھونا جاسکے اور بازار میں فروخت کیا جائے اس لئے عرف میں سری سے مراد چڑیا وغیرہ کی سری مراد نہ ہوگی تویہاں عرف نے سری میں تخصیص کردی توجب مطلق سری ذکر کی جائے گی تو عرفا خاص ہی مراد ہوگی اس کے برخلاف ایسی زیادتی جو لفظو ں سے مذکور نہ ہو عرف کی وجہ سے وہ زیادتی پیدا نہیں ہوسکتی جیسے کوئی شخص اجنبی عورت کو کہے کہ"اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے" تو یہاں اگر وہ یہ مراد لے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت میری منکوحہ ہوتو طلاق ہے تو منکوحہ ہونا قسم کے الفاظ سے زائد چیز ہے جس کو مراد نہیں لیا جاسکتا اگرچہ عرف میں طلاق کے لئے منکوحہ ہونا ضروری ہے مگر عرف کلام میں غیر مذکور لفظ کو زائد نہیں کرسکتا اس لئے اجنبی عورت کے لئے یہ قسم لغو قرار پائے گیاسی ردالمحتار میں ہے کہ عرف مخصص بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن زیادتی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حال کی دلالت سے قسموں کا اغراض سے مقید ہونا اگر میں اس کی جزئیات کو ذکر کروں تو اس کےلئے دفتر چاہئےتاہم مذہب میں منصوص دوتین مثالیں ذکر کررہا ہوں:
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الدخول والخروج داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٧٢
ردالمحتار باب الیمین فی الدخول والخروج داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٧٣
#15226 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
() والیئ زید را سوگند داد کہ ہر مفسدے کہ بشہر بود مرا آگاہانی متقید باشد بزمان قیام ولایتش حالانکہ اینجا لفظے مثل اذن وغیرہ مفید تقیید اصلا نیست مگر حال دال ست کہ عرفش تدارك اوست و ایں نباشد مگر بولایت لاجرم بادمقید شد در ہدایہ ست اذااستحلف الوالی رجلا لیعلمنہ بکل داعر دخل البلد فھذا علی حال ولایتہ خاصۃ لان المقصود منہ دفع شرہ او شر غیرہ بزجرہ فلایفید فائدتہ بعد زوال سلطنتہ درفتح القدیراست ھذا التخصیص فی الزمان یثبت بدلالۃ الحال وھو العلم بان المقصود من ھذاالاستحلاف زجرہ بما یدفع شرہ او شر غیرہ بزجرہ وھذا لایتحقق الافی حال ولایتہ لانھا حال قدرتہ علی ذلک ۔
() والیئ شہر نے زید کو قسم دی کہ شہر میں جو بھی شرپسند ہو مجھے اس کی اطلاع دے گا تو اطلاع دینے کی یہ قسم اس والی کی ولایت کی مدت کے ساتھ مقید ہوگی حالانکہ لفظوں میں اس قید پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ مثلا اجازت وغیرہ موجود نہیں مگر عام حال کی یہاں دلالت موجود ہے کہ قسم دینے کا عرف میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ حاکم اس اطلاع پر شرکا تدارك کرے اور یہ تدارك صرف ولایت سے ہوسکتا ہے تو لازما یہ قسم ولایت کے زمانہ سے مقید ہوگی۔ ہدایہ میں ہے کہ جب والی نے ایك شخص کو قسم دی کہ تو مجھے شہر میں کسی فسادی کے داخل ہونے پر اطلاع دے گا۔ تو یہ قسم اس والی کی ولایت کے زمانہ سے مختص ہوگی کیونکہ والی کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس اطلاع پر شریر کو سزادے کر شر کاخاتمہ کرے لہذا ولایت کے خاتمہ کے بعد اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہےفتح القدیر میں ہے کہ قسم کا زمانہ ولایت سے مختص ہونا دلالت حال کی وجہ سے ہے اور وہ یہ کہ اس قسم دینے کا مقصد شریر کو سزادے کر اس کے یاغیر کے شرکو ختم کرنا ہے جبکہ یہ مقصد اس والی کی ولایت سے حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ ولایت کی وجہ سے وہ اس مقصد پر قادر ہوتا ہے(ت)
() ہر مدیون خود کہ از دین منکر بود و دائن گواہان نداشت سوگند خورد ترابدر قاضی کشم و حلف گیرم مدیون اعتراف کردیا دائن
() مقروض جب قرض سے انکار کرے اور قرض خواہ کے پاس گواہ نہ ہوں تو قرض خواہ قسم اٹھائے کہ میں تجھے قاضی کے دربار میں پیش کروں گا
حوالہ / References ہدایہ کتاب الایمان مسائل متفرقہ مکتبۃ العربیہ کراچی ١/٤٨٦
فتح القدیر کتاب الایمان نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٦٨
#15227 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
راگواہان بدست آمد ندیمین ساقط شود کہ بدلالت حال متقید بحال انکار وعدم وجدان شہود بود۔دردرمختار ست حلف ان یجرہ الی باب القاضی ویحلفہ فاعترف الخصم اوظھر شھود سقط الیمین لتقییدہ من جھۃ المعنی بحال انکارہ اھ قال الشامی لکن ھذاالتعلیل لایظھر بالنسبۃ الی قولہ او ظھر شھود فانہ بظھور الشھود لم یزل الانکار بل العلۃ فیہ انہ بعد ظھور الشہود لایمکن التحلیف تأمل اھ
اور وہاں تجھ سے قسم لوں گا تو اس کی قسم کے بعد مدیون ومقروض شخص نے قرضے کا اعتراف کرلیا یا قرض خواہ کو گواہ مل گئے تو قرض خواہ کی قسم ساقط ہوجائے گی کیونکہ حال کی دلالت سے وہ قسم انکار وگواہوں کے نہ ہونے کی حالت میں مخصوص قرارپائے گی۔درمختارمیں ہےکہ قرض خواہ نے قسم کھائی کہ میں تجھے قاضی کے دربار میں پیش کرکے تجھ سے قسم دلاؤں گا تو اس دھمکی پر مقروض نے قرض کا اقرار کرلیا یا اس کو گواہ مل گئے تو قسم ساقط ہوجائیگی کیونکہ قسم کھانے والے کی یہ قسم مقروض کے انکار کے ساتھ مقید قرار پائے گی اھ اس پر علامہ شامی نے فرمایا کہ اس وجہ اور علت کا تعلق صرف مقروض کے انکار سے ہے گواہوں کے دستیاب ہونے کی بات سے نہ ہوگا کیونکہ گواہوں کے دستیابی کے باوجود انکار باقی رہ سکتا ہے تو گواہوں کی دستیابی پر قسم کے ساقط ہونے کی علت یہ ہوگی کہ گواہوں کی موجودگی میں قاضی کے ہاں قسم دلانا ممکن نہ رہے گا اس میں غور چاہئے اھ
اقول: لہ ان لایستشھدھم ویطلب حلفہ فکیف لایمکن کما یوھمہ قول العلامۃ لایمکن التحلیف فالاولی ان یقال لتقیدہ بانکارہ وعدم وجدان الشھود اذلاحلف علی مقرولامع بینۃ شھدت فی الدر
اقول:(میں کہتا ہوں) علامہ شامی کا فرمانا کہ گواہوں کی موجودگی میں قسم دلانا ممکن ہے کیسے صحیح ہوسکتا ہے جبکہ مدعی کو اختیار ہے کہ وہ گواہ پیش کرنے کی بجائے مقروض منکر کو قسم دلائے لہذا قسم کو ناممکن کہنا درست
حوالہ / References درمختار باب الیمین فی الاکل و الشرب واللبس والکلام مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٠٤
ردالمحتار باب الیمین فی الاکل و الشرب واللبس والکلام داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٠٦
#15228 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
عن البحر الیمین کالخلف عن البینۃ فاذاجاء الاصل انتہی حکم الخلف اھ ولایرضی الطالب بحلف المنکر مادام یقدر علی الشھود مخافۃ ان یحلف فیذھب مالہ فیتقید بھما عرفا
نہیں بلکہ یوں کہنا بہتر تھا کہ وہ قسم انکار اور گواہوں کے دستیاب نہ ہونے سے مقید قرار پائے گی کیونکہ اقرارکرلینے پر اور گواہوں کی شہادت پر قسم کی ضرورت نہیں رہتی۔ درمختار میں بحر سے منقول ہے کہ قسم گواہی کا خلیفہ بنتی ہے توجب اصل حاصل ہوجائے تو خلیفہ کی ضرورت نہیں رہتی اھ اور نہ ہی حق والاگواہوں کی موجودگی میں قسم دلانے پر راضی ہوتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مقروض جھوٹی قسم اٹھادے تو اس کا قرض ضائع ہوجائے لہذا عرفا یہ قسم دونوں حالوں(انکار اور گواہ نہ ہونے) سے مقید قرار پائے گی۔
اقول: ولیس ھذاالسقوط لعدم تصور البر بقاء فان قلت الیس فی الدر قال المدعی لی بینۃ حاضرۃ فی المصر وطلب یمین خصمہ لایحلف خلافا لھما ولو حاضرۃ فی مجلس الحکم لم یحلف اتفاقا ابن ملك اھ قلت الیس ان الاحضار والاخبار کلیھما بیدہ فان الشھود لا یحضرون مالم یحضروا ولایعلم القاضی ان لہ بینۃ فی المصر مالم یخبر فالامکان حاصل لاشك اما اولا فلان الیمین مطلقۃ فلایضرھا انتفاء
اقول:(میں کہتا ہوں کہ) گواہوں کی موجودگی میں قسم کایہ سقوط اس لئے نہیں کہ بالآخر قسم کا پورا ہونا متصور نہیں ہوسکتا کہ قسم کا پورا ہونا ناممکن ہوجانے پر ختم ہوجائے۔ اس پر اگر تو یہ اعتراض کرے کہ کیا درمختار میں یہ موجود نہیں کہ جب قاضی کے ہاں مدعی یہ کہے کہ میرے گواہ ہیں لیکن وہ شہر میں موجود ہیں اور مدعی اس صورت میں اپنے مخالف سے قسم کا مطالبہ کرے تو امام اعظم رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك قاضی مخالف کوقسم نہ دلائے گا۔ صاحبین کامسلك اس کے خلاف ہے اور اگر مدعی کے گواہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہوں تو بالاتفاق قسم نہ لی جائیگی ابن ملك اھ(تو قسم دلانے کا احتمال ختم ہوجانے سے قسم ساقط ہوجائیگی) قلت(میں کہتا ہوں) کیا گواہوں کو حاضر کرنا اور قاضی کو گواہوں کی موجودگی
حوالہ / References درمختار کتاب الدعوی مطبع مجتبائی دہلی ٢/١١٨
درمختار کتاب الدعوی مطبع مجتبائی دہلی ٢/١۱٩
#15229 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
تصور البر فیما بعد واما ثانیا فلانہ متصور اما فی الشھود فلما ذکرنا واما فی الاقرار فلان من اقر عند الطالب لایجب ان یقر عندالقاضی فلعلہ اذااجرالیہ انکر فیحلفہ فالتصور حاصل قطعا فلاسقوط الاللتقید العرفی اھ ماکتبت علیہ ۔ثم رأیت الامام ابا بکر محمد بن ابی المفاخر بن عبدالرشید الکرمانی ذکرہ فی جواہر الفتاوی کتاب الایمان الباب الثانی فتاوی الامام جمال الدین البزدوی فرأیتہ افاد فوائد منھاالتعلیل بدلالۃ الحال ملحقالہ بمسألۃ تحلیف الوالی لیعلمنہ بکل داعر ومنھا ان التقید بالانکار فی صورۃ الاقرار ومنھا ان فی سقوط الیمین بظھور الشھود خلافا وان
کی خبر دینا مدعی کے اختیار میں نہیں ہےضرور اس کے اختیار میں ہے کیونکہ جب تك وہ گواہوں کو حاضر نہ کرے وہ پیش نہ ہوں گے اور یوں ہی جب تك وہ قاضی کوگواہوں کی موجودگی کی خبر نہ دے قاضی کو معلوم نہ ہوسکے گا کہ اسکے پاس گواہ ہیں تو بہرصورت گواہوں کی موجودگی کے باوجود مدعی علیہ سے قسم لینے کا امکان قاضی کے ہاں باقی ہے اولا تو اسلئے کہ مذکورہ قسم مطلق ہے تو تاحال قسم پورا ہونا متصور نہ ہوتو اس کے لئے کچھ مضر نہیں ہے اور ثانیا اس لئے کہ قسم کا پورا ہونا ابھی ممکن ہے گواہوں کی موجودگی کی صورت میں تو ہم نے وجہ ذکرکردی اور مدعی علیہ کے اقرار کی صورت میں اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ مدعی علیہ مدعی کے پاس تو اقرار کرتا ہوتو پھر ضروری نہیں کہ وہ قاضی کی مجلس میں بھی اقرارکرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مدعی علیہ کو جب قاضی کے ہاں پیش کیا جائے تو وہ انکار کردے تو اس صورت میں قاضی کا اس سے قسم لینا متصور ہے تو معلوم ہوا کہ بہر صورت ابھی قسم کا تصور باقی ہے لہذا یہاں قسم کا سقوط صرف عرفی قید کی وجہ سے ہوگا نہ کہ حلف کا امکان ختم ہوجانے سے قسم کا سقوط ہوگا اس پر میرا حاشیہ ختم ہوا۔اس کے بعد میں نے امام ابوبکر محمد بن المفاخربن عبدالرشید کرمانی کو جواہر الفتاوی کی کتاب الایمان کے دوسرے باب۔ امام جمال الدین بزدوی کے فتاوی میں ذکر کرتے ہوئے پایا جس میں ان کو بہت سے
حوالہ / References جدالممتار علی ردالمحتار
#15230 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
الفتوی علی السقوط و ھذا نصہ رحمہ اﷲ تعالی رجل ادعی علی اخر کذا منا حنطۃ فانکر المدعی علیہ فحلفہ المدعی بطلاق امرأتہ ان یجرہ الی باب القاضی ویحلفہ علی ذلك ثم ان المدعی علیہ اقربما ادعی استغنی عن الیمین ویکون بارافی یمینہ لان الحلف علی ان یحلفہ مادام منکر افاذا اقرفات الانکار ولیس ھذا کما لو قال لاشربن الماء الذی فی ھذا الکوز فاریق الماء انہ یحنث لان الیمین ھناك علی الشراب ولم یشربہ وھھنا الیمین علی الانکار فلم تبق الیمین وصار کانہ حلف مع السلطان ان یعلمنہ بکل داعر دخل المدینۃ ثم عزل السلطان سقط یمینہ لانہ حلف علی ان یعلمہ مادام
فائدے ذکر کرتے ہوئے دیکھا جن میں ایك فائدہ یہ کہوالیئ شہرکا کسی کو قسم دینا کہ وہ اسے ہر فسادی کی اطلاع دے گا والے مسئلہ میں قسم کا والی کی ولایت باقی رہنے کی علت دلالت حال کو بنایا۔ دوسرا فائدہ مدعی کی قسم کا انکار سے مقید ہونا صرف مدعی علیہ کے اقرار کی صورت میں ہے گواہوں کی صورت میں نہیں(جیسا کہ اوپر بحث گزری)۔ تیسرا فائدہ گواہوں کی صورت میں قسم کا ساقط ہونا مختلف فیہ ہے جبکہ فتوی یہ ہے کہ ساقط ہوجائےگی۔ امام جمال الدین کی عبارت یوں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے پر دعوی کیا کہ اس کے ذمے ہماری اتنی گندم ہے تو مدعا علیہ نے انکار کردیا تو اس پر مدعی نے اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھائی کہ میں اس کو قاضی کے دربار میں پیش کرکے اس کو قسم دلاؤں گا تو اس دھمکی کے بعد مدعا علیہ نے اس کے دعوی کا اقرار کرلیاتو اب قاضی کے پاس لے جاکر قسم دلانے کی ضرورت نہ ہوگی اور قسم کھانے والا مدعی اپنی قسم سے بری ہو جائے گا کیونکہ اس کی قسم دلانے کی قسم اس مدعاعلیہ کے انکار پر تھی تو جب اس نے اقرار کرلیا تو انکار ختم ہوگیا۔ اور یہ معاملہ ایسا نہیں کہ کوئی قسم کھائے کہ میں اس کوزے کے پانی کو ضرور نوش کروں گا تو قسم کے بعد کوزے کا پانی گرادیا گیا ہو تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ یہ قسم کوزے کے پانی کو پینے سے متعلق تھی تو وہ اسے پی نہ سکا لیکن یہاں قسم انکار پر مبنی تھی جو ختم ہوگیا تو قسم بھی ختم ہوگئی جیساکہ حاکم شہر کسی کو قسم دے کہ تو مجھے شہر میں داخل ہونے والے
#15231 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ھوالوالی فی البلد فکذلك ھنا بدلیل انہ لو حملہ الی القاضی لایحلفہ فاذالا فائدۃ فی حملہ الی القاضی ھکذا عــــہ ذکر وھذا الجواب یوافق قول القاضی ابی الھیثم ویخالف قول القاضی الامام الصاعدی فانہ ذکر فی فتاواہ ھذاالمسألۃ الاانہ وضع المسألۃ ھکذاذکر مکان اعتراف المدعی علیہ انہ ظھر لہ شھود وقال القاضی الامام ابو الھیثم سقط یمینہ وقال الصاعدی لایسقط بل یقع طلاقہ فاذاجواب شیخنا جمال الدین وافق جواب القاضی ابی الھیثم وھو الصحیح وعلیہ الفتوی اھ ۔
ہر فسادی کی اطلاع دے گا اس کے بعد وہ حاکم معزول ہوجائے تو اس کی دی ہوئی قسم بھی ختم ہوجائیگی کیونکہ یہاں بھی قسم کا مطلب یہ تھا کہ میری ولایت جب تك ہے اس وقت تك اطلاع دینی ہوگی تو یہاں بھی یہی صورت ہے کیونکہ مدعی اگر مدعی علیہ کو اب قاضی کے ہاں پیش کرے تو قاضی اس سے قسم نہ لے گا اس لئے اب قاضی کے ہاں لے جانے کا فائدہ نہ رہا اس کو امام جمال الدین بزدوی نے یونہی ذکر فرمایا ہے یہ امام جمال الدین بزدوی کا جواب قاضی ابوہیثم کے قول کے موافق ہے اور قاضی امام صاعدی کے قول کے مخالف ہے کیونکہ امام صاعدی نے اس مسئلہ کو اپنے فتاوی میں ذکر کیا اور مدعی علیہ کے اعتراف کی بجائے انہوں نے گواہوں کے موجود ہونے کو ذکر کیا جبکہ قاضی امام ابوہیثم نے کہا کہ قسم ساقط ہوجائے گی اور امام صاعدی نے کہا کہ قسم ساقط نہ ہوگی بلکہ گواہوں کے موجود پانے پر مدعی کے قسم کے مطابق اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی تو جب ہمارے شیخ جمال الدین بزدوی کا جواب قاضی ابوہیثم کے جواب کے موافق ہے تو یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہےاھ۔(ت)
() مدیون را سوگند داد فلاں روز حق من دہی ودستم بگیری وبے دستوری من بیروں
()کسی نے اپنے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھے فلاں روز میرا قرض دے گا اور میرا ہاتھ پکڑے گا
عــــہ: قولہ ھکذا ذکر ای الامام جمال الدین البزدوی ومن ھھنا الی اخر مانقلنا کلام الامام الکرمانی جامع تلك الفتاوی منہ۔
اس کا قول یونہی ذکر کیا ہے یعنی امام جمال الدین بزدوی نے ذکر کیا ہے اور یہاں سے آخر تك جو عبارت ہم نے نقل کی ہے وہ امام کرمانی کا کلام ہے جو اس فتاوی کے جامع ہیں منہ(ت)
حوالہ / References جواہر الفتاوی کتاب الایمان
#15232 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
نہ روی باز مدیوں ہمیں روز دینش داد ودستش نگرفت و بے دستوری اوبیروں رفت حانث نشود کہ ایں یمیں عرفا مقیدست بحال دیں در ردالمحتار ست فی البزازیۃ حلفہ لیوفین حقہ یوم کذاولیأخذن بیدہ ولا ینصرف بلا اذنہ فاوفاہ الیوم ولم یأخذ بیدہ وانصرف بلااذنہ لایحنث لان المقصودوھو الایفاء اھ قلت تقدم ان الایمان مبینۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض وھذا المقصود غیر ملفوظ لکن قدمنا ان العرف یصلح مخصصا وھنا کذلك فان العرف یخصص ذلك بحال قیام الدین قبل الایفاء ویوضحہ ایضا مایأتی قریبا عن التبیین اھ مافی الشامی۔
اور میری رضا کے بغیر باہر نہ جائے گا پھر مقروض نے اسی دن قرض ادا کردیا اور اس کا ہاتھ پکڑے بغیر باہر چلاگیا تو اس کی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ یہ قسم عرف میں قرض ذمہ ہونے کی وجہ سے تھی تو قرض ختم ہونے پر قسم ساقط ہوجائے گی۔ ردالمحتار میں ہے کہ بزازیہ میں ہے کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھے فلاں دن میرا حق دے گا اور میرا ہاتھ پکڑے گا اورمیری مرضی کے بغیر باہر نہ جائیگا تو مقروض نے اس کو قرض اسی روز دے دیا اور ہاتھ پکڑے اور اس کی مرضی کے بغیر باہر واپس چلاگیا تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس قسم کا مقصد قرض وصول کرنا تھا اھ۔قلت میں کہتا ہوں کہ یہ گزرچکا ہے کہ قسموں کی بنیاد الفاظ ہوتے ہیں۔ اغراض بنیاد نہیں ہوتے اور مذکور قسم کا مقصد الفاظ میں مذکور نہیں ہے لیکن جیسا کہ پہلے ہم نے ذکر کردیا ہے کہ عرف تخصیص پیدا کردیتا ہے تو یہ بھی ایسے ہی ہے کیونکہ یہاں بھی عرف نے اس قسم کو قرض کی موجودگی کے ساتھ مختص کردیا ہے کہ اس کی ادائیگی سے قبل تك ہوگی اس کی وضاحت عنقریب تبیین الحقائق سے بیان کی جائے گی علامہ شامی کا ردالمحتار میں بیان ختم ہوا۔
اقول: والذی یظھر للعبد الضعیف ان ھنا ثلث ایمان فالاخیرۃ متقیدۃ بنفس
اقول(میں کہتاہوں کہ) مجھ ضعیف بندے پر جوظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ یہاں ردالمحتارکے بیان کردہ مسئلہ میں تین قسمیں ہیں جن میں سے
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الاکل والشرب داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٠٦
#15233 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
لفظ الاذن کما تقدم والاولی کانت موقتۃ والممتنع الایفاء فی ذلك الوقت لحصولہ قبلہ فسقطت لعدم تصور البر ثم رأیتھم بہ عللوہ وﷲ الحمد اماالثانیۃ فمجازہ عن الایفاء ای لیعینہ لوفاء دینہ اذمن المعلوم قطعا ان لیس المراد خصوص اخذ العضو وھی مطلقۃ وقدبرفیھا اذا وفی وان فرضت لوقتہ بالتوقیت المذکور فقد سقطت ایضا وھذا معنی قول الوجیز لان المقصود ھو الایفاء فلیس ھنا مدخل اصلا للتخصیص بدلالۃ الحال واﷲ تعالی اعلم بحقیقۃ الحال ولیس فیما اتی بہ بعد عن التبیین الاان الیمین تتقید بمقصود الحالف ولھذا تتقید بالصفۃ الحاملۃ علی الیمین وان کانت فی الحاضر علی مابینا من قبل اھ
آخری یعنی"میری اجازت کے بغیر واپس نہ جائے گا" یہ قسم لفظ اجازت سے مقید ہے جیسا کہ گزرا ہے اور ان میں سے پہلے قسم یعنی"تو میرا حق فلاں روز اداکرے گا" یہ وقت سے مقید ہے یعنی موقت ہے جبکہ مقررہ اس دن میں حق کی ادائیگی نہیں ہو سکی کیونکہ ادائیگی مقررہ دن سے پہلے ہوچکی ہے اس لئے قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ مقررہ دن میں پورا کرنا ممکن نہ رہا پھر اس بیان کے بعد میں نے دیکھاتو فقہاء نے قسم کے خاتمہ کی یہی علت بیان فرمائی وﷲ الحمد لیکن دوسری قسم یعنی"تومیرا ہاتھ پکڑلے"یہ حق پورا کرنے سے مجاز ہے یعنی تاکہ یہ بات حق کی ادائیگی میں مدد گار بنے کیونکہ خاص عضو یعنی ہاتھ پکڑنا مقصود نہیں ہے لہذا یہ قسم مطلق قرار پائی اور یہ حق کی ادائیگی ہوجانے پر پوری ہوچکی ہے اور اگر اس دوسری قسم کو مطلق کی بجائے وقت یعنی مقررہ دن سے مقید اور موقت قرار دیا جائے تو تب بھی یہ ساقط قرار پائیگی جبکہ وجیز کے اس کہنے کا کہ یہاں مقصود صرف حق کو پوراکرنا ہے اور یہاں حال کی دلالت سے تخصیص کا کوئی دخل نہیں ہے کا یہی مطلب ہے جبکہ اﷲ تعالی ہی حقیقت حال کا بہتر عالم ہے اور بعد میں تبیین الحقائق کے حوالہ سے جو ذکر کیا وہ صرف یہی ہے کہ یہ قسم حالف کے مقصد سے مقید ہوگی لہذا قسم کی وجہ بننے والی صفت سے یہ مقید قرار پائے گی اگرچہ وہ صفت حاضر چیز میں پائی جائے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الاکل والشرب داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٠٧
#15234 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ولا کلام فیہ انما الکلام فی حصول التخصیص ھنا ثم کلام التبیین فی صفۃ ملفوظۃ کلایکلم عبد فلان وتریدون ھھنا اثبات غیر الملفوظ فلایوضحہ مافی التبیین وغایۃ ما یقال ان المعنی لیوفین یوم کذاان لم یوف قبلہ فھذاالتقیید بدلالۃ الحال وھو المقصود الغیر الملفوظ فیکون الاولی مبرورۃ ساقطۃ واﷲ تعالی اعلم۔
(تبیین الحقائق کے آخر کلام تک) جبکہ یہاں یہ بحث نہیں کہ مقصد سے مقید ہوگی یانہیں بلکہ یہاں تو دلالت حال سے تخصیص میں بحث ہے اور پھر تبیین الحقائق کی بات کا تعلق لفظوں میں مذکور صفت سے ہے مثلا میں فلاں کے غلام سے بات نہ کروں گا جبکہ آپ تو یہاں غیر ملفوظ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں لہذا تبیین الحقائق کا کلام اس بحث کی وضاحت نہیں بن سکتا انتہائی بات جو کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ قسم میں"فلاں دن حق پورا کرے گا" کا معنی یہ ہوگا کہ اگراس دن سے قبل حق پورا نہ کرے تو اس دن ادا کرے گا تو قبل ازیں پورا نہ کرنے سے قسم مقید ہوگی اور یہ مقصد لفظوں میں غیر مذکور ہے جوصرف دلالت حال سے قید کے طور پر معلوم ہورہا ہے تو پہلی قسم پوری ہوکر ختم ہوگئی واﷲ تعالی اعلم۔
وچوں دریں مثال در دلالت حال مجال مقال و سیع آمد مثالے دگر جایش بنشانیم دائن حلف گرفت کہ روئے از من نپوشی و معنی ایں پیمان آن ست کہ ھرگاہ ترا طلبم وتوبرطلب من مطلع شوی ظاہرگردی ورنہ فرد روپوشی مدیون در غیرآں طلب دائن بے اطلاع بر طلب دائن موجب حنث نیست گواز ترس دائن باش چنانکہ بخوف او رخ پوشاں ببازازرفتن زیراکہ ایں روئے پوشیدن بخیال ست نہ ازو سوگند بریں بود نہ براں ایں یمین بدلالت حال مقید ست بزمان بقائے دین تا آنکہ اگر دو دائن بودند
چونکہ مذکورہ مثال میں دلالت حال کے متعلق بحث کی وسیع گنجائش پیدا ہوگئی اس لئے ایك اور مثال یہاں پیش کرتا ہوں کہایك قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھ سے منہ نہ چھپائے گا تو اس عہد وپیمان کا معنی یہ ہے کہ جب میں تجھے طلب کروں اور تومیری طلب پر مطلع ہوجائے تو فورا سامنے آنا ہوگا اس لئے اگر وہ اس کی طلب کے بغیر یا طلب پر اطلاع نہ پانے پر روپوشی کرے تو قسم کی خلاف ورزی نہ ہوگی اگرچہ یہ روپوشی اس قرض خواہ کے ڈر سے ہی ہو مثلا قرض خواہ کے سامنے آجانے پر مقروض منہ پھیر کر رك جائے کیونکہ یہ روپوشی دوسرے خیال
#15235 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ودین یکے اداشد یمین در حق او منتہی گشت در وجیز کردری فصل فی قضاء الدین فرمود حلف الدائن المدیون کہ از من رو نپوشی ولم یوقت فکل وقت طلبہ وعلم بہ ولم یظھر لہ حنث وان دخل السوق متواریالایحنث وان طلبہ ولم یعلم بہ ولم یظھر الوجہ لایحنث ولوکان حین حلف بھذا الوجہ رب الدین اثنین فقضی لاحد ھما انتہی الیمین فی حقہ درمسئلہ دائرہ نیز حال دال ست کہ غرض یمین ہجراں پسر و تباعد از ذریت ومساکنت او وسزا دادنش بدوری از خانہ وخوان خود ست پس متقید باشد بزمان بقائے ایں مقاصد چوں پدر خودش ترك مہاجر گفت واوسرا نتقام در گزشت یمین منتہی گشت چنانکہ در فروع مذکورہ چوں بعزل سلطان واقرار مدیون وظہور گواہان و ادائے دیون آں اغراض نماند سوگند نماند۔
سے ہے نہ کہ اس کی طلب سے روپوشی ہے لہذا کسی اور وجہ سے روپوشی پر قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ قسم کا تعلق کسی اور وجہ سے نہیں ہے تو یہ قسم دلالت حال کی وجہ سے قرض باقی رہنے کے حال سے مقید ہوگی حتی کہ اگر قرض خواہ دو شخص ہوں دونوں نے یہ قسم دی ہو تو دونوں میں سے جس کا قرض ادا کردے گا اس کے حق میں قسم ختم ہوجائے گی۔وجیز کردری کی فصلقرض کی ادائیگی میں فرماتے ہیں کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھ سے روپوشی نہ کرے گا اور قسم میں کسی وقت کاذکر نہ کیا تو اس قسم کا معنی یہ ہوگا کہ جب بھی وہ اس مقروض کو طلب کرے اور مقروض کو اس طلب کا علم ہوجائے تو اس وقت روپوشی نہ کرے لہذا اگر قرض خواہ کی طلب پر مقروض اطلاع پانے کے باوجود حاضرنہ ہوسامنا نہ کرے تو قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر بغیر طلب یا طلب پر اطلاع نہ پائی ہوا ور بازار میں ویسے ہی قرض خواہ کے ڈر سے روپوشی کرکے نکلے تو قسم نہ ٹوٹے گی اگر اس صورت میں دو قرض خواہ ہوں جنہوں نے اس کو یہ قسم دی ہوتو ایك کا قرض ادا کردیا تو اس کے حق میں قسم ختم ہوجائیگی۔ زیر بحث مسئولہ مسئلہ میں بھی اس قسم کا مقصد بیٹے سے بائیکاٹ اس کا گھر اور رہائش سے دور رکھنا اور اپنے گھر اور دستر خوان سے باز رکھنے کی سزا ہے لہذا یہ قسم بھی دلالت حال کی وجہ سے ان مقاصد سے مقید ہوگی اور جب باپ نے خود یہ تمام باتیں کردیں اور سزا ترك کردی تو قسم ختم ہوجائے گی جیسا کہ مذکورہ بالا مسائل میں حاکم کی معزولی مقروض کے اقرار گواہوں کی حاضری اور قرض کی ادائیگی جیسے قسم کے اغراض ہوجانے سے قسم ختم ہوجاتی ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوی بزازیہ علیٰ ھامش فتاوی ہندیہ الثامن عشر فی قضاء الدین نورانی کتب خانہ پشاور ٤/٣٣٠
#15236 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
اقول اولافرق ست میان انتفائے مقصود وانعدام قصد در فروع مستشہدہ افعال محلو ف علیہا خود از ثمرات مخصوصہ تہی شدہ است چوں والی معزول شد اطلاع او بر آمدن مفسد در شہرچہ سود دہد و مقصود از بردن منکر پیش قاضی وحلف از و خواستن آں بود کہ قاضی او را بر حلف مجبور کند وبرمقرحلف نتواں نہاد پس تحلیف صورت نہ بندد و طلب حلف مسموع نشود و چوں بر دعوی مدعی گواہان عادل شرعی باشند نیز از منکر حلف نگیر ند و ہمچوگواہان داشتن و باز کار برزبان صاحب انکار گزاشتن حق خود را در خطر افگند ست کہ خلاف مقصود ست پس بہر وجہ ثمرہ مطلوبہ مفقود ست و بعد ادائے دین باروئے مدیون چہ کار ماندہ است کہ پوشیدن و نمودن ثمرہ دہد و مقصود زن حصول انس بمصالحت شوہر ومنع وحشت بوحدت ست وایں بعد زوال زوجیت میسر نیست زن مرد اجنبی رانگوید کہ بامن باش وجدا مشو بخلاف صورت دائرہ کہ بخانہ نگزاشتن ہمچناں مثمردوری وہجران و سزائے ناشکری وکفران ست مگر حالف حالازیں قصد برگشتہ است پس ایں نیست کہ آنکار ثمرہ نیارد بلکہ خود اوخواہش آں ثمرہ نداردبالجملہ از نماندن مقصود تا قصد نمادن مقصود فرق عطیم ست ایں دوم زنہار مبطل یمیں نتواں شد ورنہ
اقول: (میں کہتا ہوں)اولا جواب یہ ہے کہ مقصود کا متنفی ہونا اور اس کا قصدنہ کرنا یہ دو مختلف چیزیں ہیں جبکہ شبہہ میں مذکور مسائل بیان جن کاموں کے متعلق قسم ہے وہ کام اپنے مخصوص مقاصد سے خالی ہوتے ہیں کہ جب والیئ شہر معزول ہوجائے تو شہر میں مفسد شخص کے داخل ہونے کی اطلاع اس کو دینے میں کیا فائدہ ہوگا۔ اور منکر کو تو قاضی پرپیش کرکے اس سے قسم لی جاسکتی ہے تاکہ قاضی اس کو قسم پر مجبورکرے لیکن جب قرض کا اقرار کرلیا تو اب اس سے قسم نہیں لی جاسکتی اور اس سے قسم کا مطالبہ نہیں ہوسکتا۔ اور جب مدعی کے دعوی پر شرعی عادل گواہ موجود ہوں تو منکر سے قسم نہیں لی جاتی اور اسی طرح گواہوں کی موجودگی میں اپنے حق کو منکر کی زبانی حلف کے سپرد کرنا اپنے حق کو خطرہ میں ڈالنا بھی مقصود کے خلاف ہے تو یہ تمام صورتیں قسم کے مقصد کے خلاف ہیں اور قرض ادا کردینے کے بعد مقروض کے چہرہ کو دیکھنے سے کیا کام ہے اب روپوشی کرنا نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے اور بیوی نکاح کی موجودگی میں تو علیحدہ رہنے میں تنہائی کی وحشت کو ختم کرنے اور اپنے خاوند سے صلح کرکے مانوس ہونے کی کوشش کرے گی جبکہ نکاح ختم ہوجانے پر اس کا یہ مقصد بھی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اب اجنبی ہوجانے پر اس کو اپنے پاس رہنے کی بات نہ کرے گی اور نہ جدائی کوختم کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ زیر بحث مسئولہ معاملہ میں گھر میں نہ چھوڑنے کی قسم کا مقصد بیٹے کی ناشکری اور کفران نعمت پر اس کو بائیکاٹ اور
#15237 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ہماں مفاسد لازم آید کہ در جواب شبہہ چہارم یاد کردیم حلفہائے مبتنی برخشم و غضب بعد فروشدن خشم خود بخود برباد رودو ہیچ جزایا کفارہ لازم نشود کہ بعد زوال غضب آں ثمرات را خواہش نمی ماند بلکہ بسااوقات نادم می شود و دلیل قاطع بربطلان آں احادیث کثیرہ عدیدہ صحیحہ سدیدہ بسر حداستفاضہ کشیدہ ست کہ فرمودہ اندصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرھا خیرا منھا فات الذی ھو خیر وکفر عن یمینك چوں سوگندے خوری باز بینی کہ غیر او ازاں بہتر ست پس آں بہتر را بجا آرو سوگندت را کفارہ گزاررواہ البخاری ومسلم عن سمرۃ بن جندب واحمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ والنسائی وابن ماجۃ عن عوف ابن مالك عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنھم وعبدالرزاق عن بن سیرین مرسلا وابوبکر بن شیبۃ و البیھقی عن امیر المؤمنین عمررضی اﷲ تعالی عنہ من قولہوفرمودند
گھر سے دور رکھنے کی سزادینا ہے لیکن قسم والے نے اب اپنے مقصد کو چھوڑدیا تو اس سے قسم والا معاملہ بے سود اور بیکار نہ ہوگا کیونکہ یہاں مقصد فوت نہیں ہوا بلکہ خود اس مقصد کو ترك کررہا ہےالحاصل مقصود کا باقی نہ رہنا اور اس کو مقصود نہ بنانا دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں میں بڑا فرق ہے جبکہ دوسرا یعنی مقصد کو مقصود نہ بنانا اور اس سے روگردانی کرنا قسم کو قطعا باطل اور کالعدم نہیں کرسکتا ورنہ اس سے وہ تمام مفاسد لازم آئیں گے جو شبہہ چہارم کے جواب میں ہم نے ذکر کئے ہیں کہ غصہ اور ناراضگی پر مبنی تمام قسمیں غصہ ختم ہوجانے پر خودبخود ختم ہوجائینگی اور ان پر کوئی جزاء یا کفارہ لازم نہ آئیگا کیونکہ غصہ اور ناراضگی کے دوران قسم کے جو مقاصد تھے وہ غصہ ختم ہوجانے پر باقی نہ رہے بلکہ بسااوقات غصہ کی حالت میں قسموں پر ندامت ہوتی ہے تو لازم آئے گا کہ غصہ ہونے پر کوئی کفارہ یا جزامرتب نہ ہو حالانکہ اس کے بطلان پر کثیر تعداد میں صحیح احادیث وارد ہیں جوغصہ ختم ہونے کے بعد بھی ان قسموں پر حنث لازم آنے میں درجہ شہرت تك پہنچتی ہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: جب تو قسم کھائے تو دیکھ کہ اس قسم کا غیر یعنی خلاف بہتر ہوتو بہتر کو بجالا اور قسم کا کفارہ دے۔ اس کو بخاری و مسلم نے سمرہ بن جندب اور احمد اور مسلم ترمذی نے ابوہریرہ اور نسائی اور ابن ماجہ نے عوف بن مالك کے والد سے روایت کیا ہے اور عبدالرزاق نے ابن سیرین سے مرسلا اور ابوبکر بن شیبہ اور بیہقی نے موقوفا امیر المومنین
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٨٠
#15238 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انی واﷲ ان شاء اﷲ لا احلف علی یمین فاری غیرھا خیرامنھا الاکفرت عن یمینی واتیت الذی ھو خیر بخدا اگر خدا خواہد ہر سوگند کہ خورم باز غیر اوبہتر از وبینم ہماں بہتر را پیش نہم وسوگندرا کفارہ دہم رواہ احمد وعبدالرزاق والبخاری ومسلم و ابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری والطبرانی فی الکبیروالحاکم والبیہقی عن ابی الدرداء والحاکم عن ام المومنین الصدیقۃ والطبرانی عن عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہم وعبدالرزاق عن ام المومنین عن ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہما من قولہ وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ وابناء حمید وجریرو المنذروابوالشیخ والبیہقی عن امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بمعناہ وفی الباب غیرھم رضی اﷲ تعالی عنہم وفرمودند صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واﷲ لان یلج احدکم بیمینہ فی اھلہ اثم لہ عنداﷲ من ان یعطی کفارتہ التی افترض اﷲ علیہ یعنی اگر کسے دربارہ اہل خود برایذاواضرار ایشاں
حضرت عمر فاروق (رضی اﷲ تعالی عنہم) سے روایت کیا ہے۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بخدا!اگر اﷲ تعالی چاہے تو جو قسم بھی میں کھاؤں پھر اس کے بعد اس کے غیر کو بہتر پاؤں تو بہتر کو اختیار کروں گا اور قسم کا کفارہ دوں گا۔ اس کو احمد عبدالرزاق بخاری مسلم ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ نے ابوموسی اشعری سے اور طبرانی نے کبیر میں حاکم اور بیہقی نے ابودرداء سے اور حاکم نے ام المومنین عائشہ صدیقہ سے اور طبرانی نے عمران بن حصین سے(رضی اﷲ تعالی عنہم) روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے حضرت ام المومنین سے انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہما کا قول اور عبدالرزاق ابن ابی شیبہ ابن حمید ابن جریرابن منذر ابوشیخ اور بیہقی نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے بالمعنی روایت کیا ہے جبکہ اس باب میں دیگر صحابہ رضوان اﷲ تعالی عنہم سے بھی روایات ہیںاور خود حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص اپنے اہل کے متعلق اس کو اذیت اور ضرر پہنچانے کیلئے قسم کھائے پس بخدا اس کو ضرر دینا اور قسم کو پورا کرناعند اﷲ زیادہ گناہ ہے اس سے کہ وہ اس قسم کے بدلے کفارہ دے جو اﷲ تعالی نے اس پر مقرر فرمایا ہے اس کو بخاری اور مسلم (شیخین) نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٨٠
صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٨٠
#15239 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
سوگند خورد پس بخدا کہ باضرار او برابر ارادہ باضرار شاں گناہگار تر باشد نزد خدا زینکہ سوگند و کفارہ اش کہ خدائے مقرر فرمودہ ست ادا کندرواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ پیداست کہ ہمیں فعل اختیاری ست وفعل اختیاری را از قصد غایتے چارہ نے وچوں غیر اوراخیر یا بدرائے بر گرددواں قصد نماند پس یمین ببطلان قصد باطل شدے کفارہ چرا۔
سے روایت کیا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ قسم اختیاری فعل ہے اور کوئی اختیاری فعل ارادہ اور قصدکے بغیر ممکن نہیں تو اس کے باوجود جب اس کے خلاف کوبہتر جانے تو اس بہتر کو کرے اور اپنی رائے اور ارادہ کو تبدیل کردے اور اس کا قصد نہ کرے تو اگر قسم والے فعل کا قصد ختم ہوجانے سے قسم ختم ہوجاتی ہے تو پھر ان احادیث میں کفارہ کا ذکر کس چیز پر ہے۔
ثانیا بانتفائے مقصود نیز مطلقا بطلان ست اگر یمین مطلقہ آرد کہ فلان را زند یا کشد یا پیش حاکم برد یا چناں خوراند یا پوشاند یا خلعت پوشاند یا خبرے خوش یا بدر ساند الی غیر ذلك مما یختص بالحیاۃ عرفا ونکرد تا آنکہ فلاں مرد یقینا حانث شود وکفارہ دہد اگر یمین بطلان وعتاق بود فرود آید بآنکہ آں جملہ مقاصد بمر گش مرد و درہم خورد وکل ذلك واضح جلی وعلیہ فروع جمۃ فی کتب المذھب ودرخانیہ و کبری ومحیط و تجنیس و خلاصہ و بزازیہ و ہندیہ وغیرہاست رجل شاجر مع اخیہ واختہ فقال لھما بالفارسیۃ اگر من شمارا بکون خراندر نکنم تکلموافی ذلك والصحیح انہ یراد بھذاالقھر والغلبۃ فلا یحنث حتی یموتا اویموت
ثانیا جواب یہ ہے مقصود کے انتفاء سے بھی علی الاطلاق اور علی العموم قسم کا باطل ہونا غلط ہے مثلا کوئی شخص غیر مقید طور پر قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو ماروں گا یا فلاں کی کھینچا تانی کروں گا یا حاکم کے سامنے کروں گا یا فلاں چیز کھلاؤنگا یا پہناؤں گا یا جوڑا پہناؤں گایافلاں کو خوشخبری دوں گا وغیر ذالک تو یہ قسمیں عرفا پوری زندگی بھرکے لئے ہوں گی اگر یہ کام نہ کئے حتی کہ وہ فلاں فوت ہوجائے تو یقینا حانث ہوگا اور کفارہ دینا ہوگا اوریہ قسمیں طلاق یا عتاق سے متعلق تھیں _ توطلاق یا عتاق واقع ہوجائے گی کیونکہ فلاں کے فوت ہوجانے سے قسم کے تمام مقاصد ختم ہوجاتے ہیں یہ تمام امور واضح ہیں اورمذہب کی کتب میں ان پر کثیر مسائل متفرع کئے گئے ہیں۔خانیہ کبری محیط تجنیس خلاصہ بزازیہ اور ہندیہ وغیرہا میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے بھائی اور بہن سے جھگڑے میں ان کو کہا اگر میں تم دونوں کو گدھے کی دبر میں داخل نہ کردوں توفلاں چیز لازم آئےتو اس قسم کی صورت میں
#15240 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
الحالف ھذالفظ الخانیۃ فی الایمانولفظھا فی الطلاق قال بعضھم لایحنث ماداموافی الاحیاء وقال بعضھم یحنث للحال لانہ عاجزعن ذلك ظاھراالا ان ینوی بذلك القھر والتضییق علیھما فلایحنث ماداموافی الاحیاء فان مات الحالف اواحد الاخوین قبل ان یفعل ذلك حنث وعلیہ الاعتماد اھ وقال فی الکبری وغیرہا وعلیہ الفتوی وچوں دلالت حال را باایں شبہہ کارے نمانداز تنقیح مسئلہ اش آئندہ سخن رانیم ان شاء اﷲ تعالی۔
فقہائے کرام نے بحث کی ہے اور صحیح یہ قرار دیا کہ یہ غصہ اور ناراضگی کی قسم ہے اور عمر بھر کےلئے قسم ہوگی اور اگر عمر بھر ان دونوں سے یہ کارروائی نہ کرے تو ان دونوں یا قسم کھانے والے کے فوت ہوجانے پر قسم ٹوٹ جائے گی اور کفارہ لازم آئے گا اھ یہ مذکور الفاظ خانیہ کی قسموں میں مذکور ہیںاور خانیہ نے طلاق کی بحث میں یوں فرمایا کہ بعض نے کہا ہے کہ جب تك اس قسم سے متعلق حضرات زندہ ہیں قسم نہ ٹوٹے گی اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ایسا کرنے سے عاجز ہے ہاں اگر ان الفاظ سے ا س نے غلبہ اور تنگی پیدا کرنے کی نیت کی ہوتو ان کی زندگی میں نہ ٹوٹے گی ببلکہ مقصد کو پوراکرنے سے پہلے تینوں میں سے کسی کے فوت ہونے پر ٹوٹے گی اور اسی پر اعتماد ہے اھ اور کبری وغیرہ میں فرمایا کہ اسی پر فتوی ہے۔اور جب دلالت حال کا اس شبہہ میں دخل نہیں تو اس مسئلہ کی تنقیح کو ہم آئندہ پر چھوڑتے ہیں ان شاء اﷲ تعالی۔ (ت)
شبہہ سادسہ: مبنائے یمین براستحقاق پسر مرانتقام راست پس بدلالت حال متقید شود بزمان بقائے آں استحقاق چنانکہ از علمائے متاخرین علامہ سائحانی دریك مسئلہ استظہار کردہ ست در رد المحتارست(تنبیہ)رأیت بخط شیخ مشائخنا السائحانی عند قول الشارح لوحلف ان یجرہ الخ
چھٹا شبہہ: اس قسم کی بنیاد بیٹے کا باپ کی ناراضگی کی وجہ سے قابل سزا ہونا ہے تو حال کی دلالت کا تقاضا ہے کہ یہ قسم بیٹے کے قابل سزا ہونے تك کے زمانہ سے مقید ہوگی جیسا کہ متاخرین علماء میں سے علامہ سائحانی نے ایك مسئلہ میں اس کا اظہار کیا ہے اور ردالمحتار میں ہے تنبیہ میں نے اپنے شیخ سائحانی کا قول دیکھا کہ انہوں نے شارح کے اس قول پر کہ"کوئی قسم کھائے کہ میں فلاں کو
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی الیمین علی الشتم والقذف نولکشور لکھنؤ ٢/٣٢٥
فتاوی قاضی خاں کتاب الطلاق باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ٢/٣٢/٢٣١
#15241 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ھذا یفیدان من حلف ان یشتکی فلانا ثم تصالحا وزال قصدالاضرار واختشی علیہ من الشکایۃ یسقط الیمین لانہ مقید فی المعنی بدوام حالۃ استحقاق الانتقام کما ظہرلی اھ فتأملہ ۔
قاضی کی عدالت میں پیش کروں گا الخ" تو انہوں نے اس پر فرمایا کہ شارح کے اس قول سے یہ فائدہ ہورہا ہے کہ جو شخص قسم کھائے کہ میں فلاں کی شکایت کروں گا پھر قسم کے بعدصلح ہوجائے اور فلاں کو ضرر دینے کا ارادہ ختم ہوجائے اور شکایت کرنے سے گھبرائے تو قسم ساقط ہوجائیگی کیونکہ یہ قسم معنوی طور پر انتقام کے ارادہ کی بقاء سے مقید ہے یہ وہ ہے جو مجھے معلوم ہوسکا ہے اھ تو غور کرو۔
اقول ایں علامہ متاخر نیزایں حکم درہیچ کتاب سلف تا خلف اصلا نیافت محض رائے اوست کہ فرمودکما ظہرلی چنانکہ مراظاہر شدہ ست و علامہ شامی نیز برو اعتماد نکرد کہ مے فرماید فتأملہ ایں را تأمل کن وایں خود سخنے تازہ نیست صدر کلامش بزوال قصد تمسك کرد وحالش در جواب شبہہ پنجم و چہارم شنیدی واستنباط از فروع در مسائل دلالت حال خواست و فرق انعدام قصد وانتفائے مقصود بما لامزید علیہ دیدی وآخر سخنش بہ حالت استحقاق انتقام حوالت نمودوایں ہماں صفت داعیہ است کہ حالش بجواب شبہہ سوم شنیدی باز قصہ سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام زوال قصد واستحقاق انتقام ہر دو را جواب شافی ووافی ست چنانکہ در رد شبہہ چہارم دیدی بالجملہ از جواب شبہہ ثالثہ تا ایں جا ہرچہ گفتہ ایم
اقول:(اس کے جواب میں میں کہتا ہوں)کہ متاخرین میں سے اس علامہ مذکور نے یہ مسئلہ کسی کتاب سلف یا خلف میں نہ پایا بلکہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی ہے اسی لئے انہوں نے فرمایا:"جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے"اور پھر علامہ شامی نے بھی اس پر اعتماد نہیں کیا اسی لئے انہوں نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ غور کرونیز انہوں نے اس کلام سے ابتداء نہیں کی بلکہ اس سے قبل ا نہوں نے قسم کی وجہ کو ترك کرنے کے قصد کو دلیل بنایا ہے جبکہ اس کا حال پانچویں اور چوتھے شبہہ کے جواب میں آپ نے سن لیا ہے۔اور دلالت حال والے مسائل کی تفریعات سے استنباط کرنا چاہاحالانکہ آپ نے قصد نہ کرنے او مقصد کے خودفوت ہوجانےکا فرق خوب سمجھ لیا ہےآخر میں وہ انتقام کے استحقاق کے حوالہ سے بات کررہے ہیں اور یہ تمام امور قسم کے لئے داعی و اسباب بن رہے ہیںجبکہ ان کا حال تیسرے
حوالہ / References ردالمحتار باب الیمین فی الاکل والشر ب الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٠٦
#15242 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ہمیں بریں سخن متوجہ استاگر نبودے کہ ایں سخن بخط عالمے برہامش کتابے نوشتہ یافتند حاجت بہ افراز او نبود و بقطعے نظر از جملہ کلام سابق جوابے تازہ گویم کہ تقیید باستحقاق انتقام را مساغی نگزارد۔
شبہہ کے جواب میں آپ معلوم کرچکے ہیںاور پھر یہ کہ حضرت سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے قصہ میں وجہ قسم کو ترك کرنے کا قصد اور انتقام کے استحقاق کے خاتمہدونوں چیزوں کاکافی اور شافی جواب موجود ہے جیسا کہ آپ نے چوتھے شبہہ کے رد میں دیکھ لیا ہےغرضیکہ تیسرے شبہہ کے جواب سے لے کر یہاں تك جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ تمام اس بات سے ہی متعلق ہےاگر کسی کتاب کے حاشیہ پر کسی عالم کی یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو اس کو واضح کرنے کی ضرورت نہ تھیتاہم سابقہ تمام گفتگو سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم اس بات کا کہ اس قسم کا استحقاق انتقام سے تعلق نہیں ہے اور یہ اس سے مقید نہیں ہےنئے انداز سے اثبات کرتے ہیں۔(ت)
فاقول: وباﷲ التوفیق اولا زید کہ سوگند مے خورد کہ شکایت عمرو پیش حاکم برو باز مصالحت میکنند آیا عمرو بواقع جرمے وستمے بحق زید کردہ بود یا زید حسب عادت بسیارے از مرد ماں مردم آزار خودش ظالم بود و خود شکایتش می خواست بر تقدیر دوم استحقاق انتقام از سر نبود و تقییدیمین بزمان انتقامش چہ معنیو بر تقدیر اول انچہ بمصالحت زائل میشود قصد انتقام نہ استحقاق او کہ بصلح جرم وستم کردہ ناکردہ نشود پس یمین چرا منتہی گردد اگر برجوع مجرم استحقاق انتقام بر طرف شدے بایستے کہ عفو و تجاوز از تائب نہ عفو بودے نہ تجاوز بلکہ از ظلم اوراباز داشتن وھو باطل قطعاولہذا نزد اہلسنت قبول توبہ واجب اصلی نیست تا آنکہ نزد ائمہ ماترید یہ باآنکہ تعذیب مطیع را محال عقلی دانند در شرح مقاصد فرماید اماقبول التوبۃ فلایجب عندنا اذلاوجوب علی اﷲ تعالی باز دلیل معتزلہ
فاقول:(پس میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں)اولا یہ کہ زید نے جو قسم کھائی کہ میں عمرو کو حاکم کے ہاں پیش کروں گااور پھر قسم کے بعد عمرو سے صلح کرلیتا ہے تو اب دیکھنا ہے کہ عمرو واقعی مجرم تھا اور اس نے زید کے حق میں ظلم کیا تھا یا زید بلاوجہ اپنی مردم آزاری کی عادت پوری کرنا چاہتا تھا تو دوسری صورت میں قسم کی وجہ استحقاق انتقام ہرگز نہ ہوئی کیونکہ عمرو کا کوئی جرم ہی نہیں ہے تو اس صورت میں قسم کو استحقاق انتقام سے مقید کرنے کا کوئی مطلب نہیںاور پہلی تقدیر پر کہ عمرو نے واقعی زید کے حق میں ظلم کیا تھاتو پھر صلح کرلینے پر عمرو سے انتقام لینے کا قصد ختم ہوا نہ کہ اس سے انتقام کا استحقاق ختم ہوا کیونکہ زید کی صلح سے عمرو کا جرم تو ختم نہ ہوا اور کردہ گناہ ناکردہ نہ بن سکاتو جب جرم باقی ہے تو استحقاق انتقام ابھی باقی ہے
حوالہ / References شرح المقاصد المبحث الرابع عشر فی التوبۃ دارالمعارف النعمانیۃ،پاکستان ٢/٢٤٢
#15243 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
آوردہ فرمود اکثر المقدمات مزخرف بل ربما یدعی القطع بان من اساء الی غیرہ وانتھك حرماتہ ثم جاء معتذر الایجب فی حکم العقل قبول اعتذارہ بل الخیرۃ الی ذلك الغیران شاء صفح وان شاء جازاہ ۔علی قاری در شرح فقہ اکبر گوید قبول التوبۃ وھو اسقاط عقوبۃ الذنب عن التائب غیر واجب علی اﷲ تعالی بل کان ذلك منہ فضلا خلافا للمعتزلۃ ۔پس بمصالحت سقوط یمین را وجہے نیست۔
تو قسم ختم نہ ہوگیاگر مجرم کے رجوع کرلینے سے استحقاق انتقام ختم ہوجاتا ہوتو پھر مجرم کی توبہ اور رجوع پر معافی دینا اور در گزر کرنا کیا معنی رکھتا ہے بلکہ اس کی ضرورت ہی نہ رہےبلکہ اب مجرم کو باز رکھنا بھی بے معنی ہوجائے کیونکہ جرم تو خود بخود ختم ہوگیا حالانکہ یہ بات قطعا باطل ہےاسی بناپر اہلسنت ماترید یہ کے ہاں بھی یہی بات ہے حالانکہ وہ مطیع شخص کو سزا دینا محال عقلی جانتے ہیں۔شرح مقاصد میں فرماتے ہیں کہ توبہ کو قبول کرنا ہمارے نزدیك واجب نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالی پر کوئی وجوب عائد نہیں ہوسکتا اس کے بعد معتزلہ حضرات جو کہ اﷲ تعالی پر توبہ کو قبول کرنا واجب جانتے ہیں کی دلیل ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی دلیل کے مقدمات سب شعبدہ ہیں بلکہ ان کا دعوی بھی ایسا ہی ہےکیونکہ یہ قطعی بات ہے کہ جو شخص کسی غیر سے برائی کرے اور اس کے جرمات میں دخل اندازی کرے پھر وہ برائی کرنے والا معذرت خواہی کرے تواس حق والے غیر پر بحکم عقل واجب نہیں کہ وہ اس مجرم کی معذرت کو قبول کرے بلکہ اس غیر کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ معاف ودرگزرکردے یا اس کو سزادےملاعلی قاری نے شرح فقہ اکبر میں فرمایا کہ توبہ کو قبول کرنا بایں معنی کہ توبہ کرنے والے سے اس کے گناہ کی سزا کو ساقط کردینایہ اﷲ تعالی پر عقلا واجب نہیں ہے بلکہ توبہ کو قبول کرنا محض اﷲ تعالی کا فضل ہےاس میں معتزلہ مخالف ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ صلح سے قسم کے ساتھ ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔(ت)
ثانیا علماء مسئلہ شکایت رایك جزئیہ نوشتہ اندزن را گفت اگر ہربدی و شناعت کہ در دنیا است از تو پیش برادرت نگویم بر توطلاق اینجا تصریح فرمودہ اند کہ تا انواع بدی ہائے کہ
ثانیا کہتا ہوں کہ علماء کرام نے شکایت کے متعلق ایك مسئلہ ذکر فرمایا کہایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا"اگر دنیا کی ہربدی کو تیری طرف منسوب کرکے تیرے بھائی سے شکایت نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے"
حوالہ / References شرح المقاصد المبحث الرابع عشر فی التوبۃ دارالمعارف النعمانیہ پاکستان ٢/٢٤٢
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر التوبۃ بشرائطہا مصطفی البابی مصر ص١٥٥
#15244 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
درکمینگاں ودزداں و مکاراں وخونریزاں می باشد از زن ببرادرش نگوید از سوگند برنیاید او اقل انہا سہ نوع بدی ست وہر گز نگفتند کہ چوں قصد انتقام یا استحقاق آوردہ و باہم آشتی کنند یمین منتہی شود باآنکہ تصریح نمودہ اند کہ بابرار ایں سوگند بزہ کارشودوازیں گناہ توبہ را فرمود اند کہ بعد شکایت بہ برادر گوید ایں ہمہ ازجہت سوگند پیش میگفتم ورنہ زن ازینہا مبراست اگرپیش از شکایت اورا خبر دہد کہ حفظ سوگند را چیز ہائے بے اصل بتوخواہم گفت سودند ہد کہ بعد ازیں سخن بربدی کہ گوید بہ بدی نسبت کردہ زن نبود درخانیہ و خلاصہ و بزازیہ وغیرہاست رجل قال لامرأتہ ان لم اقل عنك مع اخیك بکل قبیح فی الدنیا فانت طالققالواان قال مع اخیھا عنھا بما ھومن اخلاق اللئام واللصوص والخادعین والقاتلین یصیر بارافی یمینہ ویاثم بذلك ویمینہ ھذہ تقع علی الکثیر من ذلك واقلہ ثلثۃ انواع من القبحوقال الفقیہ ابو اللیث رحمہ اﷲ تعالی ینبغی للحالف ان یقول عند الاخ بعد ماقال من القبائح انما قلت ذلك
یہاں علماء نے یہ تصریح کی ہے کہ اس قسم کے بعد خاوند کمینے لوگوںچوروںمکاروں اور خونریزی کرنے والوں میں پائی جانے والی بدیوں کوبیوی سے منسوب کرکے اس کے بھائی سے جب تك شکایت نہ کرے وہ قسم سے بری نہ ہوگا اور کم از کم ان بدیوں میں سے تین ضروری ہوں گییہاں علماء کرام نے یہ ہرگز نہیں فرمایا کہ خاوند اپنی بیوی سے انتقام کا قصد کئے ہوئے تھا یا وہ بیوی کو انتقام کا مستحق قرار دئے ہوئے تھا تو اب اگر آپس میں صلح کرلیں تو قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ قصد انتقام یا استحقاق انتقام ختم ہوگیا ہےبلکہ انہوں نے اس شکایت کو گناہ قرار دینے کے باوجود فرمایا کہ وہ اپنی قسم کو پورا کرنے کیلئے یہ گناہ کرے اور پھر شکایت کے بعد اس گناہ سے توبہ کرلےاور بھائی سے شکایت کرنے کے بعد اس کو کہہ دے کہ میں نے یہ باتیں قسم کو پورا کرنے کے لئے کی ہیں ورنہ بیوی ان بدیوں سے بری ہےاور شکایت کرنے سے قبل بھائی کو یہ عذر نہ بتائےاگر اس نے شکایت سے قبل بھائی کو اطلاع دے دی کہ میں قسم کو پورا کرنے کے لئے تجھ سے بیوی کے متعلق بے اصل باتیں کروں گاتو قسم سے بری نہ ہوگاکیونکہ شکایت سے قبل یہ بات بتادینے میں بیوی سے متعلق بدی کی شکایت نہ رہے گیخانیہخلاصہبزازیہ وغیرہا میں ہے کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا کہ"اگر میں تیرے بھائی کو یہ شکایت نہ کروں کہ تیری بہن میں دنیا کی تمام قبیح باتیں ہیں تو تجھے طلاق ہے" تو فقہاء کرام نے اس پر فرمایا کہ"اگر اس شخص نے بیوی کے متعلق اس کے
#15245 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
لاجل الیمین وھی برئیۃ عن ذلك فیکون ھذاالکلام توبۃ منہ عماقال فیھا ویکون بارا در نوازل وتاتارخانیہ و ہندیہ ست ولو قال لہ قبل ذلك لایجوز لانہ لایکون بعد ذلك قول قبیح نظر کنید ایں جایك پہلو گناہ بود ودگر سو طلاق وایں مبغوض ست وآں مغضوب وآشتی محبوب وشرعا مطلوب اگر کارہاوکشودے بمارأیتموبہموں بودے واجب بودے کہ زن وشوئے بہم آمیزند واز سرجنگ وپر خاش برخیزند تااز مبغوض و مغضوب ہردو پر ہیز نداما نگفتند وایں راہ آسان نرفتند پس روشن وعیاں شد کہ آشتی رافع یمین نتواں شد وخود علامہ راایں جااطمینان نفس نبود کہ می گوید واختشے علیہ من الشکایۃ اگریمین بدلالت حال متقید ببقائے سزاواری سزاشدے بعد صلح آں سزاواری نماندے زوال یمین واجب بودے گواز شکایت ترس آزارے مباش مگر علامہ خواست کہ سقوط یمین راعذرے پدید آردوپیداست کہ سوگند پروائے سود وزیاں کسے ندارد اگر زید سوگند خورد کہ زداعمروراخواہد گشت بے گناہے عمرو شفیع سقوط حلف نگرددبلکہ برزید فرض بود کہ سوگند شکندوکفارہ ادا کند وباﷲ التوفیق۔
بھائی کو کمینےچوروںمکاروں اور قاتلوں میں پائی جانے والی بدیاں بتائیں تو وہ قسم سے بری ہوجائیگا اور ایسا کرنے پر وہ گنہگار ہوگااس کی قسم کثیر بدیوں کے متعلق ہے جن میں سے کم از کم تین بدیاں بھائی کو بتانا ضروری ہوگااور فقیہ ابولیث رحمہ اﷲ تعالی نے یہاں فرمایا کہ قسم کھانے والے شخص کو چاہئے کہ وہ بھائی کو بدیوں کی شکایت کرنے کے بعد کہے کہ میں نے آپ سے باتیں قسم کو پورا کرنے کےلئے کی ہیں ورنہ تمہاری بہن(بیوی)ان بدیوں سے بری ہےتو شکایت کے بعدیہ حقیقت بیان کرنا اس کی طرف سے توبہ قرار پائیگیاور قسم اور گناہ سے بری ہوجائے گانوازلتاتارخانیہ اور ہندیہ میں مذکور ہے کہ اگرشکایت سے قبل بھائی کو حقیقت سے آگاہ کردیا تو قسم سے بری نہ ہوگا کیونکہ حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد بیوی سے منسوب بدیوں کی شکایت نہ بنے گیآپ غور کریں کہ یہاں ایك پہلو گناہ کاہے اور دوسری تکلیف دہ چیز طلاق ہےطلاق مبغوض چیز ہے اور گناہ مغضوب چیز ہے جبکہ صلح وآشتی محبوب اور شرعا مطلوب چیز ہےاگر معاملہ وہی ہوتا جو آپ سمجھ رہے ہیں تو یہاں پر خاوند اور بیوی کی آپس میں صلح کرنا اور لڑائی اور ناراضگی کو ختم کرنا واجب ہوتا جس کی بناء پر مبغوض اور مغضوب دونوں سے پرہیز ہوسکتا تھالیکن فقہاء نے ان سے بچنے کے لئے یہ آسان راستہ نہ بتایاتو واضح طور پر
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ٢/٢٢٦
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٤٤٥
#15246 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
معلوم ہوا کہ صلح قسم کو ختم نہیں کرسکتی اور خود علامہ سائحانی رحمہ اﷲ اس بات میں مطمئن نظرنہیں آتے اسی لئے انہوں نے صلح اور زوال قصد ضرر کے ساتھشکایت کرنے سے خطرہکی بات کی ہےکیونکہ اگر قسم دلالت حال کی وجہ سے استحقاق سزا کی بقاء کے ساتھ مقید ہوتی اور صلح کے بعد وہ استحقاق انتقام ختم ہوجاتا ہوتو پھر قسم کا ساقط ہوجانا لازم ہوتا اگرچہ شکایت کرنے سے خطرہ نہ بھی ہوتا مگر علامہ مذکور نے شکایت سے خطرہ کو قسم کے سقوط کےلئے بنانا چاہاحالانکہ ظاہر ہے کہ قسم میں کسی کے نفع و نقصان کی پروا نہیں ہوتیمثلا زید نے قسم کھائی کہ وہ عمرو کو مارے گاتوعمرو بے گناہ ثابت ہوجائے تو اس کی قسم ساقط نہ ہوگی بلکہ زید کو اپنی قسم کی وجہ سے لازم ہوگا کہ وہ قسم کو توڑدے اور کفارہ دےوباﷲ التوفیق۔(ت)
شبہہ سابعہ:بخانہ گزاشتن دوگونہ است موافقہ کہ برضائے پدر باشد ومخالفۃ کہ بے رضائے اووشك نیست کہ حال برارادہ قسم دوم دال ست یعنی خلاف مرضی من بخانہ نگزاری وایں جاواقع قسم اول ست پس شرط حنث متحقق نشد۔
ساتواں شبہہ:کہ بیٹے کو گھر میں چھوڑنا دو طرح ہوسکتا ہےایك موافقت کے طور پر کہ باپ کی مرضی سے ہواور دوسرا مخالفت کے طور پر کہ والد کی مرضی کے بغیرجبکہ قسم کے ارادے کا موجب دوسرااحتمال ہے یعنی والد کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ اس کو میری مرضی کے بغیر گھر میں نہ چھوڑنااور یہاں واقعہ کا تعلق پہلی صورت سے ہے کہ باپ کی رضامندی سے بیوی نے بیٹے کو گھر میں چھوڑا ہے لہذا قسم کے ٹوٹنے کی شرط نہ پائی گئی۔(ت)
اقول اولا :زید برفتن بخانہ عمروراضی نباشد زن را بازدارد او سر ننہد گوید ان دخلت الدار فانت طالق ثلثا آیا ہیچ شنیدہ کہ حنث دریں یمین موقوف برعدم رضائے زید ماند تاآنکہ اگر زید گاہے خودش راضی شدہ زن را دستوری دہد باز بدخول طلاق نیفتند حاشا بلکہ تاحیات زن وشوایں تعلیق ہیچ گاہ زوال پذیر نیست تا بحصول شرط نزول جزاء نشود تا آنکہ اگر زید زن رایك طلاق دہد و بگزارد
اقول(جواب میں کہتا ہوں کہ)اولا زید اگر اپنی بیوی کو عمرو کے گھر سے روکنے کی کوشش کرے اور بیوی باز نہ آئے تو زید قسم کھائے کہ اگر تو عمرو کے گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقیںتو کیا آپ نے کبھی یہ سناہے کہ یہ قسم زید کی ناراضگی میں عمرو کے گھر داخل ہونے سے ٹوٹے گیحتی کہ اگر زید خود راضی ہوجائے اور بیوی سے معاملہ بحال کرلے تو کیا اس کے بعد بیوی وہاں داخل ہوتو طلاق نہ ہوگیہرگز ایسا نہیں بلکہ یہ قسم خاوند اور بیوی کی زندگی بھر کے لئے ہے اور قسم میں مذکور طلاق کی
#15247 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
کہ عدت بگزاردباززن دراں خانہ پائے نہد جزاء فرود آید و محل ندیدہ رائگاں رود کہ زید بلاتحلیل اورابزنے تواں گرفت پس ازاں زن برقد رخواہد برضائے زید یا بے رضائے اوبآں خانہ رود طلاق نشود کہ یمین بیکبار منحل شد کما تقدم عن السراجیۃ والھندیۃ۔
شرط ختم نہ ہوگی جب تك شرط پائے جانے پر جزالازم نہ ہوجائے جس کا حیلہ یہ ہے کہ خاوند بیوی کو ایك طلاق دے کر چھوڑدے اور عدت پوری ہوجائے تو اس کے بعد بیوی عمرو کے گھر داخل ہوتو اس وقت جزاء یعنی طلاق پڑے گی لیکن اس وقت بیوی طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سے وہ طلاق لغو ہوجائے گیاور اب زید یعنی خاوند کو اختیار ہوگا کہ وہ بغیر حلالہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرلے تو اس دوبارہ نکاح کے بعد بیوی چاہے تو عمرو کے گھر داخل ہوسکے گی زید کی رضا سے یا بغیر رضا کے داخل ہواب طلاق نہ ہوگی کیونکہ ایك دفعہ شرط پائے جانے پر قسم ختم ہوچکی ہے جیسا کہ سراجیہ اور ہندیہ کے حوالہ سے گزرچکاہے۔(ت)
ثانیا اگر سوگند ہاکہ برامورنا مرضیہ حالف باشد متقید بعدم رضاشود ان خرجت فانت طالق بعینہ نہد ان خرجت الاباذنی او برضائی فانت طالق بود ایں خلاف اجماع وتصریحات جملہ کتب ست۔
ثانیا یہ کہ لازم آئے گا کہ ناپسندیدہ امور پر قسم کھائی جائے تو وہ قسمیں ناپسندیدگی سے مقید ہوجائیں کہ رضامندی پائی جائے تو قسم ختم ہوجائے مثلا خاوند ناراضگی میں بیوی کوکہے کہ اگر تو باہر جائے تو تجھے طلاق ہےیا اسی طرح یوں کہے اگر تو میری اجازت یا میری رضاکے بغیر باہر جائے تو تجھے طلاق ہےتو لازم آئے گا کہ ان دونوں میں فرق نہ ہوحالانکہ یہ اجماع اور تمام کتب کی تصریحات کے خلاف ہے(ت)
ثالثا حل آں ست کہ دلالت حال برآں ست کہ ایں کار خلاف مرضی حالف ست نہ برآں کہ منع تا خلاف مرضی ماندن ست در ہمچو مقام خشم تابحد توسط باشد انسان را تصور عواقب باز ندارد خودش داند کہ گنجائش رضاو زوال غضب باقی ست آنگاہ امثال تعلیق شدید رامقید باذن میکند کہ بے دستوری من چناں نکنی وچوں خشم بمنتہی رسید رضا در وقتے آئندہ راخیال ہم پیراموں خاطرش نمی گردد وحکم
ثالثا اس صورت میں دلالت حال یہ ہے کہ یہ کام مثلا گھر میں چھوڑناقسم کھانے والے کی مرضی کے خلاف ہے اور یہ دلالت اس پر نہیں کہ اس کام سے منع یعنی گھر میں نہ چھوڑنااس کا عدم رضاتك ہے۔جہاں پر غصہ اور ناراضگی حد اعتدال میں ہو وہاں یہ غصہ انسان کو انجام سے بے خبر نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے کہ غصہ اور ناراضگی ختم ہونے کی اور راضی ہوجانے کی گنجائش باقی ہے تو ایسے موقعہ پر شدید امور سے مشروط قسم کو اجازت سے مقید کیا جاتا ہے کہ میری
#15248 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
موبدمی کند پس تخصیص وتقیید مرابودن درکنار غالبا جزتعمیم وتابید تصورے ہم بذہن نمی باشد ولہذامتقید باذن وغیرہ نمیکند پس معنی سخن آں نباشد کہ بخانہ گزاشتن تاخلاف مرضی من ست نکنی بلکہ مفہوم آن ست کہ بخانہ گزاشتن خلاف مرضی من ست زنہار نکنی و بریں تقدیر گوآیندہ مطابق مرضیش شود حکم مرتفع نشود کہ خلاف مرضی آن وقت بود نہ مرضی موہوم آیندہ وہرگاہ کند قطعا خلاف مرضی وقت دیگر را خلاف مفہوم مباش پس شرط حنث متحقق ست۔
مرضی کے خلاف یہ کام نہ ہو اور جب غصہ انتہائی ہوجائے تو رضا کے حال کو دل میں نہیں لاتا اور قسم میں حکم کو ابدی کردیتا ہےپس اس موقعہ پر تخصیص وتقیید کومراد بنانا تو درکنار وہ غالب طور پر تعمیم اور ابدی حکم کے سوا کسی چیز کا تصور تك نہیں کرتا اس لئے وہ یہاں اجازت وغیرہ سے قسم کو مقید نہیں کرتا۔پس یہاں قسم کایہ مطلب نہیں ہوگا کہ میری مرضی کے خلاف تك اس کو گھر میں چھوڑنے کا عمل نہ کرنا بلکہ اس کامفہوم یہ ہوگا کہ اس کو گھر میں چھوڑنا میری مرضی کے خلاف ہے لہذا یہ عمل نہ کرناتو اس تقدیر پر بعد میں رضامندی سے بھی چھوڑے گی تو قسم کا حکم ختم نہ ہوگا کیونکہ قسم کے وقت مرضی نہ ہونے کا اعتبار ہے نہ کہ آئندہ موہوم مرضی کا اعتبار ہے بلکہ جب بھی یہ عمل ہوگا تو وہ اس قسم کی خلاف مرضی ہی میں ہوگا دوسرے وقت کی مرضی جو قسم کے مفہوم کے خلاف ہے میں نہ ہوگاتو اس صورت میں قسم کا ٹوٹنا متحقق ہوجائے گا۔(ت)
رابعا اگر ازیں تدقیق گزریم غایت آنکہ ہردو معنی متحمل باشد ودر تقیید بدلالت حال شك نیست اما آنجا کہ در تقیید بدلالت حال شك نیست امر محتمل صالح تقیید نتواں شد کہ اطلاق لفظ یقینی ست والیقین لایزول بالشك ولہذا اگر زن شوئے را گفت تو برمن زنے گرفتہ شوئے گفت ھرزن کہ مراہست مطلقہ است ایں زن نیز طلاق شود اگرچہ بظاہر مقصود مرد ارضائے ایں زن مے نماید کہ اگر زنے جز تو گرفتہ ام او را طلاق ست فامامتحمل کہ مقصود سزائے زن بود کہ چرا در حلال بر من خوردہ گرفتی ودلالت محتملہ بسندہ نیست آرے اگرنیت غیرش کردہ ست دیانۃ صحیح باشد در ہدایہ ارشاد می رود واذا قالت المرأۃ لزوجھا تزوجت علی
رابعا اگر تدقیق مذکورہ سے قطع نظر بھی کرلیں تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اطلاق اورتقیید دونوں کے احتمال ہیں اور دلالت حال سے مقید ہونے کے احتمال کی بناپر قسم دلالت حال سے مقید نہ ہوگی کیونکہ قسم کے الفاظ میں اطلاق اور عموم ہے جو کہ یقینی ہے تو یہ یقین محض احتمال اور شك سے ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شك یقین کو زائل نہیں کرسکتااسی لئے مثلا اگر بیوی خاوند کو کہے کہ تو نے مجھ پرکوئی عورت دوسری بیوی بنارکھی ہے تو خاوند جواب میں یوں کہے کہ جو بھی عورت میری بیوی ہو اس کو طلاق ہے تو اس بیوی کو بھی طلاق ہوجائے گی۔تو یہاں بظاہر خاوند کی قسم کا مقصد
#15249 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
فقال کل امرأۃ لی طالق ثلثا طلقت ھذہ التی حلفتہ فی القضاء ووجہ الظاھر عموم الکلام وقد یکون غرضہ ایحاشھا حین اعترضت علیہ فیما احلہ الشرع ومع الترددلایصلح مقیدا وان نوی غیرھا یصدق دیانۃ لاقضاء لانہ تخصیص العام اھ باختصار۔ ایں قدر بسندہ بود فاما توضیح مرام وزیارت وافادت رامثالے چندازیں پہلو نیز بر خوانیم کہ دلالت حال بحال احتمال معتبر نہ داشتہ اند()ہمیں مثال ہدایہ()آنگہ گزشت کہ اگر برخروج زن یا بندہ مطلقا شوگند خرد بے تقیید باذن متقید بزمان بقائے ملك نباشد اقول: زیرا کہ یمکن کہ نزد بندہ یا زن اورا رازے بودکہ بہ بروں شدن بروں افتد وحفاظی وکوچہ گردی زن اہل غیرت رابعد بینونت نیز موجب عار شود مرد ماں گویند ایں زن فلان ست اگرچہ اطلاق بلحاظ ماکان ست بلکہ نخواہد کہ ہمخوابہ خود بعد فراق نیز بکنار دیگرے رود پس از جدائی ہم اورا نگاہ دارند وتکفل نفقہ اش کنند باز تصدیق ایں معنی در حدیث یافتم عبدالرزاق در مصنفہ گویدانبأنا معمرعن الزھری قال سأل رجل صلی اﷲ
اپنی اس بیوی کو راضی کرنا ہے کہ تیرے علاوہ کوئی اور بیوی ہوتو اس کو طلاق ہےلیکن الفاظ کے پیش نظر یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اس بیوی کو اعتراض کرنے پر سزادینا چاہتا ہوکہ اس نے میرے لئے حلال معاملہ میں کیوں مداخلت کی ہے تو ظاہر حال کی دلالت کا احتمال سند نہ بن سکے گا کیونکہ الفاظ میں عموم اور اطلاق ہے جو کہ یقینی ہےہاں اس احتمال کی بناء پر موجودہ بیوی کے علاوہ کسی دوسری بیوی کی نیت کا اظہار کرے تو دیانۃ اگرچہ معتبر ہوگی لیکن قضاء معتبر نہ ہوگیہدایہ میں فرمایا ہے کہ جب بیوی خاوند کو کہے تو نے مجھ پر دوسری بیوی کررکھی ہے تو خاوند اس کو جواب میں یوں کہے کہ جو بھی میری بیوی ہے اس کو تین طلاقیں۔تو اس قسم دلانے والی بیوی کو بھی طلاق ہوجائیگیقضاء یہی حکم ہوگا کیونکہ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ قسم کے الفاظ کا عموم ہے جبکہ ایسے موقعہ پر خاوند کی غرض بھی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ بیوی کو اس کے اعتراض پر سزادینا چاہتا ہے کہ اس نے شرعا حلال کام پر اعتراض کیوں کیا ہے تو کلام کے عموم اور سزادینے کی غرض کے احتمال کے باوجود کسی اور بیوی کی نیت کے احتمال کی وجہ سے یہ قسم دلالت حال سے مقید نہ بن سکے گیہاں اگر دوسری بیوی کی نیت کرے تو اگرچہ وہ دیانۃ معتبر قرار دی جائیگی لیکن قضاء معتبر نہ ہوگی کیونکہ یہ عموم میں تخصیص ہے جبکہ دلالت حال تخصیص نہیں کرسکتی اھ اختصارا۔اس مقصد کے لئے یہ مثال کافی ہے تاہم
حوالہ / References الہدایہ کتاب الایمان باب الیمین فی البیع والشراء الخ المکتبۃ العربیۃ کراچی ٢/٤٨١
#15250 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
تعالی علیہ وسلم فقال الرجل یجد مع امرأتہ رجلا فیقتلہ فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاتسمعون الی ما یقول سیدکم قالوا لاتلمہ یارسول اﷲ فانہ رجل غیور واﷲ ماتزوج امرأۃ قط الا بکر اولا طلق امرأۃ قط فاستطاع احد منا ان یتزوجھا فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یابی اﷲ الا بالبینۃ اھ قلت والسائل ھو سیدنا سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ
ولہذا سہ طلاق دفعۃ کہ گناہ بود وبتفریق از مبغوض شرعی بے حاجت شرع اکثار بروتازیانہ تحلیل مقرر فرمودہ اند وبرمجرد نکاح کفایت نمودہ تاباہم شہد ہمد گر بچشند حکمتش ہمان ست کہ غیرت منداں از تثلیث طلاق باز مانند تابہ تیس مستعار طوق عار نشود والعیاذ باﷲ تعالی بخلاف آنکہ بے اذن من
وضاحت اور فائدہ کو زائد بنانے کے لئے اس پر مزید چند مثالیں پیش کرتا ہوں کہ محض احتمال کی صورت میں دلالت حال معتبر نہیں ہوتاہدایہ کی مثال کے بعد دوسری مثال یہ ہے کہجو پہلے گزرا کہ بیوی یا غلام باہر جانے کو تیار ہو تو اس موقعہ پر بیوی کوطلاق یا غلام کوآزادی کی علی الاطلاق قسم کھانا جو اجازت سے مشروط نہ ہوتو یہ قسم عام اور مطلق ہوگی اور ملك یا نکاح کی موجودگی سے مشروط نہ ہوگیکیونکہ یہاں پر اگرچہ دلالت حال کی وجہ سے اس قسم کے مقید ہونے کا احتمال ہے لیکن یہ احتمال معتبر نہ ہوگا کیونکہ الفاظ میں عموم ہے
اقول اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ قسم کھانے والے کا مقصد ہمیشہ کےلئے بیوی یا غلام کو باہر جانے سے روکناہو کیونکہ ان کے پاس اس کا ایك ایسا راز ہے جوان کے باہر جانے سے افشاء ہوجائے گا اورخفت اٹھانا پڑے گی یابیوی کو ہمیشہ کےلئے باہر نکلنے سے روکنا مقصود ہواگرچہ وہ نکاح سے باہر اور جدابھی ہوجائے کیونکہ غیرت مند لوگ اپنی مطلقہ کی عورت کی کوچہ گردی پر بھی غیرت اور عار محسوس کرتے ہیں کہ لوگ کہیں گے کہ یہ فلاں کی بیوی ہے اگرچہ اس کی بیوی سابقہ زمانے کے لحاظ سے کہتے ہوں بلکہ غیرت منداپنی مباشرت شدہ عورت کو فراق اور طلاق کے بعد بھی دوسرے کی مباشرت میں دیکھنا پسند نہیں کرتےاس لئے طلاق مغلظہ کے بعدبھی وہ اس کو اپنی نگرانی میں رکھتے ہوئے اس کے تمام اخراجات
حوالہ / References مصنف عبدالرزاق حدیث١٧٩١٧ حبیب الرحمٰن الاعظمی بیروت ٩/٤٣٤
#15251 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
بیرون نرود کہ ولایت اذن بانتہائے ملك منتہی شود()آنکہ گزشت کہ بے اذن زن زنے نکنم مقید ببقائے زوجیت نباشد
اقول: ازاں رو کہ مقصود غم نرسانیدن ست بزن وبارہا باشد کہ بعد فراق نیز زناں بتزوج شوہر بزنے دیگر غمگین شوند ایام خود یادمے آید وبجائے خود نشستن دیگرے رنج می رساند بخلاف آنکہ بے اذن زن بیروں نرود ایں متقید شود چنانکہ وجہش بالا بنشتیم()زن را بامردے بیگانہ چانہ زن دید سوگند خورد کہ اگر باز مرد بیگانہ چانہ زنی رسن زنی از گلوفگنی وبخانہ نوچہ نوکر ست کہ باذن مردآمد رفت دارد وزن اورا کارہائے خانگی می فرماید نیز پسر آں عم و عمہ وخالہ زن یا برادر ان مرد برضائے مرد مے آیند یا خود در ہمیں خانہ مے مانند و بازن ہمسخن می شوند مرد بایں ہمہ راضی ست باایں ھمہ اینہا بدلالت حال مستثنی نشوند و زن بعد سوگند اگر بآں نوکر یا ایں قریباں سخن گوید طلاقہ شود در جواہر الفتاوی باب چہارم فتاوی امام مفتی الجن والانس نجم الدین عمر نسفی قدس سرہ الصفی ست رجل رأی امرأتہ تتکلم اجنبیا فقالاگر پیش تو بامرد بیگانہ سخن گوئی فانت طالق فکلمت تلمیذ زوجھا لیس من محارمھا اوکلمت رجلا فی کی کفالت کرتے ہیں پھر اس مضمون کی تصدیق میں نے حدیث میں پائی ہےمصنف عبدالرزاق میں فرماتے ہیں ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ہے انہوں نے فرمایاکہ ایك شخص نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا اور عرض کی ایك شخص ایك بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو قتل کردےتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا تم اپنے آقا کی بات کو نہیں سنتے کہ وہ کیافرمارہا ہے تو اس پر دیگر اصحاب نے عرض کی یارسول اﷲ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) اس شخص کو ملامت نہ فرمائیں کیونکہ یہ غیور شخص ہے خدا کی قسم یہ صرف باکرہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس کی طلاق دی ہوئی عورت کو دوسرا کوئی بھی ہم میں سے نکاح نہیں کرسکتا۔تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اﷲ تعالی قتل کی اجازت نہیں دیتا ماسوائے(قاضی کے ہاں اس کے خلاف)گواہ پیش کرنے کےاھقلت(میں کہتا ہوں)وہ سائل حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ تھےاور اسی غیرت کی وجہ سے ایك ہی دفعہ تین طلاقیں دینا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ شرعا مبغوض چیز کو شرعی حاجت سے زائد استعمال کرنے پر حلالہ کی شرط کو سزا کے طور پر مقرر کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے حلالہ میں دوسرے شخص سے صر ف نکاح کو کافی نہ قرار دیا گیا بلکہ جب تك ایك دوسرے کے مزے کو نہ چکھ لیں حلالہ مکمل نہیں ہوسکتایہ اس لئے تاکہ غیرتمند لوگ تین طلاقیں دینے سے باز رہیں اور خواہ مخواہ دوسرے شخص کے مجامعت کو اپنے گلے میں
#15252 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ھذہ الدار بینھما معرفۃ ولکن لامحرمیۃ بینھما او کلمھا عــــہ رجل من ذوی الارحام و لیس من محارمھا فانہ یقع الطلاق اقول: زیرا کہ محتمل ست کہ مرد باعتماد زن پیش ازیں روادار اینہا بود چوں دید کہ بااجنبی محض ہم سخن می شود در سنش تنگ تر کشید وبانام محرم سخن گفتن مطلقا منع کردپس اطلاق لفظ راتقییدے متقین متعین نشد وباﷲالتوفیق۔
نہ ڈالیںوالعیاذ باﷲاس کے برخلاف اگر قسم کواجازت سے مشروط کیا ہوتو پھر اجازت کی ولایت ختم ہوجانے یعنی نکاح ختم ہوجانے پر قسم ساقط ہوجائیگی()وہ جو گزراکہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تیری اجازت کے بغیر دوسری عورت کو بیوی نہ بناؤں گاتو یہ قسم موجودہ بیوی سے نکاح کی حالت سے مختص نہ ہوگی(بلکہ اس بیوی سے نکاح ختم ہونے کے بعد بھی اس کی اجازت ضروری ہوگی)اقول:(میں کہتا ہوں)اس قسم کا مقصد بیوی کو پریشانی سے بچانا ہے ___کیونکہ بیوی کی پریشانی صرف نکاح کی حالت سے مختص نہیں کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ فرقت کے وقت بھی عورتیں سابقہ خاوند کی دوسری شادی سے غمگین ہوتی ہیںاپنا وقت یاد کرکے اپنے بجائے دوسری کو رہتی دیکھ کر رنج پاتی ہیں____
(غرضیکہ چونکہ بیوی کی پریشانی دوسری عورت کی وجہ سے صرف حالت نکاح سے مختص نہیں بلکہ جدائی کے بعد بھی اس چیز پر وہ پریشان ہوتی ہے لہذا اس پریشانی سے بچانا حالت نکاح کے بعد بھی ہوسکتا ہے لہذا یہ قسم بیوی سے فراق کے بعد قائم رہے گی)اس کے برخلاف اگر خاوند قسم کھائے کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گی تو یہ قسم حالت نکاح سے مقید ہوگی جیسا کہ اس کی وجہ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں۔()بیوی کوغیر شخص سے بے تکلف باتیں کرتے ہوئے پائے تو اس وقت قسم کھائے کہ اس کے بعد اگر تونے بیگانے مرد سے بات کی نکاح کی رسی تیرے گلے سے نکل جائے گی یعنی تجھے طلاق ہوگیجبکہ گھر میں نوکر چاکر ہیں جو خاوند کی اجازت سے گھر میں آتے جاتے ہیں جن کو بیوی گھر کے کاموں کے متعلق ہدایات دیتی ہے
عــــہ:اقول: والاولی کلمت رجلالان الحنث بکلامھما لابکلام غیرھا اذالم تجب منہ۔
اقول:(میں کہتا ہوں)یہاں بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائےعورت نے اس مرد سے بات کی۔کیونکہ عورت کے بات کرنے سے قسم ٹوٹے گی کسی دوسرے کے کلام کرنے سے نہ ٹوٹے گیبشرطیکہ عورت غیر کو جواب نہ دےمنہ(ت)
حوالہ / References جواہر الفتاوٰی کتاب الایمان
#15253 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
قیوں ہی بیوی کے چچا یا پھوپھی زاد یا خالہ زاد یا خاوند کے بھائی خاوند کی اجازت سے گھر آتے ہیں یا اسی گھر میں رہتے ہیں اور بیوی اپنے خاوند کی رضامندی سے ان تمام حضرات سے بات کرتی رہتی ہےاس دلالت حال کے باوجود یہ لوگ اس قسم سے مستثنی نہیں ہوں گے بلکہ بیوی قسم کے بعد گھر کے نوکر یا ان مذکورہ قریبیوں سے بات کرے گی تو اس کو طلاق ہوجائے گی۔جواہر الفتاوی کے باب چہارم میں امام مفتی جن وانس نجم الدین عمر نسفی قدس سرہ کے فتوے ذکر کئے گئے ہیںجن میں یہ ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کسی اجنبی کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی پالیا تو اس نے قسم کھائی کہ اگر اس کے بعد تونے بیگانے شخص سے بات کی تو تجھے طلاقتو اس کے بعد بیوی نے خاوند کے غیر محرم شاگرد سے بات کی یا اس گھر میں آنے جانے والے واقف کار غیر محرم سے بات کی یا بیوی کے غیر محرم رشتہ دار شخص نے بیوی سے بات کرلی تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
اقول:(میں کہتا ہوں)یہ اس لئے کہ قبل ازیں خاوندبیوی پر اعتماد کرتے ہوئے ان مذکور لوگوں کے بارے میں رواداری سے کام لیتا رہاتو جب اس نے بیوی کو خالص اجنبی شخص سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے بیوی کی رسی کو تنگ کرتے ہوئے مطلقا ہر غیرمحرم سے بات کرنا ممنوع قرار دیا تو اس احتمال کے ہوتے ہوئے یہ قسم دلالت حال کی وجہ سے مقید نہ ہوگی بلکہ یہ قسم اپنے الفاظ کے عموم پر باقی رہے گی اور ہر غیر محرم کو شامل ہوگیاور توفیق صرف اﷲ تعالی سے حاصل ہے۔(ت)
شبہہ ثامنہ:ازیں ہم در گزشتیم آخر کم نہ ازاں کہ موافقہ و مخالفہ دونوع تخلیہ ست وارادہ یك نوع تخصیص عام ست کما حققہ فی الفتح ونیت تخصیص عام دیانۃ مقبول ست کما مر انفا عن الھدایۃ گوقضاء پذیر مباش وزن نیز برو اعتبار نتواں کرد لان المرأۃ کالقاضی کمافی التبیین والفتح والشامی پس اگر نیت ایں خصوص کردہ باشد باید کہ عنداﷲ حانث نشود در فتوی التفات بایں قید می بایست لان المفتی بالدیانۃ یفتی کما فی التنویر وغیرہ۔
آٹھواں شبہہ:یہ کہ تمام مذکورہ احتمالات کو نظر انداز کردیں تب بھی کم از کم یہ گنجائش ضرور ہے کہ خاوند کی قسم میں موافق اور مخالف لاتعلقی کی دوقسمیں ہیں اور دونوں میں سے ایك احتمال کا ارادہ کرنا بھی ایك قسم کی تخصیص ہے جس سے عام کو خاص کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں اس کی تحقیق موجود ہےاور عام میں تخصیص کی نیت کرنا دیانۃ مقبول ہے جیسا کہ ابھی ہدایہ کے حوالہ سے گزراہےاگرچہ یہ تخصیص کی نیت قضاء قابل قبول نہیں اور بیوی بھی ایسے معاملات میں قاضی کا حکم رکھتی ہے اس لئے بیوی بھی اس کو معتبر قرار نہیں دے سکتی جیسا کہ تبیینفتح اور شامی میں ہےپس اگرخاوند نے اپنی قسم میں اس تخصیص کی نیت کرلی ہوتو عنداﷲ قسم نہ ٹوٹے گی
#15254 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
جبکہ فتوی دیتے وقت اس قید و تخصیص کو پیش نظر رکھنا چاہئے جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہے کہ مفتی کو چاہئے کہ وہ دیانت پر فتوی دے۔(ت)
اقول: خیرست دیانۃ نیزایں نیت کارندہد موافقہ و مخالفۃ دو نوع تخلیہ نیست بلکہ دو وصف است ونیت وصفی خاص غیر مذکور معتبر نشود چنانکہ نسبت مردے استادہ سوگند خورد کہ بایں مرد سخن نگویم و آزرد کند کہ باایں مرد استادہ ایں نیت لغو باشد اگر گوید باایں مرد استادہ سخن نزند و نیت تخصیص بوقت قیامش کند دیانۃ معتبر ست نہ قضاء کہ وصف در حاضر لغوست وصفت قیام داعی ترك کلام نیست ہمچناں اگر سوگند خورد کہ زن نکند و مرادزن ہاشمیہ یا ترکیہ یا عربیہ یا نسب دار دیانۃ معتبر ست کہ ایں یك نوع زن ست واگر زن مکیہ یاہندیہ یاعربیہ بالمسکن نیت کرد معتبر نیست کہ ایں صفت زن ست وصفت بے ذکر بمسکن عام خیمہ آں ست در فتح القدیر فرمود حلف لایسکن دارفلان وقال عنیت باجرلایصح حتی لوسکنھا بغیر اجر حنث بخلاف مالوحلف لایسکن دارا اشتراھا فلان وعنی اشتراھا لنفسہ فانہ یصدق لانہ احد نوعی الشراء لانہ متنوع الی ما یوجب الملك للمشتری وما یوجبہ لغیرہ فتصح نیۃ احد
اقول(جواب میں کہتا ہوں کہ)کوئی بات نہیںکیونکہ دیانۃ بھی یہ نیت کارآمدنہیں ہےقسم میں موافق اور مخالف یہ دونوں لاتعلقی کی قسمیں نہیں ہیں بلکہ یہ لاتعلق کے دو وصف ہیں جبکہ دو وصفوں میں سے کسی غیر مذکور و صف کی نیت معتبر نہیں ہوتی جیسا کہ ایك شخص کھڑا ہواس کے متعلق کوئی دوسرا یہ قسم کھائے کہ میں اس شخص سے بات نہ کروں گااور اب بعد میں کھڑے ہونے کے وصف کی بابت قسم کو بتائے تو یہ نیت لغو بیکار ہوگیہاں اگر قسم کھڑے ہونے کا ذکر کرتا اور قسم اس نیت پر کھاتا تودیانۃ معتبر ہوسکتی تھی اگرچہ قضاء یہ نیت معتبر نہیں ہے کیونکہ یہ قسم حاضر شخص کے متعلق ہے جبکہ حاضر میں وصف کا ذکر کار آمدنہیں اور پھر کھڑا ہونا ایساوصف بھی نہیں ہے جو قسم کا داعی بن سکے اور بات نہ کرنے کی وجہ بن سکےیوں ہی اگر کوئی قسم کھائے کہ میں بیوی نہ بناؤں گاتو اس سے اگر وہ ہاشمی یا ترکی یا عربی یا کوئی خاص نسب والی عورت مراد لے تو یہ نیت دیانۃ معتبر ہوگی کیونکہ یہ عورت کی اقسام میں سے ایك قسم کی تخصیص ہےاور اگر رہائش کے لحاظ سے کسی عربی یا ہندی یا مکی عورت کے بارے میں یہ نیت کرے تو معتبر نہ ہوگی کیونکہ یہ ایك خاص جگہ والی عورت کے متعلق ہے جو اس کی صفت ہے اور کوئی صفت ذکر کئے بغیر معبتر نہیں ہوسکتیچونکہ قسم صرف عورت کے ذکر پر مشتمل ہے اس میں
#15255 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
النوعین بخلاف السکنی لانھا لاتتنوع لانھا لیست الا الکینونۃ فی الدار علی وجہ القرار وانما تختلف بالصفۃ ولایصح تخصیص الصفۃ لانھا لم تذکر بخلاف الجنسوکذا لو حلف لایتزوج امرأۃ و نوی کوفیۃ او بصریۃ لایصح لانہ تخصیص الصفۃ ولو نوی حبشیۃ او عربیۃ صحت فیما بینہ وبین اﷲ تعالی لانہ تخصیص فی الجنس کأن الاختلاف بالنسبۃ الی الاباء اختلاف بالجنس وبالنسبۃ الی البلاد اختلاف بالصفۃ اھ مختصرا۔
و تركنا علیه فی الاخرین(۷۸) سلم على نوح
مسکنت(رہائش)کاذکر نہیں ہے لہذا اس ذکر کے بغیر یہ قسم خیمہ والی عورت کو بھی عام ہے۔ فتح القدیر میں ہےقسم کھائی کہ فلاں کے گھر سکونت نہ کروں گااور کہا کہ میری مراد فلاں کے گھر کرایہ پر نہ رہوں گاتو یہ نیت صحیح نہیں ہے حتی کہ اگر اس کے گھر میں کرایہ کے بغیر بھی رہائش پذیر ہوا تو قسم ٹوٹ جائے گیاس کے برخلاف اگر یوں قسم کھائے کہ"میں فلاں کے اس گھر میں سکونت نہ کروں گا جو اس نے اپنی ذات کے لئے خریدا ہوتو اس نیت کو مان لیا جائیگا کیونکہ خرید نے کی یہ ایك قسم ہے خریدنے کی دو قسمیں ہیںایك وہ جو اپنے لئے خریدا اور ایك وہ جو اس نے کسی دوسرے کےلئے خریدا ہوتو قسم میں ان دو قسموں میں سے ایك قسم کی نیت درست ہے اس کے برخلاف رہائش(سکنی)کے اقسام نہیں ہیںکیونکہ سکنی(رہائش)کا معنی یہ ہے کہ گھر میں بطور استقرار ہونا جبکہ اس رہائش کی صفات مختلف ہوسکتی ہیں اور صفات کی تخصیص صحیح نہیں ہے کیونکہ یہاں مذکور نہیں ہیںبخلاف رہائش کے کہ اس کے تحت اقسام ہوتے ہیں(غرضیکہ اقسام کی تخصیص بغیر ذکر ہوسکتی ہے لیکن صفات کی تخصیص ذکر کے بغیر نہیں ہوسکتی)اسی لئے اگر کسی نے قسم کھائی کہ کسی عورت سے نکاح نہ کروں گا یعنی بیوی نہ بناؤں گاتو اس قسم میں عورت کوفی یا بصرہ والی مراد لے تو صحیح نہ ہو گی کیونکہ یہ صفت کی تخصیص ہے اور اگر اس قسم میں عورت سے مراد حبشی یا عربی عورت مراد لے تو صحیح ہے اور عنداﷲ بھی یہ نیت صحیح ہوگی کیونکہ یہ جنس میں اقسام کی تخصیص ہے یہ اس لئے کہ جداعلی کے اختلاف کے لحاظ سے نیت کرنا جنس کا اختلاف ہے اور شہروں کے اختلاف کی نیت یہ صفات کا اختلاف ہے اھ مختصرا(ت)
شبہہ تاسعہ:ترك گا ہے بمعنی ابقا آید قال اﷲ تعالی
نواں شبہہ کہ چھوڑناکبھی باقی رکھنے کے معنی میں آتا ہےاﷲتعالی نے فرمایا: و تركنا علیه فی الاخرین(۷۸) سلم على نوح
حوالہ / References فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٠٩
#15256 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
فی العلمین(۷۹) ای ابقینالہ ثناء جمیلا کمافی مجمع البحار وغیرہ وابقاء وجودی ست کہ بقاء وجودی ست۔
فی العلمین(۷۹) ۔ بعد والوں میں ہم نے ان کی اچھی ثناء باقی رکھیجیسا کہ مجمع البحار وغیرہ میں ہےچھوڑناباقی رکھنے کے معنی میں وجودی چیز ہے کیونکہ بقاء وجودی ہے۔(ت)
اقول: ابقاکہ حی قیوم عزجلالہ میکند عند المحققین وجودی باشد امابناء علی مذہب امام اھلسنت القاضی ابی بکر الباقلانی والامامین امام الحرمین والرازی ان البقاء عین الوجود لاامر زائد علیہ فالابقاء ھو الایجاد واما بناء علی مذہب ائمۃ الکشف والشہود من تجدد الامثال فی کل شئی حتی الجواھر فیکون الابقاء ایجاد الامثال کل حین ولہذا چنانکہ اطلاق باری وخالق برغیر او سبحنہ نیست اطلاق قیوم نیز نتواں شد بلکہ علماء بروتکفیر کردہ اند در مجمع الانہر فرمود اذا وصف اﷲ بما لایلیق بہ او نسبہ الی الجھل اوالعجز او النقص او اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمن وغیرہا یکفر (ملخصا)
اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں)ابقا(باقی رکھنا)حی و قیوم(جل جلالہ)کا فعل ہوتومحققین کے نزدیك وجودی ہے اس لئے کہ امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی اور امام الحرمین اور امام رازی کے مذہب پر بقاء عین وجود کا نام ہے اور وجود سے زائد کسی صفت کا نام نہیں ہےلہذا باقی رکھنایہ ایجاد ہوگا جو کہ وجودی ہےلیکن ائمہ کشف وشہود کے مذہب پربقاءہر چیز کی امثال کے تجدد کا نام ہےلہذا ابقااس معنی میں ہر چیز حتی کہ جواہر کی امثال کو ہر لمحہایجادکرنے کا نام ہےاس لئے جس طرح باری اور خالق جیسی صفات کا اﷲ تعالی کے بغیر کسی اور کے لئے اطلاق جائز نہیں اسی طرح قیوم کا اطلاق بھی غیر کے لیے جائز نہیںبلکہ اس کا غیر اﷲ پر اطلاق علمائے کرام کے ہاں کفرہےمجمع الانہر میں فرمایا کہ جو چیز اﷲ تعالی کی شایان شان نہ ہو یا جہالتعجز اور نقص کی نسبت اس کی طرف کرنایا وہ صفات جو اﷲ تعالی کےلئے خاص ہیں ان کا مخلوق پر اطلاق کرناجیسے قدوسقیومرحمن وغیرہا صفات ہیںتویہ کفرہےلہذا یہاں بڑی
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۷ /۷۸ و ٧٩
مجمع البحار تحت لفظ ترك نولکشور لکھنؤ ١/١٤٠
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد ثم ان الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ١/٦٩٠
#15257 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
اینجا احتیاط عظیم باید کہ بعض مردم بایں مبتلاشدہ اند والعیاذ باﷲ تعالی بالجملہ اینست بقائے الہی عزجلالہ فاماانچہ از بشرست جز ترك ازالہ نیست ولہذااگر زرے در کیسہ نہاد و زن را گفت اگر چیزے از وتاصبح باقی مانی طلاق باشیزن ہیچ خرچ نکرد یا برخے بصرف آورد و برخے باقی داشت طلاقہ شود و آں نیست مگر بہ ابقاواز زن نیاید مگر عدم انفاق پس ابقاء نبود مگر ہمیں عدم واگر فعلے بودے و زن خود دراں زر کارے نکردہ است تا آنکہ درکیس نہادن ہم بدست شوہر بود حنث نشدے ہمچناں اگر زید بدست عمرو چیزے ببیع فاسد فروخت قاضی مطلع شدہ برفروخت و گفت اگر امروز ایں بیع شمارا باقی مانم فکذا آفتاب فرورفت وقاضی حکم فسخ نہ کرد حانث شود پس ابقاء نبود مگر عدم فسخ واگر فعلے بودے قاضی خود متعلق آں بیع کارے نکردہ است حانث نبودےپس ظاہر شد کہ ابقائے بشری جزترك ازالہ نیست اگر گوئی ابقاء بفعل ہم تواں شد مثلا زید رابخانہ آورد وبزبخیر بست ایں بستن کہ فعل ست ابقاءشد۔
احتیا ط کی ضرورت ہےبعض لوگ اس بے احتیاطی میں مبتلا ہیں والعیاذ باﷲ تعالیخلاصہ یہ کہاﷲ تعالی کے باقی کرنے کا یہ حکم ہےلیکن کسی انسان کا باقی رکھنا اور چھوڑناازالہ کے ترك کا نام ہےاس کے بغیر کچھ نہیںاسی لئے اگر خاوند نے جیب یا تھیلی میں رقم رکھی ہو اور بیوی کو کہا"اگر تونے صبح تك اس میں سے کچھ باقی رکھا تو تجھے طلاق ہوگی" اب اگر اس نے اس میں سے کچھ خرچ نہ کیا یا کچھ کیا اور کچھ نہ کیا تو اس باقی رکھنے پر طلاق ہوجائے گیتو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بیوی کا رقم کو باقی رکھنا صرف اور صرف یہ ہے کہ اس نے رقم کو خرچ نہ کیاتو معلوم ہوا کہ باقی رکھنا(خرچ نہ کرنا)عدم ہےاگر ابقاء کوئی فعل ہوتااور بیوی نے اس رقم میں تصرف نہ کیا بلکہ صرف خاوندنے وہ رقم تھیلی میں رکھی ہوتو پھر اس صورت میں قسم نہ ٹوٹتی۔یوں ہی زید نے عمرو کے ہاتھ کوئی چیز فاسد بیع کے طور فروخت کی تو یہ معلوم ہونے پر قاضی کے غصہ آیا حکم جاری فرمایا کہ اگر آج تمہاری اس فاسد بیع کو باقی رکھوں تو یہ ہوگااب سورج غروب ہونے تك قاضی نے اس بیع کو فسخ نہ کیا تو حانث ہوجائے گاتو یہاں بھی باقی رکھناصرف فسخ نہ کرنے کانام ہےاگر ابقاء(باقی رکھنا)کوئی فعل ہوتا تو حانث نہ ہوتا کیونکہ قاضی نے اس بیع کے متعلق کوئی فعل اور عمل تو نہیں کیاتو معلوم ہوا انسان کا باقی رکھنا صرف کسی ازالہ کو ترك کرنے کا نام ہے۔اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ کبھی ابقاء(باقی رکھنا)فعل سے بھی حاصل ہوتا ہےمثلا زید کو گھر میں لاکر زنجیر سے باندھ دیاتو یہ باندھنازید کو گھر میں باقی رکھنا ہےجبکہ باندھنا فعل ہے۔ (ت)
اقول: این فعل خود ابقاء نیست بلکہ
اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں کہ)باندھنے کا فعل
#15258 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
مستلزم اوست کہ منع زوال ترك ازالہ است مع شے زائد اگر گوئی در انتفائے ترك برمنع بالقول اکتفاء کردہ اند کما تقدم پس اگر زید را بست و بزبان میگوید بیروں شو باید کہ ترك متحقق نشود کہ نافیش موجود ست وابقا یقینا حاصل پس غیر ترك باشد۔
ابقاء نہیں بنتا بلکہ ابقاء کو مستلزم ہوتا ہے کیونکہ اس فعل سے ازالہ کا ترك منتفی ہوتا ہے تو باندھنے میں ترك ازالہ کے ساتھ ایك زائد چیز یعنی رکاوٹپائی گئیجس میں ترك ازالہ پایا جاتا ہے۔اگر یہ اعتراض ہوکہترك ازالہ کا خاتمہقولا منع کرنے سے کافی ہوسکتاہےجیسا کہ پہلے گزرا ہےتو اب زید کو گھر میں باندھ کر پھر اس کو کہا جائے تو گھر سے باہر ہوجاتو چاہئے کہ اس صورت میں ازالہ کا ترك متحقق نہ ہوکیونکہ زبانی ترك کے باوجودباندھنا اس ترك کی نفی ہے تو یقینا ابقاء یعنی گھر میں باقی رکھناحاصل ہوگیاتو یوں یہ ترکعدم کی بجائے ایك فعل کے وجود سے حاصل ہوالہذا انسانی ابقاءوجودی ہوگیا۔(ت)
اقول: بالادانستی کہ اصل منع بقدر قدرت ست وبمجرد نہی ہنگام تعسرش بسندہ کنند پس آنکہ اخراج تو آنست وبربروں شو اکتفاکرد تارك باشد چہ جائے آنکہ ترك خروج بفعل کرد از و مجرد بروں شود کہ صراحۃ ہزل و استہزاء است بلکہ گوئیا لفظ بے معنی است چہ کار آید پس ابقاء بحصول ترك حاصل ست وبستن امر زائد۔
اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں)اوپر گزر چکا ہےروکنا حسب قدرت مراد ہےصرف قولا اورزبانی روکنا وہاں مراد ہوتا ہےجہاں عملا روکنا ممکن نہ ہولیکن جب عملا روکا جاسکتا ہو تووہاں محض زبانی روکنا اور یہ کہنا کہ باہر ہوجایہ روکنے کا ترك ہے اس پر مزید یہ کہ باندھنے کے فعل سے اس کو نکلنے سے روکنا اور پھر کہنا کہ باہر ہوجاتو یہ صراحۃ مذاق ہےبلکہ اس موقعہ پر یہ کہنا بے معنی اور بیکار ہےلہذا اس صورت میں ابقاء(باقی رکھنا)ترك سے حاصل ہوا اور باندھنے کا فعل اس سے زائد چیز ہے(توثابت ہوا کہ بشری ابقاء محض ترك کانام ہے کسی وجودی چیز کانام نہیں)۔(ت)
شبہہ عاشرہ:سلمنا کہ ترك را عدم امر بخروج بس ست فاما امر بعدم خروج نیز از وجوہ اوست پس ترك دو نوع شد وزیادت معنی در نوع خود قضیہ نوعیت ست پس حلف اگر بواقع ارادہ نوع اقوی کردہ باشد خود بخود
دسواں شبہہ:یہ کہ ہمیں تسلیم ہے کہترك یعنی چھوڑنے کےلئے نکل جانے کا حکم نہ دینا کافی ہے لیکن نہ نکلنے کے حکم سے بھی ترك پایا جاتا ہے پس ترك کی دو قسمیں ہوگئیںایك نکلنے کا حکم نہ دینااور دوسری قسمنہ نکلنے کا حکم دینااور ایك
#15259 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
باید کہ دیانۃ معتبر شود گوپیش زن وسائر ناس مقبول مباش۔
قسم میں معنی کی زیادتی(حکم دینا)خود قسم کو پیدا کرتا ہے یعنی قسم ہونے کے منافی نہیں ہے لہذا قسم کھانے والا اگر اقوی یعنی زیادتی والی قسم کی نیت کرے کہ اس معنی کا ترك ہوتو طلاق ہوگیتو دیانۃ یہ نیت قبول ہونی چاہئےاگرچہ بیوی اور دوسرے لوگوں کے ہاں وہ مقبول نہ ہو۔(ت)
اقول: عدم امر بخروج وامر بعدم خروج متقابل نیست کہ اول در ثانی موجود ست وقسم قسم نتواں شد آرے سکوت مطلق و تکلم باجنبی وتکلم بنافی ہرسہ ازوجوہ تحقق اوست فاما انواعش نتواں شد کہ تکلم وجودی ست نوعے از عدم چساں باشد پس مصداقش نیست مگر ہماں عدم امر بخروج و در سکوت محض چیزے بااونیست ودر تکلمات مقارن بکلام ست وشے بمقارنات متنوع نشود وقاطع شغب آنست کہ درجملہ مسائل ترك کہ بالاگزشت علماء ازیں احتمال کہ مراد از وتکلم بمنافی مراد باشد اصلا خبر ندادہ اند پس روشن شد کہ اور امساغ نیست ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق الحمد ﷲ سخن بمنتہی رسید ودریں مسئلہ نازلہ ابانت علل وسد خلل ورد زلل بذروہ اقصے در ضمن او مسائل اوکثیرہ وفوائد عزیزہ بوضوح پیوست پس بلحاظ تاریخ الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین نامش کردن مناسب ستواﷲ تعالی اعلم۔
اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں کہ)نکلنے کاحکم نہ دینا اور نہ نکلنے کاحکم دینایہ دونوں چیزیں آپس میں منافی نہیں ہیں کیونکہ پہلا معنی دوسرے معنی میں بھی موجود ہے(حالانکہ اقسام کا آپس میں ایك دوسرے کے مبائن ہونا ضروری ہے)لہذا یہ دو قسمیں علیحدہ علیحدہ نہ ہوئیں۔ہاں مطلق خاموشیاجنبی گفتگواور منافی گفتگوان تینوں صورتوں میں ترك متحقق ہوجاتا ہے مگر یہ ترك کی قمسیں نہیں ہیں کیونکہ ترك عدم کانام ہے اور گفتگو یعنی تکلم وجودی چیز ہے تو وجودی چیز عدمی چیز کی قسم کیسے بن سکتی ہےتو معلوم ہوا کہ ترك کا مصداق صرف نکلنے کا حکم نہ دینا ہےاور وہ سکوت جس کے ساتھ کوئی اورچیز نہ ہوا ور مقام کلام میں وہ کلام سے مقارن قرار پاتا ہے اور کوئی چیز اپنے مقارن کے ساتھ قسم نہیں بنتی۔اس قیل وقال کا خاتمہ یوں ہوجاتا ہے کہ ترك سے متعلق جتنے مسائل گزرے ہیں ان میں علماء کرام نے منافی گفتگوکے احتمال کو ذکر نہیں کیااور انہوں نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ"نہ نکلنے کا حکم" تو واضح ہوگیا کہ اس احتمال کا یہاں کوئی دخل نہیں ہے۔تحقیق یوں مناسب ہے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہےالحمد ﷲ یہ بحث اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے قسم کے پڑنے میں یہ ایسی بحث ہے جس میں علتوں کی وضاحتخلل کا سد باب اور غلطیوں کا ازالہ اعلی پیمانے پر ہوا ہے اور اس بحث کے ضمن میں کثیر مسائل اور نادر فوائد بھی پائے گئے ہیںپس تاریخی لحاظ سے اس کا نام الجوہر الثمین فی علل نازلۃ الیمین
#15260 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
رکھنا مناسب ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
نوٹ:خادم آستانہ علیہ دار الافتا فقیر عبید النبی نواب مرزا قادری رضوی غفرلہ ربہ القوی عرضہ دارد کہ اعلحضرت شیخنا مجدد الملۃ دام ظلہ العالی پیش ازیں بتاریخ یازدہم محرم شریف ایں سوال را جوابے مختصرنوشتہ ارسال فرمودہ بودند کہ در کتاب الطلاق مرسوم گشت وبوجہ عروض تپ تفصیل را حوالت بر آئندہ فرمودند کہ بتوفیقہ تعالی ایں فتوی کتاب الایمان ست از مولیناوبالفضل اولنا جناب مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب شمس آبادی دام بالایادی بتاریخ ہفدہم ماہ مبارك محرم محترم نامہ دگر بزبان عربی آمد ودر طے اوفتوی دیوبندیاں تفصیل را لب بہ استدعاکشادند اینجا بعونہ تعالی فتوائے معضلہ پیش ورود ایں نامہ تکمیل یافتہ بود فتوائے دیوبند اگر چیزے بہ دلیل علیل گرایندے جوابش خود اینجا دیدے فاما بتقلید کو رانہ جناب گنگوہی صاحب نہ عبارتے نگاشت نہ بدلیلے چنگ زد ہمیں مجتہد انہ بانگ بے آہنگ زد کہ اصلا توجہ را نشایدآرے لطف جواب سفارشی مے شود کہ اوراذکر کنیم تا بینند کہ مفتیان دیوبندی چساں در بنددیو جہالت اند کہ سوال ہم نفہمند و جواب مجتہدانہ دہند۔
نوٹ:آستانہ عالیہ دارالافتاء کا خادمنبی پاك کا ادنی غلام فقیر نواب مرزاقادری برکاتی رضویاﷲ تعالی اس کا رب قوی اسکی مغفرت فرمائےعرض کرتا ہے کہ ہمارے شیخ مجدد ملت اعلحضرت دام ظلہ العالی نے قبل ازیں گیارہ محرم شریف کو اس سوال کا مختصرا جواب لکھا اور ارسال کردیا جوکہ کتاب الطلاق میں شامل ہے اور بخارکے عارضہ کی بناء پر اس کا مفصل جواب آئندہ پر چھوڑدیا جبکہ استفتاء کا تعلق کتاب الایمان سے ہے جس کو مولانا بالفضل اولنا جناب مولوی غلام گیلانی صاحب شمس آبادی(زمانہ بھر زندہ رہیں)نے ارسال فرمایامولانا مذکور نے یہی سوال عربی زبان میں دوبارہ سترہ محرم الحرام کو بصورت خط بھیجا اور اس کے اندر دیوبندیوں کا تفصیل سے خالی فتوی بھی موجو د تھااﷲ تعالی کی توفیق اور مدد سے یہ تفصیلی مضبوطکتاب الایمان سے متعلق فتویمولانا مذکور کے دوسرے خط سے قبل پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھادیوبند کے فتوے میں اگر کوئی کمزور دلیل ہوتی تو بھی اس مفصل فتوے میں اس کا جواب نظر آجاتالیکن دیوبند کا فتوی تو محض گنگوہی صاحب کی اندھی تقلید ہے اس میں نہ کوئی حوالہ ہے نہ کسی دلیل کاسہارا ہے بلکہ وہی بے ڈھنگی مجتہد انہ بولی ہے جو ہرگزقابل التفات نہ تھی۔ہاں تحقیقی جواب کی خوبی سفارش کرتی ہے کہ اس کو ذکر کردیں تاکہ دیکھنے والے معلوم کرسکیں کہ دیوبندی حضرات کس طرح دیوجہالت کی قید میں ہیں کہ وہ سوال کو سمجھے بغیر ہی اپنا اجتہادی جواب دے رہے ہیں۔(ت)
#15261 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
(نامہ نامی جناب مولنا اینست)
(مولانا مذکور کا خط یہ ہے)
الی الجناب المستغنی عن الالقاب بل الالقاب مطروحہ دون سدۃ الباب مجدد الملۃ والاسلام والدین ناصرالمسلمین باعلاء اعلام الدین مزعج اصول الکفرۃ والمبتدعۃ والفسقۃ والمضلین بسط اﷲ تعالی ظلال فیوضھم علی رؤس المسترشدین الی یوم الدین۔
القاب سے مستغنی بلکہ القاب جن کی چوکھٹ کے سامنے پھینکے پڑے ہیںمجدد الملت والاسلام والدیندین کے جھنڈے بلنداور کفاربدعتی حضراتفساق اور گمراہ لوگوں کے اصول و قواعد کو مٹانے میں مسلمانوں کے مددگار کی خدمت میںاﷲ تعالی قیامت تك ان کے فیوض کے سائے کو رہنمائی حاصل کرنے والوں کے سروں پر پھیلائے رکھے۔
امابعدفقد ورد الجواب المستطاب مع المطلوبات من الرسالۃ والکتاب وانکشف الستروالحجاب جزاکم اﷲ تعالی خیر الجزاء بتعداد المخلوقات ما ھو فی جوالسماء وعلی الارض من الدواب لکن کتب من مدرسۃ دیوبند علی خلاف ذلك فح لابد من الجواب المفصل المزیل للارتیاب لیفتت ترائب المخطی ویدسہ فی التراب ویرتفع الخلاف من البین باجلاب الزین والتحاب وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ والال والاصحاب الی یوم التناد لذوی الخیاب ویوم الریان والشباب لذوی الحجۃ واصحاب الاقتراب۔
امابعدآپ کاجواب مستطاب مطلوبہ قرآن و احادیث و کتب کے حوالوں پر مشتمل موصول ہواحجاب اوپردے اٹھ گئےاﷲ تعالی آسمان اور زمین کی مخلوقات کی تعداد کے برابر آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے لیکن مدرسہ دیوبند سے اس کا خلاف لکھا گیالہذا ضروری ہے کہ اس کا رد مفصل طورپر کیا جائے جو شکوك کو ختم کردے تاکہ خطا کار کے دل کے خیالات پراگندہ ہوجائیں اور اس کو مٹی میں دفن کردے اور اس خلاف کو یہاں سے مقبول اور پسندیدہ امور کے سبب ختم کردے۔ رسوالوگوں کی ذلتاور محبوب اور اصحاب حجت لوگوں کی رونق وشباب کے دن(قیامت)تك حضور الصلوۃ والسلام پر اﷲ تعالی کی رحتمیں ہوں۔
العبد المذنب للاواہ الخامل الجانی القاضی غلام گیلانی الشمس ابادی حفظہ اﷲ تعالی عن ایادی الاعادی۔
منجانب گنہگارپناہ کا خواستگارپسماندہ اور جنایت کا مرتکب بندہ غلام گیلانی شمس آبادیاﷲ تعالی اسے دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھے۔
#15262 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
سوال فتوائے عین سوال مذکور ست و سوال پارسی را بزبان ہندی جواب عجاب چناں: دیوبندی کے فتوی میں بعینہ اس فتوے والا سوال مذکور ہے اور اس فارسی سوال کا عجیب جواب انہوں نے اردو(ہندی)میں دیا ہےجو یہ ہے:
الجواب:زید جبکہ اپنے پسر سے راضی ہوگیا اور خود اس کو گھر رکھا تو اس کی عورت پراس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی البتہ اگر زید ا سکو نکالتا اور اس کی زوجہ اس کو رکھتی تو مطلقہ ہوتی فقط واﷲ تعالی اعلم۔

جواب پر اعلی حضرت کا تبصرہ
در سوال بود اگر بخانہ گزاشتی و در جواب میگوید"اس کو رکھتی" مساکین بیفہم کہ اینجا در گزاشتن وداشتن تمیز ندارند آنہا را گزاشتن بہ کہ داشتن باز حاصل ایں شبہہ ہماں شبہہ اولی ست کہ مرد خود گزاشت نہ زن وایں دو ن ترین شبہہ پیش پا افتادہ نیز ایجاددماغ دیوبند نیست بلکہ بیچارہ مفتی مخطی از سائل آموخت کہ در عبارت سوال زید راضی شدہ در خانہ گزاشت ایمائے باوجود بلے چوں دید کہ گزاشتن و منع نہ کردن بالیقین از زن نیز مستحق ست براہ گریزی گزاشتن رابداشتن بدل کردتاایواد جادادن رابجائے ترك وتخلیہ نشاند وحرام خدا را حلال کردہ داد دیوبندیت از دیوبندیاں ستاند ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی خیر سوال میں تھا کہ"اگر تو گھر میں چھوڑے"۔جواب میں دیوبندی لکھتا ہے"اس کو رکھتی"۔اس مسکین بے فہم مفتی کو یہاں چھوڑنے اور رکھنے کا فرق معلوم نہ ہوسکاایسے مفتیوں کو چھوڑنا بہتر یا رکھنا بہتر پھر یہ شبہہ وہی ہے جس کو ہم نے شبہہ اولی کے طور پر ذکر کیا ہے کہ خاوند نے خود بیٹے کو گھر چھوڑابیوی نے نہیں چھوڑااورکمزورترین اور حقیر سایہ شبہہ دیوبندی دماغ کی ایجاد نہیںبلکہ اس بیچارے نے یہ شبہہ سائل سے سیکھا جس نے اپنے سوال میں"زید نے راضی ہوکر بیٹے کو گھر میں چھوڑا" لکھ کر اشارہ دیاہےپھر جب اس مفتی نے دیکھا کہ چھوڑنا اور منع نہ کرنا بیوی سے یقینا سرزد ہوا ہےتو پھر گزیر کرتے ہوئے اس نے"چھوڑنے" کو"رکھنے" میں بدل دیا تاکہ آنے کے موقعہ دینے کو ترك اور تخلیہ کی جگہ منطبق کرسکے

yahan image hy
#15263 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
خلقہ محمد والہ واصحابہ اجمعین واخردعونا ان الحمدﷲرب العلمین۔
یوں ا س نے اﷲ تعالی کے حرام کردہ کو حلال بنادیا ہے دیوبندیوں کی دیوبندیت بن گئی
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیموصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔
وآخر دعونا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔(ت)(رسالہ ختم)
مسئلہ: از محلہ بہاری پوربریلی / رجب ھ مرسلہ ریاض الدین احمد
کسی سچی بات کے لئے قرآن پاك کی قسم کھانا یا اس کا اٹھالینا گناہ ہے یانہیںآپ کو تکلیف دینے کی اس وجہ سے ضرورت ہوئی کہ ایك شخص سے کہا گیا کہ اگر تو سچا ہے تو قرآن شریف کواٹھالے۔اس کا اس نے جواب دیا کہ میں سچائی پر ہوں لیکن میں قرآن شریف نہیں اٹھا سکتا ہوں کیونکہ قرآن شریف اٹھانا ہر حالت میں گناہ ہےدوسرا فریق کہتا ہے کہ سچا قرآن شریف اٹھانا گناہ نہیں ہے البتہ جھوٹا قرآن شریف اٹھانا گناہ ہےمہر بانی فرما کر مطلع فرمائیے کہ دونوں باتوں میں کون سی بات سچی ہے
الجواب:
جھوٹی بات پر قرآن مجید کی قسم کھانا یا اٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہے اور سچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اور ضرورت ہوتو اٹھابھی سکتا ہے مگر یہ قسم کو بہت سخت کرتا ہےبلاضرورت خاصہ نہ چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از برٹس گائنا براراتیرس وینج ایسٹ بنك مسئولہ عبدالغفور صفر المظفرھ
اگر لوگوں نے کلام اﷲ کو ہاتھ میں لے کر حلف کیا اپنے پیش امام کی تابعداری کاوہ حلف یمین ہوا یا کہ نہیںاور یاکہ شرف ہوا اﷲ تعالی کے ساتھیاگناہ ہوا اور یا کہ ایسا حلف قسم کلام کا ہوا اور قسم کلام اﷲ کا کھانا درست ہے یاکہ نہیں اور جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ غیر اﷲ کی قسم کھانا شرك ہے اور لوگوں نے حلف کیا ساتھ کلام اﷲ کےتو وہ غیراﷲ کا قسم کہا جائے گا یاکیا کہا جائیگافقط۔
الجواب:
کلام اﷲاﷲ عزوجل کی صفت قدیمہ ہے۔صفات الہیہ عین ذات ہیں نہ کہ غیر ذات۔کلام اﷲ کی قسم ضرور حلف شرعی ہے
لانہ من صفاتہ وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ
کیونکہ یہ اﷲ تعالی کی ایسی صفات میں سے ہے جس کے ساتھ قسم کھانا متعارف ہے لہذا قرآن کے ساتھ حلف ایسا ہی ہے جیسا کہ اﷲتعالی کی عزت
#15264 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
لاکالحلف برحمتہ وجودہ وکرمہ لعدم التعارف وھذاھو منات الحلف الشرعی کما فی الدرالمختار وغیرہ۔
عظمت اور جلال کی قسم ہے۔اور اﷲ تعالی کی رحمتجوداور کرم کی قسم کی طرح نہیں جن سے قسم متعارف نہیں ہےاور یہی متعارف ہونا نہ ہونا ہی شرعی قسم کا معیار ہےجیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لے کر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظاحلف و قسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگامثلا کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایساکروں گا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از شمس آباد کیمل پور مسئولہ غلام گیلانی سہ شنبہ شعبان ھ
زید حلف خورد کہ من بخانہ برادر خود ہرگز نان نخواہم خورد ورنہ کذاوکذاباشد بعدہ در تقریب شادی مرد ماں آں زید را برخوردن نان مجبور کردند او گفت کہ من بگفتہ شماایں نان را در تصور خوردم(یعنی حقیقۃ نمی خورم لیکن در تصور خود میخورم و چہ نخوردہ ام اما خوردہ گیر بایدم ایں واقعہ پیش علمائے دیاررفت مگر حکم بحنث داد واستناد او بایں عبارت حاشیہ اصول شاشی در بحث مقتضی بایں الفاظ ست عبارت اصول شاشی ولاتخصیص عن الفرد المطلق لان التخصیص یعتمد العموم ولاعموم للمقتضی وعبارت فصول ایں ست فان قیل فلیراد الطعام الموصوف بصفۃ کذا قلنا ھذا اثبات وصف زائد علی المطلق وھو زیادۃ علی قدر الحاجۃ فلایثبت
زید نے قسم کھائی کہ میں اپنے بھائی کے گھر ہرگز کھانا نہ کھاؤں گا اگر کھاؤں تو فلاں چیز لازم آئےاس کے بعد شادی کی تقریب میں لوگوں نے اس کو کھانے پر مجبور کیا تو اس نے کہا میں تمہارے کہنے پر کھانے کا تصور کرلیتا ہوںیعنی حقیقتا نہ کھاؤں گا صرف اپنے تصور میں کھاؤں گا کیونکہ میں نے کھایا نہیں لیکن کھانے والاسمجھاجاؤں گا۔یہ واقعہ علاقہ کے علماء کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے اس بات پر قسم کے ٹوٹنے کا حکم دیااور ا سکی دلیل اصول شاشی کے حاشیہ کی اس عبارت کو بنایا ہے جو اصول شاشی میں مقتضی کی بحث میں ہے۔اصول شاشی کی عبارت یہ ہے کہ فرد مطلق میں تخصیص جاری نہیں ہوتی کیونکہ تخصیص کی بنیاد عموم پر ہے جبکہ متقضی میں عموم نہیں ہوتا۔اس پر حاشیہ فصول کی عبارت یہ ہے:اگر اعتراض کیا جائے کہ کھانےکے
حوالہ / References اصول الشاشی وفصول الحواشی قبیل فصل فی الامر المطبع المحمدی پشاور ص٢٠٠
#15265 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
بطریق الاقتضاء کصفۃ التعمیم وفیہ ایضاکلام قولہ لعل المراد(الی ان قال)قیل انہ لیس من باب العموم بل لحصول المحلوف علیہ فانہ لو تصور الاکل الخ رابایں حکم حنث درسوال تعلق ست یانہاگر حضور پر نور مطلب ایں عبارت مع شواہد و توابع ونظائر در عبارت فارسی مفصل ارقام فرمایند ہر آئنہ رفع حجاب و فتح باب خواہد شدفقط۔
قول کے بعد مطلق طعام کی بجائے خاص وصف والاطعام بطور مقتضی مراد لیاجائے تو کیسا ہےقلنا(ہم جواب دیں گے کہ)ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ مطلق پر ایك زائد وصف کا اضافہ ہے جو قدر حاجت سے زائد ہے اور مقتضی قدر حاجت سے زائد ثابت نہیں ہوسکتا جیسا کہ مقتضی میں تعمیم کی صفت ثابت نہیں ہوسکتیجبکہ اس جواب میں بھی کلام ہےکیونکہ لعل المرادسے آگےقیل کے تحتکہیہ عموم کے باب سے نہیں بلکہ جس چیز کے متعلق قسم کھائی ہے(محلوف علیہ)اس کا حصول ہےکیونکہ اگر وہ کھانے کے لئے متصور ہوا لختو کیا اس عبارت کا سوال مذکور کے حانث ہونے سے تعلق ہے یا نہیںاگر حضور پر نور اس عبارت کا مطلب بمع شواہدموافق اور نظائر فارسی میں مفصل طور پربیان فرمادیں تو ہر طرح حجاب ختم ہوجائے گا اور اس بحث کی وضاحت ہوجائے گی فقط۔(ت)
الجواب الملفوظ:
روزے پیش امیرالمومنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم یکے گفت کہ فلاں در خواب بامادر آنکس زناکردہ است۔امیر المومنین کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم فرمود اور ادر آفتاب قائم کردہ سایہ اش رادرہ زناز مدعیان علم ہمچوسخن خیلے بعید است پیداست کہ ایں نزول جزارا از حصول شرط ناگزیرست وشرط اکل بود نہ تصور او وبمجرد تصور تحقق اکل بداہۃ مخالف عقل است ہیچ صبی عاقل گمان نتواں برد کہ ہر کہ تصور
ایك دن حضرت علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے سامنے ایك شخص نے کہا کہ فلاں شخص نے خواب میں دوسرے شخص کی ماں سے زنا کیا ہےتو حضرت امیرالمومنین کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا کہ اس شخص کو دھوپ میں کھڑا کرکے اس کے سایہ پر کوڑے ماروغرضیکہ ایسی باتیں علم کے مدعی لوگوں سے بعید ہیںکیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جزا کے پائے جانے کے لئے شرط کا پایاجانا ضروری ہوتا ہےجبکہ سوال میں کھانے کی شرط کو ذکر کیا گیا ہے تو کھانا
حوالہ / References اصول الشاشی وفصول الحواشی قبیل فصل فی الامر المطبع المحمدی پشاور ص٢٠٠
#15266 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
خوردن کرد حقیقۃ خورد واگر چناں بودے فقر و فاقہ از جہاں برخاستے وحکمت الہیہ کہ باختلاف لزوم در رزق ست کہ و لو بسط الله الرزق لعباده لبغوا فی الارض و لكن ینزل بقدر ما یشآء معاذ اﷲ از ھم پاشیدے وآنکہ از حاشیہ اصول شاشی منقول شد معنیش آنست کہ در(أکلت) اقتضائے طعام از جہت تحصیل محلوف علیہ ست زیرا کہ اکل فعل متعدی ست وفعل متعدی بے مفعول بہ صورت نہ بند واینجا مفعول بہ طعام ست تا آنکہ اگر اکل بے طعام صورت بستے حنث بے اوحاصل شدے واذ لیس فلیس اینجا بر معنی باطل حمل کردن در چہ مرتبہ از جنون ست نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیمواﷲ تعالی اعلم۔
شرط ہوگا نہ کہ تصور شرط ہوگاکھانے کے محض تصور کرلینے سے کھانا متحقق نہیں ہوتایہ بات ہر عقلمند بچہ بھی جانتا ہے اور ایسا ہونا بداہۃ عقل کے خلاف ہےکہ کوئی کھانے کا تصور کرے تو حقیقی کھانا ہوجائے گا۔اگر ایسا ہی ہوتو پھر دنیا سے فقر و فاقہ ختم ہوجائےاور رزق میں تفاوت کی یہ حکمت معاذاﷲ ختم ہوجائے جس کو اﷲ تعالی نے یوں بیان فرمایااگر اﷲ تعالی سب کےلئے رزق کو کشادہ کردے تو لوگ زمین میں بغاوت کردیں لیکن وہ بقدر مشیت رزق اتارتا ہے۔اور اصول شاشی کے حاشیہ سے جو نقل کیا گیا اس کا معنی یہ ہے اکلت (میں کھاؤں)کا فعل طعام کا مقتضی ہے تاکہ اس قسم والے کی قسم سے متعلق چیز معلوم ہوسکے کیونکہ اکل(کھانا) متعدی فعل اور کوئی متعدی فعلمفعول بہ کے بغیر نہیں پایاجاسکتا جبکہ یہاں کھانے کا مفعول بہ طعام ہے حتی کہ اگر کھانا بغیر طعام متصور ہوسکے تو پھر کھانے کے بغیر قسم ٹوٹ جائےتو جب کھانا بغیر طعام متصور نہیں ہوسکتا تو طعام کے بغیر قسم بھی نہ ٹوٹے گی۔یہاں پر شخص مذکور نے جو معنی مراد لیا ہے۔وہ غلط اور باطل ہے اور اس کو مرادلینا جنون سے کم نہیں ہےہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از مدراسمعیل صاحب از مقام پکاسن ملك میواڑ محلہ مومناں صفرھ
چند شخص نے مسجد کے اندر کہا کہ جو شخص بیٹی پر روپیہ لے یاقرضدار کے یہاں کھاناکھائے تو کلمہ شریف اور قرآن سے پھرے تو اس کا کاغذ بھی لکھا مگر وہ کاغذ بھی پھاڑڈالا اور وہی کام کرنے لگ گئے ان کے واسطے کیا حکم ہےبینواتوجروا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ٤٢ /٢٧
#15267 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
الجواب:
بیٹی پر روپیہ لینا ناجائز ہے اور قرضدار کے یہاں کھانا کھانا اگر قرض کے دباؤ سے ہے تو وہ بھی ناجائز ہےاور جنہوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ جو ایساکرے وہ کلمہ شریف اور قرآن شریف سے پھرےپھر اس اقرار سے پھر گئے اور وہ کاغذ پھاڑ ڈالا ان میں سے جس کے خیال میں یہ ہو کہ واقعی ایسا کرنے سے قرآن مجید اور کلمہ طیبہ سے پھر جائے گا اور یہ سمجھ کر ایسا کیا وہ کافر ہوگیا اوراس کی عورت نکاح سے نکل گئی نئے سرےسے اسلام لائےاسکے بعد عورت اگر راضی ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرے ورنہ مسلمان اسے قطعا چھوڑدیں اس سے سلام وکلام اس کی موت وحیات میں شرکت سب حراماور جوجانتا تھا کہ ایسا کرنے سے قرآن مجید یا کلمہ طیبہ سے پھرنا نہ ہوگا وہ گنہگار ہوا اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے کقولہ ھو برئ من اﷲ و رسولہ ان فعل کذا(جیسا کہ وہ یوں کہے اگرایسا کروں تو اﷲ تعالی اور رسول اﷲ سے بری ہو جاؤں۔ت واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا: ازمولوی ضیاء الاسلام صاحب پیش امام جامع مسجد آگرہ ربیع الاول شریف ھ
فرازندہ رایت شریعت و مروج احکام فطوت دام عظمۃ بعد سلام سنت الاسلام کے واضح رائے عالی ہوکہ براہ کرم جواب بہت جلد روانہ فرمائیے گا از حد ضرورت ہے:
()ایك جماعت نے متفق ہوکراور قرآن شریف ہاتھوں پر رکھ کر قسم کھائی کہ ہم سب آدمی اپنی مستورات کو قبریں وتعزیہ و شادی وغیرہ کے خلاف شرع رسوم میں نہ جانے دیں گے اور اگر کوئی اس کے خلاف کرے گا اس کے ساتھ کھانے پینے کا تعلق اور حصہ وغیرہ کالین دین نہ کریں گےاور نہ اس کے جنازہ میں شریك ہوں گےیہ قسم قرآن شریف ہاتھوں میں لے کر کھائیبعد دو روز کے ایك شادی ہوئی تو کچھ لوگوں نے متفق ہوکر اپنی عورتوں کو خود بھیج دیا اورکچھ لوگوں نے قسم کی پابندی کیاب جن لوگوں نے اس عہد کو توڑدیا وہ لوگ از روئے شرع کس جرم کے مستحق ہیں۔
()یہ جو قسم کھاکر وعدہ خلافی کرگئے ہیں وہ کسی معاملہ میں حکم(پنچ ازروئے شرع ہوسکتے ہیں یا نہیںاور گواہی ان کی درست ہے یانہیں
()جولوگ اپنی قسم پر قائم ہیں ان کی یہ حقارت کرتے ہیں اور طعنہ زن ہوتے ہیں اس کے وہ مواخذہ دار ہوں گے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
()وہ شادی جس میں ان لوگوں نے اپنی عورتوں کو بعد قسم کے بھیجا اگررسوم خلاف شرع پر مشتمل تھی تو
#15268 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
ان پر دوہراگناہ ہواایك ایسی جگہ اپنی عورتوں کو بھیجنے کا دوسرا قسم توڑنے کا۔
و احفظوا ایمانكم وقال اﷲ تعالی قوا انفسكم و اهلیكم نارا
اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا ہے: اپنی جانوں اور اہل کو آگ سے بچاؤ(ت)
ان پر فرض ہے کہ توبہ کریں اور آئندہ ایسی حرکت سے باز رہیں اور گواہی سنی جائے۔
()اگر وہ لوگ توبہ نہ کریں تو ایسوں کو نہ حکم بنایا جائے نہ ان کی گواہی سنی جائے۔
()ضرورمواخذہ دار ہیں اور شدید بلکہ معاملہ شرعی ودینی ہے اس میں عہد الہی کو قائم رکھنے والوں کو بر ا جاننا اور قائم رہنے پر طعنہ کرنا معاذاﷲ اسلام میں فرق آنے کا باعث ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:ایك شخص نے کسی سے غصہ میں آکر کہا کہ تیرے مکان کا کھانا پینا مجھ پر حرام ہےیاکہا کہ تیرے مٹکے کا پانی حرام ہے تو شرع شریف میں ان کا کیا حکم ہے
الجواب:
یہ قسم ہے اگر اس کے گھر کھائے پئے گا یا دوسری صورت میں اس کے مٹکے کا پانی پئے گا قسم کا کفارہ دینا آئے گا پھر اگر اس سے ترك علاقہ خیر ہوتو چاہئے کہ قسم توڑے اور کفارہ اداکرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازڈاکخانہ راموچکماکول ضلع چٹاگانگ جمادی الآخرہ ھ
کوئی شخص کہے کہ اگر تم سے بولوں یا تمہارے مکان جاؤں یا یہ چیز کھاؤں تو میرے حق میں حرام ہے یاصرف یہ کہنا حرام ہےکیا یہ کہنے سے حرام ہوجائے گااگر حرام ہوتو اس سے بری الذمہ ہونے کی کیا صورت ہے
الجواب:
ہاں استحسانا یہ صورت حلف کی ہے اور یمین تحریم حلال ہی ہے اس کہنے کے بعد اگر اس سے بولا یا
#15269 · الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ (قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
گھر گیایا وہ چیز کھائی تو قسم ٹوٹ جائے گیکفارہ دینا ہوگا
ھذاھو الاستحسان کما فی ش عن النھر والفتح عن المنتقی وما فی الخلاصۃ فالبحر فالدر قیاس والتقدیم للاستحسانواﷲتعالی اعلم۔
یہ استحسان ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں نہراور فتح کے واسطہ سے منتقی سے منقول ہے اور جوخلاصہ میں پھر بحر اور پھر درمختار میں ہے وہ قیاس ہے جبکہ استحسان کو تقدم حاصل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
__________________
#15270 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
باب النذر
(نذر کابیان)
مسئلہ:سید پرورش علی صاحب از متولی ٹولہ سہسوان ضلع بدایوں ربیع الآخر ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی گائے جنی تو انہوں نے کہا کہ یہ بچھیا پال کر ننھی کودینگےاب وہ سال بھر کی ہوئیبہت خوب ومرغوبدیکھ کر بے ساختہ کہا کہ اﷲ کی نذرکریں گےننھی کو دینا یا د نہ رہانذر ہوئی یانہیںخریدار پہلے سات روپے قیمت تجویز کرتے ہیں کہ یہ گائے دس بارہ سیر دودھ کی ہوگیاس کا بدل قربانی کیجیواگر نذر ہوگئی تو بدل جائز ہے یانہیںاگرجائزہے تو کیا کتنا ہوگا
الجواب:
حضرت مولنا سیدصاحب دامت افضالکمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالی وبرکاتہ۔اس لفظ سے کہ"اﷲ کی نذر کریں گے"نذر نہ ہوئی محض وعدہ ہوااور وہ کہنا کہ"پال کرننھی کودیں گے"اس سے بھی ہبہ نہ ہوا یہ بھی ایك ارادہ کا اظہار تھامگر اﷲ عزوجل سے جووعدہ کیا اس سے پھرنا بھی ہرگز نہ چاہئےقرآن عظیم میں اس پر سخت وعید فرمائی ہےافضل یہ ہے کہ کسی فقیر کو ہبہ کرکے دوایك روپے میں اس سے خرید کر ننھی کودے دیجائے کہ دونوں وعدے پورے ہوجائیںواﷲ تعالی اعلم۔لفظ نذر جس طرح مذکور ہوا قربانی کے لئے خاص نہیںہاں اگر یہ نذر کرے کہ اﷲ عزوجل کے نام پر قربانی کردے گا تو قربانی ہی واجب ہے بدل ناممکن ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
#15271 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
مسئلہ۲:مسئولہ عبدالکریم ہاشم لاکہ کوٹھی مقام بدامپور ڈاك خانہ رانگ دیٹہ ضلع مان پور روز پنجشنبہ تاریخ ربیع الاول ھ
افضل الفضلا عالم یگانہ روز گار جناب مولنا صاحب مدظلہ العالیبعدادائے آداب وتسلیمات بصدتعظیم و تکریم وہدیہ سلام مسنون الاسلام معروض خدمت سراپابرکت ہے کہ فدوی نے اپنے کارخانہ لاکہ کوٹھی میں یوم ابتدا کاروبار سے مسلم ارادہ کرلیا تھا کہ کارخانہ مذکور میں جو کچھ نفع ہوگا اسکے سولہ حصہ میں ایك حصہ خاص جناب سیدنا و مولنا پیرد ستگیر غوث الثقلین جناب محی الدین عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اﷲ علی مرقدہ وقدس اﷲ سرہ کا بطور تبرك نیاز کیا تھا اور ہے اور یوم ابتدا کاروبار سے بھی کہ جمع خرچ میں بھی ایك کنہ وہ جدابنام نامی اسم گرامی محب صمدان جناب سید محی الدین عبدالقادر صاحب جیلانی قدس اﷲ سرہ کے نام پاك سے موسوم کیاگیا ہے اور اب زمانہ اس کا چند سال کا ہوتا ہے کہ روپیہ نفع کا بھی جمع ہوگیا ہے تصدیعہ وہ خدمت کہ وہ روپیہ کن کن مصارف دینی میں خرچ ہوسکتا ہے یوم ابتدا کاروبارسے آج تك کوئی خاص ارادہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ تھا کہ وہ نفع روپیہ فلاں کار خیر میں خرچ کیا جائے گااب خلاصہ دریافت مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی مسجد بے مرمت اور ویران پڑی ہے او رمسلمان یہاں کے بہت غریب ہیں جس سے مرمت کا ہونا بہت دشوار ہے تو ایسی حالت میں جو روپیہ نفع کا ہے اس کو مصارف مسجدمیں خرچ کیا جاسکتا ہے کہ نہیںایسی حالت میں علمائے دین کا کیا اتفاق ہے اور علاوہ اس کے کن کن مصارف میں وہ خرچ کیا جاسکتا ہے بواپسی ڈاك جواب سے سرفراز فرمادیںفقط۔
الجواب:
نیت کرنے والوں کو مولی تعالی جزائے خیر دے بہت محمودنیت ہے اور ہر دینی مصرف میں اسے صرف کرسکتے ہیں مسجد ویران کی آبادی نہایت اہم کام ہے اس میں صرف کرنا مقدم ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: مرسلہ محمد ساجد علی شاذلی سلہٹی ضلع تیر پورہ ربیع الاول شریفھ
ماقولکم دام فیضکم اس میں بشوق حصول مطلوب غائب حاضر ہوتے یا لاولد واسطے فرزند کے یا مریض واسطے شفا کے وحاجات دینی و دنیوی کے واسطے یا فتح مہمات کے واسطے اﷲ تعالی میری مقصود حاصل کرےپس واسطے اﷲ تعالی اتنا روپیہ یا قندیل یا بتی سراج کی یا شطرنجی یا مصلی یا طعام یا قربانی نذرﷲ فی سبیل اﷲ ماننا معین کرکے واسطے مسجد مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کےاور علماء و فقرا اور مساکین کے واسطے اہل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درست ہے یانہیںاگر مقصود حاصل ہوئے پس ایسی نذر کے اسباب ارسال کرنا امانت دار کی معرفت سے ضرور ہے یانہیںاگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ارسال نہ کرکے غیر ملك مکہ مدینہ منورہ کے علماء فقرا کو دیوے کھلاوے درست یا نہیںاور ناذر کے ذمہ سے ساقط
#15272 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
ہوگا یانہیںاگر کوئی اس حیلہ بہانہ سے منع کرے اور راہ میں ڈاکے چوری ہوتا ہے ارسال نہ کرنا لازم ہے اور بعض امانتدار خیانت کرتا ہےایسے احتمال گمان سے روکنا مال نذر کاردرست ہے یانہیںاگر کوئی شخص مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی تشبیہ بھوت خانہ کالی گھر کے مثل کہے اس کا کیا حکم ہےبدتعظیم بے ادب کلام ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
وہ نذر بلاشبہہ جائز ہے اور نذرکا پورا کرنا واجبقال اﷲ تعالی و لیوفوا نذورهم (اﷲ تعالی نے فرمایا:اپنی نذروں کو پورا کرو۔ت)اور جب نذر میں تخصیص مساجد طیبہ حرمین شریفین کی کی ہے تو وہیں بھیجنا انسب ہے اگر آسان ہواور اگر یہیں کی مساجد میں صرف کردے جب بھی حرج نہیں کہ تعیین مکان نذر میں نامعتبر ہے دونوں شہر کریم کی نسبت وہ کلمہ کہنا ضرور گستاخی و توہین و کلمہ کفر ہے اور نذر پوری کرنے سے جو شخص رد کرے وہ مناع للخیر (بھلائی سے روکنے والا۔ت)ہےاور ایسے ناذر کو جو خاطی کہے خود خاطی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: نورمحمد ریاست بہاول پور اسٹیشن صادق آباد ڈاك خانہ اختر پور ضلع خان پور ربیع الآخر ھ
اگر بدرگاہ خداوند کریم سوال کیا جائے کہ مجھ کو فرزند عطاہو یا بیماری دفع ہو یا قرض ادا ہو تو اس قدر خیرات فی سبیل اﷲ بارواح رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا حضرت پیر دستگیر یا ولی اﷲ کردوں گا یہ نذر جائز ہے یانہیںفقط والسلام۔
الجواب:
بلاشبہہ جائز ہےاور اس کا کرنا واجبقال اﷲ تعالی و لیوفوا نذورهم (ا ﷲتعالی نے فرمایا:اپنی نذریں پوری کرو۔ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: مرسلہ غلام محی الدین ملازم طبع کریمی ربیع الآخرھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کی نانی نے نیاز مانی کہ اگر میرے نواسی پیداہوگی تو میں چہل تنوں کی گائے ذبح کروں گیچنانچہ ایك مدت کے بعد لڑکی پیدا ہوئیاس کے پیداہونے کے بیس روز بعد نانی کاانتقال ہوگیااب لوگ لڑکی کے والدین سے کہتے ہیں
#15273 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
کہ یہ نیاز دلواؤاور یہ نیاز ان شرائط سے دلواؤ کہ ایك گائے خریدواس کے سہرا باندھو اور فقیروں کا گروہ خاص اس نیاز کے واسطے مخصوص ہے ان کو ببلواکر ان کے سر گروہ کو جوڑا پہناؤپھر گائے چہل تنوں کی ذبح کی جائے اس کو پکاکر مع روٹی کے فقیروں کو دے دیا جائے وہ جو کچھ اس میں سے تم کو واپس دے دیں لے کر اپنے صرف میں لاؤبعد اس کے کوئلے بہت سے دہکاکر زمین پر بچھائے جائیں ان انگاروں پر وہ فقیر لڑکی کوگود میں لے کر لوٹیں گے اور پاؤں سے گھوندیں گے آگ کا کچھ بھی اثر ان کے بدن پر نہ ہوگالہذا نوشتہ بالامعنوں سے شرعا کیا کرنا چاہئےبینواتوجروا۔
الجواب:
چہل تن چالیس شہداء ہیںاگر منت سے یہ مراد تھی کہ گائے مولی عزوجل کےلئے ذبح کرکے اس کا ثواب ان شہیدوں کو پہنچایا جائے تو وہ نذر واجب ہوگئی عورت کے ترکہ سے ادا کی جائے تو بہتر ہے یعنی گائے مولی عزوجل کے نام پر ذبح کرکے اس کا گوشت مساکین مسلمین کو تقسیم کردیاجائے اور وہ لہو ولعب کہ سوال میں مذکور ہے باطل ومردود ہےاگر منت ماننے والے کے ذہن میں یہی صورت با زیچہ تھی جو ملنگوں کا معمول ہے وہ منت ہی سرے سے باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا:از باگ ضلع امچہرہ ریاست گوالیار مکان منشی اوصاف علی صاحب سب انسپکٹر مرسلہ شیخ اشرف علی صاحب پنشنر ریاست کوڑجمادی الاولیھ
()زید نے نذرمانی کہ اگر میرا فلاں کام اﷲ کردے گا تو میں مولود شریف یا گیارھویں شریف وغیرہ کروں گاتو کیا اس کھانے یا مٹھائی کو اغنیاء بھی کھاسکتے ہیں
()زید نے یہ نذر مانی کہ اگرمیرا کام ہوجائے گا تو میں اپنے احباب کو کھانا کھلاؤں گاتو کیا اس طرح کی منت ماننا اور اس کا ادا کرنا زید پر واجب ہوگا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
()مجلس میلاد و گیارھویں شریف میں عرف و معمول یہی ہے کہ اغنیاء و فقراء سب کو دیتے ہیں جو لوگ ان کی نذر مانتے ہیں اسی طریقہ رائجہ کا التزام کرتے ہیں نہ یہ کہ بالخصوص فقراء پر تصدقتو اس کا لینا سب کو جائز ہےیہ نذورفقہیہ سے نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
()یہ کوئی نذر شرعی نہیںوجوب نہ ہوگااور بجالانا بہترہاں اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں تو وجوب ہوجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
#15274 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
مسئلہ:از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی کہے یعنی منت مانے کہ جان کا بدلہ صدقہ مسجد میں لے جائینگےاور اسی کو بعض یوں کہتے ہیں کہ جان بچ جائے یا کام بن جائے تو نذر اﷲ مصلی کو کھلائیں گےتو یہ جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
مساجد میں شیرینی لے جائیں گے یا نمازیوں کو کھلائیں گےیہ کوئی نذر شرعی نہیںجب تك خاص فقراء کے لئے نہ کہے اسے امیر فقیرجس کو دےسب لے سکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از چوہر کوٹ بارکھان ملك ببلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ربیع الاول شریفھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
اگر کسے نذر کردکہ فلاں حاجت من برآید بارواح فلاں مشائخ برائے اﷲ فلاں نر گاؤ یا گو سفند خواہم کشت یا بدہم چوں حاجت اوبرآمد اکنوں گوید کہ آں نرگاؤ کہ نذر کردم بدیگر گوسفنداں بدل کردہ خیرات کنم آیا منذورہ نرگاؤبعوض دیگر گوسفند بدل کردن جائز ست یاخود آں نرگاؤ راخیرات بکند۔ اگرکوئی یہ نذر مانے کہ میری فلاں حاجت پوری ہوجائے تو فلاں مشائخ کی روح کی برکت سے اﷲ تعالی کے لئے فلاں بیل یا فلاں بکرے کو ذبح کروں گااور جب حاجت پوری ہوجائے تو وہ کہے کہ فلاں بیل کے بدلے میں چند بکرے خیرات کردوں تو کیا بیل کے بدلے چند بکرے دینا جائز ہے یا وہی بیل جس کی نذر مانی تھی دینا ہوگا(ت)
الجواب:
نذر کہ برجانور معین واقع شد تبدیلش روانیست قال تعالی و لیوفوا نذورهم ۔واﷲ تعالی اعلم۔
نذر میں جو جانور معین کیا جائے اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔اﷲ تعالی نے فرمایا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنی نذریں پوری کریں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از سکندر پور ضلع ببلیاپائی گلی مسئولہ محمد حسین وعطا حسین رمضان المبارك ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شہید صاحب مزار بزرگ کی قبر شریف خام ہے اور زید نے نیت کی کہ میری مراد پوری ہوتو مزار شریف پختہ اینٹ سے بنوادوں گااﷲ تعالی نے ببرکت
حوالہ / References القرآن الکریم ٢٢ /٢٩
#15275 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
شہید صاحب مراد پوری کردی اور اینٹ نئی موجود نہیں بلکہ زید کے باغ کے اندر ایك دیوار ہے اس دیوار سے اینٹ لے کر مزار شریف بنواسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
مزار پختہ بنانے کی منت شرعی منت نہیںاس کو پورا کرنا شرعا واجب نہیںوہ دیوار جو اس کے باغ میں ہے اگر اس کی ملك ہے تو اس کی اینٹوں سے مزار بنواسکتا ہے جبکہ وہ کسی دیوار ناپاك جگہ استعمال میں نہ آئی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:از مانگل لکہڑی ضلع گرگاواں ڈاکخانہ دھینار ریاست دوجانہ مرسلہ حافظ غلام کبریا صاحب پیش امامشوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین بزرگوں کی منت ماننا کیسا ہےبعضے کہتے ہیں یہ تعظیم اﷲ کے واسطے ہے غیر کونہ چاہئے۔
الجواب:
بزرگوں کی منت حقیقۃ مولی عزوجل ہی کے لئے منت ہوتی ہے اور بزرگوں کو ایصال ثواب کرکے ان سے تقرب بغرض توسلاس میں شرعا کوئی حرج نہیں
کما افادہ العلامۃ عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی فی الحدیقۃ الندیۃ۔واﷲتعالی اعلم۔
جیسا کہ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے اسے حدیقہ ندیہ میں بیان فرمایا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: صفرھ
اگرکوئی شخص منت مانے کہ میرا فلاں کام ہوجائے گا تو میں پانچ روپے کا غلہ محتاجوں کو تقسیم کروں گااب تقسیم کے وقت کسی غریب کو کپڑے کی حاجت ہے تو کپڑا بنادینا اور حاجت رفع کرنا ادائے نذر کے لئے کافی ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
پانچ روپے یا پانچ روپے کا غلہکپڑاکوئی چیز محتاج کو پہنچ جائے۔کپڑا اگر سلواکردیا تو جوسلائی میں جائے گا مجرانہ ہوگا۔
فی الدرالمختار نذران یتصدق بعشرۃ دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ
درمختار میں ہے کہ اگر کوئی نذر مانے کہ میں دس درہم کی روٹی صدقہ کروں گا تو اگر اس نے روٹی کے بجائے
#15276 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
جاز ان ساوی العشرۃ کتصدقہ بثمنہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
دس درہم کے برابر کوئی اور چیز صدقہ کردی تو جائز ہےیہ ایسے ہی ہے جیسا کہ روٹی کے بجائے دس درہم دے دے تو جائز ہے۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: شوال ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں عــــہ۱ کالڑکابیمار ہوا اس کے والدین نے منت مانی کہ یااﷲ!اگر میرے لڑکے کو آرام ہوجائے تو رکھیں عــــہ۲ رکھیں گے تیری نذر میں تین محتاج کھلائیں گے اور پچاس رکعت نماز پڑھیں گے۔یہ کلمہ مولوی نے دامتی مقررکیا ہے اور اس منت کو حضرت نے بھی منع کیا ہے۔
الجواب:
اس مولوی نے غلط کہا اﷲ عزوجل نے پورا کرنے کا قرآن مجید میں حکم دیا ہے و لیوفوا نذورهم یعنی مسلمانوں پر لازم کہ اپنی نذریں پوری کریںنذریں پوری کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے یوفون بالنذر نذرپوری کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کی وفا کا حکم دیا ہے۔بخاری شریف میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے من نذران یطیع اﷲ فلیطعہ ومن نذران یعصیہ فلایعصہ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی طاعت الہی مثل نماز و روزہ و صدقہ وغیرہ کی منت مانے وہ بجالائے اور جو کسی گناہ کی منت مانے وہ باز رہے۔ہاں یہ سمجھنا کہ نذر ماننے سے تقدیر الہی بدل جائے گی جو نعمت نصیب میں نہیں وہ مل جائے گی جو بلا مقدر میں ہے وہ ٹل جائے گییہ اعتقاد فاسد ہےایسی ہی نذر سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے حدیث شیخین:
(لاتنذروافان النذرلایغنی من القدر شیأ وانما یستخرج بہ من البخیل ۔
نذر نہ مانا کروکیونکہ نذر تقدیر سے مستغنی نہیں کرتی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ نذر کے سبب بخیل سے مال خرچ کرایا جاتا ہے۔)(ت)

عــــہ۱:مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۲:مسودہ میں بیاض ہے۔
حوالہ / References درمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٩٥
القرآن الکریم ٢٢ /٢٩
القرآن الکریم ٧٦ /٧
صحیح البخاری کتاب الایمان باب النذر فی الطاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٩١
صحیح مسلم کتاب النذر باب النذر فی الطاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٤٤
#15277 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
کے نیچے مرقاۃ شریف میں ہے:
قال الخطابی معنی نھیہ عن النذر انما ھوالتاکید لامرہ وتحذیر التھاون بہ بعد ایجابہولوکان معناہ الزجرعنہ لکان فی ذلك اسقاط لزوم الوفاءبہ اذ صار معصیۃوانما وجہ الحدیث لاتنذورا علی انکم تدرکون بالنذر شیألم یقدرہ اﷲ تعالی لکماو تصرفون شیأ جری القضاء بہ علیکم واذافعلتم ذلك فاخرجوہ عنہ بالوفاء فان الذی نذر توہ لازم لکم ۔
خطابی نے فرمایا کہ نذر سے منع کا معنی یہ ہے کہ یہ نذر کے متعلق اہتمام کا اظہار ہے اور نذر کو اپنے ذمہ لازم کرنے کے بعد اس میں لاپروائی پر ڈرانا مقصود ہےاور اگر نذر سے یہ منع برائے سزا ہوتا اس سے لازم آئے گا کہ نذر کو پورا کرنے کا حکم ختم ہوجائے کیونکہ یوں نذر گناہ قرار پائے گیلہذا بلاشبہہ حدیث کی وجہ یہ ہے کہ نذر اس اعتقاد سے نہ مانو کہ نذر کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی کہ جس چیز کو اﷲ تعالی نے تمہارے لئے مقدر نہیں فرمایا نذر کی وجہ سے تم اس کو حاصل کرلوگے اور تقدیر میں جو چیز تم پروارد ہونے والی ہے تم اس کو نذر کے ذریعہ لوٹادواور جب نذر مانو تو اس سے بری الذمہ ہونے کے لئے اسے پورا کروکیونکہ جو نذر مانی ہے وہ تم پر لازم ہوچکی ہے۔(ت)
قال الطیبی تحریرہ انہ علل النھی بقولہ:فان النذر لایغنی من القدرونبہ علی ان المنھی عنہ ھو النذر الذی یعتقد انہ یغنی من القدر بنفسہامااذا نذر واعتقدان اﷲ تعالی ھوالذی یسھل الاموروھو الضار والنافع والنذورکالوسائلفیکون الوفاء طاعۃ ولایکون منھیاعنہکیف وقد مدح اﷲ تعالی جل شانہ الخیرۃ من عبادہ بقولہ:" یوفون بالنذر " " انی نذرت لك ما فی بطنی محررا "قلت
طیبی نے فرمایا اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ اس میں نہی کا تعلق اور اس کی علتتقدیر سے نذر مستغنی نہیں کرتی والاجملہ ہے۔اور اس میں تنبیہ ہے کہ اس عقیدہ سے نذر ماننا کہ یہ تقدیر کو تبدیل کردے گی اور اس سے مستغنی کردے گی یہ منع ہےلیکن نذرمان کر یہ عقیدہ رکھنا اﷲ تعالی ہی معاملات کو آسان فرماتا ہے اور وہی ذاتی طور پر نافع اور ضار ہے اور نذر محض ایك وسیلہ ہے۔تو اس عقیدہ سے نذر اور اس کو پورا کرنا عبادت ہےاور یہ صورت ممنوع نہیں ہے یہ کیسے ممنوع ہوسکتی ہے جبکہ اﷲ تعالی جل شانہ نے اپنے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب النذور الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ٦/٥٩٩
#15278 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
وکذا قولہ"انی نذرت للرحمن صوما"فالمنھی عنہ ھو الاعتقاد علی ان النذر یغنی عن القدر الخ اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم۔
نیك بندوں کی مدح میں خودفرمایا کہ وہ نذروں کو پورا کرتے ہیں۔اورفرمایا:جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں وقف کرتی ہوں۔اور میں کہتا ہوں یونہی اﷲ تعالی کافرمان ہےمیں نے اﷲ تعالی رحمن کےلئے روزہ کی نذر مانی ہے۔تومعلوم ہوا کہ حدیث میں نہی کا تعلق اس نذر سے ہے جس میں یہ عقیدہ شامل ہوکہ یہ نذر تقدیر سے مستغنی کردے گی الخ اھ وا ﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہتا: ازدلیل گنج ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
()کسی شخص نے نذرمانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں گائے کے سر کی نیاز کروں گااگر وہ شخص بجائے سر کے اور جگہ کے گوشت کی نیاز کرے اور مساکین کو کھلائے تو اس سے واجب ادا ہوگا یانہیں
()کسی نے بکری یا مرغی موجودہ کی نسبت مخصوص کرکے کہا کہ میں اس بکری یا مرغی کی نیاز کروں گاپھر کسی وجہ سے وہ مفقود ہوگئیں تو بجائے اس کے دوسری بکری مرغی یا گائے وغیرہ کی اسی قدر گوشت سے نیاز ہوگی یانہیں بینواتوجروا۔
()کسی نے مسجد کا طاق بھرنا گلگلویامانڈوں سے مانااگروہ مسجد کا طاق نہ بھرے اور گھر پر تقسیم کردے تو نذر پوری ہوگی یانہیں
الجواب:
()سر کی تعیین کچھ ضروری نہیں ا س قدر قیمت کا گوشت بھی کافی ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
()اگر یہ نیاز نہ کسی شرط پر معلق تھی مثلا میرا یہ کام ہوجائے تو اس جانور کی نذر کروں گانہ کوئی ایجاب تھا مثلا اﷲ کےلئے مجھ پر یہ نیاز کرنی لازم ہے جب تو یہ نذر شرعی ہونہیں سکتیاور اگر لفظ ایسے تھے جن سے شرعا وجوب ہوگیا تو جبکہ ایجاب خاص جانور معین سے متعلق تھا اس کے گمنے یا مرنے کے بعد دوسرا اس کی جگہ قائم کرنا کچھ ضرور نہیںنہ اس نذر کا اس پر مطالبہ رہااگر دوسرا جانور کردے گا تو تبرع ہے۔ردالمحتار میں ہے:
المنذورۃ بعینھا لوھلکت اوضاعت
نذرمانی ہوئی چیز بعینہ اگر ہلاك ہوجائے یاضائع ہوجائے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب النذور الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ٦/٥٩٩
#15279 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
سقط النذر انتہی ملتقطاواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
تو وہ نذر ختم ہوجائے گیاھ ملتقطاواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
()مسجد کے طاق بھرنے کی منت سے اگر مقصود مساکین پر تصدق ہوتو نذر صحیح ہے اس طاق بھرنے کی تعیین لغوجہاں چاہے مساکین کودے دے نذر ادا ہوجائے گی اور اگر اس منت سے مقصود مسجد کا طاق ہی بھرنا ہے پھر غنی مسکین جو چاہے لے لے جیسا کہ بعض جہال خصوصا عورتوں کے تعامل سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ منت ہی کرنی لغو ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ زیرمسجد مکان حاجی ابراہیم صاحب مرسلہ ولی اﷲ صاحب ربیع الاول شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولود شریف کی نذرماننا جائز ہے یانہیںبینواتواجروا۔
الجواب:
مجلس میلاد شریف کہ طریقہ رائجہ حرمین شریفین پر ہواعلی مستحبات سے ہےخواہ نذر مان کرکریں یا بلا نذرہاں محل نظریہ امر ہے کہ نذر ماننے سے واجب ہوجائے گیجیسے نماز یا صدقہ۔یاواجب نہ ہوگی بدستور مستحب رہے گیجیسے تلاوت قرآن مجید کہ ایك قول منت ماننے سے بھی واجب نہیں ہوتی۔کمافی الخانیۃ وغیرھا(جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے۔ت)اس کا جزئیہ اس وقت نظرمیں نہیں لعل الله یحدث بعد ذلك امرا(۱) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ہوسکتا ہے اﷲ تعالی بعد میں کوئی صورت پیدا فرمادے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: از دھڑکی ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے یہ نیت کی کہ اگر میری نوکری ہوجائے گی تو پہلی تنخواہ زیارت پیران کلیر شریف کے نذرکروں گاوہ شخص تیرہ تاریخ سے نوکرہوا اور تنخواہ اس کی ایك مہینہ سترہ دن کے بعد ملی اب یہ ایك ماہ کی تنخواہ صرف کرے یا سترہ دن کیاور اس تنخواہ کاصرف کس طرح پر کرے یعنی زیارت شریف کی سفیدی و تعمیر وغیرہ میں لگائے یا حضرت صابرپیا صاحب قدس سرہ کی روح پاك کو فاتحہ ثواب بخشے یا دونوں طرح صرف کرسکتا ہےبینوا توجروا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ٥/٢٠٧
القرآن الکریم ٦٥ /١
#15280 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
الجواب:
صرف نیت سے تو کچھ لازم نہیں ہوتا جب تك زبان سے الفاظ وایجاب نہ کہےاور اگر زبان سے الفاظ مذکورہ کہے اور ان سے معنی صحیح مراد لئے یعنی پہلی تنخواہ اﷲ عزوجل کے نام پر تصدق کروں گا اور اس کا ثواب حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کے نذرکروں گایا پہلی تنخواہ اﷲ عزوجل کے لئے فقراء آستانہ پاك حضرت مخدوم رضی اﷲتعالی عنہ دوں گایہ نذر صحیح شرعی ہےاور استحسانا وجوب ہوگیاپہلی تنخواہ اسے فقراء پر تصدق کرنی لازم ہوگئی۔مگر یہ اختیار ہے کہ فقراء آستانہ پاك کو دے اور جہاں کے فقیروں محتاجوں کو چاہے۔اور اگر یہ معنی صحیح مراد نہ تھے بلکہ بعض سخت بے عقل جاہلوں کی طرح بے ارادہ تصدق وغیرہ قربات شرعیہ صرف یہی مقصود تھا کہ پہلی تنخواہ خود حضرت مخدوم کو دوں گاتو یہ نذر باطل محض و گناہ عظیم ہوگیمگر مسلمان پر ایسے معنی مراد لینے کی بدگمانی جائز نہیں جب تك وہ اپنی نیت سے صراحۃ اطلاع نہ دے۔اسی طرح اگر نذر وزیارت کرنے سے اس کی یہ مراد تھی کہ اﷲ کے واسطے عمارت زیارت شریف کی سپیدی کرادوں گا یا احاطہ مزار پر انوار میں روشنی کروں گاجب بھی یہ نذر غیرلازم و نامعتبر ہے کہ ان افعال کی جنس سے کوئی واجب شرعی نہیں۔رہا یہ کہ جس حالت میں نذر صحیح ہوجائےپہلی تنخواہ سے کیا مراد ہوگی یہ ظاہر ہے کہ عرف میں مطلق تنخواہ خصوصا پہلی تنخواہ ایك مہینہ کی اجرت کو کہتے ہیں اگرچہ اس کا ایك جزء بھی تنخواہ ہے اور عمر بھر کا واجب بھی تنخواہ ہےتو پہلی تنخواہ کہنے سے اول تنخواہ ایك ماہ ہی عرفا لازم آئے گی۔
فان کلام کل عاقد وحالف وناذر وواقف انما یحمل علی ماھوالمتعارف کمانصواعلیہ۔
کیونکہ کسی عقد والےقسم والےنذر والے اور وقف کرنے والے کے کلام کو متعارف معنی پر محمول کیا جائیگا جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الخانیۃ ان برءت من مرضی ھذا ذبحت شاۃ فبرأ لایلزمہ شیئ الاان یقول فللہ علی ان اذبح شاۃ اھ وھی عبارۃ متن الدر و عللھا فی شرحہ بقولہ لان
خانیہ میں مذکور ہے کہ جب کسی نے کہا کہ اگر میں اس مرض سے تندرست ہوجاؤں توبکری ذبح کروں گاتو تندرست ہونے پر اس پر ذبح کرنا لازم نہیں ہوگا مگر جب یوں کہے کہ اﷲتعالی کے لئے مجھ پر لازم ہے کہ میں بکری ذبح کروں گا (توپھر نذر ہوگی اور پورا کرنا
حوالہ / References ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٤٩٩ و ٥٣٣
#15281 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
اللزوم لایکون الابالنذروالدال علیہ الثانی لاالاول اھ ویؤیدہ مافی البزازیۃ ولو قال ان سلم ولدی اصوم ماعشت فھذا وعد لکن فی البزازیۃ ایضاان عوفیت صمت کذالم یجب مالم یقل ﷲ علیوفی الاستحسان یجب ولو قال ان فعلت کذافانا احج ففعل یجب علیہ الحج اھ باختصار۔
لازم ہوگا)یہ درمختار کے متن کی عبارت ہے اوراس کی شرح میں اسکی علت یہ بیان کی ہے کہ اس لئے کہ پورا کرنا نذر کی وجہ سے لازم ہوتا ہےاس پر دوسری عبارت دلالت کرتی ہےپہلی عبارت اس پر دال نہیں ہے اھاور اس کی تائید بزازیہ میں ہے کہ اگرکوئی یہ کہے کہ اگر میرا بیٹا سالم بچے تو میں تازندگی روزہ رکھوں گاتو وعدہ ہوگالیکن اس کے ساتھ بزازیہ میں یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کہے"اگر مجھے صحت ہوئی تو اتنے روزے رکھوں گا"تو پورا کرنا واجب نہ ہوگاجب تك اس میں"اﷲ تعالی کے لئے مجھ پر روزہ لازم ہے"نہ کہے۔لیکن استحسان یہ ہے کہ اس پر روزہ لازم ہوجائے گااور اگر کوئی کہے"اگر میں ایسا کروں تو میں حج کروں گا"اس کے بعد اس نے وہ کام کیا توحج لازم ہوگا اھ اختصارا(ت)
درمختار میں ہے:
اعلم ان النذر الذی یقع للاموات من اکثر العوام ومایؤخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوھا الی ضرائح الاولیاء الکرام تقربا الیھم فھو بالاجماع باطل وحرام مالم یقصد وا صرفھا لفقراء الانام ۔
معلوم ہونا چاہئے کہ اکثر عوام مردوں کے لئے جو نذر مان کراولیاء کرام کی قبروں پر دراہمشمع اور تیل وغیرہ اولیاء کے تقرب کےلئے دیتے ہیں تو ان چیزوں کو وصول کرنا بالاجماع باطل اور حرام ہے جب تك عوام ان چیزوں کو فقراء پر صرف کرنے کی نیت نہ کرلیں(ت)
امام ناصح حکیم علامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
ومن ھذاالقبیل زیارۃ القبوروالتبرك بضرائح الاولیاء والصالحین والنذرلھم بتعلیق ذلك علی حصول
اور اسی قبیل سے ہے قبروں کی زیارت کرنااور شفایابی یاکسی مسافر کے واپس آنے سے مشروط اولیاء کے لئے نذریں ماننا(یہ سب جائز ہیں)کیونکہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٧٠
درمختار قبیل باب الاعتکاف مطبع مجتبائی دہلی ١/١٥٥
#15282 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
شفاء اوقدوم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین لقبورھم کما قال الفقھاء فیمن دفع الزکاۃ لفقیروسماھا قرضا صحلان العبرۃ بالمعنی لا باللفظ وکذلك الصدقۃ علی الغنی ھبۃ والھبۃ علی الفقیر صدقۃ الی اخرما افادواجاد ذکرہ فی بحث القنیۃ ونقل جوازہ ایضا عن الامام ابن حجر المکی قلت وھو مفادقولہ حرام مالم یقصد واصرفھا لفقراء الانام۔
یہ نذریں وہاں مزارات کے خادموں کےلئے صدقہ مجازا مراد ہوتی ہیںجیسا کہ فقہاء کرام نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ کسی کو قرض کا نام لے کر دے تو صحیح ہوگا کیونکہ معنی کا اعتبار ہوتا ہے لفظوں کا اعتبار نہیں ہوتااور یونہی نفلی صدقہ کسی غنی کو ہبہ کے نام سے یا فقیر کو صدقہ ہبہ کے نام سے دینا(یاہبہ کوصدقہ کے نام سے)دینا جائز ہے۔علامہ نابلسی کے بیان کے آخر تکجہاں انہوں نے قنیہ کی بحث کو ذکر کرکے یہ بہترین فائدہ بیان فرمایااور انہوں نے امام ابن حجر مکی سے بھی اس جواز کو نقل فرمایاقلت(میں کہتا ہوں کہ)درمختار کے قول کہ جب تك فقراء پرصرف کرنے کی نیت نہ کریں تو حرام ہے کا یہی مفاد ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لایخفی ان لہ الصرف الی غیرھم(ای غیرفقراء الباب الذی عینہ فی النظر کما مرسابقاولابدان یکون المنذور مما یصح بہ النذر کالصدقۃ بالدراھم ونحو ھا اما لو نذر زیتا لایقادقندیل فوق ضریح الشیخ اوفی المنارۃ فباطل اھ مختصرا۔واﷲتعالی اعلم۔
مخفی نہ رہے کہ اس کو دوسرے فقراء(یعنی نذر میں معین کردہ فقراء کے غیر)پر خرچ کرنے کا اختیار ہوگا جیسا کہ پہلے گزرااور ضروری ہے کہ منذور وہ چیز ہو جس سے نذر صحیح ہوجائے جیسا کہ دراہم وغیرہ کا صدقہ کرناہاں اگر تیل کے چراغ قبر کے اوپر جلانے کی نذر مانی ہو یا وہاں مزار کے منارہ پر جلانے کی نذر ہوتو یہ باطل ہوگیاھ مختصرا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ: ازشہر کہنہ مرسلہ مولوی عبدالواحد متھراوی ذی القعدہھ
زید نے عہد کیا تھا کہ میں ملازم ہوجاؤں تو ایك ماہ کی تنخواہ راہ خدا میں صرف کروں گااب وہ ملازم
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الثامن والاربعون الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢/١٥۱
ردالمحتار قبیل باب الاعتکاف داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/١٢٨
#15283 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
ہوگیااگر زید اپنی اس ماہ کی تنخواہ کو اپنے کسی نہایت غریب بیکس و مفلس رشتہ دار کو اس نیت سے دے تو اس کے ذمہ سے وہ عہد ساقط ہوجائے گا یا نہیںدرصورت عدم ساقط ہونے کے وہ اور کس کام میں خرچ کرےبینواتوجروا۔
الجواب:
ضرور نذرادا ہوجائیگی جبکہ وہ عزیز نہ اس کی اولاد میں ہونہ یہ اس کی نہ زوج و زوجہنہ سید وغیرہ جنہیں زکوۃ دینا جائز نہیں بلکہ عزیز کو دینے میں دوناثواب ہےصدقہ اور صلہ رحمکماثبت عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(جیسا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: مرسلہ منشی عبدالصبور صاحب سوداگر ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے وقت شروع کرنے روز گار کےیہ خیال کرلیا کہ مجھ کو جو نفع ہوگا اس میں سولھواں حصہ واسطے اﷲ کے نکالوں گااب اس کو لاگت سے زائد ایك روپیہ نفع ہوا لیکن متفرق خرچ یعنی تنخواہ ملازمان وغیرہ میں دو آنے اس نفع ایك روپے میں صرف ہوگئے باقی چودہ آنے رہےاب وہ اصلی لاگت سے جو نفع ہوا ہے اس میں سے سولھواں حصہ نکالے یا بعد مجراکرنے خرچ متفرق کے ماہوار میں سے نکالے۔
الجواب:
صرف خیال کرلینے سے وجوب تو نہیں ہوتا جب تك زبان سے نذر نہ کرےہاں جو نیت اﷲ عزوجل کے لئے اس کا پورا کرنا ہی چاہیئےجو خرچ کہ تجارت کے متعلق ہو اور حساب تجارمیں اسی پر ڈالا جاتا ہے وہ مجرادے کر جو بچے اسے نفع کہتے ہیںپھر اس نفع میں جو کچھ اپنا خرچ خانگی وغیرہ دیگر مصارف علاوہ خرچ تجارت میں صرف ہوجائے وہ مجرانہ دیا جائے گا کہ یوں تو جو نفع بچتا ہے وہ خرچ ہی ہونے کےلئے ہوتا ہےپس وہ نوکر اگر تجارت کا نوکر ہے اور اس کی تنخواہ حسب دستور تجارخرچ تجارت میں محسوب کی جاتی ہےاس کے بعد جو بچتا ہے وہ نفع سمجھا جاتا ہےجب تو چودہ آنے کا سولھواں حصہ تصدق کرے اور اگرخرچ تجارت مجرادے کر کامل روپیہ بچا تھا یہ تنخواہ اس کے متعلق نہیں تو پورے روپیہ کا سولھواں حصہ دے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا: مرسلہ محمد عبدالصبور صاحب سوداگرابن منشی محمد ظہور صاحب جوہری ربیع الآخرشریف
اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں علمائے دینایك شخص نے اپنی تجارت کے منافع میں خدا وندکریم کا
#15284 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
سولھواں حصہ مقرر کیاہے۔
()اس سولھویں حصہ میں محفل میلاد شریف و نیاز گیارھویں شریف کرنا چاہئے یانہیں
()اس سولھویں حصہ میں اپنے والدین و پھوپھی وخالہ و سید صاحب و مولوی صاحب کو دینا چاہئے یانہیں
()اس سولھویں حصے میں سامع رمضان المبارك کو دینا و نیز افطاری رمضان المبارك کرنا چاہئے یانہیں
()دربارہ زکوۃ مذکورہ کے روپے کو طالب علموں کی خورد ونوش و لباس میں صرف کرنا چاہئے یانہیںاور زکوۃ کاروپیہ مؤذن کو دینا چاہئے یانہیں
الجواب:
اگر نہ یہ منت ہے نہ زکوۃ ہے بلکہ یونہی دل میں نیت کرلی یا بے الفاظ نذر زبان سے کہہ لیا ہے کہ اپنے منافع تجارت سے سولھواں حصہ نیك کاموں میں اﷲ تعالی کےلئے صرف کیا کروں گاجب تو اس سے محفل میلاد شریف اورگیارھویں شریف اور افطاری رمضان شریف اور اپنے والدین و سادات و علماء کی خدمت سب کچھ کرسکتا ہے کہ یہ سب نیك کام اﷲ تعالی ہی کےلئے ہیں جب کہ نیت خالص اﷲ عزوجل کے واسطے ہورمضان مبارك کا سامع اگر حاجتمند ہو اور اس سے اجرت نہ ٹھہری ہواور نہ رواج کی رو سے اجرت مقرر ہو تواسے بھی دے سکتاہے کہ اب اسے بھی دینا نیك کام ہےاور اگر اجرت کی شرط ہولی یا ازروئے رواج اس کی اجرت کا قرار دیا ہے تو اسے دینا کچھ نیك کام نہیں بلکہ گناہ ہے
لانہ اجارۃ علی الطاعۃ والاجارۃ علیھا باطلۃ الاما استثناہ المتاخرون من امامۃ واذان وتعلیم قران ولیس ھذامنھا والتحقیق فی ردالمحتار وشفاء العلیل۔
کیونکہ یہ عبادت پر اجرت ہے اور عبادت پر اجرت لینا دینا باطل ہے مگر امامت پر یا اذان اور تعلیم قرآن پر اجرت جس کو متاخرین نے اس سے مستثنی قرار دیا ہے وہ اور چیز ہے یہ اس قبیل سے نہیں ہےاس کی مکمل تحقیق ردالمحتار اور شفاء العلیل میں ہے۔ (ت)
اور اگر صورت مذکورہ میں ہر نیك کام کی نیت نہ تھی بلکہ بالخصوص مساکین کو خدا کے نام پر دینا تو وہ سب امور ابھی اس روپے سے جائز ہوں گے مگر یہ چاہئے کہ مجلس مبارك کا حصہ خاص محتاجین کودےگیارہویں شریف کی نیازرمضان المبارك کی افطاریصرف مساکین کو بانٹےسادات و علماء میں انہیں کی نذر کرے جو حاجتمند ہوںماں باپ کو بھی بحالت حاجتمند دے سکتا ہے
لاھنا لیست صدقۃ واجبۃ وانما نوی التصدق علی المساکین فاذاکان
کیونکہ یہ صدقہ واجب نہیں ہے اور اس نے مساکین پر تصدق کی نیت کی ہے تو جب ماں باپ بھی مساکین سے ہوں تو بطور صلہ ان پر صدقہ
#15285 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
منھم جاز صلتھمابھا وقد سمی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فی الاحادیث الصحیحۃ مااطعمت اھلك صدقۃ امااطعمت ولدك صدقۃ وما اطعمت عیالك صدقۃ ۔
کرنا جائز ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صلہ رحمی کو صدقہ قرار دیتے ہوئے صحیح احادیث میں فرمایا کہ جو کچھ تو نے اپنی بیوی کو کھلایا وہ صدقہ ہے اور جو تونے پانی اولاد کوکھلایا وہ صدقہ ہے اور جو تونے اپنی عیال کو کھلایا وہ صدقہ ہے۔(ت)
اور اگرخاص منت کے لفظ زبان سے ادا کرلئے ہیں مثلا کہا"مجھ پر اﷲتعالی کےلئے واجب ہے کہ اپنے منافع کا سولھواں حصہ اﷲ تعالی کے نام پر تصدق کروں"تو نہ والدین کو دے سکتا ہے نہ سادات کو اگرچہ محتاج ہوںنہ کسی غنی کو اگرچہ عالم ہوہاں صرف محتاجوں کو دینا لازم ہے اگرچہ اس کی پھوپھیخالہبہنبھائیچچاماموں ہوںاگرچہ مجلس شریف یا گیارھویں شریف کرکے یا افطاری میں مالك کردے
فانھا طریق الاداء والاجتماع لذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوایصال الثواب الی ولی اﷲ الکریم رضی اﷲ تعالی عنہ لاینافی النذر ولاینفی التصدق مال زکوۃ ھو۔
کیونکہ یہ صرف ادائیگی کا ایك طریقہ ہے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پاك کے لئے اجتماعیاکسی والی اﷲ رضی اﷲتعالی عنہ کے ایصال ثواب کا ہونا نذر کے منافی نہیں ہے اور یہ طریقے زکوۃ کے مال کوصدقہ کرنے کے منافی نہیں ہیں۔ (ت)
جب بھی یہی حکم ہے جو خاص منت کا حکم تھا مال زکوۃ و نذر طالب علموں کو بھی دے سکتے ہیں خواہ کپڑے بنادے خواہ اناج یا کھانا انہیں دے کر مالك کردےہاں گھر بٹھاکر کھلانے سے زکوۃ و نذر ادا نہ ہوگی لانہ اباحۃ والتصدق تملیك کما نصواعلیہ (کیونکہ یہ اباحت ہے جبکہ صدقہ کرنا بطور تملیك ہوتا ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ت)مؤذن کی تنخواہ ٹھہری ہے تو اس میں زکوۃ یا نذر کو محسوب نہیں کرسکتا لان واجبھا لایدخل فی واجب اخرلیس من جنسہ(کیونکہ واجب دوسرے خلاف جنس واجب میں داخل نہیں ہوسکتا۔ت)ہاں بلاتنخواہ اذان دیتا ہو اور محتاج مصرف زکوۃ ہوتو دے سکتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References کنز العمال حدیث ١٦٣٢١ موسسۃ الرسالۃ بیروت ٦/٤١٥،المعجم الاوسط حدیث ٦٨٩٢ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/٤٥٥
#15286 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
مسئلہ: ازصدر شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منت مانی کہ اگر فلاں تکلیف میری رفع ہوجائے تو میں بکری وغیرہ ذبح کرکے مسکینوں کو تقسیم کروں گااگر زید کامیاب ہواور بکرا ذبح کیا تو آیا زید بھی اس گوشت میں سے کھاسکتا ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
زید خود کھاسکتا ہے نہ اپنے ماں باپ وغیرہما اصول خواہ بیٹا بیٹی وغیرہما فروع کسی ہاشمی یا غنی کو کھلاسکتا ہے بلکہ وہ خاص مساکین مصرف زکوۃ کاحق ہےفی ردالمحتار مصرف الزکوۃ ھوایضا مصرف النذر اھ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ زکوۃ کا مصرف نذر کا مصرف بھی ہوتا ہےاھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: (یہ مسئلہ در اصل فتاوی افریقہ کا مسئلہ نمبرہےمناسبت کے پیش نظر اسے یہاں شامل کیا گیا ہے)
زید کہتا ہے غیر خدا جل وعلا کیلئے نذر چڑھانا حرام ہے چاہے نبی علیہ السلام ہوں چاہے اولیاء رضی اﷲ تعالی عنہم۔مجموعہ خطب حرمین شریفین تالیف مولوی عبدالحی صاحب کے صفحہ پر ہے ع
صندل بھی تربتوں پہ چڑھانا حرام ہے
اسی کتاب کے صفحہ پر ہے:
نذر بھی غیر خدا کی ہے یقین شرك سنو
غیر کی نذر کا کھانا بھی حرام اے اکرم
کیایہ اشعار اہلسنت کے خلاف ہیں یا نہیںاور حضور کے رسالہ برکات الامدادیہ میں صپر ہے:خود امام الطائفہ میاں اسمعیل دہلوی کے بھاری پتھر کا کیا علاجوہ صراط مستقیم میں اپنے پیرجی کا حال لکھتے ہیں:
روح مقدس جناب غوث الثقلین و جناب حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ ۔
حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند(رحمہما اﷲ تعالی)کی روحیں حضرت کے حال پر متوجہ ہوئیں۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٨
صراط مستقیم باب چہارم دربیان سلوك راہ نبوت الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص١٦٦
#15287 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
شخصیکہ در طریقہ دریہ قصد بیعت میکند البتہ او رادرجناب حضرت غوث الاعظم اعتقادے عظیم بہم میرسد(الی قولہ)کہ خودرا از زمرہ غلاماں آنجناب میشمارد اھ ملخصا۔
ایك شخص نے طریقہ قادریہ میں بیعت کا ارادہ کیا یقینا اس کو جناب حضرت غوث الثقلین میں بہت پختہ اعتقاد تھا(الی قولہ)کہ خود کو آنجناب کے غلاموں میں شمار کیا اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
اولیائے عظام مثل حضرت غوث الاعظم وحضرت خواجہ بزرگ الخ ۔ اولیائے عظام جیسے غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اور حضرت خواجہ بزرگ الخ(ت)
یہی امام الطائفہ اپنی تقریر ذبیحہ مندرج مجموعہ زبدۃ النصائح میں لکھتے ہیں:
اگر شخصے بزے راخانہ پرور کند تا گوشت اوخوب شود اوراذبح کردہ وپختہ فاتحہ حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ خواندہ بخوراند خللے نیست۔
اگر کسی شخص نے کوئی بکراگھر میں پالاتاکہ اس کا گوشت اچھا ہوجائے اور اس کو ذبح کرکے پکاکر غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی فاتحہ دلائے اور لوگوں کو کھلائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
ایمان سے کہیوغوث الاعظم کے یہی معنی ہوئے کہ سب سے بڑے فریاد رس یا کچھ اورخداجل وعلاکو ایك جان کر کہنا غوث الثقلین کا یہی ترجمہ ہوا کہ جن و بشر کے فریاد رس یا کچھ اوراورپھر یہ کیسا کھلا شرك تمہارا امام اور اس کاساراخاندان بول رہا ہےقول کے سچے ہوتوان سب کو بھی ذرا جی کرا کرکے مشرك بے ایمان کہ دو ورنہ شریعت وہابیہ کیا آپ کی خانگی ساخت ہے کہ فقط باہر والوں کے لئے خاص ہے گھر والے سب اس سے مستثنی ہیں۔
الجواب:
غیر خداکیلئے نذر فقہی کی ممانعت ہےاولیائے کرام کےلئے ان کی حیات ظاہری خواہ باطنی میں جو نذر کہی جاتی ہیں یہ نذر فقہی نہیںعام محاورہ ہے کہ اکابر کے حضور جو ہدیہ کریں اسے نذر کہتے ہیںبادشاہ نے دربار کیا اسے نذر یں گزریںشاہ رفیع الدین صاحب برادر مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رسالہ نذور میں لکھتے ہیں:
حوالہ / References صراط مستقیم باب چہارم دربیان طریق سلوك راہ نبوت مکتبہ سلفیہ لاہور ص١٤٧
صراط مستقیم تکملہ دربیان سلوك ثانی راہ ولایت مکتبہ سلفیہ لاہور ص١٣٢
زبدۃ النصائح امام الطائفہ میاں اسمٰعیل
#15288 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
نذریکہ اینجا مستعمل میشوعد نہ برمعنی شرعی ست چہ عرف آنست کہ آنچہ پیچ بزرگاں می برند نذر ونیاز می گویند
یہاں نذر کا لفظ شرعی نذر کے معنی میں استعمال نہیں کیونلہ عرف میں بزرگوں کو جو کچھ پیش کیاجاتا ہے اس کو نذر و نیاز کہتے ہیں۔(ت)
امام اجل سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
ومن ھذاالقبیل زیارۃ القبور والتبرك بضرائح الاولیاء والصالحین والنذر لھم بتعلیق ذلك علی حصول شفاء او قدوم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین بقبورھم کما قال الفقہاء فیمن دفع الزکاۃ لفقیر وسماھا قرضا صح لان العبرۃ بالمعنی لاباللفظ
یعنی اسی قبیل سے ہے زیارت قبور اور مزارات اولیاء وصلحاء سے برکت لینا اور بیمار کی شفایامسافر کے آنے پر اولیائے کرام کیلئے منت مانناکہ وہ ان کے خادمان قبور تصدق سے مجاز ہے جیسے فقہاء نے فرمایا ہے کہ فقیر کو زکوۃ دے اور قرض کا نام لے تو صحیح ہوجائے گی کہ اعتبار معنی کا ہے نہ کہ لفظ کا۔
ظاہر ہے کہ یہ نذر فقہی ہوتی تو احیا کے لئے بھی نہ ہوسکتی حالانکہ دونوں حالتوں میں یہ عرف وعمل قدیم سے اکابرین میں معمول و مقبول ہے۔امام اجل سیدی ابوالحسن نورالملۃ والدین علی بن یوسف بن جریر لخمی شطنوفی قدس سرہ العزیز جن کو امام فن رجال شمس الدین ذہبی نے طبقات القراء اور امام جلیل جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں الامام الاوحد کہا یعنی بے نظیر اماماپنی کتاب مستطا ب بہجۃ الاسرار شریف میں محدثانہ اسانید صحیحہ معتبرہ سے روایت فرماتے ہیں:
()اخبرنا ابوالعفاف موسی بن عثمان البقاعی بالقاھرۃ قال اخبرنا ابی بدمشق قال اخبرنا الشیخان الشیخ ابوعمروعثمان الصریفینی والشیخ ابو محمد عبدالحق الحریمی ببغداد قالا کنا بین یدی الشیخ محی الدین عبد القادررضی اﷲ تعالی عنہ بمدرسۃ یوم الاحد ثالث صفر ۔
ہم سے ابوالعفاف موسی بن بقاعی نے ھ میں شہر قاہرہ میں حدیث بیان کی کہ ہمیں میرے والد ماجد عارف باﷲ ابوالمعانی عثمان نے ھ میں شہر دمشق میں خبردی کہ ہمیں دو ولی کامل حضرت ابوعمر و عثمان صریفینی وحضرت ابومحمد عبدالحق حریمی نے میں بغداد مقدس میں خبردی کہ ہم صفر روزیك شنبہ میں
حوالہ / References مجموعہ رسائل تسعہ رسالہ نذور شاہ رفیع الدین مطبع احمدی دہلی ص٢١
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الثامن والاربعون الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢/١٥١
#15289 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی کے دربار میں حاضر تھے حضور نے وضو کرکے کھڑاویں پہنیں اور دو رکعتیں پڑھیں بعد سلام ایك عظیم نعرہ فرمایا اور ایك کھڑاؤں ہوا میں پھینکیپھر دوسرا نعرہ مارا اور دوسری کھڑاؤں پھینکی وہ دونوں ہماری نگاہوں سے غائب ہوگئیںپھر تشریف رکھیہیبت کے سبب کسی کو پوچھنے کی جرأت نہ ہوئیدن کے بعد عجم سے ایك قافلہ حاضر بارگاہ ہوا اور کہا ان معناللشیخ نذرا ہمارے پاس حضور کی ایك نذر ہے فاستأذناہ فقال خذوہ منھم ہم نے حضور سےاس نذر کے لینے میں اذن طلب کیا حضور نے فرمایا لے لوانہوں نے ایك من ریشم اور خزکے تھان اور سونا اور حضور کی وہ کھڑادیں جو اس روز ہوا میں پھینکی تھیں پیش کیںہم نے ان سے کہا یہ کھڑاویں تمہارے پاس کہاں سے آئیںکہا۳صفر روز یك شنبہ ہم سفر میں تھے کہ کچھ راہزن جن کے دو سردار تھے ہم پر آپڑے ہمارے مال لوٹے اور کچھ آدمی قتل کئے اور ایك نالے میں تقسیم کو اترےنالے کے کنارے ہم تھے فقلنالوذکرنا الشیخ عبدالقادر فی ھذاالوقت ونذر نالہ شیأ من اموالنا ان سلمناہم نے کہا بہتر ہوکہ اس وقت ہم حضور غوث اعظم کو یاد کریں اور جنات پانے پر حضور کے لئے کچھ مال نذرمانیںہم نے حضور کو یاد کیا ہی تھا کہ دو عظیم نعرے سنے جن سے جنگل گونج اٹھا اور ہم نے راہزنوں کو دیکھا کہ ان پر خوف چھاگیا ہم سمجھے ان پر کوئی اور ڈاکو آپڑے یہ آکر م سے بولےآؤ اپنا مال لے لو اور دیکھو ہم پر کیا مصیبت پڑیہمیں اپنے دونوں سرداروں کے پاس لے گئے ہم نے دیکھا وہ مرے پڑے ہیں اور رہ ایك کے پا ایك کھڑاؤں پانی سے بھیگی رکھی ہے ڈاکوؤں نے ہمارے سب مال پھیردئے اور کہا اس واقعہ کی کوئی عظیم الشان خبر ہے ۔
()نیز فرماتے ہیں قدس سرہ:حدثنا ابوالفتوح نصراﷲ بن یوسف الازجی قال اخبرنا الشیخ ابوالعباس احمد بن اسمعیل قال اخبرنا الشیخ ابومحمد عبداﷲ بن حسین بن ابی الفضل قال کان شیخنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ یقبل النذور ویأکل منھا (ملخصا)
ہم سے حدیث بیان کی ابو الفتوح نصراﷲبن یوسف ازجی نےکہا ہمیں شیخ ابوالعباس احمد بن اسمعیل نے خبردی کہ ہم کو شیخ ابو محمد عبداﷲ بن حسین بن ابی الفضل نے خبردی کہ ہمارے شیخ حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ نذریں قبول فرماتے اور ان میں سے بذات اقدس بھی تناول فرماتےاگر یہ نذر فقہی ہوتی تو حضور کا کہ اجلہ سادات عظام سے ہیں اس سے
حوالہ / References بہجۃ الاسرار فصول من کلامہ مر صعابشیئ من عجائب احوالہ مصطفی البابی مصر ص٦٧
بہجۃ الاسرار ذکر شیئ من شرائف اخلاقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مصطفی البابی مصر ص١٠٤۔١٠٣
#15290 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
تناول فرمانا کیونکہ ممکن تھا۔
()نیز فرماتے ہیں:حدثنا الشریف ابوعبداﷲ بن الخضر الحسینی قال اخبرنا ابی قال کنت مع سیدی الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ ورأی فقیرامکسور القلب فقال لہ ماشأنك قال مررت الیوم بالشط وسألت ملاحا ان یحملنی الی الجانب الاخرفابی وانکسر قلبی لفقری فلم یتم کلام الفقیر حتی دخل رجل معہ صرۃ فیھا ثلاثون دینارا نذراللشیخ فقال الشیخ لذلك الفقیر خذھذہ الصرۃ واذھب بھا الی الملاح واعطھا لہ وقل لہ لاترد فقیرا ابدا وخلع الشیخ قمیصہ واعطاہ للفقیر فاشتری منہ بعشرین دینارا
ہمیں شریف ابوعبداﷲ محمد بن الخضرالحسینی نے حدیث بیان کیکہا ہم سے والد فرمایا میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ تھا حضور نے ایك فقیر شکستہ دل دیکھافرمایا تیرا کیا حال ہےعرض کی آج میں کنارہ دجلہ پر گیا ملاح سے کہا مجھے اس پار لے جااس نے نہ مانامحتاجی کے سبب میرا دل ٹوٹ گیافقیرکی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ ایك صاحب ایك تھیلی میں تیس اشرفیاں حضور کی نذر لائے حضور نے فقیر سے فرمایا یہ لو اور جاکر ملاح کو دو اور اس سے کہنا کبھی کسی فقیر کو نہ پھیرےاور حضور نے اپنا قمیص مبارك اتارکر اس فقیر کو عطافرمایا وہ اس سے بیس اشرفیوں کو خریدا گیا۔
()نیز فرماتے ہیں:الشیخ بقابن بطوکان الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ یثنی علیہ کثیر و تجلہ المشائخ والعلماء وقصدبالزیارات والنذورمن کل مصر ۔حضور سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ حضرت شیخ بقابن بطو رضی اﷲ تعالی عنہ کی بہت تعریف فرمایا کرتے اور اولیاء وعلماء سب ان کی تعظیم کرتےہر شہر سے لوگ ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر لاتے۔
()نیز فرماتے ہیں:الشیخ منصور البطائحی رضی اﷲ تعالی عنہ من اکابر مشائخ العراق اجمع المشائخ والعلماء علی تبجیلہ وقصد بالزیارات والنذور من کل جھۃ حضرت منصور بطائحی رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر شیئ من شرائف اخلاقہ رضی اﷲ عنہ مصطفی البابی مصر ص١٠٤
بہجۃ الاسرار شیخ بقابن بطو مصطفی البابی مصر ص١٥٩
بہجۃ الاسرار شیخ منصور البطائحی مصطفی البابی مصر ص١٤٠
#15291 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
اکابر اولیائے عراق سے ہیںاولیاء وعلماء نے ان کی تعظیم پرا جماع کیااور ہر طرف سے مسلمان ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر لاتے۔
()نیز فرماتے ہیں:لم یکن لاحد من مشائخ العراق فی عصر الشیخ علی بن الھیتی فتوح اکثر من فتوحہ کان ینذرلہ من کل بلد حضرت علی بن ہیتی رضی اﷲ تعالی عنہ کے زمانے میں اولیائے عراق سے کسی کی فتوح ان کے مثل نہ تھی ہر شہر سے ان کی نذر آتی۔
()نیز فرماتے ہیں:الشیخ ابوسعید القیلوی احد اعیان المشائخ بالعراق حضر مجلسہ المشائخ والعلماء وقصد بالزیارات والنذور حضرت ابوسعید قیلوی رضی اﷲ تعالی عنہ اکابر اولیائے عراق سے ہیں مسلمان ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر کی جاتی۔
()نیز فرماتے ہیں:اخبرنا ابوالحسن علی بن الحسن السامری قال اخبرنا ابی قال سمعت والدی رحمہ اﷲ تعالی یقول کانت نفقۃ شیخننا الشیخ جاگیر رضی اﷲ تعالی عنہ من الغیب وکان نافذالتصریف خارق الفعل متواتر الکشف ینذرلہ کثیرا وکنت عندہ یوما فمرت بہ بقرات مع راعیھا فاشارالی احدھن وقال ھذہ حامل بعجل احمر اغرصفتہ کذاوکذاویولد وقت کذا یوم کذاوھو نذرلی وتذبحہ الفقراء یوم کذاویاکلہ فلان وفلان ثم اشارالی اخری وقال ھذہ حامل بانثی ومن وصفھا کذاوکذاتولد وقت کذاوھی نذرلی یذبحھا فلان رجل من الفقراء یوم کذاویاکلھا فلان وفلان ولکلب احمر فیھا نصیب قال فواﷲ لقد جرت الحال علی ماوصف الشیخ ۔
ہمیں خبردی ابوالحسن بن حسن سامری نے کہ ہمیں ہمارے والد نے خبردیکہا میں نے اپنے والد سے سنافرماتے تھے ہمارے شیخ حضرت جاگیر رضی اﷲ تعالی عنہ کا خرچ غیب سے چلتا تھا اور ان کا تصرف نافذ تھا ان کے کام کرامات تھے علی الاتصال انہیں کشف ہوتا تھا مسلمان کثرت سے ان کی
حوالہ / References بہجۃ الاسرار شیخ علی بن ہیتی مصطفی البابی مصر ص١٥٣
بہجۃ الاسرار شیخ ابوسعید القیلوی مصطفی البابی مصر ص١٦١
بہجۃ الاسرار شیخ جاگیر رضی اﷲ عنہ مصطفی البابی مصر ص١٦٩
#15292 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
نذرکرتےایك دن میں ان کے پاس حاضر تھا کچھ گائیں اپنے گوالے کے ساتھ گزریںحضرت نے ان میں سے ایك کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اس گائے کے پیٹ میں سرخ پچھڑا ہے جس کے ماتھے پر سپیدی ہے۔اور اس کا سب حلیہ بیان فرمایافلاں دن فلاں وقت پیدا ہوگا اور وہ ہماری نذر ہوگا فقراء اسے فلاں دن ذبح کرینگے اور فلاں فلاں اسے کھائیں گے۔پھر دوسری گائے کی طرف اشارہ اشارہ کیا اور فرمایا:اس کے پیٹ میں پچھیاہے۔اور اس کا حلیہ بیان فرمایا فلاں وقت پیدا ہوگی اور وہ میری نذر ہوگیفلاں فقیر اسے فلاں دن ذبح کرے گا اور فلاں فلاں اسے کھائیں گے اور ایك سرخ کتے کا بھی اس کے گوشت میں حصہ ہے۔ہمارے والد نے فرمایا خداکی قسم جیسا شیخ نے ارشاد کیا تھا سب اسی طرح واقع ہوا۔
()نیزفرماتے ہیں:اخبرنا الفقیۃ الصالح محمد الحسن بن موسی الخالدی قال سمعت الشیخ الامام شھاب الدین السھروردی رضی اﷲ تعالی عنہ یقول مالاحظ عمی شیخنا الشیخ ضیاء الدین عبدالقاھر رضی اﷲ تعالی عنہ مریدابعین الرعایۃ الانتج وبرع وکنت عندہ مرۃ فاتاہ سوادی بعجل وقال لہ یاسیدی ھذانذرناہ لك وانصرف الرجل فجاء العجل حتی وقف بین یدی الشیخ فقال الشیخ لنا ان ھذاالعجل یقول لی انی لست العجل الذی نذرلك بل نذرت للشیخ علی بن الھیتی وانما نذرلك اخی فلم یلبث ان جاء السوادی وبیدہ عجل یشبہ الاول فقال السودی یاسیدی انی نذرت لك ھذاالعجل ونذرت الشیخ علی بن الھیتی العجل الذی اتیتك بہ اولاوکانا اشتبھا واخذالاول وانصرف ۔
ہمیں خبردی فقیہ صالح ابومحمد حسن بن موسی خالدی نے کہ میں نے شیخ امام شہاب الدین سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ کو فرماتے سنا کہ ہمارے شیخ حضرت عبدالقاہر ضیاء الدین سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ جب کسی مرید پر نظر عنایت فرماتے وہ پھولتاپھلتا اور بلند رتبہ کو پہنچتااور ایك دن میں حضور میں حاضر تھا کہ ایك دہقانی ایك بچھڑا الایا اور عرض کی یہ ہماری طرف سے حضرت کی نذر ہےاور چلاگیابچھڑا آکر حضرت کے سامنے کھڑا ہوا حضرت نے فرمایا یہ بچھڑا مجھ سے کہتا ہے میں آپ کی نذرنہیں ہوں میں حضرت شیخ بن علی بن ہیتی کی نذر ہوں آپ کی نذر میرا بھائی ہے۔کچھ دیر نہ ہوئی تھی کہ وہ دہقانی ایك اور بچھڑا لایا جو صورت میں اس کے مشابہ تھا اور عرض کی:اے میرے سردار!میں نے حضور کی نذر یہ بچھڑامانا تھا اور وہ بچھڑا جو پہلے میں حاضر لایا وہ میں نے حضرت شیخ علی بن ہیتی کی نذر مانا ہے مجھے دھوکا ہوگیا تھا۔یہ کہہ کر
حوالہ / References بہجۃ الاسرار شیخ عبدالقاہر السہروردی مصطفی البابی مصر ص٢٣٤ و ٢٣٥
#15293 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
پہلے بچھڑے کو لے لیا اور واپس چلاگیا۔
()نیزفرماتے ہیں:اخبرنا ابوزیدعبدالرحمن بن سالم احمد القرشی قال سمعت الشیخ العارف اباالفتح بن ابی الغنائم بالاسکندریۃ ہمیں ابوزید عبدالرحمن بن سالم بن احمد قرشی نے خبردی کہ میں نے حضرت عارف باﷲابوالفتح بن ابی الغنائم سے اسکندر یہ میں سنا کہ اہل بطائح سے ایك شخص دبلا بیل کھینچتا ہوا ہمارے شیخ حضرت سیداحمد رفاعی رضی تعالی عنہ کے حضورلایا اور عرض کی:اے میرے آقا!میرااور میرے بال بچوں کا قوت اسی بیل کے ذریعہ سے ہے اب یہ ضعیف ہوگیا اس کے لئے قوت و برکت کی دعا فرمائیے۔حضرت نے فرمایا:شیخ عثمان بن مرزوق(بطائحی رضی اﷲ تعالی عنہ)کے پاس جا اور انہیں میرا سلام کہہ اور ان سے میرے لئے دعاچاہ۔وہ بیل کو لے کر یہاں حاضر ہوادیکھا کہ حضرت سیدی عثمان تشریف فرماہیں اور ان کے گرد شیرحلقہ باندھے ہیںیہ پاس حاضر ہوتے ڈرافرمایا:آگے آ۔قریب گیاقبل اس کے کہ یہ حضرت رفاعی کا پیام پہنچائے سیدی عثمان نے خود فرمایا کہ میرے بھائی شیخ احمد پر سلاماﷲ میرا اور ان کاخاتمہ بالخیر فرمائےپھر ایك شیر کو اشارہ فرمایا کہ اٹھ اس بیل کوپھاڑ۔شیر اٹھااور بیل کو مار کر اس میں سے کھایاحضرت نے فرمایا:ا ب اٹھ آ۔وہ اٹھ آیاپھر دوسرے شیر سے فرمایا:اٹھ اس میں سے کھا۔وہ اٹھا اور کھایا۔پھر اسے بلایا۔تیسرا شیر بھیجایونہی ایك ایك شیر بھیجتے رہے یہاں تك کہ انہوں نے سارا بیل کھالیااتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ بطیحہ کی طرف سے ایك بہت فربہ بیل آیااور حضرت کے سامنے کھڑا ہواحضرت نے اس شخص سے فرمایا:اپنے بیل کے بدلے یہ بیل لے لو۔اس نے اسے پکڑتو لیا مگر دل میں کہتا تھا میرا بیل تو مارا گیا اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی اس بیل کو میرے پاس پہچان کر مجھے ستائےناگاہ ایك شخص دوڑتا ہوا آیااور حضرت کے دست مبارك کو بوسہ دے کر عرض کی:یاسیدی نذرت لك ثوراواتیت بہ الی البطیحۃ فاستلب منی ولاادری این ذھب اے میرے مولی!میں نے ایك بیل حضور کی نذر کا رکھا تھا اسے بطیحہ تك لایا وہاں سے میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا معلوم نہیں کہاں گیافرمایا:قد وصل الیناھا ھو تراہ وہ ہمیں پہنچ گیا یہ دیکھو یہ تمہارے سامنے ہے۔وہ شخص قدموں پر گرپڑااور حضرت کے پائے مبارك چوم کر کہا:اے میرے مولا!خدا کی قسم اﷲ نے حضرت کو ہر چیز کی معرفت بخشی اور ہر چیز یہاں تك کہ جانوروں کو حضرت کی پہچان کرادیحضرت نے فرمایا:ھذا ان
حوالہ / References بہجۃالاسرار شیخ ابوعمرو عثمان بن مرزوق البطائحی مصطفی البابی مصر ص١٥٩
بہجۃالاسرار شیخ ابوعمرو عثمان بن مرزوق البطائحی مصطفی البابی مصر ص١٥٩
بہجۃالاسرار شیخ ابوعمرو عثمان بن مرزوق البطائحی مصطفی البابی مصر ص١٥٩
#15294 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
الحبیب لایخفی عن حبیبہ شیأ ومن عرف اﷲ عز وجل عرفہ کل شیئ۔اے شخص!بیشك محبوب اپنے محبوبوں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھتاجسے اﷲ کی معرفت ملتی ہے اﷲ اسے ہر چیز کا علم عطا کرتاہے۔پھر بیل والے سے فرمایا:تو اپنے دل میں میرا شاکی تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا بیل تو مارا گیا اور خداجانے یہ بیل کہاں کا ہے مبادا کوئی اسے میرے پاس پہچان کر مجھے ایذا دے۔یہ سن کر بیل والا رونے لگا۔فرمایا:کیا تونے نہ جانا کہ میں تیرے دل کی جانتا ہوں جااﷲاس بیل کو تجھ پر مبارك کرے۔وہ بیل کولے کر چند قدم چلااب اسے یہ خطرہ گزرا کہ مبادا مجھے یا میرے بیل کو کوئی شیر آڑے آئے۔فرمایا:شیر کا خوف ہےعرض کی:ہاں۔حضرت نے جو شیر سامنے حاضر تھے ان میں سے ایك کو حکم دیا کہ اسے اور اس کے بیل کو بحفاظت پہنچادے۔شیر اٹھا اور ساتھ ہولیا اس کے پاس سے شیر وغیرہ کو دور کرتا کبھی اس کے داہنے کبھی بائیں کبھی پیچھے چلتا یہاں تك کہ وہ امن کی جگہ پہنچ گیا اور اپنا قصہ حضرت احمد رفاعی سے عرض کیاحضرت روئے اور فرمایا:ابن مرزوق کے بعد ان جیسا پیدا ہونا دشوار ہے۔اور اﷲ تعالی نے اس بیل میں برکت رکھی کہ وہ شخص بڑامالدار ہوگیا ۔
()امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب طبقات کبری احوال حضرت سیدی ابوالمواہب محمد شاذلی رضی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں: وکان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول رایت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اذاکان لك حاجۃ واردت قضاء ھافانذر لنفیسۃ الطاہرۃ ولوفلسافان حاجتك تقضی یعنی حضرت ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھاحضور نے فرمایا جب تمہیں کوئی حاجت ہو اور اس کا پورا ہونا چاہو تو سیدہ طاہرہ حضرت نفیسہ کے لئے کچھ نذر مان لیا کرو اگرچہ ایك ہی پیسہ ہوتمہاری حاجت پوری ہوگی۔
یہ ہیں اولیاء کی نذریںاور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ نذراولیاء کو ما اھل بہ لغیراﷲ میں داخل کرنا باطل ہےایسا ہوتا تو ائمہ دین کیونکر اسے قبول فرماتے اور کھاتے کھلاتے بلکہ ما اھل بہ لغیراﷲ وہ جانور ہے جو ذبح کے وقت تکبیرمیں غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا۔اب امام الطائفہ اسمعیل دہلوی صاحب کے باپوں کے بھی اقوال لیجئے:
()جناب شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی مولوی اسمعیل کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر انفاس العارفین
حوالہ / References بہجۃ الاسرار شیخ ابوعمروعثمان بن مرزوق البطائحی مصطفی البابی مصر ص١٩٥
طبقات کبرٰی امام عبدالوہاب الشعرانی
#15295 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
میں اپنے والد ماجد کے حال میں لکھتے ہیں:
حضرت ایشاں در قصبہ ڈاسنہ بزیارت مخدوم الہ دیارفتہ بودند شب ہنگام بود دراں محل فرمودند مخدوم ضیافت مامی کنند ومی گویند چیزے خوردہ روید توقف کردند تا آنکہ اثر مردم منقطع شد وملال بریاراں غالب آمدآنگاہ زنے بیامد طبق برنج و شیرینی برسر و گفت نذرکردہ بودم کہ اگر زوج من بیاید ہماں ساعت ایں طعام پختہ نشیندگان درگاہ مخدوم الہ دیا رسانم دریں وقت آمد ایفائے نذر کردم۔ حضرت ایشاں قصبہ ڈاسنہ میں حضرت مخدوم الہ دیا کی زیارت کے لئے تشریف لے گئےرات کا وقت تھا اس وقت فرمایا کہ حضرت مخدوم نے ہماری دعوت کی ہے اور فرمایا ہے کہ کھاناکھاکر جائیں۔آپ نے دعوت کا انتظار فرمایا یہاں تك کہ رات گزرجانے کی وجہ سے لوگوں کی آمد ورفت بھی ختم ہوگئیاحباب ملول ہوئےاچانك ایك عورت میٹھے طعام کاتھال لئے نمودار ہوئی اس نے کہا میں نے نذر مانی تھی کہ میرا خاوند جس وقت گھرواپس آئے گا میں اسی وقت طعام پکاکر مخدوم الہ دیا کی درگاہ میں قیام پذیر فقراء میں تقسیم کروں گیمیری خواہش تھی کہ خدا کرے اس وقت رات گئے درگاہ میں کوئی موجود ہوتا کہ طعام تناول کرے اور میری نذر پوری ہو۔(ت)
()اسی میں ہے:
حضرت ایشاں میفرمودند کہ فرہادبیگ را مشکلے پیش افتاد نذر کردم کہ بار خدایا کہ اگر ایں مشکل بسر آید ایں قدر مبلغ بحضرت ایشاں ہدیہ دہم آں مشکل مندفع شد آں نذر از خاطر اوبرفت بعد چندے اسپ اوبیمار شد و نزدیك ہلال رسید برسبب ایں امر مشرف شدم بدست یکے ازخادمان گفتہ فرستادم کہ ایں بیماری اسپ عدم وفائے نذرست اگر اسپ خودرامیخواہی نذرے راکہ در فلاں محل التزام نمودہ بفرست وے نادم شد وآں نذر فرستاد ہماں ساعت اسپ او شفا یافت۔
حضرت ایشاں نے فرمایا کہ فرہاد بیگ کو ایك مشکل در پیش ہے اس نے نذرمانی ہے کہ اے باری تعالی اگر یہ مشکل سرہوجائے تو میں مبلغ اتنے حضرت ایشاں کی خدمت میں ہدیہ دوں گاوہ مشکل ختم ہوگئی اور اس کے ذہن سے وہ نذر نکل گئیاس کے بعد اس کے چند گھوڑے بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگئےمجھے جب معلوم ہوا تو میں نے اس کو ایك خادم کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ اگر گھوڑوں کی خیر چاہتے ہوتو فورا نذر پوری کرو جو تم نے فلاں جگہ فلاں وقت مانی تھی نذر پوری نہ کرنے کی وجہ سے گھوڑے بیمار ہوئے ہیںتو وہ بہت نادم ہوااورنذر خدمت میں ارسال کردی تو گھوڑے فورا تندرست ہوگئے۔(ت)
حوالہ / References انفاس العارفین(مترجم اردو)حضرت مخدوم الہ دیہ المعارف گنج بخش روڈ لاہور ص١١٢
انفاس العارفین(مترجم اردو) منکر سے بزور نذر وصول کی المعارف گنج بخش روڈ لاہور ص١٢٧و ١٢٨
#15296 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
()حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں:
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ اور اتمام امت برمثال پیراں و مرشداں می پرستند وامور تکوینیہ را بایشاں وابستہ می دانند وفاتحہ و در ود صدقات و نذر بنام ایشاں رائج و معمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است فاتحہ ودرود ونذر وعرس و مجلس۔
حضرت امیر(علی کرم اﷲ وجہہ)اور ان کی اولاد پاك کو تمام امت پیروں اور مرشد وں کی طرح سمجھتی ہے اور تکوینی امور فاتحہدرودصدقات اور نذر ونیازان کے نام سے رائج ہیں اور معمول بنا ہوا ہےچنانچہ تمام اولیاء کرام سے یہی معاملہ ہے کہ ان کے نام پر نذر و نیازفاتحہدرودعرس اور مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔(ت)
فوائد عظیمہ جلیلہ
مسلمان دیکھیں دونوں شاہ صاحبوں کی ان تینوں عبارتوں سے کتنے جلیل و جمیل وہابیت کش فائدے حاصل ہوئےوﷲالحمد: ()اولیاء کا اپنے حاضرین مزارات پر مطلع ہونا()ان سے کلام فرمانا کہ جب حضرت مخدوم الہ دیا قدس سرہ کے مزار شریف پر شاہ ولی اﷲ صاحب کے والد عبدالرحیم صاحب حاضر ہوئے حضرت نے مزار شریف سے ان کی دعوت کی اور فرمایا کچھ کھاکر جانا()اولیائے کرام کا بعد وفات پر غیبوں پر اطلاع پانا کہ حضرت مخدوم قدس سرہ کو معلوم ہوا کہ۱ایك عورت نے اپنے شوہر کے آنے پر ہماری نذر مانی ہے ۲اور یہ آج اس کا شوہر آئیگا ۳اور یہ کہ عورت اسی وقت ہماری نذر کے چاول اور شیرینی حاضر کرے گی()اولیاء کی نذر()مصیبت کے وقت اس کے دفع کواولیاء کی نذر ماننی()ان کی نذر مان کر پوری نہ کرنے سے بلاآنا اگرچہ وہ پورانہ کرنا بھول جانے سے ہو()اس نذر کے پوراکرتے ہی فورا بلاکادفع ہونا کہ فرہاد بیگ نے کسی مشکل کے وقت شاہ ولی اﷲ صاحب کے والد کی نذر مانی پھر یاد نہ رہیگھوڑا مرنے کے قریب پہنچ گیاشاہ صاحب کو معلوم ہوا کہ اس پر یہ مصیبت ہماری نذر پوری نہ کرنے سے ہےاس سے فرمابھیجا کہ گھوڑا بچانا چاہتے ہوتو ہماری منت پوری کرواس نے وہ نذر پوری کی گھوڑا فورا اچھا ہوگیا()فاتحہ مروجہ()عرس اولیاء()ان سب سے بڑھ کریہ پانچ بھاری غضب کہ پیر پرستی ()مولی علی وائمہ اطہار کی بندگی()اس پرستاری و بندگی پر تمام امت مرحومہ کا اجماع()فتحشکستتندرستی دولتمندیتنگدستیاولاد ہونانہ ہونامراد ملنا نہ ملنااور ان کے مثل احکام تکوینیہ کا مولی علی و
حوالہ / References تحفہ اثنا عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص٢١٤
#15297 · بابُ النّذر (نذر کابیان)
ائمہ اطہار واولیائے کرام سے وابستہ ہونا()اس وابستہ جاننے پر امت مرحومہ کا اجماع ہونا۔وہ سات بڑے شاہ صاحب کے کلام میں تھے یہ بھاری پتھر چھوٹے شاہ صاحب کے کلام میں ہیں۔اب اسمعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان وایضاح الحق اور گنگوہی صاحب کی براہین قاطعہ وغیرہا خرافات وہابیہ سے ان کو ملا کر دیکھئے دونوں شاہ صاحب معاذ اﷲ کتنے بڑے کٹے پکے مشرکمشرك گر ٹھہرتے ہیں مگر ان کا مشرك ہونا آسان نہیں۔اس کے ساتھ ہی یہ()بھاری فائدہ حاصل ہوگا کہ اسمعیل دہلوی و گنگوہی وتھانوی اور سارے کے سارے وہابی سب مشرك کافر ہیں کہ اسمعیل دہلوی ان دومشرکوں کا غلامان کا شاگردان کا مریدان کا مداحان کوامام وولی چنیں وچناں جاننے والا۔اور گنگوہی و تھانوی اور سارے کے سارے وہابی ان دو تقویت الایمانی دھرم پر مشرکوں اور اس تیسرے قرآنی دھرم پر بددین گمراہ کو ایسا ہی جاننے والے اور جوایسوں کو ویسا جانے وہ خود مشرك کافر بے دین والحمد ﷲ رب العالمین ہے۔کسی وہابی گنگوہی تھانوی دہلوی امر تسری بنگالی بھوپالی وغیرہم کے پاس اس کا جواب یا آج ہی سے و قفوهم انهم مسـولون(۲۴) ما لكم لا تناصرون(۲۵) بل هم الیوم مستسلمون(۲۶) (انہیں روکوان سے پوچھنا ہے تمہیں کیا ہوا اب ایك دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے بلکہ اب وہ گردن ڈالے ہیں۔ت)کاظہور بے حجاب كذلك العذاب-و لعذاب الاخرة اكبر-لو كانوا یعلمون(۳۳) (عذاب ایسا ہوتا ہے اور بیشك آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کاش وہ جانتے۔ ت)یہاں سے ظاہر ہوگیا کہ اس مجموعہ خطب کے اشعار موافق اہلسنت نہیںاور برکات الامداد کی وہ عبارت متعلق بہ استمداد ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
#15298 · باب الکفارۃ (کفارے کا بیان)
باب الکفارۃ
(کفارے کا بیان)

مسئلہ: ربیع الاول شریفھ
چہ می فرمایند حامیان دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ زید از شراب خوری توبہ کرد ومواجہہ چار کس کلام اﷲشریف رابرد اشتہ قسم خورد کہ شراب رانوش نکنم وبارد گر شخصاں دریافت کرد زید از توبہ واز قسم اقرار کرد بعدہ اززید فعل شنیع سر زد شد یعنی شراب بخورد وچساں زید ازیں گناہ بری خواہد شد چہ کفارہ باید داد
دین کے حامی اور شرع کے مفتی کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے شراب نوشی سے توبہ کی اور چار حضرات کے سامنے اس نے قرآن پاک اٹھا کر قسم کھائی کہ میں شراب نوشی نہیں کروں گا۔لوگوں نے اس سے استفسار کیاتو اس نے اپنی توبہ اور قسم کا اقرار کیااس کے بعدزید سے یہ برافعل سرزد ہوا یعنی اس نے دو بارہ شراب نوشی کیاب سوال ہے کہ زید اس گناہ سے کس طرح بری ہوسکتا ہے اور اس کو کیا کفارہ دینا چاہئے (ت)
الجواب:
در شرع مطہر کفارہ مرگنا ہے را باشد کہ در شناعت از حد نگزرد و ہرچہ قبحش از حد گزشت تطہیر بکفارہ را نپذیردوبے توبہ صادقہ حکم بمحویتش
شرع مطہر میں کفارہ اس گناہ کا ہو تا ہے کہ وہ برائی میں حد سے بڑھ کر نہ ہواور جو شخص اپنے گناہ میں حد سے تجاوز کر جائے تو وہ کفارہ سے پاک نہیں ہو سکتا
#15299 · باب الکفارۃ (کفارے کا بیان)
صورت نگیرد آں چنانکہ اگر کسے زن خود را بمادر و خواہر خویش تشبیہ دہد اوراکفارہ است کہ بعد ادایش قربت زن برومباح گردد فاما آنکہ مادر و خواہر خود را زن خود سازد ایں جرم راہیچ کفارہ نیست جز آنکہ بتوبہ صادقہ گراید اینجا اگر مصحف کریم برداشتہ سوگند بنام اویا بنام حضرت عزت جل وعلی نیز برزبان آورد پس دو چیز باشد یکے نیز سوگند چوں برو قائم نماند کفارہ اش یک غلام آزاد کردن یا دہ مسکین را دو وقت طعام خوراندن یا دہ مسکین را جامہ پوشاندن وہر کہ برہیچ ازینہا قادر نباشد سہ روزہ پے در پے دارد۔ دوم تاکیدش بہ برداشتن مصحف کریموایں امرے عظیم بود بعداوباز برآں عمل ناپاک اقدام نمودن منجر بتوہین مصحف شریف و استخفاف بحق عظیم اوست وایں سخت ترکارے است واورا صلا کفارہ نیست جز آنکہ زود بتوبہ صاد قہ گردید وازاں فعل شنیع بعزم صحیح باز آید ورنہ منتظر باید بود عذابے الیم و نار جحیم والعیاذ باﷲ تعالیاگر توبہ نکند نیز آنکہ شراب نگزارد اوراباید باہر جام ناپاک شراب جامے ازریم وزرد آب نیز خوردہ باشد تا خوگر شود زیرا کہ شراب خورراناگزیر است درجہنم ازریم فرج زناں زانیہ خوردن چوں آتش درزناں زانیہ در گیرد واز بدترین جاہائے آناناں
اور جب تک وہ صدق دل سے توبہ نہ کرے تو اس گناہ سے پاک نہیں ہوسکتاجیسا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ماں یابہن سے تشبیہ دے تو اس کا کفارہ ہے اور کفارہ کے بعد بیوی اس کے لئے حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی ماں یا بہن کو اپنی بیوی بنالے تو اس جرم کا کوئی کفارہ نہیں ہے بلکہ اس پر صدق دل سے توبہ لازم ہے اگر یہاں زید نے قرآن اٹھا کر قرآن کے نام سے قسم کھائی یا اﷲ تعالی جل وعلا کے نام سے قسم کھائی اور زبان سے ادا بھی کی ہوتو اس پر دو چیزیں لازم ہیںایک یہ کہ وہ قسم پر قائم نہ رہا بلکہ قسم توڑدی ہے اس لئے اس پر کفارہ لازم ہے اور وہ ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کولباس پہنانا ہے اور اگرکوئی ان مذکورہ امور پر قادر نہ ہوتو پھر تین روزے مسلسل رکھنے ہوں گے۔دوسری چیز کہ اس نے قرآن مجید اٹھا کر قسم کھائی ہے اور بہت سخت معاملہ ہے کہ قرآن اٹھا کر اس نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھر سے شراب نوشی کی ہے جس سے قرآن پاک کی توہین تک معاملہ پہنچا اور قرآن کے عظیم حق کی پامالی کی ہے تو اس سخت کار روائی پر کفارہ نہیں ہے بلکہ اس کےلئے اس پر لازم ہے کہ فورا توبہ کرے اور اس برے فعل کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ قصد کرے ورنہ پھر اﷲ تعالی کی طرف سے درد ناک عذاب اور جہنم کی آگ کا انتظار کرےوالعیاذ باﷲتعالی۔ اور اگر زبان سے قسم ادا نہیں کی بلکہ اسی قرآن اٹھانے کو قسم قرار دیا تو اس قسم کا
#15300 · باب الکفارۃ (کفارے کا بیان)
واگرسوگند برزباں نراندہ است سائل ہمیں مصحف برداشتن راسوگند خواندہ است حکمش ہمیں ست کہ کفارہ نیست وعذاب الیم را انتظار کرد ریم برآردآدمی ہر قدر کہ شراب خوردہ باشد ہماں قدر ازاں ریم وزرد آب فروج زانیات بآں شراب خورخورانند زینہارازومفرنیا بد چونکہ دراحادیث کثیرہ ارشاد فرمودہ اندوالعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
وہی حکم ہے کہ اس پر کفارہ نہیں بلکہ عذاب الیم کا انتظار کرے توبہ نہ کرنے پر اور شراب نہ چھوڑنے پر اس کو چاہئے کہ اسی ناپاک جام کو گند ی پیپ سے بھر کر پئے تاکہ اس گندگی کا عادی ہوجائےکیونکہ شراب نوشی کرنے والے کے لئے زانی عورتوں کی شرمگاہ سے نکلی ہوئی پیپ او غلیظ گندے پانی کو جہنم میں پینا لازمی سزا ہوگی کہ جہنم کی آگ سے زانیہ عورتیں جل کر ان کے بدن کی بدترین جگہ شرمگاہ سے جو پیپ نکلے گی شراب نوشی کرنے والا اپنی شراب کی عادت کے مطابق اس پیپ کو پئے گااس سزا سے وہ بچ نہ سکے گاجیساکہ کثیر احادیث میں بیان ہوا ہےوالعیاذ باﷲ تعالیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از فرخ آباد مسئولہ شمس الدین احمد شنبہ / شوال ھ
جھوٹی قسم خدا کی کھانا کیاکفارہ دینا چاہئےاگر ایک ہی وقت میں کئی مرتبہ جھوٹی قسم خدا کی کھائے تو ایک کفارہ دے یا ہر ایک قسم کا علیحدہ علیحدہفقط۔
الجواب:
جھوٹی قسم گزشتہ بات پر دانستہاس کا کوئی کفارہ نہیںاس کی سزا یہ ہے کہ جہنم کے کھولتے دریا میں غوطے دیاجائے گااور آئندہ کسی بات پر قسم کھائی اور وہ نہ ہوسکی تو اس کا کفارہ ہے ایک قسم کھائی تو ایک اور دس تودس۔واﷲتعالی اعلم۔
#15301 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
کتاب الحدود والتعزیر
(حدود اور تعزیر کا بیان)

مسئلہ: محرمھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا یہ بیان ہے کہ زید نے مجھ سے زنابالجبر کیاگواہ معاینہ کا کوئی نہیںاور یہ بیان اس عورت کا ہے کہ جس مکان میں واقعہ مذکور گزرا ہے اس میں سوائے میرے اور زید کے اور کوئی موجود نہ تھازید کا انکار ہے کہ میں نے زنا نہیں کیا البتہ تہدید کےلئے عورت مذکور کو سخت اور سست کہا تھااور وہ تہدید یہ تھی یعنی صبح کو جس وقت زید پانی بھرنے کو اپنے ٹھکانوں میں جانے لگا تو زید نے اس عورت کو خواب سے بیدار کیا کہ ہوشیار ہوجا ایسا نہ ہو کہ کوئی آوارہ آدمی کوئی چیز اٹھالے جائےجب زید پانی بھر کر لوٹ آیا تو عورت مذکورکو سوتا پایا تو اس نے ایك لات چار پائی اس عورت میں ماری کہ ابھی تك غافل سورہی ہے کوئی مال اٹھالے جاتا تو کیاہوتااور زید نے سخت اور سست بھی کہااس پر اس نے شورمچایا اور زید کو متہم بالزنا بالجبر کیاآیا اس بارے میں بلحاظ واقعات صدرقول عورت قابل اعتبار ہے یانہیںاور دو شخص جن میں ایك مسلمان اور دوسرا ہندو یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یہ سنا کہ مکان میں سے آواز آتی ہے کہ یہ شخص میری آبرو اتارے لیتا ہےبینواتوجروا۔
#15302 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
الجواب:
اس عورت کا قول ہرگز قابل اعتبار نہیںبلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اسے جھوٹ و بہتان سمجھے اور مسلمان کے ساتھ نیك گمان کرےجو لوگ اس بارے میں زن مذکورہ کو سچاجانیں گے وہ بھی سخت گناہگار اور اس مرد کے حق میں گرفتار ہوں گے شریعت کا حکم یہ ہے یا تو وہ چار گواہ مسلمان ثقہ پرہیز گار قابل شہادت زنا سے ثابت کرادے کہ وہ اس وقت خاص میں اس مکان معین میں اس مرد کا اس عورت کے ساتھ زنا کرنا اور اپنا بچشم خود اس کے بدن کو اس کے بدن میں سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھنا بیان کریں جب تو عورت اس الزام سے بری ہوگی اور مرد پر زنا کی حد آئے گیورنہ عورت کو اسی کوڑے لگائے جائیں گےاور جو لوگ اس کا بیان سچا مان کر مرد پر یہ تہمت کریں گے وہ بھی اسی اسی کوڑے کھائیں گے۔یہ سب حکم خود قرآن مجید میں مذکور۔اس ملك میں کہ حد شرع جاری نہیں اتنا فرض ہے کہ مسلمان اس عورت کو جھوٹا کذاب اور ناحق افتراء باندھنے والی سمجھیںپس مسلمان اس سے توبہ کرائیں اور وہ مجمع میں اپنے آپ کو جھٹلائےاگر نہ مانے تو اسے چھوڑدیں کہ وہ سخت گناہ کی مرتکب ہوئیاور ان دوگواہوں کی گواہی عورت کو کچھ بھی مفید نہیں کہ اول فقط ایك گواہ ہےکافر کی گواہی کچھ مقبول نہیں دوسرے وہ اپنی آنکھوں کا دیکھا کچھ نہیں کہتےتیسرے سننے میں بھی فقط اس عورت کی آواز بیان کرتے ہیںیہ خود مدعیہ ہےمدعی کا قول مسموع نہیںچوتھے آبرواتارنا کچھ خاص زنا کرنے ہی کو نہیں کہتے مارنے پیٹنے یا مارپیٹ کا قصد کرنے پر بھی ایسا کلمہ کہا جاتا ہےغرض گواہی محض مہمل ہے اور عورت کا قول سراسرباطلاور مرد الزام سے بالکل بریاور عورت پر جھوٹی تہمت کا الزام قائم اور اس پراس سخت گناہ سے توبہ فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ۳: ذیقعدہھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی بے دیکھے کسی مسلمان پر تہمت لگائے کہ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کیا اور اس شخص پر نہ کوئی ثبوت ہے نہ گواہی تو ایسی تہمت لگا کر بدنام کرنا جائز ہے یاناجائز بینواتوجروا۔
الجواب:
سخت حرام قطعی گناہ کبیرہ ہےایسی تہمت رکھنے والا اﷲتعالی کے بڑے عذاب کا مستحق ہوتا ہےاﷲ عزوجل نے حکم فرمایا کہ ایسے شخصوں کو اسی کوڑے مارواور ان کی گواہی کبھی نہ سنو اور وہ فاسق ہیںیہاں کوڑے تو نہیں لگا سکتے لہذا اسی قدر کریں کہ جب تك وہ تہمت رکھنے والا مجمع میں توبہ نہ کرے اور
#15303 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
صاف صاف اس اپنی ناپاك گفتگوسے بازنہ آئے اس وقت تك مسلمان اس سے ملنا جلنااس کے پاس اٹھنا بیٹھنااس کی شادی بیاہت میں شریك ہونااپنی شادی بیاہت میں اسے شریك کرنا یك قلم چھوڑیں کہ وہ اس تہمت کے اٹھانے سے ظالم ہےاورظالم کے پاس بیٹھنے کوقرآن مجید میں منع فرمایااور ایسی تہمت کاثبوت کسی گواہی سے ہرگز نہیں ہوسکتا جب تك چار مرد نمازی پرہیز گار ثقہ متقی جو نہ کوئی گناہ کبیرہ کرتے ہوں نہ کسی گناہ صغیرہ پر اصرار رکھتے ہوں نہ کوئی بات خلاف مروت چھچھورے پن(جیسے سربازار کھانا کھانایا شارع عام پر سب کے سامنے پیشاب کرنا)کی کرتے ہوں ایسے اعلی درجہ کے متقی مہذب بالاتفاق ایك وقت ایك مکان میں اپنی آنکھ سے دیکھنا بیان کریں کہ ہم نے اس کا بدن اس کے بدن کے اندر خاص اس طرح دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائیاگر ان امور سے ایك بات بھی کم ہوگی مثلا گواہ چار سے کم ہوں یا چوتھا شخص اس اعلی درجہ کانہ ہو یا ہوں تو سب اعلی درجہ کےاور چار پانچ نہیں بلکہ دس بیس مگر ان میں مرد تین ہی ہوں باقی عورتیں یا کچھ گواہ آج کا واقعہ بیان کریں کچھ کل کایاکچھ کہیں ہم نے اس مکان میں دیکھا کچھ کہیں دوسرے میںیا یہ سب باتیں جمع ہوں اور تین گواہ صاف صاف یہ بھی گواہی دے چکے ہوں کہ ہم نے اس کا ذکر اس کی فرج داخل میں اسی طرح دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی مگر چوتھا اتنا کہے میں نے اس کا برہنہ ذکر اس کی برہنہ فرج کے منہ پر رکھا دیکھا مثلا نصف حشفہ تك اندر کیا ہوا دیکھاتو ان سب صورتوں میں یہ گواہیاں مردود اور وہ تہمت باطل اگرچہ اس قسم کی سو دو سو گواہیاں گزریں اصلا ثبوت نہ ہوگا بلکہ تہمت کرنیوالے زنا کی گواہی دینے والے خود ہی سزا پائیں گے یہ سب احکام قرآن مجید و حدیث شریف و کتب فقہ میں صاف مذکور۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:از بڑود ہ گجرات کلاں محلہ بھوتنے کاجھاپہ نظام پورہ مرسلہ امراؤ بائی بنت غلام حسین حالہ / رجب ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت کو ایك آدمی اور ایك عورت کے ہمراہ کسی کام ضروری کے لئے کہیں بھیجابعد واپس آنے کے نان و نفقہ موقوف کردیا کچہری گائی کواڑی میں مقدمہ ہے کچہری کہتی ہے کہ نان و نفقہ کیوں نہیں دیتاخاوند کہتا ہے بغیر حکم میرے کیوں گئیعورت نے گواہ شاہد قولی پیش کئے کہ اس نے عورت کو جانے کےلئے حکم دیا عورت کہتی ہے کہ مجھے میرے خاوند نے بہتان لگایا میری آبرولیجو شخص اپنی عورت کی آبرولے شریعت میں اس کی کیا سزا ہےفریبی دغا باز و جعلساز کےلئے کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
بہتان اٹھاناناجائزطور پر آبرو لیناجعل دغا فریب یہ سب باتیں گناہ ہیں خواہ اپنی عورت کے ساتھ
#15304 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
ہوں خواہ کسی کے ساتھاور ان گناہوں کے لئے شرع نے کوئی حد مقرر نہ فرمائی تو ان میں سزائے تعزیر ہے جس کااختیار حاکم شرع کو ہےجو سزا مناسب دےمگر مارے تو انتالیس کوڑوں سے زیادہ نہ مارےاور امام ابویوسف کے نزدیك پچھتراور اسی پر فتوی ہے۔اشباہ میں ہے: ضابطۃ التعزیر کل معصیۃ لیس فیھا حد مقدر ففیہ التعزیر ۔ ضابطہ تعزیر یہ ہے کہ جس گناہ کےلئے کوئی حد مقرر نہ ہو اس پر تعزیر ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
من اذی غیرہ بقول او فعل یعزر کذافی التاتار خانیۃ ۔
جس نے کسی دوسرے کو اپنے عمل یا قول سے اذیت دی تو اس پر تعزیر ہےجیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے(ت)
درمختار میں ہے:
التعزیر لیس فیہ تقدیر بل ھو مفوض الی رأی القاضی ۔
تعزیر میں سزا مقرر نہیں ہے بلکہ وہ قاضی کی رائے پر موقوف ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اکثرہ تسعۃ وثلثون سوطا لوبالضرب ۔
تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہیںیہ سزا مارنے کی ہے۔(ت)
پھر یہ حکم بہتان زنا کے سوا اور بہتانوں میں ہے اور اگر مرد اپنی عورت کو صاف زنا کی تہمت لگائے خواہ بالقصد تہمت لگانا ہی منظور ہو یا جس طرح بیباك عوام میں کچھ لفظ دشنام کے رائج ہیں کہ غصہ میں زبان سے نکالتے ہیں اور ان کے معنی میں صراحۃزنا کا۔۔۔۔۔۔(جواب ناقص ملا)
مسئلہتا:ازنیپال گنج بازار ڈاك خانہ روپی ڈیہہ ضلع بہرائچ مسئولہ مولوی حبیب اﷲ محبوب علی شاہ دوشنبہ محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
()ایك محصن مرد اور محصنہ عورت بعلت زنا مشتہر ہوکر دونوں نے بجلسہ عام اقرار زنا کیا گو موقعہ کے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب الحدود والتعزیر ادارۃالقرآن کراچی ١/٢٨٥
الاشباہ والنظائر کتاب الحدود والتعزیر ادارۃالقرآن کراچی ١/٢٨٤
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٢٦
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٢٦
#15305 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
عینی شاہد نہیں ملے مگر تحقیقات سے رموز زنا اور زانیہ کے پیام وسلام قول وقرار کے ثبوت بھی ملے۔
()اب یہ عقود فسخ ہوئے یا قائم رہے
()اور عورت زانیہ کے شوہر کو اسے طلاق دینا لازم ہے یانہیں
()اگر لفظ طلقتك نہیں کہا اور طلاقنامہ لکھ کر دے دیا جس کی نقل منسلکہ استفتاء ہذا ہے جس روزسے یہ تحریر دی ہے اس روز سے مواجہہ نہیں ہوا ایك روز قبل نماز جمعہ میں زانیہ کے شوہر نے طلاق بائنہ کا اقرار کیا لہذا یہ طلاق بائنہ ہوئی یانہیں
()اگر عورت مطلقہ نے خود طلاق مانگی تھی اور عدت بھی توڑدی ہے اس صورت میں اب زانیہ کے شوہر کومہر ومصارف عدت ادا کرنا چاہئے یانہیں
()اور ایسے زانی و زانیہ کی اگرچہ شرعی سزا دینا یہاں پر اس وقت غیر ممکن ہے تو حاکم وقت مقامی سے حسب قانون حکومت سزائے زنا دلانے کا عذر دار ہونا لازم ہے یا نہیں
()مر د محصن زانی کا بھی عقد فسخ ہوا یانہیں
()ایك گروہ کثیر نے مرد محصن زانی کے ساتھ میل جول و حقہ پانی ترك کردیاہے لیکن چند اشخاص نے جن میں سے صرف دو شخص خواندہ عقائد وہابیہ دیوبندیہ اور ایك شخص خواندہ اہلسنت و جماعت جو کہ اشخاص عقائد وہابیہ مذکرہ کا صرف ہم مشرب ہے بقیہ اشخاص ناخواندہ ہیں انہوں نے زانی وزانیہ کو توبہ کراکے میل جول حقہ پانی دے کر ہم پیالہ وہم نوالہ ہوگئے ہیں بدیں باعث بڑے گروہ نے ان سب کا بھی میل جول حقہ پانی ترك کردیا ہے یہ ترك کرنا جائز ہے یانہیںاور یہی چند اشخاص اس زنا کے محرك معلوم ہوتے ہیں۔
()شوہر زانیہ کا پیش امام جامع مسجد ومدرس مدرسہ اسلامیہ ہے اس واسطے تنبیہا ان زانی اور زانیہ کی موافق رسم و رواج حال کی کیا سزا ہونی چاہئے
()اور زانی وزانیہ کے شریك داران مذکرہ بھی کسی قسم کی سزا کے مستوجب ہیں یانہیںبینواتوجروامع الکتاب۔
نقل طلاق نامہ:منکوحہ جواد ولد حسین علی متوطن لکھنؤ ساکن نیپال گنججوکہ مسماۃ منیر ا نومسلم میرے عقد و نکاح میں نوسال سے تھی اب مسماۃ مذکورہ کی بدچلنی ثابت ہونے سے اور زبانی خود سے تعلق بے جا کے اقرار سے میں طلاق اس کے طلب برضا و رغبت طلاق دیتا ہوں اور یہ چند کلمہ بطریق طلاق نامہ کے لکھ دئے کہ سندر ہے اور وقت پر کام آئے۔العبد محمد جواد بقلم خود۔گواہ شد نورمحمد بقلم خود۔مورخہذی الحجہ ھ مطابق گنے کنوار بمواجہہ فقیر بخش وبدلو ومنےﷲوغیرہم کے یہ تحریر لکھی گئی۔
#15306 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
الجواب:
( و )ایسی بازاری باتوں سے زنا کاثبوت نہیں ہوسکتا جب تك کافی شہادت شرعیہ یاکافی اقرار زانی یا زانیہ نہ ہواور اگر زنا ثابت بھی ہوا تو اس سے نکاح میں کچھ فرق نہیں آتا مگر ایسا زنا جس سے مصاہرت ثابت ہو جیسے شوہر کے باپ یا بیٹے سے کہ اس صورت میں البتہ نکاح فاسد ہوجاتا ہے۔()زانیہ کو طلاق دینا شوہر پر لازم نہیں۔درمختار میں ہے: لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۔فاجرہ عورت کو طلاق دیناخاوند پر واجب نہیں ہے(ت)
()طلاق جس طرح زبان سے ہوتی ہے اسی طرح قلم سےجبکہ بلامجبوری شرعی لکھا ہواشباہ میں ہے الکتاب کالخطاب (تحریر بھی خطاب کی طرح ہوتی ہے۔ت)طلاقنامہ سے طلاق رجعی ثابت ہوتی ہےلیکن شوہر نے اگر طلاق بائن کا اقرار کیا تو بائن ہوگئی۔()مہربہر حال دینا ہوگا اور عورت پر فرض ہے کہ عدت اسی مکان میں پوری کرے۔قال اﷲ تعالی لا تخرجوهن من بیوتهن و لا یخرجن الا ان یاتین بفاحشة مبینة ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تم بیویوں کوگھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الایہ کہ وہ کھلے بندوں فحش کاری کریں۔(ت)
اس حالت میں تاختم عدت شوہر پر لازم ہوگا کہ اسے نفقہ دے۔
()ہرگز نہیںسزاوہی ہے جو مطابق شرع ہے اور اس کے خلاف کی خواستگاری ناجائز۔
قال اﷲ تعالی و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الظلمون(۴۵) ۔وقال اﷲ تعالی و قد امروا ان یكفروا به ۔اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو اﷲ تعالی کے نازل کئے ہوئے پر حکم نہ کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں۔(ت)اﷲتعالی نے فرمایا:ان کوحکم دیا گیا کہ اس سے انکارکریں۔ (ت)
()زانی کے نکاح پر زنا سے کوئی اثر نہیں پڑسکتا مگر یہ کہ ا س سے مصاہرت ثابت ہو جیسے اپنی
حوالہ / References درمختار کتاب النکاح ١/١٩٠ وکتاب الحظر والاباحت ٢/٢٥٤مجتبائی دہلی
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢/۵٩٦ و٥٩٧
القرآن الکریم ٦٥ /١
القرآن الکریم ٥ /٤٥
القرآن الکریم ٤ /٦٠
#15307 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
زوجہ کی ماں یا بیٹی سے۔
()اگر ان لوگوں نے زانی و زانیہ کی توبہ کے بعد ان سے میل جول کیا ہے تو ان پر اس سے کچھ الزام نہیں اور اس بناپر ان کا حقہ پانی بند کرنا ناجائز ہےاور اگر بغیر توبہ کئے میل جول کرلیا تو بیجا کیا اس حالت میں بطور تنبیہ انکا حقہ پانی بندکرنے میں حرج نہیںتوبہ کے لئے اولیاء کا مواجہہ ضرورنہیںہاں بنظر حق العبد ان کی معافی کی ضرورت ہے مگر بغیر اس کے جتنی توبہ کی ہے وہ بھی نامعقول سمجھی جائےیہ محض باطل ہے۔دیوبندی عقیدے والے خود مرتد ہیں اور ان سے میل جول مطلق حرام۔اس واقعہ پر اس کوبناکرنااور یہ نہ ہوتا تو ان سے میل جول رکھنا جہل و ضلالت ہےیونہی وہ جو دیوبندیہ سے میل جول رکھتا ہواگرچہ اپنے آپ کو سنی کہتا ہو سخت فاسق ہے اور مسلمانوں کو اس سے قطع تعلق لازم ہے۔
قال اﷲ تعالی و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمسكم النار اﷲ تعالی نے فرمایا:تم ظالم لوگوں کی طرف میلان نہ کروورنہ تمہیں آگ چھولے۔(ت)
()یہاں ترك تعلق کے سوا کوئی سزاجاری نہیں ہوسکتی اور زنائے زن سے شوہر پر کچھ الزام نہیں جبکہ وہ اس پر راضی نہ ہو۔
قال اﷲ تعالی و لا تزر وازرة وزر اخرى ۔ اﷲتعالی نے فرمایا:کوئی جان دوسرے کا بوجھ(گناہ)نہ اٹھائے گی(ت)
()اگر وہ زنامیں ساعی تھے یا بعد زنا بلاتوبہ انکے حامی ہوئے تو بھی مستحق سزائے شرع ہیں ورنہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: صفرھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں معنی کہ مثلا زید کہ باخالد دوستی دارد و بازن او مرتکب فعل زناشد و خالد ازیں امر کہ مکروہ تروناپسندیدہ تر نزد اوبودروادارتفضیح در سوائے زید نشدہ وبدیں سبب کہ دوست اوبود اورانزد قاضی برائے مواخذہ واجرائے حد شرع نہ برد بلکہ چشم پوشی کرد
علماء دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید خالد کا دوست تھا اور اس کی بیوی سے زید نے زناکیا تو خالد ا س بدترین فعل کے باوجود زید سے رواداری کرتے ہوئے اس کی ذلت ورسوائی کے درپے نہ ہوااور دوستی کی وجہ سے قاضی کے ہاں مواخذ ہ اور شرعی حدکے لئے اس کو پیش نہ کیا بلکہ چشم پوشی
#15308 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
بکراہت تماموبہمیں اکتفا کرد کہ الان او را از دوستی خود خارج کرد و زن خود را طلاق داد یا درصورتیکہ ایں زن توبہ کرد اوراززوجیت خودخارج نکرد پس این چشم پوشی خالد کہ نسبت زید واقع شد چہ گونہ است آیا داخل احسان ومروت است یانےبینواتوجروا۔
سے کام لیا اور انتہائی ناراضگی کے باوجود صرف اتنا کیا کہ اب زید سے دوستی ختم کردی اور اپنی بیوی کو طلاق دے دییا بیوی کی توبہ پر اس کی زوجیت سے خارج نہ کیازید کے بارے میں خالد کی یہ چشم پوشی کیا حیثیت رکھتی ہےکیااسے احسان و مروت قرار دیاجائے گا یانہیںبینواتوجروا۔(ت)
الجواب
بہ نسبت زید احسان بود نش خود پیداست و اگر باوصف غیرت محمودہ شرعیہ محض بہ نیت پردہ پوشی مسلمانان صبر وستر پیش گرفت خودراداخل فمن عفا و اصلح فاجره على الله ست۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
زید پر احسان ہونے میں کیا شك ہے اور اگر شرعی طور پر پسندیدہ غیرت رکھتے ہوئے مسلمان کی پردہ پوشی کی نیت سے صبر کرتے ہوئے درگزر کیا تو اﷲ تعالی کے اس ارشاد میں داخل ہے"جس نے معاف کیا اور اصلاح کی کوشش کی تو اس کااجر اﷲ تعالی کے کرم پر ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: ازسیتاکلاں پرگنہ نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ سید زائر حسین ٹھیکیدار شعبان ھ
السلام علیکمکیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت قبل شوہر کسی غیر مرد سے اپنے خاوند کے نزدیك مشکوك ہوئی اور مرد کہتا ہے کہ میں نے فعل حرام کیا اور عورت کہتی ہے کہ نہیںلہذا دو شخص مسلمان ہیںفاعل ازروئے حلف کہتا ہے کہ میں فعل شنیعہ کا مرتکب ہوا اورمفعول کہتا ہے کہ نہیں بلکہ اس کا ایساارادہ تھا چونکہ مطلب برآری نہیں ہوئی بدیں وجہ ناحق الزام لگاتا ہےاب ایسی صورت میں جب فاعل مفعول دونوں محلف بکلام الہی ہیں تو کس کا اعتبار کیا جائےمیرے نزدیك دونوں شخص مکرکے پھرتے ہیں اور دونوں حلف اٹھاتے ہیں ایسی صورت میں فاعل سچا یا مفعول سچا یا کیا
الجواب:
وعلیکم السلاموہ مرد عورت دونوں اپنے اپنے حق میں سچے مانے جائیں گے اور دوسرے کے
حوالہ / References القرآن الکریم ٤٢ /٤٠
#15309 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
حق میں جھوٹےعورت جو انکار کرتی ہے سچ کہتی ہے اسے جو فقط بربنائے قول مردزنا کی تہمت لگائے سخت گنہگار اور اسی کوڑوں کا سزا وار ہوگا۔مرد جواپنے زنا کا اقرار کرتا ہے اسے زانی مانا جائے گااسلامی سلطنت ہوتی تو سزاپاتااب اسی قدر ہوسکتا ہے کہ اسے برادری سے خارج کیا جائےمسلمان اس سے میل جول چھوڑدیں جب تك علانیہ توبہ نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ذوالفقار گنج شہر بریلی مسئولہ بابو مورخہ ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ زید مقدمہ زنامیں بروقت اطلاع یابی مقدمہ اہل برادری نے چند پنچوں اہل برادری کو برائے تفتیش مقدمہ خاص موقع متنازعہ پر بھیجا موقع پر پہنچ کر تمام سکنائے اہل محلہ سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت یہ امرصحیح ہےبدیں وجہ ہمارے یہاں سے خورد و نوش نشست و برخاست بند ہے لہذا بیان ملزمان وشہادت باظہار حلفی گواہان مندرجہ ذیل بخدمت شرع شریف پیش ہے کیا حکم ہےاور ہم لوگوں کو کیا عمل کرنا چاہئےبینواتوجروا۔
()بیان زید کے لڑکے کی زوجہ کا میرے بارہ میں سب لوگ غلط بیان کرتے ہیں میں نے کسی سے کچھ نہ کہا
()از طرف گواہان عزیز واقربا:واضح ہو کہ زید کے لڑکے کی زجہ باقرار زنا اس وجہ سے انحراف کرتی ہےکہ اہل برادری نے ملزمان کو تاکیدا منع کردیا تھا کہ ہر گز اس خسر سے کوئی تعلق نہ رکھنا باوجود منع کرنے کے ملزمہ بہمراہی اپنی خواشدامن وخسر کے عدم موجودگی اپنے شوہر کے چلی آئیمعلوم ہوتا ہے کہ بخوبی سکھلا پڑھادی گئی بدیں وجہ یہ انحراف ہے۔
()شہادت باظہار حلفی حافظ عبدالرحمن صاحب:زید کی زوجہ کی زبانی معلوم ہوا کہ میرا شوہر زید لڑکے کی بیوی کی چھاتی پکڑتا تھا میں نے منع کیا چھاتی کیوں پکڑتاہے تجھ کو شرم نہیں معلوم ہوتیجواب دیا میرا مال ہے میں نے بافسوس کہا کہ میرا لڑکا اس بہو نے تو لیا مگر میرا شوہر بھی چھین لیایہ ایسی بہوتھیجبکہ یہ واقعہ زید کے لڑکے کے سامنے بیان کیا تو اس نے خاموشی اختیار کی۔
()باظہار حلفی منشی نبی بخش صاحب پابند صوم وصلوۃ:میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ زید کی زوجہ اپنے گھر میں زید سے بغصہ کہتی تھی کہ تم لڑکے کی زوجہ کی چھاتی کیوں پکڑتے ہوتم کو کیا حاصل ہے تم کو شرم نہیں آتی زید نے جواب دیا ہمارا مال ہے ہم کو اختیار ہے۔بعدہ زید کی زوجہ میرے مکان پر میری زوجہ کے پاس آئی تو اس وقت اس سے دریافت کیا کہ روزانہ تمہارے گھر کیا جھگڑا فساد رہتا ہےجواب دیا کہ اس میرے لڑکے کی بیوی نے لڑکے کوتو لیا مگر میرے خاوند کو بھی چھین لیا ضرور ایك دن خونریزی ہوگی۔
()بیان محمد بخش صاحب:بموجب منشی نبی بخش صاحب کہ فی الواقع صحیح ہے بلکہ ایك دن ایسا اتفاق
#15310 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
ہوا کہ زید نے اپنی نواسی کو جو کہ زید کے پاس بیٹھی تھی اٹھادیا صرف موقع خالی ہونے کی وجہ سے لڑکی نے اپنی نانی سے شکایت کی کہ مجھ کو نانا نے اپنے پاس سے اٹھادیابعدہ زید کے لڑکے کی بیوی کی چھاتی وغیرہ پکڑیزید کی زوجہ نے کہا کہ اب ہم کو بخوبی معلوم ہوگیا کہ لڑکے کی بی بی تمہاری بی بی ہے تب سے تو یہ دونے مٹھائی وغیرہ خوب اڑائی جاتی ہے کیوں بہوتو دونے مٹھائی وغیرہ اڑاتی ہے نا!
()بیان شیخ جی صاحب تصدق حسین:میری زوجہ نے لعل محمد کے گھر میں کی چھت پر سے اپنے لڑکے کی زوجہ سے بچشم خود زنا کرتے دیکھا۔
()بیان خیالی رام:میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ زید اپنے لڑکے کی زوجہ کواپنی طرف بلاتا ہے اور زید کی زوجہ غصہ ہوکر کہتی ہے کہ میں تمہاری بی بی بنی ہوں وہ بھی تمہاری بی بیزید جواب میں کہتا ہے کہ ہاں ہمارا مال ہے ہم کو اختیار ہے۔
()بیان حلفی گردھاری لال:میں نے بچشم دیکھا کہ زید اپنے لڑکے کی زوجہ کو زبردستی ہاتھ پکڑکر اندرمکان کے لے گیا وہ ہر چند منع کرتی رہی کہ چچا کیا کرتے ہومگر ہرگزنہ مانا۔
()بیان حلفی رحمت حسین چچا کریم بخش دختر کے دادا:بزبانی لڑکی ہم کو یہ معلوم ہوا کہ میری خوشدامن کی عدم موجودگی میں میرے خسر نے بوقت بارہ بجے دن کے جبکہ میں روٹی پکاتی تھی مجھ کو اپنے پاس بلاکرزبردستی کی اور گالی وغیرہ دیقریب ایك گھنٹہ مجھ کو اپنے پاس کھڑا کیا اور میرے ہاتھ میں کاٹابعدہ مجھ سے بوس وکنار کیامیں نے بحجاب صرف اتنا کہا مگر دیگر رشتہ داروں سے صاف صاف کما حقہ بیان کیا کہ میرے خسر نے مجھ سے زنا کیا۔ہم کو کافی یقین ہوگیا کہ درحقیقت صحیح ہے بدیں وجہ ہم کو سخت رنج وملال ہوا رشتہ دار گواہ موجود ہیں۔
()بیان حلفی مسماۃ غفورن:میرے گھر سب کے سامنے بیان کیا کہ میرے خسر نے مجھ کو دوگھنٹہ ڈانٹ ڈپٹ کی اور مجھ کو اپنے سامنے کھڑا کیا بعدہ میرے ساتھ زناکیا۔
()بیان حلفی گھسن بھوپاصاحب:جبکہ ہم نے دریافت کیا اور کہا کہ سچ کہو یہ کیا قصہ پھیلا ہوا ہے تو اس نے کہا کہ واقعی میرے خسر نے میرے ساتھ زنا کیا۔
اب صورت مذکورہ بالا میں زنا ثابت ہوا یانہیںاور یہ عورت زید کے لڑکے پر حلال رہی یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ایسے بیہودہ بے معنی و بے اصل گواہوں سے زنا تو قیامت تك ثابت نہیں ہوسکتا جب تك
#15311 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
چار مرد عاقل بالغ مسلمان پرہیز گار دیندار جو کسی کبیرہ کا ارتکاب کرتے ہوں نہ کسی صغیرہ پر اصرار رکھتے ہوں نہ خفیف الحرکات ہوں حلف شرعی کے ساتھ شہادت دیںانہوں نے ایك وقت معین میں زیدکو ہندہ کے ساتھ زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھ سے یوں مشاہدہ کیا جیسے سرمہ دانی میں سلائیاس وقت تك زنا شہادت سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ان شرطوں میں ایك بات بھی کم ہوگی تو خود گواہی دینے والے شرعا اسی۸۰ اسی۸۰ کوڑوں کے مستحق ہوں گے مثلا تین مسلمان پرہیز گار دیندار نے ویسی گواہی دی کہ سرمہ دانی میں سلائی کی طرح ہم نے اپنی آنکھ سے مشاہدہ کیا اور چوتھے نے یہ گواہی دی کہ میں نے دونوں کو سراپا برہنہ ایك پلنگ پر بیٹھے ہوئے اور باہم لپٹے ہوئے دیکھا زنا ثابت نہ ہوگا اور پہلے تین کو اسی اسی کوڑوں کاحکم ہوگا یاچاروں مرد مسلمان عاقل بالغ پرہیز گار دیندار نے گواہی دی کہ ہم نے اپنی آنکھ سے سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھا مگر دو نے کہا کل دیکھادونے کہا آجیاتین نے کہا صبح دیکھا اور ایك نے کہا تیسرے پہر۔سب کی گواہیاں مردوداور زنا ثابت نہیں۔اور سب پر اسی اسی کوڑوں کا حکم ہوگا۔ایسی سخت شہادت کا معاملہ وہ ان ناپاك و بیہودہ گواہوں سے ثابت ہوسکتا ہے جن میں خیالی رام وگردھاری لال تك موجود ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور عورتوں کی گواہیاں زنا کے بارے میں مطلق مردود ہیں اگرچہ تین مردوں کے ساتھ نوعورتیں گواہ ہوںباقی دو ایك میں وہ سنی سنائی گواہی دو کوڑی کے مال میں بھی مقبول نہیں نہ کہ زنا میںجتنے گواہان مذکور ہیں سب پر توبہ فرض ہے اور کوڑے تو اسلامی سلطنت میں ہوتےغرض زناتوبا لائے طاق رہااب اتنی بات کہ زید کا اپنی بہو سے بارادہ فاسد مثلا بوس وکنار کرنا جس سے وہ عورت اپنے شوہر پر حرام ہوجائےان گواہوں سے اصلا اس کا بھی کہیں ثبوت نہیں سب سنی سنائی کہتے ہیں کوئی زوجہ زید کی زبانی کوئی اس کی بہو کی زبانیصرف ایك نبی بخش کی گواہی اتنی ہے کہ اس نے اپنے کان سے زید کو جواب دینے میں سنا کہ میرا مال ہے اور ممکن ہے کہ محمد بخش نے بھی ایسا ہی کہا کہ اس کی گواہی کو مثل نبی بخش کہا ہےیہ دو شخص پرہیز گار قابل قبول شرع ہوں بھی تو سائل نے بیان کیا کہ ان دونوں سے پردہ ہے انہوں نے سنا تو باہر سے سنااو ر باہر سے سنی ہوئی گواہی مردود ہے لان النغمۃ تشبہ النغمۃ کما فی العلمگیریۃ وغیرہا(آوازدوسری آواز کے مشابہ ہوسکتی ہے جیسا کہ عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ت) اتنی بات بھی اصلا ثابت نہیں اور وہ عورت اپنے شوہر پر حلال ہے ہاں اگر شوہر خود تصدیق کرے کہ اس کے باپ نے اس کی عورت کے ساتھ بدنیتی سے کچھ افعال مـثل بوس وکنار کئے تو البتہ عورت اس پر حرام مانی جائے گی کہ اس نے اس کو حرام ہونا تسلیم کیا اس پر لازم ہوگا کہ عورت کو فورا چھوڑدے اور پھر کبھی اس سے نکاح نہ کرسکے گااور اگر شوہر تصدیق نہ کرے تو کچھ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادت الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ٣/٤٥٢
#15312 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
مسئلہ:محمد اختر حسین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران صفر ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کافرہ عورت کے ساتھ اگر کوئی شخص زناکرے مع اس کی رضاکےاور خوف شرکا بھی نہ ہوایسی حالت میں کیا حکم ہے اور جو شخص اس امر کے جواز کا قائل ہو اس کے واسطے کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
زنا حرام ہے اور کافرہ ذمیہ کے ساتھ زناکے جواز کا قائل ہوتو کفر ہے ورنہ باطل و مردود بہر حال ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: شہر بریلی محلہ ذخیرہ مسئولہ حبیب اﷲ صاحب حجام جمادی الآخر ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بی بی اپنے بہنوئی کے تنہا ہونے کی وجہ سے اپنی بہن کے فوت ہوجانے کے بعد اس کو روٹی وغیرہ تیار کرکے اس کو ہر طرح کا عیش آرام دیتی رہیچند روز کے بعد بہنوئی کی دلی محبت پیدا ہوگئی۔ایك روز زید نے اپنی بی بی کو بہنوئی سے ہم بستر دیکھ کر اپنے مکان پرآنے سے منع کیا مگروہ باز نہ آیا تب زید نے اپنے محلہ والے اور برادری والوں کو جمع کرکے حلف اٹھوایا اور لعنتی طور پر سمجھایااس کے بہنوئی نے قسم کھائی کہ اگر میں نے آج تك اس کے ساتھ برا کام کیا ہوتو اپنی ماں بہن اور لڑکی کے ساتھ براکام کیاہوچند روز کے بعد رات کے بارہ یا ایك بجے پر خود چشم دید خوب اچھی طور پر دیکھتا رہا مگر بسبب مجبوری کے اس سے کچھ نہ کہہ سکازید نے مجبور ہوکر دوبارہ محلہ والوں کو اور برادری والوں کو جمع کرکے طلاق دے دیاس کے دو تین روز کے بعد وہ اپنے بہنوئی کے یہاں چلی گئیابھی تك کسی کو دونوں کا نکاح ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے برادروں نے اس کے کنبہ والے اور عورت کو اور اس کے بہنوئی کو برادری سے علیحدہ کردیااگر اس کے کنبے والا یا اس کے برادری والا اس کے شریك ہوں تو شرع شریف ان کے بارے میں کیا کہتی ہے
الجواب:
عورت اور اس کے بہنوئی پر توبہ فرض ہے اور عدت کے اندر اس کا چلے جانا یہ دوسرا حرام تھا اس پر فرض ہے کہ عدت اپنے شوہر کے یہاں پوری کرے اگر نہ مانے توبرادری سے جوسزا اسے دی گئی ہے ضرور قائم رکھی جائے کہ اس ملك میں یہی باقی ہے نیز اس کا بہنوئی اگر توبہ نہ کرے تو اس پر بھی یہی حکم ہے بعض لوگ کہ اس سزا کوتوڑیں وہ مصلحت شرعیہ کے مخالف ہوں گے اور ان کے فعل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایك یہ سزا جو یہاں ہاتھ میں رہ گئی یہ بھی اٹھ جائے اور پنچائتی قوموں کے لوگ بھی اوروں کی طرح ہرگناہ میں آزاد ہوجائیں یہ خود جرم ہے اور مجرموں کی حمایتلہذا اگر باز نہ آئیں تو یہ بھی برادری سے خارج
#15313 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
کرنے کے قابل ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:شہر شاہجہان پور تارمین گلی برمکان حضرت قاری صاحب مرحوم مولوی حکیم سید محمد آزاد یزدانی حسرت شاہجہان پوری محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محرمات اندی یعنی ماں بہن وغیرہ سے جو جان بوجھ کر نکاح اور صحبت کرے تو اس پر حد شرعی نہیں آتی۔یہ مسئلہ ہدایہ جلدنمبر صکنز اردو ص۵ہدایہ مترجم فارسی جلد صمیں ہےآیا یہ مسئلہ صحیح ہے یاغلط
الجواب:
گناہ تین قسم ہیں: ۱ایك ہلکے کہ حد کی حد تك نہ پہنچےجیسے اجنبیہ سے بوس و کناران پر حد مقرر نہیں ہوگی کہ ان کی مقدار سے زیادہ ہےاور مولی عزوجل اس سے پاك ہے کہ کسی مجرم کو اس کی حد جرم سے زیادہ سزادے۔ایسے گناہوں پر تعزیر رکھی جاتی ہے۔
۲دوسرے وہ اخبث درجہ کے گناہ کہ حد کی حد سے گزرے ہوئے ہیں جیسے صورۃ مذکورہ سوال۔ان پر بھی حد نہیں رکھی جاتی کہ حد اس گناہ سے پاك کردینے کی ہوتی ہے اورایسا خبیث گناہ اس حد سے پاك نہیں ہوتا۔
۳تیسرے متوسط درجہان پر حدود ہیں۔اس کی نظیرپیشاب اور شرابپیشاب شراب سے خبیث تر ہے کہ کبھی شریعت میں اس کی ایك بوند حلال یا طاہر نہ ٹھہرسکیبایں وجہ شراب پینے پر حد ہے اور پیشاب پینے پر حد نہیںیونہی اجنبیہ سے زنا پر حد ہے اور محارم سے نکاح پر نہیں کہ وہ خبیث کام ہے جسے حد سنبھال نہیں سکتیواﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ: از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ ضلع ایٹہ مسئولہ سید غلام شبر رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ زن پارسامکان سے تفریحا شب ماہ میں بین المغرب والعشاء دروازہ کے سامنے مشرق و مغرب پچاس قدم کے فاصلہ سے اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ ٹہلتی تھی اور ہندہ کا چچازاد بھائی زید بھی ساتھ تھاہندہ نے جبکہ آگے شارع عام کی طرف بڑھنے کا قصد کیا تو زید مانع ہوا اور کہا مردانہ مکان ہے یہ مقام شارع عام ہے بس آگے نہ جائیے اندر زنانے میں چلئےیہ کہہ کر زید نے ہندہ کے پس پشت سے ہندہ کے بازو پکڑ کر دروازے کی طرف پھیر دیاہندہ نے زید کے کلام کی تردید کی اور چند قدم مردانے مکان کی طرف جاکر پھر از خود زنانے مکان میں چلی گئیچند روز بعد جبکہ ہندہ سے کئی نامشروع حرکات سرزد ہوچکیں اور زید پھر مانع ہوا اسوقت ہندہ نے اس کا اظہار کیا کہ زید نے بھی فلاں روز میرے جسم کو بدنیتی سے
#15314 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
ہاتھ لگایا تھا یعنی مذکور ہ بالا واقعہ کا اظہار کیازیدنے جواب دیا کہ میری روك ٹوك یا جسم کو ہاتھ لگانا واﷲ باﷲ کسی بدنیتی سے نہ تھا اگر آپ کے نزدیك وہ بدنیتی تھی یا اب ہے تو میں ضرور مستحق ہوں آپ یا تومجھے معاف فرمائیں یا ازروئے کتاب و سنت سزادیں مجھے ہرگز عذر نہیں کہ میرا امر آپ کے متعلق کتاب وسنت کے خلاف نہ تھا اور نہ ہے اور نہ ہوگا ان شاء اﷲ تعالی۔اب ہندہ کو پورا گمان بدزید کی جانب ہے لہذا جواب عطا ہو کہ زید کا یہ فعل ونیت ظاہری اور ہندہ کی یہ حرکت وتردید کتاب و سنت میں کیسی ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں ہندہ کا گناہگار و بیحیا ہونا ظاہر ہےرہا زید بیان مذکور سے اس کا اصل مقصود ہندہ کو بری بات سے منع کرنا اور بیحیائی سے روکنا معلوم ہوتا ہے اس پر وہ مستحق اجرہے نہ کہ سزا وار سزاو زجر۔پھر اس کا پس پشت سے ہندہ کو بازوپکڑکے شارع عام سے مکان کی طرف پھیر دینا اگر اس طرح ہو کہ اس کے ہاتھوں اور ہندہ کے جسم میں موٹاکپڑا حائل تھا کہ جسم ہندہ کی گرمی اس کے ہاتھوں کو پہنچنے سے مانع ہواجب تو اس پر کچھ الزام نہیں اور اگر ایسا نہ تھا بلکہ ہندہ کے کسی حصہ جسم کو اس کا ہاتھ بلاحائل پہنچا یا حائل باریك تھا کہ گرمی محسوس ہونے سے مانع نہ ہوا تو بیشك زید پر الزام ہے اور اس پر توبہ فرضاسے چاہئے تھا کہ زبانی ممانعت پر قناعت کرتا یا موٹاکپڑا حائل رکھ کر پھیرتا یا اگر وہ بغیر اس کے نہ ماتنتی پھر بھی وہ بدنیتی جس کا ہندہ اتہام رکھتی ہے ثابت نہیںیہ بھی اس کے افعال شنیعہ سے ایك فعل ہے کہ مسلمان پر تہمت رکھتی ہے اس کے اقارب پر اس کا بندوبست لازم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ ضلع ایٹہ مسئولہ سید غلام شبر رمضان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید زن شوہر دار سے کہ اس کی بھاوج ہے مزاح کرتا ہے اور فحش مزاح اور ہاتھا پائی کو بھی جائز رکھتا ہے بلاوسواس موقع بے موقع اس کے جسم کو ہاتھ لگانا مس کرنا رواجانتا ہے اور کہتا ہے کہ میرایہ فعل مزاحا ہے کہ میں اس کے شوہر کے روبرو بھی ایسا ہی مذاق کرتا ہوں اور مذاق میں زید زن مذکور کی ٹانگیں پکڑکر ایك پلنگ سے دوسرے پر اور دوسرے سے تیسرے پلنگ پر گھسیٹتا ہے اور اقربائے فریقین بھی اس کو دیکھ کر کچھ بھی تعرض نہیں کرتے تو کیا شرعا یہ حرکت اور اقرباکا سکوت جائز ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ حرکات حرام ہیں اور ایسا مزاح اببلیسی مزاح ہے اور اگر شوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدر قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہےنیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے
#15315 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
شریك گناہ و مستحق عذاب ہیں
قال اﷲ تعالی كانوا لا یتناهون عن منكر فعلوه-لبئس ما كانوا یفعلون(۷۹) ۔واﷲ تعالی اعلم۔اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: از موضع علی پور ضلع پٹرا مسئولہ منصب علی صاحب شعبان ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نابالغ یا بالغ نے بکری یاگائے یا بھینس کے ساتھ مجامعت کی اس شخص کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہےاور نیز اس جانور کا گوشت کھانا یا پالنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
نابالغ کو تنبیہ کریں بالغ پر تعزیر ہے جس کااختیار حاکم کو ہےوہ جانور ذبح کرکے فنا کردیا جائے گوشت کھال جلائیںپالانہ جائے۔درمختارمیں ہے:
لایحدبوطی بھیمۃ بل یعزر و تذبح ثم تحرق ویکرہ الانتفاع بھاحیۃ ومیتۃ مجتبی ۔
حیوان سے بدفعلی پر حدنہیں ہے بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے اور جانور کو ذبح کرکے جلادیا جائے کیونکہ اس جانور مردہ یا زندہ سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ ہےمجتبی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ھذا اذاکانت ممالایؤکل فان کانت تؤکل جازاکلھا عندہ وقالالاتحرق ایضازیلعی ونھر ۔واﷲ تعالی اعلم۔
یہ حکم اس جانور کے متعلق ہے جس کو کھایا نہیں جاتااور اگراس کو کھایا جاتا ہوتو کھانا جائزہےامام صاحب کے نزدیك اور صاحبین نے فرمایا اسکو جلابھی دیا جائے زیلعی ونہر۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ: کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ ایسے شخص سے ملنا اور
حوالہ / References القرآن الکریم ٥ /٧٩
درمختار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٢٠
ردالمحتار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٥٥
#15316 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
راہ ورغبت کرنا کیسا ہے جو باوجود تنبیہ لوگوں کے اپنی بہن بھانجی زانیہ کو اپنے گھر سے نہیں نکالتا ہے اورنہ اس سے ملنا ترك کرتا ہے اور ایك بارحلف اٹھاچکا ہے کہ نہیں ملوں گا۔بینواتوجروا۔
الجواب
اس شخص پر اتنا واجب ہے کہ اس عورت کو سمجھائے فہمائش کرےاگر کسی سختی جائز پر قدرت رکھتا ہو اسے بجالائےجو بندوبست اس کے ہاتھ ہو اس میں کوتاہی نہ کرےاگر یہ شخص سب باتیں کرتا ہے اور وہ باز نہیں آتی تو اس کا وبال اسی پر ہے اس پر کچھ نہیں کہ اﷲ تعالی ایك کے گناہ میں دوسرے کو نہیں پکڑتا۔
قال تعالی و لا تزر وازرة وزر اخرى ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی جان دوسرے کا بوجھ(گناہ)نہیں اٹھائے گی۔(ت)
اور اگر یہ شخص اس کی اس حرکت پر ناراض ہے مگر فہمائش وغیرہ میں کمی کرتا ہے تو گنہگار ہوگا کہ نیك بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا جہاں تك اپنی قدر ت میں ہو مسلمان پر ضرور ہے
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من رای منکم منکرافلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ذلك اضعف الایمان ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جو تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے طاقت نہ ہوتو زبان سے اگر اس سے بھی طاقت نہ رکھے تو پھر دل سے براجانےاوریہ کمزور ترین ایمان ہے۔(ت)
مسلمان اسے فہمائش کریں اور اگر یہ شخص ان حرکات پر راضی ہوتو معاذ اﷲ دیوث ہے مسلمان اسے سمجھائیںاگر بازنہ آئے تو اس سے میل جول چھوڑدیں فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) واﷲ تعالی اعلم۔(اﷲتعالی نے فرمایا)نصیحت یادآنے کے بعدپھر ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ٧ /١٦٤ و ٣٥/٢١٨
صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٥١
القرآن الکریم ٦ /٦٨
#15317 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
مسئلہ:از ڈیرہ غازی خاں بلاکمرسلہ مولوی احمد بخش صاحب ذی القعدہھ
حضرت ملك العلماء والفضلاء ثقتی ورجائی ادام اﷲتعالی ظلہ علی رؤس المستفیضیننیاز بے انداز وشوق زیارت کے بعد جن کاکوئی حداندازہ نہیں۔گزارش اس پہاڑی علاقہ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ زانی ومزنیہ کو زنا کی حالت میں قتل کرڈالتے ہیںاور بعض واقعات یہ ہیں کہ جب ان کے نزدیك عورت کا کسی بیگانہ کے ساتھ بیٹھتا ہوا یا آتاجاتا ہوا دیکھتے ہیں تو پہلے چند مرتبہ اسے منع کرتے ہیں اور اس کے باز نہ رہنے کے بعد اس عورت کو قتل کردیتے ہیں اور اگر کرسکتے ہیں تو اس شخص بیگانہ کو بھی نہیں چھوڑتےبموجب شرع شریف ان دونوں صورتوں میں قاتل گنہگار ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جناب مولنا المکرم ذی الفضل الاتم والمجدد الکرم دامت مکارمہاس سلسلہ میں اضطراب کثیر ہے اور وہ جو فقیر کو کتب معتمدہ دلائل شرعیہ سے تحقیق ہوا یہ ہے کہ صورت ثانیہ میں ان مرد وزن کا قتل محض حرام ہےفقط آنے جانے اٹھنے بیٹھنے کی سزا شریعت نے بھی قتل نہ رکھینہ اس قدر خلوت کو مستلزماور حق یہ کہ مجرد خلوت بلکہ دواعی پر بھی شرع مطہر نے قتل نہ رکھااور سیاست کا اختیار غیر سلطان کو نہیں بلکہ سلطان کو بھی علی الاطلاق نہیں کل ذلك معلوم من الشرع بلاخفاء(یہ سب کچھ شرع سے بلاخفاء معلوم ہے۔ت)لاجرم یہ ناحق قتل مسلم ہوا اور وہ سخت کبیرہ شدیدہ ہے اور قاتل پر قصاص عائد۔صورت اولی میں بھی حکم مطلق نہیں بلکہ واجب کہ پہلے زجر و ضرب و قہر کریںاگر جدا ہوجائیں تو اب عامہ کو اس کا قتل حرام ہےہاں شہادات اربع گزریں یا مروجہ شرعی چار مجلسوں میں چار اقرار ہوںتو ان میں جو محصن ہو سلطان اسے رجم فرمائے گانہایہ امام سغناقی پھر عالمگیریہ میں ہے:
سئل الھندوانی رحمہ اﷲ تعالی عن رجل وجد مع امرأتہ رجلا ایحل لہ قتلہ قال ان کان یعلم انہ ینزجر عن الزناء بالصیاح والضرب بمادون السلاح لایحل وان علم انہ لاینزجر الابالقتل
امام ہندوانی سے سوال کیاگیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو بدفعلی کرتے ہوئے موقعہ پرپائے تو اس کو جائز ہوگا کہ اس غیر مرد کو موقعہ پر قتل کردےتو آپ نے جواب میں فرمایا اگر خاوند کو یقین ہوکہ یہ زانی شورمچانے یا پٹائی کرنے سے باز آجائے تو قتل کرنا حلال نہ ہوگا اور اگر خاوند کو یقین ہو کہ ڈانٹ ڈپٹ سے باز نہ آئے گا بلکہ قتل
#15318 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
حل لہ القتل وان طاوعتہ المرأۃ حل لہ قتلھاایضا کذافی النھایۃ۔
ضروری ہے تو قتل کرنا حلال ہوگا اور اگر بیوی کی مرضی اس میں شامل ہے تو اس کو بھی قتل کرنا حلال ہوگا جیسا کہ نہایہ میں ہے۔(ت)
اور اگر نہ مانیں تو اس صورت میں اگرچہ زانی کو مطلقا اور عورت کو بھی اگر مکرمہ نہ ہوصرف عین حالت اشتغال میں نہ بعد اس سے فراغ کے قتل ازالہ منکر ہے اور اس کے لئے سلطان ہونا شرط نہیں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ الحدیث۔
حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جو تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکے۔الی آخر الحدیث۔ (ت)
پھر ہندیہ میں ہے:
قالوالکل مسلم اقامۃ التعزیر حال مباشرۃ المعصیۃ بعد المباشرۃ فلیس ذلك لغیر الحاکم قال فی القنیۃ رأی غیرہ علی فاحشۃ موجبۃ للتعزیر فعزرہ بغیراذن المحتسب فللمحتسب ان یعزر المعزران عزرہ بعد الفراغ منھا
فقہاء نے فرمایا:گناہ میں مصروف کو روکنے کے لئے ہر مسلمان کوتعزیر کاحق ہےلیکن گناہ سے فراغت کے بعدکسی پر تعزیر لگانا صرف حاکم کا حق ہے۔قنیہ میں فرمایا:کسی غیر کو ایسے گناہ میں مصروف پایا جس پر تعزیر واجب ہوسکتی ہے تو محتسب کی اجازت کے بغیر لگائی تو جائز ہے اور اس گناہ سے فراغت کے بعد تعزیر لگانے والے کو محتسب چاہے تو تعزیر لگا سکتا ہے۔(ت)
مگر یہ امر فیما بینہ وبین اﷲ ہے حاکم نہ مانے گا اور جب تك بینہ عادلہ سے ثبوت نہ دے اسے قتل کریگا یا اگر مقتول معروف و مشہور بخباثت وشرور وعادت زنا و فجور ہے قاتل سے اس کاخوں بہالے گا۔درمختارمیں ہے:
الاصل ان کل شخص رأی مسلمایزنی ان یحل لہ قتلہ وانما یمتنع خوفا من ان لایصدق انہ زنی ۔
قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو زنا میں مصروف پائے تو ہر شخص کو اسے قتل کرنا حلال ہےاور اس خوف سے کہ قتل کے بعد قاضی کے ہاں اس کا زنا ثابت نہ کرسکے گا قتل سے باز رہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فی التعزیر نورانی کتب خانہ پشاور ٢/١٦٧
صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٥١
فتاوی ہندیہ فصل فی التعزیر نورانی کتب خانہ پشاور ٢/١٦٧
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٢٦
#15319 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
ردالمحتارمیں ہے:
عزاہ بعضھم ایضا الی جامع الفتاوی وحدود البزازیۃ وحاصلہ انہ یحل دیانۃ لاقضاء فلایصدقہ القاضی الاببینۃولاظاہر انہ یأتی ھنا التفصیل المذکور فی السرقۃ وھو مافی البزازیۃ وغیرہا ان لم یکن لصاحب الداربینۃ فان لم یکن المقتول معروفا بالشروالسرقۃ قتل صاحب الدار قصاصا وان کان متھما بہ فکذلك قیاساوفی الاستحسان تجب الدیۃ فی مالہ لورثۃ المقتول لان دلالۃ الحال اورثت شبھۃ فی القصاص لافی المال ۔
اس بات کو بعض نے جامع الفتاوی اور بزازیہ کے باب الحدود کی طرف بھی منسوب کیا ہےاور اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بات دیانۃ جائز ہے قضاء نہیںلہذا قاضی زنا کو بغیر گواہی کے تسلیم نہ کرے گااور ظاہر یہ ہے کہ یہاں وہ تفصیل مرا د ہوگی جو سرقہ کے باب میں بیان ہوئی ہے اور وہ بزازیہ وغیرہ میں یوں ہے(گھر والے نے چور کو موقعہ پر قتل کردیا)تو گھر والے کے پاس چوری پر گواہ نہ ہوں اور وہ مقتول جرائم اور چوری میں مشہور بھی نہ ہو تو قاضی قاتل کو قصاص کے طور پر قتل کرے گااور مقتول چوراگر چوری میں مشہور ہے تو قیاس پھر بھی یہی حکم کرتا ہے جبکہ استحسان یہ ہے کہ اس صورت میں گھر والے قاتل کو قتل کی بجائے دیت لازم ہوگی جو مقتول کے ورثاء کو دینی ہوگی کیونکہ موقعہ نے قصاص کے متعلق شبہہ پیدا کیا جس کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے گا لیکن مالی سزا یعنی دیت میں شبہہ پیدا نہ کیا۔(ت)
یہ ہے وہ جو فقیر کے نزدیك منقح ہوا۔
وھا انا اذکر لکم فی الدرالمختار وماعارضہ بہ فی رد المحتار و ماتکلمت علیہ فی جدالممتار لیتجلی الامر جلاء النھار وما توفیقی الابالعزیز الغفار قال فی تنویر الابصار والدرالمختار (ویکون)التعزیر (بالقتل)
اور اب میں آپ کو درمختاراور اس پر ردالمحتار نے معارضہ پیش کیا اور پھر میں نے جدالممتار میں جواس پر کلام پیش کیا ہےپیش کرتا ہوں تاکہ روز روشن کی طرح معاملہ واضح ہو جائے جبکہ مجھے صرف اﷲ تعالی سے توفیق حاصل ہوئی تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا:(تعزیر کے طور پر قتل کی صورت یہ ہے)مثلا
حوالہ / References ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/١٨٠
#15320 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
کمن وجد رجلا مع امرأۃ لاتحل لہولواکرھھا فلھا قتلہ ودمہ ھدر وکذاالغلام وھبانیۃ(ان کان یعلم انہ لاینزجر بصیاح وضرب بما دون السلاح والا) بان علم انہ ینزجر بما ذکر(لا)یکون بالقتل (وان کانت المرأۃ مطاوعۃ قتلھما)کذاعزاہ الزیلعی للھند وانی ثم قال(و)فی منیۃ المفتی(لوکان مع امرأتہ و ھو یزنی بھا او مع محرمہ وھما مطاوعان قتلھما جمیعا)اھ واقرہ فی الدررقال فی البحرومفادہ الفرق بین الاجنبیۃ لایحل القتل الا بالشرط المذکور من عدم الانزجار المزبور وفی غیرھا یحل(مطلقا)اھ وردہ فی النھر بما فی البزازیۃ وغیرہا من التسویۃ بین الاجنبیۃ وغیرھا ویدل علیہ تنکیر الھندوانی للمرأۃ نعم
ایك شخص نے کسی مرد کو غیر محرم کے ساتھ پایا تو اگر عورت سے جبرا زنا کررہا ہوتواس عورت نے زانی کو موقعہ پر قتل کردیا یا لڑکے سے جبرا بدفعلی کرتے ہوئے لڑکے نے اس کو قتل کردیا ہوتو یہ قتل مباح ہوا اور اس کا خون معاف ہےوہبانیہ۔بشرطیکہ قتل کرنے والے کو یقین ہو کہ یہ شور مچانے یا ہتھیار سے کم کی ضرب سے باز نہ آئے گا(ورنہ)اگر معلوم ہو کہ مذکورہ کو شش سے باز آجائیگا تو پھر(روانہیں) یعنی باز کرنے کے لئے قتل مباح نہیں ہے اور اگر(مرد کے ساتھ عورت بھی مرضی سے مبتلائے زنا ہو تو موقعہ دیکھنے والادونوں تو قتل کردے)اس کو زیلعی نے ہندوانی کی طرف ایسے ہی منسوب کیا ہےپھر کہا(اور)منیۃ المفتی میں ہے(اگر اس کی بیوی کے ساتھ کوئی زنا میں مصروف ہے یا اس کی محرمہ عورت کے ساتھ مصروف زنا ہے اور دونوں کی مرضی شامل ہے تو(دونوں کو قتل کردے)اھاور اس بات کو درر میں ثابت رکھا ہےاور بحرمیں فرمایا کہ اس بحث کا مفاد یہ ہے کہ اجنبی عورت اور اپنی بیوی یا محرمہ عورت میں فرق ہے کہ اجنبی عورت کے ساتھ مصروف زنا پائے تو مذکورہ شرط کہ شور یا ہتھیار کے بغیر باز نہ کے بغیر قتل حلال نہ ہوگااور اجنبی عورت کے غیر یعنی بیوی یا محرمہ عورت کی صورت میں قتل حلال ہے(مطلقا)اھاور اس کو نہر میں بزازیہ وغیرہ کے بیان پر کہ تمام عورتوں یعنی اجنبی اور غیر اجنبی کا معاملہ مساوی ہےردکیا ہے۔اور اس پر ہندوانی کے بیان میں عورت کو نکرہ ذکر کرنا بھی دلالت کرتا ہے کہ کوئی عورت ہو
#15321 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
مافی المنیۃ مطلق فیحمل علی المقید لیتفق کلامھم ولذا جزم فی الوھبانیۃ بالشرط المذکورمطلقا وھو الحق بلاشرط احصان لانہ لیس من الحد بل من الامر بالمعروف وفی المجتبی الاصل ان کل شخص رأی مسلما یزنی انہ یحل لہ قتلہ وانما یمتنع خوفا من ان لایصدق انہ زنی وکتبت علیہ فی جدالممتار قولہ وفی غیرھا یحل اقول: المقصود ازالۃ المنکر ومھما حصل بغیر القتل تعین ذلك الغیر ولیست السیاسۃ لغیر الامام والقتل فی الزوجۃ والمحرم دون الاجنبیۃ لایکون الاانتصارالنفسہ وازالۃ المنکرﷲ عزوجل ولافرق فیہ بین الاجنبیۃ وغیرہا فالکل اماء اﷲ تعالی علی السواء وفیہ حدیث سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ونھی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاہ عن القتل فالحق عندی التسویۃ بین النساء و التقیید لعدم الانزجار بغیر القتل مطلقا
اگرچہ منیۃ المفتی میں اطلاق ہےتو اس مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا تاکہ سب کا کلام متفق قرارپائےاسی لئے وہبانیہ نے مذکورہ شرط کا مطلقا جزم کیا ہے اوریہی حق ہے اس قتل میں کسی کا شادی شدہ ہونا شرط نہیں کیونکہ یہ موقعہ کا قتل حد نہیں بلکہ امر بالمعروف کی صورت ہےاور مجتبی میں ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو زنا میں مصروف پائے تو اس کو قتل کرنا حلال ہے لیکن بعد میں زنا ثابت نہ کرسکنے کے خوف سے قتل نہ کرے۔ میں نے تنویر اور در کی اس عبارت پر جدالممتار میں یہ لکھا ہے قولہ کہ غیراجنبی عورت میں حلال ہے اقول:(میں کہتا ہوں)مقصود تو برائی کا ازالہ کرنا ہے تو جب تك قتل کے بغیر ازالہ ممکن ہو تو یہ غیر قتل کی صورت متعین قرار پائے گیجبکہ سیاسۃ قتل کرنا امام وقت کے غیر کے لئے جائز نہیں ہےاور بیوی اور محرمہ کے معاملہ میں قتل کرنا تو اپنے مفاد کے لئے ہے جبکہ برائی کا ازالہ اﷲ تعالی کی رضا کے لئے ہوتا ہے اس معاملہ میں اپنی اور اجنبی عورت برابر ہیںتما م عورتیں اﷲ تعالی کی باندیاں ہونے میں برابر ہیںاس حکم میں مساوات کے بارے میں سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث ہے کہ ان کوحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے قتل سے منع فرمایا:تو میرے نزدیك اجنبی اور غیر اجنبی عورت کا معاملہ مساوی ہے لہذا قتل کے جواز کے لئے قتل کے بغیر باز نہ آنے والی شرط عام ہے
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١/٣٢٦
#15322 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
کما مشی علیہ الشارح المدقق متابعا للعلامۃ مدقق عمروبن نجیم رحمہم اﷲ تعالی۔قولہ ویدل علیہ تنکیر الھندوانی للمرأۃ اقول: بل ھو نص جوابہ فانہ انما سئل عمن وجدمع امرأتہ رجلا کما فی الھندیۃ عن النھایۃفشمل الحکم المحارم بدلالۃ المساواۃ والاجنبیۃ بدلالۃ الاولویۃ فالتنکیر من الناقلین عنہ ما معنی اھ ماکتبت علیہ۔
جیسا کہ اس کو شارح نے علامہ مدقق عمرو بن نجیم کی پیروی میں سب میں جاری مانا ہے رحمہم اﷲ تعالی۔ قولہ اس پر ہند وانی کا عورت کو نکرہ ذکر کرنا دلالت کرتا ہے اقول:(میں کہتا ہوں)بلکہ انہوں نے اپنے جواب میں اس کو نصا ذکر کیا ہے کیونکہ ان سے سوال یہ ہوا تھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو مصروف زنا پائےجیسا کہ ہندیہ میں نہایہ سے منقول ہے تو ان کے جواب کا حکم محرمہ عورت کو بیوی کی مساوات سے اور اجنبی عورت کو اولویت کی وجہ سے سب کو شامل ہوا تو ہندوانی کے جواب کو نقل کرنے والوں کی تنکیر کا کوئی معنی نہیں ہے۔میرا حاشیہ ختم ہوا۔(ت)
وقال فی ردالمحتار قولہ(مع امرأتہ)ظاہرہ ان المراد الخلوۃ بھا وان لم یرمنہ فعلا قبیحا کما ۱یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی کما تعرفہ فافھم(قولہ فلھا قتلہ)ای ان لم یمکنھا التخلص منہ بصیاح اوضرب والالم تکن مکرھۃ فالشرط الأتی معتبرھنا ایضا کما ھو ظاھر ثم رأیتہ فی کراھۃ شرح الوھبانیۃ ونصہ لواستکرہ رجل امرأۃ لھا قتلہ وکذا
وقال فی ردالمحتار(اور ردالمحتار میں فرمایا)قولہ"اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پایا"اس عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ بیوی کے ساتھ خلوت میں ہو اگرچہ بدفعلی میں مصروف نہ دیکھے جیسا کہ آئندہ منیۃ المفتی کی عبارت اس پر دلالت کررہی ہے آپ کو معلوم ہوجائیگا تو غور کروقولہ فلھا قتلہ یعنی اگر عورت اس سے شور مچانے یا ہتھیار کے بغیر کسی ضرب سے چھٹکارا نہ پائے تو قتل کرےورنہ اگر چھٹکارا ممکن ہوتو پھر عورت مجبور نہ ہوگی(جبکہ قتل کا جواب صرف مجبور عورت کےلئے ہے)تو یہاں بھی آئندہ ذکر ہونیوالی شرط معتبر ہےجیسا کہ ظاہر ہے پھر میں نے اسکو وہبانیہ کی شرح کی کراہت کے باب میں دیکھا جس کی عبارت
حوالہ / References جدالممتار علی ردالمحتار
#15323 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
الغلام فان قتلہ فدمہ ھدر اذا ۲ لم یستطع منعہ الابالقتل اھ فافھم قولہ(ان کان یعلم)شرط للقتل الذی تضمنہ قولہ کمن وجد رجلا قولہ(ومفادہ الخ) توفیق بین العبارتین حیث اشترط فی الاولی العلم بانہ لاینزجر بغیر القتل ولم یشترط فی الثانیۃ فوفق بحمل الاولی علی الاجنبیۃ والثانیۃ علی غیرھا وھذا بناء علی ان المراد بقولہ فی الاول مع امرأۃ ای یزنی بھا ۳ومایأتی الکلام علیہ
یہ ہے:اگر کسی شخص نے عورت کو زنا پر مجبور کیا تو عورت کے لئے اس کو قتل کرناجائزہےاور یوں ہی لڑکے کو بدفعلی پر مجبور کرنے پر لڑکے کااس کو قتل کرنا جائزہے اس صورت میں خون معاف ہوگا بشرطیکہ قتل کے بغیر روکنے کا کوئی چارہ نہ ہو اھتو غور کروقولہ(ان کان یعلم)یہ عبارت اس قتل کے لئے شرط کا بیان جوا س کے قول"جیسے کوئی کسی مرد کو پائے"کے ضمن میں مذکور ہےقولہ(ومفادہ)یہ عبارت دونوں مذکور عبارتوں میں موافقت ہے جبکہ پہلی عبارت میں قتل کے بغیر بازنہ آنے کے یقین کی شرط ہے اور دوسری عبارت میں یہ شرط مذکور نہیں ہے تو انہوں نے پہلی عبارت کو اجنبی عورت کے واقعہ پر محمول کیاتو یہ اس صورت میں ہے جب پہلی عبارت میںعورت کے ساتھ ہونے کا مطلب زنا میں مصروف ہونا ہواور اس پر اعتراض آرہا ہے
قولہ(مطلقا)زادالمصنف علی عبارۃ المنیۃ متابعۃ لشیخہ صاحب البحر قولہ بمافی البزازیۃ وغیرہا)ای کالخانیۃ ففیھا لورأی رجلا یزنی بامرأتہ او امرأۃ اخر وھو محصن فصاح بہ فلم یھرب ولم یمتنع عن الزنا حل لہ قتلہ ولا قصاص علیہ اھ قولہ(فیحمل علی المقید)ای
قولہ(مطلقا)یہ منیۃ المفتی کی عبارت پر مصنف نے اپنے شیخ صاحب بحر کی اتباع میں زائد ذکرکیاقولہ(بما فی البزازیۃ وغیرہا)یعنی جیسے خانیہ میں کہ اس میں ہے کہ کوئی کسی کو اپنی بیوی یا دوسری عورت سے زنا میں مصروف پائے اور وہ زانی شادی شدہ ہوتو اس نے اس پر شور مچایا اس کے باوجود وہ زناکو چھوڑ کر نہ بھاگا تو دیکھنے والے کو جائز ہے کہ اسے قتل کردے اور اس پر قصاص نہ ہوگاقولہ(فیحمل علی
#15324 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
یحمل قول المنیۃ قتلھما جمیعا علی مااذاعلم عدم الانزجار بصیاح اوضرب قلت وقد ظھر لی فی التوفیق وجہ اخرو ھوان الشرط المذکور انما ھو فیما اذوجد رجلا مع امرأۃ لاتحل لہ قبل ان یزنی بھا فھذا لا یحل قتلہ اذاعلم انہ ینزجربغیر القتل سواء کانت اجنبیۃ عن الواجد او زوجۃ لہ او محرما منہ اما اذا وجدہ یزنی بھا فلہ ۴قتلہ مطلقا ولذاقید فی المنیۃ بقولہ وھویزنی واطلق قولہ قتلھما جمیعا وعلیہ فقول الخانیۃ الذی قدمناہ انفا فصاح بہ غیر قیدو۵یدل علیہ ایضا عبارۃ المجتبی الاتیۃ ثم رأیت فی جنایات الحاوی الزاھدی ۶مایؤیدہ ایضا حیث قال رجل رأی رجلا مع امرأتہ یزنی بھا او۷ یقبلھا اویضمھا الی نفسہ وھی مطاوعۃ فقتلہ او قتلھما لاضمان علیہ ولا یحرم من میراثھا ان اثبتہ بالبینۃ او بالاقرار ولو
المقید(یعنی منیہ کے قول دونوں کو قتل کرنے کو اس پر محمول کیاجائے کہ جب معلوم ہو کہ شور یا کسی ضرب سے وہ باز نہ آئیگا(تو دونوں کو قتل کردے)مجھے یہاں دونوں عبارتوں میں موافقت کی ایك اور وجہ ظاہر ہوئی ہےوہ یہ کہ مذکورہ شر ط وہاں ہوگی جہاں وہ عورت کے ساتھ کسی کو پائے تو زنا میں مصروف ہونے سے قبل قتل حلال نہ ہوگا پھر جب اسے یقین ہوکہ شور یا کسی اور ضرب سے باز آجائیگا تو قتل حلال نہ ہوگاخواہ وہ عورت اجنبیہ ہو یا دیکھنے والے کی بیوی یا محرمہ ہولیکن جب وہ اس کو زنا میں مصروف پائے تو مطلقا قتل جائزہے اس لئے منیہ میں زنا میں مصروف ہونے کی قید کو ذکر کیااور دونوں کی قتل والی صورت میں اس قید کو ذکر نہیں کیااس پر لازم آتا ہے کہ خانیہ کی سابق مذکورہ عبارت تو اس نے اس پر شور مچایایہ قید نہ ہوگیجبکہ اس پر مجتبی کی آنے والی عبارت بھی دلالت کررہی ہے پھر میں نے حاوی زاہدی کے جنایات کے باب میں دیکھا کہ اس کی عبارت بھی اس کی تائید کررہی ہےجہاں انہوں نے فرمایا کہ ایك شخص نے کسی کو اپنی بیوی سے زنا میں مصروف یا بوس وکنار یا معانقہ کی حالت میں دیکھا جبکہ بیوی کی مرضی بھی شامل تھی تو اس نے مرد یا دونوں کو قتل کردیا تو اس پر کوئی ضمان نہ ہوگااور بیوی کی میراث سے بھی محروم نہ ہوگا بشرطیکہ بعد میں وہ اس جرم کو گواہی یا اقرار سے ثابت کرسکے اور
#15325 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
رأی رجلا مع امرأتہ فی مفازۃ خالیۃ اوراہ مع محارمہ ھکذا ولم یرمنہ الزنا ودواعیہ قال بعض المشائخ حل قتلھما وقال بعضھم لایحل حتی یری منہ العمل ای الزنا ودواعیہ ومثلہ فی خزانۃ الفتاوی اھ وفی سرقۃ البزازیۃ لورأی فی منزلہ رجلا مع اھلہ او جارہ یفجر وخاف ان اخذہ ان یقھرہ فھو فی سعۃ من قتلہ ولو کانت مطاوعۃ لہ قتلھما ۸فھذا صریح فی ان الفرق من حیث رؤیۃ الزنا وعدمھا تأمل قولہ (مطلقا)ای بلافرق بین اجنبیۃ وغیرھا قولہ (وھو الحق)مفھومہ ان مقابلہ باطلولم یظھر من کلامہ مایقتضی بطلانہبل مانقلہ بعدہ عن المجتبی ۹یفید صحتہ و۱۰قد علمت مماقررناہ مایتفق بہ کلامھم واما کون ذلك من الامر بالمعروف لامن الحد ۱۱ فلا یقتضی اشتراط العلم بعدم الانز جارتأمل قولہ (بلاشرط احصان)ردعلی مافی الخانیۃ من قولہ وھو محصن کما قد مناہوجزم بہ الطرطوسی قال فی النھر
اگر اس نے اپنی بیوی یا اپنی محرمہ عورت کے ساتھ بیابان خالی جگہ میں کسی کو دیکھا لیکن زنا یا دواعی میں مصروف نہ پایاتو بعض مشائخ نے فرمایا اسکو دونوں کا قتل کرنا حلال ہےاور بعض نے فرمایا جب تك بدفعلی میں مصروف نہ پائے قتل کرنا حلال نہیں ہےاور اسی طرح خزانۃ الفتاوی میں بھی مذکور ہے اھاور بزازیہ کے سرقہ کے باب میں ہے کہاگر وہ اپنے گھر میں اپنی بیوی سے کسی شخص یا پڑوسی کو بدفعلی کرتے ہوئے دیکھ لے اور پکڑنے پر خطرہ محسوس کرے کہ زانی غالب رہے گا تو اس صورت میں اس کو قتل کرنے کا جواز ہے اور بیوی کو بھی جرم میں راضی و شریك پایا تو دونوں کو قتل کرنے کا جواز ہےتو اس سے صراحۃ معلوم ہوا کہ فرق بدفعلی میں مصروف پانے اور نہ پانے کا ہےغور کرو۔ قولہ (مطلقا)یعنی اجنبیہ اور غیر اجنبیہ کے فرق کے بغیر۔ قولہ (ھو الحق)یعنی اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا مقابل باطل ہے اس کے کلام سے یہ ظاہر نہیں ہو ا کہ اس کا مقابل باطل ہے بلکہ اس کے بعد اس نے مجتبی کا جو کلام نقل کیا ہے اس سے اس کی صحت معلوم ہورہی ہےہماری تقریر سے ان کے کلام کا متفق ہونا آپ کو معلوم ہوگیالیکن محض امر بالمعروف ہونا اور حد نہ ہونابازنہ آنے کے علم کی شرط کونہیں چاہتاغور کرو۔ قولہ(بلاشرط احصان)یہ خانیہ کے قول کہ"وہ شادی شدہ ہو"کار د ہےجیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔طرطوسی نے اسی پر جزم کیا ہے۔نہر میں فرمایا کہ اس کو
#15326 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
وردہ ابن وھبان بانہ لیس من الحد بل من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر و ھو حسن فان ھذا المنکر ۱۲حیث تعین القتل طریقا فی ازالتہ فلامعنی لاشتراط الاحصان فیہ ولذااطلقہ البزازی اھ قلت ویدل علیہ ان الحد لایلیہ الاالامام اھ وکتبت علیہ فی جدالممتار ۱ قولہ کما یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی ای فانہ لما اطلق فیھا الحکم بالقتل عن قید عدم الانزجار قید معیۃ المرأۃ بالزنا وھھنا الحکم مقید بعدم الانزجار فتکون المعیۃ مقید ابعدم الزنا کیلا یتعارضا
ابن وہبان نے رد کردیا ہے کہ یہ حد نہیں بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہےیہ اچھی بات ہے کیونکہ یہ ایسی برائی ہے کہ اس کے ازالہ کے لئے قتل ایك طریقہ ہے لہذا اس قتل کےلئے شادی شدہ ہونے کی شرط بے معنی ہے اس لئے بزازی نے اس کو مطلق رکھااھ قلت(میں کہتا ہوں کہ) اس پر دلالت یہ بھی ہے کہ حد کو صرف امام ہی نافذ کرسکتا ہے کسی دوسرے کو اس کی ولایت نہیں ہے۔ردالمحتار کا کلام ختم ہوا۔میں نے اس پر جدالممتار میں لکھا ہے قولہ کما یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی جس طرح کہ اس پر منیۃ المفتی کا آئندہ کلام دلالت کررہا ہےکیونکہ جب انہوں نے قتل کے حکم کو باز نہ آنے کے علم کی شرط سے عام رکھا جبکہ عورت کے ساتھ ہونے کو زنا سے مقید کیا اور یہاں حکم کو باز نہ آنے کے علم سے مقید کیا تو عورت کے ساتھ معیت عدم زنا سے مقید ہوگی تاکہ دونوں باتیں متعارض نہ ہوں
اقول: ولایخفی علیہ مافی ھذہ الدلالۃ من البعد والنظر الی الخارج وابداء جمع بینہ وبین کلام اخر لیس منہ دلالۃ ھذاالکلام فی شیئ لاسیما وذلك الجمع غیر متبین ولامتعین لانتفاء التعارض بما افاد الشارح من حمل المطلق
اقول:(میں کہتا ہوں)اس دلالت کا بعید ہونا آپ پر مخفی نہیں ہےاور اس سے خارج امور اور اس کلام اور دوسرے کلام کے درمیان جمع کی صورت واضح ہوجانے کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کلام کی دلالت اس معاملہ میں بالکل نہیں ہے خصوصا جبکہ یہ جمع و موافقت غیر واضح اور غیر معین ہوجائے اس سبب سے کہ شارح علیہ الرحمۃ نے اس تعارض کو ختم کرنے کے لئے مطلق
حوالہ / References ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٣/٨٠۔١٧٩
#15327 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
علی المقید ثم انما مبناہ علی ماسبق الی خاطرہ رحمہ اﷲ من التوفیق الاتی لہ وسیأتیك الکلام علیہ ولیس الامر کماظن بل اصل المسئلۃ للامام الفقیہ الھند وانی سئل عن رجل وجد مع امرأتہ رجلا ایحل لہ قتلہ قال ان کان یعلم انہ ینزجر عن الزنا بالصیاح والضرب بما دون السلاح لایحل وان علم انہ لاینزجر الابالقتل حل لہ القتل وان طاوعتہ المرأۃ حل لہ قتلھا ایضا اھہندیۃ عن النھایۃ وعنہ اخذفی منیۃ المفتی فعبرعنہ بماتری وسنحقق انہ لایحل القتل فی الدواعی کالمس والتقبیل والعناق فکیف بمجرد الخلوۃ ولااعلم لہ رحمہ اﷲ تعالی سلفا فیہ وکیف یحل الاجتراء علی قتل مسلم باستظھار بعید تفرد بہ عالم فی ھذاالزمان من دون سلف ولا برھان بل علی خلاف اصول الشرع المزدان وقضیۃ نصوص ائمۃ الشان حتی نفس
کو مقید پر محمول کرنے کی وجہ کو بطور افادہ بیان کردیا ہے پھر ان کے خیال میں اس تطبیق کا مبنی وہ توفیق و تطبیق ہے جو انہوں نے آئندہ ذکر فرمائی ہےحالانکہ اس پر اعتراض آرہا ہےلہذا معاملہ وہ نہیں ہے جو انہوں نے خیال فرمایابلکہ اصل مسئلہ امام ہندوانی کا پیش کردہ ہےجب ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو بدفعلی کرتے پایا کہ کیا اسے اس مرد کو قتل کرنا حلال ہےتو جواب میں انہوں نے فرمایا کہ اگر خاوند کو یقین ہوکہ زانی شور مچانے یا پٹائی کرنے پر زنا سے باز آجائے گا تو قتل کرنا حلال نہ ہوگا اور اگر یقین ہوکہ قتل کے بغیر بازنہ آئے گا تو قتل کرنا حلال ہوگااور اگر بیوی اس مرد کے ساتھ راضی ہوتو اس کو بھی قتل کرنا حلال ہے اھیہ ہندیہ میں نہایہ سے منقول ہےاور نہایہ سے ہی منیۃ المفتی میں نقل کیا لیکن جس طرح انہوں نے تعبیر کی وہ آپ کے سامنے ہےاور ہم عنقریب ثابت کریں گے کہ ایسی صورت میں محض زنا کی دواعی مثلا چھونےبوسہ لینے یا معانقہ کرنے کی وجہ سے قتل کرنا حلال نہیں ہے چہ جائیکہ محض خلوت نشینی کی وجہ سے قتل حلال ہوا ور مجھے ان سے پہلے اس بارے میں کسی کا قول معلوم نہیں ہواتو اس زمانے کے ایك عالم کے متفرد قول کی بناء پر کسی مسلمان کے قتل پر کیسے جرأت کی جاسکتی ہے جبکہ اس قول کی وجہ بھی بعید ہو اور پہلے بھی کسی نے یہ بات نہ کی ہو اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل ہو بلکہ اصول شرع اور عظیم الشان ائمہ کرام کی نصوص کے خلاف ہوحتی کہ خود
#15328 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
ھذا الرفیع المکان کما ستعرف بعون المستعان ۲قولہ اذالم یستطع منعہ الابالقتل اقول: ھذاایضا نص فی امتناع القتل اذاامکن المنع بغیرہ خلافا لما اثرتم وقولکم والالم تکن مکرھۃ لااثر لہ لان غایۃ المطاوعۃ ان تکون مرتکبۃ لعین المنکر وھذاالقتل من ازالۃ المنکر ومرتکب منکر لاینھی عن نھیہ غیرہ منہ لانہ ماموربشیئین الامتناع والمنع فان فوت احدھما لایسقط عنہ الاخر و ارتکاب احدمعصیۃ لاتبیح لہ معصیۃ اخری بل ھذا القتل فی حق المرأۃ نھی وانتھاء معافکانت اولی باباحہ وظھران التصویر بالاکراہ صدروفاقا ۳قولہ ویاتی الکلام علیہ اقول: ویاتی الکلام علیہ ۴قولہ فلہ قتلہ مطلقا اقول وانما القصدازالۃ المنکر فاذا حصل بالادنی تعین کما افادہ الامام
ان کے اپنے موقف کے خلاف ہوجیسا کہ آپ کو عنقریب معلوم ہوجائے گاقولہ اذالم یستطع منعہ الابالقتل جب قتل کے بغیر منع کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اقول:(میں کہتا ہوں)یہ خود اس بات میں نص ہے کہ اگر کسی اور طریقہ سے روکنا ممکن ہو تو قتل ممنوع ہےاور یہ کہناکہ ورنہ مکرہہ(مجبور)نہ قرار پائی گئیبے فائدہ ہوگاکیونکہ نہ ہونے کا مطلب موافق رہنا اور موافقت اور رضامندی کا نتیجہ یہ ہے کہ اس گناہ میں خود شریك ہوگیجبکہ عورت کا مرد کو یہ قتل کرنا گناہ اور برائی کا مرتکب اور اس میں مبتلا ہو اس کے منع کرنے سے دوسرا اس برائی سے نہیں رکتاکیونکہ برائی سے روکنے کےلئے دو چیزوں کا مامور بننا ہوتا ہے ایك یہ کہ خود برائی سے باز رہے اوردوسرا یہ کہ اس برائی سے دوسرے کو منع کرےاور ان دونوں چیزوں میں سے ایك کے فوت ہوجانے پر دوسرے کا ساقط ہونا لازم نہیں ہے اور ایك گناہ کے ارتکاب سے دوسرے گناہ کا ارتکاب مباح نہیں بنتابلکہ یہاں عورت کا اس مرد کو قتل کرنا گناہ سے روکنا اور خود کو باز رکھنا دونوں چیزیں ہیںتو یہ قتل بدرجہ اولی مباح ہوگاتو ظاہر ہوا کہ جبرواکراہ کی صورت کا بیان محض اتفاق ہےقولہ یاتی الکلام علیہ اس پر اعتراض ذکر ہوگااقول:(میں کہتا ہوں) آپ کے اعتراض پر اعتراض ذکر ہوگاقولہ فلہ قتلہ مطلقا تواس کوقتل کرنا
#15329 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
الفقیہ ابوجعفر واعتمدہ المعتمدون وتقدم عن شرح الوھبانیۃ وسینقلہ المحشی عن ابن وھبان و سیمشی علیہ بنفسہ ۵قولہ ویدل علیہ عبارۃ المجتبی الاتیۃای شرحا حیث اطلق فی الزنا ان لہ القتل ولم یقید بشیئ اقول وفیہ ماذکر الشارح ان المطلق یحمل علی المقید وکیف یرد اطلاق المجتبی علی تقیید المعتمدات وحمل المطلق علی المقید جادۃ واضحۃ بخلاف الغاء القید۶قولہ فی الحاوی الزاھدی مایؤیدہ ایضا اقول: بل یخالفہ فانہ جعل لہ القتل مطلقا فی الدواعی وانتم تخصصونہ بالزنا۷قولہ او یقبلھا الخ اقول: لم یشرع اﷲ تعالی فی الدواعی القتل ولیست السیاسۃ لغیر الامام بل لیست الدواعی الاالصغائر
مطلقا جائز ہوگااقول:(میں کہتا ہوں)مقصد تو برائی کا ازالہ ہےتو جب یہ ازالہ قتل کے بغیر کسی ادنی طریقہ پر ممکن ہوتو وہ ادنی طریقہ اس کے لئے متعین قرار پائے گا جیسا کہ امام فقیہ ابوجعفر نے یہ فائدہ بیان فرمایا اور اسی پر اعتماد کرنے والوں نے اعتماد کیا ہےاور شرح وہبانیہ سے منقول ہوچکا ہے اور محشی بھی اس کو عنقریب ابن وہبان سے نقل کریں گے اور وہ خود اس کو اپنائیں گےقولہ یدل علیہ عبارۃ المجتبی یعنی مجتبی کی آئندہ عبارت بطور شرح آئیگی جہاں وہ زنا کے متعلق قتل کو مطلق بیان کریں گے اور قتل کو کسی شرط سے مقید نہ کریں گے اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں اعتراض ہے کہ شارح نے یوں بیان فرمایا کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گااور معتمد علیہ کتب کی بیان کردہ قید کے باوجود مجتبی کا اطلاق کیسے وارد ہوگیا حالانکہ واضح طریقہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتاہے جبکہ قید کو لغو بنانا اس کے خلاف ہے قولہ فی الحاوی الزاھدی مایؤیدہ ایضا حاوی زاہدی کا بیان بھی اس کی تائید کرتا ہے اقول:(میں کہتاہوں)بلکہ وہ تو اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے دواعی زنا میں بھی قتل کو مطلق جائز رکھا ہے جبکہ تم اس کو زنا سے ہی مخصوص کرتے ہوقولہ او یقبلھا الخ یا وہ عورت کا بوسہ لے رہا ہو اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی نے زنا کے دواعی میں قتل کو مشروع نہیں فرمایااور نہ ہی امام کے غیر کوسیاسی قتل روا رکھا ہے بلکہ دواعی تو صرف صغیرہ
#15330 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
ولیس القتل سیاسۃ للامام ایضا الافی جنایۃ عظمت وفحشت کمامر قبیل باب وطئ یوجب الحدان اللوطی والسارق والخناق اذا تکرر منھم ذلك حل قتلھم سیاسۃ اھ فلم یکتف فی تلك العظائم ایضا بمجرد صدورھا بل قید حل القتل بتکررھا وسیأتی ان الشارح اطلق اباحۃ القتل فی جمیع الکبائر فقیدہ المحشی بماکان منھا متعدی الضرر وھو الحق الواضح ان شاء اﷲتعالی ولم ینقل عن السلف قتل کل من اتی کبیرۃ فضلا عن الصغیرۃ ولواسیع القتل فی الصغائر وجعل ذلك الی العامۃ لاتسع الخرق وفشاالقتل فی المسلمین والعیاذ باﷲ تعالی فای یوم لاتری جھلا من الناس علی شیئ من الصغائر فقتل کل من تراہ وھذا لیس من حکم اﷲ فی شیئ فلاشك ان مافی الحاوی مردود واﷲ الموفق کیف وھو من الزاھدی المعتزلی المعروف بجمع کل غث وسمین الغیر الموثوق بنقلہ ایضا الغیر المعتمد علیہ فی روایۃ ولادرایۃ کما صرح بہ ارباب الدرایۃ۸قولہ فھذا صریح
گناہوں میں سے ہے حالانکہ امام کو صرف کسی بڑی جنایت اور فحش گناہ میں سیاسۃ قتل کرنا جائز ہوتا ہے جیسا کہ ایسی وطی جس سے حد لازم ہوتی ہےکے باب سے تھوڑا پہلے گزرا ہے کہ لوطیچور اور پھندا ڈالنے والایہ لوگ جب بار بار کارروائیاں کریں تو ان کو سیاسۃ قتل کرنا حلال ہے اھ۔تو ان عظیم کارروائیوں پر بھی محض ان کے صدور پر نہیں بلکہ ان کے تکرار پر قتل کو حلال کہااور عنقریب آئے گا کہ شارح نے تمام کبیرہ گناہوں کے متعلق سیاسۃ قتل کو مباح کہا تو خود محشی نے اس کو ایسے گناہ سے مقید کیا جس کا ضرر متعدی ہو۔اور یہی واضح حق ہے ان شاء اﷲ تعالیجبکہ اسلاف سے ہر کبیرہ گناہ کے مرتکب کے متعلق قتل منقول نہیں ہے چہ جائیکہ کسی صغیرہ گناہ پر قتل منقول ہواور اگر صغائر کے متعلق بھی قتل کو جائز قرار دے دیا جائے اور عوام کو یہ اختیار دیا جائے تو پھر امن تہ وبالا ہوجائے اور مسلمانوں میں قتل عام شروع ہوجائےوالعیاذ باﷲ تعالی۔بتائیے لوگوں کی جہالت سے صغائر سے کوئی دن خالی ہے تو کیا ہر ایك مرتکب صغیرہ قتل کیا جائے حالانکہ یہ کہیں بھی اﷲ تعالی کا حکم نہیں ہے تو بیشك حاوی زاہدی کا بیان مردود ہےاور اﷲ تعالی ہی توفیق حق عطا فرماتا ہےیہ کیسے صحیح ہو جبکہ یہ زاہدی معتزلی جو کہ ثقہ اور غیر ثقہ ہر قسم کی روایات کو نقل کرنے میں بھی مشہور ہے او رروایت اور درایت کے لحاظ سے غیر معتمد علیہ باتوں کو نقل کردیتا ہے جیسا کہ ارباب درایت نے اس کی تصریح فرمائی ہےقولہ فھذا صریح
#15331 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
اقول: ای صراحۃ فیہ بل تقییدہ بالخوف المذکور بما یؤید التقیید السابق فان مثل التمرد لاینزجر بالزجر ۹قولہ یفید صحۃ اقول: قدمنا مافیہ ۱۰قولہ قررناہ اقول: قد علمت مافیہ ۱۱قولہ فلایقتضی اشتراط العلم اقول: بلی یقتضیہ لان مراد الشارع ازالۃ المنکرات المظلمۃ لااھلاك النفوس المسلمۃ فاذا حصلت بدونہ وجب قصرالید عنہ۱۲قولہ حیث تعین القتل طریقا اقول ھذاایضا نص فی اشتراط القید المذکور وقد عادالمحشی رحمہ اﷲ تعالی بنفسہ الی الصواب اذاقال علی قول الشرح وعلی ھذا القیاس المکابر بالظلم وقطاع الطریق وصاحب المکس وجمیع الظلمۃبادنی شیئ لہ قیمۃ وجمیع الکبائر والاعونۃ
اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں کون سی صراحت ہے بلکہ اس میں تو قید کی صراحت ہے کہ کسی طرح خوف دلانے سے باز نہ آئےجیسا کہ سابقہ قیدکا بیان اس کی تائید کررہا ہے کہ سرکش آدمی باز رکھنے کی کوشش سے باز نہیں آتاقولہ یفید صحۃ اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں اعتراض ہے جس کو ہم نے پہلے بیان کردیا ہےقولہ قد علمت مما قررناہ ہماری بیان کردہ تقریر سے آپ کو معلوم ہوگیا اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں جو کمزوری ہے وہ آپ کو معلوم ہوچکی ہے قولہ فلایقتضی اشتراط العلم تووہ علم کی شرط کا مقتضی نہ ہوا اقول:(میں کہتا ہوں)بلکہ یہ علم کی شرط کا تقاضا کرتی ہےکیونکہ شارع کی مراد ظالمانہ کارروائیوں سے دفاع ہے نہ کہ مسلمانوں کی جانوں کو ہلاك کرناتو جب قتل کے بغیر دفاع ممکن ہو تو قتل سے بازرہنا ضروری ہےقولہ حیث تعین القتل طریقا جہاں ازالہ برائی کا طریقہ قتل متعین ہے اقول:(میں کہتا ہوں)یہ بھی مذکور قید کی شرط ہونے میں نص ہے اور محشی خود بخود درستی کی طرف لوٹ آئے ہیںجب انہوں نے شرح کی اس عبارت(اسی قیاس پر ہے جو اعلانیہ چیز کو چھین لےڈاکوظالمانہ ٹیکس وصول کرنیوالا اور ہر ظالم جو کمتر قیمت والی چیز کو ظلم سے چھین لے اور جو ظالم مرتکب کبیرہ کے ہوں اور انکے اہلکار اور چغلخور ایسے تمام لوگوں کا قتل مباح ہے اور انکا قاتل ثواب کا مستحق
#15332 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
والسعاۃ یباح قتل الکل ویثاب قاتلھم اھ نصہ قولہ والا عونۃ والسعاۃ عطف تفسیر او عطف خاص علی عام فیشمل کل من کان من اھل الفساد کالساحر وقاطع الطریق واللص واللوطی والخناق ونحوھم ممن عم ضررہ ولاینزجربغیر القتل اھ فقد اذعن بالتقیید وھو الحق السدید ولیس الزنا بافحش من ھاتیك الافا عیل فما صرح بہ الائمۃ فعلیہ الاعتماد والتعویل ھذا ماکتبت علیہ فانظرہ متأملا متدبراو الحمدﷲ اولا واخرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
ہوگااھ۔)پر فرمایا کہ الاعونۃوالسعاۃاہل کار اور عہدیدارکا ذکر عطف تفسیری ہے یا عام پر خاص کا عطف ہے لہذایہ قول تمام اہل فساد مثلا جادوگرڈاکوچورلوطی اور گلادبا کر ہلاك کرنے والا وغیرہ سب کو شامل ہے جن کا ضرر معاشرہ میں عام ہو اور وہ قتل کے بغیر باز نہ آئیں اھتو اس بیان میں انہوں نے مذکور قید پر جزم کیا ہے اور یہی درست اور حق ہے جبکہ زنا ان مذکور امور سے زیادہ فاحش ضرر نہیں ہے توائمہ کرام نے جوتصریح فرمائی ہے وہی قابل اعتماد و تسلیم ہے۔یہ میرا حاشیہ ہے اس کو غور اور تدبر سے ملاحظہ کرواﷲ تعالی کے لئے ہی اول وآخر حمد ہےواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ: محرم الحرامھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص کسی عالم کی نسبت یا کسی دوسرے کی لفظ مردود کہے کہ وہ بیوقوف ہے کچھ نہیں جانتا اور الو ہےتو اس شخص کی نسبت شرع شریف کیا حکم دے گیبینواتوجروا۔
الجواب:
بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایسے الفاظ سے یادکرنا مسلمان کو ناحق ایذا دینا ہے اور مسلمان کی ناحق ایذا شرعا حرام۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔رواہ الطبرانی فی
جس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ
حوالہ / References جدالممتار علی ردالمحتار
المعجم الاوسط حدیث ٣٦٣٢ مکتبۃ المعارف الریاض ٤/٣٧٣
#15333 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
عزوجل کو ایذادی(اس کو طبرانی نے اوسط میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
پھر علمائے دین متین کی شان تو نہایت ارفع واعلی ہے ان کی جناب میں گستاخی کرنے والے کو حدیث میں منافق فرمایا۔
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط ۔رواہ الطبرانی فی الکبیرعن ابی امامۃ وابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یعنی سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:تین شخص ہیں جن کا حق ہلکانہ جانے گا مگر منافقایك اسلام میں بڑھاپے والادوسرا عالم تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔(اس کو طبرانی نے کبیر میں حضرت ابوامامہ سے اور ابوالشیخ نے توبیخ کے باب میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمایا ہے۔ت) ایساشخص شرعا لائق تعزیر ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ: محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مومن کہنا تخصیص رکھتا ہے قوم نورباف سے یا عام امت محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےدوسرے یہ کہ اگر کوئی شخص براہ طعنہ قوم مذکور کی نسبت مومن کہے تو اس کی نسبت کیا حکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
الحمد ﷲ ہر مسلمان مومن ہے اور بعض بلادہند کے عرف میں اس قوم کو مومن کہنا شاید اس بناء پر ہو کہ یہ لوگ اکثر سلیم القلب حلیم الطبع ہوتے ہیں جن سے اور مسلمانوں کو آزار کم پہنچتا ہےاور حدیث میں فرمایا کہ المؤمنون من امن جارہ بوائقہ مومن وہ ہے جس کے ہمسائے اس کی ایذاؤں سے امان میں ہوں۔
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ٧٨١٩عن ابی امامہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ٨/٢٣٨
صحیح البخاری باب اثم من یأمن جارہ بوائقہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٨٨٩
#15334 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
پھر یہ لفظ بطور طعن انہیں کہنا دوسری شناعت ہے ایك تو مسلمان کو اس کی نسبت یا پیشہ کے سبب حقیر جاننا دوسرے ایسے عظیم جلیل لفظ کو محل طعن میں استعمال کرناایسے شخص کو چاہئے اﷲ تعالی سے ڈرے اور اپنی زبان کی نگہداشت کرے۔
اللھم اھدنی والمسلمین انك انت ارحم الراحمین۔ امین۔واﷲ تعالی اعلم۔
اے اﷲ!مجھے اور تمام مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما بیشك تو رحم کرنے والوں سے بڑا رحم فرمانے والا ہے۔آمین۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ:ازوڑنگر دایہ مہ سانہ گجرات گاڑیکے دروازہ متصل مکان بنجارہ چاند مارسول مسئولہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب احمد آبادی رمضان ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی مسلمان کے مال کا نقصان کرنا اور اس کی ہتك حرمت میں کوشش کرنا کیسا ہے
الجواب:
اگر بلاوجہ شرعی ہے حرام قطعی ہے او ر وجہ شرعی سے ہے تو کوئی حرج نہیں۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ: از شہر صدر بازار بریلی مسئولہ پیش امام جامع مسجد محرم ھ
ایك شخص نماز پڑھنے سے انکار وحیلہ بہت سے کرتا تھا ہر چند اس کو برادرانہ طور بہت کچھ سمجھایا لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور لوگ اس کو پکڑنے کے واسطے گئے اس وقت وہ مسلمانوں کو لاٹھی لے کر مقابلہ کرنے کو آمادہ ہوالہذا دو مسلمانوں نے اس کے ہاتھ پکڑلئےایك شخص نے اس کو درے لگائےلہذا وہ نماز پڑھتا ہےپکڑنے کے وقت اس کے ہاتھ میں گھڑی بندی تھی وہ ٹوٹ گئی وہ مسلمانوں سے طلب کرتا ہےاس کی گھڑی دی جائے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
تفہیم چاہئےتنبیہ چاہئےمارپیٹ کا وقت نہیںاور اس کی گھڑی کی قیمت دی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از بریلی محہ بہاری پور مسئولہ اشفاق حسین طالب علم ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید و عمرووبکر ایك مقام پر بیٹھے تھےاتفاقا ایك لڑکی اس راہ سے گزریزید نے عمرو سے کہا یہ لڑکی تمہاری بہن ہےعمرو نے زید کوجواب دیاکہ ہاں یہ لڑکی بہن ہے لیکن اے زید !یہ لڑکی تیری
#15335 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
بہن ہےاس پر زید نے عمرو سے کہا کہ میری بہن نہیں ہے بلکہ تیری بہن ہےعمرو نے زید سے کہا کہ جب ہم تم سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں تو ہم تم سب بھائی بہن ہیں بکر نے عمرو سے کہا کہ اس طرح تو کتے سور بھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں تو کتے اور سور بھی تمہارے بھائی بہن ہوئےعمرو نے کہا کہ نہیں ان جانوروں کو اہل اسلام کے لوگ براسمجھتے ہیںاس پر بکر بہت غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ نہیں سوراور کتے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں ہیںاور مکررسہ کرر یہی الفاظ کہے یہاں تك کہ آپس میں جھگڑا ہونے لگا اور معاملہ طول ہوگیا۔عرض یہ ہے کہ ان تینوں شخصوں کے واسطے کیاحکم ہےواجبا عرض کیا ہے۔
الجواب:
عمرونے جو اس کے بہن ہونے سے انکار کیا اس پر کچھ الزام نہیں ببلکہ وہ اگر غیر مسلمان تھی تو بہت اچھا کہ انکار کردیا زیدنے کہ اسے عمرو کی بہن کہا اس پرالزام نہیں اگر وہ لڑکی مسلمان تھی کہ مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں ہاں اگر وہ مسلمان نہ تھی تو برا کیا کہ اسے مسلمان کی بہن ٹھہرایااور فقط اولاد آدم علیہ السلام ہونا کافی نہیں کہ کافروں کا نسب خود حضرت سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے منقطع ہے
قال اﷲ تعالی انما المؤمنون اخوة وقال تعالی انه لیس من اهلك-انه عمل غیر صالح ﲦ ۔ اﷲتعالی نے فرمایا بیشك تمام مومن بھائی بہن ہیںاور اﷲ تعالی نے فرمایا:اے پیارے نوح(علیہ السلام)یہ آپ کی اہل میں نہیں وہ تو اپنے عمل والا نہیں ہے۔(ت)
رہا بکراس نے سخت شدید شنیع بری بات کہیاس کے قول سے نبی اﷲ آدم علیہ الصلوۃ والسلام پر ایك عیب لگتا ہے اس پر توبہ فرض ہے بلکہ کلمہ پڑھے تجدید اسلام کرے۔ہاں اگر وہ لڑکی کافرہ تھی اور اس نے کتے سور سے مراد کافر لئے یعنی ان کی اولاد میں تو کافر بھی ہیں جو کتوں سوروں کے مثل ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں وہ ہمارے بھائی کیسے ہوسکتے ہیںتو اس پر الزام نہ رہے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ازدھاموں ڈاکخانہ دھاموں ضلع سیالکوٹ پنجاب روز دوشنبہ صفر المظفر ھ
اگر زید اپنی حقیقی بھائی بکرکو کسی سازش سے ایك مجلس میں بآواز کلمہ طیبہ پڑھ کر کہے کہ تم میرے بھائی نہیں ہوایسی صورت میں زید پربموجب شرع شریف کچھ کفارہ لازم ہے اگر ہے تو کیا وکس
#15336 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
قدربینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس کے بھائی نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ خلاف اخوت کیا جو بھائی بھائی سے نہیں کرتا تو اس پر اس کہنے میں الزام نہیں کہ اس نفی سے نفی حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی ثمرہاور ایسا نہیں بلکہ بلاوجہ شرعی یوں کہاتوتین کبیروں کا مرتکب ہواکذب صریح وقطع رحم وایذائے مسلماس پر توبہ فرض ہے اور بھائی سے معافی مانگنی لازم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا:معرفت مصطفی رضاخان صاحب بروز پنجشنبہ صفر المظفرھ
()بعض لوگوں کا قاعدہ ہے کہ مثلا کسی نے کہا کہ فلاں کے گھر چور ی ہوئی انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا چوری ہوئیپھر بعض دفعہ تو جو ظاہر کلام ہے ظاہر مرادہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ مرادہوتا ہے کہ چونکہ مثلا مال رہنا مضر تھا یا اس کا انہیں غرور تھا لہذا اچھا ہوا چوری ہوگئی کہ غرور جاتا رہا یا مضردور ہوگیا دونوں تقدیروں پر یہ ممنوع چیز کو اچھا کہنا کیسا ہے
()ایك شخص سے کوئی خلاف کلمہ نکلا بعد کو اس نے صراحۃ انکار کیا اور اس کا قبح تسلیم کرلیا یا اس کو چھوڑ کر اس کے مخالف حق کلمہ کا اقرار کیا آیا یہ توبہ ہوگئی یا ضرور ہے کہ لفظ توبہ کہے۔
()ہمارے اعزہ میں سے ایك عورت نے اپنے شوہر سے ناراض ہوکر کہا نہ معلوم تمہیں فلاں کے مکان سے(نام لے کر)کیا عشق ہےشوہر نے کہا خداجانےاس پر عورت نے کہا کچھ بھی خداجانے نہیں ہےاور اس کے بعد ایك اور جملہ کہا جو شاید یہ تھا کہ سب تمہارے حیلہ حوالے بیکار یہ ان بے پروائیاں ہیںیہ جملہ کیسا اس کا کیاحکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
()اس سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ سرقہ اچھی بات ہے جس سے حرام قطعی کا استحقاق بلکہ استحسان ہو کر معاذ اﷲ نوبت بہ کفر پہنچے بلکہ اس مسروق منہ کے نقصان مال کا استحسان سمجھا جاتا ہے اور یہی مقصود ہوتا ہے کہ کبھی براہ حسد ہوتا ہے اور حسد حرام ہےاس صورت میں تو مطلقا گناہ ہےکبھی براہ عداوت ہوتا ہے کہ دشمن کا نقصان دشمن کو پسند آتا ہے اس کا حکم اس عداوت کا تابع رہے گا اگر عداوت مذمومہ ہے یہ بھی قبیح ومذموم ہے اور اگر عداوت محمودہ ہے جیسے اعداء اﷲ سے دشمنی تو اس میں حرج نہیں جیسے ربنا اطمس على اموالهم و اشدد على قلوبهم (اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کر دے۔ت)جب دعا سے اس کا نقصان چاہنا روا ہے توبعد وقوع اس پر خوش ہونا
حوالہ / References القرآن الکریم ١٠ /٨٨
#15337 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
کیابیجا ہےکبھی وہ صورت ہوتی ہے جو سوال میں مذکور ہے وہ اگر بہ نیت صحیحہ ہے تو غیر مخطور کہ یہ اس کے نقصان پر خوش ہونا نہیں بلکہ نفع پر۔واﷲتعالی اعلم۔
()لفظ توبہ نہ ضرور نہ کافی جو قول بیجا صادر ہوا تھا اس پر ندامت اور اس سے نفرت واظہار برأت درکار ہےالسربالسروالعلانیۃ بالعلانیۃ(پوشیدہ سے پوشیدہ اور علانیہ سے علانیہ۔ت)واﷲتعالی اعلم۔
()قائلہ کاہر گز یہ مقصود نہیں کہ باری عزوجل سے معاذاﷲ نفی علم کرے نہ زنہار ا سکے کلام سے سامع کا ذہن اسطرف جاسکتا ہےبلکہ شوہر نے کہا تھا خداجانے یعنی کوئی چیز مخفی ہے جو مجھے معلوم نہیں یا جسے میں بتانا نہیں چاہتا اس نے کہا کچھ بھی خداجانے نہیں اسے اس ہولناك حکم سے کوئی تعلق نہیں نیز یہاں ایك اور دقیقہ ہے بفرض غلط نفی علم ہی مراد لیں تو معاذ اﷲ نفی مطلق کی ہر گز بوبھی نہیں بلکہ اس امر خاص سے یعنی اس کا کوئی سبب خفی اﷲ نہیں جانتا اور علم الہی سے کسی شئے کی نفی اس کے علم سے نفی ہے کہ واقع ہوتا تو ضرور علم میں ہوتا
فکان من باب قولہ و جعلوا لله شركآء-قل سموهم-ام تنبــٴـونه بما لا یعلم فی الارض ۔ تو یہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے باب سے ہوگا کہ انہوں نے اﷲ تعالی کے شریك بنائے فرمادیجئے ان کے نام بتائیے یا تم وہ خبر اس کو دیتے ہو جس کو اس نے روئے زمین پر نہ جانا۔ (ت)
ہاں ارسال لسان ہے جس سے احتیاط درکاراور خود شوہر کے ساتھ بدزبانی بھی تکفرن العشیر (عورتیں خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ت)میں داخل کرنے کوبس ہے توبہ چاہئے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ: قول انوارالحق تحصیل چونیاں ضلع لاہور بروز چہار شنبہ ربیع الاول شریف ھ(مکتوب)
(قول انوارالحق)میں عریضہ لکھ کر دوبارہ یا سیدنا ومولنا ومرشدنا عرض کرتا ہوں کہ آپ ہم لوگوں میں مثل رسول ونبی کے ہیں آپ خاکسار وں کی عرض سن کر جواب روانہ فرمائیں۔
الجواب:
تنبیہ:مولانا!یہ لفظ بہت سخت ہے لاالہ الا اﷲ یہ فقیر ذلیل سیاہ کارنابکار
حوالہ / References القرآن الکریم ١٣ /٣٣
صحیح البخاری کتاب الحیض ١/٤٤ وکتاب الزکوٰۃ ١/١٩٧ قدیمی کتب خانہ کراچی
#15338 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
کیاچیز ہے ہاں اکابر
کےلئے یہ لفظ حدیث میں آیا ہے کہ الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ شیخ اپنی قوم میں مانند نبی کے ہیں اپنی امت میں مگر مثل اورمانندمیں بہت فرق ہے مثل معاذاﷲ مساوات کا ایہام کرتا ہے اور مانند صرف ایك مشابہت چاہتا ہےاس لئے سیدنا امام اعظم رضی اﷲ عنہ نے ایمانی کایمان جبریل(میراایمان جبرائیل کے ایمان کی مانند ہے۔ت) فرمایا نہ کہ مثل ایمان جبریل(مثل ایمان جبریل۔ت)فقط
مسئلہ: مسئولہ سیدحمید الرحمن صاحب صابری فاروقی گولہ گھاٹ محلہ کچہری ہاٹ آسام ربیع الثانی ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مقدس اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے مرشدزادہ کو حقارت و بے ادبی سے کچھ باتیں کہیں وہ مرشد زادہ قوم کا سید حسینی ہے اور ہندوستان کے مدرسہ عربی کا تعلیم یافتہ مولوی ہے اور اہل طریقہ میں قادریہ عالیہ ہےحقیقت میں اس مرشد زادہ کا کچھ بھی خطا و قصور نہیں تھا جبرا اس شخص نے بہت لوگوں کے سامنے اس مرشد زادے کو بے ادبی اور حقارت سے باتیں کیں۔اب ازروئے شرع دین متین اس شخص کو کیا حکم دیتے ہیں اب ایمان و نکاح میں کچھ خلل اس کا ہوگا یانہیںفقط۔
الجواب:
بلاوجہ کسی مسلمان کو سخت و سست کہنا حرام ہے نہ کہ سید نہ کہ عالم نہ کہ اپنامرشد زادہ۔صحیح حدیث میں ہے نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔
جس نے کسی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذا دیجس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲعزوجل کو ایذادی۔
دوسری حدیث میں ہے:
ثلثۃ لایستخفف بحقھم الامنافق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الاسلام
تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ کرے گا مگر کھلا منافق ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا دوسرا
حوالہ / References کنز العمال حدیث ٤٢٦٣٢و٤٢٦٣٣ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ١٥/٦٦٤
المعجم الاوسط حدیث ٣٦٣٢ مکتبۃ المعارف الریاض ٤ /٣٧٣
#15339 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
وذوالعلم وامام مقسط۔
عالم تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔
صورت واقعہ اگر یونہی ہے جیسے سوال میں مذکور ہوئی تو وہ شخص ضرور مرتکب کبیرہ ہوامگر اسلام و نکاح میں خلل نہیں کہہ سکتے جب تك کوئی خاص قول و فعل ان میں مخل صادر نہ ہوا ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ:از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخاں صاحب رجب ھ
زید ایك شخص ہے جس کا نکاح بکر کی لڑکی ساتھ ہوا ہےاب چند بچے پیدا ہونے کے بعد زید نے اپنی بیوی کی ہمشیرہ کے ساتھ یعنی حقیقی سالی کے ساتھ بھی عقد کرلیا ہے اور دونوں سے مراسم بیوی کی ادا کرتا ہے اور دونوں کی اولاد بھی ہےاور زید قوم قصاب سے ہےآیا ایسی حالت میں اس کو زانی کہہ سکتے ہیں یانہیںاور اس کے ہاتھ کا گوشت خرید نا چاہئے یانہیںاور اس کی موت میں شریك ہونا چاہئے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
وہ ضرور حرامکار ہے اس سے گوشت خریدنا بلکہ سلام کلام کرنا ہی نہ چاہئےموت اس کے عزیز و قریب کرلیں گے اوروں کو بلاضرورت شرکت کی حاجت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: مرسلہ محمدتقی مقام بکسر متصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی بخش صاحب ربیع الاول ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کو اوقات مختلفہ میں اببلیس مردود کافر متعدد بار کہازید معمر ہے بکر نوعمربکر یوم جمعہ کو خطبہ جمعہ پڑھ رہا تھااثناء خطبہ میں کسی آیہ کریمہ میں غلطی ہوئی زید نے چلا کر بتایابکر نے اپنی غلطی کی اصلاح کر لی مگر زید نے اسی ساعت میں چلا چلا کر چند بار اپنی قرأت کرتا ہی رہاپھر بعد فراغ نماز زید نے سب لوگوں کو ٹھہرایا اور کہنے لگا یہ مردود اببلیس ہمیشہ غلط پڑھتا ہے اورمجھے ذبح کردیا ہےبکر نے سوائے سکوت کوئی جواب نہیں دیااور اگر زید موجود ہے تو بکر نماز پڑھانے کے لئے زید کو کہلائے مگر زید نہ پڑھائےپھر بکر نے دوجمعہ پڑھا کر جواب دیا کہ وہ شخص جمعہ پڑھائے جس سے کوئی غلطی نہ ہو۔مقتدیوں نے کہا تم ضرور پڑھاؤ تو مخالفت کا باعث معلوم ہوتا ہے اور ثابت بھی ہوگیابہر حال دوسرے امام مقرر کئے گئے چند دنوں بعد امام صاحب نے انتقال فرمایا اس کے بعد زید خود ہی نماز پڑھانے لگااس حالت میں زید کی امامت صحیح ہوگی یانہیںاور ان دونوں میں شرعا کافر واببلیس کون ہوگا
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث٧٨١٩ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ٨/٢٣٨،کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ فی التوبیخ حدیث ٤٣٨١٢ موسسۃ الرسالۃ بیروت ١٦/٣٢
#15340 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
الجواب
مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی مردود اببلیس کہنا سخت حرام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
و الذین یؤذون المؤمنین و المؤمنت بغیر ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا و اثما مبینا(۵۸) ۔ وہ لوگ جو مومن مرد اور عورتوں کو بلاوجہ اذیت دیتے ہیں تو بیشك انہوں نے بہتان اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا۔(ت)
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلمافقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
جس نے کسی مسلمانوں کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ کو ایذادی۔
اور مسلمانوں کو کافر کہنا تو ایسا سخت ہے کہ احادیث کثیرہ صحیحہ میں فرمایا فقد باء بہ احدھما یہ بلادونوں میں سے ایك پر ضرور پڑے گی جسے کافر کہا اگر وہ وقع میں کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آئے گا ولہذا امام اعمش وائمہ بلخ وغیرہم کثیر فقہائے کرام کا فتوی یہی ہے کہ جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہوجاتا ہے والصحیح فیہ تفصیل اوردنا ھافی فتاونا(اورصحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے جس کو ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے)عین حالت خطبہ میں تصحیح بکر کے بعد بھی جو زید بار بار اپنی قرأت کرتا رہا یہ بھی حرام تھا قال اﷲ تعالی و اذا قرئ القران فاستمعوا له و انصتوا لعلكم ترحمون(۲۰۴) ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پررحم کیاجائے۔(ت)
زید اگر بلاوجہ شرعی ان الفاظ کا مرتکب ہواہے تو اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور بکر سے معافی چاہے ورنہ وہ فاسق معلن ہے اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ٣٣ /٥٨
المعجم الاوسط حدیث ٣٦٣٢ مکتبۃ المعارف الریاض ٤/٣٧٣
صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفراخاہ بغیر تأویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٩٠١
القرآن الکریم ٧ /٢٠٤
#15341 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
مسئلہتا:از پوسٹ کانت فقیر ہاٹ مدرسہ اسلامیہ کالاپل چاٹگام مرسلہ وحیداﷲ صاحب ربیع الاول
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی ھذہ المسألۃ ان رجلا اخاالجھل قال لمعلم العلوم العربیۃ اعنی المبادی والمقاصد ماانت الابشر مثلنا فقال لہ اذکان الامر کذلك فما اصنع فی المدرسۃ العالیۃ مثلا فاجاب لہ یا راعی البقر والخنزیر ترعیھما فیھا وایضا اعتقدان اﷲ یغفر ویدخل الجنۃ من یشرك بہ لمن یشاء یغفر لمن یشاء فذکر العالم شیأ من ایۃ القران والاحادیث الصحیحۃ فقال ھذالیس بشیئ ففی الصورۃ المسئولۃ ھل یجب التوبۃ وتجدید النکاح علیہ ام لا۔
علمائے کرام(اﷲ تعالی آپ پر رحم کرے)آپ کا کیا ارشادہے کہ اس مسئلہ میں کہ ایك جاہل شخصعربی علوم کی مبادی ومقاصدکے استاذ کو کہتا ہے کہ تو ہمارے جیسا بشر ہےتو عربی کے معلم نے جواب میں کہا اگر یہی معاملہ ہے تو پھر میں مدرسہ عالیہ میں کیا کررہا ہوں تو جاہل نے اسے جواب میں کہااے گائے اور خنزیر کے چروا ہے!تو وہاں ان کو چراتا ہے اور نیز اس کا عقیدہ ہے اﷲ تعالی جس مشرك کو چاہے بخش دیتا ہے اور اس کو جنت میں داخل فرماتا ہےتو اس پر اس عالم نے اس کو کچھ قرآنی آیات اور صحیح احادیث سنائیںتو جاہل نے کہا یہ کوئی چیز نہیں ہےتو کیا مسئولہ صورت میں توبہ اور تجدید نکاح ضروری ہے یانہیں
()من قال واعتقد تارك الصلوۃ کافر فالقائل ھل ھوخارج عن مذھب ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی ام لا۔ بینواتوجروا۔
()جو شخص یہ عقیدہ رکھے اور بیان کرے کہ نماز کا تارك کافر ہےتو یہ کہنے والاکیا وہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب سے خارج ہے یانہیںبیان کرو اجر پاؤ۔(ت)
الجواب:
اما ما خاطب بہ العالم فھو من جھلہ وسوء ادبہ یستحق بہ التعزیر الشدید الائق بحالہ الزاجر لہ ولامثالہ ففی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایستخف بحقھم الامنافق
اس نے عالم کو جن الفاظ سے خطاب کیا ہے وہ اس کی جہالت اور انتہائی بے ادبی ہے اس کی وجہ سے وہ اور ایسے دیگر لوگ اپنے جرم کے مناسب شدید تعزیر کے مستحق ہیں۔حدیث شریف میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے تین حضرات کی توہین کھلے منافق
#15342 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط ۔ اماقولہ ان اﷲ یغفر لمن یشرك بہ لمن یشاء فمخالف للقران العظیم قال اﷲ عزوجل ان الله لا یغفر ان یشرك به و یغفر ما دون ذلك لمن یشآء واما قولہ لایات القران العظیم والاحادیث ھذا لیس بشیئ فھذالیس بشیئ الاالکفر الجلی تجری بہ علیہ احکام المرتدین فعلیہ ان یسلم واذااسلم فلیجدد نکاحہ برضألمرأۃ وان لم ترضی فلھا الخیار تعتد وتنکح من تشاءواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کے بغیر دوسرا نہیں کرسکتا ایك عالمدوسرا وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیااور تیسرا مسلمان عادل بادشاہتاہم اس کا یہ کہنا کہاﷲ تعالی جس مشرك کو چاہے بخش دیتا ہےتویہ قرآن عظیم کے مخالف ہےکیونکہ اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالی شریك بنانے والے کونہیں بخشتااس کے علاوہ جس کو چاہے بخشتا ہے۔ اور اس کا قرآن وحدیث کے متعلق یہ کہنا کہیہ کوئی چیز نہیں ہےیہ توخالص ایسا کفر ہے جس پر مرتدوں والے احکام جاری ہوتے ہیںلہذا اس پر تجدید اسلام ضروری ہے اور مسلما ن ہوکر عورت کی رضامندی سے دوبارہ اس سے نکاح کرےاگراس سے نکاح پر راضی نہ ہوتو بیوی کو اختیار ہے کہ وہ عدت پوری کرکے کسی اور سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
()الحکم بالکفر علی تارك الصلوۃ وارد فی صحاح الاحادیث وعلیہ جمھور الصحابۃ والتابعین ولیست المسألۃ فقہیۃ بل کلامیۃ وقد اختلف اھل السنۃ قدیما فمن قال باحد القولین لایخرج بہ عن الحنفیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔
()نماز کے تارك پر احادیث صحیحہ میں کفر کا اطلاق آیا ہےاور جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مسلك ہے جبکہ یہ مسئلہ فقہی نہیں بلکہ علم کلام سے متعلق ہےاس میں اہلسنت کا قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے لہذا اگر کوئی دو قولوں میں سے ایك قول کو اختیار کرے تو وہ حنفیت سے خارج نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ الشیخ فی التوبیخ حدیث ٤٣٨١٢ موسسۃ الرسالہ بیروت ١٦/٣٢،المعجم الکبیر حدیث ٧٨١٩ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ٨/٢٣٨
القرآن الکریم ٤ /٤٨و ١١٦
#15343 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
مسئلہ تا: از بنگلوربازار مرسلہ قاضی عبدالغفار صاحب مورخہ جمادی الاولی ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
()ایك شخص درود شریف پورا پڑھتا ہے اللھم صل وسلم علی محمد وسیدنا وھادینا ومرشدنا ومخدومنا(نام اپنے پیر کا لیتا ہے)حضور صلی تعالی علیہ وسلم کے نام پاك پر نہ سیدنا وھادینا ہے اور اپنے پیر کے نام پر القاب تعظیمی لگاتا ہےپس ایسا درود پڑھنا جائز ہے یانہیںاور کوئی پیر اس کو روارکھے تو کیسا ہے
()بشیرونذیر القاب مخصوصہ سید العالمین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے ہیں یا اور کسی کوبھی کہہ سکتے ہیںاگر کوئی شخص اپنے مریدوں سے کہلوائے اور اپنی نسبت روارکھے تو اس پیر ومرشد کا شرعا کیا حکم ہے
الجواب:
()یہ بیجا ہے اور ایك نوع ظلم ہے اسے اس سے احتراز چاہئےادب تویہ ہے کہ اکابر کے نام کے ساتھ ان کے اصاغر کانام لیا جائےاگروہ اپنے اکابر ہوں تو ان کے نام کے ساتھ ان کے نام میں زیادہ الفاظ تعظیمی ضروری نہیںنہ کہ معاذ اﷲ عکس۔عرب میں کنیت تعظیم ہے۔امام ابویوسف امام محمد کے استاد مگر امام اعظم کے شاگرد ہیں رضی اﷲ تعالی عنہمامام محمد نے جامع صغیروغیرہ جتنی کتابیں بروایت امام ابی یوسف حضرت امام اعظم سے روایت کیں ان میں امام ابویوسف کو کنیت سے یاد نہ کیا بلکہ نام سے محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہماس کا نکتہ علماء نے یہی لکھا ہے اس شخص پر اس سے احتراز لازم ہے اور پیر پر واجب ہے کہ اسے ہدایت کرےاور اگر یہ مطلب ہوکہ پیر کی عظمت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زائد ہے تو یہ صریح کفر ہےوالعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
()حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تمام صفات کریمہ بایں معنی خصائص حضور ہیں کہ کوئی صفت میں حضور کا مماثل و شریك نہیںامام ابومحمد بوصیری قدس سرہ فرماتے ہیں:
منزہ عن شریك فی محاسنہ
فجوھرالحسن فیہ غیر منقسم
(آپ اپنے محاسن میں کسی شریك سے پاك ہیںتو آپ کے حسن کا مادہ منقسم نہیں ہے)
حوالہ / References قصیدہ بردہ الفصل الثالث تاج کمپنی لاہور ص١٠
#15344 · کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر (حدود اور تعزیر کا بیان)
مگر حضور نے اپنی بعض صفات کریمہ کا اپنے مستفیضوںاپنے خادموں اور اپنے غلاموں پر بھی پر توڈال دیا جیسے علیمحلیمکریم کہ ان صفات کی تجلی جس میں متحقق ہو اس پر ان کے اطلاق میں حرج نہیں بشیر ونذیر بھی انہیں صفات میں ہیں
قال تعالی مبشرین و منذرین۪- وقال تعالی و ان من امة الا خلا فیها نذیر(۲۴) وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشرواولاتنفروا۔ واﷲ تعالی اعلم۔اﷲ تعالی نے فرمایا:بشارت دینے والے اور ڈرسنانے والے۔ اور فرمایا:ہرامت میں ڈر سنانے والا گزرا۔ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:بشارت دو نفرت پیدا نہ کرو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ : ازاجمیر شریف کارخانہ گریچ علاقہ نمبرلوہار خانہ مرسلہ جمال محمد جمادی الآخر ھ
ہر کسی کو شیطان کہیںیہ حلال یا حرام
الجواب:
گمراہ بددین کو شیطان کہا جاسکتا ہے اور اسے بھی جولوگوں میں فتنہ پردازی کرےادھر کی ادھر لگا کر فساد ڈلوائےجو کسی کو گناہ کی ترغیب دے کر لے جائے وہ اس کا شیطان ہےاور مومن صالح کو شیطان کہنا شیطان کاکام ہے۔وھو تعالی اعلم۔
___________________
نوٹ
جلد سیزدہم ختم ہوئیاس کاآخری عنوان کتاب الحدود والتعزیر ہےجبکہ آنے والی جلد چہاردہم کا پہلا عنوان کتاب السیر ہوگا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ٤ /١٦٥ و ١٨/٥٦ و ٦/٤٨
القرآن الکریم ٣٥ /٢٤
صحیح البخاری کتاب العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ١/١٦
#15345 · مآخذومراجع
مآخذومراجع
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری ا
۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس
۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی
۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی
۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری
۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی
۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی
۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم
۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی
۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا
۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی
۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی
۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی
۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی
#15346 · مآخذومراجع
۔ امالی فی الحدیث عبدالملك بن محمد بن محمد بشران
۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی
۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی
۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی
۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ
الام محمدبن ادریس الشافعی
۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری
۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی
۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری
۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی
۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی
۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی
۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی
۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی
۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی
۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی
۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی
۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری)
۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم
۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی
۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی
۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا
#15347 · مآخذومراجع
۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا
ب
۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی
۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی
۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی
۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی
۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی
۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی
۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی
۔ ببلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی
۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ
۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ء
ت
۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی
۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر
۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری
۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی
۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام
۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی
۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری
۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی
۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی
۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی
#15348 · مآخذومراجع
۔ تنبیہ الانام فی آداب الصیام
۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۔
۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی
۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ)
۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر
۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی
۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی
۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی
۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی
۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی
۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی
۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی
۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی
۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری
۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳
۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار
۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری
۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ
۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی
۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی
۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی
۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی
#15349 · مآخذومراجع
۔ التعقبات علی الموضوعات جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۰۸
۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری
۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون
۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی
۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی
۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین
۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی
۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی
۔ تجنیس الملتقط
۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ
ث
۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری
۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی
۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی
۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری
۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری
۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی
#15350 · مآخذومراجع
۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی
۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی
۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی
۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی
۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر
۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی
۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی
۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی
۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن(تفسیرطبری)محمدبن جریرالطبری
۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز
۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی
۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی
۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی
۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری
۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری
۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی
۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اﷲ علیہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی
۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی
ح
۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی
۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی
۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی
۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو
#15351 · مآخذومراجع
۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی
۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی
۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی
۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی
۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی
۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی
۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج
۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی
۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی
۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری
۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو
۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی
۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری
۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی
۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
خ
۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری
#15352 · مآخذومراجع
۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی کے بعد
۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی
۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری
۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی
۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی
۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی
د
۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو
۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی
۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
ذ
۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی)
۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد
۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی
ر
۔ الرحمانیۃ
۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی
۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملك بن حبیب السلمی(القرطبی)
#15353 · مآخذومراجع
۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم
۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی
۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ء
۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری
۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی
۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری
۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم
۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری
۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی
۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی
۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین
۔ رسالہ میلاد مبارك (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی
۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی
۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ء
۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی
ز
۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام
۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا
۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی
#15354 · مآخذومراجع
۔ زہرالربی علی المجتبی جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ
۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی
۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی
۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی
س
۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی
۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ
۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی
۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث
۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی
۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی
۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی
۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی
۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملك بن ہشام
۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس
۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی
۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی
۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار
۔ سراج القاری
۔ السعدیہ
۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی
#15355 · مآخذومراجع
ش
۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی
۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی
۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی
۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری
۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور
۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی
۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی
۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ
۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی
۔ شرح الغریبین
۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی
۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ
۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی
۔ شرح مؤطاامام مالك علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی
۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی
۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی
۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود
۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ
#15356 · مآخذومراجع
۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ
۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر
۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی
۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی
۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی
۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی
۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی
۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی
۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی
۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی
۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی
۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی
۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی
۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی
۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی
۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین
۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری
۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری
۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز
۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری
۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
#15357 · مآخذومراجع
۔ شرح جامع الاصول للمضیف مبارك بن محمدالمعروف بابن الاثیرالجزری
۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی
۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان
ص
۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری
۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان
۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ
۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا
۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی
۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی
۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی
ط
۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی
۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی
۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی
۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری
۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المعروف ببرکلی
۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی
ع
۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی
۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی
۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی
#15358 · مآخذومراجع
۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی
۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری
۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی
۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی
۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی
۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی
۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین
۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی
غ
۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی
۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو
۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم
۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی
۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی
۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی
۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی
ف
۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام
۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی
۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز
#15359 · مآخذومراجع
۔ فتاوی حجہ
۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی
۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی
۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان
۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد
۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی
۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز
۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی
۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی
۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی
۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی
۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی
۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی
۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی
۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ
۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی
۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی
۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی
۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی
۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی
۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم
#15360 · مآخذومراجع
۔ فتح المعین شرح اربعین شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی
۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی
۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی
۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱
۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۔ فتح الملك المجید
۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی
ق
۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی
۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری
۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی
۔ القرآن الکریم
۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی
۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی
۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری
۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی
#15361 · مآخذومراجع
ک
۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد
۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی
۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی
۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری
۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۔ کتاب السواك ابونعیم احمدبن عبداللہ
۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی
۔ کتاب الطہور لابی عبید
۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی
۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی
۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین
۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا
۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی
۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود
۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم
۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی
۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی
۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان
#15362 · مآخذومراجع
۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی
۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارك
۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری
۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی
۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی
۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی
۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا
۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا
۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی
۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی
۔ کتاب الرواۃ عن مالك ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی
۔ کتاب الحجہ علی تارك الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی
۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی
۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی
ابن ابی زہرالقہروانی
۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ
۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری
۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی
ل
۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی
#15363 · مآخذومراجع
۔ لسان العرب جمال الدین محمدبن مکرم ابن منظورالمصری
۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
م
۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملك
۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی
۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی
۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی
۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی
۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی
۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ
۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین
۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی
۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی
۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی
۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد
۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی
۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری
۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی
۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری
۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی
۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۔ المستدرك للحاکم ابوعبداللہ الحاکم
۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی
#15364 · مآخذومراجع
۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری
۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی
۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی
۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ
۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل
۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار
۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی
۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی
۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی
۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی
۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی
۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی
۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی
۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی
۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری
۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی
۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی
۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی
۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی
۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی
۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی
۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
#15365 · مآخذومراجع
۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی
۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی
۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز
۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود
۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد
۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی
۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی
۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی
۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی
۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی
۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی
۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی
۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری
۔ موطاامام مالك امام مالك بن انس المدنی
۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی
۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی
۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی
۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی
۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی
۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ
۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی
۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت
۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی
#15366 · مآخذومراجع
۔ المسندفی الحدیث حسن بن سفیان النسوی
۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی
۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری
۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی
۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی
۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی
۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح
۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری
۔ مدارك التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی
۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد
۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری
۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی
۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی
۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری
۔ المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری
۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی
۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین
۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالك شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں
۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں
۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں
۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی
۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی
#15367 · مآخذومراجع
۔ مظاہرحق مولوی نذیرالحق میرٹھی
۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی
۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۔ مفتاح الصلوۃ
۔ مجتبی شرح قدوری
۔ مشیخہ ابن شاذان
۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی
۔ مفاتیح الغیب(تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی
ن
۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود
۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی
۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی
۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی
۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارك بن محمدالجزری ابن اثیر
۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری
۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی
۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ
۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی
۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی
و
۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی
۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی
۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ
#15368 · مآخذومراجع
۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی
ھ
۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی
ی
۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی
۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی
#15369 · مآخذومراجع
ضمیمہ
مآخذومراجع

نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجریا
۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی / /
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین /
۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی
۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی
۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی
۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی
۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی
۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی
۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی
۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی
۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی
#15370 · مآخذومراجع
۔ ارشادالساری الی مناسك الملاعلی القاری حسین بن محمدسعیدعبدالغنی المکی الحنفی
۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری
۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی
۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی
۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملك ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین
۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی
۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی
ت
۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی
۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی
۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی
۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی
۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری
۔ تفہیم المسائل
۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی
ث
۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی
۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان
ج
۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی
#15371 · مآخذومراجع
۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی
۔ جامع المضمرات والمشکلات(شرح قدوری) یوسف بن عمرالصوفی
۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں
ح
۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی
۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی
۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی
۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں
۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں
خ
۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی
د
۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی
۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی
۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی
۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری
۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار
۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان
ذ
۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی
#15372 · مآخذومراجع
ر
۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین
س
۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی
۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی
۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی
ش
۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری
۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی
۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی
۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی
۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی ببلہوری غالبا
۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین
۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۲۵
ص
۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اﷲ علیہ تعالی علیہ وسلم
۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی
۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی
#15373 · مآخذومراجع
۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی
ط
۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری
غ
۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری
۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی
۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی
۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی ببلہوری غالبا
ف
۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل
۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی
۔ فاتح شرح قدوری
۔ فوائدحاکم وخلاص
۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی
۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین
۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی
۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی
۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی
ق
۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین
#15374 · مآخذومراجع
ک
۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی
۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی
۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر
۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی
۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل
۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا
۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی
۔ کتاب ذکرالموت
۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی
۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی
۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی
۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی
ل
۔ لباب المناسك شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی
م
۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری
مجموعہ خانی (فارسی)
۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں
۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
#15375 · مآخذومراجع
۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابومحمدعبیدبن حمید الکشی
۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ
۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی
۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی
۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی
۔ مسندالشامیین
۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی
۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی
۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی
۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور
۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی
۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی
۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب
۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی
۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی
۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی
۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف
۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی
۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۲
۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی
ن
۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی
۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی
#15376 · مآخذومراجع
۔ نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار محمدبن علی الشوکانی
۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی ببلہوری
۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی
۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی
۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری
۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی
۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی
۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی
۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ
۔ نافع شرح قدوری
۔ نام حق شرف الدین بخاری
۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ
و
۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان
۔ واقعات المفتیین
۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی
ھ
۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
Scroll to Top