“احکامِ تشریعیہ، شریعت کے فرامین، اوامرو نواہی سب ان کے قبضہ میں، سب ان کے سپرد، جس بات میں جو چاہیں اپنی طرف سے فرمادیں، وہی شریعت ہے، جس پر جو چاہیں حرام فرمادیں، اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کردیں، اور جو فرض چاہیں معاف فرمادیں وہی شرع ہے، غرض وہ کارخانہ الہی کے مختارِ کل ہیں، اور خُسر و ان عالم اس کے دستِ نگرو محتاج اعنّی سیّدالمرسلین ( رہبرِ رہبراں) ،خاتم النبیین ( خاتم پیغمبراں)رحمۃ للعلمین ( رحمتِ ہر دو جہاں)، شفیع المذنبین ( شافع خطا کاراں ،)قائد الغر المحجلین ( ہادی نوریاں و روشن جبیناں) ،سرّ اﷲ المکنون ( رب العزت کا راز سربستہ)دُرّ اﷲ المخزون ( خزانہ الہٰی کا موتی، قیمتی و پوشیدہ)سرور القلب المحزون (ٹوٹے دلوں کا سہارا )عالم ماکان وماسیکون ( ماضی و مستقبل کا واقف کار)تاج الاتقیاء ( نیکو کاروں کے سر کا تاج)نبی الانبیاء ( تمام نبیوں کا سرتاج )محمّدن (المصطفٰی) رسول رب العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ وبارک وسلم الٰی یوم الدین۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29)
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
آپ ﷺ جس معاملے میں اپنی طرف سے جو بھی فیصلہ فرما دیں، وہی شریعت ہے، آپ ﷺ جس کے لیے جو چیز چاہیں حرام قرار دے دیں، اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں، اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں، وہی اصل شریعت ہے
غرض یہ کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اس پورے نظام (کائنات) کے مکمل طور پر بااختیار (مختارِ کل) ہیں، اور دنیا کے تمام بادشاہ آپ ﷺ کے محتاج اور ضرورت مند ہیں
یعنی آپ ﷺ تمام رسولوں کے سردار اور رہنماؤں کے رہنما ہیں، سب سے آخری نبی ہیں، دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں، گنہگاروں کی سفارش کرنے والے ہیں، نورانی اور روشن چہروں والوں کی رہنمائی کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کا پوشیدہ راز ہیں، اللہ کے خزانے کا قیمتی اور چھپا ہوا موتی ہیں، دکھی اور ٹوٹے ہوئے دلوں کا سکون اور سہارا ہیں، ماضی اور مستقبل (یعنی جو کچھ ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے) کا مکمل علم رکھنے والے ہیں، پرہیزگار اور نیک لوگوں کے سر کا تاج ہیں، تمام نبیوں کے سرتاج ہیں، یعنی محمد مصطفیٰ، جو تمام جہانوں کے پالنے والے کے رسول ہیں
آپ ﷺ پر، آپ کی آل پر، اور آپ کے صحابہ پر قیامت کے دن تک اللہ کی رحمت، برکت اور سلامتی نازل ہو





