امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن واقعہء کربلا کے حوالے سے فرماتے ہیں:
“کون ساسنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلاکاغم نہیں یا اس کی یاد سے اس کادل محزون اور آنکھ پرنم نہیں،ہاں مصائب میں ہم کو صبر کاحکم فرمایا ہے، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے، اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارغم ریاء ہے اور قصداً غم آوری وغم پروری خلاف رضاہے جسے اس کاغم نہ ہو اسے بیغم نہ رہناچاہئے بلکہ اس غم نہ ہونے کاغم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کاایمان ناقص۔ واﷲ تعالٰی اعلم”
حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 24
اس عبارت کا آسان اردو ترجمہ درجِ ذیل ہے
ایسا کون سا سنی مسلمان ہوگا جسے کربلا کے اس دردناک واقعے کا غم نہ ہو، یا اس کی یاد سے اس کا دل اداس اور آنکھیں آنسوؤں سے نم نہ ہو جائیں
۔ تاہم، مصیبت اور تکلیف کے وقت ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور چیخنے چلانے یا واویلا کرنے (جزع فزع) سے شریعت نے سختی سے منع فرمایا ہے
جس شخص کے دل میں حقیقت میں یہ غم موجود نہ ہو، اس کا محض لوگوں کے سامنے جھوٹا غم ظاہر کرنا دکھاوا (ریاکاری) ہے
۔ اور جان بوجھ کر زبردستی غم کو خود پر طاری کرنا یا اسے ہر وقت پالے رکھنا اللہ کی مرضی اور رضا کے خلاف ہے
جسے کربلا کا غم محسوس نہ ہو، اسے بے فکر نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے خود اس بات پر افسوس اور غم ہونا چاہیے کہ اسے یہ غم کیوں نہیں ہو رہا
۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل بیتِ اطہار سے اس کی محبت میں کمی (نقص) ہے، اور جس کی محبت نامکمل ہو، اس کا ایمان بھی ادھورا اور نامکمل ہے
۔ اور حقیقت کا سب سے بہتر علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔





