دو قومی نظریہ علامہ اقبال اور امام احمد رضا بریلوی
ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری، واشنگٹن
پاکستان کا بحران اور دو قومی نظریہ
پاکستان جو کروڑوں مسلمانوں کی پناہ گاہ اور پوری مسلم امہ کی عظمت کا نشان اور امیدوں کا مرکز یقین ہے۔ آج کل عجب صورتِ حال سے دوچار ہے۔ جمہوریت یا فوجی آمریت کی افادیت اور نقصانات پر تو بحثیں ہوتی تھیں۔ اسلام نظام رائج کرنے یا اسلام کے ساتھ جمہوریت پا سوشلزم کا پیوند لگا کر ملک کی ترقی کے خواب تو دیکھے جاتے تھے۔ مگر اب ماڈریٹ اسلامک سٹیٹ کی خواہش میں وطن کی بنیاد اور اساسِ نظریہ ہی کو محل بحث بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہا اور لکھا جا رہا ہے کہ نظریہ پاکستان کا قیام پاکستان کے وقت بانیان کے اذہان میں کوئی تصور نہ تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ (محمد رسول اللہ ﷺ) تو بس سر پھرے نوجوانوں اور چھوکروں کا نعرہ تھا۔ پاکستان کے قیام سے اسلام کا کوئی تعلق نہ تھا۔ دو قومی نظریہ کا کوئی وجود نہیں تھا۔ پاکستان کے بانیان نہ خود اصطلاحی معنوں میں تھے اور نہ ہی جدید دور میں وہ قدیم اسلام کی افادیت کے قائل تھے۔ نظریہ پاکستان، دو قومی نظریہ، اور اسلامی نظام کی باتیں مذہبی طبقے نے قیام پاکستان کے بعد تاریخ کا حصہ بنا دی ہیں حالانکہ تمام علماء نے سوائے چند کے بحیثیت مجموعی پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ ان سب مفروضوں کی بنیاد پر اپنے ماضی کو غلط قرار دے کر اپنے حال کو سنوار نے اور مستقبل کو اجالنے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کو مشرقی اور مغربی جرمنی کی دیوار برلن سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ ایسے روح فرسا خیالات پڑھ کر وحشت ہوتی ہے کہ ہمارا دانشور اور تھنک ٹینک دانستہ یا نادانستہ طور پر ہمیں کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ دریں صورت جی میں آئی کہ اس ماضی سے، جو ابھی بعید نہیں ہوا، پھر سے رشتہ جوڑا جائے۔ ۲۱ اپریل یومِ اقبال ہے اور ۲۵ صفر یوم رضا ہے اسی مناسبت سے اپریل اور صفر کے قران میں ملت کے ان دو محسنوں، عبقری مفکروں اور رسول رحمت ﷺ کے سچے شیدائیوں کے افکار کی روشنی میں اپنی اساس اور بنیاد کو پھر سے تازہ کیا جائے تاکہ نسل نو کو اپنے وجود کے تحفظ، بقا اور ارتقاء کے جذبوں سے روشناس کرایا جا سکے۔
اندرا گاندھی کا اعتراف اور دو قومی نظریہ
قارئین! سوچنے کی بات ہے اگر کسی دو قومی نظریے کا وجود ہی نہیں تھا تو سقوطِ ڈھا کہ کے بعد ہندوستان کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے کیوں یہ مکبرانہ اعلان کیا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔ اگر ہندوستان میں ایک ہی قوم بستی تھی اور مسلمان بھی اس ایک ہندوستانی قوم کا حصہ تھے تو اندرا گاندھی نے اسی تقریر میں کیوں گلفشانی کی کہ آج ہم نے اس ظلم و ستم کا انتقام لے لیا ہے جو ایک ہزار برس ہم پر ہوتا رہا۔ یعنی ایک ہزار برس جو مسلمانوں نے ہم پر حکومت کی تھی اس کا بدلہ ہم نے پاکستان توڑ کر لے لیا ہے۔ اگر دو قومی نظریے کا قیام پاکستان سے پہلے وجود میں نہیں تھا تو پنڈت جواہر لعل نہرو نے ۱۹۳۷ء میں رابطہ عوام مہم میں کیوں کہا تھا کہ "دو قومی مسئلہ اور جدا گانہ تہذیبی تشخص کہا ہے میں نے تو خوردبین لگا لگا کر دیکھا مجھے تو ایسی کوئی شے نظر نہیں آئی۔" اگر دو قومی نظریے کا کوئی تصور نہیں تھا تو مسٹر گاندھی نے ۱۹۴۴ء میں قائد اعظم سے ملاقات میں مسلم قومیت کے جدا گانہ وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ دلیل کیوں دی کہ "کسی ملک میں وہیں کے رہنے والوں کا اگر کوئی گروہ مذہب بدل لے تو کیا صرف مذہب تبدیل ہو جانے کے باعث نئی قوم پیدا ہو جاتی ہے۔ میں نہیں مانتا" (دو قومی نظریہ اور ہندو، پروفیسر منور مرزا)۔
اقبال اور رضا کا مشترکہ تصورِ قومیت
ہمارے دانشور جو بھارت دوستی کے بخار میں مبتلا ہیں اور اپنی نصابی کتابوں سے سلطان محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، اورنگ زیب عالمگیر، شاہ ولی اللہ اور مجدد الف ثانی، کے نام تک خارج کر دینا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہیں وہ سادگی یا نادانی میں اندرا گاندھی، جواہر لعل نہرو اور مسٹر گاندھی کی ہمنوائی تو نہیں کر رہے۔ عام طور پر حکیم الامت علامہ اقبال کے ۱۹۳۱ء کے خطبہ الہ آباد کو دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے افکار میں بھی یہ تصور اس سے پہلے موجود تھا اور بہت سے علماء حق بھی اس کی وضاحت فرما چکے تھے جن میں مرد حق آگاہ فنافی الرسول ﷺ درویش، امام احمد رضا بریلوی کا نام نامی سرفہرست ہے۔ وہ اس وقت بھی دو قومی نظریہ کے حامی اور موئید تھے جبکہ علامہ اقبال اور قائد اعظم ابھی ہندو مسلم اتحاد کے موٹر پہ رکے ہوئے تھے۔ معروف سیاستدان صاحب طرز ادیب اور نامور صحافی مولانا کوثر نیازی صاحب نے بجا طور پر لکھا کہ "سیاست میں ہم دو قومی نظریہ کو علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح سے منسوب کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کے ایک ہونے کی مخالفت و تردید جس شد و مد سے امام احمد رضا نے کی وہ کسی اور نے نہیں کی۔ یہ دونوں حضرات بھی اس معاملے میں ان کے مقتدی ہیں آپ ان کے رہنما ہیں۔ (سید صابر حسین بخاری: ضیائے حرم گولڈن جویلی نمبر)۔ اگر چہ شروع شروع میں حضرت اقبال متحدہ قومیت کے قائل تھے مگر جب وہ مسلم قومیت کی طرف آئے تو پھر انہوں نے نظم و نثر میں دلائل کے انبار لگا دیئے۔ اور انہی کے افکار کی روشنی میں قائد اعظم بھی ہندو مسلم اتحاد کے موڑ سے نکل کر مسلم قومیت کی شاہراہ سے ہوتے ہوئے پاکستان کی منزل تک پہنچ کر سرخرو ہوئے۔ حضرت اقبال کی نظم "وطنیت" ۱۹۰۸ء کے بعد کی ہے اس میں آپ نے مغربی نظریہ وطنیت کی تردید کی تھی۔
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
قومیت پر اقبال کا مقالہ
۱۹۱۰ء میں انہوں نے ایک انگریزی مقالہ لکھا جو "ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر" کے عنوان سے علی گڑھ محمدن کالج میں پڑھا گیا تھا۔ اس کے اقتباس ملاحظہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علامہ کے ذہن میں جدا گانہ مسلم قومیت کا تصور بہت پہلے موجود تھا، انہوں نے لکھا "مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور دوسری اقوام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراکِ زبان، نہ اشتراکِ وطن نہ اشتراکِ اغراض اقتصادی ہے۔ بلکہ ہم لوگ اس برادری میں جو جناب رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی اس لیے شریک ہیں کہ مظاہر کائنات کے متعلق ہم سب کا سرچشمہ ایک ہے۔ اور جو تاریخی روایات ہم سب کو ترکہ میں پہنچی ہیں وہ بھی ہم سب کے لیے یکساں ہیں۔ اسلام تمام مادی قیود سے بیزاری ظاہر کرتا ہے۔ اور اس کی قومیت کا دار و مدار ایک خاص تنزیہی تصور یہ ہے۔ جس کی مجسمی شکل وہ جماعتِ اشخاص ہے جس میں پڑھنے اور پھیلتے رہنے کی قابلیت طبعاً موجود ہے۔ اسلام کی زندگی کا انحصار کسی خاص قوم کے مخصوص خصائل و شمائل پر منحصر نہیں ہے۔ غرض اسلام زمان و مکان کی قیود سے مبرا ہے۔"
اسلامی قومیت بمقابلہ وطنیت
"اس سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ میں جذبہ حبِ وطن کا سرے سے مخالف ہوں۔ ان قوموں کے لیے جن کا اتحاد حدودِ ارضی پر مبنی ہو۔ اس جذبہ سے متاثر ہونا ہر طرح سے حق بجانب ہے لیکن میں ان لوگوں کے طرز عمل کا یقیناً مخاطب ہوں جو اس امر کے معترف ہونے باوجود کہ جذبۂ حُبِ وطن قومی سیرت کا ایک قیمتی عنصر ہے ہم مسلمانوں کی عصبیت پر نام دھرتے ہیں اور اسے وحشیانہ تعصب کہہ کر پکارتے ہیں۔ حالانکہ ہماری عصبیت ایسی ہی حق بجانب ہے جیسی کہ ان کی حق پرستی۔ اسلام کی حقیقت ہمارے لیے یہی نہیں ہے کہ وہ ایک مذہب ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ اسلام میں قومیت کا مفہوم خصوصیت کے ساتھ پوشیدہ ہے اور ہماری قومی زندگی کا تصور اس وقت تک ہمارے ذہن میں نہیں آسکتا جب تک کہ ہم اسلام سے پوری طرح باخبر نہ ہوں۔ یہ الفاظ دیگر اسلامی تصور ہمارا وہ ابدی گھر یا وطن ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ جو نسبت انگلستان کو انگریزوں سے اور جرمنی کو جرمنوں سے ہے وہ اسلام کو ہم مسلمانوں سے ہے۔ جہان اسلامی اصول یا ہماری مقدس روایات کی اصطلاح میں خدا کی رسی ہمارے ہاتھ سے چھوٹی اور ہماری جماعت کا شیرازہ بکھرا" (خطباتِ اقبال: مرتبہ رضیہ فرحت بانو بحوالہ اقبال کا آخری معرکہ: سید نور محمد قادری)
گاندھی کی عیاری
۱۹۲۰ء - ۲۱ء تحریک ہجرت، تحریک خلافت اور تحریک ترکِ موالات کا ہولناک زمانہ تھا۔ علامہ اقبال خلافت کمیٹی میں شامل ہوئے مگر جلد ہی گاندھی کی قیادت کے مضمرات کو بھانپ کر اس سے الگ ہو گئے۔ جب گاندھی کی ہدایت پر ہندوستان کے ۱۲۵ میں سے مسلمانوں کے صرف تین تعلیمی اداروں کو بھی ترکِ موالات کی بھینٹ چڑھایا جانے لگا تو انجمن حمایت اسلام لاہور میں علامہ اقبال نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اسلامیہ کالج کے مولوی حاکم علی کے ذریعے امام احمد رضا بریلوی سے فتویٰ طلب کیا جنہوں نے ہندو کی عیاری کو طشت از بام کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک ہندو اپنے اداروں کی گرانٹ واپس نہیں کرتے مسلمان اپنے نقصان کے کیوں درپے ہیں۔ علامہ اقبال کی بروقت مداخلت اور امام احمد رضا بریلوی کی رہنمائی سے علی گڑھ، لاہور اور پشاور کے مسلم تعلیمی ادارے بند ہونے سے محفوظ رہے۔ ۱۹۲۳ء میں جب ہندوؤں نے مسلمانوں کو زبردستی واپسی ہندو بنانے کے لیے شدھی اور سنگٹھن کی جابرانہ تحریکیں شروع کیں تو چند درد مند رہنماؤں نے جن میں مولانا غلام بھیک نیرنگ رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبد الماجد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ، امیر ملت پیر جماعت علی شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ اور صدرالافاضل، مولانا نعیم الدین مراد آباد رحمۃ اللہ علیہ نے مرکزی مجلس تبلیغ قائم کی تو حضرت اقبال بھی اس میں شامل ہو گئے۔ میر غلام بھیک نیرنگ کے نام اپنے ایک مکتوب میں انہوں نے لکھا "میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام تمام کاموں پر مقدم ہے اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاست سے محض اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس عنصر کا مقصد نہیں ہے جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتا ہے تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوں گے۔ یہ بات میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں اور سیاست حاضرہ کے تھوڑے سے تجربہ کے بعد، ہندوستان کے سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرۂ عظیم ہے۔ اور میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرے کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ یا کم از کم یہ بھی شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے۔ بہر حال جس جانفشانی سے آپ نے تبلیغ کا کام کیا ہے اس کا اجر حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دے سکتے ہیں۔ میں انشا اللہ جہاں جہاں موقع ملے گا آپ کے ایجنٹ کے طور پر کہنے سننے کو حاضر ہوں۔ مگر آپ اور مولوی عبد الماجد جنوبی ہند کے دورہ کے لیے تیار رہیں" (مکتوب اقبال بنام غلام بھیک نیرنگ: سہ ماہی اقبال لاہور اکتوبر ۱۹۵۷ء) خط کشیدہ عبارت پر غور کریں تو بعض دانشوروں کے اس باطل نظریہ کی تردید ہو جاتی ہے کہ اقبال اور قائد اعظم کے نزدیک قیام پاکستان کا مقصد مذہبی نہیں محض معاشی تھا۔
صدر مدرس دیوبند کا نظریہ اور اقبال
تحریک خلافت، تحریک ہجرت اور تحریک ترکِ موالات میں گاندھی کی چالبازیوں سے مسلمانانِ ہند کو جو نقصان اٹھانا پڑا تھا اس نے دو قومی نظریہ پر حضرت اقبال کے یقین کو پختہ تر کر دیا۔ جب مسلم لیگ جناح لیگ اور شفیع لیگ دو گروہوں میں بٹی تو علامہ اقبال نے شفیع لیگ کا ساتھ دیا کیونکہ جناب لیگ ہندو مسلم اتحاد کی امید پر مخلوط انتخابات کی حامی تھی اور شفیع لیگ مسلمانوں کے ہندوؤں سے الگ تشخص کی دلیل پر جدا گانہ انتخاب کی طرف دار تھی۔ دسمبر ۱۹۲۸ء میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں علامہ اقبال نے دو قومی نظریے کے خدوخال واضح کرتے ہوئے فرمایا "حضرات آج میں نہایت صاف لفظوں میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کو ہندوستان میں بحیثیت مسلمان زندہ رہنا ہے تو ان کو جلد از جلد اپنی اصلاح و ترقی کے لیے سعی و کوشش کرنی چاہیے۔ اور جلد از جلد ایک علیحدہ پولیٹیکل پروگرام بنانا چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بعض ایسے حصے ایسے ہیں جن میں وہ قلیل تعداد میں ہیں۔ ان حالات میں ہم کو علیحدہ طور پر ایک پولیٹیکل پروگرام بنانے کی ضرورت ہے" (گفتار اقبال بحوالہ اقبال کا آخری معرکہ: سید نور محمد قادری) مسلمانوں کے اسی الگ ملی تشخص کی بنیاد پر ہی علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں ہندوستان کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس وقت تک قائد اعظم محمد علی جناح بھی ہندوؤں کے مکر و فریب کی وجہ سے ہندو مسلم اتحاد سے مایوس ہوا کہ انگلستان تشریف لے جا چکے تھے۔ اقبال کی دعوت بلکہ اصرار پر ہی وہ واپس آئے اور انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔ حضرت علامہ اقبال کی مومنانہ بصیرت اور حضرت قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں جب مسلمانوں کے الگ تشخص اور الگ ریاست کی تحریک کامیاب ہوتی نظر آئی تو کانگریس نے اپنے ترکش کے سارے تیر آزما ڈالے۔ مگر جو تیر سب سے زیادہ موثر اور کارگر تھا وہ کانگریس کے حامی حمیۃ العلماء ہند کے قرآن و حدیث کی تاویلوں میں ڈوبے ہوئے خطابات تھے جو مسلمانوں کو فریب دے رہے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس اور اپنے عہد کے انتہائی اہم مذہبی رہنما مولوی حسین احمد مدنی نے جب خطبہ جمعہ میں وعظ کرتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کی متحدہ قومیت کے حق میں دلائل دیئے اور واضح طور پر نظریہ پیش کیا کہ قومیں مذہب سے نہیں اوطان سے بنتی ہیں تو علامہ اقبال گو کہ بہت علیل تھے مگر ان سے نہ رہا گیا۔ وہ تڑپ اٹھے اور انہوں نے بستر مرگ سے اس باطل فکر کو للکارتے ہوئے تاریخی اشعار کہے۔
دیوبند اور حسین احمد پر اقبال کے اشعار
عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
سرور پر سرِ منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد ﷺ عربی است
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
ان اشعار کا چھپنا تھا کہ ہندوستان میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مولوی مدنی صاحب کے حواریوں نے علامہ اقبال کے خلاف مضامین اور نظموں کے طور مار باندھ دیئے۔ جس کا اقبال نے اپنے احباب کے مشورے سے بڑا مدلل جواب شائع کرایا۔ جب مولوی حسین احمد مدنی صاحب لاجواب ہوئے تو حیلہ تراشا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ملت وطن سے بنتی ہے، میں نے کہا تھا قوم وطن سے بنتی ہے۔ اقبال کو ملت اور قوم کا فرق ہی معلوم نہیں اس پر اقبال نےبرجستہ کہا:
قلندر جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
نظریہ حسین احمد مدنی کی ناکامی
جناب حسین احمد مدنی اور ان کے حامی علما کی سوچ ناکام ہوئی اللہ تعالیٰ نے علامہ اقبال کو سرخرو فرمایا اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ۱۹۴۷ء میں پاکستان ایک حقیقت بن کر افق عالم پر جلوہ گر ہوا۔ کانگریس اور اس کے حامی علماء کو ناکام بنانے میں ان علماء و مشائخ نے اہم کردار ادا کیا جن کا ان خانقاہوں اور روحانی سرچشموں سے تعلق تھا جن سے اقبال کا بھی رابطہ رہا تھا۔ امیر ملت حضرت جماعت علی شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین نے تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا۔ دو قومی نظریہ پیش کرنے اور اسے پروان چڑھانے میں امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کوششوں کے بارے میں روزنامہ نوائے وقت کے معروف کالم نگار اور مورخ میاں عبد الرشید نے اپنی کتاب میں لکھا "۱۹۴۰ء میں جب قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو حضرت بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کوششیں بار آور ہوئیں۔ آپ کے مریدین اور معتقدین بشمول علماء و مشائخ تحریک پاکستان میں جسدِ واحد بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس طرح قیام پاکستان کے سلسلہ میں حضرت بریلوی کا حصہ علامہ اقبال اور قائد اعظم سے کس طرح کم نہیں" نوائے وقت ہی کے ایک اور نامور صحافی اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن میاں محمد شفیع (م ش) نے انہیں محسن ملت اسلامیہ کا لقب دیتے ہوئے لکھا کہ "اعلیٰ حضرت نے جس یکسوئی اور استقلال سے دور غلامی میں دین کی مدافعت کی جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اس کا اعتراف امت کے تمام طبقوں کو تا جائے گا" (نوائے وقت ۷ جون ۱۹۶۸ء) خود حضرت اقبال نے امام احمد رضا کی فقہی بصیرت اور اصابت رائے کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنے عہد کا امام ابوحنیفہ قرار دیا تھا۔ ملت اسلامیہ کا یہ عظیم محسن، سچا عاشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے عہد کا امام ابو حنیفہ امام احمد رضا (۱۸۵۶۔۱۹۲۱) ہی تھا جو ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے ہیر و مولانا فضل حق خیر آبادی اور دیگر علماء حق کی فکر کا علمی و عملی وارث اور حقیقی ترجمان تھا۔ اس لیے یہ کارنامہ اسی کے حصے میں آیا کہ اس نے ہندو اور انگریز دونوں کی چالوں سے مسلمانان ہند کو بروقت خبردار کیا اور سب رہنماؤں سے پہلے ۱۸۹۷ء میں پٹنہ سنی کانفرنس میں دو قومی نظریہ پیش کرتے ہوئے ہندوؤں اور انگریز گورنمنٹ دونوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا۔ عام لوگ سمجھتے اور ہمارے دانشور لکھتے رہتے ہیں کہ علماء کو دنیوی معاملات کا ادراک نہیں ہوتا۔ یہ پرانے وقتوں کے لوگ ہیں جو وقت کے پہیے کو الٹا گھما کر قوم کو ماضی میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ تحریک پاکستان میں ان دانشوروں نے قوم کی رہنمائی کرنے کی بجائے قیام پاکستان کی مخالفت کی۔ اگر یہ سب لوگ امام احمد رضا کی تاریخی جد و جہد کا مطالعہ کر لیتے تو، اس مغالطے کا شکار نہ ہوتے۔ یہ سچ ہے کہ امام احمد رضا بریلوی ایک فقیہہ، محدث، مفسر، شیخ کامل، اور بشمول ریاضی، الجبرا، جیومیٹری، لوگارتھم، وغیرہ پچاس سے زیادہ علوم کے ماہر تھے۔ انہوں نے دارالعلوم کے استاد اور خانقاہ کے درویش کی حیثیت سے اپنے مریدین کی مذہبی رہنمائی کی۔ اپنی ساری شاعری کو صرف اور صرف نعت اور مناقب اولیا کے لیے وقف کر رکھا۔ لیکن یہ بھی قطعی سچ ہے کہ معاشی، سماجی اور سیاسی حوالوں سے بھی انہوں نے جو رہنمائی فرمائی وہ ان کے دور کے بڑے سے بڑا رہنما بھی نہ کر سکا۔
"انسان قرآن کی نظر میں"۔ڈاکٹر ھمایوں عباس شمس:
قرآن میں جہاں جہاں انسان، اس کی تخلیق، عالمِ ارواح سے عالمِ اجسام تک کا سفر، مقصدِ تخلیق، فطرتِ انسانی اور انسانوں کے باہمی روابط کے احکام و اذکار موجود ہیں ان کو اس کتاب میں یکجا کر کے ایک مضمون میں سمو دیا گیا ہےگویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کا محاورہ صادق آتا ہے۔ کتاب کے مطالعے کے بعد انسان کا انسان کے بارے میں ادراک ایک نئے اور بہتر زاویے سے آشنا ہوتا ہے۔ قیمت ۹۰ روپے ہے۔






