دو قومی نظریہ اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی
عالی جناب خان محمد علی خان صاحب ہوتی۔ وفاقی وزیر تعلیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
ابتدائیہ
یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ علمائے حقانی اور اولیائے ربانی نے ملت اسلامیہ کی ہر دور میں فکری و عملی راہنمائی فرمائی ہے۔ تاریخ اسلام نے اگرچہ بڑے بڑے باجبروت حاکم پیدا کئے ہیں مگر دلوں پر اقتدار کا پرچم صرف علمائے حقانی اور اولیائے ربانی کا لہراتا رہا اس کا اظہار ہماری آج کی اس روحانی محفل کے قائد مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی نے خود یوں فرمایا ہے:۔
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
امام احمد رضا کا دور
حضرت فاضل بریلوی کی ولادت اس پر آشوب دور میں ہوئی جب انگریز کا دیو استبداد مغلیہ اقتدار کے محلات کھنڈرات پر محو رقص تھا۔ یہ ۱۸۵۶ء تھا۔ آپ کی ولادت ہفتہ دہم شوال ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۴ جنوری ۱۸۵۶ء میں ہوئی، نماز ظہر کا وقت تھا۔ تاریخی نام المختار تجویز ہوا۔ دادا جان نے احمد رضا کا پیارا نام تجویز فرمایا۔ اور اسی نام کو بقائے دوام میسر آیا۔ آپ نے اپنے لئے عبد المصطفیٰ کا لقب خود منتخب کیا۔ اور آقا کی غلامی میں یوں مقبول ہوئے کہ غلامی و عبدیت کا سہرا ملک بھر میں انہی کے سر سجا زندگی کی ابھی تیرہ بہاریں دیکھیں تھیں کہ علوم اسلامیہ متداولہ سے فارغ ہو کر مسند افتاء پر قدم رنجہ فرمایا۔
کامل شیخ سید آلِ رسول کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقہ خلافت و اجازت بیعت ملی۔ وسعت علمی کا یہ حال ہے کہ علوم ذہن میں حاضر رہتے ہیں۔ معانی و الفاظ دست بستہ غلاموں کی طرح کھڑے رہتے ہیں کہ آپ کی نگاہ انتخابات کس پر پڑتی ہے۔ بلا کی ذہانت ہے اور انتہا کی ذکاوت، قوتِ حافظہ کا یہ کمال ہے کہ رمضان شریف میں روزانہ ایک پارے کے حساب سے قرآن پاک یاد فرما لیا۔
یہ علم و عمل کا نیر اعظم ۲۵ صفر ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء دو پہر دو بجکر ۳۸ منٹ پر شفق محبت کی گود میں ہمیشہ کے لئے یاد محبوب کی معیت میں سو گیا اور اپنے وصال کی تاریخ کا قرآن کریم کی اس آیت مقدس سے استخراج فرمایا۔ و یطاف علیھم بآنیة من فضة و اکواب، آپ کی ولادت کے اگلے سال یعنی ۱۸۵۷ء میں انگریز کے خلاف ملک گیر پہلی تحریک آزادی چلنے والی تھی۔ امام اہل سنت نے بچپن سے لے کر جوانی تک اپنے حساس دل سے وہ سب کچھ ملاحظہ فرمایا جو انگریز کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ انگریز کے زیر سایہ ہندو نے بھی مسلمان سے ماضی کا انتقام لینے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ ہندو چاہتا ہے کہ جب بھی انگریز برصغیر سے رخت سفر باندھے تو وہ اس کا جانشین بنے اور اپنی اکثریت کی بناء پر جمہوریت کی آڑ میں مسلم کشی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کر دے۔
امام احمد رضا کا پیغام
حساس مسلمان اس کا گہرا مطالعہ کر رہے تھے اور فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے مسلمانوں کی فکری آبیاری کے لئے ایک ہزار کے لگ بھگ کتب ہر موضوع پر تحریر فرمائی ہیں مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ کفر کی سب قسموں سے انہیں الگ رہنا چاہیے۔ اگر انگریز سے ترک موالات ضروری ہے تو ہندو سے بھی ترک موالات لازمی ہے نہ ہندو مسلمان کا ساتھی بن سکتا ہے اور نہ ہی غمخوار۔
بڑے بڑے مسلم زعما نے اعلیٰ حضرت کو اپنے راستے سے ہٹا کر مودت ہنود کے خارزار میں لانا چاہا مگر ان کا جواب ایک ہی تھا کہ سب ایک ہی مزاج کے ہوتے ہیں لہذا میں کسی کفر سے رشتۂ مودت قائم نہیں کر سکتا۔ یہی وہ زندہ حقیقت تھی جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی شکل میں متشکل ہوئی۔ اسی نظریہ کو اکبر اعظم کے دور میں پوری قوت سے امام مجدد الف ثانی نے موضوع قلم قرار دیا۔
اعلیٰ حضرت کے بعد علامہ اقبال مرحوم نے اسی پیغام کی ترجمانی کی اور انہی افکار و نظریات کو بنیاد بنا کر حضرت قائد اعظم نے تعمیر پاکستان فرمائی۔ اعلیٰ حضرت نے مسلمانوں کے ملی تشخص کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ سودی کاروبار کو کسی بھی صورت میں جائز نہ قرار دیا جائے اور برصغیر کو دار الحرب قرار دیکر کو ضرورت قرار دیکر اس جائز نہ سمجھا جائے تا کہ ہندو ساہو کار غریب مسلمانوں کا خون چوسنے والی جونک نہ بن سکے۔ انہوں نے واضح فرمایا کہ مسلمان اپنا بنک قائم کریں تاکہ ان کا قومی تشخص بھی ابھرے اور وہ سرمایہ لگا کر اپنے غریب بھائیوں کے بھی کام آ سکیں انہوں نے اس بات پر بھی بہت زور دیا کہ مسلمان صرف مسلمانوں سے لین دین کرے تا کہ تجارت کے میدان میں وہ اپنا مقام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مالی قوت میں بھی استحکام پیدا کر سکے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا تا کہ انگریز اور ہندو کے فکری تغلب سے بھی نجات مل سکے اور مذہب سے تعلق قائم ہو، اور مستقبل کے قائد پیدا کئے جاسکیں:۔
دو قومی نظریہ کی بنیاد
اندازہ فرمائیے کیا یہ نکات دو قومی نظریہ کی بنیاد نہیں ہیں؟ کیا دو قومی نظریہ ہی تحریک پاکستان کی روح نہیں ہے کیا اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی یہ برصغیر تقسیم نہیں ہوا۔ کیا اسی نظریہ کے ابطال کے لیے اندرا گاندھی نے سقوط مشرقی پاکستان کے وقت بھر پور تقریر نہیں کی۔ تو اس نظریہ کے لئے علمائے حقانی میں سے اعلیٰ حضرت بریلوی نے سب سے زیادہ تحریری کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنی فکر رسا سے سمجھ لیا تھا انگریز کدھر جا رہا ہے اور ہندو کیا چاہتا ہے۔ جن کی علمی و فکری کاوشوں کو دیکھ کر علامہ اقبال جیسے مفکر اسلام نے بجا طور ارشاد فرمایا تھا کہ ہندوستان کے دور آخر میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ اپنے دور کے امام ابو حنیفہ ہیں۔
اعلیٰ حضرت بریلوی نے صرف دو قومی نظریہ کی علمی تشریح و تعبیر پر اکتفا نہیں فرمایا۔ بلکہ اپنا وسیع حلقۂ عقیدت پیدا کیا اور ان کے اس عظیم حلقہ ارادت نے تحریک پاکستان کے دوران حضرت قائد اعظم کی بھر پور مدد کی۔ حضرات یہ وہ زمانہ تھا کہ کچھ علماء نام کے مسلمان بظاہر مسلمان تھے لیکن انہوں نے ہندو کا ساتھ دیا اور ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ کانگریسی مولوی کو کیا پوچھتے ہو کہ کیا ہے "گاندھی کی پالیسی کا عزلی میں ترجمہ ہے" حضرت محدث کچھوچھوی، حضرت شیخ الاسلام سیالوی، حضرت خواجہ گولڑوی، حضرت محدث علی پوری اور علامہ بدایونی جیسے رہنمایان ملت اعلیٰ حضرت کی صدائے دل نواز کے مظہر اتم تھے۔ اعلیٰ حضرت کے ہمنواؤں نے ہندوؤں کے متبرک تیرتھ مقام بنارس میں قیام پاکستان کے لئے عظیم کانفرنس منعقد کی تھی اور یہ دو قومی نظریہ کے مبلغ اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مسلم لیگ قیام پاکستان کے مطالبے سے ہٹ بھی جائے تو ہم اس مطالبے سے ہرگز نہیں ہٹیں گے۔ اعلیٰ حضرت شمع اسلام میں محبت کا تیل ڈالنے میں ساری زندگی مصروف رہے۔ عرب و عجم میں کئی تحریکیں اٹھیں جن کے فکری ڈانڈے کہیں دور اسلام سے جدا پگ ڈنڈیوں سے ملتے تھے۔ مگر دل نواز و نظر فریب نعروں سے ان افکار کو مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا۔ حضرت بریلوی ایسی کسی تحریک سے متاثر نہیں ہوئے انہوں نے اپنی علمی توانائیان ان کے تار و پود بکھرنے میں صرف کر دیں اور حقیقی اسلام کے درخشاں چہرے سے سب غلط افکار کے پردے نوچ پھینکے۔ اسلام اسی آب و تاب سے سامنے آیا جس چمک دمک سے وہ دورِ نبوت عہد خلافت اور مجتہدین سے ضیا پاشیاں کرتا آ رہا تھا۔ اعلیٰ حضرت کو یہ یقین واثق تھا کہ اسلام امام الانبیاء محبوب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت کا نام ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ محبت ہی غیر مشروط اطاعت و اتباع کو جنم دیتی ہے، انہیں یقین تھا کہ صحابۂ کرام اور اہل بیت عظام کی کامیابیوں کا راز اسی نور محبت اور شفق اتباع و اطاعت کا پرتو تھا لہذا انہوں نے قوم کو مقام مصطفےٰ کی عظمت کی طرف بلایا بلالی روح پیدا کرنے کی تلقین فرمائی اجماع امت کے حسن کو عام کیا اور بتایا کہ بات وہی سچی ہے جو دورِ اول سے لے کر آج تک اولیائے سلف کرتے آئے ہیں۔
محبت کے تقاضے
محبت اپنے کچھ تقاضے رکھتی ہے پھر جس سینے میں شاہِ ہر دوسرا کی محبت ہو وہ محبت کے تقاضوں کو کیسے پورا کرتا رہے گا اور محبت کی رعنائیوں سے کس طرح مسحور ہوتا ہوگا؟ اس کا اندازہ بھی امام رضا کی پاکیزہ زندگی سے کیا جا سکتا ہے۔ باعث تخلیق کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اعلیٰ حضرت آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے محبت رکھتے تھے، سنتِ مصطفوی سے عشق تھا، زندگی کے ہر شعبے کو نور سنت سے منور رکھتے تھے، صحابہ کرام اور اہل بیت عظام سے محبت تھی، اولیائے امت سے عموماً اور غوث الثقلین شاہ بغداد سے خصوصاً والہانہ عشق تھا کیونکہ یہ لوگ قا سمانِ نورِ مصطفےٰ اور بلبلانِ گلشنِ مجتبیٰ تھے۔ اس محبت میں انہیں استغراق کلی حاصل تھا۔ اور درِ مصطفےٰ علیہ السلام کو چھوڑ کر کسی دنیا والے کے دروازے پر کبھی انہوں نے نگاہِ غلط انداز نہیں ڈالی۔ انہیں بھروسہ تھا اپنے آقا مولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کرم گستریوں پر انہیں اعتماد تھا اپنے ہادی و شاہد علیہ السلام کی بندہ پروریوں پر، ان کی نگاہیں اٹھتی تھیں تو تجلیاتِ مصطفےٰ کی ضوریزیوں کے سمیٹنے پر، ان کا دل دھڑکتا تھا تو صرف رحمت للعالمین کی رحمت نوازیوں پر۔ وہ علوم مصطفےٰ کے گلشن کے بلبل تھے لہذا انہیں ہر طرف علم مصطفےٰ کے جلوے نظر آتے تھے اور نور مصطفےٰ کی نور بیزیاں نظر آتی تھیں۔ عشق مصطفےٰ کا جو معیار وہ قائم فرما گئے وہ متاخرین کے لئے منارۂ نور ہے اور وہ سوز جو اپنے کلام میں بھر گئے خدا جانے کب تک دلوں کو گرما تا اور وجدان کو تڑپاتا رہے گا ان کے دور کے شعراء مسلمان نوابوں کے قصائد مدحیہ لکھ کر جلب زر کر رہے تھے۔ نواب نان پارہ کا دربار شعراء کو کشاں کشاں حصولِ زر کے لئے لا رہا تھا۔ اعلیٰ حضرت کی شاعری کے لئے لوگوں نے اس دربار کا دروازہ کھولنا چاہا بے چاروں کو پتہ نہیں تھا کہ عبد مصطفےٰ عبد زر نہیں ہوا کرتے۔ اعلیٰ حضرت سے درخواست کی گئی کہ وہ بھی نواب نان پارہ کی شان میں قصیدہ رقم فرمائیں ذرا جواب ملاحظہ ہو زبان شعر میں اپنا عقیدہ بیان فرما دیا اپنی زندگی کا خلاصہ بیان فرما دیا اپنے محبوب پاک کے مقابلے میں دنیا کے شاہوں کو لانا بھی ایمان کی توہین قرار دے دیا ہے اور کیا لطافت طبعی ہے کہ نان پارہ کے لفظ کو ترکیب اضافی کی شکل دے کر ادبی وجدان رکھنے والوں کی دنیا میں وجد و مستی پیدا کر دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں مری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مرا دین پارۂ نان نہیں
ذرا "اس بلا میں مری بلا" کیس بندش ملاحظہ ہو اور ذرا ملاحظہ فرمائیں اس والہانہ پن کو جو "میں گدا ہوں اپنے کریم کا" میں مضمر ہے۔ واہ کیا شان ہے، اس گدا کی جو اپنے کریم کے سوا کسی کو اپنا کریم نہیں مانتا، پھر کیا شان ہے رحیم و کریم آقا کی جو اپنے گدا کو پارۂ نان کے لئے کسی نواب نان پارہ کے دروازے پر جانے نہیں دیتا۔ گدا ہے با وفا اور کریم ہے با حمیت و با سخا۔ سبحان اللہ کیا مقام نیاز مندی ہے اور کیا مرتبہ بندہ پروری ہے اور کرم گستری ہے۔ اعلیٰ حضرت کی دینی اور ملی خدمات کو دیکھ کر حرم پاک کے عظیم عالم سید خلیل مکی نے انہیں چودھویں صدی ہجری کا مجدد کہا اور یہ نعرہ اہل سنت کا نعرہ بن گیا۔ لبنان کے شہرہ آفاق مفکر علامہ یوسف نبہانی نے انہیں امام کبیر کے لقب سے نوازا۔ جن حضرات نے اعلیٰ حضرت کی گراں مایہ کتب کا مطالعہ کیا ہے اور ان کی وسیع المطالعہ شخصیت کو ملاحظہ کیا ہے اور ان کو وسعتِ علمی کے سمندر میں غوطہ زنی کی کوشش کی ہے وہ یقیناً علامہ مکی اور علامہ نبہانی کی آراء کی تائید کرتے ہیں۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان اربعہ عناصر سے مرکب ہے مگر اعلیٰ حضرت کا خمیر تین عناصر سے اٹھا تھا اور وہ ہیں علم، عمل اور محبت حبیب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (بشکریہ ہفت روزہ افق کراچی)
در منقبت حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبد القادر
سرِ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبد القادر
مفتی شرع بھی ہے قاضی ملت بھی ہے
علمِ اسرار سے ماہر بھی ہے عبد القادر
منبع فیض بھی ہے مجمع افضال بھی ہے
مہر عرفاں کا منور بھی ہے عبد القادر
قطب ابدال بھی ہے محورِ ارشاد بھی ہے
مرکز دائرۂ سر بھی ہے عبد القادر
سلک عرفاں کی ضیا ہے یہی درِمختار
فخر اشباہ و نظائر بھی ہے عبد القادر
اس کے فرمان ہیں سب شارح حکم شارع
مظہر ناہی و آمر بھی ہے عبد القادر
ذی تصرف بھی ہے ماذون بھی مختار بھی ہے
کار عالم کا مدبر بھی ہے عبد القاد
ررشک بلبل ہے رضا لالہ صد داغ بھی ہے
آپ کا واصف و ذاکر بھی ہے عبد القادر
الحمد للہ
ہم بڑی مسرت کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں قدس سرہ کی ان دینی مساعی کا ایک جائزہ پیش کر رہے ہیں جن کی تکمیل کے لئے آپ نے اپنی عمر عزیز کے قیمتی ماہ و سال صرف کئے اور ہماری رہنمائی فرمائی اس سلسلے میں بطور تشکر ہم یہ ضرور عرض کریں گے کہ اگر محترم جناب انور بھائی صاحب محترم جناب قاری محمد مصلح الدین صدیقی صاحب محترم جناب عبد اللطیف صاحب قادری محترم جناب شفیع بھائی صاحب محترم جناب حمید بھائی صاحب محترم جناب وجاہت رسول صاحب قادری محترم جناب عزیز پٹنی صاحب جیسے مخلصین اور فدائیان اعلیٰ حضرت کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو ہم ہرگز اس لائق نہیں تھے کہ اعلیٰ حضرت نور اللہ مرقدہ کا یہ گرانقدر سرمایہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے۔






